Monday, 8 June 2026

جیسی زندگی ہوگی ویسی موت آئے گی

اللہ تعالیٰ نے انسان کی زندگی اور موت کو اپنی حکمت کے تحت مقرر کیا ہے۔ قرآن مجید اور احادیث نبویہ میں واضح طور پر بتایا گیا ہے کہ انسان کے اعمال اور زندگی کا انداز اس کی موت کے وقت کے حالات پر اثر انداز ہوتا ہے۔ ذیل میں دلائل پیش کیے جا رہے ہیں:


قرآنی دلائل:

1. نیک اعمال اور حسن خاتمہ:

اللہ فرماتا ہے:

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ حَقَّ تُقٰتِهٖ وَ لَا تَمُوْتُنَّ اِلَّا وَ اَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ

ترجمہ:

اے ایمان والو! ڈرتے رہو اللہ سے جیسا چاہئے اس سے ڈرنا، اور نہ مریو مگر مسلمان(فرمانبردار)۔

[سورۃ آل عمران:102]

«كما تعيشون تموتون، وكما تموتون تبعثون».

جس حالت پر تم اپنی زندگی گزار دو اسی پر موت آئے گی، اور جس حالت میں موت آئے گی اسی حالت میں حشر میں کھڑے کئے جاؤ گے۔

[الغنية لطالبي طريق الحق-الجيلاني:1/ 138]

[روح البیان، سورۃ آل عمران، جلد 1۔ 2، ص۔ 125، ایڈیشن: دار احیاء التراث العربی، بیروت]



"إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللَّهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَائِكَةُ أَلَّا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَبْشِرُوا بِالْجَنَّةِ الَّتِي كُنتُمْ تُوعَدُونَ"

ترجمہ:

"بیشک جن لوگوں نے کہا ہمارا رب اللہ ہے پھر وہ اس پر ثابت قدم رہے، ان پر فرشتے نازل ہوتے ہیں (اور کہتے ہیں) ڈرو نہ اور غم نہ کرو اور اس جنت کی خوشخبری سن لو جس کا تم سے وعدہ کیا گیا تھا۔"

[سورہ حم السجدہ: 30]

یہ آیت بتاتی ہے کہ جو لوگ ایمان اور استقامت کی زندگی گزارتے ہیں، ان کی موت کے وقت فرشتے ان کے پاس آتے ہیں اور انہیں بشارت دیتے ہیں۔


2. بدکاروں کی بری موت:

اللہ کا ارشاد ہے:

"فَكَيْفَ إِذَا تَوَفَّتْهُمُ الْمَلَائِكَةُ يَضْرِبُونَ وُجُوهَهُمْ وَأَدْبَارَهُمْ"

ترجمہ:

"پھر کیسی (خطرناک) حالت ہوگی جب فرشتے ان کی روحیں قبض کریں گے، ان کے چہروں اور پشتوں پر مارتے ہوئے۔"

[سورہ محمد: 27]

یہ ان لوگوں کے بارے میں ہے جو گناہوں کی زندگی گزارتے ہیں۔


3. موت کے وقت اعمال کا بدلہ:

اللہ کا ارشاد ہے:

"مَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفْسِهِ وَمَنْ أَسَاءَ فَعَلَيْهَا"

ترجمہ:

"جو نیک عمل کرتا ہے اپنے فائدے کے لیے اور جو برائی کرتا ہے اس کا وبال اس پر ہے۔"

[سورہ حم السجدہ: 46]



احادیث نبویہ سے دلائل:

1. حسن خاتمے کی علامات:

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

"من كان آخر كلامه لا إله إلا الله دخل الجنة"

ترجمہ:

"جس شخص کی آخری بات 'لا الہ الا اللہ' ہوگی وہ جنت میں داخل ہوگا۔"

[سنن ابی داؤد:3116، مسند احمد:22034، مستدرک حاکم:1315]

یہ ان لوگوں کو ملے گا جو زندگی بھر اس کلمے پر کاربند رہے۔


2. نیک لوگوں کی موت:

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

"إن أرواح الشهداء في حواصل طير خضر تسرح في الجنة حيث شاءت"

ترجمہ:

"شہداء کی روحیں سبز پرندوں کے پیٹ میں ہوتی ہیں جو جنت میں جہاں چاہیں آزاد گھومتی ہیں۔"

[صحیح  مسلم:1887، سنن ترمذي:3011، سنن ابن ماجه:2801]

شہداء نے اپنی زندگی اللہ کی راہ میں قربان کر دی تو انہیں اعلیٰ درجہ کی موت نصیب ہوئی۔


3. برے لوگوں کی موت کی کیفیت:

حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

إِنَّ الْمُؤْمِنَ إِذَا كَانَ فِي إِقْبَالٍ مِنْ الْآخِرَةِ , وَانْقِطَاعٍ مِنْ الدُّنْيَا، تَنَزَّلَتْ إِلَيْهِ الْمَلَائِكَةُ , كَأَنَّ عَلَى وُجُوهِهِمْ الشَّمْسَ، مَعَ كُلِّ وَاحِدٍ كَفَنٌ وَحَنُوطٌ، فَجَلَسُوا مِنْهُ مَدَّ الْبَصَرِ , حَتَّى إِذَا خَرَجَتْ رُوحُهُ صَلَّى عَلَيْهِ كُلُّ مَلَكٍ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ، وَكُلُّ مَلَكٍ فِي السَّمَاءِ , وَفُتِحَتْ لَهُ أَبْوَابُ السَّمَاءِ، لَيْسَ مِنْ أَهْلِ بَابٍ إِلَّا وَهُمْ يَدْعُونَ اللهَ أَنْ يُعْرَجَ بِرُوحِهِ مِنْ قِبَلِهِمْ "
ترجمہ:
"بے شک مومن جب آخرت کی طرف رخ کرنے (یعنی اس کی موت قریب آنے) اور دنیا سے منقطع ہونے کی حالت میں ہوتا ہے، تو اس کے پاس فرشتے اترتے ہیں جن کے چہروں پر سورج کی طرح چمک ہوتی ہے، ان میں سے ہر ایک کے پاس کفن اور خوشبو (حنوط) ہوتی ہے۔ وہ اس سے (تھوڑی دور) نگاہ بھر کے فاصلے پر بیٹھ جاتے ہیں۔ یہاں تک کہ جب اس کی روح نکل جاتی ہے تو آسمان اور زمین کے درمیان موجود ہر فرشتہ اور آسمان میں موجود ہر فرشتہ اس پر درود بھیجتا ہے، اور اس کے لیے آسمان کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں۔ کوئی دروازہ والا ایسا نہیں ہوتا مگر وہ اللہ سے دعا کرتا ہے کہ اس کی روح ان کے (دروازے) کی طرف سے اٹھائی جائے (یعنی اوپر لے جائی)۔"

[مسند احمد:18637، وصححه الألباني في المشكاة:1630]

[مسند احمد:17573]



4. عمل کا انجام پر اثر:

نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

"إنما الأعمال بالخواتيم"

ترجمہ:

"اعمال کا دارومدار انجام پر ہے۔"

[صحیح بخاری: 6607]

یہ حدیث بتاتی ہے کہ زندگی کا انجام (موت) اس بات پر منحصر ہے کہ انسان کس حالت میں مرتا ہے، اور وہ حالت اس کی سابقہ زندگی کا نتیجہ ہوتی ہے۔


نتیجہ:

قرآن و سنت کی روشنی میں یہ بات ثابت ہے کہ انسان کی زندگی کا انداز اور اس کے اعمال براہ راست اس کی موت کے وقت کے حالات کو متاثر کرتے ہیں۔ نیک زندگی گزارنے والے کو حسن خاتمہ (اچھی موت) نصیب ہوتی ہے، جبکہ بدکار اور گناہ گار زندگی گزارنے والے کو سوء خاتمہ (بری موت) کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔


البتہ یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ اللہ کی رحمت بہت وسیع ہے، اور وہ جسے چاہے اپنے فضل سے معاف کر دے اور حسن خاتمہ عطا فرما دے۔ لیکن عمومی اصول یہی ہے کہ انسان کی زندگی ہی اس کی موت کا آئینہ ہوتی ہے۔ اللہ ہمیں نیک زندگی اور حسن خاتمہ نصیب فرمائے۔ آمین۔