Wednesday, 10 June 2015

مقاصدِ نزولِ قرآنِ مجید

1) تدبر(غور وفکر) اور تذکر(نصیحت) کے لئے
مبارک کتاب:
كِتٰبٌ أَنزَلنٰهُ إِلَيكَ مُبٰرَكٌ لِيَدَّبَّروا ءايٰتِهِ وَلِيَتَذَكَّرَ أُولُوا الأَلبٰبِ {38:29}
ایک کتاب ہے جو اتاری ہم نے تیری طرف برکت کی تا دھیان کریں لوگ اسکی باتیں اور تا سمجھیں عقل والے [۳۲]
یعنی جب نیک اور بد کا انجام ایک نہیں ہو سکتا تو ضرور تھا کہ کوئی کتاب ہدایت مآب حق تعالیٰ کی طرف سے آئے جو لوگوں کو خوب معقول طریقہ سے ان کے انجام پر آگاہ کر دے۔ چنانچہ اس وقت یہ کتاب آئی جس کو قرآن مبین کہتے ہیں۔ جس کے الفاظ، حروف، نقوش اور معانی و مضامین ہر چیز میں برکت ہے۔ اور جو اسی غرض سے اتاری گئ ہے کہ لوگ اس کی آیات میں غور کریں اور عقل رکھنے والے اسکی نصیحتوں سے منتفع ہوں چنانچہ اس آیت سے پہلے ہی آیت میں دیکھ لو کس قدر، صاف، فطری اور معقول طریقہ سے مسئلہ معاد کو حل کیا ہے کہ تھوڑی عقل والا بھی غور کرے تو صحیح نتیجہ پر پہنچ سکتا ہے۔ (تنبیہ) شاید "تدبر" سے قوت علمیہ کی اور "تذکر" سے قوۃ عملیہ کی تکمیل کی طرف اشارہ ہو۔ یہ سب باتیں حضرت داؤدؑ کے تذکرہ کے ذیل میں آ گئ تھیں۔ آگے پھر ان کے قصہ کی تکمیل فرماتےہیں۔



فضائل قرآن اور مقام قُراء


 

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے فرمانِ رسول ﷺ بھی مروی ہے:
إِنَّ هَذَا الْقُرْآنَ مأدبة اللَّهِ فَتَعَلَّمُوا مِنْ مَأْدُبَتِهِ مَا اسْتَطَعْتُمْ، إِنَّ هَذَا الْقُرْآنَ هُوَ حَبْلُ اللَّهِ الَّذِي أَمَرَ بِهِ، وَهُوَ النُّورُ الْمُبِينُ وَالشِّفَاءُ النَّافِعُ، عِصْمَةٌ لِمَنِ اعْتَصَمَ بِهِ، وَنَجَاةٌ لِمَنْ تَمَسَّكَ بِهِ، لَا يَعْوَجُّ فَيُقَوَّمُ، وَلَا يَزُوغُ فَيُشَعَّبَ، وَلَا تَنْقَضِي عَجَائِبُهُ وَلَا يَخْلَقُ عَنْ رَدٍّ، اتْلُوهُ فَإِنَّ اللَّهَ يَأْجُرُكُمْ لِكُلِّ حَرْفٍ عَشْرَ حَسَنَاتٍ، لَمْ أَقُلْ لَكُمْ {الم} (البقرة: 1)
وَلَكِنْ أَلِفٌ حَرْفٌ وَلَامٌ حَرْفٌ وَمِيمٌ حَرْفٌ
ترجمہ
۔۔۔۔۔بے شک یہ قرآن اللہ کی رسی ہے جس کا اس نے حکم دیا ہے، اور یہ روشن نور اور نفع بخش شفا ہے۔ یہ اس شخص کے لیے پناہ ہے جو اسے تھامے، اور اس شخص کے لیے نجات ہے جو اس سے وابستہ رہے۔ یہ نہیں ٹیڑھا ہوتا کہ اسے سیدھا کیا جائے، نہ کج ہوتا ہے کہ اسے درست کیا جائے۔ اس کے عجائب ختم نہیں ہوتے اور بار بار پڑھنے سے یہ پرانا نہیں ہوتا۔ تم اسے پڑھو کیونکہ اللہ تمہیں ہر حرف کے بدلے دس نیکیاں عطا فرمائے گا۔ میں تم سے یہ نہیں کہتا کہ 'الم' ایک حرف ہے، بلکہ الف ایک حرف ہے، لام ایک حرف ہے اور میم ایک حرف ہے۔"

[مصنف عبد الرزاق:6017، تنبيه الغافلين-السمرقندي:650، الترغيب في فضائل الأعمال لإبن شاهين:202، المستدرك علي  الصحيحين-ل الحاكم:2040، شعب الإيمان-للبيهقي:1786-1832، مجمع الزوائد:2208]






---
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
"إِنَّ هَذَا القُرآنَ مَأدُبَةُ اللَّهِ، فَخُذُوا مِنهُ مَا استَطَعتُم، فَإِنِّي لَا أَعلَمُ شَيئًا أَصفَرَ مِن خَيرٍ مِن بَيتٍ لَيسَ فِيهِ مِن كِتَابِ اللَّهِ شَيءٌ، وَإِنَّ القَلبَ الَّذِي لَيسَ فِيهِ مِن كِتَابِ اللَّهِ شَيءٌ خَرِبٌ كَخَرَابِ البَيتِ الَّذِي لَا سَاكِنَ لَهُ."
ترجمہ:
"بے شک یہ قرآن اللہ کا دسترخوان ہے، اس سے جتنا تمہارے بس میں ہو لے لو۔ کیونکہ میں نہیں جانتا کہ اس گھر سے زیادہ بھلائی میں کوئی چیز زیادہ خالی اور تہی دست ہو جس میں کتابِ اللہ کی کوئی چیز نہ ہو۔ اور یقیناً وہ دل جس میں کتابِ اللہ کی کوئی چیز نہ ہو، ایسے ویران گھر کی طرح ویران ہے جس کا کوئی باسی نہ ہو۔"
[سنن الدارمي:3350]
(إسناده صحيح) 
[سلسلة الآثار الصحيحة:146]



دوسری روایت میں ہے کہ:
.....فَإِنَّ أَصْفَرَ الْبُيُوتِ مِنَ الْخَيْرِ الْبَيْتُ الَّذِي لَيْسَ فِيهِ مِنْ كِتَابِ الله تَعَالَى شَيءٌ، وَإِنَّ الْبَيْتَ الَّذِي لَيْسَ فِيهِ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ شَيءٌ خَرِبٌ كَخَرَابِ الْبَيْتِ الَّذِي لَا عَامِرَ لَهُ، وَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَخْرُجُ مِنَ الْبَيْتِ يَسْمَعُ سُورَةَ الْبَقَرَةِ تُقْرَأُ فِيهِ»
ترجمہ:
...کیونکہ بھلائی (اور برکت) سے سب سے زیادہ خالی گھر وہ ہے جس میں اللہ تعالیٰ کی کتاب میں سے کچھ نہ ہو۔ اور یقیناً وہ گھر جس میں اللہ کی کتاب میں سے کچھ نہ ہو، اس گھر کی طرح ویران ہے جس کا کوئی آباد کرنے والا نہ ہو۔ اور بے شک شیطان اس گھر سے نکل جاتا ہے جس میں سورۃ البقرہ پڑھی جاتی  ہے۔"

[مصنف عبد الرزاق:5998]

ایک اور روایت میں ہے کہ:
...فَمَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ أَنْ يَأْخُذَ مِنْ مَأْدُبَةِ اللَّهِ فَلْيَفْعَلْ، فَإِنَّمَا الْعِلْمُ بِالتَّعَلُّمِ
ترجمہ:
"... لہٰذا تم میں سے جو شخص اللہ کے دسترخوان سے (کچھ) لے سکتا ہے اسے ایسا کرنا چاہیے، کیونکہ علم تو سیکھنے سے ہی حاصل ہوتا ہے۔"
[مسند البزار:2055، مجمع الزوائد:539]

---
تشریح:
1. مأدبة اللہ: قرآن کو اللہ کا دسترخوان اس لیے کہا گیا کہ جس طرح ایک دسترخوان پر طرح طرح کے کھانے ہوتے ہیں اور لوگ ان سے اپنی ضرورت کے مطابق لیتے ہیں، اسی طرح قرآن میں ہر قسم کی روحانی غذا، ہدایت، علم، نور، شفا اور رحمت موجود ہے۔ ہر شخص اپنی استطاعت اور ضرورت کے مطابق اس سے فیض حاصل کر سکتا ہے۔
2. أصفر من خیر: "أصفر" کے معنی خالی ہونا۔ عرب لوگ خالی ہاتھ کو "صفر الیدین" کہتے ہیں۔ یعنی اس گھر سے زیادہ بھلائی سے خالی کوئی چیز نہیں جس میں قرآن نہ ہو۔
3. گھر کی ویرانی: حدیث میں گھر کو قرآن سے خالی ہونے کی وجہ سے ویران قرار دیا گیا، خواہ وہ گھر ظاہری طور پر آباد کیوں نہ ہو۔
4. دل کی ویرانی: دل کی اصل آبادی قرآن ہے۔ جس دل میں قرآن نہ ہو وہ گویا ایسے گھر کی طرح ہے جس میں کوئی باسی نہ ہو، یعنی بالکل ویران اور سنسان۔
---
شرح للمناوی:
"(بے شک یہ قرآن اللہ کی مأدبہ ہے)" (مأدبہ میں دال کے پیش کے ساتھ مشہور ہے) یعنی اللہ کی دعوت (کھانا)۔ قرآن کو اس دعوت سے تشبیہ دی گئی ہے جو اللہ نے لوگوں کے لیے تیار کی ہے، جس میں ان کے لیے بھلائی اور منافع ہیں۔ اور یہ معقول (چیز) کو محسوس (چیز) کے قائم مقام کرنے کی ایک مثال ہے۔
علامہ زمخشری رحمہ اللہ نے فرمایا: "مأدبہ" (دال کے زیر کے ساتھ) مصدر ہے "ادب" کے وزن پر، جس کے معنی کھانے کی دعوت دینے کے ہیں، جیسے "معتبہ" کے معنی "عتب" (ناراضی) کے ہیں۔ اور "مأدبہ" (دال کے پیش کے ساتھ) خود اس دعوت (کھانے) کا نام ہے، جیسے "وکیرہ" اور "ولیمہ"۔
"(اس کی مأدبہ میں سے جو تم سے ہو سکے قبول کرو)" ۔
اس حدیث کا مکمل متن امام حاکم کے نزدیک یوں ہے:
"یہ قرآن اللہ کی رسی، روشن نور، نفع بخش شفا ہے۔ یہ اس شخص کے لیے پناہ ہے جو اسے تھامے، اور اس شخص کے لیے نجات ہے جو اس کی پیروی کرے۔ یہ ٹیڑھا نہیں ہوتا کہ اسے سیدھا کیا جائے، نہ کج ہوتا ہے کہ اسے درست کیا جائے۔ اس کے عجائب ختم نہیں ہوتے اور کثرت سے پڑھنے سے یہ پرانا نہیں ہوتا۔ تم اسے پڑھو کیونکہ اللہ تمہیں اس کی تلاوت پر ہر حرف کے بدلے دس نیکیوں کا اجر دے گا۔ میں یہ نہیں کہتا کہ 'الف لام میم' ایک حرف ہے، بلکہ الف ایک حرف ہے، لام ایک حرف ہے اور میم ایک حرف ہے۔" [انتہیٰ]

[فیض القدیر-للمناوی: حدیث نمبر 2513]
---
حاصل شدہ اسباق و نکات

1. قرآن: اللہ کا دسترخوان:
   قرآن کو "مأدبۃ اللہ" (اللہ کا دسترخوان) قرار دیا گیا۔ جس طرح دسترخوان پر طرح طرح کے کھانے ہوتے ہیں اور ہر کوئی اپنی ضرورت اور استطاعت کے مطابق کھاتا ہے، اسی طرح قرآن میں ہر قسم کی روحانی غذا، ہدایت، علم، نور اور شفا موجود ہے۔ ہر شخص اس سے اپنی استطاعت بھر فیض حاصل کر سکتا ہے۔
2. قرآن: اللہ کی مضبوط رسی:
   قرآن کو "حبل اللہ" (اللہ کی رسی) قرار دیا گیا ہے جو اللہ اور بندے کے درمیان تعلق قائم کرتی ہے۔ یہ وہ وسیلہ ہے جس کے ذریعے انسان اللہ تک پہنچ سکتا ہے۔
3. قرآن: نور اور شفا:
   قرآن "نور مبین" (روشن نور) ہے جو ظلمتوں کو دور کرتا ہے اور صحیح راستہ دکھاتا ہے۔ یہ "شفاء نافع" (نفع بخش شفا) ہے جو دلوں کے امراض، شکوک و شبہات اور روحانی بیماریوں کا علاج کرتا ہے۔
4. پناہ اور نجات کا ذریعہ:
   قرآن ان لوگوں کے لیے "عصمت" (پناہ) ہے جو اس سے وابستہ ہوتے ہیں اور ان کے لیے "نجات" ہے جو اسے تھامے رہتے ہیں۔ یہ گمراہی اور جہنم سے بچانے کا ذریعہ ہے۔
5. قرآن کی استقامت:
   "قرآن میں کوئی کجی اور ٹیڑھ نہیں کہ اسے سیدھا کرنے کی ضرورت ہو۔ یہ بالغ نظر اور ہر دور کے لیے موزوں ہے۔
6. قرآن کے عجائب کی عدم انتہا:
   "لا تنقضی عجائبہ" یعنی قرآن کے عجائب ختم نہیں ہوتے۔ ہر دور میں اس سے نئے نئے علوم، حکمتیں اور اسرار دریافت ہوتے رہتے ہیں۔
7. قرآن کی تازگی:
   "لا یخلق من کثرۃ الرد" یعنی بار بار پڑھنے سے قرآن پرانا نہیں ہوتا۔ جتنا پڑھیں، اس کی تازگی اور لذت برقرار رہتی ہے۔
8. تلاوت کا عظیم اجر:
   قرآن کے ہر حرف پر دس نیکیوں کا وعدہ ہے۔ "الم" کو تین حروف شمار کیا گیا، جو اس بات کی وضاحت کرتا ہے کہ حروفِ مقطعات بھی الگ الگ حروف ہیں اور ان پر بھی اجر ملتا ہے۔
9. قرآن سیکھنے کی ترغیب:
   "فَمَنِ اسْتَطَاعَ أَنْ يَتَعَلَّمَ مِنْهُ شَيْئًا فَلْيَفْعَلْ" (جو شخص اس میں سے کچھ سیکھ سکتا ہے، اسے ایسا کرنا چاہیے)۔ یہ جملہ قرآن سیکھنے کی ترغیب دیتا ہے، خواہ تھوڑا ہی سہی۔ ہر مسلمان پر کم از کم اتنا قرآن سیکھنا ضروری ہے جو نماز میں پڑھنے کے لیے کافی ہو۔
10. استطاعت کے مطابق فیض:
ہر شخص کو چاہیے کہ اپنی استطاعت کے مطابق قرآن سے فیض حاصل کرے۔ کوئی بھی شخص اس سے محروم نہیں رہنا چاہیے۔
11. گھر میں قرآن کی موجودگی ضروری:
جس گھر میں قرآن نہ پڑھا جاتا ہو، نہ اس کی تلاوت ہوتی ہو، وہ گھر بھلائی اور برکت سے خالی ہے۔
12. دل کی آبادی قرآن سے ہے:
دل کی حقیقی آبادی اور زندگی قرآن سے وابستہ ہے۔ جس دل میں قرآن نہ ہو وہ مردہ اور ویران ہے۔
13. قرآن سے غفلت باعثِ محرومی:
قرآن سے غفلت انسان کو بھلائی اور خیر سے محروم کر دیتی ہے۔
14. علم کی اہمیت:
   "فإنما العلم بالتعلم" یعنی علم سیکھنے سے حاصل ہوتا ہے۔ قرآن سے فیض یاب ہونے کے لیے اسے سیکھنا، سمجھنا اور اس پر عمل کرنا ضروری ہے۔
15. علم حاصل کرنے کا ذریعہ:
قرآن سیکھنے کی ترغیب دے کر علم کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا ہے۔ علم حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ قرآن ہے۔
16. قرآن کی جامعیت:
    ان روایات میں قرآن کی متعدد صفات بیان کی گئی ہیں جو اس کی جامعیت اور عظمت کو ظاہر کرتی ہیں۔ یہ ہدایت کا مکمل ضابطہ ہے۔
17. گھر کی برکت:
   جس گھر میں قرآن پڑھا جاتا ہے، اس میں برکت ہوتی ہے۔ فرشتے رحمت کے لیے اترتے ہیں اور شیطان بھاگتا ہے۔
18. قرآن سے خالی گھر کی ویرانی:
   "أَصْفَرَ الْبُيُوتِ مِنَ الْخَيْرِ" یعنی بھلائی سے سب سے زیادہ خالی گھر وہ ہے جس میں قرآن نہ ہو۔ خواہ وہ گھر ظاہری طور پر آباد اور پرتعیش کیوں نہ ہو، اگر اس میں قرآن کی تلاوت نہیں ہوتی تو وہ گھر بھلائی اور برکت سے خالی ہے۔
19. گھر کا آباد ہونا قرآن سے ہے:
   "خَرِبٌ كَخَرَابِ الْبَيْتِ الَّذِي لَا عَامِرَ لَهُ" یعنی جس گھر میں قرآن نہ ہو، وہ اس گھر کی طرح ویران ہے جس میں کوئی بسنے والا نہ ہو۔ اس سے معلوم ہوا کہ گھر کی حقیقی آبادی اور رونق قرآن کی تلاوت سے ہے۔
20. سورۃ البقرہ کی فضیلت:
   حدیث میں خاص طور پر سورۃ البقرہ کا ذکر ہے کہ شیطان اس گھر سے نکلتا ہے جہاں یہ سورت پڑھی جاتی ہے۔ یہ اس سورت کی عظمت اور برکت کو ظاہر کرتا ہے۔
21. شیطان کا بھاگنا:
   "وَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَخْرُجُ مِنَ الْبَيْتِ يَسْمَعُ سُورَةَ الْبَقَرَةِ تُقْرَأُ فِيهِ" یعنی شیطان اس گھر سے نکل بھاگتا ہے جہاں سورۃ البقرہ کی تلاوت سنتا ہے۔ یہ اس سورت کے پڑھنے والے اور سننے والے کے لیے ایک بڑی حفاظت ہے۔
22. عمل کی ترغیب:
   اس اثر میں قرآن کی تلاوت، تعلیم اور تدبر کی ترغیب دی گئی ہے۔ بتایا گیا کہ اس عظیم دولت سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانا چاہیے۔
23. گھروں کو قرآن سے منور کریں:
   ہر مسلمان کو چاہیے کہ اپنے گھر کو قرآن کی تلاوت سے منور کرے، تاکہ گھر برکتوں سے بھر جائے اور شیطان وہاں سے دور بھاگے۔
24. قرآن سے دوری روحانی ویرانی:
    قرآن سے دوری انسان کو روحانی طور پر ویران کر دیتی ہے، خواہ وہ دنیوی اعتبار سے کتنا ہی خوش حال کیوں نہ ہو۔
25. صحابہ کا قرآن سے تعلق:
    حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا یہ قول صحابہ کرام کے قرآن سے گہرے تعلق اور ان کی فکر کو ظاہر کرتا ہے کہ وہ امت کو قرآن سے وابستہ رہنے کی تلقین کرتے تھے۔
26. امت کی ذمہ داری:
    ان روایات سے امت مسلمہ پر واضح ہوتا ہے کہ قرآن سے تعلق مضبوط کرنا، اسے پڑھنا، سمجھنا اور اس پر عمل کرنا ان کی بنیادی ذمہ داری ہے۔








جنت کے درجات قرآن کی آیتوں کے مطابق ہیں.

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
" دَرَجُ الْجَنَّةِ عَلَى قَدْرِ آيَاتِ الْقُرْآنِ، بِكُلِّ آيَةٍ دَرَجَةٌ، فَبِكُلِّ سِتَّةٍ أَلْفٌ وَمِائَتَا آيَةٍ وَسِتَّ عَشْرَةَ، بَيْنَ كُلِّ دَرَجَتَيْنِ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ. قَالَ: فَيَنْتَهِي الْقَارِئُ بِهِ إِلَى أَعْلَى عِلِّيِّينَ، لَهَا سَبْعُونَ أَلْفَ رُكْنٍ، كُلُّ رُكْنٍ يَاقُوتَةٌ تُضِيءُ مَسِيرَةَ أَيَّامٍ وَلَيَالِيَ، وَيُصَبُّ عَلَيْهِ حُلَّةُ الْكَرَامَةِ، فَلَوْلَا أَنَّهُ يَنْظُرُ إِلَيْهَا بِرَحْمَةِ اللَّهِ لَأَذْهَبَ تَلَأْلُؤُهَا بِبَصَرِهِ "

ترجمہ
"جنت کے درجات قرآن کی آیتوں کی تعداد کے مطابق ہیں، ہر آیت کے بدلے ایک درجہ ہے۔ پس (قرآن) چھ ہزار دو سو سولہ آیتیں ہیں۔ ہر دو درجوں کے درمیان آسمان و زمین کے درمیان کا فاصلہ ہے۔" آپ نے فرمایا: "پس قاری (قرآن پڑھنے والا) اس کے ذریعے اعلیٰ علیین تک پہنچ جائے گا۔ اس (جنت) کے ستر ہزار ستون ہیں، ہر ستون ایک یاقوت ہے جو کئی دنوں اور راتوں کی مسافت تک روشنی پھیلاتا ہے۔ اور اس پر عزت کا لباس انڈیلا جائے گا۔ اگر وہ اللہ کی رحمت سے اسے نہ دیکھے تو اس کی چمک اس کی بصارت کو ختم کر دے۔"
[الترغيب في فضائل الأعمال-لابن شاهين:206]
---
تخریج و حوالہ جات
یہ حدیث درج ذیل کتب میں مروی ہے:
· فردوس الأخبار للديلمي: حدیث نمبر 3064 
· جامع الأحاديث للسيوطي: حدیث نمبر 12292
· كنز العمال للمتقي الهندي: حدیث نمبر 2425

حكم الحديث
یہ حدیث ضعیف ہے۔
[سلسلة الأحاديث الضعيفة:5718]
لیکن
اس حدیث کا مضمون دیگر روایات سے صحیح ثابت ہے، جو درج ذیل ہیں:
---

حاصل شدہ اسباق و نکات:
*1. ضعیف ہونے کے باوجود مفہوم کی صحت:* اگرچہ یہ حدیث سنداً ضعیف ہے، لیکن اس کا مفہوم (قرآن پڑھنے والے کے جنت میں بلند درجات) دوسری صحیح احادیث سے ثابت ہے۔
*2. صحیح احادیث میں قرآن والوں کی فضیلت:*
   · حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کی حدیث:
"يُقَالُ لِصَاحِبِ الْقُرْآنِ: اقْرَأْ وَارْتَقِ وَرَتِّلْ كَمَا كُنْتَ تُرَتِّلُ فِي الدُّنْيَا، فَإِنَّ مَنْزِلَكَ عِنْدَ آخِرِ آيَةٍ تَقْرَؤُهَا"
  (قرآن والے سے کہا جائے گا: پڑھتے جاؤ اور چڑھتے جاؤ، اور خوب ٹھہر ٹھہر کر پڑھو جیسے تم دنیا میں ٹھہر ٹھہر کر پڑھتے تھے، کیونکہ تمہارا مقام آخری آیت کے مقابل ہوگا۔)
[سنن ابی داود: 1464، سنن ترمذی: 2914]
   · حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی حدیث:
"يُقَالُ لِصَاحِبِ الْقُرْآنِ إِذَا دَخَلَ الْجَنَّةَ: اقْرَأْ وَاصْعَدْ، فَيَقْرَأُ وَيَصْعَدُ بِكُلِّ آيَةٍ دَرَجَةً"
(قرآن والے سے جنت میں داخل ہونے پر کہا جائے گا: پڑھو اور چڑھتے جاؤ، وہ پڑھے گا اور ہر آیت کے ساتھ ایک درجہ چڑھتا جائے گا۔)
[مسند احمد: 11360، سنن ابن ماجہ: 3780]
*3. حدیث کا بنیادی مضمون صحیح ہے کہ:*
   · قرآن پڑھنے والے کا جنت میں بلند مقام ہوگا
   · اس کا درجہ اس کی قراءت کے مطابق بلند ہوگا
   · قرآن والوں کے لیے اللہ کے ہاں خصوصی عزت و کرامت ہے۔
*4. نیت کا خلوص:* قرآن پڑھنے والے کے لیے ضروری ہے کہ وہ خلوصِ نیت کے ساتھ پڑھے، نہ کہ دنیا کے حصول کے لیے۔
*5. اعلیٰ علیین کا مقام:* حدیث میں مذکور "اعلیٰ علیین" جنت کا سب سے بلند مقام ہے، جیسا کہ قرآن میں بھی مذکور ہے {خبردار ! نیک لوگوں کا اعمال نامہ علیین میں ہے۔} [المطففین: 18]۔
*6. اللہ کی رحمت کا دخل:* حدیث کے آخری حصے میں یہ نکتہ اہم ہے کہ انسان اللہ کی رحمت ہی سے جنت کی نعمتوں کو دیکھ سکتا ہے۔





گھروں میں قرآن کی کثرت سے تلاوت کرنے کی برکات اور گھروں میں تلاوت نہ کرنے کے نقصانات

حضرت انس اور حضرت جابر سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا:

أكْثِرُوا مِنْ تِلاوَةِ القرآن في بيوتكم فإنّ البَيْتَ الّذِي لَا يُقْرَأُ فيه القُرْآنُ يَقِلُّ خيره ويكثر شره ويضيق على أهله
ترجمہ:
"اپنے گھروں میں قرآن کی تلاوت کثرت سے کیا کرو، کیونکہ جس گھر میں قرآن نہیں پڑھا جاتا، اس کی بھلائی کم ہو جاتی ہے، اس کی برائی بڑھ جاتی ہے، اور اس کے رہنے والوں پر (رزق اور زندگی) تنگ ہو جاتی ہے۔"

[مسند الدیلمی:246، الجامع الصغیر:3044، جامع الاحادیث-للسیوطی:4322]
---

تشریح علامہ مناوی:

(اپنے گھروں میں قرآن کی تلاوت کثرت سے کیا کرو) یعنی اپنی سکونت گاہوں میں، خواہ وہ گھر ہو یا کوئی اور جگہ۔ (کیونکہ جس گھر میں قرآن نہیں پڑھا جاتا، اس کی بھلائی کم ہو جاتی ہے، اس کی برائی بڑھ جاتی ہے، اور اس کے رہنے والوں پر تنگی آ جاتی ہے) یعنی ان پر رزق تنگ کر دیا جاتا ہے۔ اس لیے کہ برکت، نمو اور خیر میں اضافہ اللہ کی کتاب کے تابع ہیں۔ جہاں یہ (کتاب) ہوتی ہے، یہ (برکات) بھی ہوتی ہیں۔ اور یہ بات عارفین کے نزدیک محسوس چیز کی طرح ہے۔

[فیض القدیر-للمناوی:1412]


حدیث کی سند کا مرتبہ: 
اس حدیث کی سند میں ضعف(کمزوری) ہے۔ امام دارقطنی نے اسے ضعیف(کمزور) قرار دیا ہے۔
[الضعيفة:2882]
تاہم اس کے معنی دوسری صحیح احادیث سے ثابت ہیں۔
[الصحيحة:3112]


دوسری احادیث سے تائید:
   · حضرت ابن مسعود سے روایت ہے کہ: "جس گھر میں قرآن نہیں پڑھا جاتا، وہ اس گھر کی طرح ویران ہے جس کا کوئی باسی نہیں۔"
[مصنف ابن ابی شیبہ:30022، سنن دارمی:3350]

   · حضرت ابوھریرہ سے روایت ہے کہ: بے شک گھر اپنے رہنے والوں پر کشادہ ہو جاتا ہے، اس میں فرشتے حاضر ہوتے ہیں، شیاطین اس سے دور بھاگتے ہیں، اور اس کی بھلائی بڑھ جاتی ہے، جب اس میں قرآن پڑھا جاتا ہے۔ اور بے شک گھر اپنے رہنے والوں پر تنگ ہو جاتا ہے، اس سے فرشتے دور رہتے ہیں، اس میں شیاطین حاضر ہوتے ہیں، اور اس کی بھلائی کم ہو جاتی ہے، جب اس میں قرآن نہیں پڑھا جاتا۔"
[سنن دارمی:3352]

   · حضرت عبدالرحمٰن بن سابط رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "جس گھر میں قرآن پڑھا جاتا ہے، اس کی بھلائی بڑھ جاتی ہے، اس کے رہنے والوں پر کشادگی ہوتی ہے، اس میں فرشتے حاضر ہوتے ہیں، اور شیاطین اس سے دور بھاگتے ہیں۔ اور جس گھر میں قرآن نہیں پڑھا جاتا، اس کے رہنے والوں پر تنگی ہوتی ہے، اس کی بھلائی کم ہو جاتی ہے، فرشتے اس سے دور رہتے ہیں، اور شیاطین اس میں حاضر ہوتے ہیں۔ اور بے شک جس گھر میں قرآن پڑھا جاتا ہے اور اس میں (عبادت سے) ہلچل مچی رہتی ہے، وہ گھر آسمان والوں کے لیے اسی طرح روشن ہوتا ہے جیسے ستارہ زمین والوں کے لیے روشن ہوتا ہے۔"
[مصنف عبد الرزاق:5999]

· حضرت ابوھریرہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "اپنے گھروں کو قبرستان نہ بناو، شیطان اس گھر سے بھاگتا ہے جس میں سورۃ البقرہ پڑھی جاتی ہے۔"
[صحیح مسلم:780]

   · حضرت عائشہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: "قرآن پڑھنے کی وجہ سے گھر اہلِ آسمان کے لیے ایسے روشن ہوتا ہے جیسے زمین والوں کے لیے ستارے روشن نظر آتے ہیں۔"
[شعب الایمان-للبیھقی:1829، الصَّحِيحَة:3112]
---

حاصل شدہ اسباق و نکات

1. گھر میں قرآن کی تلاوت کی ترغیب: حدیث میں گھروں میں کثرت سے قرآن پڑھنے کی تاکید کی گئی ہے۔ یہ عمل گھر میں برکت کا سبب بنتا ہے۔
تلاوت اور قرأت میں فرق: حدیث میں تلاوت کا لفظ آیا ہے، اس مراد صرف (1)قرآن ہی کا پڑھنا اور (2)سمجھ کر پڑھنا ہے۔ جبکہ قرأت کا لفظ قرآن کے ساتھ ساتھ خط، رسالہ وغیرہ کے پڑھنے پر بھی بولا جاتا ہے اور (2)سمجھ کر پڑھنے کے ساتھ ساتھ بغیرسمجھے پڑھنے پر بھی بولا جاسکتا ہے۔ 

2. قرآن سے خالی گھر کی تباہی: جس گھر میں قرآن کی تلاوت نہیں ہوتی، وہاں تین خرابیاں پیدا ہوتی ہیں:
   · بھلائی میں کمی: اس گھر کی برکت اور خیر کم ہو جاتی ہے۔
   · برائی میں اضافہ: اس گھر میں شر اور برائیاں بڑھ جاتی ہیں۔
   · تنگی: گھر والوں پر رزق اور زندگی میں تنگی آ جاتی ہے۔

3. برکت کا تعلق قرآن سے: تمام برکات اور خیرات کا دارومدار قرآن سے ہے۔ قرآن جہاں ہوتا ہے، برکت وہاں ہوتی ہے۔
۔اللہ پاک نے قرآن پاک میں ارشاد فرمایا: اور (اسی طرح) یہ برکت والی کتاب ہے جو ہم نے نازل کی ہے۔ لہذا اس کی اتباع(پیروی) کرو، اور تقویٰ اختیار کرو، تاکہ تم پر رحمت ہو۔[سورۃ الأنعام:155]
۔ (اے پیغمبر) یہ ایک بابرکت کتاب ہے جو ہم نے تم پر اس لیے اتاری ہے کہ لوگ اس کی آیتوں پر غور و فکر کریں، اور تاکہ عقل رکھنے والے نصیحت حاصل کریں۔ [سورۃ ص:29] یعنی جب آخرت اور حساب و کتاب کی ضرورت معلوم ہوگئی تو الله تعالیٰ کے عدل و انصاف ہی کا تقاضا یہ ہے کہ وہ انسانوں کو پہلے سے متنبہ کرنے کے لیے کوئی ہدایت نامہ عطا فرمائیں، تاکہ لوگ اس پر عمل کر کے اپنی آخرت کو درست کرسکیں۔ اس کے لیے قرآن کریم کی شکل میں الله تعالیٰ نے یہ مبارک کتاب نازل فرمائی ہے۔

4. شیطان کا گھر سے نکلنا: دوسری حدیث میں ہے کہ جس گھر میں سورۃ البقرہ پڑھی جاتی ہے، شیطان اس گھر سے نکل جاتا ہے ۔

5. فرشتوں کا نزول: قرآن کی تلاوت والے گھر میں فرشتے رحمت کے لیے اترتے ہیں۔

6. روحانی سکون: قرآن پڑھنے والے گھر میں روحانی سکون اور قلبی اطمینان ہوتا ہے۔

7. علماء کا تجربہ ومشاہدہ: عارفین اور صاحبانِ بصیرت کے نزدیک یہ بات محسوس اور تجربہ شدہ ہے کہ قرآن والے گھروں میں برکت اور سکون ہوتا ہے۔

8. عملی زندگی میں اصلاح: اس حدیث سے سبق ملتا ہے کہ ہمیں چاہیے کہ اپنے گھروں کو قرآن سے منور کریں، اس کی تلاوت کا اہتمام کریں، اور اسے اپنی زندگیوں میں نافذ کریں تاکہ گھروں میں برکت، سکون اور رحمت نازل ہو۔

9. بچوں کی تربیت: بچوں کو چھوٹی عمر سے قرآن پڑھنے کی عادت ڈالنی چاہیے۔

10. نیت کا خلوص: قرآن کی تلاوت اللہ کی رضا کے لیے ہونی چاہیے، نہ کہ دکھاوے کے لیے۔ لہٰذا گھروں میں تلاوت کی عادت اخلاص کی علامت اور ریاء سے زیادہ محفوظ ہوتی ہے۔ 

۔


گگگگ 


Sunday, 7 June 2015

وصیت اور تقسیمِ میراث کی اہمیت وفضیلت




وصیت کرنے کا حکم
القرآن:
...(اور یہ ساری تقسیم) اس وصیت پر عمل کرنے کے بعد ہوگی جو مرنے والے نے کی ہو۔۔۔

[سورۃ النساء:11]




وصیت کی اہمیت اور اس کا حکم



حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

" مَا حَقُّ امْرِئٍ مُسْلِمٍ لَهُ شَيْءٌ يُرِيدُ أَنْ يُوصِي فِيهِ , يَبِيتُ لَيْلَتَيْنِ , 

[ وفي رواية: يَبِيتُ ثَلَاثَ لَيَالٍ] (¬1) إِلَّا وَوَصِيَّتُهُ مَكْتُوبَةٌ عِنْدَهُ " (¬2)

---

ترجمہ:

"کسی مسلمان شخص کے لیے جس کے پاس کوئی چیز ہو جس کے بارے میں وہ وصیت کرنا چاہتا ہے، یہ حق نہیں ہے کہ وہ دو راتیں (اور دوسری روایت میں: تین راتیں)(¬1) گزارے مگر یہ کہ اس کی وصیت اس کے پاس لکھی ہوئی موجود ہو۔"(¬2)


---

تخریج و حوالہ جات:


(¬1)صحیح مسلم:1627، سنن النسائی:3618، مسند احمد:4578


(¬2)صحیح مسلم:1627، صحیح بخاری:2587، سنن ترمذی:974، سنن النسائی:3615


---


شرح للمناوی:


(مَا) یعنی نہیں ہے (حَقُّ امْرِئٍ) کسی شخص کے لیے (مُسْلِمٍ) یعنی کسی مسلمان کے لیے حزم و احتیاط، یا اخلاقِ حسنہ میں معروف بات یہ نہیں ہے (جو آگے آ رہی ہے)۔ "مسلم" کا ذکر غالب ہے، ورنہ ذمی (غیر مسلم) کے لیے بھی یہی حکم ہے۔


(لَهُ شَيْءٌ) یعنی اس کے پاس کوئی مال، قرض، حق یا امانت ہو (بیہقی کی روایت میں "مال" کے الفاظ ہیں)۔


(يُرِيدُ أَنْ يُوصِي فِيهِ) یعنی وہ اس (چیز) کے بارے میں وصیت کرنا چاہتا ہو۔


(يَبِيتُ) یعنی وہ رات گزارے۔ جیسا کہ ارشاد ہے: {وَمِنْ آيَاتِهِ يُرِيكُمُ الْبَرْقَ} (الروم: 24)۔


نحوی وضاحت:

· "مَا" نفی کے لیے ہے (نہیں ہے)۔

· "حَقُّ" اس کا اسم ہے۔

· "يُوصِي فِيهِ" "شَيْء" کی صفت ہے۔

· "يَبِيتُ لَيْلَتَيْنِ" "امرئ" کی تیسری صفت ہے۔

· مستثنیٰ (إِلَّا) خبر ہے۔

· "يَبِيتُ" کا مفعول محذوف ہے، تقدیر ہے: "يَبِيتُ ذَاكِرًا" (یاد رکھتا ہوا رات گزارے) یا اس کے معنی میں۔


(لَيْلَتَيْنِ) یعنی اس پر مناسب نہیں کہ تھوڑا سا وقت بھی گزر جائے۔


علامہ طیبی نے کہا: دو راتوں کا ذکر "تسامح" (نرمی) کے طور پر ہے۔ اصل یہ ہے کہ اس پر ایک رات بھی نہ گزرے۔ اس نے اس قدر میں نرمی کی ہے کہ اس سے زیادہ نہ ہو۔


سوال: "لیلة" (رات) کا شمار کب سے شروع ہوگا؟ جب سے وصیت کا حق واجب ہوا، یا جب سے وصیت کرنے کا ارادہ کیا؟ دونوں احتمالات ہیں۔


(إِلَّا وَوَصِيَّتُهُ) یہاں "واو" حالیہ ہے۔ (مَكْتُوبَةٌ عِنْدَهُ) یعنی اس کے پاس لکھی ہوئی موجود ہو، جس پر گواہ بھی ہوں۔ کیونکہ عام طور پر لکھنے کے ساتھ گواہ بھی ہوتے ہیں، اور اکثر لوگ لکھنے سے ناواقف ہوتے ہیں، اس لیے اس میں صرف تحریر پر اعتماد کرنے کی دلیل نہیں ہے۔


علت(سبب):

اس حکم میں اشارہ ہے کہ وصیت کا حکم ندب (مستحب) کے لیے ہے۔ ہاں، جس شخص پر اللہ کا حق ہو یا کسی انسان کا حق ہو (جس کے لیے گواہ نہ ہوں)، تو اس پر وصیت کرنا واجب ہے، کیونکہ اچانک موت آ سکتی ہے اور وہ وصیت کیے بغیر مر جائے۔


---


نحوی نکات (جیسا کہ فتح الباری میں ہے)


"يَبِيتُ" پر "أَنْ" کے حذف کے بعد رفع ہے، جیسا کہ {وَمِنْ آيَاتِهِ يُرِيكُمُ الْبَرْقَ} میں "يُرِيكُمُ" پر "أَنْ" کا حذف ہے۔


علامہ عینی نے اس پر اعتراض کیا کہ یہ قیاس فاسد ہے، کیونکہ وہاں "يُرِيكُمُ" کو "أَنْ" کے ساتھ تقدیر کرنا پڑا کیونکہ وہ مبتدا کی جگہ ہے (کیونکہ "مِنْ آيَاتِهِ" خبر ہے اور فعل مبتدا نہیں ہو سکتا، اس لیے "أَنْ" ڈال کر مصدر بنا دیا گیا)۔


تخریج

یہ حدیث امام مالک، امام احمد، اور چاروں (بخاری، مسلم، ابوداؤد، ترمذی، نسائی) نے "کتاب الوصیہ" میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے۔

[فيض القدير-للمناوي:7893]

---


حاصل شدہ اسباق و نکات


1. وصیت کی اہمیت: ہر مسلمان جس کے پاس کوئی مال یا حق ہو اور وہ اس کے بارے میں وصیت کرنا چاہے، اسے چاہیے کہ جلد از جلد وصیت لکھ کر رکھ لے، تاکہ کسی حادثہ یا اچانک موت کی صورت میں وہ محروم نہ رہ جائے۔

2. وصیت کا حکم:

   · مستحب: جب کوئی شخص اپنی مرضی سے کسی کو کچھ دینا چاہے۔

   · واجب: جب اس پر اللہ کا حق ہو (مثلاً زکاۃ، کفارہ وغیرہ) یا کسی انسان کا حق ہو اور گواہ نہ ہوں، تو وصیت کرنا واجب ہے تاکہ حق ضائع نہ ہو۔

3. دو یا تین راتوں کی حدیث میں نرمی: اصل یہ ہے کہ جب وصیت کا ارادہ ہو تو فوراً کر لینی چاہیے۔ دو یا تین راتوں کا ذکر "تسامح" (نرمی) کے طور پر ہے، یعنی اس سے زیادہ تاخیر نہ کرے۔

4. وصیت کا طریقہ: وصیت کو لکھ کر رکھنا بہتر ہے، اور اس پر گواہ بھی رکھنے چاہئیں تاکہ بعد میں اختلاف نہ ہو۔

5. تاخیر کی ممانعت: حدیث میں تاخیر کرنے سے منع کیا گیا ہے کیونکہ انسان کو موت کا یقین نہیں، اور وصیت کے بغیر مرنے والا مال کو ضائع کر سکتا ہے۔

6. اسلام کی احتیاط: یہ حدیث اسلامی شریعت کی احتیاط اور حقوق کی حفاظت کو ظاہر کرتی ہے کہ مسلمان کو چاہیے کہ وہ اپنے معاملات کو وقت پر طے کر لے۔

7. لغوی اور نحوی فوائد: شارحین نے حدیث کے الفاظ کی نحوی حیثیت، "يَبِيتُ" پر "أَنْ" کے حذف، اور اس کے مقام پر تفصیلی بحث کی ہے۔

8. جمہور محدثین کا اتفاق: یہ حدیث بخاری و مسلم میں موجود ہے، اس لیے انتہائی صحیح اور قابلِ عمل ہے۔


واللہ اعلم بالصواب





ورثاء کی حق تلفی کا انجام»

اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا:
(1)میراث اس کے حقدار تک پہنچادو۔
[صحیح بخاری:6732]
(2)جو شخص بھاگے گا وارث کو میراث دلانے سے، قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اسے جنت کی میراث نہ دے گا۔
[سنن ابن ماجہ:2703]
جو محروم کرے گا وارث کو اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ حصہ سے، تو محروم کرے گا اللہ اسے اس کے جنت کے حصہ سے۔
[سنن سعید بن منصور:285]

القرآن:
اور قریب بھی نہ جاؤ یتیم کے مال کے۔۔۔
[الانعام:152 الاسراء:34]
وہ اپنے پیٹ میں آگ بھر رہے ہیں
[النساء:10]


فضائلِ رمضان، روزہ، اعتکاف، شبِ قدر


القرآن:
رمضان کا مہینہ وہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا جو لوگوں کے لئے سراپا ہدایت، اور ایسی روشن نشانیوں کا حامل ہے جو صحیح راستہ دکھاتی اور حق و باطل کے درمیان دو ٹوک فیصلہ کردیتی ہیں، لہذا تم میں سے جو شخص بھی یہ مہینہ پائے وہ اس میں ضرور روزہ رکھے، اور اگر کوئی شخص بیمار ہو یا سفر پر ہو تو وہ دوسرے دنوں میں اتنی ہی تعداد پوری کرلے، اللہ تمہارے ساتھ آسانی کا معاملہ کرنا چاہتا ہے اور تمہارے لئے مشکل پیدا کرنا نہیں چاہتا، تاکہ (تم روزوں کی) گنتی پوری کرلو، اور اللہ نے تمہیں جو راہ دکھائی اس پر اللہ کی تکبیر کہو اور تاکہ تم شکر گزار بنو۔
[سورۃ نمبر 2 البقرة، آیت نمبر 185]



****************************
حضرت واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

أُنْزِلَتْ صُحُفُ إِبْرَاهِيمَ أَوَّلَ لَيْلَةٍ مِنْ شهر رمضان، وَأُنْزِلَتِ التَّوْرَاةُ لِسِتٍّ مَضَيْنَ مِنْ رَمَضَانَ، وَأُنْزِلَ الْإِنْجِيلُ لِثَلَاث عَشْرَةَ مَضَتْ مِنْ رَمَضَانَ، وَأُنْزِلَ الزَّبُورُ لِثَمَانِ عَشْرَةَ خَلَتْ مِنْ رمضان , وَأُنْزِلَ الْقُرْآنُ لِأَرْبَعٍ وَعِشْرِينَ خَلَتْ مِنْ رَمَضَانَ (¬1) " (¬2)

ترجمہ:
"صحفِ ابراہیم (علیہ السلام) رمضان کی پہلی رات نازل کی گئیں، تورات رمضان کی چھ تاریخ کو نازل کی گئی، انجیل رمضان کی تیرہ تاریخ کو نازل کی گئی، زبور رمضان کی اٹھارہ تاریخ کو نازل کی گئی، اور قرآن رمضان کی چوبیس تاریخ کو نازل کیا گیا (¬1)۔" (¬2)  


---

حواشی اور تشریح:

(¬1)

· امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ امام حلیمی رحمہ اللہ نے کہا: "چوبیس گزرنے" سے مراد پچیسویں کی رات ہے۔ یعنی جب چوبیس دن گزر جائیں اور پچیسویں کی رات آئے۔
· یہ تطبیق اس طرح ہے کہ رمضان کی پہلی رات سے حساب کیا جائے تو چوبیس دن گزرنے کے بعد پچیسویں کی رات شروع ہوتی ہے۔
· اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کا نزول (لوح محفوظ سے آسمان دنیا پر) رمضان کی پچیسویں رات کو ہوا۔

(¬2) تخریج:

· (طس) معجم طبرانی اوسط: حدیث نمبر 3740
· (حم) مسند امام احمد: حدیث نمبر 17025
· (يع) مسند ابو یعلیٰ: حدیث نمبر 2190
· (هق) سنن بیہقی کبریٰ: حدیث نمبر 18429
· نیز دیکھیے: صحیح الجامع: حدیث نمبر 1497
· علامہ البانی نے اسے "صحيح السيرة" (صفحہ 90) میں صحیح قرار دیا ہے۔

---

حاصل شدہ اسباق و نکات

1. رمضان میں آسمانی کتابوں کا نزول: اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ تمام بڑی آسمانی کتابیں ماہِ رمضان میں نازل ہوئیں۔ یہ اس مہینے کی عظمت اور فضیلت کی ایک اور دلیل ہے۔
2. قرآن کی خصوصی فضیلت: اگرچہ تمام کتابیں رمضان میں نازل ہوئیں، لیکن قرآن کا نزول سب سے آخری (چوبیسویں/پچیسویں رات) میں ہوا، اور یہ آخری اور مکمل کتاب ہے۔
3. لیلۃ القدر کی تعیین: اس حدیث سے بعض علماء نے لیلۃ القدر کو پچیسویں رات قرار دیا ہے، کیونکہ قرآن اسی رات نازل ہوا۔ تاہم لیلۃالقدر کی تعیین آخری عشرے کی طاق راتوں میں ہے۔
4. کتبِ آسمانی کا تسلسل: اس حدیث میں انبیاء علیہم السلام پر نازل ہونے والی مشہور کتابوں کا ذکر ہے، جو اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر دور میں اپنے بندوں کی رہنمائی کے لیے کتابیں نازل فرمائیں۔
5. رمضان کی برکات کا تسلسل: رمضان کی ہر تاریخ میں کوئی نہ کوئی برکت اور فضیلت وابستہ ہے۔ پہلی رات سے لے کر آخری ایام تک یہ سلسلہ جاری ہے۔
6. تاریخ کی اہمیت: حدیث میں مخصوص تاریخوں کا ذکر ہمیں دینی تاریخ سے آگاہی کی اہمیت سکھاتا ہے۔
7. حدیث کی سند: محدثین نے اس حدیث کی سند پر کلام کیا ہے، لیکن علامہ ابن کثیر رحمہ اللہ نے بھی اسے اپنی تفسیر اور البدایہ والنہایہ میں نقل کیا ہے اور علامہ البانی اسے صحیح قرار دیا ہے۔


****************************


حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے اصحاب سے فرمایا:
أَتَاكُمْ رَمَضَانُ شَهْرٌ مُبَارَكٌ، ‏‏‏‏‏‏فَرَضَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْكُمْ صِيَامَهُ، ‏‏‏‏‏‏تُفْتَحُ فِيهِ أَبْوَابُ السَّمَاءِ، ‏‏‏‏‏‏وَتُغْلَقُ فِيهِ أَبْوَابُ الْجَحِيمِ، ‏‏‏‏‏‏وَتُغَلُّ فِيهِ مَرَدَةُ الشَّيَاطِينِ لِلَّهِ، ‏‏‏‏‏‏فِيهِ لَيْلَةٌ خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ شَهْرٍ، ‏‏‏‏‏‏مَنْ حُرِمَ خَيْرَهَا فَقَدْ حُرِمَ.
ترجمہ:
تمہارے پاس رمضان کا مبارک مہینہ آچکا۔ اللہ تعالیٰ نے تم پر اس کے روزے فرض فرما دئیے۔ اس میں جنت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کر دئیے جاتے ہیں اور اس میں شیاطین کو جکڑ دیا جاتا ہے اس میں ایک رات ہزار مہینوں سے بہتر ہے جو شخص اس کی خیر سے محروم ہوگیا تو وہ (پوری خیر) سے محروم ہوگیا۔
[سنن النسائی:210(2108)، مسند احمد:7148، 8991، 9497، مسند اسحاق بن راهوية:1، شعب الایمان-للبيهقي:3600]
[تفسير الدر المنثور-للسيوطي:»سورة.البقرة:185]
[تفسير ابن كثير:»سورة القدر:3]