سورۃ النجم کی آیات ۱۳ تا ۱۸ واقعۂ معراج کے ایک حصے کی منظر کشی کرتی ہیں، جہاں رسول اللہ ﷺ نے حضرت جبرائیلؑ کو ان کی حقیقی شان کے ساتھ دیکھا اور سدرۃ المنتہیٰ جیسے عظیم مشاہدات کیے۔
آیات سے اہم اسباق و نکات
ان آیات میں پوشیدہ گہرے معنوی اور تربیتی پہلوؤں کو مندرجہ ذیل نکات کی شکل میں سمجھا جا سکتا ہے:
1. جبرائیل علیہ السلام کی حقیقی صورت کا دیدار:
نبی ﷺ نے حضرت جبرائیلؑ کو ان کی اصل صورت میں دو بار دیکھا، جو چھ سو پروں سے سجا تھا اور اس کی عظمت نے آسمان کے کناروں کو ڈھانپ لیا تھا۔ یہ مشاہدہ وحی کے منبع کی عظمت اور اس کی صداقت پر رسول ﷺ کے یقین کو مزید پختہ کرتا ہے۔
2. سدرۃ المنتہیٰ کی فضیلت و عظمت:
سدرۃ المنتہیٰ ساتویں آسمان پر وہ آخری حد ہے جہاں سے زمین کی طرف آنے والی چیزیں ٹھہرتی ہیں۔ یہ مقام رسول ﷺ کے سفرِ معراج کی بلندی اور اس کی منفرد شان کو ظاہر کرتا ہے۔
3. جنت المأویٰ کا قرب:
سدرۃ المنتہیٰ کے پاس ہی جنت المأویٰ ہے، جو فرشتوں اور شہیدوں کا ٹھکانا ہے۔ اس کا ذکر آخرت کی حقیقت اور نیک بندوں کے بلند مقام کی طرف اشارہ ہے۔
4. سدرۃ المنتہیٰ پر اللہ کی تجلیات:
آیت ۱۶ میں "إِذْ يَغْشَى السِّدْرَةَ مَا يَغْشَى" سے مراد وہ عظیم نور (یا فرشتے) ہیں جو اس درخت کو ڈھانپ رہے تھے۔ یہ منظر اللہ تعالیٰ کی جلالی اور جمالی صفات کی تجلی کا مظہر تھا، جسے بیان سے باہر قرار دیا گیا ہے۔
5. نبی ﷺ کی بصیرت کی استقامت:
آیت ۱۷ "مَا زَاغَ الْبَصَرُ وَمَا طَغَىٰ" میں بتایا گیا ہے کہ آپ ﷺ کی نظر نہ تو کج ہوئی اور نہ ہی حد سے گزری۔ یہ آپ ﷺ کی کامل روحانی اور جسمانی استقامت، نیز غیبی مناظر کو دیکھنے میں آپ کی غیرمعمولی صلاحیت کی دلیل ہے۔
6. اللہ کی عظیم نشانیوں کا مشاہدہ:
آیت ۱۸ "لَقَدْ رَأَىٰ مِنْ آيَاتِ رَبِّهِ الْكُبْرَىٰ" میں تصریح ہے کہ آپ ﷺ نے اپنے رب کی بڑی بڑی نشانیاں دیکھیں۔ یہ نشانیاں (جبرائیل کی اصل صورت، سدرۃ المنتہیٰ، جنت المأویٰ، وغیرہ) اللہ کی بے پایاں قدرت اور اس کے عجائبات کا شاہد ہیں۔
7. معراج کے واقعہ کی تصدیق:
ان آیات کا نزول درحقیقت معراج کے واقعہ کی قرآنِ مجید کے ذریعے تصدیق ہے۔ یہ واقعہ نبی ﷺ کی رسالت کی سچائی اور آپ ﷺ کے خاص مقام کی دلیل ہے۔
8. مومن کے لیے تسلی و یقین:
یہ آیات ہر مومن کے دل میں یہ یقین پیدا کرتی ہیں کہ غیب کی دنیا حقیقی ہے، اللہ کی نشانیاں عظیم ہیں، اور رسول ﷺ کا مشاہدہ بالکل درست ہے۔ اس سے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے۔
9. اطاعت و فرمانبرداری کی مثال:
نبی ﷺ کی نظر کا نہ بہکنا اور نہ حد سے گزرنا، آپ ﷺ کی کامل اطاعت اور اللہ کے حکم پر ثابت قدمی کی علامت ہے۔ یہ ہر مسلمان کے لیے نمونہ ہے کہ وہ اپنے دین اور احکام پر استقامت سے قائم رہے۔
خلاصہ
1. وحی کے منبع کی عظمت:
جبرائیلؑ کی اصل صورت کا دیدار وحی کی عظمت اور صداقت کو واضح کرتا ہے۔
2. غیبی عوالم کی حقیقت:
سدرۃ المنتہیٰ اور جنت المأویٰ کا ذکر غیبی عوالم کی حقیقت اور ان کی بلندیوں کی نشاندہی کرتا ہے۔
3. نبی ﷺ کی استقامت:
آپ ﷺ کی نظر کا نہ بہکنا اور نہ حد سے گزرنا، آپ ﷺ کی کامل روحانی و جسمانی استقامت کی دلیل ہے۔
4. اللہ کی عظیم نشانیاں:
یہ تمام مشاہدات درحقیقت اللہ تعالیٰ کی عظیم نشانیاں ہیں، جو اس کی بے پایاں قدرت اور جلال کے آئینہ دار ہیں۔
5. ایمانی تقویت:
یہ آیات ہر مومن کے ایمان کو تقویت دیتی ہیں اور اسے یقین دلاتی ہیں کہ غیب کی دنیا بالکل حقیقی ہے۔
ان آیات پر غور و فکر سے ہمارا ایمان تازہ ہوتا ہے اور ہماری معرفت میں اضافہ ہوتا ہے۔
🪜 معراج کے واقعے کا مرحلہ وار خلاصہ
1. سقف کا شق ہونا:
· آپ ﷺ کے مکہ میں واقع گھر کا چھت شق کیا گیا۔ اس کی حکمت یہ تھی کہ فرشتہ آپ کو یہ دکھائے کہ آپ کا سینہ کیسے شق ہوگا، تاکہ آپ کے لیے یہ عمل باعثِ حیرت نہ رہے۔
2. سینۂ اطہر کا شق ہونا اور غسل:
· جبرائیلؑ نے آپ کا سینہ مبارک ناف سے حلق تک شق کیا۔ مناوی رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ آپ کا سینہ چار مرتبہ شق ہوا:
· بچپن میں (بنی سعد میں) تاکہ آپ پاکیزہ ترین حالت پر پرورش پائیں۔
· تقریباً بارہ سال کی عمر میں (تکلیف سے پہلے) تاکہ مردوں میں پائی جانے والی کوئی معیوب چیز آپ سے دور ہو جائے۔
· بعثت کے وقت تاکہ آپ مضبوط قلب کے ساتھ وحی قبول کر سکیں۔
· معراج کے موقع پر (جو زیرِ بحث ہے) تاکہ آپ مناجاتِ الٰہی کے لیے تیار ہو سکیں۔
· پھر آپ کے سینے کو زمزم کے پانی سے دھویا گیا، کیونکہ یہ جنت کا پانی ہے جو قلب کو قوت دیتا ہے اور خوف کو دور کرتا ہے۔
3. حکمت و ایمان کا انڈیلا جانا:
· جبرائیلؑ سونے کی ایک طشت لائے جو حکمت و ایمان سے بھری ہوئی تھی۔ اس کا انڈیلنا درحقیقت آپ کے قلبِ اطہر کو علم، فہم، عدل اور کامل تصدیق سے پر کرنا تھا، تاکہ آپ حق تعالیٰ کی خلافت (نمائندگی) کے لیے مکمل طور پر تیار ہو جائیں۔ پھر سینہ مبارک کو موندھ دیا گیا۔
4. آسمانِ دنیا تک عروج:
· جبرائیلؑ آپ کو لے کر آسمانِ دنیا کی طرف چڑھے۔ آسمان کا دروازہ بند تھا۔ جبرائیلؑ نے دروازہ کھولنے کو کہا تو محافظ نے پوچھا: "کون؟" جبرائیل نے جواب دیا: "جبريل"۔ پوچھا گیا: "کیا آپ کے ساتھ کوئی ہے؟" جواب ملا: "ہاں، میرے ساتھ محمد ﷺ ہیں۔" پوچھا گیا: "کیا انہیں بلایا گیا ہے؟" جواب ملا: "ہاں۔" تب دروازہ کھولا گیا۔
· یہاں آپ نے حضرت آدم علیہ السلام کو دیکھا۔ آپ کے دائیں جانب ان کی اولاد میں سے اہلِ جنت کی روحیں تھیں، جنہیں دیکھ کر وہ مسکراتے، اور بائیں جانب اہلِ دوزخ کی روحیں تھیں، جنہیں دیکھ کر وہ روتے تھے۔
5. دوسرے تا ساتویں آسمان پر انبیاء سے ملاقاتیں:
· ہر آسمان پر اسی طرح استفتاح (درخواستِ داخلہ) ہوا۔ ہر جگہ ایک نبی سے ملاقات ہوئی، جنہوں نے آپ کا استقبال "مرحبا بالنبي الصالح" (سلام ہو پاک نبی پر) کہہ کر کیا:
· دوسرا آسمان: حضرت یحییٰ اور حضرت عیسیٰ علیہما السلام۔ (یاد رہے کہ مختلف روایات میں انبیاء کے آسمانوں کے ترتیب میں فرق ہے، مناوی رحمہ اللہ نے یہاں ایک مخصوص روایت کی شرح کی ہے)۔
· تیسرا آسمان: حضرت یوسف علیہ السلام۔
· چوتھا آسمان: حضرت ادریس علیہ السلام۔
· پانچواں آسمان: حضرت ہارون علیہ السلام۔
· چھٹا آسمان: حضرت موسیٰ علیہ السلام۔
· ساتواں آسمان: حضرت ابراہیم علیہ السلام۔
· مناوی رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ یہ ملاقاتیں انبیاء کی روحوں سے تھیں (سوائے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے، جن کا جسم آسمان پر ہے)۔
6. مقامِ "مستوی" اور "صریف الاقلام" کا مشاہدہ:
· اس کے بعد آپ کو ایک اور بلند مقام "مستوی" پر لے جایا گیا، جہاں آپ نے قلموں کی آواز (صریف الاقلام) سنی۔ یہ وہ مقام ہے جہاں فرشتے اللہ تعالیٰ کے فیصلوں اور تقدیروں کو لوحِ محفوظ پر ثبت کر رہے تھے۔ یہاں پہنچ کر آپ نے مستقبل کے غیبی واقعات کا علم حاصل کیا۔
7. پچاس نمازوں کی فرضیت اور تخفیف:
· یہیں پر پچاس نمازیں روزانہ فرض کی گئیں۔ واپسی پر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کہا کہ آپ کی امت اس کی طاقت نہیں رکھتی، آپ دوبارہ درخواست کریں۔ آپ ﷺ نے بار بار اللہ کے حضور درخواست کی اور یہ کم ہو کر پانچ نمازیں رہ گئیں، مگر ثواب پچاس ہی کا رکھا گیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں اپنے رب سے بار بار درخواست کرتے شرم محسوس کرنے لگا، لہٰذا میں نے اسے قبول کر لیا۔
8. سدرۃ المنتہیٰ اور جنت کا دیدار:
· پھر آپ کو سدرۃ المنتہیٰ پر لے جایا گیا۔ اس کی عظمت اور حسن کا آپ نے مشاہدہ فرمایا۔ یہ وہ مقام ہے جہاں ہر مخلوق کا علم ختم ہو جاتا ہے۔
· آپ کو جنت میں داخل کیا گیا، جہاں آپ نے موتی کے گنبد اور مشک کے ذرے دیکھے۔
---
✨ تشریح کے چند انتہائی اہم نکات اور فوائد
1. شقِ صدر کی حکمتیں:
مناوی رحمہ اللہ نے شقِ صدر کے چار اوقات اور ہر وقت کی الگ الگ حکمت و مصلحت بیان کی ہے، جو آپ کی ذاتِ اقدس کی کیسے مرحلہ وار تیاری کو ظاہر کرتا ہے۔
2. سونا کیوں؟:
سونے کی طشت کا ذکر اس لیے کیا گیا کہ یہ جنت کے برتنوں میں اعلیٰ ترین ہے، اس کی چمک دل کو خوش کرتی ہے، اور یہ چیزوں کو محفوظ رکھتا ہے جیسا کہ قرآن محفوظ ہے۔ نیز، یہ واقعہ سونے کے استعمال کی حرمت سے پہلے کا ہے۔
3. "مستوی" اور "صریف الاقلام" کی حقیقت:
یہ وہ کلیدی نکتہ ہے جس پر مناوی رحمہ اللہ نے خوب زور دیا ہے۔ یہ مقام تقدیر کے لکھے جانے کے مرکز کا مشاہدہ تھا۔ اسی لیے معراج کے بعد آپ ﷺ نے مستقبل کی بہت سی غیبی خبریں دیں۔
4. حضرت موسیٰ علیہ السلام کی خصوصی شفقت:
یہ واضح کیا گیا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے نمازوں میں تخفیف کی درخواست میں خصوصی دلچسپی اس لیے لی کیونکہ وہ امتِ محمدیہ میں شامل ہون کی تمنا رکھتے تھے (جیسا کہ ایک روایت میں آیا ہے)، اس لیے انہیں اس امت کی بھلائی کا خاص خیال تھا۔
5. معراج جسمانی تھی:
ہر آسمان کے دروازے پر پوچھا جانا اور جواب دینا اس بات کی واضح دلیل ہے کہ معراج جسم و روح دونوں کے ساتھ ہوئی، محض روحانی سفر نہیں تھا۔
6. سدرۃ المنتہیٰ کا مقام:
مناوی رحمہ اللہ نے سدرۃ المنتہیٰ کی مختلف تعبیرات نقل کی ہیں: وہ جہاں بندوں کے اعمال ختم ہوتے ہیں، یا جہاں تمام مخلوق کا علم انتہا کو پہنچ جاتا ہے۔ اس کی شاخیں ساتویں آسمان میں ہیں۔
7. مؤلف کے آخری نوٹ:
مناوی رحمہ اللہ نے آخر میں لکھا ہے کہ اس حدیث سے ستر سے زائد شرعی فوائد و مسائل مستنبط ہوتے ہیں، جن پر الگ سے کتابیں لکھی گئی ہیں۔
---
خلاصہ یہ کہ: مناوی رحمہ اللہ کی یہ شرح معراج کے واقعے کو صرف ایک سادہ سفر نہیں بلکہ ایک منظم اور ہدفمند تربیتی پروگرام کے طور پر پیش کرتی ہے، جس میں نبی اکرم ﷺ کے قلبِ اطہر کو غسل دے کر، حکمت و ایمان سے پر کر کے، تمام انبیاء کے مقامات دکھا کر، اور تقدیر لکھنے کے مرکز کا مشاہدہ کرا کر آپ کو کائنات کے منتہیٰ مقام تک پہنچایا گیا، اور پھر آپ کو پانچ وقتہ نماز جیسے عظیم تحفے کے ساتھ دنیا میں واپس بھیجا گیا۔ یہ واقعہ آپ کی رسالت کی عظمت، آپ کی امت سے محبت اور آپ کے مقامِ قرب کی انتہا کو ظاہر کرتا ہے۔
- نماز ہماری معراج ہے، اسے پابندی سے ادا کریں
- فطرت پر قائم رہیں، باطل راستوں سے بچیں
- دل کو ایمان سے زندہ اور طاہر رکھیں
- امت محمدیہ ہونے پر شکر ادا کریں
- انبیاء کرام کا ادب و احترام کریں
- اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہوں، وہ تخفیف فرمانے والا ہے۔
📖 حاصل شدہ اسباق و نکات:
📖 حاصل شدہ اسباق و نکات:
📖 حاصل شدہ اسباق و نکات:
📖 حاصل شدہ اسباق و نکات:
📖 حاصل شدہ اسباق و نکات:
"عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَمَّا عُرِجَ بِیْ مَرَرْتُ بِقَوْمٍ لَھُمْ أَظْفَارٌ مِنْ نُحَاسٍ یَخْمُشُوْنَ وُجُوْھَھُمْ وَصُدُوْرَھُمْ فَقُلْتُ مَنْ ھَؤُلَائِ یَا جِبْرِیْلُ قَالَ ھَؤُلَائِ الَّذِیْنَ یَأْکُلُوْنَ لُحُوْمَ النَّاسِ وَیَقَعُوْنَ فِیْ أَعْرَاضِھِمْ"۔
📖 حاصل شدہ اسباق و نکات:
حدیث نمبر 1
عَنْ أَبِي ذَرٍّ - رضي الله عنه - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم -:
(" فُرِجَ سَقْفُ بَيْتِي وَأَنَا بِمَكَّةَ) (¬1) (لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِي مِنْ مَسْجِدِ الْكَعْبَةِ) (¬2) (فَنَزَلَ جِبْرِيلُ - عليه السلام - فَفَرَجَ صَدْرِي،
[ وفي رواية: فَشَقَّ جِبْرِيلُ مَا بَيْنَ نَحْرِهِ إِلَى لَبَّتِهِ حَتَّى فَرَغَ مِنْ صَدْرِهِ وَجَوْفِهِ]
(¬3) (ثُمَّ غَسَلَهُ بِمَاءِ زَمْزَمَ) (¬4) (حَتَّى أَنْقَى جَوْفِي) (¬5) (ثُمَّ جَاءَ بِطَسْتٍ مِنْ ذَهَبٍ مُمْتَلِئٍ حِكْمَةً وَإِيمَانًا) (¬6) (وَعِلْمًا) (¬7) (فَأَفْرَغَهَا فِي صَدْرِي ثُمَّ أَطْبَقَهُ) (¬8) (ثُمَّ أُتِيتُ بِالْبُرَاقِ) (¬9) (مُسْرَجًا مُلْجَمًا) (¬10) (- وَهُوَ دَابَّةٌ أَبْيَضُ طَوِيلٌ , فَوْقَ الْحِمَارِ وَدُونَ الْبَغْلِ يَضَعُ حَافِرَهُ عِنْدَ مُنْتَهَى طَرْفِهِ , قَالَ: فَرَكِبْتُهُ) (¬11) (فَاسْتَصْعَبَ عَلَيَّ، فَقَالَ لَهُ جِبْرِيلُ:) (¬12) (مَا يَحْمِلُكَ عَلَى هَذَا؟) (¬13) (أَبِمُحَمَّدٍ تَفْعَلُ هَذَا؟) (¬14) (فَوَاللَّهِ مَا رَكِبَكَ أَحَدٌ أَكْرَمَ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مِنْهُ، قَالَ: فَارْفَضَّ الْبُرَاقُ عَرَقًا) (¬15) (قَالَ: فَمَرَرْتُ عَلَى مُوسَى وَهُوَ قَائِمٌ يُصَلِّي فِي قَبْرِهِ عِنْدَ الْكَثِيبِ الْأَحْمَرِ) (¬16) (فَلَمَّا انْتَهَيْنَا إِلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ قَالَ جِبْرِيلُ بِإِصْبَعِهِ فَخَرَقَ بِهِ الْحَجَرَ , وَشَدَّ بِهِ الْبُرَاقَ) (¬17) (
[ وفي رواية: فَرَبَطْتُهُ بِالْحَلْقَةِ الَّتِي يَرْبِطُ بِهِ الْأَنْبِيَاءُ] ،
ثُمَّ دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ فَصَلَّيْتُ فِيهِ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ خَرَجْتُ، فَجَاءَنِي جِبْرِيلُ بِإِنَاءٍ مِنْ خَمْرٍ وَإِنَاءٍ مِنْ لَبَنٍ) (¬18) (فَقَالَ: اشْرَبْ أَيَّهُمَا شِئْتَ , فَأَخَذْتُ اللَّبَنَ فَشَرِبْتُهُ) (¬19) (فَقَالَ جِبْرِيلُ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي هَدَاكَ لِلْفِطْرَةِ , لَوْ أَخَذْتَ الْخَمْرَ غَوَتْ أُمَّتُكَ) (¬20) (قَالَ: وَقَدْ رَأَيْتُنِي فِي جَمَاعَةٍ مِنْ الْأَنْبِيَاءِ , فَحَانَتْ الصَلَاةُ فَأَمَمْتُهُمْ , فَلَمَّا فَرَغْتُ مِنْ الصَلَاةِ قَالَ قَائِلٌ: يَا مُحَمَّدُ , هَذَا مَالِكٌ صَاحِبُ النَّارِ فَسَلِّمْ عَلَيْهِ , فَالْتَفَتُّ إِلَيْهِ فَبَدَأَنِي بِالسَّلَامِ) (¬21) (ثُمَّ وَضَعْتُ قَدَمَيَّ حَيْثُ تُوضَعُ أَقْدَامُ الْأَنْبِيَاءِ مِنْ بَيْتِ الْمَقْدِسِ) (¬22) (ثُمَّ أَخَذَ جِبْرِيلُ بِيَدِي فَعَرَجَ بِي إِلَى السَّمَاءِ، فَلَمَّا جَاءَ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا قَالَ جِبْرِيلُ لِخَازِنِ السَّمَاءِ: افْتَحْ , قَالَ: مَنْ هَذَا؟ قَالَ: هَذَا جِبْرِيلُ , قَالَ: مَعَكَ أَحَدٌ؟ , قَالَ: مَعِي مُحَمَّدٌ , قَالَ: أُرْسِلَ إِلَيْهِ؟) (¬23) (- لَا يَعْلَمُ أَهْلُ السَّمَاءِ بِمَا يُرِيدُ اللَّهُ بِهِ فِي الْأَرْضِ حَتَّى يُعْلِمَهُمْ -) (¬24) (قَالَ: نَعَمْ فَافْتَحْ) (¬25) (قَالَ: مَرْحَبًا بِهِ وَأَهْلًا) (¬26) (فَنِعْمَ الْمَجِيءُ جَاءَ) (¬27) (وَاسْتَبْشِرَ بِي أَهْلُ السَّمَاءِ) (¬28) (فَلَمَّا عَلَوْنَا السَّمَاءَ الدُّنْيَا إِذَا رَجُلٌ عَنْ يَمِينِهِ أَسْوِدَةٌ (¬29) وَعَن يَسَارِهِ أَسْوِدَةٌ، وَإِذَا نَظَرَ قِبَلَ يَمِينِهِ تَبَسَّمَ، وَإِذَا نَظَرَ قِبَلَ يَسَارِهِ بَكَى) (¬30) (فَقُلْتُ لِجِبْرِيلَ: مَنْ هَذَا؟) (¬31) (قَالَ: هَذَا أَبُوكَ آدَمُ) (¬32) (وَهَذِهِ نَسَمُ بَنِيهِ، فَأَهْلُ اليَمِينِ مِنْهُمْ أَهْلُ الْجَنَّةِ، وَالْأَسْوِدَةُ الَّتِي عَنْ شِمَالِهِ أَهْلُ النَّارِ فَإِذَا نَظَرَ عَنْ يَمِينِهِ ضَحِكَ، وَإِذَا نَظَرَ قِبَلَ شِمَالِهِ بَكَى) (¬33) (فَسَلِّمْ عَلَيْهِ، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَرَدَّ السَّلَامَ ثُمَّ قَالَ: مَرْحَبًا بِالِابْنِ الصَّالِحِ وَالنَّبِيِّ الصَّالِحِ) (¬34) (فَإِذَا أَنَا فِي السَّمَاءِ الدُّنْيَا بِنَهَرَيْنِ يَطَّرِدَانِ (¬35) فَقُلْتُ: مَا هَذَانِ النَّهَرَانِ يَا جِبْرِيلُ؟، قَالَ: هَذَا النِّيلُ وَالْفُرَاتُ عُنْصُرُهُمَا، ثُمَّ مَضَى بِي فِي السَّمَاءِ، فَإِذَا أَنَا بِنَهَرٍ آخَرَ، عَلَيْهِ قَصْرٌ مِنْ لُؤْلُؤٍ وَزَبَرْجَدٍ (¬36)) (¬37) (
[ وفي رواية: حَافَتَاهُ قِبَابُ الدُّرِّ الْمُجَوَّفِ]
, فَقُلْتُ: مَا هَذَا يَا جِبْرِيلُ؟ , قَالَ: هَذَا الْكَوْثَرُ الَّذِي أَعْطَاكَ رَبُّكَ) (¬38) (فَضَرَبْتُ بِيَدِي فَإِذَا طِينُهُ هُوَ مِسْكٌ أَذْفَرُ) (¬39) (ثُمَّ عَرَجَ بِي إِلَى السَّمَاءِ الثَّانِيَةِ، فَقَالَتْ الْمَلَائِكَةُ لَهُ مِثْلَ مَا قَالَتْ لَهُ الْأُولَى: مَنْ هَذَا؟ , قَالَ: جِبْرِيلُ , قَالُوا: وَمَنْ مَعَكَ؟ قَالَ: مُحَمَّدٌ , قَالُوا: وَقَدْ بُعِثَ إِلَيْهِ؟ , قَالَ: نَعَمْ , قَالُوا: مَرْحَبًا بِهِ وَأَهْلًا) (¬40) (وَلَنِعْمَ الْمَجِيءُ جَاءَ) (¬41) (فَفُتِحَ لَنَا , فَإِذَا أَنَا بِابْنَيْ الْخَالَةِ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ , وَيَحْيَى بْنِ زَكَرِيَّاءَ صَلَوَاتُ اللَّهِ عَلَيْهِمَا) (¬42) (فَقَالَ جِبْرِيلُ: هَذَا يَحْيَى وَعِيسَى فَسَلِّمْ عَلَيْهِمَا , فَسَلَّمْتُ فَرَدَّا ثُمَّ قَالَا: مَرْحَبًا بِالْأَخِ الصَّالِحِ وَالنَّبِيِّ الصَّالِحِ) (¬43) (وَدَعَوَا لِي بِخَيْرٍ) (¬44) (وَإِذَا عِيسَى رَجُلٌ مَرْبُوعَ الْخَلْقِ) (¬45) (
[ وفي رواية: مُبَطَّنَ الْخَلْقِ]
(¬46) حَدِيدَ الْبَصَرِ) (¬47) (إِلَى الْحُمْرَةِ وَالْبَيَاضِ , سَبِطَ الرَّأْسِ) (¬48)
[ وفي رواية: جَعْدَ الرَّأْسِ]
(¬49) (كَأَنَّمَا خَرَجَ مِنْ دِيمَاسٍ - يَعْنِي الْحَمَّامَ -) (¬50) (أَقْرَبُ النَّاسِ بِهِ شَبَهًا عُرْوَةُ بْنُ مَسْعُودٍ الثَّقَفِيُّ) (¬51) (ثُمَّ عَرَجَ بِي جِبْرِيلُ إِلَى السَّمَاءِ الثَّالِثَةِ، فَاسْتَفْتَحَ فَقِيلَ: مَنْ أَنْتَ؟ , قَالَ: جِبْرِيلُ , قِيلَ: وَمَنْ مَعَكَ؟ , قَالَ: مُحَمَّدٌ، قِيلَ: وَقَدْ بُعِثَ إِلَيْهِ؟ , قَالَ: قَدْ بُعِثَ إِلَيْهِ) (¬52) (قِيلَ: مَرْحَبًا بِهِ , وَلَنِعْمَ الْمَجِيءُ جَاءَ) (¬53) (فَفُتِحَ لَنَا، فَإِذَا أَنَا بِيُوسُفَ - عليه السلام -، وَإِذَا هُوَ قَدْ أُعْطِيَ شَطْرَ الْحُسْنِ) (¬54) (فَقَالَ جِبْرِيلُ: هَذَا يُوسُفُ فَسَلِّمْ عَلَيْهِ , فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَرَدَّ ثُمَّ قَالَ: مَرْحَبًا بِالْأَخِ الصَّالِحِ وَالنَّبِيِّ الصَّالِحِ) (¬55) (وَدَعَا لِي بِخَيْرٍ , ثُمَّ عَرَجَ بِنَا جِبْرِيلُ إِلَى السَّمَاءِ الرَّابِعَةِ فَاسْتَفْتَحَ، فَقِيلَ: مَنْ هَذَا؟ , قَالَ: جِبْرِيلُ، قِيلَ: وَمَنْ مَعَكَ؟ , قَالَ: مُحَمَّدٌ، قَالَ: وَقَدْ بُعِثَ إِلَيْهِ؟ , قَالَ: قَدْ بُعِثَ إِلَيْهِ , فَفُتِحَ لَنَا، فَإِذَا أَنَا بِإِدْرِيسَ - عليه السلام -، فَرَحَّبَ وَدَعَا لِي بِخَيْرٍ، قَالَ اللَّهُ - عز وجل -: {وَرَفَعْنَاهُ مَكَانًا عَلِيًّا}
، ثُمَّ عَرَجَ بِنَا إِلَى السَّمَاءِ الْخَامِسَةِ، فَاسْتَفْتَحَ جِبْرِيلُ، قِيلَ: مَنْ هَذَا؟ , قَالَ: جِبْرِيلُ، قِيلَ: وَمَنْ مَعَكَ؟ , قَالَ: مُحَمَّدٌ، قِيلَ: وَقَدْ بُعِثَ إِلَيْهِ؟ , قَالَ: قَدْ بُعِثَ إِلَيْهِ , فَفُتِحَ لَنَا، فَإِذَا أَنَا بِهَارُونَ - عليه السلام -، فَرَحَّبَ وَدَعَا لِي بِخَيْرٍ، ثُمَّ عَرَجَ بِنَا إِلَى السَّمَاءِ السَّادِسَةِ، فَاسْتَفْتَحَ جِبْرِيلُ - عليه السلام -، قِيلَ: مَنْ هَذَا؟ , قَالَ: جِبْرِيلُ، قِيلَ: وَمَنْ مَعَكَ؟ , قَالَ: مُحَمَّدٌ، قِيلَ: وَقَدْ بُعِثَ إِلَيْهِ؟ , قَالَ: قَدْ بُعِثَ إِلَيْهِ , فَفُتِحَ لَنَا، فَإِذَا أَنَا بِمُوسَى - عليه السلام -) (¬56) (فَقَالَ: مَرْحَبًا بِالنَّبِيِّ الصَّالِحِ وَالْأَخِ الصَّالِحِ , قُلْتُ: مَنْ هَذَا؟ , قَالَ: هَذَا مُوسَى) (¬57) (وَإِذَا هُوَ رَجُلٌ ضَرْبٌ) (¬58)
[ وفي رواية: مُضْطَرِبٌ]
(¬59) (أَسْحَمَ آدَمَ كَثِيرَ الشَّعْرِ) (¬60)
(رَجِلُ الرَّأْسِ) (¬61) (
[ وفي رواية: جَعْدٌ]
) (¬62) (شَدِيدَ الْخَلْقِ) (¬63) (كَأَنَّهُ مِنْ رِجَالِ شَنُوءَةَ) (¬64) (ثُمَّ عَرَجَ بِي إِلَى السَّمَاءِ السَّابِعَةِ) (¬65) (فَلَمَّا جَاوَزْتُ مُوسَى بَكَى، فَقِيلَ: مَا أَبْكَاكَ؟) (¬66) (قَالَ: يَا رَبِّ هَذَا الْغُلَامُ الَّذِي بُعِثَ بَعْدِي يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِهِ أَكْثَرُ وَأَفْضَلُ مِمَّا يَدْخُلُ مِنْ أُمَّتِي) (¬67) (رَبِّ لَمْ أَظُنَّ أَنْ يُرْفَعَ عَلَيَّ أَحَدٌ، ثُمَّ عَلَا بِهِ فَوْقَ ذَلِكَ بِمَا لَا يَعْلَمُهُ إِلَّا اللَّهُ) (¬68) (فَاسْتَفْتَحَ جِبْرِيلُ فَقِيلَ: مَنْ هَذَا؟ , قَالَ: جِبْرِيلُ، قِيلَ: وَمَنْ مَعَكَ؟ , قَالَ: مُحَمَّدٌ - صلى الله عليه وسلم -، قِيلَ: وَقَدْ بُعِثَ إِلَيْهِ؟ , قَالَ: نَعَمْ , قَالَ: مَرْحَبًا بِهِ فَنِعْمَ الْمَجِيءُ جَاءَ) (¬69) (فَفُتِحَ لَنَا فَإِذَا أَنَا بِإِبْرَاهِيمَ - عليه السلام - مُسْنِدًا ظَهْرَهُ إِلَى الْبَيْتِ الْمَعْمُورِ، وَإِذَا هُوَ يَدْخُلُهُ كُلَّ يَوْمٍ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ ثُمَّ لَا يَعُودُونَ إِلَيْهِ) (¬70) (آخِرَ مَا عَلَيْهِمْ) (¬71) (أَشْبَهُ النَّاسِ بِهِ صَاحِبُكُمْ - يَعْنِي نَفْسَهُ -) (¬72) (قُلْتُ: مَنْ هَذَا؟) (¬73) (فَقَالَ جِبْرِيلُ: هَذَا أَبُوكَ فَسَلِّمْ عَلَيْهِ) (¬74) (قَالَ: فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَرَدَّ السَّلَامَ وَقَالَ: مَرْحَبًا بِالِابْنِ الصَّالِحِ وَالنَّبِيِّ الصَّالِحِ) (¬75) (قَالَ: وَمَرَرْتُ بِقَوْمٍ لَهُمْ أَظْفَارٌ مِنْ نُحَاسٍ يَخْمُشُونَ وُجُوهَهُمْ وَصُدُورَهُمْ , فَقُلْتُ: مَنْ هَؤُلَاءِ يَا جِبْرِيلُ؟ , قَالَ: هَؤُلَاءِ الَّذِينَ يَأْكُلُونَ لُحُومَ النَّاسِ (¬76) وَيَقَعُونَ فِي أَعْرَاضِهِمْ) (¬77) (وَمَرَرْتُ عَلَى قَوْمٍ تُقْرَضُ شِفَاهُهُمْ بِمَقَارِيضَ (¬78) مِنْ نَارٍ , كلما قُرِضَتْ وَفَتْ , فَقُلْتُ: مَنْ هَؤُلَاءِ يا جبريل؟ , مَنْ هَؤُلَاءِ؟ , قَالَ: هَؤُلَاءِ خُطَبَاءُ أُمَّتِكَ الَّذِينَ يَقُولُونَ مَا لَا يَفْعَلُونَ، وَيَقْرَؤُنَ كِتَابَ اللَّه وَلَا يَعْمَلُونَ بِهِ) (¬79) وفي رواية (¬80): هَؤُلَاءِ خُطَبَاءُ أُمَّتِكَ , الَّذِينَ يَأْمُرُونَ النَّاسَ بِالْبِرِّ وَيَنْسَوْنَ أَنْفُسَهُمْ وَهُمْ يَتْلُونَ الْكِتَابَ أَفَلَا يَعْقِلُونَ؟ " (قَالَ: ثُمَّ أُدْخِلْتُ الْجَنَّةَ، فَإِذَا فِيهَا جَنَابِذُ اللُّؤْلُؤِ، وَإِذَا تُرَابُهَا الْمِسْكُ) (¬81) (قَالَ: ثُمَّ انْطَلَقَ بِي جِبْرِيلُ) (¬82) (إِلَى سِدْرَةِ الْمُنْتَهَى , وَإِذَا وَرَقُهَا كَآذَانِ الْفِيَلَةِ , وَإِذَا ثَمَرُهَا) (¬83) (كَأَنَّهُ قِلَالُ هَجَرَ) (¬84) (يَخْرُجُ مِنْ سَاقِهَا) (¬85) (أَرْبَعَةُ أَنْهَارٍ: نَهْرَانِ ظَاهِرَانِ، وَنَهْرَانِ بَاطِنَانِ، فَسَأَلْتُ جِبْرِيلَ فَقَالَ: أَمَّا الْبَاطِنَانِ فَفِي الْجَنَّةِ، وَأَمَّا الظَّاهِرَانِ، فَالنِّيلُ وَالْفُرَاتُ) (¬86) (قَالَ: فَلَمَّا غَشِيَهَا مِنْ أَمْرِ اللَّهِ مَا غَشِيَهَا تَحَوَّلَتْ يَاقُوتًا أَوْ زُمُرُّدًا أَوْ نَحْوَ ذَلِكَ) (¬87)
(وَغَشِيَهَا أَلْوَانٌ لَا أَدْرِي مَا هِيَ) (¬88) (فَمَا أَحَدٌ مِنْ خَلْقِ اللَّهِ يَسْتَطِيعُ أَنْ يَنْعَتَهَا مِنْ حُسْنِهَا) (¬89) (وَدَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - لِلْجَبَّارِ رَبِّ الْعِزَّةِ فَتَدَلَّى، حَتَّى كَانَ مِنْهُ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَى) (¬90)
[ وفي رواية: ثُمَّ عُرِجَ بِي حَتَّى ظَهَرْتُ لِمُسْتَوَى أَسْمَعُ فِيهِ صَرِيفَ الْأَقْلَامِ]
(¬91) (فَأَوْحَى اللَّهُ إِلَيَّ مَا أَوْحَى، فَفَرَضَ) (¬92) (عَلَى أُمَّتِي خَمْسِينَ صَلَاةً) (¬93) (فِي كُلِّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ) (¬94) (فَرَجَعْتُ بِذَلِكَ حَتَّى مَرَرْتُ عَلَى مُوسَى) (¬95) (فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ مَاذَا فَرَضَ رَبُّكَ عَلَى أُمَّتِكَ؟، قُلْتُ: فَرَضَ عَلَيْهِمْ خَمْسِينَ صَلَاةً) (¬96) (كُلَّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ) (¬97) (قَالَ: ارْجِعْ إِلَى رَبِّكَ فَاسْأَلْهُ التَّخْفِيفَ , فَإِنَّ أُمَّتَكَ لَا يُطِيقُونَ ذَلِكَ , فَإِنِّي قَدْ بَلَوْتُ بَنِي إِسْرَائِيلَ وَخَبَرْتُهُمْ) (¬98) (فَالْتَفَتَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - إِلَى جِبْرِيلَ كَأَنَّهُ يَسْتَشِيرُهُ فِي ذَلِكَ، فَأَشَارَ إِلَيْهِ جِبْرِيلُ، أَنْ نَعَمْ إِنْ شِئْتَ , قَالَ: فَعَلَا بِهِ إِلَى الْجَبَّارِ، فَقَالَ وَهُوَ مَكَانَهُ: يَا رَبِّ، خَفِّفْ عَنَّا فَإِنَّ أُمَّتِي لَا تَسْتَطِيعُ هَذَا) (¬99) (فَوَضَعَ شَطْرَهَا , فَرَجَعْتُ إِلَى مُوسَى فَقُلْتُ: وَضَعَ شَطْرَهَا , فَقَالَ: رَاجِعْ رَبَّكَ فَإِنَّ أُمَّتَكَ لَا تُطِيقُ ذَلِكَ , فَرَاجَعْتُهُ فَوَضَعَ شَطْرَهَا , فَرَجَعْتُ إِلَيْهِ فَقَالَ: ارْجِعْ إِلَى رَبِّكَ فَإِنَّ أُمَّتَكَ لَا تُطِيقُ ذَلِكَ) (¬100) (يَا مُحَمَّدُ , وَاللَّهِ لَقَدْ رَاوَدْتُ بَنِي إِسْرَائِيلَ قَوْمِي عَلَى أَدْنَى مِنْ هَذَا فَضَعُفُوا فَتَرَكُوهُ، فَأُمَّتُكَ أَضْعَفُ أَجْسَادًا وَقُلُوبًا وَأَبْدَانًا وَأَبْصَارًا وَأَسْمَاعًا، فَارْجِعْ فَلْيُخَفِّفْ عَنْكَ رَبُّكَ - كُلَّ ذَلِكَ يَلْتَفِتُ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - إِلَى جِبْرِيلَ لِيُشِيرَ عَلَيْهِ وَلَا يَكْرَهُ ذَلِكَ جِبْرِيلُ - فَرَفَعَهُ عِنْدَ الْخَامِسَةِ فَقَالَ: يَا رَبِّ، إِنَّ أُمَّتِي ضُعَفَاءُ أَجْسَادُهُمْ وَقُلُوبُهُمْ وَأَسْمَاعُهُمْ وَأَبْصَارُهُمْ وَأَبْدَانُهُمْ، فَخَفِّفْ عَنَّا، فَقَالَ الْجَبَّارُ: يَا مُحَمَّدُ، قُلْتُ: لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ، قَالَ: إِنَّهُ لَا يُبَدَّلُ الْقَوْلُ لَدَيَّ كَمَا فَرَضْتُهُ عَلَيْكَ فِي أُمِّ الْكِتَابِ) (¬101) (إِنِّي قَدْ أَمْضَيْتُ فَرِيضَتِي وَخَفَّفْتُ عَن عِبَادِي , وَأَجْزِي الْحَسَنَةَ عَشْرًا) (¬102) (إِنَّهُنَّ خَمْسُ صَلَوَاتٍ كُلَّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ، لِكُلِّ صَلَاةٍ عَشْرٌ) (¬103) (فَهِيَ خَمْسُونَ فِي أُمِّ الْكِتَابِ وَهِيَ خَمْسٌ عَلَيْكَ) (¬104) (وَمَنْ هَمَّ بِحَسَنَةٍ فَلَمْ يَعْمَلْهَا كُتِبَتْ لَهُ حَسَنَةً، فَإِنْ عَمِلَهَا كُتِبَتْ لَهُ عَشْرًا , وَمَنْ هَمَّ بِسَيِّئَةٍ فَلَمْ يَعْمَلْهَا لَمْ تُكْتَبْ شَيْئًا , فَإِنْ عَمِلَهَا كُتِبَتْ سَيِّئَةً وَاحِدَةً، قَالَ: فَنَزَلْتُ حَتَّى انْتَهَيْتُ إِلَى مُوسَى) (¬105) (فَقَالَ: كَيْفَ فَعَلْتَ؟ , قُلْتُ: خَفَّفَ اللَّهُ عَنَّا , أَعْطَانَا بِكُلِّ حَسَنَةٍ عَشْرَ أَمْثَالِهَا، فَقَالَ مُوسَى: قَدْ وَاللَّهِ رَاوَدْتُ بَنِي إِسْرَائِيلَ عَلَى أَدْنَى مِنْ ذَلِكَ فَتَرَكُوهُ , ارْجِعْ إِلَى رَبِّكَ فَلْيُخَفِّفْ عَنْكَ أَيْضًا، فَقُلْتُ: يَا مُوسَى، قَدْ وَاللَّهِ اسْتَحْيَيْتُ مِنْ رَبِّي مِمَّا اخْتَلَفْتُ إِلَيْهِ , قَالَ: فَاهْبِطْ بِاسْمِ اللَّهِ، فَاسْتَيْقَظَ وَهُوَ فِي مَسْجِدِ الْحَرَامِ ") (¬106)
ترجمہ:
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"(میرے گھر کی چھت شق کر دی گئی) (1) (جب میں مکہ میں تھا) اس رات جب مسجد کعبہ سے مجھے سفر کرایا گیا (2) تو جبرائیلؑ اترے اور میرے سینے کو چاک کیا، [اور ایک روایت میں ہے: پھر جبرائیلؑ نے آپ کے حلق سے لے کر سینے کے بالائی حصے تک پھاڑا یہاں تک کہ آپ کے سینے اور پیٹ کو صاف کر لیا] (3) (پھر اسے زم زم کے پانی سے دھویا) (4) (یہاں تک کہ میرے پیٹ کو صاف کر دیا) (5) (پھر وہ حکمت اور ایمان سے بھرا ہوا ایک سونے کا طشت لے کر آئے) (6) (اور علم) (7) (پھر اسے میرے سینے میں انڈیل دیا پھر اس کو بند کر دیا) (8) (پھر میرے پاس براق لایا گیا) (9) (زین اور لگام سے آراستہ) (10) (وہ ایک سفید رنگ کا لمبا جانور تھا، گدھے سے بڑا اور خچر سے چھوٹا، اپنا کھر اپنی نظر کی انتہا پر رکھتا تھا، آپ ﷺ نے فرمایا: میں اس پر سوار ہوا) (11) (تو وہ مجھ پر اڑیل ہو گیا، تو جبرائیلؑ نے اس سے کہا:) (12) ("تیری یہ حرکت کیوں ہے؟) (13) (کیا تو محمد (ﷺ) کے ساتھ ایسا کرتا ہے؟) (14) (اللہ کی قسم! اللہ تعالیٰ کے ہاں آپ سے زیادہ معزز کوئی نہیں ہے جو تیری پشت پر سوار ہوا ہو، آپ ﷺ نے فرمایا: تو براق پسینے سے شرشرا گیا) (15) (آپ ﷺ نے فرمایا: میں موسیٰؑ کے پاس سے گزرا اور وہ سرخ ٹیلے کے پاس اپنی قبر میں کھڑے نماز پڑھ رہے تھے) (16) (پھر جب ہم بیت المقدس پہنچے تو جبرائیلؑ نے اپنی انگلی سے پتھر کو چیرا اور اس سے براق کو باندھ دیا) (17) ([اور ایک روایت میں ہے: میں نے اسے اس حلقے سے باندھ دیا جس میں انبیاء باندھتے تھے]، پھر میں مسجد میں داخل ہوا اور وہاں دو رکعتیں پڑھیں پھر باہر نکل آیا، تو جبرائیلؑ میرے پاس شراب کا ایک برتن اور دودھ کا ایک برتن لے کر آئے) (18) (تو فرمایا: جسے چاہو پیو، تو میں نے دودھ لے کر پیا) (19) (تو جبرائیلؑ نے کہا: اللہ کا شکر ہے جس نے آپ کو فطرت کی طرف ہدایت دی، اگر آپ شراب لیتے تو آپ کی امت گمراہ ہو جاتی) (20) (آپ ﷺ نے فرمایا: اور میں نے اپنے آپ کو انبیاء کے ایک گروہ میں پایا، پھر نماز کا وقت ہوا تو میں نے ان کی امامت کرائی، پھر جب میں نماز سے فارغ ہوا تو ایک کہنے والے نے کہا: اے محمد! یہ دوزخ کا داروغہ مالک ہے، اسے سلام کرو، تو میں اس کی طرف متوجہ ہوا تو اس نے مجھے سلام کرنا شروع کر دیا) (21) (پھر میں نے اپنے قدم بیت المقدس میں انبیاء کے قدموں کی جگہ پر رکھے) (22) (پھر جبرائیلؑ نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے آسمان کی طرف لے گئے، پھر جب وہ آسمان دنیا پر پہنچے تو جبرائیلؑ نے آسمان کے داروغہ سے کہا: کھولو، اس نے کہا: یہ کون ہے؟ جبرائیلؑ نے کہا: یہ جبرائیل ہیں، اس نے کہا: آپ کے ساتھ کوئی ہے؟ جبرائیلؑ نے کہا: میرے ساتھ محمد (ﷺ) ہیں، اس نے کہا: کیا انہیں بھیجا گیا ہے؟) (23) (- آسمان والے اس بات کو نہیں جانتے جو اللہ زمین میں کرنا چاہتا ہے یہاں تک کہ وہ انہیں بتا دے -) (24) (جبرائیلؑ نے کہا: ہاں، پس کھولو) (25) (اس نے کہا: ان کا استقبال ہے اور وہ خیرمقدم کے لائق ہیں) (26) (وہ کتنی اچھی آمد ہے جو وہ لائے ہیں) (27) (اور آسمان والوں نے میری آمد پر خوشی کا اظہار کیا) (28) (پھر جب ہم آسمان دنیا پر چڑھے تو دیکھا کہ ایک شخص ہے جس کے دائیں جانب سیاہ فام لوگ ہیں (29) اور بائیں جانب سیاہ فام لوگ ہیں، اور جب وہ اپنی دائیں جانب دیکھتا ہے تو مسکراتا ہے، اور جب اپنی بائیں جانب دیکھتا ہے تو روتا ہے) (30) (تو میں نے جبرائیلؑ سے پوچھا: یہ کون ہیں؟) (31) (انہوں نے کہا: یہ آپ کے والد آدمؑ ہیں) (32) (اور یہ ان کی اولاد کی روحیں ہیں، ان میں سے دائیں طرف والے جنتی ہیں، اور بائیں طرف والے سیاہ فام لوگ اہل دوزخ ہیں، پس جب وہ دائیں طرف دیکھتا ہے تو ہنستا ہے، اور جب بائیں طرف دیکھتا ہے تو روتا ہے) (33) (انہیں سلام کرو، تو میں نے انہیں سلام کیا تو انہوں نے جواب دیا پھر کہا: نیک بیٹے اور نیک نبی کا خیرمقدم ہے) (34) (پھر میں آسمان دنیا میں دو نہروں کے پاس تھا جو تیزی سے بہہ رہی تھیں (35) تو میں نے کہا: اے جبرائیل! یہ دو نہریں کون سی ہیں؟ انہوں نے کہا: یہ نیل اور فرات ہیں ان کا ماخذ، پھر وہ مجھے آسمان میں لے گئے، پھر میں ایک اور نہر کے پاس تھا، جس پر موتی اور زمرد کا محل تھا (36)) (37) ([اور ایک روایت میں ہے: اس کے کنارے کھوکھلے موتیوں کے خیمے تھے]، تو میں نے کہا: اے جبرائیل! یہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا: یہ وہ کوثر ہے جو آپ کے رب نے آپ کو عطا کی ہے) (38) (تو میں نے اپنا ہاتھ مارا تو اس کی مٹی خوشبو دار مشک تھی) (39) (پھر جبرائیلؑ مجھے دوسرے آسمان پر لے گئے، تو فرشتوں نے ان سے وہی کہا جو پہلے فرشتوں نے کہا تھا: یہ کون ہے؟ انہوں نے کہا: جبرائیل، انہوں نے کہا: اور تمہارے ساتھ کون ہے؟ انہوں نے کہا: محمد (ﷺ)، انہوں نے کہا: کیا انہیں بھیجا گیا ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں، انہوں نے کہا: ان کا استقبال ہے اور وہ خیرمقدم کے لائق ہیں) (40) (اور وہ کتنی اچھی آمد ہے جو وہ لائے ہیں) (41) (تو ہمارے لیے کھولا گیا، پھر میں نے دیکھا کہ چچا زاد بھائی عیسیٰ ابن مریم اور یحییٰ بن زکریا علیہم السلام ہیں) (42) (تو جبرائیلؑ نے کہا: یہ یحییٰ اور عیسیٰ ہیں، انہیں سلام کرو، تو میں نے سلام کیا تو انہوں نے جواب دیا پھر دونوں نے کہا: نیک بھائی اور نیک نبی کا خیرمقدم ہے) (43) (اور انہوں نے میرے لیے بھلائی کی دعا کی) (44) (اور عیسیٰؑ معتدل جسم کے مالک ہیں) (45) ([اور ایک روایت میں ہے: پیٹ سے دبلے]) (46) تیز نگاہ والے) (47) (سرخ و سفید رنگت والے، بال لمبے) (48) [اور ایک روایت میں ہے: گھنگریالے بال] (49) (گویا وہ غسل خانے سے نکلے ہیں) (50) (ان سے سب سے زیادہ مشابہت رکھنے والے عروہ بن مسعود ثقفی ہیں) (51) (پھر جبرائیلؑ مجھے تیسرے آسمان پر لے گئے، تو انہوں نے دروازہ کھلوانے کی درخواست کی تو کہا گیا: تم کون ہو؟ انہوں نے کہا: جبرائیل، کہا گیا: اور تمہارے ساتھ کون ہے؟ انہوں نے کہا: محمد (ﷺ)، کہا گیا: کیا انہیں بھیجا گیا ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں، انہیں بھیجا گیا ہے) (52) (کہا گیا: ان کا استقبال ہے، اور وہ کتنی اچھی آمد ہے جو وہ لائے ہیں) (53) (تو ہمارے لیے کھولا گیا، پھر میں یوسفؑ کے پاس تھا، اور وہ آدھا حسن دیے گئے تھے) (54) (تو جبرائیلؑ نے کہا: یہ یوسف ہیں، انہیں سلام کرو، تو میں نے انہیں سلام کیا تو انہوں نے جواب دیا پھر کہا: نیک بھائی اور نیک نبی کا خیرمقدم ہے) (55) (اور انہوں نے میرے لیے بھلائی کی دعا کی، پھر جبرائیلؑ ہمیں چوتھے آسمان پر لے گئے تو انہوں نے دروازہ کھلوانے کی درخواست کی، تو کہا گیا: یہ کون ہے؟ انہوں نے کہا: جبرائیل، کہا گیا: اور تمہارے ساتھ کون ہے؟ انہوں نے کہا: محمد(ﷺ)، کہا گیا: کیا انہیں بھیجا گیا ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں، انہیں بھیجا گیا ہے، تو ہمارے لیے کھولا گیا، پھر میں ادریسؑ کے پاس تھا، انہوں نے خیرمقدم کیا اور میرے لیے بھلائی کی دعا کی، اللہ عزوجل نے فرمایا: {اور ہم نے اسے اونچی جگہ پر اٹھا لیا}، پھر وہ ہمیں پانچویں آسمان پر لے گئے، تو جبرائیلؑ نے دروازہ کھلوانے کی درخواست کی، کہا گیا: یہ کون ہے؟ انہوں نے کہا: جبرائیل، کہا گیا: اور تمہارے ساتھ کون ہے؟ انہوں نے کہا: محمد (ﷺ)، کہا گیا: کیا انہیں بھیجا گیا ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں، انہیں بھیجا گیا ہے، تو ہمارے لیے کھولا گیا، پھر میں ہارونؑ کے پاس تھا، انہوں نے خیرمقدم کیا اور میرے لیے بھلائی کی دعا کی، پھر وہ ہمیں چھٹے آسمان پر لے گئے، تو جبرائیلؑ نے دروازہ کھلوانے کی درخواست کی، کہا گیا: یہ کون ہے؟ انہوں نے کہا: جبرائیل، کہا گیا: اور تمہارے ساتھ کون ہے؟ انہوں نے کہا: محمد (صلی اللہ علیہ وسلم)، کہا گیا: کیا انہیں بھیجا گیا ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں، انہیں بھیجا گیا ہے، تو ہمارے لیے کھولا گیا، پھر میں موسیٰؑ کے پاس تھا) (56) (تو انہوں نے کہا: نیک نبی اور نیک بھائی کا خیرمقدم ہے، میں نے پوچھا: یہ کون ہیں؟ جبرائیلؑ نے کہا: یہ موسیٰ ہیں) (57) (اور وہ گندمی رنگ کے تھے) (58) [اور ایک روایت میں ہے: قدرے گول مٹول] (59) بہت زیادہ بالوں والے، آدمؑ کی طرح سیاہ فام) (60) (بال گھنے) (61) ([اور ایک روایت میں ہے: گھنگریالے]) (62) (مضبوط جسم والے) (63) (گویا وہ قبیلہ شنوءہ کے آدمیوں میں سے ہیں) (64) (پھر مجھے ساتویں آسمان پر لے جایا گیا) (65) (جب میں موسیٰؑ سے آگے گزرا تو وہ رونے لگے، تو پوچھا گیا: تم کیوں رو رہے ہو؟) (66) (انہوں نے کہا: اے میرے رب! یہ وہ نوجوان ہے جو مجھ بعد بھیجا گیا، اس کی امت سے جنتی میرے امتیوں سے زیادہ اور بہتر ہوں گے) (67) (اے میرے رب! مجھے گمان بھی نہ تھا کہ مجھ پر کسی کو فضیلت دی جائے گی، پھر اسے اس سے بھی بلند کیا گیا جسے اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا) (68) (تو جبرائیلؑ نے دروازہ کھلوانے کی درخواست کی تو کہا گیا: یہ کون ہے؟ انہوں نے کہا: جبرائیل، کہا گیا: اور تمہارے ساتھ کون ہے؟ انہوں نے کہا: محمد (صلی اللہ علیہ وسلم)، کہا گیا: کیا انہیں بھیجا گیا ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں، کہا گیا: ان کا استقبال ہے اور وہ کتنی اچھی آمد ہے جو وہ لائے ہیں) (69) (تو ہمارے لیے کھولا گیا پھر میں ابراہیمؑ کے پاس تھا جو اپنی پیٹھ بیت المعمور سے ٹیکے ہوئے تھے، اور اس میں ہر روز ستر ہزار فرشتے داخل ہوتے ہیں پھر وہ اس کی طرف لوٹ کر نہیں آتے) (70) (آخری بار جو وہ اس پر ہوتے ہیں) (71) (سب سے زیادہ آپ سے مشابہت رکھنے والے آپ کے ساتھی ہیں - یعنی آپ خود -) (72) (میں نے پوچھا: یہ کون ہیں؟) (73) (تو جبرائیلؑ نے کہا: یہ آپ کے والد (ابراہیمؑ) ہیں، انہیں سلام کریں) (74) (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے انہیں سلام کیا تو انہوں نے جواب دیا اور کہا: نیک بیٹے اور نیک نبی کا خیرمقدم ہے) (75) (آپ ﷺ اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اور میں کچھ ایسے لوگوں کے پاس سے گزرا جن کے ناخن تانبے کے تھے، وہ اپنے چہروں اور سینوں کو نوچ رہے تھے، تو میں نے پوچھا: اے جبرائیل! یہ کون لوگ ہیں؟ انہوں نے کہا: یہ وہ لوگ ہیں جو لوگوں کا گوشت کھاتے ہیں (76) اور ان کی عزتوں پر حملہ کرتے ہیں) (77) (اور میں کچھ ایسے لوگوں کے پاس سے گزرا جن کے ہونٹ آگ کی قینچیوں سے کترے جا رہے تھے (78) ہر بار کترے جاتے اور پھر ٹھیک ہو جاتے، تو میں نے پوچھا: اے جبرائیل! یہ کون لوگ ہیں؟ یہ کون لوگ ہیں؟ انہوں نے کہا: یہ آپ کی امت کے واعظ ہیں جو وہ بات کہتے ہیں جو کرتے نہیں، اور اللہ کی کتاب پڑھتے ہیں مگر اس پر عمل نہیں کرتے) (79) اور ایک روایت میں ہے (80): یہ آپ کی امت کے واعظ ہیں، جو لوگوں کو نیکی کا حکم دیتے ہیں اور اپنے آپ کو بھول جاتے ہیں حالانکہ وہ کتاب پڑھتے ہیں، کیا وہ عقل نہیں رکھتے؟" (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر مجھے جنت میں داخل کیا گیا، تو اس میں موتیوں کے گنبد تھے، اور اس کی خاک مشک تھی) (81) (آپ ﷺ نے فرمایا: پھر جبرائیلؑ مجھے لے کر چلے) (82) (سدرۃ المنتہیٰ کی طرف، اور اس کے پتے ہاتھی کے کانوں کی طرح تھے، اور اس کا پھل) (83) (گویا ہجر کے مٹکوں کی طرح ہے) (84) (اس کی جڑ سے) (85) (چار نہریں نکلتی ہیں: دو ظاہری اور دو باطنی، تو میں نے جبرائیلؑ سے پوچھا تو انہوں نے کہا: باطنی نہریں جنت میں ہیں، اور ظاہری نہریں نیل اور فرات ہیں) (86) (آپ ﷺ نے فرمایا: پھر جب اسے اللہ کے امر سے وہ چیز ڈھانپ گئی جو ڈھانپ گئی تو وہ یاقوت یا زمرد یا اس جیسی کوئی چیز بن گئی) (87) (اور اسے ایسے رنگ ڈھانپ گئے جنہیں میں نہیں جانتا) (88) (پس اللہ کی مخلوق میں سے کوئی بھی اس کے حسن کی توصیف کرنے کی طاقت نہیں رکھتا) (89) (اور رسول اللہ ﷺ قہار رب العزت کے قریب ہوئے تو جھک گئے، یہاں تک کہ آپ اس سے دو کمانوں کے فاصلے یا اس سے بھی کم پر تھے) (90) [اور ایک روایت میں ہے: پھر مجھے اوپر لے جایا گیا یہاں تک کہ میں اس مقام پر پہنچا جہاں میں قلموں کی چوں چوں سن رہا تھا] (91) (پھر اللہ نے مجھ پر وہ وحی فرمائی جو فرمائی، پس فرض کیں) (92) (میری امت پر دن رات میں پچاس نمازیں) (93) (ہر دن اور رات میں) (94) (تو میں وہ لے کر لوٹا یہاں تک کہ میں موسیٰؑ کے پاس سے گزرا) (95) (تو انہوں نے کہا: اے محمد! آپ کے رب نے آپ کی امت پر کیا فرض کیا ہے؟ میں نے کہا: اس نے ان پر پچاس نمازیں فرض کی ہیں) (96) (ہر دن اور رات میں) (97) (انہوں نے کہا: اپنے رب کے پاس واپس جائیے اور اس سے تخفیف مانگیے، کیونکہ آپ کی امت اس کی طاقت نہیں رکھتی، بیشک میں نے بنی اسرائیل کو آزمایا اور انہیں خوب جانا ہے) (98) (تو رسول اللہ ﷺ نے جبرائیلؑ کی طرف رخ کیا گویا آپ اس میں ان سے مشورہ لے رہے ہیں، تو جبرائیلؑ نے آپ کو اشارہ کیا، کہ ہاں اگر آپ چاہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: تو وہ آپ کو قہار (اللہ) کے پاس لے گئے، تو آپ نے اپنی جگہ پر کھڑے ہو کر کہا: اے میرے رب! ہمارے لیے تخفیف فرما دے کیونکہ میری امت اس کی استطاعت نہیں رکھتی) (99) (تو اس نے اس کا آدھا کم کر دیا، تو میں موسیٰؑ کے پاس واپس آیا تو میں نے کہا: اس نے اس کا آدھا کم کر دیا، انہوں نے کہا: اپنے رب کے پاس دوبارہ جائیے کیونکہ آپ کی امت اس کی طاقت نہیں رکھتی، تو میں دوبارہ اس کے پاس گیا تو اس نے اس کا آدھا کم کر دیا، تو میں ان کے پاس واپس آیا تو انہوں نے کہا: اپنے رب کے پاس دوبارہ جائیے کیونکہ آپ کی امت اس کی طاقت نہیں رکھتی) (100) (اے محمد! اللہ کی قسم! میں نے بنی اسرائیل کو اپنی قوم کو اس سے کم چیز پر آمادہ کیا تو وہ کمزور ہو گئے اور چھوڑ دیا، اور آپ کی امت جسموں اور دلوں اور بدن اور آنکھوں اور کانوں کے اعتبار سے زیادہ کمزور ہے، واپس جائیے تاکہ آپ کا رب آپ کے لیے تخفیف کر دے - یہ سب رسول اللہ ﷺ جبرائیلؑ کی طرف رخ کرتے تاکہ وہ آپ کو مشورہ دیں اور جبرائیلؑ اسے ناپسند نہیں کرتے - تو آپ نے پانچویں بار اسے اٹھایا تو کہا: اے میرے رب! بیشک میری امت کمزور ہے ان کے جسم اور دل اور کان اور آنکھیں اور بدن، ہمارے لیے تخفیف فرما دے، تو قہار (اللہ) نے فرمایا: اے محمد! میں نے کہا: حاضر ہوں اور تیری اطاعت کرتا ہوں، فرمایا: بیشک میرے پاس بات بدلی نہیں جاتی جیسے میں نے اسے ام الکتاب میں تم پر فرض کیا ہے) (101) (بیشک میں نے اپنی فرضیت کو نافذ کر دیا ہے اور اپنے بندوں پر تخفیف کر دی ہے، اور ایک نیکی کا دس گنا بدلہ دوں گا) (102) (بیشک وہ پانچ نمازیں ہیں ہر دن اور رات میں، ہر نماز دس کے برابر ہے) (103) (تو وہ ام الکتاب میں پچاس ہیں اور تم پر پانچ ہیں) (104) (اور جو شخص نیکی کا ارادہ کرے پھر اس پر عمل نہ کرے تو اس کے لیے ایک نیکی لکھی جاتی ہے، پھر اگر اس نے عمل کر لیا تو اس کے لیے دس نیکیاں لکھی جاتی ہیں، اور جو شخص برائی کا ارادہ کرے پھر اس پر عمل نہ کرے تو اس کے لیے کچھ نہیں لکھا جاتا، پھر اگر اس نے عمل کر لیا تو اس کے لیے ایک برائی لکھی جاتی ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: پھر میں نیچے اترا یہاں تک کہ میں موسیٰؑ کے پاس پہنچا) (105) (تو انہوں نے کہا: آپ نے کیا کیا؟ میں نے کہا: اللہ نے ہمارے لیے تخفیف کر دی، ہمیں ہر نیکی پر دس گنا دیا، تو موسیٰؑ نے کہا: اللہ کی قسم! میں نے بنی اسرائیل کو اس سے کم پر آمادہ کیا تو انہوں نے چھوڑ دیا، اپنے رب کے پاس واپس جائیے تاکہ وہ آپ کے لیے مزید تخفیف کر دے، میں نے کہا: اے موسیٰ! اللہ کی قسم! میں اپنے رب سے اس بات سے شرماتا ہوں کہ میں اس کے پاس بار بار جاؤں، انہوں نے کہا: اللہ کے نام سے اتر جائیے، تو آپ بیدار ہوئے اور آپ مسجد الحرام میں تھے") (106)
[الجامع الصحیح للسنن والمسانید: ج9 / ص 331]
---
حوالہ جات:
-(1): (خ) صحیح البخاری، حدیث نمبر: 3164۔
-(2): (م) صحیح مسلم، حدیث نمبر: 262 - (162)۔ نیز (خ) صحیح البخاری، حدیث نمبر: 7079۔
-(3): (خ) صحیح البخاری، حدیث نمبر: 7079۔
-(4): (خ) صحیح البخاری، حدیث نمبر: 342۔
-(5): (خ) صحیح البخاری، حدیث نمبر: 342۔
-(6): (س) السنن الصغرى للنسائی، حدیث نمبر: 452۔
-(7): (خ) صحیح البخاری، حدیث نمبر: 3164۔
-(8): (م) صحیح مسلم، حدیث نمبر: 259 - (162)۔
-(9): (ت) الجامع الصحیح للترمذی، حدیث نمبر: 3131۔
-(10): (م) صحیح مسلم، حدیث نمبر: 259 - (162)۔ نیز (حم) مسند الإمام أحمد، حدیث نمبر: 23380۔
-(11): (ت) الجامع الصحیح للترمذی، حدیث نمبر: 3131۔
-(12): (حم) مسند الإمام أحمد، حدیث نمبر: 12694۔ (مزید: شیخ شعیب الأرناءوط فرماتے ہیں: اس کا سند صحیح ہے)۔
-(13): (ت) الجامع الصحیح للترمذی، حدیث نمبر: 3131۔
-(14): (حم) مسند الإمام أحمد، حدیث نمبر: 12694۔ نیز (ت) الجامع الصحیح للترمذی، حدیث نمبر: 3131۔
-(15): (م) صحیح مسلم، حدیث نمبر: 164 - (2375)۔ نیز (س) السنن الصغرى للنسائی، حدیث نمبر: 1631۔ نیز (حم) مسند الإمام أحمد، حدیث نمبر: 13618۔
-(16): (ت) الجامع الصحیح للترمذی، حدیث نمبر: 3132۔ (مزید: دیکھیں: الصحيحة: 3487)۔
-(17): (م) صحیح مسلم، حدیث نمبر: 259 - (162)۔
-(18): (خ) صحیح البخاری، حدیث نمبر: 3214۔
-(19): (خ) صحیح البخاری، حدیث نمبر: 4432۔ نیز (م) صحیح مسلم، حدیث نمبر: 92 - (168)۔ نیز (س) السنن الصغرى للنسائی، حدیث نمبر: 5657۔
-(20): (م) صحیح مسلم، حدیث نمبر: 278 - (172)۔
-(21): (حم) مسند الإمام أحمد، حدیث نمبر: 10842۔ (مزید: شیخ شعیب الأرناؤوط فرماتے ہیں: اس کا سند حسن ہے)۔
-(22): (خ) صحیح البخاری، حدیث نمبر: 3164۔
-(23): (خ) صحیح البخاری، حدیث نمبر: 7079۔
-(24): (خ) صحیح البخاری، حدیث نمبر: 3164۔
-(25): (خ) صحیح البخاری، حدیث نمبر: 7079۔
-(26): (خ) صحیح البخاری، حدیث نمبر: 3887۔
-(27): (خ) صحیح البخاری، حدیث نمبر: 7079۔
-(28): (تشریحی بیان) أَسْوِدَة: أشخاص۔
-(29): (حم) مسند الإمام أحمد، حدیث نمبر: 21326۔ نیز (خ) صحیح البخاری، حدیث نمبر: 3164۔
-(30): (خ) صحیح البخاری، حدیث نمبر: 342۔
-(31): (خ) صحیح البخاری، حدیث نمبر: 3887۔
-(32): (خ) صحیح البخاری، حدیث نمبر: 342۔
-(33): (خ) صحیح البخاری، حدیث نمبر: 3887۔
-(34): (تشریحی بیان) يَطَّرِد: يَجْرِي وَيَتَّبِعُ بَعْضُهُ بَعْضًا۔
-(35): (تشریحی بیان) الزَّبَرْجَد: حَجَرٌ كَرِيمٌ مِنَ الْجَوَاهِرِ وَهُوَ الزُّمُرُّد۔
-(36): (خالی)۔
-(37): (خ) صحیح البخاری، حدیث نمبر: 7079۔
-(38): (خ) صحیح البخاری، حدیث نمبر: 6210۔ نیز (ت) الجامع الصحیح للترمذی، حدیث نمبر: 3359۔ نیز (د) سنن أبي داود، حدیث نمبر: 4748۔
-(39): (حم) مسند الإمام أحمد، حدیث نمبر: 13012۔ نیز (خ) صحیح البخاری، حدیث نمبر: 6210۔ نیز (ت) الجامع الصحیح للترمذی، حدیث نمبر: 3360۔ نیز (د) سنن أبي داود، حدیث نمبر: 4748۔
-(40): (خ) صحیح البخاری، حدیث نمبر: 7079۔
-(41): (خ) صحیح البخاری، حدیث نمبر: 3035۔
-(42): (م) صحیح مسلم، حدیث نمبر: 259 - (162)۔
-(43): (خ) صحیح البخاری، حدیث نمبر: 3247۔
-(44): (م) صحیح مسلم، حدیث نمبر: 259 - (162)۔
-(45): (خ) صحیح البخاری، حدیث نمبر: 3067۔
-(46): (تشریحی بیان) المُبَطَّن: الضَّامِرُ البَطْنِ۔
-(47): (حم) مسند الإمام أحمد، حدیث نمبر: 3546۔ (مزید: شیخ شعیب الأرناؤوط فرماتے ہیں: اس کا سند صحیح ہے)۔
-(48): (خ) صحیح البخاری، حدیث نمبر: 3067۔ نیز (م) صحیح مسلم، حدیث نمبر: 267 - (165)۔ نیز (حم) مسند الإمام أحمد، حدیث نمبر: 2197۔
-(49): (حم) مسند الإمام أحمد، حدیث نمبر: 3546۔ نیز (خ) صحیح البخاری، حدیث نمبر: 3215۔ نیز (م) صحیح مسلم، حدیث نمبر: 266 - (165)۔
-(50): (خ) صحیح البخاری، حدیث نمبر: 3254۔
-(51): (م) صحیح مسلم، حدیث نمبر: 278 - (172)۔ نیز (حم) مسند الإمام أحمد، حدیث نمبر: 14629۔
-(52): (م) صحیح مسلم، حدیث نمبر: 259 - (162)۔
-(53): (خ) صحیح البخاری، حدیث نمبر: 3035۔
-(54): (م) صحیح مسلم، حدیث نمبر: 259 - (162)۔
-(55): (خ) صحیح البخاری، حدیث نمبر: 3887۔ نیز (حم) مسند الإمام أحمد، حدیث نمبر: 17380۔
-(56): (م) صحیح مسلم، حدیث نمبر: 259 - (162)۔ نیز (خ) صحیح البخاری، حدیث نمبر: 3207۔ نیز (ت) الجامع الصحیح للترمذی، حدیث نمبر: 3157۔
-(57): (خ) صحیح البخاری، حدیث نمبر: 342۔
-(58): (خ) صحیح البخاری، حدیث نمبر: 3214۔ نیز (م) صحیح مسلم، حدیث نمبر: 278 - (172)۔ نیز (ت) الجامع الصحیح للترمذی، حدیث نمبر: 3649۔
-(59): (خ) صحیح البخاری، حدیث نمبر: 3254۔
-(60): (حم) مسند الإمام أحمد، حدیث نمبر: 3546۔ (مزید: شیخ شعیب الأرناؤوط فرماتے ہیں: اس کا سند صحیح ہے)۔
-(61): (خ) صحیح البخاری، حدیث نمبر: 3254۔ نیز (م) صحیح مسلم، حدیث نمبر: 272 - (168)۔
-(62): (خ) صحیح البخاری، حدیث نمبر: 3067۔ نیز (م) صحیح مسلم، حدیث نمبر: 267 - (165)۔ نیز (حم) مسند الإمام أحمد، حدیث نمبر: 2197۔
-(63): (حم) مسند الإمام أحمد، حدیث نمبر: 3546۔
-(64): (خ) صحیح البخاری، حدیث نمبر: 3254۔
-(65): (خ) صحیح البخاری، حدیث نمبر: 7079۔
-(66): (خ) صحیح البخاری، حدیث نمبر: 3035۔
-(67): (س) السنن الصغرى للنسائی، حدیث نمبر: 448۔ نیز (خ) صحیح البخاری، حدیث نمبر: 3035۔ نیز (م) صحیح مسلم، حدیث نمبر: 264 - (164)۔
-(68): (خ) صحیح البخاری، حدیث نمبر: 7079۔
-(69): (خ) صحیح البخاری، حدیث نمبر: 3887۔
-(70): (م) صحیح مسلم، حدیث نمبر: 259 - (162)۔ نیز (خ) صحیح البخاری، حدیث نمبر: 3674۔ نیز (حم) مسند الإمام أحمد، حدیث نمبر: 12580۔
-(71): (خ) صحیح البخاری، حدیث نمبر: 3035۔ نیز (م) صحیح مسلم، حدیث نمبر: 264 - (164)۔
-(72): (م) صحیح مسلم، حدیث نمبر: 278 - (172)۔ نیز (خ) صحیح البخاری، حدیث نمبر: 3214۔ نیز (حم) مسند الإمام أحمد، حدیث نمبر: 14629۔
-(73): (خ) صحیح البخاری، حدیث نمبر: 342۔
-(74): (خ) صحیح البخاری، حدیث نمبر: 3887۔
-(75): (خ) صحیح البخاری، حدیث نمبر: 3887۔
-(76): (تشریحی بیان) (يَأْكُلُونَ لُحُومَ النَّاس) أَيْ: يَغْتَابُونَ الْمُسْلِمِينَ۔
-(77): (د) سنن أبي داود، حدیث نمبر: 4878۔ نیز (حم) مسند الإمام أحمد، حدیث نمبر: 13364۔ (مزید: دیکھیں: صحيح الجامع: 5213 , والصحيحة: 533)۔
-(78): (تشریحی بیان) المَقَارِيض: جَمْعُ المِقَرَاضِ وَهُوَ المِقَصُّ۔
-(79): (هب) شعب الإيمان للبيهقي، حدیث نمبر: 1773۔ (مزید: دیکھیں: صَحِيحُ التَّرْغِيبِ وَالتَّرْهِيب: 125 , وصَحِيحُ الْجَامِع: 129)۔
-(80): (حم) مسند الإمام أحمد، حدیث نمبر: 12879۔ نیز (يع) -۔ (مزید: دیکھیں: الصَّحِيحَة: 291)۔
-(81): (خ) صحیح البخاری، حدیث نمبر: 3164۔ نیز (م) صحیح مسلم، حدیث نمبر: 263 - (163)۔
-(82): (م) صحیح مسلم، حدیث نمبر: 263 - (163)۔
-(83): (م) صحیح مسلم، حدیث نمبر: 259 - (162)۔
-(84): (خ) صحیح البخاری، حدیث نمبر: 3035۔
-(85): (حم) مسند الإمام أحمد، حدیث نمبر: 12695۔ (مزید: شیخ شعیب الأرناءوط فرماتے ہیں: اس کا سند صحیح ہے)۔
-(86): (خ) صحیح البخاری، حدیث نمبر: 3035۔ نیز (م) صحیح مسلم، حدیث نمبر: 264 - (164)۔ نیز (حم) مسند الإمام أحمد، حدیث نمبر: 12695۔
-(87): ( حم ) مسند الإمام أحمد، حدیث نمبر: 12323۔ (مزید: شیخ شعیب الأرناؤوط فرماتے ہیں: اس کا سند صحیح ہے)۔
-(88): (خ) صحیح البخاری، حدیث نمبر: 342۔ نیز (م) صحیح مسلم، حدیث نمبر: 263 - (163)۔ نیز (ت) الجامع الصحیح للترمذی، حدیث نمبر: 3360۔
-(89): (م) صحیح مسلم، حدیث نمبر: 259 - (162)۔
-(90): (خ) صحیح البخاری، حدیث نمبر: 7079۔
-(91): (خ) صحیح البخاری، حدیث نمبر: 342۔ نیز (م) صحیح مسلم، حدیث نمبر: 263 - (163)۔ نیز (حم) مسند الإمام أحمد، حدیث نمبر: 21326۔
-(92): (م) صحیح مسلم، حدیث نمبر: 259 - (162)۔
-(93): (خ) صحیح البخاری، حدیث نمبر: 342۔
-(94): (م) صحیح مسلم، حدیث نمبر: 259 - (162)۔
-(95): (خ) صحیح البخاری، حدیث نمبر: 342۔
-(96): (م) صحیح مسلم، حدیث نمبر: 263 - (163)۔
-(97): (خ) صحیح البخاری، حدیث نمبر: 7079۔
-(98): (م) صحیح مسلم، حدیث نمبر: 259 - (162)۔ نیز (خ) صحیح البخاری، حدیث نمبر: 7079۔
-(99): (خ) صحیح البخاری، حدیث نمبر: 7079۔
-(100): (خ) صحیح البخاری، حدیث نمبر: 342۔
-(101): (خ) صحیح البخاری، حدیث نمبر: 7079۔
-(102): (خ) صحیح البخاری، حدیث نمبر: 3035, 3207۔ نیز (س) السنن الصغرى للنسائی، حدیث نمبر: 448۔ نیز (حم) مسند الإمام أحمد، حدیث نمبر: 17378۔
-(103): (م) صحیح مسلم، حدیث نمبر: 259 - (162)۔
-(104): (خ) صحیح البخاری، حدیث نمبر: 7079۔ نیز (ت) الجامع الصحیح للترمذی، حدیث نمبر: 213۔ نیز (حم) مسند الإمام أحمد، حدیث نمبر: 12662۔
-(105): (م) صحیح مسلم، حدیث نمبر: 259 - (162)۔
-(106): (خ) صحیح البخاری، حدیث نمبر: 7079۔ نیز (م) صحیح مسلم، حدیث نمبر: 259 - (162)۔ نیز (س) السنن الصغرى للنسائی، حدیث نمبر: 449۔ نیز (جة) سنن ابن ماجة، حدیث نمبر: 1399۔
---
📖 حاصل شدہ اسباق و نکات:
1. معراج کا ثبوت: یہ طویل روایت واقعہ معراج جسمانی کی تفصیلات فراہم کرتی ہے جو نبی کریم ﷺ کے عظیم معجزے اور آپ کی منزلت کی بلندی کی واضح دلیل ہے۔
2. نبی ﷺ کی تعظیم: آپ ﷺ کے سینے کا شق ہونا، حکمت و ایمان و علم سے پر کرنا، اور تمام مخلوقات حتیٰ کہ براق کی طرف سے آپ کی تعظیم، آپ کی نبوت و رسالت کے شرف اور اللہ کے ہاں آپ کے مقام کی نشاندہی کرتا ہے۔
3. انبیاء علیہم السلام سے ملاقات: آسمانوں پر مختلف انبیاء سے ملاقات، ان کی شکلیں، اور ان کا آپ ﷺ کو "نیک بھائی" و "نیک نبی" کہہ کر خیرمقدم کرنا، انبیاء کے درمیان اخوت اور ایک دوسرے کی تصدیق کو ظاہر کرتا ہے۔
4. نمازوں کی فرضیت: معراج کا اہم ترین مقصد امت پر پانچ وقت کی نمازوں کی فرضیت کا اعلان تھا۔ تخفیف کے باوجود یہ نمازیں امت محمدیہ کے لیے عظیم تحفہ اور رحمت ہیں۔
5. امت محمدیہ کی فضیلت: حضرت موسیٰؑ کا رونا اور یہ اعتراف کرنا کہ نبی آخر الزماں کی امت کے جنتی دوسری امتوں سے زیادہ ہوں گے، اس امت کے مرتبے اور کثرتِ مغفرت پر دلالت کرتا ہے۔
6. اللہ کا قرب: "قاب قوسین او ادنیٰ" کا واقعہ بندے کے اپنے رب سے ممکنہ قرب کی انتہا کو بیان کرتا ہے جو نبی ﷺ کی خصوصیت ہے۔
7. برے اعمال کی سزا: راستے میں غیبت اور برے واعظوں کے مجرمین کو دکھائی گئی سزائیں ان گناہوں کی سنگینی اور ان سے بچنے کی تلقین کرتی ہیں۔
8. اللہ کی رحمت و انعامات: دودھ کے انتخاب پر جنت کی بشارت، کوثر کا دیدار، اور نیکیوں کے دس گنا اجر کا وعدہ اللہ تعالیٰ کی بے پایاں رحمت اور اپنے بندوں پر اس کے احسان کی عکاسی کرتا ہے۔
9. شفاعت کی ابتدائی شکل: حضرت موسیٰؑ کا بار بار آپ صل کو تخفیف کے لیے واپس بھیجنا، درحقیقت امت کے لیے شفاعت کی ایک شکل تھی جو آپ ﷺ نے قبول فرمائی۔
10. وحی کی حقیقت: یہ واقعہ وحی کے نزول کے ایک ذریعے (معراج) کی وضاحت کرتا ہے اور یہ ثابت کرتا ہے کہ نماز جیسی بنیادی عبادت براہ راست اللہ کی طرف سے فرض کی گئی۔
ض
حدیث نمبر 2
عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ - رضي الله عنه - قَالَ:
" أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - بِدَابَّةٍ [ أَبْيَضٍ] (¬1) طَوِيلَةِ الظَّهْرِ , مَمْدُودَةٍ هَكَذَا , خَطْوُهُ مَدُّ بَصَرِهِ , فَمَا زَايَلَا ظَهْرَ الْبُرَاقِ , حَتَّى رَأَيَا الْجَنَّةَ وَالنَّارَ , وَوَعْدَ الْآخِرَةِ أَجْمَعَ , ثُمَّ رَجَعَا عَوْدَهُمَا عَلَى بَدْئِهِمَا " (¬2)
ترجمہ:
حضرت حذیفہ بن الیمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے بیان کیا:
"رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک [سفید](¬1) اور لمبی پیٹھ والی سواری لائی گئی، جس کی [لمبائی] اس طرح تھی، اس کا ایک قدم آپ کی نگاہ کی انتہا تک پہنچتا تھا۔ سو وہ دونوں (آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور جبرائیلؑ) براق کی پیٹھ سے جدا نہ ہوئے، یہاں تک کہ انہوں نے جنت و دوزھ اور آخرت کے تمام وعدے دیکھ لیے، پھر وہ دونوں اسی طرح واپس آ گئے جس طرح گئے تھے۔"(¬2)
📚 حوالہ جات:
(¬1) حم مسند الإمام أحمد 23380
(¬2) (ت) الجامع للترمذي:3147، (حم)مسند الإمام أحمد:23380، الصحيحة (للألباني) 874
[الجامع الصحيح السنن والمسانيد: ج9/ص332]
📖 حاصل شدہ اسباق و نکات:
1. معراج کی تصدیق اور اس کا ایک نیا بیان: یہ روایت واقعہ معراج کی مزید تصدیق کرتی ہے اور اس کے ایک مختلف پہلو کو بیان کرتی ہے، جس سے پتہ چلتا ہے کہ یہ عظیم واقعہ متعدد صحابہ کرام سے مختلف تفصیلات کے ساتھ مروی ہے۔
2. براق کی صفات: اس روایت میں براق کی مزید صفات بیان ہوئی ہیں:
· سفید رنگ
· لمبی پیٹھ جو آرام دہ اور کشادہ تھی۔
· بے انتہا تیز رفتار، جس کا ایک قدم نگاہ کی انتہا تک پہنچتا تھا۔ یہ اس کی فوق الفطری رفتار اور معراج کے سفر کی عظمت کو ظاہر کرتا ہے۔
3. معراج کا مقصد اور جامعیت: روایت کے فقرے "حَتَّى رَأَيَا الْجَنَّةَ وَالنَّارَ , وَوَعْدَ الْآخِرَةِ أَجْمَعَ" (یہاں تک کہ انہوں نے جنت و دوزخ اور آخرت کے تمام وعدے دیکھ لیے) سے واضح ہوتا ہے کہ معراج کا ایک اہم مقصد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو آخرت کے مکمل منظر، اس کے وعدوں اور وعیدوں کا براہ راست مشاہدہ کرانا تھا۔ یہ ایک جامع "تعارف" تھا۔
4. سفر کی نوعیت: آخری فقرہ "ثُمَّ رَجَعَا عَوْدَهُمَا عَلَى بَدْئِهِمَا" (پھر وہ دونوں اسی طرح واپس آ گئے جس طرح گئے تھے) سے اشارہ ملتا ہے کہ یہ سفر ایک ہی رات میں، ایک ہی مسلسل عمل کے طور پر، شروع سے آخر تک اور پھر واپسی تک مکمل ہوا۔ اس میں کوئی وقفہ یا رکاوٹ نہیں تھی، جو اس معجزے کے حیرت انگیز ہونے پر دلالت کرتا ہے۔
5. جبرائیلؑ کی رفاقت: "فَمَا زَايَلَا ظَهْرَ الْبُرَاقِ" (سو وہ دونوں براق کی پیٹھ سے جدا نہ ہوئے) کے الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ جبرائیلؑ بطور رفیق و راہنما اس پورے سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہے۔ یہ آپ ﷺ کی تکریم اور آپ کے لیے تشریف برداری کا اظہار بھی ہے۔
---
خلاصہ: یہ روایت معراج کے طویل بیان کا ایک نہایت مختصر مگر انتہائی جامع خلاصہ پیش کرتی ہے، جس میں بنیادی حقائق اور سفر کے مقصد کو مرکزی حیثیت دی گئی ہے۔
حدیث نمبر 3
عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ - رضي الله عنهما - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم -:
(" لَمَّا كَانَ لَيْلَةُ أُسْرِيَ بِي وَأَصْبَحْتُ بِمَكَّةَ، فَظِعْتُ بِأَمْرِي وَعَرَفْتُ أَنَّ النَّاسَ مُكَذِّبِيَّ , فَقَعَدْتُ) (¬1) (فِي الْحِجْرِ) (¬2) (مُعْتَزِلًا حَزِينًا "، فَمَرَّ عَدُوُّ اللَّهِ أَبُو جَهْلٍ فَجَاءَ حَتَّى جَلَسَ إِلَيْهِ، فَقَالَ لَهُ كَالْمُسْتَهْزِئِ: هَلْ كَانَ مِنْ شَيْءٍ؟ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم -: " نَعَمْ "، قَالَ: مَا هُوَ؟، قَالَ: " إِنَّهُ أُسْرِيَ بِي اللَّيْلَةَ "، قَالَ: إِلَى أَيْنَ؟، قَالَ: " إِلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ "، قَالَ: ثُمَّ أَصْبَحْتَ بَيْنَ ظَهْرَانَيْنَا؟، قَالَ: " نَعَمْ " - فَلَمْ يُرِهِ أَنَّهُ يُكَذِّبُهُ مَخَافَةَ أَنْ يَجْحَدَهُ الْحَدِيثَ إِذَا دَعَا قَوْمَهُ إِلَيْهِ - قَالَ: أَرَأَيْتَ إِنْ دَعَوْتُ قَوْمَكَ، تُحَدِّثُهُمْ مَا حَدَّثْتَنِي؟، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم -: " نَعَمْ " فَقَالَ: هَيَّا مَعْشَرَ بَنِي كَعْبِ بْنِ لُؤَيٍّ، قَالَ: فَانْتَفَضَتْ إِلَيْهِ الْمَجَالِسُ، وَجَاءُوا حَتَّى جَلَسُوا إِلَيْهِمَا، فَقَالَ أَبُو جَهْلٍ: حَدِّثْ قَوْمَكَ بِمَا حَدَّثْتَنِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم -: " إِنِّي أُسْرِيَ بِي اللَّيْلَةَ " , قَالُوا: إِلَى أَيْنَ؟، قَالَ: " إِلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ "، قَالُوا: ثُمَّ أَصْبَحْتَ بَيْنَ ظَهْرَانَيْنَا؟، قَالَ: " نَعَمْ "، قَالَ: فَمِنْ بَيْنِ مُصَفِّقٍ، وَمِنْ بَيْنِ وَاضِعٍ يَدَهُ عَلَى رَأْسِهِ مُتَعَجِّبًا لِلْكَذِبِ، فَقَالُوا: وَهَلْ تَسْتَطِيعُ أَنْ تَنْعَتَ لَنَا الْمَسْجِدَ؟ - وَفِي الْقَوْمِ مَنْ قَدْ سَافَرَ إِلَى ذَلِكَ الْبَلَدِ وَرَأَى الْمَسْجِدَ - قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم -: " فَذَهَبْتُ أَنْعَتُ , فَمَا زِلْتُ أَنْعَتُ حَتَّى) (¬3) (سَأَلَتْنِي قُرَيْشٌ عَن أَشْيَاءَ مِنْ بَيْتِ الْمَقْدِسِ لَمْ أُثْبِتْهَا , فَكُرِبْتُ كُرْبَةً مَا كُرِبْتُ مِثْلَهُ قَطُّ , قَالَ: فَرَفَعَهُ اللَّهُ لِي أَنْظُرُ إِلَيْهِ) (¬4) (فَنَعَتُّهُ وَأَنَا أَنْظُرُ إِلَيْهِ) (¬5) (مَا يَسْأَلُونِي عَن شَيْءٍ إِلَّا أَنْبَأْتُهُمْ بِهِ ") (¬6) (فَقَالَ الْقَوْمُ: أَمَّا النَّعْتُ فَوَاللَّهِ لَقَدْ أَصَابَ) (¬7).
طلب الآيات منه - صلى الله عليه وسلم
ترجمہ:
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"جب وہ رات آئی جس میں مجھے معراج کرائی گئی اور میں صبح کو مکہ میں تھا (1)، تو میں اپنے معاملے (معراج) سے گھبرا گیا اور میں نے جان لیا کہ لوگ مجھے جھٹلائیں گے۔ چنانچہ میں (2) حِجْر (کعبہ کے پاس کی جگہ) میں غمگین حالت میں تنہا بیٹھ گیا۔"
ابو جہل اللہ کا دشمن گزرا تو آیا یہاں تک کہ آپ کے پاس بیٹھ گیا اور طنزاً آپ سے کہنے لگا: "کیا کوئی (نئی) بات ہوئی ہے؟" تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "ہاں۔" اس نے کہا: "وہ کیا ہے؟" آپ نے فرمایا: "مجھے آج رات معراج کرائی گئی ہے۔" اس نے کہا: "کہاں تک؟" آپ نے فرمایا: "بیت المقدس تک۔" اس نے کہا: "پھر تم صبح کو ہمارے درمیان موجود ہو؟" آپ نے فرمایا: "ہاں۔" (ابو جہل نے یہ اس لیے کیا) کہ اس نے آپ پر اس بات کا اظہار نہیں ہونے دیا کہ وہ آپ کو جھٹلا رہا ہے، اس خوف سے کہ جب وہ اپنی قوم کو (اس معاملے پر) بلائے گا تو (رسول اللہ) بات بیان کرنے سے انکار نہ کر دیں۔
ابو جہل نے کہا: "تمہارا کیا خیال ہے، اگر میں اپنی قوم کو بلا لوں تو کیا تم انہیں وہی بات بیان کرو گے جو تم نے مجھ سے بیان کی ہے؟" رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "ہاں۔" تو اس نے (بلند آواز سے) کہا: "آؤ اے بنو کعب بن لؤی کے لوگو!" ابن عباس کہتے ہیں: تو مجلسوں سے لوگ اچھل پڑے اور آئے یہاں تک کہ ان دونوں کے پاس بیٹھ گئے۔ ابوجہل نے کہا: "اپنی قوم کو وہ بات بیان کرو جو تم نے مجھ سے بیان کی ہے۔" تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "مجھے آج رات معراج کرائی گئی ہے۔" انہوں نے کہا: "کہاں تک؟" آپ نے فرمایا: "بیت المقدس تک۔" انہوں نے کہا: "پھر تم صبح کو ہمارے درمیان موجود ہو؟" آپ نے فرمایا: "ہاں۔"
ابن عباس کہتے ہیں: (یہ سن کر) کوئی تالیاں بجانے لگا اور کوئی جھوٹ پر تعجب کرتے ہوئے اپنا ہاتھ اپنے سر پر رکھنے لگا۔ پھر انہوں نے کہا: "کیا تم ہمارے لیے مسجد (اقصیٰ) کی کیفیت بیان کر سکتے ہو؟" (اور وہاں ایسے لوگ بھی موجود تھے جن نے اس شہر کا سفر کیا تھا اور مسجد کو دیکھا تھا)۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "تو میں اس کی صفت بیان کرنے لگا (3) اور میں (یاد کر کے) صفت بیان کرتا رہا یہاں تک کہ (4) قریش نے مجھ سے بیت المقدس کی کچھ ایسی چیزوں کے بارے میں پوچھا جنہیں میں (تفصیل سے) نہیں جانتا تھا، تو میں ایسی پریشانی میں مبتلا ہوا جیسی سخت پریشانی میں میں کبھی نہیں پڑا تھا۔"
آپ نے فرمایا: "پھر اللہ تعالیٰ نے اس (بیت المقدس) کو میرے سامنے اٹھا دیا، میں اس کی طرف دیکھنے لگا (5) اور میں اس کی صفت بیان کرنے لگا جبکہ میں اسے دیکھ رہا تھا (6)، وہ مجھ سے جس چیز کے بارے بھی پوچھتے، میں انہیں اس سے آگاہ کر دیتا۔" ابن عباس کہتے ہیں: تو (اس کے بعد) سب لوگوں نے کہا: "رہی کیفیت بیان کرنے کی بات، تو اللہ کی قسم! (ان کی بیان کردہ کیفیت) بالکل درست ہے (7)۔"
ان (قریش) نے آپ ﷺ سے (مزید) نشانیاں طلب کیں۔
[الجامع الصحیح للسنن والمسانید: جلد 9/ صفحہ 333]
---
حوالہ جات:
· (1) مسند أحمد:2820، الصحیحة للألبانی:3021۔ نیز شیخ شعیب الأرناؤوط فرماتے ہیں: اس کا سند صحیح ہے۔
· (2) صحیح مسلم:272 (168)
· (3) مسند أحمد:2820
· (4) صحیح مسلم:272 (168)
· (5) مسند أحمد:2820
· (6) صحیح مسلم:272 (168)
· (7) مسند أحمد:2820، مصنف ابن أبي شيبة:31700
---
📖 حاصل شدہ اسباق و نکات:
1. نبی کریم ﷺ کی فکرِ امت اور بشری جبلت: معراج جیسے عظیم معجزے کے بعد آپ ﷺ کا غمگین ہونا اور لوگوں کے تکذیب کرنے کا خدشہ، آپ ﷺ کی اپنی قوم کی ہدایت کے لیے سچی فکر اور درد کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ آپ ﷺ کی بشریت کا بھی اظہار ہے کہ آپ کو انسانی نفسیات کا علم تھا۔
2. صدقِ رسول ﷺ کا زندہ ثبوت: کفارِ قریش کا منصوبہ آپ ﷺ کو رسوا کرنے کا تھا، مگر اللہ کے فضل سے وہی موقع آپ ﷺ کے سچے ہونے کی واضح ترین دلیل بن گیا۔ بیت المقدس کی مکمل اور عینی شاہد کی طرح درست تفصیلات بتانا، آپ ﷺ کے معراج کے واقعے کی سچائی کا ناقابل تردید ثبوت ہے۔
3. اللہ کی خاص مدد اور تائید: جب آپ ﷺ کو کچھ تفصیلات یاد نہ آئیں تو اللہ تعالیٰ نے معجزاتی طور پر بیت المقدس کو آپ ﷺ کی نگاہوں کے سامنے حاضر کر دیا۔ یہ اس اصول کی واضح مثال ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کی مشکل وقت میں مدد فرماتا ہے، خاص طور پر جب وہ حق کی تبلیغ میں مصروف ہوں۔
4. مخالفین کی چالاکی اور مذاق کا طریقہ: ابوجہل کا پہلے نجی طور پر پوچھنا اور پھر عوامی مجمع میں وہی بات دہرانا، مخالفین کے مکرو فریب اور رسولوں کو مشکوک بنانے کے کلاسیکی انداز کو ظاہر کرتا ہے۔ آج بھی حق کے دشمن اسی طرح کے حربے استعمال کرتے ہیں۔
5. سچائی کا اعتماد اور ثابت قدمی: آپ ﷺ نے یہ جان کر بھی کہ لوگ جھٹلائیں گے، سچائی کو چھپانے کے بجائے ہر فورم پر واضح طور پر بیان فرمایا۔ یہ ہر داعیِ حق کے لیے یہ سبق ہے کہ سچائی کو بیان کرنے میں کبھی ہچکچاہٹ نہیں ہونی چاہیے، چاہے حالات کتنے ہی ناموافق کیوں نہ ہوں۔
6. مومن کے لیے تسلی اور ڈھارس: یہ واقعہ ہر صاحبِ ایمان کو یہ یقین دلاتا ہے کہ اگر وہ حق پر ثابت قدمی اختیار کرے تو بالآخر اللہ تعالیٰ اس کی نصرت فرما کر اس کے حق ہونے کو ظاہر کر دے گا، اگرچہ ابتداءً اسے مخالفت اور مذاق کا سامنا ہو۔
7. بیت المقدس کی فضیلت اور اس سے تعلق: واقعہ معراج میں بیت المقدس کو قبلہ اول کی حیثیت سے مرکزی مقام حاصل ہے۔ اس کا ذکر اور اس کی تفصیلات مسلمانوں کے دل میں اس مقدس مقام کی محبت اور اس سے جذباتی و روحانی تعلق کو مضبوط کرتا ہے۔
حدیث نمبر 4
عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ - رضي الله عنهما - قَالَ:
(قَالَتْ قُرَيْشٌ لِلنَّبِيِّ - صلى الله عليه وسلم -: ادْعُ لَنَا رَبَّكَ أَنْ يَجْعَلَ لَنَا الصَّفَا ذَهَبًا) (¬1) (وَأَنْ يُنَحِّيَ الْجِبَالَ عَنَّا فَنَزْدَرِعْ (¬2)) (¬3) (فَإِنْ فَعَلْتَ ذَلِكْ آمَنِّا بِكَ) (¬4) (وَاتَّبَعْناكَ , وَعَرَفْنَا أَنَّ مَا قُلْتَ كَمَا قُلْتَ) (¬5) (قَالَ: " وَتَفْعَلُونَ؟ " , قَالُوا: نَعَمْ , " فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - , فَأَتَاهُ جِبْرِيلُ فَقَالَ: إِنَّ رَبَّكَ - عز وجل - يَقْرَأُ عَلَيْكَ السَّلَامَ) (¬6) (وَيَقُولُ: إِنْ شِئْتَ آتَيْنَاهُمْ مَا سَأَلُوا) (¬7) (فَمَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذَلِكَ مِنْهُمْ عَذَّبْتُهُ عَذَابًا لَا أُعَذِّبُهُ أَحَدًا مِنْ الْعَالَمِينَ) (¬8) (وَأُهْلِكُوا كَمَا أَهْلَكْتُ مَنْ قَبْلَهُمْ) (¬9) (وَإِنْ شِئْتَ فَتَحْتُ لَهُمْ بَابَ التَّوْبَةِ وَالرَّحْمَةِ , قَالَ: بَلْ بَابُ التَّوْبَةِ وَالرَّحْمَةِ) (¬10) (فَأَنْزَلَ اللَّهُ - عز وجل - هَذِهِ الْآيَة: {وَمَا مَنَعَنَا أَنْ نُرْسِلَ بِالْآيَاتِ إِلَّا أَنْ كَذَّبَ بِهَا الْأَوَّلُونَ , وَآتَيْنَا ثَمُودَ النَّاقَةَ مُبْصِرَةً فَظَلَمُوا بِهَا وَمَا نُرْسِلُ بِالْآيَاتِ إِلَّا تَخْوِيفًا}
(¬11)). (¬12)
ترجمہ:
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ بیان کرتے ہیں:
قریش نے نبی اکرم ﷺ سے کہا: "اپنے رب سے ہمارے لیے دعا کریں کہ وہ صفا پہاڑی کو ہمارے لیے سونا بنا دے (1) اور ہمارے لیے پہاڑوں کو ہٹا دے تاکہ ہم (وہاں) کھیتی باڑی کر سکیں (2) (3)۔ اگر آپ نے یہ کر دکھایا تو ہم آپ پر ایمان لے آئیں گے (4) اور آپ کی پیروی کریں گے، اور ہم جان لیں گے کہ آپ نے جو کچھ کہا ہے وہ ویسا ہی ہے جیسا آپ نے کہا (5)۔"
آپ ﷺ نے فرمایا: "اور تم (وعدہ پورا) کرو گے؟" انہوں نے کہا: ہاں۔ (ابن عباس بیان کرتے ہیں:) پس رسول اللہ ﷺ نے دعا فرمائی، تو جبرائیلؑ آپ کے پاس آئے اور کہا: "بے شک آپ کا رب عزوجل آپ پر سلام بھیجتا ہے (6) اور فرماتا ہے: اگر آپ چاہیں تو ہم انہیں وہ (نشانی) دے دیں جس کا انہوں نے سوال کیا ہے (7)، پھر ان میں سے جو اس کے بعد بھی کفر کرے گا، میں اسے ایسا عذاب دوں گا جو دنیا جہان کے کسی (کافر) کو نہ دوں گا (8)، اور انہیں ہلاک کر دوں گا جیسے میں ان سے پہلے والوں کو ہلاک کر چکا ہوں (9)۔ اور اگر آپ چاہیں تو ان کے لیے توبہ اور رحمت کا دروازہ کھول دوں۔" آپ ﷺ نے فرمایا: "بلکہ (میں) توبہ اور رحمت کا دروازہ (کھولنے کو پسند کرتا ہوں) (10)۔"
پس اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی: {اور ہمیں اس بات نے ہی نشانیاں بھیجنے سے نہیں روکا کہ اگلی قوموں نے بھی انہیں جھٹلایا تھا، اور ہم نے ثمود (قوم) کو اونٹنی (معجزے کے طور پر) کھلی آنکھوں والی (نشانی) دے دی تھی پھر انہوں نے اس پر ظلم کیا، اور ہم نشانیاں صرف ڈرانے کے لیے ہی بھیجا کرتے ہیں (11)} (12).
[الجامع الصحیح للسنن والمسانید: ج9/ص336]
---
📚 حوالہ جات:
(1) حم مسند الإمام أحمد 2166 مزید: انظر الصَّحِيحَة: 3388 , صَحِيح التَّرْغِيبِ وَالتَّرْهِيب: 3142۔ شیخ شعیب الأرناؤوط: إسناده صحيح۔
(2) (تشریح) لفظ کی تشریح أَيْ: نَزْرَعُ (یعنی ہم کھیتی کریں) -
(3) حم مسند الإمام أحمد 2333 شیخ شعیب الأرناؤوط: إسناده صحيح۔
(4) حم مسند الإمام أحمد 2166 -
(5) حم مسند الإمام أحمد 3223 شیخ شعیب الأرناؤوط: إسناده صحيح۔
(6) حم مسند الإمام أحمد 2166 -
(7) ك مستدرك الحاكم 3379 -
حم مسند الإمام أحمد 3223 -
(8) حم مسند الإمام أحمد 2166 -
(9) حم مسند الإمام أحمد 2333 شیخ شعیب الأرناؤوط: إسناده صحيح۔
(10) حم مسند الإمام أحمد 2166 شیخ شعیب الأرناؤوط: حسن۔
(11) (قرآن) سورۃ الإسراء آیت: 59 ترجمہ آیت: اوپر عبارت کے ترجمہ میں شامل ہے۔
(12) حم مسند الإمام أحمد 2333 -
ن السنن الكبرى للنسائي 11290 -
ك مستدرك الحاكم 3379 -
---
📖 حاصل شدہ اسباق و نکات:
اس عبرت انگیز روایت سے درج ذیل اہم اسباق، عقیدتی اور تربیتی نکات حاصل ہوتے ہیں:
1. کفار کی ہٹ دھرمی اور معجزات کا مطالبہ: کفار قریش کی جانب سے معجزات کا یہ مطالبہ درحقیقت ان کی ہٹ دھرمی، عقل کے استعمال سے انکار، اور رسول اللہ ﷺ کو آزمائش میں ڈالنے کے لیے تھا۔ یہ ان کی بد نیتی کو ظاہر کرتا ہے، کیونکہ ان کا مقصد حقیقی طور پر ہدایت پانا نہیں تھا۔
2. اللہ تعالیٰ کی کامل قدرت اور حکمت: اللہ تعالیٰ ان کے سوال کے مطابق ہر نشانی دینے پر قادر تھا، مگر اس نے اپنی بے پایاں حکمت کے تحت اسے قبول نہ فرمایا۔ یہ اس اصول کی واضح مثال ہے کہ معجزات محض دیکھنے سے ایمان پیدا نہیں ہوتا، بلکہ ان لوگوں کے لیے ہوتے ہیں جو پہلے سے حق کو پہچاننے کے لیے تیار ہوں۔ گزشتہ امتوں (جیسے قوم ثمود) کے حالات اس کی گواہی دیتے ہیں۔
3. رسول اللہ ﷺ کی عظمتِ اخلاق اور شفقت: سب سے بڑا سبق نبی کریم ﷺ کے فیصلے سے ملتا ہے۔ آپ ﷺ کو دو اختیارات دیے گئے: سخت عذاب یا توبہ و رحمت کا دروازہ۔ آپ ﷺ نے اپنی ذات پر آنے والی تکذیب و اذیت کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنی قوم کی بھلائی اور ہدایت کو ترجیح دی اور "توبہ و رحمت" کا دروازہ منتخب کیا۔ یہ آپ ﷺ کی رحمت للعالمین ہونے اور امت پر بے پناہ شفقت کا اعلیٰ ترین مظہر ہے۔
4. قرآنی حکمت کی وضاحت: اس واقعہ کے بعد نازل ہونے والی آیت قرآن مجید کی ایک اہم حکمت کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ بے شمار کھلی نشانیاں کیوں نہیں بھیجی گئیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ گزشتہ قومیں انہیں جھٹلا چکی ہیں، اور ان کا مقصد صرف ڈرانا ہے، نہ کہ مجبوراً ایمان لانا۔
5. مومن کے لیے تسلی و ہدایت: یہ واقعہ ہر مسلمان کو یہ سبق دیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی سنت میں تاخیر یا عدم قبولیت بھی اس کی حکمت پر مبنی ہوتی ہے۔ ساتھ ہی یہ ہمیں نبی کریم ﷺ کی سیرت سے یہ عظیم درس دیتا ہے کہ دشمن کے ساتھ بھی حسنِ ظن اور ان کی ہدایت کی تمنا رکھنی چاہیے، اور بدلہ لینے کے بجائے معافی و رحمت کی راہ اختیار کرنی چاہیے۔
6. عبرت کا مقام: روایت میں "جیسے میں ان سے پہلے والوں کو ہلاک کر چکا ہوں" کے الفاظ گزشتہ سرکش اقوام کے انجام کی یاد دہانی کراتے ہیں، تاکہ قریش اور بعد کی نسلیں ان سے عبرت حاصل کریں۔
حدیث نمبر 5
📖 حاصل شدہ اسباق و نکات:
- معراج النبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اثبات: یہ حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے معراج کے واقعہ کی تفصیلات پر مشتمل ہے، جو ایک عقیدہ اور یقینی امر ہے۔
- جبرائیل علیہ السلام کی حقیقی صورت: فرشتے اپنی اصل صورت میں نظر آسکتے ہیں، جو نہایت عظیم الشان، خوبصورت اور روشن ہوتی ہے، جیسا کہ چھ سو پروں، موتی و یاقوت اور ہرے ریشمی لباس کی کیفیت سے معلوم ہوتا ہے۔
- سدرۃ المنتہیٰ کی فضیلت و مقام: یہ ایک عظیم الشان درخت ہے جو چھٹے یا ساتویں آسمان میں ہے۔ یہ دنیا و آسمان کے علوم، اعمال، ارواح اور وحی کا مرکز اور انتہائی نقطہ ہے۔
- رسول اللہ ﷺ کو خصوصی انعامات: آپ ﷺ کو تین انعامات ایسے ملے جو پچھلی تمام امتوں کو نہیں ملے: (1)پانچ وقت کی فرض نمازیں: جو امت محمدیہ پر اللہ کا خاص تحفہ ہیں۔ (2)سورہ بقرہ کے خاتمے کا انعام: یعنی ان آیات میں موجود دعاؤں کی قبولیت اور شفاعت کا خصوصی درجہ۔(3)امت کے کبائر کی مغفرت کا وعدہ: بشرطیکہ وہ شرک سے بچیں۔ یہ اس امت پر اللہ کا بہت بڑا رحم و کرم ہے۔
- شرک کے عذاب کی ہولناکی: حدیث میں "ما لم يشركوا بالله شيئاً" (بشرطیکہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں) کے الفاظ اس بات کی واضح نشاندہی ہیں کہ شرک تمام گناہوں میں سب سے بڑا اور ناقابل معافی گناہ ہے، جو انسان کو جہنم میں ہمیشہ رہنے کا مستحق بنا دیتا ہے۔
- گناہگار موحد کی امید: یہ حدیث گناہگار مسلمانوں کے لیے اللہ کی رحمت اور مغفرت کی وسیع وسعت کا پیغام دیتی ہے۔ اگرچہ وہ عذاب کے مستحق ہو سکتے ہیں، لیکن شرک نہ ہونے کی وجہ سے انہیں ہمیشہ جہنم میں نہیں رکھا جائے گا۔
- اللہ کی رحمت کی وسعت: "المقحمات" (یعنی بڑے گناہ/کبائر) کے باوجود مغفرت کی امید دلانا اللہ تعالیٰ کی رحمت کی وسعت اور اس کی بخشش کے دروازے کھلے ہونے کی دلیل ہے، بشرطیکہ بندہ شرک سے بچے اور توبہ کرے۔
- آخرت کی تیاری: یہ حدیث آخرت میں اللہ کی رحمت پر بھروسہ رکھتے ہوئے، شرک اور گناہوں سے بچنے اور نماز جیسی عظیم نعمت کی حفاظت کرنے کی ترغیب دیتی ہے۔
- احادیث کی تفسیر میں صحابہ کا مقام: حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ جیسے جلیل القدر صحابی کا قرآنی آیات کی تفسیر میں بیان، قرآن کی صحیح تفہیم کے لیے ان کے اقوال کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔
- احادیث کی جمع و تطبیق: حواشی میں علامہ البانی رحمہ اللہ کے حوالے سے سدرۃ المنتہیٰ کے مقام کے بارے میں مختلف روایات میں جمع و تطبیق کا ایک علمی انداز پیش کیا گیا ہے، جو محدثین کا اہم اسلوب ہے۔
حدیث نمبر 6
حدیث نمبر 7
حدیث نمبر 8
حدیث نمبر 9
---
📖 حاصل شدہ اسباق و نکات:
1. صدیقین کے ایمان کی بلندی اور یقین کی انتہا: اس واقعے سے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ایمان کی عظمت اور یقین کی اس انتہا کا پتہ چلتا ہے جہاں کوئی استفسار، تحقیق یا تردد کے بغیر، محض رسول اللہ ﷺ کا فرمانا ہی کافی ہوتا ہے۔ آپ نے معراج جیسے بظاہر ناممکن اور حیرت انگیز واقعے پر بھی "اگر آپ نے فرمایا ہے تو سچ فرمایا ہے" کے فقرے سے اپنا بے لوث ایمان ظاہر کر دیا۔
2. رسول اللہ ﷺ کی سچائی پر پختہ یقین: حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کا یہ جواب کہ "میں تو ان کی اس سے بھی زیادہ دور کی بات کی تصدیق کرتا ہوں... میں ان کی آسمان کی خبر (یعنی وحی) کی تصدیق کرتا ہوں"، یہ واضح کرتا ہے کہ آپ کا ایمان صرف ایک واقعے تک محدود نہ تھا، بلکہ آپ کا پورا وجود ہر حال میں رسول اللہ ﷺ کی صداقت پر گواہ تھا۔
3. اچھوتے لقب 'الصدیق' کی وجہ تسمیہ: یہ واقعہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے مشہور لقب "الصدیق" (سچائی کی انتہا پر یقین رکھنے والا) کی عملی اور واضح وجہ ہے۔ ایسے موقع پر جب بہت سے کمزور ایمان والے لوگ ایمان سے پلٹ گئے، آپ کا یہ یقین آپ کے مقام و مرتبے کو آسمان تک پہنچا گیا۔
4. آزمائش کے وقت ایمان کا امتحان: معراج کا واقعہ مسلمانوں کے لیے ایک امتحان تھا۔ اس نے ایمانداروں اور منافقوں، پکے اور کچے ایمان والوں کے درمیان واضح فرق کر دیا۔ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ اس امتحان میں سب سے نمایاں کامیاب ہوئے۔
5. ہر مسلمان کے لیے مشعل راہ: یہ واقعہ ہر مسلمان کو یہ سبق دیتا ہے کہ اپنے نبی ﷺ کے ہر قول و فعل پر دل و جان سے یقین رکھنا اور ہر مشکل وقت میں آپ کی تصدیق و نصرت کرنا ایمان کی شرط ہے۔ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کا یہ رویہ ہر مومن کے لیے مشعل راہ ہے۔
6. حق کی حمایت میں ثابت قدمی اور بے خوفی: حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے نہ صرف رسول اللہ ﷺ کی تصدیق کی بلکہ مخالفین کے سامنے بھی بلا خوف و خطر اپنا موقف واضح کیا۔ یہ حق کی حمایت میں ثابت قدمی کی بہترین مثال ہے۔
یہ حدیث ایمان کی حقیقی روح، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کے تقاضے اور حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ جیسی ہستیوں کے بلند مقام کو سمجھنے کے لیے بہترین روشنی فراہم کرتی ہے۔
(3)عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: لَمَّا أُسْرِيَ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْمَسْجِدِ الْأَقْصَى أَصْبَحَ يُحَدِّثُ النَّاسَ بِذَلِكَ فَارْتَدَّ نَاسٌ مِمَّنْ كَانَ آمَنَ بِهِ وَصَدَّقَهُ وَفُتِنُوا بِذَلِكَ عَنْ دِينِهِمْ، وَسَعَى رِجَالٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ إِلَى أَبِي بكر فَقَالُوا: هَلْ لَكَ إِلَى صَاحِبِكَ يَزْعُمُ أَنَّهُ أُسْرِيَ بِهِ اللَّيْلَةَ إِلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ؟ فَقَالَ: أَوَ قَالَ ذَلِكَ؟ قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: لَئِنْ كَانَ قَدْ قَالَ ذَلِكَ لَقَدْ صَدَقَ، قَالُوا: وَتُصَدِّقُهُ أَنَّهُ ذَهَبَ إِلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ فِي لَيْلَةٍ، وَجَاءَ قَبْلَ أَنْ يُصْبِحَ؟ قَالَ: نَعَمْ، إِنِّي لَأُصَدِّقُهُ بِمَا هُوَ أَبْعَدُ مِنْ ذَلِكَ؛ أُصَدِّقُهُ بِخَبَرِ السَّمَاءِ فِي غَدْوَةٍ أَوْ رَوَاحَةٍ؛ فَلِذَلِكَ سمي أبو بَكْرٍ الصديق " قَالَتْ عَائِشَةُ: " ثُمَّ دَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِرًّا وَهَجَرَ الْأَوْثَانَ فَاسْتَجَابَ لَهُ مَنْ شَاءَ اللَّهُ مِنْ أَحْدَاثِ الرِّجَالِ مِنْ ضَعْفَى النَّاسِ حَتَّى كَثُرَ مَنْ آمَنَ بِهِ وَصَدَّقَهُ، وَكُفَّارُ قُرَيْشٍ غَيْرُ مُنْكِرِينَ لِمَا يَقُولُ، يَقُولُونَ: إِذَا مَرَّ عَلَيْهِمْ فِي مَجَالِسِهِمْ: إِنَّ غُلَامَ ابْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ هَذَا وَيُشِيرُونَ إِلَيْهِ لَيُكَلِّمُ زُعَمَاءَ مِنَ السَّمَاءِ فَكَانُوا عَلَى ذَلِكَ حَتَّى عَابَ آلِهَتَهُمُ الَّتِي كَانُوا يَعْبُدُونَ، وَذَكَرَ هَلَاكَ آبَائِهِمُ الَّذِينَ مَاتُوا كُفَّارًا فَنَابَذُوا الرَّسُولَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَعَادَوْهُ فَلَمَّا ظَهَرَ الْإِيمَانُ، وَتُحُدِّثَ بِهِ ثَارَ نَاسٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ بِمَنْ آمَنَ مِنْ قَبَائِلِهِمْ يُسَبِّحُونَهُمْ، وَيُعَذِّبُونَهُمْ وَأَرَادُوا فِتْنَتَهُمْ عَنْ دِينِهُمْ، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تَفَرَّقُوا فِي الْأَرَضِينَ» قَالُوا: أَيْنَ نَذْهَبُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «هَا هُنَا» وَأَشَارَ بِيَدِهِ قِبَلَ الْحَبَشَةِ، وَكَانَ أَحَبَّ الْأَرْضِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ أَنْ يُهَاجِرَ إِلَيْهَا، فَهَاجَرَ نَاسٌ ذُوُو عَدَدٍ مِنْهُمْ مَنْ هَاجَرَ بِنَفْسِهِ، وَمِنْهُمْ مَنْ هَاجَرَ بِأَهْلِهِ.
ترجمہ:
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: "جب نبی اکرم ﷺ کو مسجد اقصیٰ سے معراج کرائی گئی، تو صبح ہوتے ہی آپ لوگوں کو اس (واقعے) کے بارے میں بتانے لگے۔ نتیجتاً کچھ ایسے لوگ (ایمان سے) پلٹ گئے جو آپ پر ایمان لائے تھے اور آپ کی تصدیق کرتے تھے، اور وہ اپنے دین کے معاملے میں اس (واقعے) کی وجہ سے آزمائش میں مبتلا ہو گئے۔
کچھ مشرک مرد حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے پاس دوڑے آئے اور کہنے لگے: 'کیا آپ نے اپنے صاحب (محمد ﷺ) کے بارے میں سنا؟ وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ انہیں آج رات بیت المقدس کی طرف معراج کرائی گئی۔' حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے (فوراً) پوچھا: 'کیا واقعی انہوں نے یہ فرمایا ہے؟' انہوں نے کہا: 'ہاں۔' آپ نے فرمایا: 'اگر انہوں نے یہ فرمایا ہے تو انہوں نے سچ فرمایا ہے۔' انہوں نے (حیرت سے) کہا: 'کیا آپ ان کی اس بات کی بھی تصدیق کرتے ہیں کہ وہ ایک رات میں بیت المقدس گئے اور صبح ہونے سے پہلے واپس آ گئے؟' آپ نے فرمایا: 'ہاں، میں ان کی تصدیق کرتا ہوں۔ میں تو ان کی اس سے بھی زیادہ دور کی بات کی تصدیق کرتا ہوں؛ میں ان کی آسمان کی خبر (یعنی وحی) کی تصدیق کرتا ہوں، خواہ وہ صبح کی ہو یا شام کی۔' اسی وجہ سے حضرت ابو بکر کو 'صدیق' کہا گیا۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے مزید فرمایا: "پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (ابتدا میں) پوشیدہ طور پر دعوت دی اور بتوں کی مذمت کی، تو اللہ تعالیٰ نے جن نوجوانوں اور کمزور لوگوں کو چاہا، انہوں نے آپ کی دعوت قبول کی یہاں تک کہ آپ پر ایمان لانے والوں اور آپ کی تصدیق کرنے والوں کی تعداد زیادہ ہو گئی۔ اور کفار قریش آپ کی باتوں کا انکار نہیں کرتے تھے، جب آپ ان کی مجلسوں سے گزرتے تو کہتے: 'یہ عبدالمطلب کا لڑکا (اشارہ کرتے ہوئے) آسمان کے سرداروں سے بات کرتا ہے۔' وہ اسی طرح (حیران) رہے یہاں تک کہ آپ نے ان کے ان بتوں کی مذمت شروع کر دی جن کی وہ پرستش کرتے تھے، اور اپنے ان باپ دادا کے ہلاکت کے حالات ذکر کیے جو کفر کی حالت میں مرے تھے۔ تب انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے دشمنی مول لے لی اور آپ کے دشمن بن گئے۔
پھر جب ایمان ظاہر ہو گیا اور اس کی بات چیت ہونے لگی، تو مشرکین میں سے کچھ لوگ اٹھ کھڑے ہوئے اور ان (مسلمانوں) کو ستانے اور عذاب دینے لگے جو ان ہی کی قبیلوں میں سے ایمان لائے تھے، اور وہ انہیں ان کے دین سے پھیرنا چاہتے تھے۔ تب رسول اللہ ﷺ نے ان (مسلمانوں) سے فرمایا: 'تم زمین میں (امن کی جگہ) پھیل جاؤ۔' انہوں نے کہا: 'اے اللہ کے رسول! ہم کہاں جائیں؟' آپ نے فرمایا: 'اس طرف' اور اپنے ہاتھ سے حبشہ کی طرف اشارہ کیا، اور یہ رسول اللہ ﷺ کو سب سے زیادہ پسندیدہ زمین تھی کہ آپ اس کی طرف ہجرت فرماتے۔ چنانچہ کافی تعداد میں لوگوں نے ہجرت کی، ان میں سے بعض تن تنہا ہجرت کر گئے اور بعض اپنے اہل و عیال کے ساتھ ہجرت کر گئے۔"
[شرح اصول اعتقاد اہل السنة والجماعة للالکائی: 1430]
---
📖 حاصل شدہ اسباق و نکات:
اس تفصیلی روایت سے درج ذیل اہم اسباق اور تاریخی، ایمانی و تربیتی نکات حاصل ہوتے ہیں:
1. صدیقین کے یقین کی انتہا اور لقب کی وجہ: یہ واقعہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے لقب "الصدیق" کی عملی وجہ بیان کرتا ہے۔ آپ نے معراج جیسے عقل سلیم کے لیے حیرت انگیز معجزے پر بھی کوئی استفسار کیے بغیر، بلکہ اس سے بھی بڑھ کر (وحی کی تصدیق کا ذکر کرتے ہوئے) اپنا پختہ یقین ظاہر کیا۔ یہ ایمان کی اعلیٰ ترین سطح ہے۔
2. ایمان کی آزمائش اور کمزور ایمان والوں کا انکشاف: واقعہ معراج ایمان والوں کے لیے ایک سخت امتحان تھا۔ اس نے پکے اور کمزور ایمان والوں کے درمیان واضح فرق کر دیا۔ کچھ لوگ جو پہلے ایمان لائے تھے، اس معجزے کو سن کر ایمان سے پلٹ گئے، جس سے ان کے ایمان کی سطح ظاہر ہو گئی۔
3. دعوتِ اسلام کے ابتدائی مراحل اور حکمت: روایت میں دعوت کے تدریجی مراحل کا ذکر ہے۔ ابتداءً پوشیدہ دعوت، پھر شرک اور بتوں کی مذمت کا اعلانیہ مرحلہ، اور پھر مکہ والوں کے آباء و اجداد کے انجام سے ڈرانا۔ یہ رسول اللہ ﷺ کی حکمتِ تبلیغ اور تربیت کے اسلوب کو ظاہر کرتا ہے۔
4. مخالفین کے رویے میں تبدیلی کی وجوہات: روایت واضح کرتی ہے کہ ابتداءً قریش آپ ﷺ کے معجزات (جیسے آسمان سے بات) سے حیران تھے مگر خاموش تھے۔ جب آپ نے ان کے معبودوں (بتوں) پر تنقید شروع کی اور ان کے کفار آباء کے انجام کو یاد دلایا، تو یہ ان کے لیے ناقابلِ برداشت ہو گیا۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ اصل اختلاف عقیدہ اور جاہلیت کے تعصب پر تھا، نہ کہ عقل یا دلیل کی کمی پر۔
5. ظلم و ستم اور ہجرت کی اجازت: جب ایمان پھیلنے لگا اور مشرکین کا ظلم و ستم بڑھا تو رسول اللہ ﷺ نے مظلوم مسلمانوں کو ہجرت کی اجازت دے کر ایک اہم شرعی اصول کی تعلیم دی: جب دین پر قائم رہنا مشکل ہو جائے تو کسی دوسری جگہ منتقل ہو جانا درست ہے۔
6. حکمتِ الٰہیہ: ہجرتِ حبشہ کا انتخاب: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا حبشہ کی طرف ہجرت کی طرف اشارہ کرنا ایک حکیمانہ فیصلہ تھا، کیونکہ وہاں ایک عادل عیسائی بادشاہ (نجاشی) حکمران تھا جو مظلوموں کو پناہ دیتا تھا۔ یہ اللہ کی جانب سے اپنے بندوں کے لیے راستہ پیدا کرنے کی نشانی ہے۔
7. صبر و استقامت اور تبلیغ کی ذمہ داری: ابتدائی مسلمانوں (خاص طور پر نوجوانوں اور کمزور طبقے) کی تکالیف برداشت کرنا اور پھر ہجرت کرنا، دین کی خاطر صبر و استقامت کی عظیم مثال ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی سبق ملتا ہے کہ دعوت کا کام ہر حال میں جاری رکھنا چاہیے۔
یہ روایت نہ صرف واقعہ معراج کے بعد کے حالات، بلکہ مکہ میں اسلام کی ابتدائی دعوت، اس کے مراحل، آزمائشوں اور پھر ہجرت کی اجازت تک کے تاریخی سیاق کو سمجھنے کے لیے انتہائی اہم ہے۔
📖 شرح علامه مناوي:
(مررت ليلة أسري بي على موسى) أي جاوزت موسى بن عمران حال كونه (قائما يصلي في قبره) لفظ رواية مسلم مررت على موسى ليلة أسري بي عند الكثيب الأحمر وهو يصلي في قبره أي يدعو الله ويثني عليه ويذكره فالمراد الصلاة اللغوية وقيل المراد الشرعية وعليه القرطبي فقال: الحديث بظاهره يدل على أنه رآه رؤية حقيقية في اليقظة وأنه حي في قبره يصلي الصلاة التي يصليها في الحياة وذلك وذلك ممكن ولا مانع من ذلك لأنه إلى الآن في الدنيا وهي دار تعبد فإن قيل كيف يصلون بعد الموت وليس تلك حالة تكليف؟ قلنا ذلك ليس بحكم التكليف بل بحكم الإكرام والتشريف لأنهم حبب إليهم في الدنيا الصلاة فلزموها ثم توفوا وهم على ذلك فتشرفوا بإبقاء ما كانوا يحيونه عليه فتكون عبادتهم إلهامية كعبادة الملائكة لا تكليفية ويدل عليه خبر يموت الرجل على ما عاش عليه ويحشر على ما مات عليه ولا تدافع بين هذا وبين رؤيته إياه تلك الليلة في السماء لأن للأنبياء مراتع ومسارح يتصرفون فيما شاؤوا ثم يرجعون أو لأن أرواح الأنبياء بعد مفارقة البدن في الرفيق الأعلى ولها إشراف على البدن وتعلق به يتمكنون من التصرف والتقرب بحيث يرد السلام على المسلم وبهذا التعلق رآه يصلي في قبره ورآه في السماء فلا يلزم كون موسى عرج به من قبره ثم رد إليه بل ذلك مقام روحه واستقرارها وقبره مقام بدنه واستقراره إلى يوم معاد الأرواح لأبدانها فرآه يصلي في قبره ورآه في السماء أي كما أن نبينا بالرفيق الأعلى وبدنه في ضريحه يرد السلام على من سلم عليه ومن كثف إدراكه وغلظ طبعه عن إدراك هذا فلينظر إلى السماء في علوها وتعلقها وتأثيرها في الأرض وحياة النبات والحيوان وإلى النار كيف تؤثر في الجسم البعيد مع أن الارتباط الذي بين الروح والبدن أقوى وأتم وألطف وإذا تأملت هذه الكلمات علمت أن لا حاجة إلى ما أبدى في هذا المقام من التكلفات والتأويلات البعيدة التي منها أن هذا كان رؤية منام أو تمثيل أو إخبار عن وحي لا رؤية عين (خاتمة) أخرج ابن عساكر عن كعب أن قبر موسى بدمشق وذكر ابن حبان في صحيحه أن قبره بين مدين وبين بيت المقدس واعترضه الضياء المقدسي ثم ذكر أنه اشتهر أن قبره قريب من أريحاء بقرب الأرض المقدسة وقد دلت منامات وحكايات على أنه قبره. قال الحافظ العراقي: وليس في قبور الأنبياء ما هو محقق إلا قبر نبينا صلى الله عليه وسلم وأما قبر موسى وإبراهيم فمظنون
ترجمہ:
"(مَرَرْتُ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِي عَلَى مُوسَى) یعنی میں موسیٰ بن عمران علیہ السلام کے پاس سے گزرا، اس حال میں کہ وہ (قائماً يصلي في قبره) اپنی قبر میں کھڑے نماز پڑھ رہے تھے۔ مسلم کی روایت کے الفاظ ہیں: 'معراج کی رات میں موسیٰ علیہ السلام کے پاس سے گزرا، سرخ ٹیلے کے پاس، اور وہ اپنی قبر میں نماز پڑھ رہے تھے'۔ یعنی اللہ سے دعا کر رہے تھے، اس کی حمد و ثنا بیان کر رہے تھے اور اس کا ذکر کر رہے تھے۔ پس مراد یہاں نماز کا لغوی معنی (دعا و عبادت) ہے۔ اور ایک قول یہ ہے کہ مراد شرعی نماز ہے۔ امام قرطبی اسی پر گئے ہیں۔ انہوں نے کہا: 'حدیث اپنے ظاہر کے ساتھ اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ آپ ﷺ نے انہیں بیداری میں حقیقی طور پر دیکھا، اور یہ کہ وہ اپنی قبر میں زندہ ہیں، وہی نماز پڑھ رہے ہیں جو دنیا کی زندگی میں پڑھتے تھے۔ اور یہ ممکن ہے، اس میں کوئی مانع نہیں...'"
مناوی رحمہ اللہ آگے مزید وضاحت فرماتے ہیں کہ یہ نماز ان کے لیے تکلیف شرعی نہیں بلکہ اللہ کی طرف سے اکرام و تشریف ہے۔ کیونکہ انبیاء علیہم السلام کو دنیا میں ہی نماز محبوب تھی، وہ اسی پر فوت ہوئے، لہٰذا انہیں یہ اعزاز دیا گیا کہ وہ اسی پر برقرار رہیں۔ یہ عبادت الہامی ہے (جیسے فرشتے عبادت کرتے ہیں)، تکلیفی نہیں۔
[فيض القدير-للمناوي:8171]
✨ تشریح کے اہم نکات اور فوائد
مندرجہ بالا عبارت اور اس کے بعد کی تفصیل سے درج ذیل اہم نکات سامنے آتے ہیں:
1. انبیاء کرام علیہم السلام قبر میں زندہ ہیں:
· یہ حدیث اور مناوی رحمہ اللہ کی تشریح اس اہم عقیدے کی واضح دلیل ہے کہ انبیاء علیہم السلام اپنی قبروں میں زندہ ہیں۔ وہ صرف دنیوی زندگی سے منتقل ہوئے ہیں، مکمل فنا نہیں ہوئے۔
· ان کی یہ زندگی برزخی زندگی ہے، جو ہماری دنیوی زندگی سے بالکل مختلف نوعیت کی ہے، جسے ہمارا محدود ادراک مکمل طور پر نہیں سمجھ سکتا۔
2. ظاہری تضاد کا حل (قبر میں نماز اور آسمان پر موجودگی):
· ایک اہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ معراج ہی کی رات آپ ﷺ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر بھی دیکھا، اور یہاں قبر میں بھی دیکھا۔ کیا یہ تضاد ہے؟
· مناوی رحمہ اللہ نے اس کا نہایت لطیف اور حکیمانہ جواب دیا ہے:
· انبیاء علیہم السلام کی روحیں بلند مقام (الرفیق الاعلیٰ) پر ہیں، جہاں سے وہ آزادانہ تصرف کر سکتی ہیں۔
· ان کا تعلق اپنے جسموں سے قائم ہے، جو ان کی قبروں میں محفوظ ہیں۔
· لہٰذا، نبی ﷺ نے ایک مقام پر ان کی روح کا مشاہدہ فرمایا (آسمان پر)، اور دوسرے مقام پر روح کے تعلق کے ساتھ بدن کا مشاہدہ فرمایا (قبر میں)۔
· آپ ﷺ کا اپنا جسم مبارک روضۂ اطہر میں ہے، لیکن آپ کی روح کا تعلق وہاں سے قائم ہے، اسی لیے آپ سلام سنتے اور جواب دیتے ہیں۔ یہی معاملہ دیگر انبیاء کا ہے۔
3. یہ رؤیت خواب یا تمثیل نہیں تھی:
· مناوی رحمہ اللہ نے اس بات پر زور دیا ہے کہ یہ بیداری میں حقیقی مشاہدہ تھا، نہ کہ خواب یا محض ایک تمثیل۔ یہ بات معراج کے جسمانی ہونے کے عقیدے کو مزید تقویت دیتی ہے۔
4. حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قبر کا مقام:
· شرح میں مختلف اقوال نقل کیے گئے ہیں: دمشق، مدین اور بیت المقدس کے درمیان، یا اریحا کے قریب۔
· لیکن حافظ عراقی کے حوالے سے مناوی رحمہ اللہ نے یہ اہم بات کہی ہے کہ سوائے ہمارے نبی ﷺ کے قبرِ انور کے، دیگر انبیاء کی قبروں کے یقینی مقام کے بارے میں کوئی قطعیت نہیں۔ یہ سب مظنون اور مشہور ہیں۔ اس لیے کسی خاص مقام کی تعیین سے احتیاط ضروری ہے۔
5. ایمان بالغیب اور توسعِ ذہن:
· مناوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جو شخص اس حقیقت کو سمجھنے سے قاصر ہو، وہ کائنات کی دیگر مثالوں پر غور کرے، جیسے آسمان کا زمین پر اثر، یا دور بیٹھے ہوئے آگ کا کسی چیز کو گرم کرنا۔ اگر یہ سب ممکن ہیں تو روح کا اپنے بدن سے لطیف تعلق اور اس کے ذریعے تصرف کرنا کیوں ممکن نہیں؟ اس سے ہمارے ایمان بالغیب کو تقویت ملتی ہے۔
💎 خلاصہ کلام
مختصراً، مناوی رحمہ اللہ کی یہ شرح ہمیں بتاتی ہے کہ:
1. انبیاء علیہم السلام اپنی قبروں میں زندہ ہیں اور اللہ کی عبادت میں مشغول ہیں۔
2. ان کی یہ عبادت ان کے لیے تکلیف نہیں، بلکہ اللہ کی طرف سے ان کی تعظیم و تکریم ہے۔
3. روح اور جسم کا تعلق ایک لطیف حقیقت ہے۔ انبیاء کی روحیں بلند مقام پر ہونے کے باوجود اپنے جسموں سے متعلق ہیں، جس کی وجہ سے ان کا ایک ساتھ دو مقامات پر مشاہدہ کوئی تعارض نہیں۔
4. معراج کا یہ واقعہ بیداری میں پیش آیا اور نبی ﷺ نے یہ سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھا۔
یہ عقیدہ ہمارے دل میں انبیاء کرام علیہم السلام کے لیے محبت، تعظیم اور یقین کو مزید گہرا کرتا ہے۔
" پاک ہے وہ ذات جو ایک رات اپنے بندہ کو مسجد حرام ( خانہ کعبہ) سے مسجد اقصیٰ ( بیت المقدس) تک جس کے گرد اگرد ہم نے برکتیں رکھی ہیں لے گیاتا کہ ہم اسے اپنی( قدرت) کی نشانیاں دکھائیں ، بے شک وہ سننے والا (اور) دیکھنے والا ہے"
(سورہ بنی اسرائیل:۱)
" اور اے پیغمبر وہ وقت یاد کر و جب ہم نے تم سے کہا کہ تمہارا پروردگار لوگوں کو گھیرے ہوئے ہے اور وہ دکھاوا جو ہم نے تم کو دکھلایا اس کو لوگوں کے لئے آزمائش قرار دیا اور اسی طرح وہ درخت جس کی قرآن میں مذمت کی گئی ہے (آزمائش کیلئے تھا ) اور ہم ان لوگوں کو ( طرح طرح سے ) ڈالے ہیں لیکن ان کی شرارتوں میں اور زیادتی ہوتی ہے
( بنی اسرائیل :60)
" اور وہ خواب جو ہم نے تمھیں دکھایا اور وہ خبیث درخت جس کا ذکر قرآن میں ہے ان سب کو لوگوں کے لئے فتنہ بنا دیا"
(بنی اسرائیل:60)
" اور وہ آسمان کے اونچے کنارے پر تھا ، پھر اور زیادہ قریب ہوا تو دو کمانوں کے برابر فاصلہ رہ گیا یا اس سے بھی کم، پھر اﷲ نے اپنے بندے (محمد) کی طر ف وحی بھیجی جو کچھ کہ بھیجی، جو کچھ انھوں نے دیکھا اس کو ان کے دل نے جھوٹ نہ جانا، کیا جو کچھ انھوں نے دیکھا تم اس کے بارے میں ان سے جھگڑتے ہو اور انھوں نے اس کو ایک اور دفعہ بھی دیکھا ہے، سدرۃ المنتہیٰ کے پاس، اسی کے پاس جنت الماویٰ ہے جب کے اس سدرۃ المنتہیٰ پر چھا رہا تھا جو کچھ چھا رہا تھا، ان کی نگاہ نہ تو بہکی اور نہ (حد سے) آگے بڑھی ، انھوں نے اپنے پروردگار کی (قدرت کی) بڑی بڑی نشانیاں دیکھیں"
(سورہ النجم:7 - 18)
(مصباح الدین شکیل سیرت احمد مجتبیٰ)
(الرحیق المختوم - مولانا صفی الرحمن مبارکپوری)
معراج کی تاریخ
(فتح الباری: باب المعراج بحوالہ سیرت احمد مجتبی)
سیدنا ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’معراج کی رات جب میں موسیٰ علیہ السلام سے ملا تو میں نے ملاحظہ کیا کہ وہ لمبے، کم گوشت اور سیاہ بالوں والے شخص تھے، جیسے کہ شنوء ہ (قبیلہ) کے لوگ ہوتے ہیں۔ پھر میں عیسیٰ علیہ السلام سے ملا، وہ میانہ قامت تھے اور سرخ رنگ گویا وہ ابھی حمام سے نکلے ہیں ( یعنی تروتازہ اور خوش رنگ تھے)۔ پھر میں نے ابراہیم علیہ السلام کو دیکھا تو میں ان کی اولاد میں سب سے زیادہ ان کے مشابہ ہوں۔ پھر میرے پاس دو برتن لائے گئے، ایک میں دودھ تھا اور ایک میں شراب۔ مجھ سے کہا گیا جس کو چاہو پسند کر لو۔ میں نے دودھ لے لیا اور اسے پی لیا۔ تو اس فرشتے نے کہا، آپ کو فطرت کی راہ دکھائی گئی، یا آپ فطرت کو پہنچ گئے، اگر آپ شراب کو اختیار کرتے تو آپ کی (ساری) امت گمراہ ہو جاتی۔‘‘
[ مسلم، کتاب الإیمان، باب الإسراء برسول اللہ ﷺ ۔۔ الخ : ۱٦۸ ]
سیدنا ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’میں نے خود کو پیغمبروں کی ایک جماعت میں پایا۔ دیکھا تو موسیٰ علیہ السلام کھڑے ہوئے نماز پڑھ رہے تھے، وہ چھریرے بدن کے اور گھنگریالے بالوں والے ایک شخص تھے، جیسے شنوءہ کے لوگ ہوتے ہیں۔ میں نے عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام کو بھی دیکھا، وہ بھی کھڑے نماز پڑھ رہے تھے۔ سب سے زیادہ ان کے مشابہے عروہ بن مسعود ثقفی ہیں اور میں نے ابراہیم علیہ السلام کو بھی دیکھا، وہ بھی کھڑے نماز پڑھ رہے ہیں اور ان سے سب سے زیادہ مشابہے تمھارے صاحب (یعنی آپ خود) ہیں۔ پھر نماز کا وقت آیا تو میں نے امامت کروائی۔ جب میں نماز سے فارغ ہوا تو ایک کہنے والے نے کہا، اے محمد! یہ مالک ہیں جہنم کے داروغہ! انھیں سلام کیجیے۔ میں نے ان کی طرف دیکھا تو انھوں نے مجھے پہلے سلام کردیا۔‘‘
[صحیح مسلم، کتاب الإیمان، باب ذکر المسیح ابن مریم والمسیح الدجال : ۱۷۲ ]
سیدنا جابر ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’میں نے معراج کا واقعہ لوگوں سے ذکر کیا۔ جب قریش نے مجھے جھٹلایا تو میں حطیم میں کھڑا ہو گیا اور اللہ تعالیٰ نے بیت المقدس کو میرے سامنے کر دیا اور یوں میں نے اسے دیکھ دیکھ کر قریش کو اس کی نشانیاں بیان کرنا شروع کر دیں۔‘‘
[صحیح بخاری، کتاب مناقب الأنصار، باب حدیث الإسراء : ۳۸۸٦۔ مسلم، کتاب الإیمان، باب ذکر المسیح ابن مریم ۔۔ الخ : ۱۷۰ ]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
[مسند احمد:3316 (سنن الترمذی:2053، سنن ابن ماجہ:3478)]
[الراوي : عبدالله بن عباس المحدث : أحمد شاكر المصدر : مسند أحمد الصفحة أو الرقم: 5/109 خلاصة حكم المحدث : إسناده صحيح - المحدث : الألباني المصدر : صحيح الجامع الصفحة أو الرقم: 3332 خلاصة حكم المحدث : حسن]
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
" لَمَّا عرج بِي إِلَى السَّمَاءِ لَمْ أَمُرَّ بِمَلَإٍ مِنَ الْمَلَائِكَةِ إِلَّا قَالُوا: عَلَيْكَ يَا مُحَمَّدُ بِالْحِجَامَةِ "
ترجمہ:
"جب مجھے آسمان کی طرف چڑھایا گیا تو میں فرشتوں کے کسی بھی گروہ کے پاس سے نہیں گزرا مگر انہوں نے کہا: اے محمد! آپ پچھنا (حجامہ) لگوائیں۔"
[مسند الحارث:550]
📖 حاصل شدہ اسباق و نکات:
1. حجامہ (پچھنا لگوانا) کی فضیلت و اہمیت: یہ حدیث پچھنا لگوانے (حجامہ) کی بہت زیادہ فضیلت اور طبی و روحانی فوائد پر دلالت کرتی ہے، کیونکہ اس کی سفارش خود آسمانوں پر فرشتوں نے کی۔
اللہ کے کامل کلمات کی پناہ مانگنا۔
📖 حاصل شدہ اسباق و نکات:
شیطان مردود سے اللہ کے کامل کلمات کی پناہ مانگنا۔
عن أبي التياح قال: (قلت لعبد الرحمن بن خنبش التميمي - رضي الله عنه - وكان كبيرا -: أدركت رسول الله - صلى الله عليه وسلم -؟ , قال: نعم , فقلت: كيف صنع رسول الله - صلى الله عليه وسلم - ليلة كادته الشياطين؟ , فقال: إن الشياطين تحدرت (١) تلك الليلة على رسول الله - صلى الله عليه وسلم - من الأودية والشعاب وفيهم شيطان بيده شعلة نار , يريد أن يحرق بها وجه رسول الله - صلى الله عليه وسلم -) (٢) (فرعب فجعل يتأخر) (٣) (فهبط إليه جبريل - عليه السلام - فقال: يا محمد قل , قال: ما أقول؟ , قال: قل: أعوذ بكلمات الله) (٤) (التامات التي لا يجاوزهن بر ولا فاجر , من شر ما خلق وذرأ (٥) وبرأ (٦) ومن شر ما ينزل من السماء ومن شر ما يعرج (٧) فيها ومن شر ما ذرأ في الأرض ومن شر ما يخرج منها , ومن شر فتن الليل والنهار , ومن شر كل طارق (٨) إلا طارقا يطرق بخير , يا رحمن ") (٩) (قال: فطفئت نارهم , وهزمهم الله تبارك وتعالى.
ترجمہ:
ابو تیاح سے روایت ہے کہ: "میں نے عبدالرحمن بن خنبش تمیمی رضی اللہ عنہ سے — جو بڑی عمر کے تھے — پوچھا: کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پایا ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ تو میں نے پوچھا: اس رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا کیا جب شیطانوں نے آپ کو ستانے کی کوشش کی؟ انہوں نے کہا: اس رات شیاطین رسول اللہ ﷺ پر گھاٹیوں اور دروں سے اُتر آئے(١)، اور ان میں ایک شیطان تھا جس کے ہاتھ میں آگ کا شعلہ تھا، وہ چاہتا تھا کہ اس سے رسول اللہ ﷺ کے چہرۂ مبارک کو جلا دے۔(٢) (آپ ﷺ گھبرا گئے اور پیچھے ہٹنے لگے)(٣) (تو جبرائیلؑ آپ کے پاس اترے اور کہا: اے محمد! کہیے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: کیا کہوں؟ انہوں نے کہا: کہیے: میں پناہ مانگتا ہوں اللہ کے کامل کلمات میں)(٤) (جن کو کوئی نیک و بد پھلانگ نہیں سکتا، ہر اس چیز کے شر سے جو اس نے پیدا کیا اور پھیلایا (٥) اور بنایا (٦)، اور ہر اس چیز کے شر سے جو آسمان سے اترتی ہے، اور ہر اس چیز کے شر سے جو اس میں چڑھتی ہے (٧)، اور ہر اس چیز کے شر سے جو زمین میں پھیلائی گئی، اور ہر اس چیز کے شر سے جو اس سے نکلتی ہے، اور رات دن کی آزمائشوں کے شر سے، اور ہر آنے والے کے شر سے(٨) سوائے اس آنے والے کے جو بھلائی لے کر آئے، اے رحمن!")(٩) (عبدالرحمن بن خنبش نے) کہا: تو ان کی آگ بجھ گئی، اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے انہیں شکست دے دی۔(١٠)
حواشی اور حوالی جات:
(١) تحدرت: نازل ہوئی اور اُتری۔ (دلائل النبوة للبيهقي، ج ٨، ص ١٥٣)
(٢) (حم) ١٥٤٩٨، نیز دیکھیں: صحیح الجامع: ٧٤، السلسلة الصحيحة: ٢٧٣٨
(٣) (حم) ١٥٤٩٩
(٤) اللہ وہ ذات ہے جس نے مخلوق کو پیدا کیا، یعنی انہیں بنایا۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: {وَلَقَدْ ذَرَأْنَا لِجَهَنَّمَ كَثِيرًا} یعنی: ہم نے پیدا کیا۔ اور فرمایا: {خَلَقَ لَكُمْ مِنْ أَنْفُسِكُمْ أَزْوَاجًا وَمِنَ الْأَنْعَامِ أَزْوَاجًا يَذْرَؤُكُمْ فِيهِ} امام ابو اسحاق نے فرمایا: معنی یہ ہے کہ وہ تمہیں اس سے پیدا کرتا ہے، یعنی تمہیں کثرت دیتا ہے۔ اس لیے "فِيهِ" میں ہاء کا ذکر ہے۔ گویا "ذرء" کا خاص تعلق اولاد کی تخلیق سے ہے۔ (لسان العرب، ج ١، ص ٧٩)
(٥) "البارئ": وہ ذات ہے جس نے کسی مثال کے بغیر مخلوق کو بنایا۔ اس لفظ کا حیوانات کی تخلیق کے ساتھ خاص مناسبت ہے، دیگر مخلوقات کے لیے اس کا استعمال کم ہے۔ کہا جاتا ہے: اللہ نے جان پیدا کی، اور اس نے آسمانوں اور زمین کو بنایا۔ (لسان العرب، ج ١، ص ٣١)
(٦) یعرج: چڑھتا ہے، اوپر جاتا ہے۔
(٧) الطارق: وہ جو رات کو آئے۔
(٨) (حم) ١٥٤٩٩
(٩) (حم) ١٥٤٩٨، (ش) ٢٣٦٠١، (ن) ١٠٧٩٢، (طس) ٤٣
📖 حاصل شدہ اسباق و نکات:
- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بشریت اور آزمائش: یہ واقعہ ظاہر کرتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی شیطانی حملے ہوئے اور آپ نے اس موقع پر ایک فطری بشری کیفیت (گھبراہٹ) محسوس کی۔ اس سے آپ کی کامل بشریت کا اثبات ہوتا ہے۔
- توکل کا صحیح مفہوم: گھبراہٹ کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تقدیر پر صبر کیا اور اللہ کی پناہ کا سہارا لیا۔ یہ بتاتا ہے کہ توکل کا مطلب بے عملی نہیں، بلکہ اسباب اختیار کرنے (دعا وغیرہ) کے بعد اللہ پر بھروسہ کرنا ہے۔
- کلماتِ الٰہیہ کی عظمت و تاثیر: شیاطین کے شر سے بچاؤ کے لیے اللہ کے کامل کلمات کی پناہ لینا ایک مؤثر اور مسنون عمل ہے۔ ان کلمات کی برکت سے شیاطین کی سازش ناکام ہو گئی۔
- جامع دعا: مذکورہ دعا انتہائی جامع ہے جس میں زمین و آسمان، چھپے کھلے، رات دن کے ہر قسم کے شر سے اللہ کی پناہ مانگی گئی ہے۔ یہ دعا مؤمن کے لیے ہر طرف سے حفاظت کا جامع ذریعہ ہے۔
- ایک اہم وظیفہ: یہ دعا/تعویذ خاص طور پر شیطانی شرور، جادو، نظر بد، خبث نفس اور دیگر پوشیدہ آفات سے حفاظت کے لیے نہایت مؤثر ہے۔ اسے پڑھنے اور اس کا اہتمام کرنے کی ترغیب ملتی ہے۔
- فرشتوں کا کردار: جبرائیل علیہ السلام کا فوراً نازل ہو کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد کرنا اور دعا سکھانا، یہ بتاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے مقرب بندوں کی مدد کے لیے فرشتوں کو بھیجتا ہے۔
- اللہ تعالیٰ کی قدرت و نصرت: آخری نتیجہ یہ ظاہر ہوا کہ تمام شیاطین کی چال اللہ تعالیٰ کے حکم سے ناکام ہو گئی۔ اصل قوت و طاقت صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى النَّيْسَابُورِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : فُرِضَتْ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِهِ الصَّلَوَاتُ خَمْسِينَ ، ثُمَّ نُقِصَتْ حَتَّى جُعِلَتْ خَمْسًا ، ثُمَّ نُودِيَ : " يَا مُحَمَّدُ إِنَّهُ لَا يُبَدَّلُ الْقَوْلُ لَدَيَّ وَإِنَّ لَكَ بِهَذِهِ الْخَمْسِ خَمْسِينَ " .
[جامع الترمذي » كِتَاب الصَّلَاةِ » أَبْوَابُ الْأَذَانِ » بَاب كَمْ فَرَضَ اللَّهُ عَلَى عِبَادِهِ مِنَ الصَّلَوَاتِ ... رقم الحديث: 213]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ شب معراج میں نبی ﷺ پر پچاس نمازیں فرض ہوئی تھیں ، کم ہوتے ہوتے پانچ رہ گئیں اور پھر نداء لگائی گئی کہ اے محمد ﷺ ! ہمارے یہاں بات بدلتی نہیں ، آپ کا ان پانچ پر پچاس ہی کا ثواب ملے گا۔
وأخرجه بأطول مما هنا ضمن حديث المعراج الطويل الذي رواه أبو ذر الغفاري: البخاري (349) و (3342) ، ومسلم (163) ، والنسائي في "الكبرى" (314) ، وأبو عوانة 1/133-135، وابن حبان (7406) ، والآجري في "الشريعة" ص481-482، وابن منده في "الإيمان" (714) ، والبغوي (3754) من طرق عن يونس بن يزيد، عن الزهري، عن أنس بن مالك.
وسيأتي من هذا الطريق في مسند أبي بن كعب 5/143-144.
وسلف ضمن الحديث المطول برقم (12505) من طريق ثابت عن أنس.
لَقِيتُ إِبْرَاهِيمَ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِي فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ أَقْرِئْ أُمَّتَكَ مِنِّي السَّلَامَ وَأَخْبِرْهُمْ أَنَّ الْجَنَّةَ طَيِّبَةُ التُّرْبَةِ عَذْبَةُ الْمَاءِ وَأَنَّهَا قِيعَانٌ وَأَنَّ غِرَاسَهَا سُبْحَانَ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَلَاإِلَهَ إِلَّااللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ۔
زادالطبرانی ولاحول ولاقوۃ الاباللہ۔
(ترمذی:3462، كِتَاب الدَّعَوَاتِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بَاب مَاجَاءَ فِي فَضْلِ التَّسْبِيحِ وَالتَّكْبِيرِ وَالتَّهْلِيلِ وَالتَّحْمِيدِ ،حدیث نمبر:3462 ، شاملہ، موقع الإسلام)
ترجمہ:
جس رات مجھے معراج کرائی گئی میں نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی زیارت کی آپ نے فرمایا: اے محمد! آپ میری طرف سے اپنی امت کو سلام کہنا اور ان کو اطلاع فرمانا کہ جنت کی زمین بہت پاکیزہ ہے عمدہ پانی والی ہے اور ہموار میدان ہے اور اس کی شجرکاری (سُبْحَانَ اللَّهِ) اور (الْحَمْدُ لِلَّهِ) اور (لَاإِلَهَ إِلَّااللَّهُ) اور (اللَّهُ أَكْبَر) کہنا ہے۔
جنت کے دروازہ کی ایک عبارت
رَأَيْتُ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِي عَلَى بَابِ الْجَنَّةِ مَكْتُوبًا: الصَّدَقَةُ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا، والقرض بثمانية عَشَرَ، فَقُلْتُ: يَا جِبْرِيلُ مَا بَالُ الْقَرْضِ أَفْضَلُ مِنَ الصَّدَقَةِ؟ قَالَ: لِأَنَّ السَّائِلَ يَسْأَلُ وَعِنْدَهُ، وَالْمُسْتَقْرِضُ لَا يَسْتَقْرِضُ إِلَّا مِنْ حَاجَةٍ۔
[تذکرۃ القرطبی:۲/۴۵۹۔ اتحاف السادۃ:۵/۵۰۱]
📖 حاصل شدہ اسباق و نکات:
حَدَّثَنَا أَبُو حَصِينٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ يُونُسَ كُوفِيٌّ , حَدَّثَنَا عَبْثَرُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا حُصَيْنٌ هُوَ ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " لَمَّا أُسْرِيَ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَعَلَ يَمُرُّ بِالنَّبِيِّ وَالنَّبِيَّيْنِ وَمَعَهُمُ الْقَوْمُ وَالنَّبِيِّ وَالنَّبِيَّيْنِ وَمَعَهُمُ الرَّهْطُ وَالنَّبِيِّ وَالنَّبِيَّيْنِ وَلَيْسَ مَعَهُمْ أَحَدٌ حَتَّى مَرَّ بِسَوَادٍ عَظِيمٍ ، فَقُلْتُ : مَنْ هَذَا ؟ قِيلَ : مُوسَى وَقَوْمُهُ ، وَلَكَنِ ارْفَعْ رَأْسَكَ فَانْظُرْ ، قَالَ : فَإِذَا سَوَادٌ عَظِيمٌ قَدْ سَدَّ الْأُفُقَ مِنْ ذَا الْجَانِبِ وَمِنْ ذَا الْجَانِبِ ، فَقِيلَ : هَؤُلَاءِ أُمَّتُكَ وَسِوَى هَؤُلَاءِ مِنْ أُمَّتِكَ سَبْعُونَ أَلْفًا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ فَدَخَلَ ، وَلَمْ يَسْأَلُوهُ وَلَمْ يُفَسِّرْ لَهُمْ ، فَقَالُوا : نَحْنُ هُمْ ، وَقَالَ قَائِلُونَ : هُمْ أَبْنَاؤُنَا الَّذِينَ وُلِدُوا عَلَى الْفِطْرَةِ وَالْإِسْلَامِ ، فَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : هُمُ الَّذِينَ لَا يَكْتَوُونَ وَلَا يَسْتَرْقُونَ وَلَا يَتَطَيَّرُونَ وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ ، فَقَامَ عُكَّاشَةُ بْنُ مِحْصَنٍ فَقَالَ : أَنَا مِنْهُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، ثُمَّ قَامَ آخَرُ فَقَالَ : أَنَا مِنْهُمْ ؟ فَقَالَ : سَبَقَكَ بِهَا عُكَّاشَةُ " , قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ، وفي الباب عن ابْنِ مَسْعُودٍ ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ .
📖 حاصل شدہ اسباق و نکات:
بَيْنَمَا أَنَا أَسِيرُ فِي الْجَنَّةِ إِذَا أَنَا بِنَهَرٍ حَافَتَاهُ قِبَابُ اللؤلؤ الْمُجَوَّفِ فَقُلْتُ مَاهَذَا؟ قَالَ: الْكَوْثَرُ الَّذِي أَعْطَاكَ رَبُّكَ۔
(صفۃ الجنۃ ابن کثیر:۱۸۹۔ترمذی:۳۳۶۰)
(بخاری، كِتَاب أَحَادِيثِ الْأَنْبِيَاءِ،بَاب ذِكْرِ إِدْرِيسَ عَلَيْهِ السَّلَام وَهُوَجَدُّ أَبِي نُوحٍ وَيُقَالُ جَدُّ نُوحٍ،حدیث نمبر:۳۰۹۴، شاملہ، موقع الإسلام)
ترجمہ: میں جنت میں چل رہا تھا کہ اچانک ایک نہر پر پہنچا جس کے دونوں کنارے خولدار موتی کے قبے تھے میں نے پوچھا: یہ کیا ہے؟ (حضرت جبریل نے) فرمایا: یہ وہ کوثر (نہر) ہے، جو آپ کو آپ کے پروردگار نے عطاء فرمائی ہے۔
أُدْخِلْتُ الْجَنَّةَ فَإِذَا
فِيهَاجَنَابِذُ اللُّؤْلُؤِ وَإِذَا تُرَابُهَا الْمِسْكُ۔
[صحیح بخاری، كِتَاب أَحَادِيثِ الْأَنْبِيَاءِ، بَاب ذِكْرِ إِدْرِيسَ عَلَيْهِ السَّلَام وَهُوَجَدُّ أَبِي نُوحٍ وَيُقَالُ جَدُّ نُوحٍ، حدیث نمبر:۳۰۹۴، شاملہ، موقع الإسلام]
لَمَّا رُفِعْتُ إِلَى سِدْرَةِ الْمُنْتَهَى
فِى السَّمَاءِ السَّابِعَةِ نَبْقُهَا مِثْلُ قِلاَلِ هَجَرَ وَوَرَقُهَا مِثْلُ
آذَانِ الْفِيَلَةِ يَخْرُجُ مِنْ سَاقِهَا نَهْرَانِ ظَاهِرَانِ وَنَهْرَانِ
بَاطِنَانِ قُلْتُ يَاجِبْرِيلُ مَاهَذَا قَالَ أَمَّاالْبَاطِنَانِ فَفِى
الْجَنَّةِ وَأَمَّاالظَّاهِرَانِ فَالنِّيلُ وَالْفُرَاتُ۔
ترجمہ:
جب مجھے (معراج کی شب) ساتویں
آسمان میں سدرۃ المنتہیٰ کی طرف لے جایا گیا تو اس کے بیر ہجر کے مٹکوں کی طرح (بڑے
اور موٹے) تھے اور اس کے پتے ہاتھی کے کانوں کی طرح تھے، اس کے تنہ سے دو ظاہری
نہریں نکلتی ہیں اور دو باطنی، میں نے پوچھا: اے جبریل! یہ (باطنی اور ظاہری نہریں)
کیا ہیں؟ فرمایا: باطنی تو جنت میں ہیں اور ظاہری (نہریں دنیا میں) دریائے نیل اور
دریائے فرات ہیں۔
[دارِقطنی، الطهارة،حدیث نمبر:۳۶، شاملہ،موقع وزارة الأوقاف المصرية]
ولقد رأيت جبينها كالهلال في طول البدر منها
ألف وثلاثون ذراعا في رأسها مائة ضفيرة مابين الضفيرة والضفيرة سبعون ألف ذؤابة
والذؤابة أضوأ من البدر مكلل بالدر وصفوف الجواهر على جبينها سطران مكتوبان بالدر
الجوهر في السطر الأول: بسم الله الرحمن الرحيم وفي السطر الثاني: من أراد مثلي
فليعمل بطاعة ربي فقال لي جبريل يامحمد: هذه وأمثالها لأمتك فأبشر يامحمد وبشر
أمتك وأمرهم بالاجتهاد۔
ترجمہ:
میں نے اس کی پیشانی کو چودھویں کے
طویل چاند کی طرح دیکھا ہے جس کی لمبائی ایک ہزار تیس ہاتھ کے برابر تھی، اس کے
سر میں سو مینڈھیاں تھیں، ہر مینڈھی سے دوسری تک ستر ہزار چوٹیاں تھیں اور ہر چوٹی
چودہویں کے چاند سے زیادہ روشن تھی، موتی کا تاج سجا تھا اور جواہر کی لڑیاں اس
پیشانی پر پڑتی تھیں، جوہر کے ساتھ دو سطریں لکھی تھیں، پہلی سطر میں بِسْمِ اللَّهِ
الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ لکھی تھی اور دوسری میں یہ لکھا تھا کہ
جو شخص میرے جیسی حور کا طلب گار ہے اس کوچاہئے کہ وہ میرے پروردگار کی اطاعت کرے
پھرحضرت جبریل نے مجھ سے کہا: اے محمد! یہ اور اس طرح کی (حوریں) آپ کی امت کے لیے
ہیں، آپ بھی خوش ہوں اور اپنی امت کو بھی اس کی خوشخبری سنادیں اور ان کو نیک اعمال
میں محنت اور کوشش کا حکم دیدیں۔
[التذكرة بأحوال الموتى وأمور الآخرة، للقرطبی: 986، التوضيح
لشرح الجامع الصحيح، لابن الملقن:19/141، عمدة القاري شرح صحيح البخاري، للعينى:14/95]
لما أسري بی دخلت الجنة موضعا يسمى البيدخ
عليه خيام اللؤلؤ، والزبرجد الأخضر، والياقوت الأحمر، فقلن: السلام عليك يارسول
الله، قلت: ياجبريل ماهذا النداء؟ قال: هؤلاء المقصورات في الخيام يستأذنون ربهن
في السلام عليك، فأذن لهن فطفقن يقلن: نحن الراضيات فلانسخط أبدا، نحن الخالدات
فلانظعن أبدا، وقرأ رسول الله صلى الله عليه وسلم الآية حُورٌ مَقْصُورَاتٌ فِي
الْخِيَامِ۔
ترجمہ:
جب مجھے معراج کرائی گئی تو میں
جنت میں ایک جگہ پر داخل ہوا جس کا نام (نہر بیدخ) تھا اس پر لؤلؤ، زبرجد، اخضر اور
یاقوت، احمر کے خیمے نصب تھے ان (میں رہنے والی حوروں) نے کہا: السلام علیکم
یا رسول اللہ (اے اللہ کے رسول! آپ پرسلام ہو) میں نے پوچھا: اے جبریل! یہ کن کی
آواز تھی؟ انہوں نے فرمایا: یہ وہ حوریں ہیں جو خیموں میں رکی ہوئی ہیں انہوں نے
اپنے رب تعالیٰ سے آپ کو سلام کہنے کی اجازت طلب کی اور اللہ تعالیٰ نے ان کو (اس
کی) اجازت عطاء فرمائی ہے؛ پھر وہ حوریں جلدی سے بول پڑیں: ہم راضی رہنے والی ہیں
(اپنے خاوندوں پر) کبھی ناراض نہ ہونگی، ہم ہمیشہ رہنے والی ہیں کبھی (جنت سے)
نکالی نہ جائیں گے؛ پھر جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی: حُورٌ مَقْصُورَاتٌ فِي
الْخِيَامِ (الرحمن:۷۲) حوریں ہیں خیموں میں رکی
رہنے والیاں۔
[البعث والنشور:۳۷۶۔ درمنثور:۶/۱۶۱]
📖 حاصل شدہ اسباق و نکات:
- سود کی مذمت اور سنگین وعید: یہ حدیث سود (ربا) کے انتہائی سنگین گناہ پر واضح اور ڈراؤنی وعید بیان کرتی ہے۔ سود خوروں کے لیے آخرت میں جو عذاب ہے، اس کی ایک جھلک یہاں "پیٹ میں سانپوں" کی شکل میں بیان ہوئی ہے، جو دنیا میں ان کے ناجائز مال جمع کرنے اور اس کے ذریعے دوسروں کا خون چوسنے کی علامت ہے۔
- شیطان کا بنیادی ہدف: حدیث کا دوسرا حصہ شیاطین کی کارروائیوں کے ایک اہم پہلو کو نمایاں کرتا ہے۔ ان کا بنیادی ہدف انسان کو "غور و فکر" (تَفَكُّر) سے روکنا ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ انسان اس کائنات میں پھیلی ہوئی اللہ کی نشانیوں، اس کے حکیمانہ نظام اور اس کی عظمت کے مشاہدے اور تدبر سے محروم رہے۔
- کائناتی نشانیوں پر تدبر کی اہمیت: حدیث سے معلوم ہوا کہ اگر شیطان انسان کی سوچ پر پردہ نہ ڈالے تو وہ قدرت میں چھپی ہوئی حیرت انگیز حقائق، حکمتیں اور اللہ کی قوت و دانائی کے عجائبات دیکھ سکتا ہے۔ یہ قرآن کریم کے ان بے شمار آیات کی عملی تفسیر ہے جو آسمانوں اور زمین میں غور و فکر کرنے کا حکم دیتی ہیں۔
- شیطانی پردوں کی حقیقت: "دھند، دھواں اور آوازیں" شیطانی وساوس، فتنوں، گمراہ کن نظریات، فضول مشاغل اور دنیاوی لالچ کی علامت ہیں جو انسان کی عقل اور بصیرت پر پردہ ڈال دیتے ہیں اور اسے حقیقی علم اور معرفت الٰہی سے دور کر دیتے ہیں۔
- سود سے مکمل پرہیز: ہر مسلمان کو چاہیے کہ سود کے تمام معاملات سے دور رہے، چاہے وہ لینا ہو یا دینا، کیونکہ یہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے اعلان جنگ کے مترادف ہے۔
- تفکر کی عادت ڈالنا: انسان کو چاہیے کہ وہ اپنے گردو پیش کی کائنات، خود اپنی تخلیق، تاریخ کے واقعات، اور قرآن کی آیات میں غور و فکر کرنے کا معمول بنائے۔ یہ ایمان کو تازہ رکھنے اور شیطانی وساوس سے بچنے کا بہترین ذریعہ ہے۔
- شیطانی پردوں سے بچاؤ: لاحاصل مشاغل، گندگیوں، منفی سوچوں اور ایسے کاموں سے بچنا چاہیے جو دل و دماغ پر دھند اور دھواں چھا دیتے ہیں اور انسان کو اللہ کی یاد سے غافل کر دیتے ہیں۔
|
امت کے برے خطباء(Speakers) کون؟
عَنْ أَنَسٍ - رضي الله عنه - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم -:
" (مررت ليلة أسري بِي عَلَى قَوْمٍ تُقْرَضُ شِفَاهُهُمْ بِمَقَارِيضَ (¬1) مِنْ نَارٍ , كلما قُرِضَتْ وَفَتْ , فَقُلْتُ: مَنْ هَؤُلَاءِ يا جبريل؟ , مَنْ هَؤُلَاءِ؟ , قَالَ: هَؤُلَاءِ خُطَبَاءُ أُمَّتِكَ الَّذِينَ يَقُولُونَ مَا لَا يَفْعَلُونَ، وَيَقْرَؤُنَ كِتَابَ اللَّه وَلَا يَعْمَلُونَ بِهِ) (¬2) وفي رواية (¬3): هَؤُلَاءِ خُطَبَاءُ أُمَّتِكَ , الَّذِينَ يَأْمُرُونَ النَّاسَ بِالْبِرِّ وَيَنْسَوْنَ أَنْفُسَهُمْ وَهُمْ يَتْلُونَ الْكِتَابَ أَفَلَا يَعْقِلُونَ؟ "
ترجمہ:
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"مجھے معراج کی رات ایک ایسی قوم کے پاس سے گزارا گیا جن کے ہونٹ آگ کی قینچیوں سے کاٹے جا رہے تھے۔ جب بھی کاٹے جاتے تو پھر ٹھیک ہو جاتے (اور دوبارہ کاٹے جاتے)۔ میں نے پوچھا: 'اے جبرائیل! یہ کون لوگ ہیں؟ یہ کون ہیں؟' انہوں نے جواب دیا: 'یہ تمہاری امت کے وہ خطباء ہیں جو وہ بات کہتے تھے جس پر خود عمل نہیں کرتے تھے، اور اللہ کی کتاب پڑھتے تھے مگر اس پر عمل نہیں کرتے تھے۔'"
[شعب الإيمان للبيهقي:1773 , انظر صَحِيح التَّرْغِيبِ وَالتَّرْهِيب: 125 , وصَحِيح الْجَامِع: 129]
ایک دوسری روایت میں ہے:
"یہ تمہاری امت کے خطباء ہیں جو لوگوں کو نیکی کا حکم دیتے تھے اور اپنے آپ کو بھول جاتے تھے، حالانکہ وہ کتاب (قرآن) پڑھتے تھے، تو کیا وہ سمجھتے نہیں؟"
[مسند احمد:12211-12856-13421-13515 ، مسند ابویعلیٰ:3992 , انظر الصَّحِيحَة: 291]
---
اسباق و فوائد (نکات):
1. قول و فعل میں تضاد کی سزا:
یہ حدیث ان لوگوں کے لیے سخت وعید ہے جو لوگوں کو نیکی کا حکم دیتے ہیں مگر خود اس پر عمل نہیں کرتے۔ ایسے علماء و خطباء کے لیے آخرت میں دردناک عذاب ہے۔
2. علم عمل کے بغیر وبال ہے:
محض قرآن پڑھنا یا دوسروں کو سمجھانا کافی نہیں، بلکہ اس پر خود عمل کرنا ضروری ہے۔ ورنہ یہ علم قیامت میں گواہی دے گا۔
3. خطباء و علماء کی ذمہ داری:
جو لوگ منبر و محراب پر لوگوں کو نصیحت کرتے ہیں، ان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے قول کو اپنے عمل سے سچا ثابت کریں۔ ورنہ وہ اللہ کے ہاں سخت مؤاخذے کے مستحق ہوں گے۔
4. آخرت میں اعضاء کی گواہی:
حدیث میں زبان و ہونٹوں کے عذاب کا ذکر اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ قیامت میں انسان کے اعضاء اس کے اعمال کی گواہی دیں گے۔ جو زبان نیکی کی بات کہتی تھی مگر عمل نہیں کرتی تھی، اسے اس کا عذاب ملے گا۔
5. معراج کی احادیث کا مقصد:
معراج کے واقعے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جنت و دوزخ کے مناظر دکھائے گئے، جو امت کے لیے عبرت و نصیحت ہیں۔ یہ حدیث بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے جو عمل کی پابندی کی تلقین کرتی ہے۔
6. قرآن کی آیت سے مطابقت:
حدیث کی دوسری روایت کا اختتام "أفلا يعقلون" (کیا وہ عقل نہیں رکھتے؟) پر ہوا ہے، جو درحقیقت قرآن مجید کی آیت "أتأمرون الناس بالبر وتنسون أنفسكم وأنتم تتلون الكتاب أفلا تعقلون" (سورہ البقرہ: ۴۴) کا حوالہ ہے۔ اس سے حدیث کی مستندیت مزید بڑھ جاتی ہے۔
---
خلاصہ:
یہ حدیث ہر اس شخص کے لیے لمحہ فکریہ ہے جو دوسروں کو تو دین کی دعوت دیتا ہے لیکن خود اس پر عمل پیرا نہیں ہوتا۔ خاص طور پر خطیبوں Speakers( کیلئے یہ حدیث ایک واضح انتباه ہے کہ ان کی ذمہ داری صرف گفتار تک محدود نہیں، بلکہ اپنے عمل سے بھی اسوہٴ حسنہ پیش کرنا ہے۔
- قول و عمل کا فرق سنگین گناہ ہے: یہ حدیث ان لوگوں کے لیے سخت وعید ہے جو دوسروں کو تو نیکی کی تلقین کرتے ہیں لیکن خود اس پر عمل نہیں کرتے۔ یہ رویہ منافقانہ ہے اور اللہ کی نظر میں سخت ناپسندیدہ ہے۔
- علماء و مبلغین کے لیے سخت تنبیہ: جو لوگ دین کی دعوت اور وعظ و نصیحت کا فریضہ سرانجام دیتے ہیں، ان کے لیے یہ حدیث سب سے بڑا انتباه ہے۔ انہیں سب سے پہلے اپنے عمل کی درستگی پر توجہ دینی چاہیے۔ علم عمل کے بغیر وبال بن سکتا ہے۔
- تلاوت قرآن کا مقصد: محض قرآن پڑھ لینا یا سنانا کافی نہیں۔ اس کی تعلیمات کو سمجھنا اور ان پر عمل کرنا مقصود ہے۔ جو شخص قرآن پڑھتا ہے مگر اس کے احکام پر عمل نہیں کرتا، وہ اس وعید کا مستحق ٹھہرتا ہے۔
- دنیا پرستی کی مذمت: حدیث میں لفظ "أَهْلِ الدُّنْيَا" (دنیا دار) استعمال ہوا ہے۔ اس سے مراد وہ لوگ ہیں جن کا مقصد وعظ و تدریس میں شہرت، مال یا دنیاوی مقام حاصل کرنا ہوتا ہے، نہ کہ آخرت کی بھلائی۔
- عقل مندی کا معیار: حدیث کے آخر میں اللہ کا یہ فرمان "أَفَلَا يَعْقِلُونَ؟" (کیا وہ عقل نہیں رکھتے؟) بہت پر معنی ہے۔ حقیقی عقل یہ ہے کہ انسان جو بات دوسروں کو سمجھائے، پہلے خود اس پر عمل کرے۔
- ہر شخص کو چاہیے کہ وہ دوسروں کو نیکی کی دعوت دیتے وقت اپنے عمل کا محاسبہ کرے۔
- علماء، اساتذہ اور مبلغین کو اپنی ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے تقویٰ اور للہیت کو اپنا شعار بنانا چاہیے۔
- قرآن مجید کی تلاوت کے ساتھ ساتھ اس پر عمل کرنے کا عہد کرنا چاہیے۔
- دعوت و تبلیغ کا مقصد صرف اور صرف اللہ کی رضا ہونا چاہیے، نہ کہ دنیاوی مفاد۔
|
- میرے دشمن کے دل میں ایک مہینے کے فاصلے پر رعب ڈال دیا۔
- میرے لیے غنیمت حلال کی گئی جبکہ مجھ سے پہلے کسی کے لیے حلال نہ تھی۔
- میرے لیے ساری زمین مسجد اور پاک کرنے والی بنائی گئی۔
- مجھے بات کے فاتحہ (شروع کرنے کے کلمات) اور جامع کلمات عطا کیے گئے۔
- سود خواروں کے لیے پیٹ میں سانپوں کا عذاب۔
- نماز میں سستی کرنے والوں کے لیے سر کو پتھروں سے کچلنا۔
- زکوٰۃ نہ دینے والوں کے لیے جہنم کی طرف بھاگنا اور خستہ حالی۔
- زناکاروں کے لیے حلال کو چھوڑ کر حرام پر جانا۔
- امانت میں خیانت کرنے والوں کے لیے بوجھ میں اضافہ۔
- فتنہ انگیز خطباء کے لیے ہونٹ و زبان کاٹنا۔
- بڑے گناہ کی بات کرنے والوں کے لیے پچھتاوا۔
- ہر نبی کی اپنی خاص فضیلت اور منصب کا بیان۔
- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جامع فضیلت اور خاتم النبیین ہونا۔
- آپ کو "حبیب الرحمٰن" کہا گیا۔
- آپ کی امت کو "خیر امت"، "اولین و آخرین"، اور "وسط" بنایا گیا۔
- آپ کو چھ خصوصی فضیلتوں سے نوازا گیا۔
- پانچ نمازوں کی فرضیت کا واقعہ جو ابتدائی طور پر پچاس تھیں۔
- امت محمدیہ کے لیے اللہ کی خاص رحمت اور تخفیف۔
- پانچ نمازوں کا ثواب پچاس نمازوں جتنا۔
- جنت و جہنم دونوں اپنے اہل کے لیے بے تاب ہیں۔
- جنت کے انعامات اور جہنم کے عذابات کی تفصیل۔
- گناہوں سے بچنا، خاص طور پر مذکورہ سنگین گناہوں سے۔
- نیکیوں کی طرف رغبت، خاص طور پر جہاد اور صدقہ و خیرات۔
- نماز کی پابندی اور اس میں سستی سے پرہیز۔
- امانت میں دیانت داری۔
- زبان کی حفاظت اور فتنہ انگیز باتوں سے بچنا۔
- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت اور اتباع۔
- آخرت کی تیاری اور جنت کی طلب۔
- معراج النبی ﷺ ایک عظیم معجزہ: یہ واقعہ نبی اکرم ﷺ کا ایک روحانی اور جسمانی سفر تھا جو اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ اور نبی ﷺ کے بلند مقام کی نشانی ہے۔
- امتحان اور راہِ حق پر ثابت قدمی: راستے میں یہودیت، نصرانیت اور دنیا کی طرف بلانے والی آوازوں سے صرفِ نظر کرنا یہ تعلیم دیتا ہے کہ مسلمان کو ہر قسم کے فتنوں اور گمراہ کن دعوتوں سے بچنا چاہیے اور صرف دینِ اسلام پر ثابت قدم رہنا چاہیے۔
- انبیاء کرام ؑ سے ملاقات اور ان کے مقامات: مختلف آسمانوں پر انبیاء کرام ؑ سے ملاقات اور ان کے مخصوص مقامات کا تذکرہ انبیاء ؑ کے درجات اور ان کی عظمت کو ظاہر کرتا ہے۔
- آخرت کے مناظر اور ان کی تنبیہ: جنت کے انعامات، دوزخ کے عذابات اور مختلف گناہوں (جیسے زنا، یتیم کا مال کھانا، غیبت، سود خوری) کے انجام کو دیکھا گیا۔ یہ لوگوں کے لیے شدید تنبیہ ہے کہ وہ گناہوں سے بچیں اور نیک اعمال کی طرف راغب ہوں۔
- نمازوں کی فرضیت اور اس کی برکت: پانچ وقت کی نماز کا فرض ہونا اور ثواب میں پچاس نمازوں کے برابر ہونا نماز کی اہمیت، فضیلت اور اس کے بے پناہ ثواب پر دلالت کرتا ہے۔
- اللہ کی رحمت اور تخفیف: نبی اکرم ﷺ کا اپنی امت کی خاطر بار بار اللہ سے تخفیف طلب کرنا اور اللہ کا اپنے بندے پر شفقت و رحمت کا اظہار، بندوں کے لیے امید اور اللہ کی رحمت کی وسعت کا پیغام دیتا ہے۔
- نیت کی اہمیت: نیک نیت کا ثواب اور بری نیت پر مواخذہ نہ ہونا (جب تک عمل نہ کیا جائے) نیت کی پاکیزگی اور احتسابِ نفس کی تربیت دیتا ہے۔
- امت محمدیہ کی فضیلت: بیت المعمور میں امت کے دو گروہوں کا دیدار اور ابراہیم علیہ السلام کا یہ کہنا کہ "یہ تمہاری اور تمہاری امت کی جگہ ہے" امت محمدیہ کے بلند مقام اور فضیلت پر دلالت کرتا ہے۔
- توحید کی دعوت کا تسلسل: تمام انبیاء کرام ؑ کا نبی اکرم ﷺ کو خیرمقدم کرنا اور دعا دینا یہ ظاہر کرتا ہے کہ تمام انبیاء ؑ کی دعوت ایک تھی اور وہ توحید اور اللہ کی عبادت کی دعوت تھی۔
- حضور ﷺ کی شفقتِ امت: پوری حدیث میں نبی اکرم ﷺ کی اپنی امت کے لیے فکر، ان کی آسانی کے لیے کوشش اور ان کی بخشش کی تمنا جھلکتی ہے جو آپ ﷺ کی عظیم محبت اور شفقت کی غماز ہے۔
اسراء و معراج کے مکمل واقعہ :
1. اسناد اور ابتدائیہ
اور ہمیں حسن بن محمد بن جعفر (1) نے بتایا، کہا: ہمیں (2) حسن بن محمد بن ہارون (3) نے بتایا، کہا: ہمیں احمد بن محمد بن نصر (4) نے بتایا، کہا: ہمیں یوسف السعدی (5) نے بتایا، کہا: ہمیں السدی (6) نے محمد بن السائب (7) سے، انہوں نے باذان (8) سے، اور انہوں نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما (9) سے روایت کیا (اور انہوں نے رسول اللہ ﷺ (1) سے)۔ (دوسری روایت کے) کچھ الفاظ پہلی روایت میں شامل کر دیے گئے ہیں اور راویوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
(حواشی کی تشریح)
· (1 تا 8): یہ روایت کا سلسلہٴ سند (اسناد) ہے جس میں مختلف راویوں کے نام ہیں۔ حواشی میں ان کے حالات (ثقہ، ضعیف ہونے) کے بارے میں مختصراً اشارہ کیا گیا ہے۔
· (9): اس سند کے راویوں میں السدی اور محمد بن السائب (الکلبی) جیسے ضعیف قرار دیے گئے راوی ہیں، اس لیے یہ روایت اس سند سے کمزور ہے۔ لیکن یہ واقعہ صحیح بخاری و مسلم جیسی مستند کتابوں میں متعدد دیگر مضبوط سندوں سے بھی مروی ہے، جیسا کہ حاشیہ میں بتایا گیا ہے۔ لہٰذا، واقعہٴ معراج کا ثبوت قطعی اور یقینی ہے، البتہ اس تفصیلی بیان کے بعض اجزاء دیگر صحیح روایات سے ملتے جلتے ہیں اور بعض انفرادی طور پر اس سند میں آئے ہیں۔
· بنیادی بات یہ ہے کہ اسراء و معراج کا واقعہ اسلام کے مسلّمہ عقائد میں سے ہے جو قرآن پاک (سورہٴ بنی اسرائیل اور النجم) اور متواتر صحیح احادیث سے ثابت ہے۔
---
2. مکمل روایتِ معراج
(رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:)
"جب وہ رات آئی جس میں مجھے سیر کرائی گئی، اور میں مکہ میں نیند اور جاگتے کے درمیان (یعنی اونگھ کی حالت میں) تھا، تو میرے پاس جبرائیلؑ آئے اور (3) کہا: 'اے محمد (ﷺ)! اٹھیے۔' تو میں کھڑا ہو گیا۔ دیکھا تو جبرائیل کے ساتھ میکائیل علیہما السلام بھی تھے۔ جبرائیلؑ نے میکائیلؑ سے کہا: 'میرے لیے زمزم کے پانی سے ایک طشت لے آؤ تاکہ میں ان کا دل پاک کروں اور ان کا سینہ کشادہ کروں۔'
آپ ﷺ نے فرمایا: پھر (جبرائیلؑ) نے میرا سینہ چیرا اور اسے تین بار دھویا۔ میکائیلؑ زمزم کے پانی سے تین طشت (4) لے کر آتے رہے۔ پھر انہوں نے میرا سینہ چیر کر کشادہ کیا اور اس میں سے جو کدورت تھی نکال دی، اور اسے حکمت، علم، ایمان سے بھر دیا اور میرے دونوں شانوں کے درمیان مہرِ نبوت لگا دی۔
پھر جبرائیلؑ نے میرا ہاتھ پکڑا یہاں تک کہ مجھے زمزم کے حوض تک لے گئے اور فرشتے سے کہا: 'میرے لیے زمزم اور کوثر کے پانی سے ایک بڑا ڈول (1) لے آؤ۔' پھر مجھ سے کہا: 'وضو کرو۔' میں نے وضو کیا۔ پھر مجھ سے کہا: 'اے محمد! چلو۔' میں نے پوچھا: 'کہاں؟' کہا: 'اپنے رب اور ہر چیز کے رب کی طرف۔'
پھر انہوں نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے مسجد سے باہر لے گئے۔ دیکھا تو براق موجود تھی، اور وہ (2) گدھے سے بڑی اور خچر سے چھوٹی سواری تھی، اس کا رخسار انسان کے رخسار جیسا، دم اونٹ کی دم جیسی، یال گھوڑے کی یال جیسی، ٹانگیں اونٹ کی ٹانگوں جیسی، کھر گائے کے کھروں جیسے، اس کا سینہ گویا سرخ یاقوت ہے اور پیٹھ گویا سفید موتی ہے، اس پر جنت کی زین کا ایک کاٹھی تھا، اور اس کی رانوں میں دو پر تھے۔ بجلی کی طرح اس کی ہر قدم کی حد اس کی نظر کی انتہا تک تھی۔
جبرائیلؑ نے کہا: 'سوار ہو جائیے۔' یہ وہی سواری ہے جو ابراہیمؑ کی تھی جس پر وہ بیت الحرام کی زیارت کو جاتے تھے۔ جب میں نے اس پر ہاتھ رکھا (4) تو اس نے سرکشی کی اور میرے لیے مشکل بن گئی۔ جبرائیلؑ نے کہا: 'اے براق! ٹھہر جا۔' براق بولا: 'اے جبرائیل! (کیا) بت پر ہاتھ لگایا ہے؟' جبرائیلؑ نے مجھ سے پوچھا: 'اے محمد! کیا آپ نے بت کو ہاتھ لگایا ہے؟' میں نے (1) کہا: 'نہیں، اللہ کی قسم! مگر (2) میں ایک دن 'اساف' (3) اور 'نائلہ' (نامی بتوں) کے پاس سے گزرا تو میں نے ان کے سروں پر ہاتھ پھیرا اور کہا: 'بے شک وہ قوم جو تمہیں پوجتی ہے اللہ کے نزدیک گمراہی میں ہے۔'
جبرائیلؑ نے کہا: 'اے براق! کیا تمہیں شرم نہیں آتی؟ اللہ کی قسم! تم پر جب سے میں نے سوار ہونا شروع کیا، اللہ عزوجل کے نزدیک محمد ﷺ سے زیادہ مکرم کوئی نبی تم پر سوار نہیں ہوا۔'
آپ ﷺ نے فرمایا: پھر براق کانپ گیا اور مجھ سے شرم کے مارے پسینہ بہہ نکلا۔ پھر وہ میرے لیے جھک گیا یہاں تک کہ زمین سے لگ گیا۔ میں نے اس پر سوار ہو کر اپنا توازن قائم کیا۔ پھر جبرائیلؑ مجھے مسجد اقصیٰ کی طرف لے کر چلے، براق کی ہر قدم نظر کے آخری کنارے تک پہنچتی تھی اور جبرائیل میرے پہلو میں تھے، نہ وہ مجھ سے آگے نکلتے نہ میں ان سے۔
راستے میں تین آزمائشیں:
اچانک میں نے سفر میں اپنے دائیں جانب سے آواز سنی، جس نے کہا: 'اے محمد! ذرا رک جاؤ۔' اس نے یہ تین بار کہا۔ میں نے اس کی طرف التفات نہیں کیا (یہاں تک کہ میں آگے بڑھ گیا پھر بڑھتا رہا یہاں تک کہ) (5) میں اس سے آگے نکل گیا۔ پھر میں نے بائیں جانب سے (ایسی ہی آواز سنی اور) (6) اس نے مجھ سے کہا: 'اے محمد! ذرا رک جاؤ۔' (اس نے یہ تین بار کہا) (7)۔ میں نے اس کی طرف التفات نہیں کیا (پھر میں آگے بڑھ گیا یہاں تک کہ) (8) میں اس سے آگے نکل گیا۔ پھر میں نے ایک بوڑھی عورت دیکھی، جس نے میرے سامنے ہر طرح کی زینت اور خوبصورتی ظاہر کی، وہ کہہ رہی تھی: 'اے محمد! میری طرف آؤ۔' میں نے اس کی طرف مڑ کر نہیں دیکھا۔
جب میں اس سے آگے نکل گیا تو میں نے جبرائیلؑ سے پوچھا: 'اے جبرائیل! یہ کون تھا جس نے مجھے دائیں جانب سے پکارا؟' انہوں نے کہا: 'یہودیوں کی دعوت دینے والا (شیطان)۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر آپ اس کی بات مان لیتے تو آپ کی امت آپ کے بعد یہودی ہو جاتی۔ اور جس نے آپ کو بائیں جانب (1) سے پکارا، وہ عیسائیوں کی دعوت دینے والا (شیطان) ہے۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر آپ اس کی بات مان لیتے تو آپ کی امت آپ کے بعد عیسائی ہو جاتی۔ اور جس نے آپ کی طرف (2) اپنی خوبصورتی اور زینت ظاہر کی، وہ دنیا ہے۔ اگر آپ اس کی طرف مڑ جاتے (3) تو آپ کی امت آخرت پر دنیا کو ترجیح دیتی۔'
دودھ اور شراب کا انتخاب:
پھر میرے سامنے دو برتن لائے گئے، ایک میں دودھ تھا اور دوسرے میں شراب۔ مجھ سے کہا گیا: 'جسے چاہیے پی لو۔' میں نے دودھ لے کر پیا۔ جبرائیلؑ نے کہا: 'آپ نے اور آپ کی امت نے فطرتِ سلیمہ کو پا لیا۔ اگر آپ شراب لے لیتے تو آپ کے بعد آپ کی امت گمراہ ہو جاتی (4)۔'
راستے میں مختلف مناظر اور ان کی تفسیر:
· ایک قوم جو دن میں ہی کاشت کرتی اور کاٹتی ہے: یہ اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے ہیں، ان کے لیے نیکی سات سو گنا بڑھا دی جاتی ہے۔ (پھر انہوں نے یہ آیت پڑھی: {اور تم جو کچھ بھی خرچ کرتے ہو وہ اس کا بدلہ دیتا ہے، اور وہ سب سے بہتر رزق دینے والا ہے} (6) )۔
· ایک قوم جن کے سروں کو پتھر سے کچلا جا رہا ہے: یہ وہ لوگ ہیں جو فرض نمازوں سے اپنے سروں کو بھاری محسوس کرتے تھے (2)۔
· ایک قوم جن کے آگے اور پیچھے پھٹے ہوئے کپڑے ہیں: یہ وہ ہیں جو اپنے مالوں کی زکوٰۃ ادا نہیں کرتے۔
· ایک قوم کے پاس ایک ہانڈی میں پکا ہوا اچھا گوشت ہے اور دوسرا خراب گوشت، وہ خراب کھا رہے ہیں: یہ وہ مرد اور عورت ہیں جو حلال، پاکیزہ شریک حیات کو چھوڑ کر حرام، خراب شخص کے پاس جا کر رات گزارتے ہیں (9,10,1)۔
· راستے میں ایک لکڑی جو ہر کپڑے کو پھاڑ دیتی ہے: یہ تمہاری امت کے وہ لوگ ہیں جو راستوں پر بیٹھ کر (لوگوں کو) روکتے اور راستہ کاٹتے ہیں۔ (پھر جبرائیلؑ نے یہ آیت تلاوت کی: {اور ہر راستے پر نہ بیٹھا کرو (لوگوں کو) دھمکاتے ہوئے اور اللہ کی راہ سے روکتے ہوئے} (6) )۔
· ایک آدمی بہت بڑا گٹھر اٹھائے ہوئے ہے اور اور وزن بڑھا رہا ہے: یہ تمہاری امت کا وہ شخص ہے جس پر لوگوں کی امانتیں ہیں، وہ انہیں ادا نہیں کر سکتا اور (امانتیں) وصول کرتا چلا جاتا ہے (10)۔
· ایک قوم جن کی زبانوں اور ہونٹوں کو لوہے کی قینچیوں سے کاٹا جا رہا ہے: یہ فتنہ پرور خطباء ہیں (2)۔
· ایک چھوٹے سوراخ سے ایک بڑا سانڈ نکلتا ہے اور پھر واپس جانا چاہتا ہے مگر نہیں جا سکتا: یہ تمہاری امت کا وہ شخص ہے جو بڑی (سخت) بات کہہ دیتا ہے، پھر اس پر پچھتاتا ہے مگر (اسے واپس) نہیں لوٹا سکتا (5)۔
جنت اور دوزخ کی آوازیں:
پھر میں ایک وادی میں پہنچا، وہاں خوشگوار، ٹھنڈی (6) ہوا اور ایک آواز سنائی دی۔ (میں نے پوچھا: یہ خوشگوار ہوا اور یہ آواز کیا ہے؟) (7) جبرائیلؑ نے کہا: یہ جنت کی آواز ہے، وہ اپنے رب سے کہہ رہی ہے: 'اے میرے رب! مجھے وہ (چیز) عطا فرما جس کا تو نے مجھ سے وعدہ فرمایا ہے۔ بے شک میرے محلات، میرے استبرق (ریشمی کپڑے) اور سندس (باریک ریشم)، میرے یاقوت، موتی، مرجان، چاندی، سونے کے برتن، کوزے، صراحے، بکثرت پھل، شہد، دودھ، شراب اور پانی بہت زیادہ ہو گئے ہیں۔ پس مجھے وہ (لوگ) دے دے جس کا تو نے مجھ سے وعدہ فرمایا تھا۔'
(اللہ تعالیٰ نے) فرمایا: 'تیرے لیے ہر مومن مرد اور مومنہ عورت ہے جس نے مجھ پر اور میرے رسولوں پر ایمان لایا، نیک عمل کیا، اس نے میرے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرایا اور میرے سوا کسی کو معبود نہیں بنایا۔ اور جو مجھ سے ڈرا، وہ امن میں ہے، اور جس نے مجھ سے مانگا، میں نے اسے دیا، اور جس نے مجھ پر قرض (یعنی نیکی) کیا، میں نے اسے چکا دیا، اور جس نے مجھ پر توکل کیا، میں نے اسے کافی ہو گیا۔ بے شک میں ہی اللہ ہوں، میرے سوا کوئی معبود نہیں، میں وعدہ خلافی نہیں کرتا۔' (پھر اللہ نے یہ آیات تلاوت فرمائیں) {یقیناً فلاح پا گئے مؤمنین} سے لے کر (3) {پس بڑی برکت والا ہے اللہ، جو سب سے بہتر پیدا فرمانے والا ہے} (4) تک۔
جنت نے کہا: 'میں راضی ہو گئی۔'
پھر میں ایک اور وادی میں پہنچا، وہاں سے ایک بری آواز سنائی دی اور بدبو دار ہوا محسوس ہوئی۔ میں نے پوچھا: 'اے جبرائیل! یہ کیا ہے؟' انہوں نے کہا: یہ دوزخ کی آواز ہے، وہ اپنے رب سے کہہ رہی ہے: 'اے میرے رب! مجھے وہ (چیز) دے دے جس کا تو نے مجھ سے وعدہ فرمایا ہے۔ بے شک میری زنجیریں، بیڑیاں، شعلے، 'ضریع' اور 'زقوم' (دوزخ کے کانٹے دار پودے)، میرا کھولتا ہوا پانی، میرا پیپ بھرا پانی بہت زیادہ ہو گیا ہے، میری گہرائی بہت دور ہو گئی ہے اور میری گرمی بہت سخت ہو گئی ہے۔ پس مجھے وہ (لوگ) دے دے جس کا تو نے مجھ سے وعدہ فرمایا تھا۔'
(اللہ تعالیٰ نے) فرمایا: 'تیرے لیے ہر مشرک مرد اور عورت، ہر کافر مرد اور عورت، ہر برا مرد اور بری عورت، اور ہر وہ متکبر جو روزِ حساب پر ایمان نہیں رکھتا۔'
دوزخ نے کہا: 'میں راضی ہو گئی۔'
بیت المقدس میں نماز اور انبیاء کی امامت:
پھر جبرائیلؑ میرے ساتھ چلے اور مجھ سے کہا: 'اُترو اور نماز پڑھو۔' میں نے (6) کہا: تو میں اترا اور نماز پڑھی۔ انہوں نے کہا: 'کیا آپ جانتے ہیں کہ کہاں نماز پڑھی ہے؟ آپ نے 'طیبہ' (مدینہ منورہ) میں نماز پڑھی ہے، اور ان شاء اللہ اسی کی طرف ہجرت ہوگی۔'
پھر انہوں نے کہا: 'اُترو اور نماز پڑھو۔' میں اترا اور نماز پڑھی۔ انہوں نے کہا: 'کیا آپ جانتے ہیں کہ کہاں نماز پڑھی ہے؟ آپ نے 'طور سینا' پر نماز پڑھی ہے، جہاں اللہ تعالیٰ نے موسیٰؑ سے (براہِ راست) کلام فرمایا تھا۔'
پھر انہوں نے کہا: 'اُترو اور نماز پڑھو۔' میں اترا اور نماز پڑھی۔ انہوں نے کہا: 'کیا آپ جانتے ہیں کہ کہاں نماز پڑھی ہے؟ آپ نے 'بیت لحم' میں نماز پڑھی ہے، جہاں عیسیٰؑ کی ولادت ہوئی تھی۔'
پھر ہم چل پڑے یہاں تک کہ بیت المقدس پہنچے۔ جب میں اس کے قریب پہنچا تو میں نے فرشتوں کو دیکھا جو آسمان سے اتر رہے تھے اور رب العزت کے حکم سے مجھے بشارت اور عزت کے ساتھ استقبال کر رہے تھے۔ وہ مجھ سے کہہ رہے تھے: 'السلام علیک اے اول، اے آخر اور اے حاشر (جمع کرنے والے)!'
میں نے (1) جبرائیلؑ سے پوچھا: 'یہ میرے لیے کیا سلام ہے؟' انہوں نے کہا: 'بے شک آپ پہلے شخص ہیں جن کی قبر شق ہوگی اور آپ کی امت کی (بھی)۔ اور آپ پہلے سفارش کرنے والے اور پہلے جس کی سفارش قبول ہوگی والے ہیں۔ اور آپ آخری نبی ہیں اور (قیامت کے دن) حشر آپ ہی سے آپ کی امت کے ساتھ ہوگا۔'
پھر ہم ان سے آگے بڑھے یہاں تک کہ مسجد کے دروازے پر پہنچے۔ جبرائیلؑ نے مجھے اُتارا اور براق کو اس کڑے میں باندھا جس میں پہلے انبیاء علیہم السلام (اپنی سواریاں) باندھتے تھے، اس کی لگام جنت کے ریشم سے تھی۔
جب میں دروازے سے اندر داخل ہوا تو میں نے تمام انبیاء و مرسلین علیہم السلام کو دیکھا (اور ابو العالیہ کی روایت میں ہے: وہ انبیاء کی روحیں تھیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے مجھ سے پہلے آدمؑ سے لے کر ادریس، نوح علیہما السلام ہوتے ہوئے عیسیٰؑ تک مبعوث فرمایا تھا) جنہیں اللہ عزوجل نے جمع کر رکھا تھا۔ انہوں نے مجھ پر سلام کیا اور فرشتوں کی طرح مجھے تحیت دی۔ میں نے جبرائیلؑ سے پوچھا: 'یہ کون ہیں؟' انہوں نے کہا: 'یہ آپ کے بھائی انبیاء علیہم السلام ہیں۔ قریش نے گمان کیا کہ اللہ عزوجل کا کوئی شریک ہے، اور یہود و نصاریٰ نے گمان کیا کہ اللہ سبحانہ کا بیٹا ہے۔ پس آپ ان مرسلین علیہم السلام سے پوچھیے: کیا اللہ سبحانہ کا کوئی شریک تھا؟' یہی وہ (موقع) ہے جس کی طرف اللہ عزوجل کے اس قول میں اشارہ ہے: {اور آپ پوچھ لیجیے ہماری طرف سے آپ سے پہلے جو رسول بھیجے ہم نے ان سے، کیا ہم نے الرحمن کے سوا عبادت کے لیے کوئی اور معبود بنا رکھے تھے؟} (43:45)۔ پس انہوں (سب انبیاء) نے اللہ جل ثناؤہ کی ربوبیت کا اقرار کیا۔
پھر اللہ تعالیٰ نے انہیں اور فرشتوں کو صف در صف جمع کیا، مجھے آگے کیا اور مجھے حکم دیا کہ میں ان کی امامت کروں۔ سو میں نے انہیں دو رکعت نماز پڑھائی۔
انبیاء علیہم السلام کی حمد و ثنا:
پھر انبیاء علیہم السلام نے اپنے رب کی حمد بیان کی:
· ابراہیمؑ نے کہا: 'تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے مجھے اپنا خلیل بنایا، مجھے عظیم بادشاہت عطا فرمائی، مجھے ایک فرمانبردار امت بنایا جس کی رہنمائی میرے ذریعے ہوتی ہے، مجھے آگ سے نجات دلائی اور اسے میرے لیے ٹھنڈی اور سلامتی والی بنا دیا۔'
· موسیٰؑ نے کہا: 'تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے، جس نے مجھ سے (براہِ راست) کلام فرمایا، آلِ فرعون کی ہلاکت کو میرے ہاتھ پر کردیا، بنی اسرائیل کو میرے ہاتھ پر نجات دی اور میری قوم میں سے ایک ایسی امت بنائی جو حق کے ساتھ ہدایت کرتی ہے اور اسی کے ساتھ انصاف کرتی ہے (1)۔'
· داؤدؑ نے کہا: 'تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے مجھے عظیم بادشاہت عطا فرمائی، مجھے زبور سکھائی، میرے لیے لوہا نرم کر دیا، پہاڑوں اور پرندوں کو میرے تابع کر دیا کہ وہ (اللہ کی) تسبیح کرتے ہیں، اور مجھے حکمت اور فیصلہ کن گفتگو عطا فرمائی۔'
· سلیمانؑ نے کہا: 'تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے ہواؤں کو میرے تابع کر دیا، شیاطین کی فوجیں میرے تابع کر دیں جو میرے لیے جیسے محراب اور مجسمے اور بڑی بڑی تھالیاں (جوابی) (2) بناتی تھیں، مجھے پرندوں کی بولی سکھائی، مجھے ہر چیز سے فضیلت عطا فرمائی اور مجھے ایسی عظیم بادشاہت دی جو میرے بعد کسی کے لیے مناسب نہیں، اور میری بادشاہت کو پاکیزہ بادشاہت بنایا جس پر کوئی حساب نہیں۔'
· عیسیٰؑ نے کہا: 'تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے، جس نے مجھے اپنی جانب سے ایک کلمہ بنایا، میری مثال آدمؑ جیسی رکھی جنہیں مٹی سے پیدا کیا پھر ان سے فرمایا 'ہو جا' تو وہ ہو گئے، مجھے کتاب، حکمت، تورات اور انجیل سکھائی، مجھے پیدائشی اندھے اور کوڑھی کو اچھا کرنے اور مردے کو زندہ کرنے کی قدرت عطا فرمائی (اللہ کے اذن سے)، مجھے اٹھا لیا، مجھے پاک ٹھہرایا، مجھے اور میری والدہ کو شیطانِ رجیم سے پناہ دی، پس شیطان کا ہم پر کوئی راستہ نہیں (1)۔'
· محمد ﷺ نے فرمایا: 'تم سب نے اپنے رب کی حمد بیان کی ہے، (اور میں بھی حمد) (2) بیان کرتا ہوں اپنے رب کی۔' پس آپ ﷺ نے فرمایا: 'تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے مجھے تمام جہانوں کے لیے رحمت اور تمام لوگوں کے لیے بشیر و نذیر بنا کر بھیجا (3)، میرے پر فرقان (قرآن) نازل فرمایا (4) جس میں ہر چیز کی وضاحت ہے، میری امت کو بہترین امت بنایا جو لوگوں (کی ہدایت) کے لیے نکالی گئی، میری امت کو درمیانی (اعتدال پسند) امت بنایا (6)، میری امت کو اول اور آخر بنایا، میرا سینہ کشادہ فرمایا، میرا بوجھ ہلکا فرمایا، میری شرف و عزت بلند فرمائی، مجھے شروع کرنے والا اور ختم کرنے والا بنایا۔'
اس کے بعد ابراہیمؑ نے (7) فرمایا: 'اس (فضیلت) کے ساتھ ہی اے محمد! اللہ نے آپ کو فضیلت دی ہے۔'
تین ڈھکے ہوئے برتنوں کا معاملہ:
پھر تین ڈھکے ہوئے برتن میرے سامنے لائے گئے: ایک میں پانی تھا، مجھ سے کہا گیا: 'پی لو۔' میں نے تھوڑا سا پانی پیا۔ پھر میرے ہاتھ میں دوسرا برتن دیا گیا جس میں دودھ تھا، مجھ سے کہا گیا: 'پیو۔' میں نے اسے پی لیا یہاں تک کہ سیراب ہو گیا۔ پھر میرے ہاتھ میں تیسرا برتن دیا گیا جس میں شراب تھی، مجھ سے (8) کہا گیا: 'پیو۔' میں نے کہا: 'میں اسے نہیں چاہتا، میں سیراب ہو چکا ہوں۔'
جبرائیلؑ نے مجھ سے (1) کہا: 'آپ نے صحیح کیا۔ بے شک وہ (شراب) آپ کی امت پر حرام ہونے والی ہے (2)۔ اگر آپ اس میں سے پی لیتے تو آپ کے بعد آپ کی امت میں سے صرف تھوڑے ہی لوگ آپ کی پیروی کرتے (3)۔ اور اگر آپ پانی سے سیراب ہو جاتے تو آپ ڈوب جاتے اور آپ کی امت ڈوب جاتی۔'
آسمان کی طرف معراج:
پھر جبرائیلؑ نے میرا ہاتھ پکڑا (4) اور مجھے صخرہ (مسجدِ اقصیٰ کے قریب) کی طرف لے گئے اور مجھے اس پر چڑھا دیا۔ دیکھا تو آسمان کی طرف ایک معراج (5) تھا۔ میں نے اس جیسا کوئی خوبصورت اور خوشنما (درجہ) نہیں دیکھا تھا، کسی دیکھنے والے نے بھی کوئی چیز اس سے زیادہ خوبصورت نہیں دیکھی ہوگی۔ اسی پر فرشتے چڑھتے ہیں۔ اس کی بنیاد بیت المقدس کی چٹان پر ہے اور اس کا سر آسمان میں (چپکا ہوا ہے) (6)۔ اس کا ایک جانب سرخ یاقوت اور دوسری جانب سبز زبرجد ہے۔ ایک سیڑھی چاندی کی، ایک سونے کی اور ایک زمرد کی ہے۔ وہ موتیوں اور یاقوت سے جڑا ہوا ہے۔ یہ وہی معراج ہے جس سے موت کا فرشتہ روحیں قبض کرنے کے لیے ظاہر ہوتا ہے۔ جب تم اپنے مرنے والے کی آنکھوں کو (اوپر کی طرف) گھورتے دیکھو اور وہ (ہر چیز سے) بے خبر ہو جائے، تو یہ اس معراج کی خوبصورتی دیکھ کر ہوتا ہے (7)۔
پھر جبرائیلؑ نے مجھے اپنے پروں پر بٹھا لیا اور اس معراج کے ذریعے مجھے پہلے آسمان تک لے گئے اور دروازہ کھٹکھٹایا۔ ان سے (1) کہا گیا: 'کون ہے؟' انہوں نے کہا: 'میں جبرائیل ہوں۔' کہا گیا: 'اور آپ کے ساتھ کون ہے؟' انہوں نے کہا: 'محمد۔' کہا گیا: 'کیا محمد (ﷺ) مبعوث کر دیے گئے ہیں (2)؟' انہوں نے کہا: 'ہاں۔' ان سے (3) کہا گیا: 'انہیں خوش آمدید، اللہ انہیں حیاتِ طیبہ عطا فرمائے، وہ بھائی بھی ہیں اور خلیفہ بھی، پس وہ کیا ہی اچھے بھائی اور کیا ہی اچھے خلیفہ ہیں، اور کیا ہی اچھے آنے والے آئے ہیں۔' پھر دروازہ کھولا گیا اور ہم اندر داخل ہوئے۔
پہلے آسمان کے چند عجائبات:
میں (4) پہلے آسمان میں چل رہا تھا کہ میں نے ایک مرغ دیکھا، جس کے پر سفید تھے اور ان کے نیچے سبز ریشہ تھا (6)، اس کی سفیدی اس سے زیادہ سفید تھی (جیسی سفیدی میں نے) (7) کبھی دیکھی تھی، اور اس کے نیچے کا سبز ریشہ اس سے زیادہ سبز تھا جو میں نے کبھی دیکھا تھا۔ اس کے پاؤں ساتویں زمین کے طبقوں میں تھے اور اس کا سر عرش کے نیچے تھا، اس کی گردن عرش کے نیچے جھکی ہوئی تھی۔ اس کے مونڈھوں سے دو پر تھے، جب وہ انہیں پھیلاتا تو مشرق و مغرب کو پار کر جاتا۔ جب رات کا کچھ حصہ ہوتا تو وہ اپنے پر پھیلاتا اور انہیں پھڑپھڑاتا اور اللہ عزوجل کی تسبیح کے لیے پکارتا، کہتا: 'سبحان الملک القدوس الکبیر المتعال، لا الہ الا اللہ الحی القیوم۔' جب وہ ایسا کرتا تو زمین کے تمام مرغ تسبیح کرنے لگتے، اپنے پر پھڑپھڑاتے اور پکارنے (1) لگتے۔ جب وہ مرغ آسمان میں خاموش ہو جاتا تو زمین کے تمام مرغ خاموش ہو جاتے۔ پھر جب وہ (آسمان میں) اسی طرح (2) حرکت کرتا تو زمین کے تمام مرغ (3) اس کا جواب دیتے ہوئے اللہ عزوجل کی تسبیح کرتے اور اس کے قول کی طرح (تسبیح کرتے)۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: 'میں اس مرغ کو دوبارہ دیکھنے کے لیے مشتاق رہا۔'
پھر میں ایک فرشتے کے پاس سے گزرا جس کا آدھا جسم سر کی طرف سے آگ کا تھا اور آدھا برف کا تھا، اور ان کے درمیان اتصال (4) تھا۔ نہ آگ برف کو پگھلا سکتی تھی اور نہ برف آگ کو بجھا سکتی تھی۔ وہ کھڑا تھا اور ایک بلند آواز (5) سے پکار رہا تھا، کہہ رہا تھا: 'اے اللہ! جو برف اور آگ کے درمیان موافقت رکھتا ہے، میرے مؤمن بندوں کے دلوں کے درمیان موافقت پیدا فرما۔' میں نے جبرائیلؑ سے پوچھا: 'یہ کون ہے؟' انہوں نے کہا: 'یہ ایک فرشتہ ہے جسے 'حبیب' کہا جاتا ہے، اللہ تعالیٰ نے اسے آسمانوں کے کناروں اور زمین کے سروں کا مختار بنایا ہے۔ اہلِ زمین کے لیے اس سے زیادہ خیرخواہ کوئی نہیں، یہ اس کا قول ہے جب سے وہ پیدا کیا گیا۔'
ملک الموت سے ملاقات:
پھر (6) فرمایا: پھر میں ایک دوسرے فرشتے کے پاس سے گزرا جو ایک کرسی پر بیٹھا ہوا تھا، اس کی روح اس کے لیے جمع کر دی گئی تھی، اس پر حلقیں (پڑی ہوئی) تھیں، (تو) (1) میں نے کہا: 'اے ملک الموت! سبحان اللہ، آپ اپنی اس جگہ سے ہٹے بغیر تمام اہلِ زمین کی روحیں کیسے قبض کر سکتے ہیں؟' اس نے کہا: 'کیا تم نہیں دیکھتے کہ ساری دنیا میرے گھٹنوں کے درمیان ہے، اور تمام مخلوقات میری آنکھوں کے سامنے ہیں، اور میرے ہاتھ مشرق و مغرب اور ان کے پیچھے تک پہنچتے ہیں۔ پھر جب اللہ کے کسی بندے کی میعاد پوری ہو جاتی ہے تو میں اسے اور میرے مددگاروں (فرشتوں) کو دیکھتا ہوں۔ پھر جب میں (اپنے مددگار فرشتوں کی طرف دیکھتا ہوں کہ میں) (2) نے اس (بندے) کی طرف دیکھا ہے تو وہ جان جاتے ہیں کہ اس کی روح قبض کی جانی ہے، پھر وہ اس کی طرف بڑھتے ہیں اور اس کی روح نکالنے کی کوشش کرتے ہیں (3)۔ پھر جب روح حلقوم تک پہنچ جاتی ہے تو میں یہ جان لیتا ہوں، اور میرے کام سے کوئی چیز مجھ پر مخفی نہیں رہتی۔ پھر میں اس کی طرف اپنا ہاتھ بڑھاتا ہوں اور اسے قبض کر لیتا ہوں۔ اس کی روح قبض کرنا میرے سوا کوئی نہیں۔ پس یہی میرا طریقہ ہے اور اللہ کے بندوں میں سے ہر صاحبِ روح کے لیے میرا یہی معاملہ ہے۔' آپ ﷺ نے فرمایا: گویا میں اس وقت بھی اس کے پاس تھا اور اس کی یہ گفتگو سن رہا تھا۔
دوزخ کے داروغہ مالک سے ملاقات:
پھر ہم آگے بڑھے اور میں (4) ایک دوسرے فرشتے کے پاس سے گزرا۔ میں نے فرشتوں میں سے اس جیسا کوئی مخلوق نہیں دیکھا تھا۔ وہ تیور سُوار، کالا چہرہ، بدصورت صورت، سخت گرفت والا اور غصے سے بھرپور تھا۔ جب میں نے اسے دیکھا تو میں بہت زیادہ ڈر گیا۔ میں نے کہا: 'اے جبرائیل! یہ کون ہے؟ بے شک میں اس سے سخت خوفزدہ ہو گیا ہوں۔' انہوں نے کہا: 'آپ کا اس سے ڈرنا تعجب کی بات نہیں، ہم سب آپ ہی کی طرح اس سے ڈرتے ہیں۔ یہ مالک ہیں، دوزخ کے داروغہ (5)۔ انہوں نے کبھی مسکرایا نہیں ہے، اور جب سے اللہ تعالیٰ نے انہیں دوزخ کا نگران بنایا ہے، وہ ہر روز اللہ عزوجل کے دشمنوں اور اس کی نافرمانی کرنے والوں پر انتقام لینے کے لیے غصے اور طیش میں زیادہ ہوتے چلے جاتے ہیں۔'
میں نے کہا: 'مجھے اس کے قریب لے چلیں۔' تو انہوں نے مجھے اس کے قریب کیا۔ جبرائیلؑ نے اسے سلام کیا تو اس نے اپنا سر نہیں اٹھایا۔ جبرائیلؑ نے کہا: 'اے مالک! یہ محمد ﷺ ہیں، اہلِ عرب کے رسول۔' تو اس نے میری طرف دیکھا، مجھے سلام کیا اور خیر کی بشارت دی (1)۔
میں نے پوچھا: 'کب سے آپ دوزخ کی آگ جلا رہے ہیں؟' اس نے کہا: 'اس دن سے جب میں پیدا کیا گیا، اسی طرح (جلاتا رہوں گا) یہاں تک کہ قیامت قائم ہو جائے گی (2)۔'
میں نے جبرائیلؑ سے کہا: 'اسے حکم دیں کہ وہ مجھے دوزخ کی ایک تہہ (3) دکھائے۔' انہوں نے کہا: تو انہوں نے اسے حکم دیا اور اس نے دکھایا۔ اس سے ایک سیاہ تیز شعلہ نکلا جس کے ساتھ گہرا، تاریک دھواں تھا جس سے تمام آفاق بھر گئے۔ میں نے (ایک عظیم ہولناکی اور خوفناک منظر) (4) دیکھا جس کی میں آپ کے لیے وضاحت (5) نہیں کر سکتا۔ میں بے ہوش ہو گیا (اور میری روح نکلتی نظر آئی) (6)۔ جبرائیلؑ نے مجھے اپنے سے لگا لیا اور اسے حکم دیا کہ وہ آگ کو واپس لوٹائے، تو اس نے واپس لوٹا دی۔ پھر ہم آگے بڑھ گئے (7)۔
کثیر الوجوہ والے فرشتے:
پھر ہم بے شمار فرشتوں کے پاس سے گزرے جن کی گنتی اللہ عزوجل کے سوا کوئی نہیں جانتا (8)۔ ان میں سے ہر ایک فرشتے کے کندھوں کے درمیان اور سینے پر چہرے تھے، ہر چہرے میں منہ اور زبانیں تھیں، وہ ان زبانوں سے اللہ تعالیٰ کی حمد، تعریف اور تسبیح کرتا تھا۔ میں نے ان کے (جسم اور) (10) خلق اور عبادت کی عظمت دیکھی۔
پہلے آسمان پر حضرت آدمؑ:
پھر ہم آگے بڑھے (1) تو ایک مرد نظر آیا جو مکمل طور پر تھے، ان کی خلقت سے کچھ کم نہیں ہوا تھا جیسا کہ لوگوں کی خلقت (2) سے کم ہوتا ہے۔ ان کے دائیں جانب ایک دروازہ تھا جس سے خوشبو دار (3) ہوا آ رہی تھی اور بائیں جانب ایک دروازہ تھا جس سے بدبودار ہوا آ رہی تھی۔ جب وہ دائیں جانب والے دروازے کی طرف دیکھتے تو ہنستے اور خوش ہوتے، اور جب بائیں جانب والے دروازے (4) کی طرف دیکھتے تو روتے اور غمگین ہوتے۔ میں نے جبرائیلؑ سے پوچھا: 'اے جبرائیل! یہ کون ہیں اور یہ دو دروازے کیا ہیں؟' انہوں نے کہا: 'یہ آپ کے والد آدمؑ ہیں۔ اور یہ دائیں جانب والا دروازہ جنت کا دروازہ ہے۔ جب وہ اپنی اولاد میں سے جنت میں داخل ہونے والوں کو دیکھتے ہیں تو ہنستے اور خوش ہوتے ہیں، (اور جب بائیں جانب والے دروازے کی طرف دیکھتے ہیں، جو جہنم کا دروازہ ہے اور اپنی اولاد میں سے اس میں داخل ہونے والوں کو دیکھتے ہیں) (5) تو روتے اور غمگین ہوتے ہیں۔'
دوسرے آسمان پر حضرت عیسیٰ اور حضرت یحییٰ علیہما السلام:
آپ ﷺ نے (6) فرمایا: پھر ہم دوسرے آسمان پر چڑھے اور جبرائیلؑ نے دروازہ کھٹکھٹایا۔ ان سے کہا گیا: 'کون ہے؟' انہوں نے کہا: 'جبیریل۔' کہا گیا: 'اور آپ کے ساتھ کون ہے؟' انہوں نے کہا: 'محمد۔' انہوں نے کہا: 'کیا آپ مبعوث کر دیے گئے ہیں؟' انہوں نے کہا: 'ہاں۔' انہوں نے کہا: 'اللہ آپ کو حیاتِ طیبہ عطا فرمائے، آپ بھائی بھی ہیں اور خلیفہ بھی، پس کیا ہی اچھے بھائی اور کیا ہی اچھے خلیفہ ہیں، اور کیا ہی اچھے آنے والے آئے ہیں۔' پھر ہم اندر داخل ہوئے، تو دو نوجوان نظر آئے۔ میں نے پوچھا: 'اے جبرائیل! یہ دو نوجوان کون ہیں؟' انہوں نے کہا: 'یہ (7) عیسیٰ بن مریم اور یحییٰ بن زکریا علیہما السلام ہیں، (جو) خالہ زاد بھائی ہیں (1)۔'
تیسرے آسمان پر حضرت یوسفؑ:
آپ ﷺ نے (2) فرمایا: پھر ہم تیسرے آسمان پر چڑھے۔ جبرائیلؑ نے دروازہ کھٹکھٹایا۔ ان سے کہا گیا: 'کون ہے؟' انہوں نے کہا: 'جبیریل۔' کہا گیا: 'اور آپ کے ساتھ کون ہے؟' انہوں نے کہا: 'محمد۔' انہوں نے کہا: 'کیا آپ (3) کی طرف مبعوث کر دیے گئے ہیں؟' انہوں نے کہا: 'ہاں۔' انہوں نے کہا: 'اللہ آپ کو حیاتِ طیبہ عطا فرمائے، آپ بھائی بھی ہیں اور خلیفہ بھی، پس کیا ہی اچھے بھائی اور کیا ہی اچھے خلیفہ ہیں، اور کیا ہی اچھے آنے والے آئے ہیں۔' پھر ہم اندر داخل ہوئے (4)۔ تو ایک ایسے مرد نظر آئے جو لوگوں پر حسن و جمال میں (5) ایسے فضیلت رکھتے تھے جیسے چودھویں رات کا چاند تمام ستاروں پر فضیلت رکھتا ہے۔ میں نے پوچھا: 'یہ کون ہیں (اے میرے بھائی) (6) جبرائیل؟' انہوں نے کہا: 'یہ آپ کے بھائی یوسفؑ ہیں۔'
چوتھے آسمان پر حضرت ادریسؑ:
آپ ﷺ نے فرمایا: (پھر ہم) (7) چوتھے آسمان پر چڑھے۔ انہوں نے دروازہ کھٹکھٹایا۔ ان سے کہا گیا: 'کون ہے؟' انہوں نے کہا: 'جبیریل۔' انہوں نے کہا: 'اور آپ کے ساتھ کون ہے؟' انہوں نے کہا: 'محمد۔' انہوں نے کہا: 'کیا محمد (ﷺ) مبعوث کر دیے گئے ہیں؟' انہوں نے کہا: 'ہاں۔' انہوں نے (8) کہا: 'اللہ آپ کو حیاتِ طیبہ عطا فرمائے، آپ بھائی بھی ہیں اور خلیفہ بھی، پس کیا ہی اچھے بھائی اور کیا ہی اچھے خلیفہ ہیں، اور کیا ہی اچھے آنے والے آئے ہیں۔' پھر ہم اندر داخل ہوئے، تو ایک مرد نظر آئے۔ میں نے پوچھا: 'یہ کون ہیں (اے جبرائیل) (9)؟' انہوں نے کہا: 'یہ ادریسؑ ہیں، اللہ تعالیٰ نے انہیں ایک بلند مقام پر اٹھا لیا ہے، اور وہ مخلوقات کے دفاتر کی طرف اپنی پیٹھ ٹیکے ہوئے ہیں جن میں ان کے معاملات لکھے ہوئے ہیں۔'
پانچویں آسمان پر حضرت ہارونؑ:
آپ ﷺ نے فرمایا: پھر انہوں نے مجھے پانچویں آسمان پر چڑھایا اور دروازہ کھٹکھٹایا۔ ان سے کہا گیا: 'کون ہے؟' انہوں نے کہا: 'جبیریل۔' کہا گیا: 'اور آپ کے ساتھ کون ہے؟' انہوں نے کہا: 'محمد۔' انہوں نے کہا: 'کیا محمد (ﷺ) مبعوث کر دیے گئے ہیں؟' انہوں نے کہا: 'ہاں۔' انہوں نے کہا: 'اللہ آپ کو حیاتِ طیبہ عطا فرمائے، آپ بھائی بھی ہیں اور خلیفہ بھی، پس کیا ہی اچھے بھائی اور کیا ہی اچھے خلیفہ ہیں، اور کیا ہی اچھے آنے والے آئے ہیں۔' آپ ﷺ نے (1) فرمایا: پھر ہم اندر داخل ہوئے، تو ایک مرد بیٹھے ہوئے نظر آئے جن کے گرد کچھ لوگ تھے، وہ انہیں کہانی سنارہے تھے۔ میں نے جبرائیلؑ سے پوچھا: 'اے جبرائیل! یہ کون ہیں اور یہ جو ان کے گرد ہیں کون ہیں؟' انہوں نے کہا: 'یہ ہارونؑ ہیں، جو اپنی قوم میں محبوب ہیں، اور یہ جو ان کے گرد ہیں بنی اسرائیل ہیں۔'
چھٹے آسمان پر حضرت موسیٰؑ:
آپ ﷺ نے فرمایا: پھر ہم چھٹے آسمان پر چڑھے اور دروازہ کھٹکھٹایا۔ ان سے کہا گیا: 'کون ہے؟' انہوں نے کہا: 'جبیریل۔' کہا گیا: 'اور آپ کے ساتھ کون ہے؟' انہوں نے کہا: 'محمد۔' انہوں نے کہا: 'کیا محمد (ﷺ) مبعوث کر دیے گئے ہیں؟' انہوں نے کہا: 'ہاں۔' انہوں نے کہا: 'اللہ آپ کو حیاتِ طیبہ عطا فرمائے، آپ بھائی بھی ہیں اور خلیفہ بھی، پس کیا ہی اچھے بھائی اور کیا ہی اچھے خلیفہ ہیں، اور کیا ہی اچھے آنے والے آئے ہیں۔' پھر (2) ہم اندر داخل ہوئے، تو ایک مرد بیٹھے ہوئے نظر آئے۔ ہم ان سے آگے بڑھ گئے (3) تو وہ مرد رونے لگا۔ میں نے پوچھا: 'اے جبرائیل! یہ کون ہیں؟' انہوں نے کہا: 'یہ موسیٰؑ ہیں۔' میں نے پوچھا: '(انہیں) (4) کیا ہوا، وہ کیوں رو رہے ہیں؟' انہوں نے کہا: 'وہ کہتے ہیں: بنی اسرائیل گمان کرتے ہیں کہ میں اللہ تعالیٰ کے نزدیک بنی آدم میں سب سے زیادہ مکرم ہوں، اور یہ بنی آدم میں سے ایک مرد ہیں جنہیں دنیا میں مجھ پر فضیلت دے دی گئی ہے (5) اور میں (اب) اپنی آخرت میں ہوں۔ اگر یہ فضیلت صرف انہی (نبی ﷺ) کو ہوتی تو میں پروا نہ کرتا، لیکن (فضیلت تو) ہر نبی کے ساتھ ان کی امت (1) (کی فضیلت) ہے (یعنی میری امت سے کم لوگ جنت میں جائیں گے جبکہ آپ کی امت کے بہت سے لوگ جنت میں جائیں گے، اس پر مجھے رنج ہے)۔'
ساتویں آسمان پر حضرت ابراہیمؑ:
آپ ﷺ نے فرمایا: پھر انہوں نے مجھے ساتویں آسمان پر چڑھایا اور دروازہ کھٹکھٹایا۔ ان سے کہا گیا: 'کون ہے؟' انہوں نے کہا: 'جبیریل۔' کہا گیا: 'اور آپ کے ساتھ کون ہے؟' انہوں نے کہا: 'محمد۔' انہوں نے کہا: 'کیا محمد (ﷺ) مبعوث کر دیے گئے ہیں؟' انہوں نے کہا: 'ہاں۔' انہوں نے کہا: 'اللہ آپ کو حیاتِ طیبہ عطا فرمائے، آپ بھائی بھی ہیں اور خلیفہ بھی، پس کیا ہی اچھے بھائی اور کیا ہی اچھے خلیفہ ہیں، اور کیا ہی اچھے آنے والے آئے ہیں۔'
پھر ہم اندر داخل ہوئے، تو ایک سفید بالوں والے مرد نظر آئے جو جنت کے دروازے پر ایک کرسی پر بیٹھے ہوئے تھے، اور ان کے پاس کچھ لوگ سفید چہروں والے کاغذوں کی مانند بیٹھے ہوئے تھے، اور کچھ لوگ جن کے چہروں پر (کمی) تھی۔ پھر جن کے چہروں پر (کمی) تھی وہ کھڑے ہوئے اور ایک نہر میں داخل ہوئے، اس میں غسل کیا، پھر اس سے باہر آئے (2) اور (اپنے چہروں سے کمی) دور ہو گئی۔ پھر وہ ایک دوسری نہر میں داخل ہوئے، پھر باہر آئے اور (اپنے چہروں سے کمی) دور ہو گئی۔ پھر وہ ایک تیسری نہر میں داخل ہوئے، پھر باہر آئے اور (دور ہو گئی) (3) ان کے چہرے اور ان کے ساتھیوں کے چہرے ایک جیسے ہو گئے۔ پھر وہ آئے اور اپنے ساتھیوں کے پاس بیٹھ گئے۔
میں نے پوچھا: '(اے میرے بھائی) (4) اے جبرائیل! یہ سفید بالوں والے بزرگ کون ہیں اور یہ لوگ کون ہیں اور یہ نہریں کیا ہیں؟'
انہوں نے کہا: 'یہ آپ کے والد ابراہیمؑ ہیں، روئے زمین پر سب سے پہلے جن کے بال سفید ہوئے (5)۔ اور رہے یہ سفید چہرے والے، تو یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے ایمان کو ظلم (یعنی شرک) سے آلودہ نہیں کیا۔ اور رہے یہ جن کے چہروں پر (کمی) تھی، تو یہ وہ ہیں جنہوں نے نیک اور برے عمل ملائے، پھر توبہ کی تو اللہ نے ان کی توبہ قبول کر لی۔ اور رہیں یہ تین نہریں: تو ان میں سے قریب ترین اللہ کی رحمت ہے، دوسری اللہ کی نعمت ہے، اور تیسری یہ کہ ان کے رب نے انہیں پاکیزہ مشروب پلایا۔'
بیت المعمور کا دیدار:
آپ ﷺ نے (3) فرمایا: اور ابراہیمؑ ایک گھر کا سہارا (4) لگائے ہوئے تھے۔ میں نے جبرائیلؑ سے اس (گھر) کے بارے میں پوچھا (5) تو انہوں نے کہا: 'یہ بیت المعمور ہے۔ اس میں ہر دن ستر ہزار فرشتے داخل ہوتے ہیں، پھر جب وہ اس سے نکلتے ہیں تو قیامت تک دوبارہ اس میں نہیں آتے۔'
سدرۃ المنتہیٰ اور کثرتِ نعمت:
آپ ﷺ نے فرمایا: پھر جبرائیلؑ مجھے لے کر (6) سدرۃ المنتہیٰ تک پہنچے۔ دیکھا تو ایک درخت ہے جس کے پتے ہیں، اس کا ایک پتہ پوری دنیا اور اس میں جو کچھ ہے کو ڈھانپ لیتا ہے، اور اس کے بیر 'ہجر' (7) کے مٹکوں کی مانند ہیں۔ اس کی جڑ سے چار نہریں نکلتی ہیں: دو ظاہر اور دو باطن۔ میں نے اس کے بارے میں جبرائیلؑ سے پوچھا تو انہوں نے کہا: 'باطن دو جنت میں ہیں، اور ظاہر دو (8) نیل اور فرات ہیں۔'
اور اس کی جڑ سے چار (1) نہریں بھی نکلتی ہیں: پانی کی جو سڑتی نہیں، دودھ کی جن کا ذائقہ نہیں بدلتا، شراب کی جو پینے والوں کے لیے لذیذ ہے، اور شہد کی جو صاف کیا ہوا ہے۔ اور یہ ساتویں آسمان کے کنارے پر ہے جس طرف جنت ہے، اور اس کی شاخیں اور ڈالیاں عرش کے نیچے ہیں۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: 'میں سدرۃ المنتہیٰ پر پہنچا اور میں جانتا تھا کہ یہ ببول کا درخت ہے، میں اس کے پتے اور پھل پہچانتا تھا۔ پھر اللہ سبحانہ کے نور نے اسے ڈھانپ لیا جس نے ڈھانپا (3)۔ اور فرشتوں نے اسے ڈھانپ لیا، وہ اللہ کے خوف سے سونے کے ٹڈی دل کی مانند تھے (4)۔ پھر جب اس (درخت) کو وہ (نور وغیرہ) ڈھانپ گیا تو یہ تبدیل ہو گیا یہاں تک کہ کوئی بھی اس کی صفت بیان (5) نہیں کر سکتا تھا۔'
اور فرمایا: 'اور اس میں فرشتے ہیں جن کی تعداد اللہ عزوجل کے سوا کوئی نہیں جانتا، اور جبرائیلؑ کا مقام اس کے درمیان میں ہے۔'
عرشِ الٰہی کی طرف سفر اور حجابات:
آپ ﷺ نے فرمایا: پھر جب میں اس (سدرہ) کے پاس پہنچا تو جبرائیلؑ نے مجھ سے کہا: 'اے محمد! علیک السلام (6)، آپ آگے بڑھیے۔' میں نے کہا: 'اے جبرائیل! بلکہ (7) آپ آگے بڑھیے (8)۔' انہوں نے کہا: 'بلکہ آپ آگے بڑھیے اے محمد! بے شک آپ اللہ کے نزدیک مجھ سے زیادہ مکرم ہیں۔'
پس میں آگے بڑھا اور جبرائیلؑ میرے پیچھے تھے یہاں تک کہ وہ مجھے (9) سونے کے فرش کے پردے تک لے گئے۔ انہوں نے پردہ ہلایا تو (اندر سے) کہا گیا: 'کون ہے؟' انہوں نے کہا: 'میں جبرائیل ہوں اور میرے ساتھ محمد ہیں۔' فرشتے نے کہا: 'اللہ اکبر!' اور اس نے پردے کے نیچے سے اپنا ہاتھ نکالا اور مجھے اٹھا لیا، اور جبرائیلؑ پیچھے رہ گئے۔ میں نے ان سے (1) کہا: 'کہاں؟' انہوں نے کہا: 'اے محمد! اور ہم میں سے ہر ایک کا ایک مقامِ معلوم ہے۔ بے شک یہ مخلوق کی آخری حد ہے۔ اور بے شک مجھے آپ کی تعظیم و تکریم کے لیے پردے کے قریب آنے کی اجازت دی گئی ہے۔'
آپ ﷺ نے (2) فرمایا: پھر اس فرشتے نے مجھے آنکھ جھپکنے سے بھی تیز رفتار سے موتی کے پردے تک لے گیا اور پردہ ہلایا۔ پردے کے پیچھے سے فرشتے نے کہا: 'یہ کون ہے؟' اس نے کہا: 'میں سونے کے فرش والا ہوں اور میرے ساتھ اہلِ عرب کے رسول محمد ﷺ ہیں۔' فرشتے نے کہا: 'اللہ اکبر!' اور اس نے پردے کے نیچے سے اپنا ہاتھ نکالا اور مجھے اٹھا کر اپنے سامنے کر لیا۔
میں اسی طرح ایک پردے سے دوسرے پردے تک (لے جایا گیا) (3) یہاں تک کہ میں ستر پردوں سے گزر گیا۔ ہر پردے کی موٹائی پانچ سو سال کی مسافت کے برابر تھی، اور (ایک پردے سے دوسرے پردے تک کی مسافت) (4) بھی پانچ سو سال تھی۔
عرشِ الٰہی پر نزول اور کلامِ الٰہی:
پھر میری طرف (5) ایک سبز رفرف (چادر یا سفینہ) لٹکایا گیا، جس کا نور سورج کے نور پر غالب تھا، تو میری بینائی چمک اٹھی۔ میں اس رفرف پر رکھا گیا۔ پھر اس نے مجھے اٹھا لیا یہاں تک کہ مجھے عرش تک پہنچا دیا۔
جب میں نے عرش دیکھا تو ہر چیز کا معاملہ عرش کے پاس واضح ہو گیا۔ (اللہ تعالیٰ نے) مجھے عرش کے مسند کے قریب لایا (6)۔ پھر عرش سے ایک قطرہ میرے لیے لٹکا اور میری زبان پر گر گیا۔ چکھنے والوں نے اس سے زیادہ میٹھی کوئی چیز کبھی نہیں چکھی تھی۔ اس (قطرے) کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے مجھے اولین و آخرین کی خبریں سنا دیں۔
اللہ عزوجل نے رحمن کی ہیبت سے گونگے ہو جانے کے بعد میری زبان کھول دی۔ میں نے کہا: 'التحیات للہ والصلوات والطیبات۔' اللہ جل ثناؤہ نے فرمایا: 'السلام (3) علیک ایہا النبی ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔' میں نے کہا: 'السلام علینا وعلی عباد اللہ الصالحین۔'
درجات اور حسنات کی حقیقت:
پھر اللہ تعالیٰ نے مجھ سے فرمایا: 'اے محمد! کیا تم جانتے ہو کہ ملائکۂ اعلیٰ کس چیز میں جھگڑ رہے ہیں؟' میں نے کہا: 'اے میرے رب! آپ اسے اور ہر چیز کو بہتر جانتے ہیں، اور آپ ہی غیبوں کے جاننے والے ہیں۔' فرمایا: 'وہ درجات اور حسنات میں اختلاف کر رہے ہیں۔ کیا تم جانتے ہو اے محمد! درجات کیا ہیں اور حسنات کیا ہیں؟'
آپ ﷺ نے (4) فرمایا: میں نے کہا: 'آپ بہتر جانتے ہیں (اے رب) (5)۔' فرمایا: 'درجات یہ ہیں: ناگوار حالات میں وضو کو اچھی طرح (اعضاء پر) بہانا، اور پیدل چل کر جماعتوں (نمازِ جماعت) کی طرف جانا، اور نمازوں کے بعد (دوسری) نمازوں کا انتظار کرنا (6)۔ اور حسنات یہ ہیں: سلام پھیلانا، کھانا کھلانا، اور راتوں کو (نماز کے لیے) جاگنا جب کہ لوگ سو رہے ہوں۔'
ایمان اور دعاؤں کا تذکرہ:
پھر اس نے مجھ سے (8) فرمایا: 'اے محمد! کیا رسول (9) ایمان لایا اس چیز پر جو اس کے رب کی طرف سے اس پر نازل کی گئی؟' میں نے کہا: 'ہاں، اے میرے رب!' فرمایا: 'اور؟' میں نے کہا: 'اور مؤمنین، سب ایمان لائے اللہ پر، اس کے فرشتوں پر، اس کی کتابوں پر، اس کے رسولوں پر، ہم اس کے رسولوں میں سے کسی ایک کے درمیان فرق نہیں کرتے جیسا کہ یہود و نصاریٰ نے فرق کیا۔' فرمایا: 'اور انہوں (مؤمنوں) (1) نے کیا کہا؟' میں نے کہا: 'انہوں نے کہا: ہم نے آپ کا قول سنا اور آپ کا حکم مانا۔' فرمایا: 'آپ نے سچ کہا۔ مانگو، تمہیں دیا جائے گا۔'
آپ ﷺ نے فرمایا: تو میں نے کہا: '(ہماری) مغفرت فرما اے ہمارے رب! اور تیری ہی طرف (سب کو) پلٹنا ہے۔' فرمایا: 'میں نے تمہاری اور تمہاری امت کی مغفرت کر دی۔ مانگو، تمہیں دیا جائے گا۔'
میں نے کہا: 'اے ہمارے رب! اگر ہم بھول جائیں یا خطا کریں تو ہماری گرفت نہ فرمانا۔' فرمایا: 'میں نے (خطا اور بھول) تم سے اور تمہاری امت سے اٹھا دی ہے (2) اور وہ چیز جس پر انہیں مجبور کیا گیا ہو۔'
میں نے کہا: 'اے ہمارے رب! اور ہم پر وہ بوجھ نہ ڈال جو تو نے ہم سے پہلے لوگوں پر ڈالا تھا۔' (یعنی یہود پر) فرمایا: 'یہ (رعایت) تمہارے اور تمہاری امت کے لیے ہے۔'
میں نے کہا: 'اے ہمارے رب! اور ہم پر وہ (بوجھ) نہ ڈال جس کی ہم میں طاقت نہیں۔' فرمایا: 'میں نے یہ تمہارے اور تمہاری امت کے لیے کر دیا۔'
میں نے کہا: '(اے ہمارے رب!) (3) اور ہمیں زلزلے (خسف) سے معاف فرما، اور ہمیں تہمت (قذف) سے بخش دے، اور ہم پر مسخ (صورت بگاڑنے) کی رحمت فرما۔ تو ہی ہمارا مالک ہے، پس ہمیں کافر قوم پر نصرت عطا فرما۔' فرمایا: 'میں نے یہ تمہارے اور تمہاری امت کے لیے کر دیا۔'
نبی کریم ﷺ کو عطا ہونے والے خاص فضائل:
پھر اس نے (4) مجھ سے فرمایا: 'مانگو، تمہیں دیا جائے گا (5)۔' تو میں نے کہا: 'اے میرے رب! بے شک تو نے ابراہیم (علیہ السلام) کو خلیل بنایا، موسیٰ (علیہ السلام) سے (براہِ راست) کلام کیا، ادریس (علیہ السلام) کو بلند مقام پر اٹھایا، سلیمان (علیہ السلام) کو عظیم بادشاہت دی، داؤد (علیہ السلام) کو زبور عطا فرمائی۔ تو میرے لیے کیا ہے اے میرے رب؟'
میرے رب (1) عزوجل نے فرمایا: 'اے محمد! میں نے تمہیں حبیب بنایا جیسا کہ میں نے ابراہیم (علیہ السلام) کو خلیل بنایا، اور میں نے تم سے (براہِ راست) کلام کیا جیسا کہ میں نے موسیٰ (علیہ السلام) سے کلام کیا۔ اور میں نے تمہیں فاتحۃ الکتاب اور سورہٴ بقرہ کے آخر میں دو آیات عطا کیں، اور وہ دونوں میرے عرش کے خزانوں میں سے ہیں، اور میں نے انہیں تم سے پہلے کسی نبی کو نہیں دیے (2)۔ اور میں نے تمہیں تمام اہلِ زمین کی طرف سفید و سیاہ، انسان و جن، سب کی طرف رسول بنا کر بھیجا، اور میں نے تم سے پہلے ان سب کی طرف (ایک ساتھ) کسی نبی کو نہیں بھیجا۔ اور میں نے تمام زمین خشکی و تری کو تمہارے اور تمہاری امت کے لیے پاک اور مسجد بنا دیا۔ اور میں نے تمہاری امت کو مالِ فئ (غیر مسلموں سے بغیر جنگ حاصل ہونے والی دولت) کھلایا، اور میں نے اسے تم سے پہلے کسی امت کو نہیں کھلایا۔ اور میں نے تمہیں ایک مہینے کی مسافت تک تمہارے دشمن پر رعب کے ذریعے نصرت دی۔ اور میں نے تم پر سردارِ کتب (قرآن) نازل کیا جو سب پر حاکم ہے، (یہ) قرآن ہے جسے ہم نے ٹکڑے ٹکڑے کیا۔ اور میں نے تمہارا ذکر بلند کیا یہاں تک کہ تمہارا ذکر میرے دین کے احکام کے ساتھ کیا جاتا ہے (یعنی نماز میں درود پڑھا جاتا ہے)۔ اور میں نے تمہیں تورات کی جگہ 'مثانی' (وہ سورتیں جن میں قصے اور احکام دہرائے جاتے ہیں) عطا کی، اور انجیل کی جگہ 'مئین' (تقریباً سو یا اس سے زیادہ آیات والی سورتیں) عطا کیں، اور زبور کی جگہ 'حوامیم' (حم سے شروع ہونے والی سورتیں) عطا کیں، اور 'مفصل' (چھوٹی سورتیں) کے ساتھ تمہیں فضیلت دی۔ اور میں نے تمہارا سینہ کھول دیا، اور تمہارا بوجھ ہلکا کر دیا، اور تمہارا ذکر بلند کیا۔ اور میں نے تمہاری امت کو بہترین امت بنایا جو لوگوں میں سے نکالی گئی، اور میں نے انہیں درمیانی (اعتدال پسند) امت بنایا (تاکہ وہ لوگوں پر گواہ ہوں) (3)۔ اور میں نے انہیں اول (یعنی سب سے بہتر) اور آخر (یعنی آخری زمانے میں آنے والی) بنایا۔ پس لے لو جو میں نے تمہیں دیا ہے اور شکر گزار بنو۔'
پچاس نمازوں کا حکم اور پانچ پر تخفیف:
پھر اس نے میرے لیے کچھ ایسے امور کی وضاحت فرمائی جن کی میرے لیے آپ لوگوں کو خبر دینے کی اجازت نہیں دی گئی (4)۔
پھر (5) میرے اور میری امت پر دن اور رات میں پچاس نمازیں فرض کی گئیں۔ پھر جب اس نے مجھے اپنا عہد سنایا اور مجھے اپنے پاس چھوڑ دیا جتنی اللہ نے چاہا (1)، پھر اس نے مجھ سے (2) فرمایا: 'اپنی قوم کی طرف واپس جاؤ اور انہیں میری طرف سے پہنچا دو۔'
پھر مجھے وہی سبز رفرف لے گیا جو میں پر تھا، وہ مجھے نیچے لے جاتا اور اوپر اٹھاتا یہاں تک کہ مجھے سدرۃ المنتہیٰ تک لے آیا۔ دیکھا تو جبرائیلؑ تھے، میں نے انہیں اپنے دل سے اپنے پیچھے دیکھا جیسا کہ میں انہیں اپنی آنکھوں سے اپنے سامنے دیکھتا تھا۔
جبرائیلؑ نے مجھ سے کہا: 'اے محمد! خوش ہو جاؤ، بے شک آپ اللہ کی مخلوق میں سب سے بہتر اور نبیوں میں برگزیدہ ہیں۔ اللہ عزوجل نے آپ کو ایسی حیاتِ طیبہ عطا فرمائی ہے جو اس نے اپنی مخلوق میں سے کسی کو نہیں دی، نہ کسی مقرب فرشتے کو اور نہ کسی مرسل نبی کو۔ اور بے شک اللہ نے آپ کو ایسے مقام پر پہنچایا ہے جہاں آسمانوں اور زمین والوں میں سے کوئی نہیں پہنچا۔ پس اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنی کرامت اور جو (آپ کو عطا کی) (4) برگزیدہ منزلت اور فائق کرامت پر مبارکباد دی۔ پس اسے شکر کے ساتھ قبول کیجیے، بے شک اللہ نعمت والا ہے (اس نے اپنے شکر کا نام) (5) رکھا ہے، وہ شکر گزاروں کو محبوب رکھتا ہے۔' تو میں نے اس پر اللہ تعالیٰ کی حمد کی۔
جنت اور دوزخ کا دیدار:
پھر جبرائیلؑ نے مجھ سے کہا: 'اے محمد! جنت کی طرف چلیے تاکہ میں آپ کو دکھاؤں کہ آپ کے لیے اس میں کیا ہے، تاکہ آپ کی دنیا میں بے رغبتی مزید بڑھ جائے اور آخرت کی رغبت مزید بڑھ جائے۔'
پھر ہم تیر اور ہوا سے بھی زیادہ تیزی سے گرتے ہوئے چلے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کے اذن سے ہم (6) جنت میں پہنچ گئے۔ میرا دل مطمئن ہو گیا اور میرا سینہ کھل گیا۔ اور میں نے جبرائیلؑ سے پوچھنا شروع کیا جو میں نے علیین (جنت کا اعلیٰ مقام) میں سمندروں، آگ، نور اور دوسری چیزوں کے بارے میں دیکھا تھا۔ انہوں نے کہا: 'سبحان اللہ! وہ رب العزت کے عرش کے پردے ہیں جنہوں نے اس کے عرش کو گھیر رکھا ہے (پس وہ مخلوق کے لیے حجاب کے نور اور عرش کے نور سے پردہ ہیں اور) (2) اگر ایسا نہ ہوتا تو عرش کا نور عرش کے نیچے اللہ کی مخلوق سے حجاب کے نور کو جلا دیتا (3)۔ اور جو تم نے نہیں دیکھا وہ زیادہ اور زیادہ تعجب خیز ہے۔'
میں نے کہا: 'سبحان اللہ العظیم! اس کی مخلوق کے عجائبات کتنی زیادہ ہیں۔'
میں نے کہا: 'اے جبرائیل! اور وہ فرشتے کون ہیں جنہیں میں نے ان سمندروں میں قطار در قطار دیکھا گویا وہ مضبوط دیوار ہیں؟' انہوں نے کہا: 'یا رسول اللہ! وہ روحانی (فرشتے) ہیں جن کے بارے میں اللہ عزوجل فرماتا ہے: {جس دن کھڑا ہوگا روح اور فرشتے صف باندھ کر} (نبأ:38)۔ اور ان میں سے (ایک) روح الاعظم ہے، پھر اس کے بعد اسرافیلؑ ہیں۔'
میں نے کہا: 'اے جبرائیل! اور وہ ایک صف کون سی ہے جو (5) سب سے اوپر والے سمندر میں تمام صفوں کے اوپر ہے جنہوں نے عرش کو گھیر رکھا ہے؟' انہوں نے کہا: 'یہ کروبیون ہیں، جو فرشتوں کے سردار اور عظیم ہیں۔ اور کوئی فرشتہ ان کروبیون کے (رتبے کے) فرشتے کی طرف دیکھنے کی جرات (6) نہیں کر سکتا (7)۔ اور وہ اس قدر عظیم الشان ہیں کہ میں ان کی صفت (8) آپ کے سامنے پیش کرنے کی طاقت نہیں رکھتا۔ اور جو آپ نے ان میں سے دیکھا وہ کافی ہے۔'
جنت کی سیر اور نعمتوں کا مشاہدہ:
پھر جبرائیلؑ نے اللہ عزوجل کے اذن سے مجھے جنت میں گھمایا، انہوں نے اس میں کوئی جگہ نہیں چھوڑی (1) جسے میں نے نہ دیکھا ہو اور جس کے بارے میں انہوں نے مجھے نہ بتایا ہو۔ میں نے موتی اور یاقوت اور زبرجد کے محلات دیکھے، اور میں نے سرخ سونے کے درخت دیکھے جن کے تختے موتی کے ہیں اور ان کی جڑیں چاندی کی ہیں جو کستوری میں جمی ہوئی ہیں۔ پس میں جنت میں ہر درجے، محل، گھر، غرفہ، خیمے اور پھل کو اپنے اس مسجد (مسجد نبوی) میں جو (چیز) ہے اس سے زیادہ پہچانتا ہوں (2)۔ اور میں نے ایک نہر دیکھی جو اس کی جڑ سے نکلتی ہے، اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ میٹھا ہے، جو موتی اور یاقوت اور خوشبودار کستوری کے ٹکڑوں پر بہہ رہا ہے۔ جبرائیلؑ نے کہا: 'یہ کوثر ہے جو اللہ عزوجل نے آپ کو عطا کیا ہے (3)۔ اور یہ تسنیم ہے جو عرش کے نیچے سے نکل کر ان کے گھروں، محلات، مکانوں اور غرفوں میں جاتی ہے، وہ اسے شہد، دودھ اور شراب میں ملاتے ہیں۔' اور یہی اس کے قول عزوجل کا مفہوم ہے: {ایسا چشمہ جس سے اللہ کے بندے پیتے ہیں، وہ اسے (جنت میں اپنی مرضی کے) مقامات پر پھاڑ نکالتے ہیں} (الدہر:6)۔
شجرۂ طوبیٰ:
پھر وہ مجھے لے کر جنت میں گھومنے لگے یہاں تک کہ ہم ایک ایسے درخت پر پہنچے جیسا میں نے جنت میں نہیں دیکھا تھا۔ جب میں اس کے نیچے کھڑا ہوا تو میں نے اپنا سر اٹھایا، تو میں نے اپنے رب عزوجل کی مخلوق میں سے اس کے سوا کچھ نہیں جانا اس کی عظمت اور اس کی شاخوں کے پھیلاؤ کی وجہ سے۔ اور میں نے اس میں ایک خوشبو دار ہوا پائی جو میں نے جنت میں نہیں سونگھی تھی۔ میں نے اس میں اپنی نظر دوڑائی، تو اس کے پتے جنت کے کپڑوں کے نئے نئے جوڑے تھے (1) جو (2) سفید، سرخ، زرد اور سبز کے درمیان تھے۔ اور اس کے پھل بڑے بڑے مٹکوں کی مانند تھے (3) جو (4) ہر پھل سے تھے جو اللہ عزوجل نے آسمانوں اور زمین میں پیدا کیا ہے، مختلف رنگوں، مختلف ذائقوں (5) اور مختلف خوشبوؤں والے۔ تو میں اس درخت اور اس کی خوبصورتی سے حیران ہوا۔ میں نے کہا: 'اے جبرائیل! یہ کون سا درخت ہے؟' انہوں نے کہا: 'یہ وہ درخت ہے (6) جس کا ذکر اللہ سبحانہ (7) نے کیا ہے: {ان کے لیے طوبیٰ (بہتری) ہے اور اچھا ٹھکانا} (الرعد:29)۔ اور آپ کی امت اور آپ کے گروہ میں سے بہت سے لوگوں کے لیے اس کے سایے میں اچھی آرام گاہ اور طویل نعمت ہے۔'
دوزخ کے بعض عذابوں کا مشاہدہ:
پھر مجھ پر دوزخ پیش کی گئی یہاں تک کہ میں نے اس کی بیڑیاں، زنجیریں، سانپ، بچھو، پیپ، (کھولتا ہوا پانی، اور) (2) سیاہ دھواں دیکھا۔ پھر میں نے دیکھا تو میں (3) ایک قوم کے پاس تھا جن کے ہونٹ اونٹ کے ہونٹوں کی طرح تھے۔ ان میں سے ہر ایک کے پاس کوئی (فرشتہ) ہے جو ان کے ہونٹوں کو پکڑتا ہے پھر ان کے منہ میں آگ کا پتھر ڈالتا ہے جو ان کے نچلے حصے سے نکلتا ہے۔ میں نے پوچھا: 'اے جبرائیل! یہ کون ہیں؟' انہوں نے کہا: 'یہ وہ لوگ ہیں جو یتیموں کے مال ناحق کھاتے ہیں (5)۔'
پھر میں چلا، تو (میں ایک قوم کے پاس) (6) پہنچا جن کے پیٹ ایسے تھے جیسے گھر ہوں اور وہ آلِ فرعون کی گذرگاہ پر (7) تھے۔ پھر جب ان کے پاس سے آلِ فرعون گزرتے تو وہ اٹھ کھڑے ہوتے تو ان میں سے کسی کا پیٹ اسے (8) جھکا دیتا تو وہ گر جاتا اور آلِ فرعون انہیں اپنے پاؤں تلے روندتے اور وہ صبح و شام دوزخ کی آگ پر پیش کیے جا رہے تھے۔ میں نے پوچھا: 'یہ کون ہیں اے جبرائیل؟' انہوں نے کہا: 'یہ سود کھانے والے ہیں، پس ان کی مثال اس شخص جیسی ہے جسے شیطان چھوت کے ذریعے پاگل کر دیتا ہے۔'
زناکار اور اولاد کش عورتیں:
پھر ہم چلے (1) تو میں نے کچھ عورتیں دیکھیں جنہیں ان کے پستانوں سے لٹکایا گیا تھا اور ان کے پیروں کے بل الٹا لٹکایا گیا تھا۔ میں نے پوچھا: 'یہ کون ہیں اے جبرائیل؟' انہوں نے کہا: 'یہ وہ ہیں (2) جو زنا کرتی ہیں اور اپنی اولاد کو قتل کرتی ہیں۔'
پانچ نمازوں کا حکم اور تخفیف کا واقعہ:
پھر (ہم دوزخ سے نکلے) (3) اور ہم آسمانوں سے اترتے ہوئے گزرے، ایک آسمان سے دوسرے آسمان تک یہاں تک کہ (4) میں موسیٰؑ کے پاس پہنچا۔ انہوں نے مجھ سے کہا: 'اللہ نے آپ پر اور آپ کی امت پر کیا فرض کیا ہے؟' میں نے کہا: 'پچاس نمازیں۔' موسیٰؑ نے کہا: 'میں لوگوں کو آپ سے زیادہ جانتا ہوں۔ میں نے بنی اسرائیل کو آزمایا اور ان کے ساتھ بہت سختی سے پیش آیا۔ اور بے شک آپ کی امت کمزور ترین امت ہے۔ پس اپنے رب کی طرف واپس جائیے اور اس سے تخفیف مانگیے (آپ کے لیے اور) (5) آپ کی امت کے لیے، بے شک آپ کی امت اس کی (6) طاقت نہیں رکھتی۔'
پس میں اپنے رب عزوجل کی طرف واپس گیا (اور بعض روایات میں ہے: میں واپس گیا تو میں سدرۃ المنتہیٰ پر آیا) اور میں سجدے میں گر گیا۔ میں نے کہا: 'اے میرے رب! تو نے مجھ پر اور میری امت پر پچاس نمازیں فرض کی ہیں اور نہ میں انہیں ادا کر سکوں گا (7) نہ میری امت (تو مجھ سے تخفیف فرما) (8)۔' تو اس نے مجھ سے دس کم کر دیں۔
پھر میں موسیٰؑ کی طرف واپس آیا، انہوں نے مجھ سے پوچھا تو میں نے کہا: '(9) اس نے مجھ سے دس کم کر دی ہیں۔' انہوں نے کہا: 'اپنے رب کی طرف واپس جائیے اور اس سے تخفیف مانگیے، بے شک آپ کی امت کمزور ترین امت ہے (اور بے شک میں نے بنی اسرائیل سے) (1) سخت مصیبت پائی ہے۔'
آپ ﷺ نے فرمایا: پس میں واپس گیا تو اس نے انہیں (نمازوں کو) (2) تیس کر دیا۔
آپ ﷺ نے (3) فرمایا: پھر میں اپنے رب اور موسیٰؑ کے درمیان برابر آتا جاتا رہا یہاں تک کہ اس نے انہیں پانچ نمازیں کر دیں۔ پھر میں (4) موسیٰؑ کے پاس آیا، تو انہوں نے کہا: 'اپنے رب کی طرف واپس جائیے اور اس سے تخفیف مانگیے۔' میں نے کہا: 'بے شک میں (5) اپنے رب کی طرف واپس جا چکا ہوں یہاں تک کہ میں اس سے شرمندہ ہو گیا ہوں (6)، اور میں اس کی طرف واپس نہیں جاؤں گا (7)۔'
پھر (آواز آئی) کہ: 'بے شک میں نے جس دن آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا، میں نے تم پر اور تمہاری امت پر پچاس نمازیں فرض کیں، پس میرا قول میرے ہاں بدلا نہیں جاتا۔ پس پانچ (9) پچاس کے بدلے ہیں۔ پس تم اور تمہاری امت انہیں ادا کرو۔ بے شک میں نے اپنی فرضیت کو نافذ کر دیا ہے اور اپنے بندوں سے تخفیف کر دی ہے (10)، اور میں نیکی کا بدلہ دس گنا دیتا ہوں، پس ہر نماز دس نمازوں کے برابر ہے۔'
آپ ﷺ نے فرمایا: محمد ﷺ نے بہت زیادہ رضا مندی ظاہر کی۔ اور موسیٰؑ اس وقت ان پر سب سے زیادہ سخت تھے جب آپ ﷺ ان کے پاس سے گزرے تھے، اور (تخفیف کے لیے مشورہ دینے میں) ان کے لیے سب سے بہتر تھے جب آپ ﷺ ان کی طرف واپس آئے۔
واپسی اور امتیازی فضیلت:
پھر میں اپنے ساتھی اور بھائی جبرائیلؑ کے ساتھ لوٹا، نہ وہ مجھ سے آگے نکلتے نہ میں ان سے، یہاں تک کہ انہوں نے مجھے میرے بستر پر واپس پہنچا دیا۔ اور یہ سب کچھ تمہاری انہی راتوں میں سے ایک رات میں ہوا۔
'پس میں اولادِ آدم کا سردار ہوں، اور میں فخر نہیں کرتا۔ اور قیامت کے دن میری ہاتھ میں لوائے حمد ہوگا، اور میں فخر نہیں کرتا۔ اور قیامت کے دن جنت کی کنجی میرے پاس ہوگی، اور میں فخر نہیں کرتا۔ اور میں قریب ہی میں (دنیا سے) اٹھا لیا جاؤں گا، اس کے بعد جو میں نے اللہ کی بڑی نشانیاں دیکھی ہیں۔ اور مجھے اپنے رب عزوجل سے ملنے اور اس سے جا ملنے اور اپنے بھائیوں سے ملنے اور جو میں نے اللہ تعالیٰ کے ولیوں کے لیے ثواب دیکھا ہے، اس سے ملنے کا شوق ہے۔ اور جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہ بہتر اور باقی رہنے والا ہے۔'
مکہ واپسی اور واقعہ سنانے پر لوگوں کا ردِ عمل:
انہوں (صحابہ) نے کہا: پھر جب رسول اللہ ﷺ اس رات واپس آئے جس میں آپ کی سیر کرائی گئی تھی اور آپ 'ذی طویٰ' (مکہ کے قریب ایک مقام) میں تھے، تو آپ ﷺ نے (جبیریلؑ سے) فرمایا: 'اے جبرائیل! میری قوم مجھے سچ نہیں مانے گی۔' انہوں نے کہا: 'آپ کو ابوبکر سچ مان لیں گے، اور وہ صدیق ہیں۔' (اور اللہ ان سے راضی ہوا) (5)۔
ابو جہل اور قریش کا سوال:
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما (6) اور عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا (کہ رسول اللہ ﷺ نے) (7) فرمایا: 'جب وہ رات آئی جس میں میری سیر کرائی گئی اور میں صبح کو مکہ میں تھا تو میں نے اپنے معاملے کو (لوگوں پر بیان کرنا) مشکل جانا اور میں جان گیا کہ لوگ مجھے جھٹلانے والے ہیں۔' آپ ﷺ نے فرمایا: پھر رسول اللہ ﷺ غمگین ہو کر علیحدہ بیٹھ گئے۔ اللہ کے دشمن ابو جہل آپ کے پاس سے گزرے تو وہ آپ کے پاس آئے اور آپ کے پاس بیٹھ گئے، پھر آپ سے مذاق کرتے ہوئے (1) کہا: 'کیا کوئی (نئی) بات ہوئی ہے (2)؟' آپ ﷺ نے فرمایا: 'ہاں، بے شک مجھے آج رات سیر کرائی گئی۔' اس نے کہا: 'کہاں؟' آپ ﷺ نے فرمایا: 'بیت المقدس۔' اس نے کہا: 'پھر آپ صبح کو ہمارے درمیان (3) آ گئے؟' آپ ﷺ نے فرمایا: 'ہاں۔' تو ابو جہل نے (4) بات کو جھٹلانا مناسب نہ سمجھا، اس ڈر سے کہ (اگر وہ اسے جھٹلائے گا تو بعد میں) آپ ﷺ بات سے انکار کر دیں گے (5)۔ اس نے کہا: 'کیا آپ اپنی قوم کو وہی بات سنائیں گے جو آپ نے مجھے سنائی ہے؟' آپ ﷺ نے فرمایا: 'ہاں۔' ابو جہل بولا: 'اے بنو کعب بن لؤی کے لوگو! ادھر آؤ (6)۔' آپ ﷺ نے فرمایا: تو مجلسوں کے لوگ ٹوٹ پڑے یہاں تک کہ وہ ان دونوں کے پاس آ کر بیٹھ گئے۔ ابو جہل نے (7) کہا: 'اپنی قوم کو وہ بات سنائیے جو آپ نے مجھے سنائی ہے (8)۔' آپ ﷺ نے فرمایا: 'ہاں، بے شک مجھے (9) آج رات سیر کرائی گئی۔' انہوں نے کہا: 'کہاں؟' آپ ﷺ نے فرمایا: 'بیت المقدس۔' انہوں نے کہا: 'پھر آپ صبح کو ہمارے درمیان (10) آ گئے؟' آپ ﷺ نے فرمایا: 'ہاں۔' آپ ﷺ نے فرمایا: تو کوئی تالیاں بجانے لگا، اور کوئی اپنا ہاتھ (11) اپنے سر پر رکھ لیا، جھوٹ پر تعجب کرتے ہوئے (12)۔ اور کچھ لوگ جو آپ ﷺ پر ایمان لائے تھے اور آپ کی تصدیق کرتے تھے، مرتد ہو گئے۔
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی تصدیق:
اور مشرکین میں سے کچھ لوگ ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس دوڑے اور کہا: 'آپ کے صاحب (محمد ﷺ) کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے جو دعویٰ کرتے ہیں کہ انہیں آج رات بیت المقدس سیر کرایا گیا؟' انہوں نے کہا: 'کیا انہوں نے یہ کہا ہے (1)؟' انہوں نے کہا: 'ہاں۔' انہوں نے کہا: 'اگر انہوں نے یہ کہا ہے تو انہوں نے سچ کہا ہے۔' انہوں نے کہا: 'اور کیا آپ ان کی اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ وہ ایک رات میں بیت المقدس گئے اور صبح ہونے سے پہلے واپس آ گئے؟' انہوں نے کہا: 'بے شک میں ان کی اس بات کی تصدیق کرتا ہوں جو اس سے بھی زیادہ بعید ہے، میں ان کی اس بات کی تصدیق کرتا ہوں جو آسمان کی خبر ان کے پاس آتی ہے صبح (یا شام) (3) کو۔' اس وجہ سے ابوبکر رضی اللہ عنہ 'صدیق' کہلائے۔
مسجد اقصیٰ کی تفصیلات اور قریش کے سوالات:
آپ ﷺ نے فرمایا: اور ان لوگوں میں سے کچھ ایسے تھے جو وہاں (بیت المقدس) سفر کر چکے تھے (4)، اور کچھ ایسے تھے جو مسجد (اقصیٰ) میں آ چکے تھے۔ انہوں نے کہا: 'کیا آپ ہمارے لیے مسجد (کی تفصیل) ثابت کر سکتے ہیں؟' آپ ﷺ نے فرمایا: 'ہاں۔' آپ ﷺ نے فرمایا: 'تو میں (مسجد کی) صفت بیان کرنے لگا اور صفت بیان کرتا رہا، یہاں تک کہ میں الجھن میں پڑ گیا (5)۔' پھر آپ ﷺ نے فرمایا: 'پھر مسجد (اقصیٰ) لائی گئی اور میں اسے دیکھ رہا تھا یہاں تک کہ اسے دار عقیل کے سامنے رکھ دیا گیا، پھر میں مسجد کی صفت بیان کرتا رہا اور میں اسے دیکھ رہا تھا۔' تو ان لوگوں نے کہا: 'رہی صفت (کی بات)، تو اللہ کی قسم! آپ نے اس میں صحیح بتایا ہے (6)۔'
قریش کی تجارتی قافلوں کے بارے میں پیشین گوئی:
پھر انہوں نے کہا: (اے محمد! پھر) (7) ہمیں اپنے تجارتی قافلے کے بارے میں بتائیے، وہ ہمارے لیے آپ کے قول سے زیادہ اہم ہے۔ کیا آپ نے اس میں سے کوئی چیز دیکھی ہے؟' آپ ﷺ نے فرمایا: 'ہاں، میں بنو فلاں کے قافلے کے پاس سے گزرا، اور وہ 'روحاء' (1) میں تھا۔ اور ان کا ایک اونٹ گم ہو گیا تھا اور وہ اس کی تلاش میں تھے، اور ان کے سامان میں پانی کا ایک پیالہ تھا۔ میں پیاسا تھا تو میں نے اسے لیا اور پانی پی لیا، پھر اسے ویسے ہی رکھ دیا جیسا تھا۔ پس ان سے پوچھو (2) کہ جب وہ پیالے پر واپس آئے تو انہیں اس میں پانی ملا تھا؟' انہوں نے کہا: 'یہ ایک نشانی ہے۔'
آپ ﷺ نے فرمایا: 'اور میں بنو فلاں کے قافلے کے پاس سے گزرا، اور فلاں اور فلاں (دو افراد) 'ذی مر' میں ایک اونٹنی پر سوار تھے۔ ان کی اونٹنی بدک گئی تو اس نے فلاں کو پھینک دیا (4) تو ان کا ہاتھ ٹوٹ گیا۔' ان دونوں سے اس کے بارے میں پوچھا گیا۔ انہوں نے کہا: 'اور یہ دوسری نشانی ہے (5)۔'
انہوں نے کہا: 'پھر ہمیں اپنے (اپنے) قافلے کے بارے میں بتائیے۔' آپ ﷺ نے فرمایا: 'میں اس کے پاس سے 'تنعیم' میں گزرا تھا۔' انہوں نے کہا: 'پھر اس کی تعداد، اس کے اسباب اور اس کی ہیئت کیا تھی؟' آپ ﷺ نے فرمایا: 'میں اس سے مشغول تھا۔' پھر آپ ﷺ کے لیے اس کا نمونہ اس کی تعداد، اسباب، ہیئت اور اس میں موجود افراد کے ساتھ 'حزورہ' (6) (مکہ کی ایک جگہ) میں پیش کیا گیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: 'ہاں (1) اس کی ہیئت ایسی اور ایسی ہے، اور اس میں فلاں اور فلاں ہے، اس کی قیادت ایک خاکی رنگ کے اونٹ کر رہا ہے جس پر دو سیے ہوئے کجاوے ہیں، وہ تمہارے پاس سورج نکلتے وقت آ رہا ہوگا۔' انہوں نے کہا: 'اور یہ ایک اور نشانی ہے (2)۔'
قریش کا قافلہ دیکھنا اور انکار:
پھر (مشرک نکلے) (3) پہاڑی کی طرف دوڑتے ہوئے اور کہتے ہوئے: 'اللہ کی قسم! محمد نے بہت سی چیزیں بیان کر دی ہیں اور انہیں واضح کر دیا ہے (4)۔' یہاں تک کہ وہ 'کداء' (5) پہنچے اور اس پر بیٹھ گئے۔ وہ انتظار کرنے لگے کہ سورج کب نکلے گا تاکہ وہ آپ ﷺ کو جھٹلا سکیں۔ اچانک ان میں سے ایک نے کہا: 'اللہ کی قسم! یہ سورج (نکل آیا ہے) (6)۔' اور دوسرے (7) نے کہا: 'یہ اللہ کی قسم! وہ اونٹ ہیں جو نکل آئے ہیں، ان کی قیادت ایک خاکی رنگ کا اونٹ کر رہا ہے، اس میں فلاں اور فلاں ہے،' جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے ان سے (8) کہا تھا۔ پھر بھی انہوں نے ایمان نہیں لایا اور فلاح نہیں پائی، اور کہا: 'ہم نے (ایسی بات) (9) کبھی نہیں سنی، یہ تو کھلا جادو ہے۔'
اختتام اور ایک اہم سوال کا جواب:
معراج کا اختتام (اللہ کے فضل و مدد سے) (1)۔
سوال: اگر کوئی پوچھے کہ اللہ تعالیٰ نے تو فرمایا: {اپنے بندے کو راتوں رات مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک سیر کرایا} (بنی اسرائیل:1)، پھر تم کیوں کہتے ہو کہ انہیں آسمان کی طرف سیر کرائی گئی؟
جواب: (یہ کہا جائے گا کہ) (3) اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {اپنے بندے کو راتوں رات مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک سیر کرایا} کیونکہ معراج کے معاملے کا آغاز اسراء (یعنی زمینی سفر) تھا (5)، اور اعراج (آسمان پر چڑھنا) اسراء کے بعد تھا۔ اور (رسول اللہ ﷺ نے اس کی) خبر دی (6) اور وہ سچے اور سچائی پر مامور ہیں۔
حکمت: اور اس میں حکمت -اور اللہ بہتر جانتا ہے- یہ ہے کہ اگر آپ ﷺ ابتدا ہی میں آسمان پر چڑھنے کی خبر دیتے تو ان کا انکار شدید ہوتا اور یہ بات ان کے دلوں میں بہت بڑی ہوتی اور وہ آپ کی تصدیق نہ کرتے۔ پس آپ ﷺ نے آغاز میں بیت المقدس کی خبر دی، پھر جب وہ بات ان کے دلوں میں جگہ پا گئی اور ان پر آپ کی صداقت واضح ہو گئی اور آپ کے لیے دلیل قائم ہو گئی، تو آپ ﷺ نے اعلیٰ آسمان (8)، سدرۃ المنتہیٰ اور قربت کی خبر دی یہاں تک کہ آپ قریب ہوئے پھر اور قریب ہوئے، {پس (فاصلہ) دو کمانوں کے برابر رہ گیا یا اس سے بھی کم} (النجم:9)۔ (یہ سب) آپ ﷺ کے اس قول سے ہے: {قسم ہے ستارے کی جب وہ گرے} (النجم:1)۔
---
---
اسباق و نکات:
یہ طویل روایت درج ذیل اہم اسلامی تعلیمات اور عقائد پر روشنی ڈالتی ہے:
عقیدہ اور ایمانیات کے اسباق:
1. معجزہٴ اسراء و معراج: یہ واقعہ نبی کریم ﷺ کا ایک عظیم معجزہ اور آپ کی نبوت کی ایک زندہ دلیل ہے، جس کا انکار کفر کے قریب ہے۔
2. اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ: اللہ تعالیٰ اپنے بندے کو ایک رات میں مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ اور پھر آسمانوں کی سیر کرانا اور واپس لانا، اس کی لا محدود قدرت پر دلالت کرتا ہے۔
3. ملائکہ کا وجود: جبرائیل، میکائیل، اسرافیل، ملک الموت، مالک (دوزخ کا داروغہ) اور دیگر فرشتوں کے بارے میں تفصیلات ملائکہ کے عقیدے کو مضبوط کرتی ہیں۔
4. جنت و دوزخ کا حقیقی وجود: جنت کی نعمتوں اور دوزخ کے عذابوں کی تفصیلی منظر کشی آخرت کے یقین کو تازہ کرتی ہے۔
5. انبیاء علیہم السلام کا باہمی تکریم و احترام: تمام انبیاء کا ایک دوسرے کی فضیلت کا اعتراف اور نبی کریم ﷺ کی تمام انبیاء پر فضیلت ثابت ہوتی ہے۔
6. خاتم النبیین: آپ ﷺ کی آخری نبی ہونے کی شہادت اور آپ کی امت کو 'خیر امت' اور 'امت وسط' ہونے کا اعزاز ملنا۔
عبادات اور احکام کے اسباق:
1. نمازوں کی فرضیت: پانچ وقت کی نمازوں کا حکم براہِ راست اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا ہوا، جو ان کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔ پچاس سے پانچ پر تخفیف اللہ کی رحمت و شفقت کی عظیم نشانی ہے۔
2. نماز کی فضیلت: نماز ترک کرنے والوں کے لیے آخرت میں سخت عذاب کی وعید ہے۔
3. وضو کی اہمیت: 'اسباغ الوضوء' یعنی اعضاء کو اچھی طرح دھونا درجات بلند کرنے کا ذریعہ ہے۔
4. جماعت اور مسجد کی رغبت: پیدل چل کر جماعت میں نماز پڑھنے کی ترغیب۔
5. زکوٰۃ کی فرضیت: زکوٰۃ نہ دینے والوں کے لیے وعید۔
اخلاقیات اور سماجی اسباق:
1. دنیا کی بے ثباتی اور فریب: دنیا کی شکل میں آزمائش اور اس سے بچنے کی تلقین۔
2. فطرتِ سلیمہ کی حفاظت: دودھ (پاکیزہ چیز) کے انتخاب اور شراب (ناپاک چیز) کے ترک کو فطرتِ سلیمہ سے تعبیر کیا گیا۔
3. جہاد فی سبیل اللہ کی فضیلت: جہاد کرنے والوں کے لیے نیکیوں کا سات سو گنا تک بڑھنا۔
4. زنا، سود، یتیم کا مال کھانا، قتلِ اولاد جیسے کبیرہ گناہوں کی سزا: ان گناہوں کے مرتکبین کے لیے دوزخ میں مختلف اقسام کے عذاب کی نشاندہی۔
5. زبان کی حفاظت: بے احتیاطی سے کہی گئی بات پر ندامت اور اسے واپس نہ لے سکنے کی مثال (ثور والی تمثیل)۔
6. امانت داری: امانت میں خیانت نہ کرنا۔
7. لوگوں کو راستے پر تنگ نہ کرنا: راستے بیٹھ کر لوگوں کو تکلیف دینے کی مذمت۔
8. صلہ رحمی اور اعزہ و اقارب کے ساتھ حسن سلوک: اس کی ترغیب ملتی ہے۔
سیرت و فضائل کے اسباق:
1. حضرت محمد ﷺ کی امتیازی فضیلت: آپ ﷺ کو 'سید ولد آدم'، 'حبیب اللہ'، 'خاتم النبیین'، 'شافع مشفع' ہونے کا اعزاز۔
2. حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی فضیلت: سب سے پہلے بلا تردد تصدیق کرنے پر 'صدیق' کا لقب۔
3. آزمائشوں میں ثابت قدمی: دائیں بائیں (یہود و نصاریٰ) کی طرف بلانے والی آوازوں اور دنیا کی طرف بلانے والی عورت (آزمائش) سے عدم التفات۔
یہ روایت مسلمان کے عقیدے، عبادت، اخلاق اور سماجی زندگی کے ہر پہلو کو روشن کرتی ہے اور اسے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے قرب کا طالب بناتی ہے۔
روحوں کا ٹھکانہ:
(مسلم، باب بیان ارواح الشھداء فی الجنۃ، حدیث نمبر:۳۵۰۰۔ وترائی اھل الجنۃ اھل الغرف، حدیث نمبر:۳۶۹۶)
اللہ کے خوف سے جبرئیل کی حالت
(مسلم
شریف از حضرت انسؓ)
[صحيح البخاري:5226، صحيح مسلم:2394، صحيح ابن حبان:6886]
- تحیۃ الوضو کی عظمت: یہ حدیث وضو کے فوراً بعد دو رکعت نماز (تحیۃ الوضو) پڑھنے کی بہت بڑی فضیلت اور اس کے اجر عظیم پر دلالت کرتی ہے۔ یہ اتنا عظیم عمل ہے کہ اس کی وجہ سے بلال رضی اللہ عنہ جنت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب ترین مقام کے حقدار ٹھہرے۔
- عبادت میں دوام اور مداومت کی اہمیت: بلال رضی اللہ عنہ کی عظمت کا راز صرف ایک عمل نہیں، بلکہ اس عمل پر ہمیشگی اور مداومت تھی۔ ہر وضو کے بعد نماز پڑھنا ان کا مستقل معمول بن گیا تھا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ چھوٹے عمل کو بھی اگر پابندی سے کیا جائے تو وہ بڑے سے بڑے عمل پر بھاری ہو سکتا ہے۔
- طہارت و پاکیزگی کی محبت: بلال رضی اللہ عنہ کا ہر حدث (وضو ٹوٹنے) کے بعد فوراً وضو کر لینا، ان کے دل میں طہارت اور پاکیزگی کی محبت اور احساس کو ظاہر کرتا ہے۔ وہ ہر وقت باوضو رہنے کی کوشش کرتے تھے۔
- انبیاء کے خواب حقیقت ہوتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آپ نے یہ خواب دیکھا۔ اس سے ثابت ہوا کہ انبیاء کے خواب سچے ہوتے ہیں اور وحی کی ایک قسم ہیں۔ اس خواب کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے بلال رضی اللہ عنہ کے بلند مقام کی خوشخبری دی۔
- بلال رضی اللہ عنہ کی فضیلت و قرب: یہ حدیث حضرت بلال رضی اللہ عنہ کے جلیل القدر صحابی ہونے، ان کے عظیم مقام اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کے قرب خاص کی واضح دلیل ہے۔ "جوتے کی آہٹ" کا ذکر انتہائی قربت اور پیروی کی علامت ہے۔
- اعمال اور رحمت میں توازن: شارح (ابن حجر) کے حاشیے (نمبر 9) میں ایک اہم عقیدتی نکتہ واضح کیا گیا ہے کہ جنت میں داخلہ دراصل اللہ کی رحمت سے ہے، لیکن درجات کا تعین انسان کے اعمال کے مطابق ہوتا ہے۔ اس لیے حدیث میں عمل کو درجات بلند کرنے کا سبب بتایا گیا ہے۔
- ہر وضو کے بعد دو رکعت سنت (تحیۃ الوضو) پڑھنے کی عادت بنائیں۔
- کسی بھی نیک عمل کو معمول بنانے کی کوشش کریں، خواہ وہ چھوٹا ہی کیوں نہ ہو۔
- ہمیشہ باوضو رہنے کی کوشش کریں۔
- سنتوں اور نوافل کو معمول بنانے کی کوشش کریں، کیونکہ یہی اعمال آخرت میں بلند درجات کا باعث بنتے ہیں۔
- صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے طرز عمل سے محبت اور ان کی فضیلت کا اعتراف کریں۔
- تحیۃ الوضو (وضو کے بعد کی دو رکعت نماز) کی فضیلت: یہ حدیث وضو کے فوراً بعد دو رکعت نماز پڑھنے کی عظیم فضیلت اور اس کے اجر پر روشنی ڈالتی ہے۔ یہ عمل جنت میں بلند درجات حاصل کرنے کا ذریعہ ہے۔
- نوافل کا اثر: یہ حدیث اس بات کی واضح دلیل ہے کہ نفل عبادات (واجب کے علاوہ کیے جانے والے اعمال) بندے کو اللہ کے ہاں کس قدر مقرب کر دیتے ہیں، یہاں تک کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی آگے نکل سکتے ہیں۔ اس سے نوافل کی اہمیت اور ان کے ذریعے قرب الٰہی حاصل کرنے کی ترغیب ملتی ہے۔
- بلال رضی اللہ عنہ کی عبادت گزاری: حضرت بلال رضی اللہ عنہ کی یہ عادت ان کی دائمی طہارت اور عبادت کے ساتھ گہری وابستگی کو ظاہر کرتی ہے۔ وضو کرنا اور پھر اس وضو کی برکت سے فوراً نماز پڑھ لینا ان کا معمول تھا۔
- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا تواضع اور تعلیمی اسلوب: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنے صحابی سے یہ پوچھنا کہ "تم مجھ سے جنت میں کیسے آگے نکل گئے؟" آپ کے بے پناہ تواضع اور تعلیم دینے کے مؤثر اسلوب کو ظاہر کرتا ہے۔ آپ نے براہ راست حکم دینے کے بجائے، سوال کے ذریعے ایک عظیم عمل کی طرف رہنمائی فرمائی تاکہ امت اس کی اہمیت کو سمجھ سکے۔
- جنت میں بلند مقام کی خوشخبری: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان "بِهَا" (اسی وجہ سے) درحقیقت حضرت بلال رضی اللہ عنہ کے لیے جنت میں بلند مقام کی تصدیق اور خوشخبری ہے۔
- ہمیں چاہیے کہ ہر وضو کے بعد تحیۃ الوضو (دو رکعت نماز) پڑھنے کی پابندی کریں۔
- ہمیشہ باوضو رہنے کی کوشش کریں۔
- نوافل اور سنتوں کو معمول بنائیں، کیونکہ یہی اعمال ہمیں جنت کے اعلیٰ مقامات تک پہنچاتے ہیں۔
- بڑے سے بڑے عبادت گزار ہونے کے باوجود تواضع اور علم حاصل کرنے کا جذبہ رکھیں، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ ہے۔
شب برات اور معراج كا روزہ ركھنا
شبِ قدر افضل ہے یا شب ِمعراج؟
معراجِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم غم کا مداویٰ و مرتبے کی بلندی
دلائل نبوت
رسالت محمدی برحق ہے، اس پر ایمان لانا اسلام کے بنیادی عقائد میں سے ہے، جس کو باری تعالیٰ نے بہت ہی عظیم الشان طریقے پر ذکر فرمایا ہے، وَمَا یَنطق عن الہویٰ انْ ہُوَ الاَّ وحی یوحیٰ اور دوسری جگہ ارشاد ہے ما آتاکم الرّسولُ فخذوہ وما نہاکم عنہ فانتہوا واتقو اللّٰہ ، چنانچہ سیرت کے بہت سے واقعات سید المرسلین محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کی دلیلیں بھی ہیں، اور آپ کے معجزات میں سے بھی ہیں، جیسے معجزہ شق القمر، کنکریوں کا کلمہ پڑھنا وغیرہ۔ اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جسمانی معراج یعنی رات کے چند لمحات کے اندر ساتوں آسمان کا سفر کرکے سدرة المنتہیٰ کے پاس تشریف لیجانا، باری تعالیٰ سے ہم کلام ہونا، بار بار کی تخفیف کے بعد امت کیلئے پانچ وقت کی نماز کا تحفہ لے کر چند لمحات میں بیت ام ہانی کے اندر واپس تشریف لانا، ارشاد باری ہے، سُبْحٰنَ الذیْ أَسْریٰ بعَبْدہ لَیْلاً مّنَ المسْجد الحرام الی المسجد الأقصیٰ o الذی بارکنا حولہ لِنریہ من آیاتنا انّہ ہُو السمیع البصیر (سورہ بنی اسرائیل، آیت:۱-۲) ترجمہ : پاک ہے وہ ذات جس نے اپنے خاص بندہ یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو رات کے ایک قلیل حصہ میں مسجدحرام سے مسجد اقصیٰ تک لے گیا، (جس سے اصل مقصود یہ تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو آسمانوں کی سیر کرائیں اور وہاں کی) خاص خاص نشانیاں آپ کو دکھلائیں (جن کاکچھ ذکر سورة النجم میں فرمایا ہے کہ آپ سدرة المنتہیٰ تک تشریف لے گئے اور وہاں جنت و جہنم اور دیگر عجائباتِ قدرت کا مشاہدہ فرمایا) تحقیق کہ اصل سننے والا اور اصل دیکھنے والا حق تعالیٰ ہے۔ (وہی جس کو چاہتا ہے اپنی قدرت کے نشانات دکھلاتا ہے اور پھر وہ بندہ اللہ کی تبصیر سے دیکھتا ہے اور اللہ کے اسماع سے سنتا ہے۔
تبلیغ و دعوت اور رنج و غم کے لمحات
نبوت ملنے کے بعد حکم ہوا ”یا أیہا الرسول بلغ ما أنزل الیکَ من ربکَ وان لم تفْعَل فما بلغت رسالتہ“ (المائدہ)
ترجمہ: اے رسول صلی اللہ علیہ وسلم آپ وہ (پیغام لوگوں تک) پہنچادیجئے جو آپ کے پاس آپ کے رب کی طرف سے نازل کیاگیا، اور اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا نہیں کیا تو (گویا کہ) آپ نے اپنے رب کا پیغام لوگوں تک نہیں پہنچایا۔
چنانچہ بعثت کے بعد تین سال تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم خفیہ طریقہ پر دین اسلام کی تبلیغ کرتے رہے، اور لوگ آہستہ آہستہ اسلام میں داخل ہوتے رہے، تین سال کے بعد یہ حکم نازل ہوا فَاصْدَعْ بمَا تُوٴمَرُ وَأَعْرِضْ عَنِ الْمُشرکین (سورہ الحجر)
ترجمہ: جس بات کا آپ کو حکم دیاگیا ہے، اس کا صاف صاف اعلان کردیجئے، اور مشرکین کی پروانہ کیجئے۔
چنانچہ کوہ صفا پر چڑھ کر آپ نے احکام الٰہی کو لوگوں تک پہنچایا، اور اعلانیہ دعوت کا کام شروع کردیا، اِدھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعوت کا کام شروع کیا، اور اُدھر مکہ کے قریش و مشرکین کی ریشہ دوانیوں، منصوبہ بندیوں اور ایذاء رسانیوں کا سلسلہ شروع ہوگیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم تنہا مسجد حرام اور خانہ کعبہ میں نماز پڑھنے کے لئے جاتے تو طرح طرح کی کلفتوں اور مشقتوں کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ کبھی کوئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر پتھر پھینکتا، کبھی آوازیں کستا، اور تمسخر و مذاق اڑاتا، اسی طرح راستے میں کبھی آپ کے سرپر اوپر سے کوڑا کرکٹ ڈال دیا جاتا، کبھی اوجھڑی پھینک دی جاتی، اور آپ کیلئے تبلیغ کی راہ میں رکاوٹیں پیدا کی جاتیں۔ یہ سارے حالات ذہنی کلفت و اذیت کا سبب بھی تھے، اور جسمانی مشقت و پریشانی کا باعث بھی۔ وہ بھی کس مپرسی افلاس اور کم مائیگی کے عالم میں، لیکن پھر بھی آپ کی تسلی اور دل کی مضبوطی و اطمینان کیلئے دوسہارے موجود تھے، اول یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آٹھ سال کی عمر کے وقت آپ کے دادا عبدالمطلب کا انتقال ہوا، آخری وقت میں انھوں نے آپ کے چچا ابوطالب کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تربیت اور پرورش کیلئے وصیت کی، پھر باپ سے بڑھ کر انھوں نے شفقت و ہمدردی اور تربیت کاحق ادا کیا اور اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سب سے پہلی بیوی حضرت خدیجة الکبریٰ رضی اللہ عنہا جو غار حرا سے واپسی اور نبوت ملنے کے بعد سب سے پہلے آپ پر ایمان لائیں، اور زندگی بھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کیلئے سہارا اور قلبی راحت و سکون کا سبب بنی رہیں کہ ساری اذیتوں اور پرخاش ماحول کے بعد جب گھر تشریف لاتے تو آپ کے دل کو قرار اور چین و سکون نصیب ہوجاتا۔
لیکن مرتبے کی بلندی مصائب و ابتلاء سے گھری ہوئی رہتی ہے، چنانچہ ۱۰/ نبوی عام الحزن والملال کے نام مشہور ہوا، کہ چند دن کے اندر دو دو سہارے آپ کی زندگی سے ختم ہوگئے۔ شعب ابی طالب سے نکلنے کے چند ہی روز بعد ماہ رمضان یا شوال ۱۰ نبوی میں ابوطالب کا انتقال ہوا، پھر تین یا پانچ دن بعد حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کا بھی انتقال ہوگیا۔
سفر طائف سلسلہٴ مشقت کی ایک کڑی
ابوطالب کے بعد آپ کا کوئی حامی و مددگار نہ رہا اور حضرت خدیجہ کے رخصت ہوجانے سے کوئی تسلی دینے والا غمگسار نہ رہا، اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش مکہ کی چیرہ دستیوں سے مجبور ہوکر اخیر شوال ۱۰ نبوی میں دعوت کے لئے طائف کا قصد فرمایا کہ شاید یہ لوگ اللہ کی ہدایت کو قبول کریں، اور اس کے دین کے حامی و مددگار ہوں، زید بن حارثہ کو ہمراہ لے کر طائف تشریف لے گئے۔ (سیرت مصطفی، جلد:۱، ص: ۲۷۴)
پھر طائف میں کیا کچھ ہوا اور وہاں کے شریر بچوں نے آپ کے ساتھ کیسا سلوک کیا اور کس طرح زدوکوب کے ساتھ آپ کو خون میں لت پت کیا اس کے لئے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت کافی ہے۔
”حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ میں نے ایک بار عرض کیا یا رسول اللہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر اُحد سے بھی زیادہ سخت دن گذرا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تیری قوم سے جو تکلیفیں پہنچیں سو پہنچیں، لیکن سب سے زیادہ سخت دن وہ گذرا کہ جس دن میں نے اپنے آپ کو عبدیالیل کے بیٹے پر پیش کیا، اس نے میری بات کو قبول نہیں کیا، میں وہاں سے غمگین ورنجیدہ واپس ہوا۔“ (ملخص از ترجمہ فتح الباری، ج:۶، ص: ۲۲۵)
کفار مکہ کی ستم ظریفی
اور یہ تو سفر کی مختصر سی مدت تھی اگرچہ کلفت و مشقت اور رنج و غم کے اعتبار سے پوری زندگی کے اوقات میں سب سے دشوار معلوم ہوئی، اس کے علاوہ مکہ معظمہ کے قیام میں بھی کیا کم مصائب اور اذیتوں سے دوچار ہونا پڑا، دونوں میں فرق کیلئے بس اتنا ہی کہا جاسکتا ہے کہ ایک مرحلہ سانپ کے کاٹنے کی طرح ہے کہ جس سے اچانک انسان جاں بحق ہوجاتا ہے، اور دوسرابچھو کے ڈنک مارنے کی طرح ہے جس کا زہر لہریں مارتا رہتا ہے ۔ چنانچہ ابن ہشام اپنے ماخذ سیرت میں رقمطراز ہیں:
قال ابن اسحاق : ومرّ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ۔ فیما بلغنی ۔ بالولید بن المغیرة وأمیة بن خلف، وبأبی جہل ابن ہشام فہمزوہ واستہزووا بہ فغاظہ ذلک فأنزل اللّٰہ تعالیٰ علیہ فی ذلک من أمرہم ”ولقد اسْتہزیَ برسل من قبلکَ فحاق بالذین سخروا منہم ما کانوا بہ یستہزوٴن“ (سیرة ابن ہشام، ج:۱، ص: ۳۹۵)
ابن اسحاق نے فرمایا : جہاں تک مجھے خبر ملی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا گذر ولید بن المغیرہ، امیہ بن خلف اور ابوجہل ابن ہشام پر ہوا، تو ان لوگوں نے آپ پر طعن و تشنیع کیا، اور آپ کا مذاق اڑایا، تو اس کی وجہ سے آپ غصہ ہوئے، جس کی بناء پر قرآن پاک کی یہ آیت نازل ہوئی۔ ”ولقد استہزی الخ“ تحقیق کہ آپ سے پہلے رسولوں کا مذاق اڑایاگیا سو جن لوگوں نے استہزا کیا تھا ان پر وہ عذاب نازل ہوگیا جس کا وہ استہزاء کیا کرتے تھے۔
قال ابن اسحق فأقام رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم علی أمر اللّٰہ صابرًا محتسبًا موٴدیاً الی قومہ النصیحة علی ما یلقی عنہم من التکذیب والأذیٰ (والاستہزاء) (سیرة ابن ہشام، ج:۱، ص: ۴۰۸)
ابن اسحاق نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے حکم پر قائم رہے، صبر کرتے ہوئے ثواب کی امید کرتے ہوئے اور اپنی قوم تک نصیحت کی باتیں پہنچاتے ہوئے باوجودیکہ ان کی جانب سے آپ کی شانِ اقدس میں تکذیب و مذاق بازی اور ایذاء رسانی کا سلسلہ جاری تھا۔
اور اسی پر بس نہیں بلکہ فَترتِ وحی کے موقع پر بھی طرح طرح سے کفار مکہ نے آپ کو تمسخر و استہزا کا نشانہ بنایا۔
زخم خوردہ نبی کی تسلی
اسی طرح جب مسلسل مصائب و آلام کے پہاڑ توڑے گئے، مشقت و کلفت کی انتہا ہوگئی، تو ارحم الراحمین نے طرح طرح سے مختلف آیتوں کے نزول اور واقعات کے ذریعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کیلئے صبر و تسلی کا سامان مہیا فرمایا، اور قوت و پختگی اور عزم و حوصلہ کے ذریعہ آپ کی مدد فرمائی حتی کہ دوسورتوں یعنی ”والضحیٰ اور ألم نشرح“ کا نزول ہوا، جس میں باری تعالیٰ نے آپ کے رخِ انور کی قسم کھاکر ارشاد فرمایا: ”مَا وَدّعک ربک و ما قلیٰ“ یعنی آپ کے رب نے آپ کو چھوڑا نہیں اور نہ ہی آپ سے ناراض ہوا، ارشاد ہوا:
ألم نشرح لک صدرک ووضعنا عنک وزرک الذی أنقض ظہرک ورفعنا لک ذکرک (سورة الانشراح)
کیا ہم نے آپ کی خاطر آپ کا سینہ (علم وحلم) سے کشادہ نہیں کردیا اور ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر سے آپ کا وہ بوجھ اتاردیا جس نے آپ کی کمر توڑ رکھی تھی اور ہم نے آپ کی خاطر آپ کا آوازہ بلند کیا۔ (یعنی اکثر جگہ شریعت میں اللہ کے نام کے ساتھ آپ کا نام مبارک مقرون کیاگیا) کذا فی الدر المنثور، معارف القرآن، ج:۸
اسلامی فلاسفر اور ادیب مفسر قرآن مولانا عبدالماجد دریابادی لکھتے ہیں: ”ہندوستان کے چھوٹے چھوٹے قریوں اور موضعوں، عرب کے ریگستان اور چٹیل میدان اور افریقہ کے صحرا و بیابان سے لے کر لندن اور پیرس اور برلن کے تمدن زاروں تک، ہر روز اور ہر روز میں بھی پانچ پانچ بار کس کے نام کی پکار اللہ کے نام کے ساتھ ساتھ بلند رہتی ہے؟ اپنی ذاتی عقیدت مندی کو الگ رکھئے محض واقعات پر نظر رکھ کر فرمائیے کہ یہ مرتبہ یہ اکرام دنیا کی تاریخِ معلوم سے لیکر آج تک کسی ہادی کسی رہبر کسی مخلوق کو حاصل ہوا ہے؟ جس بے کس اور بے بس سے عین اس وقت جبکہ اسے زور اور قوت والے سردارانِ قریش اپنے خیال میں کچل کر رکھ چکے تھے، اور اس کا نام و نشان تک مٹاچکے تھے، یہ وعدہ ہوا تھا، ”ورفعنا لک ذکرک“ ہم نے تیرے لیے تیرا ذکر بلند کررکھا ہے، اگر آوازہ اس کا بلند نہ ہوگا تو اور کس کا ہوگا؟ (ذکر رسول، ص: ۶۳)
خورشید مبین کی تابانی (معراج رسول)
ابتلا و آزمائش بہت زبردست تھی، صبر آزما مراحل اورمصائب کے پہاڑ تھے، جس پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے صبر کی تلقین کی گئی۔
فاصْبِر کَمَا صَبَر أُوْلُوا العزمِ منَ الرسُلِ وَلاَ تَسْتَعْجِلْ لَّہُمْ (سورہ الاحقاف، آیت:۳۵)
تو آپ صبر کیجئے جیسا اور ہمت والے پیغمبروں نے صبر کیاتھا اور ان لوگوں کیلئے (انتقام الٰہی کی) جلدی نہ کیجئے۔
باری تعالیٰ نے آپ کی صبر و تسلی کے لئے فرمایا: ”ووضعنا عنکَ وزرک الذی أنقض ظہرک ورفعنا لک ذکرک“ ترجمہ: ہم نے آپ پر سے آپ کا وہ بوجھ اتار دیا جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کمر توڑ رکھی تھی، اور ہم نے آپ کی خاطر آپ کا آوازہ بلند کیا۔ (سورہ الانشراح، آیت:۴)
حزن و ملال کا ہجوم، مصائب و آلام کی یلغار ہی کیا کم تھی کہ مزید برآں اعزاء و اقرباء اور اہل خاندان کی مخالفت کفار و مشرکین اہل مکہ کا دعوت کی راہ میں حائل ہونا وغیرہ جو حوصلہ شکنی کے لئے کافی تھے۔ حتی کہ آپ کی پریشان حالی پر باری تعالیٰ نے آپ کو مخاطب فرمایا: فلعلک باخعٌ نفسک علی آثارہم ان لم یوٴمنوا بہذا الحدیث أسفًا (سورہ الکہف، آیت:۶) ترجمہ: شاید آپ ان کے پیچھے اگر یہ لوگ اس مضمون پر ایمان نہ لائے تو غم سے اپنی جان دے دیں گے۔
ظاہر ہے جو حبیب و محبوب ہو، آخری رسول ہو، ع ”بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر“ کا مصداق ہو، تاریکیوں میں چراغ روشن کرنے کا عزم رکھتا ہو، دشوار گذار مراحل، اور خاردار وادیوں کو پار کرتا ہو، حوصلہ شکن حالات کا پامردی سے مقابلہ کرتا ہو، تو اس کو تمغہ بھی اتنا ہی بڑا ملنا چاہئے، اور اس کے بلندیٴ مرتبہ پر دلیل بھی اتنی بڑی قائم ہونی چاہئے کہ جس کے اوپر اور دلیل نہ ہو، اور جس سے زیادہ عظیم الشان کوئی واقعہ اس کرئہ ارض پر نہ پیش آیا ہو اور نہ آسکتا ہو، اور وہ اسراء و معراج کا عظیم الشان واقعہ ،۔ اسراء اور معراج کے بارے میں بہت سے موضوعات زیر بحث آتے ہیں۔
(۱) اختلاف اقوال کی روشنی میں اس واقعہ کی تاریخ کا تعین
(۲) یہ واقعہ روحانی ہے یا جسمانی، (یا منامی)
(۳) مکہ معظمہ سے بیت المقدس کا سفر اور امامت انبیاء
(۴) ثمّ دنی فتدلّٰی کی واقعاتی توضیح
(۵) مولیٰ سے ہمکلامی، اور حاصل ہونے والے تحفہ کی تفصیل
(۶) جنت اور جہنم کی سیر اور چند مشاہدات
لیکن یہ سب کچھ اس عظیم الشان واقعاتی تجزئیے سے تعلق رکھنے و الے موضوعات ہیں، لہٰذا، اس کو دوسرے موقع کیلئے محفوظ رکھتے ہوئے، اس سے ماخوذ چند عجائب سفر اور لطائف و معارف کا ذکر ضروری معلوم ہوتا ہے، تاہم قرآن پاک کے اجمال اور احادیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تفصیل سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے، کہ جبرئیل امین علیہ السلام براق کے ساتھ تشریف لائے، اور سرورکائنات جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ام المومنین حضرت ام ہانی کے مکان سے مسجد حرام، پھر وہاں سے مسجد اقصیٰ، اور انبیاء کی امامت کرنے کے بعد آسمان کی سیر کراتے ہوئے اور انبیاء سابقین سے ملاقات کراتے ہوئے ساتوں آسمان کے اوپر لے گئے، پھر وہ مقام آیا کہ جس کے آگے بڑھنے سے جبرئیل امین کے قدم عاجز و قاصر رہے، جیساکہ شیخ سعدی کے اس شعر سے ظاہر ہے۔
اگر یک سرِ موئے برتر برم فروغِ تجلی بسوزد پرم
باری تعالیٰ کا ارشاد ہے:
ثم دنی فتدلّی فکان قاب قوسین أو أدنی o فأوحیٰ الی عبدہ ما أوحیٰ ما کذب الفوٴادُ ما رأی، أفتمارونہ علی ما یریٰ، ولقد رأٰہ نزلةً أخریٰ عند سدرة المنتہیٰ عندہا جنة الماویٰ اذ یغشی السدرة ما یغشیٰ، مازاغ البصر ومَا طغیٰ، لقد رأیٰ من آیات ربہ الکبریٰ (سورة النجم)
ترجمہ: پھر وہ فرشتہ (آپ کے) نزدیک آیا، (سو قرب کی وجہ سے) دونوں کمانوں کے برابر فاصلہ رہ گیا، بلکہ اور بھی کم پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے بندہ (محمد صلی اللہ علیہ وسلم) پر وحی نازل فرمائی، جو کچھ نازل فرمانا تھی۔ (جس کی تعیین بالتخصیص معلوم نہیں) قلب نے دیکھی دیکھی ہوئی چیز میں غلطی نہیں کی، تو کیا ان سے دیکھی ہوئی چیز میں نزاع کرتے ہو، انھوں نے (پیغمبر نے) اس فرشتہ کو اور دفعہ بھی (صورت اصلیہ میں) دیکھا ہے، سدرة المنتہیٰ کے پاس جنت الماویٰ ہے، جب اس سے سدرة المنتہیٰ کو لپٹ رہی تھی جو چیزیں لپٹ رہی تھیں، نگاہ تو نہ ہٹی (بلکہ ان چیزوں کو خوب دیکھا) اور نہ (ان کی طرف دیکھنے کو) بڑھی (یعنی قبل اِذن نہیں دیکھا) پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کے بڑے عجائبات دیکھے۔ (معارف القرآن، ج:۸، ص: ۱۹۲)
پھر آپ کو رب ذوالجلال سے ہمکلامی کا شرف حاصل ہوا، پچاس نمازوں کی فرضیت کا تحفہ عطا کیاگیا، جو تخفیف کے بعد پانچ وقت کی صورت میں باقی رہا، اجر و ثواب میں پچاس وقت کی کیفیت کے ساتھ۔
اسی طرح آپ نے اقلام تقدیر کے چلنے کی آوازوں کو سنا، بعد ازاں جنت و جہنم کا مشاہدہ فرمایا، پھر جبرئیل امین علیہ السلام کی معیت میں مسجد اقصیٰ میں نزول فرمایا، اور وہاں سے مسجد حرام واپس ہوکر بیت ام ہانی میں تشریف لائے۔
یہ تھی ایک طائرانہ نظر معراج رسول کے مبارک سفر پر جس میں آپ کے رنج و غم کا مداویٰ بھی تھا اور ذکر کی بلندی بھی، شخصیت کی جلوئہ آفرینی بھی، اور ختم نبوت کی دلیل بھی، سارے جہانوں کی سرداری بھی، آپ کی امت اور آپ کے پیغام کے خلود وبقاء کی علامت بھی، نیز ساتھ ہی بے مثال واقعات کے معجزہ نمائی بھی جو سارے فلسفہ و علوم اور اسباب و علل کی دسترس سے باہر ہو سچ ہے:
لا یمکن الثناء کما کان حقہ
بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر
اب ان خصائص و امتیازات، اور فوائد و ثمرات کو شعور و وجدان کی کیفیت کے ساتھ اخذ کرنے اور گہرائی و گیرائی سے آشنا ہونے کیلئے، ان اسرار و حکم حقائق و معارف اور دروس و عبر کا قلب و ذہن میں پیوست ہونا اور نظر میں آنا ضروری ہے، جو اس بلندی و رفعت کے دلچسپ سفر میں مضمر ہے۔
سفر معراج کے اسرار و حکم
واقعہٴ معراج محض ایک مشاہداتی سفر اور قطع مسافت کی پرکیف و عجیب داستان نہیں ہے، سورئہ اسراء اور سورہ نجم اوراس سلسلے میں مروی صحیح ومشہور احادیث سے بہت سے اسرار و حکم اور لطائف و معارف سامنے آتے ہیں۔
(۱) خاتم النّبیین صلی اللہ علیہ وسلم مسجد حرام اور مسجد اقصیٰ دونوں قبلوں کے نبی اور مشرق و مغرب دونوں سمتوں کے امام ہیں۔
(۲) آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے پیش رو تمام انبیاء کرام کے وارث اور بعد میں آنے والی پوری نسل انسانی کے رہبر و رہنما ہیں۔
(۳) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیغام، دعوت کی عمومیت و آفاقیت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امامت کی ابدیت اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کی ہمہ گیری و صلاحیت کی دلیل و علامت ہے۔
(۴) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شخصیت کا صحیح تعارف اور صحیح نشاندہی ہے۔
(۵) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے اصل مقام و حیثیتِ عرفی کا تعین ہے۔
(۶) آپ کی نبوت کی محدود، مقامی اور عارضی نوعیت اور ابدی و عالمگیری حیثیت کے درمیان خطّ فاصل ہے۔
(۷) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قیادت و سیادت کا قومی اور سیاسی قیادت پر غلبہ و تفوق اور بالاتری کا ثبوت اور امتیازی حیثیت ہے۔
(۸) ایسا معجزہ اور کرامت ہے جو آپ کے سوا کسی کو حاصل نہیں ہوا۔
(۹) عبادت اور تقرب و بندگی کے ذریعہ کو بطور تحفہ آسمان کے اوپر مہمان بناکر عطا کرنا جو رفعِ ذکر کی وقوعی اور خارجی تفسیر ہے۔
(۱۰) نبی آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم کو دوسرے انبیاء پر جو فضیلت ہے، ان میں دو باتیں خاص طور پر فضیلت کا باعث ہیں: دنیا میں معراج اور آخرت میں شفاعت۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ دونوں دولتیں تواضع کی بدولت حاصل ہوئیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حق تعالیٰ کے ساتھ تواضع کی، تو دولت معراج کی پائی، اور مخلوق کے ساتھ تواضع کی تو دولت شفاعت کی پائی، حق تعالیٰ کے سوال پر شب معراج میں آپ نے فرمایا کہ تمام القاب میں سب سے زیادہ پسندیدہ لقب میرے لئے عبد کا ہے، تیرا بندہ ہونا، یعنی عبدیت کی اساسی صفت جو باری تعالیٰ کو انسانیت کی جانب سے سب سے زیادہ مطلوب اور محبوب ہے۔
(۱۱) رات کی خلوت و تنہائی میں بلانا، مزید تقرب اور اختصاصِ خاص کی دلیل ہے۔
(۱۲) مسجد اقصیٰ کے معاملات کا سارے عالم اسلام سے گہرے ربط و تعلق کا ثبوت، نیز یہ کہ فلسطین، کا دفاع اور مسجد اقصیٰ کی حفاظت ساری دنیا کے مسلمانوں پر حسب استطاعت واجب ہے، اوراس سے غفلت ایسی کوتاہی ہے جس پر موٴاخذہ بھی ہوسکتا ہے۔
(۱۳) امت مسلمہ کے مرتبے کی بلندی اور عظمت شان اور دنیا کی خواہشات و رغبات سے اس امت کے مستوی اور معیار کی رفعت ہے۔
(۱۴) اس میں اشارہ ہے کہ فضاء کا خلائی سفر اور کرئہ ارضی کے مقناطیسی دائرے سے نکل کر اوپر دوسرے دائرے میں داخل ہونا ممکن ہے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ساری دنیا کی تاریخ میں سب سے پہلے خلا باز مسافر ہیں، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سفر معراج سے یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہے کہ آسمان سے کرئہ ارضی کی طرف صحیح سالم لوٹ کر آنا ممکن ہے۔
(۱۵) معراج میں نماز کی فرضیت سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ روزانہ پانچ مرتبہ اللہ کے حضور سارے مومنین کی روحوں اور دلوں کو پہنچنا چاہئے، تاکہ خواہشات کی سطح سے بلندی نصیب ہو۔
سفر معراج دعوت و تبلیغ کی ایک کڑی
یہ تھے سفر معراج کے اندر پوشیدہ بلند و بالا مقاصد اور لطائف ومعارف، دروس و عبر، جو آپ کے اوپر پے بہ پے نازل ہونے والے رنج و غم کا مداویٰ ثابت ہوئے، جس کے ذریعہ آپ کے اوپر سے حزن و ملال کے بادل چھٹ گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زندگی کے لمحات میں ولسَوف یعطیک ربُّک فترضیٰ کا منظر دیکھا، اور خوشی و مسرت کا سانس لیا، اور فرحت و انبساط کے حالات کی طرف عود کر آئے، اور نہ صرف غم و اندوہ کافور ہوئے بلکہ دعوت و تبلیغ کی راہیں ہموار ہوتی گئیں، بلکہ رغبت و لگن اور مولیٰ کی رضا جوئی کے ساتھ قدم بڑھتے رہے، آپ کے عزم و حوصلہ اور پختگی و ثبات قدمی کو مہمیز کرنے والی قوت ملی، کیونکہ اس سفر مبارک میں آپ کے مرتبے کی بلندی بھی تھی۔
سچ ہے جب کفار و مشرکین نے آپ کے نرینہ اولاد کے زندہ نہ رہنے کی وجہ سے آپ کو طنز و تشنیع کا نشانہ بنایا، اور آپ کو منقطع النسل اور قلیل الخیر ہونے کا طعنہ دیا، تو آپ کے قلب اطہر پر سورة الکوثر نازل کرکے ان دشمنان رسول کا دندان شکن جواب دیاگیا، اور ان کے باطل نظریات پر کاری ضرب لگائی گئی: انا أعطینٰک الکوثر، فصَلّ لربک وانحر، انَّ شَانئک ہُوالأبتر․ اس میں مفسرین کے اقوال کے مطابق کوثر، حوض کوثر کے ساتھ خیر کثیر کے معنی کو بھی شامل ہے، اور آپ کے دشمنوں کے منقطع النسل ہونے کا اعلان ہے، جیسا کہ ”ہو الابتر“ سے ظاہر ہے، اور کسی بھی تحریک اور مشن کو لے کر چلنے والے کے لئے راستہ سے موانع و عوائق کا دور ہوجانا اس کے قلب و ذہن کا غم و اندوہ اور افکار پریشاں سے خالی ہوجانا اور مرتبے کی بلندی کے ذریعے عزم کا پختہ ہونا، حوصلے کا بلند ہونا، فلاح و کامیابی کا پیش خیمہ اور حیرت انگیز پیش قدمی کا ضامن ہوتا ہے۔ چنانچہ اسی عظمت و رفعت کا کرشمہ تھا کہ ایسے ماحول میں جبکہ اہل مکہ بلکہ تمام اہل عرب نہ صرف یہ کہ ضلالت و شقاوت میں ڈوبے ہوئے تھے، بلکہ اسی کے دلدادہ تھے، اور وہی ان کی طبیعت بن گئی تھی، اور جہالت و بہیمیت کی حدود کو پار کرنے میں ایک فرد دوسرے سے پیچھے رہنا گوارہ نہیں کرتا تھا، اور اس کیلئے دنیا کا سارا خسارہ اور آخرت کی محرومی قبول کرلینا سستا سودا سمجھتا تھا۔
آپ نے تنہا دعوتِ عظمیٰ اور رسالت خداوندی کی تمام تر ذمہ داری تیئس (۲۳) سال کی قلیل مدت میں ایسے حیرت انگیز طریقہ پر پوری کی کہ شہنشاہ عالم بونا بارٹ اس کے اعتراف پر مجبور ہوگیا، کہ صدیوں میں پایہٴ تکمیل کو نہ پہنچنے والا پیغام محمد ﷺ نے تیئس (۲۳) سال کی قلیل مدت میں اس طرح مکمل کردکھایا کہ تاریخ عالم اس کی نظیر پیش کرنے سے عاجز ہے۔
یتیمے کہ ناکردہ قرآں درست
کتب خانہٴ چند ملت بشست
$ $ $
______________________________
ء











Amazing insight you have on this, it's nice to find a website that details so much information about different artists. 房屋二胎
ReplyDelete