Tuesday, 30 June 2026

اہل سنت کے مخالف رافضی اور ناصبی کون؟


رافضی، ناصبی اور سنی میں بنیادی فرق:

(۱)جو لوگ حضرت علیؓ سے محبت میں حد سے بڑھے انہیں ’’رافضی‘‘ کہا جاتا، (۲)اور جو لوگ حضرت علیؓ سے بغض میں سے حد بڑھنے والوں کو ’’ناصبی‘‘ کہا جاتا، (۳)اور جو لوگ حضرت علیؓ سے بغض سے دور اور محبت میں معتدل ہوں وہ اہل السنت والجماعت کہتے ہیں۔



حوالہ

زبان رسالتِ مآب ﷺ نے اپنے بعض اصحابِ کرام کو بعض جزوی وصف کی بنا پر بعض گزشتہ انبیاء سے تشبیہ دی۔ سیدنا صدیق اکبر سے متعلق فرمایا کہ یہ سیدنا ابراہیم کے مشابہ ہیں۔ فاروقِ اعظم کی جلالی طبیعت کے پیش نظر ان کے جلال کو جلالِ موسوی سے تشبیہ دی اور سیدنا علی المرتضیٰؓ سے متعلق خود انھیں مخاطب کر کے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

«فِيكَ مَثَلٌ مِنْ عِيسَى عَلَيْهِ السَّلامُ، أَبْغَضَتْهُ يَهُودُ حَتَّى بَهَتُوا أُمَّهُ، وَأَحَبَّتْهُ النَّصَارَى حَتَّى أَنْزَلُوهُ بِالْمَنْزِلَةِ الَّتِي لَيْسَ بِهِ» ثُمَّ قَالَ: يَهْلِكُ فِيَّ رَجُلَانِ: مُحِبٌّ مُفْرِطٌ يُقَرِّظُنِي بِمَا لَيْسَ فِيَّ، وَمُبْغِضٌ يَحْمِلُهُ شَنَآنِي عَلَى أَنْ يَبْهَتَنِي.

ترجمہ:

”تمہارے معاملہ میں وہی ہوگا جیسا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ ہوا، یہودیوں نے ان سے بغض کیا یہاں تک کہ ان کی والدہ پر گناہ کا بہتان باندھا، اور عیسائیوں نے ان سے اتنی محبت کی کہ انہیں اس مقام پر پہنچا دیا جو ان کا مقام و مرتبہ نہ تھا۔“

پھر سیدنا علیؓ نے فرمایا کہ میرے متعلق دو قسم کے لوگ ہلاک ہوں گے، ایک وہ محبت میں حد سے آگے بڑھ جانے والے جو مجھے اس مقام پر فائز کر دیں گے جو میرا مقام نہیں ہے، اور دوسرے وہ بغض رکھنے والے جو میری عداوت میں آ کر مجھ پر ایسے بہتان باندھیں گے جن کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

[فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل:1221، مسند احمد:1376، السنن الكبرى للنسائي:8434، معجم شيوخ ابن الأعرابي:1551، مسند أبو يعلى:534، مسند البزار:758، مجلسان من أمالي الجوهري:20، الشريعة للآجري:2033، شرح مذاهب أهل السنة لابن شاهين:119، السنة لابن أبي عاصم:1004، فضائل الخلفاء الراشدين لأبي نعيم الأصبهاني:54، مشكاة المصابيح:6102، كنز العمال:33032]


خلاصة حكم المحدث:

گو یہ روایت اسناداً ضعیف ہے تاہم معنوی اعتبار سے بالکل درست ہے۔

[ظلال الجنة للألباني:987]

إسناده حسن

[تخريج المسند لشاكر:1376، 2/355]



📜 شرح عبد الحق الدهلويؒ:


(حضرت علیؓ کے بارے میں) آپ (نبی کریم ﷺ) کا قول: "یُقَرِّظُنِی" یعنی وہ میری تعریف کرتا ہے۔

اور "تَقْرِیظ" (ظاء معجمہ کے ساتھ) کے معنی ہیں: زندہ انسان کی تعریف اور اس کی توصیف کرنا۔

اور (القاموس) میں، جو (الصحاح) کے مطابق ہے، آیا ہے کہ: "تَقْرِیظ" کے معنی کسی زندہ انسان کی تعریف کرنا ہے، خواہ وہ تعریف حق (سچائی) کے ساتھ ہو یا باطل (جھوٹ) کے ساتھ۔

اور وہ دونوں (تعریف کرنے والے) ایک دوسرے کی تعریف کرتے ہیں، ہر ایک اپنے ساتھی کی مدح کرتا ہے۔


اور لفظ "شَنَآن" (جس کا نون فتحہ اور سکون، اور مد کے ساتھ پڑھا جائے) کے معنی "عداوت" (دشمنی) ہیں،

اور بعض نے کہا ہے کہ اس کے معنی "شِدَّتِ بُغض" (سخت دشمنی اور کینہ) ہیں۔

اور بیضاوی نے اللہ تعالیٰ کے قول: {وَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَآنُ قَوْمٍ} [المائدہ: ۲] کی تفسیر "ان کی شدید عداوت اور دشمنیوں" سے کی ہے۔

[لمعات التنقيح في شرح مشكاة المصابيح:6102 (9 /663)]





📜 شرح ملا علی القاریؒ:

حضرت علیؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا:

"(نبی کریم ﷺ) نے مجھ سے (یعنی مجھے خاص طور پر مخاطب کرتے ہوئے) فرمایا:

"تمہاری مثال (یعنی تمہارے بارے میں ایک شَبَہ و مشابہت) عیسیٰ (علیہ السلام) سے ہے"

یعنی دو متضاد پہلوؤں سے، دو مختلف گروہوں (کی وجہ سے)۔

"(عیسیٰ علیہ السلام) سے یہود نے سخت دشمنی کی"

یعنی حد سے زیادہ بغض کیا،

"یہاں تک کہ انہوں نے ان کی والدہ (محترمہ مریم) پر بہتان لگایا"

"بہَتَهُ" (بہتان لگایا) کے معنی ہیں، جیسے "مَنَعَهُ" کے وزن پر، کسی پر وہ بات کہنا جو اس نے نہ کی ہو۔ اور معنی یہ ہے کہ انہوں نے ان (مریم) پر جھوٹا الزام لگایا کہ انہیں زنا کی تہمت لگائی۔

"اور نصاریٰ (عیسائیوں) نے ان (عیسیٰ) سے محبت کی"

یعنی بلیغ اور شدید محبت کی،

"یہاں تک کہ انہیں اس مقام پر پہنچا دیا جو ان کا نہیں تھا"

یعنی اگرچہ اس مقام (الہیات یا الوہیت) کے بارے میں ان کے (نصاریٰ کے) باہمی اختلافات بھی تھے۔

"پھر (علی رضی اللہ عنہ) نے (اپنے قول کو جاری رکھتے ہوئے موقوفاً) فرمایا:"

"میرے بارے میں (یعنی میرے حق میں) دو شخص گمراہ (اور ہلاک) ہوں گے"

"ان میں سے ایک رافضی ہے اور دوسرا خارجی ہے۔"

"(ایک) محبت میں حد سے گزرنے والا (مُفْرِط مُحِبّ) ہے"

"مُفْرِط" (ضمہ اور سکون کے ساتھ) یعنی حد سے تجاوز کرنے والا اور مبالغہ کرنے والا،

"جو میری ایسی تعریف (تَقْرِیظ) کرتا ہے"

"تَقْرِیظ" (راء مشددہ کے کسرہ کے ساتھ) یعنی وہ میری مدح اور تعریف کرتا ہے،

"ان باتوں کے ساتھ جو مجھ میں نہیں ہیں"

"یعنی مجھے تمام صحابہ کرام پر فضیلت دینا، یا انبیاء علیہم السلام پر فضیلت دینا، یا میرے لیے الوہیت ثابت کرنا، جیسے نصیریہ فرقہ کرتا ہے۔"

"اور (دوسرا) بغض رکھنے والا (مُبْغِض) ہے"

"اور یہاں (بغض رکھنے والے کے لیے) "مُفْرِط" (حد سے گزرنے والا) کا لفظ اس لیے نہیں کہا کیونکہ بغض تو اپنی اصل ہی میں ممنوع ہے، بخلاف محبت کے جس کی اصل میں تو تعریف کی جاتی ہے (مگر اس میں غلو ممنوع ہے)۔"

"اس کی عداوت (شَنَآن) اسے (بغض کی طرف) اکساتی ہے"

"یعنی اسے مجبور کرتی ہے اور اس پر ابھارتی ہے،"

"شَنَآن" (فتحہ نون کے ساتھ اور دوسرے حرف کو ساکن کر کے، اور ہمزہ کو ترک کرنے کا بھی ذکر ہے) یعنی "میری عداوت و دشمنی"

"اس بات پر کہ وہ مجھ پر بہتان لگائے"

"یعنی وہ میرے بارے میں جھوٹی باتیں کہے، اور مجھ کی طرف جھوٹ اور نافرمانیاں منسوب کرے۔"

"اسے امام احمد (بن حنبل) نے روایت کیا ہے"

"یعنی مسند میں، اور امام احمد (رض) سے (ایک اور روایت) مروی ہے کہ حضرت علی (رض) نے فرمایا:

"میرے ساتھ محبت کرنے والے کچھ لوگ اس قدر بڑھ جائیں گے کہ وہ میری محبت میں جہنم میں داخل ہوں گے، اور میرے ساتھ بغض رکھنے والے کچھ لوگ اس قدر بڑھ جائیں گے کہ وہ میرے بغض کی وجہ سے جہنم میں داخل ہوں گے۔" اسے امام احمد نے "المناقب" میں روایت کیا ہے۔

"اور سدی (رحمہ اللہ) سے روایت ہے کہ حضرت علی (رض) نے فرمایا:

"اے اللہ! ہر اس شخص پر لعنت فرما جو ہم سے بغض رکھتا ہے، اور ہر اس شخص پر لعنت فرما جو ہم سے محبت کرنے میں حد سے گزر جانے والا (غالی) ہے۔" اسے امام احمد نے "المناقب" میں خارج کیا ہے۔

[مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح:6102]


تشریح:

حضرت عیسیٰؑ کی مثال کے ذریعہ آنحضرت ﷺ نے حضرت عیسیٰؑ کے حق میں جو پیش گوئی فرمائی اور جس کی طرف خود حضرت علیؓ نے واضح طور پر اشارہ کیا وہ پوری ہو کر رہی۔ روافض اور شیعوں نے حبِ علیؓ میں حد سے اس قدر تجاوز کیا کہ تمام صحابہؓ پر یہاں تک کہ انبیاء پر ان کی فضیلت کے قائل ہوئے بلکہ بعض طبقوں (جیسے نصیریوں وغیرہ) نے تو حضرت علیؓ کو مقام الوہیت تک پہنچا دیا، ان کے مقابلہ پر دوسرا گروہ وہ خارجیوں کا پیدا ہوا، وہ حضرت علیؓ کی دشمنی میں حد تک بڑھ گئے کہ کوئی بڑے سے بڑا بہتان ایسا نہیں چھوڑا جو ان کی پاکیزہ شخصیت پر انہوں نے نہ باندھا ہو۔ اس سے معلوم ہوا کہ محبت وعقیدت وہی مستحسن و مطلوب ہے جو حد سے زیادہ متجاوز نہ ہو اور عقل و شریعت کے مسلمہ اصول کے مطابق ہو، ایسی محبت وعقیدت جو حد سے متجاوز ہو درحقیقت گمراہی کی طرف لے جاتی ہے اور غیر معتدل ہونے کے سبب راہ مستقیم سے باہر کردیتی ہے، اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس طرح کی محبت وعقیدت رکھنے والے شخص کو جو اگرچہ بظاہر مسلمان ودیندار نظر آتا ہے گمراہ انسان کہنے پر مجبور ہوجاتا ہے۔ اہل سنت والجماعت کو جس چیز نے راہ مستقیم پر گامزن کر رکھا ہے وہ محبت وعقیدت کے باب میں ان کا اعتدال و توازن ہے کہ وہ افراط اور تفریط دونوں سے محفوظ ہیں، بہرحال اہل ایمان واسلام کی زندگی کا سرمایہ سعادت دو چیزیں ہیں ایک تو خاندان نبوت کی محبت اور دوسری اصحاب نبی ﷺ کی تعظیم جو شخص اس سرمایہ سعادت کو حاصل کرکے اپنی اور عقبی بنانا چاہئے اس کو لازم ہے کہ ان دونوں کے درمیان اعتدال و توازن رکھے اور اسی اعتدال و توازن کے ساتھ ان دونوں کی محبت کو اپنے اندر جمع کرے۔ امام احمد نے ایک روایت نقل کی ہے کہ سیدنا علی نے فرمایا یحبنی اقوام حتی یدخلوا النار فی حبی ویبغضنی اقوام حتی یدخلوا النار فی بغضی۔ کچھ گروہ مجھ سے محبت رکھیں گے یہاں تک کہ میری محبت (میں غلو) کے سبب ان کو دوزخ میں ڈالا جائے گا اور کچھ کروں مجھ سے دشمنی رکھیں گے یہاں تک کہ میری دشمنی کے سبب وہ دوزخ میں جائیں گے۔ امام احمد نے حضرت علی کی یہ دعا نقل کی ہے۔ اللہم العن کل مبغص لنا وکل محب لنا غال الہٰی! ہم سے دشمنی رکھنے والوں پر لعنت کر اور ہمارے غالی محبین پر بھی لعنت کر۔

[مظاہر حق شرح مشکوٰۃ المصابیح : 6057]




شیعہ کتب:

سیدنا حضرت علی کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں : عنقریب میرے متعلق دو قسم کے لوگ ہلاک ہوں گے ، ایک محبت کرنے والااور حد سے بڑھ جانے والا، جس کو محبت خلاف حق کی طرف لے جائے ۔ دوسرا بغض رکھنے والا حد سے کم کرنے والا جس کو بغض خلاف حق کی طرف لے جائےاور سب سے بہتر حال میرے متعلق درمیانی گروہ کا ہے جو نہ زیادہ محبت کرے ، نہ بغض رکھے ، پس اس درمیانی حالت کو اپنے لیے ضروری سمجھو اور سواد اعظم یعنی بڑی جماعت کے ساتھ رہو کیونکہ اللہ کا ہاتھ جماعت پر ہے اور خبردار جماعت سے علیحدگی نہ اختیار کرنا کیونکہ جو انسان جماعت سے الگ ہو جاتا ہے وہ شیطان کے حصہ میں جاتا ہے ، جیسے کہ گلہ سے الگ ہونے والی بکری بھیڑیے کا حصہ بنتی ہے ۔ آگاہ ہو جاؤ جو شخص تم کو جماعت سے الگ ہونے کی تعلیم دے اس کو قتل کر دینا اگرچہ وہ میرے اس عمامہ کے نیچے ہو ۔

[نہج البلاغۃ (شیعہ کتاب) جلد اول صفحہ 261]




میرے بارے میں دو شخص ہلاک ہوں گے ۔ ایک محبت کرنے والا حد سے بڑھ جانے والا اور دوسرا بہتان لگانے والا مفتری ۔

[نہج البلاغۃ (شیعہ کتاب) جلد دوم صفحہ 354]

میرے بارے میں دو شخص ہلاک ہو گئے ، ایک محبت کرنے والا جو محبت میں زیادتی کرے، دوسرا بغض رکھنے والا ، نفرت کرنے والا ۔

[نہج البلاغۃ (شیعہ کتاب) جلد دوم صفحہ 354]




یہ پیش گوئی حرف بحرف پوری ہوئی۔ ایک گروہ نے انھیں اس قدر بلند کیا کہ مرتبہ الوہیت پر فائز کر دیا، تو دوسرے نے اس قدر گرایا کہ انھیں قاتلین عثمان کی صف میں شامل کر دیا۔ یہ دونوں ہی گروہ ضلالت اور گمراہی پر منتج ہوئے۔ تاہم اس ضلالت گمراہی کے بھی مختلف مراتب ہیں حب علی نے مطلقاً منزلِ الوہیت کو نہیں چھوا بلکہ اس سفرِ ضلالت کی بھی کئی منزلیں ہیں۔ کہیں ان کے فضائل و مناقب میں موضوع روایتیں تیار کی گئیں، کہیں  انھیں شیخین کریمین پر مطلقاً فضیلت دی گئی اور ان کی محبت کے نام پر کبار اصحاب رسولﷺ کی توہین کا ارتکاب کیا گیا تو کہیں انبیائے عظام سے افضل قرار دیا گیا تآنکہ ایک منزل ایسی آئی کہ ان کی ذات میں جزوی اور کلی طور پر جلوہ الوہیت کی کار فرمائی دیکھی جانے لگی۔


دوسری طرف حسادِ علی کا بھی سفرِ ضلالت یکدم اس مقام پر نہیں پہنچا۔ حضرت علی کے جائز مقام و منصب کا انکار کیا گیا، مختلف انداز سے ان کی کسر شان کی سعی کی گئی، انھیں سیدنا عثمان کا قاتل باور کرایا گیا اور خوارج نے انھیں مطلقاً کافر قرار دیا۔

یہ دونوں ہی طبقات اپنے آغاز سے انجام تک ہلاکت و بربادی کی راہ میں گامزن رہے۔

اسلام میں محبت و عقیدت وہی مستحسن اور مطلوب ہے جو حد سے متجاوز نہ ہو اور عقل و شریعت کے مسلمہ اصولوں کے عین مطابق ہو، محبت اور نفرت کا اصل پیمانہ محبت الٰہی ہے۔ الحب للہ و البغض فی اللہ۔ ارشادِ نبوی ہے:

"من أحب لله وأبغض لله وأعطى لله ومنع لله فقد استكمل الإيمان۔”

ترجمہ:

"جو اللہ کے لیے محبت رکھے، اللہ ہی کے لیے نفرت کرے، اللہ کے لیے دے، اور اللہ کی خاطر رک جائے بلاشبہ اس کا ایمان کامل ہو گیا۔”

[ابوداؤد:4683، ترمذي:2521، طبراني:7613، بغوي:3469،  الصحيحة:380]


موالات ہو یا معادات، الٰہی پیمانوں کے مطابق ہی ہوں گے۔ ایسی محبت و عقیدت جو حد سے متجاوز ہو اور مسلمہ اسلامی تعلیمات سے متصادم وہ اصلاً گمراہی ہے، خواہ کتنی ہی خوشنما نظر آئے، اور اپنے غیر معتدل ہونے کے سبب راہ مستقیم سے باہر کر دیتی ہے۔ فضائل و مناقب کے باب میں بھی حدود شریعت کی پیروی لازم ہے۔ حتیٰ کہ غلو اگر انبیائے کرام کی ذات میں بھی کی جائے تو وہ بھی غیر مستحسن ہے اور بعض اوقات باعثِ کفر بھی۔ چنانچہ عیسائی حضرت عیسیٰ کی ذات میں غلو کا شکار ہوئے اور نعوذ باللہ انھیں اللہ رب العزت کا فرزند قرار دینے لگے جس کے باعث قرآنِ کریم نے انھیں "الضالین” قرار دیا۔ یہی وجہ تھی رسول اللہ ﷺ نے اپنی امت کو بطورِ خاص یہ تعلیم دی:


"لَا تُطْرُونِي كَمَا أَطْرَتِ النَّصَارَى ابْنَ مَرْيَمَ فَإِنَّمَا أَنَا عَبْدُهُ ، فَقُولُوا : عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ.”

ترجمہ:

مجھے اتنا نہ بڑھاؤ جیسے  نصاریٰ (عیسایوں) نے عیسیٰ بن مریم (کی تعریف میں مبالغہ کیا کہ اللہ کا بیٹا ہی بناکر ان) کو بڑھایا ہے میں تو محض اللہ کا بندہ ہوں تو تم بھی یہی کہو کہ اللہ کا بندہ اور اس کا رسول۔



اسی طرح کسی سے نفرت بھی اللہ ہی کی خاطر کی جائے گی۔ ایک مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ وہ کسی دوسرے مسلمان بھائی سے تین دن سے زیادہ ناراض ہو چہ جائیکہ وہ کسی صحابی رسول سے بغض رکھے۔ ارشاد نبوی ہے


”اللہ اللہ فی أصحابی۔ اللہ اللہ فی أصحابی لا تتخذوھم غرضا من بعدی فمن أحبہم فبحبی أحبہم و من أبغضھم فببغضی أبغضھم و من آذاھم فقد آذانی ومن آذانی فقد آذی اللہ و من آذی اللہ فیوشک أن یأخذہ۔” 

ترجمہ:

"اللہ سے ڈرو، اللہ سے ڈرو میرے صحابہ کے معاملہ میں، مکرر کہتا ہوں، اللہ سے ڈرو، اللہ سے ڈرو، میرے صحابہ کے معاملہ میں، ان کو میرے بعد ہدف تنقید نہ بنانا۔ کیوں کہ جس نے ان سے محبت کی تو میری محبت کی بنا پر، اور جس نے ان سے بغض رکھا تو مجھ سے بغض کی بنا پر، جس نے ان کو ایذا دی اس نے مجھے ایذا دی اور جس نے مجھے ایذا دی اس نے اللہ کو ایذا دی۔ اور جس نے اللہ کو ایذا دی تو قریب ہے کہ اللہ اسے پکڑ لے۔”

[ترمذی:3862، احمد:20549، الروياني:882، السُّنَّة لأبي بكر بن الخلال:830، الشريعة للآجري:1991، البغوي:3860، التاريخ الكبير(امام)البخاري:389، ابن أبي عاصم:992]






اہل سنت کے مخالف رافضی اور ناصبی کون؟

اہل سنت والجماعت کے ہاں رافضی اور ناصبی دو الگ الگ اصطلاحات ہیں، جو فکری اور اعتقادی انحراف کی نشاندہی کرتی ہیں۔ ان میں بنیادی فرق یہ ہے کہ رافضی اہل بیت (علیہم السلام) سے محبت کا دعویٰ کرتے ہوئے صحابہ کرام (رضی اللہ عنہم) کو گالی دیتے ہیں، جبکہ ناصبی صحابہ کرام کی تو تعظیم کرتے ہیں مگر اہل بیت سے بغض و عداوت رکھتے ہیں۔


یہاں ان دونوں اصطلاحات کی تفصیلی وضاحت اور ان کے درمیان فرق دلائل کے ساتھ پیش کیا جا رہا ہے۔


1. رافضی (Rafidi) کون ہے؟

لغوی معنی: لفظ "رافضی" عربی کے لفظ "رفض" سے ماخوذ ہے، جس کے معنی ہیں "ترک کرنا"، "چھوڑ دینا"، یا "منتشر ہو جانا"۔


اصطلاحی معنی (تاریخی پس منظر):

اسلامی تاریخ کے مطابق، یہ اصطلاح سب سے پہلے ان لوگوں کے لیے استعمال ہوئی جو امام زید بن علی (زید الشہید) کی حمایت سے دستبردار ہو گئے تھے۔ جب امام زید نے حضرت ابوبکر اور حضرت عمر (رضی اللہ عنہما) کی تعریف کی تو ان کے کچھ ساتھیوں نے اعتراض کیا اور انہیں چھوڑ دیا۔ اس پر امام زید نے فرمایا: "رَفَضُونَا الْیَوْم" (انہوں نے آج ہمیں چھوڑ دیا)، جس کے بعد یہ گروہ "رافضہ" کہلایا۔


اعتقادی تعریف:

اہل سنت کے نزدیک رافضی وہ شخص ہے جو خلافت راشدہ کے پہلے تین خلفاء (حضرت ابوبکر، عمر، عثمان رضی اللہ عنہم) اور دیگر صحابہ کرام کو غلط کہے، انہیں گالی دے، اور یہ عقیدہ رکھے کہ خلافت صرف حضرت علی (رضی اللہ عنہ) کا حق تھی۔ شیعہ فرقہ کی بعض تحریروں میں بھی "رافضی" کی اصطلاح ان لوگوں کے لیے استعمال ہوئی ہے جنہوں نے اپنے امام کو چھوڑ دیا۔


اہل سنت کا موقف:

اہل سنت تمام صحابہ کرام (رضی اللہ عنہم) کو عادل اور قابل احترام مانتے ہیں۔ ان میں سے کسی کو گالی دینا یا برا بھلا کہنا جائز نہیں ہے۔ لہٰذا، اہل سنت کے نزدیک رافضی وہ شخص ہے جو صحابہ کرام، خاص طور پر خلفائے راشدین کی شان میں گستاخی کرے۔


2. ناصبی (Nasibi) کون ہے؟

لغوی معنی:

لفظ "ناصبی" "نصب" سے ماخوذ ہے، جس کے معنی "دشمنی رکھنا" یا "مخالفت کرنا" کے ہیں۔

اصطلاحی معنی:

ناصبی وہ شخص یا گروہ ہے جو حضرت علی اور ان کی آل (اہل بیت) سے بغض، کینہ اور عداوت رکھتا ہے۔


اہل سنت کا موقف:

اہل سنت کسی بھی ایسے شخص کو ناصبی کہتے ہیں جو اہل بیت (علیہم السلام) سے بغض رکھتا ہو، ان کی توہین کرتا ہو، یا انہیں تکلیف پہنچائے۔

علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے فرمایا کہ ناصبی وہ ہے جو اہل بیت کو اپنے قول یا فعل سے تکلیف پہنچائے۔

اعلیٰ حضرت احمد رضا خان رحمہ اللہ نے بھی ناصبی کی تعریف اہل بیت کا دشمن ہونے سے کی ہے۔


ایک اہم وضاحت:

تمام اہل سنت ناصبی نہیں ہیں۔ بلکہ اہل سنت اہل بیت سے محبت کرتے ہیں اور ان کی تعظیم کرتے ہیں۔ تاہم، بعض شیعہ ذرائع میں غلط طور پر تمام اہل سنت کو ناصبی قرار دے دیا جاتا ہے، کیونکہ وہ حضرت معاویہ (رضی اللہ عنہ) کو بھی ایک صحابی اور امیر المومنین مانتے ہیں۔ یہ طرزِ عمل خود شیعہ علما نے بھی نوٹ کیا ہے کہ وہ اپنے تمام مخالفین کو ناصبی کہہ کر پکارتے ہیں۔


رافضی اور ناصبی میں بنیادی فرق (جدول)

خصوصیت-رافضی-ناصبی

خصوصیت(۱)بنیادی عقیدہ:

صحابہ کرام (خاص طور پر خلفائے راشدین) سے بغض اور ان کی شان میں گستاخی۔

اہل بیت (حضرت علی، حسن، حسین علیہم السلام) سے بغض اور ان کی دشمنی۔

خصوصیت(۲)نظرِ ثانی:

خلافت کے بارے میں غلوّ اور حضرت علی (رض) کو ہر دوسرے صحابی پر فوقیت دینا۔

اہل بیت کی حق تلفی کرنا اور ان کی اہمیت کو کم کرنا۔

خصوصیت(۳)اہل سنت کے نزدیک حیثیت

بالکل گمراہ اور باطل، کیونکہ صحابہ کرام کی توہین کفر تک لے جا سکتی ہے۔

سخت قابلِ مذمت اور گمراہ، کیونکہ اہل بیت سے دشمنی رکھنا ایمان کے خلاف ہے۔

خصوصیت(۴)تاریخی آغاز

زید بن علی (شہید) کے واقعہ کے بعد یہ اصطلاح وجود میں آئی۔

یہ اصطلاح بھی ابتدائی اسلامی تاریخ میں خاص طور پر بنو امیہ کے دور میں ابھری۔ بعض مورخین کے مطابق یہ اصطلاح شیعہ ہی کی ایجاد کردہ ہے۔

خصوصیت(۵)دوسرے فرقوں سے تعلق:

شیعہ فرقہ کی ایک شاخ (خاص طور پر اثنا عشریہ) کا حصہ۔

کوئی مخصوص فرقہ نہیں بلکہ ایک رجحان یا رویہ ہے، جو کسی بھی گروہ میں ہو سکتا ہے۔


خلاصہ

خلاصہ یہ ہے کہ رافضی اور ناصبی دونوں ہی اہل سنت والجماعت کے نقطہ نظر سے گمراہ اور باطل فرقے یا طرزِ فکر ہیں، لیکن ان کی گمراہی کی نوعیت مختلف ہے:


رافضی کی بنیادی خصوصیت صحابہ کرام سے بغض اور ان کی تحقیر ہے، جبکہ وہ اہل بیت سے محبت کا دعویٰ کرتے ہیں۔


ناصبی کی بنیادی خصوصیت اہل بیت سے بغض اور دشمنی ہے، جبکہ وہ صحابہ کرام کی تعظیم کر سکتے ہیں (حالانکہ یہ رویہ بھی صحابہ کے منہج کے خلاف ہے)۔


اہل سنت کا منہج اعتدال ہے - وہ نہ تو صحابہ کرام کو گالی دیتے ہیں (جیسے رافضی) اور نہ ہی اہل بیت سے بغض رکھتے ہیں (جیسے ناصبی)۔ بلکہ وہ تمام صحابہ کرام اور اہل بیت (علیہم السلام) دونوں کی تعظیم کرتے ہیں اور انہیں اہل اسلام کی عزت و عظمت کا ذریعہ مانتے ہیں۔






ناصبیت تحقیق کے بھیس میں

آج کل ہر اس شخص کو لوگ سنّی سمجھ بیٹھتے ہیں جو دوسروں پر ناصبیت کا فتویٰ جڑ دے، لیکن معلوم ہونا چاہئے کہ دوسروں پر ناصبیت کا فتویٰ لگانے والے اکثر رافضی ہوتے ہیں، اورناصبیت کی اصطلاح رافضیوں ہی کی ایجاد کردہ ہے، تیسری صدی ہجری تک کسی بھی سنی عالم نے کسی دوسرے سنی عالم کو ناصبی نہیں کہا ہے، بلکہ اس دور میں اگر کوئی شخص کسی کو ناصبی کہتا تھا تو یہ اس کے رافضی ہونے کی دلیل سمجھی جاتی تھی۔


امام شافعیؒ(م150ھ) علیہ فرماتے ہیں:

جب ہم حضرت علی رضی اللہ عنہ کے مناقب بیان کرتے ہیں تو جاہلوں کے نزدیک  ہمارا شمار روافض میں ہوتا ہے اور جب میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے مناقب بیان کرتا ہوں تو  مجھے ناصبی ہونے کا طعنہ دیا جاتا ہے ، پس میں  رافضی اور ناصبی رہونگا ان کی محبت کی وجہ سے یہاں تک کہ قبر میں دفن کیا جاؤں ۔

[دیوان الامام شافعی مترجم اردو صفحہ نمبر 203 مطبوعہ انڈیا]




امام علی بن المدینی رحمہ اللہ (المتوفی:۲۳۴)سے منقول ہے: 
’ومن قال:فلان ناصبي علمنا أنه رافضي‘‘
’’جو کہتا تھا کہ فلاں ناصبی ہے تو ہم جان لیتے تھے کہ وہ رافضی ہے‘‘ 
[شرح أصول اعتقاد أہل السنۃ :۱؍۱۶۶]




اس کی سند کے بعض رواۃ کا ترجمہ نہیں مل سکا مگر علی بن المدینی رحمہ اللہ کے شاگرد امام أبو حاتم الرازی (المتوفی:۲۷۷) نے بھی یہی بات کہی ہے اور اسے اپنے دور کے تمام علماء کی طرف منسوب کیا ہے، کما سیاتی، اس سے اس نقل کی تائید ہوتی ہے، کیونکہ ظاہر ہے کہ اس نسبت میں ان کے استاذ علی بن المدینی رحمہ اللہ بدرجہ اولیٰ شامل ہیں۔



امام أبو حاتم الرازی (المتوفی:۲۷۷)اور امام أبو زرعہ الرازی (المتوفی:۲۶۴)رحمہما اللہ نے کہا:
’’وعلامة الرافضة تسميتهم أهل السنة ناصبة‘‘
’’رافضیوں کی علامت یہ ہے کہ وہ اہل سنت کو ناصبی کہتے ہیں ‘‘
[شرح اعتقاد أہل السنۃ للالکائی:۱؍۲۰۱،وإسنادہ صحیح ، أصل السنۃ واعتقاد الدین للرازیین:(ق؍۱۶۸ب)وإسنادہ صحیح وانظر:تکحیل العینین:ص :۲۲۲]


یاد رہے کہ یہ صرف ان دو ائمہ ہی کا کہنا نہیں ہے بلکہ ان کے دور کے تمام علماء کا یہی ماننا تھا ، جیساکہ امام ابوحاتم رازیؒ اور امام ابوزرعہ رازیؒ نے یہ بات کہنے سے پہلے اس کی صراحت اس طرح کی ہے:
’’أدركنا العلماء فى جميع الأمصار حجازا وعراقا وشاما ويمنا فكان من مذهبهم…‘‘
’’ہم نے تمام شہروں ، حجاز ، عراق ، شام ، یمن کے علماء کو پایا ہے ان سب کا ماننا یہ تھا کہ … (حوالہ مذکور)


امام أبو محمد الحسن بن علی بن خلف البربہاری (المتوفی:۳۲۹)نے کہا:
’’وإذا سمعت الرجل يقول: فلان ناصبي فاعلم أنه رافضي‘‘
’’جب تم کسی شخص کو کہتے ہوئے سنو کہ:فلاں ناصبی ہے ، تو جان لو کہ وہ رافضی ہے‘‘
[شرح السنہ للبربھاری :ص:۱۱۸، طبقات الحنابلۃ:۲؍۳۶]



لہٰذا آج بھی کسی کی زبان سے ناصبی کالفظ سنائی دے تو اس کے بارے میں اچھی طرح تفتیش کرلینا چاہئے۔




سیدنا علیؓ کہتے ہیں کہ نبی امی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا:
لَقَدْ عَهِدَ إِلَيَّ النَّبِيُّ الْأُمِّيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ لَا يُحِبُّكَ إِلَّا مُؤْمِنٌ، وَلَا يَبْغَضُكَ إِلَّا مُنَافِقٌ ".
”تم سے صرف مومن ہی محبت کرتا ہے اور منافق ہی بغض رکھتا ہے“ ۱؎۔ عدی بن ثابت کہتے ہیں: میں اس طبقے کے لوگوں میں سے ہوں، جن کے لیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی۔
[سنن ترمذي:3736، صحیح مسلم:78، سنن النسائی:5021، 5025، سنن ابن ماجہ:114]

تشریح:
بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے حضرت علی مرتضیٰ ؓ وارضاہ کو جن عظیم انعامات اور دینی فضائل سے نوازا، مثلاً یہ کہ وہ رسول اللہ ﷺ کی دعوت پر اسلام پر سب سے پہلے لبیک کہنے والوں میں ہیں، اور یہ کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے حقیقی چچا زاد بھائی تھے اور وہ ان سے محبت فرماتے تھے اور یہ کہ آپ ﷺ نے صاحبزادی حضرت سیدہ فاطمہ زہرا ؓ کو ان کے نکاح میں دے کر دامادی کا شرف عطا فرمایا اور اکثر غزوات میں وہ حضور ﷺ کے ساتھ رہے اور بار بار میدان جہاد و قتال میں اپنی جان کو خطرہ میں ڈال کر کارہائے نمایاں انجام دئیے اور جیسا کہ مندرجہ بالا حدیث سے معلوم ہوا غزوہ خیبر میں رسول اللہ ﷺ نے اپنے ارشاد و عمل سے یہ ظاہر فرمایا کہ وہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے محب اور محبوب ہیں .... الغرض ان اور ان جیسے ان کے دوسرے فضائل اور خداوندی انعامات کا یہ حق ہے کہ ہر مومن صادق ان سے محبت کرے اور ان سے بغض و کینہ رکھنے والوں کے متعلق سمجھا جائے کہ وہ ایمان کی حقیقت سے محروم اور نفاق کے مریض ہیں۔ البتہ یہ بات قابل لحاظ ہے کہ محبت سے مراد وہی محبت ہے جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے نزدیک معتبر اور شریعت کے حدود میں ہو، ورنہ حضرت علی مرتضیٰ ؓ سے محبت کا دعویٰ کرنے والوں میں سب سے پہلا نمبر ان بدبختوں کا ہے، جنہوں نے ان کو خدا مانا، یا پھر ان بدنصیبوں کا ہے جن کا عقیدہ ہے کہ نبوت کے اصل مستحق حضرت علی مرتضیٰؓ تھے، اللہ نے جبرئیل کو انہیں کے پاس بھیجا تھا وہ غلطی سے محمد بن عبداللہ کے پاس پہنچ گئے، اسی طرح شیعوں کے اسماعیلیہ و نصیریہ وغیرہ فرقے جو اپنے اماموں کے بارے میں یہ مشرکانہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ وہ خدا کا روپ ہیں اور خداوندی صفات و اختیارات ان کو حاصل ہیں۔ اسی طرھ وہ شیعہ اثنا عشریہ جو حضرت علی مرتضیٰ اور ان کی اولاد میں گیارہ شخصیتوں کے اللہ تعالیٰ کی طرف سے نبیوں رسولوں کی طرح نامزد امام معصوم مفترض الطاعۃ، تمام انبیاي سابقین سے افضل کمالات میں ان سے فائق، صاحب وحی و کتاب و صاحب معجزات اور متصرف فی الکائنات ہونے کا عقیدہ رکھتے ہیں .... ظاہر ہے کہ یہ محبت ایسی ہی ہے جیسی محبت کا دعویٰ نصاریٰ حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے کرتے ہین، جس نے ان کو مشرک اور جہنمی بنا دیا ..... الغرض حضرت علی مرتضیٰ سے اس طرح کی محبت کرنے والے فرقے مشرک فی الالوہیت یا شرک فی النبوۃ ہیں، حضرت علی مرتضیٰ ؓ ان سے بری اور بیزار ہیں، اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول پاک کے نزدیک مقبول محبت وہی ہے جو حضرت علی مرتضیٰ اور ان کی اولاد بزرگان دین سے اہل السنہ والجماعت کو نصیب ہے۔ اس حدیث میں حضرت علی مرتضیٰ ؓ سے بغض رکھنے والوں کو منافق فرمایا گیا ہے، اس کا خاص مصداق خوارج و نواصب ہیں، جنہوں نے حضرت علی مرتضیٰ ؓ پر قرآنی ہدایت سے انحراف کا بہتان لگایا اور ان کو دینی حیثیت سے گمراہ قرار دیا اور انہیں میں کے ایک بدبخت عبدالرحمن بن ملجم نے حضرت کو شہید بھی کیا۔ حضرت عثمان ؓ کی شہادت کے بعد خود صحابہ کرامؓ میں اختلافات پیدا ہوئے اور جمل وصفین کی جنگوں کی بھی نوبت آئی، یہ اختلافات کچھ غلط فہمیوں کی وجہ سے پیدا ہوئے تھے، صحابہ کرامؓ میں سے کوئی بھی حضرت علی مرتضیٰ ؓ کو دینی حیثیت سے گمراہ سمجھ کر ان سے بغض نہیں رکھتا تھا یہ اجتہادی اختلاف تھا اور ہر فریق نے دوسرے فریق کو مومن و مسلم ہونے کا اظہار و اعلان فرمایا اور بعد میں اس جنگ و قتال پر فریقین کو رنج و افسوس اور اس سب کے بعد سیدنا حضرت حسن ؓ کی مصالحت نے ثابت کر دیا کہ جو کچھ ہوا بغض و عداوت کی وجہ سے نہیں ہوا بلکہ اجتہادی اختلاف کی وجہ سے ہوا ..... رسول اللہ ﷺ نے حضرت حسنؓ کے بارے میں ارشاد فرمایا تھا "ابْنِي هَذَا سَيِّدٌ، وَلَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يُصْلِحَ عَلَى يَدَيْهِ بَيْنَ فِئَتَيْنِ عَظِيمَتَيْنِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ" (میرا یہ بیٹا عظیم المقام سردار ہے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعہ مسلمانوں کے دو بڑے گرہوں میں صلح کرا دے گا) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ یہ دونوں گروہ مسلمانوں کے تھے، کوئی گروہ بھی منافق نہیں تھا۔ آخر میں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ صحیح مسلم شریف میں زر بن حبیش کی یہ حدیث ذکر کی گئی ہے اس سے پہلا متصلاً حضرت انسؓ، حضرت براء بن عازب، حضرت ابو ہریرہ اور حضرت ابو سعید خدری ؓ سے مختلف سندوں سے حضور ﷺ کا ارشاد نقل کیا گیا ہے کہ انصار سے محبت رکھنا ایمان کی علامت ہے، اور ان سے بغض رکھنا نفاق کی نشانی ہے۔ حضرت براء بن عازب کی حدیث کے الفاظ صحیح مسلم میں یہ ہیں، حضور ﷺ نے انصار کے بارے میں ارشاد فرمایا: «لَا يُحِبُّهُمْ إِلَّا مُؤْمِنٌ، وَلَا يُبْغِضُهُمْ إِلَّا مُنَافِقٌ، مَنْ أَحَبَّهُمْ أَحَبَّهُ اللهُ وَمَنْ أَبْغَضَهُمْ أَبْغَضَهُ اللهُ» ترجمہ: انصار سے صرف وہی شخص محبت کرے گا جو مومن صادق ہو گا اور وہی شخص بغض رکھے گا جو منافق ہو گا، جو انصار سے محبت کرے گا اللہ تعالیٰ اس سے محبت فرمائے گا اور جو ان سے بغض رکھے گا وہ اللہ کا مبغوض ہو گا۔ رسول اللہ ﷺ نے مختلف مواقع پر مختلف اصحاب کے بارے میں بھی ارشاد فرمایا ہے کہ ان کی محبت ایمان کی علامت اور ان سے بغض رکھنا نفاق کی نشانی ہے ار بلاشبہ اس بارے میں حضرت علی مرتضیٰ ؓ کو خصوصیت حاصل ہے، اللہ تعالیٰ اپنی، اپنے رسول پاک اور اپنے تمام محبین و محبوبین کی محبت ہم کو نصیب فرمائے۔





امام بخاری رحمہ اللہ اپنی صحیح میں روایت کرتے ہیں:

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ سُوَيْدِ بْنِ مَنْجُوفٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: بَعَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلِيًّا إِلَى خَالِدٍ لِيَقْبِضَ الْخُمُسَ، وَكُنْتُ أُبْغِضُ عَلِيًّا وَقَدِ اغْتَسَلَ، فَقُلْتُ لِخَالِدٍ: أَلَا تَرَى إِلَى هَذَا؟ فَلَمَّا قَدِمْنَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ:” يَا بُرَيْدَةُ، أَتُبْغِضُ عَلِيًّا؟” فَقُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ:” لَا تُبْغِضْهُ، فَإِنَّ لَهُ فِي الْخُمُسِ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ”
ترجمہ:
عبداللہ بن بریدہ نے اپنے والد (بریدہ بن حصیب) سے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے خالد بن ولیدؓ کی جگہ علیؓ کو (یمن) بھیجا تاکہ غنیمت کے خمس (پانچواں حصہ) کو ان سے لے آئیں۔ مجھے علیؓ سے بہت بغض تھا اور میں نے انہیں غسل کرتے دیکھا تھا۔ میں نے خالدؓ سے کہا تم دیکھتے ہو علیؓ نے کیا کیا (اور ایک لونڈی سے صحبت کی) پھر جب ہم نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو میں نے آپ سے بھی اس کا ذکر کیا۔ آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: (بریدہ) کیا تمہیں علی کی طرف سے بغض ہے؟ میں نے عرض کیا کہ جی ہاں، آپ ﷺ نے فرمایا: علی سے دشمنی نہ رکھنا کیونکہ خمس (غنیمت کے پانچویں حصے) میں اس سے بھی زیادہ حق ہے۔
[صحیح بخاری:4350]
یہاں واضح دیکھا جاسکتا ہے، صحابی خود اقرار کر رہے ہیں کہ انہیں علی علیہ السلام سے بغض تھا اور یہ تو نبی کریم علیہ السلام کی زندگی کا واقعہ ہے حضور علیہ السلام کے بعد تو ویسے ہی جو کچھ ہوا وہ ہوا۔
یہی صحابی بعد میں فرماتے ہیں کہ:

فَمَا كَانَ مِنَ النَّاسِ أَحَدٌ بَعْدَ قَوْلِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَبَّ إِلَيَّ مِنْ عَلِيٍّ
“رسول اللہ ﷺ کے اس فرمان کے بعد لوگوں میں علیؓ سے زیادہ کوئی شخص مجھے محبوب نہ تھا۔”
[كتاب مسند أحمد- ط الرسالة 38/66 وسندہ حسن]



Monday, 29 June 2026

اللہ والوں کے تذکرہ کی فضیلت

اللہ والوں کے تذکرہ کی فضیلت:

القرآن:

هٰذَا ذِكۡرٌ​ؕ وَاِنَّ لِلۡمُتَّقِيۡنَ لَحُسۡنَ مَاٰبٍۙ‏ 

یہ ایک ذکر ہے اور یقینا متقین کے لیے بہت ہی اچھی لوٹنے کی جگہ ہے.

[سورۃ ص:49]


فرمایا:

ذِكۡرُ رَحۡمَتِ رَبِّكَ عَـبۡدَهٗ زَكَرِيَّا ​ ۖ ​ۚ‏ 

یہ ذکر ہے آپ کے رب کی رحمت کا جو اس نے اپنے بندے زکریا پر کی

[سورة مريم:2]


وَاذۡكُرۡ فِى الۡـكِتٰبِ مَرۡيَمَ​ۘ اِذِ انْتَبَذَتۡ مِنۡ اَهۡلِهَا مَكَانًا شَرۡقِيًّا ۙ‏

اور (اب) ذکر کیجیے اس کتاب (قرآن) میں مریم کا جبکہ وہ اپنے لوگوں سے الگ ہو کر ایک شرقی گوشے میں جا بیٹھی.

[مريم:16]


وَاذۡكُرۡ فِى الۡكِتٰبِ اِبۡرٰهِيۡمَ ۙ اِبۡرٰهِيۡمَ ۙ اِنَّهٗ كَانَ صِدِّيۡقًا نَّبِيًّا‏ 

اور تذکرہ کیجیے اس کتاب میں ابراہیم ؑ کا۔ یقیناً وہ صدیقّ نبی تھے۔

[مريم:41]



وَاذۡكُرۡ فِى الۡكِتٰبِ مُوۡسٰٓى​ اِنَّهٗ كَانَ مُخۡلَصًا وَّكَانَ رَسُوۡلًا نَّبِيًّا‏

اور کتاب میں تذکرہ کیجیے موسیٰ ؑ کا یقیناً وہ تھے خاص کیے گئے اور وہ تھے رسول نبی۔

[مريم:51]


وَاذۡكُرۡ فِى الۡـكِتٰبِ اِسۡمٰعِيۡلَ​ اِنَّهٗ كَانَ صَادِقَ الۡوَعۡدِ وَكَانَ رَسُوۡلًا نَّبِيًّا​ ۚ‏ 

اور تذکرہ کیجیے اس کتاب میں اسماعیل ؑ کا (بھی) یقیناً وہ وعدے کے سچے تھے اور وہ (بھی) رسول نبی تھے.

[مريم:54]


وَاذۡكُرۡ فِى الۡكِتٰبِ اِدۡرِيۡسَ​ اِنَّهٗ كَانَ صِدِّيۡقًا نَّبِيًّا ۙ ‏ 

اور تذکرہ کیجیے کتاب میں ادریس ؑ کا (بھی) یقیناً وہ صدیقّ نبی تھے۔

[مريم:56]


اِصۡبِرۡ عَلٰى مَا يَقُوۡلُوۡنَ وَاذۡكُرۡ عَبۡدَنَا دَاوٗدَ ذَا الۡاَيۡدِ​ۚ اِنَّـهٗۤ اَوَّابٌ‏ 

(اے محمد ﷺ !) آپ صبرکیجیے اس پر جو کچھ یہ لوگ کہہ رہے ہیں اور آپ ﷺ تذکرہ کیجیے ہمارے بندے دائود کا جو بہت قوت والا تھا بیشک وہ (اللہ کی طرف) بہت رجوع کرنے والا تھا۔

[ص:17]


وَاذۡكُرۡ عَبۡدَنَاۤ اَيُّوۡبَۘ اِذۡ نَادٰى رَبَّهٗۤ اَنِّىۡ مَسَّنِىَ الشَّيۡطٰنُ بِنُصۡبٍ وَّعَذَابٍؕ‏ 

اور ذرا یاد کیجیے ہمارے بندے ایوب ؑ کو جبکہ اس نے پکارا اپنے رب کو کہ مجھے شیطان نے شدید بیماری اور تکلیف میں مبتلا کردیا ہے۔

[ص:41]


وَاذۡكُرۡ عِبٰدَنَاۤ اِبۡرٰهِيۡمَ وَاِسۡحٰقَ وَيَعۡقُوۡبَ اُولِى الۡاَيۡدِىۡ وَالۡاَبۡصَارِ‏

اور تذکرہ کیجیے ہمارے بندوں ابراہیم ؑ اسحاق ؑ اور یعقوب ؑ کا جو قوت والے اور بصیرت والے تھے۔

[ص:45]


وَاذۡكُرۡ اِسۡمٰعِيۡلَ وَ الۡيَسَعَ وَذَا الۡكِفۡلِ​ؕ وَكُلٌّ مِّنَ الۡاَخۡيَارِؕ‏ 

اور ذکرکیجیے اسماعیل ؑ الیسع ؑ اور ذوالکفل ؑ کا یہ سب بھی بہت عمدہ لوگوں میں سے تھے۔

[ص:48]


۞ وَاذۡكُرۡ اَخَا عَادٍؕ اِذۡ اَنۡذَرَ قَوۡمَهٗ بِالۡاَحۡقَافِ وَقَدۡ خَلَتِ النُّذُرُ مِنۡۢ بَيۡنِ يَدَيۡهِ وَمِنۡ خَلۡفِهٖۤ اَلَّا تَعۡبُدُوۡۤا اِلَّا اللّٰهَ ؕ اِنِّىۡۤ اَخَافُ عَلَيۡكُمۡ عَذَابَ يَوۡمٍ عَظِيۡمٍ‏

اور ذرا تذکرہ کیجیے قوم عاد کے بھائی (ہود (ؑ) کا جب اس نے خبردار کیا اپنی قوم کو احقاف میں اور اس سے پہلے بھی اور اس کے بعد بھی بہت سے خبردار کرنے والے گزر چکے تھے کہ مت عبادت کرو کسی کی سوائے اللہ کے مجھے اندیشہ ہے تم پر ایک بڑے دن کے عذاب کا۔

[الاحقاف:21]










سیرت الانبیاء قدم بہ قدم (عبداللہ فارانی)

بچوں کے لئے لکھے گئے مختلف انبیاء کرام علیہم السلام کے حالات واقعات

https://besturdubooks.net/seerat-ul-anbiya-qadam-ba-qadam/

وصایا انبیاء و اولیاء انسائیکلوپیڈیا

https://besturdubooks.net/wasaya-anbiya-o-auliya-encyclopedia/

انبیاء کرام انسائیکلوپیڈیا

https://besturdubooks.net/anbiya-kiram-encyclopedia/

سیرت النبی ﷺ قدم بہ قدم (عبداللہ فارانی)

https://besturdubooks.net/seerat-un-nabi-qadam-ba-qadam/

تذکرہ خاتم الانبیاء ﷺ

https://besturdubooks.net/tazkira-khatam-ul-anbiya/

گلدستہ اہل بیت

https://besturdubooks.net/guldasta-e-ahl-e-bait/

تذکرہ اہل بیت اطہارؓ

خانواده نبوت حضور ﷺ کی ازواج مطہرات، صاحبزادوں اور صاحبزادیوں، نواسوں، نواسیوں اور جملہ اہل بیت کا دلکش معلومات افزا اور ایمان افروز مفضل و مدلل تذکرہ

تالیف: مولانا محمد عبد المعبود صاحب

https://besturdubooks.net/tazkira-ahl-e-bait-athhaar/

خاندان نبوی ﷺ کے چشم و چراغ

حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحبزادے ، صاحبزادیوں اور ان کی امہات کا ایمان افروز ، دلکش اور معلوماتی تذکرہ

https://besturdubooks.net/khandan-e-nabvi-kay-chashm-o-charagh/

امہات المومنین مع بنات اربعہ قدم بہ قدم (عبداللہ فارانی)

https://besturdubooks.net/ummahat-ul-mumineen-banat-e-arba-qadam-ba-qadam/

شاہ کونین کی شہزادیاں

حضور نبی کریم ﷺ کی چاروں صاحبزادیوں حضرت زینب، حضرت رقیہ، حضرت ام کلثوم اور حضرت فاطمہ الزہراء رضی اللہ عنہن کا بچپن، جوانی، شادی، خانہ داری، عبادت و ریاضت زہد و قناعت، جود و سخا، جذبہ خدمت خلق، تربیت اولاد، اعزہ و اقرباء کے ساتھ حسن معاشرت کو تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔

علاوہ ازیں قرآن و حدیث اور کتب انساب اور تاریخ کے محکم دلائل و براہین سے یہ ثابت کیا گیا ہے کہ چاروں سیدات مطہرات سرور دو عالم ﷺ کی حقیقی بیٹیاں تھیں اور یہ تاثر و تصور قطعی طور پر غلط، باطل، بلا دلیل اور بے بنیاد ہے کہ تین بنات رسول ﷺ کی حقیقی نہیں لے پالک ہیں بلکہ شیعہ کی معتبر کتب سے بھی چار صاحبزادیوں کے حوالہ جات پیش کر کے ان ہی کے باطل عقیدہ کو واضح کیا گیا ہے۔

https://besturdubooks.net/shah-e-konain-ki-shahzadian/

رسول اللہ ﷺ کا خاندان
یہ کتاب حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک خاندان، آباء و اجداد، ازواج مطہرات، اولاد، اہل بیت، چچاؤں، پھوپھیوں اور دیگر قریبی رشتہ داروں کی مستند سوانح حیات اور خاندانی شجرے پر مشتمل ایک تفصیلی انسائیکلوپیڈیا ہے۔ مستند کتب احادیث اور معتبر تاریخی مراجع پر اعتماد۔  آسان اور عام فہم زبان و انداز۔ خاندان نبوت کے مثالی کردار کو اجاگر کیا گیا ہے۔


خلافت راشدہ قدم بہ قدم (عبداللہ فارانی)

بچوں کے لئے لکھے گئے خلافتِ راشدہ کے حالات واقعات


خلفائے راشدین
چاروں خلفاء یعنی حضرت ابوبکر صدیق ؓ، حضرت عمر فاروق ؓ ، حضرت عثمان غنی ؓ، حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے حالات و کمالات نہایت جامعیت اور صحیح تاریخی روایات کی روشنی میں نہایت دلچسپ انداز میں تحریر کیے گئے ہیں۔






 ازالۃ الخفاء عن خلافۃ الخلفاء

اصحاب صفہ اور ان کی حیات و خدمات
الاصابہ فی تمیز الصحابہ
صحابہ کرام کی فتوحات
فتوح الشام صحابہ کے جنگی معرکے
حیاۃ الصحابہ (مولانا ادریس کاندھلوی)
سیر الصحابہؓ (مولانا شاہ معین الدین ندوی)

عہد رسالت کے مفسرین کرام
حضرت عمر، حضرت علی، ابی بن کعب، زید بن ثابت، ابو موسیٰ اشعری، انس بن مالك، عبدالله بن عمر ، أم المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ، عبد الله بن عباس رضی اللہ عنہم اور عہد رسالت کے دیگر عظیم المرتبت مفسرین عظام کا تذکرہ۔

ائمہ اربعہ قدم بقدم (عبداللہ فارانی)
یہ کتاب فقہ اسلامی کے چار مشہور ائمہ کرام یعنی امام ابو حنیفہ، امام مالک، امام شافعی اور امام احمد ابن حنبل کے حالات و واقعات پر مشتمل ہے۔ یہ حالات و واقعات جہاں ایک طرف ہمیں ہماری تاریخ کے سنہری ابواب سے آشنا کرتے ہیں، تو دوسری طرف ہمارے حالات و زمانے کے اعتبار سے راہ عمل متعین کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ اسلاف کرام کے یہ واقعات ہمیں دین کے لیے محنت ، استقامت و جرات کا سبق بھی دیتے ہیں اور آخرت سنوارنے کی دعوت بھی۔ عبد اللہ فارانی کے منفرد انداز تحریر اور سلاست و روانی کے ساتھ یہ کتاب بچوں اور بڑوں کے لیے یکساں فائدہ مند ہے۔

سیرت ائمہ اربعہ
اسلامی فقہ کی ابتدائی تاریخ و ترویج کی تفصیل، ائمہ اربعہ، امام ابو حنیفہ، امام مالک، امام شافعی، اور امام احمد بن حنبل رحمہم اللہ کے حالات زندگی اور ان کے دینی کاموں کا مستند تذکرہ۔

تذکرہ محدثین اور ان کی سندیں

تذکرہ مصنفین درس نظامی


تذکرہ علامہ جلال الدین سیوطیؒ
تذکرہ صاحب ہدایہ
اس رسالہ میں صاحب ہدایہ کے ۳۱ اساتذہ کا تذکرہ ہے، ان کے ساتھ کتب احادیث کی اسانید بھی مذکور ہیں، اور ہدایہ کی دس خصوصیات بھی مذکور ہیں جو کہیں اور ملنا مشکل ہے

حدائق الحنفیہ
امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ علیہ سے ۱۳۰۰ ہجری تک دنیا بھر کے ایک ہزار سے زائد حنفی علماء و فقہا کا مستند تذکرہ ، اردو میں اپنے موضوع پر واحد کتاب

اخبار الاخبار
اس کتاب میں حضرت شیخ عبد الحق محدث دہلوی کی مشہور و معروف تصنیف اخبار الاخیار ہند و پاک کے تقریباً تین سو اولیائے کرام و صوفیائے عظام کا مشہور مستند تذکرہ ہے جسمیں علماء و مشائخ کی پاکیزہ زندگیوں کی دل آویز داستانیں پوری تحقیق سے لکھی گئی ہیں۔ یہ کتاب ایک قابل قدر تاریخی و علمی شاہکار ہونے کے علاوہ حکمت و نصائح اور پاکیزہ تعلیمات کا بیش بہا ذخیرہ ہے۔





Thursday, 25 June 2026

خلیفہ پنجم سیدنا حسنؓ بن علیؓ کے مستند فضائل ومنقبت اور سیرت

 

عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ‏:‏ لَمَّا وُلِدَ الْحَسَنُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ سَمَّيْتُهُ‏:‏ حَرْبًا، فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ‏: ”أَرُونِي ابْنِي، مَا سَمَّيْتُمُوهُ‏؟“‏ قُلْنَا‏:‏ حَرْبًا، قَالَ‏: ”بَلْ هُوَ حَسَنٌ‏.‏“ فَلَمَّا وُلِدَ الْحُسَيْنُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ سَمَّيْتُهُ حَرْبًا، فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ‏: ”أَرُونِي ابْنِي، مَا سَمَّيْتُمُوهُ‏؟“‏ قُلْنَا‏:‏ حَرْبًا، قَالَ‏: ”بَلْ هُوَ حُسَيْنٌ‏.“‏ فَلَمَّا وُلِدَ الثَّالِثُ سَمَّيْتُهُ‏:‏ حَرْبًا، فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ‏: ”أَرُونِي ابْنِي، مَا سَمَّيْتُمُوهُ‏؟“‏ قُلْنَا‏:‏ حَرْبًا، قَالَ‏: ”بَلْ هُوَ مُحْسِنٌ“، ثُمَّ قَالَ‏: ”إِنِّي سَمَّيْتُهُمْ بِأَسْمَاءِ وَلَدِ هَارُونَ‏:‏ شِبْرٌ، وَشَبِيرٌ، وَمُشَبِّرٌ‏.“

ترجمہ:

سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی ولادت ہوئی تو میں نے ان کا نام حرب رکھا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے میرا بیٹا دکھاؤ، تم نے اس کا نام کیا رکھا ہے؟“ ہم نے کہا: حرب۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”بلکہ وہ تو حسن ہے۔“ پھر جب سیدنا حسینؓ پیدا ہوئے تو میں نے ان کا نام حرب رکھا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے میرا بیٹا دکھاؤ، تم نے اس کا نام کیا رکھا ہے؟“ ہم نے کہا: حرب نام رکھا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”بلکہ اس کا نام حسین ہے۔“ جب تیسرا بیٹا پیدا ہوا تو اس کا نام میں نے حرب رکھا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو فرمایا: ”مجھے میرا بیٹا دکھاؤ، اس کا نام تم نے کیا رکھا ہے؟“ ہم نے کہا: حرب۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں، اس کا نام محسن ہے۔“ پھر فرمایا: ”میں نے ان کے نام ہارونؑ کے بیٹوں کے نام پر رکھے ہیں۔ ان کے نام شبر، شبیر اور مشبر تھے۔“

[الادب المفرد-للبخاري، كتاب الأسماء، حدیث: 823]

تخریج الحدیث:

[مسند أحمد: 769، ابن حبان: 6958، الطبراني:2773، الحاكم: 168/3، الضعيفة:3706]




ابورافع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حسن بن علی کے کان میں جس وقت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے انہیں جنا اذان کہتے دیکھا جیسے نماز کے لیے اذان دی جاتی ہے۔
[سنن ابي داود:5105]
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے،
۲- عقیقہ کے مسئلہ میں اس حدیث پر عمل ہے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کئی سندوں سے آئی ہے کہ لڑکے کی طرف سے دو بکریاں ایک جیسی اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری ذبح کی جائے،
۳- نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بھی مروی ہے کہ آپ نے حسن کی طرف سے ایک بکری ذبح کی، بعض اہل علم کا مسلک اسی حدیث کے موافق ہے۔
[سنن ترمذي:1514]
حسن
[الإرواء الغليل-ألباني:1173]





حلق-سر منڈروانا:
عن جعفر بن محمد، عن أبيه: أن فاطمة حلقت حسنًا وحسينًا يوم سابعهما فوزنت شعرهما فتصدقت بوزنه فضة.
ترجمہ:
جعفر بن محمد سے اپنے والد(محمد) سے روایت ہے کہ: فاطمہ نے حسن و حسین کے ساتویں دن سر منڈوائے، بالوں کا وزن کیا اور اس کا وزن چاندی میں صدقہ کیا۔








عقیقہ:
عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَقَّ عَنِ الْحَسَنِ وَالْحُسَيْنِ كَبْشًا كَبْشًا.
ترجمہ:
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حسن اور حسین کی طرف سے ایک ایک دنبہ کا عقیقہ کیا۔
[سنن ابي داود:2841، سنن النسائی:4224]
بِكَبْشَيْنِ كَبْشَيْنِ".
دو دو مینڈھے ذبح کیے۔
[سنن نسائي:4224]






عَنْ أَبِي رَافِعٍ مَوْلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ لَمَّا وُلِدَ أَرَادَتْ أُمُّهُ فَاطِمَةُ أَنْ تَعُقَّ عَنْهُ بِكَبْشَيْنِ، فَقَالَ: " لَا تَعُقِّي عَنْهُ، وَلَكِنْ احْلِقِي شَعْرَ رَأْسِهِ، ثُمَّ تَصَدَّقِي بِوَزْنِهِ مِنَ الْوَرِقِ فِي سَبِيلِ اللهِ "، ثُمَّ وُلِدَ حُسَيْنٌ بَعْدَ ذَلِكَ فَصَنَعَتْ مِثْلَ ذَلِكَ
ترجمہ:
حضرت ابورافع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی پیدائش ہوئی تو ان کی والدہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے دو مینڈھوں سے ان کا عقیقہ کرنا چاہا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ابھی اس کا عقیقہ نہ کرو بلکہ اس کے سر کے بال منڈوا کر اس کے وزن کے برابر چاندی اللہ کے راستے میں صدقہ کر دو، پھر حضرت حسن رضی اللہ عنہ کی پیدائش پر بھی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے ایسا ہی کیا (اور عقیقہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خود کیا)۔



سیدنا حسنؓ کے القاب:
حضرت حسن رضی اللہ عنہ کے جو القاب مورخین نے ذکر فرمائے ہیں، وہ یہ ہیں:  (۱)السید، (۲)المدنی، (۳)القرشی، (۴)الہاشمی، (۵)سبط النبی ﷺ.....پیغمبر ﷺ کے نواسہ، (۶)سید شباب اہل الجنہ.....جنتی جوانوں کے سردار، (۷)ریحانۃ النبی ﷺ.....پیغمبر کا خوشبو،  (۸)الشہید، (۹)امیر المومنین، (۱۰)خامس الخلفاء الراشدین۔ 



(۱) "الحسن بن علی بن ابی طالب بن عبد المطلب بن ہاشم بن عبد مناف القرشی الهاشمی، ابو محمد — یہ نبی کریم ﷺ کے نواسے ہیں، ان کی والدہ محترمہ فاطمہ بنت رسول اللہ ﷺ ہیں جو تمام جہان کی عورتوں کی سیدہ ہیں، اور یہ جنت کے نوجوانوں کے سردار ہیں، نبی ﷺ کی خوشبو (ریحانہ) اور آپ کے مشابہ (شبیہ) ہیں۔"
حوالہ
ب د ع: ‌الحسن ‌بْن ‌عَلِيِّ ‌بْنِ ‌أَبِي ‌طالب بن عبد المطلب بْن هاشم بْن عبد مناف القرشي الهاشمي أَبُو مُحَمَّد، سبط النَّبِيّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وأمه فاطمة بنت رَسُول اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سيدة نساء العالمين، وهو سيد شباب أهل الجنة، وريحانة النَّبِيّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وشبيهه."
[اسد الغابۃ-امام ابن اثیر: باب الحاء والسين، جلد:2، صفحه:13، طبع:دار الكتب العلمية]



(۲) "الحسن بن علی بن ابی طالب القرشی الهاشمی، ابو محمد مدنی — نبی ﷺ کے دہنے (سبط) ہیں اور دنیا میں آپ کی خوشبو (ریحانہ) ہیں، اور جنت کے نوجوانوں کے دو سرداروں میں سے ایک ہیں۔"
حوالہ
"‌الحسن ‌بْن ‌علي ‌بْن ‌أَبي ‌طَالِب القرشي الهاشمي، أَبُو مُحَمَّد المدني، سبط رَسُول اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وريحانته من الدنيا، وأحد سيدي شباب أهل اجنة."
[تهذيب الكمال في اسماء الرجال: حسن بن علي، جلد:6، صفحه: 220، طبع: موسسة الرسالة]



(۳) "الحسن بن علی بن ابی طالب بن عبد المطلب بن ہاشم بن عبد مناف — وہ امام، سید، نبی ﷺ کی خوشبو (ریحانہ)، آپ کے نواسے، اور جنت کے نوجوانوں کے سردار ہیں، ابو محمد قرشی ہاشمی مدنی ہیں، اور شہید ہیں۔"
حوالہ
"الحسن بن علي بن أبي طالب بن عبد المطلب ابن هاشم بن عبد مناف، الإمام السيد، ريحانة رسول الله -صلى الله عليه وسلم - وسبطه، وسيد شباب أهل الجنة، أبو محمد القرشي، الهاشمي، المدني، الشهيد."
[سير اعلام النبلاء-امام الذھبي: سير الخلفاء الراشدين، ومن صغار الصحابه، جلد:3، صفحه: 245، طبع: موسسة الرساله]



(۴) "الحسن بن علی بن ابی طالب، ابو محمد ہاشمی مدنی — نبی ﷺ کے نواسے (سبط) اور آپ کی خوشبو (ریحانہ) ہیں۔"
حوالہ
"الحسن بن علي بن أبي طالب أبو محمد الهاشمي المدني، سِبْطُ رسول الله - صلى الله عليه وسلم - وريحانته."
[تھذیب التھذیب-امام ابن حجر: حرف الحاء، جلد:2، صفحہ: 295، طبع: الفاروق الحديثة للطباعة والنشر]



(۵) "الحسن بن علی بن ابی طالب بن عبد المطلب بن ہاشم بن عبد مناف ہاشمی — نبی ﷺ کے نواسے (سبط) اور آپ کی خوشبو (ریحانہ) ہیں، اور امیر المؤمنین ہیں، ابو محمد۔"
حوالہ
"‌الحسن ‌بن ‌علي ‌بن ‌أبي ‌طالب بن عبد المطلب بن هاشم بن عبد مناف الهاشمي. سبط رسول اللَّه صلّى اللَّه عليه وسلّم وريحانته، أمير المؤمنين أبو محمد."
[الاصابہ فی تمییز الصحابہ-امام ابن حجر: الحاء بعدھا السین، جلد:2، صفحہ: 60، طبع: دار الکتب العلمیہ]




(۶) "الحسن بن علی بن ابی طالب ہاشمی قرشی، ابو محمد — پانچویں اور آخری خلیفۂ راشد ہیں، اور امامیہ (شیعہ اثنا عشریہ) کے نزدیک بارہ اماموں میں سے دوسرے امام ہیں۔"
حوالہ
"الحسن بن علي بن أبي طالب الهاشمي القرشي، أبو محمد: خامس الخلفاء الراشدين وآخرهم، وثاني الأئمة الاثني عشر عند الإمامية."
[الاعلام للزرکلی: الحسن بن علی، جلد:2، صفحہ: 199، طبع: دار العلم للملايين]





حضرت انس ؓ نے بیان کیا کہ:

لَمْ يَكُنْ أَحَدٌ أَشْبَهَ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ.

ترجمہ:

 حسن بن علی ؓ سے زیادہ اور کوئی شخص نبی کریم ﷺ سے زیادہ مشابہ نہیں تھا۔

[صحيح البخاری - حدیث نمبر 3752]


حضرت ابوجحیفہ ؓ بیان کرتے تھے کہ :

رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ عَلَيْهِمَا السَّلَام يُشْبِهُهُ

ترجمہ:

میں نے دیکھا ہے نبی کریم کو - رحمت ہو اللہ ان پر اور سلامتی - اور حسن بن علی - ان دونوں پر سلامتی ہو - میں آپ ﷺ کی شباہت پوری طرح موجود تھی۔

[صحيح البخاری :3544]


عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ: «الحَسَنُ أَشْبَهُ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا بَيْنَ الصَّدْرِ إِلَى الرَّأْسِ، وَالْحُسَيْنُ أَشْبَهُ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا كَانَ أَسْفَلَ مِنْ ذَلِكَ»۔
ترجمہ:
حضرت علی ؓ کہتے ہیں کہ حسن ؓ سینہ سے سر تک کے حصہ میں رسول اللہ ﷺ سے سب سے زیادہ مشابہ تھے، اور حسین ؓ اس حصہ میں جو اس سے نیچے کا ہے سب سے زیادہ نبی اکرم ﷺ سے مشابہ تھے۔
[سنن الترمذي:3779، مسند أحمد:774+854، صحيح ابن حبان: التقاسيم والأنواع:3311، الإحسان في تقريب صحيح ابن حبان:6974]

حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ کی سیرت و کردار

1. ولادت و نسب:
- ولادت: 15 رمضان 3ھ (4 مارچ 625ء) کو مدینہ منورہ میں پیدا ہوئے۔ آپ کی ولادت سورۃ الکوثر کی عملی تفسیر تھی، جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کثرتِ اولاد کی بشارت دی گئی تھی ۔  
- نسب:
  - والد: حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ۔  
  - والدہ: حضرت فاطمہ الزہراء رضی اللہ عنہا۔  
  - نانا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم۔  
  - سلسلۂ نسب: بنی ہاشم اور قریش سے ملتا ہے ۔  
- نامگذاری: اللہ کے حکم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نام "حسن" رکھا، جو عبرانی زبان کے نام "شَبَّر" (ہارون علیہ السلام کے بیٹے) کے مترادف ہے۔ یہ نام اسلام سے پہلے کسی کا نہیں تھا ۔  
- عقیقہ و کنیت: ولادت کے ساتویں دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود عقیقہ کیا، بال منڈوا کر چاندی صدقہ کی۔ آپ کی کنیت ابو محمد اور القاب مجتبیٰ، زکی، سید اور کریم اہل بیت مشہور ہیں ۔  

---

2. فضائل و مناقب:
- نبوی محبت: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ سے شدید محبت فرماتے تھے۔ ایک مرتبہ نماز پڑھاتے ہوئے سجدہ کو طویل کر دیا کیونکہ امام حسن آپ کی پشت پر سوار تھے۔ فرمایا:  
  > "حسن و حسین جنت کے جوانوں کے سردار ہیں"۔  
- مباہلہ میں شرکت: نجران کے عیسائیوں کے ساتھ مباہلہ کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آپ کو "ابنائنا" (ہمارے بیٹے) کے طور پر ساتھ لیا، جس پر آیتِ مباہلہ (آل عمران:61) نازل ہوئی ۔  
- آیاتِ قرآنی: آیتِ تطہیر (احزاب:33)، آیتِ مودت (شوریٰ:23) اور آیتِ اطعام (دہر:8) آپ کی شان میں نازل ہوئیں ۔  
- سخاوت: تین بار پوری دولت اور بیس بار آدھی دولت اللہ کی راہ میں دی، جس پر "کریم اہل بیت" کا لقب ملا۔ آپ نے 20 سے 25 بار پیدل حج کیا ۔  

---

3. زندگی کے اہم مراحل:
- رسول اللہ کے ساتھ: 7 سال نانا کی شفقت میں گزارے۔ مباہلہ نجران اور بیعت رضوان جیسے واقعات میں شریک رہے ۔  
- خلافتِ راشدہ:
  - حضرت عثمان کے محاصرے کے دوران حضرت علی کے حکم پر ان کے گھر کی حفاظت کی۔  
  - جنگِ جمل اور صفین میں اسلامی فوج کے کمانڈر رہے ۔  
- خلافت و صلح:
  - 40ھ میں حضرت علی کی شہادت کے بعد 40 ہزار لوگوں نے آپ کی بیعت کی۔  
  - معاویہ نے خلافت تسلیم نہ کی اور شام سے لشکر کشی کی۔  
  - امام حسن نے اپنے لشکر کے بے وفا ہونے (جیسے قبیلہ کندہ کے سالار کا 5 لاکھ درہم پر بک جانا) اور خونریزی روکنے کیلئے شرائط کے ساتھ صلح کی:  
    1. معاویہ قرآن و سنت پر عمل کرے گا۔  
    2. اپنا جانشین مقرر نہیں کرے گا۔  
    3. شیعانِ علی کو امن دے گا۔  
    4. کوفہ کا بیت المال امام حسن کو دے گا ۔  
- صلح کے بعد: مدینہ واپس آکر علمی و سماجی خدمات انجام دیں۔ معاویہ نے صلح کی تمام شرائط توڑ دیں اور یزید کو ولی عہد بنایا ۔  

---

4. شہادت و وصیت:
- شہادت: 28 صفر 50ھ (9 مارچ 670ء) کو زوجہ "جعدہ بنت اشعث" نے معاویہ کے کہنے پر زہر دیا۔ آپ 40 دن تک زہر کی تکلیف میں رہے۔
- تدفین: وصیت کے مطابق رسول اللہ کے پاس دفن ہونا چاہتے تھے، لیکن بنی امیہ کی مخالفت کی وجہ سے "جنت البقیع" میں سپردِ خاک ہوئے ۔  
- وصیت: معاویہ کو تین وصیتیں بھیجیں:  
  1. میرے جنازے پر سنگ باری نہ کی جائے۔  
  2. میرے اہلِ بیت کو اذیت نہ دی جائے۔  
  3. میرے قاتل کو سزا دی جائے ۔  

---

5. علمی و اخلاقی خدمات:
- احادیث: 500 احادیث روایت کیں۔ آپ کے راویوں کی تعداد 138 ہے، جن کا ذکر "مسند الامام المجتبیٰ" میں ملتا ہے ۔  
- اخلاقی تعلیمات:
  > "انسان کی ہلاکت تین چیزوں میں ہے: تکبر، حرص اور حسد"۔  
  - وضو کرتے وقت روتے اور دعا کرتے:  
    > "اے اللہ! تیرا مہمان تیرے دروازے پر ہے، اپنی رحمت سے میری برائیوں کو معاف فرما"۔  
- خاندان:
  - 9 ازواج (جعدہ بنت اشعث، ام اسحاق، خولہ بنت منظور وغیرہ)۔  
  - 15 اولادیں (زید، حسن المثنیٰ، فاطمہ، قاسم) ۔

---

6. تاریخی اسباق:
- صلح کی حکمت:  
  - امام حسن نے دس سال تک صبر کیا اور صلح کو "حکمتِ عملی" قرار دیا، جس سے:  
    - امت کا تحفظ ہوا۔
  - بنی امیہ کی حکومتی بے رحمی عیاں ہوئی۔  
    - جنگِ کربلا کی بنیاد پڑی۔  
- وفا کا معیار: جب ایک سائل نے مالی مدد مانگی تو آپ نے اُس دن کا سارا بیت المال دے دیا، حالانکہ گھر میں کھانا نہ تھا۔ 



خلاصہ:
امام حسن مجتبیٰ رضی اللہ عنہ کی زندگی "حکمت، صبر اور ایثار" کا شاہکار ہے۔ آپ نے اپنے فیصلوں سے امت کو انتشار سے بچایا اور اسلامی اقدار کی حفاظت کی۔ آپ کا مزار جنت البقیع میں مسلمانوں کے لیے روحانی مرکز ہے۔