نماز میں پائنچے موڑنے کا حکم:
شلوار کے پائنچے ٹخنوں سے نیچے رکھنا بقصدِ تکبر حرام، اور بلاقصدِ تکبر مکروہِ تحریمی (ناجائز)ہے، اگر غیر ارادی طور پر کبھی شلوار کا پائنچہ ٹخنوں سے نیچے لٹک جائے تو معاف ہے، لیکن جان بوجھ کر ایسا کرنا یا شلوار ہی ایسی بنانا کہ پائنچہ ٹخنوں سے نیچے لٹکتا رہے یہ ہر گز جائز نہیں ہے، اور یہ متکبرین کی علامت ہے، اور جب یہ فعل ہی متکبرین کی علامت ہے تو پھر یہ کہہ کر ٹخنوں کو چھپانا کہ نیت میں تکبر نہیں تھا ، شرعاً درست نہیں ہے، اور ٹخنوں کو ڈھانکنا نماز اور غیر نماز ہر حال میں ممنوع ہے، اور نماز میں اس کی حرمت مزید شدید ہوجاتی ہے، لہذا ایسا لباس ہی نہ بنایا جائے جس میں ٹخنے ڈھکتے ہوں، فقہاء کرام نے ایسا لباس سلوانے کو مکروہ لکھا ہے جس میں مرد کے ٹخنے چھپ جاتے ہوں۔اور ایسا لباس ہونے کی صورت میں نماز شروع کرنے سے پہلےشلوار یا پینٹ وغیرہ کو اوپر سے موڑ لینا چاہیے، ورنہ کم ازکم نیچے سے موڑلے۔ اس طرح کرنے سے اس گناہ سے نجات مل جائے گی جو شلوار وغیرہ کو نماز کے اندر ایسے ہی چھوڑ دینے سے ہوتا۔
جو حضرات نماز میں شلوار یا پینٹ وغیرہ موڑنے سے منع کرتے ہیں اس کی دو وجہیں ہوسکتی ہیں، لیکن دونوں کے سمجھنے میں غلط فہمی معلوم ہوتی ہے:
1۔ایک حدیث شریف میں نماز میں کپڑوں کے سمیٹنے سے منع کیا گیا ہے۔ لیکن حدیث میں وارد ممانعت کا تعلق غیر ضروری طور پر یا مٹی سے بچنے کے لیے نماز کے دوران کپڑے سمیٹنے سے ہے۔ نماز سے پہلے یا نماز کے دوران ایک حکم شرعی کو ادا کرنے کے لیے (یعنی ٹخنوں کو کھلا رکھنے کے لیے ) کپڑے سمیٹنا اور موڑنا اس حدیث کے مفہوم میں داخل نہیں ہے۔
2۔ فقہاء کرام نے لکھا ہے کہ ایسے لباس میں نماز ادا کرنا مکروہ ہے جو لباس مہذب اور شریفانہ مجالس میں نہ پہنا جاسکے، کیوں کہ نمازی اللہ تعالیٰ کے دربار میں حاضر ہوتاہے؛ اس لیے اس کا لباس مہذب وشائستہ اور صلحاء کا لباس ہونا چاہیے، جب کہ شلوار یا پینٹ کو نیچے کی جانب سے موڑنے کی صورت میں وضع و ہیئت غیر مہذب ہوجاتی ہے، لہٰذا پاؤں کی جانب سے موڑنے میں کراہت ہوگی۔
لیکن اس کی وضاحت گزشتہ سطور میں ہوچکی کہ فقہاء کرام نے ایسا لباس سلوانا ہی مکروہ قرار دیا ہے جس میں پائنچے ٹخنوں سے نیچے ہوں، سو اولاً: لباس ہی شریعت کے مطابق سلوایا جائے، ثانیاً: شلوار یا پینٹ پاؤں کی جانب سے موڑنے میں لباس کی ہیئت تبدیل ہونے سے جو کراہت آتی ہے وہ کراہتِ تنزیہی ہے، جب کہ ٹخنے ڈھانپنا مکروہ تحریمی (ناجائز) ہے۔لہٰذا اگر کسی کی شلوار وغیرہ لمبی ہو تو اسے اوپر یا نیچے کی جانب سے موڑ دینا چاہیے، کیوں کہ ٹخنے ڈھکنے کی کراہت تحریمی اور شدید ہے، جو حکم کے اعتبار سے ناجائز ہے، اس کےمقابلے میں شلوار یا پینٹ کو نیچے کی جانب سے فولڈ کرنے کی کراہت کم ہے، اس لیےشلوار یا پینٹ لمبی ہو تو نماز سے پہلے اسے فولڈ کرلینا چاہیے۔
بہرحال حکم یہی ہے کہ اگر کسی کی شلوار یا پینٹ لمبی ہو تو نماز سے پہلے ہی اسے موڑ لینا چاہیے، اور اگر پہلے نہ موڑ سکے یا نماز کے دوران وہ نیچے ہوجائے تو نماز کے دوران شلوار وغیرہ کو ایک ہاتھ سے ایک ہی دفعہ موڑ لینے سے نماز فاسد نہیں ہوتی۔ البتہ دورانِ نماز جھک کر پینٹ یا شلوار وغیرہ پائنتی کی جانب سے موڑلینا عمل کثیر ہے، جس سے نماز فاسد ہوجاتی ہے۔
دلائل:
اسبال (تہبند نیچے لٹکانا) اور نماز کی قبولیت
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : بَيْنَمَا رَجُلٌ يُصَلِّي مُسْبِلًا إِزَارَهُ إِذْ قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اذْهَبْ فَتَوَضَّأْ ، فَذَهَبَ فَتَوَضَّأَ ، ثُمَّ جَاءَ ، ثُمَّ قَالَ : اذْهَبْ فَتَوَضَّأْ ، فَذَهَبَ فَتَوَضَّأَ ، ثُمَّ جَاءَ ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا لَكَ أَمَرْتَهُ أَنْ يَتَوَضَّأَ ثُمَّ سَكَتَّ عَنْهُ ؟ فَقَالَ : إِنَّهُ كَانَ يُصَلِّي وَهُوَ مُسْبِلٌ إِزَارَهُ ، وَإِنَّ اللَّهَ تَعَالَى لَا يَقْبَلُ صَلَاةَ رَجُلٍ مُسْبِلٍ إِزَارَهُ " . حضرت ابو ہریرہؓ روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص اپنی ازار ٹخنوں سے نیچے لٹکائے ہونے کی حالت میں نماز پڑھ رہا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: جاوٴ، دوبارہ وضو کر کے آوٴ!تو وہ شخص وضو کر کے آیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جاوٴ،وضو کر کے آوٴ! وہ شخص گیا اور وضو کر کے آیا، ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے وضو کرنے کا حکم کیوں فرمایا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: وہ اپنی ازار ٹخنوں سے نیچے لٹکائے ہونے کی حالت میں نماز پڑھ رہا تھا اور اللہ تعالیٰ اس شخص کی نماز قبول نہیں فرماتے ،جو اپنی ازار ٹخنوں کے نیچے لٹکائے ہوئے ہو۔
[سنن أبو داؤد:4086، ، السنن الکبریٰ للنسائی:9623، مسند البزار:8762، السنن الکبریٰ للبیھقی:3304-3305، شعب الایمان-للبیھقی:5718-5719]
تشریح:
اس حدیث کی علماء نے چند تاویلیں کی ہیں، جو حسبِ ذیل ہیں:
(۱) دوبارہ وضو کرنے کا حکم نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے اس لیے عطا کیا؛ تاکہ وہ دورانِ وضو غور کرسکے اور اپنے عملِ مکروہ پر متنبہ ہوکر، اس سے پرہیز کرے، نیز اکمل وافضل طریقے پر نماز ادا کرے۔
(۲) اسبالِ ازار کے عمل کی وجہ سے، اس سے جو گناہ سر زد ہوا ہے، وضو کے ذریعہ وہ گناہ ختم ہوجائے۔
(۳) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ وضو کرنے کا حکم زجراً وتوبیخاً فرمایاہے۔
(۴) حدیث میں نماز کے قبول نہ ہونے سے مراد کامل قبولیت ہے، یعنی اسبالِ ازار کے ساتھ نماز پڑھنے والے کا فرض تو ادا ہوجائے گا؛ لیکن اسے اللہ تعالیٰ کی مکمل خوشنودی حاصل نہ ہوگی۔
لہٰذا اس حدیث سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ اسبالِ ازار سے وضو ٹوٹ جائے گا۔
(مرقاة المفاتیح، باب الستر، الفصل الثانی ۲/۲۳۴، مکتبہ امدادیہ، ملتان، پاکستان)
شرح للمناوی (از فیض القدیر: 1827)
(إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى لَا يَقْبَلُ صَلَاةَ رَجُلٍ مُسْبِلٍ إِزَارَهُ)
یعنی اللہ تعالیٰ اس شخص کی نماز پر ثواب نہیں دیتا جو اپنا تہبند ٹخنوں سے نیچے لٹکاتا ہے۔
یہ حکم اس شخص کے بارے میں ہے جو تکبر اور خود پسندی کی وجہ سے تہبند نیچے لٹکائے۔ یہ بات نبی ﷺ نے اس شخص کو فرمائی جب اسے ایسی حالت میں نماز پڑھتے دیکھا۔ اور آپ نے اسے حکم دیا کہ وضو کرے اور نماز دوبارہ پڑھے۔
اس لیے کہ نماز عاجزی و انکساری کی حالت ہے، جبکہ اسبال (کپڑا نیچے لٹکانا) تکبر کا فعل ہے، یہ دونوں باہم متعارض ہیں۔
---
ابن عربی نے فرمایا:
آپ کا اسے وضو کا حکم دینا "ادب" اور تاکید ہے۔ کیونکہ نمازی اپنے رب سے مناجات کر رہا ہوتا ہے، اور اللہ تعالیٰ اس شخص کی طرف نہیں دیکھتا جو اپنا تہبند (ٹخنوں سے نیچے) گھسیٹتا ہے، نہ اس سے کلام فرماتا ہے۔ اس لیے اس کی نماز قبول نہیں ہوتی، یعنی اس پر ثواب نہیں ملتا۔
---
طیبی نے فرمایا:
وضو کا حکم دینے کا راز یہ ہے کہ وہ شخص باوضو ہی تھا، پھر بھی اسے وضو کا حکم دیا گیا۔ تاکہ وہ اس حکم کے سبب پر غور کرے اور جان لے کہ اس نے کتنی بڑی برائی کی ہے۔ اور یہ کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسول ﷺ کے حکم کی برکت سے ظاہری طہارت (وضو) کے ذریعے اس کے باطن کو تکبر اور خود پسندی سے پاک کر دے گا۔ کیونکہ ظاہر کی طہارت باطن کی طہارت پر اثر انداز ہوتی ہے۔
اس بنا پر نبی ﷺ کے کلام کا مفہوم یہ ہونا چاہیے: اللہ تعالیٰ اس شخص کی نماز قبول نہیں فرماتا جو تکبر کرنے والا اور خود پسند ہو۔
---
تخریج و حوالہ جات
· سنن ابی داود: (کتاب الصلاۃ، باب فی اسبال الازار)
· سنن النسائی الکبریٰ
· مسند احمد
· صحیح ابن حبان
امام نووی نے فرمایا:
"اس کی سند صحیح ہے، امام مسلم کی شرط پر ہے۔"
امام منذری نے اسے علت دار قرار دیا اور کہا:
"اس میں ابو جعفر نامی راوی ہیں جو مدینہ کے ایک نامعلوم شخص ہیں۔" (یعنی ان کی توثیق نہیں ہے).
[فيض القدير-للمناوي:1827]
---
حاصل شدہ اسباق و نکات
1. اسبال (کپڑا ٹخنوں سے نیچے لٹکانا) حرام ہے: یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ مرد کے لیے تہبند یا شلوار کو ٹخنوں سے نیچے لٹکانا حرام ہے، خاص طور پر اگر یہ تکبر کے ساتھ ہو۔
2. نماز کی قبولیت متاثر ہوتی ہے: اسبال کی حالت میں پڑھی جانے والی نماز اللہ کے ہاں مقبول نہیں ہوتی (یعنی اس پر ثواب نہیں ملتا)۔
3. تکبر سے بچنا ضروری ہے: اصل ممانعت تکبر کی وجہ سے ہے۔ جو شخص تکبر کے بغیر کپڑا نیچے لٹکائے، بعض علماء کے نزدیک وہ گناہ گار تو ہے لیکن کبیرہ گناہ کا مرتکب نہیں۔
4. وضو کا حکم ادب اور تاکید کے لیے: جس شخص نے اسبال کی حالت میں نماز پڑھی، اسے وضو کر کے نماز دوبارہ پڑھنے کا حکم دیا گیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کی پہلی نماز کافی نہیں تھی۔
5. ظاہری طہارت کا اثر: طیبی کے مطابق ظاہری طہارت (وضو) کا حکم اس لیے دیا گیا کہ یہ باطنی طہارت (تکبر سے پاکی) کا ذریعہ بنے۔
6. نماز کا مقصد عاجزی و انکساری ہے: نماز میں اللہ کے سامنے عاجزی اور انکساری کا اظہار ہوتا ہے، جبکہ اسبال تکبر کی علامت ہے، اس لیے یہ نماز کے مقصد کے خلاف ہے۔
7. حدیث کی سند میں اختلاف: امام نووی نے اسے صحیح کہا، جبکہ امام منذری نے اس میں ابو جعفر کے نامعلوم ہونے کی وجہ سے کلام کیا ہے۔ لیکن یہ حدیث دوسرے طرق سے بھی مروی ہے اور اس کا حکم صحیح ہے۔
8. تکبر کی مذمت: یہ حدیث تکبر کی شدید مذمت اور اس کے برے انجام کو واضح کرتی ہے۔
ٹخنوں سے نیچے کپڑا لٹکانے کی وعید
''عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «ما أسفل من الكعبين مِنَ الإِزَارِ فَفِي النَّارِ».
ترجمہ:
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ٹخنوں سے نیچے جو حصہ تہبند (شلوار وغیرہ) کا ہو، وہ جہنم میں جلے گا۔
[صحیح البخاري:5787]
---
شرح للمناوی (از فیض القدیر: 7814)
(مَا أَسْفَلَ)
"ما" موصولہ ہے، "أسفل" اس کی خبر ہے۔
یہاں "كان" مقدرہ ہے (یعنی "ما كان أسفل")۔
اور اسے رفع کے ساتھ پڑھنا بھی صحیح ہے (یعنی "ما هو أسفل")۔
(مِنَ الْكَعْبَيْنِ)
"کعبین" وہ دو ہڈیاں ہیں جو پنڈلی اور پاؤں کے جوڑ پر ابھری ہوتی ہیں۔
(مِنَ الْإِزَارِ)
یعنی تہبند کا جو حصہ (ٹخنوں سے نیچے ہو)۔
(فَفِي النَّارِ)
یعنی وہ جہنم میں ہے۔
یہ وعید اس شخص کے بارے میں ہے جو تکبر کے ساتھ اپنا تہبند نیچے لٹکائے۔ جیسا کہ دوسری حدیث میں ہے:
"لَا يَنْظُرُ اللَّهُ إِلَى مَنْ يَجُرُّ ثَوْبَهُ خُيَلَاءَ"
(اللہ اس شخص کی طرف نہیں دیکھتا جو تکبر کے ساتھ اپنا کپڑا گھسیٹتا ہے)۔
یہاں "ثوب" (کپڑا) سے اس کے پہننے والے کے جسم کو کنایہ کیا گیا ہے۔ معنی یہ ہے کہ ٹخنوں سے نیچے کا حصہ (پاؤں) عذاب میں ہوگا۔ یہ اس چیز کو اس کے قریبی یا اس میں موجود چیز کے نام سے پکارنا ہے۔
نحوی وضاحت:
· "مِن" پہلی بیانیہ ہے (یعنی وضاحت کے لیے)۔
· احتمال ہے کہ یہ سبب کے لیے ہو اور مراد خود شخص ہو۔
· یا معنی یہ ہو: "ٹخنوں سے نیچے تہبند کا جو حصہ ہے وہ جہنم میں ہے"۔
· یا تقدیر یوں ہے: "لابس ما أسفل من الكعبين من الإزار في النار" (جو شخص ٹخنوں سے نیچے تہبند پہنتا ہے وہ جہنم میں ہے)۔
· یا معنی یہ ہے کہ اس کا یہ فعل جہنم میں ہے (یعنی اس کی سزا جہنم ہے)۔
تقدیم و تاخیر کی صورت:
اصل عبارت یوں ہو سکتی ہے: "ما أسفل من الإزار من الكعبين في النار" (تہبند کا جو حصہ ٹخنوں سے نیچے ہے وہ جہنم میں ہے)۔
---
مختلف روایات کے الفاظ
· بخاری کی روایت: "ففي النار" (فاء کے ساتھ)
· نسائی کی روایت: "في النار" (بغیر فاء کے)
[سنن نسائی:5330، السنن الكبرى للنسائي:9635]
حافظ ابن حجر نے کہا:
فاء کا اضافہ اس لیے کیا گیا کہ اسے شرطیہ معنی دیا جائے۔ گویا:
"جو شخص ٹخنوں سے نیچے اپنا تہبند لٹکائے، اس کے پاؤں کا وہ حصہ جہنم میں ہے" یعنی یہ اس کی سزا ہے۔
---
تخریج
· صحیح بخاری:5787
· سنن نسائی:5330، السنن الكبرى للنسائي:9635
· مسلم نے اسے روایت نہیں کیا۔
[فيض القدير-للمناوي:7814]
---
حاصل شدہ اسباق و نکات
1. اسبال کی سخت وعید: تہبند، شلوار یا کسی بھی کپڑے کو تکبر کے ساتھ ٹخنوں سے نیچے لٹکانے والے کے لیے وعید ہے کہ اس کا وہ حصہ جہنم میں ہوگا۔
2. تکبر اصل علت ہے: حدیث میں وعید اس شخص کے لیے ہے جو تکبر کے ساتھ کپڑا لٹکائے۔ بغیر تکبر کے اگر کسی وجہ سے کپڑا نیچے ہو جائے تو حکم مختلف ہے۔
3. عذاب کی نوعیت: "ففي النار" کا مطلب ہے کہ یہ عمل جہنم کا سبب ہے، یا اس شخص کا وہ عضو جہنم میں عذاب دیا جائے گا۔
4. عربی زبان کی باریکیاں: شارحین نے حدیث کے الفاظ کی نحوی حیثیت، "ما" کے موصولہ ہونے، اور "مِن" کے بیانیہ یا سببیہ ہونے پر تفصیلی بحث کی ہے۔
5. بخاری و نسائی کی روایات کا فرق: ایک روایت میں فاء ہے، دوسری میں نہیں۔ فاء کا اضافہ شرطیہ معنی کو ظاہر کرتا ہے۔
6. مسلم کی عدم تخریج: امام مسلم نے اس حدیث کو اپنی صحیح میں شامل نہیں کیا، لیکن یہ بخاری میں موجود ہے اور صحیح ہے۔
7. کنایہ اور مجاز: "ثوب" سے مراد پہننے والے کا بدن ہے۔ یہ علم بیان کی ایک خوبصورت صورت ہے۔
8. اسبال کی حرمت پر اتفاق: یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ مرد کے لیے کپڑے کو ٹخنوں سے نیچے لٹکانا حرام ہے۔
''عن أبي ذر عن النبي صلی الله علیه وسلم قال: ثلاثة لایکلمهم الله یوم القیامة: المنان الذي لایعطي شیئاً إلامنّه، والمنفق سلعته بالحلف والفاجر، والمسبل إزاره''۔
ترجمہ:
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تین لوگوں سے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن بات نہیں کریں گے: وہ احسان جتلانے والا، جو کسی کو بھی کوئی چیز دے تو احسان جتلائے۔ اور اپنا سامان جھوٹی قسم کے ذریعے چلانے (بیچنے) والا۔ اور تہبند ٹخنے سے نیچے لٹکانے والا۔
[الصحیح لمسلم، کتاب الإیمان، باب بیان غلظ تحریم إسبال الإزار، النسخة الهندیة۱/۷۱، بیت الأفکار رقم:۱۰۶]
''وینبغي أن یکون الإزار فوق الکعبین'' الخ۔
(الفتاوى الهندیة، کتاب الکراهية، الباب التاسع في اللبس، زکریا۵/۳۳۳)
’’مرقاة المفا تیح‘‘ :
''ولا یجوز الإسبال تحت الکعبین إن کان للخیلاء، وقد نص الشافعی علی أن التحریم مخصوص بالخیلاء ؛ لدلالة ظواهر الأحادیث علیها ، فإن کان للخیلاء فهو ممنوع منع تحریم'' . (۸/۱۹۸، کتاب اللباس)
خلاصہ:
کپڑے موڑ کر ٹخنے سے اوپر کرکے نماز پڑھنے میں بھی اگرچہ کراہت پائی جاتی ہے لیکن ٹخنے سے نیچے چھوڑدینے کے مقابلے میں بہرحال ہلکی(کراہت تنزیہی) ہے.
فقط واللہ اعلم