Tuesday, 30 August 2022

شہادت کی فضیلت اور شہداء کی اقسام

اللہ تعالیٰ نے انسان کو لا تعداد نعمتوں سے نوازا ہے ان میں سے عظیم نعمت انسانی جان ہے۔انسانی جان کو شریعت میں اتنی اہمیت حاصل ہے کہ ایک شخص کے قتل کو تمام انسانیت کا قتل اور ایک جان بچانے کو تمام انسانیت کا بچانا کہا گیا ہے۔‘‘جان’’اللہ تعالیٰ کی امانت ہے اس لیے خود کشی کرنے اور خود کو ہلاک میں ڈالنے کی شریعت میں انتہائی مذمت کی گئی ہے تاہم اسلام کے دفاع کے لیے، اللہ تعالیٰ کے کلمہ کی سربلندی کے لیے اور مسلمانوں کی جان ،مال،عزت و آبرو کی حفاظت کے لیے اگر کوئی شخص اپنی جان قربان کر دے تو اس کے لیے جنت کی بشارت ہے اور ایسے شخص کو ’’شہید‘‘کہا جاتا ہے۔ہر قوم و مذہب میں کسی عظیم مقصد کے لیے اپنی جان قربان کرنے اور شہید ہونے کا تصور پایا جاتا ہے۔ انسان کی زندگی میں بعض اشیاء اس کے نزدیک اس قدر محبوب ہوتی ہیں کہ وہ ان کی خاطر اپنی جان دینے اور دوسرے کی جان لینے سے گریز نہیں کرتا۔وہ شخص جو اپنی قوم ،مذہب یا سرحدوں کی حفاظت کے لیے اپنی جان قربان کر دے اسے عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اور اس کا اس قدر احترام کیا جاتا ہے آئندہ آنے والی نسلیں اس کے طریقے کو اختیار کرتے ہوئے اپنی جان قربان کرنے سے دریغ نہیں کرتے۔اسلامی تعلیمات کے مطابق شہادت ایک عظیم رتبہ ہے جس کی بدولت شہید کو اللہ کی رضا کا مقام جنت عطا ہوتا ہے۔مقام شہادت اس قدر لائق تعظیم ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے خود شہادت کی تمنا کا اظہار ان کلمات سے فرمایا:


وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَوَدِدْتُ أَنِّي أَغْزُو فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَأُقْتَلُ ثُمَّ أَغْزُو فَأُقْتَلُ ثُمَّ أَغْزُو فَأُقْتَلُ

ترجمہ:

’’اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں محمد ﷺ کی جان ہے میں یہ اس بات سے شدید محبت کرتا ہوں کہ اللہ کی راہ میں جہاد کروں پھر شہید کردیا جاؤں پھر جہاد کروں پھر شہید کردیا جاؤں پھر جہاد کروں پھر شہید کر یا جاؤں۔‘‘

[صحيح مسلم:1876، سنن ابن ماجه:2753]

نبی کریم ﷺ کے فرمان کے مطابق شہادت کی حقیقت یہ ہے کہ ایک مسلمان اللہ کے کلمہ کی سربلندی کے لیے خلوص نیت کے ساتھ اللہ کے لیے اپنی جان قربان کر دے۔جس طرح قربانی کے جانور میں اللہ کو جانور کا گوشت و خون مطلوب نہیں ہوتا اسی طرح شہات میں بھی خون نہیں بلکہ اخلاص اور رضا و تسلیم مطلوب ہے جس کے پیش نظر ایک مجاہد اپنی جان اللہ کی راہ میں قربان کرتا ہے۔اسی لیے قیامت کے دن ان لوگوں کا خون رائیگاں جائے گا جنہوں نے خود کو شہید کہلوانے کے لیے دنیاوی مقاصد کے تحت اپنی جان دی ہو گی اور اللہ رب العزت کے نزدیک آخرت میں ان کے لیے کوئی جزاء نہ ہوگی۔

Thursday, 25 August 2022

عذاب کے معنیٰ، اقسام، اسباب، اور علاج

علوم القرآن کے امام الراغب الاصفہانیؒ(م502ھ) نے فرمایا:

العذاب: سخت تکلیف دینا۔

عَذَّبَهُ تَعْذِيباً:-اسے عرصہ دراز تک عذاب میں مبتلا رکھا۔

قرآن میں ہے:۔

لَأُعَذِّبَنَّهُ عَذاباً شَدِيداً [سورۃ النمل:21]

میں اسے بہت سخت عذاب دوں گا۔

لفظ عذاب کی اصل میں اختلاف پایا جاتا ہے۔
بعض کہتے ہیں کہ یہ عذب (ض) الرجل کے محاورہ سے مشتق ہے، یعنی اس نے (پیاس کی شدت کی وجہ سے) کھانا اور نیند چھوڑدی، اور جو شخص اس طرح کھانا اور سونا چھوڑ دیتا ہے اسے عاذب وعذوب کہا جاتا ہے، لہذا تعذیب کے اصل معنیٰ ہیں کسی کو بھوکا اور بیدار رہنے پر اکسانا۔
[المفردات في غريب القرآن: صفحہ555]


حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
السَّفَرُ قِطْعَةٌ مِنَ الْعَذَابِ يَمْنَعُ أَحَدَكُمْ نَوْمَهُ وَطَعَامَهُ وَشَرَابَهُ، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا قَضَى أَحَدُكُمْ نَهْمَتَهُ مِنْ سَفَرِهِ فَلْيُعَجِّلِ الرُّجُوعَ إِلَى أَهْلِهِ.
ترجمہ:
سفر عذاب کا ایک ٹکڑا ہے، وہ تمہارے سونے، اور کھانے پینے (کی سہولتوں) میں رکاوٹ بنتا ہے، لہٰذا تم میں سے کوئی جب اپنے سفر کی ضرورت پوری کرلے، تو جلد سے جلد اپنے گھر لوٹ آئے۔
[سنن ابن ماجہ:2882]
 تخریج:
صحیح البخاری/العمرة ١٩ (١٨٠٤)، الجہاد ١٣٦ (٣٠٠١)، الأطعمة ٣٠ (٥٤٢٩)، صحیح مسلم/الإمارة ٥٥ (١٩٢٧)، (تحفة الأشراف: ١٢٥٧٢)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الاستئذان ١٥ (٣٩)، مسند احمد (٢/٢٣٦، ٤٤٥)، سنن الدارمی/الاستئذان ٤٠ (٢٧١٢) (صحیح )

لوگوں کو ناحق عذاب دینے والوں (ظالموں) کیلئے وعید:

عَنْ ‌عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ «أَنَّ ‌هِشَامَ بْنَ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ وَجَدَ رَجُلًا وَهُوَ عَلَى حِمْصَ يُشَمِّسُ نَاسًا مِنَ النَّبَطِ فِي أَدَاءِ الْجِزْيَةِ، فَقَالَ: مَا هَذَا؟ سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ يُعَذِّبُ الَّذِينَ يُعَذِّبُونَ النَّاسَ فِي الدُّنْيَا
ترجمہ:
حضرت عروہ بن زبیرؓ کہتے ہیں کہ ہشام بن حکیم بن حزام ؓ نے حمص کے ایک عامل (محصل) کو دیکھا کہ وہ کچھ قبطیوں (عیسائیوں) سے جزیہ وصول کرنے کے لیے انہیں دھوپ میں کھڑا کر کے تکلیف دے رہا تھا، تو انہوں نے کہا: یہ کیا ہے؟ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے کہ اللہ عزوجل ایسے لوگوں کو عذاب دے گا جو دنیا میں لوگوں کو عذاب دیا کرتے ہیں۔
[صحيح مسلم:2613، السنن الكبرى - النسائي:8718]

یعنی ظلم کرتے ہیں، اور لوگوں کو جرم اور قصور سے زیادہ یا ناحق سزا دیتے ہیں۔

فقہی نکات:
جزیہ(خراج ٹیکس وغیرہ) وصول کرنے میں سختی کرنے والوں کیلئے وعید
[سنن أبي داود:3045]
انسان کے چہرے کا احترام اور اس(انسان) کے حرمت کا بیان اور اسے عذاب واذیت پہنچانے والوں کی سزا کا بیان۔
[مستخرج أبي عوانة:11411]
خراج جمع کرنے میں سختی کی ممانعت
[السنن الكبرى - البيهقي:18735]
غیر ضمانتی جرائم کے متعلق بیان
[مصابيح السنة-البغوي:2646]
رعایا کے ساتھ حسن سلوک اور ان پر ظلم و ستم کی ممانعت اور ان کے ذمہ دار ہونے کا ذکر۔
[النصيحة للراعي والرعية للتبريزي: صفحہ]
عدلیہ اور دیگر کی کتاب:- جو سلطنت سنبھالنے، عدالتی فیصلے کرنے، اور انتظامی امور وحکمرانی کرنے والوں کو ڈرانے کے بیان میں۔ ان لوگوں کے لیے جو خود پر بھروسہ نہیں کرتے اور خود پر بھروسہ کرنے والے جو ان(عہدوں) میں سے کچھ مانگتے ہیں کو ڈرانے کے بیان میں۔
[الترغيب والترهيب للمنذري:3 /153]
اللہ کی مخلوق میں رعایا، بچوں، غلاموں اور دیگر لوگوں سے ہمدردی کی ترغیب (حوصلہ افزائی) کا بیان، ان سے شفقت اور مہربانی کرنے، اور اس کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف حوصلہ شکنی، اور غلام اور جانور اور ان دونوں کے علاوہ کو بغیر شرعی سبب کے عذاب دینے، اور جانوروں کے چہروں پر داغ ونشان لگانے کی ممانعت کا بیان۔
[صحيح الترغيب والترهيب:2292]
پچاسواں بڑا گناہ:- کمزوروں، غلاموں، باندی، بیوی اور جانور پر زیادتی کرنا۔
[الكبائر للذهبي: صفحہ202]
‌‌‌‌فخر اور حد سے بڑھنے کی ممانعت کا بیان
[دليل الفالحين لطرق رياض الصالحين:1604]
دہشت گردی، بےاحترامی، تنگی، برا معاملہ، ظلم ۔۔۔ کرنے کی مذمت (نتائج) کا بیان
[نضرة النعيم في مكارم أخلاق الرسول الكريم: 9 / 3835، 9/ 4021، 9/ 4213، 10/ 4684، 10/ 4923]
غصے کی حالت میں اپنے آپ کو قابو میں رکھنا، چہرے پر نہ مارنا، بلاوجہ لوگوں کے مجمع میں کسی ہتھیار کو لیے اس کے پاس سے نہ گزرنا اور کسی کی طرف ہتھیار سے اشارہ نہ کرنا۔
[الكوكب الوهاج شرح صحيح مسلم:24 /437]
اسلام میں انسانی حقوق
[مجلة الجامعة الإسلامية بالمدينة المنورة: 20 /71]
اسلام میں (کسی کا کسی کو) عذاب دینے کا حکم
[فتاوى الشبكة الإسلامية:33698 (1 /4075)]
قیدیوں پر رحم کریں اور ان پر تشدد نہ کریں۔
[التفسير والبيان لأحكام القرآن-عبد العزيز الطريفي:3/ 1481]
(سیاسی) معاملات کے (متعین کردہ)نگران پر (لازم) حقوق
 [دروس للشيخ علي بن عمر بادحدح: 3/ 153]
لوگوں کی تکالیف وپریشانیاں دور کرنے کی فضیلت
 اللہ کے احکام کی حفاظت کرنے والوں کو اللہ محفوظ رکھے گا۔
اللہ کی تعلیم پہنچانے والے پیغمبر، جہان والوں کیلئے رحمت ہے۔
نرمی کا اخلاق وعادت اپنانا۔
عوام کا عوام سے حکومتی نرخ سے زیادہ کسی چیز کی قیمت لینے سے حفاظت کی تعلیم۔


 حقوق اللہ و حقوق العباد










عذابِ الٰہی کے دو بنیادی اسباب:-(1)ناشکری (2)بے ایمانی
القرآن:
 کیا کرے گا اللہ تمہیں عذاب دیکر، اگر تم شکر کرو، اور ایمان لاؤ؟ اور ہے اللہ قدردان خوب جاننے والا۔
[سورۃ النساء:147]

تشریح:
اس قدر رحمت ومحبت سے پُر نرم الفاظ ، عظیم اللہ کی طرف سے، جو ہر چیز کا خالق، مالک، رب، سب جاننے والا، مکمل قدرت والا، ہر کام بنانے والا ، سب پر رحم کرنے والا ہے۔
اس ذات کی عظمت ومنزلت جاننے-پہچاننے سے ہی شکر اور ایمان میں ترقی ہوتی رہتی ہے۔
لہٰذا علاجِ شکر اور ایمان کو سمجھیں اور مومن وشکرگذار رہیں۔







علمِ الٰہی کا ثمرہ/نتیجہ:
حضرت ابوھریرہؓ سے مروی ہے کہ رسول الله ﷺ نے ارشاد فرمایا:
لَوْ يَعْلَمُ الْمُؤْمِنُ مَا عِنْدَ اللهِ مِنَ الْعُقُوبَةِ، مَا طَمِعَ فِي الْجَنَّةِ أَحَدٌ، وَلَوْ يَعْلَمُ الْكَافِرُ مَا عِنْدَ اللهِ مِنَ الرَّحْمَةِ، مَا قَنَطَ مِنَ الْجَنَّةِ أَحَدٌ*
ترجمہ:
اگر مومن کو علم ہوجاتا کہ الله کا عذاب کیا ہے تو کوئی بھی اس کی جنت کا لالچ نہ رکھے، اور اگر کافر کو علم ہوجاتا کہ الله کے پاس رحمت کیا ہے تو کوئی جنت سے نا امید نہ ہو۔
[مسند أحمد:8415]

تشریح:
امام مظہر الدین الزیدانی (متوفی 727ھ) فرماتے ہیں:

یہ حدیث اللہ تعالیٰ کی رحمت اور عذاب دونوں کی کثرت کو بیان کرنے کے لیے آئی ہے۔

تاکہ مومن (مسلمان) اللہ کی رحمت پر مغرور نہ ہو جائے اور اس کے عذاب سے بے خوف نہ ہو جائے، کیونکہ اگر وہ اس کے عذاب سے بے خوف ہو گیا تو وہ کافر ہو جائے گا۔

اور (حدیث کے دوسرے حصے میں) فرمایا: "اور اگر کافر کو (اللہ کی رحمت کا) علم ہوتا..." – یعنی یہ اس لیے کہ مؤمن اپنے گناہوں کی کثرت کی وجہ سے اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو جائے، اور کافر اس خوف سے کہ وہ برسوں کفر میں رہا، ایمان لانے سے نہ ڈرے۔

کیونکہ اگر کوئی کافر اسلام (ایمان) میں داخل ہو جائے تو اس کے کفر کے زمانے میں کیے گئے تمام گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں، چاہے وہ برسوں پر محیط ہوں۔

اور اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اگر وہ کفر ہی میں مر گیا تو اسے معاف کر دیا جائے گا، یا اسے کسی وقت جہنم سے نکال لیا جائے گا۔ بلکہ وہ جہنم سے کبھی بھی نہیں نکالا جائے گا، خواہ اللہ کی رحمت کتنی ہی وسیع اور بکثرت کیوں نہ ہو۔

بلکہ قیامت کے دن اللہ کی رحمت سے صرف مؤمنین ہی مستفید ہوں گے۔

شرح الملا على القاريؒ:

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

"لَوْ يَعْلَمُ الْمُؤْمِنُ مَا عِنْدَ اللَّهِ مِنَ الْعُقُوبَةِ، مَا طَمِعَ بِجَنَّتِهِ أَحَدٌ"
ترجمہ:
"اگر مومن (یعنی تمام مومن) جان لے کہ اللہ کے پاس کتنا سخت عذاب ہے، تو کوئی بھی اس کی جنت کا طمع نہ کرے (یعنی مومنین میں سے کوئی بھی، کافروں کا تو ذکر ہی کیا)۔"


"اللام" (لَوْ میں) استغراق (ہر ایک کو شامل کرنے) کے لیے ہے۔

"مَا عِنْدَ اللَّهِ مِنَ الْعُقُوبَةِ" اس بات کی وضاحت ہے کہ (اگر وہ جان لے تو) "مَا طَمِعَ بِجَنَّتِهِ أَحَدٌ" یعنی کوئی بھی اس کی جنت کا طمع نہ کرے۔

یہاں "أَحَدٌ" کا اطلاق مومنین پر ہے، کافروں کا تو بالکل بھی ذکر نہیں۔

اور اس میں کوئی بعید نہیں کہ "أَحَدٌ" کا لفظ مطلق عموم (ہر شخص) کے لیے بھی ہو، کیونکہ محض عذاب کا تصور کر لینا بھی رحمت سے مایوسی کا باعث بن سکتا ہے۔

اس حدیث کا ایک مقصد عذاب کی کثرت کو بیان کرنا ہے، تاکہ مومن اپنی طاعت (عبادات) پر مغرور نہ ہو جائے، یا محض رحمت پر بھروسہ کر کے اس طرح امن و اطمینان میں نہ پڑ جائے کہ وہ اللہ کی مکر سے محفوظ تصور کرے، حالانکہ اللہ کی مکر سے صرف خسارہ پانے والی قوم ہی بے خوف ہوتی ہے (جیسا کہ قرآن میں ہے: "فَلَا يَأْمَنُ مَكْرَ اللَّهِ إِلَّا الْقَوْمُ الْخَاسِرُونَ" [الأعراف: 99])۔

اور فرمایا:

"وَلَوْ يَعْلَمُ الْكَافِرُ مَا عِنْدَ اللَّهِ مِنَ الرَّحْمَةِ، مَا قَنِطَ مِنْ جَنَّتِهِ أَحَدٌ"

ترجمہ: "اور اگر کافر (یعنی ہر کافر) جان لے کہ اللہ کے پاس کتنی وسیع رحمت ہے، تو کوئی بھی اس کی جنت سے مایوس نہ ہو (یعنی کافروں میں سے کوئی بھی)۔"

لفظی نوٹ: "قَنِطَ" کا تلفظ فتحہ نون کے ساتھ ہے، اور کسرہ نون بھی جائز ہے۔

تشریح:

یہاں "أَحَدٌ" سے مراد کافروں میں سے کوئی ہے، جیسا کہ امام طیبی اور دیگر نے ذکر کیا ہے۔

ابن الملک نے اسے اس شرط کے ساتھ مقید کیا ہے کہ "جب وہ کافر اسلام میں داخل ہو جائے" (یعنی رحمت کا علم ایمان لانے کے بعد ہی کارگر ہو)۔

لیکن ظاہری بات یہ ہے کہ حسنِ مقابلات (پہلے اور دوسرے جملے کے درمیان توازن) کی وجہ سے تقیید (قید) نہیں ہے، کیونکہ یہ مبالغہ کو مفید ہے، اور شرطیہ "إِن" کے ساتھ یہ وقوع (ہونے) کے لیے لازم نہیں ہے۔

📝 امام طیبی کا قول:
امام طیبی نے کہا:

"یہ حدیث اللہ تعالیٰ کی دو صفات: قہر (جبروت) اور رحمت (لطف) کو بیان کرتی ہے۔

جس طرح اللہ کی صفات غیر محدود ہیں اور کوئی بھی ان کی حقیقت تک نہیں پہنچ سکتا، اسی طرح اس کا عذاب اور اس کی رحمت بھی غیر محدود ہے۔

اگر فرض کیا جائے کہ مومن اللہ کی صفتِ قہاریت کی حقیقت کو جان لے، تو اس سے اسے وہ باتیں ظاہر ہوں گی جو اسے مایوس کر دیں، چنانچہ کوئی بھی اس کی جنت کا طمع نہ کرے۔

اور یہی معنی ہے کہ "أَحَدٌ" کو مومن کے ضمیر کی جگہ رکھا گیا ہے۔

اور یہ بھی جائز ہے کہ "مؤمن" سے جنس مراد ہو، یعنی ہر مومن کو شامل کیا جائے، اور تقدیر (تخمیناً) "أَحَدٌ مِنْهُمْ" (ان میں سے کوئی ایک) ہے۔

اور ایک اور معنی ممکن ہے: مومن اس لیے خاص ہے کہ وہ جنت کا طمع کرے، لہٰذا جب اس سے طمع ختم ہو جائے تو گویا سب سے ختم ہو گیا۔ اسی طرح کافر مایوسی کے لیے خاص ہے، جب اس سے مایوسی ختم ہو جائے تو گویا سب سے ختم ہو گئی۔"

🧠 حدیث کا خلاصہ اور حاصل
یہ حدیث اللہ کی رحمت اور عذاب کی کثرت کو بیان کرنے کے لیے آئی ہے، تاکہ:

مومن رحمت پر مغرور ہو کر عذاب سے بے خوف نہ ہو جائے۔

کافر رحمت سے مایوس ہو کر اس کا دروازہ (ایمان کا راستہ) نہ چھوڑ دے۔

(یہ حدیث متفق علیہ ہے - یعنی صحیح بخاری و مسلم میں موجود ہے)

💎 حاصلِ حدیث (نتیجہ)
حدیث کا خلاصہ یہ ہے کہ بندے کو چاہیے کہ وہ
رجاء (امید) اور خوف کے درمیان رہے،
کبھی صفاتِ جمال (رحمت، لطف، کرم) کا مطالعہ کرے،
اور کبھی صفاتِ جلال (قہر، عذاب، عدل) کا مشاہدہ کرے۔

📜 حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا قول:
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا:

"اگر قیامت کے دن پکارا جائے کہ جنت میں صرف ایک شخص داخل ہو، تو مجھے امید ہے کہ وہ میں ہوں، اور اسی طرح (اگر پکارا جائے کہ) جہنم میں صرف ایک شخص داخل ہو، تو مجھے امید ہے کہ وہ میں نہ ہوں"
(یعنی ان کا موقف غالبِ رجاء اور خوفِ توازن پر تھا)۔

🧭 بعض علماء کا قول:
زندگی میں خوف کو غالب رکھنا چاہیے، اور موت کے وقت رجاء کو غالب رکھنا چاہیے۔
(یعنی بندہ دنیا میں اپنے اعمال سے ڈرتا رہے، اور جب موت کا وقت آ جائے تو اللہ کی رحمت سے بھرپور امید رکھے)۔


شرح المناویؒ:

🏷️ پہلا حصہ: "لو يعلم المؤمن ما عند الله من العقوبة"
"لَوْ يَعْلَمُ الْمُؤْمِنُ مَا عِنْدَ اللَّهِ مِنَ الْعُقُوبَةِ"
یعنی: "اگر مومن (یقیناً) جان لے کہ اللہ کے پاس کتنا سخت عذاب ہے" – یعنی وہ (مومن) رحمت کی طرف التفات کیے بغیر صرف عذاب کو دیکھے۔

"مَا طَمِعَ فِي الْجَنَّةِ أَحَدٌ"
یعنی: "تو کوئی بھی (مومن) جنت میں داخل ہونے کا طمع نہ کرے۔"

🏷️ دوسرا حصہ: "ولو يعلم الكافر ما عند الله من الرحمة"
"وَلَوْ يَعْلَمُ الْكَافِرُ مَا عِنْدَ اللَّهِ مِنَ الرَّحْمَةِ"
یعنی: "اور اگر کافر جان لے کہ اللہ کے پاس کتنی وسیع رحمت ہے" – یعنی وہ (کافر) عذاب کی طرف التفات کیے بغیر صرف رحمت کو دیکھے۔

"مَا قَنِطَ مِنَ الْجَنَّةِ أَحَدٌ"
یعنی: "تو کوئی بھی (کافر) جنت سے مایوس نہ ہو۔"

🧠 صرفی و نحوی نکتہ:
"ذكر المضارع بعد لو في الموضعين ليفيد استمرار امتناع الفعل فيما مضى وقتا مؤقتا لأن لو للمضي"
یعنی: ان دونوں مقامات پر "لو" کے بعد فعلِ مضارع (يعلم) اس لیے لایا گیا ہے تاکہ یہ مفید ہو کہ ماضی میں ایک مخصوص وقت تک فعل کا امتناع (روک) جاری رہا، کیونکہ "لو" ماضی کے لیے آتی ہے۔

📝 امام طیبی کی تشریح:
امام طیبی نے فرمایا:

"اس حدیث کا سیاق اللہ تعالیٰ کی صفاتِ عذاب اور رحمت کو بیان کرنا ہے۔

جس طرح اللہ کی صفات غیر محدود ہیں اور کوئی ان کی حقیقت تک نہیں پہنچ سکتا، اسی طرح اس کا عذاب اور اس کی رحمت بھی غیر محدود ہے۔

اگر فرض کیا جائے کہ مومن اللہ کی صفاتِ قہاریت کی حقیقت کو جان لے، تو اس سے اسے وہ باتیں ظاہر ہوں گی جو اسے (اور پوری مخلوق کو) مایوس کر دیں، چنانچہ کوئی بھی اس کی جنت کا طمع نہ کرے۔

اور یہی معنی ہے "أَحَدٌ" کو "مومن" کے ضمیر کی جگہ رکھنے کا۔

اور یہ بھی جائز ہے کہ "مؤمن" سے جنس مراد ہو، یعنی تمام مومنین کو شامل کیا جائے، اور تقدیر (تخمیناً) "أَحَدٌ مِنْهُمْ" (ان میں سے کوئی ایک) ہے۔

اور ایک اور معنی ممکن ہے: مومن اس لیے خاص ہے کہ وہ جنت کا طمع کرنے والا ہے، لہٰذا جب اس سے طمع ختم ہو جائے تو گویا سب سے ختم ہو گیا۔

اسی طرح کافر مایوسی کے لیے خاص ہے، جب اس سے مایوسی ختم ہو جائے تو گویا سب سے ختم ہو گئی۔"

📚 حدیث کا ماخذ اور درجہ:
"ت عن أبي هريرة"
یعنی: امام ترمذی نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔

امام مناوی کا اضافہ:

"ظاہری طور پر یوں لگتا ہے کہ امام ترمذی اس حدیث کو تنہا لے آئے ہیں اور یہ صحیحین (بخاری و مسلم) میں موجود نہیں، ورنہ وہ (شارح) اسے چھوڑ کر (ترمذی کو) کیوں اختیار کرتے؟"

لیکن مناوی فرماتے ہیں:

"یہ ایک عجیب بھول ہے! بلکہ یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم دونوں نے "کتاب التوبۃ" (توبہ کے باب) میں روایت کی ہے، اور مسلم کی روایت کا لفظ یہی ہے۔ "



شرح الصنعانیؒ:

📖 شرح کے اہم نکات (صنعانی کی تشریح)
(۱) پہلے جملے کی تشریح: "لو يعلم المؤمن ما عند الله من العقوبة"
"لَوْ يَعْلَمُ الْمُؤْمِنُ مَا عِنْدَ اللَّهِ مِنَ الْعُقُوبَةِ"
یعنی "اگر مومن (یقیناً) جان لے کہ اللہ کے پاس کتنا سخت عذاب ہے" – یہ عذاب گناہوں پر ہے، اور یہ بغیر اس کے کہ وہ اللہ کی رحمت کی طرف دیکھے (یعنی صرف عذاب کو مدنظر رکھے)۔

"مَا طَمِعَ فِي الْجَنَّةِ أَحَدٌ"
یعنی "تو کوئی بھی (مومن) جنت کا طمع نہ کرے" – اس لیے کہ اللہ بہت سخت عذاب والا ہے، اور تمام بنی آدم گناہوں کے مستحق ہیں۔

(۲) دوسرے جملے کی تشریح: "ولو يعلم الكافر ما عند الله من الرحمة"
"وَلَوْ يَعْلَمُ الْكَافِرُ مَا عِنْدَ اللَّهِ مِنَ الرَّحْمَةِ"
یعنی "اور اگر کافر جان لے کہ اللہ کے پاس کتنی وسیع رحمت ہے" – یہ رحمت اس (اللہ) نے قیامت کے دن کے لیے مخصوص کر رکھی ہے۔

"مَا قَنِطَ مِنَ الْجَنَّةِ أَحَدٌ"
یعنی "تو کوئی بھی (کافر) جنت سے مایوس نہ ہو"۔

📝 امام طیبی کی تشریح (صنعانی نے نقل کی)
امام طیبی نے فرمایا:

"اس حدیث کا سیاق اللہ تعالیٰ کی دو صفات: قہر (جبروت) اور رحمت (لطف) کو بیان کرنا ہے۔

جس طرح اللہ کی صفات غیر محدود ہیں اور کوئی ان کی حقیقت تک نہیں پہنچ سکتا، اسی طرح اس کا عذاب اور اس کی رحمت بھی غیر محدود ہے۔

اگر فرض کیا جائے کہ مومن اللہ کی صفاتِ قہاریت کی حقیقت کو جان لے، تو اس سے اسے وہ باتیں ظاہر ہوں گی جو اسے (اور پوری مخلوق کو) مایوس کر دیں، چنانچہ کوئی بھی اس کی جنت کا طمع نہ کرے۔

اور یہی معنی ہے "أَحَدٌ" کو "مومن" کے ضمیر کی جگہ رکھنے کا۔

اور یہ بھی جائز ہے کہ "مؤمن" سے جنس مراد ہو، یعنی تمام مومنین کو شامل کیا جائے، اور تقدیر (تخمیناً) "أَحَدٌ مِنْهُمْ" (ان میں سے کوئی ایک) ہے۔

اور ایک اور معنی ممکن ہے: مومن اس لیے خاص ہے کہ وہ جنت کا طمع کرنے والا ہے، لہٰذا جب اس سے طمع ختم ہو جائے تو گویا سب سے ختم ہو گیا۔ اسی طرح کافر مایوسی کے لیے خاص ہے، جب اس سے مایوسی ختم ہو جائے تو گویا سب سے ختم ہو گئی۔"

📚 حدیث کا ماخذ اور درجہ
"(ت (الترمذي (٣٥٤٢)، مسلم (٢٧٥٥)) عن أبي هريرة)"
یعنی: امام ترمذی (حدیث نمبر 3542) اور امام مسلم (حدیث نمبر 2755) نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔

"رمز المصنف لحسنه"
یعنی مصنف (امام سیوطی) نے اس حدیث کو "حسن" قرار دیا ہے۔

"وقد أخرجه الشيخان في التوبة"
یعنی اور اس حدیث کو امام بخاری اور امام مسلم نے اپنی صحیحین میں "کتاب التوبہ" (توبہ کے باب) میں روایت کیا ہے۔



نکات:
(1)اللہ تعالیٰ کی رحمت کی وسعت اور اس کے غضب سے سبقت کا بیان
[صحیح مسلم:2755]

(2)امید کے ساتھ خوف کا بیان
[صحیح بخاری:6469]

(3)دلوں کو نرم کرنے والی باتوں کا بیان
[سنن الترمذی:3542]

(4)اس بات کا تذکرہ جو ایک مسلمان شخص پر واجب ہے کہ (۱)وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوسی کو چھوڑ دے (۲)اور اس کی رحمت کی وسعتوں پر بھروسہ چھوڑ دے خواہ اس کے اعمال بہت زیادہ ہوں۔
[صحيح ابن حبان:5085]
اور اللہ نے فرمایا:-
اور اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو، یقین جانو کہ اللہ کی رحمت سے وہی لوگ ناامید ہوتے ہیں جو کافر ہیں۔
[سورۃ یوسف:٨٧]

(5)ہر گناہ کے لیے ضروری ہے کہ اس (گناہ) سے (ندامت کے ساتھ اللہ کی طرف واپس لوٹتے) توبہ کی جائے اور اللہ تعالیٰ سے بخشش بھی مانگی جائے۔
[الآداب للبيهقي:848]

(6)جہنم کی آگ اور اس کے اہل لوگوں کا بیان۔
[ذكر النار لعبد الغني المقدسي:111]

(7)اللہ کے (۱)عظیم فضل والا ہونے (۲)بخشش اور رحمت والا ہونے (۳)غنی وبے پرواہ ہونے کا بیان۔
[الأسماء والصفات - البيهقي:1036]

(8)اللہ پر حسنِ گمان اور توکل رکھنے کا بیان۔
[نضرة النعيم في مكارم أخلاق الرسول الكريم:5/1604]

(9)کسی نیکی یا برائی کو حقیر نہ سمجھنا چاہئے۔ برے لوگ معمولی نیکی سے  جاسکتے ہیں اور نیک لوگ معمولی گناہ پر بھی پکڑے جاسکتے ہیں۔ کیونکہ الله کی عظمت کا تقاضا ہے کہ اس کی تعلیم کو کم-حیثیت ومعمولی نہ سمجھا جائے۔

(10)اپنے یا کسی غیرصحابی کے جنتی یا جہنمی ہونے کا یقین ودعویٰ نہ کیا جائے، البتہ امید رکھنا چاہئے۔

(11)مومن وہ ہے جو اللہ کو ایسے مانے جیسا اللہ نے سکھلایا، اور کافر وہ ہے جو اللہ کو ایسا نہیں مانتا جیسا اللہ نے سکھلایا۔

(12)عالم وہ ہے جو رحمتِ الٰہی کا امیدوار ہونے کے ساتھ ساتھ ہمیشہ اللہ کا خوف بھی رکھتا ہو اور خوف ظاہر ہوتا ہے نافرمانیوں سے بچنے کی کوشش سے۔ اور نادان وہ ہے جو اپنی خواہشات کے پیچھے رہے اور بلند وبزرگ اللہ پر (غیرشرعی) تمنا باندھے۔


قرآنی شواہد:
جان لو کہ بےشک الله انتہائی سخت عذاب دینے والا ہے ﴿اس کیلئے جو اس کے حرام وناجائز کو حلال وجائز کرتا ہے﴾۔ اور بےشک  بہت بخشنے والا انتہائی مہربان بھی ہے۔ ﴿اس کیلئے جو اس کی طرف لوٹتے فرمانبرداری کی کوشش کرتا ہے﴾۔
[التفسیر الوسیط(امام)الواحدی(م468ھ) » 2/232، سورۃ المائدۃ:98]

۔۔۔بےشک تمہارا رب یقیناً بہت جلد عذاب دینے والا بھی ہے اور بےشک وہ یقیناً بخشنے والا انتہائی مہربان بھی ہے۔
[تفسیر(امام)ابن ابی حاتم(م327ھ) »11/11، سورۃ الأنعام:165،الأعراف:167]


میرے بندوں کو بتادو کہ میں ہی بہت بخشنے والا، بڑا مہربان ہوں۔ ﴿اپنے دوستوں کا﴾۔ اور یہ بھی بتادو کہ میرا عذاب ہی دردناک عذاب ہے۔ ﴿اپنے(مخالف ومنکر)دشمنوں کا﴾۔
[تفسیر الوسیط،للواحدی:3/46، سورۃ الحجر:49+50]



Wednesday, 3 August 2022

فرض نماز کے بعد دعا سنت مستحبہ ہے

فرض نمازوں کے بعد امام و مقتدی کا دعا کرنا احادیثِ نبویہ و روایات فقہیہ سے ثابت ہے جو کہ سنتِ مستحبہ ہے، لہٰذا اس کو بدعت سمجھنا درست نہیں، مگر اس اجتماع کو لازم سمجھنا اور جو ایسا نہ کرے اسے بنظرِ حقارت دیکھنا وغیرہ درست نہیں، اس سے احتراز چاہیے۔


عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، قَالَ: قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ: أَيُّ الدُّعَاءِ أَسْمَعُ؟ قَالَ: «جَوْفَ اللَّيْلِ الآخِرِ، وَدُبُرَ الصَّلَوَاتِ المَكْتُوبَاتِ»۔

ترجمہ:

حضرت ابوامامہؓ کہتے ہیں کہ پوچھا گیا : اے اللہ کے رسول ﷺ ! کون سی دعا زیادہ سنی جاتی ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا:

«‌آدھی رات کے آخر کی دعا (یعنی تہائی رات میں مانگی ہوئی دعا) اور فرض نمازوں کے اخیر میں»۔

[سنن الترمذي:3499، السنن الكبرى - النسائي:9856]



حضرت ابوبردہؓ نے اپنے والد سے اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا:

«مَنْ كَانَتْ لَهُ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ حَاجَةٌ فَلْيَدْعُ بِهَا ‌دُبُرَ ‌كُلِّ ‌صَلَاةٍ ‌مَفْرُوضَةٍ»

ترجمہ:

 جس کو اللہ عزوجل سے حاجت ہو وہ اسے ہر فرض نماز کے بعد دعا مانگے۔

[مسند المقلين من الأمراء والسلاطين-تمام بن محمد الدمشقي:6]



امام کا دعا کے لئے اپنے آپ کو مخصوص کرنا مکروہ ہے:

حضرت ثوبان ؓ سے روایت ہے کہ  رسول اللہ  ﷺ  نے فرمایا:

کسی آدمی کے لیے جائز نہیں کہ وہ کسی کے گھر کے اندر جھانک کر دیکھے جب تک کہ گھر میں داخل ہونے کی اجازت نہ لے لے۔ اگر اس نے  (جھانک کر)  دیکھا تو گویا وہ اندر داخل ہوگیا۔ اور کوئی لوگوں کی امامت اس طرح نہ کرے کہ ان کو چھوڑ کر دعا کو صرف اپنے لیے خاص کرے، اگر اس نے ایسا کیا تو اس نے ان سے خیانت کی، اور نہ کوئی نماز کے لیے کھڑا ہو اور حال یہ ہو کہ وہ پاخانہ اور پیشاب کو روکے ہوئے ہو۔

[سنن الترمذي:357، سنن ابوداؤد:90، سنن ابن ماجة:923]




جماعت کے بعد امام کا دائیں، بائیں یا مقتدیوں کی جانب رُخ کر کے بیٹھنا:

عَنْ جَابِرِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ الْأَسْوَدِ الْعَامِرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: «صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ‌الْفَجْرَ، ‌فَلَمَّا ‌سَلَّمَ ‌انْحَرَفَ» وَرَفَعَ ‌يَدَيْهِ وَدَعَا۔
ترجمہ:
جابر بن یزید بن اسود العامری اپنے والد (حضرت اسود العامریؓ) سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ فجر کے وقت نماز پڑھی، اور جب آپ ﷺ نے سلام فرمایا تو آپ (نمازیوں کی طرف) مڑ گئے۔ اور اپنے ہاتھوں کو اٹھایا اور دعا فرمائی۔
[المصنف - ابن أبي شيبة:3122(3093)][معارف السنن:3/123]
صحيح؛ جابر ثقة، أخرجه أحمد (1474)، وأبو داود (614)، والترمذي (219)، والنسائي 2/ 112، وابن خزيمة (1279)، وابن حبان (1565)، والحاكم 1/ 414، والطيالسي (1564)، وابن أبي عاصم في الآحاد (1462)، والدارمي (1367)، والطبراني 22/ 614، وعبد الرزاق (3934)، والدارقطني 1/ 413، والبيهقي 2/ 301، وابن نافع 3/ 222





ہر نماز کے بعد ہاتھ اٹھا کر دعا مانگنا۔

عَنِ ‌الْمُطَّلِبِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الصَّلَاةُ مَثْنَى مَثْنَى أَنْ تَشَهَّدَ فِي كُلِّ رَكْعَتَيْنِ، وَأَنْ تَبَأَسَ، وَتَمَسْكَنَ وَتُقْنِعَ بِيَدَيْكَ، وَتَقُولَ: اللَّهُمَّ اللَّهُمَّ، فَمَنْ لَمْ يَفْعَلْ ذَلِكَ، فَهِيَ خِدَاجٌ»۔

ترجمہ:

حضرت مطلب ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: نماز دو دو رکعت ہے، اس طرح کہ تم ہر دو رکعت کے بعد تشہد پڑھو اور پھر اپنی محتاجی اور فقر و فاقہ ظاہر کرو اور اپنے دونوں ہاتھ اٹھا کر دعا مانگو اور کہو: اے میرے اللہ! اے میرے اللہ! جس نے ایسا نہیں کیا (یعنی دل نہ لگایا، اور اپنی محتاجی اور فقر و فاقہ کا اظہار نہ کیا) تو اس کی نماز ناقص ہے۔

[سنن أبي داود:1296، السنن الكبرى-النسائي:619-1445، مسند أبي داود الطيالسي:1463، مسند ابن الجعد:1568، مسند أحمد:17523-17528-17529، صحيح ابن خزيمة:1212، سنن الدارقطني:1548، السنن الكبرى - البيهقي:4578]

(دوسری روایت میں ہے)

عَنْ الفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الصَّلَاةُ ‌مَثْنَى ‌مَثْنَى، تَشَهَّدُ فِي كُلِّ رَكْعَتَيْنِ، وَتَخَشَّعُ، وَتَضَرَّعُ، وَتَمَسْكَنُ، وَتُقْنِعُ يَدَيْكَ، يَقُولُ: تَرْفَعُهُمَا إِلَى رَبِّكَ، مُسْتَقْبِلًا بِبُطُونِهِمَا وَجْهَكَ، وَتَقُولُ: ‌يَا ‌رَبِّ ‌يَا ‌رَبِّ، وَمَنْ لَمْ يَفْعَلْ ذَلِكَ فَهُوَ كَذَا وَكَذَا۔

ترجمہ:

حضرت فضل بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: نماز دو دو رکعت ہے اور ہر دو رکعت کے بعد تشہد ہے، نماز خشوع و خضوع، مسکنت اور گریہ وزاری کا اظہار ہے، اور تم اپنے دونوں ہاتھ اٹھاؤ۔ یعنی تم اپنے دونوں ہاتھ اپنے رب کے سامنے اٹھاؤ اس حال میں کہ ہتھیلیاں تمہارے منہ کی طرف ہوں اور کہہ: یا رب! یا رب! اور جس نے ایسا نہیں کیا وہ ایسا ایسا ہے۔

[سنن الترمذي:385، السنن الكبرى-النسائي:618-1444، الزهد والرقائق - ابن المبارك:1152، مسند ابن المبارك:53، مسند أحمد:1799-17525، مسند البزار:2169، مسند أبي يعلى:6738، صحيح ابن خزيمة:1213، المعجم الكبير للطبراني:757، المعجم الأوسط للطبراني:8632، الدعاء - الطبراني:210، السنن الكبرى - البيهقي:4577, ترتيب الأمالي الخميسية للشجري:954]

(دوسری روایت میں ہے)

عَنِ الْمُطَّلِبِ يَعْنِي ابْنَ أَبِي وَدَاعَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: صَلَاةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى، وَتَشَهَّدُ فِي كُلِّ رَكْعَتَيْنِ، وَتَبَاءَسُ ‌وَتَمَسْكَنُ ‌وَتُقْنِعُ، وَتَقُولُ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي، فَمَنْ لَمْ يَفْعَلْ ذَلِكَ فَهِيَ خِدَاجٌ۔

ترجمہ:

حضرت مطلب بن ابی وداعہؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: رات کی نماز دو دو رکعت ہے، اور ہر دو رکعت کے بعد تشہد ہے، اور اللہ کے سامنے اپنی محتاجی و مسکینی ظاہر کرنا، اور  دعا مانگنا، اور کہنا ہے کہ اے اللہ! مجھ کو بخش دے۔ جو کوئی ایسا نہ کرے (یعنی اپنی محتاجی اور فقر و فاقہ ظاہر نہ کرے تو) اس کی نماز ناقص ہے۔

[سنن ابن ماجه:1325]





عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَن ّرَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَفَعَ يَدَهُ بَعْدَ مَا سَلَّمَ وَهُوَ مُسْتَقْبِلٌ الْقِبْلَةَ، فَقَالَ: ‌اللَّهُمَّ ‌خَلِّصِ ‌الْوَلِيدَ بْنَ الْوَلِيدِ، وَعَيَّاشَ بْنَ أَبِي رَبِيعَةَ، وَسَلَمَةَ بْنَ هِشَامٍ، وَضَعَفَةَ الْمُسْلِمِينَ الَّذِينَ لَا يَسْتَطِيعُونَ حِيلَةً وَلا يَهْتَدُونَ سَبِيلا مِنْ أَيْدِي الْكُفَّارِ۔
ترجمہ:
حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سلام پھیرنے کے بعد قبلے کی طرف منہ کئے ہوئے ہاتھ اٹھا کر دعا مانگی: اے اللہ! ولید بن ولید کو عیاش بن ابو ربیعہ کو، سلمہ بن ہشام کو اور تمام ناتواں بےطاقت مسلمانوں کو اور جو بےحیلے کی طاقت رکھتے ہیں نہ راہ پانے کی کافروں کے ہاتھوں سے نجات دے۔
[تفسير ابن أبي حاتم:5872، تفسير ابن كثير:2/ 345]
تفسیر ابن جریر میں ہے:
كَانَ يَدْعُو فِي ‌دُبُرِ ‌صَلَاةِ ‌الظُّهْرِ
آپ ﷺ ظہر کی نماز کے بعد یہ دعا مانگا کرتے تھے۔
[تفسير الطبري:10275، مسند أحمد:9285]
امام ابن کثیرؒ لکھتے ہیں:
وَلِهَذَا الْحَدِيثِ شَاهِدٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ كَمَا تَقَدَّمَ
اس حدیث کے شواہد صحیح میں بھی اس سند کے سوا اور سندوں میں بھی ہیں کہ جیسے کہ پہلے گذرا۔
[تفسير ابن كثير - ت السلامة : 2/ 309، تفسير ابن كثير - ط العلمية: 2/ 345]
[تحفة الأحوذي-عبد الرحمن المباركفوري: 2/ 170]