Wednesday, 4 March 2026

اولیاء اللہ کون؟

 اللہ پاک نے فرمایا:

یاد رکھو کہ جو اللہ کے دوست ہیں ان کو نہ کوئی خوف ہوگا نہ وہ غمگین ہوں۔ جو (1)ایمان لاتے اور (2)(نافرمانی سے)پرہیز کرتے ہیں۔

[سورۃ یونس:62، 63]



 

مقامِ اولیاء:

حضرت ابوہریرہ ؓ نے بیان کیا کہ  رسول اللہ  ﷺ  نے فرمایا:

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جس نے میرے کسی ولی سے دشمنی کی اسے میری طرف سے اعلان جنگ ہے۔


[صحیح بخاری:6502، صحیح ابن حبان:347]


تشریح:

مَنْ عادى لِي وليا لِأَنَّهُ يَقْتَضِي الزَّجْرَ عَنْ مُعَادَاةِ الأولياء الْمُسْتَلْزِمِ لِمُوَالَاتِهِمْ وَمُوَالَاةِ جَمِيعِ الْأَوْلِيَاءِ لَا تَتَأَتَّى إِلَّا بِغَايَةِ التَّوَاضُعِ إِذْ منهم الْأَشْعَثُ الْأَغْبَرُ الَّذِي لَا يُؤْبَهُ لَهُ
ترجمہ:
"جس نے میرے کسی ولی سے دشمنی کی (کیونکہ اس میں اولیاء کی عداوت سے روکنا شامل ہے، جو لازماً ان کی محبت کو واجب کرتا ہے)۔ اور تمام اولیاء کی محبت انتہائی تواضع کے بغیر ممکن نہیں، کیونکہ ان میں سے کوئی بال بکھرے، خاک آلودہ (غریب/پسماندہ) ہو سکتا ہے جس کی طرف کوئی توجہ نہ دیتا ہو۔

[امام ابن حجر العسقلانی، فتح الباری شرح بخاری: 11/347]