Monday, 30 December 2024

شمسی اور قمری سال


نئے سال کی اسلامی دعا»
عبداللہ بن ہشام سے روایت ہے کہ صحابہ کرام (رضوان اللہ علیہم اجمعین) نئے سال یا مہینے کی آمد پہ یہ دعا سکھاتے تھے:
اللَّهُمَّ أَدْخِلْهُ عَلَيْنَا بِالْأَمْنِ، وَالْإِيمَانِ، وَالسَّلَامَةِ، وَالْإِسْلَامِ، وَرِضْوَانٍ مِنَ الرَّحْمَنِ، وَجَوَازٍ مِنَ الشَّيْطَانِ
ترجمہ:
اے اللہ! داخل فرما ہم پر (اس مہینہ/سال کو) امن، ایمان، سلامتی، اسلام، رحمٰن کی رضا اور شیطان سے پناہ کے ساتھ۔
[المعجم الاوسط-امام الطبراني» حديث#6241][معجم الصحابة-البغوي:1539]






شمسی اور قمری، دونوں اسلامی سال ہیں»
القرآن:
اور اللہ وہی ہے جس نے سورج کو سراپا روشنی بنایا، اور چاند کو سراپا نور، اور اس کے (سفر) کے لیے منزلیں مقرر کردیں، تاکہ تم برسوں کی گنتی اور (مہینوں کا) حساب معلوم کرسکو۔ اللہ نے یہ سب کچھ بغیر کسی صحیح مقصد کے پیدا نہیں کردیا  وہ یہ نشانیاں ان لوگوں کے لیے کھول کھول کر بیان کرتا ہے جو سمجھ رکھتے ہیں۔
[سورۃ نمبر 10 يونس، آیت نمبر 5]



Friday, 27 December 2024

صحابی رسول، صدیق، عتیق، یارِ غار، ارحم امت، خلیفہ اول حضرت ابوبکرؓ

 قطعی صحابی کون؟

القرآن:
....جب﴿ہجرت کے وقت غارِ ثور میں﴾ وہ﴿پیغمبر محمد ﷺ﴾ دو آدمیوں میں دوسرے تھے، جب وہ اپنے صاحب-ساتھی
﴿ابوبکر﴾ سے کہہ رہے تھے کہ: غم نہ کرو اللہ ہمارے ساتھ ہے...

[سورۃ التوبہ:40]

﴿تفسیر طبری:16729، صحیح بخاری:3653-4663، مسلم:2381(6169) صحیح ابن حبان:6278-6869، ترمذی:3096﴾


نوٹ:

قرآن مجید جیسے قطعی ثبوت دلیل اور اسکی قطعی دلالت(وضاحت) کے بیان سے حضرت ابوبکر پیغمبر ﷺ کے یقینی صاحب یعنی ساتھی فرماکر دیگر صحابہ(ساتھیوں) سے نرالہ کردیا۔ لہٰذا اس بات کا انکار کیا اس نے نص(قرآن وسنت کے واضح بیان) کا انکار ہے۔ 



Thursday, 19 December 2024

پہلی تکبیر تحریمہ میں مرد کا"کانوں"تک ہاتھ اٹھانا



(1)عَنْ مَالِکِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ إِذَا کَبَّرَ رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّی يُحَاذِيَ بِهِمَا أُذُنَيْهِ۔۔۔

ترجمہ:

حضرت مالک بن حویرث سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب تکبیر کہتے تو اپنے ہاتھوں کو اٹھاتے یہاں تک کہ وہ کانوں کے برابر ہوجاتے۔۔۔

[صحیح مسلم:865، السنن الکبریٰ للبیھقی:2306]


عَنْ قَتَادَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ أَنَّهُ رَأَی نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ حَتَّی يُحَاذِيَ بِهِمَا فُرُوعَ أُذُنَيْهِ

ترجمہ:

قتادہ سے دوسری سند سے یہ حدیث اسی طرح مروی ہے کہ حضرت مالک بن حویرث ؓ فرماتے ہیں کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ کو دیکھا یہاں تک کہ آپ ﷺ اپنے دونوں ہاتھوں کو کانوں کی لو کے برابر اٹھاتے۔

[صحیح مسلم:866، سنن ابوداؤد:745، سنن النسائی:1057، السنن الکبریٰ للبیھقی:2306، معجم الکبیر للطبرانی:630]



آدابِ زندگی»اجازت لینا۔

القرآن:

مومن تو وہ لوگ ہیں جو اللہ اور اس کے رسول کو دل سے مانتے ہیں اور جب رسول کے ساتھ کسی اجتماعی کام میں شریک ہوتے ہیں تو ان سے اجازت لیے بغیر کہیں نہیں جاتے۔ (47) (اے پیغمبر) جو لوگ تم سے اجازت لیتے ہیں، یہی وہ لوگ ہیں جو اللہ اور اس کے رسول کو دل سے مانتے ہیں۔ چنانچہ جب وہ اپنے کسی کام کے لیے تم سے اجازت مانگیں تو ان میں سے جن کو چاہو، اجازت دے دیا کرو، اور ان کے لیے اللہ سے مغفرت کی دعا کیا کرو۔ یقینا اللہ بہت بخشنے والا، بڑا مہربان ہے۔

[سورۃ نمبر 24 النور ، آیت نمبر 62]

تفسیر:

(47) یہ آیت غزوہ ٔ احزاب کے موقع پر نازل ہوئی، اس وقت عرب کے کئی قبیلوں نے مل کر مدینہ منورہ پر چڑھائی کی تھی اور آنحضرت ﷺ نے شہر کے دفاع کے لئے مدینہ منورہ کے گرد ایک خندق کھودنے کے لئے تمام مسلمانوں کو جمع کیا تھا، سارے مسلمان خندق کھودنے میں مصروف تھے، اور اگر کسی کو اپنے کسی کام سے جانا ہوتا تو آپ سے اجازت لے کرجاتا تھا، لیکن منافق لوگ اول تو اس کام کے لئے آنے میں سستی کرتے تھے، اور اگر آجاتے تو کبھی کسی بہانے سے اٹھ کر چلے جاتے، اور کبھی بلا اجازت ہی چپکے سے روانہ ہوجاتے، اس آیت میں ان کی مذمت اور ان مخلص مسلمانوں کی تعریف کی گئی ہے جو بلا اجازت نہیں جاتے تھے۔


Monday, 9 December 2024

بڑی بڑی مونچھیں رکھنا گناہ ہے۔

 القرآن:

(اے پیغمبر ! لوگوں سے) کہہ دو کہ اگر تم اللہ سے محبت رکھتے ہو تو میری اتباع کرو، اللہ تم سے محبت کرے گا اور تمہاری خاطر تمہارے گناہ معاف کردے گا۔ اور اللہ بہت معاف کرنے والا، بڑا مہربان ہے۔

[سورۃ نمبر 3 آل عمران، آیت نمبر 31]


رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:

مخالفت کرو مشرکین کی،(لہٰذا)داڑھی بڑھاؤ اور مونچھیں گھٹاؤ۔

[صحیح بخاری:5892]


مونچھوں کو نہ چھوڑو اور ڈاڑھی کو نہ چھیڑو۔

[صحیح مسلم:259(601-603)]


جو نہ کاٹے اپنی مونچھیں تو وہ ہم میں سے نہیں.

[سنن الترمذی:2761، امن النسائی:13]




Wednesday, 27 November 2024

غائبانہ نمازِجنازہ کے ’’خلافِ سنت‘‘ ہونے کے دلائل

 

غائبانہ نمازِجنازہ کی شرعی حیثیت»
قرآن مجید میں نمازِجنازہ کے بارے میں کوئی واضح حکم نہیں ہے، تو "غائبانہ" نمازِجنازہ کا بھی نہیں۔ تاہم، قرآن مجید میں وفات کے بعد میت کے لیے دعا کرنے کا حکم ہے۔ لہٰذا جب کوئی شخص مر جائے تو اپنے مسلمان بھائیوں کے لیے استغفار کرنا اصل(بنیادی حکم) ہے۔
[قرآنی حوالہ» سورہ ابراھیم:41 الحشر:7 نوح:28 غافر:7 محمد:19]






نمازِ جنازہ کیلئے میت کا سامنے ہونا شرط ہے، لہٰذا احناف اور مالکیہ کے نزدیک "غائبانہ" نمازِ جنازہ جائز نہیں۔

علامہ عبد الرحمن الجزیری فرماتے ہیں:

الحنابلة قالوا تجوز الصلة علی الفائت ان کان بعد موته بشهر فاقل الشافعية قالوا تصح الصلة علی الفائت عن البلد من غير کراهة. المالکية قالوا الواجب حضور الميت واما وضعه امام المصلی بحيث يکون عند منکبی المرة ووسط الرجل فمندوب

ترجمہ:

حنابلہ نے کہا مرنے کے ایک مہینے یا اس سے کم مدت میں نماز غائبانہ جائز ہے۔ شافعیہ نے کہا جب میت شہر سے غائب ہو اس پر نماز جنازہ بغیر کراہت جائز ہے۔ مالکیہ نے کہا میت کا موجود ہونا لازم ہے۔ رہا اس کا نمازی (امام) کے آگے اس طرح ہونا کہ عورت کا کندھا امام کے سامنے ہو اور میت مرد ہو تو یہ مستحب ہے۔

[الفقه علی المذاهب الاربعة، 1 / 522]




امام شافعی اور امام احمد ابن حنبل رحمہما اللہ تعالیٰ کے نزدیک جائز ہے۔ کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے حبشہ کے بادشاہ نجاشی کی نمازِ جنازہ پڑھائی، جبکہ وہ سرزمینِ عرب میں نہ تھے۔
حوالہ
جیساکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ أَسِيدٍ، ‏‏‏‏‏‏أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ بِهِمْ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ صَلُّوا عَلَى أَخٍ لَكُمْ مَاتَ بِغَيْرِ أَرْضِكُمْ، ‏‏‏‏‏‏قَالُوا:‏‏‏‏ مَنْ هُوَ؟، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ النَّجَاشِيُّ.
ترجمہ:
حضرت حذیفہ بن اسید ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ صحابہ کرام ؓ کو لے کر نکلے تو فرمایا: اپنے (دینی) بھائی پر نماز جنازہ پڑھو جن کی موت تمہاری زمین سے باہر ہوگئی ہے۔ صحابہ ؓ نے پوچھا: وہ کون ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: وہ نجاشی ہیں۔
[سنن ابن ماجہ:1537](تحفة الأشراف: ٣٣٠٠، ومصباح الزجاجة: ٥٤٧)

نوٹ:
لیکن اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ جو دوسری زمین(ملک) میں ہو اور یہ یقین ہو کہ اس کی نمازِ جنازہ ادا نہیں ہوئی تو غائبانہ پڑھنا چاہئے۔ کیونکہ یہ فرض کفایہ ہے۔
لہٰذا
حنفیہ ومالکیہ کی دلیل یہ ہے کہ حضرت نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے حضرت نجاشی شاہ حبشہ رضی اللہ عنہ کی نمازِ جنازہ پڑھی تھی، لیکن وہاں درحقیقت تمام حجابات اٹھا دیئے گئے تھے اور آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے سامنے "معجزہ" کے طور پر نجاشی کا جنازہ کردیا گیا تھا تو ایسی صورت میں وہ غائبانہ نمازِ جنازہ نہ تھی۔
حوالہ
...وَهُمْ لَا يَظُنُّونَ إِلَاّ أَنَّ جِنَازَتَهُ بَيْنَ يَدَيْهِ.
ترجمہ:
۔۔۔اور وہ یہ گمان کر رہے تھے کہ اس کا جنازہ آپ کے آگے ہے۔
[صحیح ابن حبان:7212(3102)]
تفصیل کے لیے دلائل کے ساتھ ابوداوٴد شریف کی شرح بذل المجہود ملاحظہ کرلیں۔


جوابات:

(١)کبھی بھی نبی ﷺ نے غائبانہ نمازِ جنازہ نہیں پڑھائی، صرف نجاشی کیلئے یہ خصوصیتِ نبوی تھی۔

(٢) صحابہ وتابعین میں سے کسی نے نجاشی کے علاوہ کسی کی غائبانہ جنازہ نہیں پڑھایا۔

(٣) یہ معجزہ  نبوی تھا کہ نجاشی کا جسم سامنے دکھلایا گیا۔

(٤) نجاشی کا جنازہ پڑھانے والا کوئی نہیں تھا۔




اور یہ بات بھی قابلِ لحاظ ہے کہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی حیاتِ طیبہ میں بے شمار واقعاتِ وفات پیش آئے بہت سے صحابہٴ کرام رضی اللہ عنہم کی شہادت و وفات کے واقعات ہوئے مگر ثابت نہیں کہ نماز جنازہ غائبانہ کا معمول اور عادتِ شریفہ رہی ہو۔


خود نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے دنیا سے پردہ فرمایا تو حضراتِ صحابہٴ کرام رضی اللہ عنہم دور دراز علاقوں میں مقیم تھے مگر ثابت نہیں کہ انھوں نے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی غائبانہ نماز جنازہ پڑھی ہو۔


خلفائے راشدین رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کے عہد مبارک میں بھی غائبانہ نماز جنازہ کا معمول کہیں منقول(نقل شدہ وثابت) نہیں ملتا۔


خلاصہ:
(1)اکیلا شخص یعنی بغیرجماعت کسی کیلئے غائبانہ نمازِجنازہ پڑھنا خلافِ سنت ہے۔ اگر جماعت میں شریک نہ ہوسکے تو دعائے بخشش کرنا چاہئے۔
(2)جنازہ "حاضر" ہو تو "جماعت" سے نمازِجنازہ پڑھنا سنت ہے۔
(3)اور غائبانہ نمازِجنازہ خاص نجاشی کیلئے ثابت ہے، لہٰذا یہ سنتِ خاصہ ہے، سنتِ عامہ(عادت وشریعت) نہیں۔


🔰🔰🔰🔰🔰🔰🔰🔰
غائبانہ نماز جنازہ کے مانعین کی بڑی دلیل
امام ابن ہمام(م861ھ) رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا:
ثم استدل علی عدم شرعية التنفل بترک الناس عن اخرهم الصلة علی قبر النبی صلی الله عليه وآله وسلم ولو کان مشروعا لما اعرض الخلق کلهم من العلماء والصالحين والراغبين فی التقرب اليه صلی الله عليه وآله وسلم بانواع الطرق عنه فهذا دليل ظاهر فوجب اعتباره.
ترجمہ:
پھر مصنف ہدایہ نے نفلی نماز جنازہ کے ناجائز ہونے کی یہ دلیل پیش کی کہ لوگوں نے بالاتفاق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قبر انور پر نماز جنازہ چھوڑ دی ہے۔ اگر جائز ہوتی تو تمام مخلوق جن میں علماء، صلحا اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مختلف ذرائع سے قرب حاصل کرنے کے شوقین شامل ہیں، اس سے روگردانی نہ کرتے۔ پس یہ اس پر واضح دلیل ہے اس کا اعتبار لازم ہے۔
[فتح القدير، 2 / 84]

علامہ حصکفی(م1088ھ) الدرالمختار میں فرماتے ہیں۔
وصلة النبی صلی الله عليه وآله وسلم علی النجاشی لغوية او خصوصية.
ترجمہ:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حضرت نجاشی پر نماز جنازہ، یا اصطلاحی نماز جنازہ نہ تھی بلکہ لغوی صلاۃ (یعنی دعائے مغفرت) تھی۔ یا آپ کی خصوصیت۔

علامہ شامی(م1198ھ) اس کی شرح میں لکھتے ہیں:
المراد بها مجرد الدعاء وهو بعيد او خصوصية لانه رفع سريره حتی رآه عليه الصلاة والسلام بحضرته.
ترجمہ:
یا تو صلاۃ سے مراد محض دعائے مغفرت ہے مگر یہ بات حقیقت سے دور ہے یا یہ آپ کی خصوصیت ہے کیونکہ ان کی میت کو اٹھا کر سامنے رکھ دیا گیا تھا یہاں تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے اپنے سامنے دیکھا۔
[شامی، 2 / 209، البحر الرائق، 2 / 179 / بدائع الصنائع، 3111]


امام اجل شمس الائمۃ ابو بکر محمد بن ابی سہل السرخسی(م483ھ) رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
الصلاة علی الجنازة فرض علی الکفاية تسقط باداء الواحد اذا کان هو الولی وليس للقوم ان يعيدوا بعد ذلک.
ترجمہ:
نماز جنازہ فرض کفایہ ہے۔ اگر ایک ولی بھی ادا کر دے تو فرضیت ساقط ہو جاتی ہے۔ باقی لوگوں کو دوبارہ ادا کرنے کی اجازت نہیں۔
[المبسوط للسرخسی، 2 / 126]

امام محمد بن حسن شیبانی(م189ھ) سے پوچھا گیا:
ارايت اماما صلی علی جنازة وفرع وسلم وسلم القوم ثم جاء آخرون بعد فراغ الامام من الصلاة ايصلون عليها جماعة او وحدانا قال لا يصلون عليها جماعة ولا وحدانا.
ترجمہ:
آپ کے خیال میں ایک امام نے نماز جنازہ ادا کر لی اور فارغ ہو گیا اور سلام پھیر لیا لوگوں نے بھی سلام پھیر لیا۔ امام کے فارغ ہونے کے بعد اور لوگ آ گئے۔ کیا وہ جماعت کے ساتھ یا اکیلے نماز جنازہ ادا کریں گے؟ فرمایا نہیں۔ نہ جماعت کے ساتھ نہ اکیلے۔
[المبسوط امام محمد بن حسن شيبانی، 1 / 428]

ان تمام حوالہ جات سے معلوم ہوا کہ احناف کے نزدیک نہ تو میت پر نماز جنازہ غائبانہ جائز ہے اور نہ دوبارہ ادا کرنا جبکہ پہلی بار ولی نے ادا کر لی۔ البتہ شوافع، حنابلہ اور داؤد نے قبر پر نماز جنازہ کو جائز قرار دیا ہے۔ مالکیہ اس مسئلہ میں احناف سے متفق ہیں۔


🔰🔰🔰🔰🔰🔰🔰🔰
ایصالِ ثواب کیا، کیسے، کب اور کیوں؟

Wednesday, 30 October 2024

سلام کرنے کے فضائل، مسائل، آداب واحکام



القرآن:
جب تمہیں کوئی سلام کرے تو(افضل یہ ہے کہ)تم اس سے بہتر(زیادہ مسنون الفاظ سے)سلام کرو یا(کم از کم انہی الفاظ سے)اس کا جواب دو۔
[سورة النساء:86]
اگر لوگوں کو علم ہو جائے کہ سلام (کی دعا) کرنے اور لینے کا کتنا فائدہ ہے اور سلام(کی دعا) نہ کرنے یا نہ لینے کا کتنا نقصان ہے تو وہ روزانہ صرف سلام کرنے کیلئے بازاروں میں لوگوں کو تلاش کرنے نکلا کرتے۔
مکمل سلام کا مفہوم:
سلامتی ہوں (ہر تکلیف وپریشانی سے) آپ سب پر ، اور رحمتیں(بھلائیاں وآسانیاں) ہوں اللہ کی، اور (یہ سب دائم رکھنے والی) برکتیں بھی ہوں اسکی۔


Thursday, 26 September 2024

حقیقی شان بیان کرنا گستاخی نہیں۔

 حقیقی شان بیان کرنا گستاخی نہیں۔

القرآن:

مسیح کبھی اس بات کو عار نہیں سمجھ سکتے کہ وہ اللہ کے بندے ہوں، اور نہ مقرب فرشتے (اس میں کوئی عار سمجھتے ہیں) اور جو شخص اپنے پروردگار کی بندگی میں عار سمجھے، اور تکبر کا مظاہرہ کرے تو (وہ اچھی طرح سمجھ لے کہ) اللہ ان سب کو اپنے پاس جمع کرے گا۔ 

[سورۃ نمبر 4 النساء، آیت نمبر 172]


تفسیر:

نجران کے وفد نے کہا: اے محمد ﷺ! آپ ہمارے آقا (عیسیٰ مسیح) پر عیب لگاتے ہیں۔ آپ نے فرمایا: میں کیا کہتا ہوں؟ وفد والوں نے کہا: آپ ان کو اللہ کا بندہ اور رسول کہتے ہیں۔ آپ نے فرمایا: اللہ کا بندہ ہونا عیسیٰ (علیہ السلام) کے لیے باعث عار نہیں۔

[تفسير امام البغوي: حديث#735 (جلد1 صفحه726)]


نوٹ:

(1)اللہ کی شان انبیاء بلکہ تمام مخلوق سے بھی بلند ہے، لہٰذا اللہ کے مقابلے میں کسی کی شان کو اللہ سے بلند یا برابر نہ رکھنا بلکہ چھوٹا/کم رکھتے بندہ کہنا کہلوانا حق ہے، اس بات پر کوئی پیغمبر یا فرشتہ ہرگز عار محسوس نہیں کرتا بلکہ خوشی وفخر محسوس کرتا یے۔

(2)اگر حقیقی شان بیان کرنا گستاخی نہیں، جو ایسا سمجھے وہ نادان ہے۔

Tuesday, 10 September 2024

عظیم، اچھے اور برے اخلاق

’’خُلُق‘‘ انسانی عادت(صفت) کو کہتے ہیں ’’اَخلاق‘‘ عادات کو کہتے ہیں۔


اقسامِ اخلاق:

(1)اچھے اخلاق...صفات وعادات۔

جیسے: توحید، توبہ، تقویٰ، اخلاص، توکل،تفکر، صبر، شکر، قناعت، استقامت، خوف وامید ...احسان، الفت، امانت، ایثار، تعاون، تواضع، حلم، حیاء، رفق(نرمی)، سخاوت، شجاعت، صدق(سچائی)، صمت(خاموشی)، عدل، عزم وعزیمت، عفت(پاکدامنی)، عفو(معافی)، وفا، صلہ رحمی، علو الھمۃ(بلندہمتی)، غیرت، محبت، مدارات، مروت، اعتدال و میانہ روی، نصیحت، ورع وغیرہ

(2)برے اخلاق...صفات وعادات۔

جیسے: شرک وظلم، تکبر، جھوٹ، بےحیائی وبدزبانی، بدگمانی، لالچ، اسراف وتبذیر، منگھڑت بہتان لگانا، راز فاش کرنا، بخل وشح، تجسس، جبن(بزدلی)، جدل(جھگڑنا)، حسد، حقد، خیانت، ذلیل کرنا، تمسخر ومذاق اڑانا، عجب، غدر، غش(دھوکہ)، غضب(غصہ)، غیبت، چغلی، بدعہدی، مایوسی وناامیدی وغیرہ


درجاتِ اخلاق:

    · فطری اخلاق: جو اللہ نے فطرت میں رکھے ہیں (جیسے ماؤں کا بچوں سے پیار)۔

    · دینی اخلاق: جو انبیاء نے سکھائے۔

    · تکمیلی اخلاق: جو نبی ﷺ نے مکمل کیے، جیسے دشمنوں سے بھی درگزر کرنا، بدلے پر احسان کرنا۔




عربی زبان کے امام راغب اصفھانی لکھتے ہیں: 

خُلُق اور خَلَق اصل میں دونوں ایک ہی ہیں، جیسے شِرب اور شُرب، صرم اور صرم۔۔۔لیکن خَلق اس شکل و صورت پر بولا جاتا ہے جس کا تعلق آنکھ کے پالینے سے ہوتا ہے۔ اور خُلق کا لفظ باطنی قویٰ، عادات وخصائل کے معنیٰ میں استعمال ہوتا ہے، جن کا تعلق بصیرت سے ہے۔ قرآن میں ہے:

اور یقیناً آپ(اے پیغمبر!) اخلاق کے اعلیٰ درجہ پر ہیں۔
(سورۃ القلم،آیت#4)
[مفردات القرآن-امام الراغب: صفحہ297]






تمام جہانوں کیلئے رحمت» محمد رسول اللہ ﷺ

وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِلْعَالَمِينَ
اور (اے محمد!) ہم نے تمہیں بھیجا ہے تمام جہانوں کے لئے رحمت بنا کر۔
[سورة الانبياء:107]

القرآن:
اور (اے پیغمبر) اللہ ایسا نہیں ہے کہ ان کو اس حالت میں عذاب دے جب تم ان کے درمیان موجود ہو۔۔۔
[سورۃ الأنفال، آیت نمبر 33]
رسول اللہ ﷺ سے کہا گیا: کیا آپ (قریش کے) مشرکین پر لعنت نہیں کریں گے۔ آپ نے فرمایا: میں لعنت کرنے کے لیے نہیں بھیجا گیا، بلکہ مجھے رحمت بنا کر بھیجا گیا ہے۔
[صحیح مسلم:2599()]
اور پرہیزگاروں کیلئے ہدایت (بن کر)۔
[مسند احمد:22218ـ22307]
میں تو بس ایک رحمت ہوں جو رہنمائی کرتا ہے۔
[الصحيحة:490، حاکم:100]
میں نے اپنی امت کے کسی فرد کو غصے کی حالت میں اگر برا بھلا کہا یا اسے لعن طعن کی تو میں بھی تو آدم کی اولاد میں سے ہوں، مجھے بھی غصہ آتا ہے جیسے انہیں آتا ہے، لیکن اللہ نے مجھے رحمۃ للعالمین بنا کر بھیجا ہے تو  (اے اللہ)  میرے برا بھلا کہنے اور لعن طعن کو ان لوگوں کے لیے قیامت کے روز رحمت بنا دے  اللہ کی قسم یا تو آپ اپنی اس حرکت سے باز آجائیں ورنہ میں عمر بن الخطاب  (امیر المؤمنین)  کو لکھ بھیجوں گا۔
[سنن ابوداؤد:4659، مسند احمد:23706]

حضرت ابن عباس نے فرمایا: جو ایمان لائے گا اس پر دنیا اور آخرت میں رحم کیا جائے گا، اور جو ایمان نہیں لائے گا کہ وہ اس عذاب سے بچ جائے گا جو موجودہ دنیا میں قوموں پر ہوتا تھا۔ یعنی دھنسنے، چہرے بگڑنے اور پتھروں کی بارش سے، یہی اس دنیا میں رحمت ہے۔
[المعجم الكبير للطبراني:12358، دلائل النبوة للبيهقي:5/486]




Thursday, 5 September 2024

نظرِ بد کی حقیقت، تاثیر اور علاج

نظرِ بد کا اثر اور حقیقت»

حضرت جابر سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا:

"العين تدخل الرجل القبر وتدخل الجمل القِدر".

ترجمہ:

نظر آدمی پر قبر میں بھی لگ جاتی ہے اور ہانڈی میں گوشت پر بھی لگ جاتی ہے۔

[مسند الشھاب:1057، کنزالعمال:17660، صحیح الجامع:4144، الصحیحہ:1249]

القرآن:

جن لوگوں نے کفر اپنا لیا ہے جب وہ نصیحت کی یہ بات سنتے ہیں تو ایسا لگتا ہے کہ یہ اپنی (تیز تیز) آنکھوں سے تمہیں ڈگمگا دیں گے۔۔۔

[سورۃ القلم:51]



Tuesday, 3 September 2024

شدت-انتہاپسندی کے جائز اور ناجائز پہلو

انتہا-شدت پسندی یہ نہیں کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے ساتھ سچا، مخلص اور گہری عقیدت رکھی جائے۔ علمِ دین کی لگن، دین پر ثابت قدمی، غیر متزلزل عزم-وابستگی، بغیرسمجھوتہ عدل وانصاف، ظلم وناحق کا انکار کیا جائے۔

بلکہ

انتہا-شدت پسندی تو یہ ہے کہ گناہ/ناحق پر قائم اور ضدی رہنا، اللہ کی مقرر کردہ حدود سے نکلنا، عدل وانصاف پر سمجھوتا کرنا، لوگوں کو ناحق تکلیف/نقصان پہنچانا، اپنوں کا ظلم میں ساتھ دینا اور دوسروں کیلئے دوغلی پالیسی رکھنا، حقوق وحدود کا انکار کرنا ہے۔


Friday, 30 August 2024

صحت کا بیان


حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ اکثر یہ دعا مانگا کرتے تھے:

دو نعمتیں ایسی ہیں جن میں اکثر لوگ اپنا نقصان کرتے ہیں:(1)صحت (2)فراغت۔

[بخاری:6412 ترمذی:2304 ابن ماجہ:4170]


تشریح:

۔۔۔ اور کچھ نہ کیا تو صبح سے شام تک پڑے ہوتے رہے اور آج کل تو صحت مند و مریض سب کا ایک ہی مشغلہ ہے فلم بینی یا ڈرامہ دیکھنا۔


فقہ الحدیث:

(1)باب:-دل کو نرم کرنے والی باتیں اور یہ کہ آخرت ہی کی زندگی زندگی ہے۔

[بخاری:6412]

(2)باب:-زھد کے متعلق اللہ کے رسول ﷺ کے فرامین۔

[ترمذی:2304، ابن ابی شیبہ:35497]

(3)باب:-توکل اور یقین کا بیان

[ابن ماجہ:4170]

(4)باب:-جو ساٹھ سال کی عمر کو پہنچا، اللہ نے اس کی عمر کا بہانہ ختم کیا: کیا ہم نے تمہیں عمر نہ دی تاکہ جو نصیحت حاصل کرنا چاہتا کرلیتا جبکہ ڈرانے والے بھی آئے۔﴿سورۃ فاطر:37﴾

[سنن کبریٰ للبیہقی:6523]

(5)قیامت کے روز نعمت کے متعلق سوال ہوگا۔

[کنزالعمال:6444]



القرآن:

اور ہم جس شخص کو لمبی عمر دیتے ہیں اسے تخلیقی اعتبار سے الٹ ہی دیتے ہیں۔ کیا پھر بھی انہیں عقل نہیں آتی؟

[سورۃ نمبر 36 يس، آیت نمبر 68]







Friday, 16 August 2024

قناعت یعنی اللہ کی تقسیم پر راضی رہنے کے فضائل

ادابِ زندگی وبندگی۔

قناعت۔


لغوی معنیٰ:

القَنَاعَة عربی زبان کا لفظ ہے، جس کی معنیٰ تھوڑی چیز پر رضا مندی، جو کچھ مل جائے اس پر صبر کرلینے کی خُو(عادت) ہے۔

"القَانِعُ" کے معنی رضامند کے ہیں۔ قناعت کے کچھ دوسرے معانی ہیں: چھپانا، قبول کرنا اور ماننا۔

[لسان العرب : 297/8]


اصطلاحی معنیٰ:

كَانَ غَيْرَ كَافٍ وَتَرْكُ التَّطَلُّعِ إِلَى المَفْقودِ.

ترجمہ:

قناعت ان نیک اخلاق(عادات) میں سے ہے، کہ موجود حلال چیزوں پر نفس کا راضی رہنا، خواہ وہ ناکافی ہو، اور جو نہیں ہے اس کے لیے خواہشات کو ترک کرنا ہے۔


تشریح:

القَنَاعَةُ مِنَ الأَخْلاَقِ الفَاضِلَةِ التي هِيَ مِنْ صِفاتِ الأَنْبِياءِ وَأَهْلِ الإِيمَانِ، وَهِيَ عِبارَةٌ عَنْ امْتِلاءِ قَلْبِ العَبْدِ بِالرِّضَا، وَالبُعْدِ عَنِ الغَضَبِ وَالشَّكْوَى عَمَّا لَمْ يَتَحَقَّقْ وَالطَّمَعِ فِيمَا لاَ يْمَلِكُ، وَالقَناعَةُ قِسْمانِ: 1- قَناعَةُ الفَقِيرِ، وَهِيَ الرِّضَا بِالحَلالِ المَوْجودِ وَتَرْكِ النَّظَرِ فِي الحَرامِ وَالغَضَبِ عِنْدَ فَواتِ نِعْمَةٍ. 2- قَناعَةُ الغَنِيِّ، وَهِيَ أَنْ يَكونَ رَاضِيًا شَاكِرًا مُسْتَعْملًا النِّعْمَةَ فِي طَاعَةِ اللهِ، لَا جَاحدًا طَامِعًا فِي أَموالِ الآخَرِينَ. وَالقَناعَةُ لَهَا فَوائِدُ عَدِيدَةٌ فَهِيَ شِفاءٌ وَدَواءٌ مِنْ أَمْراضِ الجَشَعِ وَالطَّمَعِ وَالحَسَدِ وَالسَّرِقَةِ وَغَيْرِهَا.

ترجمہ:

قناعت حسن اخلاق میں سے ہے جو انبیاء اور اہل ایمان کی خصوصیات میں سے ہے اور یہ اس بات کا اظہار ہے کہ بندے کا دل قناعت سے لبریز ہو اور دور رہے غصہ سے اور جو کچھ اسے حاصل نہیں ہوا اس کا شکوہ کرنے سے اور لالچ سے اس چیز کی جو اس کے پاس نہیں۔

قناعت دو قسم کی ہوتی ہے: (1)فقیر کی قناعت: جو موجود حلال پر راضی رہنے اور حرام میں نظر ڈالنے اور نعمت کے ضایع ہونے پر غصہ ہونے کو ترک کر دینا ہے۔ (2) مالدار کی قناعت: یہ ہے کہ وہ راضی اور شکر گزار ہو، اللہ کی اطاعت میں نعمت کا استعمال کرے، ناشکری اور دوسروں کے مال میں لالچ نہ رکھے۔

اور قناعت کے بہت سے فائدے ہیں، یہ حرص، لالچ، حسد، چوری اور دیگر روحانی-اخلاقی بیماریوں کے لیے شفاء اور دوا ہے۔

[معجم مقاييس اللغة : 33/5 - تهذيب الأخلاق : ص22 - الفروق اللغوية للعسكري : ص430 - لسان العرب : 297/8 - التوقيف على مهمات التعاريف : ص275 -]


 

Friday, 2 August 2024

میری امت۔۔۔



القرآن:
(مسلمانو) تم وہ "بہترین" امت ہو جو لوگوں کے فائدے کے لیے وجود میں لائی گئی ہے، تم نیکی کی تلقین کرتے ہو، برائی سے روکتے ہو اور الله پر ایمان رکھتے ہو۔ اگر اہل کتاب ایمان لے آتے تو یہ ان کے حق میں کہیں بہتر ہوتا، ان میں سے کچھ تو مومن ہیں، مگر ان کی اکثریت نافرمان ہے۔
[سورۃ نمبر 3 آل عمران، آیت نمبر 110]
 یہ خطاب تمام امت محمدیہ ﷺ کو عام ہے، پھر ان میں سے صحابہ اول اور اشرف مخاطبین ہیں۔
جو شخص تم میں سے چاہتا ہے کہ اس(بہترین)امت میں شامل ہو، تو چاہیے کہ اللہ کی شرط پوری کرے یعنی نیکی کا حکم کرے اور برائی سے روکے اور اللہ پر ایمان لائے، یعنی خود درست ہو کر دوسروں کو درست کرے۔ جو شان حضرات صحابہ (رض) کی تھی۔



Sunday, 28 July 2024

جائز اور ناجائز شکوہ-شکایت کا بیان

شکوہ کے معنیٰ اظہارِ غم ہے۔

[المفردات فی غریب القرآن-امام الراغب اصفھانی]


قَالَ اِنَّمَاۤ اَشۡكُوۡا بَثِّـىۡ وَحُزۡنِىۡۤ اِلَى اللّٰهِ وَاَعۡلَمُ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا تَعۡلَمُوۡنَ‏ ۞ 

ترجمہ:

یعقوب نے کہا : میں اپنے رنج و غم کا شکوہ (فریاد) (تم سے نہیں) صرف اللہ سے کرتا ہوں، اور اللہ کے بارے میں جتنا میں جانتا ہوں، تم نہیں جانتے۔

[سورۃ نمبر 12 يوسف، آیت نمبر 86]

یعنی کیا تم مجھ کو صبر سکھاؤ گے؟ بےصبر وہ ہے جو مخلوق کے آگے خالق کے بھیجے ہوئے درد کی شکایت کرے۔ میں تو اسی سے کہتا ہوں جس نے درد دیا اور یہ بھی جانتا ہوں کہ یہ مجھ پر آزمائش ہے دیکھوں کس حد پر پہنچ کر بس ہو۔


صبرِ جمیل کے منافی اگر کوئی شکایت ہے تو وہ خالق کی آزمائش ومصیبت کی شکایت مخلوق سے کرنا ہے۔ لہٰذا مخلوق کی شکایت خالق سے کرنا یہ صبرِ جمیل کے منافی نہیں بلکہ عین دعاء والتجا ہے۔




نبوی دعائے شکوہ»

جب ابوطالب وفات پاگئے تو رسول اللہ ﷺ اپنے پیروں کے بل لوگوں کے پاس آئے اور ان کو اسلام کی دعوت دی، لیکن انہوں نے جواب بھی نہ دیا، پھر آپ لوٹے اور دو رکعت نماز ادا فرمائی اور یہ دعا کی:

اے اللہ! میں شکوہ کرتا ہوں تجھ سے اپنی کمزوری کی اور حیلہ و تدبیر میں کمی کی اور لوگوں کے نزدیک اپنے بےوقعت ہونے کی۔ اے ارحم الراحمین! آپ مجھے کس کے حوالہ کرتے ہیں، ایسے دشمن کے جو مجھے دیکھ کر ترش رو ہوتا ہے؟ یا ایسے قریبی عزیز کے پاس جس کو تو نے میرے معاملات کا مالک بنادیا لیکن اگر تو مجھ سے ناراض نہیں تو مجھے کوئی پروا نہیں۔ تیری عافیت میرے لیے کافی ہے۔ میں پناہ چاہتا ہوں تیرے چہرے کے نور کے طفیل، جس کی بدولت آسمان روشن ہوگئے تاریکیوں کے پردے چھٹ گئے اور دنیا و آخرت کے معاملے سلجھ گئے، کہ مجھ پر تیرا غضب اترے یا تیری ناراضگی اترے۔ تیری خوشامد فرض ہے حتی کہ تو راضی ہو اور ہر طرح کی طاقت و قوت تیرے ساتھ ہے۔

[طبراني:181، الاحاديث المختارة:162، مجمع الزوائد:9851]

[کنزالعمال:3613+3756+5120]






Thursday, 25 July 2024

ایمان کے معنی، فضائل، ارکان، شاخیں، اعمال وعلامات اور کمال


ایمان کی لغوی معنیٰ:
(1) ایمان لفظ امن سے لیا گیا ہے جو خوف کی ضد ہے۔

[مصباح اللغات: ص41]


فرامینِ رسول اللہ ﷺ:

أَشْرَفُ الْإِيمَانِ أَنْ يَأْمَنَكَ النَّاسُ 

ترجمہ:

اشرف ایمان یہ ہے کہ انسانیت تجھ سے امن میں رہے۔

[المعجم الصغیر-للطبراني:10، جامع الاحادیث-للسيوطي:3499]


الْمُؤْمِنُ مَنْ أَمِنَهُ النَّاسُ.

ترجمہ:

مومن وہ ہے جس سے لوگ امن میں ہوں۔

[احمد:12561، ابن ماجہ:3934، حاکم:25، طبرانی:193، بغوی:14، ابن حبان:510، البزار:7432]





(2)تصدیق اور تسلیم کے ہیں۔
اور شریعت کی اصطلاح میں ایمان کہا جاتا ہے کہ وہ تمام چیزیں جو نبی کریم ﷺاللہ کی طرف سے لے کر آئے ہیں ، جو قطعیت کے ساتھ نبی کریم ﷺسے ثابت ہیں ، ان کی دل سے تصدیق کرنا، اور زبان سے اس کا اقرار کرنا یہ ایمان کہلاتا ہے۔
حوالہ
’’الإيمان في اللغة التصديق بالقلب وفي الاعتقاد بالقلب والإقرار باللسان ۔‘‘
[التعریفات» ج:1،ص:60، ط:دارالکتاب العربی، بیروت]

ارکانِ ایمان»

حضرت علی سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا:

الْإِيمَانُ مَعْرِفَةٌ بِالْقَلْبِ،  وَإِقْرَارٌ بِاللِّسَانِ، وَعَمَلٌ بِالْأَرْكَانِ.

ترجمہ:

ایمان، (بدیہی طور پر ثابت نبوی باتوں پر) (1)دل کے یقین کرنے، (2)اور زبان سے اقرار کرنے، (3)اور اعضاء سے عمل کرنے کا نام ہے۔

[سنن ابن ماجہ:65، المعجم الأوسط-للطبراني:6254-8580، شعب الایمان-للبيهقي:16]

﴿تفسير الثعلبي:244-1609.سورۃ البقرۃ:3﴾

﴿تفسیر الدر المنثور-للسيوطي:7/583.سورة الحجرات:14﴾



************************



ایمان کی اصطلاحی معنیٰ:
ایمان کی ایک معنیٰ شریعتِ محمدی ﷺ کے آتے ہیں ۔ چناچہ آیت کریمہ :۔
الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هادُوا وَالصَّابِئُونَ
[سورہ المائدة:69]
اور جو لوگ مسلمان ہیں یا یہودی یا عیسائی یا ستارہ پرست۔
لہٰذا ایمان کے ساتھ ہر وہ شخص متصف ہوسکتا ہے جو توحید کا اقرار کرکے شریعت محمدی ﷺ میں داخل ہوجائے۔

اور بعض نے آیت:
{ وَمَا يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ }
[سورة يوسف 106]
اور ان میں سے اکثر اللہ پر ایمان نہیں رکھتے مگر ( اس کے ساتھ ) شرک کرتے ہیں.

کو بھی اسی معنیٰ پر محمول کیا ہے۔
[المفردات في غريب القرآن: ص91-452-681]




ایمان کی اصل-بنیاد»
حکمِ رسول﴿محمد﴾ ﷺ کو ماننا۔

حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا:

«لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى يَكُونَ هَوَاهُ تَبَعًا لِمَا جِئْتُ بِهِ» 
ترجمہ:
نہیں مومن ہوسکتا تم میں کوئی ایک بھی جب تک کہ اسکی خواہش اس ﴿دین/حکم﴾ کے تابع (پیچھے چلنے والی) نہ ہوجائے جو میں لایا ہوں۔
تخریج:

حکم:
حديث حسن صحيح
[الكبائر للذهبي:468، الأربعين النووية:41، معارج القبول-للحكمي:422/2-426/2، عمدة التفسير-أحمد شاكر:1/533]
رجاله ثقات


القرآن:
تمہارے پروردگار کی قسم یہ لوگ جب تک اپنے تنازعات میں تمہیں منصف نہ بنائیں اور جو فیصلہ تم کردو اس سے اپنے دل میں تنگ نہ ہوں بلکہ اس کو خوشی سے مان لیں تب تک مومن نہیں ہوں گے۔
[سورۃ نمبر 4 النساء، آیت نمبر 65]

القرآن:
اور جب اللہ اور اس کا رسول کسی بات کا حتمی فیصلہ کردیں تو نہ کسی مومن مرد کے لیے یہ گنجائش ہے نہ کسی مومن عورت کے لیے کہ ان کو اپنے معاملے میں کوئی اختیار باقی رہے۔ اور جس کسی نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی، وہ کھلی گمراہی میں پڑگیا۔

[سورۃ نمبر 33 الأحزاب، آیت نمبر 36]



فوائدِ حدیث:

فائدہ نمبر ۱: عقل یا عادت کو شریعت پر مقدم کرنے سے اجتناب
متن:

تحذير الإنسان من أن يحكم العقل أو العادة مقدماً إياها على ما جاء به الرسول ﷺ، وجه ذلك: نفي الإيمان عنه.
ترجمہ:
اس حدیث میں انسان کو اس بات سے ڈرایا گیا ہے کہ وہ اپنی عقل یا اپنی عادت کو اس چیز پر مقدم (ترجیح) دے جو رسول اللہ ﷺ لے کر آئے ہیں، اور اس (ترجیح دینے) کی وجہ یہ ہے کہ اس سے اس کا ایمان (کمال) نفی ہو جاتا ہے۔

اعتراض اور اس کا جواب:
اگر کوئی کہے: تم نے اس حدیث کو ایمان کے کمال کے نفی پر کیوں محمول کیا ہے (جبکہ ظاہر میں یہ اصل ایمان کی نفی کرتی ہے)؟

جواب:
ہم نے اسے کمال کے نفی پر محمول کیا ہے کیونکہ یہ (بات) ہر مسئلے میں (حرف بہ حرف) صادق نہیں آتی، کیونکہ ایک شخص کا ہوی (خواہش) اکثر دینی مسائل میں رسول اللہ ﷺ کی لائی ہوئی شریعت کا تابع (پیروکار) ہو سکتا ہے، مگر بعض مسائل میں اس کا ہوی تابع نہیں ہوتا۔
پس (ایسی صورت میں) اسے کمال کے نفی پر محمول کیا جائے گا۔

اور اگر اس کا ہوی پورے دین میں رسول اللہ ﷺ کی لائی ہوئی چیز کا تابع نہ ہو، تو وہ (اس وقت) مرتد ہو گا (اور اس کا اصل ایمان ہی ختم ہو جائے گا)۔

فائدہ نمبر ۲: پہلے استدلال، پھر حکم کا اصول
متن:
أنه يجب على الإنسان أن يستدل أولاً ثم يحكم ثانياً، لا أن يحكم ثم يستدل.
ترجمہ:
یہ کہ انسان پر لازم ہے کہ پہلے (دلیل سے) استدلال کرے، پھر (اس کے مطابق) حکم لگائے، نہ کہ پہلے حکم لگائے اور پھر استدلال کرے۔

وضاحت:
اس کا مطلب ہے کہ اگر تم عقائد یا اعمال (جوارح) میں کوئی حکم ثابت کرنا چاہو تو پہلے دلیل (قرآن و سنت) دیکھو، پھر اس کے مطابق حکم لگاؤ۔
البتہ اگر تم پہلے حکم لگاؤ اور پھر (اس کی تائید میں) دلیل ڈھونڈو، تو اس کا مطلب ہے کہ تم نے "متبوع" (جس کی پیروی کی جائے) کو "تابع" (پیروکار) بنا دیا، اور تم نے اپنی عقل کو اصل اور کتاب و سنت کو فرع (ذیلی) بنا لیا۔

اور اسی وجہ سے تم بعض علماء کو دیکھو گے (اللہ ان پر رحم کرے) جو اپنے مذاہب سے وابستہ ہیں، وہ دلائل کو اپنے مذہب کا تابع بنا لیتے ہیں، پھر وہ نصوص (قرآنی آیات اور احادیث) کی گردنوں کو اس طرح موڑنے کی کوشش کرتے ہیں کہ وہ ان کے مذہب کے تقاضے کے مطابق ہو جائیں – اور یہ ایک مکروہ اور بعید (دور از کار) انداز میں ہوتا ہے۔
یہ ان مصیبتوں میں سے ہے جن میں بعض علماء مبتلا ہو گئے ہیں۔
اور واجب یہ ہے کہ تمہارا ہوی (خواہش) اس چیز کا تابع ہو جو رسول اللہ ﷺ لے کر آئے ہیں۔

فائدہ نمبر ۳: خواہش کی دو اقسام (محمود اور مذموم)
متن:
تقسيم الهوى إلى محمود ومذموم، والأصل عند الإطلاق المذموم.
ترجمہ:
اس حدیث سے ہوی (خواہش نفس) کی دو قسموں کا پتہ چلتا ہے: محمود (قابلِ تعریف) اور مذموم (قابلِ مذمت)۔
اور (ہوی کے لفظ کے) مطلق (بغیر قید کے) استعمال پر اصل یہ ہے کہ وہ مذموم ہی ہے، جیسا کہ قرآن و سنت میں وارد ہوا ہے۔
پس جب بھی اللہ تعالیٰ نے (کتاب و سنت میں) "اتباعِ ہوی" کا ذکر کیا، تو وہ مذمت کے انداز میں ہے۔

البتہ اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ہوی دو حصوں میں منقسم ہے:

محمود (قابلِ تعریف): وہ جو رسول اللہ ﷺ کی لائی ہوئی شریعت کا تابع ہو۔

مذموم (قابلِ مذمت): وہ جو اس کے خلاف ہو۔

اور جب (ہوی کا لفظ) بغیر کسی قید کے استعمال ہو، تو اسے مذموم پر محمول کیا جائے گا۔
اور اسی وجہ سے (اس کے مقابل) "ہدایت" کا لفظ آتا ہے، اور اس کا مقابلہ "ہوی" ہے۔

فائدہ نمبر ۴: شریعت کا ہر معاملے میں حاکم ہونا واجب ہے
متن:
وجوب تحكيم الشريعة في كل شيء، لقوله: "لِمَا جِئتُ به".
ترجمہ:
شریعت کو ہر معاملے میں حاکم (فیصلہ کن) بنانا واجب ہے،
کیونکہ آپ ﷺ کا فرمان ہے: "لِمَا جِئْتُ بِهِ" (اس چیز کے لیے جو میں لے کر آیا ہوں)۔

وضاحت:
اور نبی کریم ﷺ ہر وہ چیز لے کر آئے ہیں جو مخلوق (انسانوں) کے لیے معاد (آخرت) اور معاش (دنیا) دونوں کی اصلاح کے لیے ضروری ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

{وَنَزَّلْنَا عَلَيْكَ الْكِتَابَ تِبْيَانًا لِكُلِّ شَيْءٍ}
[سورۃ النحل: ۸۹]
(اور ہم نے آپ پر یہ کتاب نازل کی ہے جو ہر چیز کا بیان ہے)

پس کوئی بھی چیز نہیں ہے جس کی لوگوں کو دین یا دنیا کے معاملات میں ضرورت ہو، مگر اسے (نبی ﷺ نے) بیان فرما دیا ہے – اور الحمد للہ –
یا تو وہ واضح بیان ہے جسے ہر شخص جانتا ہے،
یا وہ پوشیدہ (باریک) بیان ہے جسے علم میں پختہ کار (راسخین) جانتے ہیں۔




📜تشریح امام ابن الملکؒ (متوفی 854ھ):
فرمایا: "نہیں مومن ہوسکتا تم میں کوئی ایک بھی"
یعنی کوئی شخص ایمان کا کمال حاصل نہیں کرتا، اور نہ ہی اس (ایمان) کے درجات کو مکمل کر پاتا ہے۔

"جب تک کہ اسکی خواہش ہوجائے پیچھے چلنے والی"
یعنی جب تک اس کا نفس اور اس کی خواہش (میلان) "تبعًا" (یعنی رغبت اور خوشی کے ساتھ منقاد اور پیرو) نہ ہو جائے۔

"اس ﴿دین/حکم﴾ کے جو میں لایا ہوں"
یعنی اس ہدایت اور شرعی احکام کے جو میں لے کر آیا ہوں۔

اور ایک قول (تفسیر) یہ بھی ہے کہ:
اس (حدیث) سے مراد "ایمان کی بنیاد کا نفی" ہے، یعنی وہ (حقیقتاً) اس وقت تک مومن نہیں ہوتا جب تک وہ اپنی خواہش (ہوی) کی مخالفت نہ کرے، اور اسے (اپنی خواہش کو) اس حق کا تابع (پیرو) نہ بنا لے جو میں لے کر آیا ہوں۔ اور یہ (پیروی) عقیدت (یقین) کی بنا پر ہو، جبر اور تلوار کے خوف کی بنا پر نہیں۔






📜شرح عبد الحق الدهلويؒ (متوفی 1052ھ):
 
آپ ﷺ کا فرمان:
"لا يؤمن أحدكم"
یعنی کسی ایک کا بھی ایمان مکمل نہیں ہوتا، اور نہ ہی اسے ایمان کی حقیقت حاصل ہوتی ہے

"حتى يكون هواه تبعًا لما جئت به"
یعنی جب تک اس کا نفسانی میلان اور خواہش، اس (دین) کے تابع (پیرو) نہ ہو جائے جو میں لے کر آیا ہوں – عمل اور اعتقاد دونوں میں۔
پس وہ (مومن) اپنی خواہش کو غالب نہ آئے جب حق کا داعیہ اور خواہش کا داعیہ آپس میں ٹکرائیں۔

اور آپ ﷺ نے یہ نہیں فرمایا: "اس کی خواہش ختم ہو جائے اور معدوم ہو جائے"،
کیونکہ یہ ممکن نہیں ہے اور نہ ہی یہ (ایمان کا) کمال ہے،
بلکہ کمال یہ ہے کہ (خواہش) باقی رہے، مگر حق کے تابع، موافق، تسلیم کرنے والی اور اس پر راضی ہو۔
جیسا کہ اس آیت سے واضح ہے:
{پس آپ کے رب کی قسم! وہ مومن نہیں ہوں گے جب تک کہ آپ کو آپس کے جھگڑوں میں حاکم نہ مان لیں، پھر جو فیصلہ آپ کریں اس سے اپنے دلوں میں کوئی تنگی نہ پائیں اور اسے پورے طور پر تسلیم کر لیں۔}
[سورۃ النساء:65]

اور آپ ﷺ کا فرمان:
"ذاق طعم الإيمان من رضي بالله ربًا، وبالإسلام دينًا، وبمحمد نبيًا"
(اس شخص نے ایمان کا مزہ چکھ لیا جو اللہ کو رب، اسلام کو دین اور محمد ﷺ کو نبی مان کر راضی ہو گیا۔)
[صحیح مسلم: 34، سنن الترمذی: 2623]

اور اگر "تبعية" (پیروی) سے مراد نبی ﷺ کی حقانیت کا اعتقاد لیا جائے،
تو اسے "ایمان کی اصل (بنیاد) کے نفی" پر بھی محمول کیا جا سکتا ہے
(یعنی اس کے بغیر اصل ایمان ہی نہیں ہے)۔






شرح الملا على القاري (متوفی 1014ھ):
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى يَكُونَ هَوَاهُ"
یعنی تم میں سے کوئی بھی اس وقت تک (کامل) مومن نہیں ہوتا جب تک کہ اس کی خواہش (نفسانی میلان) پیرو نہ ہو جائے۔
"هَوَاهُ" سے مراد نفس کا میلان ہے، اسے "ہوی" اس لیے کہا گیا کہ یہ اپنے مالک کو دنیا میں تنگنائیوں اور آخرت میں جہنم کی گہرائی (هاوية) کی طرف لے جاتا ہے، گویا یہ "هوی" (گرنا) سے مشتق ہے۔

"تَبَعًا لِمَا جِئْتُ بِهِ"
یعنی جو کچھ میں لے کر آیا ہوں (شریعت اور احکام) اس کا پیروکار اور اس کی تقلید کرنے والا ہو جائے۔

📝 امکانِ حمل (تفسیر کے دو پہلو)
پہلا احتمال:
اس حدیث کو "ایمان کی اصل (بنیاد) کے نفی" پر محمول کیا جا سکتا ہے، یعنی:
جب تک وہ اپنی خواہش کو اس شریعت کا تابع نہ بنا لے جو میں لے کر آیا ہوں – اور یہ پیروی اعتقاد (دل سے یقین) کی بنا پر ہو، جبر اور تلوار کے خوف (منافقین کی طرح) کی بنا پر نہ ہو – تو اس کا اصل ایمان ہی نہیں ہے۔

دوسرا احتمال (جمہور کا قول):
اس سے مراد "ایمان کے کمال کا نفی" ہے، یعنی:
تم میں سے کسی کا ایمان اس وقت تک مکمل نہیں ہوتا جب تک کہ اس کا نفسانی میلان اور اس کی خواہش (جو اسے پسند ہے) اس شریعت کے احکام کا تابع نہ ہو جائے جو میں لے کر آیا ہوں۔
پس اگر اس کی خواہش شریعت کے موافق ہو تو وہ اس لیے اس پر عمل کرے کہ یہ شریعت ہے، اس لیے نہیں کہ یہ اس کی خواہش ہے۔
اور اگر اس کی خواہش شریعت کے خلاف ہو تو وہ اپنی خواہش کو چھوڑ دے۔
اس وقت وہ کامل مومن ہو گا۔

🌟 عارفین کا قول (روحانی نکتہ)
بعض عارفین (باطنی علم رکھنے والے) نے کہا:
"یہاں تک کہ اس کی خواہش – جو اس کی نفسانی صفات کی اصل ہے، بلکہ وہ باطل معبود ہے جس کی اطاعت کی جاتی ہے اور جس کی پیروی محبوب ہوتی ہے – اس چیز کی پیرو بن جائے جو میں لے کر آیا ہوں (یعنی چمکتی ہوئی سنت اور پاکیزہ شریعت) ،
یہاں تک کہ اس کے مختلف ارادے اور بکھرے ہوئے خیالات، جو نفس کی خواہش اور طبیعت کے میلان سے پیدا ہوتے ہیں، سب ایک ہی ارادے میں جمع ہو جائیں جو اس کے رب کے حکم اور اس کی شریعت کی پیروی سے متعلق ہو – اللہ کی تعظیم اور اس کی مخلوق پر شفقت کی خاطر۔

جیسا کہ شاعر نے کہا:

"میرے دل کی خواہشیں بکھری ہوئی تھیں،
مگر جب آنکھ نے تجھے دیکھا تو سب جمع ہو گئیں۔
اب وہی مجھ سے حسد کرتے ہیں جن سے میں حسد کرتا تھا،
اور میں تمام لوگوں کا سردار بن گیا جب سے تو میرا سردار بنا۔
میں نے لوگوں کے لیے ان کی دنیا اور ان کا دین چھوڑ دیا،
تیری محبت میں مشغول ہو کر، اے میرے دین اور میری دنیا!"

🧠 نفس، عقل اور خواہش کا فلسفہ
پس (کامل مومن) وہ ہے جو:

صرف دین کے حکم کے مطابق جھکتا ہے،

اور صرف شرعی حکم کے مطابق خواہش کرتا ہے۔

یہی نادر کامل مومن ہے، جس سے توحید قبول کی جاتی ہے۔
اور جو اس سے منہ موڑ کر اپنی خواہش کی پیروی کرے اور اپنی مرضی کے مطابق چلے، وہ کافر ہے جو اپنی دنیا اور آخرت دونوں میں خسارے میں ہے۔
اور جو شریعت کی اصولوں کی پیروی کرے مگر فروع (تفصیلات) کو چھوڑ دے تو وہ فاسق ہے۔
اور جو اس کے برعکس کرے (یعنی فروع کو مانے مگر اصولوں کو چھوڑ دے) تو وہ منافق ہے۔

"الهوى" لغت میں "هویه" (اس سے محبت کی) سے مشتق ہے،
اور شرعاً اس کا معنی ہے: نفس کا اس چیز کی طرف میلان جو شریعت کے تقاضے کے خلاف ہو۔
ہاں، اگر خواہش ہدایت کے موافق ہو تو وہ شہد پر مکھن کی طرح، نور پر نور اور سرور پر سرور ہے۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

{وَمَنْ أَضَلُّ مِمَّنَ اتَّبَعَ هَوَاهُ بِغَيْرِ هُدًى مِنَ اللَّهِ}
[سورۃ القصص:50]
(اور اس سے بڑھ کر کون گمراہ ہے جو اللہ کی ہدایت کے بغیر اپنی خواہش کی پیروی کرے؟)

❓ اعتراض اور اس کا جواب
اعتراض:
رسول ﷺ جو لے کر آئے وہ نور اور روشنی ہے، اور خواہش نفس میں ایک تاریکی ہے جو مٹی کی طبیعت سے پیدا ہوتی ہے۔
پس یہ تاریک خواہش نورانی دین کی پیرو کیسے بن سکتی ہے؟

جواب:
نفس (نفس انسانی) جسم میں ایک لطیف (باریک) چیز ہے جو روح اور بدن کے امتزاج اور اتصال سے وجود میں آتی ہے۔

روح لطیف اور روحانی ہے،

جسم گہرا اور تاریک ہے،

اور نفس ان دونوں کے درمیان ایک متوسط چیز ہے، جو روحانی لطافت اور جسمانی کثافت دونوں کو قبول کرتی ہے۔

یہی وہ "تسویہ" (اعتدال) ہے جس کا اللہ تعالیٰ نے ذکر کیا:

{وَنَفْسٍ وَمَا سَوَّاهَا}
[سورۃ الشمس: ۷]
(اور قسم ہے نفس کی اور اس (اللہ) کی جس نے اسے درست کیا)

اس اعتدال کی وجہ سے نفس خیر و شر، فجور اور تقویٰ دونوں کو قبول کرنے والا ہے:

اگر تقویٰ کا پہلو غالب آئے تو نفس صفائی اور دین کی طرف رجوع کرتا ہے،

اور اگر فجور کا پہلو غالب آئے تو خواہش کا تابع بن کر ہلاکت کی راہوں پر چل پڑتا ہے۔

شاعر نے کہا:

"خواری کا نون (حرف) خواہش سے چرایا گیا ہے،
پس ہر خواہش کا شکار ذلت کا شکار ہے۔"

راغب اصفہانی نے کہا:
نفس کا بدن میں ہونا اس مجاہد کی مانند ہے جو ایک سرحد (محاذ) پر بھیجا گیا ہو تاکہ اس کی حالتوں کا خیال رکھے،

اس کی عقل اس کے مالک (اللہ) کی نائب ہے، جو اسے ہدایت دینے اور اس کے حق میں یا اس کے خلاف گواہی دینے کے لیے اس کے ساتھ ہے،

اس کا بدن اس کی سواری ہے،

اس کی خواہش اور شہوتیں ایک شریر سائیس (جانوروں کو ہانکنے والا) ہیں جو اس کی سواری کو غائب کرنے کے لیے اس کے ساتھ ہے،

قرآن اس کتاب کی مانند ہے جو اس کے مالک کی طرف سے آئی ہے، جس میں ہر چیز کی وضاحت، ہدایت اور رحمت ہے،

اور نبیﷺ وہ رسول ہیں جو اس کتاب کو لے کر آئے تاکہ لوگوں کے لیے وہ کچھ واضح کریں جو ان کی طرف نازل کیا گیا ہے۔

پس اگر وہ اپنے دشمنوں سے جہاد کرے، ان پر غالب آئے، عقل سے مدد لے اور اسے مسلط کرے، تو جب وہ اپنے رب کے حضور واپس جائے گا تو اس کی تعریف کی جائے گی اور وہ کامیاب لوگوں میں سے ہوگا۔
اور جس نے اپنی سرحد کو ضائع کیا، اپنی رعیت (نفس) کو نظر انداز کیا، اپنی سواری کی دیکھ بھال میں مشغول رہا، اور سواری کے سائیس (خواہش) کو اپنے رب کے خلیفہ (عقل) کی جگہ بٹھایا، تو وہ آخرت میں خسارہ پانے والوں میں سے ہوگا۔

📚 حدیث کا ماخذ اور درجہ
"رَوَاهُ" یعنی امام بغویؒ نے اپنی کتاب "شرح السنۃ" میں اپنی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
اور امام نوویؒ نے اپنی کتاب "الأربعون" (چالیس احادیث) میں کہا:
"یہ حدیث صحیح ہے، ہم نے اسے کتاب 'الحجة' میں صحیح سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔"
(کتاب "الحجة" ابو القاسم اسماعیل بن محمد بن الفضل الاصفہانی التیمی کی تصنیف ہے، جو اتباعِ محجہ (سیدھے راستے کی پیروی) پر مشتمل ہے۔)