Saturday, 7 September 2019

پیغامِ کربلاء


اسوۂ حسینؒ» حفاظتِ دینِ نبوی:


سیدنا حسینؒ کا وہ خط جو اہلِ بصرہ کو لکھا تھا، میں یہ فرمایا:
وَأَنَا أَدْعُوكُمْ إِلَى كِتَابِ اللَّهِ وَسُنَّةِ نَبِيِّهِ، فَإِنَّ السُّنَّةَ قَدْ أُمِيتَتْ، وَإِنَّ الْبِدْعَةَ قَدْ أُحْيِيَتْ
ترجمہ:
*میں تمہیں دعوت دیتا ہوں کتاب اللہ اور سنتِ رسول اللہ ﷺ (کی حفاظت اور پھیلانے) کی طرف، کیونکہ سنت مِٹ رہی ہے، اور بدعات زندہ کی جارہی ہیں۔*


---

حاصل اسباق اور نکات

1. سنت کی حفاظت ذمہ داری ہے: جب سنت کو "مار دیا جائے" اور بدعت کو "زندہ کر دیا جائے" تو خاموشی اختیار کرنا جائز نہیں۔ اس صورت میں حق گو افراد کو اٹھ کھڑا ہونا چاہیے۔
2. دعوتِ حق کا طریقہ: سیدنا حسینؑ نے لوگوں کو قرآن و سنت کی طرف بلایا — یہی انقلابی تحریک کا اصل مقصد تھا، محض حکومت حاصل کرنا نہیں تھا۔
3. باطل کی شناخت: "سنت کا مرنا" اور "بدعت کا زندہ ہونا" ظالم حکمرانی کی دو بڑی علامات ہیں، جن کے خلاف آواز اٹھانا ہر مسلمان کا فرض ہے۔
4. حقیقی اصلاح کا راستہ: اصلاحِ امت صرف کتاب اللہ اور سنت نبویﷺ کی پیروی سے ممکن ہے، نہ کہ نئی ایجادات یا بدعات سے۔
5. مظلوم کا کردار: سیدنا حسینؑ نے اپنی مظلومیت کے باوجود اعلانِ حق کیا اور لوگوں کو راہِ رشد کی طرف بلایا — یہ اسوۂ حسنہ ہے۔
6. دعوت میں شفافیت: آپ نے اپنے خط میں کوئی پوشیدہ ایجنڈا نہیں رکھا، بلکہ کھلے الفاظ میں اپنا مقصد اور اپنی اہلیت بیان کی۔
7. ذمہ داری کا احساس: جب دین کے بنیادی اصول خطرے میں ہوں تو علماء اور رہنماؤں پر فرض ہے کہ وہ عوام کو بیدار کریں — جیسا کہ سیدنا حسینؑ نے کیا۔








اُسوۂ حسینؒ» مقصدِ سفر کربلا» حفاظتِ دینِ نبوی:

کربلا میں سیدنا حسینؓ نے خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا:

أَيُّهَا الناس، ان رسول الله ﷺ قَالَ: [مَنْ رَأَى سُلْطَانًا جَائِرًا مُسْتَحِلا لِحَرَمِ اللَّهِ، نَاكِثًا لِعَهْدِ اللَّهِ، مُخَالِفًا لِسُنَّةِ رَسُولِ الله، يَعْمَلُ فِي عِبَادِ اللَّهِ بِالإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ، فَلَمْ يُغَيِّرْ عَلَيْهِ بِفِعْلٍ وَلا قَوْلٍ، كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يُدْخِلَهُ مُدْخَلَهُ] أَلا وَإِنَّ هَؤُلاءِ قَدْ لَزِمُوا طَاعَةَ الشَّيْطَانِ، وَتَرَكُوا طَاعَةَ الرَّحْمَنِ، وَأَظْهَرُوا الْفَسَادَ، وَعَطَّلُوا الْحُدُودَ، وَاسْتَأْثَرُوا بِالْفَيْءِ، وَأَحَلُّوا حَرَامَ اللَّهِ، وَحَرَّمُوا حَلالَهُ، وَأَنَا أَحَقُّ من غير، قَدْ أَتَتْنِي كُتُبُكُمْ، وَقَدِمَتْ عَلِيَّ رُسُلُكُمْ بِبَيْعَتِكُمْ، أَنَّكُمْ لا تُسْلِمُونِي وَلا تَخْذَلُونِي، فَإِنْ تَمَمْتُمْ عَلَى بَيْعَتِكُمْ تُصِيبُوا رُشْدَكُمْ، فَأَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ على، وابن فاطمه بنت رسول الله ص، نَفْسِي مَعَ أَنْفُسِكُمْ، وَأَهْلِي مَعَ أَهْلِيكُمْ، فَلَكُمْ فِيَّ أُسْوَةٌ، وَإِنْ لَمْ تَفْعَلُوا وَنَقَضْتُمْ عَهْدَكُمْ، وَخَلَعْتُمْ بَيْعَتِي مِنْ أَعْنَاقِكُمْ، فَلَعَمْرِي مَا هِيَ لَكُمْ بِنُكْرٍ، لَقَدْ فَعَلْتُمُوهَا بِأَبِي وَأَخِي وَابْنِ عَمِّي مُسْلِمٍ، وَالْمَغْرُورُ مَنِ اغْتَرَّ بِكُمْ، فَحَظَّكُمْ أَخْطَأْتُمْ، وَنَصِيبَكُمْ ضَيَّعْتُمْ، وَمَنْ نَكَثَ فَإِنَّمَا يَنْكُثُ عَلَى نَفْسِهِ، وَسَيُغْنِي اللَّهُ عَنْكُمْ، وَالسَّلامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ.
ترجمہ:

اے لوگو! رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: [جو شخص کسی ایسے ظالم بادشاہ کو دیکھے جو اللہ کے حرام کو حلال سمجھے اور اللہ کے عہد کو توڑدے، سنت رسول اللہ ﷺ کی مخالفت کرے، اللہ کے بندوں کے ساتھ گناہ اور دشمنی کا معاملہ کرے، اور یہ شخص اس بادشاہ کے ایسے اعمال دیکھنے کے باوجود کسی قول یا فعل سے اس کی مخالفت نہ کرے، تو اللہ تعالی کے ذمہ ہے کہ اس کو بھی اس ظالم بادشاہ کے ساتھ ساتھ اس کے ٹھکانے (یعنی دوزخ)میں پہنچادے۔]

اور آپ کو یہ بھی معلوم ہے کہ اس(یزید)نے اور اس کے حکام نے شیطان کی اطاعت کو اختیار کر رکھا ہے، اور رحمان کی اطاعت کو چھوڑ بیٹھے ہیں اور زمین میں فساد پھیلادیا، الله کی حدود کو معطل کردیا، اسلامی بیت المال کو اپنی ملکیت سمجھ لیا، اللہ کے حرام کو حلال کر ڈالا اور حرام کو حلال ٹھہرا دیا، اور میں دوسروں سے زیادہ حقدار ہوں، اور میرے پاس تمہارے خطوط اور وفود تمہاری بیعت کا پیغام لیکر پہنچے ہیں، کہ تم میرا ساتھ نہ چھوڑو گے، اور میری جان کو اپنی جان کے برابر سمجھو گے، اب اگر تم اپنی بات پر قائم ہو تو ہدایت پاؤ گے، میں رسول اللہ ﷺ کی لختِ جگر فاطمہ کا بیٹا ہوں، میری جان آپ لوگوں کی جانوں کے ساتھ اور میرے اہل و عیال آپ لوگوں کے اہل وعیال کے ساتھ، تم لوگوں کو میرا اعتبار کرنا چاہیے۔

اور اگر تم ایسا نہیں کرتے بلکہ میری بیعت کو توڑتے ہو اور میرے عہد سے پھر جاتے ہو تو وہ تم لوگوں سے کچھ بعید نہیں، کیونکہ یہی کام تم میرے باپ علی اور بھائی حسن اور چچا زاد بھائی مسلم بن عقیل کے ساتھ کرچکے ہو۔

اور وہ آدمی بڑا فریب میں ہے جو تمہارے عہد و پیمان سے دھوکہ کھائے، سو تم نے خود اپنا آخرت کا حصہ ضائع کر دیا، اور اپنے حق میں ظلم کیا، اور جو شخص بیعت کرکے توڑتا ہے، وہ اپنا نقصان کرتا ہے اور قریب ہے کہ اللہ تعالی مجھے تم سے مستغنی فرما دیں۔
اور سلامتی ہو تم سب پر اور رحمتیں اللہ کی اور برکتیں بھی۔


[أنساب الأشراف للبَلَاذُري: جلد 3/صفحہ171 ،
تاريخ الطبري:5/403،
الكامل في التاريخ (امام)ابن اثیر: جلد3/صفحہ159،
[مرآة الزمان في تواريخ الأعيان: جلد8/صفحہ118]

---

حاصل اسباق اور نکات:

1. ظالم حکمران کے خلاف موقف کی اہمیت: جو شخص ظالم حکمران کو دیکھ کر خاموش رہتا ہے اور اسے اپنے قول یا فعل سے روکنے کی کوشش نہیں کرتا، وہ اس کے گناہ میں شریک ہوتا ہے۔
2. بیعت اور عہد کی پاسداری: بیعت ایک مقدس عہد ہے، اس کو توڑنا سنگین جرم ہے اور اس کا وبال خود عہد شکن پر ہوتا ہے۔
3. حق اور باطل کی تمیز: امام حسینؑ نے بنی امیہ کے دور میں حق و باطل کی واضح حد بندی کی اور مسلمانوں کو راہِ راست دکھائی۔
4. قیادت کی شرائط: ایک حقیقی رہبر وہی ہے جو دین پر عمل کرے، حدود اللہ قائم کرے، اور عدل و انصاف کو فروغ دے۔
5. شبہات سے بچاؤ: شیطان کی اطاعت اور رحمان کی نافرمانی سے فساد، ظلم اور بے عدلی جنم لیتی ہے۔
6. وحدت کا پیغام: امام حسینؑ نے اپنے خطاب میں اپنے آپ کو عوام کے ساتھ یکجا کیا اور اسوۂ حسنی پیش کیا۔
7. دھوکے سے بچاؤ: وہی شخص دھوکے میں آتا ہے جو دھوکے بازوں پر بھروسہ کرے، اس لیے سچے اور وفادار ساتھیوں کی پہچان ضروری ہے۔
8. تاریخ سے سبق: امام حسینؑ نے اہل کوفہ کو ان کے ماضی کے رویے (حضرت علیؑ، امام حسنؑ اور مسلم بن عقیل کے ساتھ) کی یاد دہانی کرائی تاکہ وہ اپنی غلطیوں سے سبق حاصل کریں۔
9. ظلم کے خلاف قیام کا حکم: اگرچہ خاموشی برا انجام دیتی ہے، لیکن ظلم کے خلاف قیام کرنا اور حق پر ڈٹ جانا باعثِ نجات ہے۔
10. اعتماد اور وفاداری: کسی بھی معاہدے یا بیعت میں وفاداری اور اعتماد بنیادی حیثیت رکھتے ہیں، ان کی خلاف ورزی باعثِ تباہی ہے۔







نوٹ:

(1)شریعت کی حفاظت کرنا۔

(2)نیکی کا حکم کرنا اور برائی سے روکنا۔

(3)افضل جہاد، ظالم بادشاہ/حکمران کے خلاف (ہتھیار کے بجائے) حق/عدل کی بات کہنا ہے۔
[حوالہ» ابوداؤد:4344، ترمذی:2174، ابن ماجہ:4011] ﴿نسائی:4109(4214)، احمد:18828+18830، شعب الإيمان:7582، طبراني:8081﴾

اگرچہ وہ تمہارے حقوق نہ دیں، تم ان کے حقوق ادا کرتے رہو اور اپنے حق اللہ سے مانگو۔
[صحیح بخاری»حدیث نمبر:3603]
حاکم کی بات سن اور اطاعت کر اگرچہ (1)تیری پیٹھ پر مارا جائے یا (2)تیرا مال غصب کرلیا جائے، پھر بھی ان کی بات سن اور اطاعت کر۔
[صحیح مسلم:1847(4785)، السنن الكبرى-للبيهقي:16617، المعجم الاوسط-للطبراني:2893، المستدرك للحاكم:8533]
اس کی بات سنو اور (نیکی میں) اطاعت کرو کیونکہ ان پر ان کا بوجھ ہے اور تمہارے اوپر تمہارا بوجھ ہے۔
[جامع ترمذی:2199، سلسلۃ الاحادیث الصحیحہ:3176]



(4)ظالم حکمران وہ ہے جو شریعت کے مطابق فیصلہ نہ کرے۔
[حوالہ سورۃ المائدۃ:45]
یعنی حدود(شرعی سزاؤں) کو معطل کرے، اللہ کے حلال کو حرام یا حرام کو حلال کرے۔ گناہ اور دشمنی میں تعاون کرے۔


اُسوۂ حسینؒ» صبر ورضا
سیدنا حسینؓ کی سیدہؓ زینب کو نصیحت:

قَالَ: يَا أُخَيَّةُ لَا يُذْهِبَنَّ حِلْمَكِ الشَّيْطَانُ.
ترجمہ:
فرمایا: اے میری بہن! شیطان کہیں تمہارا حلم(حوصلہ) ختم نہ کردے ۔

[أنساب الأشراف للبَلَاذُري:3/186،
المنتظم فی التاریخ الملوک والامم(امام)ابن الجوزی:5/338،
الکامل فی التاریخ (امام)ابن الاثیر:3/168،
البداية والنهاية(امام)ابن کثیر:8/192، صفة مقتله]




وإني أقسم عليك يا أخية لا تشقي علي جيبا ولا تخمشي وجها.﴿وَلَا تَدْعِي عَلَيَّ بِالْوَيْلِ وَالثَّبُورِ إِنْ أَنَا هَلَكْتُ.﴾
ترجمہ:
اور میں تمہیں قسم دیتا ہوں اے میری بہن! کہ(میری شہادت پر) تم کپڑے نہ پھاڑنا، چہرہ نہ پیٹنا۔﴿اور مت پکارنا ویل اور ہلاکت کو اگر میں ہلاک ہوجاؤں۔﴾
[المنتظم فی التاریخ الملوک والامم(امام)ابن الجوزی:5/338،
الكامل في التاريخ (امام)ابن الاثیر:3/168]





اتَّقِي اللَّهَ (واصبري) وَتَعَزَّيْ بِعَزَاءِ اللَّهِ وَاعْلَمِي أَنَّ أَهْلَ الْأَرْضِ يَمُوتُونَ وَأَهْلَ السَّمَاءِ لَا يَبْقَوْنَ، وَأَنَّ كُلَّ شَيْءٍ هَالِكٌ إِلَّا وَجْهَ اللَّهِ  الَّذِي خَلَقَ الْخَلْقَ بقدرته، ويميتهم بقهره وعزته، ويعيدهم فيعبدونه وحده، وَهُوَ فَرْدٌ وَحْدَهُ
ترجمہ:
اے میری بہن! الله سے ڈرنا (اور صبر کرنا) اور الله کی راحت(بدلہ)کے ساتھ راحت پانا، اور یاد رکھنا کہ زمین میں بسنے والی ہر مخلوق کو مرنا ہے اور آسمان والوں کو بھی بقا نہیں، اور بےشک ہر شیء ہلاک ہونے والی ہے سوائے الله کی ذات کے، جس نے اپنی قدرت سے مخلوقات بنائی، اور وہ انہیں موت دے گا اپنے قہر وغلبہ سے، اور وہ انہیں دوبارہ زندہ کرے گا، تو وہ اسی اکیلے کی(ہمیشہ)عبادت کریں گے، اور وہی تنہا باقی رہے گا۔
[الكامل في التاريخ (امام)ابن الاثیر:3/167،
البداية والنهاية(امام)ابن کثیر:8/192، صفة مقتله]



وَاعْلَمِي أَنَّ أَبِي خَيْرٌ مِنِّي، وَأُمِّي خَيْرٌ مِنِّي، وَأَخِي خَيْرٌ مِنِّي، ولي ولهم ولكل مسلم برسول اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ، ثم حرج عليها أن لا تَفْعَلَ شَيْئًا مِنْ هَذَا بَعْدَ مَهْلِكِهِ۔
ترجمہ:
اور یاد رکھنا کہ میرا باپ مجھ سے بہتر ہے اور میری ماں بھی مجھ سے بہتر ہے اور میرا بھائی بھی مجھ سے بہتر ہے، اور میرے لئے اور ان کیلئے اور سارے مسلمانوں کیلئے اسوۃ (زندگی گذارنے کا نمونہ) رسول الله ﷺ ہیں۔
پھر فرمایا:
ان کے فوتگی کے بعد ان باتوں میں سے کوئی کام نہ کرنا۔
[الكامل في التاريخ (امام)ابن الاثیر:3/167]
[البداية والنهاية(امام)ابن کثیر:8/192، صفة مقتله]



---

حاصل اسباق اور نکات

1. حلم اور بردباری کی اہمیت: مصیبت کے وقت شیطان انسان کو بے صبری اور جذباتی حرکتوں پر اکساتا ہے، اس لیے حلم کو برقرار رکھنا ضروری ہے۔
2. ماتم کے اظہار کی حد: گریبان پھاڑنا، چہرہ نوچنا اور شریعت کے خلاف نوحہ کرنا ممنوع ہے، چاہے مصیبت کتنی ہی بڑی کیوں نہ ہو۔
3. تقدیر پر رضا: اپنی موت کے لیے "ویل و ثبور" کی دعا نہ کرنا — اس سے اللہ کی تقدیر پر اعتراض ہوتا ہے، بلکہ صبر و رضا اختیار کرنا چاہیے۔
4. دنیا کی فنا پذیری: زمین والے اور آسمان والے سب فانی ہیں، صرف اللہ کی ذات باقی ہے — یہ حقیقت ہر مصیبت میں تسلی دیتی ہے۔
5. اللہ کی وحدانیت اور قدرت: پیدا کرنا، مارنا اور دوبارہ زندہ کرنا صرف اللہ کے اختیار میں ہے، اس لیے ہر حال میں اس کی عبادت اور توحید پر قائم رہنا چاہیے۔
6. تواضع اور انکساری: سیدنا حسینؑ نے اپنے والد، والدہ اور بھائی کو اپنے سے بہتر قرار دے کر بے پناہ انکساری کا مظاہرہ کیا — یہ عظمتِ نفس کی دلیل ہے۔
7. اسوۂ رسول ﷺ: تمام مسلمانوں کے لیے نبی اکرم ﷺ کی زندگی مکمل نمونہ ہے، چاہے وہ کسی بھی مصیبت میں ہوں۔
8. بہن کو ترغیب اور تاکید: سیدنا حسینؑ نے زینبؑ کو نہ صرف اہم نصیحت کی بلکہ پوری تاکید کے ساتھ ان احکام کی پابندی کا حکم دیا، تاکہ شریعت کی حدود میں رہ کر صبر کا مظاہرہ کریں۔
9. مصائب میں اللہ سے ربط: ہر مصیبت کو اللہ کی طرف سے آزمائش سمجھ کر اس کے فضل و رحمت کی امید رکھنی چاہیے، نہ کہ جزع و فزع کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔
10. تعزیت اور تسلی کا طریقہ: "تعزیۃ اللہ" یعنی اللہ کے صبر سے تسلی حاصل کرنا — یہ سب سے بڑا ذریعۂ تسکین ہے، جو ایمان کی مضبوطی کو ظاہر کرتا ہے۔





سیدنا حسینؒ سے یہ سچی محبت وعظمت نہیں کہ سارے سال خوش وخرم پھریں، کبھی ان کا خیال بھی نہ آئے، اور عشرۂ محرم میں واقعہ شہادت سن کر رولیں، یا ماتم برپا کرلیں، یا تعزیہ داری کا کھیل تماشا بنائیں، سارے سال گرمی کی شدت کے زمانہ میں کسی کی پیاس وبھوک کا خیال نہ آئے اور پہلی محرم کو اگرچہ سردی پڑ رہی ہو، کسی کو ٹھنڈے پانی کی ضرورت نہ ہو، شہدائے کربلا کے نام کی سبیل کا ڈھونگ بنایا جائے۔
سیدنا حسینؒ سے یہ سچی محبت وہمدردی ہے کہ جس مقصدِ عظیم کیلئے انہوں نے یہ قربانی دی اس مقصد کو پورا کرنے کیلئے اپنی اپنی ہمت کے مطابق ایثار وقربانی پیش کریں، ان کے ایمان، اعمال، اخلاق، ارشادات وخطبات کی پیروی کو دنیا وآخرت کی سعادت سمجھیں۔


اُسوۂ حسینؒ» سانحہ کربلا اور صبر ورضا۔

فرزوق شاعر کے جواب میں جو کلمات کوفہ کے راستے میں آپ نے ارشاد فرمائے، اس کے چند جملے یہ ہیں کہ:
إِنْ نَزَلَ الْقَضَاءُ بِمَا نُحِبُّ فَنَحْمَدُ اللَّهَ عَلَى نَعْمَائِهِ وَهُوَ الْمُسْتَعَانُ عَلَى أَدَاءِ الشُّكْرِ، وَإِنْ حَالَ الْقَضَاءُ دُونَ الرَّجَاءِ فَلَمْ يَعْتَدِ مَنْ كَانَ الْحَقُّ نِيَّتَهُ، وَالتَّقْوَى سَرِيرَتَهُ. 
ترجمہ:
*اگر تقدیرِ الٰہی ہماری مراد کے موافق ہوئی تو ہم اللہ کا شکر کریں گے، اور ہم شکر ادا کرنے میں بھی اسی کی اعانت(مدد)طلب کریں گے کہ ادائے شکر کی توفیق دی، اور اگر تقدیرِ الٰہی مراد میں حائل ہوگئی تو اس شخص کا کچھ تصور نہیں جس کی نیت حق کی حمایت ہو اور جس کے دل میں خدا کا خوف ہو۔*
[تاريخ الطبري-تاريخ الرسول والملوك: ج5 ص386]
[الكامل في التاريخ(امام)ابن الاثیر» جلد3، صفحہ150، ت التدميري]
[البداية والنهاية-امام ابن كثير» ج11 ص510 ت التركي]

---

حاصل اسباق اور نکات:

1. رضا بقضاء: ہر حال میں اللہ کے فیصلے پر راضی رہنا چاہیے — خواہ وہ ہماری پسند کے مطابق ہو یا خلاف۔
2. شکر کا مستقل مزاج: نعمت ملنے پر شکر کرنا واجب ہے، اور شکر کی توفیق بھی اللہ ہی سے مانگنی چاہیے۔
3. مایوسی کی صورت میں بھی صبر: جب حالات امید کے برعکس ہوں تو نہ تو اللہ پر اعتراض کریں اور نہ ہی بے صبری دکھائیں۔
4. حق نیت اور تقویٰ کی اہمیت: جو شخص اپنی نیت کو حق پر رکھے اور اندرونی طور پر پرہیزگار ہو، وہ کبھی ظلم یا زیادتی نہیں کرتا، چاہے اس کی خواہشات پوری نہ ہوں۔
5. اللہ پر توکل: ہر معاملے میں اللہ سے مدد طلب کرنا چاہیے، خاص طور پر شکر کی ادائیگی جیسی عبادت میں۔
6. آزمائش میں کردار کا امتحان: اصل کسوٹی اس وقت ہوتی ہے جب انسان کی امیدوں کے برعکس حالات ہوں — ایسے وقت میں حق نیت اور تقویٰ ہی راہِ نجات ہے۔
7. دنیا میں ناامیدی کا علاج: یہ کلام سیدنا حسینؑ کا ہے جو خود سخت ترین مصائب سے دوچار ہونے والے تھے، پھر بھی انہوں نے رضا و تسلیم کا یہ درس دیا۔
8. عبادت کا تسلسل: شکر اور صبر دونوں عبادتیں ہیں، اور ہر حال میں انہیں برقرار رکھنا مومن کی صفت ہے۔








اُسوۂ حسینؒ» صبر ورضا۔
انتہائی مصیبت میں بھی قابلِ رشک نعمتوں کا شکر کرنا۔
اہلِ بیت کے سامنے آپ کے آخری ارشادات کے یہ جملے پھر پڑھیے:
وَأَحْمَدُهُ عَلَى السَّرَّاءِ وَالضَّرَّاءِ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَحْمَدُكَ عَلَى أَنْ أَكْرَمَتْنَا بِالنُّبُوَّةِ وَجَعَلْتَ لَنَا أَسْمَاعًا وَأَبْصَارًا وَأَفْئِدَةً وَعَلَّمْتَنَا الْقُرْآنَ وَفَقَّهْتَنَا فِي الدِّينِ فَاجْعَلْنَا لَكَ مِنَ الشَّاكِرِينَ
ترجمہ:
*میں اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں راحت میں بھی اور مصیبت میں بھی، اے اللہ! میں آپ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ آپ نے ہمیں شرافتِ نبوت سے نوازا اور ہمیں کان آنکھ اور دل دیئے جس سے ہم آپ کی آیات سمجھیں، اور ہمیں آپ نے قرآن سکھایا اور دین کی سمجھ عطا فرمائی، ہمیں آپ شکرگذاری بندوں میں داخل فرما لیجئے۔*
[تاريخ الطبري-تاريخ الرسول والملوك: ج5 ص418]
[الكامل في التاريخ(امام)ابن الاثیر» جلد3، صفحہ166، ت التدميري]

---

حاصل اسباق اور نکات:

1. ہر حال میں حمد و ثنا: خوشی اور غم، دونوں حالتوں میں اللہ کی حمد کرنا مومن کی شان ہے — کیونکہ ہر صورت میں اللہ کی حکمت اور تدبیر کارفرما ہوتی ہے۔
2. نبوت عظیم ترین نعمت: نبوت کا ذکر سب سے پہلے کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ یہ امت کے لیے سب سے بڑا احسان ہے، جس کے ذریعے ہدایت کا دروازہ کھلا۔
3. حواس خمسہ کا شکریہ: سماعت (کان)، بصارت (آنکھ) اور فؤاد (دل/عقل) وہ بنیادی نعمتیں ہیں جن کے ذریقے انسان علم حاصل کرتا ہے، اس لیے ان کا صحیح استعمال اور ان پر شکر واجب ہے۔
4. قرآن و فقہ کی نعمت: قرآن کا علم اور دین کی گہری سمجھ (فقہ) روحانی دولت ہے جو انسان کو دنیا و آخرت میں سرخرو کرتی ہے۔
5. شکرگزاری کی توفیق طلب: شکر کرنا صرف زبان کا ورد نہیں، بلکہ یہ اللہ کی خاص توفیق ہے، اسی لیے سیدنا حسینؑ نے دعا کی کہ ہمیں شاکرین بنا — یعنی شکر کا عملی ثبوت دینے والے۔
6. علم اور عمل کا تعلق: قرآن سکھانے اور دین میں فقہ (سمجھ) دینے کا مقصد صرف علمی فضیلت نہیں، بلکہ اس پر عمل کرنا اور شکر کا حق ادا کرنا ہے۔
7. تواضع اور انکساری: سیدنا حسینؑ جیسی عظیم شخصیت اللہ کے سامنے نہایت عاجزی کے ساتھ ان نعمتوں کا ذکر کرتی ہے اور شکرگزاری کی دعا مانگتی ہے — یہ ہمارے لیے مشعلِ راہ ہے۔
8. نعمتوں کا تعلق آخرت سے: آنکھ، کان اور دل صرف دنیاوی استعمال کے لیے نہیں، بلکہ ان کا اصل مقصد قرآن کو سمجھنا، دین پر عمل کرنا اور اللہ کی رضا حاصل کرنا ہے۔










اُسوۂ حسینؒ» صبر ورضا۔
جنگ میں بھی نماز کی وقت پر پابندی:

وَدَخَلَ عَلَيْهِمْ وَقْتُ الظُّهْرِ فَقَالَ الْحُسَيْنُ: مُرُوهُمْ فَلْيَكُفُّوا عَنِ الْقِتَالِ حَتَّى نُصَلِّيَ۔
ترجمہ:
اور جب ظہر(نماز)کا وقت آیا تو سیدنا حسینؓ نے فرمایا: جنگ ملتوی کرلو یہاں تک کہ ہم نماز پڑھ لیں۔
[البداية والنهاية(امام)ابن کثیر:8/198، صفة مقتله]

---

حاصل اسباق اور نکات:

1. نماز کی عظمت: جنگ اور جان کی بازی کے نازک ترین لمحات میں بھی سیدنا حسینؑ نے نماز کو مقدم رکھا — یہ اس بات کی دلیل ہے کہ نماز ہر حال میں فرض ہے، چاہے میدانِ جنگ ہی کیوں نہ ہو۔
2. وقت کی پابندی: ظہر کا وقت ہوتے ہی آپ نے دشمن سے جنگ بندی کا مطالبہ کیا تاکہ نماز وقت پر ادا کی جا سکے — یہ وقت کی پابندی اور نماز کی التزام کی عملی مثال ہے۔
3. دشمن کو بھی روکنے کا حکم: آپ نے اپنے ساتھیوں کو حکم دیا کہ دشمن کو روکیں، اس کا مطلب یہ ہے کہ نماز کی ادائیگی کے لیے امن کا ماحول پیدا کرنا ضروری ہے، اور اس سلسلے میں ہر ممکن کوشش کی جائے۔
4. خوف کی حالت میں بھی نماز: اگرچہ حالتِ خوف میں نمازِ خوف (صلاۃ الخوف) پڑھنے کا حکم ہے، لیکن سیدنا حسینؑ نے پہلے جنگ روکنے کی کوشش کی تاکہ خشوع و خضوع کے ساتھ نماز ادا کی جا سکے۔
5. رہبر کا اصولی کردار: آپ نے دشمن کو اس وقت بھی عدل اور اخلاق کا پیغام دیا — جنگ کے دوران بھی شریعت کی حدود قائم رکھیں اور غیروں کو بھی اس کی پاسداری کی دعوت دی۔
6. عبادت کو جہاد پر ترجیح: یہ عمل اس بات کا ثبوت ہے کہ جہاد کا اصل مقصد اللہ کی عبادت اور اس کی رضا ہے، لہٰذا عبادت کا وقت آتے ہی جہاد رک جانا چاہیے۔
7. امت کے لیے اسوۂ حسنہ: سیدنا حسینؑ کا یہ عمل ہر مسلمان کے لیے مشعلِ راہ ہے کہ کاروبار، مصروفیات، حتیٰ کہ جنگ جیسے بحرانی حالات میں بھی نماز کو ہرگز ترک نہ کریں۔
8. نماز قائد اور لشکر دونوں کے لیے: آپ نے صرف اپنے لیے نہیں، بلکہ "نُصَلِّيَ" (ہم نماز پڑھیں) کہہ کر اپنی پوری جماعت کو نماز میں شامل کیا — اس سے جماعت کی اہمیت اور اجتماعی عبادت کا درس ملتا ہے۔




اُسوۂ حسینؒ» صبر ورضا۔
سیدنا حسینؓ بن علیؓ کا عقیدہ توحید اور دعائے کرب:

جب صبح کے وقت دشمنوں کا سامنا ہوا تو سیدنا حسینؓ ہاتھ اٹھا کر یہ دعا کی:
اللَّهُمَّ أَنْتَ ثِقَتِي فِي كُلِّ كَرْبٍ وَرَجَائِي فِي كُلِّ شِدَّةٍ، وَأَنْتَ لِي فِي كُلِّ أَمْرٍ نَزَلَ بِي ثِقَةٌ وَعُدَّةٌ، كَمْ مِنْ هَمٍّ يَضْعُفُ فِيهِ الْفُؤَادُ وَتَقِلُّ فِيهِ الْحِيلَةُ وَيَخْذُلُ فِيهِ الصَّدِيقُ وَيَشْمَتُ بِهِ الْعَدُوُّ أَنْزَلْتُهُ بِكَ وَشَكَوْتُهُ إِلَيْكَ رَغْبَةً إِلَيْكَ عَمَّنْ سِوَاكَ فَفَرَّجْتَهُ وَكَشَفْتَهُ وَكَفَيْتَنِيهِ، فَأَنْتَ وَلِيُّ كُلِّ نِعْمَةٍ، وَصَاحِبُ كُلِّ حَسَنَةٍ، وَمُنْتَهَى كُلِّ رَغْبَةٍ.
ترجمہ:
اے اللہ! آپ ہی میری ہر مشکل میں مضبوط قلعہ ہیں، ہر پریشانی میں میری امید ہیں، اور آپ ہی آنے والی ہر مصیبت میں راحت رساں ہیں، کتنے ہی غم ایسے ہیں جو دلوں کو کمزور کر دیتے ہیں، ان سے چھٹکارے کی راہیں کم ہوجاتی ہیں دوست بھی اس موقع پر ناکام ہوجاتے ہیں، دشمن خوش ہوجاتے ہیں، میں نے آپ سے مانگا اور آپ ہی کی طرف رجوع کیا، آپ کے علاوہ کسی طرف رغبت نہیں ہے، آپ نے میری ان پریشانیوں کو دور کردیا، آپ ہی میری ہر نعمت کے والی ہیں، ہر بھلائی میں میرے مددگار وساتھی ہیں، ہر عنایت کی آپ ہی انتہاء ہیں۔
[تاريخ الطبري:5/423،
الكامل في التاريخ (امام)ابن الاثیر:3/169،
البداية والنهاية(امام)ابن کثیر:8/193، صفة مقتله]



---

حاصل اسباق اور نکات:

1. اللہ پر مکمل بھروسہ: مصیبت اور سختی کے وقت صرف اللہ ہی سہارا اور امید کا مرکز ہے — اس لیے بندے کو ہر حال میں اس کی طرف رجوع کرنا چاہیے۔
2. دوسروں سے بے نیازی: جب دل کمزور ہو، تدبیریں ناکام ہوں، دوست خیانت کریں اور دشمن خوشی منائے تو ایسے وقت میں اللہ کے سوا کوئی مددگار نہیں۔
3. شکایت کا صحیح طریقہ: اللہ سے اپنی پریشانی کو بیان کرنا (شکایت) جائز ہے، لیکن یہ شکایت صرف اس کی بارگاہ میں ہو، نہ کہ مخلوق کے سامنے شکوہ و شکایت۔
4. دعا میں رغبت و انکسار: دعا کرتے وقت اللہ کی طرف رغبت کا اظہار کریں اور یہ احساس دلائیں کہ اس کے سوا کوئی حاجت روا نہیں — یہی توحید کا عین تقاضا ہے۔
5. اللہ کی صفات فرج و کشف: اللہ ہی تنگی کو دور کرنے والا (فَرَّجَ) اور مصیبت کو ہٹانے والا (کَشَفَ) ہے، اور وہی بندے کو کافی ہے (کَفَى)۔
6. ہر نعمت کا مالک اللہ: جو بھی نعمت، خوشی، یا بھلائی ملتی ہے، وہ سب اللہ کی طرف سے ہے، وہی اس کا حقیقی ولی اور صاحب ہے۔
7. ہر خواہش کا انجام اللہ تک: انسان کی تمام خواہشات، امنگ اور رغبتیں بالآخر اللہ ہی پر ختم ہوتی ہیں — لہٰذا ہر حاجت اسی سے مانگیں۔
8. سیدنا حسینؑ کا اسوہ: اس دعا سے معلوم ہوتا ہے کہ سخت ترین حالات میں بھی آپ نے اللہ سے رجوع کیا، نہ کہ کسی مخلوق سے — یہ ہمارے لیے عملی نمونہ ہے۔
9. دوستوں اور دشمنوں کا امتحان: یہ دعا بتاتی ہے کہ دنیا میں دوست بھی مصیبت میں ساتھ چھوڑ سکتے ہیں اور دشمن خوشی مناتے ہیں، اس لیے اللہ ہی واحد حقیقی رفیق ہے۔
10. توحید کا اظہار: اللہ کی نعمتوں، حسنات اور خواہشات کی انتہا کو اس کے حوالے کرنا — یہ مکمل توحید اور تفویض ہے جو ہر مومن کا شعار ہونا چاہیے۔




سیدنا حسینؒ سے یہ سچی محبت وعظمت نہیں کہ سارے سال خوش وخرم پھریں، کبھی ان کا خیال بھی نہ آئے، اور عشرۂ محرم میں واقعہ شہادت سن کر رولیں، یا ماتم برپا کرلیں، یا تعزیہ داری کا کھیل تماشا بنائیں، سارے سال گرمی کی شدت کے زمانہ میں کسی کی پیاس وبھوک کا خیال نہ آئے اور پہلی محرم کو اگرچہ سردی پڑ رہی ہو، کسی کو ٹھنڈے پانی کی ضرورت نہ ہو، شہدائے کربلا کے نام کی سبیل کا ڈھونگ بنایا جائے۔
سیدنا حسینؒ سے یہ سچی محبت وہمدردی ہے کہ جس مقصدِ عظیم کیلئے انہوں نے یہ قربانی دی اس مقصد کو پورا کرنے کیلئے اپنی اپنی ہمت کے مطابق ایثار وقربانی پیش کریں، ان کے ایمان، اعمال، اخلاق، ارشادات وخطبات کی پیروی کو دنیا وآخرت کی سعادت سمجھیں۔







اُسوۂ حسینؒ»
سیدنا حسینؓ نے میدانِ کربلا میں اپنے مخالفین سے مخاطب ہوکر فرمایا:
إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لِي وَلِأَخِي: «أَنْتُمَا سَيِّدَا شَبَابِ أَهْلِ الْجَنَّةِ (وَقُرَّةُ عَيْنِ أَهْلِ السُّنَّةِ) »
ترجمہ:
بےشک رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے اور میرے بھائی (سیدنا حسنؓ) سے فرمایا:
تم دونوں اہلِ جنت کے نوجوانوں کے سردار ہو اور اہلِ سنت کے آنکهوں کی ٹهنڈک ہو۔

[الكامل في التاريخ(امام)ابن الاثیر» جلد3، صفحہ170، ت التدميري]







*واقعہ کربلا پر مستند روایات پر مبنی محقق ومستند مفتیانِ کرام کے"تحقیقی"بیانات»*
(1)مفتی محمد زبیر
دوسرا حصہ

(2)مفتی محمد سعید خان
قدیم بیان
جدید بیان

(3)مفتی طارق مسعود


(4)مفتی عبد الواحد قریشی

2021

(5)مفتی سعید احمد جلالپوری مرحوم

(6)مفتی عقیل الرحمٰن صاحب قاسمی

(7)مفتی محمد اسماعیل صاحب قاسمی




*اصلاحی بیانات:*
(8)مفتی ڈاکٹر زبیر اشرف عثمانی

(9)مفتی اعظم امریکا مفتی منیر احمد اخون

2022

(10)شیخ محمد مکی الحجازی

(11)مولانا طارق جمیل


(12) پیر ذوالفقار نقشبندی 

(13) ڈاکٹر اسرار احمد مرحوم
آخری درس
قدیم درس



شہادتِ حسین اور نبوی پیشگوئی:
(1)عَنْ عَائِشَةَ أَوْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ لِإِحْدَاهُمَا: لَقَدْ دَخَلَ عَلَيَّ الْبَيْتَ مَلَكٌ لَمْ يَدْخُلْ عَلَيَّ قَبْلَهَا فَقَالَ لِي: إِنَّ ابْنَكَ هَذَا: حُسَيْنٌ مَقْتُولٌ، وَإِنْ شِئْتَ أَرَيْتُكَ مِنْ تُرْبَةِ الْأَرْضِ الَّتِي يُقْتَلُ بِهَا. قَالَ: فَأَخْرَجَ تُرْبَةً حَمْرَاءَ.
ترجمہ:
ام المومنین حضرت عائشہؓ یا ام سلمہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی  ‌ﷺ ‌نے ان دونوں میں سے کسی ایک سے فرمایا: میرے پاس گھر میں ایک فرشتہ آیا ہے جو اس سے پہلے میرے پاس نہیں آیا اور مجھ سے کہا: تمہارا بیٹا حسین قتل کیا جائے گا، اگر آپ چاہیں تو میں آپ کو اس زمین کی مٹی دکھا سکتا ہوں جس میں اسے قتل کیا جائے گا۔ پھر اس نے سرخ مٹی نکال کر دکھائی۔
[مسند أحمد:26524، الصحيحة:822]

نکات:
(1)حضرت حسینؓ کی فضیلت(شہید کے درجہ پر قائز ہونا)۔
[فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل:1357، مجمع الزوائد:15113]
(2)فتنوں کا بیان:- حضرت حسین کی قتل کی جگہ
[المطالب العالية محققا:18/ 250]
(3)نبی کے نبوت کے سچائی کے دلائل:-معجزات اور پیشگوئیاں۔
[دلائل النبوة - السقار: صفحہ21]
(4)نواسہ مصطفیٰ ﷺ کو یہ امت قتل کرے گی۔
[صحيح ابن حبان:4855]
(5)اللہ کے فیصلون پر راضی رہنا۔
(6)اللہ کے کہنے پر پیغمبر ابراہیم کا اپنے بیٹے اسماعیل کو قربان کرنے کا نمونہ
(7)ہر سال ماتم ونوحہ کے بجائے صبر کرنا سنت ہے۔




(2)عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ مَلَكَ الْمَطَرِ اسْتَأْذَنَ رَبَّهُ  أَنْ يَأْتِيَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَذِنَ لَهُ، فَقَالَ لِأُمِّ سَلَمَةَ: " امْلِكِي عَلَيْنَا الْبَابَ، لَا يَدْخُلْ عَلَيْنَا أَحَدٌ "، قَالَ: وَجَاءَ الْحُسَيْنُ لِيَدْخُلَ فَمَنَعَتْهُ، فَوَثَبَ فَدَخَلَ فَجَعَلَ يَقْعُدُ عَلَى ظَهَرِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَعَلَى مَنْكِبِهِ، وَعَلَى عَاتِقِهِ، قَالَ: فَقَالَ الْمَلَكُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَتُحِبُّهُ؟ قَالَ: " نَعَمْ "، قَالَ: أَمَا إِنَّ أُمَّتَكَ سَتَقْتُلُهُ، وَإِنْ شِئْتَ أَرَيْتُكَ الْمَكَانَ الَّذِي يُقْتَلُ فِيهِ، فَضَرَبَ بِيَدِهِ فَجَاءَ بِطِينَةٍ حَمْرَاءَ، فَأَخَذَتْهَا أُمُّ سَلَمَةَ فَصَرَّتْهَا فِي خِمَارِهَا قَالَ: قَالَ ثَابِتٌ: " بَلَغَنَا أَنَّهَا كَرْبَلَاءُ
ترجمہ:
حضرت انسؓ بن مالک سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ بارش کے ذمے دار فرشتے نے اللہ تعالیٰ سے نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہونے کی اجازت چاہی، اللہ تعالیٰ نے اسے اجازت دے دی، نبی ﷺ نے اس موقع پر حضرت ام سلمہؓ سے فرمایا کہ دروازے کا خیال رکھو کہ ہمارے پاس کوئی اندر نہ آنے پائے، تھوڑی دیر میں حضرت حسینؓ آئے اور گھر میں داخل ہونا چاہا، حضرت ام سلمہؓ نے انہیں روکا تو وہ کود کر اندر داخل ہوگئے اور جا کر نبی ﷺ کی پشت پر، مونڈھوں اور کندھوں پر بیٹھنے لگے، اس فرشتے نے نبی ﷺ سے پوچھا کہ کیا آپ کو اس سے محبت ہے؟ نبی ﷺ نے فرمایا: ہاں! تو فرشتے نے کہا کہ یاد رکھئے! آپ کی امت اسے قتل کر دے گی، اگر آپ چاہیں تو میں آپ کو وہ جگہ بھی دکھا سکتا ہوں جہاں یہ شہید ہوں گے، یہ کہہ کر فرشتے نے اپنا ہاتھ مارا تو اس کے ہاتھ میں سرخ رنگ کی مٹی آگئی، حضرت ام سلمہؓ نے وہ مٹی لے کر اپنے دوپٹے میں باندھ لی۔
[مسند أحمد:13539+13794، مسند أبي يعلى:3402، صحيح ابن حبان:4855، المعجم الكبير للطبراني:2813، دلائل النبوة لأبي نعيم الأصبهاني:492 الصحيحة: 822، صحيح الكتب التسعة وزوائده:6667]





(3)عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُجَيٍّ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ سَارَ مَعَ عَلِيٍّ، وَكَانَ صَاحِبَ مِطْهَرَتِهِ، فَلَمَّا حَاذَى نِينَوَى وَهُوَ مُنْطَلِقٌ إِلَى صِفِّينَ، فَنَادَى عَلِيٌّ: اصْبِرْ أَبَا عَبْدِ اللهِ، اصْبِرْ أَبَا عَبْدِ اللهِ، ‌بِشَطِّ ‌الْفُرَاتِ قُلْتُ: وَمَاذَا قَالَ؟، دَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ وَعَيْنَاهُ تَفِيضَانِ، قُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللهِ، أَغْضَبَكَ أَحَدٌ، مَا شَأْنُ عَيْنَيْكَ تَفِيضَانِ؟ قَالَ: " بَلْ قَامَ مِنْ عِنْدِي جِبْرِيلُ قَبْلُ، فَحَدَّثَنِي أَنَّ الْحُسَيْنَ يُقْتَلُ ‌بِشَطِّ ‌الْفُرَاتِ " قَالَ: فَقَالَ: " هَلْ لَكَ إِلَى أَنْ أُشِمَّكَ مِنْ تُرْبَتِهِ؟ " قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ. فَمَدَّ يَدَهُ، فَقَبَضَ قَبْضَةً مِنْ تُرَابٍ فَأَعْطَانِيهَا، فَلَمْ أَمْلِكْ عَيْنَيَّ أَنْ فَاضَتَا»۔
ترجمہ:
عبداللہ بن نجی اپنے والد سے بیان کرتے ہیں کہ وہ علی‌ؓ  کے ساتھ جا رہے تھے،وہ ان کے وضو کا برتن (لوٹا) اٹھایا کرتے تھے۔ جب وہ (نینویٰ) کے قریب پہنچے جبکہ علی‌ؓ  صفین کی طرف جا رہے تھے۔ تو علی‌ؓ نے آواز دی:ابو عبداللہ! رکو، ابو عبداللہ! فرات کے کنارے رکو، میں نے کہا: کیا ہوا؟ علی‌ؓ  نے کہا: ایک دن میں نبی ﷺ کے پاس گیا،آپ کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے، میں نے کہا: اے اللہ کے نبی! کیا آپ کو کسی نے غصہ دلایا ہے؟ آپ کی آنکھوں آنسو کیوں جاری ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: نہیں، بلکہ جبریل ابھی ابھی میرے پاس سے اٹھ کر گئے ہیں، انہوں نے مجھے بتایا ہے کہ حسین فرات کے کنارے قتل کیا جائے گا۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: کیا تم پسند کرو گے کہ میں اس کی مٹی کی خوشبو سنگھاؤں؟ علی‌ؓ  کہتے ہیں کہ میں نے کہا: ہاں، آپ ﷺ نے ہاتھ آگے بڑھایا، آپ نے مٹی کی ایک مٹھی مجھے دی، مجھے بھی اپنی آنکھوں پر قابو نہ رہا اور آنسو نکل آئے۔
[مسند أحمد:648،  الصحيحة:1171]

نکات:
(1)حضرت حسینؓ کی فضیلت(شہید کے درجہ پر قائز ہونا)۔
[المستدرك على الصحيحين للحاكم:4818، مشكاة المصابيح:6180]
(2)فتنوں کا بیان:- حضرت حسین کا مقتل
[البداية والنهاية ت التركي:9/ 238، إمتاع الأسماع:12/ 237، المقفى الكبير:3/322]
(3)اپنی بیٹی (حضرت فاطمہؓ) کے بیٹے ابی عبداللہ الحسین بن علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے قتل کے بارے میں ان کے بیان کرنے کے بارے میں کیا بیان کیا گیا ہے۔ اور جو نشانیاں اس وقت ظاہر ہوئیں جو آپؓ کے دادا (محمد ﷺ) کی نبوت کی درستی پر دلالت کرتی ہیں۔
[دلائل النبوة للبيهقي: 6/ 469]




(4)عَنْ أُمِّ الْفَضْلِ بِنْتِ الْحَارِثِ، أَنَّهَا دَخَلَتْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي رَأَيْتُ حُلْمًا مُنْكَرًا اللَّيْلَةَ، قَالَ: «مَا هُوَ؟» قَالَتْ: إِنَّهُ شَدِيدٌ، قَالَ: «مَا هُوَ؟» قَالَتْ: رَأَيْتُ كَأَنَّ قِطْعَةً مِنْ جَسَدِكَ قُطِعَتْ وَوُضِعَتْ فِي حِجْرِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «رَأَيْتِ خَيْرًا، تَلِدُ فَاطِمَةُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ غُلَامًا، فَيَكُونُ فِي حِجْرِكِ» فَوَلَدَتْ فَاطِمَةُ الْحُسَيْنَ فَكَانَ فِي حِجْرِي كَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَدَخَلْتُ يَوْمًا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَضَعْتُهُ فِي حِجْرِهِ، ثُمَّ حَانَتْ مِنِّي الْتِفَاتَةٌ، فَإِذَا عَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تُهْرِيقَانِ مِنَ الدُّمُوعِ، قَالَتْ: فَقُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي مَا لَكَ؟ قَالَ: «أَتَانِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ، فَأَخْبَرَنِي أَنَّ ‌أُمَّتِي ‌سَتَقْتُلُ ‌ابْنِي هَذَا» فَقُلْتُ: هَذَا؟ فَقَالَ: «نَعَمْ، وَأَتَانِي بِتُرْبَةٍ مِنْ تُرْبَتِهِ حَمْرَاءَ»۔
ترجمہ:
ام الفضل بنت حارثؓ سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا، اللہ کے رسول! میں نے رات ایک عجیب سا خواب دیکھا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ کیا ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: وہ بہت شدید ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ کیا ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: میں نے دیکھا کہ گویا گوشت کا ایک ٹکڑا ہے جو آپ کے جسم اطہر سے کاٹ کر میری گود میں رکھ دیا گیا ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم نے خیر دیکھی ہے، ان شاء اللہ فاطمہ بچے کو جنم دیں گی اور وہ تمہاری گود میں ہو گا۔ “ فاطمہؓ نے حسینؓ کو جنم دیا اور وہ میری گود میں تھا جیسے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا۔ (تو انہوں نے ان کو دودھ پلایا، جو قثم بن عباس کا دودھ تھا) ایک روز میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی تو میں نے حسینؓ کو آپ کی گود میں رکھ دیا۔ پھر میں کسی اور طرف متوجہ ہو گئی، اچانک دیکھا تو رسول اللہ ﷺ کی آنکھوں سے آنسو رواں تھے، وہ بیان کرتی ہیں، میں نے عرض کیا، اللہ کے نبی! میرے والدین آپ پر قربان ہوں! آپ کو کیا ہوا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جبریل ؑ میرے پاس تشریف لائے اور انہوں نے مجھے بتایا کہ میری امت عنقریب میرے اس بیٹے کو شہید کر دے گی۔ میں نے کہا: اس (بچے) کو؟ انہوں نے کہا: ہاں! اور انہوں نے مجھے اس (جگہ) کی سرخ مٹی لا کر دی۔ “
[المستدرك على الصحيحين للحاكم:4818، دلائل النبوة للبيهقي:6/ 469، الصحيحة:‌‌821]
(مسند أحمد:26878، سنن ابن ماجه:3923، المعجم الكبير للطبراني:2541)




حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: " رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِي الْمَنَامِ بِنِصْفِ النَّهَارِ أَشْعَثَ أَغْبَرَ مَعَهُ قَارُورَةٌ فِيهَا دَمٌ يَلْتَقِطُهُ أَوْ يَتَتَبَّعُ فِيهَا شَيْئًا قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ مَا هَذَا؟ قَالَ: دَمُ الْحُسَيْنِ وَأَصْحَابِهِ لَمْ أَزَلْ أَتَتَبَّعُهُ مُنْذُ الْيَوْمَ " قَالَ عَمَّارٌ: " فَحَفِظْنَا ذَلِكَ الْيَوْمَ فَوَجَدْنَاهُ قُتِلَ ذَلِكَ الْيَوْمَ "۔
ترجمہ:
حضرت ابن عباسؓ سے مروی ہے کہ میں نے ایک مرتبہ نصف النہار کے وقت خواب میں نبی ﷺ کی زیارت کا شرف حاصل کیا، اس وقت آپ ﷺ کے بال بکھرے ہوئے اور جسم پر گرد و غبار تھا، آپ ﷺ کے پاس ایک بوتل تھی جس میں وہ کچھ تلاش کر رہے تھے، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! ﷺ یہ کیا ہے؟ فرمایا: یہ حسین اور اس کے ساتھیوں کا خون ہے، میں صبح سے اس کی تلاش میں لگا ہوا ہوں۔ راوی حدیث عمار کہتے ہیں کہ: ہم نے وہ تاریخ اپنے ذہن میں محفوظ کرلی بعد میں پتہ چلا کہ حضرت امام حسینؓ اسی تاریخ اور اسی دن شہید ہوئے تھے (جس دن حضرت ابن عباسؓ نے خواب دیکھا تھا )
[احمد (2165)،  إسناده قوي على شرط مسلم.
وأخرجه الطبراني (2822) و (12837) ، والحاكم 4/397-398 من طرق عن حماد بن سلمة، بهذا الإسناد. وصححه الحاكم على شرط مسلم ووافقه الذهبي، وسيأتي برقم (2553) .]



اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب نبی ﷺ کو معلوم تھا کہ میرا نواسہ شہید کردیا جائے گا تو اللہ سے دعا کیوں نہیں کی کہ اے اللہ! میرے نواسے کو بچالے؟ حضرت علی و حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما کو بھی بیٹے کی شہادت کی خبر پہلے سے ہی معلوم ہے اور یہ بھی معلوم ہے کہ نبی کریم ﷺ کی دعائیں رد نہیں ہونگی پھر ان لوگوں نے نبی سے دعا کرنے کے لئے کیوں نہیں کہا؟ جس کا جواب یہی ہے کہ دین کو بچانے کے لئے صبر و استقامت کی ضرورت ہوتی ہے اور دین کو پھیلانے کے لئے کر امت کی ضرورت ہوتی ہے اور نانا کے دین کو بچانے کے لئے نواسے نے اپنا گھرانہ قربان کیا اور نبی کریم ﷺ کو یہ معلوم تھا کہ آگے چل کر میرے دین کو جھٹلانے کی کوشش کی جائے گی ، قرآن مجید کی بے حرمتی کی جائے گی ، دین اسلام کے اصول ضابطوں کو تبدیل کرنے کی کوشش کی جائے گی، اس وقت میرے نواسے سے کہا جائے گا کہ تم بھی بیعت کرو اور اگر میرا نواسہ بیعت کرلے گا تو دین اسلام کی شبیہ بگڑ جائے گی، پھر آنے والی نسلیں کہیں گی ، جب نبی کی شریعت کو بدلا جارہا تھا تو خود نبی کے نواسے نے مخالفت نہیں کی، گویا ظالموں کے لئے وہ سند بن جائے گی اور پھر دین اسلام کی تصویر بگڑتی چلی جائے گی ، اس لیے نبی نے آنکھوں سے آنسو بہایا لیکن دعا کے لئے ہاتھ نہیں اٹھایا، اور آج ہم ڈنکے کی چوٹ پر کہتے ہیں کہ ظلم و بر بریت، جاہلیت و دہشتگردی کے خلاف سب سے پہلے اور سب سے بڑی جنگ نانا محمد الرسول اللہ اور نواسہ امام حسین نے لڑی ہے –
[مشکوٰۃ/ خصائص کبریٰ/ صواعق محرقہ]






واقعہ کربلا

واقعہ کربلا

واقعہ کربلا شروع ہونے سے پہلے یزید کے بارے جان لیں کہ سیدنا معاویہؓ نے یزید کو جانشین کیوں بنایا؟

 یزید کی ولی عہدی
شیعہ حضرات یزید کے مسئلے میں سیدنا امیر معاویہؓ پر بہت کچھ اعتراضات کرتے ہیں کہ حضرت معاویہؓ کا اپنے بیٹے یزید کو خلیفہ منتخب کرنا درست نہیں تھا۔ اس طریقہ سے انہوں نے خلفائے راشدینؓ سے اختلاف کیا اور مخالفینِ اسلام یعنی قیصر و کسریٰ کے طریقہ کو رواج دیا، اس وجہ سے امت میں بڑے مفاسد کھڑے ہوئے اور انہوں نے قوم کو غلط راہ پر ڈال دیا، یہ کام انہوں نے ذاتی مفاد اور حفاظتِ اقتدار کی خاطر سر انجام دیا تھا جو کہ غلط کام تھا۔
نوٹ: اس معاملہ میں یہ وضاحت ضروری ہے کہ یزید صحابی نہیں ہے، اس لیے اس سے متعلق کسی قسم کے الزام کا جواب دینے کے ہم ذمہ دار نہیں اور نہ ہی ہم اس کی ضرورت سمجھتے ہیں۔ اپنے کاموں کا یزید خود ذمہ دار ہے۔
محترم قارئین کرام! اس مسئلے کو اچھی طرح سمجھانے کے لیے چند امور ذکر کیے جاتے ہیں، ان پر توجہ فرمائیں، امید ہے قابلِ اطمینان ہوں گے:
1: یزید کی جانشینی کے مسئلہ میں پہلے یہ چیز معلوم کرنی چاہیے کہ شرعی طور پر بیٹے کو اپنے والد کی جگہ پر والی و حاکم منتخب کرنا جائز ہے یا نہیں؟
اس کے متعلق یہ چیز واضح ہے کہ نصوصِ قرآنی اور احادیث صحیحہ کے اعتبار سے یہ صورت منع نہیں بلکہ جائز ہے۔ شیعہ حضرات اس مسئلہ پر اپنی کتابوں سے بھی کوئی سند نہیں لا سکتے کہ بیٹے کو جانشین بنانا ناجائز ٹھہرے۔ اگر شرعی قوانین اور آئین کی رو سے بیٹے کو باپ کی جگہ پر والی منتخب کرنا ناجائز ہوتا تو سیدنا حسنؓ کو اس دور کے اکابر نے سیدنا علی المرتضیٰؓ کے قائم مقام کیسے منتخب کر لیا؟ انہیں کیوں یہ خیال نہیں آیا کہ اس طرح امت ایک غلط راہ پر چل پڑے گی۔ روایات میں اس طرح موجود ہے کہ سیدنا علی المرتضیٰؓ کے دفن سے فراغت کے بعد سیدنا حسنؓ نے خود لوگوں کو اپنی بیعت کی طرف دعوت دی اور بلایا۔ اس پر لوگوں نے حضرت حسنؓ کی بیعت کی۔
ثم انصرف الحسن بن علي من دفنه فدعا الناس إلى بيعته فبايعوه
(طبقات ابنِ سعد: جلد 3 صفحہ 38)
یہاں سے واضح ہو گیا کہ والد کی جگہ اس کے فرزند کو والی اور حاکم بنانا درست ہے، یہ کوئی قابل اعتراض چیز نہیں اور نہ ہی یہ قیصر و کسریٰ کے طریق کی اتباع ہے اور جو لوگ دن رات وورثَ سُلَيْمٰن دَاوُدَ پڑھتے ہوں وہ اس قسم کی غلط بات کیسے کہہ سکتے ہیں؟ البتہ انتخاب میں اس کی اہلیت شرط ہوتی ہے اور اس کا لحاظ رکھا جاتا ہے۔
یزید کو جانشین بنانے کی وجہ:
ظاہر بات ہے کہ اتنی عظیم سلطنت کے نظم و انتظام کو قائم رکھنے اور اس کے استحکام کی بڑی ضرورت تھی جس کی وجہ سے سیدنا امیر معاویہؓ نے اپنا جانشین اور ولی عہد تجویز کرنے کی طرف توجہ کی اور حالات کے تقاضوں کے پیشِ نظر اپنے بیٹے یزید کو اس منصب کے لیے مناسب سمجھا۔
سیدنا امیر معاویہؓ نے اپنے ولی عہد کے انتخاب کے سلسلہ میں جو صورت اختیار فرمائی،وہ ان کے خیال میں اس دور کے حالات اور وقت کے تقاضوں کے مطابق تھی۔ سیدنا معاویہؓ کی دیانت دارانہ رائے تھی کہ یزید امور مملکت میں بہتر ہے۔
چنانچہ ابوزید عبد الرحمٰن بن محمد بن محمد بن خلدون ولی الدین التونسی الحضرمی الاشبیلی المالکی المعروف ابن خلدون ( 808ھ) لکھتے ہیں:
والّذي دعا معاوية لإيثار ابنه يزيد بالعهد دون من سواه إنّما هو مراعاة المصلحة في اجتماع النّاس واتّفاق أهوائهم باتّفاق أهل الحلّ والعقد عليه حينئذ من بني أميّة إذ بنو أميّة يومئذ لا يرضون سواهم وهم عصابة قريش وأهل الملّة أجمع وأهل الغلب منهم فآثره بذلك دون غيره ممّن يظنّ أنّه أولى بها
(تاریخ ابن خلدون: جلد 1 صفحہ 263 )
ترجمہ: جس بات نے امیر معاویہؓ کو کسی دوسرے کے بجائے اپنے بیٹے کو ولی عہد بنانے پر آمادہ کیا وہ صرف اس مصلحت کی رعایت تھی کہ اس وقت بنو امیہ کے اہل حل و عقد کے نزدیک یزید پر اتفاق کرنے سے مخالفین کا اتفاق و اجماع حاصل ہو جائے گا، اس وقت بنو امیہ اپنے اصحاب اقتدار کے علاوہ کسی اور کو قبول کرنے پر راضی نہ تھے، اور بنوامیہ ہی قریش اور پوری ملت کے سرکردہ تھے انہیں ہی تسلط و اقتدار حاصل تھا، اسی وجہ سے معاویہؓ نے دوسروں پر یزید کو ترجیح دی، جن کے متعلق یہ گمان تھا کہ وہ ولایت و خلافت کے لیے زیادہ موزوں اور بہتر ہیں۔"
جہاں تک یزید کے فاسق ہونے کا معاملہ ہے تو سیدنا امیر معاویہؓ کی زندگی میں یزید کا فاسق ہونا اس حد تک ظاہر نہیں ہوا تھا جتنا کہ بعد کے واقعات نے ثابت کر دیا۔ جن روایات سے ظاہر ہوتا ہے کہ یزید سیدنا امیر معاویہؓ کی زندگی میں ان حرکتوں کا عادی تھا وہ ضعیف اور مشکوک ہیں۔ اگر وہ روایات درست مان بھی لی جائیں تو پھر بھی یزید ولی عہد(جانشین) بننے تک ایسا کھلم کھلا بدکردار نہ تھا کہ اسے ولی عہد بنانے کی سرے سے گنجائش ہی نہ ہوتی۔ خصوصاً جس وقت یزید کو ولی عہد بنایا جارہا تھا اس وقت یزید کی شہرت اس حیثیت سے نہیں تھی جس حیثیت سے آج ہے۔ ظاہر ہے اس وقت وہ ایک صحابی اور خلیفۂ وقت کا صاحبزادہ تھا۔ اس کے ظاہری حالات، نماز روزہ کی پابندی اور اس کی انتظامی صلاحیتوں کی بنا پر یہ رائے قائم کرنے کی پوری گنجائش تھی کہ وہ خلافت کا اہل ہے۔ اسی وجہ سے دیگر جلیل القدر صحابہ کرامؓ اور تابعین بھی یہی رائے رکھتے تھے اور سیدنا معاویہؓ کی بھی یہی رائے تھی۔
  متعدد تواریخ میں منقول ہے کہ انہوں نے ایک خطبہ میں یہ دعا فرمائی کہ:
"اے اللہ! اگر میں نے یزید کو اس کی فضیلت دیکھ کر ولی عہد بنایا ہے تو اسے اس تک پہنچا دے جس کی میں نے اس کے لیے امید کی ہے اور اس کی مدد فرما اور اگر اس کام پر صرف اس محبت نے آمادہ کیا ہے جو باپ کو بیٹے سے ہوتی ہے تو اس کے خلافت تک پہنچنے سے پہلے اس کی روح قبض کر لے۔"
(الذھبی تاریخ الاسلام: جلد 2، صفحہ25)
سیدنا معاویہؓ کی اس پر خلوص دعا کے بعد بھی اگر کوئی شخص یہ کہتا ہے کہ انہوں نے یزید کو نا اہل سمجھنے کے باوجود محض بیٹا ہونے کی وجہ سے خلافت کے لئے نامزد کیا تھا تو یہ اتنا بڑا الزام ہے جس کو کسی کے سر تھوپنے کے لئے بڑے دل گردے کی ضرورت ہے۔ کسی شخص کی نیت پر حملہ کرنا اس کی زندگی میں بھی شریعت نے جائز قرار نہیں دیا چہ جائیکہ اس کی وفات کے چودہ سو برس بعد اس ظلم کا ارتکاب کیا جائے۔
کیا سیدنا معاویہؓ نے لوگوں سے یزید کی بیعت زبردستی کروائی؟
شیعہ کی طرف سے دوسرا اعتراض کہ سیدنا امیر معاویہؓ نے زبردستی، ظلم و تعدی وغیرہ سے اپنے بیٹے کے لیے بیعتِ خلافت حاصل کی تو اس سلسلہ میں اتنی گزارش ہے کہ در حقیقت بیعتِ یزید کا مسئلہ ایک مجتہد فیہ مسئلہ کے درجہ میں تھا جو سیدنا امیر معاویہؓ کی طرف سے لوگوں کے سامنے پیش کیا گیا اور اس میں معمول کے مطابق اختلافِ رائے بھی ہوا۔ سیدنا امیر معاویہؓ اس دور کے حالات اور سیاسی و ملی مصالح کے پیشِ نظر اپنی رائے کو صحیح سمجھتے تھے۔ پھر اس سلسلہ میں لوگوں پر کوئی جبر و زبردستی نہیں کیا گیا حتیٰ کہ شیعہ مؤرخین، جو سیدنا امیر معاویہؓ کے سخت مخالف و دشمن ہیں، انہوں نے بھی برملا طور پر اپنی تواریخ میں تحریر کیا ہے کہ:
وحج معاویه تلک السنه فتالف القوم ولم يكرههم على البيعۃ۔
مطلب یہ ہے کہ امیر معاویہؓ نے اس سال حج کیا اور قوم کے ساتھ الفت سے پیش آئے اور بیعت (یزید) پر ہرگز کسی کو مجبور نہیں کیا۔
(تاريخ يعقوبي شیعی: صفحہ 229 جلد 2)
لہٰذا شیعہ کی طرف سے سیدنا امیر معاویہؓ پر یہ اعتراضات جو قائم کیے گئے ہیں، ان میں کچھ صداقت نہیں۔ بالکل بے اصل اور بے سروپا من گھڑت ہیں۔
اب آتے ہیں واقعہ کربلا کی طرف
سیدنا حسینؓ کا یزید کی بیعت سے انکار کرنا
سیدنا حسینؓ یزید کے کردار سے سخت نالاں تھے۔ ماہِ رجب 60 ہجری میں سیدنا امیر معاویہؓ کے انتقال کے بعد یزید نے تخت سنبھال لیا۔ اسے معلوم تھا کہ اس معاملہ میں سب سے زیادہ مخالفت کی آواز سیدنا حسینؓ کی جانب سے اٹھے گی۔ اس نے چاہا کہ سیدنا حسینؓ اس کی بیعت کر لیں مگر وہ اپنی کوشش میں ناکام رہا، اس دوران حضرت عبداللہ بن زبیرؓ مدینہ سے مکہ چلے آئے۔ جب سیدنا حسینؓ کے بھائی محمد بن حنفیہؒ کو معلوم ہوا کہ حضرت حسینؓ بھی مدینہ سے نکل کر جا رہے ہیں تو انہوں نے آپؓ سے کہا کہ آپؓ میرے نزدیک روئے زمین کے تمام انسانوں سے زیادہ محبوب ہیں، آپؓ سے گزارش ہے کہ آپؓ کسی دوسرے شہر میں جانے کے بجائے دیہات یا کسی ویران علاقے چلے جائیں اور وہیں قیام کریں اور پھر وہاں سے حالات کا جائزہ لیں، اگر حالات آپؓ کے موافق ہوں تو پھر کسی شہر چلے جائیں اور اگر کسی شہر جانے کی ہی خواہش رکھتے ہیں تو پھر مکہ مکرمہ تشریف لے جائیں۔ (البدایہ)
چنانچہ دوسرے دن آپؓ اپنے اہل وعیال کو لے کر مدینہ سے باہر نکلے اور اپنے بھائی محمد بن حنفیہؒ کے مشورہ پر مکہ مکرمہ روانہ ہوئے، آپؓ نے محمد بن حنفیہؒ کی رائے کی تصویب فرمائی اور ان کا شکریہ ادا کیا۔ راستے میں عبداللہ بن مطیعؓ ملے تو انہوں نے کہا کہ آپؓ بے شک مکہ جائیں مگر کوفہ کبھی نہ جائیں، وہ غدار لوگ ہیں، وہاں کے لوگوں نے آپؓ کے والد کو شہید کیا ہے، پھر انہوں نے آپؓ کے بھائی کے ساتھ بھی اچھا سلوک نہیں کیا۔ آپؓ عرب کے سردار ہیں، حرمِ مکہ میں قیام کریں، چنانچہ آپؓ کے مکہ پہنچنے پر لوگ دیوانہ وار آپؓ کے پاس آنے لگے۔ ادھر کوفہ سے بھی آپؓ پر خطوط کا تانتا بندھ گیا کہ آپ جلد کوفہ آئیں ہم آپ کے ساتھ ہیں اور آپ کے لئے ہماری گردنیں حاضر ہیں، آپ آئیں اور ہمیں سنبھالیں چنانچہ آپؓ نے عراق جانے کا ارادہ کر لیا اور مکہ مکرمہ سے روانہ ہو گئے۔
صحابہ کرامؓ کا سیدنا حسینؓ کو کوفہ جانے سے منع کرنا
شیخ عبد الحق محدث دہلویؒ (1052ھ) لکھتے ہیں:
"کہ جب حضرت عبداللہ بن عمرؓ کو معلوم ہوا کہ سیدنا حسینؓ عراق کا قصد(ارادہ) کر کے نکل پڑے ہیں تو آپؓ ان کے پیچھے گئے، تین دن کی مسافت طے کرنے کے بعد ان سے ملاقات ہوئی تو حضرت عبداللہ بن عمرؓ نے انہیں روکا۔ سیدنا حسینؓ نے کہا کہ میں عراق اس لئے جا رہا ہوں کہ وہاں کے لوگوں نے عہد و پیمان کیا ہے اور مجھے خطوط بھیجیے ہیں۔ حضرت عبداللہ بن عمرؓ نے کہا کہ آپؓ کبھی ان کے عہد و پیمان پر بھروسہ نہ کریں اور ان کے خطوط پر التفات نہ کریں، سیدنا حسینؓ نے آپؓ کی بات نہ مانی اور رخصت ہونے لگے تو حضرت عبداللہ بن عمرؓ نے آپؓ کو گلے لگا لیا اور بہت روئے۔
(آداب الصالحین: صفحہ 177)
حضرت عبد اللہ بن عمرؓ نے آپؓ سے کیا کہا اسے دیکھئے! امام ذہبیؒ (748ھ) لکھتے ہیں:
ان أهل العراق قوم مناكير قتلوا أباك وضربوا أخاك وفعلوا وفعلوا
(سیر اعلام النبلاء: صفحہ 1489)
"آپؓ عراق نہ جائیں، یہ لوگ اچھے کردار کے نہیں ہیں، انہوں نے ہی آپؓ کے والد کو شہید کیا، آپؓ کے بھائی کو مارا اور ان کے ساتھ نہایت نازیبا سلوک کیا تھا"
حضرت عبداللہ بن عباسؓ نے بھی آپؓ سے یہی بات فرمائی اور کہا کہ اگر میرے اختیار میں ہوتا تو میں آپؓ کے بالوں کو پکڑ کر آپ کو روک لیتا کہ آپؓ وہاں نہ جائیں، آپ جن کے پاس جا رہے ہیں پتہ ہے وہ کون لوگ ہیں؟
الى قوم قتلوا أباك وطعنوا أخاك
(المصنف: جلد 15، صفحہ 96 کتاب الفتن)
"آپؓ ایسی قوم کے پاس جا رہے ہیں جنہوں نے آپؓ کے والد کو شہید کر ڈالا اور آپؓ کے بھائی کو نیزے کا وار کر کے زخمی کیا ہے"
آپؓ نے ان سے کہا:
ان أهل العراق قوم غدر فلا تغترن بهم
(البدايہ: جلد 8 صفحہ160)
عراقی لوگ غدار ہیں، ان سے آپؓ دھوکہ نہ کھائیں ( وہ بلا کر آپ کو تنہا چھوڑ دیں گے اور آپ سے بے وفائی کر جائیں گے)۔
آپؓ کے بھائی محمد بن حنفیہؒ نے بھی آپؓ کی منت سماجت کی کہ وہاں نہ جائیں، یہ لوگ غدار ہیں، آپؓ سے بھی وفا نہ کریں گے اس لیے آپؓ وہاں جانے سے اجتناب برتیں۔
تاہم آپؓ اپنے بھائی کی اس رائے سے متفق نہ ہو سکے اور اپنا ارادہ نہ بدلا تو انہوں نے اپنے بچوں کو روک لیا۔
فأبي الحسين أن يقبل فحبس محمد بن الحنفية ولده فلم يبعث أحدا منهم
(البداية: جلد 8 صفحہ 165)
علامہ علی بن برہان الدین حلبیؒ لکھتے ہیں کہ:
سیدنا حسینؓ کے پاس کوفہ والوں نے اپنا وفد بھیجا کہ آپؓ کوفہ آئیے ہم آپؓ کی بیعت کرنے کو تیار ہیں۔ سیدنا حسینؓ نے (کوفہ والوں کی بات پر اعتبار کر کے) وہاں جانے کا ارادہ کر لیا اس پر حضرت عبداللہ بن عباسؓ نے ان کو اس ارادے سے روکا اور ان کو کوفہ والوں کی پچھلی غداریاں یاد دلائیں کہ کس طرح انہوں نے ان کے والد ماجد سیدنا علیؓ کو شہید کیا تھا اور کس طرح ان کے بھائی سیدنا حسنؓ کو دھوکہ دیا تھا اسی طرح حضرت عبد اللہ بن عمرؓ اور حضرت عبد اللہ بن زبیرؓ نے بھی ان کو اس ارادے سے روکنے کی کوشش کی مگر سیدنا حسینؓ نے ان خطرات کو نہیں مانا یہاں تک کہ حضرت عبداللہ بن عباسؓ رونے لگے اور کہا کہ افسوس میرے عزیز! حضرت عبداللہ بن عمرؓ نے آپؓ سے کہا میں آپؓ کو اللہ تعالٰی کی امان اور حفاظت میں دیتا ہوں ۔ان کے بھائی سیدنا حسنؓ نے اپنی زندگی میں ان سے ایک دفعہ کہا تھا کہ:
"کوفہ کے شریروں سے بچتے رہنا کہ وہ تمہیں دغا دے جائیں اور دشمنوں کے حوالے کر دیں اور اس وقت تم پچھتاؤ جبکہ تمہیں ضرورت کے وقت کوئی پناہ گاہ اور سہارا نہ ملے"
سیدنا حسینؓ کو اپنے قتل کی رات میں اپنے بھائی کی یہ بات یاد آئی اور انہوں نے اپنے بھائی کے لئے دعائے رحمت کی۔
مکہ مکرمہ میں کوئی شحص ایسا نہیں تھا جو سیدنا حسینؓ کے کوفہ جانے پر رنجیدہ نہ ہوا ہو۔
(سیرت حلبیہ: جلد 1 صفحہ 534)
دورانِ سفر آپؓ کی ملاقات عرب کے مشہور شاعر فرزدق سے ہوئی۔ آپؓ نے اس سے عراق کے حالات معلوم کئے تو اس نے کہا کہ حضور سچی بات یہ ہے کہ ان کے دل آپ کے ساتھ ہیں مگر تلواریں آپؓ کے مخالفین کے ساتھ ہیں، اس لئے بہتر ہے کہ آپؓ اپنا ارادہ ملتوی کر دیں۔ اس دوران آپؓ کو اپنے چچا زاد بھائی عبداللہ بن جعفرؓ کا خط ملا انہوں نے بھی آپؓ کو آگے جانے سے رکنے کے لئے کہا پھر وہ خود بھی آپؓ کے پاس پہنچ گئے اور آپؓ کو آگے جانے سے منع کیا مگر آپؓ آگے بڑھ گئے۔
علامہ ڈاکٹر خالد محمودؒ لکھتے ہیں:
سیدنا حسینؓ کے وہ خیر خواہ جنہوں نے آپؓ کو عراق نہ جانے کا مشورہ دیا، وہ یہ تھے: حضرت عبد اللہ بن عمرؓ، حضرت عبداللہ بن عباسؓ، حضرت عبد اللہ بن زبیرؓ، حضرت محمد بن علیؓ، حضرت عبد اللہ بن جعفرؓ، حضرت عبداللہ بن مطیعؓ، حضرت عبد اللہ بن عیاش، جناب يزيد بن الاصمؒ، جناب ابو واقد الليثي
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپؓ کے ان خیر خواہوں کو عراق کے لوگوں پر ہرگز کوئی اعتماد نہ تھا. جس طرح سیدنا علیؓ اپنے پورے دورِ خلافت میں ان کی شکایت کرتے رہے، مدینہ منورہ کے اکثر لوگوں کی بھی یہی رائے تھی کہ سیدنا حسینؓ اگرچہ وہاں نقل مکانی اور عزلت(گوشہ) نشینی کے لئے جا رہے ہیں، لڑنے کے لئے نہیں لیکن یہ لوگ آپؓ کو وہاں کسی طرح امن سے نہ رہنے دیں گے، ان خیر خواہوں میں سے کسی کی زبان سے یہ بات نہ سنی گئی کہ آپؓ جنگ نہ کریں سب یہی کہتے رہے کہ یہ کوفہ کے لوگ آپؓ کو وہاں بلا کر دھوکہ دے رہے ہیں۔
تاہم آپؓ اپنا ارادہ بدلنے کے لئے تیار نہ ہوئے اور عراق کی جانب چل دیئے۔ تاریخ شاہد ہے کہ وہاں پھر وہی کچھ ہوا جس کا اندیشہ ان بزرگوں (بالخصوص آپؓ کے برادرِ اکبر سیدنا حسنؓ) نے کیا تھا۔ وہ لوگ جنہوں نے آپؓ کو خطوط لکھے اور آپؓ کی مدد و نصرت کے وعدے کئے انہوں نے ہی آپؓ کی حمایت سے ہاتھ اٹھا دیئے اور آپؓ کو اپنے رفقاء کے ساتھ اکیلا چھوڑ دیا۔ یہ صرف آپؓ کے ساتھ ہی نہیں ہوا بلکہ عراق کے ان شیعوں نے سیدنا حسنؓ کے ساتھ بھی اسی طرح بدسلوکی کی تھی اور آپؓ کے والد محترم سیدنا علی المرتضیٰؓ بھی ان کے ہاتھوں بہت زیادہ تکلیف برداشت کرتے رہے۔
شیخ الاسلام حافظ ابن تیمیہؒ (728ھ) شیعہ کی بدعہدی بے وفائی اور مال و زر کی حرص کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
"کہ ان لوگوں نے آپؓ کو خطوط لکھے نصرت کے وعدے کئے آپؓ نے ان کی باتوں پر بھروسہ کر کے اپنے چچازاد بھائی حضرت مسلم بن عقیلؓ کو وہاں بھیجا مگر ان لوگوں نے انہیں دھوکہ دیا۔ انہوں نے آخرت کے بجائے دنیا کو ترجیح دی اور دشمنوں کے ساتھ مل کر آپؓ کے خلاف لڑے۔ سیدنا علی المرتضیٰؓ کے ساتھ بھی ان لوگوں نے یہی سلوک کیا حتیٰ کہ آپؓ نے انہیں بددعا دیتے ہوئے کہا: اے اللہ میں تو ان سے تنگ آ گیا ہوں تو ان کو مجھ سے دور کر دے"
وَأَمَّا الشِّيعَةُ فَهُمْ دَائِمًا مَغْلُوبُونَ مَقْهُورُونَ مُنْهَزِمُونَ، وَحُبُّهُمْ لِلدُّنْيَا وَحِرْصُهُمْ عَلَيْهَا ظَاهِرٌ. وَلِهَذَا كَاتَبُوا الْحُسَيْنَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَلَمَّا أَرْسَلَ إِلَيْهِمُ ابْنَ عَمِّهِ، ثُمَّ قَدِمَ بِنَفْسِهِ غَدَرُوا بِهِ، وَبَاعُوا الْآخِرَةَ بِالدُّنْيَا، وَأَسْلَمُوهُ إِلَى عَدُّوِهِ، وَقَاتَلُوهُ مَعَ عَدُّوِهِ، فَأَيُّ زُهْدٍ عِنْدَ هَؤُلَاءِ، وَأَيُّ جِهَادٍ عِنْدِهِمْ؟ وَقَدْ ذَاقَ مِنْهُمْ عَلِيُّ [بْنُ أَبِي طَالِبٍ]- رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنَ الْكَاسَاتِ الْمُرَّةِ مَا لَا يَعْلَمُهُ إِلَّا اللَّهُ، [حَتَّى دَعَا عَلَيْهِمْ] فَقَالَ: اللَّهُمَّ قَدْ سَئِمْتُهُمْ وَسَئِمُونِي، فَأَبْدِلْنِي بِهِمْ خَيْرًا مِنْهُمْ، وَأَبْدِلْهُمْ بِي شَرًّا مِنِّي وَقَدْ كَانُوا يَغُشُّونَهُ وَيُكَاتِبُونَ مَنْ يُحَارِبُهُ، وَيَخُونُونَهُ فِي الْوِلَايَاتِ وَالْأَمْوَالِ.
وَقَدْ ذَاقَ مِنْهُمْ عَلِيُّ [بْنُ أَبِي طَالِبٍ]- رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنَ الْكَاسَاتِ الْمُرَّةِ مَا لَا يَعْلَمُهُ إِلَّا اللَّهُ، [حَتَّى دَعَا عَلَيْهِمْ] فَقَالَ: اللَّهُمَّ قَدْ سَئِمْتُهُمْ وَسَئِمُونِي، فَأَبْدِلْنِي بِهِمْ خَيْرًا مِنْهُمْ، وَأَبْدِلْهُمْ بِي شَرًّا مِنِّي وَقَدْ كَانُوا يَغُشُّونَهُ وَيُكَاتِبُونَ مَنْ يُحَارِبُهُ، وَيَخُونُونَهُ فِي الْوِلَايَاتِ وَالْأَمْوَالِ.
(منهاج السنۃ جلد 2 صفحہ 91)
ترجمہ: شیعہ ہمیشہ سے مغلوب و مقہور اور شکست خوردہ رہے ان پر دنیا کی محبت اور اس کی حرص کھلی ہوئی رہی ہے اسی لئے انہوں نے سیدنا حسینؓ کے ساتھ خط و کتابت کی، آپؓ نے اپنے چچازاد بھائی کو( وہاں کے حالات معلوم کرنے کے لئے) بھیجا اور پھر خود بھی وہاں آ گئے۔ ان خطوط لکھنے والوں نے آپؓ کو دھوکہ دیا اور دنیا کے بدلے آخرت کو فروخت کر دیا اور آپؓ کو قاتلوں کے حوالہ کر دیا اور آپؓ کے دشمنوں کے ساتھ ہو کر آپؓ سے جنگ کی تو پھر خود ہی انصاف کریں کہ ان میں کون سا خوفِ خدا تھا؟ اور وہ کونسا جہاد کر رہے تھے؟ ان لوگوں کی انہی زیادتیوں سے سیدنا علیؓ کو اتنی مصیبتوں سے گزرنا پڑا جن کی حقیقت کا اللہ کے سوا کسی کو علم نہیں۔ معاملہ یہاں تک جا پہنچا کہ سیدنا علیؓ کو دعا کرنی پڑی کہ اے اللہ میں ان سے تنگ آ گیا ہوں تو انہیں مجھ سے ملول کر دے۔ اے اللہ مجھے ان کے بدلے میں بہتر ساتھی عطا فرما اور میرے بدلے میں ان کو برا حکمران دے۔ یہ لوگ سیدنا علیؓ (اور آپؓ کے خاندان کے ساتھ) خیانت اور دھوکہ دہی کرتے رہے اور ان سے خط و کتابت کرتے جن سے سیدنا علیؓ کا مقابلہ جاری تھا یہ لوگ ولایت اور مالوں میں خیانت کے مرتکب ہوتے تھے

سیدنا حسین رضی اللہ عنہ نے اپنے اور ساتھیوں کی شہادت کا زمہ دار کسے بتایا؟

سیدنا حسینؓ نے اپنے اور ساتھیوں کی شہادت کا ذمہ دار کسے بتایا؟
حضرت مسلم بن عقیلؓ (جنہیں سیدنا حسینؓ نے کوفہ والوں کے خطوط کی روشنی میں اپنے سے پہلے عراق بھیجا تھا اور ان سے تعاون کرنے کا حکم دیا تھا مگر عراقیوں نے ان کو دھوکہ دیا اور پھر دشمنوں کے نرغے میں انہیں اکیلا چھوڑ دیا اور آخر کار وہ شہید کر دیئے گئے) نے وصیت کرتے ہوئے یہ بھی کہا تھا کہ:
"میری طرف سے سیدنا حسینؓ کو لکھ دینا کہ کوفیوں نے مجھ سے بے وفائی کی ہے ان پر اعتماد نہ کرنا۔
(دیکھیے شیعہ کتاب جلاء العیون)
حضرت مسلم بن عقیلؓ نے سیدنا حسینؓ کے نام یہ پیغام بھیجا کہ کوفہ کے لوگ بے وفا اور غدار ہیں، ان کی باتوں اور خطوط پر اعتبار نہ کریں اور یہاں نہ آئیں ورنہ یہ لوگ آپؓ کے ساتھ بھی وہی سلوک کریں گے جو انہوں نے میرے ساتھ کیا ہے۔
حضرت حرؒ شہید نے بھی کوفہ کے شیعوں کو اس کا ذمہ دار ٹھہرایا اور ان کو سرِ عام برا بھلا کہا۔
(دیکھئیے شیعہ کتاب خلاصۃ المصائب: صفحہ 60)
سیدنا حسینؓ کے ایک اور جانثار بریری بن حضیر نے بھی اہلِ کوفہ کو اس کا مجرم بتایا اور کہا کہ تم نے سیدنا حسینؓ کو مدد کے وعدے کر کے بلایا اور پھر ان پر پانی تک بند کر دیا۔
(دیکھیے شیعہ کتاب جلاءالعیون )
سیدہ زینبؓ بنت علیؓ نے بھی اہل کوفہ کو غدار، فریبی اور مکار جیسے الفاظ برسرِ عام کہے اور کہا کہ:
"اب تم ہم پر ماتم کرتے ہو حالانکہ ہمارے قاتل تم ہو۔ تم نے جگر گوشہ رسولﷺ کو شہید کیا، تم نے اہلِ بیت کی باپردہ عورتوں کو بے پردہ کیا ہے۔
(دیکھیے جلاء العیون)
سیدنا حسینؓ کی صاحبزادی سیدہ فاطمہؒ کا بیان بھی یہی تھا۔ آپ نے کہا:
"اے اہل مکر و فریب تم نے ہمیں کافر سمجھا اور ہمارے قتل تک کو حلال جانا۔
( احتجاج طبرسی: صفحہ 157)
خود شہیدِ کربلا سیدنا حسینؓ نے انہیں مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ:
تم لوگوں نے مجھے یہاں بلا کر میرا ساتھ چھوڑ دیا مجھے اس پر کوئی حیرانگی نہیں ہے، کیونکہ تم اس سے پہلے میرے بھائی اور میرے والد اور میرے چچازاد بھائی مسلم سے بھی اسی طرح بے وفائی کر چکے ہو۔
( دیکھیے طبری: جلد 5 صفحہ 403)
آپؓ نے اہل کوفہ سے کہا کہ:
" تم لوگوں نے خود مجھے بلایا ہے اور خود ہی میرے ساتھ یہ سلوک کر رہے ہو! اللہ تمہیں کبھی سیراب نہ کرے۔
( ناسخ التواریخ: صفحہ 335)
اے بے وفاؤ! غدارو! مجبوری کے وقت تم نے اپنی مدد کے لئے ہمیں بلایا اور جب ہم آ گئے تو کینے کی تلوار ہم پر چلائی۔
(ایضاً: صفحہ 391)
اے اللہ! شیعانِ کوفہ نے مجھے اپنی مدد کے لئے بلایا پھر وہ ہمیں قتل کرنے کے درپے ہیں، اے اللہ ان سے میرا انتقام لے اور حاکموں کو کبھی ان سے خوش نہ رکھ۔
(جلاء العیون: صفحہ 405)
تم پر تباہی ہو حق تعالیٰ دونوں جہانوں میں میرا تم سے بدلہ لے گا،تم خود اپنی تلواریں ایک دوسرے کے منہ پر چلاؤ گے، اپنا خون خود بہاؤ گے، اور دنیا سے نفع نہ پاؤ گے، اپنی امیدوں کو نہ پہنچو گے، اور آخرت میں بدترین عذاب تمہارے لئے تیار ہے۔
(ایضاً: صفحہ 409)
حتیٰ کہ جب آپؓ کے تمام ساتھی کربلا میں یکے بعد دیگرے شہید کر دیئے گئے اور آپؓ کے ہاتھ میں اپنا چھوٹا بیٹا تھا، اس کو ایک تیر لگا اور خون اچھلنے لگا تو آپؓ خون صاف کرتے جا رہے تھے اور کہہ رہے تھے:
اللهم احكم بيننا وبين قوم دعونا لينصرونا فقتلونا
(البداية: جلد 8، صفحہ 197۔ مروج الذهب: صفحہ 70 از مسعودی شیعی)
اے اللہ! ہمارے اور اس قوم کے درمیان فیصلہ فرما جس نے ہمیں دعوت دے کر یہاں بلایا کہ وہ ہماری مدد کریں گے(مگر انہوں نے بے وفائی کی اور دغا دیا) اور انہوں نے ہمیں قتل کر ڈالا (یعنی ہمیں قتل ہونے کے لئے اکیلا چھوڑ دیا)
سیدنا زین العابدینؒ نے کوفیوں کو مخاطب کر کے کہا کہ: تم نے میرے والد کو بلایا اور دھوکہ دیا اور قتل کر دیا، تم ہلاک ہو گئے۔
(احتجاج طبرسی: صفحہ 159)
جب آپؒ کربلا سے کوفہ آئے تو دیکھا کہ مرد و عورتیں رو رہی ہیں، آپؒ نے انہیں اس طرح روتے دیکھ کر فرمایا:
ان هؤلاء يبكون علينا فمن قتلنا غيرهم
(شیعہ کتاب الاحتجاج: صفحہ 156)
ترجمہ: اب یہ لوگ ہماری شہادت اور ہمارے حال پر ماتم کر رہے ہیں پر یہ تو بتاؤ کہ ان کے علاؤہ ہمیں کن لوگوں نے قتل کیا ہے،
یعنی یہی وہ لوگ ہیں جو ہمارے قاتل ہیں، اور اب دنیا کو دکھانے کے لئے ماتم کر رہے ہیں اور منافقانہ آوازوں سے دنیا کو دھوکہ دینا چاہتے ہیں، سیدنا زین العابدینؒ نے خطبہ دیتے ہوئے کہا کہ تم بخوبی جانتے ہو کہ تم لوگوں نے ہمارے ساتھ دھوکہ کیا ہے۔
أيها الناس ناشدتكم اللَّه هل تعلمون أنكم كتبتم إلى أبي وخدعتموه وأعطيتموه من أنفسكم العهود والميثاق والبيعة وقاتلتموه، فتبا لكم
(الاحتجاج: صفحہ 157)
"اے لوگو! تمیں یہ بات بخوبی معلوم ہے کہ تم نے میرے والد محترم کو خط لکھ لکھ کر بلایا پھر تم نے ان کے ساتھ فریب کیا، تم نے میرے والد کے ساتھ مدد کا پکا وعدہ کیا تھا اور بیعت کے عہد کئے تھے لیکن تم نے ان سے قتال کیا تم لوگوں نے اُنہیں رسوا اور ذلیل کیا سو تمارے لئے بربادی ہو"
صاحبِ اعلام الوری شیعہ نے قاتلانِ حسینؓ کی کس طرح نشاندہی کی ہے اسے دیکھیے:
اہل کوفہ نے آپؓ کی بیعت کی، نصرت کے ضامن بنے پھر بیعت توڑ دی اور آپؓ کو بے یار و مددگار دشمن کے حوالے کیا، آپؓ پر خروج کر کے آپؓ کا وہاں محاصرہ کر لیا جہاں سیدنا حسینؓ کا نہ کوئی مددگار تھا اور نہ جائے فرار، ان لوگوں نے آپؓ پر دریائے فرات کا پانی بند کر دیا پھر قدرت پا کر آپؓ کو اس طرح شہید کر دیا جس طرح آپؓ کے والد اور بھائی شہید ہوئے تھے۔
(اعلام الوری: صفحہ 219 ماخوذ از تحفۃ الاخیار صفحہ 14)
بہرحال عراقی شیعہ کے مسلسل خطوط، ان کی طرف سے تعاون کی یقین دہانیوں کے بناء پر، جیسا کہ ہم بتا آئے ہیں کہ آپؓ نے پہلے اپنے چچا زاد بھائی مسلم بن عقیلؓ کو بھیجا کہ وہ جا کر وہاں کے حالات دیکھیں اور آپؓ کو مطلع کریں۔ مسلم بن عقیلؓ مختلف اور دشوار گزار مراحل سے گزرتے ہوئے وہاں پہنچے اور ان لوگوں نے آپ کے ساتھ ظاہراً جیسے برتاؤ کا مظاہرہ کیا اس سے مسلم بن عقیلؓ متاثر ہو گئے اور سیدنا حسینؓ کو کوفہ آنے کا خط بھیج دیا، ادھر اہلِ کوفہ نے حضرت مسلم بن عقیلؓ کو پھر بے یارو مددگار چھوڑ دیا۔ مسلم بن عقیلؓ نے یہ خبر سیدنا حسینؓ تک پہنچائی تاہم سیدنا حسینؓ رکے نہیں بلکہ کوفہ جانے کے لئے تیار ہو گئے۔ ہم پہلے بتاتے آئے ہیں کہ اہلِ مکہ و مدینہ نے بھی آپؓ کو کوفیوں کی بے وفائی اور غداری سے خبردار کیا تھا۔ حضرت عمرو بن عبدالرحمٰنؓ، عبداللہ بن عباسؓ، حضرت عبداللہ بن عمرؓ، حضرت عبداللہ بن زبیرؓ وغیرہ نے آپؓ کو روکنے کی کوشش کی مگر وہ سب اس میں ناکام رہے اور آپؓ ذی الحجہ 60 ھجری کو مکہ مکرمہ سے عراق روانہ ہوئے، راستہ میں حضرت مسلم بن عقیلؓ کی شہادت کی اطلاع بھی ملی تو آپؓ نے اپنے رفقاء کو جمع کر کے فرمایا:
قد خذلنا شيعتنا
(شیعہ کتاب خلاصۃ المصائب صفحہ 49)
شيعان مادست از يارى ما برداشت اند
( جلاء العیون از ملاّ باقر مجلسی وناسخ التواریخ صفحہ 163)
بیشک میرے شیعوں نے مجھے چھوڑ دیا اور میری مدد کرنے سے اپنا ہاتھ اٹھا لیا۔
آپؓ نے انا للّٰہ پڑھا اور لوگوں نے کہا کہ اب اللہ ہی آپؓ کا محافظ ہے آپؓ نے فرمایا کہ ان کے بعد اب زندگی کا مزہ بھی نہیں رہا۔
حافظ ابن حجر عسقلانیؒ (852ھ) لکھتے ہیں کہ:
حر بن یزید نے آپؓ سے کہا کہ خدارا واپس چلیے، میں نے وہاں آپؓ کے لئے کوئی بھلائی نہیں چھوڑی، پھر آپؓ کو سارا واقعہ بتلایا۔ آپؓ نے پلٹنے کا ارادہ کر لیا تھا لیکن مسلمؓ کے بھائی نے کہا کہ جب تک ہم بدلہ نہیں لے لیتے یا قتل نہیں ہو جاتے واپس نہیں جائیں گے چنانچہ یہ لوگ چل پڑے اور آپؓ کربلا آئے، آپؓ کے ساتھ 45 لوگ سواری پر تھے جبکہ 100 کے قریب افراد پیدل چل رہے تھے۔
(الاصابہ: جلد 1، صفحہ 333)
سیدنا حسینؓ نے جب اپنے ہی شیعوں کی بے وفائی کھلی آنکھوں سے دیکھ لی اور سمجھ لیا کہ یہ لوگ مجھے دھوکہ دے کر یہاں لائے ہیں اور اب مجھے اکیلا چھوڑ گئے ہیں تو آپؓ نے حالات کے پیش نظر فریقِ مقابل کے سربراہ عمرو بن سعد سے کہا کہ میں تین باتیں پیش کر رہا ہوں ان میں سے ایک چیز آپ اختیار کر لیں۔
 میں اسلامی سرحدوں میں سے کسی ایک سرحد پر نکل جاؤں اور وہاں جا کر اسلامی فوج کی حفاظت کروں اور ان کے ساتھ مل کر اعدائے اسلام کا مقابلہ کروں ۔
 میں واپس مدینہ منورہ چلا جاؤں
 میں اپنا ہاتھ یزید کے ہاتھ میں دے دوں۔
چنانچہ عمرو بن سعد نے ان کی بات قبول کر لی اور یہ معاملہ عبید اللہ بن زیاد کے پاس بھیج دیا۔ عبید اللہ بن زیاد نے جواب دیا کہ وہ سب سے پہلے اپنے آپ کو میرے حوالے کریں پھر بات آگے چلے گی۔( ایک روایت میں ہے کہ یہ بات شمر نے کہی کہ سب سے پہلے ابن زیاد کی بات مانی جائے گی اور اس کی بیعت کی جائے گی پھر بات آگے بڑھے گی ) سیدنا حسینؓ نے یہ بات قبول نہ فرمائی۔ ظاہر ہے کہ اب جنگ کے سوا کون سا راستہ نکل سکتا تھا۔
شیخ الاسلام حافظ ابن تیمیہؒ ( 728ھ) لکھتے ہیں:
أَرَادَ الرُّجُوعَ فَأَدْرَكَتْهُ السَّرِيَّةُ الظَّالِمَةُ، فَطَلَبَ أَنْ يَذْهَبَ إِلَى يَزِيدَ، أَوْ يَذْهَبَ إِلَى الثَّغْرِ، أَوْ يَرْجِعَ إِلَى بَلَدِهِ، فَلَمْ يُمَكِّنُوهُ مِنْ شَيْءٍ مِنْ ذَلِكَ حَتَّى يَسْتَأْسِرَ لَهُمْ، فَامْتَنَعَ، فَقَاتَلُوهُ حَتَّى قُتِلَ شَهِيدًا مَظْلُومًا - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
( المنتقی: صفحہ 268، منہاج السنۃ: جلد 4 صفحہ 472 و جلد 6 صفحہ 340)
سیدنا حسینؓ نے نے کربلا سے واپس لوٹ جانے کا ارادہ کیا تو ظالم لشکر نے آپؓ کو روک لیا، آپؓ نے یزید کے پاس جانے کی مہلت طلب کی یا سرحد کی طرف چلے جانے یا پھر اپنے شہر مدینہ منورہ لوٹ جانے کی پیش کش کی مگر انہوں نے آپؓ کی ایک بات قبول نہ کی اور کہا کہ پہلے آپؓ ان کے قیدی بن جائیں مگر آپؓ نے خود کو ان کے حوالہ کرنے اور عبید اللہ بن زیاد کے پاس جانے سے صاف انکار کر دیا اور جنگ کی یہاں تک کہ آپؓ کو قتل کر دیا گیا اور آپ مظلوم شہید ہو گئے۔ رضی اللّٰہ عنه
شارح صحیح بخاری حافظ ابن حجر عسقلانی رحمۃاللہ ( 852ھ) لکھتے ہیں:
قال له الحسين: اختر مني إحدى ثلاث: إما أن ألحق بثغر من الثّغور، وإما أن أرجع إلى المدينة، وإما أن أضع يدي في يد يزيد بن معاوية.فقبل ذلك عمر منه، وكتب به إلى عبيد اللَّه، فكتب إليه لا أقبل منه حتى يضع يده في يدي، فامتنع الحسين، فقاتلوه فقتل معه أصحابه
وفيهم سبعة عشر شابّا من أهل بيته، الخ
(الاصابہ: جلد 2، صفحہ 71)
مؤرخ ابن جریر طبریؒ نے تاریخ طبری میں (دیکھیے جلد 4 صفحہ 207)
حافظ ابن عساکر رحمۃاللہ نے اپنی تاریخ دمشق میں،
امام شمس الدین ذہبیؒ (748ھ) نے سیر اعلام النبلاء( دیکھیے جلد 3، صفحہ 210) میں بھی مذکورہ بیان نقل کیا ہے۔
شیعہ علماء کو اہل سنت علماء کے ان بیانات سے اتفاق نہ ہو تو وہ کم از کم شیعہ مؤرخین اور محدثین کی بات پر تو یقین کر لیں۔

ابو الفرج الاصفہانی ( 356ھ) نے مقاتل الطالبیین (دیکھیے جلد 2) میں،
شیخ مفید( 413ھ) نے اپنی معروف کتاب الارشاد (دیکھیے صفحہ 213) میں،
ملا باقر مجلسی نے بحار الانوار ( دیکھئے جلد 10 صفحہ 211) میں
اور شیخ عباس قمی( 1359ھ) نے منتہی الاَمال(دیکھیے صفحہ 335) میں بھی اسے اسی طرح بیان کیا ہے۔



سیدنا حسین رضی اللہ عنہ شہید کر دیئے گئے

سیدنا حسینؓ شہید کر دیے گئے
سیدنا حسینؓ نے اپنی بات ان تک پہنچا دی تھی۔ آپؓ چاہتے تھے کہ یہ معاملہ امن کے ساتھ کسی نتیجہ پر پہنچ جائے لیکن ابنِ زیاد اور شمر نے سیدنا حسینؓ کے پیغامِ امن کو جنگ میں بدلنے کی پوری منصوبہ بندی کر رکھی تھی۔ وہ نہ چاہتے تھے کہ یہ مسئلہ پر امن طور پر حل ہو جائے۔ وہ جانتے تھے کہ اگر سیدنا حسینؓ اور یزید کے درمیان ملاقات ہو جاتی ہے پھر ان کے ناپاک ارادے اور مکروہ منصوبے ناکام ہو جائیں گے اسی لیے وہ اسی بات پر مصر رہے کہ سیدنا حسینؓ اپنے آپ کو پہلے ہمارے حوالہ کریں اور ہماری بیعت کریں پھر بات آگے چلے گی۔ مگر سیدنا حسینؓ نے ابن زیاد کی بات قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ پھر وہاں تاریخ کا وہ المناک غمناک اور افسوسناک حادثہ رونما ہوا جس کے تکلیف دہ اثرات سے امت مسلمہ اب تک تڑپ رہی ہے۔ آپؓ کے سامنے آپؓ کے اہل و عیال اور دوست احباب یکے بعد دیگرے شہید ہوتے گئے۔ چھوٹا بچہ آپؓ کے ہاتھ پر تھا ظالموں نے اسے بھی اپنے ظلم کا نشانہ بنا لیا۔ سیدنا حسینؓ اکیلے رہ گئے، ظالموں نے آپ پر پے در پے حملے کر کے زخمی کر دیا، زیادہ خون بہہ جانے کی وجہ سے آپؓ کی طاقت جواب دے گئی اور شقی القلب کوفیوں نے آپؓ کو نہایت ہی بے رحمی سے شہید کر دیا۔
مؤرخین لکھتے ہیں کہ بدن کے مختلف حصوں پر زخموں کے علاؤہ 33 زخم تیروں کے اور 34 زخم تلواروں کے تھے۔ آپؓ نے دس محرم الحرام 61ھ جمعہ کے دن عصر کے وقت عراق کے شہر کربلا میں جام شہادت نوش کیا، اس وقت آپ کی عمر 57 سال تھی۔
رضی الله تعالى عنه.
سیدنا حسینؓ کے ساتھ اور 72 حضرات بھی شہید ہوئے۔ محمد بن حنفیہؒ کا بیان ہے کہ سیدنا حسینؓ کے ساتھ شہید ہونے والوں میں سترہ افراد سیدہ فاطمہؓ کی اولاد میں سے تھے۔
( البدایہ: جلد 9، صفحہ 189، صفحہ 212)
شیعہ علماء اور ان کے ذاکرین ٹی وی پر سجائی جانے والی مجالس میں نہایت ہی جذباتی انداز میں دعویٰ کرتے ہیں کہ سیدنا حسینؓ اور آپؓ کے رفقاء کی لاشوں کی بڑی ہی بےحرمتی کی گئی اور ان کی لاشوں پر گھوڑے دوڑائے گئے تھے۔ یہ سن کر شیعہ عوام دھاڑیں مار کر رونا شروع کر دیتے ہیں۔
سوال یہ ہے کہ کیا واقعی ایسا ہوا تھا؟ شیعہ مرکزی کتاب اصول کافی سے پتہ چلتا ہے کہ ایسا کچھ بھی نہیں ہوا تھا۔
شیعہ راوی بیان کرتا ہے کہ جب سیدنا حسینؓ شہید کر دیے گئے تو دشمنوں نے چاہا کہ ان کے جسم کو گھوڑوں سے روندیں۔ اتنے میں ایک شیر نکل آیا وہاں جناب فضہؒ کھڑی تھیں تو فضہؒ نے شیر سے کہا :
يا ابا الحارث فرفع رأسه ثم قالت أتدري ما يريد من أن يعلموا غدا بابي عبد الله يريدون أن يوطهؤ الخيل ظهره قال فمشي حتى وضع يده على جسد الحسين فاقبلت الخيل فما ظهروا إليه قال لهم عمر بن سعد لعنه الله فتنة لا تثيروها انصرفوا
(اصولِ کافی: صفحہ 295)
اے ابو الحارث (شیر کی کنیت ہے) تو شیر نے اپنا سر اٹھایا پھر فضہؒ نے کہا تجھے معلوم ہے کہ دشمنوں کا کیا ارادہ ہے؟ وہ چاہتے ہیں کہ کل سیدنا حسینؓ کے جسم پر گھوڑے دوڑائیں راوی کہتا ہے کہ شیر آگے بڑھا اور اس نے سیدنا حسینؓ کے جسم پر اپنا ہاتھ رکھ دیا۔ جب گھوڑے پر سوار لوگ آئے تو انہوں نے دیکھا کہ ایک شیر ہے، عمرو بن سعد نے کہا یہ ایک فتنہ ہے اس کو مت چھیڑو اور یہاں سے نکل چلو چنانچہ سب واپس چلے گئے (اور آپؓ کا جسم محفوظ رہا)
جب یزید کو سیدنا حسینؓ، آپؓ کے گھر والوں اور آپؓ کے رفقاء کی شہادت کی خبر ملی تو اسے افسوس ہوا اور اس نے ابن زیاد پر لعنت بھی کی اور کہا کہ جب سیدنا حسینؓ نے تین باتوں میں سے کسی ایک بات پر اپنی رضا کا اظہار کر دیا تھا تو ابن زیاد نے کیوں ان کی بات نہ مانی اور ان کی جان کیوں لی؟
یزید کا کہنا تھا کہ اسی ابن زیاد کی وجہ سے وہ مسلمانوں کے نظر میں برا اور قابلِ مذمت بنا اور ان کے دلوں میں اس کے خلاف نفرت بھر دی گئی۔ خدا اس پر لعنت کرے، اس کو رسوا کرے اور اس پر اپنا غضب اتارے ۔
امام شمس الدین ذہبیؒ 748ھ نے سیر اعلام النبلاء میں اور حافظ ابن کثیرؒ 774ھ نے البدایہ میں یزید کا یہ بیان اس طرح نقل کیا ہے:
لَعَنَ اللَّهُ ابْنَ مَرْجَانَةَ فَإِنَّهُ أَخْرَجَهُ وَاضْطَرَّهُ، وَقَدْ كَانَ سَأَلَهُ أَنْ يُخَلِّيَ سَبِيلَهُ أَوْ يَأْتِيَنِي أَوْ يَكُونَ بِثَغْرٍ مِنْ ثُغُورِ الْمُسْلِمِينَ حَتَّى يَتَوَفَّاهُ اللَّهُ تَعَالَى، فَلَمْ يَفْعَلْ، وَأَبَى عَلَيْهِ وَقَتَلَهُ، فَبَغَّضَنِي بِقَتْلِهِ إِلَى الْمُسْلِمِينَ، وَزَرَعَ لِي فِي قُلُوبِهِمُ الْعَدَاوَةَ، فَأَبْغَضَنِي الْبَرُّ وَالْفَاجِرُ بِمَا اسْتَعْظَمَ النَّاسُ مِنْ قَتْلِي حُسَيْنًا، مَا لِي وَلِابْنِ مَرْجَانَةَ، لَعَنَهُ اللَّهُ، وَغَضِبَ عَلَيْهِ.
( البدایہ: جلد 8 صفحہ 232)
شیعہ عالم شیخ احمد بن علی طبرسی 548ھ کا بیان ہے کہ یہ بات سیدنا حسینؓ کے فرزند محترم سیدنا زین العابدین رحمۃاللہ سے بھی کہی تھی:
فقال له يزيد: لا يؤديهن غيرك، لعن الله ابن مرجانة، فوالله ما أمرته بقتل أبيك، ولو كنت متوليا لقتاله ما قتلته، ثم أحسن جائزته وحمله والنساء إلى المدينة.
(الاحتجاج: جلد 2 صفحہ 40)
ترجمہ: یزید نے ان سے کہا کہ آپ کے قافلہ کی خواتین کو اب آپ ہی مدینہ منورہ ساتھ لے جائیں گے ابن مرجانۃ پر خدا کی لعنت ہو خدا کی قسم میں نے آپ کے والد سیدنا حسینؓ کے قتل کا حکم نہیں دیا تھا اور اگر اس وقت میں وہاں موجود ہوتا تو میں کبھی انہیں قتل نہ کرتا۔ بعد ازاں یزید نے ان کے حق میں اچھا معاملہ کیا ان سب کے لئے سواری کا انتظام کیا اور انہیں مدینہ منورہ روانہ کیا۔
شیعہ عالم ملا باقر مجلسی نقل کرتا ہے کہ جو شخص یہ کہتا ہوا یزید کے پاس آیا کہ اس نے اس شخص (یعنی سیدنا حسینؓ) کو شہید کیا ہے جو سب سے افضل ہے تو جواباً یزید نے کہا کہ جب تو ان کو اتنا عظیم شخص جانتا تھا تو پھر اسے قتل کیوں کیا؟ بعد ازاں یزید نے اس شخص کے قتل کا حکم صادر کر دیا ۔
(دیکھیے جلاء العیون: جلد 2 صفحہ 248)
شیعہ علماء کم از کم لوگوں کو اس دھوکہ میں تو نہ رکھیں کہ سیدنا حسینؓ کے قاتلین اہلِ شام تھے، ان میں کوئی بھی عراقی نہ تھا اور نہ آپ کے قاتل کوفہ کے شیعہ تھے۔ سچ یہ ہے کہ ان لوگوں کی یہ بات غلط ہے! شیعہ کے معروف مؤرخ علی بن حسین مسعودی 346ھ نے کھل کر لکھا ہے کہ جن لوگوں نے آپؓ کو دھوکہ دیا آپؓ سے جنگ کی اور آپؓ کے خون سے جن لوگوں نے اپنے ہاتھ سرخ کیے ہیں بطورِ خاص سب کوفی تھے ان میں شام کے لوگ نہ تھے۔
وكان جميع من حضر مقتل الحسين من العساكر وحاربه وتولى قتله من أهل الكوفة خاصة، فلم يحضرهم شامي۔
(مروج الذہب: جلد 3 صفحہ 71)
شیعہ کی معروف کتاب خلاصۃ المصائب کا یہ بیان بھی پیش نظر رکھیے 
ليس فيهم شامي ولا حجازي بل جميعهم من أهل الكوفة
(خلاصۃ المصائب: صفحہ 201)
سیدنا حسینؓ کے قاتل صرف کوفی لوگ تھے ان میں شام اور حجاز کا کوئی شخص نہ تھا ۔
ملا باقر مجلسی شیعہ ( 1111ھ) نے بھی یہ بات بحار الانوار میں لکھی ہے ( دیکھیے جلد 10 صفحہ 231)
محدث جلیل حضرت مولانا خلیل احمد مہاجر مدنیؒ(1346ھ) لکھتے ہیں:
جھوٹے مدعیان تشیع و ولاء کی بےایمانی اور نفاق نے اہل بیت رسالت کو بذلت و خواری میدان کربلاء میں ہلاک کیا جس پر آج تک خود ہی نوحہ اور گریہ کنان ہیں۔
(مطرقۃ الکرامۃ: صفحہ 286)
آپؓ یہ سمجھ کر نکلے تھے کہ جب وہاں کے لوگ مجھے بار بار بلا رہے ہیں اور میری اطاعت کرنے اور میرے مؤقف کا ساتھ دینا چاہتے ہیں تو آپؓ نے چاہا کہ وہاں جا کر حالات کا جائزہ لیں اور پھر اس کی روشنی میں سارے معاملات طے کئے جائیں مگر جب آپؓ آگے بڑھے تو وہی لوگ جو اپنے آپ کو آپؓ کے شیعہ کہتے تھے اور آپؓ کے نام کے نعرے لگاتے تھے بڑی عیاری سے دغا دے گئے اور اب آپؓ کے پاس اس کے سوا کوئی اور چارہ نہ رہا کہ حالات کا دلیرانہ مقابلہ کیا جائے خواہ اس میں جان ہی کیوں نہ چلی جائے۔
شیخ الاسلام حافظ ابن تیمیہؒ 768ھ ایک مقام پر لکھتے ہیں:
وَالْحُسَيْنُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مَا خَرَجَ يُرِيدُ الْقِتَالَ ، وَلَكِنْ ظَنَّ أَنَّ النَّاسَ يُطِيعُونَهُ، فَلَمَّا رَأَى انْصِرَافَهُمْ عَنْهُ، طَلَبَ الرُّجُوعَ إِلَى وَطَنِهِ، أَوِ الذَّهَابَ إِلَى الثَّغْرِ، أَوْ إِتْيَانَ يَزِيدَ، فَلَمْ يُمَكِّنْهُ أُولَئِكَ الظَّلَمَةُ لَا مِنْ هَذَا وَلَا مِنْ هَذَا [وَلَا مِنْ هَذَا] وَطَلَبُوا أَنْ يَأْخُذُوهُ أَسِيرًا إِلَى يَزِيدَ، فَامْتَنَعَ مِنْ ذَلِكَ وَقَاتَلَ حَتَّى قُتِلَ مَظْلُومًا شَهِيدًا، لَمْ يَكُنْ قَصْدُهُ ابْتِدَاءً أَنْ يُقَاتِلَ.
(منہاج السنۃ: جلد 4 صفحہ 42)
اور سیدنا حسینؓ قتال کے لئے نہیں نکلے تھے۔ آپؓ کا خیال تھا کہ وہاں کے لوگ آپؓ کی اطاعت کریں گے، جب آپؓ کو پتہ چلا کہ وہ آپؓ کو چھوڑ کر جا رہے ہیں تو اس وقتؓ آپ نے فریق مخالف سے تین مطالبات کیے 
1: انہیں وطن واپس جانے دیا جائے۔
2: سیدنا حسینؓ کو محاذ جنگ پر جانے دیا جائے تاکہ وہ دشمن کا مقابلہ کریں۔
3: آپؓ کو یزید کے پاس جانے دیا جائے۔
پس ان ظالموں نے آپؓ کی ایک بات نہ مانی بلکہ آپؓ کو گرفتاری پیش کرنے کا کہا گیا تاکہ آپؓ کو قیدی بنا کر پیش کیا جائے آپؓ نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا یہاں تک کہ لڑتے ہوئے مظلومانہ حالت میں شہید ہو گئے تاہم آپؓ کا ارادہ شروع میں ہر گز جنگ کا نہ تھا۔
علامہ ابن تیمیہؒ ایک اور جگہ بھی یہ لکھتے ہیں:
وَكَذَلِكَ الْحُسَيْنُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لَمْ يُقْتَلْ إِلَّا مَظْلُومًا شَهِيدًا، تَارِكًا لِطَلَبِ الْإِمَارَةِ ، طَالِبًا لِلرُّجُوعِ: إِمَّا إِلَى بَلَدِهِ، أَوْ إِلَى الثَّغْرِ ، أَوْ إِلَى الْمُتَوَلِّي عَلَى النَّاسِ يَزِيدَ
( منہاج السنۃ: جلد 4 صفحہ535 )
سیدنا حسینؓ کے ساتھ آپؓ کے سوتیلے بھائی جناب ابوبکرؒ اور جناب عثمانؒ بھی کربلاء میں شہید ہوئے تھے۔ مگر آپ نے کسی شیعہ ذاکر کو ان کے نام لیتے نہیں سنا ہو گا۔ حضرات شیخین کریمینؓ اور ان کے ناموں کے ساتھ کینہ اور بغض کی اس سے بری اور بد ترین مثال اور کیا ہو گی۔ آپؓ کے قاتلوں میں سنان بن انس نخعی اور شمر ذی الجوشن کا نام بھی آتا ہے۔
سوال یہ ہے کہ شمر کون تھا؟
جواب یہ ہے کہ سیدنا حسینؓ کی سوتیلی والدہ ام البنین بنت حزام (جو سیدنا علیؓ کی چوتھی بیوی تھیں اور وہ قبیلہ بنی کلاب میں سے تھیں، ان کا نکاح عقیلؓ کی تجویز سے ہوا تھا۔ سیدنا علیؓ نے عقیلؓ سے کہا تھا کہ میرے نکاح کے لئے کوئی ایسی عورت تجویز کرو جس کے بھائی عرب کے بڑے بہادروں میں سے ہوں۔)
(عمدۃ الطالب و منتخب التواریخ: صفحہ 121 ایران)
اس پر حضرت مسلم بن عقیلؓ نے یہ تجویز دی۔ شمر ملعون انہیں میں سے تھا اور بنی کلاب میں سے تھا۔ انہی ام البنین میں سے حضرت عباسؓ علمدار تھے جو سیدنا حسینؓ کے بھائی اور سیدنا علیؓ کے بیٹے تھے۔ شمر اس رشتہ کے تعلق سے اپنے بھانجوں کے لئے ابن زیاد سے امان بھی لکھوا لایا تھا جس کی تفصیل کا یہ موقع نہیں بہر حال اس لحاظ سے یعنی سوتیلی والدہ حضرت ام البنین کے واسطہ سے شمر سیدنا حسینؓ کا رشتہ میں ماموں تھا۔ واللہ اعلم بحقيقة الحال۔
(عبقات من باب الاستفسارات: صفحہ 295)
کوفہ کے ان ظالموں نے حضورﷺ کی حرمت کا کوئی لحاظ نہ کیا اور یہ تک نہ سوچا کہ سیدنا حسینؓ کا اللہ اور اس کے رسولﷺ کے ہاں کیا مقام و مرتبہ ہے اور آپ خاتونِ جنتؓ کے فرزند ارجمند ہیں۔ جس سر کو حضورﷺ بوسہ دیتے تھے چومتے تھے اس سر کو ظالموں نے تن سے علیحدہ کرنے میں کوئی حیاء نہ کی۔ سیدنا حسینؓ اپنے اہل وعیال سمیت میدان کربلا میں مظلوماً شہید کر دیے گئے۔ آپؓ کی اس مظلومانہ شہادت پر ہر مسلمان دکھی اور غمزدہ ہے اور اسے ہونا بھی چاہیے۔
مفسر شہیر حافظ ابن کثیرؒ لکھتے ہیں:
فَكُلُّ مُسْلِمٍ يَنْبَغِي لَهُ أَنْ يُحْزِنَهُ هَذَا الَّذِي وَقَعَ مِنْ قَتْلِهِ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَإِنَّهُ مِنْ سَادَاتِ الْمُسْلِمِينَ وَعُلَمَاءِ الصَّحَابَةِ، وَابْنُ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّتِي هِيَ أَفْضَلُ بْناتِهِ، وَقَدْ كَانَ عَابِدًا وَشُجَاعًا وَسَخِيًّا، وَلَكِنْ لَا يُحْسِنُ مَا يَفْعَلُهُ الشِّيعَةُ مِنْ إِظْهَارِ الْجَزَعِ وَالْحُزْنِ الَّذِي لَعَلَّ أَكْثَرَهُ تَصَنُّعٌ وَرِيَاءٌ، وَقَدْ كَانَ أَبُوهُ أَفْضَلَ مِنْهُ، وَهُمْ لَا يَتَّخِذُونَ مَقْتَلَهُ مَأْتَمًا كَيَوْمِ مَقْتَلِ الْحُسَيْنِ، فَإِنَّ أَبَاهُ قُتِلَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَهُوَ خَارِجٌ إِلَى صَلَاةِ الْفَجْرِ فِي السَّابِعَ عَشَرَ مِنْ رَمَضَانَ سَنَةَ أَرْبَعِينَ، وَكَذَلِكَ عُثْمَانُ كَانَ أَفْضَلَ مِنْ عَلِيٍّ، عِنْدَ أَهْلِ السُّنَّةِ وَالْجَمَاعَةِ، وَقَدْ قُتِلَ وَهُوَ مَحْصُورٌ فِي دَارِهِ فِي أَيَّامِ التَّشْرِيقِ مِنْ شَهْرِ ذِي الْحِجَّةِ سَنَةَ سِتٍّ وَثَلَاثِينَ، وَقَدْ ذُبِحَ مِنَ الْوَرِيدِ إِلَى الْوَرِيدِ، وَلَمْ يَتَّخِذِ النَّاسُ يَوْمَ مَقْتَلِهِ مَأْتَمًا، وَكَذَلِكَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، وَهُوَ أَفْضَلُ مِنْ عُثْمَانَ وَعَلِيٍّ، قُتِلَ وَهُوَ قَائِمٌ يُصَلِّي فِي الْمِحْرَابِ صَلَاةَ الْفَجْرِ، وَهُوَ يَقْرَأُ الْقُرْآنَ، وَلَمْ يَتَّخِذِ النَّاسَ يَوْمَ قَتْلِهِ مَأْتَمًا، وَكَذَلِكَ الصِّدِّيقُ كَانَ أَفْضَلَ مِنْهُ، وَلَمْ يَتَّخِذِ النَّاسُ يَوْمَ وَفَاتِهِ مَأْتَمًا، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، سَيِّدُ وَلَدِ آدَمَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، وَقَدْ قَبَضَهُ اللَّهُ إِلَيْهِ كَمَا مَاتَ الْأَنْبِيَاءُ قَبْلَهُ، وَلَمْ يَتَّخِذْ أَحَدٌ يَوْمَ مَوْتِهِ مَأْتَمًا يَفْعَلُونَ فِيهِ مَا يَفْعَلُهُ هَؤُلَاءِ الْجَهَلَةُ مِنَ الرَّافِضَةِ يَوْمَ مَصْرَعِ الْحُسَيْنِ، وَلَا ذَكَرَ أَحَدٌ أَنَّهُ ظَهَرَ يَوْمَ مَوْتِهِمْ وَقِبَلَهُمْ شَيْءٌ مِمَّا ادَّعَاهُ هَؤُلَاءِ يَوْمَ مَقْتَلِ الْحُسَيْنِ مِنَ الْأُمُورِ الْمُتَقَدِّمَةِ، مِثْلَ كُسُوفِ الشَّمْسِ وَالْحُمْرَةِ الَّتِي تَطْلُعُ فِي السَّمَاءِ وَغَيْرِ ذَلِكَ.
وَأَحْسَنُ مَا يُقَالُ عِنْدَ ذِكْرِ هَذِهِ الْمَصَائِبِ وَأَمْثَالِهَا مَا رَوَاهُ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ جَدِّهِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " «مَا مِنْ مُسْلِمٍ يُصَابُ بِمُصِيبَةٍ فَيَتَذَكَّرُهَا وَإِنْ تَقَادَمَ عَهْدُهَا، فَيُحْدِثُ لَهَا اسْتِرْجَاعًا، إِلَّا أَعْطَاهُ اللَّهُ مِنَ الْأَجْرِ مِثْلَ يَوْمٍ أُصِيبَ بِهَا» ". رَوَاهُ الْإِمَامُ أَحْمَدُ وَابْنُ مَاجَهْ.
(البدايه: جلد 11 صفحہ 579، 580)
ترجمہ: ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ آپؓ کی شہادت پر غمزدہ ہو، بلاشبہ آپؓ سادات المسلمین اور علماء صحابہؓ میں سے تھے اور حضورﷺ کی اس دختر نیک اخترؓ کے شہزادے تھے جو آپﷺ کی بیٹیوں میں سب سے افضل تھی آپؓ عبادت گزار، بہادر اور سخی تھے لیکن شیعہ جس طرح ان کی شہادت پر جزع فزع کرتے ہیں وہ درست نہیں ہے اور ان کی اکثریت تصنع و ریاء سے کرتی ہے۔ آپؓ کے والد گرامی آپؓ سے کہیں افضل تھے، وہ بھی شہید ہوئے مگر شیعہ کبھی ان کی شہادت کا ماتم نہیں مناتے بلاشبہ آپؓ کے والد مکرم سیدنا علیؓ 17 رمضان 40ھ نماز فجر کو جاتے ہوئے شہید ہوئے تھے اسی طرح سیدنا عثمانؓ بھی شہید ہوئے اور اہل سنت و الجماعت کے ہاں آپؓ سیدنا علیؓ سے افضل ہوئے، آپؓ ماہ ذی الحجہ 36ھ کے ایام التشریق میں اپنے گھر میں محصور کئے گئے اور وہیں آپؓ کو شہید کیا گیا، آپؓ کی شہ رگ کاٹی گئی مگر لوگوں نے آپؓ کی شہادت والے دن کو کبھی یومِ ماتم نہیں بنایا، اسی طرح آپؓ سے پہلے سیدنا عمر بن الخطابؓ بھی شہید ہوئے جو سیدنا عثمانؓ اور سیدنا علیؓ سے افضل تھے آپؓ محراب میں نمازِ فجر میں قرآن پڑھتے ہوئے شہید کئے گئے مگر مسلمانوں نے کبھی ان کے لئے ماتم کا دن نہیں منایا، اسی طرح آپؓ سے پہلے سیدنا ابوبکر صدیقؓ تھے، جو آپؓ سے افضل تھے وہ بھی دنیا سے تشریف لے گئے مگر کبھی ان کا یومِ ماتم نہیں منایا گیا اور ان سب سے پہلے حضور اکرمﷺ ہیں جو دنیا و آخرت میں سب لوگوں کے سردار ہیں، آپﷺ کو اللہ تعالیٰ نے وفات دی جیسے آپﷺ سے پہلے انبیاءؑ نے وفات پائی مگر کسی نے بھی اس دن کو یومِ ماتم نہیں قرار دیا اور نہ وہ کام کئے جو جاہل شیعہ ماتمِ حسینؓ میں کرتے ہیں اور نہ ان کی وفات کے دن اور نہ ان سے پہلے کسی نے اس طرح کبھی کیا جس طرح یہ لوگ سیدنا حسینؓ کی شہادت پر کرتے ہیں۔ اس طرح کی مصیبتوں کے موقع پر سب سے اچھی بات وہی ہے جو سیدنا حسینؓ بن علیؓ نے حضورﷺ سے روایت کیا ہے کہ آپﷺ نے فرمایا جس مسلمان کو کوئی مصیبت پہنچتی ہے اور وہ اس کے قدیم العہد ہونے کے باوجود اسے یاد کرتا ہےاور اس پر انا اللّٰہ و انا الیہ راجعون پڑھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے اس دن کی طرح (صبر کرنے کا) اجر عطا فرماتا ہے (جس دن اسے یہ مصیبت پہنچی تھی)۔ جناب سلمیٰ کہتی ہیں میں ام المؤمنین ام سلمہؓ کے پاس آئی تو آپؓ کو روتا ہوا پایا، میں نے رونے کا سبب پوچھا تو کہا کہ میں نے حضورﷺ کو خواب میں دیکھا آپﷺ کے سر اور داڑھی مبارک پر گرد و غبار پڑا ہوا ہے۔ میں نے پوچھا یا رسول اللہﷺ کیا ہوا ہے؟ آپﷺ نے فرمایا شَهِدْتُ قَتْلَ الْحُسَيْنِ آنِفًا
(سنن ترمذی: رقم الحدیث 3771)
میں نے حسینؓ کا قتل ابھی ابھی دیکھا ہے۔
نوٹ ام المؤمنین حضرت ام سلمہؓ کی وفات 59ھ میں ہے بعض نے کہا کہ 62ھ میں ہوئی قول اول صحیح تر ہے اور سیدنا حسینؓ کی شہادت 61ھ میں پیش آئی اگر حضرت ام سلمہؓ کی وفات 59ھ میں ہوئی ہو تو پھر اس کا معنیٰ یہ ہے کہ ہو سکتا ہے کہ اس واقعہ کے وقوع سے پہلے ان کو خواب میں یہ منظر دکھایا ہو اور آنفا یعنی اب کہنا باعتبار تحقیق اس کے ہے کہ اس وقت میں۔
(مظاہرِ حق: جلد 5 صفحہ 157)
شیخ الاسلام حافظ ابن تیمیہؒ 728ھ لکھتے ہیں:
بلا شک و شبہ سیدنا حسینؓ مظلومانہ شہید ہوئے ہیں اور جن کے ہاتھ آپؓ کے خون سے رنگین ہوئے وہ سب خدا کے مجرم ہیں:
فَلَا رَيْبَ أَنَّهُ قُتِلَ مَظْلُومًا شَهِيدًا، كَمَا قُتِلَ أَشْبَاهُهُ مِنَ الْمَظْلُومِينَ الشُّهَدَاءِ. وَقَتْلُ الْحُسَيْنِ مَعْصِيَةٌ لِلَّهِ وَرَسُولِهِ مِمَّنْ قَتَلَهُ أَوْ أَعَانَ عَلَى قَتْلِهِ [أَوْ رَضِيَ بِذَلِكَ] ، وَهُوَ مُصِيبَةٌ أُصِيبَ بِهَا الْمُسْلِمُونَ مِنْ أَهْلِهِ وَغَيْرِ أَهْلِهِ، وَهُوَ فِي حَقِّهِ شَهَادَةٌ لَهُ، وَرَفْعُ دَرَجَةٍ، وَعُلُوُّ مَنْزِلَةٍ ; فَإِنَّهُ وَأَخَاهُ سَبَقَتْ لَهُمَا مِنَ اللَّهِ السَّعَادَةُ، الَّتِي لَا تُنَالُ إِلَّا بِنَوْعٍ مِنَ الْبَلَاءِ، وَلَمْ يَكُنْ لَهُمَا مِنَ السَّوَابِقِ مَا لِأَهْلِ بَيْتِهِمَا، فَإِنَّهُمَا تَرَبَّيَا فِي حِجْرِ الْإِسْلَامِ، فِي عِزٍّ وَأَمَانٍ، فَمَاتَ هَذَا مَسْمُومًا وَهَذَا مَقْتُولًا، لِيَنَالَا بِذَلِكَ مَنَازِلَ السُّعَدَاءِ وَعَيْشَ الشُّهَدَاءِ.
(منہاج السنة: جلد 4 صفحہ 550)
رہا سیدنا حسینؓ کا معاملہ تو اس میں کوئی شک نہیں کہ آپؓ نہایت مظلومیت کی حالت میں شہید کئے گئے جس طرح کہ آپؓ جیسے دوسرے بہت سے لوگ مظلومانہ شہید کئے گئے۔ سیدنا حسینؓ کا مقصد شروع میں قتال کرنا نہیں تھا۔ سیدنا حسینؓ کو قتل کرنا یا اس پر مدد کرنا یا اس پر راضی ہونا اللہ اور اس کے رسولﷺ کی بڑی نافرمانی تھی۔ سیدنا حسینؓ کا قتل مسلمانوں کے لئے ایک بڑی مصیبت تھی جو اپنوں اور غیروں کی وجہ سے پہنچی جبکہ یہ شہادت سیدنا حسینؓ کے لئے درجات کی بلندی اور بڑی منزلت کا سبب بن گئی۔ اللہ تعالیٰ کی جانب سے آپؓ کے لئے اور آپؓ کے بھائی کے لئے سعادت اور خوش نصیبی مقدر ہو چکی تھی جو کہ کسی امتحان کے آئے بغیر انہیں نہیں مل سکتی تھی اور اس خاندان میں ان دو بھائیوں جیسی مثال نہیں ملتی۔ انہوں نے اسلام کی گود میں عزت وامان کے ساتھ پرورش پائی پھر ان میں سے ایک کو بذریعہ زہر اور دوسرے کو قتل کر کے شہید کیا گیا تاکہ یہ دونوں حضراتؓ جنت میں شہداء کے درجات حاصل کر لیں۔
آپ یہ بھی لکھتے ہیں:
وَكَانَ قَتْلُهُ  رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ الْمَصَائِبِ الْعَظِيمَةِ فَإِنَّ قَتْلَ الْحُسَيْنِ، وَقَتْلَ عُثْمَانَ قَبْلَهُ: كَانَا مِنْ أَعْظَمِ أَسْبَابِ الْفِتَنِ فِي هَذِهِ الْأُمَّةِ وَقَتَلَتُهُمَا مِنْ شِرَارِ الْخَلْقِ عِنْدَ اللَّهِ.
( فتاویٰ ابن تیمیه: جلد 3 صفحہ 411)
ترجمہ: سیدنا حسینؓ کی شہادت عظیم مصائب میں سے ہے کیونکہ سیدنا حسینؓ اور ان سے پہلے سیدنا عثمانؓ کی شہادت اس امت کے اندر فتنوں کا سب سے بڑا سبب ہے اور جن لوگوں نے انہیں شہید کیا وہ خدا کے نزدیک بد ترین مخلوق ہیں۔
( مجموعہ رسائل کبریٰ صفحہ 301)
حافظ ابن تیمیہؒ ایک اور مقام پر لکھتے ہیں:
" کہ اللہ تعالیٰ نے عاشوراء جیسے محترم و معظم دن میں حضورﷺ کے نواسہ اور جوانانِ جنت کے سردار سیدنا حسینؓ کو بد نصیب فاجروں کے ہاتھوں شہادت کا اعزاز دے کر انہیں عزت و کرامت عطا فرمائی۔ اللہ تعالیٰ نے سیدنا حسینؓ کی عزت افزائی اور ان کے درجات کو بلند کرنے اور شہداء کرام کے مقام و مرتبہ تک پہنچانے کے لئے انہیں اس حادثہ سے دوچار کیا اور یہ بات سب جانتے ہیں کہ سیدنا حسنؓ اور سیدنا حسینؓ اس طرح نہیں آزمائے گئے تھے جس طرح ان کے مقدس نانا محترم، والدہ اور قابلِ احترام چچا (سیدنا جعفرؓ اور سیدنا عقیلؓ) اللہ کے دین کے لئے آزمائے گئے کیونکہ یہ دونوں شہزادے اسلام کے زمانے میں پیدا ہوئے اور انہوں نے مسلمانوں کے ماحول میں آنکھیں کھولیں اور پرورش پائی، اللہ نے چاہا کہ ان دونوں کو مقامِ شہادت سے سرفراز کریں چنانچہ ان میں سے ایک بذریعہ زہر شہادت کے مقام کو پہنچے جبکہ دوسرے نے میدان کرب وبلاء میں جامِ شہادت نوش کیا. آپؓ کی شہادت کا واقعہ اسلام میں ہونے والے بڑے مصائب میں سے ایک ہے. جن لوگوں نے آپؓ کو شہید کیا اور جنہوں نے اس بارے میں قاتلوں کی مدد کی، اس قتل پر وہ راضی ہوئے وہ سب کے سب بدبخت ہو گئے۔ 
ومن ذلك أن اليوم الذي هو يوم عاشوراء الذي أكرم الله فيه سبط نبيه, وأحد سيدي شباب أهل الجنة بالشهادة على أيدي من قتله من الفجرة الأشقياء, وكان ذلك مصيبة عظيمة من أعظم المصائب الواقعة في الإسلام. وقد روى الإمام أحمد وغيره عن فاطمة بنت الحسين وقد كانت قد شهدت مصرع أبيها, الحسين بن علي رضي الله عنهم, عن جده رسول الله صلى الله عليه وسلم أنه قال: "ما من رجل يصاب بمصيبة فيذكر مصيبته وإن قدمت, فيحدث لها استرجاعا إلا أعطاه الله من الأجر مثل أجره يوم أصيب بها" فقد علم أن الله أن مثل هذه المصيبة العظيمة سيتجدد ذكرها مع تقادم العهد, فكان من محاسن الإسلام أن روى هذا الحديث صاحب المصيبة والمصاب به أولا ولا ريب أن ذلك فعله الله كرامة للحسين رضي الله عنه, ورفعا لدرجته ومنزلته عند الله, تبليغا له منازل الشهداء, وإلحاقا له بأهل بيته الذين ابتلوا بأصناف البلاء, ولم يكن الحسن والحسين حصل لهما من الابتلاء ما حصل لجدهما ولأمهما وعمهما, لأنهما ولدا في عز الإسلام, تربيا في حجور المؤمنين, فأتم الله نعمته عليهما بالشهادة, أحدهما مسموما, والآخر مقتولا, لأن الله عنده من المنازل العالية في دار كرامته ما لا ينالها إلا أهل البلاء كما قال النبي صلى الله عليه وسلم وقد سئل: أي الناس بلاء؟ فقال: "الأنبياء ثم الصالحون ثم الأمثل فالأمثل, وابتلى الرجل حسب دينه, فإن كان في دينه صلابة زيد في بلائه, وإن كان في دينه رقة خفف عنه وما يزال البلاء بالمؤمن حتى يمشي على الأرض وليس خطيئة" وشقي بقتله من أعان عله, أو رضي به
(کتاب حقوق آل البیت: صفحہ 40)
سیدنا حسینؓ کے ساتھ جن ظالموں نے زیادتی کی ان کا سرغنہ عبید اللہ ابن زیاد تھا، اس نے جب آپؓ کے دانتوں کے ساتھ گستاخانہ سلوک کیا تو حضرت زید بن ارقمؓ (یا حضرت انسؓ) نے اسے سختی سے ڈانٹا اور کہا کہ 
ان کے لب مبارک سے چھڑی ہٹالو میں نے بارہا حضورﷺ کو ان کا بوسہ لیتے دیکھا ہے۔
وَرَأْسُ الْحُسَيْنِ حُمِلَ إِلَى قُدَّامِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زِيَادٍ، وَهُوَ الَّذِي ضَرَبَهُ بِالْقَضِيبِ عَلَى ثَنَايَاهُ، وَهُوَ الَّذِي ثَبَتَ فِي الصَّحِيحِ
( منہاج السنۃ: جلد 8 صفحہ 142)
ابن زیاد کی اس گستاخی کی سزا اسے اللہ نے اسی دنیا میں دے دی وہ اور اس کے ساتھی ابراہیم بن مالک اشتر کے ہاتھوں (66ھ میں) موصل میں قتل کیا گیا۔
عمارۃ بن عمیر کہتے ہیں:
لَمَّا جِيءَ بِرَأْسِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زِيَادٍ وَأَصْحَابِهِ نُضِّدَتْ فِي المَسْجِدِ فِي الرَّحَبَةِ فَانْتَهَيْتُ إ



سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی تعظیم و توقیر ہر صورت واجب ہے

سیدنا حسینؓ کی تعظیم و توقیر ہر صورت واجب ہے
حکیم الاسلام حضرت مولانا قاری محمد طیب صاحبؒ لکھتے ہیں:
   سیدنا حسینؓ صحابی ہیں اور بلاشبہ صحابی ہیں، صاحبِ روایت صحابی ہیں، اور اہلِبیت صحابی ہیں
تو بلا شبہ وہ تمام آثار و لوازم صحابیت اور تمام حقوق ان کے لئے ماننے پڑیں گے جو کتاب و سنت نے مقامِ صحابیت کے لئے ثابت کئے ہیں اور ہمیں تاریخی طور پر نہیں بلکہ بطورِ عقیدہ کے اس پر ایمان لانا پڑے گا کہ سیدنا حسینؓ بوجہ صحابی ہونے کے متقن، عدول، پاک باطن، صاف ظاہر، محبتِ جاہ و مال سے بری، ہوسِ اقتدار سے بالاتر اور ان تمام رذائلِ نفس سے پاک تھے جو ان مقدسین سے بنصِ کتاب و سنت دھو دئیے گئے۔ پھر سیدنا حسینؓ نہ صرف صحابی رسولﷺ ہیں بلکہ قرابتِ نبویﷺ کی خصوصیت سے بھی مالا مال ہیں جو اہلِ بیت کا مخصوص حصہ تھا اور اس کی بناء پر ان کی قلبی تطہیر اور رجس و نجسِ باطن سے پاکی اور بھی زیادہ مؤکد ہو جاتی ہے، اور قلبی تطہیر کا کم سے کم یہ درجہ ہے کہ قلب(دل) دنیاوی رذائل حُبِ جاہ و مال اور ہوسِ اقتدار و ریاست سے بری ہو جائے اور آدمی عبدالدینار و عبد الدراہم نہ رہے۔ اس لئے سیدنا حسینؓ کے صحابی ہونے کے علاوہ اہل بیت میں سے ہونے کی وجہ سے بھی بلاشبہ ان کا ان رذائل سے قلب پاک اور بری مانا جانا بطورِ عقیدہ کے ضروری ہے۔
( شہیدِ کر بلا: صفحہ 78)
اس لئے سیدنا حسینؓ کی توقیر و تعظیم واجب، ان کے حق میں بد گوئی حرام، ان سے حسنِ ظن اور ان پر اعتماد و ثقہ لازم اور ان سے رضا بلا تخصیص واستثناء بوجہ رضائے الٰہی و رضاء نبویﷺ کے ضروری ہے، ان کی بد وئی کرنا یا ان پر زبان طعن و ملامت دراز کرنا یا ان پر نکتہ چینی کرنا شرعی طور پر ممنوع ٹھہرا کہ یہی اہل سنت والجماعت کا مذہب ہے جس پر قديماً و حديثاً علماء، عرفاء، فقہاء، محدثین اور صوفیاء توارث کے ساتھ جمے چلے آرہے ہیں اور اسی کو قرآن وحدیث کی رو سے اپنا قطعی عقیدہ جانتے ہیں۔
( ایضاً: صفحہ 62)
حضرت حکیم الاسلام قدس سرہؒ آگے چل کر لکھتے ہیں:
سیدنا حسینؓ کے جزوِ رسولﷺ ہونے کی وجہ سے انہیں اخلاقِ نبوت سے جو خلقی اور فطری مناسبت ہو سکتی ہے وہ یقیناً دوسروں کے لحاظ سے قدرتاً امتیازی شان لئے ہوئے ہونی چاہیے اور اس مناسبت کے معیار سے اگر دوسروں کی رسائی بڑے بڑے مجاہدات و ریاضات اور مدتوں کی صحبت و معیت کے بعد ممکن تھی تو اہلِ بیت اور بالخصوص حضرات حسنین کریمینؓ کے لئے وہ اس خلقی مناسبت کے سبب زیادہ مجاہدہ اور طولِ صحبت کی متقاضی نہ تھی۔ پھر اور لوگ تو بیرونی مجالس اور مجامع ہی میں اللہ کے رسولﷺ کی صحبت سے فائدہ اٹھا سکتے تھے، لیکن ان اہل بیتؓ کو اندرون خانہ بھی یہ دولت نصیب تھی اس لئے نبوت کے اخلاقی رنگ سے جس قدر وہ ہم آہنگ ہو سکتے تھے، دوسروں کے لئے اتنے مواقع نہ تھے اس لئے بحیثیت اہل بیت نبویﷺ ہونے کے حضرات حسنینؓ کے بارے میں مخصوص فضائل و مناقب کی روایات بکثرت وارد ہوئی ہیں؛ کہیں ان کو (سیدا شباب أهل الجنة) فرمایا گیا، کہیں ان کو حضورﷺ نے اپنا محبوب ظاہر فرما کر اللہ سے درخواست کی کہ آپ بھی انہیں اپنا محبوب بنا لیں، کہیں ان سے حضورﷺ نے اپنی محبت کا بر سرِ منبر اعلان فرما کر دعا مانگی کہ یا اللہ جو ان سے محبت کرے تو بھی اس سے محبت فرما، یعنی محبِ حسینؓ کو محبوبِ خداوندی ہونے کی دعا اور بشارت دی نیز وہ حضورﷺ کی افضل بیٹی سیدہ فاطمہؓ کے جگر گوشہ ہیں، اس لئے ان کی محبوبیت یوں بھی دوہری ہو جاتی ہے۔ اور اس لئے ان پر طعنہ زنی اور اتہام تراشی کرنے والا صرف سیدناحسینؓ ہی کو ستانے والا نہیں، بلکہ حضرت زہراؓ کو ایذا پہنچا رہا ہے جو انجامِ کار اللہ کے رسولﷺ کو ایذا رسانی ہے۔ جیسا کہ فاطمةؓ منى من أذاها فقد أذاني(فاطمہؓ میر ا جگر گوشہ ہے جس نے اسے ستایا، اس نے مجھے ستایا۔) سے ظاہر ہے پس جبکہ سیدنا حسینؓ کے شرف صحبت و صحابیت، قرب و قرابت اور حضورﷺ سے صورتاً وسیرتاً اشبہیت کی وجہ سے اور بھی حقوق بڑھ جاتے ہیں تو ان کی ذات گرامی پر مخلصانہ اعتماد و اعتقاد اور بھی زیادہ واجب اور ضروری ہو جاتا ہے۔ 
(ايضاً: صفحہ 79)
آپؒ مزید لکھتے ہیں:
سیدنا حسینؓ کی پوری زندگی محبتِ نبویﷺ کی وجہ سے غیرت و حمیت سے معمور ہے۔ جس سے اخذِ حقوق اور دفعِ مظالم کے افعال کا ظہور ہوا۔ حتیٰ کہ اسی دفعِ مظالم اور ردِ منکرات کے کاموں میں اپنی جان پاک بھی جان آفرین کو دے کر شہادتِ عظمیٰ کے مقام پر جا پہنچے۔
( ایضاً: صفحہ 124)
سیدنا حسینؓ کی عبادات
سیدنا حسینؓ کو اپنے بڑے بھائی سیدنا حسنؓ کی طرح عبادت کا بھی بہت شوق تھا۔ آپؓ نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ عبادت الٰہی کو بنایا تھا۔ تمام عبادات میں نماز آپؓ کو بہت محبوب تھی۔ آپؓ بکثرت نمازیں پڑھا کرتے تھے۔ کبھی کبھی تو نمازِ عشاء کے بعد بہت کم سوتے تھے۔ رات کو اٹھ کر نماز پڑھنے لگ جاتے اور فجر کی نماز پڑھنے کے بعد قرآن کریم کی تلاوت کرتے پھر تھوڑی دیر کے لئے آرام کر لیتے تھے۔ آپؓ روزہ بھی بکثرت رکھتے تھے۔ آپؓ نے بیسیوں مرتبہ حج بیت اللہ کی سعادت حاصل کی ہے۔ عبداللہ بن یزید کہتے ہیں کہ میں نے سيدنا حسینؓ کو حج کے دنوں میں لوگوں کو حوض سے پانی پلاتے بھی دیکھا ہے۔
(المصنف لعبد الرزاق: جلد 1 صفحہ 505)
آپؓ ہر نیکی کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے۔ آپؓ اپنے بھائی کی طرح غرباء و مساکین کا بہت خیال رکھتے تھے۔ اور جو کچھ آتا آپؓ ان پر خرچ کر دیا کرتے تھے۔
 ایک دن سیدنا حسینؓ نماز پڑھ رہے تھے اتنے میں ایک فقیر آپؓ کے دروازہ پر آیا اور اشعار کی صورت میں اپنی حاجت پیش کر کے امداد کا طالب ہوا، آپؓ نماز پڑھ کر فوراً باہر آئے، سائل کی حالت دیکھ کر غلام کو آواز دی کہ ہمارے خرچ اخراجات میں سے کچھ بچا کھچا ہو تو لے آؤ، اس نے کہا کہ حضور دو سو درہم باقی رہ گئے ہیں جو گھر کی ضروریات کے لئے ہیں۔ آپؓ نے غلام سے کہا کہ وہ سب لے آؤ، ہمارے گھر والوں کی بہ نسبت یہ شخص زیادہ حقدار ہے۔ پھر آپؓ نے وہ درہم اس سائل کو دے دیئے۔
(مختصر تاریخ ابن عساکر: جلد 7 صفحہ 131 لابن منظور)
 ایک مرتبہ کسی شاعر نے سیدنا حسینؓ کی تعریف کی تو آپؓ نے اس کو بہت سا مال دیا، اس پر کسی نے سیدنا حسینؓ سے کہا کہ آپؓ نے اسے اتنا سارا مال دے دیا! سیدنا حسینؓ نے کہنے والے کو سمجھایا کہ مجھے اس بات کا ڈر تھا کہ کہیں وہ یہ نہ کہہ دے کہ تم فاطمہ بنتِ رسولﷺ اور علیؓ بن ابی طالب کی اولاد نہیں ہو پھر لوگ خوامخواہ اس کی بات کی تصدیق کرتے اور اسے نقل کرتے، پھر یہ بات ہمیشہ کے لئے کتابوں میں رہ جاتی اور بیان کرنے والوں کی زبانوں پر رائج رہتی۔ سیدنا حسینؓ کا یہ حکمت بھرا جواب سن کر اس شخص نے کہا: اے اللہ کے رسولﷺ کے بیٹے! خدا کی قسم آپؓ مدح و زم کی حقیقت کو مجھ سے زیادہ جاننے والے ہیں۔
(الحسن والحسین: صفحہ 20)
مدینہ منورہ کے آس پاس سیدنا علی المرتضیٰؓ کی ملکیت میں بہت سے چشمے تھے، آپؓ نے اپنے رشتہ داروں کے لئے وہ چشمے وقف کر رکھے تھے اور لوگ ان سے فائدہ اٹھاتے تھے۔ ان میں سے ایک چشمہ البغیبغات کے نام سے مشہور تھا، یہ چشمہ سیدنا حسینؓ کے حصّہ میں آیا تو آپؓ نے اسے چچازاد بھائی عبد الله بن جعفرؓ کو دے دیا، کہ وہ اس سے فائدہ اٹھائیں، ایک عرصہ کے بعد پھر حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے یہ چشمہ حضرت معاویہؓ کے ہاتھ فروخت كر ديا۔
(تاريخ المدينة المنورة: جلد 1 صفحہ 138)
علامه عزالدین ابن اثیرؒ (606ھ) لکھتے ہیں:
وكان الحسين رضي الله عنه فاضلاً، كثير الصوم والصلاة والحج والصدقة وأفعال الخير جميعها
(اسد الغابة: جلد 2 صفحہ 23) 
سدنا حسینؓ بہت زیادہ صاحبِ فضیلت، کثرت سے نماز، روزہ، حج، صدقہ اور تمام خیر کے کام زیادہ کرنے والے تھے۔
حافظ ابو نعیم اصبہانیؒ(430ھ) لکھتے ہیں:
تَقِيًّا نَقِيًّا فِي ذَاتِ اللَّهِ ، مُجِدًّا قَوِيًّا ذَا لِسَانٍ وَبَيَانٍ ، وَنَجْدَةٍ وَجَنَانٍ
[معرفة الصحابة لأبي نعيم الأصبهاني] (المؤلف) أبو نعيم أحمد بن عبد الله بن أحمد بن إسحاق بن موسىٰ بن مهران الأصبهان
(336-430هـ) .
(معرفة الصحابة: جلد 2 صفحہ 9) 
حافظ ابن عبد البر مالکیؒ(463ھ) لکھتے ہیں:
وكان الحسين فاضلا دينا، كثير الصوم والصلاة والحج
(الاستيعاب: جلد 1 صفحہ 378)
سیدنا حسینؓ دیندار صوم و صلوٰۃ اور حج کی کثرت رکھنے والی ہستی تھے۔
حضرت امام نوویؒ (676ھ) سیدنا حسینؓ کے بارے میں لکھتے ہیں:
الحسین بن علی بن ابی طالب الهاشمي أبو عبدالله سبط رسول اللهﷺ وريحانته وهو اخوه الحسن سيدا شباب أهل الجنة مصعب قال حج الحسين خمسا وعشرين حجة ماشيا قالوا وكان الحسين فاضلا كثير الصلاة والصوم والحج والصدقة وأفعال الخير جميعها
 (تهذیب الاسماء: جلد 1 صفحہ 163)
 سیدنا حسینؓ کی کرامت کا ایک واقعہ
آپؓ بڑے صاحبِ کرامت صحابی تھے۔ ابوعون کہتے ہیں: کہ جب سیدنا حسینؓ مکہ کے ارادے سے مدینہ سے روانہ ہوئے تو راستہ میں ان کا گزر عبداللہ ابنِ مطیعؓ کے پاس ہوا، اس وقت وہ اپنا کنواں کھود رہے تھے۔ ابن مطیعؓ نے سیدنا حسینؓ سے عرض کی کہ میں نے اپنے اس کنوئیں کو اس لئے ٹھیک کیا تاکہ اس میں دوبارہ پانی آ جائے لیکن ابھی تک پانی نہیں آیا ہے، ڈول خالی ہی نکلا ہے آپ ہمارے لیے اس کنویں کی برکت کے لئے دعا کر دیں۔
فلو دعوت الله لنا فيها بالبركة.قال: هات من مائها. فأتى من مائها في الدلو، فشرب منه ثم مضمض، ثم رده في البئر، فأعذب وأمهى، ثم ودع وسار إلى مكة.
(طبقات ابن سعد: جلد 5 صفحہ 110)
سیدنا حسینؓ نے فرمایا: کنویں کا تھوڑا سا پانی لاؤ، چنانچہ ابن مطیع اس میں سے تھوڑا سا پانی لے کر آپؓ کے پاس آئے، سیدنا حسینؓ نے اس سے تھوڑا پانی پیا پھر کلی فرمائی پھر وہ پانی اس کنویں میں ڈال دیا تو اس کنویں کا پانی میٹھا بھی ہو گیا اور زیادہ بھی ہو گیا۔
سیدناحسینؓ کی تواضع
سیدنا حسینؓ میں تواضع کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔ ایک مرتبہ آپؓ گھوڑے پر جا رہے تھے، غرباء کی ایک جماعت کو دیکھا کہ جو زمین پر بیٹھے روٹی کھا رہے تھے، آپؓ نے انہیں سلام کیا، انہوں نے سیدنا حسینؓ کو پہچان لیا اور کہا اے رسول اللہﷺ کے بیٹے تشریف لائیے! آپؓ گھوڑے سے اتر پڑے اور ان کے ساتھ وہیں زمین پر بیٹھ کر کھانے لگے، آپؓ نے اس وقت یہ بھی فرمایا اللہ تعالٰی تکبر کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔
(الجوہرة: جلد 2 صفحہ 213)
حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ فرماتے ہیں:
سیدنا حسینؓ کی حکایت ہے کہ آپؓ کے یہاں چند مہمان تھے، کھانے کا وقت آیا، غلام کھانا لایا، اتفاق سے شوربے کا پیالہ لئے ہوئے تھا کہ فرش پر پاؤں پھسلا، پیالے میں سے گرم شوربا آپؓ کے چہرہ مبارک پر گر پڑا، (آپ سمجھ سکتے ہیں کہ کیسا منظر تھا، اس وقت کے اہلِ جاہ اپنے دل میں ٹٹولیں کہ ایسے موقع پر وہ کیا کرتے ہیں)، آپؓ نے کچھ نہیں کیا مگر مصلحتِ تعلیم نظرِ تادیب سے اس کی طرف دیکھا، اس کی زبان پر فوراً یہ جاری ہو گیا
(وَالۡكٰظِمِيۡنَ الۡغَيۡظَ)(سورۃ آل عمران: آیت 134)
اللہ کے خاص بندے غصہ کو پینے والے ہیں۔
آپؓ نے فرمایا کظمت غیظی کہ میں نے اپنا غصہ پی لیا،
پھر غلام نے کہا والعافين عن الناس اور وہ لوگوں کو معاف کر دیتے ہیں،
آپؓ نے فرمایا (عفوت عنك)کہ میں نے تجھے معاف کیا،
پھر اس نے کہا (وَاللّٰهُ يُحِبُّ الۡمُحۡسِنِيۡنَ‌)
(سورۃ آل عمران: آیت  134)
اور اللہ احسان کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔
آپؓ نے فرمایا:
(قد اعتقتك لوجه اللّٰه)
کہ میں نے تجھے اللہ کے واسطے آزاد کیا۔ 
( وعظ الهوی والهدی: صفحہ 23) 
سیدنا حسینؓ کی روایات
سیدنا حسینؓ حضور ﷺ کے وصال کے وقت چونکہ سات سال کے تھے اس لئے آپؓ کو حدیث سننے کے مواقع بہت کم ملے اور اس عمر میں سنے بھی ہوں تو پھر یاد رکھنا بھی کچھ آسان نہیں ہوتا، سیدنا حسینؓ سے آٹھ روایتیں ملتی ہیں، آپؓ نے حضور ﷺ کی وہ احادیث یاد رکھیں اور اسے آگے پہنچایا۔
(الاصابہ: جلد 1 صفحہ 331)
حافظ ابن عبد البرؒ نے آپؓ سے حضورﷺ کی روایات نقل کیں ہیں:
( دیکھیے استیعاب)
آپؓ نے سیدنا علیؓ، سیدنا عمر فاروقؓ، سیدہ فاطمہؓ وغیر سے بھی روایات لی ہیں اور آپؓ سے روایت کرنے والوں میں آپؓ کے صاحبزادے علیؒ اور زیدؒ نیز آپ کے بھائی سیدنا حسنؓ صاحبزادی فاطمہؒ اور سکینہؒ اور دیگر حضرات ہیں۔
( دیکھئے تہذیب: جلد 4 صفحہ 345، الاصابہ: جلد 1، صفحہ331)
حضرت امام شمس الدین ذہبیؒ (748ھ) نے آپ سے روایت کرنے والوں میں عبید بن حنین، همام الفرزدقؒ، عکرمہؒ، شعبیؒ، طلعۃ عقیلی، آپ کے بھتیجے زید بن الحسنؓ اور آپ کے پوتے محمد باقرؒ کا بھی ذکر کیا ہے۔ تاہم مؤخر الذکر بارے میں لکھا کہ انہوں نے آپ کا دور نہیں پایا تھا۔
محمد بن علی الباقر ولم يدركه
(سیر اعلام النبلاء: جلد 3 صفحہ 188) 
مسند احمد کی ایک روایت دیکھیے، یہ روایت آپؓ کی صاحبزادی حضرت فاطمہؒ آپؓ سے نقل کرتی ہیں:
عن فاطمة ابنة الحسين عن أبيها الحسين بن على عن النبيﷺ قال: ((ما من مسلم ولا مسلمة يصاب بمصيبة فيذكرها وان طال عهدها)) قال عباد ((قدم عهدها فيحدث لذلك استرجاعا إلا جدد الله له عند ذلك فأعطاه مثل أجرها يوم أصيب بها)).
( مسند احمد: جلد 1 صفحہ331 )
امام ابن ماجہؒ نے اپنی سنن میں بھی یہ روایت آپؓ سے نقل کی ہے۔
( دیکھئے صفحہ 166) 
حضرت امام بخاریؒ (256ھ) نے اپنی صحیح میں اور امام احمدؒ (241ھ) نے اپنی مسند میں آپؓ سے مروی روایتوں کو کئی جگہ نقل کیا ہے، ان میں آپؓ سیدنا علیؓ اور حضورﷺ کے مولیٰ ابو رافعؓ سے روایت کرتے ہیں تاہم بعض روایات آپﷺ سے براہِ راست بھی ملتی ہیں۔
عن فاطمة بنت حسين عن أبيها حسين بن على قال قال رسول الله للسائل حق وان جاء على فرس
(مسند احمد: جلد 1 صفحہ330) 
ترجمہ: حضور اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا:
کہ سائل کا حق ہوتا ہے اگرچہ وہ گھوڑے پر سوار ہو کر مانگنے آیا ہو۔
علي بن حسين عن أبيه ( حسين بن علي) أن النبي ﷺ قال البخيل من ذكرت عنده ثم لم يصل على صلى الله عليه وسلم
(مسند احمد: جلد 1 صفحہ 331)
حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ وہ شخص بخیل ہے جس کے سامنے میرا ذکر آئے اور وہ مجھ پر درود (ﷺ) نہ پڑھے۔ 
وعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِﷺ: مِنْ حُسْنِ إِسْلَامِ الْمَرْءِ تَرْكُهُ مَا لَا يَعْنِيهِ.
 (ايضاً: صفحہ 331)
حضورﷺ نے فرمایا آدمی کے اسلام کی خوبی کم گفتگو اور لایعنی باتوں سے اجتناب کرنا ہے۔
عن ربيعة بن شيبان قال قلت للحسين بن على ما تعقل رسول الله قال صعدت معه غرفة الصدقة فاخذت تمرة فاكلتها في في فقال النبي ألقها فانها لا تحل لنا الصدقة
(ايضاً) 
ربیعہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا حسینؓ سے پوچھا کہ آپؓ کو حضورﷺ کی کوئی بات یاد ہو تو ارشاد فرمائیے! آپؓ نے فرمایا:
ایک دن میں بالاخانہ پر چڑھ گیا تھا وہاں صدقہ کے کھجور پڑے ہوئے تھے ان میں سے میں نے ایک کھجور لیا اور منہ میں ڈالا ہی تھا کہ حضورﷺ نے فرمایا کہ اس کو باہر نکال لو اس لئے کہ ہمارے لئے صدقہ کا مال جائز نہیں ہے۔
عن الحسين بن علي عن النبي ﷺ قال الحرب خدعة
(مسند بزار) 
حضور ﷺ نے فرمایا: کہ جنگ ایک دھوکہ ہے (معلوم نہیں کس وقت کہاں سے کیا معاملہ پیش آ جائے) 
عَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ، عن النبي صلى الله عليه وسلم حديثا في ابن صائد: اختلفتم وأما بَيْنَ أَظْهُرِكُمْ، فَأَنْتُمْ بَعْدِي أَشَدُّ اخْتِلافًا.
 (الاستیعاب: جلد 1 صفحہ 398) 
حضورﷺ نے ابن صائد کے ذکر میں (لوگوں کے اختلاف کو دیکھتے ہوئے) فرمایا کہ تم لوگ اختلاف میں پڑ گئے حالانکہ میں ابھی تمہارے درمیان موجود ہوں میرے بعد تم لوگ سخت اختلاف بھی دیکھو گے۔
سیرت الرسولﷺ جاننے کا شوق
سیدنا حسینؓ کو حضورﷺ کے حلیہ مبارک اور سیرت مبارکہ معلوم کرنے کا بہت شوق تھا، آپؓ زیادہ سے زیادہ حضورﷺ کے بارے میں جاننے کی طلب رکھتے تھے اور اس بارے میں آپؓ اپنے بڑے بھائی سیدنا حسنؓ پر سبقت لے گئے تھے اس بات کی شہادت خود سیدنا حسنؓ نے دی ہے۔
سیدنا حسن رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
سَأَلْتُ خَالِي هِنْدَ بْنَ أَبِي هَالَةَ، وَكَانَ وَصَّافًا عَنْ حِلْيَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَنَا أَشْتَهِي أَنْ يَصِفَ لِي مِنْهَا شَيْئًا، قَالَ الْحَسَنُ: «فَكَتَّمْتُهَا الْحُسَيْنَ زَمَانًا، ثُمَّ حَدَّثْتُهُ فَوَجَدْتُهُ قَدْ سَبَقَنِي إِلَيْهِ. فَسَأَلَهُ عَمَّا سَأَلْتُهُ عَنْهُ وَوَجَدْتُهُ قَدْ سَأَلَ أَبَاهَا عَنْ مَدْخَلِهِ وَمَخْرَجِهِ وَشَكْلِهِ فَلَمْ يَدَعْ مِنْهُ شَيْئًا
(شمائل ترندی: حدیث 337) 
میں نے اپنے ماموں ہند بن ابی ہالہؓ سے حضورﷺ کا حلیہ مبارک پوچھا اور وہ حضورﷺ کے حلیہ مبارک کو بہت کثرت اور بہت اچھی طرح بیان کرتے تھے مجھے یہ خواہش ہوئی کہ وہ میرے سامنے بھی اس کا بیان کریں چنانچہ آپؓ نے حضورﷺ کا حلیہ مبارک بیان کیا۔ سیدنا حسنؓ کہتے ہیں کہ میں نے ایک عرصہ تک سیدنا حسینؓ سے اس کا ذکر نہیں کیا جب ایک عرصہ کے بعد ان کو یہ بات بتلائی تو معلوم ہوا کہ وہ مجھ سے پہلے اس بات کو سن چکے تھے۔ اور یہی نہیں کہ انہوں نے ماموں سے سنا بلکہ سیدنا علیؓ سے حضورﷺ کے گھر جانے اور واپس آنے اور اس کا طرز و طریقہ بھی تفصیل سے معلوم کر چکے تھے۔




سیدنا حسین رضی اللہ عنہ علم و فضل کے اعلیٰ مقام پر

یدنا حسین رضی اللہ عنہ علم و فضل کے اعلی مقام پر
ارباب سیر اس پر متفق ہیں کہ سیدنا حسینؓ علم و فضل میں بہت اونچا مقام رکھتے تھے۔ بہت سے لوگ آپؓ سے مسئلہ پوچھتے اور آپؓ ان کے فقہی سوالات کے جوابات دیتے تھے۔ علامہ ابن قیم حنبلیؒ 751ھ نے سیدنا حسنؓ اور سیدنا حسینؓ کو ان لوگوں میں شمار کیا ہے جو فتویٰ دیتے تھے تاہم ان کی تعداد کم روایت ہوئی ہے۔
والباقون منهم مُقِلُّون في الفتيا، لا يُروى عن الواحد منهم إلا المسألة والمسألتان، والزيادة اليسيرة على ذلك؛ يمكن أن يُجمع من فتيا جميعهم جزءٌ صغير فقط، بعد التقصّي والبحث، وهم: أبو الدَّرْداء، وأبو اليُسر، وأبو سَلَمَة المخزوميّ، وأبو عُبَيدة بن الجَرَّاح، وسعيد بن زيد، والحسن والحسين ابنا علي،الخ
( دیکھیے اعلام الموقعین: جلد 2 صفحہ 19)
سیدنا حسینؓ اپنے وقت کے بڑے خطیب تھے اور آپؓ کو یہ فن اپنے والد محترم سے ملا تھا، آپؓ کے بعض خطبات اس کے شاہد ہیں۔ مسجد نبوی میں آپؓ کی مجلس لگا کرتی تھی جس میں دور دور سے لوگ آتے اور آپؓ سے فیض لیتے تھے۔
ایک مرتبہ سیدنا معاویہؓ نے ایک آدمی کسی کام کے لئے مدینہ منورہ بھیجا تو اس سے کہا کہ جب تم مسجد نبوی جاؤ گے تو وہاں دیکھو گے کہ ایک علمی مجلس قائم ہے اور وہ مجلس اس قدر پروقار اور پر سکون ہو گی کہ جیسے پرندے ان سب کے سروں پر بیٹھے ہوں تو سمجھ لینا کہ یہ سیدنا حسینؓ کا حلقہ ہے۔
( تہذیب تاریخ ابن عساکر: صفحہ 322)
شمس الائمہ امام سرخسیؒ نے سیرِ کبیر میں آپؓ سے کئے گئے سوالات کے جوابات نقل کئے ہیں
سیدنا حسینؓ کے اہل و عیال
  سیدنا حسینؓ نے متعدد شادیاں کیں اور ان سے اولادیں میں بھی ہوئیں۔ آپؓ کے تین صاحبزادے آپؓ کے ساتھ کربلا میں شہید ہوئے سیدنا زین العابدینؒ (سیدنا علیؒ بن الحسینؓ) باقی رہ گئے، ان سے آپؓ کی نسل آگے چلی اور اللہ نے اس نسل میں برکت ڈالی۔
 سیدنا علیؒ بن حسینؓ (سیدنا زین العابدینؒ) خاندانِ نبوت کے چشم و چراغ اور کثیر الحدیث محدث اور فقیہ ہیں۔ کثرتِ عبادت کی وجہ سے آپؒ کو زین العابدین کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو بہت اونچا رتبہ اور مقام عطا فرمایا تھا اور علماء اسلام کے ہاں آپؒ بہت زیادہ مناقب و فضائل کے حامل بزرگ ہوئے ہیں۔
علامہ ابن تیمیہؒ لکھتے ہیں:
وقال: (وأما ثناء العلماء على علي بن الحسين ومناقبه فكثيرة)
(منہاج السنۃ : جلد 7، صفحہ 534 )
حضرت سعید بن مسیبؒ فرماتے ہیں کہ میں نے زین العابدینؒ سے زیادہ خشیتِ الہیٰ رکھنے والا شخص نہیں دیکھا۔
(حلیۃ الاولیاء )
اللہ تعالیٰ نے آپؒ کے اوقات میں بہت برکت اتاری تھی، حضرت امام مالکؒ کا بیان ہے کہ آپؒ روزانہ ایک ہزار رکعت نفل نماز پڑھتے تھے، آپؒ کا یہ معمول موت تک رہا۔
انه كان يصلى في كل يوم وليلة ألف ركعة إلى أن مات
( تہذيب: جلد 7 صفحہ306، سیر اعلام النبلاء: صفحہ 2770)
امام زہریؒ کا بیان ہے کہ آپؒ بڑے اونچے درجہ کے فقیہ تھے، تاہم آپؒ بہت کم گو تھے۔
(ایضاً)
آپؒ کو صدقہ خیرات کرنا بہت محبوب تھا اور آپؒ کبھی تو اپنا سارا مال اللہ کے رستے میں خرچ کر دیا کرتے تھے۔
(حلیۃ الاولیاء: جلد 3 صفحہ 140)
شعبہ بن نعامہؒ کا بیان ہے کہ آپؒ کی وفات پر لوگوں کو پتہ چلا کہ آپؒ تو مدینہ منورہ کے سو سے زائد گھرانوں کی کفالت کیا کرتے تھے۔
(طبقات: جلد 5، صفحہ 222، منہاج السنۃ : جلد 4، صفحہ 49)
آپؒ خود اپنی کمر پر اناج وغیرہ لے کر جایا کرتے تھے، جس کی وجہ سے آپؒ کی کمر پر کچھ نشانات بھی پڑ گئے تھے۔
(حلیۃ الاولیاء )
محمد ابن سعد آپؒ کے بارے میں لکھتے ہیں:
كان ثقة مامونا كثير الحديث عاليا رفيعا ورعا
(سير اعلام النبلاء: 2768، تہذیب: جلد 7 صفحہ 305)
شیخ الاسلام علامہ ابن تیمیہؒ 728ھ آپؒ کے بارے میں لکھتے ہیں:
وقال ابن تيمية (أما علي بن الحسين، فمن كبار التابعين وساداتهم علماً وديناً،
(منہاج السنة: جلد 4 صفحہ 49)
حافظ ابن حجر عسقلانیؒ 852ھ تقریب میں لکھتے ہیں:
ثقة ثبت عابد فقيه فاضل مشهور
( تقريب التهذيب)
آپؒ کی حدیث کی مجلس مسجد نبوی میں منعقد ہوتی تھی، آپؒ کے قریب سیدہ عائشہ صدیقہؓ کے مولیٰ سلیمان بن یسار ہلالیؒ کی مجلس حدیث رہتی، سلیمان بن یسارؓ مدینہ کے فقہاء سبعہ میں سے ہیں۔ یزید بن حازمؒ اس مجلس میں جایا کرتے تھے اور اس مجلس کے عینی شاہد تھے، وہ فرماتے ہیں:
رأيت على بن حسين وسليمان بن يسار يجلسان بين القبر و المنبر يتحدثان إلى أن ارتفاع الضحى ويتذاكرون فإذا أراد أن يقوما قرء عليهم عبدالله بن أبي سلمة سورة فإذا فرغ دعوا
(طبقات ابن سعد: جلد 5 صفحہ 217)
میں نے سیدنا علی بن حسینؓ اور سیدنا سلیمانؒ کو دیکھا ہے، دونوں مسجدِ نبوی میں حضورﷺ کے روضہ اطہر اور منبر شریف کے درمیان بیٹھتے تھے اور دن چڑھے تک حدیث کی روایت اور اس کا مذاکرہ کرتے تھے اور جب مجلس سے اٹھنے کا ارادہ کرتے تو عبداللہ ابن ابی سلمہؒ قرآن کی کوئی سورت تلاوت کرتے اس کے بعد یہ دونوں حضرات دعا کرتے تھے. آپؒ روزانہ نماز عشاء کے بعد مسجد نبوی کے آخر حصہ میں بھی بیٹھا کرتے تھے آپؒ کےساتھ سیدنا عروہ بن زبیرؓ بھی ہوتے تھے۔ (طبقات ابنِ سعدؒ)
اور لوگ آپؒ کی اس مجلس سے مستفید ہوا کرتے تھے.
ایک مرتبہ لوگوں نے آپؒ سے کہا کہ آپؒ ان لوگوں کی مجلس میں کیوں بیٹھتے ہیں جو مرتبہ میں آپؒ کے برابر نہیں ہیں؟ آپؒ نے فرمایا کہ میں ایسے لوگوں کی مجلس میں بیٹھتا ہوں جن سے مجھ کو دینی نفع ملتا ہے۔
إني أجالس من انتفع بمجالسته فی دینی
(تہذیب جلد 7 صفحہ 305)
آپؒ کے شیوخِ حدیث میں آپؒ کے والد محترم اور سیدنا عبداللہ بن عباسؓ، مسور بن مخرمۃؓ، ابو رافعؓ، ام المؤمنین سیدہ عائشہؓ، ام المؤمنین ام سلمۃؓ، ام المؤمنین حضرت صفيةؓ، مروان بن حکمؒ، سعید بن مسیبؒ وغیرہم ہیں۔
(منہاج السنة: جلد 4 صفحہ 48 )
فضيل بن مرزوق نے سیدنا زین العابدینؒ سے پوچھا کہ کیا اہل بیت میں کوئی ایسا آدمی ہے جس کی اطاعت امت پر فرض قرار دی گئی ہو؟ آپؒ نے کہا: نہیں اہل بیت میں کوئی ایسا نہیں جو مفترض الطاعت ہو، جو شخص ایسی باتیں کرتا ہے وہ پرلے درجہ کا جھوٹا آدمی ہے۔
فضیل نے پوچھا کہ روافض(شیعہ) یہ کہتے ہیں کہ حضورﷺ نے سیدنا علیؓ کے لئے اور سیدنا علیؓ نے سیدنا حسن ؓ کے لئے اور سیدنا حسنؓ نے سیدنا حسینؓ کے لئے (علی ھذا القیاس) امامت کی وصیت کی تھی ( کہ ان کے بعد یہ اور ان کے بعد وہ امام ہوں گے)۔
آپؒ نے جواب دیا کہ خدا کی قسم میرے والد کا اس حال میں انتقال ہوا کہ انہوں نے اس باب میں دو حرف کی بھی وصیت نہ کی تھی، جو لوگ (شیعہ) اس طرح کی باتیں کرتے ہیں وہ ہماری طرف جھوٹ منسوب کرتے ہیں، یہ وہ لوگ ہیں جو اہل بیت کے نام پر اپنا پیٹ بھرتے ہیں۔
( تہذیب الکمال: جلد 20 صفحہ 396)
ایک مرتبہ کسی نے آپؒ سے سیدنا ابوبکرؓ اور سیدنا عمرؓ کے بارے میں پوچھا کہ آپؒ کی ان کے بارے میں کیا رائے ہے؟ آپؒ نے حضور ﷺ کے روضہ اطہر کی طرف اشارہ فرمایا اور کہا کہ ان کے مقام و مرتبہ کے لئے بس یہی کافی ہے کہ وہ سرور دو عالم رسول اکرم حضرت محمد رسول اللهﷺ کے ساتھ آرام فرما ہیں۔
(سیر اعلام النبلاء: صفحہ 2770 تہذیب جلد 7 صفحہ 306)
سیدنا زین العابدینؒ کے صاحبزادے سیدنا محمد باقرؒ کہتے ہیں میں اپنے والد سیدنا زین العابدینؒ کے بارے میں گواہی دیتا ہوں کہ وہ بنی امیہ کی اقتداء میں بغیر کسی تقیہ کے نمازیں پڑھا کرتے تھے اور ہمارا بھی یہی معمول ہے۔
( طبقات: جلد 5 صفحہ 216)
آپؒ کی وفات 94ھ کو مدینہ میں ہوئی اور جنت البقیع میں آپؒ کی تدفین عمل میں آئی۔
نوٹ: جس طرح سیدنا حسینؓ کی شہادت کے بعد شیعہ گروہ امامت کے عنوان پر ایک دوسرے کے مقابل آ گیا اور ہر کوئی اپنی پسندیدہ شخصیت کو امام بتانے لگا اس طرح سیدنا علیؒ بن حسینؓ کی وفات کے بعد بھی امامت کے مسئلہ پر ایک طوفان کھڑا ہو گیا تھا۔ شیعہ روایات بتاتی ہیں کہ آپؒ کی وفات کے بعد آپؒ کے صاحبزادہ حضرت زیدؒ نے دعویٰ امامت کر دیا (ان کی امامت کے قائلین کو زیدیہ کہا جاتا ہے ) اور وہ چالیس ہزار کا لشکر لے کر عراق کے حاکم کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے مگر ان میں سے تیس ہزار نے عین موقع پر آپؒ سے بے وفائی کر لی اور حضرت زیدؒ شہید کر دیے گئے۔ انہی دنوں کچھ لوگ سیدنا حسن مثنیؒ بن سیدنا حسنؓ بن علیؓ کی امامت کے قائل ہوئے ان کے بعد ان کے بیٹے عبداللہ رحمۃاللہ پھر ان کے بعد ان کے پوتے محمد نفس ذکیہؒ کی امامت کے قائل ہوئے اور انہوں نے آپؒ کو امام مہدی سمجھا. ایک گروہ سیدنا زین العابدینؒ کے بعد آپؒ کے دوسرے بیٹے سيدنا محمد باقرؒ کی امامت کا قائل ہوا اس گروہ میں چار لوگ ایسے تھے جن کے بارے میں حضرت جعفر صادق رحمۃاللہ کہتےہیں کہ وہ اگر نہ ہوتے تو ہمارا کہیں ذکر بھی نہ ہوتا۔ زرارہ، ابوبصیر محمد بن مسلم، برید بن معاویہ
(دیکھیے رجال کشی: صفحہ 136)
ہم اس وقت اس تفصیل میں نہیں جاتے کہ ان چاروں نے اہلِ بیت نبوت کے نام پر کسی قدر شرمناک تماشا برپا کیا اور ان بزرگوں کے نام سے کتنی شرمناک روایات وضع کر ڈالیں یہ بات خود شیعہ علماء بھی تسلیم کرتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ جب ان بزرگوں کو ان کی خرافات کا پتہ چلتا تو وہ ان پر لعنتیں بھیجا کرتے تھے اور ان کو پرلے درجے کا جھوٹا کہتے تھے۔
سیدنا حسین ؓ کی ایک بیٹی فاطمہ کا نکاح حسن مثنیؒ سے ہوا جو آپؓ کے بھتیجے تھے ان کے بعد سیدنا عثمانؓ کے پوتے عبداللہ بن عمروؓ سے ان کی شادی ہوئی۔
آپؓ کی دوسری صاحبزادی سکینہؓ کی شادی عبداللہ الحسن سے ہوئی تھی مگر رخصتی سے قبل عبداللہ فوت ہو گئے پھر ان کا نکاح مصعب بن زبیر سے ہوا، ان کے بعد سیدنا عثمانؓ کے پوتے حضرت زید بن عمرو سے ان کا نکاح ہوا۔
یاد رہے کہ سیدنا حسنؓ کی دونوں بیٹیاں بھی سیدنا عثمانؓ کے خاندان میں بیاہی گئیں، ان نکاحوں کی تصریح شیعہ کی معتبر کتابوں تذکرہ سبط ابن جوزی اور منتخب التواریخ صفحہ 241 طبع ایران میں موجود ہے اور شیعہ مؤرخ امیر علی نے بھی اپنی کتاب تاریخ صحرانشیناں (صفحہ 202 حاشیہ ) پر سیدہ سکینہ بنت الحسینؓ کے سیدنا عثمانؓ کے پوتے کے نکاح میں آنے کو صریح لفظوں میں تسلیم کیا ہے۔
( عبقات 216)
حضور ﷺ نے سیدنا حسینؓ کی شہادت کی پیشگوئی پہلے ہی فرمادی تھی چنانچہ آپؓ کی شہادت دس محرم 61ھ جمعہ کے دن ہوئی اس وقت آپؓ کی عمر مبارک 57 سال اور ساڑھے چھ ماہ تھی۔ آپؓ کا مزار مبارک عراق میں مرجع خلائق ہے اور ہزارہا لوگ دن رات آپؓ کے مزار پر سلام کے لئے حاضر ہوتے ہیں اور آپ کے لئے ایصالِ ثواب کرتے ہیں۔
علامہ عزالدین ابن اثیرؒ لکھتے ہیں:
و قبره مشهور يزار
(اسد الغابة: جلد 2 صفحہ 27)
سیدنا حسینؓ کی قبر مشہور اور زیارت گاہ خلائق خاص وعام ہے.
وقبره مشهور يزار به ويتبرك به وحزن الناس عليه كثيرا واكثروا في المراثي
( تهذیب الاسماء: جلد 1 صفحہ 163 )
اللہ تعالیٰ نواسہ رسولﷺ جگر گوشہ بتولؓ سیدنا حسینؓ کی قبر مبارک کو نور سے منور فرمائے آپؓ کے درجات بلند سے بلند تر فرمائے اور سب مسلمانوں کی جانب سے آپؓ کو بہترین جزاء عطا فرمائے آمین۔


حضرات حسنین کریمین رضی اللہ عنہما کے فضائل و مناقب

حضرات حسنین کریمینؓ کے فضائل و مناقب

حضورﷺ کو اپنے دونوں نواسے بہت عزیز تھے اور آپﷺ دونوں سے بہت محبت کرتے تھے۔ حضرت انسؓ کہتے ہیں کہ حضورﷺ فرماتے تھے کہ اہل بیت میں مجھ کو حسنؓ اور حسینؓ سب سے زیادہ محبوب ہیں۔

(البدایہ: جلد 8 صفحہ 205)

حضورﷺ جب نماز میں ہوتے اور آپﷺ سجدہ میں جاتے تو بچے آپﷺ کی پشت پر چڑھ جاتے تھے اور آپﷺ انہیں منع نہ کرتے تھے، اور آپﷺ نماز سے فارغ ہوتے تو بچوں کو اپنی گود میں لے لیتے۔ ایک مرتبہ آپﷺ نے ایسے ہی موقع پر فرمایا کہ جو مجھ سے محبت رکھتا ہے اسے چاہیے کہ ان دونوں سے بھی محبت رکھے۔

من أحبني فليحب هذين

( مسند ابى يعلىٰ: جلد 5، صفحہ 26،  صفحہ 162،  نسائی کبریٰ: جلد 5، صفحہ 50)

ابوبریدہؓ کہتے ہیں ایک مرتبہ حضورﷺ خطبہ ارشاد فرما رہے تھے کہ حسنؓ اور حسینؓ کھیلتے ہوئے ادھر آ نکلے اور لڑکھڑاتے ہوئے حضورﷺ کی جانب بڑھے، انہیں دیکھ کر حضورﷺ منبر سے نیچے اتر پڑے ان دونوں کو اٹھایا اور اپنے سامنے بٹھایا اور فرمایا اللّٰه نے سچ کہا ہے تمہارے مال اور اولاد تمہارے لئے آزمائش ہیں، میں نے ان دونوں کو لڑکھڑاتے ہوئے آتے دیکھا تو مجھ سے نہ رہا گیا یہاں تک کہ میں نے اپنا خطبہ منقطع کر دیا اور ان دونوں کو اٹھا لیا۔

فلم أصبر حتى قطعت حديثي فرفعتهما رواه أصحاب السنن وابن حبان وقال الترمذي حسن .

(ترمذی: جلد 2، صفحہ 219، اسد الغابة: جلد 2، صفحہ 16)

حضرت ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضورﷺ گھر گئے تو بچے نہ تھے، تھوڑی دیر میں دونوں گھر آئے تو آپﷺ نے ان دونوں کو اپنے گلے سے لگایا اور فرمایا اللہ میں ان کو محبوب رکھتا ہوں تو بھی ان کو محبوب رکھ اور جو ان سے محبت رکھتا ہے تو اس سے بھی محبت رکھ۔

(صحیح مسلم: جلد 2، صفحہ282، صحیح بخاری: جلد 1 صفحہ 285)

حضرت یعلیٰ بن مرہؓ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضورﷺ تک پہلے پہنچنے کے لئے سیدنا حسنؓ اور سیدنا حسینؓ دوڑ رہے تھے اور جب وہ دونوں حضورﷺ کے پاس پہنچے تو آپﷺ نے ان دونوں کو اپنے بدن سے چمٹا لیا اور ان کو بوسے دیے اور فرمایا کہ میں ان دونوں سے محبت کرتا ہوں اس لئے تم لوگ بھی ان سے محبت کرو۔

الحدیث ( مسند احمد: جلد 4 صفحہ 172)

حضرت ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ حضورﷺ نے فرمایا کہ جو حسنؓ اور حسینؓ سے محبت رکھے اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے ان دونوں سے بغض رکھا اس نے مجھ سے بغض رکھا۔

(مسند ابی یعلیٰ: جلد 5 صفحہ 449، ابن ماجۃ: صفحہ 13)

حضرت ابوہریرہؓ کہتے ہیں کہ میں اس دن سے ان کو محبوب رکھتا ہوں جب سے میں نے ان کو حضورﷺ کی گود میں دیکھا ہے، یہ آپﷺ کی ریش مبارک سے کھیلتے تھے اور حضورﷺ اپنی زبان مبارک ان کے منہ میں دے کر فرماتے تھے کہ اے اللہ میں ان کو محبوب رکھتا ہوں تو بھی انہیں محبوب رکھ۔

(مستدرک حاکم: جلد 3 صفحہ 185)

حضرت ابوہریرہؓ کہتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ حضورﷺ گھر آئے تو حضرت حسنؓ اور حضرت حسینؓ آپﷺ سے لپٹ گئے، آپﷺ نے فرمایا کہ یہ دونوں اس امت کے مہکتے پھول ہیں۔ ریحانتي من هذه الامة ( سنن نسائى كبرى: جلد 5، صفحہ 49)

حضرت اسامہؓ کہتے ہیں ایک رات میں حضورﷺ کے پاس ایک ضرورت کے سلسلے میں آیا تو میں نے دیکھا کہ آپﷺ کی چادر میں کوئی چیز چھپی ہوئی تھی میں نے اپنی ضرورت کی بات کی اور جاتے وقت پوچھا کہ حضورﷺ اس چادر میں کیا ہے آپﷺ نے چادر ہٹائی تو حضرت حسنؓ اور حضرت حسینؓ چادر میں سے باہر آئے آپﷺ نے فرمایا کہ یہ میرے دو بچے ہیں میری بیٹی کے بیٹے ہیں اے اللہ میں انہیں محبوب رکھتا ہوں آپ بھی انہیں محبوب رکھیں۔

(اسد الغابة: جلد 2، صفحہ16، ترمذی جلد 2، صفحہ 218)

حضرت انسؓ کہتے ہیں کہ حضورﷺ سے پوچھا گیا کہ آپﷺ کو اپنے گھر والوں میں کون سب سے زیادہ عزیز ہے؟ آپﷺ نے کہا حسنؓ اور حسینؓ۔ آپﷺ حضرت فاطمہؓ سے کہتے کہ ان دونوں کو بلاؤ جب وہ آتے تو آپﷺ انہیں سونگھتے اور گلے سے چمٹا لیا کرتے تھے۔

( مسندابی یعلیٰ: جلد 4، صفحہ 219، درر فرائد ترجمہ جمع الفوائد: صفحہ335)

حضرت ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضورﷺ کے ساتھ تھا اور ہم دونوں خاموش چل رہے تھے، اتنے میں بنی قینقاع کے بازار سے گزرے کہ حضورﷺ واپس ہو کر حضرت فاطمہؓ کے گھر آئے اور فرمایا کہ کیا بچہ (یعنی سیدنا حسنؓ) یہاں ہے اس پر تھوڑی دیر گذری اور ہم سمجھے کہ وہ شاید غسل کر رہے ہیں یا انہیں ان کی والدہ کپڑے پہنا کر لا رہی ہے پھر وہ دوڑے ہوئے آئے حضورﷺ نے انہیں اپنے سینے سے چمٹا لیا اور فرمایا اے اللّٰه میں اس سے محبت رکھتا ہوں پس آپ بھی اس سے محبت رکھنا اور اس سے بھی محبت رکھنا جو اس سے محبت رکھے۔

(درر فرائد: صفحہ336)

حضرت عبد اللہ بن عباسؓ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضورﷺ اپنے دوش مبارک پر سیدنا حسنؓ کو لئے جارہے تھے، ایک شخص نے دیکھا تو کہا: صاحبزادے بڑی اچھی سواری پر بیٹھے ہو، رسول اللہﷺ نے سنا تو فرمایا ونعم الراكب هو کہ سوار بھی تو بہترین ہے۔

(اسد الغابہ: جلد 2، صفحہ 17، ترمذی جلد 2، صفحہ 219)

حضرت سلمانؓ فرماتے ہیں کہ ہم لوگ حضورﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ اتنے میں ام ایمنؓ آئیں اور کہا: یا رسول اللہﷺ حسنؓ اور حسینؓ معلوم نہیں کہاں ہیں مل نہیں رہے ہیں، اس وقت دن چڑھ چکا تھا حضورﷺ نے صحابہؓ سے فرمایا کہ چلو میرے دونوں بچوں کو تلاش کریں، چنانچہ ہر شخص ان دونوں کی تلاش میں نکل پڑا، میں حضورﷺ کے ساتھ تھا یہاں تک کہ ہم ایک پہاڑ کے دامن میں پہنچ گئے تو دیکھا کہ سیدنا حسنؓ اور سیدنا حسینؓ ایک دوسرے کو چمٹے ہوئے کھڑے ہیں اور ان کے قریب ایک کالا سانپ اپنی دم پر کھڑا ہے، حضورﷺ جلدی سے ناگ کی طرف بڑھے، اس نے جب حضورﷺ کو اپنی طرف آتے دیکھا تو وہ مڑ کر چل پڑا اور ایک سوراخ میں داخل ہو گیا، حضورﷺ ان دونوں کے قریب ہوئے اور دونوں کے چہرے پر ہاتھ پھیرا اور فرمایا میرے ماں باپ تم پر قربان ہوں تم دونوں اللہ کے ہاں کتنے قابلِ احترام ہو، پھر آپ نے ایک کو دائیں اور دوسرے کو بائیں کندھے پر بٹھا لیا میں نے کہا کہ تم دونوں کو بشارت ہو کہ تمہاری سواری بہت ہی عمدہ ہے، حضورﷺ نے فرمایا یہ دونوں بہت عمدہ سوار ہیں اور ان کے والدین ان دونوں سے بہتر ہیں۔

( حیاۃ الصحابة: جلد 2، صفحہ 869، مجمع الزوائد: جلد 5، صفحہ 182)

یعلیٰ بن مرہؓ کہتے ہیں کہ حضورﷺ نے فرمایا کہ حسینؓ مجھ سے ہیں اور میں حسینؓ سے ہوں جو شخص حسینؓ کو دوست رکھتا ہے خدا اس کو دوست رکھتا ہے۔

(صحیح بخاری)

حضرت حذیفہؓ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضورﷺ نے فرمایا کہ ایک فرشتہ اترا جو اس سے پہلے کبھی نہ آیا تھا اس نے مجھے سلام کے بعد یہ بشارت پہنچائی کہ فاطمہؓ جنت کی عورتوں کی اور حسنؓ و حسینؓ جنت کے جوانوں کے سردار ہیں۔

(رواه الترمذی: البدایه: جلد 8 صفحہ 206)

حضرت ابو سعید خدریؓ کہتے ہیں کہ حضورﷺ نے فرمایا ذكر الرسول صلى الله عليه وسلم، أن الحسن والحسين سيدا شباب أهل الجنة،

( مسند ابى يعلىٰ: جلد 2، صفحہ 58، سنن نسائی کبریٰ: جلد 5، صفحہ 50)

سیدنا حسنؓ اور سیدنا حسینؓ اہلِ جنت کے جوانوں کے سردار ہیں۔

حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ 1362ھ فرماتے ہیں: سیدنا حسینؓ سے زیادہ کون ولی ہو گا جو حضورﷺ کے نواسے اور حد درجہ محبوب تھے جن کے بارے میں پیشن گوئی ہے حسنؓ اور حسینؓ دونوں نوجوانانِ جنت کے سردار ہیں۔

(وعظ: حقیقت الصبر: صفحہ 42)

حضرت مولانا عاشق الٰہی میرٹھیؒ لکھتے ہیں: حضرات حسنینؓ خاتون جنتؓ کے لخت جگر، لاڈلے اور آنحضرتﷺ کے پیارے نواسے ہیں کہ نسل انہی سے چلی جو سادات کہلاتے ہیں، ان کے فضائل بے شمار ہیں اور جس کو ذرا بھی محبت ہو گی محبوب خداﷺ کے ساتھ وہ سمجھے گا کہ آپﷺ کے نواسوں کے ساتھ محبت کسی قدر بڑی نعمت ہے۔

( درر فرائد: صفحہ 335)

آنحضرتﷺ حضرات حسنین کریمینؓ کے لئے ہمیشہ دعا گو رہتے اور ان کی حفاظت کے لئے پڑھ کر انہیں دم کر دیا کرتے تھے۔ حضرت عبداللہ بن عباسؓ کہتے ہیں حضورﷺ یہ دعا پڑھ کر حسنؓ حسینؓ کو اللہ کی پناہ میں دیتے تھے:

(أَعُوْذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّةِ مِنْ كُلِّ شَيْطَانٍ هَامَّةٍ وَمِنْ كُلِّ عَيْنٍ لأُمَّةٍ )

مستدرک حاکم: جلد 3 صفحہ 173

میں اللہ کے کلمات تامہ کے ذریعہ وہم میں ڈالنے والے شیطان اور نظر بد سے اللہ کی پناہ چاہتا ہوں۔

كانَ النبيُّ صَلَّى اللهُ عليه وسلَّمَ يُعَوِّذُ الحَسَنَ والحُسَيْنَ، ويقولُ: إنَّ أَبَاكُما كانَ يُعَوِّذُ بهَا إسْمَاعِيلَ وإسْحَاقَ: أَعُوذُ بكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّةِ، مِن كُلِّ شيطَانٍ وهَامَّةٍ، ومِنْ كُلِّ عَيْنٍ لَامَّةٍ.

البخاري: (3371)

( سنن إبى داؤد جلد 2 صفحہ 304)

حضورﷺ نے اس کے بعد فرمایا: تمہارے جدِ امجد حضرت ابراہیم علیہ السلام حضرت اسماعیل علیہ السلام اور حضرت اسحاق علیہ السلام کے لئے ان کلمات سے پناہ مانگا کرتے تھے۔

(یعنی ان کلمات کو پڑھ کر دم کرتے تھے) حضرت جابرؓ کہتے ہیں کہ جس نے جنتی آدمی دیکھنا ہو وہ سیدنا حسینؓ کو دیکھ لے کہ میں نے حضورﷺ سے ان کے بارے میں یہ بات سنی ہے۔

( مسند ابی یعلیٰ: جلد 2، صفحہ 3488، البدايه: جلد 8 صفحہ 206)

ایک مرتبہ حضرت حسنؓ نے حضرت ابو ہریرہؓ کو سلام کیا تو آپؓ نے اس کے جواب میں فرمایا وعليك السلام ياسيدى ۔ پوچھنے پر انہوں نے کہا کہ میں نے حضورﷺ کو یہ فرماتے سنا ہے کہ آپؓ سید ہیں۔

( مسندابی یعلی: جلد 6، صفحہ 91)

ایک شخص نے حضرت عبد اللہ بن عمرؓ سے حالتِ احرام میں مچھر مارنے کے بارے میں مسئلہ پوچھا تو آپؓ نے ان سے کہا تم کہاں سے ہو؟ اس نے کہا عراق سے۔ آپؓ نے فرمایا کہ اسے دیکھو یہ ایک مچھر کے قتل کے بارے میں مسئلہ پوچھتا ہے جبکہ ان لوگوں نے حضورﷺ کے نواسہ کو شہید کر دیا اور میں نے حضورﷺ سے سنا ہے کہ آپﷺ نے فرمایا کہ یہ میرے دنیا کے پھول ہیں:

قال النبيﷺ: هما رَيْحَانَتَايَ مِنَ الدنيا . يعني الحسنَ والحسينَ»وروى أحمد بإسناده إلى أبي سعيد الخدري 

(مسند ابی یعلیٰ: جلد 5، صفحہ 287، اسد الغابة: جلد 2 صفحہ 26)

حضرت زید بن اسلمؓ کہتے ہیں کہ میں نے اہل بیت میں کسی کو سیدنا حسنؓ جیسا نہیں پایا۔

ما جالست في أهل بيته مثله يعنى الحسن

( المصنف لابن ابی شیبہ: جلد 6، صفحہ 186)

شیعہ عالم شئخ صدوق لکھتا ہے کہ حضرت معاویہؓ نے یزید کو وصیت کرتے ہوئے فرمایا: حضرت حسینؓ کے بارے میں تو تمہیں معلوم ہی ہے کہ انہیں حضورﷺ سے قرابت کی نسبت ہے اور وہ حضورﷺ کے جسم مبارک کا ٹکڑا ہیں اور ان کا جسم حضورﷺ کی طرف سے پرورش یافتہ ہے اور میں جانتا ہوں کہ اہل عراق ضرور انہیں اپنی طرف بلائیں گے اور پھر ان کی مدد سے ہاتھ اٹھا لیں گے اور ان کو اکیلا چھوڑ دیں گے اگر تجھے ان پر غلبہ ملے توان کی عزت کے حق کو پہچاننا اور حضورﷺ کے ساتھ ان کی قرابت کے مرتبہ کو یاد رکھنا اور ان کے اعمال کا مؤاخذہ نہ کرنا اور میں نے ان کے مابین جو روابط اس مدت میں قائم کر رکھے ہیں ان کو قطع نہ کرنا خبر دار انہیں کوئی مکروہ اور تکلیف دہ چیز نہ پہنچانا۔


ویاری او نخواهند کرد و او را تنها خواهند گذاشت اگر با وظفریابی حق حرمت او را بشناس و منزلت و قرابت او را با را با پیغمبر آورد او را بکرده هاۓ او را مؤاخذه مکن و روابطی که من باو در این مدت محکم کرده ام قطع مکن زنهار که با و مکروهی و آسپی مرسان


(جلاء العیون: صفحہ388)


افسوس صد افسوس کہ ایسا نہ ہو سکا اور سیدنا حسینؓ مرتبۂ شہادت پا کر ہمیشہ کیلئے امر ہو گئے۔





No comments:

Post a Comment