یقینًا ہم ہی نے اسے رستہ بھی دکھا دیا، اب خواہ شکرگذار ہو خواہ ناشکرا۔
[القرآن،سورۃ الدھر:آیۃ3]
یعنی اولًا اصل فطرت اور پیدائشی عقل و فہم سے پھر دلائل عقلیہ و نقلیہ سے نیکی کی راہ سجھائی جس کا مقتضٰی یہ تھا کہ سب انسان ایک راہ چلتے لیکن گرد وپیش کے حالات اور خارجی عوارض سے متاثر ہو کر سب ایک راہ پر نہ رہے۔ بعض نے اللہ کو مانا اور اس کا حق پہچانا،اور بعض نے ناشکری اور ناحق کوشی پر کمر باندھ لی۔ آگے دونوں کا انجام مذکور ہے۔
اسلام میں حرام خوری ایک جامع اصطلاح ہے، جس کا تعلق صرف یہ نہیں کہ آدمی کیا کھاتا ہے، بلکہ اس سے مراد وہ تمام طریقے ہیں جن سے مال ناجائز طور پر حاصل کیا جائے یا ناجائز استعمال کیا جائے۔ یہ ایمان، اخلاق اور معاشرتی زندگی کے لیے ایک زہرِ قاتل کی حیثیت رکھتی ہے۔ ذیل میں آپ کے مطلوبہ نکات کے مطابق حرام خوری کا تفصیلی جائزہ پیش کیا جا رہا ہے۔
اسلام میں جوا (قمار) ایک کبیرہ گناہ اور معاشرتی ناسور ہے، جس کی حرمت کا حکم قرآن و سنت میں بالکل واضح طور پر موجود ہے۔ ذیل میں آپ کے مطلوبہ نکات کے مطابق جوا اور رشوت کا تفصیلی جائزہ پیش کیا جا رہا ہے۔
اسلام میں رشوت ایک سنگین معاشی، اخلاقی اور سماجی جرم ہے، جسے قرآن و سنت نے واضح طور پر حرام قرار دیا ہے اور اس کے مرتکب افراد کے لیے سخت وعیدیں بیان کی ہیں۔ ذیل میں آپ کے مطلوبہ نکات کے مطابق رشوت کا تفصیلی جائزہ احادیث و فقہی حوالہ جات کے ساتھ پیش کیا جا رہا ہے۔
اسلام میں ڈاکہ (حرابہ / قطع الطریق) اور غصب دونوں ظلم کی سنگین صورتیں ہیں، جنہیں قرآن و سنت اور اجماعِ امت نے واضح طور پر حرام قرار دیا ہے۔ ان جرائم کی نوعیت، سزا اور معاشرے پر اثرات میں فرق ہے، لیکن دونوں کا بنیادی پہلو دوسروں کے مال و حقوق پر ناحق تجاوز ہے۔ ذیل میں آپ کے مطلوبہ نکات کے مطابق ان کا تفصیلی جائزہ احادیث و فقہی حوالہ جات کے ساتھ پیش کیا جا رہا ہے۔
اور جنہیں "کمزور" سمجھا گیا تھا وہ ان سے کہیں گے جو بڑے بنے ہوئے تھے کہ: نہیں، یہ تمہاری رات دن کی مکاری ہی تو تھی (جس نے ہمیں روکا تھا) جب تم ہمیں تاکید کرتے تھے کہ ہم الله سے کفر کا معاملہ کریں، اور اس کے ساتھ (دوسروں کو) شریک مانیں۔ اور یہ سب جب عذاب کو دیکھ لیں گے تو اپنا پچھتاوا چھپا رہے ہوں گے۔ (17) اور جن جن لوگوں نے کفر اختیار کیا تھا ہم ان سب کے گلوں میں طوق ڈال دیں گے۔ ان کو کسی اور بات کا نہیں، انہی اعمال کا بدلہ دیا جائے گا جو وہ کیا کرتے تھے۔
[سورۃ سبإ، آیت نمبر 33]
تفسیر:
(17) یعنی ظاہر میں تو ایک دوسرے کو الزام دے رہے ہوں گے، لیکن دل میں سمجھتے ہوں گے کہ در اصل جرم میں ہم سب شریک ہیں، اس لیے دل ہی دل میں پچھتا رہے ہوں گے۔
عدن عربی میں أَدْنَى کے دو معنی ہیں: قریب ترین اور پست۔ آج ہم جانتے ہیں کہ بحیرہ مردار زمین کا سب سے نچلا نقطہ ہے (سطح سمندر سے 423 میٹر یا 1388 فٹ نیچے)۔
ایک ناخواندہ آدمی جو 1400 سال پہلے رہتا تھا وہ کیسے جان سکتا تھا کہ زمین کا سب سے نچلا مقام کہاں ہے؟
1. لوط علیہ السلام کی دعوت اور قوم کا انکار
القرآن:
لوط کی قوم نے پیغمبروں کو جھٹلایا۔ جبکہ ان کے بھائی لوط نے ان سے کہا کہ: کیا تم اللہ سے ڈرتے نہیں ہو؟ یقین جانو کہ میں تمہارے لیے ایک امانت دار پیغمبر ہوں۔ لہذا تم اللہ سے ڈرو، اور میری بات مانو۔ اور میں تم سے اس کام پر کسی قسم کی کوئی اجرت نہیں مانگتا، میرا اجر تو صرف اس ذات نے اپنے ذمے لے رکھا ہے جو سارے دنیا جہان کی پرورش کرتی ہے۔ کیا دنیا کے سارے لوگوں میں تم ہو جو مَردوں کے پاس جاتے ہو۔ اور تمہاری بیویاں جو تمہارے رب نے تمہارے لیے پیدا کی ہیں، ان کو چھوڑے بیٹھے ہو؟ حقیقت تو یہ ہے کہ تم حد سے بالکل گزرے ہوئے لوگ ہو۔
[سورۃ الشعراء:160-166]
تفسیر:
حضرت لوط ؑ جس قوم کی طرف بھیجے گئے تھے، ان کے مرد فطرت کے خلاف مردوں ہی سے اپنی جنسی ہوس پوری کرتے تھے۔ ان کا واقعہ تفصیل کے ساتھ سورة ھود:77 تا 83 اور سورة حجر: 58 تا 76 میں گذر چکا ہے، اور ہم نے ان کا مختصر تعارف سورة اعراف:80 میں کرایا ہے۔
القرآن:
اور ہم نے لوط کو بھیجا جبکہ اس نے اپنی قوم سے کہا: حقیقت یہ ہے کہ تم ایسی بےحیائی کا کام کرتے ہو جو تم سے پہلے دنیا جہان والوں میں سے کسی نے نہیں کیا۔ کیا تم مَردوں کے پاس جاتے ہو (یعنی اپنی جنسی خواہش عورتوں کے بجائے مردوں سے پوری کرتے ہو۔) اور راستوں میں ڈاکے ڈالتے ہو، اور اپنی بھری مجلس میں بدی کا ارتکاب کرتے ہو؟ پھر ان کی قوم کے لوگوں کے پاس اس کے سوا کوئی جواب نہیں تھا کہ انہوں نے کہا: لے آؤ ہم پر اللہ کا عذاب اگر تم سچے ہو۔ لوط نے کہا: میرے پروردگار! ان مفسد لوگوں کے مقابلے میں میری مدد فرمایے۔
[سورۃ العنکبوت:28-30]
القرآن:
اور ہم نے لوط کو بھیجا (40) جب اس نے اپنی قوم سے کہا : کیا تم اس بےحیائی کا ارتکاب کرتے ہو جو تم سے پہلے دنیا جہاں کے کسی شخص نے نہیں کی؟ تم جنسی ہوس پوری کرنے کے لیے عورتوں کے بجائے مردوں کے پاس جاتے ہو۔ (اور یہ کوئی اتفاقی واقعہ نہیں) بلکہ تم ایسے لوگ ہو کہ (شرافت کی) تمام حدیں پھلانگ چکے ہو۔ ان کی قوم کا جواب یہ کہنے کے سوا کچھ اور نہیں تھا کہ: نکالو ان کو اپنی بستی سے! یہ لوگ ہیں جو بڑے پاکباز بنتے ہیں۔
[سورۃ الاعراف:80-82]
تفسیر:
(40) حضرت لوط ؑ حضرت ابراہیم ؑ کے بھتیجے تھے، جو اپنے مقدس چچا کی طرح عراق میں پیدا ہوئے تھے، اور جب انہوں نے وہاں سے ہجرت کی تو حضرت لوط ؑ بھی ان کے ساتھ وطن سے نکل آئے، بعد میں حضرت ابراہیم ؑ فلسطین کے علاقے میں آباد ہوئے، اور حضرت لوط ؑ کو اللہ تعالیٰ نے اردن کے شہرسدوم (sodom) میں پیغمبر بناکر بھیجا، سدوم ایک مرکزی شہر تھا اور اس کے مضافات میں عمورہ وغیرہ کئی بستیاں آباد تھیں، کفر وشرک کے علاوہ ان بستیوں کی شرمناک بدعملی یہ تھی کہ وہ ہم جنسی (homosexuality) کی لعنت میں گرفتار تھے جس کا ارتکاب قرآن کریم کی تصریح کے مطابق ان سے پہلے دنیا کے کسی فرد نے نہیں کیا تھا، حضرت لوط ؑ نے انہیں اللہ تعالیٰ کے احکام پہنچائے اور عذاب سے بھی ڈرایا، لیکن جب یہ لوگ اپنی خباثت سے باز نہ آئے تو ان پر پتھروں کی بارش برسائی گئی اور ان تمام بستیوں کو الٹ دیا گیا، آج بحر میت (dead sea) کے نام سے جو سمندر ہے، کہتے ہیں کہ یہ بستیاں یا تو اس میں ڈوب گئی ہیں یا اس کے آس پاس تھیں جن کا نشان واضح نہیں رہا، حضرت لوط ؑ کا اس قوم کے ساتھ نسبی تعلق نہیں تھا پھر بھی اس آیت میں اسے حضرت لوط ؑ کی قوم کہا گیا ہے کیونکہ یہ وہ امت تھی جس کی طرف ان کو بھیجا گیا تھا۔ ان کے واقعے کی سب سے زیادہ تفصیل سورة ہود (69:11 تا 83) میں آئے گی۔ اس کے علاوہ سورة حجر (52:15 تا 84) ، سورة شعراء (160:26 تا 174) اور سورة عنکبوت (26:29 تا 35) میں بھی ان کے واقعے کی کچھ تفصیلات بیان ہوئی ہیں۔ نیز سورة ذاریات (24:51 تا 37) اور سورة تحریم (10:66) میں بھی ان کے مختصر حوالے آئے ہیں۔
2. فرشتوں کا ابراہیم علیہ السلام کے پاس آنا اور قومِ لوط کا تذکرہ
القرآن:
اور ہمارے فرشتے (انسانی شکل میں) ابراہیم کے پاس (بیٹا پیدا ہونے کی) خوشخبری لے کر آئے۔ (39) انہوں نے سلام کہا، ابراہیم نے بھی سلام کہا، پھر ابراہیم کو کچھ دیر نہیں گزری تھی کہ وہ (ان کی مہمانی کے لیے) ایک بھنا ہوا بچھڑا لے آئے۔ مگر جب دیکھا کہ ان کے ہاتھ اس (بچھڑے) کی طرف نہیں بڑھ رہے، تو وہ ان سے کھٹک گئے، اور ان کی طرف سے دل میں خوف محسوس کیا۔ (40) فرشتوں نے کہا : ڈریے نہیں، ہمیں (آپ کو بیٹے کی خوشخبری سنانے اور) لوط کی قوم کے پاس بھیجا گیا ہے۔ اور ابراہیم کی بیوی کھڑی ہوئی تھیں، وہ ہنس پڑیں، (41) تو ہم نے انہیں (دوبارہ) اسحاق کی، اور اسحاق کے بعد یعقوب کی پیدائش کی خوشخبری دی۔ وہ کہنے لگیں: ہائے ! کیا میں اس حالت میں بچہ جنوں گی کہ میں بوڑھی ہوں، اور یہ میرے شوہر ہیں جو خود بڑھاپے کی حالت میں ہیں؟ واقعی یہ تو بڑی عجیب بات ہے۔ فرشتوں نے کہا: کیا آپ اللہ کے حکم پر تعجب کر رہی ہیں؟ آپ جیسے مقدس گھرانے (42) پر اللہ کی رحمت اور برکتیں ہی برکتیں ہیں، بیشک وہ ہر تعریف کا مستحق، بڑی شان والا ہے۔ پھر جب ابراہیم سے گھبراہٹ دور ہوئی، اور ان کو خوشخبری مل گئی تو انہوں نے ہم سے لوط کی قوم کے بارے میں (ناز کے طور پر) جھگڑنا شروع کردیا۔ (43) حقیقت یہ ہے کہ ابراہیم بڑے بردبار، (اللہ کی یاد میں) بڑی آہیں بھرنے والے (اور) ہر وقت ہم سے لو لگائے ہوئے تھے۔ (44) (ہم نے ان سے کہا) ابراہیم ! اس بات کو جانے دو۔ یقین کرلو کہ تمہارے رب کا حکم آچکا ہے، اور ان لوگوں پر ایسا عذاب آکر رہے گا جس کو کوئی پیچھے نہیں لوٹا سکتا۔
[سورۃ ہود:69-76]
تفسیر:
(39) اللہ تعالیٰ نے یہ فرشتے دو کاموں کے لئے بھیجے تھے، ایک یہ کہ وہ حضرت ابراہیم ؑ کو یہ خوشخبری دیں کہ ان کے یہاں ایک بیٹا ہوگا، یعنی حضرت اسحاق ؑ پیدا ہوں گے اور ان کا دوسرا کام یہ تھا کہ وہ حضرت لوط ؑ کی قوم پر عذاب نازل کریں، چنانچہ حضرت ابراہیم ؑ کو خوشخبری دینے کے بعد وہ حضرت لوط ؑ کی بستیوں کی طرف جانے والے تھے۔
(40) چونکہ فرشتے انسانی شکل میں آئے تھے، اس لیے حضرت ابراہیم ؑ شروع میں انہیں انسان ہی سمجھتے اور ان کی مہمانی کے لیے بھنے ہوئے بچھڑے کا گوشت لے کر آئے لیکن چونکہ وہ فرشتے تھے اور کچھ کھا نہیں سکتے تھے، اس لئے انہوں نے کھانے کی طرف ہاتھ نہیں بڑھایا، اس زمانے میں رسم یہ تھی کہ اگر کوئی شخص میزبان کے یہاں کھانا پیش ہونے کے بعد نہ کھائے تو یہ اس بات کی علامت سمجھی جاتی تھی کہ وہ کوئی دشمن ہے جو کسی بری نیت سے آیا ہے، اس لئے حضرت ابرہیم ؑ نے خوف محسوس کیا، اس موقع پر فرشتوں نے واضح کردیا کہ وہ فرشتے ہیں، اور ان دو کاموں کے لئے بھیجے گئے ہیں۔
(41) ہنسنے کی وجہ بعض مفسرین نے تو یہ بیان کی ہے کہ جب انہیں اطمینان ہوگیا کہ یہ فرشتے ہیں، اور خطرے کی کوئی بات نہیں ہے، تو خوشی کی وجہ سے وہ ہنس پڑیں، لیکن زیادہ صحیح بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ وہ بیٹے کی خوشخبری سن کر ہنسی تھیں۔ سورة حجر آیت 53 اور سورة ذاریات آیت 29، 30 میں بیان فرمایا گیا ہے کہ فرشتوں نے بیٹے کی خوشخبری پہلے دے دی تھی اور حضرت لوط ؑ کی قوم پر عذاب نازل کرنے کا ذکر بعد میں کیا تھا اس پر انہیں تعجب بھی ہوا اور خوشی بھی اور ان کو ہنستا دیکھ کر فرشتوں نے دوبارہ خوشخبری دی۔
(42) یہ ترجمہ اہل البیت کو عربی گرامر کے قاعدے سے منصوب علی سبیل المدح قرار دینے پر مبنی ہے۔ ترجمے میں مقدس کا لفظ بھی اسی لیے بڑھایا گیا ہے۔ اس کا دوسرا ترجمہ اس طرح بھی ممکن ہے کہ : اے اہل بیت! تم پر اللہ کی رحمت اور برکتیں ہیں۔
(43) جیسا کہ سورة اعراف آیت 80 کے حاشیہ میں بیان کیا جا چکا ہے حضرت لوط ؑ حضرت ابراہیم ؑ کے بھتیجے تھے جو عراق میں ہی ان پر ایمان لا کر ان کے ساتھ وطن سے ہجرت میں ان کے ساتھ شریک تھے۔ بعد میں اللہ تعالیٰ نے ان کو بھی پیغمبر بنا کر سدوم کے شہر میں بھیجا۔ اس شہر کے لوگ شرک کے علاوہ ہم جنس پرستی کی خباثت میں مبتلا تھے۔ جب انہوں نے حضرت لوط ؑ کی بات نہیں مانی تو اللہ تعالیٰ نے ان پر عذاب نازل کرنے کے لیے ان فرشتوں کو بھیجا تھا۔ حضرت ابراہیم ؑ کو یہ امید تھی کہ شاید یہ لوگ سنبھل جائیں اس لیے وہ اللہ تعالیٰ سے فرمائش کرتے رہے کہ ابھی ان پر عذاب نازل نہ کیا جائے۔ حضرت ابراہیم ؑ چونکہ اللہ تعالیٰ کے لاڈلے پیغمبر تھے، اس لیے انہوں نے ناز کے انداز میں بار بار جس طرح عذاب کو موخر کرنے کی فرمائش کی، اسے اس آیت میں پیار بھرے اسلوب میں جھگڑنے سے تعبیر فرمایا گیا ہے۔
(44) حضرت ابراہیم ؑ کی یہ فرمائش تو منظور نہیں فرمائی گئی کہ قوم لوط سے عذاب کو موخر کردیا جائے، لیکن جس جذبے اور جس انداز سے انہوں نے اللہ تعالیٰ سے رجوع فرمایا تھا، اس فقرے میں اس کی بڑے بلیغ انداز میں تعریف فرمائی گئی ہے۔
3. فرشتوں کا لوط علیہ السلام کے پاس آنا اور قوم کا ہجوم
القرآن:
اور جب ہمارے فرشتے لوط کے پاس پہنچے تو وہ ان کی وجہ سے گھبرائے، ان کا دل پریشان ہوا اور وہ کہنے لگے کہ : آج کا یہ دن بہت کٹھن ہے۔ (45) اور ان کی قوم کے لوگ ان کے پاس دوڑتے ہوئے آئے، اور اس سے پہلے وہ برے کام کیا ہی کرتے تھے۔ لوط نے کہا: اے میری قوم کے لوگو! یہ میری بیٹیاں موجود ہیں، یہ تمہارے لیے کہیں زیادہ پاکیزہ ہیں (46) اس لیے اللہ سے ڈرو اور میرے مہمانوں کے معاملے میں مجھے رسوا نہ کرو۔ کیا تم میں کوئی ایک بھی بھلا آدمی نہیں ہے؟ کہنے لگے: تمہیں معلوم ہے کہ تمہاری بیٹیوں سے ہمیں کچھ مطلب نہیں، اور تم خوب جانتے ہو کہ ہم کیا چاہتے ہیں؟ لوط نے کہا: کاش کہ میرے پاس تمہارے مقابلے میں کوئی طاقت ہوتی، یا میں کسی مضبوط سہارے کی پناہ لے سکتا۔ (47) (اب) فرشتوں نے (لوط سے) کہا: اے لوط! ہم تمہارے پروردگار کے بھیجے ہوئے فرشتے ہیں۔ یہ (کافر) لوگ ہرگز تم تک رسائی حاصل نہیں کرسکیں گے۔ لہذا تم رات کے کسی حصے میں اپنے گھر والوں کو لے کر بستی سے روانہ ہوجاؤ، اور تم میں سے کوئی پیچھے مڑ کر بھی نہ دیکھے۔ ہاں مگر تمہاری بیوی (تمہارے ساتھ نہیں جائے گی) اس پر بھی وہی مصیبت آنے والی ہے جو اور لوگوں پر آرہی ہے۔ یقین رکھو کہ ان (پر عذاب نازل کرنے) کے لیے صبح کا وقت مقرر ہے۔ کیا صبح بالکل نزدیک نہیں آگئی۔ پھر جب ہمارا حکم آگیا تو ہم نے اس زمین کے اوپر والے حصے کو نیچے والے حصے میں تبدیل کردیا، (48) اور ان پر پکی مٹی کے تہہ بر تہہ پتھر برسائے۔ جن پر تمہارے رب کی طرف سے نشان لگے ہوئے تھے۔ اور یہ بستی (مکہ کے ان) ظالموں سے کچھ دور نہیں ہے۔ (49)
[سورۃ ہود:77-83]
تفسیر:
(45) حضرت لوط ؑ کے پاس یہ فرشتے خوبصورت نوجوانوں کی شکل میں آئے تھے۔ اور انہیں ابھی یہ معلوم نہیں تھا کہ یہ فرشتے ہیں۔ دوسری طرف وہ اپنی قوم کی بد فطرت بےحیائی سے واقف تھے۔ اس لیے ان کی پریشانی کی وجہ یہ تھی کہ ان کی قوم ان مہمانوں کو اپنی ہوس کا نشانہ بنانے کی کوشش کرے گی، چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ جیسا کہ اگلی آیت میں یہ بیان فرمایا گیا ہے، وہ لوگ ان نوجوانوں کی آمد کی خبر سنتے ہی اس مقصد سے دورتے ہوئے آئے، اور حضرت لوط ؑ سے مطالبہ کیا کہ وہ ان مہمانوں کو ان کے حوالے کردیں۔
(46) نبی کی امت میں جتنی عورتیں ہوتی ہیں، وہ اس نبی کی روحانی بیٹیاں ہوتی ہیں۔ حضرت لوط ؑ نے ان بد قماش لوگوں کو نرمی سے سمجھانے کی کوشش کی کہ تمہاری عورتیں جو میری روحانی بیٹیاں ہیں۔ تمہارے گھروں میں موجود ہیں۔ تم اپنی نفسانی خواہشات ان سے پوری کرسکتے ہو۔ اور یہی فطرت کا پاکیزہ طریقہ ہے۔
(47) سدوم کی اس بستی میں حضرت لوط ؑ کے خاندان یا قبیلے کا کوئی آدمی نہیں تھا۔ وہ تو عراق کے باشندے تھے۔ اور اس قوم کی طرف پیغمبر بنا کر بھیجے گئے تھے۔ سدوم کے لوگوں کو ان کی قوم بھی قرآن کریم نے اس معنی میں کہا ہے کہ وہ ان کی امت تھے جن کی طرف ان کو بھیجا گیا تھا۔ اس موقع پر انہوں نے انتہائی بےچارگی محسوس کی کہ اگر میرے خاندان کا کوئی فرد یہاں ہوتا تو شاید میری کچھ مدد کرسکتا۔ جیسا کہ اگلی آیت میں بتایا گیا ہے، اس موقع پر فرشتوں نے بات کھول دی کہ ہم فرشتے ہیں، اس لیے آپ بالکل نہ گھبرائیں، یہ آپ کا یا ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گے، اور ہمیں ان پر عذاب نازل کرنے کے لیے بھیجا گیا ہے۔ صبح تک ان کا قلع قمع ہونے والا ہے۔ آپ اپنے گھر والوں کو ساتھ لے کر بستی سے راتوں رات نکل جائیں، تاکہ اس عذاب سے محفوظ رہیں۔ البتہ حضرت لوط ؑ کی بیوی کافرہ تھی اور اپنی قوم کی بد اعمالیوں میں ان کا ساتھ دیا کرتی تھی، اس لیے حکم ہوا کہ وہ آپ کے ساتھ نہیں جائے گی، بلکہ دوسرے کے ساتھ وہ بھی عذاب کا شکار ہوگی۔
(48) روایات میں ہے کہ یہ کل چار بستیاں تھیں جن میں یہ بد قماش لوگ بستے تھے، اس ساری بستیوں کو فرشتوں نے جوں کا توں اوپر اٹھا کر زمین پر اوندھا پٹخ دیا، اور ان کا نام ونشان مٹ گیا، بعض حضرات کا کہنا ہے کہ بحر میت (dead sea) جسے بحر مردار بھی کہا جاتا ہے ان بستیوں کے الٹنے سے پیدا ہوا ہے، ورنہ کسی بڑے سمندر سے اس کا رابطہ نہیں ہے، اس کے علاوہ جس مقام پر یہ بستیاں واقع تھیں یعنی بحر مردار کے آس پاس کا علاقہ، اس کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ یہ پورے کرہ زمین کا سب سے نچلا حصہ ہے، یعنی زمین کا کوئی اور حصہ سطح سمندر سے اتنا نیچا نہیں ہے جتنا نیچا یہ ہے، قرآن کریم نے جو فرمایا ہے کہ ہم نے اس زمین کے اوپر والے حصے کو نیچے والے حصے میں تبدیل کردیا، کچھ بعید نہیں کہ ان الفاظ میں اس جغرافیائی حقیقت کی طرف بھی اشارہ کیا گیا ہو اور ان کی انتہائی نچلی حرکتوں کو یہ محسوس شکل دے دی گئی ہو۔
(49) حضرت لوط ؑ کے واقعے کے آخر میں اب روئے سخن مکہ مکرمہ کے کافروں کی طرف موڑا گیا ہے، اور ان کو توجہ دلائی گئی ہے کہ حضرت لوط ؑ کی قوم کا یہ علاقہ تم سے زیادہ دور نہیں ہے۔ جب تم تجارت کے لیے شام جاتے ہو تو یہ علاقہ تمہارے راستے میں پڑتا ہے اور اگر تم میں ذرا بھی معقولیت ہو تو تمہیں اس سے عبرت حاصل کرنی چاہیے۔
القرآن:
چنانچہ جب یہ فرشتے لوط کے گھر والوں کے پاس پہنچے۔ تو لوط نے کہا : آپ لوگ اجنبی معلوم ہوتے ہیں۔ (21) انہوں نے کہا : نہیں، بلکہ ہم آپ کے پاس وہ (عذاب) لے کر آئے ہیں جس میں یہ لوگ شک کیا کرتے تھے۔ ہم آپ کے پاس اٹل فیصلہ لے کر آئے ہیں، اور یقین رکھیے کہ ہم سچے ہیں۔ لہذا آپ رات کے کسی حصے میں اپنے گھر والوں کو لے کر نکل جایے، اور آپ خود ان کے پیچھے پیچھے چلیے (22) اور آپ میں سے کوئی پیچھے مڑ کر نہ دیکھے، اور وہیں جانے کے لیے چلتے رہیں جہاں کا آپ کو حکم دیا جارہا ہے۔ اور (اس طرح) ہم نے لوط تک اپنا یہ فیصلہ پہنچا دیا کہ صبح ہوتے ہی ان لوگوں کی جڑ کاٹ کر رکھ دی جائے گی۔ اور شہر والے خوشی مناتے ہوئے (لوط کے پاس) آپہنچے۔ (23) لوط نے (ان سے) کہا کہ : یہ لوگ میرے مہمان ہیں، لہذا مجھے رسوا نہ کرو۔ اور اللہ سے ڈرو، اور مجھے ذلیل نہ کرو۔ کہنے لگے : کیا ہم نے آپ کو پہلے ہی دنیا جہان کے لوگوں (کو مہمان بنانے) سے منع نہیں کر رکھا تھا ؟ لوط نے کہا : اگر تم میرے کہنے پر عمل کرو تو یہ میری بیٹیاں (جو تمہارے نکاح میں ہیں، تمہارے پاس) موجود ہی ہیں۔ (24) (اے پیغمبر) تمہاری زندگی کی قسم ! حقیقت یہ ہے کہ وہ لوگ اپنی بدمستی میں اندھے بنے ہوئے تھے۔ چنانچہ سورج نکلتے ہی ان کو چنگھاڑ نے آپکڑا۔ پھر ہم نے اس زمین کو تہ وبالا کر کے رکھ دیا، اور ان پر پکی مٹی کے پتھروں کی بارش برسا دی۔
[سورۃ الحجر:61-74]
تفسیر:
(21) حضرت لوط ؑ اپنی قوم کی بد فطرتی سے واقف تھے کہ یہ لوگ اجنبیوں کو اپنی ہوس کا نشانہ بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس لیے انہوں نے گھبراہٹ کا اظہار کیا۔ حضرت لوط ؑ کی اس بد نہاد قوم کے مختصر تعارف کے لیے دیکھئے۔ سورة اعراف آیت 80 پر ہمارا حاشیہ۔
(22) حضرت لوط ؑ کو پیچھے چلنے کا حکم اس لیے دیا گیا تاکہ آپ اپنے تمام ساتھیوں کی نگرانی کرسکیں، خاص طور پر ان سب کو یہ حکم دیا گیا تھا کہ وہ پیچھے مڑ کر نہ دیکھیں۔ حضرت لوط ؑ کے پیچھے ہونے کی وجہ سے کسی کو یہ جرأت نہیں ہوسکتی تھی کہ وہ اس حکم کی خلاف ورزی کرے۔
(23) یہ فرشتے خوبصورت نوجوانوں کی شکل میں آئے تھے اس لیے جیسا کہ حضرت لوط ؑ کو اندیشہ تھا۔ یہ لوگ اپنی ہوس کو پوری کرنے کے شوق میں خوشی مناتے ہوئے آئے۔
(24) کسی نبی کی امت میں جتنی عورتیں ہوتی ہیں، وہ اس نبی کی روحانی بیٹیاں ہوتی ہیں۔ حضرت لوط ؑ نے ان بد قماش لوگوں کو نرمی سے سمجھانے کی کوشش کی کہ تمہاری عورتیں جو میری روحانی بیٹیاں ہیں، تمہارے گھروں میں موجود ہیں۔ تم اپنی نفسانی خواہشات ان سے پوری کرسکتے ہو، اور یہی فطرت کا پاکیزہ طریقہ ہے۔
4. لوط علیہ السلام کی نجات اور قوم کی ہلاکت
القرآن:
پھر ہوا یہ کہ ہم نے ان کو (یعنی لوط ؑ کو) اور ان کے گھر والوں کو (بستی سے نکال کر) بچا لیا، البتہ ان کی بیوی تھی جو باقی لوگوں میں شامل رہی (جو عذاب کا نشانہ بنے) اور ہم نے ان پر (پتھروں کی) ایک بارش برسائی۔ اب دیکھو ! ان مجرموں کا انجام کیسا (ہولناک) ہوا ؟
[سورۃ الاعراف:83-84]
القرآن:
کہنے لگے : لوط ! اگر تم باز نہ آئے تو تم بھی ان لوگوں میں شامل ہوجاؤ گے جنہیں (بستی سے) نکال باہر کیا جاتا ہے۔ لوط نے کہا : یقین جانو، میں ان لوگوں میں سے ہوں جو تمہارے اس کام سے بالکل بیزار ہیں۔ میرے پروردگار ! جو حرکتیں یہ لوگ کر رہے ہیں، مجھے اور میرے گھر والوں کو ان سے نجات دیدے۔ (35) چنانچہ ہم نے ان کو اور ان کے سب گھر والوں کو نجات دی۔ سوائے ایک بڑھیا کے جو پیچھے رہنے والوں میں شامل رہی۔ (36) پھر اور سب کو ہم نے تباہ کردیا۔ اور ان پر ایک زبردست بارش برسا دی۔ (37) غرض بہت بری بارش تھی جو ان پر برسی جنہیں پہلے سے ڈرا دیا گیا تھا۔
[سورۃ الشعراء:167-173]
تفسیر:
(35) یعنی اس کڑھن سے نجات دیدے جو ان لوگوں کو ایسے گھناؤنے کردار میں ملوث دیکھ کر پیدا ہوتی ہے، اور اس عذاب سے محفوط رکھ جو ان کی حرکتوں کی وجہ سے ان پر نازل ہونے والا ہے۔
(36) اس سے مراد خود حضرت لوط ؑ کی بیوی ہے جو ایمان لانے کے بجائے اپنی بدکردار قوم کا ساتھ دیتی تھی۔ جب عذاب آنے سے پہلے حضرت لوط ؑ کو شہر سے باہر نکلنے کا حکم ہوا تو یہ عورت اللہ تعالیٰ ہی کے حکم سے پیچھے رہ گئی تھی، اور جب بستی والوں پر عذاب آیا تو یہ بھی اس کا شکار ہوئی۔
(37) پتھروں کی بارش سے مراد ہے جو ان لوگوں پر برسائی گئی تھی، جیسا کہ سورة حجر میں صراحت کے ساتھ فرمایا گیا ہے۔
القرآن:
لوط کی قوم نے (بھی) تنبیہ کرنے والوں کو جھٹلایا۔ ہم نے ان پر پتھروں کا مینہ برسایا، سوائے لوط کے گھر والوں کے جنہیں ہم نے سحری کے وقت بچا لیا تھا۔ لوط کی قوم نے (بھی) تنبیہ کرنے والوں کو جھٹلایا۔ ہم نے ان پر پتھروں کا مینہ برسایا، سوائے لوط کے گھر والوں کے جنہیں ہم نے سحری کے وقت بچا لیا تھا۔ یہ ہماری طرف سے ایک نعمت تھی۔ جو لوگ شکر گزار ہوتے ہیں، ان کو ہم ایسا ہی صلہ دیتے ہیں۔ اور لوط نے لوگوں کو ہماری پکڑ سے ڈرایا تھا، لیکن وہ ساری تنبیہات میں میکھ نکالتے رہے۔ اور انہوں نے لوط کو ان کے مہمانوں کے بارے میں پھسلانے کی کوشش کی۔ (9) جس پر ہم نے ان کی آنکھوں کو اندھا کردیا کہ : چکھو میرے عذاب اور میری تنبیہات کا مزہ۔ اور صبح سویرے ان پر ایسا عذاب حملہ آور ہوا جو کم کر رہ گیا۔ اور حقیقت یہ ہے کہ ہم نے قرآن کو نصیحت حاصل کرنے کے لیے آسان بنادیا ہے۔ اب کیا کوئی ہے جو نصیحت حاصل کرے ؟
[سورۃ القمر:33-39]
تفسیر:
(9) سورة ہود : 78 میں اس کی تفصیل گذر چکی ہے کہ حضرت لوط ؑ کے پاس فرشتے خوبصورت نوجوانوں کی شکل میں آئے تھے۔ ان کی قوم ہم جنسی کی بیماری میں مبتلا تھی، اس لیے انہوں نے حضرت لوط ؑ سے مطالبہ کیا کہ ان مہمانوں کو ان کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا، اور اس طرح وہ مہمانوں تک نہ پہنچ سکے (تفسیر الدر المنثور عن قتادة)
خلاصہ:
قرآن مجید میں قومِ لوط کا قصہ ترتیب کے ساتھ یوں ہے: لوط علیہ السلام کی توحید و پاکیزگی کی دعوت → قوم کا انکار اور بے حیائی پر اصرار → فرشتوں کا ابراہیم علیہ السلام کے پاس آنا → فرشتوں کا لوط علیہ السلام کے پاس آنا → قوم کا مہمانوں پر ہجوم → لوط اور مومنین کی نجات → قوم کی ہلاکت اور عذاب۔
قرآن مجید کے بعد احادیث نبوی ﷺ میں بھی قومِ لوط کے واقعے اور ان کے عمل کی مذمت کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ ذیل میں احادیث کی روشنی میں یہ قصہ ترتیب وار اور باحوالہ پیش کیا جا رہا ہے۔
1. لوط علیہ السلام کا اپنی قوم کے سامنے اپنی بے بسی کا اظہار اور اللہ کی طرف پناہ
قرآن مجید میں لوط علیہ السلام کا یہ قول موجود ہے: "کاش میرے پاس تم پر قوت ہوتی یا میں کسی مضبوط سہارے کی پناہ لے سکتا" (ہود: 80)۔ نبی کریم ﷺ نے اس آیت کی تفسیر میں بتایا کہ لوط علیہ السلام کا اشارہ اللہ کی طرف تھا۔
حدیث:
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
"اللہ لوط پر رحم فرمائے! یقیناً انہوں نے (اپنے قول 'یا آوی إلی رکن شدید' سے) ایک مضبوط سہارے (یعنی اللہ) کی پناہ لی تھی۔"
حوالہ:
صحیح بخاری (حدیث نمبر: 3375) اور صحیح مسلم (حدیث نمبر: 151)۔
2. قومِ لوط کے عذاب کی کیفیت: فرشتوں کا کردار
قرآن مجید میں قومِ لوط پر "حاصبًا" (کنکر پتھر برسانے والی آندھی) اور "صیحہ" (سخت آواز) کے عذاب کا ذکر ہے۔ احادیث میں اس کی مزید تفصیل ملتی ہے کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے کس طرح انہیں ہلاک کیا۔
روایت:
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
اور (جس طرح یہ لوگ ہمارے نبی سے دشمنی کر رہے ہیں) اسی طرح ہم نے ہر (پچھلے) نبی کے لیے کوئی نہ کوئی دشمن پیدا کیا تھا، یعنی انسانوں اور جنات میں سے شیطان قسم کے لوگ، جو دھوکا دینے کی خاطر ایک دوسرے کو بڑی چکنی چپڑی باتیں سکھاتے رہتے تھے۔ اور اگر الله چاہتا تو وہ ایسا نہ کرسکتے۔ لہذا ان کو اپنی افترا پردازیوں میں پڑا رہنے دو۔
[سورۃ الأنعام:112]
تفسیر:
مفسرین کے مطابق، "زخرف القول" (سنہری/خوشنما بات) سے مراد وہ جھوٹی اور باطل باتیں ہیں جنہیں سنوار کر، سجا کر پیش کیا جائے تاکہ لوگ انہیں سچ سمجھ بیٹھیں۔
تفسیر:
زُخْرُفَ الْقَوْلِ:- یعنی غلط اور باطل بات جسے سنہرا(خوبصورت) بنا کر پیش کیا جائے، یعنی دھوکہ دینے کی بات کو خوب مزین کرتے ہیں۔ یہ حق کے انکار(نہ ماننے) کی پانچویں وجہ ہے۔
جس طرح شیاطین جن و انس ہر پیغمبر کے دشمن ہوتے ہیں اور لوگوں کو گمراہ کرنے کے لیے پیغمبر کے خلاف جھوٹا پروپیگنڈا کرتے ہیں۔ اسی طرح حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے دشمن (شیاطین انس و جن) یہ کام سر انجام دے رہے ہیں اور مسئلہ توحید کے خلاف لوگوں کے دلوں میں وسوسے ڈالتے پھر رہے ہیں۔ مثلاً یہ شخص بے ادب ہے اور بزرگوں کی بے ادبی کرتا ہے اس سے بچو۔
تائید:
وَ مَا اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِکَ مِنْ رَّسُوْلٍ وَّ لَا نَبِیٍّ اِلّا اِذَا تَمَنّٰی اَلْقٰ الشَّیْطَانُ فیْ اُمْنِیَّتہ ۔ یعنی جب اللہ کا پیغمبر اللہ کی آیتیں لوگوں کو پڑھ کر سناتا اس وقت شیطان لوگوں کے دلوں میں اس کے بارے میں وسوسے ڈالنا شروع کردیتا۔
یہاں پھر وہی بات فرمائی جا رہی ہے کہ اگر الله تعالیٰ چاہتا تو شیاطین کو یہ قدرت نہ دیتا اور لوگوں کو زبردستی ایمان پر مجبور کردیتا لیکن چونکہ مقصد امتحان ہے، اس لئے زبردستی کا ایمان معتبر نہیں۔
دجال (یعنی بڑا دھوکہ باز) شخصیت کو کہتے ہیں جو شیطان کا سب سے بڑا اور آخری ہتھیار ہوگا۔
اور دجالیت، دجال(دھوکہ) کے طریقہ اور نظام کو کہتے ہیں۔
عظمت کا لغوی مطلب ہے بڑائی، بلندی، بزرگی، شان و شوکت، کبریائی اور رفعت۔
اصطلاحی معنی:
اللہ کی عظمت کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی ذات، اسماء و صفات، افعال اور حکم میں ہر قسم کی کمی، محدودیت اور عیب سے پاک ہے۔ وہ ہر چیز سے بڑا، ہر چیز سے بلند، ہر چیز پر قادر، ہر چیز کا مالک اور ہر چیز سے بے نیاز ہے۔
اللہ اکبر کا مفہوم:
”اللہ اکبر“ کا مطلب ہے: اللہ ہر چیز سے بڑا ہے۔ کوئی چیز اس کے مقابلے میں نہیں، کوئی اس کا ہمسر نہیں، کوئی اس سے بڑا نہیں۔
پیغمبر نوح علیہ السلام کی کشتی کا واقعہ — واقعاتی ترتیب کے ساتھ باحوالہ
1. طویل دعوت، قوم کی سرکشی اور بہت کم ایمان لانے والے
حضرت نوح علیہ السلام(سلامتی ہو ان پر) نے تقریباً ایک ہزار سال عمر پائی اور صدیوں تک اپنی قوم کو نہایت دردمندی سے تبلیغ فرماتے رہے۔ اس کے بدلے سخت اذیتیں برداشت کیں، مگر بہت تھوڑے لوگوں کے سوا باقی سب اپنے کفر اور بداعمالیوں پر قائم رہے۔
حوالہ: تفسیر (18)، سورۃ ہود 37-49۔
2. قوم کے ایمان نہ لانے کا فیصلہ اور کشتی بنانے کا حکم
آخر میں اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح (سلامتی ہو ان پر) کو بتادیا کہ یہ لوگ ایمان لانے والے نہیں ہیں اور اب ان پر طوفان کا عذاب آئے گا۔ اس لیے آپ کو کشتی بنانے کا حکم دیا تاکہ آپ اور آپ کے ساتھ ایمان لانے والے اس میں سوار ہو کر طوفان کی تباہی سے بچ سکیں۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
اور ہماری نگرانی میں اور ہماری وحی کی مدد سے کشتی بناؤ، اور جو لوگ ظالم بن چکے ہیں ان کے بارے میں مجھ سے کوئی بات نہ کرنا۔ یہ اب غرق ہو کر رہیں گے۔
حوالہ: سورۃ ہود 11:37؛ تفسیر (18)۔
بعض مفسرین کے مطابق کشتی سازی کی صنعت سب سے پہلے حضرت نوح (سلامتی ہو ان پر) نے وحی کے ذریعے شروع فرمائی اور پہلی بار تین منزلہ جہاز تیار کیا۔
حوالہ: تفسیر (18)۔
3. کشتی کی تعمیر اور قوم کا مذاق
چنانچہ وہ کشتی بنانے لگے۔ اور جب بھی ان کی قوم کے کچھ سردار ان کے پاس سے گزرتے تو ان کا مذاق اڑاتے تھے۔
حوالہ: سورۃ ہود 11:38؛ تفسیر (19)۔
تفسیر کے مطابق وہ مذاق اس بات کا اڑاتے تھے کہ انہوں نے دوسرے کام چھوڑ کر کشتی بنانی شروع کردی ہے، حالانکہ پانی کا کہیں دور دور پتہ نہیں تھا۔
حوالہ: تفسیر (19)۔
4. حضرت نوح علیہ السلام کا جواب
نوح نے کہا:
اگر تم ہم پر ہنستے ہو تو جیسے تم ہنس رہے ہو، اسی طرح ہم بھی تم پر ہنستے ہیں۔ عنقریب تمہیں پتہ چل جائے گا کہ کس پر وہ عذاب آرہا ہے جو اسے رسوا کر کے رکھ دے گا، اور کس پر وہ قہر نازل ہونے والا ہے جو کبھی ٹل نہیں سکے گا۔
حوالہ: سورۃ ہود 11:38-39؛ تفسیر (20)۔
تفسیر میں ہے کہ یعنی ہمیں اس بات پر ہنسی آتی ہے کہ عذاب تمہارے سر پر آچکا ہے اور تمہیں دل لگی سوجھی ہے۔
حوالہ: تفسیر (20)۔
5. عذاب کا آغاز: تنور ابل پڑا
یہاں تک کہ جب ہمارا حکم آگیا اور تنور ابل پڑا۔
حوالہ: سورۃ ہود 11:40؛ تفسیر (21)۔
تفسیر کے مطابق عربی زبان میں ”تنور“ سطح زمین کو بھی کہتے ہیں اور روٹی پکانے کے چولہے کو بھی۔ بعض روایات میں ہے کہ طوفان نوح کی ابتدا اس طرح ہوئی کہ ایک تنور سے پانی ابلنا شروع ہوا اور پھر کسی طرح نہ رکا۔ بعض مفسرین نے تنور کو سطح زمین کے معنیٰ میں لیا ہے اور مطلب یہ بتایا ہے کہ زمین کی سطح سے پانی ابلنا شروع ہوگیا، پھر ساری زمین میں پھیل گیا، اور اوپر سے تیز بارش شروع ہوگئی۔
حوالہ: تفسیر (21)۔
6. کشتی میں سوار کرنے کا حکم
تو ہم نے نوح سے کہا:
اس کشتی میں ہر قسم کے جانوروں میں سے دو دو کے جوڑے سوار کرلو، اور تمہارے گھر والوں میں سے جن کے بارے میں پہلے کہا جا چکا ہے کہ وہ کفر کی وجہ سے غرق ہوں گے، ان کو چھوڑ کر باقی گھر والوں کو بھی، اور جتنے لوگ ایمان لائے ہیں ان کو بھی ساتھ لے لو۔ اور تھوڑے ہی سے لوگ تھے جو ان کے ساتھ ایمان لائے تھے۔
حوالہ: سورۃ ہود 11:40؛ تفسیر (22)۔
تفسیر کے مطابق چونکہ طوفان میں وہ جانور بھی ہلاک ہونے والے تھے جن کی انسانوں کو ضرورت پڑتی ہے، اس لیے حکم دیا گیا کہ کشتی میں ضرورت کے تمام جانوروں کا ایک ایک جوڑا سوار کرلو، تاکہ ان کی نسل باقی رہے اور طوفان کے بعد ان سے کام لیا جاسکے۔
حوالہ: تفسیر (22)۔
7. کشتی میں سوار ہونے کا اعلان
اور نوح نے ان سب سے کہا:
اس کشتی میں سوار ہوجاؤ، اس کا چلنا بھی اللہ ہی کے نام سے ہے، اور لنگر ڈالنا بھی۔ یقین رکھو کہ میرا پروردگار بہت بخشنے والا، بڑا مہربان ہے۔
حوالہ: سورۃ ہود 11:41۔
8. کشتی کا سفر
اور وہ کشتی پہاڑوں جیسی موجوں کے درمیان چلی جاتی تھی۔
حوالہ: سورۃ ہود 11:42۔
9. حضرت نوح علیہ السلام کا اپنے بیٹے کو بلانا
اور نوح نے اپنے اس بیٹے کو جو سب سے الگ تھا، آواز دی:
بیٹے! ہمارے ساتھ سوار ہوجاؤ، اور کافروں کے ساتھ نہ رہو۔
حوالہ: سورۃ ہود 11:42؛ تفسیر (23)۔
تفسیر کے مطابق حضرت نوح (سلامتی ہو ان پر) کے اور بیٹے تو کشتی میں سوار ہوگئے تھے، مگر ایک بیٹا جس کا نام کنعان بتایا جاتا ہے، کافر تھا اور کافروں ہی کے ساتھ اٹھتا بیٹھتا تھا، وہ کشتی میں سوار نہیں ہوا تھا۔ حضرت نوح (سلامتی ہو ان پر) کو یا تو علم نہیں تھا کہ وہ کافر ہے، اور وہ محض یہ سمجھتے تھے کہ اس کی صحبت خراب ہے، یا کافر ہونے کا علم تھا، مگر یہ چاہتے تھے کہ وہ مسلمان ہوجائے، اس لیے پہلے اسے کشتی میں سوار ہونے کی اجازت مل جائے۔ چونکہ اللہ تعالیٰ نے یہ وعدہ فرمایا تھا کہ حضرت نوح (سلامتی ہو ان پر) کے سارے گھر والے جو صاحب ایمان ہوں گے، انہیں عذاب سے نجات ملے گی، اس لیے حضرت نوح (سلامتی ہو ان پر) نے اس وعدے کا حوالہ بھی دیا۔
حوالہ: تفسیر (23)۔
10. بیٹے کا انکار اور ڈوبنا
وہ بولا:
میں ابھی کسی پہاڑ کی پناہ لے لوں گا جو مجھے پانی سے بچا لے گا۔
نوح نے کہا:
آج اللہ کے حکم سے کوئی کسی کو بچانے والا نہیں ہے، سوائے اس کے جس پر وہ ہی رحم فرمادے۔
اس کے بعد ان کے درمیان موج حائل ہوگئی، اور ڈوبنے والوں میں وہ بھی شامل ہوا۔
حوالہ: سورۃ ہود 11:43؛ تفسیر (23)۔
11. پانی کا خاتمہ اور کشتی کا جودی پر ٹھہرنا
اور حکم ہوا:
اے زمین! اپنا پانی نگل لے، اور اے آسمان! تھم جا۔
چنانچہ پانی اتر گیا اور سارا قصہ چکا دیا گیا۔ کشتی جودی پہاڑ پر آٹھہری اور کہہ دیا گیا کہ:
بربادی ہے اس قوم کی جو ظالم ہو۔
حوالہ: سورۃ ہود 11:44؛ تفسیر (24-25)۔
تفسیر کے مطابق یعنی قوم کے تمام افراد طوفان میں غرق کردیے گئے۔ جودی اس پہاڑ کا نام ہے جو شمالی عراق میں واقع ہے، اور اس پہاڑی سلسلے کا ایک حصہ ہے جو کردستان سے آرمینیا تک پھیلا ہوا ہے۔ بائبل میں اس پہاڑ کا نام ارارات مذکور ہے۔
حوالہ: تفسیر (24-25)۔
12. حضرت نوح علیہ السلام کی دعا اور اللہ کا جواب
اور نوح نے اپنے پروردگار کو پکارا اور کہا:
اے میرے پروردگار! میرا بیٹا میرے گھر ہی کا ایک فرد ہے، اور بیشک تیرا وعدہ سچا ہے، اور تو سارے حاکموں سے بڑھ کر حاکم ہے۔
حوالہ: سورۃ ہود 11:45؛ تفسیر (26)۔
اللہ نے فرمایا:
اے نوح! یقین جانو وہ تمہارے گھر والوں میں سے نہیں ہے، وہ تو ناپاک عمل کا پلندہ ہے۔ لہذا مجھ سے ایسی چیز نہ مانگو جس کی تمہیں خبر نہیں، میں تمہیں نصیحت کرتا ہوں کہ تم نادانوں میں شامل نہ ہو۔
حوالہ: سورۃ ہود 11:46؛ تفسیر (26-27)۔
تفسیر میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جواب میں فرمایا کہ وہ کافر ہے اور اس کے مقدر میں ایمان نہیں ہے، اس لیے وہ درحقیقت تمہارے گھر والوں میں شامل ہی نہیں ہے۔ یہ بات تمہارے علم میں نہیں تھی کہ اس کے مقدر میں ایمان نہیں، اس لیے تم نے اس کی نجات یا ایمان کی دعا مانگی۔
حوالہ: تفسیر (26)۔
13. حضرت نوح علیہ السلام کی توبہ اور پناہ
نوح نے کہا:
میرے پروردگار میں آپ کی پناہ مانگتا ہوں اس بات سے کہ آئندہ آپ سے وہ چیز مانگوں جس کا مجھے علم نہیں، اور اگر آپ نے میری مغفرت نہ فرمائے اور مجھ پر رحم نہ کیا تو میں بھی ان لوگوں میں شامل ہوجاؤں گا جو برباد ہوگئے ہیں۔
حوالہ: سورۃ ہود 11:47۔
14. کشتی سے اترنے کا حکم اور برکتیں
فرمایا گیا:
اے نوح! اب کشتی سے اتر جاؤ، ہماری طرف سے وہ سلامتی اور برکتیں لے کر جو تمہارے لیے بھی ہیں اور تمہاری جتنی قومیں ہیں، ان کے لیے بھی۔ اور کچھ قومیں ایسی ہیں جن کو ہم دنیا میں لطف اٹھانے کا موقع دیں گے، پھر ان کو ہماری طرف سے ایک دردناک عذاب آپکڑے گا۔
حوالہ: سورۃ ہود 11:48؛ تفسیر (27)۔
تفسیر کے مطابق سلامتی اور برکتوں کا وعدہ جو حضرت نوح (سلامتی ہو ان پر) کے ساتھیوں کے لیے کیا گیا، اس میں ”قوموں“ کا لفظ استعمال کر کے یہ اشارہ دیا گیا ہے کہ یہ لوگ اگرچہ اس وقت تھوڑے سے ہیں لیکن ان کی نسل سے بہت سی قومیں پیدا ہوں گی اور دین حق پر قائم رہیں گی، اس لیے سلامتی اور برکتوں میں وہ بھی شریک ہوں گی۔ البتہ آخر میں یہ فرمایا گیا کہ کچھ قومیں ان کی نسل میں ایسی آئیں گی کہ جو دین برحق پر قائم نہیں رہیں گی۔ لہذا انہیں دنیا میں کچھ عرصے لطف اٹھانے کا موقع دیا جائے گا، لیکن ان کا آخری انجام ان کے کفر کی وجہ سے یہی ہوگا کہ وہ دنیا یا آخرت میں اللہ تعالیٰ کے عذاب میں گرفتار ہوں گے۔
حوالہ: تفسیر (27)۔
15. غیب کی خبر اور صبر کی تلقین
اے پیغمبر(محمد ﷺ)! یہ غیب کی کچھ باتیں ہیں جو ہم تمہیں وحی کے ذریعے بتا رہے ہیں۔ یہ باتیں نہ تم اس سے پہلے جانتے تھے، نہ تمہاری قوم۔ لہذا صبر سے کام لو اور آخری انجام متقیوں ہی کے حق میں ہوگا۔
حوالہ: سورۃ ہود 11:49؛ تفسیر (28)۔
تفسیر میں ہے کہ حضرت نوح (سلامتی ہو ان پر) کا واقعہ بیان فرمانے کے بعد آنحضرت ﷺ کے بارے میں اس آیت نے دو حقیقتوں کی طرف توجہ دلائی ہے۔ ایک یہ کہ یہ واقعہ نہ صرف آپ کو بلکہ قریش اور عرب کے غیر اہل کتاب میں سے کسی کو پہلے معلوم نہیں تھا، اور آپ کے پاس اس کو اہل کتاب سے سیکھنے کا بھی کوئی ذریعہ نہیں تھا۔ لہذا یہ بات واضح ہے کہ یہ واقعہ آنحضرت ﷺ کو وحی کے ذریعے معلوم ہوا ہے۔ اس سے آپ کی نبوت اور رسالت کی دلیل ملتی ہے۔ دوسرے آنحضرت ﷺ کو اپنی قوم کی طرف سے جس تکذیب اور اذیتوں کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا، اس واقعے کے ذریعے آپ کو اول تو صبر سے کام لینے کی تلقین فرمائی گئی ہے، اور دوسرے یہ تسلی دی گئی ہے کہ جس طرح حضرت نوح (سلامتی ہو ان پر) کو شروع میں سخت مشکلات پیش آئیں، مگر آخر انجام انہی کے حق میں ہوا، اسی طرح آنحضرت (رحمت ہو اللہ کی ان پر اور سلامتی بھی) بالآخر ان لوگوں پر غالب آئیں گے۔
حوالہ: تفسیر (28)۔
---
واقعہ کے بعد کے قرآنی حوالہ جات
1. سورۃ الاعراف
پھر بھی انہوں نے نوح کو جھٹلایا، چنانچہ ہم نے ان کو اور کشتی میں ان کے ساتھیوں کو نجات دی۔ اور ان سب لوگوں کو غرق کردیا جنہوں نے ہماری نشانیوں کو جھٹلایا تھا۔ یقینا وہ اندھے لوگ تھے۔
حوالہ: سورۃ الاعراف 7:64۔
2. سورۃ یونس
پھر ہوا یہ کہ ان لوگوں نے نوح کو جھٹلایا اور نتیجہ یہ ہوا کہ ہم نے نوح کو اور جو لوگ ان کے ساتھ کشتی میں تھے انہیں بچا لیا، اور ان کو کافروں کی جگہ زمین میں بسایا، اور جن لوگوں نے ہماری نشانیوں کو جھٹلایا تھا، انہیں طوفان میں غرق کردیا۔ اب دیکھو کہ جن لوگوں کو خبردار کیا گیا تھا ان کا انجام کیسا ہوا؟
حوالہ: سورۃ یونس 10:73۔
3. سورۃ الاسراء
اے ان لوگوں کی اولاد جن کو ہم نے نوح کے ساتھ کشتی میں سوار کیا تھا۔ اور وہ بڑے شکر گزار بندے تھے۔
حوالہ: سورۃ الاسراء 17:3۔
تفسیر کے مطابق حضرت نوح (سلامتی ہو ان پر) کی کشتی کا حوالہ خاص طور پر اس لیے دیا گیا ہے کہ جو لوگ اس کشتی میں سوار ہوئے تھے، انہیں اللہ تعالیٰ نے طوفان میں ڈوبنے سے بچالیا تھا۔ یہ اللہ تعالیٰ کا خاص کرم تھا، اسے یاد دلا کر فرمایا جا رہا ہے کہ اس نعمت کا شکر یہ ہے کہ ان لوگوں کی اولاد اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کو اپنا معبود نہ بنائے۔
حوالہ: تفسیر (2)۔
4. سورۃ القمر
اور نوح کو ہم نے ایک تختوں اور میخوں والی کشتی پر سوار کردیا۔ جو ہماری نگرانی میں رواں دواں تھی، تاکہ اس پیغمبر کا بدلہ لیا جائے جس کی ناقدری کی گئی تھی۔
حوالہ: سورۃ القمر 54:13-14۔
5. سورۃ الحاقہ
جب پانی طغیانی پر آیا تو ہم نے تمہیں کشتی میں سوار کردیا۔ تاکہ ہم اس واقعے کو تمہارے لیے سبق آموز بنادیں اور یاد رکھنے والے کان اسے سن کر یاد رکھیں۔
حوالہ: سورۃ الحاقہ 69:11-12۔
تفسیر کے مطابق اس سے مراد اس طوفان کا پانی ہے جو حضرت نوح (سلامتی ہو ان پر) کی قوم پر عذاب کے طور پر بھیجا گیا تھا، اور مطلب یہ ہے کہ جو لوگ حضرت نوح (سلامتی ہو ان پر) پر ایمان لے آئے تھے، انہیں پانی کی طغیانی سے بچانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے انہیں کشتی میں سوار کردیا، جس کا مفصل واقعہ سورۃ ہود 36 تا 48 میں گذر چکا ہے۔
حوالہ: تفسیر (5)۔
---
مختصر خلاصہ
یوں پیغمبر نوح (سلامتی ہو ان پر) کی کشتی کا واقعہ (1)دعوت و تبلیغ، (2)قوم کی سرکشی، (3)کشتی کی تعمیر، (4)مذاق، (5)طوفان، (6)کشتی میں سوار ہونے، (7)بیٹے کے ڈوبنے، (8)پانی کے خاتمے، (9)جودی پر ٹھہرنے، (9)نوح (سلامتی ہو ان پر) کی دعا، (10)اللہ کے جواب، (11)برکتوں اور صبر کی تلقین کے ساتھ مکمل ہوتا ہے۔ اس کے بعد سورۃ الاعراف، یونس، الاسراء، القمر اور الحاقہ میں اس واقعے کے مختلف پہلوؤں کو یاد دلایا گیا ہے۔
*اصولِ زندگی»* صحیح و غلط، نیکی و برائی، یا حلال وحرام کے اصول کو ترجیح دینا.....فوری، فانی اور ادنیٰ(دنیاوی) نفع یا نقصان پر.....اگرچہ بہترین اور دائمی نفع ونقصان سرمایہ کاری یا ادھار کی طرح غائب ہو اور مستقبل میں نظر آئے۔
📖 القرآن:
لیکن تم دنیاوی زندگی کو ترجیح دیتے ہو، حالانکہ آخرت بہتر اور باقی رہنے والی ہے۔(سورۃ الاعلیٰ: 16-17)۔ ”جو تمہیں دیا گیا ہے وہ دنیاوی زندگی کا متاع ہے، اور جو اللہ کے پاس ہے وہ بہتر اور باقی رہنے والا ہے۔(الشوریٰ: 36) تو جسے آگ سے بچا لیا گیا اور جنت میں داخل کر دیا گیا، وہ کامیاب ہو گیا۔ (آل عمران: 185)