زبانِ خلق کو نقارہ خدا سمجھو:
القرآن:
اور اسی طرح تو ہم نے تم کو ایک معتدل امت بنایا ہے کہ تاکہ تم دوسرے لوگوں پر گواہ بنو۔۔۔
[سورۃ البقرۃ:143]
کیوں نہیں لے آئے وہ (بہتان-جھوٹا الزام لگانے والے) اس بات پر چار گواہ؟ اب جبکہ وہ لوگ گواہ نہیں لائے تو اللہ کے نزدیک وہی جھوٹے ہیں۔
[سورۃ النور:13(4-6-8)]

احسان وحسنِ سلوک اور اس کی پہچان – پڑوسیوں کی گواہی
(1) حدیث عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ
متنِ حدیث (عربی)
عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ رضي الله عنه قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، دُلَّنِي عَلَى عَمَلٍ إِذَا عَمِلْتُهُ دَخَلْتُ الْجَنَّةَ، قَالَ: " كُنَّ مُحْسِنًا " , قَالَ: وَكَيْفَ أَعْلَمُ أَنِّي مُحْسِنٌ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم: " إِذَا سَمِعْتَ جِيرَانَكَ يَقُولُونَ: قَدْ أَحْسَنْتَ , فَقَدْ أَحْسَنْتَ، وَإِذَا سَمِعْتَهُمْ يَقُولُونَ: قَدْ أَسَأتَ , فَقَدْ أَسَأتَ "
---
اردو ترجمہ
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا: "یا رسول اللہ! مجھے ایسے عمل کی رہنمائی فرمائیں کہ جب میں اسے کروں تو جنت میں داخل ہو جاؤں۔"
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "تو (ہمیشہ) نیکو کار رہا کر۔"
اس نے پوچھا: "میں کیسے جانوں کہ میں نیکو کار ہوں؟"
تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "جب تم اپنے پڑوسیوں کو یہ کہتے سنو کہ تم نے احسان کیا، تو بیشک تم نے احسان کیا، اور جب تم انہیں یہ کہتے سنو کہ تم نے برا کیا، تو بیشک تم نے برا کیا۔"
---
تخریج و حوالہ جات
(١) الحاکم: ١٣٩٩
(٢) احمد: ٣٨٠٨، ابن ماجہ: ٤٢٢٣، صحیح ابن حبان: ٤٣٨٤، الحاکم: ١٣٩٩، انظر صحیح الجامع: ٢٧٧، سلسلہ صحیحہ: ١٣٢٧
[الجامع الصحيح للسنن والمسانيد: ج11/ ص238]
---
(2) حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا قول
وَقَالَ عُمَر بْن الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: إِذَا حَمِدَ الرَّجُلَ جَارُهُ، وَذُو قَرَابَتِهِ، وَرَفِيقُهُ، فَلا تَشُكُّوا فِي صَلاحِهِ.
[شرح السنة للبغوي: 3490]
اردو ترجمہ
اور حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: "جب کسی شخص کی اس کے پڑوسی، اس کے رشتہ دار اور اس کے ساتھی (رفیق) تعریف کریں، تو تم اس کی نیکی کے بارے میں کوئی شک نہ کرو۔"
---
(3) شرح الصنعانی (التنویر شرح الجامع الصغير: 683)
متنِ عبارت کا اردو ترجمہ
(إِذَا سَمِعْتَ جِيرَانَكَ يَقُولُونَ قَدْ أَحْسَنْتَ فَقَدْ أَحْسَنْتَ)
یعنی حقیقت میں اور اللہ کے ہاں (بھی تو نے احسان کیا)۔
(وَإِذَا سَمِعْتَهُمْ يَقُولُونَ قَدْ أَسَأتَ فَقَدْ أَسَأتَ)
اللہ کے ہاں اور حقیقت میں (بھی تو نے برا کیا)۔
اس کے معنی بار بار گزر چکے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے بندوں کی زبانوں پر جو کچھ جاری کیا اسے اس کے ہاں بندے کے حال کی دلیل بنایا ہے۔
یہ احتمال بھی ہے کہ یہاں خاص طور پر پڑوسیوں کا ذکر اس لیے کیا گیا ہے کہ اگر کوئی شخص پڑوسیوں کے ساتھ اچھا سلوک کرے تو دوسری برائیوں کو معاف کر دیا جاتا ہے (پڑوسی کے حق کی عظمت کی وجہ سے)، اور اگر وہ پڑوسیوں کے ساتھ برا سلوک کرے تو دوسروں کے ساتھ اچھے سلوک کو کوئی حیثیت نہیں۔
(تخریج) یہ حدیث احمد، ابن ماجہ، طبرانی نے ابن مسعود سے روایت کی ہے۔ مصنف (منذری) نے اسے حسن ہونے کا اشارہ کیا ہے۔
اور کلثوم خزاعی سے بھی روایت ہے۔ کلثوم بن علقمہ بن ناجیہ بن مصطلق ہیں۔ ان کے بارے میں کہا گیا ہے کہ ان کی نبی ﷺ سے ملاقات ہوئی، لیکن صحیح یہ ہے کہ وہ صحابی نہیں ہیں، بلکہ صحابہ ان کے والد ہیں۔ چنانچہ ان کی حدیث مرسل ہے۔ مصنف نے اسے بھی حسن کا اشارہ دیا ہے۔
---
(4) شرح المناوی (فیض القدیر شرح الجامع الصغير: 688)
متنِ عبارت کا اردو ترجمہ
(إِذَا سَمِعْتَ جِيرَانَكَ) (جیم کے کسرہ کے ساتھ) یعنی ان میں سے نیک لوگ (يَقُولُونَ قَدْ أَحْسَنْتَ فَقَدْ أَحْسَنْتَ)
یعنی تو نیکو کاروں میں سے ہے۔ یہ اللہ کی طرف سے پردہ پوشی اور درگزر ہے اس کے بارے میں جو کچھ وہ جانتا ہے (جو لوگوں سے مخفی ہے)۔ کیونکہ درگزر اس کی صفت ہے۔ اور جب وہ اس شخص کے بارے میں گواہوں کی گواہی کے مطابق حکم دیتا ہے جو اس کے علم کے مطابق سزا کا مستحق ہے، تو یہ اس کی طرف سے مغفرت اور فضل ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: {هُوَ أَهْلُ التَّقْوَى وَأَهْلُ الْمَغْفِرَةِ} (المدثر: 56)۔
(وَإِذَا سَمِعْتَهُمْ يَقُولُونَ قَدْ أَسَأتَ) یعنی تو برے لوگوں میں سے ہے۔ کیونکہ انہوں نے اس کے برے عمل کے ظاہر ہونے پر گواہی دی، اور وہ اس کے ساتھ گناہ گار ہے۔ پس اگر اللہ اسے اس کے ظاہر عمل کی بناء پر عذاب دے جو گواہی کے مطابق ہے، تو یہ جائز ہے۔ اور یہ جائز نہیں کہ اللہ اسے اس چیز پر عذاب دے جس پر انہوں نے گواہی دی جبکہ اللہ کے ہاں وہ نیک ہو۔ جیسا کہ کلاباذی نے ذکر کیا ہے۔
پھر جو کچھ یہاں ذکر کیا گیا ہے کہ حدیث کے الفاظ یہ ہیں، وہی ہے جو میں نے مصنف کے قلم سے دیکھا ہے۔ البتہ ابو نعیم، ابن مندہ اور ابن عبد البر کی روایت میں کلثوم کے طریق سے یوں ہے: "إذا قال جيرانك إنك قد أحسنت فقد أحسنت، وإذا قال جيرانك إنك قد أسأت فقد أسأت"
(تخریج) یہ حدیث احمد، ابن ماجہ، طبرانی نے ابن مسعود سے روایت کی ہے۔ ایک شخص نے نبی ﷺ سے پوچھا: میں کیسے جانوں کہ میں نے احسان کیا یا برا کیا؟ تو آپ نے یہ حدیث ذکر فرمائی۔ عراقی نے کہا: اس کی سند جید ہے۔
اور کلثوم خزاعی سے بھی ابن ماجہ نے روایت کیا ہے۔ کلثوم بن علقمہ بن ناجیہ خزاعی ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ ان کی نبی ﷺ سے ملاقات ہوئی، لیکن صحیح یہ ہے کہ صحابہ ان کے والد ہیں۔ ذہبی اور ابو نعیم نے ایسا ہی کہا ہے۔ ابن عبد البر نے کہا: ان کی صحبت صحیح نہیں ہے، اور ان کی حدیث مرسل ہے۔ ابن اثیر نے کہا: صحیح یہ ہے کہ صحبت ان کے بیٹوں کو حاصل ہے۔
مناوی کہتے ہیں: ابن ماجہ کے راوی صحیح کے راوی ہیں، سوائے ان کے شیخ محمد بن یحییٰ کے، جن سے مسلم نے روایت نہیں کی۔ اس حدیث کو براء نے بھی روایت کیا ہے۔ ہیثمی نے کہا: اس کے راوی صحیح کے راوی ہیں۔ لہٰذا مصنف (منذری) کا صرف اسے حسن کہنا (مکمل انصاف کے بجائے) تقصیر ہے۔
---
حاصل شدہ اہم اسباق و نکات
احسان کی پہچان اور پڑوسیوں کا کردار
1. جنت کا آسان راستہ: نبی ﷺ نے بتایا کہ جنت میں داخل ہونے کا ایک بہترین طریقہ یہ ہے کہ انسان نیکو کار (محسن) ہو کر رہے۔
2. احسان کی پہچان: انسان خود اپنے احسان یا بدکاری کا صحیح اندازہ نہیں لگا سکتا، اس لیے اللہ نے پڑوسیوں اور قریبی لوگوں کو انسان کے کردار پر گواہ بنا دیا ہے۔
3. پڑوسیوں کی گواہی کی اہمیت: اگر پڑوسی (اور خاص طور پر نیک پڑوسی) یہ کہیں کہ تو نے اچھا کیا ہے تو یہ اس بات کی دلیل ہے کہ تو نے واقعی اچھا کیا ہے۔
4. معاشرے میں انسان کی حیثیت: انسان کی حقیقی خوبی کا اندازہ اس کے معاشرے اور پڑوسیوں کی رائے سے لگایا جا سکتا ہے۔
5. پڑوسی کے حق کی عظمت: اس حدیث میں پڑوسی کو خاص طور پر اس لیے ذکر کیا گیا کہ حقِ ہمسایگی اسلام میں بہت اہم ہے۔ پڑوسی کے ساتھ اچھا سلوک دوسری غلطیوں کو معاف کروا سکتا ہے، اور اس کے ساتھ برا سلوک دوسری خوبیوں کو بے اثر کر سکتا ہے۔
حضرت عمر کا قول (اجتماعی گواہی)
1. تین قسم کی گواہی: جب کوئی شخص اپنے پڑوسی، رشتہ دار، اور ساتھی (رفیق) کی تعریف کرے تو اس کی نیکی پر شک نہیں کرنا چاہیے۔ اس سے معلوم ہوا کہ ان تینوں گروہوں کی رائے کسی شخص کے کردار کے بارے میں معیاری حیثیت رکھتی ہے۔
2. اجتماعی رائے کی اہمیت: ایک شخص کی نیکی کا اندازہ صرف ایک شخص کی رائے سے نہیں لگایا جا سکتا، بلکہ جب مختلف حلقوں کے لوگ متفق ہوں تو یہ زیادہ قابل اعتماد ہے۔
علمی و فقہی نکات
1. لوگوں کی زبان اللہ کی زمین پر گواہ ہے: شارحین نے اس بات پر زور دیا کہ اللہ تعالیٰ نے بندوں کی زبانوں کو بندے کے حق میں گواہ بنا دیا ہے۔ اگر لوگ کسی کی تعریف کریں تو یہ اس کی نیکی کی علامت ہے، اور اگر مذمت کریں تو یہ اس کی بدی کی علامت ہے۔
2. پڑوسیوں کی گواہی پر عمل: یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ کسی شخص کے کردار کے بارے میں فیصلہ کرتے وقت اس کے پڑوسیوں کی رائے کو پیش نظر رکھا جائے۔
3. حدیث کی سندی حیثیت: یہ حدیث صحیح اور قابل عمل ہے۔ اسے امام احمد، ابن ماجہ، حاکم، ابن حبان وغیرہ نے روایت کیا ہے اور محدثین نے اس کی سند کو حسن یا صحیح قرار دیا ہے۔
4. کلثوم خزاعی کی روایت: اگرچہ کلثوم خزاعی کی صحبت محل نظر ہے، لیکن ابن مسعود والی روایت کی سند جید ہے، اور ہیثمی نے کہا کہ اس کے راوی صحیح کے راوی ہیں۔
5. عملی زندگی میں اطلاق: ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ اپنے پڑوسیوں کے ساتھ اچھا سلوک کرے اور ان کی رائے کو اپنے کردار کے بارے میں پیمانہ بنائے۔
واللہ اعلم بالصواب
تخريج الحديث
"ہمارے بعد ہمارے جنازے فیصلہ کریں گے کہ حق پر کون تھا"
یہ جملہ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ سے منسوب ہے، جیسا کہ علامہ ابن کثیر نے اپنی تاریخ کی کتاب (البداية والنهاية: ج10/ ص375) میں ان کے حالات میں درج کیا ہے۔ امام احمد نے اہل بدعت سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا تھا:
"قولوا لأهل البدع: بيننا وبينكم الجنائز حين تمر"
یعنی اہل بدعت سے کہہ دو کہ ہمارے اور تمہارے درمیان فیصلہ جنازے کریں گے۔
اس قول کی بنیاد قرآن و سنت کی روشنی میں درج ذیل ہے:
---
📖 قرآن کریم سے دلائل
۱۔ جنازے میں شرکت کی شرعی اہمیت
· سورہ التوبہ (9:84) میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
"اور تم ان میں سے کسی کے مرنے پر کبھی اس کی نمازِ جنازہ نہ پڑھنا، اور نہ اس کی قبر پر کھڑے ہونا"
(یہ آیت منافقین کے بارے میں ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کسی شخص کی حیثیت اور دین سے اس کی وابستگی اس کے جنازے کے اہتمام اور اس میں شرکت سے ظاہر ہوتی ہے)۔
۲۔ موت کے بعد ہی حق و باطل میں تمیز
· سورہ آل عمران (3:185) میں ارشاد ہے:
"ہر جاندار موت کا مزہ چکھنے والا ہے، اور تمہیں تمہارے اجر قیامت کے دن پورے دیے جائیں گے"
(یہ آیت اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ دنیا میں لوگوں کا اصل چہرہ/کردار اکثر اُن کے بعد کے حالات سے واضح ہوتا ہے)۔
---
📚 احادیث مبارکہ سے دلائل
۱۔ جنازے کی کثرت میت کے حق میں شفاعت کا ذریعہ
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
"جس میت پر مسلمانوں کی سو(100) لوگوں کی جماعت نے نمازہ جنازہ پڑھی، اور وہ سب کے سب اس کے لیے شفاعت کے طلب گار ہوں، تو اس میت کے حق میں ان کی شفاعت ضرور قبول کی جاتی ہے۔"
[صحیح مسلم (947-2198)]
"جس مسلمان کے جنازے میں چالیس(40) ایسے آدمی کھڑے ہوں جو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرتے ہوں، تو اللہ تعالیٰ ان کی شفاعت اس کے حق میں قبول فرما لیتا ہے۔"
[صحیح مسلم:948-2199، سنن ابوداؤد:3170، سنن ابن ماجہ:1489]
جو بھی مسلمان فوت ہو جائے اور اس کے قریبی پڑوسیوں میں سے چار(4) لوگ اس کے نیک ہونے کی گواہی دیں تو اللہ پاک فرماتے ہیں کہ میں نے اس فوت شدہ بندہ کے حق میں تمہارے علم کے مطابق (تمہاری گواہی) قبول کرلی اور میں نے اس کے ان گناہوں کو معاف کردیا جس کو تم نہیں جانتے۔
[مسند احمد:13541، صحیح ابن حبان:599، مسند ابويعلي:3481، المستدرك الحاكم:1414(1398)، الأحاديث المختارة:1660، صحيح الترغيب:3515]
"جس میت کے جنازے میں تین صفیں بن جائیں، تو اس کے لیے جنت واجب ہو جاتی ہے۔"
[سنن ابی داؤد:3166، سنن ترمذی:1028، سنن ابن ماجہ:1490]
۲۔ جنازہ میت کے لیے گواہی
· رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"تم جنازے کے پیچھے چلا کرو، کیونکہ اگر وہ نیک ہے تو تم نیکی کی طرف لے جا رہے ہو"
[صحیح بخاری:1315، صحیح مسلم:2186-2188، سنن النسائى:1911-1912، سنن الترمذي:1015، سنن ابوداؤد:3181،۔سنن ابن ماجہ:1477]
·
"جس کی لوگ تعریف کریں، وہ جنت میں جائے گا، اور جس کی مذمت کریں، وہ جہنم میں جائے گا۔"
[سنن نسائي:1934] صحیح البخاری:1367، 2642، صحیح مسلم:949، سنن الترمذی:1058، سنن ابن ماجہ:1491]
نوٹ:
(اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ "مسلم" عوام/معاشرے کی عمومی رائے کسی حد تک حقانیت کی دلیل ہو سکتی ہے)۔
---
🧾 امام احمد بن حنبل کے قول کی تصدیق
علامہ ابن کثیر رحمہ اللہ نے اس قول کے صحیح ہونے کی تائید کی ہے، چنانچہ وہ رقم طراز ہیں:
"وقد صدق الله قول أحمد في هذا، فإنه كان إمام السنة في زمانه، وعيون مخالفيه أحمد بن أبي دؤاد وهو قاضي قضاة الدنيا لم يحتفل أحد بموته، ولم يتلفت إليه."
(اللہ نے امام احمد کا یہ قول سچ کر دکھایا، کیونکہ وہ اپنے دور میں اہل سنت کے امام تھے، جبکہ ان کے بڑے مخالف احمد بن ابی دؤاد کی موت پر کسی نے توجہ نہ دی)۔
---
🧷 خلاصہ
قرآن و سنت کی روشنی میں یہ ثابت ہے کہ:
1. جنازے میں شرکت اور اس کی کثرت میت کے حق میں شفاعت کا ذریعہ ہے، اور یہ لوگوں کے دلوں میں اس کی قدر و منزلت کا آئینہ دار ہوتی ہے۔
2. امام احمد بن حنبل کا یہ قول نہ صرف ان کے دور میں عملی طور پر سچ ثابت ہوا، بلکہ یہ ایک ایسا اصول ہے جو دوسرے ادوار میں بھی دیکھا جا سکتا ہے کہ حق پرستوں کے جنازے عظیم الشان ہوتے ہیں، جبکہ باطل پرستوں کے جنازوں میں کسی کی دلچسپی نہیں ہوتی۔
والله أعلم بالصواب
تنہائی میں بھی نامناسب امور سے اجتناب :
__________________________
قال النبي صلى الله عليه و سلم :" ما كرهت أن يراه الناس منك ، فلا تفعله بنفسك إذا خلوت" ( الجامع الصغير لجلال الدين: 7973 حديث حسن)
أخرجه ابن حبان (2/129، رقم 403) ، والضياء (4/178، رقم 1393) .
__________________________
قال النبي صلى الله عليه و سلم :" ما كرهت أن يراه الناس منك ، فلا تفعله بنفسك إذا خلوت" ( الجامع الصغير لجلال الدين: 7973 حديث حسن)
أخرجه ابن حبان (2/129، رقم 403) ، والضياء (4/178، رقم 1393) .



No comments:
Post a Comment