Wednesday, 27 September 2023

وصالِ پیغمبر اسلام ﷺ کی پیشگوئی اور اس سے حاصل نصیحتیں

 وفاتِ پیغمبر ﷺ کی سچی پیشگوئی اور حاصل نصیحتیں»

القرآن:

اور محمد ﷺ ایک رسول ہی تو ہیں۔ ان سے پہلے بہت سے رسول گزر چکے ہیں، بھلا اگر ان کا انتقال ہوجائے یا انہیں قتل کردیا جائے تو کیا تم الٹے پاؤں پھر جاؤ گے ؟ اور جو کوئی الٹے پاؤں پھرے گا وہ اللہ کو ہرگز کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ اور جو شکر گزار بندے ہیں اللہ ان کو ثواب دے گا۔

[سورۃ نمبر 3 آل عمران، آیت نمبر 144]


القرآن:

اور (اے پیغمبر) تم سے پہلے بھی ہمیشہ زندہ رہنا ہم نے کسی فرد بشر کے لیے طے نہیں کیا۔ (18) چنانچہ اگر تمہارا انتقال ہوگیا تو کیا یہ لوگ ایسے ہیں جو ہمیشہ زندہ رہیں ؟

[سورۃ نمبر 21 الأنبياء، آیت نمبر 34]

تفسیر:

(18) سورة طور : آیت#30 میں مذکور ہے کہ کفار مکہ آنحضرت ﷺ کے بارے میں کہتے تھے کہ ہم ان کی موت کا انتظار کر رہے ہیں۔ اس سے ان کا مقصد یہ تھا کہ آپ کے انتقال کے موقع پر وہ خوشی منائیں گے۔ اس کے جواب میں یہ آیت نازل ہوئی کہ اول تو موت ہر شخص کو آنی ہے، اور کیا خود یہ خوشی منانے والے موت سے بچ جائیں گے۔


القرآن:

(اے پیغمبر) موت تمہیں بھی آنی ہے اور موت انہیں بھی آنی ہے۔ پھر تم سب قیامت کے دن اپنے پروردگار کے پاس اپنا مقدمہ پیش کرو گے۔

[سورۃ نمبر 39 الزمر،آیت نمبر 30-31]



[سورۃ نمبر 39 الزمر،آیت نمبر 30-31]











م

م

[سورۃ نمبر 39 الزمر،آیت نمبر 30-31]




Monday, 17 July 2023

حدیثِ متواتر اور احادیث متواتر

حدیث متواتر کی لغوی تعریف:
"متواتر" کا لفظ "تواتر" سے ماخوذ ہے، جس کا معنی ہے: مسلسل، پے در پے، جیسے کہ اللہ تعالی کا فرمان ہے:
( ثُمَّ أَرْسَلْنَا رُسُلَنَا تتْرَى )
ترجمہ:
پھر ہم نے پے در پے رسول بھیجے
[سورۃ المؤمنون :44]

اصطلاحی  تعریف: 
وہ روایت جسے  ایک بہت بڑی تعداد  روایت کرے جن کا جھوٹ پر متفق و متحد  ہونا ناممکن ہو ، یہ تعداد اپنے ہی جیسی  تمام صفات کی حامل  ایک بڑی جماعت سے  روایت  کرے، اور انہوں نے یہ خبر بذریعہ حس حاصل کی ہو۔

علمائے کرام نے متواتر حدیث کیلئے 4 شرائط ذکر کی ہیں:

1- اسے بہت بڑی تعداد بیان کرے۔

2- راویوں  کی تعداد اتنی  ہو کہ عام طور پر اس قدر عدد کا کسی جھوٹی خبر کے بارے میں  متفق ہونا محال ہو۔

3- مذکورہ راویوں کی تعداد سند کے ہر طبقے میں ہو، چنانچہ  ایک بہت بڑی جماعت  اپنے ہی جیسی ایک بڑی جماعت سے روایت کرے، یہاں تک کہ سند نبی صلی اللہ علیہ وسلم  تک پہنچ جائے۔

4-  ان راویوں کی بیان کردہ خبر  کا استنادی ذریعہ حس ہو، یعنی: وہ یہ کہیں کہ : ہم نے سنا، یا ہم نے دیکھا، کیونکہ  جو بات سنی نہ گئی ہو، اور نہ دیکھی گئی ہو، تو اس میں غلطی کا احتمال ہوتا ہے، اس لیے وہ روایت متواتر نہیں رہے گی۔

متواتر حدیث کی اقسام:

1- متواتر لفظی:
ایسی روایت جس کے الفاظ اور معنی دونوں تواتر کیساتھ ثابت ہوں

اس کی مثال:  حدیث: (‏مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا ‏ ‏فَلْيَتَبَوَّأْ ‏ ‏مَقْعَدَهُ مِنْ النَّارِ)
ترجمہ: جو مجھ [محمد صلی اللہ علیہ وسلم] پر جھوٹ باندھے وہ اپنا ٹھکانہ  جہنم میں بنا لے۔
اس روایت کو بخاری: (107) ، مسلم (3) ، ابو داود (3651)  ترمذی (2661) ، ابن ماجہ (30 ، 37) اور احمد (2/159) نے روایت کیا ہے۔

اس روایت کو نقل کرنے  والے صحابہ کرام کی تعداد 72  سے بھی زیادہ ہے، اور  صحابہ کرام سے یہ روایت بیان کرنے والوں کی تعداد نا قابل شمار ہے۔

2-  متواتر معنوی: ایسی روایت جس  کا مفہوم تواتر کیساتھ ثابت ہو،  الفاظ  میں کچھ کمی بیشی ہو۔

اس کی مثال:  دعا کے وقت ہاتھ اٹھانے کی احادیث ہیں، چنانچہ دعا کے وقت ہاتھ اٹھانے سے متعلق ایک سو  کے قریب روایات ملتی ہیں، ان تمام احادیث میں  یہ بات  مشترک ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کے وقت ہاتھ اٹھائے، ان تمام روایات کو سیوطی رحمہ اللہ نے  اپنے ایک رسالے میں جمع کیا ہے، جس کا نام ہے: " فض الوعاء في أحاديث رفع اليدين في الدعاء "

متواتر حدیث کا حکم:

متواتر حدیث   کی تصدیق کرنا  یقینی طور پر لازمی امر ہے؛ کیونکہ متواتر حدیث سے  قطعی اور یقینی علم حاصل ہوتا ہے؛  اور اس قطعی و یقینی علم کیلئے ایسی حدیث کو کسی اور دلیل کی ضرورت نہیں ہوتی، نیز ایسی روایت کے حالات بھی تلاش کرنے کی ضرورت نہیں رہتی، یہی وجہ ہے کہ کوئی بھی عقلمند  اس  حدیث کے بارے میں کسی قسم کا شک و شبہ باقی نہیں رکھتا۔

مصادر:

-  "نزہۃ النظر" از حافظ ابن حجر

- "الحدیث المتواتر" از ڈاکٹر خلیل ملا خاطر

- "الحديث الضعيف وحكم الاحتجاج به "از: شیخ ڈاکٹر  عبد الكريم بن عبد الله الخضیر

- " معجم مصطلحات الحديث ولطائف الأسانيد"از: ڈاکٹر  محمد ضياء الرحمن اعظمی




حدیثِ متواتر

حدیثِ مُتَواتِر:-
متواتر وہ حدیث ہے جس کو ابتداء سے لے کر آخر سند تک ہر زمانہ میں اتنے لوگوں نے(مسلسل) بیان کیا ہو کہ ان کا جھوٹ پر متفق ہونا عادۃّ محال نظر آئے، اور سند کی انتہا ایسی چیز پر ہو جس کا تعلق محسوسات سے ہو، نظر وفکر سے علم یقینی حاصل نہیں ہوتا ہے، یہ(یقین)حدیثِ متواتر سے حاصل ہوتا ہے، مثلاً:- قرآن پاک بھی تواتر سے امت تک پہنچا ہے اور علمِ یقین کا درجہ رکھتا ہے۔


Sunday, 16 July 2023

یہود کی تاریخ، فطرت خصلتیں، عزائم منصوبے اور فساد و تباہ کاریاں


القرآن:

اور یہود و نصاری تم سے اس وقت تک ہرگز راضی نہیں ہوں گے جب تک تم ان کے مذہب کی پیروی نہیں کرو گے۔ کہہ دو کہ حقیقی ہدایت تو اللہ ہی کی ہدایت ہے۔ اور تمہارے پاس (وحی کے ذریعے) جو علم آگیا ہے اگر کہیں تم نے اس کے بعد بھی ان لوگوں کی خواہشات کی پیروی کرلی تو تمہیں اللہ سے بچانے کے لیے نہ کوئی حمایتی ملے گا نہ کوئی مددگار۔ (77)

[سورة البقرة:120]

(77) اگرچہ حضور رسالت مآب ﷺ سے یہ بات ناقابل تصور تھی کہ آپ کفار کی خواہشات کے پیچھے چلیں، لیکن اس آیت نے فرض محال کے طور پر یہ بات کہہ کر اصول یہ بتلادیا کہ اللہ کے نزدیک شخصیات کی اہمیت ان کی ذات کی وجہ سے نہیں ؛ بلکہ اللہ کی اطاعت کی وجہ سے ہوتی ہے، آنحضرت ﷺ ساری مخلوقات میں سب سے افضل اسی بنا پر ہیں کہ اللہ کے سب سے زیادہ فرمانبردار ہیں۔











یہود ونصاریٰ تاریخ کے آئینہ میں
(امام  ابن قیم الجوزیہ)
دنیا میں پائے جانے والے دو مذاہب یہود اور نصاریٰ نے متعدد اسباب کی بنا پر اسلام کے خلاف نفرت انگیز مہم کا آغاز کیا اس کے لیے جہاں انھوں نے نبی کریم ﷺ اور ان کے اتباع و تابعین پر رقیق الزامات لگائے بلکہ انھوں نے اسلام کے خلاف جنگوں کا آغاز کر دیا۔ امام ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ اپنے دور کے مجدد اور اپنے استاد امام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ کے حقیقی ترجمان مانے جاتے ہیں۔ زیر نظر کتاب میں انھوں نے یہود و نصاریٰ کے تمام اعتراضات کے مسکت جوابات دئیے ہیں۔ انھوں نے شریعت اسلامیہ کے ان بنیادی مسائل پر تحقیقی انداز میں روشنی ڈالی ہے جن کو ہمارے دینی حلقے فراموش کر چکے ہیں۔ امام صاحب نے عیسائیوں اور یہودیوں کی کتب سماویہ میں باطل تحریفات کا پردہ ایسے دلنشیں انداز میں فاش کیا ہے کہ کتاب پڑھ کر جہاں اسلام کی حقانیت کا نقش دل پر جم جاتا ہے وہیں انھوں یہود و نصاری کی اسلام دشمنی اور دین یہود کی ضلالت پر مہر ثبت کر دی ہے۔



Thursday, 13 July 2023

مسئلہ باغ فدک


شیعہ کتاب سے مسئلہ حل:

ترجمہ:

یہ سن کر سیدہ فاطمہ رضہ نے کہا کہ فدک تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ھبہ کردیا تھا۔ابو بکر رضہ نے پوچھا کہ اس بات کا کوئی گواہ تو حضرت علی رضہ اور ام ایمن بطور گواہ پیش ہوئے۔اور اس امر کی گواہی دی۔اتنے میں حضرت عمر رضہ اور عبدالرحمن بن عوف رضہ بھی آگئے ۔ان دونوں نے یہ گواہی دی کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فدک کو تقسیم فرماتے تھے۔ابوبکر رضہ نے کہا کہ اے بنت پیغمبر تو نے بھی سچ کہا اے علی رضہ تو بھی سچے ہو۔ اس لیے کہ اے فاطمہ رضہ تیرے لیے وہی کچھ ہے۔ جو آپ کے والد کا تھا۔حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فدک کی آمدنی سے تمہاری خوراک کا اہتمام فرماتے تھے۔اور باقی ماندہ کو تقسیم فرمادیتے اور اس میں سے فی سبیل اللہ سواری بھی لے دیتے۔تمہارے بارے میں اللہ سے معاہدہ کرتا ہوں کہ میں اسی طرح تم سے سلوک کروں گا جس طرح حضور صلی اللہ علیہ وسلم سلوک فرمایا کرتے تھے۔تو یہ سن کر سیدہ فاطمہ حضرت ابوبکر رضہ سے راضی ہوگئیں ۔اور اسی بات پر ابوبکر صدیق رضہ سے عہد لیا۔ابوبکر رضہ فدک کا غلہ وصول کرتے اور اھل بیت کو ان کی ضرورت کے مطابق دے دیتے۔ان کے بعد حضرت عمر رضہ بھی فدک کواسی طرح تقسیم کیا کرتے تھے،اس کے بعد عثمان رضہ بھی فدک اسی طرح تقسیم کیا کرتے تھے، اس کے بعد علی رضہ بھی فدک کو اسی طرح تقسیم کیا کرتے تھے۔

[شیعہ کتاب:حجج النھج صفحہ ۲۶۶]



ترجمہ:

جب امر خلافت علیؓ کے سپرد ہوا تو علیؓ شیرخدا سے فدک کو اھل بیت کی طرف لوٹانے کے بارے میں کہا گیا تو علیؓ شیرخدا نے جواب میں فرمایا کہ خدا کی قسم مجھے اس کام کو کرنے میں اللہ سے حیا آتی ہے جس کام کو ابوبکر عمر نے نہیں کیا۔

[شیعہ کتاب:حجج نھج صفحہ ۲۷۷]

[شیعہ کتاب:شرح نھج البلاغہ ابن حدید جلد ۱۶ صفحہ ۲۵۲]

[شیعہ کتاب: الشافی فی الامامت صفحہ ۷۶]







Wednesday, 12 July 2023

نبوت-رحمت ، خلافت-امامت، سلطنت-ملوکیت، امارت-ولایت

خلافت کا لفظی معنٰی ’نیابت‘ ہے.

اللہ پاک کا فرمان ہے: 

”إِنِّی جَاعِلٌ فِی الْأَرْضِ خَلِیفَةً

ترجمہ:

میں زمین میں ایک خلیفہ(نائب) بنانے والا ہوں۔

[سورۃ البقرۃ:30]

نماز میں صف بندی کی ترتیب اور پاؤں ٹخنے کندھے ملانے کا مطلب

صفیں برابر کرنے کا بیان:
‏‏‏‏‏‏سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
«سَوُّوا صُفُوفَكُمْ فَإِنَّ تَسْوِيَةَ الصُّفُوفِ...مِنْ إِقَامَةِ الصَّلَاةِ»
(وفي رواية)
«...من تمام الصلاة»
ترجمہ:
صفیں درست کرو، بے شک صفوں کی درستی...
اقامت صلوٰۃ میں سے ہے۔
[صحيح البخاري:433]
(دوسری روایت میں ہے)
نماز کے پورا کرنے میں سے ہے۔
[صحيح مسلم:433(975)، سنن أبي داود:668، سنن ابن ماجه:993]



صف محاذاۃ (سیدھی-برابری) میں رکھنا ہے:
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نیزہ یا تیر کی طرح صف سیدھی کرتے تھے، ایک بار آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کا سینہ صف سے باہر نکلا ہوا دیکھا تو فرمایا:
”اپنی صفیں برابر کرو، یا اللہ تمہارے چہروں کے درمیان اختلاف پیدا فرما دے گا“۔
[صحيح البخاري:717، صحيح مسلم:978+979، جامع الترمذي:227، سنن أبي داود:663+662، سنن النسائى الصغرى:811، سنن ابن ماجه:994]




‏‏‏‏‏‏عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ رُصُّوا صُفُوفَكُمْ وَقَارِبُوا بَيْنَهَا وَحَاذُوا بِالْأَعْنَاقِ، ‏‏‏‏‏‏فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنِّي لَأَرَى الشَّيْطَانَ يَدْخُلُ مِنْ خَلَلِ الصَّفِّ كَأَنَّهَا الْحَذَفُ.
ترجمہ:
سیدنا انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم لوگ صفوں میں خوب مل کر کھڑے ہو، اور ایک صف دوسری صف سے نزدیک رکھو، اور گردنوں کو بھی ایک دوسرے کے مقابل میں رکھو، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، میں شیطان کو دیکھتا ہوں وہ صفوں کے بیچ میں سے گھس آتا ہے، گویا وہ بکری کا بچہ ہے۔
[سنن أبي داود:667، سنن النسائى الصغرى:816]




عن انس رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وآله وسلم قال: «رصوا صفوفكم وقاربوا بينها وحاذوا بالاعناق».
ترجمہ:
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے ”اپنی صفوں کو مضبوطی سے ملاؤ اور ان کے درمیان فاصلہ کم رکھو اور اپنی گردنوں کو ایک محاذ پر (یعنی برابر برابر) رکھو۔“
[صحیح ابن حبان (الإحسان):2163، صحیح ابن خزيمة:1545]

نماز میں ٹخنے کا ٹخنے سے - کندھے کا کندھا سے ملانے کا حکم:

واضح رہے کہ جیسے احادیث میں کندھوں اور ٹخنوں کے ملانے کا ذکر ہے، اسی طرح گھٹنوں کے ملانے کا بھی ذکر ہے۔[ابوداؤد:662]۔ اور ان احادیث میں  کندھوں، ٹخنوں اور گھٹنوں کے ملانے سے مراد ’’محاذاۃ‘‘ یعنی ان کو ایک سیدھ میں رکھنا ہے، حقیقی  معنیٰ مراد نہیں ہے، مقتدیوں پر لازم ہے کہ جماعت کی نماز میں آپس میں مل مل کر کھڑے ہوں، کندھوں کو کندھوں سے ملا کر رکھیں، ٹخنوں کی سیدھ میں ٹخنے رکھیں، صفوں  کے درمیان خلاء نہ چھوڑیں تاکہ درمیان میں شیطان داخل نہ ہو۔


نماز میں پاؤں ملانے کا حکم:

نماز میں کھڑے ہوتے وقت پاؤں سے پاؤں ملانا ضروری نہیں ہے؛ ہاں صفیں اچھی طرح سیدھی کرنی چاہیے بایں طور کہ درمیان میں کوئی خالی جگہ نہ رہے، نیز ایسا بھی نہ ہو کہ کوئی آگے کوئی پیچھے کھڑا ہو ؛ بلکہ سارے لوگ اعتدال کے ساتھ خالی جگہوں کو پُر کرتے ہوئے صف میں کھڑے ہوں، جن احادیث میں تسویة الصفوف پاؤں سے پاؤں ملانے کی بات آئی ہے، اس سے یہی مراد ہے، حافظ ابن حجر نے یہ صراحت کی ہے، یہ مطلب نہیں ہے کہ مقتدی حضرات حقیقتًا پاؤں سے پاؤں ملاکر کھڑے ہوں۔

احادیث میں ٹخنے سے ٹخنے، کندھے سی کندھے ملانا اپنی حقیقت پر محمول نہیں ہے۔

شارحِ بخاری علامہ ابن حجر رحمہ اللہ تعالیٰ رحمة واسعہ اپنی مشہور کتاب فتح الباری میں فرماتے ہیں:
والمراد بذالک المبالغة فی تعدیل الصف وسد خللہ
(فتح الباری: باب الأذان، رقم الحدیث، ص: ۷۲۵)

حدیث شریف کی مشہور کتاب ابوداؤد شریف میں صف سیدھی کرنے اور خلل کو بند کرنے سے متعلق کئی الفاظ وارد ہوئے ہیں، ان سب کو ملاحظہ فرمالیں۔

نیز اعلاء السنن میں (باب سنة تسویة الصف) اور فیض الباری شرح صحیح البخاری میں (باب الزاق المنکب بالمنکب (فی باب الاذان) کو بھی مطالعہ کرلیں۔

حوالہ
والمراد بتسویة الصفوف اعتدال القائمین بہا علی سمت واحد أو یراد بہا سد الخلل الذی فی الصف إلخ 
(فتح الباری لابن حجر، /207، باب تسویة الصفوف عند الإقامة وبعدہا، ط:المملکة العربیة السعودیة)....
(قولہ باب إلزاق المنکب بالمنکب والقدم بالقدم فی الصف)
المراد بذلک المبالغة فی تعدیل الصف وسد خللہ وقد ورد الأمر بسد خلل الصف والترغیب فیہ فی أحادیث کثیرة أجمعہا حدیث بن عمر عند أبی داود وصححہ بن خزیمة والحاکم ولفظہ أن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال أقیموا الصفوف وحاذوا بین المناکب وسدوا الخلل ولا تذروا فرجات للشیطان ومن وصل صفا وصلہ اللہ ومن قطع صفا قطعہ اللہ۔
(فتح الباری لابن حجر : باب إلزاق المنکب بالمنکب والقدم بالقدم فی الصف 2/ 211،ط: السعودیة)




واضح رہے کہ جیسے احادیث میں کندھوں اور ٹخنوں کے ملانے کا ذکر ہے، اسی طرح گھٹنوں کے ملانے کا بھی ذکر ہے اور جماعت کی نماز میں اگر بتکلف کندھوں اور ٹخنوں کو ملا بھی لیا جائے تو بھی گھٹنوں کو ملا کر صف میں کھڑا ہونا تقریباً محال ہے،  اسی طرح بہت زیادہ پیر کھول کر ٹخنے سے ٹخنے ملانے کی صورت میں کاندھے ملانا بھی تقریباً ناممکن ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایسی احادیث میں کندھوں، ٹخنوں اور گھٹنوں کے ملانے سے مراد ’’محاذاۃ‘‘ یعنی ان کو ایک سیدھ میں رکھنا ہے۔

مذکورہ تفصیل سے معلوم ہوا کہ صف سیدھی کرنے کا طریقہ  یہ ہے کہ  ٹخنے  اور ایڑھیاں پیچھے سے برابر کرکے کھڑے ہوجائیں،  صف سیدھی ہوجائے گی، ایڑھیاں برابر کرنے سے ٹخنے خود ہی تقریباً برابر ہوجائیں گے اور اس کے ساتھ مونڈھا مونڈھے (کندھے) کی سیدھ میں رکھیں۔



واضح رہے کہ جماعت کی نماز میں صفوں کے درمیان اتصال سنت مؤکدہ ہے ، مقتدیوں پر لازم ہے کہ جماعت کی نماز میں آپس میں مل مل کر کھڑے ہوں، کندھوں کو کندھوں سے ملا کر رکھیں، صفوں  کے درمیان خلاء نہ چھوڑیں تاکہ درمیان میں شیطان داخل نہ ہو، اگر مقتدی ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کھڑے نہ ہوں بلکہ فاصلہ سے کھڑے ہوں تو جماعت کی فضیلت تو حاصل ہوجائے گی البتہ یہ خلافِ سنت اور مکروہ عمل ہے۔

سنن ابی داؤد میں ہے:

"يقول: أقبل رسول الله صلى الله عليه وسلم على الناس بوجهه، فقال: «أقيموا صفوفكم» ثلاثاً، «والله لتقيمن صفوفكم أو ليخالفن الله بين قلوبكم» قال: فرأيت الرجل يلزق منكبه بمنكب صاحبه وركبته بركبة صاحبه وكعبه بكعبه."
ترجمہ:
ابوالقاسم جدلی کہتے ہیں کہ میں نے نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما کو کہتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کی طرف اپنا رخ کیا اور فرمایا ”اپنی صفیں برابر کر لو۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ تین بار فرمایا۔“ قسم اللہ کی! (ضرور ایسا ہو گا کہ) یا تو تم اپنی صفوں کو برابر رکھو گے یا اللہ تعالیٰ تمہارے دلوں میں مخالفت پیدا کر دے گا۔“ سیدنا نعمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ پھر میں نے دیکھا کہ ایک آدمی اپنے کندھے کو اپنے ساتھی کے کندھے کے ساتھ، اپنے گھٹنے کو اپنے ساتھی کے گھٹنے کے ساتھ اور اپنے ٹخنے کو اپنے ساتھی کے ٹخنے کے ساتھ ملا کر اور جوڑ کر کھڑا ہوتا تھا۔
[سنن أبي داود:662]

البحرالرائق میں ہے:

"وينبغي للقوم إذا قاموا إلى الصلاة أن يتراصوا ‌ويسدوا الخلل ويسووا بين مناكبهم في الصفوف."

(کتاب الصلاۃ ،باب الامامۃ ج:1،ص:375 ط:دارالکتاب الاسلامی)

وفی حاشية ابن عابدين :

"ولو صلى على رفوف المسجد إن وجد في صحنه مكانا كره كقيامة في صف خلف صف فيه فرجة. قلت: وبالكراهة أيضا صرح الشافعية. قال السيوطي في [بسط الكف في إتمام الصف] : وهذا الفعل مفوت لفضيلة الجماعة الذي هو التضعيف لا لأصل بركة الجماعة، فتضعيفها غير بركتها، وبركتها هي عود بركة الكامل منهم على الناقص. اهـ

قوله وهذا الفعل مفوت إلخ) هذا مذهب الشافعية لأن شرط فضيلة الجماعة عندهم أن تؤدى بلا كراهة، وعندنا ينال التضعيف ويلزمه مقتضى الكراهة أو الحرمة كما لو صلاها في أرض مغصوبة رحمتي ونحوه في ط"

 (‌‌‌‌كتاب الصلاة،باب الإمامة،1/ 570،ط:سعید )

وفي حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح:  


"فيأمرهم الإمام بذلك وقال صلى الله عليه وسلم: "استووا تستوي قلوبكم وتماسوا تراحموا" وقال صلى الله عليه وسلم: "أقيموا الصفوف وحاذوا بين المناكب وسدوا الخلل ولينوا بأيدي إخوانكم.


قوله: "فيأمرهم الإمام بذلك" تفريع على الحديث الدال على طلب الموالاة واسم الإشارة راجع إليها ويأمرهم أيضا بأن يتراصوا ويسدوا الخلل ويستووا مناكبهم وصدورهم كما في الدر عن الشمني وفي الفتح ومن سنن الصف التراص فيه والمقاربة بين الصف والصف والاستواء فيه قوله: "استووا" أي في الصف قوله: "تستو" بحدف الياء جواب الأمر وهذا سر علمه الشارع صلى الله عليه وسلم كما علم أن اختلاف الصف يقتضي اختلاف القلوب قوله: "أقيموا الصفوف" أي عدلوهها قوله: "وحاذوا بين المناكب" ورد كأن أحدنا يلزق منكبه بمنكب صاحبه وقدمه بقدمه."

(ص: 306,ط: دار الكتب العلمية بيروت)


ـ’’اس باب میں مختلف الفاظ سے روایات آئی ہیں، بخاری کے الفاظ تو سوال ہی میں مذکور ہیں اور سنن ابو داؤد میں نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے یہ الفاظ آئے ہیں: قال فرأیت الرجل یلزق منکبہ بمنکب صاحبہ و رکبتہ برکبة صاحبہ و کعبہ بکعبہ۔ اور حضرت انس رضی  اللہ عنہ سے مرفوعا یہ الفاظ ہیں: قاربو بینہما و حاذوا بالاعناق۔اور عبداللہ  بن عمر رضی اللہ عنہ سے مرفوعا یہ الفاظ ہیں: حاذوا بالمناکب۔ اور یہ امر یقنی ہے کہ ان سب عبارات کا معبر عنہ ایک ہی ہے، اسی کو کہیں الزاق سے تعبیر کردیا، کہیں مقاربت سے کہیں محاذاۃ سے، اس سے معلوم ہوا کہ محاذاۃ و مقاربت ہی کو الزاق  کہہ دیا ہے مبالغۃ فی المقاربۃ۔ دوسرے اگر الزاق کے معنی حقیقی  لئے جاویں تو الزاق المناکب اور الزاق الکعب  اس صورت متعارفہ معتادہ میں مجتمع نہیں ہوسکتے کہ مصلی اپنے قدمین میں خوب انفراج رکھے، کیونکہ اس میں الزاق الکعاب تو ہوگا لیکن الزاق  المناکب نہ ہوگا ، جیسا کہ ظاہر اور مشاہد ہے اور کوئی وجہ نہیں کہ الزاق الکعب کو مقصود سمجھا جاوے اور الزاق المناکب کی رعایت نہ کی جاوے، کوئی شخص کہہ سکتا ہے کہ الزاق المناکب اصل ہے اور الزاق الکعاب  غیر مقصود۔ تیسرے الزاق الکعاب کی جو صورت  بھی  لی جاوے الزاق الرکب کے ساتھ اس کے تحقیق کی کوئی صورت نہیں، کیونکہ رکبہ بمعنی زانو کا الزاق دوسرے رکبہ سے جب ہوسکتا ہے کہ دو شخص باہم متقابل اور متواجہ ہوں جیسا کہ ظاہر ہے، البتہ محاذاۃ  رکب میں ہر حال میں ممکن ہے ان وجوہ سے ثابت ہوا کہ  جس الزاق کا دعوی کیا جاتا ہے، حدیث  اس پر دلالت نہیں کرتی بلکہ فرجات چھوڑنے کی ممانعت سے اس کی نفی ہوتی ہے۔ واللہ تعالی اعلم وعلمہ اتم ۔‘‘

(امداد الفتاوی: ج:1 ص:326 ط:مکتبہ دار العلوم کراچی )


فتاوی محمودیہ میں ہے:

علامہ شرنبلالی نے مراقی الفلاح میں تصریح کی ہے کہ دونوں قدموں کے درمیان چار انگل کا فاصلہ رکھے، اس سے معلوم ہوا کہ ٹخنہ سے ٹخنہ نہیں ملایا جائے گا، علاوہ ازیں   ٹخنہ سے ٹخنہ ملا کر نماز پڑھنا  بہت دشوار ہے اور قعدہ تو اس حالت میں ممکن بھی نہیں، البتہ ایک نمازی دوسرے نمازی کے ساتھ صف میں کھڑا ہو کر اپنا ٹخنہ دوسرے کے ساتھ سیدھ میں رکھے، آگے پیچھے نہ رکھے، تاکہ صف سیدھی رہے، یہی حکم حدیث وفقہ سے ثابت ہے، یہ نہیں کہ ایک نمازی ٹخنہ کو دوسرے نمازی کے ٹخنہ سے ملالے ۔

فقط واللہ تعالیٰ اعلم۔

(باب صفۃ الصلاۃ ج:21 ص:508 ط:جامعہ فاروقیہ)










Tuesday, 11 July 2023

ائمہ حدیث اور ائمہ جرح وتعدیل


آنحضرت کی تعلیماتِ قدسیہ کی جاذبیت



آنحضرت   کی تعلیماتِ قدسیہ میں فطرت اور عقیدت کی وہ جاذبیت پائی گئی کہ اُن کے گرد اہلِ علم کا ایک عظیم گروہ پوری عقیدت سے حق وحفاظت کا پہرہ دینے لگا اور علوم دینی کی یہ جاذبیت دن بدن بڑھتی رہی اور ہردور میں قائم رہی کوئی دَور ایسا نہ آیا جب سنن نبوی   پر لوگ پروانہ وار نچھاور نہ ہوتے ہوں۔


خدمتِ حدیث کے مختلف دائرے



چند اہلِ علم اُٹھے اور اُنھوں نے روایت Tradition اور فنِ روایت Science of Transmissionکواپنی محنت کا موضوع بنایا اور کچھ لوگ اُس کے رجال Chain of Transmitters کی تحقیق میں لگ گئے اور ہرکھرے کھوٹے کا کھوج لگایا؛ پھرایسے اہلِ علم بھی اُٹھے جواحادیث کے معانی ومطالب کی گہرائی میں اُترے جن مسائل وحوادث میں قرآن وسنت کی صریح نص موجود نہ تھی اُن کے حکم قرآن وسنت کی روشنی میں دریافت کیئے، ان کی جزئیات قرآن وحدیث کے اُصولوں سے استنباط (استنباط، نبط سے ہے، نبط کنویں کی تہہ میں سے پانی نکالنے کو کہتے ہیں، کنواں کھودنے میں جوپانی پہلی مرتبہ نکلتا ہے اسے ماءِ مستنبط کہا جاتا ہے؛ یہاں مراد کسی بات کی تہہ تک پہنچ کراُس کی صحیح حقیقت معلوم کرلینا ہے؛ اِسی طرح فقہاءؒ کا کسی دبی بات کونکال لینا استنباط کہلاتا ہے، فقہاء کرامؒ موجدِ احکام نہیں ہوتے صرف مظہرِ احکام ہوتے ہیں کہ جوبات گہرائی میں دَبی تھی اُسے ظاہر کردیا، شریعۃ کی ایجاد پیغمبر کی طرف سے ہوتی ہے اور وہ بھی اپنی طرف سے نہیں خدا کی طرف سے شریعت کی بات کہتے ہیں) کیں ان کے لیئے بھی حدیث کا وسیع علم درکار تھا اور اس بحرِناپید کنار میں کامیاب تیرنے کے بغیر کوئی ان چھپے موتیوں کونہ چن سکتا تھا، ان حضرات کی کاوش رہی کہ نہ صرف مسائل غیرمنصوصہ کا استنباط کرتے جائیں بلکہ مزید استنباط واستخراج کے لیئے قواعد بھی وضع کرتے رہیں یہ ائمہ حدیث اس پہلو سے اسلام کے مقنن Theoristقرار پائے اور غیرمجتہدین کے لیئے امام ٹھہرے؛ پھرکچھ اور محدثین اُٹھے اور جن راویوں نے احادیث روایت کی تھیں ان کی جانچ پڑتال اور جرح وتعدیل میں لگ گئے، وہ اس تحقیق میں یہاں تک آگے گئے کہ ان راویوں کی روایت اُن کے دیگر ہمعصرراویوں سے لے کر ان کی مرویات کوپرکھا کہ یہ اور کہاں کہاں نقل ہوئی ہیں، یہ حضرات اس لائن سے آگے بڑھے اور انہوں نے تحقیق وتنقید کے اس پہلو سے آنحضرت   کی تعلیمات کی خدمت اور حفاظت کی پھر کچھ ائمہ حدیث نے فنی طور پر حدیث جمع کرنے میں اپنے کمالاتِ تالیف دکھائے اور کچھ علماء حدیث نے اسماء الرجال کا فن ترتیب دے کر تاریخ شرائع میں ایک نئے باب کا اضافہ کیا، یہ سب حضرات اپنے اپنے دائرۂ کار میں حدیث کی خدمت کرتے رہے اور حق یہ ہے کہ ان دوائر علم میں ہردائرہ خدمت کے اکابر اپنے اپنے موضوع کے ائمہ حدیث تھے؛ پھرجن بزرگوں نے حدیث کی شروح میں ان تمام موضوعات پر فنی گفتگو کی، وہ حضرات بھی اپنی جگہ ائمہ حدیث تھے، سطورِ ذیل میں علمِ حدیث کے کچھ انہی وفاداروں کا تذکرہ ہے جو اپنی محنتوں اور ریاضتوں سے علم حدیث کے وہ چراغ روشن کرگئے جن کی تابانی رہتی دُنیا تک طالبانِ عمل کوروشنی بخشتی رہے گی۔



Friday, 7 July 2023

احادیث غدیر خم اور اس کی حقیقت

یہ لفظ ‌’’ غَدير ‌خُم ’’ ہے۔ خُم ایک وادی کا نام ہے جو مکہ اور مدینہ کے درمیان ایک مشہور مقام جحفہ سے دو تین میل کے فاصلے پر واقع ہے۔ وہاں تالاب ہے جس کے لیے عربی میں لفظ ’غدیر’ بولا گیا ہے۔

[الاقتضاب في غريب الموطأ وإعرابه على الأبواب 1/ 363، شرح النووي على مسلم 15/ 179]

حجۃ الوداع سے واپسی پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہاں پر پڑاؤ فرمایا تھا اور صحابہ کرام کو خطاب فرمایا تھا، جس کی تفصیل کتبِ احادیث وغیرہ کے اندر موجود ہے، اسی وجہ سے یہ مقام مشہور ہو گیا۔ غدیر خم کا ماء زمزم کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے، کیونکہ زمزم کا کنواں تو مکہ بلکہ مسجد حرام کے اندر ہے۔

احادیثِ غدیرِ خم:

(1)حضرت جابر بن عبدللہ ؓ کی روایت:

حَدَّثَنَا مُطَّلِبُ بْنُ زِیَادٍ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِیلٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللہِ، قَالَ: کُنَّا بِالْجُحْفَۃِ بِغَدِیرِ خُمٍّ إذْ خَرَجَ عَلَیْنَا رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَأَخَذَ بِیَدِ عَلِیٍّ ، فَقَالَ : مَنْ کُنْتُ مَوْلاَہُ فَعَلِیٌّ مَوْلاَہُ۔
ترجمہ:
حضرت جابر بن عبداللہ ؓ فرماتے ہیں کہ ہم غدیر خُمّ (یعنی خُمّ نام کے تالاب) کے موقع پر حجفہ مقام میں تھے کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے پھر حضرت علی ؓ کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا: جس کا میں مولا(دوست/محبوب) ہوں، پس علی بھی اس کا مولا(دوست/محبوب) ہے۔
[مصنف ابن ابی شیبہ» کتاب: فضائل کا بیان» باب:-حضرت علی بن ابی طالب (رض) کے فضائل کا بیان، حدیث نمبر: 32734]

حکم الحدیث:
حديث متواتر نصّ على تواتره عدد من الأئمة الكرام منهم الحافظ ابن حجر رحمه الله فقد قال في الفتح الباری (٧/ ٩٣)





تشریح:

(1)لفظ مولا کے معانی:
عربی زبان میں بہت سے الفاظ ایسے جو بیس بیس یا اس سے بھی زیادہ معنوں میں استعمال ہوتے ہیں۔ لفظ مولیٰ بھی انہیں الفاظ میں سے ہے۔ عربی لغت کی مشہور و مستند ترین کتاب "القاموس المحیط" میں اس لفظ مولیٰ کے مندرجہ ذیل ۲۱ معنی لکھے ہیں۔
مولیٰ کی ایک بھی معنیٰ "خلیفہ بلافصل" نہیں:
المولى:
(1)المالك (2)والعبد (3)والعتق (4)والمعتق (5)والصاحب (6)والقريب كابن العم ونحوه (7)والجار (8)والحليف (9)والابن (10)والعم (11)والنزيل (12)والشريك (13)وابن الاخت (14)والولى (15)والرب (16)والناصر (17)والمنعم (18)والمنعم عليه (19)والمحب (20)والتابع (21)والصهر.
ترجمہ:
(1)مالک (2)غلام (3)چھوڑ دیا گیا (4) آزاد کرنے والا (5)صاحب (6)قریبی رشتہ دار جیسے چچازاد بھائی (7)پڑوسی (8)حلیف (9)بیٹا (10)چچا (11)مہمان (12)ساتھی (13)بھتیجا (14)سرپرست (15) تربیت کرنے والا (16)مددگار (17)انعام۔احسان کرنے والا (18)فائدہ اٹھانے والا (19)محب-عاشق (20)تابعدار-پیروکار (21)سسر۔

مولا، بمعنیٰ غلام وخادم:
شہری علماء میں 11 مولائے رسول اللہ ﷺ کے نام:
(۱)أبو كبشة (۲)أبو رافع (۳)أبوعسيب (۴)ذكوان (۵)شقران (۶)رباح (۷)زيد (۸)طهمان (۹) (۱۰)كيسان (۱۱)نافع



ان مذکورہ بالا متعدد معانی میں سے اس روایت کے معنیٰ خود اس روایت کے آخری الفاظ "أَللّهُمَّ والِ مَنْ والاهُ، وَ عادِ مَنْ عاداهُ"  متعین کرتے ہیں کیونکہ ان کے معنیٰ ہر شخص کے نزدیک یہی ہیں کہ:
"یا اللہ تو اس شخص کو دوست رکھ جو علی کو دوست رکھے اور دشمن رکھ اس شخص کو جو علی کو دشمن رکھے"۔
[السنن الكبرى-النسائي:8424-8430، صحيح ابن حبان:6931، المستدرك على الصحيحين-الحاكم:4576، الصحيحة:1750]



نبی کے مولیٰ(ساتھی) کون کون؟
القرآن:
....وَاِنۡ تَظٰهَرَا عَلَيۡهِ فَاِنَّ اللّٰهَ هُوَ مَوۡلٰٮهُ وَجِبۡرِيۡلُ وَصَالِحُ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ‌ۚ وَالۡمَلٰٓئِكَةُ بَعۡدَ ذٰلِكَ ظَهِيۡرٌ ۞ 
ترجمہ:
.....اور اگر نبی کے مقابلے میں تم نے ایک دوسری کی مدد کی، تو (یاد رکھو کہ) ان کا ساتھی اللہ ہے اور جبریل ہیں اور نیک مسلمان ہیں، اور اس کے علاوہ فرشتے ان کے مددگار ہیں۔
[سورۃ التحريم:4]
یہاں ایک ہی آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے لیے بھی، فرشتے کے لیے بھی اور خواص اہلِ ایمان (یعنی نیکوکاروں) کے لیے بھی یہ لفظ استعمال فرمایا ہے۔ جس سے معلوم ہوا کہ جبرئیل امین اور تمام نیکو کار اہلِ ایمان رسولﷺ کے مولیٰ ہیں، اور یہ لقب انہیں خود بارگاہ ایزدی سے عطا ہوا ہے۔ اس سے آگے چلیں تو خود رسول ﷺ نے حضرت زیدؓ کو فرمایا:
«يَا زَيْدٌ، أَنْتَ مَوْلاىَ وَمَوْلاهُمَا»
اے زید! تم میرے مولا اور ان دونوں کے بھی مولیٰ ہو۔
«أَنْتَ أَخُونَا وَمَوْلَانَا»
تم ہمارے بھائی اور ہمارے مولا ہو۔

معلوم ہوا کہ حضرت زیدؓ رسول ﷺ کے مولیٰ ہیں۔ تو کیا حضرت زیدؓ بھی رسول ﷺ کے خلیفہ بلا فصل تھے؟ اپنے مولوی صاحبان کو فلاں مولانا، فلاں مولانا کہا کرتے ہیں تو کیا وہ بھی خلیفہ بلافصل ہوتے ہیں؟


ولایت(دوستی)کے قابل کون؟
القرآن:
اِنَّمَا وَلِيُّكُمُ اللّٰهُ وَرَسُوۡلُهٗ وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوا الَّذِيۡنَ يُقِيۡمُوۡنَ الصَّلٰوةَ وَيُؤۡتُوۡنَ الزَّكٰوةَ وَهُمۡ رَاكِعُوۡنَ‏ ۞ 
ترجمہ:
(مسلمانو) تمہارے یارومددگار تو اللہ، اس کے رسول اور وہ ایمان والے ہیں جو اس طرح نماز قائم کرتے اور زکوٰۃ ادا کرتے ہیں کہ وہ (دل سے) اللہ کے آگے جھکے ہوئے ہوتے ہیں۔
[سورۃ المائدة:55]

اگر ولی سے امام، حاکم، امیر کی معنی مراد لی جائے تو پھر ہم سب کے امام،حاکم،امیر اللہ اور رسول کے بعد تمام مومنین بھی ہوئے۔ کیا یہ کوئی بھی مانتا ہے؟
اگر سیدنا علیؓ کی خلافت بلافصل کا مسئلہ اصول دین میں توحید رسالت کی طرح تھا جیسے شیعہ کہتے ہیں تو اس کی کیا وجہ ہو سکتی ہے کہ اس کا اعلان و بیان نہ قرآن مجید میں نہ صریح حدیث متواتر میں نہ مکہ میں نہ مدینہ میں نہ بیت اللہ میں مسجد نبویؐ میں نہ عرفات و منیٰ و مزدلفہ میں جہاں تمام مسلمان ہزاروں کی تعداد میں جمع تھے بلکہ ایسا ضروری اور اہم اعلان غدیر خم جنگل کے تالاب پر وہ بھی گول مول الفاظ میں جن کے معنیٰ خلافت بلا فصل قطعاََ نہیں ہو سکتے بلکہ اس روایت میں کوئی ادنیٰ سا اشارہ بھی خلافت علیؓ بلافصل کا نہیں کیونکہ اس میں تو دوامی حکم ہے کسی خاص وقت کے متعلق حضور ﷺ کی زندگی یا آپﷺ کی رحلت کے بعد صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی زندگی تک کا حکم نہیں بلکہ حضورﷺ کی امت پر قیامت تک یہ حکم ہے کہ جس شخص کے لئے رسول اللہﷺ مولا ہیں اس کے لئے حضرت علیؓ بھی مولا ہیں تو یہ تو دوامی حکم محبت و دوستی کا تو صحیح ہو سکتا ہے لیکن خلافت بلافصل کا صحیح نہیں ہو سکتا ہے البتہ اس میں شک نہیں کہ سیدنا علیؓ کو خلفاء ثلاثہؓ کے بعد چوتھے خلیفہ راشدؓ ہیں۔

لہذا مولیٰ کا معنیٰ حاکم، امام یا امیر کرنا صراحتاً قرآن کریم کی مخالفت ہے اور تفسیر بالرائے ہے۔






معلوم ہونا چاہئے کہ قرآن پاک کی کسی آیت یا حضور ﷺ کے کسی ارشاد میں یا کسی بھی فصیح و بلیغ کلام میں جب کوئی کثیر المعنیٰ لفظ استعمال ہو تو خود اس میں یا اس کے سیاق و سباق میں ایسا قرینہ موجود ہوتا ہے جو اس لفظ کے معنیٰ اور اس کی مراد متعین کر دیتا ہے .... اس زیرِ تشریح حدیث میں خود قرینہ موجود ہے، جس سے اس حدیث کے لفظ مولیٰ کے معنیٰ متعین ہو جاتے ہیں، حدیث کا آخری دعائیہ جملہ ہے:

حضرت (1)براء بن عاذب، (2)ابوالطفیل، (3)زید بن ارقم (4) عبد الرحمٰن بن ابی لیلیٰ، (5)ابوھریرہ ۔۔۔۔۔ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا:
"مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَإِنَّ هَذَا مَوْلَاهُ، اللَّهُمَّ وَالِ مَنْ وَالَاهُ، وَعَادِ مَنْ عَادَاهُ"

﴿وأحب مَنْ أحبه، وَأَبْغِضْ مَنْ يُبْغِضُهُ﴾

﴿وَانْصُرْ مَنْ نَصَرَهُ، وَاخْذُلْ مَنْ خَذَلَهُ﴾

ترجمہ:

جس کا میں مولا ہوں، تو بےشک یہ(علی) بھی اس کا مولا ہے۔اے اللہ! تو اس سے دوستی فرما جو اس(علی) سے دوستی رکھے ، اور تو اس کے ساتھ عداوت(دشمنی) رکھ جو اس(علی) سے عداوت(دشمنی) رکھے۔
[صحیح ابن حبان:6931، سنن ابن ماجہ:116، مسند احمد:950-961-18479-19279-19302-19324-19328-23143، مصنف ابن ابی شیبہ:32091-32092-32118، مسند البزار:492-632-4298-4299-4327-6103-9659، مسند ابویعلی:567-6423، الشريعة للآجري:1522-1527-1706، المعجم الأوسط للطبراني:1111-1966-2254-6232، المعجم الصغير للطبراني:175-، المعجم الكبير للطبراني:4053-4969-4971، المستدرك الحاكم:4576، ]

﴿اور تو اس(شخص) کی مدد فرما جو مدد کرے اسکی، اور تو اس(شخص) کو بےیار ومددگار چھوڑدے جو اسے بےیار ومددگار چھوڑے۔
[مسند احمد:964]

﴿اور تو اس سے محبت فرما جو اس(علی) سے محبت رکھے، اور تو اس کے ساتھ بغض رکھ جو اس(علی) سے بغض رکھے﴾۔

[مسند البزار:786، الشريعة للآجري:1542، مجمع الزوائد:14614]
[مسند احمد:951]





حدیث ولایت
حدیث ولایت میں ((من كنت مولاه فعلی مولاه)) گو اہل سنت کی کتابوں میں اہلِ سنت راویوں‏‏ سے کسی سند صحیح سے ثابت نہیں۔ مگر چونکہ یہ فضائل کے ابواب میں سے ہے، عقائد کے باب میں نہیں۔ اس لیے یہ عام مشہور زبان زد عام و خاص ہے۔ اس بحث کے ضمن میں کئی آیت اللہ اس آیت تبلیغ کو بھی لے آتے ہیں حالانکہ غدیر خم کے قیام میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر کوئی آیت نازل نہیں ہوئی جسے وحی متلو کہا جا سکے یا آگے اس کی تلاوت جاری ہوئی ہو۔

 بَلِّغۡ مَاۤ اُنۡزِلَ اِلَيۡكَ مِنۡ رَّبِّكَ‌ وَاِنۡ لَّمۡ تَفۡعَلۡ فَمَا بَلَّغۡتَ رِسٰلَـتَهٗ‌ وَاللّٰهُ يَعۡصِمُكَ مِنَ النَّاسِ‌
ترجمہ:
اے رسول! جو کچھ تمہارے رب کی طرف سے تم پر نازل کیا گیا ہے اس کی تبلیغ کرو۔ اور اگر ایسا نہیں کرو گے تو (اس کا مطلب یہ ہوگا کہ) تم نے اللہ کا پیغام نہیں پہنچایا۔ اور اللہ تمہیں لوگوں (کی سازشوں) سے بچائے گا۔ 
[سورۃ المائدہ : آیت 67]

یہاں صرف اتنا جان لینا کافی ہے کہ اس آیت سے پہلے اور بعد میں دونوں جگہ اہل کتاب کا ذکر ہے اور رسول اللہ ﷺ کے بین الاقوامی غلبہ کا ذکر ہے کسی خلافت کا کوئی ذکر نہیں۔

قرآن کریم کی اس آیت کی وضاحت اس کے اپنے سیاق و سباق کے ساتھ ہونی چاہیے۔ 

مذکورہ حدیث میں کہ جس کا دوست میں ہوں علی بھی اس کا دوست ہے۔ (ولایت) دوستی میں ہے کہ کسی طرح تو علی سے دور نہ جا۔ اس روایت کے بعض طرق میں یہ بھی ہے کہ: اے اللہ تو اس سے محبت کر جو اس سے محبت رکھے اور اس سے دوری رکھ جو اس سے دور رہے۔ سو اس میں کوئی تردد نہیں رہتا کہ یہ حدیث دوستی اور محبت کے باب میں ہے خلافت کے باب میں نہیں اس ضعیف روایت کو اہلِ سنت محدثین بھی عام بیان کرتے رہے کیوں کہ ضعیف حدیث فضائل اعمال میں عام قبول کی جاتی ہے۔ ہاں عقائد کے لیے مضبوط دلیل کی ضرورت ہوتی ہے، جو یہاں نہیں ہے۔

آٹھویں صدی ہجری کے دو بڑے عالم حافظ ابنِ تیمیہ رحمۃ اللہ (728ھ) اور حافظ جمال الدین الزیلعی رحمۃ اللہ (762ھ) اس حدیث کے صحیح نہ ہونے کی یہ شہادتیں دے چکے۔

1) فلا يصح من طريق الثقاث اصلاً
ترجمہ:
یہ روایت ثقہ اور معتبر طریقہ سے بنیادی طور پر ثابت نہیں ہے۔
[منہاج السنتہ طبع قدیم: جلد 4 صفحہ 86 طبع جدید]


2) احادیث الجھر وان کثرت رواتھا لکنھا کلھا ضعیفۃ وکم من حدیث کثرت رواتہ وتعددت طرقہ وھو حدیث ضعیف کحدیث الطیر وحدیث الحاجم والمحجوم وحدیث من کنت مولا فعلی مولاہ بل قد لا یزید کثرۃ الطرق الا ضعفاً
ترجمہ:
نماز میں بسم اللہ بالجہر پڑھنے کی روایات اگرچہ بہت ہیں لیکن وہ سب کی سب ضعیف ہیں۔ اور کتنی ہی روایات ہیں جن کے روای بہت ہیں۔ اور متعدد طرق رکھتی ہیں مگر وہ ضعیف ہیں جیسے حدیث الطیر اور حدیث افطر الحاجم و المحجوم و حدیث من کنت مولاہ فعلی مولاہ بلکہ کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ کثرت طرق بجائے اس کے کہ اس کے نقصان کو پورا کرے اس کے ضعف کو اور بڑھا دیتا ہے۔
[نصب الرایہ: جلد 1 صفحہ 360]

اب اس پر بھی کچھ توجہ کیجیئے کہ حدیث ((من کنت مولاہ فعلی مولاہ)) جس طرح سنداً ضعیف ہے اس کی دلالت بھی اپنے موضوع پر کہ اس سے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی خلافت بلا فصل ثابت کی جائے ہر گز صریح اور واضح نہیں ہے۔ یہ سوال نہ کیا جائے کہ آٹھویں صدی سے پہلے کے کسی معروف محدث سے اس کی تضعیف ثابت ہے؟ اگر ہے تو اس پر بھی کچھ روشنی ڈالی جائے۔ 

الجواب: 

حافظ ابن تیمیہ رحمۃ اللہ نے جو اس روایت کو ضعیف قرار دیا ہے وہ ان کا اپنا وجدان نہیں انہوں نے اسے تیسری صدی کے امام بخاری رحمۃ اللہ اور ابرہیم الحربی رحمۃ اللہ (285ھ) اور بھی اس دور کے اور کئی محدثین سے لیا ہے۔

حافظ ابنِ تیمیہؒ لکھتے ہیں:

تنازع الناس في صحته فنقل عن البخارى وابراهيم الحربى وطائفة من اهل العلم بالحديث انهم طعنوا فيه و ضعفوة وقال ابو محمد بن حزم واما من كنت مولاه فعلی مولاہ فلا يصح من طريق الثقات اصلاً
ترجمہ:
اس حدیث کی صحت میں علماء کا اختلاف چلا آ رہا ہے۔ امام بخاریؒ اور امام ابراہیم الحربیؒ اور اہل علم کے ایک پورے گروہ نے اس حدیث پر کلام کیا ہے اور انہوں نے اس حدیث کی تضعیف کی ہے۔ اور امام ابن حزمؒ نے کہا ہے کہ ((من كنت مولاه فعلی مولاہ)) بنیادی طور پر ثقہ راویوں سے کوئی تعلق نہیں رکھتی۔
[منہاج السنہ: جلد 1 صفحہ 320]

اور امام ابو داؤد صاحب السنن رحمۃ اللہ ( 275ھ) اور امام ابو حاتم الرازی رحمۃ اللہ (327ھ) نے بھی اس کی صحت میں کلام کیا ہے۔ عمدۃ المحدثین علامہ ابنِ حجر مکی رحمۃ اللہ (973ھ) لکھتے ہیں:

الطاعنون فی صحته جماعۃ من ائمہ الحدیث و عدوله المرجوع الیھم کابی داؤد السجستانی وابی حاتم الرازی وغیرھم۔
ترجمہ:
اس کی صحت میں ائمہ حدیث کی ایک جماعت نے کلام کیا ہے اور ان عادلین نے جن کی طرف (تحقیق حدیث میں) رجوع کیا گیا ہے۔ جیسے امام داؤد سجستانیؒ (275ھ) اور ابو حاتم الرازیؒ (327ھ)۔
[الصواعق المحرقہ: 107 فصل 5]

اس پر پھر ایک سوال ابھرتا ہے کہ حافظ ابنِ حجر رحمۃ اللہ نے اس روایت کے کئی ان راویوں کی توثیق کی ہے جنہیں بعض دوسرے محدثین ضعیف کہتے ہیں۔

اس کا جواب یہ ہے کہ حافظ ابنِ حجرؒ نے اس کے بعد جب حافظ جمال الدین الزیلعی رحمۃ اللہ (762ھ) کی کتاب نصب الرایہ دیکھی تو اس کی روشنی میں حافظ اب اپنے اس بیان پر نہ رہے اور انہوں نے نصب الرایہ کی تجرید الدرایہ میں اور اپنی تجرید تہذیب التقریب میں کھل کر اپنے بعض رواۃ(Narrators) کو جنہیں پہلے وہ ثقہ(Trustworthy) سمجھتے تھے ضعیف لکھا ہے۔

نا مناسب نہ ہو گا کہ ہم اثناء عشریوں کی دو شہادتیں اس پر کہ اس حدیث ولایت کی دلالت بھی موضوع خلافت پر واضح اور صریح نہیں پیش کر دیں۔ یہ ان کے دو بزرگ کتاب الاحتجاج کے مصنف علامہ طبرسی اور شرح تجرید کے مصنف علامہ طوسی ہیں۔ پہلے علامہ طبرسی کی شہادت لیجیے:

اثبت حجۃ اللہ تعریضاً لا تصریحاً بقوله فی وصیتہ من کنت مولاہ فعلی مولاہ
ترجمہ:
اس روایت (کہ جس کا میں مولا ہوں علی بھی اس کا مولا ہے) کی دلالت حجتہ اللہ ہونے پر حضرت علیؓ صریح نہیں اس میں اس پر صرف تعریض پائی جاتی ہیں۔
[کتاب الاحتجاج: صفحہ 135طبع نجف اشرف]

2) اختلفوا فی دلالته علی الامارۃ
ترجمہ:
حدیث ولایت کی دلالت حضرت علیؓ کے امیر ہونے پر اختلافی ہے۔
[شرح تجرید: صفحہ 230طبع قم]

یہ دو بڑے اثناء عشری علماء کا بیان کہ حدیث ولایت سے سیدنا علیؓ کا امیر ہونا صریح اور کسی متفق علیہ پیرائے میں نہیں ملتا۔ یہ طالبان تحقیق کو اثناء عشریوں کی پیش کردہ اور کئی دوسری روایات پر بھی مزید غور کرنے پر مجبور کرتا ہے اور انہیں ان میں ایک روایت بھی ایسی نہیں ملتی جس کا ثبوت بھی قطعی ہو۔ درجہ احاد کی روایت سے نہ ہو اور اس کی دلالت بھی سیدنا علی رضی اللہ عنہ کہ امیر ہونے پر قطعی ہو اور ظاہر ہے کہ عقائد قطعی اور یقینی دلائل سے قائم ہوتے ہیں ظنی امور سے نہیں۔

اب ہم حدیث غدیر خم کے مضمون پر بھی کچھ مزید غور کریں۔ آپﷺ نے بمقام غدیر خم دو خطبے دیے تھے

بمقام غدیر خم کے دو خطبے:

وہ خطبہ جو صحیح مسلم میں حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کی روایت سے انی تارک فیکم الثقلین کہ عنوان سے مروی ہے۔ اس میں اولھما تو مذکور ہے لیکن ثانیھما کا لفظ کہیں نہیں ملتا۔ اسے سیدنا زید بن ارقمؓ نے اپنی کبر سنی میں بھول گئے اور آپ کے پاس آنے والے تین تابعین میں سے کسی نے آپ سے پوچھنے کی ہمت نہ کی اس واسطے اس کا مضمون کچھ ادھورا ہی رہ گیا اور ظاہر ہے کہ اس کی تشنگی ہمیشہ محسوس کی جاتی رہے گی۔
 دوسرا خطبہ حدیث ولایت کا ہے۔ من کنت مولاہ فعلی مولاہ اس کا پس منظر یہ ہے کہ جب حضورﷺ اپنے سفر حج سے واپسی پر مدینہ جا رہے تھے تو اس سفر میں کسی کا سیدنا علیؓ سے اختلاف ہو گیا اور دونوں آپس میں الجھ پڑے اس پر حضورﷺ نے فرمایا جو مجھے دوست رکھے وہ علی کو بھی دوست رکھے۔ (اس سے نا جھگڑے)
وہ بات کیا تھی جس میں کوئی صحابیؓ سیدنا علیؓ سے اختلاف میں آ گیا تھا؟

ہم نے تاریخ و سیر میں اس بات کو معلوم کرنے کی کوشش کی ہے لیکن کسی روایت میں اس کا پتہ نہیں ملا۔ ہاں اس روایت سے اتنا ضرور معلوم ہو گیا کہ اس وقت مسلمانوں میں حضرت علیؓ کے مامور من اللہ ہونے یا امام اول ہونے کا کوئی تصور تک نہ تھا اور حضرت علیؓ سے اختلاف کرنا کوئی گناہ نہ سمجھا جاتا تھا ورنہ حضور اکرمﷺ اس پر توبہ کا حکم ضرور صادر فرماتے۔ اس روایت سے حضرت علی المرتضیٰؓ کے معصوم ہونے کی بھی پوری نفی ہو جاتی ہے کیوں کے معصوم سے کوئی اختلاف نہیں کیا جا سکتا یہ گناہ ہے اگر کسی سے صادر ہو تو اس کو توبہ کرنے کا کہا جائے گا۔

اگر اس بات کا پتہ چل جاتا جس میں اس صحابیؓ یا بعض صحابہؓ کا حضرت علیؓ سے اختلاف ہوا تو اس سے یہ بھی پتہ چل جاتا کہ اس تنازعہ میں حق پر کون تھا؟

بعض غیر مسلم یہاں یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ ان کے اس تنازع کا فیصلہ حضورﷺ نے اس کے حقائق اور دلائل سے کیوں نہ کیا؟ اس کے لیے علی سے اپنے تعلق کا واسطہ کیوں دیا؟

آپﷺ کا حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ایک خاندان کا رشتہ بھی تھا۔ اور ایمان کا رشتہ بھی تھا تو اس حدیث ولایت سے بظاہر یہی سمجھ آتا ہے کہ شاید اس تنازعہ میں وہ دوسرے صحابیؓ جو حضرت علیؓ سے کسی بات سے الجھ پڑے تھے حق پر ہوں پھر بھی حضرت محمدﷺ نے علیؓ سے اپنا حق محبت ظاہر فرمایا جس سے اہل سنت نے یہ عقیدہ اختیار کیا کے اہل بیت کی محبت ہر مسلمان پر لازم ہے۔ مستشرقین مسلمانوں سے جب کبھی حضورﷺ کی سیرت پر نزاع کرتے ہیں تو برملا پوچھتے ہیں کہ آپﷺ جن باتوں کو عام مسلمانوں کے لیے جائز فرماتے تھے اپنے گھر کی باری آئی تو آپ (معاذ اللہ) اس میں دوسری رائے قائم کر لیتے تھے۔ آپ نے غدیر خم کے تنازعہ میں امر واقع پر فیصلہ نہ دیا۔ ان اختلاف کرنے والوں کو اپنے حقِ محبت کا احساس دلایا۔ اپنی امت کے لیے تو چار بیویوں کو جائز ٹھہرایا لیکن جب حضرت علیؓ نے ابو جہل کی بیٹی سے نکاح کرنے کا ارادہ کیا تو آپﷺ نے انہیں اس سے منع فرما دیا۔ ہم جواباً ان متشرقین کو کہتے ہیں حضورﷺ نے اپنی امت کو اپنے بارے میں سب سے زیادہ محبت کرنے کا سبق اس لیے دیا تھا کے اس محبت کی رو سے ان پر حضورﷺ کی پیروی اور شر یعت کی پابندی آسان ہو جائے۔ شریعت پر عمل کرنا ان کے لیے بوجھ نہ رہے۔ اب حضورﷺ کی انتہائی محبت کا ایک تقاضا یہ بھی تھا آپ کی امت کو آپﷺ کے رشتے داروں سے محبت ہو۔ حدیث ولایت میں اس سے بڑھ کر آپﷺ نے علی کے حق میں کوئی اور بات نہ کی۔

رہی دوسری بات کہ جب حضرت علیؓ نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی زندگی میں ابو جہل کی بیٹی سے نکاح کرنا چاہا تو آپﷺ نے اس سے علی کو منع فرمایا۔ یہ منع کی روایت ہماری نظر میں کہیں سے نہیں گزری۔ آپﷺ نے صرف یہ فرمایا تھا کہ اگر علی ابو جہل کی بیٹی سے نکاح کرنا چاہتا ہے تو فاطمہ کو طلاق دے دے۔ اللہ کے پیغمبر کی بیٹی اور اللہ کے دشمن کی بیٹی ایک گھر میں جمع نہیں ہو سکتیں۔

اس وقت ہم حضور ﷺ کی سیرت مقدسہ پر بات نہیں کر رہے یہ بات صرف ضمناً سامنے آگئی تھی۔ بات حدیث ولایت پر ہو رہی ہے، اس میں لفظ مولا ولایت سے ہے اور اس کا معنی ہے دوستی اور دوستی کا لفظ دشمنی کے مقابل ہے۔ اگر یہ حدیث صحیح ہو تو اس کا حاصل حضرت علیؓ سے دوستی رکھنے کی طلب ہی ہے۔ یہ کوئی ان کی خلافت کی طلب نہیں اور اس کا قرینہ آخر میں حضورﷺ کی یہ دعا ہے:

اللھم وال من والاہ و عاد من عاداہ
ترجمہ:
اے اللہ! تو اس سے محبت رکھ جو اس سے محبت رکھے اور اس سے عداوت رکھ جو اس سے عداوت رکھے۔

یہ آپﷺ نے علی کے حق میں جو دوستی چاہی تھی اس پر کوئی امر زائد نہیں ہے یہ صرف اس کی تفصیل ہے یہاں ولایت علی صرف ان کی دوستی کے معنی میں ہے، خلافت کا اس موضوع سے کوئی تعلق نہیں۔

اس حدیث کا آیت تبلیغ دین سے کوئی تعلق نہیں

جب بمقام غدیر خم حضورﷺ پر کوئی آیت نہیں اتری تو ظاہر ہے کہ یہ آیت تبلیغِ دین کا مقام (بَلِّغۡ مَاۤ اُنۡزِلَ اِلَيۡكَ) غدیر خم سے کوئی تعلق نہیں ہو سکتا۔ نہ اس آیت کا یہ مطلب ہو سکتا ہے کہ میرے پیغمبر تو علی کی خلافت کا اعلان ضرور کر۔ اس کی تصدیق اس سے بھی ہوتی ہے آپ نے اپنے مرض وفات میں کاغذ اور قلم طلب فرمایا جس کا مطلب یہ بھی سمجھا جا سکتا ہے ۔کہ شاید آپ کسی کی خلافت کا حکم لکھوانا چاہتے ہوں۔

اس کی مزید تصدیق اس سے بھی ہو جاتی ہے کہ حضورﷺ کی وفات پر انصار نے سقیفہ بنی ساعدہ میں ایک بڑا اجتماع کیا کہ خلیفہ کا انتخاب انصار میں سے کیا جائے بظاہر یہ صورتحال مہاجرین کے خلاف تھی۔ اس سے بھی یہی بات سمجھ میں آتی ہے کہ غدیر خم کے مقام پر حضرت علیؓ خلافت کا کوئی اعلان نہ ہوا تھا ورنہ یہ صورتحال کبھی واقع نہ ہو پاتی۔ اس سے اس بات میں کوئی شک نہیں رہتا کہ حدیث ولایت کا خلافت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

شیعہ غدیر خم کے اس خطبے سے جو حدیثِ ولایت میں ہے اس قدر خوش ہیں کہ اس خوشی میں عید مناتے ہیں اور اس کا نام یہ بتایا جاتا ہے عید غدیر خم، اس کے لیے انہوں نے دن بھی کونسا چنا؟ 18 ذو الحجہ اور ہماری عوام یہ نہیں جانتے کہ یہ خلیفہ راشد امام مظلوم سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی شہادت کا دن ہے۔

اب اس تاریخ پر دو چیزیں جمع ہوگئیں

سیدنا عثمان غنیؓ کی شہادت کا غم
 اور عید غدیر خم کی خوشی
اب یہ حضرت عثمانؓ کی شہادت کی خوشی اور حضرت علیؓ کے بمقام غدیر خم خلیفہ مقرر ہونے کی خبر ایک ہی دن یعنی 18 ذو الحجہ کی دو تاریخی یادیں ہیں۔ یہ وہ تاریخی تضاد ہے جس نے آج تک اہل سنت اور شیعہ کو کبھی متحد نہیں ہونے دیا آج بھی اگر اثناء عشری یہ بات مان لیں کہ 18 ذو الحجہ کو غدیر خم عید کی خوشی منانا دراصل سیدنا عثمان غنیؓ سے ان کی اپنی اعتقادی برأت کا اظہار ہے۔ یہ سیدنا علیؓ کی خلافت کی نامزدگی نہیں۔ تو اہل سنت اور شیعہ آج بھی ایک پلیٹ فارم پر جمع ہو سکتے ہیں لیکن کیا کریں اثناء عشری اب تک اپنے اس عقائد سے یہ بات نکالنے کو تیار نہیں کہ پہلے تین خلفائے راشدینؓ سے بغض رکھنا ان کے ہاں واجبات ایمان میں سے ہے۔

حدیث ولایت کے بارے میں یہ آخری بات تھی جو ہم نے ہدیہ قارئین کر دی ہے۔ یہ اسی طرح ہے جیسے جاہل مسلمانوں میں بائیس رجب کو حلوہ پوری کے کنڈے نکالنے کی ایک چھپی رسم جاری کر دی گئی اور پھر تحقیق سے معلوم ہوا کہ یہ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا یومِ وفات تھا جس کی خوشی کا اظہار اس چھپے انداز میں جاہل مسلمانوں میں لایا جاتا ہے۔



شیعہ موقف اور رد:
شیعہ دعویٰ:
"مولیٰ" سے مراد امامت و حکومت ہے، یعنی علی رضی اللہ عنہ کو نبی کا جانشین مقرر کیا گیا۔

اہل سنت کا رد:
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات میں آپ ﷺ ہی حاکمِ کل تھے۔
لفظ "مولیٰ" میں حکومت کا معنیٰ ثابت نہیں۔
اسے محبت و نصرت پر محمول کرنا ہی درست ہے۔

اہل سنت کے نزدیک یہ ’’حضرت علی کی فضیلت‘ ہے، اور شیعہ کے نزدیک یہ ’’خلافت-بلافصل‘‘ کی دلیل ہے۔

یعنی شیعہ کے نزدیک ماننے والے کیلئے لازم ہے کہ وہ (1)حضرت ابوبکر کے "پہلا" خلیفہ ہونے کا انکار کرے، (2)حضرت عمر کے "دوسرا" خلیفہ ہونے کا انکار کرے، (3)حضرت عثمان کے "تیسرا" خلیفہ ہونے کا انکار کرے، (4)اور حضرت علی کے "چوتھا" خلیفہ ہونے کا بھی انکار کرے۔




شیعہ کتب سے فرمانِ سیدنا علیؓ»

جو مجھے خلفاء میں چوتھا نہ مانے، تو اس پر اللہ کی لعنت ہو۔
حوالہ:

ابن شاذان: عن علي بن الحسين، عن أبيه (عليهما السلام): قال أمير المؤمنين (عليه السلام): «من لم يقل إني رابع الخلفاء الأربعة، فعليه لعنة الله». 

[مناقب علامہ ابن شہر آشوب سوم ، 63]
[كتاب البرهان في تفسير القرآن - العلامة هاشم البحراني - جلد 1 - الصفحة 169]

[کتاب مناقب آل أبي طالب - ابن شهر آشوب - جلد 3 - الصفحة 78]



لفظ مولا کے معنیٰ کی وسعت کو دیکھ کر شیعہ مجتہد علامہ نوری طبرسی نے فیصلہ کن بات کہہ دی
"کیا تو نہیں دیکھتا کہ حضورﷺ نے غدیر کے دن اپنے بعد خلافت بلا فصل کی ہرگز وصیت نہیں فرمائی"
[فصل الخطاب 182]