(1) "بِرّ" کا استعمال (اللہ اور بندے کے لیے)
یہ لفظ دو جگہ استعمال ہوتا ہے:
(الف) اللہ تعالیٰ کے لیے:
"إِنَّهُ هُوَ الْبَرُّ الرَّحِيمُ" (الطور: 28)
ترجمہ: "بے شک وہی (اللہ) بہت نیک (بَرّ) اور بہت رحم فرمانے والا ہے۔"
یہاں "بَرّ" سے مراد اللہ کا اپنے بندوں پر وسیع احسان اور بے حساب رحمت ہے۔
(ب) بندے (انسان) کے لیے:
کہا جاتا ہے "بَرَّ العَبْدُ رَبَّهُ" – یعنی "بندے نے اپنے رب کی اطاعت میں وسعت کی" (یعنی اطاعت کو وسیع کیا)۔
نتیجہ:
اللہ کی طرف سے اس کا مفہوم "ثواب" ہے۔
بندے کی طرف سے اس کا مفہوم "اطاعت" ہے۔
(2) "بِرّ" کی دو قسمیں
امام راغب فرماتے ہیں کہ بِرّ (نیکی) دو قسموں پر مشتمل ہے:
اعتقاد میں برّ (یعنی صحیح عقیدہ رکھنا)۔
اعمال میں برّ (یعنی نیک عمل کرنا)۔
قرآنی شاہد (سورۃ البقرہ: 177):
"لَيْسَ الْبِرَّ أَنْ تُوَلُّوا وُجُوهَكُمْ قِبَلَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ وَلَٰكِنَّ الْبِرَّ مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ..."
ترجمہ:
"نیکی صرف یہ نہیں کہ تم اپنے چہرے مشرق اور مغرب کی طرف پھیر لو، بلکہ حقیقی نیکی تو وہ ہے جو اللہ پر ایمان لائے..."
حدیث کی تائید:
امام راغب فرماتے ہیں:
"اسی پر نبی کریم ﷺ سے برّ (نیکی) کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ ﷺ نے یہی آیت تلاوت فرمائی۔"
(یعنی یہ آیت عقیدے اور فرائض و نوافل دونوں کا احاطہ کرتی ہے)۔
(3) "بِرُّ الْوَالِدَیْن" (والدین کے ساتھ نیکی)
بِرُّ الوالدین سے مراد والدین کے ساتھ احسان میں توسیع ہے۔
اس کا ضد "عقوق" (نافرمانی اور بدسلوکی) ہے۔
قرآنی شاہد (سورۃ الممتحنہ: 8):
"لَا يَنْهَاكُمُ اللَّهُ عَنِ الَّذِينَ لَمْ يُقَاتِلُوكُمْ فِي الدِّينِ وَلَمْ يُخْرِجُوكُمْ مِنْ دِيَارِكُمْ أَنْ تَبَرُّوهُمْ"
ترجمہ: "اللہ تمہیں ان لوگوں سے نیکی (برّ) کرنے سے نہیں روکتا جنہوں نے تم سے دین کے معاملے میں جنگ نہیں کی اور نہ تمہیں تمہارے گھروں سے نکالا۔"
(4) "بِرّ" کا استعمال "سچائی / صدق" کے لیے
بِرّ کو سچائی (صدق) کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے، کیونکہ سچائی بھی نیکی کی ایک قسم ہے جس میں وسعت کی جاتی ہے۔
کہا جاتا ہے: "بَرَّ فِي قَوْلِهِ" (اس نے اپنی بات میں سچ کہا)۔
"بَرَّ فِي يَمِينِهِ" (اس نے اپنی قسم میں سچ کیا / اپنی قسم پوری کی)۔
شاعر کا قول اور اس کی تشریح
امام راغب نے ایک شعر نقل کیا ہے:
"أَكُونُ مَكَانَ الْبِرِّ مِنْهُ"
کہا جاتا ہے کہ اس سے مراد "فؤاد" (دل) ہے، لیکن امام راغب کہتے ہیں: ایسا نہیں، بلکہ اس کا مطلب "محبتِ برّ" (نیکی کی محبت) ہے، یعنی وہ مجھے نیکی کی محبت کی طرح چاہتا ہے۔
(5) صرفی اور لغوی فروق (بار، بَرّ، ابرار، بررة)
(الف) "بَرَّ" کے فاعل کے لیے دو صیغے:
"بَارٌّ" (بار) – جیسے صَائِف (صائف) اور صَيْفٌ (صیف) میں فرق ہے۔
"بَرٌّ" (بَرّ) – یہ "بار" سے زیادہ مبالغہ اور کثرت پر دلالت کرتا ہے۔
قرآنی شاہد (سورۃ مریم: 32):
"وَبَرًّا بِوَالِدَتِي"
ترجمہ:
"اور اس نے مجھے اپنی والدہ کے ساتھ نیک (بَرّ) بنایا۔"
یہاں "بَرّاً" مبالغہ کے لیے آیا ہے (یعنی بہت زیادہ نیک)۔
(ب) "قسم" اور "حج" کے لیے:
"بَرَّتْ يَمِينِي" (میری قسم سچی نکلی / پوری ہوئی)۔
"حَجٌّ مَبْرُورٌ" (مقبول حج) – یعنی حج جس میں کوئی گناہ نہ ہو اور وہ اللہ کے ہاں قبول ہو۔
(ج) جمع کے صیغے:
"بَارّ" کی جمع "أَبْرَار" (ابرار) آتی ہے۔
"بَرّ" (مبالغہ والا) کی جمع "بَرَرَة" (بررہ) آتی ہے، اور یہ "ابرار" سے زیادہ بلیغ (مبالغہ آمیز) ہے۔
قرآنی شواہد:
سورۃ الانفطار (82) : آیت 13
"إِنَّ الْأَبْرَارَ لَفِي نَعِيمٍ"
ترجمہ:
"بے شک نیک لوگ (ابرار) ضرور جنت کی نعمتوں میں ہوں گے۔"
سورۃ المطففین (83) : آیت 18
"كَلَّا إِنَّ كِتَابَ الْأَبْرَارِ لَفِي عِلِّيِّينَ"
ترجمہ:
"ہرگز نہیں، بے شک نیکوکاروں (ابرار) کا نامۂ اعمال بلند مقام (علیین) میں ہے۔"
سورۃ عبس (80) : آیت 16
"كِرَامٍ بَرَرَةٍ" (فرشتوں کی صفت میں)
ترجمہ:
"بزرگ اور نیک (فرشتے)"
امام راغب کا نکتہ:
قرآن میں "بَرَرَة" کا استعمال خاص طور پر فرشتوں کے لیے کیا گیا ہے، کیونکہ "بَرّ" (مبالغہ) "بار" سے زیادہ بلیغ ہے، جیسے "عَدْل" (عدل) "عادل" سے زیادہ بلیغ ہوتا ہے۔
No comments:
Post a Comment