Tuesday, 10 September 2024

عظیم، اچھے اور برے اخلاق

’’خُلُق‘‘ انسانی عادت(صفت) کو کہتے ہیں ’’اَخلاق‘‘ عادات کو کہتے ہیں۔


اقسامِ اخلاق:

(1)اچھے اخلاق...صفات وعادات۔

جیسے: توحید، توبہ، تقویٰ، اخلاص، توکل،تفکر، صبر، شکر، قناعت، استقامت، خوف وامید ...احسان، الفت، امانت، ایثار، تعاون، تواضع، حلم، حیاء، رفق(نرمی)، سخاوت، شجاعت، صدق(سچائی)، صمت(خاموشی)، عدل، عزم وعزیمت، عفت(پاکدامنی)، عفو(معافی)، وفا، صلہ رحمی، علو الھمۃ(بلندہمتی)، غیرت، محبت، مدارات، مروت، اعتدال و میانہ روی، نصیحت، ورع وغیرہ

(2)برے اخلاق...صفات وعادات۔

جیسے: شرک وظلم، تکبر، جھوٹ، بےحیائی وبدزبانی، بدگمانی، لالچ، اسراف وتبذیر، منگھڑت بہتان لگانا، راز فاش کرنا، بخل وشح، تجسس، جبن(بزدلی)، جدل(جھگڑنا)، حسد، حقد، خیانت، ذلیل کرنا، تمسخر ومذاق اڑانا، عجب، غدر، غش(دھوکہ)، غضب(غصہ)، غیبت، چغلی، بدعہدی، مایوسی وناامیدی وغیرہ


درجاتِ اخلاق:

    · فطری اخلاق: جو اللہ نے فطرت میں رکھے ہیں (جیسے ماؤں کا بچوں سے پیار)۔

    · دینی اخلاق: جو انبیاء نے سکھائے۔

    · تکمیلی اخلاق: جو نبی ﷺ نے مکمل کیے، جیسے دشمنوں سے بھی درگزر کرنا، بدلے پر احسان کرنا۔




عربی زبان کے امام راغب اصفھانی لکھتے ہیں: 

خُلُق اور خَلَق اصل میں دونوں ایک ہی ہیں، جیسے شِرب اور شُرب، صرم اور صرم۔۔۔لیکن خَلق اس شکل و صورت پر بولا جاتا ہے جس کا تعلق آنکھ کے پالینے سے ہوتا ہے۔ اور خُلق کا لفظ باطنی قویٰ، عادات وخصائل کے معنیٰ میں استعمال ہوتا ہے، جن کا تعلق بصیرت سے ہے۔ قرآن میں ہے:

اور یقیناً آپ(اے پیغمبر!) اخلاق کے اعلیٰ درجہ پر ہیں۔
(سورۃ القلم،آیت#4)
[مفردات القرآن-امام الراغب: صفحہ297]






اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا:
«‌بُعِثْتُ ‌لِأُتَمِّمَ حُسْنَ الْأَخْلَاقِ»
[موطأ مالك-رواية يحيى- ت الأعظمي:3357، مشكاة المصابيح:5096]





«إِنَّمَا بُعِثْتُ ‌لِأُتَمِّمَ ‌صَالِحَ الْأَخْلَاقِ»
[مكارم الأخلاق لابن أبي الدنيا:13، مسند أحمد:8952، صحيح الأدب المفرد:273(صفحہ118)، المستدرك على الصحيحين للحاكم:4221، السنن الكبرى-البيهقي:20783، صحيح الجامع الصغير:2349]

شرح الصنعانی: 
(إِنَّمَا بُعِثْتُ لِأُتَمِّمَ صَالِحَ الْأَخْلَاقِ)
یعنی ان اخلاق کو مکمل کرنے کے لیے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر فطرتاً رکھے ہیں، جیسے: وفا، مروت، حیا، عفت، اور وہ اخلاق جو پہلے رسولوں نے بھی سکھائے تھے۔
بعض نے کہا:
اخلاق سے مراد دین، دنیا اور آخرت کی صلاح ہے، جیسا کہ نبی ﷺ نے دعا میں جمع فرمایا:
"اللَّهُمَّ أَصْلِحْ لِي دُنْيَايَ الَّتِي فِيهَا مَعَاشِي، وَأَصْلِحْ لِي دِينِي الَّذِي هُوَ عِصْمَةُ أَمْرِي، وَأَصْلِحْ لِي آخِرَتِي الَّتِي فِيهَا مَعَادِي"
(اے اللہ! میرے لیے میری دنیا درست فرما دے جس میں میری زندگی ہے، اور میرا دین درست فرما دے جو میرے معاملے کی حفاظت ہے، اور میری آخرت درست فرما دے جس میں میرا لوٹنا ہے۔)
[التنویر شرح الجامع الصغير: 2569]






«إِنَّمَا ‌بُعِثْتُ ‌لِأُتَمِّمَ مَكَارِمَ الْأَخْلَاقِ»
(میں اچھے اخلاق کی تکمیل کے لئے دنیا میں بھیجا گیا ہوں)
[مسند البزار:8949، السنن الكبرى-البيهقي:20783، سلسلة الأحاديث الصحيحة:45]

چنانچہ ہر فعل آپ کا موصوف باعتدال اور قرین رضائے الٰہی ہے۔

اور وہ بھی اس مرتبہ پر کہ آپ ﷺ کی سیرت تو نظیر اور نمونہ کا کام دے گی زندگی کے ہر ہر شعبہ میں اور وہ بھی کسی ایک قوم ، کسی ایک زمانہ کے لئے نہیں، ہر ملک ، ہر قوم ، ہر زمانہ کے لئے عدیم النظیر سیرت والے کی جانب جنون ودیوانگی کی نسبت دینا خود اپنے پاگل پن کا ڈھنڈورا پیٹنا ہے۔




عظیم اخلاق کی تفاسیر»
(1)قرآن(کی تعلیمات)، آپ کے اخلاق تھے۔
[تفسير البغوي:2248، مسند احمد:25302+25813(24601)]

سورۃ المؤمنون(آیت 1سے11) پڑھ لو۔ یہ رسول اللہ ﷺ کے اخلاق تھے۔
[الأدب المفرد-للبخاري:308]

(2)قرآن، آپ کا اخلاق تھا کہ آپ اللہ کی رضا پر راضی رہتے اور اسکی ناراضگی والی باتوں پر غصہ ہوتے۔
[المعجم الأوسط-للطبراني:72، اخلاق النبي-ابي الشيخ:54(1/198)]

(3)قرآن، آپ کا اخلاق تھا اور آپ کنواری لڑکیوں سے بڑھ کر لوگوں سے حیا کرنے والے تھے جو اپنے پردے میں ہوتی ہیں۔

(4)دینِ اسلام، آپ کا اخلاق تھا۔
[تفسير مقاتل بن سليمان:4/403، تفسير ابن جرير: 23/150]

(5)عظیم اخلاق یہ ہیں کہ اللہ کے احکام کو بجا لاتے تھے اور اللہ کی ممانعت سے رکتے تھے۔
[تفسير الثعلبي:9/10، تفسير البغوي:8/188]

(6)آپ نے خادم کو کبھی اف تک نہ کہا، کبھی یہ نہ کہا کہ یہ کیوں نہ کیا اور یہ کیوں کیا؟
[صحیح البخاري:6038، تفسير البغوي:2251]
ملامت کرنے والے ملامت کرتے تو آپ فرماتے کہ اسے چھوڑدو، اگر یہ چیز مقدر میں ہوتی تو اس طرح ہوجاتا۔
[السنة ابن ابي عاصم:355، جامع الاحاديث-للسيوطي:12358]
(7)آپ نہ فحش کام کرنے والے تھے، اور نہ فحش بات کہنے والے تھے، اور نہ بازاروں میں شور مچانے والے تھے، اور نہ برائی کا بدلہ برائی سے دینے والے تھے، لیکن آپ درگذر کرنے والے، اور معاف کرنے والے تھے۔
[جامع الترمذي:2016، صحيح ابن حبان:7288، مسند احمد:25990]

(8)اللہ کی راہ میں لڑنے کے علاؤہ کسی پر ہاتھ نہ اٹھاتے، نہ خادم پر اور نہ عورت پر۔
[تفسير البغوي:2256، شرح السنة-للبغوي:3667]

(9)جب کسی مرد کو مصافحہ کرتے تو اس کے ہاتھ سے اپنا ہاتھ نہ کھینچتے جب تک وہ خود اپنا ہاتھ نہ کھینچ لے، اور اپنے چہرے کو اس کے چہرے سے نہ پھیرتے حتیٰ کہ وہ خود اپنے چہرے کو پھیر لے، اور آپ (علیہ السلام) کو کبھی کسی سامنے بیٹھے ہوئے شخص کی طرف ٹانگیں پھیلائے ہوئے نہیں دیکھا گیا۔
[تفسير البغوي:2255، جامع الترمذي:2490]
حوالہ
[موسوعة التفسير المأثور: 78023-78045]






اچھے اخلاق کیا ہیں؟
رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
اَلبِرُّ حُسنُ الخُلقِ۔
ترجمہ:
نیکی، اچھّے اخلاق (کا نام) ہے۔
[مسلم:2553]



ثلاثة من مكارم الأخلاق عند الله أن تعفو عمن ظلمك وتعطى من حرمك وتصل من قطعك۔
ترجمہ:
اچھے اخلاق الله کے نزدیک تین(3) ہیں: (1)جو تم پر ظلم کرے اسے معاف کرو (2)اور جو تمہیں محروم رکھے اسے عطا کرو(3)اور جو تم سے توڑے تم اس سے جوڑو.
[جامع الاحاديث:11291، الخطيب:1/329 عن أنس]



کیا میں تمہیں راہنمائی نہ کروں دنیا و آخرت کے بہترین(افضل)اخلاق کی: کہ تم جوڑو اس سے جو توڑے تم سے،اور تو عطا کر اسے جو محروم کرے تمہیں،اور معاف کر اسے جو ظلم کرے تم سے۔
[جامع(امام)معمر بن راشد:20237، مصنف(امام)ابن ابی شیبۃ:35652،شعب الایمان(امام)بیھقی:7946]



خبردار، جو چاہے کہ اس کی عمر لمبی ہو اور اس کا رزق کشادہ ہو تو وہ اپنے رب سے ڈرے،اور جوڑے رحمِ(مادر)والے رشتوں کو۔
[مسند(امام)الرویانی:157، الجامع (امام)ابن وھب:486، المستدرک (امام)الحاکم:7285، شعب الایمان(امام)البیھقی:7587، طبرانی:739]




تین(3) باتیں جس میں ہوں گی،الله اس کا حساب آسان لےگا اور اسے جنت میں داخل کرےگا اپنی رحمت سے۔
پوجھا:وہ کیا ہیں اے الله کے نبی ﷺ؟
فرمایا:
عطا کر اسے جو محروم کرے تمہیں،اور جوڑ اس سے جو توڑے تم سے،اور معاف کر اسے جو ظلم کرے تم سے۔۔۔
[مسند(امام)البزار:8635، المعجم الأوسط(امام)طبرانی:909، المستدرک (امام)الحاکم:3912(7285)، السنن الکبریٰ(امام)البیھقی:21092]




’’تمام لوگوں سے کامل ایمان والے وہ ہیں جو اخلاق میں اچھے ہوں اور نرم پہلوؤں والے ہوں جو دوستی رکھتے ہیں اور دوست رکھے جاتے ہیں اور جو شخص نہ کسی کو دوست رکھے اور نہ اس کو کوئی دوست رکھے اس میں کوئی خیر نہیں ہے۔‘‘
[الصحیحة:751۔ معجم الاوسط:4422۔، معجم الصغیر:35]
القرآن:
اے (زبان سے) ایمان والو!(دل سے)ایمان لاؤ...
[قرآن،سورۃ النساء:136]



حضرت ابوھریرہ سے روایت ہے کہ
إنما تفسير حسن الخلق ما أصاب من الدنيا يرضى وإن لم يصبه لم يسخط
ترجمہ:
اچھے اخلاق کی تفسیر یہ ہے کہ اسے جتنی دنیا ملے اس پر راضی رہے اور اگر کچھ نہ ملے تو ناراض نہیں ہوتا۔
[جامع الاحادیث:8900، حلية الأولياء:8/43، کنزالعمال:5229]



امام ابن مبارک نے فرمایا:
چہرے کا کِھل جانا، بھلائی کرنا اور تکلیف سے بچانا۔
[ترمذی:2005]





عمدہ اخلاق»عباداتِ قلبی:
ہر اچھے کام کے کرنے اور برائی سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ ضمیر کا احساس بیدار اور دل میں خیر و شر کی تمیز کے لیے خلش ہو، یہ "تقویٰ" ہے۔ پھر اس کام کو خدائے واحد کی رضامندی کے سوا ہر غرض و غایت سے پاک رکھا جائے، یہ "اخلاص" ہے۔ پھر اس کام کے کرنے میں صرف خدا کی نصرت پر بھروسہ رہے، یہ "توکل" ہے۔ اس کام میں رکاوٹیں اور دقتیں پیش آئیں یا نتیجہ مناسب حال برآمد نہ ہو تو دل کو مضبوط رکھا جائے اور خدا سے آس نہ توڑی جائے اور اس راہ میں اپنے برا چاہنے والوں کا بھی برا نہ چاہا جائے، یہ "صبر" ہے اور اگر کامیابی کی نعمت ملے تو اس پر مغرور ہونے کی بجائے اس کو خدا کا فضل و کرم سمجھا جائے اور جسم و جان اور زبان سے اس کا اقرار کیا جائے اور اس قسم کے کاموں کے کرنے میں اور زیادہ انہماک صرف کیا جائے، یہ "شکر" ہے۔

برے اخلاق کون کون سے ہیں؟
1.شرک وظلم
2.غصہ
3.بڑائی
4.بدگمانی
5.بغض
6.عجب وناز
7.بخل
8.حرص ولالچ
9.جھوٹ
10.غیبت
11.بہتان والزام تراشی
12.مسخری مزاق
13.لعن طعن کرنا
14.گالی وفحش گوئی
15۔چاپ لوسی مدح
16.فضول کلام
17.بےفائدہ بحث
18.جلدبازی
19.جھگڑا
20.راز فاشی
21۔فضول خرچی
22.بلاضرورت شدیدہ مانگنا
23.چھوڑنا توڑنا
24.دو چہروں والا(منافق)ہونا
25۔فضولیات میں غافل رہنا
26.کھیل کود میں مصروف رہنا
27.حرام باتیں سننا
28.حرام باتیں کہنا
29.حرام دیکھنا
30.حرام چھونا وغیرہ



اخلاق کی لغوی اور اصطلاحی تعریف

خلق: اس کا مادہ(خ،ل،ق) ہے اگر ''لفظ خ'' کے اوپر زبر پڑھیں یعنی خَلق پڑھیں تو اس کے معنی ہیں ظاہری شکل وصورت اور اگر ''خ'' پر پیش پڑھیں یعنی ''خُلق '' پڑھیںتو باطنی اور داخلی ونفسانی شکل وصورت کے معنی میں استعمال ہوتا ہے مثلاََ اگر کوئی یہ کہے کہ فلاں انسان خُلق وخَلق دونوں اعتبار سے نیک ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کی ظاہری صورت بھی اچھی ہے اور باطنی صورت بھی، جس طرح انسانوں کی ظاہری شکل وصورت مختلف ہوتی ہے اسی طرح باطنی شکل وصورت میں بھی اختلاف پایا جاتا ہے(١)

خُلق : انسان کے اس نفسانی ملکہ کو کہا جاتا ہے، جو اس بات کا سبب بنتا ہے کہ انسان بغیر فکرو تأمل اور غور و خوض کے، خاص افعال انجام دے(یعنی نفسانی کنٹرول' Control 'کے ذریعہ بہترین کام انجام دینے کو خُلق کہا جاتا ہے (٢)

الخُلق: السجیہ، یعنی عادت و طور طریقہ(٣)

الخَلق والخُلق: فی الاصل واحد کا الشَرب والشُرب لٰکن خُصَّ الخَلق باالھیأت والصور المدرکة بالبصر وخُصَّ الخُلُق بالقویٰ والسجایا المدرکة بالبصیرة(4)

یعنی خَلق اور خُلق در اصل ایک ہی ہیں لیکن َخَلق مخصوص ہے ظاہری شکل وصورت سے اور خُلق کو مخصوص کردیا گیا باطنی اور معنوی شکل وصورت سے۔

الخلیق والخلقة: کریم الطبیعة والخلیقة والسلیقة اعنی ھو باالطبیعة(5)

نیک طبیعت و نیک خلقت(پاک طینت اور نیک طبیعت انسان کو خلیق کہا جاتا ہے)

الخلیق والمختلق:حسن الخلق(6)

یعنی ! بہترین اخلاق کو خلیق و مختلق کہتے ہیں۔

خلیق وخلیقہ و خلائق:سزاوار، خوی گر، طبیعت، خو(7)

یعنی لائق ور اورخوش طبیعت انسان کو خلیق کہا جاتا ہے۔

الخَلاق: مااکتسبہ الانسان من الفضیلة بخلقہ(8)

یعنی جو کچھہ انسان، اپنے اخلاق کے ذریعہ فضیلت حاصل کرتا ہے اس کو خَلاق کہا جاتا ہے۔

خَلاق: نصیبی از خیر(9)

یعنی خیر اور نیکی کا کچھہ حصہ ۔

خِلاق وخلوق:نوعی از بوی خوش(10)

یعنی خوشبو اور اچھی خو، مثلاََ کہا جاتا ہے کہ فلاں انسان میں آدمیت کی خو بھی نہیں پائی جاتی، مراد یہ ہے کہ اس کی رفتارو گفتار اچھی نہیں ہے۔

۔ تعریف علم اخلاق

علم اخلاق وہ علم ہے جو انسان کو فضیلت اور رذیلت کی پہچان کراتا ہے(کون سا کام اچھا ہے کون سا کام برا ہے، جو انسان کو یہ سب بتائے اس علم کو علم اخلاق کہا جاتا ہے)(11)

اخلاق: عربی گرامر کے اعتبار سے اخلاق ''افعال'' کے وزن پر ہے اور ''خُلق'' کی جمع ہے، خُلق :انسان کی نفسانی خصوصیات کو کہا جاتا ہے بالکل اسی طرح جیسے خَلق ، انسان کے بدن کی صفات کو کہا جاتا ہے12)

اخلاق :۔ لغت کے اعتبار سے خلق کی جمع ہے جس کے معنی ہیں :طبیعت ،مروت،عادت (13)

اخلاق: روش، شیوہ، سلوک(14)

یعنی طور طریقہ اور رفتار و گفتار کو اخلاق کہتے ہیں۔

پیغمبر اسلام ۖ خدا وند منان سے دعا فرماتے ہیں: ''اللّھم حَسِّن خُلقی کما حَسّنت خَلقی''(15)

یعنی پالنے والے! میرے خُلق کو بھی اسی طرح بہتر قرار دے جس طرح میرے خَلق کو بہتر بنایا ہے(یعنی جس طرح میری خلقت، نیک طینت ہے اسی طرح میرے اخلاق کو بھی اخلاق حسنہ قرار دے)

جب کبھی یہ کہا جائے کہ فلاں شخص کا اخلاق بہت بہتر ہے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ وہ انسان ، نفسانی اعتبار سے صفات حسنہ(بہتر صفات) کا مالک ہے۔

انسان کے تمام اعمال، نفسیاتی خصوصیات پر موقوف ہیں یعنی اگر انسان کا اخلاق اچھا اور نیک ہوگا تو اسکے اعمال بھی اچھے ہوں گے اسی لئے جب بھی کوئی انسان اچھے کام انجام دیتا ہے تو کہا جاتا ہے کہ اس کا اخلاق بہت اچھا ہے (16)

سیرت : لغوی اعتبار سے :عادت،طریقہ،طرز زندگی کے معنی میں ہے(17

سیرت:روش و طریقہ، ھیأت، 18)

حمدت سیرتہ: او نیکو روش و خوب کردار است، کسی کہ دل پاک ونیت صاف داشتہ باشد افعال وروش او محمود و پسندیدہ می شود19)

یعنی سیرت کے معنی رفتار اور طور طریقے کے ہیں، بطور نمونہ ایک مثال پیش کی گئی ہے جس کے معنی ہیں کہ وہ انسان اچھے کردار کا ہے اور اس کی رفتار و گفتار اچھی ہے، جس کا دل پاک ہو اور نیت صاف ہو تو اس کے افعال اور چال چلن انسان دوست ہوتے ہیں یعنی اس کے کاموں کو ہر انسان پسند کرتاہے اور اس کی تعریف کرتا ہے۔

(١)اخلاق شبر:ص٣١

(٢)آموزہ ھای بنیادین علم اخلاق:ج١،ص١٥

(٣)(لسان اللسان:ج١،ص٣٦٣)

(4)مفردات راغب:ص٢٩٧

(5)لسان العرب:ج٤،بحث خ الیٰ د

(6)لسان اللسان:ج١،ص٣٦٣

(7)المنجد عربی فارسی:ج١،ص٥٠٤، مادہ خ،ل،ق،

(8)مفردات راغب:ص٢٩٧

(9-10)المنجد عربی فارسی:ج١،ص٥٠٤

(11)آموزہ ھای بنیادین علم اخلاق:ج١،ص١٧

(12) آموزہ ھای بنیادین علم اخلاق:ج١،ص١٥

(13)المنجدعربی اردو :ص٢٩٤

(14)المنجد عربی فارسی:ج١،ص٥٠٤

(15) بحار الانوار:ج٩٧، ص٢٥٣

(16)آموزہ ھای بنیادین علم اخلاق:ج١،ص١٥

(17)المنجدعربی،اردو:ص٥٠٦

(18)المنجد عربی فارسی:ج١،ص٥٠٤

(19)المنجد عربی فارسی:ج١،ص٥٠٤
۔۔۔۔،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔. . .  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔.  
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔. . . .  ۔۔۔۔۔


انسانی اخلاق کی چار بنیادیں
حضرت مولانا عبید اللہ سندھیؒ
ہمارے نزدیک شاہ ولی اللہؒ حکیم و صدیق ہیں جنہوں نے سارے ادیان، مذاہب اور شریعتوں کا اصلاً‌ ایک ہونا ثابت کیا اور پھر ان بنیادی اصولوں کا تعین بھی کیا جو ہر دین کا مقصودِ حقیقی تھے اور ہر مذہب اور شریعت ان کو پورا کرنا اپنا فرض سمجھتی رہی۔ شاہ صاحب ’’ہمعات‘‘ میں لکھتے ہیں: اس فقیر پر یہ بات روشن کی گئی ہے کہ تہذیبِ نفس کے سلسلے میں جو چیز شریعت میں مطلوب ہے، وہ چار خصلتیں ہیں۔ حق تعالیٰ نے انبیاء علیہم السلام کو انہی چار خصلتوں کے لیے بھیجا۔ تمام ملل حقہ میں انہی چار خصلتوں کا ارشاد اور ان کے حاصل کرنے کی ترغیب و تحریص ہے۔ ’’بر‘‘ یعنی بھلائی انہی چار خصلتوں کا حاصل ہے اور گناہ سے مراد وہ عقائد و اعمال اور اخلاق ہیں جو انہی چار خصلتوں کی ضد ہیں۔

ان چار خصلتوں میں سے ایک طہارت ہے۔ اس کی حقیقت اور اس کی طرف میلان ہر سلیم الفطرت انسان کے اندر ودیعت کیا گیا ہے۔ یہ گمان نہ کر لینا کہ یہاں طہارت سے مراد محض وضو اور غسل ہے، بلکہ طہارت کا اصل مقصود وضو اور غسل کی روح اور ان کا نور ہے۔ جب آدمی نجاستوں میں آلودہ ہو اور میل کچیل اور بال اس کے بدن پر جمع ہوں، بول و براز اور ریح نے اس کے معدے میں گرانی پیدا کی ہو، تو ضروری اور لازمی بات ہے کہ وہ انقباض، تنگی اور حزن اپنے اندر پائے گا۔ اور جب وہ غسل کرے گا اور زائد بالوں کو دور کرے گا اور صاف لباس زیب تن کرے گا اور خوشبو لگائے گا تو اسے اپنے نفس میں انشراح، سرور اور انبساط کا احساس ہوگا۔ حاصل کلام یہ ہے کہ طہارت یہی وجدانی کیفیت ہے جو انس اور نور سے تعبیر کی جا سکتی ہے۔

دوسری خصلت اخبات (خدا تعالیٰ کے لیے خضوع) یعنی نهایت درجے کی عجز و نیاز مندی ہے۔ اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ ایک سلیم الفطرت شخص جب طبعی اور خارجی تشویشوں سے فراغت کے بعد صفاتِ الہٰی، اس کے جلال اور اس کی کبریائی میں غور کرتا ہے تو اس پر ایک حیرت اور دہشت کی کیفیت طاری ہو جاتی ہے۔ یہی حیرت اور دہشت خشوع و خضوع یعنی نیاز مندی کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔ دوسرے لفظوں میں ایک سوچنے والا انسان جب کائنات کی اس گتھی کو حل کرنے سے عاجز آ جاتا ہے، اور اس عجز اور افتادگی کی حالت میں وہ کسی اور قوت کے سامنے اپنے آپ کو بے دست و پا پاتا ہے، تو اس کی یہ بے دست و پائی اسے مجبور کرتی ہے کہ وہ اپنے سے بلند تر کسی اور قوت کو مانے۔ ایک سائنس دان نے اسے مادے سے تعبیر کیا ہے، فلسفی نے اسے عقلِ کُل مانا، اور مذہبی اسے خدا کہتا ہے۔ بہر حال انسان کہیں نہ کہیں اس کائنات کے سامنے اپنے آپ کو ضرور مجبور پاتا ہے اور یہی مجبوری اسے خضوع کی طرف لے جاتی ہے۔

تیسری خصلت سماحت (فیاضی) ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ نفس طلبِ لذت، حبِ انتقام، بخل اور حرص وغیرہ سے مغلوب نہ ہو۔ اس کے ذیل میں عفت، جدوجہد، صبر و عفو، سخاوت، قناعت اور تقویٰ تمام آ جاتے ہیں۔ شکاور فرج (شرمگاہ) کی خواہش کے قبول نہ کرنے کا نام عفت ہے۔ آسائش اور ترکِ عمل کی خواہش کو قبول نہ کرنے کا نام جدوج ہے، اور جزع و فزع (رونا پیٹنا) کو روکنا صبر ہے، اور انتقام کی خواہش کو دبانا عفو، اور خواہش بخل کو چھوڑ دینے کا نام سخاوت، اور حرص کو قبول نہ کرنا قناعت ہے، شریعت کی بنائی ہوئی حدوں سے تجاوز نہ کرنا تقویٰ ہے۔ 

چوتھی فصلت عدالت ہے۔ سیاسی اور اجتماعی نظاموں کی روح رواں یہی خصلت ہے۔ ادب، کفایت، حریت، سیاستِ مدنیہ اور حسنِ معاشرت وغیرہ سب عدالت کی شاخیں ہیں۔ اپنی حرکات و سکنات پر نگاہ رکھنا، عمدہ اور بہتر وضع اختیار کرنا اور دل کو ہمیشہ اس کی طرف متوجہ رکھنا ادب ہے۔ جمع اور خرچ، خرید و فروخت اور تمام معاملات میں عقل و تدبر سے کام لینا کفایت ہے۔ خانہ داری کے کاموں کو بخوبی انجام دینا حریت ہے اور شہروں اور لشکروں کا اچھا انتظام کرنا سیاستِ مدنیہ ہے۔ بھائیوں میں نیک زندگی بسر کرنا، ہر ایک کے حق کو پہچاننا اور ان سے الفت و بشاشت سے پیش آنا حسنِ معاشرت ہے۔ 

یہی چار اخلاق ہیں جن کی تکمیل سے انسانیت کو ترقی ملتی ہے اور ان کے چھوڑنے سے انسان قعرِ مذلت (ذلت کے گڑھے) میں گرتا ہے۔ اس دنیا میں جتنے بھی تمدن بنے، اور جس قدر بھی فکری ادارے قائم ہوئے، اور جو بھی شریعتیں معرضِ وجود میں آئیں، اگر ان کے پیشِ نظر انسانوں کو اٹھانا اور ان کی حالت کو درست کرنا تھا تو انہوں نے انہی چار اخلاق کو سنوارنے کی کوشش کی۔ اس سلسلے میں اسلام، عیسائیت اور یہودیت کا معاملہ تو بالکل ظاہر ہے، لیکن اگر چینی فلسفۂ اخلاق، ہندوؤں کے مذہبی فکر، ایرانیوں کے نظامِ حیات، یونانیوں کی حکمت، اور قدیم مصریوں کے مذہب کا بغور مطالعہ کریں تو آپ کو کسی نہ کسی صورت میں ان چار اخلاق کی درستی اور ان کی ضدوں سے بچنے کی تاکید ملے گی۔ 

ایرانی حکم بزر جمهر اقوال، افلاطون کا اپنی کتاب ’’ریاست‘‘ میں عدالت کو زندگی کی بنیاد ثابت کرنا، قدیم مصریوں کا مذہبی صحیفہ ’’کتاب الموتی‘‘ کے ارشادات، ہندوؤں کے ویدوں اور گیتا کا پُرحکمت کلام، اور چینیوں کے اخلاقی فلسفے ’’کنفوشس‘‘ کی تعلیمات، ان سب کا حاصل کم و بیش یہی تھا کہ انسانیت کے ان چار بنیادی اخلاق کو ترقی دی جائے، اور تمام رسول اس لیے مبعوث ہوئے اور تمام حق شناس حکیم اور صدیق اپنی اپنی قوموں کو یہی پیغام سناتے رہے۔

لہٰذا اگر ہم اس حقیقت کو سمجھ جائیں تو پھر مسلمانوں اور غیر مسلموں کے نظریہ اخلاق میں اصولی نزاع نہ رہے گا اور ہم میں فراخ دلی اور رواداری بھی پیدا ہو جائے گی۔ بے شک سماج کے چھوٹے طبقوں میں تو چپقلش موجود رہے گی، لیکن ایسے ہی جیسا کہ ایک ہی ملت کے مختلف فرقوں میں مخصوص رجحانات اور استعدادوں کی بنا پر ذہنی اور مذہبی اختلافات ہوتے ہیں، لیکن جہاں تک اصحابِ عقل و رُشد کا تعلق ہے، ان کو آفتابِ نبوت سے پھوٹی ہوئی شعاؤں اور حکیم کے دماغ سے نکلے ہوئے اخلاقی نظام میں فرقِ مراتب تو ضرور نظر آئے گا لیکن وہ دونوں کو ایک دوسرے کی ضد نہ سمجھیں گے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ صالح غیرمسلم اور صالح مسلمان ایک دوسرے کی خوبیوں کو بحیثیت انسان کے نظرِ انصاف سے جانچنے کے قابل ہوں گے۔ 

ہمارے خیال میں یہ تصور کُل بنی نوع انسان کو موجوہ خلفشار سے نکال سکتا ہے۔ ہر قوم کے عقل مند طبقوں کا رجحان اب اس طرف ہو رہا ہے اور وہ کوشش کر رہے ہیں کہ اپنے اپنے فکری نظاموں کو عالم گیر انسانیت کا ترجمان بنا کر پیش کریں۔ لیکن کس قدر افسوس کا مقام ہے کہ وہ دین جو صحیح معنوں میں ساری انسانیت کا دین تھا، اور وہ کتاب جو کُل نوعِ انسانی کی ہدایت کی علمبردار تھی، اور وہ ملّت جس نے سب قوموں کو ایک بنایا اور جس کا تمدن ساری انسانیت کی ’’باقیات صالحات‘‘ کا مرقع تھا۔ وہ دین، وہ کتاب اور وہ ملّت اور اس کا تمدن ایک فرقے کی جاگیر بن گیا ہے، اور وہ لوگ یہ نہیں سمجھتے کہ اس وسعت پذیر دور میں جس میں کہ کرہ زمین کی سب دوریاں سکڑ گئی ہیں، ملکوں، قوموں اور براعظموں کی سرحدیں سمٹتی جا رہی ہیں، ریل، جہاز، طیاروں اور ریڈیو نے سب انسانوں کو اپنی کہنے اور دوسروں کی سننے کے لیے ایک انسانی برادری میں بدل دیا ہے، اس زمانے میں ایسی تعلیم کو جو صحیح معنوں میں عالم گیر اور انسانی تھی، ایک گروہ اور جماعت میں محدود کر دینا کتنا بڑا ظلم ہے۔ معلوم نہیں مسلمان اسلام کو کب سمجھیں گے اور قرآن کے اصل پیغام کو کب اپنائیں گے؟




🔰🔰🔰🔰🔰🔰🔰🔰🔰
سماجی اخلاقیات کی عالمگیر اہمیت

ماہرین اخلاقیات نے اخلاقِ انسانی کی کئی اقسام بیان کی ہیں۔ یونانی فلاسفر سقراط، افلاطون اور ارسطو نے اخلاقیات و سماجیات پر سیر حاصل بحث کی ہے۔ ارسطو کی اخلاقیات پر ایک مبسوط تصنیف بھی موجود ہے۔ تمام فلاسفر اور پیغمبروں نے اخلاقیات کا درس دیا ہے۔ اُن کی تحریروں کا بنیادی نکتہ فلاح انسانیت ہے۔ انسان کی خدمت اور عظمت تمام خدائی اور انسانی نظام ہائے فکر کی بنیاد ہے۔ یہ سیاسی اخلاقیات ہوں یا اقتصادی اخلاقیات، یہ سماجی اخلاقیات ہوں یا مذہبی اخلاقیات ان تمام کا تعلق انسانی سماج کی بہتری سے ہے اسی لئے سماجی اخلاقیات کے ارد گرد تمام مکتبہ ہائے فکر محوِ گردش ہیں۔ جس معاشرے میں انسان کی عظمت کا تصور ناپید ہو وہ حیوانی معاشرہ ہے۔ مثال کے طور پر ایک نمازی اور پرہیزگار انسان نماز کی ادائیگی کیلئے مسجد کی طرف جا رہا ہے، راستے میں وہ دیکھتا ہے کہ ایک بچہ پانی کے تالاب میں گر گیا اور غوطے کھا رہا ہے یا کوئی شخص موٹر کار کی زد میں آ کر سڑک پر زخمی حالت میں پڑا ہے اب اگر نمازی ایک انسان کی جان بچانے کیلئے اس کی مدد کرتا ہے اور بعد میں نماز قضا ادا کرتا ہے تو گویا اُس نے قرآن مجید کے حکم کی تعمیل کی جس میں فرمایا گیا ہے کہ ’’ایک انسان کی جان بچانا پوری انسانیت کی جان بچانے کے مترادف ہے۔‘‘ نماز کی تو قضا ہے لیکن مرتے انسان کو موت کے منہ میں دیکھ کر منہ دوسری طرف پھیر لینے کی کوئی قضا نہیں۔ اگر ایسی صورت میں ایک زاہدِ اور عابد یہ سوچے کہ نماز فرض ہے چلو چل کر نماز پڑھتا ہوں یہ زخمی انسان مرتا ہے تو مرے میرا اس سے کیا لینا دینا تو اس انسان نے مذہبی اخلاقیات کے ساتھ ساتھ سماجی اور انسانی اخلاقیات کی بھی نفی کی ہے۔ بقول الطاف حسین حالی …؎

دردِ دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو
ورنہ طاعت کیلئے کچھ کم نہ تھے کروبیاں

مسلمانوں کے ہاں یونانی، ہندی، اور عجمی تصوف نے انہیں عملی اور انقلابی زندگی سے دور کر دیا، ذاتی نجات کے تصور نے انہیں اجتماعی نظام سے بے بہرہ کر دیا۔ میرے ایک دوست جو آجکل چہرے پر گھنی ریش سجائے اور ہاتھ میں تسبیح تھامے رہتے ہیں آخرت کی فکر میں دنیا سے بے نیاز ہیں۔ وہ نوافل اور مناجات کی دنیا میں گم اور اپنی اولاد اور خاندان کے معاملات سے بھی بیگانہ ہو چکے ہیں، گویا عملی طور پر رہبانیت اختیار کر چکے ہیں۔ میں نے اُن سے عرض کیا کہ اسلام میں دین و دنیا میں توازن قائم کرنا لازمی امر ہے۔ بقول عطار …؎

اے پسر از آخرت غافل مشو

آخرت سے غافل ہونا اور متاعِ دنیا میں دل لگانا بلاشبہ درست نہیں ہے مگر دنیاوی معاملات کو بقولِ اقبال ’’از کلیدِ دیں درِ دنیا گشاد‘‘ والا معاملہ بھی زیر نظر رکھنا سُنتِ رسولؐ ہے۔ حدیث رسولؐ ہے ’’جس نے دنیا کیلئے آخرت کو ترک کر دیا اور جس نے آخرت کیلئے دنیا کو ترک کر دیا وہ ہم میں سے نہیں‘‘ گویا دین و دنیا میں توازن برقرار رکھنا نظامِ عدل و اعتدال ہے۔ قولِِ پیغمبرؐ ہے ’’اسلام میں رہبانیت نہیں۔‘‘ جو شخص معاشرے کی فلاح و اصلاح سے بیگانہ ہے وہ اسلام سے بھی بیگانہ ہے اسی لئے پیغمبر اسلام نے سماج کیساتھ مربوط رہنے کی تلقین فرمائی اور جماعت کے ساتھ رابطے کا حکم دیا۔ حضرت سلیمانؑ کے صحیفہ بعنوان ’’ضرب الامثال‘‘ بھی دین و دانش کا گلدستہ ہیں۔ ظالمو، گناہ گاروں اور بدکاروں کی سخت مذمت کی گئی ہے۔ انجیل مقدس میں بھی شریعتِ موسوی کے احکامات کی تائید کی گئی ہے۔ لوقا کی انجیل بنیادی الہامی اخلاقیات کی تائید کرتی ہے۔ اسی طرح قرآن مجید میں بھی احکاماتِ تورات کی حمایت کی گئی ہے اور اخلاقیات و انسانیت کی حمایت میں آیات نازل ہوئیں۔ سورہ بقرہ کی آیت نمبر 62 میں مسلمانوں، یہودیوں، عیسائیوں اور صابیوں کو جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہیں اور نیک اعمال بجا لاتے ہیں انہیں جنت کی بشارت دی گئی ہے۔ اصل معاملہ تو نیک اعمال کا ہے۔ مسئلہ خیر و شر کا ہے۔ عقائد اور فروعات کی جنگ بیکار ہے۔ پیغمبر اسلامؐ ہمارے لئے نمونہ عمل ہیں۔ آپ کے اسوۂ حسنہ کو نشان راہ و منزل بنا دیا گیا۔ سورۃ قلم کی آیت نمبر 4 میں ارشاد باری تعالیٰ ہے ’’(اے رسولؐ) اور آپ یقیناً عظیم الشان خُلق پر قائم ہیں۔‘‘ سورۃ بقرہ میں قولِ حق کا حکم دیا گیا۔ گویا یہ توریت ہو یا انجیل، یہ زبور ہو یا قرآن، احکاماتِ خیر و شر واضح ہیں لہٰذا ان احکامات پر عمل کرنا ہی مقصد و مدعائے دین ہے۔ فقہی، مسلکی اور تاریخی تنازعات کا خدا کے پیغام سے کوئی تعلق نہیں۔اب آئیے فلاسفہ کی تعلیمات کا جائزہ لیں۔ سقراط اخلاقیات کا زبردست حامی و حمایتی تھا۔ فرانس کا فلسفی برگساں سماجی اخلاقیات کا داعی تھی۔ کئی ایسے مفکرین جو خدا کے وجود کے انکاری تھے وہ بھی سماجی اخلاقیات سے انکار نہ کر سکے۔ روس کا بانی انقلابِ اشتراکیت لینن اور چین کا بانی انقلاب اشتراکیت مائوزے تنگ بھی سماجی ضابطوں اور اخلاقیات کے حامی تھے۔ شادی کی رسم مذاہب عالم میں ایک مذہبی پیمان ہے لیکن دہریوں اور لادینوں کے ہاں یہ رسم ایک سماجی پیمان یا بندھن ہے جس کا احترام لازمی امر ہے۔ گویا مذہبی اور سماجی اخلاقیات ایک ہی سکے کے دو رُخ ہیں۔ اس ضمن میں ایک بنیادی نکتہ سمجھنا اشد ضروری ہے اور وہ یہ کہ تمام بنی نوع انسان خدا کی مخلوق اور الطاف حسین حالی کے الفاظ میں اللہ کا کنبہ ہیں۔ رنگ و نسل، مذہب و مسلک، فرقہ و علاقہ کی تفریق پر انسان سے نفرت کرنا برنامۂ شیطان ہے یہ سرنامۂ یزدان نہیں۔ راہبوں، پنڈتوں، پادریوں، بھکشوں اور مولویوں کا یہ بیان و اعلان ہے کہ وہ مذہب کی خدمت کر رہے ہیں حالانکہ مذہب انکی خدمت کر رہا ہے۔ مذہب کی خدمت صرف اور صرف انسان کی خدمت ہے۔ مذہب کے نام پر فرقہ بازی، شدت پسندی، دہشت گردی اور خونریزی فساد فی الارض کے مترادف ہے۔ روحانیت اور سماجی اخلاقیات کو یک رنگ و ہم آہنگ کر دو اور حقوق انسانی کی جنگ لڑو، یہی جہاد ہے۔ بقول خلیل جبران ’’ساری زمین میرا وطن اور تمام انسان میرے ہم وطن ہیں۔‘‘ آخر میں اپنی ایک پرانی غزل کا مطلع پیش قارئین اور نذر شائقین …؎

اے شیخ تُو کیسا انساں ہے انساں کی تُجھے پہچان نہیں
مذہب تو برائے انساں ہے مذہب کیلئے انسان نہیں
🔰🔰🔰🔰🔰🔰🔰🔰🔰















































































































































No comments:

Post a Comment