Wednesday, 4 March 2026

اولیاء اللہ کون؟

 اللہ پاک نے فرمایا:

یاد رکھو کہ جو اللہ کے دوست ہیں ان کو نہ کوئی خوف ہوگا نہ وہ غمگین ہوں۔ جو (1)ایمان لاتے اور (2)(نافرمانی سے)پرہیز کرتے ہیں۔

[سورۃ یونس:62، 63]



 

مقامِ اولیاء:

حضرت ابوہریرہ ؓ نے بیان کیا کہ  رسول اللہ  ﷺ  نے فرمایا:

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جس نے میرے کسی ولی سے دشمنی کی اسے میری طرف سے اعلان جنگ ہے۔


[صحیح بخاری:6502، صحیح ابن حبان:347]


تشریح:

مَنْ عادى لِي وليا لِأَنَّهُ يَقْتَضِي الزَّجْرَ عَنْ مُعَادَاةِ الأولياء الْمُسْتَلْزِمِ لِمُوَالَاتِهِمْ وَمُوَالَاةِ جَمِيعِ الْأَوْلِيَاءِ لَا تَتَأَتَّى إِلَّا بِغَايَةِ التَّوَاضُعِ إِذْ منهم الْأَشْعَثُ الْأَغْبَرُ الَّذِي لَا يُؤْبَهُ لَهُ
ترجمہ:
"جس نے میرے کسی ولی سے دشمنی کی (کیونکہ اس میں اولیاء کی عداوت سے روکنا شامل ہے، جو لازماً ان کی محبت کو واجب کرتا ہے)۔ اور تمام اولیاء کی محبت انتہائی تواضع کے بغیر ممکن نہیں، کیونکہ ان میں سے کوئی بال بکھرے، خاک آلودہ (غریب/پسماندہ) ہو سکتا ہے جس کی طرف کوئی توجہ نہ دیتا ہو۔

[امام ابن حجر العسقلانی، فتح الباری شرح بخاری: 11/347]



اولیاء اللہ کی صفات اور کبیرہ گناہوں کا بیان

---

حدیث نمبر 1: المستدرك للحاكم (197)


حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ كَامِلٍ الْقَاضِي، إِمْلَاءً، ثنا أَبُو قِلَابَةَ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا مُعَاذُ بْنُ هَانِئٍ، ثنا حَرْبُ بْنُ شَدَّادٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ سِنَانٍ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ، أَنَّ رَسُولَ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ: «أَلَا إِنَّ أولياء اللَّهِ المصلون مَنْ يُقِيمُ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ الَّتِي كُتِبَتْ عَلَيْهِ، وَيَصُومُ رَمَضَانَ، وَيَحْتَسِبُ صَوْمَهُ يَرَى أَنَّهُ عَلَيْهِ حَقٌّ، وَيُعْطِي زَكَاةَ مَالِهِ يَحْتَسِبُهَا، وَيَجْتَنِبُ الْكَبَائِرَ الَّتِي نَهَى اللَّهُ عَنْهَا» ثُمَّ إِنَّ رَجُلًا سَأَلَهُ فَقَالَ: يَا رَسُولَ الله، مَا الْكَبَائِرُ؟ فَقَالَ: " هُوَ تِسْعٌ: الشِّرْكُ بالله، وَقَتْلُ نَفْسِ مُؤْمِنٍ بِغَيْرِ حَقٍّ، وَفِرَارٌ يَوْمَ الزَّحْفِ، وَأَكْلُ مَالِ الْيَتِيمِ، وَأَكْلُ الرِّبَا، وَقَذْفُ الْمُحْصَنَةِ، وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ الْمُسْلِمَيْنِ، وَاسْتِحْلَالُ الْبَيْتِ الْحَرَامِ قِبْلَتِكُمْ أَحْيَاءً وَأَمْوَاتًا "، ثُمَّ قَالَ: «لَا يَمُوتُ رَجُلٌ لَمْ يَعْمَلْ هَؤُلَاءِ الْكَبَائِرَ، وَيُقِيمُ الصَّلَاةَ، وَيُؤْتِي الزَّكَاةَ إِلَّا كَانَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي دَارٍ أَبْوَابُهَا مَصَارِيعُ مِنْ ذَهَبٍ»


ترجمہ:

حضرت عمیر بن قتادہ رضی اللہ عنہ، جو صحابی تھے، بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر فرمایا: "خبردار! اللہ کے اولیاء وہ نمازی ہیں جو پانچوں فرض نمازیں قائم کرتے ہیں، رمضان کے روزے رکھتے ہیں اور اپنے روزے کا ثواب اللہ سے چاہتے ہیں، یہ سمجھتے ہیں کہ یہ ان پر حق ہے، اپنے مال کی زکاۃ ادا کرتے ہیں اور اس کا ثواب چاہتے ہیں، اور ان کبیرہ گناہوں سے بچتے ہیں جن سے اللہ نے منع فرمایا ہے۔" پھر ایک شخص نے پوچھا: یا رسول اللہ! کبیرہ گناہ کون سے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "وہ نو ہیں: اللہ کے ساتھ شرک کرنا، کسی مومن کو ناحق قتل کرنا، میدانِ جنگ سے بھاگنا، یتیم کا مال کھانا، سود کھانا، پاکدامن عورت پر تہمت لگانا، مسلمان والدین کی نافرمانی کرنا، اور بیت اللہ الحرام کو حلال کرنا جو تمہارا قبلہ ہے زندہ اور مردہ حالت میں۔" پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "جو شخص ﴿اللہ سے اس حال میں ملے کہ وہ﴾ ان کبیرہ گناہوں کا ارتکاب نہیں کرتا، نماز قائم کرتا ہے اور زکاۃ ادا کرتا ہے، وہ اس گھر ﴿جنت کے درمیان/سب سے بہتر حصے﴾ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہوگا جس کے دروازوں کے پلّے سونے کے ہوں گے۔"


[المستدرك للحاكم: 197] ﴿بيهقي: 20752﴾ ﴿طبراني: 101﴾

---

تخریج:

[الترغيب والترهيب للمنذري: 1123، 2088، مجمع الزوائد للهيثمي: 142، جامع الأحاديث للسيوطي: 4563، كنز العمال: 7818]

---

حکمِ حدیث:

اس حدیث کی سند اور متن کے بارے میں محدثین کے مختلف اقوال ہیں:

1. امام حاکم نے اس حدیث کو روایت کرنے کے بعد فرمایا: "اس کے تمام راوی صحیحین (بخاری و مسلم) کے معیار پر پُر ہیں، سوائے عبدالحمید بن سنان کے" .

2. امام بخاری نے عبدالحمید بن سنان کے بارے میں فرمایا: "فی حدیثہ نظر" (ان کی حدیث میں غور کرنے کی ضرورت ہے) .

3. امام ابن حبان نے انہیں اپنی کتاب "الثقات" (ثقہ راویوں) میں ذکر کیا ہے .

4. علامہ البانی نے اس حدیث کو "حسن" قرار دیا ہے .

5. امام ابن کثیر نے فرمایا کہ یہ حدیث شواہد کی بنا پر قابل قبول ہے۔ انہوں نے یہ بھی ذکر کیا کہ امام طبری نے اس حدیث کو ایک اور سند سے بھی روایت کیا ہے جس میں عبدالحمید بن سنان کا نام نہیں ہے .


---

حاصل شدہ اسباق و نکات


1. اولیاء اللہ کی صفات: حدیث میں اولیاء اللہ کی پانچ اہم صفات بیان کی گئی ہیں: نماز قائم کرنا، روزے رکھنا، زکاۃ ادا کرنا، ان عبادات میں اخلاص (احتساب) رکھنا، اور کبیرہ گناہوں سے بچنا۔ یہ ایک جامع تعریف ہے۔

2. کبیرہ گناہوں کی تعداد: حدیث میں نو کبیرہ گناہوں کا ذکر ہے۔ تاہم دوسری روایات میں سات یا ستر سے زیادہ کا بھی ذکر ہے . اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ تعداد حصر (مکمل فہرست) کے لیے نہیں، بلکہ شدید وعید والے گناہوں کو اجاگر کرنے کے لیے ہے۔

3. کبیرہ گناہوں کی تفصیل:

   · الشرك بالله (اللہ کے ساتھ شرک): سب سے بڑا گناہ۔

   · قتل النفس (ناحق قتل): کسی مومن کو ناحق قتل کرنا۔

   · الفرار يوم الزحف (میدان جنگ سے بھاگنا): جہاد کے موقع پر جان بچا کر بھاگنا۔

   · أكل مال اليتيم (یتیم کا مال کھانا) .

   · أكل الربا (سود کھانا) .

   · قذف المحصنة (پاکدامن عورت پر زنا کی تہمت لگانا) .

   · عقوق الوالدين (والدین کی نافرمانی) .

   · استحلال البيت الحرام (بیت اللہ کی حرمت کو حلال سمجھنا یا اس کی بے حرمتی کرنا) .

   · (دوسری روایات میں السحر (جادو) کو بھی شامل کیا گیا ہے) .

4. اخلاص کی اہمیت: "یَحْتَسِبُ صَوْمَهُ" (اپنے روزے کا ثواب اللہ سے چاہتا ہے) اور "یَحْتَسِبُهَا" (زکاۃ کا ثواب چاہتا ہے) کے الفاظ سے اعمال میں اخلاص اور اللہ سے اجر کی امید رکھنے کی اہمیت واضح ہوتی ہے۔

5. جنت کی بشارت: حدیث کے آخر میں ان لوگوں کے لیے بشارت ہے جو ان کبیرہ گناہوں سے بچتے ہیں اور فرائض (نماز و زکاۃ) ادا کرتے ہیں۔ یہ ان کی جنت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رفاقت کی ضمانت ہے۔

6. بیت اللہ کی عظمت: بیت اللہ الحرام کی حرمت کی پامالی کو کبیرہ گناہوں میں شمار کیا گیا ہے۔ آپ ﷺ نے اس کی عظمت کو یوں اجاگر کیا کہ یہ "زندوں اور مردوں کا قبلہ" ہے ۔

7. اسناد کا مرتبہ: اس حدیث کی سند قابلِ قبول ہے۔ راوی عبدالحمید بن سنان کے بارے میں اختلاف کے باوجود، علامہ البانی اور دیگر محققین نے اسے حسن قرار دیا ہے۔



(حضرت سعید بن جبیر) حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا:

أولياء الله...الذين إذا رءوا ذكر الله

اولیاء اللہ وہ ہیں...جنہیں جب بھی دیکھو الله کا ذکر(باتیں)کرتے رہتے ہیں۔

[کتاب الأولیاء(امام)ابن ابی الدنیا: حدیث#15]

تخريج: 

[الزهد المروزي:218، مسند البزار:5034، السنن الكبرى للنسائي:11171، طبراني:12325، تفسير البغوي:1151، لأحاديث المختارة:105-106]

حكم:

[سلسلة الاحاديث الصحيحة:1646-1733]

---


تشریح علامہ مناوی:

(اولیاء اللہ) یعنی وہ لوگ جو اطاعت کے ذریعے اللہ سے تعلق (ولایت) رکھتے ہیں، اور اللہ انہیں عزت و کرامت سے نوازتا ہے۔ (وہ لوگ کہ جب وہ دیکھے جائیں تو اللہ یاد آ جائے) یعنی ان کے دیکھنے سے مراد یہ ہے کہ اللہ کی طرف سے ان پر ایسی ظاہری نشانیاں ہوتی ہیں جو اللہ کے ذکر کی یاد دلاتی ہیں۔ پس جب وہ دیکھے جاتے ہیں تو ان کے دیکھنے سے خیر (بھلائی) یاد آتی ہے، اور جب وہ حاضر ہوتے ہیں تو ذکر ان کے ساتھ حاضر ہوتا ہے، اور جب وہ ذکر کرتے ہیں تو وہ ذکر میں ایسے غرق ہوتے ہیں کہ وہ جہاں بھی ہوتے ہیں ذکر ہی میں مشغول رہتے ہیں۔

پس جو شخص اپنے رب اور آخرت کے سامنے ہوتا ہے، وہ جب تم سے ملتا ہے تو اپنی بات کا آغاز ذکرِ الٰہی سے کرتا ہے۔ اور جو شخص اپنے نفس اور دنیا کا اسیر ہوتا ہے، وہ جب تم سے ملتا ہے تو دنیا کی باتوں سے آغاز کرتا ہے۔ پس ہر شخص تم سے اس چیز کے بارے میں بات کرتا ہے جو اس کے دل میں اترتی ہے۔ سو اس بات پر غور کرو۔

---

تخریج و حوالہ جات:

(الحكيم) یعنی امام حکیم ترمذی نے اپنی کتاب "نوادر الأصول" میں (عن ابن عباس) حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے۔

ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا گیا: "اولیاء اللہ کون ہیں؟" تو آپ نے یہ حدیث ارشاد فرمائی۔

مناوی فرماتے ہیں: "مصنف (منذری) کے طریق کار سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ حدیث حکیم ترمذی سے زیادہ مشہور اور بلند کسی محدث سے مروی نہیں ہے، حالانکہ یہ تعجب کی بات ہے۔ کیونکہ اسے امام بزار نے بھی اپنی مسند میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے، انہوں نے اپنے شیخ علی بن حرب الرازی سے روایت کیا ہے۔

امام ہیثمی نے فرمایا: "میں نے علی بن حرب الرازی کو نہیں پہچانا، لیکن باقی راوی ثقہ ہیں۔"

اور اسے امام ابو نعیم نے بھی "حلیۃ الأولیاء" میں حضرت ابن ابی وقاص (سعد بن ابی وقاص) کی حدیث سے روایت کیا ہے۔"

[فیض القدیر للمناوی: حدیث نمبر 2801]

---

حاصل شدہ اسباق و نکات

1. اولیاء اللہ کی تعریف: اولیاء اللہ وہ ہیں جو اطاعت کے ذریعے اللہ سے تعلق رکھتے ہیں اور اللہ انہیں اپنی خاص کرامت سے نوازتا ہے۔

2. اولیاء اللہ کی علامت: ان کی سب سے بڑی علامت یہ ہے کہ انہیں دیکھ کر اللہ کی یاد آتی ہے۔ ان کی شخصیت، ان کا چہرہ، ان کا لباس، ان کا کردار، ان کی گفتگو سب اللہ کی یاد دلاتے ہیں۔

3. قلب کا تعلق: انسان کی گفتگو اس کے قلب کی عکاسی کرتی ہے۔ جس کا دل اللہ سے جڑا ہوتا ہے وہ اللہ کا ذکر کرتا ہے، اور جس کا دل دنیا میں الجھا ہوتا ہے وہ دنیا کی باتیں کرتا ہے۔

4. ظاہری نشانیاں: اولیاء اللہ پر اللہ کی نشانیاں ظاہر ہوتی ہیں جو دیکھنے والے کو اللہ کی طرف متوجہ کرتی ہیں۔

5. حدیث کی تخریج: یہ حدیث متعدد محدثین کے نزدیک قابل قبول ہے، اگرچہ بعض راویوں کے بارے میں اختلاف ہے۔

6. نصیحت: انسان کو چاہیے کہ وہ اپنے دل کی اصلاح کرے تاکہ اس کی گفتگو اور اس کا ظاہر اللہ کی یاد دلاتا ہو۔





وہ بندے جن پر انبیاء و شہداء رشک کریں


عَنْ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ - رضي الله عنه - قَالَ:

" (لَمَّا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - يَوْمًا صَلَاتَهُ أَقْبَلَ إِلَى النَّاسِ بِوَجْهِهِ فَقَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ اسْمَعُوا وَاعْقِلُوا , وَاعْلَمُوا أَنَّ لِلَّهِ عِبَادًا لَيْسُوا بِأَنْبِيَاءَ وَلَا شُهَدَاءَ , يَغْبِطُهُمُ الْأَنْبِيَاءُ وَالشُّهَدَاءُ) (¬1) (يَوْمَ الْقِيَامَةِ) (¬2) (عَلَى مَجَالِسِهِمْ وَقُرْبِهِمْ مِنْ اللَّهِ ") (¬3) (فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ تُخْبِرُنَا مَنْ هُمْ؟) (¬4) (قَالَ: " هُمْ جُمَاعٌ (¬5) مِنْ نَوَازِعِ (¬6) الْقَبَائِلِ) (¬7) (تَصَادَقُوا فِي اللَّهِ وَتَحَابُّوْا فِيهِ) (¬8) (عَلَى غَيْرِ أَرْحَامٍ بَيْنَهُمْ وَلَا أَمْوَالٍ يَتَعَاطَوْنَهَا) (¬9) (يَجْتَمِعُونَ عَلَى ذِكْرِ اللَّهِ , فَيَنْتَقُونَ أَطَايِبَ الْكَلَامِ كَمَا يَنْتَقِي آكِلُ التَّمْرِ أَطَايِبَهُ) (¬10) (فَوَاللَّهِ إِنَّ وُجُوهَهُمْ لَنُورٌ , وَإِنَّهُمْ عَلَى) (¬11) (مَنَابِرَ مِنْ نُورٍ) (¬12) (لَا يَخَافُونَ إِذَا خَافَ النَّاسُ , وَلَا يَحْزَنُونَ إِذَا حَزِنَ النَّاسُ) (¬13) (هُمْ أَوْلِيَاءُ اللَّهِ الَّذِينَ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ) (¬14) (ثُمَّ قَرَأَ هَذِهِ الْآية: {أَلَا إِنَّ أَوْلِيَاءَ اللَّهِ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ} (¬15)) (¬16)."

---

ترجمہ

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

(جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن اپنی نماز سے فارغ ہوئے تو لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: اے لوگو! سنو اور سمجھو، اور جان لو کہ اللہ کے کچھ بندے ایسے ہیں جو نہ انبیاء ہیں اور نہ شہداء، لیکن قیامت کے دن (¬2) انبیاء اور شہداء ان کے مجالس اور اللہ سے ان کے قرب پر (¬3) رشک کریں گے (¬1)۔) (¬1،2،3)

(صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہمیں بتائیے وہ کون ہیں؟ (¬4)

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "وہ مختلف قبیلوں سے تعلق رکھنے والے (¬5) لوگ ہیں جو دور دراز سے آتے ہیں (¬6)، وہ اللہ کے لیے ایک دوسرے سے دوستی رکھتے ہیں اور اللہ کے لیے ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں (¬8)، ان کے درمیان نہ کوئی نسبی تعلق ہوتا ہے اور نہ ہی وہ آپس میں مال و دولت کا لین دین کرتے ہیں (¬9)۔ وہ اللہ کے ذکر پر جمع ہوتے ہیں، اور پاکیزہ کلام (ذکر) کو اس طرح چن لیتے ہیں جیسے کھجور کھانے والا اچھی کھجوریں چن لیتا ہے (¬10)۔

(پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:) اللہ کی قسم! ان کے چہرے نورانی ہوں گے، اور وہ نور کے منبروں پر ہوں گے (¬11،12)۔ جب لوگ (قیامت کے دن) خوفزدہ ہوں گے تو وہ خوفزدہ نہیں ہوں گے، اور جب لوگ غمگین ہوں گے تو وہ غمگین نہیں ہوں گے (¬13)۔ یہی اللہ کے دوست ہیں جن پر نہ کوئی خوف ہے اور نہ وہ غمگین ہوتے ہیں (¬14)۔ 

(پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی: {أَلَا إِنَّ أَوْلِيَاءَ اللَّهِ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ} (¬15) (یاد رکھو! جو اللہ کے دوست ہیں، ان پر نہ کوئی خوف ہے اور نہ وہ غمگین ہوتے ہیں) [یونس: 62] (¬16)۔)"


---

حواشی اور تخریج:

(¬1) مسند احمد: 22957، سنن ابی داود: 3527، دیکھیے: فقہ السیرہ ص150

(¬2) سنن ابی داود: 3527

(¬3) مسند احمد: 22957، سنن ابی داود: 3527

(¬4) سنن ابی داود: 3527

(¬5) جُمَاع: یعنی مختلف قبائل اور مختلف علاقوں سے آئے ہوئے لوگ۔

(¬6) نوازع: "نازع" کی جمع، جس کا معنیٰ ہے دور دراز سے آنے والا اجنبی۔ اس کا معنیٰ یہ ہے کہ وہ کسی قرابت، نسب یا پہچان کی بنا پر جمع نہیں ہوئے، بلکہ صرف اللہ کے ذکر کے لیے جمع ہوئے۔

(¬7) معجم طبرانی، دیکھیے: کنز العمال: 1893، 29326، مستدرک حاکم: 7318، صحیح الترغیب والترہیب: 1508

(¬8) مستدرک حاکم: 7318، سنن ابی داود: 3527، مسند احمد: 22957، دیکھیے: سلسلہ صحیحہ: 3464

(¬9) سنن ابی داود: 3527، مسند احمد: 22957، دیکھیے: صحیح الترغیب والترہیب: 3026

(¬10) معجم طبرانی، دیکھیے: کنز العمال: 29326، صحیح الترغیب والترہیب: 1508، 1509، 3025

(¬11) سنن ابی داود: 3527، مسند ابو یعلیٰ: 6842

(¬12) مستدرک حاکم: 7318، سنن نسائی الکبریٰ: 11236، دیکھیے: سلسلہ صحیحہ تحت حدیث: 3464

(¬13) سنن ابی داود: 3527، مستدرک حاکم: 7318

(¬14) مستدرک حاکم: 7318، مسند احمد: 22957

(¬15) سورہ یونس: آیت 62

(¬16) سنن ابی داود: 3527، سنن نسائی الکبریٰ: 11236، صحیح ابن حبان: 573، دیکھیے: صحیح موارد الظمآن: 2126


[الجامع الصحيح للسنن والمسانيد: ج5 / ص175]

---


حاصل شدہ اسباق و نکات

1. اولیاء اللہ کا مقام: اللہ کے کچھ بندے ایسے ہیں جو انبیاء اور شہداء کے درجے کو نہیں پہنچتے، لیکن قیامت کے دن ان کا مقام اور مرتبہ اتنا بلند ہوگا کہ خود انبیاء اور شہداء بھی ان پر رشک کریں گے۔

2. اجتماعِ ذکر کی فضیلت: یہ عظیم مرتبہ ان لوگوں کو ملتا ہے جو اللہ کے ذکر کے لیے جمع ہوتے ہیں۔ ان کا مقصد صرف اللہ کی رضا اور اس کا ذکر ہوتا ہے، نہ کوئی دنیوی غرض اور نہ نسبی تعلق۔

3. محبت فی اللہ: یہ لوگ صرف اللہ کے لیے ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں اور اللہ کے لیے دوستی رکھتے ہیں۔ یہ اعلیٰ ترین درجے کی محبت ہے جس کا کوئی دنیوی سبب نہیں۔

4. بے غرضی: ان کے درمیان نہ کوئی نسبی تعلق ہوتا ہے اور نہ وہ مال و دولت کے لین دین کے لیے جمع ہوتے ہیں۔ ان کا تعلق محض ایمان اور ذکرِ الٰہی پر مبنی ہوتا ہے۔

5. ذکرِ الٰہی کا انتخاب: یہ لوگ ذکر کے لیے پاکیزہ کلمات کا انتخاب کرتے ہیں، جیسے کوئی شخص کھجوروں میں سے بہترین کھجوریں چن لیتا ہے۔ یہ ان کے ذوقِ عبادت اور کمالِ معرفت کی علامت ہے۔

6. نورانی چہرے اور نورانی منبر: اللہ ان کی ظاہری اور باطنی کیفیت کو نورانی بنا دیتا ہے۔ ان کے چہرے نور سے منور ہوں گے اور وہ نور کے منبروں پر بیٹھے ہوں گے۔

7. قیامت کے خوف سے امان: قیامت کے دن جب سب لوگ خوف اور گھبراہٹ میں مبتلا ہوں گے، یہ لوگ اللہ کے قرب کی وجہ سے ہر خوف اور غم سے محفوظ ہوں گے۔

8. آیتِ قرآنی کی تطبیق: نبی ﷺ نے اس موقع پر سورہ یونس کی آیت 62 تلاوت فرما کر یہ واضح کیا کہ یہی وہ اولیاء اللہ ہیں جن کے بارے میں قرآن میں وعدہ فرمایا گیا ہے۔

9. اجتہادِ نبوی: نبی ﷺ نے اس حدیث میں اولیاء اللہ کی ایک خاص قسم کی نشاندہی فرمائی، جو قرآن کی عام تعریف (الذین آمنوا وکانوا یتقون) کی ایک خاص صورت ہے۔

10. تفرقہ سے بچاؤ: یہ حدیث اس بات کی بھی دلیل ہے کہ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ صرف اللہ کے لیے آپس میں محبت کریں اور نسبتی اور قومی تعصبات سے بالاتر ہو کر ایمانی اخوت کو مضبوط کریں۔








محبت فی اللہ کا مقام اور معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کا واقعہ:

عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ قَالَ:

(دَخَلْتُ مَسْجِدَ دِمَشْقٍ) (¬1) (فَإِذَا حَلْقَةٌ فِيهَا) (¬2) (عِشْرُونَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صلى الله عليه وسلم - , وَإِذَا فِيهِمْ شَابٌّ حَدِيثُ السِّنِّ , حَسَنُ الْوَجْهِ) (¬3) (أَكْحَلُ الْعَيْنَيْنِ , بَرَّاقُ الثَّنَايَا (¬4) سَاكِتٌ) (¬5) (مُحْتَبٍ) (¬6) (كُلَّمَا اخْتَلَفُوا فِي شَيْءٍ) (¬7) (سَأَلُوهُ فَأَخْبَرَهُمْ فَانْتَهَوْا إِلَى خَبَرِهِ) (¬8) (وَصَدَرُوا عَنْ رَأْيِهِ) (¬9) (فَقُلْتُ لِجَلِيسٍ لِي: مَنْ هَذَا؟ , فَقَالَ: هَذَا مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ - رضي الله عنه -) (¬10) (فَلَمَّا كَانَ الْغَدُ هَجَّرْتُ (¬11) فَوَجَدْتُهُ قَدْ سَبَقَنِي بِالتَّهْجِيرِ وَوَجَدْتُهُ يُصَلِّي , فَانْتَظَرْتُهُ حَتَّى إِذَا قَضَى صَلَاتَهُ جِئْتُهُ مِنْ قِبَلِ وَجْهِهِ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ وَقُلْتُ لَهُ: وَاللَّهِ إِنِّي لَأُحِبُّكَ فِي اللَّهِ , قَالَ: آللَّهِ؟ , قُلْتُ: آللَّهِ) (¬12) (فَقَالَ: أَبْشِرْ إِنْ كُنْتَ صَادِقًا , فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - يَقُولُ: " الْمُتَحَابُّونَ فِي اللَّهِ فِي ظِلِّ الْعَرْشِ يَوْمَ لَا ظِلَّ إِلَّا ظِلُّهُ) (¬13) (لَهُمْ مَنَابِرُ مِنْ نُورٍ , يَغْبِطُهُمُ النَّبِيُّونَ) (¬14) (وَالصِّدِّيقُونَ وَالشُّهَدَاءُ بِمَجْلِسِهِمْ مِنْ الرَّبِّ - عز وجل - ") (¬15) (قَالَ: ثُمَّ قُمْتُ مِنْ عِنْدِهِ فَإِذَا أَنَا) (¬16) (بِعُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ - رضي الله عنه - , فَذَكَرْتُ لَهُ حَدِيثَ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ) (¬17) (فَقَالَ: قَدْ سَمِعْتُ ذَلِكَ وَأَفْضَلَ مِنْهُ , سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - يَقُولُ: " قَالَ اللَّهُ - عز وجل -:) (¬18) (وَجَبَتْ مَحَبَّتِي لِلْمُتَحَابِّينَ فِيَّ , وَالْمُتَجَالِسِينَ فِيَّ , وَالْمُتَزَاوِرِينَ فِيَّ (¬19) وَالْمُتَبَاذِلِينَ فِيَّ (¬20)) (¬21) 

[ وفي رواية: وَالْمُتَوَاصِلِينَ فِيَّ] 

(¬22) (وَالْمُتَنَاصِحِينَ فِيَّ) (¬23) "

---

ترجمہ:

حضرت ابو ادریس خولانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

(میں دمشق کی مسجد میں داخل ہوا) (¬1) (تو وہاں ایک حلقہ تھا جس میں) (¬2) (نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بیس صحابہ موجود تھے، اور ان میں ایک نوجوان تھا، خوبصورت چہرے والا) (¬3) (جس کی آنکھوں میں سرمہ تھا، دانت چمکدار، خاموش) (¬5) (گھٹنے باندھے بیٹھا تھا) (¬6) (جب بھی وہ لوگ کسی معاملے میں اختلاف کرتے) (¬7) (تو اس سے پوچھتے اور وہ انہیں بتاتا، پھر وہ اسی کی خبر پر رک جاتے) (¬8) (اور اس کی رائے پر صادر ہوتے) (¬9) (میں نے اپنے پڑھنے والے سے پوچھا: یہ کون ہے؟ اس نے کہا: یہ معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ ہیں) (¬10) (پھر جب دوسرا دن ہوا تو میں نے جلدی کی) (¬11) (تو میں نے انہیں مجھ سے پہلے آتے پایا اور نماز پڑھتے پایا، تو میں انتظار کرتا رہا یہاں تک کہ جب وہ نماز سے فارغ ہوئے تو میں ان کے سامنے سے آیا، انہیں سلام کیا اور کہا: اللہ کی قسم! میں اللہ کے لیے آپ سے محبت کرتا ہوں۔ انہوں نے کہا: اللہ کی قسم؟ میں نے کہا: اللہ کی قسم۔) (¬12) (پھر انہوں نے کہا: خوشخبری ہو اگر تم سچے ہو، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: "اللہ کے لیے محبت کرنے والے عرش کے سایے میں ہوں گے جس دن اس کے سایے کے سوا کوئی سایہ نہ ہوگا) (¬13) (ان کے لیے نور کے منبر ہوں گے، ان پر انبیاء رشک کریں گے) (¬14) (اور صدیقین اور شہداء بھی رب عزوجل کے پاس ان کے مجلس پر رشک کریں گے۔") (¬15) (راوی کہتے ہیں: پھر میں ان کے پاس سے اٹھا تو اچانک میری ملاقات) (¬16) (عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے ہوئی، تو میں نے ان سے معاذ بن جبل کی حدیث ذکر کی) (¬17) (تو انہوں نے کہا: میں نے وہ اور اس سے افضل سنا ہے، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: "اللہ عزوجل نے فرمایا:) (¬18) (میری محبت واجب ہو گئی ان لوگوں پر جو میرے لیے ایک دوسرے سے محبت رکھتے ہیں، جو میرے لیے ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھتے ہیں، جو میرے لیے ایک دوسرے کی زیارت کرتے ہیں) (¬19) (اور جو میرے لیے ایک دوسرے کو (اپنا مال) دیتے ہیں) (¬20) (¬21) 

[اور دوسری روایت میں: اور جو میرے لیے ایک دوسرے سے تعلق رکھتے ہیں] (¬22) (اور جو میرے لیے ایک دوسرے کی خیرخواہی کرتے ہیں) (¬23)"


---

تخریج و حوالہ جات:

(¬1) مسند احمد: 22083، اور شیخ شعیب ارناؤوط نے کہا: حدیث صحیح ہے۔

(¬2) مسند احمد: 22117، اور شیخ شعیب ارناؤوط نے کہا: اس کی سند صحیح ہے۔

(¬3) مسند احمد: 22055، اور شیخ شعیب ارناؤوط نے کہا: حدیث صحیح ہے۔

(¬4) الثنايا: سامنے کے چار دانت، دو اوپر اور دو نیچے۔

(¬5) مسند احمد: 22133، اور شیخ شعیب ارناؤوط نے کہا: اس کی سند صحیح ہے۔

(¬6) مسند احمد: 22834، اور شیخ شعیب ارناؤوط نے کہا: اس کی سند صحیح ہے۔

(¬7) مسند احمد: 22117

(¬8) مسند احمد: 22834

(¬9) مسند احمد: 22083

(¬10) مسند احمد: 22117

(¬11) التهجير: جلدی کرنا۔

(¬12) مسند احمد: 22083، 22055

(¬13) مسند احمد: 22834

(¬14) سنن ترمذی: 2390، مسند احمد: 22055

(¬15) مسند احمد: 22055، سنن ترمذی: 2390

(¬16) مسند احمد: 22835، اور شیخ شعیب ارناؤوط نے کہا: حدیث صحیح ہے۔

(¬17) مسند احمد: 22117

(¬18) مسند احمد: 22835

(¬19) المتزاورون: جو ایک دوسرے کی اللہ کے لیے زیارت کرتے ہیں۔

(¬20) المتباذلون: جو اللہ کی راہ میں خرچ کرنے میں ایک دوسرے سے بڑھ کر ہیں۔

(¬21) مسند احمد: 22083، 22117

(¬22) مسند احمد: 22055، 22133

(¬23) صحیح ابن حبان: 557، دیکھیے: صحیح موارد الظمآن: 2129، صحیح الجامع: 4321، صحیح الترغیب والترہیب: 3018


[الجامع الصحيح للسنن والمسانيد:ج5/ص174]

---

الفاظ کے اختلافات کا جائزہ


معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کی روایت میں:


· الْمُتَحَابُّونَ فِي اللَّهِ فِي ظِلِّ الْعَرْشِ (عرش کے سایے میں ہوں گے)

· لَهُمْ مَنَابِرُ مِنْ نُورٍ (ان کے لیے نور کے منبر ہوں گے)

· يَغْبِطُهُمُ النَّبِيُّونَ وَالصِّدِّيقُونَ وَالشُّهَدَاءُ (ان پر انبیاء، صدیقین اور شہداء رشک کریں گے)


عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کی روایت میں:


· وَجَبَتْ مَحَبَّتِي (میری محبت واجب ہو گئی) - یہاں "حقت" کے بجائے "وجبت" کا لفظ ہے 

· پانچ صفات کا ذکر ہے:

  1. الْمُتَحَابِّينَ فِيَّ (میرے لیے محبت کرنے والے)

  2. الْمُتَجَالِسِينَ فِيَّ (میرے لیے بیٹھنے والے)

  3. الْمُتَزَاوِرِينَ فِيَّ (میرے لیے زیارت کرنے والے)

  4. الْمُتَبَاذِلِينَ فِيَّ (میرے لیے خرچ کرنے والے)

  5. الْمُتَنَاصِحِينَ فِيَّ (میرے لیے خیرخواہی کرنے والے)

· دوسری روایت میں الْمُتَوَاصِلِينَ فِيَّ (تعلق رکھنے والے) کا اضافہ ہے

---

حاصل شدہ اسباق و نکات

1. صحابہ کا مقام: بیس صحابہ کا ایک حلقہ جس میں سب سے کم عمر ہونے کے باوجود معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو مرجعیت حاصل تھی۔ یہ ان کے علم و فضل کی دلیل ہے ۔

2. محبت فی اللہ کی تصدیق: معاذ رضی اللہ عنہ نے تین بار قسم دلوا کر محبت کی تصدیق لی، جو اس بات کی دلیل ہے کہ محبت فی اللہ کا دعویٰ سنجیدگی کا متقاضی ہے۔

3. محبت فی اللہ کا اجر: اللہ کے لیے محبت کرنے والے قیامت کے دن عرش کے سایے میں ہوں گے، ان کے لیے نور کے منبر ہوں گے، اور ان پر انبیاء و شہداء بھی رشک کریں گے ۔

4. پانچ صفات کا ذکر: حدیث قدسی میں ان پانچ صفات والوں پر اللہ کی محبت واجب ہونے کا ذکر ہے:

   · میرے لیے محبت کرنا (سب سے بنیادی صفت)

   · میرے لیے بیٹھنا (اجتماعِ ذکر)

   · میرے لیے زیارت کرنا (تعلقات کی مضبوطی)

   · میرے لیے خرچ کرنا (ایثار و سخاوت)

   · میرے لیے خیرخواہی (نصیحت و اصلاح)

5. عبادہ بن صامت کا اضافہ: انہوں نے معاذ کی حدیث کی تصدیق کی اور اس سے افضل حدیث قدسی سنائی۔ یہ صحابہ کے درمیان علمی تبادلے کی مثال ہے۔

6. "وجبت" کا مفہوم: اللہ کی محبت کا واجب ہونا اس کے فضل و کرم سے ہے، نہ کہ استحقاق کی بناء پر ۔

7. ظِلُّ الْعَرْشِ: قیامت کے دن جب کوئی سایہ نہ ہوگا، اللہ اپنے عرش کا سایہ مومنوں کے لیے مہیا فرمائے گا ۔

8. مَنَابِرُ مِنْ نُورٍ: نور کے منبر ان کے بلند مرتبے اور عزت کی علامت ہیں۔

9. غبطہ: انبیاء و شہداء کا ان پر رشک کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ محبت فی اللہ کا مقام انتہائی بلند ہے ۔

10. ابو ادریس خولانی کا اہم کردار: وہ کبار تابعین میں سے ہیں اور انہوں نے کئی صحابہ سے علم حاصل کیا۔ ان کی یہ روایت محدثین کے نزدیک صحیح ہے ۔




اللہ کی عظمت کے لیے محبت کرنے والوں کا مرتبہ

متنِ حدیث

قال الله تعالى: «الْمُتَحَابُّونَ فِي جَلَالِي لَهُمْ مَنَابِرُ مِنْ نُورٍ يَغْبِطُهُمُ النَّبِيُّونَ وَالشُّهَدَاءُ»

ترجمہ

اللہ تعالیٰ نے فرمایا: "میری عظمت (جلال) کے لیے ایک دوسرے سے محبت کرنے والوں کے لیے نور کے منبر ہوں گے، جن پر انبیاء اور شہداء بھی رشک کریں گے۔"


---

شرح مناوی:

یعنی قیامت کے دن اللہ کے ہاں ان لوگوں کا حال ایسا ہوگا کہ اگر انبیاء اور شہداء، اپنے عظیم مرتبے اور بلند مقام کے باوجود، کسی اور کے حال پر رشک کریں گے تو وہ انہی پر رشک کریں گے۔

امام بیضاوی نے فرمایا:

"انسان جس علم اور عمل کو بھی اختیار کرتا ہے، اس کی وجہ سے اللہ کے ہاں اس کا ایک ایسا مرتبہ ہوتا ہے جس میں وہ شخص جو اس صفت سے متصف نہیں، اس کا شریک نہیں ہو سکتا، اگرچہ اس کے پاس دوسری قسم کی بلند ترین صفات ہوں۔ پس وہ اس پر اس طرح رشک کرتا ہے کہ وہ تمنا کرتا ہے کہ کاش اس کی ان صفات کے ساتھ یہ صفت بھی شامل ہو جائے۔

یہی معنی ہے نبیوں کے رشک کرنے کا، کیونکہ انبیاء علیہم السلام تو ان صفات سے بھی بلند تر مشغولیتوں میں ہوتے ہیں جیسے مخلوق کو دعوت دینا، حق کو ظاہر کرنا، دین کو بلند کرنا، عوام کی رہنمائی کرنا اور خواص کی تکمیل کرنا، نیز دیگر ایسی کلیات (بڑے کام) جو انہیں ان جزئیات (چھوٹی چیزوں) پر جمے رہنے اور ان کے حقوق ادا کرنے سے مشغول رکھتی ہیں۔

اور شہداء اگرچہ شہادت کا درجہ پا چکے ہوتے ہیں، لیکن جب قیامت کے دن ان کے (محبت کرنے والوں کے) منازل اور مقامات دیکھیں گے اور اللہ کے ہاں ان کا قرب اور کرامت مشاہدہ کریں گے، تو وہ تمنا کریں گے کہ کاش وہ بھی اپنی صفات کے ساتھ ان کی صفات کو جمع کر لیتے، تاکہ دونوں خوبیوں کے حامل ہو جاتے اور دونوں مرتبوں کو پا لیتے۔"

---

علامہ سبکی نے فرمایا:

"یہ لوگ (اللہ کے لیے محبت کرنے والے) جنت میں بغیر حساب کے داخل ہوں گے، جبکہ انبیاء سے ان کی تبلیغ کے بارے میں ضرور سوال ہوگا۔ پس وہ ان کی اس راحت پر رشک کریں گے کہ وہ اس مشقت سے محفوظ رہے۔ اور یہ لازم نہیں کہ راحت والی حالت افضل ہو۔"

ابن شہبہ نے اس پر نقد کرتے ہوئے کہا:

"یہ محبت کرنے والے ولایت (اللہ کی دوستی) کے مقام پر ہیں، جو نبوت سے پہلے کا پہلا درجہ ہے۔ یہ ممکن نہیں کہ کسی ولی کے پاس کوئی ایسی صفت ہو جو نبی کو حاصل نہ ہو۔"

پھر ابن شہبہ نے فرمایا:

"میرے نزدیک پسندیدہ جواب یہ ہے کہ وہ (انبیاء) ان پر نور کے منبروں اور راحت کی بنا پر رشک نہیں کرتے، بلکہ اس محبت کی بنا پر رشک کرتے ہیں جو انہوں نے اللہ کے لیے کی۔ کیونکہ اللہ کے لیے محبت کرنا دراصل اللہ سے محبت کرنا ہے، اور یہ ایک ایسا مقام ہے جس پر لوگ رشک کریں۔ پس غبطہ (رشک) اللہ کی محبت پر ہے، نہ کہ اللہ کی عطا کردہ چیزوں پر۔" انتہیٰ

---

تخریج و حوالہ جات:

· امام ترمذی نے اسے حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔

[سنن الترمذی:2390]

· امام طبرانی نے اسے حضرت عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ سے اسی لفظ کے ساتھ روایت کیا ہے۔

[المعجم الکبیر للطبرانی:147]

امام ہیثمی نے فرمایا:

"ان دونوں کی سندیں جید ہیں۔"

[مجمع الزوائد: 10/277]

اسی وجہ سے مصنف (مناوي) نے اس کے حسن ہونے کی طرف اشارہ کیا ہے۔

[فیض القدیر للمناوي: حدیث نمبر 6037]

---

علامہ البانی نے اسے صحیح کہا ہے۔

[علامہ البانی صححہ فی صحیح الترغیب: 3032، صحیح الجامع: 4140]

---

پچھلی حدیث (عمر بن خطاب) اور اس حدیث (معاذ بن جبل) کا تقابلی جائزہ

جن کی صفات بیان ہوئیں: اللہ کے وہ بندے جو ذکرِ الٰہی کے لیے جمع ہوتے ہیں اللہ کے جلال کے لیے ایک دوسرے سے محبت کرنے والے

انبیاء و شہداء کا رشک: ان کی مجالس اور قربِ الٰہی پر ان کے نورانی منبروں پر

ان کی صفات: دور دراز سے آتے، محبت فی اللہ، بے غرضی، ذکر کے لیے جمع ہونا محبت فی اللہ، خاص طور پر اللہ کی عظمت کے لیے محبت

ان کا مقام: نور کے منبر، چہرے نورانی، قیامت کے خوف سے امان نور کے منبر

قرآنی آیت {أَلَا إِنَّ أَوْلِيَاءَ اللَّهِ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ} (اس حدیث میں آیت نہیں، لیکن مضمون وہی)

---

حاصل شدہ اسباق و نکات


1. محبت فی اللہ کی فضیلت: اللہ کے لیے ایک دوسرے سے محبت کرنا اتنا بلند مرتبہ ہے کہ خود انبیاء اور شہداء بھی اس مقام پر رشک کریں گے۔

2. نورانی منبروں کا وعدہ: اللہ تعالیٰ نے اپنی عظمت کے لیے محبت کرنے والوں کے لیے نور کے منبروں کا وعدہ فرمایا ہے، جو ان کے بلند مرتبے کی علامت ہے۔

3. انبیاء کا رشک کیوں؟ انبیاء علیہم السلام اگرچہ اعلیٰ ترین مقام پر فائز ہیں، لیکن وہ ان لوگوں کی اس خالص محبت پر رشک کرتے ہیں جو بغیر کسی دنیوی غرض کے صرف اللہ کے لیے ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں۔

4. محبت کی دو قسمیں:

   · محبت للہ (اللہ کے لیے محبت): یعنی کسی سے محبت کرنا اس لیے کہ وہ اللہ کا فرمانبردار ہے۔

   · محبت فی اللہ (اللہ کی راہ میں محبت): یعنی اللہ کی اطاعت اور اس کی رضا کے لیے آپس میں محبت کرنا۔

5. ابن شہبہ کا اہم نکتہ: انہوں نے واضح کیا کہ انبیاء کا رشک خود اس محبت پر ہے، نہ کہ اس کے عطیات (منبر، راحت وغیرہ) پر۔ یہ بہت دقیق نکتہ ہے۔

6. ولایت اور نبوت کا فرق: ولی کا مقام اگرچہ بلند ہے، لیکن نبوت کے مقابلے میں نہیں۔ البتہ ولی کے پاس کوئی ایسی صفت ہو سکتی ہے جس پر نبی بھی رشک کرے، جیسے خالص محبت کا یہ مقام۔ یا جیسے حضرت زکریا کا مریم کے پاس رزق دیکھ کر رشک کرنا۔[حوالہ»سورۃ آل عمران:37]

7. قیامت کے دن امان: یہ لوگ قیامت کی ہولناکیوں سے محفوظ ہوں گے اور انہیں حساب کی شدت سے نہیں گزرنا پڑے گا۔

8. عبادت کی روح: اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ عبادات کی روح محبت ہے۔ خشوع و خضوع کے ساتھ ساتھ اللہ اور اس کے نیک بندوں سے محبت بھی ضروری ہے۔





اللہ کی محبت کے مستحق وہ لوگ جو اس کی خاطر آپس میں محبت کریں

متنِ حدیث:

«قَالَ اللهُ تَعَالَى: حَقَّتْ مَحَبَّتِي لِلْمُتَحَابِّينَ فِيَّ، وَحَقَّتْ مَحَبَّتِي لِلْمُتَوَاصِلِينَ فِيَّ، وَحَقَّتْ مَحَبَّتِي لِلْمُتَنَاصِحِينَ فِيَّ، وَحَقَّتْ مَحَبَّتِي لِلْمُتَزَاوِرِينَ فِيَّ، وَحَقَّتْ مَحَبَّتِي لِلْمُتَبَاذِلِينَ فِيَّ»

ترجمہ

اللہ تعالیٰ نے فرمایا: "میری محبت ان لوگوں کے لیے واجب ہو گئی جو میری خاطر آپس میں محبت رکھتے ہیں، میری محبت ان کے لیے واجب ہو گئی جو میری خاطر آپس میں تعلق رکھتے ہیں، میری محبت ان کے لیے واجب ہو گئی جو میری خاطر ایک دوسرے کی خیرخواہی کرتے ہیں، میری محبت ان کے لیے واجب ہو گئی جو میری خاطر ایک دوسرے کی زیارت کرتے ہیں، اور میری محبت ان کے لیے واجب ہو گئی جو میری خاطر ایک دوسرے کو (اپنا مال) دیتے ہیں۔"


---

شرح مناوی:

علامہ علائی نے فرمایا:

"التباذل کا معنیٰ یہ ہے کہ ہر ایک شخص اپنے بھائی کو جب بھی اس کی ضرورت ہو، اپنا مال دے دے، بغیر کسی دنیوی غرض کے۔"

بعض علماء نے کہا:

"ہم مرتبہ لوگوں کا آپس میں تحفہ دینا عموماً محبت اور تقرب حاصل کرنے کے لیے ہوتا ہے۔ اور متدینین میں سے بعض لوگ اس سے تباذل (خالص عطیہ) کی نیت کرتے ہیں۔ جیسا کہ منقول ہے کہ بعض صوفیاء نے اپنے شیخ کی زیارت کی تو شیخ نے اپنے کپڑوں میں سے ایک کپڑا انہیں دے دیا۔ جب وہ واپس جانے لگے تو شیخ نے انہیں بلایا اور پوچھا: کیا تمہارے پاس کوئی چیز ہے جو تم مجھے دو؟ تو انہوں نے اپنا سجدہ گاہ (جانماز) شیخ کو دے دیا۔ شیخ نے فرمایا: جان لو کہ یہ مباذلہ (خالص عطیہ) ہے، مبادلہ (تبادلہ) نہیں، تاکہ شاید ہم اس حدیث کے مفہوم میں داخل ہو جائیں۔ "

پھر حدیث کے آخر میں ہے:

"الْمُتَحَابُّونَ فِيَّ" (میری خاطر محبت کرنے والے) "يَكُونُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى مَنَابِرَ مِنْ نُورٍ" (قیامت کے دن نور کے منبروں پر ہوں گے) "يَغْبِطُهُمْ بِمَكَانِهِمُ النَّبِيُّونَ وَالصِّدِّيقُونَ وَالشُّهَدَاءُ" (ان کے مقام پر انبیاء، صدیقین اور شہداء بھی رشک کریں گے)۔"

تم اس سے پہلے گزر چکے ہو کہ اس قسم کی روایات میں مراد یہ نہیں کہ انبیاء اور ان کے ساتھی حقیقت میں ان پر رشک کریں گے، بلکہ مقصد ان کی فضیلت اور ان کے رب کے ہاں بلند مرتبے کو انتہائی مؤکد اور بلیغ طریقے سے بیان کرنا ہے۔

[فیض القدیر للمناوی: حدیث نمبر 6044]

---

تخریج و حوالہ جات:

· امام احمد نے مسند میں حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔

[مسند احمد: 22733]

· امام طبرانی نے معجم کبیر میں روایت کیا ہے۔

[المعجم الکبیر: 146]

· امام حاکم نے مستدرک میں روایت کیا ہے۔

[المستدرک: 7319]

امام ہیثمی نے فرمایا:

"امام احمد اور طبرانی کے راوی موثق (قابل اعتماد) ہیں۔"

[مجمع الزوائد: 10/279]

---

حکم

علامہ البانی صححہ فی سلسلة الأحادیث الصحیحہ: 534

---

پچھلی احادیث اور اس حدیث کا تقابلی جائزہ

پہلو | حدیثِ عمر بن خطاب | حدیثِ معاذ بن جبل | حدیثِ عبادہ بن صامت

جن کی صفات بیان ہوئیں | ذکرِ الٰہی کے لیے جمع ہونے والے | اللہ کے جلال کے لیے محبت کرنے والے | پانچ صفات کے حامل (محبت، تعلق، خیرخواہی، زیارت، ایثار)

انبیاء و شہداء کا رشک | ان کی مجالس اور قربِ الٰہی پر ان کے نورانی منبروں پر ان کے مقام پر انبیاء، صدیقین اور شہداء

ان کی صفات | دور دراز سے آتے، محبت فی اللہ، بے غرضی، ذکر کے لیے جمع ہونا محبت فی اللہ، خاص طور پر اللہ کی عظمت کے لیے محبت پانچ صفات: تحاب، تواصل، تناصح، تزاور، تباذل

ان کا مقام نور کے منبر، چہرے نورانی، قیامت کے خوف سے امان نور کے منبر نور کے منبر

---

پانچ صفات کی وضاحت:

1. الْمُتَحَابِّينَ فِيَّ (میری خاطر محبت کرنے والے):

   · یعنی جو لوگ صرف اللہ کے لیے ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں، نہ کہ کسی دنیوی غرض سے۔

2. الْمُتَوَاصِلِينَ فِيَّ (میری خاطر تعلق رکھنے والے):

   · یعنی جو لوگ صرف اللہ کے لیے آپس میں تعلقات قائم رکھتے ہیں، قطع تعلق نہیں کرتے۔

3. الْمُتَنَاصِحِينَ فِيَّ (میری خاطر خیرخواہی کرنے والے):

   · یعنی جو لوگ صرف اللہ کے لیے ایک دوسرے کی خیرخواہی کرتے ہیں، ان کی بھلائی چاہتے ہیں۔

4. الْمُتَزَاوِرِينَ فِيَّ (میری خاطر زیارت کرنے والے):

   · یعنی جو لوگ صرف اللہ کے لیے ایک دوسرے کی زیارت کرتے ہیں، نہ کہ دنیوی مفاد کے لیے۔

5. الْمُتَبَاذِلِينَ فِيَّ (میری خاطر ایک دوسرے کو دینے والے):

   · یعنی جو لوگ صرف اللہ کے لیے ایک دوسرے کو اپنا مال دیتے ہیں، بغیر کسی غرض اور بدلے کے۔

---

مباذلہ اور مبادلہ میں فرق

مباذلہ (خالص عطیہ) مبادلہ (تبادلہ)

کسی چیز کو بغیر کسی بدلے کے دینا کسی چیز کو بدلے کے ساتھ دینا

نیت خالص اللہ کی رضا ہوتی ہے نیت میں بدلے کی امید ہوتی ہے

یہ ایثار اور محبت کی علامت ہے یہ تجارت اور معاوضہ کی علامت ہے

اس پر اللہ کی محبت واجب ہوتی ہے اس پر عمومی معاملات کے احکام جاری ہوتے ہیں۔

---


حاصل شدہ اسباق و نکات

1. اللہ کی محبت کا مستحق بننے کے پانچ طریقے: یہ حدیث ہمیں پانچ ایسے اعمال بتاتی ہے جن کی وجہ سے اللہ کی محبت ہم پر واجب ہو جاتی ہے۔

2. محبت فی اللہ کی اہمیت: سب سے پہلی صفت "المتحابین فی" ہے، جو اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ کے لیے محبت کرنا بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔

3. تعلق اور رابطہ: "المتواصلین فی" بتاتا ہے کہ محض محبت کافی نہیں، بلکہ اس محبت کو عملی تعلق اور رابطے میں بدلنا ضروری ہے۔

4. خیرخواہی کی ذمہ داری: "المتناصحین فی" مسلمانوں کے ایک دوسرے کے ساتھ خیرخواہی کے جذبے کو اجاگر کرتا ہے۔

5. زیارت کی فضیلت: "المتزاورین فی" بتاتا ہے کہ صرف اللہ کے لیے ایک دوسرے کی زیارت کرنا بھی اللہ کی محبت کا ذریعہ ہے۔

6. ایثار اور سخاوت: "المتباذلین فی" دوسروں پر خرچ کرنے اور ان کی ضروریات پوری کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔

7. نیت کا خلوص: ان تمام اعمال میں نیت کا خلوص شرط ہے۔ "فی" (میری خاطر) کا لفظ بار بار آنے سے یہ بات واضح ہوتی ہے۔

8. اعلیٰ ترین مقام: ان صفات کے حامل افراد کو قیامت کے دن نور کے منبروں پر بٹھایا جائے گا، اور انبیاء و شہداء بھی ان کے مقام پر رشک کریں گے۔

9. مباذلہ کی حقیقت: شیخ اور مرید کا واقعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ ہمارے معاملات میں نیت کا خلوص کتنا اہم ہے۔ ہمیں دینے میں کسی بدلے کی امید نہیں رکھنی چاہیے۔

10. ایک مکمل معاشرتی نظام: یہ پانچ صفات ایک مثالی اسلامی معاشرے کی بنیاد ہیں جہاں محبت، تعلق، خیرخواہی، ملاقات اور ایثار پائے جاتے ہیں۔







قرآن کے حاملین اللہ کے دوست ہیں

حضرت انس بن مالک سے روایت ہے کہ اللہ کے پیغمبر ﷺ نے فرمایا:

«هُمْ أَهْلُ الْقُرْآنِ، أَهْلُ اللَّهِ وَخَاصَّتُهُ»

قرآن والے، الله والے اور اس کے خاص(بندے)ہیں۔

[حلية الأولياء-ابونعيم:3/64، 9/40، 9/396]


تخريج:

[سنن ابن ماجة:215، مسند ابوداؤد الطیالسي:2238، مسند احمد:13542، مسند البزار:7369، السنن الكبرى للنسائي:7977، المستدرك الحاكم:2046، شعب الإيمان-للبيهقي:2434]


حکم:

[صَحِيح الْجَامِع:2165، صَحِيح التَّرْغِيبِ: 1432]


تشریح:

یعنی قرآن کے حافظ، جو رات کے اوقات اور دن کے کناروں میں قرآن کی تلاوت کرتے ہیں۔

[حاشیہ السندی علی سنن ابن ماجہ (1/93)]

---

شرح للمناوي:

یعنی قرآن کے حافظ جو اس پر عمل کرنے والے ہیں، وہ اللہ کے دوست ہیں جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ مخصوص ہیں، جس طرح کوئی شخص اپنے گھر والوں کے ساتھ مخصوص ہوتا ہے۔ انہیں یہ نام بطور تعظیم دیا گیا ہے، جیسے "بیت اللہ" (اللہ کا گھر) کہا جاتا ہے۔

امام حکیم ترمذی فرماتے ہیں:

"یہ فضیلت اس قاری کو حاصل ہوتی ہے جس کے دل سے جور (ناحق روی) ختم ہو جائے، اور اس کے نفس کی شرارت دور ہو جائے، پس قرآن اسے امن دے دے اور اس کے سینے میں بلندی پیدا کر دے، اور قرآن اس پر اپنی زینت اور ہیبت کھول کر رکھ دے۔ اس کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی دلہن جسے سجا کر تیار کیا گیا ہو، کوئی گندہ اور آلودہ شخص اس کی طرف ہاتھ بڑھائے تو وہ اس سے گھن کرے اور نفرت کرے۔ لیکن جب وہ شخص پاک صاف ہو جائے، خوبصورت لباس پہن لے اور خوشبو لگا لے، تو اس نے اس کا حق ادا کر دیا اور وہ دلہن اس کی طرف متوجہ ہو جاتی ہے اور وہ اس کے گھر والوں میں شامل ہو جاتا ہے۔

بالکل یہی حال قرآن کا ہے۔ پس قرآن کا اہل وہی ہے جو ظاہر اور باطن میں گناہوں سے پاک ہو اور اطاعتِ الٰہی کا زیبائش اختیار کرے۔ ایسی صورت میں وہ اللہ کا اہل (خاص بندہ) بن جاتا ہے۔ اس شخص کے لیے حرام ہے کہ وہ خاص لوگوں میں شامل ہو جو اس صفت سے متصف نہ ہو۔ اور وہ بندہ جو اپنے مولیٰ سے بھاگ گیا ہو اور اپنی خواہش کو اپنا معبود بنا لیا ہو، وہ اس عظیم مرتبے کو کیسے پا سکتا ہے؟ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: {سَأَصْرِفُ عَنْ آيَاتِيَ الَّذِينَ يَتَكَبَّرُونَ فِي الْأَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ} [الأعراف: 146] (میں اپنی نشانیوں سے ان لوگوں کو پھیر دوں گا جو زمین میں ناحق تکبر کرتے ہیں)۔"

---

تخریج:

ابو القاسم بن حیدر نے اپنی "المشیخة" میں حضرت علی (امیر المؤمنین) سے یہ حدیث روایت کی ہے۔

مناوی فرماتے ہیں:

"ظاہر یہ ہے کہ یہ حدیث کسی صحاح ستہ میں مخرج نہیں ہے، ورنہ وہ (ابن حیدر) اتنی دور کی سند کی ضرورت محسوس نہ کرتے۔ یہ ان کی عجیب غفلت ہے۔ حالانکہ اس حدیث کو امام نسائی نے السنن الکبریٰ میں، امام ابن ماجہ نے، امام احمد نے، اور امام حاکم نے حضرت انس رضی اللہ عنہ کے طریق سے روایت کیا ہے۔ "

حافظ عراقی نے فرمایا: "یہ حدیث حسن سند سے مروی ہے۔"

اور تعجب ہے کہ مصنف (منذری) نے خود اپنی کتاب "الدرر" میں اسی حدیث کو حضرت انس سے مذکورہ الفاظ کے ساتھ ابن ماجہ اور احمد کی طرف منسوب کیا ہے۔

[فیض القدیر للمناوی: حدیث نمبر 2768]

---

تخریج کا خلاصہ:

امام احمد بن حنبل، مسند أحمد: 12292

امام ابن ماجہ، سنن ابن ماجه: 215

امام نسائی، السنن الكبرى: 7977

امام حاکم، المستدرك على الصحيحين

امام دارمی، سنن الدارمي: 3369

حافظ عراقی، "بإسناد حسن"

امام منذری، ذكره في الدرر بهذا اللفظ

علامہ البانی، صححه في صحيح ابن ماجه: 179، وصحيح الجامع: 2165

---

حاصل شدہ اسباق و نکات

1. اہل قرآن کا مرتبہ: قرآن کریم کی تلاوت کرنے والے اور اس پر عمل کرنے والے اللہ تعالیٰ کے خاص اور مقرب بندے ہیں۔ انہیں "اہل اللہ" کہنا ان کے مقام و مرتبہ کی عظمت کو ظاہر کرتا ہے۔

2. اہل قرآن کی شرائط: امام حکیم ترمذی کی شرح سے واضح ہوتا ہے کہ "اہل قرآن" بننے کے لیے محض تلاوت کافی نہیں، بلکہ درج ذیل شرائط ہیں:

   · دل میں کسی قسم کا جور (ناحق روی) نہ ہو

   · گناہوں سے ظاہر و باطن میں پاکی

   · نفس کی شرارت سے نجات

   · اطاعت کا زیبائش اختیار کرنا

3. دلہن کی مثال: جو شخص گناہوں میں لت پت ہو وہ قرآن کے اسرار اور لذت سے محروم رہتا ہے، جیسے گندہ شخص دلہن سے دور رہتا ہے۔ جب وہ پاکیزگی اختیار کرتا ہے تو قرآن اس پر اپنی زینت اور برکات کھولتا ہے۔

4. تکبر کی مذمت: اللہ تعالیٰ نے تکبر کرنے والوں کو اپنی آیات سے محروم کرنے کی وعید سنائی ہے، جو اس بات کی دلیل ہے کہ اہل قرآن بننے کے لیے تواضع اور عاجزی ضروری ہے۔

5. حدیث کی صحت: یہ حدیث حضرت انس رضی اللہ عنہ سے صحیح سند کے ساتھ مروی ہے اور کئی محدثین نے اسے روایت کیا ہے۔ البانی، حاکم، عراقی وغیرہ نے اسے صحیح یا حسن قرار دیا ہے۔

6. حضرت علی کی روایت: اگرچہ مناوی نے ابن حیدر کی سند سے حضرت علی کی روایت نقل کی ہے، لیکن مشہور اور مقبول روایت حضرت انس ہی کی ہے جو صحیح ہے۔

7. امام منذری پر نقد: مناوی نے منذری پر نقد کیا کہ انہوں نے اس حدیث کو صرف ابن حیدر کی سند تک محدود رکھا، حالانکہ یہ حدیث مشہور کتب میں موجود ہے۔






حضرت ابن عمر سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا:

(حملة القرآن أولياء الله فمن عاداهم فقد عادى الله ومن والاهم فقد والى الله)

ترجمہ

"قرآن کے حاملین اللہ کے دوست ہیں، پس جس نے ان سے دشمنی کی اس نے اللہ سے دشمنی کی، اور جس نے ان سے دوستی کی اس نے اللہ سے دوستی کی۔"

[الجامع الصغير:6489، جامع الاحادیث-للسیوطی:11643 كنزالعمال:2295]


تشریح علامہ مناوی:

"حملہ (قرآن کے حاملین) سے مراد وہ حفاظ ہیں جو قرآن کے احکام پر عمل کرنے والے اور اس کے اوامر و نواہی کی پیروی کرنے والے ہیں۔ اور وہ شخص جو قرآن کو تو یاد کرے لیکن اس پر عمل نہ کرے، وہ ان میں شامل نہیں ہے۔"

[فیض القدیر للمناوی: حدیث نمبر 3760]


لہٰذا اس (مضمون کے حق ہونے) میں کوئی کلام (اعتراض) نہیں۔

[التيسير بشرح الجامع الصغير-للمناوي:1/501]


تخریج و حوالہ جات:

(فر وابن النجار) یعنی امام دیلمی نے "مسند الفردوس" (2 / 90) میں اور ابن نجار نے اپنی تاریخ میں (عن ابن عمر) حضرت عبداللہ بن عمر بن خطاب رضی اللہ عنہما سے یہ حدیث روایت کی ہے۔

مناوی فرماتے ہیں: "اس حدیث کی سند میں داود بن المحبر ہیں۔

امام ذہبی نے "الضعفاء" میں فرمایا: ابن حبان نے کہا: "یہ ثقات پر حدیثیں گھڑتا تھا۔"

اور اس حدیث کو ابو نعیم نے بھی "حلیۃ الأولیاء" میں روایت کیا ہے، اور اسی طریق سے دیلمی نے اسے نقل کیا ہے۔ اگر مصنف (منذری) اسے دیلمی کی طرف منسوب کرتے تو بہتر تھا۔"

[فیض القدیر للمناوی: حدیث نمبر 3760]

---

حاصل شدہ اسباق و نکات


1. حملہ قرآن سے مراد: قرآن کے حاملین سے مراد صرف حفظ کرنے والے نہیں، بلکہ وہ لوگ ہیں جو قرآن کے احکام پر عمل کرتے ہیں، اس کے اوامر کی پیروی کرتے ہیں اور اس کی نواہی سے بچتے ہیں۔

2. عمل کی شرط: جو شخص قرآن کو یاد تو کرے لیکن اس پر عمل نہ کرے، وہ "حملہ قرآن" کے اس مرتبے اور فضیلت کا مستحق نہیں۔

3. اللہ سے تعلق: قرآن کے حاملین سے دوستی کا مطلب اللہ سے دوستی ہے، اور ان سے دشمنی کا مطلب اللہ سے دشمنی ہے۔ یہ ان کے بلند مرتبے کو ظاہر کرتا ہے۔

4. حدیث کی سند: اس حدیث کی سند میں داود بن المحبر نامی راوی ہیں جو محدثین کے نزدیک سخت ضعیف اور حدیث گھڑنے والے ہیں۔ اس لیے یہ حدیث سند کے اعتبار سے قابل حجت نہیں۔

5. علماء کا موقف: امام ذہبی، ابن حبان، بخاری، مسلم، نسائی، ابوداؤد، دارقطنی، ابن حجر وغیرہ نے اس راوی کی شدید تضعیف کی ہے۔

6. نتیجہ: اس حدیث کا مضمون اگرچہ صحیح ہے کہ قرآن والے اللہ کے مقرب ہوتے ہیں، لیکن یہ روایت بالخصوص سند کے اعتبار سے ضعیف ہے۔ لیکن اس مضمون کی تائید دوسری صحیح احادیث سے ہوتی ہے۔

اللہ کے پیغمبر ﷺ نے فرمایا:

قرآن والے، الله والے اور اس کے خاص(بندے)ہیں۔

[ابن ماجہ:215]



No comments:

Post a Comment