Wednesday, 6 May 2015

واقعہ اسراء ومعراج کی ایمانی، عملی واخلاقی تعلیم


آیتِ اسراء
(راتوں رات سیر کرنا، قدرتِ الٰہی کی نشانی)

اللہ پاک کا قرآن مجید میں ارشاد ہے:
پاک ہے وہ ذات جس نے سیر کرائی اپنے بندے کو راتوں رات مسجد حرام سے مسجد اقصی تک جس کے ماحول پر ہم نے برکتیں نازل کی ہیں، تاکہ ہم انہیں اپنی کچھ نشانیاں دکھائیں۔ بیشک وہ ہر بات سننے والی، ہر چیز دیکھنے والی ذات ہے۔
[سورۃ الاسراء/نبی اسرائیل:1]
اس سے معراج کے واقعے کی طرف اشارہ ہے جس کی تفصیل حدیث اور سیرت کی کتابوں میں آئی ہے، اس کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت جبرئیلؑ آنحضرت ﷺ کے پاس آئے اور رات کے وقت انہیں ایک جانور پر سوار کیا جس کا نام براق تھا، وہ انتہائی تیز رفتاری کے ساتھ آپ کو مسجد حرام سے بیت المقدس تک لے گیا، یہ سفر معراج کا پہلا مرحلہ تھا، جسے اسراء کہا جاتا ہے، پھر وہاں سے حضرت جبرئیلؑ آپ ﷺ کو ساتوں آسمانوں پر لے گئے، ہر آسمان پر آپ کی ملاقات پچھلے پیغمبروں میں کسی پیغمبر سے ہوئی، اس کے بعد جنت کے ایک درخت سدرۃ المنتہیٰ(بیری کے درخت کے اختتام) پر تشریف لے گئے، اور آپ کو اللہ تعالیٰ سے براہ راست ہم کلامی کا شرف عطا ہوا، اسی موقع پر اللہ تعالیٰ نے آپ کی امت پر پانچ نمازیں فرض فرمائیں، پھر رات ہی رات میں آپ ﷺ واپس مکہ مکرمہ تشریف لے آئے، اس آیت میں اس سفر کے صرف پہلے حصے(اسراء) کا بیان اس لئے کیا گیا ہے کہ آنے والے تذکرے سے اسی کا تعلق زیادہ تھا، البتہ سفر کے دوسرے حصے (معراج) کا تذکرہ [سورة نجم: 13 تا 18] میں آیا ہے، صحیح روایات کے مطابق یہ معجزانہ سفر بیداری کی حالت میں پیش آیا تھا اور اس طرح اللہ تعالیٰ کی قدرتِ کاملہ کی ایک عظیم نشانی آپ کو دکھائی گئی تھی، یہ کہنا بالکل غلط ہے کہ یہ واقعہ بیداری کے بجائے خواب میں دکھایا گیا؛ کیونکہ یہ بات صحیح احادیث کے تو خلاف ہے ہی قرآن کریم کا اسلوب واضح طور پر یہ بتارہا ہے کہ یہ غیر معمولی واقعہ تھا جسے اللہ تعالیٰ نے اپنی ایک نشانی قرار دیا ہے، اگر یہ صرف ایک خواب کا واقعہ ہوتا تو یہ کوئی غیر معولی بات نہیں تھی، انسان خواب میں بہت کچھ دیکھتا رہتا ہے، پھر اسے اپنی ایک نشانی قرار دینے کے کوئی معنی نہیں تھے۔






آیت کے اہم دروس و نکات

اس آیت سے ملنے والے سبق کو درج ذیل نکات میں سمجھا جا سکتا ہے:

1. معجزے کا مفہوم اور اللہ کی قدرت

· اسباب سے بالاتر قدرت: یہ واقعہ ظاہری اسباب اور قوانینِ فطرت (جیسے زمان و مکان کی محدودیت) سے بالاتر، اللہ تعالیٰ کی مطلق قدرت کا مظہر ہے۔ ایک ہی رات کے قلیل حصے میں مکہ سے بیت المقدس اور پھر آسمانوں کا سفر، یہ دکھاتا ہے کہ اللہ اسباب کا پابند نہیں۔
· تسبیح کا مقام: آیت کا آغاز "سُبْحَانَ" (پاک ہے) سے ہوا، جو حیرت انگیز اور خرقِ عادت واقعات پر اللہ کی تنزیہ و تعظیم کے اظہار کے لیے آتا ہے۔

2. "بندے" کی عظمت اور مقامِ عبودیت

· اعلیٰ ترین خطاب: اس عظیم سفر میں نبی کریم ﷺ کو "عَبْدِهِ" (اپنے بندے) کے خطاب سے نوازا گیا۔ یہ عبودیت کا مقام تمام انسانی و نبوی صفات سے بلند تر اور انتہائی شرف کی بات ہے۔
· عبادت کی حقیقت: عبادت کا مقصد اللہ کی صفات (جیسے علم، رحمت، عدل) سے متصف ہو کر اپنے حقیقی کمال تک پہنچنا اور نفس کی پستیوں سے آزاد ہونا ہے۔ یہی کمال نبی ﷺ کو معراج جیسے انعام کا مستحق بنا۔

3. سفر کے مقاصد اور برکات

· نشانیاں دکھانا: سفر کا ایک اہم مقصد نبی ﷺ کو اللہ کی عظیم "آیات" (نشانیاں) دکھانا تھا، جو ان کی معرفت میں اضافے اور رسالت کے لیے طاقت و یقین کا ذریعہ تھا۔
· مسجد اقصیٰ کی فضیلت: مسجد اقصیٰ اور اس کے "حولہ" (گردونواح) کو خاص برکت (مادی و روحانی) عطا کی گئی۔ یہ انبیاء کا مسکن اور قبلہ اول ہونے کی حیثیت سے مرکز کی اہمیت رکھتا ہے۔
· رسالت کی عالمگیریت: یہ سفر مکہ (وحی کا مرکز) سے بیت المقدس (سابقہ انبیاء اور رسالتوں کا مرکز) تک، اسلام کے عالمگیر اور تسلسل پر مبنی ہونے کی علامت ہے۔

4. تربیتی اور عملی پیغام

· اللہ کی نگرانی: آیت کے اختتام پر اللہ کے "السَّمِيعُ الْبَصِيرُ" (سننے اور دیکھنے والا) ہونے کا ذکر اس بات کی یاد دہانی ہے کہ وہ ہر بات سے آگاہ ہے اور ہر ایک کو اس کے عمل کا بدلہ دے گا۔
· توحید کی بنیاد: یہ معجزہ اس اصول کی عملی تعلیم دیتا ہے کہ حقیقی مؤثر صرف اللہ کی ذات ہے۔ اسباب محض ظاہری ذرائع ہیں، کارساز نہیں۔

خلاصہ اور نصیحت

سورہ الاسراء کی پہلی آیت صرف ایک تاریخی واقعے کا بیان نہیں، بلکہ یہ ایمان و یقین کو تقویت دینے والے گہرے دروس پر مشتمل ہے۔ یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ:

· اللہ کی قدرت کامل اور ہر چیز پر قادر ہے۔
· بندے کا سب سے بڑا شرف اور کمال اللہ کے سامنے عبودیت اختیار کرنا ہے۔
· مسجد اقصیٰ اسلام میں ایک مبارک اور مرکزی مقام رکھتی ہے۔
· ہمارا ہر عمل اللہ کے سامنے ہے، جو ہر چیز سننے اور دیکھنے والا ہے۔

اس آیت پر غور و فکر سے ہمارا ایمان تازہ ہوتا ہے اور ہمیں اپنے رب کی عظمت اور اپنے نبی ﷺ کے بلند مقام کا ادراک ہوتا ہے۔







القرآن:
"اور (وہ وقت یاد کرو) جب ہم نے تم سے کہا تھا کہ تمہارا رب لوگوں کو گھیرے ہوئے ہے، اور ہم نے وہ نظارہ جو ہم نے تمہیں دکھایا، لوگوں کے لیے محض ایک آزمائش بنا دیا ہے، اور (اسی طرح) وہ درخت جس پر قرآن میں لعنت کی گئی ہے (بھی آزمائش ہے)، اور ہم انہیں ڈراتے ہیں تو یہ ان کی بڑی سرکشی ہی میں اضافہ کرتا ہے۔"
[سورۃ الإسراء:60]

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما اس آیت کے بارے میں کہتے ہیں کہ : اس سے وہ منظر مراد ہے جو آپ ﷺ کی آنکھوں نے معراج کی رات دیکھا تھا، اور اس آیت میں مذکور "ملعون درخت" سے مراد تُھوہر کا درخت ہے۔
[صحیح بخاری:2888]
--۔

آیت کے کلیدی نکات اور اسباق:

مختصر وضاحت:
1. اللہ کا احاطہ اللہ تعالیٰ کا علم، قدرت اور اختیار سب انسانوں کو گھیرے ہوئے ہے۔ یہ بات نبیﷺ کو تسلی دینے اور بےخوف کرنے کے لیے ہے کہ آپ بے دھڑک تبلیغ کریں، کوئی آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔
2. معراج کا نظارہ ایک آزمائش (فتنہ) شبِ معراج میں نبیﷺ کو جو عجائبات دکھائے گئے، وہ لوگوں کے لیے آزمائش بن گئے۔ کفار نے اسے جھٹلایا، بعض کمزور ایمان والے مرتد ہو گئے، جبکہ حضرت ابوبکرؓ جیسے یقین رکھنے والے “صدیق” کہلائے۔
3. لعنتی درخت (شجرۃ الزقوم) یہ جہنم کا وہ درخت ہے جس کا ذکر قرآن میں ہے۔ کفار اس کا مذاق اڑاتے تھے کہ آگ میں درخت کیسے اگ سکتا ہے، یہ ان کی آزمائش کا باعث بنا۔
4. ڈرانا سرکشی میں اضافہ کرتا ہے کفار کو آخرت کے عذاب سے ڈرانا ان کی سرکشی اور طغیان میں اور زیادہ اضافہ کر دیتا ہے۔ یہ ان کی ہٹ دھرمی اور حق سے انکار کی نفسیات کو ظاہر کرتا ہے۔
5. تبلیغ کے لیے تسلی و تحفظ آیت کا ابتدائی حصہ نبی ﷺ کو یقین دلاتا ہے کہ اللہ ان کے دشمنوں کو گھیرے ہوئے ہے، چنانچہ آپ بے خوف ہو کر دعوت دیں۔
6. معراج کا جسمانی ہونا چونکہ کفار نے معراج کے واقعہ کا انکار کیا اور اس پر فتنہ کھڑا ہوا، اس سے ثابت ہوتا ہے کہ معراج صرف روحانی نہیں بلکہ جسمانی تھی؛ ورنہ اس کا انکار نہ ہوتا۔
7. ایمان کی آزمائش معراج جیسے عظیم معجزے کے سامنے لوگوں کے ردِّعمل نے ان کے ایمان کی حقیقت ظاہر کر دی: کچھ کے ایمان میں اضافہ ہوا، کچھ کے لیے یہ گمراہی کا سبب بنا۔
8. اللہ کی قدرت کا اعتراف زقوم جیسے درخت کا جہنم میں ہونا اللہ کی قدرتِ کاملہ پر دلالت کرتا ہے۔ کفار کا اس پر اعتراض کرنا درحقیقت قدرتِ الٰہیہ سے ناواقفیت ہے۔

---

تفصیلی وضاحت:

1. اللہ کا احاطہ: تسلی و تحفظ کا پیغام

· آیت میں “إِنَّ رَبَّكَ أَحَاطَ بِالنَّاسِ” سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا علم، قدرت اور تدبیر ہر انسان کو محیط ہے۔ یہ بات نبی ﷺ کو اس لیے یاد دلائی گئی کہ آپ مخالفوں کے خوف سے بے نیاز ہو کر تبلیغ کریں۔
· تفسیر میں آیا ہے کہ “لوگوں” سے مراد خاص طور پر کفارِ مکہ ہیں، جو آپ ﷺ کو نقصان پہنچانے کی پوری کوشش کر رہے تھے، لیکن اللہ نے انہیں اپنے قابو میں رکھا ہوا تھا۔

2. معراج کا نظارہ: ایک کسوٹی

· “الرُّؤْيَا الَّتِي أَرَيْنَاكَ” سے مراد شبِ معراج میں نبی ﷺ کو دکھائے گئے عجائبات ہیں۔ اسے “فِتْنَةً لِّلنَّاسِ” (لوگوں کے لیے آزمائش) بنایا گیا۔
· اس واقعہ نے لوگوں میں تقسیم پیدا کی: کچھ نے اسے مان کر ایمان کی تصدیق کی، جبکہ کفار نے تکذیب کی اور مذاق اڑایا، حتیٰ کہ بعض کمزور ایمان والے مرتد ہو گئے۔
· یہاں “فتنہ” کے معنی آزمائش، گمراہی اور اختلاف کا سبب ہونا، سب شامل ہیں۔

3. لعنتی درخت (شجرۃ الزقوم)

· “الشَّجَرَةَ الْمَلْعُونَةَ” سے مراد جہنم کا “زقوم” کا درخت ہے، جس کا ذکر قرآن میں آیا ہے۔ کفار اس پر ہنستے تھے کہ آگ میں درخت کیسے اگ سکتا ہے۔
· یہ درخت بھی ان کے لیے آزمائش بنا دیا گیا، کیونکہ انہوں نے اللہ کی قدرت سے انکار کر دیا۔

4. ڈرانا سرکشی میں اضافہ کرتا ہے

· آیت کے آخر میں فرمایا گیا: “وَنُخَوِّفُهُمْ فَمَا يَزِيدُهُمْ إِلَّا طُغْيَانًا كَبِيرًا”۔ یعنی کفار کو عذابِ آخرت سے ڈرانا ان کی سرکشی ہی کو بڑھاتا ہے۔
· یہ ان کی ہٹ دھرمی اور حق کے مقابلے میں تکبر کی نفسیات کو واضح کرتا ہے۔

5. تبلیغ کے لیے تسلی

· آیت کا ابتدائی حصہ نبیﷺ کو یہ یقین دہانی کرانے کے لیے ہے کہ اللہ ان کے دشمنوں کو گھیرے ہوئے ہے، لہٰذا آپ بے خوف ہو کر اپنی دعوت جاری رکھیں۔
· تفسیر احسن البیان میں ہے کہ “لوگ اللہ کے غلبہ و تصرف میں ہیں، آپ بےخوفی سے تبلیغ کیجئے، وہ آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گے”۔

6. معراج کا جسمانی ہونا

· چونکہ کفار نے معراج کے واقعہ کا انکار کیا اور اس پر فتنہ کھڑا ہوا، اس سے استدلال کیا جاتا ہے کہ معراج صرف روحانی یا خواب کی حالت میں نہیں، بلکہ جسمانی تھی۔ اگر صرف خواب ہوتا تو اس کا اتنا شدید انکار نہ ہوتا۔

7. ایمان کی آزمایش

· معراج کا واقعہ ایک “خَرْقِ عادَت” (معجزہ) تھا، جو ہر شخص کے ایمان کی آزمائش بن گیا۔ اس نے مؤمنوں کے یقین کو مضبوط کیا، جبکہ منکروں کے لیے گمراہی کا سبب بنا۔

8. اللہ کی قدرت کا اعتراف

· زقوم کے درخت کا ذکر اللہ کی قدرتِ کاملہ کی طرف اشارہ ہے۔ کفار کا اس پر اعتراض کرنا درحقیقت ان کی محدود عقل کا اظہار ہے، کیونکہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔
---
خلاصہ:
سورۃ الاسراء کی آیت 60 درج ذیل اہم اسباق پر مشتمل ہے:

1. اللہ کا احاطہ مؤمنین کے لیے تسلی و تحفظ کا ذریعہ ہے۔
2. معراج کا نظارہ لوگوں کے لیے ایک آزمائش (فتنہ) تھا، جس نے ایمان والوں اور منکروں میں فرق واضح کر دیا۔
3. زقوم کا درخت اللہ کی قدرت کی نشانی ہے، لیکن کفار کے لیے گمراہی کا سبب بنا۔
4. کفار کو ڈرانا ان کی سرکشی میں اضافہ کرتا ہے، جو ان کی ہٹ دھرمی کو ظاہر کرتا ہے۔
5. نبیﷺ کو تسلی دی گئی کہ اللہ ان کے دشمنوں کو گھیرے ہوئے ہے، لہٰذا بے خوف ہو کر تبلیغ جاری رکھیں۔
6. معراج کا جسمانی ہونا اس واقعہ کے انکار سے ثابت ہوتا ہے۔
7. ایمان کی آزمائش ایسے معجزات کے سامنے ہر شخص کے ایمان کی حقیقت کھل جاتی ہے۔
8. اللہ کی قدرت ہر چیز پر حاوی ہے، انسانوں کو چاہیے کہ اس کا اعتراف کریں۔

یہ آیت مؤمنوں کو یہ درس دیتی ہے کہ وہ اللہ کے احاطۂ علم و قدرت پر بھروسہ رکھیں، آزمائشوں میں ثابت قدم رہیں، اور منکروں کے طغیان سے بدظن نہ ہوں۔



القرآن:
اور حقیقت یہ ہے کہ انہوں نے اس (فرشتے) کو ایک اور مرتبہ دیکھا ہے۔ اس بیر کے درخت کے پاس جس کا نام سدرۃ المنتہیٰ ہے۔ اسی کے پاس جنت الماویٰ ہے۔(١) اس وقت اس بیر کے درخت پر وہ چیزیں چھائی ہوئی تھیں جو بھی اس پر چھائی ہوئی تھیں۔(٢) (پیغمبر کی) آنکھ نہ تو چکرائی اور نہ حد سے آگے بڑھی۔(۳) سچ تو یہ ہے کہ انہوں نے اپنے پروردگار کی بڑی بڑی نشانیوں میں سے بہت کچھ دیکھا۔
[سورۃ النجم:13-18]
تشریح:
(١) یہ حضرت جبرئیل ؑ کو ان کی اصلی صورت میں دیکھنے کا دوسرا واقعہ ہے جو معراج کے سفر میں پیش آیا، اس موقع پر بھی آنحضرت ﷺ نے انہیں ان کی اصلی صورت میں دیکھا، سدرۃ المنتہیٰ عالم بالا میں ایک بیر کا بہت بڑا درخت ہے اور اسی کے پاس جنت واقع ہے جسے جنت المأویٰ اس لئے کہا گیا ہے کہ مأویٰ کے معنیٰ ہیں ٹھکانا اور وہ مومنوں کا ٹھکانا ہے۔
(٢) یہ آیت بھی ایک عربی محاورے کے مطابق ہے جس کا ٹھیک ٹھیک ترجمہ اس کے صحیح تأ ثر کے ساتھ بہت مشکل ہے، مطلب یہ ہے کہ جو چیزیں اس بیر کے درخت پر چھائی ہوئی تھیں وہ بیان سے باہر ہیں، احادیث میں حضور نبی کریم ﷺ نے اس واقعہ کی جو تشریح فرمائی ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت لاتعداد فرشتے سونے کے پروانے کی شکل میں اس درخت پر آنحضرت ﷺ کی زیارت کے لئے جمع ہوگئے تھے۔
(۳) یعنی نہ تو نگاہ نے دیکھنے میں کوئی دھوکا کھایا، اور نہ وہ اس حد سے آگے بڑھی جو اللہ تعالیٰ نے اس کے لئے مقرر فرمادی تھی کہ اس سے آگے نہ دیکھے۔


رب کی نشایاں:
رَأَى مَلَائِكَةَ رَبِّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَرَأَى إِخْوَانَهُ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ حَتَّى وَصَلَ إِلَى مَوْلَاهُ الْكَرِيمِ فَأَكْرَمَهُ بِأَعْظَمِ الْكَرَامَاتِ ، وَفَرَضَ عَلَيْهِ وَعَلَى أُمَّتِهِ خَمْسَ صَلَوَاتٍ وَذَلِكَ بِمَكَّةَ فِي لَيْلَةٍ وَاحِدَةٍ ، ثُمَّ أَصْبَحَ بِمَكَّةَ سَرَّ اللَّهُ الْكَرِيمُ بِهِ أَعْيُنَ الْمُؤْمِنِينَ وَأَسْخَنَ بِهِ أَعْيُنَ الْكَافِرِينَ وَجَمِيعَ الْمُلْحِدِينَ۔

وَقَدْ بَيَّنَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَيْفَ أُسْرِيَ بِهِ وَكَيْفَ رَكِبَ الْبُرَاقَ وَكَيْفَ عُرِجَ بِهِ۔ وَنَحْنُ نَذْكُرُهُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى

ترجمہ:

اس(پیغمبر) نے اپنے غالب اور عظیم رب کے فرشتوں کو دیکھا۔
اور اس نے اپنے بھائیوں انبیاء کو دیکھا یہاں تک کہ وہ اپنے کریم مولا کے پاس پہنچا۔
پس اس کو سب سے بڑے اعزاز سے نوازا۔
اور اس پر اور ان کی امت پر پانچ نمازیں فرض کی گئیں۔
اور یہ مکہ سے ایک رات میں ہوا۔
پھر مکہ میں اللہ کے فضل سے مومنین کی آنکھیں ٹھنڈی ہوئیں۔
اور کافروں اور تمام ملحدین کی آنکھیں گرم ہوئیں۔

اور نبی کریم  نے بتایا کہ وہ اپنے سفر پر کیسے گئے، کس طرح براق پر سوار ہوئے اور کیسے چڑھے۔ اور ہم اس کا (تفصیلی) ذکر کریں گے، انشاء اللہ۔
[الشريعة للآجري:3/1526]



عَنْ ‌عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: «لَقَدْ {رَأَى مِنْ ‌آيَاتِ ‌رَبِّهِ ‌الْكُبْرَى} قَالَ: رَأَى رَفْرَفًا أَخْضَرَ سَدَّ أُفُقَ السَّمَاءِ.»
ترجمہ:
حضرت عبداللہ بن مسعودؓ نے اللہ پاک کے ارشاد: ﴿یقینا انہوں نے اپنے پروردگار کی بڑی بڑی نشانیوں میں سے بہت کچھ دیکھا﴾ کے متعلق فرمایا کہ نبی کریم ﷺ نے رفرف(ایک سبز رنگ کا بچھونا) دیکھا تھا جو آسمان کے کناروں کو گھیرے ہوئے تھا۔
[صحيح البخاري:3233+4858]

رَأَى جِبْرِيلَ فِي صُورَتِهِ لَهُ سِتُّمِائَةِ جَنَاحٍ
(اور فرشتوں کے سردار)جبرائیلؑ کو اپنی اصلی صورت میں دیکھا، اس کے چھ سو پر ہیں۔
[صحيح مسلم:174]

لَمْ يَرَهُ فِي صُورَتِهِ إِلَّا مَرَّتَيْنِ: مَرَّةً عِنْدَ سِدْرَةِ الْمُنْتَهَى، وَمَرَّةً بِأَجْيَادَ، لَهُ سِتُّمِائَةِ جَنَاحٍ قَدْ سَدَّ الْأُفُقَ۔
وہ اپنی اصلی شکل میں نہیں دیکھا گیا سوائے دو بار، ایک بار سدرۃ المنتہیٰ میں اور ایک بار مقامِ اجیاد میں، اس کے چھ سو پَر(بازو) ہیں، جو اُفق (یعنی آسمان کے کناروں) کو گھیرے ہوئے تھے۔
[أخبار مكة - الفاكهي:2306]

قَدْ سَدَّ مَا بَيْنَ الْمَشْرِقِ، وَالْمَغْرِبِ ۔
جو مشرق اور مغرب کے درمیان کو گھیرے ہوئے تھے۔
[المعجم الكبير للطبراني:9054]

يَنْتَثِرُ مِنْهَا تَهَاوِيلُ الدُّرِّ وَالْيَاقُوتِ۔
جس میں نیلم اور یاقوت کی موتی بکھرے ہوئے تھے۔
[التوحيد لابن خزيمة:2/503]

اس سے رسول اللہ ﷺ کی نبوت(پیغمبری) کے دلائل عیاں ہوتے ہیں۔


سورۃ النجم کی آیات ۱۳ تا ۱۸ واقعۂ معراج کے ایک حصے کی منظر کشی کرتی ہیں، جہاں رسول اللہ ﷺ نے حضرت جبرائیلؑ کو ان کی حقیقی شان کے ساتھ دیکھا اور سدرۃ المنتہیٰ جیسے عظیم مشاہدات کیے۔ 



آیات سے اہم اسباق و نکات

ان آیات میں پوشیدہ گہرے معنوی اور تربیتی پہلوؤں کو مندرجہ ذیل نکات کی شکل میں سمجھا جا سکتا ہے:

1. جبرائیل علیہ السلام کی حقیقی صورت کا دیدار:

نبی ﷺ نے حضرت جبرائیلؑ کو ان کی اصل صورت میں دو بار دیکھا، جو چھ سو پروں سے سجا تھا اور اس کی عظمت نے آسمان کے کناروں کو ڈھانپ لیا تھا۔ یہ مشاہدہ وحی کے منبع کی عظمت اور اس کی صداقت پر رسول ﷺ کے یقین کو مزید پختہ کرتا ہے۔

2. سدرۃ المنتہیٰ کی فضیلت و عظمت:

سدرۃ المنتہیٰ ساتویں آسمان پر وہ آخری حد ہے جہاں سے زمین کی طرف آنے والی چیزیں ٹھہرتی ہیں۔ یہ مقام رسول ﷺ کے سفرِ معراج کی بلندی اور اس کی منفرد شان کو ظاہر کرتا ہے۔

3. جنت المأویٰ کا قرب:

سدرۃ المنتہیٰ کے پاس ہی جنت المأویٰ ہے، جو فرشتوں اور شہیدوں کا ٹھکانا ہے۔ اس کا ذکر آخرت کی حقیقت اور نیک بندوں کے بلند مقام کی طرف اشارہ ہے۔

4. سدرۃ المنتہیٰ پر اللہ کی تجلیات:

آیت ۱۶ میں "إِذْ يَغْشَى السِّدْرَةَ مَا يَغْشَى" سے مراد وہ عظیم نور (یا فرشتے) ہیں جو اس درخت کو ڈھانپ رہے تھے۔ یہ منظر اللہ تعالیٰ کی جلالی اور جمالی صفات کی تجلی کا مظہر تھا، جسے بیان سے باہر قرار دیا گیا ہے۔

5. نبی ﷺ کی بصیرت کی استقامت:

آیت ۱۷ "مَا زَاغَ الْبَصَرُ وَمَا طَغَىٰ" میں بتایا گیا ہے کہ آپ ﷺ کی نظر نہ تو کج ہوئی اور نہ ہی حد سے گزری۔ یہ آپ ﷺ کی کامل روحانی اور جسمانی استقامت، نیز غیبی مناظر کو دیکھنے میں آپ کی غیرمعمولی صلاحیت کی دلیل ہے۔

6. اللہ کی عظیم نشانیوں کا مشاہدہ:

آیت ۱۸ "لَقَدْ رَأَىٰ مِنْ آيَاتِ رَبِّهِ الْكُبْرَىٰ" میں تصریح ہے کہ آپ ﷺ نے اپنے رب کی بڑی بڑی نشانیاں دیکھیں۔ یہ نشانیاں (جبرائیل کی اصل صورت، سدرۃ المنتہیٰ، جنت المأویٰ، وغیرہ) اللہ کی بے پایاں قدرت اور اس کے عجائبات کا شاہد ہیں۔

7. معراج کے واقعہ کی تصدیق:

ان آیات کا نزول درحقیقت معراج کے واقعہ کی قرآنِ مجید کے ذریعے تصدیق ہے۔ یہ واقعہ نبی ﷺ کی رسالت کی سچائی اور آپ ﷺ کے خاص مقام کی دلیل ہے۔

8. مومن کے لیے تسلی و یقین:

یہ آیات ہر مومن کے دل میں یہ یقین پیدا کرتی ہیں کہ غیب کی دنیا حقیقی ہے، اللہ کی نشانیاں عظیم ہیں، اور رسول ﷺ کا مشاہدہ بالکل درست ہے۔ اس سے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے۔

9. اطاعت و فرمانبرداری کی مثال:

نبی ﷺ کی نظر کا نہ بہکنا اور نہ حد سے گزرنا، آپ ﷺ کی کامل اطاعت اور اللہ کے حکم پر ثابت قدمی کی علامت ہے۔ یہ ہر مسلمان کے لیے نمونہ ہے کہ وہ اپنے دین اور احکام پر استقامت سے قائم رہے۔

خلاصہ

1. وحی کے منبع کی عظمت:

جبرائیلؑ کی اصل صورت کا دیدار وحی کی عظمت اور صداقت کو واضح کرتا ہے۔

2. غیبی عوالم کی حقیقت:

سدرۃ المنتہیٰ اور جنت المأویٰ کا ذکر غیبی عوالم کی حقیقت اور ان کی بلندیوں کی نشاندہی کرتا ہے۔

3. نبی ﷺ کی استقامت:

آپ ﷺ کی نظر کا نہ بہکنا اور نہ حد سے گزرنا، آپ ﷺ کی کامل روحانی و جسمانی استقامت کی دلیل ہے۔

4. اللہ کی عظیم نشانیاں:

یہ تمام مشاہدات درحقیقت اللہ تعالیٰ کی عظیم نشانیاں ہیں، جو اس کی بے پایاں قدرت اور جلال کے آئینہ دار ہیں۔

5. ایمانی تقویت:

یہ آیات ہر مومن کے ایمان کو تقویت دیتی ہیں اور اسے یقین دلاتی ہیں کہ غیب کی دنیا بالکل حقیقی ہے۔

ان آیات پر غور و فکر سے ہمارا ایمان تازہ ہوتا ہے اور ہماری معرفت میں اضافہ ہوتا ہے۔







معراج میں تین(عظیم)عطائیں:
تین چیزیں نبی ﷺ کو (شبِ معراج میں)عطا کی گئیں:
(1)پانچوں نمازیں
(2)سورۃ البقرۃ کی آخری (دو) آیات
(3)اور آپ کی امت میں سے جو شخص شرک نہ کرے، اسکے ہلاک کرنے والے گناہوں کو معاف کردیا جاۓ گا۔
[صحیح مسلم:173، سنن الترمذی:3276 تفسیر سورۃ النجم-16، سنن نسائی:452]

تیری معراج کہ تو لوح و قلم تک پہنچا،
میری معراج کہ میں تیرے قدم تک پہنچا۔








’’معراج‘‘عروج سے مشتق ہے جس کے معنیٰ چڑھنے اور بلند ہونے کے ہیں، اسی لئے سیڑھی کو بھی معراج کہتے ہیں، رسول اکرم ﷺ نے چونکہ اس شب میں ملاء اعلیٰ کی منازلِ طے فرماتے ہوئے ساتوں آسمان، سدرۃ المنتہیٰ اور اس سے بھی بلند ہوکر آیات اللہ (اللہ کی نشانیوں) کا مشاہدہ فرمایا اور ان واقعات کے ذکر میں آپ ﷺ نے ’’عُرِجَ بِیْ‘‘ یا  ’’عَرَجَ بِنَا‘‘ کس جملہ استعمال فرمایا جس کے ہیں معنیٰ ہے ’’مجھے چڑھایا گیا‘‘ یا ’’ہم چڑھائے گئے‘‘ اس لئے اس واقعہ کو معراج سے تعبیر فرمایا۔
[قصص القرآن-مولانا محمد حفظ الرحمٰن سیُوہاروی: حصہ4، ص461، لاہور، المیزان ناشران وتاجران،2011ء]

اسراء اور معراج:
(1)مکۃ المکرمہ سے بیت المقدس تک رات کے کچھ حصہ میں کرائے گئے جسمانی سیر کو "اسراء" کہتے ہیں، اس کا انکار قطعی واضح بیان کا انکار (کفر) ہے۔
حوالہ
من ‌أنكر ‌المعراج الى المسجد الأقصى لثبوته بالنص القطعي وهو قوله تعالى سبحان الذي اسرا بعبده۔
جو شخص معراج (اسراء) کے واقعہ کا انکار کرتا ہے، حالانکہ وہ قرآن پاک کی صریح آیت "سُبْحَانَ الَّذِي أَسْرَىٰ بِعَبْدِهِ لَيْلًا مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ إِلَى الْمَسْجِدِ الْأَقْصَى" سے ثابت ہے، تو ایسا شخص کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔
[روح البيان:9/225]

اور

(2)دوسرا سیر بیت المقدس سے اوپر آسمانوں پر چڑھنے کو "معراج" کہتے ہیں۔ اگر کوئی اس سفر کا انکار کرے تو کافر نہیں لیکن بدعتی(گمراہ) ہوگا۔
حوالہ
وَخير ‌الْمِعْرَاج حق من رده فَهُوَ مُبْتَدع ضال۔
ترجمہ:
اور واقعہ معراج حق ہے جو اس کی تردید کرے وہ بدعتی اور گمراہ ہوگیا۔



تشریح کرتے ہوئے ملا علی قاری لکھتے ہیں:
‌من ‌أنكر ‌المعراج ‌ينظر إن أنكر الإسراء من مكة إلى بيت المقدس فهو كافر، ولو أنكر المعراج من بيت المقدس لا يكفر۔
ترجمہ:
جو شخص معراج کا انکار کرتا ہے وہ اگر مکہ سے بیت المقدس تک رات کے سفر کا انکار کرے تو وہ کافر ہے اور اگر بیت المقدس سے معراج کا انکار کرے تو وہ کافر نہیں ہے۔



وَمَنْ أَنْكَرَ الْإِسْرَاءَ مِنْ مَكَّةَ إلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ فَهُوَ كَافِرٌ وَمَنْ أَنْكَرَ ‌الْمِعْرَاجَ مِنْ بَيْتِ الْمَقْدِسِ فَلَيْسَ بِكَافِرٍ۔
ترجمہ:
جو مکہ سے بیت المقدس تک سیر کا انکار کرے وہ کافر ہے اور جو بیت المقدس سے (آسمانوں پر) چڑھنے کا انکار کرے وہ کافر نہیں۔
[البحر الرائق شرح كنز الدقائق-ابن نجيم، زين الدين: ج1/ ص370]



وَمُنْكِرُ الْمِعْرَاجِ إنْ أَنْكَرَ الْإِسْرَاءَ إلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ فَكَافِرٌ وَإِنْ ‌أَنْكَرَ ‌الْمِعْرَاجَ مِنْهُ فَمُبْتَدَعٌ۔
ترجمہ:
اور معراج کا منکر اگر بیت المقدس کی طرف سیر کا انکار کرتا ہے تو وہ کافر ہے اور اگر (آسمانوں پر) چڑھنے کا انکار کرتا ہے تو وہ بدعتی ہے۔
[تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق وحاشية الشلبي:1/315، فتح القدير للكمال ابن الهمام وتكملته ط الحلبي:1/340]


عرفِ عام(عوامی اصطلاح)میں دونوں کے"مجموعہ"کو معراج کہتے ہیں۔





(1)شبِ معراج میں نماز کس طرح فرض ہوئی؟
جسمانی معراج مکہ میں ہوئی۔

حضرت ابوذر غفاری ؓ یہ حدیث بیان کرتے تھے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ میرے گھر کی چھت کھول دی گئی، اس وقت میں مکہ میں تھا۔ پھر جبرائیلؑ اترے اور انہوں نے میرا سینہ چاک کیا۔ پھر اسے زمزم کے پانی سے دھویا۔ پھر ایک سونے کا طشت لائے جو حکمت اور ایمان سے بھرا ہوا تھا۔ اس کو میرے سینے میں رکھ دیا، پھر سینے کو جوڑ دیا، پھر میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے آسمان کی طرف لے کر چڑھے۔ جب میں پہلے آسمان پر پہنچا تو جبرائیلؑ نے آسمان کے داروغہ سے کہا کھولو۔ اس نے پوچھا: آپ کون ہیں؟ جواب دیا کہ جبرائیل، پھر انہوں نے پوچھا: کیا آپ کے ساتھ کوئی اور بھی ہے؟ جواب دیا: ہاں، میرے ساتھ محمد ( ﷺ ) ہیں۔ انہوں نے پوچھا کہ کیا ان کے بلانے کے لیے آپ کو بھیجا گیا تھا؟ کہا: جی ہاں! پھر جب انہوں نے دروازہ کھولا تو ہم پہلے آسمان پر چڑھ گئے، وہاں ہم نے ایک شخص کو بیٹھے ہوئے دیکھا۔ ان کے داہنی طرف کچھ لوگوں کے جھنڈ تھے اور کچھ جھنڈ بائیں طرف تھے۔ جب وہ اپنی داہنی طرف دیکھتے تو مسکرا دیتے اور جب بائیں طرف نظر کرتے تو روتے۔ انہوں نے مجھے دیکھ کر فرمایا: آؤ اچھے آئے ہو۔ صالح نبی اور صالح بیٹے! میں نے جبرائیلؑ سے پوچھا: یہ کون ہیں؟ انہوں نے کہا کہ یہ آدم (علیہ السلام) ہیں اور ان کے دائیں بائیں جو جھنڈ ہیں یہ ان کے بیٹوں کی روحیں ہیں۔ جو جھنڈ دائیں طرف ہیں وہ جنتی ہیں اور بائیں طرف کے جھنڈ دوزخی روحیں ہیں۔ اس لیے جب وہ اپنے دائیں طرف دیکھتے ہیں تو خوشی سے مسکراتے ہیں اور جب بائیں طرف دیکھتے ہیں تو (رنج سے) روتے ہیں۔ پھر جبرائیل مجھے لے کر دوسرے آسمان تک پہنچے اور اس کے داروغہ سے کہا کہ کھولو۔ اس آسمان کے داروغہ نے بھی پہلے کی طرح پوچھا پھر کھول دیا۔ انسؓ نے کہا کہ ابوذرؓ نے ذکر کیا کہ آپ ﷺ یعنی نبی کریم ﷺ نے آسمان پر آدم، ادریس، موسیٰ، عیسیٰ اور ابراہیم (علیہم السلام) کو موجود پایا۔ اور ابوذر ؓ نے ہر ایک کا ٹھکانہ نہیں بیان کیا۔ البتہ اتنا بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے آدم کو پہلے آسمان پر پایا اور ابراہیم (علیہ السلام) کو چھٹے آسمان پر۔ انسؓ نے بیان کیا کہ جب جبرائیل (علیہ السلام) نبی کریم ﷺ کے ساتھ ادریس (علیہ السلام) پر گزرے۔ تو انہوں نے فرمایا کہ آؤ اچھے آئے ہو صالح نبی اور صالح بھائی۔ میں نے پوچھا: یہ کون ہیں؟ جواب دیا کہ یہ ادریس (علیہ السلام) ہیں۔ پھر موسیٰ (علیہ السلام) تک پہنچا تو انہوں نے فرمایا: آؤ اچھے آئے ہو صالح نبی اور صالح بھائی۔ میں نے پوچھا: یہ کون ہیں؟ جبرائیلؑ نے بتایا کہ موسیٰ (علیہ السلام) ہیں۔ پھر میں عیسیٰ (علیہ السلام) تک پہنچا، انہوں نے کہا: آؤ اچھے آئے ہو صالح نبی اور صالح بھائی۔ میں نے پوچھا: یہ کون ہیں؟ جبرائیلؑ نے بتایا کہ یہ عیسیٰ (علیہ السلام) ہیں۔ پھر میں ابراہیم (علیہ السلام) تک پہنچا۔ انہوں نے فرمایا: آؤ اچھے آئے ہو صالح نبی اور صالح بیٹے۔ میں نے پوچھا یہ کون ہیں؟ جبرائیلؑ نے بتایا کہ یہ ابراہیم (علیہ السلام) ہیں۔ ابن شہاب نے کہا کہ مجھے ابوبکر بن حزم نے خبر دی کہ عبداللہ بن عباس اور ابوحبۃ الانصاری ؓ کہا کرتے تھے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: پھر جبرائیلؑ مجھے لے کر چڑھے، اب میں اس بلند مقام تک پہنچ گیا: جہاں میں نے قلم کی آواز سنی (جو لکھنے والے فرشتوں کی قلموں کی آواز تھی) ابن حزم نے (اپنے شیخ سے) اور انس بن مالک نے ابوذر ؓ سے نقل کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: پس اللہ تعالیٰ نے میری امت پر پچاس وقت کی نمازیں فرض کیں۔ میں یہ حکم لے کر واپس لوٹا۔ جب موسیٰ (علیہ السلام) تک پہنچا تو انہوں نے پوچھا کہ آپ کی امت پر اللہ نے کیا فرض کیا ہے؟ میں نے کہا کہ پچاس وقت کی نمازیں فرض کی ہیں۔ انہوں نے فرمایا: آپ واپس اپنے رب کی بارگاہ میں جائیے۔ کیونکہ آپ کی امت اتنی نمازوں کو ادا کرنے کی طاقت نہیں رکھتی ہے۔ میں واپس بارگاہ رب العزت میں گیا تو اللہ نے اس میں سے ایک حصہ کم کردیا، پھر موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس آیا اور کہا کہ ایک حصہ کم کردیا گیا ہے، انہوں نے کہا کہ دوبارہ جائیے کیونکہ آپ کی امت میں اس کے برداشت کی بھی طاقت نہیں ہے۔ پھر میں بارگاہ رب العزت میں حاضر ہوا۔ پھر ایک حصہ کم ہوا۔ جب موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس پہنچا تو انہوں نے فرمایا کہ اپنے رب کی بارگاہ میں پھر جائیے، کیونکہ آپ کی امت اس کو بھی برداشت نہ کرسکے گی، پھر میں باربار آیا گیا پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ نمازیں (عمل میں) پانچ ہیں اور (ثواب میں) پچاس (کے برابر) ہیں۔ میری بات بدلی نہیں جاتی۔ اب میں موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس آیا تو انہوں نے پھر کہا کہ اپنے رب کے پاس جائیے۔ لیکن میں نے کہا: مجھے اب اپنے رب سے شرم آتی ہے۔ پھر جبرائیل مجھے سدرۃ المنتہیٰ(بیری کے درخت) تک لے گئے جسے کئی طرح کے رنگوں نے ڈھانک رکھا تھا۔ جن کے متعلق مجھے معلوم نہیں ہوا کہ وہ کیا ہیں۔ اس کے بعد مجھے جنت میں لے جایا گیا، میں نے دیکھا کہ اس میں موتیوں کے ہار ہیں اور اس کی مٹی مشک کی ہے۔
[صحيح البخاری:349، صحيح ابن حبان:7406، مسند احمد:21288، مسند البزار:3892، مسند ابو يعلى:3616، الشريعة للآجري:1026، الأحاديث المختارة:1126]

تشریح:
میرے گھر کی چھت کھول دی گئی:
اس حدیث میں واضح ہے کہ آپ  کو آسمان کی طرف گھر کی چھت سے لے جایا گیا  گھر کے دروازے کی جانب سے نہیں۔
شیخ شقیری رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"یہ کہنا کہ رسول اللہ ﷺ کے معراج پر جانے اور واپس آنے تک کا سفر اتنی جلدی ہوا تھا کہ آپ کا بستر بھی ٹھنڈا نہیں ہو پایا تھا، یہ بات پایۂِ ثبوت تک نہیں پہنچتی، بلکہ یہ لوگوں کا اپنا گھڑا ہوا جھوٹ ہے" انتہی
[السنن والمبتدعات:143]
اسی طرح رسول اللہ  کے گھر کے دروازے کی کنڈی بھی نہیں تھی، کیونکہ عام طور پر گھروں کے دروازے ہی نہیں ہوتے تھے، جیسے کہ عبد الرحمن بن زید اللہ تعالی کے فرمان:
( وَلا عَلَى أَنْفُسِكُمْ أَنْ تَأْكُلُوا مِنْ بُيُوتِكُمْ )سے لیکر ( أَوْ صَدِيقِكُمْ ) تک [تم پر کوئی حرج نہیں ہے کہ تم اپنے گھروں سے کھاؤ۔۔۔۔ یا دوستوں کے گھر سے] یہ حکم ابتداء میں تھا جب گھروں کے دروازے ہی نہیں ہوتے تھے، بلکہ صرف کپڑا لٹکا دیا جاتا تھا"
[تفسیر طبری:19/ 221]

🪜 معراج کے واقعے کا مرحلہ وار خلاصہ

1. سقف کا شق ہونا:

   · آپ  کے مکہ میں واقع گھر کا چھت شق کیا گیا۔ اس کی حکمت یہ تھی کہ فرشتہ آپ کو یہ دکھائے کہ آپ کا سینہ کیسے شق ہوگا، تاکہ آپ کے لیے یہ عمل باعثِ حیرت نہ رہے۔

2. سینۂ اطہر کا شق ہونا اور غسل:

   · جبرائیلؑ نے آپ کا سینہ مبارک ناف سے حلق تک شق کیا۔ مناوی رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ آپ کا سینہ چار مرتبہ شق ہوا:
     · بچپن میں (بنی سعد میں) تاکہ آپ پاکیزہ ترین حالت پر پرورش پائیں۔
     · تقریباً بارہ سال کی عمر میں (تکلیف سے پہلے) تاکہ مردوں میں پائی جانے والی کوئی معیوب چیز آپ سے دور ہو جائے۔
     · بعثت کے وقت تاکہ آپ مضبوط قلب کے ساتھ وحی قبول کر سکیں۔
     · معراج کے موقع پر (جو زیرِ بحث ہے) تاکہ آپ مناجاتِ الٰہی کے لیے تیار ہو سکیں۔
   · پھر آپ کے سینے کو زمزم کے پانی سے دھویا گیا، کیونکہ یہ جنت کا پانی ہے جو قلب کو قوت دیتا ہے اور خوف کو دور کرتا ہے۔

3. حکمت و ایمان کا انڈیلا جانا:

   · جبرائیلؑ سونے کی ایک طشت لائے جو حکمت و ایمان سے بھری ہوئی تھی۔ اس کا انڈیلنا درحقیقت آپ کے قلبِ اطہر کو علم، فہم، عدل اور کامل تصدیق سے پر کرنا تھا، تاکہ آپ حق تعالیٰ کی خلافت (نمائندگی) کے لیے مکمل طور پر تیار ہو جائیں۔ پھر سینہ مبارک کو موندھ دیا گیا۔

4. آسمانِ دنیا تک عروج:

   · جبرائیلؑ آپ کو لے کر آسمانِ دنیا کی طرف چڑھے۔ آسمان کا دروازہ بند تھا۔ جبرائیلؑ نے دروازہ کھولنے کو کہا تو محافظ نے پوچھا: "کون؟" جبرائیل نے جواب دیا: "جبريل"۔ پوچھا گیا: "کیا آپ کے ساتھ کوئی ہے؟" جواب ملا: "ہاں، میرے ساتھ محمد ﷺ ہیں۔" پوچھا گیا: "کیا انہیں بلایا گیا ہے؟" جواب ملا: "ہاں۔" تب دروازہ کھولا گیا۔
   · یہاں آپ نے حضرت آدم علیہ السلام کو دیکھا۔ آپ کے دائیں جانب ان کی اولاد میں سے اہلِ جنت کی روحیں تھیں، جنہیں دیکھ کر وہ مسکراتے، اور بائیں جانب اہلِ دوزخ کی روحیں تھیں، جنہیں دیکھ کر وہ روتے تھے۔

5. دوسرے تا ساتویں آسمان پر انبیاء سے ملاقاتیں:

   · ہر آسمان پر اسی طرح استفتاح (درخواستِ داخلہ) ہوا۔ ہر جگہ ایک نبی سے ملاقات ہوئی، جنہوں نے آپ کا استقبال "مرحبا بالنبي الصالح" (سلام ہو پاک نبی پر) کہہ کر کیا:
     · دوسرا آسمان: حضرت یحییٰ اور حضرت عیسیٰ علیہما السلام۔ (یاد رہے کہ مختلف روایات میں انبیاء کے آسمانوں کے ترتیب میں فرق ہے، مناوی رحمہ اللہ نے یہاں ایک مخصوص روایت کی شرح کی ہے)۔
     · تیسرا آسمان: حضرت یوسف علیہ السلام۔
     · چوتھا آسمان: حضرت ادریس علیہ السلام۔
     · پانچواں آسمان: حضرت ہارون علیہ السلام۔
     · چھٹا آسمان: حضرت موسیٰ علیہ السلام۔
     · ساتواں آسمان: حضرت ابراہیم علیہ السلام۔
   · مناوی رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ یہ ملاقاتیں انبیاء کی روحوں سے تھیں (سوائے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے، جن کا جسم آسمان پر ہے)۔

6. مقامِ "مستوی" اور "صریف الاقلام" کا مشاہدہ:

   · اس کے بعد آپ کو ایک اور بلند مقام "مستوی" پر لے جایا گیا، جہاں آپ نے قلموں کی آواز (صریف الاقلام) سنی۔ یہ وہ مقام ہے جہاں فرشتے اللہ تعالیٰ کے فیصلوں اور تقدیروں کو لوحِ محفوظ پر ثبت کر رہے تھے۔ یہاں پہنچ کر آپ نے مستقبل کے غیبی واقعات کا علم حاصل کیا۔

7. پچاس نمازوں کی فرضیت اور تخفیف:

   · یہیں پر پچاس نمازیں روزانہ فرض کی گئیں۔ واپسی پر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کہا کہ آپ کی امت اس کی طاقت نہیں رکھتی، آپ دوبارہ درخواست کریں۔ آپ ﷺ نے بار بار اللہ کے حضور درخواست کی اور یہ کم ہو کر پانچ نمازیں رہ گئیں، مگر ثواب پچاس ہی کا رکھا گیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں اپنے رب سے بار بار درخواست کرتے شرم محسوس کرنے لگا، لہٰذا میں نے اسے قبول کر لیا۔

8. سدرۃ المنتہیٰ اور جنت کا دیدار:

   · پھر آپ کو سدرۃ المنتہیٰ پر لے جایا گیا۔ اس کی عظمت اور حسن کا آپ نے مشاہدہ فرمایا۔ یہ وہ مقام ہے جہاں ہر مخلوق کا علم ختم ہو جاتا ہے۔
   · آپ کو جنت میں داخل کیا گیا، جہاں آپ نے موتی کے گنبد اور مشک کے ذرے دیکھے۔

---

✨ تشریح کے چند انتہائی اہم نکات اور فوائد

1. شقِ صدر کی حکمتیں:

مناوی رحمہ اللہ نے شقِ صدر کے چار اوقات اور ہر وقت کی الگ الگ حکمت و مصلحت بیان کی ہے، جو آپ کی ذاتِ اقدس کی کیسے مرحلہ وار تیاری کو ظاہر کرتا ہے۔

2. سونا کیوں؟:

سونے کی طشت کا ذکر اس لیے کیا گیا کہ یہ جنت کے برتنوں میں اعلیٰ ترین ہے، اس کی چمک دل کو خوش کرتی ہے، اور یہ چیزوں کو محفوظ رکھتا ہے جیسا کہ قرآن محفوظ ہے۔ نیز، یہ واقعہ سونے کے استعمال کی حرمت سے پہلے کا ہے۔

3. "مستوی" اور "صریف الاقلام" کی حقیقت:

یہ وہ کلیدی نکتہ ہے جس پر مناوی رحمہ اللہ نے خوب زور دیا ہے۔ یہ مقام تقدیر کے لکھے جانے کے مرکز کا مشاہدہ تھا۔ اسی لیے معراج کے بعد آپ ﷺ نے مستقبل کی بہت سی غیبی خبریں دیں۔

4. حضرت موسیٰ علیہ السلام کی خصوصی شفقت:

یہ واضح کیا گیا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے نمازوں میں تخفیف کی درخواست میں خصوصی دلچسپی اس لیے لی کیونکہ وہ امتِ محمدیہ میں شامل ہون کی تمنا رکھتے تھے (جیسا کہ ایک روایت میں آیا ہے)، اس لیے انہیں اس امت کی بھلائی کا خاص خیال تھا۔

5. معراج جسمانی تھی:

ہر آسمان کے دروازے پر پوچھا جانا اور جواب دینا اس بات کی واضح دلیل ہے کہ معراج جسم و روح دونوں کے ساتھ ہوئی، محض روحانی سفر نہیں تھا۔

6. سدرۃ المنتہیٰ کا مقام:

مناوی رحمہ اللہ نے سدرۃ المنتہیٰ کی مختلف تعبیرات نقل کی ہیں: وہ جہاں بندوں کے اعمال ختم ہوتے ہیں، یا جہاں تمام مخلوق کا علم انتہا کو پہنچ جاتا ہے۔ اس کی شاخیں ساتویں آسمان میں ہیں۔

7. مؤلف کے آخری نوٹ:

مناوی رحمہ اللہ نے آخر میں لکھا ہے کہ اس حدیث سے ستر سے زائد شرعی فوائد و مسائل مستنبط ہوتے ہیں، جن پر الگ سے کتابیں لکھی گئی ہیں۔

---

خلاصہ یہ کہ: مناوی رحمہ اللہ کی یہ شرح معراج کے واقعے کو صرف ایک سادہ سفر نہیں بلکہ ایک منظم اور ہدفمند تربیتی پروگرام کے طور پر پیش کرتی ہے، جس میں نبی اکرم  کے قلبِ اطہر کو غسل دے کر، حکمت و ایمان سے پر کر کے، تمام انبیاء کے مقامات دکھا کر، اور تقدیر لکھنے کے مرکز کا مشاہدہ کرا کر آپ کو کائنات کے منتہیٰ مقام تک پہنچایا گیا، اور پھر آپ کو پانچ وقتہ نماز جیسے عظیم تحفے کے ساتھ دنیا میں واپس بھیجا گیا۔ یہ واقعہ آپ کی رسالت کی عظمت، آپ کی امت سے محبت اور آپ کے مقامِ قرب کی انتہا کو ظاہر کرتا ہے۔


(2)مختلف بیان کرنے والوں سے متفقہ بات جسمانی معراج ہونا۔
حضرت انس بن مالکؓ حضرت مالک بن صعصعہؓ انصاری سے نقل کرتے ہیں کہ اللہ کے نبی ﷺ نے ان سے اس رات (جس میں آپ ﷺ کو مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک لے جایا گیا) کے بارے میں بیان کیا کہ: ’’میں حطیم میں تھا دوسری روایت میں ہے کہ حجر میں تھا کہ اچانک میرے پاس ایک آنے والا آیا، اور (لمبائی میں) چیرا۔ راوی کہتا ہے کہ میں نے سُنا کہ آپ ﷺ فرما رہے ہیں کہ یہاں سے یہاں تک چیرا۔ راوی کہتا ہے کہ میں نے جارود جو میرے پہلو میں تھا اس سے پوچھا کہ اس کا کیا مطلب ہے؟ تو اس نے کہا کہ گلے کے پاس سے لے کر ناف تک۔ پھر میرے دل کو نکالا، اس کے بعد سونے کا ایک طشت ایمان سے بھر لائے اور میرے دل کو اس سے دھویا گیا، پھر بھر دیا، اس کے بعد واپس اپنی جگہ پر لوٹادیا، پھر ایک چوپایہ لایا گیا، جو سفید گدھے سے اونچا اور خچر سے تھوڑا چھوٹا تھا۔ جارود نے اس (حضرت انسؓ) سے کہا کہ وہ بُراق ہے۔ پھر جارود نے کہا: اے اباحمزہ ! (یہ حضرت انس ؓکی کنیت ہے) حضرت انس ؓنے کہا: ہاں! وہ بُراق ایک ایک قدم کو اتنی دور دور رکھتا تھا جتنی دور اس کی نگاہ پہنچے۔ اس کے بعد حضرت جبرائیلؑ مجھے لے کر آسمان دنیا کی طرف پہنچے۔ حضرت جبرائیلؑ نے دروازہ کھلوانا چاہا تو کہاگیا: کون ہے؟ کہا: جبرئیل، پوچھا! ساتھ کون ہے؟ انہوں نے جواب دیا: حضرت محمد ﷺ۔ پوچھا: کیا اُن کی طرف کوئی بھیجا گیا ہے؟ کہا: ہاں !تو کہا گیا خوش آمدید! بہترین آنے والا۔ پھر ہمارے لئے دروازہ کھل گیا، جب میں وہاں پہنچ گیا، وہاں میں نے حضرت آدم ؑکو دیکھا۔ جبرئیلؑ نے کہا: یہ تیرا باپ آدم ؑ ہے ان کو سلام کیجئے! پس میں نے اس پر سلام کیا اور اس نے سلام کا جواب دیا اور مرحبا کہا،اورفرمایا: آپ میرے بہت ہی پیارے بیٹے اور نیک نبی ہیں۔ پھر مجھے دوسرے آسمان پر چڑھایا۔ پھر دروازہ کھلوانا چاہا، کہاگیا: کون ہے؟ کہا: جبرئیل، پوچھ: ساتھ کون ہے؟ انہوں نے جواب دیا: حضرت محمد ﷺ۔ پوچھا: کیا اُن کی طرف کوئی بھیجا گیا ہے؟ کہا: ہاں ! تو کہا گیا: خوش آمدید! بہترین آنے والا۔ پھر ہمارے لئے دروازہ کھل گیا، جب میں وہاں پہنچ گیا، وہاں میرے دو خالہ زاد بھائی حضرت عیسیٰؑ اور حضرت یحیٰؑ تھے۔ جبریل ؑ نے کہا کہ یہ حضرت عیسیٰؑ اور حضرت یحیٰؑ ہیں، ان دونوں کو سلام کیجئے! میں نے سلام کیا، دونوں نے جواب دیا۔ دونوں نے کہا: مرحبا! نیک بھائی اور نیک نبی۔ پھر مجھے تیسرے آسمان پر چڑھایا۔ پھر دروازہ کھلوانا چاہا، کہاگیا: کون ہے؟ کہا: جبرئیل، پوچھا: ساتھ کون ہے؟ انہوں نے جواب دیا: حضرت محمد ﷺ۔ پوچھا: کیا اُن کی طرف کوئی بھیجا گیا ہے؟ کہا: ہاں ! تو کہا گیا خوش آمدید! بہترین آنے والا۔ پھر ہمارے لئے دروازہ کھل گیا، جب میں وہاں پہنچ گیا، وہاں حضرت یوسف ؑ تھے، حضرت جبرئیل ؑ نے کہا: یہ یوسفؑ ہے، ان کو سلام کیجئے! میں نے اس پر سلام کیا، اس نے جواب دیا، کہا: مرحبا! نیک بھائی اور نیک نبی۔ پھر مجھے چوتھے آسمان پر چڑھایا۔ پھر دروازہ کھلوانا چاہا، کہاگیا: کون ہے؟کہا:جبرئیل، پوچھا: ساتھ کون ہے؟ انہوں نے جواب دیا: حضرت محمد ﷺ۔ پوچھا: کیا اُن کی طرف کوئی بھیجا گیا ہے؟ کہا: ہاں! تو کہا گیا: خوش آمدید! بہترین آنے والا۔پھر ہمارے لئے دروازہ کھل گیا، جب میں وہاں پہنچ گیا، وہاں حضرت ادریسؑ تھے، حضرت جبرئیل ؑ نے کہا: یہ ادریسؑ ہے ان کو سلام کیجئے! میں نے اس پر سلام کیا اس نے جواب دیا، کہا: مرحبا! نیک بھائی اور نیک نبی۔ پھر مجھے پانچویں آسمان پر چڑھایا۔ پھر دروازہ کھلوانا چاہا، کہاگیا: کون ہے؟ کہا: جبرئیل، پوچھا: ساتھ کون ہے؟انہوں نے جواب دیا: حضرت محمدﷺ۔ پوچھا: کیا اُن کی طرف کوئی بھیجا گیا ہے؟کہا: ہاں! تو کہا گیا: خوش آمدید! بہترین آنے والا۔ پھر ہمارے لئے دروازہ کھل گیا، جب میں وہاں پہنچ گیا، وہاں حضرت ھارونؑ تھے، حضرت جبرئیل ؑ نے کہا یہ ھارونؑ ہے ان کو سلام کیجئے! میں نے اس پر سلام کیا اس نے جواب دیا، کہا: مرحبا! نیک بھائی اور نیک نبی۔ پھر مجھے چھٹے آسمان پر چڑھایا۔ پھر دروازہ کھلوانا چاہا، کہاگیا: کون ہے؟ کہا: جبرئیل، پوچھا: ساتھ کون ہے؟ انہوں نے جواب دیا: حضرت محمد ﷺ۔ پوچھا: کیا اُن کی طرف کوئی بھیجا گیاہ ے؟ کہا: ہاں! تو کہا گیا خوش آمدید! بہترین آنے والا۔پھر ہمارے لئے دروازہ کھل گیا، جب میں وہاں پہنچ گیا، وہاں حضرت موسیٰؑ تھے، حضرت جبرئیل ؑ نے کہا: یہ موسیٰؑ ہے ان کو سلام کیجئے! میں نے اس پر سلام کیا اس نے جواب دیا۔ کہا: مرحبا! نیک بھائی اور نیک نبی۔ پھر جب میں اس سے گذرا تو وہ رونے لگا۔ اس سے کہا گیا کہ کس چیز نے آپ کو رُلایا؟ فرمایا کہ ایک اللہ کا بندہ جو میرے بعد مبعوث ہوئے، میرے امتیوں سے زیادہ اپنے امتیوں کو جنت میں داخل کرے گا۔ پھر مجھے ساتویں آسمان پر چڑھایا۔ پھر دروازہ کھلوانا چاہا، کہاگیا: کون ہے؟ کہا: جبرئیل، پوچھا: ساتھ کون ہے؟ انہوں نے جواب دیا: حضرت محمد ﷺ۔ پوچھا: کیا اُن کی طرف کوئی بھیجا گیا ہے؟ کہا: ہاں! تو کہا گیا خوش آمدید! بہترین آنے والا آیا ہے۔ پھر جب میں وہاں پہنچ گیا، وہاں حضرت ابراہیمؑ تھے، حضرت جبرئیل ؑ نے کہا: یہ تیرا باپ ابراہیمؑ ہے ان کو سلام کیجئے! میں نے اس پر سلام کیا اس نے جواب دیا، کہا: مرحبا! نیک بھائی اور نیک نبی۔ پھر مجھے سدرۃ المنتہیٰ تک اُٹھالے گئے، جس کے پھل ھجر کے مٹکوں جیسے اور جس کے پتےّ ہاتھی کے کانوں کے برابر تھے۔ (جبرئیلؑ) نے کہا: یہ سدرۃ المنتہیٰ ہے۔ اور وہاں پر چار نہریں تھیں، دو ظاہری اور دو باطنی۔ میں نے کہا: اے جبرئیل! یہ کیا ہے؟ جبرئیل ؑ نے کہا: یہ جو دو باطن نہریں ہیں یہ جنّت میں ہیں۔ اور یہ جو دوظاہری ہیں وہ نیل اور فرات ہیں۔ پھر مجھے بیت المعمور تک اُٹھالے گئے۔ پھر میرے پاس دو برتن ایک شراب کا اور ایک دودھ کا لائے گئے، میں نے دودھ کو پسند کر لیا۔ جبرئیل ؑ نے کہا: یہی فطرت ہے، آپ اور آپ کی امت اسی (فطرت) پر ہیں۔ اور مجھ پر ایک رات اور دن میں پچاس نمازیں فرض کی گئیں، پھر میں چھٹے آسمان پر واپس اُترا اور دوبارہ حضرت موسیٰؑ سے ملا۔ انہوں نے نمازوں کی فرضیت کے بارے میں پوچھا۔ میں نے کہا: پچاس نمازیں ہر دن۔ حضرت موسیٰ ؑ نے کہا: آپ کی اُمت اس کی طاقت نہیں رکھتی۔ موسیٰ ؑ نے فرمایا کہ اللہ کی قسم! میں نے آپ سے پہلے لوگوں پر تجربہ کیا ہے۔ اور میں نے بنی اسرائیل پر بہت محنت کی ہے۔ اپنے رب کے حضور جائیے اور اپنی امت کے لئے تخفیف کی درخواست کیجئے! تو میں حضور خداوندی میں واپس گیا۔ تو دس نمازوں کی کمی منظور ہوگئی۔ پھر میں حضرت موسیٰؑ کی طرف لوٹا، موسیٰؑ نے پھر پہلے کی طرح بات کی، میں پھر درگاہ کریمی میں گیا، پھر دس نمازوں کی کمی منظور ہوگئی، پھر میں حضرت موسیٰ ؑ کے پاس آیا۔ حضرت موسیٰ نے پھر پہلے کی طرح سمجھایا، میں پھر اللہ کے حضور گیا، پھر دس نمازوں کی کمی ہوگئی، پھر میں حضرت موسیٰ ؑ کے پاس آیا۔ حضرت موسیٰ نے پھر پہلے کی طرح سمجھایا، میں پھر اللہ کے حضور گیا، تو مجھے ہر دن دس نمازوں حکم ہوگیا، پھرمیں حضرت موسیٰ ؑ کے پاس لوٹ آیا۔ حضرت موسیٰ ؑنے پھر پہلے کی طرح سمجھایا، میں پھر اللہ کے حضور گیا، تو مجھے ہر دن پانچ نمازوں کا حکم ہوگیا، پھر میں حضرت موسیٰ ؑ کے پاس آیا۔ حضرت موسیٰ نے کہا کس چیز کے ساتھ امر کئے گئے ؟ میں نے کہا: ہر دن پانچ نمازوں کا حکم کیا گیا۔ حضرت موسیٰ ؑ نے کہا: آپ کی اُمت اس کی طاقت نہیں رکھتی۔ اور فرمایا کہ میں نے آپ سے پہلے لوگوں پر تجربہ کیا ہے۔ اور میں نے بنی اسرائیل پر بہت محنت کی ہے۔ اپنے رب کے حضور جائیے اور اپنی امت کے لئے تخفیف کی درخواست کیجئے! آپ ﷺنے فرمایا کہ میں اپنے رب سے سوال کرتے کرتے شرما گیا، اب میں راضی ہوں اور تسلیم کرلیتا ہوں، پھر جب میں وہاں سے گذرا تو ایک آواز دینے والے نے آواز دی کہ میں نے اپنے فرض کو نافذ (مضبوط) کیا اور اپنے بندوں سے تخفیف کردی۔‘‘
[صحيح البخاري:3887، ‌‌بَابُ الْمِعْرَاجِ]
[صحيح ابن حبان:48-50، شرح السنة للبغوي:3752]

حدیث معراج (انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی روایت) سے حاصل شدہ اسباق و نکات:

پہلا مرحلہ: سینہ مبارک کا کشادہ کیا جانا
قلب نبویﷺ کی طہارت: نبیﷺ کے سینے کو کھول کر قلب اطہر کو ایمان سے دھویا گیا اور بھرا گیا
نبوت کے لیے تیاری: یہ عمل بعثت اور معراج کے لیے روحانی تیاری تھا

دوسرا مرحلہ: براق اور آسمان کی طرف سفر
براق کا معجزانہ سواری: ایک خصوصی سواری جو فاصلے سمٹ دیتی تھی
فرشتوں کا نظام: ہر آسمان پر فرشتوں کی نگرانی اور اجازت کا نظام

تیسرا مرحلہ: ساتوں آسمانوں کا سفر اور انبیاء کی ملاقاتیں
ہر آسمان پر ایک نبی کی موجودگی:

پہلا آسمان: آدم علیہ السلام (بشریت کے جد امجد)
دوسرا آسمان: یحییٰ اور عیسیٰ علیہما السلام (چچیرے بھائی)
تیسرا آسمان: یوسف علیہ السلام (حسن کی مثال)
چوتھا آسمان: ادریس علیہ السلام (بلند مقام والے نبی)
پانچواں آسمان: ہارون علیہ السلام (فصاحت و بلاغت والے)
چھٹا آسمان: موسیٰ علیہ السلام (کلیم اللہ)
ساتواں آسمان: ابراہیم علیہ السلام (خلیل اللہ)

انبیاء کا نبیﷺ کا استقبال: ہر نبی نے "مرحبا بالأخ الصالح والنبی الصالح" کہہ کر خیرمقدم کیا

چوتھا مرحلہ: خاص واقعات اور مشاہدات
سدرۃ المنتہیٰ کا مشاہدہ
جنت کی حد کا نشان
اس کے پھل اور پتے کا عظیم الشان ہونا

چار نہروں کا مشاہدہ:
دو باطنی نہریں (جنت میں)
دو ظاہری نہریں (نیل اور فرات - زمین پر)

بیت المعمور کا مشاہدہ:
آسمانی کعبہ جہاں ہر روز ستر ہزار فرشتے نماز پڑھتے ہیں

پانچواں مرحلہ: تین مشروبوں کا انتخاب
شیر کا انتخاب:
خمر، دودھ اور شہد میں سے دودھ کا انتخاب
یہ "فطرت" کی علامت ہے جس پر نبیﷺ اور آپ کی امت ہیں

چھٹا مرحلہ: نمازوں کی فرضیت اور تخفیف
پچاس نمازوں کی ابتدائی فرضیت

حضرت موسیٰ علیہ السلام کی مشاورت:
ان کا امت کی طاقت کے بارے میں تجربہ رکھنا
ان کا بار بار نبیﷺ کو واپس جانے کی ترغیب دینا

نبیﷺ کی شفقت امت:
بار بار واپس جا کر تخفیف کی درخواست کرنا
بالآخر پانچ نمازوں پر اکتفا کرنا

اللہ کی رحمت:
پانچ نمازوں کا ثواب پچاس نمازوں جتنا قرار دینا
"أمضيت فريضتي وخففت عن عبادي" کا اعلان

ساتواں مرحلہ: خاص واقعات اور تاثرات
حضرت موسیٰ علیہ السلام کا رونا:
امت محمدیہ میں جنت میں داخل ہونے والوں کی کثرت دیکھ کر
یہ امت محمدیہ کی فضیلت کی دلیل ہے

مجموعی اسباق و نکات:
عقیدتی اسباق:
معراج کا ثبوت: جسم و روح دونوں کے ساتھ ہونے کا ثبوت
انبیاء کی حیات برزخی: انبیاء آسمانوں میں زندہ ہیں
فرشتوں کا وجود: ان کا فعال کردار اور نظام

اخلاقی اسباق:
ادب و احترام: نبیﷺ کا انبیاء کو سلام کرنا اور ان کا جواب دینا
تواضع: حضرت موسیٰ کا امت محمدیہ کی فضیلت پر رشک کرنا (غیرت نبوی)
شفقت: نبیﷺ کا امت کے لیے تخفیف کی کوشش کرنا

عملی اسباق:
نماز کی اہمیت: معراج کا تحفہ، مومن کی معراج
فطرت پر قائم رہنا: شیر کے انتخاب سے ظاہر ہوتا ہے
مشاورت کی اہمیت: حضرت موسیٰ سے مشورہ لینا

امتیازی اسباق:
امت محمدیہ کی فضیلت:
دیگر امتوں پر فضیلت
جنت میں داخل ہونے والوں کی کثرت
نمازوں میں تخفیف کے باوجود ثواب کی زیادتی

روحانی اسباق:
قلب کی طہارت: ایمان سے دل کو دھونا ضروری ہے
بلند مقامات کی طرف سفر: روحانی ترقی کا عمل
اللہ کی قربت حاصل کرنا: معراج کا حقیقی مقصد

نتیجہ:
یہ حدیث ہمیں سکھاتی ہے کہ:
  1. نماز ہماری معراج ہے، اسے پابندی سے ادا کریں
  2. فطرت پر قائم رہیں، باطل راستوں سے بچیں
  3. دل کو ایمان سے زندہ اور طاہر رکھیں
  4. امت محمدیہ ہونے پر شکر ادا کریں
  5. انبیاء کرام کا ادب و احترام کریں
  6. اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہوں، وہ تخفیف فرمانے والا ہے۔





وَكَانَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ يَقُولُ: كُنْتُ أَرَى أَثَرَ الْمِخْيَطِ فِي صَدْرِهِ. ثُمَّ بِمَا كَانَ لَهُ مِنَ الْمِعْرَاجِ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِهِ مِنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ إِلَى الْمَسْجِدِ الْأَقْصَى , ثُمَّ عُرِجَ بِهِ إِلَى سِدْرَةِ الْمُنْتَهَى , وَكَانَ ذَلِكَ فِي الْيَقَظَةِ، وَكُلُّ مَا أَخْبَرَ عَنْهُ مِنْ رُؤْيَةِ مَنْ رَآهُ تِلْكَ اللَّيْلَةَ مِنَ الْمَلَائِكَةِ وَالنَّبِيِّينَ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ وَغَيْرِ ذَلِكَ مِنْ آيَاتِ رَبِّهِ كَانَ رُؤْيَةَ عَيْنٍ
ترجمہ:
اور حضرت انس بن مالکؓ فرماتے تھے: "میں (نبی اکرم ﷺ کے) سینۂ مبارک پر پانسے (یا سوئی) کے نشان کو دیکھا کرتا تھا۔ پھر (یہ نشان) آپ کے معراج کی وجہ سے تھا، اس رات جب آپ کو مسجد الحرام سے مسجد الاقصیٰ تک لے جایا گیا، پھر آپ کو سدرۃ المنتہیٰ تک بلند کیا گیا۔ اور یہ سب کچھ بیداری (جاگتے ہوئے) کی حالت میں ہوا۔ اور اس رات جو کچھ آپ نے ملائکہ، انبیاء، جنت و دوزخ اور اپنے رب کی دیگر نشانیوں میں سے دیکھا اور بیان فرمایا، وہ سب آنکھوں (براہ راست مشاہدے) کا دیدار تھا (محض خواب نہ تھا)۔"
[الأعتقاد للبيهقي:1/289]

📖 حاصل شدہ اسباق و نکات:


1. معراج ایک حقیقی جسمانی سفر تھا: حضرت انس رضی اللہ عنہ کا نبی اکرم  کے سینۂ انور پر پانسے کے نشان کا براہ راست مشاہدہ بیان کرنا اس بات کی واضح ترین عقلی اور حسی دلیل ہے کہ معراج محض ایک روحانی یا خواب کا واقعہ نہیں، بلکہ ایک حقیقی جسمانی و روحانی سفر تھا۔ یہ نشان آپ کے سینے کو چیر کر قلب مبارک کو دھونے والے فرشتے کی کارروائی کا نشان تھا۔
2. بیداری میں مشاہدہ: تصریح ہے کہ یہ تمام واقعہ "فی الیقظۃ" یعنی جاگتی ہوئی حالت میں پیش آیا۔ اس سے ان تمام باتوں کا رد ہوتا ہے جو معراج کو محض ایک خواب یا روحانی تجربہ قرار دیتے ہیں۔
3. براہ راست مشاہدۂ عین: نبی اکرم  نے جو کچھ دیکھا، وہ "رؤیۃ عین" تھا، یعنی آنکھوں سے براہ راست دیکھنے کا مشاہدہ، نہ کہ خواب یا تصور۔ اس سے غیبی حقائق (ملائکہ، جنت، دوزخ) کے براہ راست مشاہدے کی حقیقت ثابت ہوتی ہے۔
4. انبیاء کرام علیہم السلام کی برزخی زندگی: معراج میں گذشتہ انبیاء کرام سے ملاقات کا تذکرہ اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ انبیاء علیہم السلام اپنی قبروں میں زندہ ہیں، وہ صرف دنیوی زندگی سے انتقال کر چکے ہیں نہ کہ مکمل فنا۔
5. نبی ﷺ کی صداقت کی زندہ دلیل: حضرت انس رضی اللہ عنہ جیسے صحابی کا ایک نسل در نسل اس نشان کو دیکھنا اور بیان کرنا معراج کے واقعہ کی تاریخی صداقت اور نبی اکرم  کی سچائی کی ایک مسلسل نظر آنے والی دلیل تھی، جو ہمیشہ لوگوں کے سامنے رہی۔
6. ایمانی یقین میں اضافہ: یہ بیان مومن کے دل میں معراج کے واقعے پر ایمانی یقین کو پختہ اور مضبوط کرتا ہے کہ یہ محض ایک تمثیلی کہانی نہیں بلکہ اپنے الفاظ کے حقیقی مفہوم میں پیش آنے والا عظیم معجزہ ہے۔
7. معجزے کا دائمی نشان: پانسے کا نشان ایک دائمی اور مشاہداتی معجزہ تھا جو ہر دیکھنے والے کے لیے اس عظیم واقعے کی تصدیق کا ذریعہ بنا رہا۔

خلاصہ: یہ اقتباس معراج کے واقعے کے حقیقی، جسمانی اور بیداری میں پیش آنے والے ہونے پر زور دیتا ہے اور اس کی صداقت کے لیے حسی اور تاریخی شہادت پیش کرتا ہے، جس سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کی سچائی مزید آشکار ہوتی ہے۔




(3)اللہ تعالیٰ نے محمد ﷺ کو کیا عطا کیا؟
جسمانی معراج مکہ میں ہوئی۔
حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے مروی ہے كہ رسول اللہ ‌ﷺ ‌نے فرمایا: جس رات مجھے سیر كروائی گئی اور میں مکہ میں آیا تو مجھے اپنے معاملے میں پر اعتماد نہ تھا اور مجھے معلوم ہوگیا كہ لوگ مجھے جھٹلائیں گے۔ آپ غمگین ہو كر علیحدہ بیٹھ گئے۔ اللہ كا دشمن ابوجہل وہاں سے گزرا اور آكر آپ ﷺ كے پاس بیٹھ گیا۔ اور آپ ﷺ سے استہزاء كرتے ہوئے كہا: كیا كوئی نئی بات ہو گئی ہے؟ رسول اللہ ‌ﷺ ‌نے فرمایا: ہاں۔ اس نے كہا: وہ كیا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: آج رات مجھے سیر کروائی گئی ہے۔ ابو جہل نے كہا: كس طرف؟ آپ ﷺ نے فرمایا: بیت المقدس كی طرف۔ ابو جہل نے كہا: (واہ) پھر بھی آپ ﷺ صبح كے وقت ہمارے درمیان موجود ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں۔ ابو جہل كو سمجھ نہیں آئی كہ آپ كو جھٹلا دے اس ڈر سے كہ كہیں وہ آپ كی قوم كو بلائے تو آپ اس بات كا انكار كر دیں۔ ابو جہل نے كہا: اگر میں آپ كی قوم كو بلاؤں اور جو آپ نے مجھے بتایا ہے انہیں بھی بتائیں تو آپ كا اس بارے میں كیا خیال ہے؟ رسول اللہ ‌ﷺ ‌نے فرمایا: ٹھیک ہے۔ ابو جہل نے آواز دی: اے بنی كعب بن لؤئی كے لوگو! آؤ۔ لوگ ٹولیوں كی صورت میں اس كی طرف آنے لگے اور آكر بیٹھ گئے۔ ابو جہل نے كہا: اپنی قوم كو بتاؤ جو آپ نے مجھے بتایا ہے۔ رسول اللہ ‌ﷺ ‌نے فرمایا: آج رات مجھے سفر كروایا گیا۔ لوگوں نے كہا: كس طرف؟ آپ ‌ﷺ ‌نے فرمایا: بیت المقدس كی طرف لوگوں نے كہا: آپ پھر بھی ہمارے درمیان بیٹھے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں، كچھ لوگ تالیاں بجانے لگے اور كچھ لوگ آپ کے (ان کے گمان میں) جھوٹے دعوے پر تعجب كرتے ہوئے اپنے ہاتھ اپنے سر پر ركھنے لگے، كہنے لگے: كیا آپ ہمیں اس مسجد كے اوصاف(تفصیل) بیان كرنے كی قدرت ركھتے ہیں؟ ان لوگوں میں ایسے لوگ بھی تھے جو اس ملک میں گئے تھے اور وہ مسجد دیكھی تھی۔ رسول اللہ ‌ﷺ ‌نے فرمایا: میں انہیں اوصاف(تفصیل) بتانے لگا میں انہیں اوصاف بتا رہا تھا كہ كوئی نشانی مجھ پر ملتبس(مبہم،غیر واضح) ہو گئی۔ آپ نے فرمایا: پھر وہ مسجد میرے سامنے كردی گئی، میں اسے دیكھ رہا تھا حتی كہ وہ عقال یا عقیل كے گھروں كے سامنے كردی گئی، اور میں اس كی نشانیاں بتا رہا تھا۔ اور اسے دیكھ رہا تھا۔ اس میں ایسی نشانی بھی تھی جو مجھے یاد نہیں تھی۔ لوگوں نے كہا: اللہ كی قسم! یہ نشانی اس نے درست بتائی ہے۔
[المصنف - ابن أبي شيبة - ت الشثري:39331، مسند أحمد:2819، مسند البزار:5305، السنن الكبرى - النسائي:11221، المعجم الكبير للطبراني:12782، الأحاديث المختارة:37، سلسلة الأحاديث الصحيحة:‌‌3021]

نوٹ:
تذکرہ اس دلیل کا کہ پیغمبر  جاگتے ہوئے چڑھے تھے۔
اور یہ بھی کہ قریش نے اس کا انکار کیا اور اگر یہ خواب ہے تو اس کا انکار نہیں کیا جاتا۔
[التوحيد لابن منده(م395ھ): حدیث نمبر 27]

نبوت کا ثبوت(پیغمبری کی سچائی کا ثبوت)
[دلائل النبوۃ للبیھقی:656(2/364)، دلائل النبوة لإسماعيل لأصبهاني:75]

📖 حاصل شدہ اسباق و نکات:


1. توحید و صداقتِ نبوت کا عملی اثبات
    بیت المقدس کی ایسی صحیح تفصیلات بیان کرنا جو مکہ کے مسافروں نے تصدیق کیں، نبی اکرم ﷺ کے معجزہ معراج کے سچا ہونے اور آپ کے بارے میں اللہ کی مداخلت کا واضح ثبوت ہے۔

2. نبی ﷺ کی بشریت اور ہدایت کی فکر
    آپ ﷺ کا غمگین حالت میں تنہا بیٹھنا اور لوگوں کے انکار کا اندیشہ، امت کی ہدایت کے لیے آپ کی گہری فکر اور آپ کی بشری جبلت کا اظہار ہے۔

3. مخالفین کے رویے اور ان کی نیت
    ابو جہل کا پہلے نجی طور پر پوچھنا اور پھر عوامی اجتماع طلب کرنا، مخالفین کی چالاکی اور نبی ﷺ کو رسوا کرنے کی نیت کو ظاہر کرتا ہے۔

4. اللہ کی خصوصی نصرت و امداد
    جب کچھ تفصیلات یاد نہ آئیں تو بیت المقدس کو سامنے لا کر دکھانا، یہ ظاہر کرتا ہے کہ جب بندہ حق کی تبلیغ میں لگا ہو تو اللہ اس کی مدد فرماتا ہے۔

5. سچائی کا اعتماد اور عوامی اعلان
    آپ ﷺ نے جان بوجھ کر اپنا معجزہ عوامی مجمع میں دہرایا، جو حق کی تبلیغ میں بے خوفی اور اللہ پر توکل کی اعلیٰ مثال ہے۔

6. بیت المقدس کی مرکزی اہمیت اور تعلق
    معراج میں بیت المقدس کو مرکزی مقام حاصل ہونا، مسلمانوں کے لیے اس مقدس مقام سے روحانی و تاریخی تعلق کی اہمیت کو واضح کرتا ہے۔

7. مومن کے لیے تسلی اور عبرت
    یہ واقعہ بتاتا ہے کہ سچائی آخرکار ظاہر ہو کر رہتی ہے اور ہر دعوتی کام میں صبر و استقامت کی ضرورت ہوتی ہے۔






















أنبأ عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَالَ: ثنا إِبْرَاهِيمُ، قَالَ: نا آدَمُ، قَالَ: ثنا شَيْبَانُ، قَالَ: نا قَتَادَةُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَمَّا عرج بِي إِلَى السَّمَاءِ رُفِعْتُ إِلَى سِدْرَةِ الْمُنْتَهَى، فَرَأَيْتُ عِنْدَهَا نُورًا عَظِيمًا، وَإِذَا وَرَقُهَا مِثْلُ آذَانِ الْفُيُولِ، وَإِذَا نَبْقُهَا مِثْلُ قِلَالِ هَجَرَ، وَإِذَا أَرْبَعَةُ أَنْهَارٍ يَخْرُجُ مِنْ أَصْلِهَا نَهَرَانِ ظَاهِرَانِ وَنَهْرَانِ بَاطِنَانِ فَقُلْتُ: مَا هَذَا يَا جِبْرِيلُ؟ قَالَ: أَمَا الْبَاطِنَانِ فَنَهَرَانِ فِي الْجَنَّةِ، وَأَمَّا الظَّاهِرَانِ فَالنِّيلُ وَالْفُرَاتُ " ۔
ترجمہ:
عَبْدُ الرَّحْمَنِ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہمیں اِبْرَاهِيمُ نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں: ہمیں آدَمُ نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں: ہمیں شَيْبَانُ نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں: ہمیں قَتَادَةُ نے حضرت اَنَسِ بْنِ مَالِک رضی اللہ عنہ سے بیان کیا، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نے فرمایا:
"جب مجھے آسمان کی طرف معراج کرائی گئی تو مجھے سدرۃ المنتہیٰ تک پہنچایا گیا۔ میں نے اس کے پاس ایک عظیم نور دیکھا۔ اس کے پتے ہاتھیوں کے کانوں کی طرح تھے اور اس کے پھل ہجر (یعنی خطہ بحرین) کے مٹکوں (قلال) کی مانند تھے۔ اور اس کی جڑ سے چار نہریں نکل رہی تھیں: دو ظاہری نہریں اور دو باطنی نہریں۔ میں نے (جبرائیلؑ سے) پوچھا: 'اے جبرائیل! یہ کیا ہے؟' انہوں نے جواب دیا: 'رہیں دو باطنی نہریں، تو وہ جنت میں ہیں، اور رہیں دو ظاہری نہریں، تو وہ نیل اور فرات ہیں۔'"
[تفسیر مجاھد:ج1 /ص626، سورۃ النجم، آیت 16]
---
حدیث کے سیاق میں قرآن کا حوالہ:
یہ حدیث سورۃ النجم کی ان آیات کے پس منظر میں ہے جہاں سدرۃ المنتہیٰ کا ذکر ہے:
· آیت 14: عِندَ سِدْرَةِ الْمُنتَهَىٰ (سدرۃ المنتہیٰ کے پاس)
· آیت 16: إِذْ يَغْشَى السِّدْرَةَ مَا يَغْشَىٰ (جب سدرہ کو ڈھانپ رہا تھا جو کچھ (نور) ڈھانپ رہا تھا)

تفسیری نکات:
· معراج نبوی کا عظیم واقعہ: یہ حدیث واقعہ معراج کی عظمت اور اس میں نبی  کے مشاہدات کی صداقت پر زور دیتی ہے۔
· سدرۃ المنتہیٰ کی حقیقت: یہ ایک حقیقی اور عظیم الشان مقام ہے جو ساتویں آسمان پر ہے۔ تفسیر میں اس بات کی وضاحت ہے کہ معراج کی رات اس پر اللہ کی تجلیات، فرشتوں کے عکس اور سونے کے پروانے منڈلا رہے تھے۔
· ظاہری و باطنی نعمتوں کا سرچشمہ: سدرۃ المنتہیٰ سے نکلنے والی نہریں اس بات کی علامت ہیں کہ زمین پر موجود زندگی کے دو اہم سرچشمے (نیل و فرات) اور ابدی زندگی کی نعمتیں (جنت کی نہریں) ایک ہی بلند تر اور روحانی منبع سے جڑی ہوئی ہیں۔
· مشاہدے کی صداقت: حدیث میں پتے اور پھلوں کی واضح مثالوں (تشبیہات) کے ساتھ بیان اس مشاہدے کی حقیقت اور تفصیل کو مزید پختہ کرتا ہے۔






أنبأ عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَالَ: ثنا إِبْرَاهِيمُ، قَالَ: ثنا آدَمُ، قَالَ: ثنا شَيْبَانُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ، قَالَ: قَالَ: رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَمَّا عرج بِي إِلَى السَّمَاءِ أَتَيْتُ عَلَى نَهَرٍ حَافَّتَاهُ قِبَابُ اللُّؤْلُؤِ الْمُجَوَّفِ، فَقُلْتُ: «مَا هَذَا يَا جِبْرِيلُ؟» قَالَ: هَذَا الْكَوْثَرُ الَّذِي أَعْطَاكَ رَبُّكَ، فَأَهْوَى الْمَلَكَ بِيَدِهِ وَاسْتَخْرَجَ مِنْ طِينِهِ مِسْكًا أَذْفَرَ۔
ترجمہ:
عبدالرحمن نے خبر دی، کہا: ہمیں ابراہیم نے بیان کیا، کہا: ہمیں آدم نے بیان کیا، کہا: ہمیں شیبان نے قتادہ سے بیان کیا، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"جب مجھے آسمان پر (معراج پر) لے جایا گیا تو میں ایک ایسے نہر کے پاس سے گزرا جس کے دونوں کناروں پر کھوکھلے موتیوں کے گنبد تھے۔ میں نے پوچھا: اے جبرائیل! یہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا: یہ وہی کوثر ہے جس کا تمہیں تمہارے رب نے وعدہ دیا ہے۔ پھر فرشتے نے اپنا ہاتھ (نہر میں) ڈالا اور اس کی مٹی سے سے انتہائی خوشبودار مشک نکالا۔"
[تفسیر مجاھد:ج1 /ص756، سورۃ الكوثر، آیت 1]
---

📖 حاصل شدہ اسباق و نکات:

1. معراج النبی کی عظمت: یہ دونوں روایات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے معراج کے عظیم الشان واقعہ کی تفصیلات بیان کرتی ہیں، جو آپ کے اللہ تعالیٰ کے ہاں منفرد مقام اور آپ کی رسالت کی سچائی کی زندہ دلیل ہے۔
2. غیبی حقائق کا مشاہدہ: نبی  نے اپنی بیداری اور جسد کے ساتھ ان غیبی حقائق (سدرۃ المنتہیٰ، جنت کی نہریں، نہرِ کوثر) کا براہِ راست مشاہدہ فرمایا۔ یہ ایمان بالغیب کو تقویت دیتا ہے کہ یہ سب کچھ حقیقت ہے۔
3. اللہ کی عطا کردہ خاص نعمتیں:
   · سدرۃ المنتہیٰ: یہ مخلوقات کی علم اور عبادت کی انتہا ہے۔ اس کے عظیم النور ہونے، بڑے پتوں اور بڑے پھلوں کا ذکر اس کی عظمت اور جمال کو ظاہر کرتا ہے۔
   · نہرِ کوثر: یہ رسول اللہ  کو عطا کی گئی ایک خصوصی نعمت ہے۔ اس کی توصیف (موتیوں کے گنبد، مشک کی خوشبو) اس کی خوبصورتی، قیمت اور لذت کی انتہا کو بیان کرتی ہے۔
4. دنیا و آخرت کے درمیان ربط: سدرۃ المنتہیٰ سے نکلنے والی دو ظاہری نہریں (نیل و فرات) اس بات کی علامت ہیں کہ زمین پر اللہ کی عطا کردہ بعض نعمتیں (پانی، رزق) درحقیقت ایک بلند تر اور روحانی سرچشمے (سدرۃ المنتہیٰ) سے جڑی ہوئی ہیں۔ اس سے دنیاوی نعمتوں کی قدروقیمت بڑھ جاتی ہے۔
5. باطنی و ظاہری علوم کی علامت: نہروں کے "ظاہر" اور "باطن" ہونے کا ذکر اس طرف اشارہ کر سکتا ہے کہ کائنات اور احکامِ الٰہی کے بھی ظاہری (دنیاوی) اور باطنی (اخروی، روحانی) پہلو ہوتے ہیں۔ مومن کو دونوں پر ایمان رکھنا چاہیے۔
6. جبرائیلؑ کا رول: دونوں واقعات میں جبرائیلؑ رسول اللہ  کے رہنما، راستہ دکھانے والے اور غیبی حقائق کی وضاحت کرنے والے کے طور پر موجود ہیں۔ یہ آپ کے فرشتۂ وحی ہونے کے مقام کی نشاندہی کرتا ہے۔
7. جنت کی نعمتوں کی حقیقت: ان بیانات سے پتا چلتا ہے کہ جنت کی نعمتیں (نہریں، درخت، خوشبو) نہ صرف حقیقی ہیں بلکہ ہماری دنیاوی نفسیات کے مطابق انتہائی حسین، خوشبودار اور قیمتی اشکال میں ہوں گی، مگر ان کی حقیقی لذت و خوبصورتی کا ادراک اس دنیا میں ممکن نہیں۔
8. حدیث کی کتابت کی اہمیت: یہ مستند احادیث "تفسیر مجاہد" جیسی قدیم مستند تفسیری کتاب میں محفوظ ہیں، جو حدیث کو جمع کرنے، اسے سند کے ساتھ نقل کرنے اور محفوظ رکھنے کی اسلاف کی کوشش کا ثبوت ہے۔










عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: لَمَّا عرج بِنَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْجَنَّةِ، أَوْ كَمَا قَالَ: عُرِضَ لَهُ نَهْرٌ حَافَتَاهُ الْيَاقُوتُ الْمُجَيَّبُ، أَوْ قَالَ: الْمُجَوَّفُ، فَضَرَبَ الْمَلَكُ الَّذِي مَعَهُ يَدَهُ، فَاسْتَخْرَجَ مِسْكًا، فَقَالَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْمَلَكِ الَّذِي مَعَهُ: «مَا هَذَا؟» قَالَ: الْكَوْثَرُ الَّذِي أَعْطَاكَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ.
ترجمہ:
سیدنا انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ جب اللہ کے نبی ﷺ کو معراج کے موقع پر جنت میں لے جایا گیا تو آپ ﷺ کے سامنے ایک نہر لائی گئی، ”جس کے دونوں کنارے (خول دار) یاقوت کے تھے“۔ آپ ﷺ کے ساتھ جو فرشتہ تھا، اس نے (اس کی تہہ میں) ہاتھ مارا اور کستوری (مِسک) نکالی۔ تو نبی کریم ﷺ نے اس فرشتے سے پوچھا: ”یہ کیا ہے؟“ اس نے کہا: ”یہ وہ کوثر ہے جو اللہ عزوجل نے آپ کو دی ہے۔“
[سنن ابوداؤد:4748، مسند البزار:7016، المعجم الأوسط-للطبراني:2885]


📖 حاصل شدہ اسباق و نکات:


① واقعۂ معراج کی تصدیق:
یہ حدیث معراج کے عظیم واقعے کی ایک اور تفصیلی تصویر پیش کرتی ہے۔ اس میں نبی ﷺ کا جنت میں براہِ راست مشاہدہ بیان ہوا ہے، جو آپ ﷺ کی رسالت کی سچائی اور آپ کے اللہ کے ہاں بلند مقام کی واضح دلیل ہے۔
② نہرِ کوثر کی حقیقت و خصوصیات:
• حقیقت: کوثر محض ایک علامتی لفظ نہیں، بلکہ جنت میں ایک حقیقی نہر ہے، جس کا مشاہدہ نبی ﷺ نے خود کیا۔
• خصوصیات: اس کے کنارے خول دار یاقوت (المجیب/المجوف) سے بنے ہیں اور اس کی تہہ سے خالص مِسک نکلتی ہے۔ یہ اس کی پاکیزگی، نفاست اور بے مثال خوبصورتی کی علامت ہے۔
③ جنت کی نعمتوں کا بیان:
جنت کی نعمتیں (یاقوت، مِسک) اس دنیا کی قیمتی ترین چیزوں سے بھی کہیں بلند و برتر ہیں۔ ان کا ذکر ایمان بالآخرت کو تقویت دیتا ہے اور آخرت کی نعمتوں کے حصول کے لیے ترغیب بنتا ہے۔
④ فرشتوں کا کردار:
فرشتے نبی ﷺ کے رفیق، راہنما اور غیبی حقائق کی وضاحت کرنے والے ہیں۔ یہاں فرشتہ نہر کوثر کی پہچان کرا رہا ہے اور اس کی خاصیت بتا رہا ہے۔
⑤ نبی ﷺ کی بلند فضیلت:
کوثر نبی ﷺ کو خصوصی طور پر عطا کی گئی نہر ہے، جس کا تذکرہ قرآن پاک (سورۃ الکوثر) میں بھی آیا ہے۔ یہ آپ ﷺ کے اللہ کے ہاں مقامِ محبوبیت کی نشاندہی کرتی ہے۔
⑥ حدیث کا درجہ:
یہ حدیث سنن أبي داود (حدیث نمبر 4748) میں موجود ہے اور ”صحیح“ کے درجے میں ہے۔
---
1. نہر کوثر کی عظمت و حقیقت: یہ حدیث نہر کوثر کی موجودگی، اس کی حسین ترین (یاقوت کے کنارے) اور انتہائی پاکیزہ ترین (مسک کی خوشبو) ہونے کی تصدیق کرتی ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے آخری نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا گیا ایک انمول اور لازوال انعام ہے۔
2. معراج کی صداقت اور مشاہدات: یہ واقعہ اس بات کی مزید واضح دلیل ہے کہ معراج صرف روحانی سفر نہیں تھا، بلکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے جسم مبارک کے ساتھ جنت کی حقیقی نعمتوں کا مشاہدہ فرمایا۔
3. جنت کی نعمتوں کا معیار: جنت کی نعمتیں اس دنیا کی نعمتوں سے بالاتر ہیں۔ یہاں کنارے یاقوت جیسے قیمتی پتھر کے ہیں اور پانی مشک جیسی عمدہ خوشبو رکھتا ہے۔ اس سے جنت کی نعمتوں کی لطافت، نفاست اور بیش قیمت ہونے کا اندازہ ہوتا ہے۔
4. فرشتوں کا کردار: معراج کے سفر میں فرشتے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے راہنما اور غیبی حقائق کی وضاحت کرنے والے تھے، جو ان کے مقام اور رسول اللہ کی خدمت میں ان کی مصروفیت کو ظاہر کرتا ہے۔
5. رسول اللہ  کا بلند مقام: کوثر کا عطا کیا جانا رسول اللہ  کے اللہ کے ہاں مقرب ترین ہونے کی علامت ہے۔ یہ آپ کی امت کے لیے بھی باعث فخر ہے۔
6. ایمان بالغیب کی تقویت: ایسے احادیث مومن کے ایمان کو مضبوط کرتی ہیں کہ جنت اور اس کی تمام نعمتیں اسی طرح حقیقی ہیں جیسا کہ بیان کیا گیا ہے، خواہ ہم اس وقت انہیں اپنی آنکھوں سے نہ دیکھ سکیں۔
---
مزید وضاحت:
آپ نے اس سے قبل تفسیر مجاہد سے ایک اور روایت پیش کی تھی جس میں بھی نہر کوثر کا ذکر تھا۔ دونوں احادیث ایک ہی مرکزی واقعے (معراج میں کوثر کا مشاہدہ) کی طرف اشارہ کرتی ہیں، مگر الفاظ اور جزئیات میں معمولی فرق ہے، جیسے:

· پہلی روایت (تفسیر مجاہد): کناروں پر "قباب اللؤلؤ المجوف" (کھوکھلے موتیوں کے گنبد) تھے۔
· دوسری روایت (سنن ابی داؤد): کنارے "الياقوت المجيب/المجوف" (کھوکھلے یاقوت) کے تھے۔

یہ فرق "روايت بالمعنى" (معنی کے ساتھ روایت) کی وجہ سے ہو سکتا ہے، جہاں راوی نے ایک ہی حقیقت کو بیان کرنے کے لیے مختلف لیکن قریب المعنی الفاظ استعمال کیے ہیں، دونوں جنت کی نعمت کی عظمت، قیمت اور حسینی کو ہی بیان کر رہے ہیں۔ دونوں روایات مل کر نہر کوثر کی عظمت اور حسن کی مکمل تصویر پیش کرتی ہیں۔
---
جامع خلاصہ:
آپ نے واقعہ معراج سے متعلق کئی اہم احادیث پیش کیں۔ ان سب کو یکجا کر کے دیکھا جائے تو چند اہم مشترکہ نکات سامنے آتے ہیں:
1. معراج ایک حقیقی اور عظیم الشان معجزہ تھا جس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جسم و روح کے ساتھ سفر فرمایا۔
2. آپ نے غیب کی عظیم حقیقتیں اپنی آنکھوں سے دیکھیں: سدرۃ المنتہیٰ، اس کی نہریں، جنت اور اس کی نعمتیں (حوریں، کوثر)۔
3. یہ مشاہدات نبی  کے بلند ترین مقام اور آپ کی رسالت کی سچائی کی زندہ دلیل ہیں۔
4. ان واقعات میں مستقبل کے لیے بشارتیں بھی ہیں: جیسے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے لیے مخصوص حور کی بشارت۔
5. یہ سب احادیث مومن کے ایمان، یقین اور اللہ کی نعمتوں کی امید کو مضبوط کرتی ہیں۔

اللہ تعالیٰ ہمیں ان احادیث پر غور و فکر اور عمل کی توفیق عطا فرمائے۔









عَنْ قَتَادَةَ، فِي قَوْلِهِ: {وَرَفَعْنَاهُ مَكَانًا عَلِيًّا، قَالَ: حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، أَنَّ نَبِيَّ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَمَّا عرج بِي رَأَيْتُ إِدْرِيسَ فِي السَّمَاءِ الرَّابِعَةِ.
ترجمہ:
 حضرت قتادہ رحمہ اللہ اس آیت [اور ہم نے انہیں ایک بلند مقام پر اٹھا لیا] کی تفسیر میں کہتے ہیں: ہمیں انس بن مالکؓ نے بیان کیا کہ نبی اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "جب مجھے معراج کرائی گئی تو میں نے ادریسؑ کو چوتھے آسمان پر دیکھا۔"
[سنن الترمذي:3157، مسند احمد:13739، مسند أبو يعلى:2914، صحيح الجامع:5212(1684)]

شواھد
﴿صحيح البخاري:3887، صحيح مسلم:164، سنن النسائي:448-450، صحيح ابن حبان:50، مسند الشاميين للطبراني:341]
---

📖 حاصل شدہ اسباق و نکات:

1. حضرت ادریس علیہ السلام کا بلند مقام: یہ حدیث قرآن مجید میں حضرت ادریس علیہ السلام کے لیے بیان کردہ "بلند مقام" کی عملی تشریح کرتی ہے۔ یہ بلند مقام چوتھے آسمان پر ان کی موجودگی کی صورت میں نبی صلی اللہ کو دکھایا گیا۔
2. معراج: انبیاء کے مقامات کا مشاہدہ: معراج کے سفر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف آسمانوں پر پچھلے انبیاء علیہم السلام کو ان کے مختلف مقامات پر دیکھا۔ یہ انبیاء کے درجات اور اللہ کے ہاں ان کے مقام کی عظمت کی نشاندہی کرتا ہے۔
3. قرآن و حدیث کا باہمی تعلق: یہ حدیث قرآن مجید کی تفسیر کرتی ہے اور اس کے مجمل بیان کو تفصیل سے واضح کرتی ہے۔ اس سے سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا کردار بھی واضح ہوتا ہے جو قرآن کے معانی و مطالب کو کھولتی ہے۔
4. آسمانی دنیا کی حقیقت: آسمان محض فضا یا خلا نہیں ہیں، بلکہ یہ اللہ کی مخلوقات (فرشتے، انبیاء کی ارواح وغیرہ) کا مسکن ہیں، جہاں ایک نظام قائم ہے۔
5. نبی  کی امتیازی شان: آپ  کو تمام مخلوقات میں سب سے افضل ہونے کے ناطے وہ مشاہدات کرائے گئے جو کسی اور کو نہیں کرائے گئے۔ تمام انبیاء کو ان کے آسمانی مقامات پر دیکھنا بھی آپ ہی کا خاصہ ہے۔

---
دیگر احادیث کے ساتھ ہم آہنگی اور جامع سبق:

1. توحید و رسالت کی نشانیاں: سدرۃ المنتہیٰ، فرشتوں کا دیدار، انبیاء کا مشاہدہ۔
2. آخرت کی حقیقت کا براہ راست مشاہدہ: جنت (عدن، کوثر، حوریں) اور جہنم (غیبت کرنے والوں کا عذاب) کے مناظر۔
3. اخلاقی تعلیمات: غیبت کی مذمت، اللہ کی خاطر محبت کی فضیلت، صبر اور حکمت پر ایمان۔
4. امت کے لیے بشارتیں: صحابہ کرام (جیسے حضرت عثمان) کی فضیلت کی نشاندہی۔
5. اللہ کی قدرت اور نبی کے مقام کا اعلان: یہ سب کچھ اللہ کی لا محدود قدرت اور اپنے حبیب  کے نرالے مقام کو ظاہر کرنے کے لیے تھا۔







اخلاقی واصلاحی تعلیم

غیبت
غیبت کے متعلق ارشادِ ربانی ہے:  وَلَا يَغْتَبْ بَعْضُكُمْ بَعْضًا أَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ أَنْ يَأْكُلَ لَحْمَ أَخِيهِ مَيْتًا فَكَرِهْتُمُوهُ وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ تَوَّابٌ رَحِيمٌ   (سورۃ الحجرات:۱۲) اور تم میں سے ایک دوسرے کی غیبت نہ کرے، کیا تم میں سے کوئی اس بات کو پسند کرتا ہے کہ اپنے مرے ہوئے بھائی کا گوشت کھائے اس کو تو تم ناپسند کرتے ہو، ارشادِ نبوی ہے:

"عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَمَّا عُرِجَ بِیْ مَرَرْتُ بِقَوْمٍ لَھُمْ أَظْفَارٌ مِنْ نُحَاسٍ یَخْمُشُوْنَ وُجُوْھَھُمْ وَصُدُوْرَھُمْ فَقُلْتُ مَنْ ھَؤُلَائِ یَا جِبْرِیْلُ قَالَ ھَؤُلَائِ الَّذِیْنَ یَأْکُلُوْنَ لُحُوْمَ النَّاسِ وَیَقَعُوْنَ فِیْ أَعْرَاضِھِمْ"۔

ترجمہ:
حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ 
"جب مجھے معراج کرائی گئی تو (ملاء اعلیٰ کے اس سفر میں) میں ایسے لوگوں کے پاس سے گزرا جن کے تانبے کے ناخن تھے اور وہ اپنے چہروں اور اپنے سینوں کو نوچ رہے تھے۔ میں نے (جبرائیلؑ سے) پوچھا: 'اے جبرائیل! یہ کون لوگ ہیں؟' انہوں نے کہا: 'یہ وہ لوگ ہیں جو لوگوں کا گوشت کھاتے ہیں (یعنی غیبت کرتے ہیں) اور ان کی عزتوں پر حملہ آور ہوتے ہیں۔'"

[مسند احمد:13340، سنن ابوداؤد:4878، مسند الشاميين للطبراني:932، شعب الإيمان-للبيهقي:6290، لأحاديث المختارة:2286، مشكاة المصابيح:5046، جامع الصغير-للسيوطي:9344، جامع الأحاديث-للسيوطي:45168، السلسلة الأحاديث الصحیحة:533]
---
📖 علامہ المناوی کی تشریح کے نکات:
مناوی رحمہ اللہ نے اپنی شرح "فیض القدیر" میں درج ذیل اہم باتوں کی وضاحت کی ہے:
· عذاب کی نوعیت کی حکمت: مناوی نے امام الطیبی کا قول نقل کیا ہے کہ چونکہ چہرہ اور سینہ نوچنا عام طور پر عورتوں کے ماتم کی خصوصیت ہے، اس لیے غیبت کرنے والے کو یہی سزا دی گئی۔ اس سے اشارہ ملتا ہے کہ یہ فعل مردوں کے شایانِ شان نہیں، بلکہ عورتوں کے بھی انتہائی بدصورت اور ناگوار عمل کی مانند ہے۔
· علامہ غزالی کا استدلال: مناوی نے امام غزالی کا یہ قول بھی نقل کیا ہے کہ لوگوں کی عزتیں نوچنے والا قیامت کے دن درندہ صفت کتے کی شکل میں اٹھایا جائے گا۔ اسی طرح مال کے حریص کو بھیڑیے، متکبر کو چیتے اور ریاست کے طالب کو شیر کی صورت میں اٹھایا جائے گا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس دنیا میں یہ ظاہری صورتیں ان کے باطن کی حقیقت (یعنی بری صفات) پر غالب آجاتی ہیں۔

💡 دیگر علماء کے اضافی نکات و فوائد
حدیث کے دیگر شروحات اور تفاسیر سے مندرجہ ذیل اضافی فوائد ملتے ہیں:
· غیبت کی سنگینی: غیبت کو "لوگوں کا گوشت کھانے" سے تشبیہ دینا اس گناہ کی شدید قبحت اور اس کے نفسانی لذت کے باوجود حقیقت میں انتہائی مکروہ ہونے کو ظاہر کرتا ہے۔
· کبائر میں شمار: یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ لوگوں کی عزتوں پر حملہ (غیبت، بہتان وغیرہ) کبیرہ گناہوں میں سے ہے، جس کی آخرت میں سخت سزا ہے۔
· ایمان بالغیب: معراج میں دکھائے گئے ان مناظر پر ایمان لانا ایمان بالغیب کا تقاضا ہے اور آخرت کے عذاب سے ڈرنے کا سبب بنتا ہے۔

🧭 عملی سبق اور نتیجہ:
اس حدیث اور اس کی شرح سے حاصل ہونے والا سب سے بڑا عملی سبق یہ ہے کہ غیبت اور بدگمانی سے سختی سے بچنا چاہیے۔ یہ نہ صرف دینا میں تباہ کن ہے بلکہ آخرت میں اذیت ناک عذاب کا سبب بنے گی۔ زبان کی حفاظت اور دوسرے مسلمان بھائی کی عزت کی حفاظت ہر مومن پر فرض ہے۔

📖 حاصل شدہ اسباق و نکات:

1. غیبت کی مذمت اور اس کی شدید سزا: یہ حدیث غیبت کو ایک انتہائی سنگین گناہ قرار دیتی ہے جس کی آخرت میں بہت ہی تکلیف دہ اور خوفناک سزا ہوگی۔ "لوگوں کا گوشت کھانا" غیبت کی مکروہ ترین تصویر ہے، جیسے آدمی اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھائے۔
2. زبان کی حفاظت کی اہمیت: یہ حدیث ہمارے "لسان" (زبان) کے گناہوں پر سخت انتباہ ہے۔ چہرے اور سینے کو نوچنا اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ غیبت کا گناہ اسی عضو (زبان) سے ہوتا ہے جو بولتا ہے، اور اسی چہرے اور سینے (دل) سے جڑا ہوتا ہے جہاں سے نیت اور حسد پیدا ہوتا ہے۔
3. معراج: تعلیم اور انذار کا سفر: معراج کا سفر صرف جنت کی نعمتوں کو دکھانے کے لیے نہیں تھا، بلکہ اس میں جہنم کے بعض عذابوں کے مناظر بھی دکھائے گئے تاکہ امت کو گناہوں کے انجام سے ڈرایا جائے اور اخلاقی تربیت ہو۔
4. عزت اور آبرو کی حرمت: کسی مسلمان کی عزت اور آبرو کو نیچا دکھانا، اس پر بہتان لگانا یا اس کی برائی کرنا ایسا قبیح فعل ہے کہ اس کی سزا میں انسان خود اپنا چہرہ (جو عزت کی علامت ہے) اور سینہ (جو رازوں کی امین ہے) نوچے گا۔
5. عمل کی باز پرس: ہر عمل کا حساب ہوگا۔ جو لوگ دنیا میں دوسروں کو زبانی اذیت پہنچاتے، ان کی غیبت کرتے اور انہیں رسوا کرتے ہیں، وہ آخرت میں اپنے ہی ہاتھوں سے اپنی سزا بھگتیں گے۔
6. جبرائیلؑ کا علم غیب: فرشتے اللہ کے حکم سے غیب کی ان باتوں سے آگاہ ہوتے ہیں جن سے انہیں آگاہ کیا جاتا ہے۔
---
قرآن مجید میں غیبت کی مذمت:
اس حدیث کی تصدیق قرآن مجید کی اس آیت سے بھی ہوتی ہے:
وَلَا يَغْتَب بَّعْضُكُم بَعْضًا ۚ أَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ أَن يَأْكُلَ لَحْمَ أَخِيهِ مَيْتًا فَكَرِهْتُمُوهُ ۚ (سورۃ الحجرات: 12)
"اور تم میں سے کوئی کسی کی غیبت نہ کرے۔ کیا تم میں سے کوئی اس بات کو پسند کرے گا کہ وہ اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھائے؟ تم اسے ناگوار ہی سمجھو گے۔"
---
خلاصہ:
1. تکمیل ایمان: معراج آخرت کے تمام مراحل — جنت، جہنم، انعام اور عذاب — کا براہ راست مشاہدہ تھا، تاکہ ایمان بالآخرت مکمل ہو۔
2. توازن کا پیغام: ان احادیث میں جنت کی نعمتوں (سدرہ، کوثر، حوریں) کی خوشخبری کے ساتھ گناہوں کی سزا (غیبت کرنے والے) کا ڈر بھی دلایا گیا ہے۔ یہ امت کے لیے رجاء (امید) اور خوف کے درمیان توازن قائم کرتا ہے۔
3. اخلاقی تربیت: ہر حدیث ہمیں عملی سبق دیتی ہے: اللہ کی خاطر محبت رکھو، غیبت سے بچو، صحابہ کا احترام کرو، دنیا کی ظاہری باتوں پر جلد فیصلہ نہ کرو۔
4. رسول اللہ ﷺ کا مقام: یہ تمام مشاہدات آپ ﷺ کے مخصوص مقام و مرتبے کی نشاندہی کرتے ہیں کہ آپ کو وہ سب کچھ دکھایا گیا جو کسی اور نبی کو نہیں دکھایا گیا۔

اللہ تعالیٰ ہمیں ان احادیث پر غور کرنے اور ان سے سبق لے کر اپنی زندگیوں میں عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔





حدیث نمبر 1

عَنْ أَبِي ذَرٍّ - رضي الله عنه - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم -:

(" فُرِجَ سَقْفُ بَيْتِي وَأَنَا بِمَكَّةَ) (¬1) (لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِي مِنْ مَسْجِدِ الْكَعْبَةِ) (¬2) (فَنَزَلَ جِبْرِيلُ - عليه السلام - فَفَرَجَ صَدْرِي، 

[ وفي رواية: فَشَقَّ جِبْرِيلُ مَا بَيْنَ نَحْرِهِ إِلَى لَبَّتِهِ حَتَّى فَرَغَ مِنْ صَدْرِهِ وَجَوْفِهِ

(¬3) (ثُمَّ غَسَلَهُ بِمَاءِ زَمْزَمَ) (¬4) (حَتَّى أَنْقَى جَوْفِي) (¬5) (ثُمَّ جَاءَ بِطَسْتٍ مِنْ ذَهَبٍ مُمْتَلِئٍ حِكْمَةً وَإِيمَانًا) (¬6) (وَعِلْمًا) (¬7) (فَأَفْرَغَهَا فِي صَدْرِي ثُمَّ أَطْبَقَهُ) (¬8) (ثُمَّ أُتِيتُ بِالْبُرَاقِ) (¬9) (مُسْرَجًا مُلْجَمًا) (¬10) (- وَهُوَ دَابَّةٌ أَبْيَضُ طَوِيلٌ , فَوْقَ الْحِمَارِ وَدُونَ الْبَغْلِ يَضَعُ حَافِرَهُ عِنْدَ مُنْتَهَى طَرْفِهِ , قَالَ: فَرَكِبْتُهُ) (¬11) (فَاسْتَصْعَبَ عَلَيَّ، فَقَالَ لَهُ جِبْرِيلُ:) (¬12) (مَا يَحْمِلُكَ عَلَى هَذَا؟) (¬13) (أَبِمُحَمَّدٍ تَفْعَلُ هَذَا؟) (¬14) (فَوَاللَّهِ مَا رَكِبَكَ أَحَدٌ أَكْرَمَ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مِنْهُ، قَالَ: فَارْفَضَّ الْبُرَاقُ عَرَقًا) (¬15) (قَالَ: فَمَرَرْتُ عَلَى مُوسَى وَهُوَ قَائِمٌ يُصَلِّي فِي قَبْرِهِ عِنْدَ الْكَثِيبِ الْأَحْمَرِ) (¬16) (فَلَمَّا انْتَهَيْنَا إِلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ قَالَ جِبْرِيلُ بِإِصْبَعِهِ فَخَرَقَ بِهِ الْحَجَرَ , وَشَدَّ بِهِ الْبُرَاقَ) (¬17) (

[ وفي رواية: فَرَبَطْتُهُ بِالْحَلْقَةِ الَّتِي يَرْبِطُ بِهِ الْأَنْبِيَاءُ،

ثُمَّ دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ فَصَلَّيْتُ فِيهِ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ خَرَجْتُ، فَجَاءَنِي جِبْرِيلُ بِإِنَاءٍ مِنْ خَمْرٍ وَإِنَاءٍ مِنْ لَبَنٍ) (¬18) (فَقَالَ: اشْرَبْ أَيَّهُمَا شِئْتَ , فَأَخَذْتُ اللَّبَنَ فَشَرِبْتُهُ) (¬19) (فَقَالَ جِبْرِيلُ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي هَدَاكَ لِلْفِطْرَةِ , لَوْ أَخَذْتَ الْخَمْرَ غَوَتْ أُمَّتُكَ) (¬20) (قَالَ: وَقَدْ رَأَيْتُنِي فِي جَمَاعَةٍ مِنْ الْأَنْبِيَاءِ , فَحَانَتْ الصَلَاةُ فَأَمَمْتُهُمْ , فَلَمَّا فَرَغْتُ مِنْ الصَلَاةِ قَالَ قَائِلٌ: يَا مُحَمَّدُ , هَذَا مَالِكٌ صَاحِبُ النَّارِ فَسَلِّمْ عَلَيْهِ , فَالْتَفَتُّ إِلَيْهِ فَبَدَأَنِي بِالسَّلَامِ) (¬21) (ثُمَّ وَضَعْتُ قَدَمَيَّ حَيْثُ تُوضَعُ أَقْدَامُ الْأَنْبِيَاءِ مِنْ بَيْتِ الْمَقْدِسِ) (¬22) (ثُمَّ أَخَذَ جِبْرِيلُ بِيَدِي فَعَرَجَ بِي إِلَى السَّمَاءِ، فَلَمَّا جَاءَ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا قَالَ جِبْرِيلُ لِخَازِنِ السَّمَاءِ: افْتَحْ , قَالَ: مَنْ هَذَا؟ قَالَ: هَذَا جِبْرِيلُ , قَالَ: مَعَكَ أَحَدٌ؟ , قَالَ: مَعِي مُحَمَّدٌ , قَالَ: أُرْسِلَ إِلَيْهِ؟) (¬23) (- لَا يَعْلَمُ أَهْلُ السَّمَاءِ بِمَا يُرِيدُ اللَّهُ بِهِ فِي الْأَرْضِ حَتَّى يُعْلِمَهُمْ -) (¬24) (قَالَ: نَعَمْ فَافْتَحْ) (¬25) (قَالَ: مَرْحَبًا بِهِ وَأَهْلًا) (¬26) (فَنِعْمَ الْمَجِيءُ جَاءَ) (¬27) (وَاسْتَبْشِرَ بِي أَهْلُ السَّمَاءِ) (¬28) (فَلَمَّا عَلَوْنَا السَّمَاءَ الدُّنْيَا إِذَا رَجُلٌ عَنْ يَمِينِهِ أَسْوِدَةٌ (¬29) وَعَن يَسَارِهِ أَسْوِدَةٌ، وَإِذَا نَظَرَ قِبَلَ يَمِينِهِ تَبَسَّمَ، وَإِذَا نَظَرَ قِبَلَ يَسَارِهِ بَكَى) (¬30) (فَقُلْتُ لِجِبْرِيلَ: مَنْ هَذَا؟) (¬31) (قَالَ: هَذَا أَبُوكَ آدَمُ) (¬32) (وَهَذِهِ نَسَمُ بَنِيهِ، فَأَهْلُ اليَمِينِ مِنْهُمْ أَهْلُ الْجَنَّةِ، وَالْأَسْوِدَةُ الَّتِي عَنْ شِمَالِهِ أَهْلُ النَّارِ فَإِذَا نَظَرَ عَنْ يَمِينِهِ ضَحِكَ، وَإِذَا نَظَرَ قِبَلَ شِمَالِهِ بَكَى) (¬33) (فَسَلِّمْ عَلَيْهِ، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَرَدَّ السَّلَامَ ثُمَّ قَالَ: مَرْحَبًا بِالِابْنِ الصَّالِحِ وَالنَّبِيِّ الصَّالِحِ) (¬34) (فَإِذَا أَنَا فِي السَّمَاءِ الدُّنْيَا بِنَهَرَيْنِ يَطَّرِدَانِ (¬35) فَقُلْتُ: مَا هَذَانِ النَّهَرَانِ يَا جِبْرِيلُ؟، قَالَ: هَذَا النِّيلُ وَالْفُرَاتُ عُنْصُرُهُمَا، ثُمَّ مَضَى بِي فِي السَّمَاءِ، فَإِذَا أَنَا بِنَهَرٍ آخَرَ، عَلَيْهِ قَصْرٌ مِنْ لُؤْلُؤٍ وَزَبَرْجَدٍ (¬36)) (¬37) (

[ وفي رواية: حَافَتَاهُ قِبَابُ الدُّرِّ الْمُجَوَّفِ

, فَقُلْتُ: مَا هَذَا يَا جِبْرِيلُ؟ , قَالَ: هَذَا الْكَوْثَرُ الَّذِي أَعْطَاكَ رَبُّكَ) (¬38) (فَضَرَبْتُ بِيَدِي فَإِذَا طِينُهُ هُوَ مِسْكٌ أَذْفَرُ) (¬39) (ثُمَّ عَرَجَ بِي إِلَى السَّمَاءِ الثَّانِيَةِ، فَقَالَتْ الْمَلَائِكَةُ لَهُ مِثْلَ مَا قَالَتْ لَهُ الْأُولَى: مَنْ هَذَا؟ , قَالَ: جِبْرِيلُ , قَالُوا: وَمَنْ مَعَكَ؟ قَالَ: مُحَمَّدٌ , قَالُوا: وَقَدْ بُعِثَ إِلَيْهِ؟ , قَالَ: نَعَمْ , قَالُوا: مَرْحَبًا بِهِ وَأَهْلًا) (¬40) (وَلَنِعْمَ الْمَجِيءُ جَاءَ) (¬41) (فَفُتِحَ لَنَا , فَإِذَا أَنَا بِابْنَيْ الْخَالَةِ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ , وَيَحْيَى بْنِ زَكَرِيَّاءَ صَلَوَاتُ اللَّهِ عَلَيْهِمَا) (¬42) (فَقَالَ جِبْرِيلُ: هَذَا يَحْيَى وَعِيسَى فَسَلِّمْ عَلَيْهِمَا , فَسَلَّمْتُ فَرَدَّا ثُمَّ قَالَا: مَرْحَبًا بِالْأَخِ الصَّالِحِ وَالنَّبِيِّ الصَّالِحِ) (¬43) (وَدَعَوَا لِي بِخَيْرٍ) (¬44) (وَإِذَا عِيسَى رَجُلٌ مَرْبُوعَ الْخَلْقِ) (¬45) (

[ وفي رواية: مُبَطَّنَ الْخَلْقِ

(¬46) حَدِيدَ الْبَصَرِ) (¬47) (إِلَى الْحُمْرَةِ وَالْبَيَاضِ , سَبِطَ الرَّأْسِ) (¬48) 

[ وفي رواية: جَعْدَ الرَّأْسِ

(¬49) (كَأَنَّمَا خَرَجَ مِنْ دِيمَاسٍ - يَعْنِي الْحَمَّامَ -) (¬50) (أَقْرَبُ النَّاسِ بِهِ شَبَهًا عُرْوَةُ بْنُ مَسْعُودٍ الثَّقَفِيُّ) (¬51) (ثُمَّ عَرَجَ بِي جِبْرِيلُ إِلَى السَّمَاءِ الثَّالِثَةِ، فَاسْتَفْتَحَ فَقِيلَ: مَنْ أَنْتَ؟ , قَالَ: جِبْرِيلُ , قِيلَ: وَمَنْ مَعَكَ؟ , قَالَ: مُحَمَّدٌ، قِيلَ: وَقَدْ بُعِثَ إِلَيْهِ؟ , قَالَ: قَدْ بُعِثَ إِلَيْهِ) (¬52) (قِيلَ: مَرْحَبًا بِهِ , وَلَنِعْمَ الْمَجِيءُ جَاءَ) (¬53) (فَفُتِحَ لَنَا، فَإِذَا أَنَا بِيُوسُفَ - عليه السلام -، وَإِذَا هُوَ قَدْ أُعْطِيَ شَطْرَ الْحُسْنِ) (¬54) (فَقَالَ جِبْرِيلُ: هَذَا يُوسُفُ فَسَلِّمْ عَلَيْهِ , فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَرَدَّ ثُمَّ قَالَ: مَرْحَبًا بِالْأَخِ الصَّالِحِ وَالنَّبِيِّ الصَّالِحِ) (¬55) (وَدَعَا لِي بِخَيْرٍ , ثُمَّ عَرَجَ بِنَا جِبْرِيلُ إِلَى السَّمَاءِ الرَّابِعَةِ فَاسْتَفْتَحَ، فَقِيلَ: مَنْ هَذَا؟ , قَالَ: جِبْرِيلُ، قِيلَ: وَمَنْ مَعَكَ؟ , قَالَ: مُحَمَّدٌ، قَالَ: وَقَدْ بُعِثَ إِلَيْهِ؟ , قَالَ: قَدْ بُعِثَ إِلَيْهِ , فَفُتِحَ لَنَا، فَإِذَا أَنَا بِإِدْرِيسَ - عليه السلام -، فَرَحَّبَ وَدَعَا لِي بِخَيْرٍ، قَالَ اللَّهُ - عز وجل -: {وَرَفَعْنَاهُ مَكَانًا عَلِيًّا

، ثُمَّ عَرَجَ بِنَا إِلَى السَّمَاءِ الْخَامِسَةِ، فَاسْتَفْتَحَ جِبْرِيلُ، قِيلَ: مَنْ هَذَا؟ , قَالَ: جِبْرِيلُ، قِيلَ: وَمَنْ مَعَكَ؟ , قَالَ: مُحَمَّدٌ، قِيلَ: وَقَدْ بُعِثَ إِلَيْهِ؟ , قَالَ: قَدْ بُعِثَ إِلَيْهِ , فَفُتِحَ لَنَا، فَإِذَا أَنَا بِهَارُونَ - عليه السلام -، فَرَحَّبَ وَدَعَا لِي بِخَيْرٍ، ثُمَّ عَرَجَ بِنَا إِلَى السَّمَاءِ السَّادِسَةِ، فَاسْتَفْتَحَ جِبْرِيلُ - عليه السلام -، قِيلَ: مَنْ هَذَا؟ , قَالَ: جِبْرِيلُ، قِيلَ: وَمَنْ مَعَكَ؟ , قَالَ: مُحَمَّدٌ، قِيلَ: وَقَدْ بُعِثَ إِلَيْهِ؟ , قَالَ: قَدْ بُعِثَ إِلَيْهِ , فَفُتِحَ لَنَا، فَإِذَا أَنَا بِمُوسَى - عليه السلام -) (¬56) (فَقَالَ: مَرْحَبًا بِالنَّبِيِّ الصَّالِحِ وَالْأَخِ الصَّالِحِ , قُلْتُ: مَنْ هَذَا؟ , قَالَ: هَذَا مُوسَى) (¬57) (وَإِذَا هُوَ رَجُلٌ ضَرْبٌ) (¬58) 

[ وفي رواية: مُضْطَرِبٌ

(¬59) (أَسْحَمَ آدَمَ كَثِيرَ الشَّعْرِ) (¬60)

(رَجِلُ الرَّأْسِ) (¬61) (

[ وفي رواية: جَعْدٌ

) (¬62) (شَدِيدَ الْخَلْقِ) (¬63) (كَأَنَّهُ مِنْ رِجَالِ شَنُوءَةَ) (¬64) (ثُمَّ عَرَجَ بِي إِلَى السَّمَاءِ السَّابِعَةِ) (¬65) (فَلَمَّا جَاوَزْتُ مُوسَى بَكَى، فَقِيلَ: مَا أَبْكَاكَ؟) (¬66) (قَالَ: يَا رَبِّ هَذَا الْغُلَامُ الَّذِي بُعِثَ بَعْدِي يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِهِ أَكْثَرُ وَأَفْضَلُ مِمَّا يَدْخُلُ مِنْ أُمَّتِي) (¬67) (رَبِّ لَمْ أَظُنَّ أَنْ يُرْفَعَ عَلَيَّ أَحَدٌ، ثُمَّ عَلَا بِهِ فَوْقَ ذَلِكَ بِمَا لَا يَعْلَمُهُ إِلَّا اللَّهُ) (¬68) (فَاسْتَفْتَحَ جِبْرِيلُ فَقِيلَ: مَنْ هَذَا؟ , قَالَ: جِبْرِيلُ، قِيلَ: وَمَنْ مَعَكَ؟ , قَالَ: مُحَمَّدٌ - صلى الله عليه وسلم -، قِيلَ: وَقَدْ بُعِثَ إِلَيْهِ؟ , قَالَ: نَعَمْ , قَالَ: مَرْحَبًا بِهِ فَنِعْمَ الْمَجِيءُ جَاءَ) (¬69) (فَفُتِحَ لَنَا فَإِذَا أَنَا بِإِبْرَاهِيمَ - عليه السلام - مُسْنِدًا ظَهْرَهُ إِلَى الْبَيْتِ الْمَعْمُورِ، وَإِذَا هُوَ يَدْخُلُهُ كُلَّ يَوْمٍ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ ثُمَّ لَا يَعُودُونَ إِلَيْهِ) (¬70) (آخِرَ مَا عَلَيْهِمْ) (¬71) (أَشْبَهُ النَّاسِ بِهِ صَاحِبُكُمْ - يَعْنِي نَفْسَهُ -) (¬72) (قُلْتُ: مَنْ هَذَا؟) (¬73) (فَقَالَ جِبْرِيلُ: هَذَا أَبُوكَ فَسَلِّمْ عَلَيْهِ) (¬74) (قَالَ: فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَرَدَّ السَّلَامَ وَقَالَ: مَرْحَبًا بِالِابْنِ الصَّالِحِ وَالنَّبِيِّ الصَّالِحِ) (¬75) (قَالَ: وَمَرَرْتُ بِقَوْمٍ لَهُمْ أَظْفَارٌ مِنْ نُحَاسٍ يَخْمُشُونَ وُجُوهَهُمْ وَصُدُورَهُمْ , فَقُلْتُ: مَنْ هَؤُلَاءِ يَا جِبْرِيلُ؟ , قَالَ: هَؤُلَاءِ الَّذِينَ يَأْكُلُونَ لُحُومَ النَّاسِ (¬76) وَيَقَعُونَ فِي أَعْرَاضِهِمْ) (¬77) (وَمَرَرْتُ عَلَى قَوْمٍ تُقْرَضُ شِفَاهُهُمْ بِمَقَارِيضَ (¬78) مِنْ نَارٍ , كلما قُرِضَتْ وَفَتْ , فَقُلْتُ: مَنْ هَؤُلَاءِ يا جبريل؟ , مَنْ هَؤُلَاءِ؟ , قَالَ: هَؤُلَاءِ خُطَبَاءُ أُمَّتِكَ الَّذِينَ يَقُولُونَ مَا لَا يَفْعَلُونَ، وَيَقْرَؤُنَ كِتَابَ اللَّه وَلَا يَعْمَلُونَ بِهِ) (¬79) وفي رواية (¬80): هَؤُلَاءِ خُطَبَاءُ أُمَّتِكَ , الَّذِينَ يَأْمُرُونَ النَّاسَ بِالْبِرِّ وَيَنْسَوْنَ أَنْفُسَهُمْ وَهُمْ يَتْلُونَ الْكِتَابَ أَفَلَا يَعْقِلُونَ؟ " (قَالَ: ثُمَّ أُدْخِلْتُ الْجَنَّةَ، فَإِذَا فِيهَا جَنَابِذُ اللُّؤْلُؤِ، وَإِذَا تُرَابُهَا الْمِسْكُ) (¬81) (قَالَ: ثُمَّ انْطَلَقَ بِي جِبْرِيلُ) (¬82) (إِلَى سِدْرَةِ الْمُنْتَهَى , وَإِذَا وَرَقُهَا كَآذَانِ الْفِيَلَةِ , وَإِذَا ثَمَرُهَا) (¬83) (كَأَنَّهُ قِلَالُ هَجَرَ) (¬84) (يَخْرُجُ مِنْ سَاقِهَا) (¬85) (أَرْبَعَةُ أَنْهَارٍ: نَهْرَانِ ظَاهِرَانِ، وَنَهْرَانِ بَاطِنَانِ، فَسَأَلْتُ جِبْرِيلَ فَقَالَ: أَمَّا الْبَاطِنَانِ فَفِي الْجَنَّةِ، وَأَمَّا الظَّاهِرَانِ، فَالنِّيلُ وَالْفُرَاتُ) (¬86) (قَالَ: فَلَمَّا غَشِيَهَا مِنْ أَمْرِ اللَّهِ مَا غَشِيَهَا تَحَوَّلَتْ يَاقُوتًا أَوْ زُمُرُّدًا أَوْ نَحْوَ ذَلِكَ) (¬87)

(وَغَشِيَهَا أَلْوَانٌ لَا أَدْرِي مَا هِيَ) (¬88) (فَمَا أَحَدٌ مِنْ خَلْقِ اللَّهِ يَسْتَطِيعُ أَنْ يَنْعَتَهَا مِنْ حُسْنِهَا) (¬89) (وَدَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - لِلْجَبَّارِ رَبِّ الْعِزَّةِ فَتَدَلَّى، حَتَّى كَانَ مِنْهُ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَى) (¬90) 

[ وفي رواية: ثُمَّ عُرِجَ بِي حَتَّى ظَهَرْتُ لِمُسْتَوَى أَسْمَعُ فِيهِ صَرِيفَ الْأَقْلَامِ

(¬91) (فَأَوْحَى اللَّهُ إِلَيَّ مَا أَوْحَى، فَفَرَضَ) (¬92) (عَلَى أُمَّتِي خَمْسِينَ صَلَاةً) (¬93) (فِي كُلِّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ) (¬94) (فَرَجَعْتُ بِذَلِكَ حَتَّى مَرَرْتُ عَلَى مُوسَى) (¬95) (فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ مَاذَا فَرَضَ رَبُّكَ عَلَى أُمَّتِكَ؟، قُلْتُ: فَرَضَ عَلَيْهِمْ خَمْسِينَ صَلَاةً) (¬96) (كُلَّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ) (¬97) (قَالَ: ارْجِعْ إِلَى رَبِّكَ فَاسْأَلْهُ التَّخْفِيفَ , فَإِنَّ أُمَّتَكَ لَا يُطِيقُونَ ذَلِكَ , فَإِنِّي قَدْ بَلَوْتُ بَنِي إِسْرَائِيلَ وَخَبَرْتُهُمْ) (¬98) (فَالْتَفَتَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - إِلَى جِبْرِيلَ كَأَنَّهُ يَسْتَشِيرُهُ فِي ذَلِكَ، فَأَشَارَ إِلَيْهِ جِبْرِيلُ، أَنْ نَعَمْ إِنْ شِئْتَ , قَالَ: فَعَلَا بِهِ إِلَى الْجَبَّارِ، فَقَالَ وَهُوَ مَكَانَهُ: يَا رَبِّ، خَفِّفْ عَنَّا فَإِنَّ أُمَّتِي لَا تَسْتَطِيعُ هَذَا) (¬99) (فَوَضَعَ شَطْرَهَا , فَرَجَعْتُ إِلَى مُوسَى فَقُلْتُ: وَضَعَ شَطْرَهَا , فَقَالَ: رَاجِعْ رَبَّكَ فَإِنَّ أُمَّتَكَ لَا تُطِيقُ ذَلِكَ , فَرَاجَعْتُهُ فَوَضَعَ شَطْرَهَا , فَرَجَعْتُ إِلَيْهِ فَقَالَ: ارْجِعْ إِلَى رَبِّكَ فَإِنَّ أُمَّتَكَ لَا تُطِيقُ ذَلِكَ) (¬100) (يَا مُحَمَّدُ , وَاللَّهِ لَقَدْ رَاوَدْتُ بَنِي إِسْرَائِيلَ قَوْمِي عَلَى أَدْنَى مِنْ هَذَا فَضَعُفُوا فَتَرَكُوهُ، فَأُمَّتُكَ أَضْعَفُ أَجْسَادًا وَقُلُوبًا وَأَبْدَانًا وَأَبْصَارًا وَأَسْمَاعًا، فَارْجِعْ فَلْيُخَفِّفْ عَنْكَ رَبُّكَ - كُلَّ ذَلِكَ يَلْتَفِتُ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - إِلَى جِبْرِيلَ لِيُشِيرَ عَلَيْهِ وَلَا يَكْرَهُ ذَلِكَ جِبْرِيلُ - فَرَفَعَهُ عِنْدَ الْخَامِسَةِ فَقَالَ: يَا رَبِّ، إِنَّ أُمَّتِي ضُعَفَاءُ أَجْسَادُهُمْ وَقُلُوبُهُمْ وَأَسْمَاعُهُمْ وَأَبْصَارُهُمْ وَأَبْدَانُهُمْ، فَخَفِّفْ عَنَّا، فَقَالَ الْجَبَّارُ: يَا مُحَمَّدُ، قُلْتُ: لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ، قَالَ: إِنَّهُ لَا يُبَدَّلُ الْقَوْلُ لَدَيَّ كَمَا فَرَضْتُهُ عَلَيْكَ فِي أُمِّ الْكِتَابِ) (¬101) (إِنِّي قَدْ أَمْضَيْتُ فَرِيضَتِي وَخَفَّفْتُ عَن عِبَادِي , وَأَجْزِي الْحَسَنَةَ عَشْرًا) (¬102) (إِنَّهُنَّ خَمْسُ صَلَوَاتٍ كُلَّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ، لِكُلِّ صَلَاةٍ عَشْرٌ) (¬103) (فَهِيَ خَمْسُونَ فِي أُمِّ الْكِتَابِ وَهِيَ خَمْسٌ عَلَيْكَ) (¬104) (وَمَنْ هَمَّ بِحَسَنَةٍ فَلَمْ يَعْمَلْهَا كُتِبَتْ لَهُ حَسَنَةً، فَإِنْ عَمِلَهَا كُتِبَتْ لَهُ عَشْرًا , وَمَنْ هَمَّ بِسَيِّئَةٍ فَلَمْ يَعْمَلْهَا لَمْ تُكْتَبْ شَيْئًا , فَإِنْ عَمِلَهَا كُتِبَتْ سَيِّئَةً وَاحِدَةً، قَالَ: فَنَزَلْتُ حَتَّى انْتَهَيْتُ إِلَى مُوسَى) (¬105) (فَقَالَ: كَيْفَ فَعَلْتَ؟ , قُلْتُ: خَفَّفَ اللَّهُ عَنَّا , أَعْطَانَا بِكُلِّ حَسَنَةٍ عَشْرَ أَمْثَالِهَا، فَقَالَ مُوسَى: قَدْ وَاللَّهِ رَاوَدْتُ بَنِي إِسْرَائِيلَ عَلَى أَدْنَى مِنْ ذَلِكَ فَتَرَكُوهُ , ارْجِعْ إِلَى رَبِّكَ فَلْيُخَفِّفْ عَنْكَ أَيْضًا، فَقُلْتُ: يَا مُوسَى، قَدْ وَاللَّهِ اسْتَحْيَيْتُ مِنْ رَبِّي مِمَّا اخْتَلَفْتُ إِلَيْهِ , قَالَ: فَاهْبِطْ بِاسْمِ اللَّهِ، فَاسْتَيْقَظَ وَهُوَ فِي مَسْجِدِ الْحَرَامِ ") (¬106)

ترجمہ:

حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

"(میرے گھر کی چھت شق کر دی گئی) (1) (جب میں مکہ میں تھا) اس رات جب مسجد کعبہ سے مجھے سفر کرایا گیا (2) تو جبرائیلؑ اترے اور میرے سینے کو چاک کیا، [اور ایک روایت میں ہے: پھر جبرائیلؑ نے آپ کے حلق سے لے کر سینے کے بالائی حصے تک پھاڑا یہاں تک کہ آپ کے سینے اور پیٹ کو صاف کر لیا] (3) (پھر اسے زم زم کے پانی سے دھویا) (4) (یہاں تک کہ میرے پیٹ کو صاف کر دیا) (5) (پھر وہ حکمت اور ایمان سے بھرا ہوا ایک سونے کا طشت لے کر آئے) (6) (اور علم) (7) (پھر اسے میرے سینے میں انڈیل دیا پھر اس کو بند کر دیا) (8) (پھر میرے پاس براق لایا گیا) (9) (زین اور لگام سے آراستہ) (10) (وہ ایک سفید رنگ کا لمبا جانور تھا، گدھے سے بڑا اور خچر سے چھوٹا، اپنا کھر اپنی نظر کی انتہا پر رکھتا تھا، آپ ﷺ نے فرمایا: میں اس پر سوار ہوا) (11) (تو وہ مجھ پر اڑیل ہو گیا، تو جبرائیلؑ نے اس سے کہا:) (12) ("تیری یہ حرکت کیوں ہے؟) (13) (کیا تو محمد () کے ساتھ ایسا کرتا ہے؟) (14) (اللہ کی قسم! اللہ تعالیٰ کے ہاں آپ سے زیادہ معزز کوئی نہیں ہے جو تیری پشت پر سوار ہوا ہو، آپ  نے فرمایا: تو براق پسینے سے شرشرا گیا) (15) (آپ ﷺ نے فرمایا: میں موسیٰؑ کے پاس سے گزرا اور وہ سرخ ٹیلے کے پاس اپنی قبر میں کھڑے نماز پڑھ رہے تھے) (16) (پھر جب ہم بیت المقدس پہنچے تو جبرائیلؑ نے اپنی انگلی سے پتھر کو چیرا اور اس سے براق کو باندھ دیا) (17) ([اور ایک روایت میں ہے: میں نے اسے اس حلقے سے باندھ دیا جس میں انبیاء باندھتے تھے]، پھر میں مسجد میں داخل ہوا اور وہاں دو رکعتیں پڑھیں پھر باہر نکل آیا، تو جبرائیلؑ میرے پاس شراب کا ایک برتن اور دودھ کا ایک برتن لے کر آئے) (18) (تو فرمایا: جسے چاہو پیو، تو میں نے دودھ لے کر پیا) (19) (تو جبرائیلؑ نے کہا: اللہ کا شکر ہے جس نے آپ کو فطرت کی طرف ہدایت دی، اگر آپ شراب لیتے تو آپ کی امت گمراہ ہو جاتی) (20) (آپ  نے فرمایا: اور میں نے اپنے آپ کو انبیاء کے ایک گروہ میں پایا، پھر نماز کا وقت ہوا تو میں نے ان کی امامت کرائی، پھر جب میں نماز سے فارغ ہوا تو ایک کہنے والے نے کہا: اے محمد! یہ دوزخ کا داروغہ مالک ہے، اسے سلام کرو، تو میں اس کی طرف متوجہ ہوا تو اس نے مجھے سلام کرنا شروع کر دیا) (21) (پھر میں نے اپنے قدم بیت المقدس میں انبیاء کے قدموں کی جگہ پر رکھے) (22) (پھر جبرائیلؑ نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے آسمان کی طرف لے گئے، پھر جب وہ آسمان دنیا پر پہنچے تو جبرائیلؑ نے آسمان کے داروغہ سے کہا: کھولو، اس نے کہا: یہ کون ہے؟ جبرائیلؑ نے کہا: یہ جبرائیل ہیں، اس نے کہا: آپ کے ساتھ کوئی ہے؟ جبرائیلؑ نے کہا: میرے ساتھ محمد () ہیں، اس نے کہا: کیا انہیں بھیجا گیا ہے؟) (23) (- آسمان والے اس بات کو نہیں جانتے جو اللہ زمین میں کرنا چاہتا ہے یہاں تک کہ وہ انہیں بتا دے -) (24) (جبرائیلؑ نے کہا: ہاں، پس کھولو) (25) (اس نے کہا: ان کا استقبال ہے اور وہ خیرمقدم کے لائق ہیں) (26) (وہ کتنی اچھی آمد ہے جو وہ لائے ہیں) (27) (اور آسمان والوں نے میری آمد پر خوشی کا اظہار کیا) (28) (پھر جب ہم آسمان دنیا پر چڑھے تو دیکھا کہ ایک شخص ہے جس کے دائیں جانب سیاہ فام لوگ ہیں (29) اور بائیں جانب سیاہ فام لوگ ہیں، اور جب وہ اپنی دائیں جانب دیکھتا ہے تو مسکراتا ہے، اور جب اپنی بائیں جانب دیکھتا ہے تو روتا ہے) (30) (تو میں نے جبرائیلؑ سے پوچھا: یہ کون ہیں؟) (31) (انہوں نے کہا: یہ آپ کے والد آدمؑ ہیں) (32) (اور یہ ان کی اولاد کی روحیں ہیں، ان میں سے دائیں طرف والے جنتی ہیں، اور بائیں طرف والے سیاہ فام لوگ اہل دوزخ ہیں، پس جب وہ دائیں طرف دیکھتا ہے تو ہنستا ہے، اور جب بائیں طرف دیکھتا ہے تو روتا ہے) (33) (انہیں سلام کرو، تو میں نے انہیں سلام کیا تو انہوں نے جواب دیا پھر کہا: نیک بیٹے اور نیک نبی کا خیرمقدم ہے) (34) (پھر میں آسمان دنیا میں دو نہروں کے پاس تھا جو تیزی سے بہہ رہی تھیں (35) تو میں نے کہا: اے جبرائیل! یہ دو نہریں کون سی ہیں؟ انہوں نے کہا: یہ نیل اور فرات ہیں ان کا ماخذ، پھر وہ مجھے آسمان میں لے گئے، پھر میں ایک اور نہر کے پاس تھا، جس پر موتی اور زمرد کا محل تھا (36)) (37) ([اور ایک روایت میں ہے: اس کے کنارے کھوکھلے موتیوں کے خیمے تھے]، تو میں نے کہا: اے جبرائیل! یہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا: یہ وہ کوثر ہے جو آپ کے رب نے آپ کو عطا کی ہے) (38) (تو میں نے اپنا ہاتھ مارا تو اس کی مٹی خوشبو دار مشک تھی) (39) (پھر جبرائیلؑ مجھے دوسرے آسمان پر لے گئے، تو فرشتوں نے ان سے وہی کہا جو پہلے فرشتوں نے کہا تھا: یہ کون ہے؟ انہوں نے کہا: جبرائیل، انہوں نے کہا: اور تمہارے ساتھ کون ہے؟ انہوں نے کہا: محمد ()، انہوں نے کہا: کیا انہیں بھیجا گیا ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں، انہوں نے کہا: ان کا استقبال ہے اور وہ خیرمقدم کے لائق ہیں) (40) (اور وہ کتنی اچھی آمد ہے جو وہ لائے ہیں) (41) (تو ہمارے لیے کھولا گیا، پھر میں نے دیکھا کہ چچا زاد بھائی عیسیٰ ابن مریم اور یحییٰ بن زکریا علیہم السلام ہیں) (42) (تو جبرائیلؑ نے کہا: یہ یحییٰ اور عیسیٰ ہیں، انہیں سلام کرو، تو میں نے سلام کیا تو انہوں نے جواب دیا پھر دونوں نے کہا: نیک بھائی اور نیک نبی کا خیرمقدم ہے) (43) (اور انہوں نے میرے لیے بھلائی کی دعا کی) (44) (اور عیسیٰؑ معتدل جسم کے مالک ہیں) (45) ([اور ایک روایت میں ہے: پیٹ سے دبلے]) (46) تیز نگاہ والے) (47) (سرخ و سفید رنگت والے، بال لمبے) (48) [اور ایک روایت میں ہے: گھنگریالے بال] (49) (گویا وہ غسل خانے سے نکلے ہیں) (50) (ان سے سب سے زیادہ مشابہت رکھنے والے عروہ بن مسعود ثقفی ہیں) (51) (پھر جبرائیلؑ مجھے تیسرے آسمان پر لے گئے، تو انہوں نے دروازہ کھلوانے کی درخواست کی تو کہا گیا: تم کون ہو؟ انہوں نے کہا: جبرائیل، کہا گیا: اور تمہارے ساتھ کون ہے؟ انہوں نے کہا: محمد ()، کہا گیا: کیا انہیں بھیجا گیا ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں، انہیں بھیجا گیا ہے) (52) (کہا گیا: ان کا استقبال ہے، اور وہ کتنی اچھی آمد ہے جو وہ لائے ہیں) (53) (تو ہمارے لیے کھولا گیا، پھر میں یوسفؑ کے پاس تھا، اور وہ آدھا حسن دیے گئے تھے) (54) (تو جبرائیلؑ نے کہا: یہ یوسف ہیں، انہیں سلام کرو، تو میں نے انہیں سلام کیا تو انہوں نے جواب دیا پھر کہا: نیک بھائی اور نیک نبی کا خیرمقدم ہے) (55) (اور انہوں نے میرے لیے بھلائی کی دعا کی، پھر جبرائیلؑ ہمیں چوتھے آسمان پر لے گئے تو انہوں نے دروازہ کھلوانے کی درخواست کی، تو کہا گیا: یہ کون ہے؟ انہوں نے کہا: جبرائیل، کہا گیا: اور تمہارے ساتھ کون ہے؟ انہوں نے کہا: محمد()، کہا گیا: کیا انہیں بھیجا گیا ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں، انہیں بھیجا گیا ہے، تو ہمارے لیے کھولا گیا، پھر میں ادریسؑ کے پاس تھا، انہوں نے خیرمقدم کیا اور میرے لیے بھلائی کی دعا کی، اللہ عزوجل نے فرمایا: {اور ہم نے اسے اونچی جگہ پر اٹھا لیا}، پھر وہ ہمیں پانچویں آسمان پر لے گئے، تو جبرائیلؑ نے دروازہ کھلوانے کی درخواست کی، کہا گیا: یہ کون ہے؟ انہوں نے کہا: جبرائیل، کہا گیا: اور تمہارے ساتھ کون ہے؟ انہوں نے کہا: محمد ()، کہا گیا: کیا انہیں بھیجا گیا ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں، انہیں بھیجا گیا ہے، تو ہمارے لیے کھولا گیا، پھر میں ہارونؑ کے پاس تھا، انہوں نے خیرمقدم کیا اور میرے لیے بھلائی کی دعا کی، پھر وہ ہمیں چھٹے آسمان پر لے گئے، تو جبرائیلؑ نے دروازہ کھلوانے کی درخواست کی، کہا گیا: یہ کون ہے؟ انہوں نے کہا: جبرائیل، کہا گیا: اور تمہارے ساتھ کون ہے؟ انہوں نے کہا: محمد (صلی اللہ علیہ وسلم)، کہا گیا: کیا انہیں بھیجا گیا ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں، انہیں بھیجا گیا ہے، تو ہمارے لیے کھولا گیا، پھر میں موسیٰؑ کے پاس تھا) (56) (تو انہوں نے کہا: نیک نبی اور نیک بھائی کا خیرمقدم ہے، میں نے پوچھا: یہ کون ہیں؟ جبرائیلؑ نے کہا: یہ موسیٰ ہیں) (57) (اور وہ گندمی رنگ کے تھے) (58) [اور ایک روایت میں ہے: قدرے گول مٹول] (59) بہت زیادہ بالوں والے، آدمؑ کی طرح سیاہ فام) (60) (بال گھنے) (61) ([اور ایک روایت میں ہے: گھنگریالے]) (62) (مضبوط جسم والے) (63) (گویا وہ قبیلہ شنوءہ کے آدمیوں میں سے ہیں) (64) (پھر مجھے ساتویں آسمان پر لے جایا گیا) (65) (جب میں موسیٰؑ سے آگے گزرا تو وہ رونے لگے، تو پوچھا گیا: تم کیوں رو رہے ہو؟) (66) (انہوں نے کہا: اے میرے رب! یہ وہ نوجوان ہے جو مجھ بعد بھیجا گیا، اس کی امت سے جنتی میرے امتیوں سے زیادہ اور بہتر ہوں گے) (67) (اے میرے رب! مجھے گمان بھی نہ تھا کہ مجھ پر کسی کو فضیلت دی جائے گی، پھر اسے اس سے بھی بلند کیا گیا جسے اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا) (68) (تو جبرائیلؑ نے دروازہ کھلوانے کی درخواست کی تو کہا گیا: یہ کون ہے؟ انہوں نے کہا: جبرائیل، کہا گیا: اور تمہارے ساتھ کون ہے؟ انہوں نے کہا: محمد (صلی اللہ علیہ وسلم)، کہا گیا: کیا انہیں بھیجا گیا ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں، کہا گیا: ان کا استقبال ہے اور وہ کتنی اچھی آمد ہے جو وہ لائے ہیں) (69) (تو ہمارے لیے کھولا گیا پھر میں ابراہیمؑ کے پاس تھا جو اپنی پیٹھ بیت المعمور سے ٹیکے ہوئے تھے، اور اس میں ہر روز ستر ہزار فرشتے داخل ہوتے ہیں پھر وہ اس کی طرف لوٹ کر نہیں آتے) (70) (آخری بار جو وہ اس پر ہوتے ہیں) (71) (سب سے زیادہ آپ سے مشابہت رکھنے والے آپ کے ساتھی ہیں - یعنی آپ خود -) (72) (میں نے پوچھا: یہ کون ہیں؟) (73) (تو جبرائیلؑ نے کہا: یہ آپ کے والد (ابراہیمؑ) ہیں، انہیں سلام کریں) (74) (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے انہیں سلام کیا تو انہوں نے جواب دیا اور کہا: نیک بیٹے اور نیک نبی کا خیرمقدم ہے) (75) (آپ  اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اور میں کچھ ایسے لوگوں کے پاس سے گزرا جن کے ناخن تانبے کے تھے، وہ اپنے چہروں اور سینوں کو نوچ رہے تھے، تو میں نے پوچھا: اے جبرائیل! یہ کون لوگ ہیں؟ انہوں نے کہا: یہ وہ لوگ ہیں جو لوگوں کا گوشت کھاتے ہیں (76) اور ان کی عزتوں پر حملہ کرتے ہیں) (77) (اور میں کچھ ایسے لوگوں کے پاس سے گزرا جن کے ہونٹ آگ کی قینچیوں سے کترے جا رہے تھے (78) ہر بار کترے جاتے اور پھر ٹھیک ہو جاتے، تو میں نے پوچھا: اے جبرائیل! یہ کون لوگ ہیں؟ یہ کون لوگ ہیں؟ انہوں نے کہا: یہ آپ کی امت کے واعظ ہیں جو وہ بات کہتے ہیں جو کرتے نہیں، اور اللہ کی کتاب پڑھتے ہیں مگر اس پر عمل نہیں کرتے) (79) اور ایک روایت میں ہے (80): یہ آپ کی امت کے واعظ ہیں، جو لوگوں کو نیکی کا حکم دیتے ہیں اور اپنے آپ کو بھول جاتے ہیں حالانکہ وہ کتاب پڑھتے ہیں، کیا وہ عقل نہیں رکھتے؟" (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر مجھے جنت میں داخل کیا گیا، تو اس میں موتیوں کے گنبد تھے، اور اس کی خاک مشک تھی) (81) (آپ  نے فرمایا: پھر جبرائیلؑ مجھے لے کر چلے) (82) (سدرۃ المنتہیٰ کی طرف، اور اس کے پتے ہاتھی کے کانوں کی طرح تھے، اور اس کا پھل) (83) (گویا ہجر کے مٹکوں کی طرح ہے) (84) (اس کی جڑ سے) (85) (چار نہریں نکلتی ہیں: دو ظاہری اور دو باطنی، تو میں نے جبرائیلؑ سے پوچھا تو انہوں نے کہا: باطنی نہریں جنت میں ہیں، اور ظاہری نہریں نیل اور فرات ہیں) (86) (آپ  نے فرمایا: پھر جب اسے اللہ کے امر سے وہ چیز ڈھانپ گئی جو ڈھانپ گئی تو وہ یاقوت یا زمرد یا اس جیسی کوئی چیز بن گئی) (87) (اور اسے ایسے رنگ ڈھانپ گئے جنہیں میں نہیں جانتا) (88) (پس اللہ کی مخلوق میں سے کوئی بھی اس کے حسن کی توصیف کرنے کی طاقت نہیں رکھتا) (89) (اور رسول اللہ  قہار رب العزت کے قریب ہوئے تو جھک گئے، یہاں تک کہ آپ اس سے دو کمانوں کے فاصلے یا اس سے بھی کم پر تھے) (90) [اور ایک روایت میں ہے: پھر مجھے اوپر لے جایا گیا یہاں تک کہ میں اس مقام پر پہنچا جہاں میں قلموں کی چوں چوں سن رہا تھا] (91) (پھر اللہ نے مجھ پر وہ وحی فرمائی جو فرمائی، پس فرض کیں) (92) (میری امت پر دن رات میں پچاس نمازیں) (93) (ہر دن اور رات میں) (94) (تو میں وہ لے کر لوٹا یہاں تک کہ میں موسیٰؑ کے پاس سے گزرا) (95) (تو انہوں نے کہا: اے محمد! آپ کے رب نے آپ کی امت پر کیا فرض کیا ہے؟ میں نے کہا: اس نے ان پر پچاس نمازیں فرض کی ہیں) (96) (ہر دن اور رات میں) (97) (انہوں نے کہا: اپنے رب کے پاس واپس جائیے اور اس سے تخفیف مانگیے، کیونکہ آپ کی امت اس کی طاقت نہیں رکھتی، بیشک میں نے بنی اسرائیل کو آزمایا اور انہیں خوب جانا ہے) (98) (تو رسول اللہ ﷺ نے جبرائیلؑ کی طرف رخ کیا گویا آپ اس میں ان سے مشورہ لے رہے ہیں، تو جبرائیلؑ نے آپ کو اشارہ کیا، کہ ہاں اگر آپ چاہیں، آپ  نے فرمایا: تو وہ آپ کو قہار (اللہ) کے پاس لے گئے، تو آپ نے اپنی جگہ پر کھڑے ہو کر کہا: اے میرے رب! ہمارے لیے تخفیف فرما دے کیونکہ میری امت اس کی استطاعت نہیں رکھتی) (99) (تو اس نے اس کا آدھا کم کر دیا، تو میں موسیٰؑ کے پاس واپس آیا تو میں نے کہا: اس نے اس کا آدھا کم کر دیا، انہوں نے کہا: اپنے رب کے پاس دوبارہ جائیے کیونکہ آپ کی امت اس کی طاقت نہیں رکھتی، تو میں دوبارہ اس کے پاس گیا تو اس نے اس کا آدھا کم کر دیا، تو میں ان کے پاس واپس آیا تو انہوں نے کہا: اپنے رب کے پاس دوبارہ جائیے کیونکہ آپ کی امت اس کی طاقت نہیں رکھتی) (100) (اے محمد! اللہ کی قسم! میں نے بنی اسرائیل کو اپنی قوم کو اس سے کم چیز پر آمادہ کیا تو وہ کمزور ہو گئے اور چھوڑ دیا، اور آپ کی امت جسموں اور دلوں اور بدن اور آنکھوں اور کانوں کے اعتبار سے زیادہ کمزور ہے، واپس جائیے تاکہ آپ کا رب آپ کے لیے تخفیف کر دے - یہ سب رسول اللہ  جبرائیلؑ کی طرف رخ کرتے تاکہ وہ آپ کو مشورہ دیں اور جبرائیلؑ اسے ناپسند نہیں کرتے - تو آپ نے پانچویں بار اسے اٹھایا تو کہا: اے میرے رب! بیشک میری امت کمزور ہے ان کے جسم اور دل اور کان اور آنکھیں اور بدن، ہمارے لیے تخفیف فرما دے، تو قہار (اللہ) نے فرمایا: اے محمد! میں نے کہا: حاضر ہوں اور تیری اطاعت کرتا ہوں، فرمایا: بیشک میرے پاس بات بدلی نہیں جاتی جیسے میں نے اسے ام الکتاب میں تم پر فرض کیا ہے) (101) (بیشک میں نے اپنی فرضیت کو نافذ کر دیا ہے اور اپنے بندوں پر تخفیف کر دی ہے، اور ایک نیکی کا دس گنا بدلہ دوں گا) (102) (بیشک وہ پانچ نمازیں ہیں ہر دن اور رات میں، ہر نماز دس کے برابر ہے) (103) (تو وہ ام الکتاب میں پچاس ہیں اور تم پر پانچ ہیں) (104) (اور جو شخص نیکی کا ارادہ کرے پھر اس پر عمل نہ کرے تو اس کے لیے ایک نیکی لکھی جاتی ہے، پھر اگر اس نے عمل کر لیا تو اس کے لیے دس نیکیاں لکھی جاتی ہیں، اور جو شخص برائی کا ارادہ کرے پھر اس پر عمل نہ کرے تو اس کے لیے کچھ نہیں لکھا جاتا، پھر اگر اس نے عمل کر لیا تو اس کے لیے ایک برائی لکھی جاتی ہے، آپ  نے فرمایا: پھر میں نیچے اترا یہاں تک کہ میں موسیٰؑ کے پاس پہنچا) (105) (تو انہوں نے کہا: آپ نے کیا کیا؟ میں نے کہا: اللہ نے ہمارے لیے تخفیف کر دی، ہمیں ہر نیکی پر دس گنا دیا، تو موسیٰؑ نے کہا: اللہ کی قسم! میں نے بنی اسرائیل کو اس سے کم پر آمادہ کیا تو انہوں نے چھوڑ دیا، اپنے رب کے پاس واپس جائیے تاکہ وہ آپ کے لیے مزید تخفیف کر دے، میں نے کہا: اے موسیٰ! اللہ کی قسم! میں اپنے رب سے اس بات سے شرماتا ہوں کہ میں اس کے پاس بار بار جاؤں، انہوں نے کہا: اللہ کے نام سے اتر جائیے، تو آپ بیدار ہوئے اور آپ مسجد الحرام میں تھے") (106)

[الجامع الصحیح للسنن والمسانید: ج9 / ص 331]
---
حوالہ جات:

-(1): (خ) صحیح البخاری، حدیث نمبر: 3164۔

-(2): (م) صحیح مسلم، حدیث نمبر: 262 - (162)۔ نیز (خ) صحیح البخاری، حدیث نمبر: 7079۔

-(3): (خ) صحیح البخاری، حدیث نمبر: 7079۔

-(4): (خ) صحیح البخاری، حدیث نمبر: 342۔

-(5): (خ) صحیح البخاری، حدیث نمبر: 342۔

-(6): (س) السنن الصغرى للنسائی، حدیث نمبر: 452۔

-(7): (خ) صحیح البخاری، حدیث نمبر: 3164۔

-(8): (م) صحیح مسلم، حدیث نمبر: 259 - (162)۔

-(9): (ت) الجامع الصحیح للترمذی، حدیث نمبر: 3131۔

-(10): (م) صحیح مسلم، حدیث نمبر: 259 - (162)۔ نیز (حم) مسند الإمام أحمد، حدیث نمبر: 23380۔

-(11): (ت) الجامع الصحیح للترمذی، حدیث نمبر: 3131۔

-(12): (حم) مسند الإمام أحمد، حدیث نمبر: 12694۔ (مزید: شیخ شعیب الأرناءوط فرماتے ہیں: اس کا سند صحیح ہے)۔

-(13): (ت) الجامع الصحیح للترمذی، حدیث نمبر: 3131۔

-(14): (حم) مسند الإمام أحمد، حدیث نمبر: 12694۔ نیز (ت) الجامع الصحیح للترمذی، حدیث نمبر: 3131۔

-(15): (م) صحیح مسلم، حدیث نمبر: 164 - (2375)۔ نیز (س) السنن الصغرى للنسائی، حدیث نمبر: 1631۔ نیز (حم) مسند الإمام أحمد، حدیث نمبر: 13618۔

-(16): (ت) الجامع الصحیح للترمذی، حدیث نمبر: 3132۔ (مزید: دیکھیں: الصحيحة: 3487)۔

-(17): (م) صحیح مسلم، حدیث نمبر: 259 - (162)۔

-(18): (خ) صحیح البخاری، حدیث نمبر: 3214۔

-(19): (خ) صحیح البخاری، حدیث نمبر: 4432۔ نیز (م) صحیح مسلم، حدیث نمبر: 92 - (168)۔ نیز (س) السنن الصغرى للنسائی، حدیث نمبر: 5657۔

-(20): (م) صحیح مسلم، حدیث نمبر: 278 - (172)۔

-(21): (حم) مسند الإمام أحمد، حدیث نمبر: 10842۔ (مزید: شیخ شعیب الأرناؤوط فرماتے ہیں: اس کا سند حسن ہے)۔

-(22): (خ) صحیح البخاری، حدیث نمبر: 3164۔

-(23): (خ) صحیح البخاری، حدیث نمبر: 7079۔

-(24): (خ) صحیح البخاری، حدیث نمبر: 3164۔

-(25): (خ) صحیح البخاری، حدیث نمبر: 7079۔

-(26): (خ) صحیح البخاری، حدیث نمبر: 3887۔

-(27): (خ) صحیح البخاری، حدیث نمبر: 7079۔

-(28): (تشریحی بیان) أَسْوِدَة: أشخاص۔

-(29): (حم) مسند الإمام أحمد، حدیث نمبر: 21326۔ نیز (خ) صحیح البخاری، حدیث نمبر: 3164۔

-(30): (خ) صحیح البخاری، حدیث نمبر: 342۔

-(31): (خ) صحیح البخاری، حدیث نمبر: 3887۔

-(32): (خ) صحیح البخاری، حدیث نمبر: 342۔

-(33): (خ) صحیح البخاری، حدیث نمبر: 3887۔

-(34): (تشریحی بیان) يَطَّرِد: يَجْرِي وَيَتَّبِعُ بَعْضُهُ بَعْضًا۔

-(35): (تشریحی بیان) الزَّبَرْجَد: حَجَرٌ كَرِيمٌ مِنَ الْجَوَاهِرِ وَهُوَ الزُّمُرُّد۔

-(36): (خالی)۔

-(37): (خ) صحیح البخاری، حدیث نمبر: 7079۔

-(38): (خ) صحیح البخاری، حدیث نمبر: 6210۔ نیز (ت) الجامع الصحیح للترمذی، حدیث نمبر: 3359۔ نیز (د) سنن أبي داود، حدیث نمبر: 4748۔

-(39): (حم) مسند الإمام أحمد، حدیث نمبر: 13012۔ نیز (خ) صحیح البخاری، حدیث نمبر: 6210۔ نیز (ت) الجامع الصحیح للترمذی، حدیث نمبر: 3360۔ نیز (د) سنن أبي داود، حدیث نمبر: 4748۔

-(40): (خ) صحیح البخاری، حدیث نمبر: 7079۔

-(41): (خ) صحیح البخاری، حدیث نمبر: 3035۔

-(42): (م) صحیح مسلم، حدیث نمبر: 259 - (162)۔

-(43): (خ) صحیح البخاری، حدیث نمبر: 3247۔

-(44): (م) صحیح مسلم، حدیث نمبر: 259 - (162)۔

-(45): (خ) صحیح البخاری، حدیث نمبر: 3067۔

-(46): (تشریحی بیان) المُبَطَّن: الضَّامِرُ البَطْنِ۔

-(47): (حم) مسند الإمام أحمد، حدیث نمبر: 3546۔ (مزید: شیخ شعیب الأرناؤوط فرماتے ہیں: اس کا سند صحیح ہے)۔

-(48): (خ) صحیح البخاری، حدیث نمبر: 3067۔ نیز (م) صحیح مسلم، حدیث نمبر: 267 - (165)۔ نیز (حم) مسند الإمام أحمد، حدیث نمبر: 2197۔

-(49): (حم) مسند الإمام أحمد، حدیث نمبر: 3546۔ نیز (خ) صحیح البخاری، حدیث نمبر: 3215۔ نیز (م) صحیح مسلم، حدیث نمبر: 266 - (165)۔

-(50): (خ) صحیح البخاری، حدیث نمبر: 3254۔

-(51): (م) صحیح مسلم، حدیث نمبر: 278 - (172)۔ نیز (حم) مسند الإمام أحمد، حدیث نمبر: 14629۔

-(52): (م) صحیح مسلم، حدیث نمبر: 259 - (162)۔

-(53): (خ) صحیح البخاری، حدیث نمبر: 3035۔

-(54): (م) صحیح مسلم، حدیث نمبر: 259 - (162)۔

-(55): (خ) صحیح البخاری، حدیث نمبر: 3887۔ نیز (حم) مسند الإمام أحمد، حدیث نمبر: 17380۔

-(56): (م) صحیح مسلم، حدیث نمبر: 259 - (162)۔ نیز (خ) صحیح البخاری، حدیث نمبر: 3207۔ نیز (ت) الجامع الصحیح للترمذی، حدیث نمبر: 3157۔

-(57): (خ) صحیح البخاری، حدیث نمبر: 342۔

-(58): (خ) صحیح البخاری، حدیث نمبر: 3214۔ نیز (م) صحیح مسلم، حدیث نمبر: 278 - (172)۔ نیز (ت) الجامع الصحیح للترمذی، حدیث نمبر: 3649۔

-(59): (خ) صحیح البخاری، حدیث نمبر: 3254۔

-(60): (حم) مسند الإمام أحمد، حدیث نمبر: 3546۔ (مزید: شیخ شعیب الأرناؤوط فرماتے ہیں: اس کا سند صحیح ہے)۔

-(61): (خ) صحیح البخاری، حدیث نمبر: 3254۔ نیز (م) صحیح مسلم، حدیث نمبر: 272 - (168)۔

-(62): (خ) صحیح البخاری، حدیث نمبر: 3067۔ نیز (م) صحیح مسلم، حدیث نمبر: 267 - (165)۔ نیز (حم) مسند الإمام أحمد، حدیث نمبر: 2197۔

-(63): (حم) مسند الإمام أحمد، حدیث نمبر: 3546۔

-(64): (خ) صحیح البخاری، حدیث نمبر: 3254۔

-(65): (خ) صحیح البخاری، حدیث نمبر: 7079۔

-(66): (خ) صحیح البخاری، حدیث نمبر: 3035۔

-(67): (س) السنن الصغرى للنسائی، حدیث نمبر: 448۔ نیز (خ) صحیح البخاری، حدیث نمبر: 3035۔ نیز (م) صحیح مسلم، حدیث نمبر: 264 - (164)۔

-(68): (خ) صحیح البخاری، حدیث نمبر: 7079۔

-(69): (خ) صحیح البخاری، حدیث نمبر: 3887۔

-(70): (م) صحیح مسلم، حدیث نمبر: 259 - (162)۔ نیز (خ) صحیح البخاری، حدیث نمبر: 3674۔ نیز (حم) مسند الإمام أحمد، حدیث نمبر: 12580۔

-(71): (خ) صحیح البخاری، حدیث نمبر: 3035۔ نیز (م) صحیح مسلم، حدیث نمبر: 264 - (164)۔

-(72): (م) صحیح مسلم، حدیث نمبر: 278 - (172)۔ نیز (خ) صحیح البخاری، حدیث نمبر: 3214۔ نیز (حم) مسند الإمام أحمد، حدیث نمبر: 14629۔

-(73): (خ) صحیح البخاری، حدیث نمبر: 342۔

-(74): (خ) صحیح البخاری، حدیث نمبر: 3887۔

-(75): (خ) صحیح البخاری، حدیث نمبر: 3887۔

-(76): (تشریحی بیان) (يَأْكُلُونَ لُحُومَ النَّاس) أَيْ: يَغْتَابُونَ الْمُسْلِمِينَ۔

-(77): (د) سنن أبي داود، حدیث نمبر: 4878۔ نیز (حم) مسند الإمام أحمد، حدیث نمبر: 13364۔ (مزید: دیکھیں: صحيح الجامع: 5213 , والصحيحة: 533)۔

-(78): (تشریحی بیان) المَقَارِيض: جَمْعُ المِقَرَاضِ وَهُوَ المِقَصُّ۔

-(79): (هب) شعب الإيمان للبيهقي، حدیث نمبر: 1773۔ (مزید: دیکھیں: صَحِيحُ التَّرْغِيبِ وَالتَّرْهِيب: 125 , وصَحِيحُ الْجَامِع: 129)۔

-(80): (حم) مسند الإمام أحمد، حدیث نمبر: 12879۔ نیز (يع) -۔ (مزید: دیکھیں: الصَّحِيحَة: 291)۔

-(81): (خ) صحیح البخاری، حدیث نمبر: 3164۔ نیز (م) صحیح مسلم، حدیث نمبر: 263 - (163)۔

-(82): (م) صحیح مسلم، حدیث نمبر: 263 - (163)۔

-(83): (م) صحیح مسلم، حدیث نمبر: 259 - (162)۔

-(84): (خ) صحیح البخاری، حدیث نمبر: 3035۔

-(85): (حم) مسند الإمام أحمد، حدیث نمبر: 12695۔ (مزید: شیخ شعیب الأرناءوط فرماتے ہیں: اس کا سند صحیح ہے)۔

-(86): (خ) صحیح البخاری، حدیث نمبر: 3035۔ نیز (م) صحیح مسلم، حدیث نمبر: 264 - (164)۔ نیز (حم) مسند الإمام أحمد، حدیث نمبر: 12695۔

-(87): ( حم ) مسند الإمام أحمد، حدیث نمبر: 12323۔ (مزید: شیخ شعیب الأرناؤوط فرماتے ہیں: اس کا سند صحیح ہے)۔

-(88): (خ) صحیح البخاری، حدیث نمبر: 342۔ نیز (م) صحیح مسلم، حدیث نمبر: 263 - (163)۔ نیز (ت) الجامع الصحیح للترمذی، حدیث نمبر: 3360۔

-(89): (م) صحیح مسلم، حدیث نمبر: 259 - (162)۔

-(90): (خ) صحیح البخاری، حدیث نمبر: 7079۔

-(91): (خ) صحیح البخاری، حدیث نمبر: 342۔ نیز (م) صحیح مسلم، حدیث نمبر: 263 - (163)۔ نیز (حم) مسند الإمام أحمد، حدیث نمبر: 21326۔

-(92): (م) صحیح مسلم، حدیث نمبر: 259 - (162)۔

-(93): (خ) صحیح البخاری، حدیث نمبر: 342۔

-(94): (م) صحیح مسلم، حدیث نمبر: 259 - (162)۔

-(95): (خ) صحیح البخاری، حدیث نمبر: 342۔

-(96): (م) صحیح مسلم، حدیث نمبر: 263 - (163)۔

-(97): (خ) صحیح البخاری، حدیث نمبر: 7079۔

-(98): (م) صحیح مسلم، حدیث نمبر: 259 - (162)۔ نیز (خ) صحیح البخاری، حدیث نمبر: 7079۔

-(99): (خ) صحیح البخاری، حدیث نمبر: 7079۔

-(100): (خ) صحیح البخاری، حدیث نمبر: 342۔

-(101): (خ) صحیح البخاری، حدیث نمبر: 7079۔

-(102): (خ) صحیح البخاری، حدیث نمبر: 3035, 3207۔ نیز (س) السنن الصغرى للنسائی، حدیث نمبر: 448۔ نیز (حم) مسند الإمام أحمد، حدیث نمبر: 17378۔

-(103): (م) صحیح مسلم، حدیث نمبر: 259 - (162)۔

-(104): (خ) صحیح البخاری، حدیث نمبر: 7079۔ نیز (ت) الجامع الصحیح للترمذی، حدیث نمبر: 213۔ نیز (حم) مسند الإمام أحمد، حدیث نمبر: 12662۔

-(105): (م) صحیح مسلم، حدیث نمبر: 259 - (162)۔

-(106): (خ) صحیح البخاری، حدیث نمبر: 7079۔ نیز (م) صحیح مسلم، حدیث نمبر: 259 - (162)۔ نیز (س) السنن الصغرى للنسائی، حدیث نمبر: 449۔ نیز (جة) سنن ابن ماجة، حدیث نمبر: 1399۔

---

📖 حاصل شدہ اسباق و نکات:

1. معراج کا ثبوت: یہ طویل روایت واقعہ معراج جسمانی کی تفصیلات فراہم کرتی ہے جو نبی کریم  کے عظیم معجزے اور آپ کی منزلت کی بلندی کی واضح دلیل ہے۔

2. نبی  کی تعظیم: آپ  کے سینے کا شق ہونا، حکمت و ایمان و علم سے پر کرنا، اور تمام مخلوقات حتیٰ کہ براق کی طرف سے آپ کی تعظیم، آپ کی نبوت و رسالت کے شرف اور اللہ کے ہاں آپ کے مقام کی نشاندہی کرتا ہے۔

3. انبیاء علیہم السلام سے ملاقات: آسمانوں پر مختلف انبیاء سے ملاقات، ان کی شکلیں، اور ان کا آپ  کو "نیک بھائی" و "نیک نبی" کہہ کر خیرمقدم کرنا، انبیاء کے درمیان اخوت اور ایک دوسرے کی تصدیق کو ظاہر کرتا ہے۔

4. نمازوں کی فرضیت: معراج کا اہم ترین مقصد امت پر پانچ وقت کی نمازوں کی فرضیت کا اعلان تھا۔ تخفیف کے باوجود یہ نمازیں امت محمدیہ کے لیے عظیم تحفہ اور رحمت ہیں۔

5. امت محمدیہ کی فضیلت: حضرت موسیٰؑ کا رونا اور یہ اعتراف کرنا کہ نبی آخر الزماں کی امت کے جنتی دوسری امتوں سے زیادہ ہوں گے، اس امت کے مرتبے اور کثرتِ مغفرت پر دلالت کرتا ہے۔

6. اللہ کا قرب: "قاب قوسین او ادنیٰ" کا واقعہ بندے کے اپنے رب سے ممکنہ قرب کی انتہا کو بیان کرتا ہے جو نبی  کی خصوصیت ہے۔

7. برے اعمال کی سزا: راستے میں غیبت اور برے واعظوں کے مجرمین کو دکھائی گئی سزائیں ان گناہوں کی سنگینی اور ان سے بچنے کی تلقین کرتی ہیں۔

8. اللہ کی رحمت و انعامات: دودھ کے انتخاب پر جنت کی بشارت، کوثر کا دیدار، اور نیکیوں کے دس گنا اجر کا وعدہ اللہ تعالیٰ کی بے پایاں رحمت اور اپنے بندوں پر اس کے احسان کی عکاسی کرتا ہے۔

9. شفاعت کی ابتدائی شکل: حضرت موسیٰؑ کا بار بار آپ صل کو تخفیف کے لیے واپس بھیجنا، درحقیقت امت کے لیے شفاعت کی ایک شکل تھی جو آپ  نے قبول فرمائی۔

10. وحی کی حقیقت: یہ واقعہ وحی کے نزول کے ایک ذریعے (معراج) کی وضاحت کرتا ہے اور یہ ثابت کرتا ہے کہ نماز جیسی بنیادی عبادت براہ راست اللہ کی طرف سے فرض کی گئی۔




ض

حدیث نمبر 2

عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ - رضي الله عنه - قَالَ:

" أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - بِدَابَّةٍ [ أَبْيَضٍ(¬1) طَوِيلَةِ الظَّهْرِ , مَمْدُودَةٍ هَكَذَا , خَطْوُهُ مَدُّ بَصَرِهِ , فَمَا زَايَلَا ظَهْرَ الْبُرَاقِ , حَتَّى رَأَيَا الْجَنَّةَ وَالنَّارَ , وَوَعْدَ الْآخِرَةِ أَجْمَعَ , ثُمَّ رَجَعَا عَوْدَهُمَا عَلَى بَدْئِهِمَا " (¬2)

ترجمہ:

حضرت حذیفہ بن الیمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے بیان کیا:

"رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک [سفید](¬1) اور لمبی پیٹھ والی سواری لائی گئی، جس کی [لمبائی] اس طرح تھی، اس کا ایک قدم آپ کی نگاہ کی انتہا تک پہنچتا تھا۔ سو وہ دونوں (آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور جبرائیلؑ) براق کی پیٹھ سے جدا نہ ہوئے، یہاں تک کہ انہوں نے جنت و دوزھ اور آخرت کے تمام وعدے دیکھ لیے، پھر وہ دونوں اسی طرح واپس آ گئے جس طرح گئے تھے۔"(¬2)


📚 حوالہ جات:

(¬1) حم مسند الإمام أحمد 23380

(¬2) (ت) الجامع للترمذي:3147، (حم)مسند الإمام أحمد:23380، الصحيحة (للألباني) 874

[الجامع الصحيح السنن والمسانيد: ج9/ص332]


📖 حاصل شدہ اسباق و نکات:

1. معراج کی تصدیق اور اس کا ایک نیا بیان: یہ روایت واقعہ معراج کی مزید تصدیق کرتی ہے اور اس کے ایک مختلف پہلو کو بیان کرتی ہے، جس سے پتہ چلتا ہے کہ یہ عظیم واقعہ متعدد صحابہ کرام سے مختلف تفصیلات کے ساتھ مروی ہے۔

2. براق کی صفات: اس روایت میں براق کی مزید صفات بیان ہوئی ہیں:

   · سفید رنگ

   · لمبی پیٹھ جو آرام دہ اور کشادہ تھی۔

   · بے انتہا تیز رفتار، جس کا ایک قدم نگاہ کی انتہا تک پہنچتا تھا۔ یہ اس کی فوق الفطری رفتار اور معراج کے سفر کی عظمت کو ظاہر کرتا ہے۔

3. معراج کا مقصد اور جامعیت: روایت کے فقرے "حَتَّى رَأَيَا الْجَنَّةَ وَالنَّارَ , وَوَعْدَ الْآخِرَةِ أَجْمَعَ" (یہاں تک کہ انہوں نے جنت و دوزخ اور آخرت کے تمام وعدے دیکھ لیے) سے واضح ہوتا ہے کہ معراج کا ایک اہم مقصد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو آخرت کے مکمل منظر، اس کے وعدوں اور وعیدوں کا براہ راست مشاہدہ کرانا تھا۔ یہ ایک جامع "تعارف" تھا۔

4. سفر کی نوعیت: آخری فقرہ "ثُمَّ رَجَعَا عَوْدَهُمَا عَلَى بَدْئِهِمَا" (پھر وہ دونوں اسی طرح واپس آ گئے جس طرح گئے تھے) سے اشارہ ملتا ہے کہ یہ سفر ایک ہی رات میں، ایک ہی مسلسل عمل کے طور پر، شروع سے آخر تک اور پھر واپسی تک مکمل ہوا۔ اس میں کوئی وقفہ یا رکاوٹ نہیں تھی، جو اس معجزے کے حیرت انگیز ہونے پر دلالت کرتا ہے۔

5. جبرائیلؑ کی رفاقت: "فَمَا زَايَلَا ظَهْرَ الْبُرَاقِ" (سو وہ دونوں براق کی پیٹھ سے جدا نہ ہوئے) کے الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ جبرائیلؑ بطور رفیق و راہنما اس پورے سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہے۔ یہ آپ  کی تکریم اور آپ کے لیے تشریف برداری کا اظہار بھی ہے۔

---

خلاصہ: یہ روایت معراج کے طویل بیان کا ایک نہایت مختصر مگر انتہائی جامع خلاصہ پیش کرتی ہے، جس میں بنیادی حقائق اور سفر کے مقصد کو مرکزی حیثیت دی گئی ہے۔



حدیث نمبر 3

عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ - رضي الله عنهما - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم -:

(" لَمَّا كَانَ لَيْلَةُ أُسْرِيَ بِي وَأَصْبَحْتُ بِمَكَّةَ، فَظِعْتُ بِأَمْرِي وَعَرَفْتُ أَنَّ النَّاسَ مُكَذِّبِيَّ , فَقَعَدْتُ) (¬1) (فِي الْحِجْرِ) (¬2) (مُعْتَزِلًا حَزِينًا "، فَمَرَّ عَدُوُّ اللَّهِ أَبُو جَهْلٍ فَجَاءَ حَتَّى جَلَسَ إِلَيْهِ، فَقَالَ لَهُ كَالْمُسْتَهْزِئِ: هَلْ كَانَ مِنْ شَيْءٍ؟ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم -: " نَعَمْ "، قَالَ: مَا هُوَ؟، قَالَ: " إِنَّهُ أُسْرِيَ بِي اللَّيْلَةَ "، قَالَ: إِلَى أَيْنَ؟، قَالَ: " إِلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ "، قَالَ: ثُمَّ أَصْبَحْتَ بَيْنَ ظَهْرَانَيْنَا؟، قَالَ: " نَعَمْ " - فَلَمْ يُرِهِ أَنَّهُ يُكَذِّبُهُ مَخَافَةَ أَنْ يَجْحَدَهُ الْحَدِيثَ إِذَا دَعَا قَوْمَهُ إِلَيْهِ - قَالَ: أَرَأَيْتَ إِنْ دَعَوْتُ قَوْمَكَ، تُحَدِّثُهُمْ مَا حَدَّثْتَنِي؟، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم -: " نَعَمْ " فَقَالَ: هَيَّا مَعْشَرَ بَنِي كَعْبِ بْنِ لُؤَيٍّ، قَالَ: فَانْتَفَضَتْ إِلَيْهِ الْمَجَالِسُ، وَجَاءُوا حَتَّى جَلَسُوا إِلَيْهِمَا، فَقَالَ أَبُو جَهْلٍ: حَدِّثْ قَوْمَكَ بِمَا حَدَّثْتَنِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم -: " إِنِّي أُسْرِيَ بِي اللَّيْلَةَ " , قَالُوا: إِلَى أَيْنَ؟، قَالَ: " إِلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ "، قَالُوا: ثُمَّ أَصْبَحْتَ بَيْنَ ظَهْرَانَيْنَا؟، قَالَ: " نَعَمْ "، قَالَ: فَمِنْ بَيْنِ مُصَفِّقٍ، وَمِنْ بَيْنِ وَاضِعٍ يَدَهُ عَلَى رَأْسِهِ مُتَعَجِّبًا لِلْكَذِبِ، فَقَالُوا: وَهَلْ تَسْتَطِيعُ أَنْ تَنْعَتَ لَنَا الْمَسْجِدَ؟ - وَفِي الْقَوْمِ مَنْ قَدْ سَافَرَ إِلَى ذَلِكَ الْبَلَدِ وَرَأَى الْمَسْجِدَ - قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم -: " فَذَهَبْتُ أَنْعَتُ , فَمَا زِلْتُ أَنْعَتُ حَتَّى) (¬3) (سَأَلَتْنِي قُرَيْشٌ عَن أَشْيَاءَ مِنْ بَيْتِ الْمَقْدِسِ لَمْ أُثْبِتْهَا , فَكُرِبْتُ كُرْبَةً مَا كُرِبْتُ مِثْلَهُ قَطُّ , قَالَ: فَرَفَعَهُ اللَّهُ لِي أَنْظُرُ إِلَيْهِ) (¬4) (فَنَعَتُّهُ وَأَنَا أَنْظُرُ إِلَيْهِ) (¬5) (مَا يَسْأَلُونِي عَن شَيْءٍ إِلَّا أَنْبَأْتُهُمْ بِهِ ") (¬6) (فَقَالَ الْقَوْمُ: أَمَّا النَّعْتُ فَوَاللَّهِ لَقَدْ أَصَابَ) (¬7).

طلب الآيات منه - صلى الله عليه وسلم


ترجمہ:


حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

"جب وہ رات آئی جس میں مجھے معراج کرائی گئی اور میں صبح کو مکہ میں تھا (1)، تو میں اپنے معاملے (معراج) سے گھبرا گیا اور میں نے جان لیا کہ لوگ مجھے جھٹلائیں گے۔ چنانچہ میں (2) حِجْر (کعبہ کے پاس کی جگہ) میں غمگین حالت میں تنہا بیٹھ گیا۔"

ابو جہل اللہ کا دشمن گزرا تو آیا یہاں تک کہ آپ کے پاس بیٹھ گیا اور طنزاً آپ سے کہنے لگا: "کیا کوئی (نئی) بات ہوئی ہے؟" تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "ہاں۔" اس نے کہا: "وہ کیا ہے؟" آپ نے فرمایا: "مجھے آج رات معراج کرائی گئی ہے۔" اس نے کہا: "کہاں تک؟" آپ نے فرمایا: "بیت المقدس تک۔" اس نے کہا: "پھر تم صبح کو ہمارے درمیان موجود ہو؟" آپ نے فرمایا: "ہاں۔" (ابو جہل نے یہ اس لیے کیا) کہ اس نے آپ پر اس بات کا اظہار نہیں ہونے دیا کہ وہ آپ کو جھٹلا رہا ہے، اس خوف سے کہ جب وہ اپنی قوم کو (اس معاملے پر) بلائے گا تو (رسول اللہ) بات بیان کرنے سے انکار نہ کر دیں۔

ابو جہل نے کہا: "تمہارا کیا خیال ہے، اگر میں اپنی قوم کو بلا لوں تو کیا تم انہیں وہی بات بیان کرو گے جو تم نے مجھ سے بیان کی ہے؟" رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "ہاں۔" تو اس نے (بلند آواز سے) کہا: "آؤ اے بنو کعب بن لؤی کے لوگو!" ابن عباس کہتے ہیں: تو مجلسوں سے لوگ اچھل پڑے اور آئے یہاں تک کہ ان دونوں کے پاس بیٹھ گئے۔ ابوجہل نے کہا: "اپنی قوم کو وہ بات بیان کرو جو تم نے مجھ سے بیان کی ہے۔" تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "مجھے آج رات معراج کرائی گئی ہے۔" انہوں نے کہا: "کہاں تک؟" آپ نے فرمایا: "بیت المقدس تک۔" انہوں نے کہا: "پھر تم صبح کو ہمارے درمیان موجود ہو؟" آپ نے فرمایا: "ہاں۔"

ابن عباس کہتے ہیں: (یہ سن کر) کوئی تالیاں بجانے لگا اور کوئی جھوٹ پر تعجب کرتے ہوئے اپنا ہاتھ اپنے سر پر رکھنے لگا۔ پھر انہوں نے کہا: "کیا تم ہمارے لیے مسجد (اقصیٰ) کی کیفیت بیان کر سکتے ہو؟" (اور وہاں ایسے لوگ بھی موجود تھے جن نے اس شہر کا سفر کیا تھا اور مسجد کو دیکھا تھا)۔ رسول اللہ  نے فرمایا: "تو میں اس کی صفت بیان کرنے لگا (3) اور میں (یاد کر کے) صفت بیان کرتا رہا یہاں تک کہ (4) قریش نے مجھ سے بیت المقدس کی کچھ ایسی چیزوں کے بارے میں پوچھا جنہیں میں (تفصیل سے) نہیں جانتا تھا، تو میں ایسی پریشانی میں مبتلا ہوا جیسی سخت پریشانی میں میں کبھی نہیں پڑا تھا۔"

آپ نے فرمایا: "پھر اللہ تعالیٰ نے اس (بیت المقدس) کو میرے سامنے اٹھا دیا، میں اس کی طرف دیکھنے لگا (5) اور میں اس کی صفت بیان کرنے لگا جبکہ میں اسے دیکھ رہا تھا (6)، وہ مجھ سے جس چیز کے بارے بھی پوچھتے، میں انہیں اس سے آگاہ کر دیتا۔" ابن عباس کہتے ہیں: تو (اس کے بعد) سب لوگوں نے کہا: "رہی کیفیت بیان کرنے کی بات، تو اللہ کی قسم! (ان کی بیان کردہ کیفیت) بالکل درست ہے (7)۔"

ان (قریش) نے آپ  سے (مزید) نشانیاں طلب کیں۔


[الجامع الصحیح للسنن والمسانید: جلد 9/ صفحہ 333]

---

حوالہ جات:

· (1) مسند أحمد:2820، الصحیحة للألبانی:3021۔ نیز شیخ شعیب الأرناؤوط فرماتے ہیں: اس کا سند صحیح ہے۔

· (2) صحیح مسلم:272 (168)

· (3) مسند أحمد:2820

· (4) صحیح مسلم:272 (168)

· (5) مسند أحمد:2820

· (6) صحیح مسلم:272 (168)

· (7) مسند أحمد:2820، مصنف ابن أبي شيبة:31700

---

📖 حاصل شدہ اسباق و نکات:

1. نبی کریم ﷺ کی فکرِ امت اور بشری جبلت: معراج جیسے عظیم معجزے کے بعد آپ ﷺ کا غمگین ہونا اور لوگوں کے تکذیب کرنے کا خدشہ، آپ ﷺ کی اپنی قوم کی ہدایت کے لیے سچی فکر اور درد کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ آپ ﷺ کی بشریت کا بھی اظہار ہے کہ آپ کو انسانی نفسیات کا علم تھا۔

2. صدقِ رسول ﷺ کا زندہ ثبوت: کفارِ قریش کا منصوبہ آپ ﷺ کو رسوا کرنے کا تھا، مگر اللہ کے فضل سے وہی موقع آپ ﷺ کے سچے ہونے کی واضح ترین دلیل بن گیا۔ بیت المقدس کی مکمل اور عینی شاہد کی طرح درست تفصیلات بتانا، آپ ﷺ کے معراج کے واقعے کی سچائی کا ناقابل تردید ثبوت ہے۔

3. اللہ کی خاص مدد اور تائید: جب آپ ﷺ کو کچھ تفصیلات یاد نہ آئیں تو اللہ تعالیٰ نے معجزاتی طور پر بیت المقدس کو آپ ﷺ کی نگاہوں کے سامنے حاضر کر دیا۔ یہ اس اصول کی واضح مثال ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کی مشکل وقت میں مدد فرماتا ہے، خاص طور پر جب وہ حق کی تبلیغ میں مصروف ہوں۔

4. مخالفین کی چالاکی اور مذاق کا طریقہ: ابوجہل کا پہلے نجی طور پر پوچھنا اور پھر عوامی مجمع میں وہی بات دہرانا، مخالفین کے مکرو فریب اور رسولوں کو مشکوک بنانے کے کلاسیکی انداز کو ظاہر کرتا ہے۔ آج بھی حق کے دشمن اسی طرح کے حربے استعمال کرتے ہیں۔

5. سچائی کا اعتماد اور ثابت قدمی: آپ ﷺ نے یہ جان کر بھی کہ لوگ جھٹلائیں گے، سچائی کو چھپانے کے بجائے ہر فورم پر واضح طور پر بیان فرمایا۔ یہ ہر داعیِ حق کے لیے یہ سبق ہے کہ سچائی کو بیان کرنے میں کبھی ہچکچاہٹ نہیں ہونی چاہیے، چاہے حالات کتنے ہی ناموافق کیوں نہ ہوں۔

6. مومن کے لیے تسلی اور ڈھارس: یہ واقعہ ہر صاحبِ ایمان کو یہ یقین دلاتا ہے کہ اگر وہ حق پر ثابت قدمی اختیار کرے تو بالآخر اللہ تعالیٰ اس کی نصرت فرما کر اس کے حق ہونے کو ظاہر کر دے گا، اگرچہ ابتداءً اسے مخالفت اور مذاق کا سامنا ہو۔

7. بیت المقدس کی فضیلت اور اس سے تعلق: واقعہ معراج میں بیت المقدس کو قبلہ اول کی حیثیت سے مرکزی مقام حاصل ہے۔ اس کا ذکر اور اس کی تفصیلات مسلمانوں کے دل میں اس مقدس مقام کی محبت اور اس سے جذباتی و روحانی تعلق کو مضبوط کرتا ہے۔




حدیث نمبر 4

عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ - رضي الله عنهما - قَالَ:

(قَالَتْ قُرَيْشٌ لِلنَّبِيِّ - صلى الله عليه وسلم -: ادْعُ لَنَا رَبَّكَ أَنْ يَجْعَلَ لَنَا الصَّفَا ذَهَبًا) (¬1) (وَأَنْ يُنَحِّيَ الْجِبَالَ عَنَّا فَنَزْدَرِعْ (¬2)) (¬3) (فَإِنْ فَعَلْتَ ذَلِكْ آمَنِّا بِكَ) (¬4) (وَاتَّبَعْناكَ , وَعَرَفْنَا أَنَّ مَا قُلْتَ كَمَا قُلْتَ) (¬5) (قَالَ: " وَتَفْعَلُونَ؟ " , قَالُوا: نَعَمْ , " فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - , فَأَتَاهُ جِبْرِيلُ فَقَالَ: إِنَّ رَبَّكَ - عز وجل - يَقْرَأُ عَلَيْكَ السَّلَامَ) (¬6) (وَيَقُولُ: إِنْ شِئْتَ آتَيْنَاهُمْ مَا سَأَلُوا) (¬7) (فَمَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذَلِكَ مِنْهُمْ عَذَّبْتُهُ عَذَابًا لَا أُعَذِّبُهُ أَحَدًا مِنْ الْعَالَمِينَ) (¬8) (وَأُهْلِكُوا كَمَا أَهْلَكْتُ مَنْ قَبْلَهُمْ) (¬9) (وَإِنْ شِئْتَ فَتَحْتُ لَهُمْ بَابَ التَّوْبَةِ وَالرَّحْمَةِ , قَالَ: بَلْ بَابُ التَّوْبَةِ وَالرَّحْمَةِ) (¬10) (فَأَنْزَلَ اللَّهُ - عز وجل - هَذِهِ الْآيَة: {وَمَا مَنَعَنَا أَنْ نُرْسِلَ بِالْآيَاتِ إِلَّا أَنْ كَذَّبَ بِهَا الْأَوَّلُونَ , وَآتَيْنَا ثَمُودَ النَّاقَةَ مُبْصِرَةً فَظَلَمُوا بِهَا وَمَا نُرْسِلُ بِالْآيَاتِ إِلَّا تَخْوِيفًا} 

(¬11)). (¬12)


ترجمہ:


حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ بیان کرتے ہیں:

قریش نے نبی اکرم ﷺ سے کہا: "اپنے رب سے ہمارے لیے دعا کریں کہ وہ صفا پہاڑی کو ہمارے لیے سونا بنا دے (1) اور ہمارے لیے پہاڑوں کو ہٹا دے تاکہ ہم (وہاں) کھیتی باڑی کر سکیں (2) (3)۔ اگر آپ نے یہ کر دکھایا تو ہم آپ پر ایمان لے آئیں گے (4) اور آپ کی پیروی کریں گے، اور ہم جان لیں گے کہ آپ نے جو کچھ کہا ہے وہ ویسا ہی ہے جیسا آپ نے کہا (5)۔"

آپ  نے فرمایا: "اور تم (وعدہ پورا) کرو گے؟" انہوں نے کہا: ہاں۔ (ابن عباس بیان کرتے ہیں:) پس رسول اللہ  نے دعا فرمائی، تو جبرائیلؑ آپ کے پاس آئے اور کہا: "بے شک آپ کا رب عزوجل آپ پر سلام بھیجتا ہے (6) اور فرماتا ہے: اگر آپ چاہیں تو ہم انہیں وہ (نشانی) دے دیں جس کا انہوں نے سوال کیا ہے (7)، پھر ان میں سے جو اس کے بعد بھی کفر کرے گا، میں اسے ایسا عذاب دوں گا جو دنیا جہان کے کسی (کافر) کو نہ دوں گا (8)، اور انہیں ہلاک کر دوں گا جیسے میں ان سے پہلے والوں کو ہلاک کر چکا ہوں (9)۔ اور اگر آپ چاہیں تو ان کے لیے توبہ اور رحمت کا دروازہ کھول دوں۔" آپ  نے فرمایا: "بلکہ (میں) توبہ اور رحمت کا دروازہ (کھولنے کو پسند کرتا ہوں) (10)۔"

پس اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی: {اور ہمیں اس بات نے ہی نشانیاں بھیجنے سے نہیں روکا کہ اگلی قوموں نے بھی انہیں جھٹلایا تھا، اور ہم نے ثمود (قوم) کو اونٹنی (معجزے کے طور پر) کھلی آنکھوں والی (نشانی) دے دی تھی پھر انہوں نے اس پر ظلم کیا، اور ہم نشانیاں صرف ڈرانے کے لیے ہی بھیجا کرتے ہیں (11)} (12).

[الجامع الصحیح للسنن والمسانید: ج9/ص336]

---

📚 حوالہ جات:

(1) حم مسند الإمام أحمد 2166 مزید: انظر الصَّحِيحَة: 3388 , صَحِيح التَّرْغِيبِ وَالتَّرْهِيب: 3142۔ شیخ شعیب الأرناؤوط: إسناده صحيح۔

(2) (تشریح) لفظ کی تشریح أَيْ: نَزْرَعُ (یعنی ہم کھیتی کریں) -

(3) حم مسند الإمام أحمد 2333 شیخ شعیب الأرناؤوط: إسناده صحيح۔

(4) حم مسند الإمام أحمد 2166 -

(5) حم مسند الإمام أحمد 3223 شیخ شعیب الأرناؤوط: إسناده صحيح۔

(6) حم مسند الإمام أحمد 2166 -

(7) ك مستدرك الحاكم 3379 -

 حم مسند الإمام أحمد 3223 -

(8) حم مسند الإمام أحمد 2166 -

(9) حم مسند الإمام أحمد 2333 شیخ شعیب الأرناؤوط: إسناده صحيح۔

(10) حم مسند الإمام أحمد 2166 شیخ شعیب الأرناؤوط: حسن۔

(11) (قرآن) سورۃ الإسراء آیت: 59 ترجمہ آیت: اوپر عبارت کے ترجمہ میں شامل ہے۔

(12) حم مسند الإمام أحمد 2333 -

 ن السنن الكبرى للنسائي 11290 -

 ك مستدرك الحاكم 3379 -

---

📖 حاصل شدہ اسباق و نکات:

اس عبرت انگیز روایت سے درج ذیل اہم اسباق، عقیدتی اور تربیتی نکات حاصل ہوتے ہیں:

1. کفار کی ہٹ دھرمی اور معجزات کا مطالبہ: کفار قریش کی جانب سے معجزات کا یہ مطالبہ درحقیقت ان کی ہٹ دھرمی، عقل کے استعمال سے انکار، اور رسول اللہ  کو آزمائش میں ڈالنے کے لیے تھا۔ یہ ان کی بد نیتی کو ظاہر کرتا ہے، کیونکہ ان کا مقصد حقیقی طور پر ہدایت پانا نہیں تھا۔

2. اللہ تعالیٰ کی کامل قدرت اور حکمت: اللہ تعالیٰ ان کے سوال کے مطابق ہر نشانی دینے پر قادر تھا، مگر اس نے اپنی بے پایاں حکمت کے تحت اسے قبول نہ فرمایا۔ یہ اس اصول کی واضح مثال ہے کہ معجزات محض دیکھنے سے ایمان پیدا نہیں ہوتا، بلکہ ان لوگوں کے لیے ہوتے ہیں جو پہلے سے حق کو پہچاننے کے لیے تیار ہوں۔ گزشتہ امتوں (جیسے قوم ثمود) کے حالات اس کی گواہی دیتے ہیں۔

3. رسول اللہ  کی عظمتِ اخلاق اور شفقت: سب سے بڑا سبق نبی کریم  کے فیصلے سے ملتا ہے۔ آپ ﷺ کو دو اختیارات دیے گئے: سخت عذاب یا توبہ و رحمت کا دروازہ۔ آپ ﷺ نے اپنی ذات پر آنے والی تکذیب و اذیت کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنی قوم کی بھلائی اور ہدایت کو ترجیح دی اور "توبہ و رحمت" کا دروازہ منتخب کیا۔ یہ آپ ﷺ کی رحمت للعالمین ہونے اور امت پر بے پناہ شفقت کا اعلیٰ ترین مظہر ہے۔

4. قرآنی حکمت کی وضاحت: اس واقعہ کے بعد نازل ہونے والی آیت قرآن مجید کی ایک اہم حکمت کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ بے شمار کھلی نشانیاں کیوں نہیں بھیجی گئیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ گزشتہ قومیں انہیں جھٹلا چکی ہیں، اور ان کا مقصد صرف ڈرانا ہے، نہ کہ مجبوراً ایمان لانا۔

5. مومن کے لیے تسلی و ہدایت: یہ واقعہ ہر مسلمان کو یہ سبق دیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی سنت میں تاخیر یا عدم قبولیت بھی اس کی حکمت پر مبنی ہوتی ہے۔ ساتھ ہی یہ ہمیں نبی کریم ﷺ کی سیرت سے یہ عظیم درس دیتا ہے کہ دشمن کے ساتھ بھی حسنِ ظن اور ان کی ہدایت کی تمنا رکھنی چاہیے، اور بدلہ لینے کے بجائے معافی و رحمت کی راہ اختیار کرنی چاہیے۔

6. عبرت کا مقام: روایت میں "جیسے میں ان سے پہلے والوں کو ہلاک کر چکا ہوں" کے الفاظ گزشتہ سرکش اقوام کے انجام کی یاد دہانی کراتے ہیں، تاکہ قریش اور بعد کی نسلیں ان سے عبرت حاصل کریں۔









حدیث نمبر 5


عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ - رضي الله عنه - أَنّهُ قَالَ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: {فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَى , فَأَوْحَى إِلَى عَبْدِهِ مَا أَوْحَى , مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَأَى
(¬1) (قَالَ: لَمَّا أُسْرِيَ بِرَسُولِ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم -) (¬2) (رَأَى جِبْرِيلَ - عليه السلام - فِي حُلَّةٍ مِنْ رَفْرَفٍ (¬3)) (¬4) (أَخْضَرٍ) (¬5) (مُعَلَّقٌ بِهِ الدُّرُّ) (¬6) (قَدْ مَلَأَ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ) (¬7) (وَلَهُ سِتُّ مِائَةِ جَنَاحٍ) (¬8) (يُنْثَرُ مِنْ رِيشِهِ الدُّرُّ وَالْيَاقُوتُ) (¬9) (فَلَمَّا بَلَغَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - (¬10) سِدْرَةَ الْمُنْتَهَى (¬11)) (¬12) (- وَهِيَ فِي السَّمَاءِ السَّادِسَةِ (¬13)
إِلَيْهَا يَنْتَهِي مَا يعرج بِهِ مِنْ الْأَرْضِ (¬14) فَيُقْبَضُ مِنْهَا , وَإِلَيْهَا يَنْتَهِي مَا يُهْبَطُ بِهِ مِنْ فَوْقِهَا (¬15) فَيُقْبَضُ مِنْهَا - قَالَ: {إِذْ يَغْشَى السِّدْرَةَ مَا يَغْشَى
(¬16) قَالَ: فَرَاشٌ مِنْ ذَهَبٍ , فَأُعْطِيَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - ثَلَاثًا) (¬17) (لَمْ يُعْطِهِنَّ نَبِيٌّ كَانَ قَبْلَهُ) (¬18) (أُعْطِيَ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسَ , وَأُعْطِيَ خَوَاتِيمَ سُورَةِ الْبَقَرَةِ (¬19)) (¬20) (وَغُفِرَ لِأُمَّتِهِ الْمُقْحِمَاتُ (¬21) مَا لَمْ يُشْرِكُوا بِاللَّهِ شَيْئًا) (¬22) "
¬_________
ترجمہ:
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان: {پس (فاصلہ) دو کمانوں کا رہ گیا یا اس سے بھی کم، پھر (اللہ نے) اپنے بندے کی طرف وحی فرمائی جو کچھ وحی فرمائی، (اے محمد ﷺ) آپ کے دل نے جو کچھ دیکھا اسے جھٹلایا نہیں} (النجم: 9-11) کی تفسیر میں فرمایا:
(1) (ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا:) جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو (معراج کی رات) اُوپر لے جایا گیا،
(2) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرائیل علیہ السلام کو (ایک مرتبہ) دیکھا،
(3) (وہ) باریک اور عمدہ بنائی ہوئی ریشمی چادر (رفرف) کے ایک جوڑے میں تھے،
(4) جو (اس جوڑے کا رنگ) سبز تھا،
(5) (اور) جس میں موتی جڑے ہوئے تھے۔
(6) (جبرائیل علیہ السلام کا جلوہ) آسمان اور زمین کے درمیان (کے تمام فاصلے) کو بھر رہا تھا۔
(7) اور ان کے چھ سو پر تھے۔
(8) ان کے پروں سے موتی اور یاقوت (جھڑتے تھے)۔
(9) پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (معراج کی رات)
(10) سدرۃ المنتہیٰ پر پہنچے،
(11) (جو کہ) چھٹے آسمان میں ہے،
(12) (اس کی وضاحت یہ ہے کہ) زمین سے جو چیز (اعمال اور ارواح کی شکل میں) اوپر چڑھتی ہے وہ اسی (سدرہ) پر آکر ختم ہوتی ہے، تو وہاں سے (اس کا اجر) لیا جاتا ہے، اور اوپر (آسمانوں) سے جو چیز (وحی اور احکام کی شکل میں) اُتری ہے وہ بھی اسی پر آکر ختم ہوتی ہے، تو وہاں سے (امتوں کو) پکڑا جاتا ہے۔
(ابن مسعود رضی اللہ عنہ) نے فرمایا: (پھر اللہ کا فرمان ہے:) {جب سدرہ کو ڈھانپ لینے والا (حقیقی نور) ڈھانپ رہا تھا} (النجم: 16)۔
(ابن مسعود رضی اللہ عنہ) نے فرمایا: (وہ ڈھانپنے والی چیز) سونے کے تتلیاں (یا پروانے) تھیں۔
(10) پھر رسول اللہ ﷺ کو تین (انعامات) عطا کیے گئے،
(11) جو آپ ﷺ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دیے گئے تھے:
(12) آپ ﷺ کو پانچوں نمازیں عطا کی گئیں،
(13) اور آپ ﷺ کو سورہ بقرہ کے خاتمے (یعنی آخری آیات) (کے مطابق دعا قبول ہونے کا انعام) عطا کیا گیا،
(14) اور آپ ﷺ کی امت کے (بڑے) گناہوں (کو نیکیوں میں بدلنے یا معاف کرنے) کی مغفرت کر دی گئی، بشرطیکہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں۔
[مصنف ابن أبي شيبة:31697، مسند احمد:3665-4011، صحیح مسلم:173(431)، سنن الترمذي:3276، سنن النسائی:451، مسند ابويعلي:5303، شرح اصول أعتقاد:1970، شعب الإيمان-للبيهقي:2177، شرح السنة للبغوي:3756، تفسير البغوي:355]


حواشی وحوالہ جات:

(1) [سورۃ النجم، آیات: 9 تا 11]
(2) (م): اسے امام مسلم نے اپنی صحیح میں روایت کیا ہے، حدیث نمبر: 173۔
(3) قَوْلُهُ: (فِي حُلَّةٍ مِنْ رَفْرَفٍ) یعنی: باریک اور عمدہ بنائی ہوئی ریشمی چادر جس کی ساخت نہایت عمدہ تھی۔ "رفرف" کا جمع "رفارف" ہے۔ (تحفۃ الاحوذی)
(4) (ت): اسے امام ترمذی نے اپنی جامع میں روایت کیا ہے، حدیث نمبر: 3283۔
(5) (خ): اسے امام بخاری نے اپنی صحیح میں روایت کیا ہے، حدیث نمبر: 3061۔ (حم): اور امام احمد نے اپنی مسند میں، حدیث نمبر: 3863۔
(6) (حم): امام احمد نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے، حدیث نمبر: 3863۔ شیخ شعیب ارنؤوط فرماتے ہیں: اس کی سند صحیح ہے۔
(7) (ت): سنن ترمذی، حدیث نمبر: 3283۔ (حم): امام احمد، حدیث نمبر: 3740۔
(8) (خ): صحیح بخاری، حدیث نمبر: 4576۔ (م): امام مسلم، حدیث نمبر: 174۔
(9) (ہق): امام بیہقی نے اپنی کتاب "دلائل النبوۃ" میں روایت کیا ہے، حدیث نمبر: 668۔ (الصحیحہ، حدیث نمبر: 3485 ملاحظہ کریں)۔ (حم): امام احمد، حدیث نمبر: 4396۔ شیخ شعیب ارنؤوط فرماتے ہیں: اس کی سند حسن ہے۔
(10) یعنی: معراج کی رات۔ (تحفۃ الاحوذی - ج 8 / ص 134)
(11) السِّدْرُ: بیر کا درخت۔ سِدْرَةُ الْمُنْتَهَى: جنت کی انتہا میں ایک درخت ہے، اسی پر اولین و آخرین کا علم ختم ہوتا ہے اور اس سے آگے کوئی نہیں بڑھتا۔ (تحفۃ الاحوذی - ج 8 / ص 134)
(12) (ت): سنن ترمذی، حدیث نمبر: 3276۔
(13) علامہ البانی رحمہ اللہ "کتاب الإسراء والمعراج" (ص 89) میں فرماتے ہیں: اس کا ظاہری مفہوم حضرت انس رضی اللہ عنہ کی حدیث کے مخالف معلوم ہوتا ہے جس میں ہے: "پھر ہمیں ساتویں آسمان پر لے جایا گیا... پھر مجھے سدرۃ المنتہیٰ پر لے جایا گیا"، کیونکہ یہ حدیث بتاتی ہے کہ سدرہ ساتویں آسمان میں ہے۔ امام قرطبی رحمہ اللہ نے اسی کی ترجیح دی ہے۔ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے دونوں حدیثوں میں اس توجیہ سے جمع کیا ہے کہ اس (سدرہ) کی اصل (جڑ) چھٹے آسمان میں ہے سوائے اس کے تنا (ساق) کے۔ میں (البانی) کہتا ہوں: ابن جریر (27/55) کی قتادہ سے مرسلاً روایت: "میرے لیے سدرہ کھڑی کی گئی جس کی انتہا ساتویں آسمان میں تھی" اس جمع کی تائید کرتی ہے اور اس کی سند صحیح ہے۔
(14) یعنی: جو اعمال اور ارواح اوپر چڑھتی ہیں۔ (تحفۃ الاحوذی - ج 8 / ص 134)
(15) یعنی: وحی اور احکام (جو آسمان سے نازل ہوتے ہیں)۔ (تحفۃ الاحوذی - ج 8 / ص 134)
(16) [سورۃ النجم، آیت: 16]
(17) (م): صحیح مسلم، حدیث نمبر: 173۔
(18) (ت): سنن ترمذی، حدیث نمبر: 3276۔
(19) یعنی: اللہ تعالیٰ کے فرمان {آمَنَ الرَّسُولُ} سے لے کر سورہ کے آخر تک۔ قول ہے: أُعْطِيَ خَوَاتِيمَ سُورَةِ الْبَقَرَةِ کے معنی یہ ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان (آیات) میں مذکور دعاؤں کی قبولیت عطا کی گئی۔ (تحفۃ الاحوذی - ج 8 / ص 134)
(20) (م): صحیح مسلم، حدیث نمبر: 173۔
(21) المقحمات: وہ بڑے بڑے کبیرہ گناہ جو اپنے کرنے والوں کو ہلاک کر دیتے ہیں، انہیں جہنم میں داخل کر دیتے ہیں اور مصیبتوں میں گھیر لیتے ہیں۔ بات کا مطلب یہ ہے: اس امت کا جو شخص بھی اللہ کے ساتھ شرک کیے بغیر فوت ہوا، اس کے بڑے گناہ معاف کر دیے جائیں گے۔ مراد — اور اللہ بہتر جانتا ہے — ان کے معاف ہونے سے یہ ہے کہ وہ ہمیشہ جہنم میں نہیں رہے گا، برعکس مشرکین کے۔ اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ اسے کوئی عذاب ہی نہیں ہوگا، کیونکہ شرعی نصوص اور اہل سنت کا اجماع اس بات پر منقح ہے کہ توحید پرست گنہگاروں میں سے بعض کو عذاب ہوگا۔ ممکن ہے کہ اس سے مراد امت کے بعض خاص لوگ ہوں کہ ان کے بڑے گناہ معاف کر دیے جائیں۔ (تحفۃ الاحوذی - ج 8 / ص 134)
(22) (ت): سنن ترمذی، حدیث نمبر: 3276۔ (م): امام مسلم، حدیث نمبر: 173۔

📖 حاصل شدہ اسباق و نکات:

  1. معراج النبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اثبات: یہ حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے معراج کے واقعہ کی تفصیلات پر مشتمل ہے، جو ایک عقیدہ اور یقینی امر ہے۔
  2. جبرائیل علیہ السلام کی حقیقی صورت: فرشتے اپنی اصل صورت میں نظر آسکتے ہیں، جو نہایت عظیم الشان، خوبصورت اور روشن ہوتی ہے، جیسا کہ چھ سو پروں، موتی و یاقوت اور ہرے ریشمی لباس کی کیفیت سے معلوم ہوتا ہے۔
  3. سدرۃ المنتہیٰ کی فضیلت و مقام: یہ ایک عظیم الشان درخت ہے جو چھٹے یا ساتویں آسمان میں ہے۔ یہ دنیا و آسمان کے علوم، اعمال، ارواح اور وحی کا مرکز اور انتہائی نقطہ ہے۔
  4. رسول اللہ ﷺ کو خصوصی انعامات: آپ ﷺ کو تین انعامات ایسے ملے جو پچھلی تمام امتوں کو نہیں ملے: (1)پانچ وقت کی فرض نمازیں: جو امت محمدیہ پر اللہ کا خاص تحفہ ہیں۔ (2)سورہ بقرہ کے خاتمے کا انعام: یعنی ان آیات میں موجود دعاؤں کی قبولیت اور شفاعت کا خصوصی درجہ۔(3)امت کے کبائر کی مغفرت کا وعدہ: بشرطیکہ وہ شرک سے بچیں۔ یہ اس امت پر اللہ کا بہت بڑا رحم و کرم ہے۔
  5. شرک کے عذاب کی ہولناکی: حدیث میں "ما لم يشركوا بالله شيئاً" (بشرطیکہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں) کے الفاظ اس بات کی واضح نشاندہی ہیں کہ شرک تمام گناہوں میں سب سے بڑا اور ناقابل معافی گناہ ہے، جو انسان کو جہنم میں ہمیشہ رہنے کا مستحق بنا دیتا ہے۔
  6. گناہگار موحد کی امید: یہ حدیث گناہگار مسلمانوں کے لیے اللہ کی رحمت اور مغفرت کی وسیع وسعت کا پیغام دیتی ہے۔ اگرچہ وہ عذاب کے مستحق ہو سکتے ہیں، لیکن شرک نہ ہونے کی وجہ سے انہیں ہمیشہ جہنم میں نہیں رکھا جائے گا۔
  7. اللہ کی رحمت کی وسعت: "المقحمات" (یعنی بڑے گناہ/کبائر) کے باوجود مغفرت کی امید دلانا اللہ تعالیٰ کی رحمت کی وسعت اور اس کی بخشش کے دروازے کھلے ہونے کی دلیل ہے، بشرطیکہ بندہ شرک سے بچے اور توبہ کرے۔
  8. آخرت کی تیاری: یہ حدیث آخرت میں اللہ کی رحمت پر بھروسہ رکھتے ہوئے، شرک اور گناہوں سے بچنے اور نماز جیسی عظیم نعمت کی حفاظت کرنے کی ترغیب دیتی ہے۔
  9. احادیث کی تفسیر میں صحابہ کا مقام: حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ جیسے جلیل القدر صحابی کا قرآنی آیات کی تفسیر میں بیان، قرآن کی صحیح تفہیم کے لیے ان کے اقوال کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔
  10. احادیث کی جمع و تطبیق: حواشی میں علامہ البانی رحمہ اللہ کے حوالے سے سدرۃ المنتہیٰ کے مقام کے بارے میں مختلف روایات میں جمع و تطبیق کا ایک علمی انداز پیش کیا گیا ہے، جو محدثین کا اہم اسلوب ہے۔











حدیث نمبر 6


عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ - رضي الله عنه - قَالَ:
إِنَّ مُحَمَّداً - صلى الله عليه وسلم - لَمْ يَرَ جِبْرِيلَ فِي صُورَتِهِ إِلَّا مَرَّتَيْنِ، أَمَّا مَرَّةٌ فَإِنَّهُ سَأَلَهُ أَنْ يُرِيَهُ نَفْسَهُ فِي صُورَتِهِ، فَأَرَاهُ صُورَتَهُ فَسَدَّ الْأُفُقَ، وَأَمَّا الْأُخْرَى فَإِنَّهُ صَعِدَ مَعَهُ حِينَ صَعِدَ بِهِ "، وَقَوْلُهُ: {وَهُوَ بِالْأُفُقِ الْأَعْلَى , ثُمَّ دَنَا فَتَدَلَّى , فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَى , فَأَوْحَى إِلَى عَبْدِهِ مَا أَوْحَى
(¬1) قَالَ: فَلَمَّا أَحَسَّ جِبْرِيلُ رَبَّهُ عَادَ فِي صُورَتِهِ وَسَجَدَ، فَقَوْلُهُ: {وَلَقَدْ رَآَهُ نَزْلَةً أُخْرَى , عِنْدَ سِدْرَةِ الْمُنْتَهَى , عِنْدَهَا جَنَّةُ الْمَأْوَى , إِذْ يَغْشَى السِّدْرَةَ مَا يَغْشَى , مَا زَاغَ الْبَصَرُ وَمَا طَغَى , لَقَدْ رَأَى مِنْ آَيَاتِ رَبِّهِ الْكُبْرَى} 
(¬2) قَالَ: رَأَى خَلْقَ جِبْرِيلَ - عليه السلام -. (¬3)
¬_________
ترجمہ:
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا:
"بے شک محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرائیلؑ کو ان کی اصل (حقیقی) صورت میں صرف دو مرتبہ دیکھا۔
(1) پہلی مرتبہ تو یہ تھی کہ آپ  نے ان سے درخواست کی کہ وہ آپ کو اپنی اصل صورت میں دکھائیں، تو انہوں نے اپنی اصل صورت دکھائی جس نے (پورے) افق کو گھیر لیا۔
(2) اور دوسری مرتبہ یہ تھی کہ جب وہ (جبرائیلؑ) آپ ﷺ کو لے کر اوپر چڑھے (یعنی معراج کے موقع پر)۔"
(3) پھر (ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے) اللہ تعالیٰ کے فرمان: {اور وہ (فرشتہ یا جبرائیل) بلند افق پر تھا، پھر (رسول ﷺ کے) قریب آیا اور (قریب تر ہوتا گیا) یہاں تک کہ (فاصلہ) دو کمانوں کا رہ گیا یا اس سے بھی کم، پھر (اللہ نے) اپنے بندے کی طرف وحی فرمائی جو کچھ وحی فرمائی} (النجم: 7-10) کی تفسیر میں فرمایا:
(4) "پس جب جبرائیلؑ نے اپنے رب (کی ہیبت یا قرب) کو محسوس کیا، تو وہ اپنی اصل صورت میں واپس آ گئے اور (خوفِ الٰہی سے) سجدہ میں گر گئے۔"
(5) پھر اللہ تعالیٰ کے فرمان: {اور بے شک آپ نے (جبرائیلؑ کو) ایک دوسری مرتبہ (بھی) دیکھا، سدرۃ المنتہیٰ کے پاس، جس کے پاس جنت المأویٰ ہے، جب سدرہ کو ڈھانپ لینے والا (حقیقی نور) ڈھانپ رہا تھا، (اے محمد ﷺ) آپ کی نگاہ نہ تو بھٹکی اور نہ ہی حد سے گزری، بیشک آپ نے اپنے رب کی بہت بڑی نشانیوں میں سے (ایک بہت بڑی نشانی) دیکھی} (النجم: 13-18) کی تفسیر میں فرمایا:
(6) "(اس سے مراد یہ ہے کہ) آپ  نے جبرائیل علیہ السلام کی (اصل اور عظیم) خلقت کو دیکھا۔"
---
حواشی وحوالہ جات:
(1) [سورۃ النجم، آیات: 7 تا 10]
(2) [سورۃ النجم، آیات: 13 تا 18]
(3) (حم): اسے امام احمد نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے، حدیث نمبر: 3864۔ (طب): اور امام طبرانی نے اپنی معجم کبیر میں، حدیث نمبر: 10547۔ نیز امام البانی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب "الإسراء والمعراج" (صفحہ: 103) میں اسے "حسن" قرار دیا ہے۔
---
حاصل شدہ اسباق و نکات:
1. جبرائیل علیہ السلام کی اصل صورت کی ندرت: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرشتۂ وحی جبرائیل علیہ السلام کو ان کی حقیقی اور عظیم الشان شکل میں صرف دو ہی مواقع پر دیکھا۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ عام حالات میں وہ انسان کی شکل میں ظاہر ہوتے تھے تاکہ ان کی عظمت سے نبی  ﷺ پر شدید اثر نہ ہو۔
2. نبی  کی تجسس اور علم کا شوق: پہلی مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود جبرائیل علیہ السلام سے درخواست فرمائی کہ وہ اپنی اصل صورت دکھائیں۔ اس سے آپ  کی علم اور حقیقت کو جاننے کی فطری خواہش اور جستجو کا پتہ چلتا ہے۔
3. جبرائیل علیہ السلام کی عظمت و جلال: ان کی اصل صورت اتنی وسیع و عظیم تھی کہ اس نے پورے افق (نظر کے دائرے) کو گھیر لیا۔ یہ فرشتوں کی قدرت اور اللہ کی خلقت کے عجائبات میں سے ایک عجیب نشان ہے۔
4. معراج کی سند اور عظمت: دوسری مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرائیل علیہ السلام کو ان کی اصل صورت میں معراج کے سفر کے دوران دیکھا۔ یہ معراج کے واقعہ کی ایک اور سند ہے اور اس کے منفرد مقام کو ظاہر کرتا ہے۔
5. رب العزت کے سامنے جبرائیل کا ادب و خوف: جب جبرائیل علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کی ہیبت یا خاص قرب کو محسوس کیا، تو فوراً اپنی اصلی اور حقیقی صورت میں لوٹ آئے اور سجدے میں گر گئے۔ یہ مخلوق کا اپنے خالق کے سامنے عجز، انکسار اور ادب کی اعلیٰ ترین مثال ہے۔
6. قرآنی آیات کی تفسیر صحابی سے: سورہ النجم کی آیات کی تفسیر براہِ راست حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ جیسے ممتاز صحابی اور مفسر سے منقول ہے۔ یہ قرآن کو سمجھنے کے لیے صحابہ کرام کے اقوال کی اہمیت کو نمایاں کرتی ہے۔
7. "رآه" سے مراد جبرائیل کی خلقت: آیت {لَقَدْ رَأَى مِنْ آيَاتِ رَبِّهِ الْكُبْرَى} (بیشک آپ نے اپنے رب کی بہت بڑی نشانیوں میں سے دیکھی) کی تفسیر میں ابن مسعود رضی اللہ عنہ یہ بیان فرماتے ہیں کہ اس سے مراد "جبرائیل علیہ السلام کی خلقت" کو دیکھنا ہے۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ جبرائیل علیہ السلام کی عظیم الشان حقیقی صورت خود اللہ تعالیٰ کی قدرت کی ایک بہت بڑی نشانی (آیت) ہے۔
8. حدیث کا درجہ: روایت کو امام احمد اور امام طبرانی جیسے محدثین نے نقل کیا ہے اور علامہ البانی رحمہ اللہ جیسے معاصر محقق نے اسے "حسن" قرار دیا ہے، جو اس کے قابل اعتماد ہونے کی دلیل ہے۔





حدیث نمبر 7


عَنْ أَبِي ذَرٍّ - رضي الله عنه - قَالَ:
(سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم -: هَلْ رَأَيْتَ رَبَّكَ؟ , فَقَالَ: " نُورٌ أَنَّى أَرَاهُ (¬1)؟) (¬2) 
[ وفي رواية: رَأَيْتُ نُورًا] (¬3) 
[ وفي رواية: قَدْ رَأَيْتُهُ نُورًا أَنَّى أَرَاهُ] (¬4) "
¬_________
ترجمہ:
حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا:
"میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: کیا آپ نے اپنے رب کو دیکھا ہے؟ تو آپ  نے فرمایا: "(وہ) نور ہے، میں اسے کیسے دیکھ سکتا ہوں (1)؟" (2)

[اور ایک روایت میں ہے:] "میں نے نور دیکھا (3)۔"

[اور ایک روایت میں ہے:] "بیشک میں نے اسے (ایک) نور کے طور پر دیکھا، میں اسے (مکمل طور پر) کیسے دیکھ سکتا ہوں؟ (4)"

---
حواشی وحوالہ جات:

(1) اس کے معنی ہیں: اس (اللہ) کا حجاب نور ہے، تو میں اسے کیسے دیکھ سکتا ہوں؟ امام ابو عبداللہ مازری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: (أَرَاهُ) میں ضمیر اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی طرف لوٹتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ نور ہی نے مجھے (براہِ راست) رؤیت سے روک دیا، جس طرح عام طور پر تیز روشنی آنکھوں پر پردہ ڈال دیتی ہے اور انہیں اس چیز کو سمجھنے سے روک دیتی ہے جو دیکھنے والے اور اس (چیز) کے درمیان حائل ہو جاتی ہے۔ (شرح النووی على مسلم - ج 1 / ص 317)

(2) (م): صحیح مسلم، حدیث نمبر: 291 (کتاب الایمان، باب 46، حدیث نمبر 178)۔ (ت): سنن ترمذی، حدیث نمبر: 3282۔ (حم): امام احمد، حدیث نمبر: 21429۔

(3) (م): صحیح مسلم، حدیث نمبر: 292 (کتاب الایمان، باب 46، حدیث نمبر 178)۔

(4) (حم): مسند احمد، حدیث نمبر: 21351۔ (کتاب "الإسراء والمعراج" للالبانی، صفحہ 109 ملاحظہ کریں)۔ شیخ شعیب ارنؤوط فرماتے ہیں: اس کی سند صحیح ہے۔

---
حاصل شدہ اسباق و نکات:
1. توحید کی اعلیٰ تعلیم: یہ حدیث اللہ تعالیٰ کی ذات کے بارے میں اسلامی عقیدے کی نہایت واضح تعلیم دیتی ہے۔ اللہ کی کوئی شکل یا صورت نہیں، وہ ہر چیز سے بالکل الگ اور مختلف ہے۔
2. براہِ راست رؤیتِ الٰہی کا انکار: نبی ﷺ نے اس دنیا میں اپنے رب کو براہِ راست آنکھوں سے دیکھنے سے انکار فرما دیا۔ اس سے یہ غلط عقیدہ رد ہوتا ہے کہ معراج کے موقع پر آپ  نے اللہ کو اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا۔
3. رب کی عظمت اور حجابِ نور: اللہ تعالیٰ کا حجاب نور ہے۔ وہ اتنے عظیم اور پاک ہیں کہ ان کی حقیقی ذات کا ادراک مخلوق کے لیے ناممکن ہے۔ اس دنیا میں ان کا دیدار اسی نور کے حجاب کے پیچھے ہی ہو سکتا ہے، جو بذاتِ خود ان کی ایک عظیم نشانی ہے۔
4. حدیث کے مختلف الفاظ میں جمع و تطبیق: تینوں روایات میں الفاظ کے فرق کو ایک دوسرے پر محمول کیا جا سکتا ہے۔ پہلی روایت میں سوال کے جواب میں نفی اور تعلیل ہے ("نور ہے، میں کیسے دیکھوں؟")۔ دوسری روایت میں جو "نور دیکھا" ہے، وہ اسی حجابِ نور کی طرف اشارہ ہے۔ تیسری روایت دونوں کو جمع کرتی ہے: "میں نے اسے نور کے طور پر دیکھا، میں (اس سے آگے) کیسے دیکھ سکتا ہوں؟"
5. آخرت میں اہلِ جنت کی رؤیتِ الٰہی کا اثبات: یہ حدیث صرف اس دنیا میں براہِ راست رؤیت کے نہ ہونے پر دلالت کرتی ہے۔ اہل سنت والجماعت کا اجماعی عقیدہ ہے کہ اہلِ جنت کو آخرت میں بلا کیف و کم، بغیر کسی تشبیہ کے، اللہ تعالیٰ کا دیدار نصیب ہوگا، جیسا کہ قرآن و صحیح احادیث میں وارد ہے۔
6. صحابی کا علم حاصل کرنے کا جذبہ: حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کا یہ سوال ان کے علم کے شوق اور عقائد کی گہرائی تک پہنچنے کی خواہش کو ظاہر کرتا ہے۔
7. جواب میں نبی  کی حکمت: آپ  نے ایک ایسا جامع اور نفیس جواب دیا جو نہ تو مکمل نفی پر مشتمل ہے (جس سے رؤیتِ نور کا انکار ہو) اور نہ ہی اثباتِ صورت پر (جس سے تشبیہ کا وہم ہو)، بلکہ ایک معقول اور لطیف تعلیل کے ساتھ حقیقت کو واضح کیا۔
8. نور کی حقیقت: یہاں "نور" سے مراد کوئی مادی روشنی نہیں، بلکہ ایک الٰہی اور روحانی نور ہے جو اللہ کی عظمت اور اس کے جلووں میں سے ایک جلوہ ہے، جو بندے کے ادراک کی انتہا ہے۔





حدیث نمبر 8


عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ - رضي الله عنهما - أَنَّهُ قَالَ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: {فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَى , فَأَوْحَى إِلَى عَبْدِهِ مَا أَوْحَى , مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَأَى , وَلَقَدْ رَآهُ نَزْلَةً أُخْرَى , عِنْدَ سِدْرَةِ الْمُنْتَهَى
, قَالَ: " رَأَى مُحَمَّدٌ - صلى الله عليه وسلم - رَبَّهُ - عز وجل - بِقَلْبِهِ 
[ وفي رواية: بِفُؤَادِهِ
(¬1) مَرَّتَيْنِ " (¬2)
¬_________
ترجمہ:
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان: {پس (فاصلہ) دو کمانوں کا رہ گیا یا اس سے بھی کم، پھر (اللہ نے) اپنے بندے کی طرف وحی فرمائی جو کچھ وحی فرمائی، (اے محمد ) آپ کے دل نے جو کچھ دیکھا اسے جھٹلایا نہیں، اور بے شک آپ نے (جبرائیل کو) ایک دوسری مرتبہ (بھی) دیکھا، سدرۃ المنتہیٰ کے پاس} (النجم: 9-13) کی تفسیر میں فرمایا:
"(اس سے مراد یہ ہے کہ) محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب عزوجل کو اپنے دل سے دیکھا۔"
[اور ایک روایت میں ہے:] "اپنے فؤاد (دل) سے دیکھا۔"
(1) (ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا:) دو مرتبہ۔ (2)

---
حواشی وحوالہ جات:
(1) (م): صحیح مسلم، حدیث نمبر: 285(176)۔
(2) (حم): مسند احمد، حدیث نمبر: 1956۔ (م): صحیح مسلم، حدیث نمبر:285۔ (ت): سنن ترمذی، حدیث نمبر: 3281۔
---
حاصل شدہ اسباق و نکات:

1. رؤیتِ قلبی کا اثبات، رؤیتِ بصری کا نہیں: حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کی یہ تفسیر اس بات کی واضح وضاحت ہے کہ سورہ النجم کی آیات میں "رأى" (دیکھا) سے مراد آنکھوں سے دیکھنا نہیں، بلکہ دل یا فؤاد کے ذریعے مشاہدہ اور ادراک کرنا ہے۔ یہ بات پچھلی حدیث (ابوذر رضی اللہ عنہ والی) سے مکمل طور پر ہم آہنگ ہے جس میں دنیا میں آنکھوں سے دیدار کی نفی کی گئی تھی۔
2. "فؤاد" کی اہمیت: قرآن میں {مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَأَى} کے الفاظ پر ابن عباس رضی اللہ عنہما نے زور دیا کہ یہ رؤیتِ قلبی تھی۔ فؤاد سے مراد وہ باطنی قوتِ ادراک ہے جو آنکھ سے بالاتر ہوتی ہے اور حقیقتوں کا مشاہدہ کرتی ہے۔
3. دو مراتبی رؤیت: ابن عباس رضی اللہ عنہما نے صراحت فرمائی کہ یہ قلبی رؤیت دو مرتبہ ہوئی۔ یہ بات پچھلی حدیثِ ابن مسعود رضی اللہ عنہ (جس میں جبرائیل علیہ السلام کو دو بار دیکھنے کا ذکر تھا) سے مختلف ہے۔ یہاں مراد رب عزوجل کی طرف سے قلبی انوار و تجلیات کا دو مرتبہ مشاہدہ ہے، جو ممکن ہے کہ اسی معراج کے سفر کے دو مختلف مراحل یا مقامات پر ہوا ہو۔
4. صحابہ کرام میں تفسیری اختلاف کا ہونا: حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کی اس تفسیر (رؤیت سے مراد اللہ کو دل سے دیکھنا) اور حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی تفسیر (رؤیت سے مراد جبرائیل علیہ السلام کی خلقت کو دیکھنا) کے درمیان فرق، صحابہ کرام کے ہاں تفسیری اختلافات کے وجود کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ اختلاف کبھی بھی عقیدے کے بنیادی اصولوں کے خلاف نہیں ہوتا، بلکہ آیات کے مفہوم اور مراد میں وسعتِ فکر کا پتہ دیتا ہے۔ دونوں اقوال قابل احترام ہیں اور بعض علماء نے ان میں جمع بھی کیا ہے۔
5. قرآن کی تفسیر میں تدبر: یہ حدیث ہمیں سکھاتی ہے کہ قرآن کی آیات کا تدبر کرتے ہوئے ان میں موجود لطیف اشارات (جیسے "فؤاد" کا لفظ) کو سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
6. اعتقادی احتیاط: حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کا یہ قول بھی اسی احتیاط پر مبنی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات کے بارے میں کوئی ایسی بات ثابت نہ کی جائے جو اس کی شان کے لائق نہ ہو۔ قلبی مشاہدہ کا تصور، براہِ راست بصری رؤیت کے مقابلے میں زیادہ لطیف اور مناسب ہے۔

نتیجہ:
پچھلی احادیث اور اس حدیث کو اکٹھا کرنے سے درج ذیل متوازن عقیدہ سامنے آتا ہے:

· دنیا میں آنکھوں سے دیدار: نہیں ہوا (ابوذر رضی اللہ عنہ کی حدیث)۔
· معراج میں قلبی مشاہدہ و تجلیات: ہوئیں (ابن عباس رضی اللہ عنہما کی تفسیر)۔
· معراج میں جبرائیل علیہ السلام کو اصل صورت میں دیکھنا: ہوا (ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی پہلی حدیث)۔
· آخرت میں اہلِ جنت کے لیے بلا کیف دیدار: ہوگا (قرآن و سنت کی دیگر نصوص کی رو سے)۔

اللہ تعالیٰ ہمیں صحیح عقیدہ کی سمجھ عطا فرمائے۔





حدیث نمبر 9

عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ:
(قُلْتُ لِعَائِشَةَ - رضي الله عنها -: يَا أُمَّتَاهْ، هَلْ رَأَى مُحَمَّدٌ - صلى الله عليه وسلم - رَبَّهُ؟) (¬1) (فَقَالَتْ: سُبْحَانَ اللَّهِ) (¬2) (لَقَدْ قَفَّ شَعَرِي مِمَّا قُلْتَ، أَيْنَ أَنْتَ مِنْ ثَلَاثٍ) (¬3) (مَنْ تَكَلَّمَ بِوَاحِدَةٍ مِنْهُنَّ فَقَدْ أَعْظَمَ عَلَى اللَّهِ الْفِرْيَةَ؟، قُلْتُ: مَا هُنَّ؟ , قَالَتْ: مَنْ زَعَمَ أَنَّ مُحَمَّدًا - صلى الله عليه وسلم -) (¬4) (يَعْلَمُ مَا فِي غَدٍ فَقَدْ كَذَبَ، ثُمَّ قَرَأَتْ: {وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ مَاذَا تَكْسِبُ غَدًا وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ بِأَيِّ أَرْضٍ تَمُوتُ
(¬5)) (¬6) (وَمَنْ زَعَمَ أَنَّهُ) (¬7) (كَتَمَ شَيْئًا مِنْ الْوَحْيِ) (¬8) (فَقَدْ كَذَبَ) (¬9) (ثُمَّ قَرَأَتْ: {يَأَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ مِنْ رَبِّكَ، وَإِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ
(¬10)) (¬11) (وَلَوْ كَانَ مُحَمَّدٌ كَاتِمًا شَيْئًا مِمَّا أُنْزِلَ عَلَيْهِ، لَكَتَمَ هَذِهِ الْآيَة: {وَإِذْ تَقُولُ لِلَّذِي أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِ وَأَنْعَمْتَ عَلَيْهِ أَمْسِكْ عَلَيْكَ زَوْجَكَ وَاتَّقِ اللَّهَ، وَتُخْفِي فِي نَفْسِكَ مَا اللَّهُ مُبْدِيهِ، وَتَخْشَى النَّاسَ وَاللَّهُ أَحَقُّ أَنْ تَخْشَاهُ
(¬12)) (¬13) (وَمَنْ زَعَمَ أَنَّهُ رَأَى رَبَّهُ) (¬14) (فَقَدْ كَذَبَ) (¬15) (فَقُلْتُ لَهَا: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ، أَنْظِرِينِي وَلَا تَعْجَلِينِي، أَلَمْ يَقُلْ اللَّهُ - عز وجل -: {وَلَقَدْ رَآهُ بِالْأُفُقِ الْمُبِينِ
(¬16) {وَلَقَدْ رَآهُ نَزْلَةً أُخْرَى
) (¬17) ({ثُمَّ دَنَا فَتَدَلَّى، فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَى
؟) (¬18) (فَقَالَتْ: أَنَا أَوَّلُ هَذِهِ الْأُمَّةِ سَأَلَ عَنْ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم -، فَقَالَ: " إِنَّمَا هُوَ جِبْرِيلُ) (¬19) (كَانَ يَأْتِينِي فِي صُورَةِ الرِّجَالِ) (¬20) (فَلَمْ أَرَهُ عَلَى صُورَتِهِ الَّتِي خُلِقَ عَلَيْهَا غَيْرَ هَاتَيْنِ الْمَرَّتَيْنِ، رَأَيْتُهُ مُنْهَبِطًا مِنْ السَّمَاءِ سَادًّا عِظَمُ خَلْقِهِ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ إِلَى الْأَرْضِ " , ثُمَّ قَالَتْ: أَوَلَمْ تَسْمَعْ أَنَّ اللَّهَ يَقُولُ: {لَا تُدْرِكُهُ الأَبْصَارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الأَبْصَارَ وَهُوَ اللَّطِيفُ الْخَبِيرُ؟
(¬21) أَوَ لَمْ تَسْمَعْ أَنَّ اللَّهَ يَقُولُ: {وَمَا كَانَ لِبَشَرٍ أَنْ يُكَلِّمَهُ اللَّهُ إِلَّا وَحْيًا أَوْ مِنْ وَرَاءِ حِجَابٍ أَوْ يُرْسِلَ رَسُولًا فَيُوحِيَ بِإِذْنِهِ مَا يَشَاءُ، إِنَّهُ عَلِيٌّ حَكِيمٌ (¬22)} 
(¬23)) (¬24).
¬_________
ترجمہ:
مسروق (تابعی) سے روایت ہے، انہوں نے کہا:
(1) "میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: اے میری ماں! کیا محمد  نے اپنے رب کو دیکھا ہے؟" (1)
(2) تو انہوں نے فرمایا: "سبحان اللہ! (3) تم نے جو بات کہی ہے اس سے میرے بال کھڑے ہو گئے۔ تم تین باتوں سے کہاں ہو (یعنی تم ان سے بے خبر ہو)؟ (3)
(4) جس نے بھی ان تین میں سے ایک کا بھی دعویٰ کیا تو اس نے اللہ پر بہت بڑا بہتان باندھا۔"
(5) میں نے پوچھا: وہ کون سی ہیں؟
(6) انہوں نے فرمایا: "جس نے یہ گمان کیا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم (4) کل (مستقبل) میں کیا ہوگا جانتے تھے، اس نے جھوٹ بولا۔"
(7) پھر انہوں نے (اس کی تائید میں) یہ آیت تلاوت فرمائی: {اور کوئی شخص نہیں جانتا کہ کل وہ کیا کمائی کرے گا، اور نہ کوئی شخص یہ جانتا ہے کہ کس زمین میں اس کی موت آئے گی} (لقمان: 34)۔ (5،6)
(8) "اور جس نے یہ گمان کیا کہ آپ  نے (7) وحی میں سے کچھ چھپایا (8)، تو اس نے جھوٹ بولا (9)۔"
(10) پھر انہوں نے (اس کی تائید میں) یہ آیت تلاوت فرمائی: {اے رسول! جو کچھ آپ کی طرف آپ کے رب کی جانب سے نازل کیا گیا ہے اسے پہنچا دیجیے، اور اگر آپ نے ایسا نہ کیا تو گویا آپ نے اس کا پیغام پہنچایا ہی نہیں} (المائدہ: 67)۔ (10،11)
(11) "اور اگر محمد  اس چیز میں سے جو آپ پر نازل کی گئی تھی کچھ چھپاتے تو یہ آیت چھپاتے: {اور (وہ وقت یاد کریں) جب آپ اس شخص سے کہہ رہے تھے جس پر اللہ نے انعام فرمایا تھا اور جس پر آپ نے (بھی) انعام فرمایا تھا کہ اپنی بیوی کو (طلاق نہ دے کر) اپنے پاس ہی رکھیے اور اللہ سے ڈریے، اور آپ اپنے دل میں وہ بات چھپا رہے تھے جسے اللہ ظاہر فرمانے والا تھا، اور آپ لوگوں سے ڈر رہے تھے حالانکہ اللہ ہی زیادہ حق رکھتا ہے کہ آپ اسی سے ڈریں} (الاحزاب: 37)۔" (12،13)
(12) "اور جس نے یہ گمان کیا کہ آپ  نے اپنے رب کو دیکھا (14)، تو اس نے جھوٹ بولا (15)۔"
(13) تو میں نے ان (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا) سے کہا: "اے ام المومنین! مجھے ٹھہرائیے، مجھ پر جلدی نہ کیجیے۔ کیا اللہ عزوجل نے یہ نہیں فرمایا: {اور بے شک آپ نے اسے (جبرائیل کو) واضح افق پر دیکھا} (التکویر: 23) (16)، {اور بے شک آپ نے اسے ایک دوسری مرتبہ (بھی) دیکھا} (النجم: 13) (17)، {پھر (وہ) قریب آیا اور (قریب تر ہوتا گیا) یہاں تک کہ (فاصلہ) دو کمانوں کا رہ گیا یا اس سے بھی کم} (النجم: 8-9)؟" (18)
(14) تو انہوں نے فرمایا: "میں اس امت کی پہلی شخص ہوں جس نے رسول اللہ  سے اس کے بارے میں پوچھا تھا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: 'وہ تو جبرائیل (علیہ السلام) تھے (19) جو میرے پاس انسانوں کی صورت میں آتے تھے (20)۔ میں نے انہیں ان کی اس اصل صورت میں جس پر انہیں پیدا کیا گیا تھا صرف انہی دو مرتبہ دیکھا: میں نے انہیں آسمان سے اترتے ہوئے دیکھا، ان کے عظیم جثے نے آسمان اور زمین کے درمیان کے فاصلے کو گھیر رکھا تھا۔'"
(15) پھر انہوں نے فرمایا: "کیا تم نے نہیں سنا کہ اللہ فرماتا ہے: {آنکھیں اسے نہیں دیکھ سکتیں، اور وہ آنکھوں کو دیکھنے والا ہے، اور وہ بڑا باریک بین، بڑی خبر رکھنے والا ہے} (الانعام: 103)؟ (21)
(16) کیا تم نے نہیں سنا کہ اللہ فرماتا ہے: {اور کسی بشر کے لیے یہ ممکن نہیں کہ اللہ اس سے (براہِ راست) کلام کرے سوائے وحی کے (ذریعے) یا پردے کے پیچھے سے، یا وہ کوئی فرشتہ بھیجے پھر وہ اس کے حکم سے جو وہ چاہتا ہے وحی کر دے، بیشک وہ بلند مرتبہ، حکمت والا ہے} (الشوریٰ: 51)؟" (22،23) (24)

---
حواشی وحوالہ جات:

(1) (خ): صحیح بخاری، حدیث نمبر: 4574۔
(2) (م): صحیح مسلم، حدیث نمبر: 289 (کتاب الایمان، باب 46، حدیث نمبر 177)۔
(3) (خ): صحیح بخاری، حدیث نمبر: 4574۔ (حم): مسند احمد، حدیث نمبر: 24273۔
(4) (م): صحیح مسلم، حدیث نمبر: 287 (کتاب الایمان، باب 46، حدیث نمبر 177)۔
(5) [سورۃ لقمان، آیت: 34]
(6) (خ): صحیح  بخاری، حدیث نمبر: 4574۔
(7) (ن): امام نسائی (السنن الکبریٰ)، حدیث نمبر: 11147۔
(8) (خ): صحیح بخاری، حدیث نمبر: 7093۔
(9) (خ): صحیح بخاری، حدیث نمبر: 4574۔
(10) [سورۃ المائدہ، آیت: 67]
(11) (خ): صحیح بخاری، حدیث نمبر: 4574۔
(12) [سورۃ الاحزاب، آیت: 37]
(13) (م): صحیح مسلم، حدیث نمبر: 288۔ (ت): صحیح ترمذی، حدیث نمبر: 3207۔
(14) (خ): صحیح بخاری، حدیث نمبر: 3062۔
(15) (خ): صحیح بخاری، حدیث نمبر: 4574۔ (م): صحیح مسلم، حدیث نمبر: 287۔
(16) [سورۃ التکویر، آیت: 23]
(17) (م): صحیح مسلم، حدیث نمبر: 287۔ (ت): سنن ترمذی، حدیث نمبر: 3068۔
(18) (خ): صحیح بخاری، حدیث نمبر: 3063۔ (م): صحیح مسلم، حدیث نمبر: 290۔
(19) (م): صحیح مسلم، حدیث نمبر: 287۔ (ت): سنن ترمذی، حدیث نمبر: 3068۔
(20) (خ): صحیح بخاری، حدیث نمبر: 3063۔ (م): صحیح مسلم، حدیث نمبر: 290۔
(21) [سورۃ الانعام، آیت: 103]
(22) [سورۃ الشوریٰ، آیت: 51]
(23) ابن ابی عاصم رحمہ اللہ اپنی کتاب "السنة" (حدیث 439) میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کی حدیث پر تبصرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں: اور اس حدیث کو الآجری نے عبادہ بن سلیمان کی دوسری سند سے، اور ابن خزیمہ نے "التوحید" میں، اور ابن حبان نے ایک اور سند سے روایت کیا ہے، سوائے اس کے کہ انہوں نے آیت کا ذکر نہیں کیا، اور یہ قول صحیح کے زیادہ قریب ہے۔ کیونکہ اس آیت کی تفسیر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعاً ثابت ہے، برخلاف حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کی تفسیر کے۔ (پھر ابن ابی عاصم نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث ذکر کی) "...میں اس امت کی پہلی شخص ہوں جس نے رسول اللہ  سے اس کے بارے میں پوچھا... تو آپ  نے فرمایا: 'وہ جبرائیل ہیں...'"۔ اسے امام مسلم وغیرہ نے روایت کیا ہے۔ اور حضرت ابن مسعود اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہما سے بھی اسی کے مثل روایت ہے۔ لیکن حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ایک دوسری سند پر بھی یہ مروی ہے کہ انہوں نے فرمایا: "آپ  نے اللہ تعالیٰ کو اپنے فؤاد سے دو مرتبہ دیکھا"۔ مختصر یہ کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ تبارک وتعالیٰ کی رؤیت کی تفسیر ثابت ہے۔ لیکن اس تفسیر کو لینا جو نبی  سے مرفوعاً مذکور ہے، موقوف تفسیر سے لینے سے اولیٰ اور واجب ہے، خاص طور پر جبکہ راویوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس رؤیت کے بیان میں اضطراب کیا ہے۔ تو بعض نے مطلق رؤیت کہا ہے جیسا کہ زیربحث حدیث وغیرہ میں ہے، اور بعض نے اسے فؤاد کے ساتھ مقید کیا ہے جیسا کہ امام مسلم کی مذکورہ روایت میں ہے، اور یہی ان کی روایات میں سے سب سے صحیح ہے۔ واللہ اعلم۔
(24) (م): صحیح مسلم، حدیث نمبر: 287۔ (خ): صحیح بخاری، حدیث نمبر: 4574۔ (ت): سنن ترمذی، حدیث نمبر: 3068۔ (حم): مسنداحمد، حدیث نمبر: 24273۔

---

حاصل شدہ اسباق و نکات:

1. رؤیتِ بَصَری (آنکھوں سے دیدار) کی قطعی نفی: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی یہ طویل اور قطعی بیان، حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کی حدیث کی تائید کرتا ہے کہ نبی  نے اس دنیا میں اپنے رب کو آنکھوں سے نہیں دیکھا۔ انہوں نے اسے اللہ پر "عظیم بہتان" قرار دیا۔ ان کے جواب میں دو بنیادی قرآنی دلائل ہیں:
   · {لَا تُدْرِكُهُ الْأَبْصَارُ}: آنکھیں اسے نہیں دیکھ سکتیں۔
   · {وَمَا كَانَ لِبَشَرٍ أَنْ يُكَلِّمَهُ اللَّهُ إِلَّا وَحْيًا أَوْ مِنْ وَرَاءِ حِجَابٍ}: کسی بشر سے اللہ براہِ راست نہیں بولتا سوائے وحی یا حجاب کے پیچھے سے۔ یہ دونوں آیات دنیا میں براہِ راست دیدار اور خطاب کی نفی کرتی ہیں۔
2. قرآنی آیات {رآه} کی صحیح تفسیر: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی  کے فرمان کی روشنی میں وضاحت کی کہ سورۃ النجم اور التکویر میں {رآه} (اس نے اسے دیکھا) سے مراد جبرائیل علیہ السلام کو ان کی اصل صورت میں دیکھنا ہے، نہ کہ اللہ تعالیٰ کو۔ یہ تفسیر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے براہِ راست مروی ہے، اس لیے یہی سب سے قوی اور اولیٰ ہے۔
3. صحابہ کے اقوال میں تطبیق: حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول (قلبی رؤیت) اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا قول (جبرائیل کی رؤیت) میں کوئی تضاد نہیں۔ ممکن ہے کہ قلبی تجلیات اور مشاہدات بھی ہوئے ہوں، جبکہ بصری رؤیت صرف جبرائیل علیہ السلام کی ہوئی۔ یا پھر حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول (جو موقوف ہے) حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی مرفوع روایت کے مقابلے میں ثانوی درجہ رکھتا ہے، جیسا کہ ابن ابی عاصم نے وضاحت کی۔
4. جبرائیل علیہ السلام کی اصل صورت کا مشاہدہ: اس حدیث میں بھی جبرائیل علیہ السلام کی عظیم الشان خلقت کا ذکر ہے کہ ان کا جثہ آسمان و زمین کے درمیان حائل تھا، جو پچھلی حدیثِ ابن مسعود سے مطابقت رکھتا ہے۔
5. عقیدے کے دیگر اہم پہلووں کی حفاظت: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے نہ صرف رؤیت، بلکہ دو دیگر سنگین غلطیوں سے بھی خبردار کیا:
   · نبی  کو غیب کا علم دینا: یہ توحیدِ ربوبیت کے خلاف ہے۔ غیب کا علم صرف اللہ کے پاس ہے۔
   · نبی  پر وحی چھپانے کا الزام: یہ توحیدِ رسالت کے خلاف ہے۔ آپ  نے وحی کو مکمل اور بے کم و کاست پہنچایا۔
     یہ تینوں باتیں اللہ پر بہتان ہیں، جو عقیدے کی حساسیت اور انحرافات کی سنگینی کو ظاہر کرتا ہے۔
6. علم حاصل کرنے کا ادب و سلیقہ: مسروق کا انداز ادب و احترام اور تفہیم کا ہے۔ وہ اپنا اشکال واضح کرتے ہیں اور جواب سن کر تسلیم کرتے ہیں۔ اسی طرح حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا غلط عقیدے پر سخت ردعمل اور پھر دلیل و برہان سے واضح کرنا، تعلیم و تربیت کا بہترین نمونہ ہے۔

خلاصۂ عقیدہ:
ان تمام احادیث کو سامنے رکھتے ہوئے اہل سنت والجماعت کا متوازن اور صحیح عقیدہ درج ذیل ہے:

· دنیا میں: نبی  نے اللہ تعالیٰ کو آنکھوں سے نہیں دیکھا۔ معراج میں آپ نے جبرائیل علیہ السلام کو ان کی عظیم اصل صورت میں دیکھا، اور ممکن ہے قلبی طور پر اللہ کی کچھ تجلیات کا مشاہدہ کیا ہو۔
· آخرت میں: اہل جنت بلا کیف و کم، بغیر کسی تشبیہ کے، اللہ تعالیٰ کا دیدار کریں گے، جیسا کہ قرآن و سنت کی دیگر صریح نصوص سے ثابت ہے۔
· قرآنی آیات کی تفسیر: سورۃ النجم میں {رآه} سے مراد جبرائیل علیہ السلام کی رؤیت ہے، جیسا کہ نبی  سے مرفوع حدیث میں صراحت ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں صحیح عقیدہ سمجھنے اور اس پر قائم رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔






جسمانی معراج کے واقعہ کی سب سے پہلے تصدیق کرنے والے حضرت ابوبکر صدیق ؓ تھے:
(1)عَنْ عُرْوَةَ قَالَ: سَعَى رِجَالٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالُوا: هَذَا صَاحِبُكَ , يَزْعُمُ أَنَّهُ قَدْ أُسْرِيَ بِهِ اللَّيْلَةَ إِلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ , ثُمَّ رَجَعَ مِنْ لَيْلَتِهِ , فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: «أَوَ قَالَ ذَاكَ» ؟ قَالُوا: نَعَمْ , قَالَ أَبُو بكر: «§فَأَنَا أَشْهَدُ إِنْ كَانَ قَالَ ذَاكَ لَقَدْ صَدَقَ» قَالُوا: تُصَدِّقْهُ بِأَنَّهُ جَاءَ إِلَى الشَّامِ فِي لَيْلَةٍ وَاحِدَةٍ وَرَجَعَ قَبْلَ أَنْ يُصْبِحَ , قَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: «نَعَمْ أُصَدِّقُهُ بِأَبْعَدَ مِنْ ذَلِكَ , أُصَدِّقُهُ بِخَبَرِ السَّمَاءِ غُدْوَةً وَعَشِيَّةً , فَلِذَلِكَ سمي أَبُو بَكْرٍ الصديق رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» 
[الشريعة للآجري:1259]

قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ رَحِمَهُ اللَّهُ: مَنْ مَيَّزَ جَمِيعَ مَا تَقَدَّمَ ذِكْرِي لَهُ عَلِمَ أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَسْرَى بِمُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , إِلَيْهِ بِجَسَدِهِ وَعَقْلِهِ , لَا أَنَّ الْإِسْرَاءَ كَانَ مَنَامًا وَذَلِكَ أَنَّ الْإِنْسَانَ لَوْ قَالَ: وَهُوَ بِالْمَشْرِقِ رَأَيْتُ الْبَارِحَةَ فِي النَّوْمِ كَأَنِّي بِالْمَغْرِبِ لَمْ يُرَدَّ عَلَيْهِ قَوْلُهُ وَلَمْ يُعَارَضْ وَإِذَا قَالَ: كُنْتُ لَيْلَتِي بِالْمَغْرِبِ , لَكَانَ قَوْلُهُ كَذِبًا , وَكَانَ قَدْ تَقَوَّلَ بِعَظِيمٍ إِذَا كَانَ مِثْلُ ذَلِكَ الْبَلَدِ غَيْرَ وَاصِلٍ إِلَيْهِ فِي لَيْلَتِهِ لَا خِلَافَ فِي هَذَا , فَالنَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ قَالَ: لِأَبِي جَهْلٍ وَلِسَائِرِ قَوْمِهِ: " رَأَيْتُ فِيَ الْمَنَامِ كَأَنِّي بِبَيْتِ الْمَقْدِسِ عَلَى وَجْهِ الْمَنَامِ لَقَبِلُوا مِنْهُ ذَلِكَ وَلَمْ يَتَعَجَّبُوا مِنْ قَوْلِهِ وَلَقَالُوا لَهُ: صَدَقْتَ وَذَلِكَ أَنَّ الْإِنْسَانَ قَدْ يَرَى فِي النَّوْمِ كَأَنَّهُ فِي أَبْعَدِ مِمَّا أَخْبَرْتَنَا وَلَكِنَّهُ لَمَّا قَالَ لَهُمْ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أُسْرِيَ بِيَ اللَّيْلَةَ إِلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ» كَانَ خِلَافًا لِلْمَنَامِ عِنْدَ الْقَوْمِ وَكَانَ هَذَا فِي الْيَقَظَةِ بِجَسَدِهِ وَعَقْلِهِ , فَقَالُوا لَهُ: فِي لَيْلَةٍ وَاحِدَةٍ ذَهَبْتَ إِلَى الشَّامِ وَأَصْبَحْتَ بَيْنَ أَظْهُرِنَا؟ ثُمَّ قَوْلُهُمْ: لِأَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: هَذَا صَاحِبُكَ يَزْعُمُ أَنَّهُ أُسْرِيَ بِهِ اللَّيْلَةَ إِلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ ثُمَّ رَجَعَ مِنْ لَيْلَتِهِ وَقَوْلُ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لَهُمْ وَمَا رَدَّ عَلَيْهِمْ , كُلُّ هَذَا دَلِيلٌ لِمَنْ عَقَلَ وَمَيَّزَ عَلِمَ أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ خَصَّ نَبِيَّهُ مُحَمَّدًا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَنَّهُ أَسْرَى بِهِ بِجَسَدِهِ وَعَقْلِهِ وَشَاهَدَ جَمِيعَ مَا فِي السَّمَاوَاتِ , وَدُخُولُهُ الْجَنَّةَ , وَجَمِيعُ مَا رَأَى مِنْ آيَاتِ رَبِّهِ عَزَّ وَجَلَّ , وَفَرَضَ عَلَيْهِ الصَّلَاةَ كُلُّ ذَلِكَ لَا يُقَالُ مَنَامٌ بَلْ بِجَسَدِهِ وَعَقْلِهِ , وَفَضْلَةٌ خَصَّهُ اللَّهُ الْكَرِيمُ بِهَا , فَمَنْ زَعَمَ أَنَّهُ مَنَامٌ , فَقَدْ أَخْطَأَ فِي قَوْلِهِ وَقَصَّرَ فِي حَقِّ نَبِيِّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَرَدَّ الْقُرْآنَ وَالسُّنَّةَ وَتَعَرَّضَ لَعَظِيمٍ وَبِاللَّهِ التَّوْفِيقُ 
[الشريعة للآجري:1030]

ترجمہ:

حضرت عروہ سے روایت ہے کہ بعض مشرکین حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے پاس دوڑے آئے اور کہنے لگے: "آپ کے یہ صاحب (محمد صلی اللہ علیہ وسلم) دعویٰ کرتے ہیں کہ آج رات انہیں بیت المقدس کی طرف معراج کرائی گئی، پھر وہ اسی رات واپس آ گئے۔" حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: "کیا واقعی انہوں نے یہ فرمایا ہے؟" انہوں نے کہا: "ہاں۔" حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: "تو میں گواہی دیتا ہوں کہ اگر انہوں نے یہ فرمایا ہے تو انہوں نے سچ فرمایا ہے۔"
انہوں (مشرکین) نے کہا: "کیا آپ ان کی اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ وہ ایک ہی رات میں شام (بیت المقدس) آئے اور صبح ہونے سے پہلے واپس آ گئے؟" حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: "ہاں، میں ان کی اس سے بھی زیادہ دور کی بات کی تصدیق کرتا ہوں، میں صبح و شام آسمان (کی وحی) کی خبر کی ان کی تصدیق کرتا ہوں۔" اسی وجہ سے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کو "الصدیق" کہا گیا۔
[الشريعة للآجري:1259]
پھر محمد بن الحسین رحمہ اللہ نے کہا: "جس شخص نے مذکورہ تمام باتوں میں فرق کو سمجھ لیا، اسے معلوم ہو گیا کہ اللہ تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے جسم اور عقل (ہوش وحواس) کے ساتھ معراج کرائی، نہ کہ یہ معراج خواب میں تھی۔ اس لیے کہ اگر کوئی شخص (جو مشرق میں ہے) کہے: 'میں نے خواب میں دیکھا گویا میں مغرب میں تھا'، تو اس کی بات رد نہیں کی جائے گی اور نہ ہی اسے تعجب کی بات سمجھی جائے گی۔ لیکن اگر وہ یہ کہے: 'میں اپنی رات مغرب میں تھا'، تو اس کی بات جھوٹ ہوگی اور اس نے بہت بڑی بات کہی ہوگی، کیونکہ اس جیسے فاصلے پر ایک رات میں پہنچنا ممکن نہیں۔ اس میں کوئی اختلاف نہیں۔
لہٰذا، اگر نبی  ابوجہل اور تمام قوم سے فرما دیتے: 'میں نے خواب میں دیکھا گویا میں بیت المقدس میں ہوں'، تو وہ اسے قبول کر لیتے اور آپ کے قول پر تعجب نہ کرتے، بلکہ کہتے: 'آپ نے سچ فرمایا'، کیونکہ انسان خواب میں اس سے بھی دور چیز دیکھ سکتا ہے۔ لیکن جب آپ  نے ان سے فرمایا: 'آج رات مجھے بیت المقدس کی طرف معراج کرائی گئی'، تو یہ قوم کے نزدیک خواب کے خلاف تھا اور یہ حالت بیداری میں جسم و عقل کے ساتھ تھی۔ اسی لیے انہوں نے آپ سے کہا: 'کیا آپ ایک ہی رات میں شام گئے اور صبح ہمارے درمیان موجود ہیں؟'
پھر مشرکین کا حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ سے یہ کہنا کہ 'آپ کے صاحب دعویٰ کرتے ہیں کہ آج رات انہیں بیت المقدس کی طرف معراج کرائی گئی پھر وہ اسی رات واپس آ گئے'، اور حضرت ابو بکر کا انہیں جواب دینا اور ان کا رد کرنا — یہ سب اس شخص کے لیے دلیل ہے جس نے عقل سے کام لیا اور فرق کو سمجھا۔ اسے معلوم ہو گیا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ خاص فضیلت دی کہ انہیں ان کے جسم اور عقل کے ساتھ معراج کرائی، آسمانوں کی ہر چیز کو مشاہدہ کرایا، جنت میں داخل کیا، اور اپنی نشانیاں دکھائیں، اور ان پر نماز فرض کی۔ یہ سب کچھ خواب نہیں تھا بلکہ جسم و عقل کے ساتھ تھا، یہ ایک خاص فضیلت تھی جس سے اللہ کریم نے آپ کو نوازا۔ لہٰذا جس نے گمان کیا کہ یہ خواب تھا، اس کی بات خطا ہے اور اس نے اپنے نبی کے حق میں کوتاہی کی ہے، نیز قرآن و سنت کی تکذیب کی ہے اور بہت بڑی بات کی ہے۔"
[الشريعة للآجري:1030]
---

حاصل شدہ اسباق و نکات:

1. ایمان میں یقین کی انتہا: "الصدیق" کا معیار

· حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کا فوری اور بلا تردد جواب "اگر انہوں نے فرمایا ہے تو انہوں نے سچ فرمایا ہے" ایمان کے اعلیٰ ترین درجے "تصدیق" کی تعریف ہے۔
· آپ کا یہ فرمانا کہ "میں اس سے بھی زیادہ دور (یعنی وحی) کی تصدیق کرتا ہوں" یہ ظاہر کرتا ہے کہ آپ کا یقین واقعہ معراج تک محدود نہیں، بلکہ اصل بنیاد رسول اللہ  کی ذاتِ مبارکہ پر کامل اعتماد اور یقین تھا۔ یہی وہ بے مثال یقین تھا جس نے آپ کو "الصدیق" کا لقب دلوایا۔

2. معراج جسمانی: ایک عقیدتی حقیقت کا اثبات

· پہلی روایت میں شامل طویل کلام کا بنیادی مقصد یہی ہے کہ معراج رسول اللہ  کے جسم و جان کے ساتھ حقیقتاً ہوئی۔
· مؤلف امام محمد بن الحسین نے خواب اور حقیقت کے درمیان واضح لغوی اور عقلی فرق پیش کیا ہے:
  · خواب کے لیے الفاظ: "رأيت في المنام"، "كأني" (میں نے خواب میں دیکھا، گویا میں)۔
  · حقیقی معراج کے لیے الفاظ: "أُسْرِيَ بِي" (مجھے لے جایا گیا)۔
· اس دلیل سے یہ اصول بھی ملتا ہے کہ احادیث میں الفاظ کے دقیق معانی پر غور کرنا اور ان سے عقیدے کے مسائل اخذ کرنا علماء کا اہم فریضہ ہے۔

3. منکرین کے اعتراضات کا جواب

· روایت اس وقت کے منکرین کے اعتراض کے طریقہ کار کو بھی واضح کرتی ہے۔ انہوں نے معراج کے واقعے کو ایک نامعقول اور مذاق کا نشانہ بنانے کی کوشش کی۔
· مؤلف کا استدلال بتاتا ہے کہ اگر معراج خواب میں ہوتی تو قریش اس پر اتنا تعجب اور انکار نہ کرتے۔ ان کا شدید ردعمل درحقیقت اس بات کی دلیل ہے کہ واقعہ ان کے نزدیک بھی ایک حسی اور جسمانی حادثہ تھا جسے وہ تسلیم نہیں کرنا چاہتے تھے۔

4. ایمان کی آزمائش میں ثابت قدمی

· یہ واقعہ ظاہری عقل اور حسی تجربے سے بالاتر ایک غیبی معجزے پر ایمان لانے کی آزمائش تھی۔
· حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اس آزمائش میں نہ صرف کامل نمبر حاصل کیے بلکہ اپنے یقین سے دشمنوں کے منہ بند کر دیے۔ یہ ہر مسلمان کے لیے یہ سبق ہے کہ حق پر ثابت قدمی کے لیے پختہ یقین ضروری ہے۔

نتیجہ:
یہ روایات نہ صرف حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے مرتبے کو اجاگر کرتی ہیں، بلکہ واقعہ معراج کے جسمانی ہونے کے اہم عقیدے کو مضبوط دلائل سے ثابت کرتی ہیں اور ہمیں الفاظ کے دقیق معانی اور ان سے اخذ ہونے والے عقیدوں کی طرف توجہ دلاتی ہیں۔





ابوبکر صدیق کی صداقت:
(2)عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: " لَمَّا أُسْرِيَ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمَسْجِدِ الْأَقْصَى أَصْبَحَ يَتَحَدَّثُ النَّاسُ بِذَلِكَ، فَارْتَدَّ نَاسٌ فَمَنْ كَانَ آمَنُوا بِهِ وَصَدَّقُوهُ، وَسَمِعُوا بِذَلِكَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالُوا: هَلْ لَكَ إِلَى صَاحِبِكَ يَزْعُمُ أَنَّهُ أُسْرِيَ بِهِ اللَّيْلَةَ إِلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ، قَالَ: أَوَ قَالَ ذَلِكَ؟ قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: لَئِنْ كَانَ قَالَ ذَلِكَ لَقَدْ صَدَقَ، قَالُوا: أَوَ تُصَدِّقُهُ أَنَّهُ ذَهَبَ اللَّيْلَةَ إِلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ وَجَاءَ قَبْلَ أَنْ يُصْبِحَ؟ قَالَ: نَعَمْ، إِنِّي لَأَصُدِّقُهُ فِيمَا هُوَ أَبْعَدُ مِنْ ذَلِكَ أُصَدِّقُهُ بِخَبَرِ السَّمَاءِ فِي غَدْوَةٍ أَوْ رَوْحَةٍ، فَلِذَلِكَ ‌سُمَيَّ ‌أَبُو ‌بَكْرٍ ‌الصِّدِّيقَ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ»
ترجمہ:
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: "جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو راتوں رات مسجد اقصیٰ کی طرف معراج کرائی گئی، تو صبح ہوتے ہی لوگ اس (واقعے) کی بات چیت کرنے لگے۔ کچھ لوگ (ایمان سے) پلٹ گئے۔ جو لوگ آپ پر ایمان رکھتے تھے اور آپ کی تصدیق کرتے تھے، وہ یہ بات سن کر حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہنے لگے: 'کیا آپ نے اپنے صاحب (محمد ) کے بارے میں سنا؟ وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ انہیں آج رات بیت المقدس کی طرف معراج کرائی گئی۔' حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے (فوراً) پوچھا: 'کیا واقعی انہوں نے یہ فرمایا ہے؟' انہوں نے کہا: 'ہاں۔' آپ نے فرمایا: 'اگر انہوں نے یہ فرمایا ہے تو انہوں نے سچ فرمایا ہے۔' انہوں نے (حیرت سے) کہا: 'کیا آپ ان کی اس بات کی بھی تصدیق کرتے ہیں کہ وہ آج رات بیت المقدس گئے اور صبح ہونے سے پہلے واپس آ گئے؟' آپ نے فرمایا: 'ہاں، میں ان کی تصدیق کرتا ہوں۔ میں تو ان کی اس سے بھی زیادہ دور کی بات کی تصدیق کرتا ہوں۔ میں ان کی آسمان کی خبر (یعنی وحی) کی تصدیق کرتا ہوں، خواہ وہ صبح کی ہو یا شام کی۔' اسی وجہ سے حضرت ابو بکر کو 'صدیق' کہا گیا۔"
اس حدیث کی سند صحیح ہے اور ان (امام بخاری ومسلم) نے اِس کی تخریج نہیں کی ہے۔
[المستدرك على الصحيحين للحاكم:4407(أمالي ابن بشران:558)، الصَّحِيحَة: 306، الجامع الصحيح للسنن والمسانيد:14/ 354]
[تفسير للبغوي:1286، تفسير الثعلبي:1693]

---

📖 حاصل شدہ اسباق و نکات:

1. صدیقین کے ایمان کی بلندی اور یقین کی انتہا: اس واقعے سے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ایمان کی عظمت اور یقین کی اس انتہا کا پتہ چلتا ہے جہاں کوئی استفسار، تحقیق یا تردد کے بغیر، محض رسول اللہ  کا فرمانا ہی کافی ہوتا ہے۔ آپ نے معراج جیسے بظاہر ناممکن اور حیرت انگیز واقعے پر بھی "اگر آپ نے فرمایا ہے تو سچ فرمایا ہے" کے فقرے سے اپنا بے لوث ایمان ظاہر کر دیا۔

2. رسول اللہ ﷺ کی سچائی پر پختہ یقین: حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کا یہ جواب کہ "میں تو ان کی اس سے بھی زیادہ دور کی بات کی تصدیق کرتا ہوں... میں ان کی آسمان کی خبر (یعنی وحی) کی تصدیق کرتا ہوں"، یہ واضح کرتا ہے کہ آپ کا ایمان صرف ایک واقعے تک محدود نہ تھا، بلکہ آپ کا پورا وجود ہر حال میں رسول اللہ ﷺ کی صداقت پر گواہ تھا۔

3. اچھوتے لقب 'الصدیق' کی وجہ تسمیہ: یہ واقعہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے مشہور لقب "الصدیق" (سچائی کی انتہا پر یقین رکھنے والا) کی عملی اور واضح وجہ ہے۔ ایسے موقع پر جب بہت سے کمزور ایمان والے لوگ ایمان سے پلٹ گئے، آپ کا یہ یقین آپ کے مقام و مرتبے کو آسمان تک پہنچا گیا۔

4. آزمائش کے وقت ایمان کا امتحان: معراج کا واقعہ مسلمانوں کے لیے ایک امتحان تھا۔ اس نے ایمانداروں اور منافقوں، پکے اور کچے ایمان والوں کے درمیان واضح فرق کر دیا۔ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ اس امتحان میں سب سے نمایاں کامیاب ہوئے۔

5. ہر مسلمان کے لیے مشعل راہ: یہ واقعہ ہر مسلمان کو یہ سبق دیتا ہے کہ اپنے نبی  کے ہر قول و فعل پر دل و جان سے یقین رکھنا اور ہر مشکل وقت میں آپ کی تصدیق و نصرت کرنا ایمان کی شرط ہے۔ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کا یہ رویہ ہر مومن کے لیے مشعل راہ ہے۔

6. حق کی حمایت میں ثابت قدمی اور بے خوفی: حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے نہ صرف رسول اللہ  کی تصدیق کی بلکہ مخالفین کے سامنے بھی بلا خوف و خطر اپنا موقف واضح کیا۔ یہ حق کی حمایت میں ثابت قدمی کی بہترین مثال ہے۔

یہ حدیث ایمان کی حقیقی روح، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کے تقاضے اور حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ جیسی ہستیوں کے بلند مقام کو سمجھنے کے لیے بہترین روشنی فراہم کرتی ہے۔




(3)عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: لَمَّا أُسْرِيَ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْمَسْجِدِ الْأَقْصَى أَصْبَحَ يُحَدِّثُ النَّاسَ بِذَلِكَ فَارْتَدَّ نَاسٌ مِمَّنْ كَانَ آمَنَ بِهِ وَصَدَّقَهُ وَفُتِنُوا بِذَلِكَ عَنْ دِينِهِمْ، وَسَعَى رِجَالٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ إِلَى أَبِي بكر فَقَالُوا: هَلْ لَكَ إِلَى صَاحِبِكَ يَزْعُمُ أَنَّهُ أُسْرِيَ بِهِ اللَّيْلَةَ إِلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ؟ فَقَالَ: أَوَ قَالَ ذَلِكَ؟ قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: لَئِنْ كَانَ قَدْ قَالَ ذَلِكَ لَقَدْ صَدَقَ، قَالُوا: وَتُصَدِّقُهُ أَنَّهُ ذَهَبَ إِلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ فِي لَيْلَةٍ، وَجَاءَ قَبْلَ أَنْ يُصْبِحَ؟ قَالَ: نَعَمْ، إِنِّي لَأُصَدِّقُهُ بِمَا هُوَ أَبْعَدُ مِنْ ذَلِكَ؛ أُصَدِّقُهُ بِخَبَرِ السَّمَاءِ فِي غَدْوَةٍ أَوْ رَوَاحَةٍ؛ فَلِذَلِكَ سمي أبو بَكْرٍ الصديق " قَالَتْ عَائِشَةُ: " ثُمَّ دَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِرًّا وَهَجَرَ الْأَوْثَانَ فَاسْتَجَابَ لَهُ مَنْ شَاءَ اللَّهُ مِنْ أَحْدَاثِ الرِّجَالِ مِنْ ضَعْفَى النَّاسِ حَتَّى كَثُرَ مَنْ آمَنَ بِهِ وَصَدَّقَهُ، وَكُفَّارُ قُرَيْشٍ غَيْرُ مُنْكِرِينَ لِمَا يَقُولُ، يَقُولُونَ: إِذَا مَرَّ عَلَيْهِمْ فِي مَجَالِسِهِمْ: إِنَّ غُلَامَ ابْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ هَذَا وَيُشِيرُونَ إِلَيْهِ لَيُكَلِّمُ زُعَمَاءَ مِنَ السَّمَاءِ فَكَانُوا عَلَى ذَلِكَ حَتَّى عَابَ آلِهَتَهُمُ الَّتِي كَانُوا يَعْبُدُونَ، وَذَكَرَ هَلَاكَ آبَائِهِمُ الَّذِينَ مَاتُوا كُفَّارًا فَنَابَذُوا الرَّسُولَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَعَادَوْهُ فَلَمَّا ظَهَرَ الْإِيمَانُ، وَتُحُدِّثَ بِهِ ثَارَ نَاسٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ بِمَنْ آمَنَ مِنْ قَبَائِلِهِمْ يُسَبِّحُونَهُمْ، وَيُعَذِّبُونَهُمْ وَأَرَادُوا فِتْنَتَهُمْ عَنْ دِينِهُمْ، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تَفَرَّقُوا فِي الْأَرَضِينَ» قَالُوا: أَيْنَ نَذْهَبُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «هَا هُنَا» وَأَشَارَ بِيَدِهِ قِبَلَ الْحَبَشَةِ، وَكَانَ أَحَبَّ الْأَرْضِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ أَنْ يُهَاجِرَ إِلَيْهَا، فَهَاجَرَ نَاسٌ ذُوُو عَدَدٍ مِنْهُمْ مَنْ هَاجَرَ بِنَفْسِهِ، وَمِنْهُمْ مَنْ هَاجَرَ بِأَهْلِهِ.

ترجمہ:

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: "جب نبی اکرم  کو مسجد اقصیٰ سے معراج کرائی گئی، تو صبح ہوتے ہی آپ لوگوں کو اس (واقعے) کے بارے میں بتانے لگے۔ نتیجتاً کچھ ایسے لوگ (ایمان سے) پلٹ گئے جو آپ پر ایمان لائے تھے اور آپ کی تصدیق کرتے تھے، اور وہ اپنے دین کے معاملے میں اس (واقعے) کی وجہ سے آزمائش میں مبتلا ہو گئے۔

کچھ مشرک مرد حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے پاس دوڑے آئے اور کہنے لگے: 'کیا آپ نے اپنے صاحب (محمد ) کے بارے میں سنا؟ وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ انہیں آج رات بیت المقدس کی طرف معراج کرائی گئی۔' حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے (فوراً) پوچھا: 'کیا واقعی انہوں نے یہ فرمایا ہے؟' انہوں نے کہا: 'ہاں۔' آپ نے فرمایا: 'اگر انہوں نے یہ فرمایا ہے تو انہوں نے سچ فرمایا ہے۔' انہوں نے (حیرت سے) کہا: 'کیا آپ ان کی اس بات کی بھی تصدیق کرتے ہیں کہ وہ ایک رات میں بیت المقدس گئے اور صبح ہونے سے پہلے واپس آ گئے؟' آپ نے فرمایا: 'ہاں، میں ان کی تصدیق کرتا ہوں۔ میں تو ان کی اس سے بھی زیادہ دور کی بات کی تصدیق کرتا ہوں؛ میں ان کی آسمان کی خبر (یعنی وحی) کی تصدیق کرتا ہوں، خواہ وہ صبح کی ہو یا شام کی۔' اسی وجہ سے حضرت ابو بکر کو 'صدیق' کہا گیا۔

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے مزید فرمایا: "پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (ابتدا میں) پوشیدہ طور پر دعوت دی اور بتوں کی مذمت کی، تو اللہ تعالیٰ نے جن نوجوانوں اور کمزور لوگوں کو چاہا، انہوں نے آپ کی دعوت قبول کی یہاں تک کہ آپ پر ایمان لانے والوں اور آپ کی تصدیق کرنے والوں کی تعداد زیادہ ہو گئی۔ اور کفار قریش آپ کی باتوں کا انکار نہیں کرتے تھے، جب آپ ان کی مجلسوں سے گزرتے تو کہتے: 'یہ عبدالمطلب کا لڑکا (اشارہ کرتے ہوئے) آسمان کے سرداروں سے بات کرتا ہے۔' وہ اسی طرح (حیران) رہے یہاں تک کہ آپ نے ان کے ان بتوں کی مذمت شروع کر دی جن کی وہ پرستش کرتے تھے، اور اپنے ان باپ دادا کے ہلاکت کے حالات ذکر کیے جو کفر کی حالت میں مرے تھے۔ تب انہوں نے رسول اللہ  سے دشمنی مول لے لی اور آپ کے دشمن بن گئے۔

پھر جب ایمان ظاہر ہو گیا اور اس کی بات چیت ہونے لگی، تو مشرکین میں سے کچھ لوگ اٹھ کھڑے ہوئے اور ان (مسلمانوں) کو ستانے اور عذاب دینے لگے جو ان ہی کی قبیلوں میں سے ایمان لائے تھے، اور وہ انہیں ان کے دین سے پھیرنا چاہتے تھے۔ تب رسول اللہ  نے ان (مسلمانوں) سے فرمایا: 'تم زمین میں (امن کی جگہ) پھیل جاؤ۔' انہوں نے کہا: 'اے اللہ کے رسول! ہم کہاں جائیں؟' آپ نے فرمایا: 'اس طرف' اور اپنے ہاتھ سے حبشہ کی طرف اشارہ کیا، اور یہ رسول اللہ  کو سب سے زیادہ پسندیدہ زمین تھی کہ آپ اس کی طرف ہجرت فرماتے۔ چنانچہ کافی تعداد میں لوگوں نے ہجرت کی، ان میں سے بعض تن تنہا ہجرت کر گئے اور بعض اپنے اہل و عیال کے ساتھ ہجرت کر گئے۔"

[شرح اصول اعتقاد اہل السنة والجماعة للالکائی: 1430]

---

📖 حاصل شدہ اسباق و نکات:

اس تفصیلی روایت سے درج ذیل اہم اسباق اور تاریخی، ایمانی و تربیتی نکات حاصل ہوتے ہیں:

1. صدیقین کے یقین کی انتہا اور لقب کی وجہ: یہ واقعہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے لقب "الصدیق" کی عملی وجہ بیان کرتا ہے۔ آپ نے معراج جیسے عقل سلیم کے لیے حیرت انگیز معجزے پر بھی کوئی استفسار کیے بغیر، بلکہ اس سے بھی بڑھ کر (وحی کی تصدیق کا ذکر کرتے ہوئے) اپنا پختہ یقین ظاہر کیا۔ یہ ایمان کی اعلیٰ ترین سطح ہے۔

2. ایمان کی آزمائش اور کمزور ایمان والوں کا انکشاف: واقعہ معراج ایمان والوں کے لیے ایک سخت امتحان تھا۔ اس نے پکے اور کمزور ایمان والوں کے درمیان واضح فرق کر دیا۔ کچھ لوگ جو پہلے ایمان لائے تھے، اس معجزے کو سن کر ایمان سے پلٹ گئے، جس سے ان کے ایمان کی سطح ظاہر ہو گئی۔

3. دعوتِ اسلام کے ابتدائی مراحل اور حکمت: روایت میں دعوت کے تدریجی مراحل کا ذکر ہے۔ ابتداءً پوشیدہ دعوت، پھر شرک اور بتوں کی مذمت کا اعلانیہ مرحلہ، اور پھر مکہ والوں کے آباء و اجداد کے انجام سے ڈرانا۔ یہ رسول اللہ  کی حکمتِ تبلیغ اور تربیت کے اسلوب کو ظاہر کرتا ہے۔

4. مخالفین کے رویے میں تبدیلی کی وجوہات: روایت واضح کرتی ہے کہ ابتداءً قریش آپ  کے معجزات (جیسے آسمان سے بات) سے حیران تھے مگر خاموش تھے۔ جب آپ نے ان کے معبودوں (بتوں) پر تنقید شروع کی اور ان کے کفار آباء کے انجام کو یاد دلایا، تو یہ ان کے لیے ناقابلِ برداشت ہو گیا۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ اصل اختلاف عقیدہ اور جاہلیت کے تعصب پر تھا، نہ کہ عقل یا دلیل کی کمی پر۔

5. ظلم و ستم اور ہجرت کی اجازت: جب ایمان پھیلنے لگا اور مشرکین کا ظلم و ستم بڑھا تو رسول اللہ  نے مظلوم مسلمانوں کو ہجرت کی اجازت دے کر ایک اہم شرعی اصول کی تعلیم دی: جب دین پر قائم رہنا مشکل ہو جائے تو کسی دوسری جگہ منتقل ہو جانا درست ہے۔

6. حکمتِ الٰہیہ: ہجرتِ حبشہ کا انتخاب: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا حبشہ کی طرف ہجرت کی طرف اشارہ کرنا ایک حکیمانہ فیصلہ تھا، کیونکہ وہاں ایک عادل عیسائی بادشاہ (نجاشی) حکمران تھا جو مظلوموں کو پناہ دیتا تھا۔ یہ اللہ کی جانب سے اپنے بندوں کے لیے راستہ پیدا کرنے کی نشانی ہے۔

7. صبر و استقامت اور تبلیغ کی ذمہ داری: ابتدائی مسلمانوں (خاص طور پر نوجوانوں اور کمزور طبقے) کی تکالیف برداشت کرنا اور پھر ہجرت کرنا، دین کی خاطر صبر و استقامت کی عظیم مثال ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی سبق ملتا ہے کہ دعوت کا کام ہر حال میں جاری رکھنا چاہیے۔


یہ روایت نہ صرف واقعہ معراج کے بعد کے حالات، بلکہ مکہ میں اسلام کی ابتدائی دعوت، اس کے مراحل، آزمائشوں اور پھر ہجرت کی اجازت تک کے تاریخی سیاق کو سمجھنے کے لیے انتہائی اہم ہے۔












(4)حضرت ابن عباس ؓ اور حضرت عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں یہ دونوں حضرات نبی کریم ﷺ سے روایت نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جس رات کو مجھے لے جایا گیا اس کی صبح کو میں مکہ میں بیٹھا ہوا اپنے متعلق سوچ رہا تھا اور سمجھا ہوا تھا کہ میری قوم والے مجھے جھوٹا قرار دیں گے۔ ایک گوشہ میں الگ تھلگ غمگین بیٹھا ہوا تھا اتنے میں اس طرف سے ابو جہل کا گزر ہوا اور مذاق کے لہجے میں اس نے کہا کیا کوئی نئی چیز حاصل کی ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہاں مجھے آج رات لے جایا گیا تھا۔ ابو جہل نے کہاکہاں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بیت المقدس کو ، ابوجہل بولا پھر صبح ہوئی تو تم ہمارے سامنے موجود تھے ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ، ہاں ابو جہل انکار نہ کرسکا اس کو اندیشہ ہوا کہ کہیں وہ بات اسی پر نہ آپڑے ، کہنے لگا تم نے جو بات میرے سامنے بیان کی ہے کیا اپنی قوم والوں کے سامنے بھی بیان کرو گے۔ حضور ﷺ نے فرمایا ہاں ۔ ابو جہل نے کہا اے گروہ کعب بن لوی یہاں آئو ، آواز پر لوٹ ٹوٹ پڑے اور رسول اللہ ﷺ اور ابو جہل کے پاس آگئے ، ابو جہل بولا اب جو کچھ تم نے مجھے بیان کیا اپنی قوم سے بھی بیان کرو۔ حضور ﷺ نے فرمایا ہاں مجھے آج رات لے جایا گیا ، لوگوں نے پوچھا کہاں ، فرمایا بیت المقدس کو۔ لوگوں نے کہا پھر صبح کو تم ہمارے سامنے بھی ہو ، فرمایا ہاں ۔ یہ سنتے ہی کچھ لوگ مذاق میں تالیاں بجانے لگ گئے اور کچھ لوگوں نے تعجب سے اپنا سر پکڑ لیا اور کچھ لوگ جو ایمان لا چکے تھے اور حضور ﷺ کی نبوت کی تصدیق کرچکے تھے وہ اسلام سے پھرگئے اور ایک مشرک بھاگتا ہوا حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے پاس پہنچا اور کہنے لگا اب آپ کا اپنے ساتھی کے متعلق کیا خیال ہے ؟ تو وہ کہہ رہا ہے کہ رات مجھے بیت المقدس کو لے جایا گیا تھا۔ حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے فرمایا: کیا انہوں نے ایسا کہا ، لوگوں نے کہا ہاں۔ حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے فرمایا: اگر انہوں نے ایسا کہا ہے تو سچ کہا ہے، لوگوں نے کہا کہ کیا آپ اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ وہ رات میں بیت المقدس کو چلے گئے اور صبح سے پہلے بھی آگئے۔ حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے فرمایا: میں تو ان کی اس سے بھی بڑی تصدیق کرتا ہوں کہ ان کے پاس جو صبح اور شام آسمان سے خبریں آتی ہیں تو میں ان کی تصدیق کرتا ہوں ۔ حضرت ابوبکر صدیق ؓ اسی لیے کہا جانے لگا ۔
[تفسير البغوي(م516ھ): حدیث نمبر 1286، ج5 / ص65=سورۃ الاسراء: آیۃ#1]
[تفسير الخازن(م741ھ): ج3 / ص116، تفسير ابن كثير(م774ھ):  ج5/ ص14، الدر المنثور:5/ 188]


کیا یہ معراج روح کو ہوئی یا آپ کے جسم کے ساتھ ہوئی؟
اور اگر یہ خواب ہوتا تو اس میں کوئی نشانی اور معجزہ نہ ہوتا، اور ام ہانیؓ آپ کو یہ نہ کہتیں: آپ لوگوں کے سامنے بیان نہ کریں وہ آپ کو جھٹلادیں گے۔ اور نہ اس کے سبب حضرت ابوبکر صدیق ؓ کو فضیلت دی جاتی، اور نہ قریش کے لئے تشبیع وتکذیب ممکن ہوتی، حالانکہ جب آپ ﷺ نے اس بارے خبر دی تو قریش نے آپ کو جھٹلا یا حتیٰ کہ کچھ لوگ مرتد ہوگئے جو ایمان لاچکے تھے۔ پس اگر یہ خواب ہوتا تو کوئی اس کا انکار نہ کرتا۔
[تفسیر القرطبی:سورۃ الاسراء/بنی اسرائیل:1]

اس اختلاف کو قاضی عیاضؒ نے اپنی کتاب ’’الشفاء بتعریف حقوق المصطفےٰ‘‘ میں اس طرح لکھا ہے:
’’پھر اگلے لوگوں اور عالموں کے اسراء کے روحانی یا جسمانی ہونے میں تین مختلف قول ہیں ۔ایک گروہ اسراء کا روحانی کے ساتھ اور خواب میں ہونے کا قائل ہے۔اور اس پر بھی متفق ہیں کہ پیغمبروں کا خواب وحی اور حق ہوتا ہے۔معاویہ کا مذہب بھی یہی ہے حسن بصری کو بھی اسی کا قائل بتاتے ہیں۔لیکن اس کا مشہور قول اس کے برخلاف ہے۔اور محمد بن اسحاق نے اس طرف اشارہ کیا ہے۔اُن کی دلیل ہے خداکا یہ فرمانا﴿وَمَاجَعَلْنَا الرُّؤْیَا الَّتِی أَرَیْنَاکَ اِلَّا فِتْنَةً لِّلنَّاسِ﴾‘‘اورحضرت عائشہ کا یہ قول کہ نہیں کھویا ہم نے رسول اللہ ﷺکے جسم کویعنی آپﷺکا جسم مبارک معراج میں نہیں گیا تھااور آنحضرت ﷺکا یہ فرماناکہ اس حالت میں کہ میں سوتا تھااور انس کا یہ قول کہ آنحضرتﷺاُس وقت مسجد حرام میں سوتے تھے۔پھر معراج کا قصہ بیان کرکےآخر میں کہا کہ میں جاگااور اس وقت مسجد حرام میں تھابہت سے اگلے لوگ اور مسلمان اس بات کے قائل ہیں کہ اسراء جسم کے ساتھ اورجاگنے کی حالت میں ہوئی اور یہی بات حق ہے۔ابن عباس، جابر، انس، حذیفہ، عمر، ابی ھریرہ، مالک بن صعصعہ، ابوحبۃ البدری، ابن مسعود، ضحاک، سعید بن جبیر، قتادہ، ابن المسیب، ابن شہاب، ابن زید، حسن ابراہیم بن مسروق، مجاھد عکرمہ، اور ابن جریج سب کا یہی مذہب ہے۔اور حضرت عائشہ کے قول کی یہی دلیل ہے۔اور طبری، ابن حنبل اور مسلمانوں کے ایک بڑے گروہ کا یہی قول ہے۔متأخرین میں سے بہت سے فقیہ، محدث، متکلم اور مفسر اسی مذہب پر ہیں۔ایک گروہ بیت المقدس تک جسم کے ساتھ بیداری میں جانے اور آسمانوں پر روح کے ساتھ جانے کا قائل ہے۔اُن کی دلیل خدا کا یہ قول ہے: ﴿سُبْحٰنَ الَّذِیْ أَسْرٰی بِعَبْدِہِ لَیْلاً مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اِلیٰ الْمَسْجِدِ الْاَقْصٰی﴾یہاں اسراء کی انتہاءمسجداقصےٰ بیان کی ہے۔پھر ایسی بڑی قدرت اور محمد ﷺکو بزرگی دینے اور اپنے پاس بلانے سے اُن کی بزرگی ظاہر کرنے پر تعریف کی اور تعجب کیاہے اور اگر مسجد اقصےٰ سے اور بھی جسم کے ساتھ جاتے تو اس کا ذکر کرناتعریف کے موقع پر زیادہ مناسب تھا۔
[قاضی عیاض، الشفا بتعریف حقوق المصطفیٰ، پشاور، مکتبہ شان اسلام، سن ندارد، ص126]

اور علامہ سہیلی رحمہ اللہ ’’الروض الانف شرح سیرت ابن ہشام‘‘ میں لکھتے ہیں:
’’مہلب نے شرح بخاری میں اہلِ علم کی ایک جماعت کا قول نقل کیا ہے کہ معراج دو مرتبہ ہوئی، ایک مرتبہ خواب میں، دوسری مرتبہ بیداری میں جسد شریف کے ساتھ۔‘‘
[ج:۱ ص:۲۴۴]

اس سے معلوم ہوا کہ جن حضرات نے یہ فرمایا کہ معراج خواب میں ہوئی تھی، انہوں نے پہلے واقعہ کے بارے میں کہا ہے، ورنہ دوسرا واقعہ جو قرآنِ کریم اور احادیثِ متواترہ میں مذکور ہے، وہ بلاشبہ بیداری کا واقعہ ہے اور جسمانی طور پر ہوا ہے، یہی اہلِ سنت والجماعت کا عقیدہ ہے۔






جمہور کے دلائل:
مولانا حفظ الرحمٰن سیوہارویؒ نے اپنی کتاب’’قصص القرآن‘‘میں جمہور علماء کی رائے کو درست سمجھتے ہوئے فہرست کی شکل میں دلائل سے ثابت کیا ہے کہ: قرآن عزیز اور احادیث صحیحہ بغیر کسی تأویل کے بصراحت یہ ظاہر کرتے ہیں کہ اسراء اور معراج کا واقعہ بجسد عنصری اور بحالت بیداری پیش آیا ہےمولاناسیوہاروی ؒ نے جن آیات کوبطوردلیل پیش کیا ہے ان کی تفصیل کچھ یوں ہے:


1: سورۂ بنی اسرائیل کی آیت’’اسری بعبدہ‘‘میں اسراء کے متبادر معنیٰ وہی ہے جو حضرت موسیٰؑ اورحضرت لوط ؑسے متعلق آیات میں ہیں یعنی بحالت بیداری اور بجسد عنصری رات میں لے چلنا۔وہ دو آیتیں یہ ہیں:


پہلی آیت: ﴿قَالُوْا یَالُوْطُ اِنَّارُسُلُ رَبِّکَ لَنْ یَّصِلُوْا اِلَیْکَ فَاَسْرِ بِاَھْلِکَ بِقِطَعٍ مِّنَ الَّیْلِ﴾
[سورۃ ھود: ۸۱]


’’فرشتوں نے کہا: لوط! ہم تو تیرے پروردگار کے بھیجے ہوئے (فرشتے) ہیں۔ یہ تجھ تک ہرگز نہیں پہنچ پائیں گے۔ پس تو اپنے لوگوں کو کچھ رات گئے (یہاں سے) لے نکل۔‘‘


یہ آیت﴿فَاَسْرِ بِاَھْلِکَ بِقِطَعٍ مِّنَ الَّیْلِ﴾[سورۃ الدخان:23]میں بھی موجود ہے۔ٍ


دوسری آیت: ﴿وَلَقَدْ اَوْحَیْنَا اِلیٰ مُوْسیٰ اَنْ اَسْرِ بِعِبَادِیْ﴾
[سورۃ طہ: ۷۷]


’’اوربلاشبہ ہم نے موسیٰ پر وحی کی کہ میرے بندوں کو راتوں رات لے جا‘‘


اور سورۂ شعراء میں ہے: ﴿وَاَوْحَیْنَا اِلیٰ مُوْسٰی اَنْ اَسْرِ بِعِبَادِیْ اِنَّکُمْ مُتَّبَعُوْنَ﴾
[سورۃ الشعراء : 52]

’ٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍاور ہم نے موسیٰ پر وحی کی کہ میرے بندوں کو راتوں رات لے کر نکل جا۔تمہارا تعاقب ضرور کیا جائے گا۔‘‘


اور یہی آیت سورۂ دخان میں بھی موجود ہے۔


ان تمام آیت میں لفظ’’اسراء‘‘ٍکا جس طرح اطلاق کیا گیا ہےاس سے دو حقیقتوں پر روشنی پڑتی ہے ایک یہ کہ ’’ اسراء‘‘ اس سیر اور اس چلنے کو کہتے ہیں جو رات میں پیش آئے اس لئے دن یا شام کے چلنے پر ’’ اسراء ‘‘کا اطلاق نہیں ہوسکتا۔


دوسری بات یہ ہے کہ ’’سری یا سراء‘‘کا ان تمام آیات میں روح مع جسد پر اطلاق ہواہے……یہ نہ خواب کی شکل میں تھا اور نہ روحانی طور پر اور نہ رؤیا کشفی کے طریقے پر بلکہ روح مع جسد کےتھا۔]‘‘


(2) آیت﴿وَمَاجَعَلْنَا الرُّؤْیَا الَّتِی أَرَیْنَاکَ﴾میں ’’رؤیا‘‘بمعنیٰ عینی مشاہدہ ہے نہ کہ خواب یا روحانی رؤیت اور لغت عرب میں رؤیا کے یہ معنیٰ مجازی نہیں بلکہ حقیقت ہے۔


(3) آیت﴿اِلَّا فِتْنَةً لِّلنَّاسِ﴾میں قرآن نے اس وقعے کو اقرار وانکار کی شکل میں ایمان وکفر کے لئے معیار قرار دیا ہے اور اگرچہ انبیاءؑکے روحانی مشاہدے یا خواب پر بھی مشرکین ومنکرین کا انکار وجحود ممکن اور ثابت ہے لیکن تبادر یہی ظاہر کرتاہے کہ واقعے کی عظمت وفخامت کے پیش نظرمنکرین کا انکار اس لئے شدید سے شدید ترہوا کہ رسول اکرم ﷺنے اس واقعے کو عینی مشاہدے کی طرح بیان فرمایاہے۔


(4) سورۂ النجم کی آیت﴿مَازَاغَ الْبَصَرُوَمَاطَغٰی﴾میں رؤیت جبرئیل نہیں بلکہ واقعۂ اسراء کا مشاہدۂ عینی مراد ہے۔اور اس میں یہ بتلا نا مقصود ہے کہ آنکھ نے جو کچھ دیکھا قلب نے ہو بہو اس کی تصدیق کی۔


(5) صحیح حدیث میں ہےکہ جب مشرکین نے اس واقعے کے انکار پر حجّت قائم کی کہ اگر یہ صحیح ہے تو رسول اکرمﷺبیت المقدس کی موجودہ جزئی تفصیلات بتائیں کیونکہ ہم کو یقین ہے کہ نہ انہوں نے بیت المقدس کو کبھی دیکھا ہے اور نہ بغیر دیکھے جزئی تفصیلات بتائی جاسکتی ہیں تب رسول اکرم ﷺکے سامنےسے بیت المقدس کے درمیانی حجابات من جانب اللہ اُٹھادیےگئے اور آپ ﷺنے ایک ایک چیز کامشاہدہ کرتے ہوئے مشرکین کے سوالات کےصحیح جوابات مرحمت فرمائےجن میں مسجد کی بعض تعمیری تفصیلات تک زیربحث آئیں، یہ دلیل ہے اس امر کی کہ مشرکین سمجھ رہے تھے کہ آپﷺاسراء کو بحالت بیداری اور بجسد عنصری ہونا بیان فرمارہےہیں اور رسول اکرم ﷺنےان کے خیال کی تردید نہیں فرمائی بلکہ اس کی تائید کے لئے معجزانہ تصدیق کا مظاہر فرماکر ان کو لاجواب بنادیا۔


(6) ترجمان القرآن حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے بسند صحیح منقول ہے کہ قرآن مجید میں مذکور ’’رؤیا‘‘سے مرادرؤیا عین ہے نہ کہ خواب یا روحانی مشاہدہ۔


(7) آیت: ﴿وَمَاجَعَلْنَا الرُّؤْیَا الَّتِی أَرَیْنَاکَ اِلَّا فِتْنَةً لِّلنَّاسِ وَالشَّجَرَۃَ الْمَلْعُوْنَةَ فِی الْقُرْآنِ﴾میں مذکور ہے کہ واقعۂ اسراء اور جہنم کے اندر سینڈھ کے درخت کا موجود ہونااور آگ میں نہ جلنایہ دونوں واقعے اقرار وانکار کی صورت میں ایمان وکفر کے لئے آزمائش ہیں پس جبکہ جہنمیوں کی غذاکے لئے ایک مادی خارداردرخت کا موجود ہونا، سرسبز شاداب رہنااور آگ سے نہ جلنا مشرکین کے انکار کا سبب ہوا، بلا شبہ اسراءکے واقعے میں بھی آزمائش کا پہلو یہی ہے کہ رسول اکرم ﷺنے کس طرح زمان ومکان کی قیود کو توڑکر بجسد عنصری وبحالت بیداری وہ سیر کرلی جس کا ذکر سورۂ بنی اسرائیل اور والنجم میں اور صحیح احادیث میں ہےاور یقیناً مشرکین نے اس کا نکار کیاجس کے رد میں قرآن نے اس کو﴿اِلَّا فِتْنَةً لِّلنَّاسِ﴾کہہ کر اس قدر اہمیت دی ورنہ تو أنبیاء علیہم السلام کے روحانی مشاہدات اور خواب کے واقعات کا انکار توان کے لئے ایک عام بات تھی۔


(8) اسراء کا واقعہ جب پیش آیا تو صبح کو رسول اکرمﷺنےجن صحابہ کی محفل میں اس واقعہ کا تذکرہ کیا وہ سب باتفاق یہ فرماتے ہیں کہ یہ واقعہ بجسد عنصری بحالت بیداری پیش آیا مثلاً:حضرت عمرؓ، حضرت انسؓ، حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ وغیرہ اور اس کے برعکس ذیل کے قائلین میں حضرت امیر معاویہؓ اور حضرت عائشہ ؓ کے اسماء گرامی ہیں جن کا اسلام یا حرم نبوی سے تعلق اس واقعہ سے برسوں بعد مدینہ کی زندگی پاک سے وابستہ ہے اس لئے واقعہ کے ایام میں موجود اصحاب کا قول ہے۔


(9) حضرت عائشہ ؓ اور حضرت امیر معاویہؓ کا جو مسلک جمہور کے خلاف منقول ہے وہ بلحاظ درجہ روایت وصحت سند نہ صرف مرجوح بلکہ مجروح ہے اس لئے اول تو ان بزرگوں کی جانب اس قول کا انتساب ہی درست نہیں اور بالفرض صحیح بھی ہو تو جمہور کے مسلک کے مقابلہ میں ہرحیثیت سے مرجوح ہے۔
[سیُوہاروی، مولانا محمدحفظ الرحمٰن، قصص القرآن، ج2، حصہ4، ص469-470]


مولانا ابوالاعلیٰ مودودیؒ بھی معراج نبوی کو جسد عنصری کا سفرقراردیتے ہیں۔وہ اپنی تفسیر’’تفہیم القرآن‘‘میں واقعہ معراج کے بارے میں رقمطرازہیں کہ: ’’سُبْحٰنَ الَّذِیْ أَسْرٰی سے بیان کی ابتداکرنا خود بتا رہاہے کہ یہ کوئی بہت بڑاخارقِ عادت واقعہ تھاجو اللہ تعالیٰ کی غیر محدود قدرت سے رونماہوا۔ظاہر ہے کہ خواب میں کسی شخص کا اس طرح کی چیزیں دیکھ لینا، یا کشف کے طور پر دیکھنایہ اہمیت نہیں رکھتاکہ اسے بیان کرنے کے لئے اس تمہید کی ضرورت ہوکہ تمام کمزوریوں اور نقائص سےپاک ہے وہ ذات جس نےاپنے بندے کو یہ خواب دیکھایا یا کشف میں یہ کچھ دکھایا۔پھر یہ الفاظ بھی کہ’’ایک رات اپنے بندے کو لے گیا‘‘جسمانی سفر پر صریحاًدلالت کرتے ہیں۔خواب کے سفر یا کشفی سفرکے لئے یہ الفاظ کسی طرح موزوں نہیں ہوسکتے۔‘‘
[مودودی، ابوالاعلیٰ، تفہیم القرآن، لاہور، ادارہ ترجمان القرآن، 1982ء، ج2، ص589]


************************

انبیاء کی برزخی زندگی:
حَدَّثَنَا هَدَّابُ بْنُ خَالِدٍ ، وَشَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، قَالَا : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، وَسُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : أَتَيْتُ ، وَفِي رِوَايَةِ هَدَّابٍ : " مَرَرْتُ عَلَى مُوسَى لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِي ، عِنْدَ الْكَثِيبِ الْأَحْمَرِ ، وَهُوَ قَائِمٌ يُصَلِّي فِي قَبْرِهِ ".
ترجمہ: 
حضرت انس بن مالکؓ بیان فرماتے ہیں کہ رسول الله ﷺ نے فرمایا :"معراج کی رات میرا گزر حضرت موسیٰؑ کی قبر پر ہوا، جو سرخ ٹیلے کے قریب ہے، میں نے ان کو دیکھا کہ وہ اپنی قبر میں کھڑے نماز پڑھ رہے ہیں۔
[صحيح مسلم » كِتَاب الْفَضَائِلِ » بَابٌ مِنْ فَضَائِلِ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلامُ, رقم الحديث: 4386(2375)]

📖 شرح علامه مناوي:

(مررت ليلة أسري بي على موسى) أي جاوزت موسى بن عمران حال كونه (قائما يصلي في قبره) لفظ رواية مسلم مررت على موسى ليلة أسري بي عند الكثيب الأحمر وهو يصلي في قبره أي يدعو الله ويثني عليه ويذكره فالمراد الصلاة اللغوية وقيل المراد الشرعية وعليه القرطبي فقال: الحديث بظاهره يدل على أنه رآه رؤية حقيقية في اليقظة وأنه حي في قبره يصلي الصلاة التي يصليها في الحياة وذلك وذلك ممكن ولا مانع من ذلك لأنه إلى الآن في الدنيا وهي دار تعبد فإن قيل كيف يصلون بعد الموت وليس تلك حالة تكليف؟ قلنا ذلك ليس بحكم التكليف بل بحكم الإكرام والتشريف لأنهم حبب إليهم في الدنيا الصلاة فلزموها ثم توفوا وهم على ذلك فتشرفوا بإبقاء ما كانوا يحيونه عليه فتكون عبادتهم إلهامية كعبادة الملائكة لا تكليفية ويدل عليه خبر يموت الرجل على ما عاش عليه ويحشر على ما مات عليه ولا تدافع بين هذا وبين رؤيته إياه تلك الليلة في السماء لأن للأنبياء مراتع ومسارح يتصرفون فيما شاؤوا ثم يرجعون أو لأن أرواح الأنبياء بعد مفارقة البدن في الرفيق الأعلى ولها إشراف على البدن وتعلق به يتمكنون من التصرف والتقرب بحيث يرد السلام على المسلم وبهذا التعلق رآه يصلي في قبره ورآه في السماء فلا يلزم كون موسى عرج به من قبره ثم رد إليه بل ذلك مقام روحه واستقرارها وقبره مقام بدنه واستقراره إلى يوم معاد الأرواح لأبدانها فرآه يصلي في قبره ورآه في السماء أي كما أن نبينا بالرفيق الأعلى وبدنه في ضريحه يرد السلام على من سلم عليه ومن كثف إدراكه وغلظ طبعه عن إدراك هذا فلينظر إلى السماء في علوها وتعلقها وتأثيرها في الأرض وحياة النبات والحيوان وإلى النار كيف تؤثر في الجسم البعيد مع أن الارتباط الذي بين الروح والبدن أقوى وأتم وألطف وإذا تأملت هذه الكلمات علمت أن لا حاجة إلى ما أبدى في هذا المقام من التكلفات والتأويلات البعيدة التي منها أن هذا كان رؤية منام أو تمثيل أو إخبار عن وحي لا رؤية عين (خاتمة) أخرج ابن عساكر عن كعب أن قبر موسى بدمشق وذكر ابن حبان في صحيحه أن قبره بين مدين وبين بيت المقدس واعترضه الضياء المقدسي ثم ذكر أنه اشتهر أن قبره قريب من أريحاء بقرب الأرض المقدسة وقد دلت منامات وحكايات على أنه قبره. قال الحافظ العراقي: وليس في قبور الأنبياء ما هو محقق إلا قبر نبينا صلى الله عليه وسلم وأما قبر موسى وإبراهيم فمظنون

ترجمہ:

"(مَرَرْتُ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِي عَلَى مُوسَى) یعنی میں موسیٰ بن عمران علیہ السلام کے پاس سے گزرا، اس حال میں کہ وہ (قائماً يصلي في قبره) اپنی قبر میں کھڑے نماز پڑھ رہے تھے۔ مسلم کی روایت کے الفاظ ہیں: 'معراج کی رات میں موسیٰ علیہ السلام کے پاس سے گزرا، سرخ ٹیلے کے پاس، اور وہ اپنی قبر میں نماز پڑھ رہے تھے'۔ یعنی اللہ سے دعا کر رہے تھے، اس کی حمد و ثنا بیان کر رہے تھے اور اس کا ذکر کر رہے تھے۔ پس مراد یہاں نماز کا لغوی معنی (دعا و عبادت) ہے۔ اور ایک قول یہ ہے کہ مراد شرعی نماز ہے۔ امام قرطبی اسی پر گئے ہیں۔ انہوں نے کہا: 'حدیث اپنے ظاہر کے ساتھ اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ آپ ﷺ نے انہیں بیداری میں حقیقی طور پر دیکھا، اور یہ کہ وہ اپنی قبر میں زندہ ہیں، وہی نماز پڑھ رہے ہیں جو دنیا کی زندگی میں پڑھتے تھے۔ اور یہ ممکن ہے، اس میں کوئی مانع نہیں...'"

مناوی رحمہ اللہ آگے مزید وضاحت فرماتے ہیں کہ یہ نماز ان کے لیے تکلیف شرعی نہیں بلکہ اللہ کی طرف سے اکرام و تشریف ہے۔ کیونکہ انبیاء علیہم السلام کو دنیا میں ہی نماز محبوب تھی، وہ اسی پر فوت ہوئے، لہٰذا انہیں یہ اعزاز دیا گیا کہ وہ اسی پر برقرار رہیں۔ یہ عبادت الہامی ہے (جیسے فرشتے عبادت کرتے ہیں)، تکلیفی نہیں۔

[فيض القدير-للمناوي:8171]

✨ تشریح کے اہم نکات اور فوائد

مندرجہ بالا عبارت اور اس کے بعد کی تفصیل سے درج ذیل اہم نکات سامنے آتے ہیں:

1. انبیاء کرام علیہم السلام قبر میں زندہ ہیں:


   · یہ حدیث اور مناوی رحمہ اللہ کی تشریح اس اہم عقیدے کی واضح دلیل ہے کہ انبیاء علیہم السلام اپنی قبروں میں زندہ ہیں۔ وہ صرف دنیوی زندگی سے منتقل ہوئے ہیں، مکمل فنا نہیں ہوئے۔
   · ان کی یہ زندگی برزخی زندگی ہے، جو ہماری دنیوی زندگی سے بالکل مختلف نوعیت کی ہے، جسے ہمارا محدود ادراک مکمل طور پر نہیں سمجھ سکتا۔

2. ظاہری تضاد کا حل (قبر میں نماز اور آسمان پر موجودگی):


   · ایک اہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ معراج ہی کی رات آپ ﷺ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر بھی دیکھا، اور یہاں قبر میں بھی دیکھا۔ کیا یہ تضاد ہے؟
   · مناوی رحمہ اللہ نے اس کا نہایت لطیف اور حکیمانہ جواب دیا ہے:
     · انبیاء علیہم السلام کی روحیں بلند مقام (الرفیق الاعلیٰ) پر ہیں، جہاں سے وہ آزادانہ تصرف کر سکتی ہیں۔
     · ان کا تعلق اپنے جسموں سے قائم ہے، جو ان کی قبروں میں محفوظ ہیں۔
     · لہٰذا، نبی ﷺ نے ایک مقام پر ان کی روح کا مشاہدہ فرمایا (آسمان پر)، اور دوسرے مقام پر روح کے تعلق کے ساتھ بدن کا مشاہدہ فرمایا (قبر میں)۔
     · آپ ﷺ کا اپنا جسم مبارک روضۂ اطہر میں ہے، لیکن آپ کی روح کا تعلق وہاں سے قائم ہے، اسی لیے آپ سلام سنتے اور جواب دیتے ہیں۔ یہی معاملہ دیگر انبیاء کا ہے۔

3. یہ رؤیت خواب یا تمثیل نہیں تھی:


   · مناوی رحمہ اللہ نے اس بات پر زور دیا ہے کہ یہ بیداری میں حقیقی مشاہدہ تھا، نہ کہ خواب یا محض ایک تمثیل۔ یہ بات معراج کے جسمانی ہونے کے عقیدے کو مزید تقویت دیتی ہے۔

4. حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قبر کا مقام:


   · شرح میں مختلف اقوال نقل کیے گئے ہیں: دمشق، مدین اور بیت المقدس کے درمیان، یا اریحا کے قریب۔
   · لیکن حافظ عراقی کے حوالے سے مناوی رحمہ اللہ نے یہ اہم بات کہی ہے کہ سوائے ہمارے نبی ﷺ کے قبرِ انور کے، دیگر انبیاء کی قبروں کے یقینی مقام کے بارے میں کوئی قطعیت نہیں۔ یہ سب مظنون اور مشہور ہیں۔ اس لیے کسی خاص مقام کی تعیین سے احتیاط ضروری ہے۔

5. ایمان بالغیب اور توسعِ ذہن:


   · مناوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جو شخص اس حقیقت کو سمجھنے سے قاصر ہو، وہ کائنات کی دیگر مثالوں پر غور کرے، جیسے آسمان کا زمین پر اثر، یا دور بیٹھے ہوئے آگ کا کسی چیز کو گرم کرنا۔ اگر یہ سب ممکن ہیں تو روح کا اپنے بدن سے لطیف تعلق اور اس کے ذریعے تصرف کرنا کیوں ممکن نہیں؟ اس سے ہمارے ایمان بالغیب کو تقویت ملتی ہے۔

💎 خلاصہ کلام

مختصراً، مناوی رحمہ اللہ کی یہ شرح ہمیں بتاتی ہے کہ:

1. انبیاء علیہم السلام اپنی قبروں میں زندہ ہیں اور اللہ کی عبادت میں مشغول ہیں۔

2. ان کی یہ عبادت ان کے لیے تکلیف نہیں، بلکہ اللہ کی طرف سے ان کی تعظیم و تکریم ہے۔

3. روح اور جسم کا تعلق ایک لطیف حقیقت ہے۔ انبیاء کی روحیں بلند مقام پر ہونے کے باوجود اپنے جسموں سے متعلق ہیں، جس کی وجہ سے ان کا ایک ساتھ دو مقامات پر مشاہدہ کوئی تعارض نہیں۔

4. معراج کا یہ واقعہ بیداری میں پیش آیا اور نبی ﷺ نے یہ سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھا۔

یہ عقیدہ ہمارے دل میں انبیاء کرام علیہم السلام کے لیے محبت، تعظیم اور یقین کو مزید گہرا کرتا ہے۔


عقیدہ حیات النبی ﷺ کے دلائل



انبیاء کی برزخی زندگی »
امام الانبیاء حضرت محمدﷺ کی بیت المقدس میں انبیائے کرام کیساتھ ملاقات ہوئی تھی:

صحیح احادیث میں یہ ثابت ہے کہ نبی ﷺ نے بیت المقدس میں تمام انبیائے کرام کی  امامت کروائی تھی، اس کے درج ذیل دلائل ہیں:

1- حضرت ابو ہریرہ (راضی ہو اللہ اس سے) بیان کرتے ہیں کہ اللہ کے پیغمبر (رحمتیں ہوں اللہ کی اس پر اور سلامتی بھی) نے فرمایا:
وَقَدْ رَأَيْتُنِي فِي جَمَاعَةٍ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ، فَإِذَا مُوسَى قَائِمٌ يُصَلِّي، فَإِذَا رَجُلٌ ضَرْبٌ جَعْدٌ كَأَنَّهُ مِنْ رِجَالِ شَنُوءَةَ، وَإِذَا عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ قَائِمٌ يُصَلِّي، أَقْرَبُ النَّاسِ بِهِ شَبَهًا عُرْوَةُ بْنُ مَسْعُودٍ الثَّقَفِيُّ، وَإِذَا إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلَامُ قَائِمٌ يُصَلِّي، أَشْبَهُ النَّاسِ بِهِ صَاحِبُكُمْ - يَعْنِي: نَفْسَهُ -، فَحَانَتِ الصَّلَاةُ فَأَمَمْتُهُمْ۔
ترجمہ:
۔۔۔ میں نے دیکھا کہ انبیائے کرام کی بڑی جماعت وہاں موجود ہے، موسی (سلامتی ہو ان پر) کو کھڑے ہوئے نماز پڑھتے دیکھا گویا کہ وہ گٹھے ہوئے جسم اور گھنگریالے بالوں والے آدمی ہیں گو یا کہ وہ قبیلہ ازد شنوءہ کے ایک آدمی ہیں اور عیسی بن مریم(سلامتی ہو ان دونوں پر) کو کھڑے ہوئے نماز پڑھتے دیکھا تو لوگوں(میرے ساتھیوں) میں سب سے زیادہ ان سے مشابہ عروہ بن مسعود ثقفی(راضی ہو اللہ اس سے) ہیں اور ابراہیم  (سلامتی ہو ان پر) کو کھڑے ہوئے نماز پڑھتے دیکھا لوگوں میں سے  زیادہ ان کے مشابہ تمہارے صاحب [یعنی محمد ﷺ خود] ہیں اس کے بعد نماز کا وقت آیا تو میں نے ان کی امامت کروائی۔
[صحیح مسلم:172، مستخرج أبي عوانة:419، شرح مشكل الآثار-الطحاوي:5011، التوحيد لابن منده:25+26، حياة الأنبياء-للبيهقي:9]




2- حضرت عباس کے بیٹے عبداللہ (راضی ہو اللہ ان دونوں سے) سے مروی ہے کہ :
فَلَمَّا دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ‌الْمَسْجِدَ ‌الْأَقْصَى قَامَ يُصَلِّي، ثُمَّ الْتَفَتَ فَإِذَا النَّبِيُّونَ أَجْمَعُونَ يُصَلُّونَ مَعَهُ، فَلَمَّا انْصَرَفَ جِيءَ بِقَدَحَيْنِ، أَحَدُهُمَا عَنِ الْيَمِينِ، وَالْآخَرُ عَنِ الشِّمَالِ
ترجمہ:
"جس وقت پیغمبر ﷺ مسجد اقصیٰ(یعنی بیت المقدس) میں داخل ہوئے تو آپ ﷺ کھڑے ہو کر نماز ادا کرنے لگے، پھر آپ نے ادھر ادھر دیکھا تو تمام انبیائے کرام آپ کیساتھ(جماعت بناکر) نماز ادا کر رہے تھے"۔
[مسند أحمد:2324، البعث والنشور للبيهقي-ت حيدر:188(ت الشوامي:752)، جامع المسانيد لابن الجوزي:3142، الأحاديث المختارة:544]
اس کی سند میں کچھ کمزوری ہے، تاہم پہلی مسلم کی روایت اس کیلیے شاہد ہے۔
اور امام ابن کثیرؒ نے اس روایت narration کی سند chain of narrators کو صحیح کہا ہے.
[تفسير ابن كثير - ت السلامة: ج5 / ص28 تَفْسِيرُ سُورَةِ‌‌ الْإِسْرَاءِ:1]

دوم:

علمائے کرام کا اس بارے میں بھی اختلاف ہے کہ یہ نماز پیغمبر ﷺ کے آسمان کی طرف جانے سے پہلے تھی یا واپسی پر آپ نے نماز پڑھائی؟ ان دونوں میں سے پہلا موقف راجح ہے، چنانچہ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کہتے ہیں:
قَالَ ‌عِيَاضٌ يَحْتَمِلُ أَنْ يَكُونَ صَلَّى بِالْأَنْبِيَاءِ جَمِيعًا فِي بَيْتِ الْمُقَدّس ثمَّ صعد مِنْهُم إِلَى السَّمَاوَاتِ مَنْ ذَكَرَ أَنَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَآهُ وَيَحْتَمِلُ أَنْ تَكُونَ صَلَاتُهُ بِهِمْ بَعْدَ أَنْ هَبَطَ مِنَ السَّمَاءِ فَهَبَطُوا أَيْضًا وَقَالَ غَيْرُهُ رُؤْيَتُهُ إِيَّاهُمْ فِي السَّمَاءِ مَحْمُولَةٌ عَلَى رُؤْيَةِ أَرْوَاحِهِمْ إِلَّا عِيسَى لِمَا ثَبَتَ أَنَّهُ رُفِعَ بِجَسَدِهِ
ترجمہ:
قاضی عیاض رحمہ اللہ کا کہنا ہے کہ: اس بات کا احتمال ہے کہ آپ ﷺ نے تمام انبیائے کرام کی بیت المقدس میں جماعت کروائی، اور پھر ان میں سے وہ سب آسمانوں پر چلے گئے جنہیں آپ ﷺ نے آسمانوں پر دیکھا، اور یہ بھی احتمال ہے کہ آپ ﷺ نے انہیں آسمان سے واپسی پر  نماز پڑھائی اور وہ بھی آپ ﷺ کیساتھ بیت المقدس اتر آئے۔۔۔
تاہم زیادہ اسی بات کا امکان ہے کہ  پیغمبر ﷺ نے انہیں بیت المقدس  میں آسمان پر جانے سے پہلے نماز پڑھائی۔
[فتح الباري شرح صحيح البخاري-ابن حجر العسقلاني: ج7 / ص209 ]

سوم:

ہر مسلمان کیلیے یہ عقیدہ رکھنا ضروری ہے کہ اگر شہداء کی برزخی زندگی اللہ تعالی کے ہاں کامل ہے تو پھر انبیائے کرام کی زندگی زیادہ کامل ترین ہوگی؛ اس لیے ایک مسلمان کو برزخی زندگی کے بارے میں ایمان رکھنا چاہیے اور چاہیے کہ اس کی کیفیت و حقیقت کے بارے میں کتاب و سنت سے ہٹ کر کوئی بات نہ کرے۔

اللہ تعالی نے شہداء کی زندگی کے بارے میں فرمایا:
( وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا بَلْ أَحْيَاءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ [169] فَرِحِينَ بِمَا آَتَاهُمُ اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ وَيَسْتَبْشِرُونَ بِالَّذِينَ لَمْ يَلْحَقُوا بِهِمْ مِنْ خَلْفِهِمْ أَلَّا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ [170] يَسْتَبْشِرُونَ بِنِعْمَةٍ مِنَ اللَّهِ وَفَضْلٍ وَأَنَّ اللَّهَ لَا يُضِيعُ أَجْرَ الْمُؤْمِنِينَ )
ترجمہ:
جو لوگ اللہ کی راہ میں شہید ہوگئے انہیں ہرگز مردہ نہ سمجھو ، وہ تو زندہ ہیں  جو اپنے پروردگار کے ہاں سے رزق پا رہے ہیں [169] جو کچھ اللہ کا ان پر فضل ہو رہا ہے اس سے وہ بہت خوش ہیں اور ان لوگوں سے بھی خوش ہوتے ہیں جو ان کے پیچھے ہیں اور ابھی تک ان سے ملے نہیں، انہیں نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ ہی وہ غم زدہ ہوں گے [170] اللہ تعالی کا ان پر جو فضل اور انعام ہو رہا ہے اس سے وہ خوش ہوتے ہیں اور اللہ تعالی یقیناً مومنوں کا اجر ضائع نہیں کرتا۔
[آل عمران: 169-171]

اسی طرح حضرت انس بن مالک (راضی ہو اللہ اس سے) سے مروی ہے کہ اللہ کے پیغمبر (رحمتیں ہوں اللہ کی اس پر اور سلامتی بھی) نے فرمایا:
الأَنْبِيَاءُ أَحْيَاءٌ في قُبُورِهِمْ يُصَلُّونَ۔
ترجمہ:
انبیاء(سارے پیغمبر اپنی قبروں میں (برزخی) زندگی کی حالت میں نماز پڑھتے ہیں۔
[مسند البزار:6888، مسند أبي يعلى:3425، فوائد تمام:58، حياة الأنبياء في قبورهم للبيهقي:1+2, سلسلة الأحاديث الصحيحة:‌‌621]
نوٹ:
انبیاء کی زندگی کا ثبوت اپنی اپنی قبروں میں ہے، ہر جگہ نہیں۔

امام ابن حجر مکیؒ نے فرمایا:
وَمَا أَفَادَهُ مِنْ ثُبُوتِ حَيَاةِ الْأَنْبِيَاءِ حَيَاةً بِهَا يَتَعَبَّدُونَ وَيُصَلُّونَ فِي قُبُورِهِمْ مَعَ اسْتِغْنَائِهِمْ عَنِ الطَّعَامِ وَالشَّرَابِ كَالْمَلَائِكَةِ أَمْرٌ لا مرية فيه وقد صنف البيهقي جزأ في ذلك
ترجمہ:
اس حدیث سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ انبیائے کرام قبروں میں برزخی زندگی کیساتھ ہیں اور نمازیں  پڑھتے اور عبادت گزاری کرتے ہیں، نیز وہ فرشتوں کی طرح کھانے پینے کی حاجت نہیں رکھتے، اور یہ ایسی بات ہے جس میں کوئی شک نہیں، بیہقی رحمہ اللہ نے اس بارے میں خصوصی ایک رسالہ بھی لکھا ہے۔۔۔
[عون المعبود وحاشية ابن القيم : ج3 / ص261]

نیز قرآن مجید میں شہداء کے بارے میں واضح لفظوں میں کہا گیا ہے کہ وہ برزخی زندگی کیساتھ ہیں اور انہیں رزق بھی دیا جاتا ہے، ان کی زندگی ان کے جسموں کے ساتھ ہے، تو انبیائے کرام کیساتھ بالاولی ہوگی۔

چہارم:

کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیت المقدس میں انبیائے کرام کی روحوں اور جسموں دونوں کیساتھ ملاقات ہوئی تھی؟ یا صرف روحوں کیساتھ ہوئی تھی جسموں کے ساتھ نہیں ہوئی؟ اس بارے میں اہل علم کے دو قول ہیں:

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"انبیائے کرام کے جسم اطہر  کو آسمانوں میں دیکھا جانا الجھن کا باعث ہے، کیونکہ انبیائے کرام کے جسم مبارک تو زمین پر قبروں میں ہیں۔
اس کا حل یہ ہے کہ:
انبیائے کرام کی روحوں نے ان کے جسموں کی شکل دھار لی، یا پھر ایسا بھی ممکن ہے کہ اس رات انبیائے کرام کے اجسام مبارک نبی ﷺ کی شان و مقام عیاں کرنے کیلیے آپ سے ملاقات کی غرض سے لائے گئے"
[فتح الباری:7 / 210]

راجح بات یہی ہے کہ آپ ﷺ کی ملاقات انبیائے کرام کی روحوں کیساتھ ہوئی جنہوں نے جسموں کی صورت دھاری ہوئی تھی، سوائے عیسی علیہ السلام کے، کیونکہ انہیں روح اور بدن سمیت  آسمانوں پر اٹھایا گیا ، لیکن ادریس علیہ السلام کے بارے میں اختلاف ہے تا ہم ان کے بارے میں بھی راجح یہی ہے کہ ان کا حکم بھی باقی انبیائے کرام والا ہی ہے عیسی علیہ السلام والا نہیں ہے۔

چنانچہ سب انبیائے کرام کے بدن قبروں میں  ہیں اور ان کی روحیں آسمانوں میں ہیں، لہٰذا نبی ﷺ کیساتھ ملاقات کیلیے اللہ تعالی نے تمام انبیائے کرام کی روحوں کو ان کے حقیقی جسموں کی شکل  اپنانے کی طاقت دے دی تھی، اسی بات کو شیخ الاسلام ابن تیمیہ اور حافظ ابن رجب سمیت دیگر اہل علم نے راجح قرار دیا ہے۔

چنانچہ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"آپ ﷺ نے موسی علیہ السلام کو  معراج کی رات آسمانوں میں دیکھا، آدم علیہ السلام کو آسمان دنیا پر ، یحیی اور عیسی علیہما السلام کو دوسرے آسمان پر ، یوسف علیہ السلام کو تیسرے  آسمان پر ، ادریس علیہ السلام کو چوتھے آسمان پر ، ہارون علیہ السلام کو پانچویں آسمان پر ، موسی علیہ السلام کو چھٹے آسمان پر ، اور ابراہیم علیہ السلام کو ساتویں پر دیکھا ، موسی اور ابراہیم کے درمیان ترتیب الٹ بھی ہو سکتی ہے، تو یہ حقیقت میں انبیائے کرام کی روحوں کو ان کے جسموں کی صورت دی گئی تھی۔

جبکہ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ : یہ بھی ہو سکتا ہے کہ آپ ﷺ نے انبیائے کرام کے وہی جسم دیکھے  جو قبروں میں دفن تھے؛ تو یہ بالکل غیر مناسب ہے۔"
[ مجموع الفتاوى:4 / 328]

حافظ ابن رجب حنبلی رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"آپ ﷺ نے جنہیں بھی آسمانوں میں دیکھا وہ حقیقت میں ان انبیائے کرام کی روحیں تھیں، ما سوائے عیسی علیہ السلام کہ کیونکہ انہیں آسمانوں پر جسم سمیت اٹھا لیا گیا تھا" انتہی
[فتح الباری:2 / 113]

اسی موقف کو ابو الوفاء بن عقیل  نے راجح قرار دیا ہے، جیسے کہ ان سے حافظ ابن حجر نے نقل  کیا ہے، اور ظاہری طور پر یہ بھی لگتا ہے کہ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کا بھی یہی موقف ہے، کیونکہ انہوں نے اپنے چند مشائخ کا رد صرف اس لیے کیا کہ انہوں نے دوسرے موقف کو اپنایا ہے، چنانچہ ابن حجر رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"معراج کی رات انبیائے کرام  کی حالت کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے کہ : کیا دیگر انبیائے کرام کو بھی نبی ﷺ کی ملاقات کیلیے ان کے جسموں سمیت وہاں لے جایا گیا؟ یا ان انبیائے کرام کی روحیں وہیں رہتی ہیں جہاں نبی ﷺ کی ان سے ملاقات ہوئی تھی، اور ان کی روحوں کو جسموں کی شکل دے دی گئی تھی؟ جیسے کہ ابو الوفاء بن عقیل نے واضح لفظوں میں اس چیز کا ذکر کیا ہے، ہمارے کچھ مشائخ نے پہلے موقف [یعنی: انبیائے کرام  کو ان کے جسموں سمیت وہاں لے جایا گیا] کو اختیار کیا ہے، ان کی دلیل صحیح مسلم میں انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: (میں نے موسی علیہ السلام کو معراج کی رات دیکھا کہ وہ اپنی قبر میں کھڑے نماز ادا کر رہے تھے) تو اس سے معلوم ہوا کہ موسی علیہ السلام کو بھی اسی وقت ساتھ لے لیا گیا تھا جب آپ ﷺ کا وہاں سے گزر ہوا۔

میں [ابن حجر] کہتا ہوں کہ: یہ کوئی لازمی نہیں ہے، بلکہ یہ بھی ممکن ہے کہ ان کی روح کا زمین میں دفن جسم کیساتھ تعلق ہو، اس طرح انہیں نماز پڑھنے کی استطاعت حاصل ہو گئی، لیکن ان کی روح حقیقت میں آسمانوں پر ہی تھی"۔
[فتح الباری:7 / 212]

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے واضح لفظوں میں کہا ہے کہ بدن چاہے موسی علیہ السلام کا ہو یا کسی اور کا کوئی بھی بدن ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہونے کی صلاحیت نہیں رکھتا، بلکہ یہ خصوصیت روح کی ہے، چنانچہ یہی وجہ ہے کہ جس وقت نبی ﷺ نے موسی علیہ السلام کو ان کی قبر میں نماز ادا  کرتے ہوئے دیکھا ، پھر انہیں بیت المقدس میں دیکھا، پھر انہیں چھٹے آسمان پر دیکھا، تو یہ جگہ کی بار بار تبدیلی موسی علیہ السلام کی روح کیلیے تھی آپ کے بدن کو یہ خصوصیت حاصل نہیں ہے۔

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"یہ بات بالکل واضح ہے کہ انبیائے کرام کے بدن قبروں میں ہیں، سوائے عیسی اور ادریس علیہما السلام کے، نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے موسی علیہ السلام کو ان کی قبر میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھا پھر انہیں چھٹے آسمان پر دیکھا حالانکہ دونوں کے درمیان فاصلہ بھی بہت تھوڑا تھا، تو یہ بدن کیلیے کبھی نہیں ہو سکتا [یہ صرف روح کیلیے ہی ممکن ہے]" ۔
[مجموع الفتاوى:5 / 526 - 527]

شیخ صالح آل شیخ حفظہ اللہ کہتے ہیں:
میرے نزدیک صحیح ترین موقف یہ ہے کہ: یہ معاملہ صرف روح کے ساتھ خاص ہے جسموں کا اس میں کوئی دخل نہیں ہے، ما سوائے عیسی علیہ السلام  کے؛ اس کی وجہ یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی جب تمام انبیائے کرام سے ملاقات ہوئی تو سب نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کیساتھ نماز ادا کی تو اس کے بارے میں درج ذیل صورتیں ہی ہو سکتی ہیں:

- تمام انبیائے کرام نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں جسموں کے ساتھ نماز ادا کی، اس کیلیے تمام انبیائے کرام کے جسموں کو قبروں میں سے جمع کیا گیا، اور پھر دوبارہ ان کے جسموں کو قبروں میں لوٹا دیا گیا، اور روحیں آسمانوں پر چلی گئیں۔

- یا پھر یوں کہا جائے کہ یہ معاملہ صرف روحوں کیساتھ ہی تھا؛ کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ملاقات آسمان پر پہلے ہو چکی تھی۔

اب یہاں یہ بات سب کیلیے واضح ہے کہ : آسمان کی طرف زندہ اٹھائے جانے کا معاملہ صرف عیسی علیہ السلام کے ساتھ خاص تھا کہ انہیں زندہ حالت میں آسمانوں پر اٹھا لیا گیا، اب یہ کہنا کہ دیگر تمام انبیائے کرام کے اجساد مطہرہ کو بھی روحوں سمیت آسمانوں پر لے جایا گیا  اس بارے میں کوئی دلیل نہیں ہے، بلکہ یہ بات بہت سے دلائل سے متصادم ہے، کیونکہ انبیائے کرام قیامت قائم ہونے تک اپنی قبروں میں رہیں گے۔

چنانچہ ان کے فوت ہو جانے کے بعد انہیں دفن کرنے کا یہ مطلب لینا کہ: انبیائے کرام کے جسد مطہر قبروں میں ہیں تو یہ اصل کے مطابق ہے۔

جبکہ دوسرے موقف والوں کا کہنا ہے کہ:  یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصیت تھی  کہ ان کیلیے انبیائے کرام کو قبروں سے اٹھایا گیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں نماز پڑھائی پھر آسمان پر ان سے دوبارہ ملاقات ہوئی۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اس خصوصیت کیلیے لازمی طور پر کوئی واضح دلیل ہونی چاہیے، لیکن غور کرنے پر جو دلیل ملتی ہے وہ اس بات سے بالکل الٹ ہے۔

قصہ مختصر کہ:  اس بارے میں متقدمین اور متاخرین اہل علم کے دو موقف ہیں۔








واقعہ معراج کی ترتیب:
اسراء اور معراج كى شب اللہ عزوجل كى ان عظيم الشان نشانيوں ميں سے ہے جو نبي کريم صلي اللہ عليہ وسلم كى صداقت اور اللہ کے نزديک آپ کے عظيم مقام ومرتبہ پر دلالت کرتي ہے، نيز اس سے اللہ عزوجل كى حيرت کن قدرت اور اس کے اپني تمام مخلوقات پر عالى وبلند ہونے کا ثبوت ملتا ہے.
قرآن مجید میں تین مقامات پر معراج کا ذکر ہے ،   سورۂ بنی اسرائیل میں دو جگہ اور سورۂ نجم میں ایک جگہ،   سورۂ بنی اسرائیل کی پہلی آیت میں فرمایا گیا:

     پاک ہے وہ ذات جو ایک رات اپنے بندہ کو مسجد حرام ( خانہ کعبہ) سے مسجد اقصیٰ ( بیت المقدس) تک جس کے گرد اگرد ہم نے برکتیں رکھی ہیں لے گیاتا کہ ہم اسے اپنی( قدرت) کی نشانیاں دکھائیں ،   بے شک وہ سننے والا (اور) دیکھنے والا ہے"

(سورہ بنی اسرائیل:۱)

اسی سورہ بنی اسرائیل کی 60ویں آیت میں فرمایا گیا :

 اور اے پیغمبر وہ وقت یاد کر و جب ہم نے تم سے کہا کہ تمہارا پروردگار لوگوں کو گھیرے ہوئے ہے اور وہ دکھاوا جو ہم نے تم کو دکھلایا اس کو لوگوں کے لئے آزمائش قرار دیا اور اسی طرح وہ درخت جس کی قرآن میں مذمت کی گئی ہے (آزمائش کیلئے تھا ) اور ہم ان لوگوں کو ( طرح طرح سے ) ڈالے ہیں لیکن ان کی شرارتوں میں اور زیادتی ہوتی ہے

( بنی اسرائیل :60)

 اور وہ خواب جو ہم نے تمھیں دکھایا اور وہ خبیث درخت جس کا ذکر قرآن میں ہے ان سب کو لوگوں کے لئے فتنہ بنا دیا"

(بنی اسرائیل:60)

 تیسری جگہ سورۂ نجم کی ابتدائی آیا ت میں اس کا ذکر فرمایا گیا: 

  اور وہ آسمان کے اونچے کنارے پر تھا ،   پھر اور زیادہ قریب ہوا تو دو کمانوں کے برابر فاصلہ رہ گیا یا اس سے بھی کم،   پھر اﷲ نے اپنے بندے (محمد) کی طر ف وحی بھیجی جو کچھ کہ بھیجی،   جو کچھ انھوں نے دیکھا اس کو ان کے دل نے جھوٹ نہ جانا،   کیا جو کچھ انھوں نے دیکھا تم اس کے بارے میں ان سے جھگڑتے ہو اور انھوں نے اس کو ایک اور دفعہ بھی دیکھا ہے،   سدرۃ المنتہیٰ کے پاس،   اسی کے پاس جنت الماویٰ ہے جب کے اس سدرۃ المنتہیٰ پر چھا رہا تھا جو کچھ چھا رہا تھا،   ان کی نگاہ نہ تو بہکی اور نہ (حد سے) آگے بڑھی ،   انھوں نے اپنے پروردگار کی (قدرت کی) بڑی بڑی نشانیاں دیکھیں"

(سورہ النجم:7 - 18)

واقعہ کی تفصیل جو قرآن مجید اور صحیح احادیث سے معلوم ہوتی ہے کہ ایک رات حضور اکرم آرام فرمارہے تھے کہ دو فرشتے جبریل اور میکائیل آئے،   آپ کو بیدار کیا اور اپنے ساتھ حرم کعبہ میں لائے،   وہاں انھوں نے حضور کا سینہ چاک کر کے دل کو آبِ زم زم سے دھویا اور اپنے مقام پر رکھ دیا،پھر حضور  کو  صفا و مروہ کے درمیا ن لائے جہاں بُرّاق کھڑا تھا،   وہ اونٹ سے کم اور دراز گوش سے بڑا تھا ،   اس کا چہرہ آدمی کی طرح ، کان ہاتھی کے مانند، گردن اونٹ سی، بال گھوڑے کے مثل، کمر شیر جیسی، پیر گائے کے سے، سینہ یاقوتِ سرخ کے دانہ کے مانند تھا،   ران پر دو پر تھے،   زین بندھی تھی،   اس جنتی بُرّاق کا نام جارود تھا،   جبرئیل ؑ اور میکائیل ؑ نے حضور  کو براق پر سوار کر وایا اور روانہ ہوئے ،   دائیں بائیں فرشتوں کی جماعتیں تھیں،   راستہ میں کھجور کے درختوں کے جُھنڈ نظر آئے ،   جبرئیل ؑ نے کہا  :یہ آپ  کا دارالہجرت ہے ، یہاں اتر کر آپ  نے دو رکعت نفل نماز پڑھی،   پھر جبرئیل ؑ نے طور ِ سینا پر براق کو روکا جہاں آپ ﷺ نے دو رکعت نماز پڑھی،   آپ کی تیسری منزل بیت اللحم تھی جس کے بار ے میں حضرت جبرئیل ؑ نے بتلایاکہ یہ حضرت عیسیٰ ؑ کی جائے پیدائش ہے،   وہاں بھی آپ   نے نماز پڑھی،   وہاں سے بیت المقدس آئے جہاں مسجد اقصیٰ تھی،   وہاں آپ  براق سے اترے ،   استقبال کے لئے فرشتوں کی کثیر تعداد تھی جن کی زبانوں پر  السلام علیک یا رسول اللہ، یا اول ، یا آخر ، یا حاشر تھا،   مسجد اقصیٰ میں تمام انبیاء آپ  کے منتظر تھے،   وہاں  آپ نے نماز میں تمام پیغمبروں کی امامت فرمائی،   حضرت جبرئیل ؑ بھی مقتدیو ں میں تھے،   بعد ختم نماز آپنے پیغمبروں سے ملاقات فرمائی،   جب آپ  مسجد سے باہر تشریف لائے تو آپ کے سامنے تین پیالے پیش کئے جن میں سے ایک میں دودھ ،  دوسرے میں شراب اور تیسرے میں پانی تھا،   آپ  نے دودھ کا پیالہ اُٹھا لیا، جبریل ؑ نے عرض کیا: حضور  کو فطرت سلیمہ کی طرف ہدایت نصیب ہوئی،یہ سفر کی پہلی منزل تھی اس کو"   اسرا ء  بھی کہا جاتا ہے،   اس کے بعد سفر کی دوسری منزل شروع ہوئی جو اصل معراج ہے،(سیرت طیبہ - قاضی زین العابدین سجاد میرٹھی)  وہاں سے جبرئیلؑ آپ کو صخرہ پر لائے جہاں سے فرشتے آسمانوں کی طرف پرواز کرتے ہیں،   وہاں ایک سیڑھی نمودار ہوئی،   آپ  آسمان پر پہنچے تو ایک بزرگ ہستی سے ملاقات ہوئی جن کے بارے میں جبرئیل ؑ نے بتلایاکہ ابو البشر حضرت آدم علیہ السلام ہیں،   آپ نے انہیں سلام کیا اور حضرت آدم ؑ نے جواب دیا اور آپ  کی نبوت کا اقرار کیا۔
پہلے آسمان سے آپ  دوسرے آسمان پر تشریف لے گئے جہاں دو نوجوان پیغمبروں حضرت یحییٰ ؑ اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے ملاقات ہوئی،   دونوں کو آپ  نے سلام کیا اور دونوں نے جواب دیا اور آپ  کی نبوت کا اقرار کیا،   تیسرے آسمان پر حضرت یوسف علیہ السلام ،  چوتھے پر حضرت ادریس علیہ السلام،  پانچویں پر حضرت ہارون علیہ السلام اور چھٹے آسمان پر حضرت موسیٰ علیہ السلام سے ملاقات ہوئی،   آپ  نے تمام پیغمبروں کو سلام کیا انھوں نے جواب دیا…  مبارک باد دی اور آپ  کی نبوت کا اقرار کیا، وہاں سے آپ  کو ساتویں آسمان پر لے جا یا گیا جہاں آپ  کی ملاقات حضرت ابراہیم علیہ السلام سے ہوئی ،   آپ نے انھیں سلام کیا ،   انھوں نے جواب دیا اور آپ  کی نبوت کا اقرار کیا،   اس کے بعد آپ کو سدرۃ المنتہیٰ تک لے جایا گیا اور بیت المعمور دکھلایاگیا جو فرشتوں کا کعبہ ہے اور زمین پر کعبہ کے عین اوپر واقع ہے،   وہاں ایک وقت میں ستر ہزار فرشتے طواف کررہے تھے،سدرہ ایک بیری کا درخت ہے،   اس کے پتے ہاتھی کے کان کے برابر اور پھل مٹکوں کی طرح تھے،   فرشتے جگنوؤں کی طرح ان پتوں پر تھے،   انھوں نے حضور  کا دیدار کیا،   سِدرہ کی جڑ سے چار نہریں پھوٹ رہی تھیں دو ظاہر اور دو پوشیدہ ،  حضرت جبرئیل ؑ نے بتلایا کہ جو ظاہر ہیں وہ دجلہ اور فرات ہیں اور جو پوشیدہ ہیں وہ جنت کی نہریں کوثر اور سلسبیل ہیں ،یہاں آپ  کی خدمت میں شراب ،دودھ اور شہد کے پیالے پیش کئے گئے ،  آپ  نے دودھ کا پیالہ اٹھالیا،   جبرئیل ؑ نے کہا یہ فطرت کی جانب رہنمائی ہے جو آپ  کی امت کا طرۂ امتیاز ہے۔

(مصباح الدین شکیل سیرت احمد مجتبیٰ)

سدرۃ المنتہیٰ عالم خلق اور اللہ تعالیٰ کے درمیان حدِّ فاصل ہے،   اس کے آگے عالمِ غیب ہے جس کا علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہے ،   یہیں پر جنت الماویٰ ہے جس کا ذکر سورۂ نجم میں ہے،   حضور اکرم  جنت میں داخل ہوئے ،   حضرت جبرئیل سدرہ سے کچھ آگے رُ ک گئے اور عرض کیاکہ اگر اس مقام سے بال برابر بھی بڑھوں تو جل کر خاک ہو جاؤں ، اب آپ کا اور آپ کے رب کا معاملہ ہے ،   حضور  سجدے میں گر پڑے اس مقام پر سبز رنگ کا ایک تخت ظاہر ہوا جس کا نام رفرف ہے ،   اس کے ساتھ ایک فرشتہ تھا،   حضرت جبرئیل ؑ نے حضور  کو اس فرشتہ کے سپردکیا،   آپ اللہ تعالیٰ کے دربار میں حاضر ہوئے ،  حضور نے عرض کیا : التحیات ُللہ و الصَّلوٰت و الطّیّبٰتُ( تمام قولی ، بدنی اور مالی عبادتیں اللہ کے لئے ہیں)   اللہ تعالیٰ کا جواب آیا: السلام علیک ایُّھا النبی و رَحمتہُ اللّٰہ وَ بَر کا تُہٗ(سلام ہو آپ پراے نبی اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں)   آنحضرت نے دوبارہ عرض کیا ،   السلام علینا وَ عَلیٰ عبادِ ا للّٰہ اللصٰلحینِ(سلام ہو ہم پر اور اللہ تعالیٰ کے تمام نیک بندوں پر )  اس پر حضرت جبرئیل ؑ اور ملائکہ کی آواز سنائی دی،  اَشْھَدُ اَن لا اِلٰہ الا اللہ وَ اَشْھَدُ اَنَّ محمداً عبدہٗ و رسولُہٗ،(میں گواہی دیتاہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اللہ کے بندے اور رسول ہیں)۔ 
معراج میں اُمت کے لئے پچاس نمازیں فرض کی گئیں،   واپسی میں حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کہا کہ مجھے اپنی اُمت کا تجربہ ہے،   اس کی پا بجائی آپ کی امت سے بھی نہ ہو سکے گی،   چنانچہ آپ نے اللہ تعالیٰ سے تخفیف کی درخواست کی جو کم ہوتے ہوتے پانچ رہ گئیں ؛لیکن اس کا ثواب پچاس نمازوں کے برابر رکھا گیا،   سدرۃ المنتہیٰ سے آپ نے حضرت جبرئیل ؑ کو ان کی اصلی صورت میں دیکھا،   ان کے چھ سو پر تھے او ر وہ سبز رنگ کا جوڑا پہنے ہوئے تھے۔
آپ نے داروغہ جہنم کو دیکھا جو نہ ہنستا تھا اور نہ اس کے چہرہ پر خوشی کی علامت تھی ،   آپ نے جنت و جہنم بھی دیکھی ،   آپ نے ان لوگوں کو دیکھا جو یتیموں کا مال ظلم کرکے کھا جاتے تھے،   ان کے ہونٹ اونٹ کے ہونٹوں کی طرح تھے اور وہ اپنے منہ میں پتھر کے ٹکڑوں جیسے انگارے ٹھونس رہے تھے جو ان کی پاخانہ کی راہ سے نکل رہے تھے،آپ  نے سود خواروں کو دیکھا جن کے پیٹ اتنے بڑے تھے کہ وہ حرکت نہیں کر سکتے تھے،آپ  نے زنا کاروں کو بھی دیکھا جن کے سامنے تازہ گوشت اور سڑے ہوئے چھچڑے بھی تھے ،   وہ تازہ گوشت چھوڑ کر سڑے ہوئے چھچڑے کھا رہے تھے،آپ  نے ان عورتوں کو بھی دیکھا جو زنا کے ذریعہ حاملہ ہوتی ہیں اور ان سے ہوئی اولاد کو اپنے شوہروں کی اولاد میں داخل کرلیتی ہیں،   آپ نے دیکھا کہ ایسی عورتوں کے سینہ میں بڑے بڑے ٹیڑھے کانٹے چبھو کر انھیں زمین و آسمان کے درمیا ن لٹکایا گیا ہے،آپ  نے آتے جاتے ہوئے مکہ والوں کا ایک قافلہ بھی دیکھا اور انھیں ان کا ایک اونٹ بھی بتایا جو بھڑک کر بھاگ گیا تھا ،   آپ نے ان کا پانی بھی پیا جو ایک ڈھکے ہوئے برتن میں رکھا تھا،   اس وقت قافلہ سو رہا تھا ،   پھر آپ نے اسی طرح برتن ڈھک کر چھوڑ دیا اور یہ بات معراج کی صبح آپ کے دعوے کی صداقت کی ایک دلیل ثابت ہوئی۔

(الرحیق المختوم -  مولانا صفی الرحمن مبارکپوری)

علامہ ابن قیم نے لکھا ہے کہ جب صبح میں حضور  نے حرم میں یہ واقعہ سنایا تو کفار نے اس کی تکذیب کی اور کہا کہ مکہ سے بیت المقدس جانے کے لئے ایک مہینہ اور واپس آنے کے لئے ایک مہینہ کا عرصہ لگتا ہے اور یہ کیسے ممکن ہے کہ یہ سفر راتوں رات طئے کر لیا جائے اور آپ  آسمان پر بھی جا کر آئیں ،  جب حضرت ابو بکر ؓ نے یہ بات سنی تو کہا کہ اگر حضور  یہ بات فرمائی ہے تو بالکل سچ ہے اور میں اس واقعہ کی تصدیق کرتا ہوں ،  جب آپ سے کفار قریش نے سوال کیا تو آپ نے فرمایا کہ بیت المقدس میرا دیکھا ہوا ہے ،   اللہ تعالیٰ نے بیت المقدس کو آپ کے سامنے رکھ دیا جسے دیکھ کر آپ تفصیل بیان کرنے لگے ،   حضور  تفصیل بیان کرتے جاتے تھے اور حضرت ابوبکرؓ اس کی تصدیق کرتے جاتے تھے ،    اس موقع پر حضور  نے حضرت ابو بکرؓ کو صدیق کا لقب عطا فرمایا ،  کفار مکہ جنہوں نے اس واقعہ کی تکذیب کی تھی یہ سن کر سخت حیران ہوئے۔  
آپ  نے جاتے اور آتے ہوئے ان کے قافلہ سے ملنے کا ذکر بھی فرمایا اور بتلایا اس کی آمد کا وقت کیاہے ،  آپ  نے اس اونٹ کی بھی نشاندہی کی جو قافلہ کے آگے آگے آرہا تھا،   جیسا کچھ آپ  نے بتایا تھا ویسا ہی ثابت ہوا۔


مسجد اقصیٰ کے پادری کی گواہی حضور اکرم ﷺ نے صلح حدیبیہ کے بعد  ۷     ہجری میں حضرت دحیہ ؓ کلبی کے ذریعہ قیصر روم ہرقل کے پاس نامہ مبارک بھیج کر اسلام کی دعوت دی ،   ہرقل نے اپنے لوگوں کو حکم دیا کہ حجاز کا کوئی تاجر موجو د ہو تو اسے بلالائے،  اتفاق سے اس وقت تاجروں کے ایک قافلہ کے ساتھ ابو سفیان موجود تھے جن سے ہرقل نے حضور ﷺ کے بارے میں سوالات کئے،   ان سوالات کے جوابات دینے کے دوران ابوسفیان کو معراج کے واقعہ کا خیال آیااور انھوں نے اسے بیان کرتے ہوئے کہا کہ حضور ﷺ راتوں رات مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ کا سفر کرتے ہوئے آسمانوں پر تشریف لے گئے اور پھر واپس آئے،   ہرقل کے دربار میں اتفاق سے اس وقت مسجد اقصیٰ کا لارڈ پادری موجود تھا جس نے یہ بتلایا کہ وہ ہر رات سونے سے پہلے مسجد اقصیٰ کے تمام دروازے بند کر دیتا تھا؛ لیکن اس رات کوشش کرنے کے باوجود صدر دروازہ بند نہیں ہوا،   آخر کار انھوں نے نجاروں کو بلواکر اسے بند کرنا چاہا مگر باوجود کوشش کے وہ ناکام رہے اس لئے دروازہ کھلا چھوڑ کر سب لوگ گھروں کو چلے گئے،   پادری جب علی الصباح مسجد آیا تو مسجد کے دروازہ کو بالکل ٹھیک پایا ،   مسجد کے قریب چٹان میں سوراخ دیکھا جس سے کسی جانور کو باندھنے کا نشان تھا،   پادری نے کہا کہ رات کو دروازے کا کھلا رہنا صرف اس نبی کے لئے تھا جس کی بشارت حضرت عیسیؑ نے دی تھی اور یہ کہ انھوں نے مسجد اقصیٰ میں رات میں ضرور نماز پڑھی ہوگی۔         ( سیرت احمد مجتبی-  زادالمعاد)   





معراج کی تاریخ

   حضور  کو معراج ہوئی، یعنی آپ آسمانوں پر تشریف لے گئے،   معراج کی تاریخ میں کافی اختلاف ہے،   اس کے بارے میں علماء کے کئی قول ہیں:
۱-جس سال حضور  کو نبوت دی گئی اسی سال معراج ہوئی-  (طبری)
۲-ہجرت سے چھ ماہ قبل
 ۳-ہجرت سے آٹھ ماہ قبل
 ۴-ہجرت سے گیارہ ماہ قبل
 ۵-ہجرت سے ایک سال قبل 
 ۶-ہجرت سے ایک سال دو مہینے پہلے
۷-ہجرت سے ایک سال ایک مہینہ پہلے  
۸-ہجرت سے پندرہ مہینے قبل 
 ۹-ہجرت سے دیڑھ سال قبل  
۱۰-ہجرت سے تین سال قبل
 ۱۱-ہجرت سے پانچ سال قبل،  

(فتح الباری: باب المعراج بحوالہ سیرت احمد مجتبی)

ان میں سے آٹھ اقوال میں یہ بتلایا گیا ہے کہ حضرت خدیجہؓ کی وفات کے بعد اور بیعت عقبہ سے پہلے معراج ہوئی ،   تاریخ کی کتابوں سے معلوم ہوتا ہے کہ نماز کی فرضیت معراج کی شب ہوئی اور حضرت خدیجہ ؓ نماز  پنجگانہ فرض ہونے سے پہلے وفات پا گئیں،یہ بھی تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت خدیجہؓ کی وفات نبوت کے دسویں سال ماہ رمضان میں ہوئی تھی، اس طرح معراج حضرت خدیجہ ؓ کی وفات اور طائف کے سفر سے واپسی کے بعد کسی مہینہ میں ہوئی ،  ابن حزم نے یہی لکھا ہے،   علامہ ابن خلدون نے لکھا ہے کہ پہلی وحی کے نزول کے بعد حضور پر نماز فرض کی گئی ،   حضرت جبریل امین آئے اور وضو کرکے تمام ارکان و افعال کے ساتھ نماز پڑھ کر دکھائی،   آپ نے ان کی پیروی کی ،   اس کے بعد حضور  معراج کی شب مکہ مکرمہ سے بیت المقدس اور پھر وہاں سے ساتویں آسمان اور سدرۃ المنتہیٰ کی جانب تشریف لے گئے۔
( سیرت النبی صلم -  علامہ عبدالرحمن ابن خلدون)
لیکن عام خیال ہے کہ معراج ماہِ رجب کی ستائیسویں شب کو ہوئی.



((کیا معراج 27 رجب المرجب کی شب کو ہوئی ؟ایک غلط فہمی کا ازالی ))

ہمارے دیار میں یہ مشہور ہے کہ معراج 27رجب المرجب کی شب ہوئی اور یہ بات اب عوام میں اس قدر رائج ہوچکی ہے کہ قطعیت کا درجہ اختیار کرچکی ہے حالانکہ یہ بات قطعا درست نہیں ۔اس حوالے سے علما میں شدید اختلاف پایا جاتا ہے علامہ ابن حجر عسقلانی متوفی 852؁ھ سے نے اس حوالے سے دس سے زائد اقوال نقل کئے ہیں اور کوئی قول بھی کسی مضبوط دلیل سے موید نہیں ۔27رجب معراج کی شب نہ تو قرآن میں ہے نہ کسی صحیح حدیث بلکہ ضعیف بلکہ موضوع حدیث میں بھی نہیں ۔
علامہ قسطلانی متوفی 923؁ھ نے جمہور علما کے مذہب یہ نقل کیا ہےکہ معراج ’’ربیع الاول ‘‘ کے مہینے میں ہجرت سے ایک سال قبل ہوئی ۔
وذهب الأكثرون إلى أنه كان في ربيع الأول قبل الهجرة بسنة
(ارشاد الساری ،ج6،ص302،باب المعراج ،طبع مصر)
علامہ ابن رجب حنبلی متوفی 795؁ھ نے تو تصریح کی ہےکہ رجب کے مہینے کے متعلق بہت سے واقعات ذکر کئے جاتے ہیں ان میں ایک یہ بھی ہےکہ اس ماہ کی ستائیس تاریخ کو آپ کو معراج کروائی گئی جسے مختلف اسانید سے ذکر کیا جاتا ہے مگر کوئی سند بھی درست نہیں ۔
و قد روی انہ کان فی شھر رجب حوادث عظیمۃ و لم یصح شیئ من ذالک فروی ان النبی ﷺ ولد فی اول لیلۃ منہ و انہ بعث فی السابع والعشرین منہ و قیل فی الخامس والعشرین ولایصح شہئ من ذالک و روی باسناد لایصح عن القاسم بن محمد ان الاسرابالنبی ﷺ کان فی سابع عشرین من رجب وانکر ذالک ابراہیم الحربی و غیرہ 
(لطائف المعارف ،ص274،طبع دارابن کثیر )
اور فتح الباری کی شرح میں معراج کی شب 17رمضان کو قرار دیا۔
ذكره محمد بن سعد في طبقاته عن الواقدي بأسانيد له متعددة، وذكر أن المعراج إلى السماء كان ليلة السبت لسبع عشرة خلت من شهر رمضان قبل الهجرة بثمانية عشر شهرا من المسجد الحرام، 
(فتح الباری،ج2،ص308،القاہرہ)
علامہ ابن حجر عسقلانی متوفی 852؁ھ نے 
(۱)ربیع الاول 
(۲) ربیع الآخر 
(۳) رمضان 
(۴) شوال 
(۵) رجب
کے اقوال نقل کئے لیکن کسی بھی تاریخ یا ماہ پر کوئی ٹھوس دلیل ذکر نہیں کی۔
تفصیل ملاحظہ ہو فتح الباری (فتح الباری ،ج7،ص203،باب المعراج)
علامہ عینی حنفی متوفی 855؁ھ نے جمہور علما کا قول ’’ربیع الاول‘‘ کا ذکر کیا اور ابن حزم کے حوالے سے اس پر اجماع نقل کیا ۔
وَقيل: كَانَ قبل الْهِجْرَة بِسنة، فِي ربيع الأول، وَهُوَ قَول الْأَكْثَرين، حَتَّى بَالغ ابْن حزم فَنقل الْإِجْمَاع على ذَلِك، وَقَالَ السّديّ: قبل الْهِجْرَة بِسنة وَخَمْسَة أشهر، وَأخرجه من طَرِيقه الطَّبَرِيّ وَالْبَيْهَقِيّ فعلى هَذَا كَانَ فِي شَوَّال، وَحكى ابْن عبد الْبر: أَنه كَانَ فِي رَجَب، وَجزم بِهِ النَّوَوِيّ، وَقيل: بِثمَانِيَة عشر شهرا، حَكَاهُ عبد الْبر أَيْضا،  وَقيل: كَانَ قبل الْهِجْرَة بِسنة وَثَلَاثَة أشهر، فعلى هَذَا يكون فِي ذِي الْحجَّة، وَبِه جزم ابْن فَارس، وَقيل: كَانَ قبل الْهِجْرَة بِثَلَاث سِنِين، حَكَاهُ ابْن الْأَثِير، وَحكى عِيَاض عَن الزُّهْرِيّ: أَنه كَانَ بعد المبعث بِخمْس سِنِين، وروى ابْن أبي شيبَة من حَدِيث جَابر وَابْن عَبَّاس، رَضِي الله تَعَالَى عَنْهُم، قَالَا: ولد رَسُول الله، صلى الله عَلَيْهِ وَسلم يَوْم الْإِثْنَيْنِ، وَفِيه بعث، وَفِيه عرج بِهِ إِلَى السَّمَاء، وَفِيه مَاتَ.
(عمدۃ القاری ،ج17،ص20،21،دارالاحیا التراث)
علامہ محمد بن یوسف صالحی شافعی متوفی 942؁ھ نے معراج پر لکھی جانے والی اپنی مایہ ناز کتاب میں ابن اثیر ،امام نووی اور جمہور کی رائے 27ربیع الاول کو قرار دیا و جع علیہ جمع ۔
(الفضل الفائق فی معراج خیر الخلائق ،ص152،دارابن حزم،سبل الھدی و الرشاد ،ج3،ص65،دارالکتب العلمیہ بیروت)
علامہ قسطلانی متوفی 923؁ھ  جن کا حوالہ پہلے بھی گزرچکا نے اپنااور جمہور کا موقف ’’ربیع الاول ‘‘ کا مہینہ بیان کیا ۔جبکہ شارح زرقانی نے پانچ اقوال :
(۱) ربیع الاول (۲) ربیع الثانی (۳) رجب (۴) رمضان (۵) شوال ذکر کئے ۔
(شرح الزرقانی علی المواھب اللدنیہ ،ج2،ص67،دارالکتب العلمیہ بیروت)
غرض معراج کی صحیح تاریخ ، سن و مہینہ میں سخت اختلاف ہےاور جمہور نے ’’ربیع الاول ‘‘ کے مہینے کو معراج کا مہینہ کہا ہے بلکہ ابن حزم ظاہری نے تو اس پر اجماع بھی نقل کیا ہے۔ البتہ علامہ زرقانی متوفی 1122؁ھ نے یہ بیان کیا ہے کہ اگرچہ سلف و خلف میں معراج کی تاریخ و ماہ میں سخت اختلاف ہے اور کسی قول کی ترجیح پر کوئی دلیل بھی موجود نہیں البتہ عوام میں مشہور 27رجب ہے اور تلقی بالقبول کے اعتبار سے اسے ترجیح حاصل ہوسکتی ہے ۔(شرح الزرقانی ملخصا،ج2،ص71)
لیکن ظاہر ہے کہ یہ ان کی ایک رائے ہے ۔ قصہ مختصر اگرچہ جمہور نے’’ ربیع الاول‘‘ کے مہینے کو اختیار کیا شوال ، رمضان ، ربیع الثانی ، اور رجب کے اقوال بھی موجود ہیں اور یہ کوئی ایسا مسئلہ بھی نہیں کہ جس سے کوئی اعتقاد وابستہ ہو لہذا کسی ماہ کی تعیین پر زیادہ بحث و مباحثہ کی ضرورت نہیں۔نہ ہمارا یہ مقصد ہے کہ رجب کے مہینے میں واقعات معراج کو بیان نہ کیا جائے ہم نے صرف ایک علمی نکتے کے طور پر اس مسئلہ کو بیان کیا کہ 27رجب ہی کو معراج کی شب سمجھنا کسی طور پر درست نہیں ۔
پس جب یہ ماہ یا یہ دن یا یہ شب یقینی طور پر معراج کی شب نہیں تو اس ماہ یا تاریخ یا شب میں کوئی خاص عبادت بھی رسول اللہ ﷺ سے ثابت نہیں لہذا رجبی وغیرہ یا کوئی خاص معراج کی نماز وغیرہ سب بدعت اور غیر ثابت شدہ امور ہیں شیخ الاسلام علامہ ابن حجر عسقلانی نے اس ماہ کی  بدعات کے خلاف باقاعدہ ’’تبین العجب ‘‘ کے نام سے کتاب لکھی ہے ۔واللہ اعلم بالصواب۔
نوٹ:
بعض علماء نے 27 کا قول کیا ہے لیکن وہ ایک قول ہے ہم تحقیق اور یقین کی بات کررہے ہیں۔
لیکن اتنی بات پر بلا اختلاف سب کا اتفاق ہے کہ معراج نزول وحی کے بعد اور ہجرت سے پہلے کا واقعہ ہے جو مکہ معظمہ میں پیش آیا۔
[زرقانی جلد 1 صفحہ 355 تا 358]
[البداية والنهاية-امام ابن كثير: ج3 / ص107]

جس پر قرآن مجید[سورة الإسرء:1،.سورة النجم:14-15] اور متواتر احادیث مبارکہ سے بھی ثبوت ملتا ہے۔











سیدنا انس  ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’میں اس( جانور) پر سوار ہوا، بیت المقدس تک آیا اور میں نے اس جانور کو اس حلقے سے باندھ دیا جس سے انبیاء اپنے اپنے جانوروں کو باندھا کرتے تھے۔ بعد ازاں میں مسجد کے اندر داخل ہو گیا اور دو رکعتیں ادا کیں، اس کے بعد باہر نکلا تو جبریل علیہ السلام دو برتن لے کر آئے۔ ایک میں شراب تھی اور ایک میں دودھ۔ میں نے دودھ پسند کیا۔ اس پر جبریل علیہ السلام نے کہا، آپ نے فطرت (یعنی ہدایت) کو پسند کیا۔‘‘
[صحیح مسلم، کتاب الإیمان، باب الإسراء برسول اللہ ﷺ ۔۔ الخ : ۱٦۲ ]


سیدنا ابوہریرہ  ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’معراج کی رات جب میں موسیٰ علیہ السلام سے ملا تو میں نے ملاحظہ کیا کہ وہ لمبے، کم گوشت اور سیاہ بالوں والے شخص تھے، جیسے کہ شنوء ہ (قبیلہ) کے لوگ ہوتے ہیں۔ پھر میں عیسیٰ علیہ السلام سے ملا، وہ میانہ قامت تھے اور سرخ رنگ گویا وہ ابھی حمام سے نکلے ہیں ( یعنی تروتازہ اور خوش رنگ تھے)۔ پھر میں نے ابراہیم علیہ السلام کو دیکھا تو میں ان کی اولاد میں سب سے زیادہ ان کے مشابہ ہوں۔ پھر میرے پاس دو برتن لائے گئے، ایک میں دودھ تھا اور ایک میں شراب۔ مجھ سے کہا گیا جس کو چاہو پسند کر لو۔ میں نے دودھ لے لیا اور اسے پی لیا۔ تو اس فرشتے نے کہا، آپ کو فطرت کی راہ دکھائی گئی، یا آپ فطرت کو پہنچ گئے، اگر آپ شراب کو اختیار کرتے تو آپ کی (ساری) امت گمراہ ہو جاتی۔‘‘
[ مسلم، کتاب الإیمان، باب الإسراء برسول اللہ ﷺ ۔۔ الخ : ۱٦۸ ]



سیدنا ابوہریرہ  ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’میں نے خود کو پیغمبروں کی ایک جماعت میں پایا۔ دیکھا تو موسیٰ علیہ السلام کھڑے ہوئے نماز پڑھ رہے تھے، وہ چھریرے بدن کے اور گھنگریالے بالوں والے ایک شخص تھے، جیسے شنوءہ کے لوگ ہوتے ہیں۔ میں نے عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام کو بھی دیکھا، وہ بھی کھڑے نماز پڑھ رہے تھے۔ سب سے زیادہ ان کے مشابہے عروہ بن مسعود ثقفی ہیں اور میں نے ابراہیم علیہ السلام کو بھی دیکھا، وہ بھی کھڑے نماز پڑھ رہے ہیں اور ان سے سب سے زیادہ مشابہے تمھارے صاحب (یعنی آپ خود) ہیں۔ پھر نماز کا وقت آیا تو میں نے امامت کروائی۔ جب میں نماز سے فارغ ہوا تو ایک کہنے والے نے کہا، اے محمد! یہ مالک ہیں جہنم کے داروغہ! انھیں سلام کیجیے۔ میں نے ان کی طرف دیکھا تو انھوں نے مجھے پہلے سلام کردیا۔‘‘
[صحیح مسلم، کتاب الإیمان، باب ذکر المسیح ابن مریم والمسیح الدجال : ۱۷۲ ]

سیدنا جابر  ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’میں نے معراج کا واقعہ لوگوں سے ذکر کیا۔ جب قریش نے مجھے جھٹلایا تو میں حطیم میں کھڑا ہو گیا اور اللہ تعالیٰ نے بیت المقدس کو میرے سامنے کر دیا اور یوں میں نے اسے دیکھ دیکھ کر قریش کو اس کی نشانیاں بیان کرنا شروع کر دیں۔‘‘
[صحیح بخاری، کتاب مناقب الأنصار، باب حدیث الإسراء : ۳۸۸٦۔ مسلم، کتاب الإیمان، باب ذکر المسیح ابن مریم ۔۔ الخ : ۱۷۰ ]



************************

حجامت کی اہمیت

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
‌خَيْرُ ‌يَوْمٍ ‌تَحْتَجِمُونَ فِيهِ سَبْعَ عَشْرَةَ، وَتِسْعَ عَشْرَةَ، وَإِحْدَى وَعِشْرِينَ " وَقَالَ: " وَمَا مَرَرْتُ بِمَلَإٍ مِنَ الْمَلَائِكَةِ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِي، إِلَّا قَالُوا: عَلَيْكَ بِالْحِجَامَةِ يَا مُحَمَّدُ
ترجمہ:
وہ بہترین دن جس میں تم سینگی لگوا سکتے ہو، سترہ، انیس اور اکیس تاریخ ہے اور فرمایا کہ شب معراج میرا ملائکہ کے جس گروہ پر بھی ذکر ہوا ، اس نے مجھ سے یہی کہا کہ اے محمد ﷺ! سینگی لگوانے کو اپنے اوپر لازم کر لیجئے۔
[
مسند احمد:3316 (سنن الترمذی:2053، سنن ابن ماجہ:3478)]
[الراوي : عبدالله بن عباس المحدث : أحمد شاكر المصدر : مسند أحمد الصفحة أو الرقم: 5/109 خلاصة حكم المحدث : إسناده صحيح - المحدث : الألباني المصدر : صحيح الجامع الصفحة أو الرقم: 3332 خلاصة حكم المحدث : حسن]





حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

" لَمَّا عرج بِي إِلَى السَّمَاءِ لَمْ أَمُرَّ بِمَلَإٍ مِنَ الْمَلَائِكَةِ إِلَّا قَالُوا: عَلَيْكَ يَا مُحَمَّدُ بِالْحِجَامَةِ "

ترجمہ:

"جب مجھے آسمان کی طرف چڑھایا گیا تو میں فرشتوں کے کسی بھی گروہ کے پاس سے نہیں گزرا مگر انہوں نے کہا: اے محمد! آپ پچھنا (حجامہ) لگوائیں۔"

[مسند الحارث:550]


📖 حاصل شدہ اسباق و نکات:

1. حجامہ (پچھنا لگوانا) کی فضیلت و اہمیت: یہ حدیث پچھنا لگوانے (حجامہ) کی بہت زیادہ فضیلت اور طبی و روحانی فوائد پر دلالت کرتی ہے، کیونکہ اس کی سفارش خود آسمانوں پر فرشتوں نے کی۔

2. فرشتوں کی شفقت و محبت: فرشتوں کا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس عمل کی وصیت کرنا ان کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ محبت، شفقت اور خیرخواہی کو ظاہر کرتا ہے۔
3. طب نبوی کی اہمیت: یہ حدیث ان احادیث میں سے ہے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طبی توصیفات (طب نبوی) کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہیں۔ حجامہ ایک مستند اور مفید طبی عمل ہے۔
4. روحانی و جسمانی صحت کا تعلق: حدیث اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ انسان کی صحت محض جسمانی نہیں بلکہ روحانی بھی ہے۔ فرشتوں کا مشورہ اس ہم آہنگی کو ظاہر کرتا ہے۔
5. امت کے لیے رہنمائی: فرشتوں کی یہ وصیت درحقیقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے پوری امت کے لیے ہے، تاکہ وہ ایک مفید اور سنت عمل کو اپنائیں۔
6. آسمانی تصدیق: ایک دنیاوی علاج (حجامہ) کی فرشتوں کی جانب سے بار بار تائید، اس کی افادیت اور مقبولیت کی آسمانی سند ہے۔








اللہ کے کامل کلمات کی پناہ مانگنا۔

وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، أَنَّهُ قَالَ : أُسْرِيَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَأَى عِفْرِيتًا مِنَ الْجِنِّ يَطْلُبُهُ بِشُعْلَةٍ مِنْ نَارٍ ، كُلَّمَا الْتَفَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَآهُ ، فَقَالَ لَهُ جِبْرِيلُ : أَفَلَا " أُعَلِّمُكَ كَلِمَاتٍ تَقُولُهُنَّ إِذَا قُلْتَهُنَّ طَفِئَتْ شُعْلَتُهُ وَخَرَّ لِفِيهِ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " بَلَى " ، فَقَالَ جِبْرِيلُ : فَقُلْ أَعُوذُ بِوَجْهِ اللَّهِ الْكَرِيمِ ، وَبِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّاتِ اللَّاتِي لَا يُجَاوِزُهُنَّ بَرٌّ وَلَا فَاجِرٌ ، مِنْ شَرِّ مَا يَنْزِلُ مِنَ السَّمَاءِ وَشَرِّ مَا يَعْرُجُ فِيهَا ، وَشَرِّ مَا ذَرَأَ فِي الْأَرْضِ وَشَرِّ مَا يَخْرُجُ مِنْهَا ، وَمِنْ فِتَنِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ وَمِنْ طَوَارِقِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ ، إِلَّا طَارِقًا يَطْرُقُ بِخَيْرٍ يَا رَحْمَنُ " .
ترجمہ:
یحیی بن سعید ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ کو جس رات معراج ہوئی جنوں میں ایک عِفريت(دیو) نظر آیا گویا اس کے ایک ہاتھ میں ایک شعلہ تھا آگ کا جب رسول اللہ نگاہ کرتے تو اس کو دیکھتے آپ کی طرف چلا آتا تھا۔ حضرت جبرائیلؑ نے فرمایا: میں آپ کو چند کلمات سکھا دوں کہ اگر آپ ان کو فرمائیں تو ان کا شعلہ بجھ جائے۔ آپ نے فرمایا: کیوں نہیں! سکھاؤ۔ جبرائل نے کہا، کہو:
پناہ مانگتا ہوں میں اللہ کی منہ سے جو بڑا عزت والا ہے اور اس کے کلمات سے جو پورے ہیں جن سے کوئی نیک یا بد آگے نہیں بڑھ سکتا برائی سے اس چیز کی جو آسمان سے اترے اور جو اسمان کی طرف چڑھے اور برائی سے ان چیزوں کی جن کو پیدا کیا ہے اس نے زمین میں اور جو نکلے زمین سے اور رات دن کے فتنوں سے اور شب و روز کی آفتوں سے اور حادثوں سے مگر جو حادثہ بہتر ہے یا رحمن۔
[موطأ مالك-رواية يحيى-ت الأعظمي » كِتَابُ الشَّعَرِ » بَابُ مَا يُؤْمَرُ بِهِ مِنَ التَّعَوُّذِ ... رقم الحديث: 3500
السنن الكبرى - النسائي » كتاب عمل اليوم والليلة » ذكر ما يكب العفريت ويطفئ شعلته ... رقم الحديث: 10726]


تشریح:
اور اس حدیث کو کچھ لوگوں نے یحییٰ بن سعید سے مسنداً (یعنی پوری سند کے ساتھ) روایت کیا ہے۔ ہمیں اسے عبداللہ بن محمد بن اسد نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہمیں حمزہ بن محمد بن علی نے حدیث سنائی، انہوں نے کہا: ہمیں احمد بن شعیب (النسائی) نے حدیث سنائی، انہوں نے کہا: ہمیں محمد بن یحییٰ بن عبداللہ النیسابوری نے خبر دی، انہوں نے کہا: ہمیں سعید بن ابی مریم نے حدیث سنائی، انہوں نے کہا: ہمیں محمد بن جعفر نے حدیث سنائی، انہوں نے کہا: ہمیں یحییٰ بن سعید الانصاری نے حدیث سنائی، انہوں نے کہا: مجھے محمد بن عبدالرحمن بن سعد بن زرارہ نے خبر دی، انہوں نے عیاش الشامی سے، اور انہوں نے عبداللہ بن مسعودؓ سے روایت کرتے ہوئے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے (وہ واقعہ بیان کیا جو) لیلۃ الجن میں پیش آیا، جب آپ ﷺ جبرائیلؑ کے ساتھ تھے اور میں (ابن مسعودؓ) آپ ﷺ کے ساتھ تھا۔ پس نبی ﷺ تلاوت کرنے لگے اور عفریت (سرکش شیطان) قریب آنے لگا، اور اور قریب ہوتا گیا۔

تو جبرائیلؑ نے کہا: کیا میں آپ کو ایسے کلمات نہ سکھا دوں جو آپ پڑھیں، تو وہ عفریت اپنے منہ کے بل گر جائے گا اور اس کا شعلہ بجھ جائے گا؟ کہیے: "میں اللہ کے کریم چہرے اور اس کے کامل کلمات کی پناہ مانگتا ہوں جن کو کوئی نیک و بد پھلانگ نہیں سکتا، ہر اس چیز کے شر سے جو آسمان سے اترتی ہے اور جو اس میں چڑھتی ہے، اور ہر اس چیز کے شر سے جو زمین میں پھیلائی گئی اور پیدا کی گئی اور جو اس سے نکلتی ہے، اور رات دن کی آزمائشوں کے شر سے، اور ہر رات کے آنے والے کے شر سے سوائے اس آنے والے کے جو بھلائی لے کر آئے، اے رحمن!"

تو عفریت اپنے منہ کے بل گر گیا اور اس کا شعلہ بجھ گیا۔

ابو عمر (ابن عبد البرؒ) کہتے ہیں: یہ محمد بن جعفر، ابن ابی کثیر ہیں، اسماعیل بن جعفر کے بھائی، اور یہ دونوں ثقہ (معتبر) ہیں۔

اور جعفر بن سلیمان نے ابو التياح سے روایت کیا ہے، انہوں نے کہا: میں نے عبدالرحمن بن حنش سے پوچھا (یا کسی نے عبدالرحمن بن حنش سے پوچھا، اور وہ بڑے بزرگ شیخ تھے): ہمیں رسول اللہ ﷺ سے حدیث بیان کیجیے، جب جنات نے آپ کو ستانے کی کوشش کی تو آپ نے کیا کیا؟ انہوں نے کہا: شیاطین گھاٹیوں اور دروں سے آپ پر اتر آئے، آپ کا ارادہ کر رہے تھے، اور ان میں ایک شیطان تھا جس کے ہاتھ میں آگ کا شعلہ تھا، وہ چاہتا تھا کہ اس سے نبی ﷺ کو جلا دے۔ پس جب آپ ﷺ نے انہیں دیکھا تو آپ ان سے گھبرا گئے۔ تو جبرائیلؑ نے آپ سے فرمایا: کہیے۔ آپ نے فرمایا: کیا کہوں؟ انہوں نے کہا: کہیے: "میں اللہ کے کامل کلمات کی پناہ مانگتا ہوں جن کو کوئی نیک و بد پھلانگ نہیں سکتا، ہر اس چیز کے شر سے جو اس نے پیدا کیا اور پھیلایا اور بنایا، اور ہر اس چیز کے شر سے جو آسمان سے اترتی ہے، اور ہر اس چیز کے شر سے جو اس میں چڑھتی ہے، اور رات دن کی آزمائشوں کے شر سے، اور ہر آنے والے کے شر سے سوائے اس آنے والے کے جو بھلائی لے کر آئے، اے رحمن!"

امام عقیلی نے اس کا ذکر کیا ہے، کہا: ہمیں محمد بن احمد بن سفیان نے خبر دی، انہوں نے کہا: ہمیں عبیداللہ بن عمر القواریری نے حدیث سنائی، انہوں نے کہا: ہمیں جعفر بن سلیمان نے حدیث سنائی، انہوں نے کہا: ہمیں ابو التياح نے حدیث سنائی، انہوں نے کہا: ایک شخص نے عبدالرحمن بن حنش سے پوچھا، اور وہ ایک بڑے بزرگ آدمی تھے، کہا: جب جنات نے رسول اللہ ﷺ کو ستانے کی کوشش کی تو آپ نے کیا کیا؟ پھر انہوں نے یہی واقعہ بیان کیا۔

اور ہمیں عبدالرحمن بن حنش کی یہ حدیث ابوعبداللہ محمد بن ابراہیم نے سنائی، میری ان پر قراءت کے ذریعے، کہ محمد بن احمد بن یحییٰ نے انہیں حدیث سنائی، انہوں نے کہا: ہمیں محمد بن ایوب الرقی نے حدیث سنائی، انہوں نے کہا: ہمیں احمد بن عمرو البزار نے حدیث سنائی، انہوں نے کہا: ہمیں ابراہیم بن مرزوق نے حدیث سنائی، انہوں نے کہا: ہمیں جعفر بن سلیمان الضبعی نے ابو التياح سے حدیث سنائی، انہوں نے کہا: ایک شخص نے عبدالرحمن بن حنش سے پوچھا، اور وہ بڑے بزرگ شیخ تھے جنہوں نے نبی ﷺ کو پایا تھا، کہ جب شیاطین نے نبی ﷺ کو ستانے کی کوشش کی تو آپ نے کیا کیا؟ انہوں نے کہا: شیاطین پہاڑوں اور گھاٹیوں سے آپ پر اتر آئے، رسول اللہ ﷺ کا ارادہ کر رہے تھے، اور ان میں ایک شیطان تھا جس کے ہاتھ میں آگ کا شعلہ تھا، وہ چاہتا تھا کہ اس سے آپ کو جلا دے۔ پس جب آپ ﷺ نے انہیں دیکھا تو آپ گھبرا گئے اور جبرائیل علیہ السلام آئے اور کہا: اے محمد! کہیے۔ آپ نے فرمایا: کیا کہوں؟ انہوں نے کہا: کہیے: "میں اللہ کے کامل کلمات کی پناہ مانگتا ہوں جن کو کوئی نیک و بد پھلانگ نہیں سکتا، ہر اس چیز کے شر سے جو اس نے پیدا کیا اور پھیلایا اور بنایا، اور ہر اس چیز کے شر سے جو آسمان سے اترتی ہے، اور ہر اس چیز کے شر سے جو اس میں چڑھتی ہے، اور ہر اس چیز کے شر سے جو زمین میں پھیلائی گئی اور بنائی گئی، اور ہر اس چیز کے شر سے جو اس سے نکلتی ہے، اور رات دن کی آزمائشوں کے شر سے، اور ہر آنے والے کے شر سے سوائے اس آنے والے کے جو بھلائی لے کر آئے، اے رحمن!" تو شیطان کے آگ کے شعلے بجھ گئے اور اللہ نے انہیں شکست دے دی۔

امام ابوبکر البزار (رحمہ اللہ) نے کہا: اور یہ حدیث نبی ﷺ سے صرف عبدالرحمن بن حنش ہی سے مروی ہے، اور اللہ زیادہ جانتا ہے، آپ ﷺ سے ان کی کوئی اور حدیث نہیں ہے۔


📖 حاصل شدہ اسباق و نکات:


روایات میں الفاظ کا اختلاف اور جامعیت: اس طویل بحث سے معلوم ہوا کہ اس واقعہ کی دعا کے الفاظ مختلف الفاظ کے ساتھ آئے ہیں۔ ایک روایت (ابن مسعود رضی اللہ عنہ) میں "أَعُوذُ بِوَجْهِ اللَّهِ الْكَرِيمِ" (میں اللہ کے کریم چہرے کی پناہ مانگتا ہوں) کے اضافے کے ساتھ ہے، جبکہ دوسری (عبدالرحمٰن بن خنبش/حنش) میں یہ اضافہ نہیں۔ دونوں میں "كلمات الله التامات" مشترک ہیں۔ اس سے دعاؤں کے مختلف صیغوں کے جواز اور اس واقعہ کی بنیاد پر پناہ مانگنے کے جامع الفاظ کی وسعت کا پتہ چلتا ہے۔

واقعہ کی تعدد اسانید اور تاکید: امام ابن عبد البر رحمہ اللہ نے ایک ہی واقعہ کو متعدد اسانید اور طرق کے ساتھ نقل کیا ہے، جس سے اس کی اہمیت اور ثبوت مزید پختہ ہوتا ہے۔ اگرچہ امام بزار رحمہ اللہ نے کہا کہ یہ حدیث صرف عبدالرحمٰن بن خنبش ہی سے مروی ہے، لیکن ابن عبد البر نے ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی سند بھی پیش کر کے اس کے ایک اور سند سے ثبوت کی طرف اشارہ کیا۔

علماء کا محتاط اور جمع کرنے کا اسلوب: امام ابن عبد البر کا یہاں کا اسلوب ایک محقق عالم کا ہے۔ وہ مختلف طرق اور الفاظ کو یکجا کر رہے ہیں، راویوں (مثلًا محمد بن جعفر) کے حالات اور ان کی توثیق بیان کر رہے ہیں، اور دیگر ائمہ (العقیلی، البزار) کے حوالے دے رہے ہیں۔ یہ "التمهيد" جیسی شرحوں کی علمی عظمت کو ظاہر کرتا ہے۔

ایک ہی واقعہ، مختلف تفصیلات: تمام روایات ایک ہی مرکزی واقعہ (لیلۃ الجن، کید الشیاطین) پر متفق ہیں، لیکن تفصیلات میں معمولی فرق ہے (جیسے موجودہ صحابی کا نام، شیاطین کے اترنے کی جگہ کی تفصیل، دعا کے الفاظ میں اضافہ یا کمی)۔ یہ فرق "اختلاف التنوع" میں داخل ہے جو روایات کی صحت کے منافی نہیں، بلکہ واقعہ کے مختلف پہلوؤں یا راویوں کے حافظے کے فرق کو ظاہر کرتا ہے۔

دعا کی عملی اہمیت اور تاثیر: تمام روایات اس دعا/تعویذ کی فوری اور معجزانہ تاثیر (شیطان کا منہ کے بل گرنا، آگ کا بجھ جانا، شیاطین کی شکست) پر متفق ہیں۔ اس سے اس دعا کے خصوصی فضل، تاثیر اور حفاظتی قوت کا اثبات ہوتا ہے، جس کی وجہ سے فقہا اور علماء نے اسے شرعی أذکار و تعویذات میں شمار کیا ہے۔

تنبیہ: اگرچہ یہ دعا بڑی جامع اور مؤثر ہے، لیکن مذکورہ بعض اسانید میں کچھ راویوں پر کلام بھی کیا گیا ہے۔ لہٰذا اسے ثابت شدہ اور متواتر دعاؤں (جیسے معوذتین) کے مرتبے پر نہیں رکھا جاسکتا، بلکہ فضائل و آداب میں مروی ایک اثر کی حیثیت سے اس کی فضیلت پر عمل کرنا بہتر ہے۔ عامۃ الناس کے لیے قرآن و صحیح احادیث میں موجود پناہ مانگنے کے دیگر واضح اور مضبوط اذکار پر اعتماد کرنا اولیٰ ہے۔


تخريج الحديث وشواھدہ
[الجامع - معمر بن راشد:19831، مصنف ابن أبي شيبة:23599، 29620]
مسند احمد:7969، أخرجه البيهقي:2/219 من طريق عبد الله بن أحمد بن حنبل، عن أبية، هذا الإسناد.
مسند إسحاق بن راهويه:89، صحیح البخاري:461-3423-4808، صحیح مسلم:541، السنن الكبرى النسائي:11440، شرح السنة-البغوي:746، وفي "التفسير" 4/64 من طريق محمد بن جعفر، به.
[مسند إسحاق:88-89، صحیح البخاري:461-1210-3284-4808، صحیح مسلم:541، صحیح ابن حبان:(6419) من طرق عن شعبة، به.]
حديث ابو هريرة:
وأخرجه النسائي في "الكبرى" (551) ، وابن حبان (2349) من طريق أبي سلمة، السنن الكبرى النسائي:550) من طريق سعيد بن المسيب، كلاهما عن أبي هريرة.
حديث ابن مسعود:
وفي الباب عن ابن مسعود، سلف برقم (3926) . وانظر بقية شواهده هناك.
حديث خالد بن الوليد:
الطبرانى:3838، قال الهيثمى (10/126) : فيه المسيب بن واضح وقد وثقه غير واحد وضعفه جماعة وكذلك الحسن بن على المعمرى وبقية رجاله رجال الصحيح.
حديث أبى رافع:
[عبد الرزاق:19831، شعب الإيمان-البيهقى:4710]
أخرجه أحمد (2/298، رقم 7956) ، والبخارى (3/1260، رقم 3241) ، ومسلم (1/384، رقم 541) ، والنسائى فى الكبرى (6/443، رقم 11440) . وأخرجه أيضًا: البيهقى (2/219، رقم 3001) .




شیطان مردود سے اللہ کے کامل کلمات کی پناہ مانگنا۔

عن أبي التياح قال: (قلت لعبد الرحمن بن خنبش التميمي - رضي الله عنه - وكان كبيرا -: أدركت رسول الله - صلى الله عليه وسلم -؟ , قال: نعم , فقلت: كيف صنع رسول الله - صلى الله عليه وسلم - ليلة كادته الشياطين؟ , فقال: إن الشياطين تحدرت (١) تلك الليلة على رسول الله - صلى الله عليه وسلم - من الأودية والشعاب وفيهم شيطان بيده شعلة نار , يريد أن يحرق بها وجه رسول الله - صلى الله عليه وسلم -) (٢) (فرعب فجعل يتأخر) (٣) (فهبط إليه جبريل - عليه السلام - فقال: يا محمد قل , قال: ما أقول؟ , قال: قل: أعوذ بكلمات الله) (٤) (التامات التي لا يجاوزهن بر ولا فاجر , من شر ما خلق وذرأ (٥) وبرأ (٦) ومن شر ما ينزل من السماء ومن شر ما يعرج (٧) فيها ومن شر ما ذرأ في الأرض ومن شر ما يخرج منها , ومن شر فتن الليل والنهار , ومن شر كل طارق (٨) إلا طارقا يطرق بخير , يا رحمن ") (٩) (قال: فطفئت نارهم , وهزمهم الله تبارك وتعالى.

ترجمہ:

ابو تیاح سے روایت ہے کہ: "میں نے عبدالرحمن بن خنبش تمیمی رضی اللہ عنہ سے — جو بڑی عمر کے تھے — پوچھا: کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پایا ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ تو میں نے پوچھا: اس رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا کیا جب شیطانوں نے آپ کو ستانے کی کوشش کی؟ انہوں نے کہا: اس رات شیاطین رسول اللہ ﷺ پر گھاٹیوں اور دروں سے اُتر آئے(١)، اور ان میں ایک شیطان تھا جس کے ہاتھ میں آگ کا شعلہ تھا، وہ چاہتا تھا کہ اس سے رسول اللہ ﷺ کے چہرۂ مبارک کو جلا دے۔(٢) (آپ ﷺ گھبرا گئے اور پیچھے ہٹنے لگے)(٣) (تو جبرائیلؑ آپ کے پاس اترے اور کہا: اے محمد! کہیے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: کیا کہوں؟ انہوں نے کہا: کہیے: میں پناہ مانگتا ہوں اللہ کے کامل کلمات میں)(٤) (جن کو کوئی نیک و بد پھلانگ نہیں سکتا، ہر اس چیز کے شر سے جو اس نے پیدا کیا اور پھیلایا (٥) اور بنایا (٦)، اور ہر اس چیز کے شر سے جو آسمان سے اترتی ہے، اور ہر اس چیز کے شر سے جو اس میں چڑھتی ہے (٧)، اور ہر اس چیز کے شر سے جو زمین میں پھیلائی گئی، اور ہر اس چیز کے شر سے جو اس سے نکلتی ہے، اور رات دن کی آزمائشوں کے شر سے، اور ہر آنے والے کے شر سے(٨) سوائے اس آنے والے کے جو بھلائی لے کر آئے، اے رحمن!")(٩) (عبدالرحمن بن خنبش نے) کہا: تو ان کی آگ بجھ گئی، اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے انہیں شکست دے دی۔(١٠)


حواشی اور حوالی جات:

(١) تحدرت: نازل ہوئی اور اُتری۔ (دلائل النبوة للبيهقي، ج ٨، ص ١٥٣)

(٢) (حم) ١٥٤٩٨، نیز دیکھیں: صحیح الجامع: ٧٤، السلسلة الصحيحة: ٢٧٣٨

(٣) (حم) ١٥٤٩٩

(٤) اللہ وہ ذات ہے جس نے مخلوق کو پیدا کیا، یعنی انہیں بنایا۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: {وَلَقَدْ ذَرَأْنَا لِجَهَنَّمَ كَثِيرًا} یعنی: ہم نے پیدا کیا۔ اور فرمایا: {خَلَقَ لَكُمْ مِنْ أَنْفُسِكُمْ أَزْوَاجًا وَمِنَ الْأَنْعَامِ أَزْوَاجًا يَذْرَؤُكُمْ فِيهِ} امام ابو اسحاق نے فرمایا: معنی یہ ہے کہ وہ تمہیں اس سے پیدا کرتا ہے، یعنی تمہیں کثرت دیتا ہے۔ اس لیے "فِيهِ" میں ہاء کا ذکر ہے۔ گویا "ذرء" کا خاص تعلق اولاد کی تخلیق سے ہے۔ (لسان العرب، ج ١، ص ٧٩)

(٥) "البارئ": وہ ذات ہے جس نے کسی مثال کے بغیر مخلوق کو بنایا۔ اس لفظ کا حیوانات کی تخلیق کے ساتھ خاص مناسبت ہے، دیگر مخلوقات کے لیے اس کا استعمال کم ہے۔ کہا جاتا ہے: اللہ نے جان پیدا کی، اور اس نے آسمانوں اور زمین کو بنایا۔ (لسان العرب، ج ١، ص ٣١)

(٦) یعرج: چڑھتا ہے، اوپر جاتا ہے۔

(٧) الطارق: وہ جو رات کو آئے۔

(٨) (حم) ١٥٤٩٩

(٩) (حم) ١٥٤٩٨، (ش) ٢٣٦٠١، (ن) ١٠٧٩٢، (طس) ٤٣


📖 حاصل شدہ اسباق و نکات:


  1. رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بشریت اور آزمائش: یہ واقعہ ظاہر کرتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی شیطانی حملے ہوئے اور آپ نے اس موقع پر ایک فطری بشری کیفیت (گھبراہٹ) محسوس کی۔ اس سے آپ کی کامل بشریت کا اثبات ہوتا ہے۔
  2. توکل کا صحیح مفہوم: گھبراہٹ کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تقدیر پر صبر کیا اور اللہ کی پناہ کا سہارا لیا۔ یہ بتاتا ہے کہ توکل کا مطلب بے عملی نہیں، بلکہ اسباب اختیار کرنے (دعا وغیرہ) کے بعد اللہ پر بھروسہ کرنا ہے۔
  3. کلماتِ الٰہیہ کی عظمت و تاثیر: شیاطین کے شر سے بچاؤ کے لیے اللہ کے کامل کلمات کی پناہ لینا ایک مؤثر اور مسنون عمل ہے۔ ان کلمات کی برکت سے شیاطین کی سازش ناکام ہو گئی۔
  4. جامع دعا: مذکورہ دعا انتہائی جامع ہے جس میں زمین و آسمان، چھپے کھلے، رات دن کے ہر قسم کے شر سے اللہ کی پناہ مانگی گئی ہے۔ یہ دعا مؤمن کے لیے ہر طرف سے حفاظت کا جامع ذریعہ ہے۔
  5. ایک اہم وظیفہ: یہ دعا/تعویذ خاص طور پر شیطانی شرور، جادو، نظر بد، خبث نفس اور دیگر پوشیدہ آفات سے حفاظت کے لیے نہایت مؤثر ہے۔ اسے پڑھنے اور اس کا اہتمام کرنے کی ترغیب ملتی ہے۔
  6. فرشتوں کا کردار: جبرائیل علیہ السلام کا فوراً نازل ہو کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد کرنا اور دعا سکھانا، یہ بتاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے مقرب بندوں کی مدد کے لیے فرشتوں کو بھیجتا ہے۔
  7. اللہ تعالیٰ کی قدرت و نصرت: آخری نتیجہ یہ ظاہر ہوا کہ تمام شیاطین کی چال اللہ تعالیٰ کے حکم سے ناکام ہو گئی۔ اصل قوت و طاقت صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔








حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى النَّيْسَابُورِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : فُرِضَتْ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِهِ الصَّلَوَاتُ خَمْسِينَ ، ثُمَّ نُقِصَتْ حَتَّى جُعِلَتْ خَمْسًا ، ثُمَّ نُودِيَ : " يَا مُحَمَّدُ إِنَّهُ لَا يُبَدَّلُ الْقَوْلُ لَدَيَّ وَإِنَّ لَكَ بِهَذِهِ الْخَمْسِ خَمْسِينَ " .
[جامع الترمذي » كِتَاب الصَّلَاةِ » أَبْوَابُ الْأَذَانِ » بَاب كَمْ فَرَضَ اللَّهُ عَلَى عِبَادِهِ مِنَ الصَّلَوَاتِ ... رقم الحديث: 213]

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ شب معراج میں نبی
پر پچاس نمازیں فرض ہوئی تھیں ، کم ہوتے ہوتے پانچ رہ گئیں اور پھر نداء لگائی گئی کہ اے محمد ! ہمارے یہاں بات بدلتی نہیں ، آپ کا ان پانچ پر پچاس ہی کا ثواب ملے گا۔

تخريج الحديث
مسند احمد:12641 إسناده صحيح على شرط الشيخين. وهو في "مصنف عبد الرزاق" (1768) ، ومن طريقه أخرجه عبد بن حميد (1158) ، والترمذي (213) ، وأبو عوانة 1/135.
وأخرجه بأطول مما هنا ضمن حديث المعراج الطويل الذي رواه أبو ذر الغفاري: البخاري (349) و (3342) ، ومسلم (163) ، والنسائي في "الكبرى" (314) ، وأبو عوانة 1/133-135، وابن حبان (7406) ، والآجري في "الشريعة" ص481-482، وابن منده في "الإيمان" (714) ، والبغوي (3754) من طرق عن يونس بن يزيد، عن الزهري، عن أنس بن مالك.
وسيأتي من هذا الطريق في مسند أبي بن كعب 5/143-144.
وسلف ضمن الحديث المطول برقم (12505) من طريق ثابت عن أنس.







 جنت کی شجرکاریاں:

حدیث:حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

لَقِيتُ إِبْرَاهِيمَ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِي فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ أَقْرِئْ أُمَّتَكَ مِنِّي السَّلَامَ وَأَخْبِرْهُمْ أَنَّ الْجَنَّةَ طَيِّبَةُ التُّرْبَةِ عَذْبَةُ الْمَاءِ وَأَنَّهَا قِيعَانٌ وَأَنَّ غِرَاسَهَا سُبْحَانَ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَلَاإِلَهَ إِلَّااللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ۔

زادالطبرانی ولاحول ولاقوۃ الاباللہ۔

(ترمذی:3462، كِتَاب الدَّعَوَاتِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بَاب مَاجَاءَ فِي فَضْلِ التَّسْبِيحِ وَالتَّكْبِيرِ وَالتَّهْلِيلِ وَالتَّحْمِيدِ ،حدیث نمبر:3462 ، شاملہ، موقع الإسلام)

ترجمہ:

جس رات مجھے معراج کرائی گئی میں نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی زیارت کی آپ نے فرمایا: اے محمد! آپ میری طرف سے اپنی امت کو سلام کہنا اور ان کو اطلاع فرمانا کہ جنت کی زمین بہت پاکیزہ ہے عمدہ پانی والی ہے اور ہموار میدان ہے اور اس کی شجرکاری (سُبْحَانَ اللَّهِ) اور (الْحَمْدُ لِلَّهِ) اور (لَاإِلَهَ إِلَّااللَّهُ) اور (اللَّهُ أَكْبَر) کہنا ہے۔

[سنن الترمذی:3462، مسند البزار:1992،صَحِيح الْجَامِع: 5152 , الصَّحِيحَة: 105، صَحِيح التَّرْغِيبِ وَالتَّرْهِيب: 1550]

امام طبرانیؒ نے (لاحول ولاقوۃ الاباللہ) کا ذکر بھی کیا ہے۔

سند احمد:23552]


شرح و فوائد:

1. خلیل اللہ کی شفقت: حضرت ابراہیم علیہ السلام کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کو سلام بھیجنا ان کی اس امت سے محبت، شفقت اور خیرخواہی کی واضح دلیل ہے۔
2. جنت کی صفات:
   · "طَيِّبَةُ التُّرْبَةِ" (پاکیزہ مٹی): یہ جنت کی زمین کی بالکل مختلف اور لطیف نوعیت کو ظاہر کرتا ہے۔
   · "عَذْبَةُ الْمَاءِ" (میٹھا پانی): جنت کی نہروں (کوثر، تسنیم، وغیرہ) کی لذت اور صفائی کی طرف اشارہ ہے۔
   · "قِيعَانٌ" (ہموار میدان): اس سے جنت کی وسعت، ہمواری اور حسنِ ترتیب مراد ہے، جہاں چلنے پھرنے، بیٹھنے اور لطف اندوز ہونے میں کوئی رکاوٹ نہیں۔
3. سب سے اہم نکتہ: جنت کی کاشت (غراس):
   · حدیث کا یہ حصہ انتہائی زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام فرماتے ہیں کہ جنت کے درختوں کی کاشت (یعنی وہ بیج جس سے جنت کے درخت اگتے ہیں) یہ چار کلمات ہیں:
     · سُبْحَانَ اللَّهِ (اللہ پاک ہے)
     · وَالْحَمْدُ لِلَّهِ (تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں)
     · وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ (اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں)
     · وَاللَّهُ أَكْبَرُ (اللہ سب سے بزرگ تر ہے)
   · مفہوم: اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ جنت میں یہی درخت ہیں۔ بلکہ اس کا حقیقی معنی یہ ہے کہ دنیا میں ان پاکیزہ کلمات کی کثرت سے پڑھنا، آخرت میں جنت کے شاداب اور پھلدار درختوں کے حصول کا سبب بنتا ہے۔ یہ کلمات ایمان کے بنیادی ارکان، توحید کی شہادت اور اللہ کی حمد و ثناء ہیں۔ ان کا اخلاص کے ساتھ ذکر کرنا بندے کے لیے جنت میں بلند درجات اور حسین نعمتوں کا ذریعہ بن جاتا ہے۔
   · یہ احادیث میں وارد "جنت کے ایک درخت کا بیج" والی تعلیمات کے مشابہ ہے، جیسا کہ دیگر احادیث میں آیا ہے کہ "لا حول ولا قوة إلا بالله" جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے، وغیرہ۔
4. عملی سبق:
   · اس حدیث سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ ہم اپنی زبانوں کو ان مبارک کلمات کے ذکر سے تر رکھیں۔ یہ مختصر اور آسان عمل ہے، لیکن اس کا آخرت میں اجر بہت عظیم ہے۔
   · یہ کلمات ہمارے ایمان کی تجدید کرتے ہیں، اللہ سے تعلق مضبوط کرتے ہیں اور ہمارے نامۂ اعمال میں نیکیوں کا اضافہ کرتے ہیں، جو آخرت میں جنت کے درجات اور درختوں کی صورت میں ہمارے سامنے آئیں گی۔

نتیجہ:
یہ حدیث جنت کی خوبصورت صفات بیان کرنے کے ساتھ ساتھ ہمیں ایک آسان، مگر نتیجہ خیز عمل کی ترغیب دیتی ہے۔ حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام کا پیغام درحقیقت ہمیں یہ بتا رہا ہے کہ جنت کی خوشبوئیں اور شادابی حاصل کرنے کا راستہ دنیا میں اللہ کے ان پاک ناموں کے ذکر سے ہو کر گزرتا ہے۔





تشریح:
حدیثوں میں آخرت کی جن چیزوں کا نام کے ساتھ ذکر کیا گیا ہے ان میں سے یہ تین چیزیں بھی ہیں، ایک حوضِ کوثر، دوسری صِراط اور تیسری میزان۔
پھر کوثر کر بعض احادیث میں حوض کے لفظ سے بھی ذکر کیا گیا ہے اور بعض میں نہر کے لفظ سے۔ پھر بعض حدیثوں سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ کوثر جنت کے اندر واقع ہے، اور اکثر احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہاس کا محل وقوع جنت سے باہر ہے اور اہل ایمان جنت میں جانے سے پہلے اس حوض پر رسول اللہ ﷺ کی خدمت اقدس میں باریاب ہو کر آپ کے دستِ کرم سے اس کا نہایت سفید و شفاف اور بے انتہا لذیذہ و شیریں پانی نوش جان کریں گے، اور تحقیق یہ ہے کہ کوثر کا اصل مرکزی چشمہ جنت کے اندر ہے، اور جنت کے طور و عرض میں اس کی شاخیں نہروں کی شکل میں ہرطرف جاری ہین۔ اور جس کو حوضِ کوثر کہا جاتا ہے وہ سینکڑوں میل کے طول و عرض میں ایک نہایت حسین و جمیل تالاب ہے جو جنت سے باہر ہے لیکن اس کا تعلق اسی جنت کے اندر کے چشمہ سے ہے، گویا اس میں جو پانی ہو گا وہ جنت ہی کے اس چشمہ سے نہروںکے ذریعہ آئے گا۔ آج کل کے متمدن شہروں میں واٹر ورکس جو نظام ہے اس نے کوثر کی اس نوعیت کا سمجھنا الحمد للہ سب کے لیے آسان کر دیا ہے۔
یہاں ایک چیز بھی قابلِ لحاظ ہے کہ حوض کے لفظ سے عموماً لوگوں کا ذہن اسی قسم کے حوضوں کی طرف جاتا ہے جس قسم کے حوض انہوں نے عموماً دنیا میں دیکھے ہوتے ہیں، لیکن حوض کوثر اپنی معنوی کیفیات اور اپنی خوش منظری میں تو دنیا کے حوضوں سے اتنا ممتاز اور فائق ہو گا ہی جتنا کہ جنت کی کسی چیز کو دنیا کی چیزوں کے مقابلے میں ہونا چاہئے، مگر اس کے علاوہ حدیثوں سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کا رقبہ اور علاقہ بھی اتنا ہو گا، کہ ایک راہروا سکے ایک کنارے سے دوسرے کنارے تک کی مسافت ایک مہینے میں طے کر سکے گا اور ایک حدیث میں اس کے ایک کنارے سے دوسرے کنارے کا فاصلہ عدن اور عمان کے فاصلے کے برابر بتلایا گیا ہے۔
بہر حال آخرت کی چیزوں کے متعلق احادیث میں جو کچھ ذکر کیا جاتا ہے اس کی روشنی میں بھی ان چیزوں کا صحیح تصور اس دنیا میں نہیں کیا جا سکتا، ان چیزوں کی جو واقعی نوعیت اور صورت ہے وہ صحیح طور پر تو سامنے آنے کے بعد ہی معلوم ہو گی۔
یہی بات صراط اور میزان وغیرہ کے بارے میں بھی ملحوظ رہنی چاہیے۔

تشریح۔۔۔ 
اس حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے جنت میں سیر کرتے ہوئے نہر کوثر پر گذرنے کا جو واقعہ ذکر فرمایا ہے، غالباً یہ شب معراج کا ہے، اور حضرت جبرئیل نے رسول اللہ ﷺ کے سوال کا جواب دیتے ہوئے جو یہ فرمایا کہ "یہ وہ کوثر ہے جو آپ کے رب نے آپ کو عطا کیا ہے"۔ تو یہ قرآن مجید کی آیت "إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الكَوْثَرَ"کی طرف اشارہ ہے، اس آیت میں فرمایا گیا ہے کہ "ہم نے آپ کو کوثر دیا" کوثر کے اصل معنی خیر کثیر کے ہیں، اور اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کو خیر کے جو خزانے عطا فرمائے، مثلاً قرآن و شریعت اور اعلیٰ روحانی صفات، اور دنیا اور آخرت میں آپ کی رفعتِ شان وغیرہ، سو یہ سب بھی کوثر کے عموم میں اگرچہ داخل ہیں، لیکن جنت کی یہ نہر اور اس سے متعلق وہ حوض جو میدانِ حشر میں ہو گا (جس سے اللہ کے بےشمار بندے سیراب ہوں گے) لفظِ کوثر کا خاص مصداق ہیں، یا یوں سمجھنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو دین و ایمان کے سلسلہ کی جو بیش بہا نعمتیں عطا فرمائی تھیں، جو آپ کے ذریعے سے اللہ کے بے شمار بندوں تک پہنچیں، آخرت میں ان کا ظہور اس نہر کوثر اور حوضِ کوثر کی شکل میں ہو گا، جن سے اللہ کے بے شمار بندے فیضیاب اور سیراب ہوں گے۔
[معارف الحدیث:102]






جنت کے دروازہ کی ایک عبارت

قرضہ دینے والے کا ثواب صدقہ دینے والے سے زیادہ ہے:

حدیث:حضرت انسؓ نے فرمایا کہ جناب رسول اللہ کا ارشاد ہے:

رَأَيْتُ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِي عَلَى بَابِ الْجَنَّةِ مَكْتُوبًا: الصَّدَقَةُ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا، والقرض بثمانية عَشَرَ، فَقُلْتُ: يَا جِبْرِيلُ مَا بَالُ الْقَرْضِ أَفْضَلُ مِنَ الصَّدَقَةِ؟ قَالَ: لِأَنَّ السَّائِلَ يَسْأَلُ وَعِنْدَهُ، وَالْمُسْتَقْرِضُ لَا يَسْتَقْرِضُ إِلَّا مِنْ حَاجَةٍ۔

ترجمہ:
جس رات مجھے معراج کرائی گئی میں نے جنت کے دروازہ پر یہ لکھا ہوا دیکھا، صدقہ کا ثواب دس گنا ہے اور قرضہ دینے کا اٹھارہ گنا، میں نے جبرئیل علیہ السلام سے پوچھا: قرضہ دینا صدقہ کرنے سے افضل کیوں ہے؟ انہوں نے عرض کیا: کیونکہ سائل جب مانگتا ہے تو عام طور پر اس کے پاس کچھ موجود ہوتا ہے، جب کہ قرضہ مانگنے والا قرضہ ضرورت ہی کے وقت طلب کرتا ہے۔

تخريج الحديث
[مسند أبي داود الطيالسي:1237، سنن ابن ماجه:2431،  المعجم الأوسط للطبراني:6719، حلية الأولياء وطبقات الأصفياء:8/332، شعب الإيمان للبيهقي:3288، جزء فيه ثلاثة وثلاثون حديثا من حديث أبي القاسم البغوي:30]

[تذکرۃ القرطبی:۲/۴۵۹۔ اتحاف السادۃ:۵/۵۰۱]


القرآن:
کون ہے جو اللہ کو اچھے طریقے پر قرض دے، تاکہ وہ اسے اس کے مفاد میں اتنا بڑھائے چڑھائے کہ وہ بدر جہاز یا دہ ہوجائے ؟ (164) اور اللہ ہی تنگی پیدا کرتا ہے، اور وہی وسعت دیتا ہے، اور اسی کی طرف تم سب کو لوٹایا جائے گا۔
[تفسير القرطبي =سورة البقرة (2): آية 245]
(164) اللہ کو قرض دینے سے مراد اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کرنا ہے، اس میں غریبوں کی امداد بھی داخل ہے اور جہاد کے مقاصد میں خرچ کرنا بھی ہے، اسے قرض مجازاً کہا گیا ہے ؛ کیونکہ اس کا بدلہ ثواب کی صورت میں دیا جائے گا، اور اچھے طریقے کا مطلب یہ ہے کہ اخلاص کے ساتھ اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے کے لئے دیا جائے، دکھاوا یا دنیا میں بدلہ لینا مقصود نہ ہو، اور اگر جہاد کے لئے یا کسی غریب کی مدد کے طور پر قرض ہی دیا جائے تو اس پر کسی سود کا مطالبہ نہ ہو، کفار اپنی جنگی ضروریات کے لئے سود پر قرض لیتے تھے، مسلمانوں کو تاکید کی گئی ہے کہ اگرچہ دنیا میں تو انہیں سود نہیں ملے گا ؛ لیکن آخرت میں اللہ تعالیٰ اس کا ثواب اصل سے بدرجہا زیادہ عطا فرمائیں گے، جہاں تک اس خطرے کا تعلق ہے کہ اس طرح خرچ کرنے سے مال میں کمی ہوجائے گی، اس کے جواب میں فرمایا گیا ہے کہ تنگی اور وسعت اللہ ہی کے قبضے میں ہیں، جو شخص اللہ کے دین کے خاطر اپنا مال خرچ کرے گا اللہ تعالیٰ اس کو تنگی پیش آنے نہیں دیں گے بشرطیکہ وہ اللہ کے حکم کے مطابق خرچ کرے۔

📖 حاصل شدہ اسباق و نکات:


بنیادی پیغام:
قرض کا ثواب صدقے سے زیادہ ہے (قرض 18 گنا جبکہ صدقہ 10 گنا ثواب رکھتا ہے)

اہم نکات:
ضرورت مند کی اصل مدد:
قرض صرف ضرورت کی حالت میں لیا جاتا ہے، جبکہ صدقہ بعض اوقات بغیر ضرورت کے بھی مانگا جاتا ہے
قرض لینے والا حقیقی ضرورت مند ہوتا ہے

انسان کی عزت نفس کا تحفظ:
قرض لینے میں مانگنے کی ذلت نہیں ہوتی
قرض دینے والا مقروض کی عزت نفس کا خیال رکھتا ہے

معاشی تعاون کی صورت:
قرض معاشرے میں باہمی تعاون کا ایک موثر ذریعہ ہے
یہ عارضی مالی مشکلات میں مددگار ثابت ہوتا ہے

معاشرتی توازن:
اسلام نے قرض کو ترغیب دی تاکہ لوگ بلاوجہ مانگنے سے بچیں
قرض کا نظام معاشرے میں مالی توازن قائم رکھتا ہے

نیت اور حالات کی اہمیت:
عمل کی فضیلت حالات اور نیت پر منحصر ہوتی ہے
حقیقی ضرورت میں مدد کرنا زیادہ فضیلت رکھتا ہے

عملی تطبیق:
قرض حسنہ دینے کی ترغیب
حقیقی ضرورت مندوں کی مدد کرنا
معاشرے میں باہمی تعاون کو فروغ دینا
مانگنے والوں کے بارے میں احتیاط سے کام لینا

یہ حدیث ہمیں سکھاتی ہے کہ مالی اعانت کے مختلف طریقوں میں سے ہر ایک کی اپنی اہمیت ہے، لیکن قرض حسنہ کی صورت میں مدد کرنا زیادہ فضیلت کا حامل ہے کیونکہ یہ حقیقی ضرورت کو پورا کرتا ہے اور سائل کی عزت نفس کو مجروح نہیں ہونے دیتا۔


[إسناده ضعيف لضعف خالد بن يزيد بن أبي مالك. عبيد الله بن عبد الكريم: هو أبو زرعة الرازي الحافظ. وأخرجه ابن حبان في "المجروحين" 1/ 284، والطبراني في "الأوسط" (6719)، وفي "مسند الشاميين" (4/ 1614)، وابن عدي في "الكامل" 3/ 883، وأبو نعيم في "الحلية" 332/ 8 - 333، والبيهقي في "الشعب" (3566)، وابن الجوزي في "العلل المتناهية" (990) من طريق هشام بن خالد، بهذا الإسناد. وله شاهد ضعيف من حديث أبي أمامة عند الطيالسي (1141)، والطبراني (7976)، والبيهقي في "الشعب" (3564) و (3565)، وابن الجوزي في "العلل المتناهية" (989).]




حَدَّثَنَا أَبُو حَصِينٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ يُونُسَ كُوفِيٌّ , حَدَّثَنَا عَبْثَرُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا حُصَيْنٌ هُوَ ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " لَمَّا أُسْرِيَ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَعَلَ يَمُرُّ بِالنَّبِيِّ وَالنَّبِيَّيْنِ وَمَعَهُمُ الْقَوْمُ وَالنَّبِيِّ وَالنَّبِيَّيْنِ وَمَعَهُمُ الرَّهْطُ وَالنَّبِيِّ وَالنَّبِيَّيْنِ وَلَيْسَ مَعَهُمْ أَحَدٌ حَتَّى مَرَّ بِسَوَادٍ عَظِيمٍ ، فَقُلْتُ : مَنْ هَذَا ؟ قِيلَ : مُوسَى وَقَوْمُهُ ، وَلَكَنِ ارْفَعْ رَأْسَكَ فَانْظُرْ ، قَالَ : فَإِذَا سَوَادٌ عَظِيمٌ قَدْ سَدَّ الْأُفُقَ مِنْ ذَا الْجَانِبِ وَمِنْ ذَا الْجَانِبِ ، فَقِيلَ : هَؤُلَاءِ أُمَّتُكَ وَسِوَى هَؤُلَاءِ مِنْ أُمَّتِكَ سَبْعُونَ أَلْفًا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ فَدَخَلَ ، وَلَمْ يَسْأَلُوهُ وَلَمْ يُفَسِّرْ لَهُمْ ، فَقَالُوا : نَحْنُ هُمْ ، وَقَالَ قَائِلُونَ : هُمْ أَبْنَاؤُنَا الَّذِينَ وُلِدُوا عَلَى الْفِطْرَةِ وَالْإِسْلَامِ ، فَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : هُمُ الَّذِينَ لَا يَكْتَوُونَ وَلَا يَسْتَرْقُونَ وَلَا يَتَطَيَّرُونَ وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ ، فَقَامَ عُكَّاشَةُ بْنُ مِحْصَنٍ فَقَالَ : أَنَا مِنْهُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، ثُمَّ قَامَ آخَرُ فَقَالَ : أَنَا مِنْهُمْ ؟ فَقَالَ : سَبَقَكَ بِهَا عُكَّاشَةُ " , قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ، وفي الباب عن ابْنِ مَسْعُودٍ ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ .
ترجمہ:
ابوحصین عبداللہ بن احمد بن یونس، عبشربن قاسم، حصین، سعید بن جبیر، حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ:
جب نبی معراج تشریف لے گئے تو آپ کا ایسے نبی یا نبیوں پر گزر ہوا کہ ان کے ساتھ ایک قوم تھی پھر کسی نبی یا نبیوں پر سے گزرے تو ان کے ساتھ ایک جماعت تھی پھر ایسے نبی یا انبیاء پر سے گزر ہوا کہ ان کے ساتھ ایک آدمی بھی نہیں تھا یہاں تک کہ ایک بڑے مجمع کے پاس سے گزرے تو پوچھا یہ کون ہیں کہا گیا کہ موسیٰ اور ان کی قوم آپ سر کو بلند کیجئے اور دیکھئے آپ نے فرمایا اچانک میں نے دیکھا کہ وہ ایک جم غفیر ہے جس نے آسمان کے دونوں جانب کو گھیر ہوا ہے پھر کہا گیا یہ آپ کی امت ہے اور ان کے علاوہ ستر ہزار آدمی اور ہیں جو بغیر حساب وکتاب جنت میں داخل ہوں گے اس کے بعد نبی گھر چلے گئے نہ لوگوں نے پوچھا کہ وہ کون لوگ ہیں اور نہ ہی آپ نے بتایا چنانچہ بعض حضرات کہنے لگے کہ شاید وہ ہم لوگ ہوں جبکہ بعض کا خیال تھا کہ وہ فطرت اسلام پر پیدا ہونے والے بچے ہیں اتنے میں رسول اللہ دوبارہ تشریف لائے اور فرمایا وہ لوگ ہیں جو نہ داغتے ہیں نہ جھاڑ پھونک کرتے ہیں اور نہ ہی بدفالی لیتے ہیں بلکہ اپنے رب پر بھروسہ رکھتے ہیں اس پر عکاشہ بن محصن کھڑے ہوئے اور عرض کیا میں ان میں سے ہوں۔ آپ نے فرمایا ہاں پھر ایک اور صحابی کھڑے ہوئے اور پوچھا میں بھی انہی میں سے ہوں آپ نے فرمایا عکاشہ تم پر سبقت لے گئے۔
اس باب میں حضرت ابن مسعودؓ اور ابوہریرہ ؓ بھی احادیث منقول ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے.


📖 حاصل شدہ اسباق و نکات:


1. معراج النبیﷺ کی عظمت اور اسراء کا واقعہ:
   - اس حدیث سے معراج کے واقعہ کی تصدیق ہوتی ہے جو نبی کریمﷺ کی عظیم معجزاتی اور روحانی سفر ہے۔

2. پچھلی امتوں کے مختلف حالات:
   - مختلف انبیاء کی امتوں کے مختلف گروہوں کا ذکر:
     * کچھ انبیاء کے ساتھ بڑی جماعتیں تھیں
     * کچھ کے ساتھ چھوٹے گروہ تھے
     * کچھ انبیاء تنہا تھے

3. امت محمدیہ ﷺ کی کثرت اور فضیلت:
   - امت محمدیہﷺ کی عظیم تعداد کا بیان جو افق تک پھیلی ہوئی تھی
   - یہ امت کی برکت اور عظمت کی دلیل ہے

4. ستر ہزار کا خاص گروہ بغیر حساب جنت میں داخل ہونے والا:
   - ایک خاص گروہ (70,000) کا ذکر جو بغیر حساب و کتاب کے جنت میں داخل ہوں گے
   - یہ ان کی خصوصی فضیلت اور اعلیٰ مقام کو ظاہر کرتا ہے

5. ان خصوصی لوگوں کی صفات:
   - وہ لوگ جو:
     * نہ کتوای کرتے ہیں (آگ سے داغنے کا علاج نہیں کراتے)
     * نہ دم کراتے ہیں (جھاڑ پھونک نہیں کراتے)
     * نہ بدشگونی لیتے ہیں (تطیر و فال گیری سے پرہیز کرتے ہیں)
     * اپنے رب پر بھروسہ اور توکل کرتے ہیں

6. صحابہ کرام کی فہم و بصیرت:
   - صحابہ کرام کا علم حاصل کرنے کا شوق اور سوالات کرنا
   - ان کا اپنے آپ کو ان فضیلتوں والے گروہ میں شامل سمجھنے کی خواہش

7. حضرت عکاشہ بن محصن رضی اللہ عنہ کی فضیلت:
   - ان کا فوراً سوال کرنا اور رسول اللہﷺ کا ان کی تصدیق فرمانا
   - اس سے ان کی بڑی فضیلت کا پتہ چلتا ہے

8. سبقت اور پہل کا اہم اصول:
   - جب دوسرے صحابی نے پوچھا تو نبیﷺ نے فرمایا: "عکاشہ تم سے پہلے آچکے ہیں"
   - اس سے نیک اعمال میں سبقت کرنے کی اہمیت کا پتہ چلتا ہے

9. توکل علی اللہ کی اہمیت:
   - ان سب صفات میں سب سے اہم صفت "اپنے رب پر توکل" ہے
   - یہ اصل بنیاد ہے جس پر دیگر صفات قائم ہیں

10. سنت طریقہ علاج کی اہمیت:
    - غیر شرعی طریقہ علاج (کتوائی، دم درود وغیرہ) سے پرہیز
    - بیماریوں میں صبر اور توکل کی ترغیب

11. بدشگونی سے اجتناب:
    - اسلام میں فال گیری، بدشگونی اور توہمات سے منع کیا گیا ہے
    - مسلمان کو صرف اللہ پر بھروسہ رکھنا چاہیے

مجموعی درس:
یہ حدیث ہمیں سکھاتی ہے کہ کامیابی اور جنت میں داخلہ کے لیے ضروری ہے کہ ہم:
1. اللہ پر مکمل توکل کریں
2. غیر شرعی رسوم و رواج سے پرہیز کریں
3. سنت نبویﷺ پر عمل کریں
4. نیک اعمال میں سبقت حاصل کریں
5. توہمات اور بدشگونی سے بچیں

یہ حدیث ایمان، توکل اور سنت پر استقامت کی ترغیب دیتی ہے۔
حضور نے معراج میں جنت کو دیکھا ہے:
حدیث:حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے جناب رسول اللہ نے ارشاد فرمایا:

بَيْنَمَا أَنَا أَسِيرُ فِي الْجَنَّةِ إِذَا أَنَا بِنَهَرٍ حَافَتَاهُ قِبَابُ اللؤلؤ الْمُجَوَّفِ فَقُلْتُ مَاهَذَا؟ قَالَ: الْكَوْثَرُ الَّذِي أَعْطَاكَ رَبُّكَ۔

  (صفۃ الجنۃ ابن کثیر:۱۸۹۔ترمذی:۳۳۶۰)


(بخاری، كِتَاب أَحَادِيثِ الْأَنْبِيَاءِ،بَاب ذِكْرِ إِدْرِيسَ عَلَيْهِ السَّلَام وَهُوَجَدُّ أَبِي نُوحٍ وَيُقَالُ جَدُّ نُوحٍ،حدیث نمبر:۳۰۹۴، شاملہ، موقع الإسلام)

ترجمہ: میں جنت میں چل رہا تھا کہ اچانک ایک نہر پر پہنچا جس کے دونوں کنارے خولدار موتی کے قبے تھے میں نے پوچھا: یہ کیا ہے؟ (حضرت جبریل نے) فرمایا: یہ وہ کوثر (نہر) ہے، جو آپ کو آپ کے پروردگار نے عطاء فرمائی ہے۔

فائدہ:اس مسئلہ میں کم وبیش سینکڑوں دلائل احادیث شریف میں وارد ہیں ہم نے بطورِ خلاصہ صرف ایک آیت اور ایک حدیث کے ذکرپراکتفاء کیا ہے، اہلِ طلب نہایہ ابن کثیر جلددوم، البعث والنشور، امام بیہقی اور حاوی الارواح ابن قیم کی طرف رجوع فرمائیں؛ نیزوجود جنت پرمتفرق دلائل کتاب ہذا میں بہت جگہ ذکر کئے گئے ہیں ان کوبھی دیکھا جاسکتا ہے۔
تخريج الحديث

 م طرف الحديثالصحابياسم الكتابأفقالعزوالمصنفسنة الوفاة
1أتيت على نهر حافتاه قباب اللؤلؤ مجوفا هذا الكوثرأنس بن مالكصحيح البخاري46074964محمد بن إسماعيل البخاري256
2بينما أنا أسير في الجنة إذا أنا بنهر حافتاه قباب الدر المجوف الكوثر الذي أعطاك ربك مسك أذفرأنس بن مالكصحيح البخاري61236581محمد بن إسماعيل البخاري256
3ليردن علي ناس من أصحابي الحوض حتى عرفتهم اختلجوا دوني فأقول أصحابي فيقول لا تدري ما أحدثوا بعدكأنس بن مالكصحيح البخاري61246582محمد بن إسماعيل البخاري256
4اصبروا حتى تلقوا الله ورسوله فإني على الحوضأنس بن مالكصحيح البخاري69117441محمد بن إسماعيل البخاري256
5الكوثر إنه نهر وعدنيه ربي عليه خير كثير هو حوض ترد عليه أمتي يوم القيامة آنيته عدد النجوم يختلج العبد منهم فأقول يا رب إنه من أمتيأنس بن مالكصحيح مسلم612403مسلم بن الحجاج261
6ليردن علي الحوض رجال ممن صاحبني حتى إذا رأيتهم ورفعوا إلي اختلجوا دوني فلأقولن أي رب أصيحابي أصيحابي فليقالن لي إنك لا تدري ما أحدثوا بعدكأنس بن مالكصحيح مسلم42662305مسلم بن الحجاج261
7ما الكوثر قال ذاك نهر أعطانيه الله يعني في الجنة أشد بياضا من اللبن أحلى من العسل فيها طير أعناقها كأعناق الجزر إن هذه لناعمة قال رسول الله أكلتها أحسن منهاأنس بن مالكجامع الترمذي24812542محمد بن عيسى الترمذي256
8إنا أعطيناك الكوثر هو نهر في الجنةأنس بن مالكجامع الترمذي33053359محمد بن عيسى الترمذي256
9رأيت نهرا في الجنة حافتاه قباب اللؤلؤ الكوثر الذي أعطاكه اللهأنس بن مالكجامع الترمذي33063359محمد بن عيسى الترمذي256
10بينا أنا أسير في الجنة إذ عرض لي نهر حافتاه قباب اللؤلؤ الكوثر الذي أعطاكه الله طينة فاستخرج مسكا رفعت لي سدرة المنتهى فرأيت عندها نورا عظيماأنس بن مالكجامع الترمذي33073360محمد بن عيسى الترمذي256
11الكوثر نهر وعدنيه ربي في الجنةأنس بن مالكسنن أبي داود665784أبو داود السجستاني275
12الكوثر نهر وعدنيه ربي في الجنة وعليه خير كثير عليه حوض ترد عليه أمتي يوم القيامة آنيته عدد الكواكبأنس بن مالكسنن أبي داود41244747أبو داود السجستاني275
13عرض له نهر حافتاه الياقوت المجيب أو قال المجوف استخرج مسكا الكوثر الذي أعطاك اللهأنس بن مالكسنن أبي داود41254748أبو داود السجستاني275
14الكوثر هذا نهر وعدنيه ربي في الجنة آنيته أكثر من عدد الكواكب ترد علي أمتي يختلج العبد منهم فأقول يارب إنه من أمتي يقول إنك لا تدري ما أحدثوا بعدكأنس بن مالكسنن النسائى الصغرى894904النسائي303
15الكوثر نهر في الجنة وعدنيه ربيأنس بن مالكمسند أحمد بن حنبل1177411583أحمد بن حنبل241
16الكوثر نهر أعطانيه ربي في الجنة عليه خير كثير ترد عليه أمتي يوم القيامة آنيته عدد الكواكب يختلج العبد منهم فأقول يا رب إنه من أمتيأنس بن مالكمسند أحمد بن حنبل1177611585أحمد بن حنبل241
17دخلت الجنة فإذا أنا بنهر حافتاه خيام اللؤلؤ مجرى مائه فإذا مسك أذفر الكوثر الذي أعطاكه اللهأنس بن مالكمسند أحمد بن حنبل1178811597أحمد بن حنبل241
18دخلت الجنة فإذا أنا بنهر حافتاه خيام اللؤلؤ مجرى مائه فإذا مسك أذفر الكوثر الذي أعطاك الله أو أعطاك ربكأنس بن مالكمسند أحمد بن حنبل1192711741أحمد بن حنبل241
19ليردن علي الحوض رجلان ممن قد صحبني فإذا رأيتهما رفعا لي اختلجا دونيأنس بن مالكمسند أحمد بن حنبل1218812010أحمد بن حنبل241
20أعطيت الكوثر فإذا هو نهر يجري كذا على وجه الأرض حافتاه قباب اللؤلؤ ليس مشفوفا ضربت بيدي إلى تربته فإذا مسكة ذفرة إذا حصاه اللؤلؤأنس بن مالكمسند أحمد بن حنبل1230412133أحمد بن حنبل241
21رأيت نهرا في الجنة حافتاه قباب اللؤلؤ الكوثر الذي أعطاك اللهأنس بن مالكمسند أحمد بن حنبل1243712264أحمد بن حنبل241
22بينما أنا أسير في الجنة فإذا أنا بنهر حافتاه قباب الدر المجوف الكوثر الذي أعطاك ربك طينه مسك أذفرأنس بن مالكمسند أحمد بن حنبل1274412577أحمد بن حنبل241
23بينا أنا أسير في الجنة إذ عرض لي نهر حافتاه قباب اللؤلؤ المجوف الكوثر الذي أعطاك ربك طينه مسكا أذفرأنس بن مالكمسند أحمد بن حنبل1290512744أحمد بن حنبل241
24نهر أعطانيه ربي أشد بياضا من اللبن أحلى من العسل فيه طير كأعناق الجزر تلك لطير ناعمة فقال أكلتها أنعم منها يا عمرأنس بن مالكمسند أحمد بن حنبل1305412893أحمد بن حنبل241
25بينما أنا أسير في الجنة إذ عرض لي نهر حافتاه قباب اللؤلؤ المجوف الكوثر الذي أعطاك ربك طينه المسك الأذفر رضراضه اللؤلؤأنس بن مالكمسند أحمد بن حنبل1317113012أحمد بن حنبل241
26هو نهر أعطانيه الله في الجنة ترابه المسك ماؤه أبيض من اللبن أحلى من العسل ترده طير أعناقها مثل أعناق الجزر إنها لناعمة فقال آكلها أنعم منهاأنس بن مالكمسند أحمد بن حنبل1321713063أحمد بن حنبل241
27هو نهر أعطانيه الله في الجنة أبيض من اللبن أحلى من العسل فيه طيور أعناقها كأعناق الجزر إنها لناعمة يا رسول الله قال فقال رسول الله آكلوها أنعم منهاأنس بن مالكمسند أحمد بن حنبل1322213068أحمد بن حنبل241
28عن الكوثر فذكره إلا أنه قال أكلتها أنعم منهاأنس بن مالكمسند أحمد بن حنبل1322613071أحمد بن حنبل241
29أعطيت الكوثر فإذا هو نهر يجري ولم يشق شقا إذا حافتاه قباب اللؤلؤ تربته فإذا هو مسكة ذفرة إذا حصاه اللؤلؤأنس بن مالكمسند أحمد بن حنبل1331713166أحمد بن حنبل241
30دخلت الجنة فإذا أنا بنهر يجري حافتاه خيام اللؤلؤ ما يجري فيه فإذا هو مسك أذفر الكوثر الذي أعطاك اللهأنس بن مالكمسند أحمد بن حنبل1350713365أحمد بن حنبل241
31ليردن الحوض علي رجال حتى إذا رأيتهم رفعوا إلي فاختلجوا دوني فلأقولن يا رب أصحابي أصحابي لا تدري ما أحدثوا بعدكأنس بن مالكمسند أحمد بن حنبل1371113579أحمد بن حنبل241
32بينما أنا أسير في الجنة إذا أنا بنهر حافتاه قباب الدر الكوثر الذي أعطاك ربك طينه مسك أذفرأنس بن مالكمسند أحمد بن حنبل1379613665أحمد بن حنبل241
33الكوثر نهر في الجنة يجري على وجه الأرض حافتاه قباب الدر طينه مسك أذفر إذا حصباؤه اللؤلؤأنس بن مالكصحيح ابن حبان66096471أبو حاتم بن حبان354
34دخلت الجنة فإذا أنا بنهر حافتاه من اللؤلؤ مجرى الماء فإذا مسك أذفر الكوثر أعطاكه الله أو أعطاك ربكأنس بن مالكصحيح ابن حبان661014 : 390أبو حاتم بن حبان354
35دخلت الجنة فإذا أنا بنهر يجري بياضه بياض اللبن أحلى من العسل حافتاه خيام اللؤلؤ الثرى مسك أذفر الكوثر الذي أعطاكه اللهأنس بن مالكصحيح ابن حبان66116473أبو حاتم بن حبان354
36بينا أنا أسير في الجنة إذ عرض لي نهر حافتاه قباب اللؤلؤ المجوف الكوثر الذي أعطاك ربك طينه المسكأنس بن مالكصحيح ابن حبان661214 : 391أبو حاتم بن حبان354
37دخلت الجنة فإذا أنا بنهر يجري حافتاه خيام اللؤلؤ مجرى الماء فإذا مسك أذفر الكوثر الذي أعطاكه ربكأنس بن مالكالمستدرك على الصحيحين2441 : 79الحاكم النيسابوري405
38هو نهر أعطانيه الله في الجنة ترابها مسك أبيض من اللبن أحلى من العسل يرده طائر أعناقها مثل أعناق الجزر إنها لناعمة فقال أكلها أنعم منهاأنس بن مالكالمستدرك على الصحيحين39062 : 535الحاكم النيسابوري405
39أتدرون أي سورة أنزلت علي آنفا الكوثر نهر في الجنة وعدنيه ربي ترده أمتي يختلج الرجل دوني فأقول إنه من أمتي فيقال إنك لا تدري ما أحدثوا بعدكأنس بن مالكمستخرج أبي عوانة12981654أبو عوانة الإسفرائيني316
40هل تدرون ما الكوثر نهر وعدنيه ربي في الجنة عليه حوض ترد عليه أمتي يوم القيامة آنيته عدد نجوم السماء يختلج العبد منهم فأقول ربي إنه من أمتي يقال إنك لا تدري ما أحدثوا بعدكأنس بن مالكمستخرج أبي عوانة12991655أبو عوانة الإسفرائيني316
41الكوثر نهر وعدنيه ربي عليه خير كثير هو حوض ترد عليه أمتي يوم القيامة آنيته عدد النجوم فيختلج العبد منهم فأنس بن مالكالمسند المستخرج على صحيح مسلم لأبي نعيم774888أبو نعيم الأصبهاني430
42الكوثر هو نهر أعطانيه الله في الجنة ترابه مسك ماؤه أبيض من اللبن أحلى من العسل يرده طير أعناقها مثل أعناق الجزر إنها لناعمة قال آكلها أنعم منهاأنس بن مالكالأحاديث المختارة2041---الضياء المقدسي643
43الكوثر نهر أعطانيه الله في الجنة أبيض من اللبن أحلى من العسل فيه طيور أعناقها كأعناق الجزر إنها لناعمة يا رسول الله فقال آكلها أنعم منهاأنس بن مالكالأحاديث المختارة2042---الضياء المقدسي643
44نزلت علي آنفا سورة بسم الله الرحمن الرحيم إنا أعطيناك الكوثر فصل لربك وانحر إن شانئك هو الأبتر ثم قال هل تدرون ما الكوثر قلنا الله ورسوله أعلم قال فإنه نهر وعدنيه ربي في الجنة آنيته أكثر من عدد الكواكب ترده علي أمتي فيختلج العبد منهم فأقول رب إنه من أمتيأنس بن مالكالسنن الكبرى للنسائي9651 : 468النسائي303
45نهر في الجنة حافتاه قباب من لؤلؤ الكوثر الذي أعطاكه الله تبارك رفعت لي سدرة المنتهى منتهاها في السماء السابعةأنس بن مالكالسنن الكبرى للنسائي1101511469النسائي303
46نزلت علي آنفا سورة بسم الله الرحمن الرحيم إنا أعطيناك الكوثر فصل لربك وانحر إن شانئك هو الأبتر ثم قال هل تدرون ما الكوثر قلنا الله ورسوله أعلم قال فإنه نهر وعدنيه ربي في الجنة آنيته أكثر من عدد الكواكب ترده علي أمتي فيختلج العبد منهم فأقول يا رب أنه منأنس بن مالكالسنن الكبرى للنسائي1118411634النسائي303
47ما الكوثر قال نهر أعطانيه ربي في الجنة أشد بياضا من اللبن أحلى من العسل فيه طيور أعناقها كأعناق الجزر إنها لناعمة قال آكلها أنعم منهاأنس بن مالكالسنن الكبرى للنسائي1118511639النسائي303
48دخلت الجنة فإذا أنا بنهر حافتاه اللؤلؤ مجرى مائه فإذا مسك أذفر الكوثر الذي أعطاكه اللهأنس بن مالكالسنن الكبرى للنسائي1118811642النسائي303
49أنزلت علي آنفاأنس بن مالكالسنن الصغير للبيهقي178367البيهقي458
50هل تدرون ما الكوثر نهر وعدنيه ربي في الجنة آنيته أكثر من عدد الكواكب ترد عليه أمتي يختلج العبد منهم فأقول يا رب إنه من أمتي يقال إنك لا تدري ما أحدث بعدكأنس بن مالكالسنن الكبرى للبيهقي21702 : 43البيهقي458
51نزلت علي آنفاأنس بن مالكالسنن الكبرى للبيهقي21712 : 43البيهقي458
52بينا أنا في الجنة إذ رأيت نهرا الكوثر الذي أعطاك ربك ترابه مسك أذفرأنس بن مالكمسند أبي داود الطيالسي20912104أبو داود الطياليسي204
53دخلت الجنة فإذا أنا بنهر حافتاه خيام اللؤلؤ مجرى مائه فإذا المسك الأذفر الكوثر الذي أعطاك اللهأنس بن مالكالبحر الزخار بمسند البزار 10-1321366608أبو بكر البزار292
54أعطيت الكوثر مشربته فإذا هي مسكة ذفرة إذا حصباؤها اللؤلؤ إذا حافتاه قباب تجري على الأرض جريا ليس بمشقوقأنس بن مالكالبحر الزخار بمسند البزار 10-1323256812أبو بكر البزار292
55عرض له نهر حافتاه الياقوت المحوف أو قال المجوف استخرج مسكا الكوثر الذي أعطاكه الله رفعت له سدرة المنتهى فأبصر عندها أمرا عظيماأنس بن مالكالبحر الزخار بمسند البزار 10-1325167016أبو بكر البزار292
56بينا أنا أسير في الجنة إذا أنا بنهر حافتاه قباب اللؤلؤ المجوف الكوثر الذي أعطاك ربك طينه مسك أذفرأنس بن مالكمسند أبي يعلى الموصلي28472876أبو يعلى الموصلي307
57رأيت الكوثر نهرا في الجنة حافتاه قباب اللؤلؤ الكوثر الذي أعطاكم اللهأنس بن مالكمسند أبي يعلى الموصلي31433186أبو يعلى الموصلي307
58أعطيت الكوثر تربته فإذا مسك أذفر إذا حصاه اللؤلؤ إذا حافتاه قباب الدرأنس بن مالكمسند أبي يعلى الموصلي32423290أبو يعلى الموصلي307
59أعطيت الكوثر فإذا نهر يجري ولم يشق شقا إذا حافتاه قباب اللؤلؤ تربته مسك ذفرة حصاه اللؤلؤأنس بن مالكمسند أبي يعلى الموصلي34753529أبو يعلى الموصلي307
60دخلت الجنة فإذا أنا بنهر حافتاه خيام اللؤلؤ مجرى مائه فإذا مسك أذفر الكوثر الذي أعطاكه الله أو أعطاك ربكأنس بن مالكمسند أبي يعلى الموصلي36773726أبو يعلى الموصلي307
61دخلت الجنة فإذا أنا بنهر يجري حافتاه خيام اللؤلؤ الطين فإذا مسك أذفر هذا الكوثر الذي أعطاك اللهأنس بن مالكمسند أبي يعلى الموصلي37713823أبو يعلى الموصلي307
62سيرد على حوضي أقوام يختلجون دوني فأقول يا رب أصحابي فيقال إنك لا تدري ما أحدثوا بعدكأنس بن مالكمسند أبي يعلى الموصلي38873942أبو يعلى الموصلي307
63الكوثر نهر وعدنيه عليه ربي خيرا كثيرا هو حوض ترد عليه أمتي يوم القيامة آنيته عدد نجوم السماء يختلج العبد منهم فأقول يا رب إنه من أمتيأنس بن مالكمسند أبي يعلى الموصلي38963951أبو يعلى الموصلي307
64الكوثر نهر في الجنة وعدنيه ربيأنس بن مالكمسند أبي يعلى الموصلي38983953أبو يعلى الموصلي307
65دخلت الجنة فإذا أنا بنهر يجري حفتاه خيام اللؤلؤ قال فضربت بيدي إلى الطين فإذا مسك أذفر فقلت يا جبريل ما هذا قال هذا الكوثر الذي أعطاك اللهأنس بن مالكإتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة53928: 196البوصيري840
66عرض لي نهر في الجنة حافتاه خيام الدر الكوثر الذي أعطاكه ربك إذا المسك رفع إلي سدرة المنتهى فرأيت عندها نورا عظيماأنس بن مالكمسند الشاميين للطبراني25182579سليمان بن أحمد الطبراني360
67إنا أعطيناك الكوثرأنس بن مالكمسند عبد بن حميد11971189عبد بن حميد249
68يرد علي الحوض ناس من أصحابي حتى إذا رأيتهم وعرفتهم اختلجوا دوني فأقول يا رب أصحابي أصحابي فيقال إنك لا تدري ما أحدثوا بعدكأنس بن مالكمسند عبد بن حميد12211213عبد بن حميد249
69عن الكوثر قال نهر أعطانيه الله في الجنة ترابه مسكأنس بن مالكإتحاف المهرة1227---ابن حجر العسقلاني852
70يرد على الحوض ناس من أصحابي حتى إذا رأيتهم وعرفتهم اختلجوا دونيأنس بن مالكإتحاف المهرة1286---ابن حجر العسقلاني852
71نهر أعطانيه ربيأنس بن مالكإتحاف المهرة1717---ابن حجر العسقلاني852
72أغفى رسول الله إغفاءة فرفع رأسه متبسما الحديث في ذكر أنا أعطيناك الكوثرأنس بن مالكإتحاف المهرة1732---ابن حجر العسقلاني852
73هل تدرون ما الكوثرأنس بن مالكإتحاف المهرة1740---ابن حجر العسقلاني852
74من هم بحسنة فلم يعمل بها كتبت له حسنة ومن هم بسيئة فلم يعملها لم تكتب عليه فإن عملها كتبت سيئةأنس بن مالككشف الأستار30543255نور الدين الهيثمي807
75أعطيت الكوثر فضربت بيدي فإذا هي مسكة ذفرة وإذا حصاها اللؤلؤ وإذا حافتاه أظنه قال قباب يجري على الأرض جريا ليس بمشقوقأنس بن مالككشف الأستار32573484نور الدين الهيثمي807
76دخلت الجنة فإذا أنا بنهر يجري حافتاه خيام اللؤلؤ الطين فإذا مسك أذفر الكوثر الذي أعطاك اللهأنس بن مالكمصنف ابن أبي شيبة3097032186ابن ابي شيبة235
77الكوثر نهر وعدنيه ربي عليه خير كثير حوض ترد عليه يوم القيامة أمتي آنيته عدد النجوم يختلج العبد منهم فأقأنس بن مالكمصنف ابن أبي شيبة3097132187ابن ابي شيبة235
78الكوثر نهر وعدنيه ربي في الجنة عليه الخير كثير هو حوض ترد عليه أمتي يوم القيامة آنيته عدد النجومأنس بن مالكمصنف ابن أبي شيبة3340335094ابن ابي شيبة235
79دخلت الجنة فإذا أنا بنهر يجري حافتاه خيام اللؤلؤ الطين فإذا مسك أذفر الكوثر الذي أعطاك اللهأنس بن مالكمصنف ابن أبي شيبة3341135102ابن ابي شيبة235
80الكوثر نهر وعدني ربي عليه خير كثير هو حوضي ترد عليه أمتي يوم القيامة آنيته عدد النجوم يختلج العبد منهم فأقول رب إنه من أمتي فيقول لا تدري ما أحدث بعدكأنس بن مالكمصنف ابن أبي شيبة3647838174ابن ابي شيبة235
81لي حوضا وأنا فرطكم عليهأنس بن مالكالمعجم الصغير للطبراني102594سليمان بن أحمد الطبراني360
82عرض له نهر حافتاه الياقوت المجوف استخرج مسكا الكوثر الذي أعطاك الله رفعت لي سدرة المنتهى فأبصرت عندها نورا عظيماأنس بن مالكالمعجم الأوسط للطبراني29692885سليمان بن أحمد الطبراني360
83لي حوضا وأنا فرطكم عليهأنس بن مالكالمعجم الأوسط للطبراني79857777سليمان بن أحمد الطبراني360
84ليردن علي الحوض رجلان فإذا رأيتهما رفعا لي اختلجا دونيأنس بن مالكالمعجم الأوسط للطبراني91198887سليمان بن أحمد الطبراني360
85أعطيت الكوثر نهر في الجنة عرضه وطوله ما بين المشرق والمغرب لا يشرب منه أحد فيظمأ لا يتوضأ منه أحد فيشعث لا يشربه إنسان خفر ذمتي لا قتل أهل بيتيأنس بن مالكالمعجم الكبير للطبراني28152882سليمان بن أحمد الطبراني360
86أنزلت علي آنفا سورة قال فقرأ بسم الله الرحمن الرحيم إنا أعطيناك الكوثر فصل لربك وانحر إن شانئك هو الأبترأنس بن مالكمعجم الشيوخ لابن جميع الصيداوي164159ابن جميع الصيداوي402
87دخلت الجنة فإذا أنا بنهر يجري حافتاه خيام اللؤلؤ ما يجري فيه الماء فإذا مسك أذفر الكوثر الذي عطاكه اللهأنس بن مالكمعجم أصحاب القاضي أبي علي الصدفي158---ابن الأبار القضاعي658
88الكوثر نهر في الجنة وعدنيه ربي عليه خير كثير حوضي ترد عليه أمتي يوم القيامة آنيته عدد الكواكبأنس بن مالكمشيخة ابن جماعة331 : 194ابن جماعة739
89دخلت الجنة فإذا أنا بنهر حافته خيام اللؤلؤ يجري فيه الماء فإذا مسك أذفر الكوثر الذي أعطاكه اللهأنس بن مالكمشيخة دانيال بن منكلي82---محمد بن محمد بن محمد بن حسين بن عبدك الكنجي731
90هل تدرون ما الكوثر قالوا الله ورسوله أعلم قال فإنه نهر في الجنة وعدنيه ربي عليه خير كثير حوضي ترد عليه أمتي يوم القيامة آنيته عدد الكواكبأنس بن مالكمشيخة ابن البخاري426---أحمد بن محمد الظاهري الحنفي696
91هل تدرون ما الكوثر هو نهر في الجنة عليه خير كثير آنيته عدد نجوم السماء وليردن علي أقوام حتى إذا نظرت إليهم اختلجوا دوني فأقول يا رب أصحابي يقال يا محمد إنك لا تدري ما أحدثوا بعدكأنس بن مالكمعجم الشيوخ لتاج الدين السبكي388---السبكي771
92دخلت الجنة فإذا أنا بنهر يجري بياضه بياض اللبن أحلى من العسل حافتاه خيام اللؤلؤ الثرى مسك أذفر الكوثر الذي أعطاكه اللهأنس بن مالكحديث إسماعيل بن جعفر4545إسماعيل بن جعفر180
93دخلت الجنة فإذا أنا بنهر يجري حافتيه خيام اللؤلؤ ما يجري عليه فإذا بمسك أذفر الكوثر الذي أعطاك الله أو قال ربكأنس بن مالكعوالي الحارث2019الحارث بن أبي أسامة282
94ما الكوثر فقال ذاك نهر أعطانيه الله أشد بياضا من اللبن أحلى من العسل فيه طير أعناقها كأعناق الجزر إن هذه لناعمة قال رسول الله أكلتها أنعم منهاأنس بن مالكجزء فيه مجلسان عن ابن البختري31195أبو جعفر بن البختري339
95هو نهر أعطانيه ربي في الجنة أشد بياضا من اللبن أحلا من العسل فيه طيور أعناقها كأعناق الجزر إنها لناعمة فقال آكلها أنعم منهاأنس بن مالكحديث أبي الفضل الزهري3445الحسن بن علي الجوهري381
96دخلت الجنة فإذا أنا بنهر يجري حافتاه خيام اللؤلؤ ما يجري فيه فإذا مسك أذفر الكوثر الذي أعطاك الله أو قال ربكأنس بن مالكفوائد تمام الرازي221233تمام بن محمد الرازي414
97هو نهر أعطانيه الله في الجنة أبيض من اللبن أحلى من العسل فيه طيور أعناقها كأعناق الجزر إنها لناعمة يا رسول الله فقال أكلتها أنعم منهاأنس بن مالكفوائد تمام الرازي11311223تمام بن محمد الرازي414
98الكوثر نهر وعدنيه ربي في الجنة آنيته أكثر من عدد الكواكب ترد عليه أمتي يختلج العبد منهم فأقول يا رب إنه من أمتيأنس بن مالكأربعون حديثا عن أربعين شيخا في أربعين لابن المقرب4040أحمد بن المقرب البغدادي563
99دخلت الجنة فإذا أنا بنهر يجري حافتاه خيام اللؤلؤ فضربت يدي إلى ما يجري فيه من الماء فإذا بمسك أذفر فقلت لمن هذا يا جبريل قال هذا الكوثر الذي أعطاكه الله تعالىأنس بن مالكالأحاديث التساعية لابن جماعة81 : 77ابن جماعة الكناني733
100الكوثر نهر في الجنة وعدنيه ربي عليه خير كثير حوضي ترد عليه أمتي يوم القيامةأنس بن مالكالبلدانيات للسخاوي3028السخاوي904





حدیث:معراج کی طویل حدیث میں ہے کہ جناب رسول اللہ نے ارشاد فرمایا:

أُدْخِلْتُ الْجَنَّةَ فَإِذَا فِيهَاجَنَابِذُ اللُّؤْلُؤِ وَإِذَا تُرَابُهَا الْمِسْكُ۔

ترجمہ:
میں جنت میں داخل ہوا تو اس میں چمکدار موتیوں کے گنبد تھے اور اس کی زمین کستوری کی تھی۔

[صحیح بخاری، كِتَاب أَحَادِيثِ الْأَنْبِيَاءِ، بَاب ذِكْرِ إِدْرِيسَ عَلَيْهِ السَّلَام وَهُوَجَدُّ أَبِي نُوحٍ وَيُقَالُ جَدُّ نُوحٍ، حدیث نمبر:۳۰۹۴، شاملہ، موقع الإسلام]

[مسند أحمد: 21288، حديث أبي ذر، فأَخرجه البخاري تعليقاً (1636) و (3342) ، ومسلم (163) ، والنسائي في "الكبرى" (314) ، وأبو عوانة (354) ، وابن حبان (7406) ، وابن منده في "الإيمان" (714) ، والبيهقي في "دلائل النبوة" 2/379-382 من طريق عبد الله بن وهب، والبخاري (349) ، والبزار في "مسنده" (3892) ، وأبو يعلى (3616) ، والآجري في "الشريعة" ص481-482، وابن منده بإثر الحديث (714) ، والبغوي (3754) من طريق الليث بن سعد، والبخاري (3342) من طريق عنبسة بن خالد الأيلي، ثلاثتهم عن يونس ابن يزيد الأيلي، عن الزهري، عن أنس، عن أبي ذر. وبعضهم يختصره.
حديث أبى بن كعب: أخرجه عبد الله بن أحمد فى زوائده (5/143، رقم 21326) قال الهيثمى (1/66) : رجاله رجال الصحيح. وأبو يعلى (6/295، رقم 3614) ، والضياء (3/332، رقم 1127، ورقم 1128) وقال: إسناده صحيح.]




سدرۃ المنتہیٰ پھل، پتے اور نہریں:
حدیث:حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

لَمَّا رُفِعْتُ إِلَى سِدْرَةِ الْمُنْتَهَى فِى السَّمَاءِ السَّابِعَةِ نَبْقُهَا مِثْلُ قِلاَلِ هَجَرَ وَوَرَقُهَا مِثْلُ آذَانِ الْفِيَلَةِ يَخْرُجُ مِنْ سَاقِهَا نَهْرَانِ ظَاهِرَانِ وَنَهْرَانِ بَاطِنَانِ قُلْتُ يَاجِبْرِيلُ مَاهَذَا قَالَ أَمَّاالْبَاطِنَانِ فَفِى الْجَنَّةِ وَأَمَّاالظَّاهِرَانِ فَالنِّيلُ وَالْفُرَاتُ۔

ترجمہ:

جب مجھے (معراج کی شب) ساتویں آسمان میں سدرۃ المنتہیٰ کی طرف لے جایا گیا تو اس کے بیر ہجر کے مٹکوں کی طرح (بڑے اور موٹے) تھے اور اس کے پتے ہاتھی کے کانوں کی طرح تھے، اس کے تنہ سے دو ظاہری نہریں نکلتی ہیں اور دو باطنی، میں نے پوچھا: اے جبریل! یہ (باطنی اور ظاہری نہریں) کیا ہیں؟ فرمایا: باطنی تو جنت میں ہیں اور ظاہری (نہریں دنیا میں) دریائے نیل اور دریائے فرات ہیں۔

[دارِقطنی، الطهارة،حدیث نمبر:۳۶، شاملہ،موقع وزارة الأوقاف المصرية]

[ رواه مسلم في صحيحه، كتاب الإيمان، باب الإسراء (1/150) ، ورقم الحديث: 164. صحيح الجامع الصغير: (3/18) ، ورقمة: 2861، وعزاه إلى البخاري 3207 (3887) ومسلم (164) وأحمد(12673) والترمذي. والنسائى فى الكبرى (1/138، رقم 313) مسند أبي يعلى:3185، صحيح ابن خزيمة:301، مستخرج أبي عوانة:338،8134، صحيح ابن حبان:7415،48، المعجم الصغير للطبراني:113، المعجم الكبير للطبراني:599، سنن الدارقطني:33، المستدرك على الصحيحين للحاكم:271-272،420، صفة الجنة لأبي نعيم الأصبهاني:302، البعث والنشور للبيهقي:181، شرح السنة للبغوی:3752 ، صفة الجنة للضیاء المقدسی:68]









حور کی دعوتِ نکاح:
حدیث: سرکارِ دوعالم سیدنا ونبینا محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت منقول ہے کہ جب آپ کو معراج کرائی گئی تو آپ نے حور کی صفت بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:

ولقد رأيت جبينها كالهلال في طول البدر منها ألف وثلاثون ذراعا في رأسها مائة ضفيرة مابين الضفيرة والضفيرة سبعون ألف ذؤابة والذؤابة أضوأ من البدر مكلل بالدر وصفوف الجواهر على جبينها سطران مكتوبان بالدر الجوهر في السطر الأول: بسم الله الرحمن الرحيم وفي السطر الثاني: من أراد مثلي فليعمل بطاعة ربي فقال لي جبريل يامحمد: هذه وأمثالها لأمتك فأبشر يامحمد وبشر أمتك وأمرهم بالاجتهاد۔

ترجمہ:

میں نے اس کی پیشانی کو چودھویں کے طویل چاند کی طرح دیکھا ہے جس کی لمبائی ایک ہزار تیس ہاتھ کے برابر تھی، اس کے سر میں سو مینڈھیاں تھیں، ہر مینڈھی سے دوسری تک ستر ہزار چوٹیاں تھیں اور ہر چوٹی چودہویں کے چاند سے زیادہ روشن تھی، موتی کا تاج سجا تھا اور جواہر کی لڑیاں اس پیشانی پر پڑتی تھیں، جوہر کے ساتھ دو سطریں لکھی تھیں، پہلی سطر میں بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ لکھی تھی اور دوسری میں یہ لکھا تھا کہ جو شخص میرے جیسی حور کا طلب گار ہے اس کوچاہئے کہ وہ میرے پروردگار کی اطاعت کرے پھرحضرت جبریل نے مجھ سے کہا: اے محمد! یہ اور اس طرح کی (حوریں) آپ کی امت کے لیے ہیں، آپ بھی خوش ہوں اور اپنی امت کو بھی اس کی خوشخبری سنادیں اور ان کو نیک اعمال میں محنت اور کوشش کا حکم دیدیں۔

[التذكرة بأحوال الموتى وأمور الآخرة، للقرطبی: 986، التوضيح لشرح الجامع الصحيح، لابن الملقن:19/141، عمدة القاري شرح صحيح البخاري، للعينى:14/95]





یہ حوریں کیسے کیسے خیموں میں رہتی ہیں:
حدیث:
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

لما أسري بی دخلت الجنة موضعا يسمى البيدخ عليه خيام اللؤلؤ، والزبرجد الأخضر، والياقوت الأحمر، فقلن: السلام عليك يارسول الله، قلت: ياجبريل ماهذا النداء؟ قال: هؤلاء المقصورات في الخيام يستأذنون ربهن في السلام عليك، فأذن لهن فطفقن يقلن: نحن الراضيات فلانسخط أبدا، نحن الخالدات فلانظعن أبدا، وقرأ رسول الله صلى الله عليه وسلم الآية حُورٌ مَقْصُورَاتٌ فِي الْخِيَامِ۔          

ترجمہ:

جب مجھے معراج کرائی گئی تو میں جنت میں ایک جگہ پر داخل ہوا جس کا نام (نہر بیدخ) تھا اس پر لؤلؤ، زبرجد، اخضر اور یاقوت، احمر کے خیمے نصب تھے ان (میں رہنے والی حوروں) نے کہا: السلام علیکم یا رسول اللہ (اے اللہ کے رسول! آپ پرسلام ہو) میں نے پوچھا: اے جبریل! یہ کن کی آواز تھی؟ انہوں نے فرمایا: یہ وہ حوریں ہیں جو خیموں میں رکی ہوئی ہیں انہوں نے اپنے رب تعالیٰ سے آپ کو سلام کہنے کی اجازت طلب کی اور اللہ تعالیٰ نے ان کو (اس کی) اجازت عطاء فرمائی ہے؛ پھر وہ حوریں جلدی سے بول پڑیں: ہم راضی رہنے والی ہیں (اپنے خاوندوں پر) کبھی ناراض نہ ہونگی، ہم ہمیشہ رہنے والی ہیں کبھی (جنت سے) نکالی نہ جائیں گے؛ پھر جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی: حُورٌ مَقْصُورَاتٌ فِي الْخِيَامِ (الرحمن:۷۲) حوریں ہیں خیموں میں رکی رہنے والیاں۔

[البعث والنشور للبيهقي:340، صفة الجنة لابن ابی الدنیا:252، تخريج أحاديث إحياء علوم الدين:4216، قرطبي:17/187، الدر المنثور:7/718]

[البعث والنشور:۳۷۶۔ درمنثور:۶/۱۶۱]




 حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ قَالَ نا عَلِيُّ بْنُ عِيسَى قثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَفَّانَ قثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ لَيْثِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَمَّا عرج بِي إِلَى السَّمَاءِ دَخَلْتُ جَنَّةَ عَدْنٍ، فَوُضِعَ فِي كَفِّي تُفَّاحَةٌ، قَالَ: فَانْفَلَقَتْ عَنْ حَوْرَاءَ مَرْضِيَّةٍ كَأَنَّ أَشْفَارَ عَيْنَيْهَا مَقَادِيمُ أَجْنِحَةِ النُّسُورِ "، فَقُلْتُ: لِمَنْ أَنْتِ؟ فَقَالَتْ: أَنَا لِلْخَلِيفَةِ الْمَقْتُولِ مِنْ بَعْدِكَ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ ". 

ترجمہ:

"ہمارے سامنے محمد نے بیان کیا، کہا: ہمیں علی بن عیسیٰ نے بیان کیا، ہمیں عبدالرحمن بن عفان نے بیان کیا، ہمیں عبدالرحمن بن ابراہیم نے لیث بن سعد کے واسطے سے بیان کیا، انہوں نے یزید بن ابی حبیب کے واسطے سے، انہوں نے ابو الخیر کے واسطے سے، انہوں نے عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ سے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
'جب مجھے آسمان کی طرف معراج کرائی گئی تو میں جنت عدن میں داخل ہوا۔ میری ہتھیلی پر ایک سیب رکھا گیا۔ (نبی ﷺ نے) فرمایا: وہ پھٹا تو اس میں سے ایک پسندیدہ حور (حوراء) نکلی، گویا اس کی پلکیں شاہین کے پروں کے سروں (کناروں) کی مانند تھیں۔ میں نے پوچھا: تم کس کے لیے ہو؟ اس نے کہا: میں آپ کے بعد مقتول ہونے والے خلیفہ عثمان بن عفانؓ کے لیے ہوں۔'"
[فضائل الصحابة-امام احمد بن حنبل:864]
---

📖 حاصل شدہ اسباق و نکات:


1. معراج النبی کی حقیقت: یہ حدیث معراج کے عظیم واقعے کی مزید تفصیل بیان کرتی ہے اور اس کی صداقت کی ایک اور دلیل ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے براہ راست جنت کے مناظر دیکھے۔
2. حضرت عثمانؓ کی بلند فضیلت و مقام: یہ حدیث حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے ایک خاص امتیازی شرف کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے معراج کی رات ہی میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بشارت دے دی تھی کہ جنت میں حضرت عثمان کے لیے ایک اعلیٰ و ارفع حور مخصوص ہے۔
3. شہادت عثمانؓ کی پیشین گوئی: الفاظ "الْخَلِيفَةِ الْمَقْتُولِ" (خلیفہ مقتول) سے واضح ہے کہ اللہ تعالیٰ کو پہلے سے ہی حضرت عثمان کی شہادت کا علم تھا۔ یہ آپ کی martyrdom (شہادت) کے مقام کو بھی بلند کرتا ہے۔
4. جنت کی نعمتوں کی عظمت و حقیقت: جنت کی نعمتیں (حوریں، باغات) محض ایک تصور نہیں بلکہ حقیقی اور انتہائی حسین ہیں۔ اس دنیا میں ان کی حسن و خوبصورتی کی کوئی مثال نہیں مل سکتی، اس لیے انہیں شاہین کے پروں جیسی پلکوں سے تشبیہ دی گئی ہے جو تیزی، پاکیزگی اور نفاست کی علامت ہے۔
5. اہل ایمان کے لیے تسلی و بشارت: یہ واقعہ ہر اس مومن کے لیے بڑی تسلی اور خوشخبری ہے جو اللہ کی راہ میں صبر کرے یا شہادت پائے۔ اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کے لیے آخرت میں ایسے انمول تحفے تیار کر رکھے ہیں جن کا دنیا میں تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔
6. صحابہ کرام سے محبت کی اہمیت: ایسی احادیث کا ایک مقصد اہل ایمان کے دلوں میں صحابہ کرام خصوصاً خلفاء راشدین کے لیے محبت و احترام کو مضبوط کرنا بھی ہے، کیونکہ وہ وہ لوگ ہیں جن کے لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جنت میں انعامات دیکھے۔
---
علمی وضاحت:
یہ روایت امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کی کتاب "فضائل الصحابہ" میں مذکور ہے۔ محدثین کے ہاں اس حدیث کی سند کے بارے میں مختلف آراء پائی جاتی ہیں۔ بعض اہل علم نے اسے حسن (قابل قبول) درجے کی روایت قرار دیا ہے جبکہ دوسروں نے اس کی سند میں کچھ ضعف (کمزوری) کی نشاندہی کی ہے۔ تاہم، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی فضیلت و شہادت سے متعلق بہت سی دیگر صحیح اور متفق علیہ احادیث موجود ہیں، لہٰذا اس روایت کا اصل مفہوم (حضرت عثمان کا جلیل القدر ہونا) قطعی اور متفق علیہ ہے، چاہے اس مخصوص واقعے وفضیلت کی سند میں بحث ہو۔











حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ أَبِي الصَّلْتِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " انْتَهَيْتُ إِلَى السَّمَاءِ السَّابِعَةِ فَنَظَرْتُ ، فَإِذَا أَنَا فَوْقِي بِرَعْدٍ وَصَوَاعِقَ ، ثُمَّ أَتَيْتُ عَلَى قَوْمٍ بُطُونُهُمْ كَالْبُيُوتِ ، فِيهَا الْحَيَّاتُ ، تُرَى مِنْ خَارِجِ بُطُونِهِمْ ، فَقُلْتُ : مَنْ هَؤُلَاءِ ؟ قَالَ : هَؤُلَاءِ أَكَلَةُ الرِّبَا ، فَلَمَّا نَزَلْتُ وَانْتَهَيْتُ إِلَى سَمَاءِ الدُّنْيَا ، فَإِذَا أَنَا بِرَهْجٍ وَدُخَانٍ وَأَصْوَاتٍ ، فَقُلْتُ : مَنْ هَؤُلَاءِ ؟ قَالَ : الشَّيَاطِينُ يَحْرِفُونَ عَلَى أَعْيُنِ بَنِي آدَمَ أَنْ لَا يَتَفَكَّرُوا فِي مَلَكُوتِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ، وَلَوْلَا ذَلِكَ لَرَأَتْ الْعَجَائِبَ " .

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم نے فرمایا: میں (آسمان کے سفر میں) ساتویں آسمان تک پہنچا تو میں نے نظر اٹھا کر دیکھا، تو اچانک اپنے اوپر گرج اور کڑک (کی آوازیں اور چمک) دیکھی۔ پھر میں ایک قوم کے پاس سے گزرا جن کے پیٹ گھروں کی طرح تھے، جن میں سانپ بھرے ہوئے تھے، جو ان کے پیٹوں کے باہر سے نظر آ رہے تھے۔ میں نے (اپنے ہمراہ فرشتے سے) پوچھا: یہ کون لوگ ہیں؟ انہوں نے کہا: یہ سود کھانے والے ہیں۔ پھر جب میں نیچے اترا اور دنیا کے آسمان پر پہنچا، تو میں نے دیکھا کہ وہاں دھند، دھواں اور (شیطانی) آوازیں ہیں۔ میں نے پوچھا: یہ کون ہیں؟ انہوں نے کہا: یہ شیطان ہیں جو انسانوں کی آنکھوں پر پردے ڈال دیتے ہیں تاکہ وہ آسمانوں اور زمین کی بادشاہت (اور اس میں موجود نشانیوں) میں غور و فکر نہ کریں۔ اگر وہ ایسا نہ کرتے تو انسان حیرت انگیز چیزیں (اور حقائق) دیکھ لیتے۔

حاصل شدہ اسباق و نکات:
  1. سود کی مذمت اور سنگین وعید: یہ حدیث سود (ربا) کے انتہائی سنگین گناہ پر واضح اور ڈراؤنی وعید بیان کرتی ہے۔ سود خوروں کے لیے آخرت میں جو عذاب ہے، اس کی ایک جھلک یہاں "پیٹ میں سانپوں" کی شکل میں بیان ہوئی ہے، جو دنیا میں ان کے ناجائز مال جمع کرنے اور اس کے ذریعے دوسروں کا خون چوسنے کی علامت ہے۔
  2. شیطان کا بنیادی ہدف: حدیث کا دوسرا حصہ شیاطین کی کارروائیوں کے ایک اہم پہلو کو نمایاں کرتا ہے۔ ان کا بنیادی ہدف انسان کو "غور و فکر" (تَفَكُّر) سے روکنا ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ انسان اس کائنات میں پھیلی ہوئی اللہ کی نشانیوں، اس کے حکیمانہ نظام اور اس کی عظمت کے مشاہدے اور تدبر سے محروم رہے۔
  3. کائناتی نشانیوں پر تدبر کی اہمیت: حدیث سے معلوم ہوا کہ اگر شیطان انسان کی سوچ پر پردہ نہ ڈالے تو وہ قدرت میں چھپی ہوئی حیرت انگیز حقائق، حکمتیں اور اللہ کی قوت و دانائی کے عجائبات دیکھ سکتا ہے۔ یہ قرآن کریم کے ان بے شمار آیات کی عملی تفسیر ہے جو آسمانوں اور زمین میں غور و فکر کرنے کا حکم دیتی ہیں۔
  4. شیطانی پردوں کی حقیقت: "دھند، دھواں اور آوازیں" شیطانی وساوس، فتنوں، گمراہ کن نظریات، فضول مشاغل اور دنیاوی لالچ کی علامت ہیں جو انسان کی عقل اور بصیرت پر پردہ ڈال دیتے ہیں اور اسے حقیقی علم اور معرفت الٰہی سے دور کر دیتے ہیں۔

عملی سبق:
  • سود سے مکمل پرہیز: ہر مسلمان کو چاہیے کہ سود کے تمام معاملات سے دور رہے، چاہے وہ لینا ہو یا دینا، کیونکہ یہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے اعلان جنگ کے مترادف ہے۔
  • تفکر کی عادت ڈالنا: انسان کو چاہیے کہ وہ اپنے گردو پیش کی کائنات، خود اپنی تخلیق، تاریخ کے واقعات، اور قرآن کی آیات میں غور و فکر کرنے کا معمول بنائے۔ یہ ایمان کو تازہ رکھنے اور شیطانی وساوس سے بچنے کا بہترین ذریعہ ہے۔
  • شیطانی پردوں سے بچاؤ: لاحاصل مشاغل، گندگیوں، منفی سوچوں اور ایسے کاموں سے بچنا چاہیے جو دل و دماغ پر دھند اور دھواں چھا دیتے ہیں اور انسان کو اللہ کی یاد سے غافل کر دیتے ہیں۔
تخريج الحديث

 م طرف الحديثالصحابياسم الكتابأفقالعزوالمصنفسنة الوفاة
1ليلة أسري بي على قوم بطونهم كالبيوت فيها الحيات ترى من خارج بطونهم فقلت من هؤلاء يا جبرائيل قال هؤلاء أكلة الرباعبد الرحمن بن صخرسنن ابن ماجه22652273ابن ماجة القزويني275
2ليلة أسري بي لما انتهينا إلى السماء السابعة فنظرت فوق قال عفان فوقي فإذا أنا برعد وبرق وصواعق قال فأتيت على قوم بطونهم كالبيوت فيها الحيات ترى من خارج بطونهم قلت من هؤلاء يا جبريل قال هؤلاء أكلة الربا فلما نزلت إلى السماء الدنيا نظرت أسفل مني فعبد الرحمن بن صخرمسند أحمد بن حنبل84398426أحمد بن حنبل241
3أتيت على قوم بطونهم كالبيوت فيها الحيات ترى من خارج بطونهم فقلت من هؤلاء قال هؤلاء أكلة الربا فلما نزلت وانتهيت إلى سماء الدنيا فإذا أنا برهج ودخان وأصوات فقلت من هؤلاء قال الشياطين يحرفعبد الرحمن بن صخرمسند أحمد بن حنبل85578539أحمد بن حنبل241
4ليلة أسري بي لما انتهيت إلى السماء السابعة فنظرت فوقي فإذا أنا برعد وبرق وصواعق ثم أتينا على قوم بطونهم كالبيوت فيها كالحيات ترى من خارج بطونهم فقلت من هؤلاء يا جبريل قال هؤلاء أكلة الربا فلما نزلت إلى السماء نظرت أسفل مني فإذا أنا بريح ودخان وأصواتعبد الرحمن بن صخرإتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة183241البوصيري840
5ليلة أسري بي لما انتهيت إلى السماء السابعة فنظرت فوقي فإذا أنا برعد وبرق وصواعق ثم أتينا على قوم بطونهم كالبيوت فيه الحيات ترى من خارج بطونهم فقلت من هؤلاء يا جبريل قال هؤلاء أكلة الربا فلما نزلت إلى السماء الدنيا نظرت أسفل مني فإذا أنا بريح ودخانعبد الرحمن بن صخربغية الباحث عن زوائد مسند الحارث241 : 26الهيثمي807
6ليلة أسري بي لما انتهينا إلى السماء السابعة فنظرت فوقي فإذا أنا برعد وبرق وصواعق قال وأتيت على قوم بطونهم كالبيوت فيها الحيات ترى من خارج بطونهم فقلت من هؤلاء يا جبريل قال هؤلاء أكلة الربا فلما نزلت إلى السماء الدنيا نظرت أسفل مني فإذا برهج ودخاعبد الرحمن بن صخرمصنف ابن أبي شيبة3587837571ابن ابي شيبة235
7ليلة أسري بي على قوم بطونهم كالبيوت فيها الحيات ترى من خارج بطونهم فقلت من هؤلاء يا جبريل قال هؤلاء أكلة الرباعبد الرحمن بن صخرتاريخ الإسلام الذهبي9---الذهبي748
8ليلة أسري بي لما انتهينا إلى السماء السابعة فنظرت فوق قال عفان فوقي فإذا برعد وبرق وصواعق قال فأتيت على قوم بطونهم كالبيوت فيها الحيات ترى من خارج بطونهم قلت من هؤلاء يا جبريل قال هؤلاء أكلة الربا فلما نزلت إلى السماء الدنيا فنظرت أسفل مني فإذا أنا برهج وعبد الرحمن بن صخرتهذيب الكمال للمزي3812---يوسف المزي742
9ليلة أسري بي قد انتهيت إلى السماء السابعة نظرت فوقي فإذا رعد وبرق وصواعق وأتيت على قوم بطونهم مثل البيوت فيها يرى من خارج بطونهم فقلت من هؤلاء يا جبريل قال هؤلاء أكلة الرباعبد الرحمن بن صخرالمطر والرعد والبرق لابن أبي الدنيا4850ابن أبي الدنيا281
10ليلة أسري بي سمعت في السماء السابعة فوق رأسي رعدا وصواعق وسمعت برقا ورأيت رجالا بطونهم بين أيديهم كالبيوت فيها حيات ترى من ظاهر بطونهم فقلت يا جبريل من هؤلاء قال أكلة الرباعبد الرحمن بن صخرتنبيه الغافلين بأحاديث سيد الأنبياء والمرسلين لسمرقندي238---نصر بن محمد بن إبراهيم373





امت کے برے خطباء(Speakers) کون؟
عَنْ أَنَسٍ - رضي الله عنه - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم -:
" (مررت ليلة أسري بِي عَلَى قَوْمٍ تُقْرَضُ شِفَاهُهُمْ بِمَقَارِيضَ (¬1) مِنْ نَارٍ , كلما قُرِضَتْ وَفَتْ , فَقُلْتُ: مَنْ هَؤُلَاءِ يا جبريل؟ , مَنْ هَؤُلَاءِ؟ , قَالَ: هَؤُلَاءِ خُطَبَاءُ أُمَّتِكَ الَّذِينَ يَقُولُونَ مَا لَا يَفْعَلُونَ، وَيَقْرَؤُنَ كِتَابَ اللَّه وَلَا يَعْمَلُونَ بِهِ) (¬2) وفي رواية (¬3): هَؤُلَاءِ خُطَبَاءُ أُمَّتِكَ , الَّذِينَ يَأْمُرُونَ النَّاسَ بِالْبِرِّ وَيَنْسَوْنَ أَنْفُسَهُمْ وَهُمْ يَتْلُونَ الْكِتَابَ أَفَلَا يَعْقِلُونَ؟ "

ترجمہ:
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"مجھے معراج کی رات ایک ایسی قوم کے پاس سے گزارا گیا جن کے ہونٹ آگ کی قینچیوں سے کاٹے جا رہے تھے۔ جب بھی کاٹے جاتے تو پھر ٹھیک ہو جاتے (اور دوبارہ کاٹے جاتے)۔ میں نے پوچھا: 'اے جبرائیل! یہ کون لوگ ہیں؟ یہ کون ہیں؟' انہوں نے جواب دیا: 'یہ تمہاری امت کے وہ خطباء ہیں جو وہ بات کہتے تھے جس پر خود عمل نہیں کرتے تھے، اور اللہ کی کتاب پڑھتے تھے مگر اس پر عمل نہیں کرتے تھے۔'"
[شعب الإيمان للبيهقي:1773 , انظر صَحِيح التَّرْغِيبِ وَالتَّرْهِيب: 125 , وصَحِيح الْجَامِع: 129]

ایک دوسری روایت میں ہے:
"یہ تمہاری امت کے خطباء ہیں جو لوگوں کو نیکی کا حکم دیتے تھے اور اپنے آپ کو بھول جاتے تھے، حالانکہ وہ کتاب (قرآن) پڑھتے تھے، تو کیا وہ سمجھتے نہیں؟"
[مسند احمد:12211-12856-13421-13515 ، مسند ابویعلیٰ:3992 , انظر الصَّحِيحَة: 291]

---
اسباق و فوائد (نکات):

1. قول و فعل میں تضاد کی سزا:


      یہ حدیث ان لوگوں کے لیے سخت وعید ہے جو لوگوں کو نیکی کا حکم دیتے ہیں مگر خود اس پر عمل نہیں کرتے۔ ایسے علماء و خطباء کے لیے آخرت میں دردناک عذاب ہے۔

2. علم عمل کے بغیر وبال ہے:


      محض قرآن پڑھنا یا دوسروں کو سمجھانا کافی نہیں، بلکہ اس پر خود عمل کرنا ضروری ہے۔ ورنہ یہ علم قیامت میں گواہی دے گا۔

3. خطباء و علماء کی ذمہ داری:


      جو لوگ منبر و محراب پر لوگوں کو نصیحت کرتے ہیں، ان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے قول کو اپنے عمل سے سچا ثابت کریں۔ ورنہ وہ اللہ کے ہاں سخت مؤاخذے کے مستحق ہوں گے۔

4. آخرت میں اعضاء کی گواہی:


      حدیث میں زبان و ہونٹوں کے عذاب کا ذکر اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ قیامت میں انسان کے اعضاء اس کے اعمال کی گواہی دیں گے۔ جو زبان نیکی کی بات کہتی تھی مگر عمل نہیں کرتی تھی، اسے اس کا عذاب ملے گا۔

5. معراج کی احادیث کا مقصد:


      معراج کے واقعے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جنت و دوزخ کے مناظر دکھائے گئے، جو امت کے لیے عبرت و نصیحت ہیں۔ یہ حدیث بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے جو عمل کی پابندی کی تلقین کرتی ہے۔

6. قرآن کی آیت سے مطابقت:


      حدیث کی دوسری روایت کا اختتام "أفلا يعقلون" (کیا وہ عقل نہیں رکھتے؟) پر ہوا ہے، جو درحقیقت قرآن مجید کی آیت "أتأمرون الناس بالبر وتنسون أنفسكم وأنتم تتلون الكتاب أفلا تعقلون" (سورہ البقرہ: ۴۴) کا حوالہ ہے۔ اس سے حدیث کی مستندیت مزید بڑھ جاتی ہے۔

---

خلاصہ:
یہ حدیث ہر اس شخص کے لیے لمحہ فکریہ ہے جو دوسروں کو تو دین کی دعوت دیتا ہے لیکن خود اس پر عمل پیرا نہیں ہوتا۔ خاص طور پر خطیبوں Speakers( کیلئے یہ حدیث ایک واضح انتباه ہے کہ ان کی ذمہ داری صرف گفتار تک محدود نہیں، بلکہ اپنے عمل سے بھی اسوہٴ حسنہ پیش کرنا ہے۔




حاصل شدہ اسباق و نکات:

  1. قول و عمل کا فرق سنگین گناہ ہے: یہ حدیث ان لوگوں کے لیے سخت وعید ہے جو دوسروں کو تو نیکی کی تلقین کرتے ہیں لیکن خود اس پر عمل نہیں کرتے۔ یہ رویہ منافقانہ ہے اور اللہ کی نظر میں سخت ناپسندیدہ ہے۔
  2. علماء و مبلغین کے لیے سخت تنبیہ: جو لوگ دین کی دعوت اور وعظ و نصیحت کا فریضہ سرانجام دیتے ہیں، ان کے لیے یہ حدیث سب سے بڑا انتباه ہے۔ انہیں سب سے پہلے اپنے عمل کی درستگی پر توجہ دینی چاہیے۔ علم عمل کے بغیر وبال بن سکتا ہے۔
  3. تلاوت قرآن کا مقصد: محض قرآن پڑھ لینا یا سنانا کافی نہیں۔ اس کی تعلیمات کو سمجھنا اور ان پر عمل کرنا مقصود ہے۔ جو شخص قرآن پڑھتا ہے مگر اس کے احکام پر عمل نہیں کرتا، وہ اس وعید کا مستحق ٹھہرتا ہے۔
  4. دنیا پرستی کی مذمت: حدیث میں لفظ "أَهْلِ الدُّنْيَا" (دنیا دار) استعمال ہوا ہے۔ اس سے مراد وہ لوگ ہیں جن کا مقصد وعظ و تدریس میں شہرت، مال یا دنیاوی مقام حاصل کرنا ہوتا ہے، نہ کہ آخرت کی بھلائی۔
  5. عقل مندی کا معیار: حدیث کے آخر میں اللہ کا یہ فرمان "أَفَلَا يَعْقِلُونَ؟" (کیا وہ عقل نہیں رکھتے؟) بہت پر معنی ہے۔ حقیقی عقل یہ ہے کہ انسان جو بات دوسروں کو سمجھائے، پہلے خود اس پر عمل کرے۔

عملی سبق:

  • ہر شخص کو چاہیے کہ وہ دوسروں کو نیکی کی دعوت دیتے وقت اپنے عمل کا محاسبہ کرے۔
  • علماء، اساتذہ اور مبلغین کو اپنی ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے تقویٰ اور للہیت کو اپنا شعار بنانا چاہیے۔
  • قرآن مجید کی تلاوت کے ساتھ ساتھ اس پر عمل کرنے کا عہد کرنا چاہیے۔
  • دعوت و تبلیغ کا مقصد صرف اور صرف اللہ کی رضا ہونا چاہیے، نہ کہ دنیاوی مفاد۔


تخريج الحديث

 م طرف الحديثالصحابياسم الكتابأفقالعزوالمصنفسنة الوفاة
1مررت ليلة أسري بي على قوم تقرض شفاههم بمقاريض من نار قلت من هؤلاء قالوا خطباء من أهل الدنيا كانوا يأمرون الناس بالبر وينسون أنفسهم وهم يتلون الكتاب أفلا يعقلونأنس بن مالكمسند أحمد بن حنبل1198611801أحمد بن حنبل241
2مررت ليلة أسري بي على قوم تقرض شفاههم بمقاريض من نار قلت ما هؤلاء قال هؤلاء خطباء أمتك من أهل الدنيا كانوا يأمرون الناس بالبر وينسون أنفسهم وهم يتلون الكتاب أفلا يعقلونأنس بن مالكمسند أحمد بن حنبل1261412445أحمد بن حنبل241
3لما أسري بي مررت برجال تقرض شفاههم بمقاريض من نار فقلت من هؤلاء يا جبريل قال هؤلاء خطباء من أمتك يأمرون الناس بالبر وينسون أنفسهم وهم يتلون الكتاب أفلا يعقلونأنس بن مالكمسند أحمد بن حنبل1316713008أحمد بن حنبل241
4رأيت ليلة أسري بي رجالا تقرض شفاههم بمقاريض من نار فقلت يا جبريل من هؤلاء قال هؤلاء خطباء من أمتك يأمرون الناس بالبر وينسون أنفسهم وهم يتلون الكتاب أفلا يعقلونأنس بن مالكمسند أحمد بن حنبل1325513103أحمد بن حنبل241
5رأيت ليلة أسري بي رجالا تقرض شفاههم بمقارض من نار فقلت من هؤلاء يا جبريل قال الخطباء من أمتك يأمرون الناس بالبر وينسون أنفسهم وهم يتلون الكتاب أفلا يعقلونأنس بن مالكصحيح ابن حبان5353أبو حاتم بن حبان354
6ليلة أسري بي رأيت قوما تقرض ألسنتهم بمقاريض من نار أو قال من حديد قلت من هؤلاء يا جبريل قال خطباء من أمتكأنس بن مالكالأحاديث المختارة1955---الضياء المقدسي643
7ليلة أسري بي رجالا تقطع ألسنتهم بمقاريض من نار فقلت يا جبريل من هؤلاء قال هؤلاء خطباء من أمتك يأمرون بما لا يفعلونأنس بن مالكالأحاديث المختارة1956---الضياء المقدسي643
8أتيت على سماء الدنيا ليلة أسري بي فرأيت فيها رجالا تقطع ألسنتهم وشفاههم بمقاريض من نار فقلت يا جبريل ما هؤلاء قال خطباء من أمتكأنس بن مالكالأحاديث المختارة2367---الضياء المقدسي643
9أتيت ليلة أسري بي على سماء الدنيا فإذا فيها رجال تقرض ألسنتهم وشفاههم بمقاريض من نار فقلت يا جبريل من هؤلاء قال هؤلاء خطباء أمتكأنس بن مالكالأحاديث المختارة2368---الضياء المقدسي643
10مررت ليلة أسري بي بقوم تقرض شفاههم فقلت من هؤلاء قال هؤلاء الخطباء من أمتك أحسبه قال الذين يقولون ما لا يفعلونأنس بن مالكالبحر الزخار بمسند البزار 10-1327157231أبو بكر البزار292
11أتيت ليلة أسري بي على رجال تقرض شفاههم بمقاريض من نار قلت من هؤلاء يا جبريل قال هؤلاء خطباء أمتك يأمرون الناس بالبر وينسون أنفسهم وهم يتلون الكتاب أفلا يعقلونأنس بن مالكمسند أبي يعلى الموصلي39343992أبو يعلى الموصلي307
12مررت ليلة أسري بي على قوم تقرض شفاههم بمقاريض من النار قلت من هؤلاء قال هؤلاء خطباء من أهل الدنيا ممن كانوا يأمرون الناس بالبر وينسون أنفسهم وهم يتلون الكتاب أفلا يعقلونأنس بن مالكمسند أبي يعلى الموصلي39383996أبو يعلى الموصلي307
13ليلة أسري بي رأيت قوما تقرض ألسنتهم بمقارض من نار أو قال من حديد قلت من هؤلاء يا جبريل قال خطباء من أمتكأنس بن مالكمسند أبي يعلى الموصلي40104069أبو يعلى الموصلي307
14أتيت على سماء الدنيا ليلة أسري بي فرأيت فيها رجالا تقطع ألسنتهم وشفاههم بمقاريض من نار فقلت يا جبريل ما هؤلاء قال هؤلاء خطباء من أمتكأنس بن مالكمسند أبي يعلى الموصلي41024160أبو يعلى الموصلي307
15رأيت ليلة أسري بي رجالا تقرض شفاههم بمقاريض من نار فقلت من هؤلاء يا جبريل قال هؤلاء خطباء أمتك الذين يأمرون الناس بالبر وينسون أنفسهم وهم يتلون الكتاب أفلا يعقلونأنس بن مالكبغية الباحث عن زوائد مسند الحارث251 : 26الهيثمي807
16رأيت ليلة أسري بي رجالا تقرض ألسنتهم وشفاههم بمقاريض من نار فقلت يا جبريل أحسبه قال من هؤلاء قال خطباء من أمتك الذين يأمرون الناس بالبر وينسون أنفسهم وهم يتلون الكتاب أفلا يعقلونأنس بن مالكبغية الباحث عن زوائد مسند الحارث766768الهيثمي807
17رأيت ليلة أسري بي رجالا تقرض شفاههم بمقاريض من نار فقلت من هؤلاء يا جبريل فقال خطباء أمتك الذين يأمرون الناس بالبر وينسون أنفسهم وهم يتلون الكتاب أفلا يعقلونأنس بن مالكمسند عبد الله بن المبارك2727عبد الله بن المبارك180
18رأيت ليلة أسري بي رجالا تقرض شفاههم بمقاريض من نار فقلت من هؤلاء يا جبريل فقال خطباء من أمتك الذين يأمرون الناس بالبر وينسون أنفسهم وهم يتلون الكتاب أفلا يعقلونأنس بن مالكمسند عبد الله بن المبارك134132عبد الله بن المبارك180
19رأيت ليلة أسري بي رجالا تقرض شفاههم بمقاريض من نار فقلت يا جبريل من هؤلاء فقال هؤلاء خطباء من أمتك يأمرون الناس بالبر وينسون أنفسهم وهم يتلون الكتاب أفلا يعقلونأنس بن مالكمسند عبد بن حميد12301222عبد بن حميد249
20رأيت ليلة أسري بي رجالا تقرض شفاههم بمقاريض من نارأنس بن مالكإتحاف المهرة1629---ابن حجر العسقلاني852
21أتيت ليلة أسري بي على رجال تقرض شفاههم بمقاريض من نار فقلت من هؤلاء يا جبريل قال هؤلاء خطباء أمتك الذين يأمرون الناس بالبر وينسون أنفسهم وهم يتلون الكتاب أفلا يعقلونأنس بن مالكالمقصد العلي في زوائد أبي يعلى الموصلي جزء16051808الهيثمي807
22ليلة أسري بي رأيت قوما تقرض ألسنتهم بمقاريض من نار أو قال من حديد قلت من هؤلاء قال خطباء أمتكأنس بن مالكالمقصد العلي في زوائد أبي يعلى الموصلي جزء16061810الهيثمي807
23مررت ليلة أسري بي على ناس تقرض شفاههم بمقاريض من نار فقلت ما هؤلاء قال هؤلاء الخطباء من أمتك الذين يأمرون الناس بالبر وينسون أنفسهمأنس بن مالككشف الأستار31083317نور الدين الهيثمي807
24مررت ليلة أسري بي بقوم تقرض شفاههم فقلت من هؤلاء قال هؤلاء الخطباء من أمتك أحسبه قال الذين يقولون ما لا يفعلونأنس بن مالككشف الأستار31093319نور الدين الهيثمي807
25مررت ليلة أسري بي على قوم تقرض شفاههم بمقاريض من نار فقلت من هؤلاء قيل هؤلاء خطباء من أهل الدنيا ممن كانوا يأمرون الناس بالبر وينسون أنفسهم وهم يتلون الكتاب أفلا يعقلونأنس بن مالكمصنف ابن أبي شيبة3588037573ابن ابي شيبة235
26رأيت ليلة أسري بي رجالا تقطع ألسنتهم بمقاريض من نار فقلت يا جبريل من هؤلاء قال هؤلاء خطباء من أمتك يأمرون الناس بما لا يفعلونأنس بن مالكالمعجم الأوسط للطبراني422411سليمان بن أحمد الطبراني360
27أتيت ليلة أسري بي على سماء الدنيا فإذا فيها رجال تقرض ألسنتهم وشفاههم بمقاريض من نار فقلت يا جبريل من هؤلاء فقال هؤلاء خطباء أمتكأنس بن مالكالمعجم الأوسط للطبراني29162832سليمان بن أحمد الطبراني360
28أتيت ليلة أسري بي على قوم تقرض شفاههم بمقاريض من نار كلما قرضت وفت قلت يا جبريل من هؤلاء قال خطباء من أمتك الذين يقولون ولا يفعلون ويقرءون كتاب الله ولا يعملونأنس بن مالكأجزاء أبي علي بن شاذان39---الحسن بن خلف بن شاذان246
29مررت ليلة أسري بي على قوم تقرض شفاههم بمقاريض من نار قلت من هؤلاء قال هؤلاء خطباء من أهل الدنيا كانوا يأمرون الناس بالبر وينسون أنفسهمأنس بن مالكحديث أبي الحسين بن المظفر25---محمد بن المظفر410
30أتيت ليلة أسري بي على قوم تقرض شفاههم بمقاريض من نار كلما قرضت وفت فقلت يا جبريل من هؤلاء قال خطباء أمتك الذين يقولون ولا يفعلون ويقرءون كتاب الله ولا يعملونأنس بن مالكالأول من حديث أبي علي بن شاذان109---الحسن بن أحمد بن إبراهيم بن شاذان426
31أتيت ليلة أسري بي على قوم تقرض شفاههم بمقاريض من نار كلما قرضت وفت فقلت يا جبريل من هؤلاء قال خطباء من أمتك الذين يقولون ولا يفعلون ويقرءون كتاب الله ولا يعملونأنس بن مالكجزء عبد الله بن عمر المقدسي48---عبد الله بن عمر بن أبي بكر المقدسي330
32رأيت ليلة أسري بي رجالا تقرض شفاههم بمقاريض من نار قلت يا جبريل من هؤلاء قال هؤلاء خطباء من أمتك يأمرون الناس بالبر وينسون أنفسهم وهم يتلون الكتاب أفلا يعقلونأنس بن مالكموضح أوهام الجمع والتفريق للخطيب10692 : 173الخطيب البغدادي463
33أتيت ليلة أسري بي على قوم تقرض شفاههم بمقاريض من نار كلما قرضت وفت فقلت يا جبريل من هؤلاء قال خطباء أمتك الذين يقولون ما لا يفعلون ويقرءون كتاب الله ولا يعملونأنس بن مالكشعب الإيمان للبيهقي16361773البيهقي458
34رأيت أقواما تقرض شفاههم بمقاريض قال من حديد قلت من هؤلاء يا جبريل قال هؤلاء خطباء من أمتكأنس بن مالكشعب الإيمان للبيهقي45984963البيهقي458
35أتيت على سماء الدنيا ليلة أسري بي فإذا فيها رجال تقطع ألسنتهم وشفاههم بمقارض من نار فقلت يا جبريل من هؤلاء قال خطباء أمتكأنس بن مالكشعب الإيمان للبيهقي45994964البيهقي458
36أتيت ليلة أسري بي على قوم تقرص شفاههم بمقاريض من نار فقلت من هؤلاء يا جبريل فقال هؤلاء خطباء أمتك الذين يقولون ما لا يفعلون ويقرءون كتاب الله ولا يعملون بهأنس بن مالكشعب الإيمان للبيهقي46004738البيهقي458
37مررت ليلة أسري بي على قوم تقرض شفاههم بمقاريض من نار فقلت من هؤلاء قال هؤلاء قوم خطباء من أهل الدنيا كانوا يأمرون الناس وينسون أنفسهمأنس بن مالكشعب الإيمان للبيهقي46014739البيهقي458
38رأيت ليلة أسري بي رجالا تقرض شفاههم بمقاريض من نار قلت من هؤلاء يا جبريل قال هؤلاء خطباء من أمتك يأمرون الناس بالبر وينسون أنفسهم وهم يتلون الكتاب أفلا يعقلونأنس بن مالكشرح السنة40814159الحسين بن مسعود البغوي516
39حيث أسري به مر بقوم تقص شفاههم بمقاريض من نار فكلما قصت عادت قلت يا جبريل من هؤلاء قال هؤلاء خطباء أمتك الذين يقولون ما لا يعملونأنس بن مالكتفسير القرآن لعبد الرزاق الصنعاني14991535عبد الرزاق الصنعاني211
40لما عرج بالنبي مر على قوم تقرض شفاههم فقال يا جبريل من هؤلاء قال هؤلاء الخطباء من أمتك الذين يأمرون الناس بالبر وينسون أنفسهم ويتلون الكتاب ولا يعقلونأنس بن مالكتفسير ابن أبي حاتم472472ابن أبي حاتم الرازي327
41رأيت ليلة أسري بي رجالا تقرض شفاههم بمقاريض من نار قلت من هؤلاء يا جبريل قال هؤلاء خطباء من أمتك يأمرون الناس بالبر وينسون أنفسهم وهم يتلون الكتابأنس بن مالكمعالم التنزيل تفسير البغوي182000الحسين بن مسعود البغوي516
42مررت ليلة أسري بي على أناس تقرض شفاههم بمقاريض من نار فقلت من هؤلاء يا جبريل فقال هؤلاء خطباء من أهل الدنيا ممن كانوا يأمرون الناس بالبر وينسون أنفسهمأنس بن مالكالوسيط في تفسير القرآن المجيد351 : 130الواحدي468
43مررت ليلة أسري بي على رجال تقرض شفاهم بمقاريض من نار فقلت من هؤلاء يا جبريل قال هؤلاء خطباء من أمتك يأمرون الناس بالبر وينسون أنفسهم وهم يتلون الكتاب أفلا يعقلونأنس بن مالكتفسير يحيى بن سلام33---يحيى بن سلام240
44أتيت ليلة أسري بي على قوم تقرض شفاههم بمقاريض من نار كلما قرضت رجعت قلت من هؤلاء قال هؤلاء خطباء أمتك الذين يقولون ما لا يفعلون وهم يتلون الكتاب أفلا يعقلونأنس بن مالكالمصاحف لابن أبي داود315358ابن أبي داود السجستاني316
45أتيت ليلة أسري بي إلى السماء فإذا أنا برجال تقرض ألسنتهم وشفاههم بمقاريض فقلت من هؤلاء يا جبريل قال هؤلاء الخطباء من أمتكأنس بن مالكحلية الأولياء لأبي نعيم29922994أبو نعيم الأصبهاني430
46أتيت ليلة أسري بي على قوم تقرض شفاههم بمقاريض من نار كلما قرضت وفت قلت من هؤلاء يا جبريل قال هؤلاء خطباء أمتك الذين يقولون ولا يفعلون ويقرءون كتاب الله ولا يعملون بهأنس بن مالكحلية الأولياء لأبي نعيم29932995أبو نعيم الأصبهاني430
47أتيت ليلة أسري بي إلى السماء فإذا أنا برجال تقرض شفاههم بمقاريض فقلت من هؤلاء يا جبريل قال هؤلاء الخطباء من أمتكأنس بن مالكحلية الأولياء لأبي نعيم86818688أبو نعيم الأصبهاني430
48رأيت ليلة أسري بي رجالا تقرض شفاههم بمقاريض من نار فقلت من هؤلاء يا جبريل قال هؤلاء خطباء أمتك يأمرون بالبر وينسون أنفسهم وهم يتلون الكتاب أفلا يعقلونأنس بن مالكحلية الأولياء لأبي نعيم1151411528أبو نعيم الأصبهاني430
49رأيت ليلة أسري بي رجالا تقطع ألسنتهم بمقاريض من نار فقلت من هؤلاء يا جبريل قال هؤلاء خطباء من أمتك يأمرون الناس بما لا يفعلونأنس بن مالكحلية الأولياء لأبي نعيم1210212115أبو نعيم الأصبهاني430
50رأيت ليلة أسري بي رجالا تقرض شفاههم بمقاريض من نار قلت يا جبريل من هؤلاء قال هؤلاء خطباء من أمتك يأمرون الناس بالبر وينسون أنفسهم وهم يتلون الكتاب أفلا يعقلونأنس بن مالكتاريخ بغداد للخطيب البغدادي20497 : 151الخطيب البغدادي463
51رأيت ليلة أسري بي ناسا تقرض شفاههم بمقاريض من نار فقلت من هؤلاء يا جبريل قال هؤلاء خطباء أمتك يأمرون الناس بالعدل وينسون أنفسهمأنس بن مالكتاريخ بغداد للخطيب البغدادي399513 : 500الخطيب البغدادي463
52رأيت ليلة أسري بي رجالا تقطع ألسنتهم بمقاريض من نار فقلت من هؤلاء يا جبريل قال هؤلاء خطباء من أمتك يأمرون الناس بما لا يفعلونأنس بن مالكتاريخ دمشق لابن عساكر2460825 : 22ابن عساكر الدمشقي571
53رأيت ليلة أسري بي رجالا يقرض شفاههم بمقاريض من نار فقلت من هؤلاء يا جبرئيل قال خطباء أمتك يأمرون الناس بالبر وينسون أنفسهم وهم يتلون الكتب أفلا يعقلونأنس بن مالكالتدوين في أخبار قزوين للرافعي649---عبد الكريم الرافعي623
54مررت بقوم تقرض شفاههمأنس بن مالكالتاريخ الأوسط454---محمد بن إسماعيل البخاري256
55رأيت ليلة أسري بي رجالا تقرض شفاهم بمقاريض من نار قلت من هؤلاء يا جبرئيل قال خطباء أمتك الذين يأمرون الناس بالبر وينسون أنفسهم وهم يتلون الكتاب أفلا يعقلونأنس بن مالكالزهد والرقائق لابن المبارك805819عبد الله بن المبارك180
56مررت ليلة أسري بي على قوم تقرض شفاههم بمقاريض من نار فقلت من هؤلاء قال هؤلاء قوم من الخطباء من أهل الدنيا ممن كانوا يأمرون الناس بالبر وينسون أنفسهم وهم يتلون الكتاب أفلا يعقلونأنس بن مالكالزهد لوكيع بن الجراح291297وكيع بن الجراح197
57مررت ليلة أسري بي على قوم تقرض شفاههم بمقاريض من نار قلت ما هؤلاء قال هؤلاء خطباء من أهل الدنيا الذين كانوا يأمرون الناس بالبر وينسون أنفسهم وهم يتلون الكتاب أفلا يعقلونأنس بن مالكالزهد لأحمد بن حنبل206243أحمد بن حنبل241
58رأيت ليلة أسري بي رجالا تقرض شفاههم بمقارض من نار فقلت من هؤلاء يا جبريل قال خطباء من أمتك الذين يأمرون الناس بالبر وينسون أنفسهم وهم يتلون الكتاب أفلا يعقلونأنس بن مالكالصمت وآداب اللسان510512ابن أبي الدنيا281
59مررت ليلة أسري بي على قوم تقرض شفاههم بمقارض من نار كلما قرضت عادت فقلت يا جبريل من هؤلاء قال خطباء من أمتك يقولون ما لا يفعلونأنس بن مالكالصمت وآداب اللسان574575ابن أبي الدنيا281
60أتيت ليلة أسري بي على قوم تقرض شفاههم بمقاريض من نار كلما قرضت وفت فقلت يا جبريل من هؤلاء قال خطباء من أمتك الذين يقولون ولا يفعلون ويقرءون كتاب الله ولا يعملونأنس بن مالكاقتضاء العلم العمل للخطيب1071 : 93الخطيب البغدادي463
61مررت ليلة أسري بي على قوم تقرض شفافههم بمقاريض من نار قلت من هؤلاء قال خطباء أهل الدنيا ممن كانوا يأمرون الناس بالبر وينسون أنفسهم وهم يتلون الكتاب أفلا يعقلونأنس بن مالكالتبصرة لابن الجوزي134---ابن الجوزي597




ترتیب وار واقعہ معراج:
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَسَّانَ ، ثنا أَبُو النَّضْرِ ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ الرَّازِيِّ ، عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ ، أَوْ غَيْرِهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِفَرَسٍ يَجْعَلُ كُلَّ خَطْوٍ مِنْهُ أَقْصَى بَصَرِهِ ، فَسَارَ وَسَارَ مَعَهُ جِبْرِيلُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَتَى عَلَى قَوْمٍ يَزْرَعُونَ فِي يَوْمٍ وَيَحْصُدُونَ فِي يَوْمٍ ، كُلَّمَا حَصَدُوا عَادَ كَمَا كَانَ ، فَقَالَ : يَا جِبْرِيلُ : مَنْ هَؤُلاءِ ؟ قَالَ : الْمُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ يُضَاعَفُ لَهُمُ الْحَسَنَةُ بِسَبْعِ مِائَةِ ضِعْفٍ ، وَمَا أَنْفَقُوا مِنْ شَيْءٍ فَهُوَ يَخْلُفُهُ ، ثُمَّ أَتَى عَلَى قَوْمٍ تُرْضَخُ رُءُوسُهُمْ بِالصَّخْرِ ، فَلَمَّا رُضِخَتْ عَادَتْ كَمَا كَانَتْ ، وَلا يَفْتُرُ عَنْهُمْ مَنْ ذَلِكَ شَيْءٌ ، قَالَ : يَا جِبْرِيلُ مَنْ هَؤُلاءِ ؟ قَالَ : هَؤُلاءِ تَثَاقَلَتْ رُءُوسُهُمْ عَنِ الصَّلاةِ ، ثُمَّ أَتَى عَلَى قَوْمٍ عَلَى أَدْبَارِهِمْ رِقَاعٌ ، وَعَلَى أَقْبَالِهِمْ رِقَاعٌ ، يَسْرَحُونَ كَمَا تَسْرَحُ الأَنْعَامُ إِلَى الضَّرِيعِ ، وَالزَّقُّومِ ، وَرِضْفِ جَهَنَّمَ ، قُلْتُ : مَا هَؤُلاءِ يَا جِبْرِيلُ ؟ قَالَ : هَؤُلاءِ الَّذِينَ لا يُؤَدُّونَ صَدَقَاتِ أَمْوَالِهِمْ ، وَمَا ظَلَمَهُمُ اللَّهُ ، وَمَا اللَّهُ بِظَلامٍ لِلْعَبِيدِ ، ثُمَّ أَتَى عَلَى قَوْمٍ بَيْنَ أَيْدِيهِمْ لَحْمٌ فِي قِدْرٍ نَضِيجٍ وَلَحْمٌ آخَرُ نِيءٌ خَبِيثٌ ، فَجَعَلُوا يَأْكُلُونَ الْخَبِيثَ وَيَدَعُونَ النَّضِيجَ الطَّيَّبَ ، قَالَ : يَا جِبْرِيلُ ! مَنْ هَؤُلاءِ ؟ قَالَ : هَذَا الرَّجُلُ مِنْ أُمَّتِكَ يَقُومُ مِنْ عِنْدِ امْرَأَتِهِ حَلالا ، فَيَأْتِي الْمَرْأَةَ الْخَبِيثَةَ ، فَيَبِيتُ مَعَهَا حَتَّى يُصْبِحَ ، وَالْمَرْأَةُ تَقُومُ مِنْ عِنْدِ زَوْجِهَا حَلالا طَيِّبًا ، فَتَأْتِي الرَّجُلَ الْخَبِيثَ ، فَتَبِيتُ عِنْدَهُ حَتَّى تُصْبِحَ ، ثُمَّ أَتَى عَلَى رَجُلٍ قَدْ جَمَعَ حِزْمَةً عَظِيمَةً لا يَسْتَطِيعُ حَمْلَهَا ، وَهُوَ يُرِيدُ أَنْ يَزِيدَ عَلَيْهَا ، فَقَالَ : يَا جِبْرِيلُ ! مَا هَذَا ؟ قَالَ : هَذَا رَجُلٌ مِنْ أُمَّتِكَ عَلَيْهِ أَمَانَةُ النَّاسِ لا يَسْتَطِيعُ أَدَاءَهَا ، وَهُوَ يَزِيدُ عَلَيْهَا ، ثُمَّ أَتَى عَلَى قَوْمٍ تُقْرَضُ شِفَاهُهُمْ وَأَلْسِنَتُهُمْ بِمَقَارِيضَ مِنْ حَدِيدٍ ، فَكُلَّمَا قُرِضَتْ عَادَتْ كَمَا كَانَتْ ، لا يَفْتُرُ عَنْهُمْ مِنْ ذَلِكَ شَيْءٌ ، قَالَ : يَا جِبْرِيلُ مَا هَؤُلاءِ ؟ قَالَ : خُطَبَاءُ الْفِتْنَةِ ، ثُمَّ أَتَى عَلَى حَجَرٍ صَغِيرٍ يَخْرُجُ مِنْهُ ثَوْرٌ عَظِيمٌ ، فَيُرِيدُ الثَّوْرُ أَنْ يَدْخُلَ مِنْ حَيْثُ خَرَجَ فَلا يَسْتَطِيعُ ، فَقَالَ : مَا هَذَا يَا جِبْرِيلُ ؟ قَالَ : هَذَا الرَّجُلُ يَتَكَلَّمُ بِالْكَلِمَةِ الْعَظِيمَةِ فَيَنْدَمُ عَلَيْهَا ، فَيُرِيدُ أَنْ يَرُدَّهَا فَلا يَسْتَطِيعُ ، ثُمَّ أَتَى عَلَى وَادٍ فَوَجَدَ رِيحًا طَيِّبَةً وَوَجَدَ رِيحَ مِسْكٍ مَعَ صَوْتٍ ، فَقَالَ : مَا هَذَا ؟ قَالَ : صَوْتُ الْجَنَّةِ تَقُولُ : يَا رَبِّ ائْتِنِي بِأَهْلِي وَبِمَا وَعَدْتَنِي ، فَقَدْ كَثُرَ غَرْسِي ، وَحَرِيرِي ، وَسُنْدُسِي ، وَإِسْتَبْرَقِي وَعَبْقَرِيِّي ، وَمَرْجَانِي ، وَفِضَّتِي وَذَهَبِي ، وَأَكْوَابِي ، وَصِحَافِي ، وَأَبَارِيقِي ، وَفَوَاكِهِي ، وَعَسَلِي ، وَثِيَابِي ، وَلَبَنِي ، وَخَمْرِي ، ائْتِنِي بِمَا وَعَدْتَنِي ، فَقَالَ : لَكِ كُلُّ مُسْلِمٍ وَمُسْلِمَةٍ ، وَمُؤْمِنٍ وَمُؤْمِنَةٍ ، وَمَنْ آمَنَ بِي وَبِرُسُلِي ، وَعَمِلَ صَالِحًا ، وَلَمْ يُشْرِكْ بِي شَيْئًا ، وَلَمْ يَتَّخِذْ مِنْ دُونِي أَنْدَادًا فَهُوَ آمِنٌ ، وَمَنْ سَأَلَنِي أَعْطَيْتُهُ ، وَمَنْ أَقْرَضَنِي جَزَيْتُهُ ، وَمَنْ تَوَكَّلَ عَلَيَّ كَفَيْتُهُ ، إِنِّي أَنَا اللَّهُ لا إِلَهَ إِلا أَنَا ، لا خُلْفَ لِمِيعَادِي ، قَدْ أَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ ، تَبَارَكَ اللَّهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ ، فَقَالَتْ : قَدْ رَضِيتُ ، ثُمَّ أَتَى عَلَى وَادٍ فَسَمِعَ صَوْتًا مُنْكَرًا ، فَقَالَ : يَا جِبْرِيلُ ! مَا هَذَا الصَّوْتُ ؟ قَالَ : هَذَا صَوْتُ جَهَنَّمَ ، يَقُولُ : يَا رَبِّ ائْتِنِي بِأَهْلِي وَبِمَا وَعَدْتَنِي ، فَقَدْ كَثُرَ سَلاسِلِي ، وَأَغْلالِي ، وَسَعِيرِي ، وَحَمِيمِي ، وَغَسَّاقِي وَغِسْلِينِي ، وَقَدْ بَعُدَ قَعْرِي ، وَاشْتَدَّ حَرِّي ، ائْتِنِي بِمَا وَعَدْتَنِي ، قَالَ : لَكِ كُلُّ مُشْرِكٍ وَمُشْرِكَةٍ ، وَخَبِيثٍ وَخَبِيثَةٍ ، وَكُلُّ جَبَّارٍ لا يُؤْمِنُ بِيَوْمِ الْحِسَابِ ، قَالَ : قَدْ رَضِيتُ ، ثُمَّ سَارَ حَتَّى أَتَى بَيْتَ الْمَقْدِسِ فَنَزَلَ ، فَرَبَطَ فَرَسَهُ إِلَى صَخْرَةٍ فَصَلَّى مَعَ الْمَلائِكَةِ ، فَلَمَّا قُضِيَتِ الصَّلاةُ ، قَالُوا : يَا جِبْرِيلُ ! مَنْ هَذَا مَعَكَ ؟ قَالَ : هَذَا مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ خَاتَمُ النَّبِيِّينَ ، قَالُوا : وَقَدْ أُرْسِلَ إِلَيْهِ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالُوا : حَيَّاهُ اللَّهُ مِنْ أَخٍ وَخَلِيفَةٍ ، فَنِعْمَ الأَخُ وَنِعْمَ الْخَلِيفَةُ ، ثُمَّ لَقُوا أَرْوَاحَ الأَنْبِيَاءِ فَأَثْنَوْا عَلَى رَبِّهِمْ تَعَالَى ، فَقَالَ إِبْرَاهِيمُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اللَّهُمَّ الَّذِي اتَّخَذَنِي خَلِيلا ، وَأَعْطَانِي مُلْكًا عَظِيمًا ، وَجَعَلَنِي أُمَّةً قَانِتًا ، وَاصْطَفَانِي بِرِسَالَتِهِ ، وَأَنْقَذَنِي مِنَ النَّارِ ، وَجَعَلَهَا عَلَيَّ بَرْدًا وَسَلامًا ، ثُمَّ إِنَّ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلامُ أَثْنَى عَلَى رَبِّهِ ، فَقَالَ : الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي كَلَّمَنِي تَكْلِيمًا ، وَاصْطَفَانِي ، وَأَنْزَلَ عَلَيَّ التَّوْرَاةَ، وَجَعَلَ هَلاكَ فِرْعَوْنَ عَلَى يَدَيَّ وَنَجَاةَ بَنِي إِسْرَائِيلَ عَلَى يَدَيَّ ، ثُمَّ إِنَّ دَاوُدَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَثْنَى عَلَى رَبِّهِ ، فَقَالَ : الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَعَلَ لِي مُلْكًا وَأَنْزَلَ عَلَيَّ الزَّبُورَ ، وَأَلانَ لِي الْحَدِيدَ ، وَسَخَّرَ لِي الْجِبَالَ ، يُسَبِّحْنَ مَعِي وَالطَّيْرُ ، وَأَتَانِي الْحِكْمَةَ وَفَصْلَ الْخِطَابِ ، ثُمَّ إِنَّ سُلَيْمَانَ أَثْنَى عَلَى رَبِّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى ، فَقَالَ : الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي سَخَّرَ لِي الرِّيَاحَ ، وَالْجِنَّ وَالإِنْسَ ، وَسَخَّرَ لِي الشَّيَاطِينَ يَعْمَلُونَ مَا شِئْتُ مِنْ مَحَارِيبَ ، وَتَمَاثِيلَ ، وَجِفَانٍ كَالْجَوَابِي ، وَقُدُورٍ رَاسِيَاتٍ ، وَعَلَّمَنِي مَنْطِقَ الطَّيْرِ ، وَأَسَالَ لِي عَيْنَ الْقِطْرِ ، وَأَعْطَانِي مُلْكًا لا يَنْبَغِي لأَحَدٍ مِنْ بَعْدِي ، ثُمَّ إِنَّ عِيسَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَثْنَى عَلَى رَبِّهِ ، فَقَالَ : الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي عَلَّمَنِي التَّوْرَاةَ وَالإِنْجِيلَ ، وَجَعَلَنِي أُبْرِئُ الأَكْمَهَ وَالأَبْرَصَ ، وَأُحْيِي الْمَوْتَى بِإِذْنِهِ ، وَرَفَعَنِي فَطَهَّرَنِي مِنَ الَّذِينَ كَفَرُوا ، وَأَعَاذَنِي وَأُمِّي مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ ، وَلَمْ يَجْعَلْ لِلشَّيْطَانِ عَلَيْنَا سَبِيلا ، وَإِنَّ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَثْنَى عَلَى رَبِّهِ ، فَقَالَ : كُلُّكُمْ أَثْنَى عَلَى رَبِّهِ وَأَنَا مُثْنٍ عَلَى رَبِّي ، الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَرْسَلَنِي رَحْمَةً لِلْعَالَمِينَ ، وَكَافَّةً لِلنَّاسِ بَشِيرًا وَنَذِيرًا ، وَأَنْزَلَ عَلَيَّ الْفُرْقَانَ ، فِيهِ تِبْيَانُ كُلِّ شَيْءٍ ، وَجَعَلَ أُمَّتِي خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ ، وَجَعَلَ أُمَّتِي وَسَطًا ، وَجَعَلَ أُمَّتِي هُمُ الأَوَّلُونَ وَهُمُ الآخِرُونَ ، وَشَرَحَ لِي صَدْرِي ، وَوَضَعَ عَنِّي وِزْرِي ، وَرَفَعَ لِي ذِكْرِي ، وَجَعَلَنِي فَاتِحًا وَخَاتَمًا ، فَقَالَ إِبْرَاهِيمُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : بِهَذَا فَضَلَكُمْ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ أُتِيَ بِآنِيَةٍ ثَلاثَةٍ مُغَطَّاةٍ ، فَدُفِعَ إِلَيْهِ إِنَاءٌ ، فَقِيلَ لَهُ : اشْرَبْ ، فِيهِ مَاءٌ ، ثُمَّ دُفِعَ إِلَيْهِ إِنَاءٌ آخَرُ فِيهِ لَبَنٌ ، فَشَرِبَ مِنْهُ حَتَّى رَوِيَ ، ثُمَّ دُفِعَ إِلَيْهِ إِنَاءٌ آخَرُ فِيهِ خَمْرٌ ، فَقَالَ : قَدْ رَوِيتُ لا أَذُوقُهُ ، فَقِيلَ لَهُ : أَصَبْتَ أَمَا إِنَّهَا سَتُحَرَّمُ عَلَى أُمَّتِكَ ، وَلَوْ شَرِبْتَهَا لَمْ يَتَّبِعْكَ مِنْ أُمَّتِكَ إِلا قَلِيلٌ ، ثُمَّ صُعِدَ بِهِ إِلَى السَّمَاءِ فَاسْتَفْتَحَ جِبْرِيلُ ، فَقِيلَ : مَنْ هَذَا ؟ قَالَ : جِبْرِيلُ ، قِيلَ : وَمَنْ مَعَكَ ؟ قَالَ : مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالُوا : وَقَدْ أُرْسِلَ إِلَيْهِ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالُوا : حَيَّاهُ اللَّهُ مِنْ أَخٍ وَخَلِيفَةٍ ، فَنِعْمَ الأَخُ وَنِعْمَ الْخَلِيفَةُ ، نِعْمَ الْمَجِيءُ جَاءَ ، فَدَخَلَ فِيهِ فَإِذَا هُوَ بِشَيْخٍ جَالِسٍ تَامّ الْخَلْقِ ، لَمْ يَنْقُصْ مِنْ خَلْقِهِ شَيْءٌ كَمَا يَنْقُصُ مِنْ خَلْقِ الْبَشَرِ ، عَنْ يَمِينِهِ بَابٌ يَخْرُجُ مِنْهُ رِيحٌ طَيِّبَةٌ ، وَعَنْ شِمَالِهِ بَابٌ يَخْرُجُ مِنْهُ رِيحٌ خَبِيثَةٌ ، إِذَا نَظَرَ إِلَى الْبَابِ الَّذِي عَنْ يَمِينِهِ ضَحِكَ ، وَإِذَا نَظَرَ إِلَى الْبَابِ الَّذِي عَنْ يَسَارِهِ بَكَى وَحَزِنَ ، فَقَالَ : يَا جِبْرِيلُ ! مَنْ هَذَا الشَّيْخُ وَمَا هَذَانِ الْبَابَانِ ؟ فَقَالَ : هَذَا أَبُوكَ آدَمُ ، وَهَذَا الْبَابُ الَّذِي عَنْ يَمِينِهِ بَابُ الْجَنَّةِ ، وَإِذَا رَأَى مَنْ يَدْخُلُهُ مِنْ ذُرِّيَّتِهِ ضَحِكَ وَاسْتَبْشَرَ ، وَإِذَا نَظَرَ إِلَى الْبَابِ الَّذِي عَنْ شِمَالِهِ بَابِ جَهَنَّمَ ، فَإِذَا رَأَى مَنْ يَدْخُلُهُ مِنْ ذُرِّيَّتِهِ بَكَى وَحَزِنَ ، ثُمَّ صَعِدَ إِلَى السَّمَاءِ الثَّانِيَةِ فَاسْتَفْتَحَ ، فَقِيلَ : مَنْ هَذَا ؟ فَقَالَ : جِبْرِيلُ ، قَالُوا : وَمَنْ مَعَكَ ؟ قَالَ : مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالُوا : وَقَدْ أُرْسِلَ إِلَيْهِ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالُوا : حَيَّاهُ اللَّهُ مِنْ أَخٍ وَخَلِيفَةٍ ، فَنِعْمَ الأَخُ وَنِعْمَ الْخَلِيفَةُ ، وَنِعْمَ الْمَجِيءُ جَاءَ ، فَدَخَلَ فَإِذَا هُوَ بِشَابَّيْنِ ، فَقَالَ : يَا جِبْرِيلُ ! مَنْ هَذَانَ الشَّابَّانِ ؟ فَقَالَ : هَذَا عِيسَى وَيَحْيَى ابْنَا الْخَالَةِ ، ثُمَّ صَعِدَ إِلَى السَّمَاءِ الثَّالِثَةِ فَاسْتَفْتَحَ جِبْرِيلُ ، فَقَالُوا : مَنْ هَذَا مَعَكَ ؟ قَالَ : مُحَمَّدٌ ، قَالُوا : وَقَدْ أُرْسِلَ إِلَيْهِ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالُوا : حَيَّاهُ اللَّهُ مِنْ أَخٍ وَخَلِيفَةٍ ، فَنِعْمَ الأَخُ وَنِعْمَ الْخَلِيفَةُ وَنِعْمَ الْمَجِيءُ جَاءَ ، فَدَخَلَ فَإِذَا هُوَ بِرَجُلٍ قَدْ فُضِّلَ عَلَى النَّاسِ فِي الْحُسْنِ كَمَا فُضِّلَ الْقَمَرُ لَيْلَةَ الْبَدْرِ عَلَى سَائِرِ الْكَوَاكِبِ ، فَقَالَ : مَنْ هَذَا يَا جِبْرِيلُ ؟ قَالَ : أَخُوكَ يُوسُفُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ صَعِدَ السَّمَاءَ الرَّابِعَةَ ، فَاسْتَفْتَحَ جِبْرِيلُ ، فَقَالُوا : مَنْ هَذَا مَعَكَ ؟ قَالَ : مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالُوا : وَقَدْ أُرْسِلَ إِلَيْهِ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالُوا : حَيَّاهُ اللَّهُ مِنْ أَخٍ وَخَلِيفَةٍ ، وَنِعْمَ الْمَجِيءُ جَاءَ ، فَدَخَلَ فَإِذَا هُوَ بِرَجُلٍ ، فَقَالَ : يَا جِبْرِيلُ : مَنْ هَذَا الرَّجُلُ الْجَالِسُ ؟ قَالَ : هَذَا أَخُوكَ إِدْرِيسُ رَفَعَهُ اللَّهُ مَكَانًا عَلِيًّا ، ثُمَّ صُعِدَ بِهِ إِلَى السَّمَاءِ الْخَامِسَةِ ، فَاسْتَفْتَحَ جِبْرِيلُ ، فَقَالُوا لَهُ : مَنْ هَذَا مَعَكَ ؟ قَالَ : مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالُوا : وَقَدْ أُرْسِلَ إِلَيْهِ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالُوا : حَيَّاهُ اللَّهُ مِنْ أَخٍ وَخَلِيفَةٍ ، فَنِعْمَ الأَخُ وَنِعْمَ الْخَلِيفَةُ ، وَنِعْمَ الْمَجِيءُ جَاءَ ، فَدَخَلَ فَإِذَا هُوَ بِرَجُلٍ جَالِسٍ يَقُصُّ عَلَيْهِمْ ، فَقَالَ : يَا جِبْرِيلُ ! مَنْ هَذَا وَمَنْ هَؤُلاءِ الَّذِينَ حَوْلَهُ ؟ قَالَ : هَذَا هَارُونُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُخَلَّفُ فِي قَوْمِهِ ، وَهَؤُلاءِ قَوْمُهُ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ ، ثُمَّ صُعِدَ بِهِ إِلَى السَّمَاءِ السَّادِسَةِ ، فَاسْتَفْتَحَ جِبْرِيلُ ، فَقَالُوا : مَنْ هَذَا مَعَكَ ؟ قَالَ : مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالُوا : وَقَدْ أُرْسِلَ إِلَيْهِ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالُوا : حَيَّاهُ اللَّهُ مِنْ أَخٍ وَخَلِيفَةٍ ، فَلَنِعْمَ الأَخُ وَنِعْمَ الْخَلِيفَةُ وَنِعْمَ الْمَجِيءُ جَاءَ ، فَإِذَا هُوَ بِرَجُلٍ جَالِسٍ ، فَجَاوَزَهُ فَبَكَى الرَّجُلُ ، فَقَالَ : يَا جِبْرِيلُ ! مَنْ هَذَا ؟ قَالَ : هَذَا مُوسَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : مَا يُبْكِيهِ ؟ قَالَ : يَزْعُمُ بَنُو إِسْرَائِيلَ أَنِّي أَفْضَلُ الْخَلْقِ ، وَهَذَا قَدْ خَلَّفَنِي ، فَلَوْ أَنَّهُ وَحْدَهُ وَلَكِنْ مَعَهُ كُلُّ أُمَّتِهِ ، ثُمَّ صُعِدَ بِنَا إِلَى السَّمَاءِ السَّابِعَةِ ، فَاسْتَفْتَحَ جِبْرِيلُ ، فَقَالُوا : مَنْ مَعَكَ ؟ قَالَ : مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالُوا : وَقَدْ أُرْسِلَ إِلَيْهِ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالُوا : حَيَّاهُ اللَّهُ مِنْ أَخٍ وَخَلِيفَةٍ ، فَنِعْمَ الأَخُ وَنِعْمَ الْخَلِيفَةُ وَنِعْمَ الْمَجِيءُ جَاءَ ، فَإِذَا هُوَ بِرَجُلٍ أَشْمَطَ جَالِسٍ عَلَى كُرْسِيٍّ عِنْدَ بَابِ الْجَنَّةِ ، وَعِنْدَهُ قَوْمٌ جُلُوسٌ فِي أَلْوَانِهِمْ شَيْءٌ وَقَالَ عِيسَى يَعْنِي أَبَا جَعْفَرٍ الرَّازِيَّ : وَسَمِعْتُهُ مَرَّةً يَقُولُ : سُودُ الْوُجُوهِ فَقَامَ هَؤُلاءِ الَّذِينَ فِي أَلْوَانِهِمْ شَيْءٌ فَدَخَلُوا نَهَرًا يُقَالُ لَهُ : نِعْمَةُ اللَّهِ ، فَاغْتَسَلُوا فَخَرَجُوا وَقَدْ خَلَصَ مِنْ أَلْوَانِهِمْ شَيْءٌ ، فَدَخَلُوا نَهَرًا آخَرَ يُقَالُ لَهُ رَحْمَةُ اللَّهِ ، فَاغْتَسَلُوا فَخَرَجُوا وَقَدْ خَلَصَ مِنْ أَلْوَانِهِمْ شَيْءٌ ، فَدَخَلُوا نَهَرًا آخَرَ ، فَذَلِكَ قَوْلُهُ : وَسَقَاهُمْ رَبُّهُمْ شَرَابًا طَهُورًا سورة الإنسان آية 21 ، فَخَرَجُوا وَقَدْ خَلَصَ أَلْوَانُهُمْ مِثْلَ أَلْوَانِ أَصْحَابِهِمْ ، فَجَلَسُوا إِلَى أَصْحَابِهِمْ ، فَقَالَ : يَا جِبْرِيلُ ! مَنْ هَذَا الأَشْمَطُ الْجَالِسُ ؟ وَمَنْ هَؤُلاءِ الْبِيضُ الْوُجُوهِ ؟ وَمَنْ هَؤُلاءِ الَّذِينَ فِي أَلْوَانِهِمْ شَيْءٌ ؟ فَدَخَلُوا هَذِهِ الأَنْهَارَ فَاغْتَسَلُوا فِيهَا ثُمَّ خَرَجُوا وَقَدْ خَلَصَتْ أَلْوَانُهُمْ ، قَالَ : هَذَا أَبُوكَ إِبْرَاهِيمُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوَّلُ مَنْ شَمِطَ عَلَى الأَرْضِ ، وَهَؤُلاءِ الْقَوْمُ الْبِيضُ الْوُجُوهُ قَوْمٌ لَمْ يَلْبِسُوا إِيمَانَهُمْ بِظُلْمٍ ، وَهَؤُلاءِ الَّذِينَ فِي أَلْوَانِهِمْ شَيْءٌ قَدْ خَلَطُوا عَمَلا صَالِحًا وَآخَرَ سَيِّئًا تَابُوا فَتَابَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ ، ثُمَّ مَضَى إِلَى السِّدْرَةِ ، فَقِيلَ لَهُ : هَذِهِ السِّدْرَةُ الْمُنْتَهَى ، يَنْتَهِي كُلُّ أَحَدٍ مِنْ أُمَّتِكَ خَلا عَلَى سَبِيلِكَ ، وَهِيَ السِّدْرَةُ الْمُنْتَهَى يَخْرُجُ مِنْ أَصْلِهَا أَنْهَارٌ مِنْ مَاءٍ غَيْرِ آسِنٍ ، وَأَنْهَارٌ مِنْ لَبَنٍ لَمْ يَتَغَيَّرْ طَعْمُهُ ، وَأَنْهَارٌ مِنْ خَمْرٍ لَذَّةٍ لِلشَّارِبِينَ ، وَأَنْهَارٌ مِنْ عَسَلٍ مُصَفًّى ، وَهِيَ شَجَرَةٌ يَسِيرُ الرَّاكِبُ فِي ظِلِّهَا سَبْعِينَ عَامًا ، وَإِنَّ وَرَقَةً مِنْهَا مُظِلَّةٌ الْخَلْقَ ، فَغَشِيَهَا نُورٌ وَغَشِيَتْهَا الْمَلائِكَةُ ، قَالَ عِيسَى : فَذَلِكَ قَوْلُهُ : ﴿إِذْ يَغْشَى السِّدْرَةَ مَا يَغْشَى﴾ (سورة النجم آية 16)، فَقَالَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى لَهُ : سَلْ ، فَقَالَ : إِنَّكَ اتَّخَذْتَ إِبْرَاهِيمَ خَلِيلا ، وَأَعْطَيْتَهُ مُلْكًا عَظِيمًا وَكَلَّمْتَ مُوسَى تَكْلِيمًا ، وَأَعْطَيْتَ دَاوُدَ مُلْكًا عَظِيمًا ، وَأَلَنْتَ لَهُ الْحَدِيدَ ، وَسَخَّرْتَ لَهُ الْجِبَالَ ، وَأَعْطَيْتَ سُلَيْمَانَ مُلْكًا عَظِيمًا ، وَسَخَرْتَ لَهُ الْجِنَّ وَالإِنْسَ وَالشَّيَاطِينَ وَالرِّيَاحَ ، وَأَعْطَيْتَهُ مُلْكًا لا يَنْبَغِي لأَحَدٍ مِنْ بَعْدِهِ ، وَعَلَّمْتَ عِيسَى التَّوْرَاةَ وَالإِنْجِيلَ ، وَجَعَلْتَهُ يُبْرِئُ الأَكْمَهَ وَالأَبْرَصَ ، وَأَعَذْتَهُ وَأُمَّهُ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ ، فَلَمْ يَكُنْ لَهُ عَلَيْهِمَا سَبِيلٌ ، فَقَالَ لَهُ رَبُّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى : قَدِ اتَّخَذْتُكَ خَلِيلا وَهُوَ مَكْتُوبٌ فِي التَّوْرَاةِ : مُحَمَّدٌ حَبِيبُ الرَّحْمَنِ ، وَأَرْسَلْتُكَ إِلَى النَّاسِ كَافَّةً ، وَجَعَلْتُ أُمَّتَكَ هُمُ الأَوَّلُونَ وَهُمُ الآخِرُونَ ، وَجَعَلْتُ أُمَّتَكَ لا تَجُوزُ لَهُمْ خُطْبَةٌ حَتَّى يَشْهَدُوا أَنَّكَ عَبْدِي وَرَسُولِي ، وَجَعَلْتُكَ أَوَّلَ النَّبِيِّينَ خَلْقًا وَآخِرَهُمْ بَعْثًا ، وَأَعْطَيْتُكَ سَبْعًا مِنَ الْمَثَانِي ، وَلَمْ أُعْطِهَا نَبِيًّا قَبْلَكَ ، وَأَعْطَيْتُكَ خَوَاتِيمَ سُورَةِ الْبَقَرَةِ مِنْ كَنْزٍ تَحْتَ الْعَرْشِ لَمْ أُعْطِهَا نَبِيًّا قَبْلَكَ وَجَعَلْتُكَ فَاتِحًا وَخَاتَمًا ، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : فَضَّلَنِي رَبِّي تَبَارَكَ وَتَعَالَى بِسِتٍّ : قَذَفَ فِي قُلُوبِ عَدُّوِي الرُّعْبَ فِي مَسِيرَةِ شَهْرٍ ، وَأُحِلَّتْ لِيَ الْغَنَائِمُ ، وَلَمْ يَحِلَّ لأَحَدٍ قَبْلِي ، وَجُعِلَتْ لِيَ الأَرْضُ مَسْجِدًا وَطَهُورًا ، وَأُعْطِيتُ فَوَاتِحَ الْكَلامِ وَجَوَامِعَهُ ، وَعُرِضَتْ عَلَيَّ أُمَّتِي فَلَمْ يَخْفَ عَلَيَّ التَّابِعُ وَالْمَتْبُوعُ مِنْهُمْ ، وَرَأَيْتُهُمْ أَتَوْا عَلَى قَوْمٍ يَنْتَعِلُونَ الشَّعْرَ ، وَرَأَيْتُهُمْ أَتَوْا عَلَى قَوْمٍ عِرَاضِ الْوُجُوهِ ، صِغَارِ الأَعْيُنِ ، فَعَرَّفْتُهُمْ مَا هُمْ ، وَأُمِرْتُ بِخَمْسِينَ صَلاةً ، فَرَجَعَ إِلَى مُوسَى ، فَقَالَ لَهُ مُوسَى : كَمْ أُمِرْتَ مِنَ الصَّلاةِ ؟ قَالَ : بِخَمْسِينَ صَلاةً ، قَالَ : ارْجِعْ إِلَى رَبِّكَ فَسَلْهُ التَّخْفِيفَ لأُمَّتِكَ ، فَإِنَّ أُمَّتَكَ أَضْعَفُ الأُمَمِ ، فَقَدْ لَقِيتُ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ شِدَّةً ، فَرَجَعَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَسَأَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ التَّخْفِيفَ ، فَوَضَعَ عَنْهُ عَشْرًا ، فَرَجَعَ إِلَى مُوسَى ، فَقَالَ : بِكَمْ أُمِرْتَ ، قَالَ : بِأَرْبَعِينَ صَلاةً ، قَالَ : ارْجِعْ إِلَى رَبِّكَ فَسَلْهُ التَّخْفِيفَ لأُمَّتِكَ ، فَإِنَّ أُمَّتِكَ أَضْعَفُ الأُمَمِ ، وَقَدْ لَقِيتُ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ شِدَّةً ، فَرَجَعَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ التَّخْفِيفَ ، فَوَضَعَ عَنْهُ عَشْرًا ، فَرَجَعَ إِلَى مُوسَى ، فَقَالَ لَهُ : بِكَمْ أُمِرْتَ ؟ فَقَالَ : بِثَلاثِينَ ، قَالَ : ارْجِعْ إِلَى رَبِّكَ فَسَلْهُ التَّخْفِيفَ لأُمَّتِكَ ، فَإِنَّ أُمَّتَكَ أَضْعَفُ الأُمَمِ ، وَقَدْ لَقِيتُ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ شِدَّةً ، فَرَجَعَ مُحَمَّدٌ فَسَأَلَ رَبَّهُ التَّخْفِيفَ ، فَوَضَعَ عَنْهُ عَشْرًا ، فَرَجَعَ إِلَى مُوسَى ، فَقَالَ لَهُ : بِكَمْ أُمِرْتَ ؟ فَقَالَ : بِعِشْرِينَ صَلاةً ، قَالَ : ارْجِعْ إِلَى رَبِّكَ فَسَلْهُ التَّخْفِيفَ عَنْ أُمَّتِكَ ، فَإِنَّ أُمَّتَكَ أَضْعَفُ الأُمَمِ ، فَقَدْ لَقِيتُ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ شِدَّةً ، فَرَجَعَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَ رَبَّهُ التَّخْفِيفَ ، فَوَضَعَ عَنْهُ عَشْرًا ، فَرَجَعَ إِلَى مُوسَى ، فَقَالَ لَهُ : بِكَمْ أُمِرْتَ ؟ فَقَالَ : بِعَشْرٍ ، قَالَ : ارْجِعْ إِلَى رَبِّكَ فَسَلْهُ التَّخْفِيفَ لأُمَّتِكَ ، فَإِنَّ أُمَّتَكَ أَضْعَفُ الأُمَمِ ، وَقَدْ لَقِيتُ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ شِدَّةً ، فَرَجَعَ مُحَمَّدٌ فَسَأَلَ رَبَّهُ التَّخْفِيفَ فَوَضَعَ عَنْهُ خَمْسًا ، فَرَجَعَ إِلَى مُوسَى ، فَقَالَ : بِكَمْ أُمِرْتَ ؟ فَقَالَ : بِخَمْسٍ ، قَالَ : ارْجِعْ إِلَى رَبِّكَ فَسَلْهُ التَّخْفِيفَ فَإِنَّ أُمَّتَكَ أَضْعَفُ الأُمَمِ ، وَقَدْ لَقِيتُ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ شِدَّةً ، قَالَ : قَدْ رَجَعْتُ إِلَى رَبِّي حَتَّى اسْتَحْيَيْتُ مِنْهُ ، وَمَا أَنَا بِرَاجِعٍ إِلَيْهِ ، فَقِيلَ لَهُ : كَمَا صَبَرَتْ نَفْسَكَ عَلَى الْخَمْسِ فَإِنَّهُ يُجْزَى عَنْكَ بِخَمْسِينَ ، يُجْزَى عَنْكَ كُلُّ حَسَنَةٍ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا ، قَالَ عِيسَى : بَلَغَنِي أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : كَانَ مُوسَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَشَدَّهُمْ عَلَيَّ أَوَّلا وَخَيْرَهُمْ آخِرًا . قَالَ الْبَزَّارُ : وَهَذَا لا نَعْلَمُهُ يُرْوَى إِلا بِهَذَا الإِسْنَادِ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ . ..

ترجمہ: 
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک ایسا گھوڑا لایا گیا جس کے ایک قدم کا فاصلہ آپ کی نظر کی انتہا تک ہوتا تھا۔ آپ سفر پر روانہ ہوئے اور جبرائیل علیہ السلام بھی آپ کے ساتھ تھے۔

پہلا منظر: آپ ایک قوم کے پاس سے گزرے جو ایک دن میں بوتی تھی اور ایک دن میں کاٹتی تھی۔ جب بھی وہ فصل کاٹتے، وہ پہلے کی طرح ہو جاتی۔ آپ نے پوچھا: "اے جبرائیل! یہ کون ہیں؟" جبرائیل نے کہا: "یہ اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے ہیں۔ ان کے لیے نیکی سات سو گنا بڑھا دی جاتی ہے اور جو کچھ وہ خرچ کرتے ہیں، اللہ اس کا بدلہ دیتا ہے۔"

دوسرا منظر: پھر آپ ایک قوم کے پاس سے گزرے جن کے سروں کو پتھروں سے کچلا جا رہا تھا۔ جب کچلے جاتے تو وہ پہلے کی طرح ہو جاتے اور یہ عذاب مسلسل جاری رہتا۔ آپ نے پوچھا: "یہ کون ہیں؟" جبرائیل نے کہا: "یہ وہ لوگ ہیں جن کے سر نماز کی وجہ سے بوجھل رہتے تھے (نماز میں سستی کرتے تھے)۔"

تیسرا منظر: پھر آپ ایک قوم کے پاس سے گزرے جن کی پشتوں اور پیٹوں پر پھٹے ہوئے کپڑے تھے۔ وہ جانوروں کی طرح "ضریع" (جہنم کا کانٹے دار درخت) اور "زقوم" (جہنم کا درخت) اور جہنم کے گرم پتھروں کی طرف بھاگ رہے تھے۔ آپ نے پوچھا: "یہ کون ہیں؟" جبرائیل نے کہا: "یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے مالوں کی زکوٰۃ ادا نہیں کرتے تھے۔ اللہ نے ان پر ظلم نہیں کیا، اور اللہ بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں۔"

چوتھا منظر: پھر آپ ایک قوم کے پاس سے گزرے جن کے سامنے ایک ہانڈی میں پکا ہوا اچھا گوشت تھا اور ایک دوسرا خبیث اور گندا گوشت تھا۔ وہ گندہ گوشت کھا رہے تھے اور اچھا پکا ہوا گوشت چھوڑ رہے تھے۔ آپ نے پوچھا: "یہ کون ہیں؟" جبرائیل نے کہا: "یہ آپ کی امت کے وہ مرد و عورت ہیں جو اپنی حلال بیوی/شوہر کے پاس سے اٹھتے ہیں، پھر کسی خبیث مرد/عورت کے پاس جاتے ہیں اور صبح تک اس کے پاس رہتے ہیں۔"

پانچواں منظر: پھر آپ ایک شخص کے پاس سے گزرے جس نے لکڑیوں کا ایک بہت بڑا گٹھر جمع کر رکھا تھا جسے وہ اٹھا نہیں سکتا تھا، اور وہ اس پر اور اضافہ کرنا چاہتا تھا۔ آپ نے پوچھا: "یہ کیا ہے؟" جبرائیل نے کہا: "یہ آپ کی امت کا وہ شخص ہے جس پر لوگوں کی امانتیں ہیں جنہیں وہ ادا نہیں کر سکتا، اور وہ ان میں مزید اضافہ کر رہا ہے۔"

چھٹا منظر: پھر آپ ایک قوم کے پاس سے گزرے جن کے ہونٹ اور زبانیں لوہے کی قینچیوں سے کاٹے جا رہے تھے۔ جب کاٹی جاتیں تو پھر اسی طرح ہو جاتیں، یہ عذاب مسلسل جاری رہتا۔ آپ نے پوچھا: "یہ کون ہیں؟" جبرائیل نے کہا: "یہ فتنہ انگیز خطباء ہیں۔"

ساتواں منظر: پھر آپ ایک چھوٹے سے پتھر کے پاس سے گزرے جس سے ایک بڑا سا بیل نکل رہا تھا۔ وہ بیل جہاں سے نکلا تھا، وہاں واپس جانا چاہتا تھا لیکن نہیں جا سکتا تھا۔ آپ نے پوچھا: "یہ کیا ہے؟" جبرائیل نے کہا: "یہ وہ شخص ہے جو کوئی بڑی بات (گناہ یا جھوٹ) کہہ دیتا ہے، پھر اس پر پچھتاتا ہے اور اسے واپس لینا چاہتا ہے لیکن نہیں لے سکتا۔"

آٹھواں منظر: پھر آپ ایک وادی میں پہنچے جہاں خوشبودار ہوا اور خوشبو دار مشک کی مہک کے ساتھ ایک آواز آ رہی تھی۔ آپ نے پوچھا: "یہ کیا ہے؟" جبرائیل نے کہا: "یہ جنت کی آواز ہے جو کہہ رہی ہے: اے میرے رب! میرے پاس میرے اہل (جنت والے) لے آ اور جو تو نے مجھ سے وعدہ کیا ہے (پورا کر)۔ میری کھیتی، میرے ریشم، میرے کمخواب، میرے اطلس، میرے عبقری (نفیس کپڑے)، میرے مرجان، میرے چاندی و سونے کے برتن، میرے جام، میرے طشتریوں، میرے صراحیوں، میرے پھلوں، میرے شہد، میرے کپڑوں، میرے دودھ اور میرے شراب (کا ذخیرہ) بہت ہو گیا ہے۔ میرے پاس لے آ جو تو نے مجھ سے وعدہ کیا ہے۔"
اللہ تعالیٰ نے فرمایا: "تیرے لیے ہر مسلم، مسلمہ، مومن، مومنہ ہے اور ہر وہ شخص جو مجھ پر اور میرے رسولوں پر ایمان لایا، نیک عمل کیا، میرے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرایا اور میرے سوا کسی کو دوست نہ بنایا۔ وہ محفوظ ہے۔ جو مجھ سے مانگے گا، میں اسے دوں گا۔ جو مجھے قرض دے گا، میں اسے چکا دوں گا۔ جو مجھ پر بھروسہ کرے گا، میں اسے کافی ہوں گا۔ میں ہی اللہ ہوں، میرے سوا کوئی معبود نہیں۔ میرے وعدے کے خلاف نہیں ہوتا۔ یقیناً اہل ایمان فلاح پا گئے۔ بابرکت ہے اللہ جو سب سے بہتر خالق ہے۔"
جنت نے کہا: "میں راضی ہو گئی۔"

نواں منظر: پھر آپ ایک وادی میں پہنچے اور ایک بری آواز سنی۔ آپ نے پوچھا: "یہ کیا آواز ہے؟" جبرائیل نے کہا: "یہ جہنم کی آواز ہے جو کہہ رہی ہے: اے میرے رب! میرے پاس میرے اہل (جہنم والے) لے آ اور جو تو نے مجھ سے وعدہ کیا ہے۔ میرے زنجیروں، میرے طوقوں، میرے شعلوں، میرے کھولتے پانی، میرے پیپ اور میرے گندے مواد (کا ذخیرہ) بہت ہو گیا ہے۔ میری تہہ بہت دور ہے، میری گرمی بہت شدید ہے۔ میرے پاس لے آ جو تو نے مجھ سے وعدہ کیا ہے۔"
اللہ تعالیٰ نے فرمایا: "تیرے لیے ہر مشرک مرد و عورت، ہر خبیث مرد و عورت اور ہر وہ متکبر ہے جو روز حساب پر ایمان نہیں رکھتا۔"
جہنم نے کہا: "میں راضی ہو گئی۔"

دسواں منظر - بیت المقدس میں: پھر آپ سفر کرتے ہوئے بیت المقدس پہنچے۔ آپ نے اپنا گھوڑا ایک چٹان سے باندھا اور فرشتوں کے ساتھ نماز پڑھی۔ نماز کے بعد فرشتوں نے پوچھا: "اے جبرائیل! یہ آپ کے ساتھ کون ہے؟" جبرائیل نے کہا: "یہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں جو رسولوں میں سب سے آخری ہیں۔" انہوں نے کہا: "کیا ان کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہے؟" جبرائیل نے کہا: "ہاں۔" انہوں نے کہا: "اللہ انہیں بھائی اور جانشین کے طور پر زندہ رکھے۔ کیا ہی اچھا بھائی اور کیا ہی اچھا جانشین ہے۔"

گیارھواں منظر - انبیاء کی ملاقات اور ان کی حمد و ثنا: پھر آپ نے انبیاء کی روحوں سے ملاقات کی اور انہوں نے اپنے رب کی حمد و ثنا کی:

حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا: "اللہ کے لیے وہ خوبیاں ہیں جس نے مجھے اپنا دوست بنایا، مجھے عظیم سلطنت عطا کی، مجھے فرمانبردار قوم بنایا، مجھے اپنی رسالت کے لیے چن لیا، مجھے آگ سے بچایا اور اسے میرے لیے ٹھنڈی اور سلامتی والی بنا دیا۔"

حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا: "تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے مجھ سے کلام کیا، مجھے چن لیا، میرے اوپر تورات نازل کی، فرعون کی ہلاکت اور بنی اسرائیل کی نجات میرے ہاتھوں کرائی۔"

حضرت داؤد علیہ السلام نے فرمایا: "تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے مجھے سلطنت عطا کی، میرے اوپر زبور نازل کی، میرے لیے لوہے کو نرم کر دیا، میرے لیے پہاڑوں کو مسخر کر دیا جو میرے ساتھ تسبیح کرتے تھے اور پرندوں کو (بھی)، اور مجھے حکمت اور فیصلہ کن بات عطا کی۔"

حضرت سلیمان علیہ السلام نے فرمایا: "تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے میرے لیے ہواؤں، جنوں اور انسانوں کو مسخر کر دیا، میرے لیے شیطانوں کو مسخر کر دیا جو میرے حکم سے محرابوں، مورتیوں، حوضوں کی طرح کے برتنوں اور جمے ہوئے دیگوں کو بناتے تھے، مجھے پرندوں کی بولی سکھائی، میرے لیے تانبے کا چشمہ جاری کیا اور مجھے ایسی سلطنت عطا کی جو میرے بعد کسی کے لیے مناسب نہیں۔"

حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا: "تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے مجھے تورات اور انجیل سکھائی، مجھے اندھے اور کوڑھی کو اچھا کرنے اور اپنے حکم سے مردوں کو زندہ کرنے کی طاقت دی، مجھے اٹھا لیا اور مجھے کافروں سے پاک کر دیا، اور مجھے اور میری ماں کو شیطان مردود سے پناہ دی اور شیطان کا ہم پر کوئی تسلط نہیں رہنے دیا۔"

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "تم سب نے اپنے رب کی حمد کی ہے اور میں بھی اپنے رب کی حمد کرتا ہوں۔ تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے مجھے سارے جہان کے لیے رحمت بنا کر بھیجا، سب لوگوں کے لیے خوشخبری سنانے والا اور ڈر سنانے والا بنا کر بھیجا، میرے اوپر فرقان نازل کیا جس میں ہر چیز کا بیان ہے، میری امت کو بہترین امت بنایا، میری امت کو میانہ رو بنایا، میری امت کو اولین اور آخرین بنایا، میرے سینے کو کشادہ کیا، میرا بوجھ مجھ سے اتار دیا، میرا ذکر بلند کیا اور مجھے شروع کرنے والا اور ختم کرنے والا بنایا۔"
حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا: "اے محمد! اسی کے ساتھ اللہ نے آپ کو ہم پر فضیلت دی ہے۔"

بارھواں منظر - تین برتنوں کا: پھر آپ کے پاس تین ڈھکے ہوئے برتن لائے گئے۔ آپ کو پہلا برتن دیا گیا جس میں پانی تھا، کہا گیا: "پیو۔" پھر دوسرا برتن دیا گیا جس میں دودھ تھا، آپ نے اس میں سے پی کر سیراب ہو گئے۔ پھر تیسرا برتن دیا گیا جس میں شراب تھی۔ آپ نے فرمایا: "میں سیراب ہو چکا ہوں، میں اسے نہیں چکھوں گا۔" آپ سے کہا گیا: "آپ نے صحیح کیا۔ یقیناً یہ آپ کی امت پر حرام کی جائے گی۔ اگر آپ اسے پی لیتے تو آپ کی امت میں سے تھوڑے ہی لوگ آپ کی پیروی کرتے۔"

تیرھواں منظر - آسمانوں کی سیر: پھر آپ کو آسمان کی طرف لے جایا گیا۔ جبرائیل علیہ السلام نے دروازہ کھلوانے کی درخواست کی۔ پوچھا گیا: "کون ہے؟" جبرائیل نے کہا: "جبرائیل۔" پوچھا گیا: "آپ کے ساتھ کون ہے؟" جبرائیل نے کہا: "محمد صلی اللہ علیہ وسلم۔" انہوں نے کہا: "کیا انہیں رسول بنا کر بھیجا گیا ہے؟" جبرائیل نے کہا: "ہاں۔" انہوں نے کہا: "اللہ انہیں بھائی اور جانشین کے طور پر زندہ رکھے۔ کیا ہی اچھا بھائی اور کیا ہی اچھا جانشین ہے۔ کیا ہی اچھا آنے والا آیا۔"

1. پہلا آسمان: آپ اندر گئے تو ایک بڑے بزرگ بیٹھے ہوئے تھے جو پوری خلقت والے تھے، ان کی تخلیق میں کوئی کمی نہیں تھی جیسے انسانوں میں ہوتی ہے۔ ان کے دائیں طرف ایک دروازہ تھا جس سے خوشبودار ہوا آ رہی تھی اور بائیں طرف ایک دروازہ تھا جس سے بدبو دار ہوا آ رہی تھی۔ جب وہ دائیں طرف کے دروازے کی طرف دیکھتے تو ہنستے اور جب بائیں طرف کے دروازے کی طرف دیکھتے تو روتے اور غمگین ہوتے۔ آپ نے پوچھا: "یہ بزرگ کون ہیں اور یہ دو دروازے کیا ہیں؟" جبرائیل نے کہا: "یہ آپ کے والد آدم علیہ السلام ہیں۔ یہ دائیں طرف کا دروازہ جنت کا ہے، جب وہ اپنی اولاد میں سے کسی کو اس میں داخل ہوتے دیکھتے ہیں تو ہنستے اور خوش ہوتے ہیں۔ اور یہ بائیں طرف کا دروازہ جہنم کا ہے، جب وہ اپنی اولاد میں سے کسی کو اس میں داخل ہوتے دیکھتے ہیں تو روتے اور غمگین ہوتے ہیں۔"

2. دوسرا آسمان: آپ دوسرے آسمان پر گئے۔ دروازہ کھلوا کر اندر گئے تو دو نوجوان نظر آئے۔ آپ نے پوچھا: "یہ دو نوجوان کون ہیں؟" جبرائیل نے کہا: "یہ عیسیٰ اور یحییٰ علیہما السلام ہیں جو ماموں زاد بھائی ہیں۔"

3. تیسرا آسمان: آپ تیسرے آسمان پر گئے۔ اندر جا کر ایک ایسے شخص کو دیکھا جو حسن میں لوگوں پر ایسے فضیلت رکھتے تھے جیسے چودھویں رات کا چاند تمام ستاروں پر فضیلت رکھتا ہے۔ آپ نے پوچھا: "یہ کون ہیں؟" جبرائیل نے کہا: "یہ آپ کے بھائی یوسف علیہ السلام ہیں۔"

4. چوتھا آسمان: آپ چوتھے آسمان پر گئے۔ اندر جا کر ایک شخص کو دیکھا۔ آپ نے پوچھا: "یہ بیٹھے ہوئے شخص کون ہیں؟" جبرائیل نے کہا: "یہ آپ کے بھائی ادریس علیہ السلام ہیں جنہیں اللہ نے بلند مقام پر اٹھا لیا تھا۔"

5. پانچواں آسمان: آپ پانچویں آسمان پر گئے۔ اندر جا کر ایک شخص کو دیکھا جو لوگوں کو قصہ سناتے تھے۔ آپ نے پوچھا: "یہ کون ہیں اور یہ ان کے ارد گرد کون لوگ ہیں؟" جبرائیل نے کہا: "یہ ہارون علیہ السلام ہیں جو اپنی قوم میں پیچھے چھوڑے گئے تھے، اور یہ ان کی قوم کے بنی اسرائیل ہیں۔"

6. چھٹا آسمان: آپ چھٹے آسمان پر گئے۔ اندر جا کر ایک شخص کو دیکھا۔ آپ ان کے پاس سے گزرے تو وہ شخص رونے لگا۔ آپ نے پوچھا: "یہ کون ہیں؟" جبرائیل نے کہا: "یہ موسیٰ علیہ السلام ہیں۔" آپ نے پوچھا: "انہیں کیا رلا رہا ہے؟" جبرائیل نے کہا: "بنی اسرائیل یہ سمجھتے تھے کہ میں سب مخلوق سے افضل ہوں، اور یہ (محمد صلی اللہ علیہ وسلم) مجھ سے آگے نکل گئے۔ اگر یہ تنہا ہوتے (تو بات اور تھی) لیکن ان کے ساتھ ان کی پوری امت ہے۔"

7. ساتواں آسمان: آپ ساتویں آسمان پر گئے۔ اندر جا کر ایک سفید بالوں والے بزرگ کو دیکھا جو جنت کے دروازے کے پاس ایک کرسی پر بیٹھے تھے۔ ان کے پاس کچھ لوگ بیٹھے تھے جن کے چہروں کے رنگوں میں کچھ (سیاہی یا گہرائی) تھی۔ یہ لوگ اٹھے اور ایک ندی میں گئے جسے "نعمۃ اللہ" کہتے ہیں، اس میں نہا کر نکلے تو ان کے رنگوں سے وہ (سیاہی یا گہرائی) ختم ہو گئی۔ پھر وہ دوسری ندی میں گئے جسے "رحمۃ اللہ" کہتے ہیں، اس میں نہا کر نکلے تو ان کے رنگوں سے اور (نقص) ختم ہو گیا۔ پھر وہ تیسری ندی میں گئے - یہی وہ جگہ ہے جہاں اللہ کا فرمان ہے: "اور ان کے رب نے انہیں پاکیزہ مشروب پلایا" (الانسان: 21) - وہ نہا کر نکلے تو ان کے رنگ اپنے ساتھیوں جیسے ہو گئے۔ پھر وہ اپنے ساتھیوں کے پاس بیٹھ گئے۔

آپ نے پوچھا: "یہ سفید بالوں والے بزرگ کون ہیں؟ یہ چمکدار چہرے والے کون ہیں؟ اور یہ جن کے رنگوں میں کچھ تھا، یہ کون ہیں جو ان ندیاں میں نہا کر نکلے تو ان کے رنگ صاف ہو گئے؟" جبرائیل نے کہا: "یہ آپ کے والد ابراہیم علیہ السلام ہیں جو زمین پر سب سے پہلے سفید بالوں والے ہوئے۔ یہ چمکدار چہرے والے وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے ایمان میں ظلم کا شائبہ تک نہیں آنے دیا۔ اور یہ جن کے رنگوں میں کچھ تھا، وہ لوگ ہیں جنہوں نے نیک اور برے عمل ملا دیے تھے، پھر توبہ کی تو اللہ نے ان کی توبہ قبول کر لی۔"

چودھواں منظر - سدرۃ المنتہیٰ: پھر آپ سدرۃ المنتہیٰ پر پہنچے۔ آپ سے کہا گیا: "یہ سدرۃ المنتہیٰ ہے۔ آپ کی امت میں سے ہر وہ شخص یہاں آ کر رکتا ہے جو آپ کے طریقے پر ہوگا۔ یہ سدرۃ المنتہیٰ ہے جس کی جڑ سے بے بدبو پانی کی ندیاں، بے تبدیل ذائقے والے دودھ کی ندیاں، پینے والوں کے لیے لذیذ شراب کی ندیاں اور صاف شہد کی ندیاں نکلتی ہیں۔ یہ ایسا درخت ہے کہ اس کے سائے میں سوار ستر سال چلتا رہے۔ اس کا ایک پتا تمام مخلوق کو ڈھانپ سکتا ہے۔ اسے نور نے ڈھانپ لیا اور فرشتوں نے اسے گھیر لیا۔"
یہی وہ جگہ ہے جہاں اللہ کا فرمان ہے: "جب سدرۃ المنتہیٰ کو ڈھانپ لیا اس چیز نے جس نے ڈھانپ لیا" (النجم: 16)

پندرھواں منظر - اللہ سے گفتگو اور فضائل: اللہ تعالیٰ نے آپ سے فرمایا: "مانگو۔"
آپ نے عرض کیا: "بے شک آپ نے ابراہیم کو دوست بنایا، انہیں عظیم سلطنت عطا کی۔ آپ نے موسیٰ سے کلام کیا۔ آپ نے داؤد کو عظیم سلطنت عطا کی، ان کے لیے لوہے کو نرم کیا، ان کے لیے پہاڑوں کو مسخر کیا۔ آپ نے سلیمان کو عظیم سلطنت عطا کی، ان کے لیے جنوں، انسانوں، شیطانوں اور ہواؤں کو مسخر کیا، انہیں ایسی سلطنت عطا کی جو ان کے بعد کسی کے لیے مناسب نہ تھی۔ آپ نے عیسیٰ کو تورات و انجیل سکھائی، انہیں اندھے اور کوڑھی کو اچھا کرنے کی طاقت دی، انہیں اور ان کی ماں کو شیطان مردود سے پناہ دی تو شیطان کا ان پر کوئی راستہ نہ رہا۔"

اللہ تعالیٰ نے فرمایا: "میں نے تمہیں بھی دوست بنایا ہے اور یہ تورات میں لکھا ہوا ہے: 'محمد رحمن کے محبوب ہیں۔' میں نے تمہیں تمام لوگوں کی طرف رسول بنا کر بھیجا۔ میں نے تمہاری امت کو اولین اور آخرین بنایا۔ میں نے تمہاری امت کے لیے یہ قانون بنا دیا کہ ان کی کوئی تقریر قابل قبول نہ ہو گی یہاں تک کہ وہ اس بات کی گواہی دیں کہ تم میرے بندے اور میرے رسول ہو۔ میں نے تمہیں نبیوں میں سب سے پہلے تخلیق کیا اور سب سے آخر میں بھیجا۔ میں نے تمہیں 'سبع المثانی' (سورہ فاتحہ) عطا کی جو میں نے تم سے پہلے کسی نبی کو نہیں دی۔ میں نے تمہیں سورہ بقرہ کی آخری آیات عرش کے نیچے سے ایک خزانے سے عطا کیں جو میں نے تم سے پہلے کسی نبی کو نہیں دیں۔ میں نے تمہیں شروع کرنے والا اور ختم کرنے والا بنایا۔"

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "میرے رب نے مجھے چھ چیزوں سے فضیلت دی:
  1. میرے دشمن کے دل میں ایک مہینے کے فاصلے پر رعب ڈال دیا۔
  2. میرے لیے غنیمت حلال کی گئی جبکہ مجھ سے پہلے کسی کے لیے حلال نہ تھی۔
  3. میرے لیے ساری زمین مسجد اور پاک کرنے والی بنائی گئی۔
  4. مجھے بات کے فاتحہ (شروع کرنے کے کلمات) اور جامع کلمات عطا کیے گئے۔

میری امت میرے سامنے پیش کی گئی تو مجھ پر ان میں سے پیروی کرنے والا اور جس کی پیروی کی جا رہی ہے، مخفی نہ رہا۔ میں نے انہیں دیکھا کہ وہ ایسے لوگوں کے پاس سے گزرے جن کے بالوں سے جوتے بنے ہوئے تھے، اور میں نے انہیں ایسے لوگوں کے پاس سے گزرتے دیکھا جن کے چہرے چوڑے اور آنکھیں چھوٹی تھیں۔ میں نے انہیں پہچان لیا کہ وہ کون ہیں۔

مجھے پچاس نمازوں کا حکم دیا گیا۔"

سولھواں منظر - نمازوں کی تعداد میں تخفیف: آپ موسیٰ علیہ السلام کے پاس واپس آئے۔ موسیٰ علیہ السلام نے پوچھا: "آپ کو کتنی نمازوں کا حکم دیا گیا؟"
آپ نے فرمایا: "پچاس نمازوں کا۔"
موسیٰ علیہ السلام نے کہا: "اپنے رب کے پاس واپس جائیے اور اپنی امت کے لیے تخفیف مانگیے۔ بے شک آپ کی امت کمزور ترین امت ہے۔ میں نے بنی اسرائیل سے بہت سختیاں جھیلی ہیں۔"
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے پاس واپس گئے اور تخفیف کی درخواست کی۔ اللہ نے دس نمازیں کم کر دیں۔ آپ موسیٰ علیہ السلام کے پاس واپس آئے۔ انہوں نے پوچھا: "کتنی کا حکم ہوا؟"
آپ نے فرمایا: "چالیس کا۔"
موسیٰ علیہ السلام نے پھر واپس جانے کو کہا۔ یہ سلسلہ جاری رہا یہاں تک کہ پانچ نمازیں رہ گئیں۔ موسیٰ علیہ السلام نے پھر واپس جانے کو کہا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "میں اپنے رب کے پاس بار بار جا چکا ہوں یہاں تک کہ مجھے اس سے شرم آ رہی ہے۔ میں اب واپس نہیں جا سکتا۔"
آپ سے کہا گیا: "جس طرح تم نے پانچ نمازوں پر صبر کیا ہے، اسی طرح تمہیں پچاس نمازوں کا ثواب دیا جائے گا۔ تمہاری ہر نیکی کا دس گنا بدلہ دیا جائے گا۔"

آخر میں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "موسیٰ علیہ السلام شروع میں میرے لیے سب سے زیادہ سخت تھے اور آخر میں سب سے بہتر ثابت ہوئے۔"
امام بزار نے کہا: "ہم اس حدیث کو صرف اسی سند سے اسی طرح جانتے ہیں۔



حاصل شدہ اسباق و نکات:

1. معراج کی عظمت و حقیقت:
معراج رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک معجزہ اور فضیلت ہے جس میں آپ نے آسمانوں کی سیر کی، انبیاء سے ملاقات کی اور اللہ سے ہم کلام ہوئے۔

2. گناہوں کی سزائیں اور ان کی شدت:
  • سود خواروں کے لیے پیٹ میں سانپوں کا عذاب۔
  • نماز میں سستی کرنے والوں کے لیے سر کو پتھروں سے کچلنا۔
  • زکوٰۃ نہ دینے والوں کے لیے جہنم کی طرف بھاگنا اور خستہ حالی۔
  • زناکاروں کے لیے حلال کو چھوڑ کر حرام پر جانا۔
  • امانت میں خیانت کرنے والوں کے لیے بوجھ میں اضافہ۔
  • فتنہ انگیز خطباء کے لیے ہونٹ و زبان کاٹنا۔
  • بڑے گناہ کی بات کرنے والوں کے لیے پچھتاوا۔

3. نیک اعمال کی جزا:
مجاہدین کے لیے سات سو گنا تک نیکیوں میں اضافہ اور خرچ کا بدلہ۔

4. انبیاء کی فضیلتیں:
  • ہر نبی کی اپنی خاص فضیلت اور منصب کا بیان۔
  • رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جامع فضیلت اور خاتم النبیین ہونا۔

5. رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصیات:
  • آپ کو "حبیب الرحمٰن" کہا گیا۔
  • آپ کی امت کو "خیر امت"، "اولین و آخرین"، اور "وسط" بنایا گیا۔
  • آپ کو چھ خصوصی فضیلتوں سے نوازا گیا۔

6. نماز کی اہمیت:
  • پانچ نمازوں کی فرضیت کا واقعہ جو ابتدائی طور پر پچاس تھیں۔
  • امت محمدیہ کے لیے اللہ کی خاص رحمت اور تخفیف۔
  • پانچ نمازوں کا ثواب پچاس نمازوں جتنا۔

7. جنت و جہنم کی حقیقت:
  • جنت و جہنم دونوں اپنے اہل کے لیے بے تاب ہیں۔
  • جنت کے انعامات اور جہنم کے عذابات کی تفصیل۔

8. عملی اسباق:
  • گناہوں سے بچنا، خاص طور پر مذکورہ سنگین گناہوں سے۔
  • نیکیوں کی طرف رغبت، خاص طور پر جہاد اور صدقہ و خیرات۔
  • نماز کی پابندی اور اس میں سستی سے پرہیز۔
  • امانت میں دیانت داری۔
  • زبان کی حفاظت اور فتنہ انگیز باتوں سے بچنا۔
  • رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت اور اتباع۔
  • آخرت کی تیاری اور جنت کی طلب۔

یہ حدیث ایمان اور عمل کے لیے ایک جامع رہنما ہے جو بہت سے اسلامی تعلیمات کو ایک واقعے میں سموئے ہوئے ہے۔




امام بزار ، ابن جریر ، محمد بن نصر المروزی نے کتاب الصلاۃ میں ، ابن ابی حاتم ، ابن عدی ، ابن مردویہ اور بیہقی نے دلائل میں حضرت ابوہریرہ  ؓ نے اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت )’’ سُبحٰنَ الَّذى أَسرىٰ بِعَبدِهِ لَيلًا مِنَ المَسجِدِ الحَرامِ إِلَى المَسجِدِ الأَقصَا الَّذى بٰرَكنا حَولَهُ لِنُرِيَهُ مِن ءايٰتِنا ۚ إِنَّهُ هُوَ السَّميعُ البَصيرُ {17:1} ‘‘ کے بارے میں فرمایا کہ جبرائیلؑ نبی کریم ﷺ کے پاس آئے اور ان کے ساتھ میکائیلؑ تھے۔ جبرائیلؑ نے میکائیل سے کہا میرے پاس زمزم کے پانی کا ایک طشت لے آؤ ،تاکہ میں ان کے دل کو پاک کردوں اور آپ کے سینے کو کھول دوں ۔ پھر جبرئیلؑ نے آپ کے سینے کو چاک کیا ۔ اور اس کو تین مرتبہ دھویا ۔ میکائلؑ تین طشت زمزم کے بھر کر لے آئے ۔ جبرائیلؑ نے آپ کے سینے کو کھولا اور جو اس میں کدورت تھی اس کو نکال دیا اور اس میں حلم کو ، علم کو ، ایمان کو ، یقین کو اور سلام کو بھر دیا ، اور آپ کے کندہوں کے درمیان نبوت کی مہر لگا دی ، پھر آپ کے پاس ایک گھوڑا لےآئے اور اس پر آپ کو سوار کردیا وہ اتنا تیز رفتار تھا کہ اس کا ہر قدم حد نگاہ تک پڑتا تھا ۔ آپ ﷺ چلے اور آپ کے ساتھ جبرائیلؑ بھی چلے آپ ایک قوم پر آئے جو ایک ہی دن میں کھیتی بوتی تھی اور ایک ہی دن میں کاٹتی تھی ۔ جن کو بھی وہ کاٹتی تھی تو وہ اسی طرح ہوجاتی ہے جیسے تھی ۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اے جبرائیلؑ! یہ کون ہیں ۔ فرمایا یہ اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والے ہیں اللہ تعالیٰ ان کے لئے ایک نیکی سات سو گنا تک کر دیتے ہیں ۔ جوانہوں نے خرچ کیا ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو اس کا بدلہ دیا ۔ پھر ایک قوم پر آئے کہ جن کے سر پتھر کے ساتھ کچلے جارہے تھے، جب (سر کو ) کچلا جاتا تو وہ پھر ویسے ہی ہوجاتا انمیں سے کسی چیز کی کمی نہ ہوتی ۔ پوچھا اے جبرائیلؑ! یہ کون لوگ ہیں ؟ فرمایا یہ وہ لوگ ہیں کہ جن کے سر نماز سے بوجھل ہوتے تھے ۔ پھر ایک قوم پر آئے جن کے آگے اور پیچھے چیھتڑے تھے وہ اس چر رہے تھے ۔ جیسے اونٹ اور بکریاں چرتی ہیں ۔ وہ خار دار جھاڑیاں اور جہنم کے پتھر کھا رہے تھے۔ پوچھا اے جبرائیلؑ! یہ کون ہیں فرمایا یہ وہ لوگ تھے جو اپنے مالوں کی زکوۃ ادا نہیں کرتے تھے اور اللہ تعالیٰ نے ان پر ذرا بھی ظلم نہیں کیا ۔ پھر ایک قوم پر آئے کہ جن کے آگے پکا ہوا گوشت تھا ایک ہانڈی میں اور دوسرا کچا اور خراب گوشت تھا ۔ وہ کچا اور خراب گوشت کھا رہے تھے ۔ اور پکے ہوئے صاف گوشت نہیں کھارہے تھے ۔ میں نے پوچھا اے جبرائیلؑ! یہ کون لوگ ہیں ؟ فرمایا آپ کی امت میں سے یہ وہ افراد ہیں کہ جن کے پاس حلال عورتیں ہوتی تھیں مگر یہ بدکار عورتوں کے پاس رات گذراتے تھے ، یہاں تک کہ صبح ہوجاتی ۔ ان میں سے وہ عورتیں بھی ہیں جس کا اپنا پاک اور حلال شوہر ہوتا ہے ۔ مگر وہ ناپاک حرام مرد کے ساتھ صبح تک رات گذارتی تھی حتی کہ صبح ہوجاتی ہےپھر آپ راستہ میں ایک لکڑی کے پاس سے گزرے جو راستہ پر تھی جو کپڑا بھی اس کے پاس سے گذرتا تو وہ اس میں سوارخ کردیتی یا اس کو پھاڑ دیتی تھی ۔ پوچھا اے جبرائیلؑ!  یہ کیا ہے؟ فرمایا یہ آپ کی امت میں سے ان لوگوں کی مثال ہے جو راستے میں بیٹھ کر ڈاکہ ڈالتے ہیں پھر ایک ایسے آدمی پر آئے جس نے ایک لکڑیوں کا بڑا گٹھا جمع کیا ہوا تھا اور وہ اس کو اٹھانے کی طاقت نہیں رکھتا تھا مگر پھر بھی اس کو اور زیادہ بڑھا رہا تھا ۔ پوچھا اے ججبرائیلؑ! یہ کیا ہے ؟ فرمایا یہ آپ کی امت میں سے وہ آدمی ہے کہ جس کے پاس لوگوں کی اتنی امانتیں ہیں کہ ان کی ادائیگی کی طاقت نہیں رکھتا مگر پھر بھی اور زیادہ (امانتوں کا بوجھ لادنے کا ) ارادہ رکھتا ہے ۔ پھر ایک ایسی قوم پر آئے کہ ان کی زبانیں اور ان کےہونٹ آگ کی قینچیوں سے کاٹے جارہے ہیں ۔ جو آگ کی ہیں جب بھی کاٹی جاتی ہیں پھر وہ اسی طرح ہوجاتی ہیں جیسے تھیں ۔ جب ان کو کاٹ دیا جاتا تو پھر ٹھیک ہوجاتے ۔ انہیں کچھ کمی نہیں ہوتی ۔ پوچھا جبرائیلؑ! یہ کون ہیں؟ فرمایا: یہ فتنہ پھیلانے والے خطیب ہیں ، پھر آپ ایک چھوٹے پتھر پر آئے (دیکھا کہ ) اس میں سے بڑا بیل نکل رہا ہے ۔ اور وہ بیل اس جگہ میں (دوبارہ ) لوٹ کر جانا چاہتا ہے ۔ جہاں سے وہ نکلا تھا ۔ مگر وہ اس کی طاقت نہیں رکھتا تھا۔ پوچھا اے جبرائیلؑ! یہ کیا ہے ؟ فرمایا: یہ وہ شخص ہے جو بڑی بڑی باتیں کہتا ہے پھر اس پر نادم ہوتا ہے پس ارادہ کرتا ہے کہ اسے واپس لوٹادے پس نہیں کر پاتا. پھر ایک وادی پر آئے تو وہاں آپ نے ٹھنڈی اور پاکیزہ ٹھنڈی کستوری کی خوشبو کو پایا ۔ آپ نے ایک آواز سنی ۔ تو پوچھا: اے جبرائیلؑ! یہ کیا ہے ؟ فرمایا: یہ جنت کی آواز ہے ۔ وہ کہتی ہے اے میرے رب ! میرے پاس ان (لوگوں ) کو لے آئیے جن کا آپ مجھ سے وعدہ کیا ہے ۔ میرے کمرے ، میرا موٹا ریشم اور میری استبرق حریر سندس ، طبھر ، موتی ، مرجان ، چاندی اور سونا ، گلاس ، پیالے ، لوٹے ، سواریاں ، شہد ، پانی ، دودھ ، شراب سب زیادہ ہوچکےہیں، فرمایا یہ چیزیں مسلمان مرد مسلمان عورتوں ، مؤمن مرد اور مومن عورتوں کے لئے ہیں ، جنت نے کہا میں راضی ہوں ، پھر آپ ایک وادی میں پر آئیے ۔ اور اس کی آواز سنی ۔ اور بدبو کو پایا پوچھا اے جبرائیلؑ! یہ کیا ہے ؟ فرمایا یہ جنہم کی آواز ہے وہ کہتی ہے اے میرے رب! ان لوگوں کو لے آئیے جن کا آپ نے وعدہ فرمایا ۔ میری زنجیریں ، میری طوق ، میری بھڑکتی ہوئی آگ ، میرا ابلتا ہوا پانی ، میری خاردار جھاڑیاں ، میری پیپ اور میرا عذاب زیادہ ہوچکا ہے۔ میری گہرائی بہت دور چلی گئی ہے اور میری گرمی شدید ہوگئی ہے۔ میرے پاس ان لوگوں کو لےآئے جن کا آپ نے مجھ سے وعدہ فرمایا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا تیرےلئے ہرمشرک مرد، مشرک عورت ، کافر مرد ، کافر عورت ، اور ہر خبیث مرد اور خبیث عورت اور ہر سرکش جو حساب کے دن پر ایمان نہیں لاتا ۔ دوزخ نے کہا میں راضی ہوں ، پھر چلے یہاں تک کہ بیت المقدس کے پاس آئے ۔ ہم اترے تو ایک پتھر کے ساتھ اس گھوڑے کو باندھ دیا ہے ۔ پھر داخل ہوئے (بیت المقدس میں ) اور فرشتوں کے ساتھ نماز پڑھی جب نماز پوری ہوئی تو فرشتوں نے پوچھا اے جبرائیلؑ! یہ تیرے ساتھ کون ہے ؟ فرمایا یہ محمد ﷺ ہیں فرشتوں نے کہا کیا ان کو بلایا گیا ہے؟ فرمایا ہاں ! فرشتوں نے کہا اللہ تعالیٰ آپ پر سلام بھیجے بھائی اور خلیفہ کی طرف سے ۔ اچھا بھائی ہے اور اچھا خلیفہ ہے اور ان کا آنا مبارک اور اچھا ہے۔ پھر انبیاء علیہم السلام کی روحوں سے ملاقات ہوئی ۔ انہوں نے اپنے رب کی ثناء بیان کی ۔ ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا سب تعریفیں اس اللہ کے لئے ہیں جس نے مجھے خلیل بنایا ۔ اور مجھے عظیم بادشاہی عطا فرمائی ۔ اور مجھے اطاعت شعار اور قائد بنایا کہ میری اقتدا کی جاتی ہے ۔ اور مجھے آگ سے بچایا اور مجھ پر (آگ کو ) ٹھنڈا اور سلامتی والا بنا دیا ۔ پھر موسیٰ علیہ السلام نے اپنے رب کی ثنا ء کرتے ہوئے فرمایا سب تعریفیں اس اللہ کے لئے ہیں جس نے مجھ سے کلام فرمایا اور فرعون والوں کو ہلاک کیا اور میرے وسیلہ سے بنی اسرائیل کو نجات دی ۔ اور میری امت ایسے لوگ پیدا فرمائے ۔ ’’(ترجمہ ) یعنی اسے لوگوں کو بنایا جو حق کے ساتھ تعریفیں اللہ کے لئے ہیں جس نے مجھے عظیم بادشاہی عطا فرمائی اور مجھے زبور سکھائی ۔ اور میرے لوہے کو نرم کردیا اور میرے لئےپہاڑوں کو مسخر کردیا وہ تسبیح بیان کرتے تھے اور ساتھ پرندے بھی تسبیح بیان کرتے تھے ۔ اور مجھ کو حکمت اور فصل الخطاب عطا فرمایا ۔ پھر سلیمان علیہ السلام نے اپنے رب کی ثنا بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ سب تعریفیں اس اللہ کے لئے ہیں جس نے ہواؤں کو میرےتابع کر دیا اور شیاطین کو میرے تابع کردیا جو میری مرضی کےمطابق محرابوں تماثیل اور بڑے حوضوں کی طرح لگن اور جمی رہنے والی دیگیں تیار کرتے تھے۔ اور مجھ کو پرندوں کی بولی سکھائی اور مجھے ہر چیز میں سے بہت چیز عطا فرمائی اور شیطانوں کے لشکر ، انسانوں کے لشکر اور پرندوں کے لشکر میرے تابع کردئیے ۔ اور اپنے ایمان والے بندوں میں سے بہت بندوں پر فضیلت عطا فرمائی ۔ اور مجھے ایسی عظیم بادشاہی عطا فرمائی کہ میرے بعد کہ میرے بعد کسی کے لئے مناسب نہ رکھی گئی ۔ اور میری بادشاہی کو پاکیزہ بادشاہی بنایا ۔ جس میں کوئی حساب نہیں ۔ پھر عیسی علیہ السلام نے اپنے رب کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا کہ سب تعریفیں اس اللہ کے لئے ہیں کہ جس نے مجھے اپنا کلمہ بنایا ۔ اور میری مثل کو آدم علیہ السلام کی مثل بنایا کہ جن کو مٹی سے پیدا فرمایا تھا پھر فرمایا ہوجا تو وہ ہوگیا اور اللہ تعالیٰ نے مجھے کتاب ، حکمت تورات اور انجیل عطا فرمائی اور مجھے ایسا بنایا کہ میں مٹی سے پرندے کی شکل بناتا تھا پھر اس میں پھونک دیتا تھا تو وہ اللہ کے حکم سے (زندہ ) پرندہ بن جاتا تھا اور میں اللہ کے حکم سے مادر زاد اندھے کو بینا ، اور برص کی بیماری والے کو اچھا اور مردوں کو زندہ کردیتا ہوں ۔ اور اس نے مجھ کو اوپر اٹھایا اور مجھ کو پاک کیا اور مجھے اور میری والدہ کو شیطان مردود سے پناہ دی شیطان کو ہم پر گرفت کی طاقت نہیں پھر محمد ﷺ نے اپنے رب کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا ہر ایک نے تم میں سے اپنے رب کی تعریف کی ، اور میں بھی اپنے رب کی تعریف کرنے والا ہوں ۔ پھر فرمایا سب تعریفیں اللہ کے لئے ہیں جس نے مجھے سارے جہان والوں کے لئے رحمت بنا کر بھیجا ۔ اور سارے لوگوں کے لئے خوشخبری دینے والے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ۔ اور مجھ پر فرقان (یعنی قرآن مجید ) کو نازل فرمایا جس میں ہر چیز کا بیان ہے اور میری امت کو خیر امت بنایا جو لوگوں کے لئے نکالی گئی ۔ اور میری امت کو در میانی امت بنایا اور میری امت کو اس طرح بنایا کہ وہ (جنت کے داخلے میں ) پہلے ہوں گے اور (دنیا میں آنے کے لحاظ سے ) سب سے آخر میں ہونگے اور میرے سینے کو کھولا گیا ۔ اور میرے گناہوں کو مجھ سے مٹا دیا گیا اور میرے ذکر کو بلند کردیا گیا ۔ اور مجھے شروع کرنے والا اور ختم کرنے والا بنا دیا ۔ ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا کہ محمد ﷺ کو ان (باتوں ) کے ـذریعہ فضیلت عطا فرمائی ۔ پھر میرے پاس تین برتن لائے گئے،جن کےمنہ ڈھکےہوئے تھے۔ اس میں سے ایک برتن لایا گیا جس میں پانی تھا کہا گیا اس کو پی لو میں نے اس میں سے تھوڑا سا پیا پھر ان کی طرف ایک اور برتن لایا گیا جس میں دودھ تھا کہا گیا اس کو پی لو میں نے اس میں سے پیا یہاں تک کہ میں سیر ہوگیا پھر ان کی طرف ایک اور برتن لایا گیا جس میں شراب تھی کہا گیا اس کو پی لو فرمایا کہ میں اسے پسند نہیں کرتا اور میں سیر ہوجاؤں گا جبرائیل علیہ السلام آپ ﷺ سے فرمایا عنقریب شراب آپ کی امت پر حرام کردی جائے گی اگر آپ اس میں سے پی لیتے تو آپ کی امت میں سے کوئی تابعداری نہ کرتا مگر تھوڑے لوگ پھر مجھے آسمان کی طرف لے جایا گیا اور دروازہ کھولنے کو فرمایا کہاں گیا یہ کون ہیں ؟ فرمایا یہ محمد ﷺ ہیں فرشتوں نے کہا ان کو بلایا گیا ہے ؟ فرمایا ہاں فرشتوں نے کہا اللہ تعالیٰ اسے سلامت رکھے بھائی اور خلیفہ کو اچھے بھائی اور اچھے خلیفہ ہیں ۔ ان کا آنا مبارک ہے آپ آسمان میں داخل ہوئے وہاں پوری پیدائش والا ایک آدمی جس کی پیدائش میں ذرا بھی کمی نہیں تھی ۔ جیسے کہ لوگوں کی پیدائش میں کمی ہوتی ہے اس کی داہنی طرف ایک دروازہ تھا اس سے پاکیزہ ہوا نکل رہی تھی اور اس کی بائیں طرف ایک دروازہ تھا اس سے بری ہوا آ رہی تھی جب اس نے اپنے بائیں والے دروازے کی طرف دیکھا تو خوش ہوا اور ہنسا اور جب اس نے اپنے بائیں طرف والے دروازے کی طرف دیکھا تو رویا اور غمگین ہوا ۔ میں نے کہا اے جبرائیلؑ! یہ کون (آدمی ) ہیں ؟فرمایا یہ آپ کے باپ آدم علیہ السلام ہیں اور یہ دروازہ اس کی داہنی طرف والا جنت کا دروازہ ہے جب اپنی اولاد میں سے اس میں داخل ہوتا دیکھتے ہیں تو خوش ہوتے ہیں اور مسکراتے ہیں ۔ اور جب اپنی بائیں دروازےکی طرف دیکھتے ہیں جو جہنم کا دروازہ ہے جب اس میں کسی کو داخل ہوتے دیکھتے ہیں تو روتے ہیں اور غمگین ہوتے ہیں پھر جبرائیل علیہ السلام دوسرے آسمان کی طرف لے گئے دروازہ کھولنے کو فرمایا پوچھا گیا کہ تیرے ساتھ کون ہیں ؟ یہ محمد ﷺ ہیں فرشتوں نے کہا ان کو بلایا گیا ہے فرمایا ہاں ۔ فرشتوں نے کہا اللہ تعالیٰ سلامت رکھے بھائی کو اور خلیفہ کو اچھا بھائی اور اچھا خلیفہ ہے ان کا آنا مبارک ہے وہاں دو نوجوان تھے اے جبرائیلؑ! یہ دونوں کون ہیں؟ فرمایا عیسی بن مریم اور یحی بن ذکریا علیہم السلام پھر مجھے تیسرے آسمان کی طرف لے گئے کھولنے کو فرمایا فرشتوں نے کہا یہ کون ہیں ؟ فرمایا جبرائیل ہوں فرشتوں نے کہا تیرے ساتھ کون ہیں ؟ یہ محمد ﷺ ہیں فرشتوں نے کہا ان کو بلایا گیا ہے فرمایا ہاں ۔ فرشتوں نے کہا اللہ تعالیٰ سلامت رکھے بھائی کو اور خلیفہ کو اچھا بھائی اور اچھا خلیفہ ہے ان کا آنا مبارک ہے۔ آسمان میں داخل ہوئے وہاں ایک آدمی تھا جو حسن کے لحاظ سے لوگوں پر ایسی فضیلت رکھتا تھا جیسے چودھویں کا چاند اپنے سارے ستاروں پر فضیلت رکھتا ہے پوچھا اے جبرائیلؑ! یہ کون ہیں ؟ فرمایا آپ کے بھائی یوسف علیہ السلام ہیں ۔ پھر چوتھے آسمان پر مجھے لے جایا گیا دروازہ کھولنے کو فرمایا کہا گیایہ تیرے ساتھ کون ہیں ؟ محمد ﷺ ہیں فرشتوں نے کہا ان کو بلایا گیا ہے فرمایا ہاں ۔ فرشتوں نے کہا اللہ تعالیٰ سلامت رکھے بھائی کو اور خلیفہ کو اچھا بھائی اور اچھا خلیفہ ہے ان کا آنا مبارک ہے۔ آسمان میں داخل ہوئے وہاں ایک آدمی تھا پوچھا اے جبرائیل یہ کون ہے ؟ فرمایا ادریس علیہ السلام ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے اونچےمقام پر اٹھا لیا پھر پانچویں آسمان پر مجھے لے جایا گیا دروازہ کھولنے کو فرمایا کہا گیایہ تیرے ساتھ کون ہیں ؟ محمد ﷺ ہیں فرشتوں نے کہا ان کو بلایا گیا ہے فرمایا ہاں ۔ فرشتوں نے کہا خوش آمدید اللہ تعالیٰ سلامت رکھے بھائی کو اور خلیفہ کو اچھا بھائی اور اچھا خلیفہ ہے ان کا آنا مبارک ہے۔ آسمان میں داخل ہوئے تو وہاں ایک آدمی بیٹھے ہوا ہے اس کے اردگرد لوگ ہیں کہ جن کو وہ بیان کررہا ہے پوچھا اے جبرائیل یہ کون ہیں؟ اور ان کے اردگرد کون لوگ ہیں ؟یہ ھارون المجیب ہیں۔ اور یہ لوگ (جو ارد گرد ہیں ) بنواسرائیل ہیں پھر مجھے چھٹے آسمان کی طرف لے جایا گیا، جبرائیلؑ نے دروازہ کھولنے کو فرمایا کہا گیا یہ کون ہیں تیرے ساتھ ؟ محمد (ٔﷺ) ہیں فرشتوں نے کہا ان کو بلایا گیا ہے فرمایا ہاں ۔ فرشتوں نے کہا خوش آمدید اللہ تعالیٰ سلامت رکھے بھائی کو اور خلیفہ کو اچھا بھائی اور اچھا خلیفہ ہے ان کا آنا مبارک ہے۔ آسمان میں داخل ہوئے وہاں ایک آدمی بیٹھ ہوا تھاجب اس سے آگے بڑھے تو وہ آدمی رونے لگا پوچھا اے جبرائیلؑ! یہ کون ہے ؟ فرمایا موسیٰ علیہ السلام ہیں پوچھا وہ کس لئے روتے ہیں بنو اسرائیل گمان کرتے ہیں کہ میں اللہ تعالیٰ کے نزدیک تمام بنی آدم سے زیادہ عزت والا ہوں اور یہ آدمی (یعنی محمد ﷺ ) یہ میرے پیچھےآنے والا ہے ۔ دنیا میں جب کہ میں دوسرے جہاں میں ہوں یہ خوداتنا بلند مرتبہ ہے تومجھے کوئی پروانہ نہ تھی لیکن ہر نبی اپنی امت کے ساتھ اس کی امت میں ہےپھر مجھےساتویں آسمان پر مجھے لے جایا گیا دروازہ کھولنے کو فرمایا کہا گیایہ کون ہیں تیرے ساتھ ؟ محمد ﷺ ہیں فرشتوں نے کہا ان کو بلایا گیا ہے فرمایا ہاں ۔ فرشتوں نے کہا اللہ تعالیٰ سلامت رکھے بھائی کو اور خلیفہ کو اچھا بھائی اور اچھا خلیفہ ہے اور آپ کا آنا مبارک ہے۔ آسمان میں داخل ہوئے وہاں ایک آدمی سیاہ سفید بالوں والا جنت کے دروازےکے ساتھ بیٹھا ہوا تھا ایک کرسی پر اور اس کے پاس ایک قوم بیٹھی ہوئی تھی سفید چہروں والی کاغذ کے پرزوں والی اور ایک قوم تھی کہ ان کے رنگوں میں کوئی چیز نہ تھی یہ لوگ کھڑے ہوئے جن کے رنگوں میں کوئی چیز (یعنی سیاہی ) تھی ایک نہر میں داخل ہوکر انہوں نے اس میں غسل کیا وہ باہر نکلے تو وہ خالص (یعنی صاف ہو چکے تھے ) اور ان کے بدنوں میں کوئی چیز نہ تھی (یعنی کوئی سیاہ نشان نہ تھا ) پھر دوسری نہر میں داخل ہوئے اس میں ان لوگوں نے غسل کیا وہ باہر نکلے تو ان کے رنگ خالص (یعنی صاف) ہوچکے تھے اور وہ اپنے ساتھی کے رنگوں کی طرح ہوگئے وہ آئے اور اپنے ساتھیوں کے سات بیٹھ گیا آپ نے پوچھا اے جبرائیلؑ! یہ سیاہ سفید بالوں والا کون ہے؟ اور یہ لوگ سفید چہروں والے کون ہیں ؟ اور وہ لوگ کون ہیں جن کے رنگوں میں کوئی چیز تھی ؟ اور یہ نہریں کیا ہیں ۔ جن پر یہ داخل ہوئے فرمایا یہ آپ کے والد ابراہیم علیہ السلام اور یہ پہلے آدمی ہیں جن کے بال زمین پر سفید اور سیاہ ہوئے اور یہ سفید چہروں والے وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے ایمان کو گناہوں میں نہیں جلایا اور وہ لوگ جن کے رنگوں میں کوئی چیزتھی یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے نیک عملوں کو دوسرے بڑے عملوں کے ساتھ جلا دیا انہوں نے توبہ کی اور اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرمائی اور وہ نہریں : ان میں سے پہلی نہر رحمت ہے اور دوسری اللہ کی نعمت اور تیسری ان کے رب نے ان کو پاکیز ہ شراب پلائی ہے ، پھر آخر میں سدرہ (یعنی بیری کا درخت ) تک پہنچا گئے آپ کو بتایا گیا یہ ایک درخت ہے کہ اس کی جڑ میں ایسے پانی کی نہریں نکلتی ہیں جن کا پانی خراب نہیں ہوتا اور ایسے دودھ کی نہریں ہیں کہ جس کا ذائقہ نہیں بدلتا ایسی شراب کی نہریں ہیں کہ جو پینے والوں کو لذت دینے والی ہے صاف شفاف شہد کی نہریں ہیں اور یہ وہ درخت ہے کہ ایک شہسوار اس کے سایہ میں ستر سال تک چلتارہے تو اس کا سایہ ختم نہیں ہوگا ۔ اور اس میں سے ایک پتہ ساری امت کو ڈھانک لیتا ہے ۔ مگر خلاق عزوجل نور چھایا ہوا ہے اور اس پر فرشتے چھائے ہوئے ہیں اور فرشتے اس پر کوؤں کی طرح اترتے ہیں ۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے آپ سے کلام فرمایا اور آپ سےفرمایا سوال کرو (جو چاہو ) تو آپ نے فرمایا ابراہیم علیہ السلام کو آپ نے خلیل بنایا اور ان کو بڑا ملک عطا فرمایا اور موسیٰ علیہ السلام سے کلام فرمایا اور داؤد علیہ السلام کو بڑا ملک عطا فرمایا اور ان کے لیے لوہے کو نرم کردیا اور ان کے لئے پہاڑوں کو مسخر کردیا ۔ اور سلیمان علیہ السلام کو بڑا ملک عطا فرمایا اور ان کے لئے جنات کو انسانوں کو اور شیاطین کو مسخر کردیا اور ان کے لئے ہوا کو تابع کردیا اور ان کو بادشاہی عطا فرمائی ایسی بادشاہی کہ ان کے بعد کسی کو لائق نہیں اور عیسی علیہ السلام کو تورات اور انجیل سکھائی اور ان کو ایسا بنایا کہ مادر زاد اندھے کو اور برص کی بیماری والے کو اچھا کردیتے تھے اور آپ کے حکم سے مردوں کو زندہ کردیتے تھے اور پھر ان کو اور ان کی والدہ کو شیطان مردود سے پناہ فرمائی کہ شیطان کو ان پر غلبہ کا کوئی راستہ نہ تھا ان کے رب عزوجل سے فرمایا اے محبوب میں نے تجھ کو اپنا خلیل بنا لیا ہے ۔ اور آپ تورات میں حبیب الرحمان لکھے ہوئے ہیں ، اور میں نے تجھ کو سارے لوگوں کے لئےخوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ۔ اور تیرےسینے کو میں نے کھول دیا ۔ تیرا بوجھ تجھ سے اتاردیا ہے ۔ اور تیرے ذکر کو میں نے بلند کردیا ہے ۔ جو بھی ذکر کرے گا تو میرے ساتھ تیرا ذکر بھی ہوگا ۔ اور میں نے تیری امت کو تمام امتوں سے بہتر بنایا کہ جو لوگوں (کی ہدایت ) کے لئےنکالے گئے ۔ اور تیری امت کو اس طرح بنایا کہ وہ ہر خطبہ جس کو گواہی دیتے ہیں کہ تو میرا بندہ اور میرارسول ہے ۔ اور تیری امت میں سے ایسے لوگ بنائے کہ انکے دل ان کے اناجیل میں ہیں ۔ اور میں نے تجھ کو پیدائش کے لحاظ سے نبیوں میں سب سے پہلا نبی بنایا ۔ اور (دنیا میں ) بھیجنے کے لحاظ سےسب سےآخری بنایا ۔ سب سے پہلے آپ کا فیصلہ ہو گا ۔ اور میں نےآپ کو (سورہ ) سبع مثانی عطافرمائی اور تجھ سے پہلے کبھی کسی نبی کو عطانہیں فرمائی اور میں نے تجھ کو سورہ بقرہ کی آخری آیات عطا فرمائی جو عرش کے نیچےوالے خزانہ میں سےہیں۔ تجھ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دی اور میں تجھ کو کوثر عطا فرمائی ۔ اور میں نے تجھ کو آٹھ چیزیں عطا فرمائیں ۔ اسلام ،ہجرت ، جہاد ، نماز ، صدقہ ، رمضان کے روزے ، نیکی کا حکم کرنا اور برائی سے روکنا ۔ اور میں نے تجھ کو فاتح اور خاتم بنایا ۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا میرے رب نے مجھے فضیلت دی اور مجھےرحمۃ للعالمین بنا کر بھیجا اور سب لوگوں کے لئے خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ۔ اور میرے دشمنوں کے دلوں میں ایک ماہ کی مسافت تک بڑا رعب ڈال دیا ۔ اور میرے لئے غنیمت کےمال کو حلال کردیا گیا کہ مجھ سے پہلے کسی کے لئےحلال نہیں ہوا ۔ اور میرے لئے ساری زمین کو سجدہ گاہ اور پاک بنادیا گیا ۔ مجھے فواتح الکلام اور خواتم الکلام اور جوامع الکلام عطا فرمایا اور میری امت کو مجھ پر پیش کیا گیا حتی کہ مجھ پر تابع اور متبوع کوئی مخفی نہ رہا ۔ اور میں نے ان کو دیکھا کہ وہ فرشتے ایک ایسی قوم پر حملہ آور ہوئے ہیں جو بالوں کے جوتے پہنے ہوئے تھے ۔ اور میں نے ان کو دیکھا کہ وہ ایسی قوم پر حملہ کررہے ہیں جن کےچہرے چوڑے ہیں اور آنکھیں چھوٹی ہیں گویا کہ انکی آنکھوں سوئی سے چھیدی گئی ہیں ۔ اور مجھ پر وہ حادثات بھی مخفی نہ رہے جس سے انہوں نے دو چار ہونا تھا ۔ اور مجھے پچاس نمازوں کا حکم دیا گیا ۔ جب موسیٰ علیہ السلام کے پاس لوٹا تو انہوں نے پوچھا آپ کو کیا حکم دیا گیا ۔ فرمایا پچاس نمازوں کا ۔ موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا اپنے رب کی طرف لوٹ جاؤ اور ان سے تخفیف کا سوال کرو ، کیونکہ تیری امت ساری امتوں میں زیادہ کمزور ہے۔ اور میں نے بنی اسرائیل کو بڑی سختی سےآزمایا ہے ، (اس پر ) نبی کریم ﷺ اپنے رب کی طرف لوٹ گئے اور ان سے تخفیف کا سوال فرمایا تودس نمازوں کو کم کر دیا گیا ۔ پھر موسیٰ علیہ السلام کی طرف لوٹے پوچھا کتنی نمازوں کا حکم ہو ا فرمایا چالیس نمازوں کا موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا اپنے رب کی طرف لوٹ جاؤ اور ان سے تخفیف کا سوال کرو ، پھر آپ(اپنے رب کے پاس ) لوٹے تو دس مزید کم کردی گئیں ۔ یہ سلسلہ چلتا رہا یہاں تک کہ پانچ نمازیں کردی گئیں ۔ موسیٰ علیہ السلام نے پھر فرمایا اپنے رب کی طرف لوٹ جاؤ اور ان سے مزیدتخفیف کا سوال کرو ، نبی کریم ﷺ نے فرمایا میں اپنے رب کے پاس باربار حاضر ہوتا رہا یہاں تک کہ (اب ) مجھے انکے پاس جاتے ہوئے شرم آتی ہے۔ اس لئے اب میں نہیں جاؤں گا ۔ ان سے کہا گیا ۔ اگر آپ نے ان پانچ نمازوں پر صبر کیا ہے ۔ تو ہم تجھ کو پچاس نمازوں کا اجر دیں گے ۔ کیونکہ ہر نیکی کابدلہ دس نیکیاں ہوں گی ، تو محمد ﷺ (اللہ تعالیٰ کی ) ہر رضا پر راضی ہوگئے راوی نے کہا کہ جب آپ موسیٰ علیہ السلام کے پاس سے گزرے تو موسیٰ علیہ السلام پر سخت تھے۔ اور جب آپ واپس آئے تو موسیٰ علیہ السلام سب انبیاء میں سے زیادہ خیر کے باعث تھے۔
طویل اور جامع ترین حدیث:
حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ الْمُحَبَّرِ، ثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هَارُونَ الْعَبْدِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أُتِيتُ بِالْبُرَاقِ وَهُوَ دَابَّةٌ أَبْيَضُ مُضْطَرِبُ الْأُذُنَيْنِ فَوْقَ الْحِمَارِ وَدُونَ الْبَغْلِ يَضَعُ حَافِرَهُ عِنْدَ مُنْتَهَى طَرْفِهِ فَرَكِبْتُهُ فَسَارَ بِي نَحْوَ بَيْتِ الْمَقْدِسِ فَبَيْنَمَا أَنَا أَسِيرُ إِذْ نَادَانِي مُنَادٍ عَنْ يَمِينِي يَا مُحَمَّدُ عَلَى رِسْلِكَ أَسْأَلْكَ حَتَّى نَادَانِي ثَلَاثًا فَلَمْ أعرج عَلَيْهِ ثُمَّ نَادَانِي مُنَادٍ عَنْ يَسَارِي يَا مُحَمَّدُ عَلَى رِسْلِكَ أَسْأَلْكَ حَتَّى نَادَانِي ثَلَاثًا فَلَمْ أُعَرِّجْ عَلَيْهِ ثُمَّ اسْتَقْبَلَتْنِي امْرَأَةٌ عَلَيْهَا مِنْ كُلِّ حُلِيٍّ وَزِينَةٍ نَاشِرَةً يَدَيْهَا تَقُولُ يَا مُحَمَّدُ عَلَى رِسْلِكَ أَسْأَلْكَ تَقُولُ ذَلِكَ حَتَّى كَادَتْ تَغْشَانِي فَلَمْ أُعَرِّجْ عَلَيْهَا حَتَّى أَتَيْتُ بَيْتَ الْمَقْدِسِ فَرَبَطْتُ الدَّابَّةَ بِالْحَلْقَةِ الَّتِي تَرْبِطُ بِهَا الْأَنْبِيَاءُ ثُمَّ دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ فَصَلَّيْتُ فِيهِ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ خَرَجْتُ فَجَاءَنِي جِبْرِيلُ بِإِنَاءٍ فِيهِ خَمْرٌ وَإِنَّاءٍ فِيهِ لَبَنٌ فَاخْتَرْتُ اللَّبَنَ فَقَالَ: أَصَبْتَ الْفِطْرَةَ ثُمَّ قَالَ: مَا لَقِيتَ فِي وَجْهِكَ هَذَا قُلْتُ: بَيْنَمَا أَنَا أَسِيرُ إِذْ نَادَانِي مُنَادٍ عَنْ يَمِينِي يَا مُحَمَّدُ عَلَى رِسْلِكَ أَسْأَلْكَ حَتَّى نَادَانِي يَا مُحَمَّدُ عَلَى رِسْلِكَ حَتَّى نَادَانِي بِذَلِكَ ثَلَاثًا قَالَ: فَمَا فَعَلْتَ قُلْتُ: فَلَمْ أُعَرِّجْ عَلَيْهِ قَالَ: ذَاكَ دَاعِي الْيَهُودِ لَوْ كُنْتَ عرجت عَلَيْهِ لَتَهَوَّدَتْ أُمَّتُكَ قُلْتُ: ثُمَّ نَادَانِي مُنَادٍ عَنْ يَسَارِي يَا مُحَمَّدُ عَلَى رِسْلِكَ أَسْأَلْكَ حَتَّى نَادَانِي بِذَلِكَ ثَلَاثًا قَالَ: فَمَا فَعَلْتَ قُلْتُ: فَلَمْ أُعَرِّجْ عَلَيْهِ قَالَ: ذَاكَ دَاعِي النَّصَارَى لَوْ كُنْتَ عَرَّجْتَ عَلَيْهِ لَتَنَصَّرَتْ أُمَّتُكَ، قُلْتُ: ثُمَّ اسْتَقْبَلَتْنِي امْرَأَةٌ عَلَيْهَا مِنْ كُلِّ زِينَةٍ نَاشِرَةً يَدَيْهَا تَقُولُ يَا مُحَمَّدُ عَلَى رِسْلِكَ أَسْأَلْكَ حَتَّى كَادَتْ تَغْشَانِي قَالَ: فَمَا فَعَلْتَ؟ قُلْتُ: فَلَمْ أُعَرِّجْ عَلَيْهَا قَالَ: تِلْكَ الدُّنْيَا لَوْ عَرَّجْتَ عَلَيْهَا لَاخْتَرْتَ الدُّنْيَا عَلَى الْآخِرَةِ ثُمَّ أُتِينَا بِالْمِعْرَاجِ فَإِذَا أَحْسَنُ مَا خَلَقَ اللَّهُ أَلَمْ تَرَ إِلَى الْمَيِّتِ إِذَا شُقَّ بَصَرُهُ إِنَّمَا يَتْبَعُهُ الْمِعْرَاجُ عَجَبًا بِهِ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: {تعرج الْمَلَائِكَةُ وَالرُّوحُ إِلَيْهِ فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ
[المعارج:4] 
قَالَ: فَقَعَدْتُ فِي الْمِعْرَاجِ أَنَا وَجِبْرِيلُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِمَا وَسَلَّمَ حَتَّى انْتَهَيْنَا إِلَى بَابِ الْحَفَظَةِ فَإِذَا عَلَيْهِ مَلَكٌ يُقَالُ لَهُ إِسْمَاعِيلُ مَعَهُ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ وَمَعَ كُلِّ مَلَكٍ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ قَالَ: ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: {وَمَا يَعْلَمُ جُنُودَ رَبِّكَ إِلَّا هُوَ
[المدثر:31] 
فَاسْتَفْتَحَ جِبْرِيلُ قَالَ: مَنْ أَنْتَ قَالَ: جِبْرِيلُ قِيلَ وَمَنْ مَعَكَ قَالَ: مُحَمَّدٌ قِيلَ وَقَدْ أُرْسِلَ إِلَيْهِ؟ قَالَ: قَدْ أُرْسِلَ إِلَيْهِ فَفُتِحَ لَنَا فَإِذَا أَنَا بِآدَمُ كَهَيْئَتِهِ يَوْمَ خُلِقَ قُلْتُ: مَنْ هَذَا يَا جِبْرِيلُ قَالَ: هَذَا أَبُوكَ آدَمُ فَرَحَّبَ وَدَعَا لِي بِخَيْرٍ فَإِذَا الْأَرْوَاحُ تُعْرَضُ عَلَيْهِ فَإِذَا مَرَّ بِهِ رُوحُ الْمُؤْمِنِ قَالَ: رُوحٌ طَيْبَةٌ وَرِيحٌ طَيْبَةٌ وَإِذَا مَرَّ عَلَيْهِ رُوحُ كَافِرٍ قَالَ: رُوحٌ خَبِيثَةٌ وَرِيحٌ خَبِيثَةٌ، قَالَ: ثُمَّ مَضَيْتُ فَإِذَا أَنَا بِأَخَاوِينِ عَلَيْهَا لُحُومٌ مُنْتِنَةٌ وَأَخَاوِينِ عَلَيْهَا لُحُومٌ طَيِّبَةٌ وَإِذَا رِجَالٌ يَنْتَهِبُونَ اللُّحُومَ الْمُنْتِنَةَ وَيَدَعُونَ اللُّحُومَ الطَّيِّبَةَ فَقُلْتُ: مَنْ هَؤُلَاءِ يَا جِبْرِيلُ قَالَ: هَؤُلَاءِ الزُّنَاةُ يَدَعُونَ الْحَلَالَ وَيَتَّبِعُونَ الْحَرَامَ ثُمَّ مَضَيْتُ فَإِذَا أُنَاسٌ قَدْ وُكِّلَ بِهِمْ رِجَالٌ يَفُكُّونَ لِحْيَهُمْ وَآخَرُونَ يَجِيئُونَ بِالصَّخْرِ مِنَ النَّارِ يَقْذِفُونَهَا فِي أَفْوَاهِهِمْ فَتَخْرُجُ مِنْ أَدْبَارِهِمْ قُلْتُ: مِنْ هَؤُلَاءِ يَا جِبْرِيلُ قَالَ: هَؤُلَاءِ {الَّذِينَ يَأْكُلُونَ أَمْوَالَ الْيَتَامَى ظُلْمًا إِنَّمَا يَأْكُلُونَ فِي بُطُونِهِمْ نَارًا وَسَيَصْلَوْنَ سَعِيرًا
[النساء:10] 
قَالَ: ثُمَّ مَضَيْتُ فَإِذَا أَنَا بِرِجَالٍ قَدْ وُكِّلَ بِهِمْ رِجَالٌ يَفُكُّونَ لِحْيَهُمْ وَآخَرُونَ يَقْطَعُونَ لُحُومَهُمْ فَيَضْفِزُوهُمْ إِيَّاهَا بِدِمَائِهَا فَقُلْتُ: مَنْ هَؤُلَاءِ يَا جِبْرِيلُ قَالَ: هَؤُلَاءِ الْهَمَّازُونَ، اللَّمَّازُونَ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: {وَلَا يَغْتَبْ بَعْضُكُمْ بَعْضًا أَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ أَنْ يَأْكُلَ لَحْمَ أَخِيهِ مَيْتًا فَكَرِهْتُمُوهُ
[الحجرات:12] 
قَالَ: ثُمَّ مَضَيْتُ فَإِذَا أَنَا بِأُنَاسٍ مُعَلَّقَاتٍ بِثُدِيِّهِنَّ، فَقُلْتُ: «مَنْ هَؤُلَاءِ يَا جِبْرِيلُ» ؟ قَالَ: هَؤُلَاءِ الظُّؤُرَاتُ يَقْتُلْنَ أَوْلَادَهُنَّ قَالَ: ثُمَّ مَضَيْتُ حَتَّى انْتَهَيْتُ إِلَى سَابِلَةِ آلِ فِرْعَوْنَ، فَإِذَا رِجَالٌ بُطُونُهُمْ كَالْبُيُوتِ إِذَا عُرِضَ آلُ فِرْعَوْنَ عَلَى النَّارِ غُدُوًّا وَعَشِيًّا، فَيُوقَفُونَ لِآلِ فِرْعَوْنَ مُسْتَلْقِينَ عَلَى ظُهُورِهِمْ وَبُطُونِهِمْ فَيُثَرُّدُونَهُمْ آلُ فِرْعَوْنَ ثَرْدًا بِأَرْجُلِهِمْ، فَقُلْتُ: «مَنْ هَؤُلَاءِ يَا جِبْرِيلُ» ؟ قَالَ: هَؤُلَاءِ أَكَلَةُ الرِّبَا، ثُمَّ تَلَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ {الَّذِينَ يَأْكُلُونَ الرِّبَا لَا يَقُومُونَ إِلَّا كَمَا يَقُومُ الَّذِي يَتَخَبَّطُهُ الشَّيْطَانُ مِنَ الْمَسِّ
[البقرة:275] 
فَإِذَا عُرِضَ آلُ فِرْعَوْنَ عَلَى النَّارِ قَالُوا: رَبَّنَا لَا تُقَوِّمُ السَّاعَةَ، لِمَا يَرَوْنَ مِنْ عَذَابِ اللَّهِ. قَالَ: ثُمَّ عرج بِنَا إِلَى السَّمَاءِ الثَّانِيَةِ فَاسْتَفْتَحَ جِبْرِيلُ فَقِيلَ: مَنْ أَنْتَ؟ قَالَ: جِبْرِيلُ قِيلَ: وَمَنْ مَعَكَ؟ قَالَ: مُحَمَّدٌ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِيلَ: وَقَدْ أُرْسِلَ إِلَيْهِ؟ قَالَ: قَدْ أُرْسِلَ إِلَيْهِ، فَفُتِحَ لَنَا، فَإِذَا أَنَا بِيُوسُفَ، وَإِذَا هُوَ قَدْ أُعْطِيَ شَطْرَ الْحُسْنِ، قُلْتُ: «مَنْ هَذَا يَا جِبْرِيلُ» ؟ قَالَ: هَذَا أَخُوكَ يُوسُفُ، فَرَحَّبَ وَدَعَا لِي بِخَيْرٍ. ثُمَّ عُرِجَ بِنَا إِلَى السَّمَاءِ الثَّالِثَةِ، فَاسْتَفْتَحَ جِبْرِيلُ فَقِيلَ: مَنْ أَنْتَ؟ قَالَ: جِبْرِيلُ، قِيلَ: وَمَنْ مَعَكَ؟ قَالَ: مُحَمَّدٌ، قِيلَ: وَقَدْ أُرْسِلَ إِلَيْهِ؟ قَالَ: قَدْ أُرْسِلَ إِلَيْهِ، فَفُتِحَ لَنَا، فَإِذَا أَنَا بِابْنَيِ الْخَالَةِ يَحْيَى وَعِيسَى فَرَحَّبَا وَدَعَيَا لِي بِخَيْرٍ. ثُمَّ عُرِجَ بِنَا إِلَى السَّمَاءِ الرَّابِعَةِ فَاسْتَفْتَحَ جِبْرِيلُ، فَقِيلَ: مَنْ أَنْتَ؟ قَالَ: جِبْرِيلُ، قِيلَ: وَمَنْ مَعَكَ؟ قَالَ: مُحَمَّدٌ، قِيلَ: وَقَدْ أُرْسِلَ إِلَيْهِ؟ قَالَ: قَدْ أُرْسِلَ إِلَيْهِ، فَفُتِحَ لَنَا، فَإِذَا أَنَا بِإِدْرِيسَ، فَرَحَّبَ وَدَعَا لِي بِخَيْرٍ، ثُمَّ تَلَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ {وَرَفَعْنَاهُ مَكَانًا عَلِيًّا
[مريم:57] 
. قَالَ: ثُمَّ عُرِجَ بِنَا إِلَى السَّمَاءِ الْخَامِسَةِ فَاسْتَفْتَحَ جِبْرِيلُ فَقِيلَ: مَنْ أَنْتَ؟ قَالَ: جِبْرِيلُ، قِيلَ: وَمَنْ مَعَكَ؟ قَالَ: مُحَمَّدٌ، قِيلَ: وَقَدْ أُرْسِلَ إِلَيْهِ؟ قَالَ: قَدْ أُرْسِلَ إِلَيْهِ، فَفُتِحَ لَنَا فَإِذَا أَنَا بِهَارُونَ، فَإِذَا أَكْثَرُ مَنْ رَأَيْتُ تَبَعًا، وَإِذَا لِحْيَتُهُ شَطْرَانِ: شَطْرٌ سَوَادٌ وَشَطْرٌ بَيَاضٌ، فَقُلْتُ: مَنْ هَذَا يَا جِبْرِيلُ؟ قَالَ: هَذَا الْمُحَبَّبُ فِي قَوْمِهِ، فَرَحَّبَ وَدَعَا لِي بِخَيْرٍ . ثُمَّ عُرِجَ بِنَا إِلَى السَّمَاءِ السَّادِسَةِ فَاسْتَفْتَحَ جِبْرِيلُ، فَقِيلَ: مَنْ؟ قَالَ: جِبْرِيلُ، قِيلَ: وَمَنْ مَعَكَ؟ قَالَ: مُحَمَّدٌ، قِيلَ: وَقَدْ أُرْسِلَ إِلَيْهِ؟ قَالَ: نَعَمْ، فَفُتِحَ لَنَا، فَإِذَا أَنَا بِمُوسَى، فَرَحَّبَ وَدَعَا لِي بِخَيْرٍ، فَقَالَ مُوسَى: تَزْعُمُ بَنُو إِسْرَائِيلَ أَنِّي أَكْرَمُ الْخَلْقِ عَلَى اللَّهِ، وَهَذَا أَكْرَمُ عَلَى اللَّهِ مِنِّي، فَلَوْ كَانَ إِلَيْهِ وَحْدَهُ لَهَانَ عَلَيَّ وَلَكِنَّ النَّبِيَّ مَعَهُ أَتْبَاعُهُ مِنْ أُمَّتِهِ. ثُمَّ عُرِجَ بِنَا إِلَى السَّمَاءِ السَّابِعَةِ فَاسْتَفْتَحَ جِبْرِيلُ، فَقِيلَ: مَنْ أَنْتَ؟ قَالَ: جِبْرِيلُ، قِيلَ: وَمَنْ مَعَكَ؟ قَالَ: مُحَمَّدٌ، قِيلَ: وَقَدْ أُرْسِلَ إِلَيْهِ؟ قَالَ: قَدْ أُرْسِلَ إِلَيْهِ، فَفُتِحَ لَنَا، فَإِذَا أَنَا بِشَيْخٍ أَبْيَضَ الرَّأْسِ وَاللِّحْيَةِ، وَإِذَا هُوَ مُسْتَنِدٌ إِلَى الْبَيْتِ الْمَعْمُورِ، وَإِذَا هُوَ يَدْخُلُهُ كُلَّ يَوْمٍ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ لَا يَعُودُونَ إِلَيْهِ، فَقُلْتُ: مَنْ هَذَا يَا جِبْرِيلُ؟ قَالَ: هَذَا أَبُوكَ إِبْرَاهِيمُ، فَرَحَّبَ وَدَعَا لِي بِخَيْرٍ، وَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ هَذِهِ مَنْزِلَتُكَ وَمَنْزِلَةُ أُمَّتِكَ ثُمَّ تَلَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ {إِنَّ أَوْلَى النَّاسِ بِإِبْرَاهِيمَ لَلَّذِينَ اتَّبَعُوهُ وَهَذَا النَّبِيُّ وَالَّذِينَ آمَنُوا وَاللَّهُ وَلِيُّ الْمُؤْمِنِينَ
[آل عمران:68] 
. فَدَخَلْتُ إِلَى الْبَيْتِ الْمَعْمُورِ فَصَلَّيْتُ فِيهِ، ثُمَّ نَظَرْتُ فَإِذَا أُمَّتِي شَطْرَانِ: شَطْرٌ عَلَيْهِمْ ثِيَابٌ رُمْدٌ، وَشَطْرٌ عَلَيْهِمْ ثِيَابٌ بِيضٌ، فَدَخَلَ الَّذِينَ عَلَيْهِمْ ثِيَابٌ بِيضٌ وَاحْتُبِسَ الْآخَرُونَ. قَالَ: ثُمَّ ذَهَبَ جِبْرِيلُ إِلَى سِدْرَةِ الْمُنْتَهَى، فَإِذَا الْوَرَقَةُ مِنْ وَرَقِهَا لَوْ غُطِّيَتْ بِهَا هَذِهِ الْأُمَّةُ لَغَطَّتْهُمْ، وَإِذَا السَّلْسَبِيلُ قَدِ انْفَجَرَ مِنْ أَصْلِهَا، أَوْ مِنْ أَسْفَلِهَا نَهْرَانِ: نَهْرُ الرَّحْمَةِ، وَنَهْرُ الْكَوْثَرِ قَالَ: فَاغْتَسَلْتُ فِي نَهْرِ الرَّحْمَةِ فَغُفِرَ لِي مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِي وَمَا تَأَخَّرَ، وَأُعْطِيتُ الْكَوْثَرَ، فَسَلَكْتُهُ حَتَّى انْفَجَرَ فِي الْجَنَّةِ. فَنَظَرْتُ فِي الْجَنَّةِ، فَإِذَا طَيْرُهَا كَالْبُخْتِ، وَإِذَا الرُّمَّانَةُ مِنْ رُمَّانِهَا كَجِلْدِ الْبَعِيرِ الْمُقَوَّرِ، وَإِذَا أَنَا بِجَارِيَةٍ فَقُلْتُ: يَا جَارِيَةُ، لِمَنْ أَنْتِ؟ قَالَتْ: لِزَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ، فَبَشَّرْتُ بِهَا زَيْدًا، وَإِذَا فِي الْجَنَّةِ مَا لَا عَيْنٌ رَأَتْ وَلَا أُذُنٌ سَمِعَتْ، وَلَا خَطَرَ عَلَى قَلْبِ بِشْرٍ. وَنَظَرْتُ إِلَى النَّارِ فَإِذَا عَذَابُ اللَّهِ شَدِيدٌ، لَا تَقُومُ لَهُ الْحِجَارَةُ وَالْحَدِيدُ. قَالَ: فَرَجَعْتُ إِلَى الْكَوْثَرِ حَتَّى انْتَهَيْتُ إِلَى السِّدْرَةِ الْمُنْتَهَى، فَغَشِيَهَا مِنْ أَمْرِ اللَّهِ مَا غَشِيَ، وَوَقَعَ عَلَى كُلِّ وَرَقَةٍ مِنْهَا مَلَكٌ، فَأَيَّدَهَا اللَّهُ بِإِدَاوَتِهِ وَأَوْحَى إِلَيَّ مَا أَوْحَى، وَفَرَضَ عَلَيَّ فِي كُلِّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ خَمْسِينَ صَلَاةً، فَنَزَلْتُ حَتَّى انْتَهَيْتُ إِلَى مُوسَى فَقَالَ: مَا فَرَضَ رَبُّكَ عَلَى أُمَّتِكَ؟ فَقُلْتُ: خَمْسِينَ صَلَاةً فِي كُلِّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ، فَقَالَ: إِنَّ أُمَّتَكَ لَا تُطِيقُ ذَلِكَ، وَإِنِّي قَدْ بَلَوْتُ بَنِي إِسْرَائِيلَ وَخَبَرْتُهُمْ، فَارْجِعْ إِلَى رَبِّكَ فَسَلْهُ التَّخْفِيفَ لِأُمَّتِكَ، فَرَجَعْتُ فَقُلْتُ: أَيْ رَبِّ، خَفِّفْ عَنْ أُمَّتِي، فَحَطَّ عَنِّي خَمْسًا، فَرَجَعْتُ إِلَى مُوسَى، فَقَالَ: مَا فَعَلْتَ؟ فَقُلْتُ: حَطَّ عَنِّي خَمْسًا، فَقَالَ: إِنَّ أُمَّتَكَ لَا تُطِيقُ ذَلِكَ، فَارْجِعْ إِلَى رَبِّكَ فَسَلْهُ التَّخْفِيفَ، فَرَجَعْتُ فَقُلْتُ: أَيْ رَبِّ خَفِّفْ عَنْ أُمَّتِي، فَحَطَّ عَنِّي خَمْسًا، فَلَمْ أَزَلْ أَرْجِعُ بَيْنَ رَبِّي وَبَيْنَ مُوسَى، وَيَحُطُّ عَنِّي خَمْسًا، حَتَّى فَرَضَ عَلَيَّ خَمْسَ صَلَوَاتٍ فِي كُلِّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ، وَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ إِنَّهُ لَا يُبَدَّلُ الْقَوْلُ لَدَيَّ، هِيَ خَمْسُ صَلَوَاتٍ لِكُلِّ صَلَاةٍ عَشْرٌ، فَهِيَ خَمْسُونَ صَلَاةً، وَمَنْ هَمَّ بِحَسَنَةٍ فَلَمْ يَعْمَلْهَا كُتِبَتْ لَهُ حَسَنَةً، فَإِنْ عَمِلَهَا كُتِبَتْ لَهُ عَشْرَ أَمْثَالِهَا، وَمَنْ هَمَّ بِسَيِّئَةٍ فَلَمْ يَعْمَلْهَا لَمْ تُكْتَبْ عَلَيْهِ، فَإِنْ عَمِلَهَا كُتِبَتْ سَيِّئَةً وَاحِدَةً، فَرَجَعْتُ إِلَى مُوسَى فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ: ارْجِعْ إِلَى رَبِّكَ فَسَلْهُ التَّخْفِيفَ لِأُمَّتِكَ، فَقُلْتُ: قَدْ رَجَعْتُ إِلَى رَبِّي حَتَّى اسْتَحْيَيْتُ " 

ترجمہ:

ہمیں داؤد بن محبر نے حدیث بیان کی، انہوں نے حماد بن سلمہ سے، وہ ابو ہارون عبدی سے، وہ حضرت ابو سعید خدریؓ سے، اور وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "میرے پاس براق لایا گیا، جو ایک سفید رنگ کی سواری تھی، اس کے کان لمبے تھے، وہ گدھے سے بڑی اور خچر سے چھوٹی تھی۔ وہ اپنا قدم نظر کی انتہا پر رکھتی تھی۔ میں نے اس پر سوار ہوا تو وہ مجھے بیت المقدس کی طرف لے چلی۔ میں چلا جا رہا تھا کہ اچانک میرے دائیں جانب سے ایک آواز نے مجھے پکارا: 'اے محمد! ٹھہرو، میں تم سے کچھ پوچھنا چاہتا ہوں'۔ یہاں تک کہ اس نے مجھے تین بار پکارا، لیکن میں نے اس کی طرف توجہ نہ دی۔ پھر میرے بائیں جانب سے ایک آواز نے مجھے پکارا: 'اے محمد! ٹھہرو، میں تم سے کچھ پوچھنا چاہتا ہوں'۔ یہاں تک کہ اس نے مجھے تین بار پکارا، لیکن میں نے اس کی طرف توجہ نہ دی۔ پھر ایک عورت نے میرا راستہ روکا جس پر ہر قسم کے زیور اور آرائش تھی، اس نے اپنے ہاتھ پھیلائے ہوئے تھے اور کہا: 'اے محمد! ٹھہرو، میں تم سے کچھ پوچھنا چاہتی ہوں'۔ یہاں تک کہ وہ مجھ پر چھا گئی، لیکن میں نے اس کی طرف توجہ نہ دی یہاں تک کہ میں بیت المقدس پہنچ گیا۔ میں نے سواری کو اس حلقے سے باندھ دیا جس میں انبیاء اپنی سواریاں باندھتے تھے، پھر مسجد میں داخل ہوا اور وہاں دو رکعت نماز پڑھی۔ پھر باہر نکلا تو جبرائیلؑ میرے پاس آئے، ان کے ہاتھ میں ایک برتن میں شراب تھی اور دوسرے میں دودھ۔ میں نے دودھ کو منتخب کیا۔ جبرائیلؑ نے کہا: آپ نے فطرت (صحیح راستہ) کو پا لیا۔ پھر پوچھا: آپ کو راستے میں کیا ملا؟ میں نے کہا: جب میں سفر کر رہا تھا تو میرے دائیں جانب سے ایک آواز نے مجھے پکارا: 'اے محمد! ٹھہرو، میں تم سے کچھ پوچھنا چاہتا ہوں' یہاں تک کہ اس نے مجھے تین بار پکارا۔ جبرائیلؑ نے پوچھا: آپ نے کیا کیا؟ میں نے کہا: میں نے اس کی طرف توجہ نہ دی۔ انہوں نے کہا: وہ یہودیت کی دعوت دینے والا تھا، اگر آپ اس کی طرف توجہ دیتے تو آپ کی امت یہودی ہو جاتی۔ میں نے کہا: پھر میرے بائیں جانب سے ایک آواز نے مجھے پکارا: 'اے محمد! ٹھہرو، میں تم سے کچھ پوچھنا چاہتا ہوں' یہاں تک کہ اس نے مجھے تین بار پکارا۔ انہوں نے پوچھا: آپ نے کیا کیا؟ میں نے کہا: میں نے اس کی طرف توجہ نہ دی۔ انہوں نے کہا: وہ نصرانیت کی دعوت دینے والا تھا، اگر آپ اس کی طرف توجہ دیتے تو آپ کی امت نصرانی ہو جاتی۔ میں نے کہا: پھر ایک عورت نے میرا راستہ روکا جس پر ہر قسم کا زیور تھا، اس نے اپنے ہاتھ پھیلائے ہوئے تھے اور کہا: 'اے محمد! ٹھہرو، میں تم سے کچھ پوچھنا چاہتی ہوں' یہاں تک کہ وہ مجھ پر چھا گئی۔ انہوں نے پوچھا: آپ نے کیا کیا؟ میں نے کہا: میں نے اس کی طرف توجہ نہ دی۔ انہوں نے کہا: وہ دنیا تھی، اگر آپ اس کی طرف توجہ دیتے تو آپ کی امت دنیا کو آخرت پر ترجیح دیتی۔ پھر ہمارے پاس معراج(سیڑھی) لائی گئی، تو وہ اللہ کی مخلوقات میں سے بہترین چیز تھی۔ کیا تم نے مردے کو نہیں دیکھا جب اس کی آنکھیں کھولی جاتی ہیں؟ وہ معراج(سیڑھی) کی طرف حیرت سے دیکھتا ہے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (سورۃ المعارج کی آیت 4) تلاوت فرمائی: "فرشتے اور روح (جبرائیل) اس کی طرف چڑھتے ہیں اس دن جس کا اندازہ پچاس ہزار سال ہے
آپ ﷺ نے فرمایا: میں اور جبرائیلؑ معراج(سیڑھی) پر بیٹھ گئے یہاں تک کہ ہم حفاظت کرنے والے فرشتوں کے دروازے پر پہنچے۔ وہاں ایک فرشتہ تھا جس کا نام اسماعیل تھا، اس کے ساتھ ستر ہزار فرشتے تھے اور ہر فرشتے کے ساتھ ستر ہزار فرشتے تھے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (سورۃ المدثر کی آیت 31) تلاوت فرمائی: "اور آپ کے رب کی فوجوں کو اس کے سوا کوئی نہیں جانتا
پھر جبرائیلؑ نے دروازہ کھلوانے کی درخواست کی۔ پوچھا گیا: تم کون ہو؟ انہوں نے کہا: جبرائیل۔ پوچھا گیا: تمہارے ساتھ کون ہے؟ انہوں نے کہا: محمد۔ پوچھا گیا: کیا انہیں پیغمبر بنا کر بھیجا گیا ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں، انہیں بھیجا گیا ہے۔ پھر ہمارے لیے دروازہ کھول دیا گیا۔ میں نے آدم علیہ السلام کو دیکھا، وہ اسی شکل میں تھے جس شکل میں پیدا کیے گئے تھے۔ میں نے پوچھا: اے جبرائیل! یہ کون ہیں؟ انہوں نے کہا: یہ تمہارے والد آدم علیہ السلام ہیں۔ انہوں نے میرا استقبال کیا اور میرے لیے بھلائی کی دعا فرمائی۔ میں نے دیکھا کہ ان پر روحیں پیش کی جا رہی ہیں۔ جب مومن کی روح ان کے پاس سے گزرتی تو وہ کہتے: پاک روح، پاک خوشبو۔ اور جب کافر کی روح گزرتی تو کہتے: ناپاک روح، بدبو۔ آپ ﷺ نے فرمایا: پھر میں چلا تو میں نے دیکھا کہ کچھ گوشت کے ڈھیر ہیں جو سڑے ہوئے ہیں اور کچھ اچھے گوشت کے ڈھیر ہیں۔ کچھ لوگ سڑا ہوا گوشت اٹھا رہے ہیں اور اچھا گوشت چھوڑ رہے ہیں۔ میں نے پوچھا: اے جبرائیل! یہ کون لوگ ہیں؟ انہوں نے کہا: یہ زنا کار ہیں، وہ حلال کو چھوڑ کر حرام کی پیروی کرتے ہیں۔ پھر میں چلا تو میں نے کچھ لوگ دیکھے جن کے پاس کچھ آدمی کھڑے تھے جو ان کی ٹھوڑیاں پھاڑ رہے تھے اور دوسرے آدمی آگ کے پتھر لاتے تھے اور ان کے منہ میں ڈالتے تھے جو ان کی پیٹھوں سے نکل جاتے تھے۔ میں نے پوچھا: اے جبرائیل! یہ کون لوگ ہیں؟ انہوں نے کہا: یہ وہ لوگ ہیں جو یتیموں کا مال ناحق کھاتے ہیں، وہ اپنے پیٹوں میں آگ بھرتے ہیں اور جلد ہی دوزخ میں جھونک دیے جائیں گے۔ (سورۃ النساء:10)۔
آپ ﷺ نے فرمایا: پھر میں چلا تو میں نے کچھ لوگ دیکھے جن کے پاس کچھ آدمی کھڑے تھے جو ان کی ٹھوڑیاں پھاڑ رہے تھے اور دوسرے ان کا گوشت کاٹ رہے تھے اور انہیں ان کے خون میں لت پت کر کے کھلا رہے تھے۔ میں نے پوچھا: اے جبرائیل! یہ کون لوگ ہیں؟ انہوں نے کہا: یہ طعنہ زن، عیب جو لوگ ہیں۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے (سورۃ الحجرات کی آیت 12) تلاوت فرمائی: "اور تم میں سے کوئی کسی کی غیبت نہ کرے، کیا تم میں سے کوئی یہ پسند کرے گا کہ وہ اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھائے؟ تم اسے ناگوار جانتے ہو
آپ ﷺ نے فرمایا: پھر میں چلا تو میں نے کچھ عورتیں دیکھیں جن کی چھاتیوں سے لٹکایا گیا تھا۔ میں نے پوچھا: اے جبرائیل! یہ کون ہیں؟ انہوں نے کہا: یہ وہ عورتیں ہیں جو اپنی اولاد کو قتل کرتی تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر میں چلا یہاں تک کہ میں فرعون والوں کے راستے پر پہنچا۔ میں نے کچھ لوگ دیکھے جن کے پیٹ گھرونڈے کی طرح تھے۔ جب فرعون والوں کو صبح وشام دوزخ پر پیش کیا جاتا ہے تو انہیں فرعون والوں کے سامنے چت لٹا دیا جاتا ہے اور فرعون والے اپنے پیروں سے انہیں روندتے ہیں۔ میں نے پوچھا: اے جبرائیل! یہ کون لوگ ہیں؟ انہوں نے کہا: یہ سود کھانے والے ہیں۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (سورۃ البقرہ کی آیت 275) تلاوت فرمائی: "جو لوگ سود کھاتے ہیں وہ (قیامت کے دن) اس شخص کی طرح نہیں اٹھیں گے جسے شیطان نے چھو کر پاگل بنا دیا ہو
جب فرعون والوں کو دوزخ پر پیش کیا جاتا ہے تو وہ کہتے ہیں: اے ہمارے رب! قیامت قائم نہ کر، اللہ کے عذاب کو دیکھ کر۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر ہمیں دوسرے آسمان پر لے جایا گیا۔ جبرائیلؑ نے دروازہ کھلوانے کی درخواست کی۔ پوچھا گیا: تم کون ہو؟ انہوں نے کہا: جبرائیل۔ پوچھا گیا: تمہارے ساتھ کون ہے؟ انہوں نے کہا: محمد ﷺ۔ پوچھا گیا: کیا انہیں پیغمبر بنا کر بھیجا گیا ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں، انہیں بھیجا گیا ہے۔ پھر ہمارے لیے دروازہ کھول دیا گیا۔ میں نے یوسف علیہ السلام کو دیکھا، انہیں آدھی خوبصورتی دی گئی تھی۔ میں نے پوچھا: اے جبرائیل! یہ کون ہیں؟ انہوں نے کہا: یہ تمہارے بھائی یوسف علیہ السلام ہیں۔ انہوں نے میرا استقبال کیا اور میرے لیے بھلائی کی دعا فرمائی۔ پھر ہمیں تیسرے آسمان پر لے جایا گیا۔ جبرائیلؑ نے دروازہ کھلوانے کی درخواست کی۔ پوچھا گیا: تم کون ہو؟ انہوں نے کہا: جبرائیل۔ پوچھا گیا: تمہارے ساتھ کون ہے؟ انہوں نے کہا: محمد۔ پوچھا گیا: کیا انہیں پیغمبر بنا کر بھیجا گیا ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں، انہیں بھیجا گیا ہے۔ پھر ہمارے لیے دروازہ کھول دیا گیا۔ میں نے چچا زاد بھائیوں یحییٰ اور عیسیٰ علیہما السلام کو دیکھا۔ انہوں نے میرا استقبال کیا اور میرے لیے بھلائی کی دعا فرمائی۔ پھر ہمیں چوتھے آسمان پر لے جایا گیا۔ جبرائیلؑ نے دروازہ کھلوانے کی درخواست کی۔ پوچھا گیا: تم کون ہو؟ انہوں نے کہا: جبرائیل۔ پوچھا گیا: تمہارے ساتھ کون ہے؟ انہوں نے کہا: محمد۔ پوچھا گیا: کیا انہیں پیغمبر بنا کر بھیجا گیا ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں، انہیں بھیجا گیا ہے۔ پھر ہمارے لیے دروازہ کھول دیا گیا۔ میں نے ادریس علیہ السلام کو دیکھا۔ انہوں نے میرا استقبال کیا اور میرے لیے بھلائی کی دعا فرمائی۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (سورۃ مریم کی آیت 57) تلاوت فرمائی: "اور ہم نے انہیں ایک بلند مقام پر اٹھا لیا
آپ ﷺ نے فرمایا: پھر ہمیں پانچویں آسمان پر لے جایا گیا۔ جبرائیلؑ  نے دروازہ کھلوانے کی درخواست کی۔ پوچھا گیا: تم کون ہو؟ انہوں نے کہا: جبرائیل۔ پوچھا گیا: تمہارے ساتھ کون ہے؟ انہوں نے کہا: محمد۔ پوچھا گیا: کیا انہیں پیغمبر بنا کر بھیجا گیا ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں، انہیں بھیجا گیا ہے۔ پھر ہمارے لیے دروازہ کھول دیا گیا۔ میں نے ہارون علیہ السلام کو دیکھا۔ میں نے ان سے زیادہ کسی کی پیروی کرنے والے نہیں دیکھے۔ ان کی داڑھی دو حصوں میں تھی: ایک حصہ سیاہ اور ایک حصہ سفید۔ میں نے پوچھا: اے جبرائیل! یہ کون ہیں؟ انہوں نے کہا: یہ اپنی قوم میں محبوب ہیں۔ انہوں نے میرا استقبال کیا اور میرے لیے بھلائی کی دعا فرمائی۔ پھر ہمیں چھٹے آسمان پر لے جایا گیا۔ جبرائیلؑ نے دروازہ کھلوانے کی درخواست کی۔ پوچھا گیا: کون؟ انہوں نے کہا: جبرائیل۔ پوچھا گیا: تمہارے ساتھ کون ہے؟ انہوں نے کہا: محمد۔ پوچھا گیا: کیا انہیں پیغمبر بنا کر بھیجا گیا ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ پھر ہمارے لیے دروازہ کھول دیا گیا۔ میں نے موسیٰ علیہ السلام کو دیکھا۔ انہوں نے میرا استقبال کیا اور میرے لیے بھلائی کی دعا فرمائی۔ موسیٰ علیہ السلام نے کہا: بنی اسرائیل یہ سمجھتے ہیں کہ میں اللہ کے نزدیک مخلوق میں سب سے زیادہ معزز ہوں، لیکن یہ (محمد ﷺ) مجھ سے بھی زیادہ معزز ہیں۔ اگر یہ صرف ایک ہی ہوتے تو مجھے کوئی تکلیف نہ ہوتی، لیکن ان کے ساتھ ان کی امت کے لوگ بھی ہیں۔ پھر ہمیں ساتویں آسمان پر لے جایا گیا۔ جبرائیلؑ نے دروازہ کھلوانے کی درخواست کی۔ پوچھا گیا: تم کون ہو؟ انہوں نے کہا: جبرائیل۔ پوچھا گیا: تمہارے ساتھ کون ہے؟ انہوں نے کہا: محمد۔ پوچھا گیا: کیا انہیں پیغمبر بنا کر بھیجا گیا ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں، انہیں بھیجا گیا ہے۔ پھر ہمارے لیے دروازہ کھول دیا گیا۔ میں نے ایک بوڑھے شخص کو دیکھا جس کے سر اور داڑھی کے بال سفید تھے۔ وہ بیت المعمور کے سہارے کھڑے تھے۔ ہر روز ستر ہزار فرشتے اس میں داخل ہوتے ہیں اور پھر وہ واپس نہیں آتے۔ میں نے پوچھا: اے جبرائیل! یہ کون ہیں؟ انہوں نے کہا: یہ تمہارے والد ابراہیم علیہ السلام ہیں۔ انہوں نے میرا استقبال کیا اور میرے لیے بھلائی کی دعا فرمائی اور کہا: اے محمد! یہ تمہاری اور تمہاری امت کی جگہ ہے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (سورۃ آل عمران کی آیت 68) تلاوت فرمائی: "بے شک ابراہیم کے سب سے زیادہ حق دار وہ لوگ ہیں جنہوں نے ان کی پیروی کی اور یہ نبی اور وہ لوگ جو ایمان لائے، اور اللہ مومنوں کا کارساز ہے
پھر میں بیت المعمور میں داخل ہوا اور وہاں نماز پڑھی۔ پھر میں نے دیکھا کہ میری امت دو حصوں میں ہے: ایک حصے پر خاک آلود کپڑے ہیں اور دوسرے حصے پر سفید کپڑے ہیں۔ جن پر سفید کپڑے تھے وہ داخل ہو گئے اور دوسرے روک لیے گئے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: پھر جبرائیلؑ سدرۃ المنتہیٰ کی طرف گئے۔ اس کے ایک پتے سے اگر اس امت کو ڈھانپا جائے تو وہ سب کو ڈھانپ لے۔ میں نے دیکھا کہ سلسبیل (ایک چشمہ) اس کی جڑ سے پھوٹ رہا ہے، دو نہریں ہیں: رحمت کی نہر اور کوثر کی نہر۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے رحمت کی نہر میں غسل کیا تو میرے پچھلے اور آئندہ کے تمام گناہ معاف ہو گئے اور مجھے کوثر عطا کی گئی۔ میں اس پر چلا یہاں تک کہ وہ جنت میں پھوٹ نکلی۔ میں نے جنت میں دیکھا، اس کے پرندے اونٹ کی طرح بڑے تھے، اس کے انار کا ایک انار خالی اونٹ کی کھال جتنا بڑا تھا۔ میں نے ایک لونڈی دیکھی تو میں نے پوچھا: اے لونڈی! تم کس کی ہو؟ اس نے کہا: زید بن حارثہ کی۔ میں نے زید کو اس کی خوشخبری سنائی۔ جنت میں وہ سب کچھ ہے جو نہ کسی آنکھ نے دیکھا، نہ کسی کان نے سنا اور نہ کسی انسان کے دل پر اس کا خیال گزرا۔ میں نے دوزخ کی طرف دیکھا تو اللہ کا عذاب بہت سخت تھا، پتھر اور لوہا بھی اس کے سامنے ٹھہر نہ سکے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر میں کوثر کی طرف واپس آیا یہاں تک کہ سدرۃ المنتہیٰ پر پہنچا۔ اسے اللہ کے حکم سے وہ چیز ڈھانپ گئی جو ڈھانپ گئی۔ اس کے ہر پتے پر ایک فرشتہ بیٹھ گیا۔ اللہ نے اسے اپنی طاقت سے تقویت دی اور مجھ پر جو کچھ وحی کرنا تھا کر دیا۔ اور مجھ پر ہر دن اور رات میں پچاس نمازیں فرض کی گئیں۔ میں واپس اترا یہاں تک کہ موسیٰ علیہ السلام کے پاس پہنچا۔ انہوں نے پوچھا: آپ کے رب نے آپ کی امت پر کیا فرض کیا ہے؟ میں نے کہا: ہر دن اور رات میں پچاس نمازیں۔ انہوں نے کہا: آپ کی امت اس کی طاقت نہیں رکھتی، میں نے بنی اسرائیل کو آزمایا ہے اور انہیں خوب جانچا ہے۔ آپ اپنے رب کے پاس واپس جائیں اور اپنی امت کے لیے تخفیف طلب کریں۔ میں واپس گیا اور کہا: اے میرے رب! میری امت کے لیے تخفیف فرما دے۔ تو میرے سے پانچ نمازیں کم کر دی گئیں۔ میں موسیٰ علیہ السلام کے پاس واپس آیا۔ انہوں نے پوچھا: آپ نے کیا کیا؟ میں نے کہا: میرے سے پانچ نمازیں کم کر دی گئیں۔ انہوں نے کہا: آپ کی امت اس کی بھی طاقت نہیں رکھتی، آپ اپنے رب کے پاس واپس جائیں اور تخفیف طلب کریں۔ میں واپس گیا اور کہا: اے میرے رب! میری امت کے لیے تخفیف فرما دے۔ تو میرے سے پانچ نمازیں کم کر دی گئیں۔ میں برابر اپنے رب اور موسیٰ علیہ السلام کے درمیان آتا جاتا رہا اور ہر بار پانچ نمازیں کم ہوتی رہیں یہاں تک کہ مجھ پر ہر دن اور رات میں پانچ نمازیں فرض کی گئیں۔ اللہ نے فرمایا: اے محمد! میرے ہاں بات بدلی نہیں جاتی۔ یہ پانچ نمازیں ہیں، ہر نماز کے دس گنا ثواب ہے، سو یہ پچاس نمازوں کے برابر ہیں۔ اور جو شخص نیکی کا ارادہ کرے اور اسے نہ کرے تو اس کے لیے ایک نیکی لکھی جاتی ہے، اگر وہ اسے کرے تو دس گنا تک لکھی جاتی ہے۔ اور جو شخص برائی کا ارادہ کرے اور اسے نہ کرے تو اس پر کچھ نہیں لکھا جاتا، اگر وہ اسے کرے تو صرف ایک برائی لکھی جاتی ہے۔ میں موسیٰ علیہ السلام کے پاس واپس آیا اور انہیں بتایا۔ انہوں نے کہا: اپنے رب کے پاس واپس جائیں اور اپنی امت کے لیے تخفیف طلب کریں۔ میں نے کہا: میں اپنے رب کے پاس بار بار جا چکا ہوں، اب مجھے شرم آتی ہے۔"

[مسند الحارث:27، (تفسير عبد الرزاق:1527) ]

حاصل شدہ اسباق و نکات:
  1. معراج النبی ﷺ ایک عظیم معجزہ: یہ واقعہ نبی اکرم ﷺ کا ایک روحانی اور جسمانی سفر تھا جو اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ اور نبی ﷺ کے بلند مقام کی نشانی ہے۔
  2. امتحان اور راہِ حق پر ثابت قدمی: راستے میں یہودیت، نصرانیت اور دنیا کی طرف بلانے والی آوازوں سے صرفِ نظر کرنا یہ تعلیم دیتا ہے کہ مسلمان کو ہر قسم کے فتنوں اور گمراہ کن دعوتوں سے بچنا چاہیے اور صرف دینِ اسلام پر ثابت قدم رہنا چاہیے۔
  3. انبیاء کرام ؑ سے ملاقات اور ان کے مقامات: مختلف آسمانوں پر انبیاء کرام ؑ سے ملاقات اور ان کے مخصوص مقامات کا تذکرہ انبیاء ؑ کے درجات اور ان کی عظمت کو ظاہر کرتا ہے۔
  4. آخرت کے مناظر اور ان کی تنبیہ: جنت کے انعامات، دوزخ کے عذابات اور مختلف گناہوں (جیسے زنا، یتیم کا مال کھانا، غیبت، سود خوری) کے انجام کو دیکھا گیا۔ یہ لوگوں کے لیے شدید تنبیہ ہے کہ وہ گناہوں سے بچیں اور نیک اعمال کی طرف راغب ہوں۔
  5. نمازوں کی فرضیت اور اس کی برکت: پانچ وقت کی نماز کا فرض ہونا اور ثواب میں پچاس نمازوں کے برابر ہونا نماز کی اہمیت، فضیلت اور اس کے بے پناہ ثواب پر دلالت کرتا ہے۔
  6. اللہ کی رحمت اور تخفیف: نبی اکرم ﷺ کا اپنی امت کی خاطر بار بار اللہ سے تخفیف طلب کرنا اور اللہ کا اپنے بندے پر شفقت و رحمت کا اظہار، بندوں کے لیے امید اور اللہ کی رحمت کی وسعت کا پیغام دیتا ہے۔
  7. نیت کی اہمیت: نیک نیت کا ثواب اور بری نیت پر مواخذہ نہ ہونا (جب تک عمل نہ کیا جائے) نیت کی پاکیزگی اور احتسابِ نفس کی تربیت دیتا ہے۔
  8. امت محمدیہ کی فضیلت: بیت المعمور میں امت کے دو گروہوں کا دیدار اور ابراہیم علیہ السلام کا یہ کہنا کہ "یہ تمہاری اور تمہاری امت کی جگہ ہے" امت محمدیہ کے بلند مقام اور فضیلت پر دلالت کرتا ہے۔
  9. توحید کی دعوت کا تسلسل: تمام انبیاء کرام ؑ کا نبی اکرم ﷺ کو خیرمقدم کرنا اور دعا دینا یہ ظاہر کرتا ہے کہ تمام انبیاء ؑ کی دعوت ایک تھی اور وہ توحید اور اللہ کی عبادت کی دعوت تھی۔
  10. حضور ﷺ کی شفقتِ امت: پوری حدیث میں نبی اکرم ﷺ کی اپنی امت کے لیے فکر، ان کی آسانی کے لیے کوشش اور ان کی بخشش کی تمنا جھلکتی ہے جو آپ ﷺ کی عظیم محبت اور شفقت کی غماز ہے۔



حدیثِ ابن عباس:

اسراء و معراج کے مکمل واقعہ :

1. اسناد اور ابتدائیہ

اور ہمیں حسن بن محمد بن جعفر (1) نے بتایا، کہا: ہمیں (2) حسن بن محمد بن ہارون (3) نے بتایا، کہا: ہمیں احمد بن محمد بن نصر (4) نے بتایا، کہا: ہمیں یوسف السعدی (5) نے بتایا، کہا: ہمیں السدی (6) نے محمد بن السائب (7) سے، انہوں نے باذان (8) سے، اور انہوں نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما (9) سے روایت کیا (اور انہوں نے رسول اللہ ﷺ (1) سے)۔ (دوسری روایت کے) کچھ الفاظ پہلی روایت میں شامل کر دیے گئے ہیں اور راویوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

(حواشی کی تشریح)

· (1 تا 8): یہ روایت کا سلسلہٴ سند (اسناد) ہے جس میں مختلف راویوں کے نام ہیں۔ حواشی میں ان کے حالات (ثقہ، ضعیف ہونے) کے بارے میں مختصراً اشارہ کیا گیا ہے۔
· (9): اس سند کے راویوں میں السدی اور محمد بن السائب (الکلبی) جیسے ضعیف قرار دیے گئے راوی ہیں، اس لیے یہ روایت اس سند سے کمزور ہے۔ لیکن یہ واقعہ صحیح بخاری و مسلم جیسی مستند کتابوں میں متعدد دیگر مضبوط سندوں سے بھی مروی ہے، جیسا کہ حاشیہ میں بتایا گیا ہے۔ لہٰذا، واقعہٴ معراج کا ثبوت قطعی اور یقینی ہے، البتہ اس تفصیلی بیان کے بعض اجزاء دیگر صحیح روایات سے ملتے جلتے ہیں اور بعض انفرادی طور پر اس سند میں آئے ہیں۔
· بنیادی بات یہ ہے کہ اسراء و معراج کا واقعہ اسلام کے مسلّمہ عقائد میں سے ہے جو قرآن پاک (سورہٴ بنی اسرائیل اور النجم) اور متواتر صحیح احادیث سے ثابت ہے۔

---

2. مکمل روایتِ معراج

(رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:)
"جب وہ رات آئی جس میں مجھے سیر کرائی گئی، اور میں مکہ میں نیند اور جاگتے کے درمیان (یعنی اونگھ کی حالت میں) تھا، تو میرے پاس جبرائیلؑ آئے اور (3) کہا: 'اے محمد (ﷺ)! اٹھیے۔' تو میں کھڑا ہو گیا۔ دیکھا تو جبرائیل کے ساتھ میکائیل علیہما السلام بھی تھے۔ جبرائیلؑ نے میکائیلؑ سے کہا: 'میرے لیے زمزم کے پانی سے ایک طشت لے آؤ تاکہ میں ان کا دل پاک کروں اور ان کا سینہ کشادہ کروں۔'

آپ ﷺ نے فرمایا: پھر (جبرائیلؑ) نے میرا سینہ چیرا اور اسے تین بار دھویا۔ میکائیلؑ زمزم کے پانی سے تین طشت (4) لے کر آتے رہے۔ پھر انہوں نے میرا سینہ چیر کر کشادہ کیا اور اس میں سے جو کدورت تھی نکال دی، اور اسے حکمت، علم، ایمان سے بھر دیا اور میرے دونوں شانوں کے درمیان مہرِ نبوت لگا دی۔

پھر جبرائیلؑ نے میرا ہاتھ پکڑا یہاں تک کہ مجھے زمزم کے حوض تک لے گئے اور فرشتے سے کہا: 'میرے لیے زمزم اور کوثر کے پانی سے ایک بڑا ڈول (1) لے آؤ۔' پھر مجھ سے کہا: 'وضو کرو۔' میں نے وضو کیا۔ پھر مجھ سے کہا: 'اے محمد! چلو۔' میں نے پوچھا: 'کہاں؟' کہا: 'اپنے رب اور ہر چیز کے رب کی طرف۔'

پھر انہوں نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے مسجد سے باہر لے گئے۔ دیکھا تو براق موجود تھی، اور وہ (2) گدھے سے بڑی اور خچر سے چھوٹی سواری تھی، اس کا رخسار انسان کے رخسار جیسا، دم اونٹ کی دم جیسی، یال گھوڑے کی یال جیسی، ٹانگیں اونٹ کی ٹانگوں جیسی، کھر گائے کے کھروں جیسے، اس کا سینہ گویا سرخ یاقوت ہے اور پیٹھ گویا سفید موتی ہے، اس پر جنت کی زین کا ایک کاٹھی تھا، اور اس کی رانوں میں دو پر تھے۔ بجلی کی طرح اس کی ہر قدم کی حد اس کی نظر کی انتہا تک تھی۔

جبرائیلؑ نے کہا: 'سوار ہو جائیے۔' یہ وہی سواری ہے جو ابراہیمؑ کی تھی جس پر وہ بیت الحرام کی زیارت کو جاتے تھے۔ جب میں نے اس پر ہاتھ رکھا (4) تو اس نے سرکشی کی اور میرے لیے مشکل بن گئی۔ جبرائیلؑ نے کہا: 'اے براق! ٹھہر جا۔' براق بولا: 'اے جبرائیل! (کیا) بت پر ہاتھ لگایا ہے؟' جبرائیلؑ نے مجھ سے پوچھا: 'اے محمد! کیا آپ نے بت کو ہاتھ لگایا ہے؟' میں نے (1) کہا: 'نہیں، اللہ کی قسم! مگر (2) میں ایک دن 'اساف' (3) اور 'نائلہ' (نامی بتوں) کے پاس سے گزرا تو میں نے ان کے سروں پر ہاتھ پھیرا اور کہا: 'بے شک وہ قوم جو تمہیں پوجتی ہے اللہ کے نزدیک گمراہی میں ہے۔'

جبرائیلؑ نے کہا: 'اے براق! کیا تمہیں شرم نہیں آتی؟ اللہ کی قسم! تم پر جب سے میں نے سوار ہونا شروع کیا، اللہ عزوجل کے نزدیک محمد ﷺ سے زیادہ مکرم کوئی نبی تم پر سوار نہیں ہوا۔'
آپ ﷺ نے فرمایا: پھر براق کانپ گیا اور مجھ سے شرم کے مارے پسینہ بہہ نکلا۔ پھر وہ میرے لیے جھک گیا یہاں تک کہ زمین سے لگ گیا۔ میں نے اس پر سوار ہو کر اپنا توازن قائم کیا۔ پھر جبرائیلؑ مجھے مسجد اقصیٰ کی طرف لے کر چلے، براق کی ہر قدم نظر کے آخری کنارے تک پہنچتی تھی اور جبرائیل میرے پہلو میں تھے، نہ وہ مجھ سے آگے نکلتے نہ میں ان سے۔

راستے میں تین آزمائشیں:
اچانک میں نے سفر میں اپنے دائیں جانب سے آواز سنی، جس نے کہا: 'اے محمد! ذرا رک جاؤ۔' اس نے یہ تین بار کہا۔ میں نے اس کی طرف التفات نہیں کیا (یہاں تک کہ میں آگے بڑھ گیا پھر بڑھتا رہا یہاں تک کہ) (5) میں اس سے آگے نکل گیا۔ پھر میں نے بائیں جانب سے (ایسی ہی آواز سنی اور) (6) اس نے مجھ سے کہا: 'اے محمد! ذرا رک جاؤ۔' (اس نے یہ تین بار کہا) (7)۔ میں نے اس کی طرف التفات نہیں کیا (پھر میں آگے بڑھ گیا یہاں تک کہ) (8) میں اس سے آگے نکل گیا۔ پھر میں نے ایک بوڑھی عورت دیکھی، جس نے میرے سامنے ہر طرح کی زینت اور خوبصورتی ظاہر کی، وہ کہہ رہی تھی: 'اے محمد! میری طرف آؤ۔' میں نے اس کی طرف مڑ کر نہیں دیکھا۔

جب میں اس سے آگے نکل گیا تو میں نے جبرائیلؑ سے پوچھا: 'اے جبرائیل! یہ کون تھا جس نے مجھے دائیں جانب سے پکارا؟' انہوں نے کہا: 'یہودیوں کی دعوت دینے والا (شیطان)۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر آپ اس کی بات مان لیتے تو آپ کی امت آپ کے بعد یہودی ہو جاتی۔ اور جس نے آپ کو بائیں جانب (1) سے پکارا، وہ عیسائیوں کی دعوت دینے والا (شیطان) ہے۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر آپ اس کی بات مان لیتے تو آپ کی امت آپ کے بعد عیسائی ہو جاتی۔ اور جس نے آپ کی طرف (2) اپنی خوبصورتی اور زینت ظاہر کی، وہ دنیا ہے۔ اگر آپ اس کی طرف مڑ جاتے (3) تو آپ کی امت آخرت پر دنیا کو ترجیح دیتی۔'

دودھ اور شراب کا انتخاب:
پھر میرے سامنے دو برتن لائے گئے، ایک میں دودھ تھا اور دوسرے میں شراب۔ مجھ سے کہا گیا: 'جسے چاہیے پی لو۔' میں نے دودھ لے کر پیا۔ جبرائیلؑ نے کہا: 'آپ نے اور آپ کی امت نے فطرتِ سلیمہ کو پا لیا۔ اگر آپ شراب لے لیتے تو آپ کے بعد آپ کی امت گمراہ ہو جاتی (4)۔'

راستے میں مختلف مناظر اور ان کی تفسیر:

· ایک قوم جو دن میں ہی کاشت کرتی اور کاٹتی ہے: یہ اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے ہیں، ان کے لیے نیکی سات سو گنا بڑھا دی جاتی ہے۔ (پھر انہوں نے یہ آیت پڑھی: {اور تم جو کچھ بھی خرچ کرتے ہو وہ اس کا بدلہ دیتا ہے، اور وہ سب سے بہتر رزق دینے والا ہے} (6) )۔
· ایک قوم جن کے سروں کو پتھر سے کچلا جا رہا ہے: یہ وہ لوگ ہیں جو فرض نمازوں سے اپنے سروں کو بھاری محسوس کرتے تھے (2)۔
· ایک قوم جن کے آگے اور پیچھے پھٹے ہوئے کپڑے ہیں: یہ وہ ہیں جو اپنے مالوں کی زکوٰۃ ادا نہیں کرتے۔
· ایک قوم کے پاس ایک ہانڈی میں پکا ہوا اچھا گوشت ہے اور دوسرا خراب گوشت، وہ خراب کھا رہے ہیں: یہ وہ مرد اور عورت ہیں جو حلال، پاکیزہ شریک حیات کو چھوڑ کر حرام، خراب شخص کے پاس جا کر رات گزارتے ہیں (9,10,1)۔
· راستے میں ایک لکڑی جو ہر کپڑے کو پھاڑ دیتی ہے: یہ تمہاری امت کے وہ لوگ ہیں جو راستوں پر بیٹھ کر (لوگوں کو) روکتے اور راستہ کاٹتے ہیں۔ (پھر جبرائیلؑ نے یہ آیت تلاوت کی: {اور ہر راستے پر نہ بیٹھا کرو (لوگوں کو) دھمکاتے ہوئے اور اللہ کی راہ سے روکتے ہوئے} (6) )۔
· ایک آدمی بہت بڑا گٹھر اٹھائے ہوئے ہے اور اور وزن بڑھا رہا ہے: یہ تمہاری امت کا وہ شخص ہے جس پر لوگوں کی امانتیں ہیں، وہ انہیں ادا نہیں کر سکتا اور (امانتیں) وصول کرتا چلا جاتا ہے (10)۔
· ایک قوم جن کی زبانوں اور ہونٹوں کو لوہے کی قینچیوں سے کاٹا جا رہا ہے: یہ فتنہ پرور خطباء ہیں (2)۔
· ایک چھوٹے سوراخ سے ایک بڑا سانڈ نکلتا ہے اور پھر واپس جانا چاہتا ہے مگر نہیں جا سکتا: یہ تمہاری امت کا وہ شخص ہے جو بڑی (سخت) بات کہہ دیتا ہے، پھر اس پر پچھتاتا ہے مگر (اسے واپس) نہیں لوٹا سکتا (5)۔

جنت اور دوزخ کی آوازیں:
پھر میں ایک وادی میں پہنچا، وہاں خوشگوار، ٹھنڈی (6) ہوا اور ایک آواز سنائی دی۔ (میں نے پوچھا: یہ خوشگوار ہوا اور یہ آواز کیا ہے؟) (7) جبرائیلؑ نے کہا: یہ جنت کی آواز ہے، وہ اپنے رب سے کہہ رہی ہے: 'اے میرے رب! مجھے وہ (چیز) عطا فرما جس کا تو نے مجھ سے وعدہ فرمایا ہے۔ بے شک میرے محلات، میرے استبرق (ریشمی کپڑے) اور سندس (باریک ریشم)، میرے یاقوت، موتی، مرجان، چاندی، سونے کے برتن، کوزے، صراحے، بکثرت پھل، شہد، دودھ، شراب اور پانی بہت زیادہ ہو گئے ہیں۔ پس مجھے وہ (لوگ) دے دے جس کا تو نے مجھ سے وعدہ فرمایا تھا۔'

(اللہ تعالیٰ نے) فرمایا: 'تیرے لیے ہر مومن مرد اور مومنہ عورت ہے جس نے مجھ پر اور میرے رسولوں پر ایمان لایا، نیک عمل کیا، اس نے میرے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرایا اور میرے سوا کسی کو معبود نہیں بنایا۔ اور جو مجھ سے ڈرا، وہ امن میں ہے، اور جس نے مجھ سے مانگا، میں نے اسے دیا، اور جس نے مجھ پر قرض (یعنی نیکی) کیا، میں نے اسے چکا دیا، اور جس نے مجھ پر توکل کیا، میں نے اسے کافی ہو گیا۔ بے شک میں ہی اللہ ہوں، میرے سوا کوئی معبود نہیں، میں وعدہ خلافی نہیں کرتا۔' (پھر اللہ نے یہ آیات تلاوت فرمائیں) {یقیناً فلاح پا گئے مؤمنین} سے لے کر (3) {پس بڑی برکت والا ہے اللہ، جو سب سے بہتر پیدا فرمانے والا ہے} (4) تک۔
جنت نے کہا: 'میں راضی ہو گئی۔'

پھر میں ایک اور وادی میں پہنچا، وہاں سے ایک بری آواز سنائی دی اور بدبو دار ہوا محسوس ہوئی۔ میں نے پوچھا: 'اے جبرائیل! یہ کیا ہے؟' انہوں نے کہا: یہ دوزخ کی آواز ہے، وہ اپنے رب سے کہہ رہی ہے: 'اے میرے رب! مجھے وہ (چیز) دے دے جس کا تو نے مجھ سے وعدہ فرمایا ہے۔ بے شک میری زنجیریں، بیڑیاں، شعلے، 'ضریع' اور 'زقوم' (دوزخ کے کانٹے دار پودے)، میرا کھولتا ہوا پانی، میرا پیپ بھرا پانی بہت زیادہ ہو گیا ہے، میری گہرائی بہت دور ہو گئی ہے اور میری گرمی بہت سخت ہو گئی ہے۔ پس مجھے وہ (لوگ) دے دے جس کا تو نے مجھ سے وعدہ فرمایا تھا۔'

(اللہ تعالیٰ نے) فرمایا: 'تیرے لیے ہر مشرک مرد اور عورت، ہر کافر مرد اور عورت، ہر برا مرد اور بری عورت، اور ہر وہ متکبر جو روزِ حساب پر ایمان نہیں رکھتا۔'
دوزخ نے کہا: 'میں راضی ہو گئی۔'

بیت المقدس میں نماز اور انبیاء کی امامت:
پھر جبرائیلؑ میرے ساتھ چلے اور مجھ سے کہا: 'اُترو اور نماز پڑھو۔' میں نے (6) کہا: تو میں اترا اور نماز پڑھی۔ انہوں نے کہا: 'کیا آپ جانتے ہیں کہ کہاں نماز پڑھی ہے؟ آپ نے 'طیبہ' (مدینہ منورہ) میں نماز پڑھی ہے، اور ان شاء اللہ اسی کی طرف ہجرت ہوگی۔'
پھر انہوں نے کہا: 'اُترو اور نماز پڑھو۔' میں اترا اور نماز پڑھی۔ انہوں نے کہا: 'کیا آپ جانتے ہیں کہ کہاں نماز پڑھی ہے؟ آپ نے 'طور سینا' پر نماز پڑھی ہے، جہاں اللہ تعالیٰ نے موسیٰؑ سے (براہِ راست) کلام فرمایا تھا۔'
پھر انہوں نے کہا: 'اُترو اور نماز پڑھو۔' میں اترا اور نماز پڑھی۔ انہوں نے کہا: 'کیا آپ جانتے ہیں کہ کہاں نماز پڑھی ہے؟ آپ نے 'بیت لحم' میں نماز پڑھی ہے، جہاں عیسیٰؑ کی ولادت ہوئی تھی۔'

پھر ہم چل پڑے یہاں تک کہ بیت المقدس پہنچے۔ جب میں اس کے قریب پہنچا تو میں نے فرشتوں کو دیکھا جو آسمان سے اتر رہے تھے اور رب العزت کے حکم سے مجھے بشارت اور عزت کے ساتھ استقبال کر رہے تھے۔ وہ مجھ سے کہہ رہے تھے: 'السلام علیک اے اول، اے آخر اور اے حاشر (جمع کرنے والے)!'
میں نے (1) جبرائیلؑ سے پوچھا: 'یہ میرے لیے کیا سلام ہے؟' انہوں نے کہا: 'بے شک آپ پہلے شخص ہیں جن کی قبر شق ہوگی اور آپ کی امت کی (بھی)۔ اور آپ پہلے سفارش کرنے والے اور پہلے جس کی سفارش قبول ہوگی والے ہیں۔ اور آپ آخری نبی ہیں اور (قیامت کے دن) حشر آپ ہی سے آپ کی امت کے ساتھ ہوگا۔'

پھر ہم ان سے آگے بڑھے یہاں تک کہ مسجد کے دروازے پر پہنچے۔ جبرائیلؑ نے مجھے اُتارا اور براق کو اس کڑے میں باندھا جس میں پہلے انبیاء علیہم السلام (اپنی سواریاں) باندھتے تھے، اس کی لگام جنت کے ریشم سے تھی۔

جب میں دروازے سے اندر داخل ہوا تو میں نے تمام انبیاء و مرسلین علیہم السلام کو دیکھا (اور ابو العالیہ کی روایت میں ہے: وہ انبیاء کی روحیں تھیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے مجھ سے پہلے آدمؑ سے لے کر ادریس، نوح علیہما السلام ہوتے ہوئے عیسیٰؑ تک مبعوث فرمایا تھا) جنہیں اللہ عزوجل نے جمع کر رکھا تھا۔ انہوں نے مجھ پر سلام کیا اور فرشتوں کی طرح مجھے تحیت دی۔ میں نے جبرائیلؑ سے پوچھا: 'یہ کون ہیں؟' انہوں نے کہا: 'یہ آپ کے بھائی انبیاء علیہم السلام ہیں۔ قریش نے گمان کیا کہ اللہ عزوجل کا کوئی شریک ہے، اور یہود و نصاریٰ نے گمان کیا کہ اللہ سبحانہ کا بیٹا ہے۔ پس آپ ان مرسلین علیہم السلام سے پوچھیے: کیا اللہ سبحانہ کا کوئی شریک تھا؟' یہی وہ (موقع) ہے جس کی طرف اللہ عزوجل کے اس قول میں اشارہ ہے: {اور آپ پوچھ لیجیے ہماری طرف سے آپ سے پہلے جو رسول بھیجے ہم نے ان سے، کیا ہم نے الرحمن کے سوا عبادت کے لیے کوئی اور معبود بنا رکھے تھے؟} (43:45)۔ پس انہوں (سب انبیاء) نے اللہ جل ثناؤہ کی ربوبیت کا اقرار کیا۔

پھر اللہ تعالیٰ نے انہیں اور فرشتوں کو صف در صف جمع کیا، مجھے آگے کیا اور مجھے حکم دیا کہ میں ان کی امامت کروں۔ سو میں نے انہیں دو رکعت نماز پڑھائی۔

انبیاء علیہم السلام کی حمد و ثنا:
پھر انبیاء علیہم السلام نے اپنے رب کی حمد بیان کی:

· ابراہیمؑ نے کہا: 'تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے مجھے اپنا خلیل بنایا، مجھے عظیم بادشاہت عطا فرمائی، مجھے ایک فرمانبردار امت بنایا جس کی رہنمائی میرے ذریعے ہوتی ہے، مجھے آگ سے نجات دلائی اور اسے میرے لیے ٹھنڈی اور سلامتی والی بنا دیا۔'
· موسیٰؑ نے کہا: 'تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے، جس نے مجھ سے (براہِ راست) کلام فرمایا، آلِ فرعون کی ہلاکت کو میرے ہاتھ پر کردیا، بنی اسرائیل کو میرے ہاتھ پر نجات دی اور میری قوم میں سے ایک ایسی امت بنائی جو حق کے ساتھ ہدایت کرتی ہے اور اسی کے ساتھ انصاف کرتی ہے (1)۔'
· داؤدؑ نے کہا: 'تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے مجھے عظیم بادشاہت عطا فرمائی، مجھے زبور سکھائی، میرے لیے لوہا نرم کر دیا، پہاڑوں اور پرندوں کو میرے تابع کر دیا کہ وہ (اللہ کی) تسبیح کرتے ہیں، اور مجھے حکمت اور فیصلہ کن گفتگو عطا فرمائی۔'
· سلیمانؑ نے کہا: 'تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے ہواؤں کو میرے تابع کر دیا، شیاطین کی فوجیں میرے تابع کر دیں جو میرے لیے جیسے محراب اور مجسمے اور بڑی بڑی تھالیاں (جوابی) (2) بناتی تھیں، مجھے پرندوں کی بولی سکھائی، مجھے ہر چیز سے فضیلت عطا فرمائی اور مجھے ایسی عظیم بادشاہت دی جو میرے بعد کسی کے لیے مناسب نہیں، اور میری بادشاہت کو پاکیزہ بادشاہت بنایا جس پر کوئی حساب نہیں۔'
· عیسیٰؑ نے کہا: 'تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے، جس نے مجھے اپنی جانب سے ایک کلمہ بنایا، میری مثال آدمؑ جیسی رکھی جنہیں مٹی سے پیدا کیا پھر ان سے فرمایا 'ہو جا' تو وہ ہو گئے، مجھے کتاب، حکمت، تورات اور انجیل سکھائی، مجھے پیدائشی اندھے اور کوڑھی کو اچھا کرنے اور مردے کو زندہ کرنے کی قدرت عطا فرمائی (اللہ کے اذن سے)، مجھے اٹھا لیا، مجھے پاک ٹھہرایا، مجھے اور میری والدہ کو شیطانِ رجیم سے پناہ دی، پس شیطان کا ہم پر کوئی راستہ نہیں (1)۔'
· محمد ﷺ نے فرمایا: 'تم سب نے اپنے رب کی حمد بیان کی ہے، (اور میں بھی حمد) (2) بیان کرتا ہوں اپنے رب کی۔' پس آپ ﷺ نے فرمایا: 'تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے مجھے تمام جہانوں کے لیے رحمت اور تمام لوگوں کے لیے بشیر و نذیر بنا کر بھیجا (3)، میرے پر فرقان (قرآن) نازل فرمایا (4) جس میں ہر چیز کی وضاحت ہے، میری امت کو بہترین امت بنایا جو لوگوں (کی ہدایت) کے لیے نکالی گئی، میری امت کو درمیانی (اعتدال پسند) امت بنایا (6)، میری امت کو اول اور آخر بنایا، میرا سینہ کشادہ فرمایا، میرا بوجھ ہلکا فرمایا، میری شرف و عزت بلند فرمائی، مجھے شروع کرنے والا اور ختم کرنے والا بنایا۔'
  اس کے بعد ابراہیمؑ نے (7) فرمایا: 'اس (فضیلت) کے ساتھ ہی اے محمد! اللہ نے آپ کو فضیلت دی ہے۔'

تین ڈھکے ہوئے برتنوں کا معاملہ:
پھر تین ڈھکے ہوئے برتن میرے سامنے لائے گئے: ایک میں پانی تھا، مجھ سے کہا گیا: 'پی لو۔' میں نے تھوڑا سا پانی پیا۔ پھر میرے ہاتھ میں دوسرا برتن دیا گیا جس میں دودھ تھا، مجھ سے کہا گیا: 'پیو۔' میں نے اسے پی لیا یہاں تک کہ سیراب ہو گیا۔ پھر میرے ہاتھ میں تیسرا برتن دیا گیا جس میں شراب تھی، مجھ سے (8) کہا گیا: 'پیو۔' میں نے کہا: 'میں اسے نہیں چاہتا، میں سیراب ہو چکا ہوں۔'
جبرائیلؑ نے مجھ سے (1) کہا: 'آپ نے صحیح کیا۔ بے شک وہ (شراب) آپ کی امت پر حرام ہونے والی ہے (2)۔ اگر آپ اس میں سے پی لیتے تو آپ کے بعد آپ کی امت میں سے صرف تھوڑے ہی لوگ آپ کی پیروی کرتے (3)۔ اور اگر آپ پانی سے سیراب ہو جاتے تو آپ ڈوب جاتے اور آپ کی امت ڈوب جاتی۔'

آسمان کی طرف معراج:
پھر جبرائیلؑ نے میرا ہاتھ پکڑا (4) اور مجھے صخرہ (مسجدِ اقصیٰ کے قریب) کی طرف لے گئے اور مجھے اس پر چڑھا دیا۔ دیکھا تو آسمان کی طرف ایک معراج (5) تھا۔ میں نے اس جیسا کوئی خوبصورت اور خوشنما (درجہ) نہیں دیکھا تھا، کسی دیکھنے والے نے بھی کوئی چیز اس سے زیادہ خوبصورت نہیں دیکھی ہوگی۔ اسی پر فرشتے چڑھتے ہیں۔ اس کی بنیاد بیت المقدس کی چٹان پر ہے اور اس کا سر آسمان میں (چپکا ہوا ہے) (6)۔ اس کا ایک جانب سرخ یاقوت اور دوسری جانب سبز زبرجد ہے۔ ایک سیڑھی چاندی کی، ایک سونے کی اور ایک زمرد کی ہے۔ وہ موتیوں اور یاقوت سے جڑا ہوا ہے۔ یہ وہی معراج ہے جس سے موت کا فرشتہ روحیں قبض کرنے کے لیے ظاہر ہوتا ہے۔ جب تم اپنے مرنے والے کی آنکھوں کو (اوپر کی طرف) گھورتے دیکھو اور وہ (ہر چیز سے) بے خبر ہو جائے، تو یہ اس معراج کی خوبصورتی دیکھ کر ہوتا ہے (7)۔

پھر جبرائیلؑ نے مجھے اپنے پروں پر بٹھا لیا اور اس معراج کے ذریعے مجھے پہلے آسمان تک لے گئے اور دروازہ کھٹکھٹایا۔ ان سے (1) کہا گیا: 'کون ہے؟' انہوں نے کہا: 'میں جبرائیل ہوں۔' کہا گیا: 'اور آپ کے ساتھ کون ہے؟' انہوں نے کہا: 'محمد۔' کہا گیا: 'کیا محمد (ﷺ) مبعوث کر دیے گئے ہیں (2)؟' انہوں نے کہا: 'ہاں۔' ان سے (3) کہا گیا: 'انہیں خوش آمدید، اللہ انہیں حیاتِ طیبہ عطا فرمائے، وہ بھائی بھی ہیں اور خلیفہ بھی، پس وہ کیا ہی اچھے بھائی اور کیا ہی اچھے خلیفہ ہیں، اور کیا ہی اچھے آنے والے آئے ہیں۔' پھر دروازہ کھولا گیا اور ہم اندر داخل ہوئے۔

پہلے آسمان کے چند عجائبات:
میں (4) پہلے آسمان میں چل رہا تھا کہ میں نے ایک مرغ دیکھا، جس کے پر سفید تھے اور ان کے نیچے سبز ریشہ تھا (6)، اس کی سفیدی اس سے زیادہ سفید تھی (جیسی سفیدی میں نے) (7) کبھی دیکھی تھی، اور اس کے نیچے کا سبز ریشہ اس سے زیادہ سبز تھا جو میں نے کبھی دیکھا تھا۔ اس کے پاؤں ساتویں زمین کے طبقوں میں تھے اور اس کا سر عرش کے نیچے تھا، اس کی گردن عرش کے نیچے جھکی ہوئی تھی۔ اس کے مونڈھوں سے دو پر تھے، جب وہ انہیں پھیلاتا تو مشرق و مغرب کو پار کر جاتا۔ جب رات کا کچھ حصہ ہوتا تو وہ اپنے پر پھیلاتا اور انہیں پھڑپھڑاتا اور اللہ عزوجل کی تسبیح کے لیے پکارتا، کہتا: 'سبحان الملک القدوس الکبیر المتعال، لا الہ الا اللہ الحی القیوم۔' جب وہ ایسا کرتا تو زمین کے تمام مرغ تسبیح کرنے لگتے، اپنے پر پھڑپھڑاتے اور پکارنے (1) لگتے۔ جب وہ مرغ آسمان میں خاموش ہو جاتا تو زمین کے تمام مرغ خاموش ہو جاتے۔ پھر جب وہ (آسمان میں) اسی طرح (2) حرکت کرتا تو زمین کے تمام مرغ (3) اس کا جواب دیتے ہوئے اللہ عزوجل کی تسبیح کرتے اور اس کے قول کی طرح (تسبیح کرتے)۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: 'میں اس مرغ کو دوبارہ دیکھنے کے لیے مشتاق رہا۔'

پھر میں ایک فرشتے کے پاس سے گزرا جس کا آدھا جسم سر کی طرف سے آگ کا تھا اور آدھا برف کا تھا، اور ان کے درمیان اتصال (4) تھا۔ نہ آگ برف کو پگھلا سکتی تھی اور نہ برف آگ کو بجھا سکتی تھی۔ وہ کھڑا تھا اور ایک بلند آواز (5) سے پکار رہا تھا، کہہ رہا تھا: 'اے اللہ! جو برف اور آگ کے درمیان موافقت رکھتا ہے، میرے مؤمن بندوں کے دلوں کے درمیان موافقت پیدا فرما۔' میں نے جبرائیلؑ سے پوچھا: 'یہ کون ہے؟' انہوں نے کہا: 'یہ ایک فرشتہ ہے جسے 'حبیب' کہا جاتا ہے، اللہ تعالیٰ نے اسے آسمانوں کے کناروں اور زمین کے سروں کا مختار بنایا ہے۔ اہلِ زمین کے لیے اس سے زیادہ خیرخواہ کوئی نہیں، یہ اس کا قول ہے جب سے وہ پیدا کیا گیا۔'

ملک الموت سے ملاقات:
پھر (6) فرمایا: پھر میں ایک دوسرے فرشتے کے پاس سے گزرا جو ایک کرسی پر بیٹھا ہوا تھا، اس کی روح اس کے لیے جمع کر دی گئی تھی، اس پر حلقیں (پڑی ہوئی) تھیں، (تو) (1) میں نے کہا: 'اے ملک الموت! سبحان اللہ، آپ اپنی اس جگہ سے ہٹے بغیر تمام اہلِ زمین کی روحیں کیسے قبض کر سکتے ہیں؟' اس نے کہا: 'کیا تم نہیں دیکھتے کہ ساری دنیا میرے گھٹنوں کے درمیان ہے، اور تمام مخلوقات میری آنکھوں کے سامنے ہیں، اور میرے ہاتھ مشرق و مغرب اور ان کے پیچھے تک پہنچتے ہیں۔ پھر جب اللہ کے کسی بندے کی میعاد پوری ہو جاتی ہے تو میں اسے اور میرے مددگاروں (فرشتوں) کو دیکھتا ہوں۔ پھر جب میں (اپنے مددگار فرشتوں کی طرف دیکھتا ہوں کہ میں) (2) نے اس (بندے) کی طرف دیکھا ہے تو وہ جان جاتے ہیں کہ اس کی روح قبض کی جانی ہے، پھر وہ اس کی طرف بڑھتے ہیں اور اس کی روح نکالنے کی کوشش کرتے ہیں (3)۔ پھر جب روح حلقوم تک پہنچ جاتی ہے تو میں یہ جان لیتا ہوں، اور میرے کام سے کوئی چیز مجھ پر مخفی نہیں رہتی۔ پھر میں اس کی طرف اپنا ہاتھ بڑھاتا ہوں اور اسے قبض کر لیتا ہوں۔ اس کی روح قبض کرنا میرے سوا کوئی نہیں۔ پس یہی میرا طریقہ ہے اور اللہ کے بندوں میں سے ہر صاحبِ روح کے لیے میرا یہی معاملہ ہے۔' آپ ﷺ نے فرمایا: گویا میں اس وقت بھی اس کے پاس تھا اور اس کی یہ گفتگو سن رہا تھا۔

دوزخ کے داروغہ مالک سے ملاقات:
پھر ہم آگے بڑھے اور میں (4) ایک دوسرے فرشتے کے پاس سے گزرا۔ میں نے فرشتوں میں سے اس جیسا کوئی مخلوق نہیں دیکھا تھا۔ وہ تیور سُوار، کالا چہرہ، بدصورت صورت، سخت گرفت والا اور غصے سے بھرپور تھا۔ جب میں نے اسے دیکھا تو میں بہت زیادہ ڈر گیا۔ میں نے کہا: 'اے جبرائیل! یہ کون ہے؟ بے شک میں اس سے سخت خوفزدہ ہو گیا ہوں۔' انہوں نے کہا: 'آپ کا اس سے ڈرنا تعجب کی بات نہیں، ہم سب آپ ہی کی طرح اس سے ڈرتے ہیں۔ یہ مالک ہیں، دوزخ کے داروغہ (5)۔ انہوں نے کبھی مسکرایا نہیں ہے، اور جب سے اللہ تعالیٰ نے انہیں دوزخ کا نگران بنایا ہے، وہ ہر روز اللہ عزوجل کے دشمنوں اور اس کی نافرمانی کرنے والوں پر انتقام لینے کے لیے غصے اور طیش میں زیادہ ہوتے چلے جاتے ہیں۔'
میں نے کہا: 'مجھے اس کے قریب لے چلیں۔' تو انہوں نے مجھے اس کے قریب کیا۔ جبرائیلؑ نے اسے سلام کیا تو اس نے اپنا سر نہیں اٹھایا۔ جبرائیلؑ نے کہا: 'اے مالک! یہ محمد ﷺ ہیں، اہلِ عرب کے رسول۔' تو اس نے میری طرف دیکھا، مجھے سلام کیا اور خیر کی بشارت دی (1)۔
میں نے پوچھا: 'کب سے آپ دوزخ کی آگ جلا رہے ہیں؟' اس نے کہا: 'اس دن سے جب میں پیدا کیا گیا، اسی طرح (جلاتا رہوں گا) یہاں تک کہ قیامت قائم ہو جائے گی (2)۔'
میں نے جبرائیلؑ سے کہا: 'اسے حکم دیں کہ وہ مجھے دوزخ کی ایک تہہ (3) دکھائے۔' انہوں نے کہا: تو انہوں نے اسے حکم دیا اور اس نے دکھایا۔ اس سے ایک سیاہ تیز شعلہ نکلا جس کے ساتھ گہرا، تاریک دھواں تھا جس سے تمام آفاق بھر گئے۔ میں نے (ایک عظیم ہولناکی اور خوفناک منظر) (4) دیکھا جس کی میں آپ کے لیے وضاحت (5) نہیں کر سکتا۔ میں بے ہوش ہو گیا (اور میری روح نکلتی نظر آئی) (6)۔ جبرائیلؑ نے مجھے اپنے سے لگا لیا اور اسے حکم دیا کہ وہ آگ کو واپس لوٹائے، تو اس نے واپس لوٹا دی۔ پھر ہم آگے بڑھ گئے (7)۔

کثیر الوجوہ والے فرشتے:
پھر ہم بے شمار فرشتوں کے پاس سے گزرے جن کی گنتی اللہ عزوجل کے سوا کوئی نہیں جانتا (8)۔ ان میں سے ہر ایک فرشتے کے کندھوں کے درمیان اور سینے پر چہرے تھے، ہر چہرے میں منہ اور زبانیں تھیں، وہ ان زبانوں سے اللہ تعالیٰ کی حمد، تعریف اور تسبیح کرتا تھا۔ میں نے ان کے (جسم اور) (10) خلق اور عبادت کی عظمت دیکھی۔

پہلے آسمان پر حضرت آدمؑ:
پھر ہم آگے بڑھے (1) تو ایک مرد نظر آیا جو مکمل طور پر تھے، ان کی خلقت سے کچھ کم نہیں ہوا تھا جیسا کہ لوگوں کی خلقت (2) سے کم ہوتا ہے۔ ان کے دائیں جانب ایک دروازہ تھا جس سے خوشبو دار (3) ہوا آ رہی تھی اور بائیں جانب ایک دروازہ تھا جس سے بدبودار ہوا آ رہی تھی۔ جب وہ دائیں جانب والے دروازے کی طرف دیکھتے تو ہنستے اور خوش ہوتے، اور جب بائیں جانب والے دروازے (4) کی طرف دیکھتے تو روتے اور غمگین ہوتے۔ میں نے جبرائیلؑ سے پوچھا: 'اے جبرائیل! یہ کون ہیں اور یہ دو دروازے کیا ہیں؟' انہوں نے کہا: 'یہ آپ کے والد آدمؑ ہیں۔ اور یہ دائیں جانب والا دروازہ جنت کا دروازہ ہے۔ جب وہ اپنی اولاد میں سے جنت میں داخل ہونے والوں کو دیکھتے ہیں تو ہنستے اور خوش ہوتے ہیں، (اور جب بائیں جانب والے دروازے کی طرف دیکھتے ہیں، جو جہنم کا دروازہ ہے اور اپنی اولاد میں سے اس میں داخل ہونے والوں کو دیکھتے ہیں) (5) تو روتے اور غمگین ہوتے ہیں۔'

دوسرے آسمان پر حضرت عیسیٰ اور حضرت یحییٰ علیہما السلام:
آپ ﷺ نے (6) فرمایا: پھر ہم دوسرے آسمان پر چڑھے اور جبرائیلؑ نے دروازہ کھٹکھٹایا۔ ان سے کہا گیا: 'کون ہے؟' انہوں نے کہا: 'جبیریل۔' کہا گیا: 'اور آپ کے ساتھ کون ہے؟' انہوں نے کہا: 'محمد۔' انہوں نے کہا: 'کیا آپ مبعوث کر دیے گئے ہیں؟' انہوں نے کہا: 'ہاں۔' انہوں نے کہا: 'اللہ آپ کو حیاتِ طیبہ عطا فرمائے، آپ بھائی بھی ہیں اور خلیفہ بھی، پس کیا ہی اچھے بھائی اور کیا ہی اچھے خلیفہ ہیں، اور کیا ہی اچھے آنے والے آئے ہیں۔' پھر ہم اندر داخل ہوئے، تو دو نوجوان نظر آئے۔ میں نے پوچھا: 'اے جبرائیل! یہ دو نوجوان کون ہیں؟' انہوں نے کہا: 'یہ (7) عیسیٰ بن مریم اور یحییٰ بن زکریا علیہما السلام ہیں، (جو) خالہ زاد بھائی ہیں (1)۔'

تیسرے آسمان پر حضرت یوسفؑ:
آپ ﷺ نے (2) فرمایا: پھر ہم تیسرے آسمان پر چڑھے۔ جبرائیلؑ نے دروازہ کھٹکھٹایا۔ ان سے کہا گیا: 'کون ہے؟' انہوں نے کہا: 'جبیریل۔' کہا گیا: 'اور آپ کے ساتھ کون ہے؟' انہوں نے کہا: 'محمد۔' انہوں نے کہا: 'کیا آپ (3) کی طرف مبعوث کر دیے گئے ہیں؟' انہوں نے کہا: 'ہاں۔' انہوں نے کہا: 'اللہ آپ کو حیاتِ طیبہ عطا فرمائے، آپ بھائی بھی ہیں اور خلیفہ بھی، پس کیا ہی اچھے بھائی اور کیا ہی اچھے خلیفہ ہیں، اور کیا ہی اچھے آنے والے آئے ہیں۔' پھر ہم اندر داخل ہوئے (4)۔ تو ایک ایسے مرد نظر آئے جو لوگوں پر حسن و جمال میں (5) ایسے فضیلت رکھتے تھے جیسے چودھویں رات کا چاند تمام ستاروں پر فضیلت رکھتا ہے۔ میں نے پوچھا: 'یہ کون ہیں (اے میرے بھائی) (6) جبرائیل؟' انہوں نے کہا: 'یہ آپ کے بھائی یوسفؑ ہیں۔'
چوتھے آسمان پر حضرت ادریسؑ:
آپ ﷺ نے فرمایا: (پھر ہم) (7) چوتھے آسمان پر چڑھے۔ انہوں نے دروازہ کھٹکھٹایا۔ ان سے کہا گیا: 'کون ہے؟' انہوں نے کہا: 'جبیریل۔' انہوں نے کہا: 'اور آپ کے ساتھ کون ہے؟' انہوں نے کہا: 'محمد۔' انہوں نے کہا: 'کیا محمد (ﷺ) مبعوث کر دیے گئے ہیں؟' انہوں نے کہا: 'ہاں۔' انہوں نے (8) کہا: 'اللہ آپ کو حیاتِ طیبہ عطا فرمائے، آپ بھائی بھی ہیں اور خلیفہ بھی، پس کیا ہی اچھے بھائی اور کیا ہی اچھے خلیفہ ہیں، اور کیا ہی اچھے آنے والے آئے ہیں۔' پھر ہم اندر داخل ہوئے، تو ایک مرد نظر آئے۔ میں نے پوچھا: 'یہ کون ہیں (اے جبرائیل) (9)؟' انہوں نے کہا: 'یہ ادریسؑ ہیں، اللہ تعالیٰ نے انہیں ایک بلند مقام پر اٹھا لیا ہے، اور وہ مخلوقات کے دفاتر کی طرف اپنی پیٹھ ٹیکے ہوئے ہیں جن میں ان کے معاملات لکھے ہوئے ہیں۔'

پانچویں آسمان پر حضرت ہارونؑ:
آپ ﷺ نے فرمایا: پھر انہوں نے مجھے پانچویں آسمان پر چڑھایا اور دروازہ کھٹکھٹایا۔ ان سے کہا گیا: 'کون ہے؟' انہوں نے کہا: 'جبیریل۔' کہا گیا: 'اور آپ کے ساتھ کون ہے؟' انہوں نے کہا: 'محمد۔' انہوں نے کہا: 'کیا محمد (ﷺ) مبعوث کر دیے گئے ہیں؟' انہوں نے کہا: 'ہاں۔' انہوں نے کہا: 'اللہ آپ کو حیاتِ طیبہ عطا فرمائے، آپ بھائی بھی ہیں اور خلیفہ بھی، پس کیا ہی اچھے بھائی اور کیا ہی اچھے خلیفہ ہیں، اور کیا ہی اچھے آنے والے آئے ہیں۔' آپ ﷺ نے (1) فرمایا: پھر ہم اندر داخل ہوئے، تو ایک مرد بیٹھے ہوئے نظر آئے جن کے گرد کچھ لوگ تھے، وہ انہیں کہانی سنارہے تھے۔ میں نے جبرائیلؑ سے پوچھا: 'اے جبرائیل! یہ کون ہیں اور یہ جو ان کے گرد ہیں کون ہیں؟' انہوں نے کہا: 'یہ ہارونؑ ہیں، جو اپنی قوم میں محبوب ہیں، اور یہ جو ان کے گرد ہیں بنی اسرائیل ہیں۔'

چھٹے آسمان پر حضرت موسیٰؑ:
آپ ﷺ نے فرمایا: پھر ہم چھٹے آسمان پر چڑھے اور دروازہ کھٹکھٹایا۔ ان سے کہا گیا: 'کون ہے؟' انہوں نے کہا: 'جبیریل۔' کہا گیا: 'اور آپ کے ساتھ کون ہے؟' انہوں نے کہا: 'محمد۔' انہوں نے کہا: 'کیا محمد (ﷺ) مبعوث کر دیے گئے ہیں؟' انہوں نے کہا: 'ہاں۔' انہوں نے کہا: 'اللہ آپ کو حیاتِ طیبہ عطا فرمائے، آپ بھائی بھی ہیں اور خلیفہ بھی، پس کیا ہی اچھے بھائی اور کیا ہی اچھے خلیفہ ہیں، اور کیا ہی اچھے آنے والے آئے ہیں۔' پھر (2) ہم اندر داخل ہوئے، تو ایک مرد بیٹھے ہوئے نظر آئے۔ ہم ان سے آگے بڑھ گئے (3) تو وہ مرد رونے لگا۔ میں نے پوچھا: 'اے جبرائیل! یہ کون ہیں؟' انہوں نے کہا: 'یہ موسیٰؑ ہیں۔' میں نے پوچھا: '(انہیں) (4) کیا ہوا، وہ کیوں رو رہے ہیں؟' انہوں نے کہا: 'وہ کہتے ہیں: بنی اسرائیل گمان کرتے ہیں کہ میں اللہ تعالیٰ کے نزدیک بنی آدم میں سب سے زیادہ مکرم ہوں، اور یہ بنی آدم میں سے ایک مرد ہیں جنہیں دنیا میں مجھ پر فضیلت دے دی گئی ہے (5) اور میں (اب) اپنی آخرت میں ہوں۔ اگر یہ فضیلت صرف انہی (نبی ﷺ) کو ہوتی تو میں پروا نہ کرتا، لیکن (فضیلت تو) ہر نبی کے ساتھ ان کی امت (1) (کی فضیلت) ہے (یعنی میری امت سے کم لوگ جنت میں جائیں گے جبکہ آپ کی امت کے بہت سے لوگ جنت میں جائیں گے، اس پر مجھے رنج ہے)۔'

ساتویں آسمان پر حضرت ابراہیمؑ:
آپ ﷺ نے فرمایا: پھر انہوں نے مجھے ساتویں آسمان پر چڑھایا اور دروازہ کھٹکھٹایا۔ ان سے کہا گیا: 'کون ہے؟' انہوں نے کہا: 'جبیریل۔' کہا گیا: 'اور آپ کے ساتھ کون ہے؟' انہوں نے کہا: 'محمد۔' انہوں نے کہا: 'کیا محمد (ﷺ) مبعوث کر دیے گئے ہیں؟' انہوں نے کہا: 'ہاں۔' انہوں نے کہا: 'اللہ آپ کو حیاتِ طیبہ عطا فرمائے، آپ بھائی بھی ہیں اور خلیفہ بھی، پس کیا ہی اچھے بھائی اور کیا ہی اچھے خلیفہ ہیں، اور کیا ہی اچھے آنے والے آئے ہیں۔'
پھر ہم اندر داخل ہوئے، تو ایک سفید بالوں والے مرد نظر آئے جو جنت کے دروازے پر ایک کرسی پر بیٹھے ہوئے تھے، اور ان کے پاس کچھ لوگ سفید چہروں والے کاغذوں کی مانند بیٹھے ہوئے تھے، اور کچھ لوگ جن کے چہروں پر (کمی) تھی۔ پھر جن کے چہروں پر (کمی) تھی وہ کھڑے ہوئے اور ایک نہر میں داخل ہوئے، اس میں غسل کیا، پھر اس سے باہر آئے (2) اور (اپنے چہروں سے کمی) دور ہو گئی۔ پھر وہ ایک دوسری نہر میں داخل ہوئے، پھر باہر آئے اور (اپنے چہروں سے کمی) دور ہو گئی۔ پھر وہ ایک تیسری نہر میں داخل ہوئے، پھر باہر آئے اور (دور ہو گئی) (3) ان کے چہرے اور ان کے ساتھیوں کے چہرے ایک جیسے ہو گئے۔ پھر وہ آئے اور اپنے ساتھیوں کے پاس بیٹھ گئے۔
میں نے پوچھا: '(اے میرے بھائی) (4) اے جبرائیل! یہ سفید بالوں والے بزرگ کون ہیں اور یہ لوگ کون ہیں اور یہ نہریں کیا ہیں؟'
انہوں نے کہا: 'یہ آپ کے والد ابراہیمؑ ہیں، روئے زمین پر سب سے پہلے جن کے بال سفید ہوئے (5)۔ اور رہے یہ سفید چہرے والے، تو یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے ایمان کو ظلم (یعنی شرک) سے آلودہ نہیں کیا۔ اور رہے یہ جن کے چہروں پر (کمی) تھی، تو یہ وہ ہیں جنہوں نے نیک اور برے عمل ملائے، پھر توبہ کی تو اللہ نے ان کی توبہ قبول کر لی۔ اور رہیں یہ تین نہریں: تو ان میں سے قریب ترین اللہ کی رحمت ہے، دوسری اللہ کی نعمت ہے، اور تیسری یہ کہ ان کے رب نے انہیں پاکیزہ مشروب پلایا۔'

بیت المعمور کا دیدار:
آپ ﷺ نے (3) فرمایا: اور ابراہیمؑ ایک گھر کا سہارا (4) لگائے ہوئے تھے۔ میں نے جبرائیلؑ سے اس (گھر) کے بارے میں پوچھا (5) تو انہوں نے کہا: 'یہ بیت المعمور ہے۔ اس میں ہر دن ستر ہزار فرشتے داخل ہوتے ہیں، پھر جب وہ اس سے نکلتے ہیں تو قیامت تک دوبارہ اس میں نہیں آتے۔'

سدرۃ المنتہیٰ اور کثرتِ نعمت:
آپ ﷺ نے فرمایا: پھر جبرائیلؑ مجھے لے کر (6) سدرۃ المنتہیٰ تک پہنچے۔ دیکھا تو ایک درخت ہے جس کے پتے ہیں، اس کا ایک پتہ پوری دنیا اور اس میں جو کچھ ہے کو ڈھانپ لیتا ہے، اور اس کے بیر 'ہجر' (7) کے مٹکوں کی مانند ہیں۔ اس کی جڑ سے چار نہریں نکلتی ہیں: دو ظاہر اور دو باطن۔ میں نے اس کے بارے میں جبرائیلؑ سے پوچھا تو انہوں نے کہا: 'باطن دو جنت میں ہیں، اور ظاہر دو (8) نیل اور فرات ہیں۔'
اور اس کی جڑ سے چار (1) نہریں بھی نکلتی ہیں: پانی کی جو سڑتی نہیں، دودھ کی جن کا ذائقہ نہیں بدلتا، شراب کی جو پینے والوں کے لیے لذیذ ہے، اور شہد کی جو صاف کیا ہوا ہے۔ اور یہ ساتویں آسمان کے کنارے پر ہے جس طرف جنت ہے، اور اس کی شاخیں اور ڈالیاں عرش کے نیچے ہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: 'میں سدرۃ المنتہیٰ پر پہنچا اور میں جانتا تھا کہ یہ ببول کا درخت ہے، میں اس کے پتے اور پھل پہچانتا تھا۔ پھر اللہ سبحانہ کے نور نے اسے ڈھانپ لیا جس نے ڈھانپا (3)۔ اور فرشتوں نے اسے ڈھانپ لیا، وہ اللہ کے خوف سے سونے کے ٹڈی دل کی مانند تھے (4)۔ پھر جب اس (درخت) کو وہ (نور وغیرہ) ڈھانپ گیا تو یہ تبدیل ہو گیا یہاں تک کہ کوئی بھی اس کی صفت بیان (5) نہیں کر سکتا تھا۔'
اور فرمایا: 'اور اس میں فرشتے ہیں جن کی تعداد اللہ عزوجل کے سوا کوئی نہیں جانتا، اور جبرائیلؑ کا مقام اس کے درمیان میں ہے۔'

عرشِ الٰہی کی طرف سفر اور حجابات:
آپ ﷺ نے فرمایا: پھر جب میں اس (سدرہ) کے پاس پہنچا تو جبرائیلؑ نے مجھ سے کہا: 'اے محمد! علیک السلام (6)، آپ آگے بڑھیے۔' میں نے کہا: 'اے جبرائیل! بلکہ (7) آپ آگے بڑھیے (8)۔' انہوں نے کہا: 'بلکہ آپ آگے بڑھیے اے محمد! بے شک آپ اللہ کے نزدیک مجھ سے زیادہ مکرم ہیں۔'
پس میں آگے بڑھا اور جبرائیلؑ میرے پیچھے تھے یہاں تک کہ وہ مجھے (9) سونے کے فرش کے پردے تک لے گئے۔ انہوں نے پردہ ہلایا تو (اندر سے) کہا گیا: 'کون ہے؟' انہوں نے کہا: 'میں جبرائیل ہوں اور میرے ساتھ محمد ہیں۔' فرشتے نے کہا: 'اللہ اکبر!' اور اس نے پردے کے نیچے سے اپنا ہاتھ نکالا اور مجھے اٹھا لیا، اور جبرائیلؑ پیچھے رہ گئے۔ میں نے ان سے (1) کہا: 'کہاں؟' انہوں نے کہا: 'اے محمد! اور ہم میں سے ہر ایک کا ایک مقامِ معلوم ہے۔ بے شک یہ مخلوق کی آخری حد ہے۔ اور بے شک مجھے آپ کی تعظیم و تکریم کے لیے پردے کے قریب آنے کی اجازت دی گئی ہے۔'
آپ ﷺ نے (2) فرمایا: پھر اس فرشتے نے مجھے آنکھ جھپکنے سے بھی تیز رفتار سے موتی کے پردے تک لے گیا اور پردہ ہلایا۔ پردے کے پیچھے سے فرشتے نے کہا: 'یہ کون ہے؟' اس نے کہا: 'میں سونے کے فرش والا ہوں اور میرے ساتھ اہلِ عرب کے رسول محمد ﷺ ہیں۔' فرشتے نے کہا: 'اللہ اکبر!' اور اس نے پردے کے نیچے سے اپنا ہاتھ نکالا اور مجھے اٹھا کر اپنے سامنے کر لیا۔
میں اسی طرح ایک پردے سے دوسرے پردے تک (لے جایا گیا) (3) یہاں تک کہ میں ستر پردوں سے گزر گیا۔ ہر پردے کی موٹائی پانچ سو سال کی مسافت کے برابر تھی، اور (ایک پردے سے دوسرے پردے تک کی مسافت) (4) بھی پانچ سو سال تھی۔

عرشِ الٰہی پر نزول اور کلامِ الٰہی:
پھر میری طرف (5) ایک سبز رفرف (چادر یا سفینہ) لٹکایا گیا، جس کا نور سورج کے نور پر غالب تھا، تو میری بینائی چمک اٹھی۔ میں اس رفرف پر رکھا گیا۔ پھر اس نے مجھے اٹھا لیا یہاں تک کہ مجھے عرش تک پہنچا دیا۔
جب میں نے عرش دیکھا تو ہر چیز کا معاملہ عرش کے پاس واضح ہو گیا۔ (اللہ تعالیٰ نے) مجھے عرش کے مسند کے قریب لایا (6)۔ پھر عرش سے ایک قطرہ میرے لیے لٹکا اور میری زبان پر گر گیا۔ چکھنے والوں نے اس سے زیادہ میٹھی کوئی چیز کبھی نہیں چکھی تھی۔ اس (قطرے) کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے مجھے اولین و آخرین کی خبریں سنا دیں۔
اللہ عزوجل نے رحمن کی ہیبت سے گونگے ہو جانے کے بعد میری زبان کھول دی۔ میں نے کہا: 'التحیات للہ والصلوات والطیبات۔' اللہ جل ثناؤہ نے فرمایا: 'السلام (3) علیک ایہا النبی ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔' میں نے کہا: 'السلام علینا وعلی عباد اللہ الصالحین۔'

درجات اور حسنات کی حقیقت:
پھر اللہ تعالیٰ نے مجھ سے فرمایا: 'اے محمد! کیا تم جانتے ہو کہ ملائکۂ اعلیٰ کس چیز میں جھگڑ رہے ہیں؟' میں نے کہا: 'اے میرے رب! آپ اسے اور ہر چیز کو بہتر جانتے ہیں، اور آپ ہی غیبوں کے جاننے والے ہیں۔' فرمایا: 'وہ درجات اور حسنات میں اختلاف کر رہے ہیں۔ کیا تم جانتے ہو اے محمد! درجات کیا ہیں اور حسنات کیا ہیں؟'
آپ ﷺ نے (4) فرمایا: میں نے کہا: 'آپ بہتر جانتے ہیں (اے رب) (5)۔' فرمایا: 'درجات یہ ہیں: ناگوار حالات میں وضو کو اچھی طرح (اعضاء پر) بہانا، اور پیدل چل کر جماعتوں (نمازِ جماعت) کی طرف جانا، اور نمازوں کے بعد (دوسری) نمازوں کا انتظار کرنا (6)۔ اور حسنات یہ ہیں: سلام پھیلانا، کھانا کھلانا، اور راتوں کو (نماز کے لیے) جاگنا جب کہ لوگ سو رہے ہوں۔'

ایمان اور دعاؤں کا تذکرہ:
پھر اس نے مجھ سے (8) فرمایا: 'اے محمد! کیا رسول (9) ایمان لایا اس چیز پر جو اس کے رب کی طرف سے اس پر نازل کی گئی؟' میں نے کہا: 'ہاں، اے میرے رب!' فرمایا: 'اور؟' میں نے کہا: 'اور مؤمنین، سب ایمان لائے اللہ پر، اس کے فرشتوں پر، اس کی کتابوں پر، اس کے رسولوں پر، ہم اس کے رسولوں میں سے کسی ایک کے درمیان فرق نہیں کرتے جیسا کہ یہود و نصاریٰ نے فرق کیا۔' فرمایا: 'اور انہوں (مؤمنوں) (1) نے کیا کہا؟' میں نے کہا: 'انہوں نے کہا: ہم نے آپ کا قول سنا اور آپ کا حکم مانا۔' فرمایا: 'آپ نے سچ کہا۔ مانگو، تمہیں دیا جائے گا۔'
آپ ﷺ نے فرمایا: تو میں نے کہا: '(ہماری) مغفرت فرما اے ہمارے رب! اور تیری ہی طرف (سب کو) پلٹنا ہے۔' فرمایا: 'میں نے تمہاری اور تمہاری امت کی مغفرت کر دی۔ مانگو، تمہیں دیا جائے گا۔'
میں نے کہا: 'اے ہمارے رب! اگر ہم بھول جائیں یا خطا کریں تو ہماری گرفت نہ فرمانا۔' فرمایا: 'میں نے (خطا اور بھول) تم سے اور تمہاری امت سے اٹھا دی ہے (2) اور وہ چیز جس پر انہیں مجبور کیا گیا ہو۔'
میں نے کہا: 'اے ہمارے رب! اور ہم پر وہ بوجھ نہ ڈال جو تو نے ہم سے پہلے لوگوں پر ڈالا تھا۔' (یعنی یہود پر) فرمایا: 'یہ (رعایت) تمہارے اور تمہاری امت کے لیے ہے۔'
میں نے کہا: 'اے ہمارے رب! اور ہم پر وہ (بوجھ) نہ ڈال جس کی ہم میں طاقت نہیں۔' فرمایا: 'میں نے یہ تمہارے اور تمہاری امت کے لیے کر دیا۔'
میں نے کہا: '(اے ہمارے رب!) (3) اور ہمیں زلزلے (خسف) سے معاف فرما، اور ہمیں تہمت (قذف) سے بخش دے، اور ہم پر مسخ (صورت بگاڑنے) کی رحمت فرما۔ تو ہی ہمارا مالک ہے، پس ہمیں کافر قوم پر نصرت عطا فرما۔' فرمایا: 'میں نے یہ تمہارے اور تمہاری امت کے لیے کر دیا۔'

نبی کریم ﷺ کو عطا ہونے والے خاص فضائل:
پھر اس نے (4) مجھ سے فرمایا: 'مانگو، تمہیں دیا جائے گا (5)۔' تو میں نے کہا: 'اے میرے رب! بے شک تو نے ابراہیم (علیہ السلام) کو خلیل بنایا، موسیٰ (علیہ السلام) سے (براہِ راست) کلام کیا، ادریس (علیہ السلام) کو بلند مقام پر اٹھایا، سلیمان (علیہ السلام) کو عظیم بادشاہت دی، داؤد (علیہ السلام) کو زبور عطا فرمائی۔ تو میرے لیے کیا ہے اے میرے رب؟'
میرے رب (1) عزوجل نے فرمایا: 'اے محمد! میں نے تمہیں حبیب بنایا جیسا کہ میں نے ابراہیم (علیہ السلام) کو خلیل بنایا، اور میں نے تم سے (براہِ راست) کلام کیا جیسا کہ میں نے موسیٰ (علیہ السلام) سے کلام کیا۔ اور میں نے تمہیں فاتحۃ الکتاب اور سورہٴ بقرہ کے آخر میں دو آیات عطا کیں، اور وہ دونوں میرے عرش کے خزانوں میں سے ہیں، اور میں نے انہیں تم سے پہلے کسی نبی کو نہیں دیے (2)۔ اور میں نے تمہیں تمام اہلِ زمین کی طرف سفید و سیاہ، انسان و جن، سب کی طرف رسول بنا کر بھیجا، اور میں نے تم سے پہلے ان سب کی طرف (ایک ساتھ) کسی نبی کو نہیں بھیجا۔ اور میں نے تمام زمین خشکی و تری کو تمہارے اور تمہاری امت کے لیے پاک اور مسجد بنا دیا۔ اور میں نے تمہاری امت کو مالِ فئ (غیر مسلموں سے بغیر جنگ حاصل ہونے والی دولت) کھلایا، اور میں نے اسے تم سے پہلے کسی امت کو نہیں کھلایا۔ اور میں نے تمہیں ایک مہینے کی مسافت تک تمہارے دشمن پر رعب کے ذریعے نصرت دی۔ اور میں نے تم پر سردارِ کتب (قرآن) نازل کیا جو سب پر حاکم ہے، (یہ) قرآن ہے جسے ہم نے ٹکڑے ٹکڑے کیا۔ اور میں نے تمہارا ذکر بلند کیا یہاں تک کہ تمہارا ذکر میرے دین کے احکام کے ساتھ کیا جاتا ہے (یعنی نماز میں درود پڑھا جاتا ہے)۔ اور میں نے تمہیں تورات کی جگہ 'مثانی' (وہ سورتیں جن میں قصے اور احکام دہرائے جاتے ہیں) عطا کی، اور انجیل کی جگہ 'مئین' (تقریباً سو یا اس سے زیادہ آیات والی سورتیں) عطا کیں، اور زبور کی جگہ 'حوامیم' (حم سے شروع ہونے والی سورتیں) عطا کیں، اور 'مفصل' (چھوٹی سورتیں) کے ساتھ تمہیں فضیلت دی۔ اور میں نے تمہارا سینہ کھول دیا، اور تمہارا بوجھ ہلکا کر دیا، اور تمہارا ذکر بلند کیا۔ اور میں نے تمہاری امت کو بہترین امت بنایا جو لوگوں میں سے نکالی گئی، اور میں نے انہیں درمیانی (اعتدال پسند) امت بنایا (تاکہ وہ لوگوں پر گواہ ہوں) (3)۔ اور میں نے انہیں اول (یعنی سب سے بہتر) اور آخر (یعنی آخری زمانے میں آنے والی) بنایا۔ پس لے لو جو میں نے تمہیں دیا ہے اور شکر گزار بنو۔'

پچاس نمازوں کا حکم اور پانچ پر تخفیف:
پھر اس نے میرے لیے کچھ ایسے امور کی وضاحت فرمائی جن کی میرے لیے آپ لوگوں کو خبر دینے کی اجازت نہیں دی گئی (4)۔
پھر (5) میرے اور میری امت پر دن اور رات میں پچاس نمازیں فرض کی گئیں۔ پھر جب اس نے مجھے اپنا عہد سنایا اور مجھے اپنے پاس چھوڑ دیا جتنی اللہ نے چاہا (1)، پھر اس نے مجھ سے (2) فرمایا: 'اپنی قوم کی طرف واپس جاؤ اور انہیں میری طرف سے پہنچا دو۔'
پھر مجھے وہی سبز رفرف لے گیا جو میں پر تھا، وہ مجھے نیچے لے جاتا اور اوپر اٹھاتا یہاں تک کہ مجھے سدرۃ المنتہیٰ تک لے آیا۔ دیکھا تو جبرائیلؑ تھے، میں نے انہیں اپنے دل سے اپنے پیچھے دیکھا جیسا کہ میں انہیں اپنی آنکھوں سے اپنے سامنے دیکھتا تھا۔
جبرائیلؑ نے مجھ سے کہا: 'اے محمد! خوش ہو جاؤ، بے شک آپ اللہ کی مخلوق میں سب سے بہتر اور نبیوں میں برگزیدہ ہیں۔ اللہ عزوجل نے آپ کو ایسی حیاتِ طیبہ عطا فرمائی ہے جو اس نے اپنی مخلوق میں سے کسی کو نہیں دی، نہ کسی مقرب فرشتے کو اور نہ کسی مرسل نبی کو۔ اور بے شک اللہ نے آپ کو ایسے مقام پر پہنچایا ہے جہاں آسمانوں اور زمین والوں میں سے کوئی نہیں پہنچا۔ پس اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنی کرامت اور جو (آپ کو عطا کی) (4) برگزیدہ منزلت اور فائق کرامت پر مبارکباد دی۔ پس اسے شکر کے ساتھ قبول کیجیے، بے شک اللہ نعمت والا ہے (اس نے اپنے شکر کا نام) (5) رکھا ہے، وہ شکر گزاروں کو محبوب رکھتا ہے۔' تو میں نے اس پر اللہ تعالیٰ کی حمد کی۔

جنت اور دوزخ کا دیدار:
پھر جبرائیلؑ نے مجھ سے کہا: 'اے محمد! جنت کی طرف چلیے تاکہ میں آپ کو دکھاؤں کہ آپ کے لیے اس میں کیا ہے، تاکہ آپ کی دنیا میں بے رغبتی مزید بڑھ جائے اور آخرت کی رغبت مزید بڑھ جائے۔'
پھر ہم تیر اور ہوا سے بھی زیادہ تیزی سے گرتے ہوئے چلے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کے اذن سے ہم (6) جنت میں پہنچ گئے۔ میرا دل مطمئن ہو گیا اور میرا سینہ کھل گیا۔ اور میں نے جبرائیلؑ سے پوچھنا شروع کیا جو میں نے علیین (جنت کا اعلیٰ مقام) میں سمندروں، آگ، نور اور دوسری چیزوں کے بارے میں دیکھا تھا۔ انہوں نے کہا: 'سبحان اللہ! وہ رب العزت کے عرش کے پردے ہیں جنہوں نے اس کے عرش کو گھیر رکھا ہے (پس وہ مخلوق کے لیے حجاب کے نور اور عرش کے نور سے پردہ ہیں اور) (2) اگر ایسا نہ ہوتا تو عرش کا نور عرش کے نیچے اللہ کی مخلوق سے حجاب کے نور کو جلا دیتا (3)۔ اور جو تم نے نہیں دیکھا وہ زیادہ اور زیادہ تعجب خیز ہے۔'
میں نے کہا: 'سبحان اللہ العظیم! اس کی مخلوق کے عجائبات کتنی زیادہ ہیں۔'
میں نے کہا: 'اے جبرائیل! اور وہ فرشتے کون ہیں جنہیں میں نے ان سمندروں میں قطار در قطار دیکھا گویا وہ مضبوط دیوار ہیں؟' انہوں نے کہا: 'یا رسول اللہ! وہ روحانی (فرشتے) ہیں جن کے بارے میں اللہ عزوجل فرماتا ہے: {جس دن کھڑا ہوگا روح اور فرشتے صف باندھ کر} (نبأ:38)۔ اور ان میں سے (ایک) روح الاعظم ہے، پھر اس کے بعد اسرافیلؑ ہیں۔'
میں نے کہا: 'اے جبرائیل! اور وہ ایک صف کون سی ہے جو (5) سب سے اوپر والے سمندر میں تمام صفوں کے اوپر ہے جنہوں نے عرش کو گھیر رکھا ہے؟' انہوں نے کہا: 'یہ کروبیون ہیں، جو فرشتوں کے سردار اور عظیم ہیں۔ اور کوئی فرشتہ ان کروبیون کے (رتبے کے) فرشتے کی طرف دیکھنے کی جرات (6) نہیں کر سکتا (7)۔ اور وہ اس قدر عظیم الشان ہیں کہ میں ان کی صفت (8) آپ کے سامنے پیش کرنے کی طاقت نہیں رکھتا۔ اور جو آپ نے ان میں سے دیکھا وہ کافی ہے۔'

جنت کی سیر اور نعمتوں کا مشاہدہ:
پھر جبرائیلؑ نے اللہ عزوجل کے اذن سے مجھے جنت میں گھمایا، انہوں نے اس میں کوئی جگہ نہیں چھوڑی (1) جسے میں نے نہ دیکھا ہو اور جس کے بارے میں انہوں نے مجھے نہ بتایا ہو۔ میں نے موتی اور یاقوت اور زبرجد کے محلات دیکھے، اور میں نے سرخ سونے کے درخت دیکھے جن کے تختے موتی کے ہیں اور ان کی جڑیں چاندی کی ہیں جو کستوری میں جمی ہوئی ہیں۔ پس میں جنت میں ہر درجے، محل، گھر، غرفہ، خیمے اور پھل کو اپنے اس مسجد (مسجد نبوی) میں جو (چیز) ہے اس سے زیادہ پہچانتا ہوں (2)۔ اور میں نے ایک نہر دیکھی جو اس کی جڑ سے نکلتی ہے، اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ میٹھا ہے، جو موتی اور یاقوت اور خوشبودار کستوری کے ٹکڑوں پر بہہ رہا ہے۔ جبرائیلؑ نے کہا: 'یہ کوثر ہے جو اللہ عزوجل نے آپ کو عطا کیا ہے (3)۔ اور یہ تسنیم ہے جو عرش کے نیچے سے نکل کر ان کے گھروں، محلات، مکانوں اور غرفوں میں جاتی ہے، وہ اسے شہد، دودھ اور شراب میں ملاتے ہیں۔' اور یہی اس کے قول عزوجل کا مفہوم ہے: {ایسا چشمہ جس سے اللہ کے بندے پیتے ہیں، وہ اسے (جنت میں اپنی مرضی کے) مقامات پر پھاڑ نکالتے ہیں} (الدہر:6)۔

شجرۂ طوبیٰ:
پھر وہ مجھے لے کر جنت میں گھومنے لگے یہاں تک کہ ہم ایک ایسے درخت پر پہنچے جیسا میں نے جنت میں نہیں دیکھا تھا۔ جب میں اس کے نیچے کھڑا ہوا تو میں نے اپنا سر اٹھایا، تو میں نے اپنے رب عزوجل کی مخلوق میں سے اس کے سوا کچھ نہیں جانا اس کی عظمت اور اس کی شاخوں کے پھیلاؤ کی وجہ سے۔ اور میں نے اس میں ایک خوشبو دار ہوا پائی جو میں نے جنت میں نہیں سونگھی تھی۔ میں نے اس میں اپنی نظر دوڑائی، تو اس کے پتے جنت کے کپڑوں کے نئے نئے جوڑے تھے (1) جو (2) سفید، سرخ، زرد اور سبز کے درمیان تھے۔ اور اس کے پھل بڑے بڑے مٹکوں کی مانند تھے (3) جو (4) ہر پھل سے تھے جو اللہ عزوجل نے آسمانوں اور زمین میں پیدا کیا ہے، مختلف رنگوں، مختلف ذائقوں (5) اور مختلف خوشبوؤں والے۔ تو میں اس درخت اور اس کی خوبصورتی سے حیران ہوا۔ میں نے کہا: 'اے جبرائیل! یہ کون سا درخت ہے؟' انہوں نے کہا: 'یہ وہ درخت ہے (6) جس کا ذکر اللہ سبحانہ (7) نے کیا ہے: {ان کے لیے طوبیٰ (بہتری) ہے اور اچھا ٹھکانا} (الرعد:29)۔ اور آپ کی امت اور آپ کے گروہ میں سے بہت سے لوگوں کے لیے اس کے سایے میں اچھی آرام گاہ اور طویل نعمت ہے۔'

دوزخ کے بعض عذابوں کا مشاہدہ:
پھر مجھ پر دوزخ پیش کی گئی یہاں تک کہ میں نے اس کی بیڑیاں، زنجیریں، سانپ، بچھو، پیپ، (کھولتا ہوا پانی، اور) (2) سیاہ دھواں دیکھا۔ پھر میں نے دیکھا تو میں (3) ایک قوم کے پاس تھا جن کے ہونٹ اونٹ کے ہونٹوں کی طرح تھے۔ ان میں سے ہر ایک کے پاس کوئی (فرشتہ) ہے جو ان کے ہونٹوں کو پکڑتا ہے پھر ان کے منہ میں آگ کا پتھر ڈالتا ہے جو ان کے نچلے حصے سے نکلتا ہے۔ میں نے پوچھا: 'اے جبرائیل! یہ کون ہیں؟' انہوں نے کہا: 'یہ وہ لوگ ہیں جو یتیموں کے مال ناحق کھاتے ہیں (5)۔'
پھر میں چلا، تو (میں ایک قوم کے پاس) (6) پہنچا جن کے پیٹ ایسے تھے جیسے گھر ہوں اور وہ آلِ فرعون کی گذرگاہ پر (7) تھے۔ پھر جب ان کے پاس سے آلِ فرعون گزرتے تو وہ اٹھ کھڑے ہوتے تو ان میں سے کسی کا پیٹ اسے (8) جھکا دیتا تو وہ گر جاتا اور آلِ فرعون انہیں اپنے پاؤں تلے روندتے اور وہ صبح و شام دوزخ کی آگ پر پیش کیے جا رہے تھے۔ میں نے پوچھا: 'یہ کون ہیں اے جبرائیل؟' انہوں نے کہا: 'یہ سود کھانے والے ہیں، پس ان کی مثال اس شخص جیسی ہے جسے شیطان چھوت کے ذریعے پاگل کر دیتا ہے۔'

زناکار اور اولاد کش عورتیں:
پھر ہم چلے (1) تو میں نے کچھ عورتیں دیکھیں جنہیں ان کے پستانوں سے لٹکایا گیا تھا اور ان کے پیروں کے بل الٹا لٹکایا گیا تھا۔ میں نے پوچھا: 'یہ کون ہیں اے جبرائیل؟' انہوں نے کہا: 'یہ وہ ہیں (2) جو زنا کرتی ہیں اور اپنی اولاد کو قتل کرتی ہیں۔'

پانچ نمازوں کا حکم اور تخفیف کا واقعہ:
پھر (ہم دوزخ سے نکلے) (3) اور ہم آسمانوں سے اترتے ہوئے گزرے، ایک آسمان سے دوسرے آسمان تک یہاں تک کہ (4) میں موسیٰؑ کے پاس پہنچا۔ انہوں نے مجھ سے کہا: 'اللہ نے آپ پر اور آپ کی امت پر کیا فرض کیا ہے؟' میں نے کہا: 'پچاس نمازیں۔' موسیٰؑ نے کہا: 'میں لوگوں کو آپ سے زیادہ جانتا ہوں۔ میں نے بنی اسرائیل کو آزمایا اور ان کے ساتھ بہت سختی سے پیش آیا۔ اور بے شک آپ کی امت کمزور ترین امت ہے۔ پس اپنے رب کی طرف واپس جائیے اور اس سے تخفیف مانگیے (آپ کے لیے اور) (5) آپ کی امت کے لیے، بے شک آپ کی امت اس کی (6) طاقت نہیں رکھتی۔'
پس میں اپنے رب عزوجل کی طرف واپس گیا (اور بعض روایات میں ہے: میں واپس گیا تو میں سدرۃ المنتہیٰ پر آیا) اور میں سجدے میں گر گیا۔ میں نے کہا: 'اے میرے رب! تو نے مجھ پر اور میری امت پر پچاس نمازیں فرض کی ہیں اور نہ میں انہیں ادا کر سکوں گا (7) نہ میری امت (تو مجھ سے تخفیف فرما) (8)۔' تو اس نے مجھ سے دس کم کر دیں۔
پھر میں موسیٰؑ کی طرف واپس آیا، انہوں نے مجھ سے پوچھا تو میں نے کہا: '(9) اس نے مجھ سے دس کم کر دی ہیں۔' انہوں نے کہا: 'اپنے رب کی طرف واپس جائیے اور اس سے تخفیف مانگیے، بے شک آپ کی امت کمزور ترین امت ہے (اور بے شک میں نے بنی اسرائیل سے) (1) سخت مصیبت پائی ہے۔'
آپ ﷺ نے فرمایا: پس میں واپس گیا تو اس نے انہیں (نمازوں کو) (2) تیس کر دیا۔
آپ ﷺ نے (3) فرمایا: پھر میں اپنے رب اور موسیٰؑ کے درمیان برابر آتا جاتا رہا یہاں تک کہ اس نے انہیں پانچ نمازیں کر دیں۔ پھر میں (4) موسیٰؑ کے پاس آیا، تو انہوں نے کہا: 'اپنے رب کی طرف واپس جائیے اور اس سے تخفیف مانگیے۔' میں نے کہا: 'بے شک میں (5) اپنے رب کی طرف واپس جا چکا ہوں یہاں تک کہ میں اس سے شرمندہ ہو گیا ہوں (6)، اور میں اس کی طرف واپس نہیں جاؤں گا (7)۔'
پھر (آواز آئی) کہ: 'بے شک میں نے جس دن آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا، میں نے تم پر اور تمہاری امت پر پچاس نمازیں فرض کیں، پس میرا قول میرے ہاں بدلا نہیں جاتا۔ پس پانچ (9) پچاس کے بدلے ہیں۔ پس تم اور تمہاری امت انہیں ادا کرو۔ بے شک میں نے اپنی فرضیت کو نافذ کر دیا ہے اور اپنے بندوں سے تخفیف کر دی ہے (10)، اور میں نیکی کا بدلہ دس گنا دیتا ہوں، پس ہر نماز دس نمازوں کے برابر ہے۔'
آپ ﷺ نے فرمایا: محمد ﷺ نے بہت زیادہ رضا مندی ظاہر کی۔ اور موسیٰؑ اس وقت ان پر سب سے زیادہ سخت تھے جب آپ ﷺ ان کے پاس سے گزرے تھے، اور (تخفیف کے لیے مشورہ دینے میں) ان کے لیے سب سے بہتر تھے جب آپ ﷺ ان کی طرف واپس آئے۔

واپسی اور امتیازی فضیلت:
پھر میں اپنے ساتھی اور بھائی جبرائیلؑ کے ساتھ لوٹا، نہ وہ مجھ سے آگے نکلتے نہ میں ان سے، یہاں تک کہ انہوں نے مجھے میرے بستر پر واپس پہنچا دیا۔ اور یہ سب کچھ تمہاری انہی راتوں میں سے ایک رات میں ہوا۔
'پس میں اولادِ آدم کا سردار ہوں، اور میں فخر نہیں کرتا۔ اور قیامت کے دن میری ہاتھ میں لوائے حمد ہوگا، اور میں فخر نہیں کرتا۔ اور قیامت کے دن جنت کی کنجی میرے پاس ہوگی، اور میں فخر نہیں کرتا۔ اور میں قریب ہی میں (دنیا سے) اٹھا لیا جاؤں گا، اس کے بعد جو میں نے اللہ کی بڑی نشانیاں دیکھی ہیں۔ اور مجھے اپنے رب عزوجل سے ملنے اور اس سے جا ملنے اور اپنے بھائیوں سے ملنے اور جو میں نے اللہ تعالیٰ کے ولیوں کے لیے ثواب دیکھا ہے، اس سے ملنے کا شوق ہے۔ اور جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہ بہتر اور باقی رہنے والا ہے۔'

مکہ واپسی اور واقعہ سنانے پر لوگوں کا ردِ عمل:
انہوں (صحابہ) نے کہا: پھر جب رسول اللہ ﷺ اس رات واپس آئے جس میں آپ کی سیر کرائی گئی تھی اور آپ 'ذی طویٰ' (مکہ کے قریب ایک مقام) میں تھے، تو آپ ﷺ نے (جبیریلؑ سے) فرمایا: 'اے جبرائیل! میری قوم مجھے سچ نہیں مانے گی۔' انہوں نے کہا: 'آپ کو ابوبکر سچ مان لیں گے، اور وہ صدیق ہیں۔' (اور اللہ ان سے راضی ہوا) (5)۔

ابو جہل اور قریش کا سوال:
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما (6) اور عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا (کہ رسول اللہ ﷺ نے) (7) فرمایا: 'جب وہ رات آئی جس میں میری سیر کرائی گئی اور میں صبح کو مکہ میں تھا تو میں نے اپنے معاملے کو (لوگوں پر بیان کرنا) مشکل جانا اور میں جان گیا کہ لوگ مجھے جھٹلانے والے ہیں۔' آپ ﷺ نے فرمایا: پھر رسول اللہ ﷺ غمگین ہو کر علیحدہ بیٹھ گئے۔ اللہ کے دشمن ابو جہل آپ کے پاس سے گزرے تو وہ آپ کے پاس آئے اور آپ کے پاس بیٹھ گئے، پھر آپ سے مذاق کرتے ہوئے (1) کہا: 'کیا کوئی (نئی) بات ہوئی ہے (2)؟' آپ ﷺ نے فرمایا: 'ہاں، بے شک مجھے آج رات سیر کرائی گئی۔' اس نے کہا: 'کہاں؟' آپ ﷺ نے فرمایا: 'بیت المقدس۔' اس نے کہا: 'پھر آپ صبح کو ہمارے درمیان (3) آ گئے؟' آپ ﷺ نے فرمایا: 'ہاں۔' تو ابو جہل نے (4) بات کو جھٹلانا مناسب نہ سمجھا، اس ڈر سے کہ (اگر وہ اسے جھٹلائے گا تو بعد میں) آپ ﷺ بات سے انکار کر دیں گے (5)۔ اس نے کہا: 'کیا آپ اپنی قوم کو وہی بات سنائیں گے جو آپ نے مجھے سنائی ہے؟' آپ ﷺ نے فرمایا: 'ہاں۔' ابو جہل بولا: 'اے بنو کعب بن لؤی کے لوگو! ادھر آؤ (6)۔' آپ ﷺ نے فرمایا: تو مجلسوں کے لوگ ٹوٹ پڑے یہاں تک کہ وہ ان دونوں کے پاس آ کر بیٹھ گئے۔ ابو جہل نے (7) کہا: 'اپنی قوم کو وہ بات سنائیے جو آپ نے مجھے سنائی ہے (8)۔' آپ ﷺ نے فرمایا: 'ہاں، بے شک مجھے (9) آج رات سیر کرائی گئی۔' انہوں نے کہا: 'کہاں؟' آپ ﷺ نے فرمایا: 'بیت المقدس۔' انہوں نے کہا: 'پھر آپ صبح کو ہمارے درمیان (10) آ گئے؟' آپ ﷺ نے فرمایا: 'ہاں۔' آپ ﷺ نے فرمایا: تو کوئی تالیاں بجانے لگا، اور کوئی اپنا ہاتھ (11) اپنے سر پر رکھ لیا، جھوٹ پر تعجب کرتے ہوئے (12)۔ اور کچھ لوگ جو آپ ﷺ پر ایمان لائے تھے اور آپ کی تصدیق کرتے تھے، مرتد ہو گئے۔

حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی تصدیق:
اور مشرکین میں سے کچھ لوگ ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس دوڑے اور کہا: 'آپ کے صاحب (محمد ﷺ) کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے جو دعویٰ کرتے ہیں کہ انہیں آج رات بیت المقدس سیر کرایا گیا؟' انہوں نے کہا: 'کیا انہوں نے یہ کہا ہے (1)؟' انہوں نے کہا: 'ہاں۔' انہوں نے کہا: 'اگر انہوں نے یہ کہا ہے تو انہوں نے سچ کہا ہے۔' انہوں نے کہا: 'اور کیا آپ ان کی اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ وہ ایک رات میں بیت المقدس گئے اور صبح ہونے سے پہلے واپس آ گئے؟' انہوں نے کہا: 'بے شک میں ان کی اس بات کی تصدیق کرتا ہوں جو اس سے بھی زیادہ بعید ہے، میں ان کی اس بات کی تصدیق کرتا ہوں جو آسمان کی خبر ان کے پاس آتی ہے صبح (یا شام) (3) کو۔' اس وجہ سے ابوبکر رضی اللہ عنہ 'صدیق' کہلائے۔

مسجد اقصیٰ کی تفصیلات اور قریش کے سوالات:
آپ ﷺ نے فرمایا: اور ان لوگوں میں سے کچھ ایسے تھے جو وہاں (بیت المقدس) سفر کر چکے تھے (4)، اور کچھ ایسے تھے جو مسجد (اقصیٰ) میں آ چکے تھے۔ انہوں نے کہا: 'کیا آپ ہمارے لیے مسجد (کی تفصیل) ثابت کر سکتے ہیں؟' آپ ﷺ نے فرمایا: 'ہاں۔' آپ ﷺ نے فرمایا: 'تو میں (مسجد کی) صفت بیان کرنے لگا اور صفت بیان کرتا رہا، یہاں تک کہ میں الجھن میں پڑ گیا (5)۔' پھر آپ ﷺ نے فرمایا: 'پھر مسجد (اقصیٰ) لائی گئی اور میں اسے دیکھ رہا تھا یہاں تک کہ اسے دار عقیل کے سامنے رکھ دیا گیا، پھر میں مسجد کی صفت بیان کرتا رہا اور میں اسے دیکھ رہا تھا۔' تو ان لوگوں نے کہا: 'رہی صفت (کی بات)، تو اللہ کی قسم! آپ نے اس میں صحیح بتایا ہے (6)۔'

قریش کی تجارتی قافلوں کے بارے میں پیشین گوئی:
پھر انہوں نے کہا: (اے محمد! پھر) (7) ہمیں اپنے تجارتی قافلے کے بارے میں بتائیے، وہ ہمارے لیے آپ کے قول سے زیادہ اہم ہے۔ کیا آپ نے اس میں سے کوئی چیز دیکھی ہے؟' آپ ﷺ نے فرمایا: 'ہاں، میں بنو فلاں کے قافلے کے پاس سے گزرا، اور وہ 'روحاء' (1) میں تھا۔ اور ان کا ایک اونٹ گم ہو گیا تھا اور وہ اس کی تلاش میں تھے، اور ان کے سامان میں پانی کا ایک پیالہ تھا۔ میں پیاسا تھا تو میں نے اسے لیا اور پانی پی لیا، پھر اسے ویسے ہی رکھ دیا جیسا تھا۔ پس ان سے پوچھو (2) کہ جب وہ پیالے پر واپس آئے تو انہیں اس میں پانی ملا تھا؟' انہوں نے کہا: 'یہ ایک نشانی ہے۔'
آپ ﷺ نے فرمایا: 'اور میں بنو فلاں کے قافلے کے پاس سے گزرا، اور فلاں اور فلاں (دو افراد) 'ذی مر' میں ایک اونٹنی پر سوار تھے۔ ان کی اونٹنی بدک گئی تو اس نے فلاں کو پھینک دیا (4) تو ان کا ہاتھ ٹوٹ گیا۔' ان دونوں سے اس کے بارے میں پوچھا گیا۔ انہوں نے کہا: 'اور یہ دوسری نشانی ہے (5)۔'

انہوں نے کہا: 'پھر ہمیں اپنے (اپنے) قافلے کے بارے میں بتائیے۔' آپ ﷺ نے فرمایا: 'میں اس کے پاس سے 'تنعیم' میں گزرا تھا۔' انہوں نے کہا: 'پھر اس کی تعداد، اس کے اسباب اور اس کی ہیئت کیا تھی؟' آپ ﷺ نے فرمایا: 'میں اس سے مشغول تھا۔' پھر آپ ﷺ کے لیے اس کا نمونہ اس کی تعداد، اسباب، ہیئت اور اس میں موجود افراد کے ساتھ 'حزورہ' (6) (مکہ کی ایک جگہ) میں پیش کیا گیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: 'ہاں (1) اس کی ہیئت ایسی اور ایسی ہے، اور اس میں فلاں اور فلاں ہے، اس کی قیادت ایک خاکی رنگ کے اونٹ کر رہا ہے جس پر دو سیے ہوئے کجاوے ہیں، وہ تمہارے پاس سورج نکلتے وقت آ رہا ہوگا۔' انہوں نے کہا: 'اور یہ ایک اور نشانی ہے (2)۔'

قریش کا قافلہ دیکھنا اور انکار:
پھر (مشرک نکلے) (3) پہاڑی کی طرف دوڑتے ہوئے اور کہتے ہوئے: 'اللہ کی قسم! محمد نے بہت سی چیزیں بیان کر دی ہیں اور انہیں واضح کر دیا ہے (4)۔' یہاں تک کہ وہ 'کداء' (5) پہنچے اور اس پر بیٹھ گئے۔ وہ انتظار کرنے لگے کہ سورج کب نکلے گا تاکہ وہ آپ ﷺ کو جھٹلا سکیں۔ اچانک ان میں سے ایک نے کہا: 'اللہ کی قسم! یہ سورج (نکل آیا ہے) (6)۔' اور دوسرے (7) نے کہا: 'یہ اللہ کی قسم! وہ اونٹ ہیں جو نکل آئے ہیں، ان کی قیادت ایک خاکی رنگ کا اونٹ کر رہا ہے، اس میں فلاں اور فلاں ہے،' جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے ان سے (8) کہا تھا۔ پھر بھی انہوں نے ایمان نہیں لایا اور فلاح نہیں پائی، اور کہا: 'ہم نے (ایسی بات) (9) کبھی نہیں سنی، یہ تو کھلا جادو ہے۔'

اختتام اور ایک اہم سوال کا جواب:
معراج کا اختتام (اللہ کے فضل و مدد سے) (1)۔

سوال: اگر کوئی پوچھے کہ اللہ تعالیٰ نے تو فرمایا: {اپنے بندے کو راتوں رات مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک سیر کرایا} (بنی اسرائیل:1)، پھر تم کیوں کہتے ہو کہ انہیں آسمان کی طرف سیر کرائی گئی؟
جواب: (یہ کہا جائے گا کہ) (3) اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {اپنے بندے کو راتوں رات مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک سیر کرایا} کیونکہ معراج کے معاملے کا آغاز اسراء (یعنی زمینی سفر) تھا (5)، اور اعراج (آسمان پر چڑھنا) اسراء کے بعد تھا۔ اور (رسول اللہ ﷺ نے اس کی) خبر دی (6) اور وہ سچے اور سچائی پر مامور ہیں۔

حکمت: اور اس میں حکمت -اور اللہ بہتر جانتا ہے- یہ ہے کہ اگر آپ ﷺ ابتدا ہی میں آسمان پر چڑھنے کی خبر دیتے تو ان کا انکار شدید ہوتا اور یہ بات ان کے دلوں میں بہت بڑی ہوتی اور وہ آپ کی تصدیق نہ کرتے۔ پس آپ ﷺ نے آغاز میں بیت المقدس کی خبر دی، پھر جب وہ بات ان کے دلوں میں جگہ پا گئی اور ان پر آپ کی صداقت واضح ہو گئی اور آپ کے لیے دلیل قائم ہو گئی، تو آپ ﷺ نے اعلیٰ آسمان (8)، سدرۃ المنتہیٰ اور قربت کی خبر دی یہاں تک کہ آپ قریب ہوئے پھر اور قریب ہوئے، {پس (فاصلہ) دو کمانوں کے برابر رہ گیا یا اس سے بھی کم} (النجم:9)۔ (یہ سب) آپ ﷺ کے اس قول سے ہے: {قسم ہے ستارے کی جب وہ گرے} (النجم:1)۔

---

حوالہ:
[تفسير الثعلبي:1693][الطبري في "جامع البيان" 15/7:: قرأ، وعند البيهقي في "دلائل النبوة" 2/398]

حکم الحدیث:
اس سند کے راویوں میں السدی اور محمد بن السائب (الکلبی) جیسے ضعیف قرار دیے گئے راوی ہیں، اس لیے یہ روایت اس سند سے کمزور ہے۔ لیکن یہ واقعہ صحیح مسلم، سنن ترمذی ونسائی جیسی مستند کتابوں میں متعدد دیگر مضبوط سندوں سے بھی مروی ہے، جیسا کہ حاشیہ میں بتایا گیا ہے۔ لہٰذا، واقعہٴ معراج کا ثبوت قطعی اور یقینی ہے، البتہ اس تفصیلی بیان کے بعض اجزاء دیگر صحیح روایات سے ملتے جلتے ہیں اور بعض انفرادی طور پر اس سند میں آئے ہیں۔

بنیادی بات یہ ہے کہ اسراء و معراج کا واقعہ اسلام کے مسلّمہ عقائد میں سے ہے جو قرآن پاک (سورہٴ بنی اسرائیل اور النجم) اور متواتر صحیح احادیث سے ثابت ہے۔

تخریج:
(1)[صحیح مسلم:165، مسند احمد:2821]
(2)[المصنف - ابن أبي شيبة - ت الشثري:39331، مسند أحمد:2819، مسند البزار:5305، السنن الكبرى-النسائي:11221، المعجم الكبير للطبراني:12782، الأحاديث المختارة:37، سلسلة الأحاديث الصحيحة:‌‌3021]
(3)[صحیح مسلم:168، مسند أحمد:2820، مصنف ابن أبي شيبة:31700] الصحیحة للألبانی:3021۔ نیز شیخ شعیب الأرناؤوط فرماتے ہیں: اس کا سند صحیح ہے۔
(4)[مسند أحمد 2166-2333-3223، السنن الكبرى للنسائي 11290، مستدرك الحاكم 3379] مزید: الصَّحِيحَة: 3388 , صَحِيح التَّرْغِيبِ وَالتَّرْهِيب: 3142۔ شیخ شعیب الأرناؤوط: إسناده صحيح۔
(5)[صحیح مسلم:176، مسند احمد:1956، سنن ترمذی:3281]
(6)[تفسير البغوي: حدیث نمبر 1286، سورۃ الاسراء: آیۃ#1]
(7)[مسند احمد:3316 (سنن الترمذی:2053، سنن ابن ماجہ:3478)، المنتخب من مسند عبد بن حميد:574]
(8)[جامع الترمذي:2383، السنن الكبرى للنسائي7304، الآداب للبيهقي:704]

---

اسباق و نکات:

یہ طویل روایت درج ذیل اہم اسلامی تعلیمات اور عقائد پر روشنی ڈالتی ہے:

عقیدہ اور ایمانیات کے اسباق:

1. معجزہٴ اسراء و معراج: یہ واقعہ نبی کریم ﷺ کا ایک عظیم معجزہ اور آپ کی نبوت کی ایک زندہ دلیل ہے، جس کا انکار کفر کے قریب ہے۔


2. اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ: اللہ تعالیٰ اپنے بندے کو ایک رات میں مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ اور پھر آسمانوں کی سیر کرانا اور واپس لانا، اس کی لا محدود قدرت پر دلالت کرتا ہے۔


3. ملائکہ کا وجود: جبرائیل، میکائیل، اسرافیل، ملک الموت، مالک (دوزخ کا داروغہ) اور دیگر فرشتوں کے بارے میں تفصیلات ملائکہ کے عقیدے کو مضبوط کرتی ہیں۔


4. جنت و دوزخ کا حقیقی وجود: جنت کی نعمتوں اور دوزخ کے عذابوں کی تفصیلی منظر کشی آخرت کے یقین کو تازہ کرتی ہے۔


5. انبیاء علیہم السلام کا باہمی تکریم و احترام: تمام انبیاء کا ایک دوسرے کی فضیلت کا اعتراف اور نبی کریم ﷺ کی تمام انبیاء پر فضیلت ثابت ہوتی ہے۔


6. خاتم النبیین: آپ ﷺ کی آخری نبی ہونے کی شہادت اور آپ کی امت کو 'خیر امت' اور 'امت وسط' ہونے کا اعزاز ملنا۔

عبادات اور احکام کے اسباق:

1. نمازوں کی فرضیت: پانچ وقت کی نمازوں کا حکم براہِ راست اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا ہوا، جو ان کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔ پچاس سے پانچ پر تخفیف اللہ کی رحمت و شفقت کی عظیم نشانی ہے۔


2. نماز کی فضیلت: نماز ترک کرنے والوں کے لیے آخرت میں سخت عذاب کی وعید ہے۔


3. وضو کی اہمیت: 'اسباغ الوضوء' یعنی اعضاء کو اچھی طرح دھونا درجات بلند کرنے کا ذریعہ ہے۔


4. جماعت اور مسجد کی رغبت: پیدل چل کر جماعت میں نماز پڑھنے کی ترغیب۔


5. زکوٰۃ کی فرضیت: زکوٰۃ نہ دینے والوں کے لیے وعید۔

اخلاقیات اور سماجی اسباق:

1. دنیا کی بے ثباتی اور فریب: دنیا کی شکل میں آزمائش اور اس سے بچنے کی تلقین۔


2. فطرتِ سلیمہ کی حفاظت: دودھ (پاکیزہ چیز) کے انتخاب اور شراب (ناپاک چیز) کے ترک کو فطرتِ سلیمہ سے تعبیر کیا گیا۔


3. جہاد فی سبیل اللہ کی فضیلت: جہاد کرنے والوں کے لیے نیکیوں کا سات سو گنا تک بڑھنا۔


4. زنا، سود، یتیم کا مال کھانا، قتلِ اولاد جیسے کبیرہ گناہوں کی سزا: ان گناہوں کے مرتکبین کے لیے دوزخ میں مختلف اقسام کے عذاب کی نشاندہی۔


5. زبان کی حفاظت: بے احتیاطی سے کہی گئی بات پر ندامت اور اسے واپس نہ لے سکنے کی مثال (ثور والی تمثیل)۔


6. امانت داری: امانت میں خیانت نہ کرنا۔


7. لوگوں کو راستے پر تنگ نہ کرنا: راستے بیٹھ کر لوگوں کو تکلیف دینے کی مذمت۔


8. صلہ رحمی اور اعزہ و اقارب کے ساتھ حسن سلوک: اس کی ترغیب ملتی ہے۔

سیرت و فضائل کے اسباق:

1. حضرت محمد ﷺ کی امتیازی فضیلت: آپ ﷺ کو 'سید ولد آدم'، 'حبیب اللہ'، 'خاتم النبیین'، 'شافع مشفع' ہونے کا اعزاز۔


2. حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی فضیلت: سب سے پہلے بلا تردد تصدیق کرنے پر 'صدیق' کا لقب۔


3. آزمائشوں میں ثابت قدمی: دائیں بائیں (یہود و نصاریٰ) کی طرف بلانے والی آوازوں اور دنیا کی طرف بلانے والی عورت (آزمائش) سے عدم التفات۔

یہ روایت مسلمان کے عقیدے، عبادت، اخلاق اور سماجی زندگی کے ہر پہلو کو روشن کرتی ہے اور اسے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے قرب کا طالب بناتی ہے۔

*********************************

روحوں کا ٹھکانہ:

آنحضرت  نے معراج کے سفر اور سچے خوابوں میں بعض پیغمبروں کو آسمان اور جنت کے مختلف درجات میں دیکھا۔

(مسلم، باب بیان ارواح الشھداء فی الجنۃ، حدیث نمبر:۳۵۰۰۔ وترائی اھل الجنۃ اھل الغرف، حدیث نمبر:۳۶۹۶)





اللہ کے خوف سے جبرئیل کی حالت

عَن أَنَس بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُول اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيه وَسَلَّم: بَيْنَا أَنَا قاعد إذا جاء جبريل صَلَّى الله عَلَيه وَسَلَّم فوكزني بين كتفي , فقمت إلى شجرة فيها كوكري الطير , فقعد في أحدهما , وقعدت في الآخر , فسمت وارتفعت , حتى سدت الخافقين , وَأنا أقلب طرفي، ولو شئت أن أمس السماء لمسست , فالتفت إليَّ جبريل كأنه حلس لاطىء فعرفت فضل علمه بالله علي وفتح لي باب من أبواب السماء ورأيت النور الأعظم، وإذا دون الحجاب رفرفة الدر والياقوت فأوحى إِلَيَّ ما شاء أن يوحى.

ترجمہ:

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "میں بیٹھا ہوا تھا کہ اچانک جبرائیل علیہ السلام آئے اور انہوں نے میرے شانہ مبارک کے درمیان (ہلکا سا) ٹھوکا لگایا۔ پھر میں ایک درخت کے پاس گیا جس پر پرندوں کے گھونسلے تھے۔ وہ (جبرائیل) ان میں سے ایک پر بیٹھ گئے اور میں دوسرے پر۔ پھر وہ درخت بلند ہوا اور آسمان کی طرف اٹھتا چلا گیا، یہاں تک کہ مشرق و مغرب (پورا افق) میرے سامنے آگیا اور میں اپنی نظر دوہرا رہا تھا۔ اگر میں چاہتا تو آسمان کو چھو لیتا۔ پھر جبرائیل علیہ السلام نے میری طرف دیکھا، (اب) وہ ایک چپٹی ہوئی چادر کی مانند (یعنی معمولی شکل میں) تھے، اس سے میں نے جان لیا کہ اللہ کے علم میں ان سے میرا کیا مقام و مرتبہ ہے۔ پھر میرے لیے آسمانوں کے دروازوں میں سے ایک دروازہ کھولا گیا، میں نے عظیم ترین نور دیکھا اور حجاب کے سامنے موتی اور یاقوت کے جھالر تھے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے مجھ پر جو کچھ وحی کرنا چاہا، وحی فرمایا۔"

[مسند البزار:7389، تعظيم قدر الصلاة-للمروزي:883، المعجم الأوسط-للطبراني:6214، شعب الإيمان-للبيهقي:153، جامع الأحاديث-للسيوطي:35821، كنز العمال:35456]

حاصل شدہ اسباق و نکات:

1. معراجِ نبوی کا معجزہ: یہ حدیث معراج کے واقعے کی ایک جھلک پیش کرتی ہے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت اور آپ کا اللہ تعالیٰ سے خاص قرب ثابت کرتی ہے۔
2. رسول اللہ کا درجہ و مقام: جبرائیل علیہ السلام کی شکل میں تبدیلی (عظیم فرشتے سے معمولی شکل) اس بات کی علامت ہے کہ اللہ کے ہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مقام حتیٰ کہ جبرائیل امین سے بھی بلند تر ہے۔
3. اللہ کی عظمت کا ادراک: "النور الاعظم" (عظیم ترین نور) کا دیدار درحقیقت اللہ تعالیٰ کی عظمت و جلال کے ادراک کی علامت ہے، جس کا حقیقی ادراک انسانی حواس سے پرے ہے۔
4. وحی کی عظمت: یہ واقعہ وحی الٰہی کی عظمت و sanctity کو ظاہر کرتا ہے، جو نہ صرف الفاظ بلکہ براہِ راست تجربات و مشاہدات پر مشتمل تھی۔
5. آسمانی حقائق: آسمانوں کے دروازے، نور، اور جواہرات کے پردے وغیرہ ان حقائق کی طرف اشارہ ہیں جن کا مشاہدہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا اور جو انسانی دنیا سے پوشیدہ ہیں۔
6. جبرائیل کا ادب: جبرائیل علیہ السلام کا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے شانہ مبارک پر ہلکا سا ٹھوکا لگانا، تعظیم کے ساتھ آگاہ کرنے کا ایک ادب آمیز طریقہ تھا۔
7. روحانی سفر: یہ واقعہ روحانیت اور قربِ الٰہی کے سفر میں بلندیوں کی طرف ترقی کی علامت ہے، جس کا نقطۂ عروج براہِ راست وحی الٰہی کا نزول ہے۔

راویوں کا درجہ:
وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
[مجمع الزوائد:238]
حدیث کے راوی صحیح (معتبر) حدیثوں کے راوی ہیں، جس سے روایت کی قوت ظاہر ہوتی ہے۔






مالک جہنم کے فرشتوں کا سردار
اللہ تعالی نے سورۃ زخرف آیت ۷۷ میں مالک فرشتہ کا ذکر فرمایا ہے اور یہ جہنم کا داروغہ ہے اور جہنم کے سب داروغوں سے بڑا بھی ہے اور ان کا سردار بھی ہے،حضور   نے اس کو معراج کی شب میں دیکھا ہے اس نے حضور   سے سلام کرنے میں پہل بھی فرمائی ہے۔             

  (مسلم شریف از حضرت انسؓ)


اور آپ  نے اس کو(ایک مرتبہ)خواب میں بھی دیکھا اس کی شکل نہایت مکروہ تھی یعنی جس طرح تم کسی مرد کو نہایت بدصورت دیکھتے ہو وہ ایسا ہی مکروہ منظر ہے۔







طوق اور زنجیر ابھی تیار ہیں
(حدیث)حضرت ابوہریرہؓ نے معراج کا واقعہ  بیان کیا اور فرمایا کہ پھر نبی    ایک وادی پر تشریف لائے اور مکروہ آواز سنی اور بدبودار ہوا پائی تو پوچھا اے جبریل یہ کیا ہے؟تو انہوں نے عرض کیا:
هذا صوت جهنم ، تقول: يارب آتني ماوعدتني فقدكثرت سلاسلي وأغلالي وسعيري وحميمي وضريعي وغساقي  وعذابي،وقد بعد قعري، واشتد حري ، فآتني ما وعدتني ، قال : لك كل مشرك ومشركة، وكافر وكافرة، وكل خبيث وخبيثة ،  وكل جبار لا يؤمن بيوم الحساب
     (مختصر تاریخ دمشق،باب ذکر عروجہ الی السماء واجتماعہ:۱/۱۷۱)
(ترجمہ)یہ جہنم کی آواز ہے یہ کہتی ہے اے میرے پروردگار آپ نے میرے ساتھ جو وعدہ فرمایا ہے وہ مجھے عطا فرمائیے میری زنجیریں ،طوقیں،سوزش،جلتا ہوا پانی بہنے والی پیپ اورعذاب  بہت بڑھ گیا ہے میری گہرائی بڑھ گئی میری گرمی سخت ہوگئی پس آپ نے میرے ساتھ جو وعدہ فرمایا ہے وہ مجھے عطا فرمائیے تو اللہ تعالی نے فرمایا ہر مشرک(مرد) اورمشرک (عورت)اورہر خبیث مرد اورخبیث (عورت)اورہر مغرور قیامت کا منکر تیرے لئے ہے۔
[التخويف من النار والتعريف بحال دار البوار:129]



اگر پتھر اور لوہا بھی جہنم میں ڈالیں تو ان کو بھی کھا جائے گی
(حدیث) حضرت ابو سعید خدریؓ حدیث معراج میں حضور  سے نقل کرتے ہیں کہ آپ  نے فرمایا:
ثم عرضت علی النار فاذافیھا غضب اللہ ورجزہ ونقمتہ لوطرح فیھا الحجارۃ والحدید لاکلتھا ثم اغلقت دونی     
(ضعیف:۱)
(ترجمہ)اس کے بعد میرے سامنے دوزخ پیش کی گئی(مجھے اس میں اللہ تعالی کا غضب،گرج اور انتقام نظر آیا اگر اس میں پتھروں اور لوہے کو ڈال دیا جائے تو یہ ان کو بھی کھاجائے، اس کے(ملاحظہ کرانے کے) بعد میرے سامنے دوزخ کو بند کر دیا گیا۔
[البعث والنشور للبيهقي:183، التخويف من النار والتعريف بحال دار البوار: 88]





روحانی معراج:
غیرت
حضرت عمرؓ بالطبع غیور واقع ہوئے تھے، یہاں تک کہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی غیرت کا پاس ولحاظ کرتے تھے، صحیح مسلم، ترمذی اور صحاح کی تقریبا سب کتابوں میں باختلاف الفاظ مروی ہے کہ 
(معراج کے موقع پر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنت میں ایک عالیشان طلائی قصر ملاحظہ فرمایا جو فاروق اعظم ؓ کے لئے مخصوص تھا اس کے اندر صرف اس وجہ سے تشریف نہیں لے گئے کہ آپ ﷺ کو ان کی غیرت کا حال معلوم تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر ؓ سے اس کا ذکر فرمایا تو وہ روکر کہنے لگے" أَعَلَيْكَ أَغَارُ يَا رَسُولَ اللَّهِ" (کیا میں آپ کے مقابلہ میں غیرت کروں گا یا رسول اللہ۔

[صحيح البخاري:5226، صحيح مسلم:2394، صحيح ابن حبان:6886]



وضو کے بعد دو رکعت نماز

, عن بريدة الأسلمي - رضي الله عنه - قال: (قال رسول الله - صلى الله عليه وسلم - لبلال - رضي الله عنه - عند صلاة الفجر (١): " يا بلال , حدثني بأرجى عمل عملته عندك منفعة في الإسلام، فإني قد سمعت الليلة) (٢) (دف نعليك (٣) بين يدي في الجنة (٤) ") (٥) (قال بلال: يا رسول الله , ما عملت عملا في الإسلام أرجى عندي منفعة من أني لا أتطهر طهورا (٦) في ساعة من ليل ولا نهار إلا صليت بذلك الطهور ما كتب الله لي أن أصلي) (٧) "
وفي رواية (٨): ما أذنت قط إلا صليت ركعتين , وما أصابني حدث قط إلا توضأت عندها , ورأيت أن لله علي ركعتين , فقال رسول الله - صلى الله عليه وسلم -: " بهما (٩) "
ترجمہ:
حضرت بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر کی نماز کے وقت بلال رضی اللہ عنہ سے فرمایا: (١) "اے بلال! مجھے اسلام میں وہ زیادہ امید والا عمل بتاؤ جو تم نے سب سے زیادہ مفید کیا ہے، کیونکہ میں نے آج رات خواب میں دیکھا ہے" (٢) "کہ تمہارے جوتے کی آہٹ میرے آگے جنت میں سنی" (٣)۔" (٤) (٥)
بلال رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: "یا رسول اللہ! میرے نزدیک اسلام میں کوئی عمل سب سے زیادہ امید بخش اور مفید نہیں ہے، سوائے اس کے کہ میں رات یا دن کے کسی بھی وقت وضو نہیں کرتا" (٦) "مگر اس وضو کی وجہ سے اللہ نے جو نماز مجھ پر لکھی ہے، وہ پڑھتا ہوں۔" (٧)
اور ایک روایت میں ہے (٨): (بلال رضی اللہ عنہ نے کہا) میں نے کبھی اذان نہیں دی مگر یہ کہ دو رکعتیں پڑھیں، اور کبھی مجھے کوئی حدث (وضو توڑنے والی چیز) لاحق نہیں ہوئی مگر یہ کہ میں نے اس کے لیے وضو کیا اور (یہ) سمجھا کہ اللہ کا مجھ پر (اس وضو کے بعد) دو رکعتوں کا حق ہے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "اسی (عمل) کی وجہ سے (تم نے یہ مقام پایا)"۔ (٩)

شرح و حواشی:
(١) اس میں اشارہ ہے کہ یہ واقعہ خواب میں پیش آیا، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول تھا کہ آپ جو خواب دیکھتے یا آپ کے صحابہ جو خواب دیکھتے، اس کی تعبیر فجر کی نماز کے بعد بیان فرماتے تھے۔ (فتح الباری لابن حجر، ج 4، ص 139)
(٢) (م) صحیح مسلم: حدیث نمبر 2458، (خ) صحیح بخاری: حدیث نمبر 1098
(٣) الدَّف: ہلکی حرکت، نرم چال۔ (فتح الباری لابن حجر، ج 4، ص 139)
(٤) اس سلسلے کا بیان بلال رضی اللہ عنہ کی فضیلت کے ثبوت پر دلالت کرتا ہے، کیونکہ وہ سبب جو انہیں اس مقام تک پہنچایا، وہ وضو اور نماز کی مداومت تھی۔ اس سے بلال رضی اللہ عنہ کی فضیلت ثابت ہوئی، کیونکہ انبیاء کے خواب وحی ہوتے ہیں، اسی لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس کی یقین دہانی کرائی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے آگے چلنا بیداری میں بھی ان کی عادت تھی، سو خواب میں بھی ایسا ہی ہوا۔ اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ بلال رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے جنت میں داخل ہوئے، کیونکہ وہ پیروی کرنے والے کی حیثیت میں تھے۔ گویا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرف اشارہ فرمایا کہ بلال اپنی زندگی میں جو معمول رکھتے تھے، اس پر قائم رہے اور ان کا مقرب درجہ برقرار رہا۔ اس میں بلال رضی اللہ عنہ کی بہت بڑی منقبت (فضیلت) ہے۔ (فتح الباری لابن حجر، ج 4، ص 139)
(٥) (خ) 1098، (م) 2458
(٦) یعنی: ایک وضو۔
(٧) (م) 2458، (خ) 1098
(٨) امام ترمذی نے "المناقب" (حدیث نمبر 3689) اور امام احمد نے مسند (حدیث نمبر 23090) میں بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ کی حدیث سے روایت کیا ہے۔
(٩) اس حدیث اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان "تم میں سے کوئی شخص اپنے عمل کی وجہ سے جنت میں داخل نہیں ہوگا" کے درمیان کوئی تعارض نہیں ہے۔ کیونکہ ان دونوں کے درمیان جمع کرنے کے مشہور جوابات میں سے ایک یہ ہے کہ جنت میں داخلے کا اصل سبب اللہ کی رحمت ہے، جبکہ درجات کا تقسیم ہونا اعمال کے مطابق ہے۔ اس حدیث میں بھی اسی قسم کا معنی مراد ہے۔ (فتح الباری لابن حجر، ج 4، ص 139)

حاصل شدہ اسباق و نکات:
  1. تحیۃ الوضو کی عظمت: یہ حدیث وضو کے فوراً بعد دو رکعت نماز (تحیۃ الوضو) پڑھنے کی بہت بڑی فضیلت اور اس کے اجر عظیم پر دلالت کرتی ہے۔ یہ اتنا عظیم عمل ہے کہ اس کی وجہ سے بلال رضی اللہ عنہ جنت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب ترین مقام کے حقدار ٹھہرے۔
  2. عبادت میں دوام اور مداومت کی اہمیت: بلال رضی اللہ عنہ کی عظمت کا راز صرف ایک عمل نہیں، بلکہ اس عمل پر ہمیشگی اور مداومت تھی۔ ہر وضو کے بعد نماز پڑھنا ان کا مستقل معمول بن گیا تھا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ چھوٹے عمل کو بھی اگر پابندی سے کیا جائے تو وہ بڑے سے بڑے عمل پر بھاری ہو سکتا ہے۔
  3. طہارت و پاکیزگی کی محبت: بلال رضی اللہ عنہ کا ہر حدث (وضو ٹوٹنے) کے بعد فوراً وضو کر لینا، ان کے دل میں طہارت اور پاکیزگی کی محبت اور احساس کو ظاہر کرتا ہے۔ وہ ہر وقت باوضو رہنے کی کوشش کرتے تھے۔
  4. انبیاء کے خواب حقیقت ہوتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آپ نے یہ خواب دیکھا۔ اس سے ثابت ہوا کہ انبیاء کے خواب سچے ہوتے ہیں اور وحی کی ایک قسم ہیں۔ اس خواب کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے بلال رضی اللہ عنہ کے بلند مقام کی خوشخبری دی۔
  5. بلال رضی اللہ عنہ کی فضیلت و قرب: یہ حدیث حضرت بلال رضی اللہ عنہ کے جلیل القدر صحابی ہونے، ان کے عظیم مقام اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کے قرب خاص کی واضح دلیل ہے۔ "جوتے کی آہٹ" کا ذکر انتہائی قربت اور پیروی کی علامت ہے۔
  6. اعمال اور رحمت میں توازن: شارح (ابن حجر) کے حاشیے (نمبر 9) میں ایک اہم عقیدتی نکتہ واضح کیا گیا ہے کہ جنت میں داخلہ دراصل اللہ کی رحمت سے ہے، لیکن درجات کا تعین انسان کے اعمال کے مطابق ہوتا ہے۔ اس لیے حدیث میں عمل کو درجات بلند کرنے کا سبب بتایا گیا ہے۔

عملی سبق:
  1. ہر وضو کے بعد دو رکعت سنت (تحیۃ الوضو) پڑھنے کی عادت بنائیں۔
  2. کسی بھی نیک عمل کو معمول بنانے کی کوشش کریں، خواہ وہ چھوٹا ہی کیوں نہ ہو۔
  3. ہمیشہ باوضو رہنے کی کوشش کریں۔
  4. سنتوں اور نوافل کو معمول بنانے کی کوشش کریں، کیونکہ یہی اعمال آخرت میں بلند درجات کا باعث بنتے ہیں۔
  5. صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے طرز عمل سے محبت اور ان کی فضیلت کا اعتراف کریں۔

یہ حدیث ایک سنت مہجورہ (چھوڑی ہوئی سنت) کی طرف رغبت دلاتی ہے اور بتاتی ہے کہ معمولی سمجھے جانے والے عمل پر دوام، بندے کو کس بلند مقام تک پہنچا سکتا ہے۔





حدثني عبد الله بن بريدة عن أبيه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم سمع خشخشة أمامه، فقال: "من هذا"؟ قالوا: بلال، فأخبره، وقال: "بم سبقتني إلى الجنة"؟ فقال: يا رسول الله ما أحدثت إلا توضأت، ولا توضأت إلا رأيت أن لله علي ركعتين أصليهما. قال صلى الله عليه وسلم: "بها".
ترجمہ:
عبداللہ بن بریدہ اپنے والد (بریدہ رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے سامنے خشخش (پیروں یا کپڑے کی آواز) سنی تو فرمایا: "یہ کون ہے؟" لوگوں نے بتایا: "بلال ہیں۔" تو آپ ﷺ نے انہیں بلایا اور فرمایا: "تم نے مجھ سے جنت میں کیسے آگے نکل گئے؟"۔
بلال رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: "یا رسول اللہ! میں جب بھی بے وضو ہوتا ہوں، وضو کرتا ہوں، اور جب بھی وضو کرتا ہوں تو میرا خیال ہوتا ہے کہ اللہ کا مجھ پر یہ حق ہے کہ میں دو رکعتیں (تحیۃ الوضو) پڑھوں۔"
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "اسی وجہ سے۔"


حاصل شدہ اسباق و نکات:

  1. تحیۃ الوضو (وضو کے بعد کی دو رکعت نماز) کی فضیلت: یہ حدیث وضو کے فوراً بعد دو رکعت نماز پڑھنے کی عظیم فضیلت اور اس کے اجر پر روشنی ڈالتی ہے۔ یہ عمل جنت میں بلند درجات حاصل کرنے کا ذریعہ ہے۔
  2. نوافل کا اثر: یہ حدیث اس بات کی واضح دلیل ہے کہ نفل عبادات (واجب کے علاوہ کیے جانے والے اعمال) بندے کو اللہ کے ہاں کس قدر مقرب کر دیتے ہیں، یہاں تک کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی آگے نکل سکتے ہیں۔ اس سے نوافل کی اہمیت اور ان کے ذریعے قرب الٰہی حاصل کرنے کی ترغیب ملتی ہے۔
  3. بلال رضی اللہ عنہ کی عبادت گزاری: حضرت بلال رضی اللہ عنہ کی یہ عادت ان کی دائمی طہارت اور عبادت کے ساتھ گہری وابستگی کو ظاہر کرتی ہے۔ وضو کرنا اور پھر اس وضو کی برکت سے فوراً نماز پڑھ لینا ان کا معمول تھا۔
  4. رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا تواضع اور تعلیمی اسلوب: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنے صحابی سے یہ پوچھنا کہ "تم مجھ سے جنت میں کیسے آگے نکل گئے؟" آپ کے بے پناہ تواضع اور تعلیم دینے کے مؤثر اسلوب کو ظاہر کرتا ہے۔ آپ نے براہ راست حکم دینے کے بجائے، سوال کے ذریعے ایک عظیم عمل کی طرف رہنمائی فرمائی تاکہ امت اس کی اہمیت کو سمجھ سکے۔
  5. جنت میں بلند مقام کی خوشخبری: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان "بِهَا" (اسی وجہ سے) درحقیقت حضرت بلال رضی اللہ عنہ کے لیے جنت میں بلند مقام کی تصدیق اور خوشخبری ہے۔

عملی سبق:
  1. ہمیں چاہیے کہ ہر وضو کے بعد تحیۃ الوضو (دو رکعت نماز) پڑھنے کی پابندی کریں۔
  2. ہمیشہ باوضو رہنے کی کوشش کریں۔
  3. نوافل اور سنتوں کو معمول بنائیں، کیونکہ یہی اعمال ہمیں جنت کے اعلیٰ مقامات تک پہنچاتے ہیں۔
  4. بڑے سے بڑے عبادت گزار ہونے کے باوجود تواضع اور علم حاصل کرنے کا جذبہ رکھیں، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ ہے۔

یہ حدیث ایک معمولی سنت (وضو کے بعد کی نماز) کے عظیم اجر اور اسے پابندی سے ادا کرنے والے ایک صحابی کی بلند روحانی منزلت کی داستان بیان کرتی ہے۔




کیا واقعۂِ معراج کے موقع پر "التحیات" کا ذکر کیا گیا تھا؟

حضرت مقاتل ابن حبان سے مروی ہے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
جب مجھے آسمانوں پر لے جایا گیا تو سدرۃالمنتہیٰ کے قریب حجاب اکبر تک حضرت جبرائیل بھی میرے ہمراہ تھے، پھر جبرائیل نے مجھے آگے بڑھنے کو کہا تو میں نے کہا: نہیں بلکہ تم آگے چلو۔
عرض کی: اے محمد! اس جگہ سے آگے آپ کے علاوہ کسی کو پڑھنے کی اجازت نہیں اور اللہ کے نزدیک آپ کو مجھ پر فضیلت ہے۔
آپ نے فرمایا: پھر میں آگے بڑھا اور سونے کے ایک تخت پر پہنچا جس پر جنت کے ریشمی کپڑے بچھڑے تھے بس جبریل نے پیچھے سے مجھے پکارا: اے محمد! بے شک اللہ تعالی آپ کی تعریف فرما رہے ہیں آپ غور سے سنے اور احکامات کی اطاعت کریں اور کلام الہی سے گھبرائے نہیں۔
پھر میں نے اللہ تعالی کی حمد و ثنا کرتے ہوئے عرض کیا:
تمام زبانی، جسمانی اور مالی عبادتیں اللہ کے لیے ہیں۔
جواب میں اللہ نے فرمایا:
اے نبی! تجھ پرسلام ہو اور اللہ کی رحمتیں اور برکتیں ہوں۔
میں نے عرض کیا:
ہم پر بھی اور اللہ کے نیک بندوں پر بھی۔
پھر جبرائیل نے کہا:
میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور گواہی دیتا ہوں کہ محمد اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔
اللہ نے فرمایا:
ایمان لایا پیغمبر اس پر جو اس کے رب کے ہاں سے اس کی طرف نازل ہوا۔
[سورۃ البقرہ:285]
میں نے کہا:
ہاں اے رب! میں آپ پر ایمان لایا۔
اور تمام مومن بھی ایمان لائے ہیں اللہ پر اور اس کے فرشتوں کتابوں اور رسولوں پر اور ہم اس کے کسی ایک پیغمبر میں بھی تفریق نہیں کرتے۔
[سورۃ البقرہ:285]
جیسا کہ یہودیوں نے پیغمبر موسیٰ اور عیسیٰ کے درمیان تفریق کی تھی یا نصاریٰ نے تفریق کی تھی۔
اللہ نے فرمایا:
اللہ کسی کو اس کی قوت وبرداشت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا، جو نیک عمل کرے گا اسے اس کا ثواب ملے گا اور جو برائی کرے گا اسے اس کا عذاب ہوگا۔
[سورۃ البقرہ:286]
پھر فرمایا:
اے محمد! آپ مانگیں عطا کیا جائے گا۔
تو میں نے عرض کیا:
اے ہمارے رب! ہم تیری مغفرت کے طلبگار ہیں اور آپ کی بارگاہ میں حاضر ہونا ہے۔
[سورۃ البقرہ:286]
اللہ نے فرمایا:
بے شک ہم نے آپ کو اور آپ کی امت کو بخش دیا ہے اور آپ کی امت کے ہر اس شخص کو جس نے میری وحدانیت اور تیری رسالت کی تصدیق کی ہے.
پھر فرمایا:
اے محمد! آپ سوال کریں عطا کیا جائے گا۔
تو میں نے عرض کیا:
اے ہمارے رب! ہمارے بھول اور ختم کی گرفت نہ فرمانا۔
[سورۃ البقرہ:286]
اللہ نے فرمایا:
تمہارے ساتھ ایسا ہی ہوگا، ہم تمہاری بھول چوک اور خطاؤں کی گرفت نہ فرما ئیں گے اور اس پر بھی جو تمہاری خواہش کے بغیر کرایا جائے گا۔
پھر فرمایا:
آپ سوال کریں عطا کیا جائے گا۔
تو میں نے عرض کیا:
اے ہمارے رب! ہم پر ویسے ہی سخت غصہ کم نہ بھیجئے جیسے ہم سے پہلے والے لوگوں پر بھیجے گئے تھے۔
[سورۃ البقرہ:286]
اس لیے کہ جب بنی اسرائیل کوئی خطا یا گناہ کرتے تھے تو اللہ تعالی پاکیزہ کھانے بھی ان پر حرام فرما دیا کرتے تھے۔ جیسا کہ اللہ کا فرمان ہے کہ:
یہودیوں کے جرائم کے سوا بھی ہم نے ان پر پاکیزہ چیزوں کو حرام کردیا حالانکہ وہ ان کے لئے حلال تھیں۔[سورۃ النساء: 160]
اللہ نے فرمایا:
تمہاری یہ دعا قبول ہوئی اور مانگو عطا کیا جائے گا۔
میں نے عرض کیا:
اے ہمارے رب! ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا ہے تو ہمیں معافی عطا فرما دے۔
[سورۃ البقرہ:286]
فرمایا:
ایسا ہی ہوگا، اور مانگو عطا کیا جائے گا۔
میں نے عرض کیا:
اے ہمارے رب! ہم پر ایسا بوجھ نہ ڈالنا جس کو سہارنے کی ہمت نہ ہو۔
[سورۃ البقرہ:286]
کیونکہ میری امت کمزور ہے۔
اللہ نے فرمایا:
ایسا ہی ہوگا اور مانگو عطا کیا جائے گا۔
میں نے عرض کیا:
اور ہم سے درگزر کیجئے اور ہمیں بخش دیجئے اور ہم پر رحم کیجئے آپ بھی ہمارے مددگار ہیں اور کافر لوگوں پر ہمیں کامیابی عطا کیجیے۔
[سورۃ البقرہ:286]
فرمایا:
ایسا ہی ہوگا تمہارے صبر کرنے والے بیس آدمی دو سو(کافروں)پر غالب آجائیں گے۔
[تنبيه الغافلين بأحاديث سيد الأنبياء والمرسلين للسمرقندي:805]
[سورۃ البقرۃ:285=تفسير السمرقندي:1/189، تفسير القرطبي:3/425، لطائف الإشارات = تفسير القشيري:3/67، تفسير الحداد:1/517 (تفسير حدائق الروح والريحان:24/205)]



اس واقعہ کے بارے میں (نہایت رحم کرنے والے پروردگار کی طرف سے تم پر  سلامتی ہو) [سورۃ يٰس:58] آیت کے تحت چند تفسیر کی کتابوں میں یہ بات ملی ہے کہ:
"مفسرین کا کہنا ہے کہ:
اس سے اشارہ ہے اللہ تعالی کے اس سلام کی طرف جو شبِ معراج  کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم  پر اللہ تعالی نے فرمایا تھا:
" السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ "
اے نبی! آپ پر اللہ تعالی کی سلامتی ، رحمتیں اور برکتیں ہوں۔۔
تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سلام کو قبول کرتے ہوئے جواب دیا تھا: 
" اَلسَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِيْنَ"
ہم پر اور اللہ تعالی کے تمام نیک بندوں پر سلامتی ہو۔
[روح البیان-علامہ إسماعيل حقي : ج3/ص38، 5/ 88،  5/ 121، 7/ 221، 7/ 468]

[تاريخ الخميس في أحوال أنفس النفيس:1/313، مرآة الزمان في تواريخ الأعيان:22/108]

اسی طرح چند شارحینِ حدیث نے تشہد کی دعا ذکر کرتے ہوئے جو شرح کی ہے  وہاں اس سے ملتی جلتی بات ملتی ہے، جیسے کہ محدث بدر الدین عینی  نے [شرح سنن ابو داود:4/238] اور [نخب الأفكار في تنقيح مباني الأخبار في شرح معاني الآثار:4/449] میں ذکر کی ہے، محدث القسطلاني نے [إرشاد الساري لشرح صحيح البخاري:2/129] میں، محدث عبد الحق الدهلوي نے [لمعات التنقيح في شرح مشكاة المصابيح:3/45] میں ، محدث عثمان الكماخي نے [المهيأ في كشف أسرار الموطأ:1/300] میں ، محدث محمد أنور شاه الكشميري نے [فيض الباري على صحيح البخاري:3/233]نے ، نیز ملا علی قاری نے اسے [مرعاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح:2/732] میں ابن الملک سے نقل کیا ہے۔
اور عبيد الله الرحماني المبارکپوری نے اسے [مرعاة المفاتيح:3/233] میں، اور محمد بن علي بن آدم الأثيوبي نے اسے [البحر المحيط الثجاج في شرح صحيح الإمام مسلم بن الحجاج:9/362] میں اور محمد الأمين الهرري نے اسے[الكوكب الوهاج شرح صحيح مسلم:7 /113، شرح سنن ابن ماجه للهرري:6/83] میں ذکر کی ہے۔

اسی طرح یہ واقعہ کچھ فقہ کی کتابوں میں بھی پایا جاتا ہے:
تبیین الحقائق شرح کنز الدقائق:1/121، الجوهرة النيرة على مختصر القدوري:1/55، البناية شرح الهداية-بدر الدين العيني:2/265، مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر:1/100 میں بھی یہ واقعہ مذکور ہے۔

لیکن کسی نے بھی اس واقعہ کو "سند" کے ساتھ ذکر نہیں کیا، اس لیے اس واقعہ کی نسبت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب کرنا درست نہیں ہے، بالکل اسی طرح یہ واقعہ بچوں کو بھی نہیں سکھانا چاہیے، اس کی وجہ یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہونے کی کوئی دلیل نہیں ہے، اور تمام علمائے کرام کا اس بات پر اتفاق ہے کہ ایسی تمام احادیث کو بیان کرنا حرام ہے، صرف ایک صورت میں بیان کرنا جائز ہے جب ان احادیث کی حقیقت عیاں کرنا مقصود ہو اور ان سے لوگوں کو خبردار کرنا  ہو۔


شبِ معراج منانا؟

اولاً تو حتمی طور پر یہ بات طے نہیں ہے کہ معراج کس سال اور مہینہ اور کس شب میں پیش آئی؟ دوسرے اگر کوئی تاریخ ثابت بھی ہوجائے تو اس رات میں خصوصیت کے ساتھ عبادت کرنے اور اس کا غیر ضروری اہتمام کرنے کا ثبوت دور نبوت، دور صحابہ اور سلف صالحین سے نہیں ہے، اس لئے جو حضرات اس رات میں خصوصی پروگرام وغیرہ کرنے پر نکیر کرتے ہیں وہ حق پر ہیں۔ اور جن مساجد میں اس رات میں پروگرام کرنے کا سلسلہ جاری ہے اسے ختم کرنا ضروری ہے، تاکہ اس بدعت پر روک لگ سکے۔

یکرہ الاجتماع علی إحیاء لیلۃ من ہٰذہ اللیالي المتقدم ذکرہا في المساجد وغیرہا؛ لأنہ لم یفعلہ النبي ا ولا أصحابہ، فأنکرہ أکثر العلماء من أہل الحجاز، وقالوا: ذٰلک کلہ بدعۃ۔ [مراقي الفلاح مع الطحطاوي، فصل في تحیۃ المسجد ۳۲۶]

اعلم إنا لم نجد في الأحادیث لا اثباتاً ولا نفیاً مما اشتہر بینہم من تخصیص الخامس عشر من رجب بالتعظیم والصوم والصلاۃ۔
[ما ثبت بالسنۃ ۱۹۱-۱۹۲، بحوالہ: فتاویٰ محمودیہ ۵؍۵۰۰ میرٹھ]

ومن ہنا یعلم کراہۃ الإجتماع علی صلوۃ الرغائب التي تفعل في رجب أو في أولی جمعۃ منہ، وأنہا بدعۃ ۔
[شامی زکریا ۲؍ ۴۶۹، حلبی کبیر ؍۴۳۲، البدایۃ والنہایۃ۳؍ ۱۰۹، مرقاۃ المفاتیح ۱۱؍ ۱۳۸، روح المعاني ۹؍ ۱۰، معارف القرآن بیت الحکمۃ دیوبند ۵؍ ۴۴۳، سیرۃ المصطفی ۱؍ ۲۸۸]

حافظ الحدیث امام ابن حجر عسقلانی لكھتے ہيں:
" ماہ رجب اور اس ميں روزے ركھنے اور نہ ہى اس كے كسى معين دن ميں روزہ ركھنے، اور نہ ہى اس ميں كسى مخصوص رات كا قيام كرنے كى فضيلت كے متعلق كوئى صحيح حديث وارد نہيں جو قابل حجت ہو" 
: تبيين العجب بما ورد في فضل رجب ]11 ]

رجب کے روزے اور اسکی راتوں میں قیام کے متعلق جتنی احادیث بیان کی جاتی ہیں وہ ساری جھوٹ اور بہتان ہیں.
[المنار المنیف ، امام ابن قیم :ص96]

شدید ضعیف بلکہ موضوع ہیں.
[تبیین العجب ،امام ابن حجر :ص11
مجموع الفتاوی الکبری ،امام ابن تیمیہ :25/290]


شب معراج جس رات نبی کریم ﷺ تشریف لے گئے، وہ ایک انتہائی عظیم اور باعظمت رات تھی۔ لیکن پوری سیرت طیبہ میں کہیں بھی ایک واقعہ بھی نہیں ملتا کہ حضور ﷺ یا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کسی خاص رات میں مخصوص طریقے سے چراغاں کیا ہو یا کسی مخصوص عمل کو سنت یا عبادت قرار دیا ہو۔ اس لیے یہ کہنا کہ "اس رات یہ کرنا چاہیے یا وہ کرنا چاہیے" بالکل درست نہیں۔ اول تو شبِ معراج کب ہے اس کا یقینی تعین نہیں ہے اسی طرح رجب کے مخصوص دنوں یا شب معراج کے روزے کے بارے میں بھی یہی اصول ہے۔ اگر کوئی شخص شب معراج کے دن روزہ رکھ لیتا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ اسے کھانا کھلانے اور روزہ توڑنے کا حکم دیتے، تاکہ لوگ اسے سنت نہ سمجھنے لگیں، کیونکہ اس کا کوئی صحیح سند والا ثبوت موجود نہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ شب معراج میں عبادت کرنا جائز ہے، لیکن کسی عمل کو سنت یا فرض سمجھ کر کرنا ٹھیک نہیں۔ عام دنوں اور راتوں کی طرح قرآن کی تلاوت، دعا، اور عبادت کرنا بالکل جائز ہے، لیکن یہ یاد رکھیں کہ نبی ﷺ اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا طریقہ سب سے درست نمونہ ہے۔




شب برات اور معراج كا روزہ ركھنا


جاہلیت میں جس انداز سے رجب کی تعظیم کی جاتی تھی اس کے پیشِ نظر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ نے اس دن روزہ رکھنے سے منع فرمایا، خرشہ بن الحر سے روایت ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ رجب کا روزہ رکھنے پر لوگوں کی ہتھیلیوں پر مارتے تھے یہاں تک وہ اپنا ہاتھ کھانے میں ڈال دیتے تھے، (یعنی اپنے سامنے لوگوں سے روزہ افطار کروادیتے تھے) اور آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا : رجب اور رجب کیا ہے؟ رجب تو ایک مہینہ ہے جس کی اسلام میں تعظیم کی جاتی تھی، پھر جب اسلام آیا تو اس کی جاہلیت والی عظمت کوترک کردیا گیا۔

ایک روایت میں ہے کہ آپ ﷺ سے رجب کا روزہ رکھنے کے بارے میں پوچھا گیا کہ تو آپ ﷺ نے فرمایا تم شعبان کا روزہ کیوں نہیں رکھتے؟
خلاصہ یہ کہ رجب کے روزہ کی ممانعت جاہلیت کی تعظیم والے پہلو کے پیش نظر ہے یا اس روزے کو  لازم یا زیادہ فضیلت کا باعث سمجھ کر رکھنے کی وجہ سے ہے، اگر کسی شخص کی عادت (مثلاً) پیر اور جمعرات کے روزے رکھنے کی ہو اور 27 رجب پیر یا جمعرات کو آجائے (جیساکہ اس مرتبہ 27 رجب بروزِ جمعرات ہے) تو ایسے شخص کے لیے اس دن روزہ رکھنے میں حرج نہیں ہے۔ 
كنز العمال (8/ 653):
"24580- عن خرشة بن الحر قال: "رأيت عمر بن الخطاب يضرب أكف الرجال في صوم رجب حتى يضعوها في الطعام، فيقول: رجب وما رجب! إنما رجب شهر كانت تعظمه الجاهلية فلما جاء الإسلام ترك". "ش طس".
مصنف ابن أبي شيبة (2/ 345):
"حدثنا أبو معاوية، عن الأعمش، عن وبرة، عن عبد الرحمن، عن خرشة بن الحر، قال: رأيت عمر يضرب أكف الناس في رجب، حتى يضعوها في الجفان، ويقول: كلوا، فإنما هو شهر كان يعظمه أهل الجاهلية ".
مصنف ابن أبي شيبة (2/ 345):
"حدثنا وكيع، عن سفيان، عن زيد بن أسلم، قال: سئل رسول الله صلى الله عليه وسلم، عن صوم رجب فقال: «أين أنتم من شعبان»؟"
عمدة القاري شرح صحيح البخاري (10/ 256):
" وكراهية ابْن عمر صَوْم عَاشُورَاء نَظِيره كَرَاهِيَة من كره صَوْم رَجَب إِذا كَانَ شهراً يعظمه الْجَاهِلِيَّة فكره أَن يعظم فِي الْإِسْلَام مَا كَانَ يعظم فِي الْجَاهِلِيَّة من غير تَحْرِيم صَوْمه على من صَامَهُ". 

اسراء و معراج كا جشن منانا:
يہ رات جس ميں اسرا ومعراج کا واقعہ پيش آيا اس كى تعيين کے بارہ ميں کوئي صحيح حديث وارد نہيں ہے، بلکہ اس كى تعيين ميں جو روايتيں بھي آئي ہيں محدثين کے نزديک نبي صلي اللہ عليہ وسلم سے ثابت نہيں ہيں، اور اس شب کو لوگوں کے ذہنوں سے بھلا دينے ميں اللہ تعالى كى کوئي بڑي حکمت ضرور پوشيدہ ہے، اور اگر اس كى تعيين ثابت بھي ہو جائے تو مسلمانوں کے لئے اس ميں كسى طرح کا جشن منانا يا اسےكسىعبادت کے لئے خاص کرنا جائز نہيں ہے، کيونکہ نبي صلى اللہ عليہ وسلم اور صحابہ کرام نےنہ تو اس ميں كسى طرح کا کوئي جشن منايا اور نہ ہي اسے كسى عبادت کے لئے خاص کيا، اور اگر اس شب ميں جشن منانا اور اجتماع کرنا شرعا ثابت ہوتا تو نبي صلي اللہ عليہ وسلم اپنے قول يا فعل سے اسے امت کے لئے ضرور واضح کرتے، اور اگر عہد نبوي يا عہد صحابہ ميں ايسي کوئي چيز ہوتي تو وہ بلا شبہ معروف ومشہور ہوتي اور صحابہ کرام اسے نقل کرکے ہم تک ضرور پہنچاتے کيونکہ انہوں نے نبي صلى اللہ عليہ وسلم سے نقل کرکے امت کو ہر وہ بات پہنچائي جس كى امت کو ضرورت تھي، اوردين کے كسى بھي معاملہ ميں کوئي کوتاہي نہ كى بلکہ وہ نيكى کے ہرکام ميں بڑھ چڑھ کر حصہ لينے والے تھےچنانچہ اگر اس شب ميں جشن منانے اور محفل معراج منعقد کرنے كى کوئي شرعي حيثيت ہوتي تو وہ سب سے پہلے اس پر عمل کرتے.

نبي صلى اللہ عليہ وسلم امت کے سب سےزيادہ خيرخواہ تھے، آپ صلى اللہ عليہ وسلم نے پيغام الہي کو پورے طور پر پہنچا کرامانت كى ادائيگي فرمادي، لہذا اگر اس شب كى تعظيم اور اس ميں جشن منانا دين اسلام سے ہوتا تو آپ صلى اللہ عليہ وسلم قطعا اسے نہ چھوڑتے اور نہ ہي اسے چھپاتے، ليکن جب عہد نبوي اور عہد صحابہ ميں يہ سب کچھ نہيں ہوا تو يہ بات واضح ہوگئى کہ شب معراج كى تعظيم اور اس کے اجتماع کا دين اسلام سے کوئي واسطہ نہيں ہے، اللہ تبارک وتعالى نے اس امت کے لئے اپنے دين كى تکميل فرما دي ہے، اور ان پر اپني نعمت کا اتمام کرديا ہے، اور ہراس شخص پرعيب لگايا ہے جو مرضي الہي کے خلاف بدعات ايجاد کرے.

اللہ سبحانہ وتعالى نے اپني کتاب مبين قرآن کريم ميں سورۃ المائدہ کے اندر فرمايا:

اليوم أکملت لکم دينکم وأتممت عليکم نعمتي ورضيت لکم الإسلام دينا المائدۃ ( 5 / 3 ).

آج ميں نےتمہارےلئےدين کوکامل کرديا، اور تم پر اپنا انعام پورا کرديا اور تمہارے لئے اسلام کے دين ہونے پر رضامند ہوگيا.

اور اللہ عزوجل نے سورۃ الشورى ميں فرمايا:

أم لهم شرکاء شرعوا لهم من الدين مالم يأذن به الله ولولا کلمة الفصل القضي بينهم وإن الظالمين لهم عذاب أليم الشورى ( 42 / 21 ).

کيا ان لوگوں نے ايسے ( اللہ کے ) شريک ( مقرر کر رکھے ہيں جنہوں نے ايسے احکام دين مقرر کردئے ہيں جواللہ تعالى کے فرمائے ہوئے نہيں ہيں، اگر فيصلہ کے دن کا وعدہ نہ ہوتا تو ( ابھي ہي ) ان ميں فيصلہ کر ديا جاتا، يقينا ( ان ) ظالموں کے لئے ہي درد ناک عذاب ہے.

رسول اللہ صلى اللہ عليہ وسلم سے صحيح احاديث ميں بدعات سے بچنے كى تاکيد اور اس کے گمراہي ہونے كى صراحت ثابت ہے، تاکہ امت کے افراد ان کے بھيانک خطرات سے آگاہ ہو کر ان کے ارتکاب سے پرہيزواجتناب کريں.

چنانچہ صحيح بخاري ومسلم ميں حضرت عائشہ رضي اللہ عنہا سے مروي ہے کہ رسول صلي اللہ عليہ وسلم نےفرمايا:

" من أحدث في أمرنا هذا ما ليس منه فهو رد "
ترجمہ:
جس نے ہمارے اس دين ميں کوئي نيا کام نکالا جو ( دراصل ) اس ميں سے نہيں ہے وہ ناقابل قبول ہے.

اور صحيح مسلم كى ايک روايت ميں يہ الفاظ ہيں کہ آپ صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" من عمل عملا ليس عليه أمرنا فهو رد "
ترجمہ:
جس نے کوئي ايسا عمل کيا جو ہمارے اسلام ميں نہيں تو وہ ناقابل قبول ہے.

اور صحيح مسلم ميں حضرت جابربن عبداللہ رضي اللہ عنہ سے روايت ہے کہ رسول اللہ صلى اللہ عليہ وسلم جمعہ کے دن اپنےخطبہ ميں فرمايا کرتےتھے:

" أما بعد فإن خير الحديث کتاب الله وخير الهدي هدي محمد صلى الله عليه وسلم وشر الأمور محدثاتها وکل بدعة ضلالة "

حمدوصلاۃ کے بعد: بيشک بہترين بات اللہ كى کتاب اور سب سے بہتر طريقہ محمد صلى اللہ عليہ وسلم کا طريقہ ہے، اور بدترين کام نئي ايجاد کردہ بدعتيں ہيں اورو ہر بدعت گمراہي ہے.

اور سنن ميں حضرت عرباض بن ساريہ رضي اللہ تعالى عنہ سے روايت ہے وہ کہتے ہيں کہ رسول اللہ صلى اللہ عليہ وسلم نے ہميں انتہائي جامع نصيحت فرمائي جس سے دلوں ميں لرزہ طاري ہوگيا اور آنکھيں اشکبار ہوگئيں، تو ہم نے کہا اے اللہ کےرسول صلى اللہ عليہ وسلم يہ الوداعي پيغام معلوم ہوتا ہے لہذا آپ ہميں وصيت فرمائيے آپ صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" أوصيکم بتقوى الله والسمع والطاعة وإن تأمرعليکم عبد فإنه من يعش منکم بعدي فسيرى اختلافا کثيرا فعليکم بسنتي وسنة الخلفاء الراشدين المهديين من بعدي تمسکوا بها وعضوا عليها بالنواجذ وإياکم ومحدثات الأمور فإن کل محدثة بدعة وکل بدعة ضلالة "

ميں تمہيں اللہ سے ڈرتے رہنے، حاکم وقت كى بات سننے اور ماننے كى وصيت کرتا ہوں اگرچہ تم پر حبشي غلام ہي حاکم بن جائے، اور ميرے بعد جوشخص زندہ رہےگا وہ بہت سے اختلافات ديکھے گا، اس وقت تم ميري سنت اور ہدايت يافتہ خلفاء راشدين كى سنت کو لازم پکڑو اسے دانتوں سے مضبوط پکڑلو اوردين ميں نئي نئي باتوں سے بچو کيونکہ ہر نئي چيز بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہي ہے.

رسول اکرم صلى اللہ عليہ وسلم کے صحابہ اور سلف صالحين بھي بدعتوں سے ڈراتے اور ان سے بچنے كى تاکيد کرتے رہےکيونکہ بدعات دين ميں زيادتي اور مرضي الہي کے خلاف شريعت سازي ہيں بلکہ يہ اللہ کے دشمن يہود ونصاري كى مشابہت ہے، جس طرح انہوں نے اپنے اپنے دين ( يہوديت، عيسائيت ) ميں نئي چيزوں کا اضافہ کرليا اور مرضي الہي کے خلاف بہت سي چيزيں ايجاد کرليں نيز بدعات ايجاد کرنے کا لازمي نتيجہ دين اسلام کونقص اور عدم کمال سے متہم کرنا ہے.

اور يہ تو واضح ہي ہے کہ بدعات کے ايجاد کرنے ميں بہت بڑي خرابي اور شريعت كى انتہائي خلاف ورزي ہے، نيز اللہ عزوجل کے اس فرمان
اليوم اکملت لکم دينکم 
آج ميں نے تمہارے لئے تمہارا دين مکمل کرديا ہے
سے ٹکراؤ اور بدعات سے ڈرانے اور نفرت دلانے والي احاديث رسول كى صريح مخالفت بھي ہے.

اللہ تعالى سے دعا ہے کہ وہ مسلمانوں کے احوال كى اصلاح فرمادے انہيں دين كىسمجھ عطا فرما دے اور ہميں اور ان کو حق پر کاربند اور ثابت قدم رہنے اور خلاف حق امور سے گريز کرنے كىتوفيق عطا فرمائے، وہ اللہ اس کا کارساز اوراس پر قادر ہے.

اور اللہ اپنے بندے اور رسول ہمارے نبي محمد صلى اللہ عليہ وسلم پر اور آپ کے اہل وعيال اور ساتھيوں پر رحمت وسلامتي اور برکت نازل فرمائے.

شبِ قدر افضل ہے یا شب ِمعراج؟

 لیلۃ القدر اور لیلۃ المعراج میں سے افضل رات کون سی ہے؟ اس بارے میں شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ سے پوچھا گیا، تو انہوں نے جواب دیا کہ:
"لیلۃ المعراج نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں افضل ہے، جبکہ لیلۃ القدر امت کے حق میں افضل ہے، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کیلیے لیلۃ المعراج  لیلۃ القدر سے زیادہ  سود مند ہے، جبکہ امت کیلیے لیلۃ القدر  لیلۃ المعراج سے زیادہ سود مند ہے، اگر چہ  امت کو بھی لیلۃ المعراج میں بہت کچھ ملا ہے، لیکن پھر بھی شرف اور مقام و مرتبہ کے اعتبار سے لیلۃ المعراج اصل میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کیلیے زیادہ بہتر ہے" اس مسئلہ کے بارے میں یہ شیخ الاسلام ابن تیمیہ جواب ہے۔

امام علامہ ابن قیم رحمہ اللہ کی اس بارے میں گفتگو بھی ان کے شیخ یعنی ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی تائید میں ہے کہ لیلۃ المعراج نبی صلی اللہ علیہ وسلم کیلیے افضل ہے، اور لیلۃ القدر امت کیلیے افضل ہے۔


یہاں یہ بات واضح رہے کہ :

اللہ تعالی نے لیلۃ القدر میں ہمارے لئے کچھ عبادات  مقرر کی ہیں جو کہ لیلۃ المعراج کیلیے نہیں ہیں، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کبھی بھی لیلۃ المعراج کو خصوصی طور پر قیام اللیل یا ذکر وغیرہ نہیں کرتے تھے، بلکہ آپ لیلۃ القدر کی شان اور مقام و مرتبہ کی وجہ سے اس رات میں قیام اور ذکر وغیرہ کیا کرتے تھے۔


خلاصہ:
(1)معراج کی رات کا واقعہ حق اور متعدد صحیح روایات سے ثابت ہے۔

(2)شبِ معراج افضل ہے نبی اکرم ﷺ کے حق میں، اور شبِ قدر افضل ہے امت کے حق میں۔

(3) شبِ معراج ہر سال نہیں کروائی گئی تھی، اور نہ ہی کروائی جاتی ہے۔

(4) شبِ قدر کی طرح شبِ معراج کی عبادت کی رات نہیں۔

(5) معراج کس رات یا تاریخ یا مہینہ یا سال میں ہوئی، اس میں اتفاق نہیں بلکہ بہت اختلاف ہے۔

(6)معراج کی رات آسمانوں کی سیر جسمانی ہوئی تھی، کیونکہ روحانی یا نیند کے خواب کو ماننا مشکل نہیں ورنہ اس کا کفار انکار نہ کرتے اور یہ معجزہ نہ ہوتا۔


*" ماہ رجب اور اس ميں روزے ركھنے اور نہ ہى اس كے كسى معين دن ميں روزہ ركھنے، اور نہ ہى اس ميں كسى مخصوص رات كا قيام كرنے كى فضيلت كے متعلق كوئى صحيح حديث وارد نہيں جو قابل حجت ہو".*
[تبيين العجب بما ورد في فضل رجب-امام ابن حجر عسقلانی: ص11]

*رجب کے روزے اور اسکی راتوں میں قیام کے متعلق جتنی احادیث بیان کی جاتی ہیں وہ ساری جھوٹ اور بہتان ہیں.*
[المنار المنیف،امام ابن قیم:ص96]

*شدید ضعیف بلکہ موضوع ہیں.*
[تبیین العجب: ص11
مجموع الفتاوی الکبری،امام ابن تیمیہ:25/290]


معراجِ رسول  صلی اللہ علیہ وسلم غم کا مداویٰ و مرتبے کی بلندی


 

دلائل نبوت

رسالت محمدی برحق ہے، اس پر ایمان لانا اسلام کے بنیادی عقائد میں سے ہے، جس کو باری تعالیٰ نے بہت ہی عظیم الشان طریقے پر ذکر فرمایا ہے، وَمَا یَنطق عن الہویٰ انْ ہُوَ الاَّ وحی یوحیٰ اور دوسری جگہ ارشاد ہے ما آتاکم الرّسولُ فخذوہ وما نہاکم عنہ فانتہوا واتقو اللّٰہ ، چنانچہ سیرت کے بہت سے واقعات سید المرسلین محمد رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کی دلیلیں بھی ہیں، اور آپ کے معجزات میں سے بھی ہیں، جیسے معجزہ شق القمر، کنکریوں کا کلمہ پڑھنا وغیرہ۔ اسی طرح آپ  صلی اللہ علیہ وسلم کی جسمانی معراج یعنی رات کے چند لمحات کے اندر ساتوں آسمان کا سفر کرکے سدرة المنتہیٰ کے پاس تشریف لیجانا، باری تعالیٰ سے ہم کلام ہونا، بار بار کی تخفیف کے بعد امت کیلئے پانچ وقت کی نماز کا تحفہ لے کر چند لمحات میں بیت ام ہانی کے اندر واپس تشریف لانا، ارشاد باری ہے، سُبْحٰنَ الذیْ أَسْریٰ بعَبْدہ لَیْلاً مّنَ المسْجد الحرام الی المسجد الأقصیٰ o الذی بارکنا حولہ لِنریہ من آیاتنا انّہ ہُو السمیع البصیر (سورہ بنی اسرائیل، آیت:۱-۲) ترجمہ : پاک ہے وہ ذات جس نے اپنے خاص بندہ یعنی محمد  صلی اللہ علیہ وسلم کو رات کے ایک قلیل حصہ میں مسجدحرام سے مسجد اقصیٰ تک لے گیا، (جس سے اصل مقصود یہ تھا کہ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم کو آسمانوں کی سیر کرائیں اور وہاں کی) خاص خاص نشانیاں آپ کو دکھلائیں (جن کاکچھ ذکر سورة النجم میں فرمایا ہے کہ آپ سدرة المنتہیٰ تک تشریف لے گئے اور وہاں جنت و جہنم اور دیگر عجائباتِ قدرت کا مشاہدہ فرمایا) تحقیق کہ اصل سننے والا اور اصل دیکھنے والا حق تعالیٰ ہے۔ (وہی جس کو چاہتا ہے اپنی قدرت کے نشانات دکھلاتا ہے اور پھر وہ بندہ اللہ کی تبصیر سے دیکھتا ہے اور اللہ کے اسماع سے سنتا ہے۔

تبلیغ و دعوت اور رنج و غم کے لمحات

نبوت ملنے کے بعد حکم ہوا ”یا أیہا الرسول بلغ ما أنزل الیکَ من ربکَ وان لم تفْعَل فما بلغت رسالتہ“ (المائدہ)

ترجمہ: اے رسول  صلی اللہ علیہ وسلم آپ وہ (پیغام لوگوں تک) پہنچادیجئے جو آپ کے پاس آپ کے رب کی طرف سے نازل کیاگیا، اور اگر آپ  صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا نہیں کیا تو (گویا کہ) آپ نے اپنے رب کا پیغام لوگوں تک نہیں پہنچایا۔

چنانچہ بعثت کے بعد تین سال تک آپ  صلی اللہ علیہ وسلم خفیہ طریقہ پر دین اسلام کی تبلیغ کرتے رہے، اور لوگ آہستہ آہستہ اسلام میں داخل ہوتے رہے، تین سال کے بعد یہ حکم نازل ہوا فَاصْدَعْ بمَا تُوٴمَرُ وَأَعْرِضْ عَنِ الْمُشرکین (سورہ الحجر)

ترجمہ: جس بات کا آپ کو حکم دیاگیا ہے، اس کا صاف صاف اعلان کردیجئے، اور مشرکین کی پروانہ کیجئے۔

 چنانچہ کوہ صفا پر چڑھ کر آپ نے احکام الٰہی کو لوگوں تک پہنچایا، اور اعلانیہ دعوت کا کام شروع کردیا، اِدھر آپ  صلی اللہ علیہ وسلم نے دعوت کا کام شروع کیا، اور اُدھر مکہ کے قریش و مشرکین کی ریشہ دوانیوں، منصوبہ بندیوں اور ایذاء رسانیوں کا سلسلہ شروع ہوگیا، آپ  صلی اللہ علیہ وسلم تنہا مسجد حرام اور خانہ کعبہ میں نماز پڑھنے کے لئے جاتے تو طرح طرح کی کلفتوں اور مشقتوں کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ کبھی کوئی آپ  صلی اللہ علیہ وسلم پر پتھر پھینکتا، کبھی آوازیں کستا، اور تمسخر و مذاق اڑاتا، اسی طرح راستے میں کبھی آپ کے سرپر اوپر سے کوڑا کرکٹ ڈال دیا جاتا، کبھی اوجھڑی پھینک دی جاتی، اور آپ کیلئے تبلیغ کی راہ میں رکاوٹیں پیدا کی جاتیں۔ یہ سارے حالات ذہنی کلفت و اذیت کا سبب بھی تھے، اور جسمانی مشقت و پریشانی کا باعث بھی۔ وہ بھی کس مپرسی افلاس اور کم مائیگی کے عالم میں، لیکن پھر بھی آپ کی تسلی اور دل کی مضبوطی و اطمینان کیلئے دوسہارے موجود تھے، اول یہ کہ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم کی آٹھ سال کی عمر کے وقت آپ کے دادا عبدالمطلب کا انتقال ہوا، آخری وقت میں انھوں نے آپ کے چچا ابوطالب کو آپ  صلی اللہ علیہ وسلم کی تربیت اور پرورش کیلئے وصیت کی، پھر باپ سے بڑھ کر انھوں نے شفقت و ہمدردی اور تربیت کاحق ادا کیا اور اسی طرح آپ  صلی اللہ علیہ وسلم کی سب سے پہلی بیوی حضرت خدیجة الکبریٰ رضی اللہ عنہا جو غار حرا سے واپسی اور نبوت ملنے کے بعد سب سے پہلے آپ پر ایمان لائیں، اور زندگی بھر آپ  صلی اللہ علیہ وسلم کیلئے سہارا اور قلبی راحت و سکون کا سبب بنی رہیں کہ ساری اذیتوں اور پرخاش ماحول کے بعد جب گھر تشریف لاتے تو آپ کے دل کو قرار اور چین و سکون نصیب ہوجاتا۔

لیکن مرتبے کی بلندی مصائب و ابتلاء سے گھری ہوئی رہتی ہے، چنانچہ ۱۰/ نبوی عام الحزن والملال کے نام مشہور ہوا، کہ چند دن کے اندر دو دو سہارے آپ کی زندگی سے ختم ہوگئے۔ شعب ابی طالب سے نکلنے کے چند ہی روز بعد ماہ رمضان یا شوال ۱۰ نبوی میں ابوطالب کا انتقال ہوا، پھر تین یا پانچ دن بعد حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کا بھی انتقال ہوگیا۔

سفر طائف سلسلہٴ مشقت کی ایک کڑی

ابوطالب کے بعد آپ کا کوئی حامی و مددگار نہ رہا اور حضرت خدیجہ کے رخصت ہوجانے سے کوئی تسلی دینے والا غمگسار نہ رہا، اس لئے آپ  صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش مکہ کی چیرہ دستیوں سے مجبور ہوکر اخیر شوال ۱۰ نبوی میں دعوت کے لئے طائف کا قصد فرمایا کہ شاید یہ لوگ اللہ کی ہدایت کو قبول کریں، اور اس کے دین کے حامی و مددگار ہوں، زید بن حارثہ کو ہمراہ لے کر طائف تشریف لے گئے۔ (سیرت مصطفی، جلد:۱، ص: ۲۷۴)

پھر طائف میں کیا کچھ ہوا اور وہاں کے شریر بچوں نے آپ کے ساتھ کیسا سلوک کیا اور کس طرح زدوکوب کے ساتھ آپ کو خون میں لت پت کیا اس کے لئے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت کافی ہے۔

”حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ میں نے ایک بار عرض کیا یا رسول اللہ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم پر اُحد سے بھی زیادہ سخت دن گذرا ہے، آپ  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تیری قوم سے جو تکلیفیں پہنچیں سو پہنچیں، لیکن سب سے زیادہ سخت دن وہ گذرا کہ جس دن میں نے اپنے آپ کو عبدیالیل کے بیٹے پر پیش کیا، اس نے میری بات کو قبول نہیں کیا، میں وہاں سے غمگین ورنجیدہ واپس ہوا۔“ (ملخص از ترجمہ فتح الباری، ج:۶، ص: ۲۲۵)

کفار مکہ کی ستم ظریفی

اور یہ تو سفر کی مختصر سی مدت تھی اگرچہ کلفت و مشقت اور رنج و غم کے اعتبار سے پوری زندگی کے اوقات میں سب سے دشوار معلوم ہوئی، اس کے علاوہ مکہ معظمہ کے قیام میں بھی کیا کم مصائب اور اذیتوں سے دوچار ہونا پڑا، دونوں میں فرق کیلئے بس اتنا ہی کہا جاسکتا ہے کہ ایک مرحلہ سانپ کے کاٹنے کی طرح ہے کہ جس سے اچانک انسان جاں بحق ہوجاتا ہے، اور دوسرابچھو کے ڈنک مارنے کی طرح ہے جس کا زہر لہریں مارتا رہتا ہے ۔ چنانچہ ابن ہشام اپنے ماخذ سیرت میں رقمطراز ہیں:

قال ابن اسحاق : ومرّ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ۔ فیما بلغنی ۔ بالولید بن المغیرة وأمیة بن خلف، وبأبی جہل ابن ہشام فہمزوہ واستہزووا بہ فغاظہ ذلک فأنزل اللّٰہ تعالیٰ علیہ فی ذلک من أمرہم ”ولقد اسْتہزیَ برسل من قبلکَ فحاق بالذین سخروا منہم ما کانوا بہ یستہزوٴن“ (سیرة ابن ہشام، ج:۱، ص: ۳۹۵)

ابن اسحاق نے فرمایا : جہاں تک مجھے خبر ملی کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم کا گذر ولید بن المغیرہ، امیہ بن خلف اور ابوجہل ابن ہشام پر ہوا، تو ان لوگوں نے آپ پر طعن و تشنیع کیا، اور آپ کا مذاق اڑایا، تو اس کی وجہ سے آپ غصہ ہوئے، جس کی بناء پر قرآن پاک کی یہ آیت نازل ہوئی۔ ”ولقد استہزی الخ“ تحقیق کہ آپ سے پہلے رسولوں کا مذاق اڑایاگیا سو جن لوگوں نے استہزا کیا تھا ان پر وہ عذاب نازل ہوگیا جس کا وہ استہزاء کیا کرتے تھے۔

قال ابن اسحق فأقام رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم علی أمر اللّٰہ صابرًا محتسبًا موٴدیاً الی قومہ النصیحة علی ما یلقی عنہم من التکذیب والأذیٰ (والاستہزاء) (سیرة ابن ہشام، ج:۱، ص: ۴۰۸)

ابن اسحاق نے فرمایا کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے حکم پر قائم رہے، صبر کرتے ہوئے ثواب کی امید کرتے ہوئے اور اپنی قوم تک نصیحت کی باتیں پہنچاتے ہوئے باوجودیکہ ان کی جانب سے آپ کی شانِ اقدس میں تکذیب و مذاق بازی اور ایذاء رسانی کا سلسلہ جاری تھا۔

اور اسی پر بس نہیں بلکہ فَترتِ وحی کے موقع پر بھی طرح طرح سے کفار مکہ نے آپ کو تمسخر و استہزا کا نشانہ بنایا۔

زخم خوردہ نبی کی تسلی

اسی طرح جب مسلسل مصائب و آلام کے پہاڑ توڑے گئے، مشقت و کلفت کی انتہا ہوگئی، تو ارحم الراحمین نے طرح طرح سے مختلف آیتوں کے نزول اور واقعات کے ذریعہ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم کیلئے صبر و تسلی کا سامان مہیا فرمایا، اور قوت و پختگی اور عزم و حوصلہ کے ذریعہ آپ کی مدد فرمائی حتی کہ دوسورتوں یعنی ”والضحیٰ اور ألم نشرح“ کا نزول ہوا، جس میں باری تعالیٰ نے آپ کے رخِ انور کی قسم کھاکر ارشاد فرمایا: ”مَا وَدّعک ربک و ما قلیٰ“ یعنی آپ کے رب نے آپ کو چھوڑا نہیں اور نہ ہی آپ سے ناراض ہوا، ارشاد ہوا:

ألم نشرح لک صدرک ووضعنا عنک وزرک الذی أنقض ظہرک ورفعنا لک ذکرک (سورة الانشراح)

کیا ہم نے آپ کی خاطر آپ کا سینہ (علم وحلم) سے کشادہ نہیں کردیا اور ہم نے آپ  صلی اللہ علیہ وسلم پر سے آپ کا وہ بوجھ اتاردیا جس نے آپ کی کمر توڑ رکھی تھی اور ہم نے آپ کی خاطر آپ کا آوازہ بلند کیا۔ (یعنی اکثر جگہ شریعت میں اللہ کے نام کے ساتھ آپ کا نام مبارک مقرون کیاگیا) کذا فی الدر المنثور، معارف القرآن، ج:۸

اسلامی فلاسفر اور ادیب مفسر قرآن مولانا عبدالماجد دریابادی لکھتے ہیں: ”ہندوستان کے چھوٹے چھوٹے قریوں اور موضعوں، عرب کے ریگستان اور چٹیل میدان اور افریقہ کے صحرا و بیابان سے لے کر لندن اور پیرس اور برلن کے تمدن زاروں تک، ہر روز اور ہر روز میں بھی پانچ پانچ بار کس کے نام کی پکار اللہ کے نام کے ساتھ ساتھ بلند رہتی ہے؟ اپنی ذاتی عقیدت مندی کو الگ رکھئے محض واقعات پر نظر رکھ کر فرمائیے کہ یہ مرتبہ یہ اکرام دنیا کی تاریخِ معلوم سے لیکر آج تک کسی ہادی کسی رہبر کسی مخلوق کو حاصل ہوا ہے؟ جس بے کس اور بے بس سے عین اس وقت جبکہ اسے زور اور قوت والے سردارانِ قریش اپنے خیال میں کچل کر رکھ چکے تھے، اور اس کا نام و نشان تک مٹاچکے تھے، یہ وعدہ ہوا تھا، ”ورفعنا لک ذکرک“ ہم نے تیرے لیے تیرا ذکر بلند کررکھا ہے، اگر آوازہ اس کا بلند نہ ہوگا تو اور کس کا ہوگا؟ (ذکر رسول، ص: ۶۳)

خورشید مبین کی تابانی (معراج رسول)

ابتلا و آزمائش بہت زبردست تھی، صبر آزما مراحل اورمصائب کے پہاڑ تھے، جس پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے صبر کی تلقین کی گئی۔

فاصْبِر کَمَا صَبَر أُوْلُوا العزمِ منَ الرسُلِ وَلاَ تَسْتَعْجِلْ لَّہُمْ (سورہ الاحقاف، آیت:۳۵)

تو آپ صبر کیجئے جیسا اور ہمت والے پیغمبروں نے صبر کیاتھا اور ان لوگوں کیلئے (انتقام الٰہی کی) جلدی نہ کیجئے۔

باری تعالیٰ نے آپ کی صبر و تسلی کے لئے فرمایا: ”ووضعنا عنکَ وزرک الذی أنقض ظہرک ورفعنا لک ذکرک“ ترجمہ: ہم نے آپ پر سے آپ کا وہ بوجھ اتار دیا جس نے آپ  صلی اللہ علیہ وسلم کی کمر توڑ رکھی تھی، اور ہم نے آپ کی خاطر آپ کا آوازہ بلند کیا۔ (سورہ الانشراح، آیت:۴)

حزن و ملال کا ہجوم، مصائب و آلام کی یلغار ہی کیا کم تھی کہ مزید برآں اعزاء و اقرباء اور اہل خاندان کی مخالفت کفار و مشرکین اہل مکہ کا دعوت کی راہ میں حائل ہونا وغیرہ جو حوصلہ شکنی کے لئے کافی تھے۔ حتی کہ آپ کی پریشان حالی پر باری تعالیٰ نے آپ کو مخاطب فرمایا: فلعلک باخعٌ نفسک علی آثارہم ان لم یوٴمنوا بہذا الحدیث أسفًا (سورہ الکہف، آیت:۶) ترجمہ: شاید آپ ان کے پیچھے اگر یہ لوگ اس مضمون پر ایمان نہ لائے تو غم سے اپنی جان دے دیں گے۔

ظاہر ہے جو حبیب و محبوب ہو، آخری رسول ہو، ع ”بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر“ کا مصداق ہو، تاریکیوں میں چراغ روشن کرنے کا عزم رکھتا ہو، دشوار گذار مراحل، اور خاردار وادیوں کو پار کرتا ہو، حوصلہ شکن حالات کا پامردی سے مقابلہ کرتا ہو، تو اس کو تمغہ بھی اتنا ہی بڑا ملنا چاہئے، اور اس کے بلندیٴ مرتبہ پر دلیل بھی اتنی بڑی قائم ہونی چاہئے کہ جس کے اوپر اور دلیل نہ ہو، اور جس سے زیادہ عظیم الشان کوئی واقعہ اس کرئہ ارض پر نہ پیش آیا ہو اور نہ آسکتا ہو، اور وہ اسراء و معراج کا عظیم الشان واقعہ ،۔ اسراء اور معراج کے بارے میں بہت سے موضوعات زیر بحث آتے ہیں۔

(۱)   اختلاف اقوال کی روشنی میں اس واقعہ کی تاریخ کا تعین

(۲)  یہ واقعہ روحانی ہے یا جسمانی، (یا منامی)

(۳)  مکہ معظمہ سے بیت المقدس کا سفر اور امامت انبیاء

(۴)  ثمّ دنی فتدلّٰی کی واقعاتی توضیح

(۵)  مولیٰ سے ہمکلامی، اور حاصل ہونے والے تحفہ کی تفصیل

(۶)  جنت اور جہنم کی سیر اور چند مشاہدات

لیکن یہ سب کچھ اس عظیم الشان واقعاتی تجزئیے سے تعلق رکھنے و الے موضوعات ہیں، لہٰذا، اس کو دوسرے موقع کیلئے محفوظ رکھتے ہوئے، اس سے ماخوذ چند عجائب سفر اور لطائف و معارف کا ذکر ضروری معلوم ہوتا ہے، تاہم قرآن پاک کے اجمال اور احادیث رسول  صلی اللہ علیہ وسلم کی تفصیل سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے، کہ جبرئیل امین علیہ السلام براق کے ساتھ تشریف لائے، اور سرورکائنات جناب محمد رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم کو ام المومنین حضرت ام ہانی کے مکان سے مسجد حرام، پھر وہاں سے مسجد اقصیٰ، اور انبیاء کی امامت کرنے کے بعد آسمان کی سیر کراتے ہوئے اور انبیاء سابقین سے ملاقات کراتے ہوئے ساتوں آسمان کے اوپر لے گئے، پھر وہ مقام آیا کہ جس کے آگے بڑھنے سے جبرئیل امین کے قدم عاجز و قاصر رہے، جیساکہ شیخ سعدی کے اس شعر سے ظاہر ہے۔

اگر یک سرِ موئے برتر برم                        فروغِ تجلی بسوزد پرم

باری تعالیٰ کا ارشاد ہے:

ثم دنی فتدلّی فکان قاب قوسین أو أدنی o فأوحیٰ الی عبدہ ما أوحیٰ ما کذب الفوٴادُ ما رأی، أفتمارونہ علی ما یریٰ، ولقد رأٰہ نزلةً أخریٰ عند سدرة المنتہیٰ عندہا جنة الماویٰ اذ یغشی السدرة ما یغشیٰ، مازاغ البصر ومَا طغیٰ، لقد رأیٰ من آیات ربہ الکبریٰ (سورة النجم)

ترجمہ: پھر وہ فرشتہ (آپ کے) نزدیک آیا، (سو قرب کی وجہ سے) دونوں کمانوں کے برابر فاصلہ رہ گیا، بلکہ اور بھی کم پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے بندہ (محمد  صلی اللہ علیہ وسلم) پر وحی نازل فرمائی، جو کچھ نازل فرمانا تھی۔ (جس کی تعیین بالتخصیص معلوم نہیں) قلب نے دیکھی دیکھی ہوئی چیز میں غلطی نہیں کی، تو کیا ان سے دیکھی ہوئی چیز میں نزاع کرتے ہو، انھوں نے (پیغمبر نے) اس فرشتہ کو اور دفعہ بھی (صورت اصلیہ میں) دیکھا ہے، سدرة المنتہیٰ کے پاس جنت الماویٰ ہے، جب اس سے سدرة المنتہیٰ کو لپٹ رہی تھی جو چیزیں لپٹ رہی تھیں، نگاہ تو نہ ہٹی (بلکہ ان چیزوں کو خوب دیکھا) اور نہ (ان کی طرف دیکھنے کو) بڑھی (یعنی قبل اِذن نہیں دیکھا) پیغمبر  صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کے بڑے عجائبات دیکھے۔ (معارف القرآن، ج:۸، ص: ۱۹۲)

پھر آپ کو رب ذوالجلال سے ہمکلامی کا شرف حاصل ہوا، پچاس نمازوں کی فرضیت کا تحفہ عطا کیاگیا، جو تخفیف کے بعد پانچ وقت کی صورت میں باقی رہا، اجر و ثواب میں پچاس وقت کی کیفیت کے ساتھ۔

اسی طرح آپ نے اقلام تقدیر کے چلنے کی آوازوں کو سنا، بعد ازاں جنت و جہنم کا مشاہدہ فرمایا، پھر جبرئیل امین علیہ السلام کی معیت میں مسجد اقصیٰ میں نزول فرمایا، اور وہاں سے مسجد حرام واپس ہوکر بیت ام ہانی میں تشریف لائے۔

یہ تھی ایک طائرانہ نظر معراج رسول کے مبارک سفر پر جس میں آپ کے رنج و غم کا مداویٰ بھی تھا اور ذکر کی بلندی بھی، شخصیت کی جلوئہ آفرینی بھی، اور ختم نبوت کی دلیل بھی، سارے جہانوں کی سرداری بھی، آپ کی امت اور آپ کے پیغام کے خلود وبقاء کی علامت بھی، نیز ساتھ ہی بے مثال واقعات کے معجزہ نمائی بھی جو سارے فلسفہ و علوم اور اسباب و علل کی دسترس سے باہر ہو سچ ہے:

لا یمکن الثناء کما کان حقہ

بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر

اب ان خصائص و امتیازات، اور فوائد و ثمرات کو شعور و وجدان کی کیفیت کے ساتھ اخذ کرنے اور گہرائی و گیرائی سے آشنا ہونے کیلئے، ان اسرار و حکم حقائق و معارف اور دروس و عبر کا قلب و ذہن میں پیوست ہونا اور نظر میں آنا ضروری ہے، جو اس بلندی و رفعت کے دلچسپ سفر میں مضمر ہے۔

سفر معراج کے اسرار و حکم

واقعہٴ معراج محض ایک مشاہداتی سفر اور قطع مسافت کی پرکیف و عجیب داستان نہیں ہے، سورئہ اسراء اور سورہ نجم اوراس سلسلے میں مروی صحیح ومشہور احادیث سے بہت سے اسرار و حکم اور لطائف و معارف سامنے آتے ہیں۔

(۱)   خاتم النّبیین  صلی اللہ علیہ وسلم مسجد حرام اور مسجد اقصیٰ دونوں قبلوں کے نبی اور مشرق و مغرب دونوں سمتوں کے امام ہیں۔

(۲)  آپ  صلی اللہ علیہ وسلم اپنے پیش رو تمام انبیاء کرام کے وارث اور بعد میں آنے والی پوری نسل انسانی کے رہبر و رہنما ہیں۔

(۳)  آپ  صلی اللہ علیہ وسلم کے پیغام، دعوت کی عمومیت و آفاقیت آپ  صلی اللہ علیہ وسلم کی امامت کی ابدیت اور آپ  صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کی ہمہ گیری و صلاحیت کی دلیل و علامت ہے۔

(۴)  آپ  صلی اللہ علیہ وسلم کی شخصیت کا صحیح تعارف اور صحیح نشاندہی ہے۔

(۵)  آپ  صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے اصل مقام و حیثیتِ عرفی کا تعین ہے۔

(۶)  آپ کی نبوت کی محدود، مقامی اور عارضی نوعیت اور ابدی و عالمگیری حیثیت کے درمیان خطّ فاصل ہے۔

(۷) آپ  صلی اللہ علیہ وسلم کی قیادت و سیادت کا قومی اور سیاسی قیادت پر غلبہ و تفوق اور بالاتری کا ثبوت اور امتیازی حیثیت ہے۔

(۸)  ایسا معجزہ اور کرامت ہے جو آپ کے سوا کسی کو حاصل نہیں ہوا۔

(۹)  عبادت اور تقرب و بندگی کے ذریعہ کو بطور تحفہ آسمان کے اوپر مہمان بناکر عطا کرنا جو رفعِ ذکر کی وقوعی اور خارجی تفسیر ہے۔

(۱۰) نبی آخر الزماں  صلی اللہ علیہ وسلم کو دوسرے انبیاء پر جو فضیلت ہے، ان میں دو باتیں خاص طور پر فضیلت کا باعث ہیں: دنیا میں معراج اور آخرت میں شفاعت۔ حضور  صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ دونوں دولتیں تواضع کی بدولت حاصل ہوئیں، آپ  صلی اللہ علیہ وسلم نے حق تعالیٰ کے ساتھ تواضع کی، تو دولت معراج کی پائی، اور مخلوق کے ساتھ تواضع کی تو دولت شفاعت کی پائی، حق تعالیٰ کے سوال پر شب معراج میں آپ نے فرمایا کہ تمام القاب میں سب سے زیادہ پسندیدہ لقب میرے لئے عبد کا ہے، تیرا بندہ ہونا، یعنی عبدیت کی اساسی صفت جو باری تعالیٰ کو انسانیت کی جانب سے سب سے زیادہ مطلوب اور محبوب ہے۔

(۱۱) رات کی خلوت و تنہائی میں بلانا، مزید تقرب اور اختصاصِ خاص کی دلیل ہے۔

(۱۲) مسجد اقصیٰ کے معاملات کا سارے عالم اسلام سے گہرے ربط و تعلق کا ثبوت، نیز یہ کہ فلسطین، کا دفاع اور مسجد اقصیٰ کی حفاظت ساری دنیا کے مسلمانوں پر حسب استطاعت واجب ہے، اوراس سے غفلت ایسی کوتاہی ہے جس پر موٴاخذہ بھی ہوسکتا ہے۔

(۱۳) امت مسلمہ کے مرتبے کی بلندی اور عظمت شان اور دنیا کی خواہشات و رغبات سے اس امت کے مستوی اور معیار کی رفعت ہے۔

(۱۴) اس میں اشارہ ہے کہ فضاء کا خلائی سفر اور کرئہ ارضی کے مقناطیسی دائرے سے نکل کر اوپر دوسرے دائرے میں داخل ہونا ممکن ہے، اور آپ  صلی اللہ علیہ وسلم ساری دنیا کی تاریخ میں سب سے پہلے خلا باز مسافر ہیں، اور آپ  صلی اللہ علیہ وسلم کے سفر معراج سے یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہے کہ آسمان سے کرئہ ارضی کی طرف صحیح سالم لوٹ کر آنا ممکن ہے۔

(۱۵) معراج میں نماز کی فرضیت سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ روزانہ پانچ مرتبہ اللہ کے حضور سارے مومنین کی روحوں اور دلوں کو پہنچنا چاہئے، تاکہ خواہشات کی سطح سے بلندی نصیب ہو۔

سفر معراج دعوت و تبلیغ کی ایک کڑی

یہ تھے سفر معراج کے اندر پوشیدہ بلند و بالا مقاصد اور لطائف ومعارف، دروس و عبر، جو آپ کے اوپر پے بہ پے نازل ہونے والے رنج و غم کا مداویٰ ثابت ہوئے، جس کے ذریعہ آپ کے اوپر سے حزن و ملال کے بادل چھٹ گئے، آپ  صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زندگی کے لمحات میں ولسَوف یعطیک ربُّک فترضیٰ کا منظر دیکھا، اور خوشی و مسرت کا سانس لیا، اور فرحت و انبساط کے حالات کی طرف عود کر آئے، اور نہ صرف غم و اندوہ کافور ہوئے بلکہ دعوت و تبلیغ کی راہیں ہموار ہوتی گئیں، بلکہ رغبت و لگن اور مولیٰ کی رضا جوئی کے ساتھ قدم بڑھتے رہے، آپ کے عزم و حوصلہ اور پختگی و ثبات قدمی کو مہمیز کرنے والی قوت ملی، کیونکہ اس سفر مبارک میں آپ کے مرتبے کی بلندی بھی تھی۔

سچ ہے جب کفار و مشرکین نے آپ کے نرینہ اولاد کے زندہ نہ رہنے کی وجہ سے آپ کو طنز و تشنیع کا نشانہ بنایا، اور آپ کو منقطع النسل اور قلیل الخیر ہونے کا طعنہ دیا، تو آپ کے قلب اطہر پر سورة الکوثر نازل کرکے ان دشمنان رسول کا دندان شکن جواب دیاگیا، اور ان کے باطل نظریات پر کاری ضرب لگائی گئی: انا أعطینٰک الکوثر، فصَلّ لربک وانحر، انَّ شَانئک ہُوالأبتر․ اس میں مفسرین کے اقوال کے مطابق کوثر، حوض کوثر کے ساتھ خیر کثیر کے معنی کو بھی شامل ہے، اور آپ کے دشمنوں کے منقطع النسل ہونے کا اعلان ہے، جیسا کہ ”ہو الابتر“ سے ظاہر ہے، اور کسی بھی تحریک اور مشن کو لے کر چلنے والے کے لئے راستہ سے موانع و عوائق کا دور ہوجانا اس کے قلب و ذہن کا غم و اندوہ اور افکار پریشاں سے خالی ہوجانا اور مرتبے کی بلندی کے ذریعے عزم کا پختہ ہونا، حوصلے کا بلند ہونا، فلاح و کامیابی کا پیش خیمہ اور حیرت انگیز پیش قدمی کا ضامن ہوتا ہے۔ چنانچہ اسی عظمت و رفعت کا کرشمہ تھا کہ ایسے ماحول میں جبکہ اہل مکہ بلکہ تمام اہل عرب نہ صرف یہ کہ ضلالت و شقاوت میں ڈوبے ہوئے تھے، بلکہ اسی کے دلدادہ تھے، اور وہی ان کی طبیعت بن گئی تھی، اور جہالت و بہیمیت کی حدود کو پار کرنے میں ایک فرد دوسرے سے پیچھے رہنا گوارہ نہیں کرتا تھا، اور اس کیلئے دنیا کا سارا خسارہ اور آخرت کی محرومی قبول کرلینا سستا سودا سمجھتا تھا۔

آپ نے تنہا دعوتِ عظمیٰ اور رسالت خداوندی کی تمام تر ذمہ داری تیئس (۲۳) سال کی قلیل مدت میں ایسے حیرت انگیز طریقہ پر پوری کی کہ شہنشاہ عالم بونا بارٹ اس کے اعتراف پر مجبور ہوگیا، کہ صدیوں میں پایہٴ تکمیل کو نہ پہنچنے والا پیغام محمد   نے تیئس (۲۳) سال کی قلیل مدت میں اس طرح مکمل کردکھایا کہ تاریخ عالم اس کی نظیر پیش کرنے سے عاجز ہے۔

یتیمے کہ ناکردہ قرآں درست

کتب خانہٴ چند ملت بشست

$ $ $

______________________________

ء



1 comment:

  1. Amazing insight you have on this, it's nice to find a website that details so much information about different artists. 房屋二胎

    ReplyDelete