Sunday, 28 July 2024

جائز اور ناجائز شکوہ-شکایت کا بیان

شکوہ کے معنیٰ اظہارِ غم ہے۔

[المفردات فی غریب القرآن-امام الراغب اصفھانی]


قَالَ اِنَّمَاۤ اَشۡكُوۡا بَثِّـىۡ وَحُزۡنِىۡۤ اِلَى اللّٰهِ وَاَعۡلَمُ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا تَعۡلَمُوۡنَ‏ ۞ 

ترجمہ:

یعقوب نے کہا : میں اپنے رنج و غم کا شکوہ (فریاد) (تم سے نہیں) صرف اللہ سے کرتا ہوں، اور اللہ کے بارے میں جتنا میں جانتا ہوں، تم نہیں جانتے۔

[سورۃ نمبر 12 يوسف، آیت نمبر 86]

یعنی کیا تم مجھ کو صبر سکھاؤ گے؟ بےصبر وہ ہے جو مخلوق کے آگے خالق کے بھیجے ہوئے درد کی شکایت کرے۔ میں تو اسی سے کہتا ہوں جس نے درد دیا اور یہ بھی جانتا ہوں کہ یہ مجھ پر آزمائش ہے دیکھوں کس حد پر پہنچ کر بس ہو۔


صبرِ جمیل کے منافی اگر کوئی شکایت ہے تو وہ خالق کی آزمائش ومصیبت کی شکایت مخلوق سے کرنا ہے۔ لہٰذا مخلوق کی شکایت خالق سے کرنا یہ صبرِ جمیل کے منافی نہیں بلکہ عین دعاء والتجا ہے۔




نبوی دعائے شکوہ»

جب ابوطالب وفات پاگئے تو رسول اللہ ﷺ اپنے پیروں کے بل لوگوں کے پاس آئے اور ان کو اسلام کی دعوت دی، لیکن انہوں نے جواب بھی نہ دیا، پھر آپ لوٹے اور دو رکعت نماز ادا فرمائی اور یہ دعا کی:

اے اللہ! میں شکوہ کرتا ہوں تجھ سے اپنی کمزوری کی اور حیلہ و تدبیر میں کمی کی اور لوگوں کے نزدیک اپنے بےوقعت ہونے کی۔ اے ارحم الراحمین! آپ مجھے کس کے حوالہ کرتے ہیں، ایسے دشمن کے جو مجھے دیکھ کر ترش رو ہوتا ہے؟ یا ایسے قریبی عزیز کے پاس جس کو تو نے میرے معاملات کا مالک بنادیا لیکن اگر تو مجھ سے ناراض نہیں تو مجھے کوئی پروا نہیں۔ تیری عافیت میرے لیے کافی ہے۔ میں پناہ چاہتا ہوں تیرے چہرے کے نور کے طفیل، جس کی بدولت آسمان روشن ہوگئے تاریکیوں کے پردے چھٹ گئے اور دنیا و آخرت کے معاملے سلجھ گئے، کہ مجھ پر تیرا غضب اترے یا تیری ناراضگی اترے۔ تیری خوشامد فرض ہے حتی کہ تو راضی ہو اور ہر طرح کی طاقت و قوت تیرے ساتھ ہے۔

[طبراني:181، الاحاديث المختارة:162، مجمع الزوائد:9851]

[کنزالعمال:3613+3756+5120]






Thursday, 25 July 2024

ایمان کے معنی، فضائل، ارکان، شاخیں، اعمال وعلامات اور کمال


ایمان کی لغوی معنیٰ:
(1) ایمان لفظ امن سے لیا گیا ہے جو خوف کی ضد ہے۔

[مصباح اللغات: ص41]


فرامینِ رسول اللہ ﷺ:

أَشْرَفُ الْإِيمَانِ أَنْ يَأْمَنَكَ النَّاسُ 

ترجمہ:

اشرف ایمان یہ ہے کہ انسانیت تجھ سے امن میں رہے۔

[المعجم الصغیر-للطبراني:10، جامع الاحادیث-للسيوطي:3499]


الْمُؤْمِنُ مَنْ أَمِنَهُ النَّاسُ.

ترجمہ:

مومن وہ ہے جس سے لوگ امن میں ہوں۔

[احمد:12561، ابن ماجہ:3934، حاکم:25، طبرانی:193، بغوی:14، ابن حبان:510، البزار:7432]





(2)تصدیق اور تسلیم کے ہیں۔
اور شریعت کی اصطلاح میں ایمان کہا جاتا ہے کہ وہ تمام چیزیں جو نبی کریم ﷺاللہ کی طرف سے لے کر آئے ہیں ، جو قطعیت کے ساتھ نبی کریم ﷺسے ثابت ہیں ، ان کی دل سے تصدیق کرنا، اور زبان سے اس کا اقرار کرنا یہ ایمان کہلاتا ہے۔
حوالہ
’’الإيمان في اللغة التصديق بالقلب وفي الاعتقاد بالقلب والإقرار باللسان ۔‘‘
[التعریفات» ج:1،ص:60، ط:دارالکتاب العربی، بیروت]

ارکانِ ایمان»

حضرت علی سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا:

الْإِيمَانُ مَعْرِفَةٌ بِالْقَلْبِ،  وَإِقْرَارٌ بِاللِّسَانِ، وَعَمَلٌ بِالْأَرْكَانِ.

ترجمہ:

ایمان، (بدیہی طور پر ثابت نبوی باتوں پر) (1)دل کے یقین کرنے، (2)اور زبان سے اقرار کرنے، (3)اور اعضاء سے عمل کرنے کا نام ہے۔

[سنن ابن ماجہ:65، المعجم الأوسط-للطبراني:6254-8580، شعب الایمان-للبيهقي:16]

﴿تفسير الثعلبي:244-1609.سورۃ البقرۃ:3﴾

﴿تفسیر الدر المنثور-للسيوطي:7/583.سورة الحجرات:14﴾



************************



ایمان کی اصطلاحی معنیٰ:
ایمان کی ایک معنیٰ شریعتِ محمدی ﷺ کے آتے ہیں ۔ چناچہ آیت کریمہ :۔
الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هادُوا وَالصَّابِئُونَ
[سورہ المائدة:69]
اور جو لوگ مسلمان ہیں یا یہودی یا عیسائی یا ستارہ پرست۔
لہٰذا ایمان کے ساتھ ہر وہ شخص متصف ہوسکتا ہے جو توحید کا اقرار کرکے شریعت محمدی ﷺ میں داخل ہوجائے۔

اور بعض نے آیت:
{ وَمَا يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ }
[سورة يوسف 106]
اور ان میں سے اکثر اللہ پر ایمان نہیں رکھتے مگر ( اس کے ساتھ ) شرک کرتے ہیں.

کو بھی اسی معنیٰ پر محمول کیا ہے۔
[المفردات في غريب القرآن: ص91-452-681]




ایمان کی اصل-بنیاد»
حکمِ رسول﴿محمد﴾ ﷺ کو ماننا۔

حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا:

«لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى يَكُونَ هَوَاهُ تَبَعًا لِمَا جِئْتُ بِهِ» 
ترجمہ:
نہیں مومن ہوسکتا تم میں کوئی ایک بھی جب تک کہ اسکی خواہش اس ﴿دین/حکم﴾ کے تابع (پیچھے چلنے والی) نہ ہوجائے جو میں لایا ہوں۔
تخریج:

حکم:
حديث حسن صحيح
[الكبائر للذهبي:468، الأربعين النووية:41، معارج القبول-للحكمي:422/2-426/2، عمدة التفسير-أحمد شاكر:1/533]
رجاله ثقات


القرآن:
تمہارے پروردگار کی قسم یہ لوگ جب تک اپنے تنازعات میں تمہیں منصف نہ بنائیں اور جو فیصلہ تم کردو اس سے اپنے دل میں تنگ نہ ہوں بلکہ اس کو خوشی سے مان لیں تب تک مومن نہیں ہوں گے۔
[سورۃ نمبر 4 النساء، آیت نمبر 65]

القرآن:
اور جب اللہ اور اس کا رسول کسی بات کا حتمی فیصلہ کردیں تو نہ کسی مومن مرد کے لیے یہ گنجائش ہے نہ کسی مومن عورت کے لیے کہ ان کو اپنے معاملے میں کوئی اختیار باقی رہے۔ اور جس کسی نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی، وہ کھلی گمراہی میں پڑگیا۔

[سورۃ نمبر 33 الأحزاب، آیت نمبر 36]



فوائدِ حدیث:

فائدہ نمبر ۱: عقل یا عادت کو شریعت پر مقدم کرنے سے اجتناب
متن:

تحذير الإنسان من أن يحكم العقل أو العادة مقدماً إياها على ما جاء به الرسول ﷺ، وجه ذلك: نفي الإيمان عنه.
ترجمہ:
اس حدیث میں انسان کو اس بات سے ڈرایا گیا ہے کہ وہ اپنی عقل یا اپنی عادت کو اس چیز پر مقدم (ترجیح) دے جو رسول اللہ ﷺ لے کر آئے ہیں، اور اس (ترجیح دینے) کی وجہ یہ ہے کہ اس سے اس کا ایمان (کمال) نفی ہو جاتا ہے۔

اعتراض اور اس کا جواب:
اگر کوئی کہے: تم نے اس حدیث کو ایمان کے کمال کے نفی پر کیوں محمول کیا ہے (جبکہ ظاہر میں یہ اصل ایمان کی نفی کرتی ہے)؟

جواب:
ہم نے اسے کمال کے نفی پر محمول کیا ہے کیونکہ یہ (بات) ہر مسئلے میں (حرف بہ حرف) صادق نہیں آتی، کیونکہ ایک شخص کا ہوی (خواہش) اکثر دینی مسائل میں رسول اللہ ﷺ کی لائی ہوئی شریعت کا تابع (پیروکار) ہو سکتا ہے، مگر بعض مسائل میں اس کا ہوی تابع نہیں ہوتا۔
پس (ایسی صورت میں) اسے کمال کے نفی پر محمول کیا جائے گا۔

اور اگر اس کا ہوی پورے دین میں رسول اللہ ﷺ کی لائی ہوئی چیز کا تابع نہ ہو، تو وہ (اس وقت) مرتد ہو گا (اور اس کا اصل ایمان ہی ختم ہو جائے گا)۔

فائدہ نمبر ۲: پہلے استدلال، پھر حکم کا اصول
متن:
أنه يجب على الإنسان أن يستدل أولاً ثم يحكم ثانياً، لا أن يحكم ثم يستدل.
ترجمہ:
یہ کہ انسان پر لازم ہے کہ پہلے (دلیل سے) استدلال کرے، پھر (اس کے مطابق) حکم لگائے، نہ کہ پہلے حکم لگائے اور پھر استدلال کرے۔

وضاحت:
اس کا مطلب ہے کہ اگر تم عقائد یا اعمال (جوارح) میں کوئی حکم ثابت کرنا چاہو تو پہلے دلیل (قرآن و سنت) دیکھو، پھر اس کے مطابق حکم لگاؤ۔
البتہ اگر تم پہلے حکم لگاؤ اور پھر (اس کی تائید میں) دلیل ڈھونڈو، تو اس کا مطلب ہے کہ تم نے "متبوع" (جس کی پیروی کی جائے) کو "تابع" (پیروکار) بنا دیا، اور تم نے اپنی عقل کو اصل اور کتاب و سنت کو فرع (ذیلی) بنا لیا۔

اور اسی وجہ سے تم بعض علماء کو دیکھو گے (اللہ ان پر رحم کرے) جو اپنے مذاہب سے وابستہ ہیں، وہ دلائل کو اپنے مذہب کا تابع بنا لیتے ہیں، پھر وہ نصوص (قرآنی آیات اور احادیث) کی گردنوں کو اس طرح موڑنے کی کوشش کرتے ہیں کہ وہ ان کے مذہب کے تقاضے کے مطابق ہو جائیں – اور یہ ایک مکروہ اور بعید (دور از کار) انداز میں ہوتا ہے۔
یہ ان مصیبتوں میں سے ہے جن میں بعض علماء مبتلا ہو گئے ہیں۔
اور واجب یہ ہے کہ تمہارا ہوی (خواہش) اس چیز کا تابع ہو جو رسول اللہ ﷺ لے کر آئے ہیں۔

فائدہ نمبر ۳: خواہش کی دو اقسام (محمود اور مذموم)
متن:
تقسيم الهوى إلى محمود ومذموم، والأصل عند الإطلاق المذموم.
ترجمہ:
اس حدیث سے ہوی (خواہش نفس) کی دو قسموں کا پتہ چلتا ہے: محمود (قابلِ تعریف) اور مذموم (قابلِ مذمت)۔
اور (ہوی کے لفظ کے) مطلق (بغیر قید کے) استعمال پر اصل یہ ہے کہ وہ مذموم ہی ہے، جیسا کہ قرآن و سنت میں وارد ہوا ہے۔
پس جب بھی اللہ تعالیٰ نے (کتاب و سنت میں) "اتباعِ ہوی" کا ذکر کیا، تو وہ مذمت کے انداز میں ہے۔

البتہ اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ہوی دو حصوں میں منقسم ہے:

محمود (قابلِ تعریف): وہ جو رسول اللہ ﷺ کی لائی ہوئی شریعت کا تابع ہو۔

مذموم (قابلِ مذمت): وہ جو اس کے خلاف ہو۔

اور جب (ہوی کا لفظ) بغیر کسی قید کے استعمال ہو، تو اسے مذموم پر محمول کیا جائے گا۔
اور اسی وجہ سے (اس کے مقابل) "ہدایت" کا لفظ آتا ہے، اور اس کا مقابلہ "ہوی" ہے۔

فائدہ نمبر ۴: شریعت کا ہر معاملے میں حاکم ہونا واجب ہے
متن:
وجوب تحكيم الشريعة في كل شيء، لقوله: "لِمَا جِئتُ به".
ترجمہ:
شریعت کو ہر معاملے میں حاکم (فیصلہ کن) بنانا واجب ہے،
کیونکہ آپ ﷺ کا فرمان ہے: "لِمَا جِئْتُ بِهِ" (اس چیز کے لیے جو میں لے کر آیا ہوں)۔

وضاحت:
اور نبی کریم ﷺ ہر وہ چیز لے کر آئے ہیں جو مخلوق (انسانوں) کے لیے معاد (آخرت) اور معاش (دنیا) دونوں کی اصلاح کے لیے ضروری ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

{وَنَزَّلْنَا عَلَيْكَ الْكِتَابَ تِبْيَانًا لِكُلِّ شَيْءٍ}
[سورۃ النحل: ۸۹]
(اور ہم نے آپ پر یہ کتاب نازل کی ہے جو ہر چیز کا بیان ہے)

پس کوئی بھی چیز نہیں ہے جس کی لوگوں کو دین یا دنیا کے معاملات میں ضرورت ہو، مگر اسے (نبی ﷺ نے) بیان فرما دیا ہے – اور الحمد للہ –
یا تو وہ واضح بیان ہے جسے ہر شخص جانتا ہے،
یا وہ پوشیدہ (باریک) بیان ہے جسے علم میں پختہ کار (راسخین) جانتے ہیں۔




📜تشریح امام ابن الملکؒ (متوفی 854ھ):
فرمایا: "نہیں مومن ہوسکتا تم میں کوئی ایک بھی"
یعنی کوئی شخص ایمان کا کمال حاصل نہیں کرتا، اور نہ ہی اس (ایمان) کے درجات کو مکمل کر پاتا ہے۔

"جب تک کہ اسکی خواہش ہوجائے پیچھے چلنے والی"
یعنی جب تک اس کا نفس اور اس کی خواہش (میلان) "تبعًا" (یعنی رغبت اور خوشی کے ساتھ منقاد اور پیرو) نہ ہو جائے۔

"اس ﴿دین/حکم﴾ کے جو میں لایا ہوں"
یعنی اس ہدایت اور شرعی احکام کے جو میں لے کر آیا ہوں۔

اور ایک قول (تفسیر) یہ بھی ہے کہ:
اس (حدیث) سے مراد "ایمان کی بنیاد کا نفی" ہے، یعنی وہ (حقیقتاً) اس وقت تک مومن نہیں ہوتا جب تک وہ اپنی خواہش (ہوی) کی مخالفت نہ کرے، اور اسے (اپنی خواہش کو) اس حق کا تابع (پیرو) نہ بنا لے جو میں لے کر آیا ہوں۔ اور یہ (پیروی) عقیدت (یقین) کی بنا پر ہو، جبر اور تلوار کے خوف کی بنا پر نہیں۔






📜شرح عبد الحق الدهلويؒ (متوفی 1052ھ):
 
آپ ﷺ کا فرمان:
"لا يؤمن أحدكم"
یعنی کسی ایک کا بھی ایمان مکمل نہیں ہوتا، اور نہ ہی اسے ایمان کی حقیقت حاصل ہوتی ہے

"حتى يكون هواه تبعًا لما جئت به"
یعنی جب تک اس کا نفسانی میلان اور خواہش، اس (دین) کے تابع (پیرو) نہ ہو جائے جو میں لے کر آیا ہوں – عمل اور اعتقاد دونوں میں۔
پس وہ (مومن) اپنی خواہش کو غالب نہ آئے جب حق کا داعیہ اور خواہش کا داعیہ آپس میں ٹکرائیں۔

اور آپ ﷺ نے یہ نہیں فرمایا: "اس کی خواہش ختم ہو جائے اور معدوم ہو جائے"،
کیونکہ یہ ممکن نہیں ہے اور نہ ہی یہ (ایمان کا) کمال ہے،
بلکہ کمال یہ ہے کہ (خواہش) باقی رہے، مگر حق کے تابع، موافق، تسلیم کرنے والی اور اس پر راضی ہو۔
جیسا کہ اس آیت سے واضح ہے:
{پس آپ کے رب کی قسم! وہ مومن نہیں ہوں گے جب تک کہ آپ کو آپس کے جھگڑوں میں حاکم نہ مان لیں، پھر جو فیصلہ آپ کریں اس سے اپنے دلوں میں کوئی تنگی نہ پائیں اور اسے پورے طور پر تسلیم کر لیں۔}
[سورۃ النساء:65]

اور آپ ﷺ کا فرمان:
"ذاق طعم الإيمان من رضي بالله ربًا، وبالإسلام دينًا، وبمحمد نبيًا"
(اس شخص نے ایمان کا مزہ چکھ لیا جو اللہ کو رب، اسلام کو دین اور محمد ﷺ کو نبی مان کر راضی ہو گیا۔)
[صحیح مسلم: 34، سنن الترمذی: 2623]

اور اگر "تبعية" (پیروی) سے مراد نبی ﷺ کی حقانیت کا اعتقاد لیا جائے،
تو اسے "ایمان کی اصل (بنیاد) کے نفی" پر بھی محمول کیا جا سکتا ہے
(یعنی اس کے بغیر اصل ایمان ہی نہیں ہے)۔






شرح الملا على القاري (متوفی 1014ھ):
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى يَكُونَ هَوَاهُ"
یعنی تم میں سے کوئی بھی اس وقت تک (کامل) مومن نہیں ہوتا جب تک کہ اس کی خواہش (نفسانی میلان) پیرو نہ ہو جائے۔
"هَوَاهُ" سے مراد نفس کا میلان ہے، اسے "ہوی" اس لیے کہا گیا کہ یہ اپنے مالک کو دنیا میں تنگنائیوں اور آخرت میں جہنم کی گہرائی (هاوية) کی طرف لے جاتا ہے، گویا یہ "هوی" (گرنا) سے مشتق ہے۔

"تَبَعًا لِمَا جِئْتُ بِهِ"
یعنی جو کچھ میں لے کر آیا ہوں (شریعت اور احکام) اس کا پیروکار اور اس کی تقلید کرنے والا ہو جائے۔

📝 امکانِ حمل (تفسیر کے دو پہلو)
پہلا احتمال:
اس حدیث کو "ایمان کی اصل (بنیاد) کے نفی" پر محمول کیا جا سکتا ہے، یعنی:
جب تک وہ اپنی خواہش کو اس شریعت کا تابع نہ بنا لے جو میں لے کر آیا ہوں – اور یہ پیروی اعتقاد (دل سے یقین) کی بنا پر ہو، جبر اور تلوار کے خوف (منافقین کی طرح) کی بنا پر نہ ہو – تو اس کا اصل ایمان ہی نہیں ہے۔

دوسرا احتمال (جمہور کا قول):
اس سے مراد "ایمان کے کمال کا نفی" ہے، یعنی:
تم میں سے کسی کا ایمان اس وقت تک مکمل نہیں ہوتا جب تک کہ اس کا نفسانی میلان اور اس کی خواہش (جو اسے پسند ہے) اس شریعت کے احکام کا تابع نہ ہو جائے جو میں لے کر آیا ہوں۔
پس اگر اس کی خواہش شریعت کے موافق ہو تو وہ اس لیے اس پر عمل کرے کہ یہ شریعت ہے، اس لیے نہیں کہ یہ اس کی خواہش ہے۔
اور اگر اس کی خواہش شریعت کے خلاف ہو تو وہ اپنی خواہش کو چھوڑ دے۔
اس وقت وہ کامل مومن ہو گا۔

🌟 عارفین کا قول (روحانی نکتہ)
بعض عارفین (باطنی علم رکھنے والے) نے کہا:
"یہاں تک کہ اس کی خواہش – جو اس کی نفسانی صفات کی اصل ہے، بلکہ وہ باطل معبود ہے جس کی اطاعت کی جاتی ہے اور جس کی پیروی محبوب ہوتی ہے – اس چیز کی پیرو بن جائے جو میں لے کر آیا ہوں (یعنی چمکتی ہوئی سنت اور پاکیزہ شریعت) ،
یہاں تک کہ اس کے مختلف ارادے اور بکھرے ہوئے خیالات، جو نفس کی خواہش اور طبیعت کے میلان سے پیدا ہوتے ہیں، سب ایک ہی ارادے میں جمع ہو جائیں جو اس کے رب کے حکم اور اس کی شریعت کی پیروی سے متعلق ہو – اللہ کی تعظیم اور اس کی مخلوق پر شفقت کی خاطر۔

جیسا کہ شاعر نے کہا:

"میرے دل کی خواہشیں بکھری ہوئی تھیں،
مگر جب آنکھ نے تجھے دیکھا تو سب جمع ہو گئیں۔
اب وہی مجھ سے حسد کرتے ہیں جن سے میں حسد کرتا تھا،
اور میں تمام لوگوں کا سردار بن گیا جب سے تو میرا سردار بنا۔
میں نے لوگوں کے لیے ان کی دنیا اور ان کا دین چھوڑ دیا،
تیری محبت میں مشغول ہو کر، اے میرے دین اور میری دنیا!"

🧠 نفس، عقل اور خواہش کا فلسفہ
پس (کامل مومن) وہ ہے جو:

صرف دین کے حکم کے مطابق جھکتا ہے،

اور صرف شرعی حکم کے مطابق خواہش کرتا ہے۔

یہی نادر کامل مومن ہے، جس سے توحید قبول کی جاتی ہے۔
اور جو اس سے منہ موڑ کر اپنی خواہش کی پیروی کرے اور اپنی مرضی کے مطابق چلے، وہ کافر ہے جو اپنی دنیا اور آخرت دونوں میں خسارے میں ہے۔
اور جو شریعت کی اصولوں کی پیروی کرے مگر فروع (تفصیلات) کو چھوڑ دے تو وہ فاسق ہے۔
اور جو اس کے برعکس کرے (یعنی فروع کو مانے مگر اصولوں کو چھوڑ دے) تو وہ منافق ہے۔

"الهوى" لغت میں "هویه" (اس سے محبت کی) سے مشتق ہے،
اور شرعاً اس کا معنی ہے: نفس کا اس چیز کی طرف میلان جو شریعت کے تقاضے کے خلاف ہو۔
ہاں، اگر خواہش ہدایت کے موافق ہو تو وہ شہد پر مکھن کی طرح، نور پر نور اور سرور پر سرور ہے۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

{وَمَنْ أَضَلُّ مِمَّنَ اتَّبَعَ هَوَاهُ بِغَيْرِ هُدًى مِنَ اللَّهِ}
[سورۃ القصص:50]
(اور اس سے بڑھ کر کون گمراہ ہے جو اللہ کی ہدایت کے بغیر اپنی خواہش کی پیروی کرے؟)

❓ اعتراض اور اس کا جواب
اعتراض:
رسول ﷺ جو لے کر آئے وہ نور اور روشنی ہے، اور خواہش نفس میں ایک تاریکی ہے جو مٹی کی طبیعت سے پیدا ہوتی ہے۔
پس یہ تاریک خواہش نورانی دین کی پیرو کیسے بن سکتی ہے؟

جواب:
نفس (نفس انسانی) جسم میں ایک لطیف (باریک) چیز ہے جو روح اور بدن کے امتزاج اور اتصال سے وجود میں آتی ہے۔

روح لطیف اور روحانی ہے،

جسم گہرا اور تاریک ہے،

اور نفس ان دونوں کے درمیان ایک متوسط چیز ہے، جو روحانی لطافت اور جسمانی کثافت دونوں کو قبول کرتی ہے۔

یہی وہ "تسویہ" (اعتدال) ہے جس کا اللہ تعالیٰ نے ذکر کیا:

{وَنَفْسٍ وَمَا سَوَّاهَا}
[سورۃ الشمس: ۷]
(اور قسم ہے نفس کی اور اس (اللہ) کی جس نے اسے درست کیا)

اس اعتدال کی وجہ سے نفس خیر و شر، فجور اور تقویٰ دونوں کو قبول کرنے والا ہے:

اگر تقویٰ کا پہلو غالب آئے تو نفس صفائی اور دین کی طرف رجوع کرتا ہے،

اور اگر فجور کا پہلو غالب آئے تو خواہش کا تابع بن کر ہلاکت کی راہوں پر چل پڑتا ہے۔

شاعر نے کہا:

"خواری کا نون (حرف) خواہش سے چرایا گیا ہے،
پس ہر خواہش کا شکار ذلت کا شکار ہے۔"

راغب اصفہانی نے کہا:
نفس کا بدن میں ہونا اس مجاہد کی مانند ہے جو ایک سرحد (محاذ) پر بھیجا گیا ہو تاکہ اس کی حالتوں کا خیال رکھے،

اس کی عقل اس کے مالک (اللہ) کی نائب ہے، جو اسے ہدایت دینے اور اس کے حق میں یا اس کے خلاف گواہی دینے کے لیے اس کے ساتھ ہے،

اس کا بدن اس کی سواری ہے،

اس کی خواہش اور شہوتیں ایک شریر سائیس (جانوروں کو ہانکنے والا) ہیں جو اس کی سواری کو غائب کرنے کے لیے اس کے ساتھ ہے،

قرآن اس کتاب کی مانند ہے جو اس کے مالک کی طرف سے آئی ہے، جس میں ہر چیز کی وضاحت، ہدایت اور رحمت ہے،

اور نبیﷺ وہ رسول ہیں جو اس کتاب کو لے کر آئے تاکہ لوگوں کے لیے وہ کچھ واضح کریں جو ان کی طرف نازل کیا گیا ہے۔

پس اگر وہ اپنے دشمنوں سے جہاد کرے، ان پر غالب آئے، عقل سے مدد لے اور اسے مسلط کرے، تو جب وہ اپنے رب کے حضور واپس جائے گا تو اس کی تعریف کی جائے گی اور وہ کامیاب لوگوں میں سے ہوگا۔
اور جس نے اپنی سرحد کو ضائع کیا، اپنی رعیت (نفس) کو نظر انداز کیا، اپنی سواری کی دیکھ بھال میں مشغول رہا، اور سواری کے سائیس (خواہش) کو اپنے رب کے خلیفہ (عقل) کی جگہ بٹھایا، تو وہ آخرت میں خسارہ پانے والوں میں سے ہوگا۔

📚 حدیث کا ماخذ اور درجہ
"رَوَاهُ" یعنی امام بغویؒ نے اپنی کتاب "شرح السنۃ" میں اپنی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
اور امام نوویؒ نے اپنی کتاب "الأربعون" (چالیس احادیث) میں کہا:
"یہ حدیث صحیح ہے، ہم نے اسے کتاب 'الحجة' میں صحیح سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔"
(کتاب "الحجة" ابو القاسم اسماعیل بن محمد بن الفضل الاصفہانی التیمی کی تصنیف ہے، جو اتباعِ محجہ (سیدھے راستے کی پیروی) پر مشتمل ہے۔)






Wednesday, 24 July 2024

بائیکاٹ-قطع تعلق کے معنیٰ، مقاصد، اقسام اور دلائل

 بائیکاٹ(boycott) کے معنیٰ:

مقاطعہ کرنا۔ مواصلات ترک کرنا ۔ تَعلُقات توڑ دینا ۔ ملنا جلنا ترک کرنا۔

بائیکاٹ(boycott) کے مقاصد:
(1)ظالم کی قوت توڑنا۔ (2)برائی سے باز رہنے کیلئے پریشر ڈالنا۔

بائیکاٹ(boycott) کے اقسام:
(1)معاشی (2)معاشرتی۔

یہ بات واضح رہے کہ موجودہ زمانے میں کسی بھی قوم و ملت کی سیاسی اور عسکری برتری  کی بنیاد معاشی ترقی اور معاشی برتری پر ہے، جب تک معاشی طور پر کوئی قوم مضبوط اور مختار نہ ہو اس وقت تک  وہ سیاسی اور عسکری طور پر کمزور ہوتی ہے، یہ بات ایک تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ موجودہ زمانے میں اگر کسی قوم کو کمزور کرنا ہو تو سب سے پہلے ان کی معیشت کو کمزور کیا جائے اور موجودہ زمانے میں اس کا مؤثر طریقہ کار ان کی مصنوعات کا بائیکاٹ کرنا ہے جس سے (1)ان کی معیشت پر خاطر خواہ اثر پڑتا ہے (2)اور مظلوم کے ساتھ یک جہتی اور ہمدردی کا ایک ذریعہ بھی ہے۔ مسلمانوں نے اس طریقہ کار  کو  ماضی قریب میں بھی اپنایا جب انگریزوں نے خلافتِ عثمانیہ کے خاتمے کے لیے ان کے خلاف جنگ کا آغاز کیا تو غیر منقسم ہندوستان کے مسلمانوں نے انگریزوں کے خلاف تحریکِ خلافت اور ترکِ موالات کی تحریک  چلائی، اسی طرح خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کفارِ قریش کے زور کو توڑنے کےلیے ان کے تجارتی قافلوں کے راستے جس پر شام سے مکہ اور مکہ سے شام تجارتی قافلوں کی آمد و رفت ہوتی تھی کو غیر محفوظ بنایا جس کے نتیجے میں غزوہ بدر  پیش آیا۔
[حوالہ»سورۃ الانفال:7، صحیح بخاری:3950+3951، صحیح مسلم:4915، سنن ابوداؤد:2618]
[صحیح مسلم:1935(4999)، سنن ابوداؤد:3840]



اسی طرح جب آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے بنونضیر کا محاصرہ کیا اور ان کے قلعے فتح نہیں ہورہے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے ان کے درختوں کے جلانے حکم دیا۔ اسی طرح جب حضرت ثمامہ بن اثال رضی اللہ عنہ، جو نجد کے سردار تھے اور کفار قریش کو گندم فروخت کیا کرتے تھے، نے اسلام قبول کیا تو انہوں نے کفارِ قریش پر گندم فروخت کرنا بند کردیا تھا۔
[حوالہ»سورۃ الحشر:5، صحیح بخاری:4372+4589، صحیح مسلم:1764(4589)، السنن الکبریٰ للبیھقی:12835+18030]

اسی طرح جب صلحِ حدیبیہ کے موقع پر آپ صلی اللہ علیہ و سلم  نے حضرت ابوجندل رضی اللہ عنہ کو اور  صلحِ حدیبیہ کے بعد حضرت ابوبصیر رضی اللہ عنہ کو واپس کیا جو کفارِ مکہ کی قید سے بھاگ کر آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس پہنچے تھے تو انہوں نے مکہ سے شام جانے والے ایک راستے پر اقامت اختیار کی اور اس راستے سے کفار مکہ کا جو بھی تجارتی قافلہ گزرتا اس پر حملہ کردیتے جس سے کفار کی  قافلوں کی آمد و رفت بند ہوگئی۔
[حوالہ»صحیح بخاری:2731-2733+4182، سنن ابوداؤد:2765، السنن الکبریٰ للبیھقی:18833، المعجم الاوسط للطبرانی:15]

مذکورہ واقعات  اس بات کا بین ثبوت ہیں کہ کفار کی ان تجارتی اداروں اور مصنوعات کا بائیکاٹ کرنا جو مسلمانوں کے خلاف  جنگ میں اپنے وسائل کا استعمال کرتے ہیں  کوئی نئی بات نہیں ہے بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے زمانے سے یہ طریقہ چلا آرہا ہے اور ایمانی حمیت بھی اسی کا متقاضی ہے۔

تفصیلی حوالا جات:

بخاری شریف میں ہے:

"أنه لما كاتب رسول الله صلى الله عليه وسلم سهيل بن عمرو يوم الحديبية على قضية المدة، وكان فيما اشترط سهيل بن عمرو أنه قال: لا يأتيك منا أحد وإن كان على دينك إلا رددته إلينا، وخليت بيننا وبينه. وأبى سهيل أن يقاضي رسول الله صلى الله عليه وسلم ألا على ذلك، فكره المؤمنون ذلك وامعضوا، فتكلموا فيه، فلما أبى سهيل أن يقاضي رسول الله صلى الله عليه وسلم ألا على ذلك، كاتبه رسول الله صلى الله عليه وسلم، فرد رسول صلى الله عليه وسلم أبا جندل بن سهيل يومئذ إلى أبيه سهيل ابن عمرو، ولم يأت رسول الله صلى الله عليه وسلم أحد من الرجال إلا رده في تلك المدة، وإن كان مسلما."

(کتاب المغازي، باب:غزوۃ الحدیبیة، ج:4، ص:1532، ط:دار ابن کثیر دمشق)

وفیه أیضا:

"بعث النبي صلى الله عليه وسلم خيلا قبل نجد، فجاءت برجل من بني حنيفة يقال له ثمامة بن أثال، فربطوه بسارية من سواري المسجد، فخرج إليه النبي صلى الله عليه وسلم فقال: (ما عندك يا ثمامة). فقال: عندي خير يا محمد، إن تقتلني تقتل ذا دم، وإن تنعم تنعم على شاكر، وإن كنت تريد المال، فسل منه ما شئت. فترك حتى كان الغد، فقال: (ما عندك يا ثمامة). فقال: ما قلت لك، إن تنعم تنعم على شاكر فتركه حتى كان بعد الغد  فقال: ما عندك يا ثمامة فقال: عندي ما قلت لك فقال: (أطلقوا ثمامة). فانطلق إلى نخل قريب من المسجد، فاغتسل ثم دخل المسجد، فقال: أشهد أن لا إله إلا الله، وأشهد أن محمدا رسول الله، يا محمد، والله ما كان على الأرض وجه أبغض إلي من وجهك، فقد أصبح وجهك أحب الوجوه إلي، والله ما كان من دين أبغض إلي من دينك، فأصبح دينك أحب دين إلي، والله ما كان من بلد أبغض إلي من بلدك، فأصبح بلدك أحب البلاد إلي، وإن خيلك أخذتني، وأنا أريد العمرة، فماذا ترى؟ فبشره رسول الله صلى الله عليه وسلم وإمرة أن يعتمر، فلما قدم مكة قال له قائل: صبوت، قال: لا، ولكن أسلمت مع محمد رسول الله صلى الله عليه وسلم، ولا والله، لا يأتيكم من اليمامة حبة حنطة حتى يأذن فيها النبي صلى الله عليه وسلم."

(کتاب المغازي، باب:وفد بني حنیفة و حدیث ثمامة  ابن أثال، ج:4،ص:1589، ط:دار ابن کثیر دمشق)

السیرۃ الحلبیہ میں ہے:

"يريد عيرا لقريش متوجهة للشام. يقال إن قريشا جمعت جميع أموالها في تلك العير لم يبق بمكة لا قرشي ولا قرشية له مثقال فصاعدا إلا بعث به في تلك العير إلا حويطب بن عبد العزى، يقال إن في تلك العير خمسين ألف دينار أي وألف بعير. وكان فيها أبو سفيان، أي قائدها. وكان معه سبعة وعشرون وقيل تسعة وثلاثون رجلا منهم مخرمة بن نوفل، وعمرو بن العاص، وهي العير التي خرج إليها حين رجعت من الشام. وكان سببا لوقعة بدر الكبرى كما سيأتي."

(باب ذكر مغازيه صلی اللہ علیه و سلم، غزوۃ العشیرۃ، ج:2، ص:175، ط:دار الکتب العلمیة بیروت)

وفیه أیضا:

"ثم إن العير التي خرج صلى الله عليه وسلم في طلبها حتى بلغ العشيرة ووجدها سبقته بأيام لم يزل مترقبا قفولها: أي رجوعها من الشأم، فلما سمع بقفولها من الشام ندب المسلمين» أي دعاهم وقال: «هذه عير قريش فيها أموالهم فاخرجوا إليها لعل الله أن ينفلكموها، فانتدب ناس» ، أي أجابوا «وثقل آخرون أي لم يجيبوا لظنهم أن رسول الله صلى الله عليه وسلم لم يلق حربا، ولم يحتفل لها رسول الله صلى الله عليه وسلم أي لم يهتم بها، بل قال «من كان ظهره» : أي ما يركبه «حاضرا فليركب معنا» ولم ينتظر من كان ظهره غائبا عنه."

(باب ذكر مغازیه صلی اللہ علیه و سلم، باب غزوۃ بدر الکبری، ج:2، ص:197، ط: دارالکتب العلمیۃ بیروت)

وفیه أیضا:

"وأمر رسول الله صلى الله عليه وسلم بقطع النخل، أي وبحرقها بعد أن حاصرهم ست ليال وقيل خمسة عشر يوما: أي وقيل عشرين ليلة، وقيل ثلاثا وعشرين ليلة، وقيل خمسا وعشرين ليلة. وكان سعد بن عبادة رضي الله تعالى عنه في تلك المدة يحمل التمر للمسلمين: أي يجاء به من عنده. قال: واستعمل رسول الله صلى الله عليه وسلم على قطع النخل أبا ليلى المازني وعبد الله بن سلام. وكان أبو ليلى يقطع العجوة وعبد الله يقطع اللين."

(باب مغازیه صلی اللہ علیه و سلم، غزوۃ بني النضیر، ج:2، ص:359، ط:دارالکتب العلمیة بیروت)

نورالیقین فی سیرۃ سید المرسلین میں ہے:

"وقد تمكن أبو بصير عتبة بن أسيد الثقفي رضي الله عنه من الفرار إلى رسول الله، فأرسلت  قريش في أثره رجلين يطلبان تسليمه، فأمره عليه الصلاة والسلام بالرجوع معهما، فقال يا رسول الله: أتردّني إلى الكفّار يفتنونني في ديني بعد أن خلصني الله منهم؟! فقال: إن الله جاعل لك ولإخوانك فرجا، فلم يجد بدّا من اتّباعه، فرجع مع صاحبيه، ولمّا قارب ذا الحليفة عدا على أحدهما فقتله، وهرب منه الاخر، فرجع إلى المدينة وقال: يا رسول الله وفت ذمتك أما أنا فنجوت، فقال له اذهب حيث شئت ولا تقم بالمدينة، فذهب إلى محل بطريق الشام تمرّ به تجارة قريش، فأقام به، واجتمع معه جمع ممن كانوا مسلمين بمكّة ونجوا، وسار إليه أبو جندل بن سهيل، واجتمع إليه جمع من الأعراب، وقطعوا الطريق على تجارة قريش حتى قطعوا عنهم الأمداد."

(السنة السادسة، صلح الحدیبیة، ص:172، ط:دارالفیحاء دمشق)

فقط واللہ اعلم


Saturday, 20 July 2024

تحفہ(عطیہ، ھدیہ، ھِبہ) لینے دینے کے آداب

 

ھدیہ دینے والے کے آداب»

(1)اخلاص سے ہدیہ دینا۔

محبت بڑھانے کا نسخہ

حضرت ابوھریرہ ؓ ﴿عائشہ ؓ﴾ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا:

تهادوا تحابوا ﴿وتذهب الشحناء﴾ إن الهدية تذهب وحر الصدر

ترجمہ:

آپس میں ایک دوسرے کو ہدیہ دیا کرو، اس سے آپس میں محبت ﴿زیادہ﴾ ہوگی۔ ﴿اور عداوت ختم ہوگی﴾۔ کیونکہ ہدیہ دل کا کینہ و عداوت ختم کرتا ہے۔
[الصحيحة:2306،  الإرواء الغليل:1601]

[مسند احمد:9239، الادب المفرد-للبخاري:594، سنن الترمذي:2130، مسند الطيالسى:2333، مسند ابويعلي:6148، شعب الإيمان-للبیھقي:8976، السنن الکبریٰ للبیھقی:11946+11947]

﴿موطا مالک:694، مشكاة المصابيح:4693﴾

﴿جامع الاحاديث-للسيوطي:11015+11016﴾

Friday, 12 July 2024

دین کیا ہے؟ اور دیندار کون؟


القرآن:

لہذا اگر یہ توبہ کرلیں، اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں تو یہ تمہارے دینی بھائی بن جائیں گے۔ اور ہم احکام کی یہ تفصیل ان لوگوں کے لیے بیان کر رہے ہیں جو جاننا چاہیں۔

[سورۃ نمبر 9 التوبة،آیت نمبر 11]



دین کے معانی

دین کے مختلف معانی ہیں:

(1) طاعت یعنی اپنے اختیار سے فرمانبرادی ہے، قرآن میں ہے :۔ 

إِنَّ الدِّينَ عِنْدَ اللَّهِ الْإِسْلامُ
بےشک دین تو اللہ کے نزدیک اسلام ہے۔
[سورۃ آل عمران:19]

(2) جزا یعنی بدلہ، ایک جگہ قرآن مجید میں ہے:
مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ
بدلہ والے دن کا مالک ہے۔
[سورۃ الفاتحہ:4]

(3) شریعت یا طریقت یعنی زندگی گذارنے کا اصول و ضابطہ، قرآن میں ہے:-
شَرَعَ لَكُمْ مِنَ الدِّينِ۔۔۔
اس(اللہ)نے تمہارے لیے دین کا رستہ مقرر کیا۔
[سورۃ الشوریٰ:13]

لفظ شریعت کا مادہ ش۔ر۔ع ہے اور اس کا لغوی معنی ہے وہ سیدھا راستہ جو واضح ہو۔

[امام راغب اصفهانی، مفردات القرآن : 259]


Wednesday, 10 July 2024

بھوک (الجوع) کے فضائل


بھوک کی آزمائش کس کیلئے اور کیوں؟

القرآن:

اور دیکھو ہم تمہیں آزمائیں گے ضرور، (کبھی) خوف سے اور (کبھی) بھوک سے (کبھی) مال و جان اور پھلوں میں کمی کر کے اور جو لوگ (ایسے حالات میں) صبر سے کام لیں ان کو خوشخبری سنا دو۔

[سورۃ نمبر 2 البقرة، آیت نمبر 155]


حضرت ابوھریرہ‌ؓ سے روایت ہے کہ: رسول اللہ ﷺ بھوک کی وجہ سے اپنے پیٹ پر پتھر باندھ لیا کرتے تھے۔

[الصحيحة:1615(3539)، المعجم ابن الأعرابي:21]

Tuesday, 9 July 2024

پل صراط کا بیان

القرآن:

اور تم میں سے کوئی نہیں ہے جس کا اس پر گزر نہ ہو۔ اس بات کا تمہارے پروردگار نے حتمی طور پر ذمہ لے رکھا ہے۔

[سورۃ نمبر 19 مريم، آیت نمبر 71]


«يَرِدُ النَّاسُ النَّارَ ثمَّ يصدون مِنْهَا بِأَعْمَالِهِمْ فَأَوَّلُهُمْ كَلَمْحِ الْبَرْقِ ثُمَّ كَالرِّيحِ ثُمَّ كَحُضْرِ الْفَرَسِ ثُمَّ كَالرَّاكِبِ فِي رَحْلِهِ ثُمَّ كَشَدِّ الرَّجُلِ ثُمَّ كَمَشْيِهِ»

تمام لوگ آگ (پل صراط) پر وارد ہوں گے، پھر وہ اپنے اعمال کے مطابق وہاں سے پار ہوں گے، ان میں سے سب سے پہلے بجلی چمکنے کی مانند گزر جائیں گے، پھر ہوا کی مانند، پھر تیز رفتار گھوڑے کی مانند، پھر سواری پر سوار کی مانند، پھر دوڑنے والے آدمی کی مانند اور پھر پیدل چلنے والے کی مانند (اس پل سے گزریں گے جو کہ جہنم پر نصب ہو گا)۔

[سنن الترمذي:3159، احمد:4141، الحاكم:8741، الدارمي:2810، الصحیحہ:311]

موسوعة التفسير المأثور:47014،سورۃ مریم:71




Thursday, 4 July 2024

خودکشی کرنے والے"مسلمان"کیلئے دعائے بخشش کرنے، کافر نہ ہونے اور نماز جنازہ پڑھنے کا امکان

 امام احمد کہتے ہیں کہ:

*خودکشی کرنے والے کی نمازِ جنازہ امام(راہنما-حاکم) نہ پڑھائے، لیکن غیر امام(عوام) پڑھیں گے۔*

[سنن الترمذی:1068]

حوالہ

آپ ﷺ نے فرمایا:

۔۔۔رہا میں تو میں اس کی نماز (جنازہ) نہیں پڑھوں گا۔*

[سنن النسائی:1966، سنن ابوداؤد: 3185]


تاکہ اس سے دوسروں کو نصیحت ہو۔

[سنن ابن ماجہ:1526]


۔۔۔اور اہلِ توحید(مسلمان) میں سے ہر مرحوم کی نمازِ جنازہ ادا کرنا، اگرچہ اس نے خودکشی کی ہو۔

[سنن دارقطنی: حدیث#1745]


القرآن:

بیشک اللہ اس بات کو معاف نہیں کرتا کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرایا جائے، اور اس سے کمتر ہر بات کو جس کے لیے چاہتا ہے معاف کردیتا ہے۔۔۔

[سورۃ نمبر 4 النساء، آیت نمبر 48]

تفسیر:

یعنی شرک سے کم کسی گناہ کو اللہ تعالیٰ جب چاہے توبہ کے بغیر بھی محض اپنے فضل سے معاف کرسکتا ہے ؛ لیکن شرک کی معافی اس کے بغیر ممکن نہیں کہ مشرک اپنے شرک سے سچی توبہ کرکے موت سے پہلے پہلے اسلام قبول کرکے توحید پر ایمان لے آئے۔

🔰🔰🔰🔰🔰🔰🔰🔰🔰