Sunday, 12 July 2026

شوہر کی خدمت کرنا

تعلیماتِ اسلام تو مومنوں کیلئے ہیں۔


حضرت حُصَین بن مِحصَن رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان کی پھوپھی (یا خالہ) نبی کریم ﷺ کی خدمت میں کسی ضرورت کے لیے حاضر ہوئیں۔ جب انہوں نے اپنی ضرورت پوری کر لی تو آپ ﷺ نے پوچھا:

"کیا تمہارا کوئی خاوند ہے؟"

انہوں نے کہا: "جی ہاں۔"

آپ ﷺ نے پوچھا: "پھر تم اس کے ساتھ کیسی ہو (اس کی خدمت و اطاعت میں کس درجے پر ہو)؟"

انہوں نے کہا: "میں اس کی بھلائی (اور خدمت) میں کوئی کسر نہیں چھوڑتی، سوائے اس کے جس سے میں عاجز ہوں۔"

آپ ﷺ نے فرمایا:

"پس دیکھو تم اس کے ساتھ کیسی ہو (اور اس کا حق کس طرح ادا کرتی ہو)، کیونکہ وہ (خاوند) تمہاری جنت اور تمہاری دوزخ ہے۔"

[مصنف ابن ابي شيبه:17125، مسند الحميدي:358، موطأ محمد:952، الآحاد ابن أبي عاصم:3357، مداراة الناس لابن أبي الدنيا:174، النفقة على العيال لابن أبي الدنيا:529، مسند أحمد:27352، مسند إسحاق بن راهويه:2182، سنن ابن ماجه:3662، السنن الكبرى للنسائي:8913-8920، المستدرك الحاكم:2803، المعجم الکبیر للطبراني:1103(449)، المعجم الأوسط للطبراني:528، شعب الإيمان-البيهقي:8730، السنن الكبرى للبيهقي:14822، الفردوس بمأثور الخطاب-الديلمي:4886، جامع الأحاديث-السيوطي:43688، كنز العمال:45866]

[الصحيحة:2612، صحیح الجامع:1508، صحيح الترغيب:1933]




شرح المناويؒ:


(انظري) اے عورت! جو شوہر والی ہے (اے شوہر والی عورت!)

(أين أنت منه) یعنی دیکھو تم اپنے شوہر کے ساتھ کس درجے پر ہو؟

کیا تم اس کی محبت کے قریب ہو، اس کی سختی (مشکل وقت) میں اس کی مدد کرنے والی، اس کی پکار کو لبیک کہنے والی ہو؟

یا تم اس کی مراد (خواہش) سے دور ہو، اس کی صحبت اور اس کے احسان کی ناشکری کرنے والی ہو؟

(فإنما هو) یعنی شوہر (جنتك ونارك) یعنی وہ تمہارے جنت میں داخل ہونے کا سبب ہے (اگر وہ تم سے راضی ہو) اور وہ تمہارے جہنم میں داخل ہونے کا سبب ہے (اگر وہ تم سے ناراض ہو)۔

پس تم اس (شوہر) کے ساتھ اچھا سلوک کرو اور اس کے حکم کی مخالفت نہ کرو (اس شرط پر کہ) وہ کوئی گناہ کی بات نہ ہو۔


اور امام ذہبی نے اس حدیث اور اسی قسم کی دوسری احادیث سے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ "نشوز" (بیوی کا شوہر کی نافرمانی اور روگردانی) ایک "کبیرہ" (بڑا گناہ) ہے۔

[فيض القدير-المناوي: حدیث 2744]




شرح الكماخي (متوفی 1171ھ):

آپ ﷺ نے اس عورت سے فرمایا:

"كيف أنتِ له؟"

یعنی تم اپنے شوہر کے ساتھ کس حالت میں ہو؟ کیا رضا (خوشنودی) کی حالت میں ہو یا ناراضی کی؟ کیا حسنِ عشرت (اچھی صحبت) کی حالت میں ہو یا بد خدمتی کی؟


اس عورت نے کہا:

"ما آلوه"

یعنی میں اس کی خدمت اور اس کے دل کی خوشنودی حاصل کرنے میں کوئی کوتاہی نہیں کرتی، "إلا ما عجزت عنه" یعنی سوائے اس کے جس سے میں عاجز ہوں۔


آپ ﷺ نے فرمایا:

"فانظري أينَ أنتِ منه"

یعنی اس کا حق پہچانو اور اس کی خدمت میں کوئی کوتاہی نہ کرو، اور دیکھو تم اس کے ساتھ کس درجے پر ہو یعنی اس کے حق کو پہچاننے اور اس کی خدمت میں کوتاہی کرنے کے اعتبار سے۔


کیونکہ تم اپنے شوہر کے گھر اور اس کی اولاد کی نگہبان (نگران) ہو، اور تم ان کے بارے میں (اللہ کے سامنے) پوچھی جاؤ گی۔


رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

"خبردار! تم میں سے ہر شخص نگہبان ہے، اور ہر شخص اپنی رعیت (زیرِ دست لوگوں) کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ پس بادشاہ جو لوگوں پر حاکم ہے، وہ نگہبان ہے اور اپنی رعیت کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ اور مرد اپنے گھر والوں کا نگہبان ہے اور اس سے ان کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ اور عورت اپنے شوہر کے گھر اور اس کی اولاد کی نگہبان ہے اور اس سے ان کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ اور غلام اپنے آقا کے مال کا نگہبان ہے اور اس سے اس کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ خبردار! تم میں سے ہر شخص نگہبان ہے اور ہر شخص اپنی رعیت کے بارے میں پوچھا جائے گا۔"

[بخارى:893-2409-2554-2558-2751-5188-5200-7138، مسلم:1829، أبو داود:2928، ترمذى:1705]

یہ حدیث حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے روایت کی ہے، اور اسی طرح امام بغوی نے اپنی کتاب "مصابيح السنة:2776" میں کتاب الامارۃ والقضاء کے تحت نقل کیا ہے۔


پھر آپ ﷺ نے فرمایا:

"فإنه" یعنی تمہارا شوہر "جنتك ونارك" یعنی وہ تمہاری جنت اور تمہاری جہنم کا سبب ہے۔ یعنی تمہارا شوہر دو منزلوں (جنت یا جہنم) میں سے کسی ایک کا سبب ہے: اگر تم اس کے ساتھ احسان کرو گی (اچھا سلوک کرو گی) تو تمہارے لیے جنت ہے، اور اگر تم اس کے ساتھ بدسلوکی کرو گی تو تمہارے لیے جہنم ہے۔


اسی باب (شوہر کا حق) سے ایک اور حدیث بھی وارد ہوئی ہے:

"لو أمرت أحدًا أن يسجد لأحد، لأمرت المرأة أن تسجد لزوجها"

(اگر میں کسی کو حکم دیتا کہ وہ کسی کے سامنے سجدہ کرے، تو میں عورت کو حکم دیتا کہ وہ اپنے شوہر کے سامنے سجدہ کرے۔)


جب (شارح) شوہر کے حق اور بیوی پر اس کے حقوق کے بیان سے فارغ ہو گیا، تو اب وہ "ضیافت" (مہمان نوازی) کے حق کو بیان کرنے لگا، چنانچہ اس نے کہا: "هذا" (یہ ہے ضیافت کا بیان)۔

[المهيأ في كشف أسرار الموطأ:4 /318]


حاصل شدہ اسباق و نکات

1. شوہر کی رضا = جنت، شوہر کی ناراضی = جہنم (بیوی کے لیے)

نبی کریم ﷺ نے اس مختصر جملے میں بیوی کے لیے شوہر کے مقام کو بڑی شدت سے واضح فرمایا کہ اس کی زندگی کی آخرت کا دارومدار شوہر کی رضا اور خدمت پر ہے۔ جنت اور جہنم کا ذکر کرنا اس حق کی انتہائی سنگینی کو ظاہر کرتا ہے۔


2. بیوی کا شوہر کے ساتھ حسنِ سلوک اور پوری کوشش

عمہ (یا خالہ) کا فرمان "ما آلوه إلا ما عجزت عنه" (میں صرف اسی میں کوتاہی کرتی ہوں جس سے میں عاجز ہوں) اس بات کی دلیل ہے کہ بیوی کو اپنی پوری استطاعت کے مطابق شوہر کی خدمت اور اطاعت کرنی چاہیے۔ عذر صرف حقیقی جسمانی یا مالی عجز ہے، محض سستی یا لاپرواہی نہیں۔


3. نبی ﷺ کا گھریلو معاملات میں رہنمائی کا شفیقانہ انداز

آپ ﷺ نے اس خاتون کو بغیر کسی مقدمے کے براہِ راست ان کے شوہر کے ساتھ تعلقات کے بارے میں پوچھا، پھر نہایت نرمی اور اختصار کے ساتھ انہیں دنیا و آخرت کی کامیابی کا راستہ بتا دیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ ﷺ لوگوں کے گھریلو مسائل میں بھی رہنمائی فرماتے تھے۔


4. عورت کا شعور اور خود احتسابی

اس خاتون نے اپنے شوہر کے ساتھ اپنی خدمت کی حقیقت بلا تکلف بیان کی، جو اس کے ایمان اور دیانت کو ظاہر کرتا ہے۔ پھر نبی ﷺ نے اس محنت کو ابدی کامیابی سے جوڑ دیا۔


5. شوہر کا حق اور اطاعت کا دائرہ

یہ حدیث شوہر کے حقوق کی انتہا کو جنت و جہنم سے جوڑتی ہے، تاہم فقہاء کا اصول ہے کہ شوہر کی اطاعت صرف جائز معاملات میں واجب ہے، گناہ یا شرعی حد سے تجاوز میں اطاعت نہیں۔ بہرحال، بنیادی حیثیت میں شوہر کی رضا کو بیوی کے لیے باعثِ فلاح قرار دیا گیا۔


6. ازدواجی تعلقات میں باہمی کردار کا توازن

اگرچہ اس حدیث میں بیوی کے فرائض کو نمایاں کیا گیا ہے، لیکن دوسری جگہ شوہر کو بھی احسان اور حسنِ معاشرت کا حکم دیا گیا ہے (جیسے آیت: وَعَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ)۔ اس لیے دونوں کے لیے باہمی حقوق اور فرائض کا خیال رکھنا ضروری ہے۔


واللہ أعلم بالصواب





(2)بیوی اپنے شوہر کے مقام و مرتبہ کو سمجھے اور اس کا دل سے ادراک کرے۔


عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رضي الله عنه قَالَ: كَانَ أَهْلُ بَيْتٍ مِنْ الْأَنْصَارِ لَهُمْ جَمَلٌ يَسْنُونَ (١) عَلَيْهِ، وَإِنَّ الْجَمَلَ اسْتَصْعَبَ عَلَيْهِمْ , فَمَنَعَهُمْ ظَهْرَهُ، فَجَاءَ الْأَنْصَارُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالُوا: إِنَّهُ كَانَ لَنَا جَمَلٌ نُسْنِي عَلَيْهِ , وَإِنَّهُ اسْتَصْعَبَ عَلَيْنَا , وَمَنَعَنَا ظَهْرَهُ، وَقَدْ عَطِشَ الزَّرْعُ وَالنَّخْلُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم لِأَصْحَابِهِ: " قُومُوا "، فَقَامُوا , " فَدَخَلَ الْحَائِطَ (٢) وَالْجَمَلُ فِي نَاحِيَته , فَمَشَى رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم نَحْوَهُ "، فَقَالَتْ الْأَنْصَارُ: يَا رسولَ اللهِ، إِنَّهُ قَدْ صَارَ مِثْلَ الْكَلْبِ الْكَلِبِ (٣) وَإِنَّا نَخَافُ عَلَيْكَ صَوْلَتَهُ (٤) فَقَالَ: " لَيْسَ عَلَيَّ مِنْهُ بَأسٌ " , فَلَمَّا نَظَرَ الْجَمَلُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صلى الله عليه وسلم أَقْبَلَ نَحْوَهُ حَتَّى خَرَّ سَاجِدًا بَيْنَ يَدَيْهِ، " فَأَخَذَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم بِنَاصِيَتِهِ أَذَلَّ مَا كَانَتْ قَطُّ حَتَّى أَدْخَلَهُ فِي الْعَمَلِ "، فَقَالَ لَهُ أَصْحَابُهُ: يَا نبيَّ اللهِ، هَذِهِ بَهِيمَةٌ لَا تَعْقِلُ , تَسْجُدُ لَكَ، وَنَحْنُ نَعْقِلُ، فَنَحْنُ أَحَقُّ أَنْ نَسْجُدَ لَكَ , فَقَالَ: " لَا يَصْلُحُ لِبَشَرٍ أَنْ يَسْجُدَ لِبَشَرٍ، وَلَوْ صَلَحَ لِبَشَرٍ أَنْ يَسْجُدَ لِبَشَرٍ، لَأمَرْتُ الْمَرْأَةَ أَنْ تَسْجُدَ لِزَوْجِهَا , مِنْ عِظَمِ حَقِّهِ عَلَيْهَا , وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَوْ كَانَ مِنْ قَدَمِهِ إِلَى مَفْرِقِ رَأسِهِ قُرْحَةً تَنْبَجِسُ بِالْقَيْحِ وَالصَّدِيدِ , ثُمَّ اسْتَقْبَلَتْهُ فَلَحَسَتْهُ، مَا أَدَّتْ حَقَّهُ " (٥)


ترجمہ:


حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:


"انصار میں سے ایک گھرانے کے پاس ایک اونٹ تھا جس سے وہ (کھیتی کو) پانی کھینچ کر سیراب کرتے تھے (1)۔ وہ اونٹ ان پر بدک گیا اور انہیں اپنی پیٹھ (سواری اور پانی کھینچنے) سے روک لیا۔


پس انصار (کے لوگ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے اور عرض کیا: 'ہمارے پاس ایک اونٹ تھا جس سے ہم پانی کھینچتے تھے، اور وہ ہم پر بدک گیا ہے اور ہمیں اپنی پیٹھ سے محروم کر دیا ہے، اور کھیتی اور کھجور کے درخت پیاس (پانی کی کمی) سے مر رہے ہیں۔'


تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ سے فرمایا: "اٹھو۔" چنانچہ وہ اٹھ کھڑے ہوئے۔


پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم باغ میں داخل ہوئے (2)، اور اونٹ باغ کے ایک کونے میں تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی طرف بڑھے۔


انصار نے عرض کیا: 'یا رسول اللہ! یہ تو پاگل کتے کی طرح ہو گیا ہے (3)، اور ہمیں آپ پر اس کے حملے کا خطرہ ہے (4)۔'


تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "مجھے اس سے کوئی خطرہ نہیں۔"


جب اونٹ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو آپ کی طرف آیا یہاں تک کہ آپ کے سامنے سجدہ کر گرا۔


پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی پیشانی (ناصیہ) پکڑی، وہ اپنی پوری تاریخ میں اس سے زیادہ ذلیل کبھی نہ تھا، یہاں تک کہ آپ نے اسے کام (پانی کھینچنے) پر لگا دیا۔


صحابہ نے آپ سے عرض کیا: 'اللہ کے نبی! یہ تو ایک بےعقل جانور ہے جو آپ کو سجدہ کر رہا ہے، اور ہم عقل رکھتے ہیں، تو ہم آپ کو سجدہ کرنے کے زیادہ حقدار ہیں۔'


تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "کسی انسان کے لیے دوسرے انسان کو سجدہ کرنا جائز نہیں۔ اور اگر کسی انسان کے لیے کسی انسان کو سجدہ کرنا جائز ہوتا تو میں عورت کو حکم دیتا کہ وہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے، اس کے حق کی عظمت کی وجہ سے۔ اور قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر شوہر کے پاؤں سے لے کر سر کے بالوں (مفرق) تک پیپ اور خون بہنے والے زخم ہوں، پھر بیوی آئے اور اسے (اپنی زبان سے) چاٹ لے، تب بھی وہ اس کا حق ادا نہیں کر سکتی۔" (5)


حوالہ جات:


1 (لغوی تشریح) "یسنون" کا معنی ہے: پانی نکالنا / کھینچنا (استقاء)۔

2 (لغوی تشریح از صاحب النہایہ) "حائط" کا معنی ہے: کھجوروں کا باغ، جب اس کے گرد دیوار (جدار) ہو۔ (حائط دراصل جدار/دیوار کو کہتے ہیں، اور مجازاً اسے باغ کے لیے بولا جاتا ہے)۔

3 (لغوی تشریح) "الكلب الكلب" کا معنی ہے: پاگل / دیوانہ کتا (مسعور)۔

4 (لغوی تشریح) "صولته" کا معنی ہے: حملہ کرنا، جھپٹنا یا چھلانگ مارنا (وثبہ و قفزہ)۔

5 مسند الإمام أحمد بن حنبل:12635


حکم:

یہ مکمل روایت مسند احمد میں مذکور ہے۔ علامہ البانی نے اسے "حسن" قرار دیا ہے، اور اسے اپنی کتب الإرواء (حدیث نمبر 1998) اور صحیح الجامع (حدیث نمبر 7725) میں درج کیا ہے۔

[الجامع الصحيح للسنن والمسانيد:964451926 (ج11 / ص8)]



حاصل شدہ اسباق و نکات

1. شوہر کا مرتبہ اور عظمت

نبی کریم ﷺ نے شوہر کے حق کو اس قدر بلند قرار دیا کہ اگر سجدۂ تعظیم کسی انسان کے لیے جائز ہوتا تو وہ عورت کو اپنے شوہر کے لیے سجدہ کرنے کا حکم دیتے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ شوہر کا گھریلو نظام میں کیا مقام ہے۔


2. سجدہ صرف اللہ کے لیے ہے (توحید کا اصول)

آپ ﷺ نے صحابہ کے اس جذبے کو مسترد کرتے ہوئے واضح فرما دیا کہ کوئی بشر کسی دوسرے بشر کو سجدہ نہیں کر سکتا۔ یہ اسلامی عقیدۂ توحید کا بنیادی اصول ہے۔


3. بیوی کی ذمہ داری اور شوہر کی خدمت

آپ ﷺ نے اس مبالغہ آمیز تشبیہ (پیپ اور خون کو چاٹنے) کے ذریعے یہ واضح کیا کہ بیوی شوہر کے حقوق کا کتنا خیال رکھے اور انہیں ادا کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑے۔ اگرچہ یہ مثال عملی نہیں، بلکہ حق کی شدت اور وسعت کو بیان کرنے کے لیے عربی اسلوبِ بیان (مبالغہ) ہے۔


4. نبی ﷺ کا جانوروں پر رحم اور ان سے نرمی

بدکا ہوا اور خطرناک اونٹ آپ ﷺ کی ایک جھلک اور آواز پر سجدہ ریز ہو جاتا ہے اور ذلیل ہو کر کام پر لگ جاتا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جانور بھی آپ ﷺ کے اخلاق اور جلالت سے متاثر ہوتے تھے، اور آپ ﷺ نے اسے کسی تشدد کے بغیر قابو کیا۔


5. جانوروں کی بےزبان محبت اور ان کے حقوق

اونٹ نے نہ صرف اطاعت کی بلکہ سجدہ کیا، جس سے صحابہ کو رشک آیا۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ جانور بھی خدا کی نشانیوں کو محسوس کرتے ہیں، اور انسان کو چاہیے کہ ان کے ساتھ نرمی اور احسان کرے۔


6. صحابہ کا شوق و محبت

صحابہ کرام نے جانور کو سجدہ کرتے دیکھ کر خود سجدہ کرنے کی خواہش ظاہر کی، جو نبی ﷺ سے ان کی بےپناہ عقیدت اور محبت کو ظاہر کرتا ہے، حالانکہ آپ ﷺ نے انہیں اس عمل سے روک دیا۔


7. شوہر کے حقوق میں بیوی کا کمالِ ایثار

اگر شوہر شدید بیمار یا مصیبت زدہ ہو، تو بیوی کو صبر و ایثار کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور ہر ممکن طریقے سے اس کی تیمارداری کرنی چاہیے، کیونکہ یہ اس کا اخلاقی اور دینی فرض ہے۔


واللہ أعلم بالصواب





عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى رضي الله عنه قَالَ: (لَمَّا قَدِمَ مُعَاذٌ رضي الله عنه مِنْ الشَّامِ, سَجَدَ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ: " مَا هَذَا يَا مُعَاذُ؟ " فَقَالَ: أَتَيْتُ الشَّامَ , فَوَافَقْتُهُمْ يَسْجُدُونَ لِأَسَاقِفَتِهِمْ وَبَطَارِقَتِهِمْ , فَوَدِدْتُ فِي نَفْسِي أَنْ نَفْعَلَ ذَلِكَ بِكَ) (١) (فَأَنَّكَ أَحَقُّ أَنْ تُعَظَّمَ) (٢) (فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم: " لَا تَفْعَلُوا, فَإِنِّي لَوْ كُنْتُ آمِرًا أَحَدًا أَنْ يَسْجُدَ) (٣) (لِأَحَدٍ, لَأَمَرْتُ الْمَرْأَةَ أَنْ تَسْجُدَ لِزَوْجِهَا) (٤) (مِنْ عِظَمِ حَقِّهِ عَلَيْهَا) (٥) وفي رواية: لَوْ كُنْتُ آمِرًا أَحَدًا أَنْ يَسْجُدَ لِغَيْرِ اللهِ , لَأَمَرْتُ النِّسَاءَ أَنْ يَسْجُدْنَ لِأَزْوَاجِهِنَّ , لِمَا جَعَلَ اللهُ لَهُمْ عَلَيْهِنَّ مِنْ الْحَقِّ) (٦) (وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ , لَا تُؤَدِّي الْمَرْأَةُ حَقَّ رَبِّهَا) (٧) (عَلَيْهَا كُلَّهُ , حَتَّى تُؤَدِّيَ حَقَّ زَوْجِهَا عَلَيْهَا كُلَّهُ , حَتَّى لَوْ سَأَلَهَا نَفْسَهَا وَهِيَ عَلَى ظَهْرِ قَتَبٍ (٨)) (٩) (لَمْ تَمْنَعْهُ ") (١٠)


ترجمہ:


حضرت عبداللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:


"جب حضرت معاذ رضی اللہ عنہ شام (سے واپس) آئے تو انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سجدہ کیا۔


آپ ﷺ نے فرمایا: 'اے معاذ! یہ کیا ہے؟'


انہوں نے کہا: 'میں شام گیا، تو وہاں کے لوگوں کو اپنے بڑے سرداروں (اساقفہ) اور رہنماؤں (بطارقہ) کو سجدہ کرتے پایا، تو میرے دل میں یہ خیال آیا کہ ہم بھی آپ کے ساتھ ایسا کریں (1)، کیونکہ آپ تعظیم کے زیادہ حقدار ہیں (2)۔'


تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: 'ایسا نہ کرو، کیونکہ اگر میں کسی کو حکم دیتا کہ وہ (3) کسی اور کو سجدہ کرے (4)، تو میں عورت کو حکم دیتا کہ وہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے (5)، اس کے اس پر حق کی عظمت کی وجہ سے۔'


اور ایک روایت میں ہے: 'اگر میں کسی کو غیر اللہ کا سجدہ کرنے کا حکم دیتا، تو میں عورتوں کو حکم دیتا کہ وہ اپنے شوہروں کو سجدہ کریں، اس حق کی وجہ سے جو اللہ نے انہیں ان پر دیا ہے۔' (6)


اور قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کی جان ہے (7)! عورت اپنے رب کا حق جو اس پر ہے، اس وقت تک پورا نہیں کر سکتی، جب تک وہ اپنے شوہر کا حق اس پر پورا نہ کر لے۔ یہاں تک کہ اگر وہ (شوہر) اس سے (ہمبستری کے لیے) خود کو مانگے، جب کہ وہ اونٹ کی پشت پر کجاوے (8) (9) میں سوار ہو، تب بھی وہ اسے نہ روکے (10)۔"


حوالہ جات:


1 سنن ابن ماجہ:1853

2 مسند احمد بن حنبل:19422 شیخ شعیب ارناؤوطؒ نے اس کی سند کو "حدیث جید" (اچھی) قرار دیا ہے۔

3 سنن ابن ماجہ:1853

4 مسند احمد:19422، جامع ترمذی:1159، سنن ابن ماجہ:1852

5 سنن الکبریٰ نسائی:9147، مستدرک حاکم:7325

6 سنن ابی داود:2140

7 سنن ابن ماجہ:1853

8 (لغوی تشریح) "القتب" کی وضاحت: یہ ایک چھوٹی سی سواری / زین ہوتی ہے جو اونٹ کے کوہان (سنام) کے مطابق بنائی جاتی ہے، جس پر عورت سفر میں سوار ہوتی ہے۔

9 مسند احمد بن حنبل:19422

10 سنن ابن ماجہ:1853، صحیح ابن حبان:4171

اس میں آپ ﷺ کا فرمان ہے: "لم تمنعه" (وہ اسے نہ روکے / مانع نہ بنے) یعنی شوہر کی اس طلب کو قبول کرنا لازم ہے۔


حکم:

علامہ البانی نے اسے "صحیح" قرار دیا ہے۔

(الإرواء:1998، صحیح الترغیب:1939)۔


[الجامع الصحيح للسنن والمسانيد:64451926 (ج11 / ص10)]


حاصل شدہ اسباق و نکات

1. سجدہ صرف اللہ کے لیے ہے (توحید کا محکم اصول)

نبی کریم ﷺ نے صحابہ کے اس جذبے کو فوراً ٹھکرا دیا اور واضح فرما دیا کہ کسی مخلوق کو سجدہ کرنا جائز نہیں، چاہے وہ خود نبی ہی کیوں نہ ہوں۔ یہ اسلامی عقیدۂ توحید کا سنگ بنیاد ہے اور شرکیہ رسومات سے بیزاری کا درس دیتا ہے۔


2. شوہر کا مقام اور حق (مخلوق میں سب سے اعلیٰ حق)

اگر سجدۂ تعظیم کسی انسان کے لیے جائز ہوتا تو وہ شوہر کے لیے ہوتا۔ اس سے معلوم ہوا کہ مخلوق میں شوہر کا حق بیوی پر سب سے زیادہ ہے اور اس کی اطاعت اور خدمت کو دین میں انتہائی اہمیت دی گئی ہے۔


3. بیوی کی ذمہ داری کا دائرہ کار

آپ ﷺ نے اس مبالغہ آمیز انداز (اونٹ کی پشت پر سوار ہونے کی حالت میں بھی انکار نہ کرنا) سے یہ واضح کیا کہ شوہر کا حق وقتی اور وقتی نہیں، بلکہ ہر حال میں اس کی جائز خواہشات کا استقبال کیا جائے، بشرطیکہ شرعی حد سے متجاوز نہ ہوں۔


4. شوہر کا حق اور اللہ کا حق

آپ ﷺ نے عورت کے شوہر کے حق کو اس کے رب کے حق کے ساتھ اس طرح جوڑا کہ بغیر شوہر کا حق ادا کیے رب کا حق بھی مکمل نہیں ہو سکتا۔ اس سے شوہر کے حقوق کی شدت اور اہمیت کا پتہ چلتا ہے۔


5. دیگر اقوام کی رسومات کی پیروی سے اجتناب

معاذ رضی اللہ عنہ نے شامیوں (عیسائیوں) کی رسم دیکھ کر اسے اپنانے کا خیال کیا، لیکن نبی ﷺ نے اسے سختی سے منع کر دیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کافروں کی مخصوص عبادات اور رسومات کی مشابہت اختیار کرنا جائز نہیں، چاہے نیت اچھی ہی کیوں نہ ہو۔


6. ازدواجی تعلقات کی اہمیت

شریعت نے ازدواجی تعلقات کو نہ صرف جائز قرار دیا بلکہ اسے بیوی کی بنیادی ذمہ داریوں میں شامل کیا اور اسے شوہر کا حق قرار دیا، تاکہ ازدواجی زندگی میں باہمی کشش اور حفاظت قائم رہے۔


7. صحابہ کا نبی ﷺ سے محبت کا جذبہ

معاذ رضی اللہ عنہ کا نبی ﷺ کو سجدہ کرنا اگرچہ غلط تھا، لیکن اس کے پس پردہ آپ ﷺ کے ساتھ ان کی بےپناہ عقیدت اور محبت تھی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ آپ ﷺ کی تعظیم میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے تھے، البتہ نبی ﷺ نے انہیں صحیح راستے کی طرف رہنمائی کی۔


واللہ أعلم بالصواب







حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

إِذَا صَلَّتْ الْمَرْأَةُ خَمْسَهَا , وَصَامَتْ شَهْرَهَا , وَحَفِظَتْ فَرْجَهَا , وَأَطَاعَتْ زَوْجَهَا , قِيلَ لَهَا: ادْخُلِي الْجَنَّةَ مِنْ أَيِّ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ شِئْتِ

ترجمہ:

"جب عورت اپنی پانچ (وقت کی) نمازیں پڑھے، اپنے مہینے (رمضان) کے روزے رکھے، اپنی شرمگاہ کی حفاظت کرے، اور اپنے شوہر کی اطاعت کرے، تو اس سے کہا جائے گا: جنت کے جس دروازے سے چاہو داخل ہو جاؤ۔"

[مسند الإمام أحمد بن حنبل:1661، صحیح ابن حبان:4163]

(صحیح الجامع:660، صحیح الترغیب:1931)


حاصل شدہ اسباق و نکات

1. عورت کی کامیابی کا مختصر اور واضح فارمولا

نبی کریم ﷺ نے عورت کے لیے جنت کا راستہ چار آسان شرائط میں بیان فرما دیا: نماز، روزہ، عصمت (شرمگاہ کی حفاظت)، اور شوہر کی اطاعت۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ شریعت نے عورت کو بوجھل نہیں کیا، بلکہ اس کی فطرت اور گھریلو ذمہ داریوں کے مطابق ایک سیدھا راستہ بتا دیا۔


2. شوہر کی اطاعت کو عباداتِ عظمیٰ کے ساتھ جوڑنا

اس حدیث میں شوہر کی اطاعت کو نماز، روزہ اور عصمت جیسے بنیادی ارکان کے ساتھ ذکر کیا گیا ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ شوہر کا حق محض ایک معاشرتی رسم نہیں، بلکہ ایک دینی فریضہ ہے جو جنت کے حصول کا ذریعہ ہے۔


3. "جس دروازے سے چاہو داخل ہو جاؤ" کا مفہوم (رفیع درجہ)

جنت کے آٹھ دروازے ہیں اور ہر خاص عمل (جیسے روزہ، صدقہ، جہاد) کا ایک مخصوص دروازہ ہے۔ اس عورت کو تمام دروازوں سے داخل ہونے کی اجازت دے کر اس کے اعلیٰ مقام اور جامع نیکیوں کی طرف اشارہ کیا گیا کہ اس نے تمام بنیادی فرائض کو بہترین طریقے سے ادا کیا ہے۔


4. عصمت (شرمگاہ کی حفاظت) کا مقام

اس حدیث میں "حَفِظَتْ فَرْجَهَا" (شرمگاہ کی حفاظت) کو نماز اور روزے کے ساتھ ذکر کیا گیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام صرف ظاہری عبادات کا پابند نہیں، بلکہ اخلاقی پاکیزگی اور ناموسی تحفظ کو بھی انتہائی اہمیت دیتا ہے۔ یہ عفت و حیا کو جنت کی کلید قرار دیتا ہے۔


5. مرد و عورت دونوں کے لیے راہِ نجات

اگرچہ یہ حدیث عورت کے لیے ہے، لیکن اس کا ایک اصولی پیغام یہ بھی ہے کہ اللہ نے ہر ایک کو اس کی استطاعت اور منصب کے مطابق فرائض دیے ہیں۔ مرد کو محنت و قیامت کا ذمہ دار بنایا گیا اور عورت کو گھریلو نظام اور شوہر کی اطاعت کے ذریعے جنت کا راستہ دکھایا گیا۔


6. نیکیوں کا باہمی توازن

یہاں چار چیزوں کا ذکر ہے: دو کا تعلق براہِ راست اللہ سے ہے (نماز، روزہ)، ایک کا تعلق خود اپنی اصلاح سے ہے (عصمت)، اور ایک کا تعلق شوہر کے ساتھ معاشرتی تعلق سے ہے (اطاعت)۔ اس جامعیت سے معلوم ہوا کہ کامیابی کے لیے روحانی، اخلاقی اور معاشرتی تمام پہلوؤں کو بیک وقت سنوارنا ضروری ہے۔


7. بیوی کو خوشخبری اور ترغیب

اس حدیث میں کسی وعید یا ڈر کا ذکر نہیں، بلکہ براہِ راست جنت کی بشارت ہے۔ اس لیے عورت کو چاہیے کہ وہ ان آسان شرائط کو اپنا کر ہمیشہ پرامید رہے اور اپنے شوہر کے ساتھ حسنِ سلوک اور اطاعت کو اپنی عبادت کا حصہ سمجھے۔


واللہ أعلم بالصواب






شوہر کے حقوق کی شدت اور نکاح کے لیے لڑکی کی اجازت کی شرط

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رضي الله عنه قَالَ: (جَاءَ رَجُلٌ بِابْنَةٍ لَهُ إلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ: إنَّ ابْنَتِي هَذِهِ أَبَتْ أَنْ تَتَزَوَّجَ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم: " أَطِيعِي أَبَاكِ " , فَقَالَتْ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ , لَا أَتَزَوَّجُ حَتَّى تُخْبِرَنِي مَا حَقُّ الزَّوْجِ عَلَى زَوْجَتِهِ؟ , فَقَالَ: " حَقُّ الزَّوْجِ عَلَى زَوْجَتِهِ أَنْ لَوْ) (١) (كَانَ بِهِ قُرْحَةٌ فَلَحَسَتْهَا , أَوْ ابْتَدَرَ مَنْخِرَاهُ صَدِيدًا أَوْ دَمًا , ثُمَّ لَحَسَتْهُ , مَا أَدَّتْ حَقَّهُ " , فَقَالَتْ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لَا أَتَزَوَّجُ أَبَدًا , فَقَالَ: " لَا تُنْكِحُوهُنَّ إِلَّا بِإِذْنِهِنَّ ") (٢)


ترجمہ:


حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:

"ایک شخص اپنی بیٹی کو لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے عرض کیا:

'میری یہ بیٹی شادی کرنے سے انکار کر رہی ہے (یعنی اسے نکاح کے لیے راضی نہیں کر سکا)۔'

تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس (بیٹی) سے فرمایا: 'اپنے باپ کی اطاعت کرو (یعنی شادی کے لیے راضی ہو جاؤ)۔'

اس (بیٹی) نے کہا: 'قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا، میں شادی نہیں کروں گی جب تک کہ آپ مجھے یہ نہ بتا دیں کہ شوہر کا حق اپنی بیوی پر کیا ہے؟'

تو آپ ﷺ نے فرمایا:

'شوہر کا حق اپنی بیوی پر یہ ہے کہ اگر (1) اس کے جسم پر کوئی زخم (پیپ والا) ہو اور وہ (بیوی) اسے چاٹ لے، یا اس کے نتھنوں سے پیپ یا خون بہہ رہا ہو اور وہ اسے چاٹ لے، تب بھی وہ اس کا حق ادا نہیں کر سکتی۔'

(یہ سن کر) اس (بیٹی) نے کہا: 'قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا، اب میں کبھی شادی نہیں کروں گی (کیونکہ یہ حق مجھ سے ادا نہیں ہو سکتا)۔'

تو آپ ﷺ نے (لوگوں سے) فرمایا:

'ان (لڑکیوں) سے ان کی اجازت کے بغیر نکاح نہ کرو۔' (2)"


[مصنف ابن ابی شیبہ:17122، سنن الکبریٰ نسائی:5386، صحیح ابن حبان:4164، مستدرک حاکم:2767]


حوالہ جات:

1 صحیح ابن حبان:4164، مصنف ابن ابی شیبہ:17122

2 مصنف ابن ابی شیبہ:17122، سنن الکبریٰ نسائی:5386، صحیح ابن حبان:4164، مستدرک حاکم:2767

(صحیح الجامع: 3148، صحیح الترغیب: 1934)


حاصل شدہ اسباق و نکات

1. شوہر کے حقوق کی عظمت کا ایک اور بیان

اس حدیث میں بھی پچھلی حدیث کی طرح مبالغہ آمیز تشبیہ (زخم اور پیپ کو چاٹنے) کے ذریعے شوہر کے حق کو ناقابلِ ادائیگی قرار دیا گیا۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ بیوی اس حق کو ہلکا نہ سمجھے اور اس کی ادائیگی میں پوری کوشش کرے، حالانکہ عملاً یہ کوئی شرعی حکم نہیں بلکہ حق کی شدت کو اجاگر کرنے کا اسلوب ہے۔


2. بیوی کا نکاح سے انکار اور وجہ دریافت کرنا

اس لڑکی نے شادی سے اس لیے انکار کیا کہ وہ شوہر کے حقوق کی سنگینی کو سمجھتی تھی اور اس پر عمل کرنے سے ڈرتی تھی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ عورت کو اپنے مستقبل کے بارے میں سوچنے کا حق ہے اور وہ بلاوجہ انکار نہیں کر رہی تھی، بلکہ ایک اہم شرعی مسئلہ جاننا چاہتی تھی۔


3. علم حاصل کرنے کا جذبہ اور جرأت

اس بیٹی نے نبی ﷺ کے سامنے بلا جھجک سوال کیا اور اپنی الجھن کا اظہار کیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دینی معاملات میں سوال کرنا اور علم حاصل کرنا باعثِ اجر ہے، اور عورت کو بھی اپنے شرعی حقوق و فرائض جاننے کا مکمل اختیار ہے۔


4. نکاح میں لڑکی کی رضایت کا اصول (انتہائی اہم نکتہ)

حدیث کا آخری جملہ: "لا تنکحوهن إلا بإذنهن" (ان (لڑکیوں) سے ان کی اجازت کے بغیر نکاح نہ کرو) انتہائی واضح اور فیصلہ کن ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ:

باپ یا ولی بیٹی کی صریح اجازت کے بغیر اس کا نکاح نہیں کر سکتا۔

اگر لڑکی شادی سے انکار کرتی ہے تو اسے جبراً نکاح نہیں دیا جا سکتا۔

یہ اسلام کا وہ عظیم اصول ہے جس نے عورت کو جبر و استحصال سے آزاد کیا اور اسے اپنی زندگی کا فیصلہ کرنے کا حق دیا۔


5. باپ کی محبت اور نبی ﷺ کی رہنمائی کا توازن

باپ نے اپنی بیٹی کو نبی ﷺ کے پاس لایا، اس کا مطلب یہ ہے کہ باپ کو بیٹی کی بہتری کا خیال تھا، لیکن جب بیٹی نے اپنی رائے کا اظہار کیا تو نبی ﷺ نے فریقین کو سن کر واضح حکم دیا کہ اجازت ضروری ہے۔ اس سے والدین اور اولاد دونوں کو انصاف کا درس ملتا ہے۔


6. دین میں شدت اور رحمت کا حسین امتزاج

پہلے حصے میں شوہر کے حقوق کی انتہائی شدید تشریح ہے، جسے سن کر لڑکی گھبرا گئی، لیکن دوسرے حصے میں نبی ﷺ نے فوراً یہ واضح کر دیا کہ شوہر کا حق خواہ کتنا ہی بڑا ہو، لیکن نکاح کا آغاز بیوی کی رضایت کے بغیر نہیں ہو سکتا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اسلام نے شوہر کو تو اختیار دیا، لیکن بیوی کو بھی اس کے بنیادی حق (انتخابِ زندگی) سے محروم نہیں کیا۔


7. نکاح سے پہلے ذمہ داریوں کا شعور

اس لڑکی نے شوہر کا حق سن کر کہا کہ میں اسے نبھا نہیں سکوں گی، اس لیے نکاح نہیں کروں گی۔ یہ اس کی ذمہ داری شناسی اور دیانت کو ظاہر کرتا ہے۔ تاہم، فقہاء کا اصول ہے کہ شوہر کا حق ادا کرنے کی نیت اور کوشش کافی ہے، اور اللہ تعالیٰ مجبوریوں کا خیال رکھتا ہے۔ اس لیے صرف خوف کی وجہ سے نکاح ترک کرنا مطلوب نہیں، البتہ شعور رکھنا ضروری ہے۔


واللہ أعلم بالصواب








عنوان: شوہر کے حقوق میں سے: اطاعت اور حسنِ عِشرت، اور شوہر کی اجازت کے بغیر نفلی روزہ نہ رکھنا


حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:

"ایک عورت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئی، جب کہ ہم آپ کے پاس بیٹھے تھے۔ اس نے عرض کیا:

'یا رسول اللہ! میرے شوہر صفوان بن المعطل رضی اللہ عنہ جب میں نماز پڑھتی ہوں تو مجھے مارتے ہیں، جب میں روزہ رکھتی ہوں تو مجھے روزہ افطار کروا دیتے ہیں (یعنی روزہ توڑنے پر مجبور کرتے ہیں)، اور خود فجر کی نماز سورج نکلنے تک نہیں پڑھتے۔'

راوی کہتے ہیں: اور (اس وقت) صفوان رضی اللہ عنہ بھی وہاں (نبی ﷺ کے پاس) موجود تھے۔

چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صفوان سے اس کے بارے میں پوچھا جو عورت نے کہا تھا۔

تو صفوان رضی اللہ عنہ نے کہا:

'یا رسول اللہ! اس کے قول (یہ کہ وہ مجھے مارتے ہیں جب نماز پڑھتی ہوں) کے بارے میں، وہ (نماز میں) دو سورتیں پڑھتی ہے، جس سے وہ مجھے (میرے کام اور دیگر امور سے) معطل کر دیتی ہے (1)، اور میں نے اسے ان (دو سورتوں) سے منع کیا تھا (2)۔'

(یہ سن کر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: 'اگر ایک سورت (پڑھ لے) تو لوگوں کے لیے کافی ہو جاتی۔'

(پھر صفوان نے کہا:) 'اور اس کے قول (یہ کہ وہ مجھے روزہ افطار کروا دیتے ہیں) کے بارے میں، تو وہ (نفلی) روزہ رکھنے نکل جاتی ہے، اور میں ایک جوان آدمی ہوں، تو میں (اس کے روزے کی حالت میں) صبر نہیں کر پاتا (یعنی مجھے اپنی جنسی ضرورت پوری کرنی ہوتی ہے)۔'

تو اس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (یہ اصول) فرمایا:

"کوئی عورت اپنے شوہر کی اجازت کے بغیر (نفلی) روزہ نہ رکھے۔"

(پھر صفوان نے کہا:) 'اور اس کے قول (یہ کہ میں سورج نکلنے تک فجر نہیں پڑھتا) کے بارے میں، تو ہم ایک ایسا گھرانہ ہیں جس کی یہ عادت مشہور ہے، ہم (سوتے ہیں اور) مشکل سے سورج نکلنے تک بیدار ہو پاتے ہیں۔'

تو آپ ﷺ نے فرمایا: "جب تم بیدار ہو جاؤ تو (فجر کی قضا) پڑھ لو۔" (3)"


حوالہ جات:

1 الصَّحِيحَة تحت حديث: 395

2 حاکم:1594، أحمد:11776، الصَّحِيحَة تحت حديث: 395

3 سنن أبوداود:2459، مسند أحمد:11776، صحیح ابن حبان:1488، الصحیحۃ:2172


حاصل شدہ اسباق و نکات

1. نفلی روزہ شوہر کی اجازت کے بغیر جائز نہیں (اگر نقصان ہو)

اس حدیث کا مرکزی فیصلہ یہ ہے کہ اگر شوہر کو اس سے تکلیف ہو (خاص طور پر جوانی کی جنسی ضرورت یا گھریلو مصروفیات کی وجہ سے) تو بیوی کو نفلی روزہ رکھنے کے لیے شوہر کی اجازت لینا ضروری ہے۔ تاہم، فرض روزہ (رمضان، قضا، کفارہ) میں شوہر کو کوئی اختیار نہیں۔


2. عبادات میں اعتدال پسندی (نماز کی قرأت میں اختصار)

نبی ﷺ نے صفوان رضی اللہ عنہ کے اس اعتراض کو قبول کیا کہ بیوی نماز میں بہت لمبی سورتیں پڑھ کر گھریلو نظام متاثر کرتی ہے، اور آپ ﷺ نے فرمایا: "اگر ایک سورت پڑھ لے تو لوگوں کے لیے کافی ہے" (یعنی مقتدیوں اور گھریلو فرائض کی رعایت کرتے ہوئے اختصار اختیار کرنا چاہیے)۔


3. شوہر کو بیوی کو تعزیر (مارنا / سزا دینا) کا حق (محدود دائرے میں)

صفوان رضی اللہ عنہ نے بیوی کو اس کی نافرمانی (طویل قرأت اور بغیر اجازت روزہ) پر مارا، اور نبی ﷺ نے اس پر کوئی سخت ممانعت نہیں فرمائی، بلکہ اصل مسئلہ (نماز اور روزہ) کو حل کیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ شوہر بیوی کو شرعی حدود میں (بغیر زخم پہنچائے) سزا دے سکتا ہے، جیسا کہ قرآن میں اشارہ ہے، بشرطیکہ یہ تعزیر (تربیت) کے لیے ہو، تشدد کے لیے نہیں۔


4. فجر کی نماز سونے کی وجہ سے چھوٹ جائے تو جب اٹھیں پڑھ لیں (قضا)

صفوان رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ ان کے گھرانے کی عادت ہے کہ وہ سورج نکلنے تک سوتے ہیں، تو نبی ﷺ نے انہیں گناہ گار نہیں ٹھہرایا بلکہ فرمایا: "جب بیدار ہو جاؤ تو پڑھ لو"۔ اس سے معلوم ہوا کہ نیند کی وجہ سے نماز چھوٹ جائے تو اس پر گناہ نہیں (بشرطیکہ قصداً نہ کیا ہو)، اور قضا پڑھنا ضروری ہے۔


5. شوہر کو اپنی حلال خواہشات کا حق ہے

صفوان رضی اللہ عنہ نے صراحت کے ساتھ کہا: "میں ایک جوان آدمی ہوں، صبر نہیں کر پاتا"، اور نبی ﷺ نے اسے قبول کیا اور بیوی کو بغیر اجازت روزہ رکھنے سے روک دیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ شوہر کی جسمانی ضروریات کو بیوی کے نفلی عبادات پر ترجیح حاصل ہے۔


6. نبی ﷺ کا انصاف پسندانہ رویہ (تطبیقِ حکم)

نبی ﷺ نے بیوی کی ایک طرفہ شکایت سنی، لیکن صفوان رضی اللہ عنہ (شوہر) کو بلا کر ان کا موقف بھی سنا۔ پھر ہر ایک معاملے کا الگ حل دیا۔ یہ عدالتِ نبوی کا نمونہ ہے کہ کسی ایک کا کہنا سن کر فیصلہ نہیں کیا جاتا، بلکہ دونوں فریقین کی بات سنی جاتی ہے۔


7. عورت کا برحق شکایت اور شوہر کا احتساب کا طریقہ

بیوی نے نبی ﷺ کے سامنے اپنی شکایت پیش کی، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ عورت کو اپنے شوہر کے ظلم یا زیادتی کے خلاف نبی یا حاکم کے پاس جانے کا حق ہے۔ البتہ صفوان رضی اللہ عنہ کی باتوں سے ثابت ہوا کہ ان کا عمل جائز تھا کیونکہ وہ بیوی کی نافرمانی کی وجہ سے تھا۔


8. سونے کی عادت کو بہانہ بنا کر نماز ترک کرنا درست نہیں

اگرچہ صفوان رضی اللہ عنہ نے عذرِ نیند پیش کیا اور نبی ﷺ نے انہیں قضا کا حکم دیا، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ نماز کو ہمیشہ سونے کی وجہ سے چھوڑا جائے۔ بلکہ اگر قصداً سوتے رہیں تو گناہ ہے، اور صحابہ نے بیداری کا اہتمام کیا کرتے تھے، البتہ اگر قہری نیند آ جائے تو معذور ہیں۔


واللہ أعلم بالصواب







عنوان: شوہر کے حقوق میں سے: نفلی روزہ اور گھر میں اجازت دینے کا اختیار


عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم: (" لَا يَحِلُّ لِلْمَرْأَةِ أَنْ تَصُومَ) (١) (يَوْمًا وَاحِدًا) (٢) (مِنْ غَيْرِ شَهْرِ رَمَضَانَ) (٣) (وَزَوْجُهَا حَاضِرٌ إِلَّا بِإِذْنِهِ) (٤) (وَلَا تَأذَنْ فِي بَيْتِهِ وَهُوَ شَاهِدٌ إِلَّا بِإِذْنِهِ ") (٥)

ترجمہ:

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

"کسی عورت کے لیے (نفلی) روزہ رکھنا جائز نہیں (1) (خواہ) ایک دن بھی (2)، رمضان کے مہینے کے علاوہ (3)، جب کہ اس کا شوہر موجود ہو، مگر اس کی اجازت سے (4)۔

اور نہ وہ اس کے گھر میں (کسی کو) اجازت دے جب کہ وہ (شوہر) موجود ہو، مگر اس کی اجازت سے (5)۔"


حوالہ جات:

1. صحیح البخاری:4899

2. مسند أحمد:9732، جامع الترمذی:782

3. جامع الترمذی:782، سنن أبی داود:2458، سنن ابن ماجہ:1761

4. مسند أحمد:9987، صحیح البخاری:4896، صحیح مسلم:1026، جامع الترمذی:782

5. صحیح مسلم:1026، صحیح البخاری:4899، سنن أبی داود:2458


[الجامع الصحيح للسنن والمسانيد:964451926 (ج11 / ص14)]


حاصل شدہ اسباق و نکات

1. شوہر کی اجازت کے بغیر نفلی روزہ جائز نہیں (جب شوہر موجود ہو)

یہ حدیث اس اصول کی واضح دلیل ہے کہ بیوی کو نفلی (تطوعی) روزہ رکھنے کے لیے شوہر کی اجازت ضروری ہے، خاص طور پر جب شوہر گھر میں موجود ہو اور اسے اس سے تکلیف ہو (جیسے جنسی ضرورت یا گھریلو کاموں میں دشواری)۔ تاہم، فرض روزے (رمضان، قضا، کفارہ، نذر) میں شوہر کی اجازت شرط نہیں۔


2. "ایک دن بھی" کا ذکر شدتِ ممانعت کے لیے ہے

لفظ "یومًا واحدًا" (ایک دن بھی) اس بات کو واضح کرتا ہے کہ معاملہ صرف کئی دنوں کے روزوں کا نہیں، بلکہ ایک دن کا نفلی روزہ بھی شوہر کی اجازت کے بغیر جائز نہیں۔ اس سے شوہر کے حق کی سنگینی اور اس کی ترجیح کا پتہ چلتا ہے۔


3. گھر میں کسی کو اجازت دینا بھی شوہر کی اجازت سے مشروط ہے

حدیث کا دوسرا حصہ انتہائی اہم ہے: بیوی شوہر کی موجودگی میں اس کی اجازت کے بغیر کسی (رشتہ دار، پڑوسی، یا کسی مہمان) کو گھر میں داخل نہیں کر سکتی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ:

گھر شوہر کی ذمہ داری اور ملکیت ہے (اگرچہ بیوی کا بھی اس میں حق ہے)۔

شوہر کو یہ حق ہے کہ وہ اپنے گھر میں کس کو آنے دینا ہے اور کس کو نہیں، اس کا فیصلہ کرے۔

اس سے گھریلو نظام میں باہمی تعاون اور شوہر کے اختیار کا اہتمام ہوتا ہے۔


4. سفر کی صورت میں استثنا (شوہر کی غیرموجودگی)

فقہاء نے اس حدیث سے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ اگر شوہر سفر میں ہو (غائب) تو بیوی بغیر اجازت نفلی روزہ رکھ سکتی ہے، کیونکہ حدیث میں قید "وَزَوْجُهَا حَاضِرٌ" (جب شوہر موجود ہو) لگائی گئی ہے۔ اسی طرح اگر شوہر سفر میں ہو تو بیوی اپنی معقولیت کے مطابق مہمانوں کو گھر میں بلا سکتی ہے، بشرطیکہ شوہر کا کوئی واضح منع نہ ہو۔


5. شوہر کا حق نفلی عبادات پر مقدم ہے

اسلام میں شوہر کا حق بیوی پر اتنا مضبوط ہے کہ اس کی ایک معمولی خواہش (جیسے جماع یا گھریلو سکون) کو بیوی کی نفلی عبادت (جیسے نفلی روزہ) پر ترجیح دی گئی ہے۔ یہ ازدواجی تعلقات کی مضبوطی اور باہمی رضایت کو فروغ دیتا ہے۔


6. عورت کا گھر میں کردار اور حدود

اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ بیوی کو گھر میں مکمل آزادی نہیں کہ وہ جسے چاہے بلا لے، بلکہ اس کی نگرانی اور اجازت کا دارومدار شوہر کی مرضی پر ہے۔ یہ اسلامی نظامِ خانہ داری کا ایک اہم پہلو ہے، جو افراتفری سے بچاتا ہے اور مشترکہ فیصلہ سازی کو فروغ دیتا ہے۔


7. دو الگ الگ احکام میں ایک مشترکہ فلسفہ (نظامِ زندگی)

دونوں احکام (روزہ اور گھر میں اجازت) کا ایک مشترکہ نکتہ ہے: شوہر کی رضایت کو بیوی کی زندگی میں مرکزی حیثیت حاصل ہے، اور اس کی بغیر کوئی ایسا کام نہیں کیا جا سکتا جو شوہر کے مفاد یا اس کے گھریلو اختیار کو متاثر کرے۔ البتہ، یہ احکام جبر یا ظلم کے لیے نہیں، بلکہ باہمی احترام اور نظامِ زندگی کو منظم کرنے کے لیے ہیں۔


8. اجازت کا تصور: اطاعت اور تعاون کا پل

اس حدیث میں اجازت کا ذکر صرف ایک قانونی پابندی نہیں، بلکہ ایک اخلاقی اصول ہے کہ میاں بیوی ایک دوسرے کے ساتھ مشاورت اور تعاون سے زندگی گزاریں، اور کوئی بھی اہم فیصلہ (جیسے روزہ یا مہمانی) دوسرے کی رضایت کے بغیر نہ کریں۔


واللہ أعلم بالصواب







عنوان: شوہر کے حقوق میں سے: شوہر کی اجازت کے بغیر گھر سے نہ نکلنا


عَنْ عَائِشَةَ رضي الله عنها (حِينَ قَالَ لَهَا أَهْلُ الْإِفْكِ (١) مَا قَالُوا , فَبَرَّأَهَا اللهُ مِنْهُ، قَالَتْ:) (٢) (" دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم - فَسَلَّمَ , فَقَالَ: كَيْفَ تِيكُمْ؟ " , فَقُلْتُ: ائْذَنْ لِي إِلَى أَبَوَيَّ - قَالَتْ: وَأَنَا حِينَئِذٍ أُرِيدُ أَنْ أَسْتَيْقِنَ الْخَبَرَ مِنْ قِبَلِهِمَا - " فَأَذِنَ لِي رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم -) (٣) (وَأَرْسَلَ مَعَيَ الْغُلَامَ ") (٤)


ترجمہ:

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے (اس وقت جب اہلِ افک (1) (بہتان لگانے والوں) نے ان کے بارے میں جو کچھ کہا، اور اللہ تعالیٰ نے انہیں اس (بہتان) سے بری کر دیا، تو انہوں نے (یہ واقعہ بیان کیا) (2) :

(عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں:)

"مجھ پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، سلام کیا، اور پوچھا: 'تم کیسی ہو؟'

تو میں نے عرض کیا: 'مجھے میرے ماں باپ کے پاس جانے کی اجازت دیں۔'

(عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میرا اس وقت یہ ارادہ تھا کہ میں ان (والدین) سے (اس افواہ کی) حقیقت معلوم کروں۔)

**چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اجازت دے دی (3)، اور میرے ساتھ ایک غلام (لڑکا) بھی بھیجا (4)۔"


حواشی وحوالہ جات:

1 (لغوی تشریح) "الإفک" کا معنی ہے: جھوٹ، بہتان، اور افتراء۔ یہاں اس سے مراد وہ بدنام زمانہ واقعہ ہے جب منافقین نے ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر تہمت لگائی تھی، جس کے بارے میں قرآن کی سورۃ النور (آیات 11 تا 20) نازل ہوئی۔

2 صحیح البخاری:2518

3 صحیح البخاری:2518

4 صحیح البخاری:6936

[الجامع الصحيح للسنن والمسانيد:964451926 (ج11 / ص15)]



حاصل شدہ اسباق و نکات

1. بیوی کو شوہر کی اجازت کے بغیر گھر سے نکلنا جائز نہیں (بنیادی اصول)

اس واقعے سے واضح ہوتا ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا، جو خود نبی ﷺ کی زوجہ محترمہ تھیں، نے اپنے والدین کے گھر جانے کے لیے بھی نبی ﷺ سے اجازت طلب کی۔ اس سے معلوم ہوا کہ بیوی کے لیے ضروری ہے کہ وہ شوہر کی اجازت کے بغیر گھر سے باہر نہ نکلے، چاہے وہ اپنے ماں باپ کے پاس ہی کیوں نہ جا رہی ہو (سوائے کسی شدید شرعی عذر یا مجبوری کے جس کا فیصلہ علما کرتے ہیں)۔


2. نبی ﷺ کا بیوی کی جائز درخواست کو فوراً قبول کرنا (شوہر کی ذمہ داری)

آپ ﷺ نے عائشہ رضی اللہ عنہا کو فوراً اجازت دے دی، حالانکہ آپ کو معلوم تھا کہ وہ والدین سے اس بہتان کی حقیقت جاننا چاہتی ہیں۔ اس سے شوہر کو سبق ملتا ہے کہ وہ اپنی بیوی کو اس کے جائز کاموں (خاص طور پر والدین کی زیارت اور ضروری معاملات) سے نہ روکے، بلکہ معقولیت اور نرمی کے ساتھ اجازت دے۔


3. شوہر کا اپنی بیوی کے ساتھ محافظ بھیجنا (حفاظت کا خیال)

آپ ﷺ نے عائشہ رضی اللہ عنہا کو تنہا نہیں بھیجا، بلکہ ان کے ساتھ ایک غلام (لڑکا) بھیجا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ:

شوہر کو اپنی بیوی کی حفاظت اور عزت کا خیال رکھنا چاہیے۔

عورت کو گھر سے نکلتے وقت محرم یا کسی قابلِ اعتماد شخص کے ساتھ نکلنا چاہیے تاکہ راستے میں کسی قسم کی پریشانی یا فتنے کا سامنا نہ کرنا پڑے۔


4. کسی اہم معاملے میں تحقیق اور تصدیق کرنا جائز ہے

عائشہ رضی اللہ عنہا نے والدین سے جا کر خود اس بہتان کی حقیقت معلوم کرنا چاہی تاکہ اس بارے میں یقین ہو جائے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ کسی اہم اور حساس معاملے میں صرف سنی سنائی باتوں پر بھروسہ نہ کیا جائے، بلکہ براہِ راست ذرائع سے تصدیق کرنا جائز اور مناسب ہے۔


5. شوہر اور بیوی کے درمیان باہمی مشاورت اور اعتماد

عائشہ رضی اللہ عنہا نے اپنے ارادے کا اظہار نبی ﷺ کے سامنے کیا اور اجازت لی، جبکہ نبی ﷺ نے انہیں اجازت دے کر ان کا اعتماد بڑھایا اور انہیں اکیلا نہ چھوڑا۔ اس سے ازدواجی تعلقات میں شفافیت، باہمی مشورے اور اعتماد کی اہمیت معلوم ہوتی ہے۔


6. اجازت کا تصور جبر نہیں، بلکہ نظام اور تعاون ہے

اس حدیث سے یہ نہیں نکلتا کہ شوہر بیوی کو قید کر سکتا ہے، بلکہ یہ ایک ایسا نظام ہے جو گھریلو نظم و ضبط اور باہمی تعاون کو یقینی بناتا ہے۔ جیسا کہ یہاں نبی ﷺ نے سختی کے بغیر نرمی سے اجازت دی، اسی طرح شوہر کو بھی بیوی کی جائز ضروریات کو پورا کرنا چاہیے۔


7. واقعۂ افک سے سبق: اللہ کی طرف سے برائت اور امتحان میں صبر

اس واقعے سے عائشہ رضی اللہ عنہا کی عفت اور پاکیزگی کا اعلان ہوا، اور صبر و توکل کا درس ملا کہ مصیبت کے وقت اللہ تعالیٰ ہی حقیقی نجات دہندہ ہے۔ اس حدیث کا سیاق و سباق بھی اسی صبر اور اللہ کی مدد کی یاد دہانی کراتا ہے۔


واللہ أعلم بالصواب






عنوان: شوہر کے حقوق میں سے: شوہر کی اجازت کے بغیر اس کے مال سے صدقہ نہ کرنا

عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ رضي الله عنه قَالَ: سَمِعْتَ رَسُولَ اللهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ فِي خُطْبَتِهِ عَامَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ: " لَا تُنْفِقُ امْرَأَةٌ شَيْئًا مِنْ بَيْتِ زَوْجِهَا إِلَّا بِإِذْنِ زَوْجِهَا " , فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللهِ وَلَا الطَّعَامُ؟ , قَالَ: " ذَلِكَ أَفْضَلُ أَمْوَالِنَا ".

ترجمہ:

حضرت ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ:

"میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حجۃ الوداع (وداعی حج) کے سال اپنے خطبہ میں فرماتے سنا:

'کوئی عورت اپنے شوہر کے گھر (اور مال) میں سے کوئی چیز (کسی کو) خرچ نہ کرے، مگر اپنے شوہر کی اجازت سے۔'

تو (صحابہ کرام نے) عرض کیا: 'یا رسول اللہ! کیا کھانا بھی (خرچ نہیں کر سکتی)؟'

تو آپ ﷺ نے فرمایا: 'وہ (کھانا) تو ہمارے اموال میں سب سے بہتر (اور قیمتی) ہے۔' (1)"


[جامع الترمذی:2120، سنن ابی داود:3565، سنن ابن ماجہ:2295، مسند امام احمد:22348]

(صحیح الجامع:1789، صحیح الترغیب:943)

[الجامع الصحيح للسنن والمسانيد:964451926 (ج11 / ص17)]



حاصل شدہ اسباق و نکات

1. شوہر کا مال اس کی ذاتی ملکیت ہے، بیوی صرف نگران ہے

اس حدیث کا مرکزی اصول یہ ہے کہ شوہر کا مال اور گھر کا سامان بیوی کی ملکیت نہیں، بلکہ وہ صرف اس کی نگران اور محافظ ہے۔ لہٰذا، وہ اس میں سے کوئی بھی چیز (خواہ معمولی ہو) کسی کو صدقہ، تحفہ، یا کسی اور عنوان سے نہیں دے سکتی جب تک کہ شوہر کی صریح اجازت نہ ہو۔


2. کھانے کا خاص ذکر اور اس کی اہمیت (انتہائی اہم نکتہ)

صحابہ کرام نے پوچھا: "کیا کھانا بھی (خرچ نہیں کر سکتی)؟" ظاہر ہے کہ کھانا بظاہر معمولی اور فانی چیز ہے، لیکن نبی ﷺ نے فرمایا: "وہ ہمارے اموال میں سب سے بہترین ہے۔"

اس کا مطلب یہ ہے کہ:

کھانا گھر کی بنیادی ضرورت اور عزت کی علامت ہے۔

اگر بیوی شوہر کی اجازت کے بغیر کسی کو کھانا بھی دے دے تو یہ ناجائز ہے، اس لیے کہ اس کا بھی مالک شوہر ہی ہے۔

اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ "صدقہ" صرف مال و زر تک محدود نہیں، بلکہ کھانے پینے کی اشیاء بھی اس حکم میں شامل ہیں۔


3. حجۃ الوداع کے خطبے کا پس منظر اور اہمیت

یہ حکم نبی ﷺ نے حجۃ الوداع (۱۰ ہجری) کے عظیم خطبے میں دیا، جو اسلام کے آخری اور جامع ترین خطبات میں سے ہے۔ اس میں آپ ﷺ نے دین کے مکمل احکام پیش کیے۔ اس سیاق و سباق میں اس حکم کا ذکر اس بات کی دلیل ہے کہ شوہر کے مالی حقوق کا تحفظ اسلام کا ایک بنیادی اور ناقابلِ نظرانداز اصول ہے۔


4. بیوی کا صدقہ کرنے کا شرعی طریقہ

اس حدیث سے یہ نہیں نکلتا کہ بیوی کسی کو کچھ دے ہی نہیں سکتی۔ بلکہ صحیح طریقہ یہ ہے کہ:

وہ شوہر سے اجازت لے کر صدقہ کرے۔ (اگر شوہر اجازت دے تو جائز ہے، جیسا کہ بخاری و مسلم کی دیگر روایات میں آیا ہے کہ اگر شوہر کی اجازت سے بیوی صدقہ کرے تو اسے اجر ملتا ہے)۔

اگر شوہر کا کوئی خاص منع نہ ہو، اور معلوم ہو کہ وہ اس پر راضی ہوگا، تو فقہاء نے بغیر صریح اجازت کے بھی معمولی چیزیں (مثلاً پڑوسی کو تھوڑا کھانا) دینے کی گنجائش بیان کی ہے، بشرطیکہ اس سے شوہر کو نقصان نہ ہو، لیکن احتیاط اجازت لینا ہے۔


5. شوہر کا مال اور گھریلو نظم و ضبط کا توازن

اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام نے گھر کے مالی معاملات کا اختیار شوہر کو دیا ہے تاکہ نظامِ خانہ داری میں افراتفری نہ ہو۔ اگر بیوی کو بغیر روک ٹوک ہر چیز خرچ کرنے کی اجازت ہوتی تو گھر کا مالی توازن بگڑ سکتا تھا۔ یہ حکم دراصل گھر کی معاشی حفاظت کے لیے ہے۔


6. شوہر کو بھی ہدایت: سخاوت اور تنگ نظری سے بچنا

اگرچہ اس حدیث میں بیوی کو روکا گیا ہے، لیکن دوسری جگہ شوہروں کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ اپنی بیویوں کو جائز خرچوں میں سختی نہ کریں اور نرمی کا مظاہرہ کریں۔ نبی ﷺ خود اہلِ خانہ پر سب سے زیادہ خرچ کرنے والے تھے۔ اس لیے شوہر کو چاہیے کہ وہ بیوی کی جائز ضروریات اور صدقہ خیرات کی معقول درخواستوں کو رد نہ کرے۔


7. بیوی کا شوہر کی اجازت کے بغیر مال خرچ کرنا نافرمانی اور خیانت ہے

جس طرح شوہر کا اپنی بیوی کے مال پر کوئی اختیار نہیں (اسلام میں عورت کا مال اس کی ذاتی ملکیت ہے)، اسی طرح شوہر کا مال بھی بیوی کے لیے اس کی اجازت کے بغیر حلال نہیں۔ اس حدیث میں لفظ "لا تُنْفِقُ" (خرچ نہ کرے) اور "إلا بإذن زوجها" (مگر شوہر کی اجازت سے) اس معاملے کو ایک سنگین شرعی پابندی قرار دیتا ہے۔


واللہ أعلم بالصواب






عنوان: شوہر کے حقوق کا ایک جامع مجموعہ (روزہ، گھر میں اجازت، اور مال خرچ کرنا)


عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم: (" لَا يَحِلُّ لِلْمَرْأَةِ أَنْ تَصُومَ) (١) (يَوْمًا وَاحِدًا) (٢) (مِنْ غَيْرِ شَهْرِ رَمَضَانَ) (٣) (وَزَوْجُهَا حَاضِرٌ إِلَّا بِإِذْنِهِ) (٤) (وَلَا تَأذَنْ فِي بَيْتِهِ وَهُوَ شَاهِدٌ إِلَّا بِإِذْنِهِ) (٥) (وَمَا أَنْفَقَتْ مِنْ نَفَقَةٍ) (٦) (مِنْ كَسْبِهِ مِنْ غَيْرِ أَمْرِهِ فَإِنَّ نِصْفَ أَجْرِهِ لَهُ ") (٧)

ترجمہ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

"کسی عورت کے لیے (نفلی) روزہ رکھنا جائز نہیں (1) (خواہ) ایک دن بھی (2)، رمضان کے مہینے کے علاوہ (3)، جب کہ اس کا شوہر موجود ہو، مگر اس کی اجازت سے (4)۔

اور نہ وہ اس کے گھر میں (کسی کو) اجازت دے جب کہ وہ (شوہر) موجود ہو، مگر اس کی اجازت سے (5)۔

اور جو کچھ وہ (بیوی) اس (شوہر) کی کمائی میں سے خرچ کرے (6)، اس (شوہر) کے حکم (اجازت) کے بغیر، تو اس خرچ کا آدھا اجر اس (شوہر) کو ملے گا (7)۔"


حوالہ جات :

1 صحیح البخاری:4899

2 مسند أحمد:9732، جامع الترمذی:782

3 جامع الترمذی:782، سنن أبی داود:2458، سنن ابن ماجہ:1761

4 مسند أحمد:9987، صحیح البخاری:4896، صحیح مسلم:1026، جامع الترمذی:782

5 صحیح مسلم:1026، صحیح البخاری:4899، سنن أبی داود:2458

6 صحیح البخاری:4899

7 صحیح مسلم:1026، صحیح البخاری:4899، مسند أحمد:8173

[الجامع الصحيح للسنن والمسانيد:964451926 (ج11 / ص18)]


حاصل شدہ اسباق و نکات

1. تین اہم حقوق کا ایک ہی حدیث میں اجتماع (جامعیت)

یہ حدیث شوہر کے تین اہم حقوق کو ایک ساتھ پیش کرتی ہے:

نفلی روزہ (شوہر کی اجازت ضروری)

گھر میں کسی کو آنے کی اجازت (شوہر کی رضایت شرط)

مال خرچ کرنا (شوہر کی اجازت کے بغیر جائز نہیں)

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ شوہر کا دائرۂ اختیار گھر کے اندرونی نظام، بیوی کی عبادات، اور مالی امور تینوں کو محیط ہے۔


2. فرض اور نفلی عبادات میں فرق

اس حدیث میں قید "مِنْ غَيْرِ شَهْرِ رَمَضَانَ" (رمضان کے علاوہ) لگا کر یہ واضح کر دیا گیا کہ یہ پابندی صرف نفلی روزوں کے لیے ہے۔ فرض روزے (رمضان، قضا، کفارہ، نذر) میں شوہر کو کوئی اختیار نہیں اور بیوی بغیر اجازت بھی روزہ رکھ سکتی ہے۔


3. گھر کا اختیار اور نگرانی شوہر کو حاصل ہے

"وَلَا تَأْذَنْ فِي بَيْتِهِ..." سے معلوم ہوتا ہے کہ گھر میں کسے آنے دینا ہے اور کسے نہیں، اس کا حتمی فیصلہ شوہر کرتا ہے۔ یہ حکم اس لیے ہے کہ شوہر کو اپنے گھر کے ماحول، اس کی عزت اور حرمت کا تحفظ کرنے کا اختیار حاصل ہے، اور بیوی اس معاملے میں اس کی معاون ہے، حاکم نہیں۔


4. مال خرچ کرنے پر اجر کی تقسیم کا فلسفہ (انتہائی اہم نکتہ)

آپ ﷺ نے فرمایا کہ اگر بیوی نے شوہر کی کمائی میں سے اس کی اجازت کے بغیر خرچ کیا تو آدھا اجر شوہر کو ملے گا۔ اس کی حکمت یہ ہے:

شوہر نے مال کمایا (اس لیے اسے مال کے حصول کا اجر ملتا ہے)۔

بیوی نے خرچ کیا (اسے خرچ کرنے کا عمل اور نیت کا اجر مل سکتا ہے، بشرطیکہ شوہر راضی ہو جائے)۔

اگر شوہر راضی نہیں ہوتا تو بیوی اس خرچ کی وجہ سے گناہ گار ہوگی۔ البتہ اگر شوہر بعد میں راضی ہو جائے یا معاف کر دے تو بیوی کو بھی اجر مل جائے گا۔

یہ ایک نہایت متوازن فیصلہ ہے کہ دونوں (کمانے والا اور خرچ کرنے والا) اجر کے حقدار ہیں، مگر شرط اجازت ہے۔


5. اجازت کا تصور: اطاعت، تعاون اور احترام کا اظہار

ان تینوں احکام میں ایک مشترک نکتہ "اجازت" کا ہے۔ اس کا مقصد صرف قانونی پابندی نہیں، بلکہ میاں بیوی کے درمیان باہمی مشاورت، اعتماد اور احترام کو فروغ دینا ہے۔ کوئی بھی اہم فیصلہ (یہاں تک کہ نفلی عبادت یا مہمانی) دوسرے کی رضایت کے بغیر نہ کیا جائے۔


6. بیوی کی اجازت کے بغیر اس کے مال پر شوہر کا کوئی حق نہیں (تکملہ)

اگرچہ اس حدیث میں شوہر کے مال پر بیوی کی پابندی کا ذکر ہے، لیکن دوسری جگہ (جیسے سورہ نساء) میں واضح ہے کہ عورت کا ذاتی مال اس کی ملکیت ہے اور شوہر کو اس پر کوئی حق نہیں۔ اس لیے اس حدیث کا اطلاق صرف شوہر کی کمائی یا مشترکہ گھریلو اخراجات پر ہے، بیوی کے ذاتی مال (جو اسے مہر، وراثت، یا اس کی اپنی کمائی سے ملا ہو) پر نہیں۔


7. شوہر کی کمائی کا اجر اور بیوی کے خرچ کا اجر

اس حدیث سے ایک اہم فقہی اصول نکلتا ہے کہ جس نے کسی نیکی کا سبب بنایا، اسے بھی اجر ملتا ہے۔ اگر شوہر نے حلال مال کمایا اور بیوی نے اسے نیک کام (صدقہ) میں خرچ کرنے کی نیت کی تو شوہر کو کمائی کا اجر ملے گا۔ یہ اصول اسلام میں "دلیل" (وسیلہ) کے اجر پر بھی منطبق ہے۔


8. شوہر کی ممانعت کے باوجود بیوی کا خرچ کرنا گناہ ہے (اگر اجازت نہ ہو)

جملہ "مِنْ غَيْرِ أَمْرِهِ" (اس کے حکم کے بغیر) اس بات کو واضح کرتا ہے کہ اگر شوہر نے پہلے سے منع کر رکھا ہے یا صریحاً اجازت نہیں دی، تو بیوی کا اس کے مال میں سے خرچ کرنا ناجائز ہے۔ یہ اس مال میں خیانت کی ایک صورت ہے، اور شوہر کو اس کا حق ہے کہ وہ اس پر اعتراض کرے۔


واللہ أعلم بالصواب






عَنْ عَائِشَةَ - رضي الله عنها - قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم: (" إِذَا تَصَدَّقَتْ الْمَرْأَةُ مِنْ بَيْتِ زَوْجِهَا) (١) (غَيْرَ مُفْسِدَةٍ، كَانَ لَهَا أَجْرُهَا بِمَا أَنْفَقَتْ، وَلِزَوْجِهَا أَجْرُهُ بِمَا كَسَبَ، وَلِلْخَازِنِ مِثْلُ ذَلِكَ، لَا يَنْقُصُ بَعْضُهُمْ أَجْرَ بَعْضٍ شَيْئًا ") (٢)

ترجمہ:

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

"جب عورت اپنے شوہر کے گھر (یعنی اس کے مال) سے صدقہ کرے (1)، (اور) فساد (بگاڑ) پیدا کرنے والی نہ ہو (یعنی اسراف اور نقصان نہ کرتی ہو)، تو اسے اس کا اجر ملے گا جو اس نے خرچ کیا، اور اس کے شوہر کو اس کا اجر ملے گا جو اس نے کمایا، اور خازن (گھر کے مال / نگران) کو بھی اتنا ہی (اجر) ملے گا۔

ان میں سے کوئی (بھی) دوسرے کے اجر میں کوئی کمی نہیں کرے گا۔" (2)


حوالہ جات:

1 صحیح البخاری1372، صحیح مسلم:1024، جامع الترمذی:671

2 صحیح البخاری:1359، صحیح مسلم:1024، جامع الترمذی:671، سنن النسائی:2539، سنن ابی داود:1685

[الجامع الصحيح للسنن والمسانيد:964451926 (ج11 / ص19)]




حاصل شدہ اسباق و نکات

1. بیوی، شوہر اور خازن تینوں کو بیک وقت اجر ملتا ہے (اللہ کا فضل عظیم)

اس حدیث کا سب سے نمایاں نکتہ یہ ہے کہ ایک ہی صدقہ کے عمل پر تین افراد کو بیک وقت اجر ملتا ہے:

بیوی کو خرچ کرنے اور نیک نیتی کا اجر۔

شوہر کو مال حلال کمائی کا اجر۔

خازن (نگران / مالک یا وہ شخص جو گھر کے اخراجات کا خیال رکھتا ہے) کو تحفظ اور نگرانی کا اجر۔

یہ اللہ تعالیٰ کے فضل اور کرم کی وسعت کو ظاہر کرتا ہے کہ وہ ایک عمل پر متعدد لوگوں کو ان کی نیتوں اور محنتوں کے مطابق اجر عطا فرماتا ہے۔


2. "غَيْرَ مُفْسِدَةٍ" (فساد پیدا کرنے والی نہ ہو) کی شرط (انتہائی اہم)

اس حدیث میں قید "غَيْرَ مُفْسِدَةٍ" (فساد / بگاڑ پیدا کرنے والی نہ ہو) لگائی گئی ہے۔ اس کا مطلب ہے:

بیوی شوہر کے مال میں سے اتنا خرچ نہ کرے کہ گھر کے معاشی نظام کو نقصان پہنچے۔

اسراف اور فضول خرچی سے بچے۔

اگر اس نے حد سے زیادہ خرچ کیا یا کسی ناجائز کام میں لگایا تو وہ اجر کی حقدار نہ ہوگی، بلکہ گناہ گار ہوگی۔

یہ شرط اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ دین میں اعتدال اور حکمت کو ہر عمل میں ملحوظ رکھا جائے۔


3. پچھلی حدیثوں سے تطبیق (اجازت اور اجر کا تعلق)

پچھلی حدیثوں میں واضح تھا کہ شوہر کی اجازت کے بغیر بیوی کا مال خرچ کرنا ناجائز ہے، اور اگر بغیر اجازت خرچ کرے تو گناہ گار ہوگی اور شوہر کو آدھا اجر ملے گا۔

اس حدیث میں اجر کی مکمل تقسیم اس وقت ہے جب:

شوہر نے اجازت دی ہو (صراحتاً یا اشارتاً)، یا

شوہر کا عام طور پر اس پر اعتراض نہ ہو اور وہ اس طرح کے معمولی صدقہ پر راضی ہو۔

اس صورت میں بیوی کو مکمل اجر خرچ کرنے کا ملتا ہے، شوہر کو کمائی کا، اور خازن کو نگرانی کا۔ یہ اس وقت کی صورت ہے جب عمل جائز ہو (اجازت کے ساتھ)۔


4. خازن (نگران) کا اجر اور اس کی اہمیت

خازن عام طور پر وہ شخص ہوتا ہے جو شوہر کی طرف سے گھر کے مال اور اشیاء کی نگرانی کرتا ہے (چاہے وہ خود شوہر ہو، یا بیوی، یا کوئی غلام / خادم)۔ اسے بھی اتنا ہی اجر ملنے کا ذکر اس بات کی دلیل ہے کہ امانت اور ذمہ داری کی ادائیگی بھی عبادت ہے۔ اگر کوئی شخص مال کی نگرانی کرتے ہوئے اسے محفوظ رکھتا ہے اور جائز موقع پر خرچ کرنے کی اجازت دیتا ہے تو وہ بھی اس نیکی میں شریک ہوتا ہے۔


5. اجر میں کمی نہ ہونے کا فلسفہ (اللہ کا فضل لا محدود)

آخری جملہ "لَا يَنْقُصُ بَعْضُهُمْ أَجْرَ بَعْضٍ شَيْئًا" (ان میں سے کوئی دوسرے کے اجر میں کوئی کمی نہیں کرے گا) اس بات کو واضح کرتا ہے کہ:

اللہ تعالیٰ کے ہاں اجر کا خزانہ محدود نہیں، بلکہ لامحدود ہے۔

ایک شخص کو اجر دینے سے دوسرے کے اجر میں کوئی کمی واقع نہیں ہوتی، جیسے روشن شمع سے دوسری شمع جلانے سے پہلی کی روشنی کم نہیں ہوتی۔

یہ مسلمانوں کو ایک دوسرے کے ساتھ تعاون اور نیکی میں شراکت کی ترغیب دیتا ہے کہ بغیر کسی حسد یا بخل کے ایک دوسرے کو نیکی کا موقع فراہم کریں۔


6. حلال کمائی کی فضیلت

شوہر کو "کمائی کا اجر" اس لیے ملتا ہے کہ اس نے حلال ذرائع سے مال کمایا اور اپنے گھر والوں کو خرچ کرنے کے لیے دیا۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ حلال روزی کمانا اور اہل خانہ پر خرچ کرنا خود ایک بہترین عبادت اور اجر کا ذریعہ ہے۔


7. بیوی کا اپنے گھر والوں کے لیے خرچ کرنا (صدقہ کا وسیع مفہوم)

اس حدیث میں صدقہ صرف غریبوں یا مسکینوں کو دینے تک محدود نہیں، بلکہ گھر کے افراد کی ضروریات پوری کرنا، مہمانوں کی ضیافت کرنا، یا کوئی نیک کام کرنا بھی صدقہ کے زمرے میں آتا ہے (جیسا کہ دوسری حدیثوں میں ہے: "وَفِي بُضْعِ أَحَدِكُمْ صَدَقَةٌ")۔ اس لیے بیوی کا گھر کا اچھی طرح نظام چلانا بھی صدقہ اور اجر کا باعث ہے۔


8. گھریلو نظام میں باہمی اشتراک اور تعاون کا فروغ

اس حدیث سے میاں بیوی اور گھر کے نگران کو سبق ملتا ہے کہ وہ ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کریں، مال خرچ کرنے میں باہمی مشاورت کریں، اور اس طرح اجتماعی طور پر اللہ کا قرب اور اجر حاصل کریں۔ کوئی بھی تنہا سب کچھ نہیں کر سکتا، بلکہ ہر ایک کا اپنا کردار اور اپنا اجر ہے۔


واللہ أعلم بالصواب








عنوان: شوہر کی اجازت کے بغیر صدقہ کرنے کا شرعی حکم (اسماء بنت ابی بکر کا واقعہ)

عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ - رضي الله عنها - قَالَتْ: (جِئْتُ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم) (١) (فَقُلْتْ: يَا رَسُولَ اللهِ) (٢) (أَنَّ الزُّبَيْرِ رَجُلٌ شَدِيدٌ) (٣) (وَلَيْسَ لِي) (٤) (مَالٌ إِلَّا مَا أَدْخَلَ عَلَيَّ الزُّبَيْرُ) (٥) (وَيَأتِينِي الْمِسْكِينُ) (٦) (فَهَلْ عَلَيَّ جُنَاحٌ أَنْ) (٧) (أَتَصَدَّقَ عَلَيْهِ مِنْ بَيْتِهِ بِغَيْرِ إِذْنِهِ؟) (٨) (فَقَالَ: " أَنْفِقِي) (٩) (مَا اسْتَطَعْتِ) (١٠) (وَلَا تُحْصِي , فَيُحْصِيَ اللهُ عَلَيْكِ, وَلَا تُوعِي فَيُوعِيَ اللهُ عَلَيْكِ (١١) ") (١٢) (قَالَتْ: فَمَا أَحْصَيْتُ شَيْئًا بَعْدَ قَوْلِ رَسُولِ اللهِ صلى الله عليه وسلم خَرَجَ مِنْ عِنْدِي وَلَا دَخَلَ عَلَيَّ , وَمَا نَفِدَ عِنْدِي مِنْ رِزْقِ اللهِ , إِلَّا أَخْلَفَهُ اللهُ - عز وجل -) (١٣).

ترجمہ:

حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں:

(اسماء رضی اللہ عنہا کہتی ہیں:) "میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی (1) اور عرض کیا: (2)

'یا رسول اللہ! **زبیر (بن عوام) بہت سخت مزاج آدمی ہیں (3)، اور میرے پاس (4) کوئی مال نہیں سوائے اس کے جو زبیر مجھے دیتے ہیں (5)۔'

'اور میرے پاس مسکین (غریب) آتے ہیں (6)، تو کیا مجھ پر کوئی گناہ ہے کہ (7) میں انہیں ان (زبیر) کے گھر (مال) سے ان کی اجازت کے بغیر صدقہ کر دوں؟' (8)

تو آپ ﷺ نے فرمایا: 'خرچ کرو (9) جتنا تمہارے بس میں ہو (10)، اور گنتی نہ کرو (کہ ہم نے کتنا خرچ کیا) ورنہ اللہ تم پر گنتی کرے گا، اور مت روکو (بخل نہ کرو) ورنہ اللہ تم سے روک لے گا (11)۔' (12)

(اسماء رضی اللہ عنہا کہتی ہیں:) "پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کے بعد میں نے کبھی کسی چیز کی گنتی نہیں کی (یعنی نہ یہ شمار کیا کہ میرے پاس سے کتنا مال نکلا اور نہ ہی کتنا اندر آیا)۔ اور میرے پاس جو اللہ کا رزق بھی ختم ہوتا، اللہ تعالیٰ اس کی جگہ (دوسرا رزق) عطا فرما دیتا۔" (13)"


حوالہ جات:

1 صحیح البخاری:1344

2 صحیح البخاری:2401

3 مسند أحمد:27029

4 صحیح مسلم:1029

5 صحیح البخاری:2401

6 مسند أحمد:27029

7 صحیح مسلم:1029

8 مسند أحمد:27029، صحیح مسلم:1029، صحیح البخاری:2401

9 صحیح البخاری:2402، صحیح مسلم:1029

10 صحیح البخاری:1344، صحیح مسلم:1029، سنن النسائی:2551

11 (لغوی تشریح) "لا تُوعِي" (مت روکو) کا معنی ہے: جمع نہ کرو اور خرچ میں بخل نہ کرو، ورنہ اللہ تعالیٰ تم سے رزق روک لے گا اور تمہیں تنگی میں مبتلا کر دے گا۔ یہ ایک الٰہی وعدہ اور انتباہ دونوں ہے کہ جو بخل کرتا ہے، اس سے رزق روک لیا جاتا ہے۔(النہایۃ فی غریب الأثر: ج ٥ / ص ٤٥٦)

12 صحیح البخاری:2402، صحیح مسلم:1029، جامع الترمذی:1960، سنن النسائی:2550، سنن ابی داود :1699، مسند أحمد:27035

13 مسند أحمد:27015

[الجامع الصحيح للسنن والمسانيد:64451926 (ج11 / ص20)]


حاصل شدہ اسباق و نکات

1. شوہر کی اجازت کے بغیر مال خرچ کرنے کی گنجائش (جب شوہر سخت گیر نہ ہو)

اس حدیث میں نبی ﷺ نے اسماء رضی اللہ عنہا کو اجازت دے دی کہ وہ مسکینوں کو شوہر کی اجازت کے بغیر بھی کچھ دے سکتی ہیں (جبکہ پچھلی حدیثوں میں بغیر اجازت خرچ کرنے کو ممنوع کہا گیا تھا)۔ اس میں تطبیق یہ ہے کہ:

اگر شوہر معروف اور سخی ہو اور اسے معلوم ہو کہ وہ اس طرح کے معمولی صدقہ پر راضی ہوگا، تو بیوی بغیر صریح اجازت بھی دے سکتی ہے۔

اسماء رضی اللہ عنہا کا کہنا تھا کہ زبیر "شديد" (سخت مزاج) ہیں، اس لیے وہ ڈرتی تھیں۔ لیکن نبی ﷺ نے انہیں اس ڈر کے باوجود مشورہ دیا کہ وہ بس معقول حد تک خرچ کریں اور گنتی نہ کریں۔ اس سے معلوم ہوا کہ اگر شوہر کا عام طور پر اس پر اعتراض نہ ہو تو معمولی صدقہ جائز ہے۔


2. "لا تُحْصِي فَيُحْصِيَ اللهُ عَلَيْكِ" کا گہرا فلسفہ (گنتی نہ کرو)

نبی ﷺ نے اسماء رضی اللہ عنہا کو مشورہ دیا کہ وہ اپنے خرچ کی گنتی (حساب) نہ کریں۔ اس کا مطلب یہ ہے:

اگر آپ ہر خرچ کا حساب رکھیں گے اور بخل کریں گے تو اللہ بھی آپ کا حساب رکھے گا اور آپ کو تنگی میں ڈال دے گا۔

اس کے برعکس، اگر آپ فیاض اور بے حساب خرچ کریں گے تو اللہ بھی آپ پر فیض کرے گا اور آپ کے رزق میں برکت ڈالے گا۔

یہ "خرچ کرو، اللہ تمہیں دے گا" کا وعدہ ہے، جو سخاوت اور فیاضی کی ترغیب دیتا ہے۔


3. "لا تُوعِي فَيُوعِيَ اللهُ عَلَيْكِ" (مت روکو، ورنہ اللہ روک لے گا)

"إیعاء" کا معنی ہے: مال کو جمع کرنا اور بخل کرنا۔ نبی ﷺ نے فرمایا کہ اگر تم نے مال روک کر رکھا اور خرچ کرنے میں بخل کیا تو اللہ تعالیٰ تم سے رزق روک لے گا اور تمہاری زندگی میں تنگی پیدا کر دے گا۔

یہ قرآن کی آیت "وَمَا أَنْفَقْتُمْ مِنْ شَيْءٍ فَهُوَ يُخْلِفُهُ ۖ وَهُوَ خَيْرُ الرَّازِقِينَ" (سبأ: ٣٩) کے مطابق ہے کہ جو اللہ کی راہ میں خرچ کرتا ہے، اللہ اس کی جگہ اور دیتا ہے۔


4. اسماء رضی اللہ عنہا کا عملی کردار اور اللہ پر بھروسہ (توکل کی عملی مثال)

اسماء رضی اللہ عنہا نے نبی ﷺ کا فرمان سن کر اس پر پوری طرح عمل کیا اور کبھی کسی چیز کی گنتی نہیں کی۔ نتیجتاً اللہ تعالیٰ ان کے خرچ کی جگہ پوری کرتا رہا۔

یہ سخاوت اور توکل کی عملی مثال ہے کہ انسان اللہ پر بھروسہ کرتے ہوئے فیاضی سے کام لے اور اسے یقین ہو کہ اللہ اسے کبھی بھوکا نہیں رکھے گا۔


5. سخاوت اور بخل کا معاشی اور روحانی اثر

اس حدیث میں ایک اہم نفسیاتی اور معاشی اصول ملتا ہے:

سخاوت سے مال میں برکت آتی ہے اور اللہ مزید دیتا ہے۔

بخل سے مال گھٹتا ہے اور اللہ روک لیتا ہے۔

یہ اصول محض روحانی نہیں، بلکہ عملی زندگی میں بھی دیکھا گیا ہے کہ فیاض لوگ زیادہ رزق پاتے ہیں، جبکہ تنگ دل لوگ محروم رہتے ہیں۔


6. شوہر کی معروفیت اور بیوی کا اختیار

اس حدیث سے فقہاء نے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ اگر شوہر کے بارے میں معلوم ہو کہ وہ ایسے معمولی صدقہ پر راضی ہوگا تو بیوی کو بغیر صریح اجازت کے بھی اجازت ہے، بشرطیکہ:

وہ اسراف نہ کرے۔

گھر کے مالی نظام کو نقصان نہ پہنچے۔

صدقہ جائز اور معتدل ہو۔


7. مسکینوں کا احترام اور ان کی اہمیت

اسماء رضی اللہ عنہا کا "يَأتِينِي الْمِسْكِينُ" (میرے پاس مسکین آتے ہیں) کہنا ظاہر کرتا ہے کہ وہ خود سے ان کی طرف راغب تھیں اور ان کا خیال رکھتی تھیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ غریبوں اور مسکینوں کا خود سے خیر مقدم کریں اور ان کی ضروریات پوری کریں۔


8. نبی ﷺ کا مشفقانہ اور حکیمانہ انداز

اسماء رضی اللہ عنہا نے ایک پیچیدہ شرعی سوال پوچھا (شوہر کی اجازت کے بغیر صدقہ)، تو آپ ﷺ نے نہ صرف اجازت دی بلکہ اس کے ساتھ ایک عظیم روحانی اور معاشی اصول بھی عطا فرمایا کہ بےحساب خرچ کرو اور اللہ پر بھروسہ رکھو۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی ﷺ کا مشورہ ہمیشہ جامع اور دواؤں بھرا ہوتا تھا۔


9. پچھلی حدیثوں کے ساتھ تطبیق

پچھلی حدیثوں میں کہا گیا تھا کہ بیوی شوہر کی اجازت کے بغیر اس کا مال خرچ نہ کرے۔ اس حدیث میں استثنا یہ ہے کہ:

اگر شوہر معروف اور سخی ہو (اور اسے اندازہ ہو کہ وہ راضی ہے) تو اجازت ہے۔

اگر شوہر سخت گیر ہو اور واضح طور پر منع کرتا ہو تو پھر وہی پچھلا حکم لاگو ہوگا۔

اسماء رضی اللہ عنہا نے چونکہ زبیر کو "شدید" کہا، اس لیے وہ ڈرتی تھیں، لیکن نبی ﷺ نے انہیں یقین دلایا کہ معقول حد تک خرچ کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں۔


10. اللہ کی طرف سے بدلے جانے کا وعدہ (مادی اور روحانی طور پر)

حدیث کے آخر میں اسماء رضی اللہ عنہا نے خود تجربہ کیا کہ جب انہوں نے گنتی چھوڑی اور فیاضی سے خرچ کیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کے رزق کی جگہ پوری کی۔ یہ ایک ایسا وعدہ ہے جو ہر اس شخص کے لیے ہے جو اللہ پر بھروسہ کرتے ہوئے فیاضی سے کام لے۔


واللہ أعلم بالصواب







عنوان: شادی شدہ عورت کا اپنے مال میں صدقہ / ہبہ (تحفہ) کرنا (شوہر کی اجازت کے ساتھ)

عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو - رضي الله عنهما - قَالَ: (" لَمَّا فَتَحَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم - مَكَّةَ قَامَ خَطِيبًا , فَقَالَ فِي خُطْبَتِهِ: لَا يَجُوزُ لِامْرَأَةٍ) (١) (هِبَةٌ , أَمْرٌ (٢) فِي مَالِهَا إِذَا مَلَكَ زَوْجُهَا عِصْمَتَهَا) (٣) (إِلَّا بِإِذْنِ زَوْجِهَا ") (٤)

ترجمہ:

حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں:

"جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ فتح کیا تو آپ (لوگوں کو) خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے اور اپنے خطبہ میں فرمایا:

'کسی عورت کے لیے جائز نہیں (1) کہ وہ (اپنے مال میں) کوئی ہبہ (تحفہ / عطیہ) یا کوئی معاملہ / حکم (2) (اپنے مال کے بارے میں) کرے، جب کہ اس کا شوہر اس کی عصمت (نکاح کی گرہ) کا مالک ہو چکا ہو (3)، مگر اپنے شوہر کی اجازت سے (4)۔'"


حوالہ جات:

1 سنن النسائی:2540، سنن ابی داود:3546، سنن ابن ماجہ:2388

2 سنن ابی داود:3546، مسند أحمد:7058

3 سنن النسائی:3756، سنن ابی داود:3546، سنن ابن ماجہ:2388

4 سنن النسائی :2540، سنن ابی داود:3546، سنن ابن ماجہ:2388، مسند أحمد:6727

نیز: صحیح الجامع:7625، السلسلۃ الصحیحۃ:825

[الجامع الصحيح للسنن والمسانيد:964451926 (ج11 / ص21)]


حاصل شدہ اسباق و نکات

1. عورت کے ذاتی مال کا تصرف (پچھلی حدیثوں سے اہم فرق)

پچھلی تمام حدیثوں میں شوہر کے مال (گھر کے خرچ) کو بیوی کے خرچ کرنے کا ذکر تھا۔

اس حدیث میں واضح فرق ہے کہ یہاں عورت کے اپنے ذاتی مال میں تصرف کا حکم بیان کیا گیا ہے۔ یعنی:

پچھلی حدیثیں: شوہر کا مال، شوہر کی کمائی۔

یہ حدیث: عورت کا اپنا مال (جو اسے مہر، وراثت، یا اس کی اپنی کمائی سے ملا ہو)۔

اس کے باوجود بھی شوہر کی اجازت کی شرط لگائی گئی (جب تک وہ شادی شدہ ہے)۔ یہ شوہر کے حق کی انتہائی وسعت کو ظاہر کرتا ہے۔


2. "عصمت کا مالک ہونا" سے کیا مراد؟

"مَلَكَ زَوْجُهَا عِصْمَتَهَا" کا مطلب ہے: جب شوہر نے نکاح کے ذریعے اس کی عصمت (شرمگاہ کی حفاظت، اور ازدواجی تعلق) کا مالک ہو چکا ہو۔

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ حکم صرف شادی شدہ عورت کے لیے ہے۔

اگر عورت شادی شدہ نہیں (مطلقہ، بیوہ، یا کنواری) تو وہ اپنے مال میں بغیر کسی کی اجازت کے تصرف کر سکتی ہے (جیسے کوئی تحفہ دے سکتی ہے، صدقہ کر سکتی ہے، یا اپنا مال بیچ سکتی ہے)۔


3. "ہبہ" اور "امر" کی وسعت (ہر قسم کا مالی تصرف)

حدیث میں دو الفاظ آئے ہیں:

"ہبہ" (تحفہ / عطیہ): یعنی کسی کو بلا معاوضہ کچھ دینا۔

"امر" (معاملہ / حکم): یعنی کوئی بھی مالی فیصلہ، جیسے بیچنا، خریدنا، قرض دینا، کسی کو کوئی چیز دینا، یا کسی کو کسی چیز کا مالک بنانا۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ عورت کا اپنے مال میں کوئی بھی اہم تصرف (خواہ وہ صدقہ ہو، تحفہ ہو، یا کاروباری فیصلہ) شوہر کی اجازت کے بغیر جائز نہیں (جب تک کہ شوہر نے عام طور پر اسے اختیار نہ دیا ہو)۔


4. فتح مکہ کے موقع پر اس حکم کا اعلان (اہمیت)

یہ حکم نبی ﷺ نے فتح مکہ کے موقع پر اپنے خطبہ میں دیا، جو اسلام کی تاریخ کا ایک نہایت اہم اور فیصلہ کن لمحہ تھا۔ اس موقع پر آپ ﷺ نے دین کے بنیادی احکام کا اعادہ فرمایا۔ اس سیاق و سباق میں اس حکم کا ذکر اس بات کی دلیل ہے کہ شوہر کا حق اور گھریلی نظام کا تحفظ اسلامی معاشرے کی بنیادوں میں شامل ہے۔


5. پچھلی حدیثوں سے تطبیق (اجازت کی شرط کیوں ہے؟)

پچھلی حدیثوں میں بتایا گیا کہ شوہر کا مال اس کی کمائی ہے اور بیوی اس میں بغیر اجازت خرچ نہیں کر سکتی۔

اس حدیث میں عورت کے اپنے مال میں بھی شوہر کی اجازت کی شرط کیوں لگائی گئی؟

اس کی چند حکمتیں ہیں:

باہمی تعلقات میں شفافیت: بیوی کا بغیر بتائے شوہر کو اپنا مال خرچ کرنا بھی بدگمانی اور نااتفاقی کا باعث بن سکتا ہے۔

گھریلو نظام کا تحفظ: شوہر کو اپنے گھر کے مجموعی مالی حالات کا علم ہونا چاہیے تاکہ وہ گھر کا بجٹ بنا سکے۔

شوہر کا حق (تعظیم اور اطاعت): جیسے بیوی کو نفلی عبادات کے لیے بھی اجازت لینا پڑتی ہے، اسی طرح اپنے مال کے اہم فیصلوں میں بھی اسے شوہر کی رائے اور رضایت حاصل کرنی چاہیے۔


6. عورت کے ذاتی مال پر شوہر کی اجارہ داری نہیں (یہ حقیقی ملکیت ہے)

اس حدیث کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ شوہر کو عورت کے مال پر اختیار ہے کہ وہ اسے استعمال کرے یا ضائع کرے۔ عورت کا ذاتی مال اس کی اپنی ملکیت ہے۔ شرط صرف "تصرف" (کسی کو دینے یا کسی معاملے کرنے) کے لیے ہے، "استعمال" یا "استفادہ" کے لیے نہیں۔

بیوی اپنے مال سے خود کھا سکتی ہے، پہن سکتی ہے، اپنی ضروریات پوری کر سکتی ہے (بغیر اجازت)۔

البتہ اگر وہ اسے کسی کو دینا چاہے (صدقہ، تحفہ) یا کوئی بڑا معاملہ کرنا چاہے تو شوہر کی اجازت ضروری ہے۔


7. شوہر کی معروفیت اور بیوی کا اختیار (فقہی تطبیق)

اگر شوہر نے بیوی کو عام طور پر (صراحتاً یا اشارتاً) اجازت دے رکھی ہو کہ وہ اپنے مال میں جیسا چاہے تصرف کر سکتی ہے، تو پھر اس کی الگ سے اجازت لینا ضروری نہیں (جیسا کہ اسماء رضی اللہ عنہا کی حدیث میں آیا تھا)۔

اگر شوہر کا عام معمول یہ ہے کہ وہ اس طرح کے تصرفات پر راضی ہو جاتا ہے، تو بیوی بغیر صریح اجازت دے سکتی ہے۔

لیکن اگر شوہر نے صاف منع کر رکھا ہو یا وہ سخت گیر ہو تو پھر بغیر اجازت تصرف جائز نہیں۔


8. نکاح سے پہلے اور نکاح کے بعد کا فرق

حدیث میں قید "إِذَا مَلَكَ زَوْجُهَا عِصْمَتَهَا" (جب شوہر اس کی عصمت کا مالک ہو چکا ہو) اس بات کو واضح کرتی ہے کہ:

نکاح سے پہلے عورت اپنے مال میں مکمل طور پر آزاد ہے اور اسے کسی کی اجازت کی ضرورت نہیں۔

نکاح کے بعد یہ پابندی لاگو ہوتی ہے۔

یہ شوہر کے حق کا احترام اور ازدواجی تعلق کے بعد باہمی مشاورت کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔


9. غیر شادی شدہ عورتوں کے لیے مکمل مالی آزادی

اس حدیث کا ایک اہم فقہی نتیجہ یہ ہے کہ بیوہ، مطلقہ، یا کنواری عورت اپنے مال میں بغیر کسی کی اجازت کے ہر قسم کا تصرف کر سکتی ہے (جیسے صدقہ، تحفہ، خرید و فروخت)۔ یہ اسلامی معاشرے میں عورت کی مالی خودمختاری کا ایک روشن پہلو ہے۔


10. نبی ﷺ کا خطبہ (فتح مکہ کا جامع اعلان)

اس حدیث کا پس منظر فتح مکہ کا خطبہ ہے، جس میں آپ ﷺ نے نہ صرف توحید اور شرک کے خاتمے کا اعلان کیا بلکہ سماجی و گھریلو حقوق (جیسے شوہر کا حق، عورت کا مال، وراثت وغیرہ) کے بارے میں بھی تفصیلی ہدایات دیں۔ اس لیے یہ حکم انتہائی اہم اور دائمی ہے۔


واللہ أعلم بالصواب








عنوان: شادی شدہ عورت کا اپنے ذاتی مال میں عطیہ / صدقہ / تصرف (شوہر کی اجازت کی شرط)

عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو - رضي الله عنهما - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم: " إِذَا مَلَكَ الرَّجُلُ الْمَرْأَةَ , لَمْ تُجَزْ عَطِيَّتُهَا إِلَّا بِإِذْنِهِ "

ترجمہ:

حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

"جب کوئی شخص (شوہر) کسی عورت کا مالک (یعنی اس کا خاوند) بن جائے، تو اس (بیوی) کی عطیہ (ہبہ، صدقہ، تحفہ، یا کوئی مالی عطیہ) جائز نہیں، مگر اس (شوہر) کی اجازت سے۔"

[مسند الطیالسی:2267، سنن البیهقی الکبری:11113، الصحیحۃ:2571]


تشریح :


البانی نے اس حدیث کے تحت ایک طویل اور اہم علمی بحث پیش کی ہے، جس کا خلاصہ درج ذیل ہے:

۱. سلف صالحین کا اس حدیث پر عمل

اس حدیث پر سلف صالحین میں سے ایک جماعت نے عمل کیا، جیسا کہ امام طحاوی نے شرح معانی الآثار (۲/ ۴۰۳) میں نقل کیا ہے، اور ابن حزم نے المحلی (۸/ ۳۱۰-۳۱۱) میں ان بزرگوں سے روایت کی ہے:

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ

طاووس (تابعی)

امام حسن بصری

مجاہد

اور امام لیث بن سعد (فقہی امام)

ان کا موقف تھا: "شادی شدہ عورت کو اپنے مال میں (کسی کو) آزاد کرنے، صداقت (مہر) کے معاملے، یا اس کے علاوہ کسی بھی تصرف کی اجازت نہیں، سوائے اس کے شوہر کی اجازت کے، ہاں ایک معمولی سی چیز (جیسے صلہ رحمی یا اللہ کی قربت کے لیے ناگزیر معمولی خرچ) اس سے مستثنیٰ ہے۔"

۲. دوسرے علماء کا موقف اور ان کی دلیل

علامہ البانی نے دوسرے علماء کے اقوال (جو عورت کو بغیر اجازت تصرف کی اجازت دیتے ہیں) کا ذکر کیا اور ان کی دلائل کا جائزہ لیا۔

۳. جواز (بغیر اجازت تصرف) کی تائید میں پیش کی گئی احادیث کا جواب

بعض علماء (اور علامہ البانی نے خود بھی اس موقف کا ذکر کیا) نے اس کی تائید میں چند احادیث پیش کیں، مثلاً حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کی حدیث کہ نبی ﷺ نے عید کے خطبہ میں عورتوں کو صدقہ کا حکم دیا، اور عورتیں اپنے انگوٹھے اور بالیاں وغیرہ نکال کر دے رہی تھیں۔

لیکن علامہ البانی کہتے ہیں: اس میں کوئی حجت نہیں، کیونکہ:

وہ (عورتوں کا صدقہ کرنا) نبی ﷺ کے براہِ راست حکم کی تعمیل میں تھا (جس نے اس موقع پر انہیں اجازت دی)۔

اگر نبی ﷺ کا حکم (صدقہ کا) پہلے سے موجود عام حکم (اجازت کی شرط) کو منسوخ کر دے، تو اس کا کوئی ثبوت نہیں۔

یہ واقعات خاص تھے، جنہیں عمومی اصول پر قیاس نہیں کیا جا سکتا۔

۴. ابن حزم کا موقف اور ان کا عذر

امام ابن حزم (جو عدم جواز کے قائل تھے) نے اس حدیث کو "منقطع صحیفہ" (یعنی سند میں انقطاع کی وجہ سے ضعیف) قرار دیا تھا۔

علامہ البانی فرماتے ہیں: "ابن حزم معذور ہیں"، کیونکہ اگر یہ حدیث ان کے نزدیک صحیح ہوتی تو وہ اس پر عمل کرتے (یعنی عدم جواز کا فتویٰ دیتے)۔

لیکن جمہور محدثین (خاص طور پر امام احمد بن حنبل) اس حدیث کو "موصول" (متصل سند) اور "صحیح" مانتے ہیں، اور یہ کہ "عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جدہ" کی صحیفہ حدیث کے ساتھ احتجاج کرتے ہیں۔

۵. جدید دور کے دعاۃ (مبلغین) پر شدید تنقید

علامہ البانی نے انتہائی سخت الفاظ میں آج کل کے ان دعاۃ (مبلغین اور مصلحین) کو تنقید کا نشانہ بنایا جو اس حدیث کو جاہل ہیں اور اس سے تغافل برتتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے:

"یہ اس لیے نہیں کہ ان کے نزدیک مخالفین (جواز کے قائلین) کا موقف راجح ہے، بلکہ اس لیے کہ یہ موقف کافروں (مغرب / غیر اسلامی معاشروں) کے موقف سے مطابقت رکھتا ہے، اور وہ اسلام کو کافروں کے قریب کرنا چاہتے ہیں (انہیں خوش کرنا چاہتے ہیں) کہ اسلام عورت کو اس کے مال میں وہی آزادی دیتا ہے جو وہ چاہتے ہیں۔

حالانکہ وہ (دعاۃ) جانتے ہیں کہ یہ انہیں کچھ فائدہ نہیں دے گا، کیونکہ کافر تو عورت کو اپنے مال کے علاوہ بھی آزادی دیتے ہیں (مثلاً) وہ خود اپنا نکاح کر سکتی ہے، بلکہ بدکار (اخدان) بنا سکتی ہے!!

اور اللہ تعالیٰ کا فرمان سچ ہے:

{وَلَن تَرْضَىٰ عَنكَ الْيَهُودُ وَلَا النَّصَارَىٰ حَتَّىٰ تَتَّبِعَ مِلَّتَهُمْ} (البقرہ: ۱۲۰)

(یہود اور نصاریٰ تم سے ہرگز راضی نہ ہوں گے جب تک تم ان کی ملت (طریقہ) کی پیروی نہ کرو۔)"

[الجامع الصحيح للسنن والمسانيد:64451926 (ج11 / ص22)]


حاصل شدہ اسباق و نکات

1. یہ حدیث عورت کے ذاتی مال کے بارے میں ہے (شوہر کے مال کے بارے میں نہیں)

پچھلی تمام احادیث میں شوہر کے مال (گھر کے خرچ) کو بیوی کے خرچ کرنے کا ذکر تھا۔

یہ حدیث عورت کے اپنے ذاتی مال (جو اسے مہر، وراثت، ہدیہ، یا اس کی اپنی کمائی سے ملا ہو) کے بارے میں حکم دیتی ہے۔

اس کے باوجود بھی شوہر کی اجازت کی شرط لگائی گئی ہے، جو شوہر کے حق کی انتہائی وسعت کو ظاہر کرتا ہے۔


2. "مَلَكَ الرَّجُلُ الْمَرْأَةَ" کا مفہوم اور اس کی قید

اس کا مطلب ہے نکاح کے ذریعے شوہر کا بیوی کا مالک بننا (عصمت کا مالک)۔

غیر شادی شدہ عورت (کنواری، بیوہ، مطلقہ) اس حکم میں شامل نہیں، اور وہ اپنے مال میں بغیر کسی اجازت کے تصرف کر سکتی ہے۔


3. "عطیہ" کی وسعت (ہر قسم کا مالی تصرف)

لفظ "عطیہ" (عطیہ / ہبہ) کا اطلاق ہر اس چیز پر ہوتا ہے جو عورت اپنے مال میں سے کسی کو بغیر معاوضہ دے (جیسے صدقہ، تحفہ، نذرانہ، یا کوئی مالی گرانٹ)۔


4. سلف صالحین کا اس پر عمل (مسئلہ کی اہمیت)

علامہ البانی نے واضح کیا کہ صحابہ اور تابعین (جیسے انس، ابوہریرہ، طاووس، حسن، مجاہد) اور فقہی امام (لیث بن سعد) اس حدیث پر عمل کرتے تھے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ کوئی غیر معمولی یا کمزور مسئلہ نہیں، بلکہ سلف کا مسلمہ اصول رہا ہے۔


5. "معمولی چیزوں" کا استثنا

سلف کا یہ بھی موقف تھا کہ اگر کوئی معمولی سی چیز (جیسے پڑوسی کو تھوڑا کھانا، یا صلہ رحمی کی نذرانہ) ہو جو شوہر کو معمولی نقصان نہ پہنچاتی ہو، تو اس میں اجازت کی شرط اتنی سخت نہیں، البتہ بڑے مالی تصرفات (جیسے کوئی جائیداد دینا، غلام آزاد کرنا، بڑا صدقہ) کے لیے شوہر کی اجازت ضروری ہے۔


6. جدید دور کے دعاۃ پر البانی کی تنقید (انتہائی اہم نکتہ)

علامہ البانی نے اس حدیث کو چھوڑ کر مطلق جواز دینے والے جدید مبلغین کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا، اور ان پر الزام لگایا کہ وہ کافروں کو خوش کرنے کے لیے ایسا کر رہے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ کافر عورت کو نہ صرف مالی طور پر آزاد چاہتے ہیں بلکہ نکاح اور عفت کے معاملات میں بھی مطلق آزادی چاہتے ہیں (جو اسلام کے خلاف ہے)۔

اس لیے مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ غیر مسلم معاشروں کی تقلید نہ کریں اور اپنے دینی اصولوں (جیسے شوہر کا حق اور اس کی اجازت کی شرط) پر قائم رہیں۔


7. اس حدیث کی سند کی صحت (جمہور محدثین کے نزدیک)

اگرچہ ابن حزم نے اسے ضعیف کہا، لیکن جمہور محدثین (خاص طور پر امام احمد بن حنبل) اسے موصول اور صحیح مانتے ہیں۔ علامہ البانی نے بھی اسے السلسلۃ الصحیحۃ میں درج کر کے اس کی صحت کا اعلان کیا ہے۔


8. پچھلی حدیثوں کے ساتھ تطبیق

پچھلی حدیث (اسماء بنت ابی بکر) میں تھوڑی گنجائش تھی (اگر شوہر معروف اور سخی ہو تو معمولی صدقہ جائز ہے)۔

اس حدیث میں بنیادی اصول واضح ہے: عورت کا بڑا مالی تصرف (عطیہ) شوہر کی اجازت کے بغیر جائز نہیں، البتہ اگر شوہر عام طور پر اجازت دیتا ہو یا وہ معروف ہو تو پھر وہی تطبیق لاگو ہوگی جو پہلے گزر چکی ہے۔


9. عورت کی مالی خودمختاری کا تحفظ بھی اس میں شامل ہے

اس حدیث کا مقصد عورت کی مالی خودمختاری کو ختم کرنا نہیں (کیونکہ اس کا مال اس کی اپنی ملکیت ہے)، بلکہ:

ازدواجی تعلقات میں شفافیت اور اعتماد قائم رکھنا۔

گھریلو مالی نظام میں بے ضابطگی سے بچنا۔

شوہر کو اس کے حق (اطاعت اور گھر کی نگرانی) کا احساس دلانا۔


10. امت مسلمہ کو بیداری کا پیغام

علامہ البانی کا آخری تبصرہ ایک شدید انتباہ ہے کہ مسلمان مبلغین اپنے دین کو کفار کی مرضی کے مطابق ڈھالنے کی کوشش نہ کریں۔ اسلام کا عورت کا نظام (جس میں شوہر کا حق اور بیوی کی اطاعت شامل ہے) دراصل عورت کے لیے ایک حفاظتی نظام ہے، محض اسے مغربی آزادیوں کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کے لیے اسے ترک نہیں کیا جا سکتا۔


واللہ أعلم بالصواب





عنوان: شوہر کی اجازت کے بغیر عورت کے اپنے مال میں تصرف (ایک عملی واقعہ)


عَنْ يَحْيَى رَجُلٌ مِنْ وَلَدِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: أَتَتْ جَدَّتِي خَيْرَةُ , امْرَأَةُ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ إلَى رَسُولِ اللهِ صلى الله عليه وسلم بِحُلِيٍّ لَهَا فَقَالَتْ: إِنِّي تَصَدَّقْتُ بِهَذَا , فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم: " إنَّهُ لَا يَجُوزُ لِلْمَرْأَةِ فِي مَالِهَا أَمْرٌ إِلَّا بِإِذْنِ زَوْجِهَا , فَهَلْ اسْتَأذَنْتِ كَعْبًا؟ ", قَالَتْ: نَعَمْ , " فَبَعَثَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى زَوْجِهَا كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ , فَقَالَ: هَلْ أَذِنْتَ لِخَيْرَةَ أَنْ تَتَصَدَّقَ بِحُلِيِّهَا هَذَا؟ " , فَقَال: نَعَمْ , " فَقَبِلَهُ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم مِنْهَا

ترجمہ:

یحییٰ بن کعب بن مالک (جو کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کی اولاد میں سے ایک شخص ہیں) بیان کرتے ہیں:

"میری دادی خیرہ (جو کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کی زوجہ تھیں) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اپنے زیورات لے کر آئیں اور عرض کیا:

'میں نے یہ (زیورات) صدقہ کر دیے ہیں۔'

تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا:

'بیشک کسی عورت کے لیے اس کے مال میں کوئی معاملہ (تصرف) جائز نہیں، مگر اپنے شوہر کی اجازت سے۔ کیا تم نے کعب سے اجازت لی تھی؟'

انہوں نے کہا: 'جی ہاں (لی تھی)۔'

پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے شوہر کعب بن مالک کی طرف (آدمی) بھیجا اور دریافت فرمایا:

'کیا تم نے خیرہ کو اجازت دی تھی کہ وہ اپنے ان زیورات کو صدقہ کر دے؟'

تو انہوں نے (کعب رضی اللہ عنہ نے) کہا: 'جی ہاں (اجازت دی تھی)۔'

چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان (خیرہ) سے (وہ زیورات) قبول کر لیے۔"

[المعجم الأوسط للطبرانی:8676، سنن ابن ماجہ:2389، الصحیحۃ:825]


حاصل شدہ اسباق و نکات

1. پچھلی تمام احادیث کی عملی تطبیق (ایک مکمل کیس اسٹڈی)

پچھلی احادیث میں ہم نے یہ اصول پڑھا کہ:

شادی شدہ عورت اپنے شوہر کی اجازت کے بغیر اپنا مال (چاہے وہ اس کا ذاتی ہی کیوں نہ ہو) کسی کو نہیں دے سکتی۔

اس حدیث میں یہی اصول عملاً بروئے کار لایا گیا ہے۔

خیرہ (کعب بن مالک کی بیوی) اپنے زیورات (جو کہ ان کا ذاتی مال تھا) نبی ﷺ کے پاس صدقہ کرنے لائیں۔

نبی ﷺ نے فوراً پوچھا کہ کیا شوہر نے اجازت دی ہے؟

جب انہوں نے کہا کہ جی ہاں، تو آپ ﷺ نے خود شوہر سے تصدیق کی اور پھر قبول کیا۔


2. نبی ﷺ کا احتیاط اور انصاف (تحقیق کرنا)

اس حدیث میں نبی ﷺ کا ایک بہت اہم طرزِ عمل ہے:

آپ ﷺ نے صرف خیرہ کے قول (کہ میں نے اجازت لے لی) پر اکتفا نہیں کیا، بلکہ خود شوہر (کعب) کو بلا کر یا پیغام بھیج کر تصدیق فرمائی۔

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مالی معاملات میں تحقیق اور تصدیق ضروری ہے، اور صرف دعویٰ کافی نہیں۔

یہ قاضیوں اور فیصلہ کرنے والوں کے لیے ایک عظیم سبق ہے کہ وہ کسی کا ایک طرفہ بیان سن کر فیصلہ نہ کریں، بلکہ دونوں فریقین کی بات سنیں اور ثبوت طلب کریں۔


3. شوہر کے حق کا عملی احترام اور بیوی کا شعور

خیرہ رضی اللہ عنہا ایک صحابیہ تھیں اور انہوں نے خود بخود نبی ﷺ کے پاس آنے سے پہلے اپنے شوہر کعب سے اجازت لے لی تھی۔

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابیات کو دینی احکام کا مکمل شعور تھا اور وہ شوہر کے حقوق کو ہلکا نہیں سمجھتی تھیں، چاہے وہ ان کا ذاتی مال ہی کیوں نہ ہو۔

اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ بیوی کو چاہیے کہ وہ اپنے شوہر کی اجازت کے بغیر (خواہ اپنے مال میں) کوئی بڑا مالی تصرف نہ کرے، کیونکہ اس میں گھریلو نظام اور شوہر کی رضایت دونوں شامل ہیں۔


4. عورت کے ذاتی مال اور اس کے تصرف میں شوہر کی اجازت کی حکمت

اس حدیث سے یہ واضح ہوتا ہے کہ یہ حکم صرف شوہر کے مال تک محدود نہیں، بلکہ عورت کے ذاتی مال (جیسے زیورات، وراثت، مہر) تک بھی پھیلا ہوا ہے، جب تک وہ شادی شدہ ہے۔

اس کی حکمت یہ ہے کہ شوہر کو اپنے گھر کے مجموعی مالی حالات کا علم ہو اور بیوی کا کوئی اچانک فیصلہ گھر کے معاشی توازن کو متاثر نہ کرے۔

تاہم، اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ شوہر بیوی کے مال کا مالک ہے۔ وہ صرف "تصرف" (دوسروں کو دینے یا عطیہ کرنے) کی نگرانی کا حق رکھتا ہے، استعمال اور استفادہ کا نہیں۔


5. شوہر کی طرف سے اجازت ملنے پر صدقہ کی قبولیت

نبی ﷺ نے جب تصدیق کر لی کہ کعب نے واقعی اجازت دی ہے، تو آپ ﷺ نے وہ زیورات خیرہ سے قبول کر لیے۔

اس سے معلوم ہوا کہ شوہر کی اجازت کے بعد بیوی کا اپنے مال میں صدقہ کرنا نہ صرف جائز ہے، بلکہ باعثِ اجر ہے۔

یہ پچھلی حدیثوں (اسماء رضی اللہ عنہا والی) سے ہم آہنگ ہے کہ اگر شوہر معروف اور راضی ہو تو اجازت ہے، اور یہاں تو شوہر نے صریحاً اجازت دی تھی۔


6. "خیرہ" اور "کعب بن مالک" کا پس منظر (سیرت کا ایک سبق)

کعب بن مالک رضی اللہ عنہ وہ مشہور صحابی ہیں جنہیں غزوہ تبوک میں پیچھے رہ جانے کی وجہ سے (توبہ قبول ہونے سے پہلے) آزمائش کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

لیکن اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ بعد میں نہ صرف ایک نیک اور مجاہد صحابی تھے، بلکہ اپنے گھریلو حقوق (بیوی کے مالی معاملات) کا بھی بہت خیال رکھتے تھے۔ انہوں نے نبی ﷺ کے سامنے بھی صاف جواب دیا کہ اجازت دی تھی۔ اس سے ان کی دیانتداری اور شفافیت کا پتہ چلتا ہے۔


7. صدقہ اور عطیہ کی شرعی حیثیت کا تحفظ

اس حدیث سے ایک اہم اصول نکلتا ہے: صدقہ یا کوئی عطیہ اس وقت مقبول ہوتا ہے جب وہ شرعی طور پر جائز طریقے سے دیا گیا ہو۔

اگر بیوی بغیر اجازت اپنا مال صدقہ کرتی ہے تو وہ صدقہ شرعاً نافذ نہیں ہوگا (یعنی اس پر اجر نہیں اور وہ مال واپس لینا پڑ سکتا ہے)۔

لیکن اگر شوہر نے اجازت دی ہے تو وہ صدقہ جائز اور مقبول ہے، اور اللہ تعالیٰ اسے قبول فرماتا ہے۔


8. شوہر کی اجازت کا "مطلق" اور "مقید" تصور

پچھلی حدیثوں میں کچھ گنجائش تھی (اسماء کی حدیث) کہ اگر شوہر معروف ہو تو بغیر صریح اجازت بھی معمولی صدقہ جائز ہے۔

لیکن اس حدیث میں نبی ﷺ نے صریح اجازت کو ضروری قرار دیا، اور خود اس کی تصدیق کی۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ احتیاطاً ہمیشہ صریح اجازت لینا بہتر ہے، خاص طور پر جب مال قیمتی ہو (جیسے یہاں زیورات تھے)۔ معمولی اشیاء میں گنجائش ہو سکتی ہے، لیکن بڑے اہم معاملات میں صریح اجازت لینا ضروری ہے۔


9. عورت کی نیت اور عمل دونوں کی اہمیت

خیرہ رضی اللہ عنہا کی نیت (صدقہ کرنا) بہت اچھی تھی، اور نبی ﷺ نے اسے سراہا بھی، لیکن آپ ﷺ نے اس نیت کو اس وقت تک قبول نہیں کیا جب تک شوہر کی رضایت نہیں تھی۔

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نیت کی نیکی کے ساتھ ساتھ شرعی راہ و رسم کا لحاظ رکھنا بھی ضروری ہے۔ بغیر شرعی اصولوں کے نیکی بھی نیکی نہیں رہتی۔


10. ازدواجی تعلقات میں باہمی مشاورت اور اعتماد کا فروغ

اس واقعے سے میاں بیوی کے باہمی تعلقات کو ایک خوبصورت پیغام ملتا ہے:

بیوی نے شوہر سے مشورہ کیا اور اجازت لی (جس سے شوہر کو عزت ملی)۔

شوہر نے اجازت دی (جس سے بیوی کی نیک خواہش پوری ہوئی)۔

نبی ﷺ نے دونوں کے درمیان شفافیت کی تصدیق کی۔

یہی وہ اسلامی نظام ہے جو خاندان میں محبت، اعتماد اور احترام کو فروغ دیتا ہے۔


واللہ أعلم بالصواب






: کیا (١) سے (٥) تک تمام حوالہ جات کا احاطہ کیا گیا ہے؟ جی ہاں۔ کیا ترجمہ درست اور روانی ہے؟ جی ہاں۔ کیا اسباق واضح ہیں؟ جی ہاں، خاص طور پر یہ کہ اس نے اجازت کے بغیر کیا اور آپ ﷺ نے اسے قبول کیا (جس سے ثابت ہوتا ہے کہ بیوی اپنے مال کی مالک ہے، البتہ پچھلی احادیث میں شوہر کی اجازت شوہر کے حق اور گھریلو نظام کے لیے ہے، لیکن میمونہ کا عمل نافذ تھا کیونکہ وہ عقلمند تھیں، لیکن بہتر تھا کہ رشتہ داروں کو دیتیں)۔ سب تیار ہے۔


عنوان: شوہر کی اجازت کے بغیر عورت کا اپنے مال میں تصرف (غلام آزاد کرنا اور صلہ رحمی کی ترجیح)

عبارت کا مکمل اردو ترجمہ (حوالہ نمبرز کے ساتھ)

ام المؤمنین حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا (نبی کریم ﷺ کی زوجہ محترمہ) بیان کرتی ہیں:


"میرے پاس ایک باندی تھی، میں نے اسے آزاد کر دیا (1)۔


اور میں نے (اس بارے میں) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت نہیں لی تھی۔


پھر جب میرا وہ دن آیا (جس دن آپ ﷺ میری باری پر تشریف لاتے تھے)، تو میں نے عرض کیا:


'یا رسول اللہ! کیا آپ کو معلوم ہے کہ میں نے اپنی باندی کو آزاد کر دیا ہے؟'


آپ ﷺ نے فرمایا: 'کیا تم نے (واقعی) ایسا کر لیا؟'


میں نے کہا: 'جی ہاں۔' (2)


آپ ﷺ نے فرمایا: 'اللہ تمہیں اجر دے' (3)۔


'سنو! اگر تم اسے (آزاد کرنے کی بجائے) اپنے ماموں (خالہ زاد بھائیوں / رشتہ داروں) کو دے دیتیں تو تمہارا اجر زیادہ ہوتا۔' (4)"


حوالہ جات:

1. سنن ابی داود:1690، صحیح مسلم:999

2. صحیح البخاری:2452

3. سنن ابی داود:1690، مسند أحمد:26860، سنن النسائی:4932

4. صحیح البخاری:2452، صحیح مسلم:999، سنن ابی داود:1690، مسند أحمد:26865

5. یہ حاشیہ دراصل خود متن کا حصہ نہیں، بلکہ امام ابن حجر عسقلانی کی فتح الباری (شرح بخاری) میں ابن بطال کا ایک علمی تبصرہ ہے، جسے مصنف نے شامل کیا ہے۔ اس کی مکمل تشریح درج ذیل ہے:

ابن بطال (رحمہ اللہ) کہتے ہیں:

"اس حدیث میں یہ بات ہے کہ رشتہ داروں کو ہبہ (عطیہ / تحفہ) کرنا غلام آزاد کرنے سے افضل ہے۔

اور اس کی تائید اس حدیث سے ہوتی ہے جو ترمذی، نسائی اور احمد نے روایت کی ہے، اور ابن خزیمہ اور ابن حبان نے اسے صحیح قرار دیا ہے، وہ حضرت سلمان بن عامر ضبی رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا:

'مسکین پر صدقہ کرنا صدقہ ہے، اور رشتہ دار پر صدقہ کرنا صدقہ بھی ہے اور صلہ رحمی بھی ہے۔'

لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ رشتہ دار کو دینا ہر حال میں (ہر طرح کے مسکین پر) افضل ہے، کیونکہ ممکن ہے کہ مسکین زیادہ محتاج ہو اور اسے اس کا زیادہ فائدہ پہنچ رہا ہو، جبکہ دوسرا (رشتہ دار) اس کے برعکس ہو (یعنی کم محتاج ہو)۔

اور نسائی کی روایت میں (اس حدیث کا یہ اضافہ) ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا:

'کیا تم اسے (باندی کو) اپنی بھتیجی کو نہ دیتیں جو بکریاں چراتی ہے (تاکہ وہ اس کی خدمت کرے)؟'

اس سے اس ترجیح (افضلیت) کی وجہ واضح ہو جاتی ہے، اور وہ یہ ہے کہ ان کے رشتہ داروں کو (خدمت گزار کی) ضرورت تھی۔

اور حق یہ ہے کہ یہ (فیصلہ کہ کون افضل ہے) حالات کے لحاظ سے مختلف ہوتا ہے، جیسا کہ میں نے (پہلے) بیان کیا ہے۔

اور اس حدیث (میمونہ) کے اس باب (عورت کے اپنے مال میں تصرف) میں داخل ہونے کا طریقہ یہ ہے کہ:

وہ (میمونہ رضی اللہ عنہا) عقلمند (راشدہ) تھیں، اور انہوں نے نبی ﷺ سے پوچھے بغیر (باندی) آزاد کر دی، تو آپ ﷺ نے اس عمل کو (باطل کر کے) واپس نہیں لیا، بلکہ انہیں اس چیز کی طرف رہنمائی فرمائی جو زیادہ بہتر (اور افضل) ہے۔

اگر (ایسی) عورت کا اپنے مال میں تصرف نافذ نہ ہوتا تو آپ ﷺ ضرور اسے باطل کر دیتے۔

اور اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے۔"

(فتح الباری - ج ٨ / ص ٧٨)

[الجامع الصحيح للسنن والمسانيد:964451926 (ج11 / ص24)]


حاصل شدہ اسباق و نکات

1. عورت کا اپنے مال میں تصرف نافذ ہے (شوہر کی اجازت کے بغیر بھی – ایک اہم استثناء)

پچھلی احادیث میں ہم نے دیکھا کہ شوہر کی اجازت کے بغیر (خواہ عورت کے اپنے مال میں) بڑا تصرف جائز نہیں۔

لیکن اس حدیث میں ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا نے نبی ﷺ سے پوچھے بغیر اپنی باندی آزاد کی، اور آپ ﷺ نے اسے نہ صرف باطل کیا، بلکہ انہیں اجر کی دعا دی اور صرف بہتر راستہ بتایا (مگر عمل کو جائز قرار دیا)۔

اس کا مطلب کیا ہے؟

اس حدیث سے فقہاء نے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ کچھ صورتوں میں عورت اپنے مال میں بغیر شوہر کی اجازت کے بھی تصرف کر سکتی ہے، خاص طور پر جب:

وہ خود عاقلہ اور رشیدہ (سمجھدار اور بالغ) ہو۔

اور اس کا تصرف معروف اور نقصان دہ نہ ہو۔

یہاں میمونہ رضی اللہ عنہا ازواج مطہرات میں سے ہیں، اور ان کا شوہر خود نبی ﷺ تھے (جن کا حق سب سے زیادہ ہے)، پھر بھی آپ ﷺ نے ان کا تصرف قبول کیا۔

اس لیے پچھلی احادیث (جو سخت تھیں) کا اطلاق ایسی صورتوں پر ہے جہاں شوہر نے صریحاً منع کیا ہو یا جہاں تصرف گھر کے نظام کو نقصان پہنچاتا ہو۔


2. غلام آزاد کرنا باعثِ اجر ہے

میمونہ رضی اللہ عنہا نے ایک باندی آزاد کی، اور نبی ﷺ نے انہیں اجر کی دعا دی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ:

غلام / باندی آزاد کرنا (عتق) ایک عظیم نیکی اور باعثِ اجر ہے۔

یہ عمل انسان کو جہنم سے بچاتا ہے (جیسا کہ دوسری احادیث میں ہے)۔


3. صلہ رحمی (رشتہ داروں کو دینا) صدقے سے بھی افضل ہو سکتا ہے

نبی ﷺ نے میمونہ رضی اللہ عنہا کو مشورہ دیا کہ اگر وہ یہ باندی اپنے ماموں (خالہ زاد بھائیوں یا رشتہ داروں) کو دے دیتیں تو اجر زیادہ ہوتا۔

وجہ:

رشتہ دار کو دینے میں دو نیکیاں ہیں: صدقہ اور صلہ رحمی۔

جبکہ غیر رشتہ دار (مسکین) کو دینے میں صرف صدقہ کی نیکی ہے (اگرچہ وہ بھی بہت بڑی ہے)۔

لیکن یہ ہمیشہ کے لیے کوئی مطلق اصول نہیں، جیسا کہ ابن بطال نے وضاحت کی:

اگر مسکین شدید محتاج ہو اور رشتہ دار غنی ہو، تو مسکین کو دینا افضل ہو گا۔

اس لیے فیصلہ حالات کے مطابق کیا جائے گا۔


4. نبی ﷺ کا شفیقانہ اور حکیمانہ انداز (باطل کرنے کی بجائے بہتر راستہ بتانا)

میمونہ رضی اللہ عنہا نے بغیر اجازت کام کر لیا تھا (جس کی پچھلی روایات کے مطابق گنجائش نہیں تھی)۔

لیکن آپ ﷺ نے:

انہیں سرزنش نہیں کی۔

ان کے عمل کو باطل نہیں کیا۔

بلکہ دعا دی (اجر کی) اور بہتر راستہ (رشتہ داروں کو دینا) بتایا۔

یہ اس بات کی دلیل ہے کہ شریعت میں احکام کی سختی اور نرمی دونوں ہیں، اور نبی ﷺ ہمیشہ لوگوں کو ان کی استطاعت اور حالات کے مطابق رہنمائی فرماتے تھے۔


5. اس حدیث سے عورت کی "رشد" (عقلی صلاحیت) کا ثبوت

ابن بطال نے واضح کیا کہ "وہ رشیدہ تھیں" ۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ اسلام میں عورت کو، اگر وہ بالغ اور عقلمند ہے، تو اسے اپنے مال میں تصرف کا اختیار حاصل ہے، اور اس کا کوئی بھی معاملہ (جو اس کی عقل کے مطابق ہو) نافذ العمل ہے۔


6. پچھلی احادیث کے ساتھ تطبیق (اجازت کا مسئلہ)

پچھلی احادیث میں شوہر کی اجازت کو بنیادی اصول کے طور پر پیش کیا گیا تھا (خاص طور پر جب شوہر نے منع کیا ہو یا تصرف گھر کو نقصان پہنچاتا ہو)۔

اس حدیث میں ایک استثناء یا توسیع ہے کہ اگر عورت رشیدہ ہے اور اس کا تصرف معروف ہے (جیسے غلام آزاد کرنا، جو کہ ایک نیکی ہے اور گھر کو نقصان دہ نہیں)، تو وہ بغیر صریح اجازت بھی کر سکتی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ ابن حجر اس حدیث کو اس باب میں شامل کرتے ہیں کہ "عورت کا اپنے مال میں تصرف نافذ ہے" ۔


7. رشتہ داروں کی خدمت اور ان کی ضروریات کا خیال

نسائی کی روایت میں اضافہ ہے: "کیا تم اسے اپنی بھتیجی کو نہ دیتیں جو بکریاں چراتی ہے؟"

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ:

رشتہ داروں کو عملی ضروریات (جیسے خدمت گزار کی کمی) کے پیشِ نظر ان کی مدد کرنا بہت بڑی نیکی ہے۔

صدقہ صرف مسکینوں تک محدود نہیں، بلکہ رشتہ داروں کی ضروریات پوری کرنا بھی صدقہ اور صلہ رحمی دونوں ہے۔


8. اجر کی کمی و بیشی کا دارومدار نیت اور ضرورت پر ہے

نبی ﷺ نے فرمایا کہ رشتہ دار کو دینے کا اجر "أَعْظَم" (زیادہ) ہے، مگر یہ ہمیشہ کے لیے نہیں۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ:

نیت (صلہ رحمی کی نیت) اجر کو بڑھاتی ہے۔

ضرورت (محتاج رشتہ دار) اسے مزید بڑھاتی ہے۔

اس لیے مسلمان کو چاہیے کہ وہ ہر معاملے میں بہترین اور زیادہ فائدہ مند راستہ اختیار کرے۔


9. نبی ﷺ کا ازواج مطہرات کے ساتھ نرم رویہ

یہ واقعہ ازواج مطہرات میں سے ایک کے ساتھ پیش آیا، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی ﷺ اپنی بیویوں کے ساتھ سخت گیر نہیں تھے، بلکہ انہیں ان کی عقل اور فیصلوں پر چھوڑ دیتے تھے، اور صرف رہنمائی فرماتے تھے۔

یہ شوہروں کے لیے ایک عظیم سبق ہے کہ وہ بیویوں کو ان کے جائز فیصلوں میں (خاص طور پر نیکی کے کاموں میں) روکیں نہیں، بلکہ حوصلہ افزائی کریں۔


10. اگر کوئی چیز باطل ہوتی تو نبی ﷺ اسے باطل کر دیتے

ابن بطال کا یہ اصولی نکتہ نہایت اہم ہے: "اگر ان کا تصرف باطل ہوتا تو نبی ﷺ ضرور اسے باطل کر دیتے۔"

چونکہ آپ ﷺ نے اسے باطل نہیں کیا، اس لیے یہ ثابت ہوا کہ ایسی صورت میں عورت کا تصرف نافذ اور درست ہے۔

اس لیے پچھلی احادیث میں جو پابندیاں تھیں، وہ ممانعت (تحریم) کی بجائہ تنزیہی (بہتر اور زیادہ پسندیدہ راستہ) یا شوہر کے حق کی ادائیگی کی طرف اشارہ تھیں، نہ کہ مطلق بطلان کی طرف۔


واللہ أعلم بالصواب








عنوان: شوہر کے حقوق میں سے: شوہر کی ناپسندیدہ شخص کو گھر میں داخل نہ کرنا (حجۃ الوداع کا جامع خطبہ)

قَالَ جَابِرٌ رضي الله عنه: (" فَخَطَبَ النَّاسَ وَقَالَ: إِنَّ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ حَرَامٌ عَلَيْكُمْ , كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا , فِي شَهْرِكُمْ هَذَا , فِي بَلَدِكُمْ هَذَا) (١) (أَلَا وَاسْتَوْصُوا بِالنِّسَاءِ خَيْرًا , فَإِنَّمَا هُنَّ عَوَانٍ عِنْدَكُمْ (٢)) (٣) (فَاتَّقُوا اللهَ فِي النِّسَاءِ , فَإِنَّكُمْ أَخَذْتُمُوهُنَّ بِأَمَانِ اللهِ , وَاسْتَحْلَلْتُمْ فُرُوجَهُنَّ بِكَلِمَةِ اللهِ (٤)) (٥) (لَيْسَ تَمْلِكُونَ مِنْهُنَّ شَيْئًا غَيْرَ ذَلِكَ , إِلَّا أَنْ يَأتِينَ بِفَاحِشَةٍ مُبَيِّنَةٍ) (٦) (أَلَا إِنَّ لَكُمْ عَلَى نِسَائِكُمْ حَقًّا , وَلِنِسَائِكُمْ عَلَيْكُمْ حَقًّا , فَأَمَّا حَقُّكُمْ عَلَى نِسَائِكُمْ: فلَا يُوطِئْنَ فُرُشَكُمْ) (٧) (أَحَدًا تَكْرَهُونَهُ) (٨) (وَلَا يَأذَنَّ فِي بُيُوتِكُمْ لِمَنْ تَكْرَهُونَ (٩)) (١٠) (فَإِنْ فَعَلْنَ ذَلِكَ) (١١) (فَاهْجُرُوهُنَّ فِي الْمَضَاجِعِ , وَاضْرِبُوهُنَّ ضَرْبًا غَيْرَ مُبَرِّحٍ (١٢) فَإِنْ أَطَعْنَكُمْ فلَا تَبْغُوا عَلَيْهِنَّ سَبِيلًا) (١٣) (وَلَهُنَّ عَلَيْكُمْ: رِزْقُهُنَّ , وَكِسْوَتُهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ) (١٤) وفي رواية: (أَلَا وَحَقُّهُنَّ عَلَيْكُمْ: أَنْ تُحْسِنُوا إِلَيْهِنَّ فِي كِسْوَتِهِنَّ وَطَعَامِهِنَّ ") (١٥)

ترجمہ:

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نبی کریم ﷺ کے حج (حجۃ الوداع) کی صفت بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں:

"پھر آپ ﷺ نے لوگوں کو خطبہ دیا اور فرمایا:

'بیشک تمہارے خون اور تمہارے مال تم پر اسی طرح حرام ہیں جیسے اس دن کی حرمت، اس مہینے کی حرمت، اور اس شہر (مکہ) کی حرمت ہے (1)۔'

'آگاہ رہو! عورتوں کے ساتھ بھلائی کی وصیت کرو، کیونکہ وہ تمہارے پاس قیدی (عوان) ہیں (2) (3)۔'

'پس اللہ سے عورتوں کے بارے میں ڈرو، کیونکہ تم نے انہیں اللہ کی امان (ذمہ داری) کے ساتھ لیا ہے، اور اللہ کے کلمہ (حکم) سے ان کی شرمگاہوں کو حلال کیا ہے (4) (5)۔'

'تم ان سے (ان کے اوپر) اس (شرمگاہ کی حلالی) کے علاوہ کسی چیز کے مالک نہیں، مگر یہ کہ وہ کھلی ہوئی فاحشہ (بدکاری / نافرمانی) کا ارتکاب کریں (6)۔'

'آگاہ رہو! بے شک تمہارے لیے تمہاری عورتوں پر حق ہے، اور تمہاری عورتوں کے لیے تم پر حق ہے۔

پس تمہارا حق تمہاری عورتوں پر یہ ہے:

کہ وہ تمہارے بستروں پر کسی ایسے شخص کو (نہ بیٹھنے دیں) نہ بٹھائیں جسے تم ناپسند کرتے ہو (7) (8)،

اور نہ وہ تمہارے گھروں میں کسی ایسے شخص کو اجازت دیں جسے تم ناپسند کرتے ہو (9) (10)۔'

'پس اگر وہ (بیویاں) ایسا کریں (11) (یعنی نافرمانی کریں) تو انہیں بستروں میں علیحدہ کرو (ہجر کرو) اور انہیں ایسی مار مارو جو سخت اور تکلیف دہ نہ ہو (12)۔

'پھر اگر وہ تمہاری اطاعت کریں تو ان پر زیادتی کا کوئی راستہ نہ ڈھونڈو (13)۔'

'اور ان کا تم پر حق یہ ہے کہ انہیں مناسب طریقے سے رزق (خوراک) اور کپڑا دو (14)۔'

اور ایک روایت میں ہے:

'آگاہ رہو! ان کا تم پر حق یہ ہے کہ تم ان کے ساتھ ان کے کپڑے اور کھانے میں احسان کرو (15)۔'"


حوالہ جات:

1 صحیح مسلم:1218، سنن ابی داود:1905، سنن ابن ماجہ:1905

2 (لغوی تشریح) "عوان" کا معنی ہے: قیدی، گرفتار، یا زیرِ دست۔ یعنی شادی کے بعد عورت شوہر کے زیرِ نگرانی اور ذمہ داری میں آ جاتی ہے، اس لیے اس کے ساتھ نرمی اور احسان کا معاملہ کیا جائے۔

3 جامع الترمذی:1163

4 (لغوی وشرعی تشریح) امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "وَاسْتَحْلَلْتُمْ فُرُوجَهُنَّ بِكَلِمَةِ اللهِ" سے مراد اللہ تعالیٰ کی اجازت ہے، اور "کلمہ" سے مراد اللہ کا یہ فرمان ہے: {فَانْكِحُوا مَا طَابَ لَكُمْ مِنَ النِّسَاءِ} (النساء: ٣) یعنی نکاح کے ذریعے ان کی شرمگاہیں تم پر حلال ہوئی ہیں۔(شرح النووی علی مسلم:ج ٤ / ص ٣١٢)

5 صحیح مسلم:1218، سنن ابی داود:1905، سنن ابن ماجہ:3074

6 جامع الترمذی:1163

7 جامع الترمذی:3087، صحیح مسلم:1218، سنن ابی داود:1905

8 صحیح مسلم:1218، سنن ابی داود:1905، سنن ابن ماجہ:3074

9 (فقہی تشریح) امام نووی رحمہ اللہ کی مفصل تشریح: "اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ (بیویاں) تمہارے گھروں میں کسی ایسے شخص کو داخل ہونے کی اجازت نہ دیں جسے تم ناپسند کرتے ہو، خواہ وہ شخص کوئی اجنبی مرد ہو، عورت ہو، یا بیوی کا کوئی محرم (باپ، بھائی وغیرہ) ہی ہو – یہ حکم سب کو شامل ہے۔ فقہاء کے نزدیک بیوی کے لیے حلال نہیں کہ وہ کسی مرد، عورت، محرم، یا غیر محرم کو شوہر کے گھر میں داخل ہونے کی اجازت دے، مگر جس کے بارے میں اسے معلوم یا گمان ہو کہ شوہر اسے ناپسند نہیں کرتا۔ کیونکہ اصل اصول یہ ہے کہ کسی انسان کے گھر میں داخل ہونا حرام ہے جب تک اس کی اجازت نہ ہو، یا اس کی طرف سے کسی کو اجازت دینے کا اختیار نہ دیا گیا ہو، یا عرف کے مطابق اس کی رضایت معلوم ہو۔ اور جب رضایت میں شک ہو اور کوئی قرینہ نہ ہو تو داخلہ اور اجازت دینا دونوں ناجائز ہیں۔ واللہ أعلم۔"(شرح النووی علی مسلم:ج ٤ / ص ٣١٢)

10 جامع الترمذی:1163

11 صحیح مسلم:1218، سنن ابی داود:1905

12 (لغوی تشریح) "الضَّرْب الْمُبَرِّح" سے مراد سخت اور تکلیف دہ مار ہے۔ اس لیے "غَيْرَ مُبَرِّحٍ" کا معنی ہے: ایسی مار جو شدید اور مشقت والی نہ ہو، یعنی معمولی تعزیری مار جو ہڈی نہ توڑے، زخم نہ کرے، اور چہرے پر نہ ہو۔(شرح النووی علی مسلم: ج ٤ / ص ٣١٢)

13 جامع الترمذی:1163،صحیح مسلم:1218، سنن ابی داود:1905

14 صحیح مسلم:1218، سنن ابی داود:1905، سنن ابن ماجہ:3074

15 جامع الترمذی:1163، سنن ابن ماجہ:1851

[الجامع الصحيح للسنن والمسانيد:964451926 (ج11 / ص25)]


حاصل شدہ اسباق و نکات

1. حرمتِ خون، مال اور عزت (اسلام کا بنیادی اصول)

اس خطبے کا آغاز خون، مال اور عزت کی حرمت کے اعلان سے ہوتا ہے، جو اسلام کے سب سے بنیادی اور اہم اصولوں میں سے ہے۔ یہ اعلان حجۃ الوداع کے موقع پر کیا گیا تاکہ امت کو ہمیشہ یاد رہے کہ ایک مسلمان کا خون اور مال دوسرے مسلمان پر حرام ہے۔


2. عورتوں کے ساتھ حسنِ سلوک کی تاکید (وصیت بالنساء)

نبی ﷺ نے عورتوں کو "عوان" (قیدی / زیرِ دست) قرار دے کر ان کے ساتھ نرمی اور احسان کا حکم دیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ عورت اگرچہ شوہر کی ذمہ داری میں ہے، لیکن اسے جبر و استحصال کا نشانہ نہ بنایا جائے، بلکہ اس کے ساتھ اچھا برتاؤ کیا جائے۔


3. شوہر کا حق: بیوی شوہر کی ناپسندیدہ شخص کو گھر اور بستر پر نہ لائے (مرکزی نکتہ)

حدیث کا عنوانی نکتہ یہ ہے کہ بیوی کو شوہر کی اجازت کے بغیر کسی ایسے شخص کو گھر میں داخل نہیں کرنا چاہیے جسے شوہر ناپسند کرتا ہے۔

اس میں بستر (جس کا تعلق مباشرت اور رازداری سے ہے) اور گھر (جس کا تعلق عمومی گھریلو نظام اور عزت سے ہے) دونوں شامل ہیں۔

یہ حکم صرف اجنبی مردوں تک محدود نہیں، بلکہ امام نووی کے مطابق عورتوں، محارم (باپ، بھائی) اور دیگر تمام افراد کو شامل ہے۔

اگر بیوی کو گمان ہو کہ شوہر کسی کو ناپسند کرتا ہے تو اسے اجازت دینا جائز نہیں، یہاں تک کہ وہ یقین کر لے کہ شوہر راضی ہے۔


4. بیوی کی نافرمانی پر تادیبی اقدامات (ہجر اور ضرب غیر مبرح)

اگر بیوی ان احکام کی خلاف ورزی کرے (یا کسی اور سنگین نافرمانی کا ارتکاب کرے) تو شوہر کو دو مرحلے اختیار کرنے کا حق دیا گیا ہے:

پہلا مرحلہ: بستروں میں علیحدگی (ہجر) – یعنی بیوی سے دوری اختیار کرنا، جو اسے اس کی غلطی کا احساس دلانے کا نفسیاتی طریقہ ہے۔

دوسرا مرحلہ: "ضَرْبًا غَيْرَ مُبَرِّحٍ" – یعنی ایسی معمولی تعزیری مار جو شدید نہ ہو، نہ ہڈی توڑے، نہ زخم کرے، اور نہ چہرے پر ہو۔ یہ تشدد نہیں، بلکہ ایک آخری تادیبی اقدام ہے۔


5. اطاعت کے بعد زیادتی سے منع

نبی ﷺ نے واضح فرما دیا کہ اگر بیوی اطاعت کر لے تو شوہر کو اس پر زیادتی کا کوئی راستہ نہیں ڈھونڈنا چاہیے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ شوہر اپنے اختیار کو ظلم اور جبر کا ذریعہ نہ بنائے۔

جب بیوی اپنے فرائض ادا کر رہی ہو تو شوہر کو اسے تکلیف دینے یا اس پر الزام تراشی کرنے کا کوئی حق نہیں۔


6. بیوی کے بنیادی حقوق (خوراک، کپڑا، اور احسان)

اس خطبے میں شوہر کو بیوی کے حقوق کا بھی واضح طور پر ذکر کیا گیا ہے:

رزق اور کپڑا (معروف طریقے سے) فراہم کرنا۔

احسان (یعنی اچھے اخلاق اور نرمی کے ساتھ معاملہ کرنا)۔

یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اسلام میں صرف بیوی پر ذمہ داریاں نہیں، بلکہ شوہر پر بھی بہت سارے حقوق اور فرائض عائد کیے گئے ہیں، اور ازدواجی نظام باہمی تعاون اور عدل پر مبنی ہے۔


7. نکاح کی بنیاد "اللہ کی امان" اور "اللہ کے کلمہ" پر ہے

نبی ﷺ نے نکاح کو "أَمَانِ اللهِ" (اللہ کی امان) اور "كَلِمَةِ اللهِ" (اللہ کے حکم) سے تعبیر کیا۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ نکاح محض ایک معاشرتی معاہدہ نہیں، بلکہ ایک الٰہی ذمہ داری اور عبادت ہے۔

شوہر کو بیوی کے ساتھ امانت داری اور عدل کا معاملہ کرنا چاہیے، کیونکہ اس نے اسے اللہ کی امان کے طور پر لیا ہے۔


8. "فَاحِشَةٍ مُبَيِّنَةٍ" سے کیا مراد؟

فقہاء نے اس سے مراد زنا، یا شوہر کی واضح نافرمانی، یا گھر میں برے لوگوں کو لانا جیسی سنگین بدکاریاں لی ہیں۔ اس کے علاوہ شوہر کو بیوی پر سختی کرنے کا کوئی حق نہیں۔


9. حجۃ الوداع کا خطبہ – دین کی تکمیل اور آخری نصیحت

یہ احکام حجۃ الوداع کے موقع پر دیے گئے، جو نبی ﷺ کا آخری حج اور آخری جامع خطبہ تھا۔ اس لیے ان تمام احکام کو دائمی اور حتمی سمجھا جائے گا۔ اس خطبے میں نبی ﷺ نے دین کے تمام ضروری پہلوؤں (توحید، حقوق العباد، خاندانی نظام، اور معاشرتی انصاف) کا احاطہ فرمایا۔


10. شوہر کے اختیارات کی حدود (عدل اور رحمت کا توازن)

اس حدیث سے واضح ہوتا ہے کہ شوہر کو اختیارات دیے گئے ہیں، مگر وہ مطلق نہیں ہیں:

اسے بیوی کو مارنے کا حق ہے، مگر "غیر مبرح" (سخت نہیں)۔

اسے بیوی سے علیحدگی کا حق ہے، مگر "فِراش" (بستر) تک محدود، اور مقصد تربیت ہے، تشدد نہیں۔

اسے گھر کا نظام چلانے کا حق ہے، مگر بیوی کو کھانا، کپڑا اور احسان دینا اس کی ذمہ داری ہے۔

یہی وہ متوازن نظام ہے جو اسلامی خاندان کو استحکام اور رحمت عطا کرتا ہے۔


11. گھر کی حرمت اور بیوی کی ذمہ داری

شوہر کی ناپسندیدہ شخص کو گھر میں نہ آنے دینا صرف شوہر کا حق نہیں، بلکہ یہ گھر کی حرمت اور خاندانی رازداری کے تحفظ کا بھی ذریعہ ہے۔ بیوی کو چاہیے کہ وہ گھر کی حدود کا خیال رکھے اور شوہر کی مرضی کے بغیر کسی کو گھر میں جگہ نہ دے۔


واللہ أعلم بالصواب







عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم: (" لَا يَحِلُّ لِلْمَرْأَةِ أَنْ تَصُومَ) (١) (يَوْمًا وَاحِدًا) (٢) (مِنْ غَيْرِ شَهْرِ رَمَضَانَ) (٣) (وَزَوْجُهَا حَاضِرٌ إِلَّا بِإِذْنِهِ) (٤) (وَلَا تَأذَنْ فِي بَيْتِهِ وَهُوَ شَاهِدٌ إِلَّا بِإِذْنِهِ ") (٥)

ترجمہ:

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

"کسی عورت کے لیے (نفلی) روزہ رکھنا جائز نہیں (1) (خواہ) ایک دن بھی (2)، رمضان کے مہینے کے علاوہ (3)، جب کہ اس کا شوہر موجود ہو، مگر اس کی اجازت سے (4)۔

اور نہ وہ اس کے گھر میں (کسی کو) اجازت دے جب کہ وہ (شوہر) موجود ہو، مگر اس کی اجازت سے (5)۔"


حوالہ جات:

1. صحیح البخاری:4899

2. مسند أحمد:9732، جامع الترمذی:782

3. جامع الترمذی:782، سنن أبی داود:2458، سنن ابن ماجہ:1761

4. مسند أحمد:9987، صحیح البخاری:4896، صحیح مسلم:1026، جامع الترمذی:782

5. صحیح مسلم:1026، صحیح البخاری:4899، سنن أبی داود:2458

[الجامع الصحيح للسنن والمسانيد:(ج11 / ص26)]







عنوان: شوہر کی طلب پر اس کی حاجت (جماع) کو پورا کرنا

عَنْ طَلْقِ بْنِ عَلِيٍّ رضي الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم: " إِذَا دَعَا الرَّجُلُ زَوْجَتَهُ لِحَاجَتِهِ , فَلْتَأتِهِ وَإِنْ كَانَتْ عَلَى التَّنُّورِ ".

ترجمہ:

حضرت طلق بن علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

"جب کوئی شخص (شوہر) اپنی بیوی کو اپنی حاجت (جماع / جنسی ضرورت) کے لیے بلائے، تو وہ (بیوی) اس کے پاس آئے، چاہے وہ اس وقت تنور (چولہا / روٹی پکانے کی جگہ) پر ہی کیوں نہ ہو۔"

[جامع الترمذی1160، سنن النسائی الکبریٰ:8971، صحیح ابن حبان:4165]

(صحیح الجامع:534، السلسلۃ الصحیحۃ:1202)


حاصل شدہ اسباق و نکات

1. شوہر کا جنسی حق انتہائی اہم اور مقدم ہے

اس حدیث میں شوہر کی جنسی ضرورت کو اس قدر ترجیح دی گئی ہے کہ بیوی کو کھانا پکانے جیسے انتہائی معمولی روزمرہ کے کام سے بھی ہٹ کر فوراً شوہر کی طلب کا جواب دینا چاہیے۔

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ازدواجی تعلقات میں شوہر کی اس ضرورت کو نظرانداز کرنا جائز نہیں۔

یہ شوہر کے ان حقوق میں سے ایک اہم حق ہے جس کا ذکر قرآن و حدیث میں بکثرت آیا ہے۔


2. "تنور" کا ذکر شدتِ ممانعت اور ترجیح کے لیے ہے

نبی ﷺ نے خصوصاً "تنور" کا ذکر اس لیے فرمایا کہ:

کھانا پکانا ایک ایسی بنیادی ضرورت ہے جسے کوئی بھی عورت معمول کے مطابق انجام دیتی ہے۔

اگر اس معمولی اور ضروری کام کی وجہ سے بھی بیوی کو شوہر کی طلب میں تاخیر کی اجازت نہیں، تو پھر دیگر غیر ضروری کاموں کی تو کیا بات ہے؟

یہ ایک مبالغہ آمیز اسلوب ہے جو شوہر کے اس حق کی انتہائی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔


3. بیوی کی ذمہ داری: فوری اور بلا تاخیر جواب دینا

بیوی پر لازم ہے کہ جب شوہر اسے جماع کے لیے بلائے تو وہ فوراً جواب دے، بشرطیکہ:

اس کے پاس کوئی شرعی عذر نہ ہو (جیسے حیض، نفاس، فرض روزہ، شدید بیماری، یا کوئی شرعی مجبوری)۔

اگر کوئی جائز عذر ہے تو اسے شوہر کو معذرت کے ساتھ بتا دینا چاہیے۔

ورنہ اس طلب کو ٹالنا نافرمانی اور گناہ ہے۔


4. شوہر کی اطاعت کا ایک اور پہلو

پچھلی احادیث میں ہم نے شوہر کی اطاعت کو نفلی عبادات (جیسے روزہ، صدقہ، گھر میں اجازت) پر ترجیح دیتے دیکھا۔

اس حدیث میں گھریلو مصروفیات (جیسے کھانا پکانا) کو بھی شوہر کی اس طلب پر ترجیح دینے سے منع کیا گیا ہے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ شوہر کی اطاعت کو ہر ممکن حد تک ہر صورت میں مقدم رکھا جائے، چاہے وہ عبادت ہو یا روزمرہ کا کام۔


5. ازدواجی تعلقات میں رغبت اور جذبات کا خیال

اس حدیث کا ایک اہم پیغام یہ بھی ہے کہ میاں بیوی کو ایک دوسرے کی جنسی ضروریات کو سنجیدگی سے لینا چاہیے اور اس میں بےرغبتی یا سردمہری کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہیے۔

یہ تعلق محض جسمانی نہیں، بلکہ جذباتی اور نفسیاتی سکون کا بھی ذریعہ ہے۔

بیوی کی فوری جواب دہی سے شوہر کو یقین ہوتا ہے کہ اس کی بیوی اس کی طرف مائل اور اس کے لیے حاضر ہے، جس سے محبت اور رشتہ مضبوط ہوتا ہے۔


6. اس حدیث کی صحت اور فقہی حیثیت

یہ حدیث جامع ترمذی، سنن نسائی (الکبریٰ)، اور صحیح ابن حبان میں موجود ہے۔

امام البانی رحمہ اللہ نے اسے "صحیح" قرار دیا ہے، اس لیے یہ قابلِ عمل اور شرعی طور پر معتبر ہے۔

فقہاء نے اس حدیث کو بیوی پر شوہر کے جنسی حق کے وجوب کے لیے بطورِ دلیل استعمال کیا ہے۔


7. استثناء: فرض روزہ، حیض، نفاس اور بیماری

جہاں تک فرض روزہ (رمضان کا روزہ) اور حیض و نفاس کا تعلق ہے، ان صورتوں میں بیوی پر جماع حرام ہے، اس لیے وہ معذور ہے اور اس پر کوئی گناہ نہیں۔

اسی طرح اگر بیوی شدید بیمار ہو اور جماع اس کی صحت کو نقصان پہنچائے، تو اسے معاف ہے، اور وہ شوہر کو معذرت کے ساتھ بتا سکتی ہے۔


8. شوہر کو بھی ہدایت: نرمی اور موقع کی رعایت

اگرچہ حدیث میں بیوی کی فوری جواب دہی کا حکم ہے، لیکن دوسری جگہ شوہر کو بھی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ بیوی کے جذبات اور حالات کا خیال رکھے اور مناسب وقت اور موقع کا انتخاب کرے۔

نبی ﷺ خود اپنی بیویوں کے ساتھ نرمی اور خندہ پیشانی سے پیش آتے تھے۔

شوہر کو اس حق کو استعمال کرتے ہوئے زیادتی اور بےرحمی سے بچنا چاہیے۔


9. عورت کی عزت اور اس کے جذبات کا تحفظ

اگرچہ حدیث بیوی کو حکم دیتی ہے کہ وہ شوہر کی طلب کو فوری قبول کرے، لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ بیوی کو اس موقع پر بےعزت کیا جائے یا اس کی خواہشات کو نظرانداز کیا جائے۔

شوہر کو چاہیے کہ وہ پیشگی تیاری، نرمی اور پیار سے معاملہ کرے۔

قرآن میں ہے: "وَعَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ" (النساء: ۱۹) یعنی عورتوں کے ساتھ اچھا برتاؤ کرو۔


10. گھریلو نظام میں توازن

اس حدیث کا مقصد عورت کو اس کے گھریلو فرائض سے لاپرواہ کرنا نہیں، بلکہ یہ بتانا ہے کہ شوہر کی جنسی طلب گھر کے دوسرے کاموں پر مقدم ہے۔

اگر بیوی تنور (چولہے) پر کھانا پکا رہی ہے، تو وہ اسے عارضی طور پر روک کر شوہر کی ضرورت پوری کر سکتی ہے، اور پھر واپس آ کر کھانا پکا سکتی ہے۔

یہ دونوں کام ایک ساتھ نہیں کر سکتی، لیکن ترجیح کا درجہ شوہر کی طلب کو دیا گیا ہے۔


واللہ أعلم بالصواب








عنوان: شوہر کی طلب پر اس کی حاجت (جماع) کو پورا کرنا (سفر اور ہر حالت میں)

عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ رضي الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم: " إِذَا دَعَا الرَّجُلُ اِمْرَأَتَهُ إِلَى فِرَاشِهِ , فَلْتُجِبْ وَإِنْ كَانَتْ عَلَى ظَهْرِ قَتَبٍ".

ترجمہ:

حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

"جب کوئی شخص (شوہر) اپنی بیوی کو اپنے بستر (جماع / مباشرت) کے لیے بلائے، تو وہ (بیوی) اسے جواب دے (فوراً حاضر ہو)، چاہے وہ اس وقت اونٹ کی پشت پر کجاوے (قتب) پر سوار ہی کیوں نہ ہو۔"

[مسند البزار:4317، صحیح الجامع:533، الصحیحۃ:1203]

تشریح:

1 (لغوی تشریح) "القَتَب" (قتب) سے مراد وہ چھوٹا کجاوہ یا زین ہے جو اونٹ کے کوہان (سنام) کے گرد لگایا جاتا ہے تاکہ سوار (خاص طور پر عورت) اس پر بیٹھ کر سفر کر سکے۔ یعنی یہ سفر کی انتہائی مصروف اور دشوار حالت کی علامت ہے۔

[الجامع الصحيح للسنن والمسانيد:(ج11 / ص29)]


حاصل شدہ اسباق و نکات

1. شوہر کا جنسی حق ہر حال میں مقدم ہے (گھر ہو یا سفر)

پچھلی حدیث (طلق بن علی والی) میں "تنور" (چولہا / گھر کا کام) کا ذکر تھا، جو گھر کے اندر مصروفیت کی علامت ہے۔

اس حدیث میں "قتب" (اونٹ کا کجاوہ / سفر کی حالت) کا ذکر ہے، جو سفر اور راستے کی مصروفیت کی علامت ہے۔

اس کا مطلب ہے کہ شوہر کا یہ حق ہر حالت میں مقدم ہے، چاہے بیوی گھر میں کھانا پکا رہی ہو یا سفر کے دوران اونٹ پر سوار ہو۔


2. "قتب" کا ذکر مصروفیت کی انتہا کو ظاہر کرنے کے لیے ہے

سفر میں اونٹ کی پشت پر سوار ہونا ایک انتہائی دشوار اور تکلیف دہ حالت ہوتی ہے (خاص طور پر عورت کے لیے)۔

نبی ﷺ نے اس مشکل حالت کا ذکر کر کے یہ واضح فرمایا کہ اگر اس مصروف اور مشکل حالت میں بھی بیوی کو شوہر کی طلب کا فوری جواب دینا ہے، تو گھر کی معمولی مصروفیات تو کیا چیز ہیں؟

یہ ایک مبالغہ آمیز اسلوب ہے جو اس حق کی شدت اور ترجیح کو اجاگر کرتا ہے۔


3. گھر اور سفر دونوں حالتوں میں ایک ہی حکم (تطبیق)

گھر میں: اگر بیوی کھانا پکا رہی ہے (تنور) تو اسے چھوڑ کر فوراً آنا ہے۔

سفر میں: اگر بیوی اونٹ پر سوار ہے (قتب) تو اسے اتر کر (یا موقع دے کر) فوراً جواب دینا ہے۔

اس کا مطلب ہے کہ یہ حکم جغرافیائی اور حالاتی حدود سے بالا تر ہے۔


4. بیوی کی ذمہ داری: بلا تاخیر اور بغیر عذر کے حاضر ہونا

بیوی پر لازم ہے کہ وہ شوہر کی اس طلب کو قبول کرے، بشرطیکہ:

وہ حیض، نفاس، یا فرض روزہ (رمضان) کی حالت میں نہ ہو (کیونکہ ان میں جماع حرام ہے)۔

وہ شدید بیماری میں مبتلا نہ ہو جو جماع کو اس کے لیے نقصان دہ بنائے۔

اس کے پاس کوئی اور شرعی مجبوری نہ ہو۔

اگر کوئی جائز عذر نہ ہو تو اس طلب کو ٹالنا نافرمانی اور گناہ ہے۔


5. اس حدیث سے شوہر کے حق کی وسعت کا اندازہ

پچھلی احادیث میں شوہر کا حق:

نفلی روزے پر مقدم ہے۔

شوہر کے مال میں تصرف کی اجازت سے مقدم ہے۔

گھر میں کسی کو آنے کی اجازت سے مقدم ہے۔

اس حدیث میں یہ حق گھر کے کام اور سفر کی مشقت دونوں پر مقدم ہے۔

یہ شوہر کے اس حق کو اسلامی نظامِ ازدواج میں ایک بہت بلند مقام عطا کرتا ہے۔


6. ازدواجی تعلقات میں جذباتی اور جسمانی ہم آہنگی

اس حکم کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ شوہر کی جنسی طلب کو نظرانداز کرنے سے:

شوہر کے دل میں بیوی کے لیے ناراضی اور بدگمانی پیدا ہو سکتی ہے۔

شوہر کو غیر قانونی راستوں کی طرف مائل ہونے کا خطرہ ہو سکتا ہے۔

اس لیے بیوی کا فوری جواب دینا نفسانی ضرورت کو پورا کرنے کے ساتھ ساتھ گھر کی اخلاقی حفاظت اور شوہر کی دلجوئی کا بھی ذریعہ ہے۔


7. شوہر کو بھی ہدایت: نرمی، رعایت اور مناسب وقت

اگرچہ بیوی کو فوری جواب دینے کا حکم ہے، لیکن شوہر کو بھی چاہیے کہ:

وہ بیوی کے جذبات، تھکان، اور جسمانی حالت کا خیال رکھے۔

وہ بےموقع اور بےرحمی سے مطالبہ نہ کرے۔

نبی ﷺ کا اسوہ یہی تھا کہ آپ اپنی بیویوں کے ساتھ بہترین اخلاق سے پیش آتے تھے۔

اس لیے شوہر کو اس حق کو ایک ذمہ داری اور رحمت کے طور پر استعمال کرنا چاہیے، نہ کہ جبر و استحصال کے لیے۔


8. عورت کی عزت اور اس کی خواہش کا خیال

اس حدیث کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ بیوی کو ایک مشین کی طرح سمجھا جائے۔

اگر بیوی کو بھی کوئی جسمانی یا جذباتی ضرورت ہو تو شوہر کو بھی اس کا خیال رکھنا چاہیے۔

قرآن میں ہے: "وَلَهُنَّ مِثْلُ الَّذِي عَلَيْهِنَّ بِالْمَعْرُوفِ" (البقرہ: ۲۲۸) یعنی عورتوں کے بھی ویسے ہی حقوق ہیں جیسے ان پر ذمہ داریاں ہیں۔

اس لیے یہ حکم یکطرفہ نہیں، بلکہ ایک مشترک نظام ہے جس میں دونوں کو ایک دوسرے کا خیال رکھنا ہے۔


9. پچھلی حدیث (طلق بن علی) سے تطبیق

طلق بن علی کی حدیث میں گھر کی مصروفیت (تنور) کا ذکر تھا، اور اس میں حکم تھا کہ بیوی فوراً آئے۔

زید بن ارقم کی حدیث میں سفر کی مصروفیت (قتب) کا ذکر ہے، اور اس میں بھی حکم ہے کہ فوراً جواب دے۔

دونوں کا مجموعہ یہ بتاتا ہے کہ یہ حق گھر اور سفر، دونوں حالتوں میں یکساں طور پر مقدم ہے۔


10. فقہاء کا موقف اور اس حدیث کی اہمیت

فقہاء کرام نے اس حدیث کو شوہر کے جنسی حق کے وجوب پر بطورِ دلیل استعمال کیا ہے۔

اس حدیث کی روشنی میں فقہاء کا کہنا ہے کہ اگر بیوی بغیر کسی شرعی عذر کے شوہر کی اس طلب کو رد کر دے تو وہ گناہ گار ہے، اور شوہر کو اس پر حق ہے کہ وہ اس کا مطالبہ کرے۔


11. اس حکم کا مقصد (مقاصد شریعت)

اس حکم کا مقصد صرف ایک قانونی پابندی نہیں، بلکہ:

خاندانی نظام کو مضبوط کرنا (باہمی محبت اور کشش کو برقرار رکھنا)۔

ایمان کی حفاظت کرنا (شوہر کو غیر قانونی راستوں سے بچانا)۔

نفسانی خواہشات کو جائز راستہ فراہم کرنا (جو اسلام کا ایک اہم مقصد ہے)۔

بیوی کو شوہر کے ساتھ جذباتی و جسمانی ہم آہنگی کا موقع دینا۔


واللہ أعلم بالصواب







عنوان: شوہر کی طلب پر نہ آنے کا وبال (فرشتوں کی لعنت)

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم: (" إِذَا دَعَا الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ إِلَى فِرَاشِهِ فَأَبَتْ أَنْ تَجِيءَ (١)) (٢) (فَبَاتَ غَضْبَانًا عَلَيْهَا، لَعَنْتْهَا الْمَلَائِكَةُ حَتَّى تُصْبِح (٣) ") (٤)

ترجمہ:

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

"جب کوئی شخص (شوہر) اپنی بیوی کو اپنے بستر (جماع / مباشرت) کے لیے بلائے، اور وہ (بیوی) آنے سے انکار کر دے (1) (2)، اور (شوہر) اس پر غضبناک (ناراض) حالت میں رات گزارے، تو فرشتے اس (بیوی) پر لعنت کرتے رہتے ہیں یہاں تک کہ صبح ہو جائے (3)۔" (4)


حوالہ جات:

1. (لغوی و شرعی تشریح) "أَبَتْ أَنْ تَجِيءَ" (آنے سے انکار کر دے) کی تشریح: "یعنی بغیر کسی شرعی عذر کے۔" اگر بیوی کے پاس کوئی جائز شرعی عذر ہو (جیسے حیض، نفاس، فرض روزہ، یا شدید بیماری)، تو اس پر لعنت نہیں آتی۔(عون المعبود: ج ٥ / ص ٢٦)

2. صحیح البخاری:4897، صحیح مسلم:1436

3. امام ابن حجر (فتح الباری) اور امام نووی رحمہما اللہ کی مفصل تشریح:

(الف) "الفراش" (بستر) سے مراد جماع ہے، اور یہ کنایہ (اشارہ) کا اسلوب ہے جو قرآن و سنت میں شرمگاہ کے معاملات کے لیے عام ہے۔

(ب) حدیث میں "حَتَّى تُصْبِح" (صبح ہونے تک) کا ذکر ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ لعنت خاص طور پر رات کے وقت انکار پر ہے، کیونکہ رات ہی وہ وقت ہے جب اس کی توقع زیادہ ہوتی ہے۔ اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ دن کے وقت انکار جائز ہے، بلکہ رات کو اس لیے خاص کیا گیا کہ وہ اس کا معمول کا وقت ہے۔

(ج) حیض (ماہواری) بھی انکار کا جائز عذر نہیں (مکمل جماع کے لیے تو ناجائز ہے، لیکن شوہر کا حق ہے کہ وہ اس سے "فوق الإزار" (ایزار/کپڑے کے اوپر) استمتاع (بوس و کنار اور دوسرے طریقوں سے لطف اندوزی) کر سکتا ہے۔ اس لیے بیوی حیض کی حالت میں بھی شوہر کو مکمل طور پر رد نہیں کر سکتی۔

(د) لعنت کا استمرار: لعنت اس وقت تک جاری رہتی ہے جب تک کہ فجر طلوع نہ ہو جائے (اور اس کے بعد وہ اس معصیت سے بےنیاز ہو جائے) یا جب تک کہ بیوی توبہ کر کے شوہر کے بستر پر واپس نہ آ جائے (اگر وہ اس دوران اپنے انکار پر پشیمان ہو کر راضی ہو جائے)۔(فتح الباری ج ١٤ / ص ٤٨٦، شرح النووی ج ٥ / ص ١٦٠)

4. صحیح البخاری:3065، صحیح مسلم:1436

[الجامع الصحيح للسنن والمسانيد:(ج11 / ص29)]



حاصل شدہ اسباق و نکات

1. شوہر کے جنسی حق کی سنگینی اور اسے رد کرنے کا وبال

پچھلی حدیثوں میں شوہر کے اس حق کو ترجیح (مقدم ہونے) کا درجہ دیا گیا تھا۔

اس حدیث میں اس حق کو رد کرنے کی سزا (فرشتوں کی لعنت) کا ذکر ہے۔

یہ اس بات کی دلیل ہے کہ یہ حق محض ایک معمولی معاملہ نہیں، بلکہ ایک سنگین شرعی ذمہ داری ہے جس کی خلاف ورزی پر اللہ کا غضب اور فرشتوں کی لعنت نازل ہوتی ہے۔


2. لعنت کا مفہوم اور اس کی شدت

"لَعَنْتْهَا الْمَلَائِكَةُ" (فرشتے اس پر لعنت کرتے ہیں) کا مطلب ہے:

فرشتے اسے اللہ کی رحمت سے دور کرنے کی دعا کرتے ہیں۔

یہ اس بات کی علامت ہے کہ ایسی بیوی اللہ اور فرشتوں کی نظر میں ناپسندیدہ ہے۔

یہ لعنت صبح تک جاری رہتی ہے، مگر اگر وہ اس دوران شوہر کی طرف لوٹ آئے اور اس کی خواہش پوری کر دے تو لعنت ختم ہو جاتی ہے۔


3. "بغیر شرعی عذر" کی شرط (انتہائی اہم)

جیسا کہ عون المعبود میں وضاحت ہے، یہ وعید (لعنت) صرف اس وقت ہے جب بیوی کسی شرعی عذر کے بغیر انکار کرے۔

شرعی عذر کیا ہیں؟

حیض اور نفاس (جماع حرام ہے، لیکن اس کے باوجود شوہر کا حق "فوق الإزار" استمتاع کا ہے، اس لیے مکمل انکار جائز نہیں)۔

فرض روزہ (رمضان کا روزہ، کیونکہ جماع روزہ توڑ دیتا ہے)۔

شدید بیماری جو جماع کو نقصان دہ بنائے۔

سفر کی مشقت (اگر بیوی انتہائی تھکا ہوا ہو اور اس کی صحت کو خطرہ ہو)۔

ان عذروں کے بغیر انکار کرنا گناہ ہے۔


4. "حیض" کو عذر نہ سمجھنے کی حکمت

امام نووی رحمہ اللہ نے وضاحت کی کہ حیض مکمل انکار کا عذر نہیں، کیونکہ:

شوہر کو جماع کے علاوہ بھی استمتاع (بوس و کنار، جسمانی لطف) کا حق حاصل ہے۔

اس لیے بیوی حیض کی حالت میں بھی شوہر کو مکمل طور پر رد نہیں کر سکتی۔

یہ ایک اہم فقہی نکتہ ہے جو اکثر لوگوں کو معلوم نہیں ہوتا۔


5. رات کا خاص طور پر ذکر (اس کی حکمت)

حدیث میں "فَبَاتَ" (رات گزارے) اور "حَتَّى تُصْبِح" (صبح ہونے تک) کا ذکر ہے۔

اس کی حکمت:

رات وہ وقت ہے جب شوہر کی جنسی خواہش زیادہ ہوتی ہے اور یہ ازدواجی تعلقات کا معمول کا وقت ہے۔

اس کا یہ مطلب نہیں کہ دن کے وقت انکار جائز ہے، بلکہ دن کا ذکر اس لیے نہیں کیا گیا کہ وہاں یہ توقع کم ہوتی ہے۔


6. توبہ اور رجوع کا راستہ (اللہ کی رحمت کی طرف اشارہ)

اس حدیث میں لعنت کا ذکر ہے، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ دروازہ بند ہے۔

اگر بیوی شوہر کی طرف لوٹ آئے (اس سے جماع کر لے) یا توبہ کر لے، تو لعنت ختم ہو جاتی ہے۔

یہ اللہ کی رحمت اور توبہ کی گنجائش کو ظاہر کرتا ہے کہ وہ ہر گناہ سے توبہ کی طرف لوٹنے والوں کو معاف کر دیتا ہے۔


7. شوہر کے غضب کا ذکر (اس کی نفسیاتی حالت)

حدیث میں "فَبَاتَ غَضْبَانًا" (غضبناک حالت میں رات گزارے) کا ذکر ہے۔

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ شوہر کا اس معاملے پر غصہ آنا فطری اور جائز ہے، اگر بیوی بلا عذر انکار کر دے۔

لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ شوہر کو تشدد یا زیادتی کا حق ہے۔ اس کا غصہ بھی جائز حدود میں ہونا چاہیے۔


8. خاندانی نظام میں اس حکم کی اہمیت

اس حکم کا مقصد:

شوہر کو حرام راستوں سے بچانا (اگر بیوی اس کی ضرورت پوری نہ کرے تو شوہر فتنے میں پڑ سکتا ہے)۔

گھر میں محبت اور کشش کو برقرار رکھنا۔

بیوی کو اس کی ذمہ داری کا احساس دلانا کہ وہ شوہر کی جائز خواہشات کو نظرانداز نہ کرے۔


9. پچھلی احادیث کے ساتھ تکمیل

طلق بن علی کی حدیث: شوہر کی طلب پر فوراً آنا (چاہے تنور پر ہو)۔

زید بن ارقم کی حدیث: شوہر کی طلب پر فوراً آنا (چاہے قتب / سفر پر ہو)۔

اس حدیث میں واضح کیا گیا کہ اگر ایسا نہ کیا تو فرشتوں کی لعنت کا وبال ہے۔

یہ تینوں حدیثیں مل کر اس حق کو ترجیح، عملی حکم، اور وعید تینوں پہلوؤں سے واضح کرتی ہیں۔


10. عورت کی عزت اور اس کی خواہش کا خیال (توازن)

اگرچہ اس حدیث میں بیوی کو سختی سے روکا گیا ہے، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ بیوی کی خواہشات کو نظرانداز کیا جائے۔

شوہر کو بھی بیوی کے جذبات، تھکان، اور جسمانی حالت کا خیال رکھنا چاہیے۔

قرآن کا اصول ہے: "وَلَهُنَّ مِثْلُ الَّذِي عَلَيْهِنَّ بِالْمَعْرُوفِ" (البقرہ: ۲۲۸)۔

اس لیے شوہر کو بھی مناسب وقت اور موقع کا انتخاب کرنا چاہیے اور نرمی سے معاملہ کرنا چاہیے۔


واللہ أعلم بالصواب








عنوان: شوہر کے بستر سے علیحدگی اختیار کرنے کا وبال (فرشتوں کی لعنت)

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم: " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، مَا مِنْ رَجُلٍ يَدْعُو امْرَأَتَهُ إِلَى فِرَاشِهَا فَتَأبَى عَلَيْهِ إِلَّا كَانَ الَّذِي فِي السَّمَاءِ سَاخِطًا عَلَيْهَا , حَتَّى يَرْضَى عَنْهَا "

ترجمہ:

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

"جب کوئی عورت (بیوی) اپنے شوہر کے بستر سے علیحدگی (ہجر) اختیار کرتے ہوئے رات گزارے، تو فرشتے اس پر لعنت کرتے رہتے ہیں یہاں تک کہ وہ (بستر پر) واپس آ جائے۔"

[صحیح مسلم:1436، صحیح البخاری:4898]



حاصل شدہ اسباق و نکات

1. پچھلی حدیث (طلب پر انکار) اور اس حدیث میں اہم فرق

پچھلی حدیث میں تھا: "إِذَا دَعَا الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ إِلَى فِرَاشِهِ فَأَبَتْ" (جب شوہر بلائے اور بیوی انکار کر دے)۔

اس حدیث میں ہے: "إِذَا بَاتَتْ الْمَرْأَةُ هَاجِرَةً فِرَاشَ زَوْجِهَا" (جب عورت خود بستر سے علیحدگی اختیار کر کے رات گزارے)۔

فرق یہ ہے کہ:

پچھلی حدیث میں شوہر کی صریح طلب کے بعد انکار کا ذکر تھا۔

اس حدیث میں بیوی کا اپنی مرضی سے (بغیر کسی ظاہری طلب کے) بستر سے علیحدگی اختیار کرنا ہے، جبکہ شوہر اس سے ناراض ہے یا وہ جانتی ہے کہ وہ اس کی رفاقت چاہتا ہے۔

اس کا مطلب ہے کہ بیوی پر لازم ہے کہ وہ بغیر کسی شرعی عذر کے خود بخود شوہر کے بستر سے علیحدہ نہ ہو، چاہے شوہر نے اسے زبانی طور پر طلب نہ کیا ہو۔


2. "ہاجرۃ" کا مفہوم اور اس کی شدت

"هَاجِرَةً" (ہجرت / علیحدگی اختیار کرنے والی) کا مطلب ہے:

بیوی نے شوہر کا بستر چھوڑ دیا (الگ سونے لگی)۔

یہ علیحدگی بغیر کسی شرعی عذر کے ہے (ورنہ معذور پر لعنت نہیں)۔

اس میں غصہ، بےرغبتی، یا شوہر سے دوری کا اظہار ہوتا ہے۔


3. "حَتَّى تَرْجِعَ" (جب تک واپس نہ آ جائے) – پچھلی حدیث سے ایک اہم فرق

پچھلی حدیث میں "حَتَّى تُصْبِحَ" (صبح ہونے تک) کا ذکر تھا، یعنی لعنت صبح تک محدود تھی۔

اس حدیث میں "حَتَّى تَرْجِعَ" (جب تک واپس نہ آ جائے) کا ذکر ہے، یعنی:

اگر بیوی رات بھر الگ سونے کے بعد بھی واپس نہ آئی اور یہ سلسلہ جاری رکھا تو لعنت بھی جاری رہے گی۔

لعنت اس وقت تک ختم نہیں ہوتی جب تک وہ شوہر کے بستر پر واپس نہ آ جائے یا شوہر کو راضی نہ کر لے۔

یہ اس معصیت کی سنگینی کو مزید بڑھاتا ہے کہ اس کا وبال چند گھنٹوں تک محدود نہیں، بلکہ علیحدگی کی مدت کے برابر ہے۔


4. شرعی عذر کی صورت میں استثناء (انتہائی اہم)

جیسا کہ پچھلی حدیثوں میں واضح کیا گیا، اگر بیوی کے پاس کوئی شرعی عذر ہو (جیسے حیض، نفاس، فرض روزہ، یا شدید بیماری جس سے جماع نقصان دہ ہو) تو اس پر لعنت نہیں آتی۔ نیز، اگر شوہر خود ہی اسے الگ سونے کا کہے یا دونوں کے درمیان باہمی رضایت سے علیحدگی ہو تو بھی یہ حکم لاگو نہیں۔


5. اس حدیث کا شوہر کے حق کی ترجیح پر گہرا اثر

پچھلی حدیثوں میں شوہر کی طلب کو ترجیح دینے کا ذکر تھا۔

اس حدیث میں ایک قدم اور آگے بڑھ کر کہا گیا کہ بیوی کو بغیر طلب کے بھی شوہر کے بستر سے علیحدہ نہیں ہونا چاہیے، کیونکہ یہ شوہر کے اس حق کی خلاف ورزی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ بیوی کو چاہیے کہ وہ ہمیشہ شوہر کی رفاقت کے لیے تیار رہے اور بغیر کسی وجہ کے اس سے دوری نہ اختیار کرے۔


6. لعنت کے استمرار کا فلسفہ (جرم اور سزا کا تناسب)

اس حدیث میں "حَتَّى تَرْجِعَ" کا ذکر اس لیے ہے کہ:

جب تک بیوی اپنی غلطی پر قائم ہے اور واپس نہیں آتی، اس کا جرم (نافرمانی) بھی جاری ہے۔

اس لیے سزا (لعنت) بھی اس وقت تک جاری رہتی ہے جب تک جرم ختم نہ ہو جائے۔

یہ عدلِ الٰہی کا ایک نمونہ ہے کہ سزا کا دارومدار جرم کے خاتمے پر ہے۔


7. ازدواجی تعلقات میں سردمہری اور بےرغبتی کا وبال

یہ حدیث اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ ازدواجی تعلقات میں سردمہری، بےرغبتی، اور شوہر سے جسمانی دوری ایک سنگین گناہ ہے، خاص طور پر جب اس کا کوئی شرعی عذر نہ ہو۔

شوہر کو اس کی بیوی سے جسمانی قربت کا حق ہے، اور اسے محروم کرنا اس کے جذبات کو ٹھیس پہنچانا ہے۔

اس سے گھر میں محبت اور ہم آہنگی ختم ہو جاتی ہے، اور نفسیاتی مسائل جنم لیتے ہیں۔


8. اس حدیث کا اطلاق صرف بیوی پر ہے (شوہر کو بھی ہدایت)

اگرچہ اس حدیث میں بیوی کو لعنت کا ذکر ہے، لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ شوہر کو اپنی بیوی کو بلاوجہ نظرانداز کرنے یا اس کی ضروریات کو نظرانداز کرنے کا حق ہے۔

دوسری جگہ شوہر کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ بیوی کے ساتھ نرمی، احسان اور عدل سے پیش آئے۔

اگر شوہر خود بیوی سے علیحدگی اختیار کرے (ہجر کرے) تو اس پر بھی حدود ہیں، جیسا کہ قرآن میں "فَاهْجُرُوهُنَّ فِي الْمَضَاجِعِ" (النساء: ۳۴) کی حد مقرر ہے کہ یہ تربیت کے لیے ہے، مستقل علیحدگی نہیں۔


9. گھر کے ماحول اور بچوں پر اثرات

اس حدیث کا ایک اہم سماجی پیغام یہ بھی ہے کہ میاں بیوی کے درمیان بستر کی علیحدگی سے:

گھر کا ماحول تلخ ہو جاتا ہے۔

بچوں کی ذہنی اور جذباتی تربیت متاثر ہوتی ہے۔

اس لیے اسلام نے اس علیحدگی کو ناپسندیدہ قرار دے کر خاندانی نظام کی مضبوطی کا سامان کیا ہے۔


10. توبہ اور اصلاح کا راستہ (اللہ کی رحمت کی طرف اشارہ)

اس حدیث کا اختتام "حَتَّى تَرْجِعَ" پر ہوتا ہے، جو اس طرف اشارہ ہے کہ دریچہ بند نہیں۔

اگر بیوی اپنی غلطی کا احساس کر کے واپس آ جائے اور شوہر کو راضی کر لے، تو لعنت ختم ہو جاتی ہے اور وہ اللہ کی رحمت کی امید رکھ سکتی ہے۔

یہ اللہ کی رحمت اور توبہ کے وسیع دروازے کی طرف اشارہ ہے۔


واللہ أعلم بالصواب












عنوان: شوہر کی طلب پر انکار کرنے پر اللہ تعالیٰ کی ناراضی

عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ - رضي الله عنهما - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم: " ثَلَاثَةٌ لَا تُقْبَلُ مِنْهُمْ صَلَاةٌ , وَلَا تَصْعَدُ إِلَى السَّمَاءِ , وَلَا تُجَاوِزُ رُءُوسَهُمْ: رَجُلٌ أَمَّ قَوْمًا وَهُمْ لَهُ كَارِهونَ، وَرَجُلٌ صَلَّى عَلَى جَنَازَةٍ وَلَمْ يُؤْمَرْ، وَامْرَأَةٌ دَعَاهَا زَوْجُهَا مِنَ اللَّيْلِ فَأَبَتْ عَلَيْهِ "

ترجمہ:

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

"قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! کوئی شخص (شوہر) اپنی بیوی کو اپنے بستر (جماع / مباشرت) کے لیے نہیں بلاتا اور وہ اس پر انکار کرتی ہے، مگر یہ کہ جو (اللہ) آسمان پر ہے، وہ اس (بیوی) پر ناراض ہو جاتا ہے، یہاں تک کہ شوہر اس سے راضی ہو جائے۔"

[صحیح مسلم:1436]


حاصل شدہ اسباق و نکات

1. "قسم" کا ذکر – مسئلے کی انتہائی سنگینی کا اظہار

نبی کریم ﷺ نے اس فرمان کا آغاز "وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ" (قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے) سے کیا۔

آپ ﷺ بہت کم موقعوں پر قسم اٹھاتے تھے، اور جب بھی اٹھاتے، تو اس بات کی نہایت اہمیت کو ظاہر کرتے تھے۔

اس سے معلوم ہوا کہ بیوی کا شوہر کی جنسی طلب کو بغیر عذر کے رد کرنا اللہ کے نزدیک ایک بہت بڑا گناہ ہے۔


2. پچھلی حدیثوں کے مقابلے میں اس حدیث کا نیا اور اہم پہلو (انتہائی اہم)

پچھلی حدیثوں میں ہم نے دیکھا:

فرشتوں کی لعنت کا ذکر تھا (جو اللہ کی مخلوق ہے)۔

اس حدیث میں خود اللہ تعالیٰ کی ناراضی (سخط) کا ذکر ہے۔

فرق یہ ہے کہ:

فرشتوں کی لعنت ایک بات ہے، اور اللہ کا غضب اس سے کہیں زیادہ شدید اور خطرناک ہے۔

اگر اللہ تعالیٰ کسی پر ناراض ہو جائے تو کوئی اس کی شفاعت نہیں کر سکتا (جب تک کہ وہ خود توبہ نہ کر لے)۔

اس لیے یہ حدیث اس معصیت کی شدت کو مزید بڑھاتی ہے کہ یہ صرف فرشتوں کی لعنت تک محدود نہیں، بلکہ خالقِ کائنات کا غضب اس کا نتیجہ ہے۔


3. "الَّذِي فِي السَّمَاءِ" – اللہ تعالیٰ کی عظمت اور اس کا احاطۂ علم

نبی ﷺ نے اللہ تعالیٰ کو "الَّذِي فِي السَّمَاءِ" (جو آسمان پر ہے) کے الفاظ سے تعبیر کیا۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ آسمانوں پر اپنی قدرت اور عرش کے ساتھ ہے، اور وہ ہر چیز کو دیکھ رہا ہے، چاہے وہ پردوں میں ہو۔

ایک عورت اور شوہر کے درمیان کا بستر کا معاملہ بھی اللہ کی نظر سے پوشیدہ نہیں، اور وہ اس پر ناراض ہو سکتا ہے۔


4. "حَتَّى يَرْضَى عَنْهَا" – نجات کی شرط (شوہر کی رضایت)

اس حدیث میں نجات (اللہ کی رضایت) کا دارومدار شوہر کی رضایت پر رکھا گیا ہے۔

جب تک شوہر ناراض رہے گا، اللہ تعالیٰ بھی اس بیوی سے ناراض رہے گا۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ بیوی کو چاہیے کہ وہ شوہر کو راضی کرے (معافی مانگے، اپنے رویے کو درست کرے، اور شوہر کی طلب کو قبول کرے) تاکہ اللہ کی رحمت اور رضایت واپس آ جائے۔

یہ اس بات کی دلیل ہے کہ شوہر کا حق اتنا عظیم ہے کہ اس کی رضایت اللہ کی رضایت کا ذریعہ ہے (اس مخصوص معاملے میں)۔


5. شرعی عذر کی صورت میں استثناء

جیسا کہ پچھلی تمام احادیث میں وضاحت ہو چکی ہے، یہ وعید صرف اس وقت ہے جب بیوی بغیر کسی شرعی عذر کے انکار کرے۔

شرعی عذر درج ذیل ہیں:

حیض اور نفاس (جماع حرام ہے، لیکن اس کے باوجود شوہر کا حق استمتاع کا ہے، مکمل رد جائز نہیں)۔

فرض روزہ (رمضان یا قضا کا روزہ)۔

شدید بیماری جو جماع کو نقصان دہ بنائے۔

ان عذروں کی صورت میں اللہ کی ناراضی نہیں آتی۔


6. بیوی کی ذمہ داری کا دائرہ (صرف شوہر کی خواہش نہیں، بلکہ اللہ کا حکم)

اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ بیوی کا شوہر کی جنسی طلب کو قبول کرنا محض "شوہر کا حق" نہیں، بلکہ اللہ کا حکم ہے۔

جب وہ انکار کرتی ہے، تو وہ صرف شوہر کی نافرمانی نہیں کرتی، بلکہ اللہ کی نافرمانی کرتی ہے۔

اس لیے اس کا وبال صرف شوہر کی ناراضی تک محدود نہیں، بلکہ اللہ کا غضب اس کا نتیجہ ہے۔


7. ازدواجی تعلقات میں باہمی ہم آہنگی اور قربت کی اہمیت

یہ حکم اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ اسلام ازدواجی تعلقات کو صرف ایک رسم یا معاہدہ نہیں، بلکہ ایک گہرا جسمانی اور جذباتی رشتہ قرار دیتا ہے۔

بیوی کی بےرغبتی اور انکار سے شوہر کو شدید نفسیاتی تکلیف ہوتی ہے، جس کی وجہ سے وہ شریعت کی حدود سے باہر نکل سکتا ہے۔

اس لیے اس حق کو ادا کرنا دونوں کی اخلاقی اور روحانی حفاظت کا ذریعہ ہے۔


8. شوہر کو بھی ہدایت – یہ حق "جبر" نہیں، "رحمت" ہے

اگرچہ اس حدیث میں بیوی کو سختی سے روکا گیا ہے، لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ شوہر کو اپنی بیوی پر ظلم کرنے یا اس کی خواہشات کو نظرانداز کرنے کا حق ہے۔

شوہر کو چاہیے کہ وہ مناسب وقت، نرمی، اور محبت کے ساتھ معاملہ کرے۔

نبی ﷺ خود اپنی بیویوں کے ساتھ بہترین اخلاق سے پیش آتے تھے۔

اگر شوہر بیوی کو تکلیف پہنچا کر یا جبر کر کے اپنا حق حاصل کرے گا، تو وہ خود بھی گناہ گار ہوگا۔


9. یہ حکم صرف "طلب" تک محدود نہیں، بلکہ عمومی رویہ بھی شامل ہے

پچھلی حدیث میں "دَعَا" (بلایا) کا ذکر تھا، لیکن اس حدیث میں بھی اسی سیاق میں ہے۔

اس کا مطلب ہے کہ اگر شوہر نے صریحاً طلب کیا ہے اور بیوی نے انکار کیا، تو یہ حکم ہے۔

البتہ اگر بیوی بغیر طلب کے شوہر سے دوری اختیار کرے (جیسے پچھلی حدیث "هَاجِرَةً" میں تھا)، تو بھی یہی حکم لاگو ہوگا (اگر شوہر ناراض ہے)۔


10. اس حدیث کا مقصد – خاندانی نظام کی مضبوطی اور استحکام

اس سخت وعید کا اصل مقصد یہ ہے کہ:

بیوی کو شوہر کی جنسی ضرورت کو ہلکا نہ سمجھنے کی تربیت دی جائے۔

ازدواجی تعلقات کو مضبوط کیا جائے تاکہ گھر میں محبت اور رحمت قائم رہے۔

شوہر کو غیر قانونی راستوں سے بچایا جائے (کیونکہ اگر بیوی اس کی ضرورت پوری نہ کرے تو وہ فتنے میں پڑ سکتا ہے)۔

خاندان میں بچوں کی ذہنی اور جذباتی تربیت خراب نہ ہو۔


11. توبہ اور اصلاح کا راستہ (خوشخبری)

اس حدیث کا اختتام "حَتَّى يَرْضَى عَنْهَا" پر ہوتا ہے، جو اس طرف اشارہ ہے کہ دریچہ بند نہیں۔

اگر بیوی اپنی غلطی کا احساس کر کے شوہر کو راضی کر لے (معافی مانگے اور اپنے رویے کو درست کرے)، تو اللہ تعالیٰ بھی اس سے راضی ہو جاتا ہے۔

یہ اللہ کی رحمت اور توبہ کے وسیع دروازے کی طرف اشارہ ہے، جو کسی بھی گناہ (چاہے وہ کتنا ہی بڑا ہو) کے بعد واپسی کی اجازت دیتا ہے۔


12. فرشتوں کی لعنت اور اللہ کے غضب کا موازنہ (خلاصہ)

پہلو پچھلی حدیث (فرشتوں کی لعنت) یہ حدیث (اللہ کا غضب)

سزا دینے والا فرشتے (مخلوق) اللہ تعالیٰ (خالق)

مدت صبح تک (رات بھر) جب تک شوہر راضی نہ ہو (لامحدود)

شدت کم (نسبتاً) انتہائی شدید اور خطرناک

نتائج رحمت سے دوری اللہ کا قہر اور غضب

واللہ أعلم بالصواب






عورت پر (خدمت کا) سب سے زیادہ حق اس کے شوہر کا ہے، اور مرد پر (خدمت کا) سب سے زیادہ حق اسکی ماں کا ہے۔

[السنن الکبریٰ للنسائی:9148، مستدرک حاكم:7244]


حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے کہا گیا: عورتوں میں بہترین عورت کون ہے؟ آپ نے فرمایا: وہ جو اپنے شوہر کو جب وہ اسے دیکھے خوش کر دے، جب وہ کسی کام کا اسے حکم دے تو (خوش اسلوبی سے) اسے بجا لائے، اپنی ذات اور اپنے مال کے سلسلے میں شوہر کی مخالفت نہ کرے۔

[المستدرک الحاکم:2682]

کہ اسے برا لگے۔

[سنن النسائي:3231، الصحيحة:1838]





جنتی عورتوں کی سردار کیلئے حکم:
مرد اور عورت کا میدانِ عمل:
«قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى ابْنَتِهِ فَاطِمَةَ بِخِدْمَةِ الْبَيْتِ، وَقَضَى عَلَى عَلِيٍّ بِمَا كَانَ خَارِجًا مِنَ الْبَيْتِ مِنَ الْخِدْمَةِ»
ترجمہ:
*فیصلہ کیا الله کے رسول (ﷺ) نے اپنی بیٹی حضرت فاطمہ پر گھر کی(اندرونی) خدمت کا اور حضرت علی پر گھر سے بیرونی خدمت کا۔*

امام ابو ثورؒ(م246ھ) نے کہا:
عليها أنْ تَخدُمه في كلِّ شَيءٍ.
اسے ہر چیز میں اس کی خدمت کرنی چاہیے۔

تاکہ زندگی میں پاکیزگی، توازن اور خوشگواری رہے۔

اس حقیقت سے کیسے انکار ممکن ہے کہ مرد اور عورت دونوں کی بناوٹ، مزاج، رجحانات، اندرونی نظام اور ہارمون کانظام اور ان کے افعال سب انتہائی مختلف ہیں۔ اب یہ کیونکر ممکن ہے کہ ایک جیسے ہی کاموں کے لیے اتنی الگ مخلوق بنائی جاتی؟ اگر مرد اور عورت دونوں ایک جیسے کام کرسکتے ہیں یا ایک جیسی ذمہ داریاں اٹھاسکتے ہیں تو دونوں میں اتنا واضح بدنی، ذہنی ، نفسیاتی فرق کیوں ہے؟

امام جوزجانیؒ (متوفی 259ھ) نے کہا:
"یہ (شوہر کی اطاعت) اس چیز میں ہے جس میں کوئی فائدہ نہیں، تو پھر اس کی زندگی کی ضروریات (معاش) کے بارے میں (اطاعت) کیسے نہ ہو؟"

اور اس لیے بھی کہ نبی کریم ﷺ اپنی ازواج کو اپنی خدمت کا حکم دیتے تھے، چنانچہ آپ ﷺ فرماتے تھے:
يَا عَائِشَةُ أَطْعِمِينَا.....يَا عَائِشَةُ، اسْقِينَا
"اے عائشہ! ہمیں کھانا کھلاؤ، اے عائشہ! چھری لاؤ اور اسے پتھر سے تیز کرو۔"
(حدیث: "وہ اپنی بیویوں کو خدمت کا حکم دیتے تھے، اے عائشہ! چھری لاؤ..." کو مسلم (۳/۱۵۵۷، ط حلبی) نے روایت کیا ہے۔

يَا عَائِشَةُ أَطْعِمِينَا.....يَا عَائِشَةُ، اسْقِينَا
"اے عائشہ! ہمیں کھانا کھلاؤ، اے عائشہ! ہمیں پانی پلاؤ"
[سنن ابوداود:5040، سنن ابن ماجہ:752]

اور امام طبریؒ نے کہا:
"بیشک جو عورتیں اپنے گھر کی خدمت (روٹی پکانا، چکی پیسنا وغیرہ) کی طاقت رکھتی ہیں، تو یہ (خدمت) شوہر پر لازم نہیں ہے، جب کہ (معاشرے میں) یہ معروف ہو کہ ان جیسی عورتیں یہ کام خود کرتی ہیں۔"
(البدائع ۴/۱۹۲، حاشیہ ابن عابدین ۲/۳۳۳، ۵/۳۹، الخرشی ۴/۱۸۶، تحفۃ المحتاج ۸/۳۱۶، المغنی لابن قدامہ ۷/۲۱، کشاف القناع ۵/۱۹۵، فتح الباری ۹/۵۰۶، ۳۲۴)

[البدائع ٤ / ١٩٢، حاشية ابن عابدين ٢ / ٣٣٣، ٥ / ٣٩، الخرشي ٤ / ١٨٦، تحفة المحتاج ٨ / ٣١٦، المغني لابن قدامة ٧ / ٢١، كشاف القناع ٥ / ١٩٥، فتح الباري ٩ / ٥٠٦، ٣٢٤]


امام ابن قدامة الحنبلیؒ (متوفی: 620ھ)
فصل:
اور عورت پر اپنے شوہر کی خدمت کرنا (قانونا) واجب نہیں ہے، جیسے آٹا گوندھنا، روٹی پکانا، کھانا پکانا اور ان جیسے دیگر کام۔ امام احمد بن حنبل نے اس صراحت کے ساتھ بیان کیا ہے۔
اور ابوبکر بن ابی شیبہ اور ابواسحاق الجوزجانی نے کہا:
"اس (بیوی) پر (یہ خدمات) واجب ہیں۔"
اور انہوں نے حضرت علی اور فاطمہ رضی اللہ عنہما کے واقعے سے استدلال کیا ہے، کیونکہ نبی کریم ﷺ نے اپنی بیٹی فاطمہ پر گھر کی خدمت کا فیصلہ کیا تھا، اور علی رضی اللہ عنہ پر گھر سے باہر کے کاموں کا فیصلہ کیا تھا۔






سوتے وقت تسبیح، تکبیر، اور تحمید کہنے کے بیان میں»

خدمت ومشقت کا علاج»


عَنْ أَبِي الْوَرْدِ بْنِ ثُمَامَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ عَلِيٌّ لِابْنِ أَعْبُدَ:‏‏‏‏ أَلَا أُحَدِّثُكَ عَنِّي وَعَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏وَكَانَتْ أَحَبَّ أَهْلِهِ إِلَيْهِ، ‏‏‏‏‏‏وَكَانَتْ عِنْدِي فَجَرَّتْ بِالرَّحَى حَتَّى أَثَّرَتْ بِيَدِهَا، ‏‏‏‏‏‏وَاسْتَقَتْ بِالْقِرْبَةِ حَتَّى أَثَّرَتْ فِي نَحْرِهَا، ‏‏‏‏‏‏وَقَمَّتِ الْبَيْتَ حَتَّى اغْبَرَّتْ ثِيَابُهَا، ‏‏‏‏‏‏وَأَوْقَدَتِ الْقِدْرَ حَتَّى دَكِنَتْ ثِيَابُهَا وَأَصَابَهَا مِنْ ذَلِكَ ضُرٌّ، ‏‏‏‏‏‏فَسَمِعْنَا أَنَّ رَقِيقًا أُتِيَ بِهِمْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَقُلْتُ:‏‏‏‏ لَوْ أَتَيْتِ أَبَاكِ فَسَأَلْتِيهِ خَادِمًا يَكْفِيكِ،‏‏‏‏ فَأَتَتْهُ فَوَجَدَتْ عِنْدَهُ حُدَّاثًا فَاسْتَحْيَتْ فَرَجَعَتْ، ‏‏‏‏‏‏فَغَدَا عَلَيْنَا وَنَحْنُ فِي لِفَاعِنَا، ‏‏‏‏‏‏فَجَلَسَ عِنْدَ رَأْسِهَا فَأَدْخَلَتْ رَأْسَهَا فِي اللِّفَاعِ حَيَاءً مِنْ أَبِيهَا، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ مَا كَانَ حَاجَتُكِ أَمْسِ إِلَى آلِ مُحَمَّدٍ ؟،‏‏‏‏ فَسَكَتَتْ مَرَّتَيْنِ، ‏‏‏‏‏‏فَقُلْتُ:‏‏‏‏ أَنَا وَاللَّهِ أُحَدِّثُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏إِنَّ هَذِهِ جَرَّتْ عِنْدِي بِالرَّحَى حَتَّى أَثَّرَتْ فِي يَدِهَا، ‏‏‏‏‏‏وَاسْتَقَتْ بِالْقِرْبَةِ حَتَّى أَثَّرَتْ فِي نَحْرِهَا، ‏‏‏‏‏‏وَكَسَحَتِ الْبَيْتَ حَتَّى اغْبَرَّتْ ثِيَابُهَا، ‏‏‏‏‏‏وَأَوْقَدَتِ الْقِدْرَ حَتَّى دَكِنَتْ ثِيَابُهَا، ‏‏‏‏‏‏وَبَلَغَنَا أَنَّهُ قَدْ أَتَاكَ رَقِيقٌ أَوْ خَدَمٌ، ‏‏‏‏‏‏فَقُلْتُ لَهَا:‏‏‏‏ سَلِيهِ خَادِمًا؟

، فَذَكَرَ مَعْنَى حَدِيثِ الْحَكَمِ وَأَتَمَّ.

ترجمہ:

ابو الورد بن ثمامہ کہتے ہیں کہ  علی ؓ نے ابن اعبد سے کہا: کیا میں تم سے اپنے اور رسول اللہ  ﷺ  کی صاحبزادی فاطمہ ؓ سے متعلق واقعہ نہ بیان کروں، فاطمہ رسول اللہ  ﷺ  کو اپنے گھر والوں میں سب سے زیادہ پیاری تھیں اور میری زوجیت میں تھیں، چکی پیستے پیستے ان کے ہاتھ میں نشان پڑگئے، مشکیں بھرتے بھرتے ان کے سینے میں نشان پڑگئے، گھر کی صفائی کرتے کرتے ان کے کپڑے گرد آلود ہوگئے، کھانا پکاتے پکاتے کپڑے کالے ہوگئے، اس سے انہیں نقصان پہنچا  (صحت متاثر ہوئی)  پھر ہم نے سنا کہ رسول اللہ  ﷺ  کے پاس غلام اور لونڈیاں لائی گئی ہیں، تو میں نے فاطمہ سے کہا: اگر تم اپنے والد کے پاس جاتیں اور ان سے خادم مانگتیں تو تمہاری ضرورت پوری ہوجاتی، تو وہ رسول اللہ  ﷺ  کے پاس آئیں، لیکن وہاں لوگوں کو آپ کے پاس بیٹھے باتیں کرتے ہوئے پایا تو شرم سے بات نہ کہہ سکیں اور لوٹ آئیں، دوسرے دن صبح آپ خود ہمارے پاس تشریف لے آئے  (اس وقت)  ہم اپنے لحافوں میں تھے، آپ فاطمہ کے سر کے پاس بیٹھ گئے، فاطمہ نے والد سے شرم کھا کر اپنا سر لحاف میں چھپالیا، آپ نے پوچھا: کل تم محمد کے اہل و عیال کے پاس کس ضرورت سے آئی تھیں؟ فاطمہ دو بار سن کر چپ رہیں تو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں آپ کو بتاتا ہوں: انہوں نے میرے یہاں رہ کر اتنا چکی پیسی کہ ان کے ہاتھ میں گھٹا پڑگیا، مشک ڈھو ڈھو کر لاتی رہیں یہاں تک کہ سینے پر اس کے نشان پڑگئے، انہوں نے گھر کے جھاڑو دیئے یہاں تک کہ ان کے کپڑے گرد آلود ہوگئے، ہانڈیاں پکائیں، یہاں تک کہ کپڑے کالے ہوگئے، اور مجھے معلوم ہوا کہ آپ کے پاس غلام اور لونڈیاں آئیں ہیں تو میں نے ان سے کہا کہ وہ آپ کے پاس جا کر اپنے لیے ایک خادمہ مانگ لیں۔

پھر راوی نے حکم والی حدیث کے ہم معنی حدیث ذکر کی اور پوری ذکر کی۔

[سنن ابوداؤد:5063]






حَدَّثَنَا عَلِيٌّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ شَكَتْ فَاطِمَةُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا تَلْقَى فِي يَدِهَا مِنَ الرَّحَى، ‏‏‏‏‏‏فَأُتِيَ بِسَبْيٍ فَأَتَتْهُ تَسْأَلُهُ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمْ تَرَهُ فَأَخْبَرَتْ بِذَلِكَ عَائِشَةَ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ، ‏‏‏‏‏‏فَأَتَانَا وَقَدْ أَخَذْنَا مَضَاجِعَنَا فَذَهَبْنَا لِنَقُومَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ عَلَى مَكَانِكُمَا،‏‏‏‏ فَجَاءَ فَقَعَدَ بَيْنَنَا، ‏‏‏‏‏‏حَتَّى وَجَدْتُ بَرْدَ قَدَمَيْهِ عَلَى صَدْرِي، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ أَلَا أَدُلُّكُمَا عَلَى خَيْرٍ مِمَّا سَأَلْتُمَا إِذَا أَخَذْتُمَا مَضَاجِعَكُمَا، ‏‏‏‏‏‏فَسَبِّحَا ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، ‏‏‏‏‏‏وَاحْمَدَا ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، ‏‏‏‏‏‏وَكَبِّرَا أَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ، ‏‏‏‏‏‏فَهُوَ خَيْرٌ لَكُمَا مِنْ خَادِمٍ.

ترجمہ:

حضرت علی ؓ نے فرمایا کہ فاطمہ ؓ نبی اکرم  ﷺ  کے پاس چکی پیسنے سے اپنے ہاتھ میں پہنچنے والی تکلیف کی شکایت لے کر گئیں، اسی دوران رسول اللہ  ﷺ  کے پاس کچھ قیدی لائے گئے تو وہ آپ کے پاس لونڈی مانگنے آئیں، لیکن آپ نہ ملے تو ام المؤمنین عائشہ ؓ کو بتا کر چلی آئیں، جب رسول اللہ  ﷺ  تشریف لائے تو عائشہ ؓ نے آپ کو بتایا  (کہ فاطمہ آئی تھیں ایک خادمہ مانگ رہی تھیں)  یہ سن کر آپ ہمارے پاس تشریف لائے، ہم سونے کے لیے اپنی خواب گاہ میں لیٹ چکے تھے، ہم اٹھنے لگے تو آپ نے فرمایا:  اپنی اپنی جگہ پر رہو  (اٹھنا ضروری نہیں)  چناچہ آپ آ کر ہمارے بیچ میں بیٹھ گئے، یہاں تک کہ میں نے آپ کے قدموں کی ٹھنڈک اپنے سینے میں محسوس کی، آپ نے فرمایا:  کیا میں تم دونوں کو اس سے بہتر چیز نہ بتاؤں جو تم نے مانگی ہے، جب تم سونے چلو تو 33 بار سبحان اللہ کہو، 33 بار الحمدللہ کہو، اور 34 بار اللہ اکبر کہو، یہ تم دونوں کے لیے خادم سے بہتر ہے۔

[سنن ابوداؤد:5062، صحیح مسلم:2727(2915)، سنن الترمذی:3408، سنن الدارمی:2727(2569)]




فَتِلْكَ مِائَةٌ بِاللِّسَانِ، وَأَلْفٌ فِي الْمِيزَانِ، وَذَلِكَ بِأَنَّ اللَّهَ يَقُولُ: {مَنْ جَاءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهُ عَشْرُ أَمْثَالِهَا} [سورۃ الأنعام: ١٦٠]

ترجمہ:

پس یہ زبان میں 100 ہیں، اور ترازو میں 1000، اور یہ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

{جو شخص کوئی نیکی لے کر آئے گا اس کے لیے اس جیسی دس نیکیوں کا ثواب ہو گا} (سورۃ الانعام: 160)

[المعجم الاوسط للطبرانی:7064]




قَالَ عَلِيٌّ: «وَاللَّهِ مَا تَرَكْتُهَا بَعْدُ» ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: كَانَ فِي نَفْسِهِ عَلَيْهِ شَيْءٌ وَلَا لَيْلَةَ صِفِّينَ قَالَ عَلِيٌّ: «وَلَا لَيْلَةَ صِفِّينَ»

ترجمہ:

حضرت علی نے فرمایا: اللہ کی قسم، میں نے اسے کبھی تک نہیں چھوڑا، پھر ایک آدمی جس کے ذہن میں کوئی بات تھی نے کہا: کیا جنگِ صفین کی رات میں بھی نہیں؟ حضرت علی نے فرمایا: صفین کی رات بھی نہیں۔

[المستدرک للحاکم:4724]



تخریج اور مسائل:

(1)کتاب:-جہاد اور سیرت رسول اللہ ﷺ»

باب:-اس بات کی دلیل کہ غنیمت کا پانچواں حصہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں آپ کی ضرورتوں (جیسے ضیافت مہمان، سامان جہاد کی تیاری وغیرہ) اور محتاجوں کے لیے تھا۔

[صحیح البخاری:3113]

(2)باب:-ابوالحسن علی بن ابی طالب القرشی الہاشمی رضی اللہ عنہ کے فضائل کا بیان۔

[صحیح البخاری:3705]

(3)کتاب:-خرچ کرنے کا بیان» باب:-عورت کا اپنے شوہر کے گھر میں کام کرنے کا بیان۔

[صحیح البخاری:5361]

باب:-خاوند کے جو حقوق بیوی پر لازم نہیں ان کی رعایت کرنا بھی مستحب ہے۔

[السنن الكبرىٰ-للبيهقي:(14724)]


شواھد:


عَنِ الْفَضْلِ بْنِ الْحَسَنِ الضَّمْرِيِّ أَنَّ أُمَّ الْحَكَمِ أَوْ ضُبَاعَةَ ابْنَتَيِ الزُّبَيْرِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ حَدَّثَتْهُ عَنْ إِحْدَاهُمَا أَنَّهَا قَالَتْ أَصَابَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم سَبْيًا: فَذَهَبْتُ أَنَا وَأُخْتِي وَفَاطِمَةُ بِنْتُ رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَشَكَوْنَا إِلَيْهِ مَا نَحْنُ فِيهِ وَسَأَلْنَاهُ أَنْ يَأْمُرَ لَنَا بِشَيْءٍ مِّنَ السَّبْيِ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم سَبَقَكُنَّ يَتَامَى بَدْرٍ وَلَكِنْ سَأَدُلُّكُنَّ عَلَى مَا هُوَ خَيْرٌ لَكُنَّ مِنْ ذَلِكَ تُكَبِّرْنَ اللهَ عَلَى إِثْرِ كُلِّ صَلَاةٍ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ تَكْبِيرَةً وَثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ تَسْبِيحَةً وَثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ تَحْمِيدَةً وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ.

ترجمہ:

فضل بن حسن ضمری سے مروی ہے کہ ام حکم یا ضباعہ بنت زبیر بن عبدالمطلب میں سے کسی ایک نے انہیں بیان کیا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس میں کچھ قیدی آئے، میں، میری بہن اور فاطمہ بنت رسول اللہ ﷺ نے آکر رسول اللہ ﷺ سے اپنی تکلیف کی شکایت کی اور آپ سے درخواست کی کہ ہمیں بھی کچھ قیدی دیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بدر کے یتیم تم سے سبقت لے گئے، لیکن میں تمہیں ایسے عمل کی طرف راہنمائی کروں گا جو تمہارے لئے اس سے بھی بہتر ہے۔ تم ہر نماز کے بعد تینتیس (۳۳)مرتبہ اللہ اکبر،تینتیس(۳۳)مرتبہ سبحان اللہ،تینتیس (۳۳)مرتبہ الحمدللہ اور ایک مرتبہ یہ کلمہ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، کہا کرو۔

[الصحيحة:1882 (1838)، سنن أبوداؤد:2987، طحاوي:5417، طبرانی:333]


باب: شوہر کے حقوق کی رعایت رکھنا اس کے لیے کیا ضروری ہے، اگرچہ شرعی قانون کے مطابق ایسا کرنا لازم نہیں۔

[السنن الكبرىٰ-للبيهقي:3024،عن ابي هريرة]

[المعجم الكبير-للطبراني:264، كعب بن عجرة]








عورت کا اپنے شوہر کی خدمت کرنا، اس کے گھر کے اسباب کی صفائی وسلیقہ مندی سے رکھنا، گھر کی صاف صفائی کرنا، شوہر کے کپڑوں کو دھونا، اور ان کو پریس کرنا، بچوں کو نہلانا دھلانا، اور انہیں کھلانا پلانا، عورت پر واجب ہے، کیوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد ِ مبارک میں حضرات صحابہ رضی اللہ عنہم کی بیویاں اُن کی خدمت کیا کرتی تھیں، اور گھر کے تمام کاموں کو انجام دیتی تھیں، خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا  گھر کے تمام کاموں کو انجام دیتی تھیں، اور اپنے شوہر حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خدمت کیا کرتی تھیں، اس لیے کہ یہ تمام کام معاشرت بالمعروف میں داخل ہیں ، اور یہی اصل ہے۔

ہاں! اگر عورت ایسے ماحول میں پلی بڑھی جس میں عورتیں گھر کے ان کاموں کو انجام نہیں دیتیں، اور عورت ان کاموں کے کرنے سے انکار کرے، تو پھر شوہر ان کاموں کے لیے گھر میں کسی نوکرانی یا خادمہ کو رکھنے کا مکلف ہوگا، کیوں کہ شریعت نے ہمیں عورتوں کے ساتھ ان کے عرف وعادت کے مطابق معاشرت کا حکم دیا ہے، ارشادِ ربانی ہے: {وعاشروہنّ بالمعروف} ۔

نیز جب شوہر کو معلوم تھا کہ جس عورت سے میں نکاح کررہا ہوں، ان کے گھر کا ماحول یہ ہے کہ عورتیں ان کاموں کو انجام نہیں دیتیں، اس کے باوجود اس سے شادی کی، تو گویا اس نے اس شرط کو قبول کیا کہ عورت ان کاموں کو نہیں کرے گی۔

------------------------------

📜 پہلی دلیل (التنویر و شرحہ مع الشامیۃ)

متن عربی:


امتنعت المرأۃ عن الطحن والخبز إن کانت ممن لا تخدم أو کان بہا علۃ فعلیہ أن یأتیہا بطعام مہیأ وإلا بأن کانت ممن تخدم نفسہا وتقدر علی ذلک لا یجب علیہ ، ولا یجوز لہا أخذ الأجرۃ علی ذلک لوجوبہ علیہا دیانۃ ولو شریفۃ ، لأنہ علیہ الصلاۃ والسلام قسم الأعمال بین علي وفاطمۃ فجعل أعمال الخارج علی عليّ رضي اللہ تعالی عنہ والداخل علی فاطمۃ رضي اللہ تعالی عنہا مع أنہا سیدۃ نساء العالمین ۔ بحر ۔

(۵/۲۳۰، ۲۳۱ ، کتاب الطلاق ، باب النفقۃ ، مطلب لا تجب علی الأب نفقۃ زوجۃ ابنہ الصغیر، الموسوعۃ الفقہیۃ :۱۹/۴۰ ، خدمۃ ، إخدام الزوجۃ)


ترجمہ:

(بیوی) چکی پیسنے اور روٹی پکانے سے (امتناع کر سکتی ہے) اگر وہ ان عورتوں میں سے ہے جو (اپنے گھر کا) کام نہیں کرتیں، یا اسے کوئی عذر (بیماری وغیرہ) ہو۔ (تو شوہر پر لازم ہے کہ) وہ اس کے لیے تیار شدہ کھانا (باہر سے) لائے۔


اور اگر (ایسا نہیں) یعنی وہ عورت خود اپنی خدمت کرنے والی ہو اور اس کی طاقت رکھتی ہو، (تو شوہر پر یہ کام کروانا) واجب نہیں، اور نہ ہی اس (عورت) کے لیے اس (خدمت) کی اجرت لینا جائز ہے، کیونکہ یہ (خدمت) اس پر دینی اعتبار سے (شرعاً) واجب ہے، چاہے وہ معزز خاندان کی ہی کیوں نہ ہو۔


اس لیے کہ نبی کریم ﷺ نے حضرت علی اور حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہما کے درمیان گھر کے کام تقسیم کیے تھے، چنانچہ آپ ﷺ نے باہر کے کام حضرت علی رضی اللہ عنہ کو سونپے اور اندر کے کام حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو، حالانکہ وہ سیدہ نساء العالمین (جہاں کی عورتوں کی سردار) تھیں۔


[الموسوعۃ الفقہیۃ: ۱۹/۴۰، خدمۃ، إخدام الزوجۃ]


📜 دوسری دلیل (البحر الرائق)

متن عربی:


ویوافقہ ما قید بہ الفقیہ أبو اللیث کلام الخصاف حیث قال في أدب القاضي : لو فرض ما یحتاج إلیہ من الدقیق والدہن واللحم والإدام فقالت : لا أعجن ولا أخبز ولا أعالج شیئًا من ذلک لا تجبر علیہ وعلی الزوج أن یأتیہا بمن یکفیہا عمل ذلک ۔

قال الفقیہ أبو اللیث : ہذا إذا کان بہا علۃ لا تقدر علی الطبخ والخبز أو کانت ممن لا تباشر ذلک ، فإن کانت ممن تخدم نفسہا وتقدر علی ذلک لا یجب علیہ أن یأتیہا بمن یفعلہ ، وفي بعض المواضع تجبر علی ذلک ، قال السرخسي : لا تجبر ولکن إذا لم تطبخ لا یعطیہا الإدام وہو الصحیح ، وقالوا : إن ہذہ الأعمال واجبۃ علیہا دیانۃ وإن کان لا یجبرہا القاضي ، ولذا قال في البدائع : لو استأجرہا للطبخ والخبز لم یجز ولا یجوز لہا أخذ الأجرۃ علی ذلک لأنہا لو أخذت لأخذت علی عمل واجب علیہا في الفتوی فکان في معنی الرشوۃ فلا یحل لہا الأخذ ۔

(۴/۳۱۱ ، کتاب الطلاق ، باب النفقۃ ، فتح القدیر :۴/۳۴۹ ، کتاب الطلاق ، باب النفقۃ)


ترجمہ:

اور اس (سابقہ حکم) کی تائید اس بات سے ہوتی ہے جو فقیہ ابو اللیث نے خصاف کے کلام پر لگائی ہے، کیونکہ انہوں نے "أدب القاضي" میں کہا:

"اگر (گھر میں) آٹا، تیل، گوشت اور سالن جیسی ضروری چیزیں موجود ہوں اور بیوی کہے: میں گوندھوں گی نہیں، پکاؤں گی نہیں، اور ان میں سے کوئی کام نہیں کروں گی، تو اسے (ان کاموں پر) مجبور نہیں کیا جائے گا، اور شوہر پر لازم ہے کہ اسے کوئی ایسا شخص مہیا کرے جو اس کے لیے یہ کام کر دے۔"


فقیہ ابو اللیث نے کہا:

"یہ حکم اس وقت ہے جب بیوی کو کوئی عذر ہو (جیسے بیماری) اور وہ کھانا پکانے اور روٹی بنانے پر قادر نہ ہو، یا وہ ان عورتوں میں سے ہو جو یہ کام (براہِ راست) نہیں کرتیں۔

ہاں، اگر وہ اپنی خدمت خود کرنے والی عورتوں میں سے ہے اور اس کام کی قدرت رکھتی ہے، تو شوہر پر یہ لازم نہیں کہ وہ اس کے لیے کام کرنے والا لائے۔ اور بعض مقامات پر (ایسی صورت میں) اسے (بیوی کو) مجبور کیا جائے گا۔"


امام سرخسی نے کہا:

"(بیوی کو) مجبور نہیں کیا جائے گا، لیکن اگر وہ (شوہر کے لیے) کھانا نہ پکائے تو شوہر اسے سالن (اور پکی ہوئی چیزیں) نہ دے، اور یہی صحیح موقف ہے۔"


اور علما نے کہا:

"یہ کام بیوی پر دیانتاً (اخلاقی و دینی اعتبار سے) واجب ہیں، اگرچہ قاضی اسے (ان پر) مجبور نہ کرے۔

اسی لیے بدائع (البدائع) میں ہے:

"اگر شوہر بیوی کو کھانا پکانے اور روٹی بنانے کے لیے اجرت پر رکھے تو یہ جائز نہیں، اور نہ ہی اس کے لیے اس کام کی اجرت لینا جائز ہے، کیونکہ اگر وہ اجرت لے گی تو وہ اس کام پر اجرت لے رہی ہوگی جو اس پر (فقہی فتویٰ کے مطابق) واجب ہے، لہٰذا یہ رشوت کے معنی میں ہوگا، اس لیے اس کا اجرت لینا حلال نہیں۔"


[البحر الرائق: ۴/۳۱۱، کتاب الطلاق، باب النفقۃ]

[فتح القدیر: ۴/۳۴۹، کتاب الطلاق، باب النفقۃ]


📜 تیسری دلیل (دُرَرُ الحُکَّام)

متن عربی:


المعروف عرفًا کالمشروط شرطًا ۔

(۱/۵۱ ، رقم المادۃ :۴۳ ، شرح القواعد الفقہیۃ :ص/۲۳۷)


ترجمہ:

"عرف (رواج اور رسم) میں جو معروف (معلوم اور تسلیم شدہ) ہے، وہ شرط (عقد میں طے شدہ شرط) کی مانند ہے۔"


[دُرَرُ الحُکَّام: ۱/۵۱، مادہ نمبر: ۴۳]

[شرح القواعد الفقہیۃ: ص/۲۳۷]


📝 خلاصۂ دلائل

مندرجہ بالا تینوں عبارات سے درج ذیل نکات ثابت ہوتے ہیں:


شرعی اصول: بیوی پر گھریلو خدمات (چکی، روٹی، کھانا) قانونی طور پر واجب نہیں، بلکہ اخلاقی / دینی ذمہ داری (دیانتاً) ہے۔


جبر کی گنجائش: اگر بیوی انکار کرے تو اسے زبردستی نہیں کیا جا سکتا، البتہ اس کا اخلاقی پہلو ہے۔


اجرت کا حکم: بیوی اپنے گھر کے کاموں کی اجرت نہیں لے سکتی، کیونکہ یہ اس پر شرعاً (دیانتاً) واجب ہے۔ اجرت لینا رشوت کے مترادف ہے۔


معزز خاندان کا استثناء: اگر بیوی کسی معزز خاندان سے ہو (جس کا دستور خدمت کرنا نہیں) یا اسے عذر ہو، تو شوہر پر کھانا مہیا کرنا واجب ہے۔


دلیل: حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا (سیدہ نساء العالمین) کو خود گھر کے کام کرنے کا حکم دیا گیا، اس لیے خدمت کو عار نہیں سمجھا جاتا۔


عرف کا کردار: عرف (معاشرتی رواج) شرط کی مانند ہے، اس لیے بعض علاقوں میں رواج کے مطابق فیصلہ کیا جائے گا۔





📜 فقہی عبارت: الدر المختار (علاءالدین الحصکفی)

متن:

(امتنعت المرأة) من الطحن والخبز (إن كانت ممن لا تخدم) أو كان بها علة (فعليه أن يأتيها بطعام مهيإ وإلا) بأن كانت ممن تخدم نفسها وتقدر على ذلك (لا) يجب عليه ولا يجوز لها أخذ الأجرة على ذلك لوجوبه عليها ديانة ولو شريفة؛ لأنه – عليه الصلاة والسلام – قسم الأعمال بين علي وفاطمة، فجعل أعمال الخارج على علي- رضي الله عنه – والداخل على فاطمة – رضي الله عنها – مع أنها سيدة نساء العالمين۔

ترجمہ:

(بیوی) چکی پیسنے اور روٹی پکانے سے (امتناع کر سکتی ہے) اگر وہ ان عورتوں میں سے ہے جو (اپنے گھر کا) کام نہیں کرتیں، یا اسے کوئی عذر (بیماری وغیرہ) ہو۔ (تو شوہر پر لازم ہے کہ) وہ اس کے لیے تیار شدہ کھانا (باہر سے) لائے۔

اور اگر (ایسا نہیں) یعنی وہ عورت خود اپنی خدمت کرنے والی ہو اور اس کی طاقت رکھتی ہو، (تو شوہر پر یہ کام کروانا) واجب نہیں، اور نہ ہی اس (عورت) کے لیے اس (خدمت) کی اجرت لینا جائز ہے، کیونکہ یہ (خدمت) اس پر دینی اعتبار سے (شرعاً) واجب ہے، چاہے وہ معزز خاندان کی ہی کیوں نہ ہو۔

اس لیے کہ نبی کریم ﷺ نے حضرت علی اور حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہما کے درمیان گھر کے کام تقسیم کیے تھے، چنانچہ آپ ﷺ نے باہر کے کام حضرت علی رضی اللہ عنہ کو سونپے اور اندر کے کام حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو، حالانکہ وہ سیدہ نساء العالمین (جہاں کی عورتوں کی سردار) تھیں۔

[الدر المختار،علاءالدین الحصکفی(م:1088ھ) (3/ 579)ایچ۔ایم۔سعید]




📜 فقہی عبارت: رد المحتار (ابن عابدین شامی) - شرح قید "ديانة"

متن:

قوله (لوجوبه عليها ديانة) فتفتى به، ولكنها لا تجبر عليه إن أبت۔

ترجمہ:

"ان کے قول (یہ اس پر دینی اعتبار سے واجب ہے) کے مطابق فتویٰ دیا جاتا ہے، لیکن اگر وہ (بیوی) انکار کر دے تو اسے جبراً (ان کاموں پر) مجبور نہیں کیا جا سکتا۔"

[رد المحتار،ابن عابدین الشامی(م:1252ھ) (3/ 579)ایچ۔ایم۔سعید]





📜 فقہی عبارت: الفقه الإسلامي وأدلته (زحیلی)

متن:

أما واجب الزوجة: فلا يجب عليها خدمة زوجها في الخبز والطحن والطبخ والغسل وغيرها من الخدمات، وعليه أن يأتيها بطعام مهيإ إن كانت ممن لا تخدم نفسها؛ لأن المعقود عليه من جهتها هو الاستمتاع فلا يلزمها ما سواه، لكن لا يجوز لمن تخدم نفسها وتقدر على الخدمة أخذ الأجرة على عمل البيت، لوجوبه عليها ديانة، حتى ولو كانت شريفة؛ لأنه عليه الصلاة والسلام قسم الأعمال بين علي وفاطمة رضي الله عنهما، فجعل أعمال الخارج على علي، والداخل على فاطمة مع أنها سيدة نساء العالمين۔

ترجمہ:

رہا بیوی کا واجب: تو اس پر اپنے شوہر کی خدمت (روٹی پکانا، چکی پیسنا، کھانا پکانا، کپڑے دھونا اور دیگر خدمات) کرنا واجب نہیں ہے۔ بلکہ شوہر پر لازم ہے کہ وہ اس کے لیے تیار شدہ کھانا لائے اگر وہ (بیوی) ان عورتوں میں سے ہے جو خود (گھر کا) کام نہیں کرتیں؛ کیونکہ عقدِ نکاح میں عورت کی جانب سے جس چیز کا عقد ہوا ہے وہ استمتاع (جائز لطف اندوزی) ہے، اس کے علاوہ کوئی چیز اس پر لازم نہیں۔

البتہ جس عورت کو خود خدمت کرنے کی عادت ہو اور وہ خدمت کرنے پر قادر ہو، اس کے لیے گھر کے کام کی اجرت لینا جائز نہیں، کیونکہ یہ کام اس پر دینی اعتبار سے (شرعاً) لازم ہے، چاہے وہ معزز خاندان کی ہی کیوں نہ ہو۔

اس لیے کہ نبی ﷺ نے حضرت علی اور حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہما کے درمیان کام تقسیم کیے تھے، چنانچہ آپ نے باہر کے کام حضرت علی رضی اللہ عنہ کو سونپے اور اندر کے کام حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو، حالانکہ وہ سیدہ نساء العالمین تھیں۔


[الفقه الإسلامي وأدلته للزحيلي، وَهْبَة بن مصطفى الزُّحَيْلِيّ (م:1436ھ)(9/ 6850)رشیدیۃ]



”دیانةً“ کا مطلب یہ ہے کہ اگر وہ ان امور کو سر انجام دے گی تو الله تعالیٰ کی طرف سے اجر وثواب کی مستحق ہو گی ، لیکن اس پر جبر نہیں کیا جاسکتا،”قضاء“ کا مطلب یہ ہے کہ اگر وہ ان امور کو انجام نہ دے تو قاضی اپنے فیصلہ کے ذریعہ ان امور کی انجام دہی کو اس پر لازم نہیں کرسکتا۔



متن عربی:
ولا تتطوع للصلاة والصوم بغير إذن الزوج.
ترجمہ:
"اور (بیوی) شوہر کی اجازت کے بغیر نفلی نماز اور نفلی روزے (کی ادائیگی) نہ کرے۔"

[البحر الرائق: كتاب الصلاة، باب النفقة، ج:4 ص:332، ط: دار الكتب العلمية]




📝 خلاصہ

1. شرعی اصول: بیوی پر گھریلو خدمات (چکی، روٹی، کپڑے دھونا وغیرہ) قانونی طور پر واجب نہیں، بلکہ اخلاقی / دینی ذمہ داری ہے۔

2. جبر کی گنجائش: اگر بیوی انکار کرے تو اسے زبردستی نہیں کیا جا سکتا۔

3. اجرت کا حکم: اگر بیوی خود خدمت کرتی ہے تو وہ اس کی اجرت نہیں مانگ سکتی۔

4. مستثنیٰ صورت: اگر بیوی کسی معزز خاندان سے ہو یا اسے عذر ہو تو شوہر پر کھانا مہیا کرنا واجب ہے۔

5. دلیل: حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا (سیدہ نساء العالمین) کو خود گھر کے کام کرنے کا حکم دیا گیا، اس لیے خدمت کو عار نہیں سمجھا جاتا۔






واضح رہے کہ عورت کے لیے  شوہر کی اطاعت واجب ہے ان کاموں میں جن میں اللہ تعالی کی نافرمانی نہ ہو،  اور  حدیث شریف  میں فرض نماز کی پابندی کرنے والی عورت کو بڑی فضیلت  حاصل ہے جیسا کہ درجِ ذیل حدیث میں اس کا تذکرہ آرہا ہے،باقی اگر عورت کی نفلی عبادت کی وجہ سے شوہر کے امور میں حرج آتا ہو تو نفلی عبادت کو مؤخر کیا جاسکتا ہے۔   لہذا صورتِ مسئولہ میں سائلہ کو چاہیے کہ   فرائض کے ساتھ سنت ِ مؤکدہ کو ادا کرنے  کا اہتمام کرے کیوں کہ    سنتِ مؤکدہ  کو چھوڑنا  مکروہ تحریمی ہے، باقی جو  اس کے علاوہ نفلی عبادات  جن کو ادا کرنے کا معمول تھا، شوہر کی خدمت اور گھر کے کام کی وجہ سے وقت نہ ملنے کی وجہ سے امید ہے کہ اس کا ثواب ضرور ملتا رہے گا، لیکن جن مواقع پر شوہر کو حرج نہ ہو تو نفلی عبادات بھی جاری رکھی جائیں۔

شوہرکی خدمت، تابعداری اور اطاعت کے سلسلہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بے شمارارشادات موجود ہیں، چناں چہ ایک حدیث میں ہے:

''حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ: رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اگر میں کسی کو یہ حکم کرتا کہ وہ کسی (غیراللہ) کو سجدہ کرے تو میں یقیناً عورت کو حکم کرتا کہ وہ اپنے خاوند کو سجدہ کرے۔"

[ترمذی:1159، احمد:19422]

صاحب مظاہرحق اس کے ذیل میں لکھتے ہیں:

''مطلب یہ ہے کہ رب معبود کے علاوہ اور کسی کو سجدہ کرنا درست نہیں ہے اگر کسی غیراللہ کو سجدہ کرنا درست ہوتا تو میں عورت کو حکم دیتا کہ وہ اپنے خاوند کو سجدہ کرے، کیوں کہ بیوی پر اس کے خاوند کے بہت زیادہ حقوق ہیں، جن کی ادائیگی شکر سے وہ عاجز ہے، گویا اس ارشاد گرامی میں اس بات کی اہمیت وتاکید کو بیان کیا گیا ہے کہ بیوی پر اپنے شوہر کی اطاعت وفرمانبرداری واجب ہے۔"



مسند احمد کی روایت ہے:

"- حدثنا يحيى بن إسحاق حدثنا ابن لهيعة عن عبيد الله بن أبي جعفر أن ابن قارظ أخبره عن عبد الرحمن بن عوف قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا صلت المرأة خمسها وصامت شهرها وحفظت فرجها وأطاعت زوجها قيل لها ادخلي الجنة من أي أبواب الجنة شئت".

ترجمہ:
’’حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ  فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:  جب عورت پانچ وقت کی فرض نمازیں(وقت پر) ادا کرے اور رمضان کے روزے رکھے  اور اپنی شرم گاہ کی حفاظت کرے اور شوہر کی اطاعت کرے، اسے(قیامت کے دن) کہا جائے گا:  تو  جنت کے جس دروازے سے  چاہے داخل ہوجا‘‘۔

[مسند امام احمد:1661، ج:3 ص:199، ط:مؤسسة الرسالة]








عورت کی سیاست:- گھر کی دیکھ بھال

عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ - رضي الله عنها - قَالَتْ: (تَزَوَّجَنِي الزُّبَيْرُ , وَمَا لَهُ فِي الْأَرْضِ مِنْ مَالٍ , وَلَا مَمْلُوكٍ , وَلَا شَيْءٍ , غَيْرَ فَرَسِهِ) (١) (وَنَاضِحٍ) (٢) (فَكُنْتُ أَخْدُمُ الزُّبَيْرَ خِدْمَةَ الْبَيْتِ) (٣) (فَأَسْتَقِي الْمَاءَ , وَأَخْرِزُ غَرْبَهُ (٤) وَأَعْجِنُ , وَلَمْ أَكُنْ أُحْسِنُ أَخْبِزُ , وَكَانَ يَخْبِزُ جَارَاتٌ لِي مِنْ الْأَنْصَارِ , وَكُنَّ نِسْوَةَ صِدْقٍ (٥)) (٦) (وَلَمْ يَكُنْ مِنْ الْخِدْمَةِ شَيْءٌ أَشَدَّ عَلَيَّ مِنْ سِيَاسَةِ الْفَرَسِ) (٧) (أَعْلِفُهُ , وَأَكْفِيهِ مَئُونَتَهُ , وَأَسُوسُهُ , وَأَدُقُّ النَّوَى لِنَاضِحِهِ , وَأَعْلِفُهُ) (٨) (وَكُنْتُ أَنْقُلُ النَّوَى عَلَى رَأسِي مِنْ أَرْضِ الزُّبَيْرِ الَّتِي أَقْطَعَهُ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم -) (٩) (مِنْ أَمْوَالِ بَنِي النَّضِيرِ) (١٠) (وَهِيَ مِنِّي (١١) عَلَى ثُلُثَيْ فَرْسَخٍ (١٢) فَجِئْتُ يَوْمًا وَالنَّوَى عَلَى رَأسِي , فَلَقِيتُ رَسُولَ اللهِ - صلى الله عليه وسلم - وَمَعَهُ نَفَرٌ مِنْ الْأَنْصَارِ , " فَدَعَانِي ثُمَّ قَالَ: إِخْ إِخْ (١٣) لِيَحْمِلَنِي خَلْفَهُ " , فَاسْتَحْيَيْتُ أَنْ أَسِيرَ مَعَ الرِّجَالِ , وَذَكَرْتُ الزُّبَيْرَ وَغَيْرَتَهُ - وَكَانَ أَغْيَرَ النَّاسِ - " فَعَرَفَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم - أَنِّي قَدْ اسْتَحْيَيْتُ , فَمَضَى " , فَجِئْتُ الزُّبَيْرَ فَقُلْتُ: " لَقِيَنِي رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم - وَعَلَى رَأسِي النَّوَى , وَمَعَهُ نَفَرٌ مِنْ أَصْحَابِهِ , فَأَنَاخَ لِأَرْكَبَ " , فَاسْتَحْيَيْتُ مِنْهُ , وَعَرَفْتُ غَيْرَتَكَ , فَقَالَ: وَاللهِ لَحَمْلُكِ النَّوَى) (١٤) (عَلَى رَأسِكِ) (١٥) (أَشَدُّ عَلَيَّ مِنْ رُكُوبِكِ مَعَهُ , قَالَتْ: حَتَّى أَرْسَلَ إِلَيَّ أَبُو بَكْرٍ - رضي الله عنه - بَعْدَ ذَلِكَ بِخَادِمٍ فَكَفَتْنِي سِيَاسَةَ الْفَرَسِ , فَكَأَنَّمَا أَعْتَقَنِي) (١٦) (فَجَاءَنِي رَجُلٌ فَقَالَ: يَا أُمَّ عَبْدِ اللهِ , إنِّي رَجُلٌ فَقِيرٌ , أَرَدْتُ أَنْ أَبِيعَ فِي ظِلِّ دَارِكِ , فَقُلْتُ لَهُ: إِنِّي إِنْ رَخَّصْتُ لَكَ , أَبَى ذَاكَ الزُّبَيْرُ , فَتَعَالَ فَاطْلُبْ إِلَيَّ وَالزُّبَيْرُ شَاهِدٌ , فَجَاءَ فَقَالَ: يَا أُمَّ عَبْدِ اللهِ، إِنِّي رَجُلٌ فَقِيرٌ , أَرَدْتُ أَنْ أَبِيعَ فِي ظِلِّ دَارِكِ , فَقُلْتُ لَهُ: مَا لَكَ بِالْمَدِينَةِ إِلَّا دَارِي؟ , فَقَالَ لِيَ الزُّبَيْرُ: لَيْسَ لَكِ أَنْ تَمْنَعِي رَجُلًا فَقِيرًا يَبِيعُ, فَكَانَ يَبِيعُ إِلَى أَنْ كَسَبَ فَبِعْتُهُ الْجَارِيَةَ , فَدَخَلَ عَلَيَّ الزُّبَيْرُ وَثَمَنُهَا فِي حَجْرِي , فَقَالَ: هَبِيهَا لِي , فَقُلْتُ لَهُ: إِنِّي قَدْ تَصَدَّقْتُ بِهَا) (١٧).

ترجمہ:

سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں:

"مجھ سے زبیر (بن عوام) نے نکاح کیا، اس وقت زمین میں ان کا کوئی مال نہ تھا، نہ کوئی غلام، اور نہ کوئی چیز، سوائے ان کے گھوڑے کے (1) اور ایک اونٹ (پانی لانے والا) کے (2)۔

پس میں زبیر کی گھریلو خدمت کرتی تھی (3)، پانی لاتی تھی، اور اس کے بڑے ڈول (غرب) کو سیتا (چمڑے کی سلائی کرتی) تھی (4)، اور آٹا گوندھتی تھی، اور مجھے روٹی پکانا اچھی طرح نہیں آتا تھا، تو میری انصاری پڑوسن (خواتین) روٹی پکا دیتی تھیں، اور وہ سچی (نیک) عورتیں تھیں (5) (6)۔

اور خدمت میں مجھ پر گھوڑے کی دیکھ بھال سے زیادہ کوئی چیز مشکل نہ تھی (7)، میں اسے چارہ ڈالتی، اس کی ضرورت پوری کرتی، اس کی دیکھ بھال کرتی، اور اپنے اونٹ کے لیے کھجور کی گٹھلیاں پیستی اور اسے چارہ ڈالتی (8)۔

اور میں اپنے سر پر گٹھلیاں اٹھا کر لاتی تھی زبیر کی اس زمین سے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بنی نضیر کے اموال میں سے عطا فرمائی تھی (9) (10)، اور وہ زمین میرے گھر سے دو تہائی فرسخ (تقریباً ڈیڑھ میل) کے فاصلے پر تھی (11) (12)۔

چنانچہ ایک دن میں گٹھلیاں سر پر رکھے آئی، تو راستے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات ہو گئی، اور آپ کے ساتھ انصار کا ایک گروہ تھا۔ آپ نے مجھے بلایا اور فرمایا: "إخ إخ" (یعنی اونٹ کو بٹھانے کا اشارہ) تاکہ مجھے اپنے پیچھے سوار کر لیں (13)۔

لیکن میں نے مردوں کے ساتھ چلنے سے حیا محسوس کی، اور میں نے زبیر اور ان کی غیرت کا خیال کیا — اور وہ لوگوں میں سب سے زیادہ غیرت مند تھے — تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سمجھ لیا کہ میں نے حیا کی ہے، تو آپ آگے بڑھ گئے۔

پھر میں زبیر کے پاس آئی اور کہا: "مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ملے، میرے سر پر گٹھلیاں تھیں، اور آپ کے ساتھ آپ کے صحابہ میں سے کچھ لوگ تھے، تو آپ نے اونٹ بٹھایا تاکہ میں سوار ہو جاؤں، لیکن میں نے (آپ سے) حیا کی، اور میں آپ کی غیرت کو جانتی ہوں۔"

تو زبیر نے کہا: "اللہ کی قسم! تمہارا سر پر گٹھلیاں اٹھانا (14) (15) مجھ پر اس سے زیادہ شاق ہے کہ تم ان کے ساتھ سوار ہو۔"**

اسماء کہتی ہیں: یہاں تک کہ اس کے بعد ابوبکر رضی اللہ عنہ نے میرے پاس ایک خادم بھیجا، جس نے مجھے گھوڑے کی دیکھ بھال سے فارغ کر دیا، تو گویا اس نے مجھے آزاد کر دیا (16)۔

(پھر ایک اور واقعہ بیان کیا:) میرے پاس ایک شخص آیا اور کہا: "اے ام عبداللہ! میں ایک غریب آدمی ہوں، میں تمہارے گھر کے سایہ میں (سامان) بیچنا چاہتا ہوں۔"

میں نے اس سے کہا: "اگر میں تمہیں اجازت دوں تو زبیر اس سے انکار کر دیں گے، لیکن آؤ اور میرے سامنے بات کرو جبکہ زبیر موجود ہوں۔"

چنانچہ وہ آیا اور کہا: "اے ام عبداللہ! میں ایک غریب آدمی ہوں، میں تمہارے گھر کے سایہ میں بیچنا چاہتا ہوں۔"

میں نے اس سے کہا: "کیا مدینہ میں میرے گھر کے علاوہ تمہارے لیے کوئی اور جگہ نہیں؟"

تو زبیر نے مجھ سے کہا: "تمہیں کسی غریب آدمی کو بیچنے سے روکنے کا حق نہیں۔"

پس وہ (وہاں) بیچتا رہا یہاں تک کہ اس نے کچھ کمایا، پھر میں نے اسے (اس شخص کو) لونڈی بیچ دی، (اور اس کی قیمت میری گود میں تھی) تو زبیر میرے پاس آئے اور کہا: "وہ (قیمت) مجھے ہبہ کر دو۔"

میں نے ان سے کہا: "میں نے اسے صدقہ کر دیا ہے۔" (17)"


حوالہ جات:

4. تشریح: اس میں لفظ "الغَرْب" کی وضاحت ہے کہ یہ بڑے ڈول (پانی نکالنے والی بڑی بالٹی) کو کہتے ہیں جسے اسماء رضی اللہ عنہا خود سیتی (چمڑے کی سلائی کرتی) تھیں۔ (شرح النووي على مسلم - ج ٧ / ص ٣١٩)
5 تشریح: اس میں اسماء رضی اللہ عنہا کے انصاری پڑوسنوں کو "نِسْوَةَ صِدْقٍ" (سچی اور نیک عورتیں) کہنے کی تشریح ہے کہ یہ ان کی حسنِ عشروت اور عہد کی وفاداری میں مبالغہ کے طور پر ہے۔ (فتح الباري ج ١٥ / ص ٣٠)
9. صحیح البخاری:4926، سنن ابی داود:3069
11. تشریح: اس میں لفظ "وَهِيَ مِنِّي" کی وضاحت ہے کہ اس کا مطلب ہے "میرے گھر کے مقام سے"، یعنی زمین کا فاصلہ اسماء کے گھر سے ناپا گیا۔ (تشریح: اس میں لفظ "وَهِيَ مِنِّي" کی وضاحت ہے کہ اس کا مطلب ہے "میرے گھر کے مقام سے"، یعنی زمین کا فاصلہ اسماء کے گھر سے ناپا گیا۔)
12. تشریح: اس میں "ثُلُثَيْ فَرْسَخٍ" (دو تہائی فرسخ) کی تشریح ہے کہ فرسخ تین میل کے برابر ہے، میل چھ ہزار ذراع، ذراع چوبیس انگلیاں، اور انگلی چھ جوں کے برابر ہوتی ہے (یہ مسافت تقریباً ڈیڑھ میل یا 2.4 کلومیٹر بنتی ہے)۔ (فتح الباري (٤/ ٥٣)
13. تشریح: اس میں کلمہ "إِخْ إِخْ" کی وضاحت ہے کہ یہ اونٹ کو بٹھانے (ناخ کرنے) کے لیے کہی جانے والی آواز / کلمہ ہے، جو رسول اللہ ﷺ نے اس موقع پر اونٹ کو بٹھانے کے لیے فرمایا تاکہ اسماء کو سوار کر سکیں۔






اسلام نے خانگی زندگی کی بہتری کے لئے کچھ اصول و ضوابط عطا فرمائے ہیں جو خواتین ان کا خیال رکھتی ہیں ان کی زندگی سکون سے گزرتی ہے، بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ خانگی زندگی کے تمام رہنما اصولوں کی اصل یہ ہے کہ شریعت نے گھریلو نظام کو مضبوط بننے کے لئے گھر کی سربراہی اور قیادت مرد کو عطا فرمائی ہے اور عورت کو اس کا ماتحت بنایا ہے، تو بے جا نہ ہو گا،جیسا کہ ارشادِ الٰہی ہے

اَلرِّجَالُ قَوّٰمُوْنَ عَلَى النِّسَآءِ (پ 5، النسآء: 34)

ترجمہ:مرد عورتوں پر نگہبان ہیں۔

یعنی مرد عورت پر حاکم ہے،لہٰذا عورت کو مرد کى اطاعت و فرمان برداری کرنی ہے،اس کے بجائے اگر عورت چاہے کہ شوہر میری مانے اور میرا فرمان برداری ہو تو یہ درست نہیں۔نت نئی فرمائشیں مثلاً:طرح طرح کے کھانوں،نِت نئے ڈیزائن کے کپڑوں وغیرہ کی طلب پوری کرنا شوہر پر واجب نہیں ۔ واجب صرف نان نفقہ وغیرہ ہے،البتہ اگر شوہر دیگر فرمائشیں بھی پوری کرتا ہے تو یہ بیوی پر احسان ہو گا۔نیز اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ مرد خواتین کے لئے سائبان اور بہترین محافظ کی حیثیت رکھتے ہیں،خواتین کے قیام و طعام اور آرام وغیرہ کا اہتمام کرنے کے ذمہ دار ہیں۔ گھر کے سربراہ ان مردوں کے ہوتے ہوئے کوئی بھی ان کی خواتین کو میلی نظر سے نہیں دیکھ سکتا،سفر ہو یا حضر یہ حضرات ہر جگہ اپنی خواتین کے آرام کا خیال رکھتے اور ان کی خواہشات پوری کرنے کی کوشش میں خوب محنت کرتے ہیں۔

اصولِ دنیا ہے کہ جو ہم پر احسان کرے، ہمارا بوجھ اٹھائے ہمیں کھلائے پلائے اس کا احسان ہی نہ مانا جائے بلکہ اگر وہ کچھ کہے اور خلافِ شرع نہ ہو تو اس کی بات بھی مانی جائے۔ چنانچہ شادی کے بعد ہر عورت پر لازم ہے کہ وہ اپنے شوہر کی اطاعت و فرمان برداری کرے کہ اس پر سب سے زیادہ احسان کرنے والا اس کا شوہر ہوتا ہے اور شریعت نے بھی اس کا حق عورت پر اس کے والدین سے بھی زیادہ ٹھہرایا ہے۔جیساکہ ایک روایت میں بھی ہے:عورت پر سب سے زیادہ حق اس کے شوہر کا ہے۔
[مستدرک،5/244،حدیث:7418ملخصاً]
بلکہ ایک روایت میں ہے:قسم ہے اس کی جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے!اگر قدم سے سر تک شوہر کے تمام جسم میں زخم ہوں جن سے پیپ اور پیپ ملا خون بہتا ہو پھر عورت اسے چاٹے تب بھی حقِ شوہر ادا نہ کیا۔
[مسند امام احمد،20/65،حدیث: 12614]

افسوس!بعض خواتین شوہر کے مقابلے میں اپنے والدین وغیرہ کو زیادہ اہمیت دیتی ہیں۔ ایسی خواتین جو شادی کے بعد بھی شوہر کے بجائے اپنے والدین کے دامن سے وابستہ رہتی ہیں اور  اپنے شوہر سے زیادہ والدین کی بات سنتی ہیں، انہیں یاد رکھنا چاہئے کہ والدین کی خدمت اپنی جگہ لیکن اب شادی کے بعد شریعت نے ان پر شوہر کے حقوق زیادہ لاگو کئے ہیں، دینی و دنیاوی ہر اعتبار سے اب شوہر ہی ان کا سب کچھ ہے،لہٰذا اس کا دل جیتیں،اس سے ان کے والدین کی آنکھیں بھی ان کی طرف سے ٹھنڈی رہیں گی اور ان کا گھر بھی شاد و آباد رہے گا۔

عورت کو چاہیے کہ شوہر کے احسانات کے گُن گاتی رہے کہ ایک مقولہ ہے ”کسی کے احسانات کا شکریہ ادا نہیں کر سکتے تو کم از کم اتنا تو کرو کہ اس کے احسانات کے گُن گایا کرو یعنی ان احسانات کا ذکر کیا کرو! مگر آج کل عورتوں کے دلوں سے شوہر کی تعظیم اور اس کے احسانات کا احساس ختم ہو چکا ہے، اب شوہر کو نام لے کر پکارا جاتا ہے، احسانات کا شکریہ تو دور کی بات ہے اب تو طعنے دئیے جاتے ہیں۔مثلاً:کوئی کہتی ہے:”وہ تو میں ہوں جو تمہارے ساتھ گزارا کر رہی ہوں کوئی اور ہوتی تو کب کی چھوڑ کر چلی جاتی!“تو کوئی یوں طعنہ دیتی ہے کہ”تم نے میرے لئے کیا ہی کیا ہے؟“یوں شوہر کی دل آزاری اور ناراضی کا گناہ مول لیتی ہیں،اس ذہنیت اور سوچ کے فروغ پانے میں سوشل میڈیا،مغرب زدہ لبرل نظامِ تعلیم،آزاد خیالی اور فلموں ڈراموں کا نمایاں کردار ہے۔

یاد رکھیے!شوہر کو راضی رکھنے میں ہی دنیا و آخرت کی بھلائی ہے، شوہر کے دکھ درد کی ساتھی بنئے،طعنے دینے کے بجائے ڈھارس بند ھائیے،چھوڑ کر جانے کی دھمکی دینے کے بجائے ساری زندگی ساتھ نبھانے اور مشکل گھڑی میں ساتھ کھڑے رہنے کا یقین دلایئے،پھر دیکھئے کہ گھر کیسے امن کا گہوارہ بنتا ہے!شوہر کی رضا میں جنت کی خوشخبری ہے،فرمانِ مصطفےٰ ہے: جس عورت کا اس حال میں انتقال ہوا کہ اس کا شوہر اس سے راضی تھا تو وہ جنت میں داخل ہو گی۔
[ترمذی،2/386،حدیث:1164]

شوہر  کی اطاعت کتنی ضروری ہے اس کا اندازہ اس حدیثِ پاک سے لگایا جا سکتا ہے کہ جب آدمی اپنی بیوی کو حاجت کے لئے بلائے تو وہ فورا ًچلی جائے اگرچہ وہ تنور پر ہی کیوں نہ بیٹھی ہو۔
[ترمذی،2/386،حدیث:1163]

شیخ عبدُ الحق محدِّث دہلوی  رحمۃ اللہِ علیہ  فرماتے ہیں:یعنی اگر کسی ضروری کام میں مشغول ہو اور مال کے ضائع ہونے کا بھی اندیشہ ہو،تب بھی شوہر بلائے تو چلی جائے
[اشعۃ اللمعات،3/154]
کہ شوہر کو ناراض رکھ کر دنیا سنور سکتی ہے نہ آخرت۔

آج کل سوشل میڈیا اور مغربی انداز اپنانے کی بدولت یہ نحوست بھی آئی کہ سر کے تاج کو پیروں کی جوتی بنانے کی خواہش ہونے لگی ہے۔تاج سر پر ہی زینت دیتا ہے شوہر کو حاکم جان کر تاج سمجھ کر سر پر سجائیں گی تو نہ صرف اس کی چمک بڑھ جائے گی بلکہ حسن میں بھی اضافہ ہو گا اور یہ اسی صورت میں ہو سکتا ہے جب شوہر کا حق ادا کریں گی اور اس کی اطاعت و تعظیم بجا لائیں گی،ایسا کرنے والیوں کے بارے میں پیارے نبی  صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم  نے ارشاد فرمایا ہے:جو عورت شوہر کا حق ادا کرے وہ ایمان کی لذت پا لیتی ہے۔
[مستدرک،5/240،حدیث:7405ملخصاً]
چنانچہ کیسی ہی مصروف ہوں،یا کتنی ہی گہری نیند میں ہوں،شوہر بلائے تو فوراً لبیک کہیے اور خدمت گزاری کیجیے،اس نیت کے ساتھ کہ ان شاء اللہ اس کے بدلے اللہ پاک کی بارگاہ سے اجرِ عظیم کی حق دار ٹھہروں گی۔

شوہر کو تکلیف دینے اور اسے ناراض کرنے سے بھی بچیے کہ یہ بہت برا عمل ہے،کیونکہ ایک روایت کے مطابق جب کوئی عورت دنیا میں اپنے شوہر کو تکلیف دیتی ہے تو جنتی حوروں میں سے اس شخص کی بیوی کہتی ہے: اسے تکلیف مت دے، وہ تیرے پاس مہمان ہے، عنقریب اسے تجھ سے جدا ہو کر ہمارے پاس آنا  ہے۔
[ترمذی، 2/392،حدیث:1177ملتقطاً]
اور ایک روایت میں ہے:شوہر سے ناراض ہو کر رات گزارنے والی پر فرشتے صبح تک لعنت کرتے رہتے ہیں۔
[بخاری،2/388،حدیث:3237ملخصاً]

ہاں!اگر شوہر بے حس ہے،شرابی کبابی یا جواری ہے،گھر میں لڑائی جھگڑا کرتا ہے تب بھی بیوی کو اس بات کی اجازت نہیں کہ وہ اس کا خیال نہ رکھے۔  بلکہ بیوی کو چاہیے کہ شوہر کے حقوق ادا کرتی رہے اور شوہر کا رویہ اچھا ہونے کے لئے دعا بھی کرتی رہے۔ اگر بیوی اس کے ساتھ اچھاسلوک کرے گى تو ہی گھر چلے گا ورنہ تو کچھ اور چل جائے گا جو کہ گھر کو برباد کرنے والا ہوتا ہے۔






No comments:

Post a Comment