Thursday, 27 September 2012

عقیدہِ ختمِ نبوتؐ اور چہل حدیث


انسان اس دنیا میں خو داپنے ارادہ سے پیدا نہیں ہوا ہے ، بلکہ پیدا کیا گیا ہے ، دنیا میں بہت سی چیزیں اس کے لیے فائدہ مند ہیں اور بہت سی چیزیں مضرت رساں، وہ خود اپنے نفع ونقصان سے بھی کماحقہ واقف نہیں، اس کے اندر قسم قسم کی خواہشات اور آرزوئیں ہیں اس کے نفس میں ایسی حسرتیں بھی پلتی رہتی ہیں جو اسی کے جیسے دوسرے انسانوں کے لیے تباہی وبربادی اور نقصان کا باعث ہیں، بعض ایسی تمنائیں بھی دل میں مچلتی اور ذہن کو بے قرار رکھتی ہیں، جو اس کے لیے نہ صرف روحانی، بلکہ مادی او رجسمانی اعتبار سے بھی انتہائی نقصان دہ ہوتی ہیں، اس لیے اگر انسان کو زندگی گزارنے کے بارے میں آزاد اور بے لگام چھوڑ دیا جائے ، تو وہ نہ صرف دوسروں کے لیے بلکہ خوداپنے لیے بھی طرح طرح کی مصیبتیں او رمشکلات پیدا کر سکتا ہے، اس لیے اسے صحیح طریقہ پر زندگی گزارنے کے لیے پیدا کرنے والے کی جانب سے ہدایت نامہ کی ضرورت ہے اور یہ بھی ضروری ہے کہ یہ ہدایت نامہ کسی انسان ہی کے ذریعہ آئے اور وہ اس پر عمل کرکے دکھائے اور بتائے ، الله تعالیٰ نے انسان کو پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ ہر دور میں اس کی تعلیم وتربیت کا سروسامان بھی فرمایا، چناں چہ انسان کی راہ نمائی کے لیے الله نے ہدایت نامے بھیجے، جسے کتاب الله کہا جاتا ہے اور اسے پہنچانے اور عملی طور پر اسے برت کرد کھانے کے لیے انبیائے کرام کو بھیجا۔

حضرت آدم علیہ السلام جیسے پہلے انسان تھے، ویسے ہی پہلے پیغمبر بھی تھے، نبوت ورسالت کا یہ سلسلہ پیغمبر اسلام جناب محمد رسول الله صلی الله علیہ وسلم پر ختم ہو گیا، چوں کہ الله تعالیٰ کو یہ بات منظور تھی کہ سلسلہٴ نبوت آپ صلی الله علیہ وسلم پر تمام ہو جائے، اس لیے قدرتی طور پر وہ اسباب بھی باقی نہ رہے جن کی وجہ سے نئے نبی کی ضرورت پیش آتی تھی، نیا نبی یا تو اس لیے بھیجا جاتا تھا کہ احکام شریعت میں کوئی تبدیلی مقصود ہوتی اور قرآن نے واضح کر دیا کہ اب شریعت الہیٰ درجہٴ کمال وتمام کو پہنچ گئی ہے او رنعمتِ ہدایت کا اہتمام ہو چکا ہے ، ﴿الیوم اکملت لکم دینکم واتممت علیکم نعمتی ورضیت لکم الاسلام دینا﴾ (المائدہ:3) یا نبی اس لیے بھیجے جاتے تھے کہ پہلے نبی پر ایمان رکھنے والوں میں کوئی ہدایت یافتہ او رحق پر ثابت قدم گروہ باقی نہ رہا ہو ، یا اس لیے کہ پہلے جو آسمانی کتاب اتری ہو ، لوگوں نے اس میں ملاوٹ پیدا کر دی ہو، نبوت محمدی کا معاملہ یہ ہے کہ جو کتاب آپ پر نازل ہوئی وہ ایک زبر زیر کی تبدیلی کے بغیر موجود اور محفوظ ہے اور یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اس امت میں بہت بڑا طبقہ راہ ہدایت پر قائم ہے اور قائم رہے گا، رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ امت کبھی بھی گم راہی پر متفق نہیں ہوسکتی، لا تجتمع امتی علی ضلالة، اس لیے آپ صلی الله علیہ وسلم کے بعد کسی نئے نبی کی ضرورت باقی نہیں رہی۔

چناں چہ اس با ت پر امت کا اجماع ہے کہ جناب محمد رسول الله صلی الله علیہ وسلم پر ہر طرح کی نبوت ختم ہوچکی ہے اور آپ صلی الله علیہ وسلم کے بعد کسی قسم کی نبوت باقی نہیں رہی ، یہ نہ صرف امت کا اجماعی عقیدہ ہے، بلکہ اس پر قرآن مجید اور صحیح حدیثیں ناطق ہیں، چناں چہ الله تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ آپ صلی الله علیہ وسلم الله کے رسول اور آخری نبی ہیں ، ﴿ولکن رسول الله وخاتم النبیین﴾ ( الاحزاب:40) آسمانی صحائف میں ہمیشہ اگلے رسول کے بارے میں امت سے عہد لیا جاتا تھا کہ وہ ان پر ایمان لائیں گے، اگر آپ کے بعد کسی نبی کی آمد ممکن ہوتی تو ضروری تھا کہ الله تعالیٰ نے پوری اہمیت اور وضاحت کے ساتھ اس کا ذکر فرمایا ہوتا، لیکن قرآن مجید نے کہیں اس کا کوئی ذکر نہیں کیا، بلکہ اس کے برعکس بہت ہی واضح الفاظ میں آپ کے آخری نبی ہونے کا اعلان فرمایا گیا اور اشارةً تو کتنے ہی مقامات پر آپ صلی الله علیہ وسلم پر ختم نبوت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے ۔

حدیثیں اس سلسلہ میں اتنی کثرت اور وضاحت کے ساتھ مروی ہیں کہ ان کااحاطہ دشوار ہے، حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ سے مرو ی ہے کہ آپ صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میری اور انبیاء کی مثال ایسے محل کی ہے جسے نہایت ہی خوب صورت طریقہ پر بنایا گیا ہو اور اس میں ایک اینٹ کی جگہ بچی ہو دیکھنے والے اسے دیکھتے ہوں اور اس کے حسن تعمیر پر حیرت زدہ ہوں ، سوائے اس اینٹ کی جگہ کے آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں وہی اینٹ ہوں، مجھ پر عمارت مکمل ہو گئی ہے ، رسولوں کا سلسلہ ختم ہوا اور میں آخر ی نبی ہوں ۔( بخاری:501/1) حضرت ابوہریرہ ہی کی روایت میں آپ صلی الله علیہ وسلم کا ارشاد مرو ی ہے کہ چھ باتوں میں آپ کو تمام انبیاء پر فضیلت دی گئی، ان میں دو باتیں یہ تھیں کہ آپ تمام مخلوقات کی طرف نبی بنا کر بھیجے گئے اورمجھ پر نبیوں کا سلسہ ختم کر دیا گیا۔ ( مسلم:199/1) حضرت ثوبان رضی الله عنہ کی روایت میں ہے کہ عنقریب میری امت میں تیسیوں جھوٹے نبی پیدا ہوں گے ، جو کہیں گے کہ وہ الله کے نبی ہیں، حالاں کہ میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں ہو سکتا ۔( ابوداؤد:584/1) دارمی کی ایک روایت میں ہے کہ آپ نے فرمایا میں پیغمبروں کا قائد اور خاتم ہوں او رمجھے اس پر کوئی فخر نہیں ۔ (دارمی حدیث نمبر49) آپ صلی الله علیہ وسلم نے اپنا ایک نام ”عاقب“ بتایا اور پھر اس کی تشریح کرتے ہوئے فرمایا، یعنی وہ جس کے بعد کوئی نبی نہ ہو، انا العاقب والعاقب الذی لیس بعدہ نبی۔ ( بخاری:501/1)

حدیثوں نے اس بات کو بھی واضح کر دیا کہ حضور صلی الله علیہ وسلم کے بعد کسی بھی طرح کی نبوت باقی نہیں رہی، چناں چہ آپ صلی الله علیہ وسلم نے حضرت عمر رضی الله عنہ سے فرمایا کہ میرے بعد نبوت کی گنجائش ہوتی تو تم نبی ہوتے ، لوکان بعدی نبیاً لکان عمر۔ ( ترمذی:209/2) اور حضرت علی رضی الله عنہ سے ارشاد فرمایا کہ تم میری نسبت سے ویسے ہی ہو جیسے حضرت موسی علیہ السلام کے ساتھ ہارون علیہ السلام تھے، سوائے اس کے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہو سکتا: انت منی بمنزلة ہارون من موسی، إلا أنہ لانبی بعدی․(بخاری:633/2) ، آپ صلی الله علیہ وسلم نے اس کو مزید واضح کرتے ہوئے فرمایا، میں آخری نبی ہوں اورتم آخری امت ہو، انا آخر الانبیاء وانتم آخرالامم ۔( ابن ماجہ:207 ، باب فتنة الدجال) آپ صلی الله علیہ وسلم نے اپنی مسجد کے بارے میں ارشاد فرمایا کہ انبیاء سے منسوب جو مسجدیں تھیں، ان میں آخری مسجد میری مسجد ہے، مسجدی خاتم مساجد الانبیاء۔( دیلمی، حدیث نمبر:112) رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے ان فرمودات سے واضح ہے کہ آپ پر ہر طرح کی نبوت ختم ہوچکی ہے، آپ آخری نبی ہیں، آپ صلی الله علیہ وسلم پر نازل ہونے والی کتاب آخری کتا ب ہے، آپ کی امت آخری امت ہے، انبیا سے منسوب مساجد میں آپ کی مسجد آخری مسجد ہے اور آپ کے بعد کسی بھی قسم کی نبوت کی گنجائش باقی نہیں رہی۔

چوں کہ یہود ونصاریٰ کو اسلام سے ہمیشہ سے عناد رہا ہے او رانہوں نے میدان جنگ سے لے کر معرکہ فکرونظر تک ہر جگہ اسلام پر یلغار کی ہے، اس لیے انہوں نے اپنے استعماری دور میں ایک نئی تدیبر سوچی کہ کسی شخص کو نبوت کا علم بردار بنا کر کھڑا کیا جائے، تاکہ نبوت محمدی کے مقابل ایک نئی نبوت وجود میں آئے او رپیغمبر اسلام صلی الله علیہ وسلم سے امت محمدیہ کو جو محبت ہے وہ محبت تقسیم ہو جاتے، اس کے لیے ایک ایسے علاقہ کا انتخاب کیا گیا جو اس وقت انگریزوں کی عمل داری میں تھا، تاکہ ایسے جھوٹے مدعیٴ نبوت کی پوری حفاظت اور حوصلہ افزائی ہو سکے ، چنا ں چہ پنجاب سے ایک شخص مرزا غلام احمد قادیانی کو اس کام کے لیے تیار کیا گیا، مرزا صاحب نے خود ہی اپنے بارے میں لکھا ہے کہ میں انگریزوں کا خود کاشتہ پودا ہوں، انگریزوں نے اپنی اس کاشت کو بار آور کرنے اور تقویت پہنچانے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی۔

نبی کے دعوے میں کبھی تدریج نہیں ہوتی، یعنی ایسا نہیں ہوتا کہ وہ آہستہ آہستہ دعویٴ نبوت تک پہنچے، حضرت موسی علیہ السلام آگ کی تلاش میں کوہِ طور پر پہنچے تھے، لیکن اچانک ہی نبوت سے سرفراز کیے گئے، رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے وحی نازل ہونے سے پہلے کبھی اس سلسلہ میں کوئی گفتگو نہیں فرمائی کہ اچانک حضرت جبرئیل علیہ السلام الله کا کلام لے نازل ہوئے، لیکن مرزا صاحب ایک ایک سیڑھی چڑھتے ہوئے دعویٴ نبوت تک پہنچے، پہلے الله کی طرف سے ملہم ہونے کا دعوی کیا، یعنی ان پر الہام ہوتا ہے، پھر دیکھا کہ حدیث میں حضرت مسیح کے نزول کی پیشین گوئی ہے ، تو مسیح ہونے کا دعویٰ کر بیٹھے، جب لوگوں نے کہا کہ حضرت مسیح کے زمانہ میں امام مہدی کا بھی ظہور ہو گا، کہنے لگے کہ میں ہی مہدی ہوں، پھر دعویٴ نبوت ہی کر بیٹھے۔ اولاً تو اپنی نبوت کو حضور صلی الله علیہ وسلم کی نبوت کا سایہ کہتے تھے، لیکن پھر اپنے کو حضور سے افضل کہنے سے بھی نہیں چوکے او ران کے متبعین نے آپ صلی الله علیہ وسلم کی دعوت کو ہلال ” یعنی پہلی شب“ کا چاند او رمرزا صاحب کی دعوت کو ” بدر کامل“ یعنی چودہویں شب کا چاند قرار دیا، نبی کی بات میں تضاد نہیں ہوتا ،مگر مرزا صاحب کے یہاں اس قدر تضادات ہیں کہ شمار سے باہر ہیں، نبی خدا کی صفات اور جلالت شان کو وضاحت وصراحت کے ساتھ بیان کرتا ہے او راپنی عبدیت وبندگی کو بے کم وکاست سامنے رکھ دیتا ہے، لیکن مرزا صاحب کا حال یہ ہے کہ اپنے آپ کو خدا کا مانند کہنے سے بھی نہیں چوکتے۔ ( روحانی خزائن:413/17) ایک موقع سے کہتے ہیں: میں نے خواب میں دیکھا کہ میں خود خدا ہوں اور یقین کر لیا کہ میں وہی ہوں۔ (روحانی خزائن:564/5) مرزا صاحب اپنے بارے میں کہتے ہیں کہ یا خدا خود آسمان سے اُتر آیا ہے، کان الله نزل من السماء․ (اشتہار20 فروری1886ء)

نبی کی زبان بہت ہی شائستہ اور مہذب ہوتی ہے، دشمنوں کے بارے میں بھی تہذیب واخلاق سے گری ہوئی بات اس کی زبان اور قلم پر نہیں آتی ، لیکن مرزا صاحب کے یہاں اپنے مخالفین کے لیے سور، کتے، حرامی وغیرہ کے الفاظ عام ہیں او رانہیں اس طرح کے تخاطب میں کوئی تکلف نہیں، کہتے ہیں کہ ”جو ہماری فتح کا قائل نہیں ہو گا، تو صاف سمجھاجاوے گا کہ اس کو ولد الحرام بننے کا شوق ہے، حرام زادہ کی یہی نشانی ہے کہ سیدھی راہ اختیار نہ کرے۔ (نور الاسلام:30) مشہور عالم مولانا ثناء الله امرتسری کو ” کتا ،مردار خوار“ (روحانی خزائن:309/11) مولانا محمد حسین بٹالوی کو ” پلید، بے حیا، سفلہ، گندی کارروائی، گندے اخلاق وغیرہ“ کے القاب سے نوازا ہے، مولانا سعد الله لدھیانوی کو ” نطفہ سفہا، کنجری کا بیٹا“۔ یہ کلمات بطور نمونہ کے ہیں، رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ مومن زیادہ لعنت کرنے والا نہیں ہو سکتا، خود مرزا صاحب نے کہا ہے کہ مومن لعّان نہیں ہوتا۔ (روحانی خزائن: 456/13) لیکن خود مرزا صاحب نے عیسائیوں کے خلاف جو کتاب لکھی تو محض چار صفحات میں ایک ہزار بار صرف لعنت لعنت کے کلمات لکھے ( حوالہ سابق:158-63/8) اس سے مرزا صاحب کی زبان وبیان کے معیار کا اندازہ کیا جاسکتا ہے او رغور کیا جاسکتا ہے کہ نبی تو کجا کیا کسی مہذب آدمی کو بھی ایسے الفاظ زیب دیتے ہیں؟

مرزا صاحب کے دیگر حالات بھی اس پہلو سے قابل مطالعہ ہیں، صرف مرزا صاحب کے محمدی بیگم سے نکاح کی شدید خواہش اور اس سلسلہ میں بار بار روحی الہیٰ کا دعوی ، پھر محمدی بیگم، اس کے شوہر اور اس کے متعلقین کے لیے بد دعا اور ہلاکت وبردبای کی پیشین گوئی اور بالآخر ان تمام پیشین گوئیوں کا غلط ثابت ہونا ایسی باتیں ہیں، جو مرزا صاحب کے اخلاق وعادات کو بھی روشنی میں لاتی ہیں ، مگر افسوس کہ جن مسلمانوں کو مذہبی معلومات حاصل نہیں ہیں، یا جو لوگ دیہات میں رہتے ہیں اور وہ کلمہ او رنماز او ردین کے بنیادی احکام سے بھی ناواقف ہیں، وہ دھوکہ میں آجاتے ہیں اور ظاہری طور پر کلمہ کی وحدت اور کچھ عمومی افعال میں یکسانیت کی وجہ سے لوگ دھوکہ کھا جاتے ہیں، پھر جہاں حقیقتِ حال کا ان کو علم ہوتا ہے او رمسلمان وہاں پہنچتے ہیں وہاں سے ان غارت گرانِ ایمان کو راہ فرار اختیار کرنی پڑتی ہے ، ان کی مالی تحریص، عبادت گاہ او رمکتب کا انتظام اور دوسری ترغیبات سب کی سب اکارت ہو جاتی ہیں، اگر مسلمانوں پر ان باغیانِ ختم نبوت کے افکار واعتقادات واضح ہو جائیں تو یہی کافی ہے۔

لیکن اس میں جس قدر افسوس کیا جائے کم ہے کہ ہم نے اپنی تمام دینی تحریکات، تعلیمی نظام اور دعوتی کوششوں کا محور صرف پررونق شہروں کو بنالیا ہے او رہمارے جو بھائی دیہات کی تیرہٴ وتاریک فضا میں رہتے ہیں ، جہاں نہ علم کی روشنی ہے اور نہ برقی لیمپ ، نہ خوبصورت سڑکیں، نہ راحت بخش عمارتیں او رعشرت کدے ، ان غریب بھائیوں کو ہم نے بالکل بھلا رکھا ہے، ایسا کہ گویا ان سے ہمارا کوئی مذہبی اور ایمانی رشتہ ہی نہ ہو، رسول الله صلی الله علیہ وسلم پر ختم نبوت ہماری طرف متوجہ ہے کہ ہم اپنے ان بھائیوں کی طرف نگاہِ محبت اٹھائیں، ان کے ایمان کی حفاظت کریں اور ان کو حقیقی صورت حال سے آگاہ کرنے کی کوشش کریں، ہماری تھوڑی سی توجہ انہیں ارتداد کی کھائی میں گرنے سے بچا سکتی ہے، ہم اپنی آمدنی کا بہت ہی معمولی حصہ نکال کر گاؤں گاؤں مکاتب کانظام قائم کرسکتے ہیں، کتنے ہی گاؤں ہیں، جہاں سینکڑوں سال سے مسلمان آباد ہیں، لیکن وہاں ایک چھوٹی سی مسجد موجود نہیں، ہم چھپر کی سہی، ایک مسجد بنا دیں، انہیں مسجدوں میں بچوں کی بنیادی دینی تعلیم کا انتظام کر دیں او رعلم کا ایک چراغ وہاں روشن ہو جائے، تو انشاء الله انہیں ہر گزگم راہ نہ کیا جاسکے گا او رکفر اپنی ساری سازشوں کے باوجود خاسر ومحروم ہی رہے گا، لیکن کیا ہم اس کے لیے تیار بھی ہیں؟؟



عقیدہ ختم نبوت :
قرآن کریم میں ہے:
”ماکان محمد ابا احد من رجالکم ولکن رسول الله وخاتم النبیین“ ۔ (الاحزاب:۴۰ )
ترجمہ:․․․”(حضرت) محمد ﷺ تمہارے مردوں میں سے کسی کے والد نہیں ہیں لیکن اللہ کے پیغمبر اور نبیوں کی مہر یعنی سلسلہ نبوت کو ختم کر دینے والے ہیں اور اللہ ہر چیز سے واقف ہے۔"

تمام مفسرین کا اس پر اتفاق ہے کہ ”خاتم النبیین“ کے معنیٰ ہیں کہ: آپ ا آخری نبی ہیں‘ آپ ا کے بعد کسی کو ”منصب نبوت“ پر فائز نہیں کیا جائے گا۔ عقیدہ ختم نبوت جس طرح قرآن کریم کی نصوص قطعیہ سے ثابت ہے‘ اسی طرح حضور علیہ السلام کی احادیث متواترہ سے بھی ثابت ہے۔




ختمِ نبوت کے موضوع پر چہل حدیث

از:         ڈاکٹر محمد سلطان شاہ
صدر شعبہ عربی وعلوم اسلامیہ، جی، سی یونیورسٹی، لاہور


نوٹ: اس مضمون میں صحاحِ ستہ کی تمام احادیث ”موسوعة الحدیث الشریف الکتب السنة“ مطبوعہ دارالسلام للنشی التوزیع الریاض، ۲۰۰۰ ، سے نقل کی گئی ہیں اور احادیث کے نمبرز اس کے مطابق ہیں۔
--------------

اللہ تعالیٰ جل مجدہ نے انسانیت کی راہنمائی کے لئے انبیاء ورسل کو مبعوث فرمایا اور اُن پر وحی نازل فرمائی تاکہ وہ الوہی پیغام پر عمل پیرا ہوکر اپنے امتیوں کے سامنے لائق تقلید نمونہ پیش کرسکیں۔ نبوت و رسالت کا یہ سلسلہ حضرت آدم علیہ السلام سے شروع ہوا اور حضرت محمد مصطفی، احمد مجتبیٰ علیہ التحیة والثناء پر اختیام پذیر ہوا۔ خلاّقِ عالمین نے اپنے محبوبِ مکرم صلى الله عليه وسلم کو رحمة للعالمین کے لقب سے سرفراز فرمایا، جس کا مطلب یہ ہے کہ آپ ہر عالم کے لیے رحمت کبریا ہیں۔ اس کے علاوہ رب کریم نے حضور سید انام صلى الله عليه وسلم پر دین مبین کی تکمیل فرمادی اور وحی جیسی نعمت کو تمام کردیا اور اسلام جیسے عالمگیر (Universal)، ابدی (Eternal) اور متحرک (Dynamic)دین کو رہتی دُنیا تک کے لئے اپنا پسندیدہ دین قرار دے دیا۔ قرآن مجید میں حضور اکرم، نبی معظم، رسول مکرم صلى الله عليه وسلم کے آخری نبی ہونے کا اعلان اس آیت مبارکہ میں کیاگیا:

مَا کَانَ مُحَمَّدٌ اَبَا اَحَدٍ مِنْ رِّجَالِکُمْ وَلٰکِنْ رَّسُوْلَ اللّٰہِ وَخَاتَمَ النَّبِیِّیْنَ، وَکَانَ اللّٰہُ بِکُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمًا. (سورة الاحزاب:۳۳-۴۰)

محمد صلى الله عليه وسلم تمہارے مردوں میں کسی کے باپ نہیں، ہاں اللہ کے رسول ہیں اور سب نبیوں میں پچھلے،اور اللہ سب کچھ جانتا ہے۔ (بریلوی، احمد رضاخان، کنزالایمان فی ترجمة القرآن، لاہور: ضیاء القرآن پبلی کیشنز، ص:۵۰۹)

یہ نص قطعی ہے ختم نبوت کے اس اعلان خداوندی کے بعد کسی شخص کو قصرِ نبوت میں نقب زنی کی سعی لاحاصل نہیں کرنی چاہئے۔ اس آیت مبارکہ کی تفسیر میں مہبطِ وحی صلى الله عليه وسلم کے بہت سے ارشادات کتب احادیث میں ملاحظہ کئے جاسکتے ہیں۔ یہاں ایسی احادیث پر مبنی اربعین پیش کی جارہی ہے تاکہ منکرین ختم نبوت پر حق واضح ہوسکے اور یہ عمل اس حقیر پرتقصیر کے لئے نجاتِ اُخروی کا باعث ہو، کیونکہ محدثین کرام نے اربعین کی فضیلت میں روایات نقل فرمائی ہیں۔ حافظ ابی نعیم احمد بن عبداللہ اصفہانی المتوفی ۴۳۰ھ نے حلیة الاولیاء وطبقات الاصفیاء میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضى الله تعالى عنه سے مروی یہ روایت درج کی ہے کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے ارشاد فرمایا:

من حفظ علی اُمتی أربعین حدیثا ینفعہم اللّٰہ عز وجل بہا، قیل لہ: أدخل من أی أبواب الجنة شئت.

جس شخص نے میری اُمت کو ایسی چالیس احادیث پہنچائیں جس سے اللہ تعالیٰ عز وجل نے ان کو نفع دیا تو اُس سے کہا جائے گا جس دروازے سے چاہو جنت میں داخل ہوجاؤ۔ (الاصفہانی، ابی نعیم احمد بن عبداللہ، حلیة الاولیاء وطبقات الاصفیاء، مصر: مکتبہ الخانجی بشارع عبدالعزیز ومطبعة السعادہ بجوار محافظہ، ۱۳۵۱ھ/۱۹۳۲/)۔ ۴:۱۸۹

۱- حضرت ابوہریرہ رضى الله تعالى عنه سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے ارشاد فرمایا:

مَثَلِیْ وَمَثَلُ الْاَنْبِیَآءِ مِنْ قَبْلِیْ کَمَثَلِ رَجُلٍ بَنٰی بَیْتًا فَاَحْسَنَہ وَاَجْمَلَہ اِلاَّ مَوْضِعَ لَبِنَةٍ مِنْ زَاوِیَةٍ فَجَعَلَ النَّاسَ یَطُوْفُوْنَ وَیَعْجَبُوْنَ لَہ وَیَقُوْلُوْنَ، ہَلَّا وُضِعَتْ ہٰذِہِ اللَّبِنَةُ؟ قَالَ فَأَنَا اللَّبِنَةُ، وَاَنَا خَاتَمُ النَّبِیِّیْنَ.

میری اور مجھ سے پہلے انبیاء کی مثال ایسی ہے جیسے کسی شخص نے ایک گھر بنایا،اس کو بہت عمدہ اور آراستہ پیراستہ بنایا مگر ایک کونے میں ایک اینٹ کی جگہ چھوڑدی، پس لوگ جوق درجوق آتے ہیں اور تعجب کرتے ہیں اور یہ کہتے ہیں یہ اینٹ کیوں نہیں لگادی گئی۔ آپ نے فرمایا: وہ اینٹ میں ہوں اور میں انبیاء کرام کا خاتم ہوں۔ اسی مفہوم کی ایک اور حدیث مبارکہ حضرت جابر بن عبداللہ رضى الله تعالى عنه نے بھی روایت کی ہے۔(صحیح البخاری، کتاب المناقب، باب خاتم النّبیین صلى الله عليه وسلم، حدیث:۳۵۳۴،۳۵۳۵)

۲- حضرت ابوہریرہ رضى الله تعالى عنه سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا:

نَحْنُ الْاٰخِرُوْنَ وَنَحْنُ الْأَوَّلُوْنَ یَوْمَ الْقِیَامَةِ، وَنَحْنُ اَوَّلُ مَنْ یَدْخُلُ الْجَنَّةَ، یبدأ أَنَّہُمْ أُوْتُوْا الْکِتٰبَ مِنْ قَبْلِنَا وَاُوْتِیْنَاہُ مِنْ بَعْدِہِمْ.

ہم سب آخر والے روزِ قیامت سب سے مقدم ہوں گے اور ہم سب سے پہلے جنت میں داخل ہوں گے۔ حالانکہ (پہلے والوں) کو کتاب ہم سے پہلے دی گئی اور ہمیں ان سب کے بعد۔ (صحیح مسلم، کتاب الجمعہ، باب ہدایة ہذہ الامة لیوم الجمعة، حدیث: ۱۹۷۸، ۱۹۷۹، ۱۹۸۰، ۱۹۸۱، ۱۹۸۲)

۳- حضرت ابوحازم فرماتے ہیں کہ میں پانچ سال تک حضرت ابوہریرہ رضى الله تعالى عنه کے ساتھ رہا۔ میں نے خود سنا کہ وہ یہ حدیث بیان فرماتے تھے کہ نبی مکرم رسول معظم صلى الله عليه وسلم کا ارشاد گرامی ہے۔

کَانَتْ بَنُوْ اِسْرَائِیْلَ تَسُوْسُہُمْ الأَنْبِیَاءُ، کُلَّمَا ہَلَکَ نَبِیٌّ خَلَفَہ نَبِیٌّ وَاِنَّہ لاَ نَبِیَّ بَعْدِیْ، وَسَیَکُوْنُ خُلَفَاءُ فَیَکْثُرُوْنَ، قَالُوْا: فَمَا تَأْمُرُنَا؟ قَالَ: فُوْا بِبَیْعَةِ الْأَوَّلِ فَالْأَوَّلِ، أَعْطُوْہُمْ حَقَّہُمْ، فَاِنَّ اللّٰہَ سَائِلُہُمْ عَمَّا اسْتَرْعَاہُمْ.

بنی اسرائیل کی سیاست خود ان کے انبیاء کرام کیا کرتے تھے۔ جب کسی نبی کی وفات ہوجاتی تھی تو اللہ تعالیٰ کسی دوسرے نبی کو ان کا خلیفہ بنادیتا تھا لیکن میرے بعد کوئی نبی نہیں، البتہ خلفاء ہوں گے اور بہت ہوں گے۔ صحابہ کرام نے عرض کیا، اُن کے متعلق آپ کیا حکم دیتے ہیں۔ آپ نے فرمایا ہر ایک کے بعد دوسرے کی بیعت پوری کرو اور ان کے حق اطاعت کو پورا کرو، اس لئے کہ اللہ تعالیٰ اُن کی رعیت کے متعلق اُن سے سوال کرے گا۔ (صحیح البخاری، کتاب احادیث الانبیاء، باب ذکر عن بنی اسرائیل، حدیث: ۳۴۵۵)

۴- حضرت انس رضى الله تعالى عنه روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم علیہ الصلوٰة والتسلیم نے انگشت شہادت اور بیچ کی انگلی کو ملاکر اشارہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:

بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةُ کَہَاتَیْنِ.

میں اور قیامت اس طرح ملے ہوئے بھیجے گئے ہیں جس طرح یہ دونوں انگلیاں ملی ہوئی ہیں۔(صحیح البخاری، کتاب التفسیر، سورة والنازعات، حدیث: ۴۹۳۶، کتاب الطلاق، باب اللعان، حدیث: ۵۳۰۱، کتاب الرقاق، باب قول النبی صلى الله عليه وسلم، بعثت انا والساعة کہاتین، حدیث: ۶۵۰۳، ۶۵۰۴، ۶۵۰۵)

۵- امام مسلم نے تین اسناد سے یہ حدیث بیان کی ہے:

سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلّی اللّٰہ علیہ وسلم، وَفِیْ حَدِیْثِ عُقَیْلٍ: قَالَ: قُلْتُ لِلزُّہْرِیْ: وَمَا الْعَاقِبُ؟ قَالَ: الَّذِیْ لَیْسَ بَعْدَہ نَبِیٌّ.

میں نے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم سے سنا، عقیل کی روایت میں ہے زہری نے بیان کیا عاقب وہ ہے جس کے بعد کوئی نبی نہ ہو۔(صحیح مسلم، کتاب الفضائل، باب فی اسمائہ صلى الله عليه وسلم، حدیث: ۶۱۰۷)

۶- حضرت جبیر بن مطعم رضى الله تعالى عنه سے روایت ہے کہ رسولِ معظم، نبی مکرم صلى الله عليه وسلم کا ارشاد گرامی ہے:

اِنَّ لِیْ أَسْمَاءً، اَنَا مُحَمَّدٌ، وَأَنَا أَحْمَدُ، وَاَنَا الْمَاحِی یَمْعُو اللّٰہُ بِیَ الْکُفْرَ، وَاَنَا الْعَاشِرُ الَّذِیْ یُحْشَرُ النَّاسُ عَلٰی قَدَمَیَّ، وَأَنَا الْعَاقِبُ الَّذِیْ لَیْسَ بَعْدَہ اَحَدٌ.

بے شک میرے کئی اسماء ہیں، میں محمد ہوں، میں احمد ہوں اور ماحی ہوں یعنی اللہ تعالیٰ میرے ذریعے کفر کو مٹائے گا اور میں حاشر ہوں لوگوں کا حشر میرے قدموں میں ہوگا، اور میں عاقب ہوں اور عاقب وہ شخص ہے جس کے بعد کوئی نبی نہ ہو۔ (صحیح مسلم، کتاب الفضائل،باب فی اسمائہ صلى الله عليه وسلم، حدیث: ۶۱۰۶)

۷- حضرت محمد بن جبیر اپنے والد گرامی حضرت جبیر بن مطعم رضى الله تعالى عنه سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا:

لِیْ خَمْسَةُ أَسْمَآء اَنَا مُحَمَّدٌ، وَاَحْمَدُ، وَأَنَا الْمَاحِی الَّذِیْ یَمْحُوا اللّٰہ بِیَ الْکُفْرَ، وَأنَا الْحَاشِرُ الَّذِیْ یُحْشَرُ النَّاسُ عَلٰی قَدَمِیْ، وَأَنَا الْعَاقِبُ.

میرے پانچ نام ہیں۔ میں محمد ہوں، اور میں احمد ہوں اور ماحی ہوں یعنی اللہ تعالیٰ میرے ذریعے کفر کو مٹائے گا۔ میں حاشر ہوں یعنی لوگ میرے بعد حشر کئے جائیں گے اور میں عاقب ہوں۔ یعنی میرے بعد دُنیا میں کوئی نیا پیغمبر نہیں آئے گا۔(صحیح البخاری، کتاب المناقب، باب ما جاء فی اسماء رسول اللہ صلى الله عليه وسلم حدیث: ۳۵۳۲، صحیح البخاری، کتاب التفسیر، باب من بعد اسمہ احمد، حدیث: ۴۸۹۶)

۸- امام مسلم نے ثقہ راویوں کے توسط سے حضرت ابوموسیٰ الاشعری رضى الله تعالى عنه سے یہ روایت نقل کی ہے:

کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلى الله عليه وسلم یُسَمِّی لَنَا نَفْسَہ أَسْمَاءَ، فَقَالَ أَنَا مُحَمَّدٌ، وأَحْمَدُ، وَالْمُقَفِّی، وَالْحَاشِرُ، وَنَبِیُّ التَّوْبَةِ، وَنَبِیُّ الرَّحْمَةِ.

رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے ہمارے لئے اپنے کئی نام بیان کئے، آپ نے فرمایا: میں محمد ہوں اور احمد ہوں اور مقفی اور حاشر ہوں اور نبی التوبة اور نبی الرحمة ہوں۔ (صحیح مسلم، کتاب الفضائل، باب فی اسمائہ صلى الله عليه وسلم، حدیث:۶۱۰۸)

۹- حضرت جبیربن مطعم رضى الله تعالى عنه سے روایت ہے کہ نبی کریم علیہ الصلوٰة والتسلیم نے فرمایا:

اَنَا مُحَمَّدٌ، وَاَحْمَدُ، وَأَنَا الْمَاحِی الَّذِیْ یُمْحٰی بِیَ الْکُفْرُ، وَأَنَا الْحَاشِرُ الَّذِیْ یُحْشَرُ النَّاسُ عَلٰی عَقِبِیْ، وَأَنَا الْعَاقِبُ، وَالْعَاقِبُ الَّذِیْ لَیْسَ بَعْدَہ نَبِیٌّ.

میں محمد ہوں اور میں احمد ہوں، میں ماحی ہوں میری وجہ سے اللہ تعالیٰ کفر کو مٹادے گا، میں حاشر ہوں لوگوں کا میرے قدموں میں حشر کیا جائے گا، اور میں عاقب ہوں، اور عاقب وہ ہوتا ہے جس کے بعد کوئی نبی نہ ہو۔ (صحیح مسلم، کتاب الفضائل، باب فی اسمائہ صلى الله عليه وسلم، حدیث:۶۱۰۵)

۱۰- حضرت ابوہریرہ رضى الله تعالى عنه بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے ارشاد فرمایا:

کَیْفَ أَنْتُمْ اِذَا نَزَلَ ابْنُ مَرْیَمَ فِیْکُمْ وَاِمَامَکُمْ مِنْکُمْ.

اس وقت تمہاری کیا شان ہوگی جب حضرت عیسیٰ عليه السلام کا نزول ہوگا اور امام تم میں سے کوئی شخص ہوگا۔ (صحیح مسلم، کتاب الایمان، باب بیان نزول عیسیٰ بن مریم حاکما بشریعة نبینا محمد صلى الله عليه وسلم، حدیث:۳۹۲)

۱۱- حضرت ابوہریرہ رضى الله تعالى عنه سے روایت ہے کہ آنحضرت صلى الله عليه وسلم نے فرمایا:

لاَتَقُوْمَ السَّاعَةُ حَتّٰی یَقْتَتِلَ فِئَتَانِ فَیَکُوْنَ بَیْنَہُمَا مَقْتَلَةٌ عَظِیْمَةٌ، دَعْوَاہُمَا وَاحِدَةٌ، وَلاَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ حَتّٰی یُبْعَثَ دَجَّالُوْنَ کَذَّابُوْنَ قَرِیْبًا مِنْ ثَلاَثِیْنَ، کُلُّہُمْ یَزعُمُ أَنَّہ رَسُوْلُ اللّٰہ.

قیامت اُس وقت تک قائم نہ ہوگی جب تک دو گروہ آپس میں نہ لڑیں، دونوں میں بڑی جنگ ہوگی اور دونوں کا دعویٰ ایک ہوگا اور قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی جب تک تیس کے قریب جھوٹے دجال ظاہر نہ ہولیں۔ ہر ایک یہ کہے گا میں اللہ کا رسول ہوں۔ (صحیح بخاری، کتاب المناقب، باب علامات النبوة فی الاسلام، حدیث: ۳۵۷۱)

۱۲- حضرت ابوہریرہ رضى الله تعالى عنه سے روایت ہے کہ حضور خیرالانام صلى الله عليه وسلم کا ارشادِ گرامی ہے:

لَمْ یَبْقَ مِنَ النَّبُوَّةَ اِلاَّ الْمُبَشِّرَاتُ قَالُوْا، وَمَا الْمُبَشِّرَاتُ قَالَ: الرُّوٴْیَا الصَّالِحَةُ.

نبوت میں سے (میری وفات کے بعد) کچھ باقی نہ رہے گا مگر خوش خبریاں رہ جائیں گی۔ لوگوں نے عرض کیا خوشخبریاں کیا ہیں؟ آپ نے فرمایا اچھے خواب۔ (صحیح بخاری، کتاب التعبیر، باب المبشرات، حدیث:۶۹۹۰)

۱۳- حضرت ابواُمامہ الباہلی رضى الله تعالى عنه سے مروی ایک روایت میں ہے کہ حضور ختمی المرتبت صلى الله عليه وسلم نے ایک خطبہ میں یہ الفاظ ارشاد فرمائے:

أَنَا اٰخِرُ الْأَنْبِیَاءِ، وَأَنْتُمْ اٰخِرُ الأُمَمِ.

میں آخری نبی ہوں اور تم آخری اُمت ہو۔ (سنن ابن ماجہ، ابواب الفتن، باب فتنہ الدجال وخروج عیسیٰ ابن مریم وخروج یأجوج ومأجوج، حدیث: ۴۰۷۷، المستدرک للحاکم حدیث:۸۶۲۱)

۱۴- حضرت عرباض بن ساریہ رضى الله تعالى عنه سے روایت ہے کہ حضور خیرالانام صلى الله عليه وسلم نے ارشاد فرمایا:

اِنِّیْ عَبْدُ اللّٰہِ وَخَاتَمَ النَّبِیِّیْن.

بیشک میں اللہ کا بندہ ہوں اور انبیاء کرام کا خاتم ہوں۔ (المستدرک للحاکم، تفسیر سورة الاحزاب، حدیث: ۳۵۶۶، جلد:۷، ص:۴۵۳۔ مسند احمد، حدیث عرباض بن ساریہ، جلد۴، ص:۱۲۷)

۱۵- حضرت ابوہریرہ رضى الله تعالى عنه سے روایت ہے کہ حضور خاتم الانبیاء علیہ التحیة والثناء نے ارشاد فرمایا:

نَحْنُ الآخِرُوْنَ مِنْ أَہْل الدُّنْیَا، وَالأَوَّلُوْنَ یَوْمَ الْقِیَامَةِ، الْمُقْضِیُّ لَہُمْ قَبْلَ الْخَلاَئِقِ.

ہم (امت محمدیہ صلى الله عليه وسلم) اہل دنیا میں سے سب سے آخر میں آئے ہیں اور روزِ قیامت کے وہ اولین ہیں جن کا تمام مخلوقات سے پہلے حساب کتاب ہوگا۔ (صحیح مسلم، کتاب الجمعة، باب ہدایة ہذہ الأمة لیوم الجمعة، حدیث: ۱۹۸۲)

۱۶- حضرت ضحاک بن نوفل رضى الله عنه راوی ہیں کہ حضور نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے ارشاد فرمایا:

لاَ نَبِیَّ بَعْدِیْ وَلاَ اُمَّةَ بَعْدَ اُمَّتِیْ.

میرے بعد کوئی نبی نہیں اور میری اُمت کے بعد کوئی امت نہیں ہوگی۔ (المعجم الکبیر للطبرانی، عن ضحاک بن رمل الجہنی، حدیث: ۸۱۴۶، ج:۸، ص:۳۰۳)

۱۷- حضرت ابوہریرہ رضى الله تعالى عنه راوی ہیں کہ حضور ختمی المرتبت صلى الله عليه وسلم نے ارشاد فرمایا:

کُنْتَ أَوَّلَ النَّبِیِّیْن فِی الْخَلْقِ وَاٰخِرُہُمْ فِیْ البَعْثِ.

میں خلقت کے اعتبار سے انبیاء کرام میں پہلا ہوں اور بعثت کے اعتبار سے آخری ہوں۔ (الفردوس بمأثور الخطاب للدیلمی، حدیث: ۴۸۵۰، ۳:۲۸۲، حدیث: ۷۱۹۰، ۴:۴۱۱)

۱۸- حضرت عبداللہ بن مسعود رضى الله تعالى عنه سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے انہیں درود شریف کے یہ الفاظ سکھائے:

اَللّٰہُمَّ اجْعَلْ صَلاَتَکَ وَرَحْمَتَکَ وَبَرَکَاتِکَ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ، وَاِمَامَ الْمُتَّقِیْنَ وَخَاتَمَ النَّبِیِّیْنَ، مُحَمَّدٍ عَبْدِکَ وَرَسُوْلِکَ اِمَامَ الْخَیْرِ، (وَقَائِدِ) الْخَیْرِ، وَرَسُوْلِ الرَّحْمَةِ، اَللّٰہُمَّ ابْعَثْہُ مَقَامًا مَحْمُوْدًا یَغْبِطُہ بِہِ الأَوَّلُوْنَ وَالاٰخِرُوْنَ (اسکے بعد پورا درود ابراہیمی ہے)

الٰہی اپنا درود ورحمت اور برکات رسولوں کے سردار، متقیوں کے امام ابو نبیوں کے خاتم محمد پر نازل فرما جو تیرے بندے اور رسول اور امام الخیر اور (قائد) الخیر اور رسول رحمت ہیں۔ الٰہی آپ صلى الله عليه وسلم کو اس مقام محمود پر فائز فرما جس پر اولین وآخرین رشک کرتے ہیں۔ (سنن ابن ماجہ، ابواب اقامة الصلوٰة والسنة فیہا، باب ما جاء فی التشہد، حدیث:۹۰۶)

۱۹- حضرت ابن عباس رضى الله تعالى عنه سے روایت ہے:

لَمَّا مَاتَ اِبْرَاہِیْمُ ابْنُ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلى الله عليه وسلم صَلَّی رَسُوْلُ اللّٰہ صلى الله عليه وسلم وَقَالَ: اِنَّ لَہ مُرْضِعًا فِی الْجَنَّةِ وَلَوْ عَاشَ لَکَانَ صِدِّیْقًا نَبِیًّا.

جب اللہ کے پیغمبر صلى الله عليه وسلم کے صاحبزادے ابراہیم کا انتقال ہوا تو آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: اس کے لئے جنت میں ایک دودھ پلانے والی (کا انتظام) ہے۔ اگر وہ زندہ رہتا تو سچا نبی ہوتا۔ (سنن ابن ماجہ، ابواب ما جاء فی الجنائز، باب ما جاء فی الصلاة علی ابن رسول اللہ صلى الله عليه وسلم وذکر وفاتہ، حدیث:۱۵۱۱)

۲۰- امام ابن ماجہ سے مروی روایت میں حضرت ابراہیم رضى الله تعالى عنه کے بارے میں ہے:

مَاتَ وَہُوَ صَغِیْرٌ وَلَوْ قُضِیَ أَنْ یَکُوْنَ بَعْدَ مُحَمَّدٍ صلى الله عليه وسلم نَبِیٌّ لَعَاشَ ابْنُہ، وَلٰکِنْ لاَ نَبِیَّ بَعْدَہُ.

ابراہیم رضى الله تعالى عنه کا انتقال ہوا جب وہ چھوٹے تھے۔ اگر فیصلہ (تقدیر) یہ ہوتا کہ حضرت محمد صلى الله عليه وسلم کے بعد کوئی نبی ہو تو ان کا صاحبزادہ زندہ رہتا۔ لیکن آپ صلى الله عليه وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔ (سنن ابن ماجہ، ابواب ما جاء فی الجنائز، باب ما جاء فی الصلاة علی ابن رسول اللہ صلى الله عليه وسلم وذکر وفاتہ، حدیث:۱۵۱۰)

۲۱- حضرت ابن عباس رضى الله تعالى عنه سے روایت ہے:

اَیُّہَا النَّاسُ اِنَّہ لَمْ یَبْقَ مِنْ مُبَشِّرَاتِ النَّبُوَّةِ اِلاَّ الرُّوٴْیَا الصَّالِحَةُ یَرَاہَا الْمُسْلِمُ أَوْ تُرٰی لَہ.

اے لوگو علاماتِ نبوت میں سے صرف رویائے صالحہ (سچا خواب) ہی باقی ہے جو مسلمان خود دیکھتا ہے یا اس کے لئے کوئی دیکھتا ہے۔ (سنن ابن ماجہ، ابواب تعبیر الرؤیا، حدیث:۳۸۹۹، صحیح مسلم کتاب الصلوٰة، باب النہی عن قرأة القرآن فی الرکوع والسجود، حدیث:۱۰۷۴)

۲۲- حضرت سعد بن ابی وقاص رضى الله تعالى عنه سے روایت ہے:

خَلَّفَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلى الله عليه وسلم عَلِیَّ بْنَ اَبِیْ طَالِبٍ، فِی غَزْوَةِ تَبُوْکَ، فَقَالَ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! تَخَلَّفْنِیْ فِی النِّسَآءِ وَالصِّبْیَانِ؟ فَقَالَ: اَمَا تَرْضٰی أَنْ تَکُوْنَ مِنِّیْ بِمَنْزِلَةِ ہٰرُوْنَ مِنْ مُوْسٰی؟ غَیْرَ أَنَّہ لاَ نَبِیَّ بَعْدِیْ.

نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے غزوئہ تبوک میں حضرت علی بن ابی طالب رضى الله تعالى عنه کو ساتھ نہیں لیا بلکہ گھر پر چھوڑدیا تو انھوں نے عرض کیا، اے اللہ کے رسول صلى الله عليه وسلم آپ نے مجھے عورتوں اور بچوں کے ساتھ چھوڑ دیا۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: کیا تم اس پر راضی نہیں کہ تم میرے ساتھ ایسے ہوجاؤ جیسے ہارون، موسیٰ کے ساتھ لیکن میرے بعد نبوت نہیں۔ (صحیح مسلم، کتاب فضائل الصحابة، باب من فضائل علی بن ابی طالب رضى الله تعالى عنه ، حدیث:۶۲۱۸-۶۲۲۱)

۲۳- ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضى الله تعالى عنها سے روایت ہے کہ حضور خاتم الانبیاء علیہ التحیة والثناء نے ارشاد فرمایا:

قَدْ کَانَ یَکُوْنُ فِی الأُمَمِ قَبْلَکُمْ، مَحَدَّثُوْنَ، فَاِنْ یَکُنْ فِیْ اُمَّتِیْ مِنْہُمْ اَحَدٌ فَاِنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ مِنْہُمْ، قَالَ: ابْنُ وَہْبٍ: تَفْسِیْرُ مُحَدَّثُوْنَ، مُلْہَمُوْنَ.

تم سے پہلے پچھلی اُمتوں میں محدث تھے۔ اگر اس امت میں کوئی محدث ہوگا تو وہ عمر بن الخطاب ہیں۔ ابن وہب نے کہا محدث اس شخص کو کہتے ہیں جس پر الہام کیا جاتا ہو۔ (صحیح مسلم، کتاب فضائل الصحابة۔ باب من فضائل عمر رضى الله تعالى عنه، حدیث:۶۲۰۴)

۲۴- حضرت عقبہ بن عامر رضى الله تعالى عنه سے روایت ہے کہ رسول اکرم صلى الله عليه وسلم نے فرمایا:

لَوْ کَانَ نَبِیٌّ بَعْدِیْ لَکَانَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ.

اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو وہ عمر بن خطاب ہوتے۔ (جامع ترمذی، ابواب المناقب، باب قولہ صلى الله عليه وسلم: ”لو کان نبی بعدی لکان عمر“ حدیث:۳۸۸۶)

۲۵- حضرت ام کرز الکعبیة رضى الله تعالى عنها سے روایت ہے کہ انھوں نے حضور ختی المرتبت صلى الله عليه وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا:

ذَہَبَت النَّبُوَّةُ وَبَقِیَتِ الْمُبَشِّرَاتُ.

نبوت ختم ہوگئی، صرف مبشرات باقی رہ گئے۔ (سنن ابن ماجہ، ابواب تعبیر الرؤیا، حدیث:۳۸۹۶)

۲۶- حضرت ابوہریرہ رضى الله تعالى عنه راوی ہیں کہ حضور نبی کریم صلى الله عليه وسلم کا فرمان ہے:

فَاِنِّیْ آخِرُ الْاَنْبِیَاءِ، وَاِنَّ مَسْجِدِیْ آخِرُ الْمَسَاجِدِ.

بے شک میں آخر الانبیاء ہوں، اور میری مسجد آخرالمساجد ہے۔ (صحیح مسلم،کتاب الحج، باب فضل الصلوٰة بمسجدی مکة والمدینة، حدیث:۳۳۷۶)

۲۷- حضرت نعیم بن مسعود رضى الله تعالى عنه راوی ہیں کہ حضور خاتم النّبیین صلى الله عليه وسلم نے اپنے بعد نبوت کا جھوٹا دعویٰ کرنے والوں کی اطلاع ان الفاظ میں دی:

لاَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ حَتّٰی یَخْرُجَ ثَلاَثُوْنَ کَذَابًا کُلُّہُمْ یَزْعمُ اَنَّہ نَبِیُّ.

قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی جب تک تیس کذاب ظاہر نہ ہوجائیں جن میں سے ہر ایک کا دعویٰ یہ ہو کہ وہ نبی ہے۔ (ابن ابی شیبہ فی مصنفہ، حدیث: ۳۷۵۶۵، ۷/۵۰۳)

۲۸- حضرت ابوذر رضى الله تعالى عنه روایت کرتے ہیں کہ حضور سیدانام صلى الله عليه وسلم نے اُن سے مخاطب ہوکر کہا:

یٰا أَبَا ذَرٍ أَوَّلُ الْاَنْبِیَاء آدَمُ وَآخِرُہ مُحَمَّدٌ.

اے ابوذر! انبیاءِ کرام میں سے پہلے حضرت آدم علیہ السلام ہیں اور سب سے آخری حضرت محمد صلى الله عليه وسلم ہیں۔ (الفردوس بمأثور الخطاب للدیلمی، عن ابوذر، حدیث:۸۵:۱/۳۹)

۲۹- حضرت مصعب بن سعد اپنے والد حضرت سعد رضى الله تعالى عنه سے روایت کرتے ہیں:

أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلى الله عليه وسلم خَرَجَ اِلٰی تَبُوْکَ وَاسْتَخْلَفَ عَلِیًّا فَقَال: أَتُخَلِّفُنِیْ فِی الصِّبْیَانِ وَالنِّسَاءِ؟ قَالَ: أَلاَ تَرْضَی أَنْ تَکُوْنَ مِنِّیْ بِمَنْزِلَةِ ہَارُوْنَ مِنْ مُوْسٰی اِلاَّ أَنَّہ لَیْسَ نَبِیٌّ بَعْدِیْ.

رسول اللہ صلى الله عليه وسلم تبوک کی جانب روانہ ہوئے اور حضرت علی رضى الله تعالى عنه کو اپنی جگہ چھوڑا تو انھوں نے عرض کیا: کیا آپ صلى الله عليه وسلم مجھے بچوں اور عورتوں میں چھوڑے جارہے ہیں؟ آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کیا تو اس پر راضی نہیں کہ تجھے مجھ سے وہی مناسبت ہو جو ہارون کو موسیٰ سے تھی۔ مگر یہ کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ (صحیح البخاری، کتاب المغازی، باب غزوئہ تبوک، حدیث: ۴۴۱۶)

۳۰- حضرت ابوہریرہ رضى الله تعالى عنه سے روایت ہے کہ حضور سیدانامصلى الله عليه وسلم نے ارشاد فرمایا:

فُضِّلَتْ عَلٰی الأَنْبِیَآءِ بِسِتٍّ اُعْطِیْتُ جَوَامِعَ الْکَلِمْ ونُصِرْتُ بِالرُّعْبِ، وَأُحِلَّتْ لِیَ الْمَغَانِمُ، وَجُعِلَتْ لِیْ الأَرْضُ طَہُوْرًا وَمَسْجِدًا، وَأُرْسِلْتُ اِلی الْخَلْقِ کَافَّةً، وَخُتِمَ بِیَ النَّبیُّوْنَ.

مجھے تمام انبیاء کرام پر چھ باتوں میں فضیلت دی گئی اوّل یہ کہ مجھے جوامع الکلم دئیے گئے اور دوسرے یہ کہ رُعب سے میری مدد کی گئی۔ تیسرے میرے لئے غنیمت کا مال حلال کردیاگیا۔ چوتھے میرے لئے تمام زمین پاک اور نماز پڑھنے کی جگہ بنادی گئی۔ پانچویں میں تمام مخلوق کی طرف نبی بنا کر بھیجا گیا ہوں۔ چھٹے یہ کہ مجھ پر انبیاء کا سلسلہ ختم کردیاگیا۔ (صحیح مسلم، کتاب المساجد، باب المساجد وموضع الصلاة، حدیث:۱۱۶۷)

۳۱- حضرت ابو ہریرہ رضى الله تعالى عنه بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے ارشاد فرمایا:

اِنَّ بَنِیْ اِسْرَائِیْلَ کَانَتْ تَسُوْسُہُمْ اَنْبِیَائُہُم کُلَّمَا ذَہَبَ نَبِیٌّ خَلْفَہ نَبِیُّ وَّ اِنَّہ لَیْسَ کَائِنًا فِیْکُمْ نَبِیٌّ بَعْدِیْ.

بنی اسرائیل کا نظام حکومت ان کے انبیاء کرام چلاتے تھے جب بھی ایک نبی رخصت ہوتا تو اس کی جگہ دوسرا نبی آجاتا اور بے شک میرے بعد تم میں کوئی نبی نہیں آئے گا۔ (ابوبکر عبداللہ بن محمد ابی شیبہ، امام، المصنف، جلد۱۵، ص:۵۸۔ کراچی: ادارة القرآن ۱۴۰۶ھ)

۳۲- حضرت سعد رضى الله تعالى عنه روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے حضرت علی رضى الله تعالى عنه سے ارشاد فرمایا:

أَمَا تَرْضٰی أَنْ تَکُوْنَ مِنِّیْ بِمَنْزِلَةِ ہَارُوْنَ مِنْ مُوْسٰی غَیْرَ اَنَّہ لاَ نَبِیَّ بَعْدِیْ.

کیا تم اس پر راضی نہیں کہ تم میرے لیے ایسے ہو جیسے موسیٰ کے لیے ہارون تھے۔ مگر یہ کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔ (صحیح مسلم، کتاب فضائل الصحابة، باب من فضائل علی بن ابی طالب رضى الله تعالى عنه، حدیث: ۶۲۱۸)

۳۳- حضرت جابر بن سمرہ رضى الله تعالى عنه کی روایت کردہ حدیث میں ہے:

وَرَأَیْتُ الْخَاتَمَ عِنْدَ کَتْفِہ مِثْلَ بَیْضَةِ الْحَمَامَةِ یُشْبِہُ جَسَدَہ.

اور میں نے آپ صلى الله عليه وسلم کے کندھے کے پاس کبوتر کے انڈے کے برابر مہر نبوت دیکھی جس کا رنگ
جسم کے رنگ کے مشابہ تھا۔ (صحیح مسلم، کتاب الفضائل، باب فی اثبات خاتم النبوة، حدیث:۶۰۸۴)

۳۴- حضرت ابوہریرہ رضى الله تعالى عنه روایت کرتے ہیں:

قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہ صلى الله عليه وسلم بَیْنَا أَنَا نَائِمٌ أُتِیْتُ خَزَآئِنَ الأَرْضِ فَوُضِعَ فِیْ یَدَیَّ اُسْوَارَانِ مِنْ ذَہَبٍ فَکَبُرَ ا عَلَیَّ وَأَہَمَّانِیْ فَأُوْحِیَ اِلَیَّ أَنِ انْفُخْہُمَا فَنَفَخْتُہُمَا فَذَہَبَا فَأَوَّلْتُہُمَا الْکَذَّابِیْن الَّذِیْنَ أَنَا بَیْنَہُمَا صَاحِبَ صَنْعَآءِ وَصَاحِبُ الْیَمَامَةِ.

رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: میں سویا ہوا تھا، میرے پاس زمین کے خزانے لائے گئے اور میرے ہاتھوں میں سونے کے دو کنگن رکھے گئے جو مجھے بہت بھاری لگے اور میں ان سے متفکرہوا، پھر مجھے وحی کی گئی کہ میں ان کو پھونک مار کر اُڑادوں۔ میں نے پھونک ماری تو وہ اڑگئے۔ میں نے اس خواب کی یہ تعبیر لی کہ میں دو کذابوں کے درمیان ہوں۔ ایک صاحب صنعاء ہے اور دوسرا صاحب یمامہ۔ (صحیح مسلم، کتاب الروٴیا، حدیث:۵۹۳۶)

۳۵- حضرت ابن عباس رضى الله تعالى عنه سے مروی ایک حدیث مبارکہ کے آخر میں ہے:

فَأْوَّلْتُہُمَا کَذَّابَیْن یَخْرُجَانِ مِنْ بَعْدِیْ فَکَانَ اَحَدُہُمَا الْعَنْسِیَّ صَاحِبَ صَنْعَآءَ وَالآخَرُ مُسَیْلِمَةَ صَاحِبُ الْیَمَامَةِ.

میں نے اس کی یہ تعبیر لی کہ میرے بعد دو جھوٹے شخصوں کا ظہور ہوگا۔ ایک ان میں سے صنعاء کا رہنے والا عنسی ہے دوسرا یمامہ کا رہنے والا مسیلمہ ہے۔ (صحیح مسلم، کتابالروٴیا، حدیث:۵۸۱۸- ۲۲۷۴)

۳۶- حضرت وہب بن منبہ حضرت ابن عباس رضى الله تعالى عنه سے ایک طویل حدیث کے ذیل میں روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے ارشاد فرمایا کہ قیامت کے دن حضرت نوح عليه السلام کی امت کہے گی:

وَأَنّٰی عَلِمْتَ ہٰذَا یَا أَحْمَدُ وَأَنْتَ وَأُمَّتُکَ آخِرُ الأُمَمِ.

اے احمد! آپ کو یہ کیسے معلوم ہوا؟ حالانکہ آپ صلى الله عليه وسلم اور آپ کی اُمت اُمتوں میں آخری ہیں۔ (المستدرک للحاکم، باب ذکر نوح النبی، حدیث: ۴۰۱۷-۲،۵۹۷)

۳۷- حضرت سعد بن ابی وقاص رضى الله تعالى عنه بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے حضرت علی رضى الله تعالى عنه کے متعلق فرمایا:

أَنْتَ مِنِّیْ بِمَنْزِلَةِ ہَارُوْنَ مِنْ مُوْسٰی اِلاَّ اَنَّہ لاَ نَبِیْ بَعْدِیْ.

تم میرے لیے ایسے ہو جیسے موسیٰ عليه السلام کیلئے ہارون عليه السلام تھے۔ سنو بلاشبہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔

اس روایت کی بابت راوی کے استفسار پر حضرت سعد نے فرمایا: ”میں نے اس حدیث کو خود سُنا ہے۔“ انھوں نے اپنی دونوں انگلیاں کانوں پر رکھیں اور کہا اگر میں نے خود نہ سُنا ہوتو میرے دونوں کان بہرے ہوجائیں۔ (صحیح مسلم، کتاب فضائل الصحابة، باب من فضائل علی بن ابی طالب رضى الله تعالى عنه، حدیث: ۶۰۹۵)

۳۸- حضرت علی المرتضیٰ رضى الله تعالى عنه کی روایت کردہ ایک طویل حدیث مبارکہ میں ہے:

بَیْنَ کَتِفَیْہ خَاتَمُ النُّبُوَّةِ وَہُوَ خَاتَمُ النَّبِیِّیْنَ.

حضور اکرم صلى الله عليه وسلم کے دونوں شانوں کے درمیان مہر نبوت ہے اور آپ صلى الله عليه وسلم آخری بنی ہیں۔ (جامع الترمذی، ابواب المناقب، باب وصف آخر من علی رضى الله تعالى عنه، حدیث:۳۶۳۸)

۳۹- حضرت عامر اپنے والد حضرت سعد بن ابی وقاص رضى الله تعالى عنه سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے حضرت علی رضى الله تعالى عنه سے فرمایا:

أَنْتَ مِنِّیْ بِمَنْزِلَةِ ہَارُوْنَ مِنْ مُوْسٰی، اِلاَّ اَنَّہ لاَ نَبِیَّ بَعْدِیْ.

تم میرے ساتھ ایسے ہو جیسے ہارون موسیٰ کے ساتھ تھے مگر میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوسکتا۔ (صحیح مسلم، کتاب فضائل الصحابة، باب من فضائل علی بن أبی طالب رضى الله تعالى عنه، حدیث: ۶۲۱۷۔ سنن ابن ماجہ، کتاب السنة، باب فی فضائل اصحاب رسول اللہ صلى الله عليه وسلم، فضل علی بن أبی طالب رضى الله تعالى عنه، حدیث:۱۲۱)

۴۰- علامہ علاء الدین علی المتقی نے ”کنزالعمال فی سنن الاقوال والافعال“ میں حضور اکرم صلى الله عليه وسلم کا یہ قول رقم کیا ہے:

لا نبی بعدی ولا أمة بعدکم، فاعبدوا ربکم، أقیموا خمسکم وصوموا شہرکم، وأطیعوا ولاة أمرکم، أدخلوا جنة ربکم.

میرے بعد کوئی نبی نہیں اور نہ ہی تمہارے بعد کوئی اُمت، پس تم اپنے رب کی عبادت کرو اور پنج گانہ نماز قائم کرو اور اپنے پورے مہینے کے روزے رکھو اور اپنے اولوالامر کی اطاعت کرو، (پس) اپنے رب کی جنت میں داخل ہوجاؤ۔ (علی المتقی الہندی کنز العمال فی سنن الاقوال والافعال، حدیث: ۴۳۶۳۸، بیروت: موسوعة الرسالة، ۱۴۰۵ھ/۱۹۸۵/ ج:۱۵، ص:۹۴۷)

۴۱- علاء الدین علی المتقی نے ”کنز العمال فی سنن الاقوال والافعال“ میں یہ حدیث نقل کی ہے:

لا نبوة بعدی الا المبشرات، الریا الصالحة.(ایضاً، حدیث ۴۱۴۲۲، ج:۱۵، چ:۳۷۰)

۴۲- علامہ علاؤالدین علی المتقی بن حسام الدین الہندی رحمة الله عليه نے ”کنزالعمال فی سنن الاقوال والافعال“ میں حضور اکرم صلى الله عليه وسلم کا ارشاد نقل کیا ہے:

یا ایہا الناس! انہ لا نبی بعدی ولا امة بعدکم، الا! فاعبدوا ربکم وصلوا خمسکم، وصوموا شہرکم، وصلوا ارحامکم، وادوا زکاة اموالکم طیبة بہا انفسکم، واطیعوا ولاة امرکم، تدخلوا جنة ربکم.

اے لوگو! میرے بعد کوئی نبی نہیں اور نہ ہی تمہارے بعد کوئی اُمت ہے۔ سنو! اپنے رب کی عبادت کرو اور پنجگانہ نماز پڑھو اور اپنے مہینے (رمضان) کے روزے رکھو اور اپنی رشتہ داریاں جوڑو اور اپنے اموال کی زکوٰة خوشدلی سے ادا کرو اور اپنے اولوالامر کی اطاعت کرو، تم جنت میں داخل ہوجاؤگے۔ (علی المتقی الہندی کنزل العمال فی سنن الاقوال والافعال، حدیث: ۴۳۶۳۷، بیروت: موسوعة الرسالة، ۱۴۰۵ھ/۱۹۸۵/، ج:۱۵،ص:۹۴۷)

۴۳- حضرت سعد بن ابی وقاص رضى الله تعالى عنه سے امام احمد بن حنبل نے یہ حدیث مبارکہ نقل کی ہے کہ جب غزوہ تبوک کے موقع پر رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے حضرت علی رضى الله تعالى عنه کو اپنا جانشین مقرر فرمایا تو انھوں نے عرض کیا:

یا رسول اللّٰہ، اتخلفنی فی الخالفة، فی النساء والصبیان؟ فقال: اما ترضی ان تکون منی بمنزلة ہارون من موسیٰ؟ قال: بلی یا رسول اللّٰہ، قال: فادبر علی مسرعا کانی انظر الی غبار قدمیہ یسطع، وقد قال حماد: فرجع علی مسرعا.

یا رسول اللہ! کیا آپ مجھے پیچھے رہ جانے والوں میں (یعنی) عورتوں اور بچوں میں جانشین بنارہے ہیں؟ آپ صلى الله عليه وسلم نے ارشاد فرمایا: کیا تو اس بات سے خوش نہیں کہ تجھے مجھ سے وہی نسبت ہو جو ہارون عليه السلام  کی موسیٰ عليه السلام سے تھی؟ عرض کیا: یا رسول اللہ! کیوں نہیں؟ اُس (راوی) نے کہا: پس علی رضى الله تعالى عنه تیزی سے مُڑے تو میں نے گویا ان کے قدموں کا غُبار اُڑتے دیکھا اور حماد نے کہا: پس علی تیزی سے مُڑے۔ (المسند للامام احمد بن حنبل، حدیث: ۱۴۹۰، احمد محمد شاکر (شرحہ وضع فہارسہ) مصر: دارالمعارف، ۱۳۷۴ھ/۱۹۵۵/، ج:۳،ص:۵۰)

۴۴- امام بیہقی نے السنن الکبریٰ میں، امام طحاوی نے مشکل الآثار میں، علامہ جلال الدین سیوطی نے الدرالمنثور میں، علامہ علی المتقی الہندی نے کنزالعمال میں، امام ہیشمی نے مجمع الزوائد میں حضور ختمی المرتبت صلى الله عليه وسلم کا یہ ارشاد گرامی نقل کیاہے:

لا نبی بعدی ولا أمة بعدک. میرے بعد کوئی نبی نہیں اور تمہارے بعد کوئی اُمت نہیں۔ (زغلول، ابوطاہر محمد السعید بن بسیونی، موسوعة اطراف الحدیث النبوی الشریف، بیروت: دارالفکر،۱۴۱۴ھ/۱۹۹۴/، ج:۷،ص:۲۸)

http://www.ownislam.com/articles/urdu-articles/khatam-e-nabuwat
===========================
مرزا قادیانی کا قرآن کے نام پر شرمناک جھوٹ:
مرزا کہتا ہے کہ :

”تين شہروں کا نام اعزاز کے ساتھ قرآن شريف میں درج کیا گيا ہے ،مکہ ،مدينہ اور قادیان۔

تذکرہ ص60،وازالہ اوہام ص143ز مرزا قادیانی

ہر قرآن کریم پڑھنے والا جانتا ہے کہ قادیان نام کا کوئی لفظ محمد عربی ﷺ پر حضرت جبرائیل علیہ السلام کے واسطے سے نازل شدہ قرآن مجيد میں نہیں۔لہٰذا آپ کا کوئی بھی قادیانی جان پہچان والا یا آپ کا استاذ ہو تو سب کے سامنے اس جھوٹ کا ذکر کریں اور اسے کہیں کہ اس جھوٹ کو سچا ثابت کریں یا مرزائیت کا ماتم کریں اور ساتھ ہی مرزا کی مندرجہ ذیل عبارتيں بھی زور زور سے پڑھ کر اس مرزائی کو سنائیں:

جھوٹ بولنا مترد ہونے سے کم نہیں (ضمیمہ تحفہ گولڑویہ وخ ص56ج22)


قرآن و سنّت کے گستاخ:
امام ابو حنیفہ رح  (٨٠-١٥٠ ھ ) کے زمانہ میں ایک شخص نے نبوت کا دعوا کیا اور کہا:
"مجھے موقع دو کہ میں اپنی نبوت کی نشانیاں پیش کروں."

اس پر امامِ اعظم  رح  نے فرمایا:
 جو شخص اس سے نبوت کی نشانی طلب کریگا، وہ بھی کافر ہوجاتے گا...کیونکہ نبی (صلی الله علیہ  وسلم) فرما چکے ہیں: "میرے بعد کوئی نبی نہیں."
-----------------------
علامہ ابنِ جریر طبری رح (٢٢٤-٣١٠ھ) اپنی مشھور تفسیر القرآن میں فرماتے ہیں:
رسول کریم صلی الله علیہ  وسلم نے نبوت کو ختم کردیا، اس پر مہر لگادی، اب قیمت تک یہ دروازہ کسی کے لئے نہیں کھلے گا.
-----------------------
امام طحاوی  رح  (٢٣٩-٣٢١ھ) اپنی کتاب "عقیدہ سلفیہ" میں بیان کرتے ہیں کہ:
"محمد صلی اللھ علیہ  وسلم الله کے برگزیدہ بندے، چیدہ نبی اور پسندیدہ رسول ہیں، اور وہ خاتم النبیین، متقیوں کے امام، سید المرسلین، حبیب رب العالمین  ہیں،اور ان کے بعد نبوت کا ہر دعوا گمراہی خواھشِ نفس کی بندگی ہے."
----------------------
علامہ ابنِ حزم اندلسی رح (٣٨٥-٤٥٤ھ) یقیناً  وحی  کا سلسلہ وفاتِ نبیؐ کے بعد ختم ہو چکا ہے، دلیل اس کی یہ ہے کہ وحی صرف ایک "نبی" کی طرف آتی ہے اور الله تعالیٰ  فرما چکا ہے کہ "محمد (صلی الله علیہ  وسلم) نہیں ہیں تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ، مگر وہ الله کے رسول اور نبیوں کے خاتم (سلسلہ نبوت کو ختم کرنے والے) ہیں."[الاحزاب:٤٠]
----------------------
امام غزالی رح (٤٥٠-٥٠٥ھ) فرماتے ہیں:
نبی صلی الله علیہ  وسلم کے بعد نہ کوئی نبی آۓ گا نہ رسول، اور اس میں کسی قسم کی طویل کی کوئی گنجائش نہیں."
----------------------
محی السنّه امام بغوی رح (٥٤٠ھ) اپنی تفسیر  "معالم التنزیل" میں لکھتے ہیں:
الله نے آپ صلی الله علیہ  وسلم کے ذریعے ختم کیا، بس آپ انبیاء کے خاتم ہیں. اور حضرت ابن عباس رضی الله عنہ  کا قول ہے کہ الله تعالیٰ  نے فیصلہ فرمادیا ہے کہ نبی صلی الله علیہ  وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا.
----------------------
علامہ زمخشری رہ (٤٦٧-٥٣٨ھ) "تفسیر کشاف" میں لکھتے ہیں:
اگر تم کہو کہ نبی صلی الله علیہ  وسلم آخری نبی کیسے ہوتے، جبکہ حضرت عیسیٰ  علیہ السلام آخری زمانہ میں نازل ہونگے، تو میں کہونگا کہ آپ صلی الله علیہ  وسلم کا آخری نبی ہونا اس معنا  میں ہے کہ آپ صلی اللھ علیہ  وسلم کے بعد کوئی شخص نبی" نہیں بنایا جاۓ گا اور حضرت عیسیٰ  علیہ  السلام ان لوگوں میں ہیں جو آپ صلی الله علیہ  وسلم سے پہلے نبی بناۓ جا" چکے تھے اور جب وہ نازل ہونگے تو شریعتِ محمدیہؐ کے پیرو اور آپ کے قبلہ کی طرف نماز پڑھنے والے کی حثیت سے نازل ہونگے گویا کہ وہ آپ صلی الله علیہ  وسلم ہی کی امت کے ایک فرد ہیں."
----------------------
قاضی عیاض  رح  (٥٤٤ھ) لکھتے ہیں:
جو شخص خود اپنے حق میں نبوت کا دعوا  کرے یا اس بات کو جائز رکھے کہ آدمی اپنی کوشش سے نبی بن سکتا ہے اور دل کی صفائی کے ذریعہ سے مرتبہِ نبوتؐ کو پہنچ سکتا ہے، جیسا کہ بعض  فلسفی اور غالی صوفی کہتے ہیں، اور اس طرح جو شخص نبوت کا دعوا  کرے کہ اس پر وحی  آتی ہے، ایسے سب لوگ کافر ہیں اور نبی صلی الله علیہ  وسلم (کی ختمِ نبوت) کو جھٹلانے والے ہیں، کیونکہ آپ صلی الله علیہ  وسلم نے خبر دی ہے کہ آپ خاتم النبیین ہیں اور آپ کے بعد کوئی نبی آنے والا نہیں.اور اپ نے الله تعالیٰ  کی طرف سے یہ خبر پہنچائی ہے کہ "(آپ) نبوت کو ختم کرنے والے ہیں.[الاحزاب:٤٠]
==================================
قادیانی قرآن و سنّت کے گستاخ:
ہم کہتے ہیں کہ قرآن کہاں موجود ہے؟ اگر قرآن موجود ہوتا تو کسی (نۓ  نبی) کے آنے کی کیا ضرورت تھی؟ مشکل تو یہی ہے کہ قرآن سنیا سے اٹھ گیا ہے، اسی لئے تو ضرورت پیش آئی  کہ محمد رسول الله کو بروزی طور پر (مرزا غلام احمد قادیانی کے روپ میں) دوبارہ دنیا میں مبعوث کرکے آپ پر قرآن شریف اٹھارہ جاۓ. [کلمت الفصل : صفحہ # ١٧٣،از صاحبزادہ مرزا بشیر احمد ایم.اے ابن مرزا قادیانی]

تائیدی طور پر ہم وہ حدیثیں بھی پیش کرتے ہیں جو قرآن شریف کے مطابق ہیں اور "میری وحی کے معارض (ٹکراتی) نہیں" اور دوسری حدیثوں کو ہم ردی کی کی طرح پھینک دیتے ہیں." [اعجاز احمدی : صفحہ # ٣٠-مندرجہ روحانی خزین : جلد # ١٩، صفحہ # ١٤٠، مرزا قادیانی]
==================================
اہلِ بیتؓ اور صحابہِؓ رسولؐ کے گستاخ قادیانی؛

١) بعض "ناداں" صحابی جن کو درایت سے کچھ حصہ نہ تھا.
[ضمیمہ براہینِ احمدیہ: حصہ پنجم، صفحہ # ٢٨٥، مندرجہ روحانی خزائن :٢١/٢٨٥ از مرزا قادیانی]


٢)  ابو بکر و عمر کیا تھے، وہ تو حضرت غلام احمد (مرزا) کی جوتیوں کے تسمہ کھولنے کے بھی لائق نہ تھے.

[ماہنامہ المہدی: جنوری-فروری ١٩١٥ع، صفحہ # ٧٥، احمدیہ انجمن اشاعتِ اسلام]

٣) پرانی خلافت کا جھگڑا چھوڑو اب نئی  خلافت کرلو، ایک زندہ علی تم میں موجود ہے، اس کو چھوڑتے ہو اور مردہ علی  کو تلاش کرتے ہو.
[ملفوظاتِ احمدیہ:١/٤٠٠]

٤) اے عیسائی میشنریو! اب "ربنا المسیح" مت کرو اور دیکھو کہ آج تم میں ایک ہے جو اس مسیح سے بڑھ کر ہے
اور
اے قومِ شیعہ! اس پر اصرار مت کرو کہ حسین تمہارا " منجی (نجات  دینے والا) ہے، کیونکہ میں سچ سچ کہتا ہوں کہ آج تم میں ایک ہے جو اس حسین سے بہتر ہے. [دافع البلاء : ١٧، مندرجہ روحانی خزائن ١٨/٢٣٣]؛

کربلا است سر ہر آنم؛
صد حسین است در گریبانم؛

ترجمہ: میریسیر ہر وقت کربلا میں ہے، سو (١٠٠) حسین میری جب میں ہیں.
[نزول  المسیح: ٩٩؛ مندرجہ روحانی خزائن: ١٨/٤٤٧]

٥) حضرت بیبی فاطمہ الزھراء رضی الله عنہا کی ذات کے بارے میں مرزا قادیانی نے جو بکواس [ایک غلطی کا ازالہ : حاشیہ  صفحہ #١١؛ مندرجہ روحانی خزائن : حاشیہ ١٩/٢١٣ پر] جو بکواس کی ہے اسے قلم لکھنے سے قاصر ہے.

No comments:

Post a Comment