Thursday, 29 January 2026

عوامی مغالطے Common Fallacies

 

ذیل میں کچھ عام منطقی مغالطے دیے جا رہے ہیں — ایسی غلط استدلالیں جو دلائل کو کمزور کرتی ہیں۔ میں نے واضح کرنے کے لیے انہیں گروپوں میں تقسیم کیا ہے اور مختصر مثالیں بھی شامل کی ہیں۔

---

🔹 متعلقہ مغالطے

یہ اصلی مسئلے سے توجہ ہٹا دیتے ہیں۔


1. ذاتی حملہ – دلیل پر نہیں، شخص پر حملہ کرنا

      "آپ عالم نہیں ہیں، اس لیے آپ کی بات غلط ہے۔"

2. ڈراؤنا ہیولا – کسی دلیل کو غلط طور پر پیش کرکے اسے تنقید کا نشانہ بنانا

      "وہ ضابطے چاہتا ہے، اس کا مطلب ہے کہ وہ آزادی سے نفرت کرتا ہے۔"

3. اپیل بہ اتھارٹی – کسی ایسی شخصیت کا سہارا لینا جو اس میدان کی ماہر نہ ہو

      "ایک فلمی ستارہ کہتا ہے کہ یہ دوا کام کرتی ہے۔"

4. اپیل بہ جذبات – منطق کے بجائے خوف، ہمدردی یا غصے کو استعمال کرنا

      "اگر آپ متفق نہیں ہوں گے تو بہت برا ہوگا۔"



---


🔹 کمزور استقرائی مغالطے


یہ ناکافی شواہد پر انحصار کرتے ہیں۔


1. جلدبازی میں تعمیم – بہت کم ڈیٹا سے نتیجہ اخذ کرنا

      "دو افراد بدتمیز تھے، اس لیے وہاں ہر شخص بدتمیز ہے۔"

2. غلط سبب – تعلق کو سبب سمجھ لینا

      "میں نے یہ انگوٹھی پہنی تھی اور پاس ہوگیا — لہٰذا انگوٹھی نے یہ کروایا۔"

3. پھسلواں ڈھلان — یہ دعویٰ کہ ایک قدم انتہائی نتائج کی طرف لے جائے گا

      "اگر ہم نے اس کی اجازت دے دی تو معاشرہ تباہ ہوجائے گا۔"

---


🔹 مفروضاتی مغالطے


یہ بغیر ثبوت کے کسی چیز کو مان لیتے ہیں۔


1. دور استدلال

      "یہ قانون اچھا ہے کیونکہ یہ بہترین قانون ہے۔"

2. جعلی دو راہ – صرف دو آپشنز پیش کرنا جب کہ زیادہ موجود ہوں

      "یا تو میری بات مانو، ورنہ تم ہمارے خلاف ہو۔"

3. بھرا ہوا سوال – ایک ایسا سوال جس میں ایک مفروضہ پہلے سے شامل ہو

       "کیا تم نے دھوکہ دینا بند کردیا ہے؟"


---


🔹 شکلی مغالطے


منطقی ساخت میں غلطیاں۔


1. نتیجہ کی تصدیق

       "اگر بارش ہوئی تو زمین گیلی ہوگی۔ زمین گیلی ہے، لہٰذا بارش ہوئی ہے۔"

2. مقدم کی تردید

       "اگر میں پڑھائی کروں تو پاس ہوجاؤں گا۔ میں نے پڑھائی نہیں کی، اس لیے میں فیل ہوگیا۔"

---



لفظ "حالانکہ" کا استعمال عام طور پر پہلے بیان کردہ خیال (جو عموماً عام تاثر یا غلط فہمی ہوتی ہے) کے برعکس، ایک نئے، زیادہ درست یا حقیقت پر مبنی خیال کو پیش کرنے کے لیے ہوتا ہے۔ یہ ایک تضاد یا اصلاح کا فقرہ ہے۔

مثلاً:

· "وہ بہت خاموش لگتے ہیں، حالانکہ دراصل وہ تقریبوں کی جان ہوتے ہیں۔"

  (پہلا تاثر: خاموش، حقیقت: تقریبوں کی جان)

---

ایسے ہی دیگر الفاظ/فقرے جو مغالطہ کی اصلاح یا تضاد ظاہر کرتے ہیں:

1. لیکن / مگر

   · سب سے عام فقرے، مخالف یا محدود کرنے والا خیال دیتے ہیں۔

        مثال: "بارش ہو رہی تھی، لیکن ہم سیر کو نکل گئے۔"

2. بلکہ

   · پہلے بیان کو رد کرکے اس کی جگہ زیادہ صحیح بات بتاتا ہے۔

        مثال: "یہ صرف مشکل نہیں ہے، بلکہ ناممکن ہے۔"

3. اگرچہ / اگرچہ کہ

   · تسلیم کرتا ہے کہ پہلی بات جزوی طور پر درست ہے، لیکن اس کے باوجود دوسری بات زیادہ اہم ہے۔

        مثال: "اگرچہ وہ تھکا ہوا تھا، پھر بھی اس نے کام جاری رکھا۔"

4. باوجود اس کے / اس کے باوجود

   · پہلی حالت یا توقع کے برعکس نتیجہ بتاتا ہے۔

        مثال: "ہر مشکل کے باوجود، وہ کامیاب رہا۔"

5. البتہ / البتہ

   · کسی بات کو تسلیم کرتے ہوئے اس پر ایک ریزرویشن یا مخالف نقطہ پیش کرتا ہے۔

        مثال: "وہ قیمتی ہے، البتہ معیار بہت اچھا ہے۔"

6. گو / گو کہ

   · "اگرچہ" کے قریب، ادبی اور رسمی انداز میں استعمال ہوتا ہے۔

        مثال: "گو وہ جوان ہے، مگر سمجھدار ہے۔"

7. دراصل / درحقیقت / اصل میں

   · غلط فہمی دور کرکے حقیقت بتاتے ہیں۔

        مثال: "لوگ سمجھتے ہیں وہ سخت ہے، دراصل وہ بہت نرم دل ہے۔"

8. ہاں یہ تو ہے مگر / یہ صحیح ہے پر

   · بول چال میں استعمال ہونے والے فقرے جو پہلے نقطے کو تسلیم کرکے اس پر اہم بات جوڑتے ہیں۔

9. سچ تو یہ ہے کہ / حقیقت یہ ہے کہ

   · کسی غلطی کو درست کرنے یا اصل حقیقت بیان کرنے کے لیے۔

10. نہ صرف یہ کہ... بلکہ یہ بھی

    · پہلی بات کو کم تر ظاہر کرکے دوسری زیادہ اہم بات کو نمایاں کرتا ہے۔

---

نوٹ: ان تمام الفاظ میں تضاد، اصلاح، ترمیم، یا رکاوٹ کے معنیٰ پائے جاتے ہیں۔ ان کا انتخاب جملے کے سیاق و سباق، رسمی یا غیر رسمی انداز اور زور دینے کے مقصد پر منحصر ہے۔

































Monday, 26 January 2026

حج کے معنیٰ، فضائل، مقاصد وحکمتین


حج کے لغوی معنی عظیم چیز کا ارادہ کرنے کے ہیں، اور شریعت کی اصطلاح میں "خاص طریقے سے خاص وقت میں خاص شرائط کے ساتھ بیت اللہ کا ارادہ کرنے کو" حج کہتے ہیں۔

حوالہ

"الحج القصد إلى الشيء المعظم وفي الشرع قصد لبيت الله تعالى بصفة مخصوصة في وقت مخصوص بشرائط مخصوصة."

[التعریفات للجرجاني» باب الحاء، ص111، ط-دار الکتاب العربی]



عربی زبان کے ماہر، امام راغب اصفھانی(م502ھ) لکھتے ہیں:

الحج (ن) کے اصل معنیٰ کسی کی زیارت کا قصد اور ارادہ کرنے کے ہیں۔۔۔اور اصطلاحِ شریعت میں اِقامتِ نسک کے ارادہ سے بیت اللہ کا قصد کرنے کا نام حج ہے۔

اور آیت کریمہ:

ويوم الحجّ الأكبر(سورۃ التوبہ:3)

يوم میں حجِ اکبر سے مراد یومِ نحر(قربانی کے دن) یا یومِ عرفہ ہے۔

ایک روایت میں ہے:

العمرة الحج الأصغر

عمرہ حج اصغر ہے۔

(صحيح ابن حبان:6559، المستدرك الحاكم:1447، السنن الكبرى للبيهقي:7255)


[المفردات في غريب القرآن-للراغب: ج1/ص218]




گگگ

Thursday, 22 January 2026

کیوں شرک ناقابلِ معافی جرم اور سب سے بڑا ظلم ہے؟


اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا:

جس بندے نے کہا:

لَا إلٰهَ إلَّا اللهُ

(نہیں ہے کوئی خدا سوائے اللہ کے)، پھر اسی (گواہی/حالت) پر وہ مرا

(دوسرے موقع پر فرمایا:)

﴿جو مرا (اس حال میں کہ) اس نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرایا﴾

تو وہ داخل ہوگا جنت میں۔۔۔اگرچہ اس نے زنا کیا ہو اور چوری کی ہو۔ 

[احمد:21466، بخاری:5827﴿7487﴾، مسلم:94(273)]


...اور اگرچہ اس نے شراب پی ہو۔

[بخاری:6443، مسلم:94]




القرآن:-

بےشک اللہ نہیں بخشتا کہ (اس گناہ کو کہ کوئی کسی کو) شریک ٹھہرائے اس کا، اور بخشتا ہے جو (گناہ) اس کے سوا ہیں جس کیلئے وہ چاہے، اور جس نے (کسی کو)شریک ٹھہرایا اللہ کا...

۔۔۔پس اس نے باندھا بہتانِ عظیم۔

[سورۃ النساء:48]

...پس وہ راہ سے گم ہوا بہت دور کی گمراہی میں۔

[سورۃ النساء:116]


تم پیچھے چلو اس کے جو وحی(حکمِ الٰہی) آئی (سے پیغمبر!) تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے کہ نہیں ہے کوئی خدا سوائے اس(رب) کے، اور مشرکوں سے کنارہ کرلو۔

[سورۃ الأنعام:106]


اللہ نے مشرک پر جنت کو حرام کیا اور جھنم کو اسکا ٹھکانہ بنایا اور مدد(شفاعت) سے بھی محروم کیا

[سورة المائدة:72]


۔۔۔بےشک شرک عظیم ظلم ہے۔

[سورة لقمان:13]


...اور اگر وہ(انبیاء)بھی شرک کرتے تو یقیناً ضایع ہوجاتے جو کچھ انہوں نے عمل کیے تھے.

[سورة الأنعام:88]


اور (اگر بالفرض تم نے بھی شرک کیا تو) تو ہوجاۓ گا نقصان پانے والوں میں.

[سورة الزمر:65]


Wednesday, 21 January 2026

بداخلاقی» کسی تائب-مومن کو عار دلانا۔


حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
من عير أخاه بِذَنْبٍ لَمْ يَمُتْ حَتَّى يَعْمَلَهُ قَالَ أَحْمَدُ: قَالُوا: مِنْ ذَنْبٍ قَدْ تَابَ منه.
ترجمہ:
"جس شخص نے اپنے بھائی (مسلمان) کو کسی گناہ پر عار دلایا (یعنی اس کا مذاق اڑایا یا طعنہ زنی کی)، تو وہ مرتا نہیں ہے یہاں تک کہ وہ خود وہ (جیسا یا ویسا) گناہ کرنے لگے۔" امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے (اس کی وضاحت میں) کہا: "علماء کہتے ہیں کہ یہ اس گناہ کے ساتھ خاص ہے جس سے اس (بھائی) نے توبہ کرلی ہو۔"

[سنن الترمذي:2505، شعب الإيمان-للبيهقي:6271، الصمت-ابن أبي الدنيا:288، مشكاة المصابيح:4855، جامع الأحاديث-للسيوطي:22997]




القرآن:
الله نے توبہ قبول کرنے کی جو ذمہ داری لی ہے وہ ان لوگوں کے لیے جو نادانی سے کوئی برائی کر ڈالتے ہیں، پھر جلدی ہی توبہ کرلیتے ہیں۔ چنانچہ الله ان کی توبہ قبول کرلیتا ہے، اور الله ہر بات کو خوب جاننے والا بھی ہے، حکمت والا بھی۔
[سورة النساء:17  ﴿تفسير السمرقندي:1/289، تفسير القرطبي:5/93﴾]



Friday, 9 January 2026

شراب کے انفرادی، اجتماعی، عقلی و نقلی نقصانات وتباہ کاریاں


القرآن:

اے ایمان والو ! شراب، جوا، بتوں کے تھان اور جوے کے تیرے یہ سب ناپاک شیطانی کام ہیں، لہذا ان سے بچو، تاکہ تمہیں فلاح حاصل ہو۔

[سورۃ نمبر 5 المائدة، آیت نمبر 90]


القرآن:

لوگ آپ سے شراب اور جوے کے بارے میں پوچھتے ہیں۔ آپ کہہ دیجیے کہ ان دونوں میں بڑا گناہ بھی ہے، اور لوگوں کے لیے کچھ فائدے بھی ہیں، اور ان دونوں کا گناہ ان کے فائدے سے زیادہ بڑھا ہوا ہے۔۔۔

[سورۃ نمبر 2 البقرة،آیت نمبر 219]

تفسیر:

چونکہ اہلّ عرب صدیوں سے شراب کے عادی تھے، اس لئے الله تعالیٰ نے اس کی حرمت کے اعلان میں تدریج سے کام لیا، پہلے سورة نحل (آیت#67) میں ایک لطیف اشارہ دیا کہ نشہ لانے والی شراب اچھی چیز نہیں ہے، پھر سورة البقرۃ کی اس آیت(219) میں قدرے وضاحت سے فرمایا کہ شراب پینے کے نتیجے میں انسان سے بہت سی ایسی حرکتیں سرزد ہوجاتی ہیں جو گناہ ہیں اور اگرچہ اس میں کچھ فائدے بھی ہیں، مگر گناہ کے امکانات زیادہ ہیں، پھر سورة نساء(43) میں یہ حکم آیا کہ نشے کی حالت میں نماز نہ پڑھو بالاآخر سورة مائدہ(90۔91) میں شراب کو ناپاک اور شیطانی عمل قرار دے کر اس سے مکمل پرہیز کرنے کا صاف صاف حکم دے دیا گیا۔

Thursday, 8 January 2026

موحدین کا جہنم میں ہمیشہ رہنے سے بچ جانا۔

 

جس بندے نے کہا:

لَا إلٰهَ إلَّا اللهُ

(نہیں ہے کوئی خدا سوائے اللہ کے)، پھر اسی (گواہی/حالت) پر وہ مرا

(دوسرے موقع پر فرمایا:)

﴿جو مرا (اس حال میں کہ) اس نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرایا﴾

تو وہ داخل ہوگا جنت میں۔۔۔اگرچہ اس نے زنا کیا ہو اور چوری کی ہو۔ 

[احمد:21466، بخاری:5827﴿7487﴾، مسلم:94(273)]


...اور اگرچہ اس نے شراب پی ہو۔

[بخاری:6443، مسلم:94]




القرآن:-

بےشک اللہ نہیں بخشتا کہ (اس گناہ کو کہ کوئی کسی کو) شریک ٹھہرائے اس کا، اور بخشتا ہے جو (گناہ) اس کے سوا ہیں جس کیلئے وہ چاہے، اور جس نے (کسی کو)شریک ٹھہرایا اللہ کا...

۔۔۔پس اس نے باندھا بہتانِ عظیم۔

[سورۃ النساء:48]

...پس وہ راہ سے گم ہوا بہت دور کی گمراہی میں۔

[سورۃ النساء:116]


تم پیچھے چلو اس کے جو وحی(حکمِ الٰہی) آئی (سے پیغمبر!) تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے کہ نہیں ہے کوئی خدا سوائے اس(رب) کے، اور مشرکوں سے کنارہ کرلو۔

[سورۃ الأنعام:106]


اللہ نے مشرک پر جنت کو حرام کیا اور جھنم کو اسکا ٹھکانہ بنایا اور مدد(شفاعت) سے بھی محروم کیا

[سورة المائدة:72]


۔۔۔بےشک شرک عظیم ظلم ہے۔

[سورة لقمان:13]


...اور اگر وہ(انبیاء)بھی شرک کرتے تو یقیناً ضایع ہوجاتے جو کچھ انہوں نے عمل کیے تھے.

[سورة الأنعام:88]


اور (اگر بالفرض تم نے بھی شرک کیا تو) تو ہوجاۓ گا نقصان پانے والوں میں.

[سورة الزمر:65]


Thursday, 1 January 2026

نرمی کے معنی، فضائل اور مستحق لوگ


القرآن:

وَمَنۡ يُّطِعِ اللّٰهَ وَالرَّسُوۡلَ فَاُولٰٓئِكَ مَعَ الَّذِيۡنَ اَنۡعَمَ اللّٰهُ عَلَيۡهِمۡ مِّنَ النَّبِيّٖنَ وَالصِّدِّيۡقِيۡنَ وَالشُّهَدَآءِ وَالصّٰلِحِيۡنَ‌ ۚ وَحَسُنَ اُولٰٓئِكَ رَفِيۡقًا ۞ 

ترجمہ:

اور جو لوگ الله اور رسول کی اطاعت کریں گے تو وہ ان کے ساتھ ہوں گے جن پر الله نے انعام فرمایا ہے، یعنی انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین۔ اور وہ کتنے اچھے ساتھی ہیں۔

[سورۃ نمبر 4 النساء، آیت نمبر 69]


Sunday, 28 December 2025

تکبر کے معنیٰ وحقیقت، خرابیاں وانجام اور علاج


تکبر کی حقیقت قرآن کی روشنی میں:

الکبر والتکبیر والاستکبار کے معنیٰ قریب قریب ایک ہی ہیں، پس کبر وہ حالت ہے جس کے سبب سے انسان عجب میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ اور عجب یہ ہے کہ انسان آپنے آپ کو دوسروں سے بڑا خیال کرے اور سب سے بڑا تکبر قبول حق سے انکار اور عبات سے انحراف کرکے اللہ تعالیٰ پر تکبر کرنا ہے۔

الاستکبار ( اسعاےل ) اس کا استعمال دو طرح پر ہوتا ہے ۔

(1)ایک یہ کہ انسان بڑا بننے کا قصد کرے۔ اور یہ بات اگر منشائے شریعت کے مطابق اور پر محمل ہو اور پھر ایسے موقع پر ہو جس پر تکبر کرنا انسان کو سزاوار(لائق-حق) ہے تو محمود ہے۔

(2)دوم یہ کہ انسان جھوٹ موٹ بڑائی کا) اظہار کرے اور ایسے اوصاف کو اپنی طرف منسوب کرے جو اس میں موجود نہ ہوں، یہ مذموم ہے۔ اور قرآن میں یہی دوسرا معنی مراد ہے؛ فرمایا:

أَبى وَاسْتَكْبَرَ

[البقرة:34]

مگر شیطان نے انکار کیا اور غرور میں آگیا۔


[المفردات في غريب القرآن-للراغب:]




Thursday, 25 December 2025

خشوع کے معنیٰ، اہمیت، فضیلت، نشانیاں اور حصول کے طریقے


خشوع کا مطلب:

خشوع سے مراد ایسا قلبی سکون اور انکساری ہے جو اللہ تعالی کی عظمت اور اس کے سامنے اپنی حقارت کے علم سے پیدا ہوتی ہے اور خضوع کا لفظ بھی تقریبا خشوع کے ہم معنیٰ ہے؛ لیکن اصل کے اعتبار سے خشوع کا لفظ آواز اور نگاہ کی پستی اور تذلل کے لیے بولا جاتا ہے جب کہ وہ مصنوعی نہ ہو؛ بلکہ قلبی خوف اور تواضع کا نتیجہ ہو اور خضوع کا لفظ بدن کی تواضع اور انکساری کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

تفصیل کے لیے دیکھیے:

[معارف القرآن، سورہ بقرہ، آیت نمبر:45]


فضیلتِ خشوعِ نماز:

(1) اسحاق بن سعید بن عمرو بن سعید بن عاص سے روایت ہے کہ میں حضرت عثمان ؓ کے پاس حاضر تھا آپ نے وضو کے لئے پانی منگوا کر فرمایا میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا کہ:

مَا مِنَ امْرِئٍ مُسْلِمٍ تَحْضُرُهُ صَلَاةٌ مَكْتُوبَةٌ فَيُحْسِنُ وُضُوءَهَا وخشوعها وركوعها، إِلَّا كَانَتْ كَفَّارَةً لِمَا قَبْلَهَا مِنَ الذُّنُوبِ مَا لَمْ يُؤْتِ كَبِيرَةً وَذَلِكَ الدَّهْرَ كُلَّهُ

ترجمہ:

جو مسلمان فرض نماز کا وقت پائے اور اچھی طرح وضو کرے اور خشوع سے نماز ادا کرے تو وہ نماز اس کے تمام پچھلے گناہوں کے لئے کفارہ ہوجائے گی بشرطیکہ اس سے کسی کبیرہ گناہ کا ارتکاب نہ ہوا ہو اور یہ سلسلہ ہمیشہ قائم رہے گا۔

[صحیح مسلم:228(543) ]



Tuesday, 23 December 2025

ملائکہ (فرشتوں) پر ایمان

فرشتوں پر ایمان
عقیدہ:
اللہ تعالی نے کچھ مخلوقات نور سے پیدا کرکے(1) ان کو ہماری نظروں سے چھپادیا ہے۔ ان کو فرشتہ کہتے ہیں۔ بہت سے کام انکے حوالے ہیں۔(2) وہ کبھی اللہ کے حکم کے خلاف کوئی کام نہیں کرتے۔ جس کام میں لگادیا ہے اس میں لگے رہتے ہیں۔(3) ان میں چار فرشتے بہت مشہور ہیں۔ حضرت جبریل(4)، میکائیل(5)، اسرافیل(6)، ملک الموت (عزرائیل)(7) علیہم السلام۔