یقینًا ہم ہی نے اسے رستہ بھی دکھا دیا، اب خواہ شکرگذار ہو خواہ ناشکرا۔
[القرآن،سورۃ الدھر:آیۃ3]
یعنی اولًا اصل فطرت اور پیدائشی عقل و فہم سے پھر دلائل عقلیہ و نقلیہ سے نیکی کی راہ سجھائی جس کا مقتضٰی یہ تھا کہ سب انسان ایک راہ چلتے لیکن گرد وپیش کے حالات اور خارجی عوارض سے متاثر ہو کر سب ایک راہ پر نہ رہے۔ بعض نے اللہ کو مانا اور اس کا حق پہچانا،اور بعض نے ناشکری اور ناحق کوشی پر کمر باندھ لی۔ آگے دونوں کا انجام مذکور ہے۔
"اور آپ نے صرف کتاب (اللہ) پر اکتفا فرمایا؛ کیونکہ وہ سنت پر عمل پر مشتمل ہے، اللہ تعالیٰ کے فرمان: 'اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو' (النساء: 59) اور فرمان: 'رسول تمہیں جو دے وہ لے لو، اور جس سے منع کرے اس سے رک جاؤ' (الحشر: 7) کی وجہ سے۔ اور اس میں اس طرف اشارہ ہے کہ تمسک کرنے میں اصل اور بنیادی اصول کتاب (اللہ) ہی ہے۔"
"اور آپ ﷺ کا یہ فرمان۔۔۔اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ کتاب اللہ ہی ہدایت کا ذریعہ ہے؛ پس جو شخص اسے تھامے رکھے گا وہ گمراہ نہیں ہو گا۔"
"اور کتاب اللہ ہی میں یہ فرمان ہے: {رسول تمہیں جو دے وہ لے لو، اور جس سے منع کرے اس سے رک جاؤ}، پس کتاب اللہ سے تمسک کرنا ہر اس چیز (سنت نبوی وسنت الخلفاء راشدین) سے تمسک کرنے کو ضروری قرار دیتا ہے جو رسول اللہ ﷺ سے صحیح طور پر ثابت ہے۔"
آخر زمانہ میں جھوٹے دجال لوگ ہوں گے تمہارے پاس ایسی احادیث لائیں گے جن کو نہ تم نے نہ تمہارے آباؤ اجداد نے سنا ہوگا تم ایسے لوگوں سے بچے رہنا مبادا وہ تمہیں گمراہ نہ کردیںاور فتنہ میں مبتلا نہ کردیں۔
[مسند أحمد:8250(8267)،صحیح مسلم:7، صحيح ابن حبان:6766، التاريخ الكبير للبخاري بحواشي المطبوع:1167، شرح مشكل الآثار-الطحاوي:2954، 8250، مسند أبي يعلى الموصلي:6384، مسند إسحاق بن راهويه:332، المستدرك على الصحيحين للحاكم، المسند المستخرج على صحيح مسلم لأبي نعيم:70، شرح السنة للبغوي:107، ترتیب الأمالي الخميسية-للشجري:327]
یعنی وہ جھوٹے دجال فتنہ باز لوگ ایسا بھی کریں گے کہ حدیث سے اپنے نئے نظریات وطریقے نکالیں گے جو پرانے طریقہ(سنت) کے خلاف ہوں گے، اور اسے دین کا حکم یا ثواب کا کام کہہ کر لوگوں کو گمراہ کریں گے۔
القرآن:
اب کیا یہ (کافر) لوگ قیامت ہی کا انتظار کر رہے ہیں کہ وہ یکایک ان پر آن پڑے ؟ (اگر ایسا ہے) تو اس کی علامتیں تو آچکی ہیں۔ پھر جب وہ آہی جائے گی تو اس وقت ان کے لیے نصیحت ماننے کا موقع کہاں سے آئے گا ؟
"دَجَّالُونَ كَذَّابُونَ" کے بارے میں ثعلب نے کہا: ہر جھوٹا شخص دجال ہے، اور اسی وجہ سے (مسیح) دجال کو یہ نام دیا گیا، کیونکہ وہ لوگوں پر (باطل کو) خوبصورت بنا کر پیش کرتا ہے اور انہیں دھوکہ دیتا ہے۔ کہا جاتا ہے: "دَجَلَ" جب اس نے خوبصورت بنایا اور دھوکہ دیا۔ اور "دَجَلَ فُلانٌ الْحَقَّ بِبَاطِلِهِ" کے معنی ہیں: اس نے حق کو اپنے باطل سے ڈھانپ دیا۔
اور انہوں نے یہ بھی کہا: اسے "دجال" اس لیے کہا جاتا ہے کہ وہ زمین میں پھیلتا ہے اور اس کے مختلف حصوں کو کاٹتا ہے (یعنی دنیا کے بہت سے علاقوں میں جاتا ہے)۔ کہا جاتا ہے: "دَجَلَ الرَّجُلُ" (فتحہ اور ضمہ دونوں کے ساتھ) جب اس نے ایسا کیا۔
"اس حدیث میں فقہی احکام میں سے یہ ہے: بدعت (دین میں نئی چیز) ایجاد کرنے سے سختی سے منع کیا گیا ہے، اہلِ بدعت سے ڈرایا گیا ہے، اور اتباع (سنت کی پیروی) پر ابھارا گیا ہے۔
یہ حدیث انسان کو تنبیہ کرتی ہے کہ وہ اپنے ہر معاملے میں صرف اسی شخص کی پیروی کرے جس کی (دینی) صحت پر اسے یقین ہو، اور جو اس قابل ہو کہ اس کی پیروی سنت اور روایت کی صورت میں کی جائے۔"
"اس حدیث میں اشارہ جھوٹے لوگوں کی طرف ہے۔ اس کی وضاحت حدیث کے بعض الفاظ سے ہوتی ہے: 'آخر زمانے میں جھوٹے دجال ہوں گے جو تمہارے پاس ایسی احادیث لے کر آئیں گے جو تم نے نہیں سنیں۔' اس میں جھوٹے لوگوں سے ڈرایا گیا ہے۔
جھوٹے راوی (ناقل) کو صرف اس کی تحقیق کرنے اور اس کے بارے میں جو کچھ کہا گیا ہے (جرح و تعدیل) اس پر غور کرنے سے ہی پہچانا جا سکتا ہے۔
بہت سے جاہل متزہدین (بظاہر پرہیزگار لوگ) راویوں پر جرح (قدح) سننے سے گریز کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں: 'یہ غیبت ہے!' حالانکہ وہ یہ نہیں جانتے کہ (راویوں پر جرح) کا مقصد صحیح حدیث کو درست کرنا اور فاسد (جھوٹی) حدیث کو باطل کرنا ہے۔
اگر (حدیث کے) ماہر نقاد نہ ہوتے تو شریعت میں ایسی چیزیں داخل کر دی جاتیں جو اسے خراب کر دیتیں۔ اور (جھوٹے لوگوں نے پہلے ہی) بہت کچھ داخل کر دیا ہے اور اس میں مبالغہ کیا ہے۔
لیکن اللہ تعالیٰ کسی بھی زمانے کو ایسے نقاد سے خالی نہیں رکھتا جو حدیث سے جھوٹے راویوں کے جھوٹ اور جاہلوں کی تحریفات کو دور کرتا ہے، اپنی شریعت کی حفاظت کے لیے۔ اور اللہ اپنے معاملے پر غالب ہے۔"
"اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی ایک دوسری حدیث میں ہے: آخر زمانے میں دجال ہوں گے۔"
یعنی: وہ لوگ جو جھوٹے، مکر کرنے والے اور (باطل کو) خوبصورت بنا کر پیش کرنے والے ہوں گے۔ یہ لفظ "دَجَل" سے ہے جس کے معنی "خلط" (ملاوٹ) کے ہیں۔ اسی سے "سیف مدجل" (تلوار جس پر سونے کی ملاوٹ کی گئی ہو) کہا جاتا ہے۔ اور (مسیح) دجال کو دجال اس لیے کہا جاتا ہے کہ وہ اپنے باطل کو حق کی مشابہت دے کر پیش کرتا ہے (یعنی باطل کو حق کا رنگ دیتا ہے)۔
"اور آپ کا فرمان: ’قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی یہاں تک کہ تقریباً تیس جھوٹے دجال بھیجے جائیں‘ – اس سے پہلے لفظ ’دجال‘ کے اشتقاق پر گفتگو گزر چکی ہے کہ اس سے مراد وہ شخص ہے جو جھوٹ سے (باطل کو) ملاوٹ کرتا ہے (یعنی حق کا رنگ دیتا ہے)۔
قاضی ابوالفضل نے کہا: یہ حدیث (کی پیشگوئی) ظاہر ہو چکی ہے۔ اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے سے لے کر اب تک ان لوگوں کا شمار کیا جائے جنہوں نے نبوت کا دعویٰ کیا، مشہور ہوئے، اور ان کی گمراہی پر کچھ لوگوں نے ان کی پیروی کی، تو یہ تعداد (تیس) ان میں پائی جائے گی۔ اور جو شخص تاریخی اور خبروں والی کتابوں کا مطالعہ کرے گا، وہ اس کی صحت کو جان لے گا۔ اگر بیان میں طول نہ ہوتا تو ہم ان میں سے یہ تعداد (ایک ایک کر کے) بیان کر دیتے۔"
اور آپ کا فرمان: "آخر زمانے میں جھوٹے دجال ہوں گے" –
"دجال" سے مراد وہ شخص ہے جو جھوٹا ہو، اپنے جھوٹ کو حق کا رنگ دے، اور اسے خوبصورت بنا کر پیش کرے۔ کہا جاتا ہے: "دَجَلَ الحَقَّ بِبَاطِلِهِ" یعنی اس نے حق کو اپنے باطل سے ڈھانپ دیا، اور "دَجَلَ" کے معنی اس نے جھوٹ کو ملاوٹ کر کے پیش کیا۔ اسی وجہ سے کانا جھوٹے کو "دجال" کہا جاتا ہے۔ بعض نے کہا: اسے "دجال" اس لیے کہا جاتا ہے کہ وہ زمین میں پھیلتا ہے اور اس کے مختلف حصوں کو کاٹتا ہے (یعنی دنیا کے بہت سے علاقوں میں پھیل جاتا ہے)۔ کہا جاتا ہے: "دَجُلَ الرَّجُلُ" (فتحہ اور ضمہ دونوں کے ساتھ) جب وہ ایسا کرے۔ یہ ثعلب سے نقل ہے۔
یہ حدیث نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس خبر پر مشتمل ہے کہ آپ کے بعد (ایسے) جھوٹے لوگ پیدا ہوں گے جو آپ پر جھوٹ باندھیں گے اور اپنی گھڑی ہوئی باتیں پھیلا کر لوگوں کو گمراہ کریں گے۔ اور یہ (واقعہ) بالکل ویسا ہی ہوا جیسا آپ نے فرمایا تھا۔ چنانچہ یہ حدیث آپ کی سچائی کی نشانیوں میں سے ہے۔
ابو عمر بن عبد البر نے حماد بن زید سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے کہا: "زنادقہ (ملحدوں) نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر بارہ ہزار حدیثیں گھڑ کر لوگوں میں پھیلا دیں۔"
اور ایک حدیث گھڑنے والے کے بارے میں نقل کیا گیا ہے کہ اس نے توبہ کی اور رویا، اور کہا: "میرے لیے توبہ کہاں؟ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر بارہ ہزار حدیثیں گھڑ دی ہیں، اور ان سب پر عمل کیا جا رہا ہے (یعنی لوگ انہیں دین سمجھ کر اپنا رہے ہیں)!"
ائمہ حدیث نے بہت سی کتابیں لکھی ہیں جن میں انہوں نے بہت سی موضوع (من گھڑت) احادیث کو ظاہر کیا ہے جو پھیلی ہوئی ہیں، اور بہت سے فقہاء جنہیں رجالِ حدیث کا علم نہیں، ان پر عمل کر رہے ہیں۔
اور آپ کے فرمان: "پس تم ان سے اور ان سے بچو! وہ تمہیں گمراہ نہیں کریں گے اور نہ تمہیں فتنے میں ڈالیں گے" – اسی طرح یہ روایت "نون" کے ثبوت کے ساتھ آئی ہے، حالانکہ صحیح (قواعد کے مطابق) اسے حذف کرنا ہے۔ کیونکہ "نون" کا ثبوت اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ یہ جملہ گمراہی اور فتنہ کے وقوع نہ ہونے کی خبر ہو، جبکہ یہ مقصود کے خلاف ہے۔
جب "نون" حذف کر دی جائے تو اس کے دو احتمال ہیں:
یہ جملہ "إيَّاكُمْ" (تم بچو) کے جواب میں جزوم (مجزوم) ہو، گویا آپ نے فرمایا: "میں تمہیں ڈراتا ہوں، (خبردار!) وہ تمہیں گمراہ نہ کریں اور نہ فتنے میں ڈالیں۔"
"لا يُضِلُّوكُم" کو نہی (منع کرنے) کے طور پر سمجھا جائے، جیسا کہ "لا أَرَيَنَّكَ هاهنا" (میں تجھے یہاں ہرگز نہ دیکھوں) کے معنی ہیں: "تم یہاں مت آؤ!" – یعنی تم خود کو ان کے گمراہ کرنے اور فتنے میں ڈالنے کے لیے پیش نہ کرو۔
"دَجَّالُونَ" "دَجَّال" کی جمع ہے، جس کے معنی ہیں: بہت زیادہ مکر کرنے والا اور دھوکہ دینے والا۔ اور "الدَّجَلُ" کے معنی ہی دھوکہ (تلبيس) کے ہیں۔
یعنی: کچھ لوگ ہوں گے جو لوگوں سے کہیں گے: "ہم علماء اور مشائخ ہیں، ہم تمہیں دین کی طرف بلاتے ہیں" – حالانکہ وہ اس میں جھوٹے ہوں گے۔
"يأتونكم من الأحاديث بما لم تسمعوا أنتم ولا آباؤكم"
یعنی: وہ جھوٹی حدیثیں بیان کریں گے، باطل احکام ایجاد کریں گے، اور لوگوں کو فاسد عقائد سکھائیں گے، جیسے روافض (شیعہ)، معتزلہ، جبریہ اور اہلِ بدعت کے دوسرے گروہ۔
قوله: "فإياكم وإياهم"
یعنی: تم ان سے ڈرتے رہو، اور تمہیں چاہیے کہ تم ان سے بچو اور ان کے قریب نہ جاؤ، تاکہ وہ تمہیں گمراہ نہ کر سکیں اور تمہیں فتنے میں نہ ڈال سکیں۔
اس حدیث پر امام بخاری، امام مسلم اور امام ترمذی متفق ہیں۔ یہ اس سند کے ساتھ عبدالرزاق کے راستے سے مروی ہے۔ نیز امام مسلم نے اسے مالک کی سند سے، انہوں نے ابو الزناد سے، انہوں نے الاعرج سے، اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بھی روایت کیا ہے۔
دوسرا فائدہ:
آپ کا فرمان "يُبْعَثُ" (بھیجا جائے گا) کے معنی ہیں: وہ نکلے گا اور ظاہر ہو گا، نہ کہ بھیجنے کے معنی میں۔ مسلم کی روایت میں ہمام کے طریق/سند سے "يَنْبَعِثُ" (نون کی زیادتی کے ساتھ) آیا ہے، اور "الانبعاث" سفر میں تیزی سے چلنے کو کہتے ہیں۔
تیسرا فائدہ:
"دجال" لفظ "دَجْل" سے ماخوذ ہے، جس کے معنی "تمویہ" (حق کا رنگ دینا) اور "خلط" (ملاوٹ) کے ہیں۔ اور آپ کا فرمان "قَرِیبٌ مِنْ ثَلَاثِینَ" (تیس کے قریب) ہے – ہم نے اپنی اصل میں اسے رفع کے ساتھ ضبط کیا ہے، بطور صفت کے جو مذکورہ (دجالوں) سے متعلق ہے۔ صحیح مسلم کی ایک روایت میں "قَرِیبًا" (نصب کے ساتھ) حال کے طور پر آیا ہے، اور نکرہ سے حال کا آنا اس کی صفت ہونے کی وجہ سے صحیح ہے۔
چوتھا فائدہ:
امام نووی رحمہ اللہ نے فرمایا: ان (دجالوں) میں سے بہت سے لوگ مختلف زمانوں میں پیدا ہو چکے ہیں، اور اللہ تعالیٰ نے انہیں ہلاک کر دیا اور ان کے نشانات مٹا دیے۔ اور وہ ان میں سے جو باقی رہ گئے ہیں، ان کے ساتھ بھی ایسا ہی کرے گا۔
"دَجَّالُونَ" "دَجَّال" کی جمع ہے، جس کے معنی ہیں: بہت زیادہ مکر کرنے والا، دھوکہ دینے والا اور (باطل کو) خوبصورت بنا کر پیش کرنے والا۔ یعنی وہ لوگ جو بڑے دھوکے باز ہوں گے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ کچھ لوگ ہوں گے جو لوگوں سے کہیں گے: "ہم عالم ہیں، ہم مشائخ ہیں، ہم تمہیں دین کی طرف بلاتے ہیں" – حالانکہ وہ اس میں جھوٹے ہوں گے۔
یعنی وہ جھوٹی حدیثیں بیان کریں گے، باطل احکام ایجاد کریں گے، اور لوگوں کو فاسد عقائد سکھائیں گے، جیسے روافض، معتزلہ، جبریہ اور اہلِ بدعت کے دوسرے گروہ۔
"فَإِيَّاكُمْ"
یعنی اپنے آپ کو ان سے دور رکھو۔
"وَإِيَّاهُمْ"
یعنی انہیں اپنے سے دور رکھو۔
"لا يُضِلُّونَكُمْ"
یہ اس سوال کے جواب میں استئناف (نیا جملہ) ہے کہ: "ہم ان سے کیوں بچیں؟" گویا کہا: تاکہ وہ تمہیں گمراہ نہ کریں۔
"وَلا يَفْتِنُونَكُمْ"
یعنی وہ تمہیں فتنے میں نہ ڈالیں۔ فتنہ سے مراد شرک ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {وَالْفِتْنَةُ أَشَدُّ مِنَ الْقَتْلِ} (اور فتنہ (شرک) قتل سے بھی زیادہ سخت ہے) [البقرہ: 191]۔ یا اس سے مراد آخرت کا عذاب ہے، جیسا کہ فرمایا: {ذُوقُوا فِتْنَتَكُمْ} (اپنا عذاب چکھو) [الذاریات: 14]۔
قوله: (دجالون كذابون) یعنی: وہ جھوٹے لوگ ہیں جو (باطل کو) خوبصورت بنا کر پیش کرنے والے ہیں۔ اصل میں "دجل" کے معنی خلط (ملاوٹ) کے ہیں۔ "دجَّل" کہتے ہیں جب کوئی ملاوٹ کرے اور باطل کو حق کا رنگ دے۔ اس کی تفصیل اس کے باب میں آئے گی۔ یعنی وہ لوگوں پر اشتباہ ڈالیں گے اور اپنے آپ کو علماء اور مشائخ (جو نصیحت کرنے والے اور صالح ہیں) ظاہر کریں گے، پھر لوگوں کو اپنے باطل مذاہب اور فاسد آراء کی طرف بلائیں گے۔
"الاحادیث" سے مراد عام ہے، خواہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث ہوں یا دوسری باتیں۔ اور "عدم السماع" (نہ سننا) سے مراد یہ ہے کہ یہ باتیں دین میں ثابت نہیں ہیں، اور یہ محض بہتان اور افتراء ہیں۔
اور آپ کا فرمان: "فَإِيَّاكُمْ وَإِيَّاهُمْ" (پس تم ان سے اور انہیں اپنے سے دور رکھو) اس قسم کا ہے جیسے کہا جائے: "اپنے آپ کو اور شیر کو (ایک جگہ سے) دور رکھو" (یعنی ان سے پوری طرح بچو)۔
اور آپ کا فرمان: "لا يُضِلُّونَكُمْ" (وہ تمہیں گمراہ نہیں کریں گے) یہ جملہ استئناف (نیا جملہ) ہے، گویا پوچھا گیا: "ان سے بچنے کا کیا فائدہ؟" پھر اس کا جواب دیا گیا۔ یہ خبر دراصل نہی (منع کرنے) کے معنی میں ہے۔ مقصد یہ ہے کہ دین لینے میں احتیاط اور حفاظت برتی جائے، اور اہلِ بدعت کی صحبت اور ان سے ملنے جلنے سے بچا جائے، خاص طور پر ان میں سے ان داعیوں سے جو (باطل کو) خوبصورت بنا کر پیش کرتے ہیں۔
رہا علم کلام (منطقی عقائد) میں غلو (زیادتی) کرنے سے منع کرنا اور اس سے ڈرانا، تو ظاہر ہے کہ یہ اس باب سے نہیں ہے اور نہ ہی اس حدیث کی شرح میں اس کا بیان کرنا مناسب ہے، جیسا کہ طیبی نے کیا ہے۔ بلکہ اس سے زیادہ مناسب وہ حدیث ہے جو کتاب اللہ میں اختلاف کرنے اور دین میں جھگڑنے سے روکتی ہے، جیسا کہ پوشیدہ نہیں ہے۔
"اور یہ (یعنی کتاب اللہ اور سنت پر عمل کرنے کی وصیت) بھی نبی کریم ﷺ سے اہل علم کے ہاں اس قدر محفوظ، معروف اور مشہور ہے کہ اس کی شہرت اس حد تک ہے کہ گویا سند کی ضرورت ہی نہیں رہتی۔ اور اس سلسلے میں اخبارِ آحاد (واحد روایات) میں سے بھی احادیث مروی ہیں، ان میں ابوہریرہ اور عمرو بن عوف کی احادیث شامل ہیں۔"
پھر انہوں نے احادیث نقل کیں:
پہلی حدیث (ابوہریرہ رضی اللہ عنہ):
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"بے شک میں تم میں دو چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں، جن کے بعد تم کبھی بھی گمراہ نہ ہو گے: اللہ کی کتاب اور میری سنت۔"
دوسری حدیث (عمرو بن عوف رضی اللہ عنہ):
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"میں نے تم میں دو چیزیں چھوڑی ہیں، جب تک تم انہیں تھامے رکھو گے ہرگز گمراہ نہ ہو گے: اللہ کی کتاب اور اس کے نبی کی سنت۔"
تیسری حدیث (ابوامامہ رضی اللہ عنہ):
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"کوئی قوم اس ہدایت کے بعد جو انہیں حاصل تھی، گمراہ نہیں ہوتی مگر یہ کہ انہیں جھگڑا (جدل) کرنے کی عادت ہو جائے۔" پھر رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی: {مَا ضَرَبُوهُ لَكَ إِلَّا جَدَلًا بَلْ هُمْ قَوْمٌ خَصِمُونَ}(الزخرف: 58) یعنی "انہوں نے یہ مثال آپ کے سامنے محض جھگڑے کے طور پر پیش کی، بلکہ یہ لوگ ہیں ہی جھگڑالو۔"
پھر امام ابن عبد البر فرماتے ہیں:
"اور کتاب و سنت (کے ساتھ تمسک کرنے والے) نے ہدایت پا لی، جو ان دونوں کو تھامے گا وہ ہدایت یافتہ ہے۔"
قال الإمام: الهُدَى كلَّ الهُدَى في اتّباعِ كتابِ الله، واتّباعِ سُنَّةِ رسولِهِ، فهي المُبَيِّنَةُ مرادَ كتابِ الله تعالى، إذا أشكلَ ظاهِرُهُ بيَّنَتِ السُّنَّةُ عن بَاطِنِهِ وعن مراد الله منه. والجدالُ فيما تعتقدُهُ الأفئدةُ من الضَّلَالِ.
ترجمہ:
"پوری پوری ہدایت کتاب اللہ کی پیروی اور اس کے رسول کی سنت کی پیروی میں ہے۔ کیونکہ سنت کتاب اللہ تعالیٰ کے ارادے(مراد) کی وضاحت کرتی ہے۔ جب قرآن کا ظاہری معنی مشکل (اور مشتبہ) ہو جائے تو سنت اس کے باطن اور اس سے اللہ کی مراد کو واضح کر دیتی ہے۔ اور اس چیز میں جھگڑا کرنا جس کا دلوں نے اعتقاد کر رکھا ہے، گمراہی ہے۔"
"(لَنْ تَضِلُّوا مَا مَسَكْتُمْ)" – یہاں "ما" کے تحت "مِيم" اور "سِين" کے ساتھ پڑھا جاتا ہے (یعنی مَسَكْتُمْ)۔ اس کا مطلب ہے: "جب تک تم نے ان دونوں کو پکڑ رکھا ہے، ان سے تعلق رکھا ہے، اور انہیں مضبوطی سے تھام رکھا ہے (تم گمراہ نہ ہو گے)"۔
"(بِهِمَا، كِتَابَ اللَّهِ)" – "کتاب اللہ" لفظ "أمرین" سے بدل ہے۔
"(وَسُنَّةَ نَبِيهِ)" – "اور اس کے نبی کی سنت" (بھی بدل ہے)۔
پس یہ دونوں وہ اصول ہیں جن سے انحراف نہیں کیا جا سکتا، اور نہ ہی ان کے سوا کوئی ہدایت ہے۔ اور جو شخص ان دونوں کو تھامے رکھے گا اور ان کی رسی کو مضبوطی سے پکڑے گا، اسی کے لیے عصمت (بچاؤ) اور نجات ہے۔
یہ دونوں واضح پہچان ہیں اور روشن دلیل ہیں، جو حق پرست کے لیے (جب وہ ان کی پیروی کرتا ہے) اور باطل پرست کے لیے (جب وہ ان کو چھوڑ دیتا ہے) فرق کرنے والی ہیں۔
پس ان دونوں کی طرف لوٹنا دین کا مسلمہ اور ضروری تقاضا ہے، جو بدیہی طور پر معلوم ہے۔ البتہ قرآن تو یقینی اور قطعی علم عطا کرتا ہے، جبکہ سنت میں (احکام کی) تفصیل پائی جاتی ہے (جو مشہور ہے)۔
آپ ﷺ کے قول "لن تضلّوا" (تم ہرگز گمراہ نہ ہو گے) کے بارے میں:
"النهاية" (کتاب) میں "ضلال" کے معنی "ضياع" (کھو جانا، برباد ہو جانا) ہیں۔ اسی سے اللہ کا فرمان ہے: {ضَلَّ سَعْيُهُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا} (ان کی دنیوی زندگی کی سعی ضائع ہو گئی)۔ اور "القاموس" کے مطابق: "ضلال" (زبر کے ساتھ) ہدایت کے برعکس ہے۔
اور آپ کے قول "كتاب الله وسنة رسوله" (اللہ کی کتاب اور اس کے رسول کی سنت) کے بارے میں:
یہ دونوں لفظ "أمرين" (دو چیزوں) سے بدل ہیں، اس لیے منصوب ہیں۔ اور ان کا رفع (پیش کے ساتھ پڑھنا) بھی جائز ہے بطور مستأنف (نیا جملہ)۔ گویا کہا گیا: یہ دونوں (کیا عظیم چیزیں ہیں) اور اس میں کوئی شک نہیں کہ ان سے اعتصام (مضبوطی سے تھامنا) گمراہی سے امن عطا کرتا ہے اور ہدایت حاصل ہوتی ہے۔
اور آپ نے "گمراہی کے نہ ہونے" کا اظہار (نفی) اس لیے فرمایا کہ گمراہی وہ خطرناک چیز ہے، کیونکہ اسی میں دونوں جہانوں کی ہلاکت ہے۔ پس آپ نے اسے خاص کیا تاکہ (لوگ) اس سے ڈریں، اور مخالف راستے کو جانیں، اور لازم ہے کہ لوگ انہیں (قرآن و سنت) کے ذریعے نجات کے راستے کی طرف ہدایت پائیں۔
جو شخص کتاب و سنت کی مخالفت کرے گا وہ بہت دور کی گمراہی میں بھٹک گیا، اور کھلے نقصان میں مبتلا ہوا۔
اور جو شخص ان دونوں کو دونوں ہاتھوں سے مضبوطی سے تھامے گا وہ مضبوط رسی (عروۃ الوثقی) کو تھامے گا، اور ہر خیر دنیا و آخرت میں کامیاب ہو گا۔
اور بے شک سنت نبوی بھی "ذکر" (اللہ کی یاد/ وحی) میں سے ہے، اور وہ ضائع ہونے سے محفوظ ہے، اور اس کے ساتھ دوسری چیزوں کے خلط ملط ہونے سے مامون ہے، درج ذیل دلائل کی بنا پر:
١ - پہلی دلیل: قرآن کی گواہی کہ سنت وحی ہے۔
اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کی صفت بیان کرتے ہوئے فرمایا:
"بے شک ہم نے ہی یہ ذکر (قرآن) نازل کیا ہے، اور بے شک ہم اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔"
(سورہ الحجر: 9)
پس اس سے ثابت ہوا کہ رسول اللہ ﷺ کا سارا کلام (سنت) بھی اللہ کی حفاظت میں محفوظ ہے، اس میں سے کوئی چیز ضائع نہیں ہوگی اور نہ ہی اس میں کبھی کوئی تحریف ہوگی جس کی بطلان کی دلیل نہ آئے۔
٢ - دوسری دلیل:قرآن کی وضاحت کے لیے سنت کا محفوظ ہونا لازم ہے۔
رسول اللہ ﷺ کو قرآن کے واضح نص کے مطابق لوگوں کے لیے قرآن کی وضاحت کرنے کا حکم دیا گیا ہے:
"اور ہم نے آپ کی طرف یہ ذکر (قرآن) نازل کیا ہے تاکہ آپ لوگوں کے لیے وہ چیز واضح کریں جو ان کی طرف نازل کی گئی ہے۔"
(سورہ النحل: 44)
وجہ:
کیونکہ قرآن میں مجمل (مختصر)، مطلق (غیر مقید)، عام (ہر قسم پر شامل) اور مشکل (پیچیدہ) الفاظ ہیں۔ پس ضروری ہے کہ: (۱)مجمل کی تفصیل، (۲)مطلق کی تقیید، (۳)عام کی تخصیص، اور(۴)مشکل کی توضیح...رسول اللہ ﷺ کی احادیث اور بیان سے کی جائے۔
اگر آپ ﷺ کا یہ بیان محفوظ نہ ہوتا تو:
قرآن کے نص سے استفادہ ختم ہو جاتا، اور ہم پر فرض کردہ بیشتر شرائع کا فائدہ ختم ہو جاتا، کیونکہ ہم اللہ تعالیٰ کی مراد سے ناواقف ہو جاتے۔
٣ - تیسری دلیل: خاتمیت اور حجتِ الٰہی کے تقاضے
اللہ تعالیٰ نے:
محمد ﷺ کو خاتم الانبیاء بنایا،
ان کی شریعت کو خاتم الشرائع بنایا،
لوگوں کو قیامت تک ان پر ایمان لانے اور ان کی شریعت کی پیروی کرنے کا مکلف بنایا،
اور ہر اس شریعت کو منسوخ کر دیا جو اس کی مخالف ہے۔
پس اللہ کی حجت کو اپنے بندوں پر قائم کرنے کے تقاضے یہ ہیں کہ:
ان کا دین باقی رہے،
اور ان کا شرع محفوظ رہے۔
کیونکہ یہ محال ہے کہ اللہ اپنے بندوں کو ایسی شریعت کی پیروی کا مکلف بنائے جو زوال یا ضیاع کا شکار ہو۔
اور معلوم ہے کہ اسلامی شریعت کے دو بنیادی ماخذ ہیں:
"میں تمہارے درمیان دو چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں، جن کے بعد تم کبھی گمراہ نہیں ہو گے: (1) اللہ کی کتاب یعنی قرآن اور (2) میری سنت، یعنی میری روش (طریقہ)۔ [یہاں 'کتاب' پچھلے لفظ 'سنتي' کی بدل یا پھر محذوف (حذف شدہ) لفظ 'شيئين' کی خبر ہے] یعنی وہ دونوں (کتاب اللہ اور سنت)۔۔۔ اور وہ دونوں (یعنی قرآن و سنت) حوضِ کوثر پر مجھ سے ملاقات تک (قیامت تک) کبھی جدا نہیں ہوں گے۔ اس کی وضاحت پہلے گزر چکی ہے، جس میں یہ بھی شامل ہے کہ یہی دو بنیادی ماخذ ہیں جن سے ہٹنا جائز نہیں، اور ہدایت صرف انہی سے حاصل ہوتی ہے۔ جو شخص ان دونوں کو مضبوطی سے تھام لے اور ان کی رسی (حبل) کو پکڑ لے، اس کے لیے نجات اور گمراہی سے بچاؤ ہے۔ یہ دونوں (قرآن و سنت) واضح فرق کرنے والے اور روشن دلیل ہیں، جو حق کو اختیار کرنے والے اور باطل کو چھوڑ دینے والے کے درمیان امتیاز کرتے ہیں۔ لہٰذا کتاب و سنت کی طرف رجوع کرنا واجب اور ضروری ہے، اور یہ دین کے ضروریات (معلوم من الدین بالضرورة) میں سے ہے۔ البتہ قرآن سے یقینی اور قطعی علم حاصل ہوتا ہے، جبکہ سنت میں تفصیلات بیان ہوتی ہیں (اور اس کے احکام کی تفصیلات معروف ہیں)۔ اس سے حاصل شدہ علم اصول (فقہ) کی کتابوں میں تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ (ک) یہ حدیث حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، انہوں نے کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر خطبہ دیا اور اس (حدیث) کو ذکر فرمایا۔"
[فیض القدیر شرح الجامع الصغیر - للمناوی: جلد 3، صفحہ 240، حدیث نمبر 3282]
"(اور بے شک میں نے تم میں چھوڑا ہے) یعنی تمہارے درمیان (وہ چیز) جو موصولہ (جس چیز کو) یا موصوفہ (ایسی چیز)، (جس کے بعد تم ہرگز گمراہ نہ ہو گے) میرے اسے تم میں چھوڑ دینے کے بعد، یا اس سے مضبوط پکڑنے اور اس پر عمل کرنے کے بعد، (اگر تم اسے مضبوطی سے تھام لو) یعنی شرط یہ ہے کہ عقیدے اور عمل میں، (اللہ کی کتاب) منصوب بطور بدل یا اس تفصیل کے بعد کہ جو ابہام کے بعد تفسیر میں آئی ہے قرآن کے شان کو عظمت دینے کے لیے۔ اور رفع کی صورت بھی جائز ہے بطور خبرِ مبتدائے محذوف، یعنی وہ اللہ کی کتاب ہے۔"
دوسری عبارت:
"اور آپ نے صرف کتاب (اللہ) پر اکتفا فرمایا؛ کیونکہ وہ سنت پر عمل پر مشتمل ہے، اللہ تعالیٰ کے فرمان: 'اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو' (النساء: 59) اور فرمان: 'رسول تمہیں جو دے وہ لے لو، اور جس سے منع کرے اس سے رک جاؤ' (الحشر: 7) کی وجہ سے۔ اور اس میں اس طرف اشارہ ہے کہ تمسک کرنے میں اصل اور بنیادی اصول کتاب (اللہ) ہی ہے۔"
حضرت کثیر بن عبداللہ بن عمرو بن عوف اپنے والد(عبداللہ بن عمروؓ) سے اور وہ اپنے دادا(عمرو بن عوفؓ) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "میں نے تم میں دو چیزیں چھوڑی ہیں، جب تک تم انہیں مضبوطی سے تھامے رکھو گے، ہرگز گمراہ نہ ہو گے: اللہ کی کتاب اور اس کے نبی کی سنت۔"
"میں نے تم میں دو چیزیں چھوڑی ہیں کہ تم ان کے بعد ہرگز گمراہ نہیں ہو گے [اگر تم انہیں مضبوطی سے تھامے رکھو گے](١): اللہ کی کتاب اور میری سنت۔ اور یہ دونوں جدا نہیں ہوں گے یہاں تک کہ وہ حوض (کوثر) پر مجھ سے جا ملیں۔"
کتاب اللہ تمہارے اور اس (اللہ) کے درمیان ایک رسی ہے، جس کا ایک سرا اس (اللہ) کے ہاتھ میں ہے اور دوسرا سرا تمہارے ہاتھوں میں ہے۔ پس تم اس کے محکم (واضح اور قطعی) احکام پر عمل کرو، اس کے متشابہ (مشکل) احکام پر ایمان لاؤ، اس کے حلال کردہ کو حلال جانو، اور اس کے حرام کردہ کو حرام جانو۔ سنو! میری عترت اور میرے اہل بیت دوسرا ثقل (بھاری امانت) ہے، پس ان پر سب وشتم نہ کرو ورنہ تم ہلاک ہو جاؤ گے۔
محمد بن عبدالملک الواسطی نے ہم سے بیان کیا، کہا: ہم سے یزید بن ہارون نے بیان کیا، کہا: ہمیں ورقاء بن عمر نے عبداللہ بن دینار سے خبر دی، وہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے فرمایا:
"جب ہم رسول اللہ ﷺ سے بیعت کرتے تھے تو ہم کتاب اللہ اور نبی ﷺ کی سنت پر بیعت کرتے تھے۔ پھر رسول اللہ ﷺ ہم سے فرماتے: 'سنو اور اطاعت کرو جہاں تک تم میں طاقت ہو۔' "
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب جمعہ کے دن خطبہ دیتے تو اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان فرماتے جیسا کہ اس کی شان کے لائق ہے، پھر تشہد (یعنی شہادتین) کے بعد اپنے خطبہ میں یہ فرماتے: "جسے اللہ ہدایت دے اسے کوئی گمراہ کرنے والا نہیں، اور جسے وہ گمراہ کر دے اسے کوئی ہدایت دینے والا نہیں۔
"اما بعد" (خطبہ کے بعد)، بیشک سب سے بہترین کلام اللہ کی کتاب ہے، اور سب سے بہترین طریقہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ ہے۔
دوسری روایت میں اضافہ ہے:
سب سے سچی بات اللہ کی کتاب ہے، اور سب سے اچھا طریقہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ ہے، اور سب سے برے کام دین میں نئے ایجاد کردہ کام ہیں، اور ہر نیا ایجاد کردہ کام بدعت ہے، اور ہر بدعت گمراہی ہے، اور ہر گمراہی آگ میں (لے جانے والی) ہے۔
بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ كِتَابُ اللهِ , فَمَا وَجَدْنَا فِيهِ مِنْ حَلَالٍ اسْتَحْلَلْنَاهُ، وَمَا وَجَدْنَا فِيهِ مِنْ حَرَامٍ حَرَّمْنَاهُ , أَلَا وَإِنَّ مَا حَرَّمَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم - (٨) مِثْلُ مَا حَرَّمَ اللهُ (٩) " (١٠)
ترجمہ:
حضرت مقدام بن معد يكرب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"خبردار! بے شک مجھے قرآن اور اس کے ساتھ اس جیسی (دوسری) چیز (بھی) دی گئی ہے۔(١)
خبردار! عنقریب (ایک وقت آئے گا کہ)(٣) ایک شخص اپنے تخت یا مسند پر آرام سے(٤) اور پیٹ بھر کر بیٹھا ہوا(٥) میرے کسی فرمان کے بارے میں بات کرتے ہوئے) کہے گا:(٦)
(اس روایت میں ہے:)
اس کے پاس (دین کا) کوئی معاملہ آئے گا جس کا میں نے حکم دیا ہے یا اس سے منع کیا ہے، تو وہ کہے گا: "ہمیں نہیں معلوم یہ کیا ہے؟ ہمارے پاس تو اللہ کی کتاب ہے، یہ اس میں نہیں ہے۔"(٧)
(گویا وہ کہے گا:) "ہمارے اور تمہارے درمیان (فیصلہ کرنے والی) اللہ کی کتاب ہے۔ جو ہم نے اس میں حلال پایا اسے حلال سمجھا، اور جو ہم نے اس میں حرام پایا اسے حرام قرار دیا۔"
خبردار! اور (یقین جانو کہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جس چیز کو حرام کیا ہے (٨) وہ اسی طرح ہے جیسے اللہ نے حرام کیا ہے۔"(٩)(١٠)
حوالہ وحواشی:
(١) امام بیہقی رحمہ اللہ نے فرمایا:
اس حدیث کے دو مطلب ہو سکتے ہیں:
پہلا: آپ ﷺ کو وہ باطنی وحی (غیر متلوہ) بھی دی گئی ہے جیسی ظاہری تلاوت والی وحی (قرآن) دی گئی ہے۔
دوسرا: معنی یہ ہے کہ آپ ﷺ کو کتاب (قرآن) بطور وحیِ متلوہ دی گئی، اور اس جیسی چیز (بیان کی صورت میں) بھی دی گئی، یعنی آپ ﷺ کو اجازت دی گئی کہ آپ قرآن کی تفسیر بیان کریں، اس کے عمومات کو خاص کریں، اس کے مطلق کو مقید کریں، اور اس میں وہ چیزیں بھی شامل کریں جن کا قرآن میں صراحتاً ذکر نہیں، پھر یہ سب کچھ حکم کے وجوب اور اس پر عمل کرنے کے لزوم میں قرآن کی طرح ہی ہے۔
(عون المعبود، جلد 10، صفحہ 124)
(٢) تخریج: مسند احمد: 17213، سنن ابی داود: 4604
(٣) سنن ابی داود: 4604
(٤) سنن ابن ماجہ: 12
(٥) سنن ابی داود: 4604
(٦) سنن ابن ماجہ: 12
(٧) صحیح ابن حبان: 13، اور شیخ شعیب ارناؤوط نے فرمایا: اس کی سند صحیح ہے۔
(٨) یعنی: جس چیز کو رسول اللہ ﷺ نے غیر قرآن میں حرام قرار دیا ہو۔
(٩) یعنی: جس طرح قرآن میں اللہ نے چیزیں حرام کی ہیں۔
امام طیبی رحمہ اللہ نے فرمایا:
حدیث میں "ألا" کے بار بار آنے میں ڈانٹ اور ملامت ہے، جو ان لوگوں پر غصے کی شدت سے پیدا ہوئی ہے جو کتاب (قرآن) پر اکتفا کرتے ہوئے سنت اور حدیث پر عمل کو چھوڑ دیتے ہیں، پھر اس شخص کے بارے میں کیا کہیے گا جو حدیث پر رائے کو ترجیح دے؟
"بے شک میں تم میں دو بھاری چیزیں (ثقلین) چھوڑے جا رہا ہوں: اللہ کی کتاب اور میری عترت (یعنی) میرے اہل بیت۔ اور یہ دونوں ہرگز جدا نہیں ہوں گے یہاں تک کہ وہ حوض (کوثر) پر مجھ سے جا ملیں۔"
"بے شک میں قریب ہوں کہ مجھے (اللہ کی طرف سے موت کی) دعوت دی جائے اور میں اسے قبول کر لوں۔ اور بے شک میں تم میں دو بھاری چیزیں (ثقلین) چھوڑے جا رہا ہوں: اللہ کی کتاب، اور میری عترت یعنی میرے اہل بیت۔ اور بیشک اللہ تعالیٰ جو لطیف اور باخبر ہے، نے مجھے خبر دی ہے کہ یہ دونوں ہرگز جدا نہیں ہوں گے یہاں تک کہ وہ حوض (کوثر) پر مجھ سے جا ملیں۔ پس تم دیکھو کہ کیسے ان دونوں کے بارے میں تم میرا خلیفہ بنتے ہو۔"
"بے شک میں تمہارے لیے (حوضِ کوثر پر) پہلے سے پہنچ جانے والا ہوں، اور تم (بعد میں) میرے پاس حوض پر آؤ گے۔ پس دیکھو کہ تم میرے بعد دو بھاری چیزوں (ثقلین) کے بارے میں مجھ سے کیا سلوک کرتے ہو (یعنی ان کی حفاظت کرتے ہو یا نہیں)۔"
صحابہ نے پوچھا: یا رسول اللہ! وہ دو بھاری چیزیں کون سی ہیں؟
آپ ﷺ نے فرمایا:
"سب سے بڑی (اور وزنی) چیز اللہ عزوجل کی کتاب (قرآن) ہے۔ یہ ایک رسی ہے جس کا ایک سِرا اللہ کے ہاتھ میں ہے اور دوسرا سِرا تمہارے ہاتھوں میں ہے۔ پس تم اسے مضبوطی سے تھام لو۔ تم ہرگز گمراہ نہیں ہو گے اور نہ کبھی بھٹکو گے۔
اور دوسری (چھوٹی) چیز میری عترت (اہل بیت) ہے۔ بے شک یہ دونوں (قرآن اور عترت) میرے پاس حوض پر پہنچنے تک ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوں گے۔ میں نے اپنے رب سے ان دونوں کے لیے یہ (اتحاد اور جدا نہ ہونے کی) دعا مانگی ہے۔ پس تم ان دونوں سے آگے نہ بڑھو (یعنی ان کی مخالفت نہ کرو) ورنہ ہلاک ہو جاؤ گے، اور نہ ہی تم انہیں (دین کی) تعلیم دو، کیونکہ وہ تم سے زیادہ جاننے والے ہیں۔"
"بے شک میں تم میں اپنے دو نائب (خلیفتین/جانشین) چھوڑے جا رہا ہوں: ایک اللہ کی کتاب (قرآن) اور دوسرے میرے اہل بیت۔ اور یہ دونوں ہرگز ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوں گے یہاں تک کہ وہ حوضِ کوثر پر مجھ سے جا ملیں۔"
"بے شک میں تم میں دو خلیفے (یعنی جانشین اور امانت دار) چھوڑے جا رہا ہوں: اللہ کی کتاب (قرآن)، جو ایک رسی ہے جو آسمان اور زمین کے درمیان (یا آسمان سے زمین تک) پھیلی ہوئی ہے، اور میری عترت (یعنی میرے اہل بیت)۔ یہ دونوں (قرآن اور عترت) میرے پاس حوض (کوثر) پر پہنچنے تک جدا نہیں ہوں گے۔"
إنى تارك فيكم ما إن تمسكتم به بعدى لن تضلوا كتاب الله وعترتى أهل بيتى وإنهما لن يتفرقا حتى يَرِدَا علىَّ الحوضَ۔
ترجمہ:
"بے شک میں تم میں وہ چیز چھوڑے جا رہا ہوں کہ اگر تم میرے بعد اسے مضبوطی سے تھامے رکھو گے تو ہرگز گمراہ نہ ہو گے: اللہ کی کتاب اور میری عترت (یعنی میرے اہل بیت)۔ اور یہ دونوں ہرگز جدا نہیں ہوں گے یہاں تک کہ وہ حوض (کوثر) پر مجھ سے جا ملیں۔"
"بے شک میں تم میں اپنے دو جانشین (خلیفتین) چھوڑے جا رہا ہوں: اللہ کی کتاب، جو آسمان اور زمین کے درمیان پھیلی ہوئی ایک رسی ہے، اور میری عترت یعنی میرے اہل بیت۔ اور یہ دونوں ہرگز جدا نہیں ہوں گے یہاں تک کہ وہ حوض (کوثر) پر مجھ سے جا ملیں۔"
یعنی: "بے شک میں تم میں دو جانشین (خلیفتین) چھوڑے جا رہا ہوں۔"
خلیفہ وہ شخص ہوتا ہے جو اپنے سے پہلے والے کے بعد اس کے کام کو سنبھالتا ہے۔ چوں کہ ہدایت اور راہنمائی کا ذریعہ اللہ کے بندوں تک پہنچنا رسول اللہ ﷺ کے ذریعے تھا، اس لیے آپ کے بعد آپ کے جانشین (یہ دو چیزیں) ہیں: کتاب اور اس سلسلے میں پہلی چیز کتاب اللہ ہے۔
"كتاب الله حبل ممدود بين السماء والأرض"
یعنی: "اللہ کی کتاب آسمان اور زمین کے درمیان پھیلی ہوئی ایک رسی ہے۔"
اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ کتاب اس شخص کے لیے جو اسے تھامے رکھتا ہے، نجات حاصل کرنے کے لیے ایک رسی کی مانند ہے، یا یہ کہ یہ بندے کو نجات تک پہنچانے والا ایک ذریعہ ہے۔
"وعترتي أهل بيتي"
یعنی: "اور میری عترت، جو میرے اہل بیت ہیں۔"
اس سے پہلے گزر چکا ہے کہ اکثر علماء کے نزدیک عترت سے مراد وہ لوگ ہیں جن پر زکوٰۃ حرام کی گئی ہے۔
امام قرطبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
"یہ وصیت اور یہ عظیم تاکید اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ آپ کے اہل بیت (آل) کا احترام کرنا، ان کی تعظیم کرنا، ان کے ساتھ نیکی کرنا اور ان سے محبت رکھنا ان فرائض کی طرح واجب ہے جن سے پیچھے رہ جانے پر کوئی عذر نہیں۔"
اور اسے (یعنی اہل بیت کے اجماع کی پیروی کرنے) کو دلیل بنایا گیا ہے؛ کیوں کہ ان کے افراد کی پیروی واجب نہیں (بلکہ ان کی جماعت کے اجماع کی پیروی واجب ہے) اور اس کی تفصیل اصولِ فقہ میں بیان کی گئی ہے۔
"وأنهما لن يتفرقا حتى يردا عليّ الحوض"
یعنی: "اور یہ دونوں (یعنی اہل بیت اور کتاب) ہرگز جدا نہیں ہوں گے، بلکہ وہ لازم و ملزوم ہیں، یہاں تک کہ وہ حوض (کوثر) پر مجھ سے جا ملیں۔"
حکیم ترمذی فرماتے ہیں:
"عترت سے مراد ان میں سے وہ عامل (عمل کرنے والے) علماء ہیں، جو قرآن سے جدا نہیں ہوتے۔ رہا جاہل اور وہ عالم جو خلط ملط کرنے والا ہے، تو وہ اس مقام سے اجنبی ہے۔ اصل اعتبار تو فضائل سے متصف ہونے اور رذائل سے پاک ہونے والے لوگوں کی طرف ہے۔"
شریف فرماتے ہیں:
"یہ خبر اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ ہر زمانے میں قیامت تک اہل بیت اور عترتِ طاہرہ میں سے وہ لوگ موجود رہیں گے جو تمسک کے اہل ہوں گے، تاکہ اس مذکورہ محبت کا مقصد پورا ہو سکے کہ ان سے تمسک کرنا کتاب (اللہ) سے تمسک کرنے کی طرح ہے۔ اسی لیے وہ زمین والوں کے لیے امان (اور باعثِ سلامتی) ہیں، جب وہ چلے جائیں گے تو زمین والے بھی چلے جائیں گے۔"
"حم طب" یعنی: امام احمد اور طبرانی نے یہ حدیث حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے۔
امام ہیثمی فرماتے ہیں:
"اس کے راوی ثقہ ہیں۔" اور اسے امام ابو یعلیٰ اور حافظ عبدالعزیز بن الاخضر نے بھی روایت کیا ہے۔ اور انہوں نے یہ اضافہ کیا کہ "آپ ﷺ نے یہ بات حجۃ الوداع میں فرمائی تھی۔"
اور جس نے (ابن جوزی کی طرح) اسے موضوع (من گھڑت) کہا، وہ وہم میں مبتلا ہے۔
امام سمہودی فرماتے ہیں:
"اس باب میں بیس سے زائد صحابہ کرام سے روایات موجود ہیں۔"
"بے شک میں قریب ہوں کہ مجھے (اللہ کی طرف سے موت کی) دعوت دی جائے اور میں اسے قبول کر لوں۔ اور بے شک میں تم میں دو بھاری چیزیں (ثقلین) چھوڑے جا رہا ہوں: اللہ کی کتاب، اور میری عترت یعنی میرے اہل بیت۔ اور بیشک اللہ تعالیٰ جو لطیف اور باخبر ہے، نے مجھے خبر دی ہے کہ یہ دونوں ہرگز جدا نہیں ہوں گے یہاں تک کہ وہ حوض (کوثر) پر مجھ سے جا ملیں۔ پس تم دیکھو کہ کیسے ان دونوں کے بارے میں تم میرا خلیفہ بنتے ہو۔"
إنى تارك فيكم ما إن تمسكتم به لن تضلوا كتاب الله سبب طرفه بيد الله وطرفه بأيديكم وعترتى أهل بيتى وإنهما لن يتفرقا حتى يَرِدَا علىَّ الحوضَ۔
ترجمہ:
"بے شک میں تم میں وہ چیز چھوڑے جا رہا ہوں کہ اگر تم میرے بعد اسے مضبوطی سے تھامے رکھو گے تو ہرگز گمراہ نہ ہو گے: اللہ کی کتاب (جو) ایک رسی ہے، جس کا ایک سرا اللہ کے ہاتھ میں ہے اور دوسرا سرا تمہارے ہاتھوں میں ہے، اور (ساتھ ہی) میری عترت (یعنی) میرے اہل بیت (کو بھی)۔ اور یہ دونوں ہرگز جدا نہیں ہوں گے یہاں تک کہ وہ حوض (کوثر) پر مجھ سے جا ملیں۔"
[مسند عبد بن حميد:240]
كأنى قد دعيت فأجبت وإنى تارك فيكم الثقلين كتاب الله حبل ممدود بين السماء والأرض وعترتى أهل بيتى وإنهما لن يتفرقا حتى يردا علىَّ الحوضَ فانظروا كيف تخلفونى فيهما
ترجمہ:
"ایسا لگتا ہے کہ مجھے (اللہ کی طرف سے) بلا لیا گیا ہے اور میں نے (اس دعوت کو) قبول کر لیا ہے۔ اور بے شک میں تم میں دو بھاری چیزیں (ثقلین) چھوڑے جا رہا ہوں: اللہ کی کتاب، جو کہ آسمان اور زمین کے درمیان پھیلی ہوئی ایک رسی ہے، اور میری عترت (یعنی) میرے اہل بیت۔ اور یہ دونوں ہرگز جدا نہیں ہوں گے یہاں تک کہ وہ حوض (کوثر) پر مجھ سے جا ملیں۔ پس تم دیکھو کہ کیسے ان دونوں کے بارے میں تم میرا خلیفہ بنتے ہو۔"
إنى أوشك أن أدعى فأجيب وإنى تارك فيكم الثقلين كتاب الله وعترتى كتاب الله حبل ممدود من السماء إلى الأرض وعترتى أهل بيتى وإن اللطيف الخبير خبرنى أنهما لن يتفرقا حتى يَرِدَا علىَّ الحوضَ فانظروا كيف تخلفونى فيهما۔
ترجمہ:
"بے شک میں قریب ہوں کہ مجھے (اللہ کی طرف سے موت کی) دعوت دی جائے اور میں اسے قبول کر لوں۔ اور بے شک میں تم میں دو بھاری چیزیں (ثقلین) چھوڑے جا رہا ہوں: اللہ کی کتاب اور میری عترت۔ اللہ کی کتاب (ایسی ہے کہ) وہ آسمان سے زمین تک پھیلی ہوئی ایک رسی ہے، اور میری عترت میرے گھر والے ہیں۔ اور بیشک اللہ (جو) لطیف اور باخبر ہے، نے مجھے خبر دی ہے کہ یہ دونوں ہرگز جدا نہیں ہوں گے یہاں تک کہ وہ حوض (کوثر) پر مجھ سے جا ملیں۔ پس تم دیکھو کہ کیسے ان دونوں کے بارے میں تم میرا خلیفہ بنتے ہو۔"
[ابن أبى شيبة:30081، وابن سعد (2/194) ، أحمد:11147، أبو يعلى:1021]
۔۔۔فَاحْفَظُونِي فِيهِمَا۔
۔۔۔پس میرے بارے میں ان دونوں کے معاملے میں میری حفاظت کرو۔"
"بے شک میں تم میں اپنے دو جانشین (خلیفتین) چھوڑے جا رہا ہوں: اللہ کی کتاب، جو آسمان اور زمین کے درمیان پھیلی ہوئی ایک رسی ہے، اور میری عترت یعنی میرے اہل بیت۔ اور یہ دونوں ہرگز جدا نہیں ہوں گے یہاں تک کہ وہ حوض (کوثر) پر مجھ سے جا ملیں۔"
"اے لوگو! میں تم میں وہ چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں کہ اگر تم انہیں تھام لو گے تو میرے بعد ہرگز گمراہ نہ ہو گے: دو چیزیں ہیں، ان میں سے ایک دوسرے سے بھی بڑھ کر ہے: اللہ کی کتاب، جو آسمان اور زمین کے درمیان پھیلی ہوئی ایک رسی ہے، اور میری عترت یعنی میرے اہل بیت۔ اور یہ دونوں ہرگز جدا نہیں ہوں گے یہاں تک کہ وہ حوض (کوثر) پر مجھ سے جا ملیں۔"
یعنی "نور ممدود" سے مراد اس کی ہدایت کا نور ہے۔ عرب لوگ معتدل (سیدھے) نور کو "حبل" (رسی) اور "خیط" (دھاگے) سے تشبیہ دیتے ہیں۔ اسی سے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: {حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الْأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الْأَسْوَدِ} (یہاں تک کہ تمہارے لیے سفید دھاگہ سیاہ دھاگے سے واضح ہو جائے) – یعنی روزے کے لیے صبح صادق کا نور رات کی تاریکی سے۔
اور بعض نے کہا: اس سے مراد اللہ کا عہد اور امان ہے جو عذاب سے محفوظ رکھتی ہے۔ اور "حبل" سے مراد عہد اور میثاق ہے۔
اور آپ کے قول "وعترتي أهل بيتي" کے بارے میں: "عترت" کسی شخص کے خاص قریبی رشتہ داروں کو کہتے ہیں۔ نبی کریم ﷺ کی عترت بنو عبد المطلب ہیں۔ اور بعض نے کہا: آپ کے قریبی اہل بیت، وہ آپ کی اولاد، حضرت علی اور ان کی اولاد ہیں۔ اور بعض نے کہا: تمام قریش (عترت ہیں)۔ اور مشہور و معروف یہ ہے کہ وہ لوگ ہیں جن پر صدقہ حرام کیا گیا، اور یہی زید بن ارقم کی پچھلی حدیث کی تفسیر کے موافق ہے، اور صحابی کو اس معاملے میں دوسروں سے زیادہ علم ہے۔
اور معنی یہ ہے: اگر تم قرآن پر عمل کرو گے اور میری عترت (یعنی ان میں سے عمل کرنے والے علماء) کی ہدایت سے راہ راست پاؤ گے تو گمراہ نہ ہو گے۔ اور ان کے علاوہ دوسرے عمل کرنے والے علماء بھی ایسے ہی ہیں، ان کی ہدایت سے تمسک بھی مقصود تک پہنچا دیتا ہے۔ لیکن آپ نے خاص طور پر اپنے اہل بیت کو اس لیے مختص کیا کہ ان کے علماء سے تمسک دوسرے علماء کی نسبت دلوں پر زیادہ اثر انداز ہوتا ہے۔
دوسرا قول: "الكتاب والسترة" (کتاب اور سترہ – یعنی سنت)۔
اور آپ کے قول "حتى يردا على الحوض" سے مراد قیامت کے دن حوضِ کوثر ہے، تاکہ تمہارے کیے کا بدلہ ملے۔
تخریج: اسے امام منذری نے روایت کیا ہے، اور اس میں ہے: "فَانْظُرُوا كَيْفَ تُخَلِّفُونِي فِيهِمَا" (پس دیکھو کہ تم ان دونوں کے بارے میں میرے بعد کیسا سلوک کرتے ہو)۔ امام ترمذی نے کہا: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
اور اس باب میں حضرت ابوذر، جابر اور حذیفہ بن اسید سے بھی روایات ہیں۔ امام سیوطی نے "الجامع الصغير" میں زید بن ثابت سے ایسی ہی روایت نقل کی ہے اور اسے طبرانی کی "المعجم الکبیر" سے بھی منسوب کیا ہے، اور اس کے پاس صحت کی علامت ہے۔ امام مناوی نے کہا: اس کے راوی ثقہ ہیں۔
"عترت" سے مراد کسی شخص کے خاص قریبی رشتہ دار ہوتے ہیں۔ اور مشہور قول کے مطابق یہاں (حدیث ثقلین میں) اس سے مراد وہ اہل بیت ہیں جن پر صدقہ حرام کیا گیا ہے - جیسا کہ زید (بن ارقم) کی حدیث میں اس کی طرف اشارہ کیا جا چکا ہے - اور وہ بنو عبد المطلب ہیں (اور وہ ہیں: آلِ علی، آلِ عقیل، آلِ جعفر اور آلِ عباس)۔
اور بعض نے کہا: نبی کریم ﷺ کے اہل بیت سے مراد آپ کے قریبی اہل بیت ہیں، اور وہ آپ کی اولاد، علی اور ان کی اولاد ہیں۔ اور بعض نے کہا: آپ کی عترت میں قریبی اور دور (سب) شامل ہیں۔
[غریب الحدیث للخطابی (2/191-192)، والنهاية (باب: العين مع التاء) 3/177]
عترت سے تمسک کرنا کیسے ممکن ہے جبکہ وہ (عترت) معلوم ہی نہیں؟
میں (ابن تیمیہ) کہتا ہوں:
صحیح مسلم(2408) میں حضرت جابر کی روایت ہے کہ آپ ﷺ نے روز عرفہ کے خطبے میں فرمایا: "بے شک میں تم میں وہ چیز چھوڑ گیا ہوں کہ اگر تم اسے تھامے رکھو گے تو ہرگز گمراہ نہ ہو گے: کتاب اللہ" – اس میں نہ "عترتی" کا ذکر ہے اور نہ "سنتی" کا۔
شواہد:
(1)اسی طرح صحیح بخاری(5022) میں حضرت ابن ابی اوفیٰؓ سے مروی ہے کہ ان سے پوچھا گیا: کیا رسول اللہ ﷺ نے وصیت فرمائی؟ انہوں نے کہا: نہیں۔ پھر کہا گیا: کیسے وصیت نہیں کی حالانکہ لوگوں پر وصیت کرنا فرض کیا گیا ہے؟ تو انہوں نے کہا: آپ نے کتاب اللہ کی وصیت فرمائی۔
(2)اور صحیح بخاری(7219) میں ہی ہے کہ حضرت عمرؓنے نبی ﷺ کی وفات کے اگلے دن لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: "بے شک اللہ تعالیٰ نے تمہارے درمیان ایک نور رکھ دیا ہے جس کے ذریعے تم ہدایت پاتے ہو، اور اسی کے ذریعے اللہ نے محمد ﷺ کو ہدایت دی، پس اسے مضبوطی سے تھام لو، تم اسی طرح ہدایت پاؤ گے جس طرح اللہ نے محمد ﷺ کو ہدایت دی۔"
رہی سنت: تو قرآن نے خود اس کی پیروی کی وصیت کی ہے، کئی مقامات پر رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کا ذکر تقریباً چالیس مقامات پر آیا ہے، اور قرآن میں "حکمت" کے نزول کا ذکر پانچ مقامات پر ہے، اور جو قرآن کے ساتھ نازل ہوا وہ سنت ہے۔
رہا لفظ "عترت" تو صحیح مسلم(2408) میں حضرت زید بن ارقم سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے ہمیں غدیر خم (جو مکہ اور مدینہ کے درمیان ہے) پر خطاب فرمایا اور کہا: "بے شک میں تم میں دو بھاری چیزیں (ثقلین) چھوڑے جا رہا ہوں، ان میں سے ایک دوسرے سے بھی بڑھ کر ہے: کتاب اللہ" – اور آپ نے اس کی طرف رغبت دلائی – پھر فرمایا: "میری عترت، میرے اہل بیت، میں تمہیں اللہ کی یاد دلاتا ہوں میرے اہل بیت کے بارے میں، میں تمہیں اللہ کی یاد دلاتا ہوں میرے اہل بیت کے بارے میں، میں تمہیں اللہ کی یاد دلاتا ہوں میرے اہل بیت کے بارے میں"۔
اس حدیث میں یہ ہے کہ آپ نے قرآن کی پیروی کا حکم دیا اور امت کو اپنے اہل بیت کی وصیت فرمائی۔
رہا یہ قول: "ما إن تمسكتم به لن تضلوا بعده: كتاب الله وعترتي" – تو اسے ترمذی نے روایت کیا ہے اور احمد بن حنبل اور دیگر نے اسے ضعیف قرار دیا ہے۔
اور (صحابی کا) قول "كتاب الله" – اور ایک ضعیف حدیث میں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا:
"تم پر لازم ہے کتاب اللہ کو (پکڑنا)، اس میں تم سے پہلے لوگوں کی خبریں ہیں، تمہارے بعد کی خبریں ہیں، اور تمہارے درمیان فیصلے ہیں۔ یہ فیصلہ کن ہے، ہنسی مذاق نہیں۔ جو جبار اسے چھوڑ دے گا، اللہ اسے توڑ ڈالے گا۔ اور جو اس کے علاوہ ہدایت تلاش کرے گا، اللہ اسے گمراہ کر دے گا۔ یہ اللہ کی مضبوط رسی ہے، یہ ذکرِ حکیم ہے، یہ صراطِ مستقیم ہے۔ یہ وہ (کتاب) ہے کہ خواہشیں اسے بگاڑ نہیں سکتیں، علماء اس سے سیر نہیں ہوتے، بار بار پڑھنے سے پرانی نہیں ہوتی، اس کے عجائب ختم نہیں ہوتے۔ جو اس کے ساتھ بولے گا وہ سچا ہو گا، جو اس کے ساتھ فیصلہ کرے گا وہ عادل ہو گا، جو اس کے ساتھ جھگڑے گا وہ غالب آئے گا، اور جو میرے بعد اس کی طرف دعوت دے گا وہ ہدایت اور صراطِ مستقیم کی طرف دعوت دے گا۔"
میں (ابن تیمیہ) کہتا ہوں: اس حدیث کو ترمذی(2906) اور دیگر نے روایت کیا ہے، اور ابو نعیم نے کئی طرق سے روایت کیا ہے، اور اس کے الفاظ میں "اور زبانوں کو اس میں الجھن نہیں ہوتی" (کا اضافہ ہے)، اور ترمذی کی روایت میں "اور جو اس کے ساتھ جھگڑے گا وہ غالب آئے گا" والا حصہ نہیں ہے۔
حدیث ثقلین(ثقلین کا معنی ہے دو بھاری چیزیں) کافی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے مروی ہے ،ان میں حضرت عمر بن خطاب، حضرت علی بن ابی طالب، حضرت ابو سعید خدری، حضرت ابو ہریرہ ، حضرت جابر بن عبداللہ، حضرت انس بن مالک، حضرت عبداللہ بن عمر، حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم اجمعین وغیرہ سے مختلف الفاظ کے ساتھ احادیث کی کتابوں میں منقول ہے۔
ان احادیث میں بعض مقامات پر اہلِ بیت سے محبت کا حکم دیا گیا ہے اور بعض جگہوں پر اہلِ بیت کی اتباع کا حکم موجود ہے جبکہ کچھ روايات میں قرآن کے ساتھ سنت کی اتباع کا حکم دیا گیا ہے۔
اور ان احادیث میں سے کوئی ایک حدیث بھی صحیحین (صحیح بخاری، صحیح مسلم) میں نہیں سوائے ایک حدیث کے جو کہ حضرت زید بن ارقم رضی الله عنہ سے مروی ہے اور اس کے الفاظ یہ ہیں: میں تم میں دو بڑی چیزیں چھوڑے جاتا ہوں۔ پہلے تو اللہ کی کتاب ہے اور اس میں ہدایت ہے اور نور ہے۔ تو اللہ کی کتاب کو تھامے رہو اور اس کو مضبوط پکڑے رہو۔ غرض کہ آپﷺ نے اللہ کی کتاب کی طرف رغبت دلائی۔ پھر فرمایا: دوسری چیز میرے اہل بیت ہیں۔ میں تمہیں اپنے اہل بیت کے بارے میں اللہ تعالیٰ یاد دلاتا ہوں۔ (صحیح مسلم: 2408)
اس حدیث میں یہ ہے کہ آپ نے قرآن کی پیروی کا حکم دیا اور امت کو اپنے اہل بیت کی وصیت فرمائی۔
مزيد تفصیل آگے آرہی ہے.
دوسری بات:
اس مضمون کی احادیث تین مختلف الفاظ یا طرزِ بیان کے ساتھ روایت ہوئی ہیں:
1- جن میں کتاب اللہ(قرآن کریم) اور سنت رسول اللہ کو تھامنے کا حکم ہے۔
نبی ﷺ کا فرمان ہے: میں تم میں دو چیزیں چھوڑ کر جا رہا ہوں، پس جب تک تم ان دونوں پر عمل کرتے رہو گے تو کبھی گمراہ نہیں ہو گے اللہ کی کتاب اور اس کے رسول ﷺ کی سنت۔ (موطا امام مالک: 2 / 899، المستدرك للحاكم: 322 ، المشكاة: 186، سلسلہ صحیحہ از علامہ البانی: 1761)
2- وہ الفاظ جن میں کتاب اللہ اور نبی ﷺ کی عترت (اہل بیت) کو تھامنے کا حکم ہے۔
حضرت زید بن ارقم رضی الله عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: میں تم میں ایسی چیز چھوڑنے والا ہوں کہ اگر تم اسے پکڑے رہو گے تو ہرگز گمراہ نہ ہو گے: ان میں سے ایک دوسرے سے بڑی ہے اور وہ اللہ کی کتاب ہے گویا وہ ایک رسی ہے جو آسمان سے زمین تک لٹکی ہوئی ہے اور دوسری میری »عترت « یعنی میرے اہل بیت ہیں۔ یہ دونوں ہرگز جدا نہ ہوں گے، یہاں تک کہ یہ دونوں حوض کوثر پر میرے پاس آئیں گے، تو تم دیکھ لو کہ ان دونوں کے سلسلہ میں تم میری کیسی جانشینی کر رہے ہو۔ (جامع ترمذی:3788)
اس روایت کی سند میں حبیب بن ابی ثابت ہیں جو اگرچہ خود معتبر ہیں لیکن ان کا حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے سماع ثابت نہیں ہے۔ اس وجہ سے یہ روایت منقطع Fabricated اور كمزور ہے.
حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے ایک روایت صحیح مسلم میں موجود ہے جس میں کوئی اسنادی کمزوری نہیں ( اس کا تفصیلی ذکر آگے آئے گا)۔ البتہ اس روایت کے الفاظ میں اہلِ بیت کو تھامنے یا ان کی پیروی کا حکم نہیں دیا گیا ۔
"اہل بیت کو تھامنے کا حکم” جيسى حدیث كو امام ترمذی نے حضرت جابر بن عبد الله اور ابو سعید خدری سےبھی روایت کیاہے اور کہا: (یہ حدیث حسن غریب ہے).
ليكن حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی روایت کی سند میں عطیہ العوفی نامی راوی شامل ہیں جنہیں محدثین نے ضعیف قرار دیا ہے۔ امام احمد بن حنبل، ا بن معین اور دیگر محدثین کا کہنا ہے کہ "عطیہ ضعیف ہے”۔ اس لیے یہ روایت اس سند کے ساتھ حجت نہیں۔
امام ابن الجوزی نے "العلل المتناهيہ (1/268)” میں فرمایا:”یہ حدیث صحیح نہیں ہے”.
اسی طرح حضرت جابر رضی اللہ عنہ کی روایت میں زید بن حسن الأنماطی راوی ہیں، جن کے بارے میں امام ابو حاتم الرازی نے فرمایا: "منکر الحدیث”، یعنی یہ راوی ناقابلِ اعتبار ہے اور اس کی روایتیں ثقہ راویوں کے خلاف ہوتی ہیں۔ اس بنا پر یہ روایت بھی ضعیف اور ناقابلِ استدلال ہے۔
3- وہ الفاظ جن میں کتاب اللہ کو تھامنے کا حکم ہے اور نبی ﷺ کی اپنے اہل بیت کے بارے میں وصیت ہے۔
حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن مکہ اور مدینہ کے درمیان واقع مقام ”خم“ کے پانی کے مقام پر خطبہ سنانے کو کھڑے ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی حمد کی اور اس کی تعریف کو بیان کیا اور وعظ و نصیحت کی۔ پھر فرمایا: اس کے بعد! اے لوگو! میں آدمی ہوں، قریب ہے کہ میرے رب کا بھیجا ہوا (موت کا فرشتہ) پیغام اجل لائے اور میں قبول کر لوں۔ میں تم میں دو بڑی چیزیں چھوڑے جاتا ہوں۔ پہلے تو اللہ کی کتاب ہے اور اس میں ہدایت ہے اور نور ہے۔ تو اللہ کی کتاب کو تھامے رہو اور اس کو مضبوط پکڑے رہو۔ غرض کہ آپ ﷺ نے اللہ کی کتاب کی طرف رغبت دلائی۔ پھر فرمایا: دوسری چیز میرے اہل بیت ہیں۔ میں تمہیں اپنے اہل بیت کے بارے میں اللہ تعالیٰ یاد دلاتا ہوں۔ تین بار فرمایا-(صحیح مسلم:2408)۔
یہ سب سے صحیح الفاظ "صحیح مسلم” کے ہیں جو حضرت زید بن ارقم رضی الله عنہ سے مروی ہیں جن میں آپ ﷺ نے کتاب اللہ کو تھامنے کا حکم فرمایا اور اپنے اہل بیت کے بارے میں وصیت فرمائی اور انکے بارے میں امت کو اللہ کی یاد دلائی کہ انکے حقوق کا پاس کیا جائے اور انہیں پامال نہ کیا جائے۔
چنانچہ حدیثِ ثقلین كى درست روايت میں اہلِ بیت کی پیروی کا حکم موجود نہیں ہے جیسا کہ شیعہ حضرات دعویٰ کرتے ہیں۔ بلكہ آپ ﷺ نے اہلِ بیت کے ساتھ حسن سلوک، ان کے حقوق ادا کرنے اور ان پر ظلم سے بچنے کی تاکید فرمائی ہے۔
تیسری بات:
اگر ان احادیث کو صحیح بھی مان لیا جائے تب بھی ان سے شیعہ عقیدے کے حق میں کوئی دلیل نہیں بنتی، کیونکہ اہلِ بیت کے پاس کوئی الگ دین نہیں تھا۔ وہ خود سنتِ رسول ﷺ ہی پر عمل کرنے والے تھے۔
لہٰذا نبی کریم ﷺ کا حدیثِ ثقلین میں یہ فرمان: "قرآن اور اہلِ بیت کو تھامے رکھنا” اسی مفہوم میں ہے جیسے آپ ﷺ نے فرمایا: میں تمہارے درمیان دو چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں: کتاب اللہ اور سنتِ رسول، جب تک تم انہیں تھامے رکھو گے کبھی گمراہ نہ ہوگے۔
يا جیسے آپ ﷺ نے فرمایا: میری سنت اور خلفائے راشدین کی سنت کو لازم پکڑو۔ (سنن ابی داود: 4607)
چنانچہ اہلِ بیت کی پیروی درحقیقت سنتِ نبوی کی پیروی ہے، نہ کہ اس کے مقابل کوئی الگ راستہ۔
اہل بیت کون؟
روایت میں ہے۔۔۔"تو حصین بن سبرہ نے زید سے کہا: 'اور ان (نبی ﷺ) کے اہل بیت کون ہیں؟'
(زید نے) کہا: 'کیا ان کی بیویاں ان کے اہل بیت میں سے نہیں ہیں؟'
حصین نے کہا: 'ان کی بیویاں ان کے اہل بیت میں سے ہیں، لیکن (خاص معنی میں) ان کے اہل بیت وہ ہیں جن پر ان (نبی ﷺ) کے بعد صدقہ حرام کر دیا گیا۔'
حصین نے کہا: 'اور وہ کون ہیں؟'
زید نے کہا: 'آلِ عقیل، آلِ جعفر اور آلِ عباس۔'
حصین نے کہا: 'کیا یہ سب جن پر صدقہ حرام کیا گیا؟'
زید نے کہا: 'ہاں۔'"
[تذكرة المحتاج إلى أحاديث المنهاج-ابن الملقن:54 ،ص65]
[صحیح مسلم:2408، مسند أحمد:19265، دارمي:3316، أبو داود:4973، السنةابنُ أبي عاصم:1550-1551، السنن الكبرى النسائي:8175، صحیح ابن خزيمة :2357، شرح مشكل الآثار-الطحاوي:3464، طبراني:5028، بيهقي:، بغوي:3913]
چوتھی بات:
اگر اہلِ بیت کی اتباع کا حکم ثابت ہو بھی جائے، تو وہ اُن امور میں ہوگا جن پر اہلِ بیت کا اتفاق ہو، نہ کہ وہ امور جو آج خودساختہ ان کی طرف منسوب کر دیے گئے ہوں۔
جبکہ اہلِ بیت کے جلیل القدر ائمہ، جیسے حضرت علی، حضرت حسن، حضرت حسین، حضرت ابن عباس رضى الله عنهم، سب شيعہ اور ان کے عقائد سے بیزاری کا اظہار کرتے رہے ہیں۔
اسى طرح ان تمام ہستیوں نے حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضى الله عنهم کو امامت اور فضیلت میں مقدم مانا ہے اور یہی عقیدہ بنو ہاشم، علوی، عباسی کا بھی رہا ہے۔
لہٰذا اگر اہلِ بیت کے اجماع کو دلیل مانا جائے تو سب سے زیادہ حق پر اہلِ سنت ہیں، نہ کہ شیعہ، جو خود اہلِ بیت کے متفقہ عقائد سے ہٹے ہوئے ہیں۔
پانچویں بات:
شیعہ حضرات کا اہلِ بیت اور عترت کی تفسیر صرف حضرت علی، حضرت فاطمہ، حضرت حسن اور حضرت حسین رضی اللہ عنہم تک محدود کر دینا جبکہ نبی کریم ﷺ کی ازواجِ مطہرات کو اس سے خارج کر دینا درحقیقت اللہ تعالى کی آیات میں تحریف ہے.
"عترت” کا مفہوم لغوی اعتبار سے نسبی اولاد اور صلبی نسل تک محدود ہے، جبکہ "اہلِ بیت” کا مفہوم اس سے زیادہ وسیع ہے۔ اہلِ بیت میں نہ صرف نسبی رشتہ دار شامل ہیں بلکہ مصاہرت (رشتۂ ازدواج) کے ذریعے شامل ہونے والی ہستیاں، یعنی نبی کریم ﷺ کی ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنھن بھی قرآن مجيد کے نص سے اہلِ بیت میں شامل ہیں.
آخرى بات:
اگر عترت کو تھامے رکھنے سے امامت اور اتباع پر دلیل لی جائے تو پھر اہلِ بیت کے تمام افراد کی امامت لازم آتی ہے ! خصوصاً جب ہم دیکھیں کہ اس میں حضرت عبداللہ بن عباس، محمد بن حنفیہ، زید بن علی بن حسين، اسحاق بن جعفر صادق اور دیگر بہت سے اہلِ بیت شامل ہو جاتے ہیں، جنہیں شیعہ خود بھی امام نہیں مانتے۔
اسى طرح اہلِ بیتِ نبوی ﷺ میں بنو ہاشم کے تمام افراد ہیں، جن میں شامل ہیں: آلِ عباس، آلِ علی، آلِ جعفر، آلِ عقیل، آلِ حارث بن عبدالمطلب اور بنو المطلب اور بنو ابی طالب دونوں آلِ بیتِ نبوی ﷺ میں شامل ہیں کیونکہ وہ نسباً قریبی رشتہ دار ہیں اور ان پر صدقہ حرام ہے۔
جب حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کہ کہ اے زید! کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات اہل بیت نہیں ہیں؟ سیدنا زید رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ازواج مطہرات بھی اہل بیت میں داخل ہیں لیکن اہل بیت وہ ہیں جن پر زکوٰۃ حرام ہے۔ راوى حديث (حصین بن سبرہ) نے کہا کہ وہ کون لوگ ہیں؟ سیدنا زید رضی اللہ عنہ نے کہا کہ وہ علی، عقیل، جعفر اور عباس کی اولاد ہیں۔ حصین نے کہا کہ ان سب پر صدقہ حرام ہے؟ سیدنا زید رضی اللہ عنہ نے کہا: ہاں۔ (صحيح مسلم:2408)
لہٰذا اہلِ بیت کا مفہوم صرف چند افراد تک محدود نہیں بلکہ بنو ہاشم کے سب افراد اس میں شامل ہیں، اسی طرح آپ ﷺ کی ازواجِ مطہرات، یعنی امہات المؤمنین بھی سورة احزاب (آيت 33) کی نصِ صریح سے اہلِ بیت میں شامل ہیں۔
تو اگر اس حدیث کو صحیح مانا جائے تو ان تمام جلیل القدر خواتين وحضرات کی اتباع اور ان کے نقشِ قدم پر چلنا ہوگا، کیونکہ لفظ "عترت” سے آپ ان اہلِ بیت کے افراد کو باہر نہیں کر سکتے۔
تنبیہ:
(1)جس طرح نبی ﷺ کا مقام اہلِ بیت کے افضل ہے، اسی طرح نبی ﷺ کی سنت، اہل بیت کے طریقہ سے افضل ہے۔
(2) الله کے بعد رسولﷺ کی اطاعت فرض ہے...پھر حکم والوں کی...
[سورہ النساء:59]
جس نے کہا مانا رسول کا اس نے کہا مانا الله کا...
[سورہ النساء:80]
(3) خاندانِ نبوت میں اہلِ بیت کی فضیلت ان کیلئے نہیں جو نبی(کی سنت) کے مخالف ہوں۔
[سورہ النساء:115]
جیسے:نوح نبی كا غیرصالح بیٹا(کنعان)
[هود:45]
نبی محمد ﷺ کے چچا ابولھب۔
[سورہ لھب:1]
نبی محمد ﷺ پیارے پاسبان چاچا ابوطالب کے متعلق مشرک مرنے اور جہنمی ہونے کے سبب الله نے نبی کو دعائے بخشش سے بھی کو بھی قبول نہ فرمایا۔
[بخاری:4675،سورۃ التوبۃ:113]
(4)حضرت عباسؓ، حضرت علیؓ اور دیگر اہل بیت کی طرح بالترتیب حضرت ابوبکر، حضرت عمر، حضرت عثمان کی خلافت کو تسلیم کرنا اور ان کے فیصلوں کو جاری رکھنا، اہلِ بیت کے طریقہ کو پکڑنا ہے۔
(5)اسی طرح حضرت امیر معاویہؓ کی خلافت کو تسلیم کرنا بھی سیدنا حسنؓ، حسینؓ اور دیگر اہل بیت کے طریقہ کو پکڑنا ہے۔
حدیث کی تشریح احادیث سے:
(1)اہلِ بیت سے میرے بعد ہمیشہ حسنِ سلوک کرنا۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم میں بہترین شخص وہ ہے جو میرے بعد میرے اہل خانہ کے ساتھ اچھا سلوک کرنے والا ہو“۔ ابو ہریرہ فرماتے ہیں کہ عبدالرحمٰن بن عوف رضی الله عنہ نے اپنا ایک باغ چار لاکھ میں فروخت کیا اور اس کی رقم نبی ﷺ کی بیویوں میں تقسیم کردی۔
[السنة(امام)ابن ابي عاصم:1414]
فضائلِ اھلِ بیت:
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
میں تم لوگوں کو اپنے اہلِ بیت کے بارے میں اللہ کی یاد دلاتا(یعنی ڈراتا)ہوں۔
[صحیح مسلم:2408]
میں اپنی عترت کے بارے میں تمہیں بھلائی کی وصیت کرتا ہوں۔
[مسندالبزار:1050]
اے الله! دوست رکھ جو اِنہیں دوست رکھے اور تو دشمنی رکھ جو ان سے دشمنی رکھے۔
[طبرانی:4971]
یعنی ان سے بھلائی کرنا اور دوستی رکھنا، برائی ودشمنی سے بچنا۔
بہترین کون؟
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم میں سے بہترین وہ ہے جو میرے بعد(غیرحاضری میں) میرے اھل کے لئے بہترین ہے۔
[حاکم:5359، أبويعلي:5924، ابن أبي عاصم:1414]
یعنی وہ شخص بہترین نہیں جو ہمیشہ نبی کے گھروالوں کے ساتھ اضافی نیکی واحسان، خصوصی بھلائی وخیرخواہی نہ کرتا رہے۔
فلم ندر ما الثقلانحتّىقامرجلمن المهاجرين فقال: بأبي أنت و امّي ما الثقلان؟ قال: الأكبر منهما كتاب اللّه سبب طرف بيد اللّه عزّ و جلّ و طرف بأيديكم فتمسّكوا به لا تزلّوا و لا تضلّوا. و الأصغر منهما عترتي لا تقتلوهم و لا تقهروهم، فإنّي سألت اللطيف الخبير أن يردّوا عليّ الحوض فأعطاني، فقاهر هما قاهري و خاذلهما خاذلي، و وليّهما وليّي، و عدوّ هما عدوّي.
ترجمہ:
نبی ﷺنے جب ثقلین(دو بھاری چیزوں)کا بیان فرمایا تو ہم ثقلین کا مطلب نہ سمجھ سکے، حتیٰ کہ مہاجرین میں سے ایک شخص کھڑا ہوا، اس نے عرض کیا: آپ پر میرے ماں باپ فدا ہوں، ثقلین کیا چیز ہے؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ان دونوں میں سے بڑی چیز تو اللہ کی کتاب ہے، اس کا ایک سِرا تو الله کے دستِ قدرت میں ہے اور دوسرا تمہارے ہاتھوں میں ہے، بس اس سے تمسّک کرو گے تو نہ پھسلوگے اور نہ ہی گمراہ ہوگے۔
اور ان دونوں بھاری چیزوں میں سے جو چھوٹی ہے، وہ نبی کی اولاد ہے، ان کو قتل نہ کرنا، ان پر قہر و تشدد نہ کرنا، میں نے اپنے رب سے سوال کیا کہ یہ مجھے حوض پر ملیں، تو یہ سوال منظور ہوا۔ ان پر قہر کرنا، رسوا و ذلیل کرنا گویا میرے ساتھ یہ معاملہ کرنا ہے، جو دونوں بھاری چیزوں کا دوست ہے، وہ ہمارا دوست ہے جو ان کا دشمن ہے وہ بھی دشمن ہے۔
[كشف الغمه:١/٦٧ مع ترجمہ فارسی، ترجمہ المناقب، طبع جدید،ایران]
(حضور علیہ السلام نے فرمایا) پھر پانچواں جھنڈا امام المتقین، سید الوصیین، قائد غر المحجلیں، وصی رسول رب العالمین کا میرے پاس وارد ہوگا۔ میں ان سے دریافت کروں گا کہ تم میرے بعد "ثقلین(یعنی دو بھاری چیزوں)" کے ساتھ کس طرح پیش آۓ؟ وہ جواب میں عرض کریں گے کہ ثقل اکبر(یعنی بڑی بھاری چیز) کی ہم نے پیروی اور اطاعت کی اور ثقل اصغر(یعنی چھوٹی بھاری چیز) سے ہم نے محبت اور موالات کی اور ان کو یہاں تک مدد دی کہ ان کے بارے میں ہمارے خوں تک بھادیئے گئے، پس ان سے میں کہوں گا کہ تم سیر وسیراب ہوکر سفید رو(یعنی چہروں والے) بن کر جنت میں چلے جاؤ. اس کے بعد رسول الله ﷺ نے یہ آیتیں (سورہ آل عمران:106) تلاوت فرمائیں.
[تفسیر قمی عربی : صفحہ ٥٩ ایران (ضمیمہ: صفحہ ٥٨ مولوی مقبول احمد صاحب)]
(3)
ثم قال: أنشدكم بالله أتعلمون أن رسول الله صلى الله عليه وآله قال في حجة الوداع: أيها الناس إني قد تركت فيكم ما لم تضلوا بعده: كتاب الله وعترتي أهل بيتي فأحلوا حلاله، وحرموا حرامه، واعملوا بمحكمه، وآمنوا بمتشابهه، وقولوا: آمنا
پھر آپ (امام حسن رضی الله عنہ) نے (اپنے مخاطبین کو قسم دے کر) فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ رسول اللہ ﷺ نے حجۃ الوداع میں فرمایا: اے لوگو! میں نے تم میں اس چیز کو چھوڑا ہے جس کے بعد تم گمراہ نہ ہو گے، وہ کتاب اللہ ہے اور میری اولاد ہے۔ کتاب اللہ کے حلال کو حلال جانو اور اس کے حرام کو حرام جانو اور اسکے محکم (واضح حکموں) کے ساتھ عمل کرو اور متشابہ(غیرواضح آیات)پر ایمان رکھو اور کہو کہ اللہ نے جو کتاب اتاری ہے اس کے ساتھ ایمان لائے۔ اور اہل بیت کے ساتھ محبت رکھو اور جو شخص ان کے ساتھ دوستی رکھے تم اس کے ساتھ دوستی رکھو، اور جو ان کے ساتھ دشمنی رکھے تم اس کا خلاف کرو، اور یہ دونوں تم میں رہیں گے حتیٰ کہ قیامت کے روز میرے پاس حوض پر پہنچیں۔
[الاحتجاج طبرسی: ص139]
(4) خلفاء کی سنت پر عمل، دین میں نئی نئی باتوں سے بچنا ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
۔۔۔۔۔میرے بعد(غیر حاضری میں)لوگوں میں "اختلاف" ہوجاۓ گا، تو تم لازم پکڑنا میری سنت اور خلفاء راشدین کی سنت کو...اور(دین میں)نئی باتوں سے بچو کیونکہ(دین میں)ہر نئی بات بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے۔۔۔۔۔
[ابو داؤد:4607، ترمذی:2676، ابن ماجہ:42]
تشریح:
ان کے بیان ’’سنتِ خلفاء‘‘ میں اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر خلفائے راشدین میں سے کسی ایک نے بیان کیا اور صحابہ میں سے کسی دوسرے سے اختلاف کیا تو خلیفہ کے قول پر عمل کرنا زیادہ مناسب ہے۔
"یہ نبی ﷺ کی وہ پیشین گوئی ہے جو آپ کے بعد اُمت میں دین کے اصولوں، فروع، عقائد، اعمال اور اقوال میں اختلافات کی کثرت کے واقع ہونے پر صادق آئی۔ یہ اُس حدیث کے موافق ہے جس میں آپ ﷺ نے فرمایا: 'میری اُمت ۷۳ فرقوں میں بٹ جائے گی، جن میں سے صرف ایک فرقہ نجات پائے گا—وہ جو میرے اور میرے صحابہ کے طریقے پر ہوگا۔' اِس حدیث میں اختلافات کے وقت سنتِ رسول ﷺ اور خلفائے راشدین کی سنت کو تھامنے کا حکم دیا گیا ہے۔ 'سنت' سے مراد وہ مسلک ہے جس پر نبی ﷺ اور آپ کے خلفاء چلے، جس میں عقائد، اعمال اور اقوال سب شامل ہیں۔ اسی لیے سلف صالحین 'سنت' کا لفظ صرف اِسی جامع مفہوم میں استعمال کرتے تھے۔
بعد کے اکثر علماء نے 'سنت' کو صرف عقائد تک محدود کر دیا، کیونکہ عقائد دین کی بنیاد ہیں اور اُن میں انحراف بہت بڑا خطرہ ہے۔ اطاعتِ حکام کے حکم کے بعد اِس بات کا اشارہ ہے کہ 'معصیت میں کسی کی اطاعت نہیں'، جیسا کہ صحیح حدیث میں ہے: 'اطاعت صرف نیکی کے کاموں میں ہے' (بخاری: ۴۳۴۰)۔ حضرت معاذ بن جبل کے سوال پر آپ ﷺ نے فرمایا: 'جو اللہ کی نافرمانی کرے، اُس کی اطاعت نہ کرو' (مسند احمد: ۱۳۲۲۵)۔
اہم نکات کی تشریح:
۱. خلفائے راشدین کی اتباع کیوں ضروری ہے؟
- نبی ﷺ نے واضح فرمایا: 'میری سنت اور ہدایت یافتہ خلفاء کی سنت کو تھام لو'۔
- خلفائے راشدین: ابوبکر، عمر، عثمان، علی اور عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ عنہم (کیونکہ آپ نے خلافتِ راشدہ کا نظام قائم کیا)۔
- وجہ: اُن کے فیصلے سنتِ نبوی کے عین مطابق تھے، جیسا کہ حدیثِ سفینہ میں ہے: 'میرے بعد خلافتِ راشدہ ۳۰ سال رہے گی' (ابو داؤد: ۴۶۳۷)۔
۲. بدعت کی حقیقی تعریف:
- 'ہر بدعت گمراہی ہے' سے مراد: وہ نیا کام جس کی شریعت میں کوئی اصل نہ ہو۔
- اہم تفریق:
- بدعتِ لغوی: وہ نیا کام جو شریعت کے اصولوں کے مطابق ہو، جیسے تراویح کی جماعت (عمر رضی اللہ عنہ اِسے 'نعمت البدعة' کہتے تھے)۔
- بدعتِ شرعی: وہ نیا کام جو شریعت کے خلاف ہو، جیسے دین میں نئی عبادتیں گھڑنا۔
- امام شافعی فرماتے ہیں: 'بدعت دو طرح کی ہوتی ہے: محمود (جس کی شریعت میں اصل ہو) اور مذموم (جس کی اصل نہ ہو)'۔
- حکمرانوں کی اطاعت تبھی واجب ہے جب وہ 'معروف (شریعت کے مطابق)' حکم دیں۔
- اگر حکمران:
- سنت کو مٹائیں،
- بدعات کو رواج دیں،
- نمازوں کو اُن کے اوقات سے مؤخر کریں،
تو اُن کی اطاعت حرام ہے (ابن ماجہ: ۲۸۶۵)۔
۴. عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا خاص مقام:
- نبی ﷺ نے فرمایا: 'اللہ نے عمر کے زبان و دل پر حق جاری کر دیا ہے' (ترمذی: ۳۶۸۲)۔
- آپ کے فیصلے صحابہ کے اجماع کی بنیاد بنتے تھے، جیسے:
- طلاقِ ثلاثہ کا ایک ساتھ واقع ہونا،
- متعہ (عارضی نکاح) کی حرمت،
- زمینِ عنوہ پر خراج کا نظام۔
- امام مالک کہتے ہیں: 'عمر کے فیصلوں کو سنت سمجھو، کیونکہ وہ کتاب اللہ کی مضبوطی اور دین کی تقویت کا ذریعہ ہیں'۔
۵. اختلافات کے اصول:
- جہاں خلفائے راشدین کا اجماع ہو، وہی حق ہے (جیسے عول میراث میں)۔
- جہاں اُن کا اختلاف ہو (جیسے جد کے میراث میں)، وہاں اجتہاد جائز ہے۔
- آج کے دور میں ائمہ اربعہ (حنفی، مالکی، شافعی، حنبلی) کی تقلید اس لیے ضروری ہے کہ اُن کے مذاہب مدوّن اور محفوظ ہیں۔
خلاصہ:
۱. اختلافات کے وقت سنتِ نبوی اور خلفائے راشدین کو تھامنا نجات کا راستہ ہے۔
۲. بدعتِ شرعی (دین میں نئی باتیں گھڑنا) گمراہی ہے، جبکہ بدعتِ لغوی (مصلحت کے نیک کام) جائز ہے۔
۳. حکمرانوں کی اطاعت صرف معروف میں واجب ہے۔
۴. عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے فیصلے اجماعِ صحابہ کی بنیاد تھے۔
> "تم پر لازم ہے کہ میری سنت اور ہدایت یافتہ خلفاء کی سنت کو دانتوں سے پکڑ لو"
قرآن مجید کی واضح ادھوری آیتوں سے گمراہی کی دلیل نکالنا ممکن ہے۔
جیسے:
لَا تَقْرَبُوا الصَّلَاةَ...مت قریب جاؤ نماز کے
اعْمَلُوا مَا شِئْتُمْ...عمل کرو جو چاہو تم
فَاعْبُدُوا مَا شِئْتُمْ...تو عبادت کرو جس کی چاہو تم
قرآنی گواہی:
۔۔۔اسی(قرآنی مثالوں)سے وہ(الله)کئی لوگوں کو ھدایت دیتا ہے اور اسی(قرآنی مثالوں)سے وہ(الله)کئی لوگوں کو گمراہ کرتا ہے، اور نہیں وہ(الله)گمراہ کرتا اس کے ذریعے سے مگر نافرمانوں ہی کو۔
[سورۃ البقرۃ:26]
گمراہی کی دلیل پکڑنے کا طریقہ:
قرآن مجید کا جو معنیٰ و مطلب، دلیل یا تفسیر الله کے رسول کے صحابہ سے اماموں نے بیان نہیں کیا، بعد کے کسی شخص نے کیا، تو وہ جدید معنیٰ و مطلب، دلیل یا تفسیر غلط اور گمراہی کی ہے۔
دلیلِ قرآن:
اور جو شخص اپنے سامنے ہدایت(قرآن) واضح ہونے کے بعد بھی رسول(سنت) کی مخالفت کرے، اور مومنوں(یعنی صحابہ کی جماعت-اجماع) کے راستے کے سوا کسی اور راستے کی پیروی کرے، اس کو ہم اسی راہ کے حوالے کردیں گے جو اس نے خود اپنائی ہے، اور اسے دوزخ میں جھونکیں گے، اور وہ بہت برا ٹھکانا ہے۔
[سورۃ النساء:115]
قرآن کے مطابق رسول اور سارے مؤمنین(جو اس وقت صحابہ تھے)کے راستہ کی مخالفت جہنم میں جانے کا سبب ہے۔
اور
صحابہ میں خاص خلفاء کی مخالفت کی بڑی برائی ہے۔
معیاِر حق : علمِ دین میں صحابہ کرامؓ کا فہم
ایک مرتبہ حضرت عمرؓ نے حضرت ابنِ عباسؓ سے دریافت فرمایا:
اس امت کا جب نبی ایک، قبلہ ایک، کتاب ایک تو اس میں اختلاف کیوں کر پیدا ہوگا؟
تو حضرت ابنِ عباسؓ نے جواب دیا:
اے امیر المومنین! قرآن ہمارے سامنے اترا ہے، ہم تو اس کے مواردِ نزول کو اچھی طرح جانتے ہیں، لیکن آئندہ ایسے لوگ آئیں گے جو قرآن تو پڑھیں گے مگر انھیں صحیح طور پر اس کے موادر و مصادر (یعنی جس کیلئے جو آیات وارد و صادر ہوئیں ) کا علم نہ ہوگا پھر اس میں (بےعلم ہوتے ہوۓ بھی) اپنی طرف سے راۓ زنی شروع کریں گے اور اٹکل کے تیر چلائیں گے. اس لئے ان میں اختلاف ہوجاۓ گا اور جب اختلاف ہوگا تو لڑائیاں ہوں گی. شروع میں تو اس خیال سے حضرت عمرؓ نے اتفاقِ راۓ نہ کیا لیکن غور کرنے کے بعد انھیں بھی حضرت ابنِ عباسؓ سے اتفاقِ راۓ کرنا پڑا۔
قرآن مجید سے دھوکہ دینے والوں کو پہچاننے کا طریقہ:
صحابہ وتابعین کا علمِ تاویل:
حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ الله نے منکرین تقدیر کے ایک مغالطے (کہ قرآن کریم میں ایسی آیات بھی موجود ہیں جن سے تقدیر تک کی نفی معلوم ہوتی ہے) کو دور کرنے کے لیے یہ ارشاد فرمایا:
ان لوگوں ﴿یعنی صحابہ کرام﴾ نے بھی یہ آیتیں پڑھی ہیں جن کو تم پڑھتے ہو، لیکن وہ ان کی تاویل(تفسیر و مطلب) کا علم رکھتے ہیں جس سے تم ناواقف ہو، اور انہوں نے یہ سب آیات پڑھنے کے باوجود تقدیر کا اقرار کیا ہے۔
[سنن أبي داود:4612، الشريعة للآجري:529﴿532﴾]
الفقه الدين:
(القرآن، التوبۃ:122)
(5) نبوی پیشگوئی-قیامت کی علامت-علماء کے بجائے جھلاء سے فتوے لینا۔
امت کی راہنمائی قیامت تک کون کرے گا؟
حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاصؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہاللہ علم کو اس طرح نہیں اٹھائے گا کہ بندوں (کے سینوں) سے نکال لے بلکہ علماء کو موت دیکر علم کو اٹھائے گا، یہاں تک کہ جب کوئی عالم باقی نہ رہے گا تو جاہلوں کو سردار بنالیں گے، اور ان سے (دینی مسائل) پوچھے جائیں گے، اور وہ بغیر علم کے ﴿اپنی رائے سے﴾ فتوے دیں گے ﴿نئی باتیں نکالیں گے﴾، خود بھی گمراہ ہوں گے اور دوسروں کو بھی گمراہ کریں گے۔
[صحیح بخاری:100﴿6877﴾، صحیح مسلم:2673، سنن ترمذی:2652، سنن ابن ماجۃ:52، ﴿الجامع - معمر بن راشد:20477، مسند أبي داود الطيالسي:2406﴾ الزهد والرقائق لابن المبارك:816، مسند الحميدي:592، مسند ابن الجعد:2677، مصنف ابن أبي شيبة:37590، مسند احمد:6511+6787، سنن الدارمي:245، أخبار مكة - الفاكهي:669،البدع لابن وضاح:233،مسند البزار:2422+2423، السنن الكبرى للنسائی:5876، شرح مشكل الآثار - الطحاوي:306،صحيح ابن حبان:4571+6719،
المعجم الأوسط للطبراني:55+988+2301+3222+6403،
المعجم الأوسط للطبراني:459،
المُعْجَمُ الكَبِير للطبراني:14210-14233،
المعجم لابن المقرئ:199+306+518+591+1042+1130+1311
مسند الموطأ للجوهري:774، السنن الواردة في الفتن للداني:262-266
مسند الشهاب للقضاعي:1107، جامع بيان العلم وفضله:951+1003-1011
السنن الكبرى للبيهقي:20352، شعب الإيمان للبيهقي:1541،
ترتيب الأمالي الخميسية للشجري:182، شرح السنة للبغوی:147،
معجم ابن عساکر:172+265+285+372+765+844+1039+1365+1441
مستخرج أبي عوانة:11729-11742]
تشريح:
یہ سچی نبوی پیشگوئی ہر سال مزید واضح ہوتی جارہی ہے کہ گمراہی بڑھتی جائے گی، کیونکہ(1)بغیر علم کے محض اپنی رائے سے تکبر اور بےعلمی کے عار کی وجہ سے نئی نئی باتیں اور فیصلہ کرنے کی وجہ سے وہ غیرعالم خود حق سے بھٹک جائیں گے (2)اور ان کے غلط فتوے سوال کرنے والوں کو بھی گمراہی میں ڈالیں گے یعنی غیرعالم کو راہنما بناکر فتوے لئے جائیں گے۔ پہلوں/بڑوں سے علمِ﴿نبوی﴾حاصل نہ کیا جائے گا، اور بعد والوں/پچھلوں/چھوٹوں کی رائے_خیالات وخواہشات(نام نہاد عقل) کو قبول کیا جائے گا۔
علامہ مناوی لکھتے ہیں:
اس حدیث میں جاہلوں کو سردار بنانے سے ڈرایا گیا ہے، علم سیکھنے کی ترغیب دی گئی ہے، اور بغیر تحقیق کے جواب دینے والوں کی مذمت کی گئی ہے وغیرہ۔ اور یہ حدیث 'میری امت کی ایک جماعت ہمیشہ حق پر قائم رہے گی' والی حدیث کے خلاف نہیں ہے، کیونکہ یہ (پہلی حدیث) دین کے فروعی احکام کے بارے میں ہے اور وہ (دوسری حدیث) دین کی اصل (اور بنیادی عقائد) کے بارے میں ہے۔
[التيسير بشرح الجامع الصغير للمناوي: 1/265]
اللہ نے نبی کے بعد علم کی حفاظت اور تعلیم کے قابل ذریعہ علماء کو بنایا ہے۔ اسی لیے انہیں ہدایت کا امام چنا۔
[سورۃ السجدۃ:24]
اور ان ہی سے پوچھنے کا حکم فرمایا۔
[سورۃ النحل:43]
اور ان شرعی حکم دینے والوں کی (متفقہ باتوں میں) اطاعت کرنے کو لازم قرار دیا۔
[سورۃ النساء:59]
اور غیرعالم کی خواہشوں پر چلنے سے روکا۔[سورۃ الجاثیۃ:18]
اور اللہ ہدایت نہیں دیتا نافرمان قوم کو۔
[سورۃ المائدۃ:108 التوبۃ:24+80 الصف:5 المنافقون:6] اورپہلے دور کے گذرے ہوئے علماء(صحابہؓ اور ائمہؒ) سب سے زیادہ قابلِ اعتماد اور قابلِ تقلید ہیں۔
حضرت ابوامامہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں علم کے رخصت ہوجانے سے پہلے اسے حاصل کرلو لوگوں نے دریافت کیا اے اللہ کے نبی علم کیسے رخصت ہوگا جبکہ ہمارے درمیان اللہ کی کتاب موجود ہے۔ راوی بیان کرتے ہیں نبی اکرم ﷺ ناراض ہوئے اور آپ نے ارشاد فرمایا تمہاری مائیں تمہیں روئیں۔ کیا تورات اور انجیل بنی اسرائیل میں موجود نہیں تھیں۔ یہ دونوں ان کے کیا کام آسکیں؟ بےشک علم کا رخصت ہونا یہ ہے کہ اس کے رکھنے والے رخصت ہوجائیں گے، بےشک علم کا رخصت ہونا یہ ہے کہ اس کے رکھنے والے رخصت ہوجائیں گے۔ [سنن الدارمی:246]
حضرت زیاد بن لبید انصاریؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا : نبی ﷺ نے کسی واقعے کا ذکر کیا اور فرمایا : یہ علم چلے جانے کے وقت ہوگا۔ میں نے کہا : اللہ کے رسول ! علم کیسے اٹھ جائے گا جب کہ ہم قرآن پڑھتے ہیں، اپنے بیٹوں کو پڑھاتے ہیں اور ہمارے بیٹے اپنے بیٹوں کو پڑھائیں گے ؟ قیامت تک (اسی طرح سلسلہ جاری رہے گا۔) نبی ﷺ نے فرمایا : زیاد ! تیری ماں تجھے روئے، میں تو تجھے مدینے میں سب سے زیادہ سمجھدار آدمی خیال کرتا تھا۔ کیا یہ یہودی اور عیسائی تورات اور انجیل نہیں پڑھتے؟ لیکن وہ ان میں موجود کسی حکم پر عمل نہیں کرتے۔
[سنن ابن ماجہ:4048 کتاب الفتن، بَابُ ذَهَابِ الْقُرْآنِ وَالْعِلْمِ] یعنی بے عملی کا سبب علماء سے دوری ہے۔ 2) عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَشَخَصَ بِبَصَرِهِ إِلَى السَّمَاءِ ثُمَّ قَالَ: «هَذَا أَوَانُ يُخْتَلَسُ العِلْمُ مِنَ النَّاسِ حَتَّى لَا يَقْدِرُوا مِنْهُ عَلَى شَيْءٍ» فَقَالَ زِيَادُ بْنُ لَبِيدٍ الأَنْصَارِيُّ: كَيْفَ يُخْتَلَسُ مِنَّا وَقَدْ قَرَأْنَا القُرْآنَ فَوَاللَّهِ لَنَقْرَأَنَّهُ وَلَنُقْرِئَنَّهُ نِسَاءَنَا وَأَبْنَاءَنَا، فَقَالَ: «ثَكِلَتْكَ أُمُّكَ يَا زِيَادُ، إِنْ كُنْتُ لَأَعُدُّكَ مِنْ فُقَهَاءِ أَهْلِ المَدِينَةِ هَذِهِ التَّوْرَاةُ وَالإِنْجِيلُ عِنْدَ اليَهُودِ وَالنَّصَارَى فَمَاذَا تُغْنِي عَنْهُمْ؟» حضرت ابودرداءُ سے بھی روایت ہے کہ ہم ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺ کے ساتھ تھے کہ آپ ﷺ نے آسمان کی طرف نگاہ اٹھا کر دیکھا پھر فرمایا یہ ایسا وقت ہے کہ لوگوں سے علم کھینچا جارہا ہے۔ یہاں تک کہ اس میں سے کوئی چیز ان کے قابو میں نہیں رہے گی۔ زیاد بن لبید انصاریؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ! ہم سے کیسے علم سلب کیا جائے گا جب کہ ہم نے قرآن پڑھا ہے اور اللہ کی قسم ہم اسے خود بھی پڑھیں گے اور اپنی اولاد اور عورتوں کو بھی پڑھائیں گے۔ آپ ﷺ نے فرمایا تمہاری ماں تم پر روئے اے زیاد ! میں تو تمہیں مدینہ کے فقہاء میں شمار کرتا تھا۔ کیا تورات اور انجیل یہود و نصاری کے پاس نہیں ہے۔ لیکن انہیں کیا فائدہ پہنچا؟ [صحيح الترمذي:2653، سنن الدارمی:296، حاکم:338]
آج اکثر گھروں میں قرآن مجید گِرد وغبار سے لحاف میں لپٹا ایک کونے میں بس برکت کے نام سے رکھا رہتا ہے، جسے سمجھنا اور عمل کرنا تو دور اسے صرف بغیر سمجھے پڑھنے کیلئے بھی مولویوں کی ضرورت پڑتی ہے، پھر بھی لوگ علمِ انبیاء کے وارث علماء کو حقارت کی نگاہ سے دیکھتے ان سے اتنا دور رہتے ہیں کہ وہ نہ خود عالم بننے کا شوق رکھتے ہیں اور نہ ہی اپنی اولاد کو عالم بنانے کا شوق دلاتے ہیں۔
كل صاحب حديث ليس له إمام في الفقه فهو ضال ولولا أن الله أنقذنا بمالك والليث لضللنا.
ترجمہ:
ہر وہ حدیث والا(عالم) جس کا فقہ میں کوئی امام نہ ہو تو وہ گمراہ ہے، اور اگر اللہ نہ بچاتا ہمیں مالکؒ اور لیثؒ (جیسے امام) کے ذریعے تو ہم یقینا گمراہ ہوجاتے۔
[الجامع في السنن والآداب والمغازي والتاريخ (ابن أبي زيد القيرواني م٣٨٦ھ) : ص119]
الجامع لمسائل المدونة (ابن يونس الصقلي م٤٥١ھ) :24/65،
ترتيب المدارك وتقريب المسالك (القاضي عياض م٥٤٤ھ): 1/ 91+171
حدیث‘ (ماہر کی)رائے(یعنی فقہ) کے بغیر درست نہیں ہوسکتی اور (ماہر کی)رائے‘ حدیث کے بغیر درست نہیں ہوسکتی، چنانچہ جو شخص حدیث بہتر نہ جانتا ہو یا فقہی اصول کا ماہر نہ ہو تو وہ قاضی بننے یا فتویٰ دینے کا صحیح اہل نہیں ہوسکتا۔
[الكافي شرح البزودي:1/ 185-186، كشف الأسرار شرح أصول البزدوي:1/ 17]
اے پروردگار ! میں تیرا فرمانبردار ہو گیا اور تجھ پر ایمان لایا اور تجھ پر بھروسا کیا اور تیری طرف رجوع کیا اور تیری مدد سے دشمنوں سے لڑا۔ اے مالک میرے ! میں تیری عزت کی پناہ مانگتا ہوں کوئی برحق معبود نہیں سوائے تیرے، اس بات سے کہ تو بھٹکا دے مجھ کو، تو وہ زندہ ہے جو کبھی نہیں مرتا، جن اور آدمی مرتے ہیں۔
[صحیح مسلم:2717 مسند احمد:2748، صحیح ابن حبان:898]
خبردار! میرے بعد تم گمراہ نہ ہوجانا کہ ایک دوسرے کی گردن مارنے لگو۔
[صحیح البخاری:4406+5550+7447، صحیح ابن حبان:5974+5975، المعجم الأوسط للطبراني:963، حجة الوداع لابن حزم:151، السنن الكبرى للبيهقي:9773،شرح السنة للبغوی:1965]
ہدایت پر آنے اور لانے کیلئے بھی جان کی حفاظت ضروری ہے اور شرعی مقاصد میں سے دوسرا اہم مقصد ہے۔
بیشک مجھے اپنی امت پر گمراہ کرنے والے رہنماؤں Leaders کا ڈر ہے۔
[ترمذی:2229، ابوداؤد:4252]
(9) شراب کا پینا۔
معراج کی رات میں نبی ﷺ کے سامنے بیت المقدس میں دو پیالے پیش کئے گئے ایک شراب کا اور دوسرا دودھ کا۔ نبی ﷺ نے دونوں کو دیکھا پھر دودھ کا پیالہ اٹھا لیا۔ اس پر جبرائیل نے کہا کہ تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہے جس نے آپ کو فطرت (اسلام) کی ہدایت کی۔ اگر آپ شراب کا پیالہ اٹھا لیتے تو آپ کی امت گمراہ ہو جاتی۔
[صحیح بخاری:4709]
ہدایت کیلئے عقل کی حفاظت ضروری ہے اور عقل کی حفاظت شرعی مقاصد میں سے تیسرا اہم مقصد ہے۔
حضرت عمرؓ نے کہا کہ مجھے اندیشہ ہے کہ ایک زمانہ لوگوں پر ایسا آئے گا کہ ایک کہنے والا کہے گا کہ ہم کتاب اللہ میں رجم کا حکم نہیں پاتے، چناچہ وہ ایک فرض کو چھوڑ کر گمراہ ہوں گے جو اللہ نے نازل کیا ہے، خبردار رجم واجب ہے اس پر جس نے زنا کیا اور شادی شدہ ہو بشرطیکہ اس پر گواہی قائم ہوجائے یا حمل ہوجائے یا اقرار ہو، شعبان نے کہا کہ اس طرح میں نے یاد کیا ہے سن لو رسول اللہ ﷺ نے رجم کیا ہے اور آپ کے بعد ہم نے بھی سنگسار کیا ہے۔
[بخاری:6830]
لوگوں سے ان کی عقل کے بقدر حدیث بیان نہ کرنا۔ ہر سنی سنائی بات بیان نہ کرنا۔
ابو الطفیل سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: میں نے حضرت علیؓ کو کہتے سنا: اے لوگو، کیا تم چاہتے ہو کہ اللہ اور اس کے رسول کا کفر کیا جائے؟ لوگوں سے وہی حدیث بیان کرو جو وہ جانتے(سمجھ سکتے) ہیں اور جس چیز کو وہ ناپسند کرتے ہیں اسے(بیان کرنا) چھوڑ دو۔
[بخاری:127، مسند البزار:2617، المدخل-البيهقي:610(1713)، جامع الأصول-ابن الأثير:5844، جامع الاحادیث-السيوطي:33552-33223، کنز العمال:29318-29515-29523]
حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کہتے ہیں کہ اگر تم لوگوں سے کوئی ایسی حدیث بیان کرو جس کو ان کی عقل سمجھ نہیں سکتی تو یہ ان میں سے بعض کے لیے فتنہ(گنراہی کا سبب) ہوگی۔
[مسلم:1 /11 ، المدخل-البيهقي:610(1714)، جامع الأصول-ابن الأثير:5845]
الْحُسَيْن بن عَليّ: حدثوا النَّاس بِمَا يعْرفُونَ وَلَا تحدثوهم بِمَا يُنكرُونَ فيكذبون الله وَرَسُوله
ترجمہ:
حضرت حسینؓ بن علیؓ سے روایت ہے: لوگوں کو وہ بتائیں جو وہ جانتے ہیں، اور ان کو وہ بات نہ بتائیں جو وہ ناپسند کرتے ہیں، ورنہ وہ اللہ اور اس کے رسول کو جھٹلائیں گے۔
[الفردوس بمأثور الخطاب:2656]
یہی حدیث حضرت جابرؓ سے بھی مروی ہے۔
[الجامع الكبير-السيوطي:13446]
قول
تشریح:
1. "حَدِّثُوا النَّاسَ" (لوگوں سے بات کرو):
- یہ امر (حکم) کا صیغہ ہے، یعنی لوگوں سے گفتگو کرو، لیکن ان کی فہم کے مطابق۔
2. "بِمَا يَعْرِفُونَ" (جسے وہ پہچانتے ہیں):
- یعنی وہ باتیں کہو جو ان کی عقل سمجھ سکے۔
- حضرت ابو نعیم نے "المستخرج" میں اضافہ کیا ہے: "وَذَرُوا مَا يُنْكَرُونَ" (اور جو وہ نہیں سمجھتے، اسے چھوڑ دو)، یعنی جو باتیں ان کے لیے مشتبہ ہوں، ان سے پرہیز کرو۔
3. "أَتُرِيدُونَ أَنْ يُكَذِّبَ اللَّهُ وَرَسُولَهُ؟" (کیا تم چاہتے ہو کہ اللہ اور اس کا رسول جھوٹے ٹھہریں؟):
- یہ استفہامِ انکاری ہے، یعنی یہ ایک طرح کی مذمت ہے۔
- امام بخاری کی روایت میں "أَتُحِبُّونَ" (کیا تم پسند کرتے ہو؟) آیا ہے۔
- "يُكَذِّبَ" (ذال مشدد اور فتحہ کے ساتھ) کیونکہ جو بات سمجھ میں نہ آئے، سننے والا اسے محال سمجھتا ہے اور اس پر یقین نہیں کرتا، جس سے تکذیب لازم آتی ہے۔
4. تعلیم کا اصول:
- متشابہات (پیچیدہ معاملات) کو عوام کے سامنے بیان نہیں کرنا چاہیے۔
- ابن عبدالسلام نے اپنی "أمالي" میں ذکر کیا ہے کہ اگر کوئی ولی اللہ (صالح شخص) کسی شرعی سزا کے بارے میں بات کرے تو اس سے اس کی ولایت پر اثر نہیں پڑتا، کیونکہ وہ معصوم نہیں ہوتے۔
5. تعلیم و تربیت کا طریقہ:
- استاد کو چاہیے کہ ہر طالب علم کو اس کی فہم کے مطابق جواب دے۔
- جو لوگ دکاندار، کاریگر یا کسی پیشے سے وابستہ ہیں، انہیں صرف وہ علم دیا جائے جو ان کے لیے ضروری ہے۔
- اگر کسی کے دل میں شکوک و شبہات پیدا ہوں تو اس کا امتحان لیا جائے:
- اگر وہ علم سیکھنے کے قابل ہو تو اس کی رہنمائی کی جائے۔
- اگر وہ بدفہم یا بدطینت ہو تو اسے سختی سے منع کیا جائے، کیونکہ اس کا علم حاصل کرنا دو نقصاندہ چیزوں کا باعث بن سکتا ہے:
1. وہ مفید کاموں سے محروم ہو جائے گا۔
2. اس کے دل میں مزید شکوک پیدا ہوں گے۔
6. علماء متقدمین کا طریقہ:
- جب کوئی شخص علم کے حقائق جاننے کی کوشش کرتا تو اس کا امتحان لیا جاتا۔
- اگر وہ نااہل ہوتا یا علم حاصل کرنے کے قابل نہیں ہوتا تو اسے منع کر دیا جاتا۔
- اگر وہ اہل ہوتا تو اسے "دار الحکمت" (علمی مرکز-مدرسہ) میں داخل کیا جاتا اور اس وقت تک نہیں نکلنے دیا جاتا جب تک وہ علم حاصل نہ کر لے یا موت اسے نہ آ جائے۔
- علماء کہتے تھے: "جو شخص علم کے حقائق میں گھستا ہے لیکن اس میں ماہر نہیں ہوتا، اس کے دل میں شکوک پیدا ہو جاتے ہیں، اور وہ گمراہ ہو کر دوسروں کو بھی گمراہ کرنے لگتا ہے۔"
- اسی لیے کہا جاتا ہے: "نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ نِصْفِ فَقِيهٍ أَوْ مُتَكَلِّمٍ" (ہم اللہ کی پناہ مانگتے ہیں آدھے فقیہ یا متکلم سے)۔
7. حدیث کی سند:
- "فَرَّ عَنْ عَلِيٍّ" (حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے)۔
- بعض روایات میں یہ مرفوع (رسول اللہ ﷺ کی طرف منسوب) ہے، جبکہ بعض میں موقوف (حضرت علی کا قول) ہے۔
- ابن حجر نے کہا ہے کہ اس کی سند "ضعیف جداً" (انتہائی کمزور) ہے، بلکہ بعض کے نزدیک موضوع (من گھڑت) ہے۔
[فتح القدیر، المناوی:3693]
خلاصہ:
اس حدیث میں تعلیم و تبلیغ کا ایک اہم اصول بیان کیا گیا ہے کہ لوگوں سے ان کی فہم کے مطابق بات کرنی چاہیے، ورنہ وہ غلط فہمی کا شکار ہو کر اللہ اور رسول ﷺ کی تکذیب پر اتر سکتے ہیں۔ علماء نے اس بات پر زور دیا ہے کہ ہر شخص کو اس کی استعداد کے مطابق علم دیا جائے، اور جو لوگ پیچیدہ مسائل سمجھنے کے قابل نہ ہوں، انہیں ان معاملات میں الجھنے سے روکا جائے۔ نیز، علم دین حاصل کرنے والوں کا امتحان لینا چاہیے تاکہ وہ گمراہی کا سبب نہ بنیں۔
عَنْ عَائِشَةَ - رضي الله عنها - قَالَتْ:
(لَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم يَسْرُدُ الْحَدِيثَ كَسَرْدِكُمْ)
وفي رواية: (كَانَ يُحَدِّثُ حَدِيثًا لَوْ عَدَّهُ الْعَادُّ لَأَحْصَاهُ)
ترجمہ:
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا:
"رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ کی طرح جلدی جلدی احادیث بیان نہیں کرتے تھے
(صحیح بخاری:3568، صحیح مسلم:6399)
بلکہ آپ ایسی گفتگو کرتے جس میں ٹھہراؤ ہوتا تھا
(سنن ترمذي:3639، مسند احمد:26209)
جو بھی اسے سنتا سمجھ لیتا
(سنن ابي داود:4839، مصنف ابن ابي شيبه-ترقيم سعد الشثري:27980، ترقيم محمد عوامة-26821)
ایک اور روایت میں ہے: "وہ ایک حدیث بیان کرتا تھا کہ اگر کوئی شمار کرنے والا اسے شمار کرے تو وہ اسے گن سکتا ہے۔"
(صحیح بخاری:3375، صحیح مسلم:2493)
[الجامع الصحيح للسنن والمسانيد: ج8 / ص435]
گمراہ کون؟
دراصل، گمراہ لوگوں نے دین کے خلاف اپنے خیالات اور خواہشات والا دین(طریقہ زندگی) چاہیے، جو انہیں انبیاء کے وارث عُلَماء سے نہیں ملے گا، اسی لیے ان سے انہیں تنگی اور مخالفت رہے گی۔
القرآن:
۔۔۔(یہ لوگ)جو کلمات کی تحریف کرتے ہیں ان کی جگہوں سے اور کہتے ہیں ہم نے سن لیا اور نہیں مانیں گے اور کہتے ہیں کہ سن لے اس حال میں کہ تو(دوسرے سے) سننے والا نہ ہو، اور اپنی زبانوں کو موڑتے ہوئے اور دین میں طعن(عیب)لگاتے ہو۔۔۔
[سورۃالنساء:46]
۔۔۔دین کے معاملے میں مغالطے پیدا کردیں۔۔۔
[سورۃالانعام:137]
۔۔۔اور عیب لگائیں تمہارے دین میں۔۔۔
[سورۃالتوبۃ:12]
اے اہل کتاب! حد سے نہ بڑھو اپنے دین میں یعنی مت کہو اللہ کی شان میں مگر حق بات۔۔۔
[سورۃالنساء:171]
یعنی
ان لوگوں کی خواہشات کے پیچھے نہ چلو جو پہلے خود بھی گمراہ ہوئے، بہت سے دوسروں کو بھی گمراہ کیا، اور سیدھے راستے سے بھٹک گئے۔[سورۃالمائدۃ:77]
اور چھوڑ دو ان لوگوں کو جنہوں نے اپنے دین کو کھیل تماشا بنا رکھا ہے،اور جن کو دنیوی زندگی نے دھوکے میں ڈال دیا ہے۔۔۔سورۃ[الانعام:70]
چنانچہ آج ہم بھی ان کو اسی طرح بھلا دیں گے جیسے وہ اس بات کو بھلائے بیٹھے تھے کہ انہیں اس دن کا سامنا کرنا ہے اور جیسے وہ ہماری آیتوں کا کھلم کھلا انکار کیا کرتے تھے۔[سورۃالاعراف:51]
بیشک جن لوگوں نے اپنے دین میں تفریق کردی اور گروہ گروہ بن گئے آپ کا ان سے کوئی تعلق نہیں، بس ان کا معاملہ اللہ ہی کے حوالے ہے۔ پھر ان کے وہ کام ان کو جتا دے گا جو وہ کیا کرتے تھے۔
[سورۃ الانعام:159]
ہر گروہ (اُس) پر جو اُنکے پاس ہے خوش ہیں۔
[سورۃالروم:32]
۔۔۔اور(توبہ بھی ان منافقین ہی کی اللہ قبول کرے گا جو)اپنے دین کو خالص اللہ کے لیے بنالیں گے۔۔۔
No comments:
Post a Comment