شرح الملا على القاري (متوفی 1014ھ):
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى يَكُونَ هَوَاهُ"
یعنی تم میں سے کوئی بھی اس وقت تک (کامل) مومن نہیں ہوتا جب تک کہ اس کی خواہش (نفسانی میلان) پیرو نہ ہو جائے۔
"هَوَاهُ" سے مراد نفس کا میلان ہے، اسے "ہوی" اس لیے کہا گیا کہ یہ اپنے مالک کو دنیا میں تنگنائیوں اور آخرت میں جہنم کی گہرائی (هاوية) کی طرف لے جاتا ہے، گویا یہ "هوی" (گرنا) سے مشتق ہے۔
"تَبَعًا لِمَا جِئْتُ بِهِ"
یعنی جو کچھ میں لے کر آیا ہوں (شریعت اور احکام) اس کا پیروکار اور اس کی تقلید کرنے والا ہو جائے۔
📝 امکانِ حمل (تفسیر کے دو پہلو)
پہلا احتمال:
اس حدیث کو "ایمان کی اصل (بنیاد) کے نفی" پر محمول کیا جا سکتا ہے، یعنی:
جب تک وہ اپنی خواہش کو اس شریعت کا تابع نہ بنا لے جو میں لے کر آیا ہوں – اور یہ پیروی اعتقاد (دل سے یقین) کی بنا پر ہو، جبر اور تلوار کے خوف (منافقین کی طرح) کی بنا پر نہ ہو – تو اس کا اصل ایمان ہی نہیں ہے۔
دوسرا احتمال (جمہور کا قول):
اس سے مراد "ایمان کے کمال کا نفی" ہے، یعنی:
تم میں سے کسی کا ایمان اس وقت تک مکمل نہیں ہوتا جب تک کہ اس کا نفسانی میلان اور اس کی خواہش (جو اسے پسند ہے) اس شریعت کے احکام کا تابع نہ ہو جائے جو میں لے کر آیا ہوں۔
پس اگر اس کی خواہش شریعت کے موافق ہو تو وہ اس لیے اس پر عمل کرے کہ یہ شریعت ہے، اس لیے نہیں کہ یہ اس کی خواہش ہے۔
اور اگر اس کی خواہش شریعت کے خلاف ہو تو وہ اپنی خواہش کو چھوڑ دے۔
اس وقت وہ کامل مومن ہو گا۔
🌟 عارفین کا قول (روحانی نکتہ)
بعض عارفین (باطنی علم رکھنے والے) نے کہا:
"یہاں تک کہ اس کی خواہش – جو اس کی نفسانی صفات کی اصل ہے، بلکہ وہ باطل معبود ہے جس کی اطاعت کی جاتی ہے اور جس کی پیروی محبوب ہوتی ہے – اس چیز کی پیرو بن جائے جو میں لے کر آیا ہوں (یعنی چمکتی ہوئی سنت اور پاکیزہ شریعت) ،
یہاں تک کہ اس کے مختلف ارادے اور بکھرے ہوئے خیالات، جو نفس کی خواہش اور طبیعت کے میلان سے پیدا ہوتے ہیں، سب ایک ہی ارادے میں جمع ہو جائیں جو اس کے رب کے حکم اور اس کی شریعت کی پیروی سے متعلق ہو – اللہ کی تعظیم اور اس کی مخلوق پر شفقت کی خاطر۔
جیسا کہ شاعر نے کہا:
"میرے دل کی خواہشیں بکھری ہوئی تھیں،
مگر جب آنکھ نے تجھے دیکھا تو سب جمع ہو گئیں۔
اب وہی مجھ سے حسد کرتے ہیں جن سے میں حسد کرتا تھا،
اور میں تمام لوگوں کا سردار بن گیا جب سے تو میرا سردار بنا۔
میں نے لوگوں کے لیے ان کی دنیا اور ان کا دین چھوڑ دیا،
تیری محبت میں مشغول ہو کر، اے میرے دین اور میری دنیا!"
🧠 نفس، عقل اور خواہش کا فلسفہ
پس (کامل مومن) وہ ہے جو:
صرف دین کے حکم کے مطابق جھکتا ہے،
اور صرف شرعی حکم کے مطابق خواہش کرتا ہے۔
یہی نادر کامل مومن ہے، جس سے توحید قبول کی جاتی ہے۔
اور جو اس سے منہ موڑ کر اپنی خواہش کی پیروی کرے اور اپنی مرضی کے مطابق چلے، وہ کافر ہے جو اپنی دنیا اور آخرت دونوں میں خسارے میں ہے۔
اور جو شریعت کی اصولوں کی پیروی کرے مگر فروع (تفصیلات) کو چھوڑ دے تو وہ فاسق ہے۔
اور جو اس کے برعکس کرے (یعنی فروع کو مانے مگر اصولوں کو چھوڑ دے) تو وہ منافق ہے۔
"الهوى" لغت میں "هویه" (اس سے محبت کی) سے مشتق ہے،
اور شرعاً اس کا معنی ہے: نفس کا اس چیز کی طرف میلان جو شریعت کے تقاضے کے خلاف ہو۔
ہاں، اگر خواہش ہدایت کے موافق ہو تو وہ شہد پر مکھن کی طرح، نور پر نور اور سرور پر سرور ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
{وَمَنْ أَضَلُّ مِمَّنَ اتَّبَعَ هَوَاهُ بِغَيْرِ هُدًى مِنَ اللَّهِ}
[سورۃ القصص:50]
(اور اس سے بڑھ کر کون گمراہ ہے جو اللہ کی ہدایت کے بغیر اپنی خواہش کی پیروی کرے؟)
❓ اعتراض اور اس کا جواب
اعتراض:
رسول ﷺ جو لے کر آئے وہ نور اور روشنی ہے، اور خواہش نفس میں ایک تاریکی ہے جو مٹی کی طبیعت سے پیدا ہوتی ہے۔
پس یہ تاریک خواہش نورانی دین کی پیرو کیسے بن سکتی ہے؟
جواب:
نفس (نفس انسانی) جسم میں ایک لطیف (باریک) چیز ہے جو روح اور بدن کے امتزاج اور اتصال سے وجود میں آتی ہے۔
روح لطیف اور روحانی ہے،
جسم گہرا اور تاریک ہے،
اور نفس ان دونوں کے درمیان ایک متوسط چیز ہے، جو روحانی لطافت اور جسمانی کثافت دونوں کو قبول کرتی ہے۔
یہی وہ "تسویہ" (اعتدال) ہے جس کا اللہ تعالیٰ نے ذکر کیا:
{وَنَفْسٍ وَمَا سَوَّاهَا}
[سورۃ الشمس: ۷]
(اور قسم ہے نفس کی اور اس (اللہ) کی جس نے اسے درست کیا)
اس اعتدال کی وجہ سے نفس خیر و شر، فجور اور تقویٰ دونوں کو قبول کرنے والا ہے:
اگر تقویٰ کا پہلو غالب آئے تو نفس صفائی اور دین کی طرف رجوع کرتا ہے،
اور اگر فجور کا پہلو غالب آئے تو خواہش کا تابع بن کر ہلاکت کی راہوں پر چل پڑتا ہے۔
شاعر نے کہا:
"خواری کا نون (حرف) خواہش سے چرایا گیا ہے،
پس ہر خواہش کا شکار ذلت کا شکار ہے۔"
راغب اصفہانی نے کہا:
نفس کا بدن میں ہونا اس مجاہد کی مانند ہے جو ایک سرحد (محاذ) پر بھیجا گیا ہو تاکہ اس کی حالتوں کا خیال رکھے،
اس کی عقل اس کے مالک (اللہ) کی نائب ہے، جو اسے ہدایت دینے اور اس کے حق میں یا اس کے خلاف گواہی دینے کے لیے اس کے ساتھ ہے،
اس کا بدن اس کی سواری ہے،
اس کی خواہش اور شہوتیں ایک شریر سائیس (جانوروں کو ہانکنے والا) ہیں جو اس کی سواری کو غائب کرنے کے لیے اس کے ساتھ ہے،
قرآن اس کتاب کی مانند ہے جو اس کے مالک کی طرف سے آئی ہے، جس میں ہر چیز کی وضاحت، ہدایت اور رحمت ہے،
اور نبیﷺ وہ رسول ہیں جو اس کتاب کو لے کر آئے تاکہ لوگوں کے لیے وہ کچھ واضح کریں جو ان کی طرف نازل کیا گیا ہے۔
پس اگر وہ اپنے دشمنوں سے جہاد کرے، ان پر غالب آئے، عقل سے مدد لے اور اسے مسلط کرے، تو جب وہ اپنے رب کے حضور واپس جائے گا تو اس کی تعریف کی جائے گی اور وہ کامیاب لوگوں میں سے ہوگا۔
اور جس نے اپنی سرحد کو ضائع کیا، اپنی رعیت (نفس) کو نظر انداز کیا، اپنی سواری کی دیکھ بھال میں مشغول رہا، اور سواری کے سائیس (خواہش) کو اپنے رب کے خلیفہ (عقل) کی جگہ بٹھایا، تو وہ آخرت میں خسارہ پانے والوں میں سے ہوگا۔
📚 حدیث کا ماخذ اور درجہ
"رَوَاهُ" یعنی امام بغویؒ نے اپنی کتاب "شرح السنۃ" میں اپنی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
اور امام نوویؒ نے اپنی کتاب "الأربعون" (چالیس احادیث) میں کہا:
"یہ حدیث صحیح ہے، ہم نے اسے کتاب 'الحجة' میں صحیح سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔"
(کتاب "الحجة" ابو القاسم اسماعیل بن محمد بن الفضل الاصفہانی التیمی کی تصنیف ہے، جو اتباعِ محجہ (سیدھے راستے کی پیروی) پر مشتمل ہے۔)