امام مظہر الدین الزیدانی (متوفی 727ھ) فرماتے ہیں:
یہ حدیث اللہ تعالیٰ کی رحمت اور عذاب دونوں کی کثرت کو بیان کرنے کے لیے آئی ہے۔
تاکہ مومن (مسلمان) اللہ کی رحمت پر مغرور نہ ہو جائے اور اس کے عذاب سے بے خوف نہ ہو جائے، کیونکہ اگر وہ اس کے عذاب سے بے خوف ہو گیا تو وہ کافر ہو جائے گا۔
اور (حدیث کے دوسرے حصے میں) فرمایا: "اور اگر کافر کو (اللہ کی رحمت کا) علم ہوتا..." – یعنی یہ اس لیے کہ مؤمن اپنے گناہوں کی کثرت کی وجہ سے اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو جائے، اور کافر اس خوف سے کہ وہ برسوں کفر میں رہا، ایمان لانے سے نہ ڈرے۔
کیونکہ اگر کوئی کافر اسلام (ایمان) میں داخل ہو جائے تو اس کے کفر کے زمانے میں کیے گئے تمام گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں، چاہے وہ برسوں پر محیط ہوں۔
اور اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اگر وہ کفر ہی میں مر گیا تو اسے معاف کر دیا جائے گا، یا اسے کسی وقت جہنم سے نکال لیا جائے گا۔ بلکہ وہ جہنم سے کبھی بھی نہیں نکالا جائے گا، خواہ اللہ کی رحمت کتنی ہی وسیع اور بکثرت کیوں نہ ہو۔
بلکہ قیامت کے دن اللہ کی رحمت سے صرف مؤمنین ہی مستفید ہوں گے۔
شرح الملا على القاريؒ:
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"لَوْ يَعْلَمُ الْمُؤْمِنُ مَا عِنْدَ اللَّهِ مِنَ الْعُقُوبَةِ، مَا طَمِعَ بِجَنَّتِهِ أَحَدٌ"
ترجمہ:
"اگر مومن (یعنی تمام مومن) جان لے کہ اللہ کے پاس کتنا سخت عذاب ہے، تو کوئی بھی اس کی جنت کا طمع نہ کرے (یعنی مومنین میں سے کوئی بھی، کافروں کا تو ذکر ہی کیا)۔"
"اللام" (لَوْ میں) استغراق (ہر ایک کو شامل کرنے) کے لیے ہے۔
"مَا عِنْدَ اللَّهِ مِنَ الْعُقُوبَةِ" اس بات کی وضاحت ہے کہ (اگر وہ جان لے تو) "مَا طَمِعَ بِجَنَّتِهِ أَحَدٌ" یعنی کوئی بھی اس کی جنت کا طمع نہ کرے۔
یہاں "أَحَدٌ" کا اطلاق مومنین پر ہے، کافروں کا تو بالکل بھی ذکر نہیں۔
اور اس میں کوئی بعید نہیں کہ "أَحَدٌ" کا لفظ مطلق عموم (ہر شخص) کے لیے بھی ہو، کیونکہ محض عذاب کا تصور کر لینا بھی رحمت سے مایوسی کا باعث بن سکتا ہے۔
اس حدیث کا ایک مقصد عذاب کی کثرت کو بیان کرنا ہے، تاکہ مومن اپنی طاعت (عبادات) پر مغرور نہ ہو جائے، یا محض رحمت پر بھروسہ کر کے اس طرح امن و اطمینان میں نہ پڑ جائے کہ وہ اللہ کی مکر سے محفوظ تصور کرے، حالانکہ اللہ کی مکر سے صرف خسارہ پانے والی قوم ہی بے خوف ہوتی ہے (جیسا کہ قرآن میں ہے: "فَلَا يَأْمَنُ مَكْرَ اللَّهِ إِلَّا الْقَوْمُ الْخَاسِرُونَ" [الأعراف: 99])۔
اور فرمایا:
"وَلَوْ يَعْلَمُ الْكَافِرُ مَا عِنْدَ اللَّهِ مِنَ الرَّحْمَةِ، مَا قَنِطَ مِنْ جَنَّتِهِ أَحَدٌ"
ترجمہ: "اور اگر کافر (یعنی ہر کافر) جان لے کہ اللہ کے پاس کتنی وسیع رحمت ہے، تو کوئی بھی اس کی جنت سے مایوس نہ ہو (یعنی کافروں میں سے کوئی بھی)۔"
لفظی نوٹ: "قَنِطَ" کا تلفظ فتحہ نون کے ساتھ ہے، اور کسرہ نون بھی جائز ہے۔
تشریح:
یہاں "أَحَدٌ" سے مراد کافروں میں سے کوئی ہے، جیسا کہ امام طیبی اور دیگر نے ذکر کیا ہے۔
ابن الملک نے اسے اس شرط کے ساتھ مقید کیا ہے کہ "جب وہ کافر اسلام میں داخل ہو جائے" (یعنی رحمت کا علم ایمان لانے کے بعد ہی کارگر ہو)۔
لیکن ظاہری بات یہ ہے کہ حسنِ مقابلات (پہلے اور دوسرے جملے کے درمیان توازن) کی وجہ سے تقیید (قید) نہیں ہے، کیونکہ یہ مبالغہ کو مفید ہے، اور شرطیہ "إِن" کے ساتھ یہ وقوع (ہونے) کے لیے لازم نہیں ہے۔
📝 امام طیبی کا قول:
امام طیبی نے کہا:
"یہ حدیث اللہ تعالیٰ کی دو صفات: قہر (جبروت) اور رحمت (لطف) کو بیان کرتی ہے۔
جس طرح اللہ کی صفات غیر محدود ہیں اور کوئی بھی ان کی حقیقت تک نہیں پہنچ سکتا، اسی طرح اس کا عذاب اور اس کی رحمت بھی غیر محدود ہے۔
اگر فرض کیا جائے کہ مومن اللہ کی صفتِ قہاریت کی حقیقت کو جان لے، تو اس سے اسے وہ باتیں ظاہر ہوں گی جو اسے مایوس کر دیں، چنانچہ کوئی بھی اس کی جنت کا طمع نہ کرے۔
اور یہی معنی ہے کہ "أَحَدٌ" کو مومن کے ضمیر کی جگہ رکھا گیا ہے۔
اور یہ بھی جائز ہے کہ "مؤمن" سے جنس مراد ہو، یعنی ہر مومن کو شامل کیا جائے، اور تقدیر (تخمیناً) "أَحَدٌ مِنْهُمْ" (ان میں سے کوئی ایک) ہے۔
اور ایک اور معنی ممکن ہے: مومن اس لیے خاص ہے کہ وہ جنت کا طمع کرے، لہٰذا جب اس سے طمع ختم ہو جائے تو گویا سب سے ختم ہو گیا۔ اسی طرح کافر مایوسی کے لیے خاص ہے، جب اس سے مایوسی ختم ہو جائے تو گویا سب سے ختم ہو گئی۔"
🧠 حدیث کا خلاصہ اور حاصل
یہ حدیث اللہ کی رحمت اور عذاب کی کثرت کو بیان کرنے کے لیے آئی ہے، تاکہ:
مومن رحمت پر مغرور ہو کر عذاب سے بے خوف نہ ہو جائے۔
کافر رحمت سے مایوس ہو کر اس کا دروازہ (ایمان کا راستہ) نہ چھوڑ دے۔
(یہ حدیث متفق علیہ ہے - یعنی صحیح بخاری و مسلم میں موجود ہے)
💎 حاصلِ حدیث (نتیجہ)
حدیث کا خلاصہ یہ ہے کہ بندے کو چاہیے کہ وہ
رجاء (امید) اور خوف کے درمیان رہے،
کبھی صفاتِ جمال (رحمت، لطف، کرم) کا مطالعہ کرے،
اور کبھی صفاتِ جلال (قہر، عذاب، عدل) کا مشاہدہ کرے۔
📜 حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا قول:
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا:
"اگر قیامت کے دن پکارا جائے کہ جنت میں صرف ایک شخص داخل ہو، تو مجھے امید ہے کہ وہ میں ہوں، اور اسی طرح (اگر پکارا جائے کہ) جہنم میں صرف ایک شخص داخل ہو، تو مجھے امید ہے کہ وہ میں نہ ہوں"
(یعنی ان کا موقف غالبِ رجاء اور خوفِ توازن پر تھا)۔
🧭 بعض علماء کا قول:
زندگی میں خوف کو غالب رکھنا چاہیے، اور موت کے وقت رجاء کو غالب رکھنا چاہیے۔
(یعنی بندہ دنیا میں اپنے اعمال سے ڈرتا رہے، اور جب موت کا وقت آ جائے تو اللہ کی رحمت سے بھرپور امید رکھے)۔
شرح المناویؒ:
🏷️ پہلا حصہ: "لو يعلم المؤمن ما عند الله من العقوبة"
"لَوْ يَعْلَمُ الْمُؤْمِنُ مَا عِنْدَ اللَّهِ مِنَ الْعُقُوبَةِ"
یعنی: "اگر مومن (یقیناً) جان لے کہ اللہ کے پاس کتنا سخت عذاب ہے" – یعنی وہ (مومن) رحمت کی طرف التفات کیے بغیر صرف عذاب کو دیکھے۔
"مَا طَمِعَ فِي الْجَنَّةِ أَحَدٌ"
یعنی: "تو کوئی بھی (مومن) جنت میں داخل ہونے کا طمع نہ کرے۔"
🏷️ دوسرا حصہ: "ولو يعلم الكافر ما عند الله من الرحمة"
"وَلَوْ يَعْلَمُ الْكَافِرُ مَا عِنْدَ اللَّهِ مِنَ الرَّحْمَةِ"
یعنی: "اور اگر کافر جان لے کہ اللہ کے پاس کتنی وسیع رحمت ہے" – یعنی وہ (کافر) عذاب کی طرف التفات کیے بغیر صرف رحمت کو دیکھے۔
"مَا قَنِطَ مِنَ الْجَنَّةِ أَحَدٌ"
یعنی: "تو کوئی بھی (کافر) جنت سے مایوس نہ ہو۔"
🧠 صرفی و نحوی نکتہ:
"ذكر المضارع بعد لو في الموضعين ليفيد استمرار امتناع الفعل فيما مضى وقتا مؤقتا لأن لو للمضي"
یعنی: ان دونوں مقامات پر "لو" کے بعد فعلِ مضارع (يعلم) اس لیے لایا گیا ہے تاکہ یہ مفید ہو کہ ماضی میں ایک مخصوص وقت تک فعل کا امتناع (روک) جاری رہا، کیونکہ "لو" ماضی کے لیے آتی ہے۔
📝 امام طیبی کی تشریح:
امام طیبی نے فرمایا:
"اس حدیث کا سیاق اللہ تعالیٰ کی صفاتِ عذاب اور رحمت کو بیان کرنا ہے۔
جس طرح اللہ کی صفات غیر محدود ہیں اور کوئی ان کی حقیقت تک نہیں پہنچ سکتا، اسی طرح اس کا عذاب اور اس کی رحمت بھی غیر محدود ہے۔
اگر فرض کیا جائے کہ مومن اللہ کی صفاتِ قہاریت کی حقیقت کو جان لے، تو اس سے اسے وہ باتیں ظاہر ہوں گی جو اسے (اور پوری مخلوق کو) مایوس کر دیں، چنانچہ کوئی بھی اس کی جنت کا طمع نہ کرے۔
اور یہی معنی ہے "أَحَدٌ" کو "مومن" کے ضمیر کی جگہ رکھنے کا۔
اور یہ بھی جائز ہے کہ "مؤمن" سے جنس مراد ہو، یعنی تمام مومنین کو شامل کیا جائے، اور تقدیر (تخمیناً) "أَحَدٌ مِنْهُمْ" (ان میں سے کوئی ایک) ہے۔
اور ایک اور معنی ممکن ہے: مومن اس لیے خاص ہے کہ وہ جنت کا طمع کرنے والا ہے، لہٰذا جب اس سے طمع ختم ہو جائے تو گویا سب سے ختم ہو گیا۔
اسی طرح کافر مایوسی کے لیے خاص ہے، جب اس سے مایوسی ختم ہو جائے تو گویا سب سے ختم ہو گئی۔"
📚 حدیث کا ماخذ اور درجہ:
"ت عن أبي هريرة"
یعنی: امام ترمذی نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔
امام مناوی کا اضافہ:
"ظاہری طور پر یوں لگتا ہے کہ امام ترمذی اس حدیث کو تنہا لے آئے ہیں اور یہ صحیحین (بخاری و مسلم) میں موجود نہیں، ورنہ وہ (شارح) اسے چھوڑ کر (ترمذی کو) کیوں اختیار کرتے؟"
لیکن مناوی فرماتے ہیں:
"یہ ایک عجیب بھول ہے! بلکہ یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم دونوں نے "کتاب التوبۃ" (توبہ کے باب) میں روایت کی ہے، اور مسلم کی روایت کا لفظ یہی ہے۔ "
شرح الصنعانیؒ:
📖 شرح کے اہم نکات (صنعانی کی تشریح)
(۱) پہلے جملے کی تشریح: "لو يعلم المؤمن ما عند الله من العقوبة"
"لَوْ يَعْلَمُ الْمُؤْمِنُ مَا عِنْدَ اللَّهِ مِنَ الْعُقُوبَةِ"
یعنی "اگر مومن (یقیناً) جان لے کہ اللہ کے پاس کتنا سخت عذاب ہے" – یہ عذاب گناہوں پر ہے، اور یہ بغیر اس کے کہ وہ اللہ کی رحمت کی طرف دیکھے (یعنی صرف عذاب کو مدنظر رکھے)۔
"مَا طَمِعَ فِي الْجَنَّةِ أَحَدٌ"
یعنی "تو کوئی بھی (مومن) جنت کا طمع نہ کرے" – اس لیے کہ اللہ بہت سخت عذاب والا ہے، اور تمام بنی آدم گناہوں کے مستحق ہیں۔
(۲) دوسرے جملے کی تشریح: "ولو يعلم الكافر ما عند الله من الرحمة"
"وَلَوْ يَعْلَمُ الْكَافِرُ مَا عِنْدَ اللَّهِ مِنَ الرَّحْمَةِ"
یعنی "اور اگر کافر جان لے کہ اللہ کے پاس کتنی وسیع رحمت ہے" – یہ رحمت اس (اللہ) نے قیامت کے دن کے لیے مخصوص کر رکھی ہے۔
"مَا قَنِطَ مِنَ الْجَنَّةِ أَحَدٌ"
یعنی "تو کوئی بھی (کافر) جنت سے مایوس نہ ہو"۔
📝 امام طیبی کی تشریح (صنعانی نے نقل کی)
امام طیبی نے فرمایا:
"اس حدیث کا سیاق اللہ تعالیٰ کی دو صفات: قہر (جبروت) اور رحمت (لطف) کو بیان کرنا ہے۔
جس طرح اللہ کی صفات غیر محدود ہیں اور کوئی ان کی حقیقت تک نہیں پہنچ سکتا، اسی طرح اس کا عذاب اور اس کی رحمت بھی غیر محدود ہے۔
اگر فرض کیا جائے کہ مومن اللہ کی صفاتِ قہاریت کی حقیقت کو جان لے، تو اس سے اسے وہ باتیں ظاہر ہوں گی جو اسے (اور پوری مخلوق کو) مایوس کر دیں، چنانچہ کوئی بھی اس کی جنت کا طمع نہ کرے۔
اور یہی معنی ہے "أَحَدٌ" کو "مومن" کے ضمیر کی جگہ رکھنے کا۔
اور یہ بھی جائز ہے کہ "مؤمن" سے جنس مراد ہو، یعنی تمام مومنین کو شامل کیا جائے، اور تقدیر (تخمیناً) "أَحَدٌ مِنْهُمْ" (ان میں سے کوئی ایک) ہے۔
اور ایک اور معنی ممکن ہے: مومن اس لیے خاص ہے کہ وہ جنت کا طمع کرنے والا ہے، لہٰذا جب اس سے طمع ختم ہو جائے تو گویا سب سے ختم ہو گیا۔ اسی طرح کافر مایوسی کے لیے خاص ہے، جب اس سے مایوسی ختم ہو جائے تو گویا سب سے ختم ہو گئی۔"
📚 حدیث کا ماخذ اور درجہ
"(ت (الترمذي (٣٥٤٢)، مسلم (٢٧٥٥)) عن أبي هريرة)"
یعنی: امام ترمذی (حدیث نمبر 3542) اور امام مسلم (حدیث نمبر 2755) نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔
"رمز المصنف لحسنه"
یعنی مصنف (امام سیوطی) نے اس حدیث کو "حسن" قرار دیا ہے۔
"وقد أخرجه الشيخان في التوبة"
یعنی اور اس حدیث کو امام بخاری اور امام مسلم نے اپنی صحیحین میں "کتاب التوبہ" (توبہ کے باب) میں روایت کیا ہے۔