Tuesday, 10 May 2016

عقیدہ تقدیر کے معنی، اقسام، فوائد وفضائل

عقیدہ:
عالم (دنیا) میں جو کچھ بھلا برا ہوتا ہے سب کو اللہ تعالی اس کے ہونے سے پہلے ہمیشہ سے جانتا ہے اور اپنے جاننے کے موافق اس کو پیدا کرتا ہے۔ تقدیر اسی کا نام ہے اور بری چیزوں کے پیدا کرنے میں بہت بھید ہے جن کو ہر ایک نہیں جانتا۔

حوالہ:
اِنَّا کُلَّ شَیۡءٍ خَلَقۡنٰہُ بِقَدَرٍ
ہم نے ہر چیز اندازہٴ مقرر کے ساتھ پیدا کی ہے۔
[سورۃ القمر:۴۹]

اِنَّ اللّٰہَ یَعۡلَمُ وَ اَنۡتُمۡ لَا تَعۡلَمُوۡنَ 
بیشک اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔
[سورۃ النحل:۷۴]




تقدیر لغت کے اعتبار سے ’’اندازہ‘‘ کرنے کو کہتے ہیں، جب کہ شرعی اصطلاح کے اعتبار سے تقدیر اللہ تعالیٰ کے اس علم اور فیصلہ کو کہتے ہیں جو اس کائنات اور اس کی تمام مخلوقات کے بارے میں اس کے وجود میں آنے سے پہلے طے کیا جاچکا ہے۔

تقدیر کی دو قسمیں ہیں:

1۔۔ تقدیر مبرم ۔

2۔۔ تقدیر معلق۔

پہلی قسم "تقدیر مبرم"  ہے، یہ آخری فیصلہ ہوتا ہے جس کو اللہ تعالیٰ کے حکم سے لوحِ محفوظ پر لکھ دیا جاتا ہے، اور اس میں تبدیلی نا ممکن ہے۔ سوال میں ذکر کیے گئے حدیث کے الفاظ ’’رفعت الأقلام و جفّت الصحف‘‘ میں  اسی کی طرف اشارہ ہے کہ تقدیر  جس قلم سے لکھی گئی وہ قلم اُٹھالیے گئے اور صحیفوں پر جس سیاہی سے تقدیر کا فیصلہ لکھا جاچکا ہے وہ  سیاہی اور صحیفے  خشک ہوچکے ہیں، یعنی اب اس فیصلے میں کوئی تبدیلی نہیں ہوسکتی ہے۔

دوسری  قسم "قضائے معلق"   کی ہے ، اللہ تعالیٰ کی طرف سے  یہ وعدہ ہے کہ اگر کوئی بندہ چاہے تو ہم اس کےنیک عمل  اور دعا کے ساتھ ہی اس کی تقدیر بھی بدل دیں گے۔

انسان دنیا میں جو کچھ بھی کرتا ہے یا کرے گا (خواہ اس کا تعلق تقدیرِ مبرم سے ہو یا تقدیرِ معلق سے) وہ سب اللہ تعالیٰ کے علم اور تقدیر میں ہے، اللہ تعالیٰ سے مخفی کچھ بھی نہیں ہے، اور تقدیر سے مفرّ بھی نہیں ہے، لیکن انسان مجبور اور  بے بس بھی نہیں ہے، اس لیے کوشش اور اچھی تدبیراختیارکرنے کے ہم مکلف ہیں، اللہ تعالی نے اپنی مرضی سے انسان کو عمل کااختیار دیا ہے، اور اس اختیاری عمل کاوہ اللہ کے سامنے جواب دہ ہے۔

رہی یہ بات کہ انسان کی زندگی سے متعلق ہر ہر چیز کی تفصیل اور اس کی زندگی کا ایک ایک لمحہ لکھا ہوا ہے اور اس کی کیفیت کیا ہے؟ یہ ایک راز ہے، جس کی تہہ میں گھسنے کی کوشش خود کو تھکانے اور عاجز کرنے کے سوا کچھ نہیں ہے، ہم اس کے  مکلف   ہیں کہ ہم ایمان رکھیں کہ جو کچھ بھی خیر یا شر ہے وہ سب اللہ کے علم میں ہے، اور تقدیر سب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے، اور مسلسل اعمال اور اِصلاحِ اعمال میں لگے رہیں۔

حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کسی شخص نے تقدیر کے بارے میں سوال کیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یہ اندھیری راہ ہے، اس پر مت چلو، اس شخص نے دوبارہ سوال کیا تو فرمایا: گہرا سمندر ہے اس میں مت داخل ہو، اس نے سہ بارہ سوال کیا تو فرمایا: اللہ کا راز ہے جسے اللہ تعالیٰ نے تجھ سے مخفی رکھا ہے؛ لہٰذا اس کی تفتیش و جستجو میں مت پڑو۔

"و سأل رجل عليّ بن أبي طالب رضي الله عنه فقال: أخبرني عن القدر؟ قال: طريق مظلم لاتسلكه، و أعاد السؤال فقال: بحر عميق لاتلجه، فأعاد السؤال فقال: سرّ الله قد خفي عليك فلاتفتشه".
(مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح: 1 / 147)

حدیث میں ہے کہ  رسول اللہ  ﷺ  نے تقدیر کا ذکر فرمایا جس کا خلاصہ یہ  ہے کہ انسان کی تقدیر بالآخر اس پر غالب آتی ہے، تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: حضور ﷺ پھر عمل کی حاجت؟ پھر تو ہم تقدیر پر ہی بھروسہ اور تکیہ  نہ کریں؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: نہیں، عمل کرتے رہو، کیوں کہ ہر ایک کے لیے وہ  (راستہ اور طریقہ) آسان کردیا جاتاہے جس کے لیے وہ پیدا کیا گیا ہو۔ یعنی مسلسل نیک عمل کیے جاؤ، امید ہے کہ اسی حالت میں موت آجائے، اور جب خاتمہ بالخیر ہوگیا تو انسان کا بیڑا پار ہوگیا۔

سورۃ الرعد میں اللہ تعالیٰ نے  ارشاد فرمایا :
"يَمْحُو اللّهُ مَا يَشَاءُ وَيُثْبِتُ وَعِندَهُ أُمُّ الْكِتَابِO "
ترجمہ:
’’اللہ جس (لکھے ہوئے) کو چاہتا ہے مٹا دیتا ہے اور (جسے چاہتا ہے) ثبت فرما دیتا ہے اور اسی کے پاس اصل کتاب (لوح محفوظ) ہے۔‘‘
[الرعد : 13، 39]

حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں شام میں طاعون کی وبا پھیلی اور اس زمانے میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ بھی شام کے سفر پر تھے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ وبا زدہ علاقوں کی طرف نہیں بڑھے، بلکہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم سے مشورہ کرنے اور اس بارے میں احادیثِ مبارکہ کا مذاکرہ کرنے کے بعد جلدی واپسی کا فیصلہ فرمایا، تو حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا :
"أتَفِرُّ مِنْ قَدْرِ الله"
ترجمہ:
’’کیا آپ تقدیر سے بھاگتے ہیں؟‘‘

حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس کا جواب دیا:
"أفِرُّ مِنْ قَضَاء الله إلی قَدْرِ الله". 
ترجمہ:
’’میں اللہ کی قضا سے اس کی قدر کی طرف بھاگتا ہوں۔‘‘ بعض روایات میں یہ الفاظ ہیں : "نفر من قدر الله إلی قدر الله". 
[ابن سعد، الطبقات الکبريٰ، 3 : 283]

اسی کی نسبت احادیث میں ارشاد ہوتا ہے :

" لَايُرَدُّ الْقَضَاءَ إِلاَّ الدُّعَاءَ".
’’صرف دعا ہی قضا کو ٹالتی ہے‘‘
[ترمذي:2139، کتاب القدر، باب ماجاء لا يرد القدر إلا الدعاء]

جو امور بھی انسان بجا لاتا ہے، یہ سب تقدیرِالہٰی کے مطابق ہوتے ہیں، لیکن انسان   جمادات اور پتھروں کی مانند چوں کہ مجبور و بے بس نہیں، اس لیے کوشش اوراچھی تدبیراختیارکرنے کے ہم مکلف ہیں،بہرحال انسان کب کس وقت ، کس جگہ، کیا عمل کرے گا؟  یہ سب کچھ  اللہ تعالی کے علم میں ہے،  مگر انسان اس پر مجبور نہیں اور  کوشش کا وہ مکلف ہے۔







تقدیر پر ایمان لانے کیلئے چار امور ہیں:
اول:
اس بات پر ایمان لانا کہ اللہ تعالی تمام چیزوں کے بارے میں اجمالی اور تفصیلی ہر لحاظ سے ازل سے ابد تک علم رکھتا ہے، اور رکھے گا، چاہے اس علم کا تعلق اللہ تعالی کے اپنے افعال کے ساتھ ہو یا اپنے بندوں کے اعمال کے ساتھ۔

دوم:
اس بات پر ایمان لانا کہ اللہ تعالی نے تقدیر کو لوحِ محفوظ میں لکھ دیا ہے۔

مذکورہ بالا دونوں امور کی دلیل فرمانِ باری تعالی ہے:
( أَلَمْ تَعْلَمْ أَنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ مَا فِي السَّمَاءِ وَالأَرْضِ إِنَّ ذَلِكَ فِي كِتَابٍ إِنَّ ذَلِكَ عَلَى اللَّهِ يَسِيرٌ )
ترجمہ:
کیا آپ نہیں جانتے کہ اللہ تعالی جو کچھ آسمانوں میں ہے یا زمین پر سب کو بخوبی جانتا ہے، اور یہ سب کچھ کتاب [لوحِ محفوظ] میں لکھا ہوا ہے، اور [ان سب کے بارے میں ]علم رکھنا اللہ کیلئے بہت آسان ہے۔
[سورۃ الحج:70]

جبکہ صحیح مسلم (2653) میں عبد اللہ بن عَمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے ہے کہ آپ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا، آپ فرما رہے تھے: (اللہ تعالی نے آسمان و زمین کی تخلیق سے پچاس ہزار سال پہلے ہی تمام مخلوقات کی تقدیریں لکھ دی تھیں) اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (سب سے پہلے اللہ تعالی نے قلم کو پیدا فرمایا، اور اسے حکم دیا: "لکھو!" تو قلم نے کہا: یا رب! میں کیا لکھوں؟ اللہ تعالی نے اسے فرمایا: "قیامت قائم ہونے تک آنے والی مخلوقات کی تقدیریں لکھ دو")

أبو داود (4700) نے اسے روایت کیا ہے، اور البانی نے صحيح أبو داود میں اسے صحیح قرار دیا ہے۔

سوم:
اس بات پر ایمان ہو کہ ساری کائنات کے امور مشیئتِ الہی کے بغیر نہیں چل سکتے، چاہے یہ افعال اللہ سبحانہ وتعالی کی ذات سے تعلق رکھتے ہوں یا مخلوقات سے، چنانچہ اپنے افعال کے بارے میں اللہ تعالی فرماتا ہے:

(وَرَبُّكَ يَخْلُقُ مَا يَشَاءُ وَيَخْتَارُ )
ترجمہ:
اور آپکا رب جو چاہتا اور پسند کرتا ہے وہی پیدا کردیتا ہے۔
[سورۃ القصص:68]

( وَيَفْعَلُ اللَّهُ مَا يَشَاءُ )
ترجمہ:
اور اللہ تعالی جو چاہتا ہے، وہی کرتا ہے۔
[سورۃ ابراهيم:27]

( هُوَ الَّذِي يُصَوِّرُكُمْ فِي الأَرْحَامِ كَيْفَ يَشَاءُ )
ترجمہ:
وہ ہی ہے وہ ذات جو تمہاری شکمِ مادر کے اندر جیسے چاہتا ہے شکلیں بنا دیتا ہے۔
[سورۃ آل عمران:6]

جبکہ افعال ِ مخلوقات کے بارے میں فرمایا:

( وَلَوْ شَاءَ اللَّهُ لَسَلَّطَهُمْ عَلَيْكُمْ فَلَقَاتَلُوكُمْ )
ترجمہ: اور اگر اللہ تعالی چاہتا تو انہیں تم پر مسلط کر دیتا، پھر وہ تم سے جنگ کرتے۔
[سورۃ النساء:90]

اسی طرح سورہ انعام میں فرمایا:

( وَلَوْ شَاءَ رَبُّكَ مَا فَعَلُوهُ )
ترجمہ:
اور اگر تمہارا رب چاہتا تو وہ کچھ بھی نا کرپاتے۔
[سورۃ الأنعام:112]

چنانچہ کائنات میں رونما ہونے والے تمام تغیرات اور حرکات وسکنات اللہ کی مشیئت ہی سے وقوع پذیر ہوتے ہیں، اللہ تعالی جو چاہتا ہے وہ ہو جاتا ہے، اور جو نہیں چاہتا وہ نہیں ہوتا۔

چہارم: اس بات پر ایمان لانا کہ تمام کائنات اپنی ذات، صفات، اور نقل وحرکت کے اعتبار سے اللہ تعالی کی مخلوق ہے، اس بارے میں فرمایا:

( اللَّهُ خَالِقُ كُلِّ شَيْءٍ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ وَكِيلٌ )
ترجمہ:
اللہ تعالی ہی ہر چیز کا خالق ہے، اور وہ ہر چیز پر نگہبان ہے۔
[سورۃ الزمر:62]

( وَخَلَقَ كُلَّ شَيْءٍ فَقَدَّرَهُ تَقْدِيراً )
ترجمہ:
اور اللہ تعالی ہی نے ہر چیز کو پیدا فرمایا، اور انکا اچھی طرح اندازہ بھی لگایا۔
[الفرقان:2]

اسی طرح اللہ تعالی نے ابراہیم علیہ السلام کے متعلق بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ انہوں نے اپنی قوم سے کہا تھا:

( وَاللَّهُ خَلَقَكُمْ وَمَا تَعْمَلُونَ )
ترجمہ:
اور اللہ تعالی نے تمہیں اور تمہارے اعمال کو پیدا کیا ہے۔
[سورۃ الصافات:96]

چنانچہ اگر کوئی شخص مذکورہ بالا امور پر ایمان لے آئے تو اسکا تقدیر پر ایمان درست ہوگا۔

ہم نے تقدیر پر ایمان کے بارے میں جو گفتگو کی ہے یہ اس بات کے منافی نہیں ہے کہ بندے کی اپنے اختیاری افعال میں کوئی بس ہی نا چلے، اور بندہ خود سے کچھ کرنے کے قابل ہی نہ ہو، کہ بندے کو کسی نیکی یا بدی کرنے کا مکمل اختیار نا دیا جائے، یہی وجہ ہے کہ لوگ نیکی بدی سب کرتے ہیں، شریعت اور حقائق اسی بات پر دلالت کرتے ہیں کہ بندے کی اپنی مشیئت بھی ہوتی ہے۔

شریعت سے دلیل یہ ہے کہ اللہ تعالی نے بندے کی مشیئت کے بارے میں فرمایا:

( ذَلِكَ الْيَوْمُ الْحَقُّ فَمَنْ شَاءَ اتَّخَذَ إِلَى رَبِّهِ مَآباً )
ترجمہ:
قیامت کا دن سچا دن ہے، چنانچہ جو چاہتا ہے وہ اپنے رب کی طرف لوٹنے کی جگہ مقرر کر لے۔
[سورۃ النبأ:39]

اسی طرح فرمایا: ( فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ ) تم اپنی کھیتی [بیویوں]کو جس طرح سے چاہوآؤ۔
[سورۃ البقرة:223]

جبکہ انسانی طاقت کے بارے میں بھی فرمایا:

( فَاتَّقُوا اللَّهَ مَا اسْتَطَعْتُمْ )
ترجمہ:
اپنی طاقت کے مطابق ہی اللہ تعالی سے ڈرو۔
[سورۃ التغابن:16]

اسی طرح سورہ بقرہ میں فرمایا:

( لا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْساً إِلا وُسْعَهَا لَهَا مَا كَسَبَتْ وَعَلَيْهَا مَا اكْتَسَبَتْ )
ترجمہ:
اللہ تعالی کسی نفس کو اسکی طاقت سے بڑھ کر مکلف نہیں بناتا، چنانچہ جواچھے کام کریگا اسکا فائدہ اُسی کو ہوگا، اور جو برے کام کریگا اسکا وبال بھی اُسی پر ہوگا۔
[سورۃ البقرة:286]

مندرجہ بالا آیات میں انسانی ارادہ ، اور استطاعت و قوت کو ثابت کیا گیا ہے، انہی دونوں اشیاء کی وجہ سے انسان جو چاہتا ہے کرتا ہے، اور جو چاہتا ہے اسے چھوڑ دیتا ہے۔

حقائق بھی اسی بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ ہر انسان اس بات کو بخوبی جانتا ہے کہ وہ کام کاج کرنا یا نا کرنا اپنی طاقت اور چاہت کے مطابق ہی کرتا ہے، اسی طرح انسان ان امور میں بھی فرق کر لیتا ہے جو اسکی چاہت کے ساتھ ہوں، جیسے چلنا پھرنا، اور جو اسکی چاہت کے ساتھ نہ ہوں جیسے کپکپی طاری ہونا، لیکن ان تمام چیزوں کے با وجود انسان کی تمام چاہت و قوت اللہ تعالی کی مشیئت اور قدرت کے تابع ہوتی ہیں، اسکی دلیل اللہ تعالی کا فرمان:

( لِمَنْ شَاءَ مِنْكُمْ أَنْ يَسْتَقِيمَ [28] وَمَا تَشَاءُونَ إِلا أَنْ يَشَاءَ اللَّهُ رَبُّ الْعَالَمِينَ )
ترجمہ:
تم میں سے جو چاہے سیدھے راستے پر چلے[28] اور تم وہی کچھ چاہ سکتے ہو جو اللہ چاہے جو تمام جہانوں کا رب ہے۔
[سورۃ التكوير:28-29]

[عقلی طور پر بھی]یہ ساری کائنات اللہ تعالی کی بادشاہت میں ہے، اس لئے اس کائنات میں کوئی بھی کام اللہ تعالی کے علم و مشیئت کے بغیر نہیں ہوسکتا۔






قضا و قدر پر ایمان کی حقیقت
اہل سنت کے ہاں قضا و قدر پر ایمان کا مطلب یہ ہے کہ انسان بھر پور یقین رکھے کہ کائنات میں جو کچھ بھی ہو رہا ہے یہ اللہ تعالی کے فیصلوں کی وجہ سے ہے۔ قضا و قدر پر ایمان لانا، ایمان کا چھٹا بنیادی رکن ہے، اس کے بغیر ایمان مکمل نہیں ہو سکتا۔ چنانچہ صحیح مسلم: (8) میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ انہیں کچھ لوگوں کے متعلق علم ہوا کہ وہ تقدیر کا انکار کرتے ہیں، تو آپ رضی اللہ عنہ نے مخاطب سے کہا: "جب تم ان لوگوں سے ملو تو کہہ دینا: میرا ان سے کوئی تعلق نہیں ہے، اور نہ ہی ان کا مجھ سے کوئی تعلق ہے۔ اور میں عبد اللہ بن عمر اللہ تعالی کی قسم اٹھا کر کہتا ہوں کہ: اگر ان میں سے کسی کے پاس پہاڑ کے برابر سونا ہو اور وہ اس سارے سونے کو اللہ کی راہ میں خرچ بھی کر دے تو اللہ تعالی اس سے یہ سونا اس وقت تک قبول نہیں فرمائے گا جب تک وہ تقدیر پر ایمان نہیں لے آتا۔"

تقدیر پر ایمان اس وقت تک صحیح نہیں ہو سکتا جب تک تقدیر کے چار مراتب پر ایمان نہ لایا جائے، جو کہ درج ذیل ہیں:
1-اس بات کا ایمان کہ اللہ تعالی ازل اور قِدم سے ہی ہر چیز کی مکمل اور کامل تفصیلات سے واقف ہے، زمین اور آسمانوں میں سے کہیں بھی کوئی ذرے برابر بھی چیز اس سے مخفی نہیں ہے۔

2-اس بات پر ایمان کہ اللہ تعالی نے یہ سب کچھ لوح محفوظ میں آسمانوں اور زمین کی تخلیق سے بھی 50 ہزار سال پہلے لکھا ہوا ہے۔

3-اللہ تعالی کی مشیئت اور کامل قدرت الہی پر ایمان کہ اس کائنات میں کوئی بھی خیر یا شر کی چیز اللہ تعالی کی مشیئت کے بغیر نہیں ہوتی۔

4- اس بات پر ایمان کہ تمام کائنات اللہ تعالی کی مخلوق ہے، اور اللہ تعالی صرف انہی کا خالق نہیں بلکہ ان کی صفات اور افعال کا بھی خالق ہے، جیسے کہ اللہ تعالی کا فرمان ہے: ذَلِكُمُ اللَّهُ رَبُّكُمْ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ ‌خَالِقُ ‌كُلِّ ‌شَيْءٍ ترجمہ: یہی اللہ ہے جو تمہارا پروردگار ہے، اس کے علاوہ کوئی معبود بر حق نہیں وہی ہر چیز کا خالق ہے۔[الانعام: 102]

تقدیر پر صحیح ایمان کے لوازمات
تقدیر پر صحیح ایمان ہونے کے کچھ لوازمات ہیں کہ آپ درج ذیل امور پر ایمان رکھیں گے تو تب آپ کا تقدیر پر ایمان صحیح ہو گا:

-انسان کا ذاتی ارادہ اور مشیئت ہے اسی ارادے کی بدولت انسان اپنے تمام کام سر انجام دیتا ہے، جیسے کہ اللہ تعالی نے انسانی ارادے اور مشئیت کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا: لِمَنْ شَاءَ مِنْكُمْ أَن يَّسْتَقِيْمَ ترجمہ: تم میں سے اس کے لیے جو سیدھے راستے پر چلنا چاہے۔[التکویر: 28] ، اسی طرح فرمایا: لَا يُكَلِّفُ اللهُ نَفْساً إِلَّا وُسْعَهَا ترجمہ: اللہ تعالی کسی جان کو اس کی طاقت سے بڑھ کر مکلف نہیں بناتا۔[البقرۃ: 286]
[اس آیت سے محل استشہاد یہ ہے کہ: اللہ تعالی انسانی قدرت اور طاقت سے بڑھ کر جب حکم نہیں دیتا تو اس کا مطلب واضح ہوا کہ بندے کی قدرت اور ارادہ بھی ہے۔ مترجم]

-انسانی مشیئت اور قدرت اللہ تعالی کی قدرت اور مشیئت سے خارج نہیں ہے؛ کیونکہ اللہ تعالی نے ہی انسان کو چیزوں میں تفریق اور امتیاز کرنے کی صلاحیت عطا فرمائی ہے، اسی لیے اللہ تعالی نے واضح فرمایا: وَمَا تَشَاءُوْنَ إِلَّا أَن يَّشَاءَ اللهُ رَبُّ الْعَالَمِيْنَ ترجمہ: اور جب تک اللہ رب العالمین نہ چاہے تمہارے چاہنے سے کچھ نہیں ہوتا۔[التکویر: 29]

* مخلوقات کی تقدیر اللہ تعالی کا راز ہے، جس قدر اللہ تعالی نے ہمیں بتلا دیا ہمیں اس کا علم ہے اور اس پر ہمارا یقین بھی ہے، اور جس کا اللہ تعالی نے ہمیں نہیں بتلایا ہم اس پر ایمان رکھتے ہیں اور اسے تسلیم کرتے ہیں، ہم اللہ تعالی کے افعال اور احکام سے متعلق اپنی کمزور اور ناقص عقل کے گھوڑے نہیں دوڑاتے، بلکہ ہم اللہ تعالی کے کامل عدل اور مکمل حکمت پر ایمان رکھتے ہیں، اور یہ بھی جانتے ہیں کہ اللہ تعالی کے افعال کے بارے میں تفتیشی انداز میں پوچھا نہیں جاتا ۔

سلف صالحین کا قضا و قدر کے حوالے سے مختصر عقیدہ بیان کرنے کے بعد ہم ذیل میں قضا و قدر سے متعلق کچھ تفصیلات ذکر کرتے ہیں، اور اللہ تعالی سے دعا گو ہیں کہ اللہ تعالی ہماری مدد فرمائے اور حق بیان کرنے کی توفیق دے:

قضا و قدر کی تعریف اور دونوں میں تفریق کا بیان
عربی زبان میں لفظ"قضا" کا معنی ہے: کسی چیز کو محکم بنانا اور کام کو مکمل کرنا، جبکہ لفظ "قدر" کا معنی اندازہ لگانا، اور تقدیر لکھنا ہے۔

تو تقدیر یا قدر سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالی نے ازل میں چیزوں کی تقدیر لکھی ، اور اللہ تعالی کو ازل سے علم ہے کہ کس وقت میں کیا چیز کب اور کس طرح رونما ہونی ہے، پھر اللہ تعالی نے اس سب کو لکھا بھی ہوا ہے، اور اللہ تعالی کی مشیئت سے ہی تمام امور ایسے ہی ہوں گے جیسے اللہ تعالی نے تقدیر میں لکھا ہوا ہے اور جس طرح اللہ تعالی نے انہیں پیدا کرنا ہے۔

کچھ اہل علم قضا اور قدر دونوں میں تفریق کرتے ہیں، تاہم زیادہ بہتر یہی محسوس ہوتا ہے کہہ قضا اور قدر دونوں میں کوئی فرق نہیں ہے؛ کیونکہ دونوں ہی ایک دوسرے کے معنی میں استعمال ہوتے ہیں، اور کتاب و سنت میں ایسی کوئی واضح دلیل نہیں ہے جو ان میں تفریق کی دلیل بنے، بلکہ اہل علم کا اس بات پر اتفاق ہے کہ دونوں ایک دوسرے کے معنی میں استعمال ہوتے ہیں، تاہم لفظ "قدر" کتاب و سنت میں زیادہ استعمال ہوتا ہے، جس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اس رکن پر ایمان لانا واجب ہے۔ واللہ اعلم

دین میں قضا و قدر پر ایمان کا مقام و مرتبہ
قضا اور قدر پر ایمان لانا ایمان کے چھ ارکان میں سے ایک ہے، یہ پورے چھ ارکان حدیث جبریل میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے ثابت ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے جبریل علیہ السلام کے ایمان کے متعلق سوال کے جواب میں فرمایا: (تم اللہ تعالی پر ایمان لاؤ، اس کے فرشتوں، کتابوں، رسولوں، آخرت کے دن اور اچھی بری تقدیر پر ایمان لاؤ۔) مسلم: (8) پھر تقدیر کا تذکرہ قرآن کریم میں کئی جگہ پر ہوا ہے ، جیسے کہ فرمانِ باری تعالی ہے: إِنَّا كُلَّ شَيْئٍ خَلَقْنَاهُ بِقَدَرٍ ترجمہ: یقیناً ہم نے ہر چیز کو اس کی تقدیر کے مطابق پیدا کیا ہے۔[القمر: 49] ، اسی طرح ایک اور مقام پر فرمایا: وَكَانَ أَمْرُ اللهِ قَدَرًا مَّقْدُوْرًا ترجمہ: اور اللہ تعالی کا ہر فیصلہ پہلے سے طے شدہ ہوتا ہے۔[الاحزاب: 38]

قدر یا تقدیر پر ایمان کے مراتب
اللہ تعالی آپ کو اپنی رضا کے موجب کام کرنے کی توفیق دے، یہ بات ذہن نشین کر لیں کہ تقدیر پر ایمان کے لیے درج ذیل چار مراتب پر ایمان ہونا ضروری ہے:

٭ علم: یعنی اللہ تعالی کے ایسے علم پر ایمان جو ہر چیز کو اپنے احاطے میں لیے ہوئے ہے، آسمان اور زمین میں اللہ تعالی کے علم سے کوئی ذرہ برابر چیز بھی خارج نہیں ہے، بلکہ اللہ تعالی اپنی تمام تر مخلوقات کو انہیں پیدا کرنے سے بھی پہلے سے جانتا ہے، پھر اپنے قدیم علم کی بنا پر یہ بھی جانتا ہے کہ مخلوقات کیا کیا عمل کریں گی؟ ان تفصیلات کے بہت سے دلائل ہیں، مثلاً: فرمانِ باری تعالی ہے: هُوَ اللَّهُ الَّذِي لا إِلَهَ إِلا هُوَ عَالِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ ترجمہ: اللہ وہی ذات ہے جس کے علاوہ کوئی حقیقی معبود بر حق نہیں، وہی حاضر اور غیب تمام کچھ جاننے والا ہے۔[الحشر: 22] اسی طرح اللہ تعالی کا یہ بھی فرمان ہے: وَأَنَّ اللهَ قَدْ أَحَاطَ بِكُلِّ شَيْءٍ عِلْمًا ترجمہ: اور یقیناً اللہ تعالی نے ہر چیز کو اپنے علم کے گھیرے میں لیا ہوا ہے۔[الطلاق: 12]

٭کتابت: یعنی اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالی نے تمام مخلوقات کی تمام تر تقدیریں پہلے سے ہی لوح محفوظ میں لکھی ہوئی ہیں، اس کی دلیل اللہ تعالی کا یہ فرمان ہے: أَلَمْ تَعْلَمْ أَنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ مَا فِي السَّمَاءِ وَالأَرْضِ إِنَّ ذَلِكَ فِي كِتَابٍ إِنَّ ذَلِكَ عَلَى اللَّهِ يَسِيرٌ ترجمہ: کیا آپ نہیں جانتے کہ اللہ تعالی کو آسمان و زمین کی ہر چیز کا علم ہے، اور یقیناً یہ سب چیزیں لوح محفوظ میں ہیں، اور یہ سب کچھ اللہ تعالی کے لیے بہت آسان ہے۔[الحج: 70]

اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ و سلم کا فرمان بھی ہے کہ: (اللہ تعالی نے تمام مخلوقات کی تقدیریں آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے سے بھی 50 ہزار سال پہلے لکھ دی تھیں۔) مسلم: (2653)

٭ ارادہ و مشیئت: اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کائنات میں جو کچھ بھی ہو رہا ہے وہ سب کچھ اللہ تعالی کی مشیئت کے ساتھ ہو رہا ہے، جو مشیئت الہی کے مطابق ہو وہ ہو جاتا ہے اور جو مشیئت کے مطابق نہ ہو تو وہ نہیں ہوتا، لہذا اس دنیا میں ہر چیز اللہ تعالی کی مشیئت کے تحت ہے، کوئی بھی چیز مشیئت الہی سے باہر نہیں ہے۔

اس کی دلیل فرمانِ باری تعالی ہے: وَلا تَقُولَنَّ لِشَيْءٍ إِنِّي فَاعِلٌ ذَلِكَ غَدًا إِلا أَنْ يَشَاءَ اللَّه ترجمہ: اور آپ کسی بھی کام کے لیے یہ ہرگز نہ کہیں کہ میں یہ کام کل کروں گا، لیکن ان شاء اللہ کہیں۔ [الکہف: 23]

اسی طرح فرمانِ باری تعالی ہے:
وَمَا تَشَاءُوْنَ إِلَّا أَن يَّشَاءَ اللهُ رَبُّ الْعَالَمِيْنَ
ترجمہ: اور جب تک اللہ رب العالمین نہ چاہے تمہارے چاہنے سے کچھ نہیں ہوتا۔[التکویر: 29]

٭خلق: اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ اللہ تعالی پر ایمان رکھیں کہ اللہ تعالی ہر چیز کا خالق ہے، اور ان میں بندوں کے افعال بھی شامل ہیں، اس لیے اس کائنات میں کوئی بھی چیز ہے تو اس کا خالق صرف اللہ تعالی ہی ہے؛ کیونکہ اللہ تعالی کا فرمان ہے: اللَّهُ خَالِقُ كُلِّ شَيْءٍ ترجمہ: اللہ تعالی ہی ہر چیز کا خالق ہے۔[الزمر: 62] اسی طرح فرمایا: وَاللَّهُ خَلَقَكُمْ وَمَا تَعْمَلُون ترجمہ: اور اللہ تعالی نے تمہیں بھی پیدا کیا ہے اور تمہارے اعمال کو بھی۔[الصافات: 96]

اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا فرمان ہے: (یقیناً اللہ تعالی ہی ہر کاریگر اور اس کی صنعت کو پیدا کرنے والا ہے۔) اس حدیث کو امام بخاریؒ نے "خلق أفعال العباد" (25) میں اور ابن ابی عاصم ؒ نے "السنة" (257) اور (358) پر بیان کیا ہے، جبکہ البانیؒ نے اسے "سلسلہ صحیحہ "(1637) میں صحیح قرار دیا ہے۔

الشیخ ابن سعدی رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"جس طرح اللہ تعالی نے لوگوں کو پیدا کیا ہے تو اسی طرح اللہ تعالی نے لوگوں میں پائی جانے والی عملوں کی صلاحیت ، قدرت اور ارادے کو بھی پیدا فرمایا ہے۔ البتہ نیکی اور نافرمانی پر مشتمل مختلف افعال انسان اپنی مرضی سے کرتے ہیں، لیکن اس مرضی اور چاہت کو بھی اللہ تعالی نے ہی پیدا کیا ہے۔" ختم شد
ماخوذ از: "الدرة البهية شرح القصيدة التائية" (ص: 18)

عقلی باتوں کے ذریعے قضا و قدر کے مسائل میں گفتگو سے پرہیز
قضا و قدر پر ایمان در حقیقت اللہ تعالی پر صحیح ایمان کا مظہر ہے، تقدیر پر ایمان انسان کی معرفتِ الہی کا امتحان ہوتا ہے، اور اسی معرفتِ الہی کی وجہ سے حاصل ہونے والے سچے یقین کی پڑتال کا باعث بھی ہے، نیز تقدیر پر ایمان سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ انسان اللہ تعالی کی صفات جلال و جمال کس حد تک جانتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ تقدیر اور قضا و قدر کے بارے میں مطلق العنان لوگ اپنی محدود عقل کے باعث بہت سے سوالات اور اشکالات اٹھاتے ہیں، بلکہ لوگ بحث و مباحثے میں اتنے دور نکل جاتے ہیں کہ تقدیر کا ذکر کرنے والی آیات کی تاویل کر بیٹھتے ہیں۔ دوسری جانب دشمنان اسلام کا ہر زمانے میں یہ وتیرہ رہا ہے کہ مسلمانوں کے عقائد میں رخنے ڈالنے کے لیے تقدیری مسائل کو تختہ مشق بناتے ہیں، اسی کے حوالے سے شبہات پیدا کرتے ہیں، تو ایسی صورت حال میں صحیح ایمان اور یقین پر وہی شخص باقی بچتا ہے جو اللہ تعالی کے اسمائے حسنی اور اعلی صفات کی مکمل معرفت رکھتا ہے، جو اپنے معاملات اللہ تعالی کے سپرد کیے ہوئے نفسیاتی طور پر مطمئن ہے، اسے اللہ تعالی پر مکمل بھروسا ہے چنانچہ ایسے شخص پر شکوک و شبہات اثر انداز نہیں ہو پاتے۔ اس سے یہ واضح ہو گیا کہ قضا و قدر پر ایمان ، ایمان کے دیگر ارکان کے درمیان بہت اہمیت کا حامل ہے۔ اور یہ بھی واضح ہو گیا کہ عقل بذات خود تقدیر کی حقیقت کو نہیں پہنچ سکتی؛ کیونکہ تقدیر مخلوقات کے متعلق اللہ تعالی کا راز ہے، تو جس قدر اللہ تعالی نے اس راز کے متعلق قرآن کریم میں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی زبانی بتلایا ہمیں اس کا علم ہے اور ہم اس کی تصدیق کے ساتھ اس پر ایمان بھی رکھتے ہیں، اور تقدیر کے متعلق جن چیزوں سے سکوت فرمایا ہم اس کے بارے میں بھی اللہ تعالی کے کامل عدل اور مکمل حکمت پر یقین رکھتے ہوئے ایمان لاتے ہیں، اور یہ بھی مانتے ہیں کہ اللہ تعالی کے افعال کے بارے میں پوچھا نہیں جاتا، پوچھ تاچھ تو مخلوقات سے کی جاتی ہے۔

واللہ تعالی اعلم، اللہ تعالی اپنے بندے اور نبی محمد صلی اللہ علیہ و سلم ، آپ کی آل اور صحابہ کرام پر رحمت، سلامتی اور برکت نازل فرمائے۔

مراجع:

1-حافظ بن احمد حکمی رحمہ اللہ کی کتاب: "أعلام السنة المنشورة لاعتقاد الطائفة الناجية المنصورة"

2- ڈاکٹر عبد الرحمن المحمود کی کتاب: "القضاء والقدر في ضوء الكتاب والسنة"

3- الشیخ محمد الحمد کی کتاب: "الإيمان بالقضاء والقدر"





احادیثِ نبویہ:

وُجُوبُ الْإِيمَانِ بِالْقَدَر (تقدیر پر ایمان لانے کا وجوب)

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا:

"رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کے درمیان (ان کے بیچ میں) بیٹھا کرتے تھے (٢)۔ پھر کوئی مسافر آتا (٣) اور وہ نہیں جانتا تھا کہ آپ کون ہیں یہاں تک کہ پوچھ لیتا۔ چنانچہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ ہم آپ کے لیے ایسی جگہ بنائیں جسے کوئی اجنبی آپ کے پاس آنے پر پہچان لے۔ پس ہم نے آپ کے لیے مٹی کا ایک اونچا چبوترہ (چبوترہ) بنا دیا (٤)، جس پر آپ بیٹھنے لگے (٥)۔ اور ہم اس کے دونوں طرف بیٹھتے تھے (٧)۔

پس ایک دن ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے (٨) کہ ایک شخص (٩) آیا (١٠) جو انتہائی سفید کپڑے پہنے ہوئے تھا (١١) گویا اس کے کپڑوں کو کسی میل نے چھوا ہی نہ تھا (١٢)، اس کے بال نہایت سیاہ تھے (١٣)، وہ سب سے زیادہ خوبصورت اور خوشبودار تھا (١٤)، اس پر سفر کا کوئی اثر نہ تھا اور ہم میں سے کوئی اسے نہیں جانتا تھا (١٥)۔ اس نے صف کے کنارے سے سلام کیا (١٦،١٧) اور کہا: السلام علیک یا محمد! تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے سلام کا جواب دیا (١٨)۔ اس نے کہا: کیا میں قریب آؤں یا محمد؟ آپ نے فرمایا: آ جاؤ۔ وہ بار بار کہتا رہا: کیا میں قریب آؤں؟ اور آپ فرماتے رہے: آ جاؤ یہاں تک کہ اس نے اپنا ہاتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دونوں گھٹنوں پر رکھ دیا (١٩) – اور ایک روایت میں ہے: اس نے اپنے گھٹنے آپ کے گھٹنوں سے لگا دیے اور اپنی ہتھیلیاں آپ کی رانوں پر رکھ دیں (٢٠)۔

پھر اس نے کہا: مجھے بتاؤ اسلام کیا ہے؟ (٢١)۔ آپ نے فرمایا: "اسلام یہ ہے کہ تو اللہ کی عبادت کرے اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرے (٢٢،٢٣)" – اور دوسری روایت میں ہے: "یہ کہ تو گواہی دے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد اللہ کے رسول ہیں (٢٤)؛ اور تو نماز قائم کرے (فرض نماز) (٢٥)؛ اور زکوٰۃ ادا کرے (فرض زکوٰۃ) (٢٦)؛ اور رمضان کے روزے رکھے (٢٧)؛ اور بیت اللہ کا حج کرے اگر اس تک راستہ پا سکے (٢٨)؛ اور عمرہ کرے؛ اور جنابت سے غسل کرے؛ اور وضو کو پورا کرے (٢٩)۔" اس نے کہا: اگر میں نے یہ سب کر لیا تو کیا میں مسلمان ہوں؟ (٣٠) (یا: کیا میں نے اسلام قبول کر لیا؟) (٣١)۔ آپ نے فرمایا: "ہاں۔" اس نے کہا: تم نے سچ کہا۔

ہم نے اس کے "تم نے سچ کہا" کہنے پر تعجب کیا (٣٢،٣٣) کہ وہ خود سوال کر رہا ہے اور خود ہی تصدیق کر رہا ہے (٣٤،٣٥)۔

پھر اس نے کہا: یا محمد! مجھے بتاؤ ایمان کیا ہے؟ (٣٦) آپ نے فرمایا: "ایمان یہ ہے کہ تو اللہ پر ایمان لائے (٣٦)؛ اس کے فرشتوں پر (٣٧)؛ اس کی کتابوں پر (٣٨)؛ اس کی ملاقات پر (٣٩)؛ اس کے رسولوں پر (٤٠)؛ اور مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونے پر ایمان لائے (٤١،٤٢،٤٣)؛ اور جنت و جہنم پر (٤٤)؛ اور پوری تقدیر پر ایمان لائے (٤٥)؛ خواہ اس کی بھلائی ہو یا برائی (٤٦،٤٧)۔" اس نے کہا: اگر میں یہ کر لوں تو کیا میں ایمان لے آیا؟ آپ نے فرمایا: "ہاں۔" اس نے کہا: تم نے سچ کہا (٤٨،٤٩)۔

(آگے احسان کا سوال بھی تھا، لیکن یہاں تقدیر پر ایمان کے وجوب کے لیے یہی حصہ کافی ہے)

حواشی وحوالہ جات:
(١) بغوی نے شرح السنہ میں کہا: تقدیر پر ایمان رکھنا واجب ہے، اور اس کا مطلب یہ ہے کہ بندہ یہ اعتقاد رکھے کہ اللہ تعالیٰ بندوں کے تمام اعمال کا خالق ہے، خواہ وہ بھلائی کے ہوں یا برائی کے، اور اس نے لوح محفوظ میں انہیں پیدا کرنے سے پہلے لکھ دیا ہے۔ سب کچھ اسی کی قضا، قدر، ارادے اور مشیت سے ہوتا ہے۔ البتہ وہ ایمان اور طاعت سے راضی ہوتا ہے اور ان پر ثواب کا وعدہ کیا ہے، اور کفر و نافرمانی سے راضی نہیں اور ان پر عذاب کی وعید دی ہے۔ تقدیر اللہ تعالیٰ کے رازوں میں سے ایک راز ہے، جس پر نہ کسی مقرب فرشتے کو مطلع کیا گیا اور نہ کسی نبی کو۔ اس میں عقلی طور پر بحث و تحقیق کرنا جائز نہیں۔ بلکہ ضروری ہے کہ یہ اعتقاد رکھا جائے کہ اللہ نے مخلوق کو دو گروہوں میں پیدا کیا: ایک گروہ کو نعمت کے لیے فضل سے، اور دوسرے کو جہنم کے لیے عدل سے پیدا کیا۔
(عون المعبود، جلد 10، صفحہ 210)

(٢) یعنی ان کے درمیان اور ان کے مجمع میں۔ (عون المعبود، جلد 10، صفحہ 216)

(٣) یعنی مسافر۔ (عون المعبود، جلد 10، صفحہ 216)

(٤) قاموس میں ہے: دکان وہ عمارت ہے جس کی چوٹی بیٹھنے کے لیے ہموار کی گئی ہو۔
(عون المعبود، جلد 10، صفحہ 216)

(٥) قرطبی نے اس سے یہ استنباط کیا کہ عالم کا کسی ایسی جگہ بیٹھنا مستحب ہے جو اس کے لیے مخصوص ہو اور بلند ہو جب ضرورت ہو، جیسے تعلیم وغیرہ کے لیے۔
(فتح الباری، حدیث نمبر 50)

(٦) سنن النسائی: 4991، سنن ابی داود: 4698

(٧) سنن ابی داود: 4698

(٨) مسند احمد: 367، اور شیخ شعیب ارناؤوط نے کہا: اس کی سند بخاری و مسلم کی شرط پر صحیح ہے۔

(٩) یعنی فرشتہ جو انسان کی شکل میں آیا۔ (فتح الباری، حدیث نمبر 50)

(١٠) صحیح بخاری: 4499

(١١) صحیح مسلم: 8، سنن ترمذی: 2610

(١٢) سنن النسائی: 4991

(١٣) صحیح مسلم: 8، سنن ترمذی: 2610

(١٤) سنن النسائی: 4991

(١٥) صحیح مسلم: 8، سنن ترمذی: 2610

(١٦) یعنی جماعت، اس سے مراد وہ جماعت ہے جو اس کے دونوں طرف بیٹھی تھی۔
(عون المعبود، جلد 10، صفحہ 216)

(١٧) سنن ابی داود: 4698

(١٨) سنن النسائی: 4991، سنن ابی داود: 4698

(١٩) سنن النسائی: 4991

(٢٠) صحیح مسلم: 8، سنن النسائی: 4990

(٢١) اس نے پہلے ایمان کے بارے میں سوال کیا کیونکہ وہ اصل ہے، پھر اسلام کے بارے میں کیونکہ وہ دعویٰ کی تصدیق ظاہر کرتا ہے، پھر احسان کے بارے میں کیونکہ اس کا تعلق دونوں سے ہے۔
عمارہ بن قعقاع کی روایت میں اس نے اسلام سے آغاز کیا کیونکہ وہ ظاہری معاملہ ہے، پھر ایمان سے کیونکہ وہ باطنی معاملہ ہے – طیبی نے اسے ترجیح دی ہے۔
واقعہ ایک ہی ہے، راویوں نے اسے مختلف انداز میں بیان کیا ہے، ترتیب میں کوئی پابندی نہیں۔ مطر الوراق کی روایت میں اس نے پہلے اسلام، پھر احسان، پھر ایمان کا ذکر کیا۔ حقیقت یہ ہے کہ واقعہ ایک تھا، تقدیم و تاخیر راویوں سے ہوئی، واللہ اعلم۔
(فتح الباری، حدیث نمبر 50)

(٢٢) نووی نے کہا: ممکن ہے "عبادت" سے مراد اللہ کی معرفت ہو، تو پھر نماز وغیرہ کا عطف اس پر ہو گا تاکہ وہ اسلام میں داخل ہو جائیں۔ اور ممکن ہے "عبادت" سے مطلق اطاعت مراد ہو، تو اس میں تمام فرائض داخل ہیں، پھر نماز وغیرہ کا عطف خاص پر عام ہے۔
میں (ابن حجر) کہتا ہوں: پہلا احتمال بعید ہے کیونکہ معرفت کا تعلق ایمان سے ہے، جبکہ اسلام اقوال و اعمال بدنی ہیں۔ اور عمر کی حدیث میں "گواہی دینے" سے تعبیر کیا گیا ہے، اس لیے "عبادت" سے مراد شہادتین کا نطق ہے، اس طرح دوسرا احتمال بھی دفع ہو جاتا ہے۔
چونکہ راوی نے "عبادت" کا لفظ استعمال کیا، اس لیے اسے "اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کر" سے واضح کرنے کی ضرورت پڑی، جبکہ عمر کی روایت میں اس کی ضرورت نہ تھی کیونکہ شہادتین اسے لازم لاتی ہیں۔
(فتح الباری، حدیث نمبر 50)

(٢٣) سنن النسائی: 4991، صحیح بخاری: 50، صحیح مسلم: 9

(٢٤) صحیح مسلم: 8، سنن النسائی: 4990

(٢٥) صحیح مسلم: 9، سنن ابن ماجہ: 64

(٢٦) صحیح مسلم: 9، سنن ابن ماجہ: 64

(٢٧) صحیح بخاری: 50، صحیح مسلم: 9

(٢٨) صحیح مسلم: 8، سنن النسائی: 4990

(٢٩) صحیح ابن خزیمہ: 1، صحیح ابن حبان: 173، سنن ابی داود: 4695، صحیح الترغیب: 175، 1101، اور البانی نے اسے صحیح کہا (الارواء: 3)، اور ارناؤوط نے (ابن حبان: 173) میں کہا: اس کی سند صحیح ہے۔

(٣٠) صحیح ابن خزیمہ: 1، صحیح ابن حبان: 173

(٣١) سنن النسائی: 4991

(٣٢) سنن النسائی: 4991

(٣٣) سنن ابن ماجہ: 63

(٣٤) قرطبی نے کہا: تعجب اس لیے ہوا کہ نبی ﷺ کی لائی ہوئی بات صرف انہی سے معلوم ہوتی ہے، اور یہ سائل نہ تو نبی ﷺ سے ملاقات کے لیے جانا جاتا تھا اور نہ ہی ان سے سننے کے لیے، پھر وہ اس طرح سوال کر رہا ہے جیسے وہ پوچھی ہوئی باتوں کا جاننے والا ہو اور خود ہی آپ کی تصدیق کر رہا ہو۔ اس لیے وہ تعجب کیا۔
(فتح الباری، حدیث نمبر 50)

(٣٥) صحیح مسلم: 8، سنن النسائی: 4990

(٣٦) آپ کا فرمان "ایمان یہ ہے کہ تو اللہ پر ایمان لائے" وغیرہ سے معلوم ہوا کہ آپ نے جان لیا کہ اس نے ایمان کے متعلقات کے بارے میں پوچھا ہے، نہ کہ لفظ کے معنی کے بارے میں، ورنہ جواب ہوتا "ایمان تصدیق ہے"۔
طیبی نے کہا: اس میں تکرار کا وہم ہے، لیکن ایسا نہیں، کیونکہ "تُؤْمِنَ بِاللَّهِ" میں اعتراف کے ساتھ تصدیق کا معنی ہے۔
کرمانی نے کہا: یہ تعریف الشیء بنفسہ نہیں، بلکہ یہاں حد (محدود) سے مراد شرعی ایمان ہے اور حد سے مراد لغوی ایمان ہے۔
میں (ابن حجر) کہتا ہوں: ظاہر یہ ہے کہ اس نے ایمان کا لفظ دہرایا تاکہ اس کی اہمیت کو اجاگر کیا جا سکے، جیسا کہ قرآن میں ہے: {قُلْ يُحْيِيهَا الَّذِي أَنْشَأَهَا أَوَّلَ مَرَّةٍ} (پوچھنے پر کہ ہڈیاں کون زندہ کرے گا)۔ گویا "تُؤْمِنَ" سے ایمان کا مطلب ظاہر ہو جاتا ہے، تو اس نے کہا: شرعی ایمان ایک خاص قسم کی تصدیق ہے، ورنہ جواب ہوتا "ایمان تصدیق ہے"۔ اللہ پر ایمان اس کے وجود کی تصدیق کرنا ہے، اور یہ کہ وہ کمال کی صفات والا اور نقص کی صفات سے پاک ہے۔
(فتح الباری، حدیث نمبر 50)

(٣٧) فرشتوں پر ایمان: ان کے وجود کی تصدیق کرنا، اور یہ کہ وہ ویسے ہی ہیں جیسا کہ اللہ نے انہیں "معزز بندے" قرار دیا ہے۔ فرشتوں کو کتابوں اور رسولوں پر مقدم رکھا گیا کیونکہ اللہ نے فرشتے کو کتاب لے کر رسول کے پاس بھیجا ہے، اس میں کوئی دلیل نہیں کہ فرشتہ رسول سے افضل ہے۔
(فتح الباری، حدیث نمبر 50)

(٣٨) اللہ کی کتابوں پر ایمان: یہ تصدیق کرنا کہ وہ اللہ کا کلام ہیں اور جو کچھ ان میں ہے حق ہے۔
(فتح الباری، حدیث نمبر 50)

(٣٩) آپ کا فرمان "اور اس کی ملاقات پر" – یہ لفظ یہاں کتابوں اور رسولوں کے درمیان آیا ہے، اور مسلم کی دو سندوں میں بھی ایسا ہی ہے، جبکہ دوسری روایات میں یہ نہیں ہے۔ بعض نے کہا یہ "بعث" کے ساتھ مکرر ہے۔ لیکن حق یہ ہے کہ مکرر نہیں۔ کہا گیا: "بعث" سے مراد قبروں سے اٹھنا ہے، اور "لقاء" سے مراد اس کے بعد کا معاملہ ہے۔ کہا گیا: لقاء دنیا سے نکلتے ہی حاصل ہو جاتا ہے، اور بعث اس کے بعد ہوتا ہے – اس کی تائید مطر الوراق کی روایت سے ہوتی ہے جس میں "اور موت پر، اور موت کے بعد بعث پر" ہے، اور اسی طرح انس اور ابن عباس کی حدیثوں میں۔
خطابی نے کہا: "لقاء" سے مراد اللہ کی رؤیت ہے۔
نووی نے اس پر اعتراض کیا کہ کوئی شخص اپنے لیے رؤیت کی ضمانت نہیں دے سکتا، کیونکہ یہ صرف اس کے لیے ہے جو مرتے وقت مومن ہو، اور آدمی نہیں جانتا کہ اس کا انجام کیا ہوگا، پھر یہ ایمان کی شرط کیسے ہو سکتی ہے؟
جواب دیا گیا: مراد یہ ہے کہ اس بات پر ایمان رکھنا کہ یہ (رؤیت) حقیقت میں حق ہے – یہ اہل سنت کے لیے رؤیت الٰہی ثابت کرنے کی ایک مضبوط دلیل ہے کہ اسے ایمان کی بنیادوں میں شامل کیا گیا۔
(فتح الباری، حدیث نمبر 50)

(٤٠) رسولوں پر ایمان: ان کی تصدیق کرنا کہ وہ اللہ کی طرف سے جو کچھ لائے ہیں سچے ہیں۔ فرشتوں، کتابوں اور رسولوں کے اجمالی ذکر سے معلوم ہوا کہ ان پر اجمالاً ایمان رکھنا کافی ہے، سوائے ان کے جن کے نام متعین ہیں تو ان پر تفصیلاً ایمان واجب ہے۔ یہ ترتیب آیت {آمَنَ الرَّسُولُ بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْهِ مِنْ رَبِّهِ} کے مطابق ہے – اس ترتیب کی مناسبت یہ ہے کہ خیر اور رحمت اللہ کی طرف سے ہے، اور اس کی بڑی رحمت یہ ہے کہ اس نے اپنی کتابیں اپنے بندوں پر نازل کیں، اور ان کو پہنچانے والے انبیاء ہیں، اور ان کے درمیان واسطہ فرشتے ہیں۔
(فتح الباری، حدیث نمبر 50)

(٤١) "آخر" کا ذکر تاکید کے لیے ہے جیسے "امس الذاہب" (گزشتہ کل)۔ اور کہا گیا: کیونکہ بعث دو بار ہوتی ہے: پہلی بار عدم سے وجود میں لانا یا ماں کے پیٹ سے نطفہ اور پھر زندگی؛ دوسری بار قبروں سے اٹھانا۔ "یوم آخر" کو آخر اس لیے کہا جاتا ہے کہ یہ دنیا کے آخری دن ہیں، یا محدود وقتوں کا آخری حصہ۔ اس پر ایمان کا مطلب اس میں ہونے والے حساب، میزان، جنت اور جہنم کی تصدیق کرنا ہے۔
(فتح الباری، حدیث نمبر 50)

(٤٢) صحیح بخاری: 50، صحیح مسلم: 9

(٤٣) مسند احمد: 184

(٤٤) مسند احمد: 184، اور ارناؤوط نے کہا: اس کی سند بخاری و مسلم کی شرط پر صحیح ہے۔

(٤٥) صحیح مسلم: 10، سنن النسائی: 4990

(٤٦) "قدر" مصدر ہے، کہتے ہیں: قَدَرْتُ الشَّیْءَ (دال کی تخفیف اور فتح کے ساتھ) اگر اس کی مقدار کا احاطہ کر لیا۔ مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اشیاء کی مقداریں اور ان کے اوقات کو ان کے وجود میں آنے سے پہلے جان لیا، پھر اسے وجود دیا جو اس کے علم میں تھا۔ ہر حادث اس کے علم، قدرت اور ارادے سے صادر ہوتا ہے۔ یہی وہ بات ہے جو قطعی دلائل سے دین میں معلوم ہے، اور صحابہ اور بہتر تابعین کا مسلک تھا، یہاں تک کہ صحابہ کے آخری دور میں قدریہ کی بدعت پیدا ہوئی۔
مقالات کی کتابوں میں بعض قدریہ کے بارے میں حکایت ہے کہ وہ اللہ کے بندوں کے اعمال کے وقوع سے پہلے ان کے علم کا انکار کرتے تھے، اور کہتے تھے کہ اللہ انہیں وقوع کے بعد جانتا ہے۔
قرطبی وغیرہ نے کہا: یہ مذہب ختم ہو گیا، ہم بعد میں کسی کو اس کی طرف منسوب نہیں جانتے۔ انہوں نے کہا: آج کے قدریہ اس بات پر متفق ہیں کہ اللہ بندوں کے اعمال کو وقوع سے پہلے جانتا ہے، لیکن وہ سلف کے خلاف یہ کہتے ہیں کہ بندوں کے اعمال ان کی اپنی قدرت سے اور آزادانہ طور پر واقع ہوتے ہیں – یہ باطل مذہب ہے، اگرچہ پہلے مذہب سے ہلکا ہے۔
بعد کے قدریہ نے ارادہ کو بندوں کے اعمال سے متعلق ہونے کا انکار کیا، تاکہ قدیم کو حادث سے متعلق ہونے سے بچ سکیں۔ شافعی نے انہیں جواب دیا: اگر قدریہ علم کو تسلیم کر لے تو مغلوب ہو جائے گا۔ یعنی اس سے کہا جائے گا: کیا ممکن ہے کہ وجود میں علم کے خلاف کوئی چیز واقع ہو؟ اگر وہ منع کرے تو اہل سنت کے قول سے موافقت کر لے، اور اگر جائز جانے تو پھر اسے اللہ پر جہالت لازم آئے گی، اللہ اس سے بالا تر ہے۔
(فتح الباری، حدیث نمبر 50)

(٤٧) صحیح مسلم: 8، سنن ترمذی: 2610

(٤٨) ظاہر سیاق سے پتہ چلتا ہے کہ ایمان صرف اس شخص پر اطلاق ہوتا ہے جو مذکورہ تمام باتوں کی تصدیق کرے۔ فقہاء نے اس شخص پر ایمان کا اطلاق کر دیا جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائے، اور اس میں کوئی اختلاف نہیں، کیونکہ رسول پر ایمان کا مطلب ان کے وجود اور ان کے رب سے لائی ہوئی ہر چیز پر ایمان لانا ہے، اس لیے مذکورہ تمام چیزیں اس کے اندر داخل ہیں۔ واللہ اعلم۔
(فتح الباری، حدیث نمبر 50)

(٤٩) سنن النسائی: 4991، مسند احمد: 2926




حاصل شدہ اہم اسباق و نکات
تقدیر پر ایمان واجب ہے اور یہ ایمان کے ضروری ارکان میں سے ہے، جیسا کہ حدیث جبرائیل میں صراحت ہے۔

تقدیر کے دو پہلو:

علم: اللہ کو ہر چیز کا ازل سے علم ہے۔

کتابت: اللہ نے لوح محفوظ میں ہر چیز لکھ دی ہے۔

مشیت: جو کچھ اللہ چاہے وہی ہوتا ہے، جو نہ چاہے نہیں ہوتا۔

خلق: اللہ ہی تمام اشیاء اور اعمال کا خالق ہے۔

تقدیر پر ایمان کے بغیر ایمان کامل نہیں ہوتا، کیونکہ حدیث میں اسے ایمان کے اجزاء میں شمار کیا گیا ہے۔

تقدیر میں خیر و شر دونوں کا ماننا ضروری ہے، جیسا کہ حدیث میں "خیرہ و شرہ" کے الفاظ ہیں۔

اس حدیث کو "حدیث جبرائیل" کہا جاتا ہے اور یہ دین کے تین درجات (اسلام، ایمان، احسان) کی تعریف کرتی ہے۔

تقدیر کے بارے میں غور و فکر کرنا اور عقلی بحث کرنا منع ہے، کیونکہ یہ اللہ کا راز ہے۔

تقدیر پر ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ انسان تمام حالات میں اللہ پر راضی رہے، مصیبت پر صبر کرے اور نعمت پر شکر کرے۔

واللہ اعلم بالصواب






متن (عربی):
عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ - رضي الله عنه - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم -: " لَا يُؤْمِنُ عَبْدٌ (١) حَتَّى يُؤْمِنَ بِأَرْبَعٍ: يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ , وَأَنِّي مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللهِ , بَعَثَنِي بِالْحَقِّ , وَيُؤْمِنُ بِالْبَعْثِ بَعْدَ الْمَوْتِ , وَيُؤْمِنُ بِالْقَدَرِ (٢) " (٣)

ترجمہ:

حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"کوئی بندہ (مکمل) مومن نہیں ہوتا (١) یہاں تک کہ وہ چار چیزوں پر ایمان لے آئے: (١) گواہی دے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں محمد اللہ کا رسول ہوں، جس نے مجھے حق کے ساتھ بھیجا ہے؛ (٢) مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونے پر ایمان لائے؛ (٣) اور تقدیر پر ایمان لائے (٢)۔"

حواشی وحوالہ جات:
(١) الْمُرَادُ بِهَذَا الْحَدِيثِ نَفْيُ أَصْلِ الْإِيمَانِ , لَا نَفْيُ الْكَمَالِ , أَيْ: لَا يُعْتَبَرُ مَا عِنْدَهُ مِنْ التَّصْدِيقِ الْقَلْبِيِّ.
ترجمہ:
اس حدیث سے مراد ایمان کی اصل (بنیاد) کی نفی ہے، نہ کہ کمال کی نفی۔ یعنی (ان چیزوں پر ایمان کے بغیر) اس کا قلبی تصدیق (بھی) معتبر نہیں ہے۔
(تحفۃ الاحوذی، جلد 5، صفحہ 434)

(٢) أَيْ: يُؤْمِنُ بِأَنَّ جَمِيعَ مَا يَجْرِي فِي الْعَالَمِ بِقَضَاءِ اللهِ وَقَدَرِهِ.
ترجمہ:
یعنی وہ اس بات پر ایمان لائے کہ جو کچھ بھی دنیا میں ہوتا ہے، اللہ کی قضا اور قدر سے ہوتا ہے۔
(تحفۃ الاحوذی، جلد 5، صفحہ 434)

(٣) مسند احمد: 758، سنن ترمذی: 2145، سنن ابن ماجہ: 81


حاصل شدہ اہم اسباق و نکات
ایمان کے لیے چار بنیادی شرطیں:

توحید و رسالت کا اقرار: اللہ کی وحدانیت اور نبی ﷺ کی رسالت پر گواہی۔

آخرت پر ایمان: موت کے بعد دوبارہ زندہ ہونے اور اس کے حساب و کتاب پر یقین۔

تقدیر پر ایمان: ہر اچھی اور بری تقدیر اللہ کی طرف سے ہے۔

تقدیر پر ایمان کے بغیر ایمان کامل نہیں:
یہ حدیث صراحتاً بتاتی ہے کہ تقدیر کا انکار اصل ایمان کے منافی ہے۔

اس حدیث کا مقصد:
یہاں "لَا يُؤْمِنُ" سے مراد ایمان کی اصل (بنیاد) کی نفی ہے، نہ کہ کمال کی نفی۔ یعنی ان چیزوں کے بغیر کوئی شخص حقیقی مومن ہی نہیں سمجھا جائے گا۔

حدیث کی صحت:
یہ حدیث مسند احمد، سنن ترمذی اور سنن ابن ماجہ میں موجود ہے اور محدثین کے نزدیک صحیح ہے۔

واللہ اعلم بالصواب






متن (عربی):
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ - رضي الله عنهما - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم -: " لَا يُؤْمِنُ عَبْدٌ , حَتَّى يُؤْمِنَ بِالْقَدَرِ خَيْرِهِ وَشَرِّهِ (١) حَتَّى يَعْلَمَ أَنَّ مَا أَصَابَهُ (٢) لَمْ يَكُنْ لِيُخْطِئَهُ , وَأَنَّ مَا أَخْطَأَهُ (٣) لَمْ يَكُنْ لِيُصِيبَهُ " (٤)

ترجمہ:

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"کوئی بندہ (حقیقی) مومن نہیں ہوتا جب تک کہ وہ تقدیر کی اچھائی اور برائی پر ایمان نہ لے آئے (١) یہاں تک کہ وہ جان لے کہ جو (مصیبت یا نعمت) اسے پہنچی (٢) وہ اسے کبھی چھوڑ کر نہیں جانے والی تھی، اور جو چیز اس سے چھوٹ گئی (٣) وہ اسے کبھی پہنچنے والی نہیں تھی۔"(٤)

حواشی وحوالہ جات:
(١) أَيْ: بِأَنَّ جَمِيعَ الْأُمُورِ الْكَائِنَةِ خَيْرَهَا وَشَرَّهَا , حُلْوَهَا وَمُرَّهَا بِقَضَائِهِ وَقَدَرِهِ وَإِرَادَتِهِ وَأَمْرِهِ، وَإِنَّهُ لَيْسَ فِيهَا لَهُمْ إِلَّا مُجَرَّدُ الْكَسْبِ , وَمُبَاشَرَةُ الْفِعْلِ.
ترجمہ:
یعنی وہ اس بات پر ایمان لائے کہ تمام ہونے والے امور، خواہ وہ بھلائی ہو یا برائی، شیریں ہو یا تلخ، اللہ کی قضا، قدر، ارادے اور حکم سے ہوتے ہیں۔ اور اس میں بندوں کا صرف کسب (کمانا) اور فعل کی خود مباشرت کرنا ہے (یعنی ان کی اختیاری کوشش، مگر حقیقت میں اللہ ہی خالق ہے)۔
(تحفۃ الاحوذی، جلد 5، صفحہ 433)

(٢) أَيْ: مِنْ النِّعْمَةِ وَالْبَلِيَّةِ , وَالطَّاعَةِ وَالْمَعْصِيَةِ , مِمَّا قَدَّرَهُ اللهُ لَهُ وَعَلَيْهِ.
ترجمہ:
یعنی اسے جو کچھ بھی پہنچا، خواہ وہ نعمت ہو یا مصیبت، طاعت ہو یا معصیت، وہ سب وہی ہے جو اللہ نے اس کے لیے (تقدیر میں) لکھ دیا تھا اور اس پر مقدر کیا تھا۔ 
(تحفۃ الاحوذی، جلد 5، صفحہ 433)

(٣) أَيْ: مِنْ الْخَيْرِ وَالشَّرِّ.
ترجمہ:
یعنی جو چیز بھی اس سے چھوٹ گئی، خواہ وہ بھلائی ہو یا برائی۔
(تحفۃ الاحوذی، جلد 5، صفحہ 433)

(٤) سنن ترمذی: 2144، دیکھیے صحیح الجامع: 7585، سلسلہ صحیحہ: 2439


حاصل شدہ اہم اسباق و نکات
تقدیر پر ایمان ایمان کا لازمی جز ہے:
حدیث صراحتاً بتاتی ہے کہ تقدیر (اس کی اچھائی اور برائی) پر ایمان کے بغیر ایمان مکمل نہیں ہوتا۔

قناعت اور رضا کا مقام:
جب بندہ یقین کر لے کہ جو کچھ اسے ملا وہ اس کا مقدر تھا اور جو نہیں ملا وہ اس کے لیے نہیں تھا، تو وہ قناعت اختیار کرتا ہے اور مصیبت پر صبر کرتا ہے۔

تقدیر کے انکار کی تردید:
یہ حدیث قدریہ (تقدیر کے انکار کرنے والوں) کے خلاف واضح دلیل ہے۔

بندے کی کوشش اور اللہ کی تخلیق:
حاشیہ میں وضاحت کی گئی ہے کہ بندہ کسب (کوشش) کرتا ہے، لیکن حقیقی خالق اللہ ہے۔ یہ اہل سنت کا مسلک ہے۔

سکون اور اطمینان:
تقدیر پر ایمان بندے کو پریشانیوں سے نجات دلاتا ہے، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ ہر چیز اللہ کے حکم سے ہے۔

حدیث کی صحت:
یہ حدیث سنن ترمذی میں موجود ہے اور علامہ البانی نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔

واللہ اعلم بالصواب





متن (عربی):
عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ - رضي الله عنه - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم -: " لَا يَجِدُ عَبْدٌ حَلَاوَةَ الْإِيمَانِ (١) وفي رواية: (لَا يَبْلُغُ الْعَبْدُ حَقِيقَةَ الْإِيمَانِ) (٢) حَتَّى يَعْلَمَ أَنَّ مَا أَصَابَهُ لَمْ يَكُنْ لِيُخْطِئَهُ، وَمَا أَخْطَأَهُ لَمْ يَكُنْ لِيُصِيبَهُ " (٣)

ترجمہ:

حضرت ابو الدرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"کوئی بندہ ایمان کی شیرینی (حلاوت) نہیں پاتا (١) – اور ایک روایت میں ہے: بندہ ایمان کی حقیقت تک نہیں پہنچتا (٢) – یہاں تک کہ وہ جان لے کہ جو (مصیبت یا نعمت) اسے پہنچی وہ اسے کبھی چھوڑ کر نہ جانے والی تھی، اور جو چیز اس سے چھوٹ گئی وہ اسے کبھی پہنچنے والی نہیں تھی (٣)۔"

حواشی وحوالہ جات:

(١) "حَلَاوَة الْإِيمَان" اِسْتِعَارَة تَخْيِيلِيَّةٌ، شَبَّهَ رَغْبَة الْمُؤْمِن فِي الْإِيمَان بِشَيْءٍ حُلْو وَفِيهِ تَلْمِيحٌ إِلَى قِصَّة الْمَرِيض وَالصَّحِيح , لِأَنَّ الْمَرِيض الصَّفْرَاوِيّ يَجِد طَعْم الْعَسَل مُرًّا , وَالصَّحِيح يَذُوقُ حَلَاوَته عَلَى مَا هِيَ عَلَيْهِ، وَكُلَّمَا نَقَصَتْ الصِّحَّة شَيْئًا مَا , نَقَصَ ذَوْقه بِقَدْرِ ذَلِكَ، فَكَانَتْ هَذِهِ الِاسْتِعَارَة مِنْ أَوْضَحِ مَا يُقَوِّي اِسْتِدْلَال الْمُصَنِّف عَلَى الزِّيَادَة وَالنَّقْص , وإِنَّمَا عَبَّرَ بِالْحَلَاوَةِ لِأَنَّ الله شَبَّهَ الْإِيمَان بِالشَّجَرَةِ فِي قَوْله تَعَالَى {مَثَلًا كَلِمَة طَيِّبَة كَشَجَرَةٍ طَيِّبَة} فَالْكَلِمَة هِيَ كَلِمَة الْإِخْلَاص، وَالشَّجَرَة أَصْل الْإِيمَان، وَأَغْصَانهَا اِتِّبَاع الْأَمْر , وَاجْتِنَاب النَّهْي، وَوَرَقهَا مَا يَهْتَمّ بِهِ الْمُؤْمِن مِنْ الْخَيْر، وَثَمَرهَا عَمَل الطَّاعَات، وَحَلَاوَة الثَّمَر جَنْي الثَّمَرَة، وَغَايَة كَمَالِهِ تَنَاهِي نُضْج الثَّمَرَة , وَبِهِ تَظْهَر حَلَاوَتهَا.
ترجمہ:
"ایمان کی شیرینی" ایک تخیلاتی استعارہ ہے۔ اس میں مومن کی ایمان کے لیے رغبت کو کسی میٹھی چیز سے تشبیہ دی گئی ہے، اور اس میں بیمار اور صحیح شخص کے واقعے کی طرف اشارہ ہے۔ کیونکہ یرقان (پیلے بخار) کا مریض شہد کو کڑوا محسوس کرتا ہے، جبکہ صحیح شخص اسے اس کی حقیقت پر میٹھا پاتا ہے۔ جتنی صحت کم ہوتی ہے، اتنا ہی ذائقہ کم ہو جاتا ہے۔ لہٰذا یہ استعارہ مصنف (بخاری) کے اس استدلال کو تقویت دینے کے لیے سب سے واضح ہے کہ ایمان میں زیادتی اور کمی ہوتی ہے۔
اور "شیرینی" کے ساتھ تعبیر کرنے کی وجہ یہ ہے کہ اللہ نے ایمان کو درخت سے تشبیہ دی ہے، جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: "پاکیزہ کلمہ کی مثال ایک پاکیزہ درخت کی طرح ہے" [ابراہیم: 24]۔ "کلمہ" سے مراد کلمہ اخلاص ہے، "درخت" سے مراد ایمان کی جڑ ہے، اس کی شاخیں احکام کی پیروی اور نہیوں سے بچنا ہیں، اس کے پتے وہ بھلائیاں ہیں جن کا مومن اہتمام کرتا ہے، اس کا پھل طاعات کا عمل ہے، اور پھل کی شیرینی پھل توڑنے (ثواب پانے) سے حاصل ہوتی ہے، اور اس کی مکمل خوبی پھل کے پکنے کی انتہا ہے، جس سے اس کی شیرینی ظاہر ہوتی ہے۔
(فتح الباری، جلد 1، صفحہ 25)

(٢)  مسند احمد (حدیث نمبر 27530)۔

(٣) السنة لابن ابی عاصم:247، مسند احمد:27530۔ نیز دیکھیے: صحيح الجامع:2150، سلسلة الأحاديث الصحيحة:2471، 3019۔




حاصل شدہ اہم اسباق و نکات
ایمان کی شیرینی کا مفہوم:
ایمان کی شیرینی سے مراد وہ حلاوت اور لذت ہے جو مومن کو اپنی عبادات اور اطاعت میں محسوس ہوتی ہے۔ یہ ایک حقیقی احساس ہے جو کامل ایمان کے ساتھ آتا ہے۔

تقدیر پر ایمان شرط ہے:
ایمان کی حقیقت یا شیرینی حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ بندہ یقین رکھے کہ جو کچھ اسے پہنچا وہ اس کی تقدیر میں تھا اور جو چھوٹ گیا وہ اس کے لیے نہیں تھا۔

قناعت اور صبر کا ثمر:
اس یقین کے بعد بندہ مصیبت پر صبر کرتا ہے اور نعمت پر شکر کرتا ہے، جس سے اس کے ایمان میں حلاوت پیدا ہوتی ہے۔

ایمان میں کمی بیشی:
فتح الباری کے حاشیے میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ استعارہ (شہد اور مریض و صحیح کی مثال) اس بات کی دلیل ہے کہ ایمان میں کمی اور بیشی ہوتی ہے، جیسے کہ مریض کو شہد کی حقیقی شیرینی محسوس نہیں ہوتی، جبکہ صحیح شخص کو ہوتی ہے۔

ایمان کا درخت سے تشبیہ:
جس طرح درخت کی جڑ، شاخیں، پتے اور پھل ہوتے ہیں، اسی طرح ایمان کی بنیاد (توحید)، اس کی شاخیں (اعمال)، اس کے پتے (نیکی کی فکر)، اور اس کا پھل (طاعات کا ثواب) ہے۔ شیرینی پھل کے پکنے (ایمان کے کمال) پر ظاہر ہوتی ہے۔

حدیث کی صحت:
یہ حدیث صحیح ہے اور متعدد کتب میں موجود ہے۔

واللہ اعلم بالصواب





عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ سُلَيْمٍ قَالَ: (قَدِمْتُ مَكَّةَ , فَلَقِيتُ عَطَاءَ بْنَ أَبِي رَبَاحٍ (١) فَقُلْتُ لَهُ: يَا أَبَا مُحَمَّدٍ , إِنَّ أَهْلَ الْبَصْرَةِ يَقُولُونَ فِي الْقَدَرِ (٢) فَقَالَ: يَا بُنَيَّ أَتَقْرَأُ الْقُرْآنَ (٣)؟ , قُلْتُ: نَعَمْ , قَالَ: فَاقْرَأ الزُّخْرُفَ , فَقَرَأتُ: {حم , وَالْكِتَابِ الْمُبِينِ (٤) إِنَّا جَعَلْنَاهُ قُرْآنًا عَرَبِيًّا لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ , وَإِنَّهُ (٥) فِي أُمِّ الْكِتَابِ (٦) لَدَيْنَا لَعَلِيٌّ (٧) حَكِيمٌ (٨)} فَقَالَ: أَتَدْرِي مَا أُمُّ الْكِتَابِ؟ , قُلْتُ: اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ , قَالَ: فَإِنَّهُ (٩) كِتَابٌ كَتَبَهُ اللهُ قَبْلَ أَنْ يَخْلُقَ السَّمَاوَاتِ , وَقَبْلَ أَنْ يَخْلُقَ الْأَرْضَ , فِيهِ (١٠) إِنَّ فِرْعَوْنَ مِنْ أَهْلِ النَّارِ , وَفِيهِ: تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ وَتَبَّ , قَالَ عَطَاءٌ: وَلَقِيتُ الْوَلِيدَ بْنَ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ صَاحِبَ رَسُولِ اللهِ - صلى الله عليه وسلم - فَسَأَلْتُهُ: مَا كَانَ وَصِيَّةُ أَبِيكَ عِنْدَ الْمَوْتِ؟ , قَالَ: دَعَانِي أَبِي فَقَالَ لِي: يَا بُنَيَّ اتَّقِ اللهَ , وَاعْلَمْ أَنَّكَ لَنْ تَتَّقِ اللهَ حَتَّى تُؤْمِنَ بِاللهِ) (١١) (وَلَنْ تَجِدَ طَعْمَ حَقِيقَةِ الْإِيمَانِ حَتَّى تَعْلَمَ أَنَّ مَا أَصَابَكَ لَمْ يَكُنْ لِيُخْطِئَكَ , وَمَا أَخْطَأَكَ لَمْ يَكُنْ لِيُصِيبَكَ) (١٢) (فَإِنْ مُتَّ عَلَى غَيْرِ هَذَا (١٣) دَخَلْتَ النَّارَ , إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ - صلى الله عليه وسلم - يَقُولُ: " إِنَّ أَوَّلَ مَا خَلَقَ اللهُ الْقَلَمَ (١٤) فَقَالَ: اكْتُبْ , فَقَالَ: رَبِّ مَا أَكْتُبُ؟ , قَالَ: اكْتُبْ الْقَدَرَ (١٥) مَا كَانَ وَمَا هُوَ كَائِنٌ (١٦) إِلَى الْأَبَدِ) (١٧) وفي رواية: (اكْتُبْ مَقَادِيرَ كُلِّ شَيْءٍ حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ) (١٨) (قَالَ: فَجَرَى الْقَلَمُ فِي تِلْكَ السَّاعَةِ بِمَا كَانَ وَبِمَا هُوَ كَائِنٌ إِلَى الْأَبَدِ ") (١٩) (يَا بُنَيَّ , إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ - صلى الله عليه وسلم - يَقُولُ: " مَنْ مَاتَ عَلَى غَيْرِ هَذَا (٢٠) فَلَيْسَ مِنِّي ") (٢١)

ترجمہ:

عبدالواحد بن سلیم سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں مکہ آیا تو مجھے عطاء بن ابی رباح (١) ملے۔ میں نے ان سے کہا: اے ابو محمد! بصرہ والے تقدیر کے بارے میں (٢) (اس کا انکار کرتے ہیں) کہتے ہیں۔ انہوں نے کہا: اے بیٹے! کیا تم قرآن پڑھتے ہو (٣)؟ میں نے کہا: ہاں۔ انہوں نے کہا: سورہ زخرف پڑھو۔ میں نے پڑھا: {حم، وَالْكِتَابِ الْمُبِينِ (٤) إِنَّا جَعَلْنَاهُ قُرْآنًا عَرَبِيًّا لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ، وَإِنَّهُ (٥) فِي أُمِّ الْكِتَابِ (٦) لَدَيْنَا لَعَلِيٌّ (٧) حَكِيمٌ (٨)}۔

پھر انہوں نے کہا: کیا تم جانتے ہو "ام الکتاب" کیا ہے؟ میں نے کہا: اللہ اور اس کا رسول زیادہ جانتے ہیں۔ انہوں نے کہا: وہ (٩) ایک کتاب ہے جسے اللہ نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے سے پہلے لکھا۔ اس میں (١٠) لکھا ہے کہ فرعون جہنمیوں میں سے ہے، اور اس میں ہے: {تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ وَتَبَّ} (ابولہب کے ہاتھ ٹوٹ گئے اور وہ ہلاک ہو گیا)۔

عطاء نے کہا: میں ولید بن عبادہ بن صامت سے ملا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی تھے، اور میں نے ان سے پوچھا: آپ کے والد کی موت کے وقت کیا وصیت تھی؟ انہوں نے کہا: میرے والد نے مجھے بلا کر کہا: اے بیٹے! اللہ سے ڈر، اور جان لے کہ تو اللہ سے اس وقت تک نہیں ڈر سکتا جب تک تو اللہ پر ایمان نہ لے آئے (١١)۔

اور تو ایمان کی حقیقت کا مزہ اس وقت تک نہیں پائے گا جب تک تو یہ نہ جان لے کہ جو تجھے پہنچا وہ تجھے کبھی چھوڑ کر نہ جانے والا تھا، اور جو تجھ سے چھوٹ گیا وہ تجھے کبھی پہنچنے والا نہیں تھا (١٢)۔ پس اگر تو اس (١٣) (عقیدے) کے خلاف مر گیا تو تو جہنم میں داخل ہو گا۔

میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: "بیشک سب سے پہلی چیز جو اللہ نے پیدا کی وہ قلم تھا (١٤)۔ اس نے فرمایا: لکھ۔ اس نے کہا: اے رب! کیا لکھوں؟ فرمایا: تقدیر (١٥) لکھ، جو کچھ ہوا اور جو کچھ ہونے والا ہے (١٦) ہمیشہ تک (١٧)۔" – اور ایک روایت میں ہے: "تمام چیزوں کی مقداریں لکھ یہاں تک کہ قیامت قائم ہو جائے (١٨)۔"

(عبادہ نے کہا:) چنانچہ قلم نے اسی وقت (سب کچھ) لکھ ڈالا جو کچھ ہوا اور جو کچھ ہمیشہ تک ہونے والا ہے (١٩)۔

(عبادہ نے کہا:) اے بیٹے! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: "جو شخص اس (عقیدے) کے خلاف مر گیا (٢٠) وہ مجھ میں سے نہیں ہے (٢١)۔"


حواشی وحوالہ جات:
(١) وہ امام، شیخ الاسلام، مفتی حرم، ابو محمد قرشی، ان کے مولیٰ (آزاد کردہ غلام) ہیں، مکہ میں رہتے تھے۔ کہا جاتا ہے کہ ان کی ولاء بنو جمح سے تھی۔ وہ جند کے پیدا کردہ تھے اور مکہ میں پلے بڑھے۔ ان کی پیدائش عثمان کی خلافت کے دوران ہوئی۔
(سیر اعلام النبلاء، طبعہ رسالت، جلد 5، صفحہ 79)

(٢) یعنی تقدیر کے انکار کے بارے میں۔ (تحفۃ الاحوذی، جلد 5، صفحہ 443)

(٣) یعنی کیا تم قرآن زبانی حفظ کرتے ہو؟

(٤) یعنی وہ جو ہدایت کا راستہ اور شریعت کی ضروری چیزوں کو ظاہر کرتا ہے۔ (تحفۃ الاحوذی، جلد 5، صفحہ 443)

(٥) یعنی اس میں ثابت ہے۔ (تحفۃ الاحوذی، جلد 5، صفحہ 443)

(٦) یعنی لوح محفوظ۔ (تحفۃ الاحوذی، جلد 5، صفحہ 443)

(٧) یعنی اس سے پہلے کی کتابوں میں بلند مرتبہ۔ (تحفۃ الاحوذی، جلد 5، صفحہ 443)

(٨) یعنی کامل حکمت والا۔ (تحفۃ الاحوذی، جلد 5، صفحہ 443)

(٩) یعنی ام الکتاب۔ (تحفۃ الاحوذی، جلد 5، صفحہ 443)

(١٠) یعنی اس کتاب میں جو اللہ نے لکھی۔ (تحفۃ الاحوذی، جلد 5، صفحہ 443)

(١١) سنن ترمذی:2155

(١٢) سنن ابی داود:4700

(١٣) یعنی اس عقیدے کے علاوہ کسی اور عقیدے پر مر گیا جو میں نے تجھے تقدیر کے ایمان کے بارے میں بتایا۔
(تحفۃ الاحوذی، جلد 5، صفحہ 443)

(١٤) سب سے پہلے اللہ نے قلم کو پیدا کیا، یعنی عرش، پانی اور ہوا کے بعد، کیونکہ آپ ﷺ نے فرمایا: "اللہ نے مخلوقات کی تقدیریں اس سے پچاس ہزار سال پہلے لکھ دیں جب اس نے آسمان اور زمین کو پیدا کیا، اور اس کا عرش پانی پر تھا" (مسلم)۔ اور ابن عباس سے پوچھا گیا: اللہ کے فرمان {وَکَانَ عَرْشُہُ عَلَی الْمَاءِ} کے بارے میں کہ پانی کس پر تھا؟ انہوں نے کہا: ہوا کی پشت پر۔
(تحفۃ الاحوذی، جلد 5، صفحہ 443)

(١٥) یعنی مقدر اور مقضی۔ (تحفۃ الاحوذی، جلد 5، صفحہ 443)

(١٦) طیبی نے کہا: "جو کچھ ہوا اور جو کچھ ہونے والا ہے" یہ اس چیز کی حکایت نہیں ہے جس کا قلم کو حکم دیا گیا، ورنہ کہا جاتا "پس اس نے لکھا جو کچھ ہوگا"۔ بلکہ یہ نبی ﷺ کی اس بات کہنے سے پہلے کے حال کے اعتبار سے خبر ہے، قلم سے پہلے کے بارے میں نہیں، کیونکہ مقصد یہ ہے کہ وہ (قلم) پہلی مخلوق ہے۔ ہاں جب اولیت نسبی ہو تو یہ مراد لینا صحیح ہے کہ قلم سے پہلے جو تھا۔
ابہری نے کہا:
"جو کچھ ہوا" سے مراد عرش، پانی، ہوا اور اللہ کی ذات اور صفات ہیں۔ 
(تحفۃ الاحوذی، جلد 5، صفحہ 443)

(١٧) سنن ترمذی:2155

(١٨) سنن ابی داود:4700

(١٩) السنة ابن ابی عاصم:104، البانی نے "ظلال الجنة" میں اسے صحیح کہا ہے۔

(٢٠) یعنی اس عقیدے کے علاوہ کسی اور عقیدے پر جو میں نے تمہیں تقدیر کے ایمان کے بارے میں بتایا۔
(عون المعبود، جلد 10، صفحہ 218)

(٢١) سنن ابی داود:4700، دیکھیے صحیح الجامع:2018، سلسلہ صحیحہ:133








عبداللہ بن دیلمی کا تقدیر کے بارے میں شبہات اور صحابہ سے استفسار
متن (عربی):
عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الدَّيْلَمِيِّ قَالَ: وَقَعَ فِي نَفْسِي شَيْءٌ مِنْ هَذَا الْقَدَرِ (١) فَخَشِيتُ أَنْ يُفْسِدَ عَلَيَّ دِينِي وَأَمْرِي , فَأَتَيْتُ أُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ - رضي الله عنه - فَقُلْتُ: يَا أَبَا الْمُنْذِرِ , إِنَّهُ قَدْ وَقَعَ فِي نَفْسِي شَيْءٌ مِنْ هَذَا الْقَدَرِ , فَخَشِيتُ عَلَى دِينِي وَأَمْرِي , فَحَدِّثْنِي مِنْ ذَلِكَ بِشَيْءٍ , لَعَلَّ اللهَ أَنْ يَنْفَعَنِي بِهِ , فَقَالَ: لَوْ أَنَّ اللهَ عَذَّبَ أَهْلَ سَمَاوَاتِهِ وَأَهْلَ أَرْضِهِ , لَعَذَّبَهُمْ وَهُوَ غَيْرُ ظَالِمٍ لَهُمْ (٢) وَلَوْ رَحِمَهُمْ , لَكَانَتْ رَحْمَتُهُ خَيْرًا لَهُمْ مِنْ أَعْمَالِهِمْ (٣) وَلَوْ كَانَ لَكَ مِثْلُ جَبَلِ أُحُدٍ ذَهَبًا تُنْفِقُهُ فِي سَبِيلِ اللهِ , مَا قَبِلَهُ مِنْكَ حَتَّى تُؤْمِنَ بِالْقَدَرِ , فَتَعْلَمَ أَنَّ مَا أَصَابَكَ (٤) لَمْ يَكُنْ لِيُخْطِئَكَ , وَأَنَّ مَا أَخْطَأَكَ لَمْ يَكُنْ لِيُصِيبَكَ , وَأَنَّكَ إِنْ مُتَّ عَلَى غَيْرِ هَذَا (٥) دَخَلْتَ النَّارَ , وَلَا عَلَيْكَ أَنْ تَأتِيَ أَخِي عَبْدَ اللهِ بْنَ مَسْعُودٍ - رضي الله عنه - فَتَسْأَلَهُ , قَالَ: فَأَتَيْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ مَسْعُودٍ فَسَأَلْتُهُ , فَذَكَرَ مِثْلَ مَا قَالَ أُبَيٌّ , وَقَالَ لِي: وَلَا عَلَيْكَ أَنْ تَأتِيَ حُذَيْفَةَ - رضي الله عنه - فَأَتَيْتُ حُذَيْفَةَ فَسَأَلْتُهُ , فَقَالَ مِثْلَ مَا قَالَا , وَقَالَ: ائْتِ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ - رضي الله عنه - فَاسْأَلْهُ , فَأَتَيْتُ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ - رضي الله عنه - فَسَأَلْتُهُ , فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ - صلى الله عليه وسلم - يَقُولُ: " لَوْ أَنَّ اللهَ عَذَّبَ أَهْلَ سَمَاوَاتِهِ وَأَهْلَ أَرْضِهِ , لَعَذَّبَهُمْ وَهُوَ غَيْرُ ظَالِمٍ لَهُمْ , وَلَوْ رَحِمَهُمْ لَكَانَتْ رَحْمَتُهُ خَيْرًا لَهُمْ مِنْ أَعْمَالِهِمْ , وَلَوْ كَانَ لَكَ مِثْلُ أُحُدٍ ذَهَبًا تُنْفِقُهُ فِي سَبِيلِ اللهِ , مَا قَبِلَهُ مِنْكَ حَتَّى تُؤْمِنَ بِالْقَدَرِ كُلِّهِ , فَتَعْلَمَ أَنَّ مَا أَصَابَكَ لَمْ يَكُنْ لِيُخْطِئَكَ , وَمَا أَخْطَأَكَ لَمْ يَكُنْ لِيُصِيبَكَ , وَأَنَّكَ إِنْ مُتَّ عَلَى غَيْرِ هَذَا , دَخَلْتَ النَّارَ " (٦)

ترجمہ:

حضرت عبداللہ بن دیلمی سے روایت ہے، انہوں نے کہا:

"میرے دل میں تقدیر کے بارے میں کچھ شبہات پیدا ہو گئے (١) اور میں ڈر گیا کہ کہیں یہ (شبہات) میرے دین اور دنیا کو خراب نہ کر دیں۔ چنانچہ میں حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور عرض کیا: اے ابوالمنذر! میرے دل میں تقدیر کے بارے میں کچھ (شبہات) پیدا ہو گئے ہیں، میں اپنے دین کے بارے میں ڈر گیا ہوں، آپ مجھے اس بارے میں کچھ بتائیں، شاید اللہ اس سے مجھے نفع پہنچائے۔"

انہوں نے کہا: "اگر اللہ اپنے آسمانوں اور اپنی زمین کے باشندوں کو عذاب دے تو وہ انہیں عذاب دے گا اور وہ ان پر ظلم کرنے والا نہ ہوگا (٢)۔ اور اگر وہ ان پر رحم کرے تو اس کی رحمت ان کے (نیک) اعمال سے بھی ان کے لیے بہتر ہوگی (٣)۔ اور اگر تمہارے پاس احد پہاڑ کے برابر سونا ہو اور تم اسے اللہ کی راہ میں خرچ کرو، تو وہ تم سے قبول نہیں کیا جائے گا جب تک کہ تم تقدیر پر ایمان نہ لاؤ، اور یہ جان لو کہ جو تمہیں پہنچا (٤) وہ تمہیں چھوڑ کر جانے والا نہیں تھا، اور جو تم سے چھوٹ گیا وہ تمہیں پہنچنے والا نہیں تھا، اور اگر تم اس (عقیدے) کے خلاف مر گئے (٥) تو جہنم میں داخل ہو گے۔"

پھر انہوں نے کہا: "تم میرے بھائی عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس جاؤ اور ان سے پوچھ لو، کوئی حرج نہیں۔"

عبداللہ بن دیلمی کہتے ہیں: چنانچہ میں عبداللہ بن مسعود کے پاس آیا اور ان سے پوچھا، تو انہوں نے ویسا ہی کہا جیسا ابی بن کعب نے کہا تھا۔ اور مجھ سے کہا: "تم حذیفہ رضی اللہ عنہ کے پاس بھی چلے جاؤ (کوئی حرج نہیں)۔"

پھر میں حذیفہ کے پاس آیا اور ان سے پوچھا، تو انہوں نے بھی ویسا ہی کہا جیسا ان دونوں نے کہا تھا، اور فرمایا: "زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے پاس جاؤ اور ان سے پوچھو۔"

چنانچہ میں زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور ان سے پوچھا تو انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: "اگر اللہ اپنے آسمانوں اور اپنی زمین کے باشندوں کو عذاب دے تو وہ انہیں عذاب دے گا اور وہ ان پر ظلم کرنے والا نہ ہوگا، اور اگر وہ ان پر رحم کرے تو اس کی رحمت ان کے (نیک) اعمال سے بھی ان کے لیے بہتر ہوگی، اور اگر تمہارے پاس احد جتنا سونا ہو اور تم اسے اللہ کی راہ میں خرچ کرو، تو وہ تم سے قبول نہیں کیا جائے گا جب تک کہ تم پوری تقدیر پر ایمان نہ لاؤ، اور یہ جان لو کہ جو تمہیں پہنچا وہ تمہیں چھوڑ کر جانے والا نہیں تھا، اور جو تم سے چھوٹ گیا وہ تمہیں پہنچنے والا نہیں تھا، اور اگر تم اس (عقیدے) کے خلاف مر گئے تو جہنم میں داخل ہو گے۔"

[سنن ابن ماجہ: 77، سنن ابی داود: 4699، صحیح الجامع: 5244، ہدایۃ الرواۃ: 111، ظلال الجنۃ: 245، صحیح موارد الظمآن: 1526]

حواشی وحوالہ جات:

(١) أَيْ: مِنْ بَعْض شُبَه الْقَدَر الَّتِي رُبَّمَا تُؤَدِّي إِلَى الشَّكّ فِيهِ.
ترجمہ:
یعنی تقدیر کے ان شبہات میں سے جو کبھی کبھی اس میں شک کرنے کا سبب بنتے ہیں۔
(عون المعبود، جلد 10، صفحہ 217)

(٢) لِأَنَّهُ مَالِك الْجَمِيع , فَلَهُ أَنْ يَتَصَرَّف كَيْف شَاءَ , وَلَا ظُلْم أَصْلًا.
ترجمہ:
کیونکہ وہ سب کا مالک ہے، اس لیے اسے اختیار ہے کہ جیسے چاہے تصرف کرے، اور اصل میں (اس پر) کوئی ظلم نہیں۔
(عون المعبود، جلد 10، صفحہ 217)

(٣) أَيْ: خَيْرًا لَهُمْ مِنْ أَعْمَالِهِمْ الصَّالِحَة , وفي هذا إِشَارَةٌ إِلَى أَنَّ رَحْمَته لَيْسَتْ بِسَبَبٍ مِنْ الْأَعْمَال، كَيْف وَهِيَ مِنْ جُمْلَة رَحْمَته بِهِمْ؟، فَرَحْمَتُه إِيَّاهُمْ مَحْض فَضْل مِنْهُ تَعَالَى، فَلَوْ رَحِمَ الْجَمِيع , فَلَهُ ذَلِكَ.
ترجمہ:
یعنی ان کے نیک اعمال سے بھی ان کے لیے بہتر ہے۔ اس میں اس طرف اشارہ ہے کہ اس کی رحمت اعمال کی وجہ سے نہیں ہے، حالانکہ یہ بھی اس کی رحمت ہی کا حصہ ہے کہ اس نے انہیں نیک اعمال کرنے کی توفیق دی۔ پس اس کا ان پر رحم کرنا محض اس کا فضل ہے، اگر وہ سب پر رحم کرے تو اسے یہ حق ہے۔ 
(عون المعبود، جلد 10، صفحہ 217)

(٤) أَيْ: مَا أَصَابَك مِنْ النِّعْمَة وَالْبَلِيَّة , أَوْ الطَّاعَة وَالْمَعْصِيَة , مِمَّا قَدَّرَهُ اللهُ لَك أَوْ عَلَيْك.
ترجمہ:
یعنی جو کچھ بھی تمہیں پہنچا، خواہ وہ نعمت ہو یا مصیبت، طاعت ہو یا معصیت، جو اللہ نے تمہارے لیے یا تم پر مقدر کر رکھا تھا۔
(عون المعبود، جلد 10، صفحہ 217)

(٥) أَيْ: عَلَى اِعْتِقَادٍ غَيْر هَذَا الَّذِي ذَكَرْتُ لَك مِنْ الْإِيمَان بِالْقَدَرِ.
ترجمہ:
یعنی اس عقیدے کے علاوہ کسی اور عقیدے پر جو میں نے تمہیں تقدیر کے ایمان کے بارے میں بتایا ہے۔
(عون المعبود، جلد 10، صفحہ 217)

(٦) تخریج: سنن ابن ماجہ: 77، سنن ابی داود: 4699، صحیح الجامع: 5244، ہدایۃ الرواۃ: 111، ظلال الجنۃ: 245، صحیح موارد الظمآن: 1526۔




حاصل شدہ اہم اسباق و نکات
تقدیر پر ایمان کی اہمیت:
یہ حدیث واضح کرتی ہے کہ تقدیر (اس کی اچھائی اور برائی) پر ایمان لانا ایمان کا لازمی جز ہے، اور اس کے بغیر کوئی عمل قبول نہیں ہوتا، خواہ وہ احد پہاڑ کے برابر سونا خرچ کرنے جیسا عظیم عمل ہی کیوں نہ ہو۔

اللہ کا عدل اور رحمت:
اللہ اگر سب کو عذاب دے تو وہ ظالم نہیں، کیونکہ وہ سب کا مالک ہے۔ اور اگر وہ رحم کرے تو یہ اس کا محض فضل ہے، اعمال کی وجہ سے نہیں۔

شبہات کے وقت علماء سے رجوع:
عبداللہ بن دیلمی نے جب تقدیر کے بارے میں شبہات محسوس کیے تو وہ خود ہی فیصلہ کرنے کے بجائے بڑے صحابہ (ابی بن کعب، ابن مسعود، حذیفہ، زید بن ثابت) کے پاس گئے اور ان سے مسئلہ پوچھا۔ یہ ہمارے لیے سبق ہے کہ دینی مسائل میں اہل علم سے رجوع کرنا چاہیے۔

تقدیر کے انکار کا انجام:
حدیث میں سخت وعید ہے کہ جو شخص تقدیر کے عقیدے کے خلاف مرے گا وہ جہنم میں داخل ہو گا۔

اللہ کی رحمت اعمال سے بہتر ہے:
اس کا مطلب یہ ہے کہ بندہ اپنے اعمال کی بنیاد پر اللہ پر کوئی حق نہیں جما سکتا، اللہ جسے چاہے اپنے فضل سے رحم کرے۔

صحابہ کا اتحاد عقیدہ:
چاروں صحابہ نے ایک ہی بات کہی، جس سے معلوم ہوا کہ تقدیر پر ایمان رکھنا صحابہ کا متفقہ عقیدہ تھا۔

دل کے شبہات کا علاج:
یہ حدیث بتاتی ہے کہ جب دل میں کوئی شبہ آئے تو اسے نظر انداز کرنے کے بجائے اہل علم سے پوچھ کر اس کا ازالہ کرنا چاہیے۔

واللہ اعلم بالصواب






صحابہ کرام اور تابعین کے تقدیر کے بارے میں اقوال

عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمُرَ قَالَ: (كَانَ أَوَّلَ مَنْ قَالَ فِي الْقَدَرِ بِالْبَصْرَةِ (١) مَعْبَدٌ الْجُهَنِيُّ (٢) فَانْطَلَقْتُ أَنَا وَحُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِمْيَرِيُّ حَاجَّيْنِ أَوْ مُعْتَمِرَيْنِ , فَقُلْنَا: لَوْ لَقِينَا أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ - صلى الله عليه وسلم - فَسَأَلْنَاهُ عَمَّا يَقُولُ هَؤُلَاءِ فِي الْقَدَرِ , فَوُفِّقَ لَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ - رضي الله عنهما - دَاخِلًا الْمَسْجِدَ , فَاكْتَنَفْتُهُ أَنَا وَصَاحِبِي (٣) أَحَدُنَا عَنْ يَمِينِهِ , وَالْآخَرُ عَنْ شِمَالِهِ , فَظَنَنْتُ أَنَّ صَاحِبِي سَيَكِلُ الْكَلَامَ إِلَيَّ , فَقُلْتُ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ , إِنَّهُ قَدْ ظَهَرَ قِبَلَنَا نَاسٌ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ , وَيَتَقَفَّرُونَ الْعِلْمَ (٤) وَذَكَرْتُ مِنْ شَأنِهِمْ , وَأَنَّهُمْ يَزْعُمُونَ أَنْ لَا قَدَرَ , وَأَنَّ الْأَمْرَ أُنُفٌ (٥) قَالَ ابْنُ عُمَرَ: فَإِذَا لَقِيتَ أُولَئِكَ فَأَخْبِرْهُمْ أَنِّي بَرِيءٌ مِنْهُمْ , وَأَنَّهُمْ بُرَآءُ مِنِّي , وَالَّذِي يَحْلِفُ بِهِ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ , لَوْ أَنَّ لِأَحَدِهِمْ مِثْلَ أُحُدٍ ذَهَبًا فَأَنْفَقَهُ (٦) مَا قَبِلَ اللهُ مِنْهُ حَتَّى يُؤْمِنَ بِالْقَدَرِ) (٧) (خَيْرِهِ وَشَرِّهِ) (٨).

ترجمہ:

حضرت یحییٰ بن یعمر سے روایت ہے، انہوں نے کہا:

"بصرہ میں سب سے پہلے جس نے تقدیر کے بارے میں (انکار کی) بات کہی (١) وہ معبد جہنی تھا (٢)۔ چنانچہ میں اور حمید بن عبدالرحمٰن حمیری حج یا عمرہ کے لیے روانہ ہوئے، ہم نے کہا: کاش ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی صحابی سے ملاقات کر لیں اور ان سے ان لوگوں کے بارے میں پوچھ لیں جو تقدیر کے بارے میں یہ باتیں کہتے ہیں۔ پس اللہ نے ہمیں عبداللہ بن عمر بن خطاب رضی اللہ عنہما سے (مسجد میں داخل ہوتے ہوئے) ملنے کی توفیق دی۔ میں اور میرے ساتھی نے اسے گھیر لیا (٣)، ہم میں سے ایک اس کے دائیں اور ایک بائیں طرف تھا۔ میں نے سمجھا کہ میرا ساتھی بات کرنا میرے سپرد کر دے گا، تو میں نے کہا: اے ابوعبدالرحمٰن! ہماری طرف کچھ لوگ ظاہر ہوئے ہیں جو قرآن پڑھتے ہیں اور علم کی گہرائیوں میں اترتے ہیں (٤)۔ میں نے ان کا کچھ حال بیان کیا، اور یہ کہ وہ گمان کرتے ہیں کہ کوئی تقدیر نہیں ہے اور معاملہ نئے سرے سے شروع ہوتا ہے (٥)۔

ابن عمر نے کہا: جب تم ان لوگوں سے ملو تو انہیں بتا دینا کہ میں ان سے بری ہوں اور وہ مجھ سے بری ہیں۔ اور اس ذات کی قسم جس کی قسم عبداللہ بن عمر کھاتے ہیں، اگر ان میں سے کسی کے پاس احد پہاڑ کے برابر سونا ہو اور وہ اسے (اللہ کی راہ میں) خرچ کر دے (٦) تو اللہ اسے اس وقت تک قبول نہیں کرے گا جب تک وہ تقدیر پر ایمان نہ لے آئے (٧) اس کی اچھائی اور برائی پر (٨)۔"



حواشی اور حوالہ جات:
(١) یعنی سب سے پہلے جس نے تقدیر کے انکار کی بات کہی، پس اس نے بدعت ایجاد کی اور اس صحیح راستے کی مخالفت کی جسے اہل حق جانتے تھے۔ (تحفۃ الاحوذی، جلد 6، صفحہ 407)

(٢) یہ معبد بن خالد جہنی تھے، وہ حسن بصری کی مجالس میں جایا کرتے تھے۔ یہ وہ پہلا شخص ہے جس نے بصرہ میں تقدیر کے بارے میں (انکار کی) بات کی۔ بصرہ والوں نے اس کے بعد اس کا راستہ اختیار کیا جب انہوں نے دیکھا کہ عمرو بن عبید اسے اپنا مسلک بنا رہے ہیں۔ حجاج بن یوسف نے اسے قید میں قتل کیا۔ (تحفۃ الاحوذی، جلد 6، صفحہ 407)

(٣) یعنی ہم اس کے دونوں طرف ہو گئے، پھر اس کی وضاحت کی: ہم میں سے ایک اس کے دائیں اور ایک بائیں طرف۔ اس میں جماعت کے اس آداب کی طرف تنبیہ ہے کہ وہ اپنے بزرگ کے ساتھ چلتے ہوئے اسے گھیرے میں رکھتے ہیں اور اس کے گرد ہوتے ہیں۔ (النووی، جلد 1، صفحہ 70)

(٤) یعنی اس کی پیچیدہ باتوں کی تحقیق کرتے ہیں اور اس کی پوشیدہ چیزوں کو نکالتے ہیں۔ قاضی عیاض نے کہا: میں نے بعض کا قول دیکھا ہے کہ (یہ لفظ) "یتقعّرون" ہے، جس کے معنی ہیں وہ اس کی گہرائی تلاش کرتے ہیں، یعنی اس کی پیچیدہ اور پوشیدہ باتوں کو۔ اسی سے ہے "تقعر في كلامه" جب وہ اس میں غریب الفاظ استعمال کرے۔ (النووی، جلد 1، صفحہ 70)

(٥) یعنی معاملہ نئے سرے سے شروع ہوتا ہے، اس سے پہلے کوئی تقدیر اور نہ اللہ کا علم ہے، بلکہ وہ اسے وقوع کے بعد جانتا ہے۔ یہ قول ان کے انتہائی گروہ کا ہے، تمام قدریہ کا نہیں۔ اس کا کہنے والا جھوٹا، گمراہ اور افترا پرداز ہے، اللہ ہمیں اور تمام مسلمانوں کو اس سے بچائے۔ (النووی، جلد 1، صفحہ 70)

(٦) آپ کا فرمان "فَأَنْفَقَهُ" یعنی اسے اللہ تعالیٰ کی راہ اور اس کی اطاعت میں خرچ کرے۔ (شرح نووی، جلد 1، صفحہ 70)

(٧) صحیح مسلم: 8، سنن ترمذی: 2610

(٨) سنن ترمذی: 2610

(٩) یہ جو ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا ہے، اس کا ظاہر یہ ہے کہ وہ قدریہ کو کافر قرار دے رہے ہیں۔

قاضی عیاض نے کہا: یہ ان پہلے قدریہ کے بارے میں ہے جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے علم کے واقعات سے پہلے ہونے کا انکار کیا۔ انہوں نے کہا: اس قول کا قائل بلا اختلاف کافر ہے، اور یہ لوگ جو تقدیر کا انکار کرتے ہیں، حقیقت میں وہ فلسفی ہیں۔

اور دوسرے نے کہا: ممکن ہے کہ اس کلام سے ان کا مقصد تکفیر (ملت سے خارج کرنا) نہ ہو، بلکہ یہ نعمتوں کا انکار (کفران نعمت) کے معنی میں ہو۔ لیکن ان کا فرمان "اللہ اسے قبول نہیں کرے گا" تکفیر پر ظاہر ہے، کیونکہ اعمال کا ضائع ہونا صرف کفر سے ہوتا ہے۔ البتہ یہ ممکن ہے کہ کسی مسلمان کے بارے میں کہا جائے کہ اس کی معصیت کی وجہ سے اس کا عمل قبول نہیں ہوتا، اگرچہ وہ صحیح ہو، جیسے کہ مغصوب گھر میں نماز صحیح ہے (اور دوبارہ پڑھنا واجب نہیں) جمہور علماء بلکہ سلف کے اجماع کے مطابق، لیکن وہ مقبول نہیں ہے، یعنی اس میں ثواب نہیں، جیسا کہ ہمارے اصحاب کے نزدیک مختار ہے۔ واللہ اعلم۔
(شرح النووی، جلد 1، صفحہ 70)




حاصل شدہ اہم اسباق و نکات
تقدیر کے انکار کرنے والوں (قدریہ) کی مذمت:
صحابہ کرام نے ان لوگوں سے بیزاری کا اعلان کیا اور انہیں گمراہ قرار دیا۔

تقدیر پر ایمان کے بغیر کوئی عمل قبول نہیں:
خواہ وہ احد پہاڑ کے برابر سونا خرچ کرنے جیسا عظیم عمل ہی کیوں نہ ہو۔

پہلے قدریہ کا عقیدہ کفر تھا:
جو لوگ اللہ کے ازلی علم کا انکار کرتے تھے، وہ کافر تھے۔ البتہ بعد کے قدریہ (جو افعال کے خلق کا انکار کرتے ہیں) کے بارے میں اختلاف ہے۔

صحابہ کا تقدیر پر اجماع:
ابن عمر، ابن مسعود، ابی بن کعب، حذیفہ، زید بن ثابت وغیرہ سب نے تقدیر پر ایمان کو ضروری قرار دیا۔

علماء سے رجوع کرنے کا طریقہ:
یحییٰ بن یعمر نے شبہات کے وقت بڑے صحابی سے جا کر پوچھا، یہ ہمارے لیے نمونہ ہے۔

حدیث کی صحت:
یہ حدیث صحیح مسلم اور سنن ترمذی میں موجود ہے اور محدثین کے نزدیک صحیح ہے۔

واللہ اعلم بالصواب





عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ قَالَ: كَتَبَ رَجُلٌ إِلَى عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ يَسْأَلُهُ عَنْ الْقَدَرِ , فَكَتَبَ إلَيْهِ: أَمَّا بَعْدُ , كَتَبْتَ تَسْأَلُ عَنْ الْإِقْرَارِ بِالْقَدَرِ , فَعَلَى الْخَبِيرِ بِإِذْنِ اللهِ وَقَعْتَ , مَا أَعْلَمُ مَا أَحْدَثَ النَّاسُ مِنْ مُحْدَثَةٍ , وَلَا ابْتَدَعُوا مِنْ بِدْعَةٍ هِيَ أَبْيَنُ أَثَرًا , وَلَا أَثْبَتُ أَمْرًا مِنْ الْإِقْرَارِ بِالْقَدَرِ , لَقَدْ ذَكَرَهُ (١) فِي الْجَاهِلِيَّةِ الْجُهَلَاءُ , يَتَكَلَّمُونَ بِهِ فِي كَلَامِهِمْ وَفِي شِعْرِهِمْ , يُعَزُّونَ بِهِ أَنْفُسَهُمْ عَلَى مَا فَاتَهُمْ , ثُمَّ لَمْ يَزِدْهُ الْإِسْلَامُ بَعْدُ إِلَّا شِدَّةً , وَلَقَدْ ذَكَرَهُ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم - فِي غَيْرِ حَدِيثٍ وَلَا حَدِيثَيْنِ , وَقَدْ سَمِعَهُ مِنْهُ الْمُسْلِمُونَ , فَتَكَلَّمُوا بِهِ فِي حَيَاتِهِ , وَبَعْدَ وَفَاتِهِ , يَقِينًا وَتَسْلِيمًا لِرَبِّهِمْ , وَتَضْعِيفًا لِأَنْفُسِهِمْ أَنْ يَكُونَ شَيْءٌ لَمْ يُحِطْ بِهِ عِلْمُهُ (٢) وَلَمْ يُحْصِهِ كِتَابُهُ , وَلَمْ يَمْضِ فِيهِ قَدَرُهُ (٣) وَإِنَّهُ مَعَ ذَلِكَ لَفِي مُحْكَمِ كِتَابِهِ (٤) مِنْهُ اقْتَبَسُوهُ , وَمِنْهُ تَعَلَّمُوهُ (٥) وَلَئِنْ قُلْتُمْ: لِمَ أَنْزَلَ اللهُ آيَةَ كَذَا (٦)؟ , لِمَ قَالَ كَذَا؟ , لَقَدْ قَرَءُوا (٧) مِنْهُ مَا قَرَأتُمْ , وَعَلِمُوا مِنْ تَأوِيلِهِ (٨) مَا جَهِلْتُمْ , وَقَالُوا بَعْدَ ذَلِكَ كُلِّهِ (٩): بِكِتَابٍ وَقَدَرٍ (١٠) وَكُتِبَتِ الشَّقَاوَةُ , وَمَا يُقَدَّرُ يَكُنْ , وَمَا شَاءَ اللهُ كَانَ , وَمَا لَمْ يَشَأ لَمْ يَكُنْ (١١) وَلَا نَمْلِكُ لِأَنْفُسِنَا ضَرًّا وَلَا نَفْعًا , ثُمَّ رَغِبُوا (١٢) بَعْدَ ذَلِكَ (١٣) وَرَهِبُوا (١٤). (١٥)

ترجمہ:

سفیان ثوریؒ سے روایت ہے، انہوں نے کہا:
ایک شخص نے عمر بن عبدالعزیز کو خط لکھ کر تقدیر کے بارے میں پوچھا۔ تو انہوں نے جواب میں لکھا:

"اما بعد، تم نے تقدیر کا اقرار کرنے کے بارے میں پوچھا ہے، تو تم اللہ کے اذن سے ایک ماہر شخص سے جا پڑے۔ میں نہیں جانتا کہ لوگوں نے جو نئے امور ایجاد کیے ہیں اور جو بدعتیں نکالی ہیں، ان میں سے کوئی بھی ایسی بدعت نہیں ہے جو تقدیر کے اقرار سے زیادہ واضح اثر والی اور زیادہ ثابت شدہ ہو۔

بے شک جاہلیت کے جاہلوں نے بھی اس (تقدیر کے اقرار) کا ذکر کیا ہے، وہ اپنی گفتگو اور اپنے اشعار میں اس کا ذکر کرتے تھے، اور جو کچھ ان سے فوت ہو جاتا اس پر اس کے ذریعے اپنے آپ کو تسلی دیتے تھے۔ پھر اسلام نے اسے اور زیادہ مضبوط کیا۔

اور بلاشبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک یا دو نہیں بلکہ کئی احادیث میں اس کا ذکر کیا ہے، اور مسلمانوں نے آپ سے سنا، اور آپ کی زندگی میں اور آپ کی وفات کے بعد اس پر گفتگو کی، اپنے رب کے لیے یقین اور تسلیم کے ساتھ، اور اپنے نفوس کو اس بات سے عاجز سمجھتے ہوئے کہ کوئی چیز ایسی ہو جس کا اللہ کے علم نے احاطہ نہ کیا ہو، اور اس کی کتاب نے اسے ضبط نہ کیا ہو، اور اس کی تقدیر اس میں نافذ نہ ہوئی ہو۔

اور یہ (تقدیر کا اقرار) اس کی کتاب کے محکم حصوں میں بھی ہے، اسی سے انہوں نے اسے اخذ کیا اور اسی سے اسے سیکھا۔

اگر تم کہو: اللہ نے فلاں آیت کیوں نازل فرمائی؟ اس نے ایسا کیوں کہا؟ تو جان لو کہ (سلف صالحین) نے اس میں سے وہی پڑھا جو تم نے پڑھا، اور اس کی تاویل میں سے وہ جانتے ہیں جو تم نہیں جانتے۔ اور ان سب کے بعد انہوں نے کہا: (ہم اس بات پر ایمان رکھتے ہیں) کہ (یہ سب) کتاب اور تقدیر کے مطابق ہے، اور شقاوت لکھ دی گئی ہے، اور جو مقدر ہو گا وہ ہو کر رہے گا، جو اللہ چاہے گا وہ ہو گا اور جو نہیں چاہے گا وہ نہیں ہو گا، اور ہم اپنی جانوں کے لیے نہ کسی نقصان کے مالک ہیں اور نہ کسی نفع کے۔

پھر اس (اقرار) کے بعد انہوں نے (نیکیوں کی) رغبت کی اور (برائیوں سے) ڈرے۔"


حواشی وحوالہ جات:

(١) یعنی تقدیر کا اقرار۔ (عون المعبود، جلد 10، صفحہ 132)

(٢) یعنی اللہ تعالیٰ کا علم۔ (عون المعبود، جلد 10، صفحہ 132)

(٣) یعنی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے تقدیر کا اقرار کیا، اس پر یقین کیا، اور اسے اپنے رب کے لیے تسلیم کیا، اور اپنے نفوس کو اس بات سے عاجز سمجھا کہ کوئی چیز ایسی ہو جو اللہ کے علم سے اوجھل ہو، اس کی کتاب نے اسے ضبط نہ کیا ہو، اور اس کا حکم اس میں نافذ نہ ہوا ہو۔ (عون المعبود، جلد 10، صفحہ 132)

(٤) یعنی یہ (تقدیر کا اقرار) قرآن مجید میں بھی مذکور ہے۔ (عون المعبود، جلد 10، صفحہ 132)

(٥) یعنی انہوں نے تقدیر کا اقرار کرنا سیکھا۔ (عون المعبود، جلد 10، صفحہ 132)

(٦) یعنی ان آیات کے بارے میں جن کا ظاہر تقدیر کے خلاف ہو۔ (عون المعبود، جلد 10، صفحہ 132)

(٧) یعنی سلف صالحین۔ (عون المعبود، جلد 10، صفحہ 132)

(٨) شیخ الاسلام ابن تیمیہ نے "الفتوى الحموية الكبرى" (1/287) میں کہا:
تأویل کے تین معنی ہیں:
پہلا معنی:
یہ ان متأخرین کی اصطلاح ہے کہ لفظ کو اس کے راجح احتمال سے ہٹ کر مرجوح احتمال کی طرف لے جانا، کسی ایسی دلیل کی بنا پر جو اس کے ساتھ ہو۔ ان کے نزدیک لفظ کا وہ معنی جو اس کے ظاہر کے موافق ہو، "تأویل" نہیں کہلاتا۔ یہ لوگ سمجھتے ہیں کہ اللہ کا "تأویل" سے یہی مراد ہے، اور یہ کہ نصوص کا ایک ایسا "تأویل" ہے جو ان کے مدلول کے خلاف ہے، جسے یا تو صرف اللہ جانتا ہے یا متأولین جانتے ہیں۔ پھر ان میں سے بہت سے کہتے ہیں: نصوص کو ان کے ظاہر پر چھوڑ دو، ان کا ظاہر مراد ہے، ساتھ ہی وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ان کا ایک "تأویل" اس معنی میں ہے جسے صرف اللہ جانتا ہے۔ یہ تناقض ہے۔
دوسرا معنی:
"تأویل" سے مراد تفسیر ہے، خواہ وہ ظاہر کے موافق ہو یا مخالف۔ یہی تأویل جمہور مفسرین وغیرہ کی اصطلاح ہے۔ اس تأویل کو "راسخون فی العلم" جانتے ہیں، اور یہ ان لوگوں کے موقف کے موافق ہے جنہوں نے آیت {وَمَا يَعْلَمُ تَأْوِيلَهُ إِلَّا اللَّهُ وَالرَّاسِخُونَ فِي الْعِلْمِ} پر وقف کیا۔ یہ تفسیر ابن عباس، مجاہد، محمد بن جعفر بن زبیر، محمد بن اسحاق، ابن قتیبہ وغیرہ سے منقول ہے۔ دونوں قول حق ہیں، جیسا کہ ہم نے دوسری جگہ تفصیل بیان کی ہے۔ اسی لیے ابن عباس سے دونوں قول منقول ہیں، اور دونوں حق ہیں۔
تیسرا معنی:
"تأویل" سے مراد وہ حقیقت ہے جس کی طرف کلام پہنچتا ہے، خواہ وہ ظاہر کے موافق ہو۔ مثلاً جنت میں کھانے، پینے، لباس، نکاح، قیامت وغیرہ کے بارے میں جو خبر دی گئی ہے، اس کا تأویل خود ان حقائق کا وجود ہے، نہ کہ ان کے معانی کا وہ تصور جو ذہنوں میں ہوتا ہے اور زبان سے ادا کیا جاتا ہے۔ یہی تأویل قرآن کی زبان میں ہے، جیسا کہ اللہ نے یوسف علیہ السلام کے بارے میں فرمایا: {يَا أَبَتِ هَذَا تَأْوِيلُ رُؤْيَايَ مِنْ قَبْلُ قَدْ جَعَلَهَا رَبِّي حَقًّا} اور فرمایا: {هَلْ يَنْظُرُونَ إِلَّا تَأْوِيلَهُ يَوْمَ يَأْتِي تَأْوِيلُهُ} اور فرمایا: {ذَلِكَ خَيْرٌ وَأَحْسَنُ تَأْوِيلاً}۔ یہ تأویل وہ ہے جسے صرف اللہ جانتا ہے۔

(٩) یعنی سلف صالحین نے کتاب کے محکم حصوں میں سے وہی پڑھا جو تم نے پڑھا، اور اس کی تاویل میں سے وہ جانتے ہیں جو تم نہیں جانتے۔ (عون المعبود، جلد 10، صفحہ 132)

(١٠) یعنی انہوں نے اس بات کا اقرار کیا کہ اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کو لکھ دیا اور اسے آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے سے بہت پہلے تقدیر کر دیا۔ (عون المعبود، جلد 10، صفحہ 132)

(١١) شیخ الاسلام نے کہا:
مسلمانوں کے قول "مَا شَاءَ اللَّهُ كَانَ وَمَا لَمْ يَشَأ لَمْ يَكُنْ" کا معنی یہ ہے کہ اس کی مشیت ہی تنہا موجِب ہے، کوئی اور نہیں۔ اس کے نہ ہونے سے اس کا نہ ہونا لازم ہے۔ کوئی چیز اس وقت تک نہیں ہوتی جب تک اس کی مشیت نہ ہو، کوئی چیز اس کے بغیر ہرگز نہیں ہوتی۔ ہمارے پاس کوئی ایسا سبب نہیں جو کسی چیز کے وجود کا تقاضا کرے جبکہ اس کی مشیت اس کے وجود سے مانع ہو، بلکہ اس کی مشیت کامل سبب ہے، اس کے ساتھ کوئی مانع نہیں، اور اس کے بغیر کوئی موجب نہیں۔ اللہ فرماتا ہے: {مَا يَفْتَحِ اللَّهُ لِلنَّاسِ مِنْ رَحْمَةٍ فَلَا مُمْسِكَ لَهَا وَمَا يُمْسِكْ فَلَا مُرْسِلَ لَهُ مِنْ بَعْدِهِ}، اور فرماتا ہے: {وَإِنْ يَمْسَسْكَ اللَّهُ بِضُرٍّ فَلَا كَاشِفَ لَهُ إِلَّا هُوَ وَإِنْ يُرِدْكَ بِخَيْرٍ فَلَا رَادَّ لِفَضْلِهِ}، اور فرماتا ہے: {قُلْ أَفَرَأَيْتُمْ مَا تَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ إِنْ أَرَادَنِيَ اللَّهُ بِضُرٍّ هَلْ هُنَّ كَاشِفَاتُ ضُرِّهِ أَوْ أَرَادَنِي بِرَحْمَةٍ هَلْ هُنَّ مُمْسِكَاتُ رَحْمَتِهِ قُلْ حَسْبِيَ اللَّهُ عَلَيْهِ يَتَوَكَّلُ الْمُتَوَكِّلُونَ}۔

جب یہ معلوم ہو گیا کہ بندے کے پاس اپنی طرف سے کوئی خیر اصل میں نہیں ہے، بلکہ جو نعمت بھی ہمیں ہے وہ اللہ کی طرف سے ہے، اور جب ہمیں تکلیف پہنچتی ہے تو اسی کی طرف گریہ و زاری کرتے ہیں، اور ساری خیر اس کے ہاتھ میں ہے، جیسا کہ فرمایا: {مَا أَصَابَكَ مِنْ حَسَنَةٍ فَمِنَ اللَّهِ وَمَا أَصَابَكَ مِنْ سَيِّئَةٍ فَمِنْ نَفْسِكَ}، اور فرمایا: {أَوَلَمَّا أَصَابَتْكُمْ مُصِيبَةٌ قَدْ أَصَبْتُمْ مِثْلَيْهَا قُلْتُمْ أَنَّى هَذَا قُلْ هُوَ مِنْ عِنْدِ أَنْفُسِكُمْ}۔

اور نبی ﷺ نے سید الاستغفار (جو صحیح بخاری میں ہے) میں فرمایا: "اللَّهُمَّ أَنْتَ رَبِّي لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، خَلَقْتَنِي وَأَنَا عَبْدُكَ، وَأَنَا عَلَى عَهْدِكَ وَوَعْدِكَ مَا اسْتَطَعْتُ، أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا صَنَعْتُ، أَبُوءُ لَكَ بِنِعْمَتِكَ عَلَيَّ، وَأَبُوءُ بِذَنْبِي، فَاغْفِرْ لِي، فَإِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ۔"

اور صحیح مسلم میں استفتاح کی دعا میں فرمایا: "لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ، وَالْخَيْرُ بِيَدَيْكَ، وَالشَّرُّ لَيْسَ إِلَيْكَ، تَبَارَكْتَ رَبَّنَا وَتَعَالَيْتَ۔"

(١٢) یعنی سلف صالحین۔ (عون المعبود، جلد 10، صفحہ 132)

(١٣) یعنی تقدیر کا اقرار کرنے کے بعد نیک اعمال میں رغبت رکھی، اور اس اقرار نے انہیں ان سے روکا نہیں۔ (عون المعبود، جلد 10، صفحہ 132)

(١٤) یعنی برے اعمال سے ڈرتے اور ان سے بچتے تھے۔ (عون المعبود، جلد 10، صفحہ 132)

(١٥) سنن ابی داود: 4612، اور البانی نے کہا: یہ مقطوع اثر صحیح الإسناد ہے۔




حاصل شدہ اہم اسباق و نکات
تقدیر کا اقرار سلف صالحین کا عقیدہ ہے:
عمر بن عبدالعزیز (جو تابعی اور خلیفہ راشد ہیں) نے اس خط میں واضح کیا کہ تقدیر پر ایمان رکھنا صحابہ اور سلف کا عقیدہ تھا، اور یہ بدعات میں سے نہیں بلکہ ایک ثابت شدہ حقیقت ہے۔

جاہلیت میں بھی تقدیر کا ذکر تھا:
جاہلیت کے لوگ بھی تقدیر کو مانتے تھے اور اسے اپنے اشعار میں استعمال کرتے تھے۔ اسلام نے اس عقیدے کو مزید مضبوط کیا۔

نبی ﷺ کی احادیث میں تقدیر کا ذکر:
آپ ﷺ نے متعدد احادیث میں تقدیر کا ذکر فرمایا، اور صحابہ نے اسے سنا اور اس پر عمل کیا۔

تقدیر کا انکار بدعت ہے:
عمر بن عبدالعزیز نے فرمایا کہ میں نہیں جانتا کہ کوئی بدعت تقدیر کے انکار سے زیادہ واضح اور باطل ہو۔

قرآن میں تقدیر کا ذکر ہے:
تقدیر کے بارے میں قرآن کی محکم آیات موجود ہیں، جن سے صحابہ نے اسے اخذ کیا۔

سلف کا تقدیر پر ایمان کے بعد عمل میں رغبت:
سلف صالحین نے تقدیر پر ایمان رکھنے کے بعد نیکیوں میں رغبت اور برائیوں سے ڈر کو ترک نہیں کیا، جیسا کہ کچھ جھوٹے قدریہ کا خیال ہے۔

تقدیر کے بارے میں صحیح موقف:
اللہ ہی خالق ہے، بندہ کسب کرتا ہے، اور سب کچھ اللہ کی مشیت سے ہوتا ہے۔

واللہ اعلم بالصواب






عنوان:
تقدیر کے انکار کرنے والوں کے لیے وعید

حدیث کا متن:
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رضي الله عنه - قَالَ: جَاءَ مُشْرِكُو قُرَيْشٍ يُخَاصِمُونَ رَسُولَ اللهِ - صلى الله عليه وسلم - فِي الْقَدَرِ , فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَة: {يَوْمَ يُسْحَبُونَ فِي النَّارِ عَلَى وُجُوهِهِمْ , ذُوقُوا مَسَّ سَقَرَ (١) إِنَّا كُلَّ شَيْءٍ خَلَقْنَاهُ بِقَدَرٍ (٢)} (٣). (٤)

ترجمہ:

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا:
"مشرکین قریش رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تقدیر کے بارے میں جھگڑا کرنے آئے، تو یہ آیت نازل ہوئی: {جس دن وہ اپنے چہروں کے بل آگ میں گھسیٹے جائیں گے (اور کہا جائے گا:) جہنم کی چھوا (چکھو)۔ بے شک ہم نے ہر چیز کو ایک اندازے (تقدیر) کے ساتھ پیدا کیا ہے (٣)}۔"

(١) أَيْ: عَلَى إِنْكَارِكُمْ الْقَدَرَ.
یعنی تمہارے تقدیر کے انکار کی پاداش میں۔
(حاشیہ السندی علی ابن ماجہ، جلد 1، صفحہ 74)

(٢) أَيْ: فِي إِثْبَات الْقَدَر.
یعنی تقدیر کے اثبات میں۔
(حاشیہ السندی علی ابن ماجہ، جلد 1، صفحہ 74)

(٣) [القمر: 48-49]

(٤) صحیح مسلم: 2656، سنن ترمذی: 2157




حاصل شدہ اہم اسباق و نکات
تقدیر کا انکار کرنے والوں کے لیے سخت وعید:
یہ آیت مشرکین قریش کے بارے میں نازل ہوئی جو تقدیر کا انکار کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں جہنم میں گھسیٹے جانے اور عذاب چکھنے کی خبر دی۔

تقدیر پر ایمان رکھنا واجب ہے:
آیت {إِنَّا كُلَّ شَيْءٍ خَلَقْنَاهُ بِقَدَرٍ} (ہم نے ہر چیز کو ایک اندازے کے ساتھ پیدا کیا ہے) اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ نے ہر چیز کو اپنی تقدیر کے مطابق پیدا کیا ہے۔ اس کا انکار کرنا کفر ہے۔

مشرکین قریش کا جھگڑا:
وہ نبی ﷺ سے تقدیر کے بارے میں جھگڑا کرنے آئے تھے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ مسئلہ ابتدا سے ہی اہم رہا ہے، اور کفار بھی اسے اپنے شکوک کا ذریعہ بناتے تھے۔

تقدیر کے انکار کی پاداش میں عذاب:
"ذُوقُوا مَسَّ سَقَرَ" (جہنم کی چھوا چکھو) کا مطلب یہ ہے کہ یہ عذاب تمہیں اس لیے مل رہا ہے کہ تم نے تقدیر کا انکار کیا۔

تقدیر پر ایمان ایمان کا لازمی جز ہے:
اس آیت سے ثابت ہوا کہ تقدیر پر ایمان رکھنا اسلام کا حصہ ہے، اور اس کا انکار کرنے والا مستحق عذاب ہے۔

حدیث کی صحت:
یہ حدیث صحیح مسلم اور سنن ترمذی میں موجود ہے اور محدثین کے نزدیک صحیح ہے۔

واللہ اعلم بالصواب






عنوان:
تقدیر کا انکار کرنے والوں کے بارے میں آیت کا نزول

حدیث کا متن (عربی):
عَنْ زُرَارَةَ - رضي الله عنه - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم - فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: {ذُوقُوا مَسَّ سَقَرَ , إِنَّا كُلَّ شَيْءٍ خَلَقْنَاهُ بِقَدَرٍ} , قَالَ: نَزَلَتْ فِي أُنَاسٍ مِنْ أُمَّتِي فِي آخِرِ الزَّمَانِ , يُكَذِّبُونَ بِقَدَرِ اللهِ " (١)

ترجمہ:

حضرت زرارہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا:
"رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کے فرمان: {ذُوقُوا مَسَّ سَقَرَ , إِنَّا كُلَّ شَيْءٍ خَلَقْنَاهُ بِقَدَرٍ} (جہنم کی چھوا چکھو، بے شک ہم نے ہر چیز کو ایک اندازے کے ساتھ پیدا کیا ہے) کے بارے میں فرمایا: یہ آیت میری امت کے ان لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی جو آخر زمانے میں اللہ کی تقدیر کو جھٹلائیں گے۔"

حوالہ وحواشی:
(١) المعجم الكبير للطبراني: 5316، دیکھیے سلسلہ صحیحہ: 1539

(٢) امام نووی نے "شرح مسلم" (جلد 1، صفحہ 70) میں فرمایا:

"جان لو کہ اہل حق کا مذہب تقدیر کو ثابت کرنا ہے، اور اس کا معنی یہ ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ازل میں چیزوں کی تقدیر کر دی، اور وہ جانتا ہے کہ وہ اپنے ہاں معلوم اوقات میں اور خاص صفات کے ساتھ واقع ہوں گی، پس وہ اسی کے مطابق واقع ہوتی ہیں جیسا کہ اس نے تقدیر کی ہے۔

اور قدریہ نے اس کا انکار کیا، اور ان کا خیال ہے کہ اللہ نے ان کی تقدیر نہیں کی، اور اس کا علم ان سے پہلے نہیں تھا، بلکہ ان کا علم وقوع کے بعد ہے (یعنی نئے سرے سے)۔ انہوں نے اللہ پر جھوٹ باندھا، اور اللہ ان کے باطل اقوال سے بہت بلند ہے۔

اس فرقے کو 'قدریہ' اس لیے کہا جاتا ہے کہ وہ تقدیر کا انکار کرتے ہیں۔ متکلمین نے کہا: یہ پہلے قدریہ جو اس قبیح اور باطل قول کے قائل تھے، ختم ہو گئے، اور اہل قبلہ میں سے کوئی اس پر نہیں رہا۔ بعد کے زمانوں میں قدریہ تقدیر کے اثبات پر یقین رکھتے ہیں، لیکن وہ کہتے ہیں: بھلائی اللہ کی طرف سے ہے اور برائی کسی اور کی طرف سے – اللہ ان کے اس قول سے بلند ہے۔"

حافظ ابن حجر نے "فتح الباری" (حدیث نمبر 50) میں کہا:
"آج کے قدریہ اس بات پر متفق ہیں کہ اللہ بندوں کے اعمال کو وقوع سے پہلے جانتا ہے، لیکن وہ سلف کے خلاف یہ کہتے ہیں کہ بندوں کے اعمال ان کی اپنی قدرت سے اور آزادانہ طور پر واقع ہوتے ہیں – یہ باطل مذہب ہے، اگرچہ پہلے مذہب سے ہلکا ہے۔

بعد کے قدریہ نے ارادہ کو بندوں کے اعمال سے متعلق ہونے کا انکار کیا، تاکہ قدیم کو حادث سے متعلق ہونے سے بچ سکیں۔ شافعی نے انہیں جواب دیا: اگر قدریہ علم کو تسلیم کر لے تو مغلوب ہو جائے گا۔ یعنی اس سے کہا جائے گا: کیا ممکن ہے کہ وجود میں علم کے خلاف کوئی چیز واقع ہو؟ اگر وہ منع کرے تو اہل سنت کے قول سے موافقت کر لے، اور اگر جائز جانے تو پھر اسے اللہ پر جہالت لازم آئے گی، اللہ اس سے بالا تر ہے۔"




حاصل شدہ اہم اسباق و نکات
آخر زمانے میں تقدیر کا انکار کرنے والوں کی پیشگوئی:
نبی ﷺ نے خبر دی کہ میری امت میں آخر زمانے میں ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو تقدیر کا انکار کریں گے، اور یہ آیت انہی کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔

تقدیر کا انکار کرنے والوں کے لیے وعید:
یہ آیت جہنم کے عذاب کی خبر دے رہی ہے، اور اس کا تعلق تقدیر کے انکار سے ہے۔

قدیم قدریہ کا عقیدہ کفر تھا:
جو لوگ اللہ کے ازلی علم کا انکار کرتے تھے، وہ کافر تھے۔

بعد کے قدریہ کا عقیدہ بھی باطل ہے:
اگرچہ وہ اللہ کے علم کا انکار نہیں کرتے، لیکن وہ اعمال کو بندوں کی طرف مستقل طور پر منسوب کرتے ہیں اور اللہ کی مشیت کا انکار کرتے ہیں۔

اہل سنت کا عقیدہ:
اللہ نے ہر چیز کی تقدیر ازل میں لکھ دی، اور جو کچھ ہوتا ہے وہ اسی کے علم، مشیت اور قدرت سے ہوتا ہے۔

حدیث کی صحت:
یہ حدیث طبرانی میں موجود ہے اور علامہ البانی نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔

واللہ اعلم بالصواب







عنوان:
تقدیر کے جھٹلانے والوں پر مسخ، خسف اور قذف کا عذاب

حدیث کا متن (عربی):
عَنْ نَافِعٍ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى ابْنِ عُمَرَ - رضي الله عنهما - فَقَالَ: إِنَّ فُلَانًا يَقْرَأُ عَلَيْكَ السَّلَامَ، فَقَالَ لَهُ ابْنُ عُمَرَ: بَلَغَنِي أَنَّهُ قَدْ أَحْدَثَ حَدَثًا (١) فَإِنْ كَانَ كَذَلِكَ , فَلَا تُقْرِئْهُ مِنِّي السَّلَامَ , فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ - صلى الله عليه وسلم - يَقُولُ: " يَكُونُ فِي هَذِهِ الْأُمَّةِ مَسْخٌ , وَخَسْفٌ , وَقَذْفٌ (٢) (٣) وَذَلِكَ فِي الْمُكَذِّبِينَ بِالْقَدَرِ (٤) "

ترجمہ:

حضرت نافع (تابعی) سے روایت ہے، انہوں نے کہا:
"ایک شخص حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور کہا: فلاں آپ کو سلام کہہ رہا ہے۔ ابن عمر نے اس سے کہا: مجھے پتہ چلا ہے کہ اس نے ایک نئی بات ایجاد کی ہے (١) (یعنی بدعت نکالی ہے)۔ اگر ایسا ہے تو اسے میری طرف سے سلام نہ کہنا، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: 'اس امت میں مسخ (صورت بدلنا)، خسف (زمین میں دھنسنا) اور قذف (آسمان سے پتھر برسنا) ہوگا (٢،٣) – اور یہ (عذاب) تقدیر کو جھٹلانے والوں پر ہوگا (٤)۔'"

حواشی وحوالہ جات:
(١) أَيْ: بَلَغَنِي أَنَّهُ ابْتَدَعَ فِي الدِّينِ مَا لَيْسَ مِنْهُ مِنْ التَّكْذِيبِ بِالْقَدَرِ.
ترجمہ: یعنی مجھے پتہ چلا ہے کہ اس نے دین میں وہ چیز ایجاد کر لی ہے جو دین میں نہیں ہے، یعنی تقدیر کا جھٹلانا۔

(٢) أي: رَمْيٌ بالحجارة من جهة السماء.
ترجمہ: یعنی آسمان کی طرف سے پتھروں کی بارش۔

(٣) مسند احمد:6208، سنن ترمذی:2152

(٤) سنن ترمذی:2153، سنن ابن ماجة:4061، الصحيحة تحت حديث:1787




حاصل شدہ اہم اسباق و نکات

تقدیر کا انکار کرنے والوں کے لیے سخت عذاب:
نبی ﷺ نے خبر دی کہ اس امت میں مسخ (صورت کا بگڑنا)، خسف (زمین میں دھنسنا) اور قذف (آسمان سے پتھر برسنا) جیسے عذاب آئیں گے، اور یہ خاص طور پر تقدیر کو جھٹلانے والوں پر ہوں گے۔

حضرت ابن عمر کا اہل بدعت سے قطع تعلق:
انہوں نے اس شخص کو سلام نہ کرنے کا حکم دیا جس نے تقدیر کا انکار کیا تھا۔ یہ صحابہ کرام کے اہل بدعت سے بیزاری کے طریقے کو ظاہر کرتا ہے۔

بدعت کی سنگینی:
تقدیر کا انکار کرنا ایک بڑی بدعت ہے، اور ایسے شخص کو سلام کرنا بھی مناسب نہیں (جب تک وہ توبہ نہ کرے)۔

عذاب کی قسمیں:
مسخ: صورت کا بگڑ کر جانور جیسی ہو جانا۔
خسف: زمین میں دھنس جانا۔
قذف: آسمان سے پتھر برسنا۔

حدیث کی صحت:
یہ حدیث مسند احمد، سنن ترمذی اور سنن ابن ماجہ میں موجود ہے، اور علامہ البانی نے اسے حسن قرار دیا ہے۔

واللہ اعلم بالصواب






متن (عربی):
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رضي الله عنهما - قَالَ: قَالَ عُمَرُ - رضي الله عنه -: " الرَّجْمُ حَدٌّ مِنْ حُدُودِ اللهِ , فَلَا تُخْدَعُوا عَنْهُ، {فَإِنَّهُ فِي كِتَابِ اللهِ وَسُنَّةِ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ} (۱) وَآيَةُ ذَلِكَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ - صلى الله عليه وسلم - رَجَمَ، وَأَبُو بَكْرٍ - رضي الله عنه - رَجَمَ، وَرَجَمْتُ أَنَا بَعْدُ،(۲) وَسَيَجِيءُ قَوْمٌ [من هذه الأمَّةِ] يُكَذِّبُونَ بِالْقَدَرِ، [يُكَذِّبُونَ بِالرَّجْمِ، وَيُكَذِّبُونَ بِطُلُوعِ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا، وَيُكَذِّبُونَ بِالدَّجَّالِ، وَيُكَذِّبُونَ بِعَذَابِ الْقَبْرِ] وَيُكَذِّبُونَ بِالشَّفَاعَةِ، وَيُكَذِّبُونَ بِالْحَوْضِ، وَيُكَذِّبُونَ بِالشَّفَاعَةِ، وَيُكَذِّبُونَ بِقَوْمٍ يَخْرُجُونَ مِنَ النَّارِ "۔ (۴) [فَلَئِنْ أَدْرَكْتُهُمْ لَأَقْتُلَنَّهُمْ قَتْلَ عَادٍ وَثَمُودَ

ترجمہ:

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
"رجم (سنگسار کرنا) اللہ کی حدود میں سے ایک حد ہے، اس لیے تم اس سے دھوکہ نہ کھاؤ، {کیونکہ یہ اللہ کی کتاب اور تمہارے نبی ﷺ کی سنت میں ہے}(۱) اس کی علامت یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رجم کیا، ابوبکر رضی اللہ عنہ نے رجم کیا، اور میں نے بھی ان کے بعد رجم کیا۔ (۲) اور عنقریب کچھ لوگ آئیں گے [اس امت میں] جو تقدیر کا انکار کریں گے، [رجم(سنگسار)کرنے کا انکار کریں گے، سورج کے مغرب سے نکلنے کا انکار کریں گے، دجال کا انکار کریں گے، قبر کے عذاب کا انکار کریں گے](۳)، حوض (کوثر) کا انکار کریں گے، شفاعت کا انکار کریں گے، اور ان لوگوں کا انکار کریں گے جو جہنم سے نکلیں گے۔"(۴) [اگر میرا ان سے مقابلہ ہوا تو میں انہیں ضرور قتل کروں گا جس طرح قوم عاد اور ثمود کو قتل کیا گیا تھا]۔ (۵)




حاصل شدہ اہم اسباق و نکات

رجم کی شرعی حیثیت:
رجم (سنگسار کرنا) شادی شدہ زانی کے لیے اللہ کی مقرر کردہ حد ہے، جسے صحابہ کرام نے نبی ﷺ کے بعد بھی جاری رکھا۔ یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ رجم کا حکم منسوخ نہیں ہوا۔

صحابہ کا رجم پر عمل:
حضرت عمر نے تین خلفاء (نبی ﷺ، ابوبکر، اور خود) کے رجم کرنے کا ذکر کیا تاکہ اس حد کے اثبات میں کوئی شک نہ رہے۔

آخر زمانے میں بعض عقائد کا انکار:
حضرت عمر نے خبر دی کہ بعد میں کچھ لوگ پیدا ہوں گے جو چار اہم عقائد کا انکار کریں گے:
تقدیر:- اللہ کی طرف سے ہر چیز کی تقدیر۔
حوض (کوثر):- قیامت کے دن نبی ﷺ کا حوض۔
شفاعت:- نبی ﷺ اور دیگر کا گناہ گار مومنین کے لیے سفارش کرنا۔
جہنم سے نکلنے والے:- وہ مومن جو جہنم میں عذاب پا کر پاک ہو کر نکلیں گے۔

انکارِ تقدیر کی مذمت:
حضرت عمر نے انکارِ تقدیر کو ان باطل عقائد میں سے پہلا شمار کیا، جس سے اس کی سنگینی معلوم ہوتی ہے۔

انکارِ حوض و شفاعت کی تردید:
یہ حدیث ان لوگوں کے خلاف واضح دلیل ہے جو حوض اور شفاعت کا انکار کرتے ہیں (جیسے بعض خارجی اور معتزلہ)۔

جہنم سے نکلنے والوں کا اثبات:
اہل سنت کا عقیدہ ہے کہ جو مومن گناہوں کی وجہ سے جہنم میں جائیں گے، وہ وہاں سے نکال کر جنت میں داخل کر دیے جائیں گے۔ اس حدیث میں اس عقیدے کی طرف اشارہ ہے۔

صحابہ کا اجماع:
حضرت عمر نے تین ادوار (نبوت، ابوبکر کی خلافت، اور اپنی خلافت) میں رجم کے تسلسل کا ذکر کر کے صحابہ کے اجماع کو ظاہر کیا۔

حدیث کی صحت:
علامہ البانی نے اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے، اس لیے یہ قابلِ اعتماد ہے۔

واللہ اعلم بالصواب







[السنة لعبد الله بن أحمد:917، مسند احمد:5639، الحاکم:285، بیھقی:20881، ابوداؤد:4613، المعجم الاوسط:5303]



تشریح:
یہ (حدیث) نبوت کی نشانیوں میں سے ہے، کیونکہ یہ ویسا ہی ہوچکا ہے جیسا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا۔
[التنویر شرح الجامع الصغير - الصنعانی: 4767]

(میری امت میں کچھ لوگ ہوں گے جو تقدیر کا انکار کریں گے)
یعنی وہ اس بات کی تصدیق نہیں کریں گے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے تمام اعمال کو پیدا کیا ہے، خواہ وہ بھلائی ہو، برائی ہو، کفر ہو یا ایمان۔
[فیض القدیر شرح الجامع الصغير - المناوی: 4783]







متن (عربی):
عَنِ ابْنِ عُمَرَ - رضي الله عنهما - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم -:
(" إِنَّ لِكُلِّ أُمَّةٍ مَجُوسًا، وَإِنَّ مَجُوسَ هَذِهِ الْأُمَّةِ) (١) (الْمُكَذِّبُونَ بِأَقْدَارِ الله) (٢) (فَإِنْ مَرِضُوا فَلَا تَعُودُوهُمْ) (٣) (وَإِنْ مَاتُوا فَلَا تُصَلُّوا عَلَى جَنَائِزِهِمْ) (٤) وفي رواية: " فَلَا تَشْهَدُوهُمْ (٥) " (٦)

ترجمہ:

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"بے شک ہر امت کے مجوسی ہوتے ہیں، اور اس امت کے مجوسی (١) وہ ہیں جو اللہ کی تقدیروں کا انکار کرتے ہیں (٢)۔ پس اگر وہ بیمار ہوں تو ان کی عیادت نہ کرو (٣)، اور اگر وہ مر جائیں تو ان کے جنازے کی نماز نہ پڑھو (٤)۔" اور ایک روایت میں ہے: "تو ان کے جنازے میں حاضر نہ ہو (٥)۔" (٦)

تخریج و حوالہ جات:
(١) السنة لابن أبی عاصم: 342، سنن ابی داود: 4691
(٢) سنن ابن ماجہ: 92
(٣) سنن ابی داود: 4691، سنن ابن ماجہ: 92
(٤) السنة لابن أبی عاصم: 342
(٥) یعنی ان کے جنازے میں حاضر نہ ہو۔ (عون المعبود، جلد 10، صفحہ 211)
(٦) سنن ابی داود:4691، سنن ابن ماجہ:92، اور البانی نے اسے "ظلال الجنة" (342) اور "صحيح الجامع" (5163) میں صحیح قرار دیا ہے۔
(٧) امام الحرمین ابو المعالی نے اپنی کتاب "الارشاد فی اصول الدین" میں نقل کیا ہے کہ بعض قدریہ نے کہا: ہم قدریہ نہیں ہیں، بلکہ تم قدریہ ہو، کیونکہ تم تقدیر کے اثبات کے قائل ہو۔

امام نے فرمایا: یہ ان جاہلوں کی دھوکہ دہی اور بہتان ہے۔ کیونکہ اہل حق اپنے معاملات کو اللہ کے سپرد کرتے ہیں اور تقدیر اور اعمال کو اللہ کی طرف منسوب کرتے ہیں، جبکہ یہ جاہل اسے اپنی طرف منسوب کرتے ہیں۔ اور جو شخص کسی چیز کا دعویٰ اپنے لیے کرے اور اسے اپنی طرف منسوب کرے، وہ اس کے لیے زیادہ لائق ہے کہ اس کی طرف نسبت دی جائے، بجائے اس کے جو اسے دوسرے کے لیے اعتقاد رکھے اور خود سے نفی کرے۔

امام نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "قدریہ اس امت کے مجوسی ہیں" – انہیں مجوسیوں سے تشبیہ دی ہے کیونکہ انہوں نے خیر اور شر کو ارادے کے حکم میں تقسیم کیا، جیسا کہ مجوسیوں نے تقسیم کیا، انہوں نے خیر کو "یزدان" اور شر کو "اہرمن" کی طرف منسوب کیا۔ اور اس حدیث کا خاص تعلق قدریہ سے ہے۔ (امام الحرمین کا کلام ختم ہوا)

خطابی نے کہا: نبی ﷺ نے انہیں مجوسی اس لیے قرار دیا کہ ان کا مذہب مجوسیوں کے مذہب سے مشابہت رکھتا ہے، جو دو اصولوں (نور اور ظلمت) کے قائل ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ بھلائی نور کے فعل سے ہے اور برائی ظلمت کے فعل سے ہے۔ اسی طرح قدریہ بھلائی کو اللہ تعالیٰ کی طرف اور برائی کو دوسرے کی طرف منسوب کرتے ہیں، حالانکہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ خیر اور شر دونوں کا خالق ہے، ان میں سے کوئی چیز بھی اس کی مشیت کے بغیر نہیں ہوتی۔ پس دونوں اس کی طرف منسوب ہیں (پیدائش اور وجود کے اعتبار سے) اور اپنے فعل کرنے والے بندوں کی طرف (فعل اور کسب کے اعتبار سے)۔ واللہ اعلم۔
(نووی کی شرح مسلم، جلد 1، صفحہ 70)




حاصل شدہ اہم اسباق و نکات

تقدیر کا انکار کرنے والے (قدریہ) مجوسیوں کے مشابہ ہیں:
جس طرح مجوسی خیر کو ایک الٰہ اور شر کو دوسرے الٰہ کی طرف منسوب کرتے تھے، اسی طرح قدریہ بھلائی کو اللہ اور برائی کو غیر اللہ کی طرف منسوب کرتے ہیں، حالانکہ اللہ ہر چیز کا خالق ہے۔

تقدیر کے منکرین کے ساتھ معاملہ:
ان کی عیادت نہ کرنا۔
ان کی نمازِ جنازہ نہ پڑھنا۔
ان کے جنازے میں حاضر نہ ہونا۔

قدریہ کی دو قسمیں:
قدیم قدریہ: جو اللہ کے ازلی علم کا انکار کرتے تھے (یہ کافر تھے)۔
متأخر قدریہ: جو اعمال کو بندوں کی طرف مستقل طور پر منسوب کرتے ہیں اور اللہ کی مشیت کا انکار کرتے ہیں۔

اہل سنت کا عقیدہ:
اللہ تعالیٰ خیر اور شر دونوں کا خالق ہے، اور بندہ کسب (کمانے والا) ہے۔ ہر چیز اللہ کی مشیت سے ہوتی ہے۔

حدیث کی صحت:
یہ حدیث صحیح ہے اور متعدد کتب میں موجود ہے۔ علامہ البانی نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔

واللہ اعلم بالصواب






متن (عربی):
عَنْ أَنَسٍ - رضي الله عنه - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم -: " صِنْفَانِ مِنْ أُمَّتِي لَا يَرِدَانِ عَلَيَّ الْحَوْضَ: الْقَدَرِيَّةُ , وَالْمُرْجِئَةِ (١) " (٢)
ترجمہ:
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"میری امت کے دو گروہ میرے حوض (کوثر) پر مجھ سے نہیں ملیں گے: قدریہ اور مرجئہ۔"

(١) الْمُرْجِئَة: نُسِبُوا إِلَى الْإِرْجَاء, وَهُوَ التَّأخِير؛ لِأَنَّهُمْ أَخَّرُوا الْأَعْمَال عَنْ الْإِيمَان فَقَالُوا: الْإِيمَان هُوَ التَّصْدِيق بِالْقَلْبِ فَقَطْ , وَلَمْ يَشْتَرِطْ جُمْهُورُهُمْ النُّطْقَ، وَجَعَلُوا لِلْعُصَاةِ اِسْمَ الْإِيمَانِ عَلَى الْكَمَالِ , وَقَالُوا: لَا يَضُرُّ مَعَ الْإِيمَانِ ذَنْبٌ أَصْلًا، وَمَقَالَاتُهُمْ مَشْهُورَةٌ فِي كُتُبٍ الْأُصُول.
ترجمہ:
"مرجئہ" کا نام "ارجاء" (مؤخر کرنے) سے منسوب ہے، کیونکہ انہوں نے اعمال کو ایمان سے مؤخر کر دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ ایمان صرف دل کی تصدیق کا نام ہے، اور ان کے اکثر نے زبان سے اقرار کو شرط نہیں سمجھا۔ انہوں نے گناہ گاروں کو بھی کامل ایمان والا کہا، اور یہ عقیدہ رکھا کہ ایمان کے ساتھ کوئی گناہ نقصان دہ نہیں ہے۔ ان کے اقوال اصول دین کی کتابوں میں مشہور ہیں۔" (فتح الباری: ح48)

(٢) السنة لابن أبی عاصم: 949، سلسلة الأحاديث الصحيحة: 2748




حاصل شدہ اہم اسباق و نکات

حوض (کوثر) سے محرومی کی وعید:
نبی ﷺ نے خبر دی کہ دو گروہ (قدریہ اور مرجئہ) اس امت میں سے ہوں گے جو قیامت کے دن حوض کوثر پر آپ سے ملاقات سے محروم رہیں گے۔ یہ بہت بڑی وعید ہے۔

قدریہ کا عقیدہ:
قدریہ وہ لوگ ہیں جو تقدیر کا انکار کرتے ہیں، یا یہ کہتے ہیں کہ بندہ اپنے اعمال کا خود خالق ہے، اور اللہ کی مشیت کا انکار کرتے ہیں۔ یہ حدیث ان کے باطل ہونے کی دلیل ہے۔

مرجئہ کا عقیدہ:
مرجئہ وہ لوگ ہیں جو ایمان کو صرف دل کی تصدیق (اور بعض کے نزدیک زبان کے اقرار) پر محدود رکھتے ہیں، اور اعمال کو ایمان کا حصہ نہیں مانتے۔ وہ کہتے ہیں کہ ایمان کے ساتھ کوئی گناہ نقصان نہیں پہنچاتا۔ یہ عقیدہ بھی باطل ہے۔

اہل سنت کا عقیدہ:
اہل سنت والجماعت کے نزدیک ایمان قول، عمل اور عقیدہ کا مجموعہ ہے، اور یہ اعمال کے ساتھ بڑھتا اور گھٹتا ہے۔ گناہ ایمان کے کمال کو نقصان پہنچاتے ہیں، لیکن گناہ گار مومن آخرکار جنت میں جائے گا (اگر توبہ کر لے)۔

حوض کوثر کی اہمیت:
حوض کوثر قیامت کے دن نبی ﷺ کو عطا کردہ ایک عظیم نعمت ہے، جہاں سے آپ اپنی امت کو پلائیں گے۔ اس سے محرومی بہت بڑی محرومی ہے۔

بدعتیوں سے بچنے کا حکم:
یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ اہل بدعت (خاص طور پر قدریہ اور مرجئہ) سے بچنا چاہیے، اور ان کے عقائد کی تردید کرنی چاہیے۔

نبوت کی نشانی:
نبی ﷺ نے ان فرقوں کے ظہور کی خبر دی، اور یہ واقعی بعد میں ظاہر ہوئے۔ یہ آپ کی نبوت کی ایک نشانی ہے۔

حدیث کی صحت:
یہ حدیث صحیح ہے اور محدثین کے نزدیک قابلِ اعتماد ہے۔

واللہ اعلم بالصواب






متن (عربی):
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ - رضي الله عنه - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم -:
" ثَلَاثَةٌ لَا يَقْبَلُ اللهُ لَهُمْ صَرْفًا وَلَا عَدْلًا: عَاقٌّ، وَمَنَّانٌ، وَمُكَذِّبٌ بِالْقَدَرِ "

ترجمہ:

حضرت ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"تین قسم کے لوگ ہیں جن سے اللہ تعالیٰ نہ کوئی نفل قبول کرے گا اور نہ فرض: (1) والدین کا نافرمان ، (2) احسان جتانے والا، (3) اور تقدیر کا انکار کرنے والا۔"

[المعجم الكبير الطبرانی:7547، صَحِيح الْجَامِع: 3065، الصحيحة:1785]


تشریح:
"صَرْفًا" اور "عَدْلًا" کے معانی
الصَّرْف نفل، توبہ، یا وہ چیز جو عذاب کو دور کر دے
الْعَدْل فرض، فدیہ، یا وہ چیز جو گناہوں کا کفارہ ہو

مناویؒ نے فرمایا:
"لا يقبل الله منهم يوم القيامة" سے مراد کمالِ قبول کی نفی ہے، یعنی ان کا عمل مکمل طور پر مقبول نہیں ہوگا، لیکن یہ نہیں کہ بالکل ہی قبول نہ ہو۔

صنعانیؒ نے فرمایا:
"ولا عدلاً" سے مراد فرض ہے، یعنی اللہ ان سے فرض بھی اس طرح قبول نہیں کرے گا کہ اس سے ان کی یہ خطائیں معاف ہو جائیں، اگرچہ دوسری طاعات ان کے گناہوں کا کفارہ بن سکتی ہیں۔

حاصل شدہ اہم اسباق و نکات

تین قبیح صفات کی نشاندہی:
حدیث میں تین ایسی صفات کا ذکر ہے جو انسان کو اللہ کی رحمت سے دور کر دیتی ہیں: والدین کی نافرمانی (عقوق)، احسان جتانا (منّت)، اور تقدیر کا انکار۔

عاق (والدین کا نافرمان):
عقوق سے مراد والدین کو قول یا فعل سے تکلیف پہنچانا، ان کی نافرمانی کرنا، یا ان کے ساتھ بدسلوکی کرنا ہے۔
یہ کبیرہ گناہ ہے اور حدیث کے مطابق ایسے شخص کا عمل مقبول نہیں ہوگا۔

منان (احسان جتانے والا):
"منّت" سے مراد کسی پر احسان کر کے اسے جتانا، اسے یاد دلانا، یا اس پر بوجھ ڈالنا ہے۔
یہ عمل صدقہ اور نیکی کو برباد کر دیتا ہے، جیسا کہ قرآن میں ہے: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُبْطِلُوا صَدَقَاتِكُمْ بِالْمَنِّ وَالْأَذَى} (البقرہ: 264)۔

تقدیر کا انکار کرنے والا:
"مكذب بالقدر" سے مراد وہ شخص ہے جو اللہ کی تقدیر کا انکار کرتا ہے یا یہ کہتا ہے کہ بندہ اپنے اعمال کا خود خالق ہے۔
یہ عقیدہ اہل سنت کے خلاف ہے اور ایسے شخص کی عبادات قبول نہیں ہوتیں۔

حدیث کی سند میں ضعف کے باوجود مفہوم کی صحت:
اگرچہ اس حدیث کی سند میں کلام ہے، لیکن اس کے تینوں مضامین (عقوق کی مذمت، منّت کی مذمت، تقدیر کے انکار کی مذمت) قرآن اور صحیح احادیث سے ثابت ہیں۔

"صرف" اور "عدل" کی قبولیت کا مفہوم:
صرف: نفلی عبادات اور توبہ
عدل: فرائض اور کفارے
اس کا مطلب یہ ہے کہ ان تین صفات والے لوگوں کی نہ تو نفلی عبادات قبول ہوتی ہیں اور نہ ہی فرائض اس طرح کہ وہ ان کے گناہوں کا کفارہ بن جائیں۔

عقوق کی تعریف:
ابن حجر ہیتمی نے فرمایا: عقوق کی حد یہ ہے کہ اولاد والدین کو اس طرح تکلیف پہنچائے جو اگر وہ غیر والدین کے ساتھ کرے تو صغیرہ گناہ ہو، لیکن والدین کے ساتھ یہ کبیرہ گناہ بن جاتا ہے ۔

منّت کی قباحت:
منّت رکھنے والا نہ صرف اپنے صدقے کو برباد کرتا ہے بلکہ دوسرے کے دل میں بھی کدورت پیدا کرتا ہے۔ یہ تکبر اور خود پسندی کی علامت ہے۔

تقدیر کے انکار کی سنگینی:
تقدیر کا انکار کرنے والا درحقیقت اللہ کے علم اور قدرت کا انکار کرتا ہے، جو کہ کفر کے قریب ہے۔ اسی لیے اسے ان تینوں میں شمار کیا گیا ہے۔

انسان کو ان صفات سے بچنا چاہیے:
ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ والدین کی اطاعت کرے، کسی پر احسان کر کے اسے نہ جتانے، اور تقدیر پر پورا ایمان رکھے۔

واللہ اعلم بالصواب






عنوان:
جنت سے محروم رہنے والے چار گروہ
حدیث کا متن (عربی):
عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ - رضي الله عنه - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم -:
" لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ عَاقٌّ، وَلَا مُؤْمِنٌ بِسِحْرٍ، وَلَا مُدْمِنُ خَمْرٍ، وَلَا مُكَذِّبٌ بِقَدَرٍ

ترجمہ:
حضرت ابو الدرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"جنت میں داخل نہیں ہو گا: والدین کا نافرمان، جادو پر ایمان رکھنے والا، شراب کا عادی، اور تقدیر کا انکار کرنے والا۔"

[مسند احمد: 27524، الصحيحة:675، صحیح الترغیب:2362]

تشریح:
قَالَ الْقَاضِي عِيَاضٌ رَحِمَهُ اللَّهُ هَذَا فِي الْقَدَرِيَّةِ الْأُوَلِ الَّذِينَ نَفَوْا تَقَدُّمَ عِلْمِ اللَّهِ تَعَالَى بِالْكَائِنَاتِ قَالَ وَالْقَائِلُ بِهَذَا كَافِرٌ بِلَا خِلَافٍ وَهَؤُلَاءِ الَّذِينَ يُنْكِرُونَ الْقَدَرَ هُمُ الْفَلَاسِفَةُ فِي الْحَقِيقَةِ قَالَ غَيْرُهُ وَيَجُوزُ أَنَّهُ لَمْ يُرِدْ بِهَذَا الْكَلَامَ التَّكْفِيرَ الْمُخْرِجَ مِنَ الْمِلَّةِ فَيَكُونُ مِنْ قَبِيلِ كُفْرَانِ النِّعَمِ إِلَّا أَنَّ قَوْلَهُ مَا قَبِلَهُ اللَّهُ مِنْهُ ظَاهِرٌ فى التكفير فَإِنَّ إِحْبَاطَ الْأَعْمَالِ إِنَّمَا يَكُونُ بِالْكُفْرِ إِلَّا أَنَّهُ يَجُوزُ أَنْ يُقَالَ فِي الْمُسْلِمِ لَا يُقْبَلُ عَمَلُهُ لِمَعْصِيَتِهِ وَإِنْ كَانَ صَحِيحًا كَمَا أَنَّ الصَّلَاةَ فِي الدَّارِ الْمَغْصُوبَةِ صَحِيحَةٌ غَيْرُ مُحْوِجَةٍ إِلَى الْقَضَاءِ عِنْدَ جَمَاهِيرِ الْعُلَمَاءِ بَلْ بِإِجْمَاعِ السَّلَفِ وَهِيَ غَيْرُ مَقْبُولَةٍ فَلَا ثَوَابَ فِيهَا عَلَى الْمُخْتَارِ عِنْدَ أَصْحَابِنَا، وَالله أَعْلَمُ.
ترجمہ:
قاضی عیاضؒ نے کہا: یہ (سخت وعید) ان پہلے قدریہ کے بارے میں ہے جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے واقعات سے پہلے علم ہونے کا انکار کیا۔ انہوں نے کہا: اس قول کا قائل بلا اختلاف کافر ہے، اور یہ لوگ جو تقدیر کا انکار کرتے ہیں، حقیقت میں وہ فلسفی ہی ہیں۔
اور دوسرے (علماء) نے کہا: ممکن ہے کہ اس کلام سے ان کا مقصد تکفیر (ملت سے خارج کرنا) نہ ہو، بلکہ یہ نعمتوں کا انکار (کفران نعمت) کے معنی میں ہو۔ لیکن ان کا فرمان "اللہ اسے قبول نہیں کرے گا" تکفیر پر ظاہر ہے، کیونکہ اعمال کا ضائع ہونا صرف کفر سے ہوتا ہے۔ البتہ یہ ممکن ہے کہ کسی مسلمان کے بارے میں کہا جائے کہ اس کی معصیت کی وجہ سے اس کا عمل قبول نہیں ہوتا، اگرچہ وہ صحیح ہو، جیسے کہ مغصوب گھر میں نماز صحیح ہے (اور دوبارہ پڑھنا واجب نہیں) جمہور علماء بلکہ سلف کے اجماع کے مطابق، لیکن وہ مقبول نہیں ہے، یعنی اس میں ثواب نہیں، جیسا کہ ہمارے اصحاب کے نزدیک مختار ہے۔ واللہ اعلم۔




حاصل شدہ اہم اسباق و نکات

1. چار گناہوں کی سنگینی
1 عاق (والدین کا نافرمان)
والدین کو قول یا فعل سے تکلیف پہنچانا، ان کی نافرمانی کرنا، یا ان کے ساتھ بدسلوکی کرنا۔ یہ کبیرہ گناہ ہے۔
2 مؤمن بسحر (جادو پر ایمان رکھنے والا)
جادو کو حقیقت ماننا اور اس پر ایمان رکھنا، یا جادو سیکھنا اور اسے استعمال کرنا۔
3 مدمن خمر (شراب کا عادی)
جو شراب پینے کی عادت ڈال لے اور اسے ترک نہ کرے۔
4 مكذب بقدر (تقدیر کا انکار کرنے والا)
جو اللہ کی تقدیر کا انکار کرے یا یہ کہے کہ بندہ اپنے اعمال کا خود خالق ہے۔

2. تقدیر کے انکار کی دو قسمیں (قاضی عیاض کے مطابق)
قدیم قدریہ: جو اللہ کے ازلی علم کا انکار کرتے تھے۔ ان کے بارے میں قاضی عیاض نے کہا: یہ کافر ہیں، بلا اختلاف۔
متأخر قدریہ: جو اعمال کو بندوں کی طرف مستقل طور پر منسوب کرتے ہیں اور اللہ کی مشیت کا انکار کرتے ہیں۔ ان کا عقیدہ بھی باطل ہے، لیکن ان کے بارے میں اختلاف ہے۔

3. "لا يقبل" کا مفہوم
حدیث میں "لا يدخل الجنة" (جنت میں داخل نہیں ہو گا) سے مراد مطلق نفی ہے، لیکن یہ اس صورت میں ہے جب وہ ان گناہوں پر اصرار کرتے ہوئے مر جائیں، بغیر توبہ کے۔ اگر وہ توبہ کر لیں تو مشیت الٰہی کے تحت معاف کیے جا سکتے ہیں۔

4. ان گناہوں کی قباحت کی قرآنی دلائل
عقوق
{وَقَضَى رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا} (الاسراء: 23)
جادو
{وَلَا يُفْلِحُ السَّاحِرُ حَيْثُ أَتَى} (طه: 69)
شراب
{إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنْصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ} (المائدہ: 90)
تقدیر کا انکار
{إِنَّا كُلَّ شَيْءٍ خَلَقْنَاهُ بِقَدَرٍ} (القمر: 49)

5. اہل سنت کا عقیدہ
اہل سنت والجماعت کے نزدیک:
اللہ تعالیٰ خیر اور شر دونوں کا خالق ہے۔
بندہ کسب (کمانے) والا ہے، لیکن حقیقی خالق اللہ ہے۔
تقدیر پر ایمان رکھنا ایمان کا لازمی جز ہے۔
جو شخص تقدیر کا انکار کرے، وہ گمراہ ہے۔

6. حدیث سے عملی اسباق
والدین کی اطاعت کو ہر چیز پر مقدم رکھنا چاہیے۔
جادو اور جادوگروں سے مکمل بچنا چاہیے۔
شراب کے استعمال سے ہمیشہ پرہیز کرنا چاہیے۔
تقدیر پر ایمان رکھنا اور اس کے بارے میں غیر ضروری بحث سے بچنا چاہیے۔

7. ان گناہوں کا باہمی تعلق
ان چاروں گناہوں میں ایک مشترکہ صفت "اللہ کی نافرمانی میں اصرار" ہے۔ یہ وہ گناہ ہیں جو انسان کو اللہ کی رحمت سے دور کر دیتے ہیں۔

8. حدیث کی صحت
یہ حدیث صحیح ہے۔ علامہ البانی نے اسے "سلسلة الأحاديث الصحيحة" (675) اور "صحيح الترغيب والترهيب" (2362) میں صحیح قرار دیا ہے۔

واللہ اعلم بالصواب






عنوان:
قدریہ (تقدیر کے منکر) سے نکاح کرنے کا حکم

متنِ عربی:
عَنْ مَرْوَانَ بْنِ مُحَمَّدٍ الطَّاطَرِيِّ قَالَ: سَمِعْتُ مَالِكَ بْنَ أَنَسٍ يُسْأَلُ عَنْ تَزْوِيجِ الْقَدَرِيِّ , فَقَرَأَ: {وَلَعَبْدٌ مُؤْمِنٌ خَيْرٌ مِنْ مُشْرِكٍ وَلَوْ أَعْجَبَكُمْ} (١)

اردو ترجمہ:
حضرت مروان بن محمد الطاطری کہتے ہیں: میں نے امام مالک بن انس رحمہ اللہ سے سنا، ان سے ایک قدریہ (تقدیر کا انکار کرنے والے شخص) کے نکاح کے بارے میں پوچھا گیا، تو انہوں نے یہ آیت پڑھی:
"اور بلاشبہ ایک مومن غلام ایک مشرک (آزاد) سے بہتر ہے، خواہ وہ تمہیں کتنا ہی بھلا لگے۔" [البقرہ: 221]



تشریح و وضاحت:
جب امام مالک رحمہ اللہ سے قدریہ (تقدیر کے منکر) کے نکاح کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کوئی اپنی رائے نہیں دی، بلکہ قرآن کی آیت پڑھ کر جواب دیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ تقدیر کا انکار کرنے والا درحقیقت مشرک کے حکم میں ہے، کیونکہ اس نے اللہ کی صفت (علم، قدرت، مشیت) کا انکار کیا ہے۔ جیسا کہ مشرک اللہ کے ساتھ دوسروں کو شریک کرتا ہے، اسی طرح قدریہ اللہ کی تقدیر کے ساتھ اپنے اختیار کو شریک کرتا ہے۔

اس لیے اس آیت سے استدلال کرتے ہوئے، ایک مومن عورت کے لیے قدریہ سے نکاح کرنا جائز نہیں ہے، کیونکہ وہ شرک کے قریب ہے۔

حاصل شدہ اہم اسباق و نکات:

تقدیر کا انکار شرک کے قریب ہے:
قدریہ (تقدیر کے منکر) کا شمار ان لوگوں میں ہوتا ہے جنہوں نے اللہ کی صفات میں سے کسی کا انکار کیا ہے، اس لیے وہ مشرکین کے مشابہ ہیں۔

نکاح میں مومن کی اہمیت:
آیت میں واضح کیا گیا ہے کہ نسب، مال اور خوبصورتی سے بڑھ کر "ایمان" اہم ہے۔ ایک مومن غلام مشرک آزاد سے بہتر ہے۔

قدریہ کے ساتھ نکاح جائز نہیں:
امام مالک کا اس آیت سے استدلال اس بات کی دلیل ہے کہ کسی مسلمان عورت کے لیے قدریہ سے نکاح کرنا جائز نہیں ہے، کیونکہ وہ کافر یا مشرک کے حکم میں ہے۔

علماء کا اہل بدعت کے ساتھ معاملہ:
امام مالک جیسے عظیم امام نے براہِ راست فتویٰ دینے کے بجائے قرآن کی آیت پڑھ کر جواب دیا، تاکہ لوگ خود نتیجہ اخذ کریں۔

دین میں تقدیر پر ایمان کی اہمیت:
یہ واقعہ اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ تقدیر پر ایمان رکھنا دین کا لازمی حصہ ہے، اور اس کا انکار کرنے والا اہل سنت کے دائرے سے خارج ہے۔

حدیث کی صحت:
امام البانی نے اس اثر کو صحیح قرار دیا ہے، اس لیے یہ قابلِ اعتماد ہے۔

واللہ اعلم بالصواب








عنوان:
تقدیر کے بارے میں صحابہ کا بحث کرنا اور نبی ﷺ کا انہیں روکنا

حدیث کا متن (عربی):
عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ - رضي الله عنهما - قَالَ: (هَجَّرْتُ (١)) (٢) (أَنَا وَأَخِي) (٣) (إِلَى رَسُولِ اللهِ - صلى الله عليه وسلم - يَوْمًا) (٤) (وَإِذَا مَشْيَخَةٌ مِنْ صَحَابَةِ رَسُولِ اللهِ - صلى الله عليه وسلم - جُلُوسٌ عِنْدَ بَابٍ مِنْ أَبْوَابِهِ , فَكَرِهْنَا أَنْ نُفَرِّقَ بَيْنَهُمْ , فَجَلَسْنَا حَجْرَةً (٥) فَذَكَرُوا آيَةً مِنْ الْقُرْآنِ) (٦) (فِي الْقَدَرِ) (٧) (فَتَمَارَوْا فِيهَا (٨)) (٩) (فَقَالَ بَعْضُهُمْ: أَلَمْ يَقُلْ اللهُ كَذَا وَكَذَا؟ , وَقَالَ بَعْضُهُمْ: أَلَمْ يَقُلْ اللهُ كَذَا وَكَذَا (١٠)؟) (١١) (حَتَّى ارْتَفَعَتْ أَصْوَاتُهُمْ) (١٢) (" فَسَمِعَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم - ذَلِكَ) (١٣) (فَخَرَجَ عَلَيْنَا يُعْرَفُ فِي وَجْهِهِ الْغَضَبُ (١٤)) (١٥) (فَقَالَ: أَبِهَذَا أُمِرْتُمْ (١٦)؟) (١٧) (أَنْ تَضْرِبُوا كِتَابَ اللهِ بَعْضَهُ بِبَعْضٍ؟) (١٨) (إِنَّمَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ حِينَ تَنَازَعُوا فِي هَذَا الْأَمْرِ , عَزَمْتُ عَلَيْكُمْ (١٩) أَلَّا تَتَنَازَعُوا فِيهِ) (٢٠)
وفي رواية:
(إِنَّمَا ضَلَّتْ الْأُمَمُ قَبْلَكُمْ) (٢١) (بِاخْتِلَافِهِمْ عَلَى أَنْبِيَائِهِمْ , وَضَرْبِهِمْ الْكُتُبَ بَعْضَهَا بِبَعْضٍ , إِنَّ الْقُرْآنَ لَمْ يَنْزِلْ يُكَذِّبُ بَعْضُهُ بَعْضًا , بَلْ يُصَدِّقُ بَعْضُهُ بَعْضًا) (٢٢) (فَلَا تُكَذِّبُوا بَعْضَهُ بِبَعْضٍ) (٢٣) (فَانْظُرُوا الَّذِي أُمِرْتُمْ بِهِ فَاعْمَلُوا بِهِ , وَالَّذِي نُهِيتُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا) (٢٤)
وفي رواية:
(فَمَا عَرَفْتُمْ مِنْهُ فَاعْمَلُوا بِهِ , وَمَا جَهِلْتُمْ مِنْهُ فَرُدُّوهُ إِلَى عَالِمِهِ) (٢٥) (فَإِنَّكُمْ لَسْتُمْ مِمَّا هَهُنَا فِي شَيْءٍ ") (٢٦) (قَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عَمْرٍو: فَمَا غَبَطْتُ نَفْسِي (٢٧) بِمَجْلِسٍ تَخَلَّفْتُ فِيهِ عَنْ رَسُولِ اللهِ - صلى الله عليه وسلم - مَا غَبَطْتُ نَفْسِي بِذَلِكَ الْمَجْلِسِ , وَتَخَلُّفِي عَنْهُ) (٢٨).

ترجمہ:
حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا:

"میں اور میرے بھائی (٢) ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جلدی پہنچے (١) (٤)۔ (ہم نے دیکھا کہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے چند بزرگ آپ کے ایک دروازے کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔ ہم نے یہ ناپسند کیا کہ ان کے درمیان (بیٹھ کر) انہیں الگ کریں، اس لیے ہم ایک طرف (کنارے) بیٹھ گئے (٥)۔

وہ لوگ تقدیر کے بارے میں قرآن کی ایک آیت کا ذکر کر رہے تھے (٦،٧) اور اس میں جھگڑ رہے تھے (٨،٩)۔ ان میں سے بعض کہہ رہے تھے: کیا اللہ نے ایسا نہیں کہا؟ اور بعض کہہ رہے تھے: کیا اللہ نے ویسا نہیں کہا؟ (١٠،١١) یہاں تک کہ ان کی آوازیں بلند ہو گئیں (١٢)۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سنا (١٣) تو آپ ہمارے پاس تشریف لائے، آپ کے چہرے پر غصہ کے آثار تھے (١٤،١٥)۔ آپ نے فرمایا: "کیا تمہیں اسی کا حکم دیا گیا تھا (١٦،١٧)؟ کہ تم اللہ کی کتاب کے بعض حصے کو بعض سے ٹکراؤ؟ (١٨) بے شک تم سے پہلے والے اسی وقت ہلاک ہوئے جب انہوں نے اس معاملے میں جھگڑا کیا۔ میں تمہیں قسم دیتا ہوں (١٩) کہ اس میں جھگڑا نہ کرو (٢٠)۔"

ایک روایت میں ہے:
"تم سے پہلے امتیں اسی طرح گمراہ ہوئیں کہ انہوں نے اپنے انبیاء کے بارے میں اختلاف کیا اور کتابوں کو ایک دوسرے سے ٹکرایا (٢١،٢٢)۔ بلاشبہ قرآن اس طرح نازل نہیں ہوا کہ اس کا بعض حصہ بعض کی تکذیب کرے، بلکہ اس کا بعض حصہ بعض کی تصدیق کرتا ہے (٢٢)۔ لہٰذا تم اس کے ایک حصے کو دوسرے کے ساتھ جھٹلاؤ نہیں (٢٣)۔ پس تم اسے دیکھو جس کا تمہیں حکم دیا گیا ہے، اس پر عمل کرو، اور جس سے تمہیں روکا گیا ہے، اس سے رک جاؤ (٢٤)۔"

ایک دوسری روایت میں ہے:
"پس جو کچھ تم اس میں سے جانتے ہو، اس پر عمل کرو، اور جو نہیں جانتے، اسے اس کے جاننے والے کی طرف لوٹا دو (٢٥)۔ کیونکہ تم اس (بحث) سے کچھ بھی حاصل نہیں کرو گے (٢٦)۔"

عبداللہ بن عمروؓ کہتے ہیں: "میں نے کبھی اپنے نفس کو اس مجلس کی طرح (حسرت سے) نہیں دیکھا جس سے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دور رہ گیا تھا، جتنا میں نے اس مجلس (میں شریک نہ ہونے) پر اپنے نفس کو (خوش) نہیں دیکھا (یعنی مجھے خوشی ہے کہ میں اس جھگڑے میں شامل نہیں ہوا) (٢٧،٢٨)۔"


حواشی وحوالہ جات:
(١) التَّهجير إِلى الجمعة وغيرها: التبكير والمبادرة. (لسان العرب، ج 5، ص 250)
ترجمہ: "ہجرت" جمعہ یا دوسری چیزوں کے لیے جلدی کرنے اور سبقت کرنے کو کہتے ہیں۔ (لسان العرب)

(٢) صحیح مسلم: 2666

(٣) مسند احمد: 6702، اور شیخ شعیب ارناؤوط نے کہا: اس کی سند حسن ہے۔

(٤) صحیح مسلم: 2666

(٥) یعنی ہم ان کے بیٹھنے کی جگہ کے علاوہ کسی اور جگہ بیٹھ گئے۔

(٦) مسند احمد: 6702

(٧) مسند احمد: 6846، سنن ابن ماجہ: 85، اور شیخ شعیب ارناؤوط نے کہا: اس کی سند حسن ہے۔

(٨) یعنی آپس میں جھگڑے اور بحث کرنے لگے۔

(٩) مسند احمد: 6702

(١٠) یعنی ان میں سے بعض نے کہا: اگر سب کچھ تقدیر سے ہے تو پھر ثواب اور عذاب کیوں؟ (جیسا کہ معتزلہ کہتے ہیں) اور بعض نے کہا: پھر کسی کو جنت اور کسی کو جہنم کی تقدیر کرنے کی کیا حکمت ہے؟ تو دوسرے کہتے: کیونکہ ان کے لیے ایک قسم کا اکتسابی اختیار ہے۔ پھر دوسرے کہتے: اس اختیار اور اکتساب کو کس نے پیدا کیا اور انہیں اس پر قدرت دی؟ اور اسی طرح کی باتیں۔ (تحفۃ الاحوذی، جلد 5، صفحہ 421)

(١١) مسند احمد: 6845، اور شیخ شعیب ارناؤوط نے کہا: اس کی سند حسن ہے۔

(١٢) مسند احمد: 6702

(١٣) مسند احمد: 6845

(١٤) آپ ﷺ کو غصہ اس لیے آیا کہ تقدیر اللہ تعالیٰ کے رازوں میں سے ایک راز ہے، اور اس کے راز کو تلاش کرنا منع ہے، اور اس لیے کہ جو اس میں بحث کرتا ہے، وہ اس بات سے محفوظ نہیں رہتا کہ وہ قدریہ یا جبریہ بن جائے۔ بندوں کو حکم ہے کہ وہ وہی قبول کریں جس کا شرع نے حکم دیا ہے، بغیر اس چیز کے راز کو تلاش کیے جس کے راز کو تلاش کرنا جائز نہیں۔ (تحفۃ الاحوذی، جلد 5، صفحہ 421)

(١٥) صحیح مسلم: 2666

(١٦) یعنی کیا تقدیر کے بارے میں یہ بحث اور جھگڑا وہی ہے جس کا تمہیں حکم دیا گیا تھا کہ تم اس پر جرأت کرو؟ آپ ﷺ کا مطلب ہے کہ یہ ان دونوں میں سے کچھ بھی نہیں ہے، پھر اس کی کیا ضرورت ہے؟ (حاشیہ السندی علی ابن ماجہ، جلد 1، صفحہ 76)

(١٧) سنن ترمذی: 2133، سنن ابن ماجہ: 85

(١٨) مسند احمد: 6845

(١٩) یعنی میں تم پر قسم ڈالتا ہوں، یا واجب کرتا ہوں۔ (تحفۃ الاحوذی، جلد 5، صفحہ 421)

(٢٠) سنن ترمذی: 2133، صحیح مسلم: 2666

(٢١) مسند احمد: 6845

(٢٢) مسند احمد: 6702

(٢٣) مسند احمد: 6741

(٢٤) مسند احمد: 6845

(٢٥) مسند احمد: 6702، دیکھیے سلسلہ صحیحہ تحت حدیث: 1522

(٢٦) مسند احمد: 6845

(٢٧) یعنی میں نے اپنے نفس کے فعل کو اچھا نہیں سمجھا۔

(٢٨) سنن ابن ماجہ: 85، مسند احمد: 6668، دیکھیے تخریج الطحاویۃ: 218




حاصل شدہ اہم اسباق و نکات

تقدیر کے بارے میں بحث و جھگڑا کرنا منع ہے:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو تقدیر کے بارے میں بحث کرنے سے سختی سے منع فرمایا، اور اسے اسی جرم سے تعبیر کیا جس کی وجہ سے پچھلی امتیں ہلاک ہوئیں۔

پچھلی امتوں کی ہلاکت کی وجہ:
آپ نے فرمایا کہ پہلی امتیں اپنے انبیاء کے بارے میں اختلاف کرنے اور کتابوں کو ایک دوسرے سے ٹکرانے کی وجہ سے ہلاک اور گمراہ ہوئیں۔

قرآن اپنے اندر متضاد نہیں ہے:
قرآن کا کوئی حصہ دوسرے حصے کی تکذیب نہیں کرتا، بلکہ سب ایک دوسرے کی تصدیق کرتے ہیں۔ اگر کسی کو کوئی تضاد نظر آئے تو وہ اس کی اپنی سمجھ کی کمی کی وجہ سے ہے۔

غیر ضروری سوالات سے بچنا:
صحابہ کو حکم دیا گیا کہ جو چیز انہیں معلوم ہے اس پر عمل کریں، اور جو نہیں جانتے اسے اہل علم کے سپرد کریں۔ یہی اہل سنت کا طریقہ ہے۔

تقدیر کے بارے میں زیادہ غور و فکر کرنا منع ہے:
تقدیر اللہ کا راز ہے، اس کے بارے میں زیادہ سوچنا اور بحث کرنا انسان کو جبریہ یا قدریہ بنا سکتا ہے، اس لیے اس سے بچنا چاہیے۔

نبی ﷺ کا غصہ:
آپ کا غصہ اس بات پر تھا کہ صحابہ ایسی چیز میں بحث کر رہے تھے جس کا انہیں حکم نہیں دیا گیا تھا، اور یہ ان کے وقت کا ضیاع تھا۔

فرع (اخذ کرنے والے) کی اہمیت:
"جو نہیں جانتے اسے اپنے جاننے والے کی طرف لوٹا دو" سے معلوم ہوا کہ دین میں علماء کی طرف رجوع کرنا ضروری ہے، اور ہر شخص کو اپنی رائے سے فتویٰ دینا درست نہیں۔

عبداللہ بن عمرو کا واقعہ:
انہوں نے خوشی کا اظہار کیا کہ وہ اس بحث میں شامل نہیں ہوئے، حالانکہ وہ نبی ﷺ کے پاس آئے تھے لیکن الگ بیٹھ گئے۔ اس سے معلوم ہوا کہ کسی برائی میں شریک نہ ہونا بھی باعثِ ثواب ہے۔

اجتہاد کی حدود:
صحابہ کرام کا تقدیر کے بارے میں اختلاف اس بات پر مبنی تھا کہ وہ قرآن کی مختلف آیات کو جمع کرنے کی کوشش کر رہے تھے، لیکن نبی ﷺ نے انہیں روک دیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ بعض مسائل میں خاموش رہنا بہتر ہے۔

حدیث کی صحت:
یہ حدیث صحیح مسلم، مسند احمد، سنن ترمذی اور سنن ابن ماجہ میں موجود ہے اور محدثین کے نزدیک صحیح ہے۔

واللہ اعلم بالصواب







متن (عربی):
عَنْ ثَوْبَانَ - رضي الله عنه - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم -:
" إِذَا ذُكِرَ أَصْحَابِي فَأَمْسِكُوا , وَإِذَا ذُكِرَتِ النُّجُومُ فَأَمْسِكُوا , وَإِذَا ذُكِرَ الْقَدَرُ فَأَمْسِكُوا "

ترجمہ:
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"جب میرے صحابہ کا ذکر کیا جائے تو رک جاؤ (کچھ نہ کہو)، جب ستاروں کا ذکر کیا جائے تو رک جاؤ، اور جب تقدیر کا ذکر کیا جائے تو رک جاؤ۔"

[المعجم الكبير للطبراني:10448، صحيح الجامع:545، الصحيحة:34]


تشریح و وضاحت
اس حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین چیزوں کے بارے میں گفتگو کرنے سے منع فرمایا ہے:

صحابہ کرام کا ذکر:
جب صحابہ کرام کا ذکر ہو تو ان کے درمیان ہونے والے اختلافات، ان کی غلطیوں، یا ان کے بارے میں منفی باتوں سے بچنا چاہیے۔ صحابہ عدول ہیں اور ان کا مقام بہت بلند ہے۔ ان کے بارے میں صرف اچھائی کے ساتھ ذکر کرنا چاہیے۔

ستاروں کا ذکر:
ستاروں کے ذریعے مستقبل کا حال جاننے، زائچہ بنانے، یا ان سے رزق اور تقدیر کا تعلق جوڑنے سے منع کیا گیا ہے۔ یہ سب شرک اور جہالت کی باتیں ہیں۔

تقدیر کا ذکر:
تقدیر کے بارے میں بحث و جھگڑا کرنا، اس کی حقیقت میں غور و فکر کرنا، یا اس کے فلسفے میں الجھنا منع ہے۔ یہ اللہ کا راز ہے، ہمیں اس پر ایمان لانا ہے، اس میں زیادہ بحث کرنا نہیں۔




حاصل شدہ اہم اسباق و نکات

صحابہ کرام کا احترام:
صحابہ کرام کے بارے میں منفی گفتگو سے بچنا چاہیے، کیونکہ وہ بہترین نسل ہیں اور اللہ اور اس کے رسول نے ان کی تعریف کی ہے۔

ستاروں سے متعلق خرافات سے بچنا:
ستاروں کو فال نکالنے، زائچہ بنانے، یا تقدیر کا سبب سمجھنے سے بچنا چاہیے۔ یہ سب شرک اور جہالت ہے۔

تقدیر میں بحث سے بچنا:
تقدیر کے بارے میں زیادہ سوچنا اور بحث کرنا منع ہے، کیونکہ یہ اللہ کا راز ہے اور اس میں الجھنے سے انسان گمراہ ہو سکتا ہے۔

احتیاط اور خاموشی:
ان تینوں موضوعات پر بحث کرنے کے بجائے خاموش رہنا بہتر ہے، تاکہ انسان گمراہی اور گناہ سے بچ سکے۔

دین میں وسعت اور آسانی:
اسلام نے ہمیں ان پیچیدہ مسائل میں پڑنے سے منع کر دیا ہے، تاکہ ہم اپنی توانائی عبادت اور نیک اعمال میں لگا سکیں۔

حدیث کی صحت:
یہ حدیث صحیح ہے اور اہل سنت کے ہاں قابلِ قبول ہے۔

واللہ اعلم بالصواب







متن (عربی):
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رضي الله عنهما - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم -:
" لَا يَزَالُ أَمْرُ هَذِهِ الْأُمَّةِ مُوَاتِيًا أَوْ مُقَارِبًا، مَا لَمْ يَتَكَلَّمُوا فِي الْوِلْدَانِ (١) وَالْقَدَرِ " (٢)

ترجمہ:
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"اس امت کا معاملہ ہمیشہ درست اور حق کے قریب رہے گا، جب تک وہ 'ولدان' (مشرکوں کے بچوں) (۱) اور تقدیر کے بارے میں گفتگو نہیں کرتے۔"(٢)

[صحیح ابن حبان:6724، مستدرک حاکم:93، صحیح الجامع:2003، الصحيحة:1515]




تشریح و وضاحت:
امام ابن حبانؒ نے کہا:
"الولدان" سے مراد مشرکوں کے بچے ہیں۔

اس حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی ہے کہ یہ امت اس وقت تک حق پر اور صحیح راستے پر رہے گی جب تک وہ دو چیزوں کے بارے میں بحث و تکرار شروع نہیں کر دیتی:

الولدان (مشرکوں کے بچے):
یعنی آخرت میں مشرکین کے بچوں کا کیا حکم ہوگا؟ کیا وہ جنت میں جائیں گے یا جہنم میں؟ اس بارے میں بحث کرنا۔

تقدیر:
یعنی اللہ کی طرف سے لکھی ہوئی تقدیر کے بارے میں زیادہ سوچنا، اس پر جھگڑنا، اور اس کے فلسفے میں الجھنا۔

جب امت ان دونوں مسائل میں الجھ کر بحث کرنے لگتی ہے تو اس کا معاملہ بگڑ جاتا ہے اور وہ راہِ راست سے ہٹ جاتی ہے۔




حاصل شدہ اہم اسباق و نکات

امت کی کامیابی کا راز:
اس امت کی کامیابی اور راہِ راست پر قائم رہنے کا راز یہ ہے کہ وہ غیر ضروری اور پیچیدہ مسائل میں نہ پڑے۔

مشرکوں کے بچوں کے بارے میں بحث سے بچنا:
مشرکین کے بچوں کے بارے میں غور و فکر کرنا اور ان کے انجام کے بارے میں قیاس آرائیاں کرنا بے فائدہ ہے، کیونکہ یہ علم صرف اللہ کے پاس ہے۔ ہمیں اس میں بحث نہیں کرنی چاہیے۔

تقدیر کے بارے میں بحث سے بچنا:
تقدیر کے بارے میں زیادہ سوچنا اور اس پر جھگڑنا امت کے زوال کا سبب بنتا ہے۔ سلف صالحین کا طریقہ یہ تھا کہ وہ تقدیر پر ایمان رکھتے تھے، لیکن اس کے بارے میں بحث نہیں کرتے تھے۔

دین میں غور و فکر کی حدود:
اسلام نے ہمیں بعض چیزوں کے بارے میں غور کرنے سے منع کر دیا ہے، کیونکہ ان میں الجھنے سے انسان گمراہ ہو جاتا ہے۔

امت کی بھلائی کی ضمانت:
جب تک امت ان دو مسائل (مشرکین کے بچے اور تقدیر) میں بحث نہیں کرتی، وہ حق پر قائم رہتی ہے۔ جب یہ بحث شروع ہو جائے تو اس کا معاملہ بگڑ جاتا ہے۔

علم غیب کے بارے میں سکوت:
جن چیزوں کا علم اللہ نے ہمیں نہیں دیا، ان کے بارے میں خاموش رہنا بہتر ہے۔

حدیث کی صحت:
یہ حدیث صحیح ہے اور اہل سنت کے ہاں قابلِ قبول ہے۔

واللہ اعلم بالصواب






ہدایت اور گمراہی اللہ کے ہاتھ میں ہے:

اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
{وَاللَّهُ يَدْعُو إِلَى دَارِ السَّلَامِ، وَيَهْدِي مَنْ يَشَاءُ إِلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ} [یونس: 25]
ترجمہ:
"اور اللہ سلامتی کے گھر (جنت) کی طرف بلاتا ہے، اور جسے چاہتا ہے سیدھے راستے کی ہدایت دیتا ہے۔"

{مَنْ يَهْدِ اللَّهُ فَهُوَ الْمُهْتَدِي، وَمَنْ يُضْلِلْ فَأُولَئِكَ هُمُ الْخَاسِرُونَ} [الأعراف: 178]
ترجمہ:
"جسے اللہ ہدایت دے، وہی ہدایت یافتہ ہے، اور جسے وہ گمراہ کرے، وہی لوگ خسارہ اٹھانے والے ہیں۔"

{مَنْ يَهْدِ اللَّهُ فَهُوَ الْمُهْتَدِ، وَمَنْ يُضْلِلْ فَلَنْ تَجِدَ لَهُ وَلِيًّا مُرْشِدًا} [الكهف: 17]
ترجمہ:
"جسے اللہ ہدایت دے، وہی ہدایت یافتہ ہے، اور جسے وہ گمراہ کرے، تو تم اس کے لیے کوئی مددگار راہنما نہیں پاؤ گے۔"

{مَنْ يُضْلِلِ اللَّهُ فَمَا لَهُ مِنْ هَادٍ، وَمَنْ يَهْدِ اللَّهُ فَمَا لَهُ مِنْ مُضِلٍّ} [الزمر: 36-37]
ترجمہ:
"جسے اللہ گمراہ کر دے، اس کا کوئی راہنما نہیں، اور جسے اللہ ہدایت دے، اسے کوئی گمراہ کرنے والا نہیں۔"

{ذَلِكَ هُدَى اللَّهِ يَهْدِي بِهِ مَنْ يَشَاءُ، وَمَنْ يُضْلِلِ اللَّهُ فَمَا لَهُ مِنْ هَادٍ} [الزمر: 23]
ترجمہ:
"یہ اللہ کی ہدایت ہے، جسے چاہتا ہے اس کے ذریعے ہدایت دیتا ہے، اور جسے اللہ گمراہ کرے، اس کا کوئی راہنما نہیں۔"

{يَمُنُّونَ عَلَيْكَ أَنْ أَسْلَمُوا، قُلْ لَا تَمُنُّوا عَلَيَّ إِسْلَامَكُمْ بَلِ اللَّهُ يَمُنُّ عَلَيْكُمْ أَنْ هَدَاكُمْ لِلْإِيمَانِ إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ} [الحجرات: 17]
ترجمہ:
"وہ تم پر احسان جتاتے ہیں کہ انہوں نے اسلام قبول کیا، کہہ دو: مجھ پر اپنے اسلام کا احسان نہ جتاؤ، بلکہ اللہ تم پر احسان کرتا ہے کہ اس نے تمہیں ایمان کی ہدایت دی، اگر تم سچے ہو۔"

{وَلَقَدْ هَمَّتْ بِهِ وَهَمَّ بِهَا لَوْلَا أَنْ رَأَى بُرْهَانَ رَبِّهِ، كَذَلِكَ لِنَصْرِفَ عَنْهُ السُّوءَ وَالْفَحْشَاءَ، إِنَّهُ مِنْ عِبَادِنَا الْمُخْلَصِينَ} [يوسف: 24]
ترجمہ:
"اور یوسف نے اس کا ارادہ کیا اور اس (زلیخا) نے بھی یوسف کا ارادہ کیا، اگر اپنے رب کی دلیل نہ دیکھ لی ہوتی (تو گناہ کر بیٹھتا)، اسی طرح ہم نے اس سے برائی اور بے حیائی کو پھیر دیا، یقیناً وہ ہمارے چنے ہوئے بندوں میں سے تھا۔"

{إِنَّ الَّذِينَ سَبَقَتْ لَهُمْ مِنَّا الْحُسْنَى أُولَئِكَ عَنْهَا مُبْعَدُونَ، لَا يَسْمَعُونَ حَسِيسَهَا، وَهُمْ فِي مَا اشْتَهَتْ أَنْفُسُهُمْ خَالِدُونَ} [الأنبياء: 101-102]
ترجمہ:
"بے شک جن کے لیے ہماری طرف سے بھلائی پہلے سے مقرر ہو چکی ہے، وہ جہنم سے دور رکھے جائیں گے، وہ اس کی آہٹ بھی نہیں سنیں گے، اور وہ اپنی من کی مرادوں میں ہمیشہ رہیں گے۔"

{مَنْ يَشَإِ اللَّهُ يُضْلِلْهُ، وَمَنْ يَشَأْ يَجْعَلْهُ عَلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ} [الأنعام: 39]
ترجمہ:
"اللہ جسے چاہے گمراہ کرے، اور جسے چاہے سیدھے راستے پر لگا دے۔"

{أَفَمَنْ زُيِّنَ لَهُ سُوءُ عَمَلِهِ فَرَآهُ حَسَنًا، فَإِنَّ اللَّهَ يُضِلُّ مَنْ يَشَاءُ، وَيَهْدِي مَنْ يَشَاءُ، فَلَا تَذْهَبْ نَفْسُكَ عَلَيْهِمْ حَسَرَاتٍ} [فاطر: 8]
ترجمہ:
"کیا وہ شخص جس کے لیے اس کا برا عمل آراستہ کر دیا گیا اور اس نے اسے اچھا سمجھ لیا؟ (کیا وہ ہدایت یافتہ ہے؟) اللہ جسے چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے، پس تم اپنی جان ان پر غم و حسرت میں ہلاک نہ کرو۔"

{وَلَوْ شَاءَ اللَّهُ لَجَعَلَكُمْ أُمَّةً وَاحِدَةً، وَلَكِنْ يُضِلُّ مَنْ يَشَاءُ، وَيَهْدِي مَنْ يَشَاءُ، وَلَتُسْأَلُنَّ عَمَّا كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ} [النحل: 93]
ترجمہ:
"اور اگر اللہ چاہتا تو تم سب کو ایک امت بنا دیتا، لیکن وہ جسے چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے، اور تم سے ضرور پوچھا جائے گا جو کچھ تم کرتے تھے۔"

{وَاخْتَارَ مُوسَى قَوْمَهُ سَبْعِينَ رَجُلًا لِمِيقَاتِنَا، فَلَمَّا أَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ قَالَ رَبِّ لَوْ شِئْتَ أَهْلَكْتَهُمْ مِنْ قَبْلُ وَإِيَّايَ، أَتُهْلِكُنَا بِمَا فَعَلَ السُّفَهَاءُ مِنَّا، إِنْ هِيَ إِلَّا فِتْنَتُكَ، تُضِلُّ بِهَا مَنْ تَشَاءُ، وَتَهْدِي مَنْ تَشَاءُ} [الأعراف: 155]
ترجمہ:
"اور موسیٰ نے اپنی قوم میں سے ستر آدمی ہمارے مقررہ وقت کے لیے چنے، پھر جب انہیں زلزلہ نے آ لیا تو کہا: اے میرے رب! اگر تو چاہتا تو انہیں اور مجھے پہلے ہی ہلاک کر دیتا، کیا تو ہمیں ان بے وقوفوں کے کرتوتوں پر ہلاک کرے گا؟ یہ تو تیری آزمائش ہے، تو اس سے جسے چاہے گمراہ کرے اور جسے چاہے ہدایت دے۔"

{فَمَنْ يُرِدِ اللَّهُ أَنْ يَهدِيَهُ يَشْرَحْ صَدْرَهُ لِلْإِسْلَامِ، وَمَنْ يُرِدْ أَنْ يُضِلَّهُ، يَجْعَلْ صَدْرَهُ ضَيِّقًا حَرَجًا كَأَنَّمَا يَصَّعَّدُ فِي السَّمَاءِ} [الأنعام: 125]
ترجمہ:
"پس جسے اللہ ہدایت دینا چاہے، اس کا سینہ اسلام کے لیے کھول دیتا ہے، اور جسے گمراہ کرنا چاہے، اس کا سینہ بہت تنگ اور گھٹا ہوا کر دیتا ہے جیسے وہ آسمان پر چڑھ رہا ہو۔"

{وَلَوْ أَنَّ قُرْآَنًا سُيِّرَتْ بِهِ الْجِبَالُ أَوْ قُطِّعَتْ بِهِ الْأَرْضُ أَوْ كُلِّمَ بِهِ الْمَوْتَى، بَلْ لِلَّهِ الْأَمْرُ جَمِيعًا، أَفَلَمْ يَيْئَسِ الَّذِينَ آمَنُوا أَنْ لَوْ يَشَاءُ اللَّهُ لَهَدَى النَّاسَ جَمِيعًا؟} [الرعد: 31]
ترجمہ:
"اور اگر کوئی قرآن ہوتا کہ اس کے ذریعے پہاڑ چلائے جاتے، یا اس سے زمین ٹکڑے ٹکڑے کر دی جاتی، یا اس کے ذریعے مردوں سے بات کرائی جاتی (تو وہ یہی قرآن ہوتا) بلکہ سب کام اللہ کے ہاتھ میں ہیں، کیا ایمان والے مایوس نہیں ہوئے؟ کہ اگر اللہ چاہتا تو سارے لوگوں کو ہدایت دے دیتا؟"

تفسیر (فتح القدیر):
"سُيِّرَتْ بِهِ الْجِبَالُ": یعنی اس کے نزول اور پڑھنے سے پہاڑ اپنی جگہ سے چل پڑتے۔ "قُطِّعَتْ بِهِ الْأَرْضُ": یعنی اس کے ذریعے زمین پھاڑ دی جاتی۔ "كُلِّمَ بِهِ الْمَوْتَى": یعنی اس کی قراءت سے مردے زندہ ہو جاتے اور ان سے کلام کیا جاتا۔
"لَوْ" کے جواب کے بارے میں اختلاف ہے۔ فراء نے کہا: جواب محذوف ہے، تقدیر: لَکَانَ هَذَا الْقُرْآنُ (تو یہی قرآن ہوتا)۔ دوسرے نے کہا: لَکَفَرُوا بِالرَّحْمَنِ (تو وہ رحمٰن کا انکار کر دیتے)۔
"بَلْ لِلَّهِ الْأَمْرُ جَمِيعاً": یعنی اگر ایسا ہوتا تو یہ قرآن ہی ہوتا، لیکن ایسا نہیں ہوا، بلکہ جو کچھ ہو رہا ہے وہی ہو رہا ہے۔ اگر اللہ چاہتا تو وہ ایمان لے آتے، اور جب وہ نہیں چاہتا تو پہاڑوں کا چلنا وغیرہ بھی انہیں فائدہ نہیں دیتا۔
"أَفَلَمْ يَيْأَسِ": بعض نے کہا: "یَئِس" کے معنی "عَلِمَ" (جاننا) کے ہیں، یہ ہوازن کی زبان ہے۔ اس صورت میں معنی: کیا ایمان والے نہیں جانتے کہ اگر اللہ چاہتا تو سارے لوگوں کو ہدایت دے دیتا؟ اور بعض نے کہا: یہ اپنے حقیقی معنی پر ہے: کیا ایمان والے ان کفار کے ایمان سے مایوس نہیں ہو گئے، کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ اگر اللہ چاہتا تو انہیں ہدایت دے دیتا؟

{وَلَوْ شَاءَ رَبُّكَ لَجَعَلَ النَّاسَ أُمَّةً وَاحِدَةً، وَلَا يَزَالُونَ مُخْتَلِفِينَ إِلَّا مَنْ رَحِمَ رَبُّكَ، وَلِذَلِكَ خَلَقَهُمْ، وَتَمَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ لَأَمْلَأَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ} [هود: 118-119]
ترجمہ:
"اور اگر تیرا رب چاہتا تو سارے لوگوں کو ایک امت بنا دیتا، اور وہ ہمیشہ اختلاف کرتے رہیں گے، سوائے ان کے جن پر تیرے رب نے رحم کیا، اور اسی لیے اس نے انہیں پیدا کیا، اور تیرے رب کی بات پوری ہو گئی: میں ضرور جہنم کو تمام جنوں اور لوگوں سے بھر دوں گا۔"

{وَلَوْ شِئْنَا لَآَتَيْنَا كُلَّ نَفْسٍ هُدَاهَا، وَلَكِنْ حَقَّ الْقَوْلُ مِنِّي لَأَمْلَأَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ} [السجدة: 13]
ترجمہ:
"اور اگر ہم چاہتے تو ہر شخص کو اس کی ہدایت دے دیتے، لیکن میری بات پوری ہو گئی: میں ضرور جہنم کو تمام جنوں اور لوگوں سے بھر دوں گا۔"

{وَلَوْ شَاءَ رَبُّكَ لَآَمَنَ مَنْ فِي الْأَرْضِ كُلُّهُمْ جَمِيعًا، أَفَأَنْتَ تُكْرِهُ النَّاسَ حَتَّى يَكُونُوا مُؤْمِنِينَ، وَمَا كَانَ لِنَفْسٍ أَنْ تُؤْمِنَ إِلَّا بِإِذْنِ اللَّهِ، وَيَجْعَلُ الرِّجْسَ عَلَى الَّذِينَ لَا يَعْقِلُونَ} [يونس: 99-100]
ترجمہ:
"اور اگر تیرا رب چاہتا تو زمین والے سب کے سب ایمان لے آتے، کیا تو لوگوں کو مجبور کرے گا کہ وہ ایمان لے آئیں؟ اور کسی شخص کے لیے ممکن نہیں کہ وہ ایمان لائے مگر اللہ کے اذن سے، اور وہ عذاب کو ان لوگوں پر مسلط کرتا ہے جو عقل نہیں رکھتے۔"

{وَلَوْ أَنَّنَا نَزَّلْنَا إِلَيْهِمُ الْمَلَائِكَةَ، وَكَلَّمَهُمُ الْمَوْتَى، وَحَشَرْنَا عَلَيْهِمْ كُلَّ شَيْءٍ قُبُلًا، مَا كَانُوا لِيُؤْمِنُوا إِلَّا أَنْ يَشَاءَ اللَّهُ، وَلَكِنَّ أَكْثَرَهُمْ يَجْهَلُونَ} [الأنعام: 111]
ترجمہ:
"اور اگر ہم ان کے پاس فرشتے بھیج دیتے، اور مردے ان سے باتیں کرتے، اور ہر چیز کو ان کے سامنے لا کر جمع کر دیتے، تب بھی وہ ایمان نہ لاتے مگر یہ کہ اللہ چاہے، لیکن ان میں سے اکثر جاہل ہیں۔"

{وَإِنْ كَانَ كَبُرَ عَلَيْكَ إِعْرَاضُهُمْ، فَإِنِ اسْتَطَعْتَ أَنْ تَبْتَغِيَ نَفَقًا فِي الْأَرْضِ، أَوْ سُلَّمًا فِي السَّمَاءِ فَتَأْتِيَهُمْ بِآَيَةٍ، وَلَوْ شَاءَ اللَّهُ لَجَمَعَهُمْ عَلَى الْهُدَى، فَلَا تَكُونَنَّ مِنَ الْجَاهِلِينَ} [الأنعام: 35]
ترجمہ:
"اور اگر تم پر ان کا اعراض کرنا بھاری ہے، تو اگر تم زمین میں کوئی سرنگ یا آسمان میں کوئی سیڑھی ڈھونڈ سکتے ہو کہ ان کے پاس کوئی نشانی لے آؤ (تو لے آؤ) اور اگر اللہ چاہتا تو انہیں ہدایت پر جمع کر دیتا، پس تم جاہلوں میں سے نہ ہو جاؤ۔"

{اتَّبِعْ مَا أُوحِيَ إِلَيْكَ مِنْ رَبِّكَ، لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ، وَأَعْرِضْ عَنِ الْمُشْرِكِينَ، وَلَوْ شَاءَ اللَّهُ مَا أَشْرَكُوا، وَمَا جَعَلْنَاكَ عَلَيْهِمْ حَفِيظًا، وَمَا أَنْتَ عَلَيْهِمْ بِوَكِيلٍ} [الأنعام: 106-107]
ترجمہ:
"تم اس کی پیروی کرو جو تمہارے رب کی طرف سے تمہاری طرف وحی کیا گیا ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، اور مشرکوں سے منہ پھیر لو، اور اگر اللہ چاہتا تو وہ شرک نہ کرتے، اور ہم نے تمہیں ان پر نگہبان نہیں بنایا، اور نہ تم ان پر ذمہ دار ہو۔"

{مَنْ يُضْلِلِ اللَّهُ فَلَا هَادِيَ لَهُ، وَيَذَرُهُمْ فِي طُغْيَانِهِمْ يَعْمَهُونَ} [الأعراف: 186]
ترجمہ:
"جسے اللہ گمراہ کر دے، اس کا کوئی راہنما نہیں، اور وہ انہیں ان کی سرکشی میں بھٹکتا ہوا چھوڑ دیتا ہے۔"

{وَمَنْ يُضْلِلِ اللَّهُ فَمَا لَهُ مِنْ هَادٍ} [الرعد: 33، الزمر: 36، غافر: 33]
ترجمہ:
"اور جسے اللہ گمراہ کر دے، اس کا کوئی راہنما نہیں۔"

{وَمَنْ يُضْلِلِ اللَّهُ فَمَا لَهُ مِنْ سَبِيلٍ} [الشورى: 46]
ترجمہ:
"اور جسے اللہ گمراہ کر دے، اس کے لیے کوئی راستہ نہیں۔"

{فَمَا لَكُمْ فِي الْمُنَافِقِينَ فِئَتَيْنِ وَاللَّهُ أَرْكَسَهُمْ بِمَا كَسَبُوا أَتُرِيدُونَ أَنْ تَهْدُوا مَنْ أَضَلَّ اللَّهُ، وَمَنْ يُضْلِلِ اللَّهُ فَلَنْ تَجِدَ لَهُ سَبِيلًا} [النساء: 88]
ترجمہ:
"تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ منافقوں کے بارے میں دو گروہ بن گئے ہو؟ حالانکہ اللہ نے انہیں ان کے کرتوتوں کی وجہ سے الٹ دیا ہے۔ کیا تم اسے ہدایت دینا چاہتے ہو جسے اللہ نے گمراہ کر دیا؟ اور جسے اللہ گمراہ کر دے، تو تم اس کے لیے کوئی راستہ نہیں پاؤ گے۔"

{إِنَّ الَّذِينَ حَقَّتْ عَلَيْهِمْ كَلِمَةُ رَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ وَلَوْ جَاءَتْهُمْ كُلُّ آَيَةٍ، حَتَّى يَرَوُا الْعَذَابَ الْأَلِيمَ} [يونس: 96-97]
ترجمہ:
"بے شک جن پر تیرے رب کی بات (عذاب کا وعدہ) پوری ہو چکی ہے، وہ ایمان نہیں لائیں گے، خواہ ان کے پاس ہر قسم کی نشانی آ جائے، یہاں تک کہ دردناک عذاب دیکھ لیں۔"

{فَإِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُونَ، مَا أَنْتُمْ عَلَيْهِ بِفَاتِنِينَ إِلَّا مَنْ هُوَ صَالِ الْجَحِيمِ} [الصافات: 161-163]
ترجمہ:
"پس بے شک تم اور تمہارے معبود، تم (کسی کو) گمراہ کرنے والے نہیں، سوائے اس کے جو جہنم میں جانے والا ہے۔"

{قَالُوا يَا نُوحُ قَدْ جَادَلْتَنَا فَأَكْثَرْتَ جِدَالَنَا، فَأْتِنَا بِمَا تَعِدُنَا إِنْ كُنْتَ مِنَ الصَّادِقِينَ، قَالَ إِنَّمَا يَأْتِيكُمْ بِهِ اللَّهُ إِنْ شَاءَ، وَمَا أَنْتُمْ بِمُعْجِزِينَ، وَلَا يَنْفَعُكُمْ نُصْحِي إِنْ أَرَدْتُ أَنْ أَنْصَحَ لَكُمْ إِنْ كَانَ اللَّهُ يُرِيدُ أَنْ يُغْوِيَكُمْ، هُوَ رَبُّكُمْ وَإِلَيْهِ تُرْجَعُونَ} [هود: 32-34]
ترجمہ:
"انہوں نے کہا: اے نوح! تم نے ہم سے جھگڑا کیا اور بہت جھگڑا کیا، اب لے آؤ وہ عذاب جس کی ہمیں دھمکی دیتے ہو، اگر تم سچے ہو۔ اس نے کہا: اللہ ہی اسے لائے گا اگر چاہے، اور تم عاجز کرنے والے نہیں ہو، اور میری نصیحت تمہیں فائدہ نہیں دے گی، اگر میں تمہیں نصیحت کرنا بھی چاہوں، جب اللہ تمہیں گمراہ کرنا چاہے، وہی تمہارا رب ہے اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے۔"

{قَالَ يَا إِبْلِيسُ مَا لَكَ أَلَّا تَكُونَ مَعَ السَّاجِدِينَ، قَالَ لَمْ أَكُنْ لِأَسْجُدَ لِبَشَرٍ خَلَقْتَهُ مِنْ صَلْصَالٍ مِنْ حَمَإٍ مَسْنُونٍ، قَالَ فَاخْرُجْ مِنْهَا فَإِنَّكَ رَجِيمٌ، وَإِنَّ عَلَيْكَ اللَّعْنَةَ إِلَى يَوْمِ الدِّينِ، قَالَ رَبِّ فَأَنْظِرْنِي إِلَى يَوْمِ يُبْعَثُونَ، قَالَ فَإِنَّكَ مِنَ الْمُنْظَرِينَ، إِلَى يَوْمِ الْوَقْتِ الْمَعْلُومِ، قَالَ رَبِّ بِمَا أَغْوَيْتَنِي لَأُزَيِّنَنَّ لَهُمْ فِي الْأَرْضِ وَلَأُغْوِيَنَّهُمْ أَجْمَعِينَ، إِلَّا عِبَادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِينَ} [الحجر: 32-40]
ترجمہ:
"(اللہ نے) کہا: اے ابلیس! تجھے کیا ہوا کہ تو سجدہ کرنے والوں میں شامل نہ ہوا؟ اس نے کہا: میں اس بشر کو سجدہ نہیں کروں گا جسے تو نے کھنکھناتی مٹی سے بنایا۔ اللہ نے کہا: تو یہاں سے نکل جا، تو مردود ہے، اور تجھ پر قیامت کے دن تک لعنت ہے۔ اس نے کہا: اے میرے رب! مجھے اس دن تک مہلت دے جب لوگ دوبارہ اٹھائے جائیں گے۔ اللہ نے کہا: تو مہلت والوں میں سے ہے، ایک معلوم وقت تک۔ اس نے کہا: اے میرے رب! جیسے تو نے مجھے گمراہ کیا، میں زمین میں ان کے لیے (برائیوں کو) آراستہ کروں گا اور سب کو گمراہ کروں گا، سوائے تیرے ان چنے ہوئے بندوں کے۔"

{وَمَنْ يُرِدِ اللَّهُ فِتْنَتَهُ فَلَنْ تَمْلِكَ لَهُ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا، أُولَئِكَ الَّذِينَ لَمْ يُرِدِ اللَّهُ أَنْ يُطَهِّرَ قُلُوبَهُمْ، لَهُمْ فِي الدُّنْيَا خِزْيٌ وَلَهُمْ فِي الْآَخِرَةِ عَذَابٌ عَظِيمٌ} [المائدة: 41]
ترجمہ:
"اور جسے اللہ آزمائش میں ڈالنا چاہے، تو تم اللہ کے مقابلے میں اس کے لیے کچھ نہیں کر سکتے، یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں کو اللہ پاک کرنا نہیں چاہتا، ان کے لیے دنیا میں رسوائی ہے اور آخرت میں بڑا عذاب ہے۔"

{فَإِنْ تَوَلَّوْا فَاعْلَمْ أَنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ أَنْ يُصِيبَهُمْ بِبَعْضِ ذُنُوبِهِمْ} [المائدة: 49]
ترجمہ:
"پس اگر وہ منہ پھیر لیں تو جان لو کہ اللہ چاہتا ہے کہ انہیں ان کے بعض گناہوں کی پاداش میں مبتلا کر دے۔"

{وَأَمَّا الْغُلَامُ فَكَانَ أَبَوَاهُ مُؤْمِنَيْنِ فَخَشِينَا أَنْ يُرْهِقَهُمَا طُغْيَانًا وَكُفْرًا} [الكهف: 80]
ترجمہ:
"رہا وہ لڑکا، تو اس کے ماں باپ مومن تھے، ہمیں ڈر ہوا کہ وہ انہیں سرکشی اور کفر میں مبتلا کر دے گا۔"

{سَيَقُولُ الَّذِينَ أَشْرَكُوا لَوْ شَاءَ اللَّهُ مَا أَشْرَكْنَا وَلَا آَبَاؤُنَا وَلَا حَرَّمْنَا مِنْ شَيْءٍ، كَذَلِكَ كَذَّبَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ حَتَّى ذَاقُوا بَأْسَنَا، قُلْ هَلْ عِنْدَكُمْ مِنْ عِلْمٍ فَتُخْرِجُوهُ لَنَا، إِنْ تَتَّبِعُونَ إِلَّا الظَّنَّ وَإِنْ أَنْتُمْ إِلَّا تَخْرُصُونَ, قُلْ فَلِلَّهِ الْحُجَّةُ الْبَالِغَةُ، فَلَوْ شَاءَ لَهَدَاكُمْ أَجْمَعِينَ} [الأنعام: 148-149]
ترجمہ:
"مشرک لوگ کہیں گے: اگر اللہ چاہتا تو ہم اور ہمارے باپ دادا شرک نہ کرتے اور نہ ہی کسی چیز کو حرام کرتے، اسی طرح ان سے پہلے والوں نے جھٹلایا یہاں تک کہ ہمارا عذاب چکھ لیا، کہہ دو: کیا تمہارے پاس کوئی علم ہے جسے ہمارے سامنے پیش کرو؟ تم صرف گمان کی پیروی کرتے ہو اور محض اٹکل کرتے ہو، کہہ دو: اللہ ہی کی دلیل کامل ہے، پس اگر وہ چاہتا تو تم سب کو ہدایت دے دیتا۔"

{إِنَّ هَذِهِ تَذْكِرَةٌ فَمَنْ شَاءَ اتَّخَذَ إِلَى رَبِّهِ سَبِيلًا، وَمَا تَشَاءُونَ إِلَّا أَنْ يَشَاءَ اللَّهُ، إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلِيمًا حَكِيمًا، يُدْخِلُ مَنْ يَشَاءُ فِي رَحْمَتِهِ، وَالظَّالِمِينَ أَعَدَّ لَهُمْ عَذَابًا أَلِيمًا} [الإنسان: 29-31]
ترجمہ:
"بے شک یہ ایک نصیحت ہے، پس جو چاہے اپنے رب کی طرف راہ اختیار کر لے، اور تم اس وقت تک نہیں چاہ سکتے جب تک اللہ نہ چاہے، بے شک اللہ بڑا جاننے والا، بڑا حکمت والا ہے، وہ جسے چاہتا ہے اپنی رحمت میں داخل کر لیتا ہے، اور ظالموں کے لیے دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے۔"

{إِنْ هُوَ إِلَّا ذِكْرٌ لِلْعَالَمِينَ، لِمَنْ شَاءَ مِنْكُمْ أَنْ يَسْتَقِيمَ، وَمَا تَشَاءُونَ إِلَّا أَنْ يَشَاءَ اللَّهُ رَبُّ الْعَالَمِينَ} [التكوير: 27-29]
ترجمہ:
"یہ (قرآن) تو تمام جہان والوں کے لیے ایک نصیحت ہے، تم میں سے اس کے لیے جو سیدھا رہنا چاہے، اور تم اس وقت تک نہیں چاہ سکتے جب تک اللہ رب العالمین نہ چاہے۔"







متن (عربی):
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رضي الله عنه - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم - لِعَمِّهِ: " قُلْ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، أَشْهَدُ لَكَ بِهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ "، قَالَ: لَوْلَا أَنْ تُعَيِّرَنِي قُرَيْشٌ يَقُولُونَ: إِنَّمَا حَمَلَهُ عَلَى ذَلِكَ الْجَزَعُ (١) لَأَقْرَرْتُ بِهَا عَيْنَكَ (٢) فَأَنْزَلَ اللهُ - عز وجل -: {إِنَّكَ لَا تَهْدِي مَنْ أَحْبَبْتَ، وَلَكِنَّ اللهَ يَهْدِي مَنْ يَشَاءُ، وَهُوَ أَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِينَ} (٣) " (٤)

ترجمہ:
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چچا (ابوطالب) سے فرمایا:
"لا الہ الا اللہ کہہ دو، میں قیامت کے دن تمہارے لیے اس کی گواہی دوں گا۔"
انہوں نے کہا: "اگر یہ بات نہ ہوتی کہ قریش مجھ پر طعن کریں گے اور کہیں گے کہ (موت کے) ڈر نے اسے ایسا کرنے پر مجبور کیا ہے، تو میں ضرور تمہاری آنکھوں کو ٹھنڈا کر دیتا (یعنی تمہاری خواہش پوری کر دیتا)۔"
تب اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی:
{بے شک آپ اسے ہدایت نہیں دے سکتے جسے آپ چاہیں، بلکہ اللہ ہی جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے، اور وہ ہدایت یافتہ لوگوں کو خوب جانتا ہے} [القصص: 56]۔


حواشی و حوالہ جات
(١) (الْجَزَعُ): نَقِيضُ الصَّبْرِ. وَذَهَبَ جَمَاعَاتٌ مِنْ أَهْلِ اللُّغَةِ إِلَى أَنَّهُ (الْخَرَعُ) وَهُوَ: الضَّعْفُ وَالْخَوَرُ. (تحفة الأحوذي - ج 8 / ص 27)
ترجمہ: "جزع" صبر کی ضد ہے۔ بعض اہل زبان نے کہا کہ اس کا مطلب "خرع" (کمزوری اور ڈر) ہے۔

(٢) (أَقَرَّ اللهُ عَيْنَه): أَيْ: بَلَّغَهُ اللهُ أُمْنِيَّتَه، حَتَّى تَرْضَى نَفْسُه، وَتَقَرَّ عَيْنُه فَلَا تَسْتَشْرِفُ لِشَيْءٍ. (شرح النووي على مسلم - ج 1 / ص 98)
ترجمہ: "اللہ اس کی آنکھ ٹھنڈی کرے" کا مطلب ہے: اللہ اسے اس کی آرزو تک پہنچا دے، یہاں تک کہ اس کا نفس مطمئن ہو جائے اور اس کی آنکھ ٹھنڈی ہو جائے، پھر وہ کسی چیز کی طرف نہ دیکھے۔

(٣) [القصص: 56]

(٤) تخریج: صحیح مسلم: 42 (25)، سنن ترمذی: 3188۔





حاصل شدہ اہم اسباق و نکات
نبی ﷺ کی اپنے چچا کے لیے محبت اور شفقت:
آپ نے اپنے چچا ابوطالب کو بار بار اسلام کی دعوت دی، اور آخر وقت بھی انہیں کلمہ پڑھنے کی تلقین کی۔ یہ آپ کی قریبی رشتہ داروں کے لیے محبت اور ان کی نجات کی فکر کو ظاہر کرتا ہے۔

ہدایت صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے:
نبی ﷺ ابوطالب سے محبت کرتے تھے اور چاہتے تھے کہ وہ مسلمان ہو جائیں، لیکن اللہ نے آپ کو بتایا کہ آپ کسی کو ہدایت نہیں دے سکتے، بلکہ اللہ ہی جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے۔ یہ عقیدہ اہل سنت کا ہے کہ ہدایت صرف اللہ کی طرف سے ہے۔

ابوطالب کا انکار اور قریش کا طعن:
ابوطالب نے یہ کہہ کر کلمہ پڑھنے سے انکار کر دیا کہ قریش مجھ پر طعن کریں گے کہ موت کے ڈر نے مجھے ایسا کرنے پر مجبور کیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ بعض لوگ دنیاوی عزت و ناموس کی وجہ سے حق قبول کرنے سے رک جاتے ہیں۔

آیت کا نزول:
اس واقعے کے بعد اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی جو ہدایت کے بارے میں ایک واضح اصول بتاتی ہے: نبی بھی کسی کو ہدایت نہیں دے سکتا، یہ صرف اللہ کا کام ہے۔

نبی ﷺ کی گواہی کا وعدہ:
آپ نے فرمایا: "میں قیامت کے دن تمہارے لیے اس کی گواہی دوں گا"۔ اس سے معلوم ہوا کہ نبی ﷺ اپنے چچا کے لیے شفاعت کرنا چاہتے تھے، لیکن یہ شفاعت اس وقت تک نہیں ہو سکتی جب تک وہ ایمان نہ لائیں۔

ہدایت کی دعا کرنا:
ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ اللہ سے ہدایت کی دعا کرے، اور اپنے رشتہ داروں کے لیے بھی دعا کرے، لیکن یہ نہ بھولے کہ حقیقی ہدایت دینے والا صرف اللہ ہے۔

حدیث کی صحت:
یہ حدیث صحیح مسلم اور سنن ترمذی میں موجود ہے اور محدثین کے نزدیک صحیح ہے۔

واللہ اعلم بالصواب







متن (عربی):
عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ - رضي الله عنه - قَالَ: (" رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ - صلى الله عليه وسلم - يَوْمَ الْأَحْزَابِ) (١) (وَهُوَ يَنْقُلُ مَعَ النَّاسِ) (٢) (مِنْ تُرَابِ الْخَنْدَقِ) (٣) (وَقَدْ وَارَى) (٤) (الْغُبَارُ) (٥) (شَعَرَ صَدْرِهِ - وَكَانَ رَجُلًا كَثِيرَ الشَّعَرِ-) (٦) (فَسَمِعْتُهُ يَرْتَجِزُ بِكَلِمَاتِ عَبْدِ اللهِ بْنِ رَوَاحَةَ - رضي الله عنه - وَهُوَ يَنْقُلُ مِنْ التُّرَابِ) (٧) (يَقُولُ:

اللَّهُمَّ لَوْلَا أَنْتَ مَا اهْتَدَيْنَا ... وَلَا تَصَدَّقْنَا وَلَا صَلَّيْنَا

فَأَنْزِلَنْ سَكِينَةً عَلَيْنَا ... وَثَبِّتْ الْأَقْدَامَ إِنْ لَاقَيْنَا) (٨)

(إِنَّ الْأُلَى (٩) قَدْ بَغَوْا عَلَيْنَا ... وَإِنْ أَرَادُوا فِتْنَةً أَبَيْنَا) (١٠)

(وَرَفَعَ بِهَا صَوْتَهُ: أَبَيْنَا , أَبَيْنَا ") (١١)

وَقَالَ تَعَالَى: {وَالَّذِينَ آَمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَا نُكَلِّفُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا , أُولَئِكَ أَصْحَابُ الْجَنَّةِ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ , وَنَزَعْنَا مَا فِي صُدُورِهِمْ مِنْ غِلٍّ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهِمُ الْأَنْهَارُ , وَقَالُوا الْحَمْدُ للهِ الَّذِي هَدَانَا لِهَذَا , وَمَا كُنَّا لِنَهْتَدِيَ لَوْلَا أَنْ هَدَانَا اللهُ} (١٢)

ترجمہ:
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا:

"میں نے غزوہ احزاب (خندق) کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا (١)، آپ لوگوں کے ساتھ (٢) خندق کی مٹی اٹھا رہے تھے (٣)، اور گرد و غبار نے (٤،٥) آپ کے سینے کے بالوں کو ڈھانپ رکھا تھا – آپ بہت زیادہ بالوں والے تھے (٦)۔ میں نے آپ کو عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کے اشعار پڑھتے سنا، اور آپ مٹی اٹھا رہے تھے (٧):

"اے اللہ! اگر تو نہ ہوتا تو ہم ہدایت نہ پاتے،
نہ صدقہ کرتے اور نہ نماز پڑھتے۔
پس ہم پر سکینہ نازل فرما،
اور جب (دشمن سے) مقابلہ ہو تو ہمارے قدم جما دے۔"

(٩) بے شک ان لوگوں نے (جو) ہم پر زیادتی کی ہے،
اور اگر وہ ہمیں فتنے میں ڈالنا چاہیں تو ہم انکار کر دیں گے (١٠)۔

اور آپ نے اس (جملے) کو بلند آواز سے دہرایا: "ہم انکار کریں گے، ہم انکار کریں گے" (١١)۔

اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {اور جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک اعمال کیے – ہم کسی نفس کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتے – وہی جنت کے لوگ ہیں، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ اور ہم ان کے سینوں سے کینہ نکال دیں گے، ان کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی، اور وہ کہیں گے: سب تعریف اللہ کے لیے ہے جس نے ہمیں اس (مقام) کی ہدایت دی، اور ہم ہدایت نہ پاتے اگر اللہ ہمیں ہدایت نہ دیتا} (١٢)۔"

تخریج و حوالہ جات
(١) صحیح بخاری: 2682
(٢) مسند احمد: 18509، اور شیخ شعیب ارناؤوط نے کہا: حدیث صحیح ہے۔
(٣) صحیح بخاری: 3880
(٤) صحیح بخاری: 2682
(٥) صحیح بخاری: 3880
(٦) صحیح بخاری: 2870
(٧) صحیح بخاری: 3880
(٨) صحیح بخاری: 2870
(٩) "الأُلى" کے معنی "الذین" (وہ لوگ) ہیں۔ (لسان العرب، ج 15، ص 364)
(١٠) صحیح بخاری: 3880
(١١) صحیح بخاری: 3878، صحیح مسلم: 125 (1803)، مسند احمد: 18509
(١٢) سورہ الأعراف: 42-43




حاصل شدہ اہم اسباق و نکات
نبی ﷺ کی عاجزی اور محنت:
غزوہ خندق میں آپ نے خود دوسروں کے ساتھ مل کر مٹی اٹھائی، یہاں تک کہ آپ کے جسم پر گرد و غبار جم گیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے کبھی خود کو دوسروں پر برتر نہیں سمجھا۔

نبی ﷺ کی شاعری سے محبت:
آپ نے عبداللہ بن رواحہ کے اشعار کو اپنے کام کے دوران پڑھا، اور اسے بلند آواز سے دہرایا۔ اس سے معلوم ہوا کہ جائز اور نیک مقصد کے لیے شاعری کرنا اور سننا جائز ہے۔

دعا میں اللہ کی طرف رجوع:
ان اشعار میں اللہ سے ہدایت، صدقہ، نماز، سکینہ اور ثبات قدمی کی دعا مانگی گئی ہے۔ یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ ہر معاملے میں اللہ ہی سے مدد مانگنی چاہیے۔

باطل کے خلاف مزاحمت کا عزم:
"وَإِنْ أَرَادُوا فِتْنَةً أَبَيْنَا" (اگر وہ ہمیں فتنے میں ڈالنا چاہیں تو ہم انکار کر دیں گے) – اس جملے کو دہرانے سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلمانوں کو باطل کے سامنے سر تسلیم خم نہیں کرنا چاہیے۔

اللہ کی ہدایت ہی اصل ہے:
آیت کے آخر میں "وَمَا كُنَّا لِنَهْتَدِيَ لَوْلَا أَنْ هَدَانَا اللَّهُ" (ہم ہدایت نہ پاتے اگر اللہ ہمیں ہدایت نہ دیتا) سے معلوم ہوتا ہے کہ ہدایت صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے۔

عمل اور دعا کا تعلق:
صحابہ نے محنت کے ساتھ دعا بھی کی۔ اس سے معلوم ہوا کہ انسان کو اسباب اختیار کرنے کے ساتھ ساتھ اللہ سے مدد بھی مانگنی چاہیے۔

سکینہ اور ثبات قدمی کی اہمیت:
مشکل حالات میں اللہ سے سکینہ (اطمینان) اور ثبات قدمی کی دعا مانگنی چاہیے، جیسا کہ نبی ﷺ نے فرمایا۔

جنت میں کینہ و حسد کا خاتمہ:
آیت میں بتایا گیا کہ جنت میں داخل ہونے کے بعد مومنوں کے سینوں سے کینہ نکال دیا جائے گا، اور وہ باہم محبت میں رہیں گے۔

حدیث کی صحت:
یہ حدیث صحیح بخاری و مسلم میں موجود ہے اور محدثین کے نزدیک صحیح ہے۔

واللہ اعلم بالصواب






متن (عربی):
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رضي الله عنه - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم -:
" لَا يَدْخُلُ أَحَدٌ الْجَنَّةَ إِلَّا أُرِيَ مَقْعَدَهُ مِنْ النَّارِ لَوْ أَسَاءَ، لِيَزْدَادَ شُكْرًا (١) فَيَقُولُ: لَوْلَا أَنَّ اللهَ هَدَانِي (٢) وَلَا يَدْخُلُ النَّارَ أَحَدٌ إِلَّا أُرِيَ مَقْعَدَهُ مِنْ الْجَنَّةِ لَوْ أَحْسَنَ، لِيَكُونَ عَلَيْهِ حَسْرَةً (٣) فَيَقُولُ: لَوْ أَنَّ اللهَ هَدَانِي " (٤)

اردو ترجمہ:
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"کوئی شخص جنت میں داخل نہیں ہو گا مگر اسے جہنم میں اس کا وہ مقام دکھایا جائے گا جو اسے برائی کی صورت میں ملتا، تاکہ اس کا شکر زیادہ ہو جائے (١) – پھر وہ کہے گا: اگر اللہ نے مجھے ہدایت نہ دی ہوتی (تو میرا یہ حال ہوتا) (٢)۔ اور کوئی شخص جہنم میں داخل نہیں ہو گا مگر اسے جنت میں اس کا وہ مقام دکھایا جائے گا جو اسے نیکی کی صورت میں ملتا، تاکہ اس کے لیے حسرت کا باعث ہو (٣) – پھر وہ کہے گا: کاش اللہ نے مجھے ہدایت دے دی ہوتی (٤)۔"

تخریج و حوالہ جات
(١) صحیح بخاری: 6200
(٢) مسند احمد: 10660، اور شیخ شعیب ارناؤوط نے کہا: اس کی سند صحیح ہے۔
(٣) صحیح بخاری: 6200
(٤) مسند احمد: 10660، دیکھیے صحیح الجامع: 4514، سلسلہ صحیحہ: 2034




حاصل شدہ اہم اسباق و نکات
اہل جنت کو جہنم کا مقام دکھانا – شکر میں اضافہ:
جنت میں داخل ہونے والوں کو وہ مقام دکھایا جائے گا جو انہیں جہنم میں ملتا اگر وہ برے عمل کرتے۔ اس سے ان کا شکر زیادہ ہو گا کہ اللہ نے انہیں بچا لیا۔

اہل جنت کا قول:
وہ کہیں گے: "اگر اللہ نے مجھے ہدایت نہ دی ہوتی (تو میرا یہ حال ہوتا)" – یہ اللہ کے فضل کا اعتراف ہے۔

اہل جہنم کو جنت کا مقام دکھانا – حسرت میں اضافہ:
جہنم میں جانے والوں کو وہ مقام دکھایا جائے گا جو انہیں جنت میں ملتا اگر وہ اچھے عمل کرتے۔ اس سے ان کی حسرت اور پشیمانی بڑھ جائے گی۔

اہل جہنم کا قول:
وہ کہیں گے: "کاش اللہ نے مجھے ہدایت دے دی ہوتی" – لیکن یہ پچھتاوا اس وقت فائدہ نہیں دے گا۔

ہدایت اللہ کے ہاتھ میں ہے:
یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ ہدایت اور گمراہی سب اللہ کے ہاتھ میں ہے، اور بندے کو ہدایت کے لیے اس کا شکر گزار ہونا چاہیے۔

شکر اور حسرت کا مقصد:
اہل جنت کا شکر بڑھانے اور اہل جہنم کی حسرت بڑھانے کے لیے یہ سب کچھ کیا جائے گا۔

اللہ کا عدل اور رحمت:
یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے ساتھ عدل کرتا ہے اور ہر ایک کو اس کے عمل کے مطابق جزا دیتا ہے۔

موت کے بعد پچھتانے کا کوئی فائدہ نہیں:
اہل جہنم کا یہ کہنا "کاش اللہ نے مجھے ہدایت دے دی ہوتی" انہیں کوئی فائدہ نہیں دے گا، کیونکہ دنیا میں عمل کرنے کا موقع ختم ہو چکا ہوگا۔

اللہ کے فضل کا اعتراف:
اہل جنت اللہ کے فضل کا اعتراف کریں گے کہ اگر اللہ نے ہدایت نہ دی ہوتی تو وہ بھی جہنم میں ہوتے۔

حدیث کی صحت:
یہ حدیث صحیح بخاری اور مسند احمد میں موجود ہے اور محدثین کے نزدیک صحیح ہے۔

واللہ اعلم بالصواب






متن (عربی):
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رضي الله عنهما - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم -:
" مَنْ يُرِدِ اللهُ بِهِ خَيْرًا , يُفَقِّهْهُ فِي الدِّينِ (١) " (٢)

ترجمہ:
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ بھلائی کا ارادہ کرتا ہے، اسے دین کی سمجھ (فقہ) عطا فرما دیتا ہے۔"

[صحیح بخاری:3971، صحیح مسلم:1037، سنن ترمذی:2645، سنن ابن ماجہ:221، مسند احمد:16885]

حاشیہ:
(١) (يُفَقِّهْهُ) أَيْ: يُفَهِّمْهُ، يُقَال: فَقُهَ , إِذَا صَارَ الْفِقْهُ لَهُ سَجِيَّةً، وَفَقَهَ بِالْفَتْحِ: إِذَا سَبَقَ غَيْرَهُ إِلَى الْفَهْمِ، وَفَقِهَ بِالْكَسْرِ: إِذَا فَهِمَ.
وَمَفْهُوم الْحَدِيث أَنَّ مَنْ لَمْ يَتَفَقَّهْ فِي الدِّينِ - أَيْ: يَتَعَلَّمُ قَوَاعِدَ الْإِسْلَامِ , وَمَا يَتَّصِلُ بِهَا مِنْ الْفُرُوعِ - فَقَدْ حُرِمَ الْخَيْر. (فتح الباري، حدیث نمبر 71)
ترجمہ:
"یُفَقِّهْهُ" کے معنی ہیں: اسے سمجھا دے۔ کہا جاتا ہے: "فَقُهَ" (ضمہ کے ساتھ) جب فقہ اس کی عادت بن جائے، اور "فَقَهَ" (فتحہ کے ساتھ) جب وہ دوسروں سے پہلے سمجھ جائے، اور "فَقِهَ" (کسرہ کے ساتھ) جب وہ خود سمجھ لے۔
اس حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ جو شخص دین میں تفقہ (سمجھ) حاصل نہیں کرتا – یعنی اسلام کے بنیادی قواعد اور ان سے متعلقہ فروعی مسائل نہیں سیکھتا – تو وہ بھلائی سے محروم رہ جاتا ہے۔
(فتح الباری، حدیث نمبر 71)




حاصل شدہ اہم اسباق و نکات
دین کی سمجھ بھلائی کی علامت ہے:
جس شخص کو اللہ تعالیٰ بھلائی دینا چاہتا ہے، اسے دین کی سمجھ (فقہ) عطا فرماتا ہے۔ یہ اللہ کی طرف سے ایک بڑی نعمت ہے۔

فقہ کا مفہوم:
یہاں "فقہ" سے مراد دین کی گہری سمجھ ہے، یعنی قرآن و سنت کی روشنی میں احکام کو جاننا اور ان پر عمل کرنا۔

دین سیکھنے کی ترغیب:
یہ حدیث ہر مسلمان کو دین سیکھنے اور سمجھنے کی ترغیب دیتی ہے، کیونکہ یہی بھلائی کا ذریعہ ہے۔

دین سے دوری محرومی ہے:
جو شخص دین کی سمجھ حاصل نہیں کرتا، وہ درحقیقت بھلائی سے محروم ہے۔

فقہ کی اہمیت:
فقہ (دین کی سمجھ) انسان کو صحیح عقیدہ، عبادات اور معاملات کی درست ادائیگی میں مدد دیتی ہے۔

حدیث کی صحت:
یہ حدیث صحیح بخاری و مسلم میں موجود ہے اور محدثین کے نزدیک صحیح ہے۔

ہمارے لیے سبق:
ہمیں چاہیے کہ ہم دین سیکھنے کے لیے وقت نکالیں، علماء سے استفادہ کریں، اور اپنے بچوں کو بھی دین کی تعلیم دیں۔

دین کی سمجھ ایمان کی حفاظت کرتی ہے:
جب کوئی شخص دین کو صحیح طور پر سمجھ لیتا ہے تو وہ بدعات اور گمراہیوں سے بچ جاتا ہے۔

واللہ اعلم بالصواب









متن (عربی):
عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ - رضي الله عنه - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم -:
" إِنَّ اللهَ يُعْطِي الدُّنْيَا مَنْ يُحِبُّ , وَمَنْ لَا يُحِبُّ، وَلَا يُعْطِي الْإِيمَانَ إِلَّا مَنْ يُحِبُّ "

ترجمہ:
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"بے شک اللہ تعالیٰ دنیا اسے دیتا ہے جس سے وہ محبت کرتا ہے اور جس سے محبت نہیں کرتا، لیکن ایمان صرف اسی کو عطا فرماتا ہے جس سے وہ محبت کرتا ہے۔"

[المعجم الإسماعيلي(114/1)، الأدب المفرد للبخاري:275، الصحيحة:2714]

حاصل شدہ اہم اسباق و نکات
دنیا کی وسعت اور اس کی گرفت:
اللہ تعالیٰ دنیاوی نعمتیں ہر ایک کو دیتا ہے، خواہ وہ اس کا دوست ہو یا دشمن، مومن ہو یا کافر۔ یہ اس کی رحمت اور کشادگی ہے۔

ایمان ایک خاص عطیہ ہے:
ایمان صرف انہی لوگوں کو ملتا ہے جن سے اللہ محبت کرتا ہے۔ یہ ایک خاص اور قیمتی تحفہ ہے جو محبوب بندوں کو دیا جاتا ہے۔

دنیا کی نعمت اور آخرت کی نعمت میں فرق:
دنیا کی نعمتیں عارضی اور غیر مشروط ہیں، جبکہ ایمان کی نعمت دائمی اور مشروط ہے (اللہ کی محبت سے وابستہ)۔

اللہ کی محبت کی علامت:
اگر کسی کو ایمان کی توفیق ملے تو یہ اس بات کی علامت ہے کہ اللہ اس سے محبت کرتا ہے۔

شکر کی اہمیت:
جس شخص کو ایمان جیسی عظیم نعمت ملے، اسے چاہیے کہ وہ اللہ کا شکر ادا کرے اور اس نعمت کو محفوظ رکھے۔

حدیث کی صحت:
یہ حدیث صحیح ہے، جیسا کہ علامہ البانی نے اسے "سلسلة الأحاديث الصحيحة" میں شامل کیا ہے۔

واللہ اعلم بالصواب










متن (عربی):
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رضي الله عنهما - قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم - يَقُولُ:
" اللَّهُمَّ لَكَ أَسْلَمْتُ , وَبِكَ آمَنْتُ , وَعَلَيْكَ تَوَكَّلْتُ , وَإِلَيْكَ أَنَبْتُ , وَبِكَ خَاصَمْتُ , اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِعِزَّتِكَ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ أَنْ تُضِلَّنِي , أَنْتَ الْحَيُّ الَّذِي لَا يَمُوتُ , وَالْجِنُّ وَالْإِنْسُ يَمُوتُونَ "

ترجمہ:
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا پڑھا کرتے تھے:
"اے اللہ! میں نے تیرے لیے سر تسلیم خم کر دیا، اور تجھ پر ایمان لایا، اور تجھ پر بھروسہ کیا، اور تیری ہی طرف رجوع کیا، اور تیری ہی مدد سے (دشمنوں سے) جھگڑا کیا۔ اے اللہ! میں تیری عزت کی پناہ مانگتا ہوں – تیرے سوا کوئی معبود نہیں – کہ تو مجھے گمراہ کر دے۔ تو وہ زندہ ہے جو کبھی نہیں مرتا، جبکہ جن اور انسان سب مرنے والے ہیں۔"

[صحیح مسلم:2717، صحیح بخاری:6948، مسند احمد:2748، صحیح ابن حبان:898]


حاصل شدہ اہم اسباق و نکات
دعا میں توحید اور اللہ کی حمد و ثنا:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دعا میں اللہ کی ربوبیت، وحدانیت اور صفاتِ کمال کا اعتراف کیا۔ یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ دعا کرتے وقت اللہ کی تعریف اور اس کی بڑائی بیان کرنی چاہیے۔

اسلام، ایمان، توکل، انابت اور خاصمہ کا تعلق:
اسلام: ظاہری اطاعت
ایمان: قلبی تصدیق
توکل: اللہ پر بھروسہ
انابت: اللہ کی طرف رجوع
خاصمہ: اللہ کی مدد سے جھگڑا کرنا (یعنی حق کے لیے کھڑے ہونا)
یہ پانچوں بندے کے اللہ سے تعلق کو مضبوط کرتے ہیں۔

گمراہی سے پناہ مانگنا:
آپ ﷺ نے اللہ کی عزت کی پناہ میں یہ دعا مانگی کہ وہ آپ کو گمراہ نہ کرے۔ اس سے معلوم ہوا کہ گمراہی سے بچنا ہر مومن کی بنیادی ضرورت ہے، اور ہمیں اس سے ہمیشہ پناہ مانگنی چاہیے۔

اللہ کی عزت کا واسطہ:
"أَعُوذُ بِعِزَّتِكَ" سے معلوم ہوتا ہے کہ ہم اللہ کی صفات کا واسطہ دے کر دعا مانگ سکتے ہیں، جیسا کہ آپ ﷺ نے اپنی عزت کا واسطہ دیا۔

اللہ کی حیات (زندگی) کی دوام:
"أَنْتَ الْحَيُّ الَّذِي لَا يَمُوتُ" – اللہ ہمیشہ زندہ ہے، اسے موت نہیں۔ جبکہ تمام جن و انس کو موت آئے گی۔ یہ اللہ اور مخلوق کے درمیان بنیادی فرق ہے۔

موت کی یاد دہانی:
"وَالْجِنُّ وَالْإِنْسُ يَمُوتُونَ" کا جملہ ہمیں موت یاد دلاتا ہے، جو دنیا کی زندگی کی حقیقت ہے۔ اس سے ہمیں آخرت کی تیاری کا سبق ملتا ہے۔

دعا کا جامع ہونا:
اس دعا میں عقیدہ (توحید، ایمان)، عمل (اسلام، توکل، انابت)، اور اللہ سے مدد مانگنا سب شامل ہے۔ یہ دعا نبی ﷺ کی جامعیت اور حکمت کو ظاہر کرتی ہے۔

حدیث کی صحت:
یہ دعا صحیح بخاری و مسلم میں موجود ہے اور محدثین کے نزدیک صحیح ہے۔ اس لیے ہمیں چاہیے کہ اس دعا کو پڑھا کریں اور اس کے مضامین پر عمل کریں۔

واللہ اعلم بالصواب







عنوان:
نماز جنازہ میں نبی ﷺ کی دعا
حدیث کا متن(عربی):
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رضي الله عنه - قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم - إِذَا صَلَّى عَلَى جِنَازَةٍ قَالَ:
" اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِحَيِّنَا وَمَيِّتِنَا، وَشَاهِدِنَا وَغَائِبِنَا، وَصَغِيرِنَا وَكَبِيرِنَا، وَذَكَرِنَا وَأُنْثَانَا , اللَّهُمَّ مَنْ أَحْيَيْتَهُ مِنَّا فَأَحْيِهِ عَلَى الْإِسْلَامِ، وَمَنْ تَوَفَّيْتَهُ مِنَّا فَتَوَفَّهُ عَلَى الْإِيمَانِ " (١)
دوسری روایت میں ہے:
" اللَّهُمَّ مَنْ أَحْيَيْتَهُ مِنَّا فَأَحْيِهِ عَلَى الْإِيمَانِ , وَمَنْ تَوَفَّيْتَهُ مِنَّا فَتَوَفَّهُ عَلَى الْإِسْلَامِ , اللَّهُمَّ لَا تَحْرِمْنَا أَجْرَهُ , وَلَا تُضِلَّنَا بَعْدَهُ " (٢)

ترجمہ:
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب جنازے کی نماز پڑھتے تو یہ دعا فرماتے:
"اے اللہ! ہمارے زندہ اور مردہ، حاضر اور غائب، چھوٹے اور بڑے، مرد اور عورت سب کو بخش دے۔ اے اللہ! ہم میں سے جسے تو زندہ رکھے، اسے اسلام پر زندہ رکھ، اور جسے تو موت دے، اسے ایمان پر موت دے۔"
دوسری روایت میں ہے:
"اے اللہ! ہم میں سے جسے تو زندہ رکھے، اسے ایمان پر زندہ رکھ، اور جسے تو موت دے، اسے اسلام پر موت دے۔ اے اللہ! ہمیں اس (میت) کے اجر سے محروم نہ کر، اور ہمیں اس کے بعد گمراہ نہ کر۔"

حوالہ جات
(١) سنن ابن ماجہ:1498، سنن ترمذی:1024، مسند احمد:8795
(۲) سنن ابی داود:3201، سنن ابن ماجہ:1498، سنن النسائی الکبریٰ:10919، مسند ابو یعلیٰ:6009، سنن البیهقی الکبریٰ:6763


حاصل شدہ اہم اسباق و نکات
نماز جنازہ میں دعا کی اہمیت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز جنازہ میں میت کے لیے دعا کرنا سکھایا۔ یہ دعا میت کی مغفرت کے لیے ہے۔

سب لوگوں کے لیے دعا:
آپ نے زندہ اور مردہ، حاضر اور غائب، چھوٹے اور بڑے، مرد اور عورت سب کے لیے دعا کی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نماز جنازہ میں تمام مسلمانوں کے لیے عام طور پر دعا کرنی چاہیے۔

اسلام اور ایمان پر زندگی و موت:
پہلی روایت میں "اسلام پر زندگی اور ایمان پر موت" کی دعا ہے، جبکہ دوسری میں "ایمان پر زندگی اور اسلام پر موت" ہے۔ یہ دونوں صفات ایک دوسرے کے ساتھ لازم و ملزوم ہیں۔ مومن کی زندگی اور موت دونوں اسلام و ایمان پر ہونی چاہیے۔

اجر سے محرومی سے بچنے کی دعا:
"لا تَحْرِمْنَا أَجْرَهُ" سے معلوم ہوا کہ میت کے لیے نماز پڑھنے اور اس کی تدفین کے انتظامات کرنے والوں کو بھی اجر ملتا ہے۔ ہمیں اس اجر سے محروم نہ ہونے کی دعا کرنی چاہیے۔

گمراہی سے بچنے کی دعا:
"وَلَا تُضِلَّنَا بَعْدَهُ" سے معلوم ہوا کہ میت کی موت کے بعد زندہ لوگوں کے لیے گمراہی کا اندیشہ ہوتا ہے، اس لیے ہمیں اس سے بچنے کی دعا کرنی چاہیے۔

موت کی یاد دہانی:
یہ دعا ہمیں موت کی یاد دلاتی ہے اور بتاتی ہے کہ ہر شخص کو ایک دن مرنا ہے، اس لیے ہمیں اپنی زندگی اور موت کو اسلام و ایمان پر گزارنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

اجتماعی دعا کی فضیلت:
نماز جنازہ میں یہ دعا اجتماعی طور پر پڑھی جاتی ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اجتماعی دعا زیادہ قبول ہوتی ہے۔

مسلمانوں کے لیے رحمت کی دعا:
اس دعا میں اللہ سے تمام مسلمانوں کے لیے مغفرت طلب کی گئی ہے، خواہ وہ زندہ ہوں یا مردہ، حاضر ہوں یا غائب۔

واللہ اعلم بالصواب








حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی صفا پر دعا

متن (عربی):
عَنْ نَافِعٍ أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ - رضي الله عنهما - وَهُوَ عَلَى الصَّفَا يَدْعُو يَقُولُ:
" اللَّهُمَّ إِنَّكَ قُلْتَ: {ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ} (١) وَإِنَّكَ لَا تُخْلِفُ الْمِيعَادَ , وَإِنِّي أَسْأَلُكَ كَمَا هَدَيْتَنِي لِلْإِسْلامِ , أَنْ لَا تَنْزِعَهُ مِنِّي حَتَّى تَتَوَفَّانِي وَأَنَا مُسْلِمٌ " (٢)

ترجمہ:
حضرت نافع سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو صفا پہاڑی پر یہ دعا کرتے سنا:
"اے اللہ! تو نے فرمایا ہے: 'مجھے پکارو، میں تمہاری دعا قبول کروں گا' (١)، اور تو وعدہ خلافی نہیں کرتا۔ میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ جس طرح تو نے مجھے اسلام کی ہدایت دی ہے، اسے مجھ سے نہ چھین لے یہاں تک کہ تو مجھے اس حال میں وفات دے کہ میں مسلمان ہوں۔"(٢)

حوالہ جات
(١) سورہ غافر: 60
(٢) المعجم الكبير للطبراني:831، سنن البيهقي الكبرى:9128



حاصل شدہ اہم اسباق و نکات
صفا پر دعا کرنا:
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے صفا پہاڑی پر یہ دعا کی۔ صفا اور مروہ سعی کے مقامات ہیں، اور ان پر دعا کرنا مستحب ہے۔

آیت "ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ" سے استدلال:
انہوں نے دعا سے پہلے اللہ کے اس وعدے کو یاد کیا کہ وہ دعا کرنے والوں کی دعا قبول کرتا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ دعا کرتے وقت اللہ کے وعدے کو یاد رکھنا چاہیے۔

اللہ کا وعدہ سچا ہے:
"وَإِنَّكَ لَا تُخْلِفُ الْمِيعَادَ" (اور تو وعدہ خلافی نہیں کرتا) – یہ اللہ کی صفت ہے کہ وہ اپنے وعدے کو پورا کرتا ہے۔

ہدایت کی نعمت کی قدر:
حضرت عبداللہ بن عمر نے اسلام کی ہدایت کو ایک عظیم نعمت قرار دیا اور اللہ سے درخواست کی کہ اسے ان سے نہ چھینے۔ اس سے معلوم ہوا کہ ہمیں اپنے ایمان کی حفاظت کی دعا کرنی چاہیے۔

آخری وقت تک ایمان پر قائم رہنے کی دعا:
"أَنْ لَا تَنْزِعَهُ مِنِّي حَتَّى تَتَوَفَّانِي وَأَنَا مُسْلِمٌ" – یہ دعا ہمیں سکھاتی ہے کہ ہم اللہ سے اچھے انجام اور ایمان پر موت کی دعا کریں۔

دعا میں تواضع اور عاجزی:
انہوں نے دعا کے ذریعے اپنی عاجزی اور اللہ کی طرف اپنی احتیاج کا اظہار کیا۔

ہدایت کے لیے شکر اور اس کے باقی رہنے کی دعا:
"كَمَا هَدَيْتَنِي لِلْإِسْلَامِ" سے معلوم ہوا کہ ہمیں اللہ کی نعمتوں (خاص طور پر ہدایت) کا شکر ادا کرنا چاہیے اور اس کے باقی رہنے کی دعا کرنی چاہیے۔

حدیث کی صحت:
یہ اثر طبرانی اور بیہقی میں موجود ہے اور قابلِ اعتماد ہے۔

واللہ اعلم بالصواب








حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کا قول
متن (عربی):
عَنْ زِيَادِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ الزُّبَيْرِ - رضي الله عنهما - يَقُولُ فِي خُطْبَتِهِ: " إِنَّ اللهَ هُوَ الْهَادِي وَالْفَاتِنُ "

ترجمہ:
حضرت زیاد بن سعد سے روایت ہے، انہوں نے حضرت عمرو بن دینار سے، انہوں نے کہا: میں نے حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کو اپنے خطبے میں فرماتے سنا: "بیشک اللہ ہی ہدایت دینے والا اور فتنہ میں ڈالنے والا ہے۔"

حوالہ وحواشی:
(١) المعجم الكبير للطبراني:2642۔ إسناده صحيح (اس کی سند صحیح ہے)

(۲) اس قول میں حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے اللہ تعالیٰ کی دو صفات کا ذکر کیا ہے:

الْهَادِي (ہدایت دینے والا):
اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے جسے چاہتا ہے ہدایت عطا فرماتا ہے، اسے سیدھا راستہ دکھاتا ہے، اور اس کے دل کو ایمان کے لیے کھول دیتا ہے۔ یہ اللہ کی رحمت اور فضل کی صفت ہے۔

الْفَاتِنُ (آزمائش میں ڈالنے والا):
"فتنہ" کے معنی آزمائش، امتحان اور مصیبت میں ڈالنے کے ہیں۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو مال، اولاد، بیماری، تنگی، اور فرائض کے ذریعے آزماتا ہے۔ یہ اس کی حکمت اور عدل کی صفت ہے۔

یہاں "الفاتن" سے مراد یہ نہیں کہ اللہ لوگوں کو گمراہ کرنے کے لیے فتنہ ڈالتا ہے، بلکہ وہ انہیں آزماتا ہے تاکہ معلوم کرے کہ کون صبر کرتا ہے اور کون ناشکری کرتا ہے۔ جیسا کہ قرآن میں ہے: {وَنَبْلُوكُمْ بِالشَّرِّ وَالْخَيْرِ فِتْنَةً} (الأنبیاء: 35) (اور ہم تمہیں برائی اور بھلائی سے آزماتے ہیں)۔

یہ قول اہل سنت کے اس عقیدے کی تائید کرتا ہے کہ خیر و شر سب اللہ کی طرف سے ہے، اور وہی ہدایت دیتا ہے اور وہی گمراہ کرتا ہے (بندے کے اپنے اختیار کے ساتھ)۔



حاصل شدہ اہم اسباق و نکات

اللہ ہی ہدایت کا دینے والا ہے:
کوئی شخص خود بخود ہدایت یافتہ نہیں ہو سکتا، بلکہ ہدایت اللہ کے فضل سے ملتی ہے۔ ہمیں ہمیشہ اللہ سے ہدایت مانگنی چاہیے۔

فتنے (آزمائشیں) اللہ کی طرف سے ہیں:
دنیا میں آنے والی ہر مصیبت، بیماری، تنگی، اور خوشحالی بھی اللہ کی طرف سے آزمائش ہے۔ اس سے مومن کا ایمان اور صبر نکھرتا ہے۔

ہدایت اور فتنہ میں اللہ کی حکمت:
اللہ جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے آزمائش میں ڈالتا ہے۔ یہ سب اس کی حکمت اور عدل کے مطابق ہے۔

تقدیر پر ایمان کی اہمیت:
یہ قول اہل سنت کے عقیدے کی عکاسی کرتا ہے کہ ہر چیز اللہ کی مشیت اور تقدیر سے ہوتی ہے۔

خطبے میں عقیدے کے مسائل بیان کرنا:
حضرت عبداللہ بن زبیر نے اپنے خطبے میں یہ اہم اصولی بات بیان کی، جس سے معلوم ہوا کہ خطبے میں عقائد کی اصلاح بھی مقصود ہوتی ہے۔

مومن کا کردار:
مومن کو چاہیے کہ وہ ہدایت پر شکر کرے اور فتنوں میں صبر کرے۔

قول صحابی کی حجیت:
اگرچہ یہ نبی ﷺ کا قول نہیں، لیکن صحابی کا قول جب دین کے اصولی مسائل میں ہو اور اس کی تائید قرآن و سنت سے ہوتی ہو، تو اسے قبول کیا جاتا ہے۔

حدیث کی صحت:
اس اثر کی سند صحیح ہے، جیسا کہ طبرانی میں ذکر ہے۔

واللہ اعلم بالصواب









حسن بصریؒ سے تقدیر کے بارے میں سوال و جواب
متن (عربی):
عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ قَالَ: قُلْتُ لِلْحَسَنِ (١) يَا أَبَا سَعِيدٍ , أَخْبِرْنِي عَنْ آدَمَ , أَلِلسَّمَاءِ خُلِقَ (٢) أَمْ لِلْأَرْضِ؟ , قَالَ: لَا , بَلْ لِلْأَرْضِ , قُلْتُ: أَرَأَيْتَ لَوْ اعْتَصَمَ فَلَمْ يَأكُلْ مِنْ الشَّجَرَةِ (٣)؟ , قَالَ: لَمْ يَكُنْ لَهُ مِنْهُ بُدٌّ (٤) قُلْتُ: أَخْبِرْنِي عَنْ قَوْلِهِ تَعَالَى: {فَإِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُونَ مَا أَنْتُمْ عَلَيْهِ بِفَاتِنِينَ إِلَّا مَنْ هُوَ صَالِ الْجَحِيمِ} (٥) قَالَ: إِنَّ الشَّيَاطِينَ لَا يَفْتِنُونَ بِضَلَالَتِهِمْ , إِلَّا مَنْ أَوْجَبَ اللهُ عَلَيْهِ أَنْ يَصْلَى الْجَحِيمَ. (٦)

ترجمہ:
حضرت خالد الحذاء سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے حسن بصری (١) سے کہا: اے ابو سعید! مجھے آدم کے بارے میں بتائیے، کیا وہ آسمان (جنت) کے لیے پیدا کیے گئے تھے (٢) یا زمین کے لیے؟ انہوں نے کہا: نہیں، بلکہ زمین کے لیے۔ میں نے کہا: آپ کا کیا خیال ہے اگر وہ درخت سے نہ کھاتے اور پرہیز کر لیتے (٣)؟ انہوں نے کہا: ان کے لیے اس سے بچنا ممکن نہ تھا (٤)۔ میں نے کہا: مجھے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بتائیے: {پس بے شک تم اور تمہارے معبود، تم (کسی کو) گمراہ کرنے والے نہیں، سوائے اس کے جو جہنم میں جانے والا ہے} (٥)۔ انہوں نے کہا: بے شک شیاطین اپنی گمراہی سے (کسی کو) نہیں بہکاتے، مگر جس پر اللہ نے یہ لازم کر دیا ہو کہ وہ جہنم میں جائے گا (٦)۔

حواشی وحوالہ جات:
(١) أَيْ: الْبَصْرِيّ , وسَأَلَهُ عَنْ بَعْض فُرُوع مَسْأَلَة الْقَدَر لِيَعْرِفَ عَقِيدَته فِيهَا , لِأَنَّ النَّاس كَانُوا يَتَّهِمُونَهُ قَدَرِيًّا , إِمَّا لِأَنَّ بَعْض تَلَامِذَته مَالَ إِلَى ذَلِكَ , أَوْ لِأَنَّهُ قَدْ تَكَلَّمَ بِكَلَامٍ اِشْتَبَهَ عَلَى النَّاس تَأوِيلُه , فَظَنُّوا أَنَّهُ قَالَهُ لِاعْتِقَادِهِ مَذْهَبَ الْقَدَرِيَّة , فَإِنَّ الْمَسْأَلَةَ مِنْ مَظَانِّ الِاشْتِبَاه. (عون المعبود - ج 10 / ص 134)
ترجمہ:
(١) یعنی حسن بصری۔ انہوں نے ان سے تقدیر کے مسئلے کی بعض شاخوں کے بارے میں پوچھا تاکہ اس بارے میں ان کا عقیدہ معلوم کر سکے، کیونکہ لوگ ان پر قدریہ ہونے کا الزام لگاتے تھے۔ یا تو اس لیے کہ ان کے بعض شاگرد اس کی طرف مائل ہو گئے تھے، یا اس لیے کہ انہوں نے کوئی ایسی بات کہی تھی جس کی تاویل لوگوں پر مشتبہ ہو گئی، تو انہوں نے سمجھ لیا کہ انہوں نے یہ بات قدریہ کے عقیدے کی وجہ سے کہی ہے، کیونکہ یہ مسئلہ شبہات کے مقامات میں سے ہے۔

(٢) أَيْ: لِأَنْ يَسْكُن وَيَعِيش فِي الْجَنَّة. (عون المعبود - ج 10 / ص 134)
ترجمہ:
(٢) یعنی اس لیے کہ وہ جنت میں رہے اور زندگی گزارے۔

(٣) أَيْ: لَمْ يُذْنِب وَلَمْ يَأثَم. (عون المعبود - ج 10 / ص 134)
ترجمہ:
(٣) یعنی وہ گناہ نہ کرتا اور نہ ہی خطا کرتا۔

(٤) أَيْ: لَمْ يَكُنْ لَهُ بُدٌّ مِنْ أَكْلهَا. (عون المعبود - ج 10 / ص 134)
ترجمہ:
(٤) یعنی ان کے لیے اسے کھانے سے بچنا ممکن نہ تھا۔

(٥) سورہ الصافات: 161-163

(٦) تخریج: سنن ابی داود: 4614، اور علامہ البانی نے کہا: یہ مقطوع اثر حسن الإسناد ہے۔





حاصل شدہ اہم اسباق و نکات

حسن بصری پر لگنے والے الزام کا ازالہ:
لوگ ان پر قدریہ ہونے کا الزام لگاتے تھے، لیکن ان کے ان جوابات سے واضح ہوتا ہے کہ وہ تقدیر کے اثبات کے قائل تھے اور قدریہ نہیں تھے۔

آدم علیہ السلام کی تخلیق کا مقصد:
حسن بصری نے فرمایا کہ آدم کو زمین کے لیے پیدا کیا گیا تھا، نہ کہ جنت میں ہمیشہ رہنے کے لیے۔ اس سے معلوم ہوا کہ جنت میں ان کا قیام عارضی تھا، اور آخرکار انہیں زمین پر بھیجنا تھا۔

آدم کا درخت سے کھانا تقدیر تھا:
اگر آدم درخت سے نہ کھاتے تو کیا ہوتا؟ حسن بصری نے کہا کہ ان کے لیے اس سے بچنا ممکن نہ تھا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کی تقدیر میں یہ لکھا تھا کہ وہ درخت سے کھائیں گے، اور یہ ان کی خطا نہیں تھی (بلکہ اس کے بعد توبہ کی توفیق ملی)۔

آیت "فَإِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُونَ" کی تفسیر:
حسن بصری نے فرمایا کہ شیاطین اپنی گمراہی سے صرف اسی کو بہکاتے ہیں جس پر اللہ نے جہنم کا فیصلہ کر دیا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ ہدایت اور گمراہی سب اللہ کے ہاتھ میں ہے۔

تقدیر کے انکار کی تردید:
یہ گفتگو اس بات کو واضح کرتی ہے کہ حسن بصری اہل سنت کے عقیدے (تقدیر کے اثبات) پر تھے اور انہوں نے قدریہ کے عقیدے سے براءت ظاہر کی۔

علماء سے عقیدے کے بارے میں پوچھنا:
خالد الحذاء نے حسن بصری سے براہِ راست سوال کیا تاکہ ان کے عقیدے کو واضح کیا جا سکے۔ یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ کسی پر الزام لگانے سے پہلے اس سے خود پوچھ لینا چاہیے۔

مخلوقات کے اعمال کی تخلیق اللہ کی طرف سے ہے:
حسن بصری کے جوابات اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ ہر چیز اللہ کی تقدیر سے ہوتی ہے، اور بندہ کسب (کمانے) والا ہے۔

حدیث کی سندی حیثیت:
یہ اثر مقطوع ہے (یعنی حسن بصری کا قول ہے، نبی ﷺ کا نہیں)، لیکن اس کی سند حسن ہے اور یہ اہل سنت کے عقیدے کی تائید کرتا ہے۔

واللہ اعلم بالصواب












اچھی بُری تقدیر پر ایمان لانا
ایمان بالقدر یہ ہے کہ اس بات پر یقین لایا جائے اور مانا جائے کہ دنیا میں جو کچھ بھی ہورہا ہے (خواہ وہ خیر ہو یا شر) وہ سب اللہ کے حکم اور اس کی مشیت سے ہے؛ حتی کہ بندہ کے اختیاری افعال بھی اس کی مشیت(چاہت) اور حکمت وتقدیر کے تابع ہیں، وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے اور جو نہیں چاہتا نہیں کرتا، جن کو وہ پہلے ہی طے کرچکا ہے ایسا نہیں ہے کہ وہ تو کچھ اور چاہتا ہو اور دنیا کا یہ کارخانہ اس کی منشاء کے خلاف اور اس کی مرضی سے ہٹ کر چل رہا ہو، ایسا ماننے میں خدا کی انتہائی عاجزی اور بیچارگی لازم آئیگی۔
اللہ پاک نے فرمایا:
"إِنَّا کُلَّ شَیْْء ٍ خَلَقْنَاہُ بِقَدَرٍ"
ہم نے ہر چیز کو ناپ تول کے ساتھ پیدا کیا ہے۔
[سورۃ القمر:49]

"قُلْ کُلٌّ مِّنْ عِنْدِاللہ"۔
۔۔۔۔آپ فرمادیجئے کہ سب کچھ اللہ ہی کی طرف ہے۔۔۔۔
[سورۃ النساء:78]

وَ اِنْ مِّنْ شَیْءٍ اِلَّا عِنْدَنَا خَزَآئِنُهٗ١٘ وَ مَا نُنَزِّلُهٗۤ اِلَّا بِقَدَرٍ مَّعْلُوْمٍ
اور کوئی (ضرورت کی) چیز ایسی نہیں ہے جس کے ہمارے پاس خزانے موجود نہ ہوں، مگر ہم اس کو ایک معین مقدار میں اتارتے ہیں۔
[سورۃ الحجر:21]

مَاۤ اَصَابَ مِنْ مُّصِیْبَةٍ فِی الْاَرْضِ وَ لَا فِیْۤ اَنْفُسِكُمْ اِلَّا فِیْ كِتٰبٍ مِّنْ قَبْلِ اَنْ نَّبْرَاَهَا١ؕ اِنَّ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرٌۚۖ
کوئی مصیبت ایسی نہیں ہے جو زمین میں نازل ہوتی یا تمہاری جانوں کو لاحق ہوتی ہو، مگر وہ ایک کتاب میں اس وقت سے درج ہے جب ہم نے ان جانوں کو پیدا بھی نہیں کیا تھا، یقین جانو یہ بات اللہ کے لیے بہت آسان ہے۔
[سورۃ الحدید:22]

قُلْ لَّنْ یُّصِیْبَنَاۤ اِلَّا مَا كَتَبَ اللّٰهُ لَنَا١ هُوَ مَوْلٰىنَا١ۚ وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ۔
کہہ دو کہ : اللہ نے ہمارے مقدر میں جو تکلیف لکھ دی ہے ہمیں اس کے سوا کوئی اور تکلیف ہرگز نہیں پہنچ سکتی۔ وہ ہمارا رکھوالا ہے، اور اللہ ہی پر مومنوں کو بھروسہ رکھنا چاہیے۔
[سورۃ التوبہ:51]

وَ عِنْدَهٗ مَفَاتِحُ الْغَیْبِ لَا یَعْلَمُهَاۤ اِلَّا هُوَ١ؕ وَ یَعْلَمُ مَا فِی الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ١ؕ وَ مَا تَسْقُطُ مِنْ وَّرَقَةٍ اِلَّا یَعْلَمُهَا وَ لَا حَبَّةٍ فِیْ ظُلُمٰتِ الْاَرْضِ وَ لَا رَطْبٍ وَّ لَا یَابِسٍ اِلَّا فِیْ كِتٰبٍ مُّبِیْنٍ
اور اسی کے پاس غیب کی کنجیاں ہیں جنہیں اس کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ اور خشکی اور سمندر میں جو کچھ ہے وہ اس سے واقف ہے کسی درخت کا کوئی پتہ نہیں گرتا جس کا اسے علم نہ ہو، اور زمین کی اندھیریوں میں کوئی دانہ یا کوئی خشک یا تر چیز ایسی نہیں ہے جو ایک کھلی کتاب میں درج نہ ہو۔
[سورۃ الانعام:59]

بخاری، "عن زیدِ بنِ وہب قال عبد اللہ حدثنا رسول اللہوہوالصادِق"الخ، باب ذکر الملائکۃ، حدیث نمبر:۲۹۶۹۔ ترمذی، "عن ابنِ عباس قال کُنت خلف رسولِ اللہ یوماً فقال یاغلامُ إِنِی"الخ، وہذا حدیث حسن صحیح، باب منہ بعد باب ماجاء فی صفۃ اوانی الحوض، حدیث نمبر:۲۴۴۰)
(ملخص من فتح الملہم، باب الایمان والاسلام والاحسان ووجوب الایمان بقدر اللہ سبحانہ: ۱/۴۴۶، مؤلف: حضرت مولاناشبیر احمد عثمانی رحمہ اللہ، مکتبہ فیصل دیوبند۔
بند
حضرت جابرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ  نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص مؤمن نہ ہوگا جب تک کہ تقدیر پر ایمان نہ لائے، اس کی بھلائی پر بھی اور اس کی برائی پر بھی؛ یہاں تک کہ یقین کرے کہ جو بات واقع ہونے والی تھی وہ اس سے ہٹنے والی نہ تھی اور جو بات اس سے ہٹنے والی تھی وہ اس پر واقع ہونے والی نہ تھی۔

[جامع ترمذی: ابواب القدر، باب ماجاء فی الایمان بالقدر خیرہ وشرہ ، حدیث نمبر:2144]







تقدیر پر ایمان کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ یہ شخص کامیابی میں شکر کریگا اور ناکامی میں صبر کریگا اور اللہ تعالیٰ نے اس کو اس آیت میں بتلایا "لِّکَیْلَا تَاْسَوْا عَلٰی مَافَاتَکُمْ وَلَاتَفْرَحُوْا بِمَااٰتٰکُمْ" (الحدید:۲۳) "تاکہ جو چیز تم سے جاتی رہے تم اس پر رنج نہ کرو اور تاکہ جو چیز تم کو عطا فرمائی ہے اس پر اتراؤ نہیں" (ترجمہ تھانویؒ) لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ تقدیر کا بہانہ کرکے شریعت کے موافق ضروری تدبیر کو بھی چھوڑ دے بلکہ یہ شخص تو کمزور تدبیر کو بھی نہ چھوڑیگا اور اس میں بھی امیدرکھے گا کہ خدا تعالیٰ اس میں بھی اثردے سکتا ہے اس لیے کبھی ہمت نہ ہاریگا، جیسے بعض لوگوں کو یہ غلطی ہوجاتی ہے اور دین تو بڑی چیز ہے، دنیا کے ضروری کاموں میں بھی کم ہمتی کی برائی حدیث میں آئی ہے؛ چنانچہ"عوف بن مالکؓ نے روایت کیا ہے کہ نبی کریم  نے ایک مقدمہ کا فیصلہ فرمایا تو ہارنے والا کہنے لگا "حَسْبِیَ اللہ وَنِعْمَ الْوَکِیْل" (مطلب یہ کہ خدا کی مرضی میری قسمت) حضور  نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کم ہمتی کو ناپسند فرماتا ہے؛ لیکن ہوشیاری سے کام لو (یعنی کوشش اور تدبیر میں کم ہمتی مت کرو) پھر جب کوئی کام تمہارے قابو سے باہر ہوجائے تب کہو "حَسْبِیَ اللہ وَنِعْمَ الْوَکِیْل"۔

(ابوداؤد، "عن عوفِ بنِ مالِک أَنہ حدثہم أَن النبِی قضی بین رجلینِ فقال المقضِیُ علیہِ"الخ، باب الرجل یحلف علی حقہ، حدیث نمبر: ۳۱۴۳)




ایک جگہ ارشاد ہے:

"قُلْ کُلٌّ مِّنْ عِنْدِاللہ"۔                             


(سورۃ النساء:۷۸)


"آپ فرمادیجئے کہ سب کچھ اللہ ہی کی طرف ہے"۔  


اور دوسری جگہ ارشاد ہے:

"فَمَنْ یُّرِدِ اللہٗ اَنْ یَّھْدِیَہٗ یَشْرَحْ صَدْرَہٗ لِلْاِسْلَامِ وَمَنْ یُّرِدْ اَنْ یُّضِلَّہٗ یَجْعَلْ صَدْرَہٗ ضَیِّقًاحَرَجًا کَاَنَّمَا یَصَّعَّدُ فِیْ السَّمَآءِ کَذٰلِکَ یَجْعَلُ اللہُ الرِّجْسَ عَلَی الَّذِیْنَ لَایُؤْمِنُوْنَ"۔         

(سورۃ الانعام:۱۲۵)

"سو جس شخص کو اللہ تعالیٰ راستہ پر ڈالنا چاہتے ہیں اس کے سینہ کو اسلام کے لیے کشادہ کردیتے ہیں اور جس کو بے راہ رکھنا چاہتے ہیں اس کے سینہ کو تنگ بہت تنگ کردیتے ہیں جیسے کوئی آسمان میں چڑھتا ہو، اسی طرح اللہ تعالیٰ ایمان نہ لانے والوں پر پھٹکار ڈالتا ہے"۔              


حدیث جبرئیل جس میں ایمانیات کو یکجا بیان کیا گیا وہ یہ ہے، حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ہم ایک دن رسول اللہ کی خدمت میں حاضر تھے کہ اچانک ایک شخص سامنے سے نمودار ہوا، جس کے کپڑے نہایت سفید اور بال بہت ہی زیادہ سیاہ تھے اور اس پر سفر کا کوئی اثر بھی معلوم نہیں ہوتا تھا (جس سے خیال ہوتا تھا کہ یہ کوئی بیرونی شخص نہیں ہے) اور اسی کے ساتھ یہ بات بھی تھی کہ ہم میں سے کوئی شخص اس نووارد کو پہچانتا نہ تھا (جس سے خیال ہوتا تھا کہ یہ کوئی باہر کے آدمی ہیں؛ بہرحال یہ حاضرین کے حلقہ سے گزرتا ہوا آیا) اور اپنے گھٹنے آنحضرت کے گھٹنوں سے ملاکر بیٹھ گئے اور اپنے ہاتھ حضور کی رانوں پر رکھدیئے اور کہا: اے محمد! مجھے بتلائیے کہ اسلام کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: اسلام یہ ہے (یعنی اس کے ارکان یہ ہیں کہ دل وزبان سے) تم یہ شہادت ادا کرو کہ اللہ کے سوا کوئی "الٰہ" (کوئی ذات عبادت وبندگی کے لائق) نہیں اور محمد اس کے رسول ہیں اور نماز قائم کرو اور زکوٰۃ ادا کرو اور ماہ رمضان کے روزے رکھو اور اگر حج بیت اللہ کی تم استطاعت رکھتے ہو تو حج کرو، اس نووارد سائل نے آپ کا یہ جواب سن کر کہا: آپ نے سچ کہا۔
راویٔ حدیث حضرت عمررضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم کو اس پر تعجب ہوا کہ یہ شخص پوچھتا بھی ہے اور پھر خود تصدیق وتصویب بھی کرتا جاتا ہے، اس کے بعد اس شخص نے عرض کیا: اب مجھے بتلائیے کہ ایمان کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: ایمان یہ ہے کہ تم اللہ کو، اس کے رسول کو، اس کے فرشتوں کو، اس کی کتابوں کو، اس کے رسولوں کو اور یوم آخرت یعنی روزِ قیامت کو حق جانو اور حق مانو اور ہرخیروشر تقدیر کو بھی حق جانو اور حق مانو (یہ سن کر بھی) اس نے کہا آپ نے سچ کہا؛ اس کے بعد اس شخص نے عرض کیا: مجھے بتلائیے کہ احسان کیا ہے؟ آپ  نے فرمایا: احسان یہ ہے کہ اللہ کی عبادت وبندگی تم اس طرح کرو گویا تم اس کو دیکھ رہے ہو؛ اگر تم اس کو نہیں دیکھ سکو تو یہ خیال کرو کہ وہ توتم کو دیکھتا ہی ہے؛ پھراس شخص نے عرض کیا مجھے قیامت کی بابت بتلائیے (کہ وہ کب واقع ہوگی) آپ نے فرمایا: جس سے یہ سوال کیا جارہا ہے وہ اس کے بارے میں سوال کرنے والے سے زیادہ نہیں جانتا؛ پھراس نے عرض کیا تو مجھے اس کی کچھ نشانیاں ہی بتلایئے؟ آپ نے فرمایا (اس کی ایک نشانی تو یہ ہے کہ) لونڈی اپنی مالکہ اور آقا کو جنے گی (اور دوسری نشانی یہ ہے کہ) تم دیکھوگے کہ جن کے پاؤں میں جوتا اور تن پر کپڑا نہیں ہے اور جوتہی دست اور بکریاں چرانے والے ہیں وہ بڑی بڑی عمارتیں بنانے لگیں گے اور اس میں ایک دوسرے پر بازی لے جانے کی کوشش کریں گے، حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ یہ باتیں کرکے یہ نووارد شخص چلاگیا؛ پھر مجھے کچھ عرصہ گزرگیا، تو حضور صلی اللہ نے مجھ سے فرمایا: اے عمر! کیا تمھیں پتہ ہے کہ وہ سوال کرنے والا شخص کون تھا ؟ میں نے عرض کیا: اللہ اور اس کے رسول ہی زیادہ جاننے والے ہیں، آپ نے فرمایا کہ وہ جبرئیل تھے تمہاری اس مجلس میں اس لیے آئے تھے کہ تم لوگوں کو تمہارا دین سکھادیں۔
[مسلم، باب بیان الایمان والاسلام والاحسان،حدیث نمبر:9۔
بخاری، باب سوال جبرئیل النبی، حدیث نمبر:48]

مسئلہ تقدیر 
اور حضرت عمر بن عبد العزیز  رحمۃ اللہ علیہ  کا ایمان افروز خط

مسئلہ تقدیر کی وضاحت
تقدیرربِ کائنات کی وہ دستاویز ہے، جس میں کائنات کی ہر چیز کے متعلق مکمل تفصیل موجود ہے،ابتدائے آفرینش سے قیامت تک ہونے والے تمام چھوٹے، بڑےواقعات کی جزئیات لکھی جاچکی ہیں، انسان کی عمر، رزق، رہائش، موت، اس کی سعادت مندی، اور بدبختی کے فیصلے دنیا کے وجود سے پچاس ہزار سال پہلے قلم بند ہوچکے ہیں۔(۱)
تقدیر رب العالمین کا ایک پوشیدہ راز ہے، جس کی خبر اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو نہیں، یہی وجہ ہے کہ انسان بالخصوص مسلمان کو تقدیر کے معاملہ میں جستجو کرنے، اس کی ٹوہ میں لگنے، اس کے متعلق مناظرے کرنے، اور اس کی حقیقت جاننے کی کوشش کرنے سے روکا گیا ہے۔ سنن ترمذی میں روایت ہے کہ ایک روز صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین تقدیر کے مسئلہ میں باہم گفتگو فرما رہے تھے،جو بحث و مباحثہ کی صورت اختیار کر گئی،جس پر حضور  صلی اللہ علیہ وسلم  نے سخت کلفت وناراضگی کا اظہار فرمایا،اور اس نا راضگی کا اثر چہرۂ مبارک پر ایسا محسوس ہونے لگا، جیسے ابھی کسی نے انار نچوڑا ہو، اور فرمایا:
’’أبہٰذا أمرتم، أم بہٰذا أرسلت إليکم؟ إنما ہلک من کان قبلکم حين تنازعوا في ہٰذا الأمر۔‘‘ (۲)
’’کیا تمہیں اسی( بحث و مباحثہ) کا حکم دیا گیا ہے؟ یا میں یہی چیز دے کر بھیجا گیا ہوں؟ یقیناً تم سے پہلی قومیں تقدیر میں جھگڑنے کی وجہ سے ہلاک ہوچکی ہیں۔‘‘
حضرت علی  رضی اللہ عنہ  سے کسی شخص نے تقدیر کے بارے میں سوال کیا ،تو آپ  رضی اللہ عنہ  نے فرمایا: ’’طريق مظلم لاتسلکہٗ‘‘ یعنی ’’یہ اندھیری راہ ہے، اس پر مت چلو۔‘‘
 اس شخص نے دوبارہ سوال کیا، تو فرمایا: ’’بحرٌ عميقٌ لاتلجہ‘‘ یعنی گہرا سمندر ہے، اس میں مت داخل ہو۔ اس نے ایک بار پھر سوال کیا ، تو فرمایا: ’’سرّ اللہ قد خفي عليک فلاتفتشہ‘‘ یعنی اللہ کا راز ہے جسے اللہ تعالیٰ نے تجھ سے مخفی رکھا ہے؛ لہٰذا اس کی تفتیش و جستجو میں مت پڑو۔ (۳)
ایک ضعیف روایت میں ہے کہ جس نے تقدیر کے معاملہ میں گفتگو کی (یعنی اس کی جستجو میں لگا) قیامت کےروز اس سے پوچھ ہوگی۔ (۴)
جس طرح شریعتِ مطہرہ میں ایک انسان کو دوسرے انسان کے راز چھپانے کی ترغیب دی گئی ہے، اور اپنے مومن بھائی کے پیچھے لگ کر اس کے رازوں تک رسائی حاصل کرنے سے منع کیا گیا ہے، اسی طرح اللہ تعالیٰ کے راز کی ٹوہ میں لگنے سے روکا گیا ہے، بلاشبہ اللہ تعالیٰ کی ذات انسان سے بلند تر ہے، تو اس کے راز پانے کی دھن میں رہنا کیوں کر روا ہوسکتا ہے؟

تقدیرِالہٰی پر ایمان 
تقدیر پر ایمان لانا مسلمانوں کے اہم فرائض میں سے ایک فریضہ ہے، اور اس پر ایمان لانے کا مطلب یہ ہے کہ دل میں یہ یقین کر لینا کہ خیر و شر کا مالک اللہ تعالیٰ ہے، انسان کو جو خوشیاں، اور مصیبتیں ملتی ہیں،وہ سب اللہ تعالیٰ کی تقدیر سے ملتی ہیں۔ انسان کے رزق میں کشادگی اور وسعت اسی کے ہاتھ میں ہے، ایک حدیث مبارکہ میں ہے کہ: ’’رزق انسان کوایسے ہی تلاش کرتا ہے، جیسے موت اسے تلاش کرتی ہے۔‘‘ (۵)
تقدیرِ خداوندی کے سامنے عقلاء کی عقلیں اور ماہرین کی تدبیریں سب خاک ہیں۔ تقدیر پر ایمان، دلی اطمینان کا باعث، دنیاوی ہموم و غموم کے خاتمہ کا ذریعہ اور پرسکون زندگی کا سبب ہے۔
تقدیر پر تمام انبیاء  علیہم السلام ایمان رکھتے تھے،اوراس پر ایمان لانے کی طرف دعوت دیتے چلے آئے ہیں،نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم  نے بھی اپنی حیاتِ طیبہ میں تقدیر پر ایمان لانے کو لازم قرار دیا،اور تمام صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین اس پر ایمان لائے،اور اس عقیدے پر تمام امتِ مسلمہ کا اجماع ہے۔

انکارِ تقدیر کی ابتدا، اور پیشِ نظر خط کا پس منظر
امام مسلمؒ کتاب الایمان کے شروع میں روایت نقل فرماتے ہیں: 
’’یحییٰ بن یعمر سے روایت ہے کہ: سب سے پہلے جس نے تقدیر میں گفتگو کی (بصرے میں) وہ معبد جہنی تھا، میں اور حمید بن عبدالرحمٰن حمیری دونوں حج یا عمرے کے لیے چلے اور ہم نے کہا: کاش! ہمیں کوئی صحابیِ رسول( رضی اللہ عنہ ) مل جائے جس سے ہم اس بات کا ذکر کریں جو یہ لوگ تقدیر کے بارے میں کہتے ہیں۔ ہمیں حضرت عبداللہ بن عمر بن خطاب رضی اللہ عنہما  مسجد میں داخل ہوتے ہوئے مل گئے۔ میں اور میرا ساتھی ان کے داہنے اور بائیں طرف ہو گئے۔ میں سمجھا کہ میرا ساتھی مجھے بات کرنے دے گا، تو میں نے عرض کیا: اے ابو عبدالرحمٰن! ہماری طرف کچھ ایسے لوگ پیدا ہوگئے ہیں جو قرآن پڑھتے ہیں اور علم میں باریکیاں بھی نکالتے ہیں (اور ان کا باقی حال بھی بیان کیا) اور یہ بھی بتایا کہ وہ کہتے ہیں کہ: تقدیر کوئی چیز نہیں اور سب کام ناگہاں اور نئے سرے سے ہو رہے ہیں۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما  نے فرمایا: تم جب ایسے لوگوں سے ملو تو کہہ دینا کہ میں ان سے بری ہوں اور وہ مجھ سے(بری ہیں)۔ اور اللہ تعالیٰ کی قسم کھا رہا ہوںکہ ایسے لوگوں (یعنی تقدیر کے منکرین)میں سے اگر کسی کے پاس احد پہاڑ کے برابر سونا ہو، پھر وہ اسے اللہ کی راہ میں خرچ کرے تو اللہ قبول نہیں کرے گا جب تک تقدیر پر ایمان نہ لائے ۔‘‘   ( صحیح مسلم، کتاب الایمان، باب بیان الایمان والاسلام والاحسان الخ)
عہدِ رسالت کے بعد خلفائے اربعہؓ کے آخری دور میں اطرافِ مدينہ میں کچھ لوگ تقدیر کا انکار کرنے لگے، اور پھر وقت کے ساتھ ساتھ یہ فتنہ پروان چڑھتا گیا، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین، اور تابعین رحمہم اللہ تعالیٰ نے قرآن و سنت کی روشنی میں مسئلہ تقدیر کو واضح کر کے امت کے سامنے پیش کیا، اور جو تشویش اس فتنہ کی وجہ سے پھیل رہی تھی وہ تھمنا شروع ہو گئی، ایک شخص نے حضرت عمر بن عبد العزیز  رحمۃ اللہ علیہ  کو خط لکھا، جس میں اس مسئلہ کی وضاحت مطلوب تھی، آپؒ نے اس فتنہ کو بدعت قرار دیا ،اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم کی اتباع کو اصلِ شریعت قرار دیا،اور اسی کو نجات ِ آخرت کا ذریعہ بتلایا۔
یہ اثرسنن ابی داوٗد کی ’’کتاب السنۃ‘‘ میں ہے،اور اس مکتوب کی عبارات مشکل شمار کی جاتی ہیں،اس کا اردو ترجمہ پیشِ خدمت ہے، درمیان میں کچھ تشریحی کلمات کا اضافہ بھی ہے،اورآخر میں سہولت و آسانی کی غرض سے خط سے حاصل ہونے والے فوائد بھی درج کر دیے گئے ہیں۔ (۶)

خط کا سلیس ترجمہ
’’ایک شخص نے حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ تعالیٰ کو خط لکھ کر ’’تقدیر‘‘ کی بابت سوال کیا!
 آپ ؒ نے جواب میں لکھا :
 حمد و ثناء کے بعد! میں آپ کو(چار چیزوں کی) وصیت کرتا ہوں:
۱: اللہ تعالیٰ سے ڈرو۔
۲:اس ذات کے معاملے میں میانہ روی اختیارکرو ( اللہ تعالیٰ کے احکامات میں کمی بیشی مت کرو)۔
۳: اس کے نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  کی سنت کی پیروی پر قائم رہو۔
۴: سنت کے ثابت ہوجانے اور اس کی مشقت سے مستغنی ہونے کے بعد مبتدعین کی بدعتوں سے بچتے رہو۔ (اللہ تعالیٰ نے دین میں نئی باتیں پیدا کرنے کا بوجھ لوگوں کے کندھوں پرنہیں ڈالا، بلکہ اپنے دین کو کامل و مکمل بنایا، تاکہ بعد میں انہیں دین میں کوئی نیا حکم نہ نکالنا پڑے)، لہٰذاتم سنت کی مکمل طور پر پیروی کرتے رہو، کیوں کہ تمہارے لیے(اللہ تعالیٰ کے حکم سے) اسی میں پناہ ہے۔

بدعت کے خلاف قرآن و سنت میں دلائل موجود ہیں
پھر جان لو! لوگ جو بھی بدعت کرتے ہیں، اس کے خلاف پہلے سے(قرآن و سنت میں) حجت قائم ہو چکی ہے، یا وہ (قرآن و سنت میں )نشانِ عبرت بن چکی ہے؛ کیوں کہ سنت اس ذات نے جاری کی ہے، جو سنت کے خلاف(بدعات) کی غلطی، لغزش، کم فہمی اور اس کی شدت سے واقف ہے۔( یعنی بدعات میں جو برائیاں اور کوتاہیاں ہیں، اللہ تعالیٰ اور حضور  صلی اللہ علیہ وسلم   انہیں پہلے سے جانتے تھے، اسی لیے ان کی برائی کو قرآن وسنت میں کھول کر بیان کر دیا گیا ہے، اب سمجھنے والے کو سمجھنا چاہیے کہ فلاں بدعت کے خلاف فلاں آیتِ قرآنی ہے، اور فلاں بدعت کی ضلالت آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  کی فلاں حدیث سے عیاں ہے)۔ 

نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  اور صحابہ کرام  رضی اللہ عنہم  کا راستہ ہی پسندیدہ راستہ ہے
 
اپنے لیے اسی راستے کو پسند کرو! جسے قوم (حضور  صلی اللہ علیہ وسلم  اور ان کے صحابہ کرام  رضی اللہ عنہم ) نے اپنے لیے پسند کیا ہے، کیونکہ وہ (عظیم الشان) علم سے آگاہ ہو چکے تھے، اور کامل بصیرت کے ساتھ (بدعتوں اور مُحْدَثات) سے رُکے ہوئے تھے، وہ (بعد والوں سے زیادہ ) دینی احکامات کے اظہار کی قوت رکھتے تھے، اور اپنی فضیلت اور شرافت کی بناپر دین کے (فہم کے) زیادہ حق دار تھے، اگر وہ ہدایت ہے جس پر تم ہو، تو گویا تم ان سے بھی سبقت لے گئے (یعنی اگر تمہاری بدعت کو دین سمجھ لیا جائے، اور یہ گمان کیا جائے کہ سلف صالح تو اس سے واقف نہ تھے، نہ انہوں نے اس پر عمل کیا، تو گویا تم دین و تقویٰ کے اعتبار سے ان سے بڑھ کر ہو، اور تمہاری فضیلت ان سے زیادہ ہے، جبکہ یہ بات قرآن و سنت کے خلاف ہے کہ بعد کے لوگ صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین سے فضیلت، اور دین داری میں آگے بڑھ جائیں)۔
 

سلف صالحین کی دینی تشریحات‘ امت کے لیے کافی ہیں 
سوال: اگر تم یہ کہتے ہو کہ جو چیزیں (بدعات )بعد میں پیدا ہوئیں، وہ تو انہی لوگوں نے پیدا کی ہیں جنہوں نے پہلوں کے راستے سے الگ راہ اختیار کی ہے، اور خود کو ان پر ترجیح دی (یعنی انہوں نے ایسی راہ اختیار کی ہے ،جس پر سلف صالحین کا گزر ہی نہیں ہوا، اسی وجہ سے ان مسائل میں ان کی اقتدا کرنا بھی لازم نہیں، کیوں کہ ان کا اتباع تب لازم ہوتا، جب راستہ ایک ہوتا،اور جب راہ الگ ہے، تو ان کی پیروی بھی واجب نہیں، لہٰذاان محدثات کو اپنانا قابلِ اعتراض نہیں ہونا چاہیے)۔
جواب: (یہ بات بالکل درست نہیں )کیوں کہ وہی(سلف صالحین اسلام میں) سبقت لینے والے ہیں، اور وہ اس دین میں ضرورت کی حد تک گفتگو کر چکے ہیں،اور (بعد میں آنے والوں کے لیے) قابلِ اطمینان معلومات فراہم کرچکے ہیں( یعنی دین کے حوالہ سے ان کے راستہ کے علاوہ دوسری راہ اختیار کرنا ہی غلط ہے)، ان کی احتیاط کے بعد دین میں کسی احتیاط (کمی ) کی گنجائش نہیں، اور ان کی تفصیلات سے اوپر کوئی تفصیل بیانِ محتاج نہیں، اور ایک قوم نے سلف صالحین سے زیادہ احتیاط کی تو وہ پستی میں جاپڑی، اور دوسروں نے ان سے زیادہ دین کی تشریح کرنی چاہی، تو وہ غلو میں مبتلا ہو گئے۔ اور وہ لوگ (دونوں راہوں یعنی افراط و تفریط ) کے درمیان سیدھی ہدایت پرتھے۔

تقدیر کا عقیدہ زمانۂ جاہلیت میں
آپ نے تقدیر کے اقرار کے متعلق پوچھا ہے!یقیناً (اللہ تعالیٰ کےحکم سے )آپ نےایک باخبر آدمی سے ہی سوال کیا ہے! لوگوں نے جتنی نئی باتیں گھڑی ہیں، اور جتنی بدعات کو فروغ دیا ہے، ان سب میں تقدیر کے اقرار سے زیادہ واضح، اورثابت شدہ حکم میرے علم میں نہیں ہے، تقدیر کا ذکر تو زمانۂ جاہلیت میں جہلاء (کے کلام) میں بھی پایا جاتاتھا، وہ اپنی گفتگو اور شعر و شاعری میں اس کے متعلق کلام کیا کرتے تھے، اسی کے ذریعہ فوت شدہ افراد واشیاء کے بارے میں خود کو تسلی دیتے تھے۔

عقیدہ ٔ تقدیر کی اسلام میں حیثیت
 
پھر اسلام نے آکر اس نظریہ کو مزید پختگی دی(کہ اس عقیدہ کو لازم قرار دیا) ، آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے ایک دو سے زیادہ احادیث میں اس کا ذکر فرمایا ہے، صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  سے سنتے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کی حیاتِ طیبہ میں اور آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  کے وصال کے بعد اس بارے میں آپس میں گفتگو کرتے تھے، (لیکن) اپنے رب پر یقین رکھتے ہوئے اور اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہوئے اور اس بات کو محال گردانتے ہوئے کہ (کائنات میں) کوئی چیز ایسی ہے کہ جس کا علم اللہ تعالیٰ کو نہ ہو، لوحِ محفوظ نے اسے محفوظ نہ کیا ہو، اور اس پر اللہ تعالیٰ کی تقدیر نہ چل سکتی ہو، ان تمام باتوں (جاہلیت کےشعراء کے کلام، حضور  صلی اللہ علیہ وسلم  کی احادیث، اور صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کے آثار) کے باوجود یہ مسئلہ تقدیر، اللہ تعالیٰ کی محکم کتاب (قرآن پاک ) میں موجود ہے، اسی سے انہوں نے لیا ہے، اور اسی کتاب سے یہ عقیدہ سیکھا ہے۔

سلف صالحین آیات ِ قرآنیہ کی صحیح تاویل و تفسیر کا علم رکھتے تھے
اور اگر تم یہ کہتے ہو کہ اللہ تعالیٰ نے (اس بارے میں کوئی) آیت کیوں نازل فرمائی؟ اور یہ کیوں فرمایا؟ ( یعنی وہ آیات جن میں اسباب اختیار کرنے کا بیان ہے، وہ تو تقدیر کے منافی ہیں، تو جان لیجیے کہ) ان (صحابہ رضی اللہ عنہم،اور سلف صالحین رحمہم اللہ تعالیٰ) نے بھی ان آیات کو پڑھا ہے، جن کی تم تلاوت کرتے ہو، (لیکن) وہ اس کی (صحیح) تفسیر کا علم رکھتے تھے جس سے تم نا واقف ہو، ان تمام باتوں کے بعد بھی وہ تقدیر اور لوحِ محفوظ کتاب کے قائل رہے۔ 

تقدیر پر ایمان لانے کا خلاصہ
بد بختی و بدقسمتی لکھی جا چکی ہے، اور جو مقدر ہو چکا ، وہ ہو کر رہے گا ،اللہ تعالیٰ جو چاہتے ہیں وہ ہو کر رہتا ہے اور جو نہیں چاہتے وہ نہیں ہوتا، اور ہم اپنی ذات کے لیے کسی نقصان کے مالک ہیں، نہ نفع کے ،اس کے (ان چیزوں کا علم رکھنے کے) بعد بھی وہ (صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین) نیک اعمال میں رغبت رکھتے تھے اور (برے اعمال سے) ڈرتے تھے۔‘‘

مذکورہ مکتوب سے حاصل شدہ فوائد
1- دین کی بنیاد چار چیزوں پر ہے:q-اللہ تعالیٰ سے ڈرنا۔w-اللہ تعالیٰ کے احکامات میں معتدل راہ اختیار کرنا۔e- سنت کی پیروی کرنا۔  رضی اللہ عنہما -بدعت سے بچتے رہنا۔
2- بدعت کے خلاف قرآن و سنت میں دلائل موجود ہیں۔
3- صحابہ کرام  رضی اللہ عنہم  نے جس مسئلہ میں جو راہ اختیار کی، وہی سب سے بہترین راہ ہے۔
4- سنت کی پیروی میں پناہ اور حفاظت ہے۔
5-جس ذات نے شریعت مقرر کی ہے،وہ بدعت کی خرابیوں سے واقف تھی، اسی لیے اس نے اسے دین نہیں بنایا۔
6-اگر دین میں نئی چیز پیدا کرنا فضیلت کا کام ہوتا، تو صحابہ کرام  رضی اللہ عنہم  اپنے علم و فضل،اور مرتبہ کی وجہ سے اس کے زیادہ مستحق ہوتے۔
7-سلف صالحین نے دین کی جو تشریح بیان کی، وہی قابلِ اطمینان ہے۔
8-سلف صالحین سے زیادہ دین میں احتیاط برتنا ضلالت،اور ان سے زیادہ پر عمل کرناغلو ہے۔
9-دینی بات اہلِ علم اور اس فن کے ماہر ہی سے دریافت کرنی چاہیے۔
10- تقدیر کو ماننے کا نظریہ زمانۂ قدیم سے چلا آرہا ہے،عہدِ جاہلیت کے شعراء بھی یہی عقیدہ رکھتے تھے۔
11-تقدیر پر ایمان لانے کا فائدہ یہ ہے کہ گزری ہوئی چیز یا کسی کی جدائیگی کازیادہ افسوس نہیں ہوتا۔
12-تقدیر پر ایمان لانا دین کے اہم ترین فرائض میں سے ہے۔
13-دنیا میں کوئی کام ایسا نہیں ،جس کا علم اللہ تعالیٰ کے پاس لوح محفوظ میں نہ ہو۔
14-کائنات کی کوئی چیز قدرتِ خداوندی سے باہر نہیں۔
15-تقدیر کا ذکر کتاب اللہ (قرآن مجید،فرقان حمید )میں موجود ہے۔
16-جن آیات میں اسباب اختیار کرنے کا حکم ہے ،وہ تقدیرپر ایمان لانے کے خلاف نہیں، یہی وجہ ہے کہ صحابہ کرام اور سلف صالحین ( رضی اللہ عنہم ) ان آیات کو پڑھتے اور سمجھتے تھے، پھر بھی تقدیر پر ایمان رکھتے تھے،اور اعمالِ صالحہ کو نجات کا ذریعہ گردانتے تھے۔

حواشی وحوالہ جات
۱- صحيح مسلم، کتاب القدر، باب حجاج آدم وموسی عليہما السلام، الرقم: ۲۶۵۳، ج:۲۰۴۴، دار إحياء التراث العربي، بيروت.
۲- سنن الترمذي، أبواب القدر عن رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم، باب ما جاء في التشديد في الخوض في القدر، رقم الحديث: ۲۱۳۳، دار الغرب الاسلامي، ۱۹۹۸ء. 
۳- الشريعۃ للآجرِّيِّ، باب ذکر ما تأدی إلينا عن أبي بکر وعمر رضي اللہ عنہما من ردہما علی القدريۃ، وإنکارہما عليہم، الرق:۴۲۲، ج:۲: ۸۴۴، دار الوطن، ط: الثانيۃ ۱۴۲۰ھ
۴-سنن ابن ماجۃ، باب في القدر، رقم الحديث:۸۴، ۱/۶۲، دار الرسالۃ العالميۃ، ط: الأولی، ۱۴۳۰ھ.
۵-صحيح ابن حبان، باب ذکر الأخبار عما يجب علی المرء من قلۃ الجد في طلب رزقہ بما لايحل، رقم الحديث:۳۲۳۸،:۸/۳۱، مؤسسۃ الرسالۃ بيروت، ط: الأولی ۱۴۰۸ھ۔
۶-أبو داود ،سليمان بن الأشعث بن إسحاق بن بشير بن شداد بن عمرو الأزدي (المتوفی: ۲۷۵ھ)، سنن أبي داود، کتاب السنۃ، باب لزام السنۃ، رقم الحديث:۴۶۱۲، ۷/۲۴، دار الرسالۃ العالميۃ، الأولی، ۱۴۳۰ھ۔
 




تقسیمِ الٰہی پر رضامندگی کی فضیلت:
أنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُجَيْرٍ , قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو الْعَلاءِ بْنُ الشِّخِّيرِ ، حَدِيثًا يَرْفَعُهُ إِلَى النَّبِيِّ عَلَيْهِ السَّلامُ قَالَ : " إِذَا أَرَادَ اللَّهُ بِعَبْدٍ خَيْرًا أَرْضَاهُ بِمَا قَسَمَ لَهُ ، وَبَارَكَ لَهُ فِيهِ ، وَإِذَا لَمْ يُرِدْ بِهِ خَيْرًا لَمْ يُرْضِهِ بِمَا قَسَمَ لَهُ ، وَلَمْ يُبَارِكْ لَهُ فِيهِ " .
ترجمہ :
حضرت ابوالعلاءؓ بن الشخير نبی ﷺ کی بیان فرماتے ہیں :
"جب الله تعالیٰ کسی بندے کی بھلائی اور خیر کا ارادہ فرماتے ہیں تو اس کو اپنی قسمت پر راضی کردیتے ہیں، اور اس قسمت میں اس کے لئے برکت بھی عطا فرماتے ہیں، اور جب کسی سے بھلائی کا ارادہ نہ فرمائیں (العياذ بالله)، اس کو اس کی قسمت پر راضی نہیں کرتے(یعنی اس کے دل میں قسمت پر اطمینان اور رضا پیدا نہیں ہوتی) اور(نتیجتاً جو حاصل ہے) اس میں بھی برکت نہیں ہوتی


ہمت


تقدیر و قضاء





ہم تقدیروقضاءپرکس طرح ایمان لائیں اس سے متعلق احکام و عقائد
عقیدہ:
تقدیر پر ایمان لانا فرض ہے۔تشریح
تقدیر کے معنیٰ و مفہوم
تقدیر کے لغوی معنیٰ ہیں اندازہ کرنا، اور اصطلاحِ شریعت میں تقدیر کہتے ہیں، جو کچھ اب تک ہوچکا اور جو کچھ ہو رہا ہے اور جو کچھ آئندہ ہوگا سب اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے اور اسی کے مطابق ہو رہا ہے، اس پر ایمان لانا فرض ہے۔
 حق جل شانہ نے اس کارخانۂ عالم کو پیدا کرنے سے پہلے اپنے علم ازلی میں اس کانقشہ بنایا اور ابتداء تا انتہاء ہر چیز کا اندازہ لگایا، اس نقشہ بنانے اور طے کرنے کا نام تقدیر ہے اور اس کے مطابق اس کارخانۂ عالم کو بنانے اور پیدا کرنے کا نام قضاء ہے، اسی کو تقدیر و قضاء کہتے ہیں۔
’’قدر یا تقدیر‘‘ ایمانیات کا اہم ترین حصہ ہے، تقدیر پر ایمان ایسے ہی لازم ہے جیسے اللہ پر ایمان لازم ہے، جب تک کوئی شخص تقدیر پر ایمان نہ لائے وہ مؤمن ہو ہی نہیں سکتا، اور در حقیقت تقدیر پر ایمان کا تعلق ’’ایمان باللہ‘‘ سے ہی ہے، اور یہ موضوع اصالۃً’’ایمان باللہ‘‘ ہی کا ہے، لیکن اس کی اہمیت کے پیش نظر اس کو مستقل ذکر کیا جاتا ہے۔
تقدیر کامفہوم یہ ہےکہ اللہ کی تخلیق میں ہر چیز اللہ کی جانب سے مخصوص پیمانہ اورخاص مقرر کردہ اندازہ سے بنائی گئی ہے،جس طرح اللہ کی تخلیقات وسیع ترین ہے جس کی انتہاؤں کا علم صرف اللہ کو ہے، اسی طرح ہر مخلوق کس پیمانہ اور مقررہ اندازہ سے تخلیق کی گئی ہے؟ اس کاعلمِ کامل بھی صرف اللہ ہی کو ہے، اس علم میں سے کچھ حصہ اللہ نے بندوں کو دیا ہے لیکن اس علم کا غالب حصہ صرف اللہ جانتے ہیں ، اس کی غالب تفصیلات بندوں کو نہیں دی گئی ہیں، اور نہ صرف یہ کہ یہ علم بندوں کو نہیں دیا گیا ہے بلکہ ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ اس میں دخل نہ دیں !ورنہ وہ گمراہی کا شکار ہوں گے۔
اس علم کی جملہ تفصیلات بندوں کو کیوں نہیں دی گئیں بالکل واضح اور صاف ہے کہ اس علم کا تعلق اللہ کے افعال اور اس کی حکمتوں اور مصلحتوں سے ہے، ظاہر ہے بندہ ان کا کیا احاطہ کر سکتا ہے اور نہ ہی ان کا تحمل کر سکتا ہے۔
ساتھ ہی یہ بھی حقیقت ہے کہ انسان کو اس علم سے متعلق جتنے حصہ کی ضرورت تھی وہ بہت ہی واضح طور پر دیا گیا ہے جیسا کہ آگے کی تفصیلات سے معلوم ہوگا، عام طور پر لوگ اللہ کی جانب سے دئے گئے اس علم سے انحراف کی وجہ سے ہی تقدیر کی بابت ٹھو کر کھاتے ہیں اور گمراہی کا شکار ہوتے ہیں، جبکہ بندوں پر لاز م ہے کہ وہ اس علم سے چمٹے رہیں جو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے عطاء کیا ہے، اسی میں ان کی نجات ہے۔
تمام مخلوقات اور تمام بندوں کو اللہ تعالیٰ نے ایک مخصوص تقدیر کے ساتھ پیدا کیا ہے۔ان کی زندگی اور موت اور ان سے متعلقہ ہر بات اللہ تعالیٰ نے ایک مقررہ پیمانہ  کے ساتھ مقدر کر رکھی ہے۔تقدیر پر ایمان ایسے ہی فرض ہے جیسے اللہ پر ایمان فرض ہے، اور تقدیر کا انکار کفر ہے۔دلائل
إِنَّا کُلَّ شَيْءٍ خَلَقْنَاهُ بِقَدَرٍ (۴۹)القمر۔وَإِنْ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا عِنْدَنَا خَزَائِنُهٗ وَمَا نُنَزِّلُهٗ إِلَّا بِقَدَرٍ مَعْلُومٍ (۲۱) الحجر۔عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ قَالَ کَانَ أَوَّلَ مَنْ قَالَ فِى الْقَدَرِ بِالْبَصْرَةِ مَعْبَدٌ الْجُهَنِىُّ فَانْطَلَقْتُ أَنَا وَحُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ الْحِمْيَرِىُّ حَاجَّيْنِ أَوْ مُعْتَمِرَيْنِ فَقُلْنَا لَوْ لَقِينَا أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللہِ صَلَّى اللہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلْنَاهُ عَمَّا يَقُولُ هٰٓؤُلَآءِ فِى الْقَدَرِ فَوُفِّقَ لَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ دَاخِلاً الْمَسْجِدَ فَاكْتَنَفْتُهٗ أَنَا وَصَاحِبِى أَحَدُنَا عَنْ يَمِينِهٖ وَالآخَرُ عَنْ شِمَالِهٖ فَظَنَنْتُ أَنَّ صَاحِبِى سَيَكِلُ الْکَلاَمَ إِلَىَّ فَقُلْتُ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمٰنِ إِنَّهٗ قَدْ ظَهَرَ قِبَلَنَا نَاسٌ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ وَيَتَقَفَّرُونَ الْعِلْمَ - وَذَکَرَ مِنْ شَأْنِهِمْ - وَأَنَّهُمْ يَزْعُمُونَ أَنْ لاَ قَدَرَ وَأَنَّ الأَمْرَ أُنُفٌ. قَالَ فَإِذَا لَقِيتَ أُولٰٓئِکَ فَأَخْبِرْهُمْ أَنِّى بَرِىءٌ مِنْهُمْ وَأَنَّهُمْ بُرَآءُ مِنِّى وَالَّذِى يَحْلِفُ بِهٖ عَبْدُ اللہِ بْنُ عُمَرَ لَوْ أَنَّ لأَحَدِهٖمْ مِثْلَ أُحُدٍ ذَهَبًا فَأَنْفَقَهٗ مَا قَبِلَ اللہُ مِنْهُ حَتّٰى يُؤْمِنَ بِالْقَدَرِ ثُمَّ قَالَ حَدَّثَنِى أَبِى عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ قَالَ بَيْنَمَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللہِ -صلى الله عليه وسلم- ذَاتَ يَوْمٍ إِذْ طَلَعَ عَلَيْنَا رَجُلٌ شَدِيدُ بَيَاضِ الثِّيَابِ شَدِيدُ سَوَادِ الشَّعَرِ لاَ يُرٰى عَلَيْهِ أَثَرُ السَّفَرِ وَلاَ يَعْرِفُهٗ مِنَّا أَحَدٌ حَتّٰى جَلَسَ إِلَى النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- فَأَسْنَدَ رُكْبَتَيْهِ إِلٰى رُكْبَتَيْهِ وَوَضَعَ کَفَّيْهِ عَلٰى فَخِذَيْهِ وَقَالَ يَا مُحَمَّدُ أَخْبِرْنِى عَنِ الإِسْلاَمِ. فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّى اللہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الإِسْلاَمُ أَنْ تَشْهَدَ أَنْ لَآ إِلٰهَ إِلاَّ اللہُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللہِ وَتُقِيمَ الصَّلاَةَ وَتُؤْتِىَ الزَّکَاةَ وَتَصُومَ رَمَضَانَ وَتَحُجَّ الْبَيْتَ إِنِ اسْتَطَعْتَ إِلَيْهِ سَبِيلاً. قَالَ صَدَقْتَ. قَالَ فَعَجِبْنَا لَهٗ يَسْأَلُهٗ وَيُصَدِّقُهٗ. قَالَ فَأَخْبِرْنِى عَنِ الإِيمَانِ. قَالَ « أَنْ تُؤْمِنَ بِاللّٰہِ وَمَلاَئِکَتِهٖ وَکُتُبِهٖ وَرُسُلِهٖ وَالْيَوْمِ الآخِرِ وَتُؤْمِنَ بِالْقَدَرِ خَيْرِهٖ وَشَرِّهٖ ». قَالَ صَدَقْتَ. قَالَ فَأَخْبِرْنِى عَنِ الإِحْسَانِ. قَالَ « أَنْ تَعْبُدَ اللہَ کَأَنَّکَ تَرَاهُ فَإِنْ لَمْ تَکُنْ تَرَاهُ فَإِنَّهٗ يَرَاکَ ». قَالَ فَأَخْبِرْنِى عَنِ السَّاعَةِ. قَالَ « مَا الْمَسْئُولُ عَنْهَا بِأَعْلَمَ مِنَ السَّائِلِ ». قَالَ فَأَخْبِرْنِى عَنْ أَمَارَتِهَا. قَالَ « أَنْ تَلِدَ الأَمَةُ رَبَّتَهَا وَأَنْ تَرَى الْحُفَاةَ الْعُرَاةَ الْعَالَةَ رِعَاءَ الشَّاءِ يَتَطَاوَلُونَ فِى الْبُنْيَانِ ». قَالَ ثُمَّ انْطَلَقَ فَلَبِثْتُ مَلِيًّا ثُمَّ قَالَ لِى « يَا عُمَرُ أَتَدْرِى مَنِ السَّائِلُ ». قُلْتُ اللہُ وَرَسُولُهٗ أَعْلَمُ. قَالَ « فَإِنَّهٗ جِبْرِيلُ أَتَاکُمْ يُعَلِّمُکُمْ دِينَکُمْ ». (صحیح مسلم) ۔ عَنْ طَاؤٗسٍ أَنَّهٗ قَالَ أَدْرَكْتُ نَاسًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللہِ صَلَّى اللہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُونَ کُلُّ شَىْءٍ بِقَدَرٍ. قَالَ وَسَمِعْتُ عَبْدَ اللہِ بْنَ عُمَرَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّى اللہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کُلُّ شَىْءٍ بِقَدَرٍ حَتَّى الْعَجْزُ وَالْکَيْسُ أَوِ الْکَيْسُ وَالْعَجْزُ. (صحیح مسلم) ۔ وَکَانَ أَمْرُ اللہِ قَدَرًا مَقْدُورًا۔ (الاحزاب:۳۸) وَإِذَا قَضَى أَمْرًا فَإِنَّمَا يَقُولُ لَهُ كُنْ فَيَكُونُ۔ (البقرۃ:۱۱۷) هُوَ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ طِينٍ ثُمَّ قَضَى أَجَلًا۔ (الانعام:۲) ان القدر و ھو ما یقع من العبد المقدر فی الازل من خیرہ و شرہ و حلوہ و مرہ کائن منہ سبحانہ و تعالیٰ یخلقہ و ارادتہ، ما شاء کان و ما لا فلا، و القضاء و القدر المراد باحدھما الحکم الاجمالی و بالآخر التفصیلی۔ (شرح فقہ اکبر:۴۱) ۔و القدر أی و بالقضاء و القدر، خیرہ و شرہ أی نفعہ و ضرہ و حلوہ و مرّہ حال کونہ من اللہ تعالیٰ، فلا تغییر للتقدیر، فیجب الرضاء بالقضاء و القدر، وھو تعیین کل مخلوق بمرتبتہ التی توجد من حسن و قبیح و نفع و ضر، و ما یحیط بہ من مکان و زمان، و ما یترتب علیہ من ثواب أو عقاب۔ (شرح فقہ اکبر:۱۳) مزید تفصیل کے لئے دیکھیں: لسان العرب:۵؍۸۵، شرح المقاصد:۳؍۸۶۔بند
عقیدہ:
تقدیر مبرم اور تقدیر معلّق بندوں کے اعتبار سے ہے، اللہ تعالیٰ کے ہاں ہر تقدیر مبرم ہی ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ ہر کام کے انجام اور خاتمہ کے متعلق ازل سے ہی واقف اور پوری طرح آگاہ ہے۔تشریح
تقدیر کی دو قسمیں ہیں (۱) تقدیر مبرم (۲) تقدیر معلّق:
(۱) تقدیرِ مبرم:یہ وہ تقدیر ہے جو اٹل ہوتی ہے، اس میں کچھ بھی تغیُّر و تبدُّل نہیں ہوتا، لوحِ محفوظ میں ایک ہی بات لکھی ہوتی ہے جو ہو کر رہتی ہے۔
(۲) تقدیرِ معلّق:یہ وہ تقدیر ہے جو اٹل نہیں ہوتی بلکہ اس میں تغیُّر و تبدُّل ہوتا رہتا ہے، اس تقدیر کو اللہ تعالیٰ کسی دوسری چیز کے ساتھ معلق کرکے لکھتے ہیں کہ اگر فلاں کام ہوا تو فلاں دوسرا کام بھی ہوگا اور اگر فلاں کام نہ ہوا تو فلاں دوسرا کام بھی نہ ہوگا، مثلاً زید نے اپنے والدین کی خدمت کی تو اس کی عمر لمبی ہوگی اور اگر خدمت نہ کی تو اس کی عمر لمبی نہ ہوگی۔
تقدیر کے پانچ درجات اور مراتب ہیں:
(۱) پہلا درجہ: وہ امور جن کے متعلق اللہ تعالیٰ نے ازل میں فیصلہ فرمالیا تھا، ان امور سے متعلقہ تقدیر کو تقدیرِ ازلی کہتے ہیں۔
(۲) دوسرا درجہ: وہ امور انہیں اللہ تعالیٰ نے عرش کو پیدا کرنے کے بعد اور زمین و آسمان کو پیدا کرنے سے پہلے طے فرمایا۔
(۳) تیسرا درجہ: وہ امور جو صلبِ آدم علیہ السلام سے ذریتِ آدمؑ کو نکالنے کے وقت ’’یومِ عہدِ الست‘‘ میں طے کئے گئے۔
(۴) چوتھا درجہ: وہ امور جو بچہ کے لئے اس وقت طے کئے جاتے ہیں جب وہ ماں کے پیٹ میں ہوتا ہے۔
(۵) پانچواں درجہ: وہ امور جو دیگر بعض امور پر موقوف کئے گئے ہیں۔
تقدیر کے ان پانچ درجات میں سے پہلے چار درجات تقدیر مبرم کے درجات ہیں جوکہ اٹل ہیں، ان میں کسی قسم کا تغیُّر و تبدُّل نہیں ہوتا، آخری درجہ تقدیر معلّق کا ہے، اس میں تغیُّر و تبدُّل ہوتا رہتا ہے۔دلائل
يَمْحُو اللہُ مَا يَشَاءُ وَيُثْبِتُ وَعِنْدَهُ أُمُّ الْكِتَابِ۔ (الرعد:۳۹) قال ملا علی القاری رحمہ اللہ عن عبد الله بن عمرو رضي الله عنهما قال قال رسول الله كتب الله مقادير الخلائق جمع مقدار وهو الشيء الذي يعرف به قدر الشيء وكميته كالمكيال والميزان وقد يستعمل بمعنى القدر نفسه وهو الكمية والكيفية قبل أن يخلق السموات والأرض ومعنى كتب الله أجرى الله القلم على اللوح المحفوظ بإيجاد ما بينهما من التعلق وأثبت فيه مقادير الخلق ما كان وما هو كائن إلى الأبد على وفق ما تعلقت به إرادته أزلا كإثبات الكاتب ما في ذهنه بقلمه على لوحه وقيل أمر الله القلم أن يثبت في اللوح ما سيوجد من الخلائق ذاتا وصفة وفعلا وخيرا وشرا على ما تعلقت به إرادته وحكمة ذلك إطلاع الملائكة على ما سيقع ليزدادوا بوقوعه إيمانا وتصديقا ويعلموا من يستحق المدح والذم فيعرفوا لكل مرتبته أو قدر وعين مقاديرهم تعيينا بتا لا يتأتى خلافه بالنسبة لما في علمه القديم المعبر عنه بأم الكتاب أو معلقا كأن يكتب في اللوح المحفوظ فلان يعيش عشرين سنة إن حج وخمسة عشر إن لم يحج وهذا هو الذي يقبل المحو والإثبات المذكورين في قوله تعالى يمحو الله ما يشاء ويثبت وعنده أم الكتاب الرعد أي التي لا محو فيها ولا إثبات فلا يقع فيهما إلا ما يوافق ما أبرم فيها كذا ذكره ابن حجر وفي كلامه خفاء إذ المعلق والمبرم كل منهما مثبت في اللوح غير قابل للمحو نعم المعلق في الحقيقة مبرم بالنسبة إلى علمه تعالى فتعبيره بالمحو إنما هو من الترديد الواقع في اللوح إلى تحقيق الأمر المبرم المبهم الذي هو معلوم في أم الكتاب أو محو أحد الشقين الذي ليس في علمه تعالى فتأمل فإنه دقيق وبالتحقيق حقيق۔ (مرقاۃ المفاتیح:۱؍۱۴۵) مزید تفصیل کے لئےدیکھیں: حجۃ اللہ البالغۃ:۱؍۱۵۵۔وقد وقع ذلك خمس مرات . فأولها : أنه أجمع في الأزل أن يوجد العالم على أحسن وجه ممكن مراعيا للمصالح ، مؤثرا لما هو الخير النسبي حين وجوده ، وكان علم الله ينتهي إلى تعيين صورة واحدة من الصور لا يشاركها غيرها ، فكانت الحوادث سلسلة مترتبة ، مجتمعا وجودها ، لا تصدق على كثيرين ، فإرادة إيجاد العالم ممن لا تخفى عليه خافية هو بعينه تخصيص صورة وجوده إلى آخر ما ينجر إليه الأمر . وثانيها : أنه قدر المقادير ، ويروى أنه كتب مقادير الخلائق كلها ، والمعنى واحد قبل أن يخلق السموات والأرض بخمسين ألف سنة ، وذلك أنه خلق الخلائق حسب العناية الأزلية في خيال العرش ، فصور هنالك جميع الصور ، وهو المعبر عنه بالذكر في الشرائع ، فتحقق هنالك مثلا صورة محمد صَلَّى اللہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وبعثه إلى الخلق في وقت كذا ، وانذاره لهم وإنكار أبي لهب وإحاطة الخطيئة بنفسه في الدنيا ، ثم اشتعال النار عليه في الآخرة ، وهذه الصورة سبب لحدوث الحوادث على نحو ما كانت هنالك كتأثير الصورة ، المنتقشة في أنفسنا في زلق الرجل على الجذع الموضوع فوق الجدران ، ولم تكن لتزلق لو كانت على الأرض . وثالثها : أنه لما خلق آدم عليه السلام ليكون أبا البشر ، وليبدأ منه نوع الإنسان أحدث في عالم المثال صور بنيه ومثل سعادتهم وشقاوتهم بالنور والظلمة ، وجعلهم بحيث يكلفون ، وخلق فيهم معرفته والاخبات له ، وهو أصل الميثاق المدسوس في فطرتهم ، فيؤاخذون به ، وإن نسوا الواقعة إذا النفوس المخلوقة في الأرض إنما هي ظل الصور الموجودة يومئذ ، فمدسوس فيها ما دس يومئذ . ورابعها حين نفخ الروح في الجنين ، فكما أن النواة إذا ألقيت في الأرض في وقت مخصوص ، وأحاط بها تدبير مخصوص علم المطلع على خاصية نوع النخل ، وخاصية تلك الأرض وذلك الماء والهواء أنه يحسن نباتها ، ويتحقق من شأنه على بعض الأمر ، فكذلك تتلقى الملائكة المدبرة يومئذ ، وينكشف عليهم الأمر في عمره ورزقه ، وهل يعمل عمل من غلبت ملكيته على بهيميته ، أو بالعكس ، وأي نحو تكون سعادته وشقاوته . وخامسها : قبيل حدوث الحادثة ، فينزل الأمر من حظيرة القدس إلى الأرض ، وينتقل شيء مثالي ، فتنبسط أحكامه في الأرض۔ (حجۃ اللہ البالغۃ:۱؍۱۵۳) و تقدیرہ أی بمقدار قدرہ اولا، و کتبہ فی اللوح المحفوظ و حررہٗ ثانیا، و اظہرہ فی عالم الکون و قرر ثالثا، ثم یجزیہ جزاء وافیا فی عالم العقبیٰ رابعاً۔ ( شرح فقہ اکبر:۵۳) مزید تفصیل کے لئےدیکھیں: شرح العقیدۃ الواسطیۃ:۲۷۸۔بند
عقیدہ:
جو بات اللہ تعالیٰ نے کسی کے بارے میں لکھ دی ہے وہ ٹل نہیں سکتی، اور جو بات اللہ تعالیٰ نے کسی کے بارے میں نہیں لکھی ہے وہ اس کو پیش نہیں آسکتی۔تشریح
آسمانوں اور زمین کی پیدائش سے پہلے تقدیر کا لکھا جانا:
تقدیر سے متعلقہ اللہ کی صفات میں اہم ترین صفت اللہ رب العزت کا علم کامل ہے، اللہ تبارک و تعالیٰ مخلوقات کو پیدا کرنے سے پہلے سے ہی ان کی جملہ تفصیلات سے باخبر تھا، کوئی مخلوق اور ان سے متعلقہ کوئی امر ایسا نہیں جو اللہ کے علم میں نہ ہو، جو کچھ پیش آنے والا ہے از اول تا آخر سب کچھ اللہ تعالیٰ کے علم کامل میں ہمیشہ سے ہے، پھر اللہ تعالیٰ نے مخلوقات کو پیدا کرنے سے پہلے قلم کو پیدا کرکے ان تمام تفصیلات کو لکھوا دیا، جس لوح میں ان تفصیلات کو لکھوایا اس کو ’’لوح محفوظ‘‘ کہتے ہیں، یہ اللہ کی کتاب ہے جس میں مخلوقات سے متعلق سب کچھ لکھا ہوا ہے۔
حضرت عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا، اللہ تعالیٰ نے مخلوقات کی تقدیر کو آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے سے پچاس ہزار سال پہلے ہی لکھوا دیا تھا۔ (صحیح مسلم)
ابو حفصہ سے منقول ہے کہ حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے   اپنے بیٹے سے کہا: ایمان کی حقیقت کا مزہ تم اس وقت تک نہیں پا سکتے جب تک کہ تم میں یہ بات یقین تک نہ پہنچ جائے کہ جو حالات تم تک پہنچنے والے تھے وہ تم سے کسی طرح نہیں ٹل سکتے تھے اور جو کچھ تم کو پیش نہیں آیا وہ تمہیں کبھی پیش آہی نہیں سکتا تھا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ:   اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے قلم کو پیدا کیا اور اس سے کہا: لکھو! قلم نے کہا : پروردگار میں کیا لکھوں؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: تا قیامت ہر چیز کی تقدیر لکھو! حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ نے پھر کہا: بیٹے !میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بھی فرماتے ہوئے سنا ہے کہ : جو شخص اس بات پر ایمان لائے بغیر مر جائے اس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ (سنن ابی داؤد)
ایک اور صحیح روایت میں ہے کہ حضرت ولید بن عبادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں اپنے والد کے پاس اس وقت آیا جب وہ مرض الموت میں تھے، میں نے ان سے کہا: ابا جان! مجھے کوئی خاص نصیحت کیجئے، انہوں نے کہا: مجھے بٹھاؤ! (میں نےاٹھاکر بٹھادیا) تب انہوں نے کہا: میرے بچے! تم ایما ن کا مزہ چکھ ہی نہیں سکتے اور اللہ تبارک و تعالیٰ کے علم کی حقیقت کو اس وقت تک نہیں پہنچ سکتے جب تک کہ تم تقدیر خواہ وہ خیر سے متعلق ہو یا شر سے متعلق ہو اس پر ایمان نہ لاؤ، میں نے کہا :ابا جان !مجھے تقدیر کے خیر و شر کا علم کیسے حاصل ہوگا؟ انہوں نے کہا: تم اس بات پر یقین رکھو کہ جو تم سے چھوٹ گیا وہ تمہیں ملنے والا ہی نہیں تھا اور جو تمہیں ملا ہے وہ تم سے کبھی چھوٹ نہیں سکتا تھا، میرے بچے! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ : اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے قلم کو پیدا کیا اور اس سے کہا: لکھو! اور جب اللہ نے اس کو حکم دیا اس نے لکھنا شروع کردیا یہاں تک کہ قیامت تک جو بھی پیش آنے والا ہے اس کو لکھ دیا، میرے بچے! اگر تمہاری موت اس حالت پر آئے کہ تمہار اس پر ایما ن نہ ہو تو تم جہنم میں داخل ہو گے۔ (مسند احمد،صحیح)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ میں ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ائے لڑکے کیا میں تمہیں ایسے کلمات سکھلاؤ جن کو تم اگر یاد رکھو گے تو اللہ بھی تمہیں یاد رکھے گا، جب بھی تم اللہ کو کو یاد کرو گے اس کو وہیں پاؤ گے، جب بھی تم مانگو تو اللہ سے مانگو، جب بھی تم مدد طلب کرو تو اللہ سے مدد طلب کرو، اور یہ جان لو کہ اگر پوری امت جمع ہو کر تمہیں کوئی نفع پہنچانا چاہے تو وہ اس سے زیادہ کسی چیز کا نفع نہیں پہنچا سکتے سوائے اس کے جو اللہ نے تمہارے لئے لکھ دیا ہے، اور اگر وہ سب جمع ہو کر تمہیں کوئی نقصان پہنچانا چاہیں تو اس کے علاوہ کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے جو اللہ نے تمہارے لئے لکھ دیا ہے، قلم لکھ کر اٹھ چکے ہیں اور صحیفے خشک ہو چکے ہیں۔ (سنن ترمذی)دلائل
حٰمٓ (۱) وَالْكِتَابِ الْمُبِينِ (۲) إِنَّا جَعَلْنَاهُ قُرْآنًا عَرَبِيًّا لَعَلَّکُمْ تَعْقِلُونَ (۳) وَإِنَّهٗ فِي أُمِّ الْكِتَابِ لَدَيْنَا لَعَلِيٌّ حَكِيمٌ (۴)) الزخرف(۔ عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللہِ صَلَّى اللہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ کَتَبَ اللہُ مَقَادِيرَ الْخَلاَئِقِ قَبْلَ أَنْ يَخْلُقَ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضَ بِخَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ - قَالَ - وَعَرْشُهٗ عَلَى الْمَاءِ. (صحیح مسلم) ۔ عَنْ أَبِى حَفْصَةَ قَالَ قَالَ عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ لاِبْنِهٖ يَا بُنَىَّ إِنَّکَ لَنْ تَجِدَ طَعْمَ حَقِيقَةِ الإِيمَانِ حَتّٰى تَعْلَمَ أَنَّ مَا أَصَابَکَ لَمْ يَکُنْ لِيُخْطِئَکَ وَمَا أَخْطَأَکَ لَمْ يَکُنْ لِيُصِيبَکَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللہِ صَلَّى اللہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ أَوَّلَ مَا خَلَقَ اللہُ الْقَلَمَ فَقَالَ لَهٗ اكْتُبْ. قَالَ رَبِّ وَمَاذَا أَكْتُبُ قَالَ اكْتُبْ مَقَادِيرَ کُلِّ شَىْءٍ حَتّٰى تَقُومَ السَّاعَةُ ». يَا بُنَىَّ إِنِّى سَمِعْتُ رَسُولَ اللہِ صَلَّى اللہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ « مَنْ مَاتَ عَلٰى غَيْرِ هٰذَا فَلَيْسَ مِنِّى ».(سنن ابی داؤد)۔ عن الْوَلِيدِ بْنِ عُبَادَةَ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ دَخَلْتُ عَلٰى عُبَادَةَ وَهُوَ مَرِيضٌ أَتَخَايَلُ فِيهِ الْمَوْتَ فَقُلْتُ يَا أَبَتَاهُ أَوْصِنِي وَاجْتَهِدْ لِي فَقَالَ أَجْلِسُونِي قَالَ يَا بُنَيَّ إِنَّکَ لَنْ تَطْعَمَ طَعْمَ الْإِيمَانِ وَلَنْ تَبْلُغْ حَقَّ حَقِيقَةِ الْعِلْمِ بِاللّٰہِ تَبَارَکَ وَتَعَالٰى حَتّٰى تُؤْمِنَ بِالْقَدَرِ خَيْرِهٖ وَشَرِّهٖ قَالَ قُلْتُ يَا أَبَتَاهُ فَکَيْفَ لِي أَنْ أَعْلَمَ مَا خَيْرُ الْقَدَرِ وَشَرُّهٗ قَالَ تَعْلَمُ أَنَّ مَا أَخْطَأَکَ لَمْ يَکُنْ لِيُصِيبَکَ وَمَا أَصَابَکَ لَمْ يَکُنْ لِيُخْطِئَکَ يَا بُنَيَّ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللہِ صَلَّى اللہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ أَوَّلَ مَا خَلَقَ اللہُ تَبَارَکَ وَتَعَالٰى الْقَلَمُ ثُمَّ قَالَ اكْتُبْ فَجَرَى فِي تِلْکَ السَّاعَةِ بِمَا هُوَ کَائِنٌ إِلٰى يَوْمِ الْقِيَامَةِ يَا بُنَيَّ إِنْ مِتَّ وَلَسْتَ عَلٰى ذٰلِکَ دَخَلْتَ النَّارَ۔ (مسند احمد/صحیح)۔عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ کُنْتُ خَلْفَ رَسُولِ اللہِ صَلَّى اللہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا فَقَالَ « يَا غُلاَمُ إِنِّى أُعَلِّمُکَ کَلِمَاتٍ احْفَظِ اللہَ يَحْفَظْکَ احْفَظِ اللہَ تَجِدْهُ تُجَاهَکَ إِذَا سَأَلْتَ فَاسْأَلِ اللہَ وَإِذَا اسْتَعَنْتَ فَاسْتَعِنْ بِاللّٰہِ وَاعْلَمْ أَنَّ الأُمَّةَ لَوِ اجْتَمَعَتْ عَلٰى أَنْ يَنْفَعُوکَ بِشَىْءٍ لَمْ يَنْفَعُوکَ إِلاَّ بِشَىْءٍ قَدْ کَتَبَهُ اللہُ لَکَ وَلَوِ اجْتَمَعُوا عَلٰى أَنْ يَضُرُّوکَ بِشَىْءٍ لَمْ يَضُرُّوکَ إِلاَّ بِشَىْءٍ قَدْ کَتَبَهُ اللہُ عَلَيْکَ رُفِعَتِ الأَقْلاَمُ وَجَفَّتِ الصُّحُفُ ». قَالَ أَبُو عِيسَى هٰذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ. (سنن ترمذی)۔بند
عقیدہ:
بندوں میں کون سعید اور جنتی ہے اور کون شقی اور جہنمی ہے؟ لکھا جا چکا ہے۔قلم لکھ چکا ہے، صحیفے خشک ہو چکے ہیں، اب اس میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی۔

عقیدہ:
  تقدیر کا پہلے لکھ دیا جانا اعمال میں رکاوٹ نہیں بن سکتا ، چونکہ اللہ نے لکھ دیا ہے اس لئے بندے وہی کریں گے، ایسا نہیں ہے؛ بلکہ بندے جیسا کرنے والے ہیں اللہ پہلے سے جانتا ہے اسی کو اللہ نے لکھ دیا ہے۔

عقیدہ:
 ہر شخص کےلئے وہی عمل آسان ہوگا جس کےلئے وہ پیدا ہوا ہے، اس لئے حکم ہے کہ بندہ ہر حال میں عمل کرتا رہے۔تشریح
بندوں میں سے کون سعید یا شقی ہے ان کی پیدائش سے پہلے لکھ دیا گیا ہے:
اللہ کے علم کامل سے جو کچھ لوح محفوظ میں لکھا جا چکا ہے اس میں یہ بھی شامل ہے کہ کونسے بندہ کا کیا انجام ہوگا، کون شقی ہے کون سعید ہے، کون کامیاب ہوگا اور کون ناکام ہوگا۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک جنازہ میں شرکت کےلئے آئے، تدفین کے مقام پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم تدفین کے انتظار میں ایک جگہ بیٹھے ہوئے تھے ، آپ نے فرمایا: تم میں سے ہر ایک کا انجام کہ وہ جنتی ہے یا جہنمی ہے لکھا جا چکا ہے، وہاں موجود صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا : یا رسول اللہؐ! تو کیا ہم اس لکھے ہوئے پر سب کچھ چھوڑ کر عمل چھوڑ نہ دیں؟ آپؐ نے فرمایا: عمل کرتے رہو، اس لئے کہ جو شخص بھی جس انجام کےلئے پیدا ہوا ہے اس کےلئے اسی کے مناسب عمل آسان ہوگا، جو کامیاب ہونے والوں میں سے ہوگا اس کے لئے کامیابی کے اعمال آسان ہوں گے اور جو نا کام ہونے والا ہوگا اس کےلئے ناکام ہونے والے اعمال آسان ہوں گے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورۃ اللیل کی آیات فَأَمَّا مَنْ أَعْطٰى وَاتَّقٰى (۵) وَصَدَّقَ بِالْحُسْنٰى (۶) فَسَنُيَسِّرُهٗ لِلْيُسْرٰى (۷) پڑھیں۔ (صحیح بخاری)
اسی طرح حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ حضرت سراقہ بن مالک رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! ہمارا دین کیا ہے ہمیں بیان کیجئے؟ گویا کہ ہم ابھی پیدا ہوئے ہیں آج عمل کس طرح ہوگا؟ کیا قلم جو کچھ لکھ چکے ہیں اور تقدیر جاری ہو چکی ہے اسی سے متعلقہ عمل ہے، یا اب ہم مستقبل میں جو کچھ کریں عمل اس سے متعلقہ ہوگا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عمل تو وہی ہوگا جو قلم لکھ چکا ہے اور تقدیر جاری ہو چکی ہے، تو انہوں نے کہا : پھر عمل کا کیا فائدہ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عمل کرو! جو جس کےلئے پیدا کیا گیا ہے اس کےلئے اسی کا عمل آسان ہوگا۔ (صحیح مسلم)
حضرت عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں دو کتابیں تھیں، آپ نے کہا: جانتے ہو ان دو کتابوں میں کیا ہے؟ ہم نے کہا : نہیں یا رسول اللہ! آپ ہی بتلائیں تو معلوم ہو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ جو داہنے ہاتھ میں کتاب ہے یہ اللہ رب العالمین کی جانب سے ہے اس میں جنتیوں کے نام ان کے آباء و اجداد اور قبائل کے ناموں کے ساتھ ہیں اورآخر میں ان کا اجمالاً خلاصہ مذکور ہے، اس کتاب میں اب نہ کمی ہوگی اور نہ زیادتی ہوگی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بائیں ہاتھ کی کتاب کے بارے میں فرمایا: یہ کتاب بھی اللہ رب العالمین کی جانب سے ہے، اس میں جہنمیوں کے نام ان کے آباء و اجداد کے ناموں اور قبائل کے ناموں کے ساتھ مذکور ہیں اور آخر میں ان کا خلاصہ ذکر کردیا گیا ہے، اس میں اب کبھی کمی یا زیادتی نہیں ہوگی، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کہا یا رسول اللہؐ! اگر سب کچھ طے ہو چکا ہے تو اب عمل کس لئے کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سیدھی راہ چلو اور میانہ روی اختیار کرو! کیونکہ جنّتی کا خاتمہ جنت والے عمل پر ہوگا خواہ وہ پہلے کچھ بھی عمل کرتا رہا ہو اور جہنمی کا خاتمہ جہنم والے عمل پر ہوگا خواہ وہ پہلے کچھ بھی عمل کرتا رہا ہو، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کتابوں کو ڈال دیا اور فرمایا :تمہارا پروردگار بندوں کے معاملہ سے فارغ ہو چکا ہے، ایک فریق جنت میں جائے گاا ور ایک فریق جہنم میں جائے گا۔ (سنن ترمذی، حدیث صحیح)دلائل
عَنْ عَلِىٍّ رضى الله عنه قَالَ کَانَ النَّبِىُّ صَلَّى اللہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِى جَنَازَةٍ فَأَخَذَ شَيْئًا فَجَعَلَ يَنْکُتُ بِهِ الأَرْضَ فَقَالَ « مَا مِنْکُمْ مِنْ أَحَدٍ إِلاَّ وَقَدْ کُتِبَ مَقْعَدُهٗ مِنَ النَّارِ وَمَقْعَدُهٗ مِنَ الْجَنَّةِ » . قَالُوا يَا رَسُولَ اللہِ أَفَلاَ نَتَّكِلُ عَلٰى كِتَابِنَا وَنَدَعُ الْعَمَلَ قَالَ اعْمَلُوا فَکُلٌّ مُيَسَّرٌ لِمَا خُلِقَ لَهٗ ، أَمَّا مَنْ کَانَ مِنْ أَهْلِ السَّعَادَةِ فَيُيَسَّرُ لِعَمَلِ أَهْلِ السَّعَادَةِ وَأَمَّا مَنْ کَانَ مِنْ أَهْلِ الشَّقَاءِ فَيُيَسَّرُ لِعَمَلِ أَهْلِ الشَّقَاوَةِ. ثُمَّ قَرَأَ ( فَأَمَّا مَنْ أَعْطٰى وَاتَّقٰى۔ وَصَدَّقَ بِالْحُسْنٰى ) الآيَةَ . (صحیح بخاری)۔ عَنْ جَابِرٍ قَالَ جَاءَ سُرَاقَةُ بْنُ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ قَالَ يَا رَسُولَ اللہِ بَيِّنْ لَنَا دِينَنَا کَأَنَّا خُلِقْنَا الآنَ فِيمَا الْعَمَلُ الْيَوْمَ أَفِيمَا جَفَّتْ بِهِ الأَقْلاَمُ وَجَرَتْ بِهِ الْمَقَادِيرُ أَمْ فِيمَا نَسْتَقْبِلُ قَالَ « لاَ. بَلْ فِيمَا جَفَّتْ بِهِ الأَقْلاَمُ وَجَرَتْ بِهِ الْمَقَادِيرُ ». قَالَ فَفِيمَ الْعَمَلُ قَالَ زُهَيْرٌ ثُمَّ تَکَلَّمَ أَبُو الزُّبَيْرِ بِشَىْءٍ لَمْ أَفْهَمْهُ فَسَأَلْتُ مَا قَالَ فَقَالَ « اعْمَلُوا فَکُلٌّ مُيَسَّرٌ ». (صحیح مَسلم)۔ عَنْ أَبِى الأَسْوَدِ الدِّئَلِىِّ قَالَ قَالَ لِى عِمْرَانُ بْنُ الْحُصَيْنِ أَرَأَيْتَ مَا يَعْمَلُ النَّاسُ الْيَوْمَ وَيَكْدَحُونَ فِيهِ أَشَىْءٌ قُضِىَ عَلَيْهِمْ وَمَضٰى عَلَيْهِمْ مِنْ قَدَرِ مَا سَبَقَ أَوْ فِيمَا يُسْتَقْبَلُونَ بِهٖ مِمَّا أَتَاهُمْ بِهٖ نَبِيُّهُمْ وَثَبَتَتِ الْحُجَّةُ عَلَيْهِمْ فَقُلْتُ بَلْ شَىْءٌ قُضِىَ عَلَيْهِمْ وَمَضٰى عَلَيْهِمْ قَالَ فَقَالَ أَفَلاَ يَکُونُ ظُلْمًا قَالَ فَفَزِعْتُ مِنْ ذٰلِکَ فَزَعًا شَدِيدًا وَقُلْتُ کُلُّ شَىْءٍ خَلْقُ اللہِ وَمِلْکُ يَدِهٖ فَلاَ يُسْأَلُ عَمَّا يَفْعَلُ وَهُمْ يُسْأَلُونَ. فَقَالَ لِى يَرْحَمُکَ اللہُ إِنِّى لَمْ أُرِدْ بِمَا سَأَلْتُکَ إِلاَّ لأَحْزُرَ عَقْلَکَ إِنَّ رَجُلَيْنِ مِنْ مُزَيْنَةَ أَتَيَا رَسُولَ اللہِ -صلى الله عليه وسلم- فَقَالاَ يَا رَسُولَ اللہِ أَرَأَيْتَ مَا يَعْمَلُ النَّاسُ الْيَوْمَ وَيَكْدَحُونَ فِيهِ أَشَىْءٌ قُضِىَ عَلَيْهِمْ وَمَضٰى فِيهِمْ مِنْ قَدَرٍ قَدْ سَبَقَ أَوْ فِيمَا يُسْتَقْبَلُونَ بِهٖ مِمَّا أَتَاهُمْ بِهٖ نَبِيُّهُمْ وَثَبَتَتِ الْحُجَّةُ عَلَيْهِمْ فَقَالَ لاَ بَلْ شَىْءٌ قُضِىَ عَلَيْهِمْ وَمَضٰى فِيهِمْ وَتَصْدِيقُ ذٰلِکَ فِى كِتَابِ اللہِ عَزَّ وَجَلَّ (وَنَفْسٍ وَمَا سَوَّاهَا فَأَلْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقْوَاهَا) . (صحیح مسلم)۔ عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِى قَالَ خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللہِ صَلَّى اللہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِى يَدِهٖ كِتَابَانِ فَقَالَ أَتَدْرُونَ مَا هٰذَانِ الْكِتَابَانِ. فَقُلْنَا لاَ يَا رَسُولَ اللہِ إِلاَّ أَنْ تُخْبِرَنَا. فَقَالَ لِلَّذِى فِى يَدِهِ الْيُمْنٰى « هٰذَا كِتَابٌ مِنْ رَبِّ الْعَالَمِينَ فِيهِ أَسْمَاءُ أَهْلِ الْجَنَّةِ وَأَسْمَاءُ آبَائِهِمْ وَقَبَائِلِهِمْ ثُمَّ أُجْمِلَ عَلٰى آخِرِهِمْ فَلاَ يُزَادُ فِيهِمْ وَلاَ يُنْقَصُ مِنْهُمْ أَبَدًا ». ثُمَّ قَالَ لِلَّذِى فِى شِمَالِهٖ « هٰذَا كِتَابٌ مِنْ رَبِّ الْعَالَمِينَ فِيهِ أَسْمَاءُ أَهْلِ النَّارِ وَأَسْمَاءُ آبَائِهِمْ وَقَبَائِلِهِمْ ثُمَّ أُجْمِلَ عَلٰى آخِرِهِمْ فَلاَ يُزَادُ فِيهِمْ وَلاَ يُنْقَصُ مِنْهُمْ أَبَدًا ». فَقَالَ أَصْحَابُهٗ فَفِيمَ الْعَمَلُ يَا رَسُولَ اللہِ إِنْ کَانَ أَمْرٌ قَدْ فُرِغَ مِنْهُ فَقَالَ « سَدِّدُوا وَقَارِبُوا فَإِنَّ صَاحِبَ الْجَنَّةِ يُخْتَمُ لَهٗ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ وَإِنْ عَمِلَ أَىَّ عَمَلٍ وَإِنَّ صَاحِبَ النَّارِ يُخْتَمُ لَهٗ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ وَإِنْ عَمِلَ أَىَّ عَمَلٍ ». ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّى اللہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدَيْهِ فَنَبَذَهُمَا ثُمَّ قَالَ « فَرَغَ رَبُّکُمْ مِنَ الْعِبَادِ فَرِيقٌ فِى الْجَنَّةِ وَفَرِيقٌ فِى السَّعِيرِ ». (سنن ترمذی/صحیح)۔بند
عقیدہ:
 ہر سال شب قدر میں نئے سال کے تقدیری امور کو لوح محفوظ سے متعین کیا جاتا ہے۔تشریح
شب قدر میں تقدیر کا طے ہونا:
یہ اللہ تعالیٰ کے علم کامل ہی کا حصہ ہے کہ ہر سال اللہ تعالیٰ اس تقدیر سے جو پہلے سے طے شدہ ہے ایک خاص رات میں اس سال میں مخلوقات سے متعلقہ پیش آنے والے مثلاً موت و حیات ، رزق و بارش وغیرہ امور کو علیحدہ کرتے ہیں اور ان میں سے جو امور فرشتوں کو سونپا جاناہو انہیں تفویض کرتے ہیں، یہ عمل اللہ کی جانب سے مقررہ ایک رات میں ہوتا ہے، اس رات کو قدر کی رات کہتے ہیں، قدر کی رات کو اس امتیاز کے علاوہ یہ مقام بھی حاصل ہے کہ وہ ایک بہت ہی بابرکت رات ہے، اس رات میں عبادت کا اہتمام کرنے سے بندہ کو ایک ہزار مہینوں کے برابر عبادت کا اجر و ثواب عطاء کیا جاتا ہے۔ فَلِلّٰہِ الْحَمْدُ وَ الْمِنَّۃُ۔دلائل
حٰمٓ (۱) وَالْكِتَابِ الْمُبِينِ (۲) إِنَّا أَنْزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةٍ مُبَارَکَةٍ إِنَّا کُنَّا مُنْذِرِينَ (۳) فِيهَا يُفْرَقُ کُلُّ أَمْرٍ حَكِيمٍ (۴) أَمْرًا مِنْ عِنْدِنَا إِنَّا کُنَّا مُرْسِلِينَ (۵)( الدخان)۔ إِنَّا أَنْزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ (۱)( القدر)۔ عن ابن عباس قال يكتب من أم الكتاب في ليلة القدر ما يكون في السنة من موت وحياة ورزق ومطر حتى الحجاج يقال يحج فلان ويحج فلان۔ (شفاء العلیل:۷/۱)۔بند
عقیدہ:
 رحم مادر میں پروان چڑھ رہے جنین کے بارے میں اس کی تقدیر کی تجدید کی جاتی ہے۔تشریح
رحم مادر میں جنین کےلئے پیدا ہونے سے پہلے چار چیزوں کا تعیّن:
یہ بھی اللہ تعالیٰ کے علم کامل کا حصہ ہے کہ جب کوئی نطفہ رحم مادر میں قرار پاجاتا ہے اور اس کی زندگی اللہ کی جانب سے مقرر ہو جاتی ہے، تو اللہ تعالیٰ اپنے علم سے اور لکھی ہوئی تقدیر سے رحم مادر سے متعلقہ فرشتے کے ذریعہ اس جنین کےدنیا میں آنے سے پہلے اس کی مدتِ عمر، اس کے رزق، اس کے عمل اور اس کے شقی یا سعید ہونے کو لکھوا دیتے ہیں، پھراس کے بعد اس میں روح پھونکی جاتی ہے، خواہ ایک شخص زندگی میں جو کچھ بھی عمل کرتا رہا ہو مرنے سے پہلے اس کی تقدیر میں جو کچھ لکھا ہے وہی چیز سبقت لے جاتی ہے، کوئی جنتی ہو تو وہ جنتی اعمال کرتا ہے اور اگر کوئی جہنمی ہو تو وہ جہنمی اعمال کرنے لگتا ہے۔دلائل
عَبْدِ اللہِ قال حَدَّثَنَا رَسُولُ اللہِ صَلَّى اللہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهْوَ الصَّادِقُ الْمَصْدُوقُ قَالَ « إِنَّ أَحَدَکُمْ يُجْمَعُ خَلْقُهٗ فِى بَطْنِ أُمِّهٖ أَرْبَعِينَ يَوْمًا ، ثُمَّ يَکُونُ عَلَقَةً مِثْلَ ذٰلِکَ ، ثُمَّ يَکُونُ مُضْغَةً مِثْلَ ذٰلِکَ ، ثُمَّ يَبْعَثُ اللہُ مَلَكًا ، فَيُؤْمَرُ بِأَرْبَعِ کَلِمَاتٍ ، وَيُقَالُ لَهٗ اكْتُبْ عَمَلَهٗ وَرِزْقَهٗ وَأَجَلَهٗ وَشَقِىٌّ أَوْ سَعِيدٌ . ثُمَّ يُنْفَخُ فِيهِ الرُّوحُ ، فَإِنَّ الرَّجُلَ مِنْکُمْ لَيَعْمَلُ حَتّٰى مَا يَکُونُ بَيْنَهٗ وَبَيْنَ الْجَنَّةِ إِلاَّ ذِرَاعٌ ، فَيَسْبِقُ عَلَيْهِ كِتَابُهٗ ، فَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ ، وَيَعْمَلُ حَتّٰى مَا يَکُونُ بَيْنَهٗ وَبَيْنَ النَّارِ إِلاَّ ذِرَاعٌ ، فَيَسْبِقُ عَلَيْهِ الْكِتَابُ ، فَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ » . (صحیح بخاری و مسلم)۔ عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ أَسِيدٍ يَبْلُغُ بِهِ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « يَدْخُلُ الْمَلَکُ عَلَى النُّطْفَةِ بَعْدَ مَا تَسْتَقِرُّ فِى الرَّحِمِ بِأَرْبَعِينَ أَوْ خَمْسَةٍ وَأَرْبَعِينَ لَيْلَةً فَيَقُولُ يَا رَبِّ أَشَقِىٌّ أَوْ سَعِيدٌ فَيُكْتَبَانِ فَيَقُولُ أَىْ رَبِّ أَذَکَرٌ أَوْ أُنْثٰى فَيُكْتَبَانِ وَيُكْتَبُ عَمَلُهٗ وَأَثَرُهٗ وَأَجَلُهٗ وَرِزْقُهٗ ثُمَّ تُطْوَى الصُّحُفُ فَلاَ يُزَادُ فِيهَا وَلاَ يُنْقَصُ ». (صحیح مسلم)۔بند
عقیدہ:
مخلوقات کی تقدیر اللہ کے علم کامل، اس کی مشیت اور اس کی قدرت کاملہ کی مظہر ہے۔تشریح
اللہ کا علم کامل ، مشیت اور قدرت کاملہ:
اس بات کو سمجھ لینا تقدیر سمجھنے کےلئے کافی ہے کہ تقدیر کا تعلق اللہ تعالیٰ کی چند خاص صفات سے ہے،یعنی اللہ کا علم کامل ، اس کی مشیت اور اس کی قدرت کاملہ، جو کچھ ہوتا ہے صرف اللہ کی مشیت اور اس کے اذن سے ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ نے جو کچھ کیا ہے اپنے کمال علم اور کمال قدرت سے کیا ہے، مخلوقات کا کوئی جزء ایسا نہیں ہے جو اللہ تعالیٰ کے علم کے دائرہ سے خارج ہو اور مخلوقات کا کوئی جزء ایسا نہیں ہے جو اس کی قدرت سے باہر ہو اور کوئی شئے ایسی نہیں ہے جو اس کی مشیت اور اذن کے بغیر وجود میں آ جائے۔ دلائل
وَخَلَقَ کُلَّ شَيْءٍ فَقَدَّرَهُ تَقْدِيرًا (۲)(الفرقان)۔ إِنَّا کُلَّ شَيْءٍ خَلَقْنَاهُ بِقَدَرٍ (۴۹)(القمر)۔ وَکَانَ أَمْرُ اللہِ قَدَرًا مَقْدُورًا(۳۸) (الأحزاب)۔ وَمَا يُعَمَّرُ مِنْ مُعَمَّرٍ وَلَا يُنْقَصُ مِنْ عُمُرِهٖ إِلَّا فِي كِتَابٍ (۱۱)( فاطر)۔ عن عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهٗ قَالَ: «اَللّٰہُمَّ بِعِلْمِکَ الْغَيْبَ وَقُدْرَتِکَ عَلَى الْخَلْقِ، أَحْيِنِي مَا کَانَتِ الْحَيَاةُ خَيْرًا لِي، وَتَوَفَّنِي إِذَا کَانَتِ الْوَفَاةُ خَيْرًا لِي» (رواہ النسائی)۔ يَمْحُوا اللہُ مَا يَشَآءُ وَيُثْبِتُ وَعِنْدَهُ أُمُّ الْكِتَابِ(۳۹) (الرعد)۔ وَلَمْ يَخْفَ عَلَيْهِ شَيْءٌ قَبْلَ أَنْ يَخْلُقَهُمْ، وَعَلِمَ مَا هُمْ عَامِلُونَ قَبْلَ أَنْ يَخْلُقَهُمْ۔ (العقیدۃ الطحاویۃ)۔ وَلَوْ رُدُّوا لَعَادُوا لِمَا نُهُوا عَنْهُ (۲۸)( الأنعام)۔ وَلَوْ عَلِمَ اللہُ فِيهِمْ خَيْرًا لَأَسْمَعَهُمْ وَلَوْ أَسْمَعَهُمْ لَتَوَلَّوْا وَهُمْ مُعْرِضُونَ (۲۳) (الأنفال)۔بند
عقیدہ:
  تکوینی حکم اور تشریعی حکم دونوں کو ماننا لازم ہے۔تشریح
تقدیری اور تکوینی حکم اور تشریعی اور دینی حکم:
اللہ تعالیٰ کے امر اور قضاء کی دو قسمیں ہیں: ایک تقدیری اور تکوینی امر و قضا اور دوسرا تشریعی اور دینی امر و حکم، پوری کائنات اللہ تعالیٰ کے تکوینی اور تقدیری امر اور حکم کی مخاطب ہے، جس میں تمام مخلوقات شامل ہیں، تمام جاندار، حیوانات، نباتات، جمادات، انسان، جن اور فرشتے سب اس میں داخل ہیں اور ان سب کےلئے اللہ تعالیٰ کی جانب سے ایک مخصوص پیمانہ اور مقررہ اندازہ مقدر ہے، اور سب اس مقررہ پیمانہ میں گھوم رہے ہیں اور اس کے تقدیری حکم کی تعمیل میں جُٹے ہوئے ہیں۔
اللہ تعالیٰ کا دوسرا امر و حکم تشریعی و دینی ہے، یہ خاص مکلّف بندوں یعنی انسانوں جنوں کےلئے ہے، اس میں بھی اللہ تعالیٰ کی جانب سے ایک تقدیر مقرر ہے، جس میں مکلّف بندوں کےلئے رہنمائی اور ہدایت ہے، اور اس میں ابتلاء و آزمائش کےلئے انہیں ارادہ اور اختیار کا دیا جانا، ان کے کسب اعمال کےلئے اللہ تعالیٰ کی جانب سے اعمال کی تخلیق شامل ہے۔
یہاں ہم پہلے اللہ تعالیٰ کے تکوینی اور تقدیر ی امر اور حکم کی کچھ تفصیل پیش کریں گے ، کیونکہ یہ مخلوقات کےلئے اللہ کی جانب سے مقررہ تقدیر کو کھولنے والا مضمون ہے اور پھر تشریعی و دینی امر و حکم اور اس سے متعلقہ تقدیری پہلو کو ذکر کریں گے۔دلائل
إِنَّ رَبَّکُمُ اللہُ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ يُغْشِي اللَّيْلَ النَّهَارَ يَطْلُبُهٗ حَثِيثًا وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ وَالنُّجُومَ مُسَخَّرَاتٍ بِأَمْرِهٖ أَلَا لَهُ الْخَلْقُ وَالْأَمْرُ تَبَارَکَ اللہُ رَبُّ الْعَالَمِينَ (۵۴) (الأعراف)۔ بفَلَمَّا قَضَيْنَا عَلَيْهِ الْمَوْتَ مَا دَلَهٗمْ عَلٰى مَوْتِهٖ إِلَّا دَابَّةُ الْأَرْضِ تَأْکُلُ مِنْسَأَتَهٗ فَلَمَّا خَرَّ تَبَيَّنَتِ الْجِنُّ أَنْ لَوْ کَانُوا يَعْلَمُونَ الْغَيْبَ مَا لَبِثُوا فِي الْعَذَابِ الْمُهِينِ (۱۴)( سبأ)۔ وَتَرَى الْمَلَائِکَةَ حَافِّينَ مِنْ حَوْلِ الْعَرْشِ يُسَبِّحُونَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَقُضِيَ بَيْنَهُمْ بِالْحَقِّ وَقِيلَ الْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِينَ (۷۵)( الزمر)۔ وَقَضٰى رَبُّکَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا إِمَّا يَبْلُغَنَّ عِنْدَکَ الْكِبَرَ أَحَدُهُمَا أَوْ كِلَاهُمَا فَلَا تَقُلْ لَهٗمَا أُفٍّ وَلَا تَنْهَرْهُمَا وَقُلْ لَهٗمَا قَوْلًا کَرِيمًا (۲۳)( الإسراء)۔ قَالَ رَبِّ احْکُمْ بِالْحَقِّ وَرَبُّنَا الرَّحْمٰنُ الْمُسْتَعَانُ عَلٰى مَا تَصِفُونَ (۱۱۲)( الأنبیاء)۔ ذٰلِکُمْ حُكْمُ اللہِ يَحْکُمُ بَيْنَکُمْ وَاللہُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ (۱۰)( الممتحنۃ)۔ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَوْفُوا بِالْعُقُودِ أُحِلَّتْ لَکُمْ بَهِيمَةُ الْأَنْعَامِ إِلَّا مَا يُتْلٰى عَلَيْکُمْ غَيْرَ مُحِلِّي الصَّيْدِ وَأَنْتُمْ حُرُمٌ إِنَّ اللہَ يَحْکُمُ مَا يُرِيدُ (۱)( المائدۃ)۔ قُلِ اللہُ أَعْلَمُ بِمَا لَبِثُوا لَهٗ غَيْبُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ أَبْصِرْ بِهٖ وَأَسْمِعْ مَا لَهٗمْ مِنْ دُونِهٖ مِنْ وَلِيٍّ وَلَا يُشْرِکُ فِي حُكْمِهٖ أَحَدًا (۲۶)( الکھف)۔ ذُو الْعَرْشِ الْمَجِيدُ (۱۵) فَعَّالٌ لِمَا يُرِيدُ (۱۶)( البروج)۔بند
عقیدہ:
 کائنات کی ہر چیز کو اللہ نے خاص اندازہ اور پیمانہ سے بنایا ہے اور اس کی تقدیر لکھ رکھی ہے۔تشریح
اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کو ایک خاص اندازہ میں پیدا کیا ہے:
اللہ تعالیٰ کی صفت الخالق کے ساتھ اہم ترین صفت ہے قدرت، یعنی اللہ تعالیٰ القدیر، القادر اور المقتدر ہے، اللہ تعالیٰ کے القدیر ہونے میں جہاں یہ شامل ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قدرت رکھتے ہیں، کوئی چیز اس کی قدرت سے باہر نہیں ہے، وہیں اس میں یہ بھی شامل ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کو ایک خاص پیمانہ اور مقررہ اندازہ میں پیدا کیا ہے۔
ہر چیز کی ساخت اللہ تعالیٰ نے ایک خاص اندازہ میں بنائی ہے اور وہ خاص اندازہ اتنا کامل و مکمل ہوتا ہے کہ نہ اس سے کچھ زیادہ کا پیمانہ صحیح اور درست ہو سکتا ہے نہ اس سے کم کا پیمانہ صحیح و درست ہو سکتا ہے۔
تخلیق اور تقدیر دونوں صفات لازم و ملزوم ہیں، اللہ تعالیٰ جس شئے کو بھی پیدا کرتے ہیں ایک خاص اندازہ اور پیمانہ میں پیدا کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ کی ہر تخلیق اس کاثبوت ہے، گویا ہر تخلیق میں اللہ کی تقدیر شامل ہے۔
پھر اللہ تعالیٰ جس بھی شئے کو ایک مخصوص پیمانہ میں پیدا کرتے ہیں، اس کےلئے اس کا صرف حکم کن ہی کافی ہے، اللہ مخصوص اندازہ اور مقررہ پیمانہ میں بناتے ہیں، اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اس کو کسی چیز کو کسی مقررہ پیمانہ میں پیدا کرنے کےلئے اور منصوبہ بندی کےلئے وقت نہیں لگتا وہ صرف کسی شئے کو ہونے کا حکم دیتا ہے اور اس کے علم اور قدرت کے کمال کا یہ حال ہے کہ وہ شئے فوراً اس کامل و مکمل پیمانہ میں وجود میں آ موجود ہوتی ہے۔
ہاں اللہ تعالیٰ بعض چیزوں کو مراحل میں بھی پیدا کرتا ہے، مثلاً رزق کو پیدا کرنے کےلئے اللہ تعالیٰ نے بارش، زمین کی اگانے، سورج سے پکانے وغیرہ کے مراحل رکھے ہیں، لیکن کسی چیز کی مراحل اور تدریج میں تخلیق سے اللہ کی حکمتیں وابستہ ہوتی ہیں، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کو اور زمین میں مختلف مخلوقات کو مراحل میں پیدا کیا ہے اور خاص طور سے ان کا ذکر کیا ہے، ان کی تفصیل آگے آرہی ہے۔دلائل
وَخَلَقَ کُلَّ شَيْءٍ فَقَدَّرَهُ تَقْدِيرًا (۲)الفرقان-إِنَّا کُلَّ شَيْءٍ خَلَقْنَاهُ بِقَدَرٍ (۴۹)(القمر)۔ وَکَانَ أَمْرُ اللہِ قَدَرًا مَقْدُورًا(۳۸) الأحزاب-الَّذِي خَلَقَ فَسَوّٰى(۲)وَالَّذِي قَدَّرَ فَهَدٰى(۳)( الأعلی)۔ وَمَا أَمْرُنَا إِلَّا وَاحِدَةٌ کَلَمْحٍ بِالْبَصَرِ ( ۵۰) القمر-مَا خَلْقُکُمْ وَلَا بَعْثُکُمْ إِلَّا کَنَفْسٍ وَاحِدَةٍ إِنَّ اللہَ سَمِيعٌ بَصِيرٌ (۲۸) لقمان-بَدِيعُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَإِذَا قَضٰى أَمْرًا فَإِنَّمَا يَقُولُ لَهٗ کُنْ فَيَکُونُ (۱۱۷) البقرۃ-إِنَّ رَبَّکُمُ اللہُ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ يُغْشِي اللَّيْلَ النَّهَارَ يَطْلُبُهٗ حَثِيثًا وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ وَالنُّجُومَ مُسَخَّرَاتٍ بِأَمْرِهٖ أَلَا لَهُ الْخَلْقُ وَالْأَمْرُ تَبَارَکَ اللہُ رَبُّ الْعَالَمِينَ (۵۴) الأعراف-بند
عقیدہ:
 زمان و مکان ہر دو کا خالق اللہ ہے، ہر دو کو اللہ نے خاص اندازہ اور خاص پیمانہ سے بنایا ہے۔تشریح
زمان و مکان کی تقدیر:
کائنات کی ہر شئے اللہ کے حکم کن کے ذریعہ سے پیدا ہوئی ہے اور اللہ کی مخلوق ہے، زمان و مکان بھی اللہ کی مخلوق ہے ، زمان ومکان یعنی کائنات کی ہر چار ابعادی    شئے اللہ کی جانب سے ایک خاص اندازہ اور پیمانہ میں بنائی گئی ہے، یہ پوری کائنات جس کی حیرت انگیز وسعتوں کی انتہاء صرف اللہ جانتا ہےمکان اور زمان پر مشتمل ہے اور اللہ کی تخلیق ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے مخصوص پیمانوں اور مقررہ اندازوں پر بنایا اور استوار کیا ہے۔
ہر سہ ابعاد ی شئے یعنی جس کو (۱) لمبائی، طول Length (۲) چوڑائی ،عرض Width (۳)اور اونچائی ،بلندیHeight کے پیمانوں سے ناپا جا سکے مکانیت کی تعریف میں آتی ہے، مکانیت کےلئے یہ سہ ابعاد خاص اندازہ سے بنائے گئے ہیں، اور اس کے ساتھ جڑا ہوا چوتھا عنصر یعنی زمانہ جو مکانیت کا لازمہ اور اضافیت ہے، یعنی مکان کے متحرک ہونے کا دورانیہ وہ بھی مکان کے ساتھ اللہ کی تخلیق ہے، زمانہ کاکوئی اپنا مطلق وجود نہیں ہے بلکہ مکانیت کی تحریک کا وقت زمانہ بنتا ہے، پوری سہ ابعادی کائنات جس میں کائنات کا ہر جزء اور ہر گوشہ شامل ہے اپنی پیدائش سے متحرک ہے اور وسیع پذیر ہورہا ہے ، اس سہ ابعادی کائنات کے آغاز سے آخر تک اس کی تحریک کا دورانیہ اس کی اجل اور اس کا زمان ہے۔
یہ چاروں ابعاد یعنی زمان و مکان کا کوئی وجود نہیں تھا، پھر ایک مخصوص مرحلہ پر اللہ کے حکم کن سے پیدا ہوئے ہیں، اللہ تعالیٰ نے انہیں خاص اندازہ اور مقررہ پیمانہ میں پیدا کیا ہے، اور ایک وقت آئے گا جب اس کو ختم کردیا جائے گا اور اپنے مقررہ وقت میں ختم ہونے میں نہ پہل ہوگی نہ دیری ہوگی، اس کے آغاز انجام اور درمیانی وقفہ سب میں اللہ کی تقدیر کار فرما ہے۔
زمین کے دن اور رات وقت کا ایک پیمانہ ہے؛ لیکن پوری کائنات کےلئے نہیں بلکہ صرف زمین کے لئے ہے، جو سورج کے طلوع ہونے اور غروب ہونے سے بنتا ہے، گویا سورج جو سہ ابعادی ہے زمین کے گرد اس کی تحریک کا ایک مخصوص دورانیہ دن اور رات بناتا ہے، کائنات کی وسعتوں میں دن و رات کے پیمانے ایسے ہی سیاروں اور کہکشاؤں کی تحریکات سے بڑے ہوتے جاتے ہیں، بعض دن ایسے بھی ہیں جو ہماری زمین کے دن کے حساب سے ایک سال کا ایک دن ہوتا ہے، اور مزید وسعتوں میں بعض دن ایسے ہیں جو ہماری زمین کے دن کے حساب سے پچاس ہزار سال کا صرف ایک دن ہوتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے مخلوقات کی تقدیر کو آسمان و زمین کی پیدائش سے پچاس ہزار سال پہلے لکھ دیا تھا تو وہ پچاس ہزار سال کسی کےلئے صرف ایک دن ہے، باقی اللہ کے لئے زمانیت کوئی چیز نہیں ہے، اللہ تعالیٰ کے لئے ہماری تخلیق اور سب کے مرنے کے بعد دوبارہ اٹھایا جانے ایک پلک جھپکنے کے دورانیہ جیسا ہے، زمان و مکان کی طرح اللہ کی مخلوق ہے اور ان دونوں کو اللہ تعالیٰ نے خاص اندازہ اور مقررہ پیمانہ سے پیدا کیا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دن بنایا ہے، جبکہ آسمان اور زمین مکان اور ان کی تحریک زمان ہے، پھر وہ ایام کونسے تھے جس میں اللہ نے آسمانوں اور زمین کو بنایا ہے، اس کو سمجھنے کےلئے اتنا سمجھ لینا کافی ہے کہ قرآن نے کہا ہے کہ جنت میں صبح و شام رزق ملے گا، حالانکہ صبح شام کا تعین سورج کی تحریک اور طلوع و غروب سے ہوتا ہے، جبکہ جنت میں سورج کی تحریک اور طلوع و غروب کا کوئی موقع نہیں ہے، اس کا مفہوم ایک مقررہ مقدار وقت میں انہیں مستقل رزق ملتا رہے گا۔
اسی طرح ایک مقررہ مقدار وقت میں اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کی تخلیق کی ہے، جس کو ایام اور چھ ایام سے تعبیر کیا ہے، یہ ایام ہمارے پیمانہ کے ایام بھی ہو سکتے ہیں، ہمارے پیمانہ سے ایک ہزار سال کے دورانیہ کے ایام بھی ہو سکتے ہیں، اور ہمارے پیمانہ سے پچاس ہزار سال کے دورانیہ کے ایام بھی ہو سکتے ہیں۔
آخری اور اہم بات وہ لمحہ جس میں کائنات حکم کن کے ذریعہ عدم سے وجود میں آئی اور ذوات اشیاء وجود پذیر ہوئے وہ بیک لمحہ اللہ کے حکم سے وجود پذیر ہوئے ہیں، ہاں ان کو اللہ نے اپنی حکمتوں اور مصلحتوں سے اپنی اپنی جگہ پر قرینہ سے چھ ایام میں لگایا ہے۔ ان سب میں اللہ کی تقدیر اور مخصوص پیمانہ اور مقررہ اندازہ کار فرما ہے اور ان کی ان پیمانوں اور اندازہ میں تخلیق ہی ان کی تقدیر ہے۔دلائل
مَا خَلْقُکُمْ وَلَا بَعْثُکُمْ إِلَّا کَنَفْسٍ وَاحِدَةٍ إِنَّ اللہَ سَمِيعٌ بَصِيرٌ (۲۸)( لقمان)۔ إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ لَآيَاتٍ لِأُولِي الْأَلْبَابِ (۱۹۰)( آل عمران)۔ الْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَجَعَلَ الظُّلُمَاتِ وَالنُّورَ ثُمَّ الَّذِينَ کَفَرُوا بِرَبِّهِمْ يَعْدِلُونَ (۱)( الأنعام)۔ إِنَّ رَبَّکُمُ اللہُ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ يُغْشِي اللَّيْلَ النَّهَارَ يَطْلُبُهٗ حَثِيثًا وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ وَالنُّجُومَ مُسَخَّرَاتٍ بِأَمْرِهٖ أَلَا لَهُ الْخَلْقُ وَالْأَمْرُ تَبَارَکَ اللہُ رَبُّ الْعَالَمِينَ (۵۴) (الأعراف)۔ إِنَّ عِدَّةَ الشُّهُورِ عِنْدَ اللہِ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا فِي كِتَابِ اللہِ يَوْمَ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ مِنْهَا أَرْبَعَةٌ حُرُمٌ ذٰلِکَ الدِّينُ الْقَيِّمُ فَلَا تَظْلِمُوا فِيهِنَّ أَنْفُسَکُمْ وَقَاتِلُوا الْمُشْرِكِينَ کَافَّةً کَمَا يُقَاتِلُونَکُمْ کَافَّةً وَاعْلَمُوا أَنَّ اللہَ مَعَ الْمُتَّقِينَ (۳۶) (التوبۃ)۔ إِنَّ رَبَّکُمُ اللہُ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ يُدَبِّرُ الْأَمْرَ مَا مِنْ شَفِيعٍ إِلَّا مِنْ بَعْدِ إِذْنِهٖ ذٰلِکُمُ اللہُ رَبُّکُمْ فَاعْبُدُوهُ أَفَلَا تَذَکَرُونَ (۳) (یونس)۔ هُوَ الَّذِي جَعَلَ الشَّمْسَ ضِيَآءً وَالْقَمَرَ نُورًا وَقَدَّرَهُ مَنَازِلَ لِتَعْلَمُوا عَدَدَ السِّنِينَ وَالْحِسَابَ مَا خَلَقَ اللہُ ذٰلِکَ إِلَّا بِالْحَقِّ يُفَصِّلُ الْآيَاتِ لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ (۵) إِنَّ فِي اخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ وَمَا خَلَقَ اللہُ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ لَآيَاتٍ لِقَوْمٍ يَتَّقُونَ (۶) (یونس)۔ وَهُوَ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ وَکَانَ عَرْشُهٗ عَلَى الْمَاءِ لِيَبْلُوَکُمْ أَيُّکُمْ أَحْسَنُ عَمَلًا وَلَئِنْ قُلْتَ إِنَّکُمْ مَبْعُوثُونَ مِنْ بَعْدِ الْمَوْتِ لَيَقُولَنَّ الَّذِينَ کَفَرُوا إِنْ هٰذَا إِلَّا سِحْرٌ مُبِينٌ (۷)( ھود)۔ أَوَلَمْ يَرَ الَّذِينَ کَفَرُوا أَنَّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ کَانَتَا رَتْقًا فَفَتَقْنَاهُمَا وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَاءِ کُلَّ شَيْءٍ حَيٍّ أَفَلَا يُؤْمِنُونَ (۳۰) وَجَعَلْنَا فِي الْأَرْضِ رَوَاسِيَ أَنْ تَمِيدَ بِهِمْ وَجَعَلْنَا فِيهَا فِجَاجًا سُبُلًا لَعَلَهٗمْ يَهْتَدُونَ (۳۱) وَجَعَلْنَا السَّمَآءَ سَقْفًا مَحْفُوظًا وَهُمْ عَنْ آيَاتِهَا مُعْرِضُونَ (۳۲) وَهُوَ الَّذِي خَلَقَ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ کُلٌّ فِي فَلَكٍ يَسْبَحُونَ (۳۳)( الأنبیاء)۔ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ الرَّحْمٰنُ فَاسْأَلْ بِهٖ خَبِيرًا (۵۹)( الفرقان)۔ اللہُ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ مَا لَکُمْ مِنْ دُونِهٖ مِنْ وَلِيٍّ وَلَا شَفِيعٍ أَفَلَا تَتَذَکَرُونَ (۴) يُدَبِّرُ الْأَمْرَ مِنَ السَّمَآءِ إِلَى الْأَرْضِ ثُمَّ يَعْرُجُ إِلَيْهِ فِي يَوْمٍ کَانَ مِقْدَارُهٗ أَلْفَ سَنَةٍ مِمَّا تَعُدُّونَ (۵) ( السجدۃ)۔ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ بِالْحَقِّ يُکَوِّرُ اللَّيْلَ عَلَى النَّهَارِ وَيُکَوِّرُ النَّهَارَ عَلَى اللَّيْلِ وَسَخَّرَ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ کُلٌّ يَجْرِي لِأَجَلٍ مُسَمًّى أَلَا هُوَ الْعَزِيزُ الْغَفَّارُ (۵)( الزمر)۔ قُلْ أَئِنَّکُمْ لَتَكْفُرُونَ بِالَّذِي خَلَقَ الْأَرْضَ فِي يَوْمَيْنِ وَتَجْعَلُونَ لَهٗ أَنْدَادًا ذٰلِکَ رَبُّ الْعَالَمِينَ (۹) وَجَعَلَ فِيهَا رَوَاسِيَ مِنْ فَوْقِهَا وَبَارَکَ فِيهَا وَقَدَّرَ فِيهَا أَقْوَاتَهَا فِي أَرْبَعَةِ أَيَّامٍ سَوَاءً لِلسَّائِلِينَ (۱۰) ثُمَّ اسْتَوٰى إِلَى السَّمَآءِ وَهِيَ دُخَانٌ فَقَالَ لَهَا وَلِلْأَرْضِ ائْتِيَا طَوْعًا أَوْ کَرْهًا قَالَتَا أَتَيْنَا طَائِعِينَ (۱۱)(فصلت)۔ هُوَ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ يَعْلَمُ مَا يَلِجُ فِي الْأَرْضِ وَمَا يَخْرُجُ مِنْهَا وَمَا يَنْزِلُ مِنَ السَّمَآءِ وَمَا يَعْرُجُ فِيهَا وَهُوَ مَعَکُمْ أَيْنَ مَا کُنْتُمْ وَاللہُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ (۴)( الحدید)۔ واليوم : من طلوع الشمس إلى غروبها فإن لم يكن شمس فلا يوم قاله القشيري (القرطبی)۔أن المراد أنه تعالى خلق السموات والأرض في مقدار ستة أيام وهو كقوله : { لَهٗمْ رِزْقُهُمْ فِيهَا بُكْرَةً وَعَشِيّاً } [ مريم : ۶۲ ] والمراد على مقدار البكرة والعشي في الدنيا لأنه لا ليل ثم ولا نهار . (الرازی)۔بند
عقیدہ:
 افلاک اور ستاروں و سیاروں کو اللہ نے خاص اندازہ اور پیمانہ سے پیدا کیا ہے اور ان میں بھی اللہ کی جانب سے مقررہ تقدیر کار فرما ہے۔تشریح
افلاک اور سیاروں کی تخلیق اور ان کی توسیع میں اللہ کا پیمانہ:
خلاء اور افلاک میں موجود سورج، چاند، زمین، اور دیگر ستاروں اور سیاروں کی ساخت اور ان کا قطر اللہ تعالیٰ نے ایک خاص اندازہ سے بنایا ہے، ان میں چھوٹے بڑے ستارے اور سیارے ہیں، جن کے درمیان اللہ تعالیٰ نے فاصلہ ایک خاص اندازہ سے رکھا ہے، اور ان کے درمیان ایک خاص قسم کی کشش رکھی ہے، ایک ستارہ و سیارہ دوسرے ستاروں اور سیاروں کو اپنی کشش سے اپنی جانب کھینچتا ہے، جبکہ ایک دوسرا ستارہ اس کو اپنی جگہ پر باقی رکھنے کےلئے دوسری جانب سے اپنی کشش سے کھینچ رہا ہے، اگر یہ دوسرے ستارے کشش کے تناسب کو باقی رکھنے کےلئے نہ ہوتے تو یہ ستارے آپس میں ایک دوسرے سے ٹکرا کر ختم ہو جاتے، ان میں کشش کا تناسب اس ذریعہ سے بھی برقرار رکھا گیا ہے کہ کچھ کا حجم چھوٹا کچھ کا بڑا اور کچھ کا اتنا بڑا ہے کہ ان کا بیان تک الفاظ میں کبھی اس حقیقت کو ظاہر نہیں کر سکتا جیسے کہ وہ بڑے ہیں۔
زمین کا رقبہ سات ہزار مربع میل سے زائد ہے، اور سورج زمین سے ۱۰۳ گنا بڑا ہے، اگر زمین اپنی کشش کھودے تو وہ سورج کی جانب تیزی سے کھینچ کر جائے اور ایک تنکہ کی طرح اس سے لگ جائے، جبکہ خلاء میں بے شمار تعداد میں ستارے اللہ تعالیٰ نے سورج سے لاکھوں گنا بڑے بنائے ہیں۔ یہ ستارے آپس میں ایک خاص قسم کی کشش سے مربوط کئے گئے ہیں، اور انھیں ستاروں اور سیاروں سے کہکشائیں وجود میں آئیں، اب تک دریافت شدہ ایسی کہکشائیس اس کائنات میں تقریباً ۳۰۰؍بلین ہیں، جن میں سے ہر کہکشاں میں تقریباً ۲۵۰؍بلین سیارے موجود ہیں، جن میں جیسا کہ اوپر کہا گیا لا تعداد ستارے ہمارے سورج سے ہزاروں اور لاکھوں گنا بڑے ہیں، یہ فضا میں چکر لگا رہے ہیں، اللہ تعالیٰ نے اپنے علم و قدرت سے انہیں ایک ایسے نظام میں مربوط کر رکھا ہے کہ یہ سیارے ایسی ناقابل یقین تعداد میں ہونے کے باوجود آپس میں ٹکراتے نہیں ہیں، ربط اور کشش سے ٹوٹ کر بسیط خلاء میں کہیں گِر نہیں جاتے،ان سب کے درمیان ایک خاص فاصلہ کا پیمانہ مقرر ہے کہ اگر ان دوریوں میں ذرا بھی کمی ہو تو آپس میں ٹکرا جائیں، یا ان کے فاصلہ میں زیادتی ہو جائے تو یہ خلاء میں بکھر جائیں، یہ اپنے درمیان لاکھوں کروڑوں نوری سالوں کا فاصلہ رکھتے ہوئے ایک دوسرے کی کشش کے رابطہ میں لاکھوں سال سے مربوط ہیں، اور ایک دوسرے کو بکھرنے نہیں دیتے ۔
پھر اللہ کی قدرت اور اندازہ کا ایک حیرت انگیز مظہر یہ ہے کہ یہ لاکھوں کروڑوں سیارے اس کشش کو برقرار رکھے ہوئے ہیں اور ان میں آپس میں مسلسل وسعت ہورہی ہے، یعنی ان کے آپس کا درمیانی فاصلہ ہر آن اور ہر لمحہ دور ہو کر پھیل رہا ہے، اگر یہ پھیلاؤ رک جائے یا تیز ہو جائے تو بھی یہ نظام کائنات درہم برہم ہو جائے، یہ پھیلاؤ ان کی تخلیق کے آغاز سے ہو رہا ہے اور مستقل اور مسلسل بڑھتا جا رہا ہے، یہ پھیلاؤ اس تناسب اور موزونیت اور Fine Tuning کے ساتھ ہورہا کہ اس میں اگر دسواں یا سواں یا ہزارواں یا لاکھواں نہیں بلکہ کروڑواں حصہ بھی تیزی یا سست رفتاری آ جائے تو بھی یہ عظیم کائنات سیاروں کی آپسی کشش ٹوٹنے سے تباہ و برباد ہوجائے گی، گویا یہ پھیلاؤ ایک پل صراط پر ہورہا ہے، لیکن پھر بھی یہ سب کچھ ١٥؍ بلین برس سے مستحکم طورپر جاری ہے۔
یہ اللہ کا مقرر کردہ پیمانہ اور اندازہ ہے افلاک کی تخلیق، اور ان کی بقاء اور ان کی توسیع میں یہ اللہ کی تقدیر ہے جو ازل سے اللہ کے علم میں ہے اور اس کی مشیت اور قدرت سے وجود میں آئی ہے۔          دلائل
إِنَّا کُلَّ شَيْءٍ خَلَقْنَاهُ بِقَدَرٍ (۴۹)( القمر)۔ فَالِقُ الْإِصْبَاحِ وَجَعَلَ اللَّيْلَ سَکَنًا وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ حُسْبَانًا ذٰلِکَ تَقْدِيرُ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ (۹۶) (الأنعام)۔ فَقَضَاهُنَّ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ فِي يَوْمَيْنِ وَأَوْحَى فِي کُلِّ سَمَاءٍ أَمْرَهَا وَزَيَّنَّا السَّمَآءَ الدُّنْيَا بِمَصَابِيحَ وَحِفْظًا ذٰلِکَ تَقْدِيرُ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ (۱۲)( فصلت)۔ وَالشَّمْسُ تَجْرِي لِمُسْتَقَرٍّ لَهَا ذٰلِکَ تَقْدِيرُ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ (۳۸) وَالْقَمَرَ قَدَّرْنَاهُ مَنَازِلَ حَتّٰى عَادَ کَالْعُرْجُونِ الْقَدِيمِ (۳۹) لَا الشَّمْسُ يَنْبَغِي لَهَا أَنْ تُدْرِکَ الْقَمَرَ وَلَا اللَّيْلُ سَابِقُ النَّهَارِ وَکُلٌّ فِي فَلَكٍ يَسْبَحُونَ (۴۰)( یس)۔ وَالسَّمَآءَ بَنَيْنَاهَا بِأَيْدٍ وَإِنَّا لَمُوسِعُونَ (۴۷) وَالْأَرْضَ فَرَشْنَاهَا فَنِعْمَ الْمَاهِدُونَ (۴۸) (الذاریات)۔ وَآيَةٌ لَهٗمُ اللَّيْلُ نَسْلَخُ مِنْهُ النَّهَارَ فَإِذَا هُمْ مُظْلِمُونَ (۳۷) وَالشَّمْسُ تَجْرِي لِمُسْتَقَرٍّ لَهَا ذٰلِکَ تَقْدِيرُ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ (۳۸) وَالْقَمَرَ قَدَّرْنَاهُ مَنَازِلَ حَتّٰى عَادَ کَالْعُرْجُونِ الْقَدِيمِ (۳۹) لَا الشَّمْسُ يَنْبَغِي لَهَا أَنْ تُدْرِکَ الْقَمَرَ وَلَا اللَّيْلُ سَابِقُ النَّهَارِ وَکُلٌّ فِي فَلَكٍ يَسْبَحُونَ (۴۰)(یس)۔ نإِنَّ اللہَ يُمْسِکُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ أَنْ تَزُولَا وَلَئِنْ زَالَتَا إِنْ أَمْسَکَهُمَا مِنْ أَحَدٍ مِنْ بَعْدِهٖ إِنَّهٗ کَانَ حَلِيمًا غَفُورًا (۴۱) (فاطر)۔بند
عقیدہ:
زمین اور اس میں موجود ہر شئے کو اللہ تعالیٰ نے خاص پیمانہ اور مقررہ اندازہ سے بنایا ہے، زمین کی ہر شئے کے بارے میں اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ تقدیر کا ر فرما ہے۔تشریح
تخلیق زمین اور اس کے متعلقات کی ساخت میں پیمانہ:
انھیں کہکشاؤں اور سیاروں کا ایک حصہ زمین بھی ہے، جو حیوانات کا گھر ہے یعنی انسانوں اور جنوں کا بھی، اللہ تعالیٰ نے اسی زمین میں انسان کو اپنا خلیفہ بنانا طے کیا اور اسی زمین کی جانب انسانوں اور جنوں کو ایک مخصوص وقت میں اتارا کہ ایک مقررہ وقت تک انہیں اس زمین میں رہنا ہے، جس وقت اللہ تعالیٰ نے انہیں زمین پر اتارا اور جس وقت تک ان کو زمین میں رہنا ہے سب پہلے سے اللہ کی جانب سے مقدر اور طے ہے۔
اس زمین کو اللہ تعالیٰ نے ایک خاص اندازہ سے بنایا ہے، جس میں ہر وہ شئے انتہائی تنظیم و ترتیب اور تناسب و موزونیت کے ساتھ خاص مقدار اور اندازہ میں جمع ہے جو حیاتِ حیوانات اور ان کی بقاء کےلئے ضروری ہو، زبانِ حال سے مخلوقات نے جو کچھ چاہا ان کےلئے اس میں مہیا کردیا گیا، اگر انسان اللہ کی ان نعمتوں کو گننا چاہے تو ان کا شمار نہیں کر سکتا جس کا اندازہ ذیل کی تفصیلات سے لگا سکتا ہے، جو اللہ کی نعمتوں کی صرف ایک معمولی سی جھلک ہے۔دلائل
هُوَ الَّذِي خَلَقَ لَکُمْ مَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا ثُمَّ اسْتَوٰى إِلَى السَّمَآءِ فَسَوَّاهُنَّ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ وَهُوَ بِکُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ (۲۹) (البقرۃ)۔ وَإِذْ قَالَ رَبُّکَ لِلْمَلَائِکَةِ إِنِّي جَاعِلٌ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةً قَالُوا أَتَجْعَلُ فِيهَا مَنْ يُفْسِدُ فِيهَا وَيَسْفِکُ الدِّمَاءَ وَنَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِکَ وَنُقَدِّسُ لَکَ قَالَ إِنِّي أَعْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُونَ (۳۰) (البقرۃ)۔ فَأَزَلَهٗمَا الشَّيْطَانُ عَنْهَا فَأَخْرَجَهُمَا مِمَّا کَانَا فِيهِ وَقُلْنَا اهْبِطُوا بَعْضُکُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ وَلَکُمْ فِي الْأَرْضِ مُسْتَقَرٌّ وَمَتَاعٌ إِلٰى حِينٍ (۳۶) (البقرۃ)۔ وَآتَاکُمْ مِنْ کُلِّ مَا سَأَلْتُمُوهُ وَإِنْ تَعُدُّوا نِعْمَتَ اللہِ لَا تُحْصُوهَا إِنَّ الْإِنْسَانَ لَظَلُومٌ کَفَّارٌ (۳۴) (ابراھیم) ۔بند
عقیدہ:
  پانی کو اللہ تعالیٰ نے ایک خاص اندازہ اور مقررہ پیمانہ میں پیدا کیا ہے، اس میں بھی اللہ کی تقدیر کار فرما ہے۔تشریح
سر چشمہ حیات پانی کا پیمانہ:
اللہ تعالیٰ نے حیات کی بنیاد پانی کو بنایا اور اس پانی کو اس زمین پر نہ صرف پیدا کیا بلکہ اس کے ذخیرے اس میں کردئے، حیات کی یہ بنیاد کسی دوسرے سیارے میں نہیں ہے، پھر ذخیرہ آب کا کرۂ ارض پر ایساانتظام فرمایا کہ یہ یہاں ختم ہی نہیں ہوتا۔
پانی اپنے مرکبات سے جس طریقہ سے بنتا ہے اس کا ایک خاص پیمانہ مقرر ہے، اگر اس کے مرکبات میں نہایت درجہ کا تغیر ہو جائے کچھ کمی یا زیادتی ہو جائے تو پانی کبھی پانی نہیں بن سکتا ہے، یہ خاص پیمانہ اللہ کا مقرر کردہ ہے۔
پھر جتنا پانی بننا تھا بن چکا، اب پانی کی طبیعت بدل کر جب ہواؤں کی شکل اختیار کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ نے اسی کو پھر پانی میں بدلنے کا نظام بنایا، اور اللہ تعالی نے زمین پر بارش کا نظام جاری فرمایا، یہ سیارے جو خلاء میں گھومتے رہتے ہیں، ان کو اللہ نے ایک نظم میں اس زمین سے متعلق کردیا، چنانچہ خود یہ زمین اور اس کے اطراف کے سیارے جیسے سورج چاند وغیرہ آپس میں ایک دوسرے کے گرد گھومتے ہیں، انہیں کے گھومنے سے موسم کی تبدیلی ہوتی ہے جس سےایک مخصوص اور اللہ کی جانب سے مقررہ وقت میں زمین پر گرمی رہتی ہے، ایک مخصوص اور اللہ کی جانب سے مقررہ وقت میں سردی رہتی ہے، ایک مخصوص اور اللہ کی جانب سے مقررہ وقت میں بارش ہوتی ہے اور ایک مخصوص اور اللہ کی جانب سے مقررہ وقت میں بہار کا موسم رہتا ہے، یہ سب امور ہزاروں سال سے جاری ہیں، یہ اللہ کی جانب سے مقررہ نظام ہے، اور اللہ کی تقدیر کا حصہ ہےکہ اللہ نے ہر چیز کو ایک خاص اندازہ سے پیدا کیا ہے اور ایک خاص اندازہ سے اس کو چلا رہا ہے، جس میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں آتی۔دلائل
أَوَلَمْ يَرَ الَّذِينَ کَفَرُوا أَنَّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ کَانَتَا رَتْقًا فَفَتَقْنَاهُمَا وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَاءِ کُلَّ شَيْءٍ حَيٍّ أَفَلَا يُؤْمِنُونَ (۳۰) (الأنبیاء)۔ أَمْ جَعَلُوا لِلّٰہِ شُرَکَاءَ خَلَقُوا کَخَلْقِهِ فَتَشَابَهَ الْخَلْقُ عَلَيْهِمْ قُلِ اللہُ خَالِقُ کُلِّ شَيْءٍ وَهُوَ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ (۱۶) أَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَاءً فَسَالَتْ أَوْدِيَةٌ بِقَدَرِهَا فَاحْتَمَلَ السَّيْلُ زَبَدًا رَابِيًا وَمِمَّا يُوقِدُونَ عَلَيْهِ فِي النَّارِ ابْتِغَاءَ حِلْيَةٍ أَوْ مَتَاعٍ زَبَدٌ مِثْلُهٗ کَذٰلِکَ يَضْرِبُ اللہُ الْحَقَّ وَالْبَاطِلَ فَأَمَّا الزَّبَدُ فَيَذْهَبُ جُفَاءً وَأَمَّا مَا يَنْفَعُ النَّاسَ فَيَمْکُثُ فِي الْأَرْضِ کَذٰلِکَ يَضْرِبُ اللہُ الْأَمْثَالَ (۱۷)( الرعد)۔ وَأَرْسَلْنَا الرِّيَاحَ لَوَاقِحَ فَأَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَآءِ مَاءً فَأَسْقَيْنَاکُمُوهُ وَمَا أَنْتُمْ لَهٗ بِخَازِنِينَ (۲۲)( الحجر)۔ هُوَ الَّذِي أَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَاءً لَکُمْ مِنْهُ شَرَابٌ وَمِنْهُ شَجَرٌ فِيهِ تُسِيمُونَ (۱۰)( النحل)۔ وَأَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَآءِ مَاءً بِقَدَرٍ فَأَسْکَنَّاهُ فِي الْأَرْضِ وَإِنَّا عَلٰى ذَهَابٍ بِهٖ لَقَادِرُونَ (۱۸) (المؤمنون)۔ أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللہَ أَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَاءً فَسَلَکَهُ يَنَابِيعَ فِي الْأَرْضِ ثُمَّ يُخْرِجُ بِهٖ زَرْعًا مُخْتَلِفًا أَلْوَانُهٗ ثُمَّ يَهِيجُ فَتَرَاهُ مُصْفَرًّا ثُمَّ يَجْعَلُهٗ حُطَامًا إِنَّ فِي ذٰلِکَ لَذِكْرَى لِأُولِي الْأَلْبَابِ (۲۱)( الزمر)۔ وَالَّذِي نَزَّلَ مِنَ السَّمَآءِ مَاءً بِقَدَرٍ فَأَنْشَرْنَا بِهٖ بَلْدَةً مَيْتًا کَذٰلِکَ تُخْرَجُونَ (۱۱)( الزخرف)۔ وَنَزَّلْنَا مِنَ السَّمَآءِ مَاءً مُبَارَكًا فَأَنْبَتْنَا بِهٖ جَنَّاتٍ وَحَبَّ الْحَصِيدِ (۹)( ق)۔بند
عقیدہ:
زمین میں اللہ نے رزق کو ایک خاص اندازہ میں پیداکیا ہے اور مقررہ پیمانہ میں نازل کرتا رہتا ہے، اس میں بھی اللہ تعالیٰ کی جانب سے مقرر کردہ تقدیر کار فرما ہے۔تشریح
تخلیق رزق کا پیمانہ:
اللہ تعالیٰ نے اسی زمین کو حیوانات کے رزق کا ذریعہ بنایا، زمین پر بارش ہوتی ہے، اور زمین رزق کے خزانے اگلتی ہے، زمین سے جو پیدا وار اگتی ہے اس کو پکانے کےلئے پھر وہی سیاروں کا زمین کے گرد گھومنے کا نظام ذریعہ بنتا ہے، سورج کی گرمی زمین سے اگنے والی کھیتیوں اور درختوں پر ظاہر ہونے والے پھلوں کو پکاتی ہے ، یہ نظام اللہ نے ایک خاص اندازہ اور پیمانہ سے مقرر کیا ہے، بارش کی مقررہ مقدار کی کثرت سے کھیتی تباہ ہوجاتی ہے،اور سورج کی گرمی کی کمی یا حد سے زیادہ گرمی فصلوں کو خراب کردیتی ہے، یہ سب اسباب ایک مخصوص پیمانہ میں رزق کی پیداوار دینے میں مصروف ہیں ، یہ اللہ کی جانب سے مقرر اور اس کی تقدیر کا حصہ ہے۔ کبھی کبھی اللہ تعالیٰ اس معمول کے نظام میں اپنی آیات دکھانے، یا غفلت سے بیدار کرنے کےلئے فرق بھی کردیتا ہے، جس کے بعد بندہ چار و نا چار اس کے آگے گڑگڑانے اور اس کے سامنے اپنے فقر کا اظہار کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں، لیکن جب یہ اسباب اپنے معمول کے مطابق کام کرتے ہیں تو بہت کم شکر گذاری کرتے ہیں، اکثر ان نعمتوں اور رحمتوں سے بالکل غفلت میں پڑے رہتے ہیں۔دلائل
الَّذِي جَعَلَ لَکُمُ الْأَرْضَ فِرَاشًا وَالسَّمَآءَ بِنَاءً وَأَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَاءً فَأَخْرَجَ بِهٖ مِنَ الثَّمَرَاتِ رِزْقًا لَکُمْ فَلَا تَجْعَلُوا لِلّٰہِ أَنْدَادًا وَأَنْتُمْ تَعْلَمُونَ (۲۲)( البقرۃ)۔ إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ وَالْفُلْكِ الَّتِي تَجْرِي فِي الْبَحْرِ بِمَا يَنْفَعُ النَّاسَ وَمَا أَنْزَلَ اللہُ مِنَ السَّمَآءِ مِنْ مَاءٍ فَأَحْيَا بِهِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا وَبَثَّ فِيهَا مِنْ کُلِّ دَابَّةٍ وَتَصْرِيفِ الرِّيَاحِ وَالسَّحَابِ الْمُسَخَّرِ بَيْنَ السَّمَآءِ وَالْأَرْضِ لَآيَاتٍ لِقَوْمٍ يَعْقِلُونَ (۱۶۴) (البقرۃ)۔ وَهُوَ الَّذِي أَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَاءً فَأَخْرَجْنَا بِهٖ نَبَاتَ کُلِّ شَيْءٍ فَأَخْرَجْنَا مِنْهُ خَضِرًا نُخْرِجُ مِنْهُ حَبًّا مُتَرَاكِبًا وَمِنَ النَّخْلِ مِنْ طَلْعِهَا قِنْوَانٌ دَانِيَةٌ وَجَنَّاتٍ مِنْ أَعْنَابٍ وَالزَّيْتُونَ وَالرُّمَّانَ مُشْتَبِهًا وَغَيْرَ مُتَشَابِهٍ انْظُرُوا إِلٰى ثَمَرِهٖ إِذَا أَثْمَرَ وَيَنْعِهِ إِنَّ فِي ذٰلِکُمْ لَآيَاتٍ لِقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ (۹۹)( الأنعام)۔ هُوَ الَّذِي أَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَاءً لَکُمْ مِنْهُ شَرَابٌ وَمِنْهُ شَجَرٌ فِيهِ تُسِيمُونَ (۱۰) يُنْبِتُ لَکُمْ بِهِ الزَّرْعَ وَالزَّيْتُونَ وَالنَّخِيلَ وَالْأَعْنَابَ وَمِنْ کُلِّ الثَّمَرَاتِ إِنَّ فِي ذٰلِکَ لَآيَةً لِقَوْمٍ يَتَفَکَرُونَ (۱۱) (النحل)۔ وَاللہُ أَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَاءً فَأَحْيَا بِهِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا إِنَّ فِي ذٰلِکَ لَآيَةً لِقَوْمٍ يَسْمَعُونَ (۶۵) وَإِنَّ لَکُمْ فِي الْأَنْعَامِ لَعِبْرَةً نُسْقِيکُمْ مِمَّا فِي بُطُونِهٖ مِنْ بَيْنِ فَرْثٍ وَدَمٍ لَبَنًا خَالِصًا سَائِغًا لِلشَّارِبِينَ (۶۶) وَمِنْ ثَمَرَاتِ النَّخِيلِ وَالْأَعْنَابِ تَتَّخِذُونَ مِنْهُ سَکَرًا وَرِزْقًا حَسَنًا إِنَّ فِي ذٰلِکَ لَآيَةً لِقَوْمٍ يَعْقِلُونَ (۶۷) وَأَوْحَى رَبُّکَ إِلَى النَّحْلِ أَنِ اتَّخِذِي مِنَ الْجِبَالِ بُيُوتًا وَمِنَ الشَّجَرِ وَمِمَّا يَعْرِشُونَ (۶۸) ثُمَّ کُلِي مِنْ کُلِّ الثَّمَرَاتِ فَاسْلُكِي سُبُلَ رَبِّكِ ذُلُلًا يَخْرُجُ مِنْ بُطُونِهَا شَرَابٌ مُخْتَلِفٌ أَلْوَانُهٗ فِيهِ شِفَاءٌ لِلنَّاسِ إِنَّ فِي ذٰلِکَ لَآيَةً لِقَوْمٍ يَتَفَکَرُونَ (۶۹)( النحل)۔ الَّذِي جَعَلَ لَکُمُ الْأَرْضَ مَهْدًا وَسَلَکَ لَکُمْ فِيهَا سُبُلًا وَأَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَاءً فَأَخْرَجْنَا بِهٖ أَزْوَاجًا مِنْ نَبَاتٍ شَتَّى (۵۳) کُلُوا وَارْعَوْا أَنْعَامَکُمْ إِنَّ فِي ذٰلِکَ لَآيَاتٍ لِأُولِي النُّهَى (۵۴)(طہ)۔ وَأَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَآءِ مَاءً بِقَدَرٍ فَأَسْکَنَّاهُ فِي الْأَرْضِ وَإِنَّا عَلٰى ذَهَابٍ بِهٖ لَقَادِرُونَ (۱۸) فَأَنْشَأْنَا لَکُمْ بِهٖ جَنَّاتٍ مِنْ نَخِيلٍ وَأَعْنَابٍ لَکُمْ فِيهَا فَوَاكِهُ کَثِيرَةٌ وَمِنْهَا تَأْکُلُونَ (۱۹) وَشَجَرَةً تَخْرُجُ مِنْ طُورِ سَيْنَاءَ تَنْبُتُ بِالدُّهْنِ وَصِبْغٍ لِلْآكِلِينَ (۲۰) وَإِنَّ لَکُمْ فِي الْأَنْعَامِ لَعِبْرَةً نُسْقِيکُمْ مِمَّا فِي بُطُونِهَا وَلَکُمْ فِيهَا مَنَافِعُ کَثِيرَةٌ وَمِنْهَا تَأْکُلُونَ (۲۱)( المؤمنون)۔ وَلَوْ بَسَطَ اللہُ الرِّزْقَ لِعِبَادِهٖ لَبَغَوْا فِي الْأَرْضِ وَلٰكِنْ يُنَزِّلُ بِقَدَرٍ مَا يَشَآءُ إِنَّهٗ بِعِبَادِهٖ خَبِيرٌ بَصِيرٌ (۲۷) (الشُّوریٰ)۔بند
عقیدہ:
زمین کو ستاروں اور افلاک کے نقصانات اور حادثات سے بچانے کےلئے اللہ تعالیٰ نے اس پر ایک محفوظ چھت کو بنایا ہے، اس میں بھی اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ تقدیر کار فرما ہے۔تشریح
سقف محفوظ فضائی پیمانہ:
فضائے بسیط میں سیارے اپنی نہایت درجہ مہلک تپش چھوڑتے ہیں، اسی طرح ان میں سے بہت سوں سے غیر معمولی روشنی کا اخراج ہوتا ہے، بہت سے سخت پرفیلی ٹھنڈک چھوڑتے ہیں، اور ان میں سے بہت سوں سے مہلک شعاعیں نکلتی ہیں، اگر یہ سب یا ان میں سے کوئی ایک بھی راست زمین تک پہنچ جائے تو زمین پر زندگی باقی نہ رہے، ان سے محفوظ رکھنے کےلئے اللہ تعالیٰ نے زمین کے گرد ایک خاص محفوظ چھت کو بنایا ہے، جس سے ان مادوں کے مہلک اثرات زمین تک نہیں پہنچ پاتے، لیکن ساتھ ہی حیرت انگیز طور پر ان تمام مادوں کے ضروری اجزاء جو زندگی کی بقاء کےلئے از حد لازمی ہیں چھن چھن کر زمین پر آتے ہیں اور ان کے مہلک اثرات اس چھت کے پرے علیحدہ کردئے جاتے ہیں، یہ اللہ تعالیٰ کی تخلیق میں اس کی تقدیر کا حصہ ہے۔دلائل
وَجَعَلْنَا السَّمَآءَ سَقْفًا مَحْفُوظًا وَهُمْ عَنْ آيَاتِهَا مُعْرِضُونَ (۳۲) الأنبیاءبند
عقیدہ:
 ہواؤں کو اللہ تعالیٰ نے ایک خاص اندازہ اور پیمانہ سے بنایا ہے ، اس میں بھی اللہ کی جانب سے مقرر کردہ تقدیر کار فرما ہے۔تشریح
ہواؤں کا پیمانہ:
اس زمین پر اللہ تعالیٰ نے ہواؤں کا ایک مخصوص نظام بنایا ہے، ہواؤں کا یہ نظام اللہ کی تقدیر کا حصہ ہے، جو ایک خاص مقررہ پیمانہ پر چلتی ہیں، اگر یہ ہوائیں اس مخصوص پیمانہ کے ساتھ زمین پر نہ ہوتیں تو کرۂ ارض پر زندگی محفوظ ہی نہ ہوتی۔
کرۂ ارض کے گرد اللہ تعالیٰ نے ہوائی کرہ رکھا ہے جو زمین کو گھیرے رکھتا ہے، اس ہوائی کرہ کی کئی پرتیں و پردے ہیں، ان میں سے ایک وہی ہے جو جس کا اوپر ذکر ہوا ہے کہ اللہ نے اس کو سقف محفوظ بنایا ہے، اس کے علاوہ بھی ہوا کی کئی پرتیں زمین کے گرد موجود ہیں۔
ہوائیں کہیں کم اور کہیں زیادہ ہوتی ہیں، جہاں ہوا زیادہ ہوتی ہے وہاں ان کا دباؤ بڑھ جاتی ہے، اور جہاں کم ہوتی ہیں وہاں ان کا دباؤ کم ہوتا ہے۔
ہواؤں کو اللہ تعالیٰ نے بارش کو لانے کا ذریعہ بنایا ہے، ایک سادہ آنکھ سے دیکھنے والا بھی اس کو بآسانی دیکھتا ہے کہ ہوائیں بادلوں کو ادھر ادھر لئے پھرتی ہیں، لیکن ہواؤں کا نظام اس سے کہیں بڑھ کر ہے، سمندر سے پانی کو ذرات کی شکل میں اٹھانا اور پھر ان کو بادلوں کی شکل میں ڈھالنا اور پھر ان کو زمین میں لئے پھرنا اور مختلف جگہوں پر بارش برسانا یہ سب ہواؤں کا کام ہے، سمند ر کے پانی کو ذرات کی شکل میں اٹھانا ایک نہایت پیچیدہ اور غیر معمولی نظام ہے جو ایک مخصوص مقررہ پیمانہ کے تحت ہوتا ہے، یہ اللہ تعالیٰ کی تقدیر کا حصہ ہے، اور پھر یہ اس بڑے پیمانہ پر ہوتا ہے کہ خشکی پر موجود جانداروں کی سال بھر کی پانی، رزق اور موسمی تبدیلی کی ضروریات کو پورا کرتا ہے اور پھر سال بہ سال ہوتا رہتا ہے، یہ سب اللہ کی جانب سے مقررہ پیمانہ اور مخصوص اندازہ سے انجام پا رہا ہے۔دلائل
إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ وَالْفُلْكِ الَّتِي تَجْرِي فِي الْبَحْرِ بِمَا يَنْفَعُ النَّاسَ وَمَا أَنْزَلَ اللہُ مِنَ السَّمَآءِ مِنْ مَاءٍ فَأَحْيَا بِهِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا وَبَثَّ فِيهَا مِنْ کُلِّ دَابَّةٍ وَتَصْرِيفِ الرِّيَاحِ وَالسَّحَابِ الْمُسَخَّرِ بَيْنَ السَّمَآءِ وَالْأَرْضِ لَآيَاتٍ لِقَوْمٍ يَعْقِلُونَ (۱۶۴)(البقرۃ)۔ وَهُوَ الَّذِي يُرْسِلُ الرِّيَاحَ بُشْرًا بَيْنَ يَدَيْ رَحْمَتِهٖ حَتّٰى إِذَا أَقَلَّتْ سَحَابًا ثِقَالًا سُقْنَاهُ لِبَلَدٍ مَيِّتٍ فَأَنْزَلْنَا بِهِ الْمَاءَ فَأَخْرَجْنَا بِهٖ مِنْ کُلِّ الثَّمَرَاتِ کَذٰلِکَ نُخْرِجُ الْمَوْتَى لَعَلَّکُمْ تَذَکَرُونَ (۵۷) (الأعراف)۔ وَأَرْسَلْنَا الرِّيَاحَ لَوَاقِحَ فَأَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَآءِ مَاءً فَأَسْقَيْنَاکُمُوهُ وَمَا أَنْتُمْ لَهٗ بِخَازِنِينَ (۲۲)( الحجر)۔ وَاضْرِبْ لَهٗمْ مَثَلَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا کَمَاءٍ أَنْزَلْنَاهُ مِنَ السَّمَآءِ فَاخْتَلَطَ بِهٖ نَبَاتُ الْأَرْضِ فَأَصْبَحَ هَشِيمًا تَذْرُوهُ الرِّيَاحُ وَکَانَ اللہُ عَلٰى کُلِّ شَيْءٍ مُقْتَدِرًا (۴۵) (الفرقان)۔ اللہُ الَّذِي يُرْسِلُ الرِّيَاحَ فَتُثِيرُ سَحَابًا فَيَبْسُطُهُ فِي السَّمَآءِ کَيْفَ يَشَآءُ وَيَجْعَلُهٗ كِسَفًا فَتَرَى الْوَدْقَ يَخْرُجُ مِنْ خِلَالِهٖ فَإِذَا أَصَابَ بِهٖ مَنْ يَشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ إِذَا هُمْ يَسْتَبْشِرُونَ (۴۸)( الروم)۔ وَاللہُ الَّذِي أَرْسَلَ الرِّيَاحَ فَتُثِيرُ سَحَابًا فَسُقْنَاهُ إِلٰى بَلَدٍ مَيِّتٍ فَأَحْيَيْنَا بِهِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا کَذٰلِکَ النُّشُورُ (۹)( فاطر)۔ وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ وَمَا أَنْزَلَ اللہُ مِنَ السَّمَآءِ مِنْ رِزْقٍ فَأَحْيَا بِهِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا وَتَصْرِيفِ الرِّيَاحِ آيَاتٌ لِقَوْمٍ يَعْقِلُونَ (۵) (الجاثیۃ)۔ أَمْ أَمِنْتُمْ أَنْ يُعِيدَکُمْ فِيهِ تَارَةً أُخْرَى فَيُرْسِلَ عَلَيْکُمْ قَاصِفًا مِنَ الرِّيحِ فَيُغْرِقَکُمْ بِمَا کَفَرْتُمْ ثُمَّ لَا تَجِدُوا لَکُمْ عَلَيْنَا بِهٖ تَبِيعًا (۶۹) (الإسراء)۔ وَلِسُلَيْمَانَ الرِّيحَ عَاصِفَةً تَجْرِي بِأَمْرِهٖ إِلَى الْأَرْضِ الَّتِي بَارَكْنَا فِيهَا وَکُنَّا بِکُلِّ شَيْءٍ عَالِمِينَ (۸۱)( الأنبیاء)۔ حُنَفَاءَ لِلّٰہِ غَيْرَ مُشْرِكِينَ بِهٖ وَمَنْ يُشْرِكْ بِاللّٰہِ فَکَأَنَّمَا خَرَّ مِنَ السَّمَآءِ فَتَخْطَفُهُ الطَّيْرُ أَوْ تَهْوِي بِهِ الرِّيحُ فِي مَکَانٍ سَحِيقٍ (۳۱)( الحج)۔ وَلِسُلَيْمَانَ الرِّيحَ غُدُوُّهَا شَهْرٌ وَرَوَاحُهَا شَهْرٌ وَأَسَلْنَا لَهٗ عَيْنَ الْقِطْرِ وَمِنَ الْجِنِّ مَنْ يَعْمَلُ بَيْنَ يَدَيْهِ بِإِذْنِ رَبِّهِ وَمَنْ يَزِغْ مِنْهُمْ عَنْ أَمْرِنَا نُذِقْهُ مِنْ عَذَابِ السَّعِيرِ (۱۲)( سبأ)۔ فَسَخَّرْنَا لَهٗ الرِّيحَ تَجْرِي بِأَمْرِهٖ رُخَاءً حَيْثُ أَصَابَ (۳۶)( ص)۔ وَمِنْ آيَاتِهِ الْجَوَارِ فِي الْبَحْرِ کَالْأَعْلَامِ (۳۲) إِنْ يَشَأْ يُسْكِنِ الرِّيحَ فَيَظْلَلْنَ رَوَاكِدَ عَلٰى ظَهْرِهٖ إِنَّ فِي ذٰلِکَ لَآيَاتٍ لِکُلِّ صَبَّارٍ شَکُورٍ (۳۳) (الشوری)۔ وَفِي عَادٍ إِذْ أَرْسَلْنَا عَلَيْهِمُ الرِّيحَ الْعَقِيمَ (۴۱)( الذاریات)۔بند
عقیدہ:
اللہ تعالیٰ نے زمین کو مخلوقات کی رہائش کےلئے فرش ایک خاص اندازہ اور پیمانہ سے بنایا ہے، اس میں بھی اللہ تعالیٰ کی جانب سے مقرر کردہ تقدیر کار فرما ہے۔تشریح
زمین کی رہائش کا پیمانہ:
پھر اس زمین کو اللہ تعالیٰ نے اس پر رہنے والوں کےلئے فرش بنایا جس پر وہ چلتے پھرتے ہیں، اپنے مکان تعمیر کرتے ہیں، اس کو کھود کر پانی نکال لیتے ہیں، زمین نہ بہت زیادہ سخت ہے کہ اس کو کھودا ہی نہ جا سکے، نہ بہت زیادہ نرم ہے کہ انسان اس میں دھنستا چلا جائے، یہ ایک خاص اندازہ اور مقررہ پیمانہ سے بنائی (Design کی) گئی ہے۔
خود زمین میں اتنی کشش ہے کہ وہ دور دراز کے سیاروں کو اپنی جانب کھینچتی ہے، اگر دوسرے سیارے آپس میں ایک دوسرے کی کشش میں نہ ہوں تو بعض سیارے زمین کی کشش سے کھنچ کر آکر اس سے ٹکرائے جائیں، اس کا تقاضہ تو یہ تھا کہ خود زمین پر جو چیزیں ہیں مثلاً اس پر بسنے والے انسان اور جانور وغیرہ زمین کی کشش سے زمین کے اندر دھنس جاتے، لیکن یہ اللہ کا ایک خاص نظام ہے کہ دوسرے سیارے اپنی کشش سے زمین پر موجود چیزوں کو اپنی جانب کھنچتے ہیں جس سے زمین پر موجود یہ مخلوقات زمین میں دھنسنے نہیں پاتیں، پھر اسی طرح جب دوسرے سیارے زمین کی مخلوقات کو اپنی کشش سے اپنی جانب کھینچتے ہیں تو ان مخلوقات کو فضاء میں معلق ہو جانا چاہئے لیکن یہ اللہ کا مقرر کردہ پیمانہ ہے کہ زمین کی کشش اور دوسرے سیاروں کی کشش کو اتنی موزونیت اور تناسب کے ساتھ مقرر کیا گیا ہے کہ مخلوقات زمین کی سطح سے اوپر غیر اختیاری طو رپر معلق نہیں ہو پاتیں، ہاں پرندوں میں خود اللہ نے ایسا جدا نظام رکھا ہے کہ وہ فضاء میں اپنے اختیار سے اڑتے پھرتے ہیں، زمین کی کشش اور دیگر سیاروں کی کشش کے ذریعہ سطح ارض پر مخلوقات کو ایک مخصوص طریقہ سے جمانا اس طرح سے کہ انہیں اپنے کام کرتے ہوئے اور زندگی گذارتے ہوئے ان دونوں کی کشش کا اندازہ ہی نہ ہو اور وہ بغیر کسی الجھن اور تردد کے جیتے رہیں، جیسے کوئی بچہ اپنی ماں کی گود میں ہو، یہ اللہ تعالیٰ کا خاص مقرر کردہ پیمانہ ہے اور اس کی مخلوقات کی تخلیق میں تقدیر کا حصہ ہے، پھر اسی طرح بیکراں خلاء میں زمین ہزاروں کیلو میٹر کی رفتار سے سفر طے کررہی ہے، اس کے باوجود ہم اس پر نہایت چین سے جیتے ہیں، اس کی یہ غیر معمولی حرکت ہمیں محسوس تک نہیں ہوتی، یہ محفوظ گوشہ ہمارے لئے ایک خاص پیمانہ اور مقررہ اندازہ سے بنایا گیا ہے۔دلائل
الَّذِي جَعَلَ لَکُمُ الْأَرْضَ فِرَاشًا وَالسَّمَآءَ بِنَاءً وَأَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَاءً فَأَخْرَجَ بِهٖ مِنَ الثَّمَرَاتِ رِزْقًا لَکُمْ فَلَا تَجْعَلُوا لِلّٰہِ أَنْدَادًا وَأَنْتُمْ تَعْلَمُونَ (۲۲) (البقرۃ)۔ وَلَقَدْ مَکَنَّاکُمْ فِي الْأَرْضِ وَجَعَلْنَا لَکُمْ فِيهَا مَعَايِشَ قَلِيلًا مَا تَشْکُرُونَ (۱۰) (الأعراف)۔ فَبَعَثَ اللہُ غُرَابًا يَبْحَثُ فِي الْأَرْضِ لِيُرِيَهُ کَيْفَ يُوَارِي سَوْءَةَ أَخِيهِ قَالَ يَا وَيْلَتَا أَعَجَزْتُ أَنْ أَکُونَ مِثْلَ هٰذَا الْغُرَابِ فَأُوَارِيَ سَوْءَةَ أَخِي فَأَصْبَحَ مِنَ النَّادِمِينَ (۳۱)( المائدۃ)۔ قَالَ اهْبِطُوا بَعْضُکُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ وَلَکُمْ فِي الْأَرْضِ مُسْتَقَرٌّ وَمَتَاعٌ إِلٰى حِينٍ (۲۴)( الأعراف)۔ وَاذْکُرُوا إِذْ جَعَلَکُمْ خُلَفَاءَ مِنْ بَعْدِ عَادٍ وَبَوَّأَکُمْ فِي الْأَرْضِ تَتَّخِذُونَ مِنْ سُهُولِهَا قُصُورًا وَتَنْحِتُونَ الْجِبَالَ بُيُوتًا فَاذْکُرُوا آلَاءَ اللہِ وَلَا تَعْثَوْا فِي الْأَرْضِ مُفْسِدِينَ (۷۴)( الأعراف)۔ وَهُوَ الَّذِي مَدَّ الْأَرْضَ وَجَعَلَ فِيهَا رَوَاسِيَ وَأَنْهَارًا وَمِنْ کُلِّ الثَّمَرَاتِ جَعَلَ فِيهَا زَوْجَيْنِ اثْنَيْنِ يُغْشِي اللَّيْلَ النَّهَارَ إِنَّ فِي ذٰلِکَ لَآيَاتٍ لِقَوْمٍ يَتَفَکَرُونَ (۳) وَفِي الْأَرْضِ قِطَعٌ مُتَجَاوِرَاتٌ وَجَنَّاتٌ مِنْ أَعْنَابٍ وَزَرْعٌ وَنَخِيلٌ صِنْوَانٌ وَغَيْرُ صِنْوَانٍ يُسْقَى بِمَاءٍ وَاحِدٍ وَنُفَضِّلُ بَعْضَهَا عَلٰى بَعْضٍ فِي الْأُکُلِ إِنَّ فِي ذٰلِکَ لَآيَاتٍ لِقَوْمٍ يَعْقِلُونَ (۴)( الرعد)۔ وَأَلْقَى فِي الْأَرْضِ رَوَاسِيَ أَنْ تَمِيدَ بِکُمْ وَأَنْهَارًا وَسُبُلًا لَعَلَّکُمْ تَهْتَدُونَ (۱۵)( النحل)۔ الَّذِي جَعَلَ لَکُمُ الْأَرْضَ مَهْدًا وَسَلَکَ لَکُمْ فِيهَا سُبُلًا وَأَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَاءً فَأَخْرَجْنَا بِهٖ أَزْوَاجًا مِنْ نَبَاتٍ شَتَّى (۵۳)(طہ)۔ وَتَرَى الْأَرْضَ هَامِدَةً فَإِذَا أَنْزَلْنَا عَلَيْهَا الْمَاءَ اهْتَزَّتْ وَرَبَتْ وَأَنْبَتَتْ مِنْ کُلِّ زَوْجٍ بَهِيجٍ (۵) (الحج)۔ وَهُوَ الَّذِي ذَرَأَکُمْ فِي الْأَرْضِ وَإِلَيْهِ تُحْشَرُونَ (۷۹)(المؤمنون)۔ أَمَّنْ جَعَلَ الْأَرْضَ قَرَارًا وَجَعَلَ خِلَالَهَا أَنْهَارًا وَجَعَلَ لَهَا رَوَاسِيَ وَجَعَلَ بَيْنَ الْبَحْرَيْنِ حَاجِزًا أَإِلَهٌ مَعَ اللہِ بَلْ أَكْثَرُهُمْ لَا يَعْلَمُونَ (۶۱)( النمل)۔ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ بِغَيْرِ عَمَدٍ تَرَوْنَهَا وَأَلْقَى فِي الْأَرْضِ رَوَاسِيَ أَنْ تَمِيدَ بِکُمْ وَبَثَّ فِيهَا مِنْ کُلِّ دَابَّةٍ وَأَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَآءِ مَاءً فَأَنْبَتْنَا فِيهَا مِنْ کُلِّ زَوْجٍ کَرِيمٍ (۱۰)(لقمان)۔اللہُ الَّذِي جَعَلَ لَکُمُ الْأَرْضَ قَرَارًا وَالسَّمَآءَ بِنَاءً وَصَوَّرَکُمْ فَأَحْسَنَ صُوَرَکُمْ وَرَزَقَکُمْ مِنَ الطَّيِّبَاتِ ذٰلِکُمُ اللہُ رَبُّکُمْ فَتَبَارَکَ اللہُ رَبُّ الْعَالَمِينَ (۶۴)( غافر)۔ وَمِنْ آيَاتِهٖ أَنَّکَ تَرَى الْأَرْضَ خَاشِعَةً فَإِذَا أَنْزَلْنَا عَلَيْهَا الْمَاءَ اهْتَزَّتْ وَرَبَتْ إِنَّ الَّذِي أَحْيَاهَا لَمُحْيِ الْمَوْتَى إِنَّهٗ عَلٰى کُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ (۳۹)(فصلت)۔ وَلَئِنْ سَأَلْتَهُمْ مَنْ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ لَيَقُولُنَّ خَلَقَهُنَّ الْعَزِيزُ الْعَلِيمُ (۹) الَّذِي جَعَلَ لَکُمُ الْأَرْضَ مَهْدًا وَجَعَلَ لَکُمْ فِيهَا سُبُلًا لَعَلَّکُمْ تَهْتَدُونَ (۱۰)( الزخرف)۔ وَالسَّمَآءَ بَنَيْنَاهَا بِأَيْدٍ وَإِنَّا لَمُوسِعُونَ (۴۷) وَالْأَرْضَ فَرَشْنَاهَا فَنِعْمَ الْمَاهِدُونَ (۴۸)( الذاریات)۔ هُوَ الَّذِي جَعَلَ لَکُمُ الْأَرْضَ ذَلُولًا فَامْشُوا فِي مَنَاكِبِهَا وَکُلُوا مِنْ رِزْقِهِ وَإِلَيْهِ النُّشُورُ (۱۵) (الملک)۔ أَلَمْ نَجْعَلِ الْأَرْضَ كِفَاتًا (۲۵) أَحْيَآءً وَأَمْوَاتًا (۲۶) وَجَعَلْنَا فِيهَا رَوَاسِيَ شَامِخَاتٍ وَأَسْقَيْنَاکُمْ مَاءً فُرَاتًا (۲۷) وَيْلٌ يَوْمَئِذٍ لِلْمُکَذِّبِينَ (۲۸) (المرسلات)۔ نأَلَمْ نَجْعَلِ الْأَرْضَ مِهَادًا (۶) وَالْجِبَالَ أَوْتَادًا (۷)(النبأ)۔أَفَلَا يَنْظُرُونَ إِلَى الْإِبِلِ کَيْفَ خُلِقَتْ (۱۷) وَإِلَى السَّمَآءِ کَيْفَ رُفِعَتْ (۱۸) وَإِلَى الْجِبَالِ کَيْفَ نُصِبَتْ (۱۹) وَإِلَى الْأَرْضِ کَيْفَ سُطِحَتْ (۲۰) فَذَكِّرْ إِنَّمَا أَنْتَ مُذَكِّرٌ (۲۱) (الغاشیۃ)۔بند
عقیدہ:
 دن و رات اور ان کو ایک کے بعد دوسرا لانے کےلئے اللہ تعالیٰ نے ایک خاص پیمانہ مقرر کیا ہے، اس میں بھی اللہ تعالیٰ کی جانب سے مقرر کردہ تقدیر کار فرما ہے۔تشریح
دن اور رات کا پیمانہ:
زمین پر معاش کے نظام کو جاری رکھنے کےلئے اللہ تعالیٰ نے دن اور رات کا نظام بنایا، رات اور دن کا یہ نظام اللہ تعالیٰ نے ایک خاص پیمانہ سے جاری کیا ہے اور مخلوقات کی پیدائش میں اس کی تقدیر کا حصہ ہے، دن کو کام کےلئے اور رات کو آرام کےلئے بنایا، کام کرنے کےلئے روشنی اور کھلا ماحول چاہئے جو دن میں مقرر کیا اور رات کو تاریکی والی بنایا تاکہ مخلوقات اس میں آرام کرکے اپنی تھکن مٹائیں اور نیند کو تھکن ختم کرنے کا ذریعہ بنایا، رات اور دن کا یہ نظام جس خاص پیمانہ کے ساتھ مقرر ہے، اگر صرف دن ہوتا تو بندے قیامت تک محنت کرکے رات نہیں لاسکتے اور اگر صرف رات چھائی رہتی تو بندے قیامت تک محنت کرکے دن نہیں لاسکتے، رات اور دن کا یہ خاص پیمانہ اللہ کی جانب سے مقرر ہے اور مخلوقات کی پیدائش میں اس کی تقدیر کا حصہ ہے۔دلائل
إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ وَالْفُلْكِ الَّتِي تَجْرِي فِي الْبَحْرِ بِمَا يَنْفَعُ النَّاسَ وَمَا أَنْزَلَ اللہُ مِنَ السَّمَآءِ مِنْ مَاءٍ فَأَحْيَا بِهِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا وَبَثَّ فِيهَا مِنْ کُلِّ دَابَّةٍ وَتَصْرِيفِ الرِّيَاحِ وَالسَّحَابِ الْمُسَخَّرِ بَيْنَ السَّمَآءِ وَالْأَرْضِ لَآيَاتٍ لِقَوْمٍ يَعْقِلُونَ (۱۶۴)( البقرۃ)۔ تُولِجُ اللَّيْلَ فِي النَّهَارِ وَتُولِجُ النَّهَارَ فِي اللَّيْلِ وَتُخْرِجُ الْحَيَّ مِنَ الْمَيِّتِ وَتُخْرِجُ الْمَيِّتَ مِنَ الْحَيِّ وَتَرْزُقُ مَنْ تَشَاءُ بِغَيْرِ حِسَابٍ (۲۷)( آل عمران)۔ فَالِقُ الْإِصْبَاحِ وَجَعَلَ اللَّيْلَ سَکَنًا وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ حُسْبَانًا ذٰلِکَ تَقْدِيرُ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ (۹۶)أ الأنعام)۔هُوَ الَّذِي جَعَلَ لَکُمُ اللَّيْلَ لِتَسْکُنُوا فِيهِ وَالنَّهَارَ مُبْصِرًا إِنَّ فِي ذٰلِکَ لَآيَاتٍ لِقَوْمٍ يَسْمَعُونَ (۶۷)( یونس)۔ وَجَعَلْنَا اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ آيَتَيْنِ فَمَحَوْنَا آيَةَ اللَّيْلِ وَجَعَلْنَا آيَةَ النَّهَارِ مُبْصِرَةً لِتَبْتَغُوا فَضْلًا مِنْ رَبِّکُمْ وَلِتَعْلَمُوا عَدَدَ السِّنِينَ وَالْحِسَابَ وَکُلَّ شَيْءٍ فَصَّلْنَاهُ تَفْصِيلًا (۱۲)( الإسراء)۔ وَهُوَ الَّذِي خَلَقَ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ کُلٌّ فِي فَلَكٍ يَسْبَحُونَ (۳۳)( الأنبیاء)۔ يُقَلِّبُ اللہُ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ إِنَّ فِي ذٰلِکَ لَعِبْرَةً لِأُولِي الْأَبْصَارِ (۴۴)( النور)۔ وَهُوَ الَّذِي جَعَلَ لَکُمُ اللَّيْلَ لِبَاسًا وَالنَّوْمَ سُبَاتًا وَجَعَلَ النَّهَارَ نُشُورًا (۴۷) (الفرقان)۔ وَهُوَ الَّذِي جَعَلَ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ خِلْفَةً لِمَنْ أَرَادَ أَنْ يَذَّکَرَ أَوْ أَرَادَ شُکُورًا (۶۲) (الفرقان)۔ قُلْ أَرَأَيْتُمْ إِنْ جَعَلَ اللہُ عَلَيْکُمُ اللَّيْلَ سَرْمَدًا إِلٰى يَوْمِ الْقِيَامَةِ مَنْ إِلَهٌ غَيْرُ اللہِ يَأْتِيکُمْ بِضِيَاءٍ أَفَلَا تَسْمَعُونَ (۷۱) قُلْ أَرَأَيْتُمْ إِنْ جَعَلَ اللہُ عَلَيْکُمُ النَّهَارَ سَرْمَدًا إِلٰى يَوْمِ الْقِيَامَةِ مَنْ إِلَهٌ غَيْرُ اللہِ يَأْتِيکُمْ بِلَيْلٍ تَسْکُنُونَ فِيهِ أَفَلَا تُبْصِرُونَ (۷۲) وَمِنْ رَحْمَتِهٖ جَعَلَ لَکُمُ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ لِتَسْکُنُوا فِيهِ وَلِتَبْتَغُوا مِنْ فَضْلِهٖ وَلَعَلَّکُمْ تَشْکُرُونَ (۷۳) (القصص)۔ أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللہَ يُولِجُ اللَّيْلَ فِي النَّهَارِ وَيُولِجُ النَّهَارَ فِي اللَّيْلِ وَسَخَّرَ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ کُلٌّ يَجْرِي إِلٰى أَجَلٍ مُسَمًّى وَأَنَّ اللہَ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ (۲۹)( لقمان)۔ وَآيَةٌ لَهٗمُ اللَّيْلُ نَسْلَخُ مِنْهُ النَّهَارَ فَإِذَا هُمْ مُظْلِمُونَ (۳۷) وَالشَّمْسُ تَجْرِي لِمُسْتَقَرٍّ لَهَا ذٰلِکَ تَقْدِيرُ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ (۳۸) وَالْقَمَرَ قَدَّرْنَاهُ مَنَازِلَ حَتّٰى عَادَ کَالْعُرْجُونِ الْقَدِيمِ (۳۹) لَا الشَّمْسُ يَنْبَغِي لَهَا أَنْ تُدْرِکَ الْقَمَرَ وَلَا اللَّيْلُ سَابِقُ النَّهَارِ وَکُلٌّ فِي فَلَكٍ يَسْبَحُونَ (۴۰)(یس)۔ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ بِالْحَقِّ يُکَوِّرُ اللَّيْلَ عَلَى النَّهَارِ وَيُکَوِّرُ النَّهَارَ عَلَى اللَّيْلِ وَسَخَّرَ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ کُلٌّ يَجْرِي لِأَجَلٍ مُسَمًّى أَلَا هُوَ الْعَزِيزُ الْغَفَّارُ (۵)( الزمر)۔ اللہُ الَّذِي جَعَلَ لَکُمُ اللَّيْلَ لِتَسْکُنُوا فِيهِ وَالنَّهَارَ مُبْصِرًا إِنَّ اللہَ لَذُو فَضْلٍ عَلَى النَّاسِ وَلٰكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَشْکُرُونَ (۶۱)(غافر)۔ وَاللہُ يُقَدِّرُ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ عَلِمَ أَنْ لَنْ تُحْصُوهُ فَتَابَ عَلَيْکُمْ فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْآنِ عَلِمَ أَنْ سَيَکُونُ مِنْکُمْ مَرْضَى وَآخَرُونَ يَضْرِبُونَ فِي الْأَرْضِ يَبْتَغُونَ مِنْ فَضْلِ اللہِ وَآخَرُونَ يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللہِ فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنْهُ وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّکَاةَ وَأَقْرِضُوا اللہَ قَرْضًا حَسَنًا وَمَا تُقَدِّمُوا لِأَنْفُسِکُمْ مِنْ خَيْرٍ تَجِدُوهُ عِنْدَ اللہِ هُوَ خَيْرًا وَأَعْظَمَ أَجْرًا وَاسْتَغْفِرُوا اللہَ إِنَّ اللہَ غَفُورٌ رَحِيمٌ (۲۰)( المزمل)۔ وَجَعَلْنَا اللَّيْلَ لِبَاسًا (۱۰) وَجَعَلْنَا النَّهَارَ مَعَاشًا (۱۱) (النبأ)۔بند
عقیدہ:
حیوانات کی تخلیق میں تناسب اور موزونیت کےلئے اللہ تعالیٰ نے خاص اندازے اور پیمانے مقرر کئے ہیں، اور یہ پیمانے حیرت انگیز خصوصیات کے حامل ہیں، ان سب میں اللہ تعالیٰ کی جانب سے مقرر کردہ تقدیر کار فرما ہے۔تشریح
تخلیق حیوانات کی ساخت میں پیمانہ:
اللہ تعالیٰ کی ہر مخلوق میں تناسب اور موزونیت ہے، جس کا ہم دن و رات مشاہدہ کرتے ہیں، پھر بھی اس پر غور نہیں کرتے، جبکہ ہر مخلوق اللہ کی آیات کا حصہ ہے اور دعوتِ غور و فکر دیتی ہے، حیوانات کی تخلیق بھی انہیں آیات میں سے ہے، ایک حیوان خواہ وہ ہاتھی جیسی عظیم مخلوق ہو یا مکھی اور مچھر جیسی حقیر مخلوق ہو، ہر مخلوق اللہ تعالیٰ کی جانب سے ایک خاص پیمانہ میں تخلیق کی گئی ہے۔
حیوان کے جسم کا ایک ظاہری نظم ہوتا ہے اور ایک ان کا باطنی نظم ہوتا ہے، ہر نظم اللہ کی جانب سے حیرت انگیز مقررہ پیمانہ میں ڈھلا ہوا ہے، ظاہر میں ہر حیوان ایک جسم رکھتا ہے، ایک حیوان دوسرے حیوان سے مختلف النوع ضرور ہوتا ہے لیکن ایک ہی نوع کے جانور حیرت انگیز طور پر ایک ایسی یکسانیت رکھتے ہیں گویا ایک سانچے میں ڈھل کر نکلے ہیں، یکساں ساخت، یکساں اعضاء اور یکساں خصوصیات کے حامل، یہ درحقیقت اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ ان کےلئے ایک خاص پیمانہ مقرر ہے، پھر دو جڑواں اعضاء میں مثلاً دو ہاتھوں میں سے ایک ہاتھ اتنا ہی لمبا ہوتا ہے جتنا کہ دوسرا ہاتھ، اسی طرح ایک آنکھ کی ساخت ویسی ہی ہوتی ہے جیسی کہ دوسری آنکھ ، یہ در حقیقت ایک خاص مقررہ پیمانہ میں ڈھلی ہوئی ہے جس کو اللہ نے مقرر کیا ہے۔
حیوانی جسم کا باطنی نظام اس سے کہیں زیادہ حیرت انگیز ہے، اس میں بے شمار اندرونی نظام جاری ہیں اور ان میں سے ہر نظام ایک خاص پیمانہ پر چل رہا ہے، جو اتنا حیرت انگیز ہے کہ دنیا کی کوئی مشین اس کے عملی مظاہرہ، اس کی پابندی، اس کے خودکار دفاعی نظام اور صفائی ستھرائی کا مقابلہ نہیں کر سکتی، حیوانی جسم میں جو الگ الگ نظام اللہ تعالیٰ نے بنائے ہیں ان میں مثلاً:
تنفسی (سانس لینے کا ) نظام، دوران خون کا نظام، اعصابی نظام، ہضمی نظام، اخراجی نظام، خلیات کی پیدائش اور مرنے کا عمل، دماغی نظام، اعصابی نظام یہ سب ایسی تفصیلات اور اللہ کی جانب سے مقرر کردہ ایسے پیمانوں کو شامل ہیں کہ ان کی تفصیل کے بیان کےلئے مجلدات درکار ہیں۔
ظاہر میں ہمیں جو صفات اور اعضا دئے گئے ہیں صرف ان کی معمولی جانکار سے پتہ چلتا ہے کہ کس غیر معمولی مقررہ پیمانہ اور خاص تقدیر میں حیوانی جسم کی تخلیق ہوئی ہے۔
آنکھ :
حیوانی جسم کا عجیب و غریب حصہ ہے، جو حیوان کو دیکھنے لائق بناتا ہے، آنکھ کسی چیز کو دیکھنے کےلئے بہت ہی پیچیدہ نظام سے گذرتی ہے، ایک آنکھ بظاہر ایک عضو ہے جبکہ اس کے کئی حصے ہوتے ہیں اور یہ سب مل کر کام کرتے ہیں تبھی آنکھ دیکھنے کا عمل پورا کرتی ہے، قرنیہ، آنکھ کی جھلی Cornea،عدسہ Lens، آنکھ کی جھلی کا نچلا حصہAqueous، آنکھ کا پردہ Retina، عصب بصری Optic nerve، عضلاتِ چشم، آنسو لانے والے عضویات، پپوٹے وغیرہ یہ سب موجود ہوں اور مل کر کام کررہے ہوں تو آنکھ دیکھ پاتی ہے، ورنہ ان میں سے کوئی ایک بھی کم ہو جائے تو آنکھ بتدریج بصارت کھو دے، آنکھ کے اندر یہ سارے اجزاء زیادہ سے زیادہ ڈھائی سینٹی میٹر حصہ یعنی ایک انچ سے بھی کم حصہ میں ہوتے ہیں۔
پپوٹے جب کھلتے ہیں تو آنکھ میں روشنی کا انعکاس ہوتا ہے، اسی منعکس روشنی سے ہی شکلیں بنتی ہیں، پھر بصارت کا مرکزہ دماغ کے پچھلے حصہ میں واقع ہے، جبکہ آنکھ جس چیز کو دیکھتی ہے روشنی کے انعکاس کے ذریعہ آنکھ کی پتلی سے اس کو بصارتی مرکز تک پہنچاتی ہے، اس کی شکل یہ ہوتی ہے کہ آنکھ کا عضو ایک برقی پیغام کی شکل میں خاص نظام کے ذریعہ آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے دماغ کے پچھلے حصہ میں واقع بصارتی مرکز تک پہنچاتی ہے، تب وہ چیز جس پر آنکھ کا ارتکاز ہے ویسی دکھائی دیتی ہے، یہ عمل مختصر بیان کرنے کےلئے اور پڑھنے کےلئے بھی کتنا وقت لیتا ہے ؟ جبکہ بصارتی یہ عمل اس تیزی کے ساتھ ہوتا ہے کہ اس کو بیان کرنا ممکن نہیں ہے۔
یہ سب اللہ کا مقرر کردہ پیمانہ ہے اور تخلیقِ حیوان میں اس کی تقدیر کا حصہ ہے، پھر مختلف جانداروں کی آنکھ مزید خصوصیات رکھتی ہیں، مکھی کی آنکھ جو صرف ایک ملی میٹر کے معمولی رقبہ کو گھیرتی ہے، لیکن اس ایک ملی میٹر کے رقبہ کی مکھی کی آنکھ میں آٹھ ہزار عدسے اللہ تعالیٰ نے رکھے ہیں، بعض جانور وہ ہیں جو اندھیرے میں دیکھتے ہیں اور بعض جانور ان کی سادہ آنکھ سے ایسے رنگوں کا ادراک کر لیتے ہیں جو انسان یا دوسرے جانور اپنی سادہ آنکھوں سے نہیں دیکھ پاتے، یہ سب اللہ تعالیٰ کا مقرر کردہ پیمانہ ہے، ہر اضافی خصوصیت ایک اضافی عمل اور اضافی پیمانہ خصوصی کا حامل ہوتا ہے۔
قوت شامہ:
سونگھنے کی صلاحیت، اس کے ذریعہ انسان خوشبو سونگھ کر لطف و حظ لیتا ہے، جبکہ اسی کے ذریعہ بدبو کا ادراک کرتا ہے، جلنے کو محسوس کرتا ہے، غذا کی اچھائی یا برائی کو محسوس کرتا ہے، قوت شامہ بیک وقت اچھی بری، ہلکی تیز، قریب اور دور کی متعدد طرح کی بو کو محسوس کرتی ہے، کسی چیز کو کھانے سے پہلے اس کو سونگھ کر جاندار پتہ چلا سکتا ہے کہ وہ اچھی ہے یا بری، اگر قوت شامہ نہ ہو تو کئی خراب چیزیں انسان کی زبان تک پہنچ کر اس کو مکدر کردیں، یا اگر وہ جلد اثر کرنے والی چیز ہو تو انسان کی صحت کو نقصان پہنچائے، یہ قوت شامہ حیوانی جسم میں اللہ کی تقدیر کا حصہ ہے۔
حافظہ کا نظام:
محسوسات علم حاصل کرنے کا ذریعہ ہیں اور حافظہ ان معلومات کو محفوظ کرتا ہے، کوئی بھی جاندار کسی چیز کو دیکھ لے حافظہ اس کو محفوظ کر لیتا ہے، کوئی چیز سن لے وہ حافظہ میں محفوظ ہوجاتی ہے، کوئی چیز سونگھ لے وہ حافظہ میں محفوظ ہو جاتی ہے، کوئی چیز چکھ لے حافظہ اس کو محفوظ کرلیتا ہے، اور بوقت ضرورت حافظہ سے ان کو یاد کرسکتا ہے، حافظہ کا یہ نظام اللہ تعالیٰ نے ایک خاص اندازہ اور مقررہ پیمانہ سے بنایا ہے، جسم حیوانی کی تخلیق میں یہ اللہ کی تقدیر کا اہم ترین حصہ ہے۔
لمس :
اور مس کا احساس حیوانی جسم میں ایک خاص پیمانہ اور مقررہ اندازہ سے رکھا گیا ہے، اس کے بدن کو کوئی چیز چھو جاتی ہے تو وہ فوراً دماغ کو اس کا پیغام بھجواتا ہے، اگر وہ چیز انسانی بدن کے لئے نقصان دہ ہے، مثلاً: سخت جلانے والی ہے، یا سخت ٹھنڈی ہے یا چبھنے والی ہے، یا چپکنے والی ہے دماغ فوراً اس عضو کو ہٹنے کا حکم دیتا ہے اور وہ عضواس چیز سے خود کو دور کرلیتا ہے، یہ اللہ کا مقرر کردہ پیمانہ ہے، اسی طرح حیوانی بدن کو ایسی چیزیں بھی چھوتی ہیں جو اس کو نقصان نہیں پہنچاتیں، مثلاً اس کے بدن پر لپٹے ہوئے کپڑے یا ایسی ہی دوسری چیزیں جو اس کے لئے نقصان دہ نہیں ہیں، یہ لمس اس کے لئے نقصان دہ نہیں ہے اس کا تجربہ ہو جانے کے بعد وہ اس کے حافظہ میں محفوظ رہتا ہے اور بار بار دماغ کو اس تیزی سے پیغام رسانی نہیں کرتا جس سے ذہنِ حیوانی کی زندگی اجیرن ہو جائے، یہ اسی وقت چونکتا اور زیادہ متحرک ہوتا ہے جبکہ اس کو کوئی نقصان دہ چیز چھوئے،یہ بھی اللہ کے خاص مقرر کردہ پیمانہ کا حصہ ہے۔
بھیجہ:
حیوانی جسم میں بھیجہ ایسا حصہ ہے جو جسم حیوانی کو کنٹرول کرتا ہے اور اعضاء جسمانی کے بے انتہاء پیغامات کو حاصل کرتا ہے اور انہیں احکامات جاری کرتا ہے،اطراف میں موجود چیزوں کو دیکھنے، سمجھنے اور محسوس کرنے کےلئے بھیجہ میں ایک سو ارب سے زائد اعصابی خلیات ہوتے ہیں، ان میں غیر معمولی ترسیلی نظام ہوتا ہے، جو ایک سو کھرب کنکشنس کے ذریعہ عمل میں آتا ہے۔
عالمی مواصلاتی نظام جو لاکھوں ٹیلی فون کالس کو متحرک کرتا ہے کسی بھی حیوانی بھیجہ کی کارکردگی کے آگے بالکل معمولی حیثیت رکھتا ہے، سائنس دان جو آئے دن نت نئی مشینیں بناتے ہیں یہ اعتراف کرتے ہیں کہ انسان کےلئے یہ کبھی ممکن ہی نہیں ہے کہ وہ حیوانی بھیجہ جیسی کار کرد کوئی مشین جو اس درجہ کنکشنس رکھتی ہو اور اتنی رفتار اور اتنی خصوصیات والی ہو پیدا کر سکے، حیوانی جسم میں بھیجہ اللہ کی جانب سے مقرر کردہ اور خاص اندازہ اور پیمانہ کا آلہ ہے اور اللہ کی تقدیر کا حصہ ہے۔
بلاشبہ علم و اندازہ سے بھرپور ان غیر معمولی تخلیقات کا خالق بڑے علم اور حکمت والا ہے، ناقابل تصور قدرت والا ہے، کاریگری اور کارسازی کا جو نظام اس نے بنایا ہے انسانی ذہن اس کی توصیف کے بیان سے قاصر ہے اور لا محالہ پیغمبروں کی پیروی میں کہنا پڑتا ہے: لا أحصی ثناء عليک انت کما اثنيت علی نفسک۔دلائل
وَاللہُ أَخْرَجَکُمْ مِنْ بُطُونِ أُمَّهَاتِکُمْ لَا تَعْلَمُونَ شَيْئًا وَجَعَلَ لَکُمُ السَّمْعَ وَالْأَبْصَارَ وَالْأَفْئِدَةَ لَعَلَّکُمْ تَشْکُرُونَ (۷۸) النحل-سَنُرِيهِمْ آيَاتِنَا فِي الْآفَاقِ وَفِي أَنْفُسِهِمْ حَتّٰى يَتَبَيَّنَ لَهٗمْ أَنَّهٗ الْحَقُّ أَوَلَمْ يَكْفِ بِرَبِّکَ أَنَّهٗ عَلٰى کُلِّ شَيْءٍ شَهِيدٌ (۵۳) فصلت-هَلْ أَتَى عَلَى الْإِنْسَانِ حِينٌ مِنَ الدَّهْرِ لَمْ يَکُنْ شَيْئًا مَذْکُورًا (۱) إِنَّا خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ مِنْ نُطْفَةٍ أَمْشَاجٍ نَبْتَلِيهِ فَجَعَلْنَاهُ سَمِيعًا بَصِيرًا (۲) إِنَّا هَدَيْنَاهُ السَّبِيلَ إِمَّا شَاكِرًا وَإِمَّا کَفُورًا (۳) الإنسان/ الدھر-وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ مِنْ سُلَالَةٍ مِنْ طِينٍ (۱۲) ثُمَّ جَعَلْنَاهُ نُطْفَةً فِي قَرَارٍ مَكِينٍ (۱۳) ثُمَّ خَلَقْنَا النُّطْفَةَ عَلَقَةً فَخَلَقْنَا الْعَلَقَةَ مُضْغَةً فَخَلَقْنَا الْمُضْغَةَ عِظَامًا فَکَسَوْنَا الْعِظَامَ لَحْمًا ثُمَّ أَنْشَأْنَاهُ خَلْقًا آخَرَ فَتَبَارَکَ اللہُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ (۱۴) (المؤمنون)۔ وَهُوَ الَّذِي أَنْشَأَ لَکُمُ السَّمْعَ وَالْأَبْصَارَ وَالْأَفْئِدَةَ قَلِيلًا مَا تَشْکُرُونَ (۷۸)( المؤمنون)۔ ذٰلِکَ عَالِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ (۶) الَّذِي أَحْسَنَ کُلَّ شَيْءٍ خَلَقَهٗ وَبَدَأَ خَلْقَ الْإِنْسَانِ مِنْ طِينٍ (۷) ثُمَّ جَعَلَ نَسْلَهٗ مِنْ سُلَالَةٍ مِنْ مَاءٍ مَهِينٍ (۸) ثُمَّ سَوَّاهُ وَنَفَخَ فِيهِ مِنْ رُوحِهِ وَجَعَلَ لَکُمُ السَّمْعَ وَالْأَبْصَارَ وَالْأَفْئِدَةَ قَلِيلًا مَا تَشْکُرُونَ (۹) السجدۃ-إِنَّ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ لَآيَاتٍ لِلْمُؤْمِنِينَ (۳) وَفِي خَلْقِکُمْ وَمَا يَبُثُّ مِنْ دَابَّةٍ آيَاتٌ لِقَوْمٍ يُوقِنُونَ (۴) الجاثیۃ-يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنْ کُنْتُمْ فِي رَيْبٍ مِنَ الْبَعْثِ فَإِنَّا خَلَقْنَاکُمْ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ مِنْ نُطْفَةٍ ثُمَّ مِنْ عَلَقَةٍ ثُمَّ مِنْ مُضْغَةٍ مُخَلَّقَةٍ وَغَيْرِ مُخَلَّقَةٍ لِنُبَيِّنَ لَکُمْ وَنُقِرُّ فِي الْأَرْحَامِ مَا نَشَاءُ إِلٰى أَجَلٍ مُسَمًّى ثُمَّ نُخْرِجُکُمْ طِفْلًا ثُمَّ لِتَبْلُغُوا أَشُدَّکُمْ وَمِنْکُمْ مَنْ يُتَوَفَّى وَمِنْکُمْ مَنْ يُرَدُّ إِلٰى أَرْذَلِ الْعُمُرِ لِکَيْلَا يَعْلَمَ مِنْ بَعْدِ عِلْمٍ شَيْئًا وَتَرَى الْأَرْضَ هَامِدَةً فَإِذَا أَنْزَلْنَا عَلَيْهَا الْمَاءَ اهْتَزَّتْ وَرَبَتْ وَأَنْبَتَتْ مِنْ کُلِّ زَوْجٍ بَهِيجٍ (۵)( الحج)۔ قُلْ هُوَ الَّذِي أَنْشَأَکُمْ وَجَعَلَ لَکُمُ السَّمْعَ وَالْأَبْصَارَ وَالْأَفْئِدَةَ قَلِيلًا مَا تَشْکُرُونَ (۲۳) (الملک)۔بند
عقیدہ:
انسان کو حق تعالیٰ نے دوسری مخلوقات کے مقابلہ میں احسن تقویم میں پیدا کیا اور خاص خصوصیات سے نوازا ہے، یہ اللہ کی جانب سے انسان کی تقدیر کا حصہ ہے۔تشریح
تخلیق انسان کی ساخت میں پیمانہ:
انسان حیوانات میں سب سے اونچی مخلوق ہے، جو اللہ تعالیٰ کی تخلیقات میں شاہکار ہے، جس کو اللہ تعالیٰ نے ہر زاویہ سے ایک خوبصورت اور غیر معمولی بنایا ہے، جس کے ظاہری اعضاء کی ساخت تمام مخلوقات میں سب سے خوبصورت ہے، اللہ تعالیٰ نے اس کی خوبصورتی میں اضافہ کے لئے اس کی جلد کو صاف و شفاف رکھا ہے، اس کی جلد کی شفافیت کی وجہ سے ہی اس کو بشر کہا جاتا ہے،اس کی اٹھان اور اعضاء کا تناسب دیگر تمام مخلوقات میں سب سے بہترین ہے، اس کا چلنا، بیٹھنا، لیٹنا ہر زاویہ میں اس کا تناسب دیگر مخلوقات کے مقابلہ میں ایک بہترین پہلو رکھتا ہے، تمام مخلوقات میں انسان کا یہ مقام پہلے سے طے شدہ ہے اور اللہ کی تقدیر کا حصہ ہے ۔
پھر عقل اور اس کے استعمال میں اللہ تعالیٰ نے اس کو ایک خاص مقام دیا ہے جو اس کو دیگر تمام مخلوقات سے ممتاز کرتا ہے، عقل اور اس کے دیگر ذرائع علم اسے اس دنیا کو برتنا سکھاتے ہیں، دنیا کو اس طرح برتنا ، اپنے علم کے وسائل کو استعمال کرنا اور ان وسائل سے حاصل معلومات کو محفوظ کرنا، محفوظ معلومات اور ان کے مطابق تجربات سے حقائق تک پہنچنا اور دنیاوی قوتوں کو مسخر کرنا، اور ان علوم کو مدوّن کرکے ترقیات کو آگے بڑھانا، ان سب میں دنیا کی کوئی مخلوق انسان کا مقابلہ نہیں کر سکتی، اس طرح سے مخلوقات میں اس زمین پر حکومت اور بادشاہی کرنے والی مخلوق انسان ہی ہے، چنانچہ زمین پر اللہ کے خلیفہ کی حیثیت سے ہی اس کی تخلیق ہوئی ہے، یہ سب صفات اس کو اللہ تعالیٰ کی جانب سے کہ وہ ان مقاصد کو پورا کرے ایک خاص پیمانہ اور مقررہ اندازہ سے دئے گئے ہیں اور یہ اس کےلئے اللہ کی تقدیر کا حصہ ہے۔دلائل
وَلَقَدْ کَرَّمْنَا بَنِي آدَمَ وَحَمَلْنَاهُمْ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ وَرَزَقْنَاهُمْ مِنَ الطَّيِّبَاتِ وَفَضَّلْنَاهُمْ عَلٰى کَثِيرٍ مِمَّنْ خَلَقْنَا تَفْضِيلًا (۷۰)( الإسراء)۔ لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ فِي أَحْسَنِ تَقْوِيمٍ (۴)( التین)۔ أَلَمْ نَخْلُقْکُمْ مِنْ مَاءٍ مَهِينٍ (۲۰) فَجَعَلْنَاهُ فِي قَرَارٍ مَكِينٍ (۲۱) إِلٰى قَدَرٍ مَعْلُومٍ (۲۲) فَقَدَرْنَا فَنِعْمَ الْقَادِرُونَ (۲۳)( المرسلات)۔ وَهُوَ الَّذِي أَنْشَأَ لَکُمُ السَّمْعَ وَالْأَبْصَارَ وَالْأَفْئِدَةَ قَلِيلًا مَا تَشْکُرُونَ (۷۸) (المؤمنون)۔ ذٰلِکَ عَالِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ (۶) الَّذِي أَحْسَنَ کُلَّ شَيْءٍ خَلَقَهٗ وَبَدَأَ خَلْقَ الْإِنْسَانِ مِنْ طِينٍ (۷) ثُمَّ جَعَلَ نَسْلَهٗ مِنْ سُلَالَةٍ مِنْ مَاءٍ مَهِينٍ (۸) ثُمَّ سَوَّاهُ وَنَفَخَ فِيهِ مِنْ رُوحِهِ وَجَعَلَ لَکُمُ السَّمْعَ وَالْأَبْصَارَ وَالْأَفْئِدَةَ قَلِيلًا مَا تَشْکُرُونَ (۹) (السجدۃ)۔بند
عقیدہ:
عورت و مرد کی تخلیق میں اللہ نے فرق رکھا ہے اور ہر دو کی جدا جدا خصوصیات میں خاص پیمانہ مقرر ہے، یہ ان کےلئے اللہ کی جانب سے مقرر تقدیر کا حصہ ہے۔تشریح
نر و مادہ اور عورت و مرد کی ساخت میں پیمانہ:
تمام مخلوقات کی تخلیق جوڑوں کی شکل میں ہوئی ہے جو ایک دوسرے سے مل کر مکمل ہوتے ہیں، جانداروں میں بھی نر و مادہ ایک دوسرے کے جوڑ ہیں اور انسانوں میں مرد و عورت ایک دوسرے کے جوڑ ہیں، مخلوقات کی جوڑوں کی شکل میں پیدائش اللہ کا مقرر کردہ پیمانہ ہے اور اس کی تقدیر کا حصہ ہے۔
نر و مادہ یا مرد و عورت جس مقصد کے تحت الگ الگ ساخت میں پیدا کئے گئے ہیں، یا ان کی ساخت میں جو فرق ہے وہ خاص پیمانہ اور مقررہ اندازہ کے مطابق ہے، اور ہر ایک مکمل طور پر اس مقصد کی تکمیل کرتا ہے جس کےلئے وہ پیدا ہوا ہے، اور ہر ایک کو ایک خاص اندازہ اور پیمانہ میں وہ سارے اسباب و اعضاء دئے گئے ہیں جس کے لئے ان کی تخلیق ہوئی ہے، یہ بھی ان کےلئے اللہ کی تقدیر کا حصہ ہے۔دلائل
هُوَ الَّذِي خَلَقَکُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ وَجَعَلَ مِنْهَا زَوْجَهَا لِيَسْکُنَ إِلَيْهَا فَلَمَّا تَغَشَّاهَا حَمَلَتْ حَمْلًا خَفِيفًا فَمَرَّتْ بِهٖ فَلَمَّا أَثْقَلَتْ دَعَوَا اللہَ رَبَّهُمَا لَئِنْ آتَيْتَنَا صَالِحًا لَنَکُونَنَّ مِنَ الشَّاكِرِينَ (۱۸۹)( الأعراف)۔ يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّکُمُ الَّذِي خَلَقَکُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالًا کَثِيرًا وَنِسَاءً وَاتَّقُوا اللہَ الَّذِي تَسَاءَلُونَ بِهٖ وَالْأَرْحَامَ إِنَّ اللہَ کَانَ عَلَيْکُمْ رَقِيبًا (۱) (النساء)۔بند
عقیدہ:
دنیا میں قوموں کا عروج و زوال ان کی تقدیر کا حصہ ہے، ہر عروج و زوال اللہ کی جانب سے مقدر ہے جس میں اس کی حکمتیں کار فرما ہوتی ہیں۔تشریح
قوموں کے عروج و زوال میں پیمانہ:
اللہ کی پیدا کردہ اس زمین پر ایک نسل کے بعد دوسری نسل پیدا کی جاتی ہے، ہر نسل و قوم کا ایک وقت مقرر ہے، کوئی نسل و قوم نہ وقت سے پہلے آتی ہے اور نہ مقررہ وقت سے دیر کرتی ہے، کس کو کب پیدا ہونا ہے اور کب ختم ہو جانا ہے اللہ کی جانب سے مقرر ہے، یہ اللہ کی تقدیر کا حصہ ہے۔
اسی طرح قوموں کا عروج و زوال بھی اللہ کے یہاں مقرر ہے، کسی قوم یا فرد کو زمین میں اللہ تعالیٰ ہی حکومت و ملوکیت عطاء فرماتے ہیں، جب کسی حاکم قوم کا وقت ختم ہو جاتا ہے تو پھر اس کو زوال سے دوچار کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اس طرح سے وہ زمین پر فساد کا سلسلہ ختم کرتے ہیں، اور پھر کسی اور قوم کو عروج عطاء کرتے ہیں، یہ در حقیقت اللہ کی ملوکیت ہے جہاں اس کی مشیت چلتی ہے اور ہوتا وہی ہے جو اللہ چاہتا ہے، اللہ نے ہر ایک کے لئے خاص وقت اور پیمانہ مقرر کیا ہے اور کوئی چیز اس کی مقررہ تقدیر سے ہٹ کر نہیں ہوتی ہے۔
واقعات کے پیش آنے میں اسباب کی بھی حقیقت ہے کیونکہ اللہ نے ہی اسباب کو بھی پیدا کیا ہے، کسی بھی واقعہ کے لئے سبب کیسے ذریعہ بنتا ہے؟ جیسے کسی قوم کے عروج و زوال میں اسباب کی کیا اہمیت ہے؟ اور وہ کس حد تک انسان کے اختیار میں ہیں؟ ان کے بارے میں آگے تفصیل سے کلام آرہا ہے۔دلائل
فَهَزَمُوهُمْ بِإِذْنِ اللہِ وَقَتَلَ دَاوُودُ جَالُوتَ وَآتَاهُ اللہُ الْمُلْکَ وَالْحِكْمَةَ وَعَلَّمَهُ مِمَّا يَشَآءُ وَلَوْلَا دَفْعُ اللہِ النَّاسَ بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ لَفَسَدَتِ الْأَرْضُ وَلٰكِنَّ اللہَ ذُو فَضْلٍ عَلَى الْعَالَمِينَ (۲۵۱) (البقرۃ)۔ قُلِ اَللّٰہُمَّ مَالِکَ الْمُلْكِ تُؤْتِي الْمُلْکَ مَنْ تَشَاءُ وَتَنْزِعُ الْمُلْکَ مِمَّنْ تَشَاءُ وَتُعِزُّ مَنْ تَشَاءُ وَتُذِلُّ مَنْ تَشَاءُ بِيَدِکَ الْخَيْرُ إِنَّکَ عَلٰى کُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ (۲۶) (آل عمران)۔ وَرَبُّکَ الْغَنِيُّ ذُو الرَّحْمَةِ إِنْ يَشَأْ يُذْهِبْکُمْ وَيَسْتَخْلِفْ مِنْ بَعْدِکُمْ مَا يَشَآءُ کَمَا أَنْشَأَکُمْ مِنْ ذُرِّيَّةِ قَوْمٍ آخَرِينَ (۱۳۳) (الأنعام)۔بند
عقیدہ:
یہ دنیا اللہ کی ملکیت ہے، یہاں وہی ہوتا ہے جو اللہ چاہتا ہے،اللہ کی چاہت   کے بغیر یہاں کچھ نہیں ہوتا۔

عقیدہ:
 اپنے علم کے مطابق تقدیر لکھ دینے کے بعد اللہ تعالیٰ نے بندوں کے عمومی اعمال کے بارے میں چاہا کہ وہ ویسے واقع ہو جایا کریں جیسے بندے چاہتے ہیں، تاکہ آزمائش کا مرحلہ پورا ہو۔تشریح
مشیتِ الٰہی:
 تقدیر سے متعلق تیسری اہم صفت اللہ تعالیٰ کی ’’مشیت‘‘ ہے، اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے کرتا ہے، اور اس کے علاوہ سب اس کی مخلوق ہیں، اس کی مخلوق میں جو وہ چاہتا ہے وہی ہوتا ہے، جو وہ نہیں چاہتا نہیں ہوتا ہے۔
یہ پوری کائنات اللہ کی مملکت ہے، یہاں وہی ہوتا جو اس کی مشیت میں ہو، اسی طرح اس کی تمام مخلوقات وہی کر سکتی ہیں جو وہ چاہتا ہے، جو وہ نہیں چاہتا وہ نہیں کر سکتیں، افلاک اور آسمانوں کے بس میں نہیں ہے کہ وہ اللہ کی مشیت سے انحراف کرکے خود سے اپنی کوئی راہ متعین کرے، سورج ، چاند ، زمین اور سیارے اس کی مشیت کے تابع ہیں، فرشتے اس کی مشیت کے تابع ہیں، مظاہر فطرت اس کی مرضی کے تابع ہیں، آگ، پانی، ہوا، مٹی، جمادات، نباتات، جانداروں کا وہ نظام جو اس نے جبلتی طریقے سے طے کیا ہے جس کے پیدا کرنے اور اس کو چلانے میں خود جانداروں کا کوئی دخل نہیں ہے، سب اللہ کی مشیت کے تابع ہے۔دلائل
کَذٰلِکَ اللہُ يَفْعَلُ مَا يَشَآءُ (۴۰) (آل عمران)۔ وَإِنْ يَمْسَسْکَ اللہُ بِضُرٍّ فَلَا کَاشِفَ لَهٗ إِلَّا هُوَ وَإِنْ يُرِدْکَ بِخَيْرٍ فَلَا رَادَّ لِفَضْلِهٖ يُصِيبُ بِهٖ مَنْ يَشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ وَهُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ (۱۰۷)( یونس)۔ يَمْحُو اللہُ مَا يَشَآءُ وَيُثْبِتُ وَعِنْدَهُ أُمُّ الْكِتَابِ (۳۹) (الرعد)۔ وَيَفْعَلُ اللہُ مَا يَشَآءُ (۲۷)( ابراھیم)۔ أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللہَ يَسْجُدُ لَهٗ مَنْ فِي السَّمَاوَاتِ وَمَنْ فِي الْأَرْضِ وَالشَّمْسُ وَالْقَمَرُ وَالنُّجُومُ وَالْجِبَالُ وَالشَّجَرُ وَالدَّوَابُّ وَکَثِيرٌ مِنَ النَّاسِ وَکَثِيرٌ حَقَّ عَلَيْهِ الْعَذَابُ وَمَنْ يُهِنِ اللہُ فَمَا لَهٗ مِنْ مُكْرِمٍ إِنَّ اللہَ يَفْعَلُ مَا يَشَآءُ (۱۸) (الحج)۔ وَمَا تَشَاءُونَ إِلَّا أَنْ يَشَآءَ اللہُ إِنَّ اللہَ کَانَ عَلِيمًا حَكِيمًا (۳۰) (الإنسان)۔ وَمَا تَشَاءُونَ إِلَّا أَنْ يَشَآءَ اللہُ رَبُّ الْعَالَمِينَ (۲۹)( التکویر)۔بند
عقیدہ:
 اللہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے، جیسے چاہتا ہے پید اکرتا ہے، جس مخلوق کو جس تعداد میں چاہتا ہے پید کرتا ہے، وہ اپنی مشیت سے کس کو کیا بنائے گا پہلے سے مقدر ہے۔تشریح
تخلیق میں مشیت الٰہی:
اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے، جیسی مخلوقات چاہتا ہے پیدا کرتا ہے، کوئی مخلوق اس کی چاہت کے خلاف کوئی چیز طے نہیں کر سکتی، وہ جس کو چاہتا ہے جتنی تعداد میں چاہتاہے پیدا کرتا ہے، وہ جس کو چاہتا ہے فرشتہ بنادے، جس کو چاہے، انسان بنادے، جس کو چاہے جن بنادے، جس کو چاہے کوئی اور جانور بنادے، جس کو چاہے نر بنائے جس کو چاہے مادہ بناے، جس کو چاہے مرد بنائے جس کو چاہے عورت بنائے اور اسی طرح جس کو چاہے نرینہ اولاد دے اور جس کو چاہے بیٹیاں دے۔
وہ اپنی مشیت سے کس کو کیا بنائے گا اس کی جانب سے پہلے سے طے شدہ ہے اور پہلے سے اس کے علم میں ہے کون کیا بنے گا، اور اس کی جانب سے مقرر کردہ تقدیر کا حصہ ہے۔
اسی طرح مخلوقات اور انسانوں کی تعداد سب کی پیدائش اللہ کے یہاں مقررہے، انسانوں کی مقدر تعداد لازماً پیدا ہو کر رہے گی، انسان اولاد روکنے کےلئے خواہ عزل کرے خواہ کوئی اور طریقہ اختیار کرے جس کو پیدا کرنا اللہ کے یہاں مقدر ہو چکا ہے وہ پیدا ہو کر رہے گا۔دلائل
کَذَلِكِ اللہُ يَخْلُقُ مَا يَشَآءُ إِذَا قَضٰى أَمْرًا فَإِنَّمَا يَقُولُ لَهٗ کُنْ فَيَکُونُ (۴۷)( آل عمران)۔ وَلِلّٰہِ مُلْکُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا يَخْلُقُ مَا يَشَآءُ وَاللہُ عَلٰى کُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ (۱۷)( المائدۃ)۔ وَرَبُّکَ يَخْلُقُ مَا يَشَآءُ وَيَخْتَارُ مَا کَانَ لَهٗمُ الْخِيَرَةُ سُبْحَانَ اللہِ وَتَعَالٰى عَمَّا يُشْرِکُونَ (۶۸)( القصص)۔ اللہُ الَّذِي خَلَقَکُمْ مِنْ ضَعْفٍ ثُمَّ جَعَلَ مِنْ بَعْدِ ضَعْفٍ قُوَّةً ثُمَّ جَعَلَ مِنْ بَعْدِ قُوَّةٍ ضَعْفًا وَشَيْبَةً يَخْلُقُ مَا يَشَآءُ وَهُوَ الْعَلِيمُ الْقَدِيرُ (۵۴) (الروم)۔ لِلّٰہِ مُلْکُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ يَخْلُقُ مَا يَشَآءُ يَهَبُ لِمَنْ يَشَآءُ إِنَاثًا وَيَهَبُ لِمَنْ يَشَآءُ الذُّکُورَ (۴۹) أَوْ يُزَوِّجُهُمْ ذُكْرَانًا وَإِنَاثًا وَيَجْعَلُ مَنْ يَشَآءُ عَقِيمًا إِنَّهٗ عَلِيمٌ قَدِيرٌ (۵۰)( الشوری)۔ الزُّهْرِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَيْرِيزٍ الجُمَحِيُّ "أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ أَخْبَرَهُ أَنَّهٗ بَيْنَمَا هُوَ جَالِسٌ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَ رَجُلٌ مِنْ الأَنْصَارِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللہِ إِنَّا نُصِيبُ سَبْيًا وَنُحِبُّ الْمَالَ کَيْفَ تَرَى فِي الْعَزْلِ. فَقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "أَوَإِنَّکُمْ لَتَفْعَلُونَ ذٰلِکَ لاَ عَلَيْکُمْ أَنْ لاَ تَفْعَلُوا فَإِنَّهٗ لَيْسَتْ نَسَمَةٌ کَتَبَ اللہُ أَنْ تَخْرُجَ إِلاَّ هِيَ کَائِنَةٌ" (صحیح بخاری)۔بند
عقیدہ:
اللہ نے اپنی مشیت سے جس کے لئے جو رزق طے کیا ہے وہی ملتا ہے۔تشریح
رزق کی عطاء میں مشیت:
زمین و آسمان کا رزق کو نکالنا اللہ کی مشیت پر مقدر ہے، وہ جب چاہے جس کےلئے چاہے رزق کی فراوانی مقدر کردے اور جب چاہے جس کےلئے چاہے رزق کی تنگی مقدر کردے۔
جس طرح اللہ تعالیٰ نے رزق کو پیدا کرنے کے اسباب ایک خاص اندازہ اور مقررہ پیمانہ سے بنائے ہیں، اور اس کی جانب سے پہلے سے طے شدہ ہے کہ کب کتنا رزق پیدا ہونا ہے، اسی طرح یہ اس کی مشیت ہے کہ وہ جس کو جتنا چاہے رزق دے، جس قوم یا فرد کےلئے چاہے رزق کشادہ کردے اور جس قوم یا فرد کےلئے چاہے رزق کو تنگ کردے۔
وہ جب چاہے آسمان سے بارش کو روک دے اور قحط لے آئے، وہ جب چاہے بارش کا تناسب بڑھادے اور سیلابوں سے زمین کے خزانوں کو تباہ کردے، جس کو چاہے اسباب رزق بھر پور عطاء کردے اور اس سے فائدہ پہنچائے، اور جس کو چاہے اسباب بھر پور دے کر بھی ان اسباب سے فائدہ اٹھانے سے اس کو محروم کردےاور جس کےلئے چاہے اسباب رزق میں تنگی کردے۔
جو کچھ ہوتا ہے صرف اللہ کی مشیت سے ہوتا ہے ، کب کس وقت اللہ کی مشیت سے کیا ہونا ہے اس کے علم و کتابِ تقدیر میں موجود ہے۔دلائل
اللہُ يَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ يَشَآءُ وَيَقْدِرُ وَفَرِحُوا بِالْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا فِي الْآخِرَةِ إِلَّا مَتَاعٌ (۲۶) (الرعد)۔ إِنَّ رَبَّکَ يَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ يَشَآءُ وَيَقْدِرُ إِنَّهٗ کَانَ بِعِبَادِهٖ خَبِيرًا بَصِيرًا (۳۰) وَلَا تَقْتُلُوا أَوْلَادَکُمْ خَشْيَةَ إِمْلَاقٍ نَحْنُ نَرْزُقُهُمْ وَإِيَّاکُمْ إِنَّ قَتْلَهٗمْ کَانَ خِطْئًا کَبِيرًا (۳۱) (الإسراء)۔ اللہُ يَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ يَشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ وَيَقْدِرُ لَهٗ إِنَّ اللہَ بِکُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ (۶۲)( العنکبوت)۔ قُلْ إِنَّ رَبِّي يَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ يَشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ وَيَقْدِرُ لَهٗ وَمَا أَنْفَقْتُمْ مِنْ شَيْءٍ فَهُوَ يُخْلِفُهٗ وَهُوَ خَيْرُ الرَّازِقِينَ (۳۹) (سبأ)۔ لَهٗ مَقَالِيدُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ يَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ يَشَآءُ وَيَقْدِرُ إِنَّهٗ بِکُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ (۱۲) (الشوری)۔بند
عقیدہ:
 وہ جس کےلئے چاہے نفع مقدر کرے، جس کےلئے چاہے نقصان مقدر کرے، جس کےلئے چاہے صحت مقدر کرے اور جس کےلئے چاہے مرض مقدر کرے۔تشریح
نفع و نقصان اور صحت و مرض میں اللہ کی مشیت:
نفع و نقصان اور صحت و مرض سب اللہ کی مشیت کے تابع ہیں، اللہ جس کو چاہتا ہے نفع دیتا ہے جس کو چاہتا ہے نقصان دیتا ہے، جس کو چاہتا ہے صحت دیتا ہے جس کو چاہتا ہے مرض دیتا ہے، سب کچھ اسی کی مشیت سے ہوتا ہے۔
کسی کو نفع پہنچا تو وہ اللہ کی مشیت سے پہنچا کہ وہ پہلے سے اس کی تقدیر میں لکھا تھا، کسی کو نقصان ہوا تو وہ اللہ کی مشیت سے ہوا اور اس کی تقدیر میں پہلے سے لکھا تھا، کوئی صحت مند ہے تو اللہ کی مشیت سے ہے، اس کی تقدیر میں وہ لکھی ہوئی تھی، کوئی بیمار ہوا تو اللہ کی مشیت سے ہوا ، وہ بیماری اس کی تقدیر میں پہلے سے لکھی ہوئی تھی۔
نفع و نقصان اور صحت و مرض کے لئے اللہ تعالیٰ اسباب کو بھی ذریعہ بناتا ہے اور اسباب کے ذریعہ یہ حالات ان پر آنا ہے پہلے سے لکھا ہے، ایسا بیشتر ہوتا ہے کہ اسباب پیش آنے کے باوجود حالات نہیں پیدا ہوتے؛ کیونکہ ان اسباب سے حالات پیدا ہونا بعضوں کی تقدیر میں لکھا نہیں ہوتا، مثلاً بیماری کے اسباب پیدا ہوتے ہیں لیکن بہت سوں کو بیماری نہیں ہوتی؛ کیونکہ اس کی تقدیر میں بیماری لکھی ہوئی نہیں ہوتی، طاعون پھیلتا ہے، اسباب ہر ایک کےلئے ہوتے ہیں، لیکن انہیں کے بیچ میں بعض ایسے بھی ہوتے ہیں جو طاعون زدہ علاقہ میں صحت مند رہتے ہیں کیونکہ مسبب الاسباب نے ان کے لئے اسباب کو غیر مؤثر بنادیا ہے، حدیث کے مطابق جو شخص اللہ کو مسبب مان کر اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ مرض اسباب نہیں اللہ دیتے ہیں تو وہ یقین اور اس کے مطابق عمل اس کو شہید کے برابر اجر کا مستحق بناتے ہیں۔
تقدیر میں اسباب کی اہمیت کے بارے میں کچھ اور تفصیل آگے آرہی ہے۔دلائل
وَإِنْ يَمْسَسْکَ اللہُ بِضُرٍّ فَلَا کَاشِفَ لَهٗ إِلَّا هُوَ وَإِنْ يُرِدْکَ بِخَيْرٍ فَلَا رَادَّ لِفَضْلِهٖ يُصِيبُ بِهٖ مَنْ يَشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ وَهُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ (۱۰۷)( یونس)۔ مَا يَفْتَحِ اللہُ لِلنَّاسِ مِنْ رَحْمَةٍ فَلَا مُمْسِکَ لَهَا وَمَا يُمْسِكْ فَلَا مُرْسِلَ لَهٗ مِنْ بَعْدِهٖ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ (۲)( فاطر)۔ وَإِذَا مَرِضْتُ فَهُوَ يَشْفِينِ (۸۰) (الشعراء)۔ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللہُ عَنْهَا أَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا سَأَلَتْ رَسُولَ اللہِ صَلَّى اللہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الطَّاعُونِ فَقَالَ کَانَ عَذَابًا يَبْعَثُهُ اللہُ عَلٰى مَنْ يَشَآءُ فَجَعَلَهٗ اللہُ رَحْمَةً لِلْمُؤْمِنِينَ مَا مِنْ عَبْدٍ يَکُونُ فِي بَلَدٍ يَکُونُ فِيهِ وَيَمْکُثُ فِيهِ لاَ يَخْرُجُ مِنْ الْبَلَدِ صَابِرًا مُحْتَسِبًا يَعْلَمُ أَنَّهٗ لاَ يُصِيبُهٗ إِلاَّ مَا کَتَبَ اللہُ لَهٗ إِلاَّ کَانَ لَهٗ مِثْلُ أَجْرِ شَهِيدٍ۔ (صحیح بخاری)۔بند
عقیدہ:
 اللہ تعالیٰ کی مشیت اور اس کی جانب سے مقرر کردہ مخلوقات کی تقدیر حکمتوں سے بھر پور اور بامقصد ہوتی ہے۔تشریح
اللہ تعالیٰ کا ہر کام حکمت سے بھر پور اور با مقصد ہوتا ہے:
اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے کرتا ہے، جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے، ان سب کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ کا کوئی کام حکمت و مقصد سے خالی ہوتا ہے۔
اللہ تعالیٰ کا ہر کام حکمت سے بھر پور اور بامقصد ہوتا ہے، اس نے جو کچھ بھی پیدا کیا ہے با مقصد پیدا کیا ہے، نہ کائنات کی تخلیق ، نہ مخلوقات کی تخلیق اور نہ ہی ان میں انسانوں کی تخلیق کچھ بھی بے مقصد نہیں ہے، اللہ تعالیٰ عبث اور باطل کام نہیں کرتا ہے۔
ایسا خیال کرنا کہ اللہ تعالیٰ نے بے حکمت اور بے مقصد سب کچھ تخلیق کیا ہے کفر ہے۔دلائل
أَفَحَسِبْتُمْ أَنَّمَا خَلَقْنَاکُمْ عَبَثًا وَأَنَّکُمْ إِلَيْنَا لَا تُرْجَعُونَ (۱۱۵) (المؤمنون)۔ أَيَحْسَبُ الْإِنْسَانُ أَنْ يُتْرَکَ سُدًى (۳۶)( القیامة)۔ وَمَا خَلَقْنَا السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا لَاعِبِينَ (۳۸) مَا خَلَقْنَاهُمَا إِلَّا بِالْحَقِّ وَلٰكِنَّ أَكْثَرَهُمْ لَا يَعْلَمُونَ (۳۹)( الدخان)۔ إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ لَآيَاتٍ لِأُولِي الْأَلْبَابِ (۱۹۰) الَّذِينَ يَذْکُرُونَ اللہَ قِيَامًا وَقُعُودًا وَعَلٰى جُنُوبِهِمْ وَيَتَفَکَرُونَ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هٰذَا بَاطِلًا سُبْحَانَکَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ (۱۹۱) ( آل عمران)۔ وَمَا خَلَقْنَا السَّمَآءَ وَالْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا بَاطِلًا ذٰلِکَ ظَنُّ الَّذِينَ کَفَرُوا فَوَيْلٌ لِلَّذِينَ کَفَرُوا مِنَ النَّارِ (۲۷)( ص)۔بند
عقیدہ:
کسی کی بھی تقدیر میں اللہ تعالی ظلم نہیں کرتے،   سب کے ساتھ عدل کرتے ہیں ، ہاں وہ جس پر چاہیں فضل کا معاملہ بھی کر سکتے ہیں اور کرتے ہیں۔تشریح
عدل و فضل:
 اسی طرح اللہ تعالیٰ جس کو جو چاہتا ہے بناتا ہے، جس کو جتنا چاہتا ہے عطاء کرتا ہے، جس کو چاہتا ہے مرد بناتا ہے جس کو چاہتا ہے عورت بناتا ہے، وہ مردوں کو قوّام بناتا ہے اور ان کو عورتوں پر یک گونہ برتری عطا کرتا ہے، یہ اس کا فضل ہے، جس کو چاہتا ہے رزق میں کشادگی دیتا ہے اور جس کےلئے چاہتا ہے تنگی کرتا ہے، اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اللہ ظالم ہے، ہر گز نہیں اللہ تعالیٰ نے جس کو جیسا بنایا اور جس کو جو کچھ دیا وہ اس کا عین عدل ہے، ہاں اگر وہ کسی کو واقعۃً بڑھا کر دیتا ہے تو وہ اس کا فضل ہے، اور اس کو اس بات کا پورا اختیار ہے کہ وہ جس کے ساتھ چاہے فضل کا معاملہ کرے۔
تمام مخلوقات اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہیں، وہ ان کے ساتھ جو چاہے کرے، لیکن یہ اس کا احسان ہے کہ دنیا کے مفلس ترین اور محروم ترین انسان کو بھی اس نے لاکھوں کروڑوں نعمتوں سے نوازا ہے، اس کی تخلیق اور ربوبیت میں ہی اتنے احسانات ہیں کہ ان کو شمار کرنا ممکن نہیں ہے، رہی یہ بات کہ اس نے کسی کو کچھ یا بہت کچھ بڑھا کر دیا ہے تویہ اس کے فضل کی بات ہے وہ جس پر چاہے اضافی فضل کر سکتا ہے۔دلائل
وَالْمُطَلَّقَاتُ يَتَرَبَّصْنَ بِأَنْفُسِهِنَّ ثَلَاثَةَ قُرُوءٍ وَلَا يَحِلُّ لَهٗنَّ أَنْ يَكْتُمْنَ مَا خَلَقَ اللہُ فِي أَرْحَامِهِنَّ إِنْ کُنَّ يُؤْمِنَّ بِاللّٰہِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَبُعُولَتُهُنَّ أَحَقُّ بِرَدِهٖنَّ فِي ذٰلِکَ إِنْ أَرَادُوا إِصْلَاحًا وَلَهٗنَّ مِثْلُ الَّذِي عَلَيْهِنَّ بِالْمَعْرُوفِ وَلِلرِّجَالِ عَلَيْهِنَّ دَرَجَةٌ وَاللہُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ (۲۲۸)(البقرۃ)۔ إِنِّي تَوَکَلْتُ عَلَى اللہِ رَبِّي وَرَبِّکُمْ مَا مِنْ دَابَّةٍ إِلَّا هُوَ آخِذٌ بِنَاصِيَتِهَا إِنَّ رَبِّي عَلٰى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ (۵۶)( ھود)۔ وَلَا تَتَمَنَّوْا مَا فَضَّلَ اللہُ بِهٖ بَعْضَکُمْ عَلٰى بَعْضٍ لِلرِّجَالِ نَصِيبٌ مِمَّا اكْتَسَبُوا وَلِلنِّسَاءِ نَصِيبٌ مِمَّا اكْتَسَبْنَ وَاسْأَلُوا اللہَ مِنْ فَضْلِهٖ إِنَّ اللہَ کَانَ بِکُلِّ شَيْءٍ عَلِيمًا (۳۲)( النساء)۔ وَضَرَبَ اللہُ مَثَلًا رَجُلَيْنِ أَحَدُهُمَا أَبْکَمُ لَا يَقْدِرُ عَلٰى شَيْءٍ وَهُوَ کَلٌّ عَلٰى مَوْلَاهُ أَيْنَمَا يُوَجِّهْهُ لَا يَأْتِ بِخَيْرٍ هَلْ يَسْتَوِي هُوَ وَمَنْ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَهُوَ عَلٰى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ (۷۶) (النحل)۔ إِنَّ اللہَ لَا يَظْلِمُ النَّاسَ شَيْئًا وَلٰكِنَّ النَّاسَ أَنْفُسَهُمْ يَظْلِمُونَ (۴۴)( یونس)۔ وَأَنَّ اللہَ لَيْسَ بِظَلَّامٍ لِلْعَبِيدِ (۱۸۲)( آل عمران)۔بند
عقیدہ:
 اللہ تعالیٰ سے یہ سوال نہیں کیا جا سکتا کہ اس نے فلاں کام کیوں کیا ؟ یا فلاں کام ایسے کیوں کیا؟ ویسے کیوں نہیں کیا؟تشریح
اللہ تعالیٰ کے فیصلوں کے بارے میں کیوں کا سوال نہیں ہو سکتا:
تمام مخلوقات اللہ کی ملکیت ہیں اور کائنات اللہ کی مملکت ہے، وہ اپنی مخلوقات کے ساتھ اپنی مصلحتوں اور مخلوقات اور بندوں کےلئے اس کی حکمتوں کے مطابق جو چاہتا ہے کرتا ہے، اللہ تعالیٰ سے کوئی یہ نہیں کہہ سکتا ہے کہ اس نے یہ کام کیوں کیا؟ کسی کام کو ایسے کیوں نہیں کیا؟ اس کو یہ کام ایسے کرنا چاہئے تھا،ایسے کیوں کیا؟ وغیرہ، اس طرح کا کوئی سوال اللہ تعالیٰ سے نہیں کر سکتا ، کون ہے جو اللہ کے علم و حکمت کے مقابلہ میں اپنی ناقص عقل کو لاسکے، اور کون ہے جو اللہ کی قدرت کے آگے ٹھہر سکے، نہ بندوں کے پاس وہ عقل و حکمت ہے جس سے وہ اللہ کے افعال پر کسی قسم کی تنقید کر سکے اور نہ بندوں کی یہ حیثیت ہے کہ وہ کسی کام پر اللہ کے آگے احتجاج کر سکے، وہ کامل و مکمل حکمت والا اوراس کی رحمت اس کے غضب پر غالب ہے، اس لئے بندوں کےلئے خیر اسی میں ہے جو اس نے ان کے لئے طے کیا ہے اس کو پورے اعتماد اور بھروسہ کے ساتھ اپنے لئے خیر سمجھیں اور انہیں جس بات کا حکم دیا ہے اسی میں بھلائی   جان کر اس کو لازم پکڑیں۔دلائل
اشراط الساعۃ ھی علامات تدل علی قربھافمنھا صغار موجودۃ منذ عہد طویل ..... و منھا کبار تنذر بقربھا کالمھدی و عیسیٰ و الدجال .....۔ (مرام الکلام:۶۶)بند
عقیدہ:
وہی رزق دیتا ہے اور وہی تنگ کرتا ہے، لیکن جد و جہد اور محنت وغیرہ کو کشادگی کےلئے اور کام چوری وغیرہ کو تنگی کےلئے سبب بناتا ہے۔تشریح
تقدیر میں اسباب کی اہمیت:
اسی طرح اللہ تعالیٰ جو چاہتے ہیں کرتے ہیں، جو چاہتے ہیں دیتے ہیں، چاہیں تو رزق میں کشادگی کردیں اور چاہیں تو رزق میں تنگی کردیں، یہ سب حقیقت ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اسباب کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔
اللہ تعالیٰ نے اسباب کو نتائج بر آمد ہونے کا اہم ذریعہ بنایا ہے، پانی کو زندگی کا سبب بنایا، بارش کو زمین سیراب کرنے اور سر سبزی و شادابی لانے کا سبب بنایا، شادی کو اولاد کا سبب بنایا، آگ جلاتی ہے، پانی پیاس بجھاتا ہے، محنت کشادگی لاتی ہے اور کام چوری تنگی لاتی ہے، اسی طرح زندگی کے ہر معاملہ میں اللہ تعالیٰ نے اسباب کا سلسلہ رکھا ہے، اسباب اختیار کرنے سے ہی نتائج بر آمد ہوتے ہیں اور اسباب اختیار کرنے سے نتائج بر آمد ہونا اللہ کی تقدیر کا حصہ ہے، اسباب کو ایک مقررہ پیمانہ کی حیثیت سے اللہ تعالیٰ نے کائنات میں تبدیلیوں کا ذریعہ بنایا ہے۔
وہی ہدایت دیتا ہے اور وہی گمراہ کرتا ہے، لیکن اس کا یہ عمل بے سبب نہیں ہوتا، وہ بندہ میں انابت اور خوف کی بنیاد پر ہدایت کی توفیق دیتا ہے، یا پھر سرکشی ،حق سے انحراف یا شرک میں لاپراوہی وغیرہ کی بنیاد پر گمراہی کے راستہ کو آسان کردیتا ہے۔
اسباب چونکہ اللہ تعالیٰ کے پیدا کردہ ہیں اور اللہ تعالیٰ کے حکم سے نتائج بر آمد کرتے ہیں، اس لئے وہ اللہ کے اختیار میں ہیں ، وہ چاہے تو اسباب کو معطل بھی کر سکتا ہے، جیسے اس نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ساتھ کیا تھا کہ آگ‘ جلانے کا سبب ہے؛ لیکن ان کی آگ کے اثر کو اللہ تعالیٰ نے معطل کردیا۔
اسی طرح اللہ تعالیٰ کسی چیز کے بنانے میں اسباب کا محتاج نہیں ہے، جیسے حضرت ہود علیہ السلام کی اونٹنی معروف اسباب کے نتیجہ میں پیدا نہیں ہوئی بلکہ پہاڑ سے پیدا ہو کر نکل آئی ، اللہ کو کوئی چیز پیدا کرنے کے لئے اسباب کی ضرورت نہیں ہے، ہاں یہ بھی اللہ کی تقدیر کا حصہ ہے کہ عام طور پر وہ بندوں کےلئے اسباب کے ذریعہ سے ہی نتائج بر آمد کرتا ہے۔
جس طرح تکوینی تقدیر میں اللہ تعالیٰ نے اسباب کو رکھا ہے اسی طرح تشریعی احکام میں بھی اسباب کو اہمیت دی ہے، اس کا ذکر آگے آئے گا۔دلائل
{بِمَا کُنْتُمْ تَعْمَلُونَ}: {بِمَا کُنْتُمْ تَكْسِبُونَ}: {ذٰلِکَ بِمَا قَدَّمَتْ يَدَاکَ}: {فَبِمَا کَسَبَتْ أَيْدِيکُمْ}: {کُلُوا وَاشْرَبُوا هَنِيئاً بِمَا أَسْلَفْتُمْ فِي الأَيَّامِ الْخَالِيَةِ}: {جَزَآءً وِفَاقاً}: {فَبِظُلْمٍ مِنَ الَّذِينَ هَادُوا حَرَّمْنَا عَلَيْهِمْ طَيِّبَاتٍ أُحِلَّتْ لَهٗمْ وَبِصَدِهٖمْ عَنْ سَبِيلِ اللہِ کَثِيراً وَأَخْذِهِمُ الرِّبا وَقَدْ نُهُوا عَنْهُ وَأَكْلِهِمْ أَمْوَالَ النَّاسِ بِالْبَاطِلِ}: {فَبِمَا نَقْضِهِمْ مِيثَاقَهُمْ وَکُفْرِهِمْ بِآيَاتِ اللہِ وَقَتْلِهِمُ الأَنْبِيَاءَ بِغَيْرِ حَقٍّ وَقَوْلِهِمْ قُلُوبُنَا غُلْفٌ} إلى قوله: {وَبِکُفْرِهِمْ وَقَوْلِهِمْ عَلٰى مَرْيَمَ بُهْتَاناً عَظِيماً وَقَوْلِهِمْ إِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِيحَ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ} وقوله: {فَبِمَا نَقْضِهِمْ مِيثَاقَهُمْ لَعَنَّاهُمْ وَجَعَلْنَا قُلُوبَهُمْ قَاسِيَةً} وقوله: {فَبِمَا رَحْمَةٍ مِنَ اللہِ لِنْتَ لَهٗمْ} وقوله: {ذٰلِکَ بِأَنَّهُمْ کَانَتْ تَأْتِيهِمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَيِّنَاتِ فَکَفَرُوا فَأَخَذَهُمُ اللہُ} وقوله: {ذٰلِکَ بِأَنَّهُمْ قَالُوا إِنَّمَا الْبَيْعُ مِثْلُ الرِّبا} وقوله: {ذٰلِکَ بِأَنَّ الَّذِينَ کَفَرُوا اتَّبَعُوا الْبَاطِلَ وَأَنَّ الَّذِينَ آمَنُوا اتَّبَعُوا الْحَقَّ مِنْ رَبِّهِمْ} وقوله: {فَعَصَوْا رَسُولَ رَبِّهِمْ فَأَخَذَهُمْ أَخْذَةً رَابِيَةً} وقوله: {فَکَذَّبُوهُمَا فَکَانُوا مِنَ الْمُهْلَكِينَ}: {فَعَصَى فِرْعَوْنُ الرَّسُولَ فَأَخَذْنَاهُ أَخْذاً وَبِيلاً}: {فَکَذَّبُوهُ فَعَقَرُوهَا فَدَمْدَمَ عَلَيْهِمْ رَبُهٗمْ بِذَنْبِهِمْ فَسَوَّاهَا} وقوله: {فَلَمَّا آسَفُونَا انْتَقَمْنَا مِنْهُمْ فَأَغْرَقْنَاهُمْ أَجْمَعِينَ فَجَعَلْنَاهُمْ سَلَفاً وَمَثَلاً لِلآخِرِينَ} وقوله: {وَنَزَّلْنَا مِنَ السَّمَآءِ مَاءً مُبَارَكاً فَأَنْبَتْنَا بِهٖ جَنَّاتٍ وَحَبَّ الْحَصِيدِ} وقوله: {حَتّٰى إِذَا أَقَلَّتْ سَحَاباً ثِقَالاً سُقْنَاهُ لِبَلَدٍ مَيِّتٍ فَأَنْزَلْنَا بِهِ الْمَاءَ فَأَخْرَجْنَا بِهٖ مِنْ کُلِّ الثَّمَرَاتِ} وقوله: {يَهْدِي بِهِ اللہُ مَنِ اتَّبَعَ رِضْوَانَهٗ سُبُلَ السَّلامِ} وقوله: {قَاتِلُوهُمْ يُعَذِّبْهُمُ اللہُ بِأَيْدِيکُمْ وَيُخْزِهِمْ} الآية وقوله: {وَأَنْزَلْنَا مِنَ الْمُعْصِرَاتِ مَاءً ثَجَّاجاً لِنُخْرِجَ بِهٖ حَبّاً وَنَبَاتاً وَجَنَّاتٍ أَلْفَافاً} وكل موضع رتب فيه الحكم الشرعي أو الجزائي على الوصف أفاد كونه سببا له كقوله: {وَالسَّارِقُ وَالسَّارِقَةُ فَاقْطَعُوا أَيْدِيَهُمَا جَزَآءً بِمَا کَسَبَا نَکَالاً مِنَ اللہِ} وقوله: {الزَّانِيَةُ وَالزَّانِي فَاجْلِدُوا کُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا مِائَةَ جَلْدَةٍ} وقوله: {وَالَّذِينَ يُمَسِّکُونَ بِالْكِتَابِ وَأَقَامُوا الصَّلاةَ إِنَّا لا نُضِيعُ أَجْرَ الْمُصْلِحِينَ} وقوله: {الَّذِينَ کَفَرُوا وَصَدُّوا عَنْ سَبِيلِ اللہِ زِدْنَاهُمْ عَذَاباً فَوْقَ الْعَذَابِ بِمَا کَانُوا يُفْسِدُونَ} وهذا أكثر من أن يستوعب وكل موضع تضمن الشرط والجزاء أفاد سببية الشرط والجزاء وهو أكثر من أن يستوعب {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ تَتَّقُوا اللہَ يَجْعَلْ لَکُمْ فُرْقَاناً} وقوله: {لَئِنْ شَکَرْتُمْ لأَزِيدَنَّکُمْ وَلَئِنْ کَفَرْتُمْ إِنَّ عَذَابِي لَشَدِيدٌ} ….. وأنت لا تجد كتابا من الكتب أعظم إثباتا للأسباب من القرآن ويا لله العجب إذا كان الله خالق السبب والمسبب وهو الذي جعل هذا سببا لهذا والأسباب والمسببات طوع مشيئته وقدرته منقادة لحكمه إن شاء أن يبطل سببية الشيء أبطلها كما أبطل إحراق النار على خليله إبراهيم وإغراق الماء على كليمه وقومه وإن شاء أقام لتلك الأسباب موانع تمنع تأثيرها مع بقاء قواها وإن شاء خلى بينها وبين اقتضائه لآثارها (شفاء العلیل:۲۰تا۲۳)بند
عقیدہ:
وہی ہدایت دیتا ہے اور وہی گمراہ کرتا ہے لیکن بندوں کی انابت یا سرکشی کو ہدایت یا ضلالت کےلئے سبب بناتا ہے۔اس نے مخلوقات کےلئے ہدایت کے کئی درجات مقدر کئے ہیں۔تشریح
ہدایت و ضلالت مقدر ہونے کا مطلب:
اللہ کی نعمتوں میں سب سے بڑی نعمت ہدایت ہے اور سب سے بڑی مصیبت ضلالت و گمراہی ہے،بندہ ہدایت یاب ہو جائے تو اس سے بڑی کوئی کامیابی نہیں اور اگر بندہ گمراہ ہو جائے تو اس سے بڑا کوئی خسارہ نہیں ہے۔
یہ ہدایت اور ضلالت بھی صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے، اللہ جس کو چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے گمراہ کردیتا ہے۔
اللہ کی جانب سے ہدایت و ضلالت کے کئی درجات و مراتب ہیں۔دلائل
قُلْ إِنَّ اللہَ يُضِلُّ مَنْ يَشَآءُ وَيَهْدِي إِلَيْهِ مَنْ أَنَابَ (۲۷)( الرعد)۔ وَلَوْ شَآءَ اللہُ لَجَعَلَکُمْ أُمَّةً وَاحِدَةً وَلٰكِنْ يُضِلُّ مَنْ يَشَآءُ وَيَهْدِي مَنْ يَشَآءُ وَلَتُسْأَلُنَّ عَمَّا کُنْتُمْ تَعْمَلُونَ (۹۳) (النحل)۔ أَفَمَنْ زُيِّنَ لَهٗ سُوْٓءُ عَمَلِهٖ فَرَآهُ حَسَنًا فَإِنَّ اللہَ يُضِلُّ مَنْ يَشَآءُ وَيَهْدِي مَنْ يَشَآءُ فَلَا تَذْهَبْ نَفْسُکَ عَلَيْهِمْ حَسَرَاتٍ إِنَّ اللہَ عَلِيمٌ بِمَا يَصْنَعُونَ (۸)( فاطر)۔بند
عقیدہ:
ہر مخلوق کو اللہ تعالیٰ نے اس کی طبعی اور جبلی ضروریات اور ان کو پورا کرنے کی فطری رہنمائی کردی ہے۔تشریح
ہدایت کا پہلا درجہ طبعی و جبلی ہدایت:
سب سے پہلا ہدایت کا درجہ عمومی ہے جو اللہ نے ہر مخلوق کے لئے رکھا ہے کہ ہر مخلوق کو اس کی زندگی و معاش اور مصلحتوں کی رہنمائی کردی گئی ہے ۔ 
خود انسان کا بچہ جب پیدا ہوتا ہے ، ماں کے پیٹ میں غذاء کے حصول کا کوئی طریقہ نہیں جانتا تھا پیدا ہونے کے بعد بھوک لگنے پر ماں کے سینے سے غذا حاصل کرتا ہے، اس کے لئے جو طریقہ وہ اختیار کرتا ہے وہ اس کو کسی مخلوق کا سمجھایا ہوا نہیں ہے اور نہ ہی وہ اس وقت کچھ سمجھنے کا اہل ہوتا ہے، یہ علم اور ہدایت اس میں اللہ کی جانب سے ودیعت کی ہوئی ہے۔ 
ہر مخلوق کو جو طبعی ضروریات کا ادراک اور ان کو پورا کرنے کا جو راستہ اس کو معلوم ہے وہ اسی ہدایت کے درجہ سے حاصل ہے، رزق کا حاصل کرنا، رزق کو استعمال کرنا اور نسل بڑھانا وغیرہ، یہ ہدایت اللہ نے ہر ذی نفس کو دی ہے، درختوں، جانوروں سب کو دی ہے، حتی کہ جن کو ہم جمادات کہتے ہیں ان کو بھی دی ہے، شہد کی مکھی شہد جمع کرنے کا جو عمل کرتی ہے وہ اللہ کی اسی ہدایت کا نتیجہ ہے۔
اسی طرح چیونٹیاں اپنی غذا کے حصول کے لئے جو جد و جہد کرتی ہے وہ اسی ہدایت کا نتیجہ ہے ، وہ حصول غذا کےلئے خواہ کتنی ہی دور نکل جائے، غذا حاصل کرکے آسان یا مشکل راستوں سے ہو کر واپس اپنے مستقر کو آتی ہے، اور جو غذا لاتی ہے اگر اس میں پانی لگ کر اس کے پودے کی شکل میں اگنے کا امکان ہوتو اس کے دو ٹکڑے کردیتی ہے، اگر کسی بیج کو دو حصوں میں توڑنے کے باوجود وہ دوبارہ اگ سکتا ہو تو اس کو دو سے زیادہ حصوں میں تکڑے کردیتی ہے۔ اگر اس کے جمع کئے ہوئے ذخیرہ میں پانی یا تری لگ کر وہ خراب ہو رہا ہو تو وہ اس کو اپنے بلوں کے سامنے سورج کی دھوپ لگنے کےلئے بکھیر دیتی ہے، اور جب وہ سوکھ جاتی ہے تو اس کو پھر ذخیرہ کردیتی ہے یہ سب چیزیں اللہ تعالیٰ نے ہی اس کی طبیعت کو سجھائی ہیں۔
اسی طرح پرندوں کو ان کی ضروریات کی ہدایت، مثلاً گھونسلے بنانا اور درختوں اور اونچی جگہوں پر بنانا، انڈے دینے کےلئے مناسب جگہ کا انتظام کرنا وغیرہ اللہ تعالیٰ ہی کی جانب سے جبلتی ہدایت کے سلسلہ کا حصہ ہے۔
کبوتر جو پیغام رسانی کے کام آتا ہے اس کی بالقوۃ اہلیت اللہ نے ہی اس میں ودیعت کی ہے کہ اس کو پھر تربیت دے کر اس کام میں لایا جا سکتا ہے کہ وہ سینکڑوں میل تک پہنچ کر پیغام رسانی کا ذریعہ بنتا ہے اور جواب لاتا ہے۔
درندوں کو شکار کرنا اور اس کے طریقے اللہ کے سکھائے ہوئے ہیں، کہ وہ شکار کی ہر ضرورت سے پوری طرح آراستہ اور اس کےلئے بالقوۃ مکمل طور پر تربیت یافتہ ہیں، غرض ہر مخلوق کو اس کی مناسبت سے اس کی طبعی اور جبلی ضروریات اور ان کے طریقے اللہ کی جانب سے جبلتی ہدایت کے ذریعہ سجھائے گئے ہیں اور یہی مخلوقات کو اللہ کی ہدایت کا پہلا درجہ ہے، جس میں اس کی تمام مخلوقات بغیر کسی استثناء کے شریک ہیں۔
انسانوں کو کھیتی باڑی، باغبانی، صنعت و حرفت، تجارت و معیشت کی بنیادی ضروریات و طریقے سب اللہ کی جانب سے ودیعت کئے گئے ہیں، یہ جبلتی ہدایت کا حصہ ہیں، انسان کو اللہ نے خلیفہ بنایا ہے تو وہ عقل کو استعمال کرکے ان کاموں کو ایک خاص سلیقہ سے انجام دیتا ہے، یہ طریقے سیکھتا سکھاتا ہے اور پڑھتا پڑھاتا ہے؛ لیکن ان کاموں کی بنیاد اسے ایسے ہی معلوم ہوئی ہے جیسے دیگر مخلوقات کو ان کے جبلی اور طبعی ضروریات اور ان کو پورا کرنے کے طریقے ہدایت کئے گئے ہیں۔دلائل
سَبِّحِ اسْمَ رَبِّکَ الْأَعْلَى (۱) الَّذِي خَلَقَ فَسَوَّى (۲) وَالَّذِي قَدَّرَ فَهَدَى (۳)( الأعلیٰ)۔ قَالَ فَمَنْ رَبُّکُمَا يَا مُوسَى (۴۹) قَالَ رَبُّنَا الَّذِي أَعْطٰى کُلَّ شَيْءٍ خَلْقَهٗ ثُمَّ هَدَى (۵۰)( طہ)۔ تُسَبِّحُ لَهٗ السَّمَاوَاتُ السَّبْعُ وَالْأَرْضُ وَمَنْ فِيهِنَّ وَإِنْ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا يُسَبِّحُ بِحَمْدِهٖ وَلٰكِنْ لَا تَفْقَهُونَ تَسْبِيحَهُمْ إِنَّهٗ کَانَ حَلِيمًا غَفُورًا (۴۴) (الإسراء)۔ أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللہَ يُسَبِّحُ لَهٗ مَنْ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَالطَّيْرُ صَافَّاتٍ کُلٌّ قَدْ عَلِمَ صَلَاتَهٗ وَتَسْبِيحَهُ وَاللہُ عَلِيمٌ بِمَا يَفْعَلُونَ (۴۱)( النور)۔ أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللہَ يَسْجُدُ لَهٗ مَنْ فِي السَّمَاوَاتِ وَمَنْ فِي الْأَرْضِ وَالشَّمْسُ وَالْقَمَرُ وَالنُّجُومُ وَالْجِبَالُ وَالشَّجَرُ وَالدَّوَابُّ وَکَثِيرٌ مِنَ النَّاسِ وَکَثِيرٌ حَقَّ عَلَيْهِ الْعَذَابُ وَمَنْ يُهِنِ اللہُ فَمَا لَهٗ مِنْ مُكْرِمٍ إِنَّ اللہَ يَفْعَلُ مَا يَشَآءُ (۱۸)( الحج)۔ وَلِلّٰہِ يَسْجُدُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ مِنْ دَابَّةٍ وَالْمَلَائِکَةُ وَهُمْ لَا يَسْتَكْبِرُونَ (۴۹)( النحل)۔ وَلَقَدْ آتَيْنَا دَاوٗدَ مِنَّا فَضْلًا يَا جِبَالُ أَوِّبِي مَعَهُ وَالطَّيْرَ وَأَلَنَّا لَهُ الْحَدِيدَ (۱۰) (سبأ)۔ وَأَوْحَى رَبُّکَ إِلَى النَّحْلِ أَنِ اتَّخِذِي مِنَ الْجِبَالِ بُيُوتًا وَمِنَ الشَّجَرِ وَمِمَّا يَعْرِشُونَ (۶۸) (النحل)۔ حَتّٰى إِذَا أَتَوْا عَلٰى وَادِ النَّمْلِ قَالَتْ نَمْلَةٌ يَا أَيُّهَا النَّمْلُ ادْخُلُوا مَسَاكِنَکُمْ لَا يَحْطِمَنَّکُمْ سُلَيْمَانُ وَجُنُودُهٗ وَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ (۱۸)( النمل)۔ وَوَرِثَ سُلَيْمَانُ دَاوٗدَ وَقَالَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ عُلِّمْنَا مَنْطِقَ الطَّيْرِ وَأُوتِينَا مِنْ کُلِّ شَيْءٍ إِنَّ هٰذَا لَهٗوَ الْفَضْلُ الْمُبِينُ (۱۶)( النمل)۔بند
عقیدہ:
عام مخلوقات سے ہٹ کر اللہ نے مکلّفین میں اضافی صفات اور خصوصیات مقدر کی ہیں، اور انہیں کی بنیاد پر انہیں مکلّف بنایا گیا ہے۔تشریح
مکلّفین کو اللہ کی جانب سے عطاء کردہ دو اضافی امور:
اللہ کی مخلوقات اتنی تعداد میں ہیں کہ ان کو شمار کرنا بندوں کے بس سے باہر ہے، ہاں ان مخلوقات میں دو مخلوق ایسی ہیں جنہیں ان کے اعمال کا مکلّف بنایا گیا ہے، کہ وہ اپنے ارادہ و اختیار سے جو کچھ کریں گےاس کے بارے میں ان سے سوال کیا جائے گا، اور اپنے ارادہ و اختیار سے جو کچھ چھوڑ دیں گے ان کو اس کے بارے میں جواب دہی کرنی ہوگی، یہ دو مخلوق انسان اور جن ہیں، ان کے علاوہ کسی مخلوق کو جوابدہی کا مکلّف نہیں بنایا گیا ہے۔
اس کےلئےانسانوں اور جنوں کو اللہ تعالیٰ نے دو اضافی چیزیں عطاء فرمائی ہیں جو دوسری مخلوقات میں نہیں ہیں: (۱) ارادہ و اختیار (۲) ہدایت شرعی ،ان دو چیزوں کی تفصیل یہاں آگے بیان ہوگی۔دلائل
إِنَّا عَرَضْنَا الْأَمَانَةَ عَلَى السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَالْجِبَالِ فَأَبَيْنَ أَنْ يَحْمِلْنَهَا وَأَشْفَقْنَ مِنْهَا وَحَمَلَهَا الْإِنْسَانُ إِنَّهٗ کَانَ ظَلُومًا جَهُولًا (۷۲)( الأحزاب)۔ عن ابن عباس: يعني بالأمانة: الطاعة، وعرضها عليهم قبل أن يعرضها على آدم، فلم يطقنها ، فقال لآدم: إني قد عرضتُ الأمانة على السموات والأرض والجبال فلم يطقنها ، فهل أنت آخذ بما فيها؟ قال: يا رب، وما فيها؟ قال: إن أحسنت جزيت، وإن أسأت عوقبت. فأخذها آدم فتحمَّلها، فذلك قوله: وَحَمَلَهَا الإنْسَانُ إِنَّهٗ کَانَ ظَلُومًا جَهُولا (تفسیر القرآن الکریم لابن کثیر:۶/۴۸۸)۔ وَنَفْسٍ وَمَا سَوَّاهَا (۷) فَأَلْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقْوَاهَا (۸)( الشمس)۔بند
عقیدہ:
اللہ تعالیٰ نے مکلّفین میں ارادہ و اختیار کی صفات کو مقدر کیا ہے، مکلّف بندے اسی ارادہ و اختیار سے کوئی کام کرتے ہیں یا چھوڑتے ہیں، یہ صفت مکلّفین کے علاوہ دوسری مخلوقات میں نہیں ہے۔تشریح
ارادہ و اختیار:
کسی کو مکلّف بنانے کےلئے ضروری ہے کہ اس کو عمل کی آزادی بھی دی جائے تبھی اس سے اس کے عمل کے بارے میں سوال ہو سکتا ہے اور اس کو جوابدہی کے لئے پابند بنایا جا سکتا ہے۔
اس لئے انسانوں اور جنوں کو اعمال کے کرنے یا چھوڑنے کےلئے ارادہ اور اختیار کی صفات عطاء کی گئی ہیں، وہ کوئی عمل کرتے ہیں تو اپنے ارادہ اور اختیار سے کرتے ہیں اور کوئی عمل چھوڑتے ہیں تو اپنے ارادہ اور اختیار سے چھوڑتے ہیں۔
ایمان اور عمل صالح کی روش اختیار کرتے ہیں تو اپنے ارادہ اور اختیار سے کرتے ہیں، ہاں اللہ تعالیٰ ان کی انابت کو دیکھتے ہوئے توفیق بھی دیتے ہیں، لیکن ان کے عمل میں خود ان کے ارادہ و اختیار کا دخل ہوتا ہے، اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ان کے ایمان اور اعمال کے بدلہ میں اللہ تعالیٰ انہیں جنت سے نوازیں گے۔
اسی طرح کوئی کفر، ظلم، اور فسق و فجور کی روش اختیار کرتا ہے تو اپنے ارادہ اور اختیار سے وہ روش اپناتا ہے، یہ خود اس کی سرکشی ہوتی ہے، ہاں اسی سرکشی کو دیکھ کر اللہ تعالیٰ اس کے لئے کفر کے راستہ کو آسان کر دیتے ہیں لیکن وہ راستہ خود اس کا اختیار کردہ ہوتا ہے اور اس کے کفر، ظلم اور فسق و فجور کے بدلہ میں ہی اس کو جہنم کی سزا ملے گی۔دلائل
إِنَّا عَرَضْنَا الْأَمَانَةَ عَلَى السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَالْجِبَالِ فَأَبَيْنَ أَنْ يَحْمِلْنَهَا وَأَشْفَقْنَ مِنْهَا وَحَمَلَهَا الْإِنْسَانُ إِنَّهٗ کَانَ ظَلُومًا جَهُولًا (۷۲)( الأحزاب)۔عن ابن عباس: يعني بالأمانة: الطاعة، وعرضها عليهم قبل أن يعرضها على آدم، فلم يطقنها ، فقال لآدم: إني قد عرضتُ الأمانة على السموات والأرض والجبال فلم يطقنها ، فهل أنت آخذ بما فيها؟ قال: يا رب، وما فيها؟ قال: إن أحسنت جزيت، وإن أسأت عوقبت. فأخذها آدم فتحمَّلها، فذلك قوله: وَحَمَلَهَا الإنْسَانُ إِنَّهٗ کَانَ ظَلُومًا جَهُولا (تفسیر القرآن الکریم لابن کثیر:۶/۴۸۸)۔ وَنَفْسٍ وَمَا سَوَّاهَا (۷) فَأَلْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقْوَاهَا (۸) (الشمس)۔ لَا يُکَلِّفُ اللہُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا لَهَا مَا کَسَبَتْ وَعَلَيْهَا مَا اكْتَسَبَتْ رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَا إِنْ نَسِينَا أَوْ أَخْطَأْنَا رَبَّنَا وَلَا تَحْمِلْ عَلَيْنَا إِصْرًا کَمَا حَمَلْتَهٗ عَلَى الذِينَ مِنْ قَبْلِنَا رَبَّنَا وَلَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَةَ لَنَا بِهٖ وَاعْفُ عَنَّا وَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا أَنْتَ مَوْلَانَا فَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْکَافِرِينَ (۲۸۶)( البقرۃ)۔ لَا يُکَلِّفُ اللہُ نَفْسًا إِلَّا مَا آتَاهَا سَيَجْعَلُ اللہُ بَعْدَ عُسْرٍ يُسْرًا (۷) (الطلاق)۔ وَإِذْ أَخَذَ رَبُّکَ مِنْ بَنِي آدَمَ مِنْ ظُهُورِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ وَأَشْهَدَهُمْ عَلٰى أَنْفُسِهِمْ أَلَسْتُ بِرَبِّکُمْ قَالُوا بَلَى شَهِدْنَا أَنْ تَقُولُوا يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِنَّا کُنَّا عَنْ هٰذَا غَافِلِينَ (۱۷۲) أَوْ تَقُولُوا إِنَّمَا أَشْرَکَ آبَاؤُنَا مِنْ قَبْلُ وَکُنَّا ذُرِّيَّةً مِنْ بَعْدِهٖمْ أَفَتُهْلِکُنَا بِمَا فَعَلَ الْمُبْطِلُونَ (۱۷۳) (الأعراف)۔ لَهٗمْ دَارُ السَّلَامِ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَهُوَ وَلِيُّهُمْ بِمَا کَانُوا يَعْمَلُونَ (۱۲۷)( الأنعام)۔ أَمَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ فَلَهٗمْ جَنَّاتُ الْمَأْوَى نُزُلًا بِمَا کَانُوا يَعْمَلُونَ (۱۹)( السجدۃ)۔ نوَلٰكِنْ کَذَّبُوا فَأَخَذْنَاهُمْ بِمَا کَانُوا يَكْسِبُونَ (۹۶) (الأعراف)۔ وَمَأْوَاهُمْ جَهَنَّمُ جَزَآءً بِمَا کَانُوا يَكْسِبُونَ (۹۵) (التوبۃ) ۔ أُولٰٓئِکَ مَأْوَاهُمُ النَّارُ بِمَا کَانُوا يَكْسِبُونَ (۸)( یونس)۔ إِلَيْهِ مَرْجِعُکُمْ جَمِيعًا وَعْدَ اللہِ حَقًّا إِنَّهٗ يَبْدَأُ الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهٗ لِيَجْزِيَ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ بِالْقِسْطِ وَالَّذِينَ کَفَرُوا لَهٗمْ شَرَابٌ مِنْ حَمِيمٍ وَعَذَابٌ أَلِيمٌ بِمَا کَانُوا يَكْفُرُونَ (۴)( یونس)۔ وَالَّذِينَ کَذَّبُوا بِآيَاتِنَا يَمَسُّهُمُ الْعَذَابُ بِمَا کَانُوا يَفْسُقُونَ (۴۹)( الأنعام)۔بند
عقیدہ:
بندہ اپنے ارادہ و اختیار سے اعمال کماتا ہے لیکن اعمال کا خالق اللہ ہی ہے، جیسے رزق کا خالق اللہ ہے اور بندہ رزق صرف کماتا ہے۔تشریح
خلقِ اعمال اور کسبِ اعمال:
مکلّفین کو ایک گونہ ارادہ اور اختیار کی صفات دی گئی ہیں ،اس حقیقت کو سمجھنے کے ساتھ ایک اور حقیقت یہ بھی سمجھنا چاہئے کہ یہ کائنات اللہ کے مملکت ہے، یہاں جو کچھ ہوتا اللہ کی مشیت اور اس کی اجازت سے ہوتا ہے۔
جب مکلّف بندہ کوئی کام کرنے کا ارادہ کرتا ہے اور اس کو اختیار کرنا چاہتا ہے تو یہ دنیا یا وہ عمل اس کی مملکت نہیں ہے کہ خود سے کر سکے، یہ اللہ کی مملکت ہے، بندہ کو وہ عمل کرنے کےلئے اللہ کی مشیت کی ضرورت ہوتی ہے، چونکہ اللہ تعالیٰ نے بندہ کی ابتلاء اور آزمائش اس عمل کے کرنے یا نہ چھوڑنے میں رکھی ہے تو اللہ تعالیٰ اس عمل کو اپنی مشیت سے پیدا کردیتے ہیں اور اس عمل کو ہونے کا موقع فراہم کرتے ہیں، بندہ کے عمل کے لئے یہی موقع کی فراہمی اللہ کی جانب سے خلق اعمال (اس عمل کو پیدا کرنا) ہے، اس موقع کی فراہمی کے بعد جب بندہ اس عمل کو کرتا ہے تو یہ کسب عمل (یعنی بندہ کی جانب سے اس عمل کو کمانا) ہے۔
اس کی مثال ایسے ہے جیسے رزق کے مواقع اس دنیا میں اللہ نے پیدا کئے ہیں، بندہ اپنے رزق کو پیدا نہیں کرتا ہے بلکہ پیدا شدہ رزق میں سے اپنا حصہ کماتا ہے۔دلائل
وَاللہُ خَلَقَکُمْ وَمَا تَعْمَلُونَ (۹۶)( الصافات)۔ لَا يُکَلِّفُ اللہُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا لَهَا مَا کَسَبَتْ وَعَلَيْهَا مَا اكْتَسَبَتْ رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَا إِنْ نَسِينَا أَوْ أَخْطَأْنَا رَبَّنَا وَلَا تَحْمِلْ عَلَيْنَا إِصْرًا کَمَا حَمَلْتَهٗ عَلَى الذِينَ مِنْ قَبْلِنَا رَبَّنَا وَلَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَةَ لَنَا بِهٖ وَاعْفُ عَنَّا وَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا أَنْتَ مَوْلَانَا فَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْکَافِرِينَ (۲۸۶)( البقرۃ)۔جَزَآءً بِمَا کَانُوا يَعْمَلُونَ (۲۴) (الواقعۃ)۔ جَزَآءً بِمَا کَانُوا يَكْسِبُونَ (۸۲) (التوبۃ)۔بند
عقیدہ:
 اللہ تعالیٰ بعض اعمال سے راضی نہیں ہونے کے باوجود اس کو پورا ہونے دیتے ہیں؛ کیونکہ امتحان اور آزمائش کا عمل پورا ہونا ہے۔تشریح
 یہ کائنات اللہ کی مملکت ہے یہاں بندہ کے اعمال خواہ وہ اچھے ہوں یا برے اسی وقت پایۂ تکمیل کو پہنچتے ہیں جبکہ اللہ کا اذن ہوتا ہے۔ کسی کا عمل چاہے اچھا ہو یا برا اس کائنات میں اللہ کی مشیت سےہی پورا ہو سکتا ہے، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ جس عمل کو بھی پورا ہونے دینے میں اللہ کی مشیت ہو اس میں اللہ کی رضا بھی ہے۔
مشیت اور رضا ء کا فرق:
عمل کا خلق اللہ کی جانب سے ہوتا ہے اور اس کا کسب یعنی اختیار (کرنا) یا ترک (چھوڑنا) مکلّف بندہ کی جانب سےہوتا ہے، اور کسب اس وقت تک نہیں ہو سکتا جب تک کہ اللہ کی جانب سے خلق اعمال نہ ہو، اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں ہوتا کہ اللہ تعالیٰ ہر عمل سے خواہ وہ اچھا ہو یا بُرا راضی ہوتا ہے۔
کسب اعمال میں مشیت و اذن الٰہی کا صرف یہ مطلب ہے کہ یہ کائنات اللہ کی مملکت ہے یہاں جو کچھ ہوتا ہے اللہ کے اذن سے ہی ہو سکتا ہے، آزمائش کے لئے بندہ کو جو عمل کرنا ہے وہ بھی اللہ کی مشیت اور اجازت سے ہی پورا ہو سکتا ہے۔
جیسے اللہ تعالیٰ آزمائش کےلئے اچھے عمل کی اپنی مشیت اور اجازت دیتے ہیں ایسے ہی آزمائش کےلئے برے عمل کی بھی اجازت دیتے ہیں؛ تاکہ مکلّف بندہ کی آزمائش پو ری ہو، باقی بندہ جو کچھ کرتا ہے اس کو دئے گئے اختیار و ارادہ سے کرتا ہے۔
رہی بات یہ کہ بندہ جو کچھ عمل کرتا ہے اس میں اللہ کی رضا ہوتی ہے یا نہیں؟ یہ ایک مستقل بات ہے جو اللہ تعالیٰ نے مکلّفین کےلئے خاص ہدایت میں واضح فرمادی ہے جس کو ہدایت شرعی کہتے ہیں۔دلائل
إِنْ تَكْفُرُوا فَإِنَّ اللہَ غَنِيٌّ عَنْکُمْ وَلَا يَرْضَى لِعِبَادِهِ الْکُفْرَ وَإِنْ تَشْکُرُوا يَرْضَهُ لَکُمْ وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى ثُمَّ إِلٰى رَبِّکُمْ مَرْجِعُکُمْ فَيُنَبِّئُکُمْ بِمَا کُنْتُمْ تَعْمَلُونَ إِنَّهٗ عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ (۷)( الزمر)۔ وَلَوْ أَنَّ قُرْآنًا سُيِّرَتْ بِهِ الْجِبَالُ أَوْ قُطِّعَتْ بِهِ الْأَرْضُ أَوْ کُلِّمَ بِهِ الْمَوْتَى بَلْ لِلّٰہِ الْأَمْرُ جَمِيعًا أَفَلَمْ يَيْأَسِ الَّذِينَ آمَنُوا أَنْ لَوْ يَشَآءُ اللہُ لَهَدَى النَّاسَ جَمِيعًا وَلَا يَزَالُ الَّذِينَ کَفَرُوا تُصِيبُهٗمْ بِمَا صَنَعُوا قَارِعَةٌ أَوْ تَحُلُّ قَرِيبًا مِنْ دَارِهِمْ حَتّٰى يَأْتِيَ وَعْدُ اللہِ إِنَّ اللہَ لَا يُخْلِفُ الْمِيعَادَ (۳۱) (الرعد)۔ وَلَوْ شَآءَ اللہُ لَجَعَلَکُمْ أُمَّةً وَاحِدَةً وَلٰكِنْ يُضِلُّ مَنْ يَشَآءُ وَيَهْدِي مَنْ يَشَآءُ وَلَتُسْأَلُنَّ عَمَّا کُنْتُمْ تَعْمَلُونَ (۹۳)( النحل)۔ وَلَوْ شَآءَ اللہُ لَجَعَلَهٗمْ أُمَّةً وَاحِدَةً وَلٰكِنْ يُدْخِلُ مَنْ يَشَآءُ فِي رَحْمَتِهٖ وَالظَّالِمُونَ مَا لَهٗمْ مِنْ وَلِيٍّ وَلَا نَصِيرٍ (۸)( الشوری)۔ وَلَوْ شِئْنَا لَآتَيْنَا کُلَّ نَفْسٍ هُدَاهَا وَلٰكِنْ حَقَّ الْقَوْلُ مِنِّي لَأَمْلَأَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ (۱۳) (السجدۃ) ۔بند
عقیدہ:
ارادہ و اختیار کے علاوہ مکلّفین کےلئے مقدر کی گئی دوسری نعمت انبیاء اور کتابوں کے ذریعہ ہدایت ہے۔تشریح
مکلّفین میں ارادہ و اختیار مقدر کرکے اللہ تعالیٰ نے بندوں کو کتابوں اور رسولوں کے ذریعہ اپنی رضاء اور ناراضگی والے راستہ کو واضح کیا ہے۔
ہدایت کا دوسرا درجہ تشریعی حکم اور انبیاء اور کتابوں کے ذریعہ ہدایت شرعی:
ہدایت کا دوسرا درجہ ہے  ہدایتِ شرعی ہے، یعنی وہ نظامِ ہدایت جو اللہ تعالیٰ نے مکلّف بندو ں کےلئے انبیاء اور کتابوں اور نبیوں اور کتابوں کے پیروکار رہنماؤں کی شکل میں جاری کیا ہے، اسی ہدایت میں اللہ تعالیٰ نے تفصیل کے ساتھ واضح فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ مکلّف بندوں کے کن اعمال سے راضی ہوتے ہیں اور کن اعمال سے نا راض ہوتے ہیں۔
یہ ہدایت مکلّف بندوں کے لئے خاص ہے، یعنی ہدایت کا یہ درجہ انسانوں اور جنوں کےلئے جاری کیا گیا ہے، اور یہی وہ دوسری خاص عطاء ہے جو اللہ تعالیٰ نے مکلّف بندوں کو ارادہ و اختیار کے ساتھ عطاء فرمائیں ہے جو دیگر مخلوقات کو عطاء نہیں کی گئی ہے۔
یہ ہدایت شرعی نبی و رسول اور اللہ کی کتابوں کی شکل میں دی گئی ہے ، نبی و رسول اور اللہ کی کتابیں اللہ کا صحیح راستہ بتلاتے ہیں، اور حق کی دعوت اور تعلیم دیتی ہیں کہ کن امور میں بندوں کی کامیابی ہے، اور وہ کونسے امور ہیں جن کی وجہ سے بندے ناکامی کا شکار ہوں گے۔
نبیوں اور رسولوں اور اللہ کی کتابوں کا سلسلہ بھی تقدیر الٰہی کا ایک جزء ہے، ہر نبی ورسول کا ایک خاص دور اللہ کی جانب سے مقرر ہے، ہر کتاب اور شریعت کا ایک دور مقرر ہے، ہر امت کا ایک وقت مقرر ہے، سب کچھ بندوں کی ہدایت کےلئے اللہ کی جانب سے پہلے سے مقرر و مقدر ہے۔
بندوں کو ہدایت دینا، علم سے آراستہ کرنا، جہالت سےنکال کر روشنی کی جانب لانے کا نظام اللہ کی جانب سے ایسے ہی مقرر شدہ ہے جیسے اللہ تعالیٰ نے ظاہری نعمتوں میں سے ہر چیز کو ایک خاص اندازہ میں پیدا کیا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے ہدایت کا یہ سلسلہ تمام مکلّفین کے لئے جاری کیا ہے، تمام انسان اور تمام جنوں کےلئے جاری کیا ہے، ہدایت کے یہ اسباب تمام مکلّفین کےلئے جمع کئے ہیں، ارادہ و اختیار کی عطا ء اور ہدایت شرعی کی عطاء کے بعد بندہ جو کچھ کرتا ہے اپنے ارادہ و اختیار سے کرتا ہے، ہدایت شرعی کی پابندی کرتا ہے تو اپنے اختیار سے کرتا ہے، ہدایت شرعی کو نظر اندز کرتا ہے اور چھوڑتا ہے تو اپنے ارادہ و اختیار سے چھوڑتا ہے۔دلائل
اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّکَ الَّذِي خَلَقَ (۱) خَلَقَ الْإِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ (۲) اقْرَأْ وَرَبُّکَ الْأَكْرَمُ (۳) الَّذِي عَلَّمَ بِالْقَلَمِ (۴) عَلَّمَ الْإِنْسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ (۵)( العلق)۔ الرَّحْمٰنُ (۱) عَلَّمَ الْقُرْآنَ (۲) خَلَقَ الْإِنْسَانَ (۳) عَلَّمَهُ الْبَيَانَ (۴)( الرحمن)۔ أَلَمْ نَجْعَلْ لَهٗ عَيْنَيْنِ (۸) وَلِسَانًا وَشَفَتَيْنِ (۹) وَهَدَيْنَاهُ النَّجْدَيْنِ (۱۰) فَلَا اقْتَحَمَ الْعَقَبَةَ (۱۱)( البلد)۔ هَلْ أَتَى عَلَى الْإِنْسَانِ حِينٌ مِنَ الدَّهْرِ لَمْ يَکُنْ شَيْئًا مَذْکُورًا (۱) إِنَّا خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ مِنْ نُطْفَةٍ أَمْشَاجٍ نَبْتَلِيهِ فَجَعَلْنَاهُ سَمِيعًا بَصِيرًا (۲) إِنَّا هَدَيْنَاهُ السَّبِيلَ إِمَّا شَاكِرًا وَإِمَّا کَفُورًا (۳)( الإنسان)۔ وَأَمَّا ثَمُودُ فَهَدَيْنَاهُمْ فَاسْتَحَبُّوا الْعَمَى عَلَى الْهُدَى فَأَخَذَتْهُمْ صَاعِقَةُ الْعَذَابِ الْهُونِ بِمَا کَانُوا يَكْسِبُونَ (۱۷) (فصلت)۔ وَمَا کَانَ اللہُ لِيُضِلَّ قَوْمًا بَعْدَ إِذْ هَدَاهُمْ حَتّٰى يُبَيِّنَ لَهٗمْ مَا يَتَّقُونَ إِنَّ اللہَ بِکُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ (۱۱۵)( التوبۃ)۔ رُسُلًا مُبَشِّرِينَ وَمُنْذِرِينَ لِئَلَّا يَکُونَ لِلنَّاسِ عَلَى اللہِ حُجَّةٌ بَعْدَ الرُّسُلِ وَکَانَ اللہُ عَزِيزًا حَكِيمًا (۱۶۵) (النساء)۔ کُلَّمَا أُلْقِيَ فِيهَا فَوْجٌ سَأَلَهٗمْ خَزَنَتُهَا أَلَمْ يَأْتِکُمْ نَذِيرٌ (۸) قَالُوا بَلَى قَدْ جَاءَنَا نَذِيرٌ فَکَذَّبْنَا وَقُلْنَا مَا نَزَّلَ اللہُ مِنْ شَيْءٍ إِنْ أَنْتُمْ إِلَّا فِي ضَلَالٍ کَبِيرٍ (۹)( الملک)۔ کَلَّا إِنَّهَا تَذْكِرَةٌ (۱۱) فَمَنْ شَآءَ ذَکَرَهُ (۱۲)( عبس)۔ نَزَّلَ عَلَيْکَ الْكِتَابَ بِالْحَقِّ مُصَدِّقًا لِمَا بَيْنَ يَدَيْهِ وَأَنْزَلَ التَّوْرَاةَ وَالْإِنْجِيلَ (۳) مِنْ قَبْلُ هُدًى لِلنَّاسِ وَأَنْزَلَ الْفُرْقَانَ إِنَّ الَّذِينَ کَفَرُوا بِآيَاتِ اللہِ لَهٗمْ عَذَابٌ شَدِيدٌ وَاللہُ عَزِيزٌ ذُو انْتِقَامٍ (۴)( آل عمران)۔بند
عقیدہ:
انبیاء و کتابوں کے ذریعہ جو راستہ اللہ نے واضح کیا ہے اسی میں اس کی رضاء ہوتی ہے۔تشریح
مکلّف کے اعمال میں اللہ کی رضاء:
نبیوں اور کتابوں کے ذریعہ شرعی ہدایت دینے اور ہدایت کے ذرائع مہیا کردینے کے بعد مکلّف بندہ عمل کےلئے آزاد ہوتا ہے، یقیناً اللہ تعالیٰ کی جانب سے مکلّف بندہ کو حکم ہوتا ہے کہ وہ اچھے راستہ کو اختیار کرے اور اللہ تعالیٰ بندہ کےلئے اچھے راستہ کو پسند فرماتے ہیں اور بندہ اچھا عمل اختیار کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس سے راضی ہوتے ہیں، اللہ تعالیٰ کو یہ پسند نہیں ہے کہ بندہ بُرا عمل کرے ، اللہ تعالیٰ بندہ کےلئے برے راستہ کو پسند نہیں فرماتے، مکلّف بندہ اپنے ارادہ و اختیار سے بُرے راستہ پر چلتا ہے تو  اللہ تعالیٰ اس سے ناراض ہوتے ہیں، لیکن ارادہ و اختیار دینے کے بعد اللہ تعالیٰ زبردستی کسی کو کسی عمل کی جانب نہیں جھونکتے؛ بلکہ عمل کی آزادی دیتے ہیں تاکہ آزمائش پوری ہو۔دلائل
إِنْ تَكْفُرُوا فَإِنَّ اللہَ غَنِيٌّ عَنْکُمْ وَلَا يَرْضَى لِعِبَادِهِ الْکُفْرَ وَإِنْ تَشْکُرُوا يَرْضَهُ لَکُمْ وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى ثُمَّ إِلٰى رَبِّکُمْ مَرْجِعُکُمْ فَيُنَبِّئُکُمْ بِمَا کُنْتُمْ تَعْمَلُونَ إِنَّهٗ عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ (۷)( الزمر)۔ وَلَوْ شَآءَ اللہُ لَجَعَلَکُمْ أُمَّةً وَاحِدَةً وَلٰكِنْ يُضِلُّ مَنْ يَشَآءُ وَيَهْدِي مَنْ يَشَآءُ وَلَتُسْأَلُنَّ عَمَّا کُنْتُمْ تَعْمَلُونَ (۹۳)( النحل)۔ وَلَوْ شَآءَ اللہُ لَجَعَلَهٗمْ أُمَّةً وَاحِدَةً وَلٰكِنْ يُدْخِلُ مَنْ يَشَآءُ فِي رَحْمَتِهٖ وَالظَّالِمُونَ مَا لَهٗمْ مِنْ وَلِيٍّ وَلَا نَصِيرٍ (۸)( الشوری)۔بند
عقیدہ:
مکلّفین کےلئے انبیاء و کتابوں کی ہدایت کے علاوہ اللہ نے توفیق کی ہدایت بھی مقدر کی ہے۔تشریح
کسی کےلئے توفیق کی عطاء کو مقدر کیا اور کسی کےلئے توفیق سے محرومی کو مقدر کیا ہے۔توفیق کی عطاء یا توفیق سے محرومی کی تقدیر ظلم کی بنیاد پر نہیں بلکہ عدل اور فضل کے درمیان دائر ہے۔
ہدایت کا تیسرا درجہ عطاءِ توفیق اور اس کی ضد سلبِ توفیق:
ہدایت کے ذارئع مہیا کرنے کے بعد بندہ جب اپنے ارادہ و اختیار سے ہدایت کی جانب مائل ہوتا ہے اور سر کشی نہیں کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو آگے بڑھنے کی توفیق عطاء فرماتے ہیں کہ وہ ہدایت کو اپنائے ، اللہ تعالیٰ اپنے اختیار سے اس کےلئے ہدایت کے راستہ کو پھر آسان فرماتے ہیں، نیکی کرنے کی طاقت اور برائی سے بچنے کی قوت بندہ کو صرف اللہ سے حاصل ہوتی ہے، اور جو بندہ ہدایت کے ذرائع موجود ہونے کے باوجود ہدایت کو نظر انداز کرکے ہدایت سے انحراف کی راہ اختیار کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس سے توفیق کو چھین لیتے ہیں۔
توفیق کا دینا بھی اللہ کے ہاتھ میں ہے اور توفیق کا چھیننا بھی اللہ ہی کے ہاتھ میں ، لیکن اللہ تعالیٰ کا یہ طریقہ نہیں ہے کہ زبردستی کسی کو ہدایت دے، بندہ اگر ہدایت پر نہیں چلنا چاہتا ہے تو اللہ تعالیٰ گمراہی کے راستہ کو اس کےلئے آسان کردیتے ہیں، چونکہ اس کائنات میں وہی ہوتا ہے جو اللہ چاہتے ہیں تو بندہ کو گمراہی پر چلنے کےلئے بھی اللہ کی مشیتِ کونی کی ضرورت ہے، اس کی نسبت بھی اللہ تعالیٰ اپنی جانب کرکے کہتے ہیں کہ اگر کوئی گمراہی پر ہی چلنا چاہتا ہو تو پھر اللہ تعالیٰ اس کو گمراہ کر دیتے ہیں، جس طرح سے ہدایت دینا اللہ کا فعل اور فضل الٰہی ہے اسی طرح گمراہ کرنا بھی اللہ کا فعل اور عین عدلِ الٰہی ہے۔
ہدایت کو سب کےلئے بھیجنا اور اس کے ذرائع سب کےلئے کھول دینا اللہ تعالیٰ کا عدل و انصاف ہی نہیں بلکہ فضل و رحمت اور خیر کا معاملہ بھی ہے، ہدایت کے راستہ کو واضح کرنے کے بعد کوئی گمراہی پر ہی چلنا چاہتا ہے تو اس کے لئے گمراہی کے راستہ کو آسان کردینا اللہ تعالیٰ کا عین انصاف اور عدل ہے، اور جو ہدایت کے واضح ہونے کے بعد ہدایت کے راستہ پر چلنا چاہتا ہے اس کے لئے ہدایت کے راستہ کو آسان کرنا اور توفیق دینا اللہ تعالیٰ کا فضل اور خیر و رحمت کا معاملہ ہے۔
کس کو توفیق عطاء ہوگی اور اس کے لئے نیکی کا راستہ ہوجائےگا، اسی طرح کس سے توفیق چھن جائے گی اور اس کےلئے گمراہی کا راستہ آسان کردیا جائے گا سب پہلے سے اللہ کے علم میں ہے ،اس لئے اللہ تعالیٰ نے سب کچھ اپنے علم کی بنیاد پر لکھ کر مقدر کردیا ہے۔
یہی توفیق کو عطاء کرنا یا توفیق کو سلب کرلینا   ہی اِن الفاظ میں بیان کیا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی گمراہ کرتے ہیں اور اللہ ہی ہدایت دیتے ہیں۔
توفیق ہدایت ہی کا خاص درجہ ہے ، یعنی راہ حق اور عمل حق کی رہنمائی کے اسباب پیدا کرکے بندہ کو اس کے اختیار کرنے کی قدرت دینا،یہ صرف اللہ کے ہاتھ ہے، ہدایت کے ذرائع مثلاً انبیاء اور کتابیں توفیق نہیں دیتیں۔
ہدایت کی توفیق میں صرف یہ بات نہیں ہوتی کہ راستہ دکھادیا، راستہ دیکھ لینے کے بعد بھی کئی مراحل ہوتے ہیں، جس کو ہر عام و خاص آسانی سے سمجھتا ہے، راستہ پر چلنا آسان ہونا بھی ضروری ہے، راستہ معلوم ہو جائے لیکن چلنا نہ ہو تو وہ ہدایت نہیں ہے، توفیق یہ ہے کہ راستہ پر چل پڑے، اسی طرح راستہ پر چل پڑنے کے بعد راستے کے خطرات معلوم ہوں اور ان سے بچنا آسان ہو یہ بھی توفیق کا حصہ ہے، راستہ پر چل پڑنے کے بعد اگر خطرات کا سامنا ہونے سے راستہ سے پھر جائے تو پھر وہ بھی توفیق نہیں ہے، اللہ نے توفیق کو بھی مقدر کا حصہ بنایا ہے، بندہ پر لازم ہے کہ وہ اللہ سے توفیق مانگتا رہے اور بڑھتا رہے۔
توفیق ایک لمحاتی ضرورت نہیں ہے بلکہ عقل و شعور کے آغاز سے موت تک اس کی ضرورت ہے، اس کے لئے اللہ نے نظام بنایا ہے جو اللہ کی جانب سے مقدر ہے، وہ لوگ جو اللہ سے اس کو مانگتے رہتے ہیں اور اس کی رہنمائی میں چلتے رہتے ہیں ان کے لئے یہ اخیر تک مقدر رہتی ہے، لیکن جو کسی مرحلہ پر رک جائیں اور خود کو اس سے مستغنی سمجھیں وہی گمراہی کا نقطۂ آغاز ہے، مرنے سے پہلے جو کچھ کیا وہی اصل مرحلہ ہے، توفیق الٰہی کے ذریعہ جو ہدایت ملتی ہے اس کا انجام جنت کی رہنمائی ہے۔دلائل
إِنْ تَحْرِصْ عَلٰى هُدَاهُمْ فَإِنَّ اللہَ لَا يَهْدِي مَنْ يُضِلُّ وَمَا لَهٗمْ مِنْ نَاصِرِينَ (۳۷)( النحل)۔ مَنْ يُضْلِلِ اللہُ فَلَا هَادِيَ لَهٗ وَيَذَرُهُمْ فِي طُغْيَانِهِمْ يَعْمَهُونَ (۱۸۶)( الأعراف)۔ وَالَّذِينَ کَذَّبُوا بِآيَاتِنَا صُمٌّ وَبُكْمٌ فِي الظُّلُمَاتِ مَنْ يَشَإِ اللہُ يُضْلِلْهُ وَمَنْ يَشَأْ يَجْعَلْهُ عَلٰى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ (۳۹)( الأنعام)۔ أَفَمَنْ زُيِّنَ لَهٗ سُوْٓءُ عَمَلِهٖ فَرَآهُ حَسَنًا فَإِنَّ اللہَ يُضِلُّ مَنْ يَشَآءُ وَيَهْدِي مَنْ يَشَآءُ فَلَا تَذْهَبْ نَفْسُکَ عَلَيْهِمْ حَسَرَاتٍ إِنَّ اللہَ عَلِيمٌ بِمَا يَصْنَعُونَ (۸)( فاطر)۔ أَفَرَأَيْتَ مَنِ اتَّخَذَ إِلَهَهُ هَوَاهُ وَأَضَلَهٗ اللہُ عَلٰى عِلْمٍ وَخَتَمَ عَلٰى سَمْعِهِ وَقَلْبِهٖ وَجَعَلَ عَلٰى بَصَرِهٖ غِشَاوَةً فَمَنْ يَهْدِيهِ مِنْ بَعْدِ اللہِ أَفَلَا تَذَکَرُونَ (۲۳) (الجاثیۃ)۔ لَيْسَ عَلَيْکَ هُدَاهُمْ وَلٰكِنَّ اللہَ يَهْدِي مَنْ يَشَآءُ وَمَا تُنْفِقُوا مِنْ خَيْرٍ فَلِأَنْفُسِکُمْ وَمَا تُنْفِقُونَ إِلَّا ابْتِغَاءَ وَجْهِ اللہِ وَمَا تُنْفِقُوا مِنْ خَيْرٍ يُوَفَّ إِلَيْکُمْ وَأَنْتُمْ لَا تُظْلَمُونَ (۲۷۲) (البقرۃ)۔ وَلَوْ شِئْنَا لَآتَيْنَا کُلَّ نَفْسٍ هُدَاهَا وَلٰكِنْ حَقَّ الْقَوْلُ مِنِّي لَأَمْلَأَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ (۱۳)( السجدۃ)۔ أَفَلَمْ يَيْأَسِ الَّذِينَ آمَنُوا أَنْ لَوْ يَشَآءُ اللہُ لَهَدَى النَّاسَ جَمِيعًا وَلَا يَزَالُ الَّذِينَ کَفَرُوا تُصِيبُهٗمْ بِمَا صَنَعُوا قَارِعَةٌ أَوْ تَحُلُّ قَرِيبًا مِنْ دَارِهِمْ حَتّٰى يَأْتِيَ وَعْدُ اللہِ إِنَّ اللہَ لَا يُخْلِفُ الْمِيعَادَ (۳۱) (الرعد)۔ فَمَنْ يُرِدِ اللہُ أَنْ يَهْدِيَهُ يَشْرَحْ صَدْرَهُ لِلْإِسْلَامِ وَمَنْ يُرِدْ أَنْ يُضِلَهٗ يَجْعَلْ صَدْرَهُ ضَيِّقًا حَرَجًا کَأَنَّمَا يَصَّعَّدُ فِي السَّمَآءِ کَذٰلِکَ يَجْعَلُ اللہُ الرِّجْسَ عَلَى الذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ (۱۲۵) (الأنعام)۔ الْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِي هَدَانَا لِهٰذَا وَمَا کُنَّا لِنَهْتَدِيَ لَوْلَا أَنْ هَدَانَا اللہُ لَقَدْ جَاءَتْ رُسُلُ رَبِّنَا بِالْحَقِّ وَنُودُوا أَنْ تِلْکُمُ الْجَنَّةُ أُورِثْتُمُوهَا بِمَا کُنْتُمْ تَعْمَلُونَ (۴۳) ( الأعراف)۔أَلَيْسَ اللہُ بِکَافٍ عَبْدَهُ وَيُخَوِّفُونَکَ بِالَّذِينَ مِنْ دُونِهٖ وَمَنْ يُضْلِلِ اللہُ فَمَا لَهٗ مِنْ هَادٍ (۳۶) وَمَنْ يَهْدِ اللہُ فَمَا لَهٗ مِنْ مُضِلٍّ أَلَيْسَ اللہُ بِعَزِيزٍ ذِي انْتِقَامٍ (۳۷)( الزمر)۔ إِنَّ الَّذِينَ کَفَرُوا سَوَاءٌ عَلَيْهِمْ أَأَنْذَرْتَهُمْ أَمْ لَمْ تُنْذِرْهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ (۶) خَتَمَ اللہُ عَلٰى قُلُوبِهِمْ وَعَلٰى سَمْعِهِمْ وَعَلٰى أَبْصَارِهِمْ غِشَاوَةٌ وَلَهٗمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ (۷)( البقرۃ)۔ تِلْکَ الْقُرَى نَقُصُّ عَلَيْکَ مِنْ أَنْبَائِهَا وَلَقَدْ جَاءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَيِّنَاتِ فَمَا کَانُوا لِيُؤْمِنُوا بِمَا کَذَّبُوا مِنْ قَبْلُ کَذٰلِکَ يَطْبَعُ اللہُ عَلٰى قُلُوبِ الْکَافِرِينَ (۱۰۱)( الأعراف)۔ أَوَلَمْ يَهْدِ لِلَّذِينَ يَرِثُونَ الْأَرْضَ مِنْ بَعْدِ أَهْلِهَا أَنْ لَوْ نَشَاءُ أَصَبْنَاهُمْ بِذُنُوبِهٖمْ وَنَطْبَعُ عَلٰى قُلُوبِهِمْ فَهُمْ لَا يَسْمَعُونَ (۱۰۰) (الأعراف)۔ أَفَرَأَيْتَ مَنِ اتَّخَذَ إِلَهَهُ هَوَاهُ وَأَضَلَهٗ اللہُ عَلٰى عِلْمٍ وَخَتَمَ عَلٰى سَمْعِهِ وَقَلْبِهٖ وَجَعَلَ عَلٰى بَصَرِهٖ غِشَاوَةً فَمَنْ يَهْدِيهِ مِنْ بَعْدِ اللہِ أَفَلَا تَذَکَرُونَ (۲۳)( الجاثیۃ)۔ عَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ کُنَّا مَعَ رَسُولِ اللہِ صَلَّى اللہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزَاةٍ فَجَعَلْنَا لاَ نَصْعَدُ شَرَفًا وَلاَ نَعْلُو شَرَفًا وَلاَ نَهْبِطُ فِي وَادٍ إِلاَّ رَفَعْنَا أَصْوَاتَنَا بِالتَّكْبِيرِ قَالَ فَدَنَا مِنَّا رَسُولُ اللہِ صَلَّى اللہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ "يَا أَيُّهَا النَّاسُ ارْبَعُوا عَلٰى أَنْفُسِکُمْ فَإِنَّکُمْ لاَ تَدْعُونَ أَصَمَّ وَلاَ غَائِبًا إِنَّمَا تَدْعُونَ سَمِيعًا بَصِيرًا ثُمَّ قَالَ يَا عَبْدَ اللہِ بْنَ قَيْسٍ أَلاَ أُعَلِّمُکَ کَلِمَةً هِيَ مِنْ کُنُوزِ الْجَنَّةِ لاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّةَ إِلاَّ بِاللہِ" (صحیح بخاری)۔بند
عقیدہ:
 مکلّف بندہ تقدیر میں جبر و اختیار کے درمیان ہوتا ہے۔یعنی افعال غیر اختیاریہ میں مجبور ہے اور افعال اختیاریہ پر اس سے سوال ہوگا۔تشریح
افعال غیر اختیاریہ جیسے حیات و موت ،رزق اور اولاد وغیرہ میں وہ تقدیر کے آگے مجبور ہے۔ افعال اختیاریّہ میں وہ ابتلاء و آزمائش کی حد تک مختار ہے، اور انہیں افعال اختیاریہ پر اس سے سوال ہوگا۔
جبر و اختیار:
انسان اپنی پیدائش، حیات، رزق، صحت و مرض، نفع و نقصان ،مصائب و مشکلات اور موت وغیرہ میں اللہ تعالیٰ کی تقدیر کے آگے مجبور ہے، ان امور میں جو اللہ تعالیٰ اس کے لئے طے کر دے وہ اس سے ٹل نہیں سکتا اور جو اللہ نے اس کےلئے مقدر نہیں کیا ہے وہ اس کو مل نہیں سکتا،ہاں وہ اپنے اعمال اختیاریہ میں اسی حد تک مختار ہے جس میں اللہ نے اسے مختار بنایا ہے، اس طرح انسان اللہ کی تقدیر میں جبر و اختیار دونوں کے درمیان ہوتا ہے۔
انسان نہ پوری طرح مجبور ہے نہ پوری طرح مختار ہے، اعمال جس کا اسے حساب دینا ہے اس میں آزمائش اور ابتلاء کے لحاظ سے مکمل طور پر مختار ہے اور تکوینی امور میں مکمل طور پر مجبور ہے۔
حیات اور رزق اس کو اتنا ہی ملے گا جو اس کے لئے طے شدہ ہے، خواہ وہ کچھ کرلے اس کو وہی ملے گا جو اللہ کی جانب سے مقدر کردیا گیا ہے، وہ چیز جو اس کے لئے نہیں لکھی گئی ہے خواہ وہ اور پوری دنیا اس کے لئے محنت کرلے اس کو ملنے والی نہیں ہے۔
اور عمل جس کی بنیاد پر اس کو حساب دینا ہے اپنے اختیار سے کرنے کےلئے اس کو آزاد چھوڑ دیا گیا ہے، جو کچھ وہ عمل کرے گا اپنے اختیار سے کرے گا اور اس کو اس کا اجر ملے گا، ہاں وہ اعمال کا خالق (پیدا کرنے والا )نہیں؛ بلکہ اعمال کا کاسب (کمانے والا) ہے جیسا کہ اوپر گذرا ہے۔
اور بندہ کو جو کچھ ملنے والا ہے اور بندہ اپنے ارادہ و اختیار سے جو کچھ اعمال کرنے والا ہے وہ سب اللہ کے علم میں پہلے سے ہے، چنانچہ اللہ نے ان سب تفصیلات کو لکھ دیا ہے اور وہ لوح محفوظ میں آسمانوں اور زمین کی تخلیق سے پہلے سے لکھا ہوا ہے۔دلائل
يَخْلُقُ مَا يَشَآءُ وَاللہُ عَلٰى کُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ (۱۷)( المائدۃ)۔ وَاللہُ خَلَقَ کُلَّ دَابَّةٍ مِنْ مَاءٍ فَمِنْهُمْ مَنْ يَمْشِي عَلٰى بَطْنِهٖ وَمِنْهُمْ مَنْ يَمْشِي عَلٰى رِجْلَيْنِ وَمِنْهُمْ مَنْ يَمْشِي عَلٰى أَرْبَعٍ يَخْلُقُ اللہُ مَا يَشَآءُ إِنَّ اللہَ عَلٰى کُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ (۴۵) (النور)۔ وَرَبُّکَ الْغَنِيُّ ذُو الرَّحْمَةِ إِنْ يَشَأْ يُذْهِبْکُمْ وَيَسْتَخْلِفْ مِنْ بَعْدِکُمْ مَا يَشَآءُ کَمَا أَنْشَأَکُمْ مِنْ ذُرِّيَّةِ قَوْمٍ آخَرِينَ (۱۳۳) (الأنعام)۔ هُوَ الَّذِي يُصَوِّرُکُمْ فِي الْأَرْحَامِ کَيْفَ يَشَآءُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ (۶)( آل عمران)۔ کَذَلِكِ اللہُ يَخْلُقُ مَا يَشَآءُ إِذَا قَضٰى أَمْرًا فَإِنَّمَا يَقُولُ لَهٗ کُنْ فَيَکُونُ (۴۷)( آل عمران)۔ وَإِنْ يَمْسَسْکَ اللہُ بِضُرٍّ فَلَا کَاشِفَ لَهٗ إِلَّا هُوَ وَإِنْ يُرِدْکَ بِخَيْرٍ فَلَا رَادَّ لِفَضْلِهٖ يُصِيبُ بِهٖ مَنْ يَشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ وَهُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ (۱۰۷)( یونس)۔ اللہُ يَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ يَشَآءُ وَيَقْدِرُ وَفَرِحُوا بِالْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا فِي الْآخِرَةِ إِلَّا مَتَاعٌ (۲۶)( الرعد)۔ وَلَوْ بَسَطَ اللہُ الرِّزْقَ لِعِبَادِهٖ لَبَغَوْا فِي الْأَرْضِ وَلٰكِنْ يُنَزِّلُ بِقَدَرٍ مَا يَشَآءُ إِنَّهٗ بِعِبَادِهٖ خَبِيرٌ بَصِيرٌ (۲۷) (الشوری)۔ أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللہَ يُزْجِي سَحَابًا ثُمَّ يُؤَلِّفُ بَيْنَهٗ ثُمَّ يَجْعَلُهٗ رُکَامًا فَتَرَى الْوَدْقَ يَخْرُجُ مِنْ خِلَالِهٖ وَيُنَزِّلُ مِنَ السَّمَآءِ مِنْ جِبَالٍ فِيهَا مِنْ بَرَدٍ فَيُصِيبُ بِهٖ مَنْ يَشَآءُ وَيَصْرِفُهٗ عَنْ مَنْ يَشَآءُ يَکَادُ سَنَا بَرْقِهِ يَذْهَبُ بِالْأَبْصَارِ (۴۳)( النور)۔لَهٗمْ دَارُ السَّلَامِ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَهُوَ وَلِيُّهُمْ بِمَا کَانُوا يَعْمَلُونَ (۱۲۷) (الأنعام)۔ أَمَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ فَلَهٗمْ جَنَّاتُ الْمَأْوَى نُزُلًا بِمَا کَانُوا يَعْمَلُونَ (۱۹)( السجدۃ)۔ وَلٰكِنْ کَذَّبُوا فَأَخَذْنَاهُمْ بِمَا کَانُوا يَكْسِبُونَ (۹۶)( الأعراف وَمَأْوَاهُمْ جَهَنَّمُ جَزَآءً بِمَا کَانُوا يَكْسِبُونَ (۹۵)( التوبۃ)۔ أُولٰٓئِکَ مَأْوَاهُمُ النَّارُ بِمَا کَانُوا يَكْسِبُونَ (۸)( یونس)۔ إِلَيْهِ مَرْجِعُکُمْ جَمِيعًا وَعْدَ اللہِ حَقًّا إِنَّهٗ يَبْدَأُ الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهٗ لِيَجْزِيَ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ بِالْقِسْطِ وَالَّذِينَ کَفَرُوا لَهٗمْ شَرَابٌ مِنْ حَمِيمٍ وَعَذَابٌ أَلِيمٌ بِمَا کَانُوا يَكْفُرُونَ (۴)( یونس)۔ وَالَّذِينَ کَذَّبُوا بِآيَاتِنَا يَمَسُّهُمُ الْعَذَابُ بِمَا کَانُوا يَفْسُقُونَ (۴۹) (الأنعام)۔بند
عقیدہ:
تقدیر کے پہلے سے لکھے ہوئے ہونے اور اللہ تعالیٰ کو پہلے سے اعمال کے علم ہونے کا انکار کفر ہے، جیسا کہ قدریہ نے کیا ہے، یہ اللہ کے تقدیری حکم کے منکر ہوتے ہیں، تقدیر کا انکار کرنے والے کافر ہیں۔تشریح
قدریہ یعنی تقدیر کا انکار کرنے والے:
امتِ مسلمہ میں بعض گمراہ فرقے بھی پیدا ہوئے ہیں، انہوں نے اس مسئلہ میں بھی گمراہی کی راہ اختیار کی ہے، ایک گروہ نے یہ کہا کہ بندہ اپنے اعمال کا خود خالق ہے او ر اعمال خود بخود ہو رہے ہیں، اس میں پہلے سے کچھ طے نہیں ہے، اور یہ بھی کہا کہ اللہ تعالیٰ کو بندہ کے اعمال کرنے سے پہلے سے کچھ پتہ نہیں ہوتا اور انہوں نے پہلے سے کچھ لکھے ہوئے ہونے کو نہیں مانا اور اس طرح اللہ تعالیٰ کے علم اور قدرت دونوں کا انکار کیا ہے، انہیں قدریہ کہا جاتا ہے۔
قدریہ یعنی تقدیر کے پہلے سے لکھے ہوئے ہونے کا انکار کرنے والے پیدا ہوں گے، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے سے پیشین گوئی فرمائی تھی اور یہ بھی تعلیم دی تھی کہ جو شخص تقدیر کے لکھے ہوئے ہونے کا انکار کرے گا اور اسی حالت میں اس کی موت آئے وہ جہنمی ہوگا۔
قرآن نے خود کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں بھی پید کیا ہے اور جو کچھ اعمال تم کرتے ہو اللہ تعالیٰ ان کا بھی خالق ہے، اسی طرح صحیح مسلم میں یحییٰ بن یعمر سے منقول ہے کہ بصرہ میں سب سے پہلے قدر کے بارے میں کلام کرنے والا معبد جہنی تھا، جب اس کا ظہور ہوا تو اس کے بعد مَیں اور حمید بن عبد الرحمن حج کے لئے گئے، ہماری خواہش تھی کہ دوران حج کسی صحابئ رسولؐ سے ملاقات ہو جائے تو اچھا ہے، ہم ان سے پوچھ سکیں گے کہ قدر کے بارے میں یہ جو کلام ہو رہا ہے اس کے بارے میں کیا رہنمائی ہے؟ جب ہم مسجد حرام میں داخل ہو رہے تھے اللہ کی توفیق سے ہماری ملاقات حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے ہوئی ، میں اور میرے ساتھی دونوں ان کے دائیں بائیں ہوگئے، میں نے ان سے خطاب کرکے کہا: ائے ابو عبد الرحمن! (یہ حضرت ابن عمر کی کنیت ہے) ہماری طرف کچھ لوگ پیدا ہوئے ہیں جو قرآن بھی پڑھتے ہیں اور علم بھی حاصل کرتے ہیں اور ان کے دیگر حالات بتلا کر کہا کہ ان کا خیال ہے کہ قدر کوئی چیز نہیں ہے، سب کچھ یونہی چل رہا ہے، حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: جب تم ان سے جا کر ملو تو انہیں بتلاؤ کہ میں ان سے اپنی برأت کا اظہار کرتا ہوں اور وہ مجھ سے بری ہیں، اور اس ذات کی قسم جس کی ابن عمر قسم کھاتا ہے! اگر ان میں سے کسی کے پاس احد پہاڑ کے برابر بھی سونا ہو اور وہ پورا کا پورا انفاق کردے تو اللہ تعالیٰ اس کو اس وقت تک قبول نہیں کریں گے جب تک کہ وہ تقدیر پر ایمان نہیں لائے گا، پھر حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے حدیث جبرئیل سنائی جس میں حضرت جبرئیل علیہ السلام نے آکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایمان کے بارے میں سوال کیا تھا کہ: ایمان کیا ہے؟ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایمان یہ ہے کہ اللہ پر ایمان لایا جائے، اس کے فرشتوں پر ایمان لایا جائے، اس کی کتابوں پر ایمان لایا جائے، اس کے رسولوں پر ایمان لایا جائے، آخرت کے دن پرایمان لایا جائے اور اس تقدیر کے خیر و شر ہر دو پہلو پر ایمان لایا جائے۔
ابو حفصہ سے منقول ہے کہ حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے   اپنے بیٹے سے کہا: ایمان کی حقیقت کا مزہ تم اس وقت تک نہیں پا سکتے جب تک تم میں یہ بات یقین تک نہ پہنچ جائے کہ جو حالات تم تک پہنچنے والے تھے وہ تم سے کسی طرح نہیں ٹل سکتے تھے اور جو کچھ تم کو پیش نہیں آیا وہ تمہیں کبھی پیش آہی نہیں سکتا تھا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ   اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے قلم کو پیدا کیا اور اس سے کہا: لکھو! قلم نے کہا : پروردگار میں کیا لکھوں؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: تا قیامت ہر چیز کی تقدیر لکھو ! حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ نے پھر کہا: بیٹے !میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بھی فرماتے ہوئے سنا ہے کہ : جو شخص اس بات پر ایمان لائے بغیر مر جائے اس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ (سنن ابی داؤد)
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک جنازہ میں شرکت کےلئے آئے، تدفین کے مقام پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم تدفین کے انتظار میں ایک جگہ بیٹھے ہوئے تھے ، آپ نے فرمایا: تم میں سے ہر ایک کا انجام کہ وہ جنتی ہے یا جہنمی ہے لکھا جا چکا ہے، وہاں موجود صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا : یا رسول اللہؐ! تو کیا ہم اس لکھے ہوئے پر سب کچھ چھوڑ کر عمل چھوڑ نہ دیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عمل کرتے رہو! اس لئے کہ جو شخص بھی جس انجام کےلئے پیدا ہوا ہے اس کےلئے اسی کے مناسب عمل آسان ہوگا، جو کامیاب ہونے والوں میں سے ہوگا اس کے لئے کامیابی کے اعمال آسان ہوں گے اور جو نا کام ہونے والا ہوگا اس کےلئے ناکام ہونے والے اعمال آسان ہوں گے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورۃ اللیل کی آیات فَأَمَّا مَنْ أَعْطٰى وَاتَّقٰى (۵) وَصَدَّقَ بِالْحُسْنٰى (۶) فَسَنُيَسِّرُهٗ لِلْيُسْرٰى (۷)تلاوت کیں۔(صحیح بخاری)دلائل
فَأَمَّا مَنْ أَعْطٰى وَاتَّقٰى (۵) وَصَدَّقَ بِالْحُسْنٰى (۶) فَسَنُيَسِّرُهٗ لِلْيُسْرٰى (۷)( سورۃ اللیل)۔ وَاللہُ خَلَقَکُمْ وَمَا تَعْمَلُونَ (۹۶)( الصافات)۔ عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ قَالَ کَانَ أَوَّلَ مَنْ قَالَ فِى الْقَدَرِ بِالْبَصْرَةِ مَعْبَدٌ الْجُهَنِىُّ فَانْطَلَقْتُ أَنَا وَحُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ الْحِمْيَرِىُّ حَاجَّيْنِ أَوْ مُعْتَمِرَيْنِ فَقُلْنَا لَوْ لَقِينَا أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللہِ -صلى الله عليه وسلم- فَسَأَلْنَاهُ عَمَّا يَقُولُ هٰٓؤُلَآءِ فِى الْقَدَرِ فَوُفِّقَ لَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ دَاخِلاً الْمَسْجِدَ فَاكْتَنَفْتُهٗ أَنَا وَصَاحِبِى أَحَدُنَا عَنْ يَمِينِهٖ وَالآخَرُ عَنْ شِمَالِهٖ فَظَنَنْتُ أَنَّ صَاحِبِى سَيَكِلُ الْکَلاَمَ إِلَىَّ فَقُلْتُ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمٰنِ إِنَّهٗ قَدْ ظَهَرَ قِبَلَنَا نَاسٌ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ وَيَتَقَفَّرُونَ الْعِلْمَ - وَذَکَرَ مِنْ شَأْنِهِمْ - وَأَنَّهُمْ يَزْعُمُونَ أَنْ لاَ قَدَرَ وَأَنَّ الأَمْرَ أُنُفٌ. قَالَ فَإِذَا لَقِيتَ أُولٰٓئِکَ فَأَخْبِرْهُمْ أَنِّى بَرِىءٌ مِنْهُمْ وَأَنَّهُمْ بُرَآءُ مِنِّى وَالَّذِى يَحْلِفُ بِهٖ عَبْدُ اللہِ بْنُ عُمَرَ لَوْ أَنَّ لأَحَدِهٖمْ مِثْلَ أُحُدٍ ذَهَبًا فَأَنْفَقَهٗ مَا قَبِلَ اللہُ مِنْهُ حَتّٰى يُؤْمِنَ بِالْقَدَرِ ثُمَّ قَالَ حَدَّثَنِى أَبِى عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ قَالَ بَيْنَمَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللہِ -صلى الله عليه وسلم- ذَاتَ يَوْمٍ إِذْ طَلَعَ عَلَيْنَا رَجُلٌ شَدِيدُ بَيَاضِ الثِّيَابِ شَدِيدُ سَوَادِ الشَّعَرِ لاَ يُرٰى عَلَيْهِ أَثَرُ السَّفَرِ وَلاَ يَعْرِفُهٗ مِنَّا أَحَدٌ حَتّٰى جَلَسَ إِلَى النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- فَأَسْنَدَ رُكْبَتَيْهِ إِلٰى رُكْبَتَيْهِ وَوَضَعَ کَفَّيْهِ عَلٰى فَخِذَيْهِ وَقَالَ يَا مُحَمَّدُ أَخْبِرْنِى عَنِ الإِسْلاَمِ. فَقَالَ رَسُولُ اللہِ -صلى الله عليه وسلم- « الإِسْلاَمُ أَنْ تَشْهَدَ أَنْ لَآ إِلٰهَ إِلاَّ اللہُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللہِ وَتُقِيمَ الصَّلاَةَ وَتُؤْتِىَ الزَّکَاةَ وَتَصُومَ رَمَضَانَ وَتَحُجَّ الْبَيْتَ إِنِ اسْتَطَعْتَ إِلَيْهِ سَبِيلاً. قَالَ صَدَقْتَ. قَالَ فَعَجِبْنَا لَهٗ يَسْأَلُهٗ وَيُصَدِّقُهٗ. قَالَ فَأَخْبِرْنِى عَنِ الإِيمَانِ. قَالَ « أَنْ تُؤْمِنَ بِاللّٰہِ وَمَلاَئِکَتِهٖ وَکُتُبِهٖ وَرُسُلِهٖ وَالْيَوْمِ الآخِرِ وَتُؤْمِنَ بِالْقَدَرِ خَيْرِهٖ وَشَرِّهٖ ». قَالَ صَدَقْتَ. قَالَ فَأَخْبِرْنِى عَنِ الإِحْسَانِ. قَالَ « أَنْ تَعْبُدَ اللہَ کَأَنَّکَ تَرَاهُ فَإِنْ لَمْ تَکُنْ تَرَاهُ فَإِنَّهٗ يَرَاکَ ». قَالَ فَأَخْبِرْنِى عَنِ السَّاعَةِ. قَالَ « مَا الْمَسْئُولُ عَنْهَا بِأَعْلَمَ مِنَ السَّائِلِ ». قَالَ فَأَخْبِرْنِى عَنْ أَمَارَتِهَا. قَالَ « أَنْ تَلِدَ الأَمَةُ رَبَّتَهَا وَأَنْ تَرَى الْحُفَاةَ الْعُرَاةَ الْعَالَةَ رِعَاءَ الشَّاءِ يَتَطَاوَلُونَ فِى الْبُنْيَانِ ». قَالَ ثُمَّ انْطَلَقَ فَلَبِثْتُ مَلِيًّا ثُمَّ قَالَ لِى « يَا عُمَرُ أَتَدْرِى مَنِ السَّائِلُ ». قُلْتُ اللہُ وَرَسُولُهٗ أَعْلَمُ. قَالَ « فَإِنَّهٗ جِبْرِيلُ أَتَاکُمْ يُعَلِّمُکُمْ دِينَکُمْ ». (صحیح مسلم)۔ عَنْ أَبِى حَفْصَةَ قَالَ قَالَ عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ لاِبْنِهٖ يَا بُنَىَّ إِنَّکَ لَنْ تَجِدَ طَعْمَ حَقِيقَةِ الإِيمَانِ حَتّٰى تَعْلَمَ أَنَّ مَا أَصَابَکَ لَمْ يَکُنْ لِيُخْطِئَکَ وَمَا أَخْطَأَکَ لَمْ يَکُنْ لِيُصِيبَکَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللہِ -صلى الله عليه وسلم- يَقُولُ « إِنَّ أَوَّلَ مَا خَلَقَ اللہُ الْقَلَمَ فَقَالَ لَهٗ اكْتُبْ. قَالَ رَبِّ وَمَاذَا أَكْتُبُ قَالَ اكْتُبْ مَقَادِيرَ کُلِّ شَىْءٍ حَتّٰى تَقُومَ السَّاعَةُ ». يَا بُنَىَّ إِنِّى سَمِعْتُ رَسُولَ اللہِ -صلى الله عليه وسلم- يَقُولُ « مَنْ مَاتَ عَلٰى غَيْرِ هٰذَا فَلَيْسَ مِنِّى ».(سنن ابی داؤد)۔ عَنْ عَلِىٍّ - رضى الله عنه - قَالَ کَانَ النَّبِىُّ - صَلَّى اللہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِى جَنَازَةٍ فَأَخَذَ شَيْئًا فَجَعَلَ يَنْکُتُ بِهٖ الأَرْضَ فَقَالَ « مَا مِنْکُمْ مِنْ أَحَدٍ إِلاَّ وَقَدْ کُتِبَ مَقْعَدُهٗ مِنَ النَّارِ وَمَقْعَدُهٗ مِنَ الْجَنَّةِ » . قَالُوا يَا رَسُولَ اللہِ أَفَلاَ نَتَّكِلُ عَلٰى كِتَابِنَا وَنَدَعُ الْعَمَلَ قَالَ « اعْمَلُوا فَکُلٌّ مُيَسَّرٌ لِمَا خُلِقَ لَهٗ ، أَمَّا مَنْ کَانَ مِنْ أَهْلِ السَّعَادَةِ فَيُيَسَّرُ لِعَمَلِ أَهْلِ السَّعَادَةِ ، وَأَمَّا مَنْ کَانَ مِنْ أَهْلِ الشَّقَاءِ فَيُيَسَّرُ لِعَمَلِ أَهْلِ الشَّقَاوَةِ » . ثُمَّ قَرَأَ ( فَأَمَّا مَنْ أَعْطٰى وَاتَّقٰى * وَصَدَّقَ بِالْحُسْنٰى ) الآيَةَ . (صحیح بخاری)۔ قَوْلُهٗ: (وَلَمْ يَخْفَ عَلَيْهِ شَيْءٌ قَبْلَ أَنْ يَخْلُقَهُمْ، وَعَلِمَ مَا هُمْ عَامِلُونَ قَبْلَ أَنْ يَخْلُقَهُمْ) ش: فَإِنَّهٗ سُبْحَانَهٗ يَعْلَمُ مَا کَانَ وَمَا يَکُونُ وَمَا لَمْ يَکُنْ أَنْ لَوْ کَانَ کَيْفَ يَکُونُ، کَمَا قَالَ تَعَالٰى: وَلَوْ رُدُّوا لَعَادُوا لِمَا نُهُوا عَنْهُ (سورۃ الأنعام :۲۸) وَإِنْ کَانَ يَعْلَمُ أَنَّهُمْ لَا يُرَدُّونَ، وَلٰكِنْ أَخْبَرَ أَنَّهُمْ لَوْ رُدُّوا لَعَادُوا، کَمَا قَالَ تَعَالٰى: وَلَوْ عَلِمَ اللہُ فِيهِمْ خَيْرًا لَأَسْمَعَهُمْ وَلَوْ أَسْمَعَهُمْ لَتَوَلَّوْا وَهُمْ مُعْرِضُونَ(سورۃ الأنفال:۲۳) وَفِي ذٰلِکَ رَدٌّ عَلَى الرَّافِضَةِ وَالْقَدَرِيَّةِ، وَالَّذِينَ قَالُوا: إِنَّهٗ لَا يَعْلَمُ الشَّيْءَ قَبْلَ أَنْ يَخْلُقَهٗ وَيُوجِدَهُ. (العقیدۃ الطحاویۃ مع شرحہ لإبن أبی العز:۱/۶۷)۔بند
عقیدہ:
 مکلّف بندہ کو اعمال میں بھی مجبور محض بتلانا  اور معاصی کی بنیاد تقدیر پر رکھنا بھی کفر ہے، جیسا کہ جبریہ نے کیا ہے، یہ اللہ کے تشریعی حکم کے منکر ہیں، تقدیر کی بنیاد پر بندوں کو اعمال میں بھی مجبور محض بتلانے والے کافر ہیں۔تشریح
جبریہ یعنی فرائض چھوڑنے اور گناہوں کو کرنے کےلئے تقدیر کو ذمہ دار بتانے والے:
جس طرح قدریہ کا گمان کہ تقدیر کچھ نہیں ہے کفر ہے، اسی طرح اس کے بالکل بر خلاف یہ گمان بھی کفر ہے کہ انسان مجبور محض ہے ، امت میں ایک گمراہ فرقہ ایسا بھی پیدا ہوا جس نے تقدیر کے بارے میں ایسے ہی کفر کی حد تک غلو سے کام لیا ، اس نے کہا کہ بندہ کے اختیار میں کچھ نہیں ہے، جیسے حیات وموت میں انسان تقدیر کے ہاتھوں مجبور ہے اسی طرح اعمال کے بارے میں بھی انسان مجبور محض ہے، ان لوگوں نے بد عملی اور گناہ کے ارتکاب کےلئے بھی تقدیر کو ذمہ دار قرار دیا اور کہا کہ جو کچھ تقدیر میں لکھا ہے وہ ہو رہا ہے اس میں بندہ کا کیا قصور ؟ یہ زعم صریح کفر ہے، مشرکین یہی کہا کرتے تھے کہ اگر اللہ چاہتا تو ہم شرک نہ کرتے، گویا انہوں نے اپنے شرک کا ذمہ دار اللہ کی مشیت کو قرار دیا ہے، حالانکہ ایسا خیال کرنا تقدیر کو ماننا نہیں بلکہ یہ بھی تقدیر کا انکار کرنا ہی ہے، کیونکہ تقدیر کو ماننے میں یہ بات شامل ہے کہ انسان کو اللہ تعالیٰ نے ارادہ اور اختیار سے بھی نوازا ہے اور انسان جو کچھ عمل کرتا ہے وہ اس کے ارادہ اور اختیار سے کرتا ہے، ہاں تکوینی امور مثلاً حیات و موت وغیرہ میں انسان مکمل طور پر تقدیر کے آگے مجبور ہے، لیکن یہ غیر اختیاری امور ہیں جن کے بارے میں انسان سے سوال نہیں ہوگا، جبکہ اس کے اعمال اس کے ارادہ و اختیار سے کئے ہوئے ہوتے ہیں، جن کی تفہیم اور تفصیل اوپر ’’ارادہ و اختیار ‘‘اور ’’خلق اعمال‘‘ کے عنوان کے تحت گذر چکی ہے۔دلائل
لَا يُکَلِّفُ اللہُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا لَهَا مَا کَسَبَتْ وَعَلَيْهَا مَا اكْتَسَبَتْ رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَا إِنْ نَسِينَا أَوْ أَخْطَأْنَا رَبَّنَا وَلَا تَحْمِلْ عَلَيْنَا إِصْرًا کَمَا حَمَلْتَهٗ عَلَى الذِينَ مِنْ قَبْلِنَا رَبَّنَا وَلَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَةَ لَنَا بِهٖ وَاعْفُ عَنَّا وَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا أَنْتَ مَوْلَانَا فَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْکَافِرِينَ (۲۸۶)البقرۃ-وَقَالَتْ أُولَاهُمْ لِأُخْرَاهُمْ فَمَا کَانَ لَکُمْ عَلَيْنَا مِنْ فَضْلٍ فَذُوقُوا الْعَذَابَ بِمَا کُنْتُمْ تَكْسِبُونَ (۳۹) الأعراف-وَذَرِ الَّذِينَ اتَّخَذُوا دِينَهُمْ لَعِبًا وَلَهْوًا وَغَرَّتْهُمُ الْحَيَاةُ الدُّنْيَا وَذَكِّرْ بِهٖ أَنْ تُبْسَلَ نَفْسٌ بِمَا کَسَبَتْ لَيْسَ لَهَا مِنْ دُونِ اللہِ وَلِيٌّ وَلَا شَفِيعٌ وَإِنْ تَعْدِلْ کُلَّ عَدْلٍ لَا يُؤْخَذْ مِنْهَا أُولٰٓئِکَ الَّذِينَ أُبْسِلُوا بِمَا کَسَبُوا لَهٗمْ شَرَابٌ مِنْ حَمِيمٍ وَعَذَابٌ أَلِيمٌ بِمَا کَانُوا يَكْفُرنَ (۷۰) الأنعام-لَهٗمْ دَارُ السَّلَامِ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَهُوَ وَلِيُّهُمْ بِمَا کَانُوا يَعْمَلُونَ (۱۲۷) الأنعام-أَمَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ فَلَهٗمْ جَنَّاتُ الْمَأْوَى نُزُلًا بِمَا کَانُوا يَعْمَلُونَ (۱۹) السجدۃ-وَلٰكِنْ کَذَّبُوا فَأَخَذْنَاهُمْ بِمَا کَانُوا يَكْسِبُونَ (۹۶) الأعراف-وَمَأْوَاهُمْ جَهَنَّمُ جَزَآءً بِمَا کَانُوا يَكْسِبُونَ (۹۵) التوبۃ-أُولٰٓئِکَ مَأْوَاهُمُ النَّارُ بِمَا کَانُوا يَكْسِبُونَ (۸) یونس-إِلَيْهِ مَرْجِعُکُمْ جَمِيعًا وَعْدَ اللہِ حَقًّا إِنَّهٗ يَبْدَأُ الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهٗ لِيَجْزِيَ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ بِالْقِسْطِ وَالَّذِينَ کَفَرُوا لَهٗمْ شَرَابٌ مِنْ حَمِيمٍ وَعَذَابٌ أَلِيمٌ بِمَا کَانُوا يَكْفُرُونَ (۴) یونس-وَالَّذِينَ کَذَّبُوا بِآيَاتِنَا يَمَسُّهُمُ الْعَذَابُ بِمَا کَانُوا يَفْسُقُونَ (۴۹) الأنعامبند
عقیدہ:
 گناہوں کی بنیاد تقدیر کو بتلانا کفر ہے لیکن مصائب کی بنیاد تقدیر کو بتلانا درست ہے۔تشریح
حضرت آدم اور حضرت موسی علیہما السلام کا مناظرہ:
حدیث مبارکہ میں وار دہوا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت موسی علیہ السلام کا مناظرہ ہوا، حضرت موسی علیہ السلام نے حضرت آدم علیہ السلام سے فرمایا: ائے آدم ! آپ ہمارے والد ہیں، آپ نے جنت میں خطا کی تھی جس نے آپ کو اور ہمیں جنت سے نکال دیا، حضرت آدم علیہ السلام نے حضرت موسی علیہ السلام کو جواب میں کہا: ائے موسی! تم وہ ہو جس کو اللہ نے اپنے رسول کی حیثیت سے منتخب فرمایا اور اپنے ساتھ ہم کلامی کا شرف دیا ، پھر بھی تم مجھے ایسی بات پر ملامت کررہے ہو جو میری پیدائش سے چالیس سال پہلے سے ہی مقدر تھی؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حضرت آدم علیہ السلام یہ کہہ کر حضرت موسی علیہ السلام پر غالب آگئے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا متعدد بار کہا۔
جنہوں نے اس حدیث کا صحیح مفہوم نہیں سمجھا جو قدر کے بھی منکر ہیں انہوں نے اس حدیث کو ماننے سے ہی انکار کردیا، ان کے خیال میں اگر اس حدیث کو صحیح مان لیا جائے تو اس کا حاصل تو یہ ہے کہ انبیاء کی نبوت کو ماننے کا کوئی مطلب ہی نہیں ہے، کیونکہ ہر گناہگار اس حدیث کو بنیاد بنا سکتا ہے، ایسی صورت میں شریعت کے احکام اور منہیات کا کوئی مطلب ہی نہیں ہوگا، اس لئے کہ کوئی بھی گناہگار جو کسی حکم کو چھوڑ دے یا کسی ممنوع چیز پر عمل کرلے اس کو تقدیر پر ڈال کر اپنے گناہ سے بچنا آسان ہو جائے گا اور اس پر کوئی ملامت کا موقع ہی نہیں ہوگا۔
حالانکہ اس حدیث کے بارے میں معتزلہ اور قدریہ کا یہ گمان خود ان کی جہالت اور گمراہیوں میں سے ایک گمراہی ہے، یہ حدیث نہ صرف صحیح ہے بلکہ محدثین کے درمیان اس کی صحت پر اتفاق ہے اور امت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور سے لے کر اب تک نسل در نسل اس حدیث کو قبول عام حاصل رہا ہے اور ہر ایک نے اس کی تصدیق کی ہے اور اس کو تسلیم کیا ہے، یہ گمراہ فرقوں کا ہمیشہ سے طریقہ رہا ہے کہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کا جو بھی ارشاد ان کے غلط نظریہ اور فکر کے خلاف جاتا ہے اس کو ماننے سے ہی انکار کر دیتے ہیں، خواہ وہ حدیث محدثین کے یہاں کتنی ہی اونچے درجہ کی اور صحیح ہو، جیسے انہوں نے رؤیت باری تعالیٰ، باری تعالیٰ کے ساتھ قائم صفات، شفاعت کی احادیث وغیرہ کا انکار کیا ہے ، اورجیسے خوارج و معتزلہ نے مرتکب کبیرہ کے شفاعت کے ذریعہ جہنم سے نکالے جانے کی احادیث کا انکار کردیا، اور جیسے روافض نے خلفاء راشدین اور دیگر صحابہ رضی اللہ عنہم کے فضائل میں وارد احادیث کو ماننے سے انکار کیا ہے، ایسے ہی یہ قدریہ ہیں جن کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس امت کے مجوس قرار دیا ہے، جنہوں نے قضاء و قدر کی بابت وارد احادیث کا انکار کیا ہے، یہ طرز عمل تمام گمراہ فرقوں کا رہا ہے۔
پھر انہوں نے اس حدیث کا جو مفہوم اور مطلب نکالا ہے اس حدیث میں وہ مطلب کہیں نہیں ہے، اس حدیث میں یہ گنجائش ہی نہیں ہے کہ کوئی گناہگار اور عاصی اپنی معصیت کو تقدیر کی رو سے صحیح قرار دے۔
اس حدیث کے مفہوم کو سمجھنے سے پہلے یہ سمجھنا چاہئے کہ حضرت موسی علیہ السلام جلیل القدر نبی ہیں اور اللہ تبارک و تعالیٰ اور اس کے اسماء و صفات کی کامل معرفت رکھنے والے ہیں، ان سے یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ حضرت آدم علیہ السلام کو ایسی خطاء پر ملامت کریں جس کی توبہ قبول ہو چکی ہو اور اس کے بعد رب العالمین نے حضرت آدم علیہ السلام کو اپنے چنندہ بندوں میں شمار کیا ہو، اسی طرح حضرت آدم علیہ السلام بھی اپنے رب کی کامل معرفت رکھنے والے ہیں ان سے کیسے یہ ممکن ہے کہ وہ اپنی کسی معصیت پر قضاء و قدر سے حجت لیں، یہ دونوں ہی باتیں ان دونوں انبیاء سے ممکن نہیں ہیں اور نہ ہی یہ باتیں اس حدیث میں ہیں۔
اس حدیث میں حضرت موسی علیہ السلام نے حضرت آدم علیہ السلام سے جو شکایت کی ہے وہ یہ ہے کہ آپ کی خطاء پر ہمیں امتحان ، آزمائش اور ابتلاء کے لئے جنت سے نکال کر اس دنیا میں بھیج دیا گیا ، انہوں نے حضرت آدم کی خطاء کو دنیا کے مصائب اور آزمائش کا سبب قرار دیا، جس سے ان کی ذریت کو گذرنا پڑا، اس مصیبت پر حضرت آدم علیہ السلام نے تقدیر کو حجت بنایا کہ یہ مصیبت جس کا ان کی نسل کو سامنا کرنا پڑا ہے وہ تو ان کی تقدیر میں حضرت آدم کی تخلیق سے بھی پہلے سے لکھی ہوئی ہے گویا حضرت آدم علیہ السلام نے اپنی خطاء کی بنیاد تقدیر کو نہیں بتایا بلکہ انہوں نے یہ کہا کہ دنیا میں بھیج کر جو آزمائش اور ابتلاء ہو رہی اس کی بنیاد تقدیرپر ہے، ظاہر ہے اب یہ حدیث گناہگاروں کےلئے ان کی معصیت کی تائید کرنے والی کہاں رہی کہ وہ اپنی معصیت پر اس سے یہ استدلال کریں کہ چونکہ وہ ان کے مقدر میں لکھا ہے اس لئے وہ کررہے ہیں۔دلائل
قُلْ لَنْ يُصِيبَنَا إِلَّا مَا کَتَبَ اللہُ لَنَا هُوَ مَوْلَانَا وَعَلَى اللہِ فَلْيَتَوَکَلِ الْمُؤْمِنُونَ (۵۱)( التوبۃ)۔أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّى اللہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ احْتَجَّ آدَمُ وَمُوسَى فَقَالَ لَهٗ مُوسَى أَنْتَ آدَمُ الَّذِى أَخْرَجَتْکَ خَطِيئَتُکَ مِنَ الْجَنَّةِ . فَقَالَ لَهٗ آدَمُ أَنْتَ مُوسَى الَّذِى اصْطَفَاکَ اللہُ بِرِسَالاَتِهٖ وَبِکَلاَمِهٖ ، ثُمَّ تَلُومُنِى عَلٰى أَمْرٍ قُدِّرَ عَلٰى قَبْلَ أَنْ أُخْلَقَ. فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّى اللہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَجَّ آدَمُ مُوسَى مَرَّتَيْنِ. (صحیح بخاری)۔ أَبَا هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِىِّ صَلَّى اللہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ احْتَجَّ آدَمُ وَمُوسَى ، فَقَالَ لَهٗ مُوسَى يَا آدَمُ أَنْتَ أَبُونَا خَيَّبْتَنَا وَ أَخْرَجْتَنَا مِنَ الْجَنَّةِ . قَالَ لَهٗ آدَمُ يَا مُوسَى اصْطَفَاکَ اللہُ بِکَلاَمِهٖ وَخَطَّ لَکَ بِيَدِهٖ ، أَتَلُومُنِى عَلٰى أَمْرٍ قَدَّرَ اللہُ عَلٰى قَبْلَ أَنْ يَخْلُقَنِى بِأَرْبَعِينَ سَنَةً . فَحَجَّ آدَمُ مُوسَى فَحَجَّ آدَمُ مُوسَى ثَلاَثًا.(صحیح بخاری و صحیح مسلم)۔ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللہِ صلى الله عليه وسلماحْتَجَّ آدَمُ وَمُوسَى عَلَيْهِمَا السَّلاَمُ عِنْدَ رَبِّهِمَا فَحَجَّ آدَمُ مُوسَى قَالَ مُوسَى أَنْتَ آدَمُ الَّذِى خَلَقَکَ اللہُ بِيَدِهٖ وَنَفَخَ فِيکَ مِنْ رُوحِهِ وَأَسْجَدَ لَکَ مَلاَئِکَتَهٗ وَأَسْکَنَکَ فِى جَنَّتِهٖ ثُمَّ أَهْبَطْتَ النَّاسَ بِخَطِيئَتِکَ إِلَى الأَرْضِ فَقَالَ آدَمُ أَنْتَ مُوسَى الَّذِى اصْطَفَاکَ اللہُ بِرِسَالَتِهٖ وَبِکَلاَمِهٖ وَأَعْطَاکَ الأَلْوَاحَ فِيهَا تِبْيَانُ کُلِّ شَىْءٍ وَقَرَّبَکَ نَجِيًّا فَبِکَمْ وَجَدْتَ اللہَ کَتَبَ التَّوْرَاةَ قَبْلَ أَنْ أُخْلَقَ قَالَ مُوسَى بِأَرْبَعِينَ عَامًا. قَالَ آدَمُ فَهَلْ وَجَدْتَ فِيهَا (وَعَصَى آدَمُ رَبَّهُ فَغَوَى) قَالَ نَعَمْ. قَالَ أَفَتَلُومُنِى عَلٰى أَنْ عَمِلْتُ عَمَلاً کَتَبَهُ اللہُ عَلٰى أَنْ أَعْمَلَهٗ قَبْلَ أَنْ يَخْلُقَنِى بِأَرْبَعِينَ سَنَةً قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّى اللہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَجَّ آدَمُ مُوسَى۔ فَاحْتَجَّ آدَمُ بِالْقَدَرِ عَلَى الْمُصِيبَةِ، لَا عَلَى الْخَطِيئَةِ، فَإِنَّ الْقَدَرَ يُحْتَجُّ بِهٖ عِنْدَ الْمَصَائِبِ، لَا عِنْدَ الْمَعَائِبِ. (شرح العقیدۃ الطحاویۃ لابن أبی العز:۱/۷۰)۔ وقد رد هذا الحديث من لم يفهمه من المعتزلة كأبي علي الجبائي ومن وافقه على ذلك وقال لو صح لبطلت نبوات الأنبياء فإن القدر إذا كان حجة للعاصي بطل الأمر والنهي فإن العاصي بترك الأمر أو فعل النهي إذا صحت له الحجة بالقدر السابق ارتفع اللوم عنه وهذا من ضلال فريق الاعتزال وجهلهم بالله ورسوله وسنته فإن هذا حديث صحيح متفق على صحته لم تزل الأمة تتلقاه بالقبول من عهد نبيها قرنا بعد قرن وتقابله بالتصديق والتسليم ورواه أهل الحديث في كتبهم وشهدوا به على رسول الله صَلَّى اللہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أنه قاله وحكموا بصحته فما لأجهل الناس بالسنة ومن عرف بعداوتها وعداوة حملتها والشهادة عليهم بأنهم مجسمة ومشبهة حشوية وهذا الشأن ولم يزل أهل الكلام الباطل المذموم موكلين برد أحاديث رسول الله صَلَّى اللہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ التي تخالف قواعدهم الباطلة وعقائدهم الفاسدة كما ردوا أحاديث الرؤية وأحاديث علو الله على خلقه وأحاديث صفاته القائمة به وأحاديث الشفاعة وأحاديث نزوله إلى سمائه ونزوله إلى الأرض للفصل بين عباده وأحاديث تكلمه بالوحي كلاما يسمعه من شاء من خلقه حقيقة إلى أمثال ذلك وكما ردت الخوارج والمعتزلة أحاديث خروج أهل الكبائر من النار بالشفاعة وغيرها وكما ردت الرافضة أحاديث فضائل الخلفاء الراشدين وغيرهم من الصحابة وكما ردت المعطلة أحاديث الصفات والأفعال الاختيارية وكما ردت القدرية المجوسية أحاديث القضاء والقدر السابق وكل من أصل أصلا لم يؤصله الله ورسوله قاده قسرا إلى رد السنة وتحريفها عن مواضعها فلذلك لم يؤصل حزب الله ورسوله أصلا غير ما جاء به الرسول فهو أصلهم الذي عليه يعولون وجنتهم التي إليها يرجعون (شفاء العلیل:۵/۳)۔ إذا عرفت هذا فموسى أعرف بالله وأسمائه وصفاته من أن يلوم على ذنب قد تاب منه فاعله فاجتباه ربه بعده وهداه واصطفاه وآدم أعرف بربه من أن يحتج بقضائه وقدره على معصيته بل إنما لام موسى آدم على المعصية التي نالت الذرية بخروجهم من الجنة ونزولهم إلى دار الابتلاء والمحنة بسبب خطيئة أبيهم فذكر الخطيئة تنبيها على سبب المصيبة المحنة التي نالت الذرية ولهذا قال له أخرجتنا ونفسك من الجنة وفي لفظ خيبتنا فاحتج آدم بالقدر على المصيبة وقال أن هذه المصيبة التي نالت الذرية بسبب خطيئتي كانت مكتوبة بقدره قبل خلقي والقدر يحتج به في المصائب دون المعائب أي أتلومني على مصيبة قدرت علي وعليكم قبل خلقي بكذا وكذا (شفاء العلیل:۵/۱۱)۔بند
عقیدہ:
مکلّف اعمال میں مجبور نہیں ہے بلکہ مختار ہیں۔تشریح
اللہ ہر ایک کا انجام یکساں نہیں کریں گے:
جبریہ نے بندوں کے مجبور محض ہونے کا جو گمان قائم کیا اس کا باطل اور بے بنیاد ہونا اس طرح سے بھی سمجھا جا سکتا ہے کہ کل قیامت کے دن مسلمین اور مجرمین کے گروہ الگ الگ ہوں گے، اسی طرح ایمان اور عمل صالح کرنے والے اور مفسدین الگ الگ ہوں گے، ایسے ہی متین اور فجار الگ الگ ہوں گے، اعمال سیئہ کے مرتکبین اور حسنات کا اہتمام کرنے والے الگ الگ ہوں گے، مصیبتوں میں صبر کرنے والے اور دنیا کے پیچھے بھاگنے والے الگ الگ ہوں گے، اطاعت کرنے والے اور سر کشی کرنے والے الگ الگ ہوں گے، انبیاء، صدیقین، شہداء و صالحین اور ان کو جھٹلانے والے اور کی مخالفت کرنے والے الگ الگ ہوں گے، اصحاب الیمین اور اصحاب الشمال الگ الگ ہوں گے اور ان دو مختلف گروہوں کا انجام بھی جدا جدا ہوگا، ایک جہنمی ہوگا اور ایک جنت میں جائے گا۔
اگر انسان مجبور محض ہے اور جو کچھ کررہا ہے مقدر میں لکھا ہے اس لئے کررہا ہے تو اپنے ارادہ اور اختیار سے نہیں کر رہا ہے تو پھر یہ الگ الگ گروہ کیوں اور ان کا الگ الگ انجام کیوں؟ اگر انسان مجبور محض ہے تو پھر جو جہنم میں جائیں گے نعوذ باللہ ان پر صراصر اللہ کا ظلم ہوگا، اور جو جنت میں جائیں گے ان کے جنت میں جانے کا کوئی استحقاق ہی نہیں ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ اللہ ظالم نہیں ہے، جہنمیوں کو جہنم کی سزا خود ان کے ارادہ اور اختیار سے کی ہوئی ان کی بداعمالیوں ، سرکشی، تکذیب، کفر اور نفاق کی وجہ سے سے ملے گی، اور جنتیوں کو جنت کی نعمتیں ان کے ارادہ و اختیار سے منتخب کئے ہوئے ایمان اور عمل صالح کے راستہ، ان کے صبر اور ان کی قربانیوں کے سبب ملیں گی، یہ بات قرآن میں از اول تا آخر بھری پڑی ہے۔دلائل
أَفَنَجْعَلُ الْمُسْلِمِينَ کَالْمُجْرِمِينَ (۳۵) مَا لَکُمْ کَيْفَ تَحْکُمُونَ (۳۶)( القلم)۔ أَمْ نَجْعَلُ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ کَالْمُفْسِدِينَ فِي الْأَرْضِ أَمْ نَجْعَلُ الْمُتَّقِينَ کَالْفُجَّارِ (۲۸)( ص)۔ أَمْ حَسِبَ الَّذِينَ اجْتَرَحُوا السَّيِّئَاتِ أَنْ نَجْعَلَهٗمْ کَالَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ سَوَاءً مَحْيَاهُمْ وَمَمَاتُهُمْ سَاءَ مَا يَحْکُمُونَ (۲۱)( الجاثیۃ)۔ أَمْ حَسِبْتُمْ أَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ وَلَمَّا يَأْتِکُمْ مَثَلُ الَّذِينَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِکُمْ مَسَّتْهُمُ الْبَأْسَاءُ وَالضَّرَّاءُ وَزُلْزِلُوا حَتّٰى يَقُولَ الرَّسُولُ وَالَّذِينَ آمَنُوا مَعَهُ مَتَى نَصْرُ اللہِ أَلَا إِنَّ نَصْرَ اللہِ قَرِيبٌ (۲۱۴)(البقرۃ) ۔ أَمْ حَسِبْتُمْ أَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ وَلَمَّا يَعْلَمِ اللہُ الَّذِينَ جَاهَدُوا مِنْکُمْ وَيَعْلَمَ الصَّابِرِينَ (۱۴۲)( آل عمران)۔ أَمْ حَسِبْتُمْ أَنْ تُتْرَکُوا وَلَمَّا يَعْلَمِ اللہُ الَّذِينَ جَاهَدُوا مِنْکُمْ وَلَمْ يَتَّخِذُوا مِنْ دُونِ اللہِ وَلَا رَسُولِهٖ وَلَا الْمُؤْمِنِينَ وَلِيجَةً وَاللہُ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ (۱۶) (التوبۃ)۔ وَمَنْ يُطِعِ اللہَ وَالرَّسُولَ فَأُولٰٓئِکَ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللہُ عَلَيْهِمْ مِنَ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّالِحِينَ وَحَسُنَ أُولٰٓئِکَ رَفِيقًا (۶۹)( النساء)۔ وَالْمُؤْمِنُونَ وَالْمُؤْمِنَاتُ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ يَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ وَيُقِيمُونَ الصَّلَاةَ وَيُؤْتُونَ الزَّکَاةَ وَيُطِيعُونَ اللہَ وَرَسُولَهٗ أُولٰٓئِکَ سَيَرْحَمُهُمُ اللہُ إِنَّ اللہَ عَزِيزٌ حَكِيمٌ (۷۱)( التوبۃ)۔ فَاسْتَجَابَ لَهٗمْ رَبُهٗمْ أَنِّي لَا أُضِيعُ عَمَلَ عَامِلٍ مِنْکُمْ مِنْ ذَکَرٍ أَوْ أُنْثٰى بَعْضُکُمْ مِنْ بَعْضٍ فَالَّذِينَ هَاجَرُوا وَأُخْرِجُوا مِنْ دِيَارِهِمْ وَأُوذُوا فِي سَبِيلِي وَقَاتَلُوا وَقُتِلُوا لَأُکَفِّرَنَّ عَنْهُمْ سَيِّئَاتِهِمْ وَلَأُدْخِلَنَّهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ ثَوَابًا مِنْ عِنْدِ اللہِ وَاللہُ عِنْدَهُ حُسْنُ الثَّوَابِ (۱۹۵) ( آل عمران)۔ أَکُفَّارُکُمْ خَيْرٌ مِنْ أُولَئِکُمْ أَمْ لَکُمْ بَرَاءَةٌ فِي الزُّبُرِ (۴۳) (القمر)۔ دَمَّرَ اللہُ عَلَيْهِمْ وَلِلْکَافِرِينَ أَمْثَالُهَا (۱۰) ( محمد)۔بند
عقیدہ:
بندوں کےلئے خیر و شر کا ہر پہلو اللہ کی جانب سے مقدر ہےلیکن کوئی چیز بندہ کی نسبت سے شر ہوتی ہے اور اللہ سے منسوب ہوکر ہر شئے خیر ہی ہوتی ہے۔تشریح
تقدیر میں خیر و شر کے پہلو:
جس طرح خیر کا پیدا کرنے والا اور شر کا پیدا کرنے والا اللہ ہے اسی طرح تقدیر میں خیر و شر دونوں پہلو اللہ کی جانب سے مقدر ہوتے ہیں، خیر کا مقدر کرنے والا الگ اور شر کا مقدر کرنے والا الگ نہیں ہے، ہر چیز اللہ کی جانب سے ہے۔
البتہ ہر چیز اللہ کی جانب منسوب ہو کر خیر ہی ہوتی ہے، ہاں بندوں سے منسوب ہو کر کوئی شئے شر ہو سکتی ہے، مثلاً صحت کو بندہ خیر اور مرض کو شر گمان کرتا ہے یا نفع کو خیر اور نقصان کو شر شمار کرتا ہے، لیکن اللہ کی جانب منسوب ہو کر مرض اور نقصان شر باقی نہیں رہتے، بلکہ ان کی بھی نسبت اللہ تعالیٰ کی جانب خیر کی حیثیت سے ہی ہوگی، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان دونوں چیزوں کی تخلیق با مقصد کی ہے۔
اسی طرح سے کوئی گمراہ ہوتا ہے تو گمراہی اس کےلئے شر ہے، لیکن اللہ کی جانب منسوب ہو کر وہ عین عدل ہے اور عدل خیر ہوتا ہے، اور ایسے ہی گمراہی کا انجام گمراہ کےلئے شر ہو سکتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ کی جانب منسوب ہو کر وہ عین عدل ہوگا، اس لحاظ سے بندہ کی جانب منسوب ہو کر جو چیزیں شر ہوتی ہیں ان کا خالق و مقدر کرنے والا یقیناً اللہ ہے، لیکن اللہ کے ساتھ ان کو شر کی حیثیت سے منسوب نہیں کریں گے۔دلائل
قُلِ اَللّٰہُمَّ مَالِکَ الْمُلْكِ تُؤْتِي الْمُلْکَ مَنْ تَشَاءُ وَتَنْزِعُ الْمُلْکَ مِمَّنْ تَشَاءُ وَتُعِزُّ مَنْ تَشَاءُ وَتُذِلُّ مَنْ تَشَاءُ بِيَدِکَ الْخَيْرُ إِنَّکَ عَلٰى کُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ (۲۶)( آل عمران)۔ عَنْ عَلِىِّ بْنِ أَبِى طَالِبٍ عَنْ رَسُولِ اللہِ -صلى الله عليه وسلم- أَنَّهٗ کَانَ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلاَةِ قَالَ « وَجَّهْتُ وَجْهِىَ لِلَّذِى فَطَرَ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضَ حَنِيفًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ إِنَّ صَلاَتِى وَنُسُكِى وَمَحْيَاىَ وَمَمَاتِى لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِينَ لاَ شَرِيکَ لَهٗ وَبِذٰلِکَ أُمِرْتُ وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ اَللّٰہُمَّ أَنْتَ الْمَلِکُ لَآ إِلٰهَ إِلاَّ أَنْتَ. أَنْتَ رَبِّى وَأَنَا عَبْدُکَ ظَلَمْتُ نَفْسِى وَاعْتَرَفْتُ بِذَنْبِى فَاغْفِرْ لِى ذُنُوبِى جَمِيعًا إِنَّهٗ لاَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلاَّ أَنْتَ وَاهْدِنِى لأَحْسَنِ الأَخْلاَقِ لاَ يَهْدِى لأَحْسَنِهَا إِلاَّ أَنْتَ وَاصْرِفْ عَنِّى سَيِّئَهَا لاَ يَصْرِفُ عَنِّى سَيِّئَهَا إِلاَّ أَنْتَ لَبَّيْکَ وَسَعْدَيْکَ وَالْخَيْرُ کُلُّهُ فِى يَدَيْکَ وَالشَّرُّ لَيْسَ إِلَيْکَ أَنَا بِکَ وَإِلَيْکَ تَبَارَكْتَ وَتَعَالَيْتَ أَسْتَغْفِرُکَ وَأَتُوبُ إِلَيْکَ ». (صحیح مسلم)۔ فتبارك وتعالى عن نسبة الشر إليه بل كل ما نسب إليه فهو خير والشر إنما صار شرا لانقطاع نسبته وإضافته إليه فلو أضيف إليه لم يكن شرا كما سيأتي بيانه وهو سبحانه خالق الخير والشر فالشر في بعض مخلوقاته لا في خلقه وفعله وخلقه وفعله وقضاؤه وقدره خير كله ولهذا تنزه سبحانه عن الظلم الذي حقيقته وضع الشيء في غير موضعه كما تقدم فلا يضع الأشياء إلا في مواضعها اللائقة بها وذلك خير كله والشر وضع الشيء في غير محله فإذا وضع في محله لم يكن شرا فعلم أن الشر ليس إليه وأسماؤه الحسنى تشهد بذلك فإن منها القدوس السلام العزيز الجبار المتكبر فالقدوس المنزه من كل شر ونقص وعيب …… فأسماؤه الحسنى تمنع نسبة الشر والسوء والظلم إليه مع أنه سبحانه الخالق لكل شيء فهو الخالق للعباد وأفعالهم وحركاتهم وأقوالهم والعبد إذا فعل القبيح المنهي عنه كان قد فعل الشر والسوء والرب سبحانه هو الذي جعله فاعلا لذلك وهذا الجعل منه عدل وحكمة وصواب فجعله فاعلا خير والمفعول شر قبيح فهو سبحانه بهذا الجعل قد وضع الشيء موضعه لما له في ذلك من الحكمة البالغة التي يحمد عليها فهو خير وحكمة ومصلحة وإن كان وقوعه من العبد عيبا ونقصا وشرا وهذا أمر معقول في الشاهد فإن الصانع الخبير إذا أخذ الخشبة العوجاء والحجر المكسور واللبنة الناقصة فوضع ذلك في موضع يليق به ويناسبه كان ذلك منه عدلا وصوابا يمدح به وإن كان في المحل عوج ونقص وعيب يذم به المحل ومن وضع الخبائث في موضعها ومحلها اللائق بها كان ذلك حكمة وعدلا وصوابا وإنما السفه والظلم أن يضعها في غير موضعها فمن وضع العمامة على الرأس والنعل في الرجل والكحل في العين والزبالة في الكناسة فقد وضع الشيء موضعه ولم يظلم النعل والزبالة إذ هذا محلهما (شفاء العلیل:۲۳/۲)۔ إن خلق القبيح نظراً إلى الخالق حسن وإن كان نظراً إلينا قبيحاً۔ (العرف الشذی للکشمیری:۳/۳۳۲)۔بند
عقیدہ:
تقدیر پر ایمان رکھنا اور تقدیر کے معاملہ میں جو علم دیا گیا ہے اس پر یقین رکھنا لازم ہے، اور تقدیر کے بارے میں جو علم بندوں کو نہیں دیا گیا ہے اس کے درپے ہونا اور اس میں غور و خوض کرنا ممنوع ہے۔تشریح
تقدیر کے بارےمیں تنازعہ اور بے جا غور و خوض کی ممانعت:
تقدیر پر ایمان لازم ہے اور تقدیر سے متعلق جو باتیں ہمیں اللہ اور اس کے رسول نے بتلائیں ہیں ان پر یقین رکھنا ضروری ہے، باقی تقدیر کا جو علم ہمیں نہیں دیا گیا ہے اس میں کلام کرنا سخت ممنوع ہے۔
تقدیر درحقیقت مخلوقات کے بارے میں اللہ کے علم اور اس کی مشیت    کو شامل ہوتی ہے، کون ہے جو اللہ کے علم کا احاطہ کرسکے، مخلوقات کی عقل اور فہم ناقص اللہ کے علم میں سے ہر شئے نہیں جان سکتی، اسی طرح مخلوقات کی تقدیر میں اللہ کی مشیت اس کی حکمتوں کو شامل ہوتی ہے، کون ہے جو اللہ کی حکمتوں کو جان سکتا ہو یا جس کا علم نہیں دیا گیا ہے ان تک خود پہنچ سکتا ہو، بندوں کو ایمان کی درستگی کےلئے جتنا علم دینا تھا وہ دیا جا چکا ، بندوں پر لازم ہے کہ اس علم پر اکتفاء کریں اور جو علم نہیں دیا گیا اس کا سمجھنا اور ان کا احاطہ کرنا بندوں کےلئے ممکن نہیں تھا اس لئے وہ انہیں نہیں دیا گیا، اب کسی کا اس علم کے درپے ہونا کئی نقصانات لانے والا ہوگا، اول تو وہ حاصل نہیں ہوگا، دوسرے ان کے درپے ہو کر اور ان کے پیچھے پڑ کر بہت سے معاملات کو وہ سمجھ ہی نہیں سکے گا، نتیجتاً یقین ہے کہ شکوک و شبہات اور گمراہی ہی شکا ہوگا، یہی وجہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو ایک موقع پر قدر کے بارے میں بہت زیادہ غور و خوض کرتے ہوئے دیکھ کر سخت غصہ کا اظہار فرمایا اور کہا کہ: کیا تمہیں اس کا حکم دیا گیا ہے؟ یا میں ان باتوں میں خور و خوض کی دعوت دے کر بھیجا گیا ہوں؟ تم سے پہلے جو قومیں گذری ہیں ان کی ہلاکت میں قدر کے معاملہ میں تنازعات بھی وجہ رہے ہیں، وہ اپنے انبیاء کے طریقہ سے ہٹ کر اس مسئلہ میں اختلاف کا شکا ر رہے ہیں۔دلائل
عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ قَالَ خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللہِ صَلَّى اللہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ نَتَنَازَعُ فِى الْقَدَرِ فَغَضِبَ حَتَّى احْمَرَّ وَجْهُهٗ حَتّٰى کَأَنَّمَا فُقِئَ فِى وَجْنَتَيْهِ الرُّمَّانُ فَقَالَ « أَبِهٰذَا أُمِرْتُمْ أَمْ بِهٰذَا أُرْسِلْتُ إِلَيْکُمْ إِنَّمَا هَلَکَ مَنْ کَانَ قَبْلَکُمْ حِينَ تَنَازَعُوا فِى هٰذَا الأَمْرِ عَزَمْتُ عَلَيْکُمْ أَلاَّ تَتَنَازَعُوا فِيهِ ». (سنن الترمذی)بند
عقیدہ:
تقدیر کے متعلق بحث نہیں کرنا چاہئے اور زیادہ کھود کرید میں نہیں پڑنا چاہئے، احادیثِ مبارکہ میں اس سے منع کیا گیا ہے، کیونکہ اس موضوع کی اکثر باتیں انسانی سمجھ سے بالاتر ہوتی ہیں۔دلائل
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللہِ صَلَّى اللہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ نَتَنَازَعُ فِي الْقَدَرِ فَغَضِبَ حَتَّى احْمَرَّ وَجْهُهٗ حَتّٰى کَأَنَّمَا فُقِئَ فِي وَجْنَتَيْهِ الرُّمَّانُ فَقَالَ أَبِهٰذَا أُمِرْتُمْ أَمْ بِهٰذَا أُرْسِلْتُ إِلَيْكُمْ إِنَّمَا هَلَکَ مَنْ کَانَ قَبْلَكُمْ حِينَ تَنَازَعُوا فِي هٰذَا الْأَمْرِ عَزَمْتُ عَلَيْكُمْ أَلَّا تَتَنَازَعُوا فِيهِ۔ (سنن ترمذی:۲؍۴۸۰) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللہِ بْنِ أَبِى مُلَيْکَةَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى عَائِشَةَ فَذَکَرَ لَهَا شَيْئًا مِنَ الْقَدَرِ فَقَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللہِ صَلَّى اللہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ تَکَلَّمَ فِى شَىْءٍ مِنَ الْقَدَرِ سُئِلَ عَنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَمَنْ لَمْ يَتَکَلَّمْ فِيهِ لَمْ يُسْأَلْ عَنْهُ۔ (سنن ابن ماجہ:۹) وَالتَّعَمُّقُ وَالنَّظَرُ فِي ذَلِکَ ذَرِيعَةُ الْخِذْلَانِ۔ (العقیدۃ الطحاویۃ:۱۹)بند







No comments:

Post a Comment