Saturday, 7 September 2019

پیغامِ کربلاء


اسوۂ حسینؒ» حفاظتِ دینِ نبوی:


سیدنا حسینؒ کا وہ خط جو اہلِ بصرہ کو لکھا تھا، میں یہ فرمایا:
وَأَنَا أَدْعُوكُمْ إِلَى كِتَابِ اللَّهِ وَسُنَّةِ نَبِيِّهِ، فَإِنَّ السُّنَّةَ قَدْ أُمِيتَتْ، وَإِنَّ الْبِدْعَةَ قَدْ أُحْيِيَتْ
ترجمہ:
*میں تمہیں دعوت دیتا ہوں کتاب اللہ اور سنتِ رسول اللہ ﷺ (کی حفاظت اور پھیلانے) کی طرف، کیونکہ سنت مِٹ رہی ہے، اور بدعات زندہ کی جارہی ہیں۔*


---

حاصل اسباق اور نکات

1. سنت کی حفاظت ذمہ داری ہے: جب سنت کو "مار دیا جائے" اور بدعت کو "زندہ کر دیا جائے" تو خاموشی اختیار کرنا جائز نہیں۔ اس صورت میں حق گو افراد کو اٹھ کھڑا ہونا چاہیے۔
2. دعوتِ حق کا طریقہ: سیدنا حسینؑ نے لوگوں کو قرآن و سنت کی طرف بلایا — یہی انقلابی تحریک کا اصل مقصد تھا، محض حکومت حاصل کرنا نہیں تھا۔
3. باطل کی شناخت: "سنت کا مرنا" اور "بدعت کا زندہ ہونا" ظالم حکمرانی کی دو بڑی علامات ہیں، جن کے خلاف آواز اٹھانا ہر مسلمان کا فرض ہے۔
4. حقیقی اصلاح کا راستہ: اصلاحِ امت صرف کتاب اللہ اور سنت نبویﷺ کی پیروی سے ممکن ہے، نہ کہ نئی ایجادات یا بدعات سے۔
5. مظلوم کا کردار: سیدنا حسینؑ نے اپنی مظلومیت کے باوجود اعلانِ حق کیا اور لوگوں کو راہِ رشد کی طرف بلایا — یہ اسوۂ حسنہ ہے۔
6. دعوت میں شفافیت: آپ نے اپنے خط میں کوئی پوشیدہ ایجنڈا نہیں رکھا، بلکہ کھلے الفاظ میں اپنا مقصد اور اپنی اہلیت بیان کی۔
7. ذمہ داری کا احساس: جب دین کے بنیادی اصول خطرے میں ہوں تو علماء اور رہنماؤں پر فرض ہے کہ وہ عوام کو بیدار کریں — جیسا کہ سیدنا حسینؑ نے کیا۔