Sunday, 25 September 2022

ٹرانسجینڈر Transgender ہم جنس پرستی Homosexuality ایک نفسیاتی بیماری


واضح رہے کہ اللہ تعالی نے انسان میں جنسی خواش رکھی اور اس کو پورا کرنے کا طریقہ بھی بتایا ہے، یعنی مرد عورت ایک دوسرے سے نکاح کرکے ایک دوسرے سے جنسی تسکین حاصل کریں اور اپنی زندگی پاک دامنی کے ساتھ گزاریں، بلکہ اللہ تعالی نے اس نکاح کو باعث اجر بنایا ہے اور پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو نصف دین کی تکمیل بتایا ہے۔

تفصیلات کیلئے دیکھئے:
بے حیائی کا علاج:- نکاح کے فضائل، مقاصد، احکام وآداب


اللہ تعالی نے اس کے علاوہ ہر قسم کے غیر شرعی طریقہ کو حرام قرار دیا ہے اور آخرت کے سخت عذاب کا مستوجب قرار دیا ہے اور جنسی تسکین کے غیر شرعی طریقوں  پر شریعت میں دنیاوی سزائیں (حدود اور تعزیرات) بھی متعین ہیں۔


پس ہم جنس پرستی جنسی خواہش کے پورا کرنے کا غیر شرعی اور غیر فطری طریقہ ہے، اسی گناہ کی بناء پر لوط علیہ السلام کی قوم کو اللہ تعالی نے سخت عذاب دیا تھا اور شریعت میں بھی ہم جنس سے استمتاع کرنے والے کے لیے سخت سزا متعین کی گئی ہے، لہذا ہم جنس پرستی سخت حرام اور بہت بڑا گناہ ہے، اس کے کامل اجنتاب کرنا ضروری اور لازم ہے۔


لہٰذا جو کام اللہ تعالیٰ نے ناجائز اور حرام بتلاتے ہیں، سائنس ان میں کتنی خوبیاں بتلائے، حقیقةً وہ کام غلط اور حرام ہی رہیں گے، کیونکہ گندے اور خراب کام ہی اللہ نے حرام کیے ہیں۔ پس ہم جنسی کی طرف میلان اور رجحان تو فطرت (Nature) کا تقاضہ ہوسکتا ہے لیکن جائز حدود تک ہی رہے گا، اگر یہ میلان ناجائز حدود میں داخل ہورہا ہے تو یہ نفسانیت اور شیطانت ہے، لہٰذا آپ ہم جنس میں کسی نیک اور صالح شخص سے تعلق قائم کریں، اور ہر ناجائز اور گناہ کے کام سے پرہیز کریں۔


الحدیث:

عَنِ ‌ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَنَّهُ لَعَنَ الْمُتَشَبِّهَاتِ مِنَ النِّسَاءِ بِالرِّجَالِ، وَالْمُتَشَبِّهِينَ مِنَ الرِّجَالِ بِالنِّسَاءِ»۔

ترجمہ:

حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے مردوں سے مشابہت کرنے والی عورتوں پر اور عورتوں سے مشابہت کرنے والے مردوں پر لعنت فرمائی ہے۔

[سنن أبي داود:4097، مسند أحمد:2262+3058]


القرآن:

اور مت ڈھانکو حق کو جھوٹ کے ساتھ۔۔۔

[سورۃ البقرۃ:42]

اے ایمان والو ! ان لوگوں کی طرح نہ ہوجانا جنہوں نے کفر اختیار کرلیا ہے۔۔۔

[سورۃ آل عمران:156]






Saturday, 17 September 2022

بے حیائی کا علاج:- نکاح کے فضائل، مقاصد، احکام وآداب

نکاح کی ترغیب-حوصلہ افزائی:

القرآن:

تم میں سے جن (مردوں یا عورتوں) کا اس وقت نکاح نہ ہو، ان کا بھی نکاح کراؤ، اور تمہارے غلاموں اور باندیوں میں سے جو نکاح کے قابل ہوں، ان کا بھی۔ اگر وہ تنگ دست ہوں تو اللہ اپنے فضل سے انہیں بےنیاز کردے گا۔ اور اللہ بہت وسعت والا ہے، سب کچھ جانتا ہے۔

[سورۃ النور:32، تفسیر القرطبی:12/ 243]


اس سورت میں جہاں بےحیائی اور بدکاری کو روکنے کے لیے مختلف احکام دئیے گئے ہیں، وہاں انسان کی فطرت میں جو جنسی خواہش موجود ہے، اس کو حلال طریقے سے پورا کرنے کی ترغیب بھی دی گئی ہے، چنانچہ اس آیت میں یہ تلقین کی گئی ہے کہ جو بالغ مرد و عورت نکاح کے قابل ہوں، تمام متعلقین کو یہ کوشش کرنی چاہیے کہ ان کا نکاح ہوجائے، اور یہ اندیشہ نہ کرنا چاہیے کہ اگرچہ اس وقت تو وسعت موجود ہے، لیکن نکاح کے نتیجے میں بیوی بچوں کا خرچ زیادہ ہونے کی وجہ سے کہیں مفلسی نہ ہوجائے، بلکہ جب اس وقت نکاح کی وسعت موجود ہے تو اللہ تعالیٰ کے بھروسے پر نکاح کرلینا چاہیے۔ پاک دامنی کی نیت سے نکاح کیا جائے گا تو اللہ تعالیٰ آئندہ اخراجات کا بھی مناسب انتظام فرما دے گا۔ البتہ اگلی آیت میں ان لوگوں کا ذکر ہے جن کے پاس اس وقت بھی نکاح کی وسعت نہیں ہے۔ ان کو یہ تاکید کی گئی ہے کہ جب تک اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے ان میں وسعت پیدا کرے، اس وقت تک وہ پاک دامنی کے ساتھ رہیں۔

بعض لوگ نکاح میں اس لیے پس و پیش کیا کرتے ہیں کہ نکاح ہوجانے کے بعد بیوی بچوں کا بار کیسے اٹھے گا۔ انھیں سمجھا دیا کہ ایسے موہوم خطرات پر نکاح سے مت رکو۔ روزی تمہاری اور بیوی بچوں کی اللہ کے ہاتھ میں ہے کیا معلوم ہے کہ خدا چاہے تو ان ہی کی قسمت سے تمہارے رزق میں کشایش کر دے۔
لہٰذا نہ غنیٰ (قناعت) کے نہ ہونے کو نکاح کی رکاوٹ سمجھیں اور نہ نکاح کی رکاوٹ غنیٰ(قناعت) کو سمجھیں۔ اس کا دارومدار مشیت (چاہتِ خداوندی) ہے۔
جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا۔ (وَاِنْ خِفْتُمْ عَيْلَةً فَسَوْفَ يُغْنِيْكُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖٓ اِنْ شَاۗءَ ) 9 ۔ التوبہ :28) اور ظاہری اسباب کے اعتبار سے بھی یہ چیز معقول ہے کہ نکاح کرلینے یا ایسا ارادہ کرنے سے آدمی پر بوجھ پڑتا ہے اور وہ پہلے سے بڑھ کر کمائی کے لیے جدوجہد کرتا ہے۔ ادھر بیوی اور اولاد ہوجائے تو وہ بلکہ بعض اوقات بیوی کے کنبہخاندان) والے بھی کسب معاش میں اس کا ہاتھ بٹاتے ہیں۔ بہرحال روزی کی تنگی یا وسعت نکاح یا تجرد(تنہائی) پر موقوف نہیں۔ پھر یہ خیال نکاح سے مانع کیوں ہو۔





خلاصہ تفسیر:
)
احرار وآزاد میں سے) جو بےنکاح ہوں (خواہ مرد ہوں یا عورتیں) اور بےنکاح ہونا بھی عام ہے خواہ ابھی تک نکاح ہوا ہی نہ ہو یا ہونے کے بعد بیوی کی موت یا طلاق کے سبب بےنکاح رہ گئے) تم ان کا نکاح کردیا کرو اور (اسی طرح) تمہارے غلام اور لونڈیوں میں جو اس (نکاح) کے لائق ہوں (یعنی حقوق نکاح ادا کرسکتے ہوں) ان کا بھی (نکاح کردیا کرو محض اپنی مصلحت سے ان کی خواہش نکاح کی مصلحت کو فوت نہ کیا کرو اور احرار کے نکاح پیغام دینے والے کے فقر و افلاس پر نظر کر کے انکار نہ کردیا کرو جبکہ اس میں کسب معاش کی صلاحیت موجود ہو کیونکہ) اگر وہ لوگ مفلس ہوں گے تو اللہ تعالیٰ (اگر چاہے گا) ان کو اپنے فضل سے غنی کر دے گا (خلاصہ یہ ہے کہ نہ تو مالدار نہ ہونے کی وجہ سے نکاح سے انکار کرو اور نہ یہ خیال کرو کہ نکاح ہوگیا تو خرچ بڑھ جائے گا جو موجودہ حالت میں غنی و مالدار ہے وہ بھی نکاح کرنے سے محتاج و مفلس ہوجائے گا کیونکہ رزق کا مدار اصل میں اللہ تعالیٰ کی مشیت پر ہے وہ کسی مالدار کو بغیر نکاح کے بھی فقیر و محتاج کرسکتا ہے اور کسی غریب نکاح والے کو نکاح کے باوجود فقر و افلاس سے نکال سکتا ہے) اور اللہ تعالیٰ وسعت والا ہے (جس کو چاہے مالدار کر دے اور سب کا حال) خوب جاننے والا ہے (جس کو غنی کرنا مقتضائے حکمت و مصلحت ہوگا اس کو غنی کردیا جاوے گا اور جس کے محتاج و فقیر رہنے ہی میں اس کی مصلحت ہے اس کو فقیر رکھا جائے گا) اور (اگر کسی کو اپنے فقر و افلاس کی وجہ سے نکاح کا سامان میسر نہ ہو تو) ایسے لوگوں کو کہ جن کو نکاح کا مقدور نہیں ان کو چاہئے کہ (اپنے نفس کو) قابو میں رکھیں یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ (اگر چاہے تو) ان کو اپنے فضل سے غنی کر دے (اس وقت نکاح کرلیں)۔

معارف و مسائل:
بعض احکام نکاح
پہلے بیان ہوچکا ہے کہ سورة نور میں زیادہ تر وہ احکام ہیں جن کا تعلق عفت و عصمت کی حفاظت اور فواحش و بےحیائی کی روک تھام سے ہے۔ اس سلسلہ میں زنا اور اس کے متعلقات کی شدید سزاؤں کا ذکر کیا گیا پھر استیذان کا، پھر عورتوں کے پردے کا۔ شریعت اسلام چونکہ ایک معتدل شریعت ہے اس کے احکام سب ہی اعتدال پر اور انسان کے فطری جذبات و خواہشات کی رعایت کے ساتھ تعدی اور حد سے نکلنے کی ممانعت کے اصول پر دائر ہیں۔ اس لئے جب ایک طرف انسان کو ناجائز شہوت رانی سے سختی کے ساتھ روکا گیا تو ضرروی تھا کہ فطری جذبات و خواہشات کی رعایت سے اس کا کوئی جائز اور صحیح طریقہ بھی بتلایا جائے۔ اس کے علاوہ بقاء نسل کا عقلی اور شرعی تقاضا بھی یہی ہے کہ کچھ حدود کے اندر رہ کر مرد و عورت کے اختلاط کی کوئی صورت تجویز کی جائے۔ اسی کا نام قرآن و سنت کی اصطلاح میں نکاح ہے۔ آیت مذکورہ میں اس کے متعلق حرہ عورتوں کے اولیاء اور کنیزوں غلاموں کے آقاؤں کو حکم دیا ہے کہ وہ ان کا نکاح کردیا کریں۔ وَاَنْكِحُوا الْاَيَامٰى مِنْكُمْ الایة
اَيَامٰى، ایم کی جمع ہے جو ہر اس مرد عورت کے لئے استعمال کیا جاتا ہے جس کا نکاح موجود نہ ہو۔ خواہ اول ہی سے نکاح نہ کیا ہو یا زوجین میں سے کسی ایک کی موت سے یا طلاق سے نکاح ختم ہوچکا ہو۔ ایسے مردوں و عورتوں کے نکاح کے لئے ان کے اولیاء کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ ان کے نکاح کا انتظام کریں۔
آیت مذکورہ کے طرز خطاب سے اتنی بات تو باتفاق ائمہ فقہاء ثابت ہے کہ نکاح کا مسنون اور بہتر طریقہ یہی ہے کہ خود اپنا نکاح کرنے کے لئے کوئی مرد یا عورت بلا واسطہ اقدام کے بجائے اپنے اولیاء کے واسطے سے یہ کام انجام دے۔ اس میں دین و دنیا کے بہت سے مصالح اور فوائد ہیں۔ خصوصاً لڑکیوں کے معاملہ میں کہ لڑکیاں اپنے نکاح کا معاملہ خود طے کریں، یہ ایک قسم کی بےحیائی بھی ہے اور اس میں فواحش کے راستے کھل جانے کا خطرہ بھی۔ اسی لئے بعض روایات حدیث میں عورتوں کو خود اپنا نکاح بلا واسطہ ولی کرنے سے روکا بھی گیا ہے۔ امام اعظم ابوحنیفہ اور بعض دوسرے ائمہ کے نزدیک یہ حکم ایک خاص سنت اور شرعی ہدایت کی حیثیت میں ہے اگر کوئی بالغ لڑکی اپنا نکاح بغیر اجازت ولی کے اپنے کفو میں کرے تو نکاح صحیح ہوجائے گا اگرچہ خلاف سنت کرنے کی وجہ سے وہ موجب ملامت ہوگی جبکہ اس نے کسی مجبوری سے اس پر اقدام نہ کیا ہو۔
امام شافعی اور بعض دوسرے ائمہ کے نزدیک اس کا نکاح ہی باطل کالعدم ہوگا جب تک ولی کے واسطہ سے نہ ہو۔ یہ جگہ اختلافی مسائل کی مکمل تحقیق اور دونوں فقہاء کے دلائل بیان کرنے کی نہیں لیکن اتنی بات ظاہر ہے کہ مذکورہ آیت سے زیادہ سے زیادہ یہی ثابت ہوتا ہے کہ نکاح میں اولیاء کا واسطہ ہونا چاہئے باقی یہ صورت کہ کوئی بلا واسطہ اولیاء نکاح کرے تو اس کا کیا حکم ہوگا یہ آیت قرآن اس سے ساکت ہے۔ خصوصاً اس وجہ سے بھی کہ لفظ اَيَامٰى میں بالغان مرد و عورت دونوں داخل ہیں اور بالغ لڑکوں کا نکاح بلا واسطہ ولی سب کے نزدیک صحیح ہوجاتا ہے اس کو کوئی باطل نہیں کہتا۔ اسی طرح ظاہر یہ ہے کہ لڑکی بالغ اگر اپنا نکاح خود کرے تو وہ بھی صحیح اور منعقد ہوجائے۔ ہاں خلاف سنت کام کرنے پر ملامت دونوں کی کی جائے گی۔


نکاح واجب ہے یا سنت یا مختلف حالات میں حکم مختلف ہے:
اس پر ائمہ مجتہدین تقریباً سبھی متفق ہیں کہ جس شخص کو نکاح نہ کرنے کی صورت میں غالب گمان یہ ہو کہ وہ حدود شریعت پر قائم نہیں رہ سکے گا گناہ میں مبتلا ہوجائے گا اور نکاح کرنے پر اس کی قدرت بھی ہو کہ اس کے وسائل موجود ہوں تو ایسے شخص پر نکاح کرنا فرض یا واجب ہے جب تک نکاح نہ کرے گا گنہگار رہے گا۔ ہاں اگر نکاح کے وسائل موجود نہیں کہ کوئی مناسب عورت میسر نہیں یا اس کے لئے مہر معجل وغیرہ کی حد تک ضروری خرچ اس کے پاس نہیں تو اس کا حکم اگلی آیت میں یہ آیا ہے کہ اس کو چاہئے کہ وسائل کی فراہمی کی کوشش کرتا رہے اور جب تک وہ میسر نہ ہوں اپنے نفس کو قابو میں رکھنے اور صبر کرنے کی کوشش کرے۔ رسول اللہ نے ایسے شخص کے لئے ارشاد فرمایا ہے کہ وہ مسلسل روزے رکھے۔ اس سے غلبہ شہوت کو سکون ہوجاتا ہے۔
مسند احمد میں روایت ہے کہ حضرت عکاف سے رسول اللہ نے پوچھا کہ کیا تمہاری زوجہ ہے انہوں نے عرض کیا نہیں۔ پھر پوچھا کوئی شرعی لونڈی ہے کہا کہ نہیں پھر آپ نے دریافت کیا کہ تم صاحب وسعت ہو یا نہیں۔ انہوں نے عرض کیا کہ صاحب وسعت ہوں۔ مراد یہ تھی کہ کیا تم نکاح کے لئے ضروری نفقات کا انتظام کرسکتے ہو جس کے جواب میں انہوں نے اقرار کیا۔ اس پر رسول اللہ نے فرمایا کہ پھر تو تم شیطان کے بھائی ہو اور فرمایا کہ ہماری سنت نکاح کرنا ہے۔ تم میں بدترین آدمی وہ ہیں جو بےنکاح ہوں اور تہمارے مردوں میں سب سے رذیل وہ ہیں جو بےنکاح مر گئے۔

[تفسیر مظہری]
اس روایت کو بھی جمہور فقہاء نے اسی حالت پر محمول فرمایا ہے جبکہ نکاح نہ کرنے کی صورت میں گناہ کا خطرہ غالب ہو۔ عکاف کا حال رسول اللہ کو معلوم ہوگا کہ وہ صبر نہیں کرسکتے۔ اسی طرح مسند احمد میں حضرت انس سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے نکاح کرنے کا حکم دیا اور تَبَتُّل یعنی بےنکاح رہنے سے سختی کے ساتھ منع فرمایا۔

[تفسیر مظہری]

اسی طرح کی اور بھی روایات حدیث ہیں۔ ان سب کا محمل جمہور فقہاء کے نزدیک وہی صورت ہے کہ نکاح نہ کرنے میں ابتلاء معصیت کا خطرہ غالب ہو۔ اسی طرح اس پر بھی تقریباً سبھی فقہاء کا اتفاق ہے کہ جس شخص کو بظن غالب یہ معلوم ہو کہ وہ نکاح کرنے کی وجہ سے گناہ میں مبتلا ہوجائے گا مثلاً بیوی کے حقوق زوجیت ادا کرنے پر قدرت نہیں اس پر ظلم کا مرتکب ہوگا یا اس کے لئے نکاح کرنے کی صورت میں کوئی دوسرا گناہ یقینی طور پر لازم آجائے گا ایسے شخص کو نکاح کرنا حرام یا مکروہ ہے۔
اب اس شخص کا حکم باقی رہا جو حالت اعتدال میں ہے کہ نہ تو ترک نکاح سے گناہ کا خطرہ قوی ہے اور نہ نکاح کی صورت میں کسی گناہ کا اندیشہ غالب ہے۔ ایسے شخص کے بارے میں فقہاء کے اقوال مختلف ہیں کہ اس کو نکاح کرنا افضل ہے یا ترک نکاح کر کے نفلی عبادات میں مشغول ہونا افضل ہے۔ امام اعظم ابوحنیفہ کے نزدیک نفلی عبادات میں لگنے سے افضل نکاح کرنا ہے اور امام شافعی کے نزدیک اشتغال عبادت افضل ہے۔ وجہ اس اختلاف کی اصل میں یہ ہے کہ نکاح اپنی ذات کے اعتبار سے تو ایک مباح ہے جیسے کھانا پینا سونا وغیرہ ضروریات زندگی سب مباح ہیں اس میں عبادت کا پہلو اس نیت سے آجاتا ہے کہ اس کے ذریعہ آدمی اپنے آپ کو گناہ سے بچا سکے گا اور اولاد صالح پیدا ہوگی تو اس کا بھی ثواب ملے گا اور ایسی نیک نیت سے جو مباح کام بھی انسان کرتا ہے وہ اس کے لئے بالواسطہ عبادت بن جاتی ہے کھانا پینا اور سونا بھی اسی نیت سے عبادت ہوجاتا ہے اور اشتغال بالعبادت اپنی ذات میں عبادت ہے اس لئے امام شافعی عبادت کے لئے خلوت گزینی کو نکاح سے افضل قرار دیتے ہیں اور امام اعظم ابوحنیفہ کے نزدیک نکاح میں عبادت کا پہلو بہ نسبت دوسرے مباحات کے غالب ہے احادیث صحیحہ میں اس کو سنت المرسلین اور اپنی سنت قرار دے کر تاکیدات بکثرت آئی ہیں۔ ان روایات حدیث کے مجموعہ سے اتنا واضح طور پر ثابت ہوتا ہے کہ نکاح عام مباحات کی طرح مباح نہیں بلکہ سنت انبیاء ہے جس کی تاکیدات بھی حدیث میں آئی ہیں صرف نیت کی وجہ سے عبادت کی حیثیت اس میں نہیں بلکہ سنت انبیاء ہونے کی حیثیت سے بھی ہے۔ اگر کوئی کہے کہ اس طرح تو کھانا پینا سونا بھی سنت انبیاء ہے کہ سب نے ایسا کیا ہے مگر جواب واضح ہے کہ ان چیزوں پر سب انبیاء کا علم ہونے کے باوجود یہ کسی نے نہیں کہا نہ کسی حدیث میں آیا کہ کھانا پینا اور سونا سنت انبیاء ہے بلکہ اس کو عام انسانی عادت کے تابع انبیاء کا عمل قرار دیا ہے بخلاف نکاح کے اس کو صراحة سنت المرسلین اور اپنی سنت فرمایا ہے۔
تفسیر مظہری میں اس موقع پر ایک معتدل بات یہ کہی ہے کہ جو شخص حالت اعتدال میں ہو کہ نہ غلبہ شہوت سے مجبور و مغلوب ہو اور نہ نکاح کرنے سے کسی گناہ میں پڑنے کا اندیشہ رکھتا ہو۔ یہ شخص اگر یہ محسوس کرے کہ نکاح کرنے کے باوجود نکاح اور اہل و عیال کی مشغولیت میرے لئے کثرت ذکر اللہ اور توجہ الی اللہ سے مانع نہیں ہوگی تو اس کے لئے نکاح افضل ہے اور انبیاء (علیہم السلام) اور صلحاء امت کا عام حال یہی تھا، اور اگر اس کا اندازہ یہ ہے کہ نکاح اور اہل و عیال کے مشاغل اس کو دینی ترقی، کثرت ذکر وغیرہ سے روک دیں گے تو بحالت اعتدال اس کے لئے عبادت کے لئے خلوت گزینی اور ترک نکاح افضل ہے۔ قرآن کریم کی بہت سی آیات اس کی تطبیق پر شاہد ہیں ان میں ایک یہ ہے يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تُلْهِكُمْ اَمْوَالُكُمْ وَلَآ اَوْلَادُكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللّٰهِ اس میں یہی ہدایت ہے کہ انسان کے مال و اولاد اس کو اللہ تعالیٰ کے ذکر سے غافل کردینے کا سبب نہ بننے چاہئیں۔ واللہ سبحانہ وتعالی اعلم۔
وَالصّٰلِحِيْنَ مِنْ عِبَادِكُمْ وَاِمَاۗىِٕكُمْ ، یعنی اپنے غلاموں اور کنیزوں میں جو صالح ہوں ان کے نکاح کرا دیا کرو۔ یہ خطاب ان کے آقاؤں اور مالکوں کو ہے اس جگہ صالحین کا لفظ اپنے لغوی معنے میں آیا ہے یعنی ان میں جو شخص نکاح کی صلاحیت و استطاعت رکھتا ہو اس کا نکاح کرا دینے کا حکم ان کے آقاؤں کو دیا گیا ہے مراد اس صالحیت سے وہی ہے کہ بیوی کے حقوق زوجیت اور نفقہ و مہر معجل ادا کرنے کے قابل ہوں اور اگر صالحین کو معروف یعنی نیک لوگوں کے معنے میں لیا جائے تو پھر ان کی تخصیص بالذکر اس وجہ سے ہوگی کہ نکاح کا اصل مقصد حرام سے بچنے کا وہ صالحین ہی میں ہوسکتا ہے۔
بہرحال اپنے غلاموں اور کنیزوں میں جو صلاحیت نکاح کی رکھنے والے ہوں ان کے نکاح کا حکم ان کے آقاؤں کو دیا گیا ہے اور مراد اس سے یہ ہے کہ اگر وہ اپنی نکاح کی ضرورت ظاہر کریں اور خواہش کریں کہ ان کا نکاح کردیا جائے تو آقاؤں پر بعض فقہاء کے نزدیک واجب ہوگا کہ ان کے نکاح کردیں اور جمہور فقہاء کے نزدیک ان پر لازم ہے کہ ان کے نکاح میں رکاوٹ نہ ڈالیں بلکہ اجازت دیدیں کیونکہ مملوک غلاموں اور کنیزوں کا نکاح بغیر مالکوں کی اجازت کے نہیں ہوسکتا تو یہ حکم ایسا ہی ہوگا جیسا کہ قرآن کریم کی ایک آیت میں ہے فَلَا تَعْضُلُوْھُنَّ اَنْ يَّنْكِحْنَ اَزْوَاجَهُنَّ یعنی عورتوں کے اولیاء پر لازم ہے کہ اپنی زیر ولایت عورتوں کو نکاح سے نہ روکیں اور جیسا کہ رسول اللہ نے فرمایا کہ جب تمہارے پاس کوئی ایسا شخص منگنی لے کر آوے اور اخلاق آپ کو پسند ہوں تو ضرور نکاح کردو اگر ایسا نہیں کرو گے تو زمین میں فتنہ اور وسیع پیمانے کا فساد پیدا ہوجائے گا۔

[سنن الترمذی:]
خلاصہ یہ ہے کہ یہ حکم آقاؤں کو اس لئے دیا گیا کہ وہ اجازت نکاح دینے میں کوتاہی نہ کریں۔ خود نکاح کرانا ان کے ذمہ واجب ہو یہ ضروری نہیں۔ واللہ اعلم
اِنْ يَّكُوْنُوْا فُقَرَاۗءَ يُغْنِهِمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ اس میں ان غریب فقیر مسلمانوں کے لئے بشارت ہے جو اپنے دین کی حفاظت کے لئے نکاح کرنا چاہتے ہیں مگر وسائل مالیہ ان کے پاس نہیں کہ جب وہ اپنے دین کی حفاظت اور سنت رسول اللہ پر عمل کرنے کی نیت صالحہ سے نکاح کریں گے تو اللہ تعالیٰ ان کو مالی غنا بھی عطا فرما دیں گے اور اس میں ان لوگوں کو بھی ہدایت ہے جن کے پاس ایسے غریب لوگ منگنی لے کر جائیں کہ وہ محض ان کے فی الحال غریب فقیر ہونے کی وجہ سے رشتہ سے انکار نہ کردیں۔ مال آنے جانے والی چیز ہے اصل چیز صلاحیت عمل ہے اگر وہ ان میں موجود ہے تو ان کے نکاح سے انکار نہ کریں۔
حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ اس آیت میں حق تعالیٰ نے سب مسلمانوں کو نکاح کرنے کی ترغیب دی ہے اس میں آزاد اور غلام سب کو داخل فرمایا ہے اور نکاح کرنے پر ان سے غنا کا وعدہ فرمایا ہے۔

(ابن کثیر)

اور ابن ابی حاتم نے حضرت صدیق اکبر سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے مسلمانوں کو خطاب کر کے فرمایا کہ تم نکاح کرنے میں اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کرو تو اللہ تعالیٰ نے جو وعدہ غناء عطا فرمانے کا کیا ہے وہ پورا فرما دیں گے پھر یہ آیت پڑھی۔ اِنْ يَّكُوْنُوْا فُقَرَاۗءَ يُغْنِهِمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ اور حضرت عبداللہ بن مسعود نے فرمایا کہ تم غنی ہونا چاہتے ہو تو نکاح کرلو کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے اِنْ يَّكُوْنُوْا فُقَرَاۗءَ يُغْنِهِمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ

(رواہ ابن جریرو ذکر البغوی عن عمر نحواہ۔ کثیر(
تنبیہ
تفسیر مظہری میں ہے کہ مگر یہ یاد رہے کہ نکاح کرنے والے کو غنی اور مال عطا فرمانے کا وعدہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اسی حال میں ہے جبکہ نکاح کرنے والے کی نیت اپنی عفت کی حفاظت اور سنت پر عمل ہو اور پھر اللہ تعالیٰ پر توکل و اعتماد ہو اس کی دلیل اگلی آیت کے یہ الفاظ ہیں۔

 


Tuesday, 30 August 2022

شہادت کی فضیلت اور شہداء کی اقسام

اللہ تعالیٰ نے انسان کو لا تعداد نعمتوں سے نوازا ہے ان میں سے عظیم نعمت انسانی جان ہے۔انسانی جان کو شریعت میں اتنی اہمیت حاصل ہے کہ ایک شخص کے قتل کو تمام انسانیت کا قتل اور ایک جان بچانے کو تمام انسانیت کا بچانا کہا گیا ہے۔‘‘جان’’اللہ تعالیٰ کی امانت ہے اس لیے خود کشی کرنے اور خود کو ہلاک میں ڈالنے کی شریعت میں انتہائی مذمت کی گئی ہے تاہم اسلام کے دفاع کے لیے، اللہ تعالیٰ کے کلمہ کی سربلندی کے لیے اور مسلمانوں کی جان ،مال،عزت و آبرو کی حفاظت کے لیے اگر کوئی شخص اپنی جان قربان کر دے تو اس کے لیے جنت کی بشارت ہے اور ایسے شخص کو ’’شہید‘‘کہا جاتا ہے۔ہر قوم و مذہب میں کسی عظیم مقصد کے لیے اپنی جان قربان کرنے اور شہید ہونے کا تصور پایا جاتا ہے۔ انسان کی زندگی میں بعض اشیاء اس کے نزدیک اس قدر محبوب ہوتی ہیں کہ وہ ان کی خاطر اپنی جان دینے اور دوسرے کی جان لینے سے گریز نہیں کرتا۔وہ شخص جو اپنی قوم ،مذہب یا سرحدوں کی حفاظت کے لیے اپنی جان قربان کر دے اسے عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اور اس کا اس قدر احترام کیا جاتا ہے آئندہ آنے والی نسلیں اس کے طریقے کو اختیار کرتے ہوئے اپنی جان قربان کرنے سے دریغ نہیں کرتے۔اسلامی تعلیمات کے مطابق شہادت ایک عظیم رتبہ ہے جس کی بدولت شہید کو اللہ کی رضا کا مقام جنت عطا ہوتا ہے۔مقام شہادت اس قدر لائق تعظیم ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے خود شہادت کی تمنا کا اظہار ان کلمات سے فرمایا:


وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَوَدِدْتُ أَنِّي أَغْزُو فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَأُقْتَلُ ثُمَّ أَغْزُو فَأُقْتَلُ ثُمَّ أَغْزُو فَأُقْتَلُ

ترجمہ:

’’اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں محمد ﷺ کی جان ہے میں یہ اس بات سے شدید محبت کرتا ہوں کہ اللہ کی راہ میں جہادد کروں پھر شہید کردیا جاؤں پھر جہاد کروں پھر شہید کردیا جاؤں پھر جہاد کروں پھر شہید کر یا جاؤں۔‘‘

[صحيح مسلم:1876، سنن ابن ماجه:2753]

نبی کریم ﷺ کے فرمان کے مطابق شہادت کی حقیقت یہ ہے کہ ایک مسلمان اللہ کے کلمہ کی سربلندی کے لیے خلوص نیت کے ساتھ اللہ کے لیے اپنی جان قربان کر دے۔جس طرح قربانی کے جانور میں اللہ کو جانور کا گوشت و خون مطلوب نہیں ہوتا اسی طرح شہات میں بھی خون نہیں بلکہ اخلاص اور رضا و تسلیم مطلوب ہے جس کے پیش نظر ایک مجاہد اپنی جان اللہ کی راہ میں قربان کرتا ہے۔اسی لیے قیامت کے دن ان لوگوں کا خون رائیگاں جائے گا جنہوں نے خود کو شہید کہلوانے کے لیے دنیاوی مقاصد کے تحت اپنی جان دی ہو گی اور اللہ رب العزت کے نزدیک آخرت میں ان کے لیے کوئی جزاء نہ ہوگی۔

کیا ہر مقتول شہید کہلائے گا؟

حدیث شریف میں ہے:

وَيُؤْتَى بِالَّذِي قُتِلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَيَقُولُ اللَّهُ لَهُ فِي مَاذَا قُتِلْتَ فَيَقُولُ أُمِرْتُ بِالْجِهَادِ فِي سَبِيلِكَ فَقَاتَلْتُ حَتَّى قُتِلْتُ فَيَقُولُ اللَّهُ تَعَالَى لَهُ كَذَبْتَ وَتَقُولُ لَهُ الْمَلَائِكَةُ كَذَبْتَ وَيَقُولُ اللَّهُ بَلْ أَرَدْتَ أَنْ يُقَالَ فُلَانٌ جَرِيءٌ فَقَدْ قِيلَ ذَاكَ ثُمَّ ضَرَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى رُكْبَتِي فَقَالَ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ أُولَئِكَ الثَّلَاثَةُ أَوَّلُ خَلْقِ اللَّهِ تُسَعَّرُ بِهِمْ النَّارُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ 

ترجمہ:

’’جو اللہ کی راہ میں شہید ہوا تھا اس کو بلوایا جائے گا اللہ اس سے فرمائے گا تو کس راہ میں قتل کیا گیا؟وہ کہے گا مجھے تیری راہ میں جہاد کا حکم دیا گیا تو میں سے قتال کیا یہاں تک کہ میں شہید ہو گیا اللہ تعالیٰ اس سے فرمائے گا تو نے جھوٹ بولا اور اللہ فرمائے گا بلکہ تو نے یہ ارادہ کیا کہ یہ کہا جائے کہ فلاں بہت بہادر تھا اورتجھے یہ کہا گیا پھر رسول رسول اللہ ﷺ نے(راوی کہتے ہیں)میرے گھٹنے پر ہاتھ مار کر فرمایا اے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ یہ تینوں اللہ کی پہلی مخلوق ہوں گے جنہیں اللہ تعالیٰ قیامت کے دن جہنم میں داخل فرمائے گا۔‘‘

[سنن الترمذي:2382، السنن الكبرى - النسائي:11824، صحيح ابن خزيمة:2482]




کیا شہید ہونے کے لیے دشمن کے ہاتھوں قتل ہونا ضروری ہے؟
کتب فقہ میں شہید کامل کے لیے کچھ شرائط ذکر کی گئی ہیں۔ جیسے مقتول کا مظلوما قتل ہونا، مسلمان ہونا، وغیرہ وغیرہ۔ ان شرائط کی بنیاد پر جب کسی کے بارے یہ کہا جائے کہ یہ شہید نہیں ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس پر شہید الدنیا و الآخرۃ کے احکامات جاری نہ ہوں گے بلکہ دنیاوی اعتبار سے اسے غسل بھی دیا جائے اور اس کی تکفین کا بھی اہتمام ہو گا۔ شہید کامل کے حوالے سے کتب فقہ میں ایک بحث یہ بھی ہے کہ کیا میدان جنگ میں مسلمان کے شہید ہونے کے لیے یہ ضروری ہے کہ اس کی موت کے حصول کی نسبت دشمن کے فعل کی طرف ہو؟ جوہرہ نیرہ میں ہے کہ شہید وہ ہے جس کو براست کفار قتل کریں یا اس کے قتل کا سبب بنیں۔پھر اس کے بعد مصنف لکھتے ہیں:

وَكَذَا الْمُسْلِمُونَ إذَا انْهَزَمُوا فَأَلْقَوْا أَنْفُسَهُمْ فِي الْخَنْدَقِ أَوْ مِنْ السُّورِ فَمَاتُوا لَمْ يَكُونُوا شُهَدَاءَ إلَّا أَنْ يَكُونَ الْعَدُوُّ هُمْ الَّذِينَ ‌أَلْقَوْهُمْ ‌بِالطَّعْنِ ‌أَوْ ‌الدَّفْعِ أَوْ الْكَرِّ عَلَيْهِمْ
ترجمہ:
’’اور اسی طرح اگر مسلمان شکست کھا جائیں اور خود کو خندق میں گرا دیں یا دیوار سے پھینک دیں اور مر جائیں تو و ہ شہید نہیں ہوں گے مگر یہ کہ دشمن ان کو نیزہ مار کر یا دھکا دے کر یا مار کر ڈال دے۔‘‘
[الجوهرة النيرة على مختصر القدوري: 1 / 111]
یعنی اگر مسلمانوں نے کسی معرکہ میں شکست کھانے کے بعد اپنے آپ کو دشمن کے حوالے کرنے کے بجائے خود کو خندق میں پھینک دیا یا دیوار سے چھلانگ لگا کر خود کشی کر لی تو اس صورت میں انہیں شہید نہیں کہا جائے گا۔ان کا یہ عمل اس وقت ان کی بزدلی پر دلالت کرتا ہے ۔ان کو چاہئے تھا کہ وہ خودکشی کرنے کے بجائے دشمن سے لڑتے لڑتے شہید ہوجاتے کیونکہ ان کی موت کا سبب کفار نہیں بنے اس لیے ان کا شمار شہداء میں نہیں ہو گا۔البتہ اگر کفار نے خو ان کو دھکا دے کر خندق میں ڈال دیا تو اس صورت میں وہ شہداء میں شمار ہوں گے۔اس مسئلہ میں امام محمد اور امام ابو یوسف علیہما الرحمۃ کےمابین اختلاف ہے۔امام محمد کے نزدیک اگر کوئی شخص دشمن پر حملہ آور ہو اور اپنے گھوڑے سے گر مر جائے تو اس صورت میں وہ شہید نہیں ہو گا۔ان کے اس بیان کی بنیا اس بات پر ہے :

إذَا صَارَ مَقْتُولًا بِفِعْلٍ يُنْسَبُ إلَى الْعَدُوِّ كَانَ شَهِيدًا ، وَإِلَّا فَلَا
ترجمہ:
‘‘جب وہ مقتول ہو ایسے فعل کی وجہ سے جو منسوب ہو دشمن کی طرف تو وہ شہید ہو گا ورنہ نہیں۔’’
[بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع-الكاساني: 1/ 324، شرح الزيادات - قاضي خان:1 /193]
یعنی مرنے والے کے قتل کی نسبت کا دشمن کی طرف ہونا ضروری ہے اگر اس کی نسبت دشمن کی طرف نہ ہو تو اسے شہید کامل قرار نہیں دیا جائے۔امام ابو یوسف علیہ الرحمۃ کے نزدیک میدان جنگ میں مسلمان کی موت کے فعل کی نسبت دشمن کی طرف ہونا ضروری نہیں ۔آپ کی رائے کے بارے میں علامہ کاسانی لکھتےہیں:

وَالْأَصْلُ عِنْدَ أَبِي يُوسُفَ أَنَّهُ إذَا صَارَ مَقْتُولًا بِعَمَلِ الْحِرَابِ ، وَالْقِتَالِ كَانَ شَهِيدًا ، وَإِلَّا فَلَا سَوَاءٌ كَانَ مَنْسُوبًا إلَى الْعَدُوِّ ، أَوْ لَا
ترجمہ:
’’اور ابو یوسف کے نزدیک اصل یہ ہے کہ جب وہ دوران جنگ اور لڑائی قتل کر دیا جائے تو وہ شہید ہو گا چاہے اس فعل کی نسبت دشمن کی طرف ہو یا نہیں۔‘‘
[بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع-الكاساني: 1/ 324، شرح الزيادات - قاضي خان:1 /193]

قاضی خان کی شرح الزیادات میں ہے:
وقال أبو يوسف رحمه الله: لا يغسل، ‌إذا ‌صار ‌مقتولا في هذه القتال، سواء كان مضافا إلى العدوّ أو لم يكن۔
ترجمہ:
’’ابو یوسف علیہ الرحمۃ نے فرمایا : اسے غسل نہیں دیا جائے گا جب وہ اس قتال میں مقتول ہو چاہے اس کی نسبت دشمن کی طرف ہو یا نہ ہو۔‘‘
[شرح الزيادات - قاضي خان: 1/ 193، المحيط البرهاني:2 / 168]
یعنی آپ کے نزدیک شہید ہونے کے لیے یہ ضروری نہیں کہ مسلمان کے قتل کا سبب بالواسطہ یا بلا واسطہ دشمن کا فعل ہو۔مسلمان جنگ میں کسی بھی طور پر جنگ و قتال میں جاں بحق ہو وہ شہید کہلائے گا چاہے اس کی موت کی نسبت دشمن کی طرف ہو یا نہ ہو۔بہر صورت اسے شہید شمار کیا جائے گا اور اس پر دنیاوی اعتبار سے شہید کے احکامات جا ری ہوں گے۔

اس بارے میں امام حسن بن زیاد کی رائے یہ ہے :

وَالْأَصْلُ عِنْدَ الْحَسَنِ بْنِ زِيَادٍ أَنَّهُ إذَا صَارَ مَقْتُولًا بِمُبَاشَرَةِ الْعَدُوِّ ، بِحَيْثُ لَوْ وُجِدَ ذَلِكَ الْقَتْلُ فِيمَا بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ فِي دَارِ الْإِسْلَامِ لَا يَخْلُو عَنْ وُجُوبِ قِصَاصٍ ، أَوْ كَفَّارَةٍ كَانَ شَهِيدًا ، وَإِذَا صَارَ مَقْتُولًا بِالتَّسَبُّبِ لَمْ يَكُنْ شَهِيدًا۔
ترجمہ:
’’حسن بن زیاد کے نزدیک اصل یہ ہے کہ جب وہ براہ راست دشمن کے فعل سے قتل ہو تو وہ شہید ہے اگر وہ مسلمانوں کے درمیا ن دار الاسلام میں مقتول پایا جائے تو ووہ وجوب قصاص یا کفارہ سے خالی نہ ہوگا اور جب وہ کسی سبب سے مقتول ہو تو وہ شہید نہیں ہو گا۔‘‘
[بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع-الكاساني: 1/ 324، شرح الزيادات - قاضي خان:1 /193]

یعنی آپ کے نزدیک مسلمان کی موت کا سبب براہ راست دشمن سے قتال کرنا ہو ۔اگر مسلمان دشمن سے براہ راست قتل کے بجائے کسی اورسبب سے مر جائے تو اس صورت میں آپ کے نزدیک وہ شہید نہیں ہو گا۔

اگر امام محمد کے اصول کو تسلیم کر لیا جائے تو مسلمان فوج کے وہ تمام لوگ جو جنگ میں کسی ہوائی یا بحری جہاز کے حادثہ میں جاں بحق ہو جائیں ان میں سے کوئی بھی شہید نہیں ہو گا۔جنگ کے دوران بہت سےفوجی پل بنانے،سامان رسد لے جانے اور مرمت وغیرہ کے کام کے دوران یا سفر کی شدت کی وجہ سے یا گاڑی سے گر کرمر جاتے ہیں۔اس اصول کی بنیاد پر ان میں سے کسی کو بھی شہید قرار نہیں دیا جا سکتا کیونکہ ان کی موت کے فعل کی نسبت دشمن کے فعل کی طرف نہیں۔ اسی طرح امام حسن نے تو تسبب کی بھی نفی کر دی جس کے نتیجے میں بہت سے وہ مسلمان فوجی جو دشمن کے بچھائے ہوئے بارود کی زد میں آکر یا دشمن کی کھودی ہوئی خندق میں خو دگر کر یا مسلمانوں کے جنگی مال کی حفاظت کے دوران جاں بحق ہوتے ہیں ان میں سے کوئی بھی شہید نہ ہو گا۔ہماری رائے میں اس حوالے سے حضر ت امام ابو یوسف علیہ الرحمۃ کے مذہب میں توسع ہے۔یہ بات زیادہ صحیح معلوم ہوتی ہے کہ جنگ میں عمل حراب و قتال میں مسلمان کسی بھی طور پر مقتول ہو چاہے اس کی موت کے فعل کی نسبت دشمن کی طرف ہو یا نہ ہو وہ مجاہد بہر صورت شہید کہلائے گا۔لہذا شہید وہ شخص ہو گا جو جنگ میں اللہ تعالیٰ کی رضا اور اعلائے کلمۃ اللہ کے لیے اللہ کی راہ میں کسی بھی طور پر مارا جائے۔اس مسئلہ میں امام ابو یوسف علیہ الرحمۃ کے قول پر ہی فتویٰ دینا چاہئے تا کہ اس سے مسلمان فوج کا مورال بلند ہو اور ان میں اللہ کی راہ میں جان دینے کا جذبہ بیدار رہے۔

شہادت میں نیت کا بہت دخل ہے۔ایک انسان اگر چہ بظاہر شہید ہو لیکن اگر اس کی نیت اللہ کی رضا کی نہیں تو اگر چہ لوگ اسے شہید کہتے رہیں یا اس کو طمغے دیئے جاتے رہیں وہ عند اللہ شہید نہ ہو گا۔ہم یہاں چند احادیث طیبہ نقل کریں گے جس سے یہ بات مزید واضح ہو جائے گی۔حضرت امام ابو داؤد روایت فرماتے ہیں:

حَدَّثَنَا ‌هِشَامُ بْنُ خَالِدٍ الدِّمَشْقِيُّ، نَا ‌الْوَلِيدُ، عَنْ ‌مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سَلَّامٍ ، عَنْ ‌أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ ‌أَبِي سَلَّامٍ، عَنْ ‌رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَغَرْنَا عَلَى حَيٍّ مِنْ جُهَيْنَةَ، فَطَلَبَ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ رَجُلًا مِنْهُمْ فَضَرَبَهُ فَأَخْطَأَهُ، وَأَصَابَ نَفْسَهُ بِالسَّيْفِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَخُوكُمْ يَا مَعْشَرَ الْمُسْلِمِينَ فَابْتَدَرَهُ النَّاسُ، فَوَجَدُوهُ قَدْ مَاتَ، فَلَفَّهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ‌بِثِيَابِهِ ‌وَدِمَائِهِ، وَصَلَّى عَلَيْهِ وَدَفَنَهُ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ أَشَهِيدٌ هُوَ؟ قَالَ: نَعَمْ، وَأَنَا لَهُ شَهِيدٌ
ترجمہ:
’’ایک صحابیؓ فرماتے ہیں کہ ہم نے جہینہ کے ایک محلے پر حملہ کیا تو مسلمانوں میں نے ایک شخص نے ان کے ایک آدمی کو للکارا تو اس نے جب وار کیا وہ خطا گیا اور وہ تلوار کا وار اس کے خود لگا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اے مسلمانو! تمہارا بھائی! لوگ اس کی طرف لپکے وہ مر چکا تھا رسول اللہ ﷺ نے اس کو لپیٹا اس کے کپڑوں میں اور اس کے خون میں اور اس پر نماز جنازہ ادا کی اور اسے دفن کیا ۔صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ کیا یہ شہید ہے؟ فرمایا : ہاں اور میں اس پر گواہ ہوں۔‘‘
[سنن أبي داود:2539، السنن الكبرى - البيهقي:16393]

اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر چہ بظاہر اس صحابی رسول ﷺ نے غلطی سے خودکشی کا ارتکاب کیا تا ہم رسول اللہ ﷺ نے اسے اس کی نیت کے درست ہونے کی وجہ سے شہید قرار دیا۔اس مسئلہ میں اس کی خطا کو عذر تسلیم کرتے ہوئے اس کی نیت کا اعتبار کیا گیا اور نبی کریم ﷺ نے انہیں شہید قرار دیا کیونکہ اس کا مقصود اصلی دشمن کو قتل کرنا تھا نہ کہ خودکشی کرنا۔اس سے یہ معلوم ہوا کہ حصول شہادت میں اصل نیت کا اعتبار ہے۔حضرت امام مسلم علیہ الرحمۃ غزوہ خیبر کا ایک واقعہ حضرت عامر بن اکوع رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

۔۔۔۔۔ كَانَ سَيْفُ عَامِرٍ فِيهِ قِصَرٌ فَتَنَاوَلَ بِهِ سَاقَ يَهُودِيٍّ لِيَضْرِبَهُ وَيَرْجِعُ ذُبَابُ سَيْفِهِ فَأَصَابَ رُكْبَةَ عَامِرٍ فَمَاتَ مِنْهُ قَالَ فَلَمَّا قَفَلُوا قَالَ سَلَمَةُ وَهُوَ آخِذٌ بِيَدِي قَالَ فَلَمَّا رَآنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَاكِتًا قَالَ مَا لَكَ قُلْتُ لَهُ فَدَاكَ أَبِي وَأُمِّي زَعَمُوا أَنَّ عَامِرًا حَبِطَ عَمَلُهُ قَالَ مَنْ قَالَهُ قُلْتُ فُلَانٌ وَفُلَانٌ وَأُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ الْأَنْصَارِيُّ فَقَالَ كَذَبَ مَنْ قَالَهُ إِنَّ لَهُ لَأَجْرَيْنِ وَجَمَعَ بَيْنَ إِصْبَعَيْهِ إِنَّهُ لَجَاهِدٌ مُجَاهِدٌ۔
ترجمہ:
’’حضرت عامر رضی اللہ عنہ کی تلوار چھوٹی تھی۔ آپ نے اس سے ایک یہودی کی ٹانگ پر وار کیا تاکہ اسے قتل کریں ۔ آپ کی تلوار کی دونوں طرف کی دھار آپ ہی کو لگی، جس سے حضرت عامرؓ کا گھٹنا زخمی ہو گیا اور آپ اس سے شہید ہو گئے۔راوی کہتے ہیں کہ جب فوج واپس جانے لگی تو حضرت سلمہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اور وہ میرا ہاتھ پکڑے ہوئے تھے کہ جب رسول اللہ ﷺ نے مجھے دیکھا کہ میں خاموش ہوں تو فرمایا کہ تمہیں کیا ہو گیا ہے؟ میں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول ﷺ ! میرے ماں باپ آپ ﷺ پر فدا ہو جائیں۔ لوگوں کا خیال ہے کہ حضرت عامر رضی اللہ عنہ کے اعمال ضائع ہو گئے۔ آپ ﷺ نے فرمایا : یہ کس نے کہا ہے؟ میں نے عرض کی : فلاں بن فلاں نے اور اسید بن حضیر انصاری رضی اللہ عنہ نے۔ آپ ﷺ نے فرمایا : جس نے بھی یہ کہا ہے اس نے جھوٹ کہا اس کے لیے دو اجر ہیں۔ آپ ﷺ نے اپنی دونوں مبارک انگلیوں کو جمع فرمایا اور فرمایا کہ اس نے تو مجاہد بن کر جنگ کی ہے ۔‘‘
[صحيح البخاري:4196+6148+6891، صحيح مسلم:1802]

اس حدیث شریف سے بھی یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ اگر کسی مجاہد سے میدان جہاد میں دشمن پر حملہ کرتے ہوئے غلطی ہو جائے اور دشمن پر وار کرتے ہوئے بظاہر وہ خود کشی کا مرتکب ہو تو اس حدیث کے مطابق اس کی موت کو حرام موت قرار دینا درست نہیں۔جو ایسے مجاہد کی موت کو خودکشی قرار دیتے ہوئے اس کے اعمال برباد ہونے کی خبر دیں ان کی تکذیب رسول ﷺ نے خود فرمائی ہے۔ اسی طرح حضرت امام بخاری فرماتے ہیں کہ اہل اسلام اور اہل شرک کے ایک معرکہ میں ایک شخص بہت زیادہ بہادری سے لڑ رہا تھا تو لوگوں نے کہنا شروع کر دیا کہ آج کے دن یہ اجر میں سب پر سبقت لے جائے گا مگر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ یہ اہل جہنم مں سے ہے ۔ایک صحابی فرماتے ہیں کہ میں نے سوچا اب میں اس کے ساتھ رہوں گا یہاں تک کہ آپ ہر مقام پر اس کے ساتھ ہی لڑتے رہے ۔ جب وہ شخص شدید زخمی ہوا تو اس نے زخم کی شدت کے باعث موت کو جلدی طلب کیا اور تلوار کا پھل اور اس کی دھار اپنے سینے کے درمیان میں رکھ کر زور لگایا اور خود کشی کر لی ۔وہ صحابی اللہ کے رسول ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ اللہ کے رسول ﷺ ہیں ۔۔۔۔اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا :
إِنَّ الرَّجُلَ لَيَعْمَلُ عَمَلَ أَهْلِ الْجَنَّةِ فِيمَا يَبْدُو لِلنَّاسِ وَهُوَ مِنْ أَهْلِ النَّارِ وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَعْمَلُ عَمَلَ أَهْلِ النَّارِ فِيمَا يَبْدُو لِلنَّاسِ وَهُوَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ 
ترجمہ:
بے شک ایک شخص اہل جنت والے کام کرتا ہے یہاں تک کہ لوگوں کو لگتا ہے کہ وہ جنتی ہے جبکہ وہ جہنمی ہوتا ہے اور ایک شخص اہل جہنم والے کام کرتا ہے اور لوگوں کو لگتا ہے کہ وہ جہنمی ہے لیکن وہ جنتیوں میں سے ہوتا ہے ۔“
[صحيح البخاري:2898+4202+4207، صحيح مسلم:112]

اس حدیث شریف سے واضح طور پر یہ ثابت ہوتا ہے کہ اگر چہ کوئی شخص میدان جہاد میں اپنی تلوار سے کفار کو قتل کرتا رہے لیکن اگر اس کا اختتام خودکشی پر ہو تو وہ شہید نہیں کہلا سکتا۔ اس مسئلہ میں اس کا مقصود اصلی خود کشی کرنا تھا تا کہ وہ زخموں کی تکلیف سے خود کو نجات دے سکے۔ہماری رائے میں ان تمام احادیث میں غور کرنے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ان مختلف واقعا ت میں نیت اور مقاصد کا اعتبار کیا ہے۔لہذا جہاد کے جدید مسائل اور بالخصوص فدائی حملوں میں بھی احکامات کے بیان میں مقاصد ، نیت اور مسلمانوں کے فائدے کو ملحوظ رکھنا ضروری ہے۔



شہادت کے فضائل:

شہید کے بارے میں امام مسلم حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت فرماتے ہیں کہ ایک اعرابی نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا :

يَا رَسُولَ اللَّهِ الرَّجُلُ يُقَاتِلُ لِلْمَغْنَمِ وَالرَّجُلُ يُقَاتِلُ لِيُذْكَرَ وَالرَّجُلُ يُقَاتِلُ لِيُرَى مَكَانُهُ فَمَنْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ قَاتَلَ لِتَكُونَ كَلِمَةُ اللَّهِ أَعْلَى فَهُوَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ
ترجمہ:
’’اے اللہ کے رسول ﷺ ایک آدمی قتال کرتا ہے مال غنیمت کے لیے اور ایک آدمی قتال کرتا ہے اس لیے کہ اس کا ذکر کیا جائے اور ایک آدمی قتال کرتا ہے کہ اس کی شان بڑھ جائے اللہ کی راہ میں کون ہے ؟رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جس نے قتال کیا تا کہ اللہ کا کلمہ بلند ہو تو اس نے اللہ کی اللہ میں قتال کیا۔‘‘
[صحيح مسلم:1904، مسند أحمد:19596، صحيح الترغيب والترهيب:1328]
ایک دوسری روایت میں ہے :
عَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الرَّجُلِ يُقَاتِلُ شَجَاعَةً وَيُقَاتِلُ حَمِيَّةً وَيُقَاتِلُ رِيَاءً أَيُّ ذَلِكَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ قَاتَلَ لِتَكُونَ كَلِمَةُ اللَّهِ هِيَ الْعُلْيَا فَهُوَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ۔
ترجمہ:
’’حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے پوچھا گیا ایک آدمی کے بارے میں جو بہادری کے لیے قتال کرتا ہے اور حمیت کے لیے اور ریا کے لیے ان میں سے اللہ کی راہ میں کو ن ہے؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے اس لیے قتال کیا کہ اللہ کا کلمہ بلند ہو جائے تو وہ اللہ کی راہ میں ہے۔‘‘
[صحيح مسلم:1904، سنن ابن ماجه:2783، سنن الترمذي:1646]
ایک اور روایت میں اس طرح ہے:
عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْقِتَالِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَقَالَ الرَّجُلُ يُقَاتِلُ غَضَبًا وَيُقَاتِلُ حَمِيَّةً قَالَ فَرَفَعَ رَأْسَهُ إِلَيْهِ وَمَا رَفَعَ رَأْسَهُ إِلَيْهِ إِلَّا أَنَّهُ كَانَ قَائِمًا فَقَالَ مَنْ قَاتَلَ لِتَكُونَ كَلِمَةُ اللَّهِ هِيَ الْعُلْيَا فَهُوَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ۔
ترجمہ:
’’حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ ﷺ سے اللہ عزوجل کی راہ میں قتال کے بارے میں سوال کیا تو عرض کی کہ ایک آدمی غصہ میں قتال کرتا ہے اور ایک آدمی حمیت میں قتال کرتا ہے کہا آپ ﷺ نے اسک ی طرف اپنا سر اٹھا یا کیونکہ وہ کھڑا ہوا تھا فرمایا:جس نے اس لیے قتال کیا کہ اللہ کا کلمہ بلند ہو جائے اس نے اللہ کی راہ میں جہاد کیا۔‘‘
[صحيح البخاري:123، صحيح مسلم:1904]
ایک اور حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے شہید کے بارے میں فرمایا:
عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ قُتِلَ دُونَ مَالِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ وَمَنْ قُتِلَ دُونَ دِينِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ وَمَنْ قُتِلَ دُونَ دَمِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ وَمَنْ قُتِلَ دُونَ أَهْلِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ۔
ترجمہ:
’’حضرت سعید بن زید رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ کہا میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ جو اپنے مال کی حفاظت میں مارا گیا وہ شہید ہے اور جو اپنے دین کی حفاظت میں مارا گیا وہ شہید ہے اور کو اپنے خون کی حفاظت میں مارا گیا وہ شہید ہے اور جو اپنے خاندان والوں کی حفاظت میں مارا گیا وہ شہید ہے۔‘‘

ایک اور حدیث شریف میں ہے:

عن أبي مالك الأشعري قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول : " من فصل في سبيل الله فمات أو قتل أو وقصه فرسه أو بعيره أو لدغته هامة أو مات في فراشه بأي حتف شاء الله فإنه شهيد وإن له الجنة " .
ترجمہ:
’’حضرت ابو مالک اشعریؓ مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ جو اللہ کی راہ میں نکلا اور مر گیا یا قتل کر دیا گیا یا اس کے گھوڑے نے اس کو پھینک دیا یا اس کے اونٹ نے یا اس کو کسی موذی نے کاٹ لیا یا وہ اپنے بستر پر مر گیا چاہے وہ جیسے اللہ نے چاہا کسی بھی طرح سے مرے وہ شہید ہے اور اس لے لیے جنت ہے۔‘‘

ان روایات سے یہ معلوم ہوا کہ اگر کوئی مسلمان قومی حمیت و غیرت کے لیے یا شہرت و ریا کے لیے یا مال غنیمت کے حصول کے لیے یا بدلہ لینے کےلیے لڑتے لڑتے اپنی جان دے دیتا ہے تو وہ عند اللہ شہید نہیں ہو سکتا۔اللہ کے نزدیک شہادت کا رتبہ اسی کو ملے گا جس نے اللہ کے کلمہ کو بلند کرنے کے لیے تلوار اٹھائی ہو اور اس کے پیش نظر فقط اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی رضا ہو۔اسی طرح اگر کسی شخص نے اپنی جان ، مال اور اہل و عیال کی حفاظت میں جان دی تو وہ بھی شہید ہے۔
فقہاء کرام نے شہید کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا:
وَهُوَ فِي الشَّرْعِ مَنْ قَتَلَهُ أَهْلُ الْحَرْبِ وَالْبَغْيِ وَقُطَّاعُ الطَّرِيقِ۔
ترجمہ:
’’شریعت میں اس سے مراد وہ ہے جسے اہل حرب نے اور باغیوں نے یا ڈاکوؤں نے قتل کر دیا ہو۔‘‘
[الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية: 1/ 167]

قرآن مجید میں اللہ کی راہ میں جان دینے کی فضیلت کئی ایک مقامات پر بیان کی گئی ہے۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
إِنَّ اللَّهَ اشْتَرَىٰ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ أَنفُسَهُمْ وَأَمْوَالَهُم بِأَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَ يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَيَقْتُلُونَ وَيُقْتَلُونَ وَعْدًا عَلَيْهِ حَقًّا فِي التَّوْرَاةِ وَالْإِنجِيلِ وَالْقُرْآنِ وَمَنْ أَوْفَىٰ بِعَهْدِهِ مِنَ اللَّهِ فَاسْتَبْشِرُوا بِبَيْعِكُمُ الَّذِي بَايَعْتُم بِهِ وَذَٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ 
ترجمہ
”بیشک اﷲ نے اہلِ ایمان سے ان کی جانیں اور ان کے مال، ان کے لئے جنت کے عوض خرید لئے ہیں، (اب) وہ اللہ کی راہ میں قتال کرتے ہیں، سو وہ (حق کی خاطر) قتل کرتے ہیں اور (خود بھی) قتل کئے جاتے ہیں۔ (اﷲ نے) اپنے ذمۂ کرم پر پختہ وعدہ (لیا) ہے، تَورات میں (بھی) انجیل میں (بھی) اور قرآن میں (بھی)، اور کون اپنے وعدہ کو اﷲ سے زیادہ پورا کرنے والا ہے، سو (ایمان والو!) تم اپنے سودے پر خوشیاں مناؤ جس کے عوض تم نے (جان و مال کو) بیچا ہے، اور یہی تو زبردست کامیابی ہے۔“

ایک اور مقام پر شہدا کے بارے میں کہا گیا کہ انہیں مردہ نہ کہ و وہ زندہ ہیں :

وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا بَلْ أَحْيَاءٌ عِندَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ
ترجمہ:
اور جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل کئے جائیں انہیں ہرگز مردہ خیال (بھی) نہ کرنا، بلکہ وہ اپنے ربّ کے حضور زندہ ہیں انہیں (جنت کی نعمتوں کا) رزق دیا جاتا ہے۔

ایک اور مقام پر اللہ کے لیے جان دینے والوں کے بارے میں کہا گیا اللہ کی راہ میں جان وہی شخص دیتا ہے جس کا عقیدہ آخرت پر ایمان ہو :

فَلْيُقَاتِلْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ الَّذِينَ يَشْرُونَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا بِالْآخِرَةِ وَمَن يُقَاتِلْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَيُقْتَلْ أَوْ يَغْلِبْ فَسَوْفَ نُؤْتِيهِ أَجْرًا عَظِيمًا
ترجمہ:
”پس ان (مؤمنوں) کو اللہ کی راہ میں (دین کی سربلندی کے لئے) لڑنا چاہئے جو آخرت کے عوض دنیوی زندگی کو بیچ دیتے ہیں، اور جو کوئی اللہ کی راہ میں جنگ کرے، خواہ وہ (خود) قتل ہو جائے یا غالب آجائے توہم (دونوں صورتوں میں) عنقریب اسے عظیم اجر عطا فرمائیں گے۔“

ایک حدیث شریف میں نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

سیدنا مقدام بن معدیکرب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

«لِلشَّهِيدِ عِنْدَ اللَّهِ خِصَالٌ , يُغْفَرُ لَهُ فِي أَوَّلِ دَفْعَةٍ مِنْ دَمِهِ , وَيُرَى مَقْعَدَهُ مِنَ الْجَنَّةِ، وَيُحَلَّى حُلَّةَ الْإِيمَانِ , وَيُزَوَّجُ مِنَ الْحُورِ الْعَيْنِ , وَيُجَارُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ , وَيَأْمَنُ مِنَ الْفَزَعِ الْأَكْبَرِ , وَيُوضَعُ عَلَى رَأْسِهِ تَاجُ الْوَقَارِ , الْيَاقُوتَةُ مِنْهُ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا , وَيُزَوَّجُ ثِنْتَيْنِ وَسَبْعِينَ زَوْجَةً مِنَ الْحُورِ الْعَيْنِ , وَيُشَفَّعُ فِي سَبْعِينَ إِنْسَانًا مِنْ أَقَارِبِهِ» 

ترجمہ:

”شہید کے لیے اللہ تعالیٰ کے ہاں یہ انعامات ہیں: (‏‏‏‏۱) اس کے خون کے پہلے قطرے کے گرتے ہی اسے بخش دیا جاتا ہے۔ (‏‏‏‏۲) وہ جنت میں اپنا ٹھکانہ دیکھ لیتا ہے۔ (‏‏‏‏۳) اسے ایمان کے زیور سے مزین کیا جاتا ہے۔ (‏‏‏‏۴) بہتر مو ٹی آنکھوں والی حوروں سے اس کی شادی کی جائے گی۔ (‏‏‏‏۵) اسے عذ اب قبر سے محفوظ رکھا جائے گا۔ (‏‏‏‏۶) وہ (‏‏‏‏قیامت کی) بڑی گھبراہٹ سے امن میں رہے گا۔ (‏‏‏‏۷) اس کے سر پر وقار کا تاج رکھا جائے گا، جس کا ایک موتی دنیا و مافیہا سے بہتر ہو گا اور (‏‏‏‏۸) اس کے گھر کے ستر افراد کے حق میں اس کی سفارش قبول کی جائے گی۔“

[سنن الترمذي:1663، سنن ابن ماجه:2799، مسند أحمد:17182، مسند البزار:2715، المسند للشاشي:1259]


ان تمام حوالہ جات سے ہم یہ بتانا چاہتے ہیں کہ اسلام کے مطابق انسانی جان کی بہت اہمیت ہے اور یہ جان اللہ کی امانت ہے اسی لیے خود کشی اور ہر ایسا اقدام حرام ہے جس میں انسان کو اپنی جان کو ہلاکت میں ڈالنا پڑےلیکن اللہ کے کلمہ کی سربلندی کے لیے میدان جنگ میں گولیوں کی تڑ تڑاہٹ اور جہازوں کی بمباری کا سامنا کرتے ہوئے اپنی جان خطرے میں ڈالنا اور اللہ کی رضا کے لیے اپنی جان کی قربان دینا خود کو ہلاکت میں ڈالنا نہیں بلکہ مطلوب و مقصود مؤمن ہے۔ایسے خوش نصیب افراد کے لیے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی طرف سے اجر عظیم کا وعدہ ہے۔

خلاصہ:

جو شخص محض اس نیت سے جہاد کرے تاکہ اللہ کا کلمہ بلند ہو اپنے ملک، وطن، قوم اور زمین ، علاقے کے لیے نہیں، اور پھر وہ اس جہاد میں مارا جائے تو وہ اصلی دنیاوی شہید ہے، ا س کا حکم یہ ہے کہ اسے نہ تو غسل دیا جائے گا نہ ہی کفن دیا جائے گا، بلکہ اس کو بلا غسل اور بلا کفن کے دفن کردیا جائے گا اور وہ شہید جو کہ اخروی شہید کہلاتے ہیں جیسے کوئی ٹرین و بس وغیرہ میں دب کر مر گیا، ہیضہ وطاعون میں یا ولادت میں کسی عورت کی موت ہوگئی تو وہ بھی شہید ہے یعنی شہیدوں جیسا اجرو ثواب اسے بھی ملے گا، مگر اس کو دنیا میں غسل بھی دیا جائے گا اور کفن بھی دیا جائے گا، اور نماز جنازہ بھی پڑھی جائے گی۔




شہید کو شہید کیوں کہتے ہیں؟

شہید یا تو فاعِل کے معنی میں ہے یعنی حاضر ہونے والا چونکہ شہید موت سے پہلے ہی اپنے مقام پر حاضر ہوجاتا ہے یعنی دیکھ لیتا ہے اس لئے اسے شہید کہتے ہیں یا یہ مَفْعُول کے معنی میں ہے یعنی جس پر حاضر ہوا جائے چونکہ فرشتے شہید کے پاس حاضر ہوکر اسے خوش خبری سناتے ہیں اس لئے اسے شہید کہتے ہیں۔

[مرقاۃ المفاتیح ، 4 / 25 ، تحت الحدیث : 1546 ماخوذاً]


شہید کی جامع تعریف:

فقہاء کے ہاں شہید کی تعریف یہ ہے کہ:

من قتله اهل الحرب و البغی و قطاع الطريق او وجد في معرکة و به جرح او يخرج الدم من عينه او اذنه او جوفه او به اثر الحرق او وطئته دابة العدوّ و هو راکبها او سائقها او کدمته او صدمته بيدها او برجلها او نفروا دابيه بضرب او زجر فقتلته او طعنوه فالقوه في ماء او نار او رموه من سور او اسقطوا عليه حائطا او رموا نارا فينا او هبت بها ريح الينا او جعلوها في طرف خشب راسها عندنا او ارسلوا اليناما فاحترق او غرق مسلم او قتله مسلم ظلماً ولم تجب به دية ... ومن قتل مد افع عن نفسه او ماله او عن المسلين او اهل الذمة بای آلة قتل بحديد او حجر او خشب فهو شهيد.

ترجمہ:

’’جسے حربی کافر، باغی اور راہزنوں نے قتل کیا، یا میدان جنگ میں پایا گیا اور اس پر زخم تھے، یا اس کی آنکھ، کان یا پیٹ سے خون بہہ رہا تھا، یا جسم پر جلنے کا نشان تھا یا دشمن کے جانور (سواری) نے اسے روندا، یا سوار تھا یا اپنی سواری کو ہانک رہا تھا یا جانور نے کاٹا یا جانور نے روند ڈالا یا مارنے (ڈانٹنے) سے جانور بدکا، بھاگا اور اسے مار ڈالا یا کسی کو نیزہ مار کر پانی یا آگ میں پھینک کر جلا ڈالا یا جانور کو آندھی ہماری طرف لے آئی، یا لکڑی جلا کر ہماری طرف پھینک دی اور آدمی جل گیا ، یا کسی مسلمان نے ڈبو دیا ، یا ظلم سے مسلمان نے قتل کر دیا اور اس قتل سے قاتل پر دیت واجب نہ ہوئی۔ یونہی جو شخص اپنی جان، مال بچاتے ہوئے قتل ہو گیا، یا مسلمان کی یا ذمیوں (دار الاسلام میں رہنے والے غیر مسلم) حفاظت کرتے ہوئے قتل ہو گیا، کسی بھی آلہ سے لوہا ہو یا پتھر یا لکڑی، وہ شہید ہے۔‘‘

[الفتاوی الهندية المعروف فتاوی عالمگيری، 1: 167، 168، دار الفکر، بيروت]

شہید عربی زبان میں حاضر ہونے والے اور گواہ کو کہا جاتا ہے۔اصطلاح شریعت میں شہید کو شہید اس لیے کہتے ہیں کہ شہادت کے وقت ملائکہ اس کے اکرام میں حاضر ہوتے ہیں اور اس کی روح کو اللہ کی بارگاہ میں حاضر کیا جاتا ہے۔قیامت کے دن اس کا خون اس کے لیے گواہی دے گا نیز یہ کہ اللہ کی رضا کی خاطر اپنی جان قربان کرنے والا در حقیقت اسلام کی حقانیت پر گواہی یتا ہے۔فقہاء نے شہید کی تین اقسام بیان کی ہیں۔شہید کامل،شہید الآخرۃ اور شہید الدنیا۔شہید کامل سے مراد وہ شہید ہے جو دنیا اور آخرت کے اعتبار سے شہید قرار پائے ۔اس صورت میں اس کو غسل نہیں یا جائے گااور اسی کے لباس میں اسے کفن دیا جائے گا البتہ اس کی نماز جنازہ ادا کی جائے گی اور اللہ تعالیٰ کے پاس اس کے لیے اجر عظیم ہے۔شہید دنیا سے مراد وہ شخص ہے جس کاجان دینااللہ کی رضا کے لیے نہ ہو بلکہ مال غنیمت،شہرت یا عصبیت کے لیے جان دی ہو۔ایسے شخص کے لیے آخرت میں کوئی اجر نہیں۔شہید آخرت سے مراد وہ مسلمان ہیں جو دنیاوی احکامات کے اعتبار سے تو شہید نہیں یعنی ان کو غسل بھی دیا جائے گا۔ان کی تکفین بھی عام طریقے سے ہو گی اور ان کی نماز جنازہ بھی ادا کی جائے البتہ آخرت میں ان کو شہید کا ثواب عطا کیا جائےگا۔ جیسے ایک شخص کا پانی میں ڈوب کر مرنا یا جنگ میں زخمی ہونے کے بعد اپنے بستر پر مرنا۔

حدیث شریف میں ہے:

عن جابر بن عتيك قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : " الشهادة سبع سوى القتل في سبيل الله : المطعون شهيد والغريق شهيد وصاحب ذات الجنب شهيد والمبطون شهيد وصاحب الحريق شهيد والذي يموت تحت الهدم شهيد والمرأة تموت بجمع شهيد " .

ترجمہ:

’’حضرت  جابر بن عتیکؓ مروی ہے کہ کہا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: شہادت کی اللہ کی راہ میں قتل کیے جانے کے علاوہ ساتھ اقسام ہیں۔طاعون زدہ شہید ہے اور پانی میں غرق ہونے والا شہید ہے اور پھیپھڑوں کے مرض والا اور پیٹ کے مرض میں مرنے والا اور جل کر مرنے والا اور وہ جو دیوار کے نیچے آکر مر جائے اور عورت جو حاملہ ہو مر جائے تو شہید ہے۔‘‘

[]


شہید کون ہے اور کون نہیں اس کے بارے میں فقہاء نے تفصیلاً کتب فقہ میں بحث کی ہے۔یہاں ہم صرف اس بات کا ذکر کریں گے کہ کیا شہید ہونے کے لیے یہ ضروری ہے کہ مقتول ہونے کی اضافت دشمن کی طرف ہو یا نہیں؟








شہید کی حیات
القرآن:

﴿وَلَا تَقُولُوا لِمَنْ يُقْتَلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتٌ بَلْ أَحْيَاءٌ وَلَكِنْ لَا تَشْعُرُونَ ﴾           

ترجمہ:
اور مت کہو تم ان لوگوں کے بارے میں جو مارے جائیں اللہ کی راہ میں، کہ وہ مردہ ہیں، (کہ ایسے لوگ حقیقت میں مردہ نہیں) بلکہ وہ زندہ ہیں، مگر تم لوگ (ان کی اس زندگی کا) شعور نہیں رکھتے.
[پارہ۲۔ آیت 154 سورۃ البقرہ]



وَ لَا تَحۡسَبَنَّ الَّذِیۡنَ قُتِلُوۡا فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ اَمۡوَاتًا ؕ بَلۡ اَحۡیَآءٌ عِنۡدَ رَبِّہِمۡ یُرۡزَقُوۡنَ . فَرِحينَ بِما ءاتىٰهُمُ اللَّهُ مِن فَضلِهِ وَيَستَبشِرونَ بِالَّذينَ لَم يَلحَقوا بِهِم مِن خَلفِهِم أَلّا خَوفٌ عَلَيهِم وَلا هُم يَحزَنونَ . يَستَبشِرونَ بِنِعمَةٍ مِنَ اللَّهِ وَفَضلٍ وَأَنَّ اللَّهَ لا يُضيعُ أَجرَ المُؤمِنينَ.
ترجمہ:
اور تو نہ سمجھ ان لوگوں کو جو مارے گئے اللہ کی راہ میں مردے بلکہ وہ زندہ ہیں اپنے رب کے پاس کھاتے پیتے. خوشی کرتے ہیں اس پر جو دیا ان کو اللہ نے اپنے فضل سے اور خوش وقت ہوتے ہیں انکی طرف سے جو ابھی تک نہیں پہنچے ان کے پاس ان کے پیچھے سے اس واسطے کہ نہ ڈر ہے ان پر اور نہ انکو غم. خوش وقت ہوتے ہیں اللہ کی نعمت اور فضل سے اور اس بات سے کہ اللہ ضائع نہیں کرتا مزدوری ایمان والوں کی.
[سورۃ آل عمران:١٦٩-١٧١]

عَنْ عَبدِ اللَّهِ ، قَالَ : لَأَنْ أَحْلِفَ تِسْعًا ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " قُتِلَ قَتْلًا ، أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَحْلِفَ وَاحِدَةً أَنَّهُ لَمْ يُقْتَلْ ، . وَذَلِكَ بِأَنَّ اللَّهَ جَعَلَهُ نَبِيًّا ، وَاتَّخَذَهُ شَهِيدًا "
ترجمہ:
حضرت عبداللہ بن مسعودؓ سے روایت ہے کہ : مجھے رسول اللہ ﷺ کے قتل پر نو (٩) قسمیں کھانا اس سے زیادہ پسند ہے کہ ان کے قتل نہ ہونے پر ایک (١) قسم کھاؤں، اس لئے کہ الله نے آپ کو نبی بھی بنایا اور شہید بھی.
[مسند أحمد: 3742؛ المستدرك الحاکم: 3/57، 4332 ؛ دلائل النبوة للبيهقي:3102]

أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى الأَشْقَرُ ، ثنا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى الْمَرْوَزِيُّ ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ ، ثنا عَنْبَسَةُ ، ثنا يُونُسُ ، عَنِابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : قَالَ عُرْوَةُ : كَانَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا تَقُولُ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي مَرَضِهِ الَّذِي تُوُفِّيَ فِيهِ : " يَا عَائِشَةُ ، إِنِّي أَجِدُ أَلَمَ الطَّعَامِ الَّذِي أَكَلْتُهُ بِخَيْبَرَ ، فَهَذَا أَوَانُ انْقِطَاعِ أَبْهَرِي مِنْ ذَلِكَ السُّمِّ " . هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ ، وَقَدْ أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ ، فَقَالَ : وَقَالَ يُونُسُ .
[المستدرك على الصحيحين: 3/56، 4331  ؛ السنن الكبرى للبيهقي: 10/9، 18146 ؛ دلائل النبوة للبيهقي: 3101]
ترجمہ:
حضرت عائشہ رضی الله عنہا سے مروی ہے کہ جس بیماری میں رسول الله ﷺ کا انتقال ہوا، اس میں آپ فرماتے تھے کہ مجھے اس کھانے کا زہر جو میں نے خیبر میں کھایا تھا برابر محسوس ہوتا رہا یہاں تک کہ اب وہ وقت قریب آگیا ہے کہ اس زہر سے میری شہہ رگ کٹ جاۓ.
[المستدرك على الصحيحين: 3/56، 4331  ؛ السنن الكبرى للبيهقي: 10/9، 18146 ؛ دلائل النبوة للبيهقي: 3101]

600 کے قریب کتب کے مصنف علامہ جلال الدین سیوطیؒ الشافعی (۸۴۹–۹۱۱ ھہ) فرماتے ہیں :
قال البيهقي في كتاب الاعتقاد : الأنبياء بعدما قبضوا ردت إليهم أرواحهم فهم أحياء عند ربهم كالشهداء ، وقال القرطبي في التذكرة في حديث الصعقة نقلا عن شيخه : الموت ليس بعدم محض ، وإنما هو انتقال من حال إلى حال ، ويدل على ذلك أن الشهداء بعد قتلهم وموتهم أحياء يرزقون فرحين مستبشرين وهذه صفة الأحياء في الدنيا ، وإذا كان هذا في الشهداء فالأنبياء  أحق بذلك وأولى، وقد صح أن الأرض لا تأكل أجساد الأنبياء ، وأنه صلى الله عليه وسلم اجتمع بالأنبياء ليلة الإسراء في بيت المقدس وفي السماء ، ورأى موسى قائما يصلي في قبره وأخبر صلى الله عليه وسلم بأنه يرد السلام على كل من يسلم عليه ، إلى غير ذلك مما يحصل من جملته القطع بأن موت الأنبياء إنما هو راجع إلى أن غيبوا عنا بحيث لا ندركهم وإن كانوا موجودين أحياء ، وذلك كالحال في الملائكة فإنهم موجودون أحياء ولا يراهم أحد من نوعنا إلا من خصه الله بكرامته من أوليائه ، انتهى
ترجمہ:
امام بیہقی نے "کتاب الاعتقاد" میں بیان کیا ہے کہ انبیاء علیہ السلام کی روحیں وفات کے بعد پھر ان کی اجسام میں واپس کردی گئیں چنانچہ وہ اپنے رب کے پاس شہیدوں کی طرح زندہ ہیں.
امام قرطبی نے "تذکرہ" میں حدیث صعقه کے متعلق اپنے شیخ سے یہ قول نقل کیا ہے کہ "موت عدم محض کو نہیں کہتے بلکہ وہ خاص ایک حال سے دوسرے حال کی طرف منتقل ہونے کا نام ہے، اس کا ثبوت یہ ہے کہ شہید لوگ اپنے قتل وموت کے بعد زندہ رہتے ہیں، روزی دیے جاتے ہیں ، ہشاش بشاش رہتے ہیں اور یہ صفت دنیا میں زندوں کی ہے اور جب یہ حال شہداء کا ہے تو انبیاء علیہ السلام بدرجہ اولیٰ اس کے مستحق ہیں. یہ بات بھی پایۂ صحت کو پہنچ چکی ہے کہ زمین انبیاء کرامؑ کے اجسام کو نہیں کھاتی، نیز آنحضرتؐ نے شب معراج میں انبیاءؑ سے بیت المقدس اور آسمان پر ملاقات کی اور حضرت موسیٰؑ کو دیکھا کہ اپنی قبر میں کھڑے نماز پڑھ رہے ہیں اور خود آپؐ نے فرمایا کہ"جو شخص مجھ پر سلام بھیجے گا ، میں اس کو اس کے سلام کا جواب دوں گا". اس کے علاوہ اور بھی روایات ہیں. ((ان سب کے مجموعہ سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ انبیاءؑ کی موت کا مآل صرف یہ ہے کہ وہ ہم سے اس طرح غائب ہیں کہ ہم ان کو نہیں پاسکتے گو زندہ وموجود ہیں اور ان کا حال فرشتوں کے جیسا ہے کہ وہ زندہ وموجود ہیں ہم میں سے کوئی ان کو نہیں دیکھتا بجز ان اولیاء کرامؒ کے جن کو الله تعالیٰ نے اپنی کرامات کے ساتھ مخصوص فرمایا ہے)).
[الحاوي للفتاوي  للسيوطي(م911ھ)  »  ج2/ ص180]
[التوضيح لشرح الجامع الصحيح-ابن الملقن (م804ھ »  ج15 / ص 476]
[الروح - ابن القيم(م751ھ) - ط عطاءات العلم  » ج1/ ص102]
[التذكرة بأحوال الموتى وأمور الآخرة-شمس الدينالقرطبي(م681ھ): ص460]
[مجموع رسائل الحافظ العلائي(م671ھ): ص41]
[المفهم لما أشكل من تلخيص كتاب مسلم-أبو العباس القرطبي (م656ھج6 / ص 232]

آپؒ یہ بھی فرماتے ہیں :
حياة النبي صلى الله عليه وسلم في قبره هو وسائر الأنبياء معلومة عندنا علما قطعيا لما قام عندنا من الأدلة في ذلك وتواترت [به] الأخبار ، وقد ألف البيهقي جزءا في حياة الأنبياء في قبورهم ، فمن الأخبار الدالة على ذلك
[الحاوي للفتاوي للسيوطي(م911ھ) » الفتاوى الحديثية » كتاب البعث » مبحث النبوات » تزيين الآرائك في إرسال النبي صلى الله عليه وسلم إلى الملائك» أنباء الأذكياء بحياة الانبياء،   ... 2/ 180+ 317]
ترجمہ:
نبی اقدس ﷺ اور دوسرے انبیاء (علیھم السلام) کا اپنی اپنی قبر میں(یعنی برزخی) حیات ہونا ہمیں یقینی طور پر معلوم ہے، اس لئے کہ ہمارے نزدیک اس پر دلائل قائم ہیں اور اس مسئلہ پر اور اس مسئلہ پر دلالت کرنے والی روایات ہمارے نزدیک متواتر ہیں.


اس آیت کے بارے میں حافظ ابن حجر عسقلانی ؒ نے فرمایا:
وَإِذَا ‌ثَبَتَ ‌أَنَّهُمْ ‌أَحْيَاءٌ مِنْ حَيْثُ النَّقْلِ فَإِنَّهُ يُقَوِّيهِ مِنْ حَيْثُ النَّظَرِ كَوْنُ الشُّهَدَاءِ أَحْيَاءٌ بِنَصِّ الْقُرْآنِ وَالْأَنْبِيَاءُ أَفْضَلُ مِنَ الشُّهَدَاءِ
ترجمہ:
اور جب یہ ثابت ہوا کہ وہ زندہ ہیں نقل کے لحاظ سے تو اس سے اس بات کو تقویت ملتی ہے کہ قرآن کی نص(واضح بیان) کے مطابق شہداء زندہ ہیں اور انبیاء شہداء سے افضل ہیں۔
[فتح الباري لابن حجر: جلد 6ص448 الناشر: دار المعرفة - بيروت، ١٣٧٩]





شہداء کی اقسام:

عَنْ رَاشِدِ بْنِ حُبَيْشٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَى عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ يَعُودُهُ فِي مَرَضِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَعْلَمُونَ مَنْ الشَّهِيدُ مِنْ أُمَّتِي فَأَرَمَّ الْقَوْمُ فَقَالَ عُبَادَةُ سَانِدُونِي فَأَسْنَدُوهُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ الصَّابِرُ الْمُحْتَسِبُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ شُهَدَاءَ أُمَّتِي إِذًا لَقَلِيلٌ الْقَتْلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ شَهَادَةٌ وَالطَّاعُونُ شَهَادَةٌ وَالْغَرَقُ شَهَادَةٌ وَالْبَطْنُ شَهَادَةٌ وَالنُّفَسَاءُ يَجُرُّهَا وَلَدُهَا بِسُرَرِهِ إِلَى الْجَنَّةِ قَالَ وَزَادَ فِيهَا أَبُو الْعَوَّامِ سَادِنُ بَيْتِ الْمَقْدِسِ وَالْحَرْقُ وَالسَّيْلُ ۔

ترجمہ:

حضرت راشد بن حبیش سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ حضرت عبادہ بن صامتؓ کی عیادت کے لئے ان کے یہاں تشریف لائے تو فرمایا کہ کیا تم لوگ جانتے ہو کہ میری امت کے شہید کون لوگ ہیں؟ لوگ خاموش رہے، حضرت عبادہ نے لوگوں سے کہا کہ مجھے سہ ارادے کر بٹھادو، لوگوں نے بٹھادیا، وہ کہنے لگے: یا رسول اللہ! جو شخص صابر اور اس پر ثواب کی نیت رکھے۔ نبی ﷺ نے فرمایا: اس طرح تو میری امت کے شہداء بہت تھوڑے رہ جائیں گے۔ اللہ کے راستے میں قتل ہوجانا بھی شہادت ہے، طاعون میں مرجانا بھی شہادت ہے، دریاء میں غرق ہوجانا بھی، اور پیٹ کی بیماری میں بھی مرنا بھی شہادت ہے، اور نفاس کی حالت میں مرنے والی عورت کا اس کا بچہ اپنے ہاتھ سے کھینچ کر جنت میں لے جائے گا۔(یعنی وہ عورت بھی شہید ہے جو حالت نفاس میں پیدائش کی تکلیف برداشت نہ کرسکے اور فوت ہوجائے۔)

ابوعوام نامی راوی نے اس میں

بیت المقدس کے کنجی برادر، جل کر مرنے والے، اور سیلاب میں مرنے والوں کو بھی شامل کیا ہے۔

گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

[مسند احمد : حدیث نمبر 15998 (15428)]






اس حدیثِ پاک میں بیان کیا گیا کہ شہادت جو کہ ایک عظیمُ الشّان منصب ہے وہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں لڑتے ہوئے جان دینے کے علاوہ بھی بعض صورتوں میں حاصل ہوتا ہے ، یاد رہے کہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں لڑتے ہوئے جان دینے کو شہادتِ حقیقیہ سے مَوسُوم کیا جاتا ہے جبکہ اس کے علاوہ کو شہادتِ حُکمیہ کہا جاتا ہے۔

[مرقاۃ المفاتیح ، 4 / 39 ، تحت الحدیث : 1561 ماخوذاً]



فقہاءِ کرام نے شہید  کی دو قسمیں بیان کی ہیں:

(1)حقیقی اور (2)حکمی۔


اور درحقیقت یہ دو قسمیں دنیاوی اَحکام کے اعتبار سے ہیں؛  چناں چہ ’’حقیقی شہید‘‘  وہ کہلاتا ہے جس پر شہید کے دنیاوی احکام  لاگو ہوتے ہیں، یعنی اس کو غسل وکفن نہیں دیا جائے گا، اور جنازہ پڑھ کر اُن ہی کپڑوں میں دفن کر دیا جائے جن میں شہید ہوا ہے،  مثلاً: اللہ کے راستہ میں شہید ہونے والا، یا کسی کے ہاتھ ناحق قتل ہونے والا بشرطیکہ وہ بغیر علاج معالجہ اور وصیت وغیرہ اسی جگہ دم توڑجائے اور اس پر زخمی ہونے کے بعد دم توڑنے تک ایک نماز کا وقت نہ گزرا ہو۔ نیز یہ بھی ضروری ہے کہ یہ قتلِ ناحق ایسا ہو کہ اصولًا اس کے قاتل پر قصاص واجب ہوتا ہو، یعنی آلۂ قتل سے قصدًا قتل کیا ہو۔


اور ’’حکمی شہید‘‘  وہ کہلاتا ہے جس کے بارے میں احادیث میں شہادت کی بشارت وارد ہوئی ہو، ایسا شخص آخرت میں تو شہیدوں کی فہرست میں شمار کیا جائے گا، البتہ دنیا میں اس پر عام میتوں والے اَحکام جاری ہوں گے، یعنی اس کو غسل دیا جائے گا، اور کفن بھی دیا جائے گا۔ متفرق احادیث میں ایسے شہداء کی چالیس سے زیادہ قسمیں مذکور ہیں،تمام  اقسام کےاحاطے کی یہاں گنجائش نہیں، ان میں سے چند یہ ہیں:


ڈوب کر موت آئے یا کسی آسمانی آفت میں اس کی موت آجائے یا ہیضہ، طاعون یا دیگر ایسے اسباب سے اس کی موت واقع ہو یا مسافر کا سفر میں انتقال ہوجائے وغیرہ۔


علامہ ابن عابدین شامی رحمہ اللہ نے حاشیہ رد المحتار میں تمام اقسام کو جمع کیا ہے ، جس کا لب لباب ڈاکٹر عبدالحئی عارفی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب ’’احکامِ میت‘‘  میں ذکر کیا ہے، وہاں ملاحظہ کرلیا جائے۔

[الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (جلد 2 / صفحہ 247 - 252)]


جہاں تک اجر و ثواب کی بات ہے اس کی بنیاد پر یہ دو قسمیں نہیں ہیں۔  بعض شہیدِ حکمی اجر و ثواب میں شہیدِ حقیقی کے ساتھ شامل ہوں گے، اور بعض شہیدِ حکمی کا اجر شہیدِ حقیقی سے کم بھی ہوسکتاہے۔ مثلاً جو شخص میدانِ جہاد  میں کفار سے لڑتے ہوئے جان دے دے، لیکن دم توڑنے سے پہلے اسے علاج و معالجہ وغیرہ کی سہولت حاصل ہوجائے، یا اپنے علاقے میں ظلماً اس پر قاتلانہ حملہ ہوجائے اور وہ زخمی ہوکر علاج و غذا سے مستفید ہو اور پھر جان دے دے تو اس طرح کی صورتوں میں وہ حقیقی  شہید کے درجات کا ہی مستحق ہوگا، مثلاً: حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شہادت وغیرہ۔


جب کہ شہیدِ حکمی کی بعض صورتیں وہ ہیں جو  عام مسلمان اموات کے مقابلے میں فضیلت کی وجہ سے شہید  کہلائے، مثلاً: طاعون میں یا پیٹ کے درد میں مرنے والا، یا بچہ جنتے ہوئے عورت جان دے دے وغیرہ۔


ظاہر ہے کہ قرآنِ مجید اور اَحادیثِ مبارکہ میں جہاں شہداء کے فضائل ہیں ان کا سیاق و سباق بتاتا ہے کہ یہ فضائل شہداء فی سبیل اللہ کے لیے ہیں، اور جہاں احادیثِ مبارکہ میں شہداءِ حکمی کا بیان ہے  وہاں ان کی خصوصیت کا بیان ہے، الغرض  نصوص میں جو اجر و ثواب جس قسم کے شہید کے لیے بیان کیا گیا ہے، اس اجر و ثواب کے بارے میں تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے امید رکھی جائے گی کہ یہ شہید اس اجر کا مستحق ہے، اور ان فضائل کو اس شہید کے لیے بیان  کیا جاسکتاہے، اور جہاں ضرورت ہو بیان بھی کرنا چاہیے۔ لیکن یہ حقیقت ہے کہ اللہ تعالیٰ کے دین کے تحفظ، دفاع اور نصرت کے لیے جو شخص اپنے جان و مال کی قربانی دیتے ہوئے میدانِ جہاد میں شہید ہو اس کی فضیلت زیادہ بلند اور سِوا ہوگی، اس کے مقابلے میں جو طاعون یا  پیٹ کے درد وغیرہ میں یا چھت سے گر کر مرجائے۔ لیکن ہر ہر شہید کو ہر فضیلت حاصل ہو، یہ ضروری بھی نہیں ہے، اور اس کا دعویٰ بھی نہیں کیا جاسکتا۔ آخرت کے اَحکام اور اجر و ثواب کو اللہ تعالیٰ کے سپرد کردینا چاہیے۔









*ذکر دعا و استغفار کا بیان:*

حضرت عائشہ بنت قدامہؓ سے روایت ہے کہ میں نے سنا رسول اللہ ﷺ کو (یہ دعا) کہتے:

«اللهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ الْأَعْمَيَيْنِ»

اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں دو اندھی چیزوں سے۔

پوچھا گیا:

دو اندھی چیزیں کیا ہیں؟

فرمایا:

سیلاب اور حملہ آور اونٹ سے۔

[المعجم الكبير للطبراني:858، معرفة الصحابة لأبي نعيم:7755]

یہ حدیث حضرت ابن عمرؓ سے بھی مروی ہے۔

[أمثال الحديث للرامهرمزي: صفحہ 158]

https://www.youtube.com/watch?v=O3bGVGfEKd0





حضرت حذیفہ بن الیمانؓ، حضرت عروہ بن مسعود الثقفیؓ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:

«لَقِّنُوا مَوْتَاكُمْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، فَإِنَّهَا تَهْدِمُ الْخَطَايَا كَمَا ‌يَهْدِمُ ‌السَّيْلُ ‌الْبُنْيَانَ» ، قِيلَ: يَا رَسُولَ اللهِ، كَيْفَ هِيَ لِلْأَحْيَاءِ؟ قَالَ: «هِيَ لِلْأَحْيَاءِ أَهْدَمُ وَأَهْدَمُ»

ترجمہ:

تلقین کیا کرو اپنے مردوں کو لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ کی(یعنی نہیں ہے کوئی معبود سوائے اللہ کے) ، کیونکہ یہ گناہوں کو یوں گرادیتا ہے جیسے سیلاب عمارتوں کو لوگوں نے عرض کی کیسے یہ تو زندوں کے لیے ہے؟ آپ نے فرمایا: بس گرادیتا ہے گرادیتا ہے۔

[معرفة الصحابة لأبي نعيم:5488، أسد الغابة في معرفة الصحابة:3658، جامع المسانيد والسنن-ابن كثير:7451]

کلمہ توحید کے تقاضے

http://raahedaleel.blogspot.com/2016/11/blog-post_14.html

کیا پہلا کلمہ (طیب) کہیں ثابت ہے؟