Saturday, 14 May 2016

تھے سب لوگو ایک دین پر پھر ۔۔۔


كانَ النّاسُ أُمَّةً وٰحِدَةً فَبَعَثَ اللَّهُ النَّبِيّۦنَ مُبَشِّرينَ وَمُنذِرينَ وَأَنزَلَ مَعَهُمُ الكِتٰبَ بِالحَقِّ لِيَحكُمَ بَينَ النّاسِ فيمَا اختَلَفوا فيهِ ۚ وَمَا اختَلَفَ فيهِ إِلَّا الَّذينَ أوتوهُ مِن بَعدِ ما جاءَتهُمُ البَيِّنٰتُ بَغيًا بَينَهُم ۖ فَهَدَى اللَّهُ الَّذينَ ءامَنوا لِمَا اختَلَفوا فيهِ مِنَ الحَقِّ بِإِذنِهِ ۗ وَاللَّهُ يَهدى مَن يَشاءُ إِلىٰ صِرٰطٍ مُستَقيمٍ {2:213}

تھے سب لوگو ایک دین پر پھر بھیجے اللہ نے پیغمبر خوشخبری سنانے والے اور ڈرانے والے اور اتاری انکےساتھ کتاب سچی کہ فیصلہ کرے لوگوں میں جس بات میں وہ جھگڑا کریں اور نہیں جھگڑا ڈالا کتاب میں مگر انہی لوگوں نے جن کو کتاب ملی تھی اس کے بعد کہ ان کو پہنچ چکے صاف حکم آپس کی ضد سے پھر اب ہدایت کی اللہ نے ایمان والوں کو اس سچی بات کی جس میں وہ جھگڑ رہے تھے اپنے حکم سے اور اللہ بتلاتا ہے جس کو چاہے سیدھا راستہ 
پیغمبروں اور کتابوں کے بھیجنے کی حکمت:
حضرت آدمؑ کے وقت سے ایک ہی سچا دین رہا ایک مدت تک اس کے بعد دین میں لوگوں نے اختلاف ڈالا تو خدا تعالیٰ نے انبیاء کو بھیجا جو اہل ایمان و طاعت کو ثواب کی بشارت دیتے تھے اور اہل کفر و معصیت کو عذاب سے ڈراتے تھے اور ان کے ساتھ سچی کتاب بھی بھیجی تاکہ لوگوں کا اختلاف اور نزاع دور ہو اور دین حق ان کے اختلاف سے محفوظ اور قائم رہے اور احکام الہٰی میں انہی لوگوں نے اختلاف ڈالا جن کو وہ کتاب ملی تھی جیسے یہود و نصاریٰ توریت و انجیل میں اختلاف و تحریف کرتے تھے اور یہ نزاع بے سمجھی سے نہیں کرتے تھے بلکہ خوب سمجھ کر محض حب دنیا اور ضد اور حسد سے ایسا کرتے تھے سو اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے اہل ایمان کو طریقہ حق کی تعلیم ہدایت فرمائی اور گمراہوں کے اختلافات سے بچا لیا جیسے آپ کی امت کو ہر عقیدہ اور ہر عمل میں امر حق کی تعلیم فرمائی اور یہود و نصاریٰ کے اختلاف  اور افراط و تفریط سے ان کو محفوظ رکھا۔ {فائدہ} اس آیت سے دو باتیں معلوم ہوئیں ایک تو یہ کہ اللہ نے جو کتابیں اور نبی متعدد بھیجے تو اس واسطے نہیں کہ ہر فرقہ کو جدا طریقہ بتلایا ہو بلکہ سب کے لئے اللہ نے اصل میں ایک ہی رستہ مقرر کیا جس وقت اس راہ سے بِچلے تو اللہ نے نبی کو بھیجا اور کتاب اتاری کہ اس کے موافق چلیں اس کے بعد پھر بہکے تو دوسرا نبی اور کتاب اللہ پاک نے اسی ایک راہ کے قائم کرنے کو بھیجا اُس کی مثال ایسی ہے جیسے کہ تندرستی ایک ہے اور بیماریاں بےشمار جب ایک مرض پیدا ہوا تو اس کے موافق دوا اور پرہیز فرمایا جب دوسرا مرض پیدا ہوا تو دوسری دوا  اور پرہیز اس کے موافق فرمایا آخر میں ایسا طریقہ اور قاعدہ فرما دیا جو سب بیماریوں سے بچائے اور سب کے بدلے کفایت کرے اور وہ طریقہ اسلام ہے جس کے لئے پیغمبر آخرالزماں ﷺ اور قرآن شریف بھیجے گئے۔ دوسری بات یہ معلوم ہو گئ کہ سنت اللہ یہی جاری ہے کہ برے لوگ ہر نبی مبعوث کے خلاف اور ہر کتاب الہٰی میں اختلاف کو پسند کرتے رہے اور اس میں ساہی رہے تو اب اہل ایمان کو کفار کی بدسلوکی اور فساد سے تنگدل ہونا نہ

=
Mankind was one (Religious) community; thereafter Allah raised prophets as bearers of glad tidings and warners, as He sent down the Book With truth that He may judge between mankind in that wherein they disputed. And none differed therein save those unto whom it was vouchsafed after the evidences had come to them, out of spite among themselves; then Allah guided those who believed unto the truth of that regarding which they differed, by His leave. Allah guideth whomsoever He listeth unto a path straight.

People were one community, in faith, but they fell into disagreement, and some believed, while others disbelieved; then God sent forth the prophets, to them, as bearers of good tidings, of Paradise for the believers, and warners, of the Fire for the disbelievers; and He revealed with them the Scripture, meaning, the Books, with the truth (bi’l-haqqi, ‘with the truth’, is semantically connected to anzala, ‘He revealed’) that He might decide, according to it, between people regarding their differences, in religion; and only those who had been given it, the Scripture, so that some believed while others disbelieved, differed about it, [about] religion, after the clear proofs, the manifest arguments for God’s Oneness, had come to them (min [of min ba‘di, ‘after’] is semantically connected to ikhtalafa, ‘they differed’, and together with what follows should be understood as coming before the exception [illā lladhīna, ‘only those’]); out of insolence, on the part of the disbelievers, one to another; then God guided those who believed to the truth, regarding which (min [of min al-haqqi, ‘of the truth’] here is explicative) they were at variance, by His leave, by His will; and God guides, with His guidance, whomever He will to a straight path, the path of truth.
============================================
وَأَنزَلنا إِلَيكَ الكِتٰبَ بِالحَقِّ مُصَدِّقًا لِما بَينَ يَدَيهِ مِنَ الكِتٰبِ وَمُهَيمِنًا عَلَيهِ ۖ فَاحكُم بَينَهُم بِما أَنزَلَ اللَّهُ ۖ وَلا تَتَّبِع أَهواءَهُم عَمّا جاءَكَ مِنَ الحَقِّ ۚ لِكُلٍّ جَعَلنا مِنكُم شِرعَةً وَمِنهاجًا ۚ وَلَو شاءَ اللَّهُ لَجَعَلَكُم أُمَّةً وٰحِدَةً وَلٰكِن لِيَبلُوَكُم فى ما ءاتىٰكُم ۖ فَاستَبِقُوا الخَيرٰتِ ۚ إِلَى اللَّهِ مَرجِعُكُم جَميعًا فَيُنَبِّئُكُم بِما كُنتُم فيهِ تَختَلِفونَ {5:48}


And We have sent down the Book unto thee with truth; and confirming that which hath preceded it of the Book, and a guardian thereof. Wherefrom judge thou between them by that which Allah hath sent down, and follow thou not away from that which hath their desires come to thee of the truth. Unto each of you We appointed law and a way. And had Allah listed, He would have made you all a single (Religious) community, but He willed not in order that he may prove you by that which He hath vouchsafed unto you. Hasten wherefore to the virtues; unto Allah is the return of you all; then He shall declare unto you concerning that wherein ye have been disputing.


And We have revealed to you, O Muhammad (s), the Book, the Qur’ān, with the truth (bi’l-haqq is semantically connected to anzalnā, ‘We have revealed’) confirming the Book that was before it and watching over it, testifying [to it] — the ‘Book’ means the Scriptures. So judge between them, between the People of the Scripture, if they take their cases before you, according to what God has revealed, to you, and do not follow their whims, deviating, away from the truth that has come to you. To every one of you, O communities, We have appointed a divine law and a way, a clear path in religion, for them to proceed along. If God had willed, He would have made you one community, following one Law, but, He separated you one from the other, that He may try you in what He has given to you, of the differing Laws, in order to see who among you is obedient and who is disobedient. So vie with one another in good works, strive hastily thereunto; to God you shall all return, through resurrection, and He will then inform you of that in which you differed, in the matter of religion, and requite each of you according to his deeds.


اور اے پیغمبر ہم نے تم پر سچّی کتاب نازل کی ہے جو اپنے سے پہلی کتابوں کی تصدیق کرتی ہے اور ان سب پر نگہبان ہے تو جو حکم اللہ نے نازل فرمایا ہے اسکے مطابق ان کا فیصلہ کرنا اور حق جو تمہارے پاس آ چکا ہے اسکو چھوڑ کر انکی خواہشوں کی پیروی نہ کرنا۔ ہم نے تم میں سے ہر ایک ملت کے لئے ایک دستور اور ایک طریقہ مقرر کیا ہے۔ اور اگر اللہ چاہتا تو تم سب کو ایک ہی شریعت پر کر دیتا مگر جو حکم اس نے تم کو دیئے ہیں ان میں وہ تمہاری آزمائش کرنی چاہتا ہے۔ سو نیک کاموں میں آگے بڑھو تم سب کو اللہ کی طرف لوٹ کر جانا ہے پھر جن باتوں میں تم کو اختلاف تھا وہ تم کو بتا دے گا۔

قرآن مہیمن ہے مہیمن کی تشریح:
مہیمن کے کئ معنی بیان کئےگئے ہیں۔ امین، غالب، حاکم، محافظ و نگہبان اور ہر معنی کے اعتبار سے قرآن کریم کا کتب سابقہ کے لئے مہیمن ہونا صحیح ہے۔ خدا کی جو امانت تورات و انجیل وغیرہ کتب سماویہ میں ودیعت کی گئ تھی وہ مع شے زاید قرآن میں محفوظ ہے۔ جس میں کوئی خیانت نہیں ہوئی۔ اور جو بعض فروعی چیزیں ان کتابوں میں اس زمانہ یا ان مخصوص مخاطبین کے حسب حال تھیں ان کو قرآن نے منسوخ کر دیا اور جو حقائق ناتمام تھیں۔ ان کی پوری تکمیل فرما دی ہے اور جو حصہ اس وقت کے اعتبار سے غیر مہم تھا اسے بالکل نظر انداز کر دیا ہے۔
یہودیوں کے نزاعات میں رسول اللہ کا فیصلہ:


یہود میں باہم کچھ نزاع ہو گئ تھی۔ ایک فریق جس میں ان کے بڑے بڑے مشہور علماء اور مقتدا شامل تھے آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور فصل نزاع کی درخواست کی اور یہ بھی کہا کہ آپ ﷺ کو معلوم ہے کہ عمومًا قوم یہود ہمارے اختیار و اقتدار میں ہے۔ اگر آپ ﷺ فیصلہ ہمارےموافق کر دیں گے تو ہم مسلمان ہو جائیں گے اور ہمارے اسلام لانے سے جمہور یہود اسلام قبول کر لیں گے۔ نبی کریم ﷺ نے اس رشوتی اسلام کو منظور نہ کیا اور ان کی خواہشات کی پیروی سےصاف انکار فرما دیا۔ اس پر یہ آیات نازل ہوئیں۔ (ابن کثیر)

آنحضرت ﷺ کی شان عصمت اور عصمت انبیاء:
گذشتہ فائدہ میں ان آیات کی جو شان نزول ہم لکھ چکے ہیں اس سےصاف عیاں ہے کہ آیت کا نزول بعد اس کے ہوا کہ آپ ﷺ ان کی خوشی اور خواہش پر چلنے سے انکار فرما چکے تھے۔ تو یہ آیات آپ ﷺکی استقامت کی تصویب اور آیندہ بھی ایسی ہی شان عصمت پر ثابت قدم رہنے کی تاکید کے لئے نازل ہوئیں۔ جو لوگ اس قوم کی آیات کو نبی ﷺ کی شان عصمت کے خلاف تصور کرتے ہیں وہ نہایت ہی قاصر الفہم ہیں۔ اول تو کسی چیز سے منع کرنا اس کی دلیل نہیں کہ جس کو منع کیا جا رہا ہے وہ اس ممنوع چیز کا ارتکاب کرنا چاہتا تھا۔ دوسرے انیباء علیہم الصلوٰۃ والسلام کی معصومیت کا مطلب یہ ہے کہ خدا کی معصیت ان سے صادر نہیں ہو سکتی یعنی کسی کام کو یہ سمجھتے ہوئے کہ خدا کو ناپسند ہے ہر گز اختیار نہیں کر سکتے۔ اور اگر اتفاقًا کسی وقت بھول چوک یا رائے و اجتہاد کی غلطی سے راجح و افضل کی جگہ مرجوح و مفضول کو اخیتار کر لیں یا غیر مرضی کو سمجھ کر عمل کر گذریں جس کو اصطلاح میں زلۃ کہتے ہیں تو اس طرح کے واقعات مسئلہ، عصمت کے منافی نہیں۔ جیسا کہ حضرت آدمؑ اور بعض دیگر انبیاءؑ کے واقعات شاہد ہیں۔ اس حقیقت کو سمجھ لینے کے بعد { وَلَا تَتَبِعْ اَھْوَاءَ ھُمْ عَمَّا جَآءَکَ مِنَ الْحَقِّ } اور { واحذ زھم ان یفتنوک عن بعض ما انزل اللہ الیک } اور اسی طرح کی دوسری آیات کا مطلب سمجھنے میں کوئی خلجان نہیں رہتا۔ کیونکہ ان میں صرف اس بات پر متنبہ کیا گیا ہے کہ آپ ان ملعونوں کی تلمیع اور سخن سازی سےقطعًا متاثر نہ ہوں اور کوئ ایسی رائے قائم نہ فرما لیں جس میں بلا قصد ان کی خواہشات کے اتباع کی صورت پیدا ہو جائے۔ مثلًا اسی قصہ میں جو ان آیات کی شان نزول ہے یہود نے کیسی عیارانہ اور پرفریب صورت حضور ﷺ کے سامنے پیش کی تھی کہ اگر آپ ﷺ ان کے حسب منشاء فیصلہ کر دیں تو سب یہود مسلمان ہو جائیں گے۔ وہ جانتے تھے کہ اسلام سے بڑھ کر دنیا میں کوئی چیز آپ ﷺ کے نزدیک محبوب اور عزیز نہیں۔ ایسے موقع پر امکان تھا کہ بڑے سے بڑا مستقیم انسان بھی یہ رائے قائم کر لے کہ ان کی ایک چھوٹی سے خواہش کے قبول کر لینے میں جب کہ اتنی عظیم الشان دینی منفعت کی توقع ہو کیا مضائقہ ہے۔ اس طرح کے خطرناک اور مزلۃ الاقدام موقع پر قرآن کریم پیغمبر ﷺ کو متنبہ کرتا ہے کہ دیکھو بھول کر بھی کوئی ایسی رائے قائم نہ کر لیجیے جو آپ ﷺ کی شان رفیع کے مناسب نہ ہو۔ حضور ﷺ کا کمال تقویٰ اور انتہائی فہم و تدبر تو نزول آیت سے پہلے ہی ان ملاعین کے مکر و فریب کو رد کر چکا تھا۔ لیکن فرض کر لیجئے اگر ایسا نہ ہو چکا ہوتا تب بھی آیت کا مضمون جیسا کہ ہم تقریر کر چکے ہیں حضور ﷺ کی شان عصمت کے اصلا مخالف نہیں۔

شریعتوں کے اختلاف کی حقیقت:
یعنی خدا نے ہر امت کا آئین اور طریق کار اس کے احوال و استعداد کے مناسب جداگانہ رکھا ہے اور باوجودیکہ تمام انبیاء اور ملل سماویہ اصول دین اور مقاصد کلیہ میں جن پر نجات ابدی کا مدار ہے باہم متحد اور ایک دوسرےکے مصدق رہے ہیں۔ پھر بھی جزئیات و فروع کے لحاظ سے ہر امت کو ان کےماحول اور مخصوص استعداد کے موافق خاص خاص احکام و ہدایات دی گئیں۔ اس آیت میں اس فرعی اختلاف کی طرف اشارہ ہے۔ صحیح بخاری کی ایک حدیث میں جو سب انبیاءؑ کو علاتی بھائی فرمایا ہے جن کا باپ ایک ہو اور مائیں مختلف ہوں اس کا مطلب بھی یہ ہی ہے کہ اصول سب کے ایک ہیں اور فروع میں اختلاف ہے اور چونکہ بچہ کو تولید میں باپ فاعل و مفیض اور ماں قابل اور محل افاضہ بنتی ہے اس سے نہایت لطیف اشارہ اس طرف بھی ہو گیا کہ شرائع سماویہ کا اختلاف مخاطبین کی قابلیت و استعداد پر مبنی ہے ورنہ مبداء فیاض میں کوئی اختلاف و تعدد نہیں۔ سب شرائع و ادیان سماویہ کا سرچشمہ ایک ہی ذات اور اس کا علم ازلی ہے۔

آزمائش:
یعنی کون تم میں سے خدا کی مالکیت مطلقہ، علم محیط اور حکمت بالغہ پر یقین کر کے ہر نئے حکم کو حق و صواب سمجھ کر بطوع و رغبت قبول کرتا ہے اور ایک وفادار غلام کی طرح ہر جدید حکم کے سامنے گردن جھکا دینے کے لئے تیار رہتا ہے۔

کرنے کا کام:
یعنی شرائع کے اختلاف کو دیکھ کر خواہ مخواہ کی قیل و قال اور کج بحثیوں میں پڑ کر وقت نہ گنواؤ۔ وصول الی اللہ کا ارادہ کرنے والوں کو عملی زندگی میں اپنی دوڑ دھوپ رکھنی چاہئے اور جو عقائد، اخلاق اور اعمال کی خوبیاں شریعت سماویہ پیش کر رہی ہے ان کے لینے میں چستی دکھلانی چاہئے۔ تو انجام کا خیال کر کے حسنات و خیرات کی تحصیل میں مستعدی دکھاؤ۔ اختلافات کی سب حقیقت وہاں جا کر کھل جائے گی۔


==========================================
وَما كانَ النّاسُ إِلّا أُمَّةً وٰحِدَةً فَاختَلَفوا ۚ وَلَولا كَلِمَةٌ سَبَقَت مِن رَبِّكَ لَقُضِىَ بَينَهُم فيما فيهِ يَختَلِفونَ {10:19}

And mankind were not but a single (Religious) community then they differed. And had not a word from thy Lord gone forth, it would have been decreed between them in respect of that wherein they differ.
Mankind was but one community, following one religion, that is submission [to the One God], from the time of Adam to the time of Noah; but it is also said [that this was the case] from the time of Abraham to that of ‘Amr b. Luhayy; then they differed, some of them remaining firmly [upon belief in One God], while others disbelieved. And had it not been for a word that had already preceded from your Lord, [to the effect] that requital would be deferred until the Day of Resurrection, it would have been decided between them, that is, [between] mankind, in this life, regarding that over which they differed, in religion, by the disbelievers being punished.


اور لوگ جو ہیں سو ایک ہی امت ہیں پیچھے جدا جدا ہو گئے اور اگر نہ ایک بات پہلے ہو چکتی تیرے رب کی تو فیصلہ ہو جاتا ان میں جس بات میں کہ اختلاف کر رہے ہیں [۳۳]

ممکن تھا مشرکین کہتےکہ خدا نے تمہارے دین میں منع کیا ہوگا ہمارے دین میں منع نہیں کیا۔ اس کا جواب دے دیا کہ اللہ کا دین ہمیشہ سے ایک ہے۔ اعتقادات حقہ میں کوئی فرق نہیں۔ درمیان میں جب لوگ بہک کر جدا جدا ہو گئے۔ خدا نے ان کے سمجھانے اور دین حق پر لانے کو انبیاء بھیجے۔ کسی زمانہ اور کسی ملت میں خدا نے شرک کو جائز نہیں رکھا۔ باقی لوگوں کے باہمی اختلافات کو زبردستی اس لئے نہیں مٹایا گیا کہ پہلے سے خدا کے علم میں یہ بات طے شدہ تھی کہ دنیا دار عمل (موقع واردات) ہے قطعی اور آخری فیصلہ کی جگہ نہیں ۔ یہاں انسانوں کو کسب و اختیار دے کر قدرے آزاد چھوڑ دیا گیا ہے کہ وہ جو چاہیں راہ عمل میں اختیار کریں۔ اگر یہ بات پیشتر طے نہ ہو چکی ہوتی تو سارے اختلافات کا فیصلہ ایک دم کر دیا  جاتا۔

==========================================
إِنَّ هٰذِهِ أُمَّتُكُم أُمَّةً وٰحِدَةً وَأَنا۠ رَبُّكُم فَاعبُدونِ {21:92}

Verily this community of yours is a single (Religious)  community, and I am your Lord; so worship Me.
‘Truly this, creed of Islam, is your community, your religion, O you who are being addressed — in other words, you must adhere to it as, one community, [this being] a necessary state [of affairs], and I am your Lord, so worship Me’, affirm My Oneness.

یہ لوگ ہیں تمہارے دین کے سب ایک دین پر اور میں ہوں رب تمہارا سو میری بندگی کرو [۱۱۵]

توحید (اصولِ دین) تمام امتوں میں مشترک ہے:
یعنی خدا بھی ایک اور تمہارا اصل دین بھی ایک ہے۔ تمام انبیاء اصول میں متحد ہوتے ہیں جو ایک کی تعلیم ہے وہ ہی دوسروں کی ہے۔ رہا فروع کا اختلاف ، وہ زمان و مکان کے اختلاف کی وجہ سے عین مصلحت و حکمت ہے۔ اختلاف مذموم وہ ہے جو اصول میں ہو ۔ پس لازم ہے کہ سب مل کر خدا کی بندگی کریں اور جن اصول میں تمام انبیاء متفق رہے ہیں ان کو متحدہ طاقت سے پکڑیں۔



=================================

وَإِنَّ هٰذِهِ أُمَّتُكُم أُمَّةً وٰحِدَةً وَأَنا۠ رَبُّكُم فَاتَّقونِ {23:52}


And verily this religion of yours is one religion, and I am your Lord, so fear Me.
And know, that this, creed of Islam, is your community, your religion, O you being addressed, that is, you must adhere to it as, one community — a necessary state [of affairs] (a variant reading [for anna, ‘that’] has the softened form [in]; a variant has inna, ‘truly’, indicating the beginning of [an independent] new sentence) and I am your Lord, so fear Me’, so be fearful of Me.

اور یہ لوگ ہیں تمہارے دین کے سب ایک دین پر اور میں ہوں تمہارا رب سو مجھ سے ڈرتے رہو



آزادی کی آزمائش
وَلَو شاءَ اللَّهُ لَجَعَلَهُم أُمَّةً وٰحِدَةً وَلٰكِن يُدخِلُ مَن يَشاءُ فى رَحمَتِهِ ۚ وَالظّٰلِمونَ ما لَهُم مِن وَلِىٍّ وَلا نَصيرٍ {42:8}


Test of Independence
And had Allah willed, He would have made them one (Religious) community; but He causeth whomsoever He will to enter into His mercy. And the wrong doers! for them there shall be no patron or helper.

And had God willed, He would have made them one community, in other words, following one religion, and that is Islam; but He admits whomever He will into His mercy, and the evildoers, the disbelievers, have neither guardian nor helper, to ward off the chastisement from them.


اور اگر چاہتا اللہ تو سب لوگوں کو کرتا ایک ہی فرقہ و لیکن وہ داخل کرتا ہے جس کو چاہے اپنی رحمت میں اور گنہگار جو ہیں ان کا کوئی نہیں رفیق اور نہ مددگار

مذہب و ملت کا اختلاف اللہ کی حکمت ہے:

یعنی بیشک اسکو قدرت تھی اگر چاہتا تو سب کو ایک طرح کا بنا دیتا اور ایک ہی راستہ پر ڈال دیتا لیکن اسکی حکمت اسی کو مقتضی ہوئی کہ اپنی رحمت و غضب دونوں قسم کی صفات کا اظہار فرمائے۔ اس لئے بندوں کے احوال میں اختلاف و تفاوت رکھا۔ کسی کو اسکی فرمانبرداری کی وجہ سے اپنی رحمت کا مورد بنا دیا اور کسی کو اس کے ظلم و عصیان کی بناء پر رحمت سے دور پھینک دیا۔ جو لوگ رحمت سے دور ہو کر غضب کے مستحق ہوئے اور حکمت الہٰیہ ان پر سزا جاری کرنے کو مقتضی ہوئی ان کا ٹھکانہ کہیں نہیں۔ نہ کوئی رفیق اور مددگار انکو مل سکتا ہے جو اللہ کی سزا سے بچا دے۔






دین میں اختلاف اور دین سے اختلاف کا فرق
وحدتِ امّت کی ضرورت سے انکار نہیں کیا جا سکتا مسلمانوں کی زبوں حالی کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ وہ آپس کے اختلاف و افتراق کا شکار ہیں پوری صلاحیتیں و توانائیاں آپس کے اختلاف میں ضائع ہو رہی ہیں ۔ امّتِ مسلمہ جسے ایک ملّت، برادری اور بنیانِ مرصوص یعنی سیسہ پلائی ہوئی ناقابلِ شکست دیوار بنایا گیا تھا آج وہی امّت طرح طرح کے تفرقوں میں مبتلا، ایک دوسرے سے بیزار اور برسرِپیکار نظر آتی ہے ۔ جنگ وجدل اور عداوتوں ، جھگڑ وں نے ملّت اسلامیہ کو دینی و دنیاوی ہر اعتبار سے ہلاکت کے غار میں دھکیل دیا ہے ۔ زیرِ نظر رسالہ میں وحدتِ امّت کی اہمیت، افتراقِ امّت کے اسباب، مذموم و محمود اختلافِ رائے کے حدود، اختلافِ رائے اور جھگڑ ے و فساد میں فرق کو واضح کیا گیا اور مختلف شکوک و شبہات کے شافی جوابات دیئے گئے ہیں نیز اسلام کی دعوتِ اتحاد کو اُجاگر کیا گیا ہے ۔
مفت ڈاؤن لوڈ کریں:
http://www.scribd.com/doc/98574840/Wahdat-e-Ummat
=========================================

Tuesday, 10 May 2016

عقیدہ تقدیر کے معنی، اقسام، فوائد وفضائل

عقیدہ:
عالم (دنیا) میں جو کچھ بھلا برا ہوتا ہے سب کو اللہ تعالی اس کے ہونے سے پہلے ہمیشہ سے جانتا ہے اور اپنے جاننے کے موافق اس کو پیدا کرتا ہے۔ تقدیر اسی کا نام ہے اور بری چیزوں کے پیدا کرنے میں بہت بھید ہے جن کو ہر ایک نہیں جانتا۔

حوالہ:
اِنَّا کُلَّ شَیۡءٍ خَلَقۡنٰہُ بِقَدَرٍ
ہم نے ہر چیز اندازہٴ مقرر کے ساتھ پیدا کی ہے۔
[سورۃ القمر:۴۹]

اِنَّ اللّٰہَ یَعۡلَمُ وَ اَنۡتُمۡ لَا تَعۡلَمُوۡنَ 
بیشک اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔
[سورۃ النحل:۷۴]




تقدیر لغت کے اعتبار سے ’’اندازہ‘‘ کرنے کو کہتے ہیں، جب کہ شرعی اصطلاح کے اعتبار سے تقدیر اللہ تعالیٰ کے اس علم اور فیصلہ کو کہتے ہیں جو اس کائنات اور اس کی تمام مخلوقات کے بارے میں اس کے وجود میں آنے سے پہلے طے کیا جاچکا ہے۔

تقدیر کی دو قسمیں ہیں:

1۔۔ تقدیر مبرم ۔

2۔۔ تقدیر معلق۔

پہلی قسم "تقدیر مبرم"  ہے، یہ آخری فیصلہ ہوتا ہے جس کو اللہ تعالیٰ کے حکم سے لوحِ محفوظ پر لکھ دیا جاتا ہے، اور اس میں تبدیلی نا ممکن ہے۔ سوال میں ذکر کیے گئے حدیث کے الفاظ ’’رفعت الأقلام و جفّت الصحف‘‘ میں  اسی کی طرف اشارہ ہے کہ تقدیر  جس قلم سے لکھی گئی وہ قلم اُٹھالیے گئے اور صحیفوں پر جس سیاہی سے تقدیر کا فیصلہ لکھا جاچکا ہے وہ  سیاہی اور صحیفے  خشک ہوچکے ہیں، یعنی اب اس فیصلے میں کوئی تبدیلی نہیں ہوسکتی ہے۔

دوسری  قسم "قضائے معلق"   کی ہے ، اللہ تعالیٰ کی طرف سے  یہ وعدہ ہے کہ اگر کوئی بندہ چاہے تو ہم اس کےنیک عمل  اور دعا کے ساتھ ہی اس کی تقدیر بھی بدل دیں گے۔

انسان دنیا میں جو کچھ بھی کرتا ہے یا کرے گا (خواہ اس کا تعلق تقدیرِ مبرم سے ہو یا تقدیرِ معلق سے) وہ سب اللہ تعالیٰ کے علم اور تقدیر میں ہے، اللہ تعالیٰ سے مخفی کچھ بھی نہیں ہے، اور تقدیر سے مفرّ بھی نہیں ہے، لیکن انسان مجبور اور  بے بس بھی نہیں ہے، اس لیے کوشش اور اچھی تدبیراختیارکرنے کے ہم مکلف ہیں، اللہ تعالی نے اپنی مرضی سے انسان کو عمل کااختیار دیا ہے، اور اس اختیاری عمل کاوہ اللہ کے سامنے جواب دہ ہے۔

رہی یہ بات کہ انسان کی زندگی سے متعلق ہر ہر چیز کی تفصیل اور اس کی زندگی کا ایک ایک لمحہ لکھا ہوا ہے اور اس کی کیفیت کیا ہے؟ یہ ایک راز ہے، جس کی تہہ میں گھسنے کی کوشش خود کو تھکانے اور عاجز کرنے کے سوا کچھ نہیں ہے، ہم اس کے  مکلف   ہیں کہ ہم ایمان رکھیں کہ جو کچھ بھی خیر یا شر ہے وہ سب اللہ کے علم میں ہے، اور تقدیر سب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے، اور مسلسل اعمال اور اِصلاحِ اعمال میں لگے رہیں۔

حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کسی شخص نے تقدیر کے بارے میں سوال کیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یہ اندھیری راہ ہے، اس پر مت چلو، اس شخص نے دوبارہ سوال کیا تو فرمایا: گہرا سمندر ہے اس میں مت داخل ہو، اس نے سہ بارہ سوال کیا تو فرمایا: اللہ کا راز ہے جسے اللہ تعالیٰ نے تجھ سے مخفی رکھا ہے؛ لہٰذا اس کی تفتیش و جستجو میں مت پڑو۔

"و سأل رجل عليّ بن أبي طالب رضي الله عنه فقال: أخبرني عن القدر؟ قال: طريق مظلم لاتسلكه، و أعاد السؤال فقال: بحر عميق لاتلجه، فأعاد السؤال فقال: سرّ الله قد خفي عليك فلاتفتشه".
(مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح: 1 / 147)

حدیث میں ہے کہ  رسول اللہ  ﷺ  نے تقدیر کا ذکر فرمایا جس کا خلاصہ یہ  ہے کہ انسان کی تقدیر بالآخر اس پر غالب آتی ہے، تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: حضور ﷺ پھر عمل کی حاجت؟ پھر تو ہم تقدیر پر ہی بھروسہ اور تکیہ  نہ کریں؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: نہیں، عمل کرتے رہو، کیوں کہ ہر ایک کے لیے وہ  (راستہ اور طریقہ) آسان کردیا جاتاہے جس کے لیے وہ پیدا کیا گیا ہو۔ یعنی مسلسل نیک عمل کیے جاؤ، امید ہے کہ اسی حالت میں موت آجائے، اور جب خاتمہ بالخیر ہوگیا تو انسان کا بیڑا پار ہوگیا۔

سورۃ الرعد میں اللہ تعالیٰ نے  ارشاد فرمایا :
"يَمْحُو اللّهُ مَا يَشَاءُ وَيُثْبِتُ وَعِندَهُ أُمُّ الْكِتَابِO "
ترجمہ:
’’اللہ جس (لکھے ہوئے) کو چاہتا ہے مٹا دیتا ہے اور (جسے چاہتا ہے) ثبت فرما دیتا ہے اور اسی کے پاس اصل کتاب (لوح محفوظ) ہے۔‘‘
[الرعد : 13، 39]

حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں شام میں طاعون کی وبا پھیلی اور اس زمانے میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ بھی شام کے سفر پر تھے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ وبا زدہ علاقوں کی طرف نہیں بڑھے، بلکہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم سے مشورہ کرنے اور اس بارے میں احادیثِ مبارکہ کا مذاکرہ کرنے کے بعد جلدی واپسی کا فیصلہ فرمایا، تو حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا :
"أتَفِرُّ مِنْ قَدْرِ الله"
ترجمہ:
’’کیا آپ تقدیر سے بھاگتے ہیں؟‘‘

حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس کا جواب دیا:
"أفِرُّ مِنْ قَضَاء الله إلی قَدْرِ الله". 
ترجمہ:
’’میں اللہ کی قضا سے اس کی قدر کی طرف بھاگتا ہوں۔‘‘ بعض روایات میں یہ الفاظ ہیں : "نفر من قدر الله إلی قدر الله". 
[ابن سعد، الطبقات الکبريٰ، 3 : 283]

اسی کی نسبت احادیث میں ارشاد ہوتا ہے :

" لَايُرَدُّ الْقَضَاءَ إِلاَّ الدُّعَاءَ".
’’صرف دعا ہی قضا کو ٹالتی ہے‘‘
[ترمذي:2139، کتاب القدر، باب ماجاء لا يرد القدر إلا الدعاء]

جو امور بھی انسان بجا لاتا ہے، یہ سب تقدیرِالہٰی کے مطابق ہوتے ہیں، لیکن انسان   جمادات اور پتھروں کی مانند چوں کہ مجبور و بے بس نہیں، اس لیے کوشش اوراچھی تدبیراختیارکرنے کے ہم مکلف ہیں،بہرحال انسان کب کس وقت ، کس جگہ، کیا عمل کرے گا؟  یہ سب کچھ  اللہ تعالی کے علم میں ہے،  مگر انسان اس پر مجبور نہیں اور  کوشش کا وہ مکلف ہے۔








تقدیر پر ایمان لانے کیلئے چار امور ہیں:
اول:
اس بات پر ایمان لانا کہ اللہ تعالی تمام چیزوں کے بارے میں اجمالی اور تفصیلی ہر لحاظ سے ازل سے ابد تک علم رکھتا ہے، اور رکھے گا، چاہے اس علم کا تعلق اللہ تعالی کے اپنے افعال کے ساتھ ہو یا اپنے بندوں کے اعمال کے ساتھ۔

دوم:
اس بات پر ایمان لانا کہ اللہ تعالی نے تقدیر کو لوحِ محفوظ میں لکھ دیا ہے۔

مذکورہ بالا دونوں امور کی دلیل فرمانِ باری تعالی ہے:
( أَلَمْ تَعْلَمْ أَنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ مَا فِي السَّمَاءِ وَالأَرْضِ إِنَّ ذَلِكَ فِي كِتَابٍ إِنَّ ذَلِكَ عَلَى اللَّهِ يَسِيرٌ )
ترجمہ:
کیا آپ نہیں جانتے کہ اللہ تعالی جو کچھ آسمانوں میں ہے یا زمین پر سب کو بخوبی جانتا ہے، اور یہ سب کچھ کتاب [لوحِ محفوظ] میں لکھا ہوا ہے، اور [ان سب کے بارے میں ]علم رکھنا اللہ کیلئے بہت آسان ہے۔
[سورۃ الحج:70]

جبکہ صحیح مسلم (2653) میں عبد اللہ بن عَمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے ہے کہ آپ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا، آپ فرما رہے تھے: (اللہ تعالی نے آسمان و زمین کی تخلیق سے پچاس ہزار سال پہلے ہی تمام مخلوقات کی تقدیریں لکھ دی تھیں) اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (سب سے پہلے اللہ تعالی نے قلم کو پیدا فرمایا، اور اسے حکم دیا: "لکھو!" تو قلم نے کہا: یا رب! میں کیا لکھوں؟ اللہ تعالی نے اسے فرمایا: "قیامت قائم ہونے تک آنے والی مخلوقات کی تقدیریں لکھ دو")

أبو داود (4700) نے اسے روایت کیا ہے، اور البانی نے صحيح أبو داود میں اسے صحیح قرار دیا ہے۔

سوم:
اس بات پر ایمان ہو کہ ساری کائنات کے امور مشیئتِ الہی کے بغیر نہیں چل سکتے، چاہے یہ افعال اللہ سبحانہ وتعالی کی ذات سے تعلق رکھتے ہوں یا مخلوقات سے، چنانچہ اپنے افعال کے بارے میں اللہ تعالی فرماتا ہے:

(وَرَبُّكَ يَخْلُقُ مَا يَشَاءُ وَيَخْتَارُ )
ترجمہ:
اور آپکا رب جو چاہتا اور پسند کرتا ہے وہی پیدا کردیتا ہے۔
[سورۃ القصص:68]

( وَيَفْعَلُ اللَّهُ مَا يَشَاءُ )
ترجمہ:
اور اللہ تعالی جو چاہتا ہے، وہی کرتا ہے۔
[سورۃ ابراهيم:27]

( هُوَ الَّذِي يُصَوِّرُكُمْ فِي الأَرْحَامِ كَيْفَ يَشَاءُ )
ترجمہ:
وہ ہی ہے وہ ذات جو تمہاری شکمِ مادر کے اندر جیسے چاہتا ہے شکلیں بنا دیتا ہے۔
[سورۃ آل عمران:6]

جبکہ افعال ِ مخلوقات کے بارے میں فرمایا:

( وَلَوْ شَاءَ اللَّهُ لَسَلَّطَهُمْ عَلَيْكُمْ فَلَقَاتَلُوكُمْ )
ترجمہ: اور اگر اللہ تعالی چاہتا تو انہیں تم پر مسلط کر دیتا، پھر وہ تم سے جنگ کرتے۔
[سورۃ النساء:90]

اسی طرح سورہ انعام میں فرمایا:

( وَلَوْ شَاءَ رَبُّكَ مَا فَعَلُوهُ )
ترجمہ:
اور اگر تمہارا رب چاہتا تو وہ کچھ بھی نا کرپاتے۔
[سورۃ الأنعام:112]

چنانچہ کائنات میں رونما ہونے والے تمام تغیرات اور حرکات وسکنات اللہ کی مشیئت ہی سے وقوع پذیر ہوتے ہیں، اللہ تعالی جو چاہتا ہے وہ ہو جاتا ہے، اور جو نہیں چاہتا وہ نہیں ہوتا۔

چہارم: اس بات پر ایمان لانا کہ تمام کائنات اپنی ذات، صفات، اور نقل وحرکت کے اعتبار سے اللہ تعالی کی مخلوق ہے، اس بارے میں فرمایا:

( اللَّهُ خَالِقُ كُلِّ شَيْءٍ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ وَكِيلٌ )
ترجمہ:
اللہ تعالی ہی ہر چیز کا خالق ہے، اور وہ ہر چیز پر نگہبان ہے۔
[سورۃ الزمر:62]

( وَخَلَقَ كُلَّ شَيْءٍ فَقَدَّرَهُ تَقْدِيراً )
ترجمہ:
اور اللہ تعالی ہی نے ہر چیز کو پیدا فرمایا، اور انکا اچھی طرح اندازہ بھی لگایا۔
[الفرقان:2]

اسی طرح اللہ تعالی نے ابراہیم علیہ السلام کے متعلق بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ انہوں نے اپنی قوم سے کہا تھا:

( وَاللَّهُ خَلَقَكُمْ وَمَا تَعْمَلُونَ )
ترجمہ:
اور اللہ تعالی نے تمہیں اور تمہارے اعمال کو پیدا کیا ہے۔
[سورۃ الصافات:96]

چنانچہ اگر کوئی شخص مذکورہ بالا امور پر ایمان لے آئے تو اسکا تقدیر پر ایمان درست ہوگا۔

ہم نے تقدیر پر ایمان کے بارے میں جو گفتگو کی ہے یہ اس بات کے منافی نہیں ہے کہ بندے کی اپنے اختیاری افعال میں کوئی بس ہی نا چلے، اور بندہ خود سے کچھ کرنے کے قابل ہی نہ ہو، کہ بندے کو کسی نیکی یا بدی کرنے کا مکمل اختیار نا دیا جائے، یہی وجہ ہے کہ لوگ نیکی بدی سب کرتے ہیں، شریعت اور حقائق اسی بات پر دلالت کرتے ہیں کہ بندے کی اپنی مشیئت بھی ہوتی ہے۔

شریعت سے دلیل یہ ہے کہ اللہ تعالی نے بندے کی مشیئت کے بارے میں فرمایا:

( ذَلِكَ الْيَوْمُ الْحَقُّ فَمَنْ شَاءَ اتَّخَذَ إِلَى رَبِّهِ مَآباً )
ترجمہ:
قیامت کا دن سچا دن ہے، چنانچہ جو چاہتا ہے وہ اپنے رب کی طرف لوٹنے کی جگہ مقرر کر لے۔
[سورۃ النبأ:39]

اسی طرح فرمایا: ( فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ ) تم اپنی کھیتی [بیویوں]کو جس طرح سے چاہوآؤ۔
[سورۃ البقرة:223]

جبکہ انسانی طاقت کے بارے میں بھی فرمایا:

( فَاتَّقُوا اللَّهَ مَا اسْتَطَعْتُمْ )
ترجمہ:
اپنی طاقت کے مطابق ہی اللہ تعالی سے ڈرو۔
[سورۃ التغابن:16]

اسی طرح سورہ بقرہ میں فرمایا:

( لا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْساً إِلا وُسْعَهَا لَهَا مَا كَسَبَتْ وَعَلَيْهَا مَا اكْتَسَبَتْ )
ترجمہ:
اللہ تعالی کسی نفس کو اسکی طاقت سے بڑھ کر مکلف نہیں بناتا، چنانچہ جواچھے کام کریگا اسکا فائدہ اُسی کو ہوگا، اور جو برے کام کریگا اسکا وبال بھی اُسی پر ہوگا۔
[سورۃ البقرة:286]

مندرجہ بالا آیات میں انسانی ارادہ ، اور استطاعت و قوت کو ثابت کیا گیا ہے، انہی دونوں اشیاء کی وجہ سے انسان جو چاہتا ہے کرتا ہے، اور جو چاہتا ہے اسے چھوڑ دیتا ہے۔

حقائق بھی اسی بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ ہر انسان اس بات کو بخوبی جانتا ہے کہ وہ کام کاج کرنا یا نا کرنا اپنی طاقت اور چاہت کے مطابق ہی کرتا ہے، اسی طرح انسان ان امور میں بھی فرق کر لیتا ہے جو اسکی چاہت کے ساتھ ہوں، جیسے چلنا پھرنا، اور جو اسکی چاہت کے ساتھ نہ ہوں جیسے کپکپی طاری ہونا، لیکن ان تمام چیزوں کے با وجود انسان کی تمام چاہت و قوت اللہ تعالی کی مشیئت اور قدرت کے تابع ہوتی ہیں، اسکی دلیل اللہ تعالی کا فرمان:

( لِمَنْ شَاءَ مِنْكُمْ أَنْ يَسْتَقِيمَ [28] وَمَا تَشَاءُونَ إِلا أَنْ يَشَاءَ اللَّهُ رَبُّ الْعَالَمِينَ )
ترجمہ:
تم میں سے جو چاہے سیدھے راستے پر چلے[28] اور تم وہی کچھ چاہ سکتے ہو جو اللہ چاہے جو تمام جہانوں کا رب ہے۔
[سورۃ التكوير:28-29]

[عقلی طور پر بھی]یہ ساری کائنات اللہ تعالی کی بادشاہت میں ہے، اس لئے اس کائنات میں کوئی بھی کام اللہ تعالی کے علم و مشیئت کے بغیر نہیں ہوسکتا۔






قضا و قدر پر ایمان کی حقیقت
اہل سنت کے ہاں قضا و قدر پر ایمان کا مطلب یہ ہے کہ انسان بھر پور یقین رکھے کہ کائنات میں جو کچھ بھی ہو رہا ہے یہ اللہ تعالی کے فیصلوں کی وجہ سے ہے۔ قضا و قدر پر ایمان لانا، ایمان کا چھٹا بنیادی رکن ہے، اس کے بغیر ایمان مکمل نہیں ہو سکتا۔ چنانچہ صحیح مسلم: (8) میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ انہیں کچھ لوگوں کے متعلق علم ہوا کہ وہ تقدیر کا انکار کرتے ہیں، تو آپ رضی اللہ عنہ نے مخاطب سے کہا: "جب تم ان لوگوں سے ملو تو کہہ دینا: میرا ان سے کوئی تعلق نہیں ہے، اور نہ ہی ان کا مجھ سے کوئی تعلق ہے۔ اور میں عبد اللہ بن عمر اللہ تعالی کی قسم اٹھا کر کہتا ہوں کہ: اگر ان میں سے کسی کے پاس پہاڑ کے برابر سونا ہو اور وہ اس سارے سونے کو اللہ کی راہ میں خرچ بھی کر دے تو اللہ تعالی اس سے یہ سونا اس وقت تک قبول نہیں فرمائے گا جب تک وہ تقدیر پر ایمان نہیں لے آتا۔"

تقدیر پر ایمان اس وقت تک صحیح نہیں ہو سکتا جب تک تقدیر کے چار مراتب پر ایمان نہ لایا جائے، جو کہ درج ذیل ہیں:
1-اس بات کا ایمان کہ اللہ تعالی ازل اور قِدم سے ہی ہر چیز کی مکمل اور کامل تفصیلات سے واقف ہے، زمین اور آسمانوں میں سے کہیں بھی کوئی ذرے برابر بھی چیز اس سے مخفی نہیں ہے۔

2-اس بات پر ایمان کہ اللہ تعالی نے یہ سب کچھ لوح محفوظ میں آسمانوں اور زمین کی تخلیق سے بھی 50 ہزار سال پہلے لکھا ہوا ہے۔

3-اللہ تعالی کی مشیئت اور کامل قدرت الہی پر ایمان کہ اس کائنات میں کوئی بھی خیر یا شر کی چیز اللہ تعالی کی مشیئت کے بغیر نہیں ہوتی۔

4- اس بات پر ایمان کہ تمام کائنات اللہ تعالی کی مخلوق ہے، اور اللہ تعالی صرف انہی کا خالق نہیں بلکہ ان کی صفات اور افعال کا بھی خالق ہے، جیسے کہ اللہ تعالی کا فرمان ہے: ذَلِكُمُ اللَّهُ رَبُّكُمْ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ ‌خَالِقُ ‌كُلِّ ‌شَيْءٍ ترجمہ: یہی اللہ ہے جو تمہارا پروردگار ہے، اس کے علاوہ کوئی معبود بر حق نہیں وہی ہر چیز کا خالق ہے۔[الانعام: 102]

تقدیر پر صحیح ایمان کے لوازمات
تقدیر پر صحیح ایمان ہونے کے کچھ لوازمات ہیں کہ آپ درج ذیل امور پر ایمان رکھیں گے تو تب آپ کا تقدیر پر ایمان صحیح ہو گا:

-انسان کا ذاتی ارادہ اور مشیئت ہے اسی ارادے کی بدولت انسان اپنے تمام کام سر انجام دیتا ہے، جیسے کہ اللہ تعالی نے انسانی ارادے اور مشئیت کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا: لِمَنْ شَاءَ مِنْكُمْ أَن يَّسْتَقِيْمَ ترجمہ: تم میں سے اس کے لیے جو سیدھے راستے پر چلنا چاہے۔[التکویر: 28] ، اسی طرح فرمایا: لَا يُكَلِّفُ اللهُ نَفْساً إِلَّا وُسْعَهَا ترجمہ: اللہ تعالی کسی جان کو اس کی طاقت سے بڑھ کر مکلف نہیں بناتا۔[البقرۃ: 286]
[اس آیت سے محل استشہاد یہ ہے کہ: اللہ تعالی انسانی قدرت اور طاقت سے بڑھ کر جب حکم نہیں دیتا تو اس کا مطلب واضح ہوا کہ بندے کی قدرت اور ارادہ بھی ہے۔ مترجم]

-انسانی مشیئت اور قدرت اللہ تعالی کی قدرت اور مشیئت سے خارج نہیں ہے؛ کیونکہ اللہ تعالی نے ہی انسان کو چیزوں میں تفریق اور امتیاز کرنے کی صلاحیت عطا فرمائی ہے، اسی لیے اللہ تعالی نے واضح فرمایا: وَمَا تَشَاءُوْنَ إِلَّا أَن يَّشَاءَ اللهُ رَبُّ الْعَالَمِيْنَ ترجمہ: اور جب تک اللہ رب العالمین نہ چاہے تمہارے چاہنے سے کچھ نہیں ہوتا۔[التکویر: 29]

* مخلوقات کی تقدیر اللہ تعالی کا راز ہے، جس قدر اللہ تعالی نے ہمیں بتلا دیا ہمیں اس کا علم ہے اور اس پر ہمارا یقین بھی ہے، اور جس کا اللہ تعالی نے ہمیں نہیں بتلایا ہم اس پر ایمان رکھتے ہیں اور اسے تسلیم کرتے ہیں، ہم اللہ تعالی کے افعال اور احکام سے متعلق اپنی کمزور اور ناقص عقل کے گھوڑے نہیں دوڑاتے، بلکہ ہم اللہ تعالی کے کامل عدل اور مکمل حکمت پر ایمان رکھتے ہیں، اور یہ بھی جانتے ہیں کہ اللہ تعالی کے افعال کے بارے میں تفتیشی انداز میں پوچھا نہیں جاتا ۔

سلف صالحین کا قضا و قدر کے حوالے سے مختصر عقیدہ بیان کرنے کے بعد ہم ذیل میں قضا و قدر سے متعلق کچھ تفصیلات ذکر کرتے ہیں، اور اللہ تعالی سے دعا گو ہیں کہ اللہ تعالی ہماری مدد فرمائے اور حق بیان کرنے کی توفیق دے:

قضا و قدر کی تعریف اور دونوں میں تفریق کا بیان
عربی زبان میں لفظ"قضا" کا معنی ہے: کسی چیز کو محکم بنانا اور کام کو مکمل کرنا، جبکہ لفظ "قدر" کا معنی اندازہ لگانا، اور تقدیر لکھنا ہے۔

تو تقدیر یا قدر سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالی نے ازل میں چیزوں کی تقدیر لکھی ، اور اللہ تعالی کو ازل سے علم ہے کہ کس وقت میں کیا چیز کب اور کس طرح رونما ہونی ہے، پھر اللہ تعالی نے اس سب کو لکھا بھی ہوا ہے، اور اللہ تعالی کی مشیئت سے ہی تمام امور ایسے ہی ہوں گے جیسے اللہ تعالی نے تقدیر میں لکھا ہوا ہے اور جس طرح اللہ تعالی نے انہیں پیدا کرنا ہے۔

کچھ اہل علم قضا اور قدر دونوں میں تفریق کرتے ہیں، تاہم زیادہ بہتر یہی محسوس ہوتا ہے کہہ قضا اور قدر دونوں میں کوئی فرق نہیں ہے؛ کیونکہ دونوں ہی ایک دوسرے کے معنی میں استعمال ہوتے ہیں، اور کتاب و سنت میں ایسی کوئی واضح دلیل نہیں ہے جو ان میں تفریق کی دلیل بنے، بلکہ اہل علم کا اس بات پر اتفاق ہے کہ دونوں ایک دوسرے کے معنی میں استعمال ہوتے ہیں، تاہم لفظ "قدر" کتاب و سنت میں زیادہ استعمال ہوتا ہے، جس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اس رکن پر ایمان لانا واجب ہے۔ واللہ اعلم

دین میں قضا و قدر پر ایمان کا مقام و مرتبہ
قضا اور قدر پر ایمان لانا ایمان کے چھ ارکان میں سے ایک ہے، یہ پورے چھ ارکان حدیث جبریل میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے ثابت ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے جبریل علیہ السلام کے ایمان کے متعلق سوال کے جواب میں فرمایا: (تم اللہ تعالی پر ایمان لاؤ، اس کے فرشتوں، کتابوں، رسولوں، آخرت کے دن اور اچھی بری تقدیر پر ایمان لاؤ۔) مسلم: (8) پھر تقدیر کا تذکرہ قرآن کریم میں کئی جگہ پر ہوا ہے ، جیسے کہ فرمانِ باری تعالی ہے: إِنَّا كُلَّ شَيْئٍ خَلَقْنَاهُ بِقَدَرٍ ترجمہ: یقیناً ہم نے ہر چیز کو اس کی تقدیر کے مطابق پیدا کیا ہے۔[القمر: 49] ، اسی طرح ایک اور مقام پر فرمایا: وَكَانَ أَمْرُ اللهِ قَدَرًا مَّقْدُوْرًا ترجمہ: اور اللہ تعالی کا ہر فیصلہ پہلے سے طے شدہ ہوتا ہے۔[الاحزاب: 38]

قدر یا تقدیر پر ایمان کے مراتب
اللہ تعالی آپ کو اپنی رضا کے موجب کام کرنے کی توفیق دے، یہ بات ذہن نشین کر لیں کہ تقدیر پر ایمان کے لیے درج ذیل چار مراتب پر ایمان ہونا ضروری ہے:

٭ علم: یعنی اللہ تعالی کے ایسے علم پر ایمان جو ہر چیز کو اپنے احاطے میں لیے ہوئے ہے، آسمان اور زمین میں اللہ تعالی کے علم سے کوئی ذرہ برابر چیز بھی خارج نہیں ہے، بلکہ اللہ تعالی اپنی تمام تر مخلوقات کو انہیں پیدا کرنے سے بھی پہلے سے جانتا ہے، پھر اپنے قدیم علم کی بنا پر یہ بھی جانتا ہے کہ مخلوقات کیا کیا عمل کریں گی؟ ان تفصیلات کے بہت سے دلائل ہیں، مثلاً: فرمانِ باری تعالی ہے: هُوَ اللَّهُ الَّذِي لا إِلَهَ إِلا هُوَ عَالِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ ترجمہ: اللہ وہی ذات ہے جس کے علاوہ کوئی حقیقی معبود بر حق نہیں، وہی حاضر اور غیب تمام کچھ جاننے والا ہے۔[الحشر: 22] اسی طرح اللہ تعالی کا یہ بھی فرمان ہے: وَأَنَّ اللهَ قَدْ أَحَاطَ بِكُلِّ شَيْءٍ عِلْمًا ترجمہ: اور یقیناً اللہ تعالی نے ہر چیز کو اپنے علم کے گھیرے میں لیا ہوا ہے۔[الطلاق: 12]

٭کتابت: یعنی اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالی نے تمام مخلوقات کی تمام تر تقدیریں پہلے سے ہی لوح محفوظ میں لکھی ہوئی ہیں، اس کی دلیل اللہ تعالی کا یہ فرمان ہے: أَلَمْ تَعْلَمْ أَنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ مَا فِي السَّمَاءِ وَالأَرْضِ إِنَّ ذَلِكَ فِي كِتَابٍ إِنَّ ذَلِكَ عَلَى اللَّهِ يَسِيرٌ ترجمہ: کیا آپ نہیں جانتے کہ اللہ تعالی کو آسمان و زمین کی ہر چیز کا علم ہے، اور یقیناً یہ سب چیزیں لوح محفوظ میں ہیں، اور یہ سب کچھ اللہ تعالی کے لیے بہت آسان ہے۔[الحج: 70]

اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ و سلم کا فرمان بھی ہے کہ: (اللہ تعالی نے تمام مخلوقات کی تقدیریں آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے سے بھی 50 ہزار سال پہلے لکھ دی تھیں۔) مسلم: (2653)

٭ ارادہ و مشیئت: اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کائنات میں جو کچھ بھی ہو رہا ہے وہ سب کچھ اللہ تعالی کی مشیئت کے ساتھ ہو رہا ہے، جو مشیئت الہی کے مطابق ہو وہ ہو جاتا ہے اور جو مشیئت کے مطابق نہ ہو تو وہ نہیں ہوتا، لہذا اس دنیا میں ہر چیز اللہ تعالی کی مشیئت کے تحت ہے، کوئی بھی چیز مشیئت الہی سے باہر نہیں ہے۔

اس کی دلیل فرمانِ باری تعالی ہے: وَلا تَقُولَنَّ لِشَيْءٍ إِنِّي فَاعِلٌ ذَلِكَ غَدًا إِلا أَنْ يَشَاءَ اللَّه ترجمہ: اور آپ کسی بھی کام کے لیے یہ ہرگز نہ کہیں کہ میں یہ کام کل کروں گا، لیکن ان شاء اللہ کہیں۔ [الکہف: 23]

اسی طرح فرمانِ باری تعالی ہے:
وَمَا تَشَاءُوْنَ إِلَّا أَن يَّشَاءَ اللهُ رَبُّ الْعَالَمِيْنَ
ترجمہ: اور جب تک اللہ رب العالمین نہ چاہے تمہارے چاہنے سے کچھ نہیں ہوتا۔[التکویر: 29]

٭خلق: اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ اللہ تعالی پر ایمان رکھیں کہ اللہ تعالی ہر چیز کا خالق ہے، اور ان میں بندوں کے افعال بھی شامل ہیں، اس لیے اس کائنات میں کوئی بھی چیز ہے تو اس کا خالق صرف اللہ تعالی ہی ہے؛ کیونکہ اللہ تعالی کا فرمان ہے: اللَّهُ خَالِقُ كُلِّ شَيْءٍ ترجمہ: اللہ تعالی ہی ہر چیز کا خالق ہے۔[الزمر: 62] اسی طرح فرمایا: وَاللَّهُ خَلَقَكُمْ وَمَا تَعْمَلُون ترجمہ: اور اللہ تعالی نے تمہیں بھی پیدا کیا ہے اور تمہارے اعمال کو بھی۔[الصافات: 96]

اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا فرمان ہے: (یقیناً اللہ تعالی ہی ہر کاریگر اور اس کی صنعت کو پیدا کرنے والا ہے۔) اس حدیث کو امام بخاریؒ نے "خلق أفعال العباد" (25) میں اور ابن ابی عاصم ؒ نے "السنة" (257) اور (358) پر بیان کیا ہے، جبکہ البانیؒ نے اسے "سلسلہ صحیحہ "(1637) میں صحیح قرار دیا ہے۔

الشیخ ابن سعدی رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"جس طرح اللہ تعالی نے لوگوں کو پیدا کیا ہے تو اسی طرح اللہ تعالی نے لوگوں میں پائی جانے والی عملوں کی صلاحیت ، قدرت اور ارادے کو بھی پیدا فرمایا ہے۔ البتہ نیکی اور نافرمانی پر مشتمل مختلف افعال انسان اپنی مرضی سے کرتے ہیں، لیکن اس مرضی اور چاہت کو بھی اللہ تعالی نے ہی پیدا کیا ہے۔" ختم شد
ماخوذ از: "الدرة البهية شرح القصيدة التائية" (ص: 18)

عقلی باتوں کے ذریعے قضا و قدر کے مسائل میں گفتگو سے پرہیز
قضا و قدر پر ایمان در حقیقت اللہ تعالی پر صحیح ایمان کا مظہر ہے، تقدیر پر ایمان انسان کی معرفتِ الہی کا امتحان ہوتا ہے، اور اسی معرفتِ الہی کی وجہ سے حاصل ہونے والے سچے یقین کی پڑتال کا باعث بھی ہے، نیز تقدیر پر ایمان سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ انسان اللہ تعالی کی صفات جلال و جمال کس حد تک جانتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ تقدیر اور قضا و قدر کے بارے میں مطلق العنان لوگ اپنی محدود عقل کے باعث بہت سے سوالات اور اشکالات اٹھاتے ہیں، بلکہ لوگ بحث و مباحثے میں اتنے دور نکل جاتے ہیں کہ تقدیر کا ذکر کرنے والی آیات کی تاویل کر بیٹھتے ہیں۔ دوسری جانب دشمنان اسلام کا ہر زمانے میں یہ وتیرہ رہا ہے کہ مسلمانوں کے عقائد میں رخنے ڈالنے کے لیے تقدیری مسائل کو تختہ مشق بناتے ہیں، اسی کے حوالے سے شبہات پیدا کرتے ہیں، تو ایسی صورت حال میں صحیح ایمان اور یقین پر وہی شخص باقی بچتا ہے جو اللہ تعالی کے اسمائے حسنی اور اعلی صفات کی مکمل معرفت رکھتا ہے، جو اپنے معاملات اللہ تعالی کے سپرد کیے ہوئے نفسیاتی طور پر مطمئن ہے، اسے اللہ تعالی پر مکمل بھروسا ہے چنانچہ ایسے شخص پر شکوک و شبہات اثر انداز نہیں ہو پاتے۔ اس سے یہ واضح ہو گیا کہ قضا و قدر پر ایمان ، ایمان کے دیگر ارکان کے درمیان بہت اہمیت کا حامل ہے۔ اور یہ بھی واضح ہو گیا کہ عقل بذات خود تقدیر کی حقیقت کو نہیں پہنچ سکتی؛ کیونکہ تقدیر مخلوقات کے متعلق اللہ تعالی کا راز ہے، تو جس قدر اللہ تعالی نے اس راز کے متعلق قرآن کریم میں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی زبانی بتلایا ہمیں اس کا علم ہے اور ہم اس کی تصدیق کے ساتھ اس پر ایمان بھی رکھتے ہیں، اور تقدیر کے متعلق جن چیزوں سے سکوت فرمایا ہم اس کے بارے میں بھی اللہ تعالی کے کامل عدل اور مکمل حکمت پر یقین رکھتے ہوئے ایمان لاتے ہیں، اور یہ بھی مانتے ہیں کہ اللہ تعالی کے افعال کے بارے میں پوچھا نہیں جاتا، پوچھ تاچھ تو مخلوقات سے کی جاتی ہے۔

واللہ تعالی اعلم، اللہ تعالی اپنے بندے اور نبی محمد صلی اللہ علیہ و سلم ، آپ کی آل اور صحابہ کرام پر رحمت، سلامتی اور برکت نازل فرمائے۔

مراجع:

1-حافظ بن احمد حکمی رحمہ اللہ کی کتاب: "أعلام السنة المنشورة لاعتقاد الطائفة الناجية المنصورة"

2- ڈاکٹر عبد الرحمن المحمود کی کتاب: "القضاء والقدر في ضوء الكتاب والسنة"

3- الشیخ محمد الحمد کی کتاب: "الإيمان بالقضاء والقدر"





احادیثِ نبویہ:

وُجُوبُ الْإِيمَانِ بِالْقَدَر (تقدیر پر ایمان لانے کا وجوب)

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا:

"رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کے درمیان (ان کے بیچ میں) بیٹھا کرتے تھے (٢)۔ پھر کوئی مسافر آتا (٣) اور وہ نہیں جانتا تھا کہ آپ کون ہیں یہاں تک کہ پوچھ لیتا۔ چنانچہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ ہم آپ کے لیے ایسی جگہ بنائیں جسے کوئی اجنبی آپ کے پاس آنے پر پہچان لے۔ پس ہم نے آپ کے لیے مٹی کا ایک اونچا چبوترہ (چبوترہ) بنا دیا (٤)، جس پر آپ بیٹھنے لگے (٥)۔ اور ہم اس کے دونوں طرف بیٹھتے تھے (٧)۔

پس ایک دن ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے (٨) کہ ایک شخص (٩) آیا (١٠) جو انتہائی سفید کپڑے پہنے ہوئے تھا (١١) گویا اس کے کپڑوں کو کسی میل نے چھوا ہی نہ تھا (١٢)، اس کے بال نہایت سیاہ تھے (١٣)، وہ سب سے زیادہ خوبصورت اور خوشبودار تھا (١٤)، اس پر سفر کا کوئی اثر نہ تھا اور ہم میں سے کوئی اسے نہیں جانتا تھا (١٥)۔ اس نے صف کے کنارے سے سلام کیا (١٦،١٧) اور کہا: السلام علیک یا محمد! تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے سلام کا جواب دیا (١٨)۔ اس نے کہا: کیا میں قریب آؤں یا محمد؟ آپ نے فرمایا: آ جاؤ۔ وہ بار بار کہتا رہا: کیا میں قریب آؤں؟ اور آپ فرماتے رہے: آ جاؤ یہاں تک کہ اس نے اپنا ہاتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دونوں گھٹنوں پر رکھ دیا (١٩) – اور ایک روایت میں ہے: اس نے اپنے گھٹنے آپ کے گھٹنوں سے لگا دیے اور اپنی ہتھیلیاں آپ کی رانوں پر رکھ دیں (٢٠)۔

پھر اس نے کہا: مجھے بتاؤ اسلام کیا ہے؟ (٢١)۔ آپ نے فرمایا: "اسلام یہ ہے کہ تو اللہ کی عبادت کرے اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرے (٢٢،٢٣)" – اور دوسری روایت میں ہے: "یہ کہ تو گواہی دے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد اللہ کے رسول ہیں (٢٤)؛ اور تو نماز قائم کرے (فرض نماز) (٢٥)؛ اور زکوٰۃ ادا کرے (فرض زکوٰۃ) (٢٦)؛ اور رمضان کے روزے رکھے (٢٧)؛ اور بیت اللہ کا حج کرے اگر اس تک راستہ پا سکے (٢٨)؛ اور عمرہ کرے؛ اور جنابت سے غسل کرے؛ اور وضو کو پورا کرے (٢٩)۔" اس نے کہا: اگر میں نے یہ سب کر لیا تو کیا میں مسلمان ہوں؟ (٣٠) (یا: کیا میں نے اسلام قبول کر لیا؟) (٣١)۔ آپ نے فرمایا: "ہاں۔" اس نے کہا: تم نے سچ کہا۔

ہم نے اس کے "تم نے سچ کہا" کہنے پر تعجب کیا (٣٢،٣٣) کہ وہ خود سوال کر رہا ہے اور خود ہی تصدیق کر رہا ہے (٣٤،٣٥)۔

پھر اس نے کہا: یا محمد! مجھے بتاؤ ایمان کیا ہے؟ (٣٦) آپ نے فرمایا: "ایمان یہ ہے کہ تو اللہ پر ایمان لائے (٣٦)؛ اس کے فرشتوں پر (٣٧)؛ اس کی کتابوں پر (٣٨)؛ اس کی ملاقات پر (٣٩)؛ اس کے رسولوں پر (٤٠)؛ اور مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونے پر ایمان لائے (٤١،٤٢،٤٣)؛ اور جنت و جہنم پر (٤٤)؛ اور پوری تقدیر پر ایمان لائے (٤٥)؛ خواہ اس کی بھلائی ہو یا برائی (٤٦،٤٧)۔" اس نے کہا: اگر میں یہ کر لوں تو کیا میں ایمان لے آیا؟ آپ نے فرمایا: "ہاں۔" اس نے کہا: تم نے سچ کہا (٤٨،٤٩)۔

(آگے احسان کا سوال بھی تھا، لیکن یہاں تقدیر پر ایمان کے وجوب کے لیے یہی حصہ کافی ہے)

حواشی وحوالہ جات:
(١) بغوی نے شرح السنہ میں کہا: تقدیر پر ایمان رکھنا واجب ہے، اور اس کا مطلب یہ ہے کہ بندہ یہ اعتقاد رکھے کہ اللہ تعالیٰ بندوں کے تمام اعمال کا خالق ہے، خواہ وہ بھلائی کے ہوں یا برائی کے، اور اس نے لوح محفوظ میں انہیں پیدا کرنے سے پہلے لکھ دیا ہے۔ سب کچھ اسی کی قضا، قدر، ارادے اور مشیت سے ہوتا ہے۔ البتہ وہ ایمان اور طاعت سے راضی ہوتا ہے اور ان پر ثواب کا وعدہ کیا ہے، اور کفر و نافرمانی سے راضی نہیں اور ان پر عذاب کی وعید دی ہے۔ تقدیر اللہ تعالیٰ کے رازوں میں سے ایک راز ہے، جس پر نہ کسی مقرب فرشتے کو مطلع کیا گیا اور نہ کسی نبی کو۔ اس میں عقلی طور پر بحث و تحقیق کرنا جائز نہیں۔ بلکہ ضروری ہے کہ یہ اعتقاد رکھا جائے کہ اللہ نے مخلوق کو دو گروہوں میں پیدا کیا: ایک گروہ کو نعمت کے لیے فضل سے، اور دوسرے کو جہنم کے لیے عدل سے پیدا کیا۔
(عون المعبود، جلد 10، صفحہ 210)

(٢) یعنی ان کے درمیان اور ان کے مجمع میں۔ (عون المعبود، جلد 10، صفحہ 216)

(٣) یعنی مسافر۔ (عون المعبود، جلد 10، صفحہ 216)

(٤) قاموس میں ہے: دکان وہ عمارت ہے جس کی چوٹی بیٹھنے کے لیے ہموار کی گئی ہو۔
(عون المعبود، جلد 10، صفحہ 216)

(٥) قرطبی نے اس سے یہ استنباط کیا کہ عالم کا کسی ایسی جگہ بیٹھنا مستحب ہے جو اس کے لیے مخصوص ہو اور بلند ہو جب ضرورت ہو، جیسے تعلیم وغیرہ کے لیے۔
(فتح الباری، حدیث نمبر 50)

(٦) سنن النسائی: 4991، سنن ابی داود: 4698

(٧) سنن ابی داود: 4698

(٨) مسند احمد: 367، اور شیخ شعیب ارناؤوط نے کہا: اس کی سند بخاری و مسلم کی شرط پر صحیح ہے۔

(٩) یعنی فرشتہ جو انسان کی شکل میں آیا۔ (فتح الباری، حدیث نمبر 50)

(١٠) صحیح بخاری: 4499

(١١) صحیح مسلم: 8، سنن ترمذی: 2610

(١٢) سنن النسائی: 4991

(١٣) صحیح مسلم: 8، سنن ترمذی: 2610

(١٤) سنن النسائی: 4991

(١٥) صحیح مسلم: 8، سنن ترمذی: 2610

(١٦) یعنی جماعت، اس سے مراد وہ جماعت ہے جو اس کے دونوں طرف بیٹھی تھی۔
(عون المعبود، جلد 10، صفحہ 216)

(١٧) سنن ابی داود: 4698

(١٨) سنن النسائی: 4991، سنن ابی داود: 4698

(١٩) سنن النسائی: 4991

(٢٠) صحیح مسلم: 8، سنن النسائی: 4990

(٢١) اس نے پہلے ایمان کے بارے میں سوال کیا کیونکہ وہ اصل ہے، پھر اسلام کے بارے میں کیونکہ وہ دعویٰ کی تصدیق ظاہر کرتا ہے، پھر احسان کے بارے میں کیونکہ اس کا تعلق دونوں سے ہے۔
عمارہ بن قعقاع کی روایت میں اس نے اسلام سے آغاز کیا کیونکہ وہ ظاہری معاملہ ہے، پھر ایمان سے کیونکہ وہ باطنی معاملہ ہے – طیبی نے اسے ترجیح دی ہے۔
واقعہ ایک ہی ہے، راویوں نے اسے مختلف انداز میں بیان کیا ہے، ترتیب میں کوئی پابندی نہیں۔ مطر الوراق کی روایت میں اس نے پہلے اسلام، پھر احسان، پھر ایمان کا ذکر کیا۔ حقیقت یہ ہے کہ واقعہ ایک تھا، تقدیم و تاخیر راویوں سے ہوئی، واللہ اعلم۔
(فتح الباری، حدیث نمبر 50)

(٢٢) نووی نے کہا: ممکن ہے "عبادت" سے مراد اللہ کی معرفت ہو، تو پھر نماز وغیرہ کا عطف اس پر ہو گا تاکہ وہ اسلام میں داخل ہو جائیں۔ اور ممکن ہے "عبادت" سے مطلق اطاعت مراد ہو، تو اس میں تمام فرائض داخل ہیں، پھر نماز وغیرہ کا عطف خاص پر عام ہے۔
میں (ابن حجر) کہتا ہوں: پہلا احتمال بعید ہے کیونکہ معرفت کا تعلق ایمان سے ہے، جبکہ اسلام اقوال و اعمال بدنی ہیں۔ اور عمر کی حدیث میں "گواہی دینے" سے تعبیر کیا گیا ہے، اس لیے "عبادت" سے مراد شہادتین کا نطق ہے، اس طرح دوسرا احتمال بھی دفع ہو جاتا ہے۔
چونکہ راوی نے "عبادت" کا لفظ استعمال کیا، اس لیے اسے "اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کر" سے واضح کرنے کی ضرورت پڑی، جبکہ عمر کی روایت میں اس کی ضرورت نہ تھی کیونکہ شہادتین اسے لازم لاتی ہیں۔
(فتح الباری، حدیث نمبر 50)

(٢٣) سنن النسائی: 4991، صحیح بخاری: 50، صحیح مسلم: 9

(٢٤) صحیح مسلم: 8، سنن النسائی: 4990

(٢٥) صحیح مسلم: 9، سنن ابن ماجہ: 64

(٢٦) صحیح مسلم: 9، سنن ابن ماجہ: 64

(٢٧) صحیح بخاری: 50، صحیح مسلم: 9

(٢٨) صحیح مسلم: 8، سنن النسائی: 4990

(٢٩) صحیح ابن خزیمہ: 1، صحیح ابن حبان: 173، سنن ابی داود: 4695، صحیح الترغیب: 175، 1101، اور البانی نے اسے صحیح کہا (الارواء: 3)، اور ارناؤوط نے (ابن حبان: 173) میں کہا: اس کی سند صحیح ہے۔

(٣٠) صحیح ابن خزیمہ: 1، صحیح ابن حبان: 173

(٣١) سنن النسائی: 4991

(٣٢) سنن النسائی: 4991

(٣٣) سنن ابن ماجہ: 63

(٣٤) قرطبی نے کہا: تعجب اس لیے ہوا کہ نبی ﷺ کی لائی ہوئی بات صرف انہی سے معلوم ہوتی ہے، اور یہ سائل نہ تو نبی ﷺ سے ملاقات کے لیے جانا جاتا تھا اور نہ ہی ان سے سننے کے لیے، پھر وہ اس طرح سوال کر رہا ہے جیسے وہ پوچھی ہوئی باتوں کا جاننے والا ہو اور خود ہی آپ کی تصدیق کر رہا ہو۔ اس لیے وہ تعجب کیا۔
(فتح الباری، حدیث نمبر 50)

(٣٥) صحیح مسلم: 8، سنن النسائی: 4990

(٣٦) آپ کا فرمان "ایمان یہ ہے کہ تو اللہ پر ایمان لائے" وغیرہ سے معلوم ہوا کہ آپ نے جان لیا کہ اس نے ایمان کے متعلقات کے بارے میں پوچھا ہے، نہ کہ لفظ کے معنی کے بارے میں، ورنہ جواب ہوتا "ایمان تصدیق ہے"۔
طیبی نے کہا: اس میں تکرار کا وہم ہے، لیکن ایسا نہیں، کیونکہ "تُؤْمِنَ بِاللَّهِ" میں اعتراف کے ساتھ تصدیق کا معنی ہے۔
کرمانی نے کہا: یہ تعریف الشیء بنفسہ نہیں، بلکہ یہاں حد (محدود) سے مراد شرعی ایمان ہے اور حد سے مراد لغوی ایمان ہے۔
میں (ابن حجر) کہتا ہوں: ظاہر یہ ہے کہ اس نے ایمان کا لفظ دہرایا تاکہ اس کی اہمیت کو اجاگر کیا جا سکے، جیسا کہ قرآن میں ہے: {قُلْ يُحْيِيهَا الَّذِي أَنْشَأَهَا أَوَّلَ مَرَّةٍ} (پوچھنے پر کہ ہڈیاں کون زندہ کرے گا)۔ گویا "تُؤْمِنَ" سے ایمان کا مطلب ظاہر ہو جاتا ہے، تو اس نے کہا: شرعی ایمان ایک خاص قسم کی تصدیق ہے، ورنہ جواب ہوتا "ایمان تصدیق ہے"۔ اللہ پر ایمان اس کے وجود کی تصدیق کرنا ہے، اور یہ کہ وہ کمال کی صفات والا اور نقص کی صفات سے پاک ہے۔
(فتح الباری، حدیث نمبر 50)

(٣٧) فرشتوں پر ایمان: ان کے وجود کی تصدیق کرنا، اور یہ کہ وہ ویسے ہی ہیں جیسا کہ اللہ نے انہیں "معزز بندے" قرار دیا ہے۔ فرشتوں کو کتابوں اور رسولوں پر مقدم رکھا گیا کیونکہ اللہ نے فرشتے کو کتاب لے کر رسول کے پاس بھیجا ہے، اس میں کوئی دلیل نہیں کہ فرشتہ رسول سے افضل ہے۔
(فتح الباری، حدیث نمبر 50)

(٣٨) اللہ کی کتابوں پر ایمان: یہ تصدیق کرنا کہ وہ اللہ کا کلام ہیں اور جو کچھ ان میں ہے حق ہے۔
(فتح الباری، حدیث نمبر 50)

(٣٩) آپ کا فرمان "اور اس کی ملاقات پر" – یہ لفظ یہاں کتابوں اور رسولوں کے درمیان آیا ہے، اور مسلم کی دو سندوں میں بھی ایسا ہی ہے، جبکہ دوسری روایات میں یہ نہیں ہے۔ بعض نے کہا یہ "بعث" کے ساتھ مکرر ہے۔ لیکن حق یہ ہے کہ مکرر نہیں۔ کہا گیا: "بعث" سے مراد قبروں سے اٹھنا ہے، اور "لقاء" سے مراد اس کے بعد کا معاملہ ہے۔ کہا گیا: لقاء دنیا سے نکلتے ہی حاصل ہو جاتا ہے، اور بعث اس کے بعد ہوتا ہے – اس کی تائید مطر الوراق کی روایت سے ہوتی ہے جس میں "اور موت پر، اور موت کے بعد بعث پر" ہے، اور اسی طرح انس اور ابن عباس کی حدیثوں میں۔
خطابی نے کہا: "لقاء" سے مراد اللہ کی رؤیت ہے۔
نووی نے اس پر اعتراض کیا کہ کوئی شخص اپنے لیے رؤیت کی ضمانت نہیں دے سکتا، کیونکہ یہ صرف اس کے لیے ہے جو مرتے وقت مومن ہو، اور آدمی نہیں جانتا کہ اس کا انجام کیا ہوگا، پھر یہ ایمان کی شرط کیسے ہو سکتی ہے؟
جواب دیا گیا: مراد یہ ہے کہ اس بات پر ایمان رکھنا کہ یہ (رؤیت) حقیقت میں حق ہے – یہ اہل سنت کے لیے رؤیت الٰہی ثابت کرنے کی ایک مضبوط دلیل ہے کہ اسے ایمان کی بنیادوں میں شامل کیا گیا۔
(فتح الباری، حدیث نمبر 50)

(٤٠) رسولوں پر ایمان: ان کی تصدیق کرنا کہ وہ اللہ کی طرف سے جو کچھ لائے ہیں سچے ہیں۔ فرشتوں، کتابوں اور رسولوں کے اجمالی ذکر سے معلوم ہوا کہ ان پر اجمالاً ایمان رکھنا کافی ہے، سوائے ان کے جن کے نام متعین ہیں تو ان پر تفصیلاً ایمان واجب ہے۔ یہ ترتیب آیت {آمَنَ الرَّسُولُ بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْهِ مِنْ رَبِّهِ} کے مطابق ہے – اس ترتیب کی مناسبت یہ ہے کہ خیر اور رحمت اللہ کی طرف سے ہے، اور اس کی بڑی رحمت یہ ہے کہ اس نے اپنی کتابیں اپنے بندوں پر نازل کیں، اور ان کو پہنچانے والے انبیاء ہیں، اور ان کے درمیان واسطہ فرشتے ہیں۔
(فتح الباری، حدیث نمبر 50)

(٤١) "آخر" کا ذکر تاکید کے لیے ہے جیسے "امس الذاہب" (گزشتہ کل)۔ اور کہا گیا: کیونکہ بعث دو بار ہوتی ہے: پہلی بار عدم سے وجود میں لانا یا ماں کے پیٹ سے نطفہ اور پھر زندگی؛ دوسری بار قبروں سے اٹھانا۔ "یوم آخر" کو آخر اس لیے کہا جاتا ہے کہ یہ دنیا کے آخری دن ہیں، یا محدود وقتوں کا آخری حصہ۔ اس پر ایمان کا مطلب اس میں ہونے والے حساب، میزان، جنت اور جہنم کی تصدیق کرنا ہے۔
(فتح الباری، حدیث نمبر 50)

(٤٢) صحیح بخاری: 50، صحیح مسلم: 9

(٤٣) مسند احمد: 184

(٤٤) مسند احمد: 184، اور ارناؤوط نے کہا: اس کی سند بخاری و مسلم کی شرط پر صحیح ہے۔

(٤٥) صحیح مسلم: 10، سنن النسائی: 4990

(٤٦) "قدر" مصدر ہے، کہتے ہیں: قَدَرْتُ الشَّیْءَ (دال کی تخفیف اور فتح کے ساتھ) اگر اس کی مقدار کا احاطہ کر لیا۔ مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اشیاء کی مقداریں اور ان کے اوقات کو ان کے وجود میں آنے سے پہلے جان لیا، پھر اسے وجود دیا جو اس کے علم میں تھا۔ ہر حادث اس کے علم، قدرت اور ارادے سے صادر ہوتا ہے۔ یہی وہ بات ہے جو قطعی دلائل سے دین میں معلوم ہے، اور صحابہ اور بہتر تابعین کا مسلک تھا، یہاں تک کہ صحابہ کے آخری دور میں قدریہ کی بدعت پیدا ہوئی۔
مقالات کی کتابوں میں بعض قدریہ کے بارے میں حکایت ہے کہ وہ اللہ کے بندوں کے اعمال کے وقوع سے پہلے ان کے علم کا انکار کرتے تھے، اور کہتے تھے کہ اللہ انہیں وقوع کے بعد جانتا ہے۔
قرطبی وغیرہ نے کہا: یہ مذہب ختم ہو گیا، ہم بعد میں کسی کو اس کی طرف منسوب نہیں جانتے۔ انہوں نے کہا: آج کے قدریہ اس بات پر متفق ہیں کہ اللہ بندوں کے اعمال کو وقوع سے پہلے جانتا ہے، لیکن وہ سلف کے خلاف یہ کہتے ہیں کہ بندوں کے اعمال ان کی اپنی قدرت سے اور آزادانہ طور پر واقع ہوتے ہیں – یہ باطل مذہب ہے، اگرچہ پہلے مذہب سے ہلکا ہے۔
بعد کے قدریہ نے ارادہ کو بندوں کے اعمال سے متعلق ہونے کا انکار کیا، تاکہ قدیم کو حادث سے متعلق ہونے سے بچ سکیں۔ شافعی نے انہیں جواب دیا: اگر قدریہ علم کو تسلیم کر لے تو مغلوب ہو جائے گا۔ یعنی اس سے کہا جائے گا: کیا ممکن ہے کہ وجود میں علم کے خلاف کوئی چیز واقع ہو؟ اگر وہ منع کرے تو اہل سنت کے قول سے موافقت کر لے، اور اگر جائز جانے تو پھر اسے اللہ پر جہالت لازم آئے گی، اللہ اس سے بالا تر ہے۔
(فتح الباری، حدیث نمبر 50)

(٤٧) صحیح مسلم: 8، سنن ترمذی: 2610

(٤٨) ظاہر سیاق سے پتہ چلتا ہے کہ ایمان صرف اس شخص پر اطلاق ہوتا ہے جو مذکورہ تمام باتوں کی تصدیق کرے۔ فقہاء نے اس شخص پر ایمان کا اطلاق کر دیا جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائے، اور اس میں کوئی اختلاف نہیں، کیونکہ رسول پر ایمان کا مطلب ان کے وجود اور ان کے رب سے لائی ہوئی ہر چیز پر ایمان لانا ہے، اس لیے مذکورہ تمام چیزیں اس کے اندر داخل ہیں۔ واللہ اعلم۔
(فتح الباری، حدیث نمبر 50)

(٤٩) سنن النسائی: 4991، مسند احمد: 2926




حاصل شدہ اہم اسباق و نکات
تقدیر پر ایمان واجب ہے اور یہ ایمان کے ضروری ارکان میں سے ہے، جیسا کہ حدیث جبرائیل میں صراحت ہے۔

تقدیر کے دو پہلو:

علم: اللہ کو ہر چیز کا ازل سے علم ہے۔

کتابت: اللہ نے لوح محفوظ میں ہر چیز لکھ دی ہے۔

مشیت: جو کچھ اللہ چاہے وہی ہوتا ہے، جو نہ چاہے نہیں ہوتا۔

خلق: اللہ ہی تمام اشیاء اور اعمال کا خالق ہے۔

تقدیر پر ایمان کے بغیر ایمان کامل نہیں ہوتا، کیونکہ حدیث میں اسے ایمان کے اجزاء میں شمار کیا گیا ہے۔

تقدیر میں خیر و شر دونوں کا ماننا ضروری ہے، جیسا کہ حدیث میں "خیرہ و شرہ" کے الفاظ ہیں۔

اس حدیث کو "حدیث جبرائیل" کہا جاتا ہے اور یہ دین کے تین درجات (اسلام، ایمان، احسان) کی تعریف کرتی ہے۔

تقدیر کے بارے میں غور و فکر کرنا اور عقلی بحث کرنا منع ہے، کیونکہ یہ اللہ کا راز ہے۔

تقدیر پر ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ انسان تمام حالات میں اللہ پر راضی رہے، مصیبت پر صبر کرے اور نعمت پر شکر کرے۔

واللہ اعلم بالصواب






متن (عربی):
عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ - رضي الله عنه - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم -: " لَا يُؤْمِنُ عَبْدٌ (١) حَتَّى يُؤْمِنَ بِأَرْبَعٍ: يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ , وَأَنِّي مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللهِ , بَعَثَنِي بِالْحَقِّ , وَيُؤْمِنُ بِالْبَعْثِ بَعْدَ الْمَوْتِ , وَيُؤْمِنُ بِالْقَدَرِ (٢) " (٣)

ترجمہ:

حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"کوئی بندہ (مکمل) مومن نہیں ہوتا (١) یہاں تک کہ وہ چار چیزوں پر ایمان لے آئے: (١) گواہی دے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں محمد اللہ کا رسول ہوں، جس نے مجھے حق کے ساتھ بھیجا ہے؛ (٢) مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونے پر ایمان لائے؛ (٣) اور تقدیر پر ایمان لائے (٢)۔"

حواشی وحوالہ جات:
(١) الْمُرَادُ بِهَذَا الْحَدِيثِ نَفْيُ أَصْلِ الْإِيمَانِ , لَا نَفْيُ الْكَمَالِ , أَيْ: لَا يُعْتَبَرُ مَا عِنْدَهُ مِنْ التَّصْدِيقِ الْقَلْبِيِّ.
ترجمہ:
اس حدیث سے مراد ایمان کی اصل (بنیاد) کی نفی ہے، نہ کہ کمال کی نفی۔ یعنی (ان چیزوں پر ایمان کے بغیر) اس کا قلبی تصدیق (بھی) معتبر نہیں ہے۔
(تحفۃ الاحوذی، جلد 5، صفحہ 434)

(٢) أَيْ: يُؤْمِنُ بِأَنَّ جَمِيعَ مَا يَجْرِي فِي الْعَالَمِ بِقَضَاءِ اللهِ وَقَدَرِهِ.
ترجمہ:
یعنی وہ اس بات پر ایمان لائے کہ جو کچھ بھی دنیا میں ہوتا ہے، اللہ کی قضا اور قدر سے ہوتا ہے۔
(تحفۃ الاحوذی، جلد 5، صفحہ 434)

(٣) مسند احمد: 758، سنن ترمذی: 2145، سنن ابن ماجہ: 81


حاصل شدہ اہم اسباق و نکات
ایمان کے لیے چار بنیادی شرطیں:

توحید و رسالت کا اقرار: اللہ کی وحدانیت اور نبی ﷺ کی رسالت پر گواہی۔

آخرت پر ایمان: موت کے بعد دوبارہ زندہ ہونے اور اس کے حساب و کتاب پر یقین۔

تقدیر پر ایمان: ہر اچھی اور بری تقدیر اللہ کی طرف سے ہے۔

تقدیر پر ایمان کے بغیر ایمان کامل نہیں:
یہ حدیث صراحتاً بتاتی ہے کہ تقدیر کا انکار اصل ایمان کے منافی ہے۔

اس حدیث کا مقصد:
یہاں "لَا يُؤْمِنُ" سے مراد ایمان کی اصل (بنیاد) کی نفی ہے، نہ کہ کمال کی نفی۔ یعنی ان چیزوں کے بغیر کوئی شخص حقیقی مومن ہی نہیں سمجھا جائے گا۔

حدیث کی صحت:
یہ حدیث مسند احمد، سنن ترمذی اور سنن ابن ماجہ میں موجود ہے اور محدثین کے نزدیک صحیح ہے۔

واللہ اعلم بالصواب






متن (عربی):
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ - رضي الله عنهما - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم -: " لَا يُؤْمِنُ عَبْدٌ , حَتَّى يُؤْمِنَ بِالْقَدَرِ خَيْرِهِ وَشَرِّهِ (١) حَتَّى يَعْلَمَ أَنَّ مَا أَصَابَهُ (٢) لَمْ يَكُنْ لِيُخْطِئَهُ , وَأَنَّ مَا أَخْطَأَهُ (٣) لَمْ يَكُنْ لِيُصِيبَهُ " (٤)

ترجمہ:

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"کوئی بندہ (حقیقی) مومن نہیں ہوتا جب تک کہ وہ تقدیر کی اچھائی اور برائی پر ایمان نہ لے آئے (١) یہاں تک کہ وہ جان لے کہ جو (مصیبت یا نعمت) اسے پہنچی (٢) وہ اسے کبھی چھوڑ کر نہیں جانے والی تھی، اور جو چیز اس سے چھوٹ گئی (٣) وہ اسے کبھی پہنچنے والی نہیں تھی۔"(٤)

حواشی وحوالہ جات:
(١) أَيْ: بِأَنَّ جَمِيعَ الْأُمُورِ الْكَائِنَةِ خَيْرَهَا وَشَرَّهَا , حُلْوَهَا وَمُرَّهَا بِقَضَائِهِ وَقَدَرِهِ وَإِرَادَتِهِ وَأَمْرِهِ، وَإِنَّهُ لَيْسَ فِيهَا لَهُمْ إِلَّا مُجَرَّدُ الْكَسْبِ , وَمُبَاشَرَةُ الْفِعْلِ.
ترجمہ:
یعنی وہ اس بات پر ایمان لائے کہ تمام ہونے والے امور، خواہ وہ بھلائی ہو یا برائی، شیریں ہو یا تلخ، اللہ کی قضا، قدر، ارادے اور حکم سے ہوتے ہیں۔ اور اس میں بندوں کا صرف کسب (کمانا) اور فعل کی خود مباشرت کرنا ہے (یعنی ان کی اختیاری کوشش، مگر حقیقت میں اللہ ہی خالق ہے)۔
(تحفۃ الاحوذی، جلد 5، صفحہ 433)

(٢) أَيْ: مِنْ النِّعْمَةِ وَالْبَلِيَّةِ , وَالطَّاعَةِ وَالْمَعْصِيَةِ , مِمَّا قَدَّرَهُ اللهُ لَهُ وَعَلَيْهِ.
ترجمہ:
یعنی اسے جو کچھ بھی پہنچا، خواہ وہ نعمت ہو یا مصیبت، طاعت ہو یا معصیت، وہ سب وہی ہے جو اللہ نے اس کے لیے (تقدیر میں) لکھ دیا تھا اور اس پر مقدر کیا تھا۔ 
(تحفۃ الاحوذی، جلد 5، صفحہ 433)

(٣) أَيْ: مِنْ الْخَيْرِ وَالشَّرِّ.
ترجمہ:
یعنی جو چیز بھی اس سے چھوٹ گئی، خواہ وہ بھلائی ہو یا برائی۔
(تحفۃ الاحوذی، جلد 5، صفحہ 433)

(٤) سنن ترمذی: 2144، دیکھیے صحیح الجامع: 7585، سلسلہ صحیحہ: 2439


حاصل شدہ اہم اسباق و نکات
تقدیر پر ایمان ایمان کا لازمی جز ہے:
حدیث صراحتاً بتاتی ہے کہ تقدیر (اس کی اچھائی اور برائی) پر ایمان کے بغیر ایمان مکمل نہیں ہوتا۔

قناعت اور رضا کا مقام:
جب بندہ یقین کر لے کہ جو کچھ اسے ملا وہ اس کا مقدر تھا اور جو نہیں ملا وہ اس کے لیے نہیں تھا، تو وہ قناعت اختیار کرتا ہے اور مصیبت پر صبر کرتا ہے۔

تقدیر کے انکار کی تردید:
یہ حدیث قدریہ (تقدیر کے انکار کرنے والوں) کے خلاف واضح دلیل ہے۔

بندے کی کوشش اور اللہ کی تخلیق:
حاشیہ میں وضاحت کی گئی ہے کہ بندہ کسب (کوشش) کرتا ہے، لیکن حقیقی خالق اللہ ہے۔ یہ اہل سنت کا مسلک ہے۔

سکون اور اطمینان:
تقدیر پر ایمان بندے کو پریشانیوں سے نجات دلاتا ہے، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ ہر چیز اللہ کے حکم سے ہے۔

حدیث کی صحت:
یہ حدیث سنن ترمذی میں موجود ہے اور علامہ البانی نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔

واللہ اعلم بالصواب





متن (عربی):
عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ - رضي الله عنه - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم -: " لَا يَجِدُ عَبْدٌ حَلَاوَةَ الْإِيمَانِ (١) وفي رواية: (لَا يَبْلُغُ الْعَبْدُ حَقِيقَةَ الْإِيمَانِ) (٢) حَتَّى يَعْلَمَ أَنَّ مَا أَصَابَهُ لَمْ يَكُنْ لِيُخْطِئَهُ، وَمَا أَخْطَأَهُ لَمْ يَكُنْ لِيُصِيبَهُ " (٣)

ترجمہ:

حضرت ابو الدرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"کوئی بندہ ایمان کی شیرینی (حلاوت) نہیں پاتا (١) – اور ایک روایت میں ہے: بندہ ایمان کی حقیقت تک نہیں پہنچتا (٢) – یہاں تک کہ وہ جان لے کہ جو (مصیبت یا نعمت) اسے پہنچی وہ اسے کبھی چھوڑ کر نہ جانے والی تھی، اور جو چیز اس سے چھوٹ گئی وہ اسے کبھی پہنچنے والی نہیں تھی (٣)۔"

حواشی وحوالہ جات:

(١) "حَلَاوَة الْإِيمَان" اِسْتِعَارَة تَخْيِيلِيَّةٌ، شَبَّهَ رَغْبَة الْمُؤْمِن فِي الْإِيمَان بِشَيْءٍ حُلْو وَفِيهِ تَلْمِيحٌ إِلَى قِصَّة الْمَرِيض وَالصَّحِيح , لِأَنَّ الْمَرِيض الصَّفْرَاوِيّ يَجِد طَعْم الْعَسَل مُرًّا , وَالصَّحِيح يَذُوقُ حَلَاوَته عَلَى مَا هِيَ عَلَيْهِ، وَكُلَّمَا نَقَصَتْ الصِّحَّة شَيْئًا مَا , نَقَصَ ذَوْقه بِقَدْرِ ذَلِكَ، فَكَانَتْ هَذِهِ الِاسْتِعَارَة مِنْ أَوْضَحِ مَا يُقَوِّي اِسْتِدْلَال الْمُصَنِّف عَلَى الزِّيَادَة وَالنَّقْص , وإِنَّمَا عَبَّرَ بِالْحَلَاوَةِ لِأَنَّ الله شَبَّهَ الْإِيمَان بِالشَّجَرَةِ فِي قَوْله تَعَالَى {مَثَلًا كَلِمَة طَيِّبَة كَشَجَرَةٍ طَيِّبَة} فَالْكَلِمَة هِيَ كَلِمَة الْإِخْلَاص، وَالشَّجَرَة أَصْل الْإِيمَان، وَأَغْصَانهَا اِتِّبَاع الْأَمْر , وَاجْتِنَاب النَّهْي، وَوَرَقهَا مَا يَهْتَمّ بِهِ الْمُؤْمِن مِنْ الْخَيْر، وَثَمَرهَا عَمَل الطَّاعَات، وَحَلَاوَة الثَّمَر جَنْي الثَّمَرَة، وَغَايَة كَمَالِهِ تَنَاهِي نُضْج الثَّمَرَة , وَبِهِ تَظْهَر حَلَاوَتهَا.
ترجمہ:
"ایمان کی شیرینی" ایک تخیلاتی استعارہ ہے۔ اس میں مومن کی ایمان کے لیے رغبت کو کسی میٹھی چیز سے تشبیہ دی گئی ہے، اور اس میں بیمار اور صحیح شخص کے واقعے کی طرف اشارہ ہے۔ کیونکہ یرقان (پیلے بخار) کا مریض شہد کو کڑوا محسوس کرتا ہے، جبکہ صحیح شخص اسے اس کی حقیقت پر میٹھا پاتا ہے۔ جتنی صحت کم ہوتی ہے، اتنا ہی ذائقہ کم ہو جاتا ہے۔ لہٰذا یہ استعارہ مصنف (بخاری) کے اس استدلال کو تقویت دینے کے لیے سب سے واضح ہے کہ ایمان میں زیادتی اور کمی ہوتی ہے۔
اور "شیرینی" کے ساتھ تعبیر کرنے کی وجہ یہ ہے کہ اللہ نے ایمان کو درخت سے تشبیہ دی ہے، جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: "پاکیزہ کلمہ کی مثال ایک پاکیزہ درخت کی طرح ہے" [ابراہیم: 24]۔ "کلمہ" سے مراد کلمہ اخلاص ہے، "درخت" سے مراد ایمان کی جڑ ہے، اس کی شاخیں احکام کی پیروی اور نہیوں سے بچنا ہیں، اس کے پتے وہ بھلائیاں ہیں جن کا مومن اہتمام کرتا ہے، اس کا پھل طاعات کا عمل ہے، اور پھل کی شیرینی پھل توڑنے (ثواب پانے) سے حاصل ہوتی ہے، اور اس کی مکمل خوبی پھل کے پکنے کی انتہا ہے، جس سے اس کی شیرینی ظاہر ہوتی ہے۔
(فتح الباری، جلد 1، صفحہ 25)

(٢)  مسند احمد (حدیث نمبر 27530)۔

(٣) السنة لابن ابی عاصم:247، مسند احمد:27530۔ نیز دیکھیے: صحيح الجامع:2150، سلسلة الأحاديث الصحيحة:2471، 3019۔




حاصل شدہ اہم اسباق و نکات
ایمان کی شیرینی کا مفہوم:
ایمان کی شیرینی سے مراد وہ حلاوت اور لذت ہے جو مومن کو اپنی عبادات اور اطاعت میں محسوس ہوتی ہے۔ یہ ایک حقیقی احساس ہے جو کامل ایمان کے ساتھ آتا ہے۔

تقدیر پر ایمان شرط ہے:
ایمان کی حقیقت یا شیرینی حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ بندہ یقین رکھے کہ جو کچھ اسے پہنچا وہ اس کی تقدیر میں تھا اور جو چھوٹ گیا وہ اس کے لیے نہیں تھا۔

قناعت اور صبر کا ثمر:
اس یقین کے بعد بندہ مصیبت پر صبر کرتا ہے اور نعمت پر شکر کرتا ہے، جس سے اس کے ایمان میں حلاوت پیدا ہوتی ہے۔

ایمان میں کمی بیشی:
فتح الباری کے حاشیے میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ استعارہ (شہد اور مریض و صحیح کی مثال) اس بات کی دلیل ہے کہ ایمان میں کمی اور بیشی ہوتی ہے، جیسے کہ مریض کو شہد کی حقیقی شیرینی محسوس نہیں ہوتی، جبکہ صحیح شخص کو ہوتی ہے۔

ایمان کا درخت سے تشبیہ:
جس طرح درخت کی جڑ، شاخیں، پتے اور پھل ہوتے ہیں، اسی طرح ایمان کی بنیاد (توحید)، اس کی شاخیں (اعمال)، اس کے پتے (نیکی کی فکر)، اور اس کا پھل (طاعات کا ثواب) ہے۔ شیرینی پھل کے پکنے (ایمان کے کمال) پر ظاہر ہوتی ہے۔

حدیث کی صحت:
یہ حدیث صحیح ہے اور متعدد کتب میں موجود ہے۔

واللہ اعلم بالصواب





عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ سُلَيْمٍ قَالَ: (قَدِمْتُ مَكَّةَ , فَلَقِيتُ عَطَاءَ بْنَ أَبِي رَبَاحٍ (١) فَقُلْتُ لَهُ: يَا أَبَا مُحَمَّدٍ , إِنَّ أَهْلَ الْبَصْرَةِ يَقُولُونَ فِي الْقَدَرِ (٢) فَقَالَ: يَا بُنَيَّ أَتَقْرَأُ الْقُرْآنَ (٣)؟ , قُلْتُ: نَعَمْ , قَالَ: فَاقْرَأ الزُّخْرُفَ , فَقَرَأتُ: {حم , وَالْكِتَابِ الْمُبِينِ (٤) إِنَّا جَعَلْنَاهُ قُرْآنًا عَرَبِيًّا لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ , وَإِنَّهُ (٥) فِي أُمِّ الْكِتَابِ (٦) لَدَيْنَا لَعَلِيٌّ (٧) حَكِيمٌ (٨)} فَقَالَ: أَتَدْرِي مَا أُمُّ الْكِتَابِ؟ , قُلْتُ: اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ , قَالَ: فَإِنَّهُ (٩) كِتَابٌ كَتَبَهُ اللهُ قَبْلَ أَنْ يَخْلُقَ السَّمَاوَاتِ , وَقَبْلَ أَنْ يَخْلُقَ الْأَرْضَ , فِيهِ (١٠) إِنَّ فِرْعَوْنَ مِنْ أَهْلِ النَّارِ , وَفِيهِ: تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ وَتَبَّ , قَالَ عَطَاءٌ: وَلَقِيتُ الْوَلِيدَ بْنَ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ صَاحِبَ رَسُولِ اللهِ - صلى الله عليه وسلم - فَسَأَلْتُهُ: مَا كَانَ وَصِيَّةُ أَبِيكَ عِنْدَ الْمَوْتِ؟ , قَالَ: دَعَانِي أَبِي فَقَالَ لِي: يَا بُنَيَّ اتَّقِ اللهَ , وَاعْلَمْ أَنَّكَ لَنْ تَتَّقِ اللهَ حَتَّى تُؤْمِنَ بِاللهِ) (١١) (وَلَنْ تَجِدَ طَعْمَ حَقِيقَةِ الْإِيمَانِ حَتَّى تَعْلَمَ أَنَّ مَا أَصَابَكَ لَمْ يَكُنْ لِيُخْطِئَكَ , وَمَا أَخْطَأَكَ لَمْ يَكُنْ لِيُصِيبَكَ) (١٢) (فَإِنْ مُتَّ عَلَى غَيْرِ هَذَا (١٣) دَخَلْتَ النَّارَ , إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ - صلى الله عليه وسلم - يَقُولُ: " إِنَّ أَوَّلَ مَا خَلَقَ اللهُ الْقَلَمَ (١٤) فَقَالَ: اكْتُبْ , فَقَالَ: رَبِّ مَا أَكْتُبُ؟ , قَالَ: اكْتُبْ الْقَدَرَ (١٥) مَا كَانَ وَمَا هُوَ كَائِنٌ (١٦) إِلَى الْأَبَدِ) (١٧) وفي رواية: (اكْتُبْ مَقَادِيرَ كُلِّ شَيْءٍ حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ) (١٨) (قَالَ: فَجَرَى الْقَلَمُ فِي تِلْكَ السَّاعَةِ بِمَا كَانَ وَبِمَا هُوَ كَائِنٌ إِلَى الْأَبَدِ ") (١٩) (يَا بُنَيَّ , إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ - صلى الله عليه وسلم - يَقُولُ: " مَنْ مَاتَ عَلَى غَيْرِ هَذَا (٢٠) فَلَيْسَ مِنِّي ") (٢١)

ترجمہ:

عبدالواحد بن سلیم سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں مکہ آیا تو مجھے عطاء بن ابی رباح (١) ملے۔ میں نے ان سے کہا: اے ابو محمد! بصرہ والے تقدیر کے بارے میں (٢) (اس کا انکار کرتے ہیں) کہتے ہیں۔ انہوں نے کہا: اے بیٹے! کیا تم قرآن پڑھتے ہو (٣)؟ میں نے کہا: ہاں۔ انہوں نے کہا: سورہ زخرف پڑھو۔ میں نے پڑھا: {حم، وَالْكِتَابِ الْمُبِينِ (٤) إِنَّا جَعَلْنَاهُ قُرْآنًا عَرَبِيًّا لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ، وَإِنَّهُ (٥) فِي أُمِّ الْكِتَابِ (٦) لَدَيْنَا لَعَلِيٌّ (٧) حَكِيمٌ (٨)}۔

پھر انہوں نے کہا: کیا تم جانتے ہو "ام الکتاب" کیا ہے؟ میں نے کہا: اللہ اور اس کا رسول زیادہ جانتے ہیں۔ انہوں نے کہا: وہ (٩) ایک کتاب ہے جسے اللہ نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے سے پہلے لکھا۔ اس میں (١٠) لکھا ہے کہ فرعون جہنمیوں میں سے ہے، اور اس میں ہے: {تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ وَتَبَّ} (ابولہب کے ہاتھ ٹوٹ گئے اور وہ ہلاک ہو گیا)۔

عطاء نے کہا: میں ولید بن عبادہ بن صامت سے ملا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی تھے، اور میں نے ان سے پوچھا: آپ کے والد کی موت کے وقت کیا وصیت تھی؟ انہوں نے کہا: میرے والد نے مجھے بلا کر کہا: اے بیٹے! اللہ سے ڈر، اور جان لے کہ تو اللہ سے اس وقت تک نہیں ڈر سکتا جب تک تو اللہ پر ایمان نہ لے آئے (١١)۔

اور تو ایمان کی حقیقت کا مزہ اس وقت تک نہیں پائے گا جب تک تو یہ نہ جان لے کہ جو تجھے پہنچا وہ تجھے کبھی چھوڑ کر نہ جانے والا تھا، اور جو تجھ سے چھوٹ گیا وہ تجھے کبھی پہنچنے والا نہیں تھا (١٢)۔ پس اگر تو اس (١٣) (عقیدے) کے خلاف مر گیا تو تو جہنم میں داخل ہو گا۔

میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: "بیشک سب سے پہلی چیز جو اللہ نے پیدا کی وہ قلم تھا (١٤)۔ اس نے فرمایا: لکھ۔ اس نے کہا: اے رب! کیا لکھوں؟ فرمایا: تقدیر (١٥) لکھ، جو کچھ ہوا اور جو کچھ ہونے والا ہے (١٦) ہمیشہ تک (١٧)۔" – اور ایک روایت میں ہے: "تمام چیزوں کی مقداریں لکھ یہاں تک کہ قیامت قائم ہو جائے (١٨)۔"

(عبادہ نے کہا:) چنانچہ قلم نے اسی وقت (سب کچھ) لکھ ڈالا جو کچھ ہوا اور جو کچھ ہمیشہ تک ہونے والا ہے (١٩)۔

(عبادہ نے کہا:) اے بیٹے! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: "جو شخص اس (عقیدے) کے خلاف مر گیا (٢٠) وہ مجھ میں سے نہیں ہے (٢١)۔"


حواشی وحوالہ جات:
(١) وہ امام، شیخ الاسلام، مفتی حرم، ابو محمد قرشی، ان کے مولیٰ (آزاد کردہ غلام) ہیں، مکہ میں رہتے تھے۔ کہا جاتا ہے کہ ان کی ولاء بنو جمح سے تھی۔ وہ جند کے پیدا کردہ تھے اور مکہ میں پلے بڑھے۔ ان کی پیدائش عثمان کی خلافت کے دوران ہوئی۔
(سیر اعلام النبلاء، طبعہ رسالت، جلد 5، صفحہ 79)

(٢) یعنی تقدیر کے انکار کے بارے میں۔ (تحفۃ الاحوذی، جلد 5، صفحہ 443)

(٣) یعنی کیا تم قرآن زبانی حفظ کرتے ہو؟

(٤) یعنی وہ جو ہدایت کا راستہ اور شریعت کی ضروری چیزوں کو ظاہر کرتا ہے۔ (تحفۃ الاحوذی، جلد 5، صفحہ 443)

(٥) یعنی اس میں ثابت ہے۔ (تحفۃ الاحوذی، جلد 5، صفحہ 443)

(٦) یعنی لوح محفوظ۔ (تحفۃ الاحوذی، جلد 5، صفحہ 443)

(٧) یعنی اس سے پہلے کی کتابوں میں بلند مرتبہ۔ (تحفۃ الاحوذی، جلد 5، صفحہ 443)

(٨) یعنی کامل حکمت والا۔ (تحفۃ الاحوذی، جلد 5، صفحہ 443)

(٩) یعنی ام الکتاب۔ (تحفۃ الاحوذی، جلد 5، صفحہ 443)

(١٠) یعنی اس کتاب میں جو اللہ نے لکھی۔ (تحفۃ الاحوذی، جلد 5، صفحہ 443)

(١١) سنن ترمذی:2155

(١٢) سنن ابی داود:4700

(١٣) یعنی اس عقیدے کے علاوہ کسی اور عقیدے پر مر گیا جو میں نے تجھے تقدیر کے ایمان کے بارے میں بتایا۔
(تحفۃ الاحوذی، جلد 5، صفحہ 443)

(١٤) سب سے پہلے اللہ نے قلم کو پیدا کیا، یعنی عرش، پانی اور ہوا کے بعد، کیونکہ آپ ﷺ نے فرمایا: "اللہ نے مخلوقات کی تقدیریں اس سے پچاس ہزار سال پہلے لکھ دیں جب اس نے آسمان اور زمین کو پیدا کیا، اور اس کا عرش پانی پر تھا" (مسلم)۔ اور ابن عباس سے پوچھا گیا: اللہ کے فرمان {وَکَانَ عَرْشُہُ عَلَی الْمَاءِ} کے بارے میں کہ پانی کس پر تھا؟ انہوں نے کہا: ہوا کی پشت پر۔
(تحفۃ الاحوذی، جلد 5، صفحہ 443)

(١٥) یعنی مقدر اور مقضی۔ (تحفۃ الاحوذی، جلد 5، صفحہ 443)

(١٦) طیبی نے کہا: "جو کچھ ہوا اور جو کچھ ہونے والا ہے" یہ اس چیز کی حکایت نہیں ہے جس کا قلم کو حکم دیا گیا، ورنہ کہا جاتا "پس اس نے لکھا جو کچھ ہوگا"۔ بلکہ یہ نبی ﷺ کی اس بات کہنے سے پہلے کے حال کے اعتبار سے خبر ہے، قلم سے پہلے کے بارے میں نہیں، کیونکہ مقصد یہ ہے کہ وہ (قلم) پہلی مخلوق ہے۔ ہاں جب اولیت نسبی ہو تو یہ مراد لینا صحیح ہے کہ قلم سے پہلے جو تھا۔
ابہری نے کہا:
"جو کچھ ہوا" سے مراد عرش، پانی، ہوا اور اللہ کی ذات اور صفات ہیں۔ 
(تحفۃ الاحوذی، جلد 5، صفحہ 443)

(١٧) سنن ترمذی:2155

(١٨) سنن ابی داود:4700

(١٩) السنة ابن ابی عاصم:104، البانی نے "ظلال الجنة" میں اسے صحیح کہا ہے۔

(٢٠) یعنی اس عقیدے کے علاوہ کسی اور عقیدے پر جو میں نے تمہیں تقدیر کے ایمان کے بارے میں بتایا۔
(عون المعبود، جلد 10، صفحہ 218)

(٢١) سنن ابی داود:4700، دیکھیے صحیح الجامع:2018، سلسلہ صحیحہ:133








عبداللہ بن دیلمی کا تقدیر کے بارے میں شبہات اور صحابہ سے استفسار
متن (عربی):
عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الدَّيْلَمِيِّ قَالَ: وَقَعَ فِي نَفْسِي شَيْءٌ مِنْ هَذَا الْقَدَرِ (١) فَخَشِيتُ أَنْ يُفْسِدَ عَلَيَّ دِينِي وَأَمْرِي , فَأَتَيْتُ أُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ - رضي الله عنه - فَقُلْتُ: يَا أَبَا الْمُنْذِرِ , إِنَّهُ قَدْ وَقَعَ فِي نَفْسِي شَيْءٌ مِنْ هَذَا الْقَدَرِ , فَخَشِيتُ عَلَى دِينِي وَأَمْرِي , فَحَدِّثْنِي مِنْ ذَلِكَ بِشَيْءٍ , لَعَلَّ اللهَ أَنْ يَنْفَعَنِي بِهِ , فَقَالَ: لَوْ أَنَّ اللهَ عَذَّبَ أَهْلَ سَمَاوَاتِهِ وَأَهْلَ أَرْضِهِ , لَعَذَّبَهُمْ وَهُوَ غَيْرُ ظَالِمٍ لَهُمْ (٢) وَلَوْ رَحِمَهُمْ , لَكَانَتْ رَحْمَتُهُ خَيْرًا لَهُمْ مِنْ أَعْمَالِهِمْ (٣) وَلَوْ كَانَ لَكَ مِثْلُ جَبَلِ أُحُدٍ ذَهَبًا تُنْفِقُهُ فِي سَبِيلِ اللهِ , مَا قَبِلَهُ مِنْكَ حَتَّى تُؤْمِنَ بِالْقَدَرِ , فَتَعْلَمَ أَنَّ مَا أَصَابَكَ (٤) لَمْ يَكُنْ لِيُخْطِئَكَ , وَأَنَّ مَا أَخْطَأَكَ لَمْ يَكُنْ لِيُصِيبَكَ , وَأَنَّكَ إِنْ مُتَّ عَلَى غَيْرِ هَذَا (٥) دَخَلْتَ النَّارَ , وَلَا عَلَيْكَ أَنْ تَأتِيَ أَخِي عَبْدَ اللهِ بْنَ مَسْعُودٍ - رضي الله عنه - فَتَسْأَلَهُ , قَالَ: فَأَتَيْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ مَسْعُودٍ فَسَأَلْتُهُ , فَذَكَرَ مِثْلَ مَا قَالَ أُبَيٌّ , وَقَالَ لِي: وَلَا عَلَيْكَ أَنْ تَأتِيَ حُذَيْفَةَ - رضي الله عنه - فَأَتَيْتُ حُذَيْفَةَ فَسَأَلْتُهُ , فَقَالَ مِثْلَ مَا قَالَا , وَقَالَ: ائْتِ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ - رضي الله عنه - فَاسْأَلْهُ , فَأَتَيْتُ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ - رضي الله عنه - فَسَأَلْتُهُ , فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ - صلى الله عليه وسلم - يَقُولُ: " لَوْ أَنَّ اللهَ عَذَّبَ أَهْلَ سَمَاوَاتِهِ وَأَهْلَ أَرْضِهِ , لَعَذَّبَهُمْ وَهُوَ غَيْرُ ظَالِمٍ لَهُمْ , وَلَوْ رَحِمَهُمْ لَكَانَتْ رَحْمَتُهُ خَيْرًا لَهُمْ مِنْ أَعْمَالِهِمْ , وَلَوْ كَانَ لَكَ مِثْلُ أُحُدٍ ذَهَبًا تُنْفِقُهُ فِي سَبِيلِ اللهِ , مَا قَبِلَهُ مِنْكَ حَتَّى تُؤْمِنَ بِالْقَدَرِ كُلِّهِ , فَتَعْلَمَ أَنَّ مَا أَصَابَكَ لَمْ يَكُنْ لِيُخْطِئَكَ , وَمَا أَخْطَأَكَ لَمْ يَكُنْ لِيُصِيبَكَ , وَأَنَّكَ إِنْ مُتَّ عَلَى غَيْرِ هَذَا , دَخَلْتَ النَّارَ " (٦)

ترجمہ:

حضرت عبداللہ بن دیلمی سے روایت ہے، انہوں نے کہا:

"میرے دل میں تقدیر کے بارے میں کچھ شبہات پیدا ہو گئے (١) اور میں ڈر گیا کہ کہیں یہ (شبہات) میرے دین اور دنیا کو خراب نہ کر دیں۔ چنانچہ میں حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور عرض کیا: اے ابوالمنذر! میرے دل میں تقدیر کے بارے میں کچھ (شبہات) پیدا ہو گئے ہیں، میں اپنے دین کے بارے میں ڈر گیا ہوں، آپ مجھے اس بارے میں کچھ بتائیں، شاید اللہ اس سے مجھے نفع پہنچائے۔"

انہوں نے کہا: "اگر اللہ اپنے آسمانوں اور اپنی زمین کے باشندوں کو عذاب دے تو وہ انہیں عذاب دے گا اور وہ ان پر ظلم کرنے والا نہ ہوگا (٢)۔ اور اگر وہ ان پر رحم کرے تو اس کی رحمت ان کے (نیک) اعمال سے بھی ان کے لیے بہتر ہوگی (٣)۔ اور اگر تمہارے پاس احد پہاڑ کے برابر سونا ہو اور تم اسے اللہ کی راہ میں خرچ کرو، تو وہ تم سے قبول نہیں کیا جائے گا جب تک کہ تم تقدیر پر ایمان نہ لاؤ، اور یہ جان لو کہ جو تمہیں پہنچا (٤) وہ تمہیں چھوڑ کر جانے والا نہیں تھا، اور جو تم سے چھوٹ گیا وہ تمہیں پہنچنے والا نہیں تھا، اور اگر تم اس (عقیدے) کے خلاف مر گئے (٥) تو جہنم میں داخل ہو گے۔"

پھر انہوں نے کہا: "تم میرے بھائی عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس جاؤ اور ان سے پوچھ لو، کوئی حرج نہیں۔"

عبداللہ بن دیلمی کہتے ہیں: چنانچہ میں عبداللہ بن مسعود کے پاس آیا اور ان سے پوچھا، تو انہوں نے ویسا ہی کہا جیسا ابی بن کعب نے کہا تھا۔ اور مجھ سے کہا: "تم حذیفہ رضی اللہ عنہ کے پاس بھی چلے جاؤ (کوئی حرج نہیں)۔"

پھر میں حذیفہ کے پاس آیا اور ان سے پوچھا، تو انہوں نے بھی ویسا ہی کہا جیسا ان دونوں نے کہا تھا، اور فرمایا: "زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے پاس جاؤ اور ان سے پوچھو۔"

چنانچہ میں زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور ان سے پوچھا تو انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: "اگر اللہ اپنے آسمانوں اور اپنی زمین کے باشندوں کو عذاب دے تو وہ انہیں عذاب دے گا اور وہ ان پر ظلم کرنے والا نہ ہوگا، اور اگر وہ ان پر رحم کرے تو اس کی رحمت ان کے (نیک) اعمال سے بھی ان کے لیے بہتر ہوگی، اور اگر تمہارے پاس احد جتنا سونا ہو اور تم اسے اللہ کی راہ میں خرچ کرو، تو وہ تم سے قبول نہیں کیا جائے گا جب تک کہ تم پوری تقدیر پر ایمان نہ لاؤ، اور یہ جان لو کہ جو تمہیں پہنچا وہ تمہیں چھوڑ کر جانے والا نہیں تھا، اور جو تم سے چھوٹ گیا وہ تمہیں پہنچنے والا نہیں تھا، اور اگر تم اس (عقیدے) کے خلاف مر گئے تو جہنم میں داخل ہو گے۔"

[سنن ابن ماجہ: 77، سنن ابی داود: 4699، صحیح الجامع: 5244، ہدایۃ الرواۃ: 111، ظلال الجنۃ: 245، صحیح موارد الظمآن: 1526]

حواشی وحوالہ جات:

(١) أَيْ: مِنْ بَعْض شُبَه الْقَدَر الَّتِي رُبَّمَا تُؤَدِّي إِلَى الشَّكّ فِيهِ.
ترجمہ:
یعنی تقدیر کے ان شبہات میں سے جو کبھی کبھی اس میں شک کرنے کا سبب بنتے ہیں۔
(عون المعبود، جلد 10، صفحہ 217)

(٢) لِأَنَّهُ مَالِك الْجَمِيع , فَلَهُ أَنْ يَتَصَرَّف كَيْف شَاءَ , وَلَا ظُلْم أَصْلًا.
ترجمہ:
کیونکہ وہ سب کا مالک ہے، اس لیے اسے اختیار ہے کہ جیسے چاہے تصرف کرے، اور اصل میں (اس پر) کوئی ظلم نہیں۔
(عون المعبود، جلد 10، صفحہ 217)

(٣) أَيْ: خَيْرًا لَهُمْ مِنْ أَعْمَالِهِمْ الصَّالِحَة , وفي هذا إِشَارَةٌ إِلَى أَنَّ رَحْمَته لَيْسَتْ بِسَبَبٍ مِنْ الْأَعْمَال، كَيْف وَهِيَ مِنْ جُمْلَة رَحْمَته بِهِمْ؟، فَرَحْمَتُه إِيَّاهُمْ مَحْض فَضْل مِنْهُ تَعَالَى، فَلَوْ رَحِمَ الْجَمِيع , فَلَهُ ذَلِكَ.
ترجمہ:
یعنی ان کے نیک اعمال سے بھی ان کے لیے بہتر ہے۔ اس میں اس طرف اشارہ ہے کہ اس کی رحمت اعمال کی وجہ سے نہیں ہے، حالانکہ یہ بھی اس کی رحمت ہی کا حصہ ہے کہ اس نے انہیں نیک اعمال کرنے کی توفیق دی۔ پس اس کا ان پر رحم کرنا محض اس کا فضل ہے، اگر وہ سب پر رحم کرے تو اسے یہ حق ہے۔ 
(عون المعبود، جلد 10، صفحہ 217)

(٤) أَيْ: مَا أَصَابَك مِنْ النِّعْمَة وَالْبَلِيَّة , أَوْ الطَّاعَة وَالْمَعْصِيَة , مِمَّا قَدَّرَهُ اللهُ لَك أَوْ عَلَيْك.
ترجمہ:
یعنی جو کچھ بھی تمہیں پہنچا، خواہ وہ نعمت ہو یا مصیبت، طاعت ہو یا معصیت، جو اللہ نے تمہارے لیے یا تم پر مقدر کر رکھا تھا۔
(عون المعبود، جلد 10، صفحہ 217)

(٥) أَيْ: عَلَى اِعْتِقَادٍ غَيْر هَذَا الَّذِي ذَكَرْتُ لَك مِنْ الْإِيمَان بِالْقَدَرِ.
ترجمہ:
یعنی اس عقیدے کے علاوہ کسی اور عقیدے پر جو میں نے تمہیں تقدیر کے ایمان کے بارے میں بتایا ہے۔
(عون المعبود، جلد 10، صفحہ 217)

(٦) تخریج: سنن ابن ماجہ: 77، سنن ابی داود: 4699، صحیح الجامع: 5244، ہدایۃ الرواۃ: 111، ظلال الجنۃ: 245، صحیح موارد الظمآن: 1526۔




حاصل شدہ اہم اسباق و نکات
تقدیر پر ایمان کی اہمیت:
یہ حدیث واضح کرتی ہے کہ تقدیر (اس کی اچھائی اور برائی) پر ایمان لانا ایمان کا لازمی جز ہے، اور اس کے بغیر کوئی عمل قبول نہیں ہوتا، خواہ وہ احد پہاڑ کے برابر سونا خرچ کرنے جیسا عظیم عمل ہی کیوں نہ ہو۔

اللہ کا عدل اور رحمت:
اللہ اگر سب کو عذاب دے تو وہ ظالم نہیں، کیونکہ وہ سب کا مالک ہے۔ اور اگر وہ رحم کرے تو یہ اس کا محض فضل ہے، اعمال کی وجہ سے نہیں۔

شبہات کے وقت علماء سے رجوع:
عبداللہ بن دیلمی نے جب تقدیر کے بارے میں شبہات محسوس کیے تو وہ خود ہی فیصلہ کرنے کے بجائے بڑے صحابہ (ابی بن کعب، ابن مسعود، حذیفہ، زید بن ثابت) کے پاس گئے اور ان سے مسئلہ پوچھا۔ یہ ہمارے لیے سبق ہے کہ دینی مسائل میں اہل علم سے رجوع کرنا چاہیے۔

تقدیر کے انکار کا انجام:
حدیث میں سخت وعید ہے کہ جو شخص تقدیر کے عقیدے کے خلاف مرے گا وہ جہنم میں داخل ہو گا۔

اللہ کی رحمت اعمال سے بہتر ہے:
اس کا مطلب یہ ہے کہ بندہ اپنے اعمال کی بنیاد پر اللہ پر کوئی حق نہیں جما سکتا، اللہ جسے چاہے اپنے فضل سے رحم کرے۔

صحابہ کا اتحاد عقیدہ:
چاروں صحابہ نے ایک ہی بات کہی، جس سے معلوم ہوا کہ تقدیر پر ایمان رکھنا صحابہ کا متفقہ عقیدہ تھا۔

دل کے شبہات کا علاج:
یہ حدیث بتاتی ہے کہ جب دل میں کوئی شبہ آئے تو اسے نظر انداز کرنے کے بجائے اہل علم سے پوچھ کر اس کا ازالہ کرنا چاہیے۔

واللہ اعلم بالصواب






صحابہ کرام اور تابعین کے تقدیر کے بارے میں اقوال

عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمُرَ قَالَ: (كَانَ أَوَّلَ مَنْ قَالَ فِي الْقَدَرِ بِالْبَصْرَةِ (١) مَعْبَدٌ الْجُهَنِيُّ (٢) فَانْطَلَقْتُ أَنَا وَحُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِمْيَرِيُّ حَاجَّيْنِ أَوْ مُعْتَمِرَيْنِ , فَقُلْنَا: لَوْ لَقِينَا أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ - صلى الله عليه وسلم - فَسَأَلْنَاهُ عَمَّا يَقُولُ هَؤُلَاءِ فِي الْقَدَرِ , فَوُفِّقَ لَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ - رضي الله عنهما - دَاخِلًا الْمَسْجِدَ , فَاكْتَنَفْتُهُ أَنَا وَصَاحِبِي (٣) أَحَدُنَا عَنْ يَمِينِهِ , وَالْآخَرُ عَنْ شِمَالِهِ , فَظَنَنْتُ أَنَّ صَاحِبِي سَيَكِلُ الْكَلَامَ إِلَيَّ , فَقُلْتُ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ , إِنَّهُ قَدْ ظَهَرَ قِبَلَنَا نَاسٌ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ , وَيَتَقَفَّرُونَ الْعِلْمَ (٤) وَذَكَرْتُ مِنْ شَأنِهِمْ , وَأَنَّهُمْ يَزْعُمُونَ أَنْ لَا قَدَرَ , وَأَنَّ الْأَمْرَ أُنُفٌ (٥) قَالَ ابْنُ عُمَرَ: فَإِذَا لَقِيتَ أُولَئِكَ فَأَخْبِرْهُمْ أَنِّي بَرِيءٌ مِنْهُمْ , وَأَنَّهُمْ بُرَآءُ مِنِّي , وَالَّذِي يَحْلِفُ بِهِ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ , لَوْ أَنَّ لِأَحَدِهِمْ مِثْلَ أُحُدٍ ذَهَبًا فَأَنْفَقَهُ (٦) مَا قَبِلَ اللهُ مِنْهُ حَتَّى يُؤْمِنَ بِالْقَدَرِ) (٧) (خَيْرِهِ وَشَرِّهِ) (٨).

ترجمہ:

حضرت یحییٰ بن یعمر سے روایت ہے، انہوں نے کہا:

"بصرہ میں سب سے پہلے جس نے تقدیر کے بارے میں (انکار کی) بات کہی (١) وہ معبد جہنی تھا (٢)۔ چنانچہ میں اور حمید بن عبدالرحمٰن حمیری حج یا عمرہ کے لیے روانہ ہوئے، ہم نے کہا: کاش ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی صحابی سے ملاقات کر لیں اور ان سے ان لوگوں کے بارے میں پوچھ لیں جو تقدیر کے بارے میں یہ باتیں کہتے ہیں۔ پس اللہ نے ہمیں عبداللہ بن عمر بن خطاب رضی اللہ عنہما سے (مسجد میں داخل ہوتے ہوئے) ملنے کی توفیق دی۔ میں اور میرے ساتھی نے اسے گھیر لیا (٣)، ہم میں سے ایک اس کے دائیں اور ایک بائیں طرف تھا۔ میں نے سمجھا کہ میرا ساتھی بات کرنا میرے سپرد کر دے گا، تو میں نے کہا: اے ابوعبدالرحمٰن! ہماری طرف کچھ لوگ ظاہر ہوئے ہیں جو قرآن پڑھتے ہیں اور علم کی گہرائیوں میں اترتے ہیں (٤)۔ میں نے ان کا کچھ حال بیان کیا، اور یہ کہ وہ گمان کرتے ہیں کہ کوئی تقدیر نہیں ہے اور معاملہ نئے سرے سے شروع ہوتا ہے (٥)۔

ابن عمر نے کہا: جب تم ان لوگوں سے ملو تو انہیں بتا دینا کہ میں ان سے بری ہوں اور وہ مجھ سے بری ہیں۔ اور اس ذات کی قسم جس کی قسم عبداللہ بن عمر کھاتے ہیں، اگر ان میں سے کسی کے پاس احد پہاڑ کے برابر سونا ہو اور وہ اسے (اللہ کی راہ میں) خرچ کر دے (٦) تو اللہ اسے اس وقت تک قبول نہیں کرے گا جب تک وہ تقدیر پر ایمان نہ لے آئے (٧) اس کی اچھائی اور برائی پر (٨)۔"



حواشی اور حوالہ جات:
(١) یعنی سب سے پہلے جس نے تقدیر کے انکار کی بات کہی، پس اس نے بدعت ایجاد کی اور اس صحیح راستے کی مخالفت کی جسے اہل حق جانتے تھے۔ (تحفۃ الاحوذی، جلد 6، صفحہ 407)

(٢) یہ معبد بن خالد جہنی تھے، وہ حسن بصری کی مجالس میں جایا کرتے تھے۔ یہ وہ پہلا شخص ہے جس نے بصرہ میں تقدیر کے بارے میں (انکار کی) بات کی۔ بصرہ والوں نے اس کے بعد اس کا راستہ اختیار کیا جب انہوں نے دیکھا کہ عمرو بن عبید اسے اپنا مسلک بنا رہے ہیں۔ حجاج بن یوسف نے اسے قید میں قتل کیا۔ (تحفۃ الاحوذی، جلد 6، صفحہ 407)

(٣) یعنی ہم اس کے دونوں طرف ہو گئے، پھر اس کی وضاحت کی: ہم میں سے ایک اس کے دائیں اور ایک بائیں طرف۔ اس میں جماعت کے اس آداب کی طرف تنبیہ ہے کہ وہ اپنے بزرگ کے ساتھ چلتے ہوئے اسے گھیرے میں رکھتے ہیں اور اس کے گرد ہوتے ہیں۔ (النووی، جلد 1، صفحہ 70)

(٤) یعنی اس کی پیچیدہ باتوں کی تحقیق کرتے ہیں اور اس کی پوشیدہ چیزوں کو نکالتے ہیں۔ قاضی عیاض نے کہا: میں نے بعض کا قول دیکھا ہے کہ (یہ لفظ) "یتقعّرون" ہے، جس کے معنی ہیں وہ اس کی گہرائی تلاش کرتے ہیں، یعنی اس کی پیچیدہ اور پوشیدہ باتوں کو۔ اسی سے ہے "تقعر في كلامه" جب وہ اس میں غریب الفاظ استعمال کرے۔ (النووی، جلد 1، صفحہ 70)

(٥) یعنی معاملہ نئے سرے سے شروع ہوتا ہے، اس سے پہلے کوئی تقدیر اور نہ اللہ کا علم ہے، بلکہ وہ اسے وقوع کے بعد جانتا ہے۔ یہ قول ان کے انتہائی گروہ کا ہے، تمام قدریہ کا نہیں۔ اس کا کہنے والا جھوٹا، گمراہ اور افترا پرداز ہے، اللہ ہمیں اور تمام مسلمانوں کو اس سے بچائے۔ (النووی، جلد 1، صفحہ 70)

(٦) آپ کا فرمان "فَأَنْفَقَهُ" یعنی اسے اللہ تعالیٰ کی راہ اور اس کی اطاعت میں خرچ کرے۔ (شرح نووی، جلد 1، صفحہ 70)

(٧) صحیح مسلم: 8، سنن ترمذی: 2610

(٨) سنن ترمذی: 2610

(٩) یہ جو ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا ہے، اس کا ظاہر یہ ہے کہ وہ قدریہ کو کافر قرار دے رہے ہیں۔

قاضی عیاض نے کہا: یہ ان پہلے قدریہ کے بارے میں ہے جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے علم کے واقعات سے پہلے ہونے کا انکار کیا۔ انہوں نے کہا: اس قول کا قائل بلا اختلاف کافر ہے، اور یہ لوگ جو تقدیر کا انکار کرتے ہیں، حقیقت میں وہ فلسفی ہیں۔

اور دوسرے نے کہا: ممکن ہے کہ اس کلام سے ان کا مقصد تکفیر (ملت سے خارج کرنا) نہ ہو، بلکہ یہ نعمتوں کا انکار (کفران نعمت) کے معنی میں ہو۔ لیکن ان کا فرمان "اللہ اسے قبول نہیں کرے گا" تکفیر پر ظاہر ہے، کیونکہ اعمال کا ضائع ہونا صرف کفر سے ہوتا ہے۔ البتہ یہ ممکن ہے کہ کسی مسلمان کے بارے میں کہا جائے کہ اس کی معصیت کی وجہ سے اس کا عمل قبول نہیں ہوتا، اگرچہ وہ صحیح ہو، جیسے کہ مغصوب گھر میں نماز صحیح ہے (اور دوبارہ پڑھنا واجب نہیں) جمہور علماء بلکہ سلف کے اجماع کے مطابق، لیکن وہ مقبول نہیں ہے، یعنی اس میں ثواب نہیں، جیسا کہ ہمارے اصحاب کے نزدیک مختار ہے۔ واللہ اعلم۔
(شرح النووی، جلد 1، صفحہ 70)




حاصل شدہ اہم اسباق و نکات
تقدیر کے انکار کرنے والوں (قدریہ) کی مذمت:
صحابہ کرام نے ان لوگوں سے بیزاری کا اعلان کیا اور انہیں گمراہ قرار دیا۔

تقدیر پر ایمان کے بغیر کوئی عمل قبول نہیں:
خواہ وہ احد پہاڑ کے برابر سونا خرچ کرنے جیسا عظیم عمل ہی کیوں نہ ہو۔

پہلے قدریہ کا عقیدہ کفر تھا:
جو لوگ اللہ کے ازلی علم کا انکار کرتے تھے، وہ کافر تھے۔ البتہ بعد کے قدریہ (جو افعال کے خلق کا انکار کرتے ہیں) کے بارے میں اختلاف ہے۔

صحابہ کا تقدیر پر اجماع:
ابن عمر، ابن مسعود، ابی بن کعب، حذیفہ، زید بن ثابت وغیرہ سب نے تقدیر پر ایمان کو ضروری قرار دیا۔

علماء سے رجوع کرنے کا طریقہ:
یحییٰ بن یعمر نے شبہات کے وقت بڑے صحابی سے جا کر پوچھا، یہ ہمارے لیے نمونہ ہے۔

حدیث کی صحت:
یہ حدیث صحیح مسلم اور سنن ترمذی میں موجود ہے اور محدثین کے نزدیک صحیح ہے۔

واللہ اعلم بالصواب





عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ قَالَ: كَتَبَ رَجُلٌ إِلَى عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ يَسْأَلُهُ عَنْ الْقَدَرِ , فَكَتَبَ إلَيْهِ: أَمَّا بَعْدُ , كَتَبْتَ تَسْأَلُ عَنْ الْإِقْرَارِ بِالْقَدَرِ , فَعَلَى الْخَبِيرِ بِإِذْنِ اللهِ وَقَعْتَ , مَا أَعْلَمُ مَا أَحْدَثَ النَّاسُ مِنْ مُحْدَثَةٍ , وَلَا ابْتَدَعُوا مِنْ بِدْعَةٍ هِيَ أَبْيَنُ أَثَرًا , وَلَا أَثْبَتُ أَمْرًا مِنْ الْإِقْرَارِ بِالْقَدَرِ , لَقَدْ ذَكَرَهُ (١) فِي الْجَاهِلِيَّةِ الْجُهَلَاءُ , يَتَكَلَّمُونَ بِهِ فِي كَلَامِهِمْ وَفِي شِعْرِهِمْ , يُعَزُّونَ بِهِ أَنْفُسَهُمْ عَلَى مَا فَاتَهُمْ , ثُمَّ لَمْ يَزِدْهُ الْإِسْلَامُ بَعْدُ إِلَّا شِدَّةً , وَلَقَدْ ذَكَرَهُ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم - فِي غَيْرِ حَدِيثٍ وَلَا حَدِيثَيْنِ , وَقَدْ سَمِعَهُ مِنْهُ الْمُسْلِمُونَ , فَتَكَلَّمُوا بِهِ فِي حَيَاتِهِ , وَبَعْدَ وَفَاتِهِ , يَقِينًا وَتَسْلِيمًا لِرَبِّهِمْ , وَتَضْعِيفًا لِأَنْفُسِهِمْ أَنْ يَكُونَ شَيْءٌ لَمْ يُحِطْ بِهِ عِلْمُهُ (٢) وَلَمْ يُحْصِهِ كِتَابُهُ , وَلَمْ يَمْضِ فِيهِ قَدَرُهُ (٣) وَإِنَّهُ مَعَ ذَلِكَ لَفِي مُحْكَمِ كِتَابِهِ (٤) مِنْهُ اقْتَبَسُوهُ , وَمِنْهُ تَعَلَّمُوهُ (٥) وَلَئِنْ قُلْتُمْ: لِمَ أَنْزَلَ اللهُ آيَةَ كَذَا (٦)؟ , لِمَ قَالَ كَذَا؟ , لَقَدْ قَرَءُوا (٧) مِنْهُ مَا قَرَأتُمْ , وَعَلِمُوا مِنْ تَأوِيلِهِ (٨) مَا جَهِلْتُمْ , وَقَالُوا بَعْدَ ذَلِكَ كُلِّهِ (٩): بِكِتَابٍ وَقَدَرٍ (١٠) وَكُتِبَتِ الشَّقَاوَةُ , وَمَا يُقَدَّرُ يَكُنْ , وَمَا شَاءَ اللهُ كَانَ , وَمَا لَمْ يَشَأ لَمْ يَكُنْ (١١) وَلَا نَمْلِكُ لِأَنْفُسِنَا ضَرًّا وَلَا نَفْعًا , ثُمَّ رَغِبُوا (١٢) بَعْدَ ذَلِكَ (١٣) وَرَهِبُوا (١٤). (١٥)

ترجمہ:

سفیان ثوریؒ سے روایت ہے، انہوں نے کہا:
ایک شخص نے عمر بن عبدالعزیز کو خط لکھ کر تقدیر کے بارے میں پوچھا۔ تو انہوں نے جواب میں لکھا:

"اما بعد، تم نے تقدیر کا اقرار کرنے کے بارے میں پوچھا ہے، تو تم اللہ کے اذن سے ایک ماہر شخص سے جا پڑے۔ میں نہیں جانتا کہ لوگوں نے جو نئے امور ایجاد کیے ہیں اور جو بدعتیں نکالی ہیں، ان میں سے کوئی بھی ایسی بدعت نہیں ہے جو تقدیر کے اقرار سے زیادہ واضح اثر والی اور زیادہ ثابت شدہ ہو۔

بے شک جاہلیت کے جاہلوں نے بھی اس (تقدیر کے اقرار) کا ذکر کیا ہے، وہ اپنی گفتگو اور اپنے اشعار میں اس کا ذکر کرتے تھے، اور جو کچھ ان سے فوت ہو جاتا اس پر اس کے ذریعے اپنے آپ کو تسلی دیتے تھے۔ پھر اسلام نے اسے اور زیادہ مضبوط کیا۔

اور بلاشبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک یا دو نہیں بلکہ کئی احادیث میں اس کا ذکر کیا ہے، اور مسلمانوں نے آپ سے سنا، اور آپ کی زندگی میں اور آپ کی وفات کے بعد اس پر گفتگو کی، اپنے رب کے لیے یقین اور تسلیم کے ساتھ، اور اپنے نفوس کو اس بات سے عاجز سمجھتے ہوئے کہ کوئی چیز ایسی ہو جس کا اللہ کے علم نے احاطہ نہ کیا ہو، اور اس کی کتاب نے اسے ضبط نہ کیا ہو، اور اس کی تقدیر اس میں نافذ نہ ہوئی ہو۔

اور یہ (تقدیر کا اقرار) اس کی کتاب کے محکم حصوں میں بھی ہے، اسی سے انہوں نے اسے اخذ کیا اور اسی سے اسے سیکھا۔

اگر تم کہو: اللہ نے فلاں آیت کیوں نازل فرمائی؟ اس نے ایسا کیوں کہا؟ تو جان لو کہ (سلف صالحین) نے اس میں سے وہی پڑھا جو تم نے پڑھا، اور اس کی تاویل میں سے وہ جانتے ہیں جو تم نہیں جانتے۔ اور ان سب کے بعد انہوں نے کہا: (ہم اس بات پر ایمان رکھتے ہیں) کہ (یہ سب) کتاب اور تقدیر کے مطابق ہے، اور شقاوت لکھ دی گئی ہے، اور جو مقدر ہو گا وہ ہو کر رہے گا، جو اللہ چاہے گا وہ ہو گا اور جو نہیں چاہے گا وہ نہیں ہو گا، اور ہم اپنی جانوں کے لیے نہ کسی نقصان کے مالک ہیں اور نہ کسی نفع کے۔

پھر اس (اقرار) کے بعد انہوں نے (نیکیوں کی) رغبت کی اور (برائیوں سے) ڈرے۔"


حواشی وحوالہ جات:

(١) یعنی تقدیر کا اقرار۔ (عون المعبود، جلد 10، صفحہ 132)

(٢) یعنی اللہ تعالیٰ کا علم۔ (عون المعبود، جلد 10، صفحہ 132)

(٣) یعنی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے تقدیر کا اقرار کیا، اس پر یقین کیا، اور اسے اپنے رب کے لیے تسلیم کیا، اور اپنے نفوس کو اس بات سے عاجز سمجھا کہ کوئی چیز ایسی ہو جو اللہ کے علم سے اوجھل ہو، اس کی کتاب نے اسے ضبط نہ کیا ہو، اور اس کا حکم اس میں نافذ نہ ہوا ہو۔ (عون المعبود، جلد 10، صفحہ 132)

(٤) یعنی یہ (تقدیر کا اقرار) قرآن مجید میں بھی مذکور ہے۔ (عون المعبود، جلد 10، صفحہ 132)

(٥) یعنی انہوں نے تقدیر کا اقرار کرنا سیکھا۔ (عون المعبود، جلد 10، صفحہ 132)

(٦) یعنی ان آیات کے بارے میں جن کا ظاہر تقدیر کے خلاف ہو۔ (عون المعبود، جلد 10، صفحہ 132)

(٧) یعنی سلف صالحین۔ (عون المعبود، جلد 10، صفحہ 132)

(٨) شیخ الاسلام ابن تیمیہ نے "الفتوى الحموية الكبرى" (1/287) میں کہا:
تأویل کے تین معنی ہیں:
پہلا معنی:
یہ ان متأخرین کی اصطلاح ہے کہ لفظ کو اس کے راجح احتمال سے ہٹ کر مرجوح احتمال کی طرف لے جانا، کسی ایسی دلیل کی بنا پر جو اس کے ساتھ ہو۔ ان کے نزدیک لفظ کا وہ معنی جو اس کے ظاہر کے موافق ہو، "تأویل" نہیں کہلاتا۔ یہ لوگ سمجھتے ہیں کہ اللہ کا "تأویل" سے یہی مراد ہے، اور یہ کہ نصوص کا ایک ایسا "تأویل" ہے جو ان کے مدلول کے خلاف ہے، جسے یا تو صرف اللہ جانتا ہے یا متأولین جانتے ہیں۔ پھر ان میں سے بہت سے کہتے ہیں: نصوص کو ان کے ظاہر پر چھوڑ دو، ان کا ظاہر مراد ہے، ساتھ ہی وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ان کا ایک "تأویل" اس معنی میں ہے جسے صرف اللہ جانتا ہے۔ یہ تناقض ہے۔
دوسرا معنی:
"تأویل" سے مراد تفسیر ہے، خواہ وہ ظاہر کے موافق ہو یا مخالف۔ یہی تأویل جمہور مفسرین وغیرہ کی اصطلاح ہے۔ اس تأویل کو "راسخون فی العلم" جانتے ہیں، اور یہ ان لوگوں کے موقف کے موافق ہے جنہوں نے آیت {وَمَا يَعْلَمُ تَأْوِيلَهُ إِلَّا اللَّهُ وَالرَّاسِخُونَ فِي الْعِلْمِ} پر وقف کیا۔ یہ تفسیر ابن عباس، مجاہد، محمد بن جعفر بن زبیر، محمد بن اسحاق، ابن قتیبہ وغیرہ سے منقول ہے۔ دونوں قول حق ہیں، جیسا کہ ہم نے دوسری جگہ تفصیل بیان کی ہے۔ اسی لیے ابن عباس سے دونوں قول منقول ہیں، اور دونوں حق ہیں۔
تیسرا معنی:
"تأویل" سے مراد وہ حقیقت ہے جس کی طرف کلام پہنچتا ہے، خواہ وہ ظاہر کے موافق ہو۔ مثلاً جنت میں کھانے، پینے، لباس، نکاح، قیامت وغیرہ کے بارے میں جو خبر دی گئی ہے، اس کا تأویل خود ان حقائق کا وجود ہے، نہ کہ ان کے معانی کا وہ تصور جو ذہنوں میں ہوتا ہے اور زبان سے ادا کیا جاتا ہے۔ یہی تأویل قرآن کی زبان میں ہے، جیسا کہ اللہ نے یوسف علیہ السلام کے بارے میں فرمایا: {يَا أَبَتِ هَذَا تَأْوِيلُ رُؤْيَايَ مِنْ قَبْلُ قَدْ جَعَلَهَا رَبِّي حَقًّا} اور فرمایا: {هَلْ يَنْظُرُونَ إِلَّا تَأْوِيلَهُ يَوْمَ يَأْتِي تَأْوِيلُهُ} اور فرمایا: {ذَلِكَ خَيْرٌ وَأَحْسَنُ تَأْوِيلاً}۔ یہ تأویل وہ ہے جسے صرف اللہ جانتا ہے۔

(٩) یعنی سلف صالحین نے کتاب کے محکم حصوں میں سے وہی پڑھا جو تم نے پڑھا، اور اس کی تاویل میں سے وہ جانتے ہیں جو تم نہیں جانتے۔ (عون المعبود، جلد 10، صفحہ 132)

(١٠) یعنی انہوں نے اس بات کا اقرار کیا کہ اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کو لکھ دیا اور اسے آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے سے بہت پہلے تقدیر کر دیا۔ (عون المعبود، جلد 10، صفحہ 132)

(١١) شیخ الاسلام نے کہا:
مسلمانوں کے قول "مَا شَاءَ اللَّهُ كَانَ وَمَا لَمْ يَشَأ لَمْ يَكُنْ" کا معنی یہ ہے کہ اس کی مشیت ہی تنہا موجِب ہے، کوئی اور نہیں۔ اس کے نہ ہونے سے اس کا نہ ہونا لازم ہے۔ کوئی چیز اس وقت تک نہیں ہوتی جب تک اس کی مشیت نہ ہو، کوئی چیز اس کے بغیر ہرگز نہیں ہوتی۔ ہمارے پاس کوئی ایسا سبب نہیں جو کسی چیز کے وجود کا تقاضا کرے جبکہ اس کی مشیت اس کے وجود سے مانع ہو، بلکہ اس کی مشیت کامل سبب ہے، اس کے ساتھ کوئی مانع نہیں، اور اس کے بغیر کوئی موجب نہیں۔ اللہ فرماتا ہے: {مَا يَفْتَحِ اللَّهُ لِلنَّاسِ مِنْ رَحْمَةٍ فَلَا مُمْسِكَ لَهَا وَمَا يُمْسِكْ فَلَا مُرْسِلَ لَهُ مِنْ بَعْدِهِ}، اور فرماتا ہے: {وَإِنْ يَمْسَسْكَ اللَّهُ بِضُرٍّ فَلَا كَاشِفَ لَهُ إِلَّا هُوَ وَإِنْ يُرِدْكَ بِخَيْرٍ فَلَا رَادَّ لِفَضْلِهِ}، اور فرماتا ہے: {قُلْ أَفَرَأَيْتُمْ مَا تَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ إِنْ أَرَادَنِيَ اللَّهُ بِضُرٍّ هَلْ هُنَّ كَاشِفَاتُ ضُرِّهِ أَوْ أَرَادَنِي بِرَحْمَةٍ هَلْ هُنَّ مُمْسِكَاتُ رَحْمَتِهِ قُلْ حَسْبِيَ اللَّهُ عَلَيْهِ يَتَوَكَّلُ الْمُتَوَكِّلُونَ}۔

جب یہ معلوم ہو گیا کہ بندے کے پاس اپنی طرف سے کوئی خیر اصل میں نہیں ہے، بلکہ جو نعمت بھی ہمیں ہے وہ اللہ کی طرف سے ہے، اور جب ہمیں تکلیف پہنچتی ہے تو اسی کی طرف گریہ و زاری کرتے ہیں، اور ساری خیر اس کے ہاتھ میں ہے، جیسا کہ فرمایا: {مَا أَصَابَكَ مِنْ حَسَنَةٍ فَمِنَ اللَّهِ وَمَا أَصَابَكَ مِنْ سَيِّئَةٍ فَمِنْ نَفْسِكَ}، اور فرمایا: {أَوَلَمَّا أَصَابَتْكُمْ مُصِيبَةٌ قَدْ أَصَبْتُمْ مِثْلَيْهَا قُلْتُمْ أَنَّى هَذَا قُلْ هُوَ مِنْ عِنْدِ أَنْفُسِكُمْ}۔

اور نبی ﷺ نے سید الاستغفار (جو صحیح بخاری میں ہے) میں فرمایا: "اللَّهُمَّ أَنْتَ رَبِّي لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، خَلَقْتَنِي وَأَنَا عَبْدُكَ، وَأَنَا عَلَى عَهْدِكَ وَوَعْدِكَ مَا اسْتَطَعْتُ، أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا صَنَعْتُ، أَبُوءُ لَكَ بِنِعْمَتِكَ عَلَيَّ، وَأَبُوءُ بِذَنْبِي، فَاغْفِرْ لِي، فَإِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ۔"

اور صحیح مسلم میں استفتاح کی دعا میں فرمایا: "لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ، وَالْخَيْرُ بِيَدَيْكَ، وَالشَّرُّ لَيْسَ إِلَيْكَ، تَبَارَكْتَ رَبَّنَا وَتَعَالَيْتَ۔"

(١٢) یعنی سلف صالحین۔ (عون المعبود، جلد 10، صفحہ 132)

(١٣) یعنی تقدیر کا اقرار کرنے کے بعد نیک اعمال میں رغبت رکھی، اور اس اقرار نے انہیں ان سے روکا نہیں۔ (عون المعبود، جلد 10، صفحہ 132)

(١٤) یعنی برے اعمال سے ڈرتے اور ان سے بچتے تھے۔ (عون المعبود، جلد 10، صفحہ 132)

(١٥) سنن ابی داود: 4612، اور البانی نے کہا: یہ مقطوع اثر صحیح الإسناد ہے۔




حاصل شدہ اہم اسباق و نکات
تقدیر کا اقرار سلف صالحین کا عقیدہ ہے:
عمر بن عبدالعزیز (جو تابعی اور خلیفہ راشد ہیں) نے اس خط میں واضح کیا کہ تقدیر پر ایمان رکھنا صحابہ اور سلف کا عقیدہ تھا، اور یہ بدعات میں سے نہیں بلکہ ایک ثابت شدہ حقیقت ہے۔

جاہلیت میں بھی تقدیر کا ذکر تھا:
جاہلیت کے لوگ بھی تقدیر کو مانتے تھے اور اسے اپنے اشعار میں استعمال کرتے تھے۔ اسلام نے اس عقیدے کو مزید مضبوط کیا۔

نبی ﷺ کی احادیث میں تقدیر کا ذکر:
آپ ﷺ نے متعدد احادیث میں تقدیر کا ذکر فرمایا، اور صحابہ نے اسے سنا اور اس پر عمل کیا۔

تقدیر کا انکار بدعت ہے:
عمر بن عبدالعزیز نے فرمایا کہ میں نہیں جانتا کہ کوئی بدعت تقدیر کے انکار سے زیادہ واضح اور باطل ہو۔

قرآن میں تقدیر کا ذکر ہے:
تقدیر کے بارے میں قرآن کی محکم آیات موجود ہیں، جن سے صحابہ نے اسے اخذ کیا۔

سلف کا تقدیر پر ایمان کے بعد عمل میں رغبت:
سلف صالحین نے تقدیر پر ایمان رکھنے کے بعد نیکیوں میں رغبت اور برائیوں سے ڈر کو ترک نہیں کیا، جیسا کہ کچھ جھوٹے قدریہ کا خیال ہے۔

تقدیر کے بارے میں صحیح موقف:
اللہ ہی خالق ہے، بندہ کسب کرتا ہے، اور سب کچھ اللہ کی مشیت سے ہوتا ہے۔

واللہ اعلم بالصواب






عنوان:
تقدیر کے انکار کرنے والوں کے لیے وعید

حدیث کا متن:
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رضي الله عنه - قَالَ: جَاءَ مُشْرِكُو قُرَيْشٍ يُخَاصِمُونَ رَسُولَ اللهِ - صلى الله عليه وسلم - فِي الْقَدَرِ , فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَة: {يَوْمَ يُسْحَبُونَ فِي النَّارِ عَلَى وُجُوهِهِمْ , ذُوقُوا مَسَّ سَقَرَ (١) إِنَّا كُلَّ شَيْءٍ خَلَقْنَاهُ بِقَدَرٍ (٢)} (٣). (٤)

ترجمہ:

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا:
"مشرکین قریش رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تقدیر کے بارے میں جھگڑا کرنے آئے، تو یہ آیت نازل ہوئی: {جس دن وہ اپنے چہروں کے بل آگ میں گھسیٹے جائیں گے (اور کہا جائے گا:) جہنم کی چھوا (چکھو)۔ بے شک ہم نے ہر چیز کو ایک اندازے (تقدیر) کے ساتھ پیدا کیا ہے (٣)}۔"

(١) أَيْ: عَلَى إِنْكَارِكُمْ الْقَدَرَ.
یعنی تمہارے تقدیر کے انکار کی پاداش میں۔
(حاشیہ السندی علی ابن ماجہ، جلد 1، صفحہ 74)

(٢) أَيْ: فِي إِثْبَات الْقَدَر.
یعنی تقدیر کے اثبات میں۔
(حاشیہ السندی علی ابن ماجہ، جلد 1، صفحہ 74)

(٣) [القمر: 48-49]

(٤) صحیح مسلم: 2656، سنن ترمذی: 2157




حاصل شدہ اہم اسباق و نکات
تقدیر کا انکار کرنے والوں کے لیے سخت وعید:
یہ آیت مشرکین قریش کے بارے میں نازل ہوئی جو تقدیر کا انکار کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں جہنم میں گھسیٹے جانے اور عذاب چکھنے کی خبر دی۔

تقدیر پر ایمان رکھنا واجب ہے:
آیت {إِنَّا كُلَّ شَيْءٍ خَلَقْنَاهُ بِقَدَرٍ} (ہم نے ہر چیز کو ایک اندازے کے ساتھ پیدا کیا ہے) اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ نے ہر چیز کو اپنی تقدیر کے مطابق پیدا کیا ہے۔ اس کا انکار کرنا کفر ہے۔

مشرکین قریش کا جھگڑا:
وہ نبی ﷺ سے تقدیر کے بارے میں جھگڑا کرنے آئے تھے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ مسئلہ ابتدا سے ہی اہم رہا ہے، اور کفار بھی اسے اپنے شکوک کا ذریعہ بناتے تھے۔

تقدیر کے انکار کی پاداش میں عذاب:
"ذُوقُوا مَسَّ سَقَرَ" (جہنم کی چھوا چکھو) کا مطلب یہ ہے کہ یہ عذاب تمہیں اس لیے مل رہا ہے کہ تم نے تقدیر کا انکار کیا۔

تقدیر پر ایمان ایمان کا لازمی جز ہے:
اس آیت سے ثابت ہوا کہ تقدیر پر ایمان رکھنا اسلام کا حصہ ہے، اور اس کا انکار کرنے والا مستحق عذاب ہے۔

حدیث کی صحت:
یہ حدیث صحیح مسلم اور سنن ترمذی میں موجود ہے اور محدثین کے نزدیک صحیح ہے۔

واللہ اعلم بالصواب






عنوان:
تقدیر کا انکار کرنے والوں کے بارے میں آیت کا نزول

حدیث کا متن (عربی):
عَنْ زُرَارَةَ - رضي الله عنه - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم - فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: {ذُوقُوا مَسَّ سَقَرَ , إِنَّا كُلَّ شَيْءٍ خَلَقْنَاهُ بِقَدَرٍ} , قَالَ: نَزَلَتْ فِي أُنَاسٍ مِنْ أُمَّتِي فِي آخِرِ الزَّمَانِ , يُكَذِّبُونَ بِقَدَرِ اللهِ " (١)

ترجمہ:

حضرت زرارہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا:
"رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کے فرمان: {ذُوقُوا مَسَّ سَقَرَ , إِنَّا كُلَّ شَيْءٍ خَلَقْنَاهُ بِقَدَرٍ} (جہنم کی چھوا چکھو، بے شک ہم نے ہر چیز کو ایک اندازے کے ساتھ پیدا کیا ہے) کے بارے میں فرمایا: یہ آیت میری امت کے ان لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی جو آخر زمانے میں اللہ کی تقدیر کو جھٹلائیں گے۔"

حوالہ وحواشی:
(١) المعجم الكبير للطبراني: 5316، دیکھیے سلسلہ صحیحہ: 1539

(٢) امام نووی نے "شرح مسلم" (جلد 1، صفحہ 70) میں فرمایا:

"جان لو کہ اہل حق کا مذہب تقدیر کو ثابت کرنا ہے، اور اس کا معنی یہ ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ازل میں چیزوں کی تقدیر کر دی، اور وہ جانتا ہے کہ وہ اپنے ہاں معلوم اوقات میں اور خاص صفات کے ساتھ واقع ہوں گی، پس وہ اسی کے مطابق واقع ہوتی ہیں جیسا کہ اس نے تقدیر کی ہے۔

اور قدریہ نے اس کا انکار کیا، اور ان کا خیال ہے کہ اللہ نے ان کی تقدیر نہیں کی، اور اس کا علم ان سے پہلے نہیں تھا، بلکہ ان کا علم وقوع کے بعد ہے (یعنی نئے سرے سے)۔ انہوں نے اللہ پر جھوٹ باندھا، اور اللہ ان کے باطل اقوال سے بہت بلند ہے۔

اس فرقے کو 'قدریہ' اس لیے کہا جاتا ہے کہ وہ تقدیر کا انکار کرتے ہیں۔ متکلمین نے کہا: یہ پہلے قدریہ جو اس قبیح اور باطل قول کے قائل تھے، ختم ہو گئے، اور اہل قبلہ میں سے کوئی اس پر نہیں رہا۔ بعد کے زمانوں میں قدریہ تقدیر کے اثبات پر یقین رکھتے ہیں، لیکن وہ کہتے ہیں: بھلائی اللہ کی طرف سے ہے اور برائی کسی اور کی طرف سے – اللہ ان کے اس قول سے بلند ہے۔"

حافظ ابن حجر نے "فتح الباری" (حدیث نمبر 50) میں کہا:
"آج کے قدریہ اس بات پر متفق ہیں کہ اللہ بندوں کے اعمال کو وقوع سے پہلے جانتا ہے، لیکن وہ سلف کے خلاف یہ کہتے ہیں کہ بندوں کے اعمال ان کی اپنی قدرت سے اور آزادانہ طور پر واقع ہوتے ہیں – یہ باطل مذہب ہے، اگرچہ پہلے مذہب سے ہلکا ہے۔

بعد کے قدریہ نے ارادہ کو بندوں کے اعمال سے متعلق ہونے کا انکار کیا، تاکہ قدیم کو حادث سے متعلق ہونے سے بچ سکیں۔ شافعی نے انہیں جواب دیا: اگر قدریہ علم کو تسلیم کر لے تو مغلوب ہو جائے گا۔ یعنی اس سے کہا جائے گا: کیا ممکن ہے کہ وجود میں علم کے خلاف کوئی چیز واقع ہو؟ اگر وہ منع کرے تو اہل سنت کے قول سے موافقت کر لے، اور اگر جائز جانے تو پھر اسے اللہ پر جہالت لازم آئے گی، اللہ اس سے بالا تر ہے۔"




حاصل شدہ اہم اسباق و نکات
آخر زمانے میں تقدیر کا انکار کرنے والوں کی پیشگوئی:
نبی ﷺ نے خبر دی کہ میری امت میں آخر زمانے میں ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو تقدیر کا انکار کریں گے، اور یہ آیت انہی کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔

تقدیر کا انکار کرنے والوں کے لیے وعید:
یہ آیت جہنم کے عذاب کی خبر دے رہی ہے، اور اس کا تعلق تقدیر کے انکار سے ہے۔

قدیم قدریہ کا عقیدہ کفر تھا:
جو لوگ اللہ کے ازلی علم کا انکار کرتے تھے، وہ کافر تھے۔

بعد کے قدریہ کا عقیدہ بھی باطل ہے:
اگرچہ وہ اللہ کے علم کا انکار نہیں کرتے، لیکن وہ اعمال کو بندوں کی طرف مستقل طور پر منسوب کرتے ہیں اور اللہ کی مشیت کا انکار کرتے ہیں۔

اہل سنت کا عقیدہ:
اللہ نے ہر چیز کی تقدیر ازل میں لکھ دی، اور جو کچھ ہوتا ہے وہ اسی کے علم، مشیت اور قدرت سے ہوتا ہے۔

حدیث کی صحت:
یہ حدیث طبرانی میں موجود ہے اور علامہ البانی نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔

واللہ اعلم بالصواب







عنوان:
تقدیر کے جھٹلانے والوں پر مسخ، خسف اور قذف کا عذاب

حدیث کا متن (عربی):
عَنْ نَافِعٍ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى ابْنِ عُمَرَ - رضي الله عنهما - فَقَالَ: إِنَّ فُلَانًا يَقْرَأُ عَلَيْكَ السَّلَامَ، فَقَالَ لَهُ ابْنُ عُمَرَ: بَلَغَنِي أَنَّهُ قَدْ أَحْدَثَ حَدَثًا (١) فَإِنْ كَانَ كَذَلِكَ , فَلَا تُقْرِئْهُ مِنِّي السَّلَامَ , فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ - صلى الله عليه وسلم - يَقُولُ: " يَكُونُ فِي هَذِهِ الْأُمَّةِ مَسْخٌ , وَخَسْفٌ , وَقَذْفٌ (٢) (٣) وَذَلِكَ فِي الْمُكَذِّبِينَ بِالْقَدَرِ (٤) "

ترجمہ:

حضرت نافع (تابعی) سے روایت ہے، انہوں نے کہا:
"ایک شخص حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور کہا: فلاں آپ کو سلام کہہ رہا ہے۔ ابن عمر نے اس سے کہا: مجھے پتہ چلا ہے کہ اس نے ایک نئی بات ایجاد کی ہے (١) (یعنی بدعت نکالی ہے)۔ اگر ایسا ہے تو اسے میری طرف سے سلام نہ کہنا، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: 'اس امت میں مسخ (صورت بدلنا)، خسف (زمین میں دھنسنا) اور قذف (آسمان سے پتھر برسنا) ہوگا (٢،٣) – اور یہ (عذاب) تقدیر کو جھٹلانے والوں پر ہوگا (٤)۔'"

حواشی وحوالہ جات:
(١) أَيْ: بَلَغَنِي أَنَّهُ ابْتَدَعَ فِي الدِّينِ مَا لَيْسَ مِنْهُ مِنْ التَّكْذِيبِ بِالْقَدَرِ.
ترجمہ: یعنی مجھے پتہ چلا ہے کہ اس نے دین میں وہ چیز ایجاد کر لی ہے جو دین میں نہیں ہے، یعنی تقدیر کا جھٹلانا۔

(٢) أي: رَمْيٌ بالحجارة من جهة السماء.
ترجمہ: یعنی آسمان کی طرف سے پتھروں کی بارش۔

(٣) مسند احمد:6208، سنن ترمذی:2152

(٤) سنن ترمذی:2153، سنن ابن ماجة:4061، الصحيحة تحت حديث:1787




حاصل شدہ اہم اسباق و نکات

تقدیر کا انکار کرنے والوں کے لیے سخت عذاب:
نبی ﷺ نے خبر دی کہ اس امت میں مسخ (صورت کا بگڑنا)، خسف (زمین میں دھنسنا) اور قذف (آسمان سے پتھر برسنا) جیسے عذاب آئیں گے، اور یہ خاص طور پر تقدیر کو جھٹلانے والوں پر ہوں گے۔

حضرت ابن عمر کا اہل بدعت سے قطع تعلق:
انہوں نے اس شخص کو سلام نہ کرنے کا حکم دیا جس نے تقدیر کا انکار کیا تھا۔ یہ صحابہ کرام کے اہل بدعت سے بیزاری کے طریقے کو ظاہر کرتا ہے۔

بدعت کی سنگینی:
تقدیر کا انکار کرنا ایک بڑی بدعت ہے، اور ایسے شخص کو سلام کرنا بھی مناسب نہیں (جب تک وہ توبہ نہ کرے)۔

عذاب کی قسمیں:
مسخ: صورت کا بگڑ کر جانور جیسی ہو جانا۔
خسف: زمین میں دھنس جانا۔
قذف: آسمان سے پتھر برسنا۔

حدیث کی صحت:
یہ حدیث مسند احمد، سنن ترمذی اور سنن ابن ماجہ میں موجود ہے، اور علامہ البانی نے اسے حسن قرار دیا ہے۔

واللہ اعلم بالصواب






متن (عربی):
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رضي الله عنهما - قَالَ: قَالَ عُمَرُ - رضي الله عنه -: " الرَّجْمُ حَدٌّ مِنْ حُدُودِ اللهِ , فَلَا تُخْدَعُوا عَنْهُ، {فَإِنَّهُ فِي كِتَابِ اللهِ وَسُنَّةِ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ} (۱) وَآيَةُ ذَلِكَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ - صلى الله عليه وسلم - رَجَمَ، وَأَبُو بَكْرٍ - رضي الله عنه - رَجَمَ، وَرَجَمْتُ أَنَا بَعْدُ،(۲) وَسَيَجِيءُ قَوْمٌ [من هذه الأمَّةِ] يُكَذِّبُونَ بِالْقَدَرِ، [يُكَذِّبُونَ بِالرَّجْمِ، وَيُكَذِّبُونَ بِطُلُوعِ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا، وَيُكَذِّبُونَ بِالدَّجَّالِ، وَيُكَذِّبُونَ بِعَذَابِ الْقَبْرِ] وَيُكَذِّبُونَ بِالشَّفَاعَةِ، وَيُكَذِّبُونَ بِالْحَوْضِ، وَيُكَذِّبُونَ بِالشَّفَاعَةِ، وَيُكَذِّبُونَ بِقَوْمٍ يَخْرُجُونَ مِنَ النَّارِ "۔ (۴) [فَلَئِنْ أَدْرَكْتُهُمْ لَأَقْتُلَنَّهُمْ قَتْلَ عَادٍ وَثَمُودَ

ترجمہ:

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
"رجم (سنگسار کرنا) اللہ کی حدود میں سے ایک حد ہے، اس لیے تم اس سے دھوکہ نہ کھاؤ، {کیونکہ یہ اللہ کی کتاب اور تمہارے نبی ﷺ کی سنت میں ہے}(۱) اس کی علامت یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رجم کیا، ابوبکر رضی اللہ عنہ نے رجم کیا، اور میں نے بھی ان کے بعد رجم کیا۔ (۲) اور عنقریب کچھ لوگ آئیں گے [اس امت میں] جو تقدیر کا انکار کریں گے، [رجم(سنگسار)کرنے کا انکار کریں گے، سورج کے مغرب سے نکلنے کا انکار کریں گے، دجال کا انکار کریں گے، قبر کے عذاب کا انکار کریں گے](۳)، حوض (کوثر) کا انکار کریں گے، شفاعت کا انکار کریں گے، اور ان لوگوں کا انکار کریں گے جو جہنم سے نکلیں گے۔"(۴) [اگر میرا ان سے مقابلہ ہوا تو میں انہیں ضرور قتل کروں گا جس طرح قوم عاد اور ثمود کو قتل کیا گیا تھا]۔ (۵)




حاصل شدہ اہم اسباق و نکات

رجم کی شرعی حیثیت:
رجم (سنگسار کرنا) شادی شدہ زانی کے لیے اللہ کی مقرر کردہ حد ہے، جسے صحابہ کرام نے نبی ﷺ کے بعد بھی جاری رکھا۔ یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ رجم کا حکم منسوخ نہیں ہوا۔

صحابہ کا رجم پر عمل:
حضرت عمر نے تین خلفاء (نبی ﷺ، ابوبکر، اور خود) کے رجم کرنے کا ذکر کیا تاکہ اس حد کے اثبات میں کوئی شک نہ رہے۔

آخر زمانے میں بعض عقائد کا انکار:
حضرت عمر نے خبر دی کہ بعد میں کچھ لوگ پیدا ہوں گے جو چار اہم عقائد کا انکار کریں گے:
تقدیر:- اللہ کی طرف سے ہر چیز کی تقدیر۔
حوض (کوثر):- قیامت کے دن نبی ﷺ کا حوض۔
شفاعت:- نبی ﷺ اور دیگر کا گناہ گار مومنین کے لیے سفارش کرنا۔
جہنم سے نکلنے والے:- وہ مومن جو جہنم میں عذاب پا کر پاک ہو کر نکلیں گے۔

انکارِ تقدیر کی مذمت:
حضرت عمر نے انکارِ تقدیر کو ان باطل عقائد میں سے پہلا شمار کیا، جس سے اس کی سنگینی معلوم ہوتی ہے۔

انکارِ حوض و شفاعت کی تردید:
یہ حدیث ان لوگوں کے خلاف واضح دلیل ہے جو حوض اور شفاعت کا انکار کرتے ہیں (جیسے بعض خارجی اور معتزلہ)۔

جہنم سے نکلنے والوں کا اثبات:
اہل سنت کا عقیدہ ہے کہ جو مومن گناہوں کی وجہ سے جہنم میں جائیں گے، وہ وہاں سے نکال کر جنت میں داخل کر دیے جائیں گے۔ اس حدیث میں اس عقیدے کی طرف اشارہ ہے۔

صحابہ کا اجماع:
حضرت عمر نے تین ادوار (نبوت، ابوبکر کی خلافت، اور اپنی خلافت) میں رجم کے تسلسل کا ذکر کر کے صحابہ کے اجماع کو ظاہر کیا۔

حدیث کی صحت:
علامہ البانی نے اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے، اس لیے یہ قابلِ اعتماد ہے۔

واللہ اعلم بالصواب







[السنة لعبد الله بن أحمد:917، مسند احمد:5639، الحاکم:285، بیھقی:20881، ابوداؤد:4613، المعجم الاوسط:5303]



تشریح:
یہ (حدیث) نبوت کی نشانیوں میں سے ہے، کیونکہ یہ ویسا ہی ہوچکا ہے جیسا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا۔
[التنویر شرح الجامع الصغير - الصنعانی: 4767]

(میری امت میں کچھ لوگ ہوں گے جو تقدیر کا انکار کریں گے)
یعنی وہ اس بات کی تصدیق نہیں کریں گے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے تمام اعمال کو پیدا کیا ہے، خواہ وہ بھلائی ہو، برائی ہو، کفر ہو یا ایمان۔
[فیض القدیر شرح الجامع الصغير - المناوی: 4783]







متن (عربی):
عَنِ ابْنِ عُمَرَ - رضي الله عنهما - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم -:
(" إِنَّ لِكُلِّ أُمَّةٍ مَجُوسًا، وَإِنَّ مَجُوسَ هَذِهِ الْأُمَّةِ) (١) (الْمُكَذِّبُونَ بِأَقْدَارِ الله) (٢) (فَإِنْ مَرِضُوا فَلَا تَعُودُوهُمْ) (٣) (وَإِنْ مَاتُوا فَلَا تُصَلُّوا عَلَى جَنَائِزِهِمْ) (٤) وفي رواية: " فَلَا تَشْهَدُوهُمْ (٥) " (٦)

ترجمہ:

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"بے شک ہر امت کے مجوسی ہوتے ہیں، اور اس امت کے مجوسی (١) وہ ہیں جو اللہ کی تقدیروں کا انکار کرتے ہیں (٢)۔ پس اگر وہ بیمار ہوں تو ان کی عیادت نہ کرو (٣)، اور اگر وہ مر جائیں تو ان کے جنازے کی نماز نہ پڑھو (٤)۔" اور ایک روایت میں ہے: "تو ان کے جنازے میں حاضر نہ ہو (٥)۔" (٦)

تخریج و حوالہ جات:
(١) السنة لابن أبی عاصم: 342، سنن ابی داود: 4691
(٢) سنن ابن ماجہ: 92
(٣) سنن ابی داود: 4691، سنن ابن ماجہ: 92
(٤) السنة لابن أبی عاصم: 342
(٥) یعنی ان کے جنازے میں حاضر نہ ہو۔ (عون المعبود، جلد 10، صفحہ 211)
(٦) سنن ابی داود:4691، سنن ابن ماجہ:92، اور البانی نے اسے "ظلال الجنة" (342) اور "صحيح الجامع" (5163) میں صحیح قرار دیا ہے۔
(٧) امام الحرمین ابو المعالی نے اپنی کتاب "الارشاد فی اصول الدین" میں نقل کیا ہے کہ بعض قدریہ نے کہا: ہم قدریہ نہیں ہیں، بلکہ تم قدریہ ہو، کیونکہ تم تقدیر کے اثبات کے قائل ہو۔

امام نے فرمایا: یہ ان جاہلوں کی دھوکہ دہی اور بہتان ہے۔ کیونکہ اہل حق اپنے معاملات کو اللہ کے سپرد کرتے ہیں اور تقدیر اور اعمال کو اللہ کی طرف منسوب کرتے ہیں، جبکہ یہ جاہل اسے اپنی طرف منسوب کرتے ہیں۔ اور جو شخص کسی چیز کا دعویٰ اپنے لیے کرے اور اسے اپنی طرف منسوب کرے، وہ اس کے لیے زیادہ لائق ہے کہ اس کی طرف نسبت دی جائے، بجائے اس کے جو اسے دوسرے کے لیے اعتقاد رکھے اور خود سے نفی کرے۔

امام نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "قدریہ اس امت کے مجوسی ہیں" – انہیں مجوسیوں سے تشبیہ دی ہے کیونکہ انہوں نے خیر اور شر کو ارادے کے حکم میں تقسیم کیا، جیسا کہ مجوسیوں نے تقسیم کیا، انہوں نے خیر کو "یزدان" اور شر کو "اہرمن" کی طرف منسوب کیا۔ اور اس حدیث کا خاص تعلق قدریہ سے ہے۔ (امام الحرمین کا کلام ختم ہوا)

خطابی نے کہا: نبی ﷺ نے انہیں مجوسی اس لیے قرار دیا کہ ان کا مذہب مجوسیوں کے مذہب سے مشابہت رکھتا ہے، جو دو اصولوں (نور اور ظلمت) کے قائل ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ بھلائی نور کے فعل سے ہے اور برائی ظلمت کے فعل سے ہے۔ اسی طرح قدریہ بھلائی کو اللہ تعالیٰ کی طرف اور برائی کو دوسرے کی طرف منسوب کرتے ہیں، حالانکہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ خیر اور شر دونوں کا خالق ہے، ان میں سے کوئی چیز بھی اس کی مشیت کے بغیر نہیں ہوتی۔ پس دونوں اس کی طرف منسوب ہیں (پیدائش اور وجود کے اعتبار سے) اور اپنے فعل کرنے والے بندوں کی طرف (فعل اور کسب کے اعتبار سے)۔ واللہ اعلم۔
(نووی کی شرح مسلم، جلد 1، صفحہ 70)




حاصل شدہ اہم اسباق و نکات

تقدیر کا انکار کرنے والے (قدریہ) مجوسیوں کے مشابہ ہیں:
جس طرح مجوسی خیر کو ایک الٰہ اور شر کو دوسرے الٰہ کی طرف منسوب کرتے تھے، اسی طرح قدریہ بھلائی کو اللہ اور برائی کو غیر اللہ کی طرف منسوب کرتے ہیں، حالانکہ اللہ ہر چیز کا خالق ہے۔

تقدیر کے منکرین کے ساتھ معاملہ:
ان کی عیادت نہ کرنا۔
ان کی نمازِ جنازہ نہ پڑھنا۔
ان کے جنازے میں حاضر نہ ہونا۔

قدریہ کی دو قسمیں:
قدیم قدریہ: جو اللہ کے ازلی علم کا انکار کرتے تھے (یہ کافر تھے)۔
متأخر قدریہ: جو اعمال کو بندوں کی طرف مستقل طور پر منسوب کرتے ہیں اور اللہ کی مشیت کا انکار کرتے ہیں۔

اہل سنت کا عقیدہ:
اللہ تعالیٰ خیر اور شر دونوں کا خالق ہے، اور بندہ کسب (کمانے والا) ہے۔ ہر چیز اللہ کی مشیت سے ہوتی ہے۔

حدیث کی صحت:
یہ حدیث صحیح ہے اور متعدد کتب میں موجود ہے۔ علامہ البانی نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔

واللہ اعلم بالصواب






متن (عربی):
عَنْ أَنَسٍ - رضي الله عنه - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم -: " صِنْفَانِ مِنْ أُمَّتِي لَا يَرِدَانِ عَلَيَّ الْحَوْضَ: الْقَدَرِيَّةُ , وَالْمُرْجِئَةِ (١) " (٢)
ترجمہ:
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"میری امت کے دو گروہ میرے حوض (کوثر) پر مجھ سے نہیں ملیں گے: قدریہ اور مرجئہ۔"

(١) الْمُرْجِئَة: نُسِبُوا إِلَى الْإِرْجَاء, وَهُوَ التَّأخِير؛ لِأَنَّهُمْ أَخَّرُوا الْأَعْمَال عَنْ الْإِيمَان فَقَالُوا: الْإِيمَان هُوَ التَّصْدِيق بِالْقَلْبِ فَقَطْ , وَلَمْ يَشْتَرِطْ جُمْهُورُهُمْ النُّطْقَ، وَجَعَلُوا لِلْعُصَاةِ اِسْمَ الْإِيمَانِ عَلَى الْكَمَالِ , وَقَالُوا: لَا يَضُرُّ مَعَ الْإِيمَانِ ذَنْبٌ أَصْلًا، وَمَقَالَاتُهُمْ مَشْهُورَةٌ فِي كُتُبٍ الْأُصُول.
ترجمہ:
"مرجئہ" کا نام "ارجاء" (مؤخر کرنے) سے منسوب ہے، کیونکہ انہوں نے اعمال کو ایمان سے مؤخر کر دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ ایمان صرف دل کی تصدیق کا نام ہے، اور ان کے اکثر نے زبان سے اقرار کو شرط نہیں سمجھا۔ انہوں نے گناہ گاروں کو بھی کامل ایمان والا کہا، اور یہ عقیدہ رکھا کہ ایمان کے ساتھ کوئی گناہ نقصان دہ نہیں ہے۔ ان کے اقوال اصول دین کی کتابوں میں مشہور ہیں۔" (فتح الباری: ح48)

(٢) السنة لابن أبی عاصم: 949، سلسلة الأحاديث الصحيحة: 2748




حاصل شدہ اہم اسباق و نکات

حوض (کوثر) سے محرومی کی وعید:
نبی ﷺ نے خبر دی کہ دو گروہ (قدریہ اور مرجئہ) اس امت میں سے ہوں گے جو قیامت کے دن حوض کوثر پر آپ سے ملاقات سے محروم رہیں گے۔ یہ بہت بڑی وعید ہے۔

قدریہ کا عقیدہ:
قدریہ وہ لوگ ہیں جو تقدیر کا انکار کرتے ہیں، یا یہ کہتے ہیں کہ بندہ اپنے اعمال کا خود خالق ہے، اور اللہ کی مشیت کا انکار کرتے ہیں۔ یہ حدیث ان کے باطل ہونے کی دلیل ہے۔

مرجئہ کا عقیدہ:
مرجئہ وہ لوگ ہیں جو ایمان کو صرف دل کی تصدیق (اور بعض کے نزدیک زبان کے اقرار) پر محدود رکھتے ہیں، اور اعمال کو ایمان کا حصہ نہیں مانتے۔ وہ کہتے ہیں کہ ایمان کے ساتھ کوئی گناہ نقصان نہیں پہنچاتا۔ یہ عقیدہ بھی باطل ہے۔

اہل سنت کا عقیدہ:
اہل سنت والجماعت کے نزدیک ایمان قول، عمل اور عقیدہ کا مجموعہ ہے، اور یہ اعمال کے ساتھ بڑھتا اور گھٹتا ہے۔ گناہ ایمان کے کمال کو نقصان پہنچاتے ہیں، لیکن گناہ گار مومن آخرکار جنت میں جائے گا (اگر توبہ کر لے)۔

حوض کوثر کی اہمیت:
حوض کوثر قیامت کے دن نبی ﷺ کو عطا کردہ ایک عظیم نعمت ہے، جہاں سے آپ اپنی امت کو پلائیں گے۔ اس سے محرومی بہت بڑی محرومی ہے۔

بدعتیوں سے بچنے کا حکم:
یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ اہل بدعت (خاص طور پر قدریہ اور مرجئہ) سے بچنا چاہیے، اور ان کے عقائد کی تردید کرنی چاہیے۔

نبوت کی نشانی:
نبی ﷺ نے ان فرقوں کے ظہور کی خبر دی، اور یہ واقعی بعد میں ظاہر ہوئے۔ یہ آپ کی نبوت کی ایک نشانی ہے۔

حدیث کی صحت:
یہ حدیث صحیح ہے اور محدثین کے نزدیک قابلِ اعتماد ہے۔

واللہ اعلم بالصواب






متن (عربی):
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ - رضي الله عنه - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم -:
" ثَلَاثَةٌ لَا يَقْبَلُ اللهُ لَهُمْ صَرْفًا وَلَا عَدْلًا: عَاقٌّ، وَمَنَّانٌ، وَمُكَذِّبٌ بِالْقَدَرِ "

ترجمہ:

حضرت ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"تین قسم کے لوگ ہیں جن سے اللہ تعالیٰ نہ کوئی نفل قبول کرے گا اور نہ فرض: (1) والدین کا نافرمان ، (2) احسان جتانے والا، (3) اور تقدیر کا انکار کرنے والا۔"

[المعجم الكبير الطبرانی:7547، صَحِيح الْجَامِع: 3065، الصحيحة:1785]


تشریح:
"صَرْفًا" اور "عَدْلًا" کے معانی
الصَّرْف نفل، توبہ، یا وہ چیز جو عذاب کو دور کر دے
الْعَدْل فرض، فدیہ، یا وہ چیز جو گناہوں کا کفارہ ہو

مناویؒ نے فرمایا:
"لا يقبل الله منهم يوم القيامة" سے مراد کمالِ قبول کی نفی ہے، یعنی ان کا عمل مکمل طور پر مقبول نہیں ہوگا، لیکن یہ نہیں کہ بالکل ہی قبول نہ ہو۔

صنعانیؒ نے فرمایا:
"ولا عدلاً" سے مراد فرض ہے، یعنی اللہ ان سے فرض بھی اس طرح قبول نہیں کرے گا کہ اس سے ان کی یہ خطائیں معاف ہو جائیں، اگرچہ دوسری طاعات ان کے گناہوں کا کفارہ بن سکتی ہیں۔

حاصل شدہ اہم اسباق و نکات

تین قبیح صفات کی نشاندہی:
حدیث میں تین ایسی صفات کا ذکر ہے جو انسان کو اللہ کی رحمت سے دور کر دیتی ہیں: والدین کی نافرمانی (عقوق)، احسان جتانا (منّت)، اور تقدیر کا انکار۔

عاق (والدین کا نافرمان):
عقوق سے مراد والدین کو قول یا فعل سے تکلیف پہنچانا، ان کی نافرمانی کرنا، یا ان کے ساتھ بدسلوکی کرنا ہے۔
یہ کبیرہ گناہ ہے اور حدیث کے مطابق ایسے شخص کا عمل مقبول نہیں ہوگا۔

منان (احسان جتانے والا):
"منّت" سے مراد کسی پر احسان کر کے اسے جتانا، اسے یاد دلانا، یا اس پر بوجھ ڈالنا ہے۔
یہ عمل صدقہ اور نیکی کو برباد کر دیتا ہے، جیسا کہ قرآن میں ہے: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُبْطِلُوا صَدَقَاتِكُمْ بِالْمَنِّ وَالْأَذَى} (البقرہ: 264)۔

تقدیر کا انکار کرنے والا:
"مكذب بالقدر" سے مراد وہ شخص ہے جو اللہ کی تقدیر کا انکار کرتا ہے یا یہ کہتا ہے کہ بندہ اپنے اعمال کا خود خالق ہے۔
یہ عقیدہ اہل سنت کے خلاف ہے اور ایسے شخص کی عبادات قبول نہیں ہوتیں۔

حدیث کی سند میں ضعف کے باوجود مفہوم کی صحت:
اگرچہ اس حدیث کی سند میں کلام ہے، لیکن اس کے تینوں مضامین (عقوق کی مذمت، منّت کی مذمت، تقدیر کے انکار کی مذمت) قرآن اور صحیح احادیث سے ثابت ہیں۔

"صرف" اور "عدل" کی قبولیت کا مفہوم:
صرف: نفلی عبادات اور توبہ
عدل: فرائض اور کفارے
اس کا مطلب یہ ہے کہ ان تین صفات والے لوگوں کی نہ تو نفلی عبادات قبول ہوتی ہیں اور نہ ہی فرائض اس طرح کہ وہ ان کے گناہوں کا کفارہ بن جائیں۔

عقوق کی تعریف:
ابن حجر ہیتمی نے فرمایا: عقوق کی حد یہ ہے کہ اولاد والدین کو اس طرح تکلیف پہنچائے جو اگر وہ غیر والدین کے ساتھ کرے تو صغیرہ گناہ ہو، لیکن والدین کے ساتھ یہ کبیرہ گناہ بن جاتا ہے ۔

منّت کی قباحت:
منّت رکھنے والا نہ صرف اپنے صدقے کو برباد کرتا ہے بلکہ دوسرے کے دل میں بھی کدورت پیدا کرتا ہے۔ یہ تکبر اور خود پسندی کی علامت ہے۔

تقدیر کے انکار کی سنگینی:
تقدیر کا انکار کرنے والا درحقیقت اللہ کے علم اور قدرت کا انکار کرتا ہے، جو کہ کفر کے قریب ہے۔ اسی لیے اسے ان تینوں میں شمار کیا گیا ہے۔

انسان کو ان صفات سے بچنا چاہیے:
ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ والدین کی اطاعت کرے، کسی پر احسان کر کے اسے نہ جتانے، اور تقدیر پر پورا ایمان رکھے۔

واللہ اعلم بالصواب






عنوان:
جنت سے محروم رہنے والے چار گروہ
حدیث کا متن (عربی):
عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ - رضي الله عنه - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم -:
" لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ عَاقٌّ، وَلَا مُؤْمِنٌ بِسِحْرٍ، وَلَا مُدْمِنُ خَمْرٍ، وَلَا مُكَذِّبٌ بِقَدَرٍ

ترجمہ:
حضرت ابو الدرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"جنت میں داخل نہیں ہو گا: والدین کا نافرمان، جادو پر ایمان رکھنے والا، شراب کا عادی، اور تقدیر کا انکار کرنے والا۔"

[مسند احمد: 27524، الصحيحة:675، صحیح الترغیب:2362]

تشریح:
قَالَ الْقَاضِي عِيَاضٌ رَحِمَهُ اللَّهُ هَذَا فِي الْقَدَرِيَّةِ الْأُوَلِ الَّذِينَ نَفَوْا تَقَدُّمَ عِلْمِ اللَّهِ تَعَالَى بِالْكَائِنَاتِ قَالَ وَالْقَائِلُ بِهَذَا كَافِرٌ بِلَا خِلَافٍ وَهَؤُلَاءِ الَّذِينَ يُنْكِرُونَ الْقَدَرَ هُمُ الْفَلَاسِفَةُ فِي الْحَقِيقَةِ قَالَ غَيْرُهُ وَيَجُوزُ أَنَّهُ لَمْ يُرِدْ بِهَذَا الْكَلَامَ التَّكْفِيرَ الْمُخْرِجَ مِنَ الْمِلَّةِ فَيَكُونُ مِنْ قَبِيلِ كُفْرَانِ النِّعَمِ إِلَّا أَنَّ قَوْلَهُ مَا قَبِلَهُ اللَّهُ مِنْهُ ظَاهِرٌ فى التكفير فَإِنَّ إِحْبَاطَ الْأَعْمَالِ إِنَّمَا يَكُونُ بِالْكُفْرِ إِلَّا أَنَّهُ يَجُوزُ أَنْ يُقَالَ فِي الْمُسْلِمِ لَا يُقْبَلُ عَمَلُهُ لِمَعْصِيَتِهِ وَإِنْ كَانَ صَحِيحًا كَمَا أَنَّ الصَّلَاةَ فِي الدَّارِ الْمَغْصُوبَةِ صَحِيحَةٌ غَيْرُ مُحْوِجَةٍ إِلَى الْقَضَاءِ عِنْدَ جَمَاهِيرِ الْعُلَمَاءِ بَلْ بِإِجْمَاعِ السَّلَفِ وَهِيَ غَيْرُ مَقْبُولَةٍ فَلَا ثَوَابَ فِيهَا عَلَى الْمُخْتَارِ عِنْدَ أَصْحَابِنَا، وَالله أَعْلَمُ.
ترجمہ:
قاضی عیاضؒ نے کہا: یہ (سخت وعید) ان پہلے قدریہ کے بارے میں ہے جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے واقعات سے پہلے علم ہونے کا انکار کیا۔ انہوں نے کہا: اس قول کا قائل بلا اختلاف کافر ہے، اور یہ لوگ جو تقدیر کا انکار کرتے ہیں، حقیقت میں وہ فلسفی ہی ہیں۔
اور دوسرے (علماء) نے کہا: ممکن ہے کہ اس کلام سے ان کا مقصد تکفیر (ملت سے خارج کرنا) نہ ہو، بلکہ یہ نعمتوں کا انکار (کفران نعمت) کے معنی میں ہو۔ لیکن ان کا فرمان "اللہ اسے قبول نہیں کرے گا" تکفیر پر ظاہر ہے، کیونکہ اعمال کا ضائع ہونا صرف کفر سے ہوتا ہے۔ البتہ یہ ممکن ہے کہ کسی مسلمان کے بارے میں کہا جائے کہ اس کی معصیت کی وجہ سے اس کا عمل قبول نہیں ہوتا، اگرچہ وہ صحیح ہو، جیسے کہ مغصوب گھر میں نماز صحیح ہے (اور دوبارہ پڑھنا واجب نہیں) جمہور علماء بلکہ سلف کے اجماع کے مطابق، لیکن وہ مقبول نہیں ہے، یعنی اس میں ثواب نہیں، جیسا کہ ہمارے اصحاب کے نزدیک مختار ہے۔ واللہ اعلم۔




حاصل شدہ اہم اسباق و نکات

1. چار گناہوں کی سنگینی
1 عاق (والدین کا نافرمان)
والدین کو قول یا فعل سے تکلیف پہنچانا، ان کی نافرمانی کرنا، یا ان کے ساتھ بدسلوکی کرنا۔ یہ کبیرہ گناہ ہے۔
2 مؤمن بسحر (جادو پر ایمان رکھنے والا)
جادو کو حقیقت ماننا اور اس پر ایمان رکھنا، یا جادو سیکھنا اور اسے استعمال کرنا۔
3 مدمن خمر (شراب کا عادی)
جو شراب پینے کی عادت ڈال لے اور اسے ترک نہ کرے۔
4 مكذب بقدر (تقدیر کا انکار کرنے والا)
جو اللہ کی تقدیر کا انکار کرے یا یہ کہے کہ بندہ اپنے اعمال کا خود خالق ہے۔

2. تقدیر کے انکار کی دو قسمیں (قاضی عیاض کے مطابق)
قدیم قدریہ: جو اللہ کے ازلی علم کا انکار کرتے تھے۔ ان کے بارے میں قاضی عیاض نے کہا: یہ کافر ہیں، بلا اختلاف۔
متأخر قدریہ: جو اعمال کو بندوں کی طرف مستقل طور پر منسوب کرتے ہیں اور اللہ کی مشیت کا انکار کرتے ہیں۔ ان کا عقیدہ بھی باطل ہے، لیکن ان کے بارے میں اختلاف ہے۔

3. "لا يقبل" کا مفہوم
حدیث میں "لا يدخل الجنة" (جنت میں داخل نہیں ہو گا) سے مراد مطلق نفی ہے، لیکن یہ اس صورت میں ہے جب وہ ان گناہوں پر اصرار کرتے ہوئے مر جائیں، بغیر توبہ کے۔ اگر وہ توبہ کر لیں تو مشیت الٰہی کے تحت معاف کیے جا سکتے ہیں۔

4. ان گناہوں کی قباحت کی قرآنی دلائل
عقوق
{وَقَضَى رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا} (الاسراء: 23)
جادو
{وَلَا يُفْلِحُ السَّاحِرُ حَيْثُ أَتَى} (طه: 69)
شراب
{إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنْصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ} (المائدہ: 90)
تقدیر کا انکار
{إِنَّا كُلَّ شَيْءٍ خَلَقْنَاهُ بِقَدَرٍ} (القمر: 49)

5. اہل سنت کا عقیدہ
اہل سنت والجماعت کے نزدیک:
اللہ تعالیٰ خیر اور شر دونوں کا خالق ہے۔
بندہ کسب (کمانے) والا ہے، لیکن حقیقی خالق اللہ ہے۔
تقدیر پر ایمان رکھنا ایمان کا لازمی جز ہے۔
جو شخص تقدیر کا انکار کرے، وہ گمراہ ہے۔

6. حدیث سے عملی اسباق
والدین کی اطاعت کو ہر چیز پر مقدم رکھنا چاہیے۔
جادو اور جادوگروں سے مکمل بچنا چاہیے۔
شراب کے استعمال سے ہمیشہ پرہیز کرنا چاہیے۔
تقدیر پر ایمان رکھنا اور اس کے بارے میں غیر ضروری بحث سے بچنا چاہیے۔

7. ان گناہوں کا باہمی تعلق
ان چاروں گناہوں میں ایک مشترکہ صفت "اللہ کی نافرمانی میں اصرار" ہے۔ یہ وہ گناہ ہیں جو انسان کو اللہ کی رحمت سے دور کر دیتے ہیں۔

8. حدیث کی صحت
یہ حدیث صحیح ہے۔ علامہ البانی نے اسے "سلسلة الأحاديث الصحيحة" (675) اور "صحيح الترغيب والترهيب" (2362) میں صحیح قرار دیا ہے۔

واللہ اعلم بالصواب






عنوان:
قدریہ (تقدیر کے منکر) سے نکاح کرنے کا حکم

متنِ عربی:
عَنْ مَرْوَانَ بْنِ مُحَمَّدٍ الطَّاطَرِيِّ قَالَ: سَمِعْتُ مَالِكَ بْنَ أَنَسٍ يُسْأَلُ عَنْ تَزْوِيجِ الْقَدَرِيِّ , فَقَرَأَ: {وَلَعَبْدٌ مُؤْمِنٌ خَيْرٌ مِنْ مُشْرِكٍ وَلَوْ أَعْجَبَكُمْ} (١)

اردو ترجمہ:
حضرت مروان بن محمد الطاطری کہتے ہیں: میں نے امام مالک بن انس رحمہ اللہ سے سنا، ان سے ایک قدریہ (تقدیر کا انکار کرنے والے شخص) کے نکاح کے بارے میں پوچھا گیا، تو انہوں نے یہ آیت پڑھی:
"اور بلاشبہ ایک مومن غلام ایک مشرک (آزاد) سے بہتر ہے، خواہ وہ تمہیں کتنا ہی بھلا لگے۔" [البقرہ: 221]



تشریح و وضاحت:
جب امام مالک رحمہ اللہ سے قدریہ (تقدیر کے منکر) کے نکاح کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کوئی اپنی رائے نہیں دی، بلکہ قرآن کی آیت پڑھ کر جواب دیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ تقدیر کا انکار کرنے والا درحقیقت مشرک کے حکم میں ہے، کیونکہ اس نے اللہ کی صفت (علم، قدرت، مشیت) کا انکار کیا ہے۔ جیسا کہ مشرک اللہ کے ساتھ دوسروں کو شریک کرتا ہے، اسی طرح قدریہ اللہ کی تقدیر کے ساتھ اپنے اختیار کو شریک کرتا ہے۔

اس لیے اس آیت سے استدلال کرتے ہوئے، ایک مومن عورت کے لیے قدریہ سے نکاح کرنا جائز نہیں ہے، کیونکہ وہ شرک کے قریب ہے۔

حاصل شدہ اہم اسباق و نکات:

تقدیر کا انکار شرک کے قریب ہے:
قدریہ (تقدیر کے منکر) کا شمار ان لوگوں میں ہوتا ہے جنہوں نے اللہ کی صفات میں سے کسی کا انکار کیا ہے، اس لیے وہ مشرکین کے مشابہ ہیں۔

نکاح میں مومن کی اہمیت:
آیت میں واضح کیا گیا ہے کہ نسب، مال اور خوبصورتی سے بڑھ کر "ایمان" اہم ہے۔ ایک مومن غلام مشرک آزاد سے بہتر ہے۔

قدریہ کے ساتھ نکاح جائز نہیں:
امام مالک کا اس آیت سے استدلال اس بات کی دلیل ہے کہ کسی مسلمان عورت کے لیے قدریہ سے نکاح کرنا جائز نہیں ہے، کیونکہ وہ کافر یا مشرک کے حکم میں ہے۔

علماء کا اہل بدعت کے ساتھ معاملہ:
امام مالک جیسے عظیم امام نے براہِ راست فتویٰ دینے کے بجائے قرآن کی آیت پڑھ کر جواب دیا، تاکہ لوگ خود نتیجہ اخذ کریں۔

دین میں تقدیر پر ایمان کی اہمیت:
یہ واقعہ اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ تقدیر پر ایمان رکھنا دین کا لازمی حصہ ہے، اور اس کا انکار کرنے والا اہل سنت کے دائرے سے خارج ہے۔

حدیث کی صحت:
امام البانی نے اس اثر کو صحیح قرار دیا ہے، اس لیے یہ قابلِ اعتماد ہے۔

واللہ اعلم بالصواب








عنوان:
تقدیر کے بارے میں صحابہ کا بحث کرنا اور نبی ﷺ کا انہیں روکنا

حدیث کا متن (عربی):
عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ - رضي الله عنهما - قَالَ: (هَجَّرْتُ (١)) (٢) (أَنَا وَأَخِي) (٣) (إِلَى رَسُولِ اللهِ - صلى الله عليه وسلم - يَوْمًا) (٤) (وَإِذَا مَشْيَخَةٌ مِنْ صَحَابَةِ رَسُولِ اللهِ - صلى الله عليه وسلم - جُلُوسٌ عِنْدَ بَابٍ مِنْ أَبْوَابِهِ , فَكَرِهْنَا أَنْ نُفَرِّقَ بَيْنَهُمْ , فَجَلَسْنَا حَجْرَةً (٥) فَذَكَرُوا آيَةً مِنْ الْقُرْآنِ) (٦) (فِي الْقَدَرِ) (٧) (فَتَمَارَوْا فِيهَا (٨)) (٩) (فَقَالَ بَعْضُهُمْ: أَلَمْ يَقُلْ اللهُ كَذَا وَكَذَا؟ , وَقَالَ بَعْضُهُمْ: أَلَمْ يَقُلْ اللهُ كَذَا وَكَذَا (١٠)؟) (١١) (حَتَّى ارْتَفَعَتْ أَصْوَاتُهُمْ) (١٢) (" فَسَمِعَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم - ذَلِكَ) (١٣) (فَخَرَجَ عَلَيْنَا يُعْرَفُ فِي وَجْهِهِ الْغَضَبُ (١٤)) (١٥) (فَقَالَ: أَبِهَذَا أُمِرْتُمْ (١٦)؟) (١٧) (أَنْ تَضْرِبُوا كِتَابَ اللهِ بَعْضَهُ بِبَعْضٍ؟) (١٨) (إِنَّمَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ حِينَ تَنَازَعُوا فِي هَذَا الْأَمْرِ , عَزَمْتُ عَلَيْكُمْ (١٩) أَلَّا تَتَنَازَعُوا فِيهِ) (٢٠)
وفي رواية:
(إِنَّمَا ضَلَّتْ الْأُمَمُ قَبْلَكُمْ) (٢١) (بِاخْتِلَافِهِمْ عَلَى أَنْبِيَائِهِمْ , وَضَرْبِهِمْ الْكُتُبَ بَعْضَهَا بِبَعْضٍ , إِنَّ الْقُرْآنَ لَمْ يَنْزِلْ يُكَذِّبُ بَعْضُهُ بَعْضًا , بَلْ يُصَدِّقُ بَعْضُهُ بَعْضًا) (٢٢) (فَلَا تُكَذِّبُوا بَعْضَهُ بِبَعْضٍ) (٢٣) (فَانْظُرُوا الَّذِي أُمِرْتُمْ بِهِ فَاعْمَلُوا بِهِ , وَالَّذِي نُهِيتُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا) (٢٤)
وفي رواية:
(فَمَا عَرَفْتُمْ مِنْهُ فَاعْمَلُوا بِهِ , وَمَا جَهِلْتُمْ مِنْهُ فَرُدُّوهُ إِلَى عَالِمِهِ) (٢٥) (فَإِنَّكُمْ لَسْتُمْ مِمَّا هَهُنَا فِي شَيْءٍ ") (٢٦) (قَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عَمْرٍو: فَمَا غَبَطْتُ نَفْسِي (٢٧) بِمَجْلِسٍ تَخَلَّفْتُ فِيهِ عَنْ رَسُولِ اللهِ - صلى الله عليه وسلم - مَا غَبَطْتُ نَفْسِي بِذَلِكَ الْمَجْلِسِ , وَتَخَلُّفِي عَنْهُ) (٢٨).

ترجمہ:
حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا:

"میں اور میرے بھائی (٢) ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جلدی پہنچے (١) (٤)۔ (ہم نے دیکھا کہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے چند بزرگ آپ کے ایک دروازے کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔ ہم نے یہ ناپسند کیا کہ ان کے درمیان (بیٹھ کر) انہیں الگ کریں، اس لیے ہم ایک طرف (کنارے) بیٹھ گئے (٥)۔

وہ لوگ تقدیر کے بارے میں قرآن کی ایک آیت کا ذکر کر رہے تھے (٦،٧) اور اس میں جھگڑ رہے تھے (٨،٩)۔ ان میں سے بعض کہہ رہے تھے: کیا اللہ نے ایسا نہیں کہا؟ اور بعض کہہ رہے تھے: کیا اللہ نے ویسا نہیں کہا؟ (١٠،١١) یہاں تک کہ ان کی آوازیں بلند ہو گئیں (١٢)۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سنا (١٣) تو آپ ہمارے پاس تشریف لائے، آپ کے چہرے پر غصہ کے آثار تھے (١٤،١٥)۔ آپ نے فرمایا: "کیا تمہیں اسی کا حکم دیا گیا تھا (١٦،١٧)؟ کہ تم اللہ کی کتاب کے بعض حصے کو بعض سے ٹکراؤ؟ (١٨) بے شک تم سے پہلے والے اسی وقت ہلاک ہوئے جب انہوں نے اس معاملے میں جھگڑا کیا۔ میں تمہیں قسم دیتا ہوں (١٩) کہ اس میں جھگڑا نہ کرو (٢٠)۔"

ایک روایت میں ہے:
"تم سے پہلے امتیں اسی طرح گمراہ ہوئیں کہ انہوں نے اپنے انبیاء کے بارے میں اختلاف کیا اور کتابوں کو ایک دوسرے سے ٹکرایا (٢١،٢٢)۔ بلاشبہ قرآن اس طرح نازل نہیں ہوا کہ اس کا بعض حصہ بعض کی تکذیب کرے، بلکہ اس کا بعض حصہ بعض کی تصدیق کرتا ہے (٢٢)۔ لہٰذا تم اس کے ایک حصے کو دوسرے کے ساتھ جھٹلاؤ نہیں (٢٣)۔ پس تم اسے دیکھو جس کا تمہیں حکم دیا گیا ہے، اس پر عمل کرو، اور جس سے تمہیں روکا گیا ہے، اس سے رک جاؤ (٢٤)۔"

ایک دوسری روایت میں ہے:
"پس جو کچھ تم اس میں سے جانتے ہو، اس پر عمل کرو، اور جو نہیں جانتے، اسے اس کے جاننے والے کی طرف لوٹا دو (٢٥)۔ کیونکہ تم اس (بحث) سے کچھ بھی حاصل نہیں کرو گے (٢٦)۔"

عبداللہ بن عمروؓ کہتے ہیں: "میں نے کبھی اپنے نفس کو اس مجلس کی طرح (حسرت سے) نہیں دیکھا جس سے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دور رہ گیا تھا، جتنا میں نے اس مجلس (میں شریک نہ ہونے) پر اپنے نفس کو (خوش) نہیں دیکھا (یعنی مجھے خوشی ہے کہ میں اس جھگڑے میں شامل نہیں ہوا) (٢٧،٢٨)۔"


حواشی وحوالہ جات:
(١) التَّهجير إِلى الجمعة وغيرها: التبكير والمبادرة. (لسان العرب، ج 5، ص 250)
ترجمہ: "ہجرت" جمعہ یا دوسری چیزوں کے لیے جلدی کرنے اور سبقت کرنے کو کہتے ہیں۔ (لسان العرب)

(٢) صحیح مسلم: 2666

(٣) مسند احمد: 6702، اور شیخ شعیب ارناؤوط نے کہا: اس کی سند حسن ہے۔

(٤) صحیح مسلم: 2666

(٥) یعنی ہم ان کے بیٹھنے کی جگہ کے علاوہ کسی اور جگہ بیٹھ گئے۔

(٦) مسند احمد: 6702

(٧) مسند احمد: 6846، سنن ابن ماجہ: 85، اور شیخ شعیب ارناؤوط نے کہا: اس کی سند حسن ہے۔

(٨) یعنی آپس میں جھگڑے اور بحث کرنے لگے۔

(٩) مسند احمد: 6702

(١٠) یعنی ان میں سے بعض نے کہا: اگر سب کچھ تقدیر سے ہے تو پھر ثواب اور عذاب کیوں؟ (جیسا کہ معتزلہ کہتے ہیں) اور بعض نے کہا: پھر کسی کو جنت اور کسی کو جہنم کی تقدیر کرنے کی کیا حکمت ہے؟ تو دوسرے کہتے: کیونکہ ان کے لیے ایک قسم کا اکتسابی اختیار ہے۔ پھر دوسرے کہتے: اس اختیار اور اکتساب کو کس نے پیدا کیا اور انہیں اس پر قدرت دی؟ اور اسی طرح کی باتیں۔ (تحفۃ الاحوذی، جلد 5، صفحہ 421)

(١١) مسند احمد: 6845، اور شیخ شعیب ارناؤوط نے کہا: اس کی سند حسن ہے۔

(١٢) مسند احمد: 6702

(١٣) مسند احمد: 6845

(١٤) آپ ﷺ کو غصہ اس لیے آیا کہ تقدیر اللہ تعالیٰ کے رازوں میں سے ایک راز ہے، اور اس کے راز کو تلاش کرنا منع ہے، اور اس لیے کہ جو اس میں بحث کرتا ہے، وہ اس بات سے محفوظ نہیں رہتا کہ وہ قدریہ یا جبریہ بن جائے۔ بندوں کو حکم ہے کہ وہ وہی قبول کریں جس کا شرع نے حکم دیا ہے، بغیر اس چیز کے راز کو تلاش کیے جس کے راز کو تلاش کرنا جائز نہیں۔ (تحفۃ الاحوذی، جلد 5، صفحہ 421)

(١٥) صحیح مسلم: 2666

(١٦) یعنی کیا تقدیر کے بارے میں یہ بحث اور جھگڑا وہی ہے جس کا تمہیں حکم دیا گیا تھا کہ تم اس پر جرأت کرو؟ آپ ﷺ کا مطلب ہے کہ یہ ان دونوں میں سے کچھ بھی نہیں ہے، پھر اس کی کیا ضرورت ہے؟ (حاشیہ السندی علی ابن ماجہ، جلد 1، صفحہ 76)

(١٧) سنن ترمذی: 2133، سنن ابن ماجہ: 85

(١٨) مسند احمد: 6845

(١٩) یعنی میں تم پر قسم ڈالتا ہوں، یا واجب کرتا ہوں۔ (تحفۃ الاحوذی، جلد 5، صفحہ 421)

(٢٠) سنن ترمذی: 2133، صحیح مسلم: 2666

(٢١) مسند احمد: 6845

(٢٢) مسند احمد: 6702

(٢٣) مسند احمد: 6741

(٢٤) مسند احمد: 6845

(٢٥) مسند احمد: 6702، دیکھیے سلسلہ صحیحہ تحت حدیث: 1522

(٢٦) مسند احمد: 6845

(٢٧) یعنی میں نے اپنے نفس کے فعل کو اچھا نہیں سمجھا۔

(٢٨) سنن ابن ماجہ: 85، مسند احمد: 6668، دیکھیے تخریج الطحاویۃ: 218




حاصل شدہ اہم اسباق و نکات

تقدیر کے بارے میں بحث و جھگڑا کرنا منع ہے:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو تقدیر کے بارے میں بحث کرنے سے سختی سے منع فرمایا، اور اسے اسی جرم سے تعبیر کیا جس کی وجہ سے پچھلی امتیں ہلاک ہوئیں۔

پچھلی امتوں کی ہلاکت کی وجہ:
آپ نے فرمایا کہ پہلی امتیں اپنے انبیاء کے بارے میں اختلاف کرنے اور کتابوں کو ایک دوسرے سے ٹکرانے کی وجہ سے ہلاک اور گمراہ ہوئیں۔

قرآن اپنے اندر متضاد نہیں ہے:
قرآن کا کوئی حصہ دوسرے حصے کی تکذیب نہیں کرتا، بلکہ سب ایک دوسرے کی تصدیق کرتے ہیں۔ اگر کسی کو کوئی تضاد نظر آئے تو وہ اس کی اپنی سمجھ کی کمی کی وجہ سے ہے۔

غیر ضروری سوالات سے بچنا:
صحابہ کو حکم دیا گیا کہ جو چیز انہیں معلوم ہے اس پر عمل کریں، اور جو نہیں جانتے اسے اہل علم کے سپرد کریں۔ یہی اہل سنت کا طریقہ ہے۔

تقدیر کے بارے میں زیادہ غور و فکر کرنا منع ہے:
تقدیر اللہ کا راز ہے، اس کے بارے میں زیادہ سوچنا اور بحث کرنا انسان کو جبریہ یا قدریہ بنا سکتا ہے، اس لیے اس سے بچنا چاہیے۔

نبی ﷺ کا غصہ:
آپ کا غصہ اس بات پر تھا کہ صحابہ ایسی چیز میں بحث کر رہے تھے جس کا انہیں حکم نہیں دیا گیا تھا، اور یہ ان کے وقت کا ضیاع تھا۔

فرع (اخذ کرنے والے) کی اہمیت:
"جو نہیں جانتے اسے اپنے جاننے والے کی طرف لوٹا دو" سے معلوم ہوا کہ دین میں علماء کی طرف رجوع کرنا ضروری ہے، اور ہر شخص کو اپنی رائے سے فتویٰ دینا درست نہیں۔

عبداللہ بن عمرو کا واقعہ:
انہوں نے خوشی کا اظہار کیا کہ وہ اس بحث میں شامل نہیں ہوئے، حالانکہ وہ نبی ﷺ کے پاس آئے تھے لیکن الگ بیٹھ گئے۔ اس سے معلوم ہوا کہ کسی برائی میں شریک نہ ہونا بھی باعثِ ثواب ہے۔

اجتہاد کی حدود:
صحابہ کرام کا تقدیر کے بارے میں اختلاف اس بات پر مبنی تھا کہ وہ قرآن کی مختلف آیات کو جمع کرنے کی کوشش کر رہے تھے، لیکن نبی ﷺ نے انہیں روک دیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ بعض مسائل میں خاموش رہنا بہتر ہے۔

حدیث کی صحت:
یہ حدیث صحیح مسلم، مسند احمد، سنن ترمذی اور سنن ابن ماجہ میں موجود ہے اور محدثین کے نزدیک صحیح ہے۔

واللہ اعلم بالصواب







متن (عربی):
عَنْ ثَوْبَانَ - رضي الله عنه - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم -:
" إِذَا ذُكِرَ أَصْحَابِي فَأَمْسِكُوا , وَإِذَا ذُكِرَتِ النُّجُومُ فَأَمْسِكُوا , وَإِذَا ذُكِرَ الْقَدَرُ فَأَمْسِكُوا "

ترجمہ:
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"جب میرے صحابہ کا ذکر کیا جائے تو رک جاؤ (کچھ نہ کہو)، جب ستاروں کا ذکر کیا جائے تو رک جاؤ، اور جب تقدیر کا ذکر کیا جائے تو رک جاؤ۔"

[المعجم الكبير للطبراني:10448، صحيح الجامع:545، الصحيحة:34]


تشریح و وضاحت
اس حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین چیزوں کے بارے میں گفتگو کرنے سے منع فرمایا ہے:

صحابہ کرام کا ذکر:
جب صحابہ کرام کا ذکر ہو تو ان کے درمیان ہونے والے اختلافات، ان کی غلطیوں، یا ان کے بارے میں منفی باتوں سے بچنا چاہیے۔ صحابہ عدول ہیں اور ان کا مقام بہت بلند ہے۔ ان کے بارے میں صرف اچھائی کے ساتھ ذکر کرنا چاہیے۔

ستاروں کا ذکر:
ستاروں کے ذریعے مستقبل کا حال جاننے، زائچہ بنانے، یا ان سے رزق اور تقدیر کا تعلق جوڑنے سے منع کیا گیا ہے۔ یہ سب شرک اور جہالت کی باتیں ہیں۔

تقدیر کا ذکر:
تقدیر کے بارے میں بحث و جھگڑا کرنا، اس کی حقیقت میں غور و فکر کرنا، یا اس کے فلسفے میں الجھنا منع ہے۔ یہ اللہ کا راز ہے، ہمیں اس پر ایمان لانا ہے، اس میں زیادہ بحث کرنا نہیں۔




حاصل شدہ اہم اسباق و نکات

صحابہ کرام کا احترام:
صحابہ کرام کے بارے میں منفی گفتگو سے بچنا چاہیے، کیونکہ وہ بہترین نسل ہیں اور اللہ اور اس کے رسول نے ان کی تعریف کی ہے۔

ستاروں سے متعلق خرافات سے بچنا:
ستاروں کو فال نکالنے، زائچہ بنانے، یا تقدیر کا سبب سمجھنے سے بچنا چاہیے۔ یہ سب شرک اور جہالت ہے۔

تقدیر میں بحث سے بچنا:
تقدیر کے بارے میں زیادہ سوچنا اور بحث کرنا منع ہے، کیونکہ یہ اللہ کا راز ہے اور اس میں الجھنے سے انسان گمراہ ہو سکتا ہے۔

احتیاط اور خاموشی:
ان تینوں موضوعات پر بحث کرنے کے بجائے خاموش رہنا بہتر ہے، تاکہ انسان گمراہی اور گناہ سے بچ سکے۔

دین میں وسعت اور آسانی:
اسلام نے ہمیں ان پیچیدہ مسائل میں پڑنے سے منع کر دیا ہے، تاکہ ہم اپنی توانائی عبادت اور نیک اعمال میں لگا سکیں۔

حدیث کی صحت:
یہ حدیث صحیح ہے اور اہل سنت کے ہاں قابلِ قبول ہے۔

واللہ اعلم بالصواب







متن (عربی):
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رضي الله عنهما - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم -:
" لَا يَزَالُ أَمْرُ هَذِهِ الْأُمَّةِ مُوَاتِيًا أَوْ مُقَارِبًا، مَا لَمْ يَتَكَلَّمُوا فِي الْوِلْدَانِ (١) وَالْقَدَرِ " (٢)

ترجمہ:
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"اس امت کا معاملہ ہمیشہ درست اور حق کے قریب رہے گا، جب تک وہ 'ولدان' (مشرکوں کے بچوں) (۱) اور تقدیر کے بارے میں گفتگو نہیں کرتے۔"(٢)

[صحیح ابن حبان:6724، مستدرک حاکم:93، صحیح الجامع:2003، الصحيحة:1515]




تشریح و وضاحت:
امام ابن حبانؒ نے کہا:
"الولدان" سے مراد مشرکوں کے بچے ہیں۔

اس حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی ہے کہ یہ امت اس وقت تک حق پر اور صحیح راستے پر رہے گی جب تک وہ دو چیزوں کے بارے میں بحث و تکرار شروع نہیں کر دیتی:

الولدان (مشرکوں کے بچے):
یعنی آخرت میں مشرکین کے بچوں کا کیا حکم ہوگا؟ کیا وہ جنت میں جائیں گے یا جہنم میں؟ اس بارے میں بحث کرنا۔

تقدیر:
یعنی اللہ کی طرف سے لکھی ہوئی تقدیر کے بارے میں زیادہ سوچنا، اس پر جھگڑنا، اور اس کے فلسفے میں الجھنا۔

جب امت ان دونوں مسائل میں الجھ کر بحث کرنے لگتی ہے تو اس کا معاملہ بگڑ جاتا ہے اور وہ راہِ راست سے ہٹ جاتی ہے۔




حاصل شدہ اہم اسباق و نکات

امت کی کامیابی کا راز:
اس امت کی کامیابی اور راہِ راست پر قائم رہنے کا راز یہ ہے کہ وہ غیر ضروری اور پیچیدہ مسائل میں نہ پڑے۔

مشرکوں کے بچوں کے بارے میں بحث سے بچنا:
مشرکین کے بچوں کے بارے میں غور و فکر کرنا اور ان کے انجام کے بارے میں قیاس آرائیاں کرنا بے فائدہ ہے، کیونکہ یہ علم صرف اللہ کے پاس ہے۔ ہمیں اس میں بحث نہیں کرنی چاہیے۔

تقدیر کے بارے میں بحث سے بچنا:
تقدیر کے بارے میں زیادہ سوچنا اور اس پر جھگڑنا امت کے زوال کا سبب بنتا ہے۔ سلف صالحین کا طریقہ یہ تھا کہ وہ تقدیر پر ایمان رکھتے تھے، لیکن اس کے بارے میں بحث نہیں کرتے تھے۔

دین میں غور و فکر کی حدود:
اسلام نے ہمیں بعض چیزوں کے بارے میں غور کرنے سے منع کر دیا ہے، کیونکہ ان میں الجھنے سے انسان گمراہ ہو جاتا ہے۔

امت کی بھلائی کی ضمانت:
جب تک امت ان دو مسائل (مشرکین کے بچے اور تقدیر) میں بحث نہیں کرتی، وہ حق پر قائم رہتی ہے۔ جب یہ بحث شروع ہو جائے تو اس کا معاملہ بگڑ جاتا ہے۔

علم غیب کے بارے میں سکوت:
جن چیزوں کا علم اللہ نے ہمیں نہیں دیا، ان کے بارے میں خاموش رہنا بہتر ہے۔

حدیث کی صحت:
یہ حدیث صحیح ہے اور اہل سنت کے ہاں قابلِ قبول ہے۔

واللہ اعلم بالصواب






ہدایت اور گمراہی اللہ کے ہاتھ میں ہے:

اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
{وَاللَّهُ يَدْعُو إِلَى دَارِ السَّلَامِ، وَيَهْدِي مَنْ يَشَاءُ إِلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ} [یونس: 25]
ترجمہ:
"اور اللہ سلامتی کے گھر (جنت) کی طرف بلاتا ہے، اور جسے چاہتا ہے سیدھے راستے کی ہدایت دیتا ہے۔"

{مَنْ يَهْدِ اللَّهُ فَهُوَ الْمُهْتَدِي، وَمَنْ يُضْلِلْ فَأُولَئِكَ هُمُ الْخَاسِرُونَ} [الأعراف: 178]
ترجمہ:
"جسے اللہ ہدایت دے، وہی ہدایت یافتہ ہے، اور جسے وہ گمراہ کرے، وہی لوگ خسارہ اٹھانے والے ہیں۔"

{مَنْ يَهْدِ اللَّهُ فَهُوَ الْمُهْتَدِ، وَمَنْ يُضْلِلْ فَلَنْ تَجِدَ لَهُ وَلِيًّا مُرْشِدًا} [الكهف: 17]
ترجمہ:
"جسے اللہ ہدایت دے، وہی ہدایت یافتہ ہے، اور جسے وہ گمراہ کرے، تو تم اس کے لیے کوئی مددگار راہنما نہیں پاؤ گے۔"

{مَنْ يُضْلِلِ اللَّهُ فَمَا لَهُ مِنْ هَادٍ، وَمَنْ يَهْدِ اللَّهُ فَمَا لَهُ مِنْ مُضِلٍّ} [الزمر: 36-37]
ترجمہ:
"جسے اللہ گمراہ کر دے، اس کا کوئی راہنما نہیں، اور جسے اللہ ہدایت دے، اسے کوئی گمراہ کرنے والا نہیں۔"

{ذَلِكَ هُدَى اللَّهِ يَهْدِي بِهِ مَنْ يَشَاءُ، وَمَنْ يُضْلِلِ اللَّهُ فَمَا لَهُ مِنْ هَادٍ} [الزمر: 23]
ترجمہ:
"یہ اللہ کی ہدایت ہے، جسے چاہتا ہے اس کے ذریعے ہدایت دیتا ہے، اور جسے اللہ گمراہ کرے، اس کا کوئی راہنما نہیں۔"

{يَمُنُّونَ عَلَيْكَ أَنْ أَسْلَمُوا، قُلْ لَا تَمُنُّوا عَلَيَّ إِسْلَامَكُمْ بَلِ اللَّهُ يَمُنُّ عَلَيْكُمْ أَنْ هَدَاكُمْ لِلْإِيمَانِ إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ} [الحجرات: 17]
ترجمہ:
"وہ تم پر احسان جتاتے ہیں کہ انہوں نے اسلام قبول کیا، کہہ دو: مجھ پر اپنے اسلام کا احسان نہ جتاؤ، بلکہ اللہ تم پر احسان کرتا ہے کہ اس نے تمہیں ایمان کی ہدایت دی، اگر تم سچے ہو۔"

{وَلَقَدْ هَمَّتْ بِهِ وَهَمَّ بِهَا لَوْلَا أَنْ رَأَى بُرْهَانَ رَبِّهِ، كَذَلِكَ لِنَصْرِفَ عَنْهُ السُّوءَ وَالْفَحْشَاءَ، إِنَّهُ مِنْ عِبَادِنَا الْمُخْلَصِينَ} [يوسف: 24]
ترجمہ:
"اور یوسف نے اس کا ارادہ کیا اور اس (زلیخا) نے بھی یوسف کا ارادہ کیا، اگر اپنے رب کی دلیل نہ دیکھ لی ہوتی (تو گناہ کر بیٹھتا)، اسی طرح ہم نے اس سے برائی اور بے حیائی کو پھیر دیا، یقیناً وہ ہمارے چنے ہوئے بندوں میں سے تھا۔"

{إِنَّ الَّذِينَ سَبَقَتْ لَهُمْ مِنَّا الْحُسْنَى أُولَئِكَ عَنْهَا مُبْعَدُونَ، لَا يَسْمَعُونَ حَسِيسَهَا، وَهُمْ فِي مَا اشْتَهَتْ أَنْفُسُهُمْ خَالِدُونَ} [الأنبياء: 101-102]
ترجمہ:
"بے شک جن کے لیے ہماری طرف سے بھلائی پہلے سے مقرر ہو چکی ہے، وہ جہنم سے دور رکھے جائیں گے، وہ اس کی آہٹ بھی نہیں سنیں گے، اور وہ اپنی من کی مرادوں میں ہمیشہ رہیں گے۔"

{مَنْ يَشَإِ اللَّهُ يُضْلِلْهُ، وَمَنْ يَشَأْ يَجْعَلْهُ عَلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ} [الأنعام: 39]
ترجمہ:
"اللہ جسے چاہے گمراہ کرے، اور جسے چاہے سیدھے راستے پر لگا دے۔"

{أَفَمَنْ زُيِّنَ لَهُ سُوءُ عَمَلِهِ فَرَآهُ حَسَنًا، فَإِنَّ اللَّهَ يُضِلُّ مَنْ يَشَاءُ، وَيَهْدِي مَنْ يَشَاءُ، فَلَا تَذْهَبْ نَفْسُكَ عَلَيْهِمْ حَسَرَاتٍ} [فاطر: 8]
ترجمہ:
"کیا وہ شخص جس کے لیے اس کا برا عمل آراستہ کر دیا گیا اور اس نے اسے اچھا سمجھ لیا؟ (کیا وہ ہدایت یافتہ ہے؟) اللہ جسے چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے، پس تم اپنی جان ان پر غم و حسرت میں ہلاک نہ کرو۔"

{وَلَوْ شَاءَ اللَّهُ لَجَعَلَكُمْ أُمَّةً وَاحِدَةً، وَلَكِنْ يُضِلُّ مَنْ يَشَاءُ، وَيَهْدِي مَنْ يَشَاءُ، وَلَتُسْأَلُنَّ عَمَّا كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ} [النحل: 93]
ترجمہ:
"اور اگر اللہ چاہتا تو تم سب کو ایک امت بنا دیتا، لیکن وہ جسے چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے، اور تم سے ضرور پوچھا جائے گا جو کچھ تم کرتے تھے۔"

{وَاخْتَارَ مُوسَى قَوْمَهُ سَبْعِينَ رَجُلًا لِمِيقَاتِنَا، فَلَمَّا أَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ قَالَ رَبِّ لَوْ شِئْتَ أَهْلَكْتَهُمْ مِنْ قَبْلُ وَإِيَّايَ، أَتُهْلِكُنَا بِمَا فَعَلَ السُّفَهَاءُ مِنَّا، إِنْ هِيَ إِلَّا فِتْنَتُكَ، تُضِلُّ بِهَا مَنْ تَشَاءُ، وَتَهْدِي مَنْ تَشَاءُ} [الأعراف: 155]
ترجمہ:
"اور موسیٰ نے اپنی قوم میں سے ستر آدمی ہمارے مقررہ وقت کے لیے چنے، پھر جب انہیں زلزلہ نے آ لیا تو کہا: اے میرے رب! اگر تو چاہتا تو انہیں اور مجھے پہلے ہی ہلاک کر دیتا، کیا تو ہمیں ان بے وقوفوں کے کرتوتوں پر ہلاک کرے گا؟ یہ تو تیری آزمائش ہے، تو اس سے جسے چاہے گمراہ کرے اور جسے چاہے ہدایت دے۔"

{فَمَنْ يُرِدِ اللَّهُ أَنْ يَهدِيَهُ يَشْرَحْ صَدْرَهُ لِلْإِسْلَامِ، وَمَنْ يُرِدْ أَنْ يُضِلَّهُ، يَجْعَلْ صَدْرَهُ ضَيِّقًا حَرَجًا كَأَنَّمَا يَصَّعَّدُ فِي السَّمَاءِ} [الأنعام: 125]
ترجمہ:
"پس جسے اللہ ہدایت دینا چاہے، اس کا سینہ اسلام کے لیے کھول دیتا ہے، اور جسے گمراہ کرنا چاہے، اس کا سینہ بہت تنگ اور گھٹا ہوا کر دیتا ہے جیسے وہ آسمان پر چڑھ رہا ہو۔"

{وَلَوْ أَنَّ قُرْآَنًا سُيِّرَتْ بِهِ الْجِبَالُ أَوْ قُطِّعَتْ بِهِ الْأَرْضُ أَوْ كُلِّمَ بِهِ الْمَوْتَى، بَلْ لِلَّهِ الْأَمْرُ جَمِيعًا، أَفَلَمْ يَيْئَسِ الَّذِينَ آمَنُوا أَنْ لَوْ يَشَاءُ اللَّهُ لَهَدَى النَّاسَ جَمِيعًا؟} [الرعد: 31]
ترجمہ:
"اور اگر کوئی قرآن ہوتا کہ اس کے ذریعے پہاڑ چلائے جاتے، یا اس سے زمین ٹکڑے ٹکڑے کر دی جاتی، یا اس کے ذریعے مردوں سے بات کرائی جاتی (تو وہ یہی قرآن ہوتا) بلکہ سب کام اللہ کے ہاتھ میں ہیں، کیا ایمان والے مایوس نہیں ہوئے؟ کہ اگر اللہ چاہتا تو سارے لوگوں کو ہدایت دے دیتا؟"

تفسیر (فتح القدیر):
"سُيِّرَتْ بِهِ الْجِبَالُ": یعنی اس کے نزول اور پڑھنے سے پہاڑ اپنی جگہ سے چل پڑتے۔ "قُطِّعَتْ بِهِ الْأَرْضُ": یعنی اس کے ذریعے زمین پھاڑ دی جاتی۔ "كُلِّمَ بِهِ الْمَوْتَى": یعنی اس کی قراءت سے مردے زندہ ہو جاتے اور ان سے کلام کیا جاتا۔
"لَوْ" کے جواب کے بارے میں اختلاف ہے۔ فراء نے کہا: جواب محذوف ہے، تقدیر: لَکَانَ هَذَا الْقُرْآنُ (تو یہی قرآن ہوتا)۔ دوسرے نے کہا: لَکَفَرُوا بِالرَّحْمَنِ (تو وہ رحمٰن کا انکار کر دیتے)۔
"بَلْ لِلَّهِ الْأَمْرُ جَمِيعاً": یعنی اگر ایسا ہوتا تو یہ قرآن ہی ہوتا، لیکن ایسا نہیں ہوا، بلکہ جو کچھ ہو رہا ہے وہی ہو رہا ہے۔ اگر اللہ چاہتا تو وہ ایمان لے آتے، اور جب وہ نہیں چاہتا تو پہاڑوں کا چلنا وغیرہ بھی انہیں فائدہ نہیں دیتا۔
"أَفَلَمْ يَيْأَسِ": بعض نے کہا: "یَئِس" کے معنی "عَلِمَ" (جاننا) کے ہیں، یہ ہوازن کی زبان ہے۔ اس صورت میں معنی: کیا ایمان والے نہیں جانتے کہ اگر اللہ چاہتا تو سارے لوگوں کو ہدایت دے دیتا؟ اور بعض نے کہا: یہ اپنے حقیقی معنی پر ہے: کیا ایمان والے ان کفار کے ایمان سے مایوس نہیں ہو گئے، کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ اگر اللہ چاہتا تو انہیں ہدایت دے دیتا؟

{وَلَوْ شَاءَ رَبُّكَ لَجَعَلَ النَّاسَ أُمَّةً وَاحِدَةً، وَلَا يَزَالُونَ مُخْتَلِفِينَ إِلَّا مَنْ رَحِمَ رَبُّكَ، وَلِذَلِكَ خَلَقَهُمْ، وَتَمَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ لَأَمْلَأَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ} [هود: 118-119]
ترجمہ:
"اور اگر تیرا رب چاہتا تو سارے لوگوں کو ایک امت بنا دیتا، اور وہ ہمیشہ اختلاف کرتے رہیں گے، سوائے ان کے جن پر تیرے رب نے رحم کیا، اور اسی لیے اس نے انہیں پیدا کیا، اور تیرے رب کی بات پوری ہو گئی: میں ضرور جہنم کو تمام جنوں اور لوگوں سے بھر دوں گا۔"

{وَلَوْ شِئْنَا لَآَتَيْنَا كُلَّ نَفْسٍ هُدَاهَا، وَلَكِنْ حَقَّ الْقَوْلُ مِنِّي لَأَمْلَأَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ} [السجدة: 13]
ترجمہ:
"اور اگر ہم چاہتے تو ہر شخص کو اس کی ہدایت دے دیتے، لیکن میری بات پوری ہو گئی: میں ضرور جہنم کو تمام جنوں اور لوگوں سے بھر دوں گا۔"

{وَلَوْ شَاءَ رَبُّكَ لَآَمَنَ مَنْ فِي الْأَرْضِ كُلُّهُمْ جَمِيعًا، أَفَأَنْتَ تُكْرِهُ النَّاسَ حَتَّى يَكُونُوا مُؤْمِنِينَ، وَمَا كَانَ لِنَفْسٍ أَنْ تُؤْمِنَ إِلَّا بِإِذْنِ اللَّهِ، وَيَجْعَلُ الرِّجْسَ عَلَى الَّذِينَ لَا يَعْقِلُونَ} [يونس: 99-100]
ترجمہ:
"اور اگر تیرا رب چاہتا تو زمین والے سب کے سب ایمان لے آتے، کیا تو لوگوں کو مجبور کرے گا کہ وہ ایمان لے آئیں؟ اور کسی شخص کے لیے ممکن نہیں کہ وہ ایمان لائے مگر اللہ کے اذن سے، اور وہ عذاب کو ان لوگوں پر مسلط کرتا ہے جو عقل نہیں رکھتے۔"

{وَلَوْ أَنَّنَا نَزَّلْنَا إِلَيْهِمُ الْمَلَائِكَةَ، وَكَلَّمَهُمُ الْمَوْتَى، وَحَشَرْنَا عَلَيْهِمْ كُلَّ شَيْءٍ قُبُلًا، مَا كَانُوا لِيُؤْمِنُوا إِلَّا أَنْ يَشَاءَ اللَّهُ، وَلَكِنَّ أَكْثَرَهُمْ يَجْهَلُونَ} [الأنعام: 111]
ترجمہ:
"اور اگر ہم ان کے پاس فرشتے بھیج دیتے، اور مردے ان سے باتیں کرتے، اور ہر چیز کو ان کے سامنے لا کر جمع کر دیتے، تب بھی وہ ایمان نہ لاتے مگر یہ کہ اللہ چاہے، لیکن ان میں سے اکثر جاہل ہیں۔"

{وَإِنْ كَانَ كَبُرَ عَلَيْكَ إِعْرَاضُهُمْ، فَإِنِ اسْتَطَعْتَ أَنْ تَبْتَغِيَ نَفَقًا فِي الْأَرْضِ، أَوْ سُلَّمًا فِي السَّمَاءِ فَتَأْتِيَهُمْ بِآَيَةٍ، وَلَوْ شَاءَ اللَّهُ لَجَمَعَهُمْ عَلَى الْهُدَى، فَلَا تَكُونَنَّ مِنَ الْجَاهِلِينَ} [الأنعام: 35]
ترجمہ:
"اور اگر تم پر ان کا اعراض کرنا بھاری ہے، تو اگر تم زمین میں کوئی سرنگ یا آسمان میں کوئی سیڑھی ڈھونڈ سکتے ہو کہ ان کے پاس کوئی نشانی لے آؤ (تو لے آؤ) اور اگر اللہ چاہتا تو انہیں ہدایت پر جمع کر دیتا، پس تم جاہلوں میں سے نہ ہو جاؤ۔"

{اتَّبِعْ مَا أُوحِيَ إِلَيْكَ مِنْ رَبِّكَ، لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ، وَأَعْرِضْ عَنِ الْمُشْرِكِينَ، وَلَوْ شَاءَ اللَّهُ مَا أَشْرَكُوا، وَمَا جَعَلْنَاكَ عَلَيْهِمْ حَفِيظًا، وَمَا أَنْتَ عَلَيْهِمْ بِوَكِيلٍ} [الأنعام: 106-107]
ترجمہ:
"تم اس کی پیروی کرو جو تمہارے رب کی طرف سے تمہاری طرف وحی کیا گیا ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، اور مشرکوں سے منہ پھیر لو، اور اگر اللہ چاہتا تو وہ شرک نہ کرتے، اور ہم نے تمہیں ان پر نگہبان نہیں بنایا، اور نہ تم ان پر ذمہ دار ہو۔"

{مَنْ يُضْلِلِ اللَّهُ فَلَا هَادِيَ لَهُ، وَيَذَرُهُمْ فِي طُغْيَانِهِمْ يَعْمَهُونَ} [الأعراف: 186]
ترجمہ:
"جسے اللہ گمراہ کر دے، اس کا کوئی راہنما نہیں، اور وہ انہیں ان کی سرکشی میں بھٹکتا ہوا چھوڑ دیتا ہے۔"

{وَمَنْ يُضْلِلِ اللَّهُ فَمَا لَهُ مِنْ هَادٍ} [الرعد: 33، الزمر: 36، غافر: 33]
ترجمہ:
"اور جسے اللہ گمراہ کر دے، اس کا کوئی راہنما نہیں۔"

{وَمَنْ يُضْلِلِ اللَّهُ فَمَا لَهُ مِنْ سَبِيلٍ} [الشورى: 46]
ترجمہ:
"اور جسے اللہ گمراہ کر دے، اس کے لیے کوئی راستہ نہیں۔"

{فَمَا لَكُمْ فِي الْمُنَافِقِينَ فِئَتَيْنِ وَاللَّهُ أَرْكَسَهُمْ بِمَا كَسَبُوا أَتُرِيدُونَ أَنْ تَهْدُوا مَنْ أَضَلَّ اللَّهُ، وَمَنْ يُضْلِلِ اللَّهُ فَلَنْ تَجِدَ لَهُ سَبِيلًا} [النساء: 88]
ترجمہ:
"تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ منافقوں کے بارے میں دو گروہ بن گئے ہو؟ حالانکہ اللہ نے انہیں ان کے کرتوتوں کی وجہ سے الٹ دیا ہے۔ کیا تم اسے ہدایت دینا چاہتے ہو جسے اللہ نے گمراہ کر دیا؟ اور جسے اللہ گمراہ کر دے، تو تم اس کے لیے کوئی راستہ نہیں پاؤ گے۔"

{إِنَّ الَّذِينَ حَقَّتْ عَلَيْهِمْ كَلِمَةُ رَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ وَلَوْ جَاءَتْهُمْ كُلُّ آَيَةٍ، حَتَّى يَرَوُا الْعَذَابَ الْأَلِيمَ} [يونس: 96-97]
ترجمہ:
"بے شک جن پر تیرے رب کی بات (عذاب کا وعدہ) پوری ہو چکی ہے، وہ ایمان نہیں لائیں گے، خواہ ان کے پاس ہر قسم کی نشانی آ جائے، یہاں تک کہ دردناک عذاب دیکھ لیں۔"

{فَإِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُونَ، مَا أَنْتُمْ عَلَيْهِ بِفَاتِنِينَ إِلَّا مَنْ هُوَ صَالِ الْجَحِيمِ} [الصافات: 161-163]
ترجمہ:
"پس بے شک تم اور تمہارے معبود، تم (کسی کو) گمراہ کرنے والے نہیں، سوائے اس کے جو جہنم میں جانے والا ہے۔"

{قَالُوا يَا نُوحُ قَدْ جَادَلْتَنَا فَأَكْثَرْتَ جِدَالَنَا، فَأْتِنَا بِمَا تَعِدُنَا إِنْ كُنْتَ مِنَ الصَّادِقِينَ، قَالَ إِنَّمَا يَأْتِيكُمْ بِهِ اللَّهُ إِنْ شَاءَ، وَمَا أَنْتُمْ بِمُعْجِزِينَ، وَلَا يَنْفَعُكُمْ نُصْحِي إِنْ أَرَدْتُ أَنْ أَنْصَحَ لَكُمْ إِنْ كَانَ اللَّهُ يُرِيدُ أَنْ يُغْوِيَكُمْ، هُوَ رَبُّكُمْ وَإِلَيْهِ تُرْجَعُونَ} [هود: 32-34]
ترجمہ:
"انہوں نے کہا: اے نوح! تم نے ہم سے جھگڑا کیا اور بہت جھگڑا کیا، اب لے آؤ وہ عذاب جس کی ہمیں دھمکی دیتے ہو، اگر تم سچے ہو۔ اس نے کہا: اللہ ہی اسے لائے گا اگر چاہے، اور تم عاجز کرنے والے نہیں ہو، اور میری نصیحت تمہیں فائدہ نہیں دے گی، اگر میں تمہیں نصیحت کرنا بھی چاہوں، جب اللہ تمہیں گمراہ کرنا چاہے، وہی تمہارا رب ہے اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے۔"

{قَالَ يَا إِبْلِيسُ مَا لَكَ أَلَّا تَكُونَ مَعَ السَّاجِدِينَ، قَالَ لَمْ أَكُنْ لِأَسْجُدَ لِبَشَرٍ خَلَقْتَهُ مِنْ صَلْصَالٍ مِنْ حَمَإٍ مَسْنُونٍ، قَالَ فَاخْرُجْ مِنْهَا فَإِنَّكَ رَجِيمٌ، وَإِنَّ عَلَيْكَ اللَّعْنَةَ إِلَى يَوْمِ الدِّينِ، قَالَ رَبِّ فَأَنْظِرْنِي إِلَى يَوْمِ يُبْعَثُونَ، قَالَ فَإِنَّكَ مِنَ الْمُنْظَرِينَ، إِلَى يَوْمِ الْوَقْتِ الْمَعْلُومِ، قَالَ رَبِّ بِمَا أَغْوَيْتَنِي لَأُزَيِّنَنَّ لَهُمْ فِي الْأَرْضِ وَلَأُغْوِيَنَّهُمْ أَجْمَعِينَ، إِلَّا عِبَادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِينَ} [الحجر: 32-40]
ترجمہ:
"(اللہ نے) کہا: اے ابلیس! تجھے کیا ہوا کہ تو سجدہ کرنے والوں میں شامل نہ ہوا؟ اس نے کہا: میں اس بشر کو سجدہ نہیں کروں گا جسے تو نے کھنکھناتی مٹی سے بنایا۔ اللہ نے کہا: تو یہاں سے نکل جا، تو مردود ہے، اور تجھ پر قیامت کے دن تک لعنت ہے۔ اس نے کہا: اے میرے رب! مجھے اس دن تک مہلت دے جب لوگ دوبارہ اٹھائے جائیں گے۔ اللہ نے کہا: تو مہلت والوں میں سے ہے، ایک معلوم وقت تک۔ اس نے کہا: اے میرے رب! جیسے تو نے مجھے گمراہ کیا، میں زمین میں ان کے لیے (برائیوں کو) آراستہ کروں گا اور سب کو گمراہ کروں گا، سوائے تیرے ان چنے ہوئے بندوں کے۔"

{وَمَنْ يُرِدِ اللَّهُ فِتْنَتَهُ فَلَنْ تَمْلِكَ لَهُ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا، أُولَئِكَ الَّذِينَ لَمْ يُرِدِ اللَّهُ أَنْ يُطَهِّرَ قُلُوبَهُمْ، لَهُمْ فِي الدُّنْيَا خِزْيٌ وَلَهُمْ فِي الْآَخِرَةِ عَذَابٌ عَظِيمٌ} [المائدة: 41]
ترجمہ:
"اور جسے اللہ آزمائش میں ڈالنا چاہے، تو تم اللہ کے مقابلے میں اس کے لیے کچھ نہیں کر سکتے، یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں کو اللہ پاک کرنا نہیں چاہتا، ان کے لیے دنیا میں رسوائی ہے اور آخرت میں بڑا عذاب ہے۔"

{فَإِنْ تَوَلَّوْا فَاعْلَمْ أَنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ أَنْ يُصِيبَهُمْ بِبَعْضِ ذُنُوبِهِمْ} [المائدة: 49]
ترجمہ:
"پس اگر وہ منہ پھیر لیں تو جان لو کہ اللہ چاہتا ہے کہ انہیں ان کے بعض گناہوں کی پاداش میں مبتلا کر دے۔"

{وَأَمَّا الْغُلَامُ فَكَانَ أَبَوَاهُ مُؤْمِنَيْنِ فَخَشِينَا أَنْ يُرْهِقَهُمَا طُغْيَانًا وَكُفْرًا} [الكهف: 80]
ترجمہ:
"رہا وہ لڑکا، تو اس کے ماں باپ مومن تھے، ہمیں ڈر ہوا کہ وہ انہیں سرکشی اور کفر میں مبتلا کر دے گا۔"

{سَيَقُولُ الَّذِينَ أَشْرَكُوا لَوْ شَاءَ اللَّهُ مَا أَشْرَكْنَا وَلَا آَبَاؤُنَا وَلَا حَرَّمْنَا مِنْ شَيْءٍ، كَذَلِكَ كَذَّبَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ حَتَّى ذَاقُوا بَأْسَنَا، قُلْ هَلْ عِنْدَكُمْ مِنْ عِلْمٍ فَتُخْرِجُوهُ لَنَا، إِنْ تَتَّبِعُونَ إِلَّا الظَّنَّ وَإِنْ أَنْتُمْ إِلَّا تَخْرُصُونَ, قُلْ فَلِلَّهِ الْحُجَّةُ الْبَالِغَةُ، فَلَوْ شَاءَ لَهَدَاكُمْ أَجْمَعِينَ} [الأنعام: 148-149]
ترجمہ:
"مشرک لوگ کہیں گے: اگر اللہ چاہتا تو ہم اور ہمارے باپ دادا شرک نہ کرتے اور نہ ہی کسی چیز کو حرام کرتے، اسی طرح ان سے پہلے والوں نے جھٹلایا یہاں تک کہ ہمارا عذاب چکھ لیا، کہہ دو: کیا تمہارے پاس کوئی علم ہے جسے ہمارے سامنے پیش کرو؟ تم صرف گمان کی پیروی کرتے ہو اور محض اٹکل کرتے ہو، کہہ دو: اللہ ہی کی دلیل کامل ہے، پس اگر وہ چاہتا تو تم سب کو ہدایت دے دیتا۔"

{إِنَّ هَذِهِ تَذْكِرَةٌ فَمَنْ شَاءَ اتَّخَذَ إِلَى رَبِّهِ سَبِيلًا، وَمَا تَشَاءُونَ إِلَّا أَنْ يَشَاءَ اللَّهُ، إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلِيمًا حَكِيمًا، يُدْخِلُ مَنْ يَشَاءُ فِي رَحْمَتِهِ، وَالظَّالِمِينَ أَعَدَّ لَهُمْ عَذَابًا أَلِيمًا} [الإنسان: 29-31]
ترجمہ:
"بے شک یہ ایک نصیحت ہے، پس جو چاہے اپنے رب کی طرف راہ اختیار کر لے، اور تم اس وقت تک نہیں چاہ سکتے جب تک اللہ نہ چاہے، بے شک اللہ بڑا جاننے والا، بڑا حکمت والا ہے، وہ جسے چاہتا ہے اپنی رحمت میں داخل کر لیتا ہے، اور ظالموں کے لیے دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے۔"

{إِنْ هُوَ إِلَّا ذِكْرٌ لِلْعَالَمِينَ، لِمَنْ شَاءَ مِنْكُمْ أَنْ يَسْتَقِيمَ، وَمَا تَشَاءُونَ إِلَّا أَنْ يَشَاءَ اللَّهُ رَبُّ الْعَالَمِينَ} [التكوير: 27-29]
ترجمہ:
"یہ (قرآن) تو تمام جہان والوں کے لیے ایک نصیحت ہے، تم میں سے اس کے لیے جو سیدھا رہنا چاہے، اور تم اس وقت تک نہیں چاہ سکتے جب تک اللہ رب العالمین نہ چاہے۔"







متن (عربی):
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رضي الله عنه - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم - لِعَمِّهِ: " قُلْ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، أَشْهَدُ لَكَ بِهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ "، قَالَ: لَوْلَا أَنْ تُعَيِّرَنِي قُرَيْشٌ يَقُولُونَ: إِنَّمَا حَمَلَهُ عَلَى ذَلِكَ الْجَزَعُ (١) لَأَقْرَرْتُ بِهَا عَيْنَكَ (٢) فَأَنْزَلَ اللهُ - عز وجل -: {إِنَّكَ لَا تَهْدِي مَنْ أَحْبَبْتَ، وَلَكِنَّ اللهَ يَهْدِي مَنْ يَشَاءُ، وَهُوَ أَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِينَ} (٣) " (٤)

ترجمہ:
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چچا (ابوطالب) سے فرمایا:
"لا الہ الا اللہ کہہ دو، میں قیامت کے دن تمہارے لیے اس کی گواہی دوں گا۔"
انہوں نے کہا: "اگر یہ بات نہ ہوتی کہ قریش مجھ پر طعن کریں گے اور کہیں گے کہ (موت کے) ڈر نے اسے ایسا کرنے پر مجبور کیا ہے، تو میں ضرور تمہاری آنکھوں کو ٹھنڈا کر دیتا (یعنی تمہاری خواہش پوری کر دیتا)۔"
تب اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی:
{بے شک آپ اسے ہدایت نہیں دے سکتے جسے آپ چاہیں، بلکہ اللہ ہی جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے، اور وہ ہدایت یافتہ لوگوں کو خوب جانتا ہے} [القصص: 56]۔


حواشی و حوالہ جات
(١) (الْجَزَعُ): نَقِيضُ الصَّبْرِ. وَذَهَبَ جَمَاعَاتٌ مِنْ أَهْلِ اللُّغَةِ إِلَى أَنَّهُ (الْخَرَعُ) وَهُوَ: الضَّعْفُ وَالْخَوَرُ. (تحفة الأحوذي - ج 8 / ص 27)
ترجمہ: "جزع" صبر کی ضد ہے۔ بعض اہل زبان نے کہا کہ اس کا مطلب "خرع" (کمزوری اور ڈر) ہے۔

(٢) (أَقَرَّ اللهُ عَيْنَه): أَيْ: بَلَّغَهُ اللهُ أُمْنِيَّتَه، حَتَّى تَرْضَى نَفْسُه، وَتَقَرَّ عَيْنُه فَلَا تَسْتَشْرِفُ لِشَيْءٍ. (شرح النووي على مسلم - ج 1 / ص 98)
ترجمہ: "اللہ اس کی آنکھ ٹھنڈی کرے" کا مطلب ہے: اللہ اسے اس کی آرزو تک پہنچا دے، یہاں تک کہ اس کا نفس مطمئن ہو جائے اور اس کی آنکھ ٹھنڈی ہو جائے، پھر وہ کسی چیز کی طرف نہ دیکھے۔

(٣) [القصص: 56]

(٤) تخریج: صحیح مسلم: 42 (25)، سنن ترمذی: 3188۔





حاصل شدہ اہم اسباق و نکات
نبی ﷺ کی اپنے چچا کے لیے محبت اور شفقت:
آپ نے اپنے چچا ابوطالب کو بار بار اسلام کی دعوت دی، اور آخر وقت بھی انہیں کلمہ پڑھنے کی تلقین کی۔ یہ آپ کی قریبی رشتہ داروں کے لیے محبت اور ان کی نجات کی فکر کو ظاہر کرتا ہے۔

ہدایت صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے:
نبی ﷺ ابوطالب سے محبت کرتے تھے اور چاہتے تھے کہ وہ مسلمان ہو جائیں، لیکن اللہ نے آپ کو بتایا کہ آپ کسی کو ہدایت نہیں دے سکتے، بلکہ اللہ ہی جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے۔ یہ عقیدہ اہل سنت کا ہے کہ ہدایت صرف اللہ کی طرف سے ہے۔

ابوطالب کا انکار اور قریش کا طعن:
ابوطالب نے یہ کہہ کر کلمہ پڑھنے سے انکار کر دیا کہ قریش مجھ پر طعن کریں گے کہ موت کے ڈر نے مجھے ایسا کرنے پر مجبور کیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ بعض لوگ دنیاوی عزت و ناموس کی وجہ سے حق قبول کرنے سے رک جاتے ہیں۔

آیت کا نزول:
اس واقعے کے بعد اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی جو ہدایت کے بارے میں ایک واضح اصول بتاتی ہے: نبی بھی کسی کو ہدایت نہیں دے سکتا، یہ صرف اللہ کا کام ہے۔

نبی ﷺ کی گواہی کا وعدہ:
آپ نے فرمایا: "میں قیامت کے دن تمہارے لیے اس کی گواہی دوں گا"۔ اس سے معلوم ہوا کہ نبی ﷺ اپنے چچا کے لیے شفاعت کرنا چاہتے تھے، لیکن یہ شفاعت اس وقت تک نہیں ہو سکتی جب تک وہ ایمان نہ لائیں۔

ہدایت کی دعا کرنا:
ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ اللہ سے ہدایت کی دعا کرے، اور اپنے رشتہ داروں کے لیے بھی دعا کرے، لیکن یہ نہ بھولے کہ حقیقی ہدایت دینے والا صرف اللہ ہے۔

حدیث کی صحت:
یہ حدیث صحیح مسلم اور سنن ترمذی میں موجود ہے اور محدثین کے نزدیک صحیح ہے۔

واللہ اعلم بالصواب







متن (عربی):
عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ - رضي الله عنه - قَالَ: (" رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ - صلى الله عليه وسلم - يَوْمَ الْأَحْزَابِ) (١) (وَهُوَ يَنْقُلُ مَعَ النَّاسِ) (٢) (مِنْ تُرَابِ الْخَنْدَقِ) (٣) (وَقَدْ وَارَى) (٤) (الْغُبَارُ) (٥) (شَعَرَ صَدْرِهِ - وَكَانَ رَجُلًا كَثِيرَ الشَّعَرِ-) (٦) (فَسَمِعْتُهُ يَرْتَجِزُ بِكَلِمَاتِ عَبْدِ اللهِ بْنِ رَوَاحَةَ - رضي الله عنه - وَهُوَ يَنْقُلُ مِنْ التُّرَابِ) (٧) (يَقُولُ:

اللَّهُمَّ لَوْلَا أَنْتَ مَا اهْتَدَيْنَا ... وَلَا تَصَدَّقْنَا وَلَا صَلَّيْنَا

فَأَنْزِلَنْ سَكِينَةً عَلَيْنَا ... وَثَبِّتْ الْأَقْدَامَ إِنْ لَاقَيْنَا) (٨)

(إِنَّ الْأُلَى (٩) قَدْ بَغَوْا عَلَيْنَا ... وَإِنْ أَرَادُوا فِتْنَةً أَبَيْنَا) (١٠)

(وَرَفَعَ بِهَا صَوْتَهُ: أَبَيْنَا , أَبَيْنَا ") (١١)

وَقَالَ تَعَالَى: {وَالَّذِينَ آَمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَا نُكَلِّفُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا , أُولَئِكَ أَصْحَابُ الْجَنَّةِ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ , وَنَزَعْنَا مَا فِي صُدُورِهِمْ مِنْ غِلٍّ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهِمُ الْأَنْهَارُ , وَقَالُوا الْحَمْدُ للهِ الَّذِي هَدَانَا لِهَذَا , وَمَا كُنَّا لِنَهْتَدِيَ لَوْلَا أَنْ هَدَانَا اللهُ} (١٢)

ترجمہ:
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا:

"میں نے غزوہ احزاب (خندق) کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا (١)، آپ لوگوں کے ساتھ (٢) خندق کی مٹی اٹھا رہے تھے (٣)، اور گرد و غبار نے (٤،٥) آپ کے سینے کے بالوں کو ڈھانپ رکھا تھا – آپ بہت زیادہ بالوں والے تھے (٦)۔ میں نے آپ کو عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کے اشعار پڑھتے سنا، اور آپ مٹی اٹھا رہے تھے (٧):

"اے اللہ! اگر تو نہ ہوتا تو ہم ہدایت نہ پاتے،
نہ صدقہ کرتے اور نہ نماز پڑھتے۔
پس ہم پر سکینہ نازل فرما،
اور جب (دشمن سے) مقابلہ ہو تو ہمارے قدم جما دے۔"

(٩) بے شک ان لوگوں نے (جو) ہم پر زیادتی کی ہے،
اور اگر وہ ہمیں فتنے میں ڈالنا چاہیں تو ہم انکار کر دیں گے (١٠)۔

اور آپ نے اس (جملے) کو بلند آواز سے دہرایا: "ہم انکار کریں گے، ہم انکار کریں گے" (١١)۔

اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {اور جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک اعمال کیے – ہم کسی نفس کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتے – وہی جنت کے لوگ ہیں، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ اور ہم ان کے سینوں سے کینہ نکال دیں گے، ان کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی، اور وہ کہیں گے: سب تعریف اللہ کے لیے ہے جس نے ہمیں اس (مقام) کی ہدایت دی، اور ہم ہدایت نہ پاتے اگر اللہ ہمیں ہدایت نہ دیتا} (١٢)۔"

تخریج و حوالہ جات
(١) صحیح بخاری: 2682
(٢) مسند احمد: 18509، اور شیخ شعیب ارناؤوط نے کہا: حدیث صحیح ہے۔
(٣) صحیح بخاری: 3880
(٤) صحیح بخاری: 2682
(٥) صحیح بخاری: 3880
(٦) صحیح بخاری: 2870
(٧) صحیح بخاری: 3880
(٨) صحیح بخاری: 2870
(٩) "الأُلى" کے معنی "الذین" (وہ لوگ) ہیں۔ (لسان العرب، ج 15، ص 364)
(١٠) صحیح بخاری: 3880
(١١) صحیح بخاری: 3878، صحیح مسلم: 125 (1803)، مسند احمد: 18509
(١٢) سورہ الأعراف: 42-43




حاصل شدہ اہم اسباق و نکات
نبی ﷺ کی عاجزی اور محنت:
غزوہ خندق میں آپ نے خود دوسروں کے ساتھ مل کر مٹی اٹھائی، یہاں تک کہ آپ کے جسم پر گرد و غبار جم گیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے کبھی خود کو دوسروں پر برتر نہیں سمجھا۔

نبی ﷺ کی شاعری سے محبت:
آپ نے عبداللہ بن رواحہ کے اشعار کو اپنے کام کے دوران پڑھا، اور اسے بلند آواز سے دہرایا۔ اس سے معلوم ہوا کہ جائز اور نیک مقصد کے لیے شاعری کرنا اور سننا جائز ہے۔

دعا میں اللہ کی طرف رجوع:
ان اشعار میں اللہ سے ہدایت، صدقہ، نماز، سکینہ اور ثبات قدمی کی دعا مانگی گئی ہے۔ یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ ہر معاملے میں اللہ ہی سے مدد مانگنی چاہیے۔

باطل کے خلاف مزاحمت کا عزم:
"وَإِنْ أَرَادُوا فِتْنَةً أَبَيْنَا" (اگر وہ ہمیں فتنے میں ڈالنا چاہیں تو ہم انکار کر دیں گے) – اس جملے کو دہرانے سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلمانوں کو باطل کے سامنے سر تسلیم خم نہیں کرنا چاہیے۔

اللہ کی ہدایت ہی اصل ہے:
آیت کے آخر میں "وَمَا كُنَّا لِنَهْتَدِيَ لَوْلَا أَنْ هَدَانَا اللَّهُ" (ہم ہدایت نہ پاتے اگر اللہ ہمیں ہدایت نہ دیتا) سے معلوم ہوتا ہے کہ ہدایت صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے۔

عمل اور دعا کا تعلق:
صحابہ نے محنت کے ساتھ دعا بھی کی۔ اس سے معلوم ہوا کہ انسان کو اسباب اختیار کرنے کے ساتھ ساتھ اللہ سے مدد بھی مانگنی چاہیے۔

سکینہ اور ثبات قدمی کی اہمیت:
مشکل حالات میں اللہ سے سکینہ (اطمینان) اور ثبات قدمی کی دعا مانگنی چاہیے، جیسا کہ نبی ﷺ نے فرمایا۔

جنت میں کینہ و حسد کا خاتمہ:
آیت میں بتایا گیا کہ جنت میں داخل ہونے کے بعد مومنوں کے سینوں سے کینہ نکال دیا جائے گا، اور وہ باہم محبت میں رہیں گے۔

حدیث کی صحت:
یہ حدیث صحیح بخاری و مسلم میں موجود ہے اور محدثین کے نزدیک صحیح ہے۔

واللہ اعلم بالصواب






متن (عربی):
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رضي الله عنه - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم -:
" لَا يَدْخُلُ أَحَدٌ الْجَنَّةَ إِلَّا أُرِيَ مَقْعَدَهُ مِنْ النَّارِ لَوْ أَسَاءَ، لِيَزْدَادَ شُكْرًا (١) فَيَقُولُ: لَوْلَا أَنَّ اللهَ هَدَانِي (٢) وَلَا يَدْخُلُ النَّارَ أَحَدٌ إِلَّا أُرِيَ مَقْعَدَهُ مِنْ الْجَنَّةِ لَوْ أَحْسَنَ، لِيَكُونَ عَلَيْهِ حَسْرَةً (٣) فَيَقُولُ: لَوْ أَنَّ اللهَ هَدَانِي " (٤)

اردو ترجمہ:
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"کوئی شخص جنت میں داخل نہیں ہو گا مگر اسے جہنم میں اس کا وہ مقام دکھایا جائے گا جو اسے برائی کی صورت میں ملتا، تاکہ اس کا شکر زیادہ ہو جائے (١) – پھر وہ کہے گا: اگر اللہ نے مجھے ہدایت نہ دی ہوتی (تو میرا یہ حال ہوتا) (٢)۔ اور کوئی شخص جہنم میں داخل نہیں ہو گا مگر اسے جنت میں اس کا وہ مقام دکھایا جائے گا جو اسے نیکی کی صورت میں ملتا، تاکہ اس کے لیے حسرت کا باعث ہو (٣) – پھر وہ کہے گا: کاش اللہ نے مجھے ہدایت دے دی ہوتی (٤)۔"

تخریج و حوالہ جات
(١) صحیح بخاری: 6200
(٢) مسند احمد: 10660، اور شیخ شعیب ارناؤوط نے کہا: اس کی سند صحیح ہے۔
(٣) صحیح بخاری: 6200
(٤) مسند احمد: 10660، دیکھیے صحیح الجامع: 4514، سلسلہ صحیحہ: 2034




حاصل شدہ اہم اسباق و نکات
اہل جنت کو جہنم کا مقام دکھانا – شکر میں اضافہ:
جنت میں داخل ہونے والوں کو وہ مقام دکھایا جائے گا جو انہیں جہنم میں ملتا اگر وہ برے عمل کرتے۔ اس سے ان کا شکر زیادہ ہو گا کہ اللہ نے انہیں بچا لیا۔

اہل جنت کا قول:
وہ کہیں گے: "اگر اللہ نے مجھے ہدایت نہ دی ہوتی (تو میرا یہ حال ہوتا)" – یہ اللہ کے فضل کا اعتراف ہے۔

اہل جہنم کو جنت کا مقام دکھانا – حسرت میں اضافہ:
جہنم میں جانے والوں کو وہ مقام دکھایا جائے گا جو انہیں جنت میں ملتا اگر وہ اچھے عمل کرتے۔ اس سے ان کی حسرت اور پشیمانی بڑھ جائے گی۔

اہل جہنم کا قول:
وہ کہیں گے: "کاش اللہ نے مجھے ہدایت دے دی ہوتی" – لیکن یہ پچھتاوا اس وقت فائدہ نہیں دے گا۔

ہدایت اللہ کے ہاتھ میں ہے:
یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ ہدایت اور گمراہی سب اللہ کے ہاتھ میں ہے، اور بندے کو ہدایت کے لیے اس کا شکر گزار ہونا چاہیے۔

شکر اور حسرت کا مقصد:
اہل جنت کا شکر بڑھانے اور اہل جہنم کی حسرت بڑھانے کے لیے یہ سب کچھ کیا جائے گا۔

اللہ کا عدل اور رحمت:
یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے ساتھ عدل کرتا ہے اور ہر ایک کو اس کے عمل کے مطابق جزا دیتا ہے۔

موت کے بعد پچھتانے کا کوئی فائدہ نہیں:
اہل جہنم کا یہ کہنا "کاش اللہ نے مجھے ہدایت دے دی ہوتی" انہیں کوئی فائدہ نہیں دے گا، کیونکہ دنیا میں عمل کرنے کا موقع ختم ہو چکا ہوگا۔

اللہ کے فضل کا اعتراف:
اہل جنت اللہ کے فضل کا اعتراف کریں گے کہ اگر اللہ نے ہدایت نہ دی ہوتی تو وہ بھی جہنم میں ہوتے۔

حدیث کی صحت:
یہ حدیث صحیح بخاری اور مسند احمد میں موجود ہے اور محدثین کے نزدیک صحیح ہے۔

واللہ اعلم بالصواب






متن (عربی):
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رضي الله عنهما - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم -:
" مَنْ يُرِدِ اللهُ بِهِ خَيْرًا , يُفَقِّهْهُ فِي الدِّينِ (١) " (٢)

ترجمہ:
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ بھلائی کا ارادہ کرتا ہے، اسے دین کی سمجھ (فقہ) عطا فرما دیتا ہے۔"

[صحیح بخاری:3971، صحیح مسلم:1037، سنن ترمذی:2645، سنن ابن ماجہ:221، مسند احمد:16885]

حاشیہ:
(١) (يُفَقِّهْهُ) أَيْ: يُفَهِّمْهُ، يُقَال: فَقُهَ , إِذَا صَارَ الْفِقْهُ لَهُ سَجِيَّةً، وَفَقَهَ بِالْفَتْحِ: إِذَا سَبَقَ غَيْرَهُ إِلَى الْفَهْمِ، وَفَقِهَ بِالْكَسْرِ: إِذَا فَهِمَ.
وَمَفْهُوم الْحَدِيث أَنَّ مَنْ لَمْ يَتَفَقَّهْ فِي الدِّينِ - أَيْ: يَتَعَلَّمُ قَوَاعِدَ الْإِسْلَامِ , وَمَا يَتَّصِلُ بِهَا مِنْ الْفُرُوعِ - فَقَدْ حُرِمَ الْخَيْر. (فتح الباري، حدیث نمبر 71)
ترجمہ:
"یُفَقِّهْهُ" کے معنی ہیں: اسے سمجھا دے۔ کہا جاتا ہے: "فَقُهَ" (ضمہ کے ساتھ) جب فقہ اس کی عادت بن جائے، اور "فَقَهَ" (فتحہ کے ساتھ) جب وہ دوسروں سے پہلے سمجھ جائے، اور "فَقِهَ" (کسرہ کے ساتھ) جب وہ خود سمجھ لے۔
اس حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ جو شخص دین میں تفقہ (سمجھ) حاصل نہیں کرتا – یعنی اسلام کے بنیادی قواعد اور ان سے متعلقہ فروعی مسائل نہیں سیکھتا – تو وہ بھلائی سے محروم رہ جاتا ہے۔
(فتح الباری، حدیث نمبر 71)




حاصل شدہ اہم اسباق و نکات
دین کی سمجھ بھلائی کی علامت ہے:
جس شخص کو اللہ تعالیٰ بھلائی دینا چاہتا ہے، اسے دین کی سمجھ (فقہ) عطا فرماتا ہے۔ یہ اللہ کی طرف سے ایک بڑی نعمت ہے۔

فقہ کا مفہوم:
یہاں "فقہ" سے مراد دین کی گہری سمجھ ہے، یعنی قرآن و سنت کی روشنی میں احکام کو جاننا اور ان پر عمل کرنا۔

دین سیکھنے کی ترغیب:
یہ حدیث ہر مسلمان کو دین سیکھنے اور سمجھنے کی ترغیب دیتی ہے، کیونکہ یہی بھلائی کا ذریعہ ہے۔

دین سے دوری محرومی ہے:
جو شخص دین کی سمجھ حاصل نہیں کرتا، وہ درحقیقت بھلائی سے محروم ہے۔

فقہ کی اہمیت:
فقہ (دین کی سمجھ) انسان کو صحیح عقیدہ، عبادات اور معاملات کی درست ادائیگی میں مدد دیتی ہے۔

حدیث کی صحت:
یہ حدیث صحیح بخاری و مسلم میں موجود ہے اور محدثین کے نزدیک صحیح ہے۔

ہمارے لیے سبق:
ہمیں چاہیے کہ ہم دین سیکھنے کے لیے وقت نکالیں، علماء سے استفادہ کریں، اور اپنے بچوں کو بھی دین کی تعلیم دیں۔

دین کی سمجھ ایمان کی حفاظت کرتی ہے:
جب کوئی شخص دین کو صحیح طور پر سمجھ لیتا ہے تو وہ بدعات اور گمراہیوں سے بچ جاتا ہے۔

واللہ اعلم بالصواب









متن (عربی):
عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ - رضي الله عنه - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم -:
" إِنَّ اللهَ يُعْطِي الدُّنْيَا مَنْ يُحِبُّ , وَمَنْ لَا يُحِبُّ، وَلَا يُعْطِي الْإِيمَانَ إِلَّا مَنْ يُحِبُّ "

ترجمہ:
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"بے شک اللہ تعالیٰ دنیا اسے دیتا ہے جس سے وہ محبت کرتا ہے اور جس سے محبت نہیں کرتا، لیکن ایمان صرف اسی کو عطا فرماتا ہے جس سے وہ محبت کرتا ہے۔"

[المعجم الإسماعيلي(114/1)، الأدب المفرد للبخاري:275، الصحيحة:2714]

حاصل شدہ اہم اسباق و نکات
دنیا کی وسعت اور اس کی گرفت:
اللہ تعالیٰ دنیاوی نعمتیں ہر ایک کو دیتا ہے، خواہ وہ اس کا دوست ہو یا دشمن، مومن ہو یا کافر۔ یہ اس کی رحمت اور کشادگی ہے۔

ایمان ایک خاص عطیہ ہے:
ایمان صرف انہی لوگوں کو ملتا ہے جن سے اللہ محبت کرتا ہے۔ یہ ایک خاص اور قیمتی تحفہ ہے جو محبوب بندوں کو دیا جاتا ہے۔

دنیا کی نعمت اور آخرت کی نعمت میں فرق:
دنیا کی نعمتیں عارضی اور غیر مشروط ہیں، جبکہ ایمان کی نعمت دائمی اور مشروط ہے (اللہ کی محبت سے وابستہ)۔

اللہ کی محبت کی علامت:
اگر کسی کو ایمان کی توفیق ملے تو یہ اس بات کی علامت ہے کہ اللہ اس سے محبت کرتا ہے۔

شکر کی اہمیت:
جس شخص کو ایمان جیسی عظیم نعمت ملے، اسے چاہیے کہ وہ اللہ کا شکر ادا کرے اور اس نعمت کو محفوظ رکھے۔

حدیث کی صحت:
یہ حدیث صحیح ہے، جیسا کہ علامہ البانی نے اسے "سلسلة الأحاديث الصحيحة" میں شامل کیا ہے۔

واللہ اعلم بالصواب










متن (عربی):
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رضي الله عنهما - قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم - يَقُولُ:
" اللَّهُمَّ لَكَ أَسْلَمْتُ , وَبِكَ آمَنْتُ , وَعَلَيْكَ تَوَكَّلْتُ , وَإِلَيْكَ أَنَبْتُ , وَبِكَ خَاصَمْتُ , اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِعِزَّتِكَ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ أَنْ تُضِلَّنِي , أَنْتَ الْحَيُّ الَّذِي لَا يَمُوتُ , وَالْجِنُّ وَالْإِنْسُ يَمُوتُونَ "

ترجمہ:
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا پڑھا کرتے تھے:
"اے اللہ! میں نے تیرے لیے سر تسلیم خم کر دیا، اور تجھ پر ایمان لایا، اور تجھ پر بھروسہ کیا، اور تیری ہی طرف رجوع کیا، اور تیری ہی مدد سے (دشمنوں سے) جھگڑا کیا۔ اے اللہ! میں تیری عزت کی پناہ مانگتا ہوں – تیرے سوا کوئی معبود نہیں – کہ تو مجھے گمراہ کر دے۔ تو وہ زندہ ہے جو کبھی نہیں مرتا، جبکہ جن اور انسان سب مرنے والے ہیں۔"

[صحیح مسلم:2717، صحیح بخاری:6948، مسند احمد:2748، صحیح ابن حبان:898]


حاصل شدہ اہم اسباق و نکات
دعا میں توحید اور اللہ کی حمد و ثنا:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دعا میں اللہ کی ربوبیت، وحدانیت اور صفاتِ کمال کا اعتراف کیا۔ یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ دعا کرتے وقت اللہ کی تعریف اور اس کی بڑائی بیان کرنی چاہیے۔

اسلام، ایمان، توکل، انابت اور خاصمہ کا تعلق:
اسلام: ظاہری اطاعت
ایمان: قلبی تصدیق
توکل: اللہ پر بھروسہ
انابت: اللہ کی طرف رجوع
خاصمہ: اللہ کی مدد سے جھگڑا کرنا (یعنی حق کے لیے کھڑے ہونا)
یہ پانچوں بندے کے اللہ سے تعلق کو مضبوط کرتے ہیں۔

گمراہی سے پناہ مانگنا:
آپ ﷺ نے اللہ کی عزت کی پناہ میں یہ دعا مانگی کہ وہ آپ کو گمراہ نہ کرے۔ اس سے معلوم ہوا کہ گمراہی سے بچنا ہر مومن کی بنیادی ضرورت ہے، اور ہمیں اس سے ہمیشہ پناہ مانگنی چاہیے۔

اللہ کی عزت کا واسطہ:
"أَعُوذُ بِعِزَّتِكَ" سے معلوم ہوتا ہے کہ ہم اللہ کی صفات کا واسطہ دے کر دعا مانگ سکتے ہیں، جیسا کہ آپ ﷺ نے اپنی عزت کا واسطہ دیا۔

اللہ کی حیات (زندگی) کی دوام:
"أَنْتَ الْحَيُّ الَّذِي لَا يَمُوتُ" – اللہ ہمیشہ زندہ ہے، اسے موت نہیں۔ جبکہ تمام جن و انس کو موت آئے گی۔ یہ اللہ اور مخلوق کے درمیان بنیادی فرق ہے۔

موت کی یاد دہانی:
"وَالْجِنُّ وَالْإِنْسُ يَمُوتُونَ" کا جملہ ہمیں موت یاد دلاتا ہے، جو دنیا کی زندگی کی حقیقت ہے۔ اس سے ہمیں آخرت کی تیاری کا سبق ملتا ہے۔

دعا کا جامع ہونا:
اس دعا میں عقیدہ (توحید، ایمان)، عمل (اسلام، توکل، انابت)، اور اللہ سے مدد مانگنا سب شامل ہے۔ یہ دعا نبی ﷺ کی جامعیت اور حکمت کو ظاہر کرتی ہے۔

حدیث کی صحت:
یہ دعا صحیح بخاری و مسلم میں موجود ہے اور محدثین کے نزدیک صحیح ہے۔ اس لیے ہمیں چاہیے کہ اس دعا کو پڑھا کریں اور اس کے مضامین پر عمل کریں۔

واللہ اعلم بالصواب







عنوان:
نماز جنازہ میں نبی ﷺ کی دعا
حدیث کا متن(عربی):
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رضي الله عنه - قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم - إِذَا صَلَّى عَلَى جِنَازَةٍ قَالَ:
" اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِحَيِّنَا وَمَيِّتِنَا، وَشَاهِدِنَا وَغَائِبِنَا، وَصَغِيرِنَا وَكَبِيرِنَا، وَذَكَرِنَا وَأُنْثَانَا , اللَّهُمَّ مَنْ أَحْيَيْتَهُ مِنَّا فَأَحْيِهِ عَلَى الْإِسْلَامِ، وَمَنْ تَوَفَّيْتَهُ مِنَّا فَتَوَفَّهُ عَلَى الْإِيمَانِ " (١)
دوسری روایت میں ہے:
" اللَّهُمَّ مَنْ أَحْيَيْتَهُ مِنَّا فَأَحْيِهِ عَلَى الْإِيمَانِ , وَمَنْ تَوَفَّيْتَهُ مِنَّا فَتَوَفَّهُ عَلَى الْإِسْلَامِ , اللَّهُمَّ لَا تَحْرِمْنَا أَجْرَهُ , وَلَا تُضِلَّنَا بَعْدَهُ " (٢)

ترجمہ:
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب جنازے کی نماز پڑھتے تو یہ دعا فرماتے:
"اے اللہ! ہمارے زندہ اور مردہ، حاضر اور غائب، چھوٹے اور بڑے، مرد اور عورت سب کو بخش دے۔ اے اللہ! ہم میں سے جسے تو زندہ رکھے، اسے اسلام پر زندہ رکھ، اور جسے تو موت دے، اسے ایمان پر موت دے۔"
دوسری روایت میں ہے:
"اے اللہ! ہم میں سے جسے تو زندہ رکھے، اسے ایمان پر زندہ رکھ، اور جسے تو موت دے، اسے اسلام پر موت دے۔ اے اللہ! ہمیں اس (میت) کے اجر سے محروم نہ کر، اور ہمیں اس کے بعد گمراہ نہ کر۔"

حوالہ جات
(١) سنن ابن ماجہ:1498، سنن ترمذی:1024، مسند احمد:8795
(۲) سنن ابی داود:3201، سنن ابن ماجہ:1498، سنن النسائی الکبریٰ:10919، مسند ابو یعلیٰ:6009، سنن البیهقی الکبریٰ:6763


حاصل شدہ اہم اسباق و نکات
نماز جنازہ میں دعا کی اہمیت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز جنازہ میں میت کے لیے دعا کرنا سکھایا۔ یہ دعا میت کی مغفرت کے لیے ہے۔

سب لوگوں کے لیے دعا:
آپ نے زندہ اور مردہ، حاضر اور غائب، چھوٹے اور بڑے، مرد اور عورت سب کے لیے دعا کی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نماز جنازہ میں تمام مسلمانوں کے لیے عام طور پر دعا کرنی چاہیے۔

اسلام اور ایمان پر زندگی و موت:
پہلی روایت میں "اسلام پر زندگی اور ایمان پر موت" کی دعا ہے، جبکہ دوسری میں "ایمان پر زندگی اور اسلام پر موت" ہے۔ یہ دونوں صفات ایک دوسرے کے ساتھ لازم و ملزوم ہیں۔ مومن کی زندگی اور موت دونوں اسلام و ایمان پر ہونی چاہیے۔

اجر سے محرومی سے بچنے کی دعا:
"لا تَحْرِمْنَا أَجْرَهُ" سے معلوم ہوا کہ میت کے لیے نماز پڑھنے اور اس کی تدفین کے انتظامات کرنے والوں کو بھی اجر ملتا ہے۔ ہمیں اس اجر سے محروم نہ ہونے کی دعا کرنی چاہیے۔

گمراہی سے بچنے کی دعا:
"وَلَا تُضِلَّنَا بَعْدَهُ" سے معلوم ہوا کہ میت کی موت کے بعد زندہ لوگوں کے لیے گمراہی کا اندیشہ ہوتا ہے، اس لیے ہمیں اس سے بچنے کی دعا کرنی چاہیے۔

موت کی یاد دہانی:
یہ دعا ہمیں موت کی یاد دلاتی ہے اور بتاتی ہے کہ ہر شخص کو ایک دن مرنا ہے، اس لیے ہمیں اپنی زندگی اور موت کو اسلام و ایمان پر گزارنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

اجتماعی دعا کی فضیلت:
نماز جنازہ میں یہ دعا اجتماعی طور پر پڑھی جاتی ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اجتماعی دعا زیادہ قبول ہوتی ہے۔

مسلمانوں کے لیے رحمت کی دعا:
اس دعا میں اللہ سے تمام مسلمانوں کے لیے مغفرت طلب کی گئی ہے، خواہ وہ زندہ ہوں یا مردہ، حاضر ہوں یا غائب۔

واللہ اعلم بالصواب








حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی صفا پر دعا

متن (عربی):
عَنْ نَافِعٍ أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ - رضي الله عنهما - وَهُوَ عَلَى الصَّفَا يَدْعُو يَقُولُ:
" اللَّهُمَّ إِنَّكَ قُلْتَ: {ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ} (١) وَإِنَّكَ لَا تُخْلِفُ الْمِيعَادَ , وَإِنِّي أَسْأَلُكَ كَمَا هَدَيْتَنِي لِلْإِسْلامِ , أَنْ لَا تَنْزِعَهُ مِنِّي حَتَّى تَتَوَفَّانِي وَأَنَا مُسْلِمٌ " (٢)

ترجمہ:
حضرت نافع سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو صفا پہاڑی پر یہ دعا کرتے سنا:
"اے اللہ! تو نے فرمایا ہے: 'مجھے پکارو، میں تمہاری دعا قبول کروں گا' (١)، اور تو وعدہ خلافی نہیں کرتا۔ میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ جس طرح تو نے مجھے اسلام کی ہدایت دی ہے، اسے مجھ سے نہ چھین لے یہاں تک کہ تو مجھے اس حال میں وفات دے کہ میں مسلمان ہوں۔"(٢)

حوالہ جات
(١) سورہ غافر: 60
(٢) المعجم الكبير للطبراني:831، سنن البيهقي الكبرى:9128



حاصل شدہ اہم اسباق و نکات
صفا پر دعا کرنا:
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے صفا پہاڑی پر یہ دعا کی۔ صفا اور مروہ سعی کے مقامات ہیں، اور ان پر دعا کرنا مستحب ہے۔

آیت "ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ" سے استدلال:
انہوں نے دعا سے پہلے اللہ کے اس وعدے کو یاد کیا کہ وہ دعا کرنے والوں کی دعا قبول کرتا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ دعا کرتے وقت اللہ کے وعدے کو یاد رکھنا چاہیے۔

اللہ کا وعدہ سچا ہے:
"وَإِنَّكَ لَا تُخْلِفُ الْمِيعَادَ" (اور تو وعدہ خلافی نہیں کرتا) – یہ اللہ کی صفت ہے کہ وہ اپنے وعدے کو پورا کرتا ہے۔

ہدایت کی نعمت کی قدر:
حضرت عبداللہ بن عمر نے اسلام کی ہدایت کو ایک عظیم نعمت قرار دیا اور اللہ سے درخواست کی کہ اسے ان سے نہ چھینے۔ اس سے معلوم ہوا کہ ہمیں اپنے ایمان کی حفاظت کی دعا کرنی چاہیے۔

آخری وقت تک ایمان پر قائم رہنے کی دعا:
"أَنْ لَا تَنْزِعَهُ مِنِّي حَتَّى تَتَوَفَّانِي وَأَنَا مُسْلِمٌ" – یہ دعا ہمیں سکھاتی ہے کہ ہم اللہ سے اچھے انجام اور ایمان پر موت کی دعا کریں۔

دعا میں تواضع اور عاجزی:
انہوں نے دعا کے ذریعے اپنی عاجزی اور اللہ کی طرف اپنی احتیاج کا اظہار کیا۔

ہدایت کے لیے شکر اور اس کے باقی رہنے کی دعا:
"كَمَا هَدَيْتَنِي لِلْإِسْلَامِ" سے معلوم ہوا کہ ہمیں اللہ کی نعمتوں (خاص طور پر ہدایت) کا شکر ادا کرنا چاہیے اور اس کے باقی رہنے کی دعا کرنی چاہیے۔

حدیث کی صحت:
یہ اثر طبرانی اور بیہقی میں موجود ہے اور قابلِ اعتماد ہے۔

واللہ اعلم بالصواب








حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کا قول
متن (عربی):
عَنْ زِيَادِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ الزُّبَيْرِ - رضي الله عنهما - يَقُولُ فِي خُطْبَتِهِ: " إِنَّ اللهَ هُوَ الْهَادِي وَالْفَاتِنُ "

ترجمہ:
حضرت زیاد بن سعد سے روایت ہے، انہوں نے حضرت عمرو بن دینار سے، انہوں نے کہا: میں نے حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کو اپنے خطبے میں فرماتے سنا: "بیشک اللہ ہی ہدایت دینے والا اور فتنہ میں ڈالنے والا ہے۔"

حوالہ وحواشی:
(١) المعجم الكبير للطبراني:2642۔ إسناده صحيح (اس کی سند صحیح ہے)

(۲) اس قول میں حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے اللہ تعالیٰ کی دو صفات کا ذکر کیا ہے:

الْهَادِي (ہدایت دینے والا):
اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے جسے چاہتا ہے ہدایت عطا فرماتا ہے، اسے سیدھا راستہ دکھاتا ہے، اور اس کے دل کو ایمان کے لیے کھول دیتا ہے۔ یہ اللہ کی رحمت اور فضل کی صفت ہے۔

الْفَاتِنُ (آزمائش میں ڈالنے والا):
"فتنہ" کے معنی آزمائش، امتحان اور مصیبت میں ڈالنے کے ہیں۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو مال، اولاد، بیماری، تنگی، اور فرائض کے ذریعے آزماتا ہے۔ یہ اس کی حکمت اور عدل کی صفت ہے۔

یہاں "الفاتن" سے مراد یہ نہیں کہ اللہ لوگوں کو گمراہ کرنے کے لیے فتنہ ڈالتا ہے، بلکہ وہ انہیں آزماتا ہے تاکہ معلوم کرے کہ کون صبر کرتا ہے اور کون ناشکری کرتا ہے۔ جیسا کہ قرآن میں ہے: {وَنَبْلُوكُمْ بِالشَّرِّ وَالْخَيْرِ فِتْنَةً} (الأنبیاء: 35) (اور ہم تمہیں برائی اور بھلائی سے آزماتے ہیں)۔

یہ قول اہل سنت کے اس عقیدے کی تائید کرتا ہے کہ خیر و شر سب اللہ کی طرف سے ہے، اور وہی ہدایت دیتا ہے اور وہی گمراہ کرتا ہے (بندے کے اپنے اختیار کے ساتھ)۔



حاصل شدہ اہم اسباق و نکات

اللہ ہی ہدایت کا دینے والا ہے:
کوئی شخص خود بخود ہدایت یافتہ نہیں ہو سکتا، بلکہ ہدایت اللہ کے فضل سے ملتی ہے۔ ہمیں ہمیشہ اللہ سے ہدایت مانگنی چاہیے۔

فتنے (آزمائشیں) اللہ کی طرف سے ہیں:
دنیا میں آنے والی ہر مصیبت، بیماری، تنگی، اور خوشحالی بھی اللہ کی طرف سے آزمائش ہے۔ اس سے مومن کا ایمان اور صبر نکھرتا ہے۔

ہدایت اور فتنہ میں اللہ کی حکمت:
اللہ جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے آزمائش میں ڈالتا ہے۔ یہ سب اس کی حکمت اور عدل کے مطابق ہے۔

تقدیر پر ایمان کی اہمیت:
یہ قول اہل سنت کے عقیدے کی عکاسی کرتا ہے کہ ہر چیز اللہ کی مشیت اور تقدیر سے ہوتی ہے۔

خطبے میں عقیدے کے مسائل بیان کرنا:
حضرت عبداللہ بن زبیر نے اپنے خطبے میں یہ اہم اصولی بات بیان کی، جس سے معلوم ہوا کہ خطبے میں عقائد کی اصلاح بھی مقصود ہوتی ہے۔

مومن کا کردار:
مومن کو چاہیے کہ وہ ہدایت پر شکر کرے اور فتنوں میں صبر کرے۔

قول صحابی کی حجیت:
اگرچہ یہ نبی ﷺ کا قول نہیں، لیکن صحابی کا قول جب دین کے اصولی مسائل میں ہو اور اس کی تائید قرآن و سنت سے ہوتی ہو، تو اسے قبول کیا جاتا ہے۔

حدیث کی صحت:
اس اثر کی سند صحیح ہے، جیسا کہ طبرانی میں ذکر ہے۔

واللہ اعلم بالصواب









حسن بصریؒ سے تقدیر کے بارے میں سوال و جواب
متن (عربی):
عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ قَالَ: قُلْتُ لِلْحَسَنِ (١) يَا أَبَا سَعِيدٍ , أَخْبِرْنِي عَنْ آدَمَ , أَلِلسَّمَاءِ خُلِقَ (٢) أَمْ لِلْأَرْضِ؟ , قَالَ: لَا , بَلْ لِلْأَرْضِ , قُلْتُ: أَرَأَيْتَ لَوْ اعْتَصَمَ فَلَمْ يَأكُلْ مِنْ الشَّجَرَةِ (٣)؟ , قَالَ: لَمْ يَكُنْ لَهُ مِنْهُ بُدٌّ (٤) قُلْتُ: أَخْبِرْنِي عَنْ قَوْلِهِ تَعَالَى: {فَإِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُونَ مَا أَنْتُمْ عَلَيْهِ بِفَاتِنِينَ إِلَّا مَنْ هُوَ صَالِ الْجَحِيمِ} (٥) قَالَ: إِنَّ الشَّيَاطِينَ لَا يَفْتِنُونَ بِضَلَالَتِهِمْ , إِلَّا مَنْ أَوْجَبَ اللهُ عَلَيْهِ أَنْ يَصْلَى الْجَحِيمَ. (٦)

ترجمہ:
حضرت خالد الحذاء سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے حسن بصری (١) سے کہا: اے ابو سعید! مجھے آدم کے بارے میں بتائیے، کیا وہ آسمان (جنت) کے لیے پیدا کیے گئے تھے (٢) یا زمین کے لیے؟ انہوں نے کہا: نہیں، بلکہ زمین کے لیے۔ میں نے کہا: آپ کا کیا خیال ہے اگر وہ درخت سے نہ کھاتے اور پرہیز کر لیتے (٣)؟ انہوں نے کہا: ان کے لیے اس سے بچنا ممکن نہ تھا (٤)۔ میں نے کہا: مجھے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بتائیے: {پس بے شک تم اور تمہارے معبود، تم (کسی کو) گمراہ کرنے والے نہیں، سوائے اس کے جو جہنم میں جانے والا ہے} (٥)۔ انہوں نے کہا: بے شک شیاطین اپنی گمراہی سے (کسی کو) نہیں بہکاتے، مگر جس پر اللہ نے یہ لازم کر دیا ہو کہ وہ جہنم میں جائے گا (٦)۔

حواشی وحوالہ جات:
(١) أَيْ: الْبَصْرِيّ , وسَأَلَهُ عَنْ بَعْض فُرُوع مَسْأَلَة الْقَدَر لِيَعْرِفَ عَقِيدَته فِيهَا , لِأَنَّ النَّاس كَانُوا يَتَّهِمُونَهُ قَدَرِيًّا , إِمَّا لِأَنَّ بَعْض تَلَامِذَته مَالَ إِلَى ذَلِكَ , أَوْ لِأَنَّهُ قَدْ تَكَلَّمَ بِكَلَامٍ اِشْتَبَهَ عَلَى النَّاس تَأوِيلُه , فَظَنُّوا أَنَّهُ قَالَهُ لِاعْتِقَادِهِ مَذْهَبَ الْقَدَرِيَّة , فَإِنَّ الْمَسْأَلَةَ مِنْ مَظَانِّ الِاشْتِبَاه. (عون المعبود - ج 10 / ص 134)
ترجمہ:
(١) یعنی حسن بصری۔ انہوں نے ان سے تقدیر کے مسئلے کی بعض شاخوں کے بارے میں پوچھا تاکہ اس بارے میں ان کا عقیدہ معلوم کر سکے، کیونکہ لوگ ان پر قدریہ ہونے کا الزام لگاتے تھے۔ یا تو اس لیے کہ ان کے بعض شاگرد اس کی طرف مائل ہو گئے تھے، یا اس لیے کہ انہوں نے کوئی ایسی بات کہی تھی جس کی تاویل لوگوں پر مشتبہ ہو گئی، تو انہوں نے سمجھ لیا کہ انہوں نے یہ بات قدریہ کے عقیدے کی وجہ سے کہی ہے، کیونکہ یہ مسئلہ شبہات کے مقامات میں سے ہے۔

(٢) أَيْ: لِأَنْ يَسْكُن وَيَعِيش فِي الْجَنَّة. (عون المعبود - ج 10 / ص 134)
ترجمہ:
(٢) یعنی اس لیے کہ وہ جنت میں رہے اور زندگی گزارے۔

(٣) أَيْ: لَمْ يُذْنِب وَلَمْ يَأثَم. (عون المعبود - ج 10 / ص 134)
ترجمہ:
(٣) یعنی وہ گناہ نہ کرتا اور نہ ہی خطا کرتا۔

(٤) أَيْ: لَمْ يَكُنْ لَهُ بُدٌّ مِنْ أَكْلهَا. (عون المعبود - ج 10 / ص 134)
ترجمہ:
(٤) یعنی ان کے لیے اسے کھانے سے بچنا ممکن نہ تھا۔

(٥) سورہ الصافات: 161-163

(٦) تخریج: سنن ابی داود: 4614، اور علامہ البانی نے کہا: یہ مقطوع اثر حسن الإسناد ہے۔





حاصل شدہ اہم اسباق و نکات

حسن بصری پر لگنے والے الزام کا ازالہ:
لوگ ان پر قدریہ ہونے کا الزام لگاتے تھے، لیکن ان کے ان جوابات سے واضح ہوتا ہے کہ وہ تقدیر کے اثبات کے قائل تھے اور قدریہ نہیں تھے۔

آدم علیہ السلام کی تخلیق کا مقصد:
حسن بصری نے فرمایا کہ آدم کو زمین کے لیے پیدا کیا گیا تھا، نہ کہ جنت میں ہمیشہ رہنے کے لیے۔ اس سے معلوم ہوا کہ جنت میں ان کا قیام عارضی تھا، اور آخرکار انہیں زمین پر بھیجنا تھا۔

آدم کا درخت سے کھانا تقدیر تھا:
اگر آدم درخت سے نہ کھاتے تو کیا ہوتا؟ حسن بصری نے کہا کہ ان کے لیے اس سے بچنا ممکن نہ تھا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کی تقدیر میں یہ لکھا تھا کہ وہ درخت سے کھائیں گے، اور یہ ان کی خطا نہیں تھی (بلکہ اس کے بعد توبہ کی توفیق ملی)۔

آیت "فَإِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُونَ" کی تفسیر:
حسن بصری نے فرمایا کہ شیاطین اپنی گمراہی سے صرف اسی کو بہکاتے ہیں جس پر اللہ نے جہنم کا فیصلہ کر دیا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ ہدایت اور گمراہی سب اللہ کے ہاتھ میں ہے۔

تقدیر کے انکار کی تردید:
یہ گفتگو اس بات کو واضح کرتی ہے کہ حسن بصری اہل سنت کے عقیدے (تقدیر کے اثبات) پر تھے اور انہوں نے قدریہ کے عقیدے سے براءت ظاہر کی۔

علماء سے عقیدے کے بارے میں پوچھنا:
خالد الحذاء نے حسن بصری سے براہِ راست سوال کیا تاکہ ان کے عقیدے کو واضح کیا جا سکے۔ یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ کسی پر الزام لگانے سے پہلے اس سے خود پوچھ لینا چاہیے۔

مخلوقات کے اعمال کی تخلیق اللہ کی طرف سے ہے:
حسن بصری کے جوابات اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ ہر چیز اللہ کی تقدیر سے ہوتی ہے، اور بندہ کسب (کمانے) والا ہے۔

حدیث کی سندی حیثیت:
یہ اثر مقطوع ہے (یعنی حسن بصری کا قول ہے، نبی ﷺ کا نہیں)، لیکن اس کی سند حسن ہے اور یہ اہل سنت کے عقیدے کی تائید کرتا ہے۔

واللہ اعلم بالصواب