Friday, 1 January 2016

الله کے اچھے نام


اسمائے حسنیٰ کے ساتھ دعا کا حکم:
وَلِلَّهِ الأَسماءُ الحُسنىٰ فَادعوهُ بِها ۖ وَذَرُوا الَّذينَ يُلحِدونَ فى أَسمٰئِهِ ۚ سَيُجزَونَ ما كانوا يَعمَلونَ {7:180}
اور اللہ کے سب نام اچھے ہی اچھے ہیں۔ تو اس کو اس کے ناموں سے پکارا کرو اور جو لوگ اس کے ناموں میں کجی اختیار کرتے ہیں ان کو چھوڑ دو۔ وہ جو کچھ کر رہے ہیں عنقریب اس کی سزا پائیں گے
غافلین کا حال ذکر کر کے مومنین کو متنبہ فرمایا ہے کہ تم غفلت اختیار نہ کرنا۔ غلفت دور کرنے والی چیز اللہ کی یاد ہے سو تم ہمیشہ اس کو اچھے ناموں سے پکارو اور اچھی صفات سے یاد کرو جو لوگ اس کے اسماء و صفات کے بارہ میں کج روش اخیتارکرتے ہیں انہیں چھوڑ دو وہ جیسا کریں گے ویسا بھریں گے۔ اللہ کے ناموں اور صفتوں کے متعلق کجروی یہ ہے کہ اللہ پر ایسے نام یا صفت کا اطلاق کرے جس کی شریعت نے اجازت نہیں دی اور جو حق تعالیٰ کی تعظیم و اجلال کے لائق نہیں۔ یا اس کے مخصوص نام اور صفت کا اطلاق غیر اللہ پر کرے، یا ان کے معانی بیان کرنے میں بے اصول تاعل اور کھینچ تان کرے۔ یا ان کو معصیت (مثلًا سحر وغیرہ) کے مواقع میں استعمال کرنے لگے۔ یہ سب کجروی ہے۔

اللَّهُ لا إِلٰهَ إِلّا هُوَ ۖ لَهُ الأَسماءُ الحُسنىٰ {20:8}
(وہ معبود برحق ہے کہ) اس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ اس کے (سب) نام اچھے ہیں
آیات بالا میں جو صفات حق تعالیٰ کی بیان ہوئی ہیں (یعنی اس کا خالق الکل ، مالک علی الاطلاق ، رحمٰن ، قادر مطلق اور صاحب علم محیط ہونا) ان کا اقتضاء یہ ہے کہ الوہیت بھی تنہا اسی کا خاصہ ہو بجز اس کےکسی دوسرے کے آگے سر عبودیت نہ جھکایا جائے ۔ کیونکہ نہ صرف صفات مذکورہ بالا بلکہ کل عمدہ صفات اور اچھے نام اسی کی ذات منبع الکمالات کے لئے مخصوص ہیں۔ کوئی دوسری ہستی اس شان و صفت کی موجود نہیں جو معبود بن سکے۔ نہ ان صفتوں اور ناموں کےتعدد سے اس کی ذات میں تعدد آتا ہے۔ جیسا کہ بعض جہال عرب کا خیال تھا کہ مختلف ناموں سے اللہ کو پکارنا دعوےٰ توحید کے مخالف ہے۔

هُوَ اللَّهُ الخٰلِقُ البارِئُ المُصَوِّرُ ۖ لَهُ الأَسماءُ الحُسنىٰ ۚ يُسَبِّحُ لَهُ ما فِى السَّمٰوٰتِ وَالأَرضِ ۖ وَهُوَ العَزيزُ الحَكيمُ {59:24}
وہی اللہ (تمام مخلوقات کا) خالق۔ ایجاد واختراع کرنے والا صورتیں بنانے والا اس کے سب اچھے سے اچھے نام ہیں۔ جتنی چیزیں آسمانوں اور زمین میں ہیں سب اس کی تسبیح کرتی ہیں اور وہ غالب حکمت والا ہے
صفات الہٰیہ کا بیان:"خالق" و "باری" کے فرق کی طرف ہم نے سورۃ "بنی اسرائیل" کی آیت { ویسئلونک عن الروح قل الروح من امرربّی } الخ کے فوائد میں کچھ اشارہ کیا ہے۔
یعنی جیسا کہ نطفہ پر انسان کی تصویر کھینچ دی۔
یعنی وہ نام جو اعلیٰ درجہ کی خوبیوں اور کمالات پر دلالت کرتے ہیں۔
اسماء الہٰی: یعنی زبانِ حال سے یا قال سے بھی جس کو ہم نہیں سمجھتے۔
تمام کمالات و صفاتِ الہٰیہ کا مرجع ان دو صفتوں "عزیز" اور "حکیم" کی طرف ہے۔ کیونکہ "عزیز" کمال قدرت پر اور "حکیم" کمال علم پر دلالت کرتا ہے۔ اور جتنے کمالات ہیں علم اور قدرت سے کسی نہ کسی طرح وابستہ ہیں۔ روایات میں سورۃ "حشر" کی ان تین آیتوں (ھو اللہ الذی لآ الٰہ الاّ ھو سے آخر تک) کی بہت فضیلت آئی ہے۔ مومن کو چاہیئے کہ صبح و شام ان آیات کی تلاوت پر مواظبت رکھے۔ تم سورۃ الحشر وللہ الحمد والمنہ۔


حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ الْجُوزَجَانِيُّ ، حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ صَالِحٍ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ لِلَّهِ تَعَالَى تِسْعَةً وَتِسْعِينَ اسْمًا مِائَةً غَيْرَ وَاحِدَةٍ مَنْ أَحْصَاهَا دَخَلَ الْجَنَّةَ ، هُوَ اللَّهُ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الرَّحْمَنُ الرَّحِيمُ الْمَلِكُ الْقُدُّوسُ السَّلَامُ الْمُؤْمِنُ الْمُهَيْمِنُ الْعَزِيزُ الْجَبَّارُ الْمُتَكَبِّرُ الْخَالِقُ الْبَارِئُ الْمُصَوِّرُ الْغَفَّارُ الْقَهَّارُ الْوَهَّابُ الرَّزَّاقُ الْفَتَّاحُ الْعَلِيمُ الْقَابِضُ الْبَاسِطُ الْخَافِضُ الرَّافِعُ الْمُعِزُّ الْمُذِلُّ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ الْحَكَمُ الْعَدْلُ اللَّطِيفُ الْخَبِيرُ الْحَلِيمُ الْعَظِيمُ الْغَفُورُ الشَّكُورُ الْعَلِيُّ الْكَبِيرُ الْحَفِيظُ الْمُقِيتُ الْحَسِيبُ الْجَلِيلُ الْكَرِيمُ الرَّقِيبُ الْمُجِيبُ الْوَاسِعُ الْحَكِيمُ الْوَدُودُ الْمَجِيدُ الْبَاعِثُ الشَّهِيدُ الْحَقُّ الْوَكِيلُ الْقَوِيُّ الْمَتِينُ الْوَلِيُّ الْحَمِيدُ الْمُحْصِي الْمُبْدِئُ الْمُعِيدُ الْمُحْيِي الْمُمِيتُ الْحَيُّ الْقَيُّومُ الْوَاجِدُ الْمَاجِدُ الْوَاحِدُ الصَّمَدُ الْقَادِرُ الْمُقْتَدِرُ الْمُقَدِّمُ الْمُؤَخِّرُ الْأَوَّلُ الْآخِرُ الظَّاهِرُ الْبَاطِنُ الْوَالِيَ الْمُتَعَالِي الْبَرُّ التَّوَّابُ الْمُنْتَقِمُ الْعَفُوُّ الرَّءُوفُ مَالِكُ الْمُلْكِ ذُو الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ الْمُقْسِطُ الْجَامِعُ الْغَنِيُّ الْمُغْنِي الْمَانِعُ الضَّارُّ النَّافِعُ النُّورُ الْهَادِي الْبَدِيعُ الْبَاقِي الْوَارِثُ الرَّشِيدُ الصَّبُورُ " [جامع الترمذي » رقم الحديث: 3453 ، صحيح ابن حبان » كِتَابُ الرَّقَائِقِ » بَابُ الأَذْكَارِ ِ... رقم الحديث: 815 ، المستدرك على الصحيحين » رقم الحديث: 39-40 (1 : 16-17 ، السنن الكبرى للبيهقي » رقم الحديث: رقم الحديث: 18241]

ترجمہ : حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے ننانوے یعنی ایک کم سو نام ہیں جو انہیں یاد کرے گا جنت میں داخل ہوگا۔ وہی اللہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں، رحمن، رحیم، بادشاہ، برائیوں سے پاک، بے عیب، امن دینے والا، محافظ، غالب، زبردست، بڑائی والا، پیدا کرنے والا، جان ڈالنے والا، صورت دینے والا، درگزر فرمانے والا، سب کو قابو میں رکھنے والا، بہت عطا فرمانے والا، بہت روزی دینے والا، سب سے بڑا مشکل کشا، بہت جاننے والا، روزی تنگ کرنے والا، عزت دینے والا، ذلت دینے والا، سب کچھ سننے والا، دیکھنے والا، حاکم مطلق، سراپا انصاف، لطف وکرم والا، باخبر، بردبار، بڑا بزرگ، بہت بخشنے والا، قدردان بہت بڑا، محافظ، قوت دینے والا، کفایت کرنے والا، بڑے مرتبے والا، بہت کرم والا، بڑا نگہبان، دعائیں قبول کرنے والا، وسعت والا، حکمتوں والا، محبت کرنے والا، بڑا بزرگ، مردوں کو زندہ کرنے والا، حاضر وناظر، برحق کار ساز، بہت بڑی قوت والا، شدید قوت والا، مددگار، لائق تعریف، شمار میں رکھنے، پہلی بار پیدا کرنے والا، دوبارہ پیدا کرنے والا، موت دینے والا، قائم رکھنے والا، پانے والا، بزرگی والا، تنہا، بے نیاز، قادر، پوری طاقت والا، آگے کرنے والا، پیچھے رکھنے والا، سب سے پہلے، سب کے بعد، ظاہر، پوشیدہ، متصرف، بلند و برتر، اچھے سلوک والا، بہت توبہ قبول کرنیوالا، بدلہ لینے والا، بہت معاف کرنے والا، بہت مشفق، ملکوں کا مالک، جلال واکرام والا، عدل کرنے والا، جمع کرنے والا، بے نیاز، غنی بنانے والا، روکنے والا، ضرر پہنچانے والا، نفع بخش ہدایت دینے والا، بے مثال ایجاد کرنے والا، باقی رہنے والا، نیکی کو پسند کرنے والا، صبر وتحمل والا۔ 
(وہ ان صفات میں کسی کا محتاج نہیں، مگر اس کے محتاج و فقیر ہیں)
 ****************************************

صفاتِ الہٰی کے بیان کا قرآنی اسلوب


وجودِ باری تعالیٰ کے بارے میں انسانوں میں غلط فہمیاں بہت کم پیدا ہوئیں، البتہ صفاتِ الہٰیہ کا صحیح عرفان اور شعور نہ ہونے کی بنا پر لوگ زیادہ کج روی کا شکار ہوئے۔ اس لیے قرآن کریم نے متعدد مقامات پر صفات الہٰی کو بار بار مختلف اسلوب وپیرائے میں بیان کرکے ان کے سلسلہ میں انسانی ذہنوں میں پائی جانے والی کج فہمیوں کا ازالہ کیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ خالق کائنات او رمخلوق کے مابین رشتہ وتعلق کی نوعیت صفات الہٰی ہی سے واضح ہوتی ہے اور ذات بار ی تعالیٰ کا عرفان بھی ان ہی سے حاصل ہوتا ہے ۔ یہ صفات عظمت الہٰی کی اس بلند ترین حقیقت کو آشکارا کرتی ہیں کہ انسان ذات الہٰی کی حقیقت تک پہنچنے میں کتنا عاجز وبے بس ہے ۔ اسی وجہ سے قرآن نے الله تعالیٰ کو ”الاسمآء الحسنٰی“ سے پکارنے کا حکم دیا ( الاسراء110) اور ”الحاد فی الاسماء“ سے منع فرمایا ( الاعراف:180) کیوں کہ یہ الحاد شرک یا کفر کی طرف لے جاتا ہے۔

قرآن مجید میں الله تعالیٰ کی صفات وافعال اوراس کے انعامات کااتنی کثرت سے ذکر اور اس کا اعادہ وتکرار اور اس قدر شرح وبسط کے ساتھ بیان کا اصل راز یہی ہے، اس لیے کہ صفات ہی محبت وشوق کا سرچشمہ ہیں ، اسی بات کو بعض ائمہ اسلام نے ”نفی مجمل او راثبات مفصل“ سے تعبیر کیا ہے ، یہی اثبات ہے ( یعنی الله تعالیٰ کی صفات کریمہ کا بیان اور اس کے دلائل وشواہد کا ذکر) جس سے انسان کے ذوق وشوق کو غذا ملتی ہے اور محبت جوش مارنے لگتی ہے، اگر نفی، رہبر عقل ہے تو اثبات، رہبرِ دل، اگر الله تعالیٰ کی یہ صفات عالیہ اور اسمائے حسنٰی ہمارے سامنے نہ ہوتے ، جن سے قرآن وحدیث بھرا ہوا ہے … تو یہ دین ایک چوبی یا آہنی نظام اور قانون کی طرح ہوتا، جس کی دلوں میں کوئی جگہ نہ ہوتی ، یہ نہ ان میں کوئی جذبہ اور گرم جوشی پیدا کرسکتا ، نہ ان کے دلوں کو گرم اور آنکھوں کو نم کرنے کی صلاحیت رکھتا … اس کے بغیر خدا اور بندہ کا تعلق ایک مردہ اور محدود تعلق ہے، جس میں نہ کوئی زندگی ہے ، نہ روح ، نہ لچک، نہ وسعت۔

حدیث پاک میں نبی رحمت صلی الله علیہ وسلم کا صفات الہٰی والی احادیث کو یاد کرنے والے لیے جنت کی بشارت بھی درحقیقت انسان کو نہ صرف ان اسماء کے مفاہیم کی معرفت سے آشنا ہونے کا پیغام دیتی ہے، بلکہ انسان کو ان صفات سے متصف ہونے کا درس بھی اس میں پنہاں ہے۔

اس حدیث کی طرف ان سطور میں اشارہ کیا گیا ہے :

یہ ننانوے نام تو الله تعالیٰ کی بے شمار صفات کے ابواب کے عنوانات ہیں۔ صفات الہٰی تو لامتناہی ہیں۔ ہر نیا دن اور ہر نئی تخلیق صفات الہٰیہ میں سے کسی صفت کا پرتو ہوتی ہے ۔ انہی صفات میں سے ہر مخلوق اپنے ظرف کے مطابق فیض یاب ہوتی ہے ، پھر کائنات اور انسان کی ساری سرگرمیاں انہی صفات کا مظہر ہوتی ہیں۔ ان لامتناہی صفات کو تین حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے:
صفات ثبوتیہ

وہ صفات جوباری تعالیٰ کے لیے ثابت ہیں اور الله تعالیٰ کی زیبائی او رجمال کی آئینہ دار ہیں، جیسے علم ، قدرت۔
صفات سلبیہ

وہ صفات جن کی خدا سے نفی کی گئی ہے ، جیسے جہل ، عجز۔
صفاتِ فعل

وہ صفات جن کا تعلق افعال خدا سے ہے ، جیسے خالق، رازق۔

قرآن کریم میں مختلف احکام کے تذکرہ کے بعد صفاتِ الہٰیہ کا بیان ہوا ہے، جو ظاہر کرتا ہے کہ احکام الہٰیہ کے ساتھ ان کا گہرا تعلق ہے ۔ اس کا اندازہ اصمعی کے ساتھ پیش آنے والے واقعہ سے لگایا جاسکتا ہے کہ ایک دن انہوں نے یہ آیت پڑھی : ﴿السارقة والسارقة… ﴾ لیکن غلطی سے والله غفور رحیم کہہ دیا۔ ایک اعرابی قریب تھا، اس نے پوچھا کہ یہ کس کا کلام ہے ؟ اصمعی نے کہا الله کا۔ اس نے کہا کہ یہ الله کا کلام کیسے ہو سکتا ہے ؟ اگر الله نے معاف کر دیا اور رحم کیا تو ہاتھ کاٹنے کا حکم کیوں دیا؟ یہ حکم تو اس لیے تھا کہ وہ قدرت وغلبہ کا مالک ہے۔ گویا اعرابی نے صفات کے ذکر میں غلطی کا اندازہ ماقبل سے لگایا۔ اسی طرح ایلاء سے رجوع کرنے والوں کے لیے غفور اور رحیم کی صفات آئیں۔ قسم اٹھا کر عورت کو پریشان کیا اور قسم توڑ کر الله کے نام کی عزت کا پاس نہیں کیا۔ ایسے لوگوں کے لیے انہی صفات کا مژدہ ہونا چاہیے تھا، مگر جو طلاق کا عزم کر لیں ان کے لیے صفات سمیع اور علیم آئیں، کیوں کہ الله تعالیٰ اس ساری گفتگو کو سنتا ہے جو وہ اس سلسلہ میں عوام الناس اور اعزا واقربا سے کرتا ہے۔ وہ لوگوں سے جو چاہے کہے، مگر اس عزم طلاق کے حقیقی محرکات سے خالق کائنات آگاہ ہے ۔

قرآن کریم کی سورتوں اور آیات کے باہمی نظم وربط کو زمانہٴ قدیم سے علماو محققین نے اپنی تحقیق کا موضوع بنایا ہے ،اس نظم کی اہمیت تو ہے ہی، مگر سورتوں میں مختلف آیات کے اختتام پر آنے والے اسمائے الہٰیہ کا بھی ماقبل حکم ربی سے مناسبت او رتعلق ضرور ہے۔ یہ بھی اعجاز قرآن کا ایک پہلو ہے۔

آیات کے اختتام پر عموماً صفات الہٰیہ مرکب صورت ( یعنی دو صفاتی ناموں کی صورت میں ) آئی ہیں ۔ صفاتی ناموں کے یہ جوڑے بھی کئی شکلوں میں ہیں۔ یقینا ان میں بھی کوئی نظم وربط او رمناسبت ہو گی۔

یہاں چند ایسے اسماء کااجمالی تذکرہ پیش کیا جاتا ہے۔
عزیز

اصل میں عزت کا معنی روکنا ہے ۔ ارض عزاز اس زمین کو کہا جاتا ہے جو بہت سخت ہو ۔ حاشیہ الصاوی علی الجلالین میں ہے:

”عزیز“ لا یعجزہ شیء عن انتقامہ منکم ای لاتفتلون منہ․“

گناہوں کا انتقام لینے میں اسے کوئی عاجز نہیں کر سکتا اور نہ تم اپنے آپ کو اس سے چھڑا سکتے ہو۔

اسی وجہ سے ”عزیز“ کا ترجمہ غالب کیا جاتا ہے۔ امام رازی نے اس لفظ کو زیادہ جامع انداز میں بیان کیا ہے :

”ان العزیز من لا یمنع عن مرادہ، وذلک انما یحصل بکمال القدرة، وقد ثبت انہ سبحانہ وتعالیٰ قادر علی جمیع الممکنات، فکان عزیزا علی الاطلاق․“

عزیز وہ ہے جسے کوئی بھی اس کے ارادے سے روک نہ سکے۔ یہ چیز کمال قدرت سے حاصل ہوتی ہے ۔ یہ ثابت ہے کہ الله تعالیٰ تمام ممکنات پر قادر ہے، اس لیے وہ عزیز مطلق ہے۔

جمال الدین القسامی ”العزیز“ کی وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

”ھو الغالب بقدرتہ، المستعلی فوق عبادہ، یدبر امرھم بما یرید، فیقع فی ذلک مایشق علیھم ویثقل ویغم ویحزن، فلا یستطیع احد منھم رد تدبیرہ، والخروج من تحت قھرہ وتقدیرہ․“

وہ اپنی قدرت سے غالب ہے او راپنے بندوں پر مکمل تصرف رکھتا ہے ،ان کے معاملات کی جیسے چاہتا ہے تدبیر کرتا ہے۔ اس سلسلہ میں بندوں پر مشقت اور بوجھ بھی آتا ہے اور وہ حزن وملال کے شکار بھی ہوتے ہیں، لیکن ان میں سے کوئی بھی الله تعالیٰ کی تدبیر رد کرنے اور اس کی تقدیر وقہر سے نکلنے کی استطاعت نہیں رکھتا۔

ایک دوسرے مقام پر لکھتے ہیں:

”العزیز“ ذوالعزة وھی القوة، والشدة، والغلبة والرفعة“․

عزیز یعنی عزت والا۔ عزت کے معنی ہیں ، قوت وطاقت ، غلبہ ورفعت۔

یہ اسم مبارک درج ذیل جوڑوں کی شکل میں قرآن میں استعمال ہوا ہے ۔

(الف) حکیم:

صفت ”عزیز“ کے ساتھ سب سے زیادہ استعمال صفت ”حکیم“ کا ہوا ہے ۔ حکیم وہ ہے جو چیز کو اچھے طریقہ پر ایجاد کرے، افضل اشیاء سے بہترین طریقہ پر آگاہ ہو اور غلط کام سے روکے۔

(ب) علیم:

(ج) جبار: قوت وشدت سے اصلاح کرنے والے کو جبار کتے ہیں۔

(د) مقتدر: قدرت تامہ وکاملہ کا مالک قرآن کریم میں صفت عزیز کے ساتھ اس صفت کا ذکر سورة القمر:42 میں آیا ہے۔

(ہ) غفار(و) رحیم (ز) قوی (ح) حمید

یہ استعمالات ظاہر کرتے ہیں کہ وہ پروردگار جس کو اس کائنات پر کامل غلبہ قوت واقتدار حاصل ہے وہ اس قوت وطاقت کو حکمت ، علم او ررحم کے ساتھ استعمال کرتا ہے۔

یہاں عزیز اور حکیم کے قرآنی استعمالات او رانسانی زندگی پر اس کے اثرات کا جائزہ پیش خدمت ہے۔

﴿ربنا وابعث فیھم رسولا منھم یتلو علیھم اٰیٰتک ویعلمھم الکتٰب والحکمة ویزکیھم انک انت العزیز الحکیم﴾․ (البقرة:129)

اے ہمارے رب! انہیں میں سے ایک برگزیدہ رسول بھیج تاکہ انہیں تیری آیات پڑھ کر سنائے او رانہیں کتاب اور دانائی کی باتیں سکھائے اورانہیں پاک صاف کر دے بے شک تو ہی بہت زبردست ( اور) حکمت والا ہے۔

یہاں ان دو صفتوں کا حوالہ دینے سے مقصود یہ ہے کہ جو خدا عزیز وحکیم ہے، اس کی عزت وحکمت کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ وہ اپنی پیدا کی ہوئی اس مملکت میں سفیر بھیجے جو اس کی رعیت کو اس کے احکام وقوانین سے آگاہ کرے اور ان کو شریعت اور حکمت کی تعلیم دے ۔

﴿فان زللتم من بعد ما جاء تکم البینٰت فاعلموان الله عزیز حکیم﴾․ ( البقرة:209)

اگر روشن دلیلیں آنے کے بعد بھی تم پھسلنے لگو تو جان لو! الله تعالیٰ زبردست ( اور) حکمت والا ہے۔

عزیز کی صفت کے ذکر سے دو حقیقتوں کی طرف اشارہ مقصود ہے ۔ ایک یہ کہ خدا کوئی کم زور وناتواں ہستی نہیں ہے ، بلکہ وہ غالب وتوانا ہے۔ جو لوگ اس کی تنبیہات کے باوجود شیطان کی پیروی کریں گے ان کو وہ اس عذاب میں ضرور پکڑے گا جو شیطان کے پیروؤں کے لیے اس نے مقدر کر رکھا ہے اور جس کی اس نے پہلے خبر دے رکھی ہے۔ دوسری حقیقت یہ کہ جو لوگ ان واضح ہدایات کے بعد بھی راہِ حق کو چھوڑ کر شیطان کی پیروی اختیار کریں گے وہ خدا کا کچھ نہیں بگاڑیں گے، بلکہ اپناہی بگاڑیں گے، اس لیے کہ خدا عزیز ہے، یعنی نفع ونقصان سے بالاتر۔

اسی طرح حکیم کی صفت بھی یہاں دو حقیقتوں کو نمایاں کر رہی ہے ۔ ایک تویہ کہ اس دنیا کا خالق حکیم ہے او راس کے حکیم ہونے کا بدیہی تقاضا ہے کہ وہ اپنی ہدایت پر جمے رہنے والوں اور اس سے منحرف ہو جانے والوں کے درمیان ان کے انجام کے لحاظ سے امتیاز کرے، اگر وہ ان میں کوئی امتیار نہ کرے، بلکہ دونوں کو ان کے حال پر چھوڑ دے یا دونوں کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکے تو اس کے معنی یہ ہوئے کہ وہ حکیم نہیں ہے اور یہ دنیا ایک پر حکمت اور بامقصد کا رخانہ نہیں، بلکہ کسی کھلنڈرے کا کھیل تماشا ہے ۔ دوسرے یہ کہ بدی اور نیکی کے نتائج کے ظہور میں جو دیر ہوتی ہے وہ سب حکمت پر مبنی ہوتی ہے، بسا اوقات شیطان کے پیرو کاروں کو الله تعالیٰ مہلت دیتا ہے اور بسا اوقات اہل حق کسی آزمائش میں ڈالے جاتے ہیں اس سے نہ تو اہل باطل کومغرور ہونا چاہیے اور نہ اہل حق کو مایوس ۔ بلکہ یہ یقین رکھنا چاہیے کہ وہ مہلت اور یہ آزمائش دونوں خدائے حکیم ودانا کی حکمت پر مبنی ہے۔

عبدالله یوسف علی نے لکھا ہے:

If you Back-sbide after the conviction has been brought home to you you may cause some inconvenience to the cause, or to these who counted upon you but do not be so arrogant as to suppose that you will defeat God's power and wisdom.

مذکورہ آیت کے مضمون سے ان صفات کے ربط وتعلق کے متعلق مفسرین نے درج ذیل واقعہ بھی نقل کیا ہے۔

أن قاریاً قرأ غفور رحیم، فسمہ أعرابی فأنکرہ، وقال إن کان ھذا کلام الله فلا یقول کذا، الحکیم لا یذکر الغفران عند الزلل؛ لأنہ إغراء علیہ․

ایک قاری قرآن کی یہ آیت پڑھ رہا تھا۔ اس نے بھول کر فاعلموا ان الله غفور رحیم پڑھ لیا۔ ایک اعرابی قرآن پاک سن رہا تھا۔ وہ کہنے لگا کہ یہ الله کا کلام نہیں ہو سکتا ، کیوں کہ پہلے لغزش کا ذکر ہے، اگر اس کے بعد فاعلموا ان الله غفور رحیم ہو تو اس سے لازم آئے گا کہ الله نے خود ہی گناہ پر ابھارا ہے کہ تم گناہ کرتے رہو اور میں بخشتا رہوں گا۔ یہ تو الله تعالیٰ کی حکمت کے خلاف ہے۔

﴿ھو الذی یصورکم فی الارحام کیف یشاء لا الہ الا ھو العزیز الحکیم﴾․ ( آل عمران:6)

وہی ہے جو ( ماؤں کے ) رحموں میں جس طرح چاہتا ہے ، تمہاری تصویریں بناتا ہے، اس کے بغیر کوئی معبود نہیں ( وہی) غالب اور حکمت والا ہے۔

یعنی خدا کو قدرت ہے رحم میں جس طرح چاہے آدمی کا نقشہ تیار کر دے ، خواہ ماں باپ دونوں کے ملنے سے یا صرف قوت منفعلہ سے، اسی لیے آگے فرمایا ﴿ھو العزیز الحکیم﴾ یعنی وہ زبردست ہے، جس کی قدرت کو کوئی محدد نہیں کر سکتا اور حکیم ہے جہاں جیسے مناسب جانتا ہے کرتا ہے ۔ اس نے ” حوا” کو بدون ماں کے ، مسیح کو بدون باپ کے ، آدم کو بدون ماں باپ دونوں کے پیدا کر دیا۔ اس کی حکمتوں کا احاطہ کون کرسکتا ہے۔

علامہ بقاعی کے نزدیک بھی عزیز او رحکیم اس قدرت اور حکمت کو ظاہر کرتے ہیں جس سے باری تعالیٰ مادر رحم میں تصویر سازی کرتا ہے۔

﴿ان تعذبھم فانھم عبادک وان تغفرلھم فانک انت العزیز الحکیم ﴾․ ( المائدہ:118)

اگر تو ان کو عذاب دے تو وہ تیرے بندے ہیں اور اگر ان کو بخش دے تو بلاشبہ تو ہی سب پر غالب ( اور ) بڑا دانا ہے۔

اس آیت مبارکہ میں عزیز او رحکیم سے ظاہر ہوتا ہے کہ الله تعالیٰ کا گناہ سے درگزر فرمانا نہ تو کم زوری کی علامت ہے او رنہ اس کی سزا ہی حکمت سے خالی ہوتی ہے۔ علامہ مہائمی نے لکھا ہے کہ یہاں عزت اور حکمت کا ایک تقاضا تو سزا ہے مگرعبودیت کا تقاضا ہے کہ اس سزا کو اٹھا لیا جائے

” تغفرلھم“ کے الفاظ کا تقاضا تو یہ تھا کہ آیت کے آخر پر غفور اور رحیم آتا، مگر یہاں عزیز او رحکیم آیا ہے، بظاہر ان صفات کا ماقبل مضمون سے ربط وتعلق واضح نہیں ہوتا ۔ اس مسئلہ پر امام رازی  اور علامہ میبذی نے اپنے اپنے اسلوب میں نفیس اظہار خیال کیا ہے۔

قرآن کریم میں ان دونوں صفتوں کا بالعموم اکٹھا ذکر اور اس کے قبل مضمون سے ربط وتعلق پر مولانا امین احسن اصلاحی کی یہ رائے بہت ہی جامع ہے۔

” قرآن مجید میں الله تعالیٰ کی ان دونوں صفات کا حوالہ بالعموم ایک ساتھ آتا ہے، اس سے اس حقیقت کا اظہار ہوتاہے کہ الله تعالیٰ اس کائنات پر پورے غلبے کے ساتھ حاوی او رمتصرف ہے ، لیکن اس کے غلبہ واقتدار کے معنی یہ نہیں ہیں کہ وہ اس کے زور میں جو چاہے کر ڈالے، بلکہ وہ جو کچھ بھی کرتا ہے اس کا کوئی کام بھی حکمت ومصلحت سے خالی نہیں ہوتا۔“

امام رازی کے بقول یہ صفات وعید اور وعدہ کی شان لیے ہوئے ہیں ۔ ایک مثال سے صفت ”عزیز“ میں وعید کی وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں : جب باپ بیٹے کو یہ کہے ان عصیتنی فانت عارف لی۔ اگر تم نے میری نافرمانی کی تو تم مجھے جانتے ہو ۔ اس کا مطلب یہ ہوتا ہے مجھے تم پر قدرت ودبدبہ حاصل ہے ۔ فیکون ھذا الکلام فی الزجر ابلغ من ذکر الضرب وغیرہ اس کلام میں زیادہ دھمکی پائی جاتی ہے جو یہ کہنے میں نہیں ہے کہ اگر تم نے میری نافرمانی کی تو میں تمہیں ماروں گا۔

حکیم میں رب تعالیٰ کے وعدہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے امام رازی لکھتے ہیں : ” رب تعالیٰ کی حکمت کا یہ تقاضا ہے کہ وہ نیک او رگناہ گار میں فرق کرے اور ساتھ ہی یہ واضح ہوا کہ جس طرح گناہ گار کو عذاب دینا اس کے حکیم ہونے کے مناسب ہے، اسی طرح نیک کو ثواب عطا کرنا بھی اس کی حکمت کے لائق ہے ، بلکہ نیک کو ثواب عطا کرنا زیادہ ہی حکمت کے مناسب ہے او راس کی رحمت کے زیادہ ہی قریب ہے ۔

صفت عزیز انسان کی کم زوری و ناتوانی کی مظہر ہے ۔ یہ صفت انسان کو غروروتکبر سے بچاتی اور عالم اسباب میں گم ہونے سے بچاتی ہے ۔ عزیز کے ساتھ حکیم کی صفت انسان کو مصیبتوں پر صبر سکھاتی ہے اور نعمتوں کے ملنے پر شکر کی طرف راغب کرتی ہے ۔ یہ دونوں صفات حکمران طبقے کو طاقت کے نشہ میں اختیار کے اندھے استعمال سے بھی بچاتی ہیں۔

(ب) غفور:

غفر کا مفہوم ڈھانپنا ہے ۔ صفات افعال میں سے ”غفور“ ظاہر کرتاہے کہ پرورگاد عالم ہماری ظاہری وباطنی نجاستوں کو محض اپنے فضل وکرم کی بنا پر ، چادر رحمت سے ڈھانپ کر روز محشر عذاب جہنم سے بچا لیتا ہے ۔ وہ پردہ پوشی ہی نہیں کرتا ہے بخشتا بھی ہے او رسیئات کو حسنات میں بھی بدل دیتا ہے۔علامہ طیبی کے نزدیک تو فرشتوں کو ہماری بداعمالیاں بھلا دینا بھی اس کے غفور ہونے کا مظہر ہے۔

اپنے عصیاں شعار بندوں پر بے پناہ لطف وکرم کی وجہ سے ہی وہ خیر الغافرین ( سورة الاعراف:155) ہے ۔ یہ اسم مبارک قرآن کریم میں ان جوڑوں کی شکل میں آیا ہے ۔

(الف) رحیم:

قرآن میں اکثر مقامات پر غفور، رحیم سے پہلے آیا ہے، مگر ایک مقام پر الرحیم پہلے ہے۔ (سبا:2)

(ب) حلیم (ج) رب(د) عزیز (ہ) شکور (و) عفو (ز) ودود۔

یہ فہرست ظاہر کرتی ہے کہ ” غفور“ دیگر جن اسماء کے ساتھ بھی استعمال ہوا ہے وہ خالق کی طرف سے مخلوق پر محبت ، رحمت ، درگز ر اور مخلوق کی عزت افزائی کا مظہر ہے۔

صرف غفور اور رحیم کے چند قرآنی استعمالات کا تذکرہ کیا جاتا ہے،تاکہ ان کے مقابل مضمون سے ربط وتعلق اور انسانی زندگی پر اثرات کا جائزہ لیا جاسکے۔

(۱) حلّت وحرمت کے مسائل کے تذکرہ کے بعد حالت اضطرار میں حرام کے استعمال کی اجازت کے بعد غفور او ررحیم کااستعمال ہوا ہے۔

﴿انما حرم علیکم المیتة والدم ولحم الخنزیر وما اہل بہ لغیر الله فمن اضطر غیر باغ ولاعاد فلا اثم علیہ ان الله غفور رحیم﴾․ ( البقرة:173)

الله نے تمہارے اوپر حرام قرار دیا ہے مردہ کو ، خون کو ، سور کے گوشت کو اور ایسے مذبوحہ کے گوشت کو جس پر الله کے سوا کسی او رکا نام لیا گیا ہو۔ جو شخص مجبور ی میں ہو اور وہ ان میں سے کوئی چیز کھائے، بغیر اس کے کہ وہ قانون شکنی کا ارادہ رکھتا ہو یا ضرورت کی حد سے تجاوز کرے تو اس پر کوئی گناہ نہیں، الله بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔

سورة المائدہ: آیت:3، سورة الانعام، آیت:145اور سورة النحل، آیت:150 میں بھی اسی طرح یہ صفات آئی ہیں۔

اس آیت مبارکہ او راسی مضمون کی دیگر آیات کے اختتام پر غفور اور رحیم کی صفات یہ ظاہر کرتی ہیں کہ حالت اضطرار میں حرام کھانے پر الله تعالیٰ تمہارا مواخذہ نہیں کرے گا۔ یہ اس کی صفت غفور کا تقاضا ہے اور یہ رخصت عطا کرنا اس کی صفت رحیم کاتقاضا ہے۔

اسی طرح استغفار کا حکم دیا تو اس کے بعد بھی انہیں صفات کو بیان کیا گیا، تاکہ الله تعالیٰ کی بخشش وعطا اور رحمت وکرم کا پتا چل سکے۔

﴿ثم افیضوا من حیث افاض الناس واستغفروا الله ان الله غفور رحیم﴾․(البقرة:199)

پھر جہاں سے اور سب لوگ پلٹے ہیں وہیں سے تم بھی پلٹو او رالله سے معافی چاہو، یقینا وہ معاف کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔

امام رازی فرماتے ہیں:

”فھذا یدل قطعا علی انہ تعالیٰ یغفر لذلک المستغفر، ویرحم ذلک الذی تمسک بحبل رحمتہ وکرمہ“․ (رازی، فخر الدین، مفاتیح الغیب)

اس سے یقینی طور پر ثابت ہوتا ہے کہ الله تعالیٰ مغفرت طلب کرنے والے کی مغفرت فرماتا ہے او راس شخص پر رحم فرماتا ہے جو اس کے حبل رحمت اور دین کرم کا سہارا لیتا ہے۔

(ب)﴿ واستغفرلھن الله ان الله غفور رحیم﴾ ․ (الممتحنة:12)

اور الله تعالیٰ سے ان ( خواتین) کے لیے مغفرت مانگا کرو۔ بے شک الله تعالیٰ غفور رحیم ہے۔

الله تعالیٰ اپنے محبوب صلی الله علیہ وسلم کو حکم دیتے ہیں کہ جو عورتیں ان شرائط کو قبول کر لیں او ران باتوں کی پابندی پر آمادہ ہو جائیں تو آپ ان کی بیعت فرما لیں اور اس کے ساتھ ان کے لیے مغفرت کی دعا مانگیں ۔ بے شک الله تعالیٰ غفور اور رحیم ہے ۔ جب آپ کے ہاتھ اٹھیں گے تو انہیں خالی نہیں لوٹایا جائے گا، بلکہ الله تعالیٰ آپ کی دعا کی برکت سے ان کے عمر بھر کے گناہوں کو ، جن میں شرک وکفر سر فہرست ہے ، بخش دے گا اور ان کے لیے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے گا۔ (جاری ہے)



 ****************************************

هُوَ اللَّهُ الَّذى لا إِلٰهَ إِلّا هُوَ ۖ [{59:22} {59:23}]
 وہ اللہ ہے جس کے سوا کوئی معبود (عبادت کے لائق) نہیں۔

یعنی اس کی ذات و صفات اور افعال میں کوئی شریک نہیں ہوسکتا۔


الرَّحمٰنِ : بڑا مہربان

بِسمِ اللَّهِ الرَّحمٰنِ الرَّحيمِ {1:1}
شروع الله کا نام لے کر جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے
رحمٰن اور رحیم دونوں مبالغے کے صیغے ہیں اور رحمٰن میں رحیم سے زیادہ مبالغہ ہے ترجمہ میں، ان سب باتوں کا لحاظ ہے ۔

الرَّحمٰنِ الرَّحيمِ {1:3}
بڑا مہربان نہایت رحم والا

كَذٰلِكَ أَرسَلنٰكَ فى أُمَّةٍ قَد خَلَت مِن قَبلِها أُمَمٌ لِتَتلُوَا۟ عَلَيهِمُ الَّذى أَوحَينا إِلَيكَ وَهُم يَكفُرونَ بِالرَّحمٰنِ ۚ قُل هُوَ رَبّى لا إِلٰهَ إِلّا هُوَ عَلَيهِ تَوَكَّلتُ وَإِلَيهِ مَتابِ {13:30}
(جس طرح ہم اور پیغمبر بھیجتے رہے ہیں) اسی طرح (اے محمدﷺ) ہم نے تم کو اس امت میں جس سے پہلے بہت سی امتیں گزر چکی ہیں بھیجا ہے تاکہ تم ان کو وہ (کتاب) جو ہم نے تمہاری طرف بھیجی ہے پڑھ کر سنا دو اور یہ لوگ رحمٰن کو نہیں مانتے۔ کہہ دو وہی تو میرا پروردگار ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ میں اسی پر بھروسہ رکھتا ہوں اور اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں
یعنی رحمان نے اپنی رحمت کاملہ سے قرآن اتارا۔ { اَلرَّحْمٰنُ عَلَّمَ الْقُرْاٰنَ } اور آپ کو رحمۃ للعالمین بنا کر بھیجا ۔ مگر انہوں نے سخت ناشکری اور کفران نعمت پر کمر باندھ لی ۔ رحمان کا حق ماننے سے منکر ہو گئے بلکہ اس نام سے ہی وحشت کھانے لگے۔ اسی لئے "حدیبیہ" کے صلح نامہ میں بسم اللہ الرحمٰن الرحیم لکھنے پر جھگڑا ہو گیا ۔ { وَاِذَا قِیْلَ لَھُمُ اسْجُدُوْا لِلرَّحْمٰنِ قَالُوْا وَمَا الرَّحَمٰنُ } (فرقان رکوع۵)
یعنی جس طرح ہم اپنی طرف رجوع ہونے والوں کو کامیابی کی راہ دکھاتے ہیں۔ اسی طرح اس امت کی رہنمائی کے لئے ہم نے تجھے مبعوث کیا تا جو کتاب اپنی رحمت کاملہ سے تجھ پر اتاری ہے آپ ان کو پڑھ کو سنا دیں آپ کا پیغمبر بنا کر بھیجا جانا کوئی انوکھی بات نہیں ،پہلی امتوں کی طرف بھی پیغمبر بھیجے جا چکے ہیں جو اس وقت تکذیب کرنے والوں کا حشر ہوا ان لوگوں کو بھی پیش نظر رہنا چاہئے۔
یعنی جس رحمان سے تم انکار کرتے ہو وہ ہی میرا رب ہے اور وہ ہی اللہ ہے جس کا کوئی شریک نہیں { قُلِ ادْعُوا اللہَ اَوِدْاعُوا الرَّحْمٰنَ ؕ اَیًّامَّا تَدْعُوْا فَلَہُ الْاَسْمَآءُ الْحُسْنٰی } (بنی اسرائیل رکوع۱۲) میرا آغاز و انجام سب اسی کے ہاتھ میں ہے اسی پر توکل کرتا ہوں ۔ نہ تمہارے انکار و تکذیب سے مجھے ضرر کا اندیشہ ہے نہ اس کی امداد و اعانت سے مایوس ہوں۔

قالَت إِنّى أَعوذُ بِالرَّحمٰنِ مِنكَ إِن كُنتَ تَقِيًّا {19:18}
مریم بولیں کہ اگر تم پرہیزگار ہو تو میں تم سے خدا کی پناہ مانگتی ہوں
مریم نے اول و ہلۃ میں سمجھا کہ کوئی آدمی ہے ۔ تنہائی میں دفعۃً ایک مرد کے سامنے آ جانے سے قدرتی طور پر خوفزدہ ہوئیں اور اپنی حفاظت کی فکر کرنے لگیں۔ مگر معلوم ہوتا ہے کہ فرشتہ کے چہرہ پر تقویٰ و طہارت کے انوار چکمتے دیکھ کر اسی قدر کہنا کافی سمجھا کہ میں تیری طرف سے رحمٰن کی پناہ میں آتی ہوں۔ اگر تیرے دل میں خدا کا ڈر ہو گا (جیسا کہ پاک و نورانی چہرہ سے روشن تھا) تو میرے پاس سے چلا جائے گا اور مجھ سے کچھ تعرض نہ کرے گا۔

يٰأَبَتِ إِنّى أَخافُ أَن يَمَسَّكَ عَذابٌ مِنَ الرَّحمٰنِ فَتَكونَ لِلشَّيطٰنِ وَلِيًّا {19:45}
ابّا مجھے ڈر لگتا ہے کہ آپ کو خدا کا عذاب آپکڑے تو آپ شیطان کے ساتھی ہوجائیں
یعنی رحمٰن کی رحمت عظیمہ تو چاہتی ہے کہ تمام بندوں پر شفقت و مہربانی ہو ، لیکن تیری بد اعمالیوں کی شامت سے ڈر ہے کہ ایسے حلیم و مہربان خدا کو غصہ نے آ جائے اور تجھ پر کوئی سخت آفت نازل نہ کر دے جس میں پھنس کر تو ہمیشہ کے لئے شیطان کا ساتھی بن جائے۔ یعنی کفر و شرک کی مزاولت سے آئندہ ایمان و توبہ کی توفیق نصیب نہ ہو اور اولیاء الشیطان کے گروہ میں شامل کر کے دائمی عذاب میں دھکیل دیا جائے عمومًا مفسرین نے یہ ہی معنی لئے ہیں ۔ مگر حضرت شاہ صاحبؒ لکھتے ہیں "یعنی کفر کے وبال سے کچھ آفت آئے اور تو مدد مانگنے لگے شیطان سے یعنی بتوں سے ، اکثر لوگ ایسے ہی وقت شرک کرتے ہیں "۔ واللہ اعلم۔

أُولٰئِكَ الَّذينَ أَنعَمَ اللَّهُ عَلَيهِم مِنَ النَّبِيّۦنَ مِن ذُرِّيَّةِ ءادَمَ وَمِمَّن حَمَلنا مَعَ نوحٍ وَمِن ذُرِّيَّةِ إِبرٰهيمَ وَإِسرٰءيلَ وَمِمَّن هَدَينا وَاجتَبَينا ۚ إِذا تُتلىٰ عَلَيهِم ءايٰتُ الرَّحمٰنِ خَرّوا سُجَّدًا وَبُكِيًّا ۩ {19:58}
یہ وہ لوگ ہیں جن پر خدا نے اپنے پیغمبروں میں سے فضل کیا۔ (یعنی) اولاد آدم میں سے اور ان لوگوں میں سے جن کو نوح کے ساتھ (کشتی میں) سوار کیا اور ابراہیم اور یعقوب کی اولاد میں سے اور ان لوگوں میں سے جن کو ہم نے ہدایت دی اور برگزیدہ کیا۔ جب ان کے سامنے ہماری آیتیں پڑھی جاتی تھیں تو سجدے میں گر پڑتے اور روتے رہتے تھے
یعنی جن انبیاء کا ابتدائے سورۃ سے یہاں تک ذکر ہوا ۔ اسی قسم کے لوگوں پر حق تعالیٰ نے اپنے انعامات کی بارش کی ہے۔ یہ سب آدم کی اولاد ہیں اور ادریس کے سوا باقی سب انکی اولاد بھی ہیں جنہیں نوحؑ کے ساتھ ہم نےکشتی پر سوار کیا تھا اور بعض ابراہیمؑ کی ذریت میں ہیں ۔ مثلًا اسحاق ، یعقوب ، اسمٰعیل علیہم السلام اور بعض اسرائیل (یعقوب) علیہ السلام کی نسل سے ہیں۔ مثلًا موسٰی، ہارون ، زکریا، یحیٰی، عیسٰی علیہم السلام۔
یعنی طریق حق کی طرف ہدایت کی اور منصب نبوت و رسالت کے لئے پسند کر لیا۔
یعنی باوجود اس قدر علو مقام او رمعراج کمال پر پہنچنے کے شان عبودیت و بندگی میں کامل ہیں ۔ اللہ کا کلام سن کر اور اس کے مضامین سے متاثر ہو کر نہایت عاجزی اور خشوع و خضوع کے ساتھ سجدہ میں گر پڑتے ہیں اور اس کو یاد کر کے روتے ہیں اسی لئے علماء کا اجماع ہے کہ اس آیت پر سجدہ کرنا چاہئے۔ تا ان مقربین کے طرز عمل کو یاد کر کے ایک طرح کی مشابہت ان سے حاصل ہو جائے۔ روایات میں ہے کہ حضرت عمرؓ نے سورہ مریم پڑھ کو سجدہ کیا اور فرمایا { ہذا السُّجُوْدُ فَاَیْنَ البکی } (یہ تو سجدہ ہوا ، آگے بکاء کہاں ہے) بعض مفسرین نے یہاں "آیات الرحمٰن" سے خاص آیات سجود اور "سُجَّدا" سے سجود تلاوت مرا لیا ہے۔ مگر ظاہر وہ ہی ہے جو تقریر ہم پہلے کر چکے ہیں حدیث میں ہے کہ قرآن کی تلاوت کرو اور روؤ ، اگر رونا نہ آئے تو (کم ازکم) رونے کی صورت بنا لو۔

ثُمَّ لَنَنزِعَنَّ مِن كُلِّ شيعَةٍ أَيُّهُم أَشَدُّ عَلَى الرَّحمٰنِ عِتِيًّا {19:69}
پھر ہر جماعت میں سے ہم ایسے لوگوں کو کھینچ نکالیں گے جو خدا سے سخت سرکشی کرتے تھے

أَطَّلَعَ الغَيبَ أَمِ اتَّخَذَ عِندَ الرَّحمٰنِ عَهدًا {19:78}
کیا اس نے غیب کی خبر پالی ہے یا خدا کے یہاں (سے) عہد لے لیا ہے؟
یعنی ایسے یقین و وثوق سے جو دعویٰ کر رہا ہے کیا غیب کی خبر پا لی ہے ؟ یا خدا سے کوئی وعدہ لے چکا ہے ؟ ظاہر ہے کہ دونوں میں سے ایک بات بھی نہیں ۔ ایک گندے کافر کی کیا بساط کہ وہ اس طرح کی غیبیات تک رسائی حاصل کر لے ؟ رہا خدا کا وعدہ ، وہ ان لوگوں سے ہو سکتا ہے جنہوں نے اپنا عہد پورا کر کے { لَا اِلٰہَ اِلَّا للہُ } اور عمل صالح کی امانت خدا کے پاس رکھ دی ہے ۔

يَومَ نَحشُرُ المُتَّقينَ إِلَى الرَّحمٰنِ وَفدًا {19:85}
جس روز ہم پرہیزگاروں کو خدا کے سامنے (بطور) مہمان جمع کریں گے

لا يَملِكونَ الشَّفٰعَةَ إِلّا مَنِ اتَّخَذَ عِندَ الرَّحمٰنِ عَهدًا {19:87}
(تو لوگ) کسی کی سفارش کا اختیار نہ رکھیں گے مگر جس نے خدا سے اقرار لیا ہو
یعنی جن کو اللہ تعالیٰ نے شفاعت کا وعدہ دیا مثلًا ملائکہ ، انبیاء ، صالحین وغیرہ ہم وہ ہی درجہ بدرجہ سفارش کریں گے بدون اجازت کسی کو زبان ہلانے کی طاقت نہ ہو گی اور سفارش بھی ان ہی لوگوں کی کر سکیں گے جن کے حق میں سفارش کئے جانے کا وعدہ دے چکے۔ کافروں کے لئے شفاعت نہ ہوگی۔

إِن كُلُّ مَن فِى السَّمٰوٰتِ وَالأَرضِ إِلّا ءاتِى الرَّحمٰنِ عَبدًا {19:93}
تمام شخص جو آسمانوں اور زمین میں ہیں سب خدا کے روبرو بندے ہو کر آئیں گے
یعنی سب خدا کی مخلوق اور اس کے بندے ہیں اور بندے ہی بن کر اس کے سامنے حاضر ہوں گے پھر بندہ بیٹا کیسے ہو سکتا ہے ؟ اور جس کے سب محکوم و محتاج ہوں اسے بیٹا بنانے کی ضرورت ہی کیا ہے۔

وَإِذا رَءاكَ الَّذينَ كَفَروا إِن يَتَّخِذونَكَ إِلّا هُزُوًا أَهٰذَا الَّذى يَذكُرُ ءالِهَتَكُم وَهُم بِذِكرِ الرَّحمٰنِ هُم كٰفِرونَ {21:36}
اور جب کافر تم کو دیکھتے ہیں تو تم سے استہزاء کرتے ہیں کہ کیا یہی شخص ہے جو تمہارے معبودوں کا ذکر (برائی سے) کیا کرتا ہے حالانکہ وہ خود رحمٰن کے نام سے منکر ہیں
یعنی انجام سے بالکل بے فکر ہو کر یہ لوگ پیغمبر ﷺ کی ہنسی اڑاتے ہیں۔ اور ان سے ٹھٹھا کرتے ہیں۔ چنانچہ استہزاء و تحقیر سے کہتے ہیں { أَھٰذَا لَّذِیْ یَذْکُرُ اٰلِھَتَکُمْ } کیا یہ ہی شخص ہے جو تمہارےمعبودوں کا برائی سے ذکر کرتا ہے۔ انہیں شرم نہیں آتی کہ خود حقیقی معبود کے ذکر اور "رحمٰن" کے نام تک سے چڑتے ہیں اس کی سچی کتاب کے منکر ہیں ، اور جھوٹے معبودوں کی برائی سن کر چیں بچیں ہوتے ہیں۔ اندریں صورت ہنسی کے قابل انکی حالت ہوئی یا فریق مقابل کی ؟

قُل مَن يَكلَؤُكُم بِالَّيلِ وَالنَّهارِ مِنَ الرَّحمٰنِ ۗ بَل هُم عَن ذِكرِ رَبِّهِم مُعرِضونَ {21:42}
کہو کہ رات اور دن میں خدا سے تمہاری کون حفاظت کرسکتا ہے؟ بات یہ ہے کہ اپنے پروردگار کی یاد سے منہ پھیرے ہوئے ہیں
یعنی رحمٰن کے غصہ اور عذاب سے تمہاری حفاظت کرنے والا دوسرا کون ہے ، محض اس کی رحمت واسعہ ہے جو فورًا عذاب نازل نہیں کرتا۔ لیکن ایسے رحمت والے حلیم و بردبار کے غصہ سے ڈرنا بھی بہت چاہئے ۔ نعوذ باللہ من غضب الحلیم۔
یعنی رحمٰن کی حفاظت کا ان کو احساس و اعتراف نہیں ۔ عیش و تنعم اور پرامن زندگی نے پروردگار حقیقی کی یاد سے غافل کر رکھا ہے اسی لئے جب اس کی طرف سے کوئی نصیحت کی جاتی ہے تو منہ پھیر لیتے ہیں کہ یہ کہاں کی باتیں شروع کر دیں۔

وَعِبادُ الرَّحمٰنِ الَّذينَ يَمشونَ عَلَى الأَرضِ هَونًا وَإِذا خاطَبَهُمُ الجٰهِلونَ قالوا سَلٰمًا {25:63}
اور خدا کے بندے تو وہ ہیں جو زمین پر آہستگی سے چلتے ہیں اور جب جاہل لوگ ان سے (جاہلانہ) گفتگو کرتے ہیں تو سلام کہتے ہیں
یعنی کم عقل اور بے ادب لوگوں کی بات کا جواب عفو و صفح سے دیتے ہیں۔ جب کوئی جہالت کی گفتگو کرے تو ملائم بات اور صاحب سلامت کہہ کر الگ ہو جاتے ہیں۔ ایسوں سے منہ نہیں لگتے۔ نہ ان میں شامل ہوں نہ ان سے لڑیں ان کا شیوہ وہ نہیں جو جاہلیت میں کسی نے کہا تھا؎{ الَا یَجْھَلَنْ اَحَدٌ عَلَیْنَا، فنجھَلْ فَوْقَ جَھْلِ الْجَاھِلِیْنا }۔ یہ تو رحمان کے ان مخلص بندوں کا دن تھا، آگے رات کی کیفیت بیان فرماتے ہیں۔
یعنی مشرکین کی طرح رحمٰن کا نام سن کر ناک بھویں نہیں چڑھاتے، بلکہ ہر فعل و قول سے بندگی کا اظہار کرتے ہیں ان کی چال ڈھال سے تواضع، متانت، خاکساری اور بے تکلفی ٹپکتی ہے، متکبروں کی طرح زمین پر اکڑ کر نہیں چلتے۔ یہ مطلب نہیں کہ ریا و تصنع سے بیماروں کی طرح قدم اٹھاتے ہیں۔ کیونکہ حضور کی جو رفتار احادیث میں منقول ہے، اسکی تائید نہیں کرتی۔

وَما يَأتيهِم مِن ذِكرٍ مِنَ الرَّحمٰنِ مُحدَثٍ إِلّا كانوا عَنهُ مُعرِضينَ {26:5}
اور ان کے پاس (خدائے) رحمٰن کی طرف سے کوئی نصیحت نہیں آتی مگر یہ اس سے منہ پھیر لیتے ہیں
یعنی آپ جن کے غم میں پڑے ہیں ان کی حالت یہ ہے کہ رحمان اپنی رحمت و شفقت سے جب ان کی بھلائی کے لئے کوئی پندو نصیحت بھیجتا ہے یہ ادھر متوجہ نہیں ہوتے بلکہ منہ پھیر کر بھاگتے ہیں گویا کوئی بہت بری چیز سامنے آ گئ۔

إِنَّهُ مِن سُلَيمٰنَ وَإِنَّهُ بِسمِ اللَّهِ الرَّحمٰنِ الرَّحيمِ {27:30}
وہ سلیمان کی طرف سے ہے اور مضمون یہ ہے کہ شروع خدا کا نام لے کر جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے
بلقیس نے خط پڑھ کر اپنے مشیروں اور درباریوں کو جمع کیا، کہنے لگی کہ میرے پاس یہ خط عجیب طریقہ سے پہنچا ہے جو ایک بہت بڑے معزز و محترم بادشاہ (سلیمانؑ) کی طرف سے آیا ہے۔ غالبًا حضرت سلیمانؑ کا نام اور ان کی بے مثال حکومت و شوکت کا شہرہ پہلے سے سن چکی ہو گی۔

تَنزيلٌ مِنَ الرَّحمٰنِ الرَّحيمِ {41:2}
(یہ کتاب خدائے) رحمٰن ورحیم (کی طرف) سے اُتری ہے
یعنی اللہ تعالیٰ کی بہت ہی بڑی مہربانی اور رحمت بندوں پر ہے جو ان کی ہدایت کے لئے ایسی عظیم الشان اور بے مثال کتاب نازل فرمائی۔

وَجَعَلُوا المَلٰئِكَةَ الَّذينَ هُم عِبٰدُ الرَّحمٰنِ إِنٰثًا ۚ أَشَهِدوا خَلقَهُم ۚ سَتُكتَبُ شَهٰدَتُهُم وَيُسـَٔلونَ {43:19}
اور انہوں نے فرشتوں کو کہ وہ بھی خدا کے بندے ہیں (خدا کی) بیٹیاں مقرر کیا۔ کیا یہ ان کی پیدائش کے وقت حاضر تھے عنقریب ان کی شہادت لکھ لی جائے گی اور ان سے بازپرس کی جائے گی
یعنی کوئی دلیل عقلی و نقلی تو انکے پاس اس دعوے پر نہیں۔ پھر کیا اللہ نے جب فرشتوں کو بنایا تو یہ کھڑے دیکھ رہے تھے کہ مرد نہیں عورت بنایا ہے۔ بہت اچھا! انکی یہ گواہی دفتر اعمال میں لکھ لی جاتی ہے۔ خدائی عدالت میں جس وقت پیش ہوں گے تب اس کے متعلق ان سے پوچھا جائے گا کہ تم نے ایسا کیوں کہا تھا۔ اور کہاں سے کہا تھا۔
یعنی یہ ان کا ایک اور جھوٹ ہے کہ فرشتوں کو عورتوں کی صف میں داخل کرتے ہیں۔ حالانکہ وہ نہ عورت نہ مرد جنس ہی علیحدہ ہے۔

وَلَولا أَن يَكونَ النّاسُ أُمَّةً وٰحِدَةً لَجَعَلنا لِمَن يَكفُرُ بِالرَّحمٰنِ لِبُيوتِهِم سُقُفًا مِن فِضَّةٍ وَمَعارِجَ عَلَيها يَظهَرونَ {43:33}
اور اگر یہ خیال نہ ہوتا کہ سب لوگ ایک ہی جماعت ہوجائیں گے تو جو لوگ خدا سے انکار کرتے ہیں ہم ان کے گھروں کی چھتیں چاندی کی بنا دیتے اور سیڑھیاں (بھی) جن پر وہ چڑھتے ہیں

وَمَن يَعشُ عَن ذِكرِ الرَّحمٰنِ نُقَيِّض لَهُ شَيطٰنًا فَهُوَ لَهُ قَرينٌ {43:36}
اور جو کوئی خدا کی یاد سے آنکھیں بند کرکے (یعنی تغافل کرے) ہم اس پر ایک شیطان مقرر کردیتے ہیں تو وہ اس کا ساتھی ہوجاتا ہے
یعنی جو شخص سچی نصیحت اور یاد الٰہی سے اعراض کرتا رہتا ہے اس پر ایک شیطان خصوصی طور سے مسلط کر دیا جاتا ہے جو ہر وقت اغواء کرتا اور اسکے دل میں طرح طرح کے وسوسے ڈالتا ہے۔ یہ شیطان دوزخ تک اس کا ساتھ نہیں چھوڑتا۔

وَسـَٔل مَن أَرسَلنا مِن قَبلِكَ مِن رُسُلِنا أَجَعَلنا مِن دونِ الرَّحمٰنِ ءالِهَةً يُعبَدونَ {43:45}
اور (اے محمدﷺ) جو اپنے پیغمبر ہم نے تم سے پہلے بھیجے ہیں ان سے دریافت کرلو۔ کیا ہم نے (خدائے) رحمٰن کے سوا اور معبود بنائے تھے کہ ان کی عبادت کی جائے
یعنی آپ کا راستہ وہی ہے جو پہلے انبیاء علیہم السلام کا تھا۔ شرک کی تعلیم کسی نبی نے نہیں دی نہ اللہ تعالٰی نے کسی دین میں اس بات کو جائز رکھا کہ اس کے سوا دوسرے کی پرستش کی جائے۔ اور یہ ارشاد کہ "پوچھ دیکھو" یعنی جس وقت ان سے ملاقات ہو (جیسے شب معراج میں ہوئی) یا اُنکے احوال کتابوں سے تحقیق کرو۔ بہرحال جو ذرائع تحقیق و تفتیش کے ہوں اُنکو استعمال میں لانے سے صاف ثابت ہو جائے گا کہ کسی دین سماوی میں کبھی شرک کی اجازت نہیں ہوئی۔

بِسمِ اللَّهِ الرَّحمٰنِ الرَّحيمِ الرَّحمٰنُ {55:1}
(خدا جو) نہایت مہربان

الَّذى خَلَقَ سَبعَ سَمٰوٰتٍ طِباقًا ۖ ما تَرىٰ فى خَلقِ الرَّحمٰنِ مِن تَفٰوُتٍ ۖ فَارجِعِ البَصَرَ هَل تَرىٰ مِن فُطورٍ {67:3}
اس نے سات آسمان اوپر تلے بنائے۔ (اے دیکھنے والے) کیا تو (خدا) رحمٰن کی آفرنیش میں کچھ نقص دیکھتا ہے؟ ذرا آنکھ اٹھا کر دیکھ بھلا تجھ کو (آسمان میں) کوئی شکاف نظر آتا ہے؟
یعنی قدرت نے اپنے انتظام اور کاریگری میں کہیں فرق نہیں کیا ہر چیز میں انسان سے لے کر حیوانات، نباتات، عناصر، اجرام علویّہ سبع سماوات اور نیّرات تک کیسی کاریگری دکھلائی ہے۔ یہ نہیں کہ بعض اشیاء کو حکمت و بصیرت سے اور بعض کو یونہی کیف مااتفق، بے تُکا یا بیکار وفضول بنا دیا ہو (العیاذ باللہ) اور جہاں کسی کو ایسا وہم گذرے سمجھو اس کی عقل و نظر کا قصور ہے۔
یعنی ساری کائنات نیچے سے اُوپر تک ایک قانون اور مضبوط نظام میں جکڑی ہوئی ہے اور کڑی سے کڑی ملی ہوئی ہے، کہیں درز یا دڑاڑ نہیں۔ نہ کسی صنعت میں کسی طرح کا اختلال پایا جاتا ہے۔ ہر چیز ویسی ہے جیسا اسے ہونا چاہئے۔ اور اگر یہ آیتیں صرف آسمان سے متعلق ہیں تو مطلب یہ ہوگا کہ اے مخاطب ! اُوپر آسمان کی طرف نظر اُٹھا کر دیکھ کہیں اونچ نیچ یا درز اور شگاف نہیں پائیگا۔ بلکہ ایک صاف ہموار، متصل، مربوط اور منتظم چیز نظر آئیگی جس میں باوجود مروردُہور اور تطاول از مان کے آج تک کوئی فرق اور تفاوت نہیں آیا۔
حدیث میں آیا کہ ایک آسمان کے اوپر دوسرا آسمان، دوسرے پر تیسرا اسی طرح سات آسمان اوپر نیچے ہیں۔ اور ہر ایک آسمان سے دوسرے تک پانسو برس کی مسافت ہے۔ نصوص میں یہ تصریح نہیں کی گئ کہ اوپر جو نیلگونی چیز ہم کو نظر آتی ہے وہی آسمان ہے۔ ہو سکتا ہے کہ ساتوں آسمان اس کے اوپر ہوں اور یہ نیلگونی چیز آسمان کی چھت گیری کا کام دیتی ہو۔

أَمَّن هٰذَا الَّذى هُوَ جُندٌ لَكُم يَنصُرُكُم مِن دونِ الرَّحمٰنِ ۚ إِنِ الكٰفِرونَ إِلّا فى غُرورٍ {67:20}
بھلا ایسا کون ہے جو تمہاری فوج ہو کر خدا کے سوا تمہاری مدد کرسکے۔ کافر تو دھوکے میں ہیں
یعنی منکر سخت دھوکے میں پڑے ہوئے ہیں۔ اگر یہ سمجھتے ہیں کہ ان کے باطل معبودوں اور فرضی دیوتاؤں کی فوج ان کو اللہ کے عذاب اور آنیوالی آفت سے بچالیگی؟ خوب سمجھ لو! رحمٰن سے الگ ہو کرکوئی مدد کو نہ پہنچے گا۔

رَبِّ السَّمٰوٰتِ وَالأَرضِ وَما بَينَهُمَا الرَّحمٰنِ ۖ لا يَملِكونَ مِنهُ خِطابًا {78:37}
وہ جو آسمانوں اور زمین اور جو ان دونوں میں ہے سب کا مالک ہے بڑا مہربان کسی کو اس سے بات کرنے کا یارا نہیں ہوگا
یعنی باوجوداس قدر لطف ورحمت کے عظمت وجلال ایسا ہے کہ کوئی اسکے سامنے لب نہیں ہلا سکتا۔
یہ بدلہ بھی محض بخشش اور رحمت سے ہے ورنہ ظاہر ہے اللہ پر کسی کا قرض یا جبر نہیں۔ آدمی اپنے عمل کی بدولت عذاب سے بچ جائے یہ ہی مشکل ہے۔ رہی جنت، وہ تو خالص اس کے فضل ورحمت سے ملتی ہے اس کو ہمارے عمل کا بدلہ قرار دینا یہ دوسری ذرہ نوازی اور عزت افزائی ہے۔


 ****************************************




 ****************************************
فَتَعٰلَى اللَّهُ المَلِكُ الحَقُّ ۗ وَلا تَعجَل بِالقُرءانِ مِن قَبلِ أَن يُقضىٰ إِلَيكَ وَحيُهُ ۖ وَقُل رَبِّ زِدنى عِلمًا {20:114}
تو خدا جو سچا بادشاہ ہے عالی قدر ہے۔ اور قرآن کی وحی جو تمہاری طرف بھیجی جاتی ہے اس کے پورا ہونے سے پہلے قرآن کے (پڑھنے کے) لئے جلدی نہ کیا کرو اور دعا کرو کہ میرے پروردگار مجھے اور زیادہ علم دے
یعنی جب قرآن ایسی مفید و عجیب چیز ہے تو جس طرح ہم اس کو بتدریج آہستہ آہستہ اتارتے ہیں ، تم بھی اس کو جبریل سےلینے میں جلدی نہ کیا کرو۔ جس وقت فرشتہ وحی پڑھ کر سنائے تم عجلت کر کے اس کے ساتھ ساتھ نہ پڑھو ہم ذمہ لے چکے ہیں کہ قرآن تمہارے سینہ سے نکلنے نہ پائے گا۔ پھر اس فکر میں کیوں پڑتے ہو کہ کہیں بھول نہ جاؤں اس فکر کے بجائے یوں دعا کیا کرو کہ اللہ تعالیٰ قرآن کی اور زیادہ سمجھ اور بیش از بیش علوم و معارف عطا فرمائے۔ دیکھو آدمؑ نے ایک چیز میں بے موقع تعجیل کی تھی اس کا انجام کیا ہوا۔ حضرت شاہ صاحبؒ لکھتے ہیں کہ "جبریل جب قرآن لاتے حضرت انکے پڑھنےکے ساتھ آپ بھی پڑھنے لگتے کہ بھول نہ جاؤں ، اس کو پہلے منع فرمایا تھا ۔ سورہ قیامت میں { لا تُحَرِّکْ بِہٖ لِسَانِکَ لِتَعْجَلَ بِہٖ اِنَّ عَلَیْنَا جَمْعَہٗ وَقُرْاٰنَہٗ } اور تسلی کر دی تھی کہ اس کا یاد رکھوانا اور لوگوں تک پہنچوانا ہمارے ذمہ ہے۔ لیکن بندہ بشر ہے ، شاید بھول گئے ہوں اس لئے پھر اس آیت سے تقید کیا۔ اور بھولنے پر آگے مثل بیان فرمائی آدمؑ کی۔"
جس نے ایسا عظیم الشان قرآن اتارا ، اور اپنی رعایا کو ایسی سچی اور کھری باتیں ان کے فائدے کے لئے سنائیں۔

فَتَعٰلَى اللَّهُ المَلِكُ الحَقُّ ۖ لا إِلٰهَ إِلّا هُوَ رَبُّ العَرشِ الكَريمِ {23:116}
تو خدا جو سچا بادشاہ ہے (اس کی شان) اس سے اونچی ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، وہی عرش بزرگ کا مالک ہے
جب وہ بالاوبرتر، شہنشاہ، مالک علی الاطلاق ہے تو ہو نہیں سکتا کہ وفاداروں اور مجرموں کو یوں کسمپرسی کی حالت میں چھوڑ دے۔

هُوَ اللَّهُ الَّذى لا إِلٰهَ إِلّا هُوَ المَلِكُ القُدّوسُ السَّلٰمُ المُؤمِنُ المُهَيمِنُ العَزيزُ الجَبّارُ المُتَكَبِّرُ ۚ سُبحٰنَ اللَّهِ عَمّا يُشرِكونَ {59:23}
وہی خدا ہے جس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔ بادشاہ (حقیقی) پاک ذات (ہر عیب سے) سلامتی امن دینے والا نگہبان غالب زبردست بڑائی والا۔ خدا ان لوگوں کے شریک مقرر کرنے سے پاک ہے
یعنی سب نقائص اور کمزوریوں سے پاک، اور سب عیوب و آفات سے سالم، نہ کوئی برائی اس کی بارگاہ تک پہنچی نہ پہنچے۔
"مومن " کا ترجمہ "امان دینے والا" کیا ہے۔ اور بعض مفسّرین کے نزدیک "مصدق" کے معنی ہیں یعنی اپنی اور اپنے پیغمبروں کی قولًا و فعلًا تصدیق کرنے والا۔ یا مومنین کے ایمان پر مہر تصدیق ثبت کرنے والا۔
یعنی اس کی ذات و صفات اور افعال میں کوئی شریک نہیں ہوسکتا۔

بِسمِ اللَّهِ الرَّحمٰنِ الرَّحيمِ يُسَبِّحُ لِلَّهِ ما فِى السَّمٰوٰتِ وَما فِى الأَرضِ المَلِكِ القُدّوسِ العَزيزِ الحَكيمِ {62:1}
جو چیز آسمانوں میں ہے اور جو چیز زمین میں ہے سب خدا کی تسبیح کرتی ہے جو بادشاہ حقیقی پاک ذات زبردست حکمت والا ہے


 ****************************************
هُوَ اللَّهُ الَّذى لا إِلٰهَ إِلّا هُوَ المَلِكُ القُدّوسُ السَّلٰمُ المُؤمِنُ المُهَيمِنُ العَزيزُ الجَبّارُ المُتَكَبِّرُ ۚ سُبحٰنَ اللَّهِ عَمّا يُشرِكونَ {59:23}
وہی خدا ہے جس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔ بادشاہ (حقیقی) پاک ذات (ہر عیب سے) سلامتی امن دینے والا نگہبان غالب زبردست بڑائی والا۔ خدا ان لوگوں کے شریک مقرر کرنے سے پاک ہے
یعنی اس کی ذات و صفات اور افعال میں کوئی شریک نہیں ہوسکتا۔
"مومن " کا ترجمہ "امان دینے والا" کیا ہے۔ اور بعض مفسّرین کے نزدیک "مصدق" کے معنی ہیں یعنی اپنی اور اپنے پیغمبروں کی قولًا و فعلًا تصدیق کرنے والا۔ یا مومنین کے ایمان پر مہر تصدیق ثبت کرنے والا۔
یعنی سب نقائص اور کمزوریوں سے پاک، اور سب عیوب و آفات سے سالم، نہ کوئی برائی اس کی بارگاہ تک پہنچی نہ پہنچے۔

بِسمِ اللَّهِ الرَّحمٰنِ الرَّحيمِ يُسَبِّحُ لِلَّهِ ما فِى السَّمٰوٰتِ وَما فِى الأَرضِ المَلِكِ القُدّوسِ العَزيزِ الحَكيمِ {62:1}
جو چیز آسمانوں میں ہے اور جو چیز زمین میں ہے سب خدا کی تسبیح کرتی ہے جو بادشاہ حقیقی پاک ذات زبردست حکمت والا ہے


 ****************************************
رَبَّنا وَابعَث فيهِم رَسولًا مِنهُم يَتلوا عَلَيهِم ءايٰتِكَ وَيُعَلِّمُهُمُ الكِتٰبَ وَالحِكمَةَ وَيُزَكّيهِم ۚ إِنَّكَ أَنتَ العَزيزُ الحَكيمُ {2:129}
اے پروردگار، ان (لوگوں) میں انہیں میں سے ایک پیغمبر مبعوث کیجیو جو ان کو تیری آیتیں پڑھ پڑھ کر سنایا کرے اور کتاب اور دانائی سکھایا کرے اور ان (کے دلوں) کو پاک صاف کیا کرے۔ بےشک تو غالب اور صاحبِ حکمت ہے
یہ دعا حضرت ابراہیمؑ اور انکے بیٹے حضرت اسمٰعیلؑ دونوں نے مانگی کہ ہماری جماعت میں ایک جماعت فرمانبردار اپنی پیدا کر اور ایک رسول ان میں بھیج جو ان کو کتاب و حکمت کی تعلیم دے اور ایسا نبی جو ان دونوں کی اولاد میں ہو بجز سرور کائنات کوئی نہیں آیا اس کی وجہ سے یہود کے گذشتہ خیال کا پورا رد ہو گیا۔ علم کتاب سے مراد معانی و مطالب ضروریہ ہیں جو عبارت سے واضح ہوتے ہیں اور حکمت سے مراد اسرار مخفیہ اور رموز لطیفہ ہیں۔

فَإِن زَلَلتُم مِن بَعدِ ما جاءَتكُمُ البَيِّنٰتُ فَاعلَموا أَنَّ اللَّهَ عَزيزٌ حَكيمٌ {2:209}
پھر اگر تم احکام روشن پہنچ جانے کے بعد لڑکھڑاجاؤ تو جان جاؤ کہ خدا غالب (اور) حکمت والا ہے
یعنی شریعت محمدی کے صاف صاف احکام معلوم ہونے کے بعد بھی اگر کوئی اس پر قائم نہ ہو بلکہ دوسری طرف بھی نظر رکھے تو خوب سمجھ لو کہ اللہ سب پر غالب ہے جس کو چاہے سزا دے کوئی اس کے عذاب کو روک نہیں سکتا بڑا حکمت والا ہے جو کرتا ہے حق اور مصلحت کے موافق کرتا ہے خواہ عذاب دے یا کچھ ڈھیل دے یعنی نہ جلد باز ہے نہ بھولنے والا نہ خلاف انصاف اور غیر مناسب امر کرنے والا۔

فِى الدُّنيا وَالءاخِرَةِ ۗ وَيَسـَٔلونَكَ عَنِ اليَتٰمىٰ ۖ قُل إِصلاحٌ لَهُم خَيرٌ ۖ وَإِن تُخالِطوهُم فَإِخوٰنُكُم ۚ وَاللَّهُ يَعلَمُ المُفسِدَ مِنَ المُصلِحِ ۚ وَلَو شاءَ اللَّهُ لَأَعنَتَكُم ۚ إِنَّ اللَّهَ عَزيزٌ حَكيمٌ {2:220}
(یعنی) دنیا اور آخرت (کی باتوں) میں (غور کرو)۔ اور تم سے یتیموں کے بارے میں دریافت کرتے ہیں کہہ دو کہ ان کی (حالت کی) اصلاح بہت اچھا کام ہے۔ اور اگر تم ان سے مل جل کر رہنا (یعنی خرچ اکھٹا رکھنا) چاہو تو وہ تمہارے بھائی ہیں اور خدا خوب جانتا ہے کہ خرابی کرنے والا کون ہے اور اصلاح کرنے والا کون۔ اور اگر خدا چاہتا تو تم کو تکلیف میں ڈال دیتا۔بےشک خدا غالب (اور) حکمت والا ہے
بعض لوگ یتیم کے مال میں احتیاط نہ کرتے تھے تو اس پر حکم ہوا تھا { وَلَا تَقْرَبُو امَالَ الْیَتِیْمِ الَّا بِالَّتِیْ ھِیَ اَحْسَنُ } اور { اِنَّ الَّذِیْنَ یَاْکُلُوْنَ اَمْوَالَ الْیَتٰمٰیٰ ظُلْمًا } الخ اس پر جو لوگ یتمیوں کی پرورش کرتے تھے وہ ڈر گئے اور یتیموں کے کھانے اور خرچ کو بالکل جدا کر دیا کیونکہ شرکت کی حالت میں یتیم کا مال کھانا پڑتا تھا اس میں یہ دشواری ہوئی کہ ایک چیز یتیم کے واسطے تیار کی اب جو کچھ بچتی وہ خراب جاتی اور پھینکنی پڑتی اس احتیاط میں یتیموں کا نقصان ہونے لگا تو آپ سے عرض کیا تو اس پر اب یہ آیت نازل ہوئی۔
یعنی مقصود تو صرف یہ بات ہے کہ یتیم کے مال کی درستی اور اصلاح ہو سو جس موقع میں علیحدگی میں یتیم کا نفع ہو تو اس کو اختیار کرنا چاہیئے اور جہاں شرکت میں بہتری نظر آئے تو ان کا خرچ شامل کر لو تو کچھ مضائقہ نہیں کہ ایک وقت ان کی چیز کھا لی تو دوسرے وقت اپنی چیز ان کو کھلا دی کیونکہ وہ یتیم بچے تمہارے دینی یا نسبی بھائی ہیں اور بھائیوں میں شرکت اور کھانا اور کھلانا بیجا نہیں ہاں یہ ضرور ہے کہ یتیموں کی اصلاح کی رعایت پوری رہے اور اللہ خوب جانتا ہے کہ اس شرکت سے کس کو خیانت اور افساد مال یتیم مقصود ہے اور کس کو یتیموں کی اصلاح اور ان کی نفع رسانی منظور ہے۔
یعنی دنیا فانی مگر محل حوائج ہے اور آخرت باقی اور دارثواب ہے اس لئے سوچ سمجھ کر ہر ایک امر میں اس کے مناسب حال خرچ کرنا چاہیئے اور مصلحت دنیا اور آخرت دونوں کو پیش نظر رکھنا مناسب ہے اور احکام کو واضح طور پر بیان فرمانے سے یہی مطلوب ہے کہ تم کو فکر کرنے کا موقع ملے۔
یعنی بھاری سے بھاری حکم دے سکتا ہے اس لئے کہ وہ زبردست ہے لیکن ایسا نہ کیا بلکہ سہولت کا حکم دیا اس لئے کہ وہ حکمت اور مصلحت کے موافق کرنے والا ہے۔
مشقت ڈالتا یعنی کھانے پینے میں یتیموں کی شرکت علیٰ وجہ الاصلاح بھی مباح نہ فرماتا یہ کہ بلا علم و بلا قصد مجبورًا بھی اگر کچھ کمی یا بیشی ہو جاتی تو اس پر بھی مواخذہ کرتا۔

وَالمُطَلَّقٰتُ يَتَرَبَّصنَ بِأَنفُسِهِنَّ ثَلٰثَةَ قُروءٍ ۚ وَلا يَحِلُّ لَهُنَّ أَن يَكتُمنَ ما خَلَقَ اللَّهُ فى أَرحامِهِنَّ إِن كُنَّ يُؤمِنَّ بِاللَّهِ وَاليَومِ الءاخِرِ ۚ وَبُعولَتُهُنَّ أَحَقُّ بِرَدِّهِنَّ فى ذٰلِكَ إِن أَرادوا إِصلٰحًا ۚ وَلَهُنَّ مِثلُ الَّذى عَلَيهِنَّ بِالمَعروفِ ۚ وَلِلرِّجالِ عَلَيهِنَّ دَرَجَةٌ ۗ وَاللَّهُ عَزيزٌ حَكيمٌ {2:228}
اور طلاق والی عورتیں تین حیض تک اپنی تئیں روکے رہیں۔ اور اگر وہ خدا اور روز قیامت پر ایمان رکھتی ہیں تو ان کا جائز نہیں کہ خدا نے جو کچھ ان کے شکم میں پیدا کیا ہے اس کو چھپائیں۔ اور ان کے خاوند اگر پھر موافقت چاہیں تو اس (مدت) میں وہ ان کو اپنی زوجیت میں لے لینے کے زیادہ حقدار ہیں۔ اور عورتوں کا حق (مردوں پر) ویسا ہی ہے جیسے دستور کے مطابق (مردوں کا حق) عورتوں پر ہے۔ البتہ مردوں کو عورتوں پر فضیلت ہے۔ اور خدا غالب (اور) صاحب حکمت ہے
جب مرد نے عورت کو طلاق دی تو ابھی اس عورت کو کسی دوسرے سے نکاح روا نہیں جب تک تین حیض پورے نہ ہو جائیں تاکہ حمل ہو تو معلوم ہو جائے اور کسی کی اولاد کسی کو نہ مل جائے اس لئے عورت پر فرض ہے کہ جو ان کے پیٹ میں ہو اس کو ظاہر کر دیں خواہ حمل ہو یا حیض آتا ہو اور اس مدت کو عدت کہتے ہیں۔ {فائدہ} معلوم کرنا چاہیئے کہ یہاں مطلقات سے خاص وہ عورتیں مراد ہیں کہ ان سے نکاح کے بعد صحبت یا خلوت شرعیہ کی نوبت خاوند کو آ چکی ہو اور ان عورتوں کو حیض بھی آتا ہو اور آزاد بھی ہوں کسی کی لونڈی نہ ہوں کیونکہ جس عورت سے صحبت یا خلوت کی نوبت نہ آئے اس کے اوپر طلاق کے بعد عدت بالکل نہیں اور جس عورت کو حیض نہ آئے مثلًا صغیر سن ہے یا بہت بوڑھی ہو گئ یا اس کو حمل ہے تو پہلی دونوں صورتوں میں اس کی عدت تین مہینے ہیں اور حاملہ کی عدت وضع حمل ہے اور جو عورت آزاد نہ ہو بلکہ کسی کی شرعی قاعدہ کے موافق لونڈی ہو اگر اس کو حیض آتا ہو تو اس کی عدت دو حیض اور حیض نہ آئے تو اگر وہ صغیرہ یا بڑھیا ہے تو اس کی عدت ڈیڑھ مہینہ ہے اور حاملہ ہے تو وہی وضع حمل ہے۔دوسری آیتوں اور حدیثوں سے یہ تفصیل ثابت ہے۔
یعنی عدت کے اندر مرد چاہے تو عورت کو پھر رکھ لے اگرچہ عورت کی خوشی نہ ہو مگر اس لوٹانے سے مقصود سلوک اور اصلاح ہو عورت کو ستانا یا اس دباؤ میں اس سے مہر کا معاف کرانا منظور نہ ہو یہ ظلم ہے اگر ایسا کرے گا تو گنہگار ہوگا گو رجعت بھی صحیح ہو جائے گی۔
یعنی یہ امر تو حق ہے کہ جیسے مردوں کے حقوق عورتوں پر ہیں ایسے ہی عورتوں کے حقوق مردوں پر ہیں جن کا قاعدہ کے موافق ادا کرنا ہر ایک پر ضروری ہے اب مرد کو عورت کے ساتھ بدسلوکی اور اس کی ہر قسم کی حق تلفی ممنوع ہو گی مگر یہ بھی ہے کہ مردوں کو عورتوں پر فضیلت اور فوقیت ہے تو اس لئے رجعت میں اختیار مرد ہی کو دیا گیا۔

وَالَّذينَ يُتَوَفَّونَ مِنكُم وَيَذَرونَ أَزوٰجًا وَصِيَّةً لِأَزوٰجِهِم مَتٰعًا إِلَى الحَولِ غَيرَ إِخراجٍ ۚ فَإِن خَرَجنَ فَلا جُناحَ عَلَيكُم فى ما فَعَلنَ فى أَنفُسِهِنَّ مِن مَعروفٍ ۗ وَاللَّهُ عَزيزٌ حَكيمٌ {2:240}
اور جو لوگ تم میں سے مرجائیں اور عورتیں چھوڑ جائیں وہ اپنی عورتوں کے حق میں وصیت کرجائیں کہ ان کو ایک سال تک خرچ دیا جائے اور گھر سے نہ نکالی جائیں۔ ہاں اگر وہ خود گھر سے نکل جائیں اور اپنے حق میں پسندیدہ کام (یعنی نکاح) کرلیں تو تم پر کچھ گناہ نہیں۔ اور خدا زبردست حکمت والا ہے
یہ حکم اول تھا اس کے بعد جب آیت میراث نازل ہوئی اور عورتوں کا بھی حصہ مقرر ہو چکا ادھر عورت کی عدت چار مہینے دس دن ٹھہرا دی گئ تب سے اس آیت کا حکم موقوف ہوا۔
یعنی اگر وہ عورتیں اپنی خوشی سے سال کے ختم ہونے سے پہلے گھر سے نکلیں تو کچھ گناہ نہیں تم پر اے وارثو اس کام میں کہ کریں وہ عورتیں اپنے حق میں شریعت کے موافق یعنی چاہیں خاوند کریں یا اچھی پوشاک اور خوشبو کا استعمال کریں کچھ حرج نہیں۔

مِن قَبلُ هُدًى لِلنّاسِ وَأَنزَلَ الفُرقانَ ۗ إِنَّ الَّذينَ كَفَروا بِـٔايٰتِ اللَّهِ لَهُم عَذابٌ شَديدٌ ۗ وَاللَّهُ عَزيزٌ ذُو انتِقامٍ {3:4}
(یعنی) لوگوں کی ہدایت کے لیے پہلے (تورات اور انجیل اتاری) اور (پھر قرآن جو حق اور باطل کو) الگ الگ کر دینے والا (ہے) نازل کیا جو لوگ خدا کی آیتوں کا انکار کرتے ہیں ان کو سخت عذاب ہوگا اور خدا زبردست (اور) بدلہ لینے والا ہے
یعنی ایسے مجرموں کو نہ سزا دیے بغیر چھوڑے گا نہ وہ اس کے زبردست اقتدار سے چھوٹ کر بھاگ سکیں گے۔ اس میں بھی الوہیت مسیح کے ابطال کی طرف لطیف اشارہ ہو گیا۔ کیونکہ جو اختیار و اقتدار کلی خدا کے لئے ثابت کیا گیا ظاہر ہے وہ مسیح میں نہیں پایا جاتا۔ بلکہ نصاریٰ کے نزدیک مسیحؑ کسی کو سزا تو کیا دے سکتے خود اپنے کو باوجود سخت تضرع و الحاح کے ظالموں کے پنجہ سے نہ چھڑا سکے۔ پھر خدا یا خدا کا بیٹا کیسے بن سکتے ہیں؟ بیٹا وہ ہی کہلاتا ہے جو باپ کی نوع سے ہو۔ لہذا خدا کا بیٹا خدا ہی ہونا چاہیئے۔ ایک عاجز مخلوق کو حقیقۃً قادر مطلق کا بیٹا کہنا، باپ اور بیٹے دونوں پر سخت عیب لگانا ہے۔ العیاذ باللہ۔
یعنی ہر زمانہ کے مناسب ایسی چیزیں اتاریں جو حق و باطل، حلال و حرام اور جھوٹ سچ کے درمیان فیصلہ کرنے والی ہوں۔ اس میں قرآن کریم،کتب سماویہ، معجزات انبیاء سب داخل ہو گئے اور ادھر بھی اشارہ ہو گیا کہ جن مسائل میں یہود و نصاریٰ جھگڑتے چلے آ رہے ہیں ان اختلافات کا فیصلہ بھی قرآن کے ذریعہ سے کر دیا گیا۔
یعنی قرآن اگلی کتابوں کی تصدیق کرتا ہے اور اگلی کتابیں (تورات اور انجیل وغیرہ) پہلے سے قرآن اور اس کے لانے والے کی طرف لوگوں کی رہنمائی کر رہی تھیں اور اپنے اپنے وقت میں مناسب احکام و ہدایات دیتی تھیں۔ گویا بتلا دیا کہ "الوہیت" یا "ابنیت مسیح" کا عقیدہ کسی آسمانی کتاب میں موجود نہ تھا۔ کیونکہ اصول دین کے اعتبار سے تمام کتب سماویہ متفق و متحد ہیں ۔ مشرکانہ عقائد کی تعلیم کبھی نہیں دی گئ۔

هُوَ الَّذى يُصَوِّرُكُم فِى الأَرحامِ كَيفَ يَشاءُ ۚ لا إِلٰهَ إِلّا هُوَ العَزيزُ الحَكيمُ {3:6}
وہی تو ہے جو (ماں کے پیٹ میں) جیسی چاہتا ہے تمہاری صورتیں بناتا ہے اس غالب حکمت والے کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں
یعنی اپنے علم و حکمت کےمطابق کمال قدرت سے جیسا اور جس طرح چاہا ماں کے پیٹ میں تمہارا نقشہ بنایا مذکر، مونث، خوبصورت، بدصورت، جیسا پیدا کرنا تھا کر دیا ۔ ایک پانی کے قطرہ کو کتنی پلٹیاں دے کر آدمی کی صورت عطا فرمائی۔ جس کی قدرت و صنعت کا یہ حال ہے کیا اس کے علم میں کمی ہو سکتی ہے یا کوئی انسان جو خود بھی بطن مادر کی تاریکیوں میں رہ کر آیا ہو اور عام بچوں کی طرح کھاتا، پیتا، پیشاب، پاخانہ کرتا ہو۔ اس خداوند قدوس کا بیٹا یا پوتا کہلایا جا سکتا ہے ؟ { کبُرتْ کلمۃً تخرج من افواھہم ان یقولون الاّ کذبًا } عیسائیوں کا سوال تھا کہ جب مسیحؑ کا ظاہری باپ کوئی نہیں تو بجز خدا کے کس کو باپ کہیں { یُصَوِّرُ کُمْ فِی الْاَرْحَامِ کَیْفَ یَشَآءُ } میں اس کا جواب بھی ہو گیا۔ یعنی خدا کو قدرت ہے رحم میں جس طرح چاہے آدمی کا نقشہ تیار کر دے۔ خواہ ماں باپ دونوں کے ملنے سے یا صرف ماں کی قوت منفعلہ سے اسی لئے آگے فرمایا { ھُوَالْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ } یعنی زبردست ہے جس کی قدرت کو کوئی محدود نہیں کر سکتا۔ اور "حکیم" ہے جہاں جیسا مناسب جانتا ہے کرتا ہے۔ "حوا" کو بدون ماں کے، "مسیح" کو بدون باپ کے، "آدم" کو بدون ماں باپ دونوں کے پیدا کر دیا۔ اس کی حکمتوں کا احاطہ کون کر سکے۔

شَهِدَ اللَّهُ أَنَّهُ لا إِلٰهَ إِلّا هُوَ وَالمَلٰئِكَةُ وَأُولُوا العِلمِ قائِمًا بِالقِسطِ ۚ لا إِلٰهَ إِلّا هُوَ العَزيزُ الحَكيمُ {3:18}
خدا تو اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں اور فرشتے اور علم والے لوگ جو انصاف پر قائم ہیں وہ بھی (گواہی دیتے ہیں کہ) اس غالب حکمت والے کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں
ابتداء میں نصاریٰ "نجران" سے خطاب تھا اور نہایت لطیف انداز سے الوہیت مسیح کے عقیدہ کا ابطال اور توحید خالص کا اعلان کر کے ایمان لانے کی ترغیب دی گئ تھی۔ درمیان میں ان مواقع کا ذکر فرمایا جو انسان کو وضوح حق کے باوجود شرف ایمان سے محروم رکھتے ہیں۔ یعنی مال و اولاد اور سامان عیش و عشرت۔ ان آیات میں مومنین کی صفات بیان کرنے کے بعد پھر اصل مضمون توحید وغیرہ کی طرف عود کیا گیا ہے۔ یعنی توحید خالص کے ماننے میں کیا تردد ہو سکتا ہے۔ جب کہ خود حق تعالیٰ اپنی تمام کتابوں میں برابر اس مضمون کی گواہی دیتا رہا ہے۔ اور اس کی فعلی کتاب (صحیفہ کائنات) کا ایک ایک ورق بلکہ ایک ایک نقطہ شہادت دیتا ہے کہ بندگی کے لائق ربّ العالمین کے سوا کوئی نہیں ہو سکتا۔ { و فی کل شئی لہ اٰ یۃ۔ تَدُلُّ عَلٰی اَنَّہٗ وَاحِدٌ } { سَنُرَیْھِمْ اٰیٰتِنَا فِی الْاٰفَاقِ وَ فَیْٓ اَنْفُسِھِمْ حَتّٰی یَتَبَیَّنَ لَھُمْ اَنَّہُ الْحَقُّ ؕ اَوَلَمْ یَکْفِ بِرَبِّکَ اَنَّہٗ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ شَھِیْدٌ } (حٓمٓ سجدہ رکوع۶ )
ظاہر ہے فرشتوں کی گواہی خدا کی گواہی کے خلاف کیسے ہو سکتی ہے ۔ فرشتہ تو نام ہی اس مخلوق کا ہے جو صدق و حق کے راستہ سے سرتابی نہ کر سکے۔ چنانچہ فرشتوں کی تسبیح و تمجید تمامتر توحید و تفرید باری پر مشتمل ہے۔
علم والے ہر زمانے میں توحید کی شہادت دیتے رہے ہیں اور آج تو عام طور پر توحید کے خلاف ایک لفظ کہنا جہل محض کا مترادف سمجھا جاتا ہے مشرکین بھی دل میں مانتے ہیں کہ علمی اصول کبھی مشرکانہ عقائد کی تائید نہیں کر سکتے۔
انصاف کرنے کے لئے دو باتیں ضروری ہیں، زبردست ہو کہ اس کے فیصلے سے کوئی سرتابی نہ کر سکے اور حکیم ہو کہ حکمت و دانائی سے پوری طرح جانچ تول کر ٹھیک ٹھیک فیصلہ کرے کوئی حکم بےموقع نہ دے۔ چونکہ حق تعالیٰ عزیز و حکیم ہے لہذا اس کے منصف علی الا طلاق ہونے میں کیا شبہ ہو سکتا ہے غالبًا اس لفظ { قَآئِمًا بِالْقِسْطِ } میں عیسائیوں کے مسئلہ کفارہ کا بھی رد ہو گیا۔ بھلا کہ کہاں کا انصاف ہو گا کہ ساری دنیا کے جرائم ایک شخص پر لاد دیے جائیں اور وہ تنہا سزا پا کر سب مجرموں کو ہمیشہ کے لئے بری اور پاک کر دے۔ خدائے عادل و حکیم کی بارگاہ ایسی گستاخیوں سے کہیں بالا و برتر ہے۔

إِنَّ هٰذا لَهُوَ القَصَصُ الحَقُّ ۚ وَما مِن إِلٰهٍ إِلَّا اللَّهُ ۚ وَإِنَّ اللَّهَ لَهُوَ العَزيزُ الحَكيمُ {3:62}
یہ تمام بیانات صحیح ہیں اور خدا کے سوا کوئی معبود نہیں اور بیشک خدا غالب اور صاحبِ حکمت ہے
دعوت مباہلہ کے ساتھ بتلا دیا کہ مباہلہ اس پر کیا جاتا تھا کہ جو کچھ حضرت مسیحؑ کے متعلق قرآن میں بیان ہوا وہ ہی سچا بیان ہے اور خدا کی بارگاہ ہر قسم کے شرک اور باپ بیٹے وغیرہ کے تعلقات سے پاک ہے۔
اپنی زبردست قدرت و حکمت سے جھوٹے اور سچے کے ساتھ وہی معاملہ کرے گا جو اس کے حسب حال ہو۔

وَما جَعَلَهُ اللَّهُ إِلّا بُشرىٰ لَكُم وَلِتَطمَئِنَّ قُلوبُكُم بِهِ ۗ وَمَا النَّصرُ إِلّا مِن عِندِ اللَّهِ العَزيزِ الحَكيمِ {3:126}
اور اس مدد کو خدا نے تمھارے لیے (ذریعہٴ) بشارت بنایا یعنی اس لیے کہ تمہارے دلوں کو اس سے تسلی حاصل ہو ورنہ مدد تو خدا ہی کی ہے جو غالب (اور) حکمت والا ہے
یعنی یہ سب غیبی سامان غیر معمولی طور پر ظاہری اسباب کی صورت میں محض اس لئے مہیا کئے گئے کہ تمہارے دلوں سے اضطراب و ہراس دور ہو کر سکون و اطمینان نصیب ہو ۔ ورنہ خدا کی مدد کچھ ان چیزوں پر محدود و مقصود نہیں نہ اسباب کی پابند ہے وہ چاہے تو محض اپنی زبردست قدرت سے بدون فرشتوں کے تمہارا کام بنا دے۔ یا بدون تمہارے توسط کے کفار کو خائب و خاسر کر دے۔ یا ایک فرشتہ سے وہ کام لے لے جو پانچ ہزار سے لیا جاتا ہے۔ فرشتے بھی جو امداد پہنچاتے ہیں وہ اسی خدا وند قدیر کی قدرت و مشیت سے پہنچا سکتے ہیں۔ مستقل طاقت و اختیار کسی میں نہیں۔ آگے یہ اس کی حکمت ہے کہ کس موقع پر کس قسم کے اسباب و سائط سے کام لینا مناسب ہے تکوینیات کے رازوں کا کوئی احاطہ نہیں کر سکتا ؂ حدیث از مطرب دمے گو دراز دہر کمتر جو کل کس نکشو و نکشاید بحکمت این معمارا۔

إِنَّ الَّذينَ كَفَروا بِـٔايٰتِنا سَوفَ نُصليهِم نارًا كُلَّما نَضِجَت جُلودُهُم بَدَّلنٰهُم جُلودًا غَيرَها لِيَذوقُوا العَذابَ ۗ إِنَّ اللَّهَ كانَ عَزيزًا حَكيمًا {4:56}
جن لوگوں نے ہماری آیتوں سے کفر کیا ان کو ہم عنقریب آگ میں داخل کریں گے جب ان کی کھالیں گل (اور جل) جائیں گی تو ہم اور کھالیں بدل دیں گے تاکہ (ہمیشہ) عذاب (کا مزہ چکھتے) رہیں بےشک خدا غالب حکمت والا ہے
یعنی اللہ تعالیٰ بےشک زبردست اور غالب ہے کافروں کو ایسی سزا دینے میں کوئی دقت اور دشواری نہیں اور حکمت والا ہے کافروں کو یہ سزا دینی عین حکمت کے موافق ہے۔
پہلی آیت میں مومن و کافر کا ذکر تھا اب مطلق مومن اور کافر کی جزا و سزا بطور قاعدہ کلیہ کے ذکر فرماتے ہیں تاکہ ایمان کی طرف پوری ترغیب او رکفر سے پوری ترہیب ہو جائے۔
یعنی کافروں کے عذاب میں نقصان اور کمی نہ آنے کی غرض سے ان کی کھال کے جل جانے کے وقت دوسری کھال بدل دی جائے گی مطلب یہ ہوا کہ کافر ہمیشہ عذاب میں یکساں مبتلا رہیں گے۔

بَل رَفَعَهُ اللَّهُ إِلَيهِ ۚ وَكانَ اللَّهُ عَزيزًا حَكيمًا {4:158}
بلکہ خدا نے ان کو اپنی طرف اٹھا لیا۔ اور خدا غالب اور حکمت والا ہے
اللہ تعالیٰ ان کےقول کی تکذیب فرماتا ہے کہ یہودیوں نے نہ عیسٰیؑ کو قتل کیا نہ سولی پر چڑھایا یہود جو مختلف باتیں اس بارہ میں کہتے ہیں اپنی اپنی اٹکل سےکہتے ہیں اللہ نے ان کو شبہ میں ڈال دیا۔ خبر کسی کو بھی نہیں۔ حضرت عیسٰیؑ آسمان پر اٹھا لئے گئے: واقعی بات یہ ہے اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسٰیؑ کو آسمان پر اٹھا لیا۔ اور اللہ تعالیٰ سب چیزوں پر قادر ہے اور اس کے ہر کام میں حکمت ہے قصہ یہ ہوا کہ جب یہودیوں نے حضرت مسیحؑ کے قتل کا عزم کیا تو پہلے ایک آدمی ان کے گھر میں داخل ہوا حق تعالیٰ نے ان کو تو آسمان پر اٹھا لیا اور اس شخص کی صورت حضرت مسیحؑ کی صورت کے مشابہ کر دی جب باقی لوگ گھر میں گھسے تو اس کو مسیحؑ سمجھ کر قتل کر دیا پھر خیال آیا تو کہنے لگے کہ اس کا چہرہ تو میسحؑ کے چہرہ کے مشابہ ہے اور باقی بدن ہمارےساتھی کا معلوم ہوتا ہے کسی نے کہا کہ یہ مقتول مسیحؑ ہے تو ہمارا آدمی کہاں گیا اور ہمارا آدمی ہے تو مسیحؑ کہاں ہے اب صرف اٹکل سے کسی نے کچھ کہا کسی نےکچھ کہا علم کسی کو بھی نہیں حق یہی ہے کہ حضرت عیسٰیؑ ہر گز مقتول نہیں ہوئے بلکہ آسمان پر اللہ نے اٹھا لیا اور یہود کو شبہ میں ڈال دیا۔

رُسُلًا مُبَشِّرينَ وَمُنذِرينَ لِئَلّا يَكونَ لِلنّاسِ عَلَى اللَّهِ حُجَّةٌ بَعدَ الرُّسُلِ ۚ وَكانَ اللَّهُ عَزيزًا حَكيمًا {4:165}
(سب) پیغمبروں کو (خدا نے) خوشخبری سنانے والے اور ڈرانے والے (بنا کر بھیجا تھا) تاکہ پیغمبروں کے آنے کے بعد لوگوں کو خدا پر الزام کا موقع نہ رہے اور خدا غالب حکمت والا ہے
اللہ تعالیٰ نے پیغمبروں کو برابر بھیجا کہ مومنین کو خوشخبری سنائیں اور کافروں کو ڈرائیں تاکہ لوگوں کو قیامت کے دن اس عذر کی جگہ نہ رہے کہ ہم کو تیری مرضی اور غیر مرضی معلوم نہ تھی معلوم ہوتی تو ضرور اس پر چلتے سو جب اللہ تعالیٰ نے پیغمبروں کو معجزے دے کر بھیجا اور پیغمبروں نے راہ حق بتلائی تو اب دین حق کے قبول نہ کرنے میں کسی کا کوئی عذر نہیں سنا جا سکتا۔ وحی الہٰی ایسی قطعی حجت ہے کہ اس کے روبرو کوئی حجت نہیں چل سکتی بلکہ سب حجتیں قطع ہو جاتی ہیں اور یہ اللہ کی حکمت اور تدبیر ہے اور زبردستی کرے تو کون روک سکتا ہے مگر اس کو پسند نہیں۔

وَالسّارِقُ وَالسّارِقَةُ فَاقطَعوا أَيدِيَهُما جَزاءً بِما كَسَبا نَكٰلًا مِنَ اللَّهِ ۗ وَاللَّهُ عَزيزٌ حَكيمٌ {5:38}
اور جو چوری کرے مرد ہو یا عورت ان کے ہاتھ کاٹ ڈالو یہ ان کے فعلوں کی سزا اور خدا کی طرف سے عبرت ہے اور خدا زبردست (اور) صاحب حکمت ہے
چونکہ غالب ہے اس لئے اسے حق ہے کہ جو چاہے قانون نافذ کر دے کوئی چون و چراں نہیں کر سکتا۔ لیکن چونکہ حکمت والا بھی ہے اس لئے یہ احتمال نہیں کہ محض اپنے اختیار کامل سےکام لے کر کوئی قانون بےموقع نافذ کرے۔ نیز وہ اپنے ناتواں بندوں کے اموال کی حفاظت کا کوئی انتظام نہ کر سکے یہ اس کی عزت اور غلبہ کے منافی ہے اور چوروں ڈاکوؤں کو یونہی آزاد چھوڑ دے یہ اس کی حکمت کے خلاف ہے۔
یعنی جو سزا چور کو دی جا رہی ہے وہ مال مسروق کا بدلہ نہیں بلکہ اس کے فعل سرقہ کی سزا ہے تاکہ اسے اور دوسرے چوروں کو تنبیہ ہو جائے۔ بلاشبہ جہاں کہیں یہ حدود جاری ہوتی ہیں دوچار ہی کی سزایابی کے بعد چوری کا دروازہ قطعًا بند ہو جاتا ہے۔ آج کل مدعیان تہذیب اس قسم کی حدود کو وحشیانہ سزا سے موسوم کرتے ہیں لیکن چوری کرنا اگر ان صاحبوں کے نزدیک کو ئی مہذب فعل نہیں ہے تو یقینًا آپ کی مہذب سزا؟ اس غیر مہذب وستربد کے استیصال میں کامیاب نہیں ہو سکتی۔ اگر تھوڑی سی وحشت کا تحمل کرنے سے بہت سے چور مہذب بنائے جا سکتے ہوں تو حاملین تہذیب کو خوش ہونا چاہئے کہ ان کے تہذیبی مشن میں اس وحشت سے مدد مل رہی ہے۔ بعض نام نہاد مفسر بھی اس کوشش میں ہیں کہ قطع ید (ہاتھ کاٹنے) کی سزا کو چوری کی انتہائی سزا قرار دے کر اس سے ہلکی سزا دہی کا اختیار شریعت حقہ سےحاصل کر لیں مگر مشکل یہ ہے کہ نہ تو چوری کی اس سے ہلکی سزا قرآن کریم میں کہیں موجود ہے اور نہ عہد نبوت یا عہد صحابہ میں اس کی کوئی نظیر پائی گئ۔ کیا کوئی شخص یہ دعویٰ کر سکتا ہے کہ اتنے طویل عرصہ میں جتنے چور پکڑے گئے ان میں ایک بھی ابتدائی چور نہ تھا جس پر کم ازکم بیان جواز ہی کے طور پر قطع ید سے ہلکی کوئی ابتدائی سزا جاری کی جاتی۔ کسی ملحد نے پرانے زمانہ میں اس حد سرقہ پر یہ بھی شبہ کیا تھا کہ جب شریعت نے ایک ہاتھ کی دیت پانسو دینار رکھی ہے تو اتنا قیمتی ہاتھ جس کے کٹنے پر پانسو دینار واجب ہوں دس پانچ روپیہ کہ چوری میں کس طرح کاٹا جا سکتا ہے ایک عالم نے اس کے جواب میں کیا خوب فرمایا { انھا لما کانت امینۃً ثمینۃ فلما خانت ھانت } یعنی جو ہاتھ امین تھا وہ قیمتی تھا جب چوری کر کے خائن ہوا تو ذلیل ہوا۔
یعنی پہلی مرتبہ چوری کرے تو داہنا ہاتھ گٹے پر سے کاٹ دو۔ باقی تفاصیل کتب فقہ میں ملیں گی پچھلے رکوع میں ڈکیتی وغیرہ کی سزا ذکر کی گئ تھی۔ درمیان میں بعض مناسبات کی وجہ سے جن کو ہم بیان کر چکے ہیں مومنین کو چند ضروری نصائح کی گئیں۔ اب پھر اسی پچھلے مضمون کی تکمیل کی جاتی ہے۔ یعنی وہاں ڈکیتی کی سزا مذکور ہوئی تھی اس آیت میں چوری کی سزا بتلا دی۔

يٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنوا لا تَقتُلُوا الصَّيدَ وَأَنتُم حُرُمٌ ۚ وَمَن قَتَلَهُ مِنكُم مُتَعَمِّدًا فَجَزاءٌ مِثلُ ما قَتَلَ مِنَ النَّعَمِ يَحكُمُ بِهِ ذَوا عَدلٍ مِنكُم هَديًا بٰلِغَ الكَعبَةِ أَو كَفّٰرَةٌ طَعامُ مَسٰكينَ أَو عَدلُ ذٰلِكَ صِيامًا لِيَذوقَ وَبالَ أَمرِهِ ۗ عَفَا اللَّهُ عَمّا سَلَفَ ۚ وَمَن عادَ فَيَنتَقِمُ اللَّهُ مِنهُ ۗ وَاللَّهُ عَزيزٌ ذُو انتِقامٍ {5:95}
مومنو! جب تم احرام کی حالت میں ہو تو شکار نہ مارنا اور جو تم میں سے جان بوجھ کر اسے مارے تو (یا تو اس کا) بدلہ (دے اور وہ یہ ہے کہ) اسی طرح کا چارپایہ جسے تم میں دو معتبر شخص مقرر کردیں قربانی (کرے اور یہ قربانی) کعبے پہنچائی جائے یا کفارہ (دے اور وہ) مسکینوں کو کھانا کھلانا (ہے) یا اس کے برابر روزے رکھے تاکہ اپنے کام کی سزا (کا مزہ) چکھے (اور) جو پہلے ہو چکا وہ خدا نے معاف کر دیا اور جو پھر (ایسا کام) کرے گا تو خدا اس سے انتقام لے گا اور خدا غالب اور انتقام لینے والا ہے
حنفیہ کے یہاں مسئلہ یہ ہے کہ اگر احرام میں شکار پکڑا تو فرض ہے کہ چھوڑ دے۔ اگر مار دیا تو دو صاحب بصیرت اور تجربہ کار معتبر آدمیوں سےاس جانور کی قیمت لگوائے۔ اسی قدرو قیمت کا مواشی میں سے ایک جانور لےکر (مثلًا بکری، گائے، اونٹ وغیرہ) کعبہ کے نزدیک یعنی حدود حرم میں پہنچا کر ذبح کر ے اور خود اس میں سے نہ کھائے۔ یا اسی قیمت کا غلہ لے کر محتاجوں کو فی محتاج صدقۃ الفطر کی مقدار تقسیم کر دے یا جس قدر محتاجوں کو پہنچتا، اتنے ہی دنوں کے روزے رکھ لے۔
یعنی نزول حکم سے پہلے یا اسلام سے پہلے زمانہ جاہلیت میں کسی نے یہ حرکت کی تھی تو اس سے اب خدا تعرض نہیں کرتا۔ حالانکہ اسلام سے پہلے بھی عرب حالت احرام میں شکار کو نہایت برا جانتے تھے اس لئے اس پر مواخذہ ہونا بےجا نہ تھا کہ جو چیز تمہارے زعم کے موافق جرائم میں داخل تھی اس کا ارتکاب کیوں کیا گیا۔
یعنی نہ کوئی مجرم اس کےقبضہ قدرت سےنکل کر بھاگ سکتا ہے۔ اور بہ مقتضائے عدل و حکمت جو جرائم سزا دینے کےقابل ہیں نہ خدا ان سے درگذر کرنے والا ہے۔
اس کے متعلق بعض احکام سورہ مائدہ کے شروع میں گذر چکے۔
جان کر مارنے کا یہ مطلب ہے کہ اپنا محرم ہونا یاد ہو اور یہ بھی مستحضر ہو کہ حالت احرام میں شکار جائز نہیں۔ یہاں صرف "متعمد" کا حکم بیان فرمایا کہ اس کےفعل کی جزا یہ ہے اور خدا جو انتقام لے گا وہ الگ رہا۔ جیسا کہ { وَمَنْ عَادَ فَیَنْتَقِمُ اللہُ مِنْہُ } سےتنبیہ فرمائی۔ اور اگر بھول کر شکار کیا تو جزا تو یہ ہی رہے گی یعنی ہدی یا طعام یا صیام البتہ خدا اس سے انتقامی سزا اٹھا لے گا۔

إِن تُعَذِّبهُم فَإِنَّهُم عِبادُكَ ۖ وَإِن تَغفِر لَهُم فَإِنَّكَ أَنتَ العَزيزُ الحَكيمُ {5:118}
اگر تو ان کو عذاب دے تو یہ تیرے بندے ہیں اور اگر بخش دے تو (تیری مہربانی ہے) بےشک تو غالب اور حکمت والا ہے
یعنی آپ اپنے بندوں پر ظلم اور بے جا سختی نہیں کر سکتے اس لئے اگر ان کو سزا دیں گے تو عین عدل و حکمت پر مبنی ہو گی اور فرض کیجئے معاف کر دیں تو یہ معافی بھی ازراہ عجز و سفہ نہ ہوگی۔ چونکہ آپ "عزیز" (زبردست اور غالب) ہیں اس لئے کوئی مجرم آپکے قبضہ قدرت سے نکل کر بھاگ نہیں سکتا کہ آپ اس پر قابو نہ پاسکیں۔ اور چونکہ "حکیم" (حکمت والے) ہیں اس لئے یہ بھی ممکن نہیں کہ کسی مجرم کو یوں ہی بےموقع چھوڑ دیں۔ بہرحال جو فیصلہ آپ ان مجرمین کے حق میں کریں گے وہ بالکل حکیمانہ اور قادرا نہ ہو گا۔ حضرت مسیحؑ کا یہ کلام چونکہ محشر میں ہو گا جہاں کفار کے حق میں کوئی شفاعت اور استدعاء رحم وغیرہ نہیں ہو سکتی، اسی لئے حضرت مسیحؑ نے عزیز و حکیم کی جگہ غفور رحیم وغیرہ صفات کو اختیار نہیں فرمایا۔ برخلاف اس کے حضرت ابراہیمؑ نے دنیا میں اپنے پروردگار سے عرض کیا تھا۔ { رَبِّ اِنَّھُنَّ اَضْلَلْنَ کَثِیْرًا مِّنَ النَّاسِ فَمَنْ تَبِعَنْیِ فَاِنَّہٗ مِنِّیْ وَمَنْ عَصَانِیْ فَاِنَّکَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ } (اے پروردگار ان بتوں نے بہت سے آدمیوں کو گمراہ کر دیا تو جو ان میں سے میرے تابع ہوا وہ میرا آدمی ہے اور جس نے میری نافرمانی کی تو پھر تو غفور رحیم ہے) یعنی ابھی موقع ہے کہ تو اپنی رحمت سے آیندہ ان کو توبہ اور رجوع الی الحق کی توفیق دے کر پچھلے گناہوں کو معاف فرما دے۔

فالِقُ الإِصباحِ وَجَعَلَ الَّيلَ سَكَنًا وَالشَّمسَ وَالقَمَرَ حُسبانًا ۚ ذٰلِكَ تَقديرُ العَزيزِ العَليمِ {6:96}
وہی (رات کے اندھیرے سے) صبح کی روشنی پھاڑ نکالتا ہے اور اسی نے رات کو (موجب) آرام (ٹھہرایا) اور سورج اور چاند کو (ذرائع) شمار بنایا ہے۔ یہ خدا کے (مقرر کئے ہوئے) اندازے ہیں جو غالب (اور) علم والا ہے
رات دن اور چاند سورج کا جو حکیمانہ نظام اور ان کی رفتار کا جو حساب مقرر فرما دیا اس میں ذرا بھی تخلف یا کم و بیش نہیں ہوتا۔
یعنی رات کی تاریکی میں سے جو پیلی پھٹ کر صبح صادق نمودار ہوتی ہے اس کا نکالنے والا بھی وہ ہی ہے۔

وَما جَعَلَهُ اللَّهُ إِلّا بُشرىٰ وَلِتَطمَئِنَّ بِهِ قُلوبُكُم ۚ وَمَا النَّصرُ إِلّا مِن عِندِ اللَّهِ ۚ إِنَّ اللَّهَ عَزيزٌ حَكيمٌ {8:10}
اور اس مدد کو خدا نے محض بشارت بنایا تھا کہ تمہارے دل سے اطمینان حاصل کریں۔ اور مدد تو الله ہی کی طرف سے ہے۔ بےشک خدا غالب حکمت والا ہے
اسی طرح کی آیت " آل عمران" پارہ "لن تنالوا" کے ربع پر گذر چکی۔ وہاں کے فوائد ملاحظہ کئے جائیں۔ البتہ اس جگہ فرشتوں کی تعداد تین سے پانچ ہزار تک بیان کی گئ تھی اگر واقعہ ایک ہے تو کہا جائے گا کہ اول ایک ہزار کا دستہ آیا ہو گا۔ پھر اس کے پیچھے دوسرے دستے آئے ہوں۔ جن کی تعداد تین سے پانچ ہزار تک پہنچی۔ شاید لفظ "مرد فین" میں اسی طرح اشارہ ہو۔

إِذ يَقولُ المُنٰفِقونَ وَالَّذينَ فى قُلوبِهِم مَرَضٌ غَرَّ هٰؤُلاءِ دينُهُم ۗ وَمَن يَتَوَكَّل عَلَى اللَّهِ فَإِنَّ اللَّهَ عَزيزٌ حَكيمٌ {8:49}
اس وقت منافق اور (کافر) جن کے دلوں میں مرض تھا کہتے تھے کہ ان لوگوں کو ان کے دین نے مغرور کر رکھا ہے اور جو شخص خدا پر بھروسہ رکھتا ہے تو خدا غالب حکمت والا ہے
مسلمانوں کی تھوڑی جمعیت اور بے سروسامان اور اس پر ایسی دلیری و شجاعت کو دیکھتے ہوئے منافقین اور ضعیف القلب کلمہ گو کہنے لگے کہ یہ مسلمان اپنے دین اور حقانیت کے خیال پر مغرور ہیں جو اس طرح اپنے کو موت کے منہ میں ڈال دیتے ہیں۔ حق تعالیٰ نے اس کا جواب دیا کہ یہ غرور نہیں، توکل ہے۔ جس کو خدا کی زبردست قدرت پر اعتماد ہو اور یقین رکھے کہ جو کچھ اُدھر سے ہوگا عین حکمت و صواب ہو گا وہ حق کے معاملہ میں ایسا ہی بےجگر اور دلیر ہو جاتا ہے۔

وَأَلَّفَ بَينَ قُلوبِهِم ۚ لَو أَنفَقتَ ما فِى الأَرضِ جَميعًا ما أَلَّفتَ بَينَ قُلوبِهِم وَلٰكِنَّ اللَّهَ أَلَّفَ بَينَهُم ۚ إِنَّهُ عَزيزٌ حَكيمٌ {8:63}
اور ان کے دلوں میں الفت پیدا کردی۔ اور اگر تم دنیا بھر کی دولت خرچ کرتے تب بھی ان کے دلوں میں الفت نہ پیدا کرسکتے۔ مگر خدا ہی نے ان میں الفت ڈال دی۔ بےشک وہ زبردست (اور) حکمت والا ہے
اسلام سے پہلے عرب میں جدال و قتال اور نفاق و شقاق کا بازار گرم تھا۔ ادنیٰ ادنیٰ باتوں پر قبائل آپس میں ٹکراتے رہتے تھے دو جماعتوں میں جب لڑائی شروع ہو جاتی تو صدیوں تک اس کی آگ ٹھنڈی نہ ہوتی تھی مدینہ کے دو زبردست قبیلوں "اوس" و "خزرج" کی حریفانہ نبرد آزمائی اور دیرینہ عداوت و بغض کا سلسلہ کسی طرح ختم نہ ہوتا تھا۔ ایک دوسرے کے خون کا پیاسا اور عزت و آبرو کا بھوکا تھا۔ ان حالات میں آۡقائے نامدار محمد رسول اللہ توحید و معرفت اور اتحاد و اخوت کا عالمگیر پیغام لے کر مبعوث ہوئے لوگوں نے انہیں بھی ایک فریق ٹھہرا لیا اور سب نے مل کر خلاف و شقاق کا رخ ادھر پھیر دیا۔ پرانے کینے اور عداوتیں چھوڑ کر ہر قسم کی دشمنی کے لئے حضور کی ذات قدسی صفات کو مطمع نظر بنا لیا۔ وہ آپ کی پندو نصیحت سےگھبراتے تھے اور آپ کے سایہ سے بھاگتے تھے۔ دنیا کی کوئی طاقت نہ تھی جو درندوں کی بھیڑ اور بہائم کےگلہ میں معرفت الہٰی اور حب نبوی کی روح پھونک کر اور شراب توحید کا متوالا بنا کر سب کو ایک دم اخوت و الفت باہمی کی زنجیر میں جکڑ دیتی اور اس مقدس ہستی کا درم ناخریدہ غلام اور عاشق جاں نثار بنا دیتی جس سے زیادہ چند روز پہلے ان کےنزدیک کوئی مبغوض ہستی نہ تھی۔ بلاشبہ روئے زمین کےخزانے خرچ کر کے بھی یہ مقصد حاصل نہ کیا جا سکتا تھا جو اللہ کی رحمت و اعانت سے ایسی سہولت کے ساتھ حاصل ہو گیا۔ خدا نے حقیقی بھائیوں سے زیادہ ایک کی الفت دوسرے کے دل میں ڈال دی۔ اور پھر سب کی الفتوں کا اجتماعی مرکز حضور انور کی ذات منبع البرکات کو بنا دیا۔ قلوب کو دفعۃً ایسا پلٹ دینا خدا کی زور قدرت کا کرشمہ ہے اور ایسی شدید ضرورت کے وقت سب کو محبت و الفت کے ایک نقطہ پر جمع کر دینا اس کے کمال حکمت کی دلیل ہے۔

ما كانَ لِنَبِىٍّ أَن يَكونَ لَهُ أَسرىٰ حَتّىٰ يُثخِنَ فِى الأَرضِ ۚ تُريدونَ عَرَضَ الدُّنيا وَاللَّهُ يُريدُ الءاخِرَةَ ۗ وَاللَّهُ عَزيزٌ حَكيمٌ {8:67}
پیغمبر کو شایان نہیں کہ اس کے قبضے میں قیدی رہیں جب تک (کافروں کو قتل کر کے) زمین میں کثرت سے خون (نہ) بہا دے۔ تم لوگ دنیا کے مال کے طالب ہو۔ اور خدا آخرت (کی بھلائی) چاہتا ہے۔ اور خدا غالب حکمت والا ہے
بدر کی لڑائی سے ستر کافر مسلمانوں کے ہاتھوں میں قید ہو کر آئے حق تعالیٰ نے ان کے متعلق دو صورتیں مسلمانوں کے سامنے پیش کیں۔ قتل کر دینا، یا فدیہ لے کر چھوڑ دینا، اس شرط پر کہ آئندہ سال اسی تعداد میں تمہارے آدمی قتل کئے جائیں گے۔ حقیقت میں خدا کی طرف سے ان دو صورتوں کا انتخاب کے لئے پیش کرنا امتحان و آزمائش کے طریقہ پر تھا کہ ظاہر ہو جائے کہ مسلمان اپنی رائے اور طبیعت سے کس طرف جھکتے ہیں۔ جیسے ازواج مطہرات کو دو صورتوں میں تخییر دی گئ تھی۔ { اِنْ کُنْتُنَّ تُرِدْنَ الْحَیٰوۃَ الدُّنْیَا وَزِیْنَتَھَا فَتَعَالَیْنَ } الی آخر الآ یہ (الاحزاب رکوع۴) یا معراج میں آپ کےسامنے خمر و لبن (دودھ اور شراب) کے دو برتن پیش کئے گئے تھے آپ نے دودھ کو اختیار فرمایا۔ جبریلؑ نے کہا کہ اگر بالفرض آپ شراب کو اختیار فرماتے تو آپ کی امت بہک جاتی۔ بہرحال آپ نے صحابہ سے اس معاملہ میں رائے طلب کی۔ ابوبکر صدیقؓ نے فرمایا کہ یا رسول اللہ یہ سب قیدی اپنے خویش و اقارب اور بھائی بند ہیں بہتر ہے کہ فدیہ لے کر چھوڑ دیا جائے۔ اس نرم سلوک و احسان کے بعد ممکن ہے کچھ لوگ مسلمان ہو کر وہ خود اور ان کی اولاد و اتباع ہمارے دست و بازو بنیں اور جو مال بالفعل ہاتھ آئے اس سے جہاد وغیرہ دینی کاموں میں سہارا لگے۔ باقی آئندہ سال ہمارے ستر آدمی شہید ہو جائیں تو مضائقہ نہیں درجہ شہادت ملے گا۔ نبی کریم کا میلان بھی فطری رحمدلی اور شفقت و صلہ رحمی کی بناء پر اسی رائے کی طرف تھا۔ بلکہ صحابہ کی عام رائے اسی جانب تھی۔ بہت سے تو ان ہی وجوہ کی بناء پر جو ابوبکرؓ نے بیان فرمائیں اور بعض محض مالی فائدہ کو دیکھتے ہوئے اس رائے سے متفق تھے۔ (کما یظہر من قولہ تعالیٰ { تُرِیْدُوْنَ عَرَضَ الدُّنْیَا } صرح بہ الحافط ابن حجرو ابن القیم رحمہما اللہ) حضرت عمر اور سعد ابن معاذ نے اس سے اختلاف کیا۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا کہ یا رسول اللہ ! یہ قیدی کفر کے امام اور مشرکین کےسردار ہیں۔ (ان کو ختم کر دیا جائے تو کفر و شرک کا سر ٹوٹ جائے گا، تمام مشرکین پر ہیبت طاری ہو جائے گی آئندہ مسلمانوں کو ستانے اور خدا کے راستہ سے روکنے کا حوصلہ نہ رہے گا) اور خدا کے آگے مشرکین سے ہماری انتہائی نفرت و بغض اور کامل بیزاری کا اظہار ہو جائے گا کہ ہم نے خدا کے معاملہ میں اپنی قرابتوں اور مالی فوائد کی کچھ پروا نہیں کی اس لئے مناسب ہے کہ ان قیدیوں میں جو کوئی ہم میں سے کسی کا عزیز و قریب ہو وہ اسے اپنے ہاتھ سے قتل کرے۔ الغرض بحث و تمحیص کے بعد ابوبکرؓ کے مشورہ پر عمل ہوا۔ کیونکہ کثرت رائے ادھر تھی اور خود نبی کریم طبعی رافت و رحمت کی بناء پر اسی طرف مائل تھے اور ویسے بھی اخلاق اور کلی حیثیت سے عام حالت میں وہ ہی رائے قرین صواب معلوم ہوتی ہے۔ لیکن اسلام اس وقت جن حالات میں سےگذر رہا تھا ان پر نظر کرتے ہوئے وقتی مصالح کا تقاضا یہ تھا کہ کفار کے مقابلہ میں سخت کمر شکن کارروائی کی جائے۔ تیرہ سال کے ستم کشوں کو طاغوت کے پرستاروں پر یہ ثابت کر دینے کا پہلا موقع ملا تھا کہ تمہارے تعلقات قرابت، اموال، جتھے اور طاقتیں اب کوئی چیز تم کو خد اکی شمشیر انتقام سے پناہ نہیں دے سکتی۔ ابتداءً ایک مرتبہ ظالم مشرکین پر رعب و ہیبت بٹھلا دینے کے بعد نرم خوئی اور صلہ رحمی کے استعمال کے لئے آئندہ بہتیرے مواقع باقی رہتے تھے ادھر ستر مسلمانوں کے آئندہ قتل پر راضی ہو جانا معمولی بات نہ تھی اسی لئے اس رائے کو اختیار فرمانا وقتی مصالح اور ہنگامی حیثیت سے حق تعالیٰ کے یہاں پسندیدہ نہ ہوا { مَا کَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَّکُوْنَ لَہٓٗ اَسْرٰی حَتّٰی یُثْخِنَ فِی الْاَرْضِ } میں اسی ناپسندیدگی کی طرف اشارہ ہے۔ صحابہؓ کی یہ ایک سخت خطرناک اجہتادی غلطی قرار دی گئ۔ اور جن بعض لوگوں نے زیادہ تر مالی فوائد پر نظر کر کے اس سے اتفاق کیا تھا ان کو صاف طور پر { تُرِیْدُوْنَ عَرَضَ الدُّنْیَا } سےخطاب کیا گیا یعنی تم دنیا کے فانی اسباب پر نظر کر رہے ہو حالانکہ مومن کی نظر انجام پر ہونی چاہئے۔ خدا کی حکمت مقتضی ہو تو وہ تمہارا کام اپنے زور قدرت سے ظاہری سامان کے بدون بھی کر سکتا ہے۔ بہرحال فدیہ لے کر چھوڑ دینا وقت کے حالات کے اعتبار سے بڑی بھاری غلطی قرار دی گئ۔ اتنا یاد رکھنا چاہئے کہ روایات سے حضور کی نسبت صرف اس قدر ثابت ہوتا ہے کہ محض صلہ رحمی اور رحمدلی کی بناء پر آپ کا رجحان اس رائے کی طرف تھا۔ البتہ صحابہ میں بعض صرف مالی فوائد کو پیش نظر رکھ کر اور اکثر حضرات دوسری مصالح دینیہ اور اخلاقی داعیہ کے ساتھ مالی ضروریات کو بھی ملحوظ رکھتے ہوئے یہ رائے پیش کر رہے تھے گویا صحابہ کے مشورہ میں کلاً یا جزًأ مالی حیثیت ضرور زیر نظر تھی۔ کسی درجہ میں مالی فوائد کے خیال سے بغض فی اللہ میں کوتاہی کرنا اور اصل مقصد "جہاد" سےغفلت برتنا اور ستر مسلمانوں کے قتل کئے جانے پر اپنے اختیار سے رضامند ہو جانا صحابہ جیسے مقربین کی شان عالی اور منصب جلیل کے منافی سمجھا گیا۔ اسی لئے ان آیات میں سخت عتاب آمیز لہجہ اختیار کیا گیا ہے۔ حدیث میں ہے کہ لڑائی میں ایک شخص کے سر پر زخم آیا، اسے غسل کی حاجت ہوئی۔ پانی سر پر استعمال کرنا سخت مہلک تھا۔ ساتھیوں سے مسئلہ پوچھا۔ انہوں نے کہا کہ پانی کی موجودگی میں ہم تیرے لئے کوئی گنجائش نہیں پاتے۔ اس نے غسل کر لیا اور فوت ہو گیا۔ حضور کو جب اس واقعہ کی اطلاع ہوئی فرمایا { قَتَلُوْہٗ قَتَلَھُمْ اللہ } الحدیث۔ اس سےظاہر ہوا کہ اجتہادی غلطی اگر زیادہ واضح اور خطرناک ہو تو اس پر عتاب ہو سکتا ہے۔ گویا یہ سمجھا جاتا ہے کہ مجتہد نے پوری قوت اجتہاد صرف کرنے میں کوتاہی کی۔

إِلّا تَنصُروهُ فَقَد نَصَرَهُ اللَّهُ إِذ أَخرَجَهُ الَّذينَ كَفَروا ثانِىَ اثنَينِ إِذ هُما فِى الغارِ إِذ يَقولُ لِصٰحِبِهِ لا تَحزَن إِنَّ اللَّهَ مَعَنا ۖ فَأَنزَلَ اللَّهُ سَكينَتَهُ عَلَيهِ وَأَيَّدَهُ بِجُنودٍ لَم تَرَوها وَجَعَلَ كَلِمَةَ الَّذينَ كَفَرُوا السُّفلىٰ ۗ وَكَلِمَةُ اللَّهِ هِىَ العُليا ۗ وَاللَّهُ عَزيزٌ حَكيمٌ {9:40}
اگر تم پیغمبر کی مدد نہ کرو گے تو خدا اُن کا مددگار ہے (وہ وقت تم کو یاد ہوگا) جب ان کو کافروں نے گھر سے نکال دیا۔ (اس وقت) دو (ہی ایسے شخص تھے جن) میں (ایک ابوبکرؓ تھے) اور دوسرے (خود رسول الله) جب وہ دونوں غار (ثور) میں تھے اس وقت پیغمبر اپنے رفیق کو تسلی دیتے تھے کہ غم نہ کرو خدا ہمارے ساتھ ہے۔ تو خدا نے ان پر تسکین نازل فرمائی اور ان کو ایسے لشکروں سے مدد دی جو تم کو نظر نہیں آتے تھے اور کافروں کی بات کو پست کر دیا۔ اور بات تو خدا ہی کی بلند ہے۔ اور خدا زبردست (اور) حکمت والا ہے
یعنی بالفرض اگر تم نبی کریم کی مدد نہ کرو گے نہ سہی۔ ان کا منصور و کامیاب ہونا کچھ تم پر موقوف نہیں ایک وقت پہلے ایسا آچکا ہے۔ جب ایک یار غار کے سوا کوئی آپ کے ساتھ نہ تھا۔ معدودے چند مسلمان مکہ والوں کے مظالم سے تنگ آ کر ہجرت کر گئے تھے ۔ آخر آپ کو بھی ہجرت کا حکم ہوا۔ مشرکین کا آخری مشورہ یہ قرار پایا تھا کہ ہر قبیلہ کا ایک ایک نوجوان منتخب ہو اور وہ سب مل کر بیک وقت آپ پر تلواروں کی ضرب لگائیں تاکہ خون بہا دینا پڑے تو سب قبائل پر تقسیم ہو جائے اور بنی ہاشم کی یہ ہمت نہ ہو کہ خون کے انتقام میں سارے عرب سے لڑائی مول لیں۔ جس شب میں اس ناپاک کارروائی کو عملی جامہ پہنانے کی تجویز تھی حضور نے اپنے بستر پر حضرت علیؓ کو لٹایا تاکہ لوگوں کی امانتیں احتیاط سے آپ کے بعد مالکوں کے حوالہ کر دیں اور حضرت علیؓ کی تسلی فرمائی کہ تمہارا بال بیکا نہ ہو گا پھر خود بنفس نفیس ظالموں کے ہجوم میں سے "شاھت الوجوہ" فرماتے ہوئے اور ان کی آنکھوں میں خاک جھونکتے ہوئے صاف نکل آئے۔ حضرت ابوبکر صدیقؓ کو ساتھ لیا اور مکہ سےچند میل ہٹ کر غار ثور میں قیام فرمایا ۔ یہ غار پہاڑ کی بلندی پر ایک بھاری مجوف چٹان ہے۔ جس میں داخل ہونے کا صرف ایک راستہ تھا۔ وہ بھی ایسا تنگ کہ انسان کھڑے ہو کر یا بیٹھ کر اس میں گھس نہیں سکتا۔ صرف لیٹ کر داخل ہونا ممکن تھا۔ اول حضرت ابوبکرؓ نے اندر جا کر اسےصاف کیا۔ سب سوراخ کپڑے سے بند کئے کہ کوئی کیڑا کانٹا گزند نہ پہنچا سکے ۔ ایک سوراخ باقی تھا اس میں اپنا پاؤں اڑا دیا۔ سب انتظام کر کے حضور سے اندر تشریف لانے کو کہا آپ صدیقؓ کے زانو پر سر مبارک رکھ کر استراحت فرما رہے تھے کہ سانپ نے ابوبکرؓ کا پاؤں ڈس لیا۔ مگر صدیقؓ پاؤں کو حرکت نہ دیتے تھے، مبادا حضور کی استراحت میں خلل پڑے ۔ جب آپ کی آنکھ کھلی اور قصہ معلوم ہوا تو آپ نے لعاب مبارک صدیقؓ کے پاؤں کو لگا دیا جس سے فورًا شفا ہو گئ۔ ادھر کفار "قائف" کو ہمراہ لے کر جو نشان ہائے قدم کی شناخت میں ماہر تھا۔ حضور کی تلاش میں نکلے ۔ اس نے غار ثور تک نشان قدم کی شناخت کی ، مگر خدا کی قدرت کہ غار کے دروازہ پر مکڑی نے جالا تن لیا اور جنگلی کبوتر نے انڈے دے دیے۔ یہ دیکھ کر سب نے قائف کو جھٹلایا اور کہنے لگےکہ یہ مکڑی کا جالا تو محمد کی ولادت سے بھی پہلے کا معلوم ہوتا ہے ۔ اگر اندر کوئی داخل ہوتا تو یہ جالا اور انڈے کیسے صحیح و سالم رہ سکتے تھے۔ ابوبکر صدیقؓ کو اندر سے کفار کے پاؤں نظر پڑتے تھے ۔ انہیں فکر تھی کہ جان سے زیادہ محبوب جس کے لئے سب کچھ فدا کر چکے ہیں دشمنوں کو نظر نہ پڑ جائیں۔ گھبرا کر کہنے لگے کہ یارسول اللہ اگر ان لوگوں نے ذرا جھک کر اپنے قدموں کی طرف نطر کی تو ہم کو دیکھ پائیں گے۔ اس وقت حق تعالیٰ نے ایک خاص قسم کی کیفیت سکون و اطمینان حضور کے قلب مبارک پر اور آپ کی برکت سے ابوبکرؓ کے قلب مقدس پر نازل فرمائی اور فرشتوں کی فوج سے حفاظت و تائید کی۔ یہ اسی تائید غیبی کا کرشمہ تھا کہ مکڑی کا جالا جسے "اوہن البیوت" بتلایا ہے ، بڑے بڑے مضبوط و مستحکم قلعوں سے بڑھ کر ذریعہ تحفط بن گیا۔ اس طرح خدا نے کافروں کی بات نیچی کی اور ان کی تدابیر خاک میں ملا دیں۔ آپ تین روز غار میں قیام فرما کر بعافیت تمام مدینہ طیبہ پہنچ گئے۔ بیشک انجام کار خدا ہی کا بول بالا رہتا ہے۔ وہ ہر چیز پر غالب ہے اور اس کا کوئی کام حکمت سے خالی نہیں۔ (تنبیہ) بعض نے { وایدہ بجنودً لم تروھا } سے بدر و حنین وغیرہ میں جو نزول ملائکہ ہوا وہ مراد لیا ہے مگر ظاہر سیاق سے وہ ہی ہے ۔ جو ہم نے بیان کیا ۔ واللہ اعلم۔

وَالمُؤمِنونَ وَالمُؤمِنٰتُ بَعضُهُم أَولِياءُ بَعضٍ ۚ يَأمُرونَ بِالمَعروفِ وَيَنهَونَ عَنِ المُنكَرِ وَيُقيمونَ الصَّلوٰةَ وَيُؤتونَ الزَّكوٰةَ وَيُطيعونَ اللَّهَ وَرَسولَهُ ۚ أُولٰئِكَ سَيَرحَمُهُمُ اللَّهُ ۗ إِنَّ اللَّهَ عَزيزٌ حَكيمٌ {9:71}
اور مومن مرد اور مومن عورتیں ایک دوسرے کے دوست ہیں کہ اچھے کام کرنے کو کہتے ہیں اور بری باتوں سے منع کرتے اور نماز پڑھتے اور زکوٰة دیتے اور خدا اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے ہیں۔ یہی لوگ ہیں جن پر خدا رحم کرے گا۔ بےشک خدا غالب حکمت والا ہے
ابتدائے رکوع میں منافقین کے اوصاف بیان ہوئے تھے ۔ یہاں بطور مقابلہ مومنین کی صفات ذکر کی گئیں۔ یعنی جبکہ منافقین لوگوں کو بھلائی سے روک کر برائی کی ترغیب دیتے ہیں۔ مومنین بدی کو چھڑا کر نیکی کی طرف آمادہ کرتے ہیں منافقین کی مٹھی بند ہے۔ مومنین کا ہاتھ کھلا ہوا ہے۔ وہ بخل کی وجہ سے خرچ کرنا نہیں جانتے یہ اموال میں سے باقاعدہ حقوق (زکوٰۃ وغیرہ) ادا کرتے ہیں انہوں نے خدا کو بالکل بھلا دیا یہ پانچ وقت خدا کو یاد کرتے اور تمام معاملات میں خدا و رسول کے احکام پر چلتے ہیں ۔ اسی لئے وہ مستحق لعنت ہوئے اور یہ رحمت خصوصی کے امیدوار ٹھہرے۔

فَلَمّا جاءَ أَمرُنا نَجَّينا صٰلِحًا وَالَّذينَ ءامَنوا مَعَهُ بِرَحمَةٍ مِنّا وَمِن خِزىِ يَومِئِذٍ ۗ إِنَّ رَبَّكَ هُوَ القَوِىُّ العَزيزُ {11:66}
جب ہمارا حکم آگیا تو ہم نے صالح کو اور جو لوگ ان کے ساتھ ایمان لائے تھے ان کو اپنی مہربانی سے بچالیا۔ اور اس دن کی رسوائی سے (محفوظ رکھا)۔ بےشک تمہارا پروردگار طاقتور اور زبردست ہے
یعنی جسے چاہے ہلاک کر دے اور جسے چاہے بچا دے۔
یعنی جب حکم عذاب پہنچا تو ہم نے صالحؑ اور ان کے ساتھیوں کو بچا دیا۔ اور کاہے سے بچا دیا ؟ اس دن کی رسوائی سے { وَمِنْ خِزْیِ یَوْمِئِذٍ } { نَجَّیْنَا } کی شرح و تفصیل ہے۔

بِسمِ اللَّهِ الرَّحمٰنِ الرَّحيمِ الر ۚ كِتٰبٌ أَنزَلنٰهُ إِلَيكَ لِتُخرِجَ النّاسَ مِنَ الظُّلُمٰتِ إِلَى النّورِ بِإِذنِ رَبِّهِم إِلىٰ صِرٰطِ العَزيزِ الحَميدِ {14:1}
الٓرٰ۔ (یہ) ایک (پُرنور) کتاب (ہے) اس کو ہم نے تم پر اس لیے نازل کیا ہے کہ لوگوں کو اندھیرے سے نکال کر روشنی کی طرف لے جاؤ (یعنی) ان کے پروردگار کے حکم سے غالب اور قابل تعریف (خدا) کے رستے کی طرف
یعنی اس کتاب کی عظمت شان کا اندزاہ اس بات سے کرنا چاہئےکہ ہم اس کےاتارنے والے ، اور آپ جیسی رفیع الشان شخصیت اس کی اٹھانے والی ہے اور مقصد بھی اس قدر اعلیٰ و ارفع ہے جس سے بلند تر کوئی مقصد نہیں ہو سکتا۔ وہ یہ کہ خدا کے حکم و توفیق سےتمام دنیا کےلوگوں کو خواہ عرب ہوں یا عجم ، کالے ہوں یا گورے ، مزدور ہوں یا سرمایہ دار بادشاہ ہوں یا رعایا سب کو جہالت و اوہام کی گھٹا ٹوپ اندھیریوں سے نکال کر معرفت و بصیرت اور ایمان و ایقان کی روشنی میں کھڑا کرنے کی کوشش کی جائے۔

وَما أَرسَلنا مِن رَسولٍ إِلّا بِلِسانِ قَومِهِ لِيُبَيِّنَ لَهُم ۖ فَيُضِلُّ اللَّهُ مَن يَشاءُ وَيَهدى مَن يَشاءُ ۚ وَهُوَ العَزيزُ الحَكيمُ {14:4}
اور ہم نے کوئی پیغمبر نہیں بھیجا مگر اپنی قوم کی زبان بولتا تھا تاکہ انہیں (احکام خدا) کھول کھول کر بتا دے۔ پھر خدا جسے چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے اور وہ غالب (اور) حکمت والا ہے
یعنی جس طرح آپ کو ہم نے لوگوں کی ہدایت کے لئے یہ عظیم الشان کتاب عطا فرمائی ۔ پہلے بھی ہر زمانہ میں سامان ہدایات بہم پہنچاتے رہے ہیں۔ چونکہ طبعی ترتیب کے موافق ہر پیغمبر کے اولین مخاطب اسی قوم کے لوگ ہوتے ہیں جس میں سے وہ پیغمبر اٹھایا جاتا ہے اس لئے اسی کی قومی زبان میں وحی بھیجی جاتی رہی ۔ تا احکام الہٰیہ کے سمجھنے سمجھانے میں پوری سہولت رہے نبی کریم و کی امت دعوت میں گو تمام جن و انس شامل ہیں ، تاہم جس قوم میں سے آپ اٹھائے گئے اس کی زبان عربی تھی اور ترتیت طبعی کے موافق شیوع ہدایت کی یہ ہی صورت مقدر تھی کہ آپ کے اولین مخاطب اور مقدم ترین شاگرد ایسی سہولت اور خوبی سے قرآنی تعلیمات و حقائق کو سمجھ لیں اور محفوطظ کر لیں کہ ان کے ذریعہ سے تمام اقوام عالم اور آنے والی نسلیں درجہ بدرجہ قرآنی رنگ میں رنگی جا سکیں۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا عربوں نے اپنے نبی کی صحبت میں رہ کر اپنی قومی زبان میں جس سے انہیں بے حد شغف تھا ، قرآنی علوم پر کافی دسترس پائی ، پھر وہ مشرق و مغرب میں پھیل پڑے اور روم و فارس پر چھا گئے۔ اس وقت قدرت نے عجمی قوموں میں ایسا زبردست جوش اور داعیہ کلام الہٰی کی معرفت اور زبان عربی میں مہارت حاصل کرنے کا پیدا فرما دیا کہ تھوڑی مدت کے بعد وہ قرآنی علوم کی شرح و تبین میں اپنے معاصر عربوں سے گوئے سبقت لے گئے بلکہ عمومًا علوم دینیہ و ادبیہ کا مدار ثریا تک پرواز کرنے والے عجمیوں پر رہ گیا۔ اس طرح خدا کی حجت بندوں پر تمام ہوتی رہی اور وقتًا فوقتًا قرآنی ہدایات سےمستفید ہونے کے اساب فراہم ہوتے رہے۔ فالحمد اللہ علیٰ ذٰلک۔ بہرحال خاتم الانبیاء کے خاص قوم عرب میں سے اٹھائے جانے کی اگر کچھ وجوہ موجود ہیں (اور یقینًا ہیں) تو ان ہی وجوہ کے نتیجہ میں اس سوال کا جواب بھی آ جاتا ہے کہ قرآن عربی زبانی میں اتار کر خداوند عالم نے عربوں کی رعایت کیوں کی ؟
یعنی تبیین و ہدایت کے سامان مکمل کر دیے پھر جس نے ان سامانوں سے منتفع ہونا چاہا اس کی دستگیری فرما کر راہ پر لگا دیا جس نے روگردانی کی اسے گمراہی میں چھوڑے رکھا۔ وہ زبردست اور غالب ہے۔ چاہے تو سب کو زبردستی راہ ہدایت پر لگا دے۔ لیکن اسکی حکمت مقتضی ہوئی کہ انسان کو کسب و اختیار کی ایک حد تک آزادی دے کر رحمت و غضب دونوں کے مظاہر کو دنیا میں باقی رہنے دے۔

فَلا تَحسَبَنَّ اللَّهَ مُخلِفَ وَعدِهِ رُسُلَهُ ۗ إِنَّ اللَّهَ عَزيزٌ ذُو انتِقامٍ {14:47}
تو ایسا خیال نہ کرنا کہ خدا نے جو اپنے پیغمبروں سے وعدہ کیا ہے اس کے خلاف کرے گا بےشک خدا زبردست (اور) بدلہ لینے والا ہے
نہ مجرم اس سے چھوٹ کر بھاگ سکتا ہے نہ وہ خود ایسے مجرموں کو سزا دیے بدون چھوڑ سکتا ہے۔
یعنی وہ وعدہ جو { اِنَّالَنَنصُرُ رُسُلَنَا } اور { کَتَبَ اللہُ لَا غْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِیْ } وغیرہ آیات میں کیا گیا ہے۔

لِلَّذينَ لا يُؤمِنونَ بِالءاخِرَةِ مَثَلُ السَّوءِ ۖ وَلِلَّهِ المَثَلُ الأَعلىٰ ۚ وَهُوَ العَزيزُ الحَكيمُ {16:60}
جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ان ہی کے لیے بری باتیں (شایان) ہیں۔ اور خدا کو صفت اعلیٰ (زیب دیتی ہے) اور وہ غالب حکمت والا ہے
یعنی زبردست تو ایسا ہے کہ تمہاری گستاخیوں کی سزا ہاتھوں ہاتھ دے سکتا ہے۔ لیکن فورًا سزا دینا اس کی حکمت کےمناسب نہیں ۔ لہذا ڈھیل دی جاتی ہے کہ اب بھی باز آ جائیں اور اپنا رویہ درست کر لیں۔
یعنی مشرکین جنہیں اپنے ظلم اور گستاخیوں کے انجام پر یقین نہیں ۔ بری مثال یا بری صفت و حالت ان ہی کی ہے ۔ وہ ہی اولاد کے محتاج ہیں ۔ دکھ اور ضعیفی وغیرہ میں کام آنے کے لئے ان کو لڑکوں کا سہارا چاہئے۔ دفع عار یا افلاس وغیرہ کے ڈر سے لڑکیوں کو ہلاک کرنا ان کا شیوہ ہے۔ آخر میں ظلم و شرک وغیرہ کا جو برا انجام ہونا چاہئے اس سے بھی وہ بچ نہیں سکتے۔ غرض ہر نہج سے بری مثال اور نقص و عیب کی نسبت ان ہی کی طرف ہونی چاہئے ۔ حق تعالیٰ کی طرف ان صفات کی نسبت کرنا جو مخلوق کا خلاصہ ہیں اور (معاذ اللہ) بیٹے بیٹیاں تجویز کر کے حقیر اور پست مثالیں دنیا اس کی شان عظیم و رفیع کے منافی ہے اس کے لئے تو وہ ہی مثالیں اور صفات ثابت کی جا سکتی ہیں جو اعلیٰ سے اعلیٰ اور ہر بلند چیز سے بلند تر ہوں۔

الَّذينَ أُخرِجوا مِن دِيٰرِهِم بِغَيرِ حَقٍّ إِلّا أَن يَقولوا رَبُّنَا اللَّهُ ۗ وَلَولا دَفعُ اللَّهِ النّاسَ بَعضَهُم بِبَعضٍ لَهُدِّمَت صَوٰمِعُ وَبِيَعٌ وَصَلَوٰتٌ وَمَسٰجِدُ يُذكَرُ فيهَا اسمُ اللَّهِ كَثيرًا ۗ وَلَيَنصُرَنَّ اللَّهُ مَن يَنصُرُهُ ۗ إِنَّ اللَّهَ لَقَوِىٌّ عَزيزٌ {22:40}
یہ وہ لوگ ہیں کہ اپنے گھروں سے ناحق نکال دیئے گئے (انہوں نے کچھ قصور نہیں کیا) ہاں یہ کہتے ہیں کہ ہمارا پروردگار خدا ہے۔ اور اگر خدا لوگوں کو ایک دوسرے سے نہ ہٹاتا رہتا تو (راہبوں کے) صومعے اور (عیسائیوں کے) گرجے اور (یہودیوں کے) عبادت خانے اور (مسلمانوں کی) مسجدیں جن میں خدا کا بہت سا ذکر کیا جاتا ہے ویران ہوچکی ہوتیں۔ اور جو شخص خدا کی مدد کرتا ہے خدا اس کی ضرور مدد کرتا ہے۔ بےشک خدا توانا اور غالب ہے
یعنی اگر کسی وقت اور کسی حالت میں بھی ایک جماعت کو دوسری سے لڑنے بھڑنے کی اجازت نہ ہو تو یہ اللہ تعالیٰ کے قانون فطرت کی سخت خلاف ورزی ہو گی ۔اس نے دنیا کا نظام ہی ایسا رکھا ہے کہ ہر چیز یا ہر شخص یا ہر جماعت دوسری چیز یا شخص یا جماعت کے مقابلہ میں اپنی ہستی برقرار رکھنے کے لئے جنگ کرتی رہے اگر ایسا نہ ہوتا اور نیکی کو اللہ تعالیٰ اپنی حمایت میں لے کر بدی کے مقابلہ میں کھڑا نہ کرتا تو نیکی کا نشان زمین پر باقی نہ رہتا بد دین اور شریر لوگ جن کی ہر زمانہ میں کثرت رہی ہے تمام مقدس مقامات اور یادگاریں ہمیشہ کے لئے صفحہ ہستی سے مٹا دیتے۔کوئی عبادت گاہ ، تکیہ ، خانقاہ ، مسجد ، مدرسہ ، محفوظ نہ رہ سکتا۔ قانون حفاظت و مدافعت: بناءً علیہ ضروری ہوا کہ بدی کی طاقتیں خواہ کتنی ہی مجتمع ہو جائیں، قدرت کی طرف سے ایک وقت آئے جب نیکی کے مقدس ہاتھوں سے بدی کے حملوں کی مدافعت کرائی جائے ۔ اور حق تعالیٰ اپنے دین کی مدد کرنے والوں کی خود مدد فرما کر ان کو دشمنان حق و صداقت پر غالب کرے بلاشبہ وہ ایسا قوی اور زبردست ہے کہ اس کی اعانت و امداد کے بعد ضعیف سے ضعیف چیز بڑی بڑی طاقتور ہستیوں کو شکست دے سکتی ہے۔ بہرحال اس وقت مسلمانوں کو ظالم کافروں کے مقابہ میں جہاد و قتال کی اجات دینا اسی قانون قدرت کے ماتحت تھا۔ اور یہ وہ عام قانون ہے جس کاانکار کوئی عقلمند نہیں کر سکتا۔اگر مدافعت و حفاظت کا یہ قانون نہ ہو تو اپنے اپنے زمانہ میں نہ عیسائی راہبوں کے صومعے (کوٹھہڑے) قائم رہتے نہ نصاریٰ کے گرجے نہ یہود کے عبادت خانے نہ مسلمانوں کی وہ مسجدیں جن میں اللہ کا ذکر بڑی کثرت سے ہوتا ہے۔ یہ سب عبادت گاہیں گرا کر اور ڈھا کر برابر کر دی جاتیں۔ پس عام قانون کے ماتحت کوئی وجہ نہیں کہ مسلمانوں کو ایک وقت مناسب پر اپنے دشمنوں سے لڑنے کی اجازت نہ دی جائے۔
یعنی مسلمان مہاجرین جو اپنے گھروں سے نکالے گئے ان کا کوئی جرم نہ تھا نہ ان پر کسی کا کوئی دعویٰ تھا، بجز اس کے کہ وہ اکیلے ایک خدا کو اپنا رب کیوں کہتے ہیں۔ اینٹ پتھروں کو کیوں نہیں پوجتے ۔گویا ان پر سب سے بڑا اور سنگین الزام اگر لگایا جا سکتا ہے تو یہ ہی کہ ہر طرف سے ٹوٹ کر ایک خدا کے کیوں ہو رہے۔

ما قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدرِهِ ۗ إِنَّ اللَّهَ لَقَوِىٌّ عَزيزٌ {22:74}
ان لوگوں نے خدا کی قدر جیسی کرنی چاہیئے تھی نہیں کی۔ کچھ شک نہیں کہ خدا زبردست اور غالب ہے
سمجھتے تو ایسی گستاخی کیوں کرتے ۔ کیا اللہ کی شان رفیع اور قدر و منزلت اتنی ہے کہ ایسی کمزور چیزوں کو اس کا ہمسر بنا دیا جائے؟ (العیاذ باللہ) اس کی قوت و عزت کے سامنے تو بڑے بڑے مقرب فرشتے اور پیغمبر بھی مجبور و بے بس ہیں۔ آگے ان کا ذکر کیا ہے۔

وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ العَزيزُ الرَّحيمُ {26:9}
اور تمہارا پروردگار غالب (اور) مہربان ہے
یعنی زبردست تو ایسا ہے کہ نہ ماننے پر فورًا عذاب بھیج سکتا تھا، مگر رحم کھا کر تاخیر کرتا ہے کہ ممکن ہے اب بھی مان لیں۔ آگے عبرت کے لئے مکذبین کے چند واقعات بیان فرمائے ہیں۔ جن سے ظاہر ہو گا کہ خدا نے ان کو کہاں تک ڈھیل دی، جب کسی طرح نہ مانے تو پھر کیسے تباہ و برباد کیا۔ ان میں پہلا قصہ قوم فرعون کا ہے جو پیشتر سورۂ "اعراف" اور "طٰہٰ" وغیرہ میں بالتفصیل گذر چکا۔ وہاں کے فوائد ملاحظہ کر لئے جائیں۔

وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ العَزيزُ الرَّحيمُ {26:68}
اور تمہارا پروردگار تو غالب (اور) مہربان ہے
یہ سنا دیا ہمارے حضرت کو مکہ کے فرعون بھی مسلمانوں کے پیچھے نکلیں گے لڑائی کو۔ پھر وطن سے باہر تباہ ہوں گے "بدر" کے دن جیسے فرعون تباہ ہوا۔ (موضح القرآن)

وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ العَزيزُ الرَّحيمُ {26:104}
اور تمہارا پروردگار تو غالب اور مہربان ہے

وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ العَزيزُ الرَّحيمُ {26:122}
اور تمہارا پروردگار تو غالب (اور) مہربان ہے

وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ العَزيزُ الرَّحيمُ {26:140}
اور تمہارا پروردگار تو غالب اور مہربان ہے

وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ العَزيزُ الرَّحيمُ {26:159}
اور تمہارا پروردگار تو غالب (اور) مہربان ہے

وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ العَزيزُ الرَّحيمُ {26:175}
اور تمہارا پروردگار تو غالب (اور) مہربان ہے۔

وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ العَزيزُ الرَّحيمُ {26:191}
اور تمہارا پروردگار تو غالب (اور) مہربان ہے

وَتَوَكَّل عَلَى العَزيزِ الرَّحيمِ {26:217}
اور (خدائے) غالب اور مہربان پر بھروسا رکھو
یعنی نافرمانی کرنے والے کوئی ہوں اور کتنے ہی ہوں تیرا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ سب سے بیزار ہو کر ایک خدا پر بھروسہ رکھ جو زبردست بھی ہے۔ کسی کی اس کے مقابلہ میں چل نہیں سکتی اور مہربانی فرمانے والا بھی، چنانچہ اپنی مہربانی سےتیرے حال پر ہر وقت نظر عنایت رکھتا ہے۔

يٰموسىٰ إِنَّهُ أَنَا اللَّهُ العَزيزُ الحَكيمُ {27:9}
اے موسیٰ میں ہی خدائے غالب ودانا ہوں
یعنی اس وقت تجھ سے کلام کرنے والا میں ہوں، یہ سب واقعہ مفصلًا سورہ "طٰہٰ" میں گذر چکا۔

إِنَّ رَبَّكَ يَقضى بَينَهُم بِحُكمِهِ ۚ وَهُوَ العَزيزُ العَليمُ {27:78}
تمہارا پروردگار (قیامت کے روز) اُن میں اپنے حکم سے فیصلہ کر دے گا اور وہ غالب (اور) علم والا ہے
یعنی قرآن تو آیا ہے سمجھانے اور آگاہ کرنے کو، باقی تمام معاملات کا حکیمانہ اور حاکمانہ فیصلہ خدائے قادر و توانا کرے گا۔

فَـٔامَنَ لَهُ لوطٌ ۘ وَقالَ إِنّى مُهاجِرٌ إِلىٰ رَبّى ۖ إِنَّهُ هُوَ العَزيزُ الحَكيمُ {29:26}
پس اُن پر (ایک) لوط ایمان لائے اور (ابراہیم) کہنے لگے کہ میں اپنے پروردگار کی طرف ہجرت کرنے والا ہوں۔ بیشک وہ غالب حکمت والا ہے
حضرت لوطؑ حضرت ابراہیمؑ کے بھتیجے تھے۔ ابراہیمؑ کو ان کی قوم کے کسی مرد نے نہ مانا۔ البتہ لوطؑ نے فورًا بلا توقف تصدیق کی۔ دونوں کا وطن "عراق" میں شہر بابل تھا۔ خدا کے توکل پر وطن سے نکل کھڑے ہوئے اللہ نے ملک شام میں پہنچا کر بسایا۔ (تنبیہ) { وَقَالَ اِنِّیْ مُھَاجِرٌ } الخ میں دونوں احتمال ہیں۔ قائل ابراہیم ہوں یا لوط علیہما السلام۔

إِنَّ اللَّهَ يَعلَمُ ما يَدعونَ مِن دونِهِ مِن شَيءٍ ۚ وَهُوَ العَزيزُ الحَكيمُ {29:42}
یہ جس چیز کو خدا کے سوا پکارتے ہیں (خواہ) وہ کچھ ہی ہو خدا اُسے جانتا ہے۔ اور وہ غالب اور حکمت والا ہے
یعنی ممکن تھا سننے والا تعجب کرے کہ سب کو ایک ہی ذیل میں کھینچ دیا کسی کو مستثنٰی نہ کیا بعض لوگ بت کو پوجتے ہیں، بعض آگ پانی کو، بعض اولیاء یا فرشتوں کو، سو اللہ نے فرما دیا کہ اللہ کو سب معلوم ہیں۔ اگر کوئی ایک بھی ان سے مستقل قدرت و اختیار رکھتا تو اللہ سب کی یک قلم نفی نہ کرتا۔
یعنی اللہ کو کسی کی رفاقت نہیں چاہئے، وہ زبردست ہے، اور مشورہ نہیں چاہئے کیونکہ حکیم مطلق ہے۔

بِنَصرِ اللَّهِ ۚ يَنصُرُ مَن يَشاءُ ۖ وَهُوَ العَزيزُ الرَّحيمُ {30:5}
(یعنی) خدا کی مدد سے۔ وہ جسے چاہتا ہے مدد دیتا ہے اور وہ غالب (اور) مہربان ہے
یعنی جسے مغلوب کرنا چاہے تو کوئی زبردستی کر کے روک نہ سکے اور جس پر مہربانی فرمانا چاہے اسے بے روک ٹوک غالب کر کے رہے۔
یعنی ایک تو اس دن اپنی فتح کی خوشی اس پر مزید خوشی یہ ہوئی کہ رومی اہل کتاب (جو نسبۃً مسلمانوں سے اقرب تھے) فارس کے مجوسیوں پر غالب آئے۔ قرآن کی پیشینگوئی کےصدق کا لوگوں نے مشاہدہ کر لیا۔ کفار مکہ کو ہر طرح ذلت نصیب ہوئی۔

وَهُوَ الَّذى يَبدَؤُا۟ الخَلقَ ثُمَّ يُعيدُهُ وَهُوَ أَهوَنُ عَلَيهِ ۚ وَلَهُ المَثَلُ الأَعلىٰ فِى السَّمٰوٰتِ وَالأَرضِ ۚ وَهُوَ العَزيزُ الحَكيمُ {30:27}
اور وہی تو ہے جو خلقت کو پہلی دفعہ پیدا کرتا ہے پھر اُسے دوبارہ پیدا کرے گا۔ اور یہ اس کو بہت آسان ہے۔ اور آسمانوں اور زمین میں اس کی شان بہت بلند ہے۔ اور وہ غالب حکمت والا ہے
یعنی اعلٰی سے اعلیٰ صفات اور اونچی سے اونچی شان اس کی ہے۔ آسمان و زمین کی کوئی چیز اپنے حسن و خوبی میں اس کی شان و صفت سے لگا نہیں کھا سکتی۔ مساوی ہونا تو کجا، وہ تو اس سے بھی بالا و برتر ہے جہاں تک مخلوق اس کے جلال و جمال کا تصور کر سکتی ہے۔ بلکہ جو خوبی کسی جگہ موجود ہے وہ اسی کےکمالات کا ادنیٰ پرتو ہے۔ حضرت شاہ صاحبؒ لکھتے ہیں "کہ آسمان کے فرشتے نہ کھائیں نہ پئیں نہ حاجت بشری رکھیں، سوائے بندگی کے کچھ کام نہیں۔ اور زمین کے لوگ سب چیز میں آلودہ۔ پر اللہ کی صفت نہ ان سے ملے نہ ان سے، وہ پاک ذات ہے" (موضح) ؎ اے برتر از خیال و قیاس و گمان و وہم، وزہر چہ گفتہ اند شنیدیم و خواندہ ایم منزل تمام گشت و بپایاں رسید عمر، ماہمچناں در اول و صف تو ماندہ ایم۔ ولِلہ دُرّمن قال ؎ اے بروں از وہم و قال و قیل من، خاک بر فرق من و تمثیل من۔
یعنی قدرت الہٰی کے سامنے تو سب برابر ہیں لیکن تمہارے محسوسات کے اعتبار سے اول بار پیدا کرنے سے دوسری بار دھرا دینا آسان ہونا چاہئے۔ پھر یہ عجیب بات ہے کہ اول پیدائش پر اسے قادر مانو اور دوسری مرتبہ پیدا کرنے کو مستبعد سمجھو۔

خٰلِدينَ فيها ۖ وَعدَ اللَّهِ حَقًّا ۚ وَهُوَ العَزيزُ الحَكيمُ {31:9}
ہمیشہ اُن میں رہیں گے۔ خدا کا وعدہ سچا ہے اور وہ غالب حکمت والا ہے
یعنی کوئی قوت اس کو ایفائے وعدہ سے روک نہیں سکتی، نہ کسی سے بے موقع وعدہ کرتا ہے۔

ذٰلِكَ عٰلِمُ الغَيبِ وَالشَّهٰدَةِ العَزيزُ الرَّحيمُ {32:6}
یہی تو پوشیدہ اور ظاہر کا جاننے والا (اور) غالب اور رحم والا (خدا) ہے
یعنی ایسے اعلیٰ اور عظیم الشان انتظام و تدبیر کا قائم کرنا اسی پاک ہستی کا کام ہے جو ہر ایک ظاہر و پوشیدہ کی خبر رکھے، زبردست اور مہربان ہو۔

وَرَدَّ اللَّهُ الَّذينَ كَفَروا بِغَيظِهِم لَم يَنالوا خَيرًا ۚ وَكَفَى اللَّهُ المُؤمِنينَ القِتالَ ۚ وَكانَ اللَّهُ قَوِيًّا عَزيزًا {33:25}
اور جو کافر تھے اُن کو خدا نے پھیر دیا وہ اپنے غصے میں (بھرے ہوئے تھے) کچھ بھلائی حاصل نہ کر سکے۔ اور خدا مومنوں کو لڑائی کے بارے میں کافی ہوا۔ اور خدا طاقتور (اور) زبردست ہے
یعنی کفار کا لشکر ذلت و ناکامی سے پیچ و تاب کھاتا اور غصہ سے دانت پیستا ہوا میدان چھوڑ کر واپس ہوا، نہ فتح ملی نہ کچھ سامان ہاتھ آیا۔ ہاں عمرو بن عبدود جیسا ان کا نامور سوار جسے لوگ ایک ہزار سواروں کی برابر گنتے تھے اس لڑائی میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے ہاتھ سے کھیت رہا۔ مشرکین نے درخواست کی کہ دس ہزار لے کر اس کی لاش ہمیں دیدی جائے۔ آپ نے فرمایا وہ تم لیجاؤ، ہم مُردوں کا ثمن کھانے والے نہیں۔
یعنی مسلمانوں کو عام لڑائی لڑنے کی نوبت نہ آنے دی۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت سے ہوا کاطوفان اور فرشتوں کا لشکر بھیج کر وہ اثر پیدا کر دیا کہ کفار ازخود سراسیمہ اور پریشان حال ہو کر بھاگ گئے، اللہ کی زبردست قوت کے سامنے کون ٹھہر سکتا ہے۔

وَيَرَى الَّذينَ أوتُوا العِلمَ الَّذى أُنزِلَ إِلَيكَ مِن رَبِّكَ هُوَ الحَقَّ وَيَهدى إِلىٰ صِرٰطِ العَزيزِ الحَميدِ {34:6}
اور جن لوگوں کو علم دیا گیا ہے وہ جانتے ہیں کہ جو (قرآن) تمہارے پروردگار کی طرف سے تم پر نازل ہوا ہے وہ حق ہے۔ اور (خدائے) غالب اور سزاوار تعریف کا رستہ بتاتا ہے
یعنی اس واسطے قیامت آنی ہے کہ جن کو یقین تھا انہیں عین الیقین حاصل ہو جائے اور آنکھوں سے دیکھ لیں کہ قرآن کی خبریں موبمو صحیح و درست ہیں اور بیشک قرآن ہی وہ کتاب ہے جو اس زبردست خوبیوں والے خدا تک پہنچنے کا ٹھیک راستہ بتاتی ہے۔ بعض مفسرین نے { وَیَرَی الَّذِیْنَ } الخ کا مطلب یہ لیا ہے کہ { اَلَّذِیْنَ سَعَوْ فِیْ اٰیَاتِنَا مُعَاجِزِیْنَ } کے برخلاف جو اہل علم ہیں (خواہ مسلمان یا اہل کتاب) وہ جانتے ہیں اور دیکھ رہے ہیں کہ قیامت کے متعلق قرآن کریم کا بیان بالکل صحیح ہے اور وہ آدمی کو وصول الی اللہ کے ٹھیک راستہ پر لیجاتا ہے۔

قُل أَرونِىَ الَّذينَ أَلحَقتُم بِهِ شُرَكاءَ ۖ كَلّا ۚ بَل هُوَ اللَّهُ العَزيزُ الحَكيمُ {34:27}
کہو کہ مجھے وہ لوگ تو دکھاؤ جن کو تم نے شریک (خدا) بنا کر اس کے ساتھ ملا رکھا ہے۔ کوئی نہیں بلکہ وہی (اکیلا) خدا غالب (اور) حکمت والا ہے
یعنی ذرا سامنے تو کرو کون سی ہستی ہے جو اس کی خدائی میں ساجھا رکھتی؟ ہم بھی تو دیکھیں کہ اس کے کیا کچھ اختیارات ہیں۔ کیا ان پتھر کی بیجان اور خود تراشیدہ مورتوں کو پیش کرو گے۔
یعنی ہر گز تم ایسی کوئی ہستی پیش نہیں کر سکتے۔ وہ تو اکیلا ایک ہی خدا ہے جو زبردست، غالب و قاہر اور اعلیٰ درجہ کی حکمت و دانائی رکھنے والا ہے۔ سب اس کے سامنے مغلوب و مقہور ہیں۔

ما يَفتَحِ اللَّهُ لِلنّاسِ مِن رَحمَةٍ فَلا مُمسِكَ لَها ۖ وَما يُمسِك فَلا مُرسِلَ لَهُ مِن بَعدِهِ ۚ وَهُوَ العَزيزُ الحَكيمُ {35:2}
خدا جو اپنی رحمت (کا دروازہ) کھول دے تو کوئی اس کو بند کرنے والا نہیں۔ اور جو بند کردے تو اس کے بعد کوئی اس کو کھولنے والا نہیں۔ اور وہ غالب حکمت والا ہے
رحمت جسمانی ہو مثلاً بارش، روزی وغیرہ یا روحانی جیسے انزال کتب و ارسال رسل۔ غرض جب لوگوں پر اپنی رحمت کا دروازہ کھولے، کون ہے جو بند کر سکے۔
یعنی اپنی حکمت بالغہ کے موافق جو کچھ کرنا چاہے فورًا کر گذرے۔ ایسا زبردست ہے جسے کوئی نہیں روک سکتا۔

تَنزيلَ العَزيزِ الرَّحيمِ {36:5}
یہ خدائے) غالب (اور) مہربان نے نازل کیا ہے
یعنی یہ دین کا سیدھا راستہ یا قرآن حکیم اس خدا کا اتارا ہوا ہے جو زبردست بھی ہے کہ منکر کو سزا دیے بغیر نہ چھوڑے، اور رحم فرمانے والا بھی کہ ماننے والوں کو نوازش و بخشش سے مالا مال کر دے اسی لئے آیات قرآنیہ میں بعض آیات شان لطف و مہر کا اور بعض شان غضب و قہر کا پہلو لیے ہوئے ہیں۔

وَالشَّمسُ تَجرى لِمُستَقَرٍّ لَها ۚ ذٰلِكَ تَقديرُ العَزيزِ العَليمِ {36:38}
اور سورج اپنے مقرر رستے پر چلتا رہتا ہے۔ یہ (خدائے) غالب اور دانا کا (مقرر کیا ہوا) اندازہ ہے
سورج کی چال اور رستہ مقرر ہے اسی پرچلا جاتا ہے۔ ایک انچ یا ایک منٹ اس سے ادھر ادھر نہیں ہو سکتا۔ جس کام پر لگا دیا ہے ہر وقت اس میں مشغول ہے کسی دم قرار نہیں۔ رات دن کی گردش اور سال بھر کے چکر میں جس جس ٹھکانہ پر اسے پہنچتا ہے پہنچتا ہے۔ پھر وہاں سے باذن خداوندی نیا دورہ شروع کرتا ہے۔ قرب قیامت تک اسی طرح کرتا رہے گا۔ تاآنکہ ایک وقت آئے گا جب اس کو حکم ہو گا کہ جدھر سےغروب ہوا ہے ادھر سے الٹا واپس آئے یہ ہی وہ وقت ہے جب باب توبہ بند کر دیا جائے گا۔ کما ورد فی الحدیث الصحیح۔ بات یہ ہے کہ اس کے طلوع و غروب کا یہ سب نظام اس زبردست اور باخبر ہستی کا قائم کیا ہوا ہے۔ جس کے انتظام کو کوئی دوسرا شکست نہیں کر سکتا اور نہ اس کی حکمت و دانائی پر کوئی حرف گیری کر سکتا ہے وہ خود جب چاہے اور جس طرح چاہے الٹ پلٹ کرے کسی کو مجال انکار نہیں ہو سکتی۔ (تنبیہ) اس آیت کی تفسیر ایک حدیث میں آئی ہے جس میں شمس کے تحت العرش سجدہ کرنے کا ذکر ہے ۔ یہاں اس کی تشریح کا موقع نہیں۔ اس پر ہمارا مستقل مضمون "سجودالشمس" کے نام سے چھپا ہوا ہے۔ ملاحظہ کر لیا جائے۔
"سلخ" کہتے ہیں جانور کی کھال اتارنے کو جس سے نیچے کا گوشت ظاہر ہو جائے۔ اسی طرح سمجھ لو رات کی تاریکی پر دن کی چادر پڑی ہوئی ہے۔ جس وقت یہ نور کی چادر اوپر سے اتار لی جاتی ہے لوگ اندھیرے میں پڑے رہ جاتے ہیں اس کے بعد پھر سورج اپنی مقررہ رفتار سے معین وقت پر آ کر سب جگہ اجالا کرتا ہے۔ لیل و نہار کے ان تقلبات پرقیاس کر کے سمجھ لو کہ اسی طرح اللہ تعالیٰ عالم کو فنا کر کے دوبارہ زندہ کر سکتا ہے اور بیشک وہ ہی ایک خدا لائق پرستش ہے جس کے ہاتھ میں عظیم الشان انقلابات کی باگ ہے۔ جن سے ہمکو مختلف قسم کے فوائد پہنچتے ہیں۔ نیز جو قادر مطلق رات کو دن سے تبدیل کرتا ہے، کیا کچھ بعید ہے کہ بذریعہ آفتاب رسالت کے دنیا سے جہالت کی تاریکیوں کو دور کر دے۔ لیکن رات دن اور چاند، سورج کے طلوع و غروب کی طر ح ہر کام اپنے وقت پر ہوتا ہے۔

أَم عِندَهُم خَزائِنُ رَحمَةِ رَبِّكَ العَزيزِ الوَهّابِ {38:9}
کیا ان کے پاس تمہارے پروردگار کی رحمت کے خزانے ہیں جو غالب اور بہت عطا کرنے والا ہے

رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالأَرضِ وَما بَينَهُمَا العَزيزُ الغَفّٰرُ {38:66}
جو آسمانوں اور زمین اور جو مخلوق ان میں ہے سب کا مالک ہے غالب (اور) بخشنے والا
میرا کام تو اتنا ہی ہے کہ تم کو اس آنے والی خوفناک گھڑی سے ہشیار کر دوں اور جو بھیانک مستقبل آنے والا ہے اس سے بے خبر نہ رہنے دوں۔ باقی سابقہ جس حاکم سے پڑنے والا ہے تو وہ ہی اکیلا خدا ہے جس کے سامنے کوئی چھوٹا یا بڑا دم نہیں مار سکتا۔ ہر چیز اس کے آگے دبی ہوئی ہے۔ آسمان و زمین اور ان کے درمیان کی کوئی چیز نہیں جو اس کے زیر تصرف نہ ہو۔ جب تک چاہے ان کو قائم رکھے جب چاہے توڑ پھوڑ کر برابر کر دے۔ اس عزیز و غالب کا ہاتھ کون پکڑ سکتا ہے۔ اس کے زبردست قبضہ سے کون نکل کر بھاگ سکتا ہے اور ساتھ ہی اس کی لامحدود رحمت و بخشش کو کس کی مجال ہے، محدود کر دے۔

بِسمِ اللَّهِ الرَّحمٰنِ الرَّحيمِ تَنزيلُ الكِتٰبِ مِنَ اللَّهِ العَزيزِ الحَكيمِ {39:1}
اس کتاب کا اُتارا جانا خدائے غالب (اور) حکمت والے کی طرف سے ہے
چونکہ زبردست ہے اس لئے اس کتاب کے احکام پھیل کر اور نافذ ہو کر رہیں گے۔ کوئی مقابل و مزاحم اس کے شیوع و نفاذ کو روک نہیں سکتا۔ اور حکیم ہے اس لئے دنیا کی کوئی کتاب اس کی خوبیوں اور حکمتوں کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔

خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالأَرضَ بِالحَقِّ ۖ يُكَوِّرُ الَّيلَ عَلَى النَّهارِ وَيُكَوِّرُ النَّهارَ عَلَى الَّيلِ ۖ وَسَخَّرَ الشَّمسَ وَالقَمَرَ ۖ كُلٌّ يَجرى لِأَجَلٍ مُسَمًّى ۗ أَلا هُوَ العَزيزُ الغَفّٰرُ {39:5}
اسی نے آسمانوں اور زمین کو تدبیر کے ساتھ پیدا کیا ہے۔ (اور) وہی رات کو دن پر لپیٹتا ہے اور دن کو رات پر لپیٹتا ہے اور اسی نے سورج اور چاند کو بس میں کر رکھا ہے۔ سب ایک وقت مقرر تک چلتے رہیں گے۔ دیکھو وہی غالب (اور) بخشنے والا ہے
یعنی اسی زبردست قدرت سے یہ انتظام قائم کیا اور تھام رکھا ہے لوگوں کی گستاخیاں اور شرارتیں تو ایسی ہیں کہ سب نظام درہم برہم کر دیا جائے۔ لیکن وہ بڑا بخشنے والا اور درگذر کرنے والا ہے اپنی شان عفو و مغفرت سے ایک دم ایسا نہیں کرتا۔
مغرب کے وقت مشرق کی طرف دیکھو، معلوم ہو گا کہ افق سے ایک چادر تاریکی کی اٹھتی چلی آ رہی ہے اور اپنے آگے سے دن کی روشنی کو مغرب کی طرف صف کی طرح لپیٹتی جاتی ہے۔ اسی طرح صبح صادق کے وقت نظر آتا ہے کہ دن کا اجالا رات کی ظلمت کو مشرق سے دھکیلتا ہوا آ رہا ہے۔ حضرت شاہ صاحبؒ لکھتےہیں کہ ایک پر دوسرا چلا آتا ہے توڑا نہیں پڑتا۔

وَمَن يَهدِ اللَّهُ فَما لَهُ مِن مُضِلٍّ ۗ أَلَيسَ اللَّهُ بِعَزيزٍ ذِى انتِقامٍ {39:37}
اور جس کو خدا ہدایت دے اس کو کوئی گمراہ کرنے والا نہیں۔ کیا خدا غالب (اور) بدلہ لینے والا نہیں ہے؟
چند آیات پہلے { ضَرَبَ اللہُ مثلًا رَجُلًا فِیْہِ شرَکَاء } الخ میں شرک کا ردّ اور مشرکین کا جہل بیان کیا گیا تھا۔ اس پر مشرکین پیغمبر علیہ الصلوٰۃ والسلام کو اپنے بتوں سے ڈراتے تھے کہ دیکھو تم ہمارے دیوتاؤں کی توہین کر کے ان کو غصہ نہ دلاؤ۔ کہیں تم کو (معاذ اللہ) بالکل خبطی اور پاگل نہ بنا دیں۔ اس کا جواب دیا کہ جو شخص ایک زبردست خدا کا بندہ بن چکا، اسے ان عاجز اور بے بس خداؤں سے کیا ڈر ہو سکتا ہے؟ کیا اس عزیز منتقم کی امداد و حمایت اس کو کافی نہیں جو کسی دوسرے سے ڈرے یا لو لگائے یہ بھی ان مشرکین کا خبط و ضلال اور مستقل گمراہی ہے کہ خدائے واحد کے پرستار کو اس طرح کی گیدڑ بھبکیوں سے خوف زدہ کرنا چاہیں۔ ہدایت اور گمراہی صرف اللہ کی طرف سے ہے: سچ تو یہ ہے کہ ٹھیک راستہ پر لگا دینا یا نہ لگانا سب اللہ کے قبضہ میں ہے۔ جب کسی شخص کو اس کی بدتمیزی اور کجروی کی بناء پر اللہ تعالیٰ کامیابی کا راستہ نہ دے، وہ اسی طرح خبطی اور پاگل ہو جاتا ہے اور موٹی موٹی باتوں کے سمجھنے کی قوت بھی اس میں نہیں رہتی۔ کیا ان احمقوں کو اتنا نہیں سوجھتا کہ جو بندہ خداوند قدوس کی پناہ میں آ گیا، کونسی طاقت ہے جو اس کا بال بینکا کر سکے۔ جو طاقت مقابل ہو گی پاش پاش کر دی جائے گی۔ غیرت خداوندی مخلص وفاداروں کا بدلہ لئے بدون نہ چھوڑے گی۔

تَنزيلُ الكِتٰبِ مِنَ اللَّهِ العَزيزِ العَليمِ {40:2}
اس کتاب کا اتارا جانا خدائے غالب ودانا کی طرف سے ہے

رَبَّنا وَأَدخِلهُم جَنّٰتِ عَدنٍ الَّتى وَعَدتَهُم وَمَن صَلَحَ مِن ءابائِهِم وَأَزوٰجِهِم وَذُرِّيّٰتِهِم ۚ إِنَّكَ أَنتَ العَزيزُ الحَكيمُ {40:8}
اے ہمارے پروردگار ان کو ہمیشہ رہنے کے بہشتوں میں داخل کر جن کا تونے ان سے وعدہ کیا ہے اور جو ان کے باپ دادا اور ان کی بیویوں اور ان کی اولاد میں سے نیک ہوں ان کو بھی۔ بےشک تو غالب حکمت والا ہے
یعنی اگر چہ بہشت ہر کسی کو اپنے عمل سے ملتی ہے (جیسا کہ یہاں بھی { صَلَحَ } کی قید سے ظاہر ہے) بدون اپنے ایمان و صلاح کے بیوی، بیٹا اور ماں باپ کام نہیں آتے لیکن تیری حکمتیں ایسی بھی ہیں کہ ایک کےسبب سے کتنوں کو ان کے عمل سے زیادہ اعلٰی درجہ پر پہنچا دے۔ کما قال تعالیٰ { وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَاتَّبَعَتْھُمْ ذُرِّیَّتُھُمْ بِاِیْمَانٍ اَلْحَقْنَابِھِمْ وَمَآ اَلَتْنٰھُمْ مِّنْ عَمَلِھِمْ مِّنْ شَیْءٍ } (طور رکوع۱) اور گہری نظر سے دیکھا جائے تو حقیقت میں وہ بھی ان ہی کے کسی عمل قلبی کا بدلہ ہو۔ مثلًا وہ آرزو رکھتے ہوں کہ ہم بھی اسی مرد صالح کی چال چلیں۔ یہ نیت اور نیکی کی حرص اللہ کے ہاں مقبول ہو جائے یا اس مرد صالح کے اکرام و مدارات ہی کی ایک صورت یہ ہو کہ اس کے ماں باپ اور بیوی بچے بھی اس کے درجہ میں رکھے جائیں۔

تَدعونَنى لِأَكفُرَ بِاللَّهِ وَأُشرِكَ بِهِ ما لَيسَ لى بِهِ عِلمٌ وَأَنا۠ أَدعوكُم إِلَى العَزيزِ الغَفّٰرِ {40:42}
تم مجھے اس لئے بلاتے ہو کہ خدا کے ساتھ کفر کروں اور اس چیز کو اس کا شریک مقرر کروں جس کا مجھے کچھ بھی علم نہیں۔ اور میں تم کو (خدائے) غالب (اور) بخشنے والے کی طرف بلاتا ہوں
یعنی تمہاری کوشش کا حاصل تو یہ ہے کہ میں (معاذ اللہ) خدائے واحد کا انکار کر دوں۔ اسکے پیغمبروں کو اور انکی باتوں کو نہ مانوں اور نادان جاہلوں کی طرح ان چیزوں کو خدا ماننے لگوں جن کی الوہیت کسی دلیل اور علمی اصول سے ثابت نہیں۔ نہ مجھے خبر ہے کہ کیونکر ان چیزوں کو خدا بنا لیا گیا۔ بلکہ میں جانتا ہوں کہ اسکے خلاف پر دلائل قطعیّہ قائم ہیں۔
یعنی میرا منشاء یہ ہے کہ کسی طرح تمہارا سر اس خدائے واحد کی چوکھٹ پر جھکا دوں جو نہایت زبردست بھی ہے اور بہت زیادہ خطاؤں کا معاف کرنے والا بھی۔ (مجرم کو پکڑے تو کوئی چھڑا نہ سکے اور معاف کرے تو کوئی روک نہ سکے) وہ ہی اس کا مستحق ہے کہ آدمی اسکے آگے ڈر کر اور امید باندھ کر سر عبودیت جھکائے۔ یاد رکھو میں اسی خدا کی پناہ میں آ چکا ہوں جسکی طرف تمہیں بلا رہا ہوں۔

فَقَضىٰهُنَّ سَبعَ سَمٰواتٍ فى يَومَينِ وَأَوحىٰ فى كُلِّ سَماءٍ أَمرَها ۚ وَزَيَّنَّا السَّماءَ الدُّنيا بِمَصٰبيحَ وَحِفظًا ۚ ذٰلِكَ تَقديرُ العَزيزِ العَليمِ {41:12}
پھر دو دن میں سات آسمان بنائے اور ہر آسمان میں اس (کے کام) کا حکم بھیجا اور ہم نے آسمان دنیا کو چراغوں (یعنی ستاروں) سے مزین کیا اور (شیطانوں سے) محفوظ رکھا۔ یہ زبردست (اور) خبردار کے (مقرر کئے ہوئے) اندازے ہیں
یعنی جو حکم جس آسمان کے مناسب تھا۔ حضرت شاہ صاحبؒ لکھتے ہیں "یہ رب کو معلوم ہے کہ وہاں کون مخلوق بستی ہے اور انکا کیا اسلوب (اور رنگ ڈھنگ) ہے اتنی زمین میں ہزاراں ہزار کارخانے ہیں، تو اتنے بڑے آسمان کب خالی پڑے ہوں گے"۔
یعنی دیکھنے میں معلوم ہوتا ہے کہ گویا سب ستارے اسی آسمان میں جڑے ہوئے ہیں۔ رات کو ان قدرتی چراغوں سے آسمان کیسا پر رونق معلوم ہوتا ہے۔ پھر محفوظ کتنا کر دیا ہے کہ کسی کی وہاں تک دسترس نہیں۔ فرشوں کے زبردست پہرے لگے ہوئے ہیں۔ کوئی طاقت اس نظام محکم میں رخنہ اندازی نہیں کر سکتی کیونکہ وہ سب سے بڑی زبردست اور باخبر ہستی کا قائم کیا ہوا ہے۔
یعنی چار دن وہ تھے اور دو دن میں آسمان بنائے کل چھ دن ہو گئے، جیسا کہ دوسری جگہ { سِتّۃ ایّام } کی تصریح ہے۔ (تنبیہ) جن احادیث مرفوعہ میں تخلیق کائنات کے متعلق دنوں کی تعیین و ترتیب آئی ہے کہ فلاں فلاں چیز اللہ نے ہفتہ کے دن، فلاں فلاں دن میں پیدا کی، ان میں کوئی حدیث صحیح اب تک نظر سے نہیں گذری۔ حتّٰی کہ ابوہریرہ کی حدیث کے متعلق جو صحیح مسلم میں ہے ابن کثیرؒ لکھتے ہیں { وہومن غرائب الصحیح وقد عللّہ البخاری فی التاریخ فقال رواہ بعضہم عن ابی ہریرۃ عن کعب الاحبار و ہوالاصحّ } اور روح المعانی میں فقال شافعی سے نقل کیا ہے { تفرد بہ مسلم وقد تکلم علیہ الحافظ علی ابن المدینی والبخاری وغیر ہما وجعلوہ من کلام کعب وان اباہریرۃ انّما سمعہ منہ ولکن اشتبہ علٰی بعض الرواۃ فجعلہ مرفوعًا }۔ آسمان پہلے پیدا ہوا یا زمین: باقی قرآن کریم کی اس آیت اور سورہ "بقرہ" کی آیت { ثُمَّ اسْتَویٰ اِلَی السَّمَاءِ فَسَوَّا ھَنَّ سَبْعَ سَمٰوات } سے ظاہر ہوتا ہے کہ سات آسمان زمین کی پیدائش کے بعد بنائے گئے۔ اور سورہ "نازعات" میں { وَالْاَرْضَ بَعْدَ ذٰلِکَ دَحٰھَا } سے ظاہر ہوتا ہے کہ زمین آسمان کے بعد بچھائی گئ۔ اس کے جواب کئ طرح دیے گئے ہیں۔ احقر کو ابوحیان کی تقریر پسند ہے یعنی ضروری نہیں کہ پہلی آیت میں { ثُمَّ } اور دوسری میں { بَعْدَ ذٰلِکَ } تراخی زمان کے لئے ہو۔ ممکن ہے ان الفاظ سے تراخی فی الاخبار یا تراخی رتبی مراد لیں۔ جیسے { ثُمَّ کَانَ مِنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَتَوَا صَوْا بالصَّبْرِ وَتَوَا صَوْا بالمَرْحَمَۃِ } میں۔ یا دوسری جگہ { عُتُلٍّ بَعْدَ ذٰلِکَ زَنِیْم }۔ میں یہ ہی معنی مراد لئے گئے ہیں۔ بہرحال قرآن کریم میں ترتیب زمانی کی تصریح نہیں۔ ہاں نعمت کے تذکرہ میں زمین کا اور عظمت و قدرت کے تذکرہ میں آسمان کا ذکر مقدم رکھا ہے جس کا نکتہ ادنٰی تامل و تدبر سے معلوم ہو سکتا ہے۔ تفصیل کا یہاں موقع نہیں۔ یہ چند الفاظ اہل علم کی تنبیہ کے لئے لکھ دیے ہیں۔

كَذٰلِكَ يوحى إِلَيكَ وَإِلَى الَّذينَ مِن قَبلِكَ اللَّهُ العَزيزُ الحَكيمُ {42:3}
خدائے غالب و دانا اسی طرح تمہاری طرف مضامین اور (براہین) بھیجتا ہے جس طرح تم سے پہلے لوگوں کی طرف وحی بھیجتا رہا ہے

اللَّهُ لَطيفٌ بِعِبادِهِ يَرزُقُ مَن يَشاءُ ۖ وَهُوَ القَوِىُّ العَزيزُ {42:19}
خدا اپنے بندوں پر مہربان ہے وہ جس کو چاہتا ہے رزق دیتا ہے۔ اور وہ زور والا (اور) زبردست ہے
جس کو چاہے، جتنی چاہے دے۔
یعنی باوجود تکذیب و انکار کے روزی کسی کی بند نہیں کرتا۔ بلکہ بندوں کے باریک سے باریک احوال کی رعایت کرتا اور نہایت نرمی اور تدبیر لطیف سے ان کی تربیت فرماتا ہے۔

وَلَئِن سَأَلتَهُم مَن خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالأَرضَ لَيَقولُنَّ خَلَقَهُنَّ العَزيزُ العَليمُ {43:9}
اور اگر تم ان سے پوچھو کہ آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیا ہے تو کہہ دیں گے کہ ان کو غالب اور علم والے (خدا) نے پیدا کیا ہے

إِلّا مَن رَحِمَ اللَّهُ ۚ إِنَّهُ هُوَ العَزيزُ الرَّحيمُ {44:42}
مگر جس پر خدا مہربانی کرے۔ وہ تو غالب اور مہربان ہے
یعنی بس جس پر اللہ کی رحمت ہو جائے وہ ہی بچے گا۔ کما ورد فی الحدیث { اِلَّا اَنْ یَّتَغممَّدَنِیَ اللہُ بِرَحْمَتِہٖ }۔

تَنزيلُ الكِتٰبِ مِنَ اللَّهِ العَزيزِ الحَكيمِ {45:2}
اس کتاب کا اُتارا جانا خدائے غالب (اور) دانا (کی طرف) سے ہے

وَلَهُ الكِبرِياءُ فِى السَّمٰوٰتِ وَالأَرضِ ۖ وَهُوَ العَزيزُ الحَكيمُ {45:37}
اور آسمانوں اور زمین میں اُسی کے لئے بڑائی ہے۔ اور وہ غالب اور دانا ہے
چاہئے آدمی اسی کی طرف متوجہ ہو۔ اسکے احسانات و انعامات کی قدر کرے اسکی ہدایات پر چلے، سب کو چھوڑ کر اسی کی خوشنودی حاصل کرنے کی فکر رکھے۔ اور اس کی بزرگی و عظمت کے سامنے ہمیشہ باختیار خود مطیع و منقاد رہے۔ کبھی سرکشی و تمرد کا خیال دل میں نہ لائے۔ حدیث قدسی میں ہے { اَلْکِبْرِیَاءُ رِدَائی وَالْعَظْمَۃُ اِزارِیْ فَمَنْ نَازَعَنِیْ وَحِدً مِنْھُمَا قَذَفْتُہٗ فِی النَّارِ } (کبیریا میری چادر اور عظمت میرا تہ بند ہے۔ لہذا جو کوئی ان دونوں میں سے کسی میں مجھ سے منازعت اور کشمکش کرے گا۔ میں اسے اٹھا کر آگ میں پھینک دوں گا) { اَللّٰھُمَّ اجعلنا مطیعین لامرک وجنبنا غضبک وقنا عذاب النار۔ انک سمیع قریب مجیب الدعوات }۔ تم سورۃ الجاثیہ بعونہ وصونہ فللہ الحمد والمنہ وبہ التوفیق والعصمہ

تَنزيلُ الكِتٰبِ مِنَ اللَّهِ العَزيزِ الحَكيمِ {46:2}
(یہ) کتاب خدائے غالب (اور) حکمت والے کی طرف سے نازل ہوئی ہے

وَلِلَّهِ جُنودُ السَّمٰوٰتِ وَالأَرضِ ۚ وَكانَ اللَّهُ عَزيزًا حَكيمًا {48:7}
اور آسمانوں اور زمین کے لشکر خدا ہی کے ہیں۔ اور خدا غالب (اور) حکمت والا ہے
یعنی وہ سزا دینا چاہے تو کون بچا سکتا ہے۔ خدائی لشکر ایک لمحہ میں پیس کر رکھ دے۔ مگر وہ زبردست ہونے کے ساتھ حکمت والا بھی ہے۔ حکمت الٰہی مقتضی نہیں کہ فورًا ہاتھوں ہاتھ ان کا استیصال کیا جائے۔

وَمَغانِمَ كَثيرَةً يَأخُذونَها ۗ وَكانَ اللَّهُ عَزيزًا حَكيمًا {48:19}
اور بہت سی غنیمتیں جو انہوں نے حاصل کیں۔ اور خدا غالب حکمت والا ہے
یعنی اپنے زور و حکمت سے حدیبیہ کی کسر یہاں نکال دی۔ اور اسی طرح کا قصہ فتح مکہ اور حُنین میں ہوا۔
یعنی فتح خیبر جو حدیبیہ سے واپسی کے بعد فورًا مل گئ اور مال غنیمت بہت آیا جس سےصحابہ آسودہ ہو گئے۔

كَذَّبوا بِـٔايٰتِنا كُلِّها فَأَخَذنٰهُم أَخذَ عَزيزٍ مُقتَدِرٍ {54:42}
انہوں نے ہماری تمام نشانیوں کو جھٹلایا تو ہم نے ان کو اس طرح پکڑ لیا جس طرح ایک قوی اور غالب شخص پکڑ لیتا ہے
یعنی خدا کی پکڑ بڑے زبردست کی پکڑ تھی جس کے قابو سے نکل کر کوئی بھاگ نہیں سکتا۔ دیکھ لو! تمام فرعونیوں کا بیڑہ کس طرح بحر قلزم میں غرق کیا کہ ایک بچ کر نہ نکل سکا۔

بِسمِ اللَّهِ الرَّحمٰنِ الرَّحيمِ سَبَّحَ لِلَّهِ ما فِى السَّمٰوٰتِ وَالأَرضِ ۖ وَهُوَ العَزيزُ الحَكيمُ {57:1}
جو مخلوق آسمانوں اور زمین میں ہے خدا کی تسبیح کرتی ہے۔ اور وہ غالب (اور) حکمت والا ہے
یعنی زبانِ حال سے یا قال سے یا دونوں سے۔

لَقَد أَرسَلنا رُسُلَنا بِالبَيِّنٰتِ وَأَنزَلنا مَعَهُمُ الكِتٰبَ وَالميزانَ لِيَقومَ النّاسُ بِالقِسطِ ۖ وَأَنزَلنَا الحَديدَ فيهِ بَأسٌ شَديدٌ وَمَنٰفِعُ لِلنّاسِ وَلِيَعلَمَ اللَّهُ مَن يَنصُرُهُ وَرُسُلَهُ بِالغَيبِ ۚ إِنَّ اللَّهَ قَوِىٌّ عَزيزٌ {57:25}
ہم نے اپنے پیغمبروں کو کھلی نشانیاں دے کر بھیجا۔ اور اُن پر کتابیں نازل کیں اور ترازو (یعنی قواعد عدل) تاکہ لوگ انصاف پر قائم رہیں۔ اور لوہا پیدا کیا اس میں (اسلحہٴ جنگ کے لحاظ سے) خطرہ بھی شدید ہے۔ اور لوگوں کے لئے فائدے بھی ہیں اور اس لئے کہ جو لوگ بن دیکھے خدا اور اس کے پیغمبروں کی مدد کرتے ہیں خدا ان کو معلوم کرے۔ بےشک خدا قوی (اور) غالب ہے
یعنی لوہے سے لڑائی کے سامان (اسلحہ وغیرہ) تیار ہوتے ہیں۔ اور لوگوں کے بہت سے کام چلتے ہیں۔
کتاب اور ترازو۔ شاید اسی تولنے کی ترازو کو کہا کہ اس کے ذریہ سے بھی حقوق ادا کرنے اور لین دین میں انصاف ہوتا ہے۔ یعنی کتاب اللہ اسلئے اتاری کہ لوگ عقائد اور اخلاق و اعمال میں سیدھے انصاف کی راہ چلیں، افراط و تفریط کے راستہ پر قدم نہ ڈالیں۔ اور ترازو اسلئے پیدا کی کہ بیع و شراء وغیرہ معاملات میں انصاف کا پلہ کسی طرف اٹھا، یا جھکا نہ رہے۔ اور ممکن ہے "ترازو" شریعت کو فرمایا ہو ۔ جو تمام اعمال قلبیہ و قالبیہ کے حسن و قحج کو ٹھیک جانچ تول کر بتلاتی ہے۔ واللہ اعلم۔
یعنی اپنی قدرت سے پیدا کیا اور زمین میں اسکی کانیں رکھدیں۔
یعنی جو آسمانی کتاب سے راہ راست پر نہ آئیں اور انصاف کی ترازو کو دنیا میں سیدھا نہ رکھیں، ضرورت پڑے گی کہ انکی گوشمالی کیجائے اور ظالم و کجرو معاندین پر اللہ و رسول کے احکام کا وقار و اقتدار قائم رکھا جائے۔ اس وقت شمشیر کے قبضہ پر ہاتھ ڈالنا اور ایک خالص دینی جہاد میں اسی لوہے سے کام لینا ہو گا۔ اس وقت کھل جائے گا کہ کونسے وفادار بندے ہیں جو بن دیکھے خدا کی محبت میں آخرت کے غائبانہ اجر و ثواب پر یقین کر کے اسکے دین اور اسکے رسولوں کی مدد کرتے ہیں۔
یعنی جہاد کی تعلیم و ترغیب اسلئے نہیں دی گئ کہ اللہ کچھ تمہاری امداد و اعانت کا محتاج ہے۔ بھلا اس زو آور اور زبردست ہستی کو کمزور مخلوق کی کیا حاجت ہو سکتی تھی۔ ہاں تمہاری وفاداری کا امتحان مقصود ہے۔ تاکہ جو بندے اس میں کامیاب ہوں انکو اعلٰی مقامات پر پہنچایا جائے۔

كَتَبَ اللَّهُ لَأَغلِبَنَّ أَنا۠ وَرُسُلى ۚ إِنَّ اللَّهَ قَوِىٌّ عَزيزٌ {58:21}
خدا کا حکم ناطق ہے کہ میں اور میرے پیغمبر ضرور غالب رہیں گے۔ بےشک خدا زورآور (اور) زبردست ہے
یعنی اللہ و رسول کا مقابلہ کرنے والے جو حق و صداقت کے خلاف جنگ کرتے ہیں سخت ناکام اور ذلیل ہیں۔ اللہ لکھ چکا ہے کہ آخر کار حق ہی غالب ہو کر رہیگا۔ اور اس کے پیغمبر ہی مظفر و منصور ہوں گے۔ اس کی تقریر پہلے کئ جگہ گذر چکی ہے۔

بِسمِ اللَّهِ الرَّحمٰنِ الرَّحيمِ سَبَّحَ لِلَّهِ ما فِى السَّمٰوٰتِ وَما فِى الأَرضِ ۖ وَهُوَ العَزيزُ الحَكيمُ {59:1}
جو چیزیں آسمانوں میں ہیں اور جو چیزیں زمین میں ہیں (سب) خدا کی تسبیح کرتی ہیں۔ اور وہ غالب حکمت والا ہے
چنانچہ اس کے زبردست غلبہ اور حکمت کے آثار میں سے ایک واقعہ آگے بیان کیا جاتا ہے۔

هُوَ اللَّهُ الَّذى لا إِلٰهَ إِلّا هُوَ المَلِكُ القُدّوسُ السَّلٰمُ المُؤمِنُ المُهَيمِنُ العَزيزُ الجَبّارُ المُتَكَبِّرُ ۚ سُبحٰنَ اللَّهِ عَمّا يُشرِكونَ {59:23}
وہی خدا ہے جس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔ بادشاہ (حقیقی) پاک ذات (ہر عیب سے) سلامتی امن دینے والا نگہبان غالب زبردست بڑائی والا۔ خدا ان لوگوں کے شریک مقرر کرنے سے پاک ہے
یعنی اس کی ذات و صفات اور افعال میں کوئی شریک نہیں ہوسکتا۔
یعنی سب نقائص اور کمزوریوں سے پاک، اور سب عیوب و آفات سے سالم، نہ کوئی برائی اس کی بارگاہ تک پہنچی نہ پہنچے۔
"مومن " کا ترجمہ "امان دینے والا" کیا ہے۔ اور بعض مفسّرین کے نزدیک "مصدق" کے معنی ہیں یعنی اپنی اور اپنے پیغمبروں کی قولًا و فعلًا تصدیق کرنے والا۔ یا مومنین کے ایمان پر مہر تصدیق ثبت کرنے والا۔

هُوَ اللَّهُ الخٰلِقُ البارِئُ المُصَوِّرُ ۖ لَهُ الأَسماءُ الحُسنىٰ ۚ يُسَبِّحُ لَهُ ما فِى السَّمٰوٰتِ وَالأَرضِ ۖ وَهُوَ العَزيزُ الحَكيمُ {59:24}
وہی خدا (تمام مخلوقات کا) خالق۔ ایجاد واختراع کرنے والا صورتیں بنانے والا اس کے سب اچھے سے اچھے نام ہیں۔ جتنی چیزیں آسمانوں اور زمین میں ہیں سب اس کی تسبیح کرتی ہیں اور وہ غالب حکمت والا ہے
تمام کمالات و صفاتِ الہٰیہ کا مرجع ان دو صفتوں "عزیز" اور "حکیم" کی طرف ہے۔ کیونکہ "عزیز" کمال قدرت پر اور "حکیم" کمال علم پر دلالت کرتا ہے۔ اور جتنے کمالات ہیں علم اور قدرت سے کسی نہ کسی طرح وابستہ ہیں۔ روایات میں سورۃ "حشر" کی ان تین آیتوں (ھو اللہ الذی لآ الٰہ الاّ ھو سے آخر تک) کی بہت فضیلت آئی ہے۔ مومن کو چاہیئے کہ صبح و شام ان آیات کی تلاوت پر مواظبت رکھے۔ تم سورۃ الحشر وللہ الحمد والمنہ۔
یعنی جیسا کہ نطفہ پر انسان کی تصویر کھینچ دی۔
"خالق" و "باری" کے فرق کی طرف ہم نے سورۃ "بنی اسرائیل" کی آیت { ویسئلونک عن الروح قل الروح من امرربّی } الخ کے فوائد میں کچھ اشارہ کیا ہے۔
یعنی وہ نام جو اعلیٰ درجہ کی خوبیوں اور کمالات پر دلالت کرتے ہیں۔
یعنی زبانِ حال سے یا قال سے بھی جس کو ہم نہیں سمجھتے۔

رَبَّنا لا تَجعَلنا فِتنَةً لِلَّذينَ كَفَروا وَاغفِر لَنا رَبَّنا ۖ إِنَّكَ أَنتَ العَزيزُ الحَكيمُ {60:5}
اے ہمارے پروردگار ہم کو کافروں کے ہاتھ سے عذاب نہ دلانا اور اے پروردگار ہمارے ہمیں معاف فرما۔ بےشک تو غالب حکمت والا ہے
تیری زبردست قوت اور حکمت سے یہی توقع ہے کہ اپنی وفاداروں کو دشمنوں کے مقابلہ میں مغلوب و مقہور نہ ہونے دیگا۔
یعنی ہم کو کافروں کے واسطے محل آزمائش اور تختہ مشق نہ بنا۔ اور ایسے حال میں مت رکھ جس کو دیکھ کر کافر خوش ہوں، اسلام اور مسلمانوں پر آوازے کسیں اور ہمارے مقابلہ میں اپنی حقانیت پر استدلال کرنے لگیں۔
یعنی ہماری کوتاہیوں کو معاف فرما اور تقصیرات سے درگذر کر۔

بِسمِ اللَّهِ الرَّحمٰنِ الرَّحيمِ سَبَّحَ لِلَّهِ ما فِى السَّمٰوٰتِ وَما فِى الأَرضِ ۖ وَهُوَ العَزيزُ الحَكيمُ {61:1}
جو چیز آسمانوں میں ہے اور زمین میں ہے سب خدا کی تنزیہ کرتی ہے اور وہ غالب حکمت والا ہے

بِسمِ اللَّهِ الرَّحمٰنِ الرَّحيمِ يُسَبِّحُ لِلَّهِ ما فِى السَّمٰوٰتِ وَما فِى الأَرضِ المَلِكِ القُدّوسِ العَزيزِ الحَكيمِ {62:1}
جو چیز آسمانوں میں ہے اور جو چیز زمین میں ہے سب خدا کی تسبیح کرتی ہے جو بادشاہ حقیقی پاک ذات زبردست حکمت والا ہے

وَءاخَرينَ مِنهُم لَمّا يَلحَقوا بِهِم ۚ وَهُوَ العَزيزُ الحَكيمُ {62:3}
اور ان میں سے اور لوگوں کی طرف بھی (ان کو بھیجا ہے) جو ابھی ان (مسلمانوں سے) نہیں ملے۔ اور وہ غالب حکمت والا ہے
یعنی یہ ہی رسول دوسرے آنیوالے لوگوں کے واسطے بھی ہے جن کو مبدأ و معاد اور شرائع سماویہ کا پورا اور صحیح علم نہ رکھنے کی وجہ سے ان پڑھ ہی کہنا چاہیئے۔ مثلاً فارس، روم، چین اور ہندوستان وغیرہ کی قومیں جو بعد کو امّیین کے دین اور اسلامی برادری میں شامل ہو کر ان ہی میں سے ہوگئیں۔ حضرت شاہ صاحبؒ لکھتے ہیں "حق تعالیٰ نے اوّل عرب پیدا کئے اس دین کے تھامنے والے، پیچھے عجم میں ایسے کامل لوگ اٹھے"۔ حدیث میں ہے کہ جب آپ سے { وَّاٰخَرِیْنَ مِنْھُمْ لَمَّا یَلْحَقُوْابِہِمْ } کی نسبت سوال کیا گیا تو سلمان فارسیؓ کے شانہ پر ہاتھ رکھ کر فرمایا کہ اگر علم یا دین ثرّیا پر جاپہنچے گا تو (اسکی قوم فارس کا مرد وہاں سے بھی لے آئیگا) شیخ جلال الدین سیوطیؒ وغیرہ نے تسلیم کیا ہے کہ اس پیشین گوئی کے بڑے مصداق حضرت امام اعظم ابوحنیفۃ النعمانؒ ہیں۔
جس کی زبردست قوت و حکمت نے اس جلیل القدر پیغمبر کے ذریعہ قیامت تک کے لئے عرب و عجم کی تعلیم و تزکیہ کا انتظام فرمایا۔صلی اللہ علیہ وسلم۔

عٰلِمُ الغَيبِ وَالشَّهٰدَةِ العَزيزُ الحَكيمُ {64:18}
پوشیدہ اور ظاہر کا جاننے والا غالب اور حکمت والا ہے
(26) یعنی اسی کو ظاہری اعمال اور باطنی نیتوں کی خبر ہے اپنی زبردست قوت اور حکمت سے اس کے مناسب بدلہ دیگا۔ تم سورۃ التغابن وللہ الحمد والمنہ۔

الَّذى خَلَقَ المَوتَ وَالحَيوٰةَ لِيَبلُوَكُم أَيُّكُم أَحسَنُ عَمَلًا ۚ وَهُوَ العَزيزُ الغَفورُ {67:2}
اسی نے موت اور زندگی کو پیدا کیا تاکہ تمہاری آزمائش کرے کہ تم میں کون اچھے عمل کرتا ہے۔ اور وہ زبردست (اور) بخشنے والا ہے
یعنی زبردست ہے جس کی پکڑ سے کوئی نہیں نکل سکتا اور بخشنے والا بھی بہت بڑا ہے۔
یعنی مرنے جینے کا سلسلہ اسی نے قائم کیا، ہم پہلے کچھ نہ تھے (اسے موت ہی سمجھو) پھر پیدا کیا، اس کے بعد موت بھیجی، پھر مرے پیچھے زندہ کر دیا۔ کما قال{ وَکُنْتُمْ اَمْوَاتًا فَاَحْیَاکُمْ ثُمَّ یُمِیْتُکُمْ ثُمَّ یُحْیِیْکُمْ ثُمَّ ِالَیْہِ تُرْجَعُوْنَ } (البقرہ رکوع۳) موت و حیات کا یہ سارا سلسلہ اس لئے ہے کہ تمہارے اعمال کی جانچ کرے کہ کون برے کام کرتا ہے کون اچھے، اور کون اچھے سے اچھے پہلے زندگی میں یہ امتحان ہوا اور دوسری زندگی میں اس کا مکمل نتیجہ دکھلا دیا گیا۔ فرض کرو اگر پہلی زندگی نہ ہوتی تو عمل کون کرتا ، اور موت نہ آتی تو لوگ مبداء ومنتہیٰ سے غافل اور بےفکر ہو کر عمل چھوڑ بیٹھتے اور دوبارہ زندہ نہ کئے جاتے تو بھلے برے کا بدلہ کہاں ملتا۔

وَما نَقَموا مِنهُم إِلّا أَن يُؤمِنوا بِاللَّهِ العَزيزِ الحَميدِ {85:8}
ان کو مومنوں کی یہی بات بری لگتی تھی کہ وہ خدا پر ایمان لائے ہوئے تھے جو غالب (اور) قابل ستائش ہے




 ****************************************


ذٰلِكُمُ اللَّهُ رَبُّكُم ۖ لا إِلٰهَ إِلّا هُوَ ۖ خٰلِقُ كُلِّ شَيءٍ فَاعبُدوهُ ۚ وَهُوَ عَلىٰ كُلِّ شَيءٍ وَكيلٌ {6:102}
یہ اللہ تمہارا رب ہے نہیں ہے کوئی معبود سوا اسکے پیدا کرنے والا ہر چیز کا سو تم اسی کی عبادت کرو اور وہ ہرچیز پر کارساز ہے [۱۴۳]
یہی (اوصاف رکھنے والا) خدا تمہارا پروردگار ہے۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ (وہی) ہر چیز کا پیداکرنے والا (ہے) تو اسی کی عبادت کرو۔ اور وہ ہر چیز کا نگراں ہے
اس کی عبادت اس لئے کرنی چاہئے کہ مذکورہ بالاصفات کی وجہ سے وہ ذاتی طور پر استحقاق معبود بننے کا رکھتا ہے اور اس لئے بھی کہ تمام مخلوق کی کارسازی اسی کے ہاتھ میں ہے۔

قُل مَن رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالأَرضِ قُلِ اللَّهُ ۚ قُل أَفَاتَّخَذتُم مِن دونِهِ أَولِياءَ لا يَملِكونَ لِأَنفُسِهِم نَفعًا وَلا ضَرًّا ۚ قُل هَل يَستَوِى الأَعمىٰ وَالبَصيرُ أَم هَل تَستَوِى الظُّلُمٰتُ وَالنّورُ ۗ أَم جَعَلوا لِلَّهِ شُرَكاءَ خَلَقوا كَخَلقِهِ فَتَشٰبَهَ الخَلقُ عَلَيهِم ۚ قُلِ اللَّهُ خٰلِقُ كُلِّ شَيءٍ وَهُوَ الوٰحِدُ القَهّٰرُ {13:16}
پوچھ کون ہے رب آسمان اور زمین کا کہدے اللہ ہے کہہ پھر کیا تم نے پکڑے ہیں اس کے سوا ایسے حمایتی جو مالک نہیں اپنے بھلے اور برے کے [۲۷] کہہ کیا برابر ہوتا ہے اندھا اور دیکھنے والا یا کہیں برابر ہے اندھیرا اور اجالا [۲۸]کیا ٹھہرائے ہیں انہوں نے اللہ کے لئے شریک کہ انہوں نے کچھ پیدا کیا ہے جیسے پیدا کیا اللہ نے پھر مشتبہ ہو گئ پیدائش انکی نظر میں کہہ اللہ ہے پیدا کرنے والا ہر چیز کا اور وہی ہے اکیلا زبردست [۲۹]
ان سے پوچھو کہ آسمانوں اور زمین کا پروردگار کون ہے؟ (تم ہی ان کی طرف سے) کہہ دو کہ خدا۔ پھر (ان سے) کہو کہ تم نے خدا کو چھوڑ کر ایسے لوگوں کو کیوں کارساز بنایا ہے جو خود اپنے نفع ونقصان کا بھی اختیار نہیں رکھتے (یہ بھی) پوچھو کیا اندھا اور آنکھوں والا برابر ہیں؟ یا اندھیرا اور اُجالا برابر ہوسکتا ہے؟ بھلا ان لوگوں نے جن کو خدا کا شریک مقرر کیا ہے۔ کیا انہوں نے خدا کی سی مخلوقات پیدا کی ہے جس کے سبب ان کو مخلوقات مشتبہ ہوگئی ہے۔ کہہ دو کہ خدا ہی ہر چیز کا پیدا کرنے والا ہے اور وہ یکتا (اور) زبردست ہے
یعنی جیسی مخلوقات خدا تعالیٰ نے پیدا کی ، کیا تمہارےدیوتاؤں نے ایسی کوئی چیز پیدا کی ہے جسے دیکھ کر ان پر خدائی کا شبہ ہونے لگا۔ وہ تو ایک مکھی کا پر اور ایک مچھر کی ٹانگ بھی نہیں بنا سکتے۔ بلکہ تمام چیزوں کی طرح خود بھی اسی اکیلے زبردست خدا کی مخلوق ہیں۔ پھر ایسی عاجز و مجبور چیزوں کو خدائی کے تخت پر بٹھا دینا کس قدر گستاخی اور شوخ چشمی ہے۔
یعنی موحد و مشرک میں ایسا فرق ہے جیسے بینا اور نابینا میں اور توحید و شرک کا مقابلہ ایسا سمجھو جیسے نور کا ظلمت سے ۔ تو کیا ایک اندھا مشرک جو شرک کی اندھیریوں میں پڑا ٹامک ٹوئیاں مار رہا ہو اس مقام پر پہنچ سکتا ہے جہاں ایک موحد کو پہنچنا ہے جو فہم و بصیرت اور ایمان و عرفان کی روشنی میں فطرت انسانی کے صاف راستہ پر چل رہا ہے ؟ ہرگز دونوں ایک نتیجہ پر نہیں پہنچ سکتے۔
یعنی جب ربوبیت کا اقرار صرف خدا کے لئے کرتے ہو ، پھر مدد کے لئے دوسرے حمایتی کہاں سے تجویز کر لئے ۔ حالانکہ وہ برابر ذرہ نفع نقصان کا مستقل اختیار نہیں رکھتے۔

وَإِذ قالَ رَبُّكَ لِلمَلٰئِكَةِ إِنّى خٰلِقٌ بَشَرًا مِن صَلصٰلٍ مِن حَمَإٍ مَسنونٍ {15:28}
اور جب کہا تیرے رب نے فرشتوں کو میں بناؤں گا ایک بشر کھنکھناتے سنے ہوئے گارے سے
اور جب تمہارے پروردگار نے فرشتوں سے فرمایا کہ میں کھنکھناتے سڑے ہوئے گارے سے ایک بشر بنانے والا ہوں

خالق ہی معبود ہو سکتا ہے:
يٰأَيُّهَا النّاسُ اذكُروا نِعمَتَ اللَّهِ عَلَيكُم ۚ هَل مِن خٰلِقٍ غَيرُ اللَّهِ يَرزُقُكُم مِنَ السَّماءِ وَالأَرضِ ۚ لا إِلٰهَ إِلّا هُوَ ۖ فَأَنّىٰ تُؤفَكونَ {35:3}
اے لوگو یاد کرو احسان اللہ کا اپنے اوپر کیا کوئی ہے بنانے والا اللہ کے سوائے روزی دیتا ہے تم کو آسمان سے اور زمین سے کوئی حاکم نہیں مگر وہ پھر کہاں الٹے جاتے ہو [۷]
لوگو خدا کے جو تم پر احسانات ہیں ان کو یاد کرو۔ کیا خدا کے سوا کوئی اور خالق (اور رازق ہے) جو تم کو آسمان اور زمین سے رزق دے۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں پس تم کہاں بہکے پھرتے ہو؟
یعنی مانتے ہو کہ پیدا کرنا اور روزی کے سامان بہم پہنچا کرزندہ رکھنا سب اللہ کے قبضہ اور اختیار ہے۔ پھر معبودیت کا استحقاق کسی دوسرے کو کدھر سے ہو گیا جو خالق و رازق حقیقی ہے وہ ہی معبود ہونا چاہئے۔

O people, that is, the people of Mecca, remember God’s grace to you, in His making you dwell within the [Meccan] Sanctuary and preventing raids against you. Is there any creator (min khāliqin: min is extra; khāliq is the subject) other than God (read ghayru’Llāhi or gharyri’Llāhi, as an adjectival qualification of khāliq, ‘creator’, either concording with the [oblique] form [of min khāliqin] or concording with the syntactical status [thereof]; the predicate of the subject [is the following]) who provides for you from the heaven, rain, and, from the, earth?, vegetation (the interrogative is [actually] an affirmative, that is to say, ‘there is no creator or provider other than Him). There is no god except Him. So how then do you deviate?, how are you turned away from affirming His Oneness when you already affirm that He is the Creator and the Provider?



إِذ قالَ رَبُّكَ لِلمَلٰئِكَةِ إِنّى خٰلِقٌ بَشَرًا مِن طينٍ {38:71}
جب کہا تیرے رب نے فرشتوں کو میں بناتا ہوں ایک انسان مٹی کا [۶۲]
جب تمہارے پروردگار نے فرشتوں سے کہا کہ میں مٹی سے انسان بنانے والا ہوں
حضرت شاہ صاحبؒ لکھتے ہیں ایک یہ بھی تکرار تھی فرشتوں کی جو بیان فرمایا"۔

اللَّهُ خٰلِقُ كُلِّ شَيءٍ ۖ وَهُوَ عَلىٰ كُلِّ شَيءٍ وَكيلٌ {39:62}
اللہ بنانے والا ہے ہر چیز کا اور وہ ہرچیز کا ذمہ لیتا ہے
خدا ہی ہر چیز کا پیدا کرنے والا ہے۔ اور وہی ہر چیز کا نگراں ہے

ذٰلِكُمُ اللَّهُ رَبُّكُم خٰلِقُ كُلِّ شَيءٍ لا إِلٰهَ إِلّا هُوَ ۖ فَأَنّىٰ تُؤفَكونَ {40:62}
اور اللہ ہے تمہارا رب ہر چیز بنانے والا کسی کی بندگی نہیں اسکے سوائے پھر کہاں سے پھرے جاتے ہو [۸۴]
یہی خدا تمہارا پروردگار ہے جو ہر چیز کا پیدا کرنے والا ہے۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں پھر تم کہاں بھٹک رہے ہو؟
یعنی رات دن کی سب نعمتیں اسکی طرف سے مانتے ہو، تو بندگی بھی صرف اسی کی ہونی چاہئے اس مقام پر پہنچ کر تم کہاں بھٹک جاتے ہو کہ مالکِ حقیقی تو کوئی ہو اور بندگی کسی کی کیجائے۔

هُوَ اللَّهُ الخٰلِقُ البارِئُ المُصَوِّرُ ۖ لَهُ الأَسماءُ الحُسنىٰ ۚ يُسَبِّحُ لَهُ ما فِى السَّمٰوٰتِ وَالأَرضِ ۖ وَهُوَ العَزيزُ الحَكيمُ {59:24}
وہ اللہ ہے بنانے والا نکال کھڑا کرنے والا [۴۳] صورت کھینچنے والا [۴۴] اُسی کے ہیں سب نام خاصے (عمدہ) [۴۵] پاکی بول رہا ہے اُسکی جو کچھ ہے آسمانوں میں اور زمین میں [۴۶] اور وہی ہے زبردست حکمتوں والا [۴۷]
وہی خدا (تمام مخلوقات کا) خالق۔ ایجاد واختراع کرنے والا صورتیں بنانے والا اس کے سب اچھے سے اچھے نام ہیں۔ جتنی چیزیں آسمانوں اور زمین میں ہیں سب اس کی تسبیح کرتی ہیں اور وہ غالب حکمت والا ہے
یعنی جیسا کہ نطفہ پر انسان کی تصویر کھینچ دی۔
"خالق" و "باری" کے فرق کی طرف ہم نے سورۃ "بنی اسرائیل" کی آیت { ویسئلونک عن الروح قل الروح من امرربّی } الخ کے فوائد میں کچھ اشارہ کیا ہے۔
یعنی وہ نام جو اعلیٰ درجہ کی خوبیوں اور کمالات پر دلالت کرتے ہیں۔
تمام کمالات و صفاتِ الہٰیہ کا مرجع ان دو صفتوں "عزیز" اور "حکیم" کی طرف ہے۔ کیونکہ "عزیز" کمال قدرت پر اور "حکیم" کمال علم پر دلالت کرتا ہے۔ اور جتنے کمالات ہیں علم اور قدرت سے کسی نہ کسی طرح وابستہ ہیں۔ روایات میں سورۃ "حشر" کی ان تین آیتوں (ھو اللہ الذی لآ الٰہ الاّ ھو سے آخر تک) کی بہت فضیلت آئی ہے۔ مومن کو چاہیئے کہ صبح و شام ان آیات کی تلاوت پر مواظبت رکھے۔ تم سورۃ الحشر وللہ الحمد والمنہ۔
یعنی زبانِ حال سے یا قال سے بھی جس کو ہم نہیں سمجھتے۔

إِنَّ رَبَّكَ هُوَ الخَلّٰقُ العَليمُ {15:86}
تیرا رب جو ہے وہی ہے پیدا کرنے والا خبردار [۷۴]
کچھ شک نہیں کہ تمہارا پروردگار (سب کچھ) پیدا کرنے والا (اور) جاننے والا ہے
جس کو تیرے صبر اور ان کی ایذا کی سب خبر ہے ، ہر ایک کو اس کے عمل کا بدلہ دےگا ۔ اس آیت میں گویا معاد کی تقریر فرما دی۔ یعنی جس نے ایک مرتبہ پیدا کیا دوبارہ پیدا کرنا کیا مشکل ہے اور جس چیز کے اجزا منتشر ہو گئے ہوں اس کو ہر جز کی خبر ہے ، جہاں کہیں ہو گا سب کو جمع کر دے گا دوسری جگہ فرمایا { اَوَلَیْسَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ بِقَادِرٍ عَلٰی اَنْ یَخْلُقَ مِثْلَھُمْ بَلٰی وَھُوَا الْخَلَّاقُ الْعَلَیِمْ } الیٰ آخر الایۃ (یٰسٓ رکوع۵)

أَوَلَيسَ الَّذى خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالأَرضَ بِقٰدِرٍ عَلىٰ أَن يَخلُقَ مِثلَهُم ۚ بَلىٰ وَهُوَ الخَلّٰقُ العَليمُ {36:81}
کیا جس نے بنائے آسمان اور زمین نہیں بنا سکتا ان جیسے کیوں نہیں اور وہی ہے اصل بنانے والا سب کچھ جاننے والا [۶۷]
بھلا جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا، کیا وہ اس بات پر قادر نہیں کہ (ان کو پھر) ویسے ہی پیدا کر دے۔ کیوں نہیں۔ اور وہ تو بڑا پیدا کرنے والا اور علم والا ہے
یعنی جس نے آسمان و زمین جیس بڑی بڑی چیزیں پیدا کیں اسے ان کافروں جیسی چھوٹی چیزوں کا پیدا کر دینا کیا مشکل ہے۔



 ****************************************

وَإِذ قالَ موسىٰ لِقَومِهِ يٰقَومِ إِنَّكُم ظَلَمتُم أَنفُسَكُم بِاتِّخاذِكُمُ العِجلَ فَتوبوا إِلىٰ بارِئِكُم فَاقتُلوا أَنفُسَكُم ذٰلِكُم خَيرٌ لَكُم عِندَ بارِئِكُم فَتابَ عَلَيكُم ۚ إِنَّهُ هُوَ التَّوّابُ الرَّحيمُ {2:54}
اور جب کہا موسٰی نے اپنی قوم سے [۸۱] اے قوم تم نے نقصان کیا اپنایہ بچھڑا بنا کر سو اب توبہ کرو اپنے پیدا کرنے والے کی طرف اور مار ڈالو اپنی اپنی جان [۸۲] یہ بہتر ہے تمہارے لئے تمہارے خالق کے نزدیک پھر متوجہ ہوا تم پر [۸۳] بیشک وہی ہے معاف کرنے والا نہایت مہربان
اور جب موسیٰ نے اپنی قوم کے لوگوں سے کہا کہ بھائیو، تم نے بچھڑے کو (معبود) ٹھہرانے میں (بڑا) ظلم کیا ہے، تو اپنے پیدا کرنے والے کے آگے توبہ کرو اور اپنے تئیں ہلاک کر ڈالو۔ تمہارے خالق کے نزدیک تمہارے حق میں یہی بہتر ہے۔ پھر اس نے تمہارا قصور معاف کر دیا۔ وہ بے شک معاف کرنے والا (اور) صاحبِ رحم ہے
یعنی جنہوں نے بچھڑے کو سجدہ نہ کیا تھا وہ سجدہ کرنے والوں کو قتل کریں اور بعض کا قول ہے کہ بنی اسرائیل میں تین گروہ تھے ایک وہ جنہوں نے گوسالہ پرستی نہ کی اور دوسروں کو بھی روکا ۔ دوسرے وہ جنہوں نے گوسالہ کو سجدہ کیا تیسرے وہ جنہوں نے خود تو سجدہ نہ کیا مگر دوسروں کو منع بھی نہ کیا۔ فریق دوم کو حکم ہوا کہ مقتول ہو جاؤ۔ تیسرے فریق کو حکم ہوا کہ ان کو قتل کرو تاکہ ان کے سکوت کرنے کی توبہ ہو جائے۔ اور فریق اول اس توبہ میں شریک نہیں ہوئے۔ کیونکہ ان کو توبہ کی حاجت نہ تھی۔
قوم سے مراد خاص وہ لوگ ہیں جنہوں نے بچھڑے کو سجدہ کیا۔
علماء کا اس میں اختلاف ہے کہ مقتول ہو جانا ہی توبہ تھی یا توبہ کا تتمہ تھا جیسا کہ ہماری شریعت میں قاتل عمد کی توبہ کے مقبول ہونے کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ اپنے آپ کو وارثان مقتول کے حوالے کر دے انکو اختیار ہے بدلہ لیں یا معاف کریں۔



 ****************************************



 ****************************************




 ****************************************
رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالأَرضِ وَما بَينَهُما فَاعبُدهُ وَاصطَبِر لِعِبٰدَتِهِ ۚ هَل تَعلَمُ لَهُ سَمِيًّا {19:65}
(یعنی) آسمان اور زمین کا اور جو ان دونوں کے درمیان ہے سب کا پروردگار ہے۔ تو اسی کی عبادت کرو اور اسی کی عبادت پر ثابت قدم رہو۔ بھلا تم کوئی اس کا ہم نام جانتے ہو
اللہ کے نام اس کی صفات ہیں۔ یعنی کوئی ہے اس کی صفت کا ؟ جس میں اس جیسی صفات موجود ہوں ؟ جب کوئی نہیں تو بندگی کے لائق اور کون ہو سکتا ہے ؟
یعنی کسی کےکہنے سننے کی پروا مت کر۔ اپنے دل کو خدا کی بندگی پر جمائے رکھ جو سارےجہان کا رب ہے اور سب سے نرالی صفات رکھتا ہے۔




No comments:

Post a Comment