القرآن:
بےشک ہم نے اس (قرآن) کو شب قدر میں نازل کیا ہے۔ (1) اور تمہیں کیا معلوم کہ شب قدر کیا چیز ہے؟ شب قدر ایک ہزار مہینوں سے بھی بہتر ہے۔ اس میں فرشتے اور روح اپنے پروردگار کی اجازت سے ہر کام کے لیے اترتے ہیں۔ (3) وہ رات سراپا سلامتی ہے فجر کے طلوع ہونے تک۔
[سورۃ نمبر 97 القدر، آیت نمبر 1-5]
تفسیر:
(1)اس کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ پورا قرآن لوحِ محفوظ سے اس رات میں اتارا گیا، پھر حضرت جبرئیل ؑ اسے تھوڑا تھوڑا کرکے تئیس سال تک آنحضرت ﷺ پر نازل کرتے رہے، اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ پر قرآن کریم کا نزول سب سے پہلے شبِ قدر میں شروع ہوا، شبِ قدر رمضان کی آخری عشرہ کی طاق راتوں میں سے کسی رات میں ہوتی ہے، یعنی اکیسویں، تئیسویں، پچیسویں، ستائیسویں، یا انتیسویں رات میں۔
(2) اس ایک رات میں عبادت کرنے کا ثواب ایک ہزار مہینوں میں عبادت کرنے سے بھی زیادہ ہے۔
(3) اس رات میں فرشتوں کے اترنے کے دو مقصد ہوتے ہیں: ایک یہ کہ اس رات جو لوگ عبادت میں مشغول ہوتے ہیں فرشتے ان کے حق میں رحمت کی دعا کرتے ہیں، اور دوسرا مقصد آیتِ کریمہ میں بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس رات میں سال بھر کے فیصلے فرشتوں کے حوالے فرما دیتے ہیں، تاکہ وہ اپنے اپنے وقت پر ان کی تعمیل کرتے رہیں ”ہر کام کے لئے اترنے“ کا یہی مطلب مفسرین نے بیان فرمایا ہے۔
اللہ کے ناموں میں سے ایک نام: "العَفُوُّ" (معاف کرنے والا)
اللہ عزوجل کے ناموں میں سے ایک نام "العَفُوُّ" ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا:
{إِنَّ اللَّهَ لَعَفُوٌّ غَفُورٌ} (الحج: 60)
ترجمہ: "بے شک اللہ درگزر کرنے والا، بخشنے والا ہے۔"
[التوحید لابن مندہ: 2/154]
---
لغوی اور شرعی تشریح:
الزجاج (متوفی 311ھ) اپنی کتاب "تفسیر اسماء اللہ الحسنى" میں فرماتے ہیں:
"العفو" کہا جاتا ہے: "عَفَوْتُ عَنِ الشَّيْءِ" یعنی میں نے اس چیز کو چھوڑ دیا۔ اور "عَفَا عَنْ ذَنْبِهِ" کا مطلب ہے: اس نے اس کے گناہ پر سزا نہیں دی۔ اللہ تعالیٰ (بہت سے) گناہوں کو معاف کرنے والا اور ان پر سزا چھوڑ دینے والا ہے۔(حوالہ»سورۃ الشوریٰ:30، 34)
[تفسیر اسماء اللہ الحسنى للزجاج: 98]
امام بیہقی (متوفی 458ھ) نے "شعب الایمان" میں دو روایات نقل کی ہیں:
1. "أَنْ يَعْفُوَ عَنِ السَّيِّئَةِ وَيَكْتُبُهَا حَسَنَةً"
ترجمہ: "یعنی اللہ تعالیٰ برائی سے درگزر فرمائے اور اسے نیکی لکھ دے۔"
[شعب الایمان: 6643]
2. "لَا عَفْوَ لِمَنْ لَمْ يَقْدِرْ"
ترجمہ: "اس شخص کے لیے معافی نہیں جو قدرت نہ رکھتا ہو۔"
(یعنی جو شخص بدلہ لینے کی طاقت نہیں رکھتا، اس کا معاف کرنا کوئی بڑی بات نہیں۔ اصل معافی وہ ہے جو قدرت کے باوجود کی جائے۔)
[شعب الایمان: 7968]
---
الغفور اور العفو میں فرق
امام غزالی (متوفی 505ھ) "المقصد الأسنى" میں وضاحت کرتے ہیں:
"العفو" وہ ہے جو برائیوں کو مٹا دے اور گناہوں سے درگزر کرے۔ یہ "الغفور" کے قریب ہے لیکن اس سے زیادہ بلیغ ہے، کیونکہ "غفران" پردہ پوشی پر دلالت کرتا ہے جبکہ "عفو" مٹانے پر۔ اور مٹانا پردہ پوشی سے زیادہ بلیغ ہے۔
بندے کا اس نام سے حصہ:
بندے پر واجب ہے کہ وہ ہر اس شخص کو معاف کرے جس نے اس پر ظلم کیا، بلکہ اس کے ساتھ احسان کرے، جیسا کہ وہ اللہ تعالیٰ کو دنیا میں گناہ گاروں اور کافروں کے ساتھ احسان کرتے ہوئے دیکھتا ہے۔ اللہ ان پر جلد عذاب نہیں کرتا بلکہ شاید انہیں معاف کر دے کہ انہیں توبہ کی توفیق دے۔ اور جب وہ ان پر توبہ کرے تو ان کی برائیاں مٹا دے، کیونکہ "التائب من الذنب كمن لا ذنب له" (توبہ کرنے والا گناہ سے ایسے ہے جیسے اس نے گناہ کیا ہی نہیں)۔ اور یہ جرم کو مٹانے کی انتہا ہے۔
[المقصد الأسنى: 1/140]
عربی لعب کے امام(ماہر) راغب اصفہانی لکھتے ہیں:
عفو کے اصل معنی ہیں: کسی چیز کو لینے کا قصد کرنا۔ کہا جاتا ہے: "عَفَاهُ واعْتَفَاهُ" یعنی اس نے اس کے پاس موجود چیز کو لینے کا قصد کیا۔
اسی طرح "عَفَتِ الرِّيحُ الدَّارَ" یعنی ہوا نے گھر کی طرف اس طرح رخ کیا جیسے وہاں کی مٹی کو اُڑا لے جائے۔ شاعر نے کہا ہے:
"أَخَذَ الْبِلَى أَبْلَادَهَا وَعَفَتِ الدَّارُ"
یعنی زمانے کی ویرانی نے اس کی آبادیوں کو لے لیا اور گھر اس طرح ویران ہو گیا جیسے خود ویرانی کو پکڑ لیا ہو۔
عَفَا النَّبْتُ وَالشَّجَرُ کا مطلب ہے کہ پودے اور درخت نے بڑھنے کا قصد کیا، جیسے تم کہو: "پودا بڑھنے لگا۔"
عَفَوْتُ عَنْهُ کے معنی ہیں: میں نے اس کے گناہ کو مٹانے کا قصد کیا اور اسے چھوڑ دیا۔ اس لحاظ سے اصل مفعول (گناہ) کو ترک کر دیا گیا، اور حرف "عن" ایک محذوف فعل سے متعلق ہے۔
لہٰذا عفو کا مفہوم ہے: گناہ سے درگزر کرنا۔
قرآن مجید میں آیا ہے:
· "فَمَنْ عَفَا وَأَصْلَحَ" (الشوریٰ: 40) جو درگزر کرے اور اصلاح کرے۔
· "وَأَنْ تَعْفُوا أَقْرَبُ لِلتَّقْوَى" (البقرۃ: 237) اور تمہارا معاف کر دینا تقویٰ سے زیادہ قریب ہے۔
· "ثُمَّ عَفَوْنَا عَنْكُمْ" (البقرۃ: 52) پھر ہم نے تمہیں معاف کر دیا۔
· "إِنْ نَعْفُ عَنْ طَائِفَةٍ مِنْكُمْ" (التوبۃ: 66) اگر ہم تم میں سے کسی گروہ کو معاف کر دیں۔
· "فَاعْفُ عَنْهُمْ" (آل عمران: 159) سو انہیں معاف کر دے۔
"خُذِ الْعَفْوَ" (الاعراف: 199) کے دو معانی ہو سکتے ہیں:
1. آسانی سے ملنے والی چیز کو لے لو۔
2. لوگوں سے درگزر کرنے کو اپنا معمول بنا لو۔
"وَيَسْأَلُونَكَ مَاذَا يُنْفِقُونَ قُلِ الْعَفْوَ" (البقرۃ: 219) یعنی تم سے پوچھتے ہیں کہ کیا خرچ کریں؟ کہہ دو: جو آسانی سے ملے (ضرورت سے زائد)۔
"أَعْطَى عَفْوًا" یعنی اس نے اس طرح دیا جیسے مانگنے والا لینے کا قصد کرتا ہے۔ یہ اس شعر کی طرف اشارہ ہے:
"كَأَنَّكَ تُعْطِيهِ الَّذِي أَنْتَ سَائِلُهُ" (گویا تو اسے وہی دے رہا ہے جو وہ تجھ سے مانگ رہا ہے)
دعا میں "أَسْأَلُكَ الْعَفْوَ وَالْعَافِيَةَ" کا مطلب ہے: سزا سے درگزر اور صحت و سلامتی۔
اللہ تعالیٰ کی صفت میں آیا ہے: "إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَفُوًّا غَفُورًا" (النساء: 43) یعنی اللہ بڑا معاف کرنے والا اور بخشنے والا ہے۔
حدیث میں ہے: "وَمَا أَكَلَتِ الْعَافِيَةُ فَصَدَقَةٌ" یعنی پرندوں، وحشی جانوروں اور انسانوں کا رزق تلاش کرنے والے جو کچھ کھا جائیں، وہ صدقہ ہے۔
"أَعْفَيْتُ كَذَا" کا مطلب ہے: میں نے اسے چھوڑ دیا تاکہ وہ بڑھے اور زیادہ ہو۔ اسی سے ہے: "أَعْفُوا اللِّحَى" (داڑھیاں بڑھاؤ)۔
العَفَاء کہتے ہیں اون اور پروں کی کثرت کو۔
العَافِي اس شخص یا پرندے کو کہتے ہیں جو برتن مانگ کر اس میں سے سالن لے جائے۔
[المفردات فی غریب القرآن للراغب الاصفہانی: 1/574]
---
حاصل شدہ اسباق و نکات
1. اللہ کا اسم "العفو" اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے گناہوں کو معاف فرمانے والا ہے اور ان پر سزا نافذ نہ کرنے والا ہے۔
2. عفو اور غفران میں فرق: غفران میں گناہ پر پردہ ڈالنا ہے، جبکہ عفو میں گناہ کو مٹا دینا ہے۔ یہ درگزر کی انتہائی صورت ہے۔
3. برائی کو نیکی سے بدلنا: اللہ کا فضل ہے کہ وہ نہ صرف گناہ معاف کرتا ہے بلکہ اسے نیکی میں بھی تبدیل فرما دیتا ہے۔
4. قدرت کے باوجود معافی: حقیقی عفو وہ ہے جو بدلہ لینے کی طاقت ہوتے ہوئے بھی کیا جائے۔ جس میں طاقت نہیں، اس کا معاف کرنا کوئی فضیلت نہیں۔
5. بندے کا عمل: اللہ کے اس اسم سے بندے کو سبق ملتا ہے کہ وہ دوسروں کو معاف کرے، خصوصاً جب وہ بدلہ لینے پر قادر ہو۔
6. توبہ کا اثر: اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والوں کے گناہ مٹا دیتا ہے اور انہیں ایسا کر دیتا ہے جیسے انہوں نے گناہ کیا ہی نہیں۔
7. احسان کا درجہ: صرف معاف کرنا ہی کافی نہیں، بلکہ احسان کرنا (برائی کے بدلے بھلائی) اعلیٰ درجہ ہے۔
8. اللہ کی رحمت کی وسعت: اللہ کا عفو و غفران ہر اس شخص کے لیے ہے جو توبہ کرے اور اپنی اصلاح کرے۔







