اگر کوئی شخص کتاب کا تعارف کراتا ہے تو پہلے اس کتاب کا نام، پھر اس کے مصنف کا اسم گرامی، پھر یہ کہ کتاب کونسی زبان میں ہے پھر اس کا موضوع، پھر تصنیف کرنے کا مقصد بیان کرے گا، ان سب باتوں کے بعد اس کتاب کا رتبہ اور فضائل بتائے گا۔ تو قرآن کریم کا تعارف بھی ان ہی باتوں سے ہوگ قرآن کے اسماء اگر ہم قرآن سے پوچھیں (یعنی قرآن میں تلاش کریں)کہ تمہارا اسم گرامی کیا ہے ؟تو وہ جواب میں بتائے گا کہ میرا ایک نام نہیں، بلکہ میرے کئی نام ہیں، جن میں سے چند یہ ہیں: ٭... سب سے زیادہ مشہور نام ”قرآن“ہے، جس کو اللہ نے اپنے کلام میں ستر مرتبہ ذکر کیا ہے۔پھر اللہ پاک نے اس لفظ قرآن کو کبھی مبین کے ساتھ موصوف کیا ہے، جیسے کہ سورة الحجر کی پہلی آیت میں آیا ہے:﴿وَقُرْآنٍ مُّبِیْن﴾ اور کبھی عظیم کے ساتھ موصوف کیا ہے جیسا کہ سورة الحجر کی آیت 87 میں ہے:﴿وَالْقُرْآنَ الْعَظِیْم﴾اور کبھی حکیم کے ساتھ موصوف کیا ہے،جیسا کہ سورة یاسین کی دوسری آیت میں ہے:﴿وَالْقُرْآنِ الْحَکِیْم﴾اور کبھی کریم کے ساتھ موصوف کیا ہے جیسا کہ سورة واقعہ کی آیت 77 میں ہے﴿إِنَّہُ لَقُرْآنٌ کَرِیْم﴾ اور کبھی عربی کے ساتھ موصوف کیا ہے، جیسے کہ سورة یوسف کی دوسری آیت میں ہے﴿إِنَّا أَنزَلْنَاہُ قُرْآناً عَرَبِیّاً﴾ اور کبھی عجب کے ساتھ موصوف کیا ہے، جیسے کہ سورة جن کی پہلی آیت میں ہے:﴿ إِنَّا سَمِعْنَا قُرْآناً عَجَبا﴾اور کبھی یھدی کے ساتھ موصوف کیا ہے جیسے کہ سورة بنی اسرائیل کی آیت 9 میں ہے:﴿إِنَّ ہَذَا الْقُرْآنَ یِہْدِیْ لِلَّتِیْ ہِیَ أَقْوَم﴾اور کبھی مجید کے ساتھ موصوف کیا ہے، جیسے سورة بروج کی آیت 21 میں آیاہے:﴿بَلْ ہُوَ قُرْآنٌ مَّجِیْد﴾ ․ ٭... دوسرا نام کتاب ہے، پھر لفظ کتاب کبھی الف لام سے معرفہ ہوگا، جیسے سورة بقرہ کی دوسری آیت میں ہے:﴿ذَلِکَ الْکِتَابُ لاَ رَیْْبَ فِیْہِ﴾ اور کبھی بغیر الف لام کے نکرہ ہوگا، جیسے سورہ بقرہ کی آیت 89 میں ہے:﴿وَلَمَّا جَاء ہُمْ کِتَابٌ مِّنْ عِندِ اللّہ﴾ اس نام کے ساتھ بھی کبھی مبارک کی صفت لگی ہوگی۔جیسے سورة انعام کی آیت 92 میں ہے:﴿وَہَذَا کِتَابٌ أَنزَلْنَاہُ مُبَارَکٌ ﴾ اور کبھی مفصل کی صفت لگی ہوگی، جیسے سورة انعام کی آیت 114 میں ہے:﴿َہُوَ الَّذِیْ أَنَزَلَ إِلَیْْکُمُ الْکِتَابَ مُفَصَّلا﴾اور کبھی حکیم کی صفت لگی ہوگی، جیسے سورة یونس کی پہلی آیت میں ہے:﴿تِلْکَ آیَاتُ الْکِتَابِ الْحَکِیْم﴾ ۔اور کبھی مبین کی صفت لگی ہوگی، جیسے کہ سورة زخرف کی دوسری آیت میں ہے:﴿وَالْکِتَابِ الْمُبِیْن﴾اور کبھی منیر کی صفت لگی ہوگی، جیسے کہ سورة حج کی آٹھویں آیت میں ہے﴿یُجَادِلُ فِیْ اللَّہِ بِغَیْْرِ عِلْمٍ وَلَا ہُدًی وَلَا کِتَابٍ مُّنِیْر﴾اور کبھی عزیزکی صفت لگی ہوگی، جیسے کہ سورة حم سجدہ کی آیت 41 میں ہے ﴿وَإِنَّہُ لَکِتَابٌ عَزِیْزٌ﴾ اور کبھی متشابہ کی صفت لگی ہوگی، جیسے کہ سورة زمر کی، آیت 23 میں ہے﴿کتابا متشابھا﴾ ․ ٭... تیسرا نام العلم ہے، جیسا کہ سورة بقرہ کی آیت 120 میں ہے﴿جَاء کَ مِنَ الْعِلْمِ﴾ ۔ ٭... چوتھا نام الفرقان ہے، جیسا کہ سورة اٰ ل عمران کی آیت 4 میں ہے﴿ وَأَنزَلَ الْفُرْقَان﴾ ٭... پانچواں نام قصص الحق ہے، جیسا کہ سورة اٰل عمران کی آیت 62 میں ہے﴿إِنَّ ہَذَا لَہُوَ الْقَصَصُ الْحَق﴾۔ ٭... چھٹا نام حبل اللہ ہے جیسا کہ سورة اٰل عمران کی آیت 103 میں ہے﴿إِنَّ ہَذَا لَہُوَ الْقَصَصُ الْحَق﴾۔ ٭... ساتواں بیان نام ہے، آٹھواں ھدیً ہے، نواں موعظة ہے،جیسا کہ یہ تینوں نام اٰل عمران کی آیت 138 میں﴿ہَذَا بَیَانٌ لِّلنَّاسِ وَہُدًی وَمَوْعِظَةٌ لِّلْمُتَّقِیْن﴾ ٭... دسواں نام برہان ہے اور گیارہواں نور مبین ہے،جیسا کہ یہ دونوں سورة نساء کی آیت 174 میں ہیں﴿قَدْ جَاء کُم بُرْہَانٌ مِّن رَّبِّکُمْ وَأَنزَلْنَا إِلَیْْکُمْ نُوراً مُّبِیْنا﴾۔ ٭... بارہواں نام صراط مستقیم ہے،جیسا کہ سورة انعام کی آیت 126 میں ﴿وَہَذَا صِرَاطُ رَبِّکَ مُسْتَقِیْماً﴾ ٭... تیرہواں نام بینة ہے، جیسا کہ سورة انعام کی آیت 157 میں ہے﴿ فَقَدْ جَاء کُم بَیِّنَةٌ مِّن رَّبِّکُمْ﴾ ٭... چودہواں نام کلام اللہ ہے،جیسا کہ سورة توبہ کی چھٹی آیت میں ہے﴿ حَتَّی یَسْمَعَ کَلاَمَ اللّہ﴾۔ ٭... پندرہواں شفاء ہے اور سولہواں رحمة ہے،جیسا کہ یہ دونوں نام سورة یونس کی آیت 57 میں ہیں﴿یَا أَیُّہَا النَّاسُ قَدْ جَاء تْکُم مَّوْعِظَةٌ مِّن رَّبِّکُمْ وَشِفَاء لِّمَا فِیْ الصُّدُورِ وَہُدًی وَرَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ ﴾ ٭... سترواں نام فضل اللہ ہے، جیسا کہ سورة یونس کی آیت 58 میں ہے﴿قُلْ بِفَضْلِ اللّہِ﴾۔ ٭... اٹھارواں نام بلاغ ہے جیسا کہ سورة ابراہیم کی آیت 56 میں ہے﴿ہَذَا بَلاَغٌ لِّلنَّاس﴾ ۔ ٭... انیسواں نام الروح ہے ،جیسا کہ سورة النحل کی دوسری آیت میں ہے﴿یُنَزِّلُ الْمَلآئِکَةَ بِالْرُّوحِ﴾۔ ٭... بیسواں نام ذکر ہے، جیسا کہ سورة انبیاء کی آیت 50 میں ہے﴿وَہَذَا ذِکْرٌ مُّبَارَکٌ أَنزَلْنَاہ﴾۔ ٭... اکیسواں نبأعظیم ہے جیسا کہ سورة ص کی آیت 67 میں ہے ﴿قُلْ ہُوَ نَبَأٌ عَظِیْمٌ ﴾۔ ٭... بائیسواں نام احسن الحدیث ہے ،جیسا کہ سورة الزمر کی آیت 23 میں ہے ﴿اللَّہُ نَزَّلَ أَحْسَنَ الْحَدِیْثِ﴾۔ ٭... تئیسواں نام صدق ہے، جیساکہ سورة الزمر کی آیت 33 میں ہے ﴿وَالَّذِیْ جَاء بِالصِّدْقِ﴾ ٭... چوبیسواں نام بصائر ہے،جیسا کہ سورة الجاثیہ کی، آیت 20 میں ہے﴿ہَذَا بَصَائِرُ لِلنَّاس﴾۔ ٭... پچیسواں نام حکمة بالغة ہے ،جیسا کہ سورة القمر کی آیت5 میں ہے ﴿حِکْمَةٌ بَالِغَةٌ فَمَا تُغْنِ النُّذُر﴾۔ ٭... چھبیسواں نام تذکرہ ہے، جیسا کہ سورة الحاقہ کی آیت 48 میں ہے﴿وانہ لتذکرة للمتقین﴾۔ ٭... ستائیسواں نام قول فصل ہے، جیساکہ سورة طارق کی آیت13 میں ہے﴿ انہ لقول فصل﴾ ۔ تنبیہ1. قرآن کے ان اسماء میں سے اصل نام دو ہیں ایک ”قرآن“ یہ جمالی نام ہے، دوسرا” فرقان “یہ جلالی نام ہے۔ باقی سارے اسماء ان کی فرع ہیں۔ تنبیہ2. یہ بھی ایک قاعدہ ہے کہ جس چیز کے بہت سے نام ہوں یہ اس کے عظیم الشان ہونے پر دلالت کرتا ہے۔ قرآن مجید کے اسماء درجہ ذیل ہیں: الفرقان: (تَبَارَكَ الَّذِي نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلَى عَبْدِهِ لِيَكُونَ لِلْعَالَمِينَ نَذِيرًا) (الفرقان ـ1) بابرکت ہے وہ ذات جس نے اپنے بندے پر فرقان نازل فرمایا تاکہ وہ سارے جہاں والوں کے لئے انتباہ کرنے والا ہو۔ الكتاب: (ألم (1) ذَلِكَ الْكِتَابُ لَا رَيْبَ فِيهِ هُدًى لِلْمُتَّقِينَ)(البقرة ـ1ـ2) یہ کتاب، جس میں کوئی شبہ نہیں، ہدایت ہے تقویٰ والوں کے لیے۔. الذكر: (إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ)(الحجر ـ9). اس ذکر کو یقینا ہم ہی نے اتارا ہے اور ہم ہی اس کے محافظ ہیں۔ یہان کچھ اسماء ایسے ہیں کہ جن کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے کہ آیا یہ قرآن مجید کے اسماء میں سے ہیں یا صفات میں سے۔ لیکن یہ ظاہرََا قرآن مجید کے صفات میں سے ہیں جو درجہ ذیل ہیں: كلام الله: (وَإِنْ أَحَدٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ اسْتَجَارَكَ فَأَجِرْهُ حَتَّى يَسْمَعَ كَلَامَ اللهِ ثُمَّ أَبْلِغْهُ مَأْمَنَهُ ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ قَوْمٌ لَا يَعْلَمُونَ)(التوبة ـ6). اور اگر مشرکین میں سے کوئی شخص آپ سے پناہ مانگے تو اسے پناہ دے دیں تاکہ وہ کلام اللہ کو سن لے پھر اسے اس کی امن کی جگہ پہنچا دیں،ایسا اس لیے ہے کہ یہ لوگ جانتے نہیں ہیں۔ التنزيل:(وَإِنَّهُ لَتَنْزِيلُ رَبِّ الْعَالَمِينَ)(لشعراء ـ192) اور بتحقیق یہ (قرآن) رب العالمین کا نازل کیا ہو اہے۔ وقوله تعالى: (لَا يَأْتِيهِ الْبَاطِلُ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ وَلَا مِنْ خَلْفِهِ تَنْزِيلٌ مِنْ حَكِيمٍ حَمِيدٍ)(فصلت ـ42). باطل نہ اس کے سامنے سے آ سکتا ہے اور نہ پیچھے سے، یہ حکمت والے اور لائق ستائش کی نازل کردہ ہے۔ النّور:(يَا أَيُّهَا النَّاسُ قَدْ جَاءَكُمْ بُرْهَانٌ مِنْ رَبِّكُمْ وَأَنْزَلْنَا إِلَيْكُمْ نُورًا مُبِينًا) (النساء ـ174). اے لوگو! تمہارے رب کی طرف سے تمہارے پاس واضح دلیل آگئی ہے اور ہم نے تمہاری طرف روشن نور نازل کیا ہے۔ الموعظة: (يَا أَيُّهَا النَّاسُ قَدْ جَاءَتْكُمْ مَوْعِظَةٌ مِنْ رَبِّكُمْ وَشِفَاءٌ لِمَا فِي الصُّدُورِ وَهُدًى وَرَحْمَةٌ لِلْمُؤْمِنِينَ) (يونس ـ57). اے لوگو! تمہارے پروردگار کی طرف سے (یہ قرآن) تمہارے پاس نصیحت اور تمہارے دلوں کی بیماری کے لیے شفا اور مومنین کے لیے ہدایت اور رحمت بن کر آیا ہے۔ پس اس طرح قرآن مجید کے لئے دو مخصوص نام باقی رہ گئے یعنی ایک قرآن اور دوسرا فرقان جبکہ اقی اسماء الفاظ و معانی کے اعتبار سے عام ہیں جو قرآن اور دیگر کتب میں قدر مشترک ہیں۔یعنی یہ اسماء قرآن کے علاوہ دیگر کتب کےلئےبھی استعمال ہوتےہیں۔ صفاتِ قرآن: جب ہم قرآن مجید کی طرف مراجعہ کرتے ہیں اور ان صفات کی طرف دیکھتے ہیں تو ہمیں پتہ چلتا ہے کہ اللہ تعالی نے قرآن مجید کی بے شمار صفات بیان فرمائی ہیں۔ اور جب ہم یہاں صفات اور اسماء کی بات کررہے ہیں تواس سے مراد قرآن مجید کی وہ صفات اور اسماء ہیں جو دیگر روایات وغیر ہ میں مذکور توصیفات اور اسماء سے قطع نظر خود قرآن میں اللہ تعالی نے ذکر کئے ہیں۔ یہاں ہم قرآن مجید میں مذکور کچھ صفات کوپیش کرتے ہیں: العظيم: (وَلَقَدْ آتَيْنَاكَ سَبْعًا مِنَ الْمَثَانِي وَالْقُرْآنَ الْعَظِيمَ)(الحجر 87). اور بتحقیق ہم نے آپ کو (بار بار) دہرائی جانے والی سات (آیات) اور عظیم قرآن عطا کیا الكريم: (وَإِنَّهُ لَقَسَمٌ لَوْ تَعْلَمُونَ عَظِيمٌ (76) إِنَّهُ لَقُرْآنٌ كَرِيمٌ) (الواقعة ـ76 ـ77). اور اگر تم سمجھو تو یہ یقینا بہت بڑی قسم ہے، کہ یہ قرآن یقینا بڑی تکریم والا ہے۔ المبين: (الر تِلْكَ آيَاتُ الْكِتَابِ وَقُرْآنٍ مُبِينٍ)(الحجر ـ1). الف لام را، یہ کتاب اور قرآن مبین کی آیات ہیں۔ الحكيم: (يس (1) وَالْقُرْآنِ الْحَكِيمِ)(يس ـ1 ـ2). یا، سین، قسم ہے قرآن حکیم کی المبارك: (كِتَابٌ أَنْزَلْنَاهُ إِلَيْكَ مُبَارَكٌ لِيَدَّبَّرُوا آيَاتِهِ وَلِيَتَذَكَّرَ أُولُو الْأَلْبَابِ)(ص ـ29). یہ ایک ایسی بابرکت کتاب ہے جو ہم نے آپ کی طرف نازل کی ہے تاکہ لوگ اس کی آیات میں تدبر کریں اور صاحبان عقل اس سے نصیحت حاصل کریں۔ المجيد: (ق وَالْقُرْآنِ الْمَجِيدِ)(ق ـ1). قاف ، قسم ہے شان والے قرآن کی۔ العزيز: (إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا بِالذِّكْرِ لَمَّا جَاءَهُمْ وَإِنَّهُ لَكِتَابٌ عَزِيزٌ) (فصلت ـ41) جو لوگ اس ذکر کا انکار کرتے ہیں جب وہ ان کے پاس آجائے، حالانکہ یہ معزز کتاب ہے۔ الهدى: (ألم (1) ذَلِكَ الْكِتَابُ لَا رَيْبَ فِيهِ هُدًى لِلْمُتَّقِينَ)(البقرة ـ1 ـ2). یہ کتاب، جس میں کوئی شبہ نہیں، ہدایت ہے تقویٰ والوں کے لیے۔ الرحمة: (الم (1) تِلْكَ آيَاتُ الْكِتَابِ الْحَكِيمِ (2) هُدًى وَرَحْمَةً لِلْمُحْسِنِينَ)(لقمان ـ1ـ3) الف ، لام ، میم۔ یہ حکمت بھری کتاب کی آیات ہیں۔ نیکوکاروں کے لیے ہدایت اور رحمت ہے، اس کے علاوہ قرآن مجید کے کچھ صفات یہ ہیں: «الشّفاء» و«البلاغ» و«البشير» و«النّذير» و«البصائر» و«الحقّ» و«العلم» و«الصدق» و«العَجَبُ» و«التذكرة» و«البيان» و«الوحي» و«البصائر» و«أحسن الحديث» .......وغیرہ. قرآن اللہ کا کلام ہے اگر ہم قرآن سے پوچھیں کہ آپ کس کا کلام ہیں؟ مشرکین عرب تو کہتے ہیں کہ قرآن محمد بن عبداللہ کا بنایا ہوا ہے یا کسی اور شخص نے لکھوایا ہے اس لیے یہ شعر ہے یا سحر ہے یا کہانت ہے ۔ آپ بتائیں، کہ حقیقت کیا ہے؟ تو قرآن کریم ان سب باتوں کی تردید بہت سے دلائل سے کرے گا۔ ایک دلیل یہ کہ قرآن عربی زبان میں ہے اور مشرکین بھی عرب ہیں اور فصاحت و بلاغت کے اعلی مقام پر فائز ہیں تو اگر قرآن محمد بن عبداللہ نے خود بنایا ہے تو وہ بھی قرآن جیسی کتاب بنا لائیں، مگر یہ لوگ قرآن کی طرح کتاب نہیں بنا سکتے تو معلوم ہوا کہ یہ اللہ کا کلام ہے کسی بشر کا نہیں ۔قرآن پاک نے پوری دنیاکے کفار کو قرآن کے ساتھ مقابلہ کرنے کی دعوت دی ہے کہ تم سب مل کر قرآن جیسی کتاب بناؤ، جیسا کہ فرمان الہٰی ہے﴿قُل لَّئِنِ اجْتَمَعَتِ الإِنسُ وَالْجِنُّ عَلَی أَن یَأْتُواْ بِمِثْلِ ہَذَا الْقُرْآنِ لاَ یَأْتُونَ بِمِثْلِہِ وَلَوْ کَانَ بَعْضُہُمْ لِبَعْضٍ ظَہِیْرا﴾ [سورة بنی اسرائیل:88] ”کہہ دو اگر سب آدمی اور سب جن مل کر بھی ایسا قرآن لانا چاہیں تو نہیں لا سکتے، اگر چہ ان میں سے ہر ایک دوسرے کا مددگار کیوں نہ ہو“۔پھر اللہ نے قرآن کے منکرین کو اس تحدی میں سہولت دی کہ اگر پورا قرآن نہیں بنا سکتے ہو تو دس سورتیں بنا لاؤ، فرمایا : ﴿أَمْ یَقُولُونَ افْتَرَاہُ قُلْ فَأْتُواْ بِعَشْرِ سُوَرٍ مِّثْلِہ مُفْتَرَیَاتٍ وَادْعُواْ مَنِ اسْتَطَعْتُم مِّن دُونِ اللّہِ إِن کُنتُمْ صَادِقِیْنَ، فَإِن لَّمْ یَسْتَجِیْبُواْ لَکُمْ فَاعْلَمُواْ أَنَّمَا أُنزِلِ بِعِلْمِ اللّہ﴾ [سورة سورة ھود :14-13] ”کیا کہتے ہیں کہ تونے قرآن خود بنالیا ہے کہ دو تم بھی ایسی دس سورتیں بناؤ اور اللہ تعالیٰ کے سوا جس کو بلا سکو بلا لاؤ اگر تم سچے ہو ۔پھر اگر تمہارا کہنا پورا نہ کریں تو جان لو کہ قرآن اللہ کے علم سے نازل کیا گیا ہے “۔اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے منکرین کے لیے قرآن کے ساتھ مقابلہ کرنا بہت آسان کردیا کہ اگر تم دس سورتیں بھی نہیں بنا سکتے ہو تو ایک سورة بناؤ ،فرمایا:﴿وَإِن کُنتُمْ فِیْ رَیْْبٍ مِّمَّا نَزَّلْنَا عَلَی عَبْدِنَا فَأْتُواْ بِسُورَةٍ مِّن مِّثْلِہِ وَادْعُواْ شُہَدَاء کُم مِّن دُونِ اللّہِ إِنْ کُنْتُمْ صَادِقِیْنَ ، فَإِن لَّمْ تَفْعَلُواْ وَلَن تَفْعَلُواْ فَاتَّقُواْ النَّارَ الَّتِیْ وَقُودُہَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ أُعِدَّتْ لِلْکَافِرِیْنَ﴾ [سورة بقرة:24-23] ”اگر تمہیں اس چیز میں شک ہے جو ہم نے اپنے بندے پر نازل کی ہے تو ایک سورة اس جیسی لے آؤ اور اللہ کے سوا جس قدر تمہارے حمایتی ہوں بلالو اگر تم سچے ہو۔ بھلا اگر ایسانہ کر سکو اور ہر گز نہیں کرسکتے تو اس آگ سے بچو جس کا ایندھن آدمی اور پتھر ہیں، جو کافروں کے لیے تیار کی گئی ہے“۔ تو اللہ تعالیٰ نے ابتدا میں پورے قرآن سے تحدی کی،پھر دس سورتوں سے ،پھر ایک سورة سے، گویا ان کا عجز بتدریج نمایا ں کیا۔ دوسری دلیل یہ پیش کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اُمی (بے پڑھے)ہیں نہ خط لکھ سکتے ہیں نہ پڑھ سکتے ہیں۔ فرمایا :﴿فَآمِنُواْ بِاللّہِ وَرَسُولِہِ النَّبِیِّ الأُمِّی﴾ [سورة اعراف :158] ”سو اللہ پر ایمان لاؤ اور اس کے نبی امی (بے پڑھے)پر“اور امی کی تفسیر یہ فرمائی ہے :﴿وَمَا کُنتَ تَتْلُو مِن قَبْلِہِ مِن کِتَابٍ وَلَا تَخُطُّہُ بِیَمِیْنِکَ إِذاً لَّارْتَابَ الْمُبْطِلُون﴾ [سورة عنکبوت:48] ”اور اس سے پہلے نہ تو کوئی کتاب پڑھتا تھا اور نہ اس دائیں ہاتھ سے لکھتا تھا، تب تو یہ باطل پرست شک کرتے “تیسری دلیل یہ پیش کی :﴿وَلَقَدْ نَعْلَمُ أَنَّہُمْ یَقُولُونَ إِنَّمَا یُعَلِّمُہُ بَشَرٌ لِّسَانُ الَّذِیْ یُلْحِدُونَ إِلَیْْہِ أَعْجَمِیٌّ وَہَذَا لِسَانٌ عَرَبِیٌّ مُّبِیْن﴾․[سورة النحل:103]”اور ہمیں خوب معلوم ہے وہ کہتے ہیں اسے تو ایک آدمی سکھاتا ہے، حالاں کہ جس آدمی کی طرف نسبت کرتے ہیں اس کی زبان عجمی ہے اور یہ (قرآن)عربی زبان ہے۔“ مذکورہ آیت کا شان نزول یہ ہے کہ مکہ مکرمہ میں بلعام نامی ایک رومی غلام رہتا تھا ،وہ اسلام لایا تو رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسے اسلامی احکام کی تعلیم فرمایا کرتے تھے، لیکن مشرکین نے یہ مشہور کردیا کہ وہ رومی غلام محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو قرآن سکھاتا ہے ۔اللہ نے مشرکین کے اس طعن کا، جو محض عناد پر مبنی تھا، نہایت معقول جواب دیاکہ جس غلام کی طرف وہ تعلیم قرآن کی نسبت کرتے ہیں اس کی زبان تو عجمی ہے اور یہ قرآن صاف اور سلیس عربی میں ہے تو قرآن اس عجمی کا کلام کس طرح ہوسکتا ہے۔ چوتھی دلیل یہ پیش کی :﴿أَفَلاَ یَتَدَبَّرُونَ الْقُرْآنَ وَلَوْ کَانَ مِنْ عِندِ غَیْْرِ اللّہِ لَوَجَدُواْ فِیْہِ اخْتِلاَفاً کَثِیْرا﴾[سورة النساء :82] ”کیا یہ لوگ قرآن میں غور نہیں کرتے؟ اور اگر یہ قرآن اللہ کے سوا کسی اور کی طرف سے ہوتا تو اس میں بہت اختلافات پاتے“اختلاف سے مراد یا تو یہ ہے کہ قرآن کے بیان کردہ امور نفس الامر سے مختلف ہوتے ۔مگر قرآن کے بیان کردہ امور سب حقائق ہیں ،کوئی بھی خلاف واقع نہیں ہے۔یا اختلاف کا مقصد یہ ہے کہ قرآن کے مضامین میں کوئی باہمی تناقض ہو تا،حالاں کہ قرآن کے مضامین میں کہیں بھی کوئی تناقص نہیں ہے۔ یا اختلاف سے مراد یہ کہ قرآن کی فصاحت و بلاغت میں اختلاف ہوتا، یعنی کسی جگہ بلاغت موجود ہوتی اور کسی جگہ موجودنہ ہوتی لیکن بلاغت کے اعتبار سے قرآن میں اختلاف نہیں ہے قرآن از اول تا آخر فصیح و بلیغ ہے، جب قرآن کے بیان کردہ امور بالکل واقعہ کے موافق ہیں اور قرآن کے مضامین میں کوئی تضاد و تناقص نہیں ہے اور قرآن میں فصاحت وبلاغت یکساں ہیں اس میں ہستی ونیستی کا کوئی اختلاف نہیں ہے تو معلوم ہوا کہ قرآن یقینا بلا شک و شبہ اللہ کا کلام ہے۔ اگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا بنایا ہوا ہوتا تو اس میں مذکورہ تینوں باتیں ضرور پائی جاتیں۔ پانچویں دلیل یہ پیش کی ہے :﴿وَمَا عَلَّمْنَاہُ الشِّعْرَ وَمَا یَنبَغِیْ لَہُ إِنْ ہُوَ إِلَّا ذِکْرٌ وَقُرْآنٌ مُّبِیْن﴾ [سورة یٰس :69] ”اور ہم نے نبی کو شعر نہیں سکھایا اور نہ یہ اس کے مناسب ہی تھا یہ تو صرف نصیحت اور واضح قرآن ہے“۔ نیز فرمایا:﴿وَمَا ہُوَ بِقَوْلِ شَاعِرٍ ﴾ [سورة الحاقہ:41] ”اور وہ کسی شاعر کا قول نہیں ہے“ان آیتوں میں مشرکین کے اس شبہ کا جواب ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم شاعر ہیں اور یہ قرآن شعر ہے ۔تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہم نے اپنے پیغمبر کو شاعری کا علم نہیں سکھلایا اور نہ شاعر ی آپ کے شایان شان ہے۔جب آپ شاعر نہیں تو یقینی بات ہے کہ قرآن شعر نہیں ہے تو آپ کے شاعرنہ ہونے کے باوجود ایسا بے مثل اور معجز کلام پیش کرنا، جو بشر کی استطاعت سے باہر ہو، یہ اس بات کی دلیل ہے کہ یہ قرآن اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوا ہے ۔مذکورہ شبہ کا جواب اللہ تعالیٰ نے ایک دوسرے انداز میں دیا ہے، وہ یہ ہے :﴿أَمْ یَقُولُونَ شَاعِرٌ نَّتَرَبَّصُ بِہِ رَیْْبَ الْمَنُونِ، قُلْ تَرَبَّصُوا فَإِنِّیْ مَعَکُم مِّنَ الْمُتَرَبِّصِیْن﴾ [سورة طور:31-30] ”کیا وہ کہتے ہیں کہ وہ شاعر ہے ہم اس پر گردش زمانہ کا انتظار کرتے ہیں ۔کہ دو تم انتظار کرتے رہو، بیشک میں بھی تمہارے ساتھ منتظر ہوں۔“یعنی معاندین تو کبھی کہتے ہیں کہ وہ شاعر ہے جب تک زندہ ہے اس کے اشعار کو عروج ہے اور ہم اس کی موت کے منتظر ہیں، جوں ہی اس نے آنکھیں بندکیں یہ سارا کھیل ختم ہوجائے گا۔اللہ تعالیٰ نے جواب دیا کہ موت تو سب پر آئے گی، اس لیے میں بھی انتظار کرتا ہوں کہ عزت کی موت کس کی ہوگی ؟ چھٹی دلیل یہ پیش کی کہ اگر بالفرض نبی اپنی طرف سے گھڑی ہوئی باتیں میری طرف منسوب کریں تو میں اس کو سخت سزا دوں گا ۔فرمایا: ﴿وَلَوْ تَقَوَّلَ عَلَیْْنَا بَعْضَ الْأَقَاوِیْلِ لَأَخَذْنَا مِنْہُ بِالْیَمِیْنِ ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْہُ الْوَتِیْنَ فَمَا مِنکُم مِّنْ أَحَدٍ عَنْہُ حَاجِزِیْنَ﴾ [سورة الحاقہ:44] ”اور اگر وہ کوئی بناوٹی بات ہمارے ذمہ لگاتا تو ہم اس کا داہنا ہاتھ پکڑ لیتے، پھر ہم اس کی رگ گردن کاٹ ڈالتے، پھر تم میں سے کوئی بھی اسے روکنے والا نہ ہوتا“۔ ساتویں دلیل یہ پیش کی :﴿فَذَکِّرْ فَمَا أَنتَ بِنِعْمَتِ رَبِّکَ بِکَاہِنٍ وَلَا مَجْنُون﴾ [سورة طور:29] ”پس نصیحت کرتے رہیے کہ آپ اپنے رب کے فضل سے نہ کاہن ہیں ،نہ دیوانے“۔جب آپ کاہن نہیں ہیں تو قرآن کہانت نہیں ہوگا، جیسا کہ ارشاد ربانی ہے :﴿وَلَا بِقَوْلِ کَاہِنٍ﴾ [سورة الحاقہ 42] ”اور نہ ہی (یہ قرآن)کسی کاہن کا قول ہے“یہ منکرین قرآن کا اس شبہ کا ازالہ ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کاہن ہیں اور قرآن کہانت ہے تو اللہ تعالیٰ نے اس کی تردید فرمائی کہ نہ آپ کاہن ہیں اور نہ قرآن کہانت ہے، بلکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو بڑی نعمت سے نوازا ہے، یعنی نبوت عطا فرمائی ہے اور یہ قرآن وحی ہے ،جو نبی ہی پر نازل ہوتا ہے۔ آٹھویں دلیل یہ پیش کی:مشرکین کہتے تھے کہ جب تک آپ آسمانوں پر جاکر وہاں سے لکھی ہوئی کتاب نہ لے آئیں اس وقت تک ہم ایمان نہیں لائیں گے تو اس کا جواب یہ دیا گیا﴿وَلَوْ نَزَّلْنَا عَلَیْْکَ کِتَاباً فِیْ قِرْطَاسٍ فَلَمَسُوہُ بِأَیْْدِیْہِمْ لَقَالَ الَّذِیْنَ کَفَرُواْ إِنْ ہَذَا إِلاَّ سِحْرٌ مُّبِیْنٌ﴾ [سورة الانعام:7] ”اور اگر ہم تم پر کوئی کاغذ پر لکھی ہوئی کتاب بھی اتار دیتے او لوگ اپنے ہاتھوں سے چھوکر بھی دیکھ لیتے تب بھی کافر یہی کہتے کہ یہ تو صریح جادو ہے۔“مقصد یہ کہ ان لوگوں نے صرف ضد و عناد کی بنا پر قرآن کو جادو کہہ کر انکار کیا ،ورنہ ان کے پاس قرآن کے جادو ہونے کی کوئی دلیل نہیں ہے، جیسے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿وَلَمَّا جَاء ہُمُ الْحَقُّ قَالُوا ہَذَا سِحْرٌ وَإِنَّا بِہِ کَافِرُونَ ، وَقَالُوا لَوْلَا نُزِّلَ ہَذَا الْقُرْآنُ عَلَی رَجُلٍ مِّنَ الْقَرْیَتَیْْنِ عَظِیْمٍ﴾ [سورة الزخرف:31-30] ”اور جب ان کے پاس سچا قرآن پہنچا تو کہا کہ یہ تو جادو ہے اور ہم اسے نہیں مانتے ہیں اور کہا کہ کیوں یہ قرآن ان دو بستیوں کے کسی سردار پر نازل نہیں کیا گیا؟“ اس کا جواب اللہ تعالیٰ نے دیا :﴿أَہُمْ یَقْسِمُونَ رَحْمَةَ رَبِّکَ نَحْنُ قَسَمْنَا بَیْْنَہُم مَّعِیْشَتَہُمْ فِیْ الْحَیَاةِ الدُّنْیَا وَرَفَعْنَا بَعْضَہُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجَاتٍ لِیَتَّخِذَ بَعْضُہُم بَعْضاً سُخْرِیّاً وَرَحْمَتُ رَبِّکَ خَیْْرٌ مِّمَّا یَجْمَعُون﴾ [سورة الزخرف:32] ”کیا وہ بانٹتے ہیں تیرے رب کی رحمت (جب کہ)دنیا کی زندگی میں ان کی روزی ہم نے تقسیم کی ہے اور ہم نے بعض کے بعض پر درجے بلندکیے تاکہ ایک دوسرے کو محکوم بنا کر رکھیں اور آپ کے رب کی رحمت اس سے کہیں بہتر ہے جووہ جمع کرتے ہیں۔“ مقصد یہ کہ میری رحمت جس کافرد اعلیٰ نبوت ہے ،کیا یہ ان کے ہاتھ میں ہے وہ جسے چا ہیں دے دیں؟ ہر گز نہیں، بلکہ:﴿اللّہُ أَعْلَمُ حَیْْثُ یَجْعَلُ رِسَالَتَہُ﴾ [سورة الانعام 124] ”اللہ بہتر جانتا ہے کہ اپنی پیغمبری کا کام کس سے لے“۔ نویں دلیل:اللہ تعالیٰ نے اس بات پر کہ قرآن مجید اللہ کا کلام ہے اپنی گواہی اور فرشتوں کی گواہیاں پیش کی ہیں، فرمایا:﴿اللّہُ یَشْہَدُ بِمَا أَنزَلَ إِلَیْْکَ أَنزَلَہُ بِعِلْمِہِ وَالْمَلآئِکَةُ یَشْہَدُونَ وَکَفَی بِاللّہِ شَہِیْدا﴾ [سورة النساء166] ”اللہ شاہد ہے اس پر جو تجھ پر نازل کیا کہ نازل کیا ہے اپنے علم کے ساتھ اور فرشتے بھی گواہ ہیں اور اللہ گواہی دینے والا کافی ہے“۔ اور دنیا میں یہ اصول مسلم ہے کہ ثقہ گواہوں سے دعویٰ ثابت ہو تا ہے اور سب سے زیادہ ثقہ گواہی اللہ تعالیٰ کی ہے، اس لیے فرمایا ﴿وکفی بالله شھیدا﴾ اسی اصول کی بنا پر رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ دعویٰ کہ یہ قرآن اللہ تعالیٰ کا کلام ہے، جو مجھ پر وحی کے ذریعہ نازل ہو ا ہے، بالکل حق اور سچ ہے۔ مذکور ہ دلائل سے منکرین قرآن کے سارے شکوک و شبہات رفع ہو کر یہ بات یقینی طور ثابت ہوگئی کہ قرآن اللہ کا کلام ہے، جیساکہ ارشاد ربانی ہے کہ: ﴿ذَلِکَ الْکِتَابُ لاَ رَیْْبَ فِیْہ﴾ [سورة بقرہ 1] ”یہ وہ کتاب ہے جس میں کوئی بھی شک نہیں ہے“یعنی اس بات میں شک نہیں کہ یہ قرآن اللہ کا کلام ہے ۔ قرآن عربی زبان میں ہے اگر قرآن سے پوچھا جائے کہ آپ کونسی زبان میں نازل ہوئے ہیں؟ تو قرآن جواب میں بہت سی ایسی آیتوں کو پیش کرے گا جن میں تصریح ہوئی ہے کہ قرآن عربی میں اترا ہے ۔مثلاً:﴿إِنَّا أَنزَلْنَاہُ قُرْآناً عَرَبِیّاً ﴾․ [سورة یوسف 2] ﴿أَنزَلْنَاہُ قُرْآناً عَرَبِیّاً﴾․ [سورة طٰہٰ 113] ﴿قُرآناً عَرَبِیّاً غَیْْرَ ذِیْ عِوَج﴾․ [سورة الزمر28] ﴿وَکَذَلِکَ أَوْحَیْْنَا إِلَیْْکَ قُرْآناً عَرَبِیّا﴾․ [سورة الشوریٰ 2]﴿إِنَّا جَعَلْنَاہُ قُرْآناً عَرَبِیّاً﴾․[سورة الزخرف 3]وغیرہ․․․․․اس سے معلوم ہوا کہ عربی ساری زبانوں میں بہتر زبان ہے، کیوں کہ اگر عربی سے کوئی اور بہتر زبان ہوتی تو اللہ تعالیٰ قرآن کو اس زبان میں نازل فرماتے ،مگر جب اللہ تعالیٰ نے قرآن کے لیے ساری زبانوں میں سے عربی کو منتخب کیا اس وجہ سے عربی کو ”ملکة الالسنة“کہتے ہیں اور اصول فقہ میں قرآن کی تعریف کی تکمیل ان الفاظ سے ہوئی ہے ھو اسم للنظم والمعنیٰ جمیعا (حسامی،منار) یعنی قرآن نظم و معنی دونوں کا نام ہے، اسی بنا پر فقہاء نے ایک مسئلہ استنباط کیا ہے:کہ عربی قرآن کے تحت کسی زبان میں ترجمہ کرناتو جائز ہے، مگر بغیر عربی کے کسی زبان میں قرآن کا ترجمہ جائز نہیں ہے، کیوں کہ پھر تو قرآن عربی نہیں رہے گا، بلکہ عجمی بن جائے گا، حالاں کہ قرآن عربی زبان میں ہے۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: أَحِبُّوا الْعَرَبَ لِثَلَاثٍ: لِأَنِّي عَرَبِيٌّ وَالْقُرْآنَ عَرَبِيٌّ وَكَلَامَ أَهْلِ الْجَنَّةِ عَرَبِيٌّ۔ ترجمہ: "عربوں سے تین وجوہات کی بنا پر محبت کرو: (۱) اس لیے کہ میں عربی ہوں، (۲) قرآن عربی ہے، اور (۳) جنت والوں کی زبان عربی ہے۔" [المستدرك على الصحيحين-الحاكم:6999 (7176)، المعجم الكبير للطبراني:11441، المعجم الأوسط للطبراني:5583، صفة الجنة-الضياء المقدسي:113، صفة الجنة لأبي نعيم الأصبهاني:268] دنیا میں جتنے علوم ہیں اور ان علوم کے جتنے موضوعات ہیں وہ سارے قرآن کے موضوعات ہیں، کیوں کہ سارے علوم کا منبع قرآن ہے، جیسا اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ﴿وَنَزَّلْنَا عَلَیْْکَ الْکِتَابَ تِبْیَاناً لِّکُلِّ شَیْْء ٍ﴾ [سورة النحل 89] ”اور ہم نے تجھ پر ایک ایسی کتاب نازل کی ہے جس مین ہرچیز کا کافی بیان ہے۔ “مگر یہاں قرآن کے موضوع سے مراد وہ مرکزی مضمون ہے جو تمام قرآن کے لیے بمنزلہ محور ہوتا ہے اور قرآن کے باقی مضامین اس کے اردگرد چکر لگاتے ہیں تو قرآن پاک میں ایسے مرکزی مضامین چار ہیں توحید رسالت قیامت احکام۔ اس کے علاوہ قرآن میں جو قصص و امثال اور تذکیر بایام اللہ وغیرہ بیان ہوئے ہیں وہ سب ان ہی چار مضامین کے اثبات و توضیح کے لیے ہیں۔چوں کہ قرآن کے مرکزی مضامین یہی چار ہیں اسی بنا پر یہی چار مضامین قرآن کا موضوع ہے۔ قرآن کے نزول کی غرض وغایہ اگر ہم قرآن سے پوچھیں کہ آپ کے نزول کی غرض وغایہ کیا ہے؟ تو قرآن جواب میں کہے گا کہ میرے نزول کے بڑے مقاصد چھ ہیں: پہلا مقصد ہدایت ہے، یعنی لوگوں کو سیدھا راستہ بتانا، جیسے کہ ارشاد باری ہے :﴿ذَلِکَ الْکِتَابُ لاَ رَیْْبَ فِیْہِ ہُدًی لِّلْمُتَّقِیْن﴾ [سورة البقرہ 2]․ ﴿شَہْرُ رَمَضَانَ الَّذِیَ أُنزِلَ فِیْہِ الْقُرْآنُ ہُدًی لِّلنَّاس﴾ [سورة البقرہ 185]․ ﴿إِنَّ ہَذَا الْقُرْآن یِہْدِیْ لِلَّتِیْ ہِیَ أَقْوَم﴾ [سورة بنی اسرائیل 9]۔ دوسرا مقصد انذار ہے، یعنی مجرموں کو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرانا، جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ﴿وَأُوحِیَ إِلَیَّ ہَذَا الْقُرْآنُ لأُنذِرَکُم بِہِ وَمَن بَلَغ﴾ [سورة الانعام19]۔﴿وَہَذَا کِتَابٌ أَنزَلْنَاہُ مُبَارَکٌ مُّصَدِّقُ الَّذِیْ بَیْْنَ یَدَیْْہِ وَلِتُنذِرَ أُمَّ الْقُرَی وَمَنْ حَوْلَہَا﴾ [سورة الانعام 92]۔ تیسرا مقصد لوگوں کو شرک وبدعت اور فسق و فجور کے اندھیروں سے نکالنا اور توحید و سنت اور اعمال صالحہ و اخلاق حسنہ کی روشنی میں لاکر کھڑا کرنا ہے، جیسے اللہ جل جلالہ کا فرمان ہے﴿کِتَابٌ أَنزَلْنَاہُ إِلَیْْکَ لِتُخْرِجَ النَّاسَ مِنَ الظُّلُمَاتِ إِلَی النُّورِ﴾ [سورة ابراہیم 1]۔ چوتھا مقصد یہ کہ قرآن کے ذریعہ لوگوں کے دعووں کا انصاف کے ساتھ فیصلہ کرنا، جیسے کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿إِنَّا أَنزَلْنَا إِلَیْْکَ الْکِتَابَ بِالْحَقِّ لِتَحْکُمَ بَیْْنَ النَّاس﴾ [سورة النساء 105] بے شک ہم نے تیری طرف سچی کتاب اتاردی ہے، تاکہ لوگوں میں (انصاف کے ساتھ )فیصلے کرے۔ پانچواں مقصد وعظ و نصیحت ہے، فرمایا:﴿کِتَابٌ أُنزِلَ إِلَیْْکَ فَلاَ یَکُن فِیْ صَدْرِکَ حَرَجٌ مِّنْہُ لِتُنذِرَ بِہِ وَذِکْرَی لِلْمُؤْمِنِیْن﴾ [سورة الاعراف 2]۔ ”یہ کتاب تیری طرف بھیجی گئی ہے، تاکہ تو اس کے ذریعے ڈرائے، اس سے تیرے دل میں تنگی نہ ہونی چاہیے، یہ ایمان والوں کے لیے نصیحت ہے“۔ چھٹا مقصد روحانی بیماریوں کے لیے شفا ہے، فرمایا:﴿یَا أَیُّہَا النَّاسُ قَدْ جَاء تْکُم مَّوْعِظَةٌ مِّن رَّبِّکُمْ وَشِفَاء لِّمَا فِیْ الصُّدُورِ﴾ [سورة یونس 57] ”اے لوگو!تمہارے پاس آیا اللہ کی طرف سے وعظ اور شفا ،ان بیماریوں کے لیے، جو تمہارے سینوں میں ہیں۔ قرآن جبرائیل امین لائے ہیں اگر ہم قرآن سے پوچھیں کہ آپ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے کون لایا ہے؟ کیا وہ لانے والا معتمد بھی ہے؟ تو قرآن جواب میں کہے گا کہ مجھے جبریل لائے ہیں جیسے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ﴿نَزَلَ بِہِ الرُّوحُ الْأَمِیْنُ﴾ [سورة الشعراء 193] ”امانت دار فرشہ لے کر آیا ہے۔“ اور جبریل فرشتوں کے سردار،بہت قوت والے اور انتہائی امانت دار ہیں اور اللہ تعالیٰ کے ہاں بہت معزز و مقرب ہیں اللہ تعالیٰ نے ان کی ان چار صفات کا ذکر یوں فرمایا ہے: ﴿إِنَّہُ لَقَوْلُ رَسُولٍ کَرِیْمٍ ذِیْ قُوَّةٍ عِندَ ذِیْ الْعَرْشِ مَکِیْن مُطَاعٍ ثَمَّ أَمِیْنٍ﴾․ [سورة التکویر 21-19] ”بے شک یہ قرآن ایک معزز پیغمبر کا لایا ہوا ہے، جو بڑا طاقت ور ہے، عرش کے مالک کے نزدیک بڑے رتبہ والا ہے، وہاں کا سردار امانت دار ہے۔“ اسی بنا پر اگر کوئی شخص جبریل سے دشمنی کرتا ہے، تو وہ اللہ کا دشمن سمجھا جاتا ہے، جیسے کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿قُلْ مَن کَانَ عَدُوّاً لِّجِبْرِیْلَ فَإِنَّہُ نَزَّلَہُ عَلَی قَلْبِکَ بِإِذْنِ اللّہِ مُصَدِّقاً لِّمَا بَیْْنَ یَدَیْْہِ وَہُدًی وَبُشْرَی لِلْمُؤْمِنِیْنَ، مَن کَانَ عَدُوّاً لِّلّہِ وَمَلآئِکَتِہِ وَرُسُلِہِ وَجِبْرِیْلَ وَمِیْکَالَ فَإِنَّ اللّہَ عَدُوٌّ لِّلْکَافِرِیْنَ﴾ [سورة البقرہ 98-97] ”کہہ دو جو کوئی جبرائیل کا دشمن ہو، سو اسی نے اتارا ہے وہ قرآن، اللہ کے حکم سے، آپ کے دل پر، ان کی تصدیق کرتا ہے جو اس سے پہلے ہیں اور ایمان والوں کے لیے ہدایت اور خوش خبری ہے۔جو شخص اللہ اور اس کے فرشتوں اور اس کے رسولوں اور جبرائیل اور میکائیل کا دشمن ہو توبے شک اللہ بھی ان کافروں کا دشمن ہے۔“ قرآن سرور کونین پر اتارا گیا ہے اگر ہم قرآن سے پوچھیں کہ آپ کو جس پر اتارا ہے وہ کون ہے؟ اور کیسا ہے؟ تو قرآن کہے گا کہ مجھے محمد رسول اللہ پر اتارا گیا ہے، جو اللہ تعالیٰ کے نزدیک سارے انسانوں سے بہتر ہے جن کی بہت سی خصوصی صفات ہیں، جن میں سے چند مندرجہ ذیل ہیں: ٭...آپ ابراہیم علیہ السلام کی دعا کا مصداق ہیں، وہ دعا یہ ہے : ﴿رَبَّنَا وَابْعَثْ فِیْہِمْ رَسُولاً مِّنْہُمْ یَتْلُو عَلَیْْہِمْ آیَاتِکَ وَیُعَلِّمُہُمُ الْکِتَابَ وَالْحِکْمَةَ وَیُزَکِّیْہِمْ إِنَّکَ أَنتَ العَزِیْزُ الحَکِیْم﴾․ [سورة البقرة129] ”اے ہمارے رب! ان میں ایک رسول انہیں میں سے بھیج ! جوان پر تیری آیتیں پڑھے اور انہیں کتاب اور دانائی سکھائے اور انہیں پاک کرے،بے شک تو ہی غالب، حکمت والا ہے“۔ ٭... آپ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی بشارت ہیں جو انہوں نے اس طرح دی:﴿وَمُبَشِّراً بِرَسُولٍ یَأْتِیْ مِن بَعْدِیْ اسْمُہُ أَحْمَدُ﴾ [سورة الصف 6]۔ اور ایک رسول کی خوش خبری دینے والا ہوں جو میرے بعد آئے گا اور اس کا نام احمد ہوگا “۔ ٭...آپ سارے عالم کے لیے رحمت بنا کربھیجے گئے، فرمایا:﴿وَمَا أَرْسَلْنَاکَ إِلَّا رَحْمَةً لِّلْعَالَمِیْنَ ﴾ [سورة الانبیاء:107] ”اور ہم نے تمہیں تمام جہاں کے لوگوں کے حق میں رحمت بنا کر بھیجا ہے“۔ ٭... آپ کو سارے لوگوں کے لیے نبی بنا کر مبعوث کیا ہے، فرمایا : ﴿وَمَا أَرْسَلْنَاکَ إِلَّا کَافَّةً لِّلنَّاسِ بَشِیْراً وَنَذِیْراً﴾ [سورة السبا:28]۔ ”اور ہم نے آپ کو سارے لوگوں کو ڈر اور خوشی سنانے کے لیے بھیجا ہے“۔ ٭...آپ کو خاتم النبیین کا اعزاز دیا فرمایا ﴿مَّا کَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِّن رِّجَالِکُمْ وَلَکِن رَّسُولَ اللَّہِ وَخَاتَمَ النَّبِیِّیْنَ﴾․ [سورة الأحزاب:40] ” محمد تم میں سے کسی مرد کے باپ نہیں لیکن وہ الله کے رسول اور سب نبیوں کے خاتم ہیں۔“ ٭... آپ کو معراج پر لے جا کر انتہائی اعزاز سے نوازا، فرمایا: ﴿سُبْحَانَ الَّذِیْ أَسْرَی بِعَبْدِہِ لَیْْلاً مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ إِلَی الْمَسْجِدِ الأَقْصَی الَّذِیْ بَارَکْنَا حَوْلَہُ لِنُرِیَہُ مِنْ آیَاتِنَا﴾․ [سورة بنی سرائیل:1] ”وہ پا ک ذات ہے جس نے راتوں رات اپنے بندے کو مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک سیر کرائی، جس کے گرد ا گردہم نے برکت رکھی ہے۔“ مسجد اقصیٰ کے بعد کا واقعہ سورة نجم میں یوں ذکر ہوا :﴿وَلَقَدْ رَآہُ نَزْلَةً أُخْرَی،عِندَ سِدْرَةِ الْمُنْتَہَی،عِندَہَا جَنَّةُ الْمَأْوَی،إِذْ یَغْشَی السِّدْرَةَ مَا یَغْشَی،مَا زَاغَ الْبَصَرُ وَمَا طَغَی،لَقَدْ رَأَی مِنْ آیَاتِ رَبِّہِ الْکُبْرَی﴾․ (النجم:18-13) ”اور اس نے اس کو ایک بار اور بھی دیکھا ہے سدرة المنتٰھی کے پاس، جس کے پاس جنت مأوٰی ہے، جب کہ اس سدرہ پر چھا رہا تھا جو چھا رہا تھا ( یعنی نور) نہ نظر بہکی نہ حد سے بڑھی، بے شک اس نے اپنے رب کی بڑی بڑی نشانیاں دیکھیں۔“ ٭... آپ کو برہان کہا ہے، فرمایا ﴿یَا أَیُّہَا النَّاسُ قَدْ جَاء کُم بُرْہَانٌ مِّن رَّبِّکُمْ﴾․ [سورة النساء:174) ” اے لوگو! تمہارے پاس پرورد گار کی طرف سے ایک دلیل آچکی ہے ( یعنی محمد صلی الله علیہ وسلم )۔ ٭... آپ کی صفات توراة وانجیل میں اس انداز سے بیان ہوئی تھیں جس کی بنا پر یہود ونصاریٰ کے علماء آپ کو اس طرح پہچانتے تھے، جس طرح اپنے بیٹوں کو پہچانتے تھے ،فرمایا : ﴿الَّذِیْنَ آتَیْْنَاہُمُ الْکِتَابَ یَعْرِفُونَہُ کَمَا یَعْرِفُونَ أَبْنَاء ہُمْ﴾․ [سورة البقرہ:146] ”وہ لوگ جنہیں ہم نے کتاب دی تھی وہ اسے پہچانتے ہیں جیسے اپنے بیٹوں کو پہچانتے ہیں۔“ ٭... آپ کے عظیم اخلاق پر الله تعالیٰ نے گواہی دی ہے، فرمایا ﴿وَإِنَّکَ لَعَلی خُلُقٍ عَظِیْمٍ ﴾․ [سورة القلم:4] ” اور بے شک آپ تو بڑے ہی خوش خُلق ہیں۔“ ٭... الله تعالیٰ نے آپ کا تذکرہ بہت اونچا کر دیا فرمایا ﴿وَرَفَعْنَا لَکَ ذِکْرَکَ﴾․ [سورة الم نشرح:4] ”اور ہم نے آپ کا ذکر بلند کر دیا۔“ ٭... الله تعالیٰ سارے انبیاء کے اس بات پر گواہ بنائیں گے کہ انہوں نے اپنی اپنی قوم کو الله تعالیٰ کا پیغام پورا پورا پہنچا دیا، فرمایا﴿ فَکَیْْفَ إِذَا جِئْنَا مِن کُلِّ أمَّةٍ بِشَہِیْدٍ وَجِئْنَا بِکَ عَلَی ہَؤُلاء شَہِیْدا﴾․ [سورة النساء:41] ”پھر کیا حال ہو گا جب ہم ہر امت میں سے گواہ بلائیں گے اور تمہیں ان پر گواہ کرکے لائیں گے۔“ ٭... آپ کو روز قیامت میں مقام محمود عطا کیا جائے گا اور یہ مقام محمود سب سے اعلی مرتبہ ہے فرمایا :﴿ أَن یَبْعَثَکَ رَبُّکَ مَقَاماً مَّحْمُوداً﴾․ [سورة بنی اسرائیل:79] ”قریب ہے کہ تیرا رب (یقینا) تجھ کو مقام محمود میں پہنچا دے گا۔“ ![]() قرآن مجید کے فضائل اگر ہم قرآن سے پوچھیں کہ آپ کے فضائل کیا ہیں؟ تو وہ جواب میں کہے گا کہ میرے تو بہت سے فضائل ہیں، جن میں سے چند یہ ہیں: ٭... مجھے رمضان المبارک کے مہینے میں نازل کیا ہے، فرمایا: ﴿شَہْرُ رَمَضَانَ الَّذِیَ أُنزِلَ فِیْہِ الْقُرْآن﴾․ [سورة البقرة:185] ”رمضان وہ مہینہ ہے جس میں قرآن اتارا گیا ہے۔“ ٭... مجھے شب قدر میں اتارا ہے فرمایا:﴿إِنَّا أَنزَلْنَاہُ فِیْ لَیْْلَةِ الْقَدْرِ﴾․ ( القدر:1) ”بے شک ہم نے اس قرآن کو شب قدر میں اتارا ہے۔“ ٭... مجھے عربی زبان میں نازل کیا ہے، فرمایا: ﴿إِنَّا أَنزَلْنَاہُ قُرْآناً عَرَبِیّاً لَّعَلَّکُمْ تَعْقِلُونَ﴾․ [سورة یوسف:2] ہم نے اس قرآن کو عربی زبان میں نازل کیا۔“ ٭...مجھے سارے لوگوں کی ہدایت کے لیے اتارا ہے ، فرمایا:﴿ہُدًی لِّلنَّاس﴾․ [سورة البقرہ:185] ”ہدایت ہے لوگوں کے واسطے۔“ ٭...میں حق وباطل کے درمیان فرق کرنے والا ہوں، فرمایا: ﴿وَبَیِّنَاتٍ مِّنَ الْہُدَی وَالْفُرْقَانِ﴾․ [سورة البقرہ:185] ”اور یہ ( قرآن کی آیتیں) ہدایت کی روشن دلیلیں او رحق وباطل میں فرق کرنے والا ہے۔“ ٭... میں خالص روشنی ہوں، فرمایا:﴿وَأَنزَلْنَا إِلَیْْکُمْ نُوراً مُّبِیْنا﴾․ [سورة النساء:174] اور ہم نے تمہاری طرف ایک ظاہر روشنی اتاری ہے۔“ ٭... میں نے سارے مسائل کی وضاحت کی ہے، فرمایا:﴿وَنَزَّلْنَا عَلَیْْکَ الْکِتَابَ تِبْیَاناً لِّکُلِّ شَیْْء ٍ﴾․[سورة النحل:89] اور ہم نے تجھ پر ایک ایسی کتاب نازل کی ہے جس میں ہر چیز کا کافی بیان ہے، نیز فرمایا :﴿وَلَقَدْ صَرَّفْنَا لِلنَّاسِ فِیْ ہَذَا الْقُرْآنِ مِن کُلِّ مَثَلٍ فَأَبَی أَکْثَرُ النَّاسِ إِلاَّ کُفُوراً﴾․ [سورة بنی اسرائیل:89] ”اور ہم نے اس قرآن میں لوگوں کے لیے ہر ایک قسم کی مثال کھول کر بیان کر دی ہے ۔“
٭... باطل میرے پاس نہیں آسکتا ،فرمایا: ﴿َإِنَّہُ لَکِتَابٌ عَزِیْزٌ لَا یَأْتِیْہِ الْبَاطِلُ مِن بَیْْنِ یَدَیْْہِ وَلَا مِنْ خَلْفِہِ تَنزِیْلٌ مِّنْ حَکِیْمٍ حَمِیْدٍ ﴾․ [سورة حم سجدہ:42-41] ”تحقیق وہ عزت والی کتاب ہے، جس میں غیر واقعی بات نہ اس کے آگے سے آسکتی ہے او رنہ اس کے پیچھے کی طرف سے، یہحکیم، محمود، الله کی طرف سے نازل کیا گیا ہے ۔“ ٭... میں روحانی بیماریوں کے لیے علاج ہوں، فرمایا:﴿یَا أَیُّہَا النَّاسُ قَدْ جَاء تْکُم مَّوْعِظَةٌ مِّن رَّبِّکُمْ وَشِفَاء لِّمَا فِیْ الصُّدُورِ﴾․ [سورة یونس:57] ”اے لوگو! تمہارے رب سے نصیحت اور دلوں کے روگ کی شفا تمہارے پاس آئی ہے۔“ ٭... میں تئیس سال کے عرصہ میں نازل ہوا ہوں، تاکہ لوگوں کے دلوں میں جانشین ہو جاؤں، فرمایا:﴿وَقُرْآناً فَرَقْنَاہُ لِتَقْرَأَہُ عَلَی النَّاسِ عَلَی مُکْثٍ وَنَزَّلْنَاہُ تَنزِیْلا﴾․[سورة بنی اسرائیل:106] ”او رہم نے قرآن کو تھوڑا تھوڑا کرکے اتارا ہے ،تاکہ تو مہلت کے ساتھ اسے لوگوں کو پڑھ کر سنائے اور ہم نے اسے آہستہ آہستہ اتارا ہے۔“ ٭... میں ایسی مؤثر کتاب ہوں اگر پہاڑ پر بھی نازل کیا جاؤں تو وہ بھی ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے گا، فرمایا:﴿لَوْ أَنزَلْنَا ہَذَا الْقُرْآنَ عَلَی جَبَلٍ لَّرَأَیْْتَہُ خَاشِعاً مُّتَصَدِّعاً مِّنْ خَشْیَةِ اللَّہِ ﴾․[سورة الحشر:21] ”اگر ہم اس قرآن کو کسی پہاڑ پر نازل کرتے تو آپ اسے دیکھتے کہ الله کے خوف سے جھک کر پھٹ جاتا۔“ ٭... میری حفاظت کی ذمہ داری الله جل جلالہ نے لی ہے، فرمایا:﴿إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّکْرَ وَإِنَّا لَہُ لَحَافِظُونَ﴾․[سورة الحجر:9] ”ہم نے یہ نصیحت اتاری، بے شک ہم اس کے نگہبان ہیں۔“ وصلی اللّٰہ علی سیدنا محمد واٰلہ واصحابہ اجمعین․ |

تلاوت آداب ومسائل
| ||||||
قرآن حکیم وہ زندہ وجاوید کتاب ہے ، جس کے فیوضات وبرکات، علوم ومعارف اور حکمتیں اور احکام تا قیامت جاری وساری رہیں گے۔ قرآن کریم سرچشمہٴ ہدایت ہے او رجس شخص نے بھی اسے غوروفکر توجہ وانہماک اور شوق ورغبت سے پڑھا ہے ، تو قرآن حکیم کی مقناطیسی کشش نے اسے اپنی طرف ایسا کھینچا ہے کہ وہ قرآن کریم کا ہو کر رہ گیا ہے ۔ قرآن دنیا کی وہ واحد ویکتا کتاب ہے جس کے باربار پڑھنے سے دل اکتا نہیں جاتا، بلکہ شوق ومحبت میں اضافہ ہی ہوتا ہے۔ اس بابرکت کتاب سے کماحقہ استفادہ اور اس کے انوار وحکمت اور علوم ومعارف حاصل کرنے کا ایک اچھا طریقہ اس کی تلاوت کرنا بھی ہے، اگر اس کی تلاوت آداب ، احکام اور مسنون طریقہ پر کی جائے تو ان شاء الله العزیز اس شخص کی زندگی میں قرآن انقلاب بپا کر دے گا۔ ذیل میں اس کے کچھ آداب تحریر کیے جاتے ہیں ۔ الله تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہم سب کو اس کی توفیق عطا فرمائے۔ قرآن کریم کی تلاوت کرنے سے پہلے مسواک کرنا اس کے بعد مسنون طریقے پر وضو کرنا قرآن کریم کی تلاوت پاک، صاف ستھری جگہ پر کرنا۔ بہتر یہ ہے کہ مسجد شریف میں تلاوت کی جائے ۔ کیوں کہ یہ دنیا کی افضل جگہ ہے ۔ مسجد میں تلاوت کرنے سے پہلے نفلی اعتکاف کی نیت کرنا ۔ ( کیوں نفلی اعتکاف ایک پل ولمحہ کا بھی جائز ہے۔) بعض علماء کے نزدیک باتھ روم وغیرہ میں قرآن کریم کی (یاد سے) تلاوت کرنا مکروہ ہے۔ ( امام نووی: التبیان فی آداب حملة القرآن، باب فی آداب القران، ص:42-38 ملخصاً السیوطی الاتقان فی علوم القرآن، باب فی آداب تلاوتہ وتالیفہ:28-25/1 ملخصاً۔) قرآن کی تلاوت کیسے کی جائے؟ قرآن کریم کی تلاوت شروع کرنے سے پہلے اخلاص نیت ہونا ضروی ہے۔ تلاوت کرتے وقت دل میں یہ خیال لانا کہ گویا میں الله تبارک وتعالیٰ سے مناجات کر رہا ہوں۔ تلاوت ایسی کی جائے گویاکہ تلاوت کرنے والا الله تبارک وتعالیٰ کو دیکھ رہا ہے ۔ اگر اس میں یہ حال وکیفیت پیدا نہ ہو تو یہ تو ضرور سمجھے کہ الله تعالیٰ مجھے دیکھ رہا ہے۔ قرآن کریم کی تلاوت کرتے وقت قبلہ رو ہو کر خشوع خضوع، وقار وادب واحترام کے ساتھ اپنا سرجھکا کر بیٹھنا چاہیے۔ پاک صاف ہو کر جسم کو خوشبو لگانا چاہیے۔ تلاوت کرتے وقت اپنے میسر شدہ کپڑوں میں سے بہتر اور صاف ستھرے کپڑے پہننا چاہیے۔ شروعات میں اعوذ بالله من الشیطن الرجیم اور بسم الله الرحمن الرحیم پڑھنا۔ تلاوت کرتے وقت بیچ میں کسی سے بھی کوئی گفتگو نہ کرنا، جب تک تلاوت پوری کرے ۔ حضرت عبدالله بن عمر رضی الله عنہ ایسا کیا کرتے تھے۔تلاوت کرتے وقت ریح وغیرہ آئے تو اس کو بند کرکے نہ بیٹھے، بلکہ تلاوت بند کرکے ریح وغیرہ کو خارج پھر ازسرِ نو تازہ وضو کرکے تلاوت شروع کرنا چاہیے۔ تلاوت کرتے وقت ہنسی مذاق اور شور وغوغا سے مکمل طو پر اجتناب کرنا لازم ہے۔(11) ہاتھ سے ڈاڑھی یا دوسرے کسی عضو کو پکڑنا اور کھیلنا مکروہ ہے۔ (12) ہر اس چیز کی طرف نظر کرنا جس سے ذہن اور دل وہاں متوجہ ہوں ، اس سے اجتناب کرنا ضروری ہے۔ (13) خصوصاً نامحرم عورت اور کمر عمر لڑکے کی طرف دیکھنے سے بچنا فرض ہے۔ (14) قرآن کریم یاد سے پڑھنا بغیر وضو کے جائز ہے، مگر افضل واعلیٰ وضو کے ساتھ پڑھنا ہے۔ (امام نووی، التبیان فی آداب حملة القرآن، باب المذکور سابقاً ،ص:51-50,43 الزرکشی، البرھان فی علوم القرآن، باب استحباب الاستیاک والتطہر للقرأن:464-459/1، السیوطی، الإتقان فی علوم القرآن:229-227/1)۔ مسئلہ: قرآن شریف سے دیکھ کر تلاوت کرنا زبانی تلاوت کرنے سے افضل ہے، کیوں کہ اس میں دو عبادتیں ہیں تلاوت قرآن کریم کو دیکھنا۔ اس لیے اس میں زبانی پڑھنے سے اجر وثواب بھی زیادہ ہے ۔ بہت سے صحابہٴ کرام قرآن شریف سے دیکھ کر تلاوت کیا کرتے تھے اور دن میں کم از کم ایک مرتبہ قرآن کریم کی زیارت نہ کرنے کو مکروہ سمجھتے تھے۔ ( ایضاً التبیان ص:55 ،البرہان:461/1) مسئلہ: قرآن کریم کی تلاوت کرتے وقت رونا چاہیے یا رونے کی کیفیت پیدا کرنی چاہیے ، یہ الله تعالیٰ کے نیک بندوں اور بزرگوں کی علامت ہے، جو کہ خود قرآن کریم کی اس آیت میں بیان کی گئی ہے﴿ویخرون للاذقان یبکون ویزیدھم خشوعا﴾․ (الاسراء:109)” او رگر پڑتے ہیں اوپر ٹھوڑیوں کے روتے ہوئے اورزیادہ کرتا ہے ان کو عاجزی کرنا“۔ اور جناب رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے بھی فرمایا: ”اقرأوا القرآن، وابکو، فان لم تبکوا فتباکوا․“ ”قرآن کی تلاوت کرتے وقت رونا۔ اگر رونا نہ آئے تو اپنا چہرہ رونے جیسا کرو ۔“ امام غزالی رحمہ الله نے فرمایا ہے کہ قرآن کی تلاوت کرتے وقت رونا مستحب ہے ۔ اس کا طریقہ یہ ہے کہ دل کی اتاہ گہرائیوں اور مکمل توجہ کے ساتھ قرآن پڑھنا چاہیے، دل میں غم وحزن، درد وکرب لائے کہ قرآن کریم میں جہنم اور آگ کی جو وعیدیں ہیں ان پر سوچے اور پھر اپنے گناہوں کو یاد کرکے تضرع والحاح کے ساتھ الله تعالیٰ سے معافی مانگے اور رونے کی بھرپور کوشش کرے۔ اگر اس کے باوجود بھی کسی کو دکھ درد اور غم وحزن لاحق نہ ہو اور رونا نہ آئے تواپنے نہ رونے پر روئے کیوں کہ اس سے بڑھ کر او رکوئی نحوست وبدقسمتی ہو نہیں سکتی کہ دل اتنا سخت ہو جائے ۔ ان شاء الله تعالی اس طریقے پر تلاوت کرتے رہنے سے آج نہیں، تو کل ضرور الله تعالیٰ کی بے ا نتہا رحمت اسے اپنی لپیٹ میں لے لے گی۔آپ تجربہ کرکے دیکھیں ایسا ضرور ہو گا۔ مسئلہ: قرآن کریم کی تلاوت بآوازِ بلند کرنا مستحب اور افضل ہے ۔ بشرطیکہ ریا کا خطرہ نہ ہو، کیوں کہ اس سے مندرجہ ذیل فوائد ہوں گے اس سے تلاوت کرنے والے شخص کا دل پاک صاف ہوکر چمک اٹھے گا۔ ( اور غافل دل جاگ اٹھے گا۔) اس کی مکمل توجہ قرآن کریم کی طرف ہو گی۔ اس کے کان او رآنکھیں بھی عبادت میں مصروف ہوں گے۔ نیند اور سستی جاتی رہے گی ۔ اس شخص سے سستی اور کاہلی جاتی رہے گی، چست و پھرتیلا ہو جائے گا۔ اس کے ارد گرد اگر کوئی غافل یا کاہل انسان ہو گا تو وہ بھی ہو شیار ہو جائے گا۔ علما نے لکھا ہے کہ ان چھ باتوں میں سے کوئی ایک نیت کرے تب بھی بآوازِ بلند پڑھنا افضل ہے۔ اگر یہ سب نیتیں کرے تو نور علی نور ہے اور اسے (ان سب نیتوں کا ) دوہرا اجر وثواب ملے گا۔ فائدہ: بآواز بلند پڑھنا اس وقت افضل ہے جب ریا، تکبر، عُجب اور دوسرے مفاسد کا خطرہ نہ ہو اور کسی دوسرے کی نماز یا عبادت وغیرہ میں خلل نہ پڑے یا کسی کی نیند وآرام خراب نہ ہو ۔ ان میں سے کسی بھی ایک کا خطرہ ہو تو آہستہ پڑھنا افضل ہے۔ مسئلہ: اپنی استطاعت کے مطابق قرآن کریم کو اچھی آواز میں پڑھنا مستحب ہے، جب کہ ترنم وغیرہ والے لہجے سے پرہیز کرنا لازم ہے ۔ (ایضاً البرھان للزرکشی :464-464/1، التبیان للنووی ص:60-58) تلاوت کے حقوق اس ضمن میں علامہ زر کشی نے اپنی مشہور ومعروف کتاب البرہان فی علوم القرآن میں عمدہ اور قیمتی بحث کی ہے ۔ اختصار کے ساتھ اسے یہاں درج کیا جاتا ہے۔ ” جس شخص کو الله تعالیٰ نے قرآن کریم کی تلاوت کرنے کی دولت نصیب کی ہے تو دراصل الله تعالیٰ نے اسے بے مثل نعمت سے نوازا ہے، کیوں کہ قرآن کریم رسول الله صلی الله علیہ وسلم کا سب سے بڑا معجزہ ہے ۔ اورا سلام کا مدار قرآن کریم پر ہے۔ اس لیے اسے اس کا شکر ادا کرنا چاہیے او رایسے کام کرنے چاہئیں کہ قرآن کریم اس کے لیے شفاعت کرے او ران لوگوں میں سے مت بنے جن پر قیامت کے دن قرآن کریم الله تعالیٰ کی عدالت میں مقدمہ دائر کرے۔ قرآن کریم کچھ کاموں کا مطالبہ کرتا ہے اور کچھ سے روکتا ہے۔ پہلی نافرمان اقوام کے اعمال بد اور ان کے عبرت ناک انجام وعذاب کا بیان کرہے، تاکہ مسلمان اسے پڑھ کر الله تعالیٰ کی نافرمانی اور عصیان سے بچیں، تاکہ اس عبرت ناک عذاب سے بچ جائیں۔ جب قرآن کریم کی تلاوت کرتے وقت یہ باتیں دل ودماغ میں محفوظ کرے گا تو ان شاء الله تعالیٰ وہ گناہوں سے رک جائے گا اور اسے عمل صالح کی توفیق نصیب ہو گی ۔ ان باتوں کے لیے سب سے بڑا معین ومدد گار ہے ”ترتیل“ یعنی ٹھہر ٹھہر کر تلاوت کرنا، یہ ترتیل ہر مسلمان پر فرض ہے ۔ کم سے کم درجے کی ترتیل یہ ہے کہ پڑھتے وقت ایکحرف دوسرے حرف سے ممتاز جداکر ادا کیاجائے۔ ہر حرف اور ہر لفظ زبان میں سے صاف کرکے ادا کیا جائے۔ سانس لیتے وقت رکنا چاہیے او رپھر آگے بڑھے، اسی طرح ہر لفظ اپنے مخرج میں سے نکالے۔ رسول اللہ ﷺ کا انداز قرأت [صحيح البخاري:5046] میں ہے کہ حضرت انس ؓ سے سوال کیا گیا کہ رسول اللہ ﷺ کی قرأت کس طرح تھی۔ فرمایا کہ ہر کھڑے لفظ کو آپ لمبا کر کے پڑھتے تھے پھر بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھ کر سنائی بسم اللہ پر مد کیا الرحمن پر مد کیا الرحیم پر مد کیا۔ [مسند احمد:26526-26564، سنن الترمذي:2923، سنن النسائي:1022-1629، صحیح ابن خزیمہ:1158، الطبراني:646 اور مستدرک حاکم:1165] میں حضرت ام سلمہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ہر ہر آیت پر رکتے تھے اور آپ کی قرأت الگ الگ ہوتی تھی جیسے بسم اللہ الرحمن الرحیم پھر ٹھہر کر الحمد للہ رب العالمین پھر ٹھہر کر الرحمن الرحیم پھر ٹھہر کر ملک یوم الدین۔ دار قطنی اسے صحیح بتاتے ہیں۔ قرآن پڑھتے وقت الفاظ کے معنی کی طرف غور وفکر کرنا چاہیے۔ ہر آیت کے معنی ومطلب اچھی طرح ذہن نشین کرے، جب تک ایک آیت کریمہ کے معنی ومقصد سمجھ میں نہ آئے تب تک دوسری آیت شروع نہ کی جائے ۔ رحمت والی آیت کی تلاوت کی جائے تو وہاں وقف کیا جائے او رالله تعالیٰ کی رحمت پر خوشی اور بشاشت کا اظہار کیا جائے۔ اور الله تعالیٰ سے اس کی رحمت کے طفیل جنت کا سوال کیا جائے ۔ جس آیت میں عذاب کا ذکر ہو تو وہاں بھی وقف کرکے اس کے معنی ومقصد پر غور کیا جائے۔ اگر یہ آیت کریمہ کافروں کے بارے میں تو اپنے ایمان کا اقرارا واعتراف کیا جائے اور ”آمنا بالله وحدہ“ پڑھے۔ پھر الله تعالیٰ سے جہنم کی آگ سے پناہ لی جائے۔ جس آیت میں ” یا ایھا الذین آمنوا“ ہو تو وہاں رک کر”لبیک ربی وسجدیک“ پڑھنا چاہیے۔ بہرحال ان الفاظ کے بعد آنے والی بات پر غور وفکر کرنا چاہیے ۔ اگر کوئی حکم کیا ہو او رپڑھنے والے کو اس حکم کی بابت کوتاہی اور سستی واقع ہوئی ہو تو فوری طور پر الله تعالیٰ سے اس گناہ کی بخشش ومعافی مانگی جائے، ( استغفار کرے) اور توبہ تائب ہوجائے۔ مثال کے طور پر یہ آیت ہے : ﴿یا ایھا الذین آمنوا قوا انفسکم واھلیکم ناراً﴾․ (التحریم:6) اے ایمان والو! اپنے آپ کو اور اپنے اہل وعیال کو آگ سے بچاؤ“ ہر ایک مسلمان پر لازم ہے کہ اپنے بال بچوں کو نماز روزہ کے احکام، غلاظتوں سے پاکی حاصل کرنا۔ عورتوں کو حیض ونفاس وغیرہ سے طہارت کے مسائل سمجھانا لازم ہے۔ اپنی یہ منصبی ذمہ داریاں پوری کرنی چاہیے۔ اسی طرح چھوٹی اولاد کی دینی تعلیم وتربیت پر بھی توجہ مرکوز ہو۔ اسی طرح ﴿یا ایھا الذین آمنوا توبوا الی الله توبة نصوحاً﴾ (التحریم:5) ” اے ایمان والو! الله تعالیٰ کے ہاں سچی توبہ کرو“ پڑھی جائے تو اپنے سب گناہوں، غلطیوں اور سیئات پر نظر دوڑائے ۔ اگر گناہ حقوق العباد کے قبیل سے ہیں تو جس کا جو بھی حق ہے اسے ادا کرنا چاہیے اور اگر حقوق الله کے گناہ ہیں تو رو رو کر اپنے الرحیم الراحمین رب سے اپنے گناہوں کی معافی وبخشش لے، جب اس طریقے سے قرآن مجید کی تلاوت کی جائے تو ان شاء الله تعالیٰ قرآن کریم کا حق ادا ہو جائے گا ۔ اور الله تعالیٰ اس بندہ کو اپنا فرماں بردار سمجھے گا۔ اگر کسی آیت میں کوئی حکم کیا ہوا ہے تو دل ہی دل میں اس کام کے کرنے اور فرماں برداری کرنے کا پکا ارادہ کر لے ۔ اور اگر کسی کام سے ممانعت ہے تو اس کام کو چھوڑنے اور گناہوں سے اجتناب کرنے کا عزم صمیم کر لے۔ اگر کسی عذاب یا سزا کا بیان ہے تو اپنے دل میں جھانکے، اگر اس میں الله تعالیٰ کے خوف کا حصہ زیادہ ہے تو اسے الله تعالیٰ کی رحمت میں امید دلائے ۔ او راگر اس میں امید کا حصہ زیادہ ہے تو اسے الله تعالیٰ کا خوف دلائے، تاکہ خوف وامید دونوں معتدل ہوں، جو کہ کامل ایمان ہے۔ علماء نے لکھا ہے کہ قرآن کریم کی تلاوت کرنے والوں کی تین اقسام ہیں: جو قرآن کریم کے الفاظ کے معنی ومطلب الله تعالیٰ کی گفتگو میں نظر عمیق کرے، اس کا مفہوم ومقصد اچھی طرح سمجھے، پھر اپنے رب کو تضرع والحاح کے ساتھ پکارے، آہ وزاری کرے، یہ عارف بالله کا درجہ ہے ۔ اس لیے ابو عبدالله القرشی نے فرمایا ہے : ” اگر قلوب گناہوں سے پاک وصاف ہوں، تو وہ قرآن کریم کی تلاوت سے کبھی بھی سیراب نہیں ہوں گے۔“ جو شخص دل کے حضور سے قرآن کریم میں غوطہ زنی کرتا ہے ، وہ یہ سمجھتا ہے کہ گویا الله تبارک وتعالیٰ اپنے لطف وکرم سے اس سے بات چیت کر رہا ہے، اس لیے الله کے انعامات واحسانات کے شکریے کے طور پر اسے عجز وانکساری کی تصویر بن کر پکاررہا ہے، اس درجے کا تقاضا حیاء، تعظیم (الله تعالیٰ کی طرف) توجہ کرنا ہے ۔ یہ درجہ الله تعالیٰ کے مقرب بندوں کو حاصل ہے۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " دَرَجُ الْجَنَّةِ عَلَى قَدْرِ آيَاتِ الْقُرْآنِ، بِكُلِّ آيَةٍ دَرَجَةٌ، فَبِكُلِّ سِتَّةٍ أَلْفٌ وَمِائَتَا آيَةٍ وَسِتَّ عَشْرَةَ، بَيْنَ كُلِّ دَرَجَتَيْنِ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ. قَالَ: فَيَنْتَهِي الْقَارِئُ بِهِ إِلَى أَعْلَى عِلِّيِّينَ، لَهَا سَبْعُونَ أَلْفَ رُكْنٍ، كُلُّ رُكْنٍ يَاقُوتَةٌ تُضِيءُ مَسِيرَةَ أَيَّامٍ وَلَيَالِيَ، وَيُصَبُّ عَلَيْهِ حُلَّةُ الْكَرَامَةِ، فَلَوْلَا أَنَّهُ يَنْظُرُ إِلَيْهَا بِرَحْمَةِ اللَّهِ لَأَذْهَبَ تَلَأْلُؤُهَا بِبَصَرِهِ ترجمہ: حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جنت کے درجات قرآن کی آیات کے مطابق ہے، ہر آیت کے ساتھ ایک درجہ، لہٰذا ہر چھ ہزار دو سو آیات اور سولہ کے لیے، ہر دو درجوں کے درمیان زمین و آسمان کا فاصلہ ہے۔ فرمایا: لہٰذا قاری کی انتہا اس کے سبب اعلیٰ علیین کی تک ہوگی۔ اس کے ستر ہزار گوشے ہوں گے، ہر ایک گوشہ یاقوت کا ہوگا جو دن اور راتوں کو روشن کرتا ہے، اور اس پر عزت ووقار کا لباس انڈیلتا ہے۔ لہٰذا اگر وہ اللہ کی رحمت سے اس کی طرف نظر نہ کرتا تو اس کی چمک دمک سے اسکی روشنی چلی جاتی۔ [الترغيب في فضائل الأعمال-لابن شاهين:206] قرآن کا مطالبہ عارفین او رمتقین کے نزد یک قرآن کریم کی ہر آیت میں دس باتیں ہوا کرتی ہیں، جن کو پورا کرنا چاہیے۔ ایمان رب تعالیٰ کی رضا پر راضی رہنا توبہ کرنا صبر رب تبارک وتعالی کی رضا کو ڈھونڈنا الله تعالیٰ کا خوف الله تعالیٰ کی رحمت میں امیدشکر الله تعالیٰ کی محبت الله تعالیٰ پر توکل کرنا۔“ ( علامہ الزرکشی: البرہان فی علوم القرآن:453-449/1) صفائی قلب کا علاج حضرت ابراہیم خواص رحمہ الله نے فرمایا: ” دل کی بیماریوں کی دوا اور علاج مندرجہ ذیل پانچ اشیاء ہیں: معنی ومقصد میں غوروفکر سے قرآن کریم کی تلاوت کرنا پیٹ کو خالی رکھنا ( بالکل تھوڑا کھانا پینا) رات کو عبادت کرنا سحر کے وقت الله تعالیٰ کو تضرع والحاح کے ساتھ پکارنا الله کے نیک بندوں کی صحبت میں بیٹھنا ۔“ ( علامہ نووی: التبیان فی آداب القرآن، ص:46)تلاوت قرآن کے افضل اوقات امام نووی رحمہ الله تحریر فرماتے ہیں کہ ” قرآن کریم پڑھنے کا سب سے افضل اور اچھا طریقہ ( نفلی) نماز میں پڑھنا ہے، نوافل کے سوا باقی افضل اوقات مندرجہ ذیل ہیں: سحر کے وقت غروب آفتاب سے لے کر نصف شب تک کسی بھی وقت مغرب وعشاء کے درمیان نماز فجر کے بعد جمعة المبارک، پیر اور جمعرات کے دن نو ذوالحجہ رمضان المبارک کا سارا مہینہ اور عشروں میں سے ماہِ رمضان کا آخری عشرہ ذوالحجہ کا پہلا عشرہ۔ ( امام نووی، التبیان فی آداب حملة القرآن ص:91)۔ تلاوت کے مکروہ اوقات رکوع، سجدہ اور تشہد کی حالت میں نماز میں قیام کے علاوہ باقی اور سب حالات میں بیت الخلاء میں نیند کے غلبے کے وقت خطبہ جمعہ سننے کے وقت کعبة الله شریف کا طواف کرتے وقت غسل خانہ ( حمام) میں منھ میں خون وغیرہ کی نجاست ہونے کے وقت ۔ مخصوص آیات کے مخصوص احکام جب ﴿وقالت الیھود عزیر بن الله وقالت النصاری المسیح ابن الله﴾ (التوبہ) ﴿وقالت الیھود ید الله مغلولة﴾ ․ (البقرة) ﴿وقالوا اتخذ الرحمن ولدا﴾ ( مریم) اور اسی قسم کی دوسری آیات کی تلاوت کی جائے تو اپنی آواز کو پست کرنا چاہیے او راپنے اوپر خشیت وخوف کی حالت طاری کرنا چاہیے۔ ﴿ان الله وملائکتہ یصلون علی النبی ﴾․ ( الاحزاب) پڑھے تو رسول الله صلی الله علیہ وسلم پر درود شریف پڑھا جائے۔والتین والزیتون والی سورة میں ﴿الیس الله باحکم الحاکمین﴾ پر پہنچے تو ﴿بلیٰ وانا علی ذلک من الشاھدین﴾ کہے سورة القیامة کی آخری آیت ﴿الیس الله بقا درعلیٰ ان یحییٰ الموتیٰ﴾ پر پہنچے تو ”بلیٰ“ کہنا چاہیے سورة الرحمن میں ﴿فبای آلاء ربکما تکذبٰن﴾ یا والمرسلات میں ﴿فبای حدیث بعدہ یؤمنون﴾ پر پہنچ کر ”آمنت بالله“ کہنا مستحب ہے۔ سورة الاعلیٰ کی پہلی آیت:﴿سبح اسم ربک الاعلیٰ﴾ پڑھے تو تین مرتبہ ﴿سبحان ربی الاعلیٰ‘﴾کہے۔ سورة الاسراء کی آخری آیت تلاوت کرنے کے بعد﴿الحمد لله الذی لم یتخذ ولدا﴾ پڑھنا چاہیے۔ سورة والضحیٰ سے لے کر والناس تک ہر سورت کے آخر میں ”الله اکبر“ کہنا مستحب ہے سورة والناس پوری کرنے کے بعد الله اکبر الحمد لله صدق الله اور رسول الله صلی الله علیہ وسلم پر درود شریف اور دعا مانگنا مستحب ہے۔ سورة الفاتحة پوری کرنے کے بعد آمین کہنا۔ قرآن کریم کا ختم کتنے دنوں میں کرنا چاہیے؟ اس سوال کا جواب ہر شخص کے اپنے حالات پر ہے۔ کیوں کہ بعض انسان کمزور وناتواں ہیں تو بعض طاقت ور ، بعض ہوشیار وذہین تو بعض غبی وکند ذہن، بعض غوروفکر کرنے والے تو بعض غافل۔ بعض پھر تیلے اور چست تو بعض کاہل او رسست اس لیے شریعت مطہرہ نے قرآن کریم کے ختم کی کوئی حد مقرر نہیں کی ہے ۔ البتہ اتنا ضرور ہے کہ اگر حکومتی ذمہ داریوں یا پڑھنے پڑھانے یا کسی دوسری دینی ذمہ داری سے فارغ ہے تو اپنی استطاعت کے مطابق اسے کثرت تلاوت کرنا چاہیے۔ باقی مندرجہ بالا ذمہ داریوں والے افراد کو اتنی تلاوت کرنی جس سے ان کو اپنی مفوضہ ذمہ داریاں نبھانے میں خلل وکارٹ نہ پڑے۔ عام حالات میں سلف صالحین سے مختلف طریقے نقل کیے گئے ہیں۔ کچھ ایک ماہ میں، کچھ ہفتے میں، کچھ ایک دن میں اور کچھ تو دن کو ایک ختم اور رات کو ایک ختم کرتے تھے۔ امام اعظم ابوحنیفہ رحمہ الله نے فرمایا ہے : ” جس شخص نے غوروفکر سے ایک سال میں قرآن کریم کے دو ختم کیے، اس نے قرآن کریم کا حق ادا کر دیا، کیوں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی وفات والے برس جبرئیل علیہ السلام نے آپ صلی الله علیہ وسلم کو دو مرتبہ قرآن کریم سنایا تھا۔ قرآن کریم کا ختم پورا کرنا
قرآن کریم کا ختم دن کے پہلے حصے میں مثال کے طور پر صبح کے وقت پورا کرنا مستحب ہے یا اگر رات کو پورا کرتا ہے تو رات کے پہلے حصے میں پورا کرنا چاہیے۔ ختم پورا کرنے والے دن نفلی روزہ رکھنا مستحب ہے، بشرطیکہ روزہ رکھنے کے مکروہ دن نہ ہوں۔ ختم پورا کرنے والے کی دعا میں شامل ہونا چاہیے۔ ختم پورا کرنے کے وقت دعا مانگنا نہایت تاکید کے ساتھ مستحب ہے ۔ کیوں کہ وہ دعا شرفِ قبولیت سے نوازی جاتی ہے۔ حمیدا عرج نے کہا ہے کہ جس شخص نے قرآن کریم پڑھا، پھر دعا مانگی تو اس کی دعا پر چار ہزار فرشتے آمین کہتے ہیں۔ دعا نہایت خشوع خضوع اور الحاح کے ساتھ ہونی چاہیے ختم پورا کرتے وقت یہ دعا مانگنا مستحب ہے: ﴿اللھم رحمنی بالقرآن العظیم، واجعلہ لي إماما ونوراً وھدی ورحمة، أللھم ذکرنی منہ ما نسیت، وعلمني منہ ما جھلت، وارزقني تلاوتہ آنا للیل وآناء النھار، واجعلہ لي حجة یا رب العالمین﴾․ ختم پورا کرنے اور دعا مانگنے کے بعد، پھر شروع سے الحمد شریف اور﴿ الم ذلک الکتاب﴾ سے ﴿ھم المفلحون﴾ تک پڑھنا مستحب ہے ،کیوں حدیث میں رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے اس عمل کو سب سے اچھا اور افضل عمل قرار دیا ہے ۔ الله تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہم سب کو قرآن کریم کی مندرجہ بالا طریقے پر تلاوت کرنے اور اپنی مرضیات کے کام کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین |
تدوینِ قرآن مجید ایک تحقیقی جائزہ

قرآن فہمی اور ہمارے درمیان حائل پردے
قرآن محکم کی شان عظیم (قسط 1)
قرآن کیا ہے
اللہ رب العالمین کا وہ کلام جو سید الملائکہ حضرت جبرئیل علیہ السلام کے ذریعہ رحمة للعالمین خاتم النّبیین سیّدالمرسلین حضرت محمد مصطفی صلى الله عليه وسلم کے قلب اطہر(۱) پر تیئس سال کے طویل عرصہ میں بتدریج مختلف مقامات و احوال میں متنوع ضرورت وحکمت کے تحت(۲) اصلاً بنی نوع انسان اور تبعاً جن کی ہدایت اور آخرت کی فلاح ونجات کے لیے خالص عربی زبان میں نازل کیاگیا، جس کے بیان میں یقین وصداقت ہے اور فصاحت وبلاغت کے اعلیٰ معیار پر ہونے کی وجہ سے اعجازی شان رکھتا ہے جو معانی اورحقائق کا خزینہ اور اسرار ومعارف کا غیر متناہی گنجینہ ہے۔(۳)
آں کتابِ زندہ قرآن حکیم حکمتِ او لایزال است و قدیم
نسخہٴ اسرارِ تکوینِ حیات بے ثبات از قوتش گیرد ثبات
نوعِ انساں را پیام آخریں حاملِ او رحمة للعالمیں
------------------
چیست قرآن اے کلام حق شناس رونمائے ربِّ ناس آمد بہ ناس
حرف حرفش راست در بر معنئے معنئے در معنئے در معنئے
اسی کلام ربّانی کو اہل ایمان کے سینوں میں اوراس کے نقوش کو صحیفوں میں حتی کہ اس کے لب ولہجہ کو زبان و ذہن میں اس طرح محفوظ کردیاگیا، ترمیم و تحریف سے مأمون ہوگیا۔ پھر اسی طرح یعنی سینہ بہ سینہ اور صحیفہ بہ صحیفہ ہر زمانہ میں تسلسل کے ساتھ اہل اسلام کا اتنا بڑا طبقہ اُسے مِن وعَن نقل کرتا چلا آرہا ہے کہ جس کا جھوٹ پر متفق ہونا عقلاً ناممکن ہے۔(۴) یہی وہ خدا کا ابدی پیغامِ ہدایت ہے جسے قرآن کہتے ہیں اس پرایمان لانا ہر فرد پر لازم و فرض ہے اوراس کے کسی بھی جزء کا انکار کفر ہے۔(۵)
عظمتِ قرآن
انسان کی فطرت میں ایسی قوت و صلاحیت ہی کہاں کہ پاک اور بے عیب ذات یعنی خالق کی صفات کو پاسکے اوراس کے کلام پرُانوار کواِس دنیا میں بلاواسطہ سُن اور سمجھ سکے۔ یہ تو اللہ رب العزت کی ضعیف الخلقت اشرف المخلوقات حضرت انسان پر بے حد عنایت و مہربانی ہے کہ اُس نے اُن حروف و اصوات میں جو کہ بشری صفات اور حادث ہیں اپنی صفتِ کلام کی تجلّی فرمائی یعنی اپنی قدرت سے جلالتِ کلام کی حقیقت کو حروف کے لباس میں پوشیدہ کردیا ورنہ اس کے بغیر اشرف المخلوقات ہونے کے باوجود اس میں کلام الٰہی کے سننے کی ہرگز طاقت نہیں تھی چہ جائیکہ اسے سمجھے۔
... وکیف تجلّت لہم تلک الصفة فی طی حروف واصوات ہی صفات البشر ان یعجز البشر عن الوصول الی فہم صفات اللّٰہ عزوجل الا بوسیلة صفات نفسہ. ولولا استتار کنہِ جلالةِ کلامہ بکسوة الحروف لما ثبت لسماع الکلام عرش ولاثری ولتلاشی ما بینہما من عظمة سلطانہ وسبحاتِ نورہ الخ (احیاء العلوم ۱/۳۳۹)
پس جس طرح انسان کا جسم اس کی روح کے لیے لباس و مکان ہے اور روح کی تعظیم و تکریم کی وجہ سے جسد خاکی بھی قابل تعظیم ہوگیا، اسی طرح قرآنی حروف وآواز کی تعظیم بھی اس لیے واجب ہے کہ کلام الٰہی کا نور اور حروف تجلی گاہ ہے۔ حضرت جعفرصادق رحمة الله عليه فرماتے ہیں ”واللہ خدا نے اپنے کلام میں تجلی فرمائی ہے جو مخلوق کے درمیان ہے لیکن لوگ اس کا مشاہدہ نہیں کرتے۔ (احیاء :۱ /۳۳۹)
کسی نے خوب کہا ہے:
چیست قرآن اے کلام حق شناس رونمائے ربِ ناس آمد بہ ناس
اے کلام حق کو پہچاننے والے قرآن کیاہے؟ یہ لوگوں کے پروردگار کا جلوہ دکھانے والا ہے جو سب لوگوں کے پاس آیا ہے۔
اسی عظمت کے پیش نظر صاحبِ الشفاء قاضی عیاض رحمة الله عليه فرماتے ہیں ”جس شخص نے قرآن یا اس کے کسی جزء کا استخفاف کیا یااُسے بُرا بھلا کہا یا کسی حرف کا انکار کیا یا کسی ایسی چیز کا انکار کیا جو صراحتاً مذکور ہے خواہ وہ کوئی حکم ہو یا خبر یا ثابت کیا جس کی قرآن نے نفی کی ہے یا نفی کی جس کو قرآن نے ثابت کیا ہے درانحالیکہ وہ اُسے جانتا بھی ہے یا قرآن کی کسی چیز میں شک کرتا ہے تو ایسا شخص باتفاق المسلمین کافر ہے (التبیان لامام النووی ص:۱۶۴) کنزالعمال ۱/۲۷۵ میں ہے مَن تَہاوَن بالقرآن خسر الدنیا والآخرة. جس نے قرآن کے ساتھ تحقیر کی وہ دنیاو آخرت میں برباد ہوگیا۔
اورکیوں نہ ہو کہ کلام الملوک ملوک الکلام شاہوں کا کلام کلاموں کا بادشاہ ہوتا ہے۔ پس کیا نہیں معلوم کہ شاہ کی یا اس کے کسی فرمان کی ادنی گستاخی و بے حرمتی گستاخ کو کیفرِ کردار تک پہنچادیتی ہے۔ اور یہ اس لیے ہوتا ہے کہ ہر صاحبِ کلام کو اپنا کلام محبوب ہوتا ہے اور اس کی ناقدری مبغوض ہوتی ہے۔ قرآن پاک بھی اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ محبوب ہے القرآن احب الی اللّٰہ مِن السموات والارض (مشکوٰة) قرآن اللہ تعالیٰ کو آسمان وزمین یعنی کائنات سے زیادہ محبوب ہے۔
کلام الٰہی کے اسمائے گرامی
کسی چیز کو اگر مختلف ناموں سے پکارا اور مختلف لقبوں سے یاد کیا جاتا ہے تو یہ اس کی قدر ومنزلت اور عظمت و رفعت کا پتہ دیتا ہے اس لیے کہ ناموں کی کثرت مسمّیٰ کے پوشیدہ حقائق وکمالات کے اظہار کا آئینہ ہے کثرة الاسماء دالةٌ علی شرف المسمّٰی (اتقان ۱/۷۰ طبع دہلی) اس اعتبار سے دنیا کی کوئی کتاب بجز قرآن کے ایسی نہیں ہے جس کے لیے بہت نام تجویز کیے گئے ہوں، پس کہنا چاہیے کہ جس طرح معبود حقیقی کے صفات و کمالات کا اظہار اس کے ننانوے یا زائد ناموں سے کیا جاتا ہے اسی طرح اس کے کلام بلاغت نظام کو مختلف ناموں سے پہچاننا بیشک اس کے علوشان کا قرینہ ہے۔
شیخ ابوالمعالی عزیزی بن عبدالملک نے اپنی کتاب ”البرہان“ میں لکھا ہے اعلم ان اللّٰہ تعالٰی سمی القرآن بخمسة وخمسین اسما اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام کے پچپن نام رکھے ہیں اور بقول بعض اس سے بھی زائد۔ یہاں ان میں سے چند مخصوص ناموں کی کچھ وضاحت کی جاتی ہے تاکہ کلام اللہ کی عظمت و وقعت دلوں میں اجاگر ہو۔
(۱) ”الکتاب“ کلام الٰہی نے سب سے پہلے اپنا تعارف ”الکتاب“ کے نام سے کرایا ہے۔ الٓم ذلک الکتٰب لاریب فیہ، الٓم کتٰب اُحکِمت آیٰتُہ.
کتاب کے اصل معنی ”ضم“ (ملانا)اور ”جمع“ ہے۔ ویسے تو ہر کلام اپنے اندرمحدود معانی وحقائق کو شامل ہونے کی وجہ سے ”کتاب“ کہلاسکتا ہے،مگر لامحدود حقائق وعجائب علوم ومعارف،احکام واَمثال اور قصص و عِبَر وغیرہ کو علی وجہ الکمال جامع ہونے کی وجہ سے ”الکتاب“ کہے جانے کا مستحق حقیقت میں یہی کلام الٰہی ہے جس میں قطعاً شک کا شائبہ تک نہیں ہے۔ (مفردات للراغب ص۴۲۳، اتقان ۱/۶۷) نیز کتاب کے عرفی معنی ”نوشتہ“ (لکھا ہوا) ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن پہلے ہی قدم پر لوگوں کے ذہنوں میں یہ جواب نقش کررہاہے کہ وہ توابتدائے نزول سے ہی مکتوب ونوشتہ شکل میں مخلوق کے پاس محفوظ رہنے والا ہے۔ اس لئے یہ کہہ کر ”قرآن عہد صدیقی کا مرتب کردہ ہے“ قرآن کے کسی جزء کو مشکوک ٹھہرانا باطل ہے۔ (تدوین قرآن ازافادات مولانا مناظراحسن گیلانی)
(۲) ”القرآن“ اس کتاب کا سب سے مشہور نام ”قرآن“ ہے شہر رمضان الذی انزل فیہ القرآن، انا انزلناہ قرآناً عربیًا، ان علینا جمعہ و قرآنہ.
کلامِ الٰہی کا یہ نام جس کو خود اللہ تعالیٰ نے ساٹھ(۶۰) سے زائد مقام پر ذکر کیا ہے ایسا منفرد نام ہے جو ناخواندہ (اَن پڑھ) قوم کو قرأت(۶) (پڑھنے) سے مانوس کرنے اور علم وعدل سے وابستہ کرنے کیلئے کفار کے علی الرغم تجویز کیاگیا ہے جن کی کوشش یہ تھی کہ شوروغوغاء کرکے اس کلام کو پڑھے اور سنے جانے کے قابل نہ رکھیں۔(۷)
امام راغب اصفہانی فرماتے ہیں ”نہ تو کسی شئی کے مجموعہ کو اور نہ ہی ہر کلام کے مجموعہ کو ”قرآن“ کہا جاتاہے بلکہ یہ صرف آخری پیغام خداوندی پر بولاجاتا ہے جو کتب سماویہ متقدمہ کے مضامین اور تمام علوم کے ثمرات کو جامع ہے“ (منفردات ص۴۰۲) مولانا رحمت اللہ لدھیانوی رحمة الله عليه لکھتے ہیں ”یہ کتاب زبور کی طرح مجموعہٴ مناجات بھی ہے اورانجیل کی طرح مجموعہٴ امثال بھی ہے توریت کی طرح گنجینہٴ شریعت بھی ہے اور کتب دانیال و یسعیاہ کی طرح خزینہٴ اخبار مستقبل بھی ہے۔ (مخزن اخلاق ص۴۵۷)
لفظ ”قرآن“ کے اشتقاق میں علماء کا نقطئہ نظر مختلف ہے۔ امام محمد بن ادریس الشافعی رحمة الله عليه تواسم جامد ہونے کے قائل ہیں اور مشتق ہونے کے اقوال میں سے دو ذکر کئے جاتے ہیں۔
۱- قرآن فُعْلان بالضم کے وزن پر مصدر بمعنی المفعول ہے جو ”قرء“ یا ”قرأت“ (مہموز اللام) سے ماخوذ ہے اس کے اصل لغوی معنی ”جمع الکلمات بعضہا الی بعض فی الترتیل“ یعنی ”پڑھنا“ ہے گویا قرآن کا نزول ہی پڑھنے کے لیے ہوا ہے چنانچہ یہ ایک مسلّمہ حقیقت ہے کہ کلام مجید ہی ساری دنیا میں سب سے زیادہ پڑھی جانے والی کتاب ہے اور قیامت تک پڑھی جاتی رہے گی۔ کبھی کسی زمانہ میں بالکلیہ اس کی قرأت نہ متروک ہوسکتی ہے اور نہ ہی اہل اسلام اس کے پڑھنے سے پہلو تہی کرتے ہیں۔
۲- قرآن ”قَرْن“سے ماخوذ ہے جس کے معنی ملانا ہے یعنی فصاحت وبلاغت میں اس کے تمام کلمات مربوط اور سورتوں اور آیتوں کا تناسب و تناسق ایسا ہے کہ ہر آیت اعجاز میں اپنے ماقبل و مابعد سے مستقل ہونے کے باوجود پورا کلام معناً مقرون ومرتبط ہے۔ (مفردات ص۴۰۲، اتقان ص۶۸)
(۳) ”الفرقان“ قرآن پاک کا ایک امتیازی نام ”الفرقان“ ہے وانزل الفرقان، تبارک الذی نزل الفرقان علی عبدہ.
فرق کے معنی دو چیزوں کے درمیان فصل کرنا خواہ وہ فصل آنکھوں سے دکھائی دے یا دل سے ادراک کیاجائے (مفردات ص۳۷۷) یعنی قرآن مجید بنی آدم کو ایسے احکام و تعلیمات سے آگاہ کرتا ہے کہ جن سے ایمان وکفر، حق وباطل اور مطیع و عاصی کے درمیان ایک حد فاصل پیدا ہوجاتا ہے اور اس سے حق یعنی اسلام کا پسندیدہ ومقبول ہونا اور غیراسلام کا باطل و مردود ہونا عیاں ہوجاتا ہے۔ لیحق الحق ویبطل الباطل اور اُس فرقان پر صحیح عمل کرنے والوں کو ایسی شان عطا کرتا ہے جس سے وہ دوسروں سے ممتاز ہوجاتے ہیں۔
(۴) ”برہان“ قرآن کا ایک اہم نام ”برہان“ ہے قد جاء کم برہان من ربکم ”برہان“ ایسی مستحکم دلیل کو کہتے ہیں جس میں قطعی اور ابدی سچائی نمایاں ہو (مفردات ص۴۵) یعنی یہ کلام الٰہی ماضی کے واقعات اور مستقبل کے اخبار واحوال کو حتمی صداقت وحقانیت کے ساتھ پیش کرتا ہے کہ شکوک و اوہام کا پردہ چاک کرکے یقین تک پہنچادیتا ہے اور جواس کی سچائی میں رخنہ اندازی کرے اُن سے ان کے دعوی پر اسی طرح کی مضبوط ومستحکم دلیل کا مطالبہ کرتا ہے۔ قل ہاتوا برہانکم ان کنتم صٰدقین.
(۵) ”تنزیل“ قرآن شریف کا ایک بنیادی نام ”تنزیل“ ہے تنزیل من حکیم حمید، تنزیلٌ من ربِّ العٰلمین.
یعنی یہ کلام جو فرقان اور برہان ہے اس کا مبدأ ومصدر عرب کے کسی فصیح وبلیغ ادیب یا غیب کی جھوٹی خبر دینے والے کاہن و نجومی یا کسی بڑے مصلح اور ریفارمر کی ذات حتی کہ نبی کی ذات بھی نہیں ہے بلکہ ایک ایسی بے عیب و بے نظیرہستی لیس کمثلہ شیء کی طرف سے نازل کیاگیا ہے جو سارے ہی کمالات کا سرچشمہ اور ساری قوتوں کا تنہا مالک ہے جہاں عجز و ضعف اور جہل کا ادنی واہمہ تک نہیں ہے اور جو تمام مخلوق کا یکتا حقیقی مربی ہے جس کے سامنے سرتسلیم خم کرنا انسان بلکہ ہر مخلوق کا فطری جذبہ اور اس کی دعوت ہے۔
(۶) ”الذکر“ قرآن کا ایک خصوصی نام ”الذکر“ ہے انا نحن نزلنا الذکر وانا لہ لحٰفظون، وانزلنا الیک الذکر لتبین للناس، ان ہو الا ذکر للعٰلمین.
یعنی قرآن شریف دینی ودنیوی انعامات یاد دلاکر نافرمان قوموں کی عبرت خیز ہلاکت اور مومنین کی حیرت انگیز نجات کے سچے واقعات بیان کرتے ہوئے تمام انسانوں کے لیے عبرت پذیری اور نصیحت گیری کا سامان مہیا کرتا ہے۔ اور افلا یتذکرون، لعلکم تذکرون جیسے کلمات سے لوگوں کو خواب غفلت سے ہوشیار کرتاہے تاکہ موت اور مابعد الموت کی حقیقی دائمی زندگی کے لیے اپنے آپ کو تیار کرلیں۔
(۷) ”حبل اللّٰہ“ قرآن کا ایک وصفی نام ”حبل اللہ“ ہے واعتصموا بحبل اللّٰہ جمیعًا ولا تتفرقوا.
خدا کی زمین پر جو انسان (وجن) دانستہ یا نادانستہ طور پر اپنے خالق کی طاعت و بندگی سے بیزار ہیں اور کفر و معصیت کے گڑھے اور دلدل میں پھنسے ہوئے ہیں اور قعرِ مذلت سے نکل کر منزل کی تلاش اور قرب الٰہی کے طلبگار ہیں ایسے تمام لوگوں کے لیے قرآن مجید اللہ کی اتاری ہوئی رسی ہے جو اسے مضبوطی سے تھام لے گا وہ کفر و عصیان کے گڑھے سے نجات پاکر بلند مقام پر پہنچ جائے گا۔ حبل اللّٰہ ہو القرآن (کنزل العمال ۱/۲۷۷)
(۸) ”النور“ قرآن کا ایک روشن وصف ”النور“ ہے وانزلنا الیکم نورا مبیناً، قد جاء کم من اللّٰہ نورٌ.
اللہ تعالیٰ نے انسان کو نور بصراور نور عقل دونوں نعمت سے نوازا ہے پس جب انسان نور عقل کے ذریعہ اللہ کی وحدانیت اور محمد رسول اللہ کی رسالت تسلیم کرکے قرآنی ہدایت کے مطابق زندگی بسر کرتا ہے تو یہ قرآن اُسے نور معرفت عطا کرتاہے جس سے وہ موٴمن گناہوں کی ظلمت سے بچتے ہوئے ان ہذ القرآن یہدی للتی ہی اقوم قرآن کی روشنی میں جنت کا راستہ طے کرتا چلا جائیگا۔ یسعی نورہم بین ایدیہم وبایمانہم (مفردات ص۵۰۷، اتقان ۱/۶۸)
(۹) ”الشفاء“ قرآن کا ایک دل پذیر نام ”شفاء“ ہے قل ہو للذین آمنوا ہدیً وشفاء، وشفاء لما فی الصدور.
روئے زمین پر قرآن مجید ہی وہ نسخہٴ صحت ہے جس کی ہدایت پر کما حقہ عمل کرنا امراضِ قلبیہ (کفر، جہل، کبر، حسد، خیانت، بغض، وغیرہ) سے صحت وشفاء کا ضامن ہے ویشف صدور قوم موٴمنین بلکہ قرآن کے ظاہری الفاظ بھی انسان کی جسمانی بیماریوں کے لیے دوائے شیریں ہے حتی کہ اسی تاثیر کی وجہ سے ایک مستقل سورة کا نام بھی ”سورة الشفاء“ ہے ۔ (اتقان ۱/۶۸)
مختلف سورتوں کے مختلف نام
جس طرح مکمل قرآن پاک کے مختلف اسماء ہیں اسی طرح اس کی سورتوں کے بھی ایک سے زائد نام وارد ہوئے ہیں بلکہ بعض بعض آیتوں کے بھی مستقل نام حدیث سے ثابت ہیں،مثلاً سورئہ فاتحہ علامہ جلال الدین سیوطی رحمة الله عليه لکھتے ہیں قد وقفت لہا علی نیف وعشرین اسما.
یہاں صرف نمونہ پیش کرنے پر اکتفاء کیا جاتاہے۔
(۱) فاتحة الکتاب (۲) ام القرآن (۳) السبع المثانی (۴) سورة الحمد (۵) سورة الصلاة (۶) سورة الشفاء (۷) سورة المناجاة (۸) سورة الادب وغیرہ۔
سورئہ بقرہ کو سنام القرآن فسطاط القرآن بھی کہا گیا ہے
سورئہ مائدہ کو سورة العقود سورة المنقذہ بھی کہتے ہیں
سورئہ انفال کو سورة البدر بھی کہتے ہیں
سورئہ برأة کو سورة التوبة سورة الفاضحة سورة العذاب بھی کہا گیاہے
(تفصیل کے لیے اتقان کی مراجعت فرمائیں)
چندآیتوں کے نام
آیة الکرسی، آیة المباہلہ، آیة الربا، آیة المیراث،آیة الحجاب، آیة التخییر، وغیرہا۔
نیز یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ جہاں سورتوں کے ایک سے زائدنام آئے ہیں اس کے برعکس چند سورتوں کے مشترک نام بھی آئے ہیں۔ کماسمیت السورة الواحدة باسماء سُمیت سُورٌ باسم واحد (اتقان۱/۷۴)
(۱) زہراوین: سورہٴ بقرہ وآل عمران
(۲) جامدات: وہ سورتیں جن کے شروع میں ”الحمد“ ہے جیسے سورئہ فاتحہ، انعام، کہف، سبا، فاطر۔
(۳) حوامیم: وہ سورتیں جن کے شروع میں ”حم“ ہے جیسے سورہٴ موٴمن، حم سجدہ، شوریٰ، زخرف، دخان، جاثیہ، احقاف۔
(۴) مُسَبِّحات: وہ سورتیں جن کے شروع میں تسبیح کا کوئی صیغہ سبّح یا یسبح وغیرہ ہے جیسے اسراء، حدید، حشر، جمعہ، تغابن، اعلیٰ۔
(۵) معوّذتین: سورئہ فلق، سورئہ ناس۔
بعض سورتوں کو ایسے بھی نام دئے گئے ہیں جن سے انکا مقام یا شان واضح کی گئی ہے مثلاً:
(۱) ام القرآن سورئہ فاتحہ (۲) سنام القرآن سورة البقرہ
(۳) نواجب القرآن سورئہ انعام (۴) قلب القرآن سورة یس
(۵) عروس القرآن سورئہ رحمن (۶) دیباج القرآن الحوامیم
(۷) ریاض القرآن المفصلات
(تفصیل کے لیے اتقان، برہان، اورفتح العزیز ملاحظہ فرمائیں)
جمع قرآن اور اس کی حفاظت
حفاظت کلام کے دو بنیادی طریقے ہیں الضبط ضبطان (نخبة الفکر) ایک حفظ (ازبر) کرنا دوسرا کتابت یعنی کسی چیز پر نقش کرنا اِن دونوں میں بھی اصل واہم حفظ ہے ان المعوّل علیہ وقتئذ کان ہو الحفظ والاستظہار (مناہل العرفان ۱/۲۵۳) اس لیے کہ مکتوب علیہ (جس پر کلام لکھا گیا ہے) کے پھٹنے یا جلنے، ڈوبنے یا چھن جانے سے نوشتہ کے ضائع ہونے کا اندیشہ لگا رہتا ہے جبکہ لوح قلب پر جو محفوظ ہوگیا وہ اِن تمام خدشات سے مامون ہوتا ہے اِلا یہ کہ تقدیر الٰہی کے ماتحت صفحہٴ دل سے محو کردیا جائے تو یہ امر آخر ہے۔
قادر مطلق نے اپنے کلام کی حفاظت کے لیے دونوں نظام چلائے ہیں چنانچہ سب سے پہلے عام کتب سماویہ کی طرح قرآن کو کتابی شکل میں نازل کرنے کے بجائے لوح محفوظ سے نبی كريم صلى الله عليه وسلم کے لوحِ قلب پر نازل کیا نزل بہ الروح الامین علی قلبک اور اس کی حفاظت کا وعدہ فرماکر دل سے محو ہوجانے کے اندیشہ کو زائل فرمایا انا نحن نزلنا الذکر وانا لہ لحٰفظون، ان علینا جمعہ وقرآنہ یعنی خدائے حافظ نے اپنے حبیب صلى الله عليه وسلم کو کلام کا حافظ بنادیا۔ اور ثانیاً ذلک الکتٰب کہہ کر کتابت کے ذریعہ محفوظ کرنے کا اشارہ فرمادیا۔
جمع نبوی
صاحب وحی نبی اکرم صلى الله عليه وسلم پر وحی کا نزول ختم ہوتے ہی قرآن آپ کے سینہ میں محفوظ ہوجاتا تھا پھر سب سے پہلے تحریراً ضبط کرنے کے لیے کاتبانِ وحی میں سے کسی کو طلب فرماتے جیسے خلفائے راشدین اور دیگر صحابہ کرام اور عموماً حضرت زید بن ثابت رضى الله تعالى عنه حاضر خدمت ہوتے اور نازل شدہ حصہ کو کسی پائدار چیز پر لکھ کر محفوظ کرلیتے تھے۔ پھر یہ لکھا ہوا کلام صحابہ کے سامنے پیش کیا جاتا اور پڑھ کر سنایا جاتا تھا اس طرح پورا قرآن ”رقاع“ چمڑے کے ٹکڑوں ”اکتاف“ اونٹ کی گول چوڑی ہڈیوں ”اقتاب“ کجاوہ کی چوڑی پٹیوں ”لَخاف“ سطیٹ نما سفید پتھرکی پلیٹوں ”ادیم“ دباغت شدہ چمڑوں ”عسیب“ کھجور کے پتوں کی جڑ کا حصہ(۸) وغیرہ اشیاء میں محفوظ کرلیا جاتا تھا اور پھر صحابہٴ کرام حضور صلى الله عليه وسلم کے روبرو لکھے ہوئے حصہٴ قرآن کی نقل اتار لیا کرتے تھے کنّا نوٴلف القرآن عند رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم (کنزالعمال) اور رسالتمآب صلى الله عليه وسلم سے سن کر حفظ کرلیتے تھے۔ غرض پورا کلام الٰہی صرف نبیٴ پاک ہی نہیں بلکہ صحابہ کرام کے پاس بھی مذکورہ بالا دونوں طریقوں سے نزول کے ساتھ ساتھ محفوظ ہوتا چلاگیا۔ اور جب سلسلہٴ وحی بند ہوا تو اس وقت تک سوپچاس نہیں بلکہ ہزاروں کی تعداد کم و بیش حصہٴ قرآن کے حافظ وقاری صحابہ میں موجود تھے اور کچھ خوش نصیب ایسے بھی ہیں جنھیں فاتحہ الکتاب سے والناس تک مکمل قرآن حفظ تھا اسی طرح مکمل قرآن پاک کی نقلیں بھی محفوظ تھیں (مناہل العرفان ۱/۲۴۵)
پس مستشرقین کا یہ کہنا کہ ”قرآن صاحب وحی کی حیات میں محفوظ نہیں تھا“ یا ”صدیق اکبررضى الله تعالى عنه کے زمانہ ہی میں جمع کیاگیا“ بے بنیاد اعتراض ہے بلکہ دانستہ طور پر حقیقت کا انکار ہے۔
جمع صدیقی
پھر اس کے بعد ایک طرف تو حفظِ قرآن کا سلسلہ چلتا رہا، مگر دوسری طرف چھوٹے بڑے معرکوں میں حافظِ قرآن صحابی بھی جام شہادت پی کر داغ مفارقت دیتے رہے یہاں تک کہ جنگ یمامہ میں جو حضور صلى الله عيله وسلم کی وفات سے قریب ہی مدت میں لڑی گئی ہے ستر یا سات سو حفاظِ صحابہ کی شہادت نے فاروق اعظم رضى الله تعالى عنه جیسے وزیر باتدبیر کی وزارت میں لرزہ پیدا کردیا اور امت مسلمہ مرحومہ کا بیڑا منجدھار میں نہ پھنس جائے مُلْہَم ومُوفَّق من اللّٰہ شخص جس کی زبان پر حق ہی جاری ہوتا ہے یعنی حضرت عمررضى الله تعالى عنه نے خلیفہ رسول صدیق اکبر سے عرض کیا کہ قرآن کو یکجا محفوظ کرلیا جائے کہ حضور صلى الله عليه وسلم سے براہ راست کلام اللہ کو سن کو حفظ کرنے والے اور آپ کے سامنے قرآن کو لکھ کر اس کی حفاظت کرنے والے ابھی بے شمار صحابہ موجود ہیں جو قرآن کے تواتر کے لیے ضروری ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت عمررضى الله تعالى عنه کی فرمائش پر صدیق اکبر رضى الله تعالى عنه کے سینہ کو اِس عظیم خدمت کے لیے منشرح فرمادیا۔ اب شیخین نے مل کر حضرت زید بن ثابت رضى الله تعالى عنه کو اس خدمت کے لیے مستعد کیا، اللہ رب العزت نے ان کو بھی شرح صدر کی دولت سے سرفراز کیا۔ چنانچہ خلیفہ رسول کی نگرانی میں انتہائی تفتیش و تحقیق اور شرعی شہادت اور غایت درجہ احتیاط ملحوظ رکھتے ہوئے مذکورہ بالا اشیاء ”رقاع“ وغیرہ سے جس ترتیب سے حضور صلى الله عليه وسلم نے ضبط کرایا تھا اور جس کی تلاوت منسوخ نہیں ہوئی تھی بعینہ اس کو دوسرے اوراق میں یکجا کردیاگیا اور گتے لگاکر دھاگوں سے باندھ دیاگیا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا یہ کارنامہ جو ان ہی کے لیے ازل سے مقدر تھا کہ اللہ تعالیٰ جس سے امت کی شیرازہ بندی کا کام لینے والا ہے اسی سے امت کے ہدایت نامہ کی شیرازہ بندی کرائیں کان القرآن فیہا منتشرًا فجمعہا جامع وربطہا بخیط (کنز العمال) تاکہ مجموعہٴ واحد کی حفاظت آسان ہو اور پورے قرآن کی تلاوت اور اس سے استفادہ سہل ہوجائے۔
اس طرح قرآن کا یکجا کرنا حضور صلى الله عليه وسلم کی وفات کے بعد ہی ممکن تھا اس لیے کہ آپ کے انتقال تک نسخ وغیرہ کا احتمال موجود تھا۔ انما لم یجعلہ النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم فی مصحف واحد لما کان یتوقع من زیادتہ ونسخ بعض المتلو ولم یزل ذلک التوقع الی وفات النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم. (التبیان ص۱۸۶، مناہل العرفان، تدوین قرآن لمناظر گیلانی رحمة الله عليه)
جمع فاروقی
عرف عام میں ”جامعِ قرآن“ کا مہتم بالشان لقب حضرت عثمان غنی رضى الله تعالى عنه کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اِس لفظ ”جامعِ قرآن“ سے مراد عین قرآن کو جو منتشر تھا جمع کرنا ہے تو جامعِ قرآن حضرت ابوبکر صدیق رضى الله تعالى عنه ہیں جس کے محرک اور داعی فاروق اعظم ہیں اوراگر امت کو قرآن پر جمع کرنا مراد ہے جیساکہ حضرت عثمان رضى الله تعالى عنه کو غالباً اسی اعتبار سے ”جامعِ قرآن“ کہا جاتا ہے تو پھر پورے وثوق اور یقین سے یہ بات کہی جاتی ہے کہ حضرت عمررضى الله تعالى عنه واقعتا ”جامعِ قرآن“ ہیں چنانچہ حکمت کا تقاضہ بھی یہی ہے کہ اوّلاً نبیٴ امی صلى الله عليه وسلم نے نفس قرآن کو محفوظ فرمایا پھر صدیق اکبررضى الله تعالى عنه نے مصحف واحد میں یکجا فرمایا جس سے اصل قرآن کی حفاظت ہوگئی اب ضرورت تھی نزولِ قرآن کے اولین مقصد یعنی تلاوت پر امت کو کسی خاص ڈھنگ سے جمع کردیا جائے یہ کارنامہ حضرت عمررضى الله تعالى عنه کے لیے مقدر تھا۔ چنانچہ فاروق اعظم رضى الله تعالى عنه نے اپنی خلافت کے زمانہ میں حفاظت قرآن کا ایک عجیب نظام قائم کیا رہنمائی خود صاحب قرآن صلى الله عليه وسلم نے فرمادی تھی لیکن بعض مصالح کی بناء پر آپ صلى الله علیہ وسلم نے حتمی شکل وصورت متعین نہیں کی تھی اور خلیفة الرسول حضرت صدیق اکبر کو اپنی خلافت کی قلیل مدت میں امت کی شیرازہ بندی کی وجہ سے موقع میسر ہی نہیں آیا کہ اس طرح متوجہ ہوتے۔ بہرحال اب تک صحابہ کرام اور تابعین عظام انفرادی طور پر نماز میں قرآن پڑھا کرتے تھے بالخصوص رمضان شریف میں پڑھنے والوں کی کثرت ہوتی تھی۔ بالآخر حضرت عمررضى الله تعالى عنه نبوی ہدایت کی روشنی میں اجتماعی طریقہ سے حفظاً قرأت اور سماع پر سب لوگوں کو جمع کیا یعنی ماہ مبارک (افضل الشہور) میں شب کی نماز کی بیس رکعتوں میں جماعت کے ساتھ قرآن کے پڑھنے اور سننے کا سلسلہ جاری فرمایا جسے شریعت کی زبان میں تراویح کہتے ہیں۔ تمام صحابہ اور تابعین نے بلا نکیر اس انوکھے اورمستحکم طریقہ کو بہت پسند فرمایا اور عملاً اس پر متفق و متحد ہوگئے لہٰذا حضرت عمر بھی جامع للقرآن ہوئے یعنی جامع الامة علی قرأة القرآن فی التراویح اجماع صحابہ و تابعین نے حضرت عمررضى الله تعالى عنه کے اس طریق عمل کو قطعی بنادیا اور قیامت تک کے لیے (۲۰) بیس رکعت تراویح سنت موٴکدہ قرار پائی ۔
پس حضرت صدیق اکبررضى الله تعالى عنه کا جمع قرآن اجماعی ہے اور حضرت عثمان رضى الله تعالى عنه کا رسم الخط بھی اجماعی ہے بالکل اسی طرح حضرت عمررضى الله تعالى عنه کا مسئلہ تراویح بھی اجماعی ہے اور ان میں سے کسی بھی اجماع کا انکار اہل السنة والجماعة سے انحراف اور ضلالت ہے۔
جمع عثمانی
حفاظتِ قرآن کے سلسلہ میں اب ایک اہم کام باقی رہ جاتا ہے کہ ایک سے زائد طریقہٴ اداء سے قرآن پڑھنے کی جو اجازت دی گئی ہے جیساکہ حضرت اُبَی بن کعب کی حدیث میں ہے ان اللّٰہ یامرک ان تقرء امتُک القرآن علی سبعة احرف فایما حرف قرء وا علیہ فقد اصابوا (مسلم) وہ کہیں آگے چل کر حق وباطل کے اختلاف کا سبب نہ بن جائے اس طرح پر کہ مختلف قبائل کے لوگ جب اپنے اپنے طریق ادا کے مطابق رسم الخط میں قرآن کی نقل تیار کرنے لگیں گے اوراس کی وجہ سے ہر قبیلہ کا قرآن دوسرے قبیلہ کے قرآن سے رسم الخط میں جدا نظر آئے گا پھر ہر ایک اپنے طریق ادا ء کو حق بتانے کے لیے اپنا قرآن پیش کرے گا تو مستقبل میں فتنہٴ عظیم برپا ہوگا (اتقان، الفوز الکبیر، تاریخ طبری ۱/۶۵۱) اس لیے حکمت الٰہیہ کا تقاضہ ہوا کہ رسم الخط کے اعتبار سے الگ الگ مصحف کو ایک مصحف پر جمع کردیا جائے۔ عثمان جمع المصاحف علی مصحف واحد (مقنع للدانی ص۸) تاکہ امت اختلاف کا شکار نہ ہو اور رسم الخط کی وحدت پر مجتمع ہوجائے اور قرأتِ متواترہ جو منزل من اللہ ہے اوراس میں امت کے لیے سہولت بھی ہے وہ بھی سالم اور محفوظ رہے۔(۹)
مذکورہ تحریر سے معلوم ہوا کہ قرآن کا نزول جس طرح بتدریج ہوا ہے اسی طرح اس کی حفاظت میں بھی تدریجی حکمت پنہاں ہے بلکہ دونوں کی مدت بھی تقریباً یکساں ہے۔ الفاظ کے بعد معانی کا درجہ ہے جس کا دروازہ خلیفہ رابع حضرت علی ہیں انا مدینة العلم وعلی بابہا (جامع الصغیر ۳/۴۶) ماشاء اللہ کیا خوب ترتیب ہے۔
(جاری)
* * *
حواشی:
(۱) نزل بہ الروح الامین علی قلبک پ :۱۹
(۲) نزل فی نیف و عشرین سنة فی احکام مختلفة لاسباب مختلفة (اتقان۲/۱۳۸)
انزل الملِک علی الاطلاق جلّ شانہ علی نبیہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم لہدایة عبادہ سورة بعد سورة حسب متطلّبات الظروف (الفوز الکبیر ص۸۷)
(۳) القرآن ہو الوحی المنزل علی محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم للبیان والاعجاز (اتقان۲/۱۳۸)
(۴) انا نحن نزلنا الذکر وانا لہ لحٰفظون (قرآن)
ہو المنزل علی الرسول المکتوب فی المصاحف المنقول عنہ الینا نقلا متواتراً بلاشبہة (نورالانوار، تعریفات للجرجانی ص۷۵)
(۵) فتح الباری ص۹
(۶) اشارة الی اشتقاقہ من القرأة او القرن.
(۷) لاتسمعوا لہٰذا القرآن والغوا فیہ پ ۲۶
(۸) عرب میں کھجور کے پتوں کی جڑ ہمارے یہاں کے ناریل کے پتوں کی جڑ کی طرح چوڑی ہوتی تھی نہ کہ ہندوستانی کھجور کے پتوں کی جڑ (از تدوین قرآن مولانا مناظراحسن گیلانی)
(۹) جمع عثمانی کا مزید بیان رسم عثمانی کے ذیل میںآ ئے گا، ان شاء اللہ۔
---------------------------------
ماهنامه دارالعلوم ، شماره 03 ، جلد: 93 ربيع الاول 1430 ھ مطابق مارچ 2009ء
قرآن محکم کی شان عظیم (قسط ۲)
قرآن کا رسم الخط اور قرأتِ متواترہ کا بیان
ہرزبان کا ایک طرزِ ادا ہوتا ہے اور ایک طریقہٴ خط۔ دونوں کے کچھ اصول و ضوابط ہوتے ہیں جن کے مطابق پڑھا اور لکھا جاتا ہے۔ عربی زبان دنیا کی وسیع تر زبانوں میں سب سے اعلیٰ واشرف اور وسیع ترین ہے علمائے عربیت نے اس کے اصول و قوانین بیان کیے ہیں وقد مہّد النحاة اصولاً وقواعد․(۱) کلام الٰہی کا آخری نسخہ قرآن پاک اسی عربی زبان میں نازل ہوا ہے اور قواعد عربیت کا سرچشمہ اورمخزن ہے اِنَّا انزلناہ قرءٰ ناً عربیًا(۲)۔ اب یہاں دو امر قابل لحاظ ہیں: (۱) ایک یہ کہ قرآن مجید عربی قواعد و اصول کے موافق ہونے کے باوجود ایک خاص فوقیت کا حامل ہے وہ یہ کہ عربی زبان تو اپنے اصول و قواعد میں کلام اللہ کی خوشہ چیں ہے مگر قرآن خود قائد ہے اس کا تابع نہیں ہے۔ اسی لیے بعض مقام پر عام نحوی قواعد کی مطابقت نظر نہیں آتی ہے۔ (۲)دوسرا امر یہ ہے کہ قرآن مجید کی کیفیت اداء جس طرح جداگانہ اور ممتاز ہے اسی طرح اس کا رسم الخط بھی انوکھا اور امتیازی شان لیے ہوئے ہے یعنی قرآن پاک کا اپنا ایک مخصوص رسم الخط ہے اور وہ اسی کا پابند ہے خواہ عام رسم الخط کے اصول کے موافق نہ ہو وقد خالفہا فی بعض الحروف خط الامام المصحف(۳) اس کی نظیر ایسی سمجھئے جیسے فن عروض کا خط جس میں اشعار لکھے جاتے ہیں کہ وہ عام اصول خط کے خلاف ہوتا ہے اور شاعر اپنے کلام کو اسی کے مطابق وزن کے سانچہ میں ڈھال لیتا ہے۔ اسی وجہ سے کہا گیا ہے ۔ خطان لایقاسان خط العروض وخط القرآن(۴) یعنی دو خط قیاسی نہیں ہیں ایک فن عروض کا خط، دوسرے قرآن کریم کا خط۔ علامہ طاش کبری زادہ صاحب مفتاح السعادة نقل کرتے ہیں: قال عبداللّٰہ بن درستویہ فی کتابہ فی الخط والہجاء ”خطانِ لایقاسان خط المصحف لانہ سنة وحظ العروض لانہ یثبت فیہ ماثبتہ اللفظ ویسقط عنہ ما اسقطہ“(۵)۔
قرأة متواترہ کی اصلیت
حدیث اُنزل القرآن علی سبعة احرف یعنی قرآن سات مختلف طُرقِ ادا پر نازل کیاگیا ہے۔ یہ حدیث ۲۱/صحابہ کرام سے مختلف الفاظ میں مروی ہے ابوعبید قاسم بن سلاّم نے اسے متواتر بتایا ہے(۶) خلاصہ اس کا یہ ہے کہ شروع میں قرآن کو ایک طرز یعنی قبیلہٴ قریش کے طریق ادا پر پڑھنے کا حکم دیاگیا تھا مگر عرب کے دوسرے قبائل جن کا طریق ادا قریش سے جداگانہ تھا ان کے لیے قریش کے طرز و لہجہ میں پڑھنا طبعی وفطری ذوق کے اعتبار سے گراں تھا جیساکہ ہر علاقہ کی زبان میں بُعدِ مسافت کی وجہ سے لب ولہجہ میں فرق ہوا کرتا ہے اس لیے نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے اپنی پوری امت کے لیے سہولت و آسانی کی دعا فرمائی اور دوسرے طریق میں پڑھنے کی اجازت طلب فرمائی بار بار کی التجاء پر سات (بلکہ اس سے زائد) طریقوں سے پڑھنے کی اجازت مرحمت ہوئی عن ابی بن کعب رضى الله تعالى عنه․․․ اِن اللّٰہ یامرک اَن تقرأ امتک القرآن علی سبعة احرف فایما حرف قرء وا علیہ فقد اصابوا(۷)۔
رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے اپنے اصحاب رضوان الله تعالى عليهم اجمعين کو انہی مختلف انداز سے قرآن کریم کی تعلیم دی پھر جس صحابی نے جس طرح تعلیم پائی تھی اس کو سینہ سے لگایا، ذہن میں بسایا اور دوسروں تک پہونچایا یہاں تک کہ یہ مختلف قرأتیں صحابہ کرام میں عملاً رائج اور معروف ہوچکی تھیں۔ اور رسول اکرم صلى الله عليه وسلم اپنی حیات مبارکہ میں قرآن مجید کو جن جن چیزوں میں لکھواکر ضبط فرمایا کرتے تھے حضرت صدیق اکبر رضى الله تعالى عنه نے جب اپنی خلافت میں قرآن کریم کو منتشر چیزوں سے اکٹھا کرکے اوراق میں جمع کروایا تو جمع کردہ یہ قرآن دیگر خصوصیات کے ساتھ مذکورہ بالا احرف سبعہ کا بھی حامل تھا ولا یعزبَنّ عن بالک ان ہذا الجمع کان شاملاً لاحرف السبعة التی نزل فیہا القرآن(۸) اعلم ان جماہیرالعلماء من السلف والخلف وائمة المسلمین ذہبوا الی ان المصاحف العثمانیة مشتملة علی ما یحتملہ رسمہا من الاحرف السبعة التی انزل بہا القرآن جامعة للعرضة الاخیرة التی عرضہا النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم علی جبریل متضمنة لہا لم یترک حرفا منہا لان الصحابة اجمعوا علی نقلہا من المصحف الذی کتبہ ابوبکر وعمر واجمعوا علی ترک ماسوی شیء من القرآن کذا قالہ الجزری فی النشر ولذلک لایجوز مخالفة المصاحف العثمانیة فی الکتابة(۹)۔ اور اس مجموعہ بین الدفتین کا نام خلیفہٴ اول حضرت صدیق اکبر رضى الله تعالى عنه نے مشورہ سے ”مصحف“ تجویز فرمایا۔(۱۰)
رسم عثمانی کی اہمیت وفرضیت
پھر قرّاء صحابہ میں سے جو جس علاقہ میں رونق افروز ہوئے وہاں کے لوگوں کو انھوں نے اپنے طریق عمل، طرزِ تعلیم اور کیفیت ِ اداء سے روشناس کرایا چنانچہ کوفہ میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضى الله تعالى عنه کی قرأت، ملک شام میں حضرت اُبی بن کعب رضى الله تعالى عنه کی قرأت اوریمن وغیرہ میں حضرت ابوموسیٰ اشعری رضى الله تعالى عنه کی قرأت مشہور ومقبول ہوئی(۱۱)۔ انما کان کل صحابی فی اقلیم یُقرئہم بما یعرف فقط من الحروف التی نزل علیہا القرآن(۱۲)۔
بہرحال قرآن پاک کو مختلف کیفیات سے پڑھنے کی جس طرح صریح اجازت شریعت کی طرف سے دی گئی تھی اس طرح قرآن لکھنے کے لیے رسم الخط کی نہ تو عام اجازت تھی اور نہ کسی رسم الخط پر صراحتاً کوئی پابندی تھی۔ اس لیے اپنی اپنی پسندیدہ قرأت کے مطابق قرآن کی نقل کا سلسلہ بھی جاری تھا جس کے نتیجہ میں قرآن مجید کے مختلف نسخے وجود میں آگئے تھے یہاں تک کہ اختلافِ رسم (مع اختلاف قرأت) کی وجہ سے رفتہ رفتہ امت میں سنگین صورتِ حال پیدا ہوچلی تھی۔ صاحب السیر (رازدارِ رسول صلى الله عليه وسلم) حضرت حذیفہ رضى الله تعالى عنه کی حساس طبیعت نے کتاب اللہ کے متعلق امت میں ہونے والے فتنہ کو بھانپ لیا اور دربار خلافت میں یہ کہہ کر استغاثہ فرمایا ادرک ہذہ الامة قبلَ ان یختلفوا اختلاف الیہود والنصاری(۱۳) یعنی قبل اس کے کہ امت یہود ونصاریٰ کی طرح گمراہی کے بھنور میں پھنسے امت کی کشتی کو سنبھالیے اور اس کو بچائیے۔ خلیفہٴ رسول حضرت عثمان غنی رضى الله تعالى عنه نے امت کو اختلاف کے گرداب سے بچانے اور ساحل عافیت پر لانے کے لیے اصحاب بصیرت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین سے مشورہ کیا چنانچہ قرآن پاک کی ازسرِ نو کتابت کے لیے چار آدمیوں عبداللہ بن زبیر، سعید بن العاص، عبدالرحمن بن الحارث، اور زید بن ثابت پر مشتمل ایک جماعت مقرر فرمائی اور کاتبِ وحی حضرت زید بن ثابت رضى الله تعالى عنه کو ذمہ دار ٹھہرایا اور مصحف ابی بکر کو جو قرآن کا اولین مجموعہ اور مستند ترین نسخہ تھا سامنے رکھ کر اس کی نقل تیار کرنے کا حکم دیا اور یہ خاص ہدایت دی اذا احتلفتم انتم وزید بن ثابت فی شيء من القرآن فاکتبوہ بلسان قریش فانما نزل بلسانہم(۱۴) کہ جس کلمہ کی کتابت میں قریش وغیر قریش کا اختلاف ہو تو اسے قریش ہی کی لغت پر لکھا جائے اس لیے کہ قرآن پاک انہی کی زبان میں نازل ہوا ہے۔
چنانچہ چار بلکہ سات نقلیں اس طرح تیار کی گئیں کہ قرأتِ مختلفہ جس کا مصحف ابی بکر حامل تھا وہ بھی بسلامت اور رسم الخط کی وحدت بھی قائم رہی۔ نیز ایک نسخہ حضرت عثمان رضى الله تعالى عنه نے اپنے لیے مختص فرمایا جس کو الامام کہا جاتا تھا۔ اس کے بعد آپ نے جن کے پاس قرآن پاک کا اپنا نسخہ تھا سب کو طلب فرمایا اور دارالخلافت کا تیار کردہ ایک ایک نسخہ سات بڑے شہروں مکہ، مدینہ، کوفہ، بصرہ، شام، یمن اور بحرین روانہ کیا۔ اور چونکہ صحابہ کے پاس دوسرے نسخے بھی موجود تھے اِن الصحابة کانت لہم صحف او مصاحف کتبوا فیہا القرآن من قبل(۱۵) اس لیے یہ شاہی فرمان جاری کیا کہ اِس متفق علیہ (سرکاری) نسخہ ہی کو اختیار کیا جائے اور سابقہ تمام نسخے جو سرکاری نسخے کے خلاف ہوں نذر آتش کردیے جائیں(۱۶) قد استنخ عثمان بمدة نسخ من ذلک المصحف وارسلہا الی الآفاق لیستفید المسلمون منہا ولایمیلون الی ترتیب آخر(۱۷) صحابہ و تابعین نے خلیفہٴ وقت کے فرمان کو سمعاً وطاعةً قبول کیا اور اُن مصاحف کو جو مصحف عثمانی کے خلاف تھے باادب طریقہ سے ختم کردیا اور بغیر کسی اختلاف ونکیر کے مصاحف عثمانیہ پر مجتمع ومتحد ہوگئے، پس اختلافِ ضلالت کو جس کا خطرہ لاحق ہوا تھا بیخ وبن سے ختم کردیاگیا۔ یہ کارنامہ چونکہ حضرت عثمان رضى الله تعالى عنه نے انجام دیا اس لیے قرآن کا یہ رسم الخط آپ کی طرف منسوب ہوکر رسم عثمانی کہلایا۔
حضرات صحابہ و تابعین کے اس غیرمعمولی اجماع نے مصحف کی قرانیت کے لیے رسم عثمانی کو فرض وشرط بنادیا۔ علامہ جزری اپنی کتاب ”النشر“ میں لکھتے ہیں کل قرأة وافقت العربیة لو بوجہٍ ووافقت احدَ المصاحف العثمانیة ولو احتمالا وصح سندہا فہی القرأة الصححة التی لایجوز ردہا ولا یحل انکارہا(۱۸) یعنی ہر وہ قرأت جس میں یہ تین شرطیں پائی جائیں: (۱) قواعد نحویہ کی مطابقت، (۲) رسم الخط کی موافقت، (۳) اسناد صحیحہ متصلہ کی متابعت۔ تو وہ قرأت صحیحہ ہے اس کا انکار کرنا جائز نہیں ہے۔ اور جس مصحف میں یہ تینوں ارکان موجود ہونگے وہی حقیقت میں قرآن کہلائے گا۔ صاحب خلاصة الرسوم لکھتے ہیں کہ ابوبکر احمد بن مہران اپنی کتاب الہجاء میں فرماتے ہیں: الحق والعدل والواجب والموجّہ فی وفی خط المصحف ان یتبع کتَبةَ زید بن ثابت رضى الله تعالى عنه ورسم خطہ وتصویرہ وتمثیلہ ولایحل للکاتب مخالفتہ ولو کان حاذقاً فیہما(۱۹)۔
راقم الحروف نے ہندوستان کے متعدد کتب خانوں میں قرآن کے چوتھی صدی ہجری سے ۱۲/ویں صدی ہجری تک کے مخطوطہ بہت سے نسخے اجمالاً و تفصیلاً ملاحظہ کیے ہیں تو جو مصاحف رسم عثمانی کے موافق نہیں ہیں وہ الماریوں کی زینت ضرور ہیں لیکن منصہ شہود پر یعنی امت محمدیہ کے سامنے قرآن مجید کا وہی نسخہ منقول و متواتر چلا آرہا ہے جو رسم عثمانی کے مطابق ہے۔ فللّٰہ درالخلیفہ۔
تنبیہ: اور جب رسم عثمانی کی اہمیت و فرضیت اور قبولیت کا یہ عالَم ہے تو مادیات کی ترقی کے موجودہ زمانہ میں کمپیوٹر اور موبائل میں اتارے ہوئے قرآن کا باریک بینی سے مکمل جائزہ لینا ضروری ہے تاکہ رسم عثمانی کی موافقت و مخالفت کا حال منکشف ہوجائے۔ راقم الحروف اس سلسلہ میں ایک تحقیقی اور تفصیلی تحریر ان شاء اللہ قارئین کی خدمت میں پیش کرے گا۔ کل شيء مرہون بوقتہ․ وکل آتٍ قریبٌ․
دوسرے رسم الخط میں قرآن لکھنے کی ممانعت
امام اشہب رحمہ الله علیہ فرماتے ہیں کہ امام مالک رحمہ الله علیہ سے پوچھا گیا کہ کوئی شخص قرآن لکھوانا چاہتا ہے تو کیامصحف اُس خط میں لکھ سکتے ہیں جو لوگوں کے ایجاد کردہ ہیں امام مالک رحمة الله عليه نے فرمایا نہیں قرآن تو بس پہلے رسم الخط (رسم عثمانی) میں ہی لکھاجائے گا ہل یکتب المصحف علی ما احدثہ الناس من الہجاء فقال لا الا علی الکتبیة الاولی(۲۰) امام احمدبن حنبل رحمة الله عليه فرماتے ہیں کہ مصحف عثمان رضى الله تعالى عنه کے خط (رسم الخط) کی مخالفت حرام ہے(۲۱) علامہ ابوعمرو الدانی فرماتے ہیں کہ علمائے امت میں سے کوئی بھی اس کا مخالف نہیں ہے(۲۲) صاحب کشاف لکھتے ہیں وکان اتباع خط المصحف سنة لا تخالف(۲۳) مصحف عثمانی کے خط کا اتباع سنت (یعنی ایسا دستور) ہے جس کی مخالفت نہیں کی جاتی ہے۔ جلال الدین سیوطی رحمة الله عليه امام بیہقی سے نقل کرتے ہیں من یکتب مصحفا فینبغی ان یحافظ علی الہجاء الذی کتبوا بہ تلک المصاحف ولایخالفہم فیہ ولا یغیر مما کتبوہ شیئاً فانہم کانوا اکثر علما واصدق قلبا ولسانا واعظم امانة فلا ینبغی ان نظن فانفسنا استدراکا علیہم(۲۴) یعنی جو شخص مصحف شریف لکھنا چاہتا ہے تو چاہیے کہ اس رسم الخط کی پابندی کرے جس سے صحابہ کرام نے مصاحف عثمانیہ لکھے ہیں ان کی مخالفت نہ کرے اور نہ ان کی لکھی ہوئی کسی چیز میں کوئی ادنیٰ تغیر کرے اس لیے کہ وہ حضرات پوری امت میں سب سے علم والے اور قلب وزبان کے اعتبار سے سب سے سچے اور سب سے زیادہ امانت دار تھے پس خوش فہمی میں مبتلاہوکر ان پر استدراک کرنا ہمارے لیے جائز نہیں ہے۔
علامہ جعبری متوفی ۷۳۳ھ لکھتے ہیں رسم المصحف توقیفی ہو مذہب الاربعة یعنی قرآن کریم کا یہ رسم الخط توقیفی اور سماعی ہے یہی ائمہ اربعہ کا مذہب ہے۔(۲۵)
مولانا ظفراحمد تھانوی لکھتے ہیں: جب عربی ہی زبان میں مگر دوسرے رسم الخط میں قرآن کا لکھنا جائز نہیں ہے جبکہ اس میں وہ سارے حروف موجود ہیں جو خط عثمانی میں موجود ہیں تو پھر اس کے علاوہ دوسری زبان میں جس میں تمام حروف کو مکمل رعایت ہوہی نہیں سکتی ہے لکھنا کب جائز ہوگا۔(۲۶)
فقیہ الامت مفتیٴ اعظم ہند و دارالعلوم دیوبند حضرت مفتی محمود حسن گنگوہی رحمة الله عليه لکھتے ہیں ․․․․ عبارات منقولہ سے معلوم ہوا کہ مصحف عثمانی کے رسم خط کی رعایت ومتابعت لازم و ضروری ہے اور اس کے خلاف لکھنا اگرچہ وہ عربی رسم خط میں ہی کیوں نہ ہو ناجائز اور حرام ہے اور اس مسئلہ پر ائمہ اربعہ کا اتفاق ہے بلکہ علمائے امت میں سے کسی کا اختلاف نہیں تو یہ اجماعی مسئلہ ہوا پھر غیر عربی بنگلہ (ہندی، گجراتی) وغیرہ رسم خط میں لکھنا کیسے جائز ہوسکتا ہے اس میں تو جواز کا کوئی احتمال ہی نہیں بعض حروف عربی کے ساتھ مخصوص ہیں جیسے طاء، حاء، ضاد، ظاء وغیرہ یہ حروف دوسری زبان میں استعمال ہی نہیں ہوتے ان کے لیے ان زبانوں میں نہ صوت ہے نہ شکل وصورت ہے تو لامحالہ ان کی جگہ دوسرے حروف لکھے جائیں گے اور یہ عملاً تحریف و تغییر ہے جو کہ حرام ہے۔ البتہ اگر متن قرآن کریم تو عربی اصل رسم خط میں ہو اور اس کا ترجمہ و تفسیر دوسری زبان میں تو شرعاً مضائقہ نہیں(۲۷)۔
تنبیہ: بہت سے علاقوں میں وہاں کے ہمدردانِ قوم مقامی عام لوگوں کی دینی راہنمائی کے لیے قرآن پاک کی چھوٹی سورتوں اور ماثور دعاؤں کو عربی خط میں لکھنے کے بجائے علاقائی زبان (ہندی، گجراتی، بنگالی وغیرہ) میں لکھ کر اور چھاپ کر شائع کرتے ہیں۔ مذکورہ تحریر سے معلوم ہوگیا کہ یہ بھی صحیح نہیں ہے۔
قراء تِ سبعہ یا عشرہ کا تواتر
پیغمبر صلى الله عليه وسلم سے قرآن پاک کی تعلیم حاصل کرنے والے ہزاروں میں سے پچاسوں صحابہ تعلیم قرآن میں معروف تھے پھر ان میں سب سے زیادہ مشہور حضرت عثمان رضى الله تعالى عنه، علی رضى الله تعالى عنه، ابی بن کعب رضى الله تعالى عنه، زید بن ثابت رضى الله تعالى عنه، عبداللہ بن مسعود رضى الله تعالى عنه، ابوالدرداء رضى الله تعالى عنه، ابوموسیٰ اشعری رضى الله تعالى عنه تھے(۲۸) پھر تابعین کی ایک بڑی جماعت نے اُن سے اور دوسرے صحابہ سے قرآن کو اُن وجوہ سے حاصل کیا جن سے انھوں نے خود نبی امی صلى الله عليه وسلم سے سیکھا تھا۔ پھر اُن میں متعدد شخصیتوں نے قرآن کریم پڑھنے اور پڑھانے کو اپنی زندگی کا نصب العین بنالیا اور یہی اُن کے شب وروز کا حقیقی موضوع اور بہترین مشغلہ تھا ثم تجرد قوم واعتنوا بضبط القرأة اتم عنایة حتی صاروا ائمة یقتدی بہم ویرحل الیہم(۲۹) ثم تجرد قوم للقرأة والاخذ واعتنوا بضبطا اتم عنایة حتی صاروا فیہا ائمة یقتدی بہم واجمع اہل بلدہم علی تلقی قرأتہم بالقبول(۳۰) یعنی بعض حضرات نے قرأتِ قرآن کی تعلیم و تبلیغ کے لیے اپنی زندگی کو وقف کردیا تھا اُن کی اِس قربانی کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ نے علم قرأت میں انہیں امامت و پیشوائی کا رتبہ عطا فرمایا قال السیوطی: واشتہر من ہوٴلاء فی الآفاق الائمةُ ان میں سے پھر یہ لوگ یعنی امام نافع مدنی، امام ابن کثیر مکی، امام ابن عامر شامی، امام ابوعمرو بصری، امام عاصم کوفی، امام حمزہ کوفی، امام کسائی کوفی، کو عالم میں زیادہ شہرت اور مقبولیت حاصل ہوئی۔(۳۱)
یہ ائمہ اگرچہ تمام متواتر قرأتوں کے حافظ وعالم تھے مگر ہر ایک کو ایک مخصوص قرأت میں جو ان کی پسندیدہ اور محبوب تھی امتیازی شان نصیب ہوئی یہاں تک کہ ہر قرأت ان اماموں میں سے ایک ایک کے نام کی طرف منسوب ہوگئی اور قرأت کا تواتر ان ائمہ کے ناموں سے وابستہ ہوگیا اور ان کی قرأت متواتر قرأت کی معرفت کا مدار بن گئی کہ دنیا کے کسی بھی گوشہ میں قرآن کی قرأت ہو وہ قرأت معتبر و مستند جب ہوگی جب کہ اس کی سند مذکورہ اماموں میں سے کسی ایک تک سند متصل سے پہنچتی ہے تو وہ متواتر کہلائے گی کیونکہ اِن ائمہ سے پیغمبر صلى الله عليه وسلم تک قرآن کا تواتر یقینی ہے لہٰذا ہر امام کی قرأت کے قرآن ہونے کا یقین واجب اور ضروری ہے اور جو قرأت مذکورہ ائمہ سبعہ بلکہ عشرہ کے علاوہ کسی اور شخصیت کی طرف منسوب ہے وہ متواتر نہیں کہلائے گی۔
تنبیہ: قراء سبعہ وعشرہ کی قرأت کے متواتر ہونے کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ قرأت کا تواتر اِن ائمہ قرأت سے شروع ہوا ہے اس سے قبل نہیں تھا۔ حاشا وکلاّ۔ اگر کسی کو یہ تردد ہوا ہوتو مذکورہ تحریر سے اس کا ازالہ ہوجاتا ہے۔ فافہم
* * *
حواشی:
(۱) اتقان، ص:۲۱۲ نوع ۷۶۔ (۲) سورئہ یوسف پ۱۲۔
(۳) اتقان،ج:۲، ص:۲۱۲۔ (۴) الکامل للمبرد۔
(۵) مفتاح السعادة،ج۱، ص:۹۴۔ (۶) مناہل العرفان۔
(۷) مسلم شریف۔ (۸) مناہل ،ج:۱، ص:۲۵۳۔
(۹) نثر المرجان فی رسم نظم القرآن، ج:۱، ص:۱۰۔(۱۰) اتقان۔
(۱۱) المقنع للدانی ص۴۔ (۱۲) مناہل،ج:۱،ص:۲۵۶
(۱۳) المقنع،ص۴۔ (۱۴) مناہل ،ج۱،ص۲۵۹۔
(۱۵) مناہل العرفان۔ (۱۶) ایضاً۔
(۱۷) الفوز الکبیر،ص۸۷۔ (۱۸) اتقان عن النشر۔
(۱۹) نثرالمرجان،ج۱،ص:۱۱۔ (۲۰) المقنع،ص۹۔
(۲۱) اتقان ص۲۱۳۔ (۲۲) المقنع ،ص۹۔
(۲۳) مفتاح السعادة،ج۱،ص:۹۴۔ (۲۴) اتقان عن البیہقی فی شعب الایمان۔
(۲۵) شرح العقیلہ۔ (۲۶) امداد الفتاویٰ،ج۴، ص۴۴۔
(۲۷) فتاویٰ محمودیہ،ج۱، ص۴۶۔ (۲۸) الاتقان،ج۱، ص۹۶۔
(۲۹) ایضاً،ج۱، ص۹۷۔ (۳۰) نثر المرجان، ج۱، ص۱۰۔
(۳۱) نثرالمرجان، منجد المقرئین، ص۲۳۔
* * *











No comments:
Post a Comment