Friday, 25 July 2025

پسندیدہ اور ناپسندیدہ غیرت

’’غیرت‘‘ عربی زبان کا لفظ ہے جس کے مفہوم میں اہل زبان دو باتوں کا بطور خاص ذکر کرتے ہیں۔ ایک یہ کہ کوئی ناگوار بات دیکھ کر دل کی کیفیت کا متغیر ہو جانا، اور دوسرا یہ کہ اپنے کسی خاص حق میں غیر کی شرکت کو برداشت نہ کرنا۔ ان دو باتوں کے اجتماع سے پیدا ہونے والے جذبہ کا نام غیرت ہے۔


Sunday, 13 July 2025

قرآن خوانی کے ناجائز طریقے


(1)حضرت حذیفہ بن یمانؓ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا:

اقْرَءُوا الْقُرْآنَ بِلُحُونِ الْعَرَبِ وأَصْوَاتِها، وَإِيَّاكُمْ ولُحُونَ أَهْلِ الْكِتَابَيْنِ، وَأَهْلِ الْفسقِ، فَإِنَّهُ سَيَجِيءُ بَعْدِي قَوْمٌ يُرَجِّعُونَ بِالْقُرْآنِ تَرْجِيعَ الْغِنَاءِ وَالرَّهْبَانِيَّةِ وَالنَّوْحِ، لَا يُجَاوِزُ حَنَاجِرَهُمْ، مفتونةٌ قُلُوبُهُمْ، وقلوبُ مَنْ يُعْجِبُهُمْ شَأْنُهُمْ

ترجمہ:

تم قرآن کریم کو اہل عرب کے لہجوں اور ان کی آوازوں کے مطابق پڑھو، اہل کتاب اور فاسق﴿عاشق﴾ لوگوں کے طرز پر پڑھنے سے بچو۔ میرے بعد ایک جماعت پیدا ہوگی جس کے افراد (خوشی میں)راگ اور (غمی میں)نوحہ کی طرح آواز بناکر قرآن پڑھیں گے، (ان کا یہ حال ہوگا) قرآن ان کی حلق سے آگے نہیں بڑھے گا(یعنی قرآن ان کے دل پر اثر نہ کرے گا)۔ ان کے اور ان کی قرأت سن کر خوش ہونے والوں کے دل فتنہ(گمراہی) میں مبتلا ہوں گے۔

[المعجم الاوسط للطبرانی:7223، شعب الایمان-للبیھقی:2406، جامع الاصول-ابن الاثیر:913، تفسیر القرطبی:1/17، جامع الاحادیث-للسیوطی:4180]

Friday, 11 July 2025

ریاء-دکھلاوہ»چھوٹا-خفیہ شرک


جس شخص نے اپنا عمل لوگوں کو سنانے کے لیے کیا تو اللہ تعالی بھی مخلوق کے کانوں میں یہ بات پہنچادے گا کہ یہ آدمی ریا کار ہے، اور اسے ذلیل و رسوا اور حقیر کر دیتا ہے۔

[ابن الجعد:135، احمد:7085، البغوي:4138]


القرآن:

۔۔۔نماز پڑھتے ہیں تو سستی سے پڑھتے ہیں لوگوں کو دکھانے کیلئے...

[تفسير ابن كثير»سورة النساء:142]

Saturday, 5 July 2025

کیوں جنت میں برا-مسلمان تو بالآخر جائے گا لیکن اچھا-کافر نہیں؟


عقلی ونقلی توجیہات:

جنت میں داخلے کے بنیادی شرائط:

1. ایمان-اسلام:

- کافر کی نیکی بے کار کیوں؟

  قرآن و حدیث کے مطابق جنت میں داخلے کے لیے "ایمان" لازمی شرط ہے۔ چاہے کوئی کتنا ہی نیک عمل کرے، اگر وہ اللہ اور اس کے رسول پر ایمان نہیں رکھتا، تو اس کی نیکیاں آخرت میں اسے نجات نہیں دلائیں گی۔  

  مثال:

  - اللہ فرماتے ہیں: "جو ہماری آیتوں کو جھٹلائے اور ان سے تکبر کرے، ان کے لیے آسمان کے دروازے نہ کھولے جائیں گے، اور وہ جنت میں داخل نہ ہوں گے جب تک کہ اونٹ سوئی کے ناکے سے نہ نکل جائے".

[سورۃ الاعراف:40]

  - حدیث میں آیا ہے: "جو شخص میری نبوت کی خبر پائے اور میری لائی ہوئی شریعت پر ایمان لائے بغیر مر جائے، وہ دوزخی ہے."

[احمد:8203 مسلم:153 بغوي:56]

---

2. گناہ گار مسلمان کا انجام: عذاب یا مغفرت؟

- چھوٹے گناہ: توبہ یا نیکیوں سے معاف ہو سکتے ہیں۔  

- بڑے گناہ (قتل، شرک کے بغیر):

  - اگر توبہ نہیں کی، تو اللہ چاہے تو براہ راست معاف کر دے یا جہنم میں عارضی عذاب دے۔  

  - عذاب کے بعد جہنم سے نکال کر جنت میں داخل کر دیا جائے گا۔

  مثال:

  - قرآن میں ہے: "اللہ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائے گا جسے چاہے بخش دے، اور جسے چاہے عذاب دے"۔ [سورة النساء: 48]

---

3. اچھا کافر جنت میں کیوں نہیں جائے گا؟

- کفر کی سنگینی: اسلام میں "کفر" سب سے بڑا گناہ ہے، جو تمام نیکیوں کو ضائع کر دیتا ہے۔  

  مثال:  

  - اللہ فرماتے ہیں: "کافر لوگ بار بار تمنا کریں گے کہ کاش وہ مسلمان ہوتے" [سورۃ الحجر:2].  

- اللہ کی حکمت:

  - کافر کی "نیکی" دنیاوی مفاد یا ریاکاری کی ہوتی ہے، جبکہ "سچی نیکی" وہ ہے جو ایمان کی بنیاد پر اللہ کے لیے کی جائے۔

---

4. اللہ کا عدل: انسان کی محدود سوچ سے بالاتر۔

- انسانی تنقید کا جواب:

  انسان کا علم محدود ہے، جبکہ اللہ ہر نفس کے نیتوں، حالات اور اختیارات کو جانتا ہے۔ جو ہماری نظر میں "نیک کافر" ہے، ہو سکتا ہے اس نے حق کو جان بوجھ کر رد کیا ہو۔  

مثال:

  - قرآن میں ارشاد ہے: "تمہارا رب کسی پر ظلم نہیں کرتا۔" (سورۃ الکہف:49)

- جہنم کافروں کے لیے ہمیشہ کیوں؟

  کفر ایک ایسی بغاوت ہے جو اللہ کے ساتھ تعلق ہی توڑ دیتی ہے۔ اور جس کی موت کفر کی حالت میں ہو اس کی بغاوت "دائمی" ثابت ہوئی، لہٰذا اس کی سزا بھی "دائمی" ہے۔

---

 نتیجہ:

اللہ کا نظامِ عدل انسان کی سوچ سے بالاتر ہے۔ گناہ گار مسلمان کو جنت ملنا "اللہ کے رحم اور ایمان کی قدر" کی وجہ سے ہے، جبکہ نیک کافر کا جنت سے محروم رہنا "کفر کی سنگینی" کی وجہ سے ہے۔ یاد رکھیں:  

"بے شک اللہ اس کے ساتھ شرک کرنے کو معاف نہیں کرتا، لیکن اس کے سوا جسے چاہے معاف کر دیتا ہے

[سورۃ النساء:48]


اسلامی تعلیمات کے مطابق، حتمی فیصلہ اللہ کے علم اور حکمت پر چھوڑنا چاہیے، کیونکہ وہی ہر بندے کی نیتوں اور حالات کو مکمل جانتا ہے۔

موحدین کا جہنم میں ہمیشہ رہنے سے بچ جانا۔

https://raahedaleel.blogspot.com/2026/01/blog-post_8.html






جس کی جنت ہے، اسی کو حق ہے کہ وہ جسے چاہے جنت دے اور جس کو چاہے اس سے محروم رکھے، یہی حق ہے۔

جنّت کیا ہے؟ کہاں ہے؟ کیسی ہے؟
http://raahedaleel.blogspot.com/2012/12/blog-post.html








بغیرایمان، نیک اعمال بےفائدہ:

القرآن:

اور جو شخص نیک کام کرے گا، چاہے وہ مرد ہو یا عورت، بشرطیکہ مومن ہو، تو ایسے لوگ جنت میں داخل ہوں گے، اور کھجور کی گٹھلی کے شگاف برابر بھی ان پر ظلم نہیں ہوگا۔

[سورۃ النساء:124]

کیونکہ ایمان ہی کی وجہ سے مومن جو بھی نیک عمل کرتا ہے، اس میں اسکی نیت خالص اللہ کی رضا حاصل کرنا ہوجاتی ہے، نہ کہ دنیاوی اغراض۔ اور اس طرح اللہ بھی اس کی نیکیاں قبول فرماتا ہے اور ان کے دنیاوی اور اخروی انعامات وبرکات، اصلاح واطمینان، اجر وثواب، درجات واعزازات نصیب فرماتا ہے۔