علم القرآن و التفسیر

قرآن کریم اللہ تعالی کی جانب سے نازل کردہ ہدایت نامہ ہے،جس میں ساری انسانیت کے لیے رہنمائی ہے،جیسا کہ اللہ تعالی کا ارشادہے:

إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ

(الحجر:۹)

حقیقت یہ ہے کہ یہ ذکر(یعنی قرآن)ہم نے ہی اتارا ہے اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔

إِنَّ هَذَا الْقُرْآنَ يَهْدِي لِلَّتِي هِيَ أَقْوَمُ

(بنی اسرائیل:۹)

حقیقت یہ ہے کہ یہ قرآن وہ راستہ دِکھاتا ہے جو سب سے زیادہ سیدھا ہے۔

لہذا جو شخص بھی اس کو اپنائے گا  اس کواللہ کی جانب سے صحیح راستہ دکھایا جائے گا اور جو اس سے اعراض کرےگا تو اس کے لیے دنیاوی زندگی بھی تنگ کردی جائیگی اور آخرت میں تو سخت عذاب کا سامنا کرنا پڑےگا۔
اللہ رب العزت کا ارشاد ہے:

فَمَنِ اتَّبَعَ ہُدَایَ فَلَایَضِلُّ وَلَا یَشْقَیo وَمَنْ أَعْرَضَ عَن ذِکْرِیْ فَإِنَّ لَہُ مَعِیْشَۃً ضَنکاً وَنَحْشُرُہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ أَعْمَی"۔

(طٰہٰ:۱۲۴،۱۲۳)

جو کوئی میری ہدایت کی پیروی کرے گا وہ نہ گمراہ ہوگا اور نہ مشکل میں گرفتار ہوگااور جو میری نصیحت سے منہ موڑے گا تو اس کو بڑی تنگ زندگی ملے گی اور قیامت کے دن ہم اسے اندھا کرکے اٹھائیں گے۔

 الغرض رب کائنات کی جانب سے انسان کی رہبری کے لیے قرآن ایک مکمل دستوراور ضابطۂ حیات ہے اور اس کتاب کے بغیر انسانیت نامکمل ہے۔
تفسیرقرآن کریم
جب یہ کتاب رہبری کے لیے نازل کی گئی تو اس کو آسان کرنا بھی ضروری ہے؛ جیسا کہ حق تعالیٰ کا فرمان ہے:

"وَلَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ لِلذِّکْرِ فَہَلْ مِنْ مُّدَّکِرٍ "۔                 

(القمر:۱۷)

اور حقیقت یہ ہے کہ ہم نے قرآن کونصیحت حاصل کرنے کے لیے آسان بنادیا ہے ،اب کیا کوئی ہے جو نصیحت حاصل کرے۔

اِسی سورت میں یہ آیت چار جگہ پر آئی ہے؛ نیز اس کو آسان کرنے کی مختلف شکلیں حق تعالیٰ نے واضح فرمائی ہیں، مثلاً سورۂ قیامہ میں فرمایا:

" اِنَّ عَلَیْنَا جَمْعَہٗ وَقُرْاٰنَہٗoفَاِذَا قَرَاْنٰہُ فَاتَّبِعْ قُرْاٰنَہٗoثُمَّ اِنَّ عَلَیْنَا بَیَانَہ"۔

(القیامۃ:۱۷۔۱۹)

یقین رکھو کہ اس کو یاد کروانا اور پڑھوانا ہماری ذمہ داری ہے،پھر جب ہم اسے(جبرئیل کے واسطے سے) گویا اس کوپڑھ رہے ہوں تو تم اس کے پڑھنے کی پیروی کرو۔

 تفسیر کا اولین حق اللہ سبحانہ وتعالیٰ کو ہی حاصل ہے اور اس کو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی برحق (فداہ ابی وامی)  کے ذریعہ واضح کیا؛ چنانچہ فرمایا:

"وَاَنْزَلْنَآ اِلَیْکَ الذِّکْرَ لِتُبَیِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ اِلَیْہِمْ وَلَعَلَّہُمْ یَتَفَکَّرُوْنَ"۔

(النحل:۴۴)

اور (اے پیغمبر!)ہم نے تم پر بھی یہ قرآن اس لیے نازل کیا ہے تاکہ تم لوگوں کے سامنے ان باتوں کی واضح تشریح کردو جو ان کے لیے اتاری گئی ہیں اور تاکہ وہ غور وفکر سے کام لیں۔

 آیت شریفہ میں "الذکر" سے مراد قرآن کریم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ اس کی تبیین وتفسیر کی ذمہ داری آپ    پر ہے اور پھر اس کے بعد عوام پر یہ ذمہ داری ہے کہ اس پر غور وفکر سے کام لیں؛ الغرض یہ ہے تفسیر وتاویل وتبیین۔

قرآن کی شرعی حیثیت



قرآن مجید کو ایسے وقت میں نازل کیا گیا، جب کہ معاشرہ کے اندر بہت سی خرابیاں جنم لےچکی تھیں اور بڑی حد تک اس میں پختگی بھی آگئی تھی، جن کی اصلاح بہت  ضروری تھی، قرآن پاک جن اہم اصلاحی ہدایات ومضامین پر مشتمل ہے، انہیں ان الفاظ میں بیان کیا جاسکتا ہے:
(۱)تکمیل شریعت
(۲)نسل انسانی سے نفرت وتعصب کو دور کرکے اسے ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنا
(۳)مذہبی اختلافات کا خاتمہ
(۴)کتب سابقہ کے برحق ہونے کی تصدیق  اور ان کی غلطیوں کی اصلاح
(۵)تکمیل انسانیت
(۶)گمشدہ توحید کو دوبارہ قائم کرنا
(۷)اللہ تعالیٰ کے ازلی ارادہ کی تکمیل:جس میں  انسانوں کے لیے رہنمائی موجود ہو (اسلامی انسائیکلوپیڈیا:۱۲۳۹) اسی کے ساتھ مسلمانوں کو یہ حکم ہے کہ اگر جھگڑا ہوجائے یاکوئی اور معاملہ درپیش ہوتو سب سے پہلے قرآن پاک کی طرف رجوع کیا کرو اور ایسا ہونا بھی چاہیے؛ کیونکہ وہ خدا کا نازل کردہ دستورِحیات ہے، جس سے کسی حال میں صرفِ نظر نہیں کیا جاسکتا ہے؛ چنانچہ باری تعالیٰ کا ارشاد ہے:

"فَإِنْ تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللَّهِ وَالرَّسُولِ إِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ"۔

(النساء:۵۹)

ترجمہ:پس اگر کسی امر میں تم باہم اختلاف کرنے لگو تو اس امر کو اللہ اور اس کے رسول کے حوالہ کردیا کرو؛ اگرتم اللہ پر یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہو۔          


یعنی اگرتم میں اور "اولوالامر" میں باہم اختلاف ہوجائے کہ حاکم کا یہ حکم اللہ اور رسول کے حکم کے موافق ہے یامخالف، تواس کو کتاب اللہ وسنت رسول اللہ کی طرف رجوع کرکے طے کرلیا کرو کہ وہ حکم فی الحقیقت اللہ اور رسول کے حکم کے موافق ہے یامخالف اور جوبات محقق ہوجائے اسی کو بالاتفاق مسلم اور معمول بہ سمجھنا چاہیے اور اختلاف کو دورکردینا چاہیے؛ اگرتم کواللہ اور قیامت کے دن پر ایمان ہے؛ کیونکہ جس کو اللہ اور قیامت کے دن پر ایمان ہوگا وہ ضرور اختلاف کی صورت میں اللہ اور رسول کے حکم کی طرف رجوع کرےگا اور ان کے حکم کی مخالفت سے بے حد ڈرےگا، جس سے معلوم ہوگیا کہ جو اللہ اور رسول کے حکم سے بھاگے گا وہ مسلمان نہیں؛ اس لیے اگردومسلمان آپس میں جھگڑیں، ایک نے کہا:چلو شرع کی طرف رجوع کریں، دوسرے نے کہا میں شرع کو نہیں سمجھتا یامجھ کو شرع سے کام نہیں تو اس کو بیشک کافر کہیں گے۔                           

(فوائد عثمانی برترجمہ شیخ الہندؒ، النساء:۵۹)

مذکورہ آیت اور فوائد تفسیری سے پتہ چلتا ہے کہ کتاب اللہ کی کتنی ضرورت ہے اور اس کی کتنی اہمیت ہے کہ اس کے ذریعہ معاملہ کو حل کرنے کاحکم ہے، اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ سب سے پہلے کسی بھی معاملہ میں کتاب اللہ کی طرف رجوع ہونا چاہیے؛ پھرکسی دوسری چیز کی طرف؛ چنانچہ علامہ شہر ستانی (متوفی:۵۴۸ھ) فرماتے ہیں کہ اس بات پر سب کا اجماع ہے کہ جب کوئی شرعی مسئلہ پیش آئے؛ خواہ وہ حلال سے متعلق ہو یاحرام سے اور اس میں اجتہاد کی ضرورت پڑے تو سب سے پہلے قرآن پاک سے اس کی ابتداء کرنی چاہیے؛ پس اگر اس سے رہنمائی حاصل ہوجائے توپھر دوسری طرف دیکھنے کی ضرورت نہیں ہے۔      

(الملل والنحل:۱/۱۳۶)

حضرت عمرفاروقؓ نے قاضی شریح کے نام جوخط لکھا تھا اس میں یہ مذکور ہے کہ جب تمہارے پاس کوئی مقدمہ آئے توکتاب اللہ کے مطابق فیصلہ کرو اگراس معاملہ کا فیصلہ کتاب اللہ میں مذکور نہ ہو تب دوسری طرف دیکھا کرو۔
حضرت ابن مسعودؓ کا فرمان  ہے:"تم میں سے کسی کے سامنے کوئی مقدمہ درپیش ہوتووہ اس کا کتاب اللہ کے مطابق فیصلہ کرے اگراس کا فیصلہ کتاب اللہ میں نہ ملے تو وہ رسول اکرمکی احادیث کے مطابق حکم دے"۔
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے جب کوئی بات دریافت کی جاتی تھی تو آپ اس کا جواب کتاب اللہ کے مطابق دیتے تھے، ان واقعات سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اللہ کی کتاب کا درجہ سنت سے پہلے (بلکہ تمام ادلۂ شرعیہ پر مقدم) ہے اور عقل وفطرت کا تقاضہ بھی یہی ہے۔           

  (حیات امام ابن القیم:۲۵۸)

 ان تمام امور پر روشنی ڈالنا مقصود نہیں ہے اور نہ ہی ہمارا یہ موضوع ہے، ذیل میں ہم صرف اس بات کا جائزہ لیں گے کہ قرآن پاک ایک دستورِ حیات ہے اور فقہی احکامات کی تعیین میں اسے اولین ماخذ ہونے کی حیثیت ہے۔
مضامین قرآن
قرآنِ پاک میں اللہ تعالیٰ نے خصوصیت کے ساتھ درجِ ذیل مضامین کو بیان کیا ہے اور وہ یہ ہیں:
(۱)جزائے ایمان کے مباحث
(۲)عبادات کے مباحث
(۳)حسنات وسیئات کا بیان
(۴)قصص وحکایات کا بیان
(۵)نجاتِ حقیقی اور اس کے حصول کے ذرائع کا بیان
(۶)رسولِ کریم  کے سوانح اور آپ  کی نبوت کے دلائلِ کاملہ کا بیان
(۷)خصائص قرآن کا بیان
(۸)اسلام کی حقیقت اور اس کی صداقت پر دلائل قاطعہ کا بیان
(۹)کفروشرک کے تفصیلی احوال
(۱۰)اور مظاہر قدرت کا بیان۔            

       (اسلامی انسائیکلوپیڈیا:۱۲۳۹)

حکیم الاسلام شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ نے مضامین قرآنی کی بہت ہی جامع تقسیم کی ہے، جوپانچ قسموں پر مشتمل ہے:
(۱)علم الاحکام یعنی عبادات، معاملات اور معاشرتی وسیاسی مسائل؛ نیزعلمی زندگی کے متعلق احکام وہدایات۔
(۲)علم المخاصمہ یعنی یہود ونصاریٰ، مشرکین ومنافقین اور مذاہب باطلہ کی تردید اور اسلام کی تائید اور حقانیت کے ثبوت پر مشتمل آیات۔
(۳)علم التذکیر بایات اللہ یعنی اللہ کی نعمتوں، قدرتوں اور اس کے نوازشات وانعامات، نیزجنت جیسی آرامگاہ میں قیام کا تذکرہ اور مجرموں کی سزاؤں پرمشتمل آیات۔
(۴)علم التذکیر بالموت، یعنی وہ آیات جوموت اور مابعدالموت، حساب کتاب اور نیک اور بُرے اعمال کے بدلے پر مشتمل ہیں۔
(۵)علم التذکیر بایام اللہ، یعنی وہ آیات جو سابقہ امتوں کی معاشرتی ومعاملاتی حالات، انبیاءؑ کی تعلیم سے اعراض وسرکشی پرعذاب خداوندی وغیرہ، یہ سب امت محمدیہ کی عبرت وموعظت کے لیے تفصیل کے ساتھ مذکورہ ہیں۔         

(الفوزالکبیر:۲)

حجیت قرآن
قرآن پاک دوسری سابقہ کتابوں کے مقابلہ میں قیامت تک دین کی اساس کی حیثیت رکھتا ہے اور وہ اللہ کی مضبوط رسی ہے، جس کا ہمیں اللہ نے مضبوطی سے تھامنےکا حکم دیا؛ چنانچہ ارشادِ باری ہے:

"وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا"۔        

(آل عمران:۱۰۳)

ترجمہ:اورمضبوط پکڑےرہو اللہ تعالیٰ کے سلسلہ کو اس طور پر کہ (تم سب) باہم متفق بھی رہو۔

اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:

"تَرَكْتُ فِيكُمْ أَمْرَيْنِ لَنْ تَضِلُّوا مَا تَمَسَّكْتُمْ بِهِمَا كِتَابَ اللَّهِ وَسُنَّةَ رَسُوْلِہِ"۔

(مشکوٰۃ:۳۱)

ترجمہ:میں تمہارے درمیان دوچیزیں چھوڑ رہا ہوں، جب تک تم اس کو تھامے رہوگے ہرگز گمراہ نہ ہو گے:ایک کتاب اللہ دوسری سنتِ رسول۔

مذکورہ آیت اور حدیث سے صاف پتہ چلتا ہے کہ قرآن پاک دین وشریعت کی اصل اساس ہے اور یہی تمام ادلہ میں سب سے مقدم اور سب سے محکم ہے، قرن اوّل سے ہی اس سے احکامِ شرعیہ کا استخراج ماخذ اوّل کی حیثیت سے کیا جاتا ہے، آپ  نے حضرت معاذؓ کو جب یمن کی جانب قاضی بناکر بھیجا تھا تو اُس وقت آپ نے اُن سے پوچھا تھا، اے معاذؓ جب تمھیں کوئی مسئلہ درپیش ہوتو کس چیز سے فیصلہ کروگے؟ تو معاذؓ نے جواباً عرض کیا:کتاب اللہ سے؛ پھرآپ  نے پوچھااگراس مسئلہ کا حل قرآن میں نہ مل سکا تو؟ آپؓ نے فرمایا احادیث سے؛ پھرآپ نے پوچھا اگر اُس میں بھی نہ ملے تو؟ آپؓ نے عرض کیا "اجتہد برائی" اپنی اجتہاد سے اس مسئلہ کا حل نکال لونگا اورساتھ ہی فرمایا"ولاالو" حق کی تلاش میں لاپرواہی اختیار نہ کرونگا۔    

   (ابوداؤد:۲/۵۰۵)

اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ ادلہ اربعہ میں قرآن کو اولین ماخذ کی حیثیت حاصل ہے، ساتھ ہی یہ بھی معلوم ہوا کہ قرآن کے ساتھ حدیث بھی ضروری ہے جس کی وجہ سے آپ  نے معاذؓ کے مزاجِ دین سے واقفیت اور شریعت سے مکمل طور پر مطلع ہونے سے خوشی کا اظہار فرمایا اور خدا کا شکر بجالاتے ہوئے فرمایا:

"الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي وَفَّقَ رَسُولَ رَسُولِ اللَّهِ لِمَا يَرْضٰی رَسُولؑ اللَّهِ"۔

(ابوداؤد، باب اجتہاد الرأی فی القضاء، حدیث نمبر:۳۱۱۹)

ترجمہ:تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جس نے اللہ کے رسول کے قاصد کو اس بات کی توفیق دی کہ اس سے اس کا رسول راضی ہے۔

زمانۂ رسالت کے بعد بھی دورِخلافت اور عام صحابہ کرام (رضوان اللہ علیہم اجمعین) اور فقہاء کا یہی معمول رہا ہے کہ مسائل کے استخراج میں کتاب اللہ کو مقدم رکھتے تھے؛ پھرسنتِ رسول اللہ کو، اس لیے پوری امت کا اس بات پر اجماع ہے کہ مسائل کے استخراج میں اولیت کتاب اللہ کو حاصل ہے؛ پھرسنتِ رسول اللہ کو ہے۔
شیخ محمد خضری بک لکھتے ہیں کہ کتاب اللہ قطعی حجت ہے ،جس کو مضبوطی سے تھامنا اور اس کے احکام پر عمل کرنا واجب ہے۔

(تاریخ التشریع الاسلامی:۱۹)

قرآن کی حجیت پر مثال کے طور پر صرف ایک آیت اور دوحدیثیں پیش کی گئی ہیں؛ ورنہ اس کے علاوہ بہت سی آیات اور احادیث کتاب اللہ کی حجیت پر دال ہیں، جنھیں بغرضِ اختصار قلم انداز کیا جاتا ہے؛ نیزاس پر تاریخی شواہد بھی موجود ہیں کہ مسلمانوں نے قرآن حکیم کو قانون کا اولین ماخذ بنایا، نبی کریم  اور صحابہ کرامؓ کے عہد میں قرآن حکیم سے مکمل طور پر استفادہ کیا جاتا رہا، چوروں کے ہاتھ کاٹے گئے، زانیوں کوکوڑے لگائے گئے، شراب پینے والوں پرتعزیرنافذ ہوئی، بدکرداروں کو ملک بدر کیا گیا، نکاح وطلاق نیز وراثت کی تقسیم کے فیصلے قرآن حکیم کے احکام کے مطابق کئے گئے، ان سب سے واضح ہوتا ہے کہ مسلمانوں کے یہاں ابتداء ہی سے، قرآن حکیم قانون کا اصلی اور بنیادی ماخذ تھا؛ البتہ اتنی بات قابل تسلیم ہے کہ قرآن حکیم اصولوں کی کتاب ہے اور اس میں جملہ جزئیات کا احاطہ نہیں کیا گیا اور قرآن حکیم کوقانونی ماخذ بنانے کے لیے جن کلیات کی ضرورت تھی، وہ بعد میں مرتب ہوئے اور آج تک مرتب ہورہے ہیں، آج بھی اگر کوئی جدید مسئلہ درپیش ہو اور قرآنِ حکیم کی کسی آیت سے کوئی کلیہ بنایا جاسکے تو وہ ہمارے لیے ویسے ہی قابلِ عمل ہوگا، جیسے امام شافعیؒ یاامام ابوحنیفہؒ کا قائم کردہ کوئی کلیہ قابلِ عمل ہوتا ہو۔
اسی لیے مسلمانوں کے یہاں ایک عام اصول رہا کہ ایسی کوئی بات تسلیم نہیں کی جائیگی جوقرآن حکیم کے احکام یااس کی روح کے خلاف پائی جائے۔                     

(اسلام اور مستشرقین:۲/۱۴)

قرآن کا فقہی اسلوب بیان
قرآن میں جہاں اصلاح، عقیدہ، عبرت وموعظت کی آیتیں ہیں ،وہیں فقہی احکام سے متعلق بے شمار آیات ہیں، کبھی توامر کے صیغے سے فرضیت کا حکم دیا گیا ہے:

"وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ"۔  

  (البقرۃ:۴۳)

ترجمہ:اور قائم کرو نماز کو (یعنی مسلمان ہوکر) اور دوزکوٰۃ کو۔

یہاں پر نماز وزکوۃ کو صیغہ امر سے بیان کیا گیا؛ مگرشرعاً یہ دونوں احکام فرض کے قبیل سے ہیں اور کبھی تو ماضی کے لفظ (کتب) سے فرضیت ثابت کی جاتی ہے جیسے:

"كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِصَاصُ"۔

(البقرۃ:۱۷۸)         

تم پر (قانون) قصاص فرض کیا جاتا ہے۔

"كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ"۔    

(البقرۃ:۱۸۳)       

تم پر روزہ فرض کیا گیا ہے۔

اورکبھی مضارع کے لفظ سے وجوب کا حکم ثابت ہوتا ہے، جیسے:

"وَالْمُطَلَّقَاتُ يَتَرَبَّصْنَ بِأَنْفُسِهِنَّ"۔

(البقرۃ:۲۲۸)

ترجمہ:اور طلاق دی ہوئی عورتیں اپنے آپ کو (نکاح سے) روکے رکھیں۔   


اس آیت میں مطلقہ عورتوں کو عدت کے گذارنے کا حکم دیا گیا ہے، جوواجب ہے اور کبھی انجام کار اور نتیجہ کے خراب ہونے کی وعید سناکر حکم دیا جاتا ہے، جیسے:

"وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ"۔

(النساء:۹۳)

ترجمہ:اور جومرد چوری کرے اور جوعورت چوری کرے سوان دونوں کے (داہنے) ہاتھ (گٹے) پر سے کاٹ ڈالو۔ 


کبھی توصراحتاً ممانعت اور نہی کا صیغہ استعمال کیا جاتا ہے، جیسے:

"وَلَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلَّا بِالْحَقِّ"۔    

    (الانعام:۱۵۱)

ترجمہ:اورجس شخص کے قتل کرنے کو اللہ تعالیٰ نے حرام فرمایا ہے اس کو قتل نہیں کرتے، ہاں! مگرحق پر ہو۔                         

کبھی فعل مباح سے اور کبھی دوسرے طریقوں سے بھی احکام بیان کئے گئے ہیں جس سے ان احکام کا طرز مختلف معلوم ہونے کے ساتھ ساتھ یہ بھی معلوم ہوجاتا ہے کہ بعض احکام میں فرضیت کا درجہ ہے تو بعض میں واجب کا، بعض میں سنن ومستحبات کا، بعض میں مباحات کا اور جن باتوں سے منع کیا گیا اس میں بھی بعض حرام کا درجہ رکھتے ہیں تو بعض مکروہ کا یامحض خلافِ اولیٰ کا۔

(سہ ماہی مجلّہ، الصفا، سبیل السلام حیدرآباد)

کتاب اللہ سے اخذ معانی کے طریقے
قرآن مجید سے احکام درجِ ذیل چار طریقوں سے مستنبط ہوتے ہیں اور وہ یہ ہیں (۱)عبارۃ النص
(۲)اشارۃ النص
(۳)دلالۃ النص
(۴)اقتضاء النص۔
عبارۃ النص
عبارۃ النص سے استدلال کرتے وقت احکام صرف صیغہ لفظ سے ہی معلوم ہوجاتے ہیں؛ کیونکہ اس حکم کے واسطے ہی نص کو نازل کیا گیا تھا؛ نیزاس کا مفہوم غور وفکر کے بغیر اوّلِ وہلہ ہی میں سمجھ میں آجاتا ہے، مثلاً قرآن نے کہا "وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا" (البقرۃ:۲۷۵) اس نص سے خریدوفروخت کی حلت اور سود کی حرمت کسی غور وفکر کے بغیر سمجھ میں آجاتی ہے اور اس نص کا مقصود بھی یہی ہے؛ اسی کو عبارۃ النص کہتے ہیں۔
دلالۃ النص
جو حکم نص کے الفاظ سے ثابت تو نہ ہو لیکن نص کو سنتے ہی ذہن اس حکم کی طرف منتقل ہوجاتا ہو ،وہ دلالۃ النص ہے ،جیسا کہ قرآن کا ارشاد ہے "فَلَاتَقُلْ لَهُمَا أُفٍّ وَلَاتَنْهَرْهُمَا وَقُلْ لَهُمَا قَوْلًا كَرِيمًا" (الاسراء:۲۳) اس آیت کے الفاظ سے تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ والدین کی کسی بات پراف کہنا حرام ہے؛ لیکن دلالۃ النص کے طور پر یہ ثابت ہوتا ہے کہ جب اف کہنا حرام ہے تو سب وشتم کرنا یاجسمانی اذیت دینا بدرجہ اولی حرام ہوگا؛ کیونکہ یہ تکلیف "اف" کہنے سے بھی بڑھ کر ہے۔
اشارۃ النص
نص جس بات کو بتانے کے  لیے وارد نہ ہوئی ہو؛ لیکن نص کے اصل الفاظ ہی سے جو بات سمجھ میں آجائے وہ اشارۃ النص ہے، مثلاً ارشادِ خداوندی ہے "وَعَلَى الْمَوْلُودِ لَهُ رِزْقُهُنَّ وَكِسْوَتُهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ" (البقرۃ:۲۳۳) اس آیت کا ظاہری مفہوم (عبارۃ) تو یہ ہے کہ ماں کے نفقہ کی ذمہ داری باپ پر ہے؛ لیکن اس میں لفظ ہے "الْمَوْلُوْدِ" اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اولاد باپ ہی کی طرف منسوب ہوگی، ماں کی طرف نہیں؛ کیونکہ اس لفظ کے ذریعہ "ولد" کی نسبت باپ کی طرف کی گئی ہے یہی اشارۃ النص ہے۔
اقتضاء النص
نص اور شارع کے کلام کے صحیح ہونے کے لیے بعض اوقات کسی لفظ کو محذوف ماننا ضروری ہوجاتاہے، اس کو"مقتضی" کہتے ہیں اور اس سے ثابت ہونے والے حکم کو "اقتضاء النص" کہتے ہیں مثلاً  آیت قرآنی ہے "حُرِّمَتْ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةُ وَالدَّمُ وَلَحْمُ الْخِنْزِيرِ" (المائدۃ:۳) اس میں حرمت کی نسبت میتہ اور دم کی طرف کی گئی ہے؛ حالانکہ یہ درست نہیں؛ کیونکہ حرمت کا تعلق منھی عنہ (جس چیز سے منع کیا گیا ہے) اس کی ذات سے نہیں ہوتا؛ بلکہ مکلّف کے فعل سے ہوتا ہے؛ پس آیت کا مفہوم اس وقت تک صحیح نہیں ہوسکتا جب تک کہ مکلّف سے متعلق کوئی فعل محذوف نہ مانا جائے اور ظاہر ہے کہ وہ فعل "اکل" ہی ہوسکتا ہے؛ لہٰذا آیت کا مطلب یہ ہوگا کہ مردار کا کھانا اور خون کا پینا حرام ہے اور یہاں پر یہی شارع کی مراد ہے۔          
(مجلّہ فقہ اسلامی:۱۳۵)
قرآن کا تدریجی اندازِ بیان
جب آپ  مبعوث ہوئے تو اس وقت عربوں میں بعض اچھے عادات تھے، جوبقاء کے  لحاظ سے صالح تھے اور ان سے امت کے تکوین پر کوئی نقصان نہیں ہوتا تھا، دوسری طرف اُن میں بعض عادات ایسے بھی تھے جنھوں نے اُن کے اندر اچھی خاصی جگہ بنالی تھی اور ان کے دل میں گھر کرگئی تھیں، انسان حددرجہ وحشیانہ زندگی کا عادی بن چکا تھا اور اس کے لیے ممکن نہ تھا کہ ایک دم پاکیزہ زندگی کواختیار کرے؛ اس لیے قرآن پاک نے آہستہ آہستہ انسان کی تہذیبی صلاحیتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے احکامات دیئے، خرابی کو ختم کیا گیا اور یہی فطرت کے مناسب بھی ہے؛ کیونکہ اگر ان خرابیوں کوایک دم روک دیا جاتا توطبیعت پر بڑی گرانی ہوتی اور ان سے رُکنا مشکل ہوجاتا، اس لیے ہم دیکھتے ہیں کہ قرآن پاک میں پہلے خرابی کے نقصانات اور منافع کو شمار کرایا جاتا ہے؛ پھرمفاسد کے پیشِ نظر اس حکم سے منع کیا جاتا ہے،مثلاً شراب کی حرمت بیان کرنا مقصود تھا تو قرآن میں سب سے پہلے اس کے گناہ کے کام میں سے ہونے کی صراحت کی گئی اور ساتھ ہی اس کے منافع کا بھی اعتراف کیا گیا؛ لیکن بعد میں یہ صاف صاف کہہ دیا گیا کہ اس میں نفع سے زیادہ نقصان کا پہلو ہے ،جیسے باری تعالیٰ کا ارشاد ہے:

"فِيهِمَا إِثْمٌ كَبِيرٌ وَمَنَافِعُ لِلنَّاسِ وَإِثْمُهُمَا أَكْبَرُ مِنْ نَفْعِهِمَا"۔          

(البقرۃ:۲۱۹)

ترجمہ: ان دونوں (خمرومیسر) کے استعمال میں گناہ کی بڑی بڑی باتیں بھی ہیں اور لوگوں کے بعض فائدے بھی ہیں اور وہ گناہ کی باتیں ان کے فائدوں سے زیادہ بڑھی ہوئی ہیں۔

دیکھئے یہاں پر بیک وقت اُن دونوں سے رُکنے کا حکم نہیں دیا گیا؛ مگراس انداز سے لوگوں کو ان کا گناہ کے قبیل سے ہونا سمجھ میں آنے لگا اور کچھ نہ کچھ اس کی طرف سے نفرت ہونے لگی تو پھرلوگوں سے کہا گیا:

"يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَقْرَبُوا الصَّلَاةَ وَأَنْتُمْ سُكَارَى"۔   

    (النساء:۴۳)

ترجمہ:اے ایمان والو! تم نماز کے پاس بھی ایسی حالت میں مت جاؤ کہ تم نشہ میں ہو۔

اس نہی میں پہلے حکم کو باطل کرنا مقصود نہیں ہے؛ بلکہ اس کو مزید مؤکد کرنا ہے پھرجب ان لوگوں کے اندر شراب کی طرف سے اچھی طرح بے اطمینانی ہوچکی توصریح طور پر روک دیا گیا کہ شراب نوشی شیطان کے گندے کام میں سے ہے؛ لہٰذاتم اس سے باز آجاؤ؛ چنانچہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

"يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنْصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ"۔         

   (المائدۃ:۹۰)

ترجمہ:اے ایمان والو (بات یہی ہے کہ) شراب اور جوا اور بت وغیرہ اور قرعہ کے تیر (یہ سب) گندے شیطانی کام ہیں سوان سے بالکل الگ رہو تاکہ تم کو فلاح ہو۔  

جب یہ آیت نازل ہوئی تو لوگوں کے سامنے شراب کی حرمت واضح طور پر آگئی اور لوگ اس سے اجتناب کرنے لگے۔

(تاریخ التشریع الاسلامی:۱۸،۱۹)

قرآن اصول وکلیات کا مجموعہ
قرآن پاک میں ہرحکم کی تفصیل موجود نہیں ہے، عام طور پر کلیات کے بیان پر اکتفاء کیا گیا ہے اور خدائی کلام کے لیے یہی مناسب تھا؛ کیونکہ ہرحکم کی تفصیلات پیش کرنے سے کتاب نہایت طویل ہوجاتی اور اس سے استفادہ کرنا مشکل ہوجاتا، آپ بھی نمونہ کے طور پر قرآن کے ان آیات کا ملاحظہ کیجئے جن میں اس طرح کے اصول بیان کئے گئے ہیں، مثلاً:

"وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى"۔                

       (الانعام:۱۶۴)

ترجمہ:کوئی شخص کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اُٹھائے گا۔

"وَأَنْ لَيْسَ لِلْإِنْسَانِ إِلَّا مَا سَعَى"۔           

(النجم:۳۹)

ترجمہ:انسان کے لیے صرف وہ ہے جس کی اس نے کوشش کی۔

"يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَوْفُوا بِالْعُقُودِ"۔          

         (المائدۃ:۱)

ترجمہ:اے ایمان والو! اپنے وعدوں کو پورا کرو۔

"وَلَاتَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ وَتُدْلُوا بِهَا إِلَى الْحُكَّامِ لِتَأْكُلُوا فَرِيقًا مِنْ أَمْوَالِ النَّاسِ بِالْإِثْمِ وَأَنْتُمْ تَعْلَمُونَ"۔                                   

(البقرۃ:۱۸۸)

ترجمہ:اور آپس میں ایک دوسرے کا مال ناحق نہ کھاؤ اور نہ پہنچاؤ ان کو حاکموں تک کہ کھاجاؤ لوگوں کے مال میں سے کوئی حصہ ناحق درآنحالیکہ تم جانتے ہو۔

"يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَاتَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ إِلَّاأَنْ تَكُونَ تِجَارَةً عَنْ تَرَاضٍ مِنْكُمْ"۔            

(النساء:۲۹)

ترجمہ:اے ایمان والو! نہ کھاؤ مال ایک دوسرے کا ناحق مگر یہ کہ آپس کی مرضی سے تجارت کرو۔


"إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تُؤَدُّوا الْأَمَانَاتِ إِلَى أَهْلِهَا وَإِذَا حَكَمْتُمْ بَيْنَ النَّاسِ أَنْ تَحْكُمُوا بِالْعَدْلِ"۔           

  (النساء:۵۸)

ترجمہ:اللہ تعالیٰ تم کو حکم دیتا ہے کہ امانتیں ان کے مالکوں کو ادا کرو اور جب لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو انصاف سے فیصلہ کرو۔

"وَلَا تَقْرَبُوا مَالَ الْيَتِيمِ إِلَّا بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ حَتَّى يَبْلُغَ أَشُدَّهُ وَأَوْفُوا بِالْعَهْدِ إِنَّ الْعَهْدَ كَانَ مَسْئُولًا"۔                

      (الاسراء:۳۴)

ترجمہ:اور یتیم کے مال کے پاس نہ جاؤ مگربہتر طور پر جب تک کہ وہ جوانی کو پہنچے اور عہدکوپورا کرو، بیشک عہد کے متعلق بازپرس ہوگی۔

"الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ"۔            

(البقرۃ:۲۲۹)

ترجمہ:طلاق رجعی ہے دوبار تک اس کے بعد دستور کے موافق رکھ لینا یابھلی طرح سے چھوڑ دینا۔

"وَعَلَى الْمَوْلُودِ لَهُ رِزْقُهُنَّ وَكِسْوَتُهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ..... لَاتُضَارَّ وَالِدَةٌ بِوَلَدِهَا وَلَامَوْلُودٌ لَهُ بِوَلَدِهِ"۔          

    (البقرۃ:۲۳۳)

ترجمہ:اور باپ کے ذمہ ان عورتوں کا حسب دستور کھانا کپڑا ہے، نقصان نہ دیا جائے ماں کو اس کے بچہ کی وجہ سے اور نہ باپ کو اس کے بچہ کی وجہ سے۔

"وَجَزَاءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ مِثْلُهَا"۔       

  (الشوریٰ:۴۰)     

ترجمہ:برائی کا بدلہ برائی ہے برابر برابر۔

"وَأَشْهِدُوا ذَوَيْ عَدْلٍ مِنْكُمْ"۔    

   (الطلاق:۲)       

ترجمہ:تم اپنے میں سےمعتبر لوگوں کو شاہد بناؤ۔

"وَلَاتَكْتُمُوا الشَّهَادَةَ وَمَنْ يَكْتُمْهَا فَإِنَّهُ آثِمٌ قَلْبُهُ"۔      

        (البقرۃ:۲۸۳)

ترجمہ:شہادت کو مت چھپاؤ، جو شخص اس کو چھپاتا ہے اس کا دل گنہگار ہے۔

"وَإِنْ كَانَ ذُو عُسْرَةٍ فَنَظِرَةٌ إِلَى مَيْسَرَةٍ"۔              

      (البقرۃ:۲۸۰)

ترجمہ:اگرمقروض تنگ دست ہے تو اس کو آسانی حاصل ہونے تک مہلت دو۔

"يُرِيدُ اللَّهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلَا يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْرَ"۔           

        (البقرۃ:۱۸۵)

ترجمہ:اللہ تعالیٰ تمہارے لیے آسانی چاہتا ہے، مشکل میں ڈالنا نہیں چاہتا۔

"وَمَاجَعَلَ عَلَيْكُمْ فِي الدِّينِ مِنْ حَرَجٍ"۔          

              (الحج:۷۸)

ترجمہ:اللہ تعالیٰ دین کے بارے میں تم پر تنگی نہیں کی ہے۔

"فَمَنِ اضْطُرَّ غَيْرَ بَاغٍ وَلَا عَادٍ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ"۔         

      (البقرۃ:۱۷۳)

ترجمہ:پھرجو کوئی بھوک سے بے اختیار ہوجائے نہ فرمانی کرے، نہ زیادتی تواس پر کوئی گناہ نہیں۔

الغرض کتاب اللہ تمام اسلامی قوانین کی اصل بنیاد واساس ہے اور ذریعہ ثبوت کے اعتبار سے اس درجہ قطعی ہے کہ دنیا کی کوئی کتاب اس کے ہمسر نہیں، اس کتاب میں زندگی کے تمام پہلوؤں کا احاطہ کیا گیا، چاہے وہ ایمانیات کے قبیل سے ہوں یاعبادات کے شخصی احکام ہوں یامالی معاملات، اجتماعی قوانین ہوں یاتعریزی قوانین، ملکی مسائل ہوں یابین الا قوامی مسائل، امن کے حالات ہوں یاجنگ کے حالات، یہ کتاب ہرحال میں انسانیت کی رہبری کا فریضہانجام دیتی ہے۔

"وَهُدًى وَرَحْمَةً وَبُشْرَى لِلْمُسْلِمِينَ"۔            

     (النحل:۸۹)

ترجمہ:اور مسلمانوں کے واسطے بڑی ہدایت اور بڑی رحمت اور خوشخبری سنانے والا ہے۔

یہی وہ کتاب ہے جس سے دنیا کو افراط وتفریط سے پاک زندگی کا نقشہ میسر آسکتاہے۔

"إِنَّ الدِّينَ عِنْدَ اللَّهِ الْإِسْلَامُ"۔            

      (آل عمران:۱۹)

ترجمہ:بلاشبہ دین حق اور مقبول اللہ تعالیٰ کے نزدیک صرف اسلام ہی ہے۔


علمِ تفسیرِ قرآن، اقسامِ تفسیر، اصولِ تفسیر اور مفسرین
قرآن کریم اللہ تعالی کی جانب سے نازل کردہ ہدایت نامہ ہے،جس میں ساری انسانیت کے لیے رہنمائی ہے،جیسا کہ اللہ تعالی کا ارشادہے:

إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ

(الحجر:۹)

حقیقت یہ ہے کہ یہ ذکر(یعنی قرآن)ہم نے ہی اتارا ہے اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔

إِنَّ هَذَا الْقُرْآنَ يَهْدِي لِلَّتِي هِيَ أَقْوَمُ

(بنی اسرائیل:۹)

حقیقت یہ ہے کہ یہ قرآن وہ راستہ دِکھاتا ہے جو سب سے زیادہ سیدھا ہے۔

لہذا جو شخص بھی اس کو اپنائے گا  اس کواللہ کی جانب سے صحیح راستہ دکھایا جائے گا اور جو اس سے اعراض کرےگا تو اس کے لیے دنیاوی زندگی بھی تنگ کردی جائیگی اور آخرت میں تو سخت عذاب کا سامنا کرنا پڑےگا۔
اللہ رب العزت کا ارشاد ہے:

فَمَنِ اتَّبَعَ ہُدَایَ فَلَایَضِلُّ وَلَا یَشْقَیo وَمَنْ أَعْرَضَ عَن ذِکْرِیْ فَإِنَّ لَہُ مَعِیْشَۃً ضَنکاً وَنَحْشُرُہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ أَعْمَی"۔

(طٰہٰ:۱۲۴،۱۲۳)

جو کوئی میری ہدایت کی پیروی کرے گا وہ نہ گمراہ ہوگا اور نہ مشکل میں گرفتار ہوگااور جو میری نصیحت سے منہ موڑے گا تو اس کو بڑی تنگ زندگی ملے گی اور قیامت کے دن ہم اسے اندھا کرکے اٹھائیں گے۔

 الغرض رب کائنات کی جانب سے انسان کی رہبری کے لیے قرآن ایک مکمل دستوراور ضابطۂ حیات ہے اور اس کتاب کے بغیر انسانیت نامکمل ہے۔
تفسیرقرآن کریم
جب یہ کتاب رہبری کے لیے نازل کی گئی تو اس کو آسان کرنا بھی ضروری ہے؛ جیسا کہ حق تعالیٰ کا فرمان ہے:

"وَلَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ لِلذِّکْرِ فَہَلْ مِنْ مُّدَّکِرٍ "۔                 

(القمر:۱۷)

اور حقیقت یہ ہے کہ ہم نے قرآن کونصیحت حاصل کرنے کے لیے آسان بنادیا ہے ،اب کیا کوئی ہے جو نصیحت حاصل کرے۔

اِسی سورت میں یہ آیت چار جگہ پر آئی ہے؛ نیز اس کو آسان کرنے کی مختلف شکلیں حق تعالیٰ نے واضح فرمائی ہیں، مثلاً سورۂ قیامہ میں فرمایا:

" اِنَّ عَلَیْنَا جَمْعَہٗ وَقُرْاٰنَہٗoفَاِذَا قَرَاْنٰہُ فَاتَّبِعْ قُرْاٰنَہٗoثُمَّ اِنَّ عَلَیْنَا بَیَانَہ"۔

(القیامۃ:۱۷۔۱۹)

یقین رکھو کہ اس کو یاد کروانا اور پڑھوانا ہماری ذمہ داری ہے،پھر جب ہم اسے(جبرئیل کے واسطے سے) گویا اس کوپڑھ رہے ہوں تو تم اس کے پڑھنے کی پیروی کرو۔

 تفسیر کا اولین حق اللہ سبحانہ وتعالیٰ کو ہی حاصل ہے اور اس کو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی برحق (فداہ ابی وامی)  کے ذریعہ واضح کیا؛ چنانچہ فرمایا:

"وَاَنْزَلْنَآ اِلَیْکَ الذِّکْرَ لِتُبَیِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ اِلَیْہِمْ وَلَعَلَّہُمْ یَتَفَکَّرُوْنَ"۔

(النحل:۴۴)

اور (اے پیغمبر!)ہم نے تم پر بھی یہ قرآن اس لیے نازل کیا ہے تاکہ تم لوگوں کے سامنے ان باتوں کی واضح تشریح کردو جو ان کے لیے اتاری گئی ہیں اور تاکہ وہ غور وفکر سے کام لیں۔

 آیت شریفہ میں "الذکر" سے مراد قرآن کریم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ اس کی تبیین وتفسیر کی ذمہ داری آپ    پر ہے اور پھر اس کے بعد عوام پر یہ ذمہ داری ہے کہ اس پر غور وفکر سے کام لیں؛ الغرض یہ ہے تفسیر وتاویل وتبیین۔
تفسیر کی تعریف
یہ لفظ "فسر" سے مشتق ہے جس کے معنی کھولنے کے آتے ہیں؛ چونکہ اس کے ذریعہ قرآن کے معانی ومفاہیم کھول کر بیان کئے جاتے ہیں اس لیے اس کو علم تفسیر سے تعبیر کیا جاتا ہے، قرآن  مجید میں اس کے لیے دوسرے الفاظ بھی آتے ہیں، تفسیر، تاویل بیان تبیان، تبیین، جو تقریباً ہم معنی ہیں؛ لیکن بعض اہل علم کے مابین ان الفاظ میں کچھ جزوی فرق بھی ہے، جس کی تفصیل ایک مستقل مضمون کے ذیل میں آئےگی۔
تفسیر کی اصطلاحی تعریفیں بھی بیان کی گئی ہیں؛ چنانچہ علامہ زرکشی رحمہ اللہ نے اس کی مختصر تعریف یوں نقل کی ہے:

"ھُوَعِلْمٌ یُعْرَفُ بِہٖ فَھْمُ کِتَابِ اللہِ الْمُنَزَّلِ عَلیٰ نَبِیِّہَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبَیَانُ مَعَانِیْہِ وَاسْتَخْرَاج أَحْکَامِہٖ وَحِکَمِہٖ"۔                            

(البرھان فی علوم القرآن:۱۳۱)

وہ ایسا علم ہے جس سے قرآن کریم کی سمجھ حاصل ہو اور اس کے معانی کی وضاحت اور اس کے احکام اور حکمتوں کو نکالا جاسکے اورعلامہ آلوسی رحمۃ اللہ علیہ تعریف میں مزید عموم پیدا کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

"ھُوَعِلْمٌ يُبْحَثُ فِيْهِ عَنْ كَيْفِيَّةِ النُّطْقِ بِأَلْفَاظِ الْقُرْآنِ، وَمَدْلُوْلَاتِهَا، وَأَحْكَامِهَا الْإِفْرَادِيَّةِ وَالتَّرْكِيْبِيَّةِ، وَمَعَانِيْهَا الَّتِيْ تُحْمَلُ عَلَيْهَا حَالَۃِ التَّرْكِيْبِ، وَتَتِمَّاتُ لِذَلِك"۔   

(روح المعانی:۴/۱)

وہ علم ہے کہ جس میں قرآن کریم کے الفاظ کی ادائیگی کے طریقے اور ان کے مفہوم اور ان کے افرادی اور ترکیبی احکام اور اُن معانی سے بحث کی جاتی ہو جو کہ ان الفاظ سے جوڑنے کی حالت میں مراد لیے جاتے ہیں اور ان معانی کا تکملہ جو ناسخ ومنسوخ اور شان نزول اور غیرواضح مضمون کی وضاحت میں بیان کیا جائے۔




اس تعریف کی روشنی میں علمِ تفسیر مندرجہ ذیل اجزاء پر مشتمل ہے :
(۱)"الفا ظِ قرآن کی ادائیگی کے طریقے" یعنی الفاظ قرآن کو کس کس طرح پڑھا جاسکتا ہے ؟اس کی توضیح کے لیے قدیم عربی مفسرین اپنی تفسیروں میں ہر آیت کے ساتھ اس کی قرأ تیں بھی تفصیل سے واضح کرتے تھے اور اس مقصد کے لیے ایک مستقل علم" علم قرأت" کے نام سے بھی موجود ہے۔
(۲) "الفاظ قرآنی کے مفہوم" یعنی ان کی لغوی معنی،اس کام کے لیے علم لغت سے پوری طرح باخبر ہونا ضروری ہے اور اسی بناء پر تفسیر کی کتابوں میں علماء لغت کے حوالے عربی ادب کے شواہد بکثرت ملتے ہیں۔
(۳)"الفاظ کے انفرادی احکام"یعنی ہر لفظ کے بارے میں یہ معلوم ہونا کہ اس کا مادہ کیا ہے، یہ موجودہ صورت میں کس طرح آیا ہے، اس کا وزن کیا ہے ،اور اس وزن کے معانی وخواص کیا ہیں ؟ان باتوں کے لیے علم صرف کی ضرورت پڑتی ہے۔
(۴)"الفاظ کے ترکیبی احکام" یعنی ہر لفظ کے بارے میں یہ معلوم ہونا کہ وہ دوسرے الفاظ کے ساتھ مل کر کیا معنی دے رہا ہے ؟ اس کی نحوی ترکیب(Grammatical Analysis)کیا ہیں ؟ اس پر موجودہ حرکات کیوں آئی ہیں اور کن معانی پر دلالت کررہی ہیں ؟اس کام کے لیے علم نحو اور علم معانی سے مدد لی جاتی ہے ۔
(۵)"ترکیبی حالت میں الفاظ کے مجموعی معنی"یعنی پوری آیت اپنے سیاق وسباق میں کیا معنی دے رہی ہے ؟ اس مقصد کے لیے آیت کے مضامین کے لحاظ سے مختلف علوم سے مدد لی جاتی ہے ،مذکورہ علوم کے علاوہ بعض اوقات علم ادب اور علم بلاغت سے کام لیا جاتا ہے ،بعض اوقات علم حدیث اور بعض اوقات علم اصول ِ فقہ سے۔
(۶)"معانی کے تکملے"یعنی آیات قرآنی کا پس منظر اور جوبات قرآن کریم میں مجمل ہے اس کی تفصیل ،اس غرض کے لیے زیادہ تر علمِ حدیث سے کام لیا جاتا ہے ،لیکن اس کے علاوہ بھی یہ میدان اتنا وسیع ہے کہ اس دنیا کے ہر علم وفن کی معلومات کھپ سکتی ہیں کیونکہ بسا اوقات قرآن کریم ایک مختصر سا جملہ فرماتا ہے مگر اس کی میں حقائق واسرار کی ایک غیر متناہی کائنات پوشیدہ  ہوتی ہے مثلاً قرآن کریم کا ارشاد ہے :

وَفِیْ اَنْفُسِکُمْ اَفَلَا تُبْصِرُوْنَ

(الذاریات:۲۱)

اور تم اپنی جانوں میں غور کرو کیا تم نہیں دیکھتے۔

غور فرمائیے اس مختصر سے جملے کی تشریح  وتفصیل میں پورا علم الابدان(Physiology)اور پورا علمِ نفسیات(Psychology) سماجاتا ہے اس کے باوجود یہ نہیں کہا جاسکتا کہ اللہ تعالی نے اس آیت میں اپنی تخلیقی حکمت بالغہ کے جن اسرار کی طرف اشارہ فرمایا ہے وہ سب پورے ہوگئے ہیں ؛چنانچہ تفسیر کے اس ذیلی جز میں عقل وتدبر، تجربات ومشاہدات کے ذریعے انتہائی متنوع مضامین شامل ہیں ۔

(علوم القرآن:۳۲۳۔۳۲۵)




تفسیر کی تعریف
یہ لفظ "فسر" سے مشتق ہے جس کے معنی کھولنے کے آتے ہیں؛ چونکہ اس کے ذریعہ قرآن کے معانی ومفاہیم کھول کر بیان کئے جاتے ہیں اس لیے اس کو علم تفسیر سے تعبیر کیا جاتا ہے، قرآن  مجید میں اس کے لیے دوسرے الفاظ بھی آتے ہیں، تفسیر، تاویل بیان تبیان، تبیین، جو تقریباً ہم معنی ہیں؛ لیکن بعض اہل علم کے مابین ان الفاظ میں کچھ جزوی فرق بھی ہے، جس کی تفصیل ایک مستقل مضمون کے ذیل میں آئےگی۔
تفسیر کی اصطلاحی تعریفیں بھی بیان کی گئی ہیں؛ چنانچہ علامہ زرکشی رحمہ اللہ نے اس کی مختصر تعریف یوں نقل کی ہے:

"ھُوَعِلْمٌ یُعْرَفُ بِہٖ فَھْمُ کِتَابِ اللہِ الْمُنَزَّلِ عَلیٰ نَبِیِّہَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبَیَانُ مَعَانِیْہِ وَاسْتَخْرَاج أَحْکَامِہٖ وَحِکَمِہٖ"۔                            

(البرھان فی علوم القرآن:۱۳۱)

وہ ایسا علم ہے جس سے قرآن کریم کی سمجھ حاصل ہو اور اس کے معانی کی وضاحت اور اس کے احکام اور حکمتوں کو نکالا جاسکے اورعلامہ آلوسی رحمۃ اللہ علیہ تعریف میں مزید عموم پیدا کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

"ھُوَعِلْمٌ يُبْحَثُ فِيْهِ عَنْ كَيْفِيَّةِ النُّطْقِ بِأَلْفَاظِ الْقُرْآنِ، وَمَدْلُوْلَاتِهَا، وَأَحْكَامِهَا الْإِفْرَادِيَّةِ وَالتَّرْكِيْبِيَّةِ، وَمَعَانِيْهَا الَّتِيْ تُحْمَلُ عَلَيْهَا حَالَۃِ التَّرْكِيْبِ، وَتَتِمَّاتُ لِذَلِك"۔   

(روح المعانی:۴/۱)

وہ علم ہے کہ جس میں قرآن کریم کے الفاظ کی ادائیگی کے طریقے اور ان کے مفہوم اور ان کے افرادی اور ترکیبی احکام اور اُن معانی سے بحث کی جاتی ہو جو کہ ان الفاظ سے جوڑنے کی حالت میں مراد لیے جاتے ہیں اور ان معانی کا تکملہ جو ناسخ ومنسوخ اور شان نزول اور غیرواضح مضمون کی وضاحت میں بیان کیا جائے۔



اس تعریف کی روشنی میں علمِ تفسیر مندرجہ ذیل اجزاء پر مشتمل ہے :
(۱)"الفا ظِ قرآن کی ادائیگی کے طریقے" یعنی الفاظ قرآن کو کس کس طرح پڑھا جاسکتا ہے ؟اس کی توضیح کے لیے قدیم عربی مفسرین اپنی تفسیروں میں ہر آیت کے ساتھ اس کی قرأ تیں بھی تفصیل سے واضح کرتے تھے اور اس مقصد کے لیے ایک مستقل علم" علم قرأت" کے نام سے بھی موجود ہے۔
(۲) "الفاظ قرآنی کے مفہوم" یعنی ان کی لغوی معنی،اس کام کے لیے علم لغت سے پوری طرح باخبر ہونا ضروری ہے اور اسی بناء پر تفسیر کی کتابوں میں علماء لغت کے حوالے عربی ادب کے شواہد بکثرت ملتے ہیں۔
(۳)"الفاظ کے انفرادی احکام"یعنی ہر لفظ کے بارے میں یہ معلوم ہونا کہ اس کا مادہ کیا ہے، یہ موجودہ صورت میں کس طرح آیا ہے، اس کا وزن کیا ہے ،اور اس وزن کے معانی وخواص کیا ہیں ؟ان باتوں کے لیے علم صرف کی ضرورت پڑتی ہے۔
(۴)"الفاظ کے ترکیبی احکام" یعنی ہر لفظ کے بارے میں یہ معلوم ہونا کہ وہ دوسرے الفاظ کے ساتھ مل کر کیا معنی دے رہا ہے ؟ اس کی نحوی ترکیب(Grammatical Analysis)کیا ہیں ؟ اس پر موجودہ حرکات کیوں آئی ہیں اور کن معانی پر دلالت کررہی ہیں ؟اس کام کے لیے علم نحو اور علم معانی سے مدد لی جاتی ہے ۔
(۵)"ترکیبی حالت میں الفاظ کے مجموعی معنی"یعنی پوری آیت اپنے سیاق وسباق میں کیا معنی دے رہی ہے ؟ اس مقصد کے لیے آیت کے مضامین کے لحاظ سے مختلف علوم سے مدد لی جاتی ہے ،مذکورہ علوم کے علاوہ بعض اوقات علم ادب اور علم بلاغت سے کام لیا جاتا ہے ،بعض اوقات علم حدیث اور بعض اوقات علم اصول ِ فقہ سے۔
(۶)"معانی کے تکملے"یعنی آیات قرآنی کا پس منظر اور جوبات قرآن کریم میں مجمل ہے اس کی تفصیل ،اس غرض کے لیے زیادہ تر علمِ حدیث سے کام لیا جاتا ہے ،لیکن اس کے علاوہ بھی یہ میدان اتنا وسیع ہے کہ اس دنیا کے ہر علم وفن کی معلومات کھپ سکتی ہیں کیونکہ بسا اوقات قرآن کریم ایک مختصر سا جملہ فرماتا ہے مگر اس کی میں حقائق واسرار کی ایک غیر متناہی کائنات پوشیدہ  ہوتی ہے مثلاً قرآن کریم کا ارشاد ہے :

وَفِیْ اَنْفُسِکُمْ اَفَلَا تُبْصِرُوْنَ

(الذاریات:۲۱)

اور تم اپنی جانوں میں غور کرو کیا تم نہیں دیکھتے۔

غور فرمائیے اس مختصر سے جملے کی تشریح  وتفصیل میں پورا علم الابدان(Physiology)اور پورا علمِ نفسیات(Psychology) سماجاتا ہے اس کے باوجود یہ نہیں کہا جاسکتا کہ اللہ تعالی نے اس آیت میں اپنی تخلیقی حکمت بالغہ کے جن اسرار کی طرف اشارہ فرمایا ہے وہ سب پورے ہوگئے ہیں ؛چنانچہ تفسیر کے اس ذیلی جز میں عقل وتدبر، تجربات ومشاہدات کے ذریعے انتہائی متنوع مضامین شامل ہیں ۔

(علوم القرآن:۳۲۳۔۳۲۵)



تفسیر کے اصول
چونکہ ہرکام کی ایک اصل ہوتی ہے اور اصول کے ساتھ ہونے والے کام کو کام کہا جاتا ہے ،بے اصولی تو کسی بھی شعبہ میں اچھی نہیں سمجھی جاتی؛ اسی اصول پر تفسیر کے اصول بھی ہیں؛ تاکہ اس میں دلچسپی پیدا ہو، اب ایک بات ضروری طور پر یہ رہ جاتی ہے کہ وہ کیا ذرائع اور طریقے ہیں جن کی بنیاد پر قرآن کریم کی تفسیر کی جاسکے، یقیناً ہم کو اس کے لیے حق سبحانہ وتعالیٰ کی طرف سے رہبری کی گئی ہے؛ چنانچہ فرمایا:

"ھُوَالَّذِیْٓ اَنْزَلَ عَلَیْکَ الْکِتٰبَ مِنْہُ اٰیٰتٌ مُّحْکَمٰتٌ ھُنَّ اُمُّ الْکِتٰبِ وَاُخَرُ مُتَشٰبِہٰتٌ"۔

(آل عمران:۷)

اے رسول !وہی اللہ ہے جس نے تم پر کتاب نازل کی ہےجس کی کچھ آیتیں تو محکم ہیں جن پر کتاب کی اصل  بنیاد ہےاورکچھ دوسری آیتیں متشابہ ہیں۔

 گویا اس آیت کی رو سے آیات کی اولین تقسیم دوطرح پر کی گئی ہے۔
(۱)آیات محکمات (۲)آیات متشابہات؛ پھرمتشابہات دوقسم پر ہیں:
(۱)جو لفظ بھی سمجھ سے باہر ہو جیسے حروف مقطعات
(۲) لفظ تو سمجھ میں آتے ہوں؛ لیکن مفہوم ان کا قابل فہم نہ ہو۔
 پھرآیاتِ محکمات کو مفسرین نے دوطرح پر تقسیم کیا ہے:
(۱)وہ آیتیں جن کے سمجھنے میں کسی قسم کی دشواری نہ ہو جو بالکل واضح ہوں یعنی جس زبان میں بھی ان کا ترجمہ کیا جائے سمجھنے والے کو مشکل معلوم نہ ہوں اور بظاہر مفسرین کے پاس کوئی اختلاف رائے نہ ہو، جیسے پچھلی قوموں سے متعلق واقعات اور جنت وجہنم سے متعلق آیات۔
(۲)دوسری وہ آیتیں ہیں جن کے سمجھنے میں کوئی ابہام یااجمال یا اور کوئی دشواری پائی جائے یا اُن آیتوں کو سمجھنے کے لیے ان کے منظر وپس منظر کو سمجھنا ضروری ہو جیسے وہ آیتیں جن سے دقیق مسائل اور احکام نکلتے ہوں یااسرار ومعارف اُن سے نکلتے ہوں، ایسی آیات کو سمجھنے کے لیے انسان کو صرف زبان اور اس کی باریکیوں کو جاننا کافی نہیں ہوتا؛ بلکہ اور بھی بہت سی معلومات کی ضرورت پڑتی ہے، انہیں معلومات میں سے ایک "ماخذِ" تفسیر کہلاتا ہے۔
تفسیری مآخذ
یعنی وہ ذارئع جن سے قرآن کریم کی تفسیر معلوم ہوسکتی ہے، یہ تقریباً چھ قسم کی بتلائی گئی ہیں:
(۱)تفسیر القرآن بالقرآن۔(قرآن کریم کی کسی آیت یا لفظ کی تشریح قرآن ہی کی کسی دوسری آیت یا لفظ سے کی جائے)
(۲)تفسیر القرآن بالاحادیث النبویہ صلی اللہ علیہ وسلم۔(قرآن مجید کے کسی آیت کی وضاحت آنحضرت  کے کسی قول یا فعل سے کی جائے)
(۳)تفسیر القرآن باقوال الصحابۃ رضی اللہ عنہم اجمعین۔(قرآن پاک کے کسی آیت کی تشریح حضرات صحابہ کرام میں سے کسی صحابی کے قول سے کی جائے،تفسیری شرائط کے ساتھ)
(۴)تفسیر القرآن باقوال التابعین رحمہم اللہ۔(قرآن مجید کے کسی آیت کی وضاحت حضرات تابعین میں سے کسی تابعی کے قول سے کی جائے،تفسیری شرائط کے ساتھ)
(۵)تفسیر القرآن بلغۃ العرب۔(قرآن مجید کے کسی آیت یا کسی لفظ کی تشریح اہل عرب کے اشعار اور عربی محاورات کے مطابق کی جائے،تفسیری شرائط کے ساتھ)
(۶)تفسیرالقرآن بعقل السلیم۔(قرآن مجید کی تشریح وتوضیح اپنی صحیح سمجھ بوجھ اور منشائے خدا وندی کو ملحوظ رکھ کرعلوم اسلامیہ کی روشنی میں،حالات وواقعات،مواقع ومسائل پر اس کا صحیح انطباق کرنا اور اس کے اسرار ورموز کو کھولنا اور بیان کرنا تفسیرالقرآن بعقل سلیم کہلاتا ہے)
ہرایک کی تھوڑی سی تفصیل ضروری مثالوں سے ذیل میں ذکر کی جاتی ہے:
تفسیرالقرآن بالقرآن
اختصار کی غرض سے اس کی صرف تین مثالیں پیش کی جاتی ہیں:
پہلی مثال
سورۃ الفاتحہ کو ہی لیجئے، اِس کی دونوں آیتیں اس طرح ہیں:

"اهْدِنَاالصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ، صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِالْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَاالضَّالِّينَ"۔

(الفاتحۃ:۶،۷)

ہمیں سیدھے راستے کی ہدایت فرما،ان لوگوں کے راستے کی جن پر تو نے انعام کیا ہے۔

جن پر انعام کیا گیا ہے اس  کی تفسیر"سورۃالنساء" کی درجِ ذیل آیت  میں کی گئی ہے:

"وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَالرَّسُولَ فَأُولَئِكَ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ مِنَ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّالِحِينَ وَحَسُنَ أُولَئِكَ رَفِيقًا"۔                          

(النساء:۹۶)

اور جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کریں گےتو وہ ان کے ساتھ ہوں گےجن پر اللہ نے انعام فرمایا ہے،یعنی انبیاء،صدیقین،شہداءاور صالحین اور وہ کتنے اچھے ساتھی ہیں۔

دوسری مثال

"فَتَلَـقّٰٓی اٰدَمُ مِنْ رَّبِّہٖ کَلِمٰتٍ فَتَابَ عَلَیْہِoاِنَّہٗ ھُوَالتَّوَّابُ الرَّحِیْمُ"۔       

(البقرۃ:۳۷)

پھر آدمؑ نے اپنے پروردگار سے(توبہ کے)کچھ الفاظ سیکھ لیے(جن کے ذریعہ انہوں نے توبہ مانگی)چنانچہ اللہ نے ان کی توبہ قبول کرلی،بے شک وہ بہت معاف کرنے والا،بڑا مہربان ہے۔

 اس آیت میں کلمات کا تذکرہ ہے مگر وہ کلمات کیا تھے؟ دوسری آیت میں  اس کی تفسیرموجود ہے:

"قَالَا رَبَّنَا ظَلَمْنَآ اَنْفُسَـنَا،وَاِنْ لَّمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَکُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ"۔

(الاعراف:۲۳)

دونوں بول اٹھے کہ:اے ہمارے پروردگار!ہم اپنی جانوں پر ظلم کر گزرے ہیں اور اگرآپ نے ہمیں معاف نہ فرمایااور ہم پر رحم نہ کیا تو یقیناً ہم نامراد لوگوں میں شامل ہوجائیں گے۔

تیسری مثال 
"سورۃ الانعام" کی آیت نازل ہوئی:

"الَّذِينَ آمَنُوا وَلَمْ يَلْبِسُوا إِيمَانَهُمْ بِظُلْمٍ اُولِٰئکَ لَہُمُ الْاَمْنُ وَہُمْ مُّہْتَدُوْنَ"۔

(الانعام:۸۲)

جو لوگ ایمان لے آئے ہیں اور انہوں نے اپنے ایمان کے ساتھ کسی ظلم کا شائبہ بھی آنے نہ دیا،امن وچین تو بس ان ہی کا حق ہےاور وہی ہیں جو صحیح راستے پر پہنچ چکے ہیں۔

توصحابہ کرام نے عرض کیا کہ ہم میں سے کون ایسا ہے کہ جس سے( کسی نہ کسی طرح کا)  ظلم  صادر نہ ہوا ہو،تو اللہ نے  ظلم کی تفسیر ومراد کو واضح کرنے کے لیےیہ آیت نازل فرمائی:

" إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ"۔

(لقمان:۱۳)         

کہ شرک ظلم عظیم ہے۔

یعنی آیت بالا میں ایمان کے ساتھ جس ظلم کا تذکرہ آیا ہے وہاں ظلم سے مراد شرک ہے۔

(بخاری،باب ظلم دون ظلم،حدیث نمبر:۳۱)

تفسیر القرآن بالقرآن کے موضوع پرایک گرانقدر کتاب مدینہ منورہ کے ایک عالم شیخ محمد امین بن محمد مختار کی تالیف ہے جو "اضواء البیان فی ایضاح القرآن بالقرآن" کے نام سے شائع ہوچکی ہے۔
تفسیرالقرآن بالحدیث والسیرۃ
 قرآن پاک کی تفسیررسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال وافعال کی روشنی میں کرنا تفسیر القرآن بالحدیث  والسیرۃ کہلاتا ہے، خود قرآن کریم کی متعدد آیات میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کے دنیا میں بھیجےجانے کا مقصد ہی یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اقوال وافعال  اور عملی زندگی سے آیات قرآنیہ کی تفسیر وتشریح فرمائیں۔         

(النحل:۴۴)

تو جس طرح اللہ تعالی نے انسانی زندگی کو بندگی بنانے کےلیے اپنے احکامات کو قرآن حکیم کی شکل میں نازل فرمایا ،اسی طرح ان احکامات پر عمل آوری کے لیے آپ کے پوری عملی زندگی کو در حقیقت قرآن پاک کی عملی تفسیر بناکر مبعوث فرمایا، جو کچھ احکامات قرآن کریم کی شکل میں نازل کیے گئے ان پر سب سے پہلے آپ ہی نے عمل کرکےدکھلایا  اور ان احکامات خدا وندی کو عملی جامہ پہناکر دنیا کے سامنے پیش کرنا یہ آپ کی خصوصیات میں سےایک نمایا خصوصیت ہے ،خواہ وہ حکم ایمان ،توحید، نماز، روزہ ،زکوۃ ،حج، صدقہ وخیرات ،جنگ وجدال، ایثار وقربانی، عزم واستقلال، صبر وشکر سے تعلق رکھتا ہو یا حسن معاشرت وحسن اخلاق سے ،ان سب میں قرآن مجید کی سب سے پہلی وعمدہ عملی تفسیر نمونہ وآئیڈیل کے طور پر آنحضرت  ہی کی ذات اقدس میں ملے گی، اس میں بھی دو قسم کی تفسیر ہے ایک تفسیرتو وہ قرآن پاک کے مجمل الفاظ وآیات کی تفسیر وتوضیح  ہے جن کی مراد خدا وندی واضح نہیں تو ان کی مراد واجمال کی تفصیل کو زبان رسالت مآب  نے واضح فرمادیا اور دوسری قسم عملی تفسیر کی ہے،یعنی قرآن حکیم کی وہ آیات جن میں واضح احکامات دئے گئے ہیں جن کا تعلق عملی زندگی کے پورے شعبۂ حیات سے ہے،خواہ وہ عقائد، عبادات، معاملات کی رو سے ہوں یا حسن معاشرت وحسن اخلاق کی رو سے اس میں بھی آپ نہ وہ کمال درجہ کی عبدیت اور اطاعت وفرمانبرداری کی ایسی بے مثال وبے نظیر عملی تفسیر وتصویر امت کے سامنے پیش فرمائی کہ جس طرح کلام اللہ تمام انسانی کلاموں پر اعجاز وفوقیت رکھتا ہے اسی طرح آپ کی عملی زندگی کا ہر قول وفعل بھی تمام انسانی زندگیوں پر اعجاز وفوقیت رکھتا ہے،دوسری قسم کی مثالیں کتب سیر، کتب مغازی، کتب تاریخ، کتب دلائل اور کتب شمائل میں بکثرت ملیں گے؛ بلکہ یہ کتابیں تو آپ ہی کی عملی تفسیر پیش کرنے کے لیے لکھی گئی ہیں جن کی مثالوں کو یہاں ذکر نہیں کیا جارہا ہے اگر دیکھنا چاہیں تو ہمارے ہوم پیج کے عنوان"سیرت طیبہ" میں ملاحظہ فرماسکتے ہیں اور پہلی قسم کی مثالیں کتب احادیث وتفسیر میں بکثرت ملیں گی ان میں سے بغرض اختصار صرف تین مثالیں پیش کی جارہی ہیں:
پہلی مثال
 سورۂ بقرہ کی آیت شریفہ:

"وَکُلُوْا وَاشْرَبُوْا حَتّٰى یَتَبَیَّنَ لَکُمُ الْخَیْطُ الْاَبْیَضُ مِنَ الْخَیْطِ الْاَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ"۔

(البقرۃ:۱۸۷)

اور اس وقت تک کھاؤ پیو جب تک صبح کی سفید دھاری سیاہ دھاری سے ممتاز ہوکرتم پر واضح (نہ) ہوجائے۔

 آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیط ابیض اور خیط اسود کی مراد کو اپنے ارشاد مبارک سے واضح فرمایا :

" إِنَّمَا ذَلِكَ سَوَادُ اللَّيْلِ وَبَيَاضُ النَّهَار"۔

 (بخاری، بَاب قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى، وَكُلُوا وَاشْرَبُوا،حدیث نمبر:۱۷۸۳، شاملہ، موقع الإسلام)

کہ خیط ابیض سے مراد صبح صادق اور خیط اسود سے مراد صبح کاذب ہے۔

دوسری مثال
 سورہ نور کی آیت:

"اَلزَّانِیَۃُ وَالزَّانِیْ فَاجْلِدُوْا کُلَّ وَاحِدٍ مِّنْہُمَا مِائَۃَ جَلْدَۃٍ، وَّلَا تَاْخُذْکُمْ بِہِمَا رَاْفَۃٌ فِیْ دِیْنِ اللہِ اِنْ کُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاللہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ،وَلْیَشْہَدْ عَذَابَہُمَا طَائِفَۃٌ مِّنَ الْمُؤْمِنِیْنَ"۔    

(النور:۲)

زنا کرنے والی عورت اور زنا کرنے والے مرددونوں کو سوسو کوڑے لگاؤاور اگر تم اللہ اوراس کے رسول پر ایمان رکھتے ہو تو اللہ کے دین کے معاملہ میں ان پر ترس کھانے کا کوئی جذبہ تم پرغالب نہ آئےاور یہ بھی چاہیے کہ مؤمنوں کا ایک مجمع ان کی سزا کو کھلی آنکھوں دیکھے۔

 ظاہر ہے کہ اس آیت سے زانیہ اور زانی کی سزامیں سو کوڑے مارنے  کاذکر ہے، اس میں شادی شدہ اور غیرشادی شدہ کا کوئی فرق نہیں کیا گیا؛اس کی تفسیر احادیثِ پاک سے واضح ہوتی ہے کہ غیر شادی شدہ کو کوڑوں کی سزا دی جائے گی جیسا کے بخاری شریف میں ہے:

"عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ أَمَرَ فِيمَنْ زَنَى وَلَمْ يُحْصَنْ بِجَلْدِ مِائَةٍ وَتَغْرِيبِ عَامٍ"۔

(بخاری،بَاب شَهَادَةِ الْقَاذِفِ وَالسَّارِقِ وَالزَّانِي،حدیث نمبر:۲۴۵۵، شاملہ، موقع الإسلام)

زید بن خالد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ نے غیر شادی شدہ زنا کرنے والوں کو سو کوڑے مارنے کا اور ایک سال کے لیے وطن سے نکالنے کاحکم دیا۔

 اور شادی شدہ مرد وعورت کو سنگسار کیا جائے گا:

"الشَّيْخُ وَالشَّيْخَةُ إِذَازَنَيَا فَارُجُمُوهُمَا أَلْبَتَّةَ، رَجَمَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَجَمْنَا بَعْدَهٗ"۔                   

(ابن ماجہ، باب الجرم، حدیث نمبر:۲۵۴۳، شاملہ، موقع الإسلام)

 شادی شدہ مرد وعورت جب زنا کے مرتکب ہوں تو ان کو رجم کرو، یعنی سنگسار کردو ،راوی کہتے ہیں کہ خود حضور  نے اپنی زندگی میں ایسی سزادی ہے اور بعد میں ہم نے بھی ایسی سزا دی ہے۔

تیسری مثال
قرآن کی تفسیر حدیث سے کرنے کی مثال میں یہ آیت پیش کی جاسکتی ہے:

"غَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْہِمْ وَلَاالضَّالِّیْنَ"۔                       

(الفاتحۃ:۷)

نہ کہ ان لوگوں کے راستے پر جن پر غضب نازل ہوا ہےاور نہ ان کے راستے کی جو بھٹکے ہوئے ہیں۔

قرآن پاک میں المغضوب اور الضال کا مصداق متعین نہیں کیا گیا ہے ؛لیکن ان دونوں کا مصداق متعین کرتے ہوئےحضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

"إِنَّ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ أَلْيَهُوْدُ وَإِنَّ الضَّالِّيْنَ النَّصَارَىٰ"۔

(مسند احمد بن حنبل،بقیۃ حدیث بن حاتم،حدیث نمبر:۹۴۰۰، شاملہ، موقع الإسلام)

جن پر غضب نازل ہوا اس سے مراد یہود ہیں اور جو راستے سے بھٹکے ہوئے ہیں اس سے مراد نصاری ہیں۔

اس طرح کی بے شمار مثالیں کتب احادیث میں بکثرت موجود ہیں اور اس  نقطۂ نظر سے بھی  کئی تفاسیر لکھی گئی ہیں ،اُن میں سے چند تفاسیر یہ ہیں ۔
۱۔قاضی بیضاوی رحمہ اللہ کی انوار التنزیل والتاویل۔
۲۔علامہ خازن کی لباب التاویل فی معانی التنزیل۔
۳۔ علامہ ابن کثیر کی تفسیر ابن کثیر۔
۴۔اردو زبان میں تفسیر حقانی(فتح المنان)مولانا عبدالحق حقانی دہلوی کی ہے۔
(۳)تیسرا ماخذ،تفسیرالقرآن باقوال الصحابۃرضی اللہ عنہم
حضرات صحابہ رضی اللہ عنہم چونکہ بجا طور پر خیر امت کہلانے کے مستحق ہیں جنہوں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے براہ راست قرآن کریم کی تعلیم وتربیت حاصل کی ،ان میں سے بعض وہ ہیں  جو اپنی پوری زندگی اس کام کے لیے وقف کردیں کہ قرآن کریم اوراس کی تفسیر وتاویل کو بلاواسطہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے حاصل کریں ،اہل زبان ہونے کے باوجود ان کو صرف زبان دانی پر بھروسہ نہ تھا؛ چنانچہ بعضے صحابہؓ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سبقاً سبقاً قرآن کریم کو پڑھا، مشہور تابعی ابوعبدالرحمن سلمی فرماتے ہیں:

"حَدَّثَنَا الَّذِيْنَ كَانُوْا يَقْرَؤَوْنَ الْقُرَآنَ كَعُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ وَعَبْدِ اللّٰهِ بْنِ مَسْعُوْدٍ وَغَيْرِهِمَا أَنَّهُمْ كَانُوْا إِذَا تَعَلَّمُوْا مِنَ النَّبِيِّﷺ عَشَرَ آيَاتِ لَمْ يَتَجَاوَزُوْهَا حَتَّى يَعْلَمُوْا مَافِيْهَا مِنَ الْعِلْمِ وَالْعَمَلِ"۔

(الاتقان فی علوم لقرآن،الفصل فی شرف التفاسیر، النوع الثامن والسبعون:۲/۴۶۸، شاملہ،المؤلف:عبد الرحمن بن الكمال جلال الدين السيوطي)

 صحابہ رضی اللہ عنہم میں سے جو قرآن کی تعلیم آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے حاصل کیا کرتے تھے،مثلاً حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ، عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ وغیرہ انہوں نے ہمیں یہ بتایا کہ وہ لوگ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے دس  آیتیں سیکھتے تو ان آیتوں سے آگے نہ بڑھتے جب تک ان آیتوں کی تمام علمی وعملی باتوں کو نہ جان لیتے۔

یہ ہے حضرات صحابہ رضی اللہ عنہم کا براہ راست آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے تعلیم وتربیت کا سیکھنا کہ جتنا سیکھتے اتنا عمل کا بھی اہتمام فرماتےشاید اسی وجہ سے مسند احمد میں حضرت انس رضی اللہ عنہ کا یہ اثرمنقول ہے:

"كَانَ الرَّجُلُ إِذَاقَرَأ الْبَقَرَةَ وَآلَ عِمْرَانَ جَدَّ فِيْنَا"۔

(مسند احمد،مسند انس بن مالک،حدیث نمبر:۱۱۷۶۹)

یعنی جب کوئی شخص سورۃ بقرہ وآل عمران کو پڑھ لیتا تووہ ہماری نظروں میں بہت ہی عزت والا سمجھا جاتا اور موطا مالک کی روایت میں ہے:

"أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ مَكَثَ عَلَى سُورَةِ الْبَقَرَةِ ثَمَانِيَ سِنِينَ يَتَعَلَّمُهَا"۔

(مؤطا مالک، کِتَابُالنِّداءِ لِلصّلاةِ،بَاب مَاجَاءَ فِي الْقُرْآنِ ،حدیث نمبر:۴۲۸، شاملہ، موقع الإسلام)

حضرت عبداللہ ابنِ عمررضی اللہ عنہ کو سورۂ بقرہ یاد کرنے میں آٹھ سال لگے۔

یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ اتنے کمزور ذہن والے تھے کہ سورۂ بقرہ یاد کرنے میں آٹھ سال لگے،جبکہ موجودہ دور میں کمزور سے کمزور طالب علم اتنے عرصہ سے کم میں پورا قرآن کریم حفظ کرلیتا ہے،دراصل بات یہ تھی کہ آٹھ سال کی مدت حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کو سورۂ بقرہ کے الفاظ اور اسکی تفسیر وتاویل اور اسکے متعلقات کے ساتھ حاصل کرنے میں لگی،اسکی تائید حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے اس اثر سے ہوتی ہے جسکو ابن کثیر رحمہ اللہ نے نقل کیا ہے:

"والذي لا إله غيره، ما نزلت آية من  ، كتاب الله إلا وأنا أعلم فيمن نزلت؟ وأين نزلت؟ ولو أعلم  أحد اأعلم بکتاب اللہ منی تنالہ المطایا لاتیتہ"۔        

  (ابن کثیر:۱/۳)

 قسم ہے اس ذات کی جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں کہ قرآن کریم کی کوئی آیت ایسی نازل نہیں ہوئی جسکے بارے میں مجھے یہ معلوم نہ ہو کہ وہ کس بارے میں اور کہاں نازل ہوئی اور اگر مجھے معلوم ہوتا کہ کوئی شخص ایسی معلومات مجھ سے زیادہ رکھتا ہے اور سواریاں اس شخص تک پہونچاسکتی ہیں تو میں اس کے پاس ضرور جاؤں گا۔

یہ چند نمونے ہیں حضرات صحابہ کی جانفشانی اور ان کی محنت کے جو تفسیر قرآن کے سلسلہ میں پیش کئے گئے ،یوں تو بہت سی آیات کی تفسیر حضرات صحابہ رضی اللہ عنہم کے اقوال سے ثابت ہیں ان میں سے کچھ برائے نمونہ پیش ہیں۔
پہلی مثال:
ایک دفعہ حضرت بن عمرؓ کی خدمت میں ایک شخص حاضر ہوا اور درج ذیل آیت کی تفسیر دریافت کی:

"أَوَلَمْ يَرَ الَّذِينَ كَفَرُوا أَنَّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ كَانَتَا رَتْقًا فَفَتَقْنَاهُمَا"۔

(الانبیاء:۳۰)

کیا کفار نے دیکھا نہیں کہ آسمان وزمین بند تھے پھر ہم نے ان کو کھول دیا۔

حضرت بن عمرؓ نے اس سے فرمایا کہ تم ابن عباس ؓ کے پاس جاؤ اور ان سے اس کی تفسیر معلوم کرو اور وہ جو تفسیر بتائیں وہ مجھے بھی بتاتے جانا،وہ شخص ابن عباسؓ کے پاس پہنچااور درج بالا آیت کی تفسیر پوچھی تو آپ  نے فرمایا کہ:

آسمان خشک تھے ان سے بارش نہیں ہوتی تھی اور زمین بانجھ تھی اس سے کچھ اُگتا نہیں تھا،بارش کے طفیل یہ پودے اگانے لگی؛گویا آسمان کا فتق(پھٹنا)بارش کے ساتھ ہے اور زمین کا پھل پودے اگانے سے ۔

اس شخص نے حضرت ابن عمرؓ کو جب یہ تفسیر بتائی تو انہوں نے فرمایا کہ اللہ تعالی کی جانب سے ان کو خصوصی علم عطا ہوا ہے۔

(روح المعانی،۱۲/۳۶۹ش،املہ)

دوسری مثال

" وَاَنْفِقُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللہِ وَلَا تُلْقُوْا بِاَیْدِیْکُمْ اِلَى التَّہْلُکَۃِ،وَاَحْسِنُوْا،اِنَّ اللہَ یُحِبُّ الْمُحْسِـنِیْنَ"۔

(البقرۃ:۱۹۵)

 اور خرچ کرو اللہ کی راہ میں اور نہ ڈالو اپنی جان کو ہلاکت میں اور نیکی کرو،بیشک اللہ تعالی دوست رکھتا ہے نیکی کرنے والوں کو۔

 اس آیت کی تشریح میں مفسرین نے حضرت  ابوایوب انصاریؓ کاارشاد نقل کیا ہے کہ:

"التھلکۃ الاقامۃ فی الاھل والمال وترک الجھاد"۔

(تفسیر بن کثیر،تحت قولہ وَلَا تُلْقُوْا بِاَیْدِیْکُمْ اِلَى التَّہْلُکَۃِ)

"التھلکۃ "سے مراد گھر اور مال کی مصروفیات میں لگا رہنا اور جہاد کو چھوڑ بیٹھنا ہے ۔
عام مفسرین نے اپنی اپنی تفاسیر میں اس تفسیر کو خاص طور سے نقل کیا ہے۔
تیسری مثال
علامہ طبری روایت کرتے ہیں کہ حضرت عمرؓ نے صحابہ ؓ سے درج ذیل آیت کے متعلق دریافت کیا :

"أَيَوَدُّ أَحَدُكُمْ أَنْ تَكُونَ لَهُ جَنَّةٌ مِنْ نَخِيلٍ وَأَعْنَابٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ لَهُ فِيهَا مِنْ كُلِّ الثَّمَرَاتِ وَأَصَابَهُ الْكِبَرُ وَلَهُ ذُرِّيَّةٌ ضُعَفَاءُ فَأَصَابَهَا إِعْصَارٌ فِيهِ نَارٌ فَاحْتَرَقَتْ"۔

(البقرۃ:۲۶۶)

 کیا تم میں سے کوئی یہ پسند کرے گا کہ اس کا کھجوروں اور انگوروں کا ایک باغ ہو جس کے نیچے نہریں بہتی ہوں (اور)اس کو اس باغ میں اور بھی ہر طرح کے پھل حاصل ہوں اور بڑھاپے نے اسے آپکڑا ہواور اس کے بچے ابھی کمزور ہوں، اتنے میں ایک آگ سے بھرا بگولا آکر اس کو اپنی زد میں لے لے اور پورا باغ جل کر رہ جائے۔

کوئی بھی اس کا شافی جواب نہ دے سکے،حضرت ابن عباسؓ نے عرض کیا کہ میرے دل میں ایک بات آرہی ہے ،حضرت عمر نے فرمایا کہ آپ بلا جھجک برملا بیان کیجیے،ابن عباس ؓنے فرمایا:

"اللہ تعالی نے اس آیت میں ایک مثال بیان کی ہے فرمایا :کیا تم میں سے کوئی شخص اس بات کو پسند کرتا ہے کہ عمر بھر نیکی کا کام کرتا رہےاور جب اس کا آخری وقت آئےجب کے نیکیوں کی اسے زیادہ ضرورت ہوتو بُرا کام کرکے سب نیکیوں کو برباد کردے"۔

(تفسیر طبری،۵/۵۴۵،شاملہ)

ایک اہم بات اس بارے میں اہل اصول نے بتلائی ہے کہ جن صحابہ رضی اللہ عنہم کے تفسیری اقوال میں صحیح وسقیم ہر طرح کی روایتیں ملتی ہیں تو ان اقوال کی بنیاد پر کوئی فیصلہ کئے جانے سے پہلے اصول ِحدیث کے اعتبار سے انکی جانچ ضروری ہے۔
۲۔ نیز دوسرے یہ کہ حضرات صحابہ رضی اللہ عنہم کے اقوال تفسیر اسی وقت حجت ،دلیل سمجھے جائیں گےجبکہ آپ سے آیت شریفہ کی کوئی صریح تفسیر مستند طورپر ثابت نہ ہو؛چنانچہ اگر آپ  سے تفسیر منقول ہو تو پھر صحابہ رضی اللہ عنہ سے اقوال محض اس تفسیر کی تائید شمار کئے جائنگے اور اگر آپ  کے معارض کوئی قول صحابی رضی اللہ عنہ ہوتو اس کو قبول نہ کیا جائےگا۔
۳۔تیسرے یہ کہ صحابہ رضی اللہ عنہم کے اقوال تفسیر میں اگر تعارض اور ٹکراؤ ہو تو جہاں تک ہوسکے انکے اقوال میں مطابقت پیداکی جائیگی اگر مطابقت نہ ہوسکے  تو پھر مجتہد کو اس بات کا اختیار ہوگا کہ دلائل کی روشنی میں جس صحابی رضی اللہ عنہ کا قول مضبوط ہے اسکو اختیار کرلے۔          

  (تفصیل کے لیے دیکھیے مقدمہ تفسیر ابن کثیر۱/۳)۔                      (واللہ تعالی اعلم)

اس موضوع پر مستقل کتاب،تنویرالمقیاس فی تفسیر ابن عباس"ہے اور اس کے علاوہ دیگر کتب تفاسیر میں صحابہ کی تفسیری روایات مذکور ہیں۔
(۴)چوتھا ماخذ:تفسیر القرآن باقوال التابعین
واضح ہونا چاہئے کہ تابعین سے مراد تمام ہی تابعین نہیں ہیں؛ بلکہ وہ حضرات تابعین جنہوں نے حضرات صحابہ رضی اللہ عنہ  کی صحبت اٹھائی ہواور انکی صحبت سے علمی استفادہ کیا ہو، اہل علم میں اس بات پربھی اختلاف ہے کہ تفسیر قرآن کے بارے میں اقوال تابعین حجت ہیں یا نہیں،اس معاملہ میں علامہ ابن کثیر رحمہ اللہ نے بہت ہی معتدل بات لکھی ہے کہ اگر کوئی تابعی کسی صحابی رضی اللہ عنہ سے تفسیر نقل کررہے ہوں تو اس کا حکم صحابی کی تفسیر جیسا ہوگا اور اگر خود تابعی اپنا قول بیان کریں تو دیکھا جائےگا کہ دوسرے کسی تابعی کا قول ان کے خلاف تو نہیں اگر خلاف میں کوئی قول ہو تو پھر اس تابعی کے قول کو حجت نہیں قرار دیا جائےگا؛ بلکہ ایسی آیات کی تفسیر کے لیے قرآن کی دوسری آیتیں احادیث نبویہ آثارصحابہ رضی اللہ عنہم اورلغت عرب جیسے دوسرے دلائل پر غور کرکے فیصلہ کیا جائےگا،ہاں اگر تابعین کے درمیان کوئی اختلاف نہ ہوتو ان کے تفسیری اقوال کو بلاشبہ حجت اورواجب الاتباع قراردیا جائے گا۔

(بحوالہ تفسیر ابن کثیر،ا-۵،مطبوعہ المکتبہ التجاریۃ الکبری)

جب تابعین کے اقوال پر تفسیر کی جاسکتی ہے تو اس کے کچھ نمونےبھی ذیل میں پیش کیے جاتے ہیں :
پہلی مثال
 ارشاد باری تعالی ہے:

"وَالسّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ مِنَ الْمُہٰجِرِیْنَ وَالْاَنْصَارِ وَالَّذِیْنَ اتَّبَعُوْھُمْ بِـاِحْسَانٍ، رَّضِیَ اللہُ عَنْھُمْ وَرَضُوْا عَنْہُ وَاَعَدَّ لَھُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ تَحْتَہَا الْاَنْہٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْہَآ اَبَدًا، ذٰلِکَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ"۔

(التوبہ:۱۰۰)

اور جولوگ قدیم ہیں سب سے پہلے ہجرت کرنے والے اور مددکرنے والے اور جو ان کے پیروہوئے نیکی کے ساتھ اللہ تعالی راضی ہوا ان سے اور وہ راضی ہوئے اس سے اور اللہ نے تیار کررکھا ہے ان کے واسطے ایسے باغات کہ بہتی ہیں ان کے نیچے نہریں رہا کریں ان میں وہ ہمیشہ یہی ہے بڑی کامیابی۔

اس آیت شریفہ میں حضرات صحابہ رضی اللہ عنہ کے مختلف درجاتِ فضیلت بیان کئے گئے ہیں ایک سابقین اولین کا،دوسرے انکے بعد والوں کا ،اب سابقین اولین کون ہیں ،اس میں مفسرین کے مختلف اقوال نقل کئے جاتے ہیں،کبار تابعین حضرت سعید بن المسیب رحمہ اللہ،ابن سیرین رحمہ اللہ اور قتادہ رحمہ اللہ کا یہ قول ہے کہ اس سے مراد وہ صحابہ ہیں جنہوں نے دونوں قبلوں کی طرف منہ کرکے نماز پڑھی اور عطاء بن ابی رباح کا یہ قول ہے کہ سابقین اولین سے مرادبدرمیں شریک ہونے والےصحابہ ہیں اورشعبی نے فرمایا کہ وہ جو کہ حدیبیہ کے موقع پر بیعت رضوان میں شامل رہے۔                    

(تفسیرروح المعانی، تفسیر سورۂ توبہ،آیت نمبر۱۰۰)

 اس آیت میں تابعین رحمہ اللہ کے مختلف اقوال سامنے آئے ،مفسرین نے کسی قول کو رد نہیں کیااور ان کے درمیان تطبیق دینے کی کوشش کی ہے۔
 دوسری مثال
ارشاد باری تعالی ہے:

" اَلتَّائِبُوْنَ الْعٰبِدُوْنَ الْحٰمِدُوْنَ السَّائِحُوْنَ الرّٰکِعُوْنَ السّٰجِدُوْنَ الْاٰمِرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَالنَّاہُوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ وَالْحٰفِظُوْنَ لِحُدُوْدِ اللہِ، وَبَشِّرِ الْمُؤْمِنِیْنََ"۔               

(التوبہ:۱۱۲)

توبہ کرنے والے،اللہ کی بندگی کرنے والے،اس کی حمد کرنے والے ،روزے رکھنے والے،رکوع میں جھکنے والے،سجدہ گزارنے والے،نیکی کی تلقین کرنے والے، برائی سے روکنے والے اوراللہ کی قائم کی ہوئی حدوں کی حفاظت کرنے والے(اے پیغمبر )ایسے مؤمنوں کو خوشخبری دےدو۔

 آیت میں ایک لفظ "أَلسَّائِحُوْنَ" آیا ہے، جس کا مطلب جمہور مفسرین کے ہاں"صَائِمُوْنَ"یعنی روزہ دار مراد ہیں اور حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ قرآن میں جہاں کہیں بھی سائحین کا لفظ آیا ہے وہاں صائمین مراد ہیں،حضرت عکرمہؒ جو کبارِ تابعین میں سے ہیں انہوں نے کہا سیاحت کرنے والوں سے مرادطالب علم ہیں جو علم کی طلب میں ملکوں میں پھرتے ہیں۔

(تفسیر روح المعانی،تفسیر سورۂ توبہ،آیت نمبر:۱۱۲)

اس تفسیر کو مفسرین نے رد نہیں کیا ہے اگرچیکہ حضرت عکرمہ رحمہ اللہ اس تفسیر میں منفرد ہیں۔
تیسری مثال
ارشاد باری تعالی ہے: "اِنَّمَا الصَّدَقٰتُ لِلْفُقَرَاءِ

(التوبہ:۶۰)

صدقات تو صرف غریبوں کے لیے ہیں..الخ۔

اس آیت کی تفسیر میں مفسرین نے غنی اور فقیر کے درمیان فرق کو واضح کیا ہے،غنی سے متعلق امام ابو حنیفہ ؒ نے فرمایا کہ غنی وہ شخص ہے جس کے پاس اصلی ضرورتوں کو پورا کرنے کے بعد بقدر نصاب زکوۃ مال باقی رہے۔

(تفسیر روح المعانی،سورۂ توبہ:آیت نمبر:۶۰)

عام مفسرین نے امام ابو حنیفہؒ کے ذکر کردہ تعریف غنی کو اپنی تفاسیر میں بلا کسی نکیر کے ذکر فرمایا ہے۔
 اس موضوع پر بھی بہت سی تفاسیرلکھی گئی ہیں؛ چنانچہ علامہ نیشاپوری رحمہ اللہ کی تفسیر"غرائب القرآن ا وررغائب الفرقان" قابل ذکر ہے اور علامہ نسفیؒ کی مدارک التزیل بھی قابل ذکر ہے اور علامہ آلوسی کی روح المعانی بھی ایک وقیع تفسیر ہے۔
نیز اردو تفاسیر میں  مفتی محمد شفیع صاحب کی تفسیرمعارف القرآن بھی اہم تفاسیر میں سے ایک ہے۔
(۵)پانچواں ماخذ: تفسیر القرآن بلغۃ العرب
 لغت عرب کو تفسیر کا ماخذ ماننے میں اگرچیکہ اہل علم کے یہاں اختلاف  ہے، جیسے کہ امام محمد رحمہ اللہ نے لغۃ عرب سے قرآن کی تفسیر کو مکروہ قراردیا ہے(حوالہ البرھان ۲/۱۶۰ نوع ۴۱)  کیونکہ؛ عربی زبان ایک وسیع زبان ہے اور بعض اوقات ایک لفظ کئی معانی پر مشتمل ہوتا ہے اور ایک جملے کے بھی متعدد اور کئی مفہوم ہوسکتے ہیں تو ایسے مواقع پر صرف لغت عرب کو بنیاد بناکر ان میں سے کوئی ایک مفہوم متعین کرنا تفسیر میں مغالطہ کا سبب بن سکتا ہے اور اسی وجہ سے اسکو مکروہ بھی کہا گیا ہے مگر محققین کا کہنا ہے کہ مغالطہ اسی وقت ہوتا ہے جبکہ لغت کے کثیر الاستعمال معانی کو چھوڑکر انتہائی قلیل الاستعمال معنی مراد لیے جائیں اس لیے ایسی جگہ جہاں قرآن وسنت وآثار صحابہ وتابعین میں سے کوئی صراحت نہ ملے تو آیت کی تفسیر لغت عرب کے عام محاورات(جن کا چل چلاؤہو) کے مطابق کی جائیگی۔
پہلی مثال
ایک مرتبہ حضرت عمر فاروق ؓ نے صحابہ کرامؓ سے درج ذیل آیت کے معنی دریافت کیے:

"أَوْ يَأْخُذَهُمْ عَلَى تَخَوُّفٍ"۔                  

(النحل:۴۷)

یا انہیں اس طرح گرفت میں لے کہ وہ دھیرے دھیرے گھٹتے چلے جائیں۔

یہ سن کر قبیلہ بنو ھذیل کا ایک شخص کھڑا ہوکر کہنے لگاکہ ہماری زبان میں"تخوف"کمی اور نقصان کو کہتے ہیں،حضرت عمرؓ نے پوچھا عربی اشعار میں یہ لفظ  اس معنی میں استعمال ہوا ہے؟اس نے کہا جی ہاں اور فوراً یہ شعر پڑھ دیا:

*تَخَوَّفَ الرَّحُلُ منها تامِكاً قَرِداً         *        كما تَخَوَّفَ عُودَ النبعةِ السَّفِنُ*

ترجمہ:کجاوہ کی رسی اونٹنی کے کوہان کے بال کو کم کرتی رہتی ہے، جیسا کہ لوہا کشتی کی لکڑی کو کم کرتا رہتا ہے۔
یہ سن کر حضرت عمرؓ نے حاضرین کو مخاطب کرکے فرمایا اپنے دیوان کو تھامے رکھو،صحابہ نے عرض کیا دیوان سے کیا مراد ہے تو آپ  نے فرمایا جاہلی شاعری،اس میں قرآن کی تفسیر اور تمہاری زبان کے معانی موجود ہیں۔         

(روح المعانی۱۰/۱۷۹، شاملہ )

دوسری مثال
علامہ سیوطی لکھتے ہیں کہ حضرت ابن عباس ؓ صحن کعبہ میں تشریف فرما تھے سوال کرنے والوں کا ایک ہجوم تھادو آدمی آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ ہم آپ سے تفسیر قرآن کے متعلق کچھ سوالات کرنا چاہتے ہیں، حضرت ابن عباس نے فرمایا دل کھول کر پوچھئے،انہوں نے پوچھا کہ آپ اس آیت باری تعالی کی تفسیر بتائیے:

"عَنِ الْيَمِينِ وَعَنِ الشِّمَالِ عِزِينَ"۔      

(المعارج:۳۷) 

  دائیں بائیں حلقے باندھے ہوں گے۔

حضرت ابن عباس  رضی اللہ عنہ نے فرمایا عزین کے معنی ہیں ساتھیوں کے حلقے،انہوں نے پھر سوال کیا کہ کیا اہل عرب اس معنی سے واقف ہیں؟حضرت ابن عباسؓ نے فرمایا :جی ہاں پھر آپ نے عبید بن الابرص کا شعر پڑھا ؎

فَجَاؤُا يُهْرَعُوْنَ إِلَيْهِ حَتً
يَكُوْنُوْا حَوْلَ مِنْبَرِهِ عِزِيْنًا
وہ لوگ اس کی طرف بھاگتے ہوئے آتے ہیں
اس کے منبر کے گرد حلقہ باندھ لیتے ہیں


(الاتقان،۲/۶۸،شاملہ)

دیکھیے یہاں حضرت ابن عباس ؓ نے آیت بالا کی تفسیر لغت عرب کی مدد سے کی ہے۔
تیسری مثال
اُسی صاحب نے آپ رضی اللہ عنہ سے درج ذیل آیت کی تفسیردریافت کی:

"وَابْتَغُوا إِلَيْهِ الْوَسِيلَةَ"۔         

(المائدۃ:۳۵)      

اور اس تک پہنچنے کے لیے وسیلہ تلاش کرو۔

حضرت ابن عباسؓ نے فرمایا کہ وسیلہ حاجت اور ضرورت کو کہتے ہیں اس نے پوچھا کہ اہل عرب اس معنی سے واقف ہیں:آپ  نے فرمایا کیا آپ نے عنترۃ نامی شاعر کا شعر نہیں سناہے؟پھر شعر پڑھا:

إنَّ الرِّجَالَ لَهُمْ إِلَيْكِ وَسِيلَةٌ          إِنْ يَأْخُذُوكِ، تكَحَّلِي وتَخَضَّبي

(الاتقان:۲/۶۹)

اس شعر میں وسیلہ کا لفظ حاجت وضرورت کے معنی میں استعمال ہوا ہےاور ظاہر ہے کہ ابن عباسؓ نے آیت بالا کی تفسیر لغت عرب سے کی ہے۔
اس نقطۂ نظر سے  بہت سی تفاسیر لکھی گئی ہیں،ان میں تفسیر خازن جس کا اصل نام "لباب التاویل فی معانی التنزیل(۲)السراج المنیر فی الاعانۃ علی معرفۃ بعض معانی کلام ربنا الحکیم الخبیر ،للخطیب شربینی"قابل ذکر ہیں۔

چھٹا ماخذ تفسیر القرآن بعقل سلیم
عقل سلیم جس کی اہمیت وضرورت سے کسی کو انکار نہیں ،دنیا کے ہر کام میں اسکی اہمیت ہوتی ہے اور پچھلے مآخذ سے فائدہ اٹھانا بغیر عقل سلیم کے معتبر نہیں اس ماخذ کو علاحدہ لکھنے کی ضرورت محض اس لیے پڑتی ہے کہ قرآن کریم کے معارف ومسائل ، اسرارورموز یقینا ًایک بحر بیکراں ہیں اور پچھلے مآخذ سے ان کو ایک حد تک سمجھا جاسکتا ہے ؛لیکن کسی نے بھی یہ کہنے کی جرأت نہیں کی کہ قرآن کریم کے اسرار ومعارف کی انتہاء ہوگئی اور مزید کچھ کہنے کی گنجائش نہیں رہی، یہ بات خود قرآن کریم کی صریح آیتوں کے خلاف ہوگی ، فرمان خدا وندی ہے:

"قُلْ لَّوْکَانَ الْبَحْرُ مِدَادًا لِّکَلِمٰتِ رَبِّیْ لَنَفِدَ الْبَحْرُ،الخ"۔              

(الکہف:۱۰۹)

 کہہ دو کہ اگر میرے رب کی باتیں لکھنے کے لیےسمندر روشنائی بن جائے،تو میرے رب کی باتیں ختم نہیں ہوں گی کہ اس سے پہلے سمندر ختم ہوچکا ہوگا،چاہے اس سمندر کی کمی پوری کرنے کے لیے ہم ویسا ہی ایک سمندر کیوں نہ لے آئیں۔

گویا اس آیت میں وضاحت ہے کہ ساری مخلوق مل کر بھی کلمات الہی کا احاطہ کرنا چاہے تو ممکن نہیں سارا سامان تسوید ختم ہوجائیگا اور لامتناہی کسی طرح بھی متناہیوں کی گرفت میں نہ آسکے گا ،متناہی صفات والے لا متنا ہی صفات والی ہستی کو کیونکر اپنی گرفت میں لاسکتے ہیں اور یقیناً قرآن کریم بھی صفات باری میں سے ایک ہے لہذا عقل سلیم کے ذریعہ ان حقائق اور اسرار پر غور و فکر کا دروازہ قیامت تک کھلاہوارہےگا اور جس شخص کو بھی اللہ تعالی نے علم و عقل اور خشیت و تقوی اور رجوع الی اللہ کی صفات سے مالا مال کیا وہ تدبیرکے ذریعہ نئے نئے حقائق تک رسائی حاصل کرسکتا ہے؛چنانچہ ہر دور کے مفسرین کی تفسریں اس بات کی واضح دلیل ہیں ۔
اور نبی اکرم کی دعاجو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے لیے تھی:

"اَللّٰھُمَّ عِلْمُہٗ الْکِتَابَ وَفقہُ فِی الدِّیْنِ"۔

(کنزالعمال فی سنن الأقول والأفعال:۱۳/۴۵۸، شاملہ،المؤلف:علي بن حسام الدين المتقي الهندي۔ بخاری، كِتَاب الْوُضُوءِ،بَاب وَضْعِ الْمَاءِ عِنْدَ الْخَلَاءِ،حدیث نمبر:۱۴۰، شاملہ، موقع الإسلام)

ترجمہ: اے اللہ ان کو تاویل یعنی تفسیر قرآن اور دین کی سمجھ عطا فرما۔

یہ دعا بھی اشارہ کرتی ہے کہ اس باب میں راہیں کھلی ہیں البتہ اہل علم نے اس معاملہ میں یہ اصول ضرور بتلایا ہے کہ عقل سلیم کے ذریعہ مستنبط ہونے والے وہی مسائل اور معارف معتبر ہوں گے جو سابق مآخذ سے متصادم نہ ہوں، یعنی ان سے نہ ٹکراتے ہوں، اصول شرعیہ کے خلاف کوئی نکتہ آفرینی کی جائے تو اسکی کوئی قدر وقیمت نہ ہوگی۔
ہم کو ایمان رکھنا چاہئے کہ کل کائنات خدا کی بنائی ہوئی اور اس کے قبضۂ قدرت میں ہے،لہذاقرآن کریم کی بعض آیتوں سے اگرکوئی ڈاکٹریا سائنس داں معلومات کو اخذ کرتا ہے اور وہ معلومات مذکورہ اصولوں سے متصادم نہ ہوں توایسی تفسیر بھی قابل اعتبار ہوگی ۔  
پہلی مثال

"لِلَّهِ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ يَخْلُقُ مَايَشَاءُ يَهَبُ لِمَنْ يَشَاءُ إِنَاثاً وَيَهَبُ لِمَنْ يَشَاءُ الذُّكُورَo أَوْيُزَوِّجُهُمْ ذُكْرَاناً وَإِنَاثاً وَيَجْعَلُ مَنْ يَشَاءُ عَقِيماً إِنَّهُ عَلِيمٌ قَدِيرٌo"۔ 

(الشوری:۴۹،۵۰)

سارے آسمانوں اور زمین کی سلطنت اللہ ہی کی ہے،وہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے،وہ جس کوچاہتا ہے لڑکیاں دیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے لڑکے دیتا ہےیا پھر ان کو ملاکر لڑکے بھی دیتا ہے اورلڑکیاں بھی اور جس کو چاہتا ہے بانجھ بنادیتا ہے،یقیناً وہ علم کا بھی مالک ہے قدرت کا بھی مالک۔

بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ اس  آیت میں خنثیٰ(ایسا شخص جو نہ مرد ہو نہ عورت) کا تذکرہ نہیں کیا ہے اور اس سے یہ نتیجہ نکالا کہ ان کا کوئی وجود ہی نہیں ہے؛لیکن ابن العربیؒ نے اس کا جواب دیا ہے کہ ایسا کہنا عقل کے خلاف بات ہے اس لیے کہ اللہ نے آیت کے ابتداء ہی میں فرمادیا"يَخْلُقُ مَا يَشَاءُ"وہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے،لہذااس میں خنثیٰ بھی شامل ہے۔      

(الجامع لاحکام القرآن:۱۶/۵۲، شاملہ)

دوسری مثال
حضرت موسی جب کوہ طور پر تیس دن کے لیے تشریف لے گئے تھےاور انہیں چالیس یوم تک وہاں رہنا پڑا تھاتو ان کے غائبانہ ان کی قوم نےبچھڑے کی پرستش شروع کردی تھی اس واقعہ سے متعلق ایک حصہ کو قرآن پاک نے یوں بیان کیا ہے :

"وَاتَّخَذَ قَوْمُ مُوسَى مِنْ بَعْدِهِ مِنْ حُلِيِّهِمْ عِجْلًا"۔             

(الاعراف:۱۴۸)

موسیٰ علیہ السلام کی قوم نے ان کے بعد زیورات سے ایک بچھڑا بنالیا۔

اس آیت کی تفسیر میں علامہ تستری رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں کہ بچھڑے سے مراد ہر وہ چیز ہے جس کی محبت میں گرفتار ہوکر انسان اللہ سے  منہ موڑلے ؛مثلاً اہل واولاد اور مال وغیرہ انسان تمام خواہشات کو ختم کردے جس طرح بچھڑے کے پجاری اس سے اسی حالت میں چھٹکارا پاسکتے ہیں جب وہ اپنی جانوں کو تلف کردیں۔                      

(التفسیر التستری:۱/۱۶۹،شاملہ)

یہ تفسیر بھی عقل سلیم کی روشنی میں کی جانے والی تفسیر کے قبیل سے ہے اور یہ اصول شرعیہ کے مخالف بھی نہیں ہے۔
تیسری مثال
قرآن پاک نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کا واقعہ ذکر کیا ہے جس میں اللہ تعالی نے ان کو اپنے لخت جگر حضرت اسماعیل  علیہ السلام کو ذبح کرنے کا حکم دیا تھا قرآن پاک میں یوں ہے:

"وَفَدَيْنَاهُ بِذِبْحٍ عَظِيمٍ "۔

(الصافات:۱۰۷)      

   اور اس کے عوض ہم نے ایک بڑا جانور دے دیا۔

اس کی تفسیر میں علامہ تستری لکھتے ہیں کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام چونکہ بتقاضائے بشریت اپنے بیٹے سے محبت کرتے تھے اس لیے اللہ تعالی نے آزمائش کے طور پر اس کو ذبح کرنے کا حکم دیا، منشأ خدا وندی دراصل یہ نہ تھا کہ ابراھیمؑ بیٹے کو ذبح کرڈالیں؛ بلکہ مقصود یہ تھا کہ غیراللہ کی محبت کو دل سے نکال دیا جائے ،جب یہ بات پوری ہوگئی اور حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنی عادت سے باز آگئےتو اسماعیل کے عوض ذبح عظیم عطا ہوئی۔                                        

   (التفسیر التستری:۱/۴۳۹، شاملہ)

یہ تفسیر بھی اسی قبیل سے ہے اور اصول شرعیہ کے معارض بھی نہیں ہے اس لیے اس کو قبول کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
اس عنوان پر تفسیر یں بھی لکھی گئی ہیں ، علامہ ابوالسعودکی"ارشاد العقل السلیم الی مزایا الکتاب الکریم" اور" تفسیر التستری"قابل ذکر ہیں۔

تفسیر کے لیے ضروری علوم
قرآن کریم کی آیات دو قسم کی ہیں ،ایک تو وہ آیتیں ہیں جن میں عام نصیحت کی باتیں،جنت ودوزخ کا تذکرہ اور فکر آخرت پیدا کرنے والی باتیں وغیرہ جس کو ہر عربی داں شخص سمجھ سکتا ہے؛بلکہ مستند ترجمہ کی مدد سے اپنی مادری زبان میں بھی ان آیات کو سمجھ سکتا ہے،ان آیات کے متعلق اللہ تعالی کا ارشاد ہے:

"وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْآنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُدَّكِر"۔ٍ                 

(القمر:۱۷)

اور حقیقت یہ ہے کہ ہم نے قرآن کو نصیحت حاصل کرنے کے لیے آسان بنادیا ہے؛ اب کیا کوئی ہے جو نصیحت حاصل کرے؟۔

دوسری قسم کی آیتیں وہ ہیں جو احکام وقوانین،عقائد اور علمی مضامین پر مشتمل ہیں ،اس قسم کی آیتوں کو پوری طرح سمجھنے اوران سے احکام ومسائل مستنبط کرنے کےلیےعلم تفسیرکاجانناضروری ہے ،صرف  عربی زبان کا سمجھنااس کے لیے کافی نہیں ہے،   صحابہ کرامؓ اہل عرب ہونے کے باوجودایسی آیتوں کی تفسیر اللہ کے رسولسے معلوم کیا کرتے تھے،اس کی تفصیلی مثالیں اس مقالہ میں آچکی ہیں؛یہاں سمجھنے کے لیے ایک مثال پر اکتفا کیا جارہا ہے،روزوں سے متعلق جب یہ آیت کریمہ نازل ہوئی:

"وَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الْأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الْأَسْوَدِ"۔

(البقرۃ:۱۸۷)

اورکھاتے پیتے رہو یہاں تک کہ سفید اور سیاہ دھاگے میں تمہیں فرق معلوم ہونے لگے۔

اس آیت کو سننے کے بعدحضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ(۶۷ھ) نے سفید اورسیاہ دھاگے اپنے تکئے کے نیچے رکھ لیے؛ تاکہ جب دونوں ایک دوسرے سے ممتاز ہونے لگیں تو اس سے وہ اپنے روزے کی ابتداء کرلیا کریں؛اسی طرح اور ایک روایت میں حضرت سہل بن سعدؓ (۹۸۱ھ) کہتے ہیں:کچھ لوگ جنہوں نے روزے کی نیت کی ہوتی وہ اپنے دونوں پاؤں سے سفید اورسیاہ دھاگے باندھ رہتے اور برابر سحری کھاتے رہتے؛یہاں تک کہ وہ دونوں دھاگے آپس میں ممتاز نہ ہوجائیں،آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام کو سمجھا یا کہ یہاں سفید اورسیاہ دھاگے سے مراد دن کی سفیدی اورشب کی سیاہی ہے۔

(بخاری،بَاب قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى، وَكُلُوا وَاشْرَبُوا،حدیث نمبر:۱۷۸۳، شاملہ، موقع الإسلام)

الغرض !قرآن کریم کی تفسیر کرنے کے لیے علم تفسیر کا جاننا ضروری ہے،کسی بھی آیت کی تفسیر اپنی رائے سے کرنے والا غلطی پر ہے،خود بھی گمراہ ہوگا اور دوسروں کو بھی گمراہ کرے گا،قرآن کریم کی تفسیرسمجھنے کے لیے مستند تفاسیر کا مطالعہ کرنا چاہیے اور علماء سے استفادہ کرنا چاہیے،اس مضمون کے آخر میں مستنداردو تفاسیر کے نام ذکر کیے گئے ہیں ،درج ذیل احادیث میں تفسیر قرآن کی باریکی کا اندازہ ہوتا ہے :


تفسیر بالرائے:

"مَنْ قَالَ فِي الْقُرْآنِ بِغَيْرِ عِلْمٍ فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنْ النَّارِ"۔

جو شخص قرآن میں بغیر علم کے گفتگو کرے وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنالے۔

"مَنْ قَالَ فِي كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ بِرَأْيِهِ فَأَصَابَ فَقَدْ أَخْطَأ"۔

جو شخص قرآن کے معاملے میں (محض) اپنی رائے سے گفتگو کرے اور اس میں کوئی صحیح بات بھی کہہ دے تب بھی اس نے غلطی کی۔

(ترمذی،باب ماجاء فی یفسر القرآن ،حدیث نمبر:۲۸۷۴۔ ابو داؤد،الکلام فی کتاب اللہ بغیر علم،حدیث نمبر:۳۱۶۷)


علامہ ماوردی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ بعض غلو پسند لوگوں نے اس حدیث سے یہ مطلب سمجھا کہ قرآن کریم کے بارے میں کوئی بات فکر ورائے کی بنیا دپر کہنا جائز نہیں؛ یہاں تک کہ اجتہاد کے ذریعے قرآن کریم سے ایسے معانی بھی مستنبط نہیں کیے جاسکتے جو اصول شرعیہ کے مطابق ہوں؛ لیکن یہ خیال درست نہیں؛ کیونکہ خود قرآن کریم نے تدبر اور استنباط کو جا بجا مستحسن قرار دیا ہے اور اگر فکر وتدبر پر بالکل پابندی لگادی جائے توقرآن وسنت سے شرعی احکام وقونین مستنبط کرنے کا دروازہ ہی بند ہوجائے گا ؛لہٰذا اس حدیث کا مطلب ہر قسم کی رائے پر پابندی لگانا نہیں ہے۔

(الاتقان :۲/۱۸)

چنانچہ اس بات پر جمہور علماء متفق ہیں کہ خود قرآن وسنت کے دوسرے دلائل کی روشنی میں اس حدیث کا منشاء یہ ہر گز نہیں ہے کہ معاملہ میں غور وفکر اور عقل ورائے کو بالکل استعمال نہیں کیا جاسکتا ؛بلکہ اس کا اصل منشاء یہ ہے کہ قرآن کریم کی تفسیر کے لیے جو اصول اجماعی طور پر مسلم اور طے شدہ ہیں ان کو نظر انداز کرکے جو تفسیر محض رائے کی بنیاد پر کی جائے وہ ناجائز ہوگی اور اگر اس طرح تفسیر کے معاملہ میں دخل دے کر کوئی شخص اتفاقاً کسی صحیح نتیجہ پر پہنچ جائے تو وہ خطا کار ہے، اب اصول تفسیر کو نظر انداز کرنے کی بہت سی صورتیں ہوسکتی ہیں مثلاً:
۱۔جو شخص تفسیر قرآن کے بارے میں گفتگو کرنے کی اہلیت نہیں رکھتا وہ محض اپنی رائے کے بل بوتے پر تفسیر شروع کردے۔
 ۲۔کسی آیت کی کوئی تفسیر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم یا صحابہ وتابعین سے ثابت ہو اور وہ اسے نظر انداز کرکے محض اپنی عقل سے کوئی معنی بیان کرنے لگے۔
۳۔ جن آیات میں صحابہ کرام وتابعین سے کوئی صر یح تفسیر منقول نہیں ان میں لغت اور زبان وادب کے اصولوں کو پامال کرکے کوئی تشریح بیان کرے۔
۴۔ قرآن وسنت سے براہ راست احکام وقوانین مستنبط کرنے کے لیے اجتہاد کی اہلیت نہ رکھتا ہو اور پھر بھی اجتہاد شروع کردے
 ۵۔ قرآن کریم کے متشابہ آیات (جن کے بارے میں قرآن نے خود کہے دیا ہے کہ ان کی سو فیصد صحیح مراد سوائے اللہ کے کوئی نہیں جانتا)  ان کی جزم ووثوق کے ساتھ کوئی تفسیر بیان کرے اور اس پر مصر ہو ۔
۶۔قرآن کریم کی ایسی تفسیر بیان کرے جس سے اسلام کے دوسرے اجماعی طور پر مسلم اور طے شدہ عقائد یا احکام مجروح ہوتے ہوں           
۷۔تفسیر کے معاملہ میں جہاں عقل وفکر کا استعمال جائز ہے وہاں کسی قطعی دلیل کے بغیر اپنی ذاتی رائے کو یقینی طور پر درست اور دوسرے مجتہدین کی آراء کو یقینی طور سے باطل قرار دے۔
یہ تمام صورتیں اس تفسیر بالرائے کی ہیں جن سے مذکورہ بالا حدیث میں منع کیا گیا ہے؛ چنانچہ ایک دوسری حدیث میں ان تمام صورتوں کو اس مختصر جملے میں سمیٹ دیا گیا ہے :

من قال فی القرآن بغیر علم فلیتبوأ مقعدہ من لنار

 (ترمذی،باب ماجاء یفسر القرآن،حدیث نمبر:۲۸۷۴)

 

جو شخص قرآن کریم کے معاملے میں علم کے بغیر کوئی بات کہے تو اپنا ٹھکانا جہنم میں بنالے۔

البتہ تفسیر کے اصولوں اور اسلام کے اجماعی طور پر طے شدہ ضوابط کی پابندی کرتے ہوئے اگر تفسیر میں کسی ایسی رائے کا اظہار کیا جائے جو قرآن وسنت کے خلاف نہ ہو تو وہ حدیث کی وعید میں داخل نہیں ہے؛ البتہ اس قسم کا اظہار رائے بھی قرآن وسنت کے وسیع وعمیق علم اور اسلامی علوم میں مہارت کے بغیر ممکن نہیں اور علماء نے اس کے لیے بھی کچھ کار آمد اصول مقرر فرمائے ہیں جو اصول فقہ اور اصول تفسیر میں تفصیل سے بیان ہوئے ہیں اور ان کا ایک نہایت مفید خلاصہ علامہ بدرالدین زرکشی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب "البرہان فی علوم القرآن کی نوع ۴۱ میں بالخصوص اقسام التفسیر کے زیر عنوان (صفحہ:۱۶۴۔۱۷۰)بیان فرمایا ہے، یہ پوری بحث نہایت قابل قدر ہے ؛لیکن چونکہ عربی زبان وعلوم کی مہارت کے بغیر اس سے فائدہ نہیں اٹھایا جاسکتا ،اس لیے اس کا ترجمہ یہاں نقل کرنا بے فائدہ ہے جو عربی داں حضرات چاہیں وہاں ملاحظہ فرماسکتے ہیں۔



 سابقہ تمام تفصیل سے یہ ثابت ہواکہ تفسیر قرآن مجید کے لیے کچھ ضروری علوم ہوتے ہیں جن کے بغیر تفسیر کرنا ایسا ہے جیسے بغیر آلات کے صناعی کرنا، کہ جیسے کوئی بھی فن بغیر آلاتِ ضروریہ کے نہیں آتا ایسے ہی ہر علم کا بھی یہی مسئلہ ہے؛ چنانچہ مفسرین اوراہل علم نے ضروری علوم کی تفصیل یوں بتلائی ہے:علم لغت،صرف ونحو، معانی ،بیان، بدیع ،عربی ادب، علم کلام،منطق ،حکمت  وفلسفہ،علم عقائد،علم تفسیر،پھر اس میں درجات اہل علم کے ہاں مانے گئےہیں،چنانچہ ابتدائی لغت وصرف نحو ادب یہ عربی زبان سیکھنے اور اس کی باریکیوں کو جاننے کے لیے ہیں؛ کیونکہ قرآن مجید عربی زبان میں نازل کیا گیا نیز معانی بیان وبدیع وغیرہ اس کی رعنایوں کو سمجھنے ک لیے اورمنطق حکمت  وفلسفہ کلام،دوسری زبانوں سے مستعا رعلوم کے ذریعہ جو گمراہیاں آ سکتی ہیں اس کے دفع کے لیے، پھر علم تفسیر کے اندر بھی کئی تفصیلات بتلائی گئی ہے؛ مثلا وحی اوراس کی ضرورت کو سمجھنا پھر وحی کی اقسام مثلاً، وحی قلبی، وحی ملکی، پھر وحی کی مختلف شکلیں جیسے صلصلۃ الجرس اورفرشتے کاانسانی شکل میں آنا،رویائے صادقہ ،نفث فی الروع، پھر وحی متلو وغیر متلو، پھر قرآن کریم کے نزول کے متعلق تفصیلات اورسورتوں کی تدوین مکی ومدنی ہونے کے اعتبار سے نیز بعض مدنی سورتوں میں مکی آیتیں اوربعض مکی سورتوں میں مدنی آیتیں کونسی ہیں اسکا استقصاء پھر قرآن کریم سات حروف پر نازل ہونے کا کیا مطلب ہے؛ پھر ناسخ و منسوخ آیتوں کی تفصیلات ،سبعہ احرف سے کیا مراد ہے اورحفاظت قرآن اورجمع قرآن کی تفصیلات پھر اس کے اندر دیئے ہوئے علامات وقف کی تفصیلات اوراسی میں پاروں کی تقسیم اوراس کے اعراب وحرکات سے متعلق تفصیلات پھر قرآن کریم میں جو مضامین ذکرکئے گئے ہیں،مثلا عقائد،واقعات اورایام اللہ وانعم اللہ،پھر آیات مقطعات و متشابھات ومحکمات وغیرہ کی تفصیلات،بہرحال یہ تو چندضروری علوم کی طرف اشارہ کیا گیا ہے،  ان کی تفصیل میں جائیں تو بہت وقت لگ جائے ۔

اہم مفسرین کے نام مع تاریخ وفات
 جب اہم مفسرین کا ذکر آتا ہے تو سب سے پہلے قرن اول یعنی صحابہ وتابعین کا ذکر ضروری ہوتا ہے۔
لہٰذا سب سے پہلے صحابہ رضی اللہ عنہم میں سے اہم مفسرین کے نام آتے ہیں اوران میں سے بھی پہلے حضرت عبداللہ بن عباسؓ ہیں جو مفسر اول کے نام سے جانے جاتے ہیں اورحضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے نام سے جو تفسیر فی زمانہ منظر عام پرآئی ہے تنویر المقیاس فی تفسیر ابن عباس رضی اللہ عنہ حتی کہ اسکا اردو ترجمہ بھی شائع ہوگیا؛ لیکن حضرت ابن عبا س رضی اللہ عنہ کی طرف اس کی نسبت درست نہیں مانی گئی ہے ؛کیونکہ یہ کتاب "محمد بن مروان السّدّی عن محمد بن السائب الکلبی عن ابی صالح عن ابن عباسؓ"کی سند سے مروی ہے اوراس سلسلہ سند کو محدثین نے سلسلۃ الکذب قراردیاہے۔       

(دیکھئے الاتقان:۱۸۸/۲)

بہرحال قرن اول کے مفسرین میں پہلانام حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کا ہے تاریخ وفات سنہ۶۸ھ۔
دوسرانام حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ وفات سنہ۴۰ھ۔
پہلے تین خلفاء کی نسبت حضرت علی سے تفسیری روایات زیادہ مروی ہیں ؛چنانچہ علامہ ابوالطفیل رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ حضرت علیؓ اپنے خطبے میں یوں فرمایا کہ لوگو!مجھ سے کتاب اللہ کے بارے میں سوالات کیا کرو؛ کیونکہ قسم خدا کی قرآن کریم کی کوئی آیت ایسی نہیں ہے جس کے بارے  میں مجھے معلو نہ ہوکہ یہ آیت رات کو نازل ہوئی یا دن میں میدان میں اتری یا پہاڑ پر۔     

( الاتقان:۱۸۷/۲)

تیسرا نام حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ متوفی سنہ۳۲ھ۔
 ان کی بھی کئی روایات تفسیر میں منقول ہیں؛ بلکہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے مقابلہ میں زیادہ منقول ہیں۔
چوتھا نام حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ متوفی سنہ۳۹ھ۔
 حضرت ابی بن کعب اُن صحابہ میں سے ہیں جو تفسیر اورعلم قرأت میں مشہور ہیں، چنانچہ رسول اللہ  نے ان کے بارے میں ارشاد فرمایا ، اَقْرَأُ کُمْ اُبَیْ ابْنُ کَعْبٍ، تم میں سب سے بڑے قاری ابی بن کعب ہیں۔                   

(تذکرۃ الحفاظ للذھبی:۳۸/۲)

حضرت ابی بن کعب کی علمی وقعت کا اندازہ اس سے بھی کیا جاسکتا ہے کہ حضرت معمر رحمہ اللہ نے فرمایا کہ:

"عَامَّۃُ عِلْمِ ابنِ عَبَّاسٍ مِنْ ثَلٰثَہٍ،عُمَر وَعَلِی وَاُبَیْ بنُ کَعبٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُمْ"۔

(تذکرۃ الحفاظ للذھبی:۳۸/۲)

 ترجمہ:حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے بیشتر علوم تین حضرات سے ماخوذ ہیں،حضرت عمر وعلی وابی بن کعب رضی اللہ عنہم۔ٍ

ان حضرات صحابہ رضی اللہ عنہم کے علاوہ اوربھی کچھ نام تفسیر کے سلسلہ میں منقول ہیں مثلا  زید بن ثابتؓ، معاذ بن جبلؓ، عبداللہ بن عمروؓ، عبداللہ بن عمرؓ، حضرت عائشہؓ ، جابرؓ ، ابو موسیٰ اشعری ؓ،انس ؓ اورحضرت ابوھریرہ رضی اللہ عنہم۔
تابعین
حضرات صحابہ رضی اللہ عنہم نے چونکہ مختلف علاقوں اورمقامات میں پھیل کر قرآن کریم کی خدمت کا سلسلہ شروع کیا ،جس کی وجہ سے تابعین کی ایک بڑی جماعت اس کام کے لیے تیار ہوئی، جس نے علم تفسیر کو محفوظ رکھنے میں نمایاں خدمات انجام دیں، ان میں سے کچھ برائے تعارف پیش کئے جاتے ہیں:
(۱)حضرت مجاہدؒ یہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے شاگرد ہیں پورانام ہے ابوالحجاج مجاہد بن جبر المخزومی، ولادت  سنہ۲۱ ھ اوروفات سنہ۱۰۳ھ۔
(۲)حضرت سعید بن جبیرؒ،وفات۹۴ھ
(۳)حضرت عکرمہؒ
(۴) حضرت طاؤسؒ ،وفات۱۰۵ھ
(۵)حضرت عطاء بن ابی رباح،وفات۱۱۴ھ
(۶)حضرت سعید بن المسیبؒ،وفات۹۱ھ یا ۱۰۵ھ
(۷)محمد بن سیرینؒ،وفات۱۱۰ھ
(۸)حضرت زید بن اسلمؒ،وغیرہ۔                        

(منقول از علوم القرآن:۴۶۱)

تفاسیر کی اہم کتابیں
مفسرین نے اپنے اپنے ذوق کے لحاظ سے کئی نقطۂ نظر سے تفسیریں لکھی ہیں؛مثلاًادبی،عقلی اور کلامی وغیرہ،بعض نے تفسیر بالماثور بھی لکھی،بعض نے تفسیر اشاری یعنی صوفیانہ اندازپر تفسیرلکھی،غرض مختلف نقاط نظر سے قرآن کی خدمت کی گئی ہے۔
تفسیر بالماثور میں اہم تفاسیر
 تفسیر طبری،تفسیر بحرالعلوم ازسمر قندی،الکشف والبیان عن تفسیر القرآن از ثعالبی، معالم التنزیل ازبغوی، المحرر الوجیز فی تفسیر الکتاب لابن عطیہ،تفسیر ابن کثیر،الدر المنثور فی تفسیر الماثور ازسیوطی،الجواہر الحسان فی تفسیر القرآن ازثعالبی- خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔
 تفسیر بالرائے کے نقطۂ نظر سے لکھی جانے والی کتابوں میں
 مفاتیح الغیب ازرازی،انوارالتنزیل واسرار التاویل ازبیضاوی،مدارک التنزیل وحقائق التاویل فی معانی التنزیل از خازن، غرائب القرآن ورغائب الفرقان از نیسا پوری،تفسیر جلالین، السراج المنیراز خطیب شربینی،روح المعانی از آلوسی۔وغیرہ قابل ذکر ہیں۔
صوفیانہ نقطۂ نظر سے لکھی جانے والی تفاسیر میں
تفسیر ابن عربی، تفسیر فیضی،تفسیر القرآن العظیم از تستری، حقائق التفسیر ازسلمی، عرائس البیان فی حقائق القرآن وغیرہ ہیں۔
 فقہی نقطہ نظر سے لکھی جانے والی کتابوں میں:
 احکام القرآن ازکیاہراسی، احکام القرآن ازابن العربی،الجامع لاحکام القرآن از قرطبی،کنزا لعرفان فی فقہ القرآن، احکام القرآن للجصاص،احکام القرآن للتھانوی اور اردو میں ایک مختصر سی کتاب مولانا عبدالمالک صاحب کاندھلوی کی فقہ القرآن کے نام سے آئی ہے۔


اسرائیلیات کی حیثیت:
قرآن مجید کے نزول سے قبل دیگر آسمانی کتابیں مثلاًتورات وانجیل وغیرہ نازل ہوچکی تھی اور نزولِ قرآن کے زمانہ میں اہل کتاب کی ایک بڑی تعداد موجود تھی جو قرآن میں بیان کردہ انبیاء کرام کے واقعات  کو اپنی کتابوں کے حوالہ سے بھی پیش کرتے تھے اوربعض اوقات من گھڑت حکایات بھی نقل کردیتے ؛لیکن اس سلسلہ میں نبی کریم نہایت قیمتی اصول بیان فرمائے جو آگے پیش کیئے جائیں گے تو آئیے قرآن کریم میں اسرائیلیات کی حیثیت اوران کا مقام و مرتبہ کیا ہے ،اس کو فرامین رسول کی روشنی میں اور علمائے امت کی تحریروں کے آئینہ میں ملاحظہ کرتے ہیں:
اسرائیلی روایات کی تعریف اس طرح کی گئی ہے:

"الاسرائیلیات: الاخبار المنقولۃ عن بنی اسرائیل من الیھود وھو الاکثر اومن النصاری"۔

(قسم التفسیر واصولہ:۱/۴۷)

اسرائیلیات وہ باتیں جو  بنی اسرائیل  یعنی یہودیوں سے بکثرت منقول ہیں یا نصاریٰ سے۔

شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی مدظلہ نے رقم فرمایا کہ:
"اسرائیلیات یا اسرائیلی روایات ان روایات کو کہتے ہیں جو یہودیوں یا عیسائیوں سے ہم تک پہنچی ہیں ان میں سے بعض براہِ راست بائبل یا تالمود سے لی گئی ہیں بعض منشاءاوران کی شروح سے اوربعض وہ زبانی روایات ہیں جو اہل کتاب میں سینہ بسینہ نقل ہوتی چلی آئی ہیں اور عرب کے یہود ونصاری میں معروف  ومشہور تھیں"۔

(علوم القرآن:۳۴۵)




اسرائیلیات کی ابتداء:

جب قرآن مجید نازل ہونےلگا اوراس میں حضرات انبیاء کرام کے واقعات اوران کی قوموں کے احوال بیان کیے جانے لگے تو اہل کتاب یہود ونصاری اپنی عبرانی زبان میں موجود کتابوں سے جو تحریف شدہ تھے اس سے واقعات عربی میں حضرات صحابہ کرام ؓسے بیان کرتے تھے جب اس واقعہ کی اطلاع نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم ان اہل کتاب کے بیان کردہ واقعات کی نہ ہی تصدیق کرو اورنہ تکذیب ؛بلکہ کہو کہ جو کچھ اللہ تعالی نے نازل کیا  ہےہمارا اس پر ایمان  ہے؛چنانچہ حضرت ابو ہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ:

"كَانَ أَهْلُ الْكِتَابِ يَقْرَءُونَ التَّوْرَاةَ بِالْعِبْرَانِيَّةِ وَيُفَسِّرُونَهَا بِالْعَرَبِيَّةِ لِأَهْلِ الْإِسْلَامِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ لَا تُصَدِّقُوا أَهْلَ الْكِتَابِ وَلَا تُكَذِّبُوهُمْ وَقُولُوا آمَنَّا بِاللَّهِ وَمَا أُنْزِلَ إِلَيْنَا"۔

(بخاری، بَاب:قُولُوا آمَنَّا بِاللَّهِ وَمَا أُنْزِلَ إِلَيْنَا،حدیث نمبر:۴۱۲۵)

اہل کتاب تورات عبرانی زبان میں پڑھتے تھے اور اہل اسلام کے لیے اس کی تفسیر عربی زبان میں کرتے تھے،رسول اللہ نے ارشاد فرمایا: اہل کتاب کی نہ تصدیق کرو اور نہ تکذیب کرو اور کہو کہ ہم اللہ پر اور جو اس نے نازل کیا ہے اس پر ایمان لاتے ہیں۔
علامہ ابن حجر عسقلانی ؒ (المتوفی:۸۵۳ ھ) حدیث کی تشریح کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد فرمانا کہ نہ تم ان کی تصدیق کرو نہ تکذیب یہ اس وجہ سے ہے کہ جن باتوں کی وہ خبر دے رہے ہیں وہ سچ اورجھوٹ دونوں کا احتمال رکھتی ہیں،اگر فی الواقع وہ سچ ہوں اور تم ان کی تکذیب کردویا اگر وہ جھوٹ ہوں اور تم اس کی تصدیق کردو تو دونوں اعتبار سے حرج اور تنگی میں پڑجانے کا اندیشہ ہے اس لیے ان کی بیان کردہ باتوں کو سن کر نہ تصدیق کی جائے نہ تکذیب؛ تاکہ فتنہ میں نہ پڑو۔

(فتح الباری،حدیث نمبر:۴۱۲۵،شاملہ)


دومتعارض حدیثوں کا جواب:

اسرائیلیات کے عنوان میں دوحدیثیں ہیں ایک جو ابھی اوپر مذکور ہوئی دوسری حدیث ہے کہ:

"حَدِّثُوا عَنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ وَلَا حَرَجَ"۔

(ابو داؤد،بَاب الْحَدِيثِ عَنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ،حدیث نمبر:۳۱۷۷)

اس حدیث سے یہ معلوم ہورہا ہے کہ بنی اسرائیل کےبیان کردہ واقعات وغیرہ کے ذکر کرنے میں کوئی حرج نہیں جبکہ پہلی روایت سے معلوم ہورہا ہے کہ بنی اسرائیل کے بیان کردہ واقعات پر اعتماد نہیں کرنا چاہئے چہ جائیکہ ان کو بیان کیا جائے بظاہر دوحدیثوں میں باہم تعارض دکھائی دے رہا ہے، اس کا جواب دیتے ہوئے علامہ محمد حسین الذہبی رحمۃ اللہ علیہ  فرماتے ہیں کہ اس حدیث میں جو بنی اسرائیل سے بیان کرنے کی اجازت نظر آتی ہے وہ وہ واقعات اور عبرت ونصیحت پر مشتمل  حکایات ہیں جن کے بارے میں معلوم بھی ہو کہ وہ سچ ہیں توان کو بیان کیا جاسکتا ہے اورپہلی حدیث میں توقف ہے کہ ان کے بیان کرنے میں احتیاط کی جائے تاکہ سچ اور جھوٹ میں اختلاط نہ ہوجائے اوراس خلط ملط کے نتیجہ میں حرج میں نہ پڑ جائے، خلاصہ یہ ہے کہ دوسری حدیث عبرت ونصیحت پر مشتمل حکایات کی اباحت پردلالت کرتی ہے اورپہلی حدیث ان مضامین کے بارے میں توقف پردلالت کرتی ہے جن میں عبرت ونصیحت سے ہٹ کر دیگر مضامین ہوں؛اس طرح کوئی بھی حدیث متعارض نہیں۔

اسرائیلیات کا حکم:

اس سلسلہ میں تقریباً علمائے امت نے ایک ہی جواب دیا ،الفاظ وتعبیرات اگر چہ مختلف ہیں؛ لیکن حکم ایک ہی ہے، آگے ہم مختلف علماء کرام کی تحریریں پیش کریں گے، سب سے پہلے شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی مدظلہ کے دلنشین اورصاف وشفاف تحریر کو نقل کرتے ہیں جو انہوں نے علامہ ابن کثیرؒ کے حوالہ سے پیش کی ہے؛ چنانچہ رقمطراز ہیں کہ:
(۱)پہلی قسم وہ اسرائیلیات ہیں جن کی تصدیق دوسرے خارجی دلائل سے ہوچکی ہے مثلا: فرعون کا غرق ہونا وغیرہ، ایسی روایات اسی لیے قابلِ اعتبار ہیں کہ قرآن کریم یا صحیح احادیث نے ان کی تصدیق کردی ہے۔
(۲)دوسری قسم وہ اسرائیلیات ہیں جن کا جھوٹ ہونا خارجی دلائل سے ثابت ہوچکا ہے،مثلا: یہ کہانی کہ حضرت سلیمان علیہ السلام آخر عمر میں (معاذ اللہ) بت پرستی میں مبتلا ہوگئے تھے یہ روایت اس لیے قطعا باطل ہے کہ قرآن کریم نے صراحۃ ًاس کی تردید فرمائی ہے۔
(۳)تیسری قسم ان اسرائیلیات کی ہے جن کے بارے میں خارجی دلائل ہے نہ یہ ثابت ہو تا ہے کہ وہ سچی ہیں اورنہ یہ ثابت ہوتا ہے کہ جھوٹ ہیں، مثلا تورات کے احکام وغیرہ ایسی اسرائیلیات کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:

"لا تصدقوھا ولاتکذبوھا"۔

اس قسم کی روایات کو بیان کرنا تو جائز ہے؛ لیکن ان پرنہ کسی دینی مسئلہ کی بنیاد رکھی جاسکتی ہے نہ ان کی تصدیق یا تکذیب کی جاسکتی ہے اوراس قسم کی روایات کو بیان کرنے کا کوئی خاص فائدہ بھی نہیں۔         

(علوم القرآن:۳۶۴)

یہی بات علامہ محمد حسینی ذہبیؒ اور علامہ ابن تیمیہؒ وغیرہ نے بھی کہی ہے۔

(التفسیروالمفسرون للذھبی،باب ثانیا:الااسرائیلیات:۴/۱۴)

مسند الہند حضرت امام شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ (المتوفی:۱۱۷۶) نے نہایت اختصار کے ساتھ مگر جامع بات لکھی ہے کہ تفسیر میں اسرائیلی روایتوں کو بیان کرنا دراصل یہ بھی ایک سازش ہے جبکہ یہ قاعدہ مسلم ہے کہ اہل کتاب کی نہ تصدیق کرو نہ ان کی تکذیب کرو؛ لہٰذا اس قاعدہ کی بنیاد پر دوباتیں نہایت ضروری ہیں:
(۱)جب حدیث میں قرآن کریم کے اشارہ کی تفصیل موجود ہو تو اسرائیلی روایات کو تفسیر میں نقل نہیں کرنا چاہئے۔
(۲)قرآن کریم میں جس واقعہ کی طرف اشارہ آیا ہو اس کی تفصیل ضرورت کے بقدر ہی بیان کرنی چاہئے تاکہ قرآن کریم کی گواہی سے اس کی تصدیق ہو کیونکہ یہ بھی قاعدہ ہے کہ ضروری بات بقدر ضرورت مانی جاتی ہے۔

(الفوزالکبیر مع شرح الخیر الکثیر:۴۵۳)


اسرائیلی روایات کی مثالیں:

"وَجَاءُوْ عَلٰی قَمِیْصِہٖ بِدَمٍ کَذِبٍ"۔

(یوسف:۱۸)

اوریوسف کی قمیص پر جھوٹ موٹ کا خون لگاکر لے آئے۔

(۱)اس روایت کا خلاصہ یہ ہے کہ یوسف علیہ السلام کے بھائیوں نے اپنے والد کو اس بات کا یقین دلانے کےلیے کہ حضرت یوسف کو  ایک بھیڑئے نے ہی کھالیا ہے ،ایک بھیڑئےکو باندھ کرحضرت یوسف کے والد حضرت یعقوب کے پاس لے آئے اور کہا کہ: ابا جان! یہی وہ بھیڑیا ہے جو ہماری بکریوں کے ریوڑ میں آتا رہتا ہے اور ان کو چیرتا پھاڑتا ہے،ہمارا خیال ہے کہ اسی نے ہمارے بھائی یوسف کا خون کیا ہے،حضرت یعقوب نے بھیڑئے سے کہا قریب آؤقریب آ ؤ،وہ قریب آگیا ،اس سے کہا تم نے میرے بیٹے کو مار کر تکلیف پہنچائی اور مسلسل غم میں مبتلا کردیا ہے ،پھر حضرت یعقوب نے اللہ سے دعا کی کہ،یا اللہ !تو اس کو گویائی دے،اللہ نے اس کو بولنا سکھادیا، بھیڑئے نے کہا ،اس ذات کی قسم جس نے آپ کو نبی بنایا ہے، نہ میں نے اس کا گوشت کھایا نہ میں نے اس کی کھال ادھیڑی ہے، نہ میں نے اس کا ایک بال اکھیڑا ہے،قسم خدا کی آپ کے لڑکے سے میرا کوئی سروکار نہیں ،میں ایک پردیسی بھیڑیا ہوں میں مصر کے اطراف سے اپنے ایک بھائی کی تلاش میں آیا ہوا ہوں،میں اس کی جستجو میں تھا کہ آپ کے لڑکوں نے میرا شکار کرلیا،ہم لوگوں پر انبیاء اوررسولوں کا گوشت حرام کردیا گیا ہے..الخ۔     

(تفسیر ثعلبی:۴/۲۱) 

 

"فَاَلْقٰہَا فَاِذَا ہِىَ حَیَّۃٌ تَسْعٰی"۔

(طٰہٰ:۲۰)

انہوں نے اسے پھینک دیا،وہ اچانک ایک دوڑتا ہوا سانپ بن گئی۔

(۲)اس آیت کے سلسلہ میں وہب بن منبہ کی ایک روایت ہے،انہوں نے کہا کہ حضرت موسی نے جب عصا کو زمین پر ڈالا تودیکھا کہ وہ ایک عظیم الجثہ اژدھا بن گیا،لوگ حیرت واستعجاب اور خوف زدہ نگاہوں سے دیکھ رہے تھے،اژدھا اِدھر اُدھر رینگ رہا ہے، جیسے کچھ تلاش کررہا ہو، اژدھا رینگتا ہوا پہاڑ کی چٹانوں کے پاس پہنچ گیا تو بھوکے اونٹ کی طرح بیتابی کے ساتھ پوری چٹان نگل گیا،جب وہ اپنا منھ بڑے سے بڑے تناور درخت کی جڑوں پر لگادیتا تھا تو اس کو جڑ سے اکھاڑ پھینک دیتا تھا،اس کی دونوں آنکھیں دھکتے ہوئے انگاروں کی طرح تھیں؛اس کے بال نیزوں کی طرح تھے..الخ۔         

(تفسیر ابن کثیر:۵/۲۷۹)

"أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِي حَاجَّ إِبْرَاهِيمَ فِي رَبِّهِ أَنْ آتَاهُ اللَّهُ الْمُلْك"۔

(البقرۃ:۲۵۸)

کیا تم نے اس شخص (کے حال) پر غور کیا جس کو اللہ نے سلطنت کیا دے دی تھی کہ وہ اپنے پروردگار( کے وجود ہی) کے بارے میں ابراہیمؑ سے بحث کرنے لگا؟۔

(۳)اس آیت کی تفسیر میں ایک روایت میں نمرود کے بارے میں اس طرح لکھا ہوا ہے:ایک مچھر نمرود  کی ناک میں گس گیا اور اس کی ناک میں چار سو سال تک بھنبھناتا رہا،اس مچھر کی اذیت کی وجہ سے نمرود انتہائی بے چین رہتا تھا اور مستقل عذاب میں مبتلا تھا اور جب تکلیف کی شدت اور بے چینی بڑھ جاتی تھی تو لوہے کی سلاخ سے یا ہتھوڑے سے اس کے سر کو ٹھونکا جاتا تھا جس سے مچھر کی اذیت کچھ ہلکی پڑتی تھی ،اسی عذاب میں نمرود چار سو سال زندہ رہا پھر اسی اذیت کی وجہ سے مرگیا۔             

(تفسیر ابن کثیر:۱/۳۱۳)

یہ تینوں روایتیں اسرائیلی خرافات میں سے ہیں،جیسا کے علماء امت نے اس کی تصریح کی ہے۔

(تفسیروں میں اسرائیلی روایات:۴۴۴)

قرآن کریم جو اللہ تبارک وتعالی کا عظیم ترین اورمقدس ترین کلام ہےاور رسول کریم کا حیرت انگیز ابدی ودائمی معجزہ ہے،جو ساری انسانیت کے لیے نسخہ ہدایت اوردستور حیات بنا کر نازل کیا گیا، جس سے مردہ دلوں کی مسیحائی ہوئی اورگم گشتہ راہ لوگوں کومنزلِ مقصود کا پتہ ملا، جس کی علمی  ،ادبی حلاوتوں،روحانی راحتوںاورمعانی ومفاہیم کے بے پناہ وسعتوں نے ہر زمانہ کے انسانوں کو متاثر کیا اورقلب و نظر کی دنیا میں انقلاب کا ذریعہ ہے، سب سے بڑا اعجاز اس کلام مبارک کا یہ بھی ہے کہ اس کی حفاظت کی ذمہ داری اللہ تعالی نے لی ہے جو اس دنیا میں ازل سے کسی اورکتاب یا صحیفہ آسمانی کو نصیب نہیں ہوا اور علوم و معارف کے اس گنجینۂ گراں مایہ کی حفاظت اورخدمت کے لیے انسانوں ہی میں سے مختلف علوم کے مختلف افراد کا انتخاب فرمایا؛ چنانچہ الفاظ قرآنی کے لیے حفاظِ کرام کوسعادت حفظِ قرآن بخشی اورمرادِ ربانی منشائے نبوی کی صحیح تعیین و تشریح کے لیے حضرات مفسرین کو منتخب کیا؛ چنانچہ مفسرین کرام نے اپنی خدادا دذہانت اورتمام تر صلاحیت کو اس کلام الہٰی کی غواصی میں لگادیا؛ لیکن آج کسی نے یہ دعویٰ نہیں کیا کہ تمام تر موتیوں اورعلم وحکمت کے جواہر پاروں کو اکٹھا کیا جاسکا ،یہ کلام ایک بحر بیکراں ہے جس کی مختلف زبانوں میں علمائے امت نے اپنی صبح و شام کی محنتوں کا محور بنایا،آج انہی علماء کرام اورمفسرین عظام کی کوششوں اورکاشوں کا ثمرہ ہے کہ مختلف زبانوں میں قرآن کی تفسیر موجود ہے، ذیل میں ہم صرف تفسیر قرآن کی مختلف کتابوں کے نام مع اسمائے مصنفین وسن وفات پیش کرتے ہیں، جو شروع سے لے کر آج تک امت میں مقبول ومتداول ہیں اورلا تعداد انسان ان کتابوں سے استفادہ کررہے ہیں پہلے عربی تفاسیر کے نام بعد ازاں اردو کتب تفاسیر رقم کی جارہی ہیں۔

اہل کتاب کی روایات نقل کرنے والے حضرات
عہد صحابہ اوراس کے بعد کے ادوار میں بھی تفسیر قرآن کے ماخذ کے طورپر یہودونصاریٰ رہے ہیں؛ کیونکہ قرآن کریم بعض مسائل میں عموماً اورقصص انبیاء اور اقوام سابقہ کے کوائف واحوال میں خصوصاً تورات کے ساتھ ہم آہنگ ہے، اسی طرح قرآن کریم کے بعض بیانات انجیل سے بھی ملتے ہیں؛ مثلاً حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت کا واقعہ اوران کے معجزات وغیرہ۔
البتہ قرآن کریم نے جو طرز و منہاج اختیار کیا ہے وہ تورات وانجیل کے اسلوب بیان سے بڑی حد تک مختلف ہے،قرآن کریم کسی واقعہ کی جزئیات وتفصیلات بیان نہیں کرتا، بلکہ واقعہ کے صرف اسی جز پر اکتفاء کرتا ہے جو عبرت وموعظت کے نقطۂ نظر سے ضروری ہوتا ہے، یہ انسانی فطرت ہے کہ تفصیلی واقعہ کو پسندیدگی کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے، اسی کا نتیجہ تھا کہ صحابہ کرام اوربعد کے ادوار میں تابعین اور تبع تابعین حضرات اہل کتاب کے ان اہل علم سے جو حلقہ بگوش اسلام ہوچکے تھے قرآن میں ذکر کردہ واقعات کی تفصیل کے واسطے رجوع کیا کرتے تھے، اسرائیلی روایات کا مدار وانحصار زیادہ تر حسب ذیل چار راویوں پر ہے:
عبداللہ بن سلامؓ، کعب احبار، وھب بن منبہ، عبدالملک بن عبدالعزیزابن جریج، جہاں تک عبداللہ بن سلامؓ کی بات ہے تو آپ کے علم وفضل میں کسی شبہ کی گنجائش نہیں ہے اور ثقاہت و عدالت میں آپ اہل علم صحابہ میں شمار ہوتے ہیں، آپ ؓ کے بارے میں قرآن کریم کی آیات نازل ہوئیں، امام بخاری ؒ اورامام مسلمؒ اوردیگر محدثین نے آپ کی روایات پر اعتماد کیا ہے۔
حضرت کعب احبار بھی ثقہ راویوں میں سے ہیں،ا نہوں نے زمانہ جاہلیت کا زمانہ پایا اورخلافت صدیقی یا فاروقی میں حلقہ بگوش اسلام ہوئے، حافظ ابن حجر فرماتے ہیں کہ خلافت فاروقی میں آپ کے اسلام لانے کی بات مشہور تر ہے۔

(فتح الباری ،۱۵۸/۱ حدیث نمبر:۹۵)

آپ کے ثقہ اورعادل ہونے کا واضح ثبوت یہ ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ وحضرت ابوھریرہ رضی اللہ عنہ  اپنی جلالت قدر اورعلمی عظمت کے باوجود آپ سے استفادہ کرتے تھے، امام مسلمؒ نے صحیح مسلم میں کتاب الایمان کے آخر میں کعب سے متعدد روایات نقل کی ہیں، اسی طرح ابوداؤد،ترمذی اورنسائی نے بھی آپ سے روایت کی ہیں؛ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت کعب احبار ان سب محدثین کے نزدیک ثقہ راوی ہیں۔
اسی طرح وھب بن منبہ کی جمہور محدثین اورخصوصاً امام بخاری ؒ نے توثیق وتعدیل کی ہے،ان کے زہد وتقوی کے بارے میں بڑے بلند کلمات ذکر کئے ہیں، فی نفسہ یہ بڑے مضبوط راوی ہیں ؛البتہ بہت سے لوگوں نے ان کی علمی شہرت وعظمت سے غلط فائدہ اٹھایا کہ بہت سی غلط باتوں کو ان کی طرف منسوب کرکے اپنے قد کو اونچا کیا اورلوگوں نےان کو تنقید کا نشانہ بنایا۔
 ابن جریج اصلاً رومی تھے،مکہ کے محدثین میں سے تھے ،عہد تابعین میں اسرائیلی روایات کے مرکز ومحور تھے،تفسیر طبری میں نصاری سے متعلق آیات کی تفسیر کا مدار انہی پر ہے، ان کے بارے میں علماء کے خیالات مختلف ہیں، بعض نے توثیق کی ہے تو بعض نے تضعیف بھی کی ہے ،بکثرت علماء آپ کو مدلس قرار دیتے ہیں اورآپ کی مرویات پر اعتماد نہیں کرتے، مگر بایں ہمہ امام احمد بن حنبلؒ ان کوعلم کا خزانہ قرار دیتے ہیں؛ بہرحال ابن جریج سے منقول تفسیری روایات کو حزم واحتیاط کی نگاہ سے دیکھنا چاہئے۔
اہل کتاب کی روایات پر مشتمل کتب تفاسیر
کوئی ایسی کتاب جس میں خاص اسرائیلی(اہل کتاب کی) روایات کے جمع کرنے پر توجہ دی گئی ہوایسی توکوئی تفسیر نہیں ہے؛ البتہ آیات کی تفسیر میں عموماً کتب تفاسیر میں اسرائیلی روایات بھی ذکر کی گئی ہیں، جس کا علم راوی کو دیکھ کر یا پھر ان کی بیان کردہ باتوں کو اصول شرعیہ کی روشنی میں پرکھ کر معلوم کیا جاسکتا ہے،  مولانا اسیر ادروی صاحب کی ایک کتاب اردو میں" تفسیروں میں اسرائیلی روایات" کے نام سے آچکی ہے ،جس کے مقدمہ میں اسرائیلی روایات سے متعلق عمدہ بحث اکٹھا کردی ہے اورپھر جو اسرائیلی روایات ان کو معلوم ہوسکیں ان پر الگ الگ کلام کیا ہے اورمعتبر تفاسیر سے ان کا اسرائیلی روایات کے قبیل سے ہونا بھی ظاہر کیاہے، تفصیل کے لیے اسی کتاب کی طرف رجوع کیا جائے۔
یہاں پر چند عربی اور اردو تفاسیرکے نام لکھے جارہے ہیں اور اردومیں صرف مستند تفاسیر کے نام لکھے گئے ہیں۔
عربی کتب تفسیر مع اسمائے مفسرین
شمار
اسمائے مفسرین
اسمائے کتب تفسیر
سنِ وفات
۱
(منسوب) حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ
تنویر المقیاس من تفسیر ابن عباس
۶۸ھ
۲
امام فخر الدین الرازی رحمۃ اللہ علیہ
مفاتیح الغیب (المعروف) تفسیر کبیر
۶۰۲ھ
۳
ابوعبداللہ محمد بن احمد بن ابوبکر بن فرح القرطبیؒ
الجامع الاحکام القرآن(المعروف) تفسیر قرطبی
۶۷۱ھ
۴
حافظ عماد الدین ابوالفدا اسماعیل بن خطیب ابوحفص عمر بن کثیر الشافعی رحمۃ اللہ علیہ
تفسیر ابن کثیر
۷۷۴ھ
۵
قاضی ابوالسعود محمد بن محمد العمادی الحنفیؒ
ارشاد العقل السلیم الی مزایا القرآن الکریم
(معروف) تفسیر ابی السعود
۹۸۲ھ
۶
علامہ محمودآلوسی البغدادی رحمۃ اللہ علیہ
روح المعانی فی تفسیر القرآن العظیم والسبع المثانی
۱۲۷۰ھ
۷
ابومحمد حسین بن مسعود الفراء البغوی رحمۃ اللہ علیہ
معالم التنزیل
۵۱۶ھ
۸
علامہ جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ علیہ
الدارالمنثورفی التفسیربالماثور
۹۱۱ ھ
۹
محمدبن جریر الطبری رحمۃ اللہ علیہ
جامع البیان فی تفسیر القرآن
۳۱۰ھ
۱۰
ابوعبداللہ بن احمد النسفی رحمۃ اللہ علیہ
۷۱۰ھ
۱۱
ابوحیان اندلسی رحمۃ اللہ علیہ
البحر المحیط
۷۴۰ھ
۱۲
قاضی ناصر الدین بیضاوی رحمۃ اللہ علیہ
تفسیر بیضاوی
۶۹۱ھ
۱۳
ابوالحسن علی بن محمد رحمۃ اللہ علیہ
لباب التاویل فی معانی التنزیل (تفسیر خازن)
۷۴۱ھ
۱۴
ابوالقاسم محمود بن عمروبن احمد الزمخشریؒ
الکشاف
۵۳۸ھ
۱۵
ابو الفزج ابن الجوزی رحمۃ اللہ علیہ
زاد المسیر
۵۹۷ھ
۱۶
ابوالفیض فیضی رحمۃ اللہ علیہ
سواطع الالہام
۱۰۰۴ھ
۱۷
قاضی محمد بن علی بن محمد بن عبداللہ الشوکانیؒ
فتح القدیر
۱۲۵۰ھ
۱۸
ملاجیون رحمۃ اللہ علیہ
تفسیرات احمدی
۱۱۳۰ھ
۱۹
قاضی ثناء اللہ پانی پتی رحمۃ اللہ علیہ
۱۲۴۰ھ
۲۰
۲۱
علامہ جلال الدین محلی رحمۃ اللہ علیہ
علامہ جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ علیہ
۸۹۱ھ
۹۱۱ھ
۲۲
شیخ طنطاوی بن جوہری رحمۃ اللہ علیہ
تفسیر الجواھر
۱۳۵۸ھ
۲۳
سید قطب شہید رحمۃ اللہ علیہ
فی ظلال القرآن
۱۳۸۵ھ
۲۴
الدکتوروھبۃ الزحیلی مدظلہٗ
التفسیر المنیر
باحیات



اردو کتب تفسیر مع اسمائے مفسرین 

شمار
اسمائے مفسرین
اسمائے کتب تفسیر
سن وفات
۱

۲

۳
۴

۵
۶

۷
۸

۹

۱۰

۱۱
۱۲

۱۳

۱۴

۱۵

۱۶
حضرت شاہ عبدالعزیز دہلوی رحمۃ اللہ علیہ
مولانا اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ
علامہ شبیر احمد عثمانی رحمۃ اللہ علیہ
حضرت مفتی محمد شفیع عثمانی رحمۃ اللہ علیہ
حضرت مولانا عبدالماجد دریابادی رحمۃ اللہ علیہ
حضرت مولانا محمود حسن دیوبندی رحمۃ اللہ علیہ
مولانا عبدالحق حقانی رحمۃ اللہ علیہ
حضرت مولانا ادریس کاندھلوی رحمۃ اللہ علیہ
مولانا عاشق الہی بلندشہری رحمۃ اللہ علیہ
مولانا ابوالکلام آزاد رحمۃ اللہ علیہ

مولانا عبدالقدیر حسرت صدیقی رحمۃ اللہ علیہ
حضرت مولانا محمد نعیم صاحب رحمۃ اللہ علیہ
مولانا احمد عثمان کاشف الہاشمی رحمۃ اللہ علیہ
حضرت مولانا مفتی سعید احمد پالنپوری مدظلہٗ
حضرت مفتی محمد تقی عثمانی مدظلہٗ
مولانا عبدالکریم پاریکھ رحمۃ اللہ علیہ
تفسیر عزیزی



ترجمہ شیخ الہند


انوار البیان فی کشف اسرار القرآن
ترجمان القرآن

تفسیر صدیقی

انوارالقرآن

ہدایت القرآن

تکمیل ہدایت القرآن(جاری)

توضیح القرآن

تشریح القرآن۔
۱۲۳۹ھ
۱۳۶۳ھ
۱۳۶۹ھ
۱۳۹۶ھ
۱۳۹۸ھ
۱۳۳۹ھ
۱۲۴۷ھ


۱۳۷۷ھ
۱۳۸۲ھ
۱۴۲۹ھ

باحیات
باحیات




عربی تفسیروں کے اردو ترجمے تعارف وتجزیہ
(۱)
  


                ”ترجمہ“ مستقل ایک فن ہے، مختلف شعبہ ہائے زندگی میں اس کی ضرورت واہمیت مسلم ہے، تراجم کی مختلف اصناف میں مذہبی تراجم سب سے زیادہ اہمیت کے حامل ہیں؛ اس لیے کہ ایک سروے کے مطابق دنیا بھر کے من جملہ تراجم کی خدمات میں نصف سے زائد خدمات مذہبی تراجم پر مشتمل ہیں۔ قرآنِ پاک کا ترجمہ سب سے پہلے لاطینی، پھر فرانسیسی اور پھر انگریزی میں ہوا، ایک سروے کے مطابق دنیا میں چھ ہزار پانچ سو (۶۵۰۰) زبانیں بولی جاتی ہیں، ان میں سے دو ہزار تین سو پچپن (۲۳۵۵) زبانوں میں انجیل کا ترجمہ ہوچکا ہے، اور مسلمان تجزیہ نگاروں کا دعویٰ ہے کہ قرآن مجیدکا ترجمہ دنیا کی اکثر زبانوں میں ہوچکا ہے، اردو زبان آج سے چھ سات صدی پہلے وجود میں آئی، ترجمہ کی روایت اس میں دو سو سال بعد شروع ہوئی، اس زبان میں سب سے پہلے ”تمہیداتِ عین القضاة“ کا ترجمہ ”تمہیداتِ ہمدانی“ کے نام سے شاہ میراں جی خدانما نے ۱۶۰۳/ میں کیا، اردو زبان میں قرآنِ مجید کا سب سے پہلا ترجمہ شاہ ولی اللہ صاحب رحمہ اللہ کے فرزندِ ارجمند شاہ رفیع الدین صاحب رحمه الله  نے ۱۷۷۶/ میں کیا، اس وقت اردو زبان کی نثر اچھی خاصی صاف، سادہ اور رواں ہوگئی تھی، لیکن وہ ترجمہ خاصا لفظی تھا؛ اس لیے ان کے حقیقی چھوٹے بھائی حضرت شاہ عبدالقادر صاحب رحمه الله  نے ۱۷۹۵/ میں اس وقت کی فصیح وبلیغ رائج ومستند ٹکسالی زبان میں دوسرا ترجمہ کیا، یہ ترجمہ اتنا عمدہ ٹھہراکہ اس سے اہل علم مترجمین نے ترجمہ نویسی کے متعدد اصول وضع کیے۔ (ان ساری باتوں کے حوالوں کے لیے ترجمہ نگاری اور ابلاغیات، ص:۱۷۶ تا۱۸۰ (مطبوعہ: مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی حیدرآباد) کو بھی دیکھا جاسکتا ہے) جب یہ ترجمہ بھی قدیم ہوگیا تو حضرت شیخ الہند مولانا محمودحسن رحمه الله  نے مالٹا کی جیل میں ان کو سامنے رکھ کر ایک عمدہ ترجمہ کیا، اور اب اسلامی کتب خانوں میں محض اردو زبان میں قرآنِ کریم کے ترجموں کی تعداد ساٹھ سے زائد ہوچکی ہے، اور تفسیروں کی تعداد بھی اچھی خاصی ہے۔
                یہ حقیقت مسلم ہے کہ تفسیروں کا سب سے بڑا ذخیرہ عربی زبان میں ہے، یہی زبان دین اسلام کی صحیح اور مستند ترجمان ہے، اردو زبان میں مذہب اسلام کا سب سے زیادہ حصہ اسی زبان سے منتقل ہوا ہے، راقم الحروف نے اپنے اس مقالے میں تفسیروں کے محض ان ترجموں کے تعارف کو موضوع بنایا ہے، جو براہِ راست عربی سے اردو میں کیے گئے ہیں۔ ”بارہ تفسیروں“ کے کل تیئس ترجمے میرے محدود استقراء میںآ ئے ہیں، ان میں سے صرف ”پانچ تفسیریں“ ایسی ہیں، جن کے ترجمے مکمل ہوسکے ہیں، بقیہ تفسیروں کے ترجمے اب تک تشنہٴ تکمیل ہیں۔ الحمدللہ یہ سارے ترجمے علماء ہند کے ہیں، ان میں بھی چودہ ترجمے علماء دیوبند نے کیے ہیں، بقیہ کے بارے میں تحقیق نہ ہوسکی کہ وہ کس مکتبِ فکر سے تعلق رکھتے ہیں، اُن ترجموں کاتعارف پیش خدمت ہے۔
تفسیر ابن عباس رضي الله عنه
                اصولِ تفسیر میں قرآنِ کریم کے معانی کی وضاحت کے لیے مفسرین نے چھ مآخذ ذکر فرمائے ہیں:
                (۱)          آیات کی تفسیر آیات ہی سے ہو۔
                (۲)         آیات کی تفسیر صحیح احادیث سے ہو۔
                (۳)         آیات کو آثارِ صحابہ رضي الله عنه  کی روشنی میں سمجھا جائے۔
                (۴)         آیات کو تابعین رحمه الله  کے ارشادات سے سمجھا جائے۔
                (۵)         لغتِ عربِ اولین سے بھی مرادِ الٰہی کی تعیین میں مدد ملتی ہے۔
                (۶)          آخری درجہ عقلِ سلیم اور فہمِ صحیح کا ہے۔
                ان میں قرآن وحدیث کے بعد سب سے قابلِ اعتماد مآخذ صحابہٴ کرام  رضي الله عنهم  کے آثار ہیں؛ اس لیے کہ ہم تک دین کے پہنچنے کا سب سے اہم واسطہ صحابہٴ کرام رضي الله عنهم ہیں، انھوں نے ہی مشکوٰةِ نبوت سے اولین مرحلے میں روشنی حاصل کی، اگر ان پر ہمارا اعتماد نہ رہا تو دین کا سارا دفتر بے اعتبار ہوجائیگا، نعوذ باللہ قرآن کی آیات بھی مشکوک ہوجائیں گی؛ اس لیے کہ یہ بھی انھیں کے واسطہ سے ہم تک پہنچی ہیں، یہی وجہ ہے کہ مفسرین نے آثارِ صحابہ رضي الله عنهم کو بڑی اہمیت دی ہے، ان میں بھی حضرت عبداللہ بن عباس رضي الله عنه  کا امتیاز مسلم ہے، یہ رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم کے چچازاد بھائی تھے، فہمِ آیات میں انھیں ایک خاص ذوق حاصل تھا، اور وہ دعائے نبوی کی برکت تھی (فتح الباری:۱/۱۷۰) آپ کو ”ترجمانُ القرآن“ کے مبارک لقب سے نوازاگیا (ابن مسعود رضي الله عنه ، مستدرکِ حاکم) آپ رضي الله عنه میں سارے صحابہٴ کرام رضي الله عنهم کے علوم جمع تھے، ناچیز کے محدود علم میں دوہی صحابہٴ کرام رضي الله عنهم ایسے ہیں، جن کی تفسیری روایات اکٹھا کتابی شکل میں دستیاب ہیں، ایک تو حضرت ابن عباس رضي الله عنه  ہیں اور دوسرے حضرت ابن مسعود رضي الله عنه ، حضرت عبداللہ بن عباس کی تفسیر کو یہ خصوصیت بھی حاصل ہے کہ اس کے اردو ترجمہ سے بھی امت مستفید ہورہی ہے، میرے علم میں ابھی تک ”تفسیر ابن مسعود رضي الله عنه “ کا اردو ترجمہ نہیں ہوسکا ہے۔
تفسیرابن عباس رضي الله عنه  کے مراتب
                اس کے موٴلف علامہ ابوالطاہر محمد بن یعقوب بن محمد بن ابراہیم نجد الدین فیروزآبادی شیرازی، شافعی ہیں، (ولادت:۷۴۹ھ مطابق ۱۳۳۹/ وفات: ۲۰/شوال ۸۱۷ھ مطابق ۳/جنوری ۱۴۱۵/) یہ جلیل القدر مفسر، محدث اور ادیب تھے، علمِ لغت میں اپنا ایک نمایاں مقام رکھتے تھے، علامہ فیروزآبادی رحمه الله  نے دنیا کے مختلف ممالک کی سیاحت کی ہے، حرمین شریفین، ایشیائے کوچک، ترکی، قاہرہ کے علاوہ ہندوستان آنے کی تاریخ بھی ملتی ہے، ان کی تصانیف درج ذیل ہیں:
                (۱)          بصائر ذوالتمیز في لطائف الکتاب العزیز: یہ قرآن مجید کی تفسیر ہے، چھ جلدوں پر مشتمل ہے، قاہرہ اور بیروت سے بارہا چھپ چکی ہے۔
                (۲)         سِفر السعادة یا الصراط المستقیم کے نام سے سیرت النبی صلے اللہ علیہ وسلم کے موضوع پر ایک مختصر مگر جامع تصنیف ہے۔
                (۳)         صحیح بخاریکی ایک شرح کا ذکر بھی ان کے تراجم میں ملتا ہے، مگر وہ نایاب ہے۔
                (۴)         علامہ زمخشری رحمه الله  کی کشاف کے خطبہ کی ایک مستقل شرح بھی تحریر فرمائی تھی۔
                (۵)         البُلغہ في تاریخ أئمة اللغة: یہ کتاب بھی اہلِ علم کے نزدیک اہم اور مرجع کی حیثیت رکھتی ہے۔
                (۶)          القاموس: یہ سب سے مشہور اور مفید ترین لغت ہے، محققین علماء اس پر اعتماد کرتے ہیں، سیدمرتضیٰ زبیدی (وفات ۱۷۹۱/) نے ”تاج العروس“ کے نام سے اس کی دس جلدوں میں شرح لکھی ہے۔
                (۷)         تنویر المقباس من تفسیر ابن عباس رضی اللّٰہ عنہما: علامہ فیروزآبادی رحمه الله  نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی تفسیری روایات کو اکٹھا کرکے بہت بڑا کارنامہ انجام دیا ہے، اشاعت کے بعد سے ہی اس کی مقبولیت چہار دانگِ عالم میں پھیل گئی؛ اس لیے کہ آپ کی شخصیت بالاتفاق امت میں ترجمان القرآن کی حیثیت سے مسلم ہے، آپ کی تفسیر وروایت کی بہت سی خصوصیات ہیں، مثلاً:
الف)      روایات اکثر رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم سے منسوب ہیں، حضرت عمر رضي الله عنه  جیسے بڑے بڑے صحابہ کرام رضي الله عنهم آپ سے تفسیر قرآنی میں استفادہ کرتے تھے۔
ب)         ان کی تفسیر سارے صحابہٴ کرام رضي الله عنهم کی تفسیروں کا مظہرِ جمیل ہے؛ اس لیے کہ انھوں نے سارے صحابہٴ کرام رضي الله عنهم کے علوم کو اکٹھا کرلیاتھا۔
ج)          ان میں لغت، اشعار، محاورات، لہجات اور ایام وتاریخ سے استدلال؛ بلکہ ان کی دقیق اور مفید علمی بحث ہے۔
د)            یہ تفسیر حضرت ابن عباس رضي الله عنه  کے حزم و احتیاط کا نمونہ بھی ہے، حافظ ابن حجر رحمه الله  فرماتے ہیں کہ: اگر ان سے کوئی مسئلہ پوچھتا تو سب سے پہلے آیات سے اس کا جواب دیتے؛ لیکن اگر کوئی حکم قرآنِ پاک میں واضح نہ ملتا تو حدیث وسنت کو بنیاد بناتے، اور اگر قولِ نبی سے مسئلہ صراحتاً ثابت نہ ہوتا تو شیخین کے اقوال میں جواب تلاشتے تھے؛ لیکن اگران میں بھی جواب کی جانب اشارہ نہ پاتے تو اپنی رائے بیان فرماتے، اور اپنی رائے کے دلائل بھی اچھی طرح واضح فرمادیتے تھے۔ (الاصابہ فی تمیز الصحابہ ۱/۳۲۵)
ھ)           علامہ ذہبی رحمه الله  کے بہ قول حضرت ابن عباس رضي الله عنه  نے قرآنِ پاک کے اجمال کی تفصیل میں بعض جگہ انجیل سے بھی استفادہ کیا ہے، مگر بڑے ہی حزم واحتیاط کے ساتھ۔
و)            حضرت ابن عباس رضي الله عنه  کے دور میں بہت سے ایسے مسائل بھی سامنے آئے، جن کا واضح حکم قرآن وحدیث میں نہیں تھا، ان میں سے بہت سے اہم مسائل کو آپ نے آیات سے مستنبط کیا؛ اس طرح کے مجتہدات بھی آپ رضي الله عنه  سے منقول ہیں۔
ز)            آپ رضي الله عنه  کی مرویات کی تعداد ایک ہزار چھ سو ساٹھ (۱۶۶۰) یا ایک ہزار سات سو دس (۱۷۱۰) ہے، یہ ساری روایتیں بخاری شریف اورمسلم شریف کے علاوہ دیگر کتب حدیث میں بھی ہیں، حدیث شریف کا کوئی بھی مجموعہ ایسا نہیں جس میں آپ رضي الله عنه  کی روایات درج نہ ہوں، کوئی مفسر آپ کے فہمِ قرآن سے بے اعتنائی نہیں کرسکتا، آپ کے اقوال کا بہت بڑا ذخیرہ ”جامع البیان في تفسیر القرآن“ میں ہے، یہ علامہ ابن جریر طبری رحمه الله  (۲۲۴ھ تا ۳۱۰ھ) کی مرتب کردہ ہے، یہ تفسیر کے ذخیرہ میں سب سے پہلی اور مفصل کتاب ہے۔
                یہ قیمتی ذخیرہ آٹھویں صدی تک مختلف کتابوں میں منتشر تھا، اللہ تعالیٰ نے علامہ فیروزآبادی رحمه الله  کو توفیق بخشی اور انھوں نے ان مرویات کو ایک جگہ جمع فرماکر امت پر احسان فرمایا ہے، اللہ تعالیٰ ان کو اس کی جزا عنایت فرمائیں (آمین)
تفسیر ابن عباس کی اسنادی حیثیت
                حضرت عبداللہ بن عباس رضي الله عنه  کے تفسیری افادات دنیا میں ہر طرف پھیلے ، حرمین شریفین کے علاوہ عراق دمشق اور دیگر بلادِ اسلامیہ میں بھی آپ رضي الله عنه  ہی کے شاگردوں نے آپ کی روایات؛ بلکہ فن تفسیر کو عروج بخشا، مشہور تلامذہ درج ذیل ہیں:
                حضرت سعید بن جبیر امام مجاہد بن جبر، امام ضحاک بن علی بن ابی طلحہ، مقاتل بن سلیمان اور حضرت عکرمہ وغیرہ۔ (تلخیص از عرض مترجم، مع ترجمہ تفسیر ابن عباس رضي الله عنه ،ص:۲۳)
                حضرت ترجمانُ القرآن رضي الله عنه  کی روایات اِنھیں شاگردوں سے تفسیر اور حدیث کی کتابوں میں مروی ہیں، کتبِ ستہ کے علاوہ مسند احمد، مسند ابوداؤد طیالسی، مسند شافعی، مسند حمیدی، معجم طبرانی، سنن دارمی، سنن دارقطنی اور المنتقیٰ لابن جارود وغیرہ میں بھی کتاب التفسیر میں کثرت سے روایات ملتی ہیں، اسی کے ساتھ یہ بھی حقیقت ہے کہ بہت سی باتیں ایسی بھی ہیں جو خلافِ واقعہ حضرت ابن عباس رضي الله عنه  کی طرف منسوب ہیں، اس طرح کی موضوع اور الحاقی روایات کو صحیح اور مستند روایات سے الگ کرنا ضروری ہے؛ لیکن اتفاق سے اب تک یہ کام نہیں ہوسکا ہے، رہا یہ مجموعہ جس کو علامہ فیروزآبادی رحمه الله  نے ترتیب دیا ہے، وہ ایک ہی سند پرمشتمل ہے، جو محدثین و مفسرین کے نزدیک نہایت کمزور اور ناقابلِ اعتماد ہے؛ البتہ مقاصدِ شریعت اور درایت ومعانی کے لحاظ سے ذکر کردہ باتیں اکثر قابلِ اعتماد ہیں، ضرورت ہے کہ تحقیق کے کام کو کوئی محقق عالم انجام دے، جس کی نظر احادیث ورجال پر ہو، نیز مضامینِ قرآن اور تفسیرِ آیات سے اچھی خاصی مناسبت ہو، وباللہ التوفیق!
تفسیر ابن عباس رضي الله عنه  کے نسخے
                اس تفسیر کے درج ذیل نسخے موجود ہیں:
                (الف) ایک قلمی نسخہ مخطوطہ کی شکل میں پنجاب پبلک لائبریری لاہور میں ہے۔
                (ب)       ۱۳۱۴ھ میں مصر سے ”دُرِّمنثور“ کے حاشیہ پر شائع ہوئی۔
                (ج)        ۱۳۱۶ھ میں علاحدہ طور پر مصر سے ہی شائع ہوئی۔
                (د)          ۱۲۸۵ھ میں حضرت شاہ ولی اللہ صاحب دہلوی رحمة اللہ علیہ کے ”ترجمہ قرآن مجید“ کے ساتھ شائع ہوئی۔
                (ھ)         اس کے بعد حضرت شاہ رفیع الدین صاحب رحمة اللہ علیہ کے ”ترجمہ قرآن مجید“ کے حاشیہ پر شائع ہوئی۔ (مستفاد: از عرض مترجم، تفسیر ابن عباس رضي الله عنه ،ص:۷)
لبابُ النقول في أسباب النزول
                تفسیر ابن عباس رضي الله عنه  کے ساتھ علامہ سیوطی رحمة اللہ علیہ (۹۱۱ھ) کی مشہور ومعروف کتاب ”لباب النقول في اسباب النزول“ بھی مطبوع ومترجم ہے، ”شانِ نزول“ کے موضوع پر یہ بڑی قابلِ اعتماد کتاب ہے،اس میں حدیث، اصولِ حدیث اور اصولِ درایت نصوص کو سامنے رکھ کر روایات کی تلخیص کی گئی ہے، شروع میں قدرے تفصیل سے مقدمہ لکھا ہے، اس میں شانِ نزول کی اہمیت روایات کے درمیان ترجیح کے اصول، ائمہ کے اقوال اور اپنے طرزِ تلخیص کو بڑے عمدہ انداز میں بیان فرمایا ہے، غرض یہ کہ علامہ سیوطی رحمه الله  نے اسبابِ نزول والی روایات کی سندوں کی اچھی طرح چھان بین کی ہے،راویوں کے سلسلے میں یہ بھی تحقیق کی ہے کہ کون سے راوی مذکورہ واقعہ کے وقت موجود تھے اور کون سے نہیں؟ اور آیا وہ اعلیٰ درجہ کے مفسر تھے یا نہیں؟ خود انھوں نے یہ بھی وضاحت فرمائی ہے کہ میں نے اختصار کے پیش نظر سندوں کو بیان کرنے کے بجائے، اس کتاب کا حوالہ دے دیا ہے، جس میں وہ روایت مذکور ہے؛ تاکہ قاری خود بھی تحقیق کرسکے، اسی طرح اپنے پیش رو مصنف علامہ واحدی رحمه الله کے بیان کردہ مباحث کو بھی ”ک“ کے رمز کے ساتھ اس تصنیف میں شامل فرمالیا ہے، متعارض روایات کے درمیان دفعِ تعارض کی بھی کوشش کی ہے، اور حقیقت یہ ہے کہ ”لبابُ النقول“ میں حضرت عبداللہ بن عباس رضي الله عنه  کی روایات بہت زیادہ ہیں، لبابُ النقول کی جامعیت اور مذکورہ بالا خصوصیات کی وجہ سے امت نے اسے قبول کیا ہے۔
”لبابُ النقول“ کا اردو ترجمہ
                تفسیر ابن عباس رضي الله عنه  کے ساتھ ”لبابُ النقول“ کی طباعت چوں کہ عربی زبان میں ایک ساتھ عمل میں آئی تھی؛ اس لیے ترجمہ میں بھی اس کو الگ نہیں کیاگیا:
                (الف) مولانا عابدالرحمن صدیقی رحمه الله  کے ترجمہ میں بھی لباب النقول کا ترجمہ ہے۔
                (ب)       اور حافظ محمد سعید احمد عاطف نے بھی اس کا اردو ترجمہ کیاہے۔
                جس طرح ”تفسیر“ میں پہلے حضرت ابن عباس رضي الله عنه  کی مرویات نقل کی گئی ہیں؛ پھر اس آیت سے متعلق شانِ نزول کی روایت اگر موجود ہے تو اس کو ذکر کیا ہے؛ اسی طرح ترجمہ میں بھی پہلے آیات کا ترجمہ ہے، پھر حضرت ابن عباس رضي الله عنه  کی تفسیر کا، اس کے بعد علامہ سیوطی رحمه الله  کی ”لباب النقول“ کا ترجمہ ہے، لباب النقول کے ترجمہ سے پہلے ہر جگہ ”شانِ نزول“ اورآیت کا ابتدائی ٹکڑا عنوان کے طور پر لکھا گیا ہے،اور جہاں پر بات پوری ہوئی ہے، وہاں قوسین کے درمیان ”لباب النقول في اسباب النزول از علامہ سیوطی رحمه الله “ درج ہے؛ البتہ بعض جگہوں پر بین القوسین والی عبارت کتابت سے رہ گئی ہے۔
تفسیر ابن عباس کے اردو ترجمے
                علامہ ابوطاہر فیروزآبادی رحمه الله  کی جمع کردہ تفسیر ابن عباس رضي الله عنه  کے دو ترجمے نظرنوازہوئے:
                (الف) ایک کے مترجم پروفیسر حافظ محمد سعید احمد عاطف ہیں، ان کا آبائی وطن بالاکوٹ (پاکستان) ہے۔
                (ب)       دوسرے کے مترجم حضرت مولانا عابدالرحمن صدیقی رحمة اللہ علیہ ہیں۔ اس ترجمہ کو پہلے ۱۹۷۰/ میں ”کلام کمپنی کراچی“ نے شائع کیا۔ اوّل الذکر مترجم نے آخرالذکر مترجم کے ترجمہ سے خصوصی استفادہ کیا ہے، جس کی صراحت خودانھوں نے ”عرضِ مترجم“ (ص:۸) میں کی ہے، دونوں مترجمین میں سے کسی کے شخصی احوال معلوم نہ ہوسکے؛ اس لیے مزید تعارف رقم نہیں کرسکتا۔
                (ج) ایک اور ترجمہ کا ذکر بھی اول الذکر مترجم نے کیا ہے، یہ ۱۹۲۶/ میں آگرہ سے شائع ہوا ہے (عرضِ مترجم،ص:۸)
                راقم الحروف کے خیال میں یہی اولین ترجمہ ہے، لیکن یہ ترجمہ دریافت نہ ہوسکا، اورنہ ہی اس کی مزید تفصیلات معلوم ہوسکیں۔
ترجمہ پروفیسر حافظ محمد سعید احمد عاطف
                ۲۰۰۶/ میں ”اعتقاد پبلشنگ ہاؤس، نئی دہلی“ نے اس ترجمہ کو شائع کیا، یہ تین جلدوں پر مشتمل ہے، پہلی جلد کے صفحات کی تعداد پانچ سو پینتیس (۵۳۵) ہے، دوسری جلد چار سو چونسٹھ (۴۶۴) اور تیسری پانچ سو چار (۵۰۴) صفحات پر مشتمل ہے، صفحات کی کل تعداد پندرہ سو تین ہے، قیمت چھ سو پچھتّر (۶۷۵) روپے درج ہے۔
                روزنامہ ’منصف“ حیدرآباد کے توسط سے طباعت کے بعدہی راقم الحروف کے پاس برائے تبصرہ یہ ترجمہ آیا تھا، تبصرہ لکھاگیا اور چھپا بھی، اس نسخہ میں کتابتِ قرآن کی تصحیح کی سند مع مہر تیسری جلد کے اخیر میں درج ہے، اوپر دائیں کالم میں آیات اور بائیں کالم میں مولانا فتح محمد جالندھری رحمه الله  کا ترجمہ قرآن ہے، ترجمہ کی زبان سلیس اور بامحاورہ ہے۔
                تفسیرکا ترجمہ لفظی نہیں، بلکہ آزاد کیاگیا ہے، اکثر جگہوں پر لفظ دو لفظ کے اضافہ کو بھی گوارا کیاگیا ہے، تاکہ اردو خواں حلقہ کو ترجمہ پن کا احساس نہ ہو،اسی طرح ہر آیت کی تفسیر سے پہلے اس کا نمبر بھی دے دیاگیا ہے، تاکہ مقارنہ میں آسانی ہو، ”لباب النقول“ کے شانِ نزول کو بھی آیت نمبر کی تعیین کے بعد لکھا گیا ہے،اور اہم بات یہ ہے کہ دیوبند سے چھپے ہوئے ترجمہ کو سامنے رکھ کر یہ ترجمہ کیاگیا ہے،اس سے استفادہ کی صراحت خود مترجم نے کی ہے(ص:۸)
                اس ترجمہ میں پہلے ”نقشِ اول“ کے نام سے ”عرضِ ناشر“ ہے،اس میں تفسیر اور اس کے جامع ومرتب کے ساتھ ترجمہ کی ضرورت بیان کی گئی ہے، ساتھ ہی مترجم ومعاونین کا شکریہ ادا کیاگیا ہے، پھر چار صفحات پر مشتمل عرضِ مترجم ہے، اس میں قرآنِ پاک، ترجمہ و تفسیر، سیرت نبوی اور آثارِ صحابہ وغیرہ کی اہمیت بیان کی گئی ہے، ”تنویر المقباس“ کے مقام ومرتبہ کو بیان کیاگیا ہے،اس کے مخطوطہ اور مطبوعہ نسخوں کی تفصیلات درج کی گئی ہیں، ساتھ ہی اس کے دو اردو ترجمے کا ذکر بھی ہے، پھر مترجم نے اپنے ترجمے کی خصوصیات بیان فرمائی ہیں، اخیر میں معاونین کا شکریہ اور قارئین سے دعا کی درخواست ہے،اس کے بعد پندرہ صفحات پر مشتمل ایک مقالہ ہے،اس میں ترجمانُ القرآن حضرت عبداللہ بن عباس رضي الله عنه  کی زندگی کو کافی تفصیل سے پیش کیاگیاہے، نام ونسب، حلیہ، شوقِ علم، دعائے نبوی کا فیضان، حیرت انگیز ذہانت، علم کے لیے اسفار، علومِ اسلامی سے عمومی اور علومِ قرآنی سے خصوصی دلچسپی، طرزِ تفسیر اور مرویات کی تعداد وغیرہ بھی بیان کی گئی ہے، اس کے بعد دو مضمون ہے، ایک میں علامہ سیوطی رحمه الله  کا تعارف اور مختصر احوال ذکر کیے گئے ہیں، دوسرے میں علامہ ابوالطاہر فیروزآبادی رحمه الله  موٴلف تفسیر ابن عباس رضي الله عنه  کا تعارف دو صفحات میں مرقوم ہے۔
                ان سب کے بعد ترجمہ کی ابتداء کی گئی ہے، سب سے پہلے علامہ سیوطی کی ”لباب النقول“ کا مقدمہ ہے، پھر ”تنویرالمقباس“ کا مقدمہ ہے، آخر الذکر مقدمہ میں حمد وصلوة کے بعد تفسیر کے سلسلہٴ سند کو بیان کیاگیا ہے، اس کے بعد بسم اللہ کی تفسیر سے کتاب شروع ہوئی ہے، ترجمہ کی کتابت کمپیوٹر کے ذریعہ کی گئی ہے، تصحیح کے کافی جتن کے باوجود غلطیاں رہ گئی ہیں، اس ترجمہ میں سورتوں کی فہرست تو دی گئی ہے، لیکن فہرستِ مضامین نہیں ہے، اگر اس کے ساتھ فہرست مضامین بھی ہوتی تو اس کا افادہ کثیراور آسان ہوتا؛ اس لیے کہ آج کل پوری پوری کتاب پڑھ ڈالنے کا مزاج علماء میں بھی ختم ہوتا نظر آرہا ہے تو عوام سے کس طرح اس کی امید کی جائے؟ غرض یہ کہ اردو میں ہونے کی وجہ سے ظاہر ہے کہ عوام ہی زیادہ پڑھے گی، ان کے لیے فہرست ہوتی تو اور بھی اچھا ہوتا، ان سب کے باوجود ترجمہ کا کام ٹھیک ہے، طباعت اورکاغذ وغیرہ عمدہ ہے، ٹائٹل بھی دیدہ زیب ہے۔
ترجمہ مولانا عابدالرحمن صدیقی رحمه الله
                تفسیر ابن عباس رضي الله عنه  کا دوسرا ترجمہ حضرت مولاناعابدالرحمن صاحب صدیقی رحمه الله  کا ہے، اس ترجمہ میں بھی علامہ سیوطی رحمه الله  کی ”لباب النقول في اسباب النزول“ شامل ہے، اس کی اشاعت دیوبند کے ”ادارہ درسِ قرآن“ نے کی ہے، ترجمہ نہایت عمدہ اور سلیس ہے، اصل متن کی مکمل تصویر ترجمہ میں جھلکتی ہے،اردو کے محاورات اور روزمروں کے استعمال سے زبان کافی معیاری بن گئی ہے، ثقیل اور مشکل الفاظ سے حددرجہ احتراز کیا ہے، اس میں آیات کے ترجمے کے لیے حضرت تھانوی رحمه الله  کے ترجمہ کو منتخب کیاگیاہے، اس سے قاری کا اعتماد اور زیادہ ہوجاتا ہے،آیات کو قدرے جلی خط میں لکھا گیا ہے، پھر اس کے نیچے لکیریں کھینچ کر اردو ترجمہ قدرے باریک خط میں دیاگیا ہے، فقہ کی روشنی میں ترجمہ چھاپنے کا یہ طریقہ مستحسن اور بہتر بھی ہے۔
                اس ترجمہ کی ایک بڑی خصوصیت یہ بھی ہے کہ یہ دارالعلوم دیوبند کے دو عظیم مفتیانِ کرام کی نظر سے گذرا ہوا ہے، ایک حضرت مفتی کفیل الرحمن صاحب نشاط# عثمانی رحمة اللہ علیہ ہیں اور دوسرے حضرت الاستاذ مفتی محمد ظفیرالدین صاحب دامت برکاتہم ہیں، یہ دونوں حضرات ”دارالافتاء“ کے بڑے قابلِ اعتماد مفتی تھے، اوّل الذکر ابھی چند سال پہلے وفات پاگئے اورآخر الذکر اپنی کبرِ سنی کی وجہ سے استعفا دے کر اپنے گھر میں آرام فرما ہیں۔ حضرت مفتی کفیل الرحمن صاحب نشاط عثمانی رحمه الله  اردو زبان وادب کا بھی اعلیٰ ذوق رکھتے تھے،اور بہت بڑے شاعر تھے، ان کے تین شعری مجموعے زندگی میں ہی شائع ہوکر اہلِ ذوق سے داد تحسین حاصل کرچکے ہیں (راقم الحروف نے اپنے ”ایم ،فل“ کے مقالہ میں ان شعری مجموعوں کے تجزیاتی مطالعہ کو بھی شامل کیا ہے) موصو نے پورے ترجمہ کو بڑی گہرائی سے مطالعہ فرماکر ”عنوان بندی“ بھی کی ہے، جس سے اس ترجمہ کی افادیت میں چار چاند لگ گئے ہیں، ترجمہ کی تکمیل کے بعد اشاعت کے موقع سے چھ اشعار میں ”ہدیہٴ عقیدت“ بھی پیش فرمایا ہے،اور حضرت مفتی محمد ظفیرالدین صاحب دامت برکاتہم نے اس ترجمہ پر تقریظ رقم فرمائی ہے، اور مترجم نے ”عرضِ مترجم“ کے عنوان سے سات صفحات پر مشتمل ایک دستاویزی تحریر شامل اشاعت فرمائی ہے، ان تمام خصوصیات کی وجہ سے یہ ترجمہ حافظ محمد سعید احمد عاطف مدظلہُ کے ترجمہ سے بہتر معلوم ہوتا ہے، خود مترجم کو بھی اس کا اعتراف ہے، راقم الحروف کی سمجھ میں اب تک یہ بات نہ آسکی کہ اچھے ترجمہ کی موجودگی میں پھر الگ سے ترجمہ کی ضرورت ہی کیا رہ گئی تھی کہ جناب حافظ عاطف صاحب نے زحمت فرمائی؟
طریقِ اشاعت
                اس ترجمہ کی اشاعت کے لیے ”ادارہ“ نے پہلے ممبر بننے کا اعلان دیا، پھر ان ممبران کو قسطوں میں ترجمہ بھیجا گیا، دیوبند سے عربی تفسیروں کے اردو ترجموں میں چند ایک کی اشاعت کا یہی طریقہ لکھا ہوا دیکھا گیا،اور بعض وقت تاخیر وغیرہ کی معذرت بھی بعض قسطوں میں رقم نظر آئی۔
ترجمہ تفسیر طبری
                ”جامع البیان في تفسیر القرآن“ جسے تفسیر طبری کہا جاتا ہے، تفاسیر میں سب سے قدیم ہے،اس کے موٴلف علامہ محمد بن جریر رحمة اللہ علیہ ہیں، ان کی کنیت ابوجعفر ہے، طبرستان کی طرف نسبت کی وجہ سے ”طبری“ کہلاتے ہیں، ان کی ولادت باسعادت ۲۲۴ھ اور وفات ۳۱۰ھ بتائی جاتی ہے، ”تفسیرابن جریر“ جیسی کوئی تفسیر اسلامی کتب خانوں میں نہیں ہے، امت کے ہر طبقہ میں مقبول ومتداول ہے، شاید ہی کوئی مفسر ایسا ہو، جس نے اس تفسیر سے خوشہ چینی نہ کی ہو، اس تفسیر کو بالاتفاق مأخذ ومرجع ہونے کی حیثیت حاصل ہے، اس کی خصوصیات درج ذیل ہیں:
                (الف) احادیث اور روایات سے تفسیر میں بعد والی ساری تفسیروں کے لیے نمونہ کی حیثیت رکھتی ہے۔
                (ب) آیات کی تفسیر میں اقوالِ صحابہ رضي الله عنهم سے بھرپور استفادہ کیاگیاہے۔
                (ج)        صحابہ رضي الله عنهم ، تابعین رحمهم الله  اور تبعِ تابعین رحمهم الله  میں سے مفسرین کی آرا بھی نقل کی گئی ہیں۔
                (د)          غرائب القرآن میں خصوصی طور سے لغت وزبان، محاورات و اشعار سے استفادہ کیاگیا ہے۔
                (ھ)         متعدد مسائل میں ”اجماعِ امت“ کی نشان دہی کی گئی ہے۔
                (و)          مفسر طبری چوں کہ خود مجتہد ہیں؛ اس لیے بہت سے مسائل میں اپنی رائے اور اپنا فیصلہ بھی انھوں نے رقم فرمایا ہے، نیز دوسرے کے اقوال پر محاکمہ بھی کیا ہے، یہ بات اور ہے کہ بعض مسائل میں اپنی رائے سے بعد کی تصانیف میں رجوع بھی کرلیا ہے۔
                (ز)          یہ تفسیر ان کے علاوہ دوسرے علوم وفنون اوراسرار وحکم کا گنجینہ بھی ہے۔
                عربی زبان میں ہونے کی وجہ سے اردو داں حلقہ کے لیے ناقابل رسائی تھی؛ اس لیے حضرت مولانا ظہور الباری اعظمی نے اس کا ترجمہ کیا،اور دیوبند کے مکتبہ ”بیت الحکمت“ کے ذریعہ اس کی اشاعت عمل میںآ ئی، ممبرسازی کے ذریعہ قسط وار طبع ہوکر ممبران تک وی،پی پوسٹ کے ذریعہ پہنچتی رہی، چونتیس (۳۴) پینتیس (۳۵) قسطوں میں شائع کیے جانے کا اعلان دیاگیا تھا، مگر معلوم نہیں کہ ساری قسطیں مکمل ہوئیں یا نہیں؟ تین پاروں کے چھ اجزاء مطبوع شکل میں نظرنواز ہوئے۔
                ترجمہ بہت عمدہ ہے، زبان وبیان کے لحاظ سے کہیں کمی محسوس نہ ہوئی، وقت کے بہت بڑے صاحب طرز ادیب مولانا عبدالماجد دریابادی رحمة اللہ علیہ نے اپنے رسالے ہفتہ وار ”صدق جدید“ میں ترجمہ کی عمدگی کا اعتراف فرمایا ہے، اس عظیم علمی تفسیری سرمایہ کے اردو زبان میں منتقل ہونے سے ان کو بہت خوشی ہورہی تھی، تبصرہ نہایت حوصلہ افزا ہے، ۱۶/شوال ۱۳۸۴ھ کے ”صدق جدید“ کے فائل کو دیکھا جاسکتا ہے، اسی طرح مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کے شعبہٴ دینیات کے صدر حضرت مولانا سعید احمد اکبرآبادی رحمه الله  نے بھی ماہ نامہ ”برہان“ دہلی میں ”تفسیر ابن جریر طبری“ کے اردو ترجمہ کی بڑی تعریف فرمائی ہے، ان بزرگوں کے اعتماد کے بعد ترجمہ کی خوبی سے کسی طرح انکار نہیں کیا جاسکتا، اور سب سے بہتر تجربہ اپنا مطالعہ ہے؛ چوں کہ یہ ترجمہ اردو خواں حلقہ کو پیش کیا جارہا ہے؛ اس لیے ان کی رعایت میں نحو وصرف کے دقیق مسائل کا ترجمہ جان بوجھ کر چھوڑ دیاگیا ہے؛ تاکہ عوام کی گرفت سے باہر نہ ہوجائے؛ البتہ قراء ت اور زبان ولغت کی بحث کو تسہیل کے ساتھ ترجمہ میں پیش کیا ہے، اسی طرح شروع میں یہ وضاحت کی گئی ہے کہ : کتاب کے ابتدائی حصے (مقدمہ) کاترجمہ چھوڑدیاگیا ہے۔
                راقم الحروف کو یہ بات سمجھ میں نہ آئی کہ قراء ت اور زبان کی بحث کو جب تسہیل کے ساتھ بیان کرنے کی شکل نکالی گئی تو پھر نحو وصرف کے مسائل کو کیوں چھوڑدیاگیا؛ کیا ان کو تسہیل بیانی کے ذریعہ ترجمہ میں شامل کرنا ممکن نہ تھا؟ یہ طے کرلینا کہ اس کو عوام ہی پڑھے گی خواص اور درمیان کے اہل ذوق استفادہ نہیں کریں گے، محلِ نظر ہے؛ اس لیے ہر جزء کا سلیقہ سے ترجمہ ہونا ضروری تھا، اسی طرح ”مقدمہ“ کو ترجمہ سے مستثنیٰ کرنا بھی مناسب نہیں تھا، اس کو بھی تسہیل کے ساتھ ترجمہ میں شامل کیا جاتا تو بہتر تھا، خیر! پسند اپنی اپنی ․․․
                اس تفسیر میں اچھی خاصی تعداد میں اسرائیلی روایات؛ بلکہ ضعیف کے ساتھ موضوع روایات بھی ہیں، ترجمہ کے ساتھ اگر ان کے درمیان صحیح اور غلط، ثابت اور غیر ثابت کی نشاندہی کردی جاتی تو اور بھی بہتر تھا، جیساکہ ”ابن کثیر“ میں مفسر نے خود یہ کام کرکے اپنا اعتماد حاصل کیا ہے، اللہ کرے! ”مردے از غیب نماید وکارے بہ کند“!
                غرض یہ کہ ترجمہ معیاری اور سلیقہ مند ہے،اس کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ اس میں قرآنی آیات کے ترجمہ کے لیے سب سے قابل اعتماد ترجمہ قرآن کو منتخب کیاگیا ہے اور وہ حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمه الله  کا ترجمہ ہے۔




ترجمہ تفسیر کبیر
                امام فخرالدین رازیؒ (ولادت ۵۴۴ھ وفات ۶۰۶ھ) کی تفسیر کبیر کی اہمیت سے اہلِ علم واقف ہیں، موصوف چھٹی صدی ہجری کے عالم ہیں، ان پر معقولات کا غلبہ تھا، تفسیر میں بھی وہی رنگ ہے، ان کی کنیت ابوعبداللہ اور نام محمد ہے، ان کے والد مرحوم ضیاء الدین عمر خطیب سے معروف تھے، وہ بھی بہت بڑے عالم اور صاحبِ تصنیف تھے، تفسیر کبیر میں مسائل کو دلائل کے ساتھ لکھا گیا ہے، آیت پر ہونے والے امکانی سوال قائم کرکے جواب تحریر کیاگیاہے، زبان بھی کافی عمدہ ہے، آٹھ نو سوسال کے بعد بھی مقبولیت میں ایک حرف کی کمی نہیں آئی اور نہ اس کے مماثل کوئی دوسری تفسیر تصنیف کی جاسکی ہے، فقہی مسائل میں شافعی مسلک کی ترجمانی ہوتی ہے۔
                راقم الحروف کو اس کے دو نامکمل ترجمے دارالعلوم دیوبند کے کتب خانہ میں نظر آئے:
                الف)      ایک ترجمہ حضرت مولانا خلیل احمد صاحب، اسرائیلیؒ کا ہے، اس کا نام ’’سراجِ منیر‘‘ ہے۔
                ب)         دوسراترجمہ مولانا مرزا حیرت کی سرپرستی میں شائع ہوا ہے، مترجم کا علم نہ ہوسکا۔
سراجِ منیر ترجمہ اردو تفسیر کبیر
                جناب مولانا خلیل احمد صاحب اسرائیلی ابن جناب سراج احمد صاحبؒ کا یہ ترجمہ اپنے وقت کا فصیح ترجمہ ہے، یہ بات اور ہے کہ ایک صدی کا عرصہ گذرجانے کی وجہ سے اس میں قدامت آگئی ہے، زبان میں فارسیت کا غلبہ ہے، آیات کے ترجمے ہر سطر کے نیچے دیے گئے ہیں، ’’سوال وجواب‘‘ کو جلی خط میں اور قوسین کے درمیان لکھا گیا ہے، نیز ہر مسئلہ میں بحث کی تعداد کی ترقیم بھی کی گئی ہے، صرف پہلی جلد کے دو نسخے نظر نواز ہوسکے، جو  ’’تِلْکَ اُمَّۃٌ قَدْ خلت لہا مَا کَسَبَتْ الخ‘‘  تک کی تفسیر کو شامل ہیں۔
                یہ ترجمہ امرت سر پنجاب کے ’’مطبع شمس الاسلام‘‘ سے شائع ہوا ہے، صفحات کی تعداد پانچ سو بتیس (۵۳۲) ہے، اس ترجمہ کی طباعت اشاعت کے جملہ اخراجات دوشخصوں نے برداشت کیے ہیں، یہ دونوں پنجاب کے کتب خانہ اسلامیہ کے مالک ہیں، ان کے اسمائے گرامی شیخ عبدالرحمن اور ماسٹر جھنڈے خان ہیں، تاریخ طباعت ذی الحجہ ۱۳۱۷ھ مطابق ۱۹۰۰ء درج ہے، ہر صفحہ کا حاشیہ ’’الم‘‘  کے خوب صورت طُغرے سے آراستہ ہے۔
تفسیرکبیر کا ایک اور ترجمہ
                مولانا مرزا حیرت رحمۃ اللہ علیہ کی نگرانی وسرپرستی میں ایک ترجمہ شائع ہوا تھا، وہ بھی دارالعلوم دیوبند کے کتب خانے میں ہے؛ مگر مکمل نہیں ہے،اس کی صرف ایک جلد نظرنواز ہوئی، صفحات کی تعداد تین سو اٹھائیس (۳۲۸) ہے، ’’مطبع کرزن پریس دہلی‘‘ کے ذریعہ زیورِ طباعت سے آراستہ ہوا تھا، غالباً یہ سب سے قدیم ترجمہ ہے، اس پر ایک صدی سے زائد عرصہ گزرچکا ہے، کاغذ بوسیدہ، کِرم خوردہ ہے، یہ نسخہ ناقابلِ استفادہ ہے؛ ہاں! اگر جدید ٹکنالوجی سے اس کے سارے صفحات الگ الگ کیے جائیں اور پھر اس کی فوٹوکاپی کرائی جائے، تو دوسروں کے لیے استفادہ ممکن ہوسکے گا۔ یہ درمیانی تقطیع پر مطبوع ہے، کتب خانہ دارالعلوم دیوبند میں ’’ترتیبِ کتب اردو تفاسیر‘‘ میں اس کا نمبر ۱۷۹ ہے۔
تفسیر بغوی
                ’’معالم التنزیل‘‘ علامہ بغویؒ کی ہے، اس کو ہندوستانی علماء اپنے عرف میں ’’تفسیرِ بغوی‘‘ کہتے ہیں، علامہ بغوی مصر کے رہنے والے ہیں اور مسلکاً شافعی ہیں، ان کی کنیت ’’ابومحمد‘‘ اور نام حسین بن مسعود ہے، ۵۱۶ھ میںان کی وفات ہوئی، علمِ لغت، علمِ قرأت کے علاوہ فقہ میں بھی نمایاں مقام رکھتے ہیں، انھوں نے اپنی تفسیر میں عہدِ رسالت سے لے کر پانچویں صدی تک کے اکابرِ امت کے ارشادات سے استفادہ کیا ہے، احادیث،آثارِ صحابہ وتابعین سے یہ تفسیر بھری پڑی ہے، شانِ نزول بھی روایات کے حوالوں سے بیان فرماتے ہیں، اس تفسیر میں تفسیرِ خازن اور تفسیرِ ابن کثیر کے حوالے بھی خوب ملتے ہیں؛ البتہ روایات کے ضمن میں اسرائیلیات بھی درآئی ہیں، علامہ بغویؒ تحقیقِ لغات میںاپنا ایک مقام رکھتے ہیں، اس تفسیر میں اس کے مظاہر ملتے ہیں، اسی طرح فقہی مسالک اور مسائل کو بھی بیان کیاہے؛ چوںکہ مختلف قراء توں کی وجہ سے تفسیر کے معانی ومفاہیم میں وسعت پیدا ہوتی ہے؛ اس لیے موصوف نے قراء ت کی تفصیلات بھی خوب بیان فرمائی ہیں؛ لیکن یہ سب عربی زبان میں ہے، اردو خواں حلقہ کے لیے استفادہ مشکل تھا؛ اس لیے ایک بڑے عالمِ دین، زبان وادب کے شہسوار، نثر کے ساتھ نظم پر عظیم تر قدرت رکھنے والی شخصیت نے اس تفسیر کو اردو کا جامہ پہنانا شروع کیا، میری مراد ’’ہدایتُ القرآن‘‘ کے اولین مؤلف حضرت مولانا محمد عثمان رحمۃ اللہ علیہ ہیں، جو علمی اور ادبی حلقوں میں ’’کاشف الہاشمی‘‘ سے جانے جاتے ہیں۔
                ترجمہ کی زبان بہت عمدہ اور ادب کی چاشنی سے لبریز ہے، آیات اور ترجمۂ قرآن کے درمیان دو خط کھینچے ہوئے ہیں، حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کے ’’فارسی ترجمۂ قرآن‘‘ کو اس میں شامل کیاگیاہے، اس ترجمہ کے بارے میں تو کوئی کلام نہیں، یقینا وہ معیاری ہے، اہلِ علم کے نزدیک قابلِ اعتماد ہے؛ مگر اس کی وجہ سے خالص اردو حلقوں میں ترجمۂ قرآن اجنبی رہے گا، پہلے تو فارسی زبان کا کچھ کچھ رواج تھا، آج تو اردو داں طبقہ فارسی جانتا ہی نہیں ہے، محض علما اور مدارس کے افراد ہی اس زبان سے واقف ہیں؛ اس لیے فارسی ترجمہ کا انتخاب راقم الحروف کے نزدیک زیادہ مناسب نہیں؛ اس وجہ سے بھی کہ عربی تفسیر کو اردو میں ترجمہ کرنے کا مقصد عوام اور اردو جاننے والوں کو قرآن سے قریب کرنا ہے نہ کہ خواص اور فارسی جاننے والے علماء کو؛ بہرحال! مترجم نے ترجمۂ تفسیر بغویؒ میںاپنی پوری مہارت وصلاحیت کو بروئے کار لایا ہے، ترجمہ کے ساتھ حواشی بھی بڑھائے ہیں، تشریحات بھی کی ہیں، عناوین کا اضافہ بھی کیاہے، جس سے ترجمہ کی افادیت بڑھتی ہوئی نظر آتی ہے۔
ایک نایاب ترجمہ
                حضرت کاشف الہاشمیؒ سے پہلے دارالعلوم دیوبند کے مفتی اعظم حضرت مفتی عزیزالرحمن صاحبؒ عثمانی نے تفسیر بغوی کا اردو زبان میں ترجمہ کیاتھا، وہ محض ترجمہ نہیں تھا؛ بلکہ اس میں مضامین کی تلخیص وتسہیل بھی کی گئی تھی، اس کانام  ’’منحۃ الجلیل في بیان ما في معالم التنزیل‘‘ رکھا تھا، یہ ترجمہ اہلِ علم کے درمیان بہت مقبول ہوا؛ مگر اب وہ معدوم ونایاب ہے، اس کی تاریخ ۱۳۱۵ھ بتائی جاتی ہے۔
                غرض یہ کہ کاشف الہاشمی مرحوم کے ترجمہ تک ہی راقم الحروف کی رسائی ہوسکی، اس ترجمہ کے شروع میں تین صفحات پر مشتمل ناشر کی تحریر ہے،اس میں ترجمہ کی اہمیت وافادیت اور ضرورت بیان کی گئی ہے، اسی کے ساتھ ممبربناکر قسطوں پر اس کی اشاعت کا طریقہ بھی رقم کیا ہوا ہے، یہ طریقہ متعدد تفسیروں کے ترجمے کے لیے دیوبند کے کتب خانوں نے اپنایاتھا، اس کے بعد ’’عرضِ مترجم‘‘ ہے۔
                حضرت کاشف الہاشمی مرحوم کے ترجمہ کے ابتدائی صفحات میں یہ وضاحت کردی گئی ہے کہ احادیث کے ترجمہ میںسند حذف کردی گئی ہے، جب یہ ترجمہ چھپا تو اہلِ علم نے اسے خوب سراہا،اس پر تین عبقری شخصیات کی تقریظ بھی ہے؛ جنھوں نے ترجمہ کی عمدگی کو دادِ تحسین سے نوازا ہے، زبان وبیان کی سلاست وروانی اور دل نشینی کا بڑے اچھے انداز میںاعتراف کیا ہے، وہ شخصیات درج ذیل ہیں:
                الف) حضرت مولانا سعیداحمد اکبر آبادیؒ مدیر ماہ نامہ ’’برہان‘‘ دہلی، وصدر شعبۂ اسلامیات مسلم یونیورسٹی علی گڑھ۔
                ب) حضرت مولانا حفظ الرحمن صاحب سیوہارویؒ، سابق ایم، پی، وناظم جمعیۃ علمائے ہند۔
                ج) حضرت مفتی عتیق الرحمن صاحب عثمانیؒ، بانی ندوۃ المصنّفین دہلی، ورکن مجلس شوریٰ دارالعلوم دیوبند۔
                تفسیر بغوی کی اشاعت دیوبند کے مکتبہ ’’ندوۃ الفرقان‘‘ کے ذریعہ عمل میں آئی؛ لیکن افسوس اس پر ہے کہ میری رسائی ’’صرف پہلی جلد‘‘ تک ہوسکی، وہ دارالعلوم دیوبند کے کتب خانہ میںموجود ہے یہ چھیانوے (۹۶) صفحات کا ترجمہ  فَذَبَحُوْہَا وَمَا کَادُوْا یَفْعَلُوْنَ الخ: تک کی تفسیر کو شامل ہے، بازار میں تلاشِ بسیار کے باوجود مل نہ سکا، جب مترجم کے فرزندِ ارجمند جناب مولوی محمد سفیان صاحب سلّمہ سے ربط کیا تو انھوں نے بتایا کہ اس کی ایک ہی جلد زیورِ طباعت سے آراستہ ہوسکی تھی؛ بقیہ ترجمہ شائع نہ ہوسکا اور نہ ہی اس کا مسودہ دریافت ہوسکا ہے۔
                ضرورت ہے کہ کوئی صاحبِ قلم، اہلِ علم اس طرف متوجہ ہو اوراس ترجمہ کو ایک نہج متعین کرکے پایۂ تکمیل تک پہنچائے، وباللہ التوفیق!
تفسیر ابن کثیر
                حافظ ابن کثیر رحمۃ اللہ علیہ (۷۰۰ھ تا ۷۷۴ھ) کی ’’تفسیر القرآن الکریم‘‘ اہلِ علم کے نزدیک سب سے قابلِ اعتماد تفسیر ہے، اس کو عرف میںلوگ تفسیر ابن کثیر ہی کہتے ہیں، ان کا نام اسماعیل، کنیت ابوالفداء اور لقب عماد الدین ہے، تفسیر، حدیث، تاریخ میںاہلِ علم ان پر اعتماد کرتے ہیں، اساطین علمائے امت نے ان کی علمی قدرومنزلت کا کھل کر اعتراف کیا ہے اور تصانیف کو بڑے اونچے الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کیاہے، موصوف کی زندگی میں ہی چہار دانگِ عالم میں تصانیف پہنچ چکی تھیں، قرآنِ پاک کی تفسیر کے سلسلہ میں علامہ سیوطیؒ نے فرمایا:  لَمْ یُؤلَّف علی نَمْطِہٖ مثلُہٗ (اس طرز پر دوسری تفسیر نہیں لکھی گئی) اور یہ واقعہ ہے کہ آج بھی اسلامی کتب خانہ میںکوئی تفسیر ایسی نہیں ملتی،جو حافظ ابن کثیر کی تفسیر کا مقابلہ کرسکے اور محدث کوثریؒ نے فرمایا:  ہُو مِنْ أفْیَدِ کُتُبِ التَّفْسِیْرِ بالروایۃ (یعنی تفسیر ابن کثیر، تفسیر بالروایہ میں سب سے زیادہ مفید کتاب ہے)
                مولانا عبدالرشید نعمانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
                ’’مصنف اس کتاب میں سب سے پہلے ’’تفسیر القرآن بالقرآن‘‘ کے اصول پر ایک آیت کی تفسیر، اُس مضمون کی دوسری آیات کی روشنی میںکرتے ہیں، پھر محدثین کی مشہور کتابوں سے اس کے بارے میں جواحادیث مروی ہیں، ان کو نقل کرکے ان کی اسانید ورجال پر سیر حاصل بحث کرتے ہیں اور اس کے بعد آثارِ صحابہؓ وتابعین کو لاتے ہیں۔
                حافظ ابن کثیرؒ کا یہ سب سے بڑا علمی کارنامہ ہے کہ انھوں نے تفسیر اور تاریخ سے اسرائیلیات کو بہت کچھ چھانٹ کر علاحدہ کردیاہے اور سچ یہ ہے کہ اس اہم کام کے لیے ان جیسے بالغ نظر محدث ہی کی ضرورت تھی، یہ اتنا بڑا کام ہے کہ اگر ان کی علمی خدمات میں صرف یہی ایک خدمت ہوتی، تب بھی وہ اُن کے فخر کے لیے کافی تھی۔۔۔ الحمدللہ! یہ کتاب متداول ہے اور بارہا طبع ہوچکی ہے۔‘‘ (از مقالہ: در ابتدائے ترجمہ تفسیرابن کثیر ص۹)
                ترجمہ کے شروع میں مولانا محمد عبدالرشید نعمانیؒ کا نوصفحات پر مشتمل ایک مقالہ شاملِ اشاعت ہے، یہ نہایت ہی محقق ومدلل ہے، اس کی تیاری میں تراجم ورجال کی ایک درجن کتابوں سے استفادہ کیاگیاہے، ہر ہر بات کی تحقیق میں بڑی عرق ریزی کی گئی ہے، اہلِ علم کے لیے بہت مفید ہے۔
تفسیر ابن کثیر کے دو اردو ترجمے
                تفسیر ابن کثیر کے دو اردو ترجمے تک راقم الحروف کی رسائی ہوسکی ہے:
                الف) ایک ترجمہ ’’اعتقاد پبلشنگ ہائوس نئی دہلی‘‘ نے شائع کیا ہے، یہ ترجمہ پانچ جلدوں پر مشتمل ہے، جناب اعتقاد حسین صدیقی نے عرض ناشر میں یہ وضاحت کی ہے کہ ’’یہ ترجمہ بار بار لیتھوپر چھپتارہا؛ مگر طباعت کے صاف نہ ہونے کی وجہ سے قارئین کو ناپسند تھا، میں نے ’’نورمحمد کارخانۂ تجارت کراچی‘‘ کے نسخہ سے فوٹولے کر اس کتاب کو آفسیٹ پر چھاپا ہے؛ تاکہ قارئین کے نزدیک یہ طباعت شرف مقبولیت حاصل کرسکے‘‘ (تلخیص:ص۲)
                اس ترجمہ میںکتابت ہاتھ کی ہے اور اچھی ہے،  اس نسخہ میں قرآن پاک کی آیات اورترجمہ کے درمیان لکیریں کھینچی ہوئی ہیں، ’’ترجمۂ قرآن‘‘ جناب مولانا محمد جوناگڈھیؒ کا ہے جو مسلکاً اہل حدیث ہیں؛ البتہ یہ عقدہ میرے لیے اب تک لاینحل ہے کہ تفسیر کے مترجم کون ہیں؟ بعض لوگوں نے حضرت مولانا عبدالرشید نعمانیؒ کو مترجم سمجھ لیاہے؛ حالاںکہ اس ترجمہ کی پہلی جلد کے شروع میں صرف ان کا ایک مقالہ ہے، جس کے شروع میں مقالہ نگار کی حیثیت سے نام بھی لکھا ہواہے، ترجمہ کو پڑھ کر مجھ ناچیز کو یہ یقین ہوگیا ہے کہ یہ ترجمہ مولانا نعمانیؒ کا نہیں ہوسکتا، مثلاً (ج۱،ص۱۳۲ پر)  ’’والنجم والشجر الخ‘‘ میں نجم کا ترجمہ ’’ستارہ‘‘ کیاہے؛ حالاںکہ محققین کے نزدیک اس جگہ ’’نجم‘‘ کا ترجمہ ’’بے تنا درخت‘‘ ہے، جیساکہ حضرت تھانویؒ کے ترجمۂ قرآن میں بھی ہے، تفصیل کا موقع نہیں؛ اس لیے ایک ہی مثال پر اکتفا کیا جاتا ہے، بعض لوگوں نے مولانا محمدجوناگڈھی کا ترجمہ سمجھا ہے، اس کی بھی میرے پاس کوئی دلیل نہیں ہے؛ اس لیے مترجم کا علم نہ ہونے کی وجہ سے اس ترجمہ کے پڑھنے اور مطالعہ کرنے کا مشورہ دینا سمجھ میں نہیں آتا؛ البتہ زبان وبیان کا پیرایہ ٹھیک ہے۔
                اس ترجمہ میں ہرجلد کے شروع میں مضامین کی مفصل فہرست دی گئی ہے،جس سے اپنے مقصد کے مضامین کا مطالعہ آسان ہوگیا ہے، ہر صفحہ میںدو کالم بنائے گئے ہیں؛ تاکہ اردو قارئین کو زحمت نہ ہو، ہندوپاک میںیہ ترجمہ بھی اصل کی طرح متداول ہے؛ لیکن کسی اہلِ علم نے اس پر اعتماد کا اظہار کیا ہو،اس کا حوالہ راقم الحروف کے پاس نہیں ہے۔
                ب)         تفسیر ابن کثیر کا دوسرا ترجمہ دیوبند کے ’’مکتبہ فیض القرآن‘‘ نے پانچ جلدوں میں شائع کیا ہے، یہ ترجمہ مشہور ومعروف عالمِ دین وانشاپرداز حضرت مولانا انظرشاہ صاحب کشمیریؒ، شیخ الحدیث دارالعلوم وقف  دیوبند کا ہے، یہ ترجمہ اپنی گوناگوں خصوصیت کی وجہ سے پہلے ترجمہ کی بہ نسبت بہتر اور قابلِ اعتماد ہے، حضرت مولانا مرحوم نے اس پر حواشی بھی تحریر فرمائے ہیں، ظاہر ہے کہ حافظ ابن کثیرؒ شافعی مسلک کے ہیں، انھوںنے تفسیر میں مسائل ودلائل اپنے مسلک کے مطابق لکھے ہیں؛ ان مقامات پر حنفی قاری کا تشویش میں مبتلا ہوجانا بدیہی تھا؛ اس لیے مولانا کشمیری مرحوم نے ان سارے مقامات پر عمدہ حواشی تحریر فرمائے، مزید علوم ومعارف سے حواشی کا دامن لبریز ہے، اس ترجمہ کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ اس میںآیات کا ترجمہ حضرت تھانوی علیہ الرحمہ کا ہے، جس کی صحت پر اردو زبان وادب کے ساتھ قرآنیات سے دلچسپی رکھنے والے سارے علمائے کرام کا اتفاق ہے، اسی طرح ’’تفسیر تھانویؒ‘‘ کے عنوان کے تحت مولانا کشمیری مرحوم نے ’’بیان القرآن‘‘ کے مضامین کا اختصار پیش فرمایا ہے۔
                پہلے یہ ترجمہ بھی ہاتھ کی کتابت اور لیتھوکی طباعت سے مزین تھا، اب مزید عمدگی پیدا کرنے کے لیے کمپیوٹر کے ذریعہ کتابت کرائی گئی ہے اور طباعت آفسیٹ کی ہے (عرض ناشر) مولانا کشمیری مرحوم نے کئی عربی تفسیروں کے اردو ترجمے شروع کیے  تھے؛ مگر یہی ایک ترجمہ ایسا ہے جو مکمل ہوسکا، بقیہ سارے ترجمے ادھورے ہی رہ گئے؛ یہاں تک کہ مرحوم راہیِ ملکِ عدم ہوگئے، اللہ تعالیٰ بال بال ان کی مغفرت فرمائیں اور جنت الفردوس میں جگہ عنایت فرمائیں! (آمین)
                پانچ صدی سے یہ تفسیر امت میں متداول ومقبول ہے، یہ تفسیر نہیں؛ بلکہ قرآن پاک کا ’’عربی ترجمہ‘‘ ہے،اس میں تفسیری کلمات قرآنِ پاک کے الفاظ کے برابر ہیں، کہیں کہیں چند الفاظ یا جملے زائد ہیں، اس تفسیر کو پڑھنے پڑھانے اور استفادہ کرنے والے جانتے ہیں کہ شروع سے ’’سورئہ مدثر‘‘ تک ایسا ہی ہے، اس کے بعد تفسیر کے الفاظ آیات سے کچھ زائد ہیں۔
                علامہ سیوطیؒ (۸۴۹ھ تا ۹۱۱ھ) اور علامہ محلی (۷۹۱ھ تا ۸۶۴ھ) دونوں کا لقب؛ چوںکہ جلال الدین ہے؛ اس لیے ان کی تفسیر، ’’تفسیر الجلالین‘‘ سے موسوم ہوئی، علامہ سیوطیؒ کا نام عبدالرحمان ہے، ان کو دولاکھ احادیث یاد تھیں، متعدد فنون پر دست رس حاصل تھی،  ’’الاتقان في علوم القرآن، لباب النقول في أسباب النزول‘‘ وغیرہ ان کی مشہور تصانیف ہیں، یہ علامہ محلیؒ کے شاگرد ہیں، جن کا نام محمد بن احمد بن محمد ہے، ان کی مشہور تصانیف میں سرفہرست ’’جمع الجوامع‘‘ ہے، علامہ محلیؒ نے ’’سورئہ کہف‘‘ سے اخیر قرآن تک کی تفسیر لکھی اور شروع سے ’’سورئہ فاتحہ‘‘ کی تفسیر لکھی تھی کہ فرشتۂ اجل آدھمکا، بالآخر علامہ سیوطیؒ نے اپنے استاذِ محترم کے نہج کو باقی رکھتے ہوئے ہی، تفسیر پوری کی، کوئی عالم محض مطالعہ کی بنیاد پر دونوں کے درمیان خطِ امتیاز نہیں کھینچ سکتا، دونوں شخصیتوں کے سامنے خصوصیت کے ساتھ شیخ موفق الدینؒ کی دو تفسیریں رہی ہیں، ایک کا نام ’’تفسیر کبیر‘‘ ہے، جسے اہلِ علم ’’تبصرہ‘‘ کے نام سے جانتے ہیں اور دوسرے کا نام ’’تفسیر صغیر‘‘ ہے، جسے ’’تلخیص‘‘ کے نام سے جانا جاتا ہے، ان کے علاوہ تفسیر وجیز، بیضاوی اور ابن کثیر سے بھی استفادہ کیاگیاہے۔
جلالین کی اردو شروحات
                راقم الحروف کے علم واطلاع میں اردو زبان میں اس کے تین ترجمے اور شرحیں ہیں:
                (الف) کمالین (ب) فیض الامامین (ج) جمالین۔
                ’’کمالین‘‘ نام کی جلالین کی ایک شرح عربی زبان میں بھی ہے،اس کی زیارت حیدرآباد کے ’’سالارجنگ میوزیم‘‘ میں ہوئی، شیشے کے اوپر سے ہی کھلے ہوئے ورق کو دیکھ سکا،یہ شرح اردو زبان میںہے، اس کے ’’تیس اجزائ‘‘ ہیں، ہر پارے کوالگ جزء میں لکھا گیا ہے، سولہ، سترہ اور اٹھارہ ویں پارے کاترجمہ اور اس کی تشریح حضرت مولانا انظرشاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے کی ہے، بقیہ سارے اجزاء حضرت مولانا محمد نعیم صاحبؒ استاذ تفسیر دارالعلوم دیوبند نے لکھے ہیں، یہ شرح مدارس کے طلبہ کے درمیان متعارف ہے،اس کی اشاعت ’’مکتبہ تھانوی دیوبند‘‘ کے توسط سے عمل میں آئی ہے، حضرت مولانا محمد نعیم صاحب دارالعلوم کے قدیم اساتذہ میں سے تھے، ان کی بھی متعدد علمی تصانیف ہیں، جو اہلِ علم سے دادِ تحسین حاصل کرچکی ہیں۔
                زبان و بیان کے لحاظ سے کسی طرح کی کمی نہیں ہے، جلالین کے حل کرنے اور اردو سے سمجھنے والے علماء وطلبہ کے لیے معاون ہے، طباعت بہت عمدہ نہیں ہے، اب تک قدیم پلیٹوں پر ہی چھاپی جارہی ہے۔
                راقم الحروف کو دارالعلوم حیدرآباد میں چھ سال مسلسل جلالین شریف پڑھانے کا موقع نصیب ہوا اور الحمدللہ یکے بعد دیگرے دونوں حصوں کے پڑھانے کی توفیق ملی، اس دوران تین مشکل مقامات پر ’’کمالین‘‘ کو دیکھنے کی نوبت آئی، ان میں سے دو مقام پر عبارت کا ترجمہ بھی نظر نہیں آیا اور ایک مقام پر ترجمہ تو تھا؛ مگر قاری کی مشکل حل ہوتی ہوئی نظر نہ آئی، اس کے بعد اور اس سے پہلے اس کو دیکھنے کا موقع میسر نہ آیا، بعض ایسی شروحات جو محض تجارتی نقطئہ نظر سے بعض تجار لکھواتے ہیں، ان میں لکھنے والوں کو بعض جگہوں پر جلدی کی وجہ سے تحقیق کا موقع نہیں ملتا اور ویسے ہی مسودہ کاتب کے پاس چلاجاتا ہے، اللہ تعالیٰ ان سب کو معاف فرمائیں! غرض یہ کہ ’’کمالین شرح جلالین‘‘ بھی ان شرحوں میں سے ہے، جن کو کسی بالغ نظر عالم کی تحقیق کے بعد ہی اعتبار حاصل ہوسکتا ہے۔
فیض الامامین شرح اردو تفسیر الجلالین
                جلالین کی مقبولیت اور اس کے درسِ نظامی کے نصاب میں داخل ہنے کی وجہ سے متعدد علماء نے اردو زبان میں اس کی شرح لکھی ہے، ان میں ایک اور عظیم شخصیت ہیں، جنھوں نے بخاری، مسلم اور دیگر عربی درسی کتابوں کی شرحیں لکھی ہیں، ان کے نوٹس شائع کیے ہیں، میری مراد مظاہرعلوم سہارن پور کے شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد عثمان غنی ہیں، ان کا قلم بہت عمدہ ہے، طلبۂ کرام کے نزدیک ان کی شرحیں پسندیدگی کی نگاہوں سے دیکھی جاتی ہیں، موصوف نے جلالین کی اردو شرح ’’فیض الامامین‘‘ کے نام سے تحریر فرمائی، یہ چھ جلدوں میں ہے، مکتبہ فیض القرآن دیوبند سے چھپی ہے، دیوبند اور سہارن پور کے تجارتی کتب خانوں میںدست یاب ہے، موصوف نے ایک بار خود سنایا تھا کہ میں جس کتاب کو بھی پڑھاتا ہوں،اس کی شرح لکھ ڈالتا ہوں، بعض کتب خانہ والوں نے میری شرح کو دوسرے کے نام سے بھی چھاپ دیا ہے، ایسا ہی اتفاق ایک بار بنگلہ دیش میںہوا، ایک کتاب میں نے دیکھی، مجھے اچھی لگی؛ لیکن پڑھنے کے بعد میری اپنی تحریر محسوس ہوئی تو میں نے غور سے دیکھا تو حواشی پر میرے نام کے مختصرات (ع،غ چلمل) لکھے ہوئے تھے، چلمل میرا وطن ہے، بہار کے بیگوسرائے ضلع میںہے، تب مجھے نام بدل کر چھاپنے والوں پر بہت افسوس اور تعجب ہوا، راقم الحروف کو افسوس کے ساتھ یہ کھنا پڑرہا ہے کہ مولانا مرحوم آج بہ تاریخ ۸؍۲؍۱۴۳۲ھ مطابق ۱۳؍۱؍۲۰۱۱ء رات چار بجے اپنے مالکِ حقیقی سے جاملے؛ غرض یہ کہ ’’فیض الامامین‘‘ میںکتاب کو اچھی طرح حل کیاگیا ہے، واللہ اعلم۔
                ’’جمالین‘‘ حضرت الاستاذ مولانا محمد جمال ابن حکیم شیخ سعدی صاحب بلندشہری دامت برکاتہم (ولادت ۱۹۳۸ء) استاذِ فقہ وتفسیر دارالعلوم دیوبند کی ہے، یہ میرٹھ کے رہنے والے ہیں، ابتدائی تعلیم کو رانہ ضلع بلندشہر اور مفتاح العلوم جلال آباد میں حاصل کی، پنجم عربی سے دارالعلوم دیوبند میں پڑھا، مولانا مدنیؒ اور علامہ بلیاویؒ سے کسبِ فیض کیا، ۵۶-۱۹۵۵ء میں فراغت ہوئی، طب کے ساتھ فنون کی تعلیم حاصل کی، ۱۹۸۶ء میں وسطیٰ (ب) میں تقرر ہوا، اس لحاظ سے دارالعلوم دیوبند میںپچیس سال سے استاذ ہیں، موصوف کی متعدد شرحیں منصہ شہود پر آچکی ہیں، ہدایہ، حسامی اور مقاماتِ حریری کی شرحیں طبع ہوکر قبولِ عام حاصل کرچکی ہیں، تقریباً سترہ (۱۷) سال سے جلالین شریف کا درس دے رہے ہیں، ’’قرۃ العینین‘‘ کے نام سے جلالین کا اردو ترجمہ فرمایا، اس کے بعد اپنے درسی افادات کو خود سے مرتب فرماکر ’’جمالین‘‘ کے نام سے ’’مکتبۂ جمال‘‘ سے شائع فرمایا ہے، چھ جلدوں میں پوری تفسیر کا احاطہ کیاگیاہے؛ چوںکہ علامہ محلیؒ نے بعد کے پاروں کی تفسیر پہلے فرمائی تھی؛ اس لیے آپ نے بھی پہلے اخیر کی تین جلدیں شائع کیں، شروع کی تین جلدوں کی تصنیف، کتابت، طباعت اور اشاعت بعد میں عمل میں آئی ہیں۔
                شروع میں فہرستِ مضامین مفصل ہے، یہ شرح جملہ شروحات میں نمایاں حیثیت کی حامل ہے، یہ طلبہ کو سامنے رکھ کر لکھی گئی ہے؛ اس لیے مشکل مفردات کی لغوی وصرفی تحقیق کے ساتھ مشکل جملوں کی ترکیب بھی کی گئی ہے، علامہ سیوطیؒ اور محلیؒ کے تفسیری الفاظ وتعبیرات کے مقاصد اور فوائدِ قیود کو اچھی طرح واضح کیاگیاہے، مثلاً یہ کہ کہاں محض لغوی ترجمہ بتانا مقصد ہے؟ کہاں ابہام کی وضاحت ہے؟ کہاں اجمال کی تفصیل ہے؟ کہاں معنی مرادی کی تعیین کاارادہ ہے؟ اور کہاں بیانِ مذہب ہے؟ کہاں ترکیبِ نحوی، قرأت اور تعلیل بتانا مقصد ہے؟ غرض یہ کہ عبارت کے حل کرنے میںکوئی دقیقہ چھوڑا نہیں گیا ہے، جہاں فقہی مسائل ودلائل بیان کیے ہیں، ان مقامات پر شارح نے حنفی نقطئہ نظر کو بھی دلائل سے واضح فرمایاہے، ’’ارض القرآن‘‘ کے نقشوں کو بھی افادہ کے لیے شاملِ اشاعت کیاگیاہے، اکابر علماء نے اس شرح کو خوب سرایا ہے، دارالعلوم دیوبند کے استاذ حدیث، زبان وقلم کے بے تاج بادشاہِ نظم ونثر کے معروف قلم کار حضرت الاستاذ مولانا ریاست علی ظفرؔ بجنوری دامت برکاتہم نے اس پر قیمتی تقریظ تحریر فرمائی ہے، صفحہ نمبر بارہ(۱۲) تا اکیس (۲۱) پر شارح نے تفصیلی مقدمہ تحریر فرمایا ہے، اس میں شیخین کاتعارف، وحی کی ضرورت واہمیت، اقسام، مکی، مدنی سورتوں کی تعریف، نزولِ قرآن اور حفاظتِ قرآن کی تاریخ بیان کی ہے، قرآنِ پاک سے متعلق اعداد وشمار مثلاً سورہ، رکوع، آیات، مکی، مدنی، بصری، شامی آیات اور کلماتِ قرآنی کی تعداد تحریر فرمائی ہے، ساتھ ہی تفسیر کی لغوی اور اصطلاحی تعریفات بھی لکھی ہیں، یعنی تفسیر پڑھنے والے ابتدائی طالب علموں کو جتنی معلومات ضروری ہیں، اُن کو تفصیل سے جمع فرمادیا ہے، تفسیر وتشریح کا انداز بہتر ہے، ہربات کو نئے عنوان کے تحت لکھا ہے، آیات اور ان کے ترجمے پر خط کھینچ دیا ہے؛ غرض یہ کہ جلالین کی شرح میںجتنی جمال آفرینی موصوف سے ممکن تھی سب بروئے کار لائی گئی ہے۔
تفسیر بیضاوی
                درس نظامی میںجلالین کی طرح ’’بیضاوی‘‘ بھی ہمیشہ سے مقبول رہی ہے، مشکوٰۃ المصابیح کے ساتھ اس کا ابتدائی حصہ اب بھی مدارس میں نصاب کا جزء ہے اور دارالعلوم دیوبند میں دورئہ حدیث شریف کے بعد ’’تکمیل تفسیر‘‘ میں بیضاوی کا ایک معتدبہ حصہ پڑھایا جاتا ہے، امام فخرالدین رازیؒ کی تفسیر کے بعد مشکل تفسیروں میںاس کا شمار ہوتا ہے، اس میںنحو، صرف، کلام اور قراء ت وغیرہ کے مباحث کو بھی بیان کرتے ہیں؛ اس لیے اس کے لیے اردو شرح کی ضرورت ایک مسلم بدیہی حقیقت ہوگئی۔
                اس تفسیر کا مکمل ترجمہ اردو زبان میں ہوا ہو، اس کا علم تو مجھے نہیں؛ البتہ اتنا ضرور ہے کہ جتنا حصہ داخلِ نصاب رہا ہے؛ اس کی مختلف اوقات میں مختلف انداز کی شرحیں شائع ہوئی ہیں، میرے علم میں اس کی دو شرحیں ہیں:
                (الف) التقریر الحاوي في حل تفسیر البیضاوي۔
                (ب)       تقریر شاہی۔۔۔ یہ دونوں مستقل شرحیں نہیں ہیں؛ بلکہ درسی افادات ہیں۔
التقریر الحاوی
                یہ حضرت مولانا سید فخرالحسن صاحب رحمۃ اللہ علیہ صدرالمدرسین دارالعلوم دیوبند کے درسی افادات ہیں، مکتبہ فخریہ دیوبند نے اسے شائع کیاہے، اس کی تین جلدوں کے دیکھنے کا شرف حاصل ہوسکا ہے، مرتب کی حیثیت سے پہلی اور دوسری جلد پر دو نام ہیں:
                (الف) مولانا شکیل احمد صاحب صدرمدرس مدرسہ محمودیہ سروٹ، مظفرنگر(یوپی)
                (ب)       مولانا جمیل احمد سہارن پوری۔
                اور تیسری جلد پر صرف پہلا نام ہے، پہلی جلد کے ابتدائی دس صفحات میں ’’مقدمہ‘‘ ہے، اس کے بعد اصل شرح شروع ہوتی ہے، پہلے عبارت، پھر ترجمہ اس کے بعد تشریح ہے، تیسری جلد  ہُو الذی خلق لکم ما في الأرض جمیعاً الخ  تک کے ترجمہ وتشریح پر مشتمل ہے، اس پر حضرت مولانا محمد عثمان کاشف الہاشمیؒ کا ’’پیش لفظ‘‘ بھی ہے،اس میں شرح کی خوبیوں پر گفتگو کی گئی ہے، زبان وبیان کے لحاظ سے بھی کوئی سقم نظر نہ آیا، اس میں انھیں افادات کو شائع کیاگیا ہے جو حضرت مولانا شکیل احمد صاحب سیتاپوری مدظلہٗ نے دورانِ درس ضبطِ تحریر میں لائے تھے۔ (مقالاتِ حبیب۱؍۸۰)
تقریر شاہی
                حضرت مولانا انظرشاہ صاحب کشمیری رحمۃ اللہ علیہ کے درسی افادات کو اس میں جمع کیاگیا ہے، یہ صرف سورئہ فاتحہ کی تفسیر پر مشتمل ہے، اس کی زیارت ۱۹۹۳ء یا ۱۹۹۴ء میں مدرسہ ریاض العلوم گورینی، جون پور (یوپی) میںہوئی تھی، دیوبند میںاسے نہیں دیکھ سکا، تجارتی کتب خانوں میں نایاب ہے۔
                ’’مدارک التنزیل‘‘ علامہ ابوالبرکات عبداللہ بن احمد نسفی کی تفسیر ہے، یہ تفسیر نہایت عمدہ ہے، جامعیت اور پیرایۂ بیان کی دلکشی میں منفرد ہے، اس میںگمراہ فرقوں کے عقائد باطلہ کی بھی بھرپور تردید کی گئی ہے، حافظ ابن کثیرؒ کی تفسیر کی طرح اسرائیلیات سے بالکل پاک ہے، اہلِ علم نے ہمیشہ اسے پذیرائی بخشی ہے، پہلے ہندوپاک کے مدارس میں داخلِ نصاب تھی،اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ اس میں فقہی مسائل ودلائل حنفی نقطئہ نظر سے بیان ہوئے ہیں، تفسیر اور علمِ تفسیر سے بے اعتنائی کے دور میں جس طرح دوسری تفسیریں بے توجہی کا شکار ہوئی ہیں، اسی طرح یہ تفسیر بھی ہوئی، فإلی اللہ المشتکٰی!
                مذکورہ بالا خصوصیات کی وجہ سے حضرت مولانا انظرشاہ کشمیریؒ نے اس کا ترجمہ شروع فرمایا اور بڑے ہی آب وتاب سے دیوبند کے ’’ادارہ فکرِ اسلامی‘‘ کے ذریعہ اس کی اشاعت عمل میں آئی، ترجمہ کا اسلوب نہایت عمدہ اور زبان شیریں ہے، قاری کو ترجمہ پن کا بالکل احساس نہیںہوتا، ’’فُٹ نوٹ‘‘ میں بڑی مفید باتیں بیان کی گئی ہیں، اس کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ اس میںامام جصاص اور ابن العربی رحمہما اللہ کی ’’احکام القرآن‘‘ سے مترجم نے جزوی احکام ومسائل بیان فرمائے ہیں، اس طرح ہر رکوع کے بعد ’’قرآن کا پیغام‘‘ کے عنوان کے تحت تفسیر کا خلاصہ تحریر فرمایا ہے، آیات اور ترجمہ میں خط کھینچ کر فصل پیدا کردیاگیا ہے، اہلِ علم کے نزدیک کتابتِ ترجمہ کا یہ طرز بہترہے، ترجمہ میں حضرت تھانویؒ کے ترجمہ کو منتخب فرمایا ہے۔
                مترجم مرحوم (۱۳۴۷ھ تا ۱۴۲۹ھ) برصغیر کے عظیم ترین باپ کے عظیم سپوت تھے، عربی زبان وادب پر صدرجمہوریہ ایوارڈ یافتہ تھے، مسلم پرسنل لا بورڈ کے رکن تاسیسی تھے، دو درجن علمی، ادبی اور مذہبی کتابیں تصنیف فرمائیں، مرحوم کو عربی تفاسیر کے اردو ترجمہ کی طباعت واشاعت کے ساتھ ترجمہ نگاری سے بڑی دلچسپی تھی، اس کو عمدہ سے عمدہ بنانے کی ہر ممکن کوشش فرماتے تھے، ابن کثیر، مدارک، جلالین اور مظہری کے ترجمے کیے؛ لیکن اتفاق سے اوّل الذکر کے علاوہ کوئی ترجمہ مکمل نہ ہوسکا، جلالین کا ترجمہ مکمل ہوا؛ مگر اس کے صرف تین پاروں کا ترجمہ اور اس کی شرح مرحوم ومغفور نے فرمائی تھی (یعنی سولہ، سترہ، اٹھارہ) بقیہ کی توفیق حضرت مولانا محمد نعیم صاحبؒ استاذِ تفسیر دارالعلوم دیوبند کے نصیبے میںآئی۔ مرحوم عصری دانش گاہوں کے فیض یافتہ بھی تھے، زبان وقلم دونوں کے بے نظیر شہسوار تھے، انھوں نے بڑے بڑے کارنامے انجام دیے، اللہ تعالیٰ ان سب کو قبول فرماکر مرحوم کو کروٹ کروٹ جنت نصیب فرمائیں!
                جب تفسیر مدارک کا ترجمہ چھپا تو مہبطِ وحی مکہ مکرمہ سے نکلنے والے اخبار ’’رابطۃ العالم الاسلامی‘‘ میں اس کی خوش خبری شائع ہوئی، یہ جمادی الثانیہ ۱۳۸۰ھ کی بات ہے (ترجمہ مدارک ص۹۶) ہندوستان میں بھی متعدد رسالوں نے اس پر تبصرے لکھے اور مترجم وناشر کو دادِتحسین سے نوازا، مثلاً: حضرت مولانا محمد میاں صاحبؒ نے ’’الجمعیۃ‘‘ دہلی میں ۸؍ستمبر ۱۹۶۳ء کو عمدہ تبصرہ لکھا اور مولانا سید محمد ازہرشاہ قیصرؔ نے رسالہ دارالعلوم دیوبند کے نومبر ۱۹۶۳ء کے شمارے میں اس اقدام کو نہایت بہتر بتایا۔
                میں نے اس کے دو حصے دارالعلوم دیوبند کے کتب خانے میں دیکھے، دونوں حصے چھیانوے، چھیانوے صفحات کے ہیں، جب تک یہ تفسیر نصاب میں شامل تھی، اس کے ترجمے بھی مارکیٹ میںملتے تھے، اب دیوبند کے تجارتی کتب خانوں میں یہ ترجمہ بھی نایاب ہے۔
ترجمہ تفسیر خازن
                حضرت الاستاذ مولانا حبیب الرحمن صاحب اعظمی زیدمجدہ استاذِ حدیث ومدیر رسالہ دارالعلوم دیوبند نے اپنے ’’مقالاتِ حبیب‘‘ (۷۶۱) میں تفسیر خازن کے ترجمے کا ذکر فرمایا ہے کہ دارالعلوم دیوبند کے مفتیِ اعظم حضرت مفتی عزیزالرحمن صاحب عثمانی رحمۃ اللہ علیہ نے اس کا ترجمہ کیا ہے؛ مگر کوشش کے باوجود وہ ترجمہ نظرنواز نہ ہوسکا؛ اس لیے اس کے بارے میں کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ واللہ اعلم۔
ترجمہ تفسیر طنطاوی
                علامہ طنطاویؒ کی تفسیر بھی اہلِ علم کے نزدیک نظرِاعتبار سے دیکھی جاتی ہے، حضرت مولانا انظرشاہ کشمیریؒ کے فرزندارجمند جناب سید احمد خضرشاہ صاحب زیدمجدہٗ نے راقم الحروف کو بتایا کہ والد صاحب نے تفسیر طنطاوی کا ترجمہ بھی شروع فرمایا تھا؛ لیکن وہ مکمل نہ ہوسکا، تجارتی کتب خانوں میں تو نایاب ہے ہی، خود ان کے پاس بھی نہیں ہے؛ البتہ حضرت مولانا احمد رضا صاحب بجنوری دامت برکاتہم کے کتب خانہ میں اس کے دو یا تین اجزاء کو انھوں نے دیکھا ہے، واللہ اعلم بالصواب۔
                حضرت علامہ قاضی محمد ثناء اللہ صاحب پانی پتیؒ کی یہ تفسیر، اسلامی کتب خانہ کی بڑی قیمتی متاع ہے، محدثِ کبیر علامہ انور شاہ کشمیریؒ فرماتے تھے کہ: ’’شاید ایسی تفسیر بسیطِ ارض میں نہ ہو‘‘ (روایت: حضرت مولانا انظرشاہ صاحب کشمیریؒ) حضرت قاضی صاحبؒ نے اپنے پیرومرشد کی طرف نسبت کرکے اس کا نام ’’تفسیر مظہری‘‘ رکھا، حضرت مرزا مظہرجانِ جاناں رحمۃ اللہ علیہ فرماتے تھے کہ: اگر اللہ تعالیٰ نے کسی تحفے کا مطالبہ فرمایا تو میں ’’ثناء اللہ‘‘ کو پیش کردوںگا؛ حضرت مرزا صاحب اپنے مریدوں میں سب سے زیادہ آپ سے محبت کرتے تھے، آپ کو ’’عَلَمُ الہدیٰ‘‘ کے لقب سے یاد فرماتے تھے، حضرت شاہ عبدالعزیز صاحبؒ موصوف کو ’’بیہقیِ وقت‘‘ کہتے تھے، آپ نے حضرت شاہ ولی اللہ صاحبؒ سے باقاعدہ علم حاصل کیا ہے، آپ کا سلسلۂ نسب حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ تک پہنچتا ہے۔
                حضرت قاضی صاحبؒ کی تصانیف تیس سے زائد ہیں، ان میں سے دو کو بڑی مقبولیت حاصل ہوئی، ایک تویہی تفسیر ہے اور دوسری ’’مالابدمنہ‘‘ (فارسی) اس تفسیر کے بارے میں حضرت مفتی محمد تقی عثمانی مدظلہٗ تحریر فرماتے ہیں:
                ’’یہ تفسیر بہت سادہ اور واضح ہے اور اختصار کے ساتھ آیاتِ قرآنی کی تشریح معلوم کرنے کے لیے نہایت مفید، انھوں نے الفاظ کی تشریح کے ساتھ متعلقہ روایات کو بھی کافی تفصیل سے ذکر کیا ہے اور دوسری تفسیروں کے مقابلے میں زیادہ چھان پھٹک کر روایات لینے کی کوشش کی ہے‘‘ (معارف القرآن ۱/۵۸)
                مسائل اور دلائل میںحنفی نقطئہ نظر کی ترجمانی نہایت ہی سلیقہ سے کی گئی ہے، برِصغیر میں؛ چوںکہ زیادہ تعداد احناف ہی کی ہے؛ اس لیے اس تفسیر کو اہلِ علم کے درمیان بڑی پذیرائی حاصل ہوئی۔
اردو ترجمے
                راقم الحروف کے محدود علم واطلاع میں عربی زبان کی تفسیروں میںسب سے زیادہ اسی تفسیر کے ترجمے ہوئے ہیں، میری رسائی چارترجموں تک ہوسکی ہے:
                (الف) ترجمہ جناب محمد یعقوب بیگ، مدیر رسالہ: ’’کاشف العلوم‘‘
                (ب)       ایک نام معلوم مترجم کا ترجمہ
                (ج)        ترجمہ حضرت مولانا انظرشاہ صاحب کشمیریؒ شیخ الحدیث، دارالعلوم وقف دیوبند۔
                (د)          ترجمہ مولانا سیدعبدالدائم صاحب الجلالی رحمۃ اللہ علیہ۔
ترجمہ مظہری، از: جناب محمد یعقوب بیگ
                یہ ترجمہ تین جلدوں پر مشتمل ہے، تینوں جلدوں کے صفحات کی تعداد پانچ سو نو (۵۰۹) ہے، تیسری جلد دوسرے پارے تک کے ترجمہ کو شامل ہے، اس کی اشاعت ’’مطبع انوری دہلی‘‘ کے ذریعہ عمل میںآئی ہے، تاریخِ طباعت ۱۳۲۶ھ درج ہے، اس ترجمہ کی زبان بھی مناسب ہے؛ البتہ ایک صدی سے زائد عرصہ گذرجانے کی وجہ سے قدامت آگئی ہے، پھربھی قابلِ قدر ہے۔
ایک اور ترجمہ
                دارالعلوم دیوبند کے کتب خانہ میںایک ترجمہ ہے، جس پر مترجم کا نام لکھا ہوا نہیں ہے؛ لیکن تقابلی نظر ڈالنے سے یہ اندازہ ہوا کہ یہ ترجمہ بھی جناب محمد یعقوب بیگ مدیررسالہ: ’’کاشف العلوم‘‘ کے ترجمہ سے ملتا جلتا ہے، بعض جگہ تعبیرات کافرق ہے؛ لیکن بہت زیادہ نہیں، راقم الحروف کے خیال میں دونوں ترجموں کے مترجم ایک ہی شخصیت ہیں اور شاید الگ ایڈیشن تیار کرنے میں کچھ حذف واضافہ کیاگیا ہے، اس ترجمہ کے شروع یا اخیر میں لوح یا فہرست وغیرہ نہیں ہے کہ حتمی طور پر کچھ کہا جاسکے؛ البتہ اخیر میں ’’ترقیمہ‘‘ ہے، جس میں ماہ ذی الحجہ ۱۳۲۵ھ درج ہے، اس سے اوّل الذکر ترجمہ سے پہلے کی طباعت کافیصلہ کیا جاسکتا ہے۔ واللہ اعلم۔
نامعلوم مترجم کا ترجمہ مظہری
                یہ ترجمہ بھی دارالعلوم دیوبند کے کتب خانہ میں ہے، بڑی تقطیع پر مطبوع ہے، طباعت ’’لیتھو‘‘ کی ہے، صفحات کی تعداد ایک سو پندرہ (۱۱۵) ہے، یہ ترجمہ جناب سید محمد عبدالمجید اور سید محمد یامین کے زیراہتمام ’’مطبع شمس الانور‘‘ میرٹھ سے شائع ہوا ہے، مسودہ کی کتابت جناب نصرت علی میرٹھیؒ نے کی ہے اور ٹائٹل کی کتابت اثرمیرٹھی کی ہے، یہ جلد ایک پارہ کے ترجمے کو شامل ہے، ویسے فہرست میں چوتھے پارہ تک ترجمہ کی طباعت کی صراحت ہے اور ساتھ ہی سب کی قیمت بھی درج ہے اور پانچویں، چھٹے اور ساتویں پارہ کے زیرطبع ہونے کا اعلان ہے۔
                ترجمہ قابلِ اعتماد اور معیاری معلوم ہوتا ہے، ترجمہ کی زبان اور رسم الخط نیز کاغذ و طباعت سے ایک صدی سے زیادہ قدامت نظر آتی ہے، مترجم کی طرف سے کچھ بھی اضافہ نہیں کیاگیا ہے، بس اصل عربی میںقاضی صاحبؒ نے جتنا کچھ لکھا ہے، بس اس کو ہی اردو کا جامہ پہنادیا گیا ہے، اس ترجمہ میںآیات کو کافی جلی، ترجمہ کو اس سے خفی اور مفسر کے حاشیہ کے ترجمہ کو اس سے باریک خط میںلکھاگیا ہے۔
’’ترجمہ مظہری‘‘، از: مولانا انظرشاہ صاحب کشمیریؒ
                حضرت مولانا انظرشاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے کئی تفسیروں کے ترجمے اور ان کی طباعت واشاعت کا پروگرام بنایا تھا؛ لیکن نہ جانے کیوں ’’ابن کثیر‘‘ کے علاوہ کسی تفسیر کا ترجمہ پایۂ تکمیل کو نہ پہہنچ سکا؟ مرحوم نے تفسیر مظہری کا ترجمہ بھی بڑے ہی آب وتاب سے شروع فرمایا تھا، اس کا پہلا حصہ چھیانوے صفحات پر مشتمل ہے، اس کی اشاعت ’’مکتبہ ندائے قرآن دیوبند‘‘ کے ذریعہ عمل میں آئی، اس میں بھی ترجمۂ آیات کے لیے حضرت تھانویؒ کا ترجمہ منتخب کیاگیا ہے، مولانا مرحوم کے ترجمہ کی زبان بہت عمدہ ہے، حقیقت یہ ہے کہ وہ زبان وبیان کے بادشاہ تھے، تعبیر کی جدت استعارہ کی کثرت اور افسانوی طرزِ ادا کے وہ بے مثال ادیب تھے، اس ترجمہ پر حواشی بھی نہایت عمدہ اور مفید تحریر فرمائے ہیں، طباعت کی تاریخ جون ۱۹۶۰ء درج ہے اور ’’ترقیمہ‘‘ میں تحریر فرماتے ہیں: ’’الحمدللہ! کہ آج ۵؍رجب المرجب۱۳۷۹ھ بروز سہ شنبہ بوقت ۱۲؍بجے دن میں ’’تفسیر مظہری‘‘ کا پہلا جزء ترجمہ ہوکر ختم ہوا،  وذلک من فضل اللّٰہ۔‘‘ درمیان میں اپنے اور والدین کے لیے مغفرت ورحمت کی دعاء ہے، پھر انظرشاہ الکشمیری، خادم التدریس بدارالعلوم دیوبند‘‘ رقم ہے۔
’’ترجمۂ مظہری‘‘ از مولانا سید عبدالدائم الجلالیؒ
                ’’تفسیرمظہری‘‘ کا یہی ترجمہ اپنی مکمل شکل میں راقم الحروف کی نگاہ سے گذرا، اور یہ ہندوپاک کے تجارتی کتب خانوں میں موجود بھی ہے، دیوبند کے ’’زکریا بک ڈپو‘‘ نے لاہور پاکستان کے ’’دارالاشاعت‘‘ والے مطبوعہ نسخے کا فوٹو لے کر شائع کیا ہے۔
                شروع کے دو صفحات میں تفسیر اور مفسر کا تعارف ہے، پھر فہرست مضامین ہے، اس میں سارے مضامین کا احاطہ کیاگیاہے، ترجمہ کی زبان نہایت عمدہ اور رواں دواں ہے، مترجم کا مکمل تعارف حاصل نہ ہوسکا، ایک جگہ صرف ’’رفیق ندوۃ المصنّفین دہلی‘‘ لکھاہوا دیکھا، ترجمہ پڑھنے سے شخصیت وقیع معلوم ہوتی ہے، مترجم کی طرف سے مفیدحواشی کا اضافہ بھی ہے، جو قارئین کے لیے متاعِ گراں مایہ ہے؛ غرض یہ کہ یہ ترجمہ راقم الحروف کے نزدیک سب سے عمدہ اور مکمل ہے، کتابت کمپیوٹر کی اور طباعت آفسیٹ کی ہے، آیاتِ قرآنی کو ہندوپاک کے مروجہ رسم الخط میں  اور ترجمہ کو قوسین کے درمیان لکھاگیا ہے۔
٭           ٭           ٭





تفسیر مظہری ایک تجزیاتی مطالعہ




قرآن مجید علوم ومعانی کا ایک بے کراں سمندر ہے، اس کے حقائق و معانی کی گرہ کشائی اور اسرار وحکم کی جستجو وتلاش کا سلسلہ اس وقت سے جاری ہے جب یہ نبی آخرالزماں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوا؛ لیکن آج تک کوئی یہ دعویٰ نہیں کرسکا کہ اس نے اس بحرعلم وحکمت کی تمام وسعتوں کو پالیاہے۔
انسانی تحقیقات جتنی بھی حیران کن اور ذہن وعقل کو مبہوت اور ششدر کردینے والی ہوں، ایک خاص مدت کے بعد ان کی آب وتاب اور چمک دمک ماند پڑجاتی ہے؛ لیکن یہ قرآن کریم کا اعجاز ہے کہ اس کے معارف و حقائق اور علوم وحکمت کی جدت وندرت پر امتدادِ زمانہ کا کوئی اثر مرتب نہیں ہوتا۔
مسلمان مصنّفین نے لغات، تاریخ، اصول، احکام اور دوسری بے شمار جہتوں سے قرآن کی جو خدمت انجام دی ہے، تاریخ عالم اس کی نظیر پیش کرنے سے قاصر ہے۔
اس خدمت میں عرب ومصر، بلخ ونیشاپور، سمرقند وبخارا اور دنیا کے دوسرے بلاد وممالک کے مصنّفین اور اصحابِ علم نے جہاں حصہ لیا وہیں برصغیر ہندوپاک کے علماء بھی اس کارِ عظیم میں ہرقدم پر ان کے دوش بہ دوش اور شانہ بہ شانہ رہے۔
برصغیر کے علماء کی قرآنی خدمات کا اندازہ اس سے لگایاجاسکتا ہے کہ اس موضوع پر ان کی مصنفات کی تعداد ایک ہزار سے بھی زیادہ ہے۔
علماء ہندوپاک نے قرآنی موضوعات پر اردو زبان میں جہاں بہت سی بیش قیمت کتابیں تالیف کی ہیں، وہیں انھوں نے اس موضوع پر عربی زبان میں بھی نہایت گراں قدر علمی ذخیرہ چھوڑا ہے۔
علماء ہندوپاک کی قرآنی خدمات میں ایک اہم نام تفسیرمظہری کا ہے، یہ حضرت مرزا مظہرجان جاناں کے خلیفہ اجل قاضی ثناء اللہ پانی پتی کی تالیف ہے؛ یہ کتاب عربی زبان میں لکھی گئی ہے اور دس جلدوں پر مشتمل ہے۔
قاضی ثناء اللہ صاحب: مختصر حالات
قاضی ثناء اللہ پانی پتی ۱۱۴۳ھ میں پیداہوئے، انھوں نے جس خاندان میں آنکھیں کھولیں وہ علم وفضل کا گہوارہ تھا، ان کے پیش رو بزرگوں میں سے متعدد منصبِ قضا کی زینت رہ چکے تھے، ان کے بڑے بھائی مولوی فضل اللہ ایک بلند پایہ عالم دین اورنیک صفت بزرگ تھے، وہ حضرت مرزا مظہر جان جاناں کے فیض یافتگان اوراس سلسلے کے اونچے بزرگوں میں سے تھے۔
قاضی صاحب کا سلسلہٴ نسب حضرت شیخ جلال الدین کبیر اولیاء چشتی کے واسطے سے حضرت عثمان غنی تک پہنچتا ہے۔
قاضی صاحب کی شخصیت میں شروع ہی سے وہ اوصاف نمایاں تھے جو ان کے تابناک اور روشن مستقبل کا پتہ دے رہے تھے۔
محض سات برس کی عمر میں انھوں نے حفظ قرآن مکمل کرلیا تھا، سولہ سال کی عمر میں وہ ظاہری علوم کی تحصیل سے فارغ ہوچکے تھے، اس کے علاوہ علماءِ محققین کی کم وبیش ساڑھے تین سو کتابیں اس مدت میں ان کے مطالعہ سے گزرچکی تھیں۔
دوسال تک انھوں نے حضرت شاہ ولی اللہ کے حلقہٴ درس میں شریک رہ کر فقہ وحدیث کی تکمیل کی۔
ابھی ظاہری علوم کی تحصیل سے فارغ بھی نہ ہوئے تھے کہ باطنی احوال کی اصلاح کی فکر دامن گیر ہوئی، نظر انتخاب حضرت شیخ الشیوخ شاہ عابدسنامی پر پڑی، ان کی خدمت میں حاضر ہوکر ان سے شرفِ بیعت حاصل کیا۔
حضرت شیخ کی توجہِ کامل اور قاضی صاحب کے صفائے باطن کا یہ اثر تھا کہ وہ سلوک کی منزلیں نہایت تیزی سے طے کرنے لگے اور نہایت تھوڑی مدت میں روحانیت کے نہایت اعلیٰ مقام پر پہنچ گئے۔
اس کے بعد انھوں نے حضرت شاہ عابد ہی کے حسب ہدایت حضرت مرزا مظہر جان جاناں سے اپنا اصلاحی تعلق قائم کیا، حضرت مرزاصاحب کافیض اس وقت پورے ملک میں جاری تھا اور ہزاروں تشنگانِ حق اس چشمہٴ ہدایت سے سیراب ہورہے تھے۔
مرزا صاحب کے فیض تربیت نے ان کو بہت جلد تپا کر کندن بنادیااور صرف اٹھارہ سال کی عمر میں وہ ظاہری علوم سے فراغت اور طریقہٴ نقشبندیہ کی خلافت حاصل کرنے کے بعد خدمتِ دین اور اصلاحِ خلق کے کاموں میں مشغول ہوگئے۔
مرزا صاحب قاضی صاحب کو بے حدعزیز رکھتے تھے، ان کو قاضی صاحب سے کس درجہ تعلق خاطر تھا او روہ ان کے علمی اور روحانی کمالات کے کس درجہ معترف ومداح تھے، اس کا اندازہ ان کے درج ذیل اقوال سے لگایاجاسکتا ہے!
مرزا صاحب فرماتے ہیں: ”میری نسبت اور ان کی نسبت علوِمرتبہ میں مساوی ہے․․․․ وہ ظاہری اور باطنی کمالات کے اجتماع کی وجہ سے عزیز ترین موجودات میں سے ہیں، وہ صلاح وتقویٰ اور دیانت کی مجسم روح ہیں۔“
حضرت شاہ غلام علی فرماتے ہیں: ”مجھے خود حضرت کی زبانی سننے کا موقع ملا ہے۔ آپ فرماتے تھے کہ اگر قیامت کے دن خدا نے مجھ سے پوچھا کہ تم میری درگاہ میں کیا تحفہ لائے ہو، تو میں عرض کروں گا ”ثناء اللہ پانی پتی“۔
قاضی صاحب جہاں تصوف و سلوک میں اعلیٰ مقام کے حامل تھے، وہیں وہ ظاہری علوم میں بھی امامت واجتہاد کے مرتبہ پر فائز تھے، ان کا تصوف ان کے علم سے مغلوب نہیں ہوا اور نہ اعمالِ تصوف ان کے ذوق علم ومطالعہ میں کمی پیدا کرسکے۔
حضرت شاہ غلام علی فرماتے ہیں: ”حضرت قاضی زبدئہ علماءِ ربانی اور مقربِ بارگاہِ یزدانی ہیں، عقلی ونقلی علوم میں انھیں کامل دسترس ہے، فقہ اور اصول میں وہ مجتہد کے مرتبہ پر فائز ہیں۔“
حضرت شاہ عبدالعزیز ان کو ”بیہقی وقت“ کہا کرتے تھے۔
حضرت مرزا مظہر جان جاناں سے انھوں نے ”عَلَم الہدی“ کا لقب پایا تھا۔
قاضی صاحب خود اپنے بارے میں فرماتے ہیں: ”اللہ تعالیٰ نے مجھے فقہ، حدیث اور تفسیر میں رائے صائب عطا فرمائی ہے۔“
قاضی صاحب کے علمی متروکات ان کی تیس سے زائد کتابیں ہیں، جن میں بیشتر اب تک غیرمطبوعہ ہیں، ان کتابوں کے خطی نسخے شاہ ابوالحسن زیدفاروقی لاہور پاکستان کے کتب خانہ میں دیکھے جاسکتے ہیں۔
تفسیرمظہری
یوں تو قاضی صاحب کی تمام کتابیں معلومات وحقائق کا مرقع اور علوم ومعارف کاگنجینہ ہیں؛ لیکن ان کی کتابوں میں جو شہرت اور مقبولیت تفسیر مظہری کو حاصل ہوئی وہ ان کی کسی اور کتاب کو نہیں حاصل ہوئی۔
ذیل میں ہم اختصار کے ساتھ اس تفسیر کی ان خصوصیات کا جائزہ لیں گے، جس نے اس کو خاص و عام ہر دو طبقہ میں شہرت ومقبولیت عطا کی ہے۔
مسائل فقہیہ
عربی زبان میں ایسی متعدد تفسیریں لکھی جاچکی ہیں، جن میں فقہی رنگ بہت نمایاں ہے، جصاص کی ”احکام القرآن“ اور امام قرطبی کی ”الجامع لاحکام القرآن“ اس سلسلے کی بہت مشہور کتابیں ہیں۔ اوّل الذکر تفسیر میں تو خاص طور پر ان ہی آیات کی تفسیر کی گئی ہے جن سے فقہی مسائل واحکام مستنبط ہوتے ہیں۔
 تفسیرمظہری میں فقہی احکام جس کثرت سے ذکر کیے گئے ہیں کہ اگر ان سب کو بھی فقہی ترتیب پر جمع کردیا جائے تو واقعہ یہ ہے کہ احکام القرآن کے موضوع پر ایک نہایت وقیع اور قیمتی کتاب تیار ہوجائے گی۔
قاضی صاحب نے اس تفسیر میں نہ صرف یہ کہ فقہی مسائل کثرت سے ذکر کیے ہیں؛ بلکہ انھوں نے ائمہٴ فقہاء کے نقطہ ہائے نظر اور ان کے دلائل کو بھی ذکر کیا ہے، ان کے استدلال کی کمزوریوں پر بھی روشنی ڈالی ہے اور مسلکِ راجح کی ترجیحی وجوہات پر بھی سیر حاصل بحث کی ہے۔
نمونہ کے لیے یہاں چند مثالیں قلم بند کی جاتی ہیں:
غلام کے لیے اپنے آقا سے طلب کتابت کن شرائط کے ساتھ جائز ہے، اس سلسلے میں علماء کے اقوال مختلف ہیں۔ بعض علماء اس کے لیے عقل اور بلوغ کی شرط لگاتے ہیں، ان کا استدلال اس آیت سے ہے ”والذین یبتغون الکتاب مما ملکت أیمانکم فکاتبوہم ان علمتم فیہم خیرًا“ (سورة النور، آیت۳۳) وہ فرماتے ہیں خیرًا سے مراد یہاں عقل اور بلوغ ہے۔
قاضی صاحب اس استدلال پر رد کرتے ہوئے لکھتے ہیں: طلبِ کتابت جس کاذکر اس آیت کے شروع میں ہے، اسی وقت ممکن ہے؛ جب کہ غلام اس کی اہلیت یعنی عقل ودانائی ہو، اگر غلام غیر عاقل ہو تو اس کی طرف سے طلبِ کتابت سرے سے غیرمعتبر ہوگی؛ لہٰذا جب یبتغون الکتاب کے ضمن میں اس شرط کا ذکر پہلے آچکا تو خیرًا سے بھی عقل ودانائی ہی مراد لینا تکرار اور اعادہ کے سوا کچھ نہیں ہے۔
بلوغ کی شرط کا جہاں تک ذکر ہے تو وہ اس لیے ضروری نہیں کہ نابالغ سمجھدار غلام سے بھی طلبِ کتابت کا تحقق ہوسکتا ہے۔
قاضی صاحب کے فقہی استنباطات نہایت لطیف ہیں جو ان کی فقہی بالغ نظری اور بصیرت کے غماز ہیں۔ سورہٴ معارج کی آیت الاعلی أزواجہم أو ماملکت أیمانہم (سورة المعارج، آیت۳۰) کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں: عورت کا اپنے مملوک غلام سے تعلق جسمانی قائم کرنا جائز نہیں ہے؛ کیونکہ لفظ علی بتارہا ہے کہ مالک مملوک کے مقابلے میں برتر اور اعلیٰ ہے، لہٰذا اگر عورت اپنے غلام سے جسمانی تعلقات قائم کرے گی تو یہ فرق ختم ہوجائے گا؛ کیوں کہ فاعل اعلیٰ ہوتا ہے۔
بالائے قدم (پازیب وغیرہ کی جگہ) ستر میں شامل ہے، قاضی صاحب اس کے شامل ستر ہونے کو قرآن کی اس آیت سے ثابت کرتے ہیں ”ولا یضربن بأرجلہن لیعلم ما یخفین من زینتہن“ (سورہ النور، آیت۳۱) فرماتے ہیں: پازیب وغیرہ مخفی زینتیں ہیں، ان کا چھپانا جب اس آیت کی رو سے واجب اور ضروری ہے تو محل پازیب کا چھپانا تو بدرجہٴ اولیٰ ضروری ہوگا۔
استئذان کی جملہ صورتوں میں سے ایک صورت یہ بھی ہے کہ کسی کے گھر کے باہر خاموشی سے اس کے اندر سے نکلنے کا انتظار کیاجائے، نہ داخلہ کی اجازت طلب کی جائے اورنہ اس کو آواز دی جائے۔
حضرت ابن عباس ایک انصاری صحابی کے پاس طلبِ حدیث کے لیے جاتے اور خاموشی سے ان کے گھر سے باہر نکلنے کا انتظار کرتے۔ یہ واقعہ مذکورہ مسئلہ کی دلیل ہے۔ حضرت قاضی صاحب فرماتے ہیں: آیتِ قرآنی ”ولو أنہم صبروا حتی تخرج الیہم لکان خیرا لہم“ (سورة الحجرات۵) کو بھی اس مسئلہ کی دلیل قرار دیا جاسکتا ہے۔
علماء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ جنابِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر تہجد کی نماز ابتداء فرض تھی۔ بعد میں اس کی فرضیت آپ کے حق میں باقی رہی یا نہیں اس سلسلے میں علماء کے اقوال مختلف ہیں۔ قاضی صاحب فرماتے ہیں کہ میرے نزدیک راجح یہ ہے کہ بعد کے ایام میں تہجد کی فرضیت آپ سے ساقط کردی گئی تھی۔ قاضی صاحب کا استدلال آیتِ ذیل سے ہے ”ومن اللیل فتجہد بہ نافلة لک“ (سورة الاسراء۷۹)
فرماتے ہیں اگر بعد کے دور میں تہجداسی طرح آپ پر فرض باقی رہتا تو لک کے بجائے علیک کہاجاتا۔
اس پر یہ شبہ نہ کیا جائے کہ نمازِ تہجد تو تمام امت کے لیے نفل ہے؛ لہٰذااگر اس کو نبی کے حق میں بھی نفل ہی قرار دیا جائے تو پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بطورِ خاص اس کے ادا کرنے کاحکم دیناکوئی معنی نہیں رکھتا؛ کیونکہ تہجد کی ادائیگی سے جہاں عام لوگوں کے گناہ دھلتے ہیں وہیں یہ حضراتِ انبیاء کے لیے ترقی درجات کا ذریعہ ہے؛ کیونکہ انبیاء خطاؤں اور لغزشوں سے پاک ہوتے ہیں۔
بلاخوفِ تامل یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ اس تفسیر میں فقہی رنگ سب سے زیادہ نمایاں ہے۔ اس کے موٴلف کی ایک بہت بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ کبھی اعتدال کی راہ نہیں چھوڑتے، گروہی عصبیت یا مسلکی تعصب کا شائبہ ان کی تحریروں میں نظر نہیں آتا؛ اس لیے باوجودے کہ قاضی صاحب مذہب حنفی کے شارح اور ترجمان تھے؛ لیکن بہت سے مقامات پر انھوں نے ائمہٴ ثلاثہ کے مذہب کو راجح قرار دیا ہے۔
احادیث کا بہ کثرت ذکر کرنا
کون نہیں جانتا کہ حدیث وسنت کلامِ الٰہی کی شرح اور اس کے اجمال کی تفصیل ہے؛ لیکن اس کے باوجود ایسی تفاسیر کم نظر آتی ہیں جن میں احادیث وروایات بہ کثرت ذکر کی گئی ہوں اور آیت کی تشریح روایت سے کی گئی ہو۔
تفسیر مظہری کا یہ خاص امتیاز ہے کہ اس میں نقل روایت کا کثرت سے اہتمام کیاگیا ہے، قاضی صاحب نے فقہی احکام، تصوف وسلوک کے مسائل، فضائل سور وآیات اور فضائل تسبیحات واذکار وغیرہ کا ذکر کرتے ہوئے نہ صرف یہ کہ بہ کثرت روایات نقل کی ہیں؛ بلکہ عام مفسرین کی روش سے ہٹ کر بہت سی احادیث کے صحت وضعف پر محدثین اور ائمہ جرح و تعدیل کے اقوال کی روشنی میں بحث بھی کی ہے۔
امام ابوحنیفہ کے نزدیک ہر قسم کے غلہ پھل اور سبزی میں زکوٰة واجب ہے، امام شافعی کے نزدیک صرف اس پیداوار میں زکوٰة واجب ہے جس میں غذائیت ہے، ان کے نزدیک سبزیوں میں کسی قسم کی زکوٰة نہیں ہے، ان کی دلیل حضرت معاذ کی یہ روایت ہے: ”کھیرا، ککڑی، خربوزہ، تربوزہ، انار، گنا اور سبزیاں معاف ہیں۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں زکوٰة معاف کردی ہے“۔
قاضی صاحب اس روایت کو نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں: ”اس حدیث کی روایت میں ضعف بھی ہے اور انقطاع بھی، اس کے راویوں میں سے اسحاق اور ابن نافع ضعیف ہیں، یحییٰ بن معین کاقول ہے کہ نافع کچھ نہیں، اس کی حدیثیں نہ لکھی جائیں، امام احمد اور امام نسائی نے اس کو متروک الحدیث قرار دیا ہے۔
قاضی صاحب نے اس مقام پر شافعی کے مسلک کی موید متعدد حدیثیں مختلف طرق سے نقل کی ہیں اور ان روایتوں کے ضعف پر نہایت تفصیل سے کلام کیاہے۔
تصوف وسلوک کے مسائل
قاضی ثناء اللہ صاحب کی شخصیت علمی اور روحانی کمالات کی جامع تھی۔ جیساکہ ان کے حالات میں گزرچکا ہے وہ ایک بلند پایہ محدث، بالغ نظر فقیہ اور باکمال مفسر ہونے کے ساتھ ایک صاحبِ باطن اور نیک صفت بزرگ بھی تھے، انھوں نے ظاہری علوم کی تحصیل کے ساتھ اپنے بزرگوں سے اخلاق و تصوف کا درس بھی لیا تھا، تصوف میں انہماک اور اپنے شیخ اور مرشد سے غایت درجہ عقیدت ومحبت ہی کا یہ اثر تھا کہ انھوں نے اپنی اس معرکة الآرا تفسیر کو اپنے شیخ کی طرف منسوب کیا۔
اس کتاب میں انھوں نے جہاں دوسرے مسائل ذکر کیے ہیں، وہیں اس میں انھوں نے تصوف کے انتہائی دقیق مسائل اور باریک نکات بھی ذکر کیے ہیں، یہاں اس کی بس ایک مثال کافی ہوگی!
صوفیاء کرام فرماتے ہیں: سالک کو فناء قلب کا مقام مشائخ کے توسط کے بغیر نہیں حاصل ہوسکتا، قاضی صاحب آیت قرآنی تعرج الملٰئکة والروح الیہ فی یوم کان مقدارہ خمسین ألف سنة (سورة المعارج، آیت۴) کے ذیل میں اس کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
”سالک کو فناء قلب کا مقام اسی وقت حاصل ہوگا جب جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور مشائخ کے واسطے سے محبتِ الٰہی کا فیضان اسے حاصل ہو۔ مشائخ کے واسطے کے بغیر اگر وہ صرف عبادات وریاضات کے ذریعہ فناءِ قلب کا مقام حاصل کرنا چاہے تو اسے پچاس ہزار سال تک ریاضت ومجاہدہ کرنا ہوگا، ظاہر ہے کہ جب دنیا کا اس قدر طویل مدت تک باقی رہنا محال اور ناممکن ہے تو کسی ایک فردِ بشر کا اتنے لمبے عرصہ تک زندہ رہنا کیسے ممکن ہوسکتاہے، اس سے یہ ظاہر ہوا کہ خدا تعالیٰ کی کامل معرفت اور فناءِ قلب کا مرتبہ اس وقت تک نہیں حاصل ہوسکتا؛ جب تک کہ شیخ کے توسط سے فیضان الٰہی کی کشش حاصل نہ ہو، ان افراد کو براہِ راست روح کے توسط سے یہ مقام حاصل ہوجاتا ہے انھیں بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے واسطے کی ضرورت پڑتی ہے۔“
اپنے شیخ ومرشد حضرت مرزا مظہر جان جاناں کے ارشادات وملفوظات بھی انھوں نے جگہ جگہ نقل کیے ہیں، حضرت مجدد الف ثانی، شیخ شہاب الدین سہروردی، امام یعقوب کرخی وغیرہ اکابر صوفیاء کے ارشادات کو بھی انھوں نے متعلقہ آیتوں کے ذیل میں تفصیل سے نقل کیا ہے۔
اس تفسیر کی ایک خاص بات یہ ہے کہ اس میں تصوف وسلوک کے بہت سے مسائل کو احادیث اور آیات سے مدلل کرکے بیان کیاگیا ہے۔
صوفیا کے افکار ونظریات پر ہونے والی تنقیدات کا بھی اس میں انھوں نے نہایت تحقیق کے ساتھ جواب لکھا ہے۔
اس موضوع پر ان کا سب سے قیمتی اور مشہور ومتداول رسالہ ”ارشاد الطالبین“ ہے اس کے علاوہ دو رسالے اور انھوں نے اس موضوع پر تحریر کیے ہیں۔
(۱) رسالہ ”احقاق در رد اعتراضات شیخ عبدالحق محدث برکلام حضرت مجدد“ یہ رسالہ جیسا کہ اس کے نام سے ظاہر ہے ان اعتراضات کے جواب میں لکھا گیا ہے جو حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی نے حضرت مجدد کے کلام پر کیے تھے۔
(۲) ”رسالہ درجوابِ شبہات برکلامِ امامِ ربانی“ اس رسالہ میں بھی انھوں نے حضرت مجدد کے معارف کی تحقیق کی ہے اور ان شبہات اور اشکالات کو رفع کیاہے جو ان کے کلام پر وارد کیے گئے ہیں۔
قاضی صاحب کے تصوف کی خاص بات یہ ہے کہ وہ افراط وتفریط سے پاک ہے، وہ قرآن کو تصوف کے تابع کرنے کے قائل نہ تھے، انھوں نے کتاب وسنت سے تصوف کومدلل کرنے کی کوشش کی؛ اس لیے ان کا نظریہٴ تصوف ان نظریات کی آمیزش سے پاک ہے جو شریعت اسلامی کی روح سے غیر ہم آہنگ ہیں۔
قاضی صاحب صوفیاء کے اقوال کی تشریح اور قرآنی آیات سے اس کی تطبیق کے دوران آیت کے اصل الفاظ اور اس کے سیاق و سباق پر ہمیشہ نگاہ رکھتے ہیں اور نظمِ قرآنی، آیت کے سیاق وسباق اوراندازِ عبارت سے سرمو انحراف نہیں کرتے۔
ذیل میں ہم چند ایسی مثالیں نقل کرتے ہیں جن سے ان کے علمی اور تحقیقی مزاج اور کمال احتیاط کا پتہ چلتا ہے۔
ہل ینظرون الا أن یأتیہم اللّٰہ فی ظلل من الغمام والملٰئکة وقضي الأمر (سورة البقرة، آیت۲۱۰)
آیت بالا کی تفسیر میں اہل السنة والجماعة کی متفقہ رائے تفصیل سے نقل کرنے کے بعد وہ لکھتے ہیں: ان جیسی آیات کی تفسیر میں اہل سلوک کا مسلک کچھ اور ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ کی تجلیاتِ بلاکیف، اس کا صفاتِ جسمیہ اور حدوث کی علامات سے پاک ہونا تفصیل سے لکھنے کے بعد اپنا کلام اس پر ختم کرتے ہیں۔
”ان حقیقتوں کا ادراک اہل دل اور اصحابِ ذوق حضرات ہی کرسکتے ہیں، جنھوں نے اس کی حقیقت کو پالیا ہے وہ اس کی صحیح تعبیر سے قاصر ہیں، یہ چیزیں جب لوگوں کے سامنے بیان کی جاتی ہیں تو ان کی عقل حیران وششدر رہ جاتی ہے اور معنی مرادی کے علاوہ کچھ اور سمجھ لیتے ہیں؛ لہٰذا ایسی چیزوں میں سکوت لازم ہے اور اس پر ایمان رکھنا ضروری ہے اور اللہ ورسول کے علاوہ کسی کو اس کا حق نہیں ہے کہ وہ ان آیات کی تفسیر اپنی طرف سے کرے۔“
فخذ أربعة من الطیر فصرہن الیک ثم اجعل علی کل جبل منہن جزئًا ثم ادعہن یاتینک سعیًا الخ (سورة البقرة، آیت۲۶۰)
قاضی صاحب نے اس مقام پر پہلے آیت کی تفسیر میں عطاء بن رباح، حضرت ابن عباس اور عطا خراسانی وغیرہ کا قول نقل کیا ہے، پھر اس کے بعد أربعة من الطیر کی حکمت، مقامِ فنا اور مقامِ بقاء کی تشریح، مذکورہ پرندوں کے خصوصی اوصاف اور ان کی حکمت پر خالص صو فیانہ انداز میں روشنی ڈالی ہے۔ اس بحث کے خاتمہ پر انھوں نے جوبات کہی ہے وہ ان کے معتدل نقطئہ نظر کی پوری عکاسی کرتی ہے۔ فرماتے ہیں: ”وہذہ کلمات من أہل الاعتبار لامدخل لہا فی التفسیر
یہ صرف اہلِ تصوف کی حکمت آفرینیاں ہیں، تفسیر آیت سے ان باتوں کا کوئی تعلق نہیں ہے۔
تنقید وتجزیہ
کسی بھی فن کے ماہرین کے اقوال اس فن میں مرجع واستناد کی حیثیت رکھتے ہیں؛ اس لیے متاخرین کی کتابوں میں ان کا مذکور ہونا ناگزیر ہے۔ قاضی صاحب نے بھی اس تفسیر میں ائمہ فن کے اقوال جگہ جگہ نقل کیے ہیں؛ لیکن انھوں نے ان اقوال کے نقل کردینے پر ہی صرف اکتفا نہیں کیا ہے؛ بلکہ نہایت تحقیق اور گہری بصیرت کے ساتھ ان کے تمام پہلوؤں کاجائزہ بھی لیا ہے، جن اقوال میں انھیں کمزوری کا کوئی پہلو نظر آیا اس پر انھوں نے تنقید کی ہے اور مسلکِ راجح کو اختیار کیاہے۔
آیتِ قرآنی ”أولٰئک الّذِین ہدی اللّٰہ، فبہداہم اقتدہ“ (سورة الانعام) کی تفسیر میں قاضی بیضاوی تحریر فرماتے ہیں کہ ”ہداہم“ سے مراد عقیدئہ توحید اور دین کے وہ اصول ہیں جو تمام شریعتوں میں مشترک رہے ہیں۔ اس سے فروعی مسائل مراد نہیں ہیں؛ کیونکہ فروعی احکام میں تو انبیاء میں اختلاف ہے؛ لہٰذا یہ نہیں کہا جاسکتا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو گذشتہ تمام انبیاء کی شریعتوں پر چلنے کا حکم دیاگیا اور آپ گذشتہ شرائع کے مکلف تھے۔
قاضی صاحب نے علامہ بیضاوی کے اس قول کو ذکر کرنے کے بعد درجِ ذیل الفاظ میں اس پر تنقید کی ہے:
”تمام انبیاء امرِ خداوندی کے مکلف تھے، اگر گذشتہ شریعتوں کے فروعی احکام کو بذریعہ وحی منسوخ نہیں کیاگیاتھا تو ان فروعی احکام کی تعمیل بھی سب کے لیے ضروری تھی اور اگر وحی متلویا وحی غیر متلو کے ذریعہ سابق فروعی احکام کو منسوخ کرکے جدید احکام نازل کیے گئے تو اب ان جدید احکام کی تعمیل لازم ہے، غرض یہ ہے کہ انبیاء علیہم السلام گذشتہ شریعتوں کے فروعی احکام پر بھی عمل کے پابند تھے بشرطیکہ جدید شریعت میں ان کو منسوخ نہ کردیاگیا ہو۔“
فقہ واصول، تفسیر وحدیث، ادب وبلاغت، فلسفہ وکلام، نحو وصرف، غرض علومِ عالیہ یا علومِ آلیہ میں سے کوئی ایسا علم نہیں ہے جس پر موٴلف کی گہری نظر نہ ہو؛ اس لیے اس کتاب میں قرآنی آیات کی تفسیر کے ضمن میں جگہ جگہ ان علوم کے دقیق اور باریک مسائل کا ذکر بھی ملتا ہے اور ان کی عمدہ تحقیق اور تنقید بھی۔ صاحبِ مدارک اور امامِ بیضاوی نے سورة الزمر کی آیت ”والّذی جاء بالّصدق وَصَدَّقَ بہ أولٰئک ہم المتّقون“ (الزمر۳۳) کی تفسیر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ تقاضائے عربیت یہ ہے کہ جاء اور صدّق کا فاعل ایک قرار دیا جائے، یعنی جو اس قرآن کو لے کر آیا اسی نے اس کی تصدیق کی کیوں کہ اگر صدّق کا فاعل اس کو قرار نہ دیا جائے جو جاء کا فاعل ہے تو اسمِ موصول الّذی یہاں محذوف ماننا پڑے گا، جو کہ جائز نہیں ہے یا فاعل کی ضمیر محذوف ماننی ہوگی جب کہ مرجع مذکور نہیں ہے۔
قاضی صاحب اس قول کو ذکر کرنے کے بعد لکھتے ہیں:
”صاحبِ مدارک اور بیضاوی نے یہ کیسے لکھ دیا کہ موصول یعنی الّذی کو صدّق سے پہلے محذوف ماننا جائز نہیں ہے۔ کلبی، قتادہ، ابوالعالیہ اور مقاتل جیسے ائمہ تفسیر نے تو وہی بات لکھی ہے جو ہم نے پہلے ذکر کی۔ موصول کے حذف کیے جانے کی مثال حضرت حسان بن ثابت کا یہ شعر ہے
أمن یہجوا رسول اللّٰہ منہم         ویمدحہ ویَنْصُرُہ سواء
کیا ان میں سے وہ شخص جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجو اور (وہ شخص جو) آپ کی تعریف کرتاہے اور آپ کی مدد کرتا ہے برابر ہوسکتے ہیں۔
مثالِ مذکور میں دوسرے مصرعہ میں من اسمِ موصول محذوف ہے۔
تفسیر مظہری پر کرنے کے کام
اس میں شبہ نہیں کہ اس تفسیر کو عوام وخواص ہردوطبقہ میں بے حد مقبولیت اور پذیرائی حاصل ہوئی، اس کے سہل اسلوب نگارش طرز بیان کی سادگی، حسن ترتیب اور جامعیت کی وجہ سے تمام لوگوں نے اس کو ہاتھوں ہاتھ لیا؛ لیکن یہ واقعہ ہے کہ بعض دوسری جہتوں سے اس سے اسی قدر بے توجہی بھی برتی گئی۔
ہندوپاک سے اب تک اس کے متعدد اردو عربی ایڈیشن شائع ہوچکے ہیں؛ لیکن اس کا کوئی بھی ایڈیشن ان خصوصیات سے مزین نہیں ہے جس سے قاری کے لیے استفادہ کی راہ آسان ہوتی ہے۔
اردو زبان میں میری معلومات کے مطابق اب تک اس کے دو ترجمے کیے گئے ہیں : اس کا پہلا اردو ترجمہ ندوة المصنّفین نے شائع کیاتھا، یہ ترجمہ تشریحی ہے اور بہت سے ضروری اضافات پر مشتمل ہے، بعض مقامات پر تعلیقات اور حواشی بھی درج ہیں؛ لیکن ان خوبیوں کے ساتھ اس میں ایک بڑی خامی یہ ہے کہ آغاز کتاب میں نہ کوئی پیش لفظ اور مقدمہ ہے اور نہ کتاب اور صاحب کتاب کا کوئی تعارف ہے۔
اس کا دوسرا اردو ترجمہ حال ہی میں ملک کے مشہور اشاعتی ادارے فرید بک ڈپو نے شائع کیاہے، یہ ترجمہ پہلے ترجمہ کے مقابلے میں کسی قدر لفظی ہے؛ البتہ کتاب کے اس ایڈیشن میں مآخذ کی نشان دہی اور روایات کی تخریج کردی گئی ہے۔
لیکن اس تفسیر پر کرنے کے بہت سے کام ابھی بھی باقی ہیں۔
جس جامعیت کے ساتھ اس میں فقہی احکام کا احاطہ کیاگیا ہے اس کی نظیر کم از کم علماءِ ہند کی لکھی ہوئی تفسیروں میں نہیں ملتی ہے، ضرورت ہے کہ ان تمام احکام اور مسائل کو فقہی ترتیب وتبویب کے ساتھ ایک مستقل کتاب میں جمع کیا جائے، جہاں تعلیقات اور حواشی کی ضرورت ہو وہاں حواشی لکھے جائیں، فقہی عبارتوں کے حوالے لکھے جائیں اور احادیث وآثار کی تخریج کی جائے۔
یہ کتاب اگرچہ بہت سی خصوصیات اور خوبیوں کی جامع ہے اور بعض جہتوں سے منفرد اورامتیازی شان کی حامل ہے؛ لیکن اب تک عالم عرب میں اس کا کماحقہ تعارف نہیں ہوسکا ہے، اس کی بنا پر نہ صرف یہ کہ مسلمانوں کا ایک بہت بڑا طبقہ اس سے ناواقف اور اس کے فوائد علمیہ سے محروم ہے؛ بلکہ یہ عدمِ واقفیت کتاب کی علمی خدمت اور جدید طرز پر اس کی طباعت کی راہ میں بھی حائل ہے۔
ایڈٹنگ اور تحقیق وتخریج کاکام کرنے والے حضرات اگر اس جانب متوجہ ہوں تو یہ ایک بڑی علمی خدمت ہوگی۔
اس وقت جبکہ پرنٹ میڈیا اور الکٹرانک میڈیا کی غیرمعمولی ترقی اور سی ڈی وانٹرنیٹ کے فیض عام نے ماضی کے اندوختوں کی بازیافت اور جدید طرز پر اس کی تہذیب وتنسیق اور تخریج کے کام کو بہت حد تک آسان بنادیا ہے اس میں یہ کام زیادہ فرصت طلب اور فراغت ویکسوئی کا متقاضی بھی نہیں ہے۔
$ $ $



علم تفسیر:

ناسخ اور منسوخ


"نسخ" کے لغوی معنی ہیں مٹانا،ازالہ کرنا،اوراصطلاح میں اس کی تعریف یہ ہے :
رَفْعُ الْحُکْمِ الشَّرَعِیِّ بِدَلِیْلٍ شَرَعِیٍّ(مناہل العرفان:ماھو النسخ۲/۱۷۶)"کسی حکم شرعی کو کسی شرعی دلیل سے ختم کردینا"
مطلب یہ ہے کہ بعض مرتبہ اللہ تعالی کسی زمانے کے حالات کے مناسب ایک شرعی حکم نافذ فرماتا ہے پھر کسی دوسرے زمانے میں اپنی حکمت بالغہ کے پیش نظر اس حکم کو ختم کرکے اس جگہ کوئی نیا حکم عطا فرمادیتا ہے اس عمل کو نسخ کہا جاتا ہے اور اس طرح جو پرانا حکم ختم کیا جاتا ہے اس کومنسوخ اور جو نیا حکم آتا ہے اسے ناسخ کہتے ہیں ۔
نسخ کا مطلب رائے کی تبدیلی نہیں ہوتا بلکہ ہر زمانے میں اس دور کے مناسب احکام دینا ہوتا ہے ،ناسخ کا کام یہ نہیں ہوتا کہ وہ منسوخ کو غلط قرار دے؛بلکہ اس کا کام یہ ہوتا ہے کہ وہ پہلے حکم کی مدت نفاذ متعین کردے اور یہ بتادے کہ پہلا حکم جتنے زمانے تک نافذ رہا اس زمانے کے لحاظ تووہی مناسب تھا لیکن اب حالات کی تبدیلی کی بنا پر ایک نئے حکم کی ضرورت ہے ،جو شخص بھی سلامتِ فکر کے ساتھ غور کرے گا وہ اس نتیجے پر پہنچے  بغیر نہیں رہ سکتا کہ یہ تبدیلی حکمت الہٰیہ کے عین مطابق ہے ،حکیم وہ نہیں جو ہر قسم کے حالات میں ایک ہی نسخہ پلاتا رہے بلکہ حکیم وہ ہے جو مریض اور مرض کے بدلتے ہوئے حالات پر بالغ نظری کے ساتھ غور کرکے نسخہ میں ان کے مطابق تبدیلیاں کرتا رہے۔

منسوخ آیات قرآنی:

متقدمین کی اصطلاح میں نسخ کا  مفہوم بہت وسیع تھا ،اسی لیے انھوں نے منسوخ آیات کی تعداد بہت زیادہ بتائی ہے لیکن علامہ جلال الدین سیوطی رحمہ اللہ نے متأخرین کی اصطلاح کے مطابق لکھا ہے کہ پورے قرآن میں کل انیس آیتیں منسوخ ہیں۔

(الاتقان ،علامہ سیوطی:۲،۲۲)

پھر آخری دور میں حضرت شاہ ولی اللہ صاحب محدث دہلویؒ نے ان انیس آیتوں پر مفصل تبصرہ کرکے صرف پانچ آیتوں میں نسخ تسلیم کیا ہے اور باقی آیات میں ان تفسیروں کو ترجیح دی ہے جن کے  مطابق انھیں منسوخ ماننا نہیں پڑتا ان میں سے اکثر آیتوں کے بارے میں شاہ صاحب کی توجیہات نہایت معقول اور قابل قبول ہیں لیکن بعض توجیہات سے اختلاف بھی کیا جاسکتا ہے ،جن پانچ آیات کو انھوں نے منسوخ تسلیم کیا ہے وہ یہ ہیں :

(۱)کُتِبَ عَلَیْْکُمْ إِذَا حَضَرَ أَحَدَکُمُ الْمَوْتُ إِن تَرَکَ خَیْْراً الْوَصِیَّۃُ لِلْوَالِدَیْْنِ وَالأقْرَبِیْنَ بِالْمَعْرُوفِ حَقّاً عَلَی الْمُتَّقِیْن۔

(البقرۃ: ۱۸۰)

 

جب تم میں سے کسی کے سامنے موت حاضر ہوجائے اگر وہ مال چھوڑ رہا ہو تو اس پر والدین اور اقرباء کے لیے وصیت بالمعروف کرنا فرض قرار دیدیا گیا ہے ،یہ حکم متقیوں پر لازم ہے ۔

یہ آیت اس زمانے میں لازم تھی جب میراث کے احکام نہیں آئے تھے اور اس میں ہر شخص کے ذمے یہ فرض قرار دیا گیا تھا کہ وہ مرنے سے پہلے اپنے ترکہ کے بارے میں وصیت کرکے جائے کہ اس کے والدین یا دوسرے رشتہ دار کو کتنا کتنا مال تقسیم کیا جائے ؟بعد میں آیات میراث یعنی یوصیکم اللہ فی اولادکم، الخ  (النساء:۱۱) نے اس کو منسوخ کردیا اور اللہ تعالی نے تمام رشتہ داروں میں ترکے کی تقسیم کا ایک ضابطہ خود متعین کردیا اب کسی شخص پر مرنے سے پہلے وصیت کرنا فرض نہیں رہا۔
سورہ ٔ انفال میں ارشاد ہے :

إِنْ یَکُن مِّنکُمْ عِشْرُونَ صَابِرُونَ یَغْلِبُواْ مِئَتَیْنِ وَإِن یَکُن مِّنکُم مِّئَۃٌ یَغْلِبُواْ أَلْفاً مِّنَ الَّذِیْنَ کَفَرُواْ بِأَنَّہُمْ قَوْمٌ لاَّ یَفْقَہُونَ۔

(الأنفال:۶۵)

 

اگر تم میں سے بیس آدمی استقامت رکھنے والے ہونگے تو وہ دوسو پر غالب آجائیں گے اور اگر تم میں سے سو آدمی ہوں گےتو ایک ہزار کافروں پر غالب آجائیں گے کیونکہ یہ کافر ایسے لوگ ہیں جو صحیح سمجھ نہیں رکھتے۔

یہ آیت اگرچہ بظاہر ایک خبر ہے لیکن معنی کے لحاظ سے ایک حکم ہے اور وہ یہ کہ مسلمانوں کو اپنے سے دس گنازائددشمن کے مقابلہ سے بھاگنا جائز نہیں یہ حکم اگلی آیت کے ذریعے منسوخ کردیا گیا :

اَلآنَ خَفَّفَ اللّہُ عَنکُمْ وَعَلِمَ أَنَّ فِیْکُمْ ضَعْفاً فَإِن یَکُن مِّنکُم مِّئَۃٌ صَابِرَۃٌ یَغْلِبُواْ مِئَتَیْْنِ وَإِن یَکُن مِّنکُمْ أَلْفٌ یَغْلِبُواْ أَلْفَیْْنِ بِإِذْنِ اللّہِ وَاللّہُ مَعَ الصَّابِرِیْنَ۔

(الأنفال:۶۶)

 

اب اللہ نے تمہارے لیے آسانی پیدا کردی ہے اور اللہ کو علمٹ ہے کہ (اب)تم میں کچھ کمزوری ہے پس اب اگر تم میں سے ایک ہزار افراد استقامت رکھنے والے ہوں گے تو وہ دو سو پر غالب رہیں گے اور اگر تم میں سے ایک ہزار ہوں گے تو دو ہزار پر اللہ کے حکم سے غالب ہوں گے اور اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے ۔

اس آیت نہ پہلی آیت کے حکم میں تبدیلی پیدا کردی اور دس گنے دشمن کے بجائے دوگنے کی حد مقرر کردی کہ اس حد تک راہ فرار اختیار کرنا جائز نہیں ۔
تیسری آیت جسے حضرت شاہ صاحب نے منسوخ قرار دیا ہے سورۂ احزاب کی یہ آیت ہے :

لَا یَحِلُّ لَکَ النِّسَاء  مِن بَعْدُ وَلَا أَن تَبَدَّلَ بِہِنَّ مِنْ أَزْوَاجٍ وَلَوْ أَعْجَبَکَ حُسْنُہُن۔

(الاحزاب:۵۲)

 

(اے  نبی )آپ کے لیے اس کے بعد عورتیں حلال نہیں ہیں اور نہ یہ حلال ہے کہ ان(موجودہ  ازواج) کو بدل کر دوسری عورتوں سے نکاح کریں خواہ ان کا آپ کا حسن پسند آئے۔

اس آیت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مزید نکاح کرنے سے منع فرمادیا گیا  تھا بعد میں یہ حکم منسوخ کردیا گیا اور اس کی ناسخ آیت وہ ہے جو قرآن کریم کی موجودہ ترتیب میں مذکور بالا آیت سے پہلے مذکور ہے یعنی:

"یَا أَیُّہَا النَّبِیُّ إِنَّا أَحْلَلْنَا لَکَ أَزْوَاجَکَ اللَّاتِیْ آتَیْتَ أُجُورَہُنَّ"۔

(الاحزاب:۵۰)

 

(اے نبی) ہم نے آپ کے لیے آپ کی وہ ازواج حلال کردی ہیں جنھیں آپ نے ان کا مہر دے دیا ہو۔

 حضرت شاہ صاحب وغیرہ کا کہنا ہے کہ اس کے ذریعہ سابقہ ممانعت منسوخ ہوگئی لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس آیت میں نسخ یقینی نہیں ہے’  بلکہ اس کی وہ تفسیر بھی  بڑی حد تک بے تکلف اور سادہ ہے جو حافظ ابن جریر نے اختیار کی ہے یعنی یہ کہ یہ دونوں آیتیں اپنی موجودہ ترتیب کے مطابق ہی نازل ہوئی ہیں:

یَا أَیُّہَا النَّبِیُّ إِنَّا أَحْلَلْنَا لَکَ أَزْوَاجَکَ۔

(الاحزاب:۵۰)

 

والی آیت میں اللہ تعالی نے کچھ مخصوص عورتوں کا ذکر فرمایا ہے کہ ان کے ساتھ نکاح آپ کے لیے حلال ہے پھر اگلی آیت  لَا یَحِلُّ لَکَ النِّسَاء  مِن بَعْد(احزاب:) میں ارشاد فرمایا ہے کہ ان کے علاوہ دوسری عورتیں آپ کے لیے حلال نہیں۔      

(تفسیر ابن جریر)

(۴) چوتھی آیت جو حضرت شاہ صاحب کے نزدیک منسوخ ہے ،سورۂ مجادلہ کی یہ آیت :

یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوا إِذَا نَاجَیْْتُمُ الرَّسُولَ فَقَدِّمُوا بَیْْنَ یَدَیْْ نَجْوَاکُمْ صَدَقَۃً ذَلِکَ خَیْْرٌ لَّکُمْ وَأَطْہَرُ فَإِن لَّمْ تَجِدُوا فَإِنَّ اللَّہَ غَفُورٌ رَّحِیْمٌ۔

(المجادلہ: ۱۲)

 

اے ایمان والو جب تم کو رسول سے سرگوشی کرنی ہو تو سرگوشی سے پہلے کچھ صدقہ کردیا کرو یہ تمہارے لیے باعث خیر وہ طہارت ہے پھر اگر تمہارے پاس (صدقہ کرنے کے لیے) کچھ نہ ہوتو اللہ تعالی بخشنے والا اور مہربان ہے، یہ آیت اگلی آیت سے منسوخ ہوگئی۔

 أَأَشْفَقْتُمْ أَن تُقَدِّمُوا بَیْنَ یَدَیْْ نَجْوَاکُمْ صَدَقَاتٍ فَإِذْ لَمْ تَفْعَلُوا وَتَابَ اللہُ عَلَیْْکُمْ فَأَقِیْمُوا الصَّلَاۃَ وَآتُوا الزَّکَاۃَ وَأَطِیْعُوا اللہ وَرَسُولَہُ۔

(المجادلہ:۱۳)

 

کیا تم اس بات سے ڈر گئے  کہ تم اپنی سرگوشی سے پہلے صدقات پیش کرو پس جب تم  نے ایسا نہیں کیا اور اللہ نے تمہاری توبہ قبول کرلی (اب)نماز قائم رکھو  اور زکوۃ  ادا کرتے رہو اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو"اس طرح سرگوشی سے پہلے صدقہ کرنے کا حکم منسوخ قرار دیا گیا ۔

پانچویں آیت سورۂ مزمل کی مندرجہ ذیل آیات ہے :
(۱)یَا أَیُّہَا الْمُزَّمِّلُ
(۲)قُمِ اللَّیْْلَ إِلَّا قَلِیْلاً
(۳)نِصْفَہُ أَوِ انقُصْ مِنْہُ قَلِیْلاً

اے مزمل(آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مراد ہیں)رات کو (تہجد میں) کھڑے رہیے  مگر تھوڑا سا حصہ آدھی رات یا اس میں سے بھی کچھ کم کردیجیے"اس آیت میں رات کے کم از کم آدھے حصہ میں تہجد کی نماز کا حکم دیا گیا تھا ،بعد میں اگلی آیتوں نے اس میں آسانی پیدا کرکے سابقہ حکم منسوخ کردیا وہ آیتیں یہ ہیں:

 عَلِمَ أَن لَّن تُحْصُوہُ فَتَابَ عَلَیْْکُمْ فَاقْرَؤُوا مَا تَیَسَّرَ مِنَ الْقُرْآنِ :الخ

(المزمل: ۲۰)"

اللہ کو معلوم ہے کہ تم (آئند)ہے اس حکم کی پابندی نہیں کرسکوگے اس لیے اللہ نے تمہیں معاف کردیا پس تم( اب) قرآن کا اتنا حصہ پڑھ لیا کرو جو تمہارے لیے آسا ن ہو۔

حضرت شاہ صاحب کی تحقیق یہ ہے کہ تہجد کا حکم واجب تو پہلے بھی نہیں تھا؛ لیکن پہلے اس میں زیادہ تاکید بھی اور اس وقت بھی زیادہ وسیع تھا بعد میں تاکید بھی کم ہوگئی اور وقت کی اتنی پابندی بھی نہ رہی۔
یہ ہیں وہ پانچ آیتیں جن میں حضرت شاہ صاحب کے قول کے مطابق نسخ ہوا ہے لیکن یہ واضح رہے کہ یہ پانچ مثالیں صرف اسصورت کی ہیں جس میں ناسخ اور منسوخ دونوں قرآن کریم کے اندر موجود ہیں اس کے علاوہ ایسی مثالیں قرآن کریم میں باتفاق بہت سی ہیں جن میں ناسخ تو قرآن کریم میں موجود ہے لیکن منسوخ موجود نہیں ہے مثلاً تحویل قبلہ کی آیات وغیرہ۔

(علوم القرآن:۱۷۲)





































مخالفت سلف سے اجتناب تفسیر قرآن کا ایک بنیادی اصول

حق تعالیٰ جزائے خیر دے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کوکہ انہوں نے ”کلالہ“ کی صدیقی تفسیر میں ایک تفسیری اصول بیان فرمادیا‘ یعنی قرآن کریم کی تفسیر میں ایسے نظریہ کا اختراع کرنے سے آدمی کو کچھ حیا کرنی چاہئے جس سے سلف کے اصول ونظریات سے مزاحمت لازم آتی ہے‘ اس لئے صرف وہی تفسیر لائقِ اعتماد ہوگی جو صحابہ کرام‘ تابعین اور ائمہ ٴ امت کے ذوق کے ہم آہنگ ہوگی۔
خلیفہٴ راشد حضرت عمر بن عبد العزیز کا یہ زریں قول کتنا وزنی ہے؟ وہ فرماتے تھے (خطاب اہل علم سے تھا)
”خذوا من الرأی مایصدق من کان قبلکم ولاتاخذوا الخلاف لہم فانہم اخیر منکم واعلم ․․․“۔ (تاریخ الخلفاء للسیوطی)
ترجمہ:․․․”صرف وہی (نظریہ) اور رائے اختیار کرو جو تم سے پہلے لوگوں (یعنی صحابہ کرام اور اکابر تابعین) کی تصدیق کرے‘ ایسی رائے نہ لو جو ان کے خلاف ہو‘ اس لئے کہ وہ تم سے بہتر بھی تھے اور زیادہ علم والے بھی“۔
بلاشبہ اپنے سے پہلے لوگوں کے متعلق ”ہم اخیر واعلم“ کا نظریہ جب تک قائم رہے گا‘ امت میں خیر باقی رہے گی‘ کیوں نہ ہو‘ جن کے سامنے وحی نازل ہوتی رہی‘ جن کو اول وحی کی کیفیات واحوال کے مشاہدہ کے مواقع نصیب ہوئے‘ قرآن کی کونسی آیت: کس وقت‘ کس جگہ نازل ہوئی اور کب نازل ہوئی‘ کس کے حق میں نازل ہوئی‘ سفر میں نازل ہوئی یا حضر میں‘ حجرہٴ عائشہ میں نازل ہوئی یا تبوک سے واپسی پر۔ الغرض اسی قسم کے جزئیاتی امور ایک ایک کر کے جن کے حافظہ میں نقش تھے‘ قرآن کے ایک ایک حرف پر جن کو صاحبِ قرآن ا کی نگرانی میں عملی مشق کی سعادت میسر آئی‘پھر جن کے علم وتقویٰ‘ فضل وکمال‘ زہد وورع اور فہم وذکاء کی قرآن ہی نے شہادت دی‘جن کی جان بازی اور سرفروشی‘ ایثار اور قربانی کی نظیر پیش کرنے سے اولین وآخرین عاجز رہے‘ جن کی عفت وپارسائی‘ توکل اور قناعت جبرئیل ومیکائیل کے لئے باعثِ رشک بنی رہی‘ اگر ان کی اور ان کے تربیت یافتہ شاگردوں کی تفسیر پر اعتماد نہ ہوگا تو ان کے بعد اللہ کی کتاب کو سمجھنے اور سمجھانے کا سلیقہ کس کو نصیب ہوسکتاہے؟
فقیہ الامت حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے:
”والذی لا الہ غیرہ ما نزلت آیة من کتاب اللہ الا وانا اعلم فیمن نزلت‘ واین نزلت‘ ولو اعلم احداً اعلم بکتاب اللہ منی تنالہ المطایا لاتیتہ “۔ (ابن کثیر :ج:۱‘ ص:۵)
ترجمہ:․․․”معبودِ حقیقی کی قسم‘ کتاب اللہ کی جو آیت بھی نازل ہوئی‘ مجھے اس کے متعلق علم ہے کہ کس کے حق میں نازل ہوئی اور کہاں نازل ہوئی اور اگر میری دانست میں کتاب اللہ کا مجھ سے زیادہ جاننے والا کوئی موجود ہوتا اور وہاں تک سواری جاسکتی تو میں ضرور اس کی خدمت میں حاضر ہوتا“۔
اسی قسم کا مضمون حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے بھی منقول ہے:الغرض تفسیرِ قرآن کے سلسلہ میں ان ہی دو قاعدوں کو جو حضرت ابوبکر صدیق کے ”طرز عمل“ سے میں نقل کرچکا ہوں‘ اگر سامنے رکھا جائے تو کجراہی کا راستہ بڑی حد تک بند ہوسکتا ہے۔
تفسیر کا اصل سرمایہ صحابہ اور تابعین کے آثار ہیں
یہاں ایک اور نکتہ پر تنبیہ ضروری ہے ‘ وہ یہ کہ یوں تو کتاب اللہ کے اسرار کا سلسلہ غیر متناہی ہے‘ ایک عامی سے لے کر ایک اعلیٰ درجہ کے مفکر‘ فلسفی‘ ادیب اور عالم تک سب ہی اس میں غور کرتے رہے ہیں اور کرہے ہیں اور کرتے چلے جائیں گے اور ہرایک اپنی اپنی استعداد اور فراخ دامنی کے بقدر اس خزانہٴ عامرہ سے استفادہ کرتا رہے گا‘ لیکن جہاں تک اس کے نفسِ مفہوم کا تعلق ہے اور اس کی وضاحت جہاں تک انسانی وسعت کے دائرہ میں آسکتی ہے‘ اس سے صحابہ کرام اور ثقات تابعین کے علوم نے بعد میں آنے والے تمام انسانوں کو مستغنی کردیا ہے‘ اس لئے قرآن کی شرح وتفسیر میں آنحضرت اکے بعد صحابہ کرام اور ان کے تربیت یافتہ شاگردوں کے آثار جو صحیح اور مقبول اسناد کے ساتھ مروی ہیں‘ اصل سرمایہ ہیں۔ کوئی آیت ایسی نہیں جسے ان حضرات نے آنحضرت ا کی منشا کے موافق نہ سمجھا دیا ہو‘ قرآن سے متعلقہ اشکالات میں سے کوئی دشواری ایسی نہیں جسے ان ”نفوس قدسیہ“ نے جزئیاتی یاکلیاتی انداز میں حل نہ کردیا ہواور قرآن سے پیدا ہونے والے علوم کی طرف اشارہ نہ کردیا ہو۔
الغرض جس طرح قرآن کے الفاظ ان حضرات نے امت کو بلا کم وکاست پہنچا دیئے ہیں‘ ان میں نہ ان حضرات نے بخل سے کام لیا‘ نہ ہوا وہوس کی آمیزش ہونے دی‘ نہ اوہام وظنون کی تاریکی میں ان کو گم کیا‘ بلاشبہ اسی طرح قرآن کے مفاہیم اور معانی کی امانت بھی انہوں نے کامل طور پر امت کے سپرد کردی ۔ اس ”جنون“ کی کوئی گنجائش نہیں کہ الفاظِ قرآن میں ان کو قابل اعتماد قرار دیا جائے‘ مگر الفاظ کی شرح وتفسیر میں ان کی امانت کو مشتبہ بنا ڈالنے پر مغربی فوج (مستشرقین) کا تمام اسلحہ استعمال کیا جائے۔
بہرحال صحابہ کرام اور اکابر تابعین سے جو تفسیری سرمایہ منقول ہے‘ وہ قرآن فہمی کے لئے قطعاً کافی ہے‘ بعد میں آنے والوں کا کام اس قیمتی سرمایہ کی حفاظت اور اس کی پرورش کرنا تو ہوسکتا ہے‘ لیکن باپ دادا کے محنت کے ساتھ جمع کئے ہوئے سرمایہ کو گلی کوچہ میں پھینک کر خود قلاش اور مفلس ہوجانا اور جن خزانوں میں آباء واجداد کے جواہر ریزے بھرے ہوئے تھے‘ ان میں خزف ریزوں کو بھر لینا‘ قرآنی خدمت نہیں بلکہ حماقت ہے۔ حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی نور اللہ مرقدہ کے ملفوظات میں کہیں دیکھا تھا کہ ذہن میں جب کوئی تازہ مضمون آجاتا ہے پھر اتفاق سے وہی بات پہلے کے کسی بزرگ کے کلام میں دیکھ لیتا ہوں تو قلب میں عجیب انشراح پیدا ہوجاتاہے کہ الحمد للہ! فقیر کو بھی اکابر کے علوم کی موافقت نصیب ہوگئی‘ جو سلامتی ذہن کی دلیل ہے۔ اگر غور کروگے تو بعد کے اختلاف اور احزابی جنگ کا بنیادی نقطہ ”انکار سلف“ اور کتاب اللہ کے مطالب بیان کرنے میں جذبہ ”خود فہمی“ نظر آئے گا‘ ان تمام گروہی عناصر کا مشترک سرمایہ اہلِ حق سے عناد اور صلحائے امت سے بے اعتمادی کا ہے‘ ستم بالائے ستم یہ کہ جو طاغیہ اٹھتا ہے وہ سب سے پہلے اختلافِ امت کا ڈھول پیٹتا ہے اور اپنے الحادی ذہن سے ایک نئے دین‘ نئی فکر اور جدید فرقہ کا اضافہ کرجاتاہے۔
اسی سلسلہ کی ایک اور مثال
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے جن ”صدیقی اصولِ تفسیر“ کو ذکر کرتا چلا آرہا ہوں‘ اسی سلسلہ کی یہ روایت خاص اہمیت کی حامل ہے یعنی حضرت ابوبکر صدیق نے ایک دفعہ حاضرین سے دریافت فرمایا کہ قرآن کی ان دوآیتوں کا کیا مطلب سمجھے ہو؟
۱-”ان الذین قالوا ربنا اللہ ثم استقاموا“۔
۲-” الذین اٰمنوا ولم یلبسوا ایمانہم بظلم“ ۔
مطلب یہ کہ پہلی آیت میں استقاموا کے معنی اور دوسری آیت میں ظلم کا مفہوم حضرت ابوبکر صدیق نے حاضرین سے دریافت کرنا چاہا۔
جواب میں ان کی طرف سے عرض کیا گیا: ”ثم استقاموا ای فلم یذنبوا‘ ولم یلبسوا ایمانہم ای بخطیئة“ یعنی ثم استقاموا کے معنی یہ کہ ”پھر گناہ نہ کیا“ اور ظلم سے مراد بھی ”گناہ“ ہے۔ آیت کے ظاہری الفاظ سے یہی معنی مفہوم ہوتے ہیں جو انہوں نے بیان کردیئے‘ لیکن قرآن ہی میں دوسری آیتیں ایسی بھی ہیں جن کو سامنے رکھنے کے بعد یہ معنی درست نہیں رہتے‘ بہرحال ان کی اس تفسیر کے سن لینے کے بعد خود حضرت ابوبکر نے ان دونوں آیتوں کی تفسیر فرمائی‘ حضرت ابوبکر صدیق نے فرمایا:
لَقَدْ حَمَلْتُمُوهَا عَلَى غَيْرِ الْمَحْمَلِ ، ثُمَّ قَالَ : قَالُوا : رَبُّنَا اللَّهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا فَلَمْ يَلْتَفِتُوا إِلَى إِلَهٍ غَيْرِهِ ، وَلَمْ يَلْبِسُوا إِيمَانَهُمْ بِشِرْكٍ“۔
[حلية الأولياء لأبي نعيم » أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ ... رقم الحديث: 62 , جامع البيان عن تأويل آي القرآن » تفسير سُورَةُ فُصِّلَتْ ... رقم الحديث: 28157 ,  الجامع لأحكام القرآن (قرطبي) » سورة فصلت : 30]
ترجمہ:․․․” تم نے دونوں آیتوں کو غیر محمل پر حمل کردیا (ان دونوں آیتوں کے یہ معنی نہیں) بلکہ ثم استقاموا کے معنی تو یہ ہیں کہ پھر اللہ کے سوا کسی دوسرے معبود کی طرف مائل نہ ہوئے اور ظلم سے مراد شرک ہے“
اس مقام پر قابل توجہ امر یہی ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق  نے کس بنیاد پر ان حضرات کی تفسیر کو ”بے محل“ قرار دیا؟ اور ان حضرات کی تفسیر میں کیا گنجلک پائی جاتی تھی جس کی وجہ سے ان کی تفسیر غیر صحیح قرار پائی؟ روایت کے الفاظ میں چونکہ اس سوال سے تعرض نہیں‘ اس لئے قرائنِ خارجیہ کی طرف رجوع کرنے کے بعد ہی ان کا سراغ لگایا جاسکتا ہے۔
امام بخاری  نے حضرت عبد اللہ بن مسعود  کی روایت جو
”ولم یلبسوا ایمانہم بظلم“
کے جواب میں نقل کی ہے‘ اس سے یہ اشکال رفع ہوجاتا ہے یعنی یہ آیت جب نازل ہوئی تو اصحابِ رسول اللہ ا نے عرض کیا کہ: یا رسول اللہ ا ! اس آیت میں امن اور اہتداء کو ایمان اور ترکِ ظلم پر معلق کیا گیا ہے‘ اور ہم میں ایسا کون ہے جس نے ظلم بمعنی کوئی گناہ نہ کیا ہو؟ اس پر آیت
”ان الشرک لظلم عظیم“
نازل ہوئی‘ جس کا حاصل یہ ہوا کہ ظلم سے مراد آیت زیر بحث میں شرک ہے‘ مطلق گناہ مراد نہیں۔ بلکہ مسند احمد کی روایت میں اتنا اضافہ ہے کہ آنحضرت ا نے صحابہ کی عام بے چینی جو اس آیت سے ان کو لاحق ہوئی تھی‘ اسے سن کر فرمایا:
”انہ لیس الذی تعنون‘ الم تسمعوا ما قال العبد الصالح ”یابنیّ ان الشرک لظلم عظیم‘ انما ہو الشرک“ ۔ (ابن کثیر :ج:۲‘ص:۱۵۳)
یعنی :اس کا یہ مفہوم نہیں جو تم مراد لے رہے ہو‘ کیا تم نے عبد صالح (لقمان علیہ السلام) کا قول نہیں سنا کہ بیٹا! واقعةً شرک ہی سب سے بڑا ظلم ہے‘ پس آیت میں ظلم سے مراد شرک ہے۔
اس روایت سے واضح ہوا کہ یہ آیت جس کے متعلق حضرت ابوبکر صدیق اپنی عام روش کے خلاف لوگوں کو چھیڑ چھیڑ کر ان کے علم کی تصحیح فرمارہے تھے‘ اس کی تفسیر خود قرآن ہی میں دوسری جگہ کی جا چکی ہے اور آنحضرت ا صحابہ کرام کے استفسار پر اس آیت کا حوالہ بھی دے چکے ہیں‘ جس میں اس آیت کی تفسیر قرآن میں کی گئی ہے (یعنی ان الشرک لظلم عظیم) اس لئے اس سوال کے جواب میں جو اوپر عرض کرچکا ہوں‘ کہا جاسکتا ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق کی طرف سے ان حضرات کی تفسیر کے غیر صحیح قرار دیئے جانے کی بنیاد یہی آیت ہے جس کا حوالہ خود آنحضرت ا نے صحابہ کرام کے سامنے پیش فرمایا‘ اور یہیں سے دوسرے سوال کا جواب بھی نکل آیا کہ ان بزرگوں کی تفسیر میں جس کو حضرت ابوبکر صدیق نے ”بے محل“ قرار دیا‘ بنیادی نقص یہی تھا کہ ان حضرات نے صرف اسی مقام کو سامنے رکھ کر تفسیر فرمادی‘ دوسرے مقام پر ان کی نظر نہیں گئی‘ جہاں اس اجمال کو مفصل کردیا گیا تھا۔
بہرحال! اگر اس صدیقی روایت کا مطلب یہی ہے جو میں نے عرض کیا‘ (یہ خدا ہی جانتا ہے کہ میں اس روایت کے سمجھنے اور سمجھی ہوئی بات کے صحیح ادا کرنے میں کامیاب ہوسکا ہوں یا حضرات اہلِ علم سے توقع ہے کہ وہ تصحیح فرمادیں) تو اس میں جس اصول کی طرف اشارہ پایا جاتا ہے‘ اس پر ہمیں غور کرنا چاہئے۔ آپ مجھ ہی سے سن چکے ہیں کہ کتاب اللہ کے معاملہ میں ”صدیقی ذوق“ احتیاطی دقائق رکھتا تھا‘ وہ لوگوں کے بار بار سوال کرنے پر بھی تفسیرِ کتاب اللہ پر حرف زنی کے لئے حتی الوسع تیار نہ ہوتے تھے‘ لیکن یہاں آپ دیکھ رہے ہیں کہ حضرت ابوبکر صدیق از خود لوگوں سے سوال کرتے ہیں‘ پھر ان کے علم کی تصحیح فرماتے ہیں اور اپنے علم کو پیش فرماتے ہیں‘ کہنے کو تو یہ ایک جزئی واقعہ ہے جو شاید اپنی جزئیت ہی کی وجہ سے لوگوں کے نزدیک زیادہ توجہ کا مستحق نہ ہو‘ لیکن اگر یہ صحیح ہے کہ ہر جزئیہ کسی کلیہ کے تحت مندرج ہوتا ہے تو کوئی وجہ نہیں کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی اس تفسیری اصلاح کو جزئیہ تک ہی محدود مانا جائے اور صدیقی نظر کو اس جزئیہ سے کلیہ کی طرف متعدی نہ مانا جائے۔
تفسیر القرآن بالقرآن:
معروضہ بالاشواہد کی روشنی میں بھی معلوم ہوتا ہےکہ حضرت ابوبکر صدیق اس موقع پر لوگوں کو تفسیر القرآن بالقرآن کا تفسیری اصول ذہن نشین کرانا چاہتے تھے‘ یعنی قرآن کے کسی لفظ کی شرح کرتے وقت پہلے خود قرآن ہی میں اس کے مواقع استعمال کو تلاش کیا جائے۔ بسااوقات ایک مقام میں کلام عام رنگ میں ہوتا ہے‘ لیکن دوسری جگہ اس کے قیود سے تعرض کیا جاتا ہے۔ ایک موقع پر اجمال ہوتا ہے‘ دوسری مقام میں اس کی تفصیل ہوتی ہے۔ ایک آیت میں مضمون کو استعارہ اور کنایہ کے انداز میں ذکر کیا جاتا ہے اور دوسری آیت میں صریح الفاظ میں حقیقت کو واضح کیا جاتاہے ۔ مجھے اس پر طویل بحث کی ضرورت نہیں‘ اصولِ تفسیر کی کتابوں میں اس پر شافی بحث موجود ہے‘ اور یوں بھی اہلِ دانش کے لئے یہ کوئی جدید علم نہیں‘ بتلانا چاہتاہوں کہ حضرت ابوبکر صدیق کے ارشاد :
”ولقد حملتموہما علی غیر المحمل“
میں اسی قاعدہ پر تنبیہ فرمائی گئی ہے کہ اس آیت کا محمل دوسری آیت میں تلاش کرنا چاہئے تھا۔ قرآن کے ایک لفظ کو لے کر اس پر عقائد ونظریات کی عمارت استوار کرلینا اور بقیہ تمام آیات سے صرفِ نظر کرلینا اہلِ زیغ کا خاص امتیازی نشان ہے‘ اہلِ بدعت اور اصحابِ ہوا کی جانب سے کتنے نظریات قرآن ہی کی آیات پڑھ پڑھ کر پیش کئے جاتے ہیں‘ جن کے خلاف قرآن بار بار اعلان کرتا ہے۔ خود ہمارے دور کا جدید نظریہ اس کی زندہ مثال ہے یعنی قرآن کے ایک لفظ ”اضعافا مضاعفة“ کی آڑلے کر ”روشن خیال“ طبقہ‘ زبان اور قلم‘ پریس اور پلیٹ فارم کی پوری توانائی کے ساتھ چیخ رہاہے کہ قرآن نے مطلق سودکو حرام نہیں کہا‘ بلکہ ایک ”خاص قسم“ کے سود پر پابندی عائد کی ہے:
بریں فہم و سودا بباید گریست
لطف یہ کہ قرآن کے نام سے لغویات کے طور مار جمع کرنے والوں کے یہاں قرآن سے استدلال کا نہ کوئی قاعدہ ہے نہ احوال نہ زبانِ عرب کی باریکیوں کو جاننے کی ضرورت ہے‘ نہ کسی مثال کی حاجت‘ نہ علوم سلف سے استفادہ کی ہمت نہ عقل صحیح سے کام لینے کی توفیق۔ بس جس کے جی میں جو آیا اسے بلادریغ قرآن کی طرف منسوب کردیا‘ اگر لغت عرب سے ان کے مزعوم غل غپاڑے کی تائید نہ ہوئی تو ”لغات القرآن“ کے نام سے ایک سیاہ دفتر تصنیف کرلیا‘ بقول اقبال مرحوم:
ولے تاویل شاں در حیرت انداخت
خدا و جبرئیل و مصطفی را
اس ظلم اور غباوت کی انتہاء ہے کہ قرآن مجید آج سے چودہ سو سال پہلے محمد عربی ا پر زبان عربی میں نازل کیا جائے‘ اور اس کی لغات بیسویں صدی کے عجمی‘ جدید انداز سے گھڑنے لگیں۔
ایں کار از تو آید و مرداں چنیں کنند
حضرت ابوبکر صدیق  صحابہ کرام کی جماعت کو :لقد حملتموہما علی غیر المحمل“ کہہ کر ٹوک دیں اور تمام قرآن کو تحریف کا نشانہ بنا ڈالنے والے منافق ٹوکنے والوں کو ”تاریک خیال“ اور ”اہلیان مسجد“ کا طعنہ دیں۔
تفسیر القرآن بالحدیث
حضرت ابوبکر صدیق  سے ایک اور تفسیری خطبہ مروی ہے جسے مشکوٰة شریف میں ابوداؤد‘ ترمذی اور ابن ماجہ کے حوالے اور ترمذی کی تصحیح کے ساتھ نقل کیا گیا ہے یعنی حضرت صدیق نے فرمایا:
”یا ایہا الناس انکم تقرؤن ہذہ الآیة: یا ایہا الذین اٰمنوا علیکم انفسکم لایضرکم من ضل اذا اہتدیتم‘ وانی سمعت رسول اللہ ا یقول: ان الناس اذا رأوا ظالماً فلم یاخذوا علی یدیہ اوشک ان یعمہم اللہ بعقاب ہذا حدیث حسن صحیح“۔ (ترمذی:ج:۲‘ص:۱۳۱)
ترجمہ:․․․”لوگو! تم یہ آیت پڑھتے ہو! اے ایمان والو! تم اپنی ذات کی فکر کرو‘ تمہیں نقصان نہیں اس کا جو گمراہ ہوا جب تم ہدایت پر ہوگے‘اور میں نے آنحضرت ا کو فرماتے ہوئے سنا کہ: لوگ جب کسی ظالم کو دیکھیں اور اس کا ہاتھ نہ پکڑیں (یعنی اسے ظلم سے باز رکھنے کی کوشش نہ کریں) تو بعید نہیں: کہ اللہ تعالیٰ ان سب کو عذابِ عام میں مبتلا کردیں“۔
پڑھنے کی حد تک اس آیت کو کون نہیں پڑھتا‘ لیکن آیت کا مفہوم کیا یہی ہے کہ آدمی پر صرف اس کی ذات کی ذمہ داری ہے؟ غلط کاروں کی اصلاح‘ گمراہوں کو غلط راستے سے ہٹانے اور ظالم کے مقابلہ کی اس پر کوئی ذمہ داری نہیں؟ آیت کا مطلب اگر یہی ہوتا تو امر بالمعروف کی آیات‘ نہی عن المنکر کے احکام اور جہاد فی سبیل اللہ کے فضائل جو قرآن ہی میں مذکور ہیں‘ ان کے کیا معنی ہوں گے؟
حضرت ابوبکر صدیق  وانی سمعت رسول اللہ ا کی روشنی میں اعلان فرمار ہے ہیں کہ آنحضرت ا کے اس ارشاد کو سامنے رکھے بغیر آیت کا ظاہری مفہوم اگر لیا جائے تو یہ تفسیرِ قرآن پر بڑا ظلم ہوگا‘ صرف اس خطبہ کے سامعین کو نہیں‘ بلکہ آنے والی پوری امت کوامت کا پہلا صدیق آگاہ کردینا چاہتاہے کہ قرآن کریم کی کسی آیت کا مفہوم وانی سمعت رسول اللہ ا کی روشنی اور حدیثِ نبوی کی بصارت کے بغیر متعین کرنے والے ظالم ہیں‘ جن کا ہاتھ اگر نہ پکڑا گیا‘ ان کی زبان اگر نہ کھینچی گئی‘ ان سے قلم اگر نہ چھینا گیا‘ ان کی کتاب اللہ پر دست درازیوں پرگرفت نہ کی گئی‘ تو بعید نہیں کہ اللہ کا عذابِ عام نازل ہوجائے اور ایمان واعمال کی استعدادہی امت سے سلب کرلی جائے :”ویمسی مؤمنا ویصبح کافراً“ (صبح ایک شخص مؤمن ہوگا ‘ شام کو کافر اور شام کو مؤمن ہوگا صبح ہوتے ہی کافر ‘معاذ اللہ!) کا نقشہ سامنے آنے لگے۔ آیت پڑھ کر اس کی کوئی شرح کئے بغیر معاً ”میں نے رسول اللہ ا سے سنا ہے“ کا لفظ جو حضرت صدیق  کی زبان پر جاری ہوجاتاہے‘ جانتے ہو! یہ اپنے اندر ایمان ویقین اور فہم وفراست کا کتنا وزن رکھتا ہے؟ سننے والوں کو صرف آیت کی تفسیر نہیں بتلائی گئی‘ بلکہ ”یہ تفسیری اصول“ تلقین کیا گیا کہ پڑھنے والوں کو آفتاب ِ نبوت ا کی ذات سے صادر شدہ انفاس طیبہ (حدیث اور سنت) کو سامنے رکھ کر قرآن پڑھنا چاہئے ‘ ورنہ محض پڑھنا ہی پڑھنا ہوگا‘ سنتِ نبوی سے ہٹ کر قرآن پڑھنے والوں پر ”قرآنی فہم“ حرام کردیا کیا گیاہے۔
علامہ زرکشی سے الاتقان میں نقل کیا گیاہے:
قال فی البرہان:”اعلم انہ لایحصل للناظر فہم معانی الوحی ولایظہر لہ اسرارہ وفی قلبہ بدعة او کبرا او وہوی اوحب الدنیا او ہو مصر علی ذنب او غیر متحقق بالایمان او ضعیف التحقیق او یعتمد علی قول مفسر لیس عندہ علم او راجع الی معقولہ‘ وہذہ کلہا حجب وموانع بعضہا اکد من بعض“۔ (الاتقان:ج:۲‘ص:۱۸۱)
ترجمہ:․․․”برہان میں زرکشی فرماتے ہیں: جاننا چاہئے کہ قرآن کے مطالعہ کرنے والے کو نہ معنی وحی کا فہم حاصل ہوسکتاہے‘ نہ اس کے اسرار اس پر کھل سکتے ہیں‘ جب کہ اس کے قلب میں بدعت‘ کبر‘ ہویٰ یا حب دنیا ہو‘ یا وہ گناہ پر مصر ہو یا وہ ایمان کے کمال سے محروم ہو‘ یا کسی ایسے مفسر کے قول پر اعتماد کرے جو بے چارہ علم سے عاری ہے یا اپنے عقلی سودا کی طرف رجوع کرے‘ یہ تمام امور فہمِ قرآن سے حجاب اور مانع ہیں ․․․․․․“۔
قرآن وسنت کا باہمی تطابق کیا ہے؟ اور قرآن فہمی کے لئے معلم قرآن ا سے امت کا احتیاجی رشتہ کیا ہے؟
ان امور پر افسوس ہے کہ اس مضمون میں بحث ممکن نہیں‘ اس لئے میں حضرت ابوبکر صدیق  کے ان ہی ”چند تفسیری اصول“ پر اس مضمون کو ختم کرتاہوں‘ چونکہ یہ تمام ”صدیقی ذوق“ ہی کو سمجھانے کے لئے میں نے اپنی استطاعت صرف کی ہے‘ اس لئے آخر میں دعا کرتاہوں کہ اگر اس نادان سے کوئی صحیح بات بن پڑی ہے تو یہ اللہ تعالیٰ کی توفیق ہے‘ حق تعالیٰ اس کو نافع بنائے‘ اور اگر مجھ سے فہم وبیان میں غلطی ہوئی ہے‘ تو حق تعالیٰ مجھے معاف فرمائیں ۔
==================

حقیقت_تاویل و تفسیر_باطل

ہدایت، اللہ کے قبضہٴ قدرت میں ہے، قرآن کریم کا ہرہرحرف منزل من اللہ ہے اس میں کسی آیت و لفظ میں کسی قسم کے شبہ کی گنجائش ہے: قال تعالیٰ: "ذٰلِکَ الکِتَابُ لاَ رَیْبَ فِیْہِ" اور یہ قرآن کریم اللہ سے ڈرنے والوں کے لیے ہدایت ہے۔ قال تعالیٰ: "ھُدًی لّلْمُتَّقِیْنَ" (الآیة) ورنہ بہت سے فاسق لوگ اس کی وجہ سے گمراہی میں بھی مبتلا ہوجاتے ہیں۔ قال تعالیٰ: اس (قرآنی مثال) سے (خدا) بہتوں کو گمراہ کرتا ہے اور بہتوں کو ہدایت بخشتا ہے اور گمراہ بھی کرتا ہے تو نافرمانوں ہی کو [البقرہ:٢٦]

ظاہری اسباب کے تحت کسی سے مدد مانگنا شرک نہیں، شرک تو کسی کو غائبانہ (دوری سے) عادتاً مافوق الاسباب (ظاہری اسباب سے بالا) مدد کے لئے پکارنا ہے.

:١) الله کے سوا کسی*غیر-الله*سے مدد لینا

اے ایمان والو! *صبر* اور *نماز*(کے وسیلے)*سے*(الله کی) مدد لیا کرو بےشک الله صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے. [البقرہ:١٥٣]

سوال = تو کیا اس آیت کو اس طرح کسی نے مان-کر *نماز* اور *صبر* کو مدد کے لئے پکارا؟ ہرگز نہیں، بلکہ ان نیک اعمال کو الله کی مدد کا وسیلہ/زریعہ بنایا.
==============================
٢)اولیاء کو مدد کے لئے پکارنے کا وسیلہ بنانا:

اے ایمان والو! خدا سے ڈرتے رہو اور اس کا قرب حاصل کرنے (کے لئے تقویٰ-نیک اعمال) کا*وسیلہ* تلاش کرتے رہو اور اس کے رستے میں جہاد کرو تاکہ تمہارا بھلا ہو.[المائدہ:٣٥]

یہاں وسیلہ کی تفسیر*تقویٰ اور نیکی* ہے، اور مدد کے لئے نیک-بندوں/اولیاء کو پکارنے کو*وسیلہ* مشرکین_مکّہ بناتے تھے.(اسرا / بنی اسرائیل:٥٧
=====================================
?٣) الله کی عطا سے نبی علیہ السلام بھی *مشکل-کشا* ہیں

...اور میں(حضرت عيسى علیہ السلام) اچھا کرتا ہوں مادر زاد اندھے کو اور کوڑھی کو اور جلاتا ہوں مردے اللہ کے حکم سے...[آل-عمران:٤٩

الله نے قرآن میں تو یہ بھی فرمایا ہے:

اور جب کہے گا اللہ اے عیسٰی مریم کے بیٹے! کیا تو نے کہا لوگوں کو کہ ٹھہرا لو مجھ کو اور میری ماں کو دو معبود سوا اللہ کے, کہا تو پاک ہے مجھ کو لائق نہیں کہ کہوں ایسی بات جس کا مجھ کو حق نہیں اگر میں نے یہ کہا ہوگا تو تجھ کو ضرور معلوم ہو گا تو جانتا ہے جو میرے جی میں ہے اور میں نہیں جانتا جو تیرے جی میں ہے بیشک تو ہی ہے جاننے والا چھپی باتوں کامیں نے کچھ نہیں کہا انکو مگر جو تو نے حکم کیا کہ بندگی کرو اللہ کی جو رب ہے میرا اور تمہارا اور میں ان سے خبردار تھا جب تک ان میں رہا پھر جب تو نے مجھ کو اٹھا لیا تو تو ہی تھا خبر رکھنے والا ان کی اور تو ہر چیز سے خبردار ہے [المائدہ:١١٦-١١٧]

غائبانہ-دوری سے مدد کے لئے کسی کو پکارنا عبادت ہے:

اور کہتا ہے تمہارا رب مجھ کو پکارو کہ پہنچوں تمہاری پکار کو بیشک جو لوگ تکبر کرتے ہیں میری*عبادت*سے اب داخل ہوں گے دوزخ میں ذلیل ہو کر. [الغافر:٦٠]
=====================================
٤) الله کے نبی (حضرت سلیمان)علیہ السلام بھی*گنج بخش*ہیں

پھر ہم نے ہوا کو ان کے زیر_فرمان کردیا کہ جہاں وہ پہنچنا چاہتے ان کے حکم سے نرم نرم چلنے لگتی. اَور دیووں کو بھی (ان کے زیرفرمان کیا) وہ سب عمارتیں بنانے والے اور غوطہ مارنے والے تھے. اور اَوروں کو بھی جو زنجیروں میں جکڑے ہوئے تھے. (ہم نے کہا) یہ ہماری بخشش ہے (چاہو) تو احسان کرو یا (چاہو تو) رکھ چھوڑو (تم سے) کچھ حساب نہیں ہے.[ص: ٣٦-٣٩


تو ہمارے نبی صلے الله علیہ وسلم اور صحابہ رضی الله عنہ نے الله کے سوا/ساتھ ,ان نبیوں/ولیوں سے (عیسایوں اور مشرکوں کی طرح) ان کے جانے کے بعد کبھی غائبانہ-دوری سے مدد کیوں نا مانگی؟ اور کیا ان سے زیادہ قرآن کی سمجھ آپ کو ہے؟
=================================
امت_مصطفیٰ صلے الله علیہ وسلم شرک نہیں کر سکتی؟

الحديث رقم 39 : أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب : المناقب، باب : علامات النَّبُوَّةِ فِي الإِسلام، 3 / 1317، الرقم : 3401، وفي کتاب : الرقاق، باب : مَا يُحْذَرُ مِنْ زَهْرَةِ الدُّنْيَا وَالتَّنَافُسِ فِيها، 5 / 2361، الرقم : 6061، ومسلم في الصحيح، کتاب : الفضائل، باب : إثبات حوض نبينا صلي الله عليه وآله وسلم وصفاته، 4 / 1795، الرقم : 2296 وأحمد بن حنبل في المسند، 4 / 153.]

’’حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : بے شک میں تمہارا پیش رو اور تم پر گواہ ہوں۔ بیشک خدا کی قسم! میں اپنے حوض (کوثر) کو اس وقت بھی دیکھ رہا ہوں اور بیشک مجھے زمین کے خزانوں کی کنجیاں (یا فرمایا : زمین کی کنجیاں) عطا کر دی گئی ہیں اور خدا کی قسم! مجھے یہ ڈر نہیں کہ میرے بعد"تم"(صحابہ رضی الله عنہ کی جماعت)شرک کرنے لگو گے بلکہ مجھے ڈر اس بات کا ہے کہ تم دنیا کی محبت میں مبتلا ہو جاؤ گے۔ ‘‘(الله تعالیٰ نے اس سے بھی ان کو محفوظ رکھا اور ان کی اتباع پر اپنی رضا اور جنّت جیسی عظیم کامیابی کا فرمان جاری فرمایا=القرآن؛التوبہ:١٠٠)]

اس مذکورہ بالا حدیث میں صحابہ رضی الله عنھم کو خطاب ہے جن سے الله نے ان کی حفاظت فرمائی، اور مندرجہ ذیل احادیث سے امت_مصطفیٰ صلے الله علیہ وسلم میں شرک پر عمل-پیرا ہونے کا ثبوت ملتا ہے:



جامع ترمذی:جلد دوم:حدیث نمبر 101 ,فتنوں کا بیان : جب تک کذاب نہ نکلیں قیامت قائم نہیں ہو گی, حدیث مرفوع 
مکررات14

قتیبہ، حماد بن زید، ایوب، ابوقلابة، ابواسماء، حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک میری امت کے کئی قبائل مشرکین کے ساتھ الحاق نہیں کریں گے اور بتوں کی پوجا نہیں کریں گے پھر فرمایا میری امت میں تیس جھوٹے پیدا ہوں گے ہر ایک کا یہی دعوی ہوگا کہ وہ نبی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ میں خاتم النبیین ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا یہ حدیث صحیح ہے]



سنن ابوداؤد:جلد سوم:حدیث نمبر ,859 فتنوں کا بیان : حدیث متواتر حدیث مرفوع مکررات 14

سلیمان بن حرب، محمد بن عیسی، حماد بن زید، ایوب، ابوقلابہ، ابواسماء، حضرت ثوبان رضی اللہ تعالیٰ عنہ (جو آزاد کردہ غلام ہیں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے) فرماتے ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اللہ نے زمین کو میرے لیے سمیٹ دیا یا یوں فرمایا کہ میرے پرودگار نے میرے لیے زمین کو سکیڑ دیا پس مجھے زمین کے مشارق ومغا رب دکھائے گئے اور بیشک میری امت کی سلطنت عنقریب وہاں تک پہنچی گی جہاں تک میرے لیے زمین کو سمیٹا گیا اور مجھے دو خزانے سرخ وسفید دیے گئے اور بیشک میں نے اپنی پروردگار سے اپنی امت کے لیے یہ سوال کیا کہ انہیں کسی عام قحط سے ہلاک نہ کیجیے اور نہ ان کے اوپر ان کے علاوہ کوئی غیر دشمن مسلط کردے کہ وہ ان کو جڑ سے ختم کردے۔ اور بیشک میرے پروردگار نے مجھ سے فرمایا کہ اے محمد۔ بیشک میں جب فیصلہ کرتا ہوں تو پھر وہ رد نہیں ہوتا اور میں انہیں کسی عام قحط سے ہلاک نہیں کروں اور نہ ہی ان پر کوئی غیر دشمن مسلط کروں اگرچہ سارا کرہ ارض سے ان پر دشمن جمع ہو کر حملہ آور ہوجائیں یہاں تک کہ مسلمانوں میں سے آپس میں ہی بعض بعض کو ہلاک کردیں گے اور بعض بعض کو قید کردیں گے اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ بیشک مجھے اپنی امت پر گمراہ کرنے والے اماموں (مذہبی رہنماؤں) کا ڈر ہے اور جب میری امت میں تلوار رکھ دی جائے گی تو قیامت تک نہیں اٹھائی جائے گی اور قیامت اس دن تک قائم نہیں ہوگی یہاں تک کہ میری امت کے بعض قبائل مشرکین سے جا ملیں گے اور یہاں تک کہ میری امت کے بعض قبائل بتوں کی عبادت کریں اور بیشک میری امت میں تیس کذاب ہوں گے جن میں سے ہر ایک یہ دعوی کرے گا کہ وہ نبی ہے اور میں خاتم النبین ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں اور میری امت میں سے ایک طائفہ ہمیشہ حق پر رہے گی ابن عیسیٰ کہتے ہیں کہ حق پر غالب رہے گی اور ان کے مخالفین انہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکیں گے یہاں تک کہ اللہ کا امر آجائے۔][سنن ابن ماجہ:جلد سوم:حدیث نمبر 832 حدیث مرفوع مکررات 14 ہشام بن عمار، محمد بن شعیب بن شابور، سعید بن بشیر، قتادہ، ابوقلابہ، عبداللہ بن زید، ابواسماء، رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آزاد کردہ غلام حضرت ثوبان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا زمین میرے لئے سمیٹ دی گئی یہاں تک کہ میں نے زمین کے مشرق و مغرب کو دیکھ لیا اور مجھے دونوں خزانے (یا سرخ) اور سفید یعنی سونا اور چاندی دیئے گئے (روم کا سکہ سونے کا اور ایران کا چاندی کا ہوتا تھا) اور مجھے کہا گیا کہ تمہاری (امت کی) سلطنت وہی تک ہوگی جہاں تک تمہارے لئے زمین سمیٹی گئی اور میں نے اللہ سے تین دعائیں مانگیں اول یہ کہ میری امت پر قحط نہ آئے کہ جس سے اکثر امت ہلاک ہو جائے دوم یہ کہ میری امت فرقوں اور گروہوں میں نہ بٹے اور (سوم یہ کہ) ان کی طاقت ایک دوسرے کے خلاف استعمال نہ ہو (یعنی باہم کشت و قتال نہ کریں) مجھے ارشاد ہوا کہ جب میں (اللہ تعالی) کوئی فیصلہ کرلیتا ہوں تو کوئی اسے رد نہیں کر سکتا میں تمہاری امت پر ایسا قحط ہرگز مسلط نہ کروں گا جس میں سب یا (اکثر) ہلاکت کا شکار ہو جائیں اور میں تمہاری امت پر اطراف و اکناف ارض سے تمام دشمن اکٹھے نہ ہونے دوں گا یہاں تک کہ یہ آپس میں نہ لڑیں اور ایک دوسرے کو قتل کریں اور جب میری امت میں تلوار چلے گی تو قیامت تک رکے گی نہیں اور مجھے اپنی امت کے متعلق سب سے زیادہ خوف گمراہ کرنے والے حکمرانوں سے ہے اور عنقریب میری امت کے کچھ قبیلے بتوں کی پرستش کرنے لگیں گے اور (بت پرستی میں) مشرکوں سے جا ملیں گے اور قیامت کے قریب تقریبا جھوٹے اور دجال ہوں گے ان میں سے ہر ایک دعوی کرے گا کہ وہ نبی ہے اور میری امت میں ایک طبقہ مسلسل حق پر قائم رہے گا ان کی مدد ہوتی رہے گی (منجانب اللہ) کہ ان کے مخالف ان کا نقصان نہ کر سکیں گے (کہ بالکل ہی ختم کر دیں عارضی شکست اس کے منافی نہیں) یہاں تک کہ قیامت آجائے امام ابوالحسن (تلمیذ ابن ماجہ فرماتے ہیں کہ جب امام ابن ماجہ اس حدیث کو بیان کر کے فارغ ہوئے تو فرمایا یہ حدیث کتنی ہولناک ہے][مجھ کو اپنی امت پر جس کا ڈر ہے وہ شرک کا ہے:-سنن ابن ماجہ:جلد سوم:حدیث نمبر 1085 حدیث مرفوع مکررات 2 38 - زہد کا بیان : (243)ریا اور شہرت کا بیان ۔محمد بن خلف عسقلانی، رواد بن جراح، عامر بن عبداللہ ، حسن بن ذکوان، عبادہ بن نسی، حضرت شداد بن اوس سے روایت ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا سب سے زیادہ مجھ کو اپنی امت پر جس کا ڈر ہے وہ شرک کا ہے میں یہ نہیں کہتا کہ وہ سورج یا چاند یا بت کو پوجیں گے لیکن عمل کریں گے غیر کے لئے اور دوسری چیز کا ڈر ہے وہ شہوت خفیہ ہے۔]



نبی کریم صلے الله علیہ وسلم پر بھی عیسایوں کی طرح غلو (حد سے گذرنا):
يٰٓاَهْلَ الْكِتٰبِ لَا تَغْلُوْا فِيْ دِيْنِكُمْ...اے اہل کتاب اپنے دین کے بارے میں حد سے نہ گزر جاؤ...[القرآن=النساء:١٧١]اس کی تفسیر_ابن_کثیر میں حدیث_بخاری = حمیدی سفیان زہری عبیداللہ بن عبداللہ بن عباس سے روایت کرتے ہیں انہوں نے فرمایا کہ میں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو منبر پر یہ فرماتے ہوئے سنا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ "مجھے اتنا نہ بڑھاؤ جیسے نصاریٰ (عیسایوں) "نے "عیسیٰ بن مریم" کو بڑھایا ہے میں تو محض اللہ کا بندہ ہوں تو تم بھی یہی کہو کہ اللہ کا بندہ اور اس کا رسول۔

صحیح بخاری:جلد دوم:حدیث نمبر 676 (3445) حدیث مرفوع مکررات 13 متفق علیہ 9 43 - انبیاء علیہم السلام کا بیان : (585)









[10.4 M]




تاریخ تفسیر ومفسرین
عہد رسالت صلی اللہ علیہ وسلم سے لے کرعہد حاضر تک قرآن کریم کی ہزاروں تفاسیر لکھی جا چکی ہیں۔ اس کے علاوہ قرآن کریم کےمتعدد پہلوؤں پر علمی و تحقیقی کام موجود ہے۔ مثلاً اسباب نزول، مسائل فقہیہ اور امثال قرآنی جیسی ابحاث پر مستقل تصانیف لکھی گئیں۔ مسلمانوں نے قرآن کریم کے اسرار و نکات معلوم کرنے کے لیے بہت سی مساعی انجام دی ہیں لیکن قرآن کریم کی وسعت و جامعیت کے سامنے مساعی کرنے والے کا عجز و تقصیر کااعتراف کیے بغیر چارہ نہیں رہتا۔ اب تک اردو زبان میں ایسی کوئی جامع کتاب موجود نہیں تھی جس سے علم تفسیر کی مفصل تاریخ اورمفسرین کرام کی جہود و مساعی کا تفصیلی علم ہو سکے۔ پروفیسر غلام احمد حریری نے زیر نظر کتاب کی صورت میں بہت حد تک اس کمی کو پورا کر دیا ہے۔ اس کتاب کا اہم ماخذ و مصدر علامہ محمد حسین الذہبی کی کتاب ’التفسیر والمفسرون‘ ہے۔ کتاب کی اساس اکثر و بیشتر اسی کتاب پر رکھی گئی ہے۔ اس کے غیر ضروری مواد کو حذف کر کے دیگر کتب سے مفید معلومات کا اضافہ کر دیا گیا ہے۔ اپنے موضوع اور مواد کے اعتبار سے یہ کتاب اردو زبان میں ایک جامع اور ہمہ گیر تالیف کی صورت میں سامنے آئی ہے۔

1 comment:

  1. Assalam o Alaikum wa Rahmatullah wa Barakatoho
    Muhtram Shaikh sahib !
    I am student of Islamic studies in Sargodha University. My topic for PhD is '' Punjab maen Ulom ul Quran wa Tafseer ul Quran per ghair matbooa Urdu mwad ka tahqiqi jaiza " please guide me and send me the relative material.I will pray for your success in this world and the world hereafter.
    yours Islamic brother
    Rafi ud Din department of islamic studies UoS
    Basti diwan wali st. Zafar bloch old Chiniot road Jhang
    Saddar. mobile no 03336750546 , 03016998303
    email: rafiuddinqamar@gmail.com , drfi@ymail.com

    ReplyDelete