Sunday, 17 March 2013

فتویٰ کے معنی، تاریخ، ضرورت، شرائط، آداب واحکام

فتویٰ کے معنیٰ کسی سوال کا جواب دینا ہے۔ سوال پوچھنے والے کو مُستفتی اور سوال کا جواب دینے والے کو مُفتی کہتے ہیں۔

فتویٰ کا قرآن مجید سے ثبوت:
القرآن:
لوگ (اے پیغمبر!) تم سے (یتیم) عورتوں کے بارے میں فتویٰ طلب کرتے ہیں۔ کہہ دو کہ اللہ تم کو فتویٰ (حکم) دیتا ہے ان کے (ساتھ نکاح کرنے کے) معاملے میں اور جو حکم اس کتاب میں پہلے دیا گیا ہے وہ ان یتیم عورتوں کے بارے میں ہے جن کو تم ان کا حق تو دیتے نہیں اور خواہش رکھتے ہو کہ ان کے ساتھ نکاح کرلو اور (نیز) بیچارے بیکس بچوں کے بارے میں۔ اور یہ (بھی حکم دیتا ہے) کہ یتیموں کے بارے میں انصاف پر قائم رہو۔ اور جو بھلائی تم کرو گے خدا اس کو جانتا ہے.
[سورۃ النساء:127]

اور اللہ تعالیٰ کا اس (منصبِ فتویٰ) کو اپنے ذمے لینا اس کی شرافت اور جلالت کے لیے کافی ہے۔
[إعلام الموقعين:1/36، 4/174، 196]



فتویٰ کی لغوی تعریف:
بيان الحكم (فیصلے کا بیان)
[مختار الصحاح(٤٩١)، المصباح المنير(٤٦٢)]



فتویٰ لغت میں اسمِ مصدر ’اِفْتَاءَ‘ کے معنیٰ میں ہے اور اس کی جمع ’فَتَاوَیٰ‘ اور ’فتاوِی‘ ہے۔ ’اَفْتَیْتَهُ فَتْوَیٰ وَ فُتْیاً‘ یعنی جب تم اسے مسئلے کے بارے میں جواب دو۔ فتویٰ مشکل احکام کو واضح کرنے کا نام ہے، جیسے کہتے ہیں ’تَفَاتَوْا اَلیٰ فَلاَنِ‘ یعنی اس کے پاس معاملہ لے گئے یا اس کے پاس فتویٰ دریافت کرنے کے لیے گئے۔

[ابنِ منظور، لسان العرب، 15: 147، بیروت، دار صادر]
[الازهری، تهذیب اللغة، 14: 234، بیروت، دار احیاء التراث العربی]





ابراہیم مصطفیٰ اپنی لغت کی کتاب المعجم الوسیط میں لکھتے ہیں:

أَفْتَى: فِيْ الْمَسْأَلَةِ أَبَانَ الْحُكْمَ فِيْهَا.

افتاء: یعنی کسی مسئلہ میں اس کا حکم ظاہر کرنا۔

اَلْفَتْوَى: اَلْجَوَابُ عَمَّا يُشْكِلُ مِنَ الْمَسَائِلِ الشَّرْعِيَّةِ أَوِ الْقَانُوْنِيَّةِ.

فتویٰ سے مراد وہ جواب ہے جو کسی مشکل، شرعی یا قانونی مسئلہ میں دیا جاتا ہے۔

[إبراهيم مصطفى، المعجم الوسيط، 2: 673، دار الدعوة]




فتویٰ کی اصطلاحی تعریف:
بيان الحكم الشرعي (شرعی حکم کا بیان)
"اور یہ تعریف اس (ہر) چیز کو شامل ہے جس کی خبر مفتی دیتا ہے، خواہ وہ اس چیز سے ہو جس پر کتاب (قرآن) اور سنت میں صریح نص (واضح حکم) موجود ہو، یا جس پر امت کا اجماع ہو چکا ہو، یا جسے اس نے اپنے اجتہاد کے ذریعے استنباط (اخذ) کیا ہو اور سمجھا ہو۔"
[إعلام الموقعين:1/36، 4/174، 196]

 پیش آمدہ واقعات کے بارے میں دریافت کرنے والے کو دلیل شرعی کے ذریعہ اللہ تعالی کے حکم کے بارے میں خبر دینے کا نام ”فتویٰ“ ہے۔
[الفتوي نشأتھا وتطورھا: 1 /398]


اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید میں ارشاد فرمایا ہے:

يَسْتَفْتُونَكَ قُلِ اللّهُ يُفْتِيكُمْ فِي الْكَلاَلَةِ.

آپ سے فتویٰ پوچھتے ہیں، کہہ دیجئیے کہ اللہ فتویٰ دیتا ہے تمہیں کلالہ کے بارے میں...
[سورۃ النساء: 176]


اور ایک مقام پر فرمایا ہے:

يَسْأَلُونَكَ عَنِ الشَّهْرِ الْحَرَامِ قِتَالٍ فِيهِ.

لوگ آپ سے حرمت والے مہینے میں جنگ کا حکم دریافت کرتے ہیں۔

[سورۃ البقرة: 217]


قرآنِ مجید نے خوابوں کی تعبیر بتانے کو بھی فتویٰ کے حکم میں لیا گیا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

يَا أَيُّهَا الْمَلأُ أَفْتُونِي فِي رُؤْيَايَ إِن كُنتُمْ لِلرُّؤْيَا تَعْبُرُونَ.

اے درباریو! مجھے میرے خواب کا جواب بیان کرو اگر تم خواب کی تعبیر جانتے ہو۔

[سورۃ يُوْسُف: 43]


پس لوگوں کے لیے مفتی(علماء) کا ہونا ضروری ہے جن سے وہ پوچھ سکیں، اور مفتین کا ہونا جن سے وہ فتویٰ مانگ سکیں۔






تاریخِ فتوی:
اس "امت" کے مفتی اعظم پیغمبر محمد ﷺ ہیں۔
القرآن:
لوگ (اے پیغمبر!) تم سے (کلالہ کے بارے میں) حکم (الٰہی) دریافت کرتے ہیں کہہ دو کہ کلالہ بارے میں یہ اللہ حکم دیتا ہے کہ اگر کوئی ایسا مرد مرجائے جس کے اولاد نہ ہو (اور نہ ماں باپ) اور اس کے بہن ہو تو اس کو بھائی کے ترکے میں سے آدھا حصہ ملے گا۔ اور اگر بہن مرجائے اور اس کے اولاد نہ ہو تو اس کے تمام مال کا وارث بھائی ہوگا اور اگر (مرنے والے بھائی کی) دو بہنیں ہوں تو دونوں کو بھائی کے ترکے میں سے دو تہائی۔ اور اگر بھائی اور بہن یعنی مرد اور عورتیں ملے جلے وارث ہوں تو مرد کا حصہ دو عورتوں کے برابر ہے۔ (یہ احکام) خدا تم سے اس لئے بیان فرماتا ہے کہ بھٹکتے نہ پھرو۔ اور خدا ہر چیز سے واقف ہے. 
[سورۃ النساء:176]
اس امت کے مفتی اعظم خود رسول اکرم ﷺ کی ذات بابرکت ہیں، اور آپ وحی کے ذریعہ اللہ تعالی کی طرف سے فتوی دیا کرتے تھے ۔ آپ کے فتاوی (احادیث) کا مجموعہ ، شریعتِ اسلامیہ کا دوسرا ماخذ ہے۔ ہر مسلمان کے لیے اس پر عمل کرنا ضروری ہے ۔ آپ نے فتاوی کے ذریعہ ہر باب میں رہنمائی کی ہے۔ عبادات، معاملات، معاشرت، اخلاقیات و آداب وغیرہ میں آپ کے فتاوی مشعلِ راہ ہیں۔ آپ کے عہدِ زریں میں کوئی دوسرا فتوی دینے والا نہیں تھا؛ البتہ آپ کبھی کبھی کسی صحابی کو کسی دور دراز علاقہ میں مفتی بنا کر بھیجتے تو وہ منصب افتاء و قضا پر فائز ہوتے اور لوگوں کی رہنمائی کرتے، جیسے حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو آپ نے یمن بھیجااور انہیں قرآن و حدیث اور قیاس و اجتہاد کے ذریعہ فتوی دینے کی اجازت مرحمت فرمائی۔
حوالہ
وأول من قام بهذا المنصب الشريف سيد المرسلين وإمام المتقين وخاتم النبيبن عبد الله ورسوله وأمينه على وحيه وسفيره بينه وبين عباده فكان يفتي عن الله بوحيه المبين ۔
[إعلام الموقعين لابن قیم: ج:۱،ص:۱۱،ط: دار الجيل]

آپ کے بعد فتوی کی ذمہ داری کو صحابہٴ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین نے سنبھالا اور احسن طریقے سے انجام دیا۔
علامہ ابن قیم رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین میں فتوی دینے والے صحابہ کرام کی مجموعی تعداد ایک سو تیس سے بھی زائد تھی، جن میں مرد اور عورتیں دونوں شامل تھے، البتہ زیادہ فتوی دینے والے سات حضرات تھے: حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ، حضرت علیؓ، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا، حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ، حضرت زید بن ثابتؓ، حضرت عبد اللہ بن عمرؓ، حضرت عبد اللہ بن عمرؓ۔
حوالہ
والذين حفظت عنهم الفتوى من أصحاب رسول الله ص - مائة ونيف وثلاثون نفسا ما بين رجل وامرأة وكان المكثرون منهم سبعة عمر بن الخطاب وعلي بن أبي طالب وعبد الله بن مسعود وعائشة أم المؤمنين وزيد بن ثابت وعبد الله بن عباس وعبد الله بن عمر۔
[إعلام الموقعين لابن قیم: ج:۱،ص:۱۲،ط: دار الجيل]








فتویٰ کا احادیثِ شریفہ سے ثبوت :
حدیث نمبر 1
غیرعالم کا فتویٰ دینا اور بلادلیل فتویٰ لینا کیسا ہے؟
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
مَنْ تَقَوَّلَ عَلَيَّ مَا لَمْ أَقُلْ، فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ، وَ...
جس شخص نے مجھ پر وہ بات گھڑی جو میں نے نہیں کہی، تو وہ جہنم میں اپنا ٹھکانا بنا لے. اور...

مَنْ أُفْتِيَ بِغَيْرِ عِلْمٍ {غَيْرَ ثَبَتٍ} {يُعَمَّى عنهَا} كَانَ إِثْمُهُ عَلَى مَنْ أَفْتَاهُ، ومَنْ أشارَ على أخيهِ بأمْرٍ يعلَمُ أنَّ الرُّشْدَ في غيرهِ فقدْ خانَهُ۔
ترجمہ:
جس آدمی کو فتویٰ دیا گیا بغیر علم کے {جو (مستند ودرست) ثابت نہیں} {جس کے سے وہ اندھا (بےعلم) رہا} تو اس کا گناہ اس آدمی پر ہوگا جس نے اس کو فتویٰ دیا، اور جس نے اپنے بھائی کو کسی معاملے میں نصیحت کی یہ جانتے ہوئے کہ صحیح عمل کہیں اور ہے اس نے اس کے ساتھ خیانت کی۔"

{غَيْرَ ثَبَتٍ}

"ثبت" کا مطلب ہے مضبوط، مستند، اور قابلِ اعتماد دلیل۔

{يُعَمَّى عنهَاعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ




فائدہ:
دیکھیے اگر تقلید جائز نہ ہوتی اور کسی کے فتوی پر بغیر دلیل پہچانے عمل جائز نہ ہوتا، جو حاصل ہے تقلید کا، تو گنہگار ہونے میں مفتی کی کیا تخصیص تھی، جیساقی کلام سے معلوم ہوتا ہے، بلکہ جس طرح مفتی کو غلط فتوی بتانے کا گناہ ہوتا ہے اسی طرح سائل کو دلیل تحقیق نہ کرنے کا گناہ ہوتا۔ بس جب شارح نے سائل کو باوجود دلیل کی تحقیق نہ کرنے کے گنہگار نہیں ٹھہرایا تو تقلید کا جائز ہونا یقینا ثابت ہوگا۔

حاصل ہونے والے تمام اسباق اور نکات

1۔ فتویٰ دینے کی بنیادی شرط: علم۔
اللہ پاک نے فرمایا:
سو پوچھو اہلِ علم سے اگر تم نہیں جانتے.
[سورۃ النحل:٤٣، الانبیاء:٧]
...اور مت پیچھے چل خواہشوں پر ان کے جو علم نہیں رکھتے۔
[سورۃ الجاثیۃ:18 ، یونس:89]

2. بغیرعلم کے فتویٰ دینے کی ممانعت
بغیر علم کے فتویٰ دینا ایک سنگین جرم اور کبیرہ گناہ ہے۔
اللہ کے دین میں بغیر علم کے بات کرنا حرام ہے، جیسا کہ قرآن میں ہے:
{وَأَنْ تَقُولُوا عَلَى اللَّهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ}
(اور اللہ پر وہ بات کہنا جو تم نہ جانتے ہو)
[سورۃ الأعراف: 33]

3. گناہ کب اور گناہگار کون؟
گناہ صرف مفتي (جواب دینے والے) پر ہے، اگر مفتی باطل فتویٰ دے۔
اگر مستفتی کو بعد میں اصل حکم معلوم ہو جائے اور وہ پھر بھی غلط فتویٰ پر عمل کرے تو گناہ اس پر بھی ہوگا۔

4. فتویٰ دینے میں نااہل کون؟
(ألف) "بِغَيْرِ عِلْمٍ" کا مفہوم اور اس کی اہمیت:
"عِلْمٍ" کا مطلب ہے: معرفت، آگاہی اور یقین کے ہے۔
اسے مسئلے کا اصل حکم معلوم نہ ہو (یعنی وہ جانتا ہی نہ ہو کہ اس مسئلے میں کیا حکم ہے)۔
اسے حکم کا ثابت، صحیح، مضبوط اور ناسخ ہونا معلوم نہ ہو۔
اسے مسئلہ کا حکم یاد نہ ہو۔

(ب) "غَيْرِ ثَبَتٍ" کا مفہوم اور اس کی اہمیت:
"ثبت" کا مطلب ہے مضبوط، مستند، اور قابلِ اعتماد دلیل۔ "غیر ثبت" فتویٰ وہ ہے جو:
کسی مستند دلیل (کتاب، سنت، اجماع، قیاس صحیح) پر مبنی نہ ہو۔
ضعیف یا منسوخ حدیث پر مبنی ہو۔
مفتی بھا (مضبوط) اقوال پر فتویٰ نہ ہو۔

(ج) "يُعَمَّى عَنْهَا" کا مفہوم اور اس کی اہمیت:
"يُعَمَّى" کا مطلب ہے اندھا ہونا، بے خبر ہونا، پردہ پڑ جانا۔
اس کا مطلب ہے کہ مفتی کو اس مسئلے کی حقیقت کا علم نہیں ہے، وہ اس کے دلائل سے ناواقف ہے، اور اس کی شرعی حیثیت اس پر واضح نہیں ہے۔
اس میں وہ مفتی بھی شامل ہے جو کسی مسئلے میں پختہ نہیں ہے اور اس کی گہرائی تک نہیں پہنچا ہے۔

5. بغیر علم کے فتویٰ دینے کے نقصانات
مفتی خود گمراہ ہوتا ہے – کیونکہ وہ بغیر علم کے اللہ پر بات کر رہا ہے۔
وہ دوسروں کو بھی گمراہ کرتا ہے – کیونکہ لوگ اس کے فتویٰ پر عمل کریں گے۔

اس پر دوہرا گناہ ہے:
(۱) بغیر علم کے کہنے کا گناہ۔
(۲) دوسروں کو گمراہ کرنے کا گناہ۔

معاشرے میں علمی زوال اور جہالت کا پھیلاؤ ہوتا ہے۔
دین میں بدعت اور نئے نئے گمراہ کن نظریات پیدا ہوتے ہیں۔

6. چار صورتیں اور ان کا حکم:
(1)اسے مستند اور معروف عالم سے فتویٰ لینا چاہیے۔
(2)اگر وہ عالم سے فتویٰ لے لیکن مسئلہ کے باطل ہونے کا علم نہ ہو، تو اس پر کوئی گناہ نہیں۔
(3)اگر اسے بعد میں اصل حکم معلوم ہو جائے اور وہ پھر بھی غلط فتویٰ پر عمل کرے، تو گناہ اس پر ہوگا۔
(4)اگر عالم کو مسئلہ کا علم صحیح ہے، لیکن مستفتی کو بغیردلیل فتویٰ دے، تو مفتی پر بھی کوئی گناہ نہیں۔

📝 خلاصہ
بغیر علم کے فتویٰ دینا حرام اور کبیرہ گناہ ہے۔
عامی پر فتویٰ لینا واجب ہے، جب اسے کسی مسئلے کا علم نہ ہو۔
فتویٰ مستند عالم سے لینا چاہیے۔
ہر مسلمان پر فوری ضروری عمل کا علم حاصل کرنا اور اس کیلئے اہل علم کی صحبت اختیار کرنا ضروری ہے۔
گناہ کا ذمہ دار مفتي ہے، مستفتی نہیں (جب تک اسے علم نہ ہو)۔
فتویٰ دینا صرف اہلِ علم کے لیے جائز ہے۔

واللہ أعلم بالصواب





📝 مختلف صورتیں اور ان کا حکم:
1۔ پہلی صورت:
کسی غیر مفتی (جاہل شخص) سے یا اپنی خواہش کے مطابق فتویٰ دینے والے مفتی کو کوئی فائدہ دے کر فتویٰ لیا۔

حکم:
یہ حرام ہے۔

گناہ دونوں پر ہے:
دینے والے (مستفتی) پر، کیونکہ اس نے رشوت دی۔
لینے والے (مفتی) پر، کیونکہ اس نے رشوت لی اور بغیر علم کے یا خواہش کے مطابق فتویٰ دیا۔

دلیل:
وَلَا تَشْتَرُوا بِآيَاتِي ثَمَنًا قَلِيلًا
(اور میری آیات کو تھوڑی قیمت کے عوض نہ بیچو)
[سورۃ البقرۃ:41، المائدہ:44]
پس تباہی ہے ان لوگوں کے لیے جو اپنے ہاتھوں سے کتاب لکھتے ہیں، پھر کہتے ہیں کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے، تاکہ اسے تھوڑی قیمت پر بیچ سکیں، پس ان کے لیے تباہی ہے اس سے جو ان کے ہاتھوں نے لکھا اور تباہی ہے اس سے جو وہ کماتے ہیں۔“
[سورۃ البقرۃ:79]
انہوں نے اللہ کی آیات کو تھوڑی قیمت پر بیچ دیا اور اس کی راہ سے روکا، بیشک وہ بہت برا عمل کر رہے تھے۔
[سورۃ التوبہ:9]
”قیمت“ سے مراد محض مال نہیں بلکہ ہر وہ دنیاوی فائدہ ہے (جیسے عزت، منصب، جاہ، لوگوں کی خوشامد، یا تھوڑا سا مال) جو انسان اپنے دینی اصولوں کو قربان کر کے حاصل کرتا ہے۔



2 ۔ دوسری صورت:
فتویٰ مفتی (مستند عالم) سے ہی لیا، اور اپنی خواہش والی بات پر فتویٰ لینے کے لیے مفتی کو کوئی فائدہ (رقم/چیز) نہیں دیا۔

(الف) مفتی نے اپنے علم کی روشنی میں درست فتویٰ دیا (چاہے اس نے دلیل نہ دی ہو):
حکم:
دونوں (مفتی اور مستفتی) اجر کے مستحق ہیں۔
مفتی کو علم کے مطابق فتویٰ دینے کا ثواب ملے گا۔
مستفتی کو فتویٰ پر عمل کرنے کا ثواب ملے گا۔
دلیل:
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
إِذَا حَكَمَ الْحَاكِمُ فَاجْتَهَدَ ثُمَّ أَصَابَ فَلَهُ أَجْرَانِ وَإِذَا حَكَمَ فَاجْتَهَدَ ثُمَّ أَخْطَأَ فَلَهُ أَجْرٌ
ترجمہ:
جب فیصلہ کرنے والا [یعنی حاکم/مجتہد/مفتی/قاضی] کوئی فیصلہ اپنے اجتہاد [یعنی اپنی تحقیقی رائے] سے کرے اور فیصلہ صحیح ہو تو اسے [جدوجہد کرنے اور درستگی پانے کے] دو اجر ملتے ہیں، اور جب کسی فیصلے میں اجتہاد کرے اور غلطی کر جائے تو اسے [جدوجہد کرنے کا] ایک اجر ملتا ہے۔
[صحیح بخاری:7352، صحیح مسلم:1716]

(ب) مفتی نے غلط فتویٰ دیا، یا اسے علم نہ تھا، مگر اس نے فتویٰ دے دیا:
حکم:
گناہ صرف مفتی پر ہوگا۔
مستفتی(سائل) پر کوئی گناہ نہیں، جب تک کہ اسے باطل ہونے کا علم نہ ہو۔
* اگر مستفتی کو بعد میں اصل حکم معلوم ہو جائے اور پھر بھی غلط فتویٰ پر عمل کرے، تو گناہ مستفتی پر بھی ہوگا۔



3۔ تیسری صورت:
مستفتی نے مفتی سے بغیر دلیل پوچھے فتویٰ لیا اور اس پر عمل کر لیا:

حکم:
اگر مفتی مستند عالم ہے، تو مستفتی پر کوئی گناہ نہیں، کیونکہ اس نے ایک عالم سے فتویٰ لیا۔

دلیل: 
للہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
{فَاسْأَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ إِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ}
(اگر تم نہیں جانتے تو اہلِ ذکر سے پوچھ لو)۔
(سورۃ النحل: 43)

تاہم، اگر مستفتی کو شک ہو کہ مفتی صحیح ہے یا نہیں، تو اسے دوسرے عالم سے بھی پوچھ لینا جائز ہے۔
القرآن:
...وَ فَوۡقَ کُلِّ ذِیۡ عِلۡمٍ عَلِیۡمٌ۔
...اور اوپر(موجود) ہے ہر علم والے کے ایک علم والا۔
[سورۃ یوسف:76]



4۔ چوتھی صورت:
اندھی تقلید (جاہل کا جاہل سے سوال کرنا):

حکم:
یہ حرام اور گمراہی ہے۔
دونوں (مستفتی اور غیرعالم مفتی) گناہ گار ہیں، کیونکہ دونوں جاہل ہیں اور انہیں علم نہیں۔

دلیل:
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
...فَأَفْتَوْا بِغَيْرِ عِلْمٍ فَضَلُّوا وَأَضَلُّوا.
...تو وہ بغیرعلم کے فتویٰ دیں گے لہٰذا وہ خود بھی گمراہ ہوں گے اور لوگوں کو بھی گمراہ کریں گے۔
(صحیح بخاری:100)





ربیعہ بن ابو عبدالرحمنؒ(م136ح) نے فرمایا:
.....وَلَبَعْضُ مَنْ يُفْتِي هَا هُنَا ‌أَحَقُّ ‌بِالسَّجْنِ مِنَ السُّرَّاقِ۔
ترجمہ:
.....اور بعض (يعني بغیرعلم) فتویٰ دینے والے ایسے ہیں جو چوروں کی بنسبت جیل کے زیادہ حقدار ہیں۔
[جامع بيان العلم وفضله-امام ابن عبد البرؒ(م463ھ): حدیث نمبر 2410]
[أدب المفتي والمستفتي-امام ابن الصلاح (م643ھ) : ص85]
[أعلام الموقعين عن رب العالمين-امام ابن القيم (م751ھ) : 5/89 - ط عطاءات العلم]





مفتی کون؟
"المُفْتِي: هُوَ المُخْبِرُ بِحُكْمِ اللهِ تَعَالَى لِمَعْرِفَتِهِ بِدَلِيلِهِ. وَقِيلَ: هُوَ المُخْبِرُ عَنِ اللهِ بِحُكْمِهِ. وَقِيلَ: هُوَ المُتَمَكِّنُ مِنْ مَعْرِفَةِ أَحْكَامِ الوَقَائِعِ شَرْعًا بِالدَّلِيلِ مَعَ حِفْظِهِ لِأَكْثَرِ الفِقْهِ".
ترجمہ:
"مفتی وہ ہے جو اللہ تعالیٰ کے حکم کی خبر دیتا ہو، اس کی دلیل کو جاننے کی بنا پر۔ اور (بعض نے) کہا: وہ اللہ کی طرف سے اس کے حکم کی خبر دینے والا ہے۔ اور (بعض نے) کہا: وہ (وہ شخص ہے) جو شرعی طور پر واقعات (نوازل) کے احکام کو دلیل کے ساتھ جاننے پر قادر ہو، اور اس کے ساتھ وہ اکثر فقہ کا حافظ ہو (یعنی اسے زیادہ تر فقہی مسائل یاد ہوں)۔"


فتوی کی شرائط
امام مالکؒ(م179ھ) سے پوچھا گیا: فتویٰ دینا کس کو جائز ہے؟
فرمایا:
«لَا تَجُوزُ الْفَتْوَى إِلَّا لِمَنْ عَلِمَ مَا اخْتَلَفَ النَّاسُ فِيهِ»...«لَا، اخْتِلَافُ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعِلْمُ النَّاسِخِ وَالْمَنْسُوخِ مِنَ الْقُرْآنِ وَمِنْ حَدِيثِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَذَلِكَ يُفْتِي»
ترجمہ:
فتویٰ دینا صرف اس شخص کے لیے جائز ہے جو اس چیز کو جانتا ہو جس میں لوگوں نے اختلاف کیا ہے....مراد (1)صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا اختلاف ہے، (2)اور قرآن کے ناسخ و منسوخ کا علم، (3)اور رسول اللہ ﷺ کی حدیث کا علم ہو، اور اسی طرح (کامل عالم) فتویٰ دیتا ہے۔
وجوہات:
(1)صحابہ کرام نے براہِ راست نبی ﷺ سے علم حاصل کیا تھا۔ (2)ان کا اختلاف اجتہاد پر مبنی تھا، نہ کہ خواہش یا جہالت پر۔ (3)ان کا اختلاف رحمت ہے اور اس میں وسعت(گنجائش) ہے۔
اور
ناسخ و منسوخ کا علم اس لیے ضروری ہے کہ: (1)قرآن و حدیث میں بعض احکام بعد میں تبدیل ہو گئے تھے۔ (2)اگر مفتی کو ناسخ و منسوخ کا علم نہ ہو، تو وہ منسوخ حکم کو فتویٰ دے گا، جو غلط ہوگا۔ مثلاً: شراب کی حرمت کی آیت (المائدہ:90) نے پچھلی آیات(البقرۃ:219، النساء:43، النحل:67) کو منسوخ کر دیا۔


امام شافعیؒ (م204ھ) نے فرمایا:
"کسی شخص کے لیے اللہ کے دین میں فتویٰ دینا جائز نہیں، مگر وہ شخص جو اللہ کی کتاب کا جاننے والا ہو:
(1)اس کے ناسخ اور منسوخ کا، (2)اس کے محکم اور متشابہ کا، (3)اس کے تاویل اور تنزیل کا، (4)اس کے مکی اور مدنی کا، (5)اور اس کا جاننے والا ہو کہ اس (آیت) سے کیا مراد ہے (6)اور کن معاملات میں نازل ہوئی ہے۔
(2)پھر اس کے بعد وہ رسول اللہ ﷺ کی حدیث کا بھی جاننے والا ہو، اور حدیث کے ناسخ و منسوخ کو بھی جانے، اور حدیث سے ویسا ہی علم رکھے جیسا اس نے قرآن سے رکھا ہے۔
(3)اور وہ عربی زبان کا جاننے والا ہو، شعر اور اس چیز کا جاننے والا ہو جس کی سنت اور قرآن کے لیے ضرورت ہوتی ہے،
(4)اور وہ ان تمام چیزوں کو انصاف کے ساتھ استعمال کرے،
(5)اور اس کے بعد وہ مختلف شہروں (امصار) کے اہل علم کے اختلافات سے باخبر ہو،
(6)اور اس کے بعد اس کے پاس (اجتہادی) قریحہ (صلاحیت) ہو۔
پس جب وہ اس طرح ہو تو اس کے لیے حلال و حرام میں بات کرنا اور فتویٰ دینا جائز ہے۔
اور اگر وہ اس طرح نہ ہو تو اس کے لیے فتویٰ دینا جائز نہیں۔"
حوالہ
"لا يَحِلُّ لِأَحَدٍ أَنْ يُفْتِيَ فِي دِينِ اللَّهِ إِلَّا رَجُلًا عَارِفًا بِكِتَابِ اللَّهِ: بِنَاسِخِهِ وَمَنْسُوخِهِ، وَبِمُحْكَمِهِ وَمُتَشَابِهِهِ، وَتَأْوِيلِهِ وَتَنْزِيلِهِ، وَمَكِّيِّهِ وَمَدَنِيِّهِ، وَمَا أُرِيدَ بِهِ، وَفِيمَا أُنْزِلَ، ثُمَّ يَكُونُ بَعْدَ ذَلِكَ بَصِيرًا بِحَدِيثِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَبِالنَّاسِخِ وَالْمَنْسُوخِ، وَيَعْرِفُ مِنَ الْحَدِيثِ مِثْلَ مَا عَرَفَ مِنَ الْقُرْآنِ، وَيَكُونُ بَصِيرًا بِاللُّغَةِ، بَصِيرًا بِالشِّعْرِ وَمَا يُحْتَاجُ إِلَيْهِ لِلسُّنَّةِ وَالْقُرْآنِ، وَيَسْتَعْمِلُ هَذَا مَعَ الْإِنْصَافِ، وَيَكُونُ بَعْدَ هَذَا مُشْرِفًا عَلَى اخْتِلَافِ أَهْلِ الْأَمْصَارِ، وَتَكُونُ لَهُ قَرِيحَةٌ بَعْدَ هَذَا، فَإِذَا كَانَ هَكَذَا فَلَهُ أَنْ يَتَكَلَّمَ وَيُفْتِيَ فِي الْحَلَالِ وَالْحَرَامِ، وَإِذَا لَمْ يَكُنْ هَكَذَا فَلَيْسَ لَهُ أَنْ يُفْتِيَ."







صالح (یعنی احمد بن حنبل کے بیٹے) نے بیان کیا کہ انہوں نے اپنے والد (امام احمد بن حنبل) سے پوچھا:
"آپ اس شخص کے بارے میں کیا فرماتے ہیں جو کسی چیز کے بارے میں پوچھے جانے پر حدیث میں موجود بات کا جواب تو دے دیتا ہے، مگر وہ فتویٰ دینے کا عالم (یعنی اہلِ علم) نہیں ہے؟"
امام احمد بن حنبل(م241ھ) رحمہ اللہ نے جواب دیا:
"جب کوئی شخص خود کو فتویٰ دینے پر مائل کرے (یعنی اس ذمہ داری کو اپنے اوپر لے) تو اس کے لیے ضروری ہے کہ:
❶ وہ سنتوں کا عالم ہو،
❷ قرآن کے مختلف پہلوؤں (وجوہ القرآن) کا عالم ہو،
❸ صحیح اسناد کا عالم ہو۔
اور جو لوگ (ان احکام میں) اختلاف کرتے ہیں، ان کا اختلاف صرف اس وجہ سے ہے کہ ان کی نبی ﷺ سے منقول سنت کے بارے میں معرفت کم ہے، اور صحیح اور سقیم (کمزور) حدیث میں تمیز کا علم کم ہے۔"

حوالہ
صَالِحٌ يَعْنِي ابْنَ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ , أَنَّهُ قَالَ لِأَبِيهِ: مَا تَقُولُ فِي الرَّجُلِ يَسْأَلُ عَنِ الشَّيْءِ فَيُجِيبُ بِمَا فِي الْحَدِيثِ , وَلَيْسَ بِعَالِمٍ بِالْفُتْيَا؟ قَالَ: «يَنْبَغِي لِلرَّجُلِ إِذَا حَمَلَ نَفْسَهُ عَلَى الْفُتْيَا أَنْ يَكُونَ عَالِمًا بِالسُّنَنِ , عَالِمًا بِوُجُوهِ الْقُرْآنِ , عَالِمًا بِالْأَسَانِيدِ الصَّحِيحَةِ , وَإِنَّمَا جَاءَ خِلَافُ مَنْ خَالَفَ لِقِلَّةِ مَعْرِفَتِهِمْ بِمَا جَاءَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي السُّنَّةِ , وَقِلَّةِ مَعْرِفَتِهِمْ بِصَحِيحِهَا مِنْ سَقِيمِهَا»


امام احمد بن حنبلؒ(م241ھ) سے کہا گیا:
”اگر کوئی شخص ایک لاکھ (مِائَةَ أَلْفٍ) احادیث لکھ لے تو کیا اسے فتویٰ دینے کا حق ہے؟“
امام احمد نے فرمایا:
”نہیں۔“
پوچھا گیا: ”تو پھر دو لاکھ (مِائَتَيْ أَلْفٍ)؟“
فرمایا: ”نہیں۔“
پوچھا گیا: ”تو پھر تین لاکھ (ثَلَاثَ مِائَةِ أَلْفٍ)؟“
فرمایا: ”مجھے امید ہے (أَرْجُو)۔“
اور تورات میں لکھا ہے:
”ماہر طبیب (الطَّبِيبُ الْحَاذِقُ) باطنی بیماری (لِلْعِلَّةِ الْبَاطِنَةِ) کے لیے موزوں (يَصْلُحُ) ہوتا ہے۔“
حوالہ
وقيل للإمام أحمد رضي الله عنه إذا كتب الرجل مائة ألف حديث له أن يفتي، قال: لا، قيل: فمائتي ألف حديث قال: لا قيل فثلاثمائة ألف حديث قال أرجو وفي التوراة مكتوب الطبيب الحاذق للعلة الباطنة يصلح.

اس کی وجہ یہ ہے کہ فتویٰ دینے کے لیے درج ذیل امور کا علم ضروری ہے:

ناسخ و منسوخ کا علم (کون سی حدیث کس حدیث کو منسوخ کرتی ہے)
صحیح اور ضعیف حدیث میں تمیز
احادیث کے معانی اور مقاصد کا گہرا فہم
اجتہاد اور استنباط کی صلاحیت
فقہی اصول اور قواعد کا علم
اختلافاتِ صحابہ اور اقوالِ ائمہ سے آگاہی

۲۔ تین لاکھ کے بارے میں ”أَرْجُو“ (مجھے امید ہے) کا مطلب
امام احمد نے تین لاکھ احادیث کے بارے میں ”أَرْجُو“ (مجھے امید ہے) فرمایا، جس کا مطلب ہے کہ اتنی کثیر تعداد میں احادیث کا علم رکھنے والا شخص شاید فتویٰ دینے کے قابل ہو سکتا ہے، مگر یہ کوئی یقینی بات نہیں ہے۔
یہ اس بات کی دلیل ہے کہ فتویٰ دینے کے لیے علمِ حدیث کے ساتھ ساتھ فقہی بصیرت اور اجتہادی صلاحیت بھی ضروری ہے، اور صرف عددی کثرت کافی نہیں ہے۔

۳۔ تورات کا حوالہ (الطَّبِيبُ الْحَاذِقُ لِلْعِلَّةِ الْبَاطِنَةِ يَصْلُحُ)
امام احمد رحمہ اللہ نے تورات کا یہ قول بطورِ تمثیل (مثال) پیش کیا ہے۔ اس کا مطلب ہے:
”جس طرح ایک ماہر طبیب (حاذق ڈاکٹر) باطنی (پیچیدہ) بیماریوں کے علاج کے لیے موزوں ہوتا ہے، اسی طرح ایک فقیہ (مفتی) کو بھی دین کے اسرار و رموز اور باطنی (گہرے) مسائل کا علم ہونا چاہیے تاکہ وہ صحیح فتویٰ دے سکے۔“
یعنی صرف ظاہری علم (احادیث کی تعداد) کافی نہیں، بلکہ باطنی بصیرت، گہرائی اور فہم بھی ضروری ہے۔



ابو یوسف سے روایت ہے کہ ابوحنیفہ نے فرمایا: کسی کے لیے جائز نہیں کہ ہم جو کہتے ہیں اس پر فتویٰ دے جب تک کہ اسے یہ معلوم نہ ہو کہ ہم نے اسے کہاں سے کہا ہے۔
حوالہ
روى عن أبى يوسف، عن أبى حنيفة، أنه قال: لاَ يَحِلُّ لأَحَدٍ أَنْ يُفْتِي بِقَوْلنَا مَا لَمْ يَعْرِفْ مِنْ أَيْنَ قُلْنَاهُ.







اسلاف فقہاء فرماتے:
 کسی شخص کے لیے مناسب نہیں کہ وہ فتویٰ دے جب تک کہ وہ فقہاء کے اختلافات (کے دلائل) کو نہ جان لے – تاکہ وہ ان میں سے اپنے علم کی روشنی میں دین کے لیے زیادہ محتاط (احوط) اور یقین کے اعتبار سے زیادہ مضبوط (اقوى) کو اختیار کر سکے۔“
حوالہ
لا ينبغي للرجل أن يفتي حتى يعرف اختلاف الفقهاء أي فيختار منها على علمه الأحوط للدين والأقوى باليقين

فتویٰ نہ دیں مگر تین افراد:
امیر (حاکم)، یا مأمور (حاکم کا مقرر کردہ نائب)، یا متکلف (جو خود کو اس کام میں ڈالے)۔
اس کی تفصیل یہ ہے کہ "امیر" وہ ہے جو فتویٰ اور احکام کے علم میں گفتگو کرتا ہے، اسی طرح امراء (حاکم) سے سوال کیا جاتا تھا اور وہ فتویٰ دیتے تھے۔
"مأمور" وہ ہے جسے امیر اس کام کا حکم دیتا ہے، پس وہ اسے اپنا قائم مقام بناتا ہے اور رعایا (عوام) کے معاملات میں مصروفیت کی وجہ سے اس سے مدد لیتا ہے۔
اور "متکلف" وہ "قاص" (قصہ گو) ہے جو گزشتہ واقعات اور پچھلی قوموں کے حالات بیان کرتا ہے، کیونکہ اس کی موجودہ حالت میں ضرورت نہیں ہے اور نہ ہی علوم میں اس کی طرف رغبت دلائی گئی ہے، اور اس میں زیادتی، کمی اور اختلاف پایا جاتا ہے، اسی لیے قصص (بیانِ حالات) کو ناپسند کیا گیا، پس قاص (قصہ گو) متکلفین میں سے ہو گیا۔
حوالہ
أَلَا يُفْتِي النَّاسَ إِلَّا ثَلَاثَةٌ: أَمِيرٌ أَوْ مَأْمُورٌ أَوْ مُتَكَلِّفٌ، تَفْصِيلُ ذَلِكَ أَنَّ الْأَمِيرَ هُوَ الَّذِي يَتَكَلَّمُ فِي عِلْمِ الْفُتْيَا وَالْأَحْكَامِ كَذَلِكَ كَانَ الْأُمَرَاءُ يُسْأَلُونَ وَيُفْتُونَ وَالْمَأْمُورُ الَّذِي يَأْمُرُهُ الْأَمِيرُ بِذَلِكَ فَيُقِيمُهُ مَقَامَهُ وَيَسْتَعِينُ بِهِ لِشُغْلِهِ بِالرَّعِيَّةِ وَالْمُتَكَلِّفُ هُوَ الْقَاصُّ الَّذِي يَتَكَلَّمُ فِي الْقَصَصِ السَّالِفَةِ وَيَقُصُّ أَخْبَارَ مَنْ مَضَى لِأَنَّ ذَلِكَ لَا يُحْتَاجُ إِلَيْهِ فِي الْحَالِ وَلَمْ يُنْدَبْ إِلَيْهِ مِنَ الْعُلُومِ وَقَدْ تَدْخُلُهُ الزِّيَادَةُ وَالنُّقْصَانُ وَالِاخْتِلَافُ، فَلِذَلِكَ كُرِهَ الْقَصَصُ فَصَارَ الْقَاصُّ مِنَ الْمُتَكَلِّفِينَ. 





مفتی اور مجتہد کے لیے درج ذیل شرائط بیان کرتی ہے:
ایمان اور کردار کی شرائط:
مکلف مسلم ہو (یعنی بالغ، عاقل اور مسلمان)۔
ثقہ اور مامون ہو (قابلِ اعتماد اور امانت دار)۔
فسق اور مروت کو نقصان پہنچانے والے امور سے پاک ہو۔
اگر کوئی شخص ان صفات سے متصف نہ ہو تو اس کا فتویٰ قابلِ اعتماد نہیں، چاہے وہ مجتہد ہی کیوں نہ ہو۔
علمی اور ذہنی صلاحیت کی شرائط:
فقیہ النفس ہو – یعنی اس کے اندر فقہی بصیرت اور سمجھ ہو۔
سلیم الذہن ہو – یعنی اس کی عقل اور ذہانت صحیح اور صاف ہو۔
رصین الفکر ہو – یعنی اس کی فکر پختہ، مضبوط اور مدبرانہ ہو۔
صحیح التصرف والاستنباط ہو – یعنی وہ دلائل سے صحیح نتائج نکالنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔
مستيقظًا ہو – یعنی وہ ہوشیار، چوکنا اور بیدار ذہن ہو۔










شرح مظهر الدين الزَّيْدَانيُّ (متوفی 727ھ) : 

قوله: "من أفتى بغير علم"
"أفتى" – ماضی مجہول ہے (فعل ماضی مبنی للمجهول) "الإفتاء" سے،
اور اس کا معنی ہے: کسی کو شرعی احکام میں سے کسی حکم کا حکم دینا،
اور اس کے سوال کرنے کے بعد اسے جواب دینا۔

یعنی: ہر جاہل شخص نے کسی عالم سے کسی مسئلے کے بارے میں پوچھا،
تو اس عالم نے اسے باطل جواب دیا،
اور سائل کو معلوم نہ تھا کہ یہ جواب باطل ہے،
پس سائل نے اس مسئلے پر عمل کیا –
تو سائل پر کوئی گناہ نہیں ہے؛
کیونکہ اسے معلوم نہ تھا کہ یہ جواب باطل ہے،
اور گناہ تو صرف جواب دینے والے (مجیب) پر ہے۔

قوله: "ومن أشار على أخيه"
یعنی: جس نے کسی (دوسرے) سے کسی معاملے میں مشورہ کیا،
اور اس سے پوچھا: "میں یہ کام کیسے کروں؟ کیا اس میں کوئی مصلحت ہے یا نہیں؟"
تو مشورہ دینے والے نے اس سے کہا: "مصلحت اس میں ہے کہ تم یہ کرو" –
حالانکہ وہ جانتا تھا کہ اصل مصلحت اس کے نہ کرنے میں ہے –
تو اس نے اس کے ساتھ خیانت کی؛
کیونکہ اس نے اسے ایسی چیز کی طرف رہنمائی کی جس میں اس کی مصلحت نہ تھی۔
البتہ اگر مشورہ دینے والے کو معلوم نہ تھا کہ اس کی مصلحت اس کے برعکس میں ہے،
بلکہ اس نے گمان کیا کہ مصلحت اسی میں ہے جس کا وہ حکم دے رہا ہے،
پھر بعد میں یہ ظاہر ہوا کہ اس کے حکم میں کوئی مصلحت نہ تھی –
تو اس پر کوئی گناہ نہیں ہے،
بلکہ وہ اس شخص کی مانند ہے جس نے اجتہاد میں خطا کی۔
جس طرح مجتہد اگر خطا کرے تو اس پر کوئی گناہ نہیں،
اسی طرح مشورہ دینے والے پر بھی کوئی گناہ نہیں اگر وہ اپنی بات میں خطا کر جائے۔






شرح ابن المَلَك (متوفی 854ھ) :

"مَن أُفتي"
"الإفتاء" کے صیغۂ مجہول (مبنی للمجهول) پر ہے۔

"بغير علم"
یعنی: ہر جاہل شخص نے شریعت کے احکام میں سے کسی مسئلے کے بارے میں کسی عالم سے سوال کیا، تو اس عالم نے اسے باطل جواب (فتویٰ) دے دیا، اور سائل نے اس (باطل فتویٰ) پر عمل کر لیا حالانکہ اسے اس کے باطل ہونے کا علم نہ تھا۔

"كان إثمه على من أفتاه، ومن أشار على أخيه"
یعنی: اس (باطل فتویٰ) کا گناہ اس شخص پر ہوگا جس نے فتویٰ دیا، اور جس شخص نے مشورہ طلب کرنے کے بعد اپنے (مسلمان) بھائی کو کسی ایسے معاملے میں مشورہ دیا جسے وہ جانتا ہے – (یہاں "علم" سے مراد ظن (گمان) اور اس کے علاوہ بھی ہے، یعنی یہ وسیع تر ہے)۔

"أن الرُّشدَ والمصلحةَ في غيره فقد خانَه"
کہ بھلائی (الرُّشد) اور مصلحت اس کے علاوہ (دوسری چیز) میں ہے، تو اس نے اس کے ساتھ خیانت کی؛
کیونکہ اس نے اسے ایسی چیز کی طرف رہنمائی کی جس میں اس کی کوئی مصلحت نہیں تھی۔






شرح عبد الحق الدهلوي (متوفی 1052ھ) : 

قوله: (من أَفتَى)
"أفتى" کے بارے میں "القاموس" میں ہے:
"أفتاه في الأمر" یعنی اس کے لیے اس (حکم) کو واضح کیا،
اور "الفتيا" اور "الفُتوى" (اور اس کا فتحہ کے ساتھ پڑھنا بھی جائز ہے) وہ چیز ہے جسے فقیہ نے فتویٰ کے طور پر دیا ہو۔

اور طیبی نے اس حدیث کے معنی میں نقل کیا ہے کہ دوسرا "أفتى" (یعنی جملہ "من أفتى" میں) "استفتى" (فتویٰ طلب کرنا) کے معنی میں ہے،
یعنی اس (باطل فتویٰ) کا گناہ اس شخص پر ہوگا جس نے فتویٰ طلب کیا،
کیونکہ اس نے (خود کو) بغیر علم کے فتویٰ دینے کے مقام میں ڈال دیا۔
اور یہ جائز ہے کہ پہلا "أفتى" (یعنی "من أفتي") مجهول (مبنی للمجهول) ہو،
یعنی گناہ مفتي (جواب دینے والے) پر ہے، نہ کہ مستفتي (سوال کرنے والے) پر۔

پہلی صورت (یعنی "أفتى" کو "استفتى" کے معنی میں لینے) میں دو باتیں ہیں:
پہلی: "أفتى" کو "استفتى" پر حمل کرنا، حالانکہ یہ (استعمال) لغت کی کتابوں میں موجود نہیں ہے۔
دوسری: اسے اس (معنی) پر حمل کرنا ضروری ہے کہ اس نے علماء کے موجود ہونے کے باوجود جاہلوں کے پاس جا کر فتویٰ طلب کیا،
ورنہ (اگر ایسا نہ ہو) تو گناہ اس (مستفتي) پر کیسے ہوگا؟
حالانکہ خیانت (دھوکہ) تو مفتي (جواب دینے والے) کی طرف سے ہوئی ہے،
کیونکہ اس نے بغیر علم کے فتویٰ دیا – جیسا کہ پوشیدہ نہیں ہے۔

وقوله: (من أشار على أخيه بأمر)
"القاموس" میں ہے:
"أشار عليه بكذا" یعنی اسے اس (چیز) کا حکم دیا،
یعنی جس نے کسی سے کسی معاملے میں مشورہ کیا اور اس سے پوچھا: "میں کیسے کروں؟"
تو مشورہ دینے والے نے اسے کسی کام کا مشورہ دیا،
حالانکہ وہ جانتا تھا کہ مصلحت اس کے علاوہ (دوسری چیز) میں ہے –
تو اس نے اس کے ساتھ خیانت کی (کیونکہ اس نے اسے ایسی چیز کی طرف رہنمائی کی جس میں اس کی مصلحت نہ تھی)۔







شرح الملا  القاري (متوفی 1014ھ) :

"مَنْ أُفْتِيَ" – "أُفْتِيَ" صیغۂ مجہول (مبنی للمجهول) ہے، اور بعض کے نزدیک یہ معلوم (مبنی للمعلوم) بھی ہے۔
"بِغَيْرِ عِلْمٍ" – یعنی بغیر علم کے (فتویٰ دیا گیا)۔
"كَانَ إِثْمُهُ عَلَى مَنْ أَفْتَاهُ" – اس کا گناہ اس پر ہوگا جس نے فتویٰ دیا۔

اشرف (شارح) نے کہا: اور زین العرب نے ان کی پیروی کی ہے کہ یہ جائز ہے کہ دوسرا "أَفْتَى" (یعنی جس نے فتویٰ دیا) "استَفْتَى" (فتویٰ طلب کیا) کے معنی میں ہو،
اور پہلا "أُفْتِيَ" معلوم (مبنی للمعلوم) ہو،
یعنی اس کا گناہ اس پر ہوگا جس نے اس سے فتویٰ طلب کیا،
کیونکہ اس نے (خود کو) بغیر علم کے فتویٰ دینے کے مقام میں ڈال دیا۔
اور یہ جائز ہے کہ یہ مجہول (مبنی للمجهول) ہو، یعنی اس کے فتویٰ دینے کا گناہ اس پر ہوگا جس نے فتویٰ دیا، یعنی گناہ مفتي پر ہے نہ کہ مستفتي(فتوی پوچھنے والے) پر۔

اور ظاہر (اور صحیح) دوسری صورت ہے – اور یہی نسخوں میں زیادہ صحیح ہے۔

یعنی: ہر جاہل شخص نے کسی عالم سے کسی مسئلے کے بارے میں سوال کیا، تو عالم نے اسے باطل جواب دے دیا، اور سائل نے اس (باطل جواب) پر عمل کر لیا، اور اسے اس کے باطل ہونے کا علم نہ تھا –
پس اس کا گناہ مفتي (جواب دینے والے) پر ہے اگر اس نے اپنے اجتہاد میں کوتاہی کی ہو۔

"وَمَنْ أَشَارَ عَلَى أَخِيهِ بِأَمْرٍ"
طیبی نے کہا: جب "أشار" کو "على" کے ساتھ متعدی کیا جائے تو یہ "مشورہ" کے معنی میں ہوتا ہے،
یعنی اس نے اس سے مشورہ کیا اور اس سے پوچھا: "میں یہ کام کیسے کروں؟"
اور "القاموس" میں ہے: "أشار عليه بكذا" یعنی اسے اس کا حکم دیا،
اور "استشار" یعنی اس نے مشورہ طلب کیا۔
پس ظاہر یہ ہے جو بعض شارحین نے کہا ہے کہ
معنی یہ ہے: جس نے اپنے بھائی کو مشورہ دیا – حالانکہ وہ (بھائی) مشورہ طلب کر رہا تھا –
اور اس (مشورہ دینے والے) نے اس (مشورہ طلب کرنے والے) کو کسی معاملے کا حکم دیا
"يَعْلَمُ" – اور "علم" سے مراد وہ چیز ہے جس میں "ظن" (گمان) بھی شامل ہے۔
"أَنَّ الرُّشْدَ" – یعنی مصلحت
"فِي غَيْرِهِ" – یعنی اس کے علاوہ جس کا اس نے مشورہ دیا۔
"فَقَدْ خَانَهُ" – یعنی مشورہ دینے والے نے مشورہ طلب کرنے والے کے ساتھ خیانت کی،
کیونکہ یہ وارد ہے کہ

"المُسْتَشَارُ مُؤْتَمَنٌ" (مشورہ دینے والا امانت دار ہوتا ہے) اور
"مَنْ غَشَّنَا فَلَيْسَ مِنَّا" (جس نے ہمیں دھوکہ دیا وہ ہم میں سے نہیں)۔

یہ حدیث ابو داود نے روایت کی ہے۔





شرح المناوي (متوفی 1031ھ) :

"(من أفتى بغير علم)"
ایک روایت میں "أفتى" (صیغۂ مجہول) کے ساتھ آیا ہے، اور اسی پر کمال ابن ابی شریف سمیت جماعت نے اکتفا کیا ہے۔ اور حاکم کی روایت کے الفاظ ہیں: "من أفتى الناس بغير علم" (جس نے لوگوں کو بغیر علم کے فتویٰ دیا)۔

"(كان إثمه على من أفتاه)" (اس کا گناہ اس پر ہوگا جس نے اسے فتویٰ دیا)۔

اشرفی (شارح) نے کہا: "أفتى الناس" کے "استفتى" (فتویٰ طلب کیا) کے معنی میں ہونے کی گنجائش ہے، یعنی گناہ اس پر ہوگا جس نے فتویٰ طلب کیا، کیونکہ اس نے (خود کو) بغیر علم کے فتویٰ دینے کے مقام میں ڈال دیا۔

اور یہ گنجائش ہے کہ پہلا (أفتى) مجہول ہو، یعنی اس کا (باطل فتویٰ پانے کا) گناہ اس پر ہوگا جس نے اسے فتویٰ دیا، یعنی گناہ مفتي پر ہے نہ کہ مستفتي (سوال کرنے والے) پر۔

اور "بغير علم" (بغیر علم کے) کے قید سے وہ صورت خارج ہو گئی جہاں کوئی شخص جو اجتہاد کا اہل ہو، اجتہاد کرے اور خطا کر جائے – تو اس پر کوئی گناہ نہیں، بلکہ اسے اجتہاد کا ثواب ملے گا۔

"(ومن أشار على أخيه بأمر يعلم أن الرشد في غيره فقد خانه)" (اور جس نے اپنے بھائی کو کسی معاملے میں مشورہ دیا، جبکہ وہ جانتا تھا کہ بھلائی اس کے علاوہ کسی اور چیز میں ہے، تو اس نے اس کے ساتھ خیانت کی)۔

طیبی نے کہا: جب "أشار" کو "على" کے ساتھ متعدی کیا جائے تو یہ "مشورہ" کے معنی میں ہوتا ہے، یعنی اس نے اس سے مشورہ کیا اور اس سے پوچھا: "میں یہ کام کیسے کروں؟"۔







شرح الصنعاني (متوفی 1182ھ) :

"(من أفتى)"
فاعل کے صیغے (مبنی للمعلوم) پر، اور ایک روایت میں مفعول کے صیغے (مبنی للمجهول) پر ہے۔

"(بغير علم)"
بلکہ جہالت اور بے وقوفی (تخازي) کی بنا پر۔

"(كان إثمه)"
یعنی اس کا گناہ – "المفتى" (جسے فتویٰ دیا گیا) کا گناہ، کیونکہ وہ اس (باطل فتویٰ) پر عمل کرے گا جو اس نے سن ہے، پس وہ گناہ گار ہوگا، مگر اس کا گناہ
"(على من أفتاه)"
اس پر ہوگا جس نے اسے فتویٰ دیا۔

پس جاہل مفتي پر دو گناہ ہوں گے:
بغیر علم کے کہنے کا گناہ،
اور مستفتي (سوال کرنے والے) کے عمل کا گناہ۔

اور پہلی روایت (جس میں "من أفتى" فاعل کے صیغے پر ہے) کے مطابق ضمیر "إثمه" "المستفتي" (سوال کرنے والے) کی طرف لوٹتی ہے، جیسا کہ سیاق (قرینہ) اس پر دلالت کرتا ہے۔
اور دوسری روایت (جس میں "من أفتى" مفعول کے صیغے پر ہے) کا مطلب ظاہر ہے۔

"(ومن أشار على أخيه بأمر يعلم أن الرشد في غيره فقد خانه)"
کیونکہ مشورہ دینے والا امانت دار ہوتا ہے،
پس اگر اس نے ایسی چیز کا مشورہ دیا جو وہ اپنے لیے پسند نہیں کرتا،
تو اس نے اس (مشیر) کے ساتھ خیانت کی جس نے اسے اپنا امین بنایا۔







شرح خليل أحمد السهارنفوري (متوفی 1346ھ) :

(من أُفتي) صیغۂ مجہول کے ساتھ (بغير علم) یعنی جس کو کسی جاہل شخص نے بغیر علم کے فتویٰ دیا (كان إثمه على من أفتاه) یعنی اگر اس (سائل) نے اس جاہل کے فتویٰ پر عمل کر لیا تو گناہ اس عامی (سائل) پر نہیں ہوگا جس نے اس شخص سے فتویٰ طلب کیا جو عالم کی صورت میں تھا (یعنی جاہل تھا مگر عالم نظر آتا تھا)، بلکہ اس کا گناہ مفتي (جواب دینے والے) پر ہوگا۔

(زاد سليمان المهري في حديثه: ومن أشار على أخيه بأمر يعلم أن الرشد في غيره فقد خانه)
یعنی جس نے اپنے بھائی کو کسی معاملے میں مشورہ دیا، حالانکہ وہ جانتا ہے کہ بھلائی اس کے علاوہ کسی اور چیز میں ہے، تو اس نے اس کے ساتھ خیانت کی۔ مثال کے طور پر: ایک شخص نے دوسرے شخص سے مشورہ کیا، تو اس نے اسے ایسے کام کا مشورہ دیا جو بھلائی کے خلاف تھا، پس اس نے اس کے ساتھ خیانت کی؛ کیونکہ وہ مشورہ دینے میں امانت دار تھا، پس جب اس نے اسے ایسے کام کا مشورہ دیا جس کے بارے میں وہ جانتا تھا کہ بھلائی اس کے علاوہ ہے، تو اس نے امانت میں خیانت کی۔ اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے: "المستشار مؤتمن" (مشورہ دینے والا امانت دار ہے) – اور یہ سلیمان (المہری) کے الفاظ ہیں، اور انہوں نے حسن بن علی کے الفاظ کا ذکر نہیں کیا۔








مفتی سے *سوال کرنے کا مقصد* اپنی نفسانی خواہش کے بجائے علمِ شریعت پر عمل کرنا ہے۔ کیونکہ خلافِ شریعت خواہش کی پیروی ہی گمراہ کرتی ہے۔
[حوالہ»سورۃ الجاثیہ:23]






(1)غیرعالم کا فتویٰ "دینا" کیسا ہے؟
جو بغیرعلم فتویٰ دے یعنی کوئی غیرعالم-غیرمفتی فتویٰ دے تو وہ گناہگار ہوگا۔
القرآن:
اور مت چل خواہشوں پر ان کے جو علم نہیں رکھتے.
[سورۃ الجاثیۃ:18 ، یونس:89]


(2)بلادلیل فتویٰ لینا کیسا ہے؟
اور جب بغیرعلم ودلیل فتویٰ لینا جائز ہے گناہ نہیں، تو جب مفتی عالم ہو (علم رکھتا ہو) لیکن علمی تفصیل کے بتائے بغیر صرف مسئلہ کا حل وحکم بتلادے تو وہ مفتی بھی گناہگار نہیں۔
القرآن:
پس تم سوال پوچھو علم والوں سے، اگر تم نہیں علم رکھتے۔
[سورۃ النحل:43، الانبیاء:7]




(3)علم کیا ہے؟ بغیرعلم فتویٰ کیا ہے؟

حافظ ابن عبدالبرؒ (م463ھ) امام اوزاعیؒ (م157ھ) سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے اپنے شاگرد بقیہ بن الولید(م197ھ) سے فرمایا:
يَا بَقِيَّةُ، الْعِلْمُ مَا جَاءَ عَنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا لَمْ يَجِئْ عَنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَيْسَ بِعِلْمٍ
ترجمہ:
اے بقیہ! علم تو وہی ہے جو رسول اللہ ﷺ کے اصحابِ کرام سے منقول (Transmitted) ہو اور جو ان سے منقول نہیں وہ علم نہیں۔

[جامع بیان العلم:1067+1420+1421، فتح الباري شرح صحيح البخاري:ج13 ص291، سلسلة الآثار الصحيحة:322]




(4)اندھی تقلید کیا ہے؟
اندھی تقلید اس کو کہتے ہیں کہ اندھا اندھے کے پیچھے چلے، تو لازماً دونوں کسی کھائی میں گرجائیں، گے اگر اندھا کسی آنکھوں والے کے پیچھے چلے تو آنکھ والا اپنی آنکھ کی برکت سے اپنے آپ کو بھی اور اس اندھے کو بھی ہر کھائی سے بچاکر لیجائے گا اور منزل تک پہنچادے گا۔

اور اللہ پاک نے علم والے اور بے علم والے کی مثال بینا اور نابینا فرمائی ہے

[دلائلِ قرآن، سورۃ البقرۃ:170، المائدۃ:104]

حضرات ائمہ مجتہدین رحمہم اللہ معاذ اللہ اندھے نہیں ہیں، عارف اور بصیر ہیں، البتہ اندھی تقلید کا شکار وہ لوگ ہیں جو خود بھی اندھے ہیں اور ان کے پیشوا بھی اجتہاد کی آنکھ سے محروم ہیں۔

نبی صلی الله علیہ وسلم نے (بعد کے) ایک ایسے زمانہ کی خبر دی، جس میں علماء مفقود ہوجائیں گے، اور جاہل قسم کے لوگ فتویٰ دینے شروع کردیں گے، یہاں سوال یہ ہے کہ اس دور میں احکامِ شریعت پر عمل کرنے کی سواۓ اس کے اور کیا صورت ہو سکتی ہے کہ وہ لوگ گزرے ہوے (علم و عمل میں معتبر) علماء کی تقلید کریں، کیونکہ جب زندہ لوگوں میں کوئی عالم نہیں بچا تو کوئی شخص براہِ راست قرآن و سنّت سے احکام مستنبط کرنے کا اہل رہا، اور نہ ہی کسی (معتبر) زندہ عالم کی طرف رجوع کرنا اس کی قدرت میں ہے، کیونکہ کوئی عالم موجود ہی نہیں، لہذا احکامِ شریعت پر عمل کرنے کی اس کے سوا کوئی صورت نہیں رہتی کہ جو علماء وفات پاچکے ہیں اس کی تصانیف وغیرہ کے ذریعہ ان کی تقلید کی جاۓ.
لہذا یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ جب تک علماءِ اہلِ اجتہاد موجود ہوں اس وقت ان سے مسائل معلوم کے جائیں، اور ان کے فتووں پر عمل کیا جاۓ، اور جب کوئی علم باقی نہ رہے تو نااہل لوگوں کو مجتہد سمجھہ کر  ان کے فتووں پر عمل کرنے کی بجاۓ گزشتہ علماء میں سے کسی کی تقلید کی جاۓ۔


حدیث نمبر 2
امت کی راہنمائی قیامت تک کون کرے گا؟
علماء کے بجائے جاہلوں سے فتویٰ لینے کی پیشگوئی:
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مَالِكٌ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِنَّ اللَّهَ لَا يَقْبِضُ الْعِلْمَ انْتِزَاعًا يَنْتَزِعُهُ مِنَ الْعِبَادِ ، وَلَكِنْ يَقْبِضُ الْعِلْمَ بِقَبْضِ الْعُلَمَاءِ ، حَتَّى إِذَا لَمْ يُبْقِ عَالِمًا اتَّخَذَ النَّاسُ رُءُوسًا جُهَّالًا ، فَسُئِلُوا فَأَفْتَوْا بِغَيْرِ عِلْمٍ فَضَلُّوا وَأَضَلُّوا".
ترجمہ:
حضرت عبداللہ ابن عمروؓ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ علم کو (آخری زمانہ میں) اس طرح نہیں اٹھالے گا کہ لوگوں (کے دل و دماغ) سے اسے نکال لے بلکہ علم کو اس طرح اٹھاے گا کہ علماء کو (اس دنیا سے) اٹھالے گا یہاں تک کہ جب کوئی عالم باقی نہیں رہے گا تو لوگ جاہلوں کو پیشوا بنالیں گے ان سے مسئلے پوچھے جائیں گے تو وہ بغیر علم کے فتویٰ دیں گے لہٰذا وہ خود بھی گمراہ ہوں گے اور لوگوں کو بھی گمراہ کریں گے۔"
[صحیح بخاری: حدیث نمبر 100 - علم کا بیان : علم کس طرح اٹھا لیا جائے گا]


یہ اندھی تقلید ہے، اللہ تعالیٰ ہمیں پیغمبرِ معصوم ﷺ اور مجتہدِ ماجور رحمہم اللہ کی تحقیق پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائیں اور فتنوں سے محفوظ فرمائیں۔ آمین






شرح ابن بطالؒ (ت 449 هـ) :
یعنی اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کو علم عطا کرتا ہے، پھر اپنے فضل و کرم کے بعد اسے (یکایک) واپس نہیں لیتا۔
اور اللہ تعالیٰ اس سے پاک و بالا ہے کہ وہ اپنے بندوں کو جو علم عطا کرے (جو اس کی معرفت، اس پر ایمان، اور اس کے رسولوں پر ایمان کا ذریعہ ہے) اسے (پھر) واپس لے لے۔
بلکہ علم کا قبض (اٹھ جانا) دراصل "تعلیم کو ضائع کرنے" (یعنی اس پر عمل نہ کرنے، اسے ترک کر دینے، اور اسے سیکھنے سے روک دینے) کی وجہ سے ہوتا ہے۔
چنانچہ پھر باقی رہ جانے والوں (اگلی نسلوں) میں کوئی ایسا شخص نہیں ملتا جو گزرے ہوئے (علماء و سلف) کا جانشین (خلیفہ) ہو سکے۔
اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام بھلائی کے اٹھ جانے (قبض) سے (پہلے ہی) ڈرا دیا تھا، اور آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) خواہشِ نفس سے بات نہیں کرتے۔






شرح النوويؒ (متوفی 676ھ):

"یہ حدیث اس بات کو واضح کرتی ہے کہ پچھلی (مطلق) احادیث میں "قبضِ علم" (علم کے اٹھا لینے) سے مراد یہ نہیں کہ اسے حافظوں (علماء) کے سینوں سے مٹا دیا جائے،

بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس (علم) کے حامل (علماء) مر جائیں گے، اور لوگ جاہل لوگوں کو (اپنا) سردار بنا لیں گے جو اپنی جہالت کے ساتھ فیصلے کریں گے، پس وہ خود گمراہ ہوں گے اور دوسروں کو بھی گمراہ کریں گے۔"

اور آپ ﷺ کا قول: "اتَّخَذَ النَّاسُ رُؤُوسًا جُهَّالًا"
(لوگوں نے جاہل سردار بنا لیے)

ہم نے اسے صحیح بخاری کی روایت میں "رُؤُوسًا" (ضم ہمزہ اور تنوین کے ساتھ) پڑھا ہے، جو "رأس" (سر) کی جمع ہے۔

اور صحیح مسلم کی روایت میں علماء نے اسے دو طریقوں سے ضبط کیا ہے:

(۱) پہلا: یہی "رُؤُوسًا" (جیسے بخاری میں ہے)۔

(۲) دوسرا: "رُؤَسَاءَ" (مد کے ساتھ)، جو "رئیس" (سردار / لیڈر) کی جمع ہے۔

اور یہ دونوں (طریقے / قرأتیں) درست ہیں، البتہ پہلا (رؤوسًا) زیادہ مشہور ہے۔

اور اس (حدیث) میں جاہل لوگوں کو سردار بنانے سے ڈرایا (تحذیر) گیا ہے۔

امام نووی رحمہ اللہ (سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کے بارے میں قول کی تشریح کرتے ہوئے) فرماتے ہیں:

آپ ﷺ کا یہ قول (کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کے بارے میں کہا):
"مَا أَحْسِبُهُ إِلَّا قَدْ صَدَقَ، أَرَاهُ لَمْ يَزِدْ فِيهِ شَيْئًا وَلَمْ يَنْقُصْ"
(میں اسے سچا ہی سمجھتی ہوں، میرا خیال ہے کہ اس نے اس میں کوئی اضافہ نہیں کیا اور نہ ہی کوئی کمی کی)۔

اس کا مطلب یہ نہیں کہ انہوں نے (سیدہ عائشہ نے) ان (حضرت عبداللہ بن عمرو) پر (جھوٹ کا) الزام لگایا تھا،

بلکہ انہیں (سیدہ عائشہ کو) خوف تھا کہ کہیں ان (عبداللہ بن عمرو) پر یہ حدیث مشتبہ نہ ہو گئی ہو، یا انہوں نے اسے حکمت (سابقہ صحائف / کتبِ آسمانیہ) کی کتابوں میں سے پڑھ لیا ہو اور پھر اسے نبی ﷺ سے سمجھ بیٹھے ہوں۔

پس جب انہوں نے (عبداللہ بن عمرو) نے اس (حدیث) کو دوسری بار (یا مواقع پر) دہرایا اور اس پر ثابت قدم رہے، تو سیدہ عائشہ کا غلبۂ ظن (راجح گمان) ہو گیا کہ انہوں نے یہ نبی ﷺ سے سنا ہے۔

اور سیدہ عائشہ کا قول "أَرَاهُ" (میرا خیال ہے) – ہمزہ (أ) فتحہ کے ساتھ پڑھا جاتا ہے۔

(امام نووی کے حاصل کردہ اسباق و نکات)

اور اس حدیث میں درج ذیل امور کی تحریک (ترغیب) ہے:

علم کی حفاظت (حفظ العلم) کرنے کی۔

اسے اہلِ علم سے حاصل کرنے کی (أخذہ عن أهله)۔

اور عالم کا دوسرے عالم کے لیے فضیلت کا اعتراف کرنے کی (اعتراف العالم للعالم بالفضيلة)۔








شرح مظهر الدين الزَّيْدَانيُّ (متوفی 727ھ) : 

یعنی اللہ تعالیٰ علم کو "انتزاعًا" (نکالنے کے طور پر) قبض نہیں کرتا۔

"انتزاعًا" مفعول مطلق ہے، اور مفعول مطلق وہ مصدر ہے جو منصوب (زبر والا) ہوتا ہے۔

"الانتزاع" کا معنی ہے: کھینچنا اور اکھیڑنا (جَذْب و جَرّ)۔
یعنی اللہ تعالیٰ لوگوں کے درمیان سے علم کو اس طرح قبض نہیں کرتا کہ اسے ان کے درمیان سے آسمان کی طرف اٹھا لے،
بلکہ وہ علماء کی روحیں قبض کر کے علم کو قبض کرتا ہے،
یہاں تک کہ وہ کوئی عالم باقی نہیں چھوڑتا۔
پس جب علماء قبض کر لیے جاتے ہیں تو جاہل لوگ باقی رہ جاتے ہیں،
پھر لوگ جاہل قاضیوں اور جاہل اماموں کو (اپنا پیشوا) بنا لیتے ہیں،
چنانچہ ان کا قاضی بغیر علم کے فیصلہ کرتا ہے، اور ان کا مفتی بغیر علم کے فتویٰ دیتا ہے۔

"رؤوساء" "رأس" کی جمع ہے،
اور اس کا معنی ہے: سردار، امام، قاضی اور مفتی۔

"فسُئلوا" – یہ مبنی للمجہول (نامعلوم فاعل کے ساتھ) ہے،
اور "سُئلوا" میں ضمیر (وہ) "رؤوساء" (سرداروں) کی طرف لوٹتی ہے۔

قوله: "فضلوا"
یعنی ان کے قاضی اور وہ لوگ جنہوں نے انہیں فتویٰ دیا، خود گمراہ ہو گئے،
اور انہوں نے اپنی قوم کو بھی گمراہ کر دیا،
کیونکہ جو شخص کسی جاہل کی پیروی کرتا ہے، وہ اسے گمراہی کی راہ پر ڈالتا ہے،
اور جو شخص کسی عالم کی پیروی کرتا ہے، وہ اسے ہدایت کی راہ پر ڈالتا ہے۔









شرح ابن المَلَك (متوفی 854ھ) :

"إِنَّ اللَّهَ لَا يَقْبِضُ الْعِلْمَ"
یعنی وہ علم جو کتاب و سنت اور ان سے متعلق امور کا ہے (مراد ہے)۔

"انتزاعًا"
یہ "ينتزعه" (جو اس کے بعد آئے گا) کا مفعول مطلق ہے،
اور یہ جملہ حالیہ (حالت بیان کرنے والا) ہے۔
یعنی اللہ تعالیٰ علم کو بندوں سے اس طرح قبض نہیں کرتا کہ اسے ان کے درمیان سے آسمان کی طرف اٹھا لے۔
اور یہ جائز ہے کہ "انتزاعًا" "يقبض" کا مفعول مطلق ہو (بغیر اس کے لفظ کے)،
اور "ينتزعه" اس کی صفت ہو۔

"وَلَكِنْ يَقْبِضُ الْعِلْمَ بِقَبْضِ الْعُلَمَاءِ، حَتَّى إِذَا لَمْ يَبْقِ عَالِمًا"
یعنی وہ علماء کی روحیں قبض کر کے علم کو قبض کرتا ہے،
یہاں تک کہ جب وہ کوئی عالم باقی نہ چھوڑے۔

"اتَّخَذَ النَّاسُ رُؤُوسًا"
"رُؤُوسًا" – ہمزہ کے ضمہ اور تنوین کے ساتھ – "رأس" کی جمع ہے،
اور "رأس القوم" کا مطلب ہے ان کا سردار اور بڑا آدمی۔
اور ایک روایت میں "رُؤَسَاءَ" آیا ہے – مد (الف) کے ساتھ – جو "رئیس" کی جمع ہے۔

"جُهَّالًا"
(انہوں نے) جاہلوں کو (سردار بنا لیا)۔

"فَسُئِلُوا فَأَفْتَوْا بِغَيْرِ عِلْمٍ"
(ان (جاہل سرداروں) سے (مسائل) پوچھے گئے، تو انہوں نے بغیر علم کے فتویٰ دے دیا)۔

"فَضَلُّوا"
یعنی وہ خود گمراہ ہو گئے۔

"وَأَضَلُّوا"
یعنی انہوں نے اپنی قوم کو بھی گمراہ کر دیا،
کیونکہ جو شخص کسی جاہل کی پیروی کرتا ہے، وہ اسے گمراہی کی راہ پر ڈالتا ہے۔













شرح البرماوي (متوفی 831ھ) :

"يقبض" (قبض کرنا) کا مفعول مطلق ہے،
جیسے "رَجَعَ القَهْقَرَى" (پیچھے ہٹا) کہا جاتا ہے،
یعنی علم کو لوگوں کے درمیان سے آسمان کی طرف اٹھا کر،
یا ان کے سینوں سے مٹا کر (قبض نہیں کرتا)،
بلکہ وہ علماء کی روحیں قبض کر کے اور ان کے حاملین کو موت دے کر (علم کو قبض کرتا ہے)۔

"(حتى)"
یہ "ابتدائیہ" ہے (ایک نیا جملہ شروع کرنے کے لیے)، پس اس کے بعد جو ہے وہ ایک جملہ ہے۔

"(إذا)"
یہ "ظرف" ہے (زمانی)، اور اس میں عامل (عمل کرنے والا) خبر ہے،
اور امکان ہے کہ یہ "شرط" (مشروطہ) ہو۔

"(يبق)"
باء کے ضمہ کے ساتھ – یہ "رباعی" (چار حرفی) فعل ہے (یعنی "أَبْقَى" سے)۔
"عالمًا" اس کا مفعول ہے۔
یا (بعض روایات میں) "يبق" باء کے فتحہ کے ساتھ ہے، اور "عالم" کو رفع (فاعل) کے ساتھ پڑھا جاتا ہے۔

اگر کوئی کہے:
"لم يبق" (باقی نہیں رہا) ماضی (گزشتہ) کے لیے ہے،
پھر یہ "إذا" (جو مستقبل کے لیے ہے) کے بعد کیسے آگیا؟

تو جواب یہ ہے:
کیونکہ "لم" نے بقا (رہنا) کو ماضی بنا دیا،
اور "إذا" نے بقا کو مستقبل بنا دیا۔
یا یہ کہا جائے کہ دونوں (لم اور إذا) نے ایک دوسرے کا اثر ختم کر دیا،
پس یہ اپنی اصل (مضارع) پر باقی رہے گا۔
یا یہ کہ دونوں برابر ہیں، تو یہ "استمرار" (جاری رہنا) کا فائدہ دے گا۔

ہاں، شرط کا تقاضا یہ ہے کہ جاہل سرداروں کا انتخاب صرف اس وقت ہوگا جب کوئی عالم باقی نہ رہے،
کیونکہ شرط کے عدم سے مشروط کا عدم لازم آتا ہے۔
لیکن یہ ممکن ہے کہ جاہلوں کا انتخاب علماء کے موجود ہونے کے باوجود بھی ہو،
چنانچہ (بعض شارحین) نے جواب دیا:
"شرط کے عدم سے مشروط کا عدم صرف عقلی شرطوں میں لازم آتا ہے۔"

میں (برماوی) کہتا ہوں:
یہ عجیب بات ہے،
کیونکہ لغوی شرط (جو کسی چیز کو کسی دوسری چیز سے متعلق کرتی ہے) شرط کو مشروط کا سبب بناتی ہے،
پس شرط کے عدم پر مشروط کا عدم (بھی) لازم آتا ہے۔

انہوں نے کہا:
"پھر یہ استلزام (لزوم) صرف اس جگہ ہے جہاں شرط کا کوئی بدل (متبادل) نہ ہو،
ہو سکتا ہے کہ ایک مشروط کے لیے متعدد شرطیں ہوں جو ایک دوسرے کی جگہ لے سکیں،
جیسے تیمم کی صورت میں بغیر وضو کے نماز کا صحیح ہونا۔"

میں کہتا ہوں:
یہ اس لغوی شرط کے زمرے میں نہیں ہے جو شرط کو مشروط کا سبب بناتی ہے۔

یا (انہوں نے کہا):
"یا مراد تمام لوگ ہیں،
پس یہ صحیح نہیں کہ سب نے جاہل سردار بنائے ہوں
سوائے اس صورت کے جب علماء موجود نہ ہوں،
اور یہ (بات) ظاہر ہے۔"

میں کہتا ہوں:
یہ جواب پہلے دو جوابوں سے بہتر ہے۔
اور جواب کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ کہا جائے:
"یہ (بات) غالب (عام اصول) کے طور پر بیان کی گئی ہے،
پس اس کے مفهوم (مخالف) پر عمل نہیں کیا جائے گا۔"

"(اتخذ)"
اس کی اصل "ائْتَخَذَ" ہے،
پس دوسرے ہمزہ کو تاء میں بدل دیا گیا،
اور اس کے بعد والی تاء میں اِدغام کر دیا گیا۔

"(رؤوسًا)"
وزن "فُعُول" پر "رأس" کی جمع ہے،
اور ایک روایت میں "رُؤَسَاءَ" بھی آئی ہے – ہمزہ کے فتحہ اور مد (الف) کے ساتھ – جو "رئیس" (سردار) کی جمع ہے۔

"(جهالًا)"
یہ "جہل بسیط" (سادہ جہالت – جس کا مطلب علم کا نہ ہونا ہے) سے زیادہ عام ہے،
یا "جہل مرکب" (مرکب جہالت – جس کا مطلب علم کا نہ ہونا اور اس کے برعکس کا اعتقاد رکھنا ہے) بھی اس میں شامل ہے۔

"(فسئلوا)"
سین کے ضمہ (پیش) کے ساتھ (مبنی للمجہول)۔

"(فضلوا)"
"ضلال" (گمراہی) سے ہے، جو "ہدایت" کے مقابل ہے،
اور "ہدایت" سے مراد وہ راہنمائی ہے جو مطلوب تک پہنچائے۔
اور اس میں قاضی بھی شامل ہے،
کیونکہ قضاء (فیصلہ کرنا) بھی ایک قسم کا فتویٰ ہے اور اس سے زیادہ ہے۔
اور انہوں نے یہ نہیں کہا: "فضلوا فافتوا فاضلوا" (وہ گمراہ ہوئے، پھر فتویٰ دیا، پھر گمراہ کیا) –
اس لیے کہ ان کا مقصد سوال (فسئلوا) پر مجموعی (تمام چیزوں) کو مرتب کرنا تھا،
یا یہ کہا جائے: "فتویٰ دینے کے بعد جو گمراہی ہے، وہ اس سے پہلے کی گمراہی سے الگ ہے۔"

اور جان لو کہ
اس حدیث اور اس حدیث کے درمیان کوئی تضاد نہیں:

"وَلَنْ تَزَالَ هَذِهِ الْأُمَّةُ قَائِمَةً عَلَى أَمْرِ اللَّهِ حَتَّى يَأْتِيَ أَمْرُ اللَّهِ"
(یہ امت اللہ کے حکم پر قائم رہے گی یہاں تک کہ اللہ کا حکم (یعنی قیامت) آ جائے)
اور اس جیسی دوسری احادیث کا بھی (کوئی تضاد نہیں) –
کیونکہ یہاں (اس حدیث میں) جو کچھ ہے وہ "امر اللہ" کے آنے کے بعد ہے،
اگر "امر اللہ" کی تفسیر قیامت سے نہ کی جائے،
یا علم کا باقی نہ رہنا بعض مقامات میں ہے (یعنی پوری زمین پر نہیں)،
جیسے بیت المقدس کے علاوہ بھی (بعض جگہوں پر) –
اگر ہم اسے اس (بیت المقدس) سے تفسیر نہ کریں –
تاکہ دلائل کے درمیان تطبیق ہو سکے۔

اور اس حدیث میں جاہلوں کو سردار بنانے سے ڈرایا گیا ہے،
اور یہ کہ آخر زمانہ مجتہد (علماء) سے خالی ہو گا،
جیسا کہ جمہور (مالکیہ، شافعیہ، حنابلہ میں سے اکثر) کا قول ہے –
حنابلہ کے خلاف (جو کہتے ہیں کہ ہر زمانے میں مجتہد موجود رہیں گے)۔

طیبی نے کہا:
"معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کو علم عطا کرتا ہے، پھر اسے (اسی طرح) واپس نہیں لیتا –
اللہ اس سے پاک ہے کہ وہ اپنے اس علم کو جو اس کی معرفت اور اس پر ایمان تک پہنچاتا ہے، واپس لے لے۔
بلکہ علم کا قبض علم کو ضائع کرنے (یعنی اس پر عمل نہ کرنے اور اسے چھوڑ دینے) کی وجہ سے ہوتا ہے،
پس جو لوگ باقی رہتے ہیں، ان میں کوئی ایسا شخص نہیں ہوتا جو گزرے ہوئے (علماء) کا جانشین ہو۔
اور آپ ﷺ نے تمام خیر (بھلائی) کے قبض ہونے کی پیشگوئی فرمائی ہے –
اور آپ ﷺ اپنی خواہش سے نہیں بولتے۔"







شرح الملا  القاري (متوفی 1014ھ) :
"(وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو)"
یعنی حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے۔

"(قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ اللَّهَ لَا يَقْبِضُ الْعِلْمَ)"
اس سے مراد کتاب و سنت کا علم اور ان سے متعلق امور ہیں۔

"(انْتِزَاعًا)"
یہ "يقبض" کا مفعول مطلق ہے، اس معنی پر کہ وہ (علم کو) قبض کرتا ہے، جیسے "رَجَعَ الْقَهْقَرَى" (پیچھے ہٹا) کہا جاتا ہے۔
اور قول "يَنْتَزِعُهُ مِنَ الْعِبَادِ" (وہ اسے بندوں سے کھینچ لیتا ہے) اس کی صفت ہے جو نوع (قسم) کو واضح کرتی ہے، جیسا کہ سید جمال الدین نے کہا ہے۔

اور ابن الملک نے کہا:
"انتزاعًا" اس فعل کا مفعول مطلق ہے جو اس کے بعد آئے گا،
اور یہ جملہ حالیہ (حالت بیان کرنے والا) ہے،
یعنی اللہ علم کو بندوں سے اس طرح قبض نہیں کرتا کہ اسے ان کے درمیان سے آسمان کی طرف اٹھا لے۔

"(وَلَكِنْ يَقْبِضُ الْعِلْمَ)"
یعنی وہ علم کو اٹھا لیتا ہے
"(بِقَبْضِ الْعُلَمَاءِ)"
یعنی ان کی موت اور ان کی روحوں کو اٹھا کر (قبض کر کے)۔

"(حَتَّى)"
یہ وہ "حتى" ہے جو جملے پر داخل ہوتی ہے، اور یہاں یہ شرط و جزا کے معنی میں ہے۔
یعنی جب وہ (اللہ) کوئی عالم باقی نہ چھوڑے
"(إِذَا لَمْ يُبْقِ)" یعنی اللہ نے "(عَالِمًا)" (کسی عالم کو) باقی نہ چھوڑا (اس کی روح قبض کرنے کے بعد)۔

اور ایک نسخہ میں ہے:
"حَتَّى إِذَا لَمْ يَبْقَ" – ياء کے فتحہ اور قاف کے فتحہ کے ساتھ، اور "عالم" کو رفع (فاعل) کے ساتھ۔
اور مسلم کی روایت پہلی (یعنی "لم يبقِ") کی تائید کرتی ہے:
"حَتَّى إِذَا لَمْ يَتْرُكْ عَالِمًا" (یہاں تک کہ جب وہ کوئی عالم نہ چھوڑے)۔

"(اتَّخَذَ النَّاسُ رُءُوسًا)"
یعنی لوگوں نے خلیفہ، قاضی، مفتی، امام اور شیخ (جیسے سرداروں) کو بنا لیا۔

"(جُهَّالًا)"
"جاهل" کی جمع ہے، یعنی جاہل لوگوں کو (انہوں نے سردار بنا لیا) – ایسے جاہل جو اپنے منصب کے مناسب علم نہ رکھتے ہوں۔

شیخ محی الدین نووی نے کہا:
"ہم نے بخاری میں اسے 'رُءُوسًا' (ہمزہ کے ضمہ اور تنوین کے ساتھ) ضبط کیا ہے – جو 'رأس' کی جمع ہے۔
اور مسلم میں اسے دو وجوہ سے ضبط کیا گیا ہے:
پہلی: یہی (رُءُوسًا)،
دوسری: 'رُؤَسَاءُ' – جو 'رئیس' کی جمع ہے (سردار)۔
دونوں صحیح ہیں، اور پہلی زیادہ مشہور ہے۔"

"(فَسُئِلُوا فَأَفْتَوْا)"
یعنی ان (جاہل سرداروں) سے سوال کیا گیا، تو انہوں نے جواب دیا اور فیصلہ کیا
"(بِغَيْرِ عِلْمٍ)" (بغیر علم کے)۔

"(فَضَلُّوا)"
یعنی وہ خود گمراہ ہو گئے،
"(وَأَضَلُّوا)"
یعنی انہوں نے دوسروں کو بھی گمراہ کر دیا،
پس جہالت پوری دنیا میں پھیل جاتی ہے۔

"(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)"
یہ حدیث بخاری و مسلم میں متفق علیہ ہے۔
اور اسے احمد، ترمذی اور ابن ماجہ نے بھی روایت کیا ہے۔







شرح السهارنفوري (متوفی 1297ھ) :

اور آپ کا قول:
"حَتَّى إِذَا لَمْ يَبْقَ عَالِمٌ" (یہاں تک کہ جب کوئی عالم باقی نہ رہے) کے بارے میں (مختلف احادیث کے درمیان تطبیق کی وضاحت):

اس حدیث اور اس حدیث "لَنْ يَزَالَ أُمَّةٌ قَائِمَةٌ عَلَى أَمْرِ اللَّهِ حَتَّى يَأْتِيَ أَمْرُ اللَّهِ" (میری امت کا ایک گروہ اللہ کے امر (دین) پر قائم رہے گا یہاں تک کہ اللہ کا امر (حکم / قیامت) آ جائے) اور اس جیسی دوسری احادیث کے درمیان تطبیق (جوڑ) کی وجہ یہ ہے:

(۱) کہ یہ (پہلی حدیث کا واقعہ، یعنی علماء کا ختم ہو جانا اور جاہل سرداروں کا آ جانا) "إتيانِ أمر اللہ" (اللہ کا امر / قیامت) کے بعد ہو گا، اگر "إتيانِ أمر" کی تفسیر قیامت کے آنے سے کی جائے۔

**یا (۲) (یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ) علماء کا نہ رہنا (عدم بقاء العلماء) صرف **بعض جگہوں (مقامات / خطوں) پر ہے، نہ کہ پوری دنیا میں۔

پس اس (حدیث) کو (عام پر) مخصوص (تخصیص) پر محمول کیا جائے گا تاکہ تمام دلائل کے درمیان جمع (تطبیق) ممکن ہو سکے، جیسا کہ امام کرمانی رحمہ اللہ نے اپنی شرح (الكواكب الدراري) (۲/۹۸) میں فرمایا ہے۔









جہالت کا علاج "عالم" سے پوچھنا ہے۔

عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ - رضي الله عنهما - قَالَ: (خَرَجْنَا فِي سَفَرٍ) (١) (عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ - صلى اللهُ عليه وسلَّم -) (٢) (فَأَصَابَ رَجُلًا مِنَّا حَجَرٌ فَشَجَّهُ فِي رَأسِهِ (٣) ثُمَّ احْتَلَمَ , فَسَأَلَ أَصْحَابَهُ فَقَالَ: هَلْ تَجِدُونَ لِي رُخْصَةً فِي التَّيَمُّمِ؟ , فَقَالُوا: مَا نَجِدُ لَكَ رُخْصَةً وَأَنْتَ تَقْدِرُ عَلَى الْمَاءِ (٤) فَاغْتَسَلَ فَمَاتَ , فَلَمَّا قَدِمْنَا عَلَى النَّبِيِّ - صلى اللهُ عليه وسلَّم - أُخْبِرَ بِذَلِكَ فَقَالَ: " قَتَلُوهُ قَتَلَهُمْ اللهُ (٥) أَلَا سَأَلُوا إِذْ لَمْ يَعْلَمُوا؟ , فَإِنَّمَا شِفَاءُ الْعِيِّ السُّؤَالَ (٦) إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيهِ أَنْ يَتَيَمَّمَ , وَيَعْصِبَ (٧) عَلَى جُرْحِهِ خِرْقَةً , ثُمَّ يَمْسَحَ عَلَيْهَا (٨) وَيَغْسِلَ سَائِرَ جَسَدِهِ (٩) ") (١٠)

ترجمہ

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں:

(جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:) "ہم ایک سفر میں نکلے (1)، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں (2)۔

ہم میں سے ایک شخص کو ایک پتھر لگا جس نے اس کا سر زخمی کر دیا (3)۔ پھر اسے احتلام (سوتے ہوئے منی نکلنا) ہو گیا، تو اس نے اپنے ساتھیوں (صحابہ) سے پوچھا: 'کیا تم میرے لیے تیمم میں کوئی رخصت (گنجائش) پاتے ہو؟'

تو انہوں نے کہا: 'ہمیں تمہارے لیے کوئی رخصت نہیں ملتی، جبکہ تم پانی استعمال کرنے پر قادر ہو (یعنی جب تک تمہیں پانی مل رہا ہے) (4)۔"

(جابر کہتے ہیں:) "چنانچہ اس نے (پانی سے) غسل کیا اور (اس کی وجہ سے) مر گیا۔

پھر جب ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ کو اس کی خبر دی گئی، تو آپ ﷺ نے فرمایا:

'انہوں نے اسے قتل کر دیا، اللہ انہیں قتل کرے (5)! کیا انہوں نے اس وقت سوال نہیں کیا جب وہ نہیں جانتے تھے؟ بے شک جہالت کا علاج سوال (پوچھنا) ہے۔ (6)۔

بیشک اسے (صرف) اتنا کرنا کافی تھا کہ وہ تیمم کر لیتا، اور اپنے زخم پر ایک کپڑا (پٹی) باندھ لیتا (7)، پھر اس (پٹی) پر (پانی سے) مسح کر لیتا (8)، اور اپنے باقی جسم کو (پانی سے) دھو لیتا (9)۔" (10)


حوالہ وحواشی:


یہ اس واقعے کی دوسری سندیں اور طرق ہیں۔ سنن ابن ماجہ اور سنن ابی داود کی ایک اور روایت میں یہ واقعہ مختلف الفاظ کے ساتھ آیا ہے۔

(3)لغوی تشریح: "فَشَجَّهُ" کا معنی ہے "اس نے اس کے سر کو زخمی کر دیا"۔ شجہ خاص طور پر سر یا چہرے کے زخم کو کہتے ہیں۔

(4)فقہی تشریح: صحابہ کرام نے "وجدان" (پانی کی دستیابی) کو اس کی حقیقت پر محمول کیا اور سمجھا کہ جب تک پانی موجود ہے، تیمم کی گنجائش نہیں۔
لیکن وہ اس اصول سے ناواقف تھے کہ ضرورت کے وقت "وجدان" (پانی کی دستیابی) "فقدان" (ناپیدگی) کے حکم میں ہو جاتی ہے۔ یعنی اگر پانی کا استعمال نقصان دہ ہو تو وہ موجود ہونے کے باوجود "غائب" کے حکم میں ہے اور تیمم جائز ہے۔

(5)"قتلوه قتلهم الله" کی تشریح:
نبی ﷺ نے قتل کو صحابہ کی طرف منسوب کیا کیونکہ انہوں نے اس شخص کی موت کا سبب بنے – اسے پانی استعمال کرنے کا حکم دے کر حالانکہ اس کے سر پر زخم تھا۔
یہ اس لیے کیا گیا تاکہ ان پر شدید انکار اور مذمت کا اظہار ہو سکے۔ یعنی اگر وہ فتویٰ نہ دیتے تو وہ شخص زندہ رہ سکتا تھا۔
(6)"شِفَاءُ الْعَيِّ السُّؤَالُ" کی تشریح:
"العَيُ" سے مراد الجہل (نادانی / حیرانی) ہے۔
معنی یہ ہے کہ جہالت ایک بیماری ہے اور اس کا علاج سوال (پوچھنا) اور تعلم (سیکھنا) ہے۔
صحابہ کو چاہیے تھا کہ جب وہ اس مسئلے کو نہ جانتے تھے تو نبی ﷺ سے سوال کرتے، اپنی رائے سے فتویٰ نہ دیتے۔
(7)"يَعْصِبَ" کا معنی: "وہ باندھتا" یعنی وہ اپنے زخم پر ایک کپڑا یا پٹی (خرقہ) باندھ لیتا تاکہ پانی زخم تک نہ پہنچ سکے۔
(عون المعبود شرح سنن أبی داود:336)

(8)"يَمْسَحَ عَلَيْهَا" کا معنی: "وہ اس پٹی (خرقہ) پر پانی سے مسح کر لیتا"۔
یعنی پانی کو براہِ راست زخم پر نہ ڈالتا بلکہ پٹی کی سطح پر مسح کر کے وضو یا غسل کا حکم پورا کر لیتا۔
(9)امام خطابی رحمہ اللہ نے فرمایا:
اس حدیث میں دو علمی پہلو ہیں:
(الف) نبی ﷺ نے صحابہ کو بغیر علم کے فتویٰ دینے پر عیب لگایا اور ان پر وعید (سخت انتباہ) کو لازم کر دیا اور انہیں گناہ میں اس کا قاتل قرار دیا۔
(ب) فقہی حکم: اس میں تیمم اور باقی جسم کے غسل کو جمع کرنے کا حکم ہے – یعنی زخم والے عضو پر تیمم کیا جائے اور باقی اعضاء کو پانی سے دھویا جائے، اور ان میں سے کسی ایک کو دوسرے کے بغیر کافی نہیں سمجھا گیا۔
امام شوکانی (نیل الأوطار) نے فرمایا:
یہ حدیث نقصان (ضرر) کے خوف سے تیمم کی طرف رجوع کرنے کے جواز پر دلالت کرتی ہے۔
مالک، ابوحنیفہ، اور شافعی (ایک قول میں) کے نزدیک یہ جائز ہے۔
احمد اور شافعی (دوسرے قول میں) کے نزدیک جائز نہیں کیونکہ وہ پانی پانے والا (واجد) ہے۔
اور یہ حدیث جبیرہ (پٹی) پر مسح کرنے کے وجوب پر بھی دلالت کرتی ہے۔



یہ حدیث مذکورہ بالا کتب میں مروی ہے۔

متن کے آخری حصے "إنما كان يكفيه..." (تیمم اور پٹی کا ذکر) کے بارے میں:

علامہ البانی نے پہلے اسے "ضعیف" قرار دیا تھا (ابو داود کی روایت میں)۔

پھر وہ اس کی تضعیف سے رجوع کر گئے اور اسے "حسن لغیرہ" قرار دیا
(مشکاة المصابیح: 531، تمام المنۃ: 131)۔

انہوں نے اس جملے کی متعدد طرق کو الثمر المستطاب (ص 33) میں جمع کیا اور فرمایا:
"مجموعی طور پر یہ حدیث ان متابعات کے ساتھ قوی اور ثابت ہے۔"







شرح مظهر الدين الزَّيْدَانيُّ (متوفی 727ھ) : 
"الجہل"
یعنی جب وہ کسی چیز کو نہ جانتے ہوں تو انہوں نے سوال کیوں نہیں کیا؟
کیونکہ جہالت ایک سخت بیماری ہے،
اور اس کا علاج سوال کرنا اور علماء سے سیکھنا ہے۔
اور ہر جاہل جو سیکھنے سے نہیں شرماتا اور سیکھ لیتا ہے،
اسے اپنی بیماری کا علاج مل جاتا ہے،
اور جاہل سیکھ کر عالم بن جاتا ہے۔
اور جو سیکھنے سے شرماتا ہے، وہ اپنی بیماری سے کبھی بھی نہیں بچ پاتا۔






شرح عبد الحق الدهلوي (متوفی 1052ھ) : 

وقوله: (وأنت تقدر على الماء)
ان لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے اس قول کے ظاہری مفہوم سے یہ سمجھ لیا:

{فَلَمْ تَجِدُوا مَاءً} [سورۃ النساء: 43]
(پس جب تم پانی نہ پاؤ)
کہ پانی کا موجود ہونا اور اس پر قدرت (قابلیت) رکھنا تیمم کے جواز میں مانع ہے۔
اور وہ اس کے صحیح معنی (تأویل) کو نہیں جانتے تھے کہ
اصل مراد پانی کے استعمال کی صلاحیت اور اس سے نقصان نہ ہونا ہے۔

وقوله: (قال: قتلوه)
یہ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ سبب (وجہ) کو قاتل کہنا جائز ہے،
اور اس طرح کے مقامات پر اہلِ معرفت (علماء اور عارفین) کے لیے اس انداز میں گفتگو کرنا درست ہے –
جبکہ سید العارفین (نبی ﷺ) نے خود اس کا اظہار فرمایا ہے۔
البتہ دل کا اعتقاد حقیقت (اصلی معنی) پر ہونا چاہیے۔

وقوله: (ألا) بتشديد اللام للتنديم
(یعنی ملامت اور سرزنش کے لیے ہے)۔
(والمعنى) بكسر العين:
"العِي" کا معنی ہے: عاجزی، مطلوب (مراد) کی طرف ہدایت نہ پانا، اور منطق (گفتگو) میں حیرت۔
اور یہاں اس سے مراد "الجہل" (جہالت) ہے۔
اور "الشفاء" (علاج) ایک تصریحی استعارہ ہے جہالت کو دور کرنے کے لیے،
یا (یہ کہ) "العِي" (جہالت) کو بیماری کے طور پر استعارہ بنایا گیا ہے،
اور "شفاء" (علاج) ایک تخیلیاتی استعارہ ہے (یعنی اسے تشبیہ کے طور پر استعمال کیا گیا ہے)۔

وقوله: (ويعصب على جرحه)
یعنی وہ اپنے زخم پر کپڑا باندھ لے اور اسے پٹی (عصابة) بنا لے۔

وقوله: (ويغسل سائر جسده)
اس (بات) میں تیمم اور باقی جسم کو پانی سے دھونے کے درمیان جمع (دونوں کو ایک ساتھ کرنے) کا ثبوت ہے۔
اور اس حدیث میں بغیر علم کے فتویٰ دینے پر عیب جوئی اور مذمت ہے،
اور اس میں ضمانت (ہرجانہ یا تاوان) کا کوئی ذکر نہیں (یعنی ان پر مالی ذمہ داری نہیں)۔







شرح خليل أحمد السهارنفوري (متوفی 1346ھ) : 

(سَأَلُوا إِذْ لَمْ يَعْلَمُوا)
یعنی انہوں نے سوال کیا جب وہ نہیں جانتے تھے۔

والمعنى: فَلِمَ لَمْ يَسْأَلُوا وَلَمْ يَتَعَلَّمُوا مَا لَا يَعْلَمُونَ؟
اور معنی یہ ہے: پھر انہوں نے سوال کیوں نہیں کیا اور جو وہ نہیں جانتے تھے اسے کیوں نہیں سیکھا؟

(فَإِنَّمَا شِفَاءُ الْعِيِّ)
"العِي" (عین کے کسرہ کے ساتھ) کا معنی ہے: بولنے سے عاجز آنا اور کلام اور دوسری چیزوں میں حیرت و الجھن۔

(السُّؤَالُ)
(اس کا علاج) سوال کرنا ہے۔

فَإِنَّهُ لَا شِفَاءَ لِدَاءِ الْجَهْلِ إِلَّا بِالتَّعَلُّمِ
کیونکہ جہالت کی بیماری کا کوئی علاج نہیں مگر سیکھنا (تعلم) ہے۔

قَدْ قَالَ اللَّهُ تَعَالَى:
{فَاسْأَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ إِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ}
[سورۃ النحل: 43]
(اگر تم نہیں جانتے تو اہلِ ذکر (علماء) سے پوچھ لو۔)




شرح ابن المَلَكؒ (متوفی 854ھ) : 

"ہم ایک سفر میں نکلے ہم میں سے ایک شخص کو ایک پتھر لگا جس نے اس کا سر زخمی کر دیا"
یعنی پتھر نے اس کا سر پھاڑ دیا، اس کی ہڈی توڑ دی۔

"في رأسه"
سر کا ذکر تاکید کے لیے کیا گیا ہے، کیونکہ "شَجّ" کا اطلاق خود سر کے ٹوٹنے پر ہوتا ہے۔

"فاحتلَمَ"
اس شخص کو احتلام ہوا، یعنی اسے جنابت لاحق ہو گئی، اور اسے ڈر تھا کہ اگر وہ غسل کرے گا تو زخم پر پانی لگ جائے گا۔

"تو صحابہ نے کہا: 'ہمیں تمہارے لیے کوئی رخصت نہیں ملتی، جبکہ تم پانی استعمال کرنے پر قادر ہو"
یہ جملہ حالیہ (حالت بیان کرنے والا) ہے۔

"چنانچہ اس نے (پانی سے) غسل کیا اور (اس کی وجہ سے) مر گیا۔ پھر جب آپ کو اس کی خبر دی گئی، تو آپ ﷺ نے فرمایا: انہوں نے اسے قتل کر دیا"
یعنی آپ ﷺ نے ان کے بارے میں غائبانہ (تیسرے شخص کے صیغے میں) قتل کی نسبت فرمائی، تاکہ ان پر انکار اور مذمت زیادہ واضح ہو۔

"اللہ انہیں قتل کرے" یعنی اللہ ان پر لعنت کرے۔

"کیا انہوں نے اس وقت سوال نہیں کیا جب وہ نہیں جانتے تھے؟"
آپ ﷺ نے انہیں بغیر علم کے فتویٰ دینے پر سرزنش فرمائی، اور ان پر وعید (عذاب کی دھمکی) کا اظہار کیا کیونکہ انہوں نے اس نص (قرآنی آیت) پر غور کرنے میں کوتاہی کی تھی، جو اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

{مَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيَجْعَلَ عَلَيْكُمْ مِنْ حَرَجٍ} (اللہ تم پر کوئی تنگی نہیں ڈالنا چاہتا) [سورۃ المائدۃ: 6]۔

"فإنما شفاء العِيِّ" – "العِي" (عین کے کسرہ/زیر کے ساتھ) کا معنی ہے: کلام اور دوسری چیزوں میں حیرت اور الجھن۔

"السؤالُ" – پس انہوں نے سوال نہیں کیا اور نہ ہی وہ چیز سیکھی جو وہ نہیں جانتے تھے، کیونکہ جہالت کے مرض کا کوئی علاج نہیں مگر سیکھنا۔

"إنما كانَ يَكفيه" – یعنی اس محتلم شخص کو (یہ کافی تھا)۔

"أن يتيمَّمَ ويَعْصِبَ" – یعنی وہ اپنے زخم پر کپڑا باندھ لے تاکہ پانی اس تک نہ پہنچ سکے۔

"ثم يمسحَ عليها" – یعنی اس کپڑے پر (گیلے ہاتھ سے) مسح کر لے۔

"وبغسلَ سائر جسده" – اور اپنے باقی جسم کو دھو لے۔

اور اس (روایت) سے تیمم اور باقی جسم کو پانی سے دھونے کے درمیان جمع (یعنی دونوں کو ایک ساتھ کرنے) کا استدلال ہوتا ہے، بغیر کسی ایک پر اکتفا کیے، جیسا کہ شافعی رحمہ اللہ کا مذہب ہے۔


"أَنَّهُ قَالَ: أَلَا"
یعنی "أَلَا" ایک حرفِ تخصیص ہے، جس کا معنی "ہَلَّا" (کیوں نہیں؟) ہے۔

"سَأَلُوا إِذَا لَمْ يَعْلَمُوا"
یعنی جب وہ نہ جانتے ہوں تو (انہیں) سوال کرنا چاہیے۔
اور اس (بات) سے معلوم ہوتا ہے کہ علم نہ ہونے کی صورت میں سوال کرنا واجب ہے۔

"فَإِنَّمَا شِفَاءُ الْعِيِّ"
"العِيُ" (عین کے کسرہ اور یاء کے تشدید کے ساتھ) کا معنی ہے: کلام میں حیرت اور الجھن۔
اور یہاں اس سے مراد "الجہل" (جہالت) ہے۔
یعنی جہالت کا علاج "السؤال" (سوال کرنا) اور "التعلم" (سیکھنا) ہے۔
پس ہر جاہل جو سیکھنے سے نہیں شرماتا، اسے اپنی اس بیماری (جہالت) کا علاج مل جاتا ہے،
اور اگر (ایسا نہ کرے) تو وہ اس سے کبھی بھی نہیں بچ پاتا۔










حاصل شدہ اسباق و نکات:

۱- بغیر علم کے فتویٰ دینا باعثِ ہلاکت ہے (انتہائی اہم اصول)

یہاں صحابہ کرام (جن کا مقام بہت بلند ہے) نے ایک مسئلے میں اجتہاد کیا لیکن وہ درست نہ تھا اور اس کی وجہ سے ایک شخص کی موت واقع ہو گئی۔

نبی ﷺ نے انہیں "قتلوه" (انہوں نے اسے قتل کر دیا) کہہ کر سخت مذمت فرمائی۔

سبق: بغیر علم کے فتویٰ دینا (خواہ نیت کتنی ہی اچھی ہو) جان لیوا ہو سکتا ہے اور اس کا وبال بہت سنگین ہے۔

اگر صحابہ کرام پر یہ وعید ہے، تو عام لوگوں کے لیے اس کا وبال کس قدر ہوگا!

۲- جہالت کا علاج "سوال" (پوچھنا) ہے – شفاء العی السؤال

نبی ﷺ نے فرمایا: "إِنَّمَا شِفَاءُ الْعَيِّ السُّؤَالُ" (بے شک جہالت کا علاج سوال ہے)۔

"العَيُ" سے مراد جہالت (نادانی) ہے، اور اس کا علاج پوچھنا اور سیکھنا ہے۔

صحابہ کو اس موقع پر سوال کرنا چاہیے تھا (کیونکہ وہ اس مسئلے کو نہیں جانتے تھے)۔

سبق: جب کوئی مسئلہ معلوم نہ ہو تو اہلِ علم سے پوچھنا چاہیے، اور اپنی رائے سے فتویٰ نہیں دینا چاہیے۔

۳- رخصت (گنجائش) کی تلاش کرنا جائز ہے، بشرطیکہ ضرورت ہو

اس شخص نے صحابہ سے رخصت (تیمم) کے بارے میں پوچھا، جس سے معلوم ہوا کہ ضرورت کے وقت رخصت کو تلاش کرنا اور اس کے بارے میں سوال کرنا جائز ہے۔

البتہ "تتبّع الرخص" (بغیر کسی عذر کے ہر مذہب سے آسان ترین حکم کا انتخاب) جائز نہیں – جیسا کہ ابن رسلان کی شرح میں گزرا۔

۴- مجروح / بیمار شخص کے لیے تیمم کا جواز (اگر پانی نقصان دہ ہو):

اگر کسی شخص کے جسم پر ایسا زخم ہو جس پر پانی ڈالنا نقصان دہ ہو، تو اسے غسل یا وضو میں تیمم کرنے کی اجازت ہے۔

اس کی صورت:

زخم پر پٹی (خرقہ / جبیرہ) باندھے۔

اس پٹی پر مسح کرے (پانی سے ہاتھ گیلا کر کے اس پر پھیرے)۔

باقی اعضاء (جو زخمی نہیں) کو معمول کے مطابق دھوئے۔

یہی وہ رخصت ہے جسے صحابہ نے نظرانداز کیا (یا اسے معلوم نہ تھا) اور اس کی وجہ سے وہ شخص ہلاک ہو گیا۔

۵- "وجدان" (پانی کی دستیابی) اور "فقدان" (ناپیدگی) کے درمیان فرق:

صحابہ نے "وجدان" (پانی کی دستیابی) کو اس کی حقیقت پر محمول کیا اور کہا: "تم پانی استعمال کرنے پر قادر ہو"۔

لیکن وہ یہ نہیں جانتے تھے کہ ضرورت کے وقت "وجدان" (دستیابی) "فقدان" (ناپیدگی) کے حکم میں ہو جاتی ہے – یعنی اگر پانی استعمال کرنا نقصان دہ ہو تو وہ دستیاب ہونے کے باوجود "غائب" کے حکم میں ہے۔

سبق: کسی چیز کا ظاہری طور پر موجود ہونا ہمیشہ اس کے استعمال کے جواز کی دلیل نہیں، بلکہ ضرر اور مصلحت کو بھی دیکھنا چاہیے۔

۶- جبیرہ (پٹی) پر مسح کرنے کا حکم (فقہی تطبیق):

اس حدیث سے ثابت ہوا کہ زخم پر باندھی گئی اس پر مسح کرنا واجب ہے (یا کم از کم اس کا جواز)۔

یہ اس لیے کہ پانی کو زخم تک پہنچنے سے روکا جا سکے، اور پٹی کی سطح پر مسح کرنا پانی کے استعمال کا متبادل ہے (جیسا کہ تیمم خاک کا متبادل ہے)۔

۷- مختلف مذاہب کا تقابلی جائزہ (خوفِ ضرر کی صورت میں تیمم):

اس مسئلے پر ائمہ کرام کے درمیان اختلاف ہے:

امام موقف دلیل

ابوحنیفہ، مالک، شافعی(ایک قول میں) جائز – خوفِ ضرر کی وجہ سے تیمم کیا جا سکتا ہے۔ اس حدیث کی عمومیت اور رخصت کا اصول۔

احمد، شافعی (دوسرے قول میں) ناجائز – کیونکہ وہ پانی پانے والا (واجد) ہے۔ آیتِ طہارت کی عمومیت: {فَاغْسِلُوا وُجُوهَكُمْ} ۔

راجح قول: جواز کا قول زیادہ مضبوط ہے، کیونکہ:

حدیث میں نبی ﷺ نے خود تیمم کا حکم دیا۔

"الضرر یدفع بقدر الإمكان" (نقصان کو جہاں تک ممکن ہو دور کیا جائے) کا اصول اس کی تائید کرتا ہے۔

۸- اس حدیث کی سند کی صحت:

متن "إنما كان يكفيه..." (تیمم اور پٹی کا ذکر) کے بارے میں امام البانی نے پہلے اسے "ضعیف" کہا تھا (ابو داود کی روایت میں)۔

پھر وہ اس کی تضعیف سے رجوع کر گئے اور اسے "حسن لغیرہ" قرار دیا (مشکاة: ۵۳۱، تمام المنۃ: ۱۳۱)۔

انہوں نے اس جملے کی متعدد طرق کو الثمر المستطاب (ص ۳۳) میں جمع کیا اور فرمایا: "مجموعی طور پر یہ حدیث ان متابعات کے ساتھ قوی اور ثابت ہے"۔

۹- اس حدیث کا پچھلے ابواب سے ربط:

یہ واقعہ اس بات کی عملی مثال ہے کہ جب علم نہ ہو اور لوگ اپنی رائے سے فیصلہ کریں تو کیا ہوتا ہے۔

بخاری کی حدیث(100) میں آیا ہے: "فَضَلُّوا وَأَضَلُّوا" – یعنی خود بھی گمراہ ہوئے اور دوسروں کو بھی گمراہ کیا  – یہاں وہی اصول عملاً پیش آیا۔

اس لیے علم کا خاتمہ اور جاہل پیشواؤں کا آنا اسی طرح ہوگا: لوگ علماء سے سوال کرنا چھوڑ دیں گے اور اپنی جہالت پر عمل کریں گے، جس کے نتیجے میں لوگ ہلاکت میں پڑ جائیں گے۔

۱۰- خلاصہ: دین میں "علم"، "احتیاط" اور "رحمت" کا توازن

اس حدیث کا مجموعی پیغام یہ ہے:

علم کی عدم موجودگی میں فتویٰ دینا یا فیصلہ کرنا جان لیوا ہو سکتا ہے۔

جب کوئی مسئلہ معلوم نہ ہو تو سوال کرنا (اہلِ علم سے پوچھنا) ہی واحد راستہ ہے۔

دین میں رخصتوں کا صحیح علم ہونا ضروری ہے (تیمم، جبیرہ کا مسح)۔

بیمار / مجروح شخص کے لیے شریعت نے نرمی (رخصت) رکھی ہے، اور اس پر سختی کرنا (جیسے صحابہ نے کیا) باعثِ گناہ اور ہلاکت ہے۔

ہمیں چاہیے کہ ہم حقیقی علماء سے رجوع کریں، جاہل پیشواؤں سے بچیں، اور اپنی جہالت کا علاج "سوال" (پوچھنے) سے کریں، ورنہ ہم بھی اس وبال میں مبتلا ہو جائیں گے۔

واللہ أعلم بالصواب






فتویٰ کے احکام/درجات:

چونکہ فتویٰ کا حکم (جائز، واجب، مندوب، مکروہ، حرام) پانچوں تکلیفی احکام میں سے کسی ایک کا حامل ہو سکتا ہے، اس لیے اس کی وضاحت درج ذیل ہے:

الف – اصل میں فتویٰ دینا جائز ہے:
یہ ثابت ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم لوگوں کو فتویٰ دیا کرتے تھے، ان میں سے بعض نے بہت زیادہ (افتا کیا) اور بعض نے کم، اور اسی طرح تابعین، ان کے بعد والے اور ان کے بعد کے لوگوں میں (یہ سلسلہ) جاری رہا۔
(ملاحظہ کریں: إعلام الموقعین: ۱/۱۱-۲۸)

پس لوگوں کے لیے علماء کا ہونا ضروری ہے جن سے وہ پوچھ سکیں، اور مفتین کا ہونا جن سے وہ فتویٰ مانگ سکیں۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
{فَاسْأَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ إِنْ كُنْتُمْ لا تَعْلَمُونَ}
(اگر تم نہیں جانتے تو اہلِ ذکر سے پوچھ لو)۔
(سورۃ النحل: ۴۳، الأنبیاء: ۷)

اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (اس واقعہ میں صحابہ سے) فرمایا:
"أَلَا سَأَلُوا إِذْ لَمْ يَعْلَمُوا، فَإِنَّمَا شِفَاءُ العَيِّ السُّؤَالُ"
(کیا انہوں نے اس وقت پوچھ کیوں نہیں لیا جب وہ نہیں جانتے تھے؟ بے شک جہالت کا علاج سوال کرنا ہے۔) 
[ابو داود:336، ابن ماجہ:572]
یہ فرمان آپ ﷺ نے ان صحابہ کو مخاطب کر کے فرمایا جنہوں نے ایک ایسے شخص کو (جسے احتلام ہو گیا تھا) غسل کرنے کا فتویٰ دیا، چنانچہ اس نے غسل کیا اور (سخت سردی کی وجہ سے) مر گیا۔ جب یہ بات نبی ﷺ کو پہنچی تو آپ نے فرمایا: "انہوں نے اسے قتل کر دیا، اللہ انہیں قتل کرے..." (آگے حدیث کا حصہ ہے)۔ ا


(ب) اور بعض اوقات فتویٰ دینا واجب ہو جاتا ہے:

یہ اس وقت ہے جب مفتی فتویٰ دینے کے قابل (اہل) ہو، اور اسے فتویٰ کی ضرورت (حاجة) درپیش ہو، اور اس کے علاوہ کوئی دوسرا مفتی موجود نہ ہو، تو ایسی صورت میں اس پر لازم ہے کہ وہ اس شخص کو فتویٰ دے جو اس سے فتویٰ مانگے۔

اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے:
{إِنَّ الَّذِينَ يَكْتُمُونَ مَا أَنْزَلْنَا مِنَ الْبَيِّنَاتِ وَالْهُدَى مِنْ بَعْدِ مَا بَيَّنَّاهُ لِلنَّاسِ فِي الْكِتَابِ أُولَئِكَ يَلْعَنُهُمُ اللهُ وَيَلْعَنُهُمُ اللاعِنُونَ}
(بیشک جو لوگ اس چیز کو چھپاتے ہیں جو ہم نے نازل کی ہے دلائل اور ہدایت کی صورت میں، اس کے بعد جب ہم نے اسے کتاب میں لوگوں کے لیے واضح کر دیا، تو یہی لوگ ہیں جن پر اللہ کی لعنت ہے اور لعنت کرنے والوں کی لعنت ہے)۔
(سورۃ البقرة: ۱۵۹)

اور اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان:
{وَإِذْ أَخَذَ اللهُ مِيثَاقَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ لَتُبَيِّنُنَّهُ لِلنَّاسِ وَلا تَكْتُمُونَهُ فَنَبَذُوهُ وَرَاءَ ظُهُورِهِمْ وَاشْتَرَوْا بِهِ ثَمَنًا قَلِيلا فَبِئْسَ مَا يَشْتَرُونَ}
(اور جب اللہ نے اہلِ کتاب سے عہد لیا کہ تم اسے لوگوں کے لیے ضرور بیان کرو گے اور اسے چھپاؤ گے نہیں، تو انہوں نے اسے اپنی پیٹھ کے پیچھے ڈال دیا اور اس کے عوض تھوڑی سی قیمت لے لی، پس بہت بری ہے وہ چیز جو وہ خرید رہے ہیں)۔
(سورۃ آل عمران: ۱۸۷)

اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"مَنْ سُئِلَ مِنْ عِلْمٍ فَكَتَمَهُ أَلْجَمَهُ اللهُ بِلِجَامٍ مِنْ نَارٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ"
(جس شخص سے علم کے بارے میں سوال کیا گیا اور اس نے اسے چھپا لیا، تو اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے دن آگ کے لگام سے لگام پہنائے گا)۔

[ملاحظہ کریں: "الفقیه والمتفقه" (۲/۱۸۲)، اور "إعلام الموقعین" (۴/۱۵۷، ۲۲۲)۔
یہ حدیث امام ابو داود نے اپنی "سنن" میں روایت کی ہے (۳/۳۲۱، رقم: ۳۶۵۸)، ابن ماجہ نے (۱/۹۶، رقم: ۲۶۱، ۲۶۴-۲۶۶)، اور ترمذی نے (۵/۲۹، رقم: ۲۶۴۹) اور اسے حسن قرار دیا، اور البانی نے اسے صحیح کہا ہے۔ ملاحظہ کریں: "صحیح الجامع" (۲/۱۰۷۷، رقم: ۶۲۸۴)]


(ج) اور بعض اوقات فتویٰ دینا مستحب ہوتا ہے:

یہ اس وقت ہے جب مفتی فتویٰ دینے کا اہل ہو، اور اس شہر (یا علاقے) میں اس کے علاوہ بھی کوئی اور مفتی موجود ہو، اور کوئی خاص (اشد) ضرورت بھی موجود نہ ہو۔

[ملاحظہ کریں: "شرح الكوكب المنير": ۴/۵۸۳]


(د) اور بعض اوقات مفتی پر فتویٰ دینا حرام ہو جاتا ہے:

یہ اس وقت ہے جب وہ اس حکم کا عالم نہ ہو (یعنی اسے علم نہ ہو)، تاکہ وہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے تحت نہ آ جائے:
{قُلْ إِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّيَ الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ وَالإثْمَ وَالْبَغْيَ بِغَيْرِ الْحَقِّ وَأَنْ تُشْرِكُوا بِاللهِ مَا لَمْ يُنَزِّلْ بِهِ سُلْطَانًا وَأَنْ تَقُولُوا عَلَى اللهِ مَا لا تَعْلَمُونَ}
(کہہ دو: بیشک میرے رب نے صرف بےحیائیوں کو حرام کیا ہے، جو ان میں سے ظاہر ہیں اور جو پوشیدہ ہیں، اور گناہ کو اور ناحق زیادتی کو، اور اس بات کو کہ تم اللہ کے ساتھ اسے شریک کرو جس کی اس نے کوئی دلیل نازل نہیں کی، اور یہ کہ تم اللہ پر وہ بات کہو جسے تم نہیں جانتے)۔
(سورۃ الأعراف: ۳۳)

پس اللہ تعالیٰ نے بغیر علم کے اپنی طرف بات کہنے کو ان حرام چیزوں میں شامل کر دیا جو کسی حال میں حلال نہیں ہو سکتیں، اور اسی لیے اس نے ان تمام کو حصر (صرف ان چیزوں تک محدود کرنے) کے صیغے کے ساتھ حرام قرار دیا۔

[ملاحظہ کریں: "إعلام الموقعین": ۴/۱۷۳، ۱۵۷]

اور اسی طرح مفتی پر فتویٰ دینا اس وقت بھی حرام ہے جب وہ حق کو جانتا ہو، پھر اس کے سوا کسی اور (چیز) کا فتویٰ دے، کیونکہ جو شخص اس چیز کے خلاف خبر دے جسے وہ جانتا ہے، وہ اللہ پر جان بوجھ کر جھوٹ بولنے والا ہے، اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
{وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ تَرَى الَّذِينَ كَذَبُوا عَلَى اللهِ وُجُوهُهُمْ مُسْوَدَّةٌ}
(اور قیامت کے روز تم ان لوگوں کو دیکھو گے جنہوں نے اللہ پر جھوٹ بولا، ان کے چہرے سیاہ ہوں گے)۔
(سورۃ الزمر:60)

اور اللہ پر جھوٹ بولنے والا اس شخص سے بھی زیادہ مجرم ہے جو بغیر علم کے فتویٰ دے (کیونکہ پہلا جان بوجھ کر جھوٹ بول رہا ہے، جبکہ دوسرا غلطی کر رہا ہے)۔

[ملاحظہ کریں: "إعلام الموقعین": ۴/۱۷۳]


(ہـ) اور مفتی کے لیے مکروہ ہے کہ وہ ان حالات میں فتویٰ دے:

شدید غضب (غصہ) کی حالت میں،

یا شدید بھوک کی حالت میں،

یا پریشان کن فکر (هم مقلق) کی حالت میں،

یا خوفناک (مزعج) خوف کی حالت میں،

یا غالب نیند (نعاس) کی حالت میں،

یا اس کی کیفیت پر حاوی ہونے والے دل کے شغل (مصروفیت) کی حالت میں،

یا پیشاب و پاخانہ (دو قذر چیزوں) کی دفع (مدافعة) کی حالت میں۔

بلکہ جب بھی مفتی اپنے نفس میں ان میں سے کوئی چیز محسوس کرے جو اسے اعتدال، مکمل تثبت (استحکام) اور واضح رائے کی حالت سے خارج کر دے، تو اسے فتویٰ دینے سے رک جانا چاہیے۔

[ملاحظہ کریں: "إعلام الموقعین": ۴/۲۷]


(و) اور ہر حال میں، فتویٰ کے حکم کا ضابطہ (بنیادی اصول) یہ ہے کہ مصالح اور مفاسد کو دیکھا جائے۔

امام ابن القیم رحمہ اللہ نے فرمایا:

"...یہ (یعنی جواز / وجوب / استحباب) اس وقت ہے جب مفتی فتویٰ کی وبال (نقصان پہنچانے کی صلاحیت) سے محفوظ ہو۔

پس اگر اسے فتویٰ کی وبال کا خوف ہو اور وہ اس سے رک جانے کی نسبت (فتویٰ دینے سے) زیادہ نقصان (مفسدہ) کے مرتب ہونے کا ڈر محسوس کرے، تو اسے فتویٰ دینے سے رک جانا چاہیے، تاکہ وہ اعلیٰ مفسدہ (بڑے نقصان) کو دفع کرنے کے لیے ادنیٰ مفسدہ (چھوٹے نقصان) کو برداشت کر لے۔

اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کعبہ کو گرانے اور اسے حضرت ابراہیم کی بنیادوں پر دوبارہ تعمیر کرنے سے اس لیے رکے رہے کہ قریش کا اسلام سے تعلق ابھی نیا تھا (یہ روایت امام بخاری نے (رقم: ۳۳۶۸) بیان کی ہے) ، اور انہیں خوف تھا کہ ایسا کرنے سے وہ اس (دین) میں داخل ہونے کے بعد اس سے منہ موڑ لیں گے۔

اسی طرح اگر سائل کی عقل اس جواب کو برداشت نہ کر سکتی ہو جو اس نے پوچھا ہے، اور مفتی کو ڈر ہو کہ یہ جواب اس (سائل) کے لیے فتنہ کا باعث بنے گا، تو اسے (مفتی کو) اس کے سوال کا جواب دینے سے رک جانا چاہیے۔"

[إعلام الموقعین: ۴/۱۵۷، ۱۵۸]





فتویٰ کی اقسام: (سائل کے مقصد اور واقعے کے وقوع کے اعتبار سے)

پہلا باب: سائل کے مقصد (قصد) کے اعتبار سے

اس لحاظ سے سوالات مختلف اقسام میں تقسیم ہوتے ہیں، اور اسی کے مطابق فتویٰ (بھی مختلف) ہوتا ہے:

(۱) بعض اوقات سوال اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے بارے میں ہوتا ہے۔

(۲) بعض اوقات سوال کسی مخصوص امام کے قول کے بارے میں ہوتا ہے۔

(۳) اور بعض اوقات سوال اس چیز کے بارے میں ہوتا ہے جو مفتی کے نزدیک راجح (ترجیح یافتہ) ہو۔

اور مفتی پر واجب ہے کہ وہ سائل کو اس کے سوال کا جواب دے۔

پہلی قسم میں: اس پر لازم ہے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول کا حکم بیان کرے اگر وہ اسے جانتا ہے، اس کے علاوہ اس کے لیے کوئی چارہ نہیں۔

دوسری قسم میں: اسے اختیار ہے کہ وہ اس امام کے قول کی خبر دے، لیکن اس پر لازم ہے کہ وہ تحقیق (تثبت) کرے اور اس قول کو اس امام کی طرف منسوب نہ کرے جب تک کہ وہ یقیناً نہ جان لے کہ یہ اس کا قول اور اس کا مذہب ہے۔

تیسری قسم میں: اسے اختیار ہے کہ وہ اپنے پاس موجود (رائے) کی خبر دے جو اس کے غالب گمان (ظن) کے مطابق صواب (صحیح) ہو، بشرطیکہ اس نے (اس میں) پوری کوشش اور غور و فکر کر لیا ہو۔

امام ابن القیم رحمہ اللہ نے ان اقسام کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا:

"پس مفتی کو چاہیے کہ وہ اپنے آپ کو ان تینوں منزلوں (درجوں) میں سے کسی ایک منزل پر اتارے، اور اس کے واجبات کو ادا کرے، کیونکہ دین اللہ کا دین ہے، اور اللہ تعالیٰ اس سے ضرور ہر اس فتویٰ کے بارے میں سوال کرے گا جو اس نے دیا ہے، اور وہ اس پر (اس کا) بار رکھے گا اور ضرور محاسبہ کرے گا۔ اور اللہ ہی سے مدد مانگی جاتی ہے۔"

[إعلام الموقعین: ۴/۱۷۷]

(دوسرا باب: واقعے کے وقوع (وقوع الحادثة) یا عدم وقوع کے اعتبار سے)

اس اعتبار سے فتویٰ درج ذیل اقسام پر مشتمل ہے:
[ملاحظہ کریں: إعلام الموقعین: ۴/۱۵۷، ۲۲۲]

۱- کہ سائل اس چیز کے بارے میں سوال کرے جو اس پر (واقعہ) گزر چکی ہو، اور وہ سوال کا محتاج ہو، اور اس پر عمل کا وقت آ چکا ہو۔
➡ ایسی صورت میں مفتی پر (اگر اس کے علاوہ کوئی اور مفتی نہ ہو) واجب ہے کہ وہ فوری طور پر اس کا جواب دے، اور ضرورت کے وقت بیان میں تاخیر کرنا جائز نہیں۔

۲- کہ سائل اس واقعہ کے بارے میں سوال کرے جو اس پر ابھی واقع نہیں ہوا (مستقبل کا معاملہ ہو)۔
➡ یہ تین صورتوں سے خالی نہیں:

(الف) کہ اس مسئلے میں کتاب، سنت، یا اجماع سے کوئی نص (واضح حکم) موجود ہو۔
➡ اس صورت میں مفتی کے لیے اس کا حکم بیان کرنا جائز ہے، واجب نہیں (یعنی اختیاری ہے)، اور یہ (وجوب یا جواز) امکان کے مطابق ہوگا۔

(ب) کہ واقعہ (حادثہ) وقوع سے دور ہو یا اس کا وقوع ممکن ہی نہ ہو، بلکہ یہ محض مقدرات (فرضی / تقدیری معاملات) میں سے ہو۔
➡ اس صورت میں مفتی کے لیے اس کے بارے میں گفتگو کرنا مکروہ ہے؛ کیونکہ سلف (صحابہ و تابعین) اس چیز کے بارے میں گفتگو کو مکروہ سمجھتے تھے جو واقع نہیں ہوئی، اور اس لیے بھی کہ رائے (اجتہاد) سے فتویٰ صرف ضرورت کی صورت میں جائز ہے، اور یہاں کوئی ضرورت نہیں۔

(ج) کہ واقعہ (حادثہ) نادر (کم یاب) وقوع والا نہ ہو (یعنی اس کے وقوع کا امکان عام ہو)، اور سائل کا مقصد اس کا علم حاصل کرنا ہو تاکہ جب یہ واقع ہو تو وہ بصیرت (واضح فہم) پر ہو۔
➡ اس صورت میں مفتی کے لیے مستحب ہے کہ وہ اس کا جواب دے اگر وہ اس میں مصلحت (بھلائی) دیکھے۔




(پانچواں مسئلہ: مفتی کی شرائط، صفات اور آداب)

(پہلا باب: مفتی کی شرائط)

[ملاحظہ کریں: الفقیه والمتفقه (۲/۱۵۶)، إعلام الموقعین (۱/۴۴-۴۷، ۴/۱۷۴، ۲۲۰)، اور شرح الکوکب المنیر (۴/۵۵۷)]

(الف) کہ وہ عالم ہو، اور اس میں اجتہاد کی شرائط موجود ہوں جن کا ذکر پہلے گزر چکا ہے۔
[معالم أصول الفقه عند أهل السنة والجماعة، ص ۴۷۲]

(ب) کہ وہ عادل ہو، صدق (سچائی) اور امانت سے متصف ہو۔
[ملاحظہ کریں: روضة الناظر: ۲/۴۰۲]

امام ابن القیم رحمہ اللہ نے فرمایا:

"اور چونکہ اللہ سبحانہ وتعالی کی طرف سے تبلیغ (پیغام پہنچانا) اس علم پر منحصر ہے جس کی تبلیغ کی جا رہی ہے اور اس (تبلیغ) میں سچائی پر، اس لیے روایت اور فتویٰ کے ذریعے تبلیغ کا منصب اس شخص کے لیے موزوں نہیں ہے مگر جو علم اور صدق سے متصف ہو، چنانچہ وہ اس چیز کا عالم ہو جس کی وہ تبلیغ کر رہا ہے، اور اس میں سچا ہو۔

اور اس کے ساتھ ساتھ اس کا طریقہ کار (طریقہ) اچھا ہو، اس کی سیرت (زندگی) قابلِ رضا ہو، وہ اپنی باتوں اور اعمال میں عادل ہو، اور اس کے داخل (چھپے) اور خارج (ظاہر)، اس کے آنے جانے اور تمام حالات یکساں (متشابہ) ہوں۔"

[إعلام الموقعین: ۱/۱۰]



(دوسرا باب: مفتی کی صفات)

مفتی کے لیے کچھ ایسی خصلتیں (صفات) ہیں جن کا اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ ان کا خود اور اپنی تمام حالتوں میں حامل ہو۔

امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے فرمایا:

"کسی شخص کے لیے یہ زیب نہیں کہ وہ خود کو فتویٰ کے لیے نصب کرے (یعنی اس منصب کا دعویٰ کرے) جب تک کہ اس میں پانچ خصلتیں موجود نہ ہوں:

پہلی: کہ اس کی نیت (اخلاص) ہو، کیونکہ اگر اس کی نیت نہ ہو تو اس پر کوئی نور نہیں ہوتا، اور نہ ہی اس کے کلام پر کوئی نور ہوتا ہے۔

دوسری: کہ اسے علم، حلم، وقار اور سکینہ حاصل ہو۔

تیسری: کہ وہ اس کام پر مضبوط (قوی) ہو اور اس کی معرفت (گہری سمجھ) رکھتا ہو۔

چوتھی: کفایت (اہلیت اور استطاعت) ہو، ورنہ لوگ اسے چبا کر رکھ دیں گے (یعنی اس سے فائدہ نہ اٹھا سکیں گے اور اس کی بےعملی کا مذاق اڑائیں گے)۔

پانچویں: لوگوں کی معرفت (پہچان) ہو۔"

[ملاحظہ کریں: إعلام الموقعین: ۴/۱۹۹، شرح الکوکب المنیر: ۴/۵۵۰-۵۵۲]




مفتی کے آداب
(فتویٰ سے پہلے، دورانِ فتویٰ، اور بعد کے آداب)

امام ابن القیم رحمہ اللہ نے (پانچوں شرائط کے بعد) فرمایا:

"پس یہ پانچ (خصلتیں) فتویٰ کے ستون (دعائم) ہیں، اور ان میں سے جو چیز بھی کمی ہو جائے، اس کے مطابق مفتی میں خلا (کمی) ظاہر ہو جاتی ہے۔"

(إعلام الموقعین: ۴/۱۹۹)






تیسرا باب: مفتی کے آداب

مفتی کے لیے کچھ آداب ہیں جن کا اسے فتویٰ جاری کرنے سے پہلے، دورانِ فتویٰ، اور بعد میں خود کو پابند رکھنا چاہیے، ان میں سے بعض درج ذیل ہیں:

۱- مفتی کو اس مسئلے میں فتویٰ نہیں دینا چاہیے جس میں دوسرا (مفتی) اسے کافی ہو (یعنی جواب دے سکتا ہو)۔

بیشک سلف صالحین رضی اللہ عنہم فتویٰ کو ایک دوسرے کی طرف پھینکتے تھے (یعنی اس سے گریز کرتے تھے)، اور فتویٰ دینے سے پرہیز (تورع) کرتے تھے، اور ان میں سے ہر ایک یہ چاہتا تھا کہ کوئی اور اس کی طرف سے جواب دے دے۔

پھر جب وہ دیکھتے کہ فتویٰ ان پر (خاص طور پر) عائد ہو چکا ہے (اور کوئی اور نہیں)، تو وہ اس کے حکم کو جاننے کے لیے اپنی پوری کوشش کرتے، اور اللہ تعالیٰ سے مدد مانگتے۔
(ملاحظہ کریں: جامع بیان العلم وفضله ۲/۱۶۳، الفقیه والمتفقه ۲/۱۶۰، إعلام الموقعین ۱/۳۳، شرح الکوکب المنیر ۴/۵۸۸)

۲- مفتی کو فتویٰ جاری کرنے میں جلد بازی سے بچنا چاہیے (جب وہ اس پر عائد ہو چکا ہو)۔

بلکہ اس پر لازم ہے کہ وہ غور و فکر کرے، اور جواب دینے میں جلدی نہ کرے جب تک کہ وہ اپنی پوری وسعت (استفراغ الوسع) اور پوری کوشش (بذل الجهد) کر لے اور اس کا دل مطمئن (اطمینان) حاصل کر لے۔
(ملاحظہ کریں: مذکورہ بالا مصادر)

۳- مفتی کو چاہیے کہ وہ ان لوگوں سے مشورہ کرے جن کے دین اور علم پر اسے بھروسہ ہو، اور وہ اکیلے جواب دینے سے گریز کرے، اپنے آپ کو بڑا سمجھ کر (ذہبًا بنفسہ) یا تکبراً (ارتفاعًا بہا)۔

کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ سے فرمایا:
{وَشَاوِرْهُمْ فِي الأَمْرِ} (آل عمران: ۱۵۹) (اور ان سے معاملات میں مشورہ کرو)۔

اور اللہ نے مومنین کی تعریف کی ہے کہ ان کا معاملہ آپس میں مشورے سے ہوتا ہے۔

البتہ یہ اس وقت ہے جب اس (مشورے) میں کوئی مفسدہ (نقصان) نہ ہو، جیسے سائل کا راز افشا ہونا، یا اسے تکلیف پہنچنا، یا حاضرین میں سے کسی کو نقصان پہنچنا۔
(ملاحظہ کریں: إعلام الموقعین ۴/۲۵۶، ۲۵۷)

۴- مفتی پر لازم ہے کہ وہ لوگوں کے راز محفوظ رکھے، اور ان کی ان عیب (پوشیدہ حالتوں) کو چھپائے جن کا اسے پتہ چلا ہو۔
(ملاحظہ کریں: إعلام الموقعین ۴/۲۵۶)

۵- جب مفتی کے نزدیک دو اقوال برابر (معتدل) ہو جائیں، یا وہ ان میں سے حق کو نہ پہچان سکے، اور اسے راجح (ترجیح یافتہ) قول معلوم نہ ہو، تو ظاہر (راجح قول) یہ ہے کہ وہ توقف (رک جائے) اور کسی بھی چیز کا فتویٰ نہ دے۔
(ملاحظہ کریں: الفقیه والمتفقه ۲/۱۷۰، إعلام الموقعین ۴/۱۵۷، ۲۳۸)

۶- مفتی کو اختیار ہے کہ وہ سائل کو کسی دوسرے عالم کے پاس بھیج دے (دلالة)، لیکن مفتی پر لازم ہے کہ وہ اللہ سے ڈرے اور اسے کسی اہلِ سنت شخص کی طرف رہنمائی کرے، کیونکہ وہ یا تو نیکی اور تقویٰ پر مددگار ہوگا، یا گناہ اور زیادتی پر۔
(ملاحظہ کریں: إعلام الموقعین ۴/۲۰۷، شرح الکوکب المنیر ۴/۵۸۹)

۷- یہ رہنمائی (دلالة) اور یہ توقف (رک جانا) صرف درج ذیل تفصیل کے ساتھ جائز ہے:

اگر فتویٰ سائل کی خواہش (غرض) کے خلاف ہو، تو مفتی پر لازم ہے کہ وہ اس حق کا فتویٰ دے جسے وہ جانتا ہے، اور اسے فتویٰ دینے میں توقف کرنے کی گنجائش نہیں ہے اگر وہ سائل کی خواہش کے خلاف ہو، کیونکہ یہ ایک عظیم گناہ ہے۔

اور اللہ کی بارگاہ میں اسے کیسے گنجائش ہو سکتی ہے کہ وہ سائل کی خواہش کو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر مقدم کر دے؟

اور اس کے لیے یہ بھی جائز نہیں کہ وہ اسے کسی ایسے مفتی یا مذہب کی طرف رہنمائی کرے جو اس کی (سائل کی) خواہش کے مطابق ہو۔
(ملاحظہ کریں: إعلام الموقعین ۴/۲۵۸، ۲۵۹)

۸- مفتی کو چاہیے کہ وہ دلیل اور تعلیل (حکمت کی وضاحت) کا ذکر کرے۔

کیونکہ فتویٰ کی خوبصورتی اور اس کی روح دلیل ہے۔

اور مفتی کا قول (فتویٰ) جب دلیل کے ساتھ ذکر کیا جائے تو وہ حجت (دلیل / مستند) بن جاتا ہے، جس کی مخالفت سائل پر حرام ہو جاتی ہے، اور اس سے مفتی بغیر علم کے فتویٰ دینے کی ذمہ داری (عیب) سے بری ہو جاتا ہے۔

اور جو شخص نبی ﷺ کے فتووں کو غور سے دیکھے (جبکہ خود آپ کا قول بذاتِ خود حجت ہے) تو وہ دیکھے گا کہ وہ حکم کی حکمت، اس کی نظیر، اور اس کی مشروعیت کی وجہ کی طرف تنبیہ پر مشتمل ہیں۔

اس کی مثال: آپ ﷺ کا "خذف" (انگوٹھے اور شہادت کی انگلی سے کنکری پھینکنا) سے منع فرمانا، اور اس کی تعلیل یہ فرمانا کہ: "یہ آنکھ پھوڑ دیتی ہے اور دانت توڑ دیتی ہے" (بخاری: ۶۲۲۰)۔

اسی طرح قرآن کے احکام (مثلاً) اللہ تعالیٰ ان کے مدارک اور علل (وجوہ) کی طرف رہنمائی کرتا ہے، جیسا کہ اس کا فرمان ہے:
{وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْمَحِيضِ قُلْ هُوَ أَذًى فَاعْتَزِلُوا النِّسَاءَ فِي الْمَحِيضِ} (البقرہ: ۲۲۲) (اور وہ تم سے حیض کے بارے میں پوچھتے ہیں، کہہ دو کہ وہ تکلیف (گندگی) ہے، پس حیض کی حالت میں عورتوں سے الگ رہو)۔
(ملاحظہ کریں: إعلام الموقعین ۴/۱۶۱-۱۶۳، ۲۵۹، ۲۶۰)

۹- اگر حکم (جواب) غریب (انوکھا / غیر مانوس) ہو جسے نفوس نے اپنایا نہ ہو، تو مفتی کو چاہیے کہ وہ اس کی توطئہ (مقدمہ / تیاری) کرے، یعنی اس سے پہلے ایسی باتیں پیش کرے جو اس کی طرف راہنمائی کریں اور اسے مانوس کر دیں (تاکہ سننے والا قبول کر سکے)۔
(ملاحظہ کریں: إعلام الموقعین ۴/۱۶۳، ۱۶۴، زاد المعاد ۳/۳۰۹)

۱۰- مفتی کو چاہیے کہ وہ مناسب بدل (متبادل) کی طرف رہنمائی کرے۔

کیونکہ مفتی کی فقاہت اور نصیحت یہ ہے کہ جب وہ سائل کو کسی چیز سے روکے جس کی اسے ضرورت ہو، تو وہ اسے اس کا عوض (بدل) بتائے۔

پس جب وہ اس پر ممنوع کا دروازہ بند کرے تو اس کے لیے مباح کا دروازہ کھولے۔

جب بھی مفتی کو سائل کے لیے کوئی شرعی مخرج (نکلنے کا راستہ) ملے تو وہ اس کی طرف رہنمائی کرے اور اسے بتائے۔

جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ایوب علیہ السلام کے بارے میں فرمایا، جب انہوں نے قسم کھائی کہ وہ اپنی بیوی کو سو کوڑے ماریں گے: {وَخُذْ بِيَدِكَ ضِغْثًا فَاضْرِبْ بِهِ وَلا تَحْنَثْ} (ص: ۴۴) (اور اپنے ہاتھ میں (سو) ٹہنیوں کا ایک گٹھا لے، پھر اس سے مار دے اور اپنی قسم نہ توڑ)۔
(ملاحظہ کریں: الفقیه والمتفقه ۲/۱۹۴، إعلام الموقعین ۴/۱۵۹)

۱۱- مفتی کو چاہیے کہ وہ نص کے الفاظ سے فتویٰ دے جب تک کہ ممکن ہو۔

کیونکہ نص (خود) حکم، دلیل، اور مکمل وضاحت کو یکجا کر لیتا ہے، پس یہ ایک ایسا حکم ہے جس میں صواب کی ضمانت ہے، اور بہترین بیان کے ساتھ اس پر دلیل بھی شامل ہے۔

اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم جب کسی مسئلے کے بارے میں پوچھے جاتے تو کہتے: "اللہ نے یہ کہا"، "رسول اللہ ﷺ نے یہ کہا"، یا "رسول اللہ ﷺ نے یہ کیا"، اور وہ اس سے انحراف نہیں کرتے تھے جب تک انہیں (نص کی طرف) کوئی راستہ ملتا تھا۔
(ملاحظہ کریں: إعلام الموقعین ۴/۱۷۰-۱۷۲)

اور مفتی پر حرام ہے کہ وہ نص کے الفاظ کے خلاف فتویٰ دے (ملاحظہ کریں: إعلام الموقعین ۴/۲۳۹)، بلکہ اس پر لازم ہے کہ وہ نص کی پیروی کرے، چاہے وہ اس کے مذہب کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔ اس کی وضاحت درج ذیل ہے:

۱۲- مفتی پر لازم ہے کہ وہ حق کا فتویٰ دے، چاہے وہ اس کے مذہب کے خلاف ہی ہو (ملاحظہ کریں: إعلام الموقعین ۴/۱۷۷، ۲۳۶)۔

اسے اپنے مذہب کو تین اقسام میں تقسیم کرنا چاہیے (ملاحظہ کریں: إعلام الموقعین ۴/۲۳۷):

(الف) وہ قسم جس میں حق ظاہر، واضح، اور کتاب و سنت کے موافق ہو – تو وہ اسے خوش دلی اور سینے کی کشادگی کے ساتھ فتویٰ دے۔

(ب) وہ قسم جو مرجوح (کمزور) ہو اور دلیل اس کے خلاف ہو – تو وہ اس کا فتویٰ نہ دے۔

(ج) وہ قسم جو اجتہادی مسائل میں سے ہو جس میں دلائل باہم کھنچ رہی ہوں (متجاذبہ) – تو وہ اسے اختیاراً دے سکتا ہے اور نہیں بھی دے سکتا، (اس کا انحصار) نظر (غور و فکر) پر ہے۔

۱۳- مفتی کو چاہیے کہ وہ سائل کو جواب اس طرح بیان کرے جو اشکال کو دور کرنے والا ہو، فیصلہ کن (فصل الخطاب) کو شامل ہو، مقصد کے حصول کے لیے کافی ہو، جس کے بعد دوسرے (جواب) کی ضرورت نہ رہے، اور نہ ہی سائل کو حیرت اور اشکال میں ڈالے۔



اور مفتی اس شخص کی مانند نہ ہو جس سے میراث (وراثت) کے بارے میں پوچھا گیا تو اس نے کہا:
"ورثاء کے درمیان اللہ عزوجل کے فرائض کے مطابق تقسیم کرو۔"
اور دوسرے سے (ایک مسئلہ) پوچھا گیا تو اس نے کہا: "اس میں دو اقوال ہیں" اور (اس سے) زیادہ نہ کہا۔

➡ یہ (اس طرح کا جواب) فتویٰ سے حید (انحراف) ہے، البتہ ایک ماہر (متمکن) مفتی جو علم کا حامل ہے، وہ متنازعہ مسئلہ میں توقف (رک جانا) کر سکتا ہے اور بغیر علم کے کسی بات پر جزم (یقینی فیصلہ) نہیں کر سکتا، اور اس کی زیادہ سے زیادہ گنجائش یہ ہے کہ وہ سائل کو اختلاف (علماء کے مختلف اقوال) کا ذکر کر دے۔
(ملاحظہ کریں: إعلام الموقعین ۴/۱۷۷-۱۷۹)

اور یہ (اختلاف کا ذکر کرنا) امام شافعی اور امام احمد کے جوابات میں بہت زیادہ پایا جاتا ہے، لہٰذا اگر مفتی توقف (متردد) ہو تو اختلاف کا ذکر کر کے جواب دینے میں کوئی حرج نہیں۔
(ملاحظہ کریں: إعلام الموقعین ۴/۱۵۷، ۲۳۸)

۱۴- مفتی کو چاہیے کہ جب سوال محتمل (مختلف احتمالات پر مشتمل) ہو تو وہ سائل سے استفصال (تفصیل / مزید وضاحت) طلب کرے، اور اس وقت تک مطلق جواب نہ دے جب تک اسے معلوم نہ ہو جائے کہ اس کا ارادہ اس مسئلے میں ممکنہ اقسام میں سے کسی خاص قسم کا ہے۔

پس جب استفصال کی ضرورت ہو تو وہ استفصال کرے، اور جب استفصال کی ضرورت نہ ہو تو اسے چھوڑ دے۔

مثال: اگر اس سے فرائض (وراثت) کے بارے میں کوئی مسئلہ پوچھا جائے تو اس پر لازم نہیں کہ وہ موانعِ ارث (وراثت سے روکنے والی چیزیں) کا ذکر کرے (جب تک کہ سوال میں وہ موجود نہ ہوں)؛ پس وہ کہے گا: "بشرطیکہ وہ کافر نہ ہو، نہ غلام ہو، اور نہ قاتل ہو۔"

اور اگر اس سے کسی ایسی فریضہ (وراثت) کے بارے میں پوچھا جائے جس میں بھائی شامل ہو، تو اسے کہنا چاہیے: "اگر (بھائی) باپ کی طرف سے (علاتی) ہو تو اسے اتنا ملے گا، اور اگر ماں کی طرف سے (اخیافی) ہو تو اسے اتنا ملے گا۔"
(ملاحظہ کریں: إعلام الموقعین ۴/۱۸۷-۱۹۵، ۲۵۵، ۲۵۶)

۱۵- مفتی کو چاہیے کہ وہ اس راہ (پہلو) کی طرف تنبیہ کرے جس سے بچا جا سکے جو وہم (غلط فہمی) کی وجہ سے صواب کے خلاف ہو سکتا ہے،

جیسا کہ نبی ﷺ کا فرمان ہے:
"لَا تَجْلِسُوا عَلَى الْقُبُورِ وَلَا تُصَلُّوا إِلَيْهَا" (قبروں پر نہ بیٹھو اور نہ ان کی طرف نماز پڑھو)۔ (رواہ مسلم ۷/۳۸)

کیونکہ آپ ﷺ کا بیٹھنے سے منع فرمانا اس میں قبروں کی تعظیم کی ایک قسم ہے، اس لیے آپ ﷺ نے اس کے بعد (یعنی قبروں کی) تعظیم میں مبالغہ (غلو) سے منع فرمایا یہاں تک کہ انہیں قبلہ نہ بنا لیا جائے۔
(ملاحظہ کریں: إعلام الموقعین ۴/۱۶۰، ۱۶۱)

۱۶- مفتی کے لیے جائز نہیں کہ وہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر گواہی دے کہ اس نے فلاں چیز کو حلال یا حرام کیا ہے، مگر اس چیز کے بارے میں جس کے بارے میں وہ جانتا ہے کہ معاملہ اسی طرح ہے، یعنی جس کے حلال یا حرام ہونے پر اللہ اور اس کے رسول نے نص (واضح حکم) فرمایا ہو۔

اور بہتر یہ ہے کہ وہ کہے:

"نَكْرَهُ كَذَا" (ہم فلاں چیز کو ناپسند کرتے ہیں)۔

"نَرَى هَذَا حَسَنًا" (ہم اسے اچھا سمجھتے ہیں)۔

"يَنْبَغِي هَذَا" (یہ مناسب ہے)۔

"لَا نَرَى هَذَا" (ہم اسے نہیں دیکھتے / پسند نہیں کرتے)۔
اور اسی طرح کے الفاظ جو سلف صالحین سے ان کے فتووں میں نقل ہوئے ہیں۔
(ملاحظہ کریں: إعلام الموقعین ۱/۳۹، ۴/۱۷۵)

۱۷- مفتی کو چاہیے کہ جب اس پر کوئی مسئلہ نازل ہو (اور وہ اس کا جواب دینے لگے) تو وہ سچائی اور اخلاص کے ساتھ اللہ کی طرف رجوع کرے کہ وہ اسے صواب کی توفیق عطا فرمائے اور اس کے لیے راہِ سداد (درست راستہ) کھول دے، اور اسے اس مسئلے میں اس کا شرعی حکم بتا دے جو اس نے مقرر کیا ہے۔

پس جب وہ حکم کو جاننے کے لیے اپنی پوری وسعت (استفراغ وسع) کر لے، تو:

اگر اسے (حکم) مل جائے تو اس کی خبر دے۔

اور اگر وہ اس پر مشتبہ ہو جائے تو وہ فوراً توبہ، استغفار، اور ذکرِ کثیر (اللہ کو بکثرت یاد کرنے) کی طرف دوڑے۔

کیونکہ علم وہ نور ہے جسے اللہ اپنے بندے کے دل میں ڈالتا ہے، اور ہوا (خواہش) اور معصیت ایک ایسی طوفانی ہوا ہے جو اس نور کو بجھا دیتی ہے یا اسے بجھانے کے قریب پہنچا دیتی ہے، اور (بہر حال) یہ اسے ضرور کمزور کر دیتی ہے۔

اور ان دعاؤں میں سے جنہیں پڑھنا مناسب ہے، (ملاحظہ کریں: إعلام الموقعین ۴/۱۷۲، ۲۵۷، ۲۵۸، شرح العقیدہ الطحاویہ ۲۲۹، ۲۳۰)

وہ دعا جو صحیح حدیث میں وارد ہوئی ہے:
"اللَّهُمَّ رَبَّ جِبْرَائِيلَ وَمِيكَائِيلَ وَإِسْرَافِيلَ، فَاطِرَ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ، عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ، أَنْتَ تَحْكُمُ بَيْنَ عِبَادِكَ فِيمَا كَانُوا فِيهِ يَخْتَلِفُونَ، اهْدِنِي لِمَا اخْتُلِفَ فِيهِ مِنَ الْحَقِّ بِإِذْنِكَ، إِنَّكَ تَهْدِي مَنْ تَشَاءُ إِلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ" (اے اللہ! جبرائیل، میکائیل اور اسرافیل کے رب، آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے، غیب اور شہادت کے جاننے والے! تو ہی اپنے بندوں کے درمیان اس چیز کا فیصلہ کرتا ہے جس میں وہ اختلاف کرتے ہیں، مجھے اس حق کی طرف ہدایت فرما جس میں اختلاف کیا گیا ہے، اپنے اذن (حکم) کے ساتھ، بیشک تو جسے چاہتا ہے سیدھے راستے کی طرف ہدایت دیتا ہے)۔ (رواہ مسلم ۶/۵۶)

اور بعض سلف (فاتحہ) پڑھتے تھے۔

اور بعض ان کے قول (فتویٰ) کے وقت یہ آیت پڑھتے تھے:
{سُبْحَانَكَ لا عِلْمَ لَنَا إِلا مَا عَلَّمْتَنَا إِنَّكَ أَنْتَ الْعَلِيمُ الْحَكِيمُ} (البقرۃ: ۳۲) (پاک ہے تیری ذات، ہمیں وہی علم ہے جو تو نے ہمیں سکھایا، بےشک تو ہی سب کچھ جاننے والا، حکمت والا ہے)۔

اور بعض کہتے تھے: "يَا مُعَلِّمَ إِبْرَاهِيمَ عَلِّمْنِي" (اے ابراہیم کو سکھانے والے! مجھے سکھا)۔

اور بعض کہتے تھے: "لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ" (نہ کوئی طاقت ہے اور نہ کوئی قوت مگر اللہ کی مدد سے)۔

اور بعض کہتے تھے:
{رَبِّ اشْرَحْ لِي صَدْرِي * وَيَسِّرْ لِي أَمْرِي * وَاحْلُلْ عُقْدَةً مِنْ لِسَانِي * يَفْقَهُوا قَوْلِي} (طه: ۲۵-۲۸) (اے میرے رب! میرے سینے کو کشادہ کر دے، اور میرے کام کو آسان کر دے، اور میری زبان کی گرہ کھول دے، تاکہ لوگ میری بات سمجھ سکیں)۔

۱۸- مفتی کے لیے جائز ہے، بلکہ اس پر واجب ہے کہ وہ اپنا فتویٰ تبدیل کر دے اگر اس پر (بعد میں) واضح ہو جائے کہ وہ غلط تھا۔

اور اسی وجہ سے بعض ائمہ سے ایک ہی مسئلے میں دو یا زیادہ اقوال صادر ہوئے، اور یہ مفتی کے علم اور اس کے دین میں کوئی قدح (نقص) نہیں، بلکہ یہ اس کے تقویٰ اور اس کے علم کی وسعت کی دلیل ہے۔

اور اس (تبدیل شدہ فتویٰ) کی صورت میں اس پر یہ لازم نہیں کہ وہ سائل کو (پہلے والے فتویٰ کی) خبر دے، مگر اگر مفتی پر قطعاً واضح ہو جائے کہ پہلا فتویٰ غلط تھا (کیونکہ وہ کسی ایسی نص کے خلاف تھا جس کا کوئی معارض نہ ہو یا اجماعِ امت کے خلاف تھا)، تو ایسی صورت میں اس پر واجب ہے کہ وہ سائل کو (اس غلطی سے) آگاہ کرے۔
(ملاحظہ کریں: سنن الدارمی: ۱/۱۵۳، إعلام الموقعین: ۴/۲۲۲-۲۲۵، ۲۳۲، ۲۳۳)





چھٹا مسئلہ: سائل فتوی پوچھنے والے کے آداب

(پہلا باب: سائل کے آداب)

۱- سائل (مستفتی) پر لازم ہے کہ وہ اعلم (سب سے زیادہ عالم) اور أدین (سب سے زیادہ پرہیزگار) مفتی کی تلاش میں کوشش کرے؛ کیونکہ یہی (اس کی استطاعت میں) تقویٰ ہے جس کا ہر شخص کو حکم دیا گیا ہے۔

[ملاحظہ کریں: "مجموع الفتاوی" (۳۳/۱۶۸)، "إعلام الموقعین" (۴/۱۷۷، ۲۵۵، ۲۶۱)، اور "شرح الکوکب المنیر" (۴/۵۷۳)]




۲- سائل کو چاہیے کہ وہ مفتی کے ساتھ ادب ملحوظ رکھے، اس کی تعظیم اور تکریم کرے۔

[ملاحظہ کریں: "الفقیه والمتفقه" (۲/۱۹۷)، اور "شرح الکوکب المنیر" (۴/۵۹۳)]



۳- سائل کے لیے جائز نہیں کہ وہ محض مفتی کے فتویٰ پر عمل کرے اگر اس کا دل اس پر مطمئن نہ ہو، اور وہ جانتا ہو کہ باطن (حقیقت) میں معاملہ اس کے خلاف ہے، اور مفتی کا فتویٰ اسے اللہ (کی طرف سے) بری نہیں کرتا، جیسا کہ قاضی کا فیصلہ بھی اسے بری نہیں کرتا۔

جیسا کہ نبی ﷺ نے فرمایا:
"فَمَنْ قَضَيْتُ لَهُ بِحَقِّ مُسْلِمٍ فَإِنَّمَا هِيَ قِطْعَةٌ مِنْ نَارٍ فَلْيَأْخُذْهَا أَوْ لِيَتْرُكْهَا"
(جس شخص کے لیے میں نے کسی مسلمان کا حق (ناحق) فیصلہ کر دیا تو وہ (جس کا فیصلہ کیا گیا ہے اس کے لیے) آگ کا ایک ٹکڑا ہے، اسے لے لے یا چھوڑ دے)۔
[بخاری:۲۴۵۸، مسلم (۱۲/۴)]

اور سائل کو چاہیے کہ وہ دوسری اور تیسری بار (دوسرے مفتی سے) پوچھے، یہاں تک کہ اسے اطمینان حاصل ہو جائے، اگر عدمِ اعتماد اور عدمِ اطمینان مفتی کی وجہ سے ہو، جیسے:

سائل کو مفتی کی جہالت معلوم ہو،

یا اس کی جانبداری (محاباة) کا علم ہو،

یا اس کا کتاب و سنت سے پابند نہ ہونا،

یا اس کی حیلوں اور رخصتوں (جو سنت کے خلاف ہوں) کے ساتھ فتویٰ دینے کی شہرت،

اور دیگر اسباب جو اس کے فتویٰ پر اعتماد اور دل کے اطمینان کو روکتے ہیں۔

پھر اگر اسے (اس کے علاوہ) کوئی اور نہ ملے جس سے پوچھ سکے، تو اللہ کسی جان پر اس کی وسعت سے زیادہ بار نہیں ڈالتا، اور واجب یہ ہے کہ وہ اپنی استطاعت کے مطابق تقویٰ اختیار کرے۔

[ملاحظہ کریں: "إعلام الموقعین" (۴/۲۵۴)، اور "شرح الکوکب المنیر" (۴/۵۷۴)]



۴- اگر سائل نے کسی واقعہ (حادثہ) کے بارے میں فتویٰ لیا اور اس پر عمل کیا، پھر وہی واقعہ دوسری بار پیش آ جائے، تو احتیاطاً سائل کو چاہیے کہ وہ دوبارہ فتویٰ لے (نیا فتویٰ پوچھے)۔

کیونکہ امکان ہے کہ:

مفتی نے اپنا اجتہاد تبدیل کر لیا ہو،

یا کوئی ایسی چیز پیدا ہو گئی ہو جو اس واقعہ کے حکم کو بدل دیتی ہو،

اور سائل یہ گمان کرے گا کہ واقعہ وہی ہے اور اس کا حکم تبدیل نہیں ہوا، جبکہ حقیقت میں دونوں واقعات مختلف ہیں اور ہر ایک کا اپنا الگ حکم ہے۔

[ملاحظہ کریں: "إعلام الموقعین" (۴/۲۶۱)، اور "شرح الکوکب المنیر" (۴/۵۵۵)]




۵- سائل کو ایسی چیز کے بارے میں نہیں پوچھنا چاہیے جس کا وقوع دور (بعید) ہو یا ناممکن ہو۔

[ملاحظہ کریں: "إعلام الموقعین" (۴/۲۲۱، ۲۲۲)، "جامع العلوم والحکم" (۱/۲۸۷)]

اس کی دلیل نبی ﷺ کا یہ فرمان ہے:
"مِنْ حُسْنِ إِسْلَامِ الْمَرْءِ تَرْكُهُ مَا لَا يَعْنِيهِ"
(آدمی کے اسلام کی خوبی (اور کمال) یہ ہے کہ وہ اس چیز کو چھوڑ دے جو اسے فائدہ نہ پہنچاتی)۔
[سنن ابن ماجہ: ۳۹۷۶ سنن ترمذی:۲۳۱۷، اور امام نووی نے "الأربعین النوویہ(۱/۲۸۷)" میں اسے حسن قرار دیا ہے۔]





سوال پوچھنے کے آداب:
(1)اور مت سوال پوچھو کسی چیز کے بارے میں جب تک میں تمہیں نہ خبر دوں.

[الطیالسی:36، البزار:7505، ابی یعلیٰ:3690]




(2)ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے شر کے بارے میں سوال کیا تو آپ نے فرمایا: مجھ سے شر کے بارے میں سوال مت کرو،بلکہ خیر کے بارے میں سوال کرو۔۔۔

[دارمی:382]




(3)مذاق اڑانے کیلئے سوال پوچھنا جائز نہیں۔

[بخاری:4622]







(4)حضرت ابن عمر نے فرمایا:

جو واقعہ پیش نہیں آیا اس کے متعلق سوال نہ کرو،کیوں کہ میں نے حضرت عمر کو اس شخص کو برا بھلا کہتے ہیں جو انہونی باتوں کے متعلق سوال کرے

[جامع الاحادیث:31128]

وقال ابن عباس لعكرمة: "من سألك عما لا يعينه فلا تفته
حضرت ابن عباسؓ نے عکرمہ سے کہا: "اگر کوئی تم سے ایسی چیز کے بارے میں پوچھے جس کا تم سے کوئی تعلق نہ ہو تو اسے فتویٰ نہ دو۔"
[الآداب الشرعية :2/164]

کیونکہ جو کچھ ہونے والا ہے اللہ تعالی نے اسے بیان کردیا ہے۔

[دارمی:126]




(5)حضرت علی نے ایک شخص کو فرمایا:

سوال پوچھ سمجھنے کیلئے اور مت سوال پوچھ دشمنی یا ذلیل کرنے کیلئے

[جامع الاحادیث:33592]


(6)جب یہ آیت نازل ہوئی: "اور لوگوں پر اللہ کا حق (فرض) ہے کہ جو اس گھر تک جانے کی قدرت رکھے وہ اس کا حج کرے {سورۃ آل عمران:97}

تو لوگوں نے پوچھا: اے اللہ کے رسول ﷺ! کیا ہر سال(حج فرض)ہے؟

آپ ﷺ خاموش رہے۔

لوگوں نے پھر پوچھا: آپ پھر بھی خاموش رہے۔

لوگوں نے تیسری بار پوچھا: تب آپ نے فرمایا:

اگر میں ہاں کردیتا تو(ہر سال فرض)ہوجاتا

پھر اس پر یہ آیت نازل ہوئی:

مومنو! ایسی چیزوں کے بارے میں سوال مت کرو کہ اگر (ان کی حقیقتیں) تم پر ظاہر کر دی جائے تو تمہیں برا لگیں۔۔۔{سورۃ المائدۃ:101}

[ترمذی:814+3055، ابن ماجہ:2884]







(7) گہرے علم والے کی موجودگی میں عام علماء سے سوال نہ کرنا۔

دلائل:

[بخاری:6736, ابوداؤد:2059,طبرانی:8499, دارقطنی:4312, بیھقی:15654]

[مؤطأ مالک(الأعظمی):2248، مصنف عبد الرزاق:13895، بیھقی:15664]




(8)نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

ستارہ شناسوں سے کچھ مت پوچھو، اور تقدیر میں شک وشبہ مت رکھو،اور نہ قرآن کی تفسیر اپنی رائے سے کرو،اور میرے اصحاب میں سے کسی کو برا بھلا نہ کہو،یہ بات محض ایمان ہے۔

[جامع الاحادیث:16423]






عالِم اور مفتی میں فرق:
ہمارے عرف میں جس نے درس نظامی مکمل پڑھا ہو وہ عالم کہلاتا ہے اور درس نظامی مکمل کرنے اور عالم بننے کے بعد اگر کسی ماہر مفتی کی نگرانی میں ایک عرصے تک فتویٰ دینے کی مشق و تمرین کرے تو وہ مفتی کہلاتا ہے۔ گویا ہر عالم مفتی نہیں ہوتا لیکن مفتی ہونے کے لیے عالم ہونا ضروری ہے۔
         تاہم واضح رہے کہ عالم بننے کے لیے صرف علوم کا پڑھنا کافی نہیں بلکہ اصل عالم ( جو حدیث کی رو سے انبیاء کا وارث ہونا ہے)  وہ شخص ہے جس میں اللہ تعالیٰ کا خوف اور اپنے علم پر عمل کرنے کی صفت بھی پائی جائے۔ نیز مفتی بننے کے لیے بھی صرف تخصص کرلینا کافی نہیں ، بلکہ اس کے بعد ایک عرصے تک کسی ماہر مفتی کی نگرانی میں کام کرنا ضروری ہوتا ہے۔ عموماً ایک طویل عرصے تک کام کرنے کے بعد فتوی دینے کی صلاحیت پیدا ہوتی ہے۔ عوام کو بھی چاہیے کہ مسائل معلوم کرنے کے لیے کسی ایسے مفتی کی طرف ہی رجوع کریں۔




مسئلہ صرف مفتی بتائے یا عالم بھی بتا سکتا ہے؟
مسئلہ بتانا ایک بہت بڑی شرعی ذمہ داری،اور   انتہائی نازک وحساس کام ہے جس میں سائل کاسوال سمجھنا،اس کا مقصد پہچاننا اور اور اس کے زمانے ،مکان اور عرف کی واقفیت کے ساتھ  ساتھ ، ملتی جلتی جزئیات میں امتیاز اور جواب میں مفتٰی بہٖ قول اختیار کرنا ،ایسے  بہت  سے امور  ہیں جن کا ادراک  ممارسۃ اور مسلسل تجربے کا متقاضی ہے، اور ان امور کی انجام دہی کسی  مستند دارالافتاء  سے  وابستہ مفتی ہی  کرسکتاہے، اس  لیے کسی غیر مفتی عالم کے لیے مسائل بتانے  میں جرأت کرنا صحیح نہیں، غیر مفتی عالم  مسئلہ اس وقت بتائے جب کسی مستند کتاب میں دیکھا ہو یا کسی مستندمفتی صاحب سے مسئلہ معلوم کیا ہو یا  مستند مفتی یا دار الافتاء سے جواب کی تصدیق کرچکا ہو ۔ کسی سائل سے مسئلہ سن کر  کسی ادارے   کی ویب  سائٹ  سےمحض  جواب نقل کردینا بھی  مناسب نہیں  ہے ،اگر نقل کریں تو   سوال جواب دونوں  باحوالہ نقل کریں  اور   ساتھ  ہی سائل کو کسی مستند مفتی سے رجوع کا مشورہ بھی دیں، یا مسئلہ بتانے سے پہلے کسی مستند پختہ کار مفتی سے اس مسئلے کی تصدیق کروالیں کہ سائل کے اس سوال کے جواب میں فلاں  فتویٰ بطورِ جواب درست ہوگا یا نہیں ۔فقط واللہ اعلم



منصب افتاء پر فائز صحابہ کرامؓ

عہد نبویؐ میں صاحب فتاوی صحابہ کرامؓ
اسلام جب کہ ابتدائی دور سے گزر رہاتھا اور مسلمانوں کی تعدادا تھوڑی تھی،مسلمان ابھی اچھی طرح شریعت اور اسلامی تعلیمات سے واقف بھی نہ تھے اور مسلمانوں کا مدینہ اور اطراف مدینہ میں ہونے کی وجہ سے براہ راست رسول اللہ سے مسائل کا حل معلوم کرنا کوئی دشوار امر نہ تھا، اس لئے ابتدائی زمانہ میں تنہا رسول اللہ  اس فریضہ کو انجام دیتے تھے؛ لیکن جب اسلام فاران کی چوٹی سے باہر نکلا اور اسلام کا دائرہ وسیع سے وسیع تر ہوتا چلاگیا، مسلمانوں کی تعداد میں روز افزوں اضافہ ہونے لگا ،دور دراز علاقوں میں اسلام کی باز گشت سنائی دینے لگی،مدینہ اور اطراف مدینہ میں مسلمانوں کی تعداد بہت بڑھ گئی اور بلاد بعیدہ سے سفر کرکے آپ کی خدمت میں آنا اور سوال معلوم کرنا سیاسی ومعاشی ہر دو لحاظ سے دشوار ہوگیا، تو آپ  نے اہل علم صحابہؓ کولوگوں کی تعلیم وتربیت کے لئے ان علاقوں میں بھیجا، صحابہ کرامؓ  نے وہاں جاکر لوگوں کو کتاب وسنت کی تعلیم دی اور منصب افتاء کے فرائض حسن وخوبی کے ساتھ انجام دئے؛ چنانچہ المصباح کے مصنف لکھتے ہیں :

ولم یکن أحد في عھد رسول اللہ یشتغل بمنصب الإفتاء غیرہ غیر انہ علیہ السلام ربما بعث بعض الصحابۃ إلی البلاد النائیۃ فأذن لھم بالإفتاء والقضاء کما بعث معاذ بن جبل۔ (۶)

آپ کے زمانہ میں آپ کے علاوہ کوئی بھی اس منصب پر فائز نہ تھاالبتہ آپؓ لی اللہ علہ وسلم بعض صحابہؓ کو دور دراز علاقوں میں بھیجتے تو ان کو افتاء اور قضاء کی بھی ذمہ داری عطا فرماتے۔
ابن سعدؒ نے طبقات میں سہل بن خیثمہؓ کے حوالہ سے ان صحابہ کرامؓ  کے اسماء کو ذکر کیا ہے جو آپ  کے عہد میں اس منصب پر فائز تھے چنانچہ لکھتے ہیں :

کان الذین یفتون علی عہد رسول اللّہ ثلاثۃ نفر من المہاجرین وثلاثۃ من الأنصار عمر و عثمان و علی وابی بن کعب ومعاذ بن جبل وزید بن ثابت۔(۷)

"آپ  کے زمانہ میں مہاجرین صحابہؓ میں حضرت عمر حضرت عثمان حضرت علیؓ اور انصار صحابہؓ میں حضرت ابی بن کعب حضرت معاذ بن جبل اور حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہم فتوی دیا کرتے تھے"۔

ابن سعدؒ کی طبقات میں ہی کعب بن مالک کا قول منقول ہے:

کان معاذ بن جبل یفتی بالمدینۃ فی حیاۃ الرسول وابی بکر۔(۸)

حضرت معاذؓ حضور  کی  زندگی میں اور حضرت ابوبکرؓ  کی زندگی میں مدینہ میں فتوی دیتے تھے۔

ابن عمرؓؓ سے معلوم کیا گیا کہ حضورؐ کے زمانہ میں کون لوگ فتوی دیتے تھے تو ابن عمرؓ نے فرمایا حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ فتوی دیتے تھے ان کے علاوہ میں کسی تیسرے کا نام نہیں جانتا ہوں (۹) قاسم بن محمدؒ کا قول ہے کہ چاروں خلفاء حضور کے زمانہ میں فتوی دیا کرتے تھے۔(۱۰)
عہدصحابہؓ میں منصب افتاء پر فائز صحابہ کرامؓ  
آپ  کے بعد اس عظیم الشان منصب پر آپ کے وہ جلیل القدر صحابہ کرامؓ  فائز ہوئے جو آپ کی وراثت کے اولین محافظ و امین تھے اور تقوی وطہارت، صداقت وعدالت، شجاعت و سخاوت اور ایثار و ہمدردی میں مانند آفتاب اور رشد و ہدایت، علم و معرفت میں مانند ماہتاب تھے جن کے متعلق ارشاد ربانی ہے:رضی اللہ عنہم ورضواعنہ۔(۱۱) اللہ ان سے خوش ہوئے اور یہ اللہ تعالیٰ سے راضی اور خوش ہیں جن کے متعلق معلم انسانیت نبی کریم کا ارشاد گرامی ہے:اصحابی کالنجوم بایھم اقتدیتم اھتدیتم۔(۱۲) "میرےصحابہؓ مانند ستارے کے ہیں ان میں تم جن کی اقتدا کرلوگے راہ یاب ہوجاؤگے"،جن کو کتاب وسنت کا فہم خاص عطا کیا گیا تھا جو نزول قرآن ،اسباب نزول اور منشاء قرآن سے اچھی طرح با خبر تھے جن کے بارے میں امت کا متفقہ فیصلہ ہے:

الین الأمۃ قلوبا واعمقھا علما واقلھا تکلفا واحسنھا بیانا واصدقھا ایمانا واعمھا نصیحۃ واقربھا إلی اللہ وسیلۃ۔ (۱۳)

صحابہ کرامؓ  امت میں سب سے زیادہ نرم دل،سب سے زیادہ گہرے علم والے ،سب سے کم تکلف کرنے والے اور حسن بیان میں سب سے بڑھ کر ہیں ، اسی طرح ایمان میں سب سے سچے، خیر خواہی میں سب سے آگے اور اللہ کے وسیلہ کے اعتبار سے قریب ترہیں ۔
حضرت ابو بکرؓ اور محکمۂ افتاء
آپ  کے اس دنیا سے تشریف لے جانے کے بعد امت نے متفقہ طور پر حضرت ابوبکر صدیقؓ کو آپ کا خلیفہ اور جانشین مقرر کیا،حضرت ابوبکر ؓنے خلافت کے ابتدائی زمانہ میں فتنۂ ارتداد کی بیخ کنی کی، اور ان کاموں کی طرف توجہ دی جن کو کرنے کا حضور  نے عزم مصمم فرمالیا تھا اور نہ کرسکے تھے پھر انہوں نے اسلامی نظام سلطنت کے تمام شعبوں کو مضبوط و مستحکم کیا، فقہ وفتاوی کے لئے باضابطہ ایک شعبہ قائم کیا شاہ معین الدین ندوی سیر الصحابہؓ میں لکھتے ہیں :
"حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے مسائل فقہیہ کی تحقیق وتنقید اور عوام کی سہولت کے خیال سے افتاء کا ایک محکمہ قائم کردیا تھا حضرت عمرؓ ، حضرت عثمانؓ،حضرت علیؓؓ حضرت عبدالرحمن بن عوفؓ ،حضرت معاذ بن جبلؓ، حضرت ابی بن کعبؓ، حضرت زید بن ثابتؓ جو اپنے علم واجتہاد کے لحاظ سے تمام صحابہؓ میں منتخب تھے اس خدمت پر مامور تھے ان کے سوا کسی کو فتوی دینے کی اجازت نہ تھی حضرت عمر ؓنے بھی اپنے عہد خلافت میں پابندی کے ساتھ اس کو قائم رکھاتھا"۔(۱۴)
صاحب فتاوی صحابہ کرامؓ  کی تعداد
جو لوگ فقہ وفتاوی سے واقف ہیں جانتے ہیں کہ فقہ وفتاوی میں نزاکت اور دقیقہ سنجی پائی جاتی ہے دوسری طرف صحابہ کرامؓ  باہمی فہم وفراست،ذہانت وذکاوت،شرف صحبت اور قبول اسلام کے اعتبار سے مختلف تھے ؛اس لئے تمام صحابہ کرامؓ  اس منصب پر فائز نہ ہوسکے جیسا کہ ابن خلدون نے لکھا ہے:

ثم ان الصحابۃ کلھم لم یکونوا أہل فتیا ولا کان الدین یؤخذ عن جمیعھم وانما کان مختصا بالحاملین القرآن العارفین بناسخہ ومنسوخہ  ....الخ۔ (۱۵)

پھر تمام صحابہؓ اصحاب فتوی نہ تھے اور نہ ہی تمام صحابہؓ سے دین حاصل کیا جاتا تھا بلکہ اس کے لئے وہ صحابہؓ مختص تھے جو حاملین قرآن تھے اور ناسخ ومنسوخ کو پہنچانتے تھے۔
ابن قیم کی تحقیق کے مطابق ۱۳۰/ سے زائد صحابہ کرامؓ اس منصب پر فائز تھے پھر ابن القیم نے صاحب فتاوی صحابہ کرامؓ کو تین طبقوں میں تقسیم کیا ہے پہلا طبقہ ان صحابہ کرامؓ کا ہے جنہوں نے طویل مدت تک کثرت کے ساتھ اس ذمہ داری کو انجام دیا اورجن کے فتاوی کتب حدیث میں کثرت کے ساتھ منقول ہیں ان کو’‘ مکثرین فی الفتیا" سے تعبیر کرتے ہیں ان کے فتاوی کو اگر یکجا کیا جائے تو ہر ایک کے فتاوی کی تعداد اتنی ہے کہ ضخیم جلدیں تیار ہوسکتی ہیں ، مکثرین صحابہؓ کی تعداد بقول ابن القیم سات ہیں جو حسب ذیل ہیں ۔
(۱)      امیر المؤمنین سیدنا حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ جو فطرتاً ذہین اور صائب الرائے تھے، ان کی طبیعت نکتہ رس واقعہ ہوئی تھی، جنہوں نے نئے نسل کے استنباط احکام  اور تفریع مسائل کے لئے ایک شاہراہ قائم کی تھی، جن کے بارے میں نبی کریم  کا ارشاد ہے:ان اللہ جعل الحق علی لسان عمر وقلبہ۔(۱۶) اور عبداللہ ابن مسعودؓ ؓ کا قول ہے:

 لو وضع علم احیاء العرب فی کفۃ ووضع علم عمر فی کفۃ لرجح بھم علم عمر۔ (۱۷)

"اگر عرب کے زندہ لوگوں کا علم ایک جانب رکھا جائے اور حضرت عمر ؓ کاعلم ایک جانب تو حضرت عمرؓ کا علم غالب ہوگا"۔

(۲)     امیر المؤمنین علی بن ابی طالب ؓ :جن کو فقہ واجتہاد میں کامل دست گاہ حاصل تھی اور کتاب وسنت کے علم کے ساتھ سرعت فہم ، دقیقہ سنجی اور انتقال ذہنی میں اپنی مثال آپ تھے ان کے متعلق فقیہ الامت عبداللہ ابن مسعودؓ کا قول ہے کہ اہل مدینہ میں علم فرائض ،کار افتاء اور کار قضاء میں حضرت علیؓؓ سب سے اعلی ہیں (طبقات لابن سعدؒ)اور ترجمان القرآن ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :اذا حدثنا ثقۃ عن علی بفتیا لانعدوھا۔ (۱۸) اگر کوئی معتمد شخص ہمارے سامنے حضرت علیؓ کے فتاوی اور احکام بیان کرے تو ہم ان سے ہٹ کر کوئی فتوی نہیں دیتے ہیں ۔
(۳)     فقیہ الامت حضرت عبداللہ ابن مسعودؓ جن کے متعلق زبان رسالت سے یہ کلمہ جاری ہوا :

رضیت لامتی ما رضی لھا ابن أم عبد وکرھت ما کرہ لھا ابن ام عبد۔(۱۹)

میں ہر اس چیز سے راضی ہوں جس سے ابن ام عبدؓ(عبداللہ بن مسعود)راضی ہیں اور ہر اس چیز کو نا پسند کرتا ہوں جس کو ابن ام عبد نا پسند کرتے ہیں ۔

ابن مسعودؓ کی شان تفقہ کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ابوموسی اشعریؓ جیسے بلند پایہ فقیہ صحابیؓ  فرماتے ہیں :

لاتسألونی مادام ھذا الحبر فیکم یعنی ابن مسعود۔ (۲۰)

"جب تک یہ بڑے عالم یعنی ابن مسعودؓ ؓ  تمہارے درمیان ہیں مجھ سے مسائل مت معلوم کیا کرو"۔

 فقہ حنفی کی بنیاد بھی عبداللہ بن مسعود کی فقہ پر ہے
(۴)     افقہ نساء الامت أم المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا :جن کو تمام خوبیوں کے ساتھ فقہ واجتہاد میں بھی امتیازی مقام حاصل تھا، امام زھری فرماتے ہیں "اگر حضرت عائشہ ؓ کے علم کو تمام عورتوں کے علم کے ساتھ ملایا جائے تو حضرت عائشہؓ کا علم افضل ثابت ہوگا (۲۱) حضرت عائشہؓ حضرت عمرؓ اور حضرت عثمانؓ کے زمانہ سے اخیر عمر تک فتوی دیا کرتی تھیں اور اکابر صحابہؓ اکثر مشکل مسائل حضرت عائشہ ؓ سے دریافت کیا کرتے تھے"۔ (۲۲)
(۵)     مفتئ مدینہ کاتب وحی حضرت زید بن ثابتؓ:جن کے متعلق حضور  کا ارشاد ہے أ فرض امتی زید بن ثابت۔ (سیر اعلام النبلائ:۲/۴۳۲میری امت میں علم فرائض کے بڑے عالم زید بن ثابت ہیں ، امام مالک فرماتے ہیں :کان امام الناس عندنا بعد عمر زید بن ثابت (ایضا:۲/۴۳۶لوگوں کے امام حضرت عمر ؓ کے بعد ہمارے نزدیک زید بن ثابت ہیں ،سلیمان بن یسار کا قول ابن سعدؒ نے طبقات میں نقل کیا ہے کہ حضرت عمر ؓ اور حضرت عثمانؓ قضائ، فتوی، علم قرأت اور فرائض میں زید بن ثابت پر کسی کو مقدم نہیں رکھتے تھے ۔(طبقات لابن سعدؒ:۲/۳۵۹)
(۶)     فقیہ العصر ترجمان القرآن حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ: جن کی فقہی بصیرت کے لئے زبان رسالت سے دعائیہ کلمات نکلے: اللّٰھم فقھہ فی الدین،حضرت مجاہدؒ کہتے ہیں :ماسمعت فتیا احسن من فتیا ابن عباس۔ (سیر اعلام النبلائ:۳/۳۵۰میں نے ابن عباس کے فتوی سے بہتر کسی کا فتوی نہیں سنا ،آپ  کی دعا کا اثر تھا کہ حضرت عمرؓ اور حضرت عثمانؓ بدری صحابہؓ کے ساتھ حضرت ابن عباسؓ سے مشورہ کیا کرتے تھے اور ابن عباس عہد فاروقی اور عہد عثمانی سے اخیر عمر تک منصب افتا پر فائز رہے، (طبقات لابن سعدؒ:۲/۳۶۶ابوبکر محمد بن موسیٰؒ نے ابن عباس کے فتاوی کو بیس کتابوں میں جمع کیا ہے (المصباح:۱/۶۴)
(۷)     حضرت عبداللہ بن عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ:جن کے متعلق امام مالک کا قول ہے:

کان امام الناس عندنا بعد زید بن ثابت عبداللہ بن عمر مکث ستین سنۃ یفتی الناس۔ (سیر اعلام النبلائ:۳/۲۲۱)

"حضرت زید بن ثابتؓ کے بعد لوگوں کے امام ہمارے نزدیک حضرت عبداللہ بن عمرؓ ہیں ساٹھ سال تک انہوں نے افتاء کے فرائض انجام دئے"۔

 لیکن شعبی کا قول جس کو اسد الغابہ میں نقل کیا اور ابن سعدؒ نے طبقات میں :

کان ابن عمرؓ جید الحدیث ولم یکن جید الفقہ۔ (اسد الغابہ:۳/۳۴۹)

جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ابن عمرؓ کا مقام فقہ کے مقابلہ میں حدیث میں زیادہ بلند ہے لیکن اس کے باوجود ابن حزم نے "الاحکام" میں اور ابن القیم نے "اعلام الموقعین" ابن عمرؓ کا شمار" مکثرین فی الفتیا"صحابہؓ میں کیا ہے۔
دوسرا طبقہ متوسطین فی الفتیاصحابہ کرامؓ  کا ہے، ان صحابہ کرامؓ کے فتاوی کو اگر علیحدہ علیحدہ جمع کیا جائے تو چھوٹی چھوٹی جلد تیار ہوسکتی ہے، اس طبقہ میں بیس صحابہؓ کا شمار ہوتا ہے جس کو ابن القیم نے اعلام الموقعین میں ذکر کیا ہے جن کے اسماء گرامی قدریہ ہیں  (۱)امیر المؤمنین حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ۔ (۲)ام المؤمنین ام سلمہ ؓ۔ (۳)انس بن مالکؓ۔ (۴)ابو سعید خدریؓ۔  (۵)عثمان بن عفانؓ۔ (۶)ابو ہریرہؓ۔(۷)عبداللہ بن عمرو بن العاصؓ۔ (۸)عبداللہ بن زبیرؓ ۔ (۹)ابوموسیٰ اشعریؓؓ۔ (۱۰)سعد بن ابی وقاصؓ۔  (۱۱)سلمان فارسیؓ۔ (۱۲)جابر بن عبداللہؓ۔ (۱۳)معاذ بن جبلؓ۔ (۱۴)حضرت طلحہؓ۔ (۱۵)حضرت زبیرؓ۔ (۱۶)عبد الرحمن بن عوفؓ۔ (۱۷)عمران بن حصین۔ (۱۸)ابوبکرہؓ۔ (۱۹)حضرت عبادہ بن صامتؓ۔ (۲۰)حضرت معاویہ بن ابی سفیانؓ۔
تیسرا طبقہ مقلین فی الفتیاصحابہ کرامؓ  کا ہے بعض سے ایک مسئلہ بعض سے دو یا تین یا کچھ زائد منقول ہیں اگر ان تمام کے فتاوی کو جمع کیا جائے توایک چھوٹا سا رسالہ مرتب ہوسکتا ہے، اس طبقہ میں اوپر مذکور صحابہ کرامؓ کے علاوہ باقی اصحاب افتاء صحابہ کرامؓ شامل ہیں جن کی تعداد ایک سو سے کچھ زائد ہے، ابن قیم نے ان کے اسماء بھی شمار کرائے ہیں لیکن طوالت کے خوف سے راقم نے ان حضرات صحابہؓ کے اسماء یہاں ذکر کرنے سے گریز کیا ہے، اہل تحقیق وہاں رجوع کرسکتے ہیں ۔
صحابہ کرامؓ  کے فتاوی کے مآخذ
صحابہ کرامؓ کے فتاوی مؤطا، مسند اور سنن کی ان کتابوں میں مذکور ہیں جنہوں نے مرفوع روایت نقل کرنے کا التزام نہیں کیا، جیسے مؤطا مالک، مؤطا محمد، مسند دارمی، مصنف عبدالرزاق،مصنف ابن ابی شیبہ، مسند طحاوی، مسند عبداللہ بن وھب وغیرہ۔ (المصباح:۱/۵)


(۱)         المصباح فی رسم المفتی ومناہج الافتاء: ۱/۱۶۔                      (۲)        مقدمہ فتاوی دارالعلوم دیوبند:۱/۸۰۔
(۳)        النسائ:۱۹۔                                                 (۴)        النسائ:۱۷۷۔
(۵)        اعلام الموقعین :۱/۱۲۔                                       (۶)        المصباح:۱/۵۸۔
(۷)        طبقات لابن سعدؒ:۲/۳۳۴۔                                              (۸)        طبقات لابن سعدؒ:۲/۳۳۴۔
(۹)        طبقات ۲/۳۳۵۔                                                        (۱۰)       طبقات ۲/۳۳۵۔
(۱۱)        توبہ:۱۳۔                                                   (۱۲)       جامع الاصول ،رقم الحدیث:۶۳۶۹۔
(۱۳)       اعلام الموقعین:۱/۵۔                                         (۱۴)       سیر الصحابہؓ:۱/۶۹۔
(۱۵)       تاریخ ابن خلدون:۱/۴۴۶۔                                               (۱۶)       طبقات لابن سعدؒ:۲/۳۳۵۔
(۱۷)       مصنف ابن ابی شیبہ،رقم الحدیث:۳۲۶۶۶۔                     (۱۸)       طبقات:۲/۳۳۸۔
(۱۹)       سیر اعلام النبلاء :۱/۴۷۹۔                                     (۲۰)       طبقات:۲/۳۴۳۔
(۲۱)       سیر اعلام النبلا:۲/۱۹۹۔                                       (۲۲)       طبقات:۲/۳۷۵۔
(۲۳)      ۔                                               (۲۴)      ۔





============================

فتویٰ نویسی کا تاریخی ارتقاء


پیش آمدہ واقعات کے بارے میں دریافت کرنے والے کو دلیل شرعی کے ذریعے اللہ تعالیٰ کے حکم کے بارے میں خبر دینے کو فتویٰ کہتے ہیں(۱)۔فتویٰ لغوی اعتبار سے اسم ِ مصدر ہے اور اس کی جمع ”فتاویٰ“ہے، اس کا مادہ (ف۔ت۔ی)ہے۔
قرآنِ کریم میں لفظ فتویٰ اپنے مشتقات کے اعتبارسیمختلف مقامات پر اکیس بار استعمال ہوا ہے۔ ان میں سے دسمقامات پر تو یہ لفظ اپنے لغوی معنوں میں استعمال ہوا ہے؛ جبکہ گیارہ مقامات پر یہ لفظ تحقیق و تدقیق کے معنوں میں آیا ہے۔
احادیث مبارکہ میں بھی یہ لفظ بکثرت استعمال ہواہے۔ان احادیث مبارکہ میں یہ لفظ اپنے اصطلاحی معنوں میں مستعمل ہے۔فتویٰ دینے والے شخص کو مفتی(۲)فتویٰ لینے والے کو مستفتی(۳) اورسوال کو استفتاء کہتے ہیں(۴)۔
فتویٰ ایک اہم ذمہ داری ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ مفتی شارع کے نائب کی حیثیت سے دینی معاملات میں لوگوں کی رہنمائی کرتا ہے۔اس کی اسی اہمیت کے پیش نظر فتویٰ نویسی کے اصول وقواعد کو باقاعدہ فن کی شکل دی گئی اور اس فن کو ”رسم المفتی“سے تعبیر کیاگیا۔
فتویٰ مسلم معاشرہ میں بڑی اہمیت رکھتا ہے۔اس کی اساس قرآن کریم کی درج ذیل آیت ہے:
فَسْئَلُوْٓا اَھْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ(۵)
ترجمہ: پس اگر تمہیں معلوم نہ ہوتو علم والوں سے پوچھ لو۔
قرآن کریم نے نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم کی ذمہ داریوں کا تعین کرتے ہوئے فرمایا:
لِتُبَیِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ اِلَیْھِمْ(۶)
ترجمہ:” آپ بیان کردیجیے لوگوں کے سامنے وہ چیز جو ان کی طرف نازل کی گئی “۔
یہی وجہ ہے کہ مسلم معاشرہ میں فتویٰ نویسی کو بڑی اہمیت حاصل رہی ہے؛ چونکہ ایک مسلمان کو دینی اوردنیاوی معاملات میں جدید مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے؛ اس لیے مسلم معاشرہ میں اس کی موجودگی ضروری ہوجاتی ہے ۔نبی کریم کے دور سے لے کر اب تک علماء نے اس اہم ذمہ داری کو نبھایا اور ا س کے اصول ،شرائط اور آداب پر بھی سیر حاصل گفتگو کی ہے۔ ابن الصلاح کے مطابق افتاء کے لیے مرد ہونا ضروری نہیں؛ بلکہ مرد، عورت،غلام حتیٰ کہ گونگا شخص بھی فتویٰ دے سکتا ہے(۷)۔ چنانچہ نبی کریم کے زمانے میں ازواج مطہرات فتویٰ دیا کرتی تھیں۔شیخ سعید فائز الدخیل نے حضرت عائشہکے تمام فتاویٰ جات کو کتابی شکل میں شائع کیا ہے(۸)۔فقہ حنفی کی مشہور کتاب ”بدائع الصنائع“کے مولف علامہ علاؤ الدین کا سانی کی اہلیہ فاطمہ فتویٰ دیا کرتی تھیں(۹)۔ اسی طرح ڈاکٹر عمررضا کحالہ نے” أعلام النساء“ میں فتویٰ دینے والی عورتوں کی کافی تفصیل فراہم کی ہے(۱۰)۔
 مفتی اور قاضی کو عام طورپر مترادف سمجھا جاتا ہے؛ لیکن ان میں فرق ہے۔ شیخ وہبةالزحیلی کے مطابق مفتی اور قاضی میں محض اتنا فرق ہے کہ
”مفتی اطلاع دینے والا اور قاضی اسے لازم کرنے والاہوتا ہے“(۱۱)۔
چنانچہ مفتی کے فتویٰ کی حیثیت عمومی ہوتی ہے؛ جبکہ قاضی کا فیصلہ ایک خاص واقعہ سے متعلق ہوتا ہے۔ لیکن یہ دونوں خوبیاں ایک شخص میں اکٹھی بھی ہوسکتی ہیں۔جیسا کہ عہدصحابہ میں بعض صحابہ فتویٰ بھی دیتے تھے اور قاضی بھی تھے۔
فتاویٰ دراصل مسلم معاشرہ کے اقتصادی ،معاشی ،سیاسی اور سماجی مسائل کے عکاس ہوتے ہیں۔ ان سے ہمیں پتہ چلتا ہے کہ ایک مخصوص معاشرہ کے لوگ ایک مخصوص وقت اور حالات میں کن مسائل کا شکار تھے؟ معاشرتی تغیرات اور علمی وفکری اختلافات کی نوعیت کیا تھی؟ ان مسائل کے حل کے لیے اس دور کے اہلِ علم نے کس نہج پر سوچ وبچار کی اور کن اصولوں کو پیش نظر رکھا ؟ نیز ان فتاویٰ نے مسلم معاشرہ پر کتنے گہرے اثرات مرتب کیے؛چنانچہ امام مالک  ،امام ابو حنیفہ، امام احمد بن حنبل،امام مالک،ابن تیمیہ اور برصغیر میں شاہ عبدالعزیز دہلوی کے فتاویٰ نے مسلم معاشرہ پر بڑے گہرے اثرات مرتب کیے۔بہت سے علماء کے فتاویٰ انقلابی اور فکری تحریکات کا باعث بنے۔
تاہم بعض فتاویٰ مسلم معاشرہ میں فکری انتشار کا باعث بھی بنے اور یہ عمل برصغیر میں مسلمانوں کے زوال کے بعد شروع ہوا۔یہی وجہ ہے کہ بارہ سو سال میں اتنے فتاویٰ نہیں دیے گئے جتنے برصغیر کے دوسوسالہ غلامی کے زمانے میں جاری کیے گئے۔ اس دور میں ہمیں فتاویٰ میں شدت پسندی نیز مسلکی وسیاسی تکفیر کا عنصر بڑا واضح طور پر نظر آتا ہے ۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں فقہ وفتاویٰ سے متعلق جملہ امور آپ کی ذات سے وابستہ تھے۔طریقہ یہ تھا کہ جب کوئی مشکل مسئلہ پیش آتا تو مسلمان آں حضرت  صلی اللہ علیہ وسلمکی طرف رجوع کرتے؛ کیونکہ جملہ امور میں آپ ہی شارحِ اسلام اور مرجعِ خلائق تھے۔
صحابہٴ کرام ہر اہم مسئلہ میں آپ کی جانب متوجہ ہوتے۔صحابہٴ کرام کے ان سوالات کے جوابات اکثر قرآنی آیات کی صورت میں نازل ہوئے۔ اس حوالہ سے قرآن کریم نے درج ذیل اصطلاحات استعمال کی ہیں۔
یَسْتَفْتُوْنَکَ  ”آپ سے فتویٰ پوچھتے ہیں“۔
یَسْئَلُوْنَکَ    ” آپ سے سوال کرتے ہیں“۔
قرآن کریم میں یہ الفاظ سترہمختلف مقامات پر استعمال ہوئے ہیں(۱۲)۔جس سے اس کی اہمیت کا اندازہ کیا جاسکتا ہے ۔ان پوچھے گئے امور کی وضاحت بھی دراصل آپ کے فرضِ منصبی میں شامل تھا۔ارشاد باریٰ تعالیٰ ہے:
لِتُبَیِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ اِلَیْھِمْ(۱۳)
ترجمہ:”آپ بیان کردیجیے لوگوں کے سامنے وہ چیز جو ان کی طرف نازل کی گئی ہے“۔
بعض اوقات صحابہٴ کرام کے سوالات کے جوابات نبی کریم اپنے ارشادات سے بھی دیتے تھے؛ چنانچہ کتبِ حدیث اور کتب سیرت میں ان پوچھے گئے سوالات کے جوابات ملتے ہیں۔ نبی کریم کے عہد میں تحریر ی وتقریری دونوں طرح سے فتویٰ دیا جاتا تھا(۱۴)۔حضرت عمر نے ایک بدوی کو اس بناء پر قتل کردیا تھا کہ وہ نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم سے فتویٰ لے کر دوبارہ حضرت عمر سے اس پر نظر ثانی چاہتا تھا۔
علماء کرام نے نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم کے فتاویٰ کو ایک جگہ اکٹھا کرنے کی کوشش بھی کی ہے؛چنانچہ علامہ ابن قیم جوزی نے اپنی کتاب ”اعلام الموقِّعین“میں نبی کریم کے بارہ سو فتاویٰ کو جمع کیا ہے(۱۵)۔اسی طرح مولانا سید اصغر حسین دیوبندی نے”فتاویٰ محمدی مع شرح دیوبندی“ میں نبی کریم کے کل ایک سو بیس فتاویٰ مع ترجمہ اکٹھے کیے ہیں(۱۶)۔
نبی کریم کے عہد کے ان فتاویٰ پر علامہ ابن قیم کا تبصرہ یہ ہے کہ
”آپ کے فتوے جامعِ احکام اور فیصلہ کن ارشادات پر محیط ہوا کرتے تھے۔ یقیناپیروی کے اعتبار سے کتاب اللہ کے بعد دوسرا درجہ آپ کے فتاویٰ کا ہے اور مومنین کے لیے کسی بھی صورت میں ان سے انحراف ممکن نہیں“(۱۷)۔
آج کل فتویٰ دینے کا جو طریقہ ہمارے ہاں رائج ہے، وہ صرف جائز و ناجائز اور حلال وحرام کی صراحت کردینے کا نام ہے؛ لیکن نبی کریم کا اسلوب افتاء اس سے مختلف تھا۔ اگرچہ آپ کا قول بذات خود حجت تھا؛ مگر آپ پیش آمدہ مشکلات کے حل کی وضاحت اور اس کی علت بھی بتا دیتے تھے۔ اس حوالہ سے شیخ محمد شفیق العانی فرماتے ہیں:
”رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلمنے جو فتاویٰ اپنی زندگی میں صادر فرمائے۔وہ جامع ترین احکام پر مشتمل تھے اور مسائل کے استنباط کے سلسلے میں سرچشمہ کی حیثیت رکھتے تھے“(۱۸)۔
نبی کریم کے بعد صحابہٴ کرامبالخصوص خلفاء راشدین کا عہد فتویٰ نویسی کے حوالے سے اہم ہے۔ خلفاء راشدین کے ان احکامات، مکاتیب اور فتاویٰ جات کو پروفیسر خورشید احمد فاروق نے چار الگ الگ جلدوں میں شائع کیا ہے۔
صحابہٴ کرام کے دور میں کئی جدید مسائل سامنے آئے جن پر غور وخوض کی ضرورت محسوس ہوئی۔اس دور میں قرآن وسنت کے علاوہ اجماع اور قیاس کا اضافہ ہوااور اجماع کو منظم شکل دی گئی اور رائے کے استعمال کے لیے فقہی قواعد واصول منضبط ہوئے۔
اس دور میں فتووں کے حوالے سے صحابہٴ کرام میں اختلاف بھی رونماہوا۔ مولانا تقی امینی نے صحابہٴ کرام کے اختلافات کے درج ذیل اسباب بیان فرمائے ہیں۔
(۱) قرآن کریم کو سمجھنے میں اختلاف
(۲) حدیث کی لاعلمی کی وجہ سے اختلاف
(۳)حدیث کے قبول کرنے میں اختلاف
(۴)رائے کی وجہ سے اختلاف(۱۹)
صحابہٴ کرام میں چار طرح کے لوگ تھے۔
پہلا طبقہ: صحابہٴ کرام کا پہلا طبقہ وہ ہے جن سے بہت زیادہ فقہی مسائل منسوب ہیں۔ یہ حضرات خلفاء راشدین ہیں۔
دوسرا طبقہ: یہ طبقہ متخصصین کا ہے۔ ا س طبقہ کو فقہی حوالے سے بہت زیادہ شہرت حاصل ہوئی۔ ان میں عبداللہ بن مسعود، معاذ بن جبل،ابو موسیٰ اشعری اور زید بن ثابت وغیرہ شامل ہیں۔
تیسرا طبقہ: یہ طبقہ مکثرین کا ہے یعنی جن سے بہت زیادہ اجتہادات اور فتاویٰ منقول ہیں۔
چوتھا طبقہ: یہ طبقہ مقلین کا ہے ۔ان لوگوں سے بہت کم فتاویٰ منقول ہیں(۲۰)۔
اس دور میں استنباط صر ف ان فتووں تک محدود تھا جو وہ لوگ دیتے تھے؛ جن سے کسی واقعہ کے متعلق سوال کیا جاتا تھا۔ یہ لوگ مسائل کے اثبات اور ان کے جوابات میں بہت زیادہ پاؤں نہیں پھیلاتے تھے؛ بلکہ اس کو مکروہ سمجھتے تھے ۔ اور جب تک کوئی مسئلہ پیدا نہ ہوجاتا اس کے متعلق اپنی رائے ظاہر نہیں کرتے تھے؛ البتہ جب مسئلہ پیدا ہوجاتا تھا تو اس کے لیے استنباط حکم میں اجتہاد کرتے تھے۔یہی وجہ ہے کہ کبارِ صحابہ  سے جو فتوے منقول ہیں ان کی تعداد بہت کم ہے۔
صحابہٴ کرام کے فتاویٰ کے حوالے سے علامہ خضری لکھتے ہیں کہ:
”اس دورمیں فتاویٰ زیادہ تر زبانی روایت ہوتے رہے؛لیکن بعض فتاویٰ تحریر میں بھی آئے، جن میں سے بعض تو وہ تھے جو خلفاء راشدین کے سرکاری احکام کی شکل میں قلمبند ہوکر مختلف دیاروامصار کو ارسال ہوتے رہے اور بعض فتاویٰ انفرادی کوششوں سے بھی قلمبند کیے گئی“(۲۱)
 صحابہٴ کرام فتویٰ نویسی میں کمالِ احتیاط ملحوظ رکھتے تھے۔ وہ اپنی رائے کا اظہار کم سے کم کرتے تھے۔ ہر مسئلہ قرآن وسنت اور اجماع کی روشنی میں حل کرنے کی کوشش کرتے تھے۔
صحابہٴ کرام  کے بعد تابعین اور تبع تابعین کا دور آتا ہے۔ اس دور میں منصبِ افتاء اجلہٴ تابعین کے سپرد رہا۔ ان میں سے بعض تو ایسے بزرگ بھی تھے جو صحابہٴ کرام کی موجودگی میں بھی فتویٰ دیتے تھے۔ مثلاً سعید بن المسیباور سعید بن جبیر وغیرہ(۲۲)۔
 تابعین اور تبع تابعین نے صحابہٴ کرام کے فقہی افکار اور فتاویٰ کی روشنی میں اس کو باقاعدہ ایک فن کی شکل دیدی۔ اسی دور میں صحابہٴ کرامکے شاگردانِ رشید نے ان کی آراء اور فتاویٰ کو عام کیا اور بہت سے فقہی مکاتب و مالک وجود میں آئے۔ ا س دور کے بچ جانے والے فقہی مسالک کو مجتہدین کا دور کہا جاتا ہے۔ جو درج ذیل ہیں۔
۱-  فقہ حنفی    (امام ابو حنیفہ)                           ۵- فقہ جعفری          (امام جعفر صادق )
۲- فقہ شافعی  (امام شافعی)                              ۶- فقہ اباضی           (امام عبداللہ بن اباض)
۳- فقہ مالکی    (امام مالک )                               ۷-فقہ ظاہری          (امام داؤد ظاہری)
۴- فقہ حنبلی   (امام احمد بن حنبل)                   ۸-فقہ اوزاعی           (امام اوزاعی)
 ان تمام حضرات میں سے اولین چار فقہاء کو شہرت حاصل ہوئی۔
ان میں سے امام ابوحنیفہ نے فتویٰ نویسی کے حوالے سے اجتماعی رائے کو ترجیح دی ۔ انھوں نے چالیس فقہاء کی ایک مجلس قائم کی جو باہمی غوروخوض کے بعد مسئلہ کا حل تلاش کرتی اور پھر اس مسئلہ کو لکھ لیا جاتا ۔امام صاحب کی اس مجلس نے بڑی تعداد میں فتاویٰ اکھٹے کیے۔ اما م صاحب  کے دور میں کوفہ میں تین بڑے فقہیہ بھی موجود تھے جو درج ذیل ہیں۔
(۱) سفیان بن سعید ثوری
 (۲) شریک بن عبداللہ نخعی
(۳) عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ 
ان حضرات سے فقہی آراء اور فتاویٰ کے حوالے سے اما م صاحب کی علمی بحث چلتی رہتی تھی۔ اس دور کی فتویٰ نویسی اور اس دور کے علماء کے علمی اور فکری اختلافات اور دالائل وبراہین دیکھ کر عقل حیران رہ جاتی ہے۔بہرحال امام صاحب کے فقہی افکار میں تنوع اور گہرائی پائی جاتی ہے۔وہ ان مسائل پر بھی غور وفکر کرنے اور کسی نتیجہ میں پہنچنے کے عادی تھے جو ابھی معرضِ وجود میں ہی نہ آئے تھے۔
 امام شافعی  نے بھی اصولِ فقہ کے موضوع پر پہلی کتاب ”الرسالة“ تحریر کی نیزاپنے فتاویٰ کو پہلے ”الحجہ“ اور پھر ”کتاب الام“ میں جمع کیا۔ امام شافعی کے انتقال سے چار سال قبل کے فتاویٰ ان کی کتاب ”الحجہ“ میں منقول تھے جو نایاب ہے؛ مگر بعد میں آپ نے اپنے قدیم فتاویٰ پر غورو فکر کیا اور انھیں ”کتاب الام“ کی چار جلدوں میں لائے۔ ان کے پہلے فتاویٰ کو قولِ قدیم اور بعد کے فتاویٰ کو قولِ جدید کہتے ہیں۔
امام مالک بھی حدیث اور فقہ کے امام تھے۔ ان کی کتاب ”الموطاء“ احادیثِ مبارکہ اور ان کے فقہی افکار کا مجموعہ ہے۔ وہ فتویٰ دینے کے حوالے سے اگر چہ بہت محتاط تھے؛ مگر ان کے فتاویٰ کا کافی بڑا ذخیرہ محفوظ کرلیا گیا ہے۔
 امام احمد بن حنبل نے اگر چہ مسند امام حنبل کی تدوین کی؛ مگر اس کے ساتھ ساتھ ان کے فقہی افکار کا ایک بڑا مجموعہ بھی ہے۔ امام صاحب اپنے اقوال و آراء اور فتاویٰ کے لکھنے کے سخت مخالف تھے؛ مگر ان کے شاگرد جیش بن سندی نے دو جلدوں میں ان کے فتاویٰ اور مسائل جمع کیے اور ابو بکر خلال نے بھی ”الجامع الکبیر“کی بیس جلدوں میں ان کے مسائل اکٹھا کیے۔
ائمہٴ مجتہدین کے دور میں فتویٰ نویسی کے حوالے سے اجتہاد سے کام لیا جاتا تھا ۔ مسائل کی کثرت اور سلطنت کی وسعت نے جدید مسائل پر غور و خوض کرنے پر امادہ کیا۔ اصول فقہ کی تدوین بھی اسی دور میں ہوئی ۔ اس دور میں قیاس اور استحسان کو ماخذِشریعت قرار دینے پر اختلاف ہوا۔ اسی اختلاف کے نتیجے میں اہل الرائے اور اہل الحدیث کے مکاتب وجود میں آئے۔
ائمہٴ مجتہدین کے اس دور میں اگر چہ اختلافات سامنے آئے؛ لیکن ان فقہی اختلافات میں اس درجہ شدت نہیں تھی کہ ایک دوسرے کی رائے کا احترام نہ کیا جائے ۔
امام بغوی نے اپنے فتاویٰ خود جمع کیے اور ان کی زندگی ہی میں قاضی حسین نے ان سے مزیدفتاویٰ حاصل کیے اور ان پر تعلیقات لکھیں(۲۳)۔ اسی طرح علامہ سُبکی نے بھی دو جلدوں میں فتاویٰ اکٹھا کیے۔ علامہ جلال الدین سیوطینے بھی ”الحاوی للفتاویٰ“ کے نام سے اپنے فتاویٰ کتابی شکل میں جمع کیے ۔ اس دور کے فتاویٰ میں تجدید احیائے دین کے مسائل پر غور وخوض ہوا۔بروکلمان نے تاریخِ ادبیات میں تیسری صدی ہجری سے گیارہویں صدی ہجری تک کے ایک سو دوعربی مجموعہ ہائے فتاوی کی فہرست دی ہے(۲۴)۔
اس دور میں سلطنتِ عثمانیہ کے زیر سایہ ایک جامع فقہی کتاب مرتب کی گئی جس کا نام ”مجلة الأحکام العدلیہ“ رکھا گیا۔ سلطنت عثمانیہ نے اسے ملکی قانون کے طور پر رائج کردیا ۔ اس کتاب میں تمام فقہاء کے فقہی افکار سے استفادہ کیا گیا ۔ اس کا آغاز۱۸۵۶ء میں ہوا اور ۱۸۷۶ء میں یہ کام مکمل ہوگیا ۔ اس کتاب کو سولہ حصوں میں تقسیم کیا گیا تھا اور جملہ فقہی مسائل کا احاطہ کرنے کی کوشش کی گئی تھی، یہ سلطنتِ عثمانیہ کا پہلا مدون قانون تھا جو فقہ اسلامی سے بالعموم اور فقہ حنفی سے بالخصوص ماخوذ تھا(۲۵)۔ اس کام کے بہت دور رس نتائج برآمد ہوئے اور فقہ اسلامی ایک جدید دور میں داخل ہوگئی۔ اس حوالہ سے ڈاکٹر محموداحمد غازی لکھتے ہیں:
”جب بیسیویں صدی کا آغاز ہوا تو ”مجلة الأحکام العدلیہ“ پوری سلطنتِ عثمانیہ کی حدود مشرقی یورپ کے کئی ممالک ، ترکی، وسط ایشیاء کا کچھ حصہ ، عراق ، شام ، فلسطین ، لبنان ، الجزائر ، لیبیا ، تیونس اور جزیرہ عرب کے بعض علاقوں تک پھیلی ہوئی تھی۔ گویا ۱۸۷۶ء سے لے کر ۱۹۲۵ء تک کا زمانہ ”مجلة الأحکام العدلیہ“کی حکمرانی کا زمانہ تھا“(۲۶)۔
انگریز کے نو آبادیاتی نظام نے عرب ممالک کو فقہی قانون سازی پر توجہ دلائی؛ چنانچہ استاد عبدالقادر عودہ نے ”التشریع الجنائی الاسلامی“ نامی کتاب لکھی ۔ اسی طرح استاد مصطفی احمد زرقا نے بھی ایک زبردست کام کیا۔ انھوں نے الموسوعة الفقہیہ“ نام کافقہی انسائیکلوپیڈیا تیار کیا، جسے پینتالیس جلدوں میں کویت کے وزارتِ اوقاف نے شائع کیا۔ یہ کام چالیس سال کی محنت کے بعد مرتب ہوا۔ اس کا اردو ترجمہ بھی ”اسلامی فقہ اکیڈمی“ انڈیا سے شائع ہورہا ہے۔ اسی طرز کا ایک موسوعہ مصر نے بھی شائع کیا ہے جو دس جلدوں میں شائع ہوا ہے۔
خلافتِ عثمانیہ کے خاتمے کے بعد اگر چہ ”مجلة الأحکام العدلیہ“ کا اثر کم ہوگیا ؛مگر ”فتاویٰ عالمگیری“ کے بعد اس جیسا منظم کام دوبارہ نہیں ہوا(۲۷)۔
برصغیر میں فتویٰ نویسی کا سلسلہ چوتھی صدی ہجری کے بعد شروع ہوا۔ جب اس براعظم میں آزاد سلطنتیں قائم ہوئیں تو فتووں کا سلسلہ بھی شروع ہوا۔ جگہ جگہ مساجد و مدارس قائم ہوئے اور علماءِ کرام نے باقاعدہ فتویٰ نویسی کا آغاز کیا۔ مسلمانوں سے غیر مسلموں نے بھی استفسارات کیے ہیں؛ چنانچہ اس قسم کے استفسارات کا حال بزرگ بن شہریار کی کتاب ”عجائبُ الہند“ سے معلوم ہوتا ہے(۲۸)۔
 ہندوپاک کے مسلمان بادشاہوں کو فقہ اسلامی سے خاص دلچسپی تھی ۔ سلطان محمود غزنوی زبردست فقیہ تھے۔ انھوں نے ”التفرید فی الفروع“ نامی کتاب لکھی جس میں فتاویٰ اور فقہی مسائل ذکر کیے گئے ہیں۔ اسی طرح ظہیر الدین بابر# نے بھی اصول مذاہب پر ایک کتاب لکھی تھی(۲۹)۔
ان مسلمان بادشاہوں نے درج ذیل کتبِ فتاوی میں خصوصی دلچسپی لی:
 (۱) فتاویٰ فیروزشاہی                      (۲) فتاویٰ ابراہیم شاہی             (۳) فتاویٰ اکبر شاہی
(۴) فتاویٰ عادل شاہی                      (۵) فتاویٰ تاتار خانی                  (۶) فتاویٰ عالمگیری
فتاویٰ عالمگیری کو ان سب میں زیادہ شہرت حاصل ہوئی ۔ یہ کتاب اصلاً عربی زبان میں لکھی گئی تھی۔بعد میں عالمگیر نے مولانا عبداللہ رومی سے اس کا فارسی ترجمہ کروایا۔ اس کتاب کااردو ترجمہ مولانا امیر علی لکھنوی نے ”فتاویٰ ہندیہ“ کے نام سے کیا(۳۰)۔
ان فتاویٰ کی اہم بات یہ ہے کہ یہ فتاویٰ ایک آزاد ریاست میں اجتماعی مفادات اور ملکی قانون کے طور پر مرتب کیے گئے تھے۔ اس کے بعد برصغیرمیں انگریزوں کے تسلط نے مسلم پرنسل لا کی بنیاد رکھی۔ اس دور میں نجی فتووں کی بنیادیں بھی مضبوط ہوئیں۔ ڈاکٹر جلال الدین احمد نوری اس حوالے سے لکھتے ہیں :
”نجی فتووں کے زیادہ ترمجموعے اس وقت نظر آتے ہیں جب مسلمان دورِ غلامی میں داخل ہوئے؛ چنانچہ۱۸۵۷ء سے کچھ قبل اور بعد میں مختلف زبانوں میں عموماً اور اردو زبان میں خصوصاً اس قسم کے مجموعوں کا پتہ چلتا ہے“(۳۱)۔
برصغیر ہندوپاک میں جو فتاویٰ مرتب ہوئے وہ اکثر حنفی علماء کے ہیں، اگر چہ جنوبی ہندوستان میں اس حوالے سے شافعی علماء کا بھی کام موجود ہے؛ مگر وہ نہ ہونے کے برابر ہے۔
ذیل میں ہم برصغیر کے چندعلماء کے فتاویٰ کی فہرست دیتے ہیں:
(۱) فتاویٰ عزیزی (شاہ عبدالعزیز دہلوی)          (۲) مجموعة الفتاویٰ (عبدالحی لکھنوی)
(۳) جامع الفتاویٰ (عبدالفتاح حسینی نقوی)       (۴) فتاویٰ مسعودی (مسعود شاہ دہلوی)
(۵) فتاویٰ رشیدیہ (رشیدیہ احمد گنگوہی)             (۶) فتاویٰ ارشادیہ (ارشاد حسین رامپوری)
(۷) فتاویٰ محبوبیہ (احمدحسین خان امروہی)      (۸) فتاویٰ قادریہ (مولانا عبدالقادر)
(۹) فتاویٰ عثمانی (مظہر الحق انصاری)                                (۱۰) فتاویٰ عثمانی(سید منور الدین)
(۱۱) مجموعہٴ آگرہ (نواب صدیق حسن خان)       (۱۲) فتاویٰ بے نظیر(عبدالغفار لکھنوی)
(۱۳) فتاویٰ نظامیہ اُندراویہ (نظام الدین اعظمی)(۱۴) نظام الفتاویٰ (نظام الدین اعظمی)
(۱۵) فتا ویٰ نظامیہ (نظام الدین حنفی)               (۱۶) فتاویٰ مظاہرعلوم (خلیل احمد سہار نپوری)
(۱۷) امداد الفتادیٰ (اشرف علی تھانوی)          (۱۸) کفایت المفتی (کفایت اللہ دہلوی)
(۱۹) عزیز الفتاویٰ (عزیز الرحمن عثمانی)            (۲۰) امداد الاحکام   (ظفر احمد عثمانی)
(۲۱) فتاویٰ رحیمیہ (مفتی عبدالرحیم)                                (۲۲) فتاویٰ محمودیہ (محمود حسن گنگوہی)
(۲۳) کتاب الفتاویٰ (خالد سیف اللہ رحمانی)    (۲۴) فتاویٰ عثمانی(محمدتقی عثمانی)
(۲۵) نوادر الفقہ (رفیع عثمانی)                           (۲۶) فتاویٰ محمود (مفتی محمود)
(۲۷) خیر الفتاویٰ (خیر محمد جالندھری)             (۲۸) فتاویٰ رضویہ (احمد رضا خان بریلوی)
(۲۹) فتاویٰ مہریہ             (پیر مہر علی شاہ)        (۳۰) فتاویٰ حامدیہ (حامد رضاخان)
(۳۱) فتاویٰ امجدیہ           (امجد علی اعظمی)       (۳۲) فتاویٰ اجملیہ (اجمل قادری رضوی)
(۳۳) فتاویٰ مظہری (مظہر اللہ دہلوی)             (۳۴) ریاض الفتاویٰ (ریاض الحسن)
(۳۵) فتاویٰ نعیمیہ             (احمد یار خان نعیمی)   (۳۶) فتاویٰ نوریہ (نور اللہ بصیر پوری)
(۳۷) ضیاء الفتاویٰ          (قاضی محمد ایوب)     (۳۸) احسن الفتاویٰ (خلیل احمد برکاتی)
(۳۹) فتاویٰ امینیہ            (محمد امین)               (۴۰) فتاویٰ اویسیہ    (فیض احمد اویسی)
(۴۱) فتاویٰ پاسبانی           (مشتاق احمد نظامی)    (۴۲) فتاویٰ شیخ الاسلام (حسین احمد مدنی)
(۴۳) جامع الفتاویٰ (مہربان علی)                     (۴۴) فتاویٰ قاضی    (مجاہدالاسلام قاسمی)
(۴۵) فتاویٰ دارالعلوم (مفتی عزیز الرحمن)        (۴۶) فتاویٰ ریاض العلو (مفتیان مدرسہ ریاض العلوم گورینی)
ان کے علاوہ بھی بے شمار کتب فتاویٰ ہیں جو یا تو غیر مطبوعہ ہیں یا ایک ہی مرتبہ شائع ہوئے۔یہ تمام فتاویٰ دراصل انیسویں اور بیسویں صدی کی علمی و فکری تحریکات، فسادات، مسلم معاشرت، سائنسی اور صنعتی انقلابات اور انگریزی ثقافت کے اثرات کا بہترین مطالعہ ہیں۔ ان فتاویٰ میں برصغیر کے بیانیہ ادب کا جائزہ بھی لیا جاسکتا ہے ۔ اس دور کے مجموعہ ہائے فتاویٰ کو دیکھتے ہوئے ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ فتاویٰ کا سنہری دور ہے۔
 (۱) ہردورکے فتاویٰ میں اس دور کا رنگ نظر آتا ہے ۔
(۲) قرآن و حدیث اور فقہی کتب سے استفادہ کیا جاتا ہے ۔
(۳)اکثرعبارت بلا ترجمہ دی جاتی ہے جو مستفتی کے لیے غیر مانوس ہوتی ہے۔
(۴)جدید مسائل کے حوالے سے بعض فتاویٰ میں لاعلمی کااظہارہے۔
(۵)زبان اور اسلوب کے حوالے سے بھی قدیم فتاویٰ کی پیروی کی جاتی ہے۔
(۶)ان فتاویٰ میں اپنے پیش روفتاویٰ کے حوالے بھی ملتے ہیں۔
عثمانی سلطنت کا زوال مغرب کے عسکری و سیاسی غلبے اور نو آبادیاتی دور کے آغاز کے ساتھ ہوا ۔ اس دوران برصغیراور دیگر کئی ممالک نو آبادیاتی نظام کے زیر تسلط آئے۔ سامراجی طاقتوں نے ان ممالک میں اپنے ملک کے قوانین پبلک لا کے طور پر رائج کیے؛ تاہم ذاتی زندگی میں مسلمان پرسنل لاء کی پابندی کرتے رہے۔ اس طرح کم از کم عائلی زندگی کی حد تک ان کا تعلق اسلامی قانون سے قائم رہا ، یہ کام اس دور کے مفتیان نے سرانجام دیا۔
بیسویں صدی کے نصف آخر میں نو آبادیاتی نظام کا خاتمہ ہوااور مسلم ممالک نے آزادی کے بعد اس بات کی ضررورت محسوس کی کہ قرآن و سنت کی روشنی میں ملکی قوانین کا جائزہ لیں۔ اس حوالے سے درج ذیل ادارے وجود میں آئے:
(۱) اسلامی نظریاتی کونسل                                 (پاکستان)
(۲) ادارہ تحقیقات اسلامی                                 (پاکستان)
(۳)ہیأةُ کبارالعلماء                           (سعودی عرب)
(۴)المجمع الفقہ الاسلامی                    (سعودی عرب)
(۵)اسلامک فقہ اکیڈمی                   (ہندوستان)
(۶)ادارہ مباحث فقہیہ                     (جمعیة علماء ہند)
(۷)امارت شرعیہ پھلواری شریف     (ہندوستان)
(۸)مجمع البحوث الاسلامیہ               (مصر)
(۹) مجمع الفقہ الاسلامی                     (جنوبی امریکہ)
ان اداروں کے علاوہ بھی کئی دیگر ادارے اس پر کام کررہے ہیں اور جدید مسائل کے حوالے سے ان کے اجتماعی فتاویٰ یعنی قراردادیں وقتاً فوقتاً شائع ہوتے رہتے ہیں۔
ان اداروں کے باوجود نجی سطح کے فتاویٰ بھی اب دینی مدارس کے تحت لوگوں کی رہنمائی کررہے ہیں جو عدالتی نظام میں کسی حد تک قابلِ قبول ہیں؛ مگر عملی طور پر عدالتی نظام میں ان کا بہت زیادہ کردار نہیں ہے، اس کے باوجود لوگ ان نجی فتاویٰ پر بہت اعتماد کرتے ہیں۔
دور حاضر میں فتویٰ نویسی کے حوالے سے علماء کو کئی جدید چیلنجز کا سامنا ہے، جن میں سے چند درج ذیل ہیں:
(1) عقائد وعبادات
 قادیانیت،روئیت ہلال،توہین رسالت کی سزا وغیرہ۔
(2) طبی وسائنسی مسائل
خاندانی منصوبہ بندی ،اعضاء کی پیوند کاری ، ٹیسٹ ٹیوب بے بی اور کلوننگ ،ایڈز سے متعلقہ احکام وغیرہ۔
(3)قانون سازی
 ملکی قوانین کو اسلامی قانون سے ہم آہنگ کرنا، مثلاً حدود اورر قصاص ودیت کے مسائل ۔
(4) جدید ایجادات
 ٹی وی ، انٹرنیٹ، کمپیوٹر اور دیگر جدید ایجادات کی شرعی حیثیت کا تعین کرنا۔
(5) اقتصادی مسائل 
انشورنس،اسٹاک ایکسچینج،کریڈٹ کارڈ، زکوٰة کی ادائیگی کا مسئلہ ، سود اور بینکاری کی شرعی حیثیت کا تعین کرنا۔
(6) عائلی زندگی       
 عائلی زندگی سے متعلق احکام یعنی نکاح ، طلاق ، خلع اور وراثت کے مسائل وغیرہ۔
$ $ $
حوالہ جات
(۱)    شیخ حسین محمد ملاح، الفتویٰ نشاتہا و تطورھا، ج۱، ص۳۹۸،دار الفکر،دمشق۔
(۲)بلیاوی، عبد الحفیظ، مصباح اللغات، ص۶۱۸، قدیمی کتب خانہ کراچی۔
(۳)فیروز الدین، فیروز اللغات، ص۹۱، فیروز سنز لاہور۔
(۴)مصباح اللغات، ص۶۱۸۔
(۵)الانبیاء :۷۔
(۶)النحل:۴۴۔
(۷)ابن صلاح، ادب المفتی و المستفتی، ص۴۲، میر محمد کتب خانہ کراچی۔
(۸)سعید فائز الدخیل، موسوعہ فقہ عائشہ ام المومنین، دار النفائس، بیروت،۱۹۸۹ء۔
(۹)محمود احمد غازی، ڈاکٹر، محاضرات فقہ،۴۹۳، الفیصل ناشران و تاجران کتب لاہور۔
(۱۰)کحالہ، عمر رضا، اعلام النساء فی عالم الادب والاسلام، موعة الرسالة، بیروت۔
(۱۱)وہبہ الزحیلی، الفقہ الاسلامی و ادلتہ، ج۱، ص۴۹، دار الفکر، دمشق۔
(۱۲)فواد عبد الباقی، المعجم المفہرس لا لفاظ القرآن الکریم،ص۹۹۶، قدیمی کتب خانہ کراچی۔
(۱۳)النحل:۴۴۔
(۱۴)ماہنامہ معارف (اعظم گڑھ)، مارچ۱۹۹۸ء، ص۸۶۔
(۱۵)ملاحظہ ہو ”اعلام الموقعین عن رب العالمین“ عنوان ”فتاویٰ امام المتقین۔“
(۱۶)یہ فتاویٰ ۱۹۰۷ء میں اردو ترجمہ کے ساتھ اعزازیہ کتب خانہ دیوبند نے شائع کیے۔
(۱۷)الجوزی، ابن قیم، اعلام الموقعین، ج۱، ص۱۴، مکتبہ نزار مصطفی الباز، مکہ مکرمہ۔
(۱۸)العانی محمد شفیق، الفقہ الاسلامی، ص۶، مطبع البیان العربی، ۱۹۶۵ء۔
(۱۹)ماہنامہ دار العلوم(دیوبند)، جنوری ۲۰۱۲ء، ص۸۔
(۲۰)امینی، محمد تقی، فقہ اسلامی کا تاریخی پس منظر، ص ۴۳، قدیمی کتب خانہ کراچی۔
(۲۱)محاضرات فقہ، ص ۲۲۳۔
(۲۲)الخضری، محمد، تاریخ التشریع الاسلامی، ص۳۲، قاہرہ۱۹۶۵ء۔
(۲۳)تاریخ التشریع الاسلامی، ص۱۳۳۔
(۲۴)معارف(اعظم گڑھ)، فروری ۱۹۹۸ء ص۹۰۔
(۲۵)محاضرات فقہ، ص ۵۲۱۔
(۲۶)محاضرات فقہ ، ص ۵۲۱۔
(۲۷)ایضاً ، ص۵۳۰۔
(۲۸)بزرگ بن شہریار ، عجائب الہند، لیڈن ،۱۸۸۶ء ۔
(۲۹)سید نوشہ علی ، مسلمانان ہندو پاکستان کی تاریخ تعلیم ، ص ۱۷۴،کراچی ۱۹۶۲ء
(۳۰)معارف(اعظم گڑھ)، فروری ۱۹۹۸ء ص۹۴۔
(۳۱)ایضاً ، ص۹۵۔

از: پروفیسر مولانا محمد انس حسان

گورنمنٹ ڈگری کالج جہانیاں، پاکستان


$ $ $


موجودہ دور میں فتویٰ کی اہمیت و معنویت



          موجودہ دور علم و فن اورتحقیق و ریسرچ کا ہے، آج دنیا اکتشافاتِ جدیدہ کے میدان میں بہت آگے نکل چکی ہے، مگر ساتھ ہی اس کے اظہار میں بھی ذرّہ برابر تذبذب نہیں کہ دنیا اُس ”نظامِ حیات“ سے کافی دور جا پڑی ہے،جس نے انسان کو انسانیت بخشی،یہ درست ہے کہ انسانی دماغ نے فضا کو محکوم بنا لیا اور زمین کا سینہ چیر کر اس کے خزانے نکال لیے؛ لیکن اسی کے ساتھ اس سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ اس ماڈل اور ترقی یافتہ دور میں نہ اخلاق و اعمال کی پاکیزگی باقی رہی اور نہ عقائد و اعمال کی پختگی،نہ دلوں میں اخلاص و للّٰہت کی روشنی رہی اور نہ سینوں میں امانت و دیانت کی ذمہ داری،مختصر یہ کہ انسان سب کچھ ہے ؛ لیکن جوہرِآدمیت سے محروم ہے،تا ہم اس حقیقت سے انکار نہیں کہ اس تہذیبی اور صنعتی انقلاب کو یکسر نظر انداز بھی نہیں کیا جا سکتا،جس طرح انسان ترقی کرتا گیا،اُس کی ضرورتیں بڑھتی اور پھیلتی چلی گئیں، جس نے ایسے بہت سے شرعی مسائل کو جنم دیا جن کا حل صراحتاً قرآن و حدیث اور اقوالِ صحابہ میں موجود نہیں ہے،جب کہ اسلام ایک ہمہ گیر اور دائمی ”نظامِ حیات“ ہے اور اُس نے اپنی اسی شانِ ہمہ گیری اور دوامی حیثیت کی بقا کی خاطر اپنے اندر ایسی لچک اور گنجائش رکھی ہے کہ ہر دور میں اور ہر جگہ ا نسانی ضروریات کا ساتھ دے سکے اور اپنے پیروکاروں کی رہبری کر سکے؛چنانچہ ہر دور میں قرآن و حدیث پر گہری نظر رکھنے والے علماء ربّانیین اور مفتیانِ شرع متین کی ایک ایسی جماعت منجانب اللہ پیدا ہوتی رہی جس نے کتاب اللہ،سنتِ رسول اور دیگر نصوصِ شرعیہ میں باہمی غور وفکر اور عمیق بحث و ریسرچ کے بعد ان نت نئے مسائل کا حل امت کے سامنے پیش کیا؛تاکہ امّت کے تمام افراد دن و رات کے پیش آمدہ مسائل میں کہیں الجھاوٴ میں گرفتار نہ ہو جائیں،بلا شبہ و بلا مبالغہ انھیں مستنبط شدہ احکام و مسائل کا نام ”فتویٰ“ ہے، زمانے کی تبدیلی،احوال کے فرق اور ضرورتوں و تقاضوں کے تحت آنے والے نت نئے پیچیدہ مسائل کا فقہی اُصول و ضوابط کی روشنی میں حل کرنے کا نام ہی تو ”فتویٰ“ ہے ، فقہائے کرام و مفتیانِ عظام نے اپنی شبانہ روز محنت، اپنے فہم و ادراک کا صحیح استعمال اور نہایت ہی دیانت و امانت کے ساتھ سالہا سال نصوص شرعیہ میں باہمی غور و فکر کے بعد” فقہ و فتاویٰ“ کا عظیم الشان تحفہ امت کے حوالے کر دیا،بحث و ریسرچ کا یہ سلسلہ آج بھی پوری آب و تاب کے ساتھ زندہ ہے ،ان حضرات کی محنتوں اور کاوشوں کی جتنی پذیرائی کی جائے کم ہے۔
          فتوی کا انسانی زندگی اور معاشرہ سے انتہائی گہرا تعلق ہے،فقہ و فتاوی سے انسانی زندگی کے شب وروز،معاشرہ کے نشیب و فراز میں نہ یہ کہ صرف رہنمائی ملتی ہے؛بلکہ اس سے سماج کو حرکت،حرارت اور اسپرٹ بھی نصیب ہو تی ہے؛مگر یہ انتہائی افسوناک بات ہے کہ آج امت مسلمہ میں اس عظیم الشان، ناگزیر اور نازک ترین دینی شعبہ کے حوالے سے یہ کہہ کر گمراہی پھیلانے کی نامسعود کوششیں کی جا رہی ہیں کہ اسلام میں”فتویٰ“ کی حیثیت صرف اور صرف ایک رائے کی ہے، جس پر عمل کرنا ہر ایک کے لیے ضروری و لازم نہیں ہے،کسی کی طرف سے امت کو یہ پیغام دینے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ ”فتوی“ قرآن و حدیث سے الگ ایک چیز ہے،جو غیر واجب العمل ہے،’فتوی‘ مفتی کی اپنی نجی رائے ہے ا ور دینی احکامات سے الگ ایک غیر اہم اور غیر ضروری شئے ہے وغیرہ وغیرہ، الغرض دین کے اس اہم ستون کو جس کی بنیاد خود نبی اکرم … نے رکھی منہدم کرنے اور امت مسلمہ کے قلب و دماغ سے اس کی عظمت ووقعت کو نکالنے کی ناکام کوششیں کی جا رہی ہیں،اسے اس امت کا المیہ ہی کہا جائے کہ یہ ساری ”بکواس“ کسی غیر کی طرف سے نہیں؛بلکہ اُن دانشورانِ ملت کی طرف سے ہو رہی ہے، جنہیں دین کا” مفکر“ اور ”ماہرِاسلامیات“ جیسے القاب سے یاد کیا جاتا ہے․ ”فتویٰ“ کی حیثیت صرف رائے کی ہے ،یہ تھیوری کم علمی اور اسلامیات سے نا واقفیت کی بنیاد پر گڑھی جا رہی ہے، ”فتوی“ در اصل کسی پیش آمدہ مسئلہ میں شرعی حکم بیان کرنے کا نام ہے،”ڈاکٹر شیخ حسین ملّاح“ نے فتوی کی تعریف ان الفاظ میں کی ہے ’ ’ پیش آمدہ واقعات کے بارے میں دریافت کرنے والے کو دلیل شرعی کے ذریعہ اللہ تعالی کے حکم کے بارے میں خبر دینے کا نام ”فتویٰ“ ہے (الفتوی و نشأتھاوتطورھا ۱/۳۹۸) تمام مصنّفین نے فتوی کو شریعت کا حکم قرار دیا ہے،خود قرآن کریم میں فتوی کو شرعی حکم معلوم کرنے کے لیے استعمال کیا گیا ہے،( سورة النساء ۴:۱۲۷-۱۷۶)اسی طرح ایک دوسری حدیث میں یہ لفظ اسی معنی میں استعمال ہوا ہے، (دارمی: ۱/۱۵۷) ” فتوی“ اگر ایک رائے ہے تو وہ مفتی کی کوئی نجی رائے نہیں؛بلکہ شرعی رائے ہے ،جو ہر حالت میں واجب العمل ہے، آپ ہی انصاف کریں کہ اگرکسی سائل نے کسی مفتی سے نماز کے لیے وضو کے بارے میں سوال کیا ، اور مفتی نے وضو کو نماز کے صحیح ہونے کے لیے شرط بتا دیا ،تو کیا مفتی کا یہ فتوی صرف ایک رائے کی حیثیت رکھتا ہے، جس کا ماننا ہر ایک کے لیے ضروری نہیں ہے؟؟
           فتوی کے تاریخی پس منظر کے مطالعے سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ امت کے سب سے پہلے مفتی خود مفتی الثقلین جناب محمد رسول اللہ … کی ذات گرامی ہیں، آپ نے ”جوامع الکلم“ کی شکل میں فتوے دئے،جو احادیث کی شکل میں ہمارے سامنے موجودہیں، (اِعلام الموقعین: ۱/۱۱) آپ … کی وفات کے بعد صحابہٴ کرام نے اس حسّاس اور ناگزیر شرعی ذمہ داری کو سنبھالا اور احسن طریقے سے انجام دیا،الغرض دورِنبوت سے لے کر دورِ حاضر تک فتوی کی نازک ترین ذمہ داری امت کے فقہا ء کرام و مفتیان عظام کے ذریعہ انجام دی جارہی ہے، ا ن حضرات نے اپنی جانفشانی اور خدا ترسی کے ساتھ حلال و حرام کے جو قواعد و ضوابط مرتب کیے،وہ تاریک رات میں روشن ستاروں کی مانند ہیں،اور امام شاطبی کے بقول یہی حضرات انبیاء کرام کے حقیقی وارث ہیں، اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ایک مفتی کے لیے تقوی،تفقہ،دیانت و امانت اور بیدار مغزی و زمانہ شناسی جیسی متعدد صفات کا حامل ہونا ضروری ہے، تو اس حقیقت سے بھی انکار کی گنجائش نہیں کہ وہ کسی بھی پیش آمدہ مسئلہ کے جواب میں احکامِ خداوندی کا ترجمان ہوتا ہے،اُس کے فتوی کو ”رائے“ کہہ کر مسترد کر دینا فرمانِ خداوندی کو ٹھکرا دینے کے مترادف ہے،یہ بھی تسلیم ہے کہ اگر کسی مفتی نے کوئی غلط فتوی دیا جو شرعی اصول اور اسلامی مزاج سے متصادم ہے،تو اس فتوی کو اصول و ضوابط کی روشنی میں رد کیا جانا ضروری ہے؛ کیونکہ وہ حکم شرعی نہیں ہے؛ تاہم اس طرح کے غلط فتوے کی آڑ میں مجموعی طور پر اس اہم ترین دینی ذمہ داری (فتویٰ) کو زک پہنچانے کا کوئی جواز نہیں، جب ایک مستند مفتی کسی مسئلہ کے جواب کے لیے قلم اٹھاتا ہے،تو اس کے دل میں جہاں خوف ِ خدا ہوتا ہے،اسی طرح سائل کے حالات،زمانے کی تبدیلی اور حالات کے تقاضے سمیت بہت ساری چیزوں کو سامنے رکھ کر پوری بصیرت اور ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے وہ شریعت کی ترجمانی کرتا ہے، موجودہ دور میں ”فتویٰ“ کی معنویت وافادیت اور اس کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے،گلوبلائزیشن کے اس دور میں تجارت و ملازمت اور صنعت و حرفت کی نئی نئی شکلوں نے جنم لیا ہے،میڈیکل سائنس کے حیران کن ریسرچ نے علاج اور تحفظِ انسان کے لیے نئی نئی ایجادات پیش کی ہیں،انسان آسمانوں پر اپنی آبادی بسانے لگا ہے،مختصر یہ کہ انسانی زندگی کے ہر شعبے میں ترقی کی نئی راہ کھل چکی ہے ․اس صورتِ حال میں” فقہ و فتاوی“ ایسا فن بن گیا ہے جس سے کوئی مفر نہیں،ایک شخص اپنے آپ کومسلمان بھی کہے،یعنی وہ ایک مکمل ”نظامِ حیات“ کا پابند بھی ہو اور اسے اپنی زندگی کے کسی مرحلے میں فتوی کی ضرورت پیش نہ آئے، ایساممکن ہی نہیں؛بلکہ عقائد، عبادات، معاملات، معاشرت اور اخلاق و اعمال میں سیکڑوں ایسے مواقع آتے ہیں،جہاں اسے فتوی کی ضرورت کا احساس ہوتا ہے اور یقینی طور پر وہ فقہائے عظام اور مفتیانِ کرام کی رہبری کا محتاج ہوتا ہے،ہر شخص کو اپنی منہمک زندگی میں اس قدر مہلت کہاں کہ وہ یکسر قرآن و حدیث کا مطالعہ کرے اور وقت کے پیش آمدہ مسائل کا حل تلاش کرے۔
============================

حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ سعد بن عبادہ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس نذر کے بارے میں مسئلہ پوچھا جو ان کی ماں نے مانی تھی اور اس کو پورا کرنے سے پہلے وہ مر گئی تھیں چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے سعد کو یہ فتویٰ دیا کہ وہ اپنی ماں کی طرف سے اس نذر کو پورا کریں ۔ " ( بخاری ومسلم )

[مشکوۃ شریف:جلد سوم:حدیث نمبر 605 (39813)- نفقات اور لونڈی غلام کے حقوق کا بیان : نذر ماننے والے کے ورثاء پر نذر پوری کرنا واجب ہے یا نہیں؟]
تشریح :
 حضرت سعد کی والدہ کی نذر کے بارے میں علماء کے مختلف اقوال ہیں ، بعض حضرات تو یہ کہتے ہیں کہ انہوں نے مطلق نذر مانی تھی ، بعض تو یہ کہتے ہیں کہ انہوں نے روزے کی نذر مانی تھی ، بعض کا قول یہ ہے کہ ان کی نذر غلام کو آزاد کرنے کی تھی ، اور بعض یہ کہتے ہیں کہ انہوں نے صدقہ کی نذر مانی تھی ، لیکن زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ انہوں نے یا تو مالی نذر مانی تھی یا ان کی نذر مبہم تھی چنانچہ اس کی تائید دار قطنی کی روایت کے ان الفاظ سے ہوتی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سعد سے فرمایا کہ " ان کی طرف سے پانی پلاؤ ۔ "
اگر کسی شخص نے کوئی نذر مانی ہو اور اس نذر کو پورا کرنے سے پہلے مر گیا ہو تو اس کے بارے میں جمہور علماء کا مسلک یہ ہے کہ اس شخص کے وارث پر اس نذر کو پورا کرنا واجب نہیں ہے جب کہ وہ نذر غیر مالی ہو ، اسی طرح اگر نذر مالی ہو اور اس میت نے کچھ ترکہ نہ چھوڑا ہو تو اس صورت میں بھی اس کے وارث پر اس نذر کو پورا کرنا واجب نہیں ہوگا ، البتہ مستحب ہوگا ، لیکن علماء ظواہر اس حدیث کے ظاہری مفہوم کے بموجب یہ کہتے ہیں کہ وارث پر اس نذر کو پورا کرنا واجب ہوگا ۔ جمہور علماء کی دلیل یہ ہے کہ اس نذر کو خود وارث نے اپنے اوپر لازم نہیں کیا ہے کہ اس کو پورا کرنا واجب ہوگا ۔ البتہ مستحب ہوگا ۔ لیکن علماء ظواہر اس حدیث کے ظاہری مفہوم کے بموجب یہ کہتے ہیں کہ وارث پر اس نذر کو پورا کرنا واجب ہوگا ۔ جمہور علماء کی دلیل یہ ہے کہ اس نذر کو خود وارث نے اپنے اوپر لازم نہیں کیا ہے کہ اس کو پورا کرنا اس پر واجب ہو ، اور جہاں تک اس روایت کا تعلق ہے تو اول تو یہ حدیث وجوب پر دلالت ہی نہیں کرتی دوسرے یہ کہ ہو سکتا ہے کہ حضرت سعد کی والدہ نے ترکہ چھوڑا ہو اور اس ترکہ سے ان کی نذر پوری کرنے کا حکم دیا گیا ہو یا یہ کہ محض تبرعاً یہ حکم دیا گیا ہو ۔



حضرت محمد ابن منتشر کہتے ہیں کہ ایک شخص نے نذر مانی کہ اگر اللہ تعالیٰ اس کو دشمن سے نجات دلا دے تو وہ اپنے آپ کو ذبح کر ڈالے گا ، چنانچہ جب اس کو اپنے دشمن سے نجات مل گئی تو ( اس نے اس مسئلہ میں حضرت ابن عباس سے دریافت کیا حضرت ابن عباس نے اس سے فرمایا کہ یہ مسئلہ مسروق ( تابعی ) سے پوچھو ، اس شخص نے مسروق سے دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا کہ " تم اپنے آپ کو ذبح نہ کرو ، کیونکہ اگر تم مسلمان ہو تو ( اس صورت میں ) تم ایک مسلمان کو قتل کرنے کے مرتکب ہو گے اور اگر تم کافر ہو تو ( اس صورت میں گویا ) تم دوزخ میں جانے میں جلدی کرو گے ، لہٰذا اگر تمہارے بارے میں یہ حکم ہے کہ ( تم دنبہ خرید کر مسکینوں کے لئے اس کو ذبح کرو ، حضرت اسحاق تم سے بہتر تھے جن کا بدلہ ایک دنبہ کو قرار دیا گیا ، جب اس شخص نے حضرت ابن عباس کو ( حضرت مسروق کے اس فتویٰ سے آگاہ کیا ) تو انہوں نے فرمایا کہ حقیقت یہی ہے ، میں خود تمہیں یہ فتویٰ دینے کا ارادہ رکھتا تھا ۔ " ( رزین )

[مشکوۃ شریف:جلد سوم:حدیث نمبر 616(39824) - نفقات اور لونڈی غلام کے حقوق کا بیان : جان قربان کرنے کی نذر کا مسئلہ]
تشریح :
 حضرت مسروق ابن اجدع کا شمار اونچے درجہ کے تابعین میں ہوتا ہے ۔ ان کی علمی فضیلت اور فقہی حیثیت اپنے زمانہ میں ایک امتیازی شان رکھتی تھی ۔ مرہ ابن شرحبیل کا قول ہے کہ کسی ہمدانی عورت نے مسروق جیسا سپوت نہیں جنا ، انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات سے پہلے اسلام قبول کر لیا تھا ۔ مگر دربار رسالت میں حاضری کی سعادت سے محروم رہے تھے ، چنانچہ انہوں نے چاروں خلفاء راشدین اور حضرت عائشہ صدیقہ سے تحصیل علم کیا تھا اس لئے جب اس شخص نے حضرت ابن عباس سے مسئلہ دریافت کیا تو انہوں نے اپنی جلالت علم کے باوجود اس شخص کو حضرت مسروق سے مسئلہ پوچھنے کے لئے کہا ، اس سے جہاں حضرت مسروق کی فضیلت کا اظہار ہوتا ہے ، وہیں حضرت ابن عباس کے جذبہ احتیاط اور ان کے کمال صبر ودیانت پر بھی روشنی پڑتی ہے ۔
حدیث میں جس شخص کا ذکر کیا گیا ہے اس کو اپنے دشمن کے ہاتھوں مرنا نہایت شدید اور فضیحت ناک معلوم ہوتا تھا ، چنانچہ اس نے التجا کی کہ " پروردگار ! اصل موت مجھ پر سخت نہیں ہے اور نہ میں اپنے زندگی کے خاتمہ سے گبھراتا ہوں ، میں اپنی جان اپنے ہاتھوں تجھے سونپتا ہوں اور اپنے آپ کو تیرے نام پر قربان کرتا ہوں لیکن دشمن کے ہاتھوں مرنا مجھ پر سخت شاق ہے اس لئے اگر تو مجھے دشمن سے نجات دے گا تو میں اپنے آپ کو تیرے نام پر قربان کر دوں گا " یہ تو گویا اس کا جذبہ اور اس کی ایک طبعی خواہش تھی لیکن اس نے یہ نہیں جانا کہ اپنے آپ کو ہلاک کر لینا اس سے کہیں زیادہ سخت اور حرام ہے ۔ چنانچہ حضرت مسروق نے اس کے سامنے اس مسئلہ کو بڑے لطیف انداز میں واضح کیا کہ اگر تم مسلمان ہو اور اپنے آپ کو قتل کر ڈالتے ہو تو اس طرح درحقیقت تم ایک مسلمان کو قتل کرنے کے مرتکب گردانے جاؤ گے اور یہ معلوم ہونا چاہئے کہ نفس مؤمن کو قتل کرنے والے کے بارے میں اس آیت کریمہ ( وَلَا تَقْتُلُوْ ا اَنْفُسَكُمْ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِكُمْ رَحِيْمًا) 4۔ النساء : 29) کے بموجب دوزخ کے دائمی عذاب کی وعید بیان کی گئی ہے ، اور اگر تم کافر ہو تو اس صورت میں تمہارا اپنے آپ کو قتل کر دینا ، اس بات کے مترادف ہوگا کہ تم دوزخ میں جانے میں جلدی کر رہے ہو ، کیونکہ اگر تم بقید حیات رہتے ہو تو عجب نہیں کہ حق تعالیٰ تمہیں راہ ہدایت سے نوازے اور تم اسلام قبول کر کے دائمی نجات پاؤ ۔ بہر حال کسی بھی صورت میں تمہارا اپنے آپ کی قتل کر دینا نہ صرف یہ کہ نامشروع ہے بلکہ غیر معقول بھی ہے ۔
حدیث کا یہ جملہ " حضرت اسحاق تم سے بہتر تھے جن کا بدلہ ایک دنبہ کو قرار دیا گیا تھا " بعض علماء کے اس قول پر مبنی ہے کہ حضرت ابراہیم نے جو خواب دیکھا تھا کہ اپنے بیٹے کو ذبح کر رہا ہوں تو وہ بیٹے حضرت اسحاق تھے ۔ لیکن اس بارے میں مشہور و مختار اور صحیح قول یہ ہے کہ حضرت ابراہیم کو خواب میں جس بیٹے کو ذبح کرنے کا حکم دیا گیا تھا وہ حضرت اسماعیل تھے ۔ چنانچہ جلال الدین سیوطی نے وضاحت کی ہے کہ اس واقعہ میں اہل کتاب نے سخت تحریف و تکذیب سے کام لیا ہے ، سابقہ آسمانی کتابوں میں اصل نام اسماعیل تھا جس کو اہل کتاب نے حذف کر کے اسحاق بنا دیا ۔
در مختار میں لکھا ہے کہ اگر کسی شخص نے اپنے بیٹے کو ذبح کرنے کی نذر مانی تو حضرت ابراہیم کے واقعہ کی موافقت میں اس پر بکری ذبح کرنا واجب ہوگا لیکن حضرت امام ابویوسف اور حضرت امام شافعی کہتے ہیں کہ ایسی نذر لغو ہوگی ، اسی طرح اپنے آپ کو یا اپنے غلام کو ذبح کرنے کی نذر بھی لغو ہوگی لیکن حضرت امام محمد کے نزدیک اس صورت میں ایک بکری ذبح کرنا واجب ہوگا ! اور اگر کسی نے اپنے باپ یا اپنے دادا کو اور یا اپنی ماں کو ذبح کرنے کی نذر مانی تو تمام علماء کے نزدیک اس کی نذر " لغو " ہوگی ۔



نضر بن انس کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس بیٹھا ہوا تھا، وہ لوگوں کو فتویٰ دے رہے تھے لیکن اپنے کسی فتویٰ کی نسبت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف نہیں کر رہے تھے، اسی دوران ایک عراقی آدمی آیا اور کہنے لگا کہ میں عراق کا رہنے والا ہوں اور میں تصویر سازی کا کام کرتا ہوں، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے اسے دو یا تین مرتبہ اپنے قریب ہونے کا حکم دیا، جب وہ قریب ہوگیا تو فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جو شخص دنیا میں تصویر سازی کرتا ہے اسے قیامت کے دن اس تصویر میں روح پھونکنے کا حکم دیا جائے گا ظاہر ہے کہ وہ اس میں روح نہیں پھونک سکے گا۔

[مسند احمد:جلد دوم:حدیث نمبر 314(48153)  عبداللہ بن عباس کی مرویات]



 حضرت ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے یا رسول اللہ! میرے پاس کچھ سدھائے ہوئے کتے ہیں ان کے ذریعے شکار کے بارے مجھے فتویٰ دیجئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تمہارے کتے سدھائے ہوئے ہوں تو وہ تمہارے لیے شکار کریں تم اسے کھا سکتے ہو، انہوں نے پوچھا یا رسول اللہ! خواہ اسے ذبح کروں یانہ کروں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں! انہوں نے پوچھا اگرچہ کتا بھی اس میں سے کچھ کھا لے؟ فرمایا: ہاں! انہوں نے کہا کہ یا رسول اللہ ! کمان کے بارے بتایئے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کمان کے ذریعے (مراد تیر ہے) تم جو شکار کرو وہ کھا بھی سکتے ہو انہوں نے پوچھا کہ خواہ ذبح کروں یانہ کروں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں ، انہوں نے پوچھا اگرچہ وہ میری نظروں سے اوجھل ہو جائے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں! بشرطیکہ (جب تم شکار کے پاس پہنچو تو) وہ بگڑ نہ چکا ہو یا اس میں تمہارے تیر کے علاوہ کسی اور چیز کا نشان نہ ہو انہوں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! مجوسیوں کے برتن کے بارے بتائیے جب کہ انہیں استعمال کرنا ہماری مجبوری ہو؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم انہیں استعمال کرنے پر مجبور ہو تو انہیں پانی سے دھو کر پھر اس میں پکا سکتے ہو۔

[مسند احمد:جلد سوم:حدیث نمبر 2223 (52537) حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی مرویات]



حسن رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اپنے شاگردوں کے سامنے احادیث بیان فرما رہے تھے کہ ایک آدمی ایک ریشمی جوڑا پہنے ہوئے آیا اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس کھڑے ہوکر کہنے لگا کہ اے ابوہریرہ! کیا میرے اس جوڑے کے متعلق آپ کے پاس کوئی فتویٰ ہے؟ انہوں نے اس کی طرف سر اٹھا کر دیکھا اور فرمایا مجھے صادق ومصدوق میرے خلیل ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا ہے کہ ایک آدمی اپنے قیمتی حلے میں ملبوس اپنے او پر فخر کرتے ہوئے تکبر سے چلا جارہا تھا کہ اسی اثنا میں اللہ نے اسے زمین میں دھنسا دیا اب وہ قیامت تک زمین میں دھنستا ہی رہے گا۔

[مسند احمد:جلد چہارم:حدیث نمبر 3229 (56149) صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ]



ابو الجوزاء کہتے ہیں کہ میں نے سونے چاندی کی خرید و فروخت کے معاملے میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے ایک فتویٰ سنا اور ایک عرصہ تک لوگوں کو وہی فتویٰ دیتا رہا، جب دوبارہ ان سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے اپنے فتویٰ سے رجوع کر لیا تھا ، میں نے ان سے اس کی وجہ پوچھی تو انہوں نے فرمایا کہ وہ صرف میری رائے تھی جو میں نے قائم کر لی تھی، بعد میں مجھے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے۔

[مسند احمد:جلد پنجم:حدیث نمبر 461 (57120) حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کی مرویات]
نوٹ : جب کسی مسئلہ کا واضح حکم قرآن و سنت میں نہ ملے تو علماء کا اپنی  اجتہادی راۓ  سے فتویٰ دینا جائز ہے، جیسا کہ حدیثِ معاذؓ (ابو داود، ابن ماجہ) میں مذکور ہے، مگر جب واضح حکم معلوم ہوجاۓ تو راۓ  کو ترک کردینا لازم ہے، کیونکہ مسئلہ کا حکم قرآن و سنّت میں واضح موجود ہونے کے بعد نہ مجتہد عالم کو اجتہاد کی اجازت و ضرورت نہیں رہتی اور اسی علم سے عالم عوام کو آگاہ کرے گا.



ابو الجوزاء کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے کمی بیشی کے ساتھ لیکن نقد سونے چاندی کی بیع کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ دو کے بدلے میں ایک یا کمی بیشی کے ساتھ نقد ہو تو کوئی حرج نہیں ، کچھ عرصے کے بعد مجھے دوبارہ حج کی سعادت نصیب ہوئی، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ اس وقت تک حیات تھے، میں نے ان سے دوبارہ وہی مسئلہ پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ نقد کے ساتھ دونوں کا وزن بھی برابر ہو، میں نے ان سے عرض کیا کہ پہلے تو آپ نے مجھے یہ فتویٰ دیا تھا کہ ایک کے بدلے دو بھی جائز ہے اور میں تو اس وقت سے لوگوں کو بھی یہی مسئلہ بتارہا ہوں ، انہوں نے فرمایا کہ یہ میری رائے تھی، بعد میں حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے مجھے یہ حدیث سنائی تو میں نے حدیث کے سامنے اپنی رائے کو ترک کر دیا۔

[مسند احمد:جلد پنجم:حدیث نمبر 493 (57152) حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کی مرویات]



ابو نضرہ رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے سونے چاندی کی فروخت کے متعلق پوچھا، انہوں نے فرمایا جب کہ معاملہ ہاتھوں ہاتھ ہو؟ میں نے کہا جی ہاں ! انہوں نے فرمایا اس میں کوئی حرج نہیں ہے، پھر حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہوئی تو میں نے انہیں بتایا کہ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے یہ سوال پوچھا تھا اور انہوں نے فرمایا تھا کہ اس میں کوئی حرج نہیں ، انہوں نے فرمایا کیا انہوں نے یہ بات کہی ہے؟ ہم انہیں خط لکھیں گے کہ وہ یہ فتویٰ نہ دیا کریں ، بخدا! نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک جوان کچھ کھجوریں لے کر آیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ کچھ اوپرا سا معاملہ لگا، اس لئے اس سے فرمایا کہ یہ ہمارے علاقے کی کھجور نہیں لگتی، اس نے کہا کہ ہم نے اپنی دو صاع کھجوریں دے کر ان عمدہ کھجوروں کا ایک صاع لے لیا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے سودی معاملہ کیا، اس کے قریب بھی نہ جانا، جب تمہیں اپنی کوئی کھجور اچھی نہ لگے تو اسے بیچو پھر اپنی مرضی کی خرید لو۔

[مسند احمد:جلد پنجم:حدیث نمبر 593 (57252) حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کی مرویات]




 حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو بتایا گیا کہ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فتویٰ دیتے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی عورت تین دن کا سفر اپنے محرم کے بغیر نہ کرے۔

[مسند احمد:جلد پنجم:حدیث نمبر 640 (57299) حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کی مرویات]



حضرت براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سے لوگ ایک یہودی کے لے گذرے جس کے چہرے پر سیاہی ملی ہوئی تھی اور اسے کوڑے مارے گئے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ایک عالم (پادری) کو بلایا اور فرمایا: میں تمہیں اس اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں جس نے موسیٰ پر تورات نازل فرمائی کیا تم اپنی کتاب میں زانی کی یہی سزا پاتے ہو؟ اس نے قسم کھا کر کہا نہیں اگر آپ نے مجھے اتنی بڑی قسم نہ دی ہوتی تو میں کبھی آپ کو اس سے آگاہ نہ کرتا ہم اپنی کتاب میں زانی کی سزا رجم ہی پاتے ہیں لیکن ہمارے شرفاء میں زناء کی بڑی کثرت ہوگئی ہے اس لئے جب ہم کسی معزز آدمی کو پکڑتے تھے تو اسے چھوڑ دیتے اور کسی کمزور کو پکڑتے تو اس پر حد جاری کر دیتے پھر ہم نے سوچا کہ ہم ایک سزا ایسی مقرر کرلیتے ہیں جو ہم معزز اور کمزور دونوں پر جاری کرسکیں ، چنانچہ ہم نے منہ کالا کرنے اور کوڑے مارنے پر اتفاق رائے کرلیا یہ سن کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ ! میں سب سے پہلا آدمی ہوں جو تیرے حکم کو زندہ کر رہا ہوں جبکہ انہوں نے اسے مردہ کردیا تھا پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر اسے رجم کردیا گیا ۔ اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: اے پیغمبر! کفر کی طرف تیزی سے لپکنے والے آپ کو غمگین نہ کردیں جو کہتے ہیں کہ اگر تمہیں یہ ملے تولے لو یعنی تم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ اگر وہ تمہیں منہ کالا کرنے اور کوڑے مارنے کا فتویٰ دیں تو اسے قبول کرلو اور اگر رجم کا حکم دیں تو اسے چھوڑ دو پھر یہودیوں کے متعلق خاص طور پر فرمایا گیا کہ جو شخص اللہ کی نازل کردہ شریعت کے مطابق فیصلہ نہیں کرتا ایسے لوگ کافر ہیں. پھر تمام کافروں کے متعلق فرمایا گیا کہ جو شخص اللہ کی نازل کردہ شریعت کے مطابق فیصلہ نہیں کرتا ایسے لوگ ظالم ہیں جو شخص اللہ کی نازل کردہ شریعت کے مطابق فیصلہ نہیں کرتا ایسے لوگ فاسق ہیں راوی کہتے ہیں کہ ان تینوں آیتوں کا تعلق کافروں سے ہے۔

[مسند احمد:جلد ہشتم:حدیث نمبر 401 (63897) حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ کی مرویات]


حضرت سعد بن عبادہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے فتویٰ پوچھا کہ میری ماں مر گئیں اور ان پر ایک نذر باقی ہے تو آپ نے فرمایا کہ تم اس کو ان کی طرف سے پورا کردو۔
[صحیح بخاری:جلد دوم:حدیث نمبر 33- وصیتوں کا بیان : میت کی نذروں کے پورا کرنے اور اچانک مرنیوالے کی طرف سے خیرات کرنے کے استحباب کا بیان۔]


حضرت طاؤس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے فرمایا کہ میں حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے پاس تھا کہ حضرت زید بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ آپ فتویٰ دیتے ہیں کہ حیض والی عورت طواف وداع کرنے سے پہلے بیت اللہ سے واپس آسکتی ہے؟ تو حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان سے فرمایا کہ تم میرے اس فتویٰ کو نہیں مانتے تو فلاں انصاری عورت سے پوچھ لو کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے یہی حکم دیا تھا؟ حضرت زید بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت ابن عباس کی طرف مسکراتے ہوئے آئے اور فرمایا کہ آپ ہمیشہ سچ فرماتے ہیں۔
[صحیح مسلم:جلد دوم:حدیث نمبر 728(10354)- حج کا بیان : طواف وداع کے وجوب اور حائضہ عورت سے طواف معاف ہونے کے بیان میں]



حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مکہ میں قیام کیا تو فرمایا کہ لوگوں کے دلوں کو اللہ نے اندھا کر دیا ہے جیسا کہ وہ بینائی سے نابینا ہیں کہ وہ متعہ کا فتویٰ دیتے ہیں اتنے میں ایک آدمی نے انہیں پکارا اور کہا کہ تم کم علم اور نادان ہو میری عمر کی قسم امام المتقین یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں متعہ کیا جاتا تھا تو ان سے ( ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے) ابن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا تم اپنے آپ پر تجربہ کرلو اللہ کی قسم اگر آپ نے ایسا عمل کیا تو میں تجھے پتھروں سے سنگسار کر دوں گا ابن شہاب نے کہا مجھے خالد بن مہاجر بن سیف اللہ نے خبر دی کہ وہ ایک آدمی کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ ایک آدمی نے اس سے آکر متعہ کے بارے میں فتویٰ طلب کیا تو اس نے اسے اس کی اجازت دے دی تو اس سے ابن ابی عمرہ انصاری نے کہا ٹھہر جا انہوں نے کہا کیا بات ہے حالانکہ امام المتقین صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایسا کیا گیا ابن ابی عمرہ نے فرمایا کہ یہ رخصت ابتدائے اسلام میں مضطر آدمی کے لئے تھی مردار اور خون اور خنزیر کے گوشت کی طرح پھر اللہ نے دین کو مضبوط کردیا اور متعہ سے منع کردیا ابن شہاب نے کہا مجھے ربیع بن سبرہ الجہنی نے خبر دی ہے اس کے باپ نے کہا میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں متعہ کیا تھا پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں متعہ سے منع فرما دیا ابن شہاب نے کہا کہ میں نے ربیع بن سبرہ کی یہ حدیث عمر بن عبدالعزیز سے بیان کرتے سنا اس حال میں کہ میں وہاں بیٹھا ہوا تھا۔
[صحیح مسلم:جلد دوم:حدیث نمبر 936- نکاح کا بیان : نکاح متعہ اور اس کے بیان میں کہ وہ جائز کیا گیا پھر منسوخ کیا گیا پھر منسوخ کیا گیا پھر منسوخ کیا گیا پھر منسوخ کیا گیا اور پھر قیامت تک کے لئے اس کی حرمت باقی کی گئی ۔]


حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ وہ ابوعمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن حفص بن مغیرہ کے نکاح میں تھی اس نے انہیں تین طلاقیں دے دیں پھر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اپنے گھر سے نکلنے کے بارے میں فتویٰ لینے کے لئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے حکم دیا کہ وہ ابن ام مکتوم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نابینا کی طرف منتقل ہو جائے اور مروان نے ان کی تصدیق کرنے سے انکار کردیا کہ مطلقہ اپنے گھر سے نکلے اور عروہ نے کہا کہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے بھی فاطمہ بنت قیس کی اس بات کو ماننے سے انکار کردیا۔
[صحیح مسلم:جلد دوم:حدیث نمبر 1209 (10835)- طلاق کا بیان : مطلقہ بائنہ کے لئے نفقہ نہ ہونے کے بیان میں]




حضرت عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ سے روایت ہے کہ اس کے باپ نے عمر بن عبداللہ بن ارقم زہری کے پاس لکھا اور انہیں حکم دیا کہ وہ سبیعہ بنت حارث کے پاس جائے اور اس سے اس کی مروی حدیث کے بارے میں پوچھے اور اسکے بارے میں پوچھو جو اس کے فتویٰ طلب کرنے کے جواب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا تو عمر بن عبداللہ بن عتبہ کو لکھا اور اسے اس کی خبر دی کہ سبیعہ نے اسے خبر دی ہے کہ وہ سعد بن خولہ کے نکاح میں تھی جو نبی عامر بن لوئی میں سے تھے اور جنگ بدر میں شریک ہوئے اور ان کی وفات حجۃ الوداع میں ہوگئی اور وہ حاملہ تھی پس اس کی وفات کے تھوڑے ہی دنوں کے بعد وضع حمل ہوگیا پس جب وہ نفاس سے فارغ ہوگئی تو اس نے پیغام نکاح دینے والوں کے لئے بناؤ سنگار کیا تو بنو عبداللہ میں سے ایک آدمی ابوالسنابل بن بعکک اس کے پاس آیا تو اس نے کہا مجھے کیا ہے کہ میں تجھے بناؤ سنگار کئے ہوئے دیکھتا ہوں شاید کہ تو نکاح کی امید رکھتی ہے اللہ کی قسم تو اس وقت تک نکاح نہیں کر سکتی جب تک تجھ پر چار ماہ دس دن نہ گزر جائیں جب اس نے مجھے یہ کہا تو میں نے اپنے کپڑے اپنے اوپر لپیٹے اور شام کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس بارے میں پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے فتویٰ دیا کہ وضع حمل ہوتے ہی آزاد ہو چکی ہوں اور مجھے نکاح کا حکم دیا اگر میں چاہوں ابن شہاب نے کہا کہ میں وضع حمل ہوتے ہی عورت کے نکاح میں کوئی حرج نہیں خیال کرتا اگرچہ وہ خون نفاس میں مبتلا ہو لیکن جب تک خون نفاس سے پاک نہ ہو جائے شوہر اس سے صحبت نہیں کر سکتا۔
[صحیح مسلم:جلد دوم:حدیث نمبر 1229 (10855)- طلاق کا بیان : جس عورت کا شوہر فوت ہو جائے اور اس کے علاوہ مطلقہ عورت کی عدت وضع حمل سے پوری ہو جانے کے بیان میں]


حضرت شریح بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جبیر بن نفیر نے مجھے اس حوالہ سے جنابت سے غسل کا فتویٰ دیا کہ حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ نے ان سے حدیث بیان کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے غسل جنابت کے بارے میں دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ مرد کے لیے تو یہ ضروری ہے کہ وہ اپنا سر کھول کر بالوں کو دھوئے یہاں تک کہ پانی بالوں کی جڑوں تک پہنچ جائے مگر عورت کے لیے سر کے بالوں کا کھولنا ضروری نہیں ہے بلکہ اسکو چاہیئے کہ وہ دونوں ہاتھوں سے تین مرتبہ پانی سر پر ڈال لے۔
[سنن ابوداؤد:جلد اول:حدیث نمبر 254 (14947)- پاکی کا بیان : غسل جنابت کے وقت عورت کے لیے چٹیا کھولنا ضروری نہیں ہے]


حضرت زیاد بن علاقہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ ہمیں مغیرہ بن شعبہ نے نماز پڑھائی تو وہ دو رکعتیں پڑھ کر کھڑے ہوگئے (بیٹھے نہیں) ہم نے سبحان اللہ کہا تو انھوں نے بھی سبحان اللہ کہا اور نماز جاری رکھی جب نماز پوری کرلی اور سلام پھیرا تو دو سہو کے سجدے کیے اور جب نماز سے فارغ ہوگئے تو کہا میں نے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایسا ہی کرتے دیکھا تھا جیسا کہ میں نے اس وقت کیا ابوداؤد کہتے ہیں کہ اس کو ابن ابی لیلیٰ نے بھی بواسطہ شعبی حضرت مغیرہ بن شعبہ سے اسی طرح روایت کیا ہے اور ابوعمیس نے اس کو ثابت بن عبیدہ سے روایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم کو مغیرہ بن شعبہ نے نماز پڑھائی زیاد بن علاقہ کی طرح ابوداؤد کہتے ہیں کہ ابوعمیس مسعودی کا بھائی ہے اور سعد بن ابی وقاص نے بھی ایسا ہی کیا ہے جیسا کہ مغیرہ، عمران، حصین، ضحاک بن قیس اور معاویہ بن ابی سفیان نے کیا ابن عباس اور عمر بن عبدالعزیز نے اس پر فتویٰ دیا ہے ابوداؤد نے کہا یہ حکم اس شخص کے لیے ہے جو دو رکعت پڑھ کر بیٹھے نہیں پھر سلام کے بعد سجدہ کیا۔
[سنن ابوداؤد:جلد اول:حدیث نمبر 1034 (15727)- نماز کا بیان : جو شخص قعدہ اولیٰ بھول جائے وہ کیا کرے؟]




حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حالت خوف میں ظہر کی نماز پڑھی تو کچھ لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے صف باندھی اور کچھ نے دشمن کے سامنے پس پہلے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان لوگوں کو جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے تھے دو رکعتیں پڑھا کر سلام پھیرا پھر یہ لوگ چلے گئے اور وہ لوگ آئے جو دشمن کے سامنے تھے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اصحاب کی دو دو رکعتیں ہوئیں حضرت حسن اسی پر فتویٰ دیتے تھے ابوداؤد کہتے ہیں کہ اسی طرح مغرب میں امام کی چھ رکعتیں اور قوم کی تین تین رکعتیں ہوں گی۔ ابوداؤد کہتے ہیں کہ اس کو یحیی بن ابی کثیر نے بواسطہ ابوسلمہ بروایت جابر نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اسی طرح روایت کیا ہے اسی طرح سلیمان الیشکری نے عن جابر عن النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم روایت کیا ہے۔
[سنن ابوداؤد:جلد اول:حدیث نمبر 1244(15937)- نماز کا بیان : آٹھویں صورت بعضوں نے کہا ہر گروہ کے ساتھ امام دو رکعتیں پڑھے]
============================
دل سے فتویٰ لینا:
حضرت وابصہؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا میرا ارادہ تھا کہ میں کوئی نیکی اور گناہ ایسا نہیں چھوڑوں گا جس کے متعلق نبی ﷺ سے نہ پوچھ لوں ، جب میں وہاں پہنچا تو نبی ﷺ کے پاس بہت سے لوگ موجود تھے، میں لوگوں کو پھلانگتا ہوا آگے بڑھنے لگا، لوگ کہنے لگے وابصہ! نبی ﷺ سے پیچھے ہٹو، میں نے کہا کہ میں وابصہ ہوں ، مجھے ان کے قریب جانے دو، کیونکہ مجھے تمام لوگوں میں سب سے زیادہ ان کے قریب ہونا پسند ہے، نبی ﷺ نے بھی مجھ سے فرمایا وابصہ! قریب آجاؤ، چنانچہ میں اتنا قریب ہوا کہ میرا گھٹنا نبی ﷺ کے گھٹنے سے لگنے لگا۔ نبی ﷺ نے فرمایا وابصہ تم مجھ سے کیا پوچھنے کے لئے آئے ہو، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ! آپ ہی بتائیے، نبی ﷺ نے فرمایا تم مجھ سے نیکی اور نگاہ کے متعلق پوچھنے کے لئے آئے ہو، میں نے عرض کیا جی ہاں ! نبی ﷺ اپنی تین انگلیاں اکٹھی کیں اور ان سے میرے سینے کو کریدتے ہوئے فرمایا:
يَا وَابِصَةُ اسْتَفْتِ نَفْسَكَ، الْبِرُّ مَا اطْمَأَنَّ إِلَيْهِ الْقَلْبُ، وَاطْمَأَنَّتْ إِلَيْهِ النَّفْسُ، وَالْإِثْمُ مَا حَاكَ فِي الْقَلْبِ، وَتَرَدَّدَ فِي الصَّدْرِ، وَإِنْ أَفْتَاكَ النَّاسُ وَأَفْتَوْكَ
ترجمہ:
وابصہ! اپنے نفس سے فتوی لیا کرو، نیکی وہ ہوتی ہے جس میں دل مطمئن ہوتا ہے اور نفس کو سکون ملتا ہے، اور گناہ وہ ہوتا ہے جو تمہارے دل میں کھٹکتے ہے اور دل میں تردد رہتا ہے، اگرچہ لوگ تمہیں فتوی دیں، اور تمہیں فتویٰ دیتے رہیں۔



...اگرچہ فتویٰ دینے والے(مفتیان) تمہیں فتویٰ دے دیں۔
[مسند احمد:17742، الديلمي:8541، صحیح الترغیب:1734-1735، صحيح الجامع:948-2881]

یعنی نفس کی اطاعت کرنے اور برائی پر اکسانے کی طرف۔



القرآن:
...تعاون کرو نیکی اور (نافرمانی سے)بچنے میں اور مت تعاون کرو گناہ اور دشمنی میں...



اسباق ونکات:

(1)جو چیز تمہیں "شک" میں مبتلا کرے اسے چھوڑ دو اور اسے اپناؤ جو شک میں مبتلا نہ کرے۔
[حوالہ مسند الدارمي:2575، ﴿صحیح بخاری:52﴾]
حضرت واثلہ بن اسقع سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا:
«دَعْ مَا يَرِيبُكَ إِلَى مَا لَا يَرِيبُكَ وَإِنْ أَفْتَاكَ الْمَفْتُونَ»
"جس چیز میں تمہیں شک ہو اسے چھوڑ کر اس چیز کی طرف آؤ جس میں تمہیں شک نہ ہو، خواہ مفتیان تمہیں (اس کے برعکس) فتویٰ دے دیں۔"



(2)یہ حدیث اپنے گمان خواہش پر چلنے کیلئے نہیں بلکہ تقویٰ(نافرمانی سے بچنے) اور احتیاط پر عمل کرنے کیلئے ہے۔
[حوالہ سورۃ الانفال:29]




(3)مفتی شریعت کا ترجمان ہے، لیکن معصوم نہیں۔ لہٰذا بغیرعلم ودلیل محض اپنی رائے سے فتویٰ دیں، بلکہ ایسے مفتی کی فتویٰ قبول کریں جس کا فتویٰ شک والی باتوں سے بچنے اور احتیاط پر مبنی ہو۔ کیونکہ اللہ نے فرمایا۔۔۔اور اوپر(موجود)ہے ہر علم والے کے ایک علم والا۔
[سورۃ یوسف:76]




(4)اکثریت اگر علم(یقینی) کے بجائے (غیر یقینی)رائے و خواہشات کے پیچھے چلے تو ان کی پیروی جائز نہیں۔
[حوالہ سورۃ سورۃ النساء:115]




(5)گناہ کا نفسیاتی اور روحانی پہلو بھی ہے جو نفس اور قلب کو بےچین رکھتا ہے۔
القرآن:
اور قسم ہے ملامت کرنے والے نفس کی۔
[سورۃ القیامۃ:2]



(6)ہر دل سلامت نہیں۔
القرآن:
...ان(بےعلم باغیوں) کے دل(حیلہ بہانہ کرنے میں) ایک جیسے ہیں...
[سورۃ البقرۃ:118]
...پس جن کے دلوں میں کجی ہے تو وہ(واضح احکام کے بجائے) پیچھے پڑتے ہیں متشبہ باتوں کے...چاہتے ہیں فتنہ(گمراہی)...
[سورۃ آل عمران:7]



(7)حقیقی دل وہی ہے جو سلامتی والا ہو۔
القرآن:
ہاں جو شخص الله کے پاس سلامتی والا دل لے کر آئے گا (اس کو نجات ملے گی)۔
[سورۃ الشعراء:89]

امام راغبؒ لکھتے ہیں:
*قلب (دل) کا زیادہ ذکر اور اس سے مراد "عقل و معرفت" ہے:*
اللہ تعالیٰ نے قرآن میں "قلب" کا اکثر ذکر کیا ہے، اور اس سے مراد "عقل اور معرفت (علم)" ہے۔
اور یہ (الفظ قلب) اس چیز (وعاء/ برتن) کے بارے میں استعارہ ہے جو علم کو محفوظ رکھتی ہے۔
اسی معنی پر اللہ کا یہ فرمان ہے:
{إِنَّ فِي ذَلِكَ لَذِكْرَى لِمَنْ كَانَ لَهُ قَلْبٌ} (بیشک اس میں اس شخص کے لیے نصیحت ہے جس کے پاس دل ہو)۔
اور اللہ کا فرمان:
{فَتَكُونَ لَهُمْ قُلُوبٌ يَعْقِلُونَ بِهَا} (پس ان کے دل ہوں جن سے وہ عقل کریں)۔
اور نبی کریم ﷺ کا یہ فرمان:
"أَسْتَفْتِ قَلْبَكَ وَإِنْ أَفْتَاكَ الْمُفْتُونَ" (اپنے دل سے فتویٰ مانگ لو، چاہے مفتیان تمہیں فتویٰ ہی دے دیں)۔





شرح البيضاويؒ (متوفی 685ھ) :

"یہ حدیث نبوت کی علامات (دلائلِ نبوۃ) اور رسول اللہ ﷺ کے معجزات میں سے ہے، کیونکہ آپ ﷺ نے وابصہ (رضی اللہ عنہ) کے ضمیر کی بات کو بتا دیا اس سے پہلے کہ وہ اسے زبان سے ادا کرے۔"

"اور اس کا مفہوم (حاصل) یہ ہے کہ:
جس شخص پر کوئی چیز مشکل (مشتبہ) ہو جائے، اور وہ اس پر مل جائے (یعنی اس کے لیے یہ واضح نہ ہو کہ یہ نیکی ہے یا گناہ)، اور وہ یہ نہ جان سکے کہ یہ دونوں قسموں (نیکی یا گناہ) میں سے کس سے تعلق رکھتی ہے،
تو اسے چاہیے کہ اس میں غور و فکر کرے (اگر وہ اہلِ اجتہاد ہے)، اور مجتہدین سے پوچھے (اگر وہ مقلدین میں سے ہے)،
پس اگر اسے وہ چیز مل جائے جس کے لیے اس کا نفس سکون پائے، اس کا دل مطمئن ہو جائے، اور اس کا سینہ (صدر) کھل جائے، تو اسے اسے لے لینا چاہیے اور اسے اختیار کرنا چاہیے،
ورنہ وہ اسے چھوڑ دے اور اس چیز کو لے جس میں کوئی شبہ اور شک نہ ہو۔
اور یہ (یہ سب) ورع (پرہیزگاری) اور احتیاط کا راستہ ہے۔"

"اور اس کا خلاصہ (حاصلِ کلام) حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہما کی اس حدیث کی طرف لوٹتا ہے (جس میں آپ ﷺ نے فرمایا: "دع ما يريبك إلى ما لا يريبك" یعنی جس چیز میں شک ہو اسے چھوڑ دو اور جس میں شک نہ ہو اسے لو)، اور (لفظی تکرار) بظاہر اس لیے ہے کہ نفس کے اطمینان کے ساتھ قلب کے اطمینان کو اس لیے معطوف (ملحق) کیا گیا ہے تاکہ تقریر (مضبوطی) اور تأکید (پختگی) ہو۔"

"پس جب نفس کسی معاملے میں تردد (جھجک) کرتا ہے اور اس میں حیران ہو جاتا ہے، اور اس کا قرار (استقرار) زائل ہو جاتا ہے، تو یہ تردد اس تعلق (علاقہ) کی وجہ سے جو نفس اور قلب کے درمیان ہے، اس تعلق کو قلب کی طرف منتقل ہو جاتا ہے، اور اس (قلب) میں اس کیفیت کا اثر پیدا ہوتا ہے،
چنانچہ اس میں خفقان (دھڑکن) اور اضطراب (بےچینی) پیدا ہو جاتی ہے،
پھر ممکن ہے کہ یہ اثر باقی قوتوں (اعضاء) کی طرف بھی سرایت کر جائے، اور اس کے نتیجے میں ان میں انحلال (کمزوری) اور انخزال (سستی) پیدا ہو جائے۔

پس جب یہ (بےچینی) نفس سے زائل ہو جائے اور اسے قرار اور اطمینان حاصل ہو جائے، تو معاملہ الٹ جاتا ہے، اور حالت (اس کے) فروع اور اعضاء پر (اس کے مطابق) بدل جاتی ہے۔"

"اور بعض (علماء) نے کہا:
اس امر (حکم) سے مراد اربابِ بصائر (صاحبانِ بصیرت) اور اہلِ نظر (غور و فکر کرنے والے) ہیں، اور اصحابِ فراسات (ذی فراست لوگ) ہیں جن کے نفوس ریاضت یافتہ (مجاہدہ کرنے والے) اور قلوب سلیم (پاکیزہ) ہیں،
کیونکہ ان کے نفس فطرتاً نیکی کی طرف مائل ہوتے ہیں اور برائی سے کتراتے ہیں،
کیونکہ ہر چیز اپنی ہم جنس کی طرف کھنچتی ہے اور اپنی ضد سے دور بھاگتی ہے،
اور وہ اکثر مواقع پر صواب (صحیح بات) کی طرف ملہم (الہام پانے والے) ہوتے ہیں۔"




شرح ابن المَلَكؒ (متوفی 854ھ):
(۱) "اِسْتَفْتِ نَفْسَكَ" یعنی: اپنے نفس (جان / ضمیر) سے فتویٰ طلب کرو۔

(۲) "اِسْتَفْتِ قَلْبَكَ ثَلَاثًا" (اپنے دل سے تین مرتبہ فتویٰ مانگو)، پھر جس چیز پر تمہارا دل یہ سکون پا لے کہ وہ حق ہے تو اسے لے لو، ورنہ (اسے) نہ لو۔

(۳) (سائل) نے نبی ﷺ سے ان دونوں (چیزوں) میں سے اس کے بارے میں پوچھا جو اس پر مشکل (مشتبہ) تھی، تو آپ ﷺ نے اسے حکم دیا کہ وہ اس چیز کو لے جو اشتباہ (شبہ) سے پاک ہو۔

(۴) "البِرُّ مَا اطْمَأَنَّتْ إِلَيْهِ النَّفْسُ" یعنی: اس کے نیک اور پسندیدہ ہونے میں نفس کو اطمینان حاصل ہو جائے۔
"وَاطْمَأَنَّ إِلَيْهِ الْقَلْبُ" (اور دل مطمئن ہو جائے) یہ نفس کے اطمینان کے ساتھ (معطوف) ہے، تاکید اور تقریر (مضبوطی) کے لیے۔

(۵) اکثر علماء کا موقف ہے کہ اس نشانی (امارہ) کی طرف جو نبی ﷺ نے (نیکی اور گناہ میں) تمیز کے لیے اشارہ فرمایا، وہ تمام مومنین کے لیے عام ہے، اور کسی خاص گروہ کے لیے مخصوص نہیں۔
اور ان میں سے بعض کا موقف ہے کہ یہ (نشانی) صرف اہلِ نظر (صاحبانِ بصیرت) اور اصحابِ فراست (ذی فراست لوگوں) کے لیے ہے، جن کے دل سلیم (پاکیزہ) ہیں اور نفوس ریاضت یافتہ (مجاہدہ کرنے والی) ہیں، کیونکہ ان کے دل فطرتاً نیکی کی طرف مائل ہوتے ہیں اور برائی سے کتراتے ہیں، اور وہ اکثر (صحیح راستے کی طرف) الہام پاتے ہیں۔

(۶) "وَالإِثْمُ مَا حَاكَ" یعنی: جس نے نفس میں تردد اور اثر ڈالا ہو، یعنی دل میں تخالج (کھچاؤ اور اضطراب) پیدا کیا ہو۔
"وَتَرَدَّدَ فِي الصَّدْرِ" (اور سینے میں تردد پیدا کیا ہو)، "حَاكَ يَحِيكُ" سے ماخوذ ہے جب کوئی چیز دل میں تردد پیدا کرے اور دل اس پر مطمئن نہ ہو۔

(۷) "وَإِنْ أَفْتَاكَ النَّاسُ" یعنی: اگر لوگ تمہیں اس میں رخصت (گنجائش / اجازت) دے دیں۔

مثال: ایک شخص کے پاس حلال اور حرام ملا ہوا مال ہے، وہ تمہیں اس میں سے کچھ دے، اور مفتی تمہیں کہے: "جو چیز یقینی حرام نہ ہو، اسے کھانا تمہارے لیے جائز ہے۔"
تو (اس حدیث کی روشنی میں) تمہیں اسے نہیں کھانا چاہیے، اس خوف سے کہ کہیں تم حرام نہ کھا لو، کیونکہ فتویٰ (ظاہری اجازت) تقویٰ (پرہیزگاری) نہیں ہے۔






شرح عبد الحق الدهلويؒ (متوفی 1052ھ):

پہلا حصہ: "استفت نفسک، استفت قلبک" کی تشریح
آپ ﷺ کے قول (استفت نفسك، استفت قلبك) کے بارے میں (علماء نے کہا ہے):

"نفس" سے مراد معروف (عام) معنی بھی لیے جا سکتے ہیں، اور وہ انسانی روح کا ابتدائی تعلق (اولیٰ تعلق) ہے، جسے شریعت میں "قلب" سے تعبیر کیا گیا ہے، اور یہ (نفس) روح کے بدن سے تعلق میں واسطہ کا کردار رکھتا ہے۔

پس جب نفس کسی معاملے میں تردد کرتا ہے تو اس کے نتیجے میں قلب بھی تردد کرتا ہے، کیونکہ ان دونوں کے درمیان تعلق ہے۔ اور ممکن ہے کہ یہ معاملہ باقی اعضاء تک بھی پھیل جائے، جیسا کہ بعض (اولیاء / علماء) کے بارے میں منقول ہے کہ جب وہ ایسی چیز کھاتے جس میں شبہ ہوتا تو ان کی انگلی (بے اختیار) حرکت کرنے لگتی تھی (یہ اس اثر کی علامت تھی)۔

اور ہو سکتا ہے کہ نفس اور قلب سے ایک ہی چیز مراد ہو، اور تکرار (دوبارہ کہنے) کا مقصد تاکید اور تقریر (مضبوطی) ہو، لیکن عبارت (الفاظ) سے زیادہ ظاہر یہی ہے کہ دونوں میں فرق ہے (تغایر)۔

دوسرا حصہ: "ما حاك في النفس" کی تشریح (گناہ کی پہچان)
اور آپ ﷺ کے قول "مَا حَاكَ فِي النَّفْسِ" (جو نفس میں کھچاؤ پیدا کرے) سے مراد ہے:

اس نے نفس میں اثر ڈالا اور اس میں جم گیا (رسوخ پایا)۔
کہا جاتا ہے: "حَاكَ فِي صَدْرِي" یعنی میرے سینے میں جم گیا (رسوخ ہو گیا)۔

اور "الحَيْكُ" کا معنی ہے دل میں بات کا گھر کر جانا (یعنی وہاں بیٹھ جانا)۔
کہا جاتا ہے: "مَا يَحِيكُ فِيهِ المَلَامَةُ" یعنی ملامت کا اس پر کوئی اثر نہیں ہوتا۔

اور ایک روایت میں ہے: "الإِثْمُ مَا حَاكَ فِي نَفْسِكَ" (گناہ وہ ہے جو تیرے نفس میں کھچاؤ پیدا کرے)، اور ایک روایت میں: "فِي صَدْرِكَ" (تیرے سینے میں) ہے۔ اور ایک روایت "مَا حَاكَّ" (تشدید کے ساتھ) بھی آئی ہے۔

ان سب کا مفہوم یہ ہے کہ اس نے تیرے دل میں اثر ڈالا اور تجھے یہ وہم دلایا کہ یہ کوئی گناہ یا خطا ہے، اور تو نے یہ ناپسند کیا کہ لوگ اس (عمل) سے مطلع ہوں، جیسا کہ آپ ﷺ کے اس فرمان سے سمجھ میں آتا ہے:
"إِذَا لَمْ تَسْتَحْيِ فَاصْنَعْ مَا شِئْتَ" (جب تجھے شرم نہ آئے تو جو چاہے کر لے)۔

اور یہ (یہ پوری تفصیل) پاکیزہ نفوس اور سلیم دلوں کے ساتھ مخصوص ہے جو طبائع اور خواہشات کی آلودگیوں سے پاک ہیں، جیسا کہ تم پہلے بھی جان چکے ہو۔ ان (علماء) نے کہا: ان کے نفس (فطرتاً) نیکی کی طرف مائل ہوتے ہیں اور برائی سے کتراتے ہیں، کیونکہ ہر چیز اپنی ہم جنس کی طرف کھنچتی ہے اور اس سے دور بھاگتی ہے جو اس کی ضد ہو۔

تیسرا حصہ: دل سے فتویٰ مانگنے کی شرط اور حدود (انتہائی اہم اصول)
اور ان باتوں میں سے ایک ضروری امر جو جاننا چاہیے وہ یہ ہے:

دل سے فتویٰ مانگنا (استفتاء القلب) صرف اس وقت ہے جب شریعت کے چار بنیادی مآخذ (کتاب، سنت، اجماع، قیاس) سے کوئی واضح دلیل نہ ملے۔

پس اگر دو آیتیں بظاہر متعارض ہوں تو (ان کی تطبیق کے لیے) حدیث کی طرف رجوع کیا جائے گا، اور اگر دو حدیثیں متعارض ہوں تو علماء کے اقوال کی طرف رجوع کیا جائے گا، اور اگر (علماء کے اقوال بھی) متعارض ہوں تو دل کی تحقیق (تحری) کی طرف رجوع کیا جائے گا۔

اور ان (علماء) کے اقوال میں سے وہ چیز لی جائے گی جو سلیم اور صحیح دل فتویٰ دے، تورعاً (پرہیزگاری کے طور پر) اور احتیاطاً۔

اسی طرح اس مقام کو سمجھنا چاہیے، پس غور کرو، اور اللہ تعالیٰ ہی توفیق دینے والا ہے۔








شرح الصنعانيؒ (متوفی 1182ھ):

(پہلا جملہ: "استفت نفسك")
اس پر پہلے (دوسری جگہ) گفتگو گزر چکی ہے۔
اور اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بندے کے لیے اس کے اپنے نفس کو (گناہ سے) روکنے والا (زاجر) بنایا ہے، اور اسے (اس نفس کو) اس (بندے) پر حجت (دلیل) قرار دیا ہے۔

(دوسرا جملہ: "وَإِنْ أَفْتَاكَ الْمُفْتُونَ")
(اگر مفتیان تمہیں فتویٰ دیں) اس چیز کے خلاف جو تمہارے نفس میں کھچاؤ (تردد / اضطراب) پیدا کر رہی ہے، تو تم ان کے فتویٰ پر عمل نہ کرو۔

اور اس سے یہ بھی اخذ کیا (نتیجہ لیا) جاتا ہے کہ کافر اپنے نفس سے (حق کے خلاف) مجادلہ (مکاثر) کرتا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

(۱) {وَجَحَدُوا بِهَا وَاسْتَيْقَنَتْهَا أَنفُسُهُمْ} (النمل: ۱۴)
(اور انہوں نے ان (نشانیوں) کا انکار کیا، حالانکہ ان کے نفس ان کا یقین کر چکے تھے)۔

(۲) {أَفِي اللَّهِ شَكٌّ} (إبراہیم: ۱۰)
(کیا اللہ کے بارے میں (کوئی) شک ہے؟)۔

(۳) {لَقَدْ عَلِمْتَ مَا أَنْزَلَ هَؤُلَاءِ إِلَّا رَبُّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ} (الإسراء: ۱۰۲)
(بیشک تو (اے موسیٰ) جان چکا ہے کہ ان (نشانیوں) کو نہیں اتارا مگر آسمانوں اور زمین کے رب نے)۔






(2)حضرت نواس بن سمعان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نیکی (بر) اور گناہ (اثم) کے بارے میں پوچھا، تو آپ ﷺ نے فرمایا:
«الْبِرُّ حُسْنُ الْخُلُقِ، وَالْإِثْمُ مَا حَاكَ فِي نَفْسِكَ، وَإِنْ أَفْتَاكَ النَّاسُ وَأَفْتَوْكَ»
ترجمہ:
"نیکی (بر) اچھا اخلاق (حسن الخلق) ہے، اور گناہ (اثم) وہ ہے جو تیرے نفس میں کھچاؤ (تردد / اضطراب) پیدا کرے، خواہ لوگ تمہیں (اس کے خلاف) فتویٰ دیں اور فتویٰ دیتے رہیں۔"







(3)حضرت ابوثعلبہ الخشنی ؓ سے بھی روایت ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ ﷺ سے نیکی اور بدی کے بارے میں سوال کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا:
نیکی(کا فائدہ)وہ ہے جس(کے کرنے)سے خود کو سکون ملے اور دل کو اطمینان(شوق)نصیب ہو،
اور
گناہ(کا نقصان)وہ ہے جس سے خود کو سکون نہ ملے اور دل اطمینان(آرام)سے محروم رہے،
اگرچہ
مفتی تمہیں(جائز ہونے کا)فتویٰ دیں۔

نوٹ:
خلافِ تقویٰ بات میں غیرمحتیاط مفتی کی ماننا لازم نہیں، بلکہ محتاط مفتی کی ماننا زیادہ احتیاط کا باعث ہے۔

تشریح:
علامہ راغب اصفہانی کہتے ہیں:
"نیکی کا تقابل گناہ سے ہے۔ یہ قول نیکی اور گناہ کا حکم بیان کرتا ہے نہ کہ تعریف، کیونکہ گناہ ایسے اعمال ہیں جو ثواب میں تاخیر کا سبب بنتے ہیں۔ اس لفظ میں تاخیر کا معنی پایا جاتا ہے، جیسا کہ شاعر کہتا ہے:  
'خوبصورت عورت پیٹھ پر پٹکا باندھنے پر اکتفا کرتی ہے، جب کہ گناہ گار رات کی باتوں کو جھٹلاتے ہیں۔'"

(گناہ وہ ہے جس سے نفس مطمئن نہ ہو اور دل سکون نہ پائے)
کیونکہ اللہ تعالیٰ نے بندوں کو حق کی طرف میلان اور اس سے سکون پانے کی فطرت پر پیدا کیا ہے۔ مؤمن کے دل میں ایک نور ہوتا ہے:  
- جب حق اس پر وارد ہوتا ہے تو وہ دل کے نور سے مل جاتا ہے، جس سے دل مطمئن ہو جاتا ہے۔  
- جب باطل آتا ہے تو دل کا نور اس سے دور ہٹ جاتا ہے، جس سے دل بے چین ہو جاتا ہے۔  

نفس اور دل کی مطمئنیت کا ذکر اس لیے کیا گیا ہے کہ یہ بات انہی نفوس کے بارے میں ہے جن سے شہوات مر چکی ہوں اور ظلمتوں کے پردے اٹھ چکے ہوں۔ کیونکہ جو نفس خواہشات کے دلدل میں پھنسا ہو، وہ گناہ اور جہالت سے بھی "مطمئن" ہو سکتا ہے!  

بعض صوفیاء کہتے ہیں:
"اہلِ ظاہر (سطحی علم رکھنے والوں) کے لیے حلال و حرام کا اشتباہ اسی لیے ہوتا ہے کہ انہوں نے اپنے دلوں کے (فطری) گواہ کو بھی فاسد کر دیا ہے:  
- دنیا کی محبت نے ان کی عقلیں خراب کر دیں،  
- طمع نے ان کے ایمان کو بیمار کر دیا،  
- حرام کمائی نے ان کے جوارح کو آلودہ کر دیا،  
- یہ سب مل کر ان کا اللہ تک کا راستہ بند کر دیتا ہے۔"  
اس لیے حقیقی نیکی صرف پاک دل میں ٹھہرتی ہے، جہاں حکمت اور یقین کی روشنی ہو۔  

راوی اور حوالہ:
(امام احمد کی روایت ابو ثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ سے)
(ان کا نام: جرثوم، جرہم یا ناشم ہے)۔ انہوں نے کہا: "میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے بتائیے کہ کیا حلال ہے اور کیا حرام؟" تو نبی ﷺ نے نگاہیں نیچی کیں (غور فرمایا)، پھر یہ حدیث بیان کی۔ امام ہیثمی کہتے ہیں: اس کے راوی ثقہ ہیں۔  
[فیض القدیر للمناوی: 3198]


تشریح :
(استفت نفسك):
اس سے مراد وہ مطمئن نفس ہے جسے حق و باطل، سچ اور جھوٹ میں فرق کرنے والا نور عطا کیا گیا ہو۔ یہ خطاب "لوابصہ" (حق پہچاننے والوں) کے لیے ہے جو اس صفت سے متصف ہوں۔ بعض روایات میں "قلبك" (اپنا دل) آیا ہے، یعنی اپنے دل پر بھروسہ کرو کیونکہ نفس میں فطری طور پر اس چیز کا شعور ہوتا ہے جس کا انجام اچھا یا برا ہو۔  

(وإن أفتاك المفتون):
یعنی اگرچہ مفتی تمہیں خلافِ دل(خلافِ تقویٰ) فتویٰ دے دیں (کیونکہ وہ صرف ظاہری صورت دیکھتے ہیں)۔ لفظ "المفتون" کی میم پر ضمہ ہے اور یہ "مُفْتِي" (فتویٰ دینے والے) کی جمع ہے۔ بعض حواشی میں میم کے فتحہ کے ساتھ "فتنہ" (آزمائش/گمراہی) کے معنی بھی بیان ہوئے ہیں، لیکن تمام شارحین نے ضمہ کے معنی ہی پر بحث کی ہے۔  

حجۃ الاسلام (امام غزالی) فرماتے ہیں:
"یہ حکم ہر کسی کے لیے نہیں، بلکہ صرف انہی لوابصہ کے لیے ہے جو خاص واقعات میں ہوں۔ اگرچہ عمومی حکم فرض بھی کر لیا جائے تو یہ اُن ہی کے بارے میں ہے جن کے سینے کو اللہ نے نورِ یقین سے کھول دیا ہو، اور دوسروں نے بغیر شرعی دلیل کے محض قیاس یا خواہش سے فتویٰ دے دیا ہو۔ ورنہ (عام آدمی پر) مفتی کی اتباع لازم ہے، چاہے اس کا دل مطمئن نہ ہو۔"  

امام غزالی مزید فرماتے ہیں:
"مجتہد یا مقلد کا کام صرف اپنے یا اپنے مقلد کے لیے حکم لگانا ہے۔ پھر متقی سے کہا جاتا ہے: "اپنے دل سے پوچھو، خواہ لوگ فتویٰ دے دیں"، کیونکہ گناہ دل میں کھٹکتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر کوئی شخص مال وصول کرتے وقت دل میں کھٹکا محسوس کرے، تو اسے علمائے ظاہر کے فتوے کے بہانے رخصت نہیں لینی چاہیے۔ ان کے فتوے ضرورتوں، قیاس، اور شبہات پر مبنی ہوتے ہیں، اور ان سے بچنا صاحبانِ دین اور آخرت کے راہیوں کا شیوہ ہے۔"  

تتمہ (سہل تستری کا قول):
عارفِ الٰہی سہل تستری فرماتے ہیں:  
"علماء، زاہد اور عبادت گزار دنیا سے اٹھ گئے مگر ان کے دل بند رہے۔ صرف صدیقین اور شہداء کے دل کھلے۔ اگر باطنی نور سے روشن دل، علمِ ظاہر پر حاکم نہ ہوتا تو نبی ﷺ یہ نہ فرماتے۔ قرآن کے کتنے ہی باریک اسرار ذکر و فکر میں مشغول افراد کے دلوں پر وارد ہوتے ہیں جو تفسیر کی کتابوں سے خالی ہیں، اور جن تک نامور مفسرین اور فقہاء کی نظر بھی نہیں پہنچتی۔" 

راوی اور حوالہ:
(رواہ عن وابصة)
وابصہ بن معبد ازدی رضی اللہ عنہ (جن کا سنِ اسلام 9ھ ہے اور قبر رقّہ (شام) میں ہے)۔ مصنف (مناوی) نے "تخ" کے علامت سے اس کی حسن درجہ کی طرف اشارہ کیا ہے۔ اسے امام احمد اور دارمی نے اپنی مسندوں میں روایت کیا۔ امام نووی (ریاض الصالحین) نے کہا: "اس کی سند حسن ہے"۔ اسی طرح طبرانی نے بھی روایت کیا۔ حافظ عراقی کہتے ہیں: "طبرانی کی سند میں علاء بن ثعلبہ مجہول ہے"۔  













تشریح:
 اس ارشاد گرامی میں نیکی وبدی اور اچھائی و برائی کو پہچاننے کی ایک ایسی واضح علامت بتائی گئی ہے جسے ہر صالح انسان اپنے ہر قول و فعل کی کسوٹی بنا سکتا ہے جس قول اور جس عمل پر اپنا جی مطمئن ہو جائے اور دل سکون محسوس کرے تو سمجھنا چاہئے کہ وہ قول یا عمل نیک اور اچھا ہے اور جس قول یا عمل پر طبیعت میں خلش وچبھن اور دل میں شک وتردد کی کسک پیدا ہو جائے سمجھ لینا چاہئے کہ وہ قول یا فعل غلط اور برا ہے چنانچہ حدیث کا حاصل یہی ہے کہ ہر قول وفعل کے بارے میں خود اپنے ضمیر کی راہنمائی حاصل کرو جس چیز سے خاطر جمعی حاصل ہو اور دل میں یہ خلجان نہ ہو کہ یہ بری ہے سمجھو کہ وہی نیکی ہے اور جس چیز سے خاطر جمعی حاصل نہ ہو اور دل میں تردد وخلجان پیدا ہو جائے سمجھو کہ وہی گناہ ہے اگرچہ لوگ اس چیز کے بارے میں یہی کیوں نہ کہیں کہ یہ صحیح اور اچھی ہے اور کوئی مفتی اس کے صحیح ہونے کا فتوی ہی کیوں نہ دیدے لہذا ان کے کہنے پر عمل نہ کرو۔ مثلا اگر کسی شخص کے بارے میں تمہیں یہ معلوم ہو کہ اس کے پاس حلال مال بھی ہے اور حرام مال بھی اور وہ شخص تمہیں اپنے مال میں سے کچھ دینا چاہتا ہے تو اگر تمہارا دل اس پر مطمئن ہو کہ وہ تمھیں جو مال دے رہا ہے وہ وہی مال ہے جو اس نے صرف حلال ذرائع سے کمایا ہے تو تم لے لو اور اگر تمہارا دل مطمئن نہ ہو اور تمہیں یہ خوف ہو کہ کہیں یہ وہ مال نہ ہو جو اس نے حرام ذرائع سے کمایا ہے تو تم اس سے ہرگز کچھ نہ لو اگرچہ وہ خود یہ کہے کہ میں تمہیں اپنے حلال میں سے دے رہا ہوں اور کوئی مفتی یہ فتوے بھی دے رہا ہو کہ تمہارے لئے یہ مال لینا جائز ہے کیونکہ فتوی اور چیز ہے اور تقوی اور چیز ہے تقوی پر عمل کرنا فتوی پر عمل کرنے سے کہیں بہتر ہے۔
حدیث : ((جو چیز تم کو شک میں ڈالے اس کو چھوڑ دو اور اس چیز کی طرف میلان رکھو جو تم کو شک میں نہ ڈالے کیونکہ حق دل کے اطمینان کا باعث ہے اور باطل شک وتردد کا موجب. - رواه أحمد والترمذي والنسائي وروى الدارمي الفصل الأول))
شبہات میں پڑنے سے بچو اور جو چیزیں شبہات میں مبتلا کرنے والی ہوں ان سے اجتناب کرو بعض علماء کے نزدیک یہ مطلب ہے کہ ازقسم اقوال واعمال جس چیز کی حلت وحرمت کے بارے میں تمہارا ضمیر شک میں مبتلا ہو جائے تو اس چیز کو چھوڑ کر اس چیز کو اختیار کرلو جس کے بارے میں تمہارا ضمیر کسی شک میں مبتلا نہ ہو کیونکہ انسان کا ضمیر چونکہ غلط راہنمائی نہیں کرتا اس لئے کسی چیز کے بارے میں ضمیر کا شک میں مبتلا ہونا اس چیز کے غلط اور باطل ہونے کی علامت ہے اور کسی چیز کے بارے میں ضمیر کا مطمئن ہو جانا اس چیز کے صحیح اور حق ہونے کی علامت ہے گویا کسی چیز کے صحیح یا غلط ہونے اور اس کے حلال یا حرام ہونے کی پہچان کے لئے یہ ایک قاعدہ اور کسوٹی ہے تاہم یہ ذہن نشین رہنا چاہئے کہ یہ بات ہر شخص کو حلال نہیں ہوتی بلکہ یہ وصف خاص ان صالح انسانوں کو نصیب ہوتا ہے جن کے ذہن وفکر اور جن کے دل ودماغ تقوی وایمان داری اور راستبازی وحق پسندی کے جوہر سے معمور ہوتے ہیں۔ ضمیر کی صحیح راہنمائی کا جوہر ہر شخص کو نصیب نہیں ہوتا اور اب اس موقع پر بھی جان لیجئے کہ حدیث میں اپنے دل سے دریافت کرنے کا جو حکم دیا گیا ہے اس کا تعلق ان صالح لوگوں سے ہے جن کے دل خواہشات نفسانی کی کدورت سے صاف اور تقوی وخدا ترسی کے جوہر سے معمور ہوتے ہیں کیوکہ ان کے طبائع اور ان کے قلوب صرف خیروبھلائی کی طرف مائل اور برائی سے بیزار رہتے ہیں جبکہ برے لوگ نفسانی خواہشات میں گرفتار رہتے ہیں اور نیکی وبھلائی سے بے اعتنائی اختیار کئے ہوتے ہیں اور ظاہر ہے کہ اس صورت میں انہیں ضمیر کی صحیح راہنمائی حاصل نہیں ہو سکتی نیز یہ بات بھی ملحوظ رہنی چاہئے کہ اپنے دل سے دریافت کرنے کا یہ حکم اس صورت میں ہے جبکہ کسی چیز کے بارے میں کوئی واضح شرعی فیصلہ سامنے نہ ہو چنانچہ جب کسی چیز کے حکم کے بارہ میں قرآن کی آیتوں میں تعارض نظر آئے تو واجب ہے کہ حدیث کیطرف رجوع کیا جائے حدیث جس آیت کے مطابق فیصلہ کرے اسی آیت پر عمل کیا جائے اگر حدیثوں میں بھی تعارض ہو تو پھر علماء کے اقوال کی طرف رجوع کرنا واجب ہے اور اگر علماء کے اقوال میں بھی تعارض ہو تو پھر اس کے بعد اپنے دل کی راہنمائی حاصل کرے اور ان اقوال میں سے اس قول کے مطابق عمل کرے جس کو اپنا دل صحیح و راجح تسلیم کرے اور اس پر مطمئن ہو جائے۔
آخر میں یہ بتا دینا ضروری ہے کہ جب حضرت وابصہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو انہوں نے اپنی حاضری کا مقصد خود بیان نہیں کیا تھا بلکہ یہ اعجاز نبوت تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ازخود ازراہ مکاشفہ ان کے دل کی بات بیان فرما دی نیز آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلیاں اٹھا کر ان کے سینہ پر اس لئے ماریں تاکہ آپ کے مبارک ہاتھوں کی برکت کی وجہ سے ان کو آپ کے کلام کی پوری سمجھ حاصل ہو جائے دوسرے ان کے دل کی طرف اشارہ کرنا بھی مقصود تھا کہ دل یہاں ہے اس سے دریافت کر لو۔
[مشکوۃ شریف:جلد سوم:حدیث نمبر 17 (39225) - خرید و فروخت کے مسائل و احکام : اچھائی اور برائی کی پہچان]

سوال :
ایک حدیث میں ہے : وابصہ! اپنے نفس سے فتوی لیا کرو، نیکی وہ ہوتی ہے جس میں دل مطمئن ہوتا ہے اور نفس کو سکون ملتا ہے، اور گناہ وہ ہوتا ہے جو تمہارے دل میں کھٹکتے ہے اور دل میں تردد رہتا ہے، اگرچہ لوگ تمہیں فتوی دیتے رہیں ۔



کیا ہر شخص کو فتویٰ خود سے لینے کی اجازت ملنے کے بعد عالم/مفتی سے فتویٰ لینے کی کیا ضرورت؟؟؟

جواب:
یہ حدیث حسن ضعیف ہے، جس سے کسی "مشتبہ" بات میں دل کے تقویٰ اور احتیاط اختیار کرنے کی "افضلیت" معلوم ہوتی ہے، کیونکہ نامعلوم باتوں پر علماء سے پوچھنا اور فتویٰ لینے کا حکم تو قرآن و سنّت سے ثابت ہے:

القرآن:
۔۔۔اور اوپر(موجود)ہے ہر علم والے کے ایک علم والا۔
[سورۃ یوسف:76]
سو پوچھو اہلِ علم سے اگر تم نہیں جانتے۔
[النحل:43، الانبیاء :7]
الحدیث:
حضرت عبداللہ ابن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔ اللہ تعالیٰ علم کو (آخری زمانہ میں) اس طرح نہیں اٹھالے گا کہ لوگوں (کے دل و دماغ) سے اسے نکال لے بلکہ علم کو اس طرح اٹھاے گا کہ علماء کو (اس دنیا سے) اٹھالے گا یہاں تک کہ جب کوئی عالم باقی نہیں رہے گا تو لوگ جاہلوں کو پیشوا بنالیں گے ان سے مسئلے پوچھے جائیں گے اور وہ بغیر علم کے فتویٰ دیں گے لہٰذا وہ خود بھی گمراہ ہوں گے اور لوگوں کو بھی گمراہ کریں گے۔"
[صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 101, - علم کا بیان : علم کس طرح اٹھا لیا جائے گا]

اس صحیح حديث میں واضح طور پر فتویٰ دينا علماء كا كام قرار ديا گیا ہے، جس کا حاصل یہ ہے کہ لوگ ان سے مسائل شرعیہ پوچھیں وہ ان کا حکم بتائیں، اور لوگ اس پر عمل کریں،


یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ اس حدیث میں دل (ضمیر) سے فتویٰ لینا ان باتوں میں فرمایا جو کسی کام کے نیک (حلال) یا برے (حرام)  ہونے میں شک و تردد پیدا کریں، یعنی جن کاموں کے نیک (حلال) یا برا (حرام) ہونا قرآن و سنّت میں (علماء سے) واضح نہ ہو، کیونکہ جو واضح معلوم ہو کہ یہ حلال یا حرام ہے اس پر دل سے فتویٰ لینا گویا الله تعالیٰ کے کامل علم و احکام یعنی وحی الہی میں نقص سمجھنا ہے جو سبب ہوگا کفر کا. البتہ جس بات کے نیک یا بد ہونے کی کوئی واضح دلیل نہ ہو یعنی مشتبہ ہوں جیسے کسی کی کمائی کے حلال و حرام ہونے میں تردد ہو یا حلال و حرام کی ملاوٹ ہو تو اس کی دعوت و تحائف قبول کرنا یا نہ کرنا. اگرچہ وہ خود یہ کہے کہ میں تمہیں اپنے حلال میں سے دے رہا ہوں اور کوئی مفتی شریعت کے اصول ( شک کی بناء پر کوئی چیز حلال یا حرام نہیں ہوتی؛ اور کسی مسلمان بھائی کی کمائی کی جاسوسی کرنا جائز نہیں) کے تحت یہ فتوے بھی دے رہا ہو کہ تمہارے لئے یہ مال لینا جائز ہے لیکن فتوی اور چیز ہے اور تقوی اور چیز ہے، تقوی پر عمل کرنا فتوی پر عمل کرنے سے کہیں بہتر ہے۔

کیونکہ رسول الله  نے فرمایا : ایسی چیز جو تمہیں شک میں مبتلا کرے اسے چھوڑ کر وہ چیز اختیار کرلو جو تمہیں شک میں نہ ڈالے، اس لیے کہ سچ سکون ہے اور جھوٹ شک و شبہ ہے۔
[جامع ترمذی:جلد دوم:حدیث نمبر 418 (28352)]
واللہ تعالیٰ اعلم












No comments:

Post a Comment