Tuesday, 16 June 2026

خوشی یا غمی کے ’’دن‘‘ منانے کی شرعی حیثیت


اسلام میں کسی بھی دن کو خود سے "اچھا" یا "برا" قرار دے کر اسے منانے یا اس کی کوئی خاص مذہبی حیثیت متعین کرنے کا کوئی شرعی ثبوت نہیں ہے۔ شریعت کا بنیادی اصول یہ ہے کہ تمام دن اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں، اور خیر و شر کا تعلق وقت یا تاریخ سے نہیں، بلکہ اللہ کی مشیت اور انسان کے اعمال سے ہے۔






📜 بنیادی شرعی اصول
اسلام میں کسی بھی دن کو بطورِ دین، عبادت یا ثواب کے لیے مخصوص کرنے کا اختیار صرف اللہ اور اس کے رسول ﷺ کو ہے۔ اس کے علاوہ کوئی دن خود سے متعین کرکے منانا یا اسے خاص اہمیت دینا اہلِ اسلام کا طریقہ نہیں رہا ہے۔


اس بارے میں چند بنیادی باتیں ذہن میں رکھنا ضروری ہیں:

دین مکمل ہے: اللہ تعالیٰ نے دین اسلام کو کامل کر دیا ہے، اس میں کسی کمی یا بیشی کی گنجائش نہیں۔

دو ہی عیدیں: اسلام میں صرف دو عیدیں (عید الفطر اور عید الاضحی) مقرر ہیں، ان کے علاوہ کسی تیسری عید یا تہوار کا اضافہ نہیں کیا جا سکتا۔

تقویٰ میں کوئی خاص دن نہیں: نیکی اور تقویٰ کا تعلق کسی خاص دن سے نہیں، بلکہ ہر وقت اللہ کی اطاعت اور نیک اعمال کی ترغیب دی گئی ہے۔




📖 نقلی دلائل (قرآن و حدیث)
شریعت کے یہ اصول قرآن اور سنت نبوی سے ثابت ہیں۔

1. قرآنی دلائل:
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں کافروں کے اس قول کی مذمت فرمائی ہے کہ وہ خیر و شر کا تعلق وقت یا زمانے سے گردانتے تھے:

"اور وہ کہتے ہیں کہ ہمیں تو زمانہ ہی ہلاک کرتا ہے"۔
[سورۃ الجاثية:24]

اس آیت سے واضح ہے کہ انسان کی زندگی میں آنے والی بھلائی اور برائی کا تعلق زمانے یا دنوں کی گردش سے نہیں، بلکہ یہ سب اللہ کے حکم اور تقدیر سے ہے۔

یہ اس لیے تاکہ جو چیز تم سے جاتی رہے، اس پر تم غم میں نہ پڑو، اور جو چیز اللہ تمہیں عطا فرمادے، اس پر تم اتراؤ نہیں۔۔۔

[سورۃ الحدید:23]


2. احادیث نبویﷺ:

زمانے کو برا نہ کہو: 
نبی کریم ﷺ نے واضح طور پر زمانے کو گالی دینے سے منع فرمایا ہے:

"زمانہ کو گالی نہ دو، کیونکہ زمانہ اللہ تعالیٰ (کے ہاتھ میں) ہے"۔
[بخاری:6181، مسلم:2246]


اس کا مطلب یہ نہیں کہ “الدهر”(زمانہ) اللہ تعالی کا نام ہے بلکہ اس سے بتلانا یہ مقصود ہے کہ زمانہ ازخود نہ تو کسی چیز کا مالک ہے اور نہ کچھ کرتا یا کرسکتا ہے بلکہ زمانے میں حقیقی مصرف اللہ تعالی ہے لہذا زمانے کو برابھلا کہنا ، اس میں تصرف کرنے والے اللہ تعالی کو برابھلا کہنے کے مترادف ہے۔

غیروں کی مشابہت سے بچو: 
جو لوگ غیر اسلامی رسومات اور تہوار (مثلاً نئے سال، سالگرہ، وغیرہ) مناتے ہیں، ان کی مشابہت اختیار کرنا منع ہے۔ آپ ﷺ کا فرمان ہے:
"جس شخص نے کسی قوم کی مشابہت اختیار کی، وہ انہی میں سے ہے"۔
[سنن ابوداؤد:4031، مصنف ابن ابی شیبة:20550، مسند احمد:5115، مسند عبد بن حمید:848، شعب الإيمان-للبیھقي:1199، مسند الشاميين-للطبراني:216، المعجم-لابن الأعرابي:1137 ﴿المعجم الاوسط-للطبراني :8947، مسند البزار:296﴾]

...تم میں سے جو بھی انھیں دوست رکھے وہ یقینا انھی میں سے ہے۔
[سورۃ المآئدۃ:51]

اس لیے نئے سال کا جشن، سالگرہ (برتھ ڈے) اور دیگر غیر اسلامی تہوار منانا جائز نہیں ہے، کیونکہ یہ مسلمانوں کا طریقہ نہیں بلکہ غیروں کا شعار ہے۔

فطرت کے خلاف: 
اسلامی تعلیمات انسان کی فطرت کے عین مطابق ہیں۔ دین نے زندگی کی تمام حاجات اور ضروریات (جیسے خوشی اور غم) کو کچھ اصولوں اور ضوابط کے پابند کیا ہے تاکہ وہ اعتدال اور راہِ راست پر رہیں۔



🧠 عقلی دلائل
عقلی طور پر بھی "اچھے یا برے دن منانے" کا تصور درست نہیں:

غیر معقولیت: 
کسی دن کو بذات خود اچھا یا برا قرار دینا عقل کے خلاف ہے، کیونکہ ہر دن کا آغاز اور انجام اللہ کے اختیار میں ہے۔ انسان کی خوشی یا مصیبت اس کے اعمال، اللہ کی رحمت اور اس کی آزمائش کا نتیجہ ہوتی ہے، نہ کہ کسی مخصوص تاریخ کا۔

مادیت اور اسراف: 
اس طرح کے جشن اور تقریبات میں اکثر بے جا اسراف، خرچ اور نمائش ہوتی ہے، جبکہ اسلام سادگی اور اعتدال کو پسند کرتا ہے۔

فرض سے غفلت: 
ان دنوں کو منانے میں مصروف ہو کر انسان اپنے اصل فرائض (جیسے نماز، روزہ، اور دوسرے دینی و دنیوی واجبات) سے غافل ہو سکتا ہے۔



📌 مختلف اقسام کے دن منانے کا حکم
مندرجہ بالا اصولوں کی روشنی میں مختلف دنوں کے بارے میں حکم درج ذیل ہے:

سالگرہ (برتھ ڈے) اور سالگرہ کی تقریبات: شرعاً اس کا کوئی ثبوت نہیں ہے اور یہ غیروں کی مشابہت ہے، اس لیے جائز نہیں۔ البتہ، اگر خالصتاً اللہ کا شکر ادا کرنے کے لیے اور تمام خرافات و غیر اسلامی رسومات سے پاک کوئی معمولی تقریب رکھی جائے تو اس کی کچھ گنجائش ہو سکتی ہے، لیکن اس سے اجتناب ہی بہتر ہے۔

نئے سال کا جشن: خلفائے راشدین، صحابہ کرام اور تابعین نے کبھی نئے سال کا جشن نہیں منایا، یہ غیروں کا طریقہ ہے، اس لیے ناجائز ہے۔

میلاد النبی ﷺ: اس مسئلے پر علماء کے درمیان اختلاف ہے۔ کچھ علماء اسے جائز اور مستحسن قرار دیتے ہیں, جبکہ دوسرے اسے غیر ثابت شدہ اور بدعت قرار دیتے ہیں۔ عام اصول یہ ہے کہ نبی ﷺ کی محبت اور ان کی سیرت کا مطالعہ ہر وقت کیا جانا چاہیے، کسی خاص دن کو اس کے لیے متعین کرنا ضروری نہیں۔

برے دن (مثلاً محرم کا پہلا عشرہ): محرم کا مہینہ یا کسی اور مہینے کی بعض تاریخیں (جیسے عاشوراء) خود میں بری نہیں ہیں۔ البتہ، ان دنوں میں کچھ تاریخی واقعات (جیسے کربلا) پیش آئے، جنہیں یاد کرنا اور عبرت حاصل کرنا تو درست ہے، لیکن انہیں "برا دن" قرار دے کر خاص رسومات (ماتم، سوگ وغیرہ) منانا اسلام میں ثابت نہیں۔

دوسرے غیر اسلامی تہوار (کرسمس، ویلنٹائن، ہیلووین، ٹیچر ڈے وغیرہ): یہ تمام غیروں کے تہوار اور ان کی مشابہت ہیں، اس لیے انہیں منانا یا ان کی مبارکباد دینا جائز نہیں ہے۔



💎 خلاصہ
خلاصہ کلام یہ ہے کہ اسلام میں کسی بھی دن کو 'اچھا' یا 'برا' خود قرار دے کر اسے منانے کا کوئی تصور نہیں۔ شریعت نے خوشی کے مواقع کو جائز طریقوں سے منانے کی اجازت دی ہے، لیکن اس کے لیے کوئی نئی عید یا تہوار ایجاد کرنا، غیروں کی مشابہت اختیار کرنا، یا کسی دن کو خاص مذہبی اہمیت دینا، سب ناجائز اور بدعت ہے۔


























































ناحق خوشی اور غمی منانے والی حرکات:


حضرت جابرؓ (اور حضرت عبدالرحمن بن عوفؓ) سے نبی ﷺ کا یہ فرمان مروی ہے کہ:

میں نے تو روکا ہے دو احمق اور نافرمان آوازوں(شور شرابے)سے:

(1) مصیبت کے وقت چہرے نوچنے،گریبان پھاڑنے اور شیطانی چیخوں سے۔

(2) اور نعمت کے وقت کھیل تماشہ اور شیطانی موسیقی سے۔

[ترمذی:1005(حاکم:6825)]


حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ رسول الله ﷺ نے ارشاد فرمایا:

دو آوازوں پر دنیا و آخرت میں "لعنت" کی گئی ہے: (1)خوشی ونعمت ملنے پر  بانسری (موسیقی)کی آواز، (2)اور مصیبت کے وقت چیخ وپکار(نوحہ)کی آواز۔

[الأحادیث المختارۃ:2200 صحیح الترغیب:3527, مسند البزار:7513]


القرآن:

اور کچھ لوگ وہ ہیں جو اللہ سے غافل کرنے والی باتوں کے خریدار بنتے ہیں۔ تاکہ ان کے ذریعے لوگوں کو بےسمجھے بوجھے اللہ کے راستے سے ہٹائیں، اور اس کا مذاق اڑائیں۔ ان لوگوں کو وہ عذاب ہوگا جو ذلیل کر کے رکھ دے گا۔

[سورۃ نمبر 31 لقمان، آیت نمبر 6]


القرآن:

ان سے یہ پہلے ہی کہہ دیا گیا ہوگا کہ : یہ سب کچھ اس لیے ہوا کہ تم زمین میں ناحق بات پر خوش ہوتے تھے اور اس لیے کہ تم زمین میں اکڑ دکھاتے تھے۔

[سورۃ غافر:75]


قرآن مجید نے راستوں پر شور مچانے کو گدھے کی آواز کہا۔

[تفسیرالقرطبي: سورۃ لقمان:19]








ایام اللہ کیا اور کیوں ہیں؟

'ایام اللہ' یعنی اللہ کے دنوں سے مراد تاریخ کے وہ خاص اور یادگار دن ہیں جن میں اللہ تعالیٰ کی قدرت، رحمت یا عدالت کا کوئی بڑا نشان ظاہر ہوا ہو۔ یہ کوئی الگ مذہبی تہوار نہیں، بلکہ ماضی کی قوموں پر اللہ کے انعامات یا عذاب کے واقعات ہیں، جنہیں یاد کر کے انسان صبر اور شکر کا سبق حاصل کرتا ہے۔


آئیے اس تصور کو قرآن، احادیث اور عقلی پہلوؤں کی روشنی میں تفصیل سے سمجھتے ہیں۔


📖 قرآنی بنیاد: حکم اور معنی

'ایام اللہ' کا ذکر قرآن مجید میں دو مقامات پر آیا ہے:


سورہ ابراہیم (آیت 5) : اللہ تعالیٰ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو حکم دیتے ہیں:


"اور انہیں (یعنی بنی اسرائیل کو) اللہ کے ایام (اَیَّامِ اللہِ) کی یاد دلاؤ۔ بیشک اس میں ہر بڑے صبر کرنے والے اور بڑے شکر کرنے والے کے لیے بڑی نشانیاں ہیں۔"


سورہ الجاثیہ (آیت 14) : دوسری جگہ ارشاد ہے:


"آپ ایمان والوں سے کہہ دیں کہ وہ ان لوگوں کو معاف کر دیں جو اللہ کے ایام (اَیَّامِ اللہِ) کی امید نہیں رکھتے، تاکہ اللہ ایک گروہ کو ان کے کیے کا بدلہ دے۔"


📚 مفسرین کی رائے: دو اہم پہلو

مفسرین نے 'ایام اللہ' کی دو اہم تفسیریں بیان کی ہیں، جو ایک دوسرے کی تکمیل کرتی ہیں:


انعامات و نعمتیں (نعمت کے دن) :

جمہور مفسرین کے نزدیک اس سے مراد وہ دن ہیں جن میں اللہ نے اپنی بندوں پر خصوصی انعام و احسان کیا۔ مثال کے طور پر، بنی اسرائیل کو فرعون کی غلامی سے نجات، سمندر کا پھٹنا، اور ان پر من و سلویٰ کا نزول۔ ان دنوں کو یاد کر کے شکر ادا کرنا ہے۔


عبرت و عذاب (عبرت کے دن) :

دوسری تفسیر کے مطابق، اس سے مراد وہ دن ہیں جن میں اللہ نے سرکش اور ظالم قوموں پر عذاب نازل کیا۔ مثلاً، فرعونیوں کا سمندر میں غرق ہونا۔ ان دنوں کو یاد کر کے اللہ کی نافرمانی سے بچنا چاہیے اور صبر کا سبق لینا چاہیے۔


ان دونوں تفسیروں کا خلاصہ یہ ہے کہ "ایام اللہ" وہ دن ہیں جن میں اللہ کی قدرت کا اظہار ہوا، چاہے وہ مومنین کے لیے نعمت کی صورت میں ہو یا کافروں کے لیے عذاب کی صورت میں۔




🌟 'ایام اللہ' کی مثالیں

یوم عاشوراء (10 محرم) :

یہ دن بنی اسرائیل کے لیے نجات اور خوشی کا دن تھا، جبکہ فرعون اور اس کی فوج کے لیے عذاب اور تباہی کا دن تھا۔


غزوہ بدر (17 رمضان) :

مسلمانوں کے لیے اللہ کی مدد اور فتح کا دن، جبکہ مشرکین مکہ کے لیے شکست کا دن۔


فتح مکہ:

اللہ کے دین کی فتح اور کفر کے خاتمے کا عظیم دن۔




💡 'ایام اللہ' کا مقصد اور حکمت

'ایام اللہ' کو یاد کرنے کا مقصد صرف تاریخی واقعات کو دہرانا نہیں، بلکہ ان سے زندہ سبق حاصل کرنا ہے۔


(۱)صبر اور شکر کی تعلیم:

ان دنوں میں وہ نشانیاں ہیں جو صبر (مصیبت کے وقت) اور شکر (خوشی کے وقت) کرنے والوں کے لیے ہدایت کا ذریعہ ہیں۔


(۲)ایمان کی مضبوطی:

یہ واقعات اللہ کی سنت (قانون) کو ظاہر کرتے ہیں کہ انجام کار نیکی اور تقویٰ ہی غالب آتا ہے۔


(۳)غفلت کا ازالہ:

انہیں یاد دلانا لوگوں کو اللہ کی قدرت اور اس کے ساتھ اپنے تعلق سے آگاہ کرتا ہے، تاکہ وہ محض دنیاوی اسباب میں نہ بھول جائیں۔




❌ 'ایام اللہ' اور 'دن منانے' میں فرق

یہاں ایک باریک فرق کو سمجھنا بہت ضروری ہے، جو آپ کے پچھلے سوال سے جڑتا ہے:


ایام اللہ اور اپنے بنائے دن منانے (جشن / ماتم) میں فرق:

(۱)مقصد:

ایام اللہ کا مقصد عبرت، نصیحت، صبر، شکر اور اللہ کی قدرت کا ادراک ہے۔ جبکہ جشن یا ماتم کا مقصد رسم یا تفریح ہے۔

(۲)طریقہ:

ایام اللہ کو یاد کرنا، ان سے سبق لینا، اپنے اعمال کی اصلاح کرنا۔

مخصوص رسومات ادا کرنا، تقریبات منعقد کرنا، کھانے پینے کا اہتمام کرنا۔

(۳)شرعی حیثیت:

ایام اللہ، قرآن و سنت میں مأمور (حکم) ہے۔

ایام الناس(لوگوں کے بنائے دن) اسلام میں ثابت نہیں؛ بدعت یا غیروں کی مشابہت ہو سکتی ہے۔

مثال کے طور پر، عاشوراء (10 محرم) کا دن 'ایام اللہ' میں شامل ہے۔ اس کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ اس دن روزہ رکھا جائے (جیسا کہ نبی ﷺ نے فرمایا) اور اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کیا جائے۔ اسے ماتم یا جشن کے طور پر منانا (جس طرح بعض لوگ کرتے ہیں) اس کی اصل روح کے خلاف ہے۔




💎 خلاصہ

'ایام اللہ' تاریخ کے وہ روشن اور تاریک دن ہیں جن میں اللہ کی قدرت کا اظہار ہوا۔ ان کا مقصد محض یادگاری نہیں، بلکہ ان سے صبر اور شکر کا سبق لے کر اپنی زندگی کو سنوارنا ہے۔ یہ کوئی نئی عید یا تہوار نہیں، بلکہ ایک فکری اور روحانی ورزش ہے جو انسان کو اللہ کے قریب کرتی ہے۔
























(أَيَّامٍ مَّعْلُومَاتٍ) اور (أَيَّامٍ مَّعْدُودَاتٍ) کیا اور کیوں ہیں؟


📖 قرآنی ماخذ

یہ دونوں اصطلاحات قرآن مجید کی دو مختلف آیات میں آئی ہیں:


"ایام معلومات": سورہ حج (آیت 28) میں ارشاد ہے:


"...اور انہیں چاہیے کہ اپنے فائدے حاصل کریں اور ان مقررہ دنوں (أَيَّامٍ مَّعْلُومَاتٍ) میں اللہ کا نام یاد کریں، اس پر کہ اُس نے انہیں چوپایوں میں سے رزق عطا کیا ہے..."


"ایام معدودات": سورہ بقرہ (آیت 203) میں ارشاد ہے:


"اور گنتی کے چند دنوں (أَيَّامٍ مَّعْدُودَاتٍ) میں اللہ کو یاد کرو..."


⏳ یہ کون سے دن ہیں؟

ان دونوں اصطلاحات کے حوالے سے مفسرین کے درمیان دو بڑی آراء ہیں:


اصطلاح           قول اول (راجح)                     قول دوم

ایام معلومات ذی الحجہ کی پہلی دس تاریخیں (1 تا 10 ذی الحجہ) ایام تشریق (11، 12، 13 ذی الحجہ)

ایام معدودات ایام تشریق یعنی 11، 12 اور 13 ذی الحجہ ایام تشریق (11، 12، 13 ذی الحجہ)


راجح اور مشہور قول کے مطابق فرق یہ ہے:

"ایام معلومات" (10 دن) :

ذی الحجہ کی پہلی دس تاریخیں، جس میں یوم عرفہ (9 ذی الحجہ) اور یوم النحر (عید الاضحی، 10 ذی الحجہ) شامل ہیں۔

"ایام معدودات" (3 دن) :

ایام تشریق، جو عید الاضحی کے فوراً بعد 11، 12 اور 13 ذی الحجہ کو کہتے ہیں۔


💡 ان ایام کی اہمیت اور حکمت

ان ایام کی تعیین کی کچھ خاص وجوہات اور حکمتیں ہیں:


عبادات کا وقت:

یہ دن حج کی عظیم عبادت کے لیے مخصوص ہیں۔


اللہ کا ذکر:

حکم ہے کہ ان دنوں میں اللہ کا خصوصی ذکر کیا جائے۔


قربانی:

ان ایام میں قربانی کا اہتمام کیا جاتا ہے۔


تکبیرات تشریق:

"ایام معدودات" (ایام تشریق) میں نمازوں کے بعد تکبیرات پڑھنا مسنون ہے۔


🕌 "ایام اللہ" سے فرق

یہ اصطلاحات پچھلی گفتگو میں زیرِ بحث "ایام اللہ" سے مختلف ہیں:


"ایام اللہ" ایک عام اصطلاح ہے جو تاریخ کے تمام اہم واقعات (نعمت یا عذاب) پر محیط ہے۔


"ایام معلومات" اور "ایام معدودات" مخصوص اصطلاحات ہیں جو صرف ذی الحجہ کے ان مخصوص ایام کے لیے استعمال ہوتی ہیں جن میں حج اور قربانی کی عبادات کی جاتی ہیں۔



شریعت کے مقرر ومتعین کردہ مخصوص دن، اعمال وطریقہ:



























Monday, 8 June 2026

جیسی زندگی ہوگی ویسی موت آئے گی

اللہ تعالیٰ نے انسان کی زندگی اور موت کو اپنی حکمت کے تحت مقرر کیا ہے۔ قرآن مجید اور احادیث نبویہ میں واضح طور پر بتایا گیا ہے کہ انسان کے اعمال اور زندگی کا انداز اس کی موت کے وقت کے حالات پر اثر انداز ہوتا ہے۔ ذیل میں دلائل پیش کیے جا رہے ہیں:


قرآنی دلائل:

1. نیک اعمال اور حسن خاتمہ:

اللہ فرماتا ہے:

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ حَقَّ تُقٰتِهٖ وَ لَا تَمُوْتُنَّ اِلَّا وَ اَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ

ترجمہ:

اے ایمان والو! ڈرتے رہو اللہ سے جیسا چاہئے اس سے ڈرنا، اور نہ مریو مگر مسلمان(فرمانبردار)۔

[سورۃ آل عمران:102]

«كما تعيشون تموتون، وكما تموتون تبعثون».

جس حالت پر تم اپنی زندگی گزار دو اسی پر موت آئے گی، اور جس حالت میں موت آئے گی اسی حالت میں حشر میں کھڑے کئے جاؤ گے۔

[الغنية لطالبي طريق الحق-الجيلاني:1/ 138]

[روح البیان، سورۃ آل عمران، جلد 1۔ 2، ص۔ 125، ایڈیشن: دار احیاء التراث العربی، بیروت]



"إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللَّهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَائِكَةُ أَلَّا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَبْشِرُوا بِالْجَنَّةِ الَّتِي كُنتُمْ تُوعَدُونَ"

ترجمہ:

"بیشک جن لوگوں نے کہا ہمارا رب اللہ ہے پھر وہ اس پر ثابت قدم رہے، ان پر فرشتے نازل ہوتے ہیں (اور کہتے ہیں) ڈرو نہ اور غم نہ کرو اور اس جنت کی خوشخبری سن لو جس کا تم سے وعدہ کیا گیا تھا۔"

[سورہ حم السجدہ: 30]

یہ آیت بتاتی ہے کہ جو لوگ ایمان اور استقامت کی زندگی گزارتے ہیں، ان کی موت کے وقت فرشتے ان کے پاس آتے ہیں اور انہیں بشارت دیتے ہیں۔


2. بدکاروں کی بری موت:

اللہ کا ارشاد ہے:

"فَكَيْفَ إِذَا تَوَفَّتْهُمُ الْمَلَائِكَةُ يَضْرِبُونَ وُجُوهَهُمْ وَأَدْبَارَهُمْ"

ترجمہ:

"پھر کیسی (خطرناک) حالت ہوگی جب فرشتے ان کی روحیں قبض کریں گے، ان کے چہروں اور پشتوں پر مارتے ہوئے۔"

[سورہ محمد: 27]

یہ ان لوگوں کے بارے میں ہے جو گناہوں کی زندگی گزارتے ہیں۔


3. موت کے وقت اعمال کا بدلہ:

اللہ کا ارشاد ہے:

"مَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفْسِهِ وَمَنْ أَسَاءَ فَعَلَيْهَا"

ترجمہ:

"جو نیک عمل کرتا ہے اپنے فائدے کے لیے اور جو برائی کرتا ہے اس کا وبال اس پر ہے۔"

[سورہ حم السجدہ: 46]



احادیث نبویہ سے دلائل:

1. حسن خاتمے کی علامات:

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

"من كان آخر كلامه لا إله إلا الله دخل الجنة"

ترجمہ:

"جس شخص کی آخری بات 'لا الہ الا اللہ' ہوگی وہ جنت میں داخل ہوگا۔"

[سنن ابی داؤد:3116، مسند احمد:22034، مستدرک حاکم:1315]

یہ ان لوگوں کو ملے گا جو زندگی بھر اس کلمے پر کاربند رہے۔


2. نیک لوگوں کی موت:

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

"إن أرواح الشهداء في حواصل طير خضر تسرح في الجنة حيث شاءت"

ترجمہ:

"شہداء کی روحیں سبز پرندوں کے پیٹ میں ہوتی ہیں جو جنت میں جہاں چاہیں آزاد گھومتی ہیں۔"

[صحیح  مسلم:1887، سنن ترمذي:3011، سنن ابن ماجه:2801]

شہداء نے اپنی زندگی اللہ کی راہ میں قربان کر دی تو انہیں اعلیٰ درجہ کی موت نصیب ہوئی۔


3. برے لوگوں کی موت کی کیفیت:

حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

إِنَّ الْمُؤْمِنَ إِذَا كَانَ فِي إِقْبَالٍ مِنْ الْآخِرَةِ , وَانْقِطَاعٍ مِنْ الدُّنْيَا، تَنَزَّلَتْ إِلَيْهِ الْمَلَائِكَةُ , كَأَنَّ عَلَى وُجُوهِهِمْ الشَّمْسَ، مَعَ كُلِّ وَاحِدٍ كَفَنٌ وَحَنُوطٌ، فَجَلَسُوا مِنْهُ مَدَّ الْبَصَرِ , حَتَّى إِذَا خَرَجَتْ رُوحُهُ صَلَّى عَلَيْهِ كُلُّ مَلَكٍ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ، وَكُلُّ مَلَكٍ فِي السَّمَاءِ , وَفُتِحَتْ لَهُ أَبْوَابُ السَّمَاءِ، لَيْسَ مِنْ أَهْلِ بَابٍ إِلَّا وَهُمْ يَدْعُونَ اللهَ أَنْ يُعْرَجَ بِرُوحِهِ مِنْ قِبَلِهِمْ "
ترجمہ:
"بے شک مومن جب آخرت کی طرف رخ کرنے (یعنی اس کی موت قریب آنے) اور دنیا سے منقطع ہونے کی حالت میں ہوتا ہے، تو اس کے پاس فرشتے اترتے ہیں جن کے چہروں پر سورج کی طرح چمک ہوتی ہے، ان میں سے ہر ایک کے پاس کفن اور خوشبو (حنوط) ہوتی ہے۔ وہ اس سے (تھوڑی دور) نگاہ بھر کے فاصلے پر بیٹھ جاتے ہیں۔ یہاں تک کہ جب اس کی روح نکل جاتی ہے تو آسمان اور زمین کے درمیان موجود ہر فرشتہ اور آسمان میں موجود ہر فرشتہ اس پر درود بھیجتا ہے، اور اس کے لیے آسمان کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں۔ کوئی دروازہ والا ایسا نہیں ہوتا مگر وہ اللہ سے دعا کرتا ہے کہ اس کی روح ان کے (دروازے) کی طرف سے اٹھائی جائے (یعنی اوپر لے جائی)۔"

[مسند احمد:18637، وصححه الألباني في المشكاة:1630]

[مسند احمد:17573]



4. عمل کا انجام پر اثر:

نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

"إنما الأعمال بالخواتيم"

ترجمہ:

"اعمال کا دارومدار انجام پر ہے۔"

[صحیح بخاری: 6607]

یہ حدیث بتاتی ہے کہ زندگی کا انجام (موت) اس بات پر منحصر ہے کہ انسان کس حالت میں مرتا ہے، اور وہ حالت اس کی سابقہ زندگی کا نتیجہ ہوتی ہے۔


نتیجہ:

قرآن و سنت کی روشنی میں یہ بات ثابت ہے کہ انسان کی زندگی کا انداز اور اس کے اعمال براہ راست اس کی موت کے وقت کے حالات کو متاثر کرتے ہیں۔ نیک زندگی گزارنے والے کو حسن خاتمہ (اچھی موت) نصیب ہوتی ہے، جبکہ بدکار اور گناہ گار زندگی گزارنے والے کو سوء خاتمہ (بری موت) کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔


البتہ یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ اللہ کی رحمت بہت وسیع ہے، اور وہ جسے چاہے اپنے فضل سے معاف کر دے اور حسن خاتمہ عطا فرما دے۔ لیکن عمومی اصول یہی ہے کہ انسان کی زندگی ہی اس کی موت کا آئینہ ہوتی ہے۔ اللہ ہمیں نیک زندگی اور حسن خاتمہ نصیب فرمائے۔ آمین۔


Wednesday, 27 May 2026

عید اور مخالفتِ یہود»اپنے صحن(آنگن) صاف رکھنا


عنوان: اپنے صحن (آنگن) صاف رکھو – یہود کی مخالفت اور روحانی پاکیزگی


حدیث کا متن (ترجمہ کے ساتھ)


عَن سعد بن أبي وقاص رضي الله عنه عن النبي ﷺ قال:

"طَهِّرُوا أَفْنِيَتَكُمْ، فَإِنَّ الْيَهُودَ لَا تُطَهِّرُ أَفْنِيَتَهَا"

ترجمہ:

"اپنے صحن (گھر کے سامنے کی جگہ) صاف رکھو، کیونکہ یہود اپنے صحن صاف نہیں رکھتے۔"

[المعجم الأوسط للطبراني:4057، صحيح الجامع الصغير:3935، سلسلة الأحاديث الصحیحة:236]




---


شرح الصنعانی:

"طَهِّرُوا أَفْنِيَتَكُمْ"

"أفنية" "فناء" کی جمع ہے، جس کے معنی گھر کے سامنے کی کشادہ جگہ، جو گھر کا داخلی دروازہ بھی ہے۔

"تطہیر" سے مراد یہاں گندگی اور کوڑا کرکٹ کو ہٹانا ہے۔


"فَإِنَّ الْيَهُودَ لَا تُطَهِّرُ أَفْنِيَتَهَا"

یہود کی مخالفت کرنا مقصود ہے، تاکہ تمہارے گھر اور ان کے گھروں میں فرق نظر آئے۔

[التنویر شرح الجامع الصغير: 5261]


---


شرح المناوی:

"طَهِّرُوا أَفْنِيَتَكُمْ"

صحن (فناء) گھر کے سامنے کی کشادہ جگہ ہے۔


"فَإِنَّ الْيَهُودَ لَا تُطَهِّرُ أَفْنِيَتَهَا"

اس حکم سے ظاہری صفائی کے ساتھ ساتھ باطنی صفائی (دلوں اور روحوں کی پاکیزگی) کی طرف بھی اشارہ ہے۔


تنبیہ (القونوی کے حوالے سے):

طہارت اور نجاست کے دو پہلو ہیں: ظاہری (جسمانی) اور باطنی (روحانی)۔


· باطنی طہارت کی پہلی منزل: ایمان اور توحید

· باطنی طہارت کی بلند ترین منزل: حق تعالیٰ کی معرفت اور اس کے دیدار کا مشاہدہ (بغیر کسی حجاب کے)

· نجاست کی اقسام:

  · جهالت (جہالت)

  · شرک

  · باطل تاویلات، فاسد آراء، بری عادتیں، اور غالب شہوات


طہارت اور نجاست تین قسم کی ہوتی ہیں:


1. ظاہری (جسمانی)

2. باطنی (روحانی)

3. مشترک (جو ظاہر و باطن دونوں کو متاثر کرے)


باطنی طہارت خصوصاً ارواح اور پاکیزہ نفسوں کے عالم سے تعلق رکھتی ہے۔


[فیض القدیر شرح الجامع الصغير: 5279]


---


حاصل شدہ اہم اسباق و نکات


1. ظاہری صفائی (پاکیزگی)


· گھر کے صحن (آنگن) کی صفائی رکھنا مسلمان کی پہچان ہے۔

· یہود کی مخالفت میں یہ حکم دیا گیا تاکہ مسلمانوں کے گھر صاف اور الگ پہچانے جائیں۔

· صفائی ایمان کا حصہ ہے، خاص طور پر گھر کے سامنے والی جگہ جو سب کو نظر آتی ہے۔


2. باطنی صفائی (روحانی پاکیزگی)


· ظاہری صفائی کا مقصد باطنی صفائی (دل و روح کی پاکیزگی) کی طرف رہنمائی ہے۔

· باطنی نجاست (جیسے شرک، جہالت، بری خواہشات) سے بچنا ضروری ہے۔

· سب سے بڑی نجاست شرک ہے، اور سب سے بڑی طہارت توحید ہے۔


3. یہود کی مخالفت کی حکمت


· مسلمانوں کو ہر معاملے میں یہود کی مخالفت کا حکم نہیں، بلکہ جہاں ان کی عادت بری ہو، وہاں ان کی مخالفت کی جائے۔

· یہاں صفائی میں مخالفت کا حکم ہے کیونکہ یہود گندگی میں رہنا پسند کرتے تھے۔


4. طہارت کے درجات


· پہلا درجہ: ظاہری طہارت (پانی، مٹی، صابن وغیرہ سے)

· دوسرا درجہ: باطنی طہارت (دل کو نفاق، کینہ، حسد سے پاک کرنا)

· تیسرا درجہ: روحانی طہارت (اللہ کے سوا ہر چیز سے دل خالی کرنا)


5. یہود کی عادت اور مسلمانوں کی امتیازی صفت


· یہود نجاست اور گندگی میں رہنا پسند کرتے تھے، اس لیے مسلمانوں کو حکم دیا گیا کہ وہ ان کے برعکس صاف ستھرے رہیں۔

· یہ امتیازی صفت مسلمانوں کو دوسروں سے ممتاز کرتی ہے۔


6. القونوی کا عرفانی نقطہ نظر


· طہارت کی سب سے اعلیٰ شکل اللہ کی معرفت اور اس کے دیدار کا مشاہدہ ہے۔

· نجاست کی سب سے بڑی شکل شرک اور اللہ سے غفلت ہے۔

· مؤمن کو چاہیے کہ وہ ظاہری صفائی کے ساتھ باطنی صفائی کی طرف بھی توجہ دے۔


---


خلاصہ


یہ حدیث ہمیں ظاہری صفائی (خاص طور پر گھر کے صحن کی) کا حکم دیتی ہے، تاکہ ہم یہود کی گندگی کی عادت کی مخالفت کریں۔ لیکن اس کے ساتھ ہی باطنی صفائی (دل و روح کی پاکیزگی) کی طرف بھی توجہ دلائی گئی ہے۔ سب سے بڑی نجاست شرک ہے اور سب سے بڑی طہارت توحید اور اللہ کی معرفت ہے۔


واللہ اعلم بالصواب