Monday, 10 June 2024

اللہ کیلئے "تواضع" کی حقیقت وفضیلت

تواضع یہ نہیں کہ۔۔۔

(1)باطل-ناحق-حرام (شرط/صلح) کو تسلیم کیا جائے۔

[حوالہ»سورۃ الکافرون]

(2)کسی گناہ پر کبھی غصہ نہ کیا جائے۔

[حوالہ»بخاری:704،ترمذی:1973+2133]

(3)یا کسی ایسی مصیبت میں خود پڑا جائے کہ جسے جھیلنے کی طاقت نہ ہو۔

[حوالہ»ترمذی:2254، ابن ماجہ:4016]

(4)یا لوگوں کے آگے سر جھکائے بیٹھنے کا دکھلاوا کیا جائے۔

بلکہ

تواضع تو یہ ہے کہ۔۔۔

(1)اللہ کے حکم اور حکمت کے آگے سر تسلیم خم کیا جائے۔

[طبرانی:12939،الصحیحہ:538]

(2)دبائے جانے والے، کمزور، جن کی کوئی پرواہ نہیں کرتا، آزمائش والے، فضیلت والے مومن،عالم،حافظ کو خود سے افضل سمجھ کر اللہ کیلئے ان کا ساتھ دیا جائے، دعائیں لی جائیں۔

[طحاوی:7075، الصحیحہ:2877]

(3)اور اپنے کسی کمال وخوبی کے سبب کسی پر فخر نہ کرے، غرور وگھمنڈ نہ کرے، نہ اترائے، نہ شیخی بگھاڑے، محض رب کا انعام واحسان سمجھ کر اللہ کا شکر کیا جائے۔

[تفسیر الدر المنثور-امام السیوطی»سورۃ النحل:23]




پیغمبرانہ تواضع

القرآن:

اور میں یہ دعویٰ نہیں کرتا کہ میرا نفس بالکل پاک صاف ہے، واقعہ یہ ہے کہ نفس تو برائی کی تلقین کرتا ہی رہتا ہے، ہاں میرا رب رحم فرمادے تو بات اور ہے (کہ اس صورت میں نفس کا کوئی داؤ نہیں چلتا) بیشک میرا رب بہت بخشنے والا، بڑا مہربان ہے۔

[سورۃ نمبر 12 يوسف، آیت نمبر 53]

تفسیر:

حضرت یوسف ؑ کی تواضع اور عبدیت کا کمال دیکھئے کہ اس موقع پر جب ان کی بےگناہی خود ان عورتوں کے اعتراف سے ثابت ہوگئی، تب بھی اس پر اپنی بڑائی کا مظاہرہ کرنے کے بجائے یہ فرما رہے ہیں کہ میں اس انتہائی خطرناک جال سے جو بچا ہوں اس میں میرا کوئی کمال نہیں نفس تو میرے پاس بھی ہے جو انسان کو برائی کی تلقین کرتا رہتا ہے، لیکن یہ اللہ تعالیٰ کا رحم و کرم ہے کہ وہ جس کو چاہتا ہے اس کے فریب سے بچا لیتا ہے، البتہ دوسرے دلائل سے یہ بات واضح ہے کہ اللہ تعالیٰ کا یہ رحم و کرم اسی پر ہوتا ہے جو گناہ سے بچنے کے لئے اپنی سی کوشش کر گزرے، جیسے حضرت یوسف ؑ نے دروازے تک بھاگ کر کی تھی اور ساتھ ہی اللہ تعالیٰ سے رجوع کرکے اس سے پناہ مانگے۔







القرآن:

(اے پیغمبر) درگزر کا رویہ اپناؤ، اور (لوگوں کو) نیکی کا حکم دو ، اور جاہلوں کی طرف دھیان نہ دو۔

[سورۃ نمبر 7 الأعراف، آیت نمبر 199]






القرآن:

اور تم ان چیزوں کی طرف ہرگز آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھو جو ہم نے ان (کافروں) میں سے مختلف لوگوں کو مزے اڑانے کے لیے دے رکھی ہیں، اور نہ ان لوگوں پر اپنا دل کڑھاؤ، اور جو لوگ ایمان لے آئے ہیں، ان کے لیے اپنی شفقت کا بازو پھیلا دو۔

[سورۃ نمبر 15 الحجر، آیت نمبر 88]







القرآن:

اور زمین پر اکڑ کر مت چلو۔ نہ تم زمین کو پھاڑ سکتے ہو اور نہ بلندی میں پہاڑوں کو پہنچ سکتے ہو۔

[سورۃ نمبر 17 الإسراء، آیت نمبر 37]


تفسیر:

اکڑ کر چلنے کے لیے ایک تو کچھ لوگ زمین پر زور زور سے پاؤں مار کر چلتے ہیں۔ دوسرے سینہ تان کر چلنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ پہلی صورت کے لیے کہا گیا ہے کہ پاؤں چاہے کتنے زور سے مار لو، تم زمین کو پھاڑ نہیں سکتے، اور دوسری صورت کے لیے فرمایا گیا ہے کہ سینہ تان کر اپنا قد اونچا کرنے کی کتنی ہی کوشش کرلو، تمہاری لمبائی پہاڑوں سے زیادہ نہیں ہوسکتی، اور اگر لمبا قد ہی فضیلت اور بڑائی کا معیار ہوتا تو پہاڑوں کو تم سے افضل ہونا چاہیے تھا۔











القرآن:

اور ہم نے ہر امت کے لیے قربانی اس غرض کے لیے مقرر کی ہے کہ وہ ان مویشیوں پر اللہ کا نام لیں جو اللہ نے انہیں عطا فرمائے ہیں۔ لہذا تمہارا خدا بس ایک ہی خدا ہے، چنانچہ تم اسی کی فرمانبرداری کرو، اور خوشخبردی سنا دو ان لوگوں کو جن کے دل اللہ کے آگے جھکے ہوئے ہیں۔

[سورۃ نمبر 22 الحج، آیت نمبر 34]








القرآن:

اور رحمن کے بندے وہ ہیں جو زمین پر عاجزی سے چلتے ہیں اور جب جاہل لوگ ان سے (جاہلانہ) خطاب کرتے ہیں تو وہ سلامتی کی بات کہتے ہیں۔

[سورۃ نمبر 25 الفرقان، آیت نمبر 63]

تفسیر:

یعنی ان کی بدکلامی اور گالی گفتار کا جواب برے الفاظ میں دینے کے بجائے شریفانہ انداز میں دیتے ہیں۔







القرآن:

اور جو مومن تمہارے پیچھے چلیں، ان کے لیے انکساری کے ساتھ اپنی شفقت کا بازو جھکا دو۔

[سورۃ نمبر 26 الشعراء، آیت نمبر 215]





القرآن:

اور لوگوں کے سامنے (غرور سے) اپنے گال مت پھلاؤ، اور زمین پر اتراتے ہوئے مت چلو۔ یقین جانو اللہ کسی اترانے والے شیخی باز کو پسند نہیں کرتا۔

اور اپنی چال میں اعتدال اختیار کرو (11) اور اپنی آواز آہستہ رکھو (12) بیشک سب سے بری آواز گدھوں کی آواز ہے۔

[سورۃ نمبر 31 لقمان، آیت نمبر 18+19]

تفسیر:

11: یعنی انسان کو درمیانی رفتار سے چلنا چاہیے، رفتار نہ اتنی تیز ہو کہ بھاگنے کے قریب پہنچ جائے اور نہ اتنی آہستہ کہ سستی میں داخل ہوجائے، یہاں تک کہ جب کوئی شخص جماعت سے نماز پڑھنے جارہا ہو تو اس کو بھی آنحضرت ﷺ نے بھاگنے سے منع فرما کر وقار اور سکون کے ساتھ چلنے کی تاکید فرمائی ہے۔

 12: آواز آہستہ رکھنے سے مراد یہ نہیں ہے کہ انسان اتنا آہستہ بولے کہ سننے والے کو دقت پیش آئے، بلکہ مراد یہ ہے کہ جن کو سنانا مقصود ہے ان تک تو آواز وضاحت کے ساتھ پہنچ جائے، لیکن اس سے زیادہ چیخ چیخ کر بولنا اسلامی آداب کے خلاف ہے، یہاں تک کہ کوئی شخص درس دے رہا ہو، یا وعظ کررہا ہو تو اس کی آواز اتنی ہی بلند ہونی چاہیے جتنی اس کے مخاطبوں کو سننے سمجھنے کے لئے ضرورت ہے، اس سے زیادہ آواز بڑھانے کو بھی اس آیت کے تحت بزرگوں نے منع فرمایا ہے، اس حکم پر خاص طور سے ان حضرات کو غور کرنے کی ضرورت ہے جو بلا ضرورت اسپیکر کا استعمال کرکے لوگوں کے لئے تکلیف کا باعث بنتے ہیں۔








پسندیدہ اخلاق میں سے ایک (اخلاق) تواضع (انکساری) ہے۔


حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

"إِنَّ اللَّهَ أَوْحَى إِلَيَّ أَنْ تَوَاضَعُوا، حَتَّى لَا يَفْخَرَ أَحَدٌ على أَحَدٍ , وَلَا يَبْغِي أَحَدٌ عَلَى أَحَدٍ".

ترجمہ:

"بے شک اللہ تعالیٰ نے مجھے وحی کی کہ تم (آپس میں) تواضع (انکساری) کرو، یہاں تک کہ کوئی کسی پر فخر نہ کرے اور نہ کوئی کسی پر ظلم و زیادتی کرے۔"

[صحیح مسلم:2865، سنن ابی داؤد:4895، سنن ابن ماجہ:4214]







حضرت عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

(" إِنَّ أَنْسَابَكُمْ هَذِهِ لَيْسَتْ بِمَسَبَّةٍ على أَحَدٍ (¬1) كُلُّكُمْ بَنُو آدَمَ) (¬2) (طَفَّ الصَّاعِ بِالصَّاعِ (¬3) لَمْ تَمْلَئُوهُ , لَيْسَ لِأَحَدٍ فَضْلٌ إِلَّا بِدِينٍ أَوْ تَقْوَى) (¬4) (وَكَفَى بِالرَّجُلِ أَنْ يَكُونَ) (¬5) (فَاحِشًا , بَذِيًّا , بَخِيلًا , جَبَانًا ") (¬6)

ترجمہ:

"یقیناً تمہارے یہ نسب (اور خاندانی تعلقات) کسی کو عار دلانے کا سبب نہیں ہیں(¬1) (یعنی اس کی وجہ سے کسی کو برا بھلا نہیں کہا جا سکتا)۔ تم سب آدم (علیہ السلام) کی اولاد ہو۔(¬2) (تم سب کا آپس میں تعلق ایسا ہے جیسے) ایک پیمانہ دوسرے پیمانے کے قریب ہو (مگر اسے بھر نہیں سکتا)،(¬3) تم نے اسے پر نہیں کیا۔ کسی کو کوئی فضیلت نہیں سوائے دین یا تقویٰ کے۔(¬4) اور آدمی کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ(¬5) فحش گو، بدزبان، بخیل اور بزدل ہو۔"(¬6)

---

حواشی و حوالہ جات:

(¬1) یعنی (نسب) عار دلانے کا سبب نہیں ہیں۔

(¬2) (حم) 17482، اور شیخ شعیب الارناؤوط نے فرمایا: یہ حدیث حسن ہے۔

(¬3) یعنی تم سب ایک دوسرے کے قریب ہو، کسی کو کسی پر کوئی فضیلت نہیں سوائے تقویٰ کے۔ کیونکہ "طَفُّ الصاع" (پیمانے کا قریب ہونا) اس کے بھرنے کے قریب ہے، لیکن کسی کے لیے یہ ممکن نہیں کہ وہ برتن کو بھرنے کے قریب لا سکے۔ اور اس قول کی تصدیق اس حدیث سے ہوتی ہے: "مسلمانوں کی جانوں کا باہم برابر ہے۔" اور "تطفیف" پیمانے میں وہ کمی ہے کہ برتن کو بھرنے کے قریب کیا جائے۔ کہا جاتا ہے: "طَفُّ المِکیال، طَفافُه، طِفافُه" (پیمانے کا قریب)۔ ایک حدیث میں اسرافیل علیہ السلام کی صفت میں آیا ہے: "یہاں تک کہ گویا وہ زمین کے طِفاف (قریب) پر ہے۔" یعنی اس کے قریب۔ "طِفاف اللیل" اور "طَفافہ" سے مراد رات کی تاریکی ہے۔

ابوالعمیثل اعرابی نے کہا: "طَفاف" رات کی تاریکی ہے اور شعر پڑھا:

"بادلوں کے عقاب (پرندے) نے تاریکی سے پہلے شکار کر لیا، جب اس نے اندھیرے دیکھے تو وہ پر اور بازو سمیٹنے لگے۔"

"طفف علی الرجل" کا مطلب ہے اسے اس سے کم دینا جو اس سے لیا تھا۔ "تطفیف" ناپ تول میں کمی اور پیمانے کو کم کرنا ہے، یعنی اسے اس کے کناروں تک نہ بھرنا۔

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کی حدیث میں ہے جب انہوں نے ذکر کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے گھوڑوں کی دوڑ کرائی تو فرمایا: "میں اس دن سوار تھا، میں لوگوں سے آگے نکل گیا یہاں تک کہ گھوڑا مجھے لے کر بنی زریق کی مسجد کے طَفّ (قریب) تک پہنچ گیا، قریب تھا کہ مسجد کو چھو لے۔" امام ابوعبید نے کہا: یعنی گھوڑے نے مجھے اس قدر اچھل کر پہنچایا کہ قریب تھا مسجد کو چھو لے۔ کہا جاتا ہے: "طففت بفلان موضع کذا" یعنی میں اسے وہاں لے گیا اور اس کے قریب کر دیا۔ اسی سے برتن کو "طفان" کہتے ہیں جو بھرنے کے قریب ہو۔ اور اسی سے ناپ تول میں "تطفیف" ہے۔

اللہ تعالیٰ کے فرمان {وَیْلٌ لِّلْمُطَفِّفِینَ} (بربادی ہے ڈنڈی مارنے والوں کے لیے) کی تفسیر میں کہا گیا ہے کہ "تطفیف" وہ کمی ہے جو ناپ تول میں خیانت کرتے ہوئے کی جائے۔ اور بعض اوقات معمولی کمی کو "تطفیف" نہیں کہتے جب تک کہ وہ بہت زیادہ نہ ہو جائے۔ امام ابوالاسحاق نے کہا: "مطففین" وہ لوگ ہیں جو پیمانے اور وزن میں کمی کرتے ہیں۔ انہیں "مطفف" اس لیے کہا گیا کہ وہ ناپ تول میں معمولی سی ہی چوری کرتے ہیں، اور یہ "طَفّ الشیء" (چیز کے کنارے) سے لیا گیا ہے۔ (لسان العرب، ج 9، ص 221)

(¬4) (حم)مسند احمد:17351، اور شیخ شعیب الارناؤوط نے فرمایا: اس کی سند حسن ہے۔

(¬5) (حم) مسند احمد:17482

(¬6) (حم) مسند احمد:17351، (طب) المعجم الکبیر للطبرانی:17/295 حدیث 814، دیکھیں: صحیح الجامع:4910، السلسلۃ الصحیحۃ:1038

---

حاصل شدہ اسباق و نکات:

1. نسب پر فخر کی مذمت: اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح فرمایا کہ خاندانی نسب اور حسب کسی شخص کی برائی یا فضیلت کا معیار نہیں ہیں۔ یہ عصبیت اور جاہلیت کی علامت ہے۔

2. بنیادی انسانی مساوات: تمام انسان حضرت آدم علیہ السلام کی اولاد ہیں اور ایک ہی ماں باپ سے ہیں۔ اس اعتبار سے سب برابر ہیں، جیسے ایک پیمانہ دوسرے پیمانے کے قریب ہو۔ کوئی بھی شخص اپنے نسب کی وجہ سے دوسروں پر فوقیت نہیں رکھتا۔

3. تقویٰ ہی معیار فضیلت ہے: حقیقی فضیلت اور بلندی کا معیار صرف دین اور تقویٰ ہے۔ جس کا دین اور تقویٰ زیادہ ہوگا، وہ اللہ کے نزدیک زیادہ فضیلت والا ہوگا۔

4. چند برے اخلاق کی مذمت:

   · فاحش: فحش گو اور گالی گلوج کرنے والا۔

   · بذی: بدزبان اور بداخلاق۔

   · بخیل: کنجوس اور تنگ دل۔

   · جبان: بزدل اور ڈرپوک۔

   یہ چار صفتیں انسان کے لیے برائی کے لیے کافی ہیں۔ ان سے بچنا ضروری ہے۔

5. قرآنی تعلیمات سے مطابقت: یہ حدیث قرآن مجید کی اس آیت کی عملی تفسیر ہے: {إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ} (اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو سب سے زیادہ پرہیزگار ہے) [الحجرات: 13]۔

6. عملی سبق:

   · اپنے خاندان، قبیلے یا نسل پر فخر کرنے کے بجائے اپنے عمل اور تقویٰ کو بہتر بنانے کی کوشش کریں۔

   · کسی کو اس کے نسب کی وجہ سے حقیر نہ سمجھیں اور نہ ہی کسی کو کم تر گردانیں۔

   · برے اخلاق (فحش گوئی، بدزبانی، بخل اور بزدلی) سے بچنے کی کوشش کریں اور ان کے مقابلے میں حیا، سخاوت اور شجاعت جیسی خوبیاں اپنائیں۔

   · معاشرے میں اخوت، محبت اور مساوات کو فروغ دیں۔


یہ حدیث ایک متوازن اور پرامن معاشرے کی تشکیل کے لیے نہایت اہم رہنما اصول فراہم کرتی ہے جہاں انسانوں کے درمیان تعلق محبت، انصاف اور تقویٰ پر استوار ہو، نہ کہ تفاخر اور تعصب پر۔







حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا:

لاَ أَرَى أَحَدًا يَعْمَلُ بِهَذِهِ الْآيَةِ: {يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَاكُمْ مِنْ ذَكَرٍ وَأُنْثَى وَجَعَلْنَاكُمْ شُعُوبًا وَقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوا إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ} [سورۃ الحجرات:13] 

فَيَقُولُ الرَّجُلُ لِلرَّجُلِ: أَنَا أَكْرَمُ مِنْكَ، فَلَيْسَ أَحَدٌ أَكْرَمَ مِنْ أَحَدٍ إِلا بِتَقْوَى الله.

ترجمہ:

"میں کسی کو اس آیت پر عمل کرتے ہوئے نہیں دیکھتا: 

(اے لوگو! ہم نے تمہیں ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا، اور تمہیں قومیں اور قبائل بنا دیا تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچانو۔ بے شک اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو تم میں سب سے زیادہ پرہیزگار ہے۔ بے شک اللہ علم والا، خبردار ہے۔)(سورۃ الحجرات: 13)

پس (آج) ایک شخص دوسرے شخص سے کہتا ہے: میں تم سے زیادہ معزز ہوں۔ حالانکہ کوئی شخص کسی دوسرے شخص سے زیادہ معزز نہیں ہے، سوائے تقویٰ اللہ کے (اس معیار کے)۔"


[الْأَدَبِ الْمُفْرَد للبخاري:898، صَحْيح الْأَدَبِ الْمُفْرَد:693]

---

حاصل شدہ اسباق و نکات:

1. انسانی مساوات کا عظیم اعلان: حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما اس آیت کی روشنی میں وضاحت فرما رہے ہیں کہ تمام انسانوں کی بنیاد ایک ہی ہے (ایک مرد اور ایک عورت سے تخلیق)۔ قومیں اور قبائل صرف پہچان کے لیے ہیں، نہ کہ تفاخر اور برتری کے لیے۔

2. نسبی برتری کا بطلان: ابن عباس رضی اللہ عنہما اس دور کے ان لوگوں کی نشاندہی کر رہے ہیں جو اپنے خاندان، قبیلے یا نسل کی بنیاد پر دوسروں پر فوقیت جتاتے تھے۔ آپ اس طرز عمل کو آیتِ قرآنی کے خلاف قرار دیتے ہیں۔

3. تقویٰ ہی اصل معیار فضیلت ہے: آپ اس آیت کی تفسیر میں واضح کرتے ہیں کہ اللہ کے ہاں کسی انسان کی اصل قدر و قیمت کا معیار اس کا تقویٰ (اللہ کا ڈر اور پرہیزگاری) ہے، نہ کہ اس کا نسب، خاندان، قوم یا قبیلہ۔

4. صحابہ کا قرآن فہمی کا انداز: یہ قول حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کا ہے، جو "ترجمان القرآن" کے لقب سے مشہور ہیں۔ ان کا یہ انداز ظاہر کرتا ہے کہ صحابہ کرام قرآن کی آیات کو براہ راست عملی زندگی پر کس طرح لاگو کرتے تھے اور لوگوں کو اس کی تعلیم دیتے تھے۔

5. امت مسلمہ کے لیے تنبیہ: یہ قول امت مسلمہ کے لیے ایک تنبیہ ہے کہ وہ نسلی، قومی، لسانی اور علاقائی تعصبات سے پاک ہو کر صرف تقویٰ کی بنیاد پر ایک دوسرے کو پرکھے۔ آج بھی مسلم معاشروں میں یہ تعصبات موجود ہیں، جو اس آیت اور اس قول کے خلاف ہیں۔

6. عملی سبق:

   · اپنے آپ کو کسی دوسرے مسلمان سے بہتر یا برتر نہ سمجھیں۔

   · کسی کو اس کے قبیلے، رنگ، نسل یا زبان کی بنیاد پر حقیر نہ جانیں۔

   · دوسروں سے ملاقات اور تعلقات میں پہچان (تعارف) کا مقصد رکھیں، تفاخر کا نہیں۔

   · اپنی زندگی میں تقویٰ اور نیکی کو بڑھانے کی کوشش کریں، کیونکہ یہی اصل سرمایہ ہے۔

   · اگر آپ کوئی مقام یا مرتبہ رکھتے ہیں تو اسے اللہ کی امانت سمجھیں اور عاجزی اختیار کریں۔






فضل التواضع (انکساری کی فضیلت):


حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

" يَقُولُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: مَنْ تَوَاضَعَ لِي هَكَذَا - وَجَعَلَ يَزِيدُ بَاطِنَ كَفِّهِ إِلَى الْأَرْضِ وَأَدْنَاهَا إِلَى الْأَرْضِ - رَفَعْتُهُ هَكَذَا - وَجَعَلَ بَاطِنَ كَفِّهِ إِلَى السَّمَاءِ وَرَفَعَهَا - "

ترجمہ:

"اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: جس نے میرے لیے اس طرح عاجزی کی (اور راوی یزید نے اپنی ہتھیلی کو زمین کی طرف جھکا کر اسے زمین کے قریب کیا) تو میں اسے اس طرح بلند کروں گا (اور انہوں نے اپنی ہتھیلی کو آسمان کی طرف اٹھایا)"۔

[مسند احمد:309، مسند ابویعلی:187، الصَّحِيحَة تحت حديث: 2328، صَحِيح التَّرْغِيبِ وَالتَّرْهِيب:2894 , وقال الشيخ شعيب الأرناؤوط: إسناده صحيح.]

---

حاصل شدہ اسباق و نکات:

1. تواضع (انکساری) کا عظیم مقام: یہ حدیث قدسی تواضع کی بہت بڑی فضیلت بیان کرتی ہے۔ تواضع اللہ کے لیے اختیار کیا جانے والا وہ عمل ہے جو بندے کو بلندیوں تک پہنچا دیتا ہے۔

2. اللہ کے لیے عاجزی کا صلہ: جو شخص اللہ تعالیٰ کے حکم کے سامنے سر تسلیم خم کر دے، اپنے آپ کو بڑا نہ سمجھے اور دوسروں پر فوقیت نہ جتائے، اللہ اسے دنیا اور آخرت میں بلند درجہ عطا فرماتا ہے۔

3. عملی مثال سے وضاحت: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابی کو سمجھانے کے لیے عملی طور پر ہاتھ کی ہتھیلی کو زمین کی طرف جھکا کر اور پھر آسمان کی طرف اٹھا کر تواضع کے بلند مقام کو واضح فرمایا۔ یہ آپ کا مؤثر اور واضح اندازِ تعلیم ہے۔

4. دنیا و آخرت میں بلندی کا راز: ظاہری طور پر عاجزی کرنے والا دنیا کی نگاہ میں گر سکتا ہے، لیکن اللہ کے نزدیک وہ بلند ہوتا ہے۔ اور آخرت میں اسے وہ مقام ملے گا جو تکبر کرنے والوں کو نصیب نہیں ہو سکتا۔

5. متکبرین کے لیے وعید: اس حدیث کا ایک دوسرا پہلو یہ ہے کہ جو شخص اللہ کے سامنے عاجزی نہیں کرتا اور تکبر اختیار کرتا ہے، وہ اللہ کی بلندی سے محروم رہے گا اور ذلت سے دوچار ہو سکتا ہے۔

6. عملی سبق:

   · اللہ تعالیٰ کے سامنے اپنی عاجزی اور بے کسی کا اظہار کرتے رہنا چاہیے۔

   · لوگوں کے ساتھ نرمی، محبت اور عاجزی سے پیش آنا چاہیے۔

   · کسی کو اپنے علم، عمل، مال یا نسب کی وجہ سے حقیر نہیں سمجھنا چاہیے۔

   · عاجزی کو اپنا شعار بنانا چاہیے تاکہ اللہ تعالیٰ ہمیں دنیا اور آخرت میں بلند مقام عطا فرمائے۔


یہ حدیث انسان کو ایک اہم حقیقت سے آگاہ کرتی ہے کہ اصل بلندی اللہ کی طرف سے عطا کردہ وہ مقام ہے جو عاجزی اور انکساری کے نتیجے میں ملتا ہے، نہ کہ دنیاوی تفاخر اور تکبر سے۔






حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

" مَا مِنْ آدَمِيٍّ إِلَّا فِي رَأْسِهِ حَكَمَةٌ (¬1) بِيَدِ مَلَكٍ، فَإِذَا تَوَاضَعَ قِيلَ لِلْمَلَكِ: ارْفَعْ حَكَمَتَهُ، وَإِذَا تَكَبَّرَ قِيلَ لِلْمَلَكِ: ضَعْ حَكَمَتَهُ " (¬2)

ترجمہ:

"کوئی بھی انسان ایسا نہیں ہے جس کے سر پر ایک حکمۃ (لگام کی طرح کی چیز) نہ ہو(¬1) جو فرشتے کے ہاتھ میں ہے۔ پس جب وہ عاجزی کرتا ہے تو فرشتے سے کہا جاتا ہے: اس کی حکمۃ اٹھا (یعنی اسے بلند کر دے)۔ اور جب وہ تکبر کرتا ہے تو فرشتے سے کہا جاتا ہے: اس کی حکمۃ نیچی کر دے (یعنی اسے پست کر دے)۔"(¬2)


[المعجم الکبیر للطبرانی: ج12، ص218، حدیث نمبر 12939، دیکھیں: صحیح الجامع:5675، السلسلۃ الصحیحۃ:538]

---

حواشی:

(¬1) الحَكَمَة: یہ لگام کا وہ حصہ ہے جو گھوڑے کی ٹھوڑی اور جبڑے کے گرد ہوتا ہے، اس میں دو رسیاں (عذاران) ہوتی ہیں، اور یہ گھوڑے کے لیے ویسے ہی ہیں جیسے انسان کے چہرے کے دونوں جانب (رخسار) ہوتے ہیں۔

---

حاصل شدہ اسباق و نکات:

1. تواضع اور تکبر کا نتیجہ: اس حدیث میں واضح کیا گیا ہے کہ انسان کا اپنے رویے کا نتیجہ اس کی زندگی میں ظاہر ہوتا ہے۔ عاجزی اختیار کرنے والے کو اللہ تعالیٰ بلندی عطا فرماتا ہے، جبکہ تکبر کرنے والا پستی سے دوچار ہوتا ہے۔

2. فرشتے کا کردار: حدیث میں یہ بات بھی واضح کی گئی ہے کہ انسان کی حالت پر فرشتے مامور ہیں۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے انسان کی نگرانی کا ایک منظم نظام ہے۔

3. حکمہ کی مثال کی حکمت: حدیث میں گھوڑے کی لگام (حکمہ) کی مثال دے کر یہ سمجھایا گیا ہے کہ جس طرح گھوڑے کو لگام سے قابو کیا جاتا ہے، اسی طرح انسان کے حالات پر قابو رکھنے والے فرشتے ہیں جو اس کے رویے کے مطابق اسے بلند یا پست کرتے ہیں۔

4. انسان کی ذمہ داری: حدیث سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ انسان اپنے رویے کے لیے خود ذمہ دار ہے۔ اسے اختیار دیا گیا ہے کہ وہ عاجزی اور انکساری کا راستہ اختیار کرے یا تکبر اور غرور کا۔

5. اللہ کی طرف سے مدد: عاجزی اختیار کرنے والے کی مدد کی جاتی ہے اور اسے بلند کیا جاتا ہے۔ یہ اللہ کی سنت ہے کہ وہ عاجزوں کی مدد کرتا ہے اور انہیں کامیابی عطا فرماتا ہے۔

6. عملی سبق:

   · ہمیں ہمیشہ عاجزی اور انکساری کو اپنا شعار بنانا چاہیے۔

   · کبھی بھی کسی پر تکبر اور غرور نہیں کرنا چاہیے۔

   · یہ یقین رکھنا چاہیے کہ ہمارے اعمال کا نتیجہ ہماری زندگی میں ظاہر ہوگا۔

   · اللہ تعالیٰ کی نگرانی اور فرشتوں کی موجودگی کا احساس دل میں رکھنا چاہیے۔

   · عاجزی کے ذریعے اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔


یہ حدیث انسان کو ایک اہم حقیقت سے آگاہ کرتی ہے کہ اس کی زندگی کے حالات اس کے اپنے رویوں کا نتیجہ ہوتے ہیں، اور اللہ تعالیٰ اس کے ہر عمل کا بدلہ دینے والا ہے۔






حضرت ابراہیم بن عابس بن ربیعہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا:

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے منبر پر (خطبہ دیتے ہوئے) فرمایا:

أَيُّهَا النَّاسُ تَوَاضَعُوا , سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - يَقُولُ: " مَنْ تَوَاضَعَ لِلَّهِ رَفَعَهُ اللَّهُ "

ترجمہ:

اے لوگو! تواضع (عاجزی) اختیار کرو۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: جس نے اللہ کے لیے عاجزی کی، اللہ نے اسے بلند کر دیا۔"


[شعب الإيمان للبيهقي:8140، صحیح الجامع:6162، السلسلۃ الصحیحۃ:2328]

---

حاصل شدہ اسباق و نکات:

1. تواضع کا حکم: حضرت عمر رضی اللہ عنہ خلیفہ ہونے کے باوجود منبر پر کھڑے ہو کر لوگوں کو عاجزی اختیار کرنے کا حکم دے رہے ہیں۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ تواضع ہر مسلمان کے لیے ضروری صفت ہے۔

2. عاجزی کا نتیجہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق، جو شخص اللہ کے لیے عاجزی اختیار کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اسے بلندی عطا فرماتا ہے۔ یہ بلندی دنیا میں بھی ہو سکتی ہے اور آخرت میں بھی۔

3. خلیفہ کا منبر سے وعظ: حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا یہ عمل اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ خلفائے راشدین منبر سے وعظ و نصیحت کیا کرتے تھے اور لوگوں کو نیکی کی تلقین فرماتے تھے۔

4. اللہ کے لیے عاجزی کا مفہوم: یہاں "اللہ کے لیے عاجزی" سے مراد یہ ہے کہ انسان اللہ کے حکم کے سامنے سر تسلیم خم کر دے، اس کی عبادت میں کوتاہی نہ کرے، اور لوگوں کے ساتھ نرمی اور محبت سے پیش آئے۔

5. عملی سبق:

   · ہمیں چاہیے کہ ہم اللہ کے لیے عاجزی اختیار کریں اور اس کے احکام کے سامنے سر جھکائیں۔

   · لوگوں کے ساتھ حسن سلوک اور انکساری سے پیش آنا چاہیے۔

   · کبھی بھی اپنے مرتبے، علم یا مال پر گھمنڈ نہیں کرنا چاہیے۔

   · یقین رکھنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ عاجزی کرنے والوں کو بلندی عطا فرماتا ہے۔


یہ حدیث ایک بار پھر اس اہم حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ اسلام میں اصل فضیلت اور بلندی کا معیار تقویٰ اور عاجزی ہے، نہ کہ دنیاوی تفاخر اور تکبر۔







حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

مَا تَوَاضَعَ أَحَدٌ لِلَّهِ إِلَّا رَفَعَهُ اللَّهُ - عز وجل

ترجمہ:

"کسی شخص نے اللہ کے لیے عاجزی نہیں کی مگر اللہ عزوجل نے اسے بلند کر دیا۔"


[صحیح مسلم:2588، جامع ترمذی:2029، مسند احمد:7205، الإرواء-للباني:2200]

---

حاصل شدہ اسباق و نکات:

1. تواضع کی عظمت اور ضمانت: اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح فرمایا کہ اللہ کے لیے عاجزی کرنا کبھی رائیگاں نہیں جاتا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کا بدلہ اپنے ذمے لے لیا ہے کہ وہ عاجزی کرنے والے کو بلند کرے گا۔

2. اللہ کے لیے عاجزی کا مفہوم: "لِلَّهِ" (اللہ کے لیے) کا لفظ بہت اہم ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ عاجزی خالص اللہ کی رضا کے لیے ہو، نہ کہ دنیاوی مفاد یا لوگوں کی تعریف حاصل کرنے کے لیے۔

3. بلندی کی دو صورتیں: اس بلندی سے مراد دنیا میں بھی عزت و مرتبہ مل سکتا ہے اور آخرت میں جنت کے بلند درجات بھی۔ اللہ عاجز بندے کو لوگوں کے دلوں میں عزت دیتا ہے اور آخرت میں اس کے درجات بلند فرماتا ہے۔

4. تکبر کی مذمت: اس حدیث کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ جو شخص تکبر کرتا ہے، اللہ اسے پست کر دیتا ہے۔ جیسا کہ دوسری حدیث میں آیا ہے: "جو شخص تکبر کرے گا، اللہ اسے ذلیل کرے گا۔"

5. سنت الٰہی: یہ اللہ تعالیٰ کی سنت ہے کہ وہ عاجزوں اور کمزوروں کی مدد کرتا ہے اور انہیں عزت دیتا ہے، جبکہ ظالموں اور متکبروں کو ذلیل کرتا ہے۔

6. عملی سبق:

   · اللہ کے لیے عاجزی کو اپنا شعار بنائیں۔

   · کبھی بھی کسی پر تکبر نہ کریں، خواہ آپ کا دنیوی مرتبہ کتنا ہی بلند کیوں نہ ہو۔

   · یقین رکھیں کہ آپ کی عاجزی اللہ کے ہاں ضائع نہیں ہوگی۔

   · عاجزی کو اپنی زندگی کا حصہ بنانے کی کوشش کریں۔





حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

" كُنْ مَعَ صَاحِبِ الْبَلاءِ تَوَاضُعًا لِرَبِّكَ وَإِيمَانًا "

ترجمہ:

"اپنے رب کے سامنے عاجزی کرتے ہوئے اور ایمان کی حالت میں مصیبت زدہ (آدمی) کے ساتھ رہو (یعنی اس کی مدد کرو اور اس کا ساتھ دو)۔"


[شرح معانی الآثار للطحاوی:7075، السلسلۃ الصحیحۃ:2877]

---

حاصل شدہ اسباق و نکات:

1. مصیبت زدہ کی مدد کی فضیلت: اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو ہدایت فرمائی کہ وہ ان لوگوں کے ساتھ رہیں اور ان کی مدد کریں جو مصیبت اور تکلیف میں مبتلا ہیں۔ یہ ایک عظیم نیکی ہے۔

2. تواضع کا عملی مظاہرہ: مصیبت زدہ کی مدد کرنا اور اس کے ساتھ رہنا، درحقیقت اللہ کے سامنے عاجزی کا عملی ثبوت ہے۔ کیونکہ اس میں انسان اپنی بڑائی اور برتری کا خیال کیے بغیر دوسرے کی خدمت کرتا ہے۔

3. ایمان کا تقاضا: حدیث میں "ایماناً" کا لفظ بتاتا ہے کہ مصیبت زدہ کی مدد کرنا ایمان کا تقاضا ہے۔ یعنی یہ عمل ایمان کو مضبوط کرتا ہے اور ایمان کی نشانی ہے۔

4. دردمندی اور ہمدردی: اسلام صرف عبادات کا نام نہیں بلکہ معاشرتی ہمدردی اور درد مندی کا نام بھی ہے۔ یہ حدیث مسلمانوں کو ایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک ہونے کی تلقین کرتی ہے۔

5. عملی سبق:

   · اپنے اردگرد ان لوگوں کو تلاش کریں جو مصیبت میں ہیں (بیمار، غریب، پریشان حال) اور ان کی مدد کریں۔

   · ان کے ساتھ ہمدردی اور نرمی سے پیش آئیں۔

   · ان کی مدد کو اللہ کے سامنے عاجزی اور ایمان کا ذریعہ سمجھیں۔

   · ان کی مدد کرتے ہوئے کسی قسم کا تکبر اور احسان نہ جتائیں۔

   · اس عمل کو اللہ کی رضا اور آخرت کی کامیابی کا ذریعہ بنائیں۔


یہ حدیث ہمیں سکھاتی ہے کہ حقیقی عاجزی اور ایمان کا تقاضا صرف اللہ کی عبادت تک محدود نہیں بلکہ اس کی مخلوق کے ساتھ ہمدردی اور ان کی مدد کرنا بھی ہے۔






حضرت ابو الدرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا:

" أَبْغُونِي الضُّعَفَاءَ , فَإِنَّمَا تُرْزَقُونَ وَتُنْصَرُونَ بِضُعَفَائِكُمْ "

ترجمہ:

"میرے لیے کمزوروں کو تلاش کرو (انہیں میرے پاس لاؤ)، کیونکہ تمہیں رزق اور نصرت صرف اپنے انہی کمزوروں کی وجہ سے ملتی ہے۔"


[جامع ترمذی:1702، سنن نسائی:3179، سنن ابی داؤد:2594، مسند احمد:21779، السلسلۃ الصحیحۃ:779]


شرح و تخریج:

یہ حدیث صحیح ہے۔ امام ترمذی نے اسے "حسن صحیح" قرار دیا ہے ۔ امام البانی نے بھی اسے "صحیح" کہا ہے ۔


"ابغونی الضعفاء" کا معنیٰ ہے: میرے لیے کمزوروں کو تلاش کرو، ان سے محبت کرو، ان کے ساتھ حسن سلوک کرو اور ان کے حقوق ادا کرو ۔

---

حاصل شدہ اسباق و نکات:

1. کمزور مسلمانوں کی عظمت: اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کمزور مسلمانوں (غریب، بیمار، معذور، ضعیف) کی بہت بڑی فضیلت بیان فرمائی ہے۔ وہ لوگ جو دنیاوی اعتبار سے کمزور اور حقیر سمجھے جاتے ہیں، اللہ کے ہاں ان کی بہت بڑی قدر و منزلت ہے ۔

2. رزق اور نصرت کا راز: اللہ تعالیٰ امت مسلمہ کو رزق عطا فرماتا ہے اور دشمنوں پر نصرت عنایت فرماتا ہے، اس کی ایک وجہ انہی کمزور مسلمانوں کی دعائیں، ان کا اخلاص اور ان کی عبادتیں ہیں ۔

3. کمزوروں کی دعا کی قبولیت: کمزور مسلمان عموماً دنیا کی زینت اور آرائش سے دور ہوتے ہیں، ان کے دل نرم ہوتے ہیں، وہ اللہ کے سامنے زیادہ عاجزی اور تضرع کرتے ہیں، اس لیے ان کی دعائیں زیادہ قبول ہوتی ہیں ۔

4. کمزوروں کے ساتھ حسن سلوک کا حکم: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان "ابغونی الضعفاء" (میرے لیے کمزوروں کو تلاش کرو) دراصل صحابہ کرام کو اور ان کے ذریعے پوری امت کو ہدایت ہے کہ وہ کمزور مسلمانوں کی تلاش کریں، ان کی خبرگیری کریں، ان کے ساتھ محبت کریں اور ان کی مدد کریں ۔

5. تواضع اور عاجزی کا سبق: یہ حدیث ہمیں سکھاتی ہے کہ ہمیں کسی بھی مسلمان کو حقیر نہیں سمجھنا چاہیے، خواہ وہ دنیاوی اعتبار سے کتنا ہی کمزور کیوں نہ ہو۔ ہمیں ان کے ساتھ تواضع اور عاجزی سے پیش آنا چاہیے ۔

6. عملی سبق:

   · اپنے اردگرد رہنے والے غریب، بیمار، یتیم اور کمزور مسلمانوں کی مدد کریں۔

   · ان کی ضروریات پوری کریں اور ان کے دکھ درد میں شریک ہوں۔

   · ان کے ساتھ محبت اور شفقت سے پیش آئیں۔

   · ان کی دعاؤں کو اپنے لیے باعثِ برکت سمجھیں۔

   · کبھی بھی کسی مسلمان کو اس کی دنیاوی حیثیت کی وجہ سے حقیر نہ سمجھیں۔

   · یقین رکھیں کہ اللہ تعالیٰ انہی کمزوروں کی برکت سے ہمیں رزق اور نصرت عطا فرماتا ہے۔


یہ حدیث ہمیں ایک اہم حقیقت سے آگاہ کرتی ہے کہ اللہ کے ہاں معیار کچھ اور ہے اور لوگوں کے ہاں کچھ اور۔ جو لوگ لوگوں کی نظر میں حقیر اور کمزور ہیں، وہ اللہ کے ہاں محبوب اور مقبول ہو سکتے ہیں۔






حضرت مصعب بن سعد سے روایت ہے، انہوں نے کہا:

حضرت سعد (بن ابی وقاص) رضی اللہ عنہ نے (کبھی) یہ سمجھا کہ انہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دوسرے اصحاب (جو ان سے کم حیثیت رکھتے تھے) پر کوئی فضیلت حاصل ہے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

" إِنَّمَا يَنْصُرُ اللَّهُ هَذِهِ الأُمَّةَ [ بِضُعَفَائِهِمْ] (¬1) بِدَعْوَتِهِمْ وَصَلاَتِهِمْ وَإِخْلاصِهِمْ " (¬2)

ترجمہ:

"اللہ تعالیٰ اس امت کی مدد ان کے کمزور لوگوں کے ذریعے کرتا ہے، (¬1) ان کی دعاؤں، ان کی نمازوں اور ان کے اخلاص کی وجہ سے۔"(¬2)


[سنن النسائی:3178، السنن الکبری للنسائی:4387، سنن البیهقی الکبری:12683، صحیح البخاری:2739، صحیح الجامع:2388، السلسلۃ الصحیحۃ تحت حدیث:779]

---

حاصل شدہ اسباق و نکات:

1. کمزوروں کی فضیلت اور ان کی اہمیت: اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح فرمایا کہ امت کے کمزور اور غریب لوگ اللہ کے ہاں بہت زیادہ اہمیت رکھتے ہیں۔ ان کی دعائیں اور عبادتیں پوری امت کے لیے نصرت اور رزق کا ذریعہ بنتی ہیں۔

2. باطنی خوبیوں کی فضیلت: حدیث میں تین اہم خوبیوں کا ذکر ہے: دعا، نماز اور اخلاص۔ یہ وہ باطنی خوبیاں ہیں جو ظاہری حیثیت سے زیادہ اہم ہیں۔ کمزور اور غریب لوگ ان خوبیوں کی وجہ سے اللہ کے ہاں مقرب ہوتے ہیں۔

3. حضرت سعد رضی اللہ عنہ کا واقعہ اور اصلاح: حضرت سعد رضی اللہ عنہ جیسے عظیم صحابی (جو عشرہ مبشرہ میں شامل ہیں) کو بھی اس غلط فہمی کی اصلاح کی ضرورت پیش آئی کہ وہ دوسروں سے بہتر ہیں۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ کوئی بھی شخص اس غلط فہمی میں مبتلا ہو سکتا ہے اور اسے اصلاح کی ضرورت ہے۔

4. اللہ کی مدد کا ذریعہ: عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ اللہ کی مدد طاقتور، مالدار اور بااثر لوگوں کے ذریعے آتی ہے، لیکن حدیث بتاتی ہے کہ حقیقی مدد کمزور اور غریب لوگوں کے اخلاص اور دعاؤں کی وجہ سے آتی ہے۔

5. معاشرتی مساوات اور تواضع کا سبق: اس حدیث میں بڑے لوگوں کے لیے بھی تنبیہ ہے کہ وہ کمزور اور غریب لوگوں کو حقیر نہ سمجھیں، بلکہ ان کی قدر کریں اور ان کے ساتھ عاجزی اور محبت سے پیش آئیں۔

6. کمزوروں کی دعاؤں کی قبولیت: حدیث سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ کمزور اور غریب لوگوں کی دعائیں زیادہ قبول ہوتی ہیں، کیونکہ ان کا دل زیادہ متواضع اور اللہ کی طرف زیادہ متوجہ ہوتا ہے۔

7. عملی سبق:

   · کبھی بھی اپنے آپ کو دوسروں سے بہتر نہ سمجھیں، خواہ آپ کا دنیوی مرتبہ کتنا ہی بلند کیوں نہ ہو۔

   · کمزور، غریب اور پریشان حال لوگوں کی قدر کریں اور ان کے ساتھ حسن سلوک کریں۔

   · ان کی دعاؤں کو حاصل کرنے کی کوشش کریں، کیونکہ وہ اللہ کے ہاں مقبول ہو سکتی ہیں۔

   · اپنی زندگی میں اخلاص، دعا اور نماز کو اہمیت دیں۔

   · معاشرے میں کمزور طبقے کی مدد کریں اور ان کے حقوق کا خیال رکھیں۔






حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا:

" كُنَّا مَعَ النَّبيِّ - صلى الله عليه وسلم - فِي جِنَازَةٍ فَقَالَ: أَلَا أُخْبرُكُمْ بشَرِّ عِبادِ الله؟ , الْفَظُّ (¬1) الْمُسْتَكْبرُ، أَلَا أُخْبرُكُمْ بخَيْرِ عِبادِ اللَّهِ؟ , الضَّعِيفُ الْمُسْتَضْعَفُ ذُو الطِّمْرَيْنِ (¬2) لو أقسم على اللَّهِ لَأَبرَّ اللَّهُ قَسَمَهُ " (¬3)

ترجمہ:

"ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک جنازے میں تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہیں اللہ کے بدترین بندوں کے بارے میں نہ بتاؤں؟ (وہ) سخت کلام کرنے والا،(¬1) تکبر کرنے والا (ہے)۔ کیا میں تمہیں اللہ کے بہترین بندوں کے بارے میں نہ بتاؤں؟ (وہ) کمزور، حقیر سمجھا جانے والا، پرانے دو کپڑوں والا (ہے)،(¬2) اگر وہ اللہ پر قسم کھا لے تو اللہ اس کی قسم پوری کر دیتا ہے۔"(¬3)

---

حواشی و حوالہ:

(¬1) (الفظ): سخت کلام کرنے والا، بداخلاق، درشت گو۔

(¬2) الطِّمْر: پرانا اور پھٹا پرانا کپڑا۔ (النهاية في غريب الأثر، ج 3، ص 306)

(¬3) مسند امام احمد: حدیث نمبر 23504، دیکھیں: صحیح الترغیب والترہیب: حدیث نمبر 2904، 3198

---

حاصل شدہ اسباق و نکات:

1. بدترین بندوں کی صفات: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کے بدترین بندوں کی دو واضح صفات بیان فرمائیں:

   · الفظ: سخت کلام کرنے والا، بداخلاق، درشت گو۔ جو لوگوں سے نرمی سے پیش نہ آئے اور تلخ کلامی کرے۔

   · المستکبر: تکبر کرنے والا، جو خود کو بڑا سمجھے اور دوسروں کو حقیر جانے۔

2. بہترین بندوں کی صفات: اس کے برعکس اللہ کے بہترین بندوں کی تین صفات بیان ہوئیں:

   · الضعیف: جو دنیاوی اعتبار سے کمزور ہو، طاقت و قوت نہ رکھتا ہو۔

   · المستضعف: جسے لوگ کمزور اور حقیر سمجھیں، معاشرے میں اس کی کوئی وقعت نہ ہو۔

   · ذو الطمرین: جو پرانے اور پھٹے پرانے کپڑے پہنتا ہو، دنیاوی آرائش سے دور ہو۔

3. کمزوروں کی دعا کی قبولیت: ایسے بندے کی خصوصیت یہ ہے کہ اگر وہ اللہ پر قسم کھا لے (کہ فلاں کام ہو جائے گا) تو اللہ اس کی قسم پوری فرما دیتا ہے۔ یہ ان کے اللہ کے ساتھ خاص تعلق اور ان کی دعاؤں کی قبولیت کی دلیل ہے۔

4. تکبر کی مذمت اور تواضع کی فضیلت: حدیث میں تکبر کو بدترین صفت اور تواضع (جو کمزوری اور حقارت میں ظاہر ہوتی ہے) کو بہترین صفت قرار دیا گیا ہے۔

5. دنیوی معیار کے برعکس حقیقی معیار: دنیا میں طاقت، دولت اور ظاہری شان و شوکت کو معیار سمجھا جاتا ہے، لیکن اللہ کے ہاں معیار کچھ اور ہے۔ جو لوگ دنیا میں کمزور اور حقیر ہیں، وہ اللہ کے ہاں مقرب اور محبوب ہو سکتے ہیں۔

6. جنازے کا موقع: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات جنازے کے موقع پر فرمائی، شاید اس لیے کہ لوگ موت اور آخرت کو یاد کریں اور دنیوی تفاخر اور تکبر کو چھوڑ دیں۔

7. عملی سبق:

   · تکبر اور سخت کلامی سے بچیں، نرمی اور عاجزی اختیار کریں۔

   · کمزور اور غریب لوگوں کو حقیر نہ سمجھیں، بلکہ ان کی عزت کریں۔

   · دنیاوی آرائش اور ظاہری ٹھاٹھ باٹ پر فخر نہ کریں۔

   · اللہ سے تعلق مضبوط کریں، دعا اور عاجزی کو اپنا شعار بنائیں۔

   · آخرت کی فکر کریں اور موت کو یاد رکھیں۔


یہ حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ اصل قدر و قیمت اللہ کے ہاں ہے، نہ کہ لوگوں کے ہاں۔ جو لوگ دنیا میں حقیر سمجھے جاتے ہیں، وہ اللہ کے ہاں مقبول اور محبوب ہو سکتے ہیں۔





حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

(" رُبَّ أَشْعَثَ) (¬1) (أَغْبَرَ (¬2) ذِي طِمْرَيْنِ) (¬3) (مَدْفُوعٍ بِالْأَبْوَابِ (¬4)) (¬5) (لَا يُؤْبَهُ لَهُ (¬6) لو أقسم على اللَّهِ لَأَبَرَّهُ (¬7) مِنْهُمْ الْبَرَاءُ بْنُ مَالِكٍ ")

ترجمہ:

"بہت سے پراگندہ حال (خستہ حال)،(¬1)  گرد آلود(¬2)، پرانے دو کپڑوں والے،(¬3) دروازوں سے دھتکارے جانے والے (لوگ ہیں)(¬4)، (¬5) جن کی کوئی پروا نہیں کرتا(¬6)، اگر وہ اللہ پر قسم کھا لیں تو اللہ تعالیٰ ان کی قسم پوری کر دیتا ہے۔(¬7) انہیں میں سے (ایک) براء بن مالک ہیں۔"


[صحیح مسلم:2622(7190)، جامع ترمذی:3854، صحیح الجامع:4573، صحیح الترغیب والترھیب:2083]

---

حواشی و حوالہ جات:

(¬1) (الْأَشْعَث): پراگندہ حال، جس کے بال بکھرے ہوئے اور گرد آلود ہوں، جس نے تیل یا کنگھی کا استعمال نہ کیا ہو۔ (شرح النووی علی مسلم، ج 8، ص 462)

(¬2) (أَغْبَرَ): گرد آلود، غبار میں لت پت۔

(¬3) (ذِي طِمْرَيْنِ): دو پرانے کپڑوں والا، یعنی انتہائی غریب اور معمولی لباس والا۔

(¬4) (مَدْفُوعٍ بِالْأَبْوَابِ): لوگوں کے دروازوں سے دھتکارا جانے والا، جس کی لوگوں کے ہاں کوئی قدر و قیمت نہیں، وہ اسے حقیر سمجھ کر اپنے دروازوں سے دور کر دیتے ہیں۔ (شرح النووی، ج 8، ص 462)

(¬5) (لَا يُؤْبَهُ لَهُ): اس کی کوئی پروا نہیں کی جاتی، اسے حقیر سمجھا جاتا ہے۔ (النهایة في غریب الأثر، ج 1، ص 19)

(¬6) (لو أقسم على اللَّهِ لَأَبَرَّهُ): اگر وہ کسی بات کے وقوع پر اللہ کی قسم کھا لے تو اللہ اسے پورا فرما دیتا ہے۔ یہ اللہ کے ہاں اس کے بلند مرتبے کی وجہ سے ہے، خواہ لوگوں کے ہاں وہ حقیر ہو۔ (شرح النووی، ج 8، ص 462)


---


حاصل شدہ اسباق و نکات:


1. اللہ کے ہاں معیار کچھ اور ہے: یہ حدیث واضح کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں انسان کی قدر و قیمت کا معیار دنیوی مال و دولت، ظاہری شان و شوکت، یا لوگوں کی نگاہ میں عزت نہیں ہے۔ جو لوگ دنیا میں حقیر اور کمزور سمجھے جاتے ہیں، وہ اللہ کے ہاں بہت زیادہ مقرب اور محبوب ہو سکتے ہیں۔

2. کمزوروں کی دعا کی قبولیت: ایسے بندگان خدا کی خصوصیت یہ ہے کہ ان کی دعائیں اور قسمیں اللہ کے ہاں قبول ہوتی ہیں۔ یہ ان کے اخلاص، اللہ پر کامل بھروسہ، اور دنیا سے بے تعلقی کی وجہ سے ہے۔

3. صحابی براء بن مالک رضی اللہ عنہ کی فضیلت: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے براء بن مالک رضی اللہ عنہ کا نام لے کر ان کی عظمت اور اللہ کے ہاں بلند مقام کی نشاندہی فرمائی۔ وہ انہی متواضع اور کمزور صحابہ میں سے تھے جو ظاہری طور پر حقیر سمجھے جاتے تھے لیکن اللہ کے ہاں ان کا بڑا مرتبہ تھا۔

4. تواضع کی اہمیت: حدیث میں جن صفات کا ذکر ہے (پراگندہ حالی، گرد آلودی، پرانے کپڑے) یہ درحقیقت دنیا سے بے رغبتی اور تواضع کی علامتیں ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے دنیا کی آرائش و زیبائش کو اہمیت نہیں دی۔

5. لوگوں کی بے توجہی کا انجام: یہ لوگ لوگوں کے ہاں تو ذلیل اور حقیر ہیں، لیکن اللہ کے ہاں اتنے مقرب ہیں کہ ان کی قسمیں پوری ہوتی ہیں۔ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ لوگوں کی رائے حقیقی معیار نہیں ہے۔

6. عملی سبق:

   · کبھی بھی کسی مسلمان کو اس کی ظاہری حالت، غربت یا کمزوری کی وجہ سے حقیر نہ سمجھیں۔

   · اللہ سے تعلق مضبوط کریں، دعا اور عاجزی کو اپنا شعار بنائیں۔

   · دنیوی آرائش اور لوگوں کی توجہ حاصل کرنے کی بجائے اللہ کی رضا کو ترجیح دیں۔

   · کمزور اور غریب مسلمانوں کی مدد کریں اور ان کی قدر کریں۔

   · صحابہ کرام کی سیرت پڑھیں اور ان کی عظمت کو سمجھیں۔


یہ حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ حقیقی عظمت اللہ کے ہاں ہے، اور وہ ان لوگوں کو عطا ہوتی ہے جو دنیا سے بے رغبتی اور اللہ سے کامل تعلق رکھتے ہیں۔






ہم سے ابوالعباس محمد بن یعقوب نے بیان کیا، کہا ہم سے ربیع بن سلیمان نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا، کہا مجھے لیث بن سعد نے خبر دی، انہیں عیاش بن عباس قتبانی نے، انہیں زید بن اسلم نے، انہیں ان کے والد (اسلم) نے کہ ایک دن عمر (رضی اللہ عنہ) مسجد (نبوی) کی طرف نکلے تو معاذ بن جبل (رضی اللہ عنہ) کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مبارک کے پاس روتے ہوئے پایا۔ (عمر رضی اللہ عنہ) نے پوچھا: اے معاذ! کون سی چیز تمہیں رلا رہی ہے؟ انہوں نے کہا: مجھے ایک حدیث رلا رہی ہے جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

"ریاکاری کا تھوڑا سا بھی حصہ شرک ہے۔ اور جس نے اللہ کے اولیاء سے دشمنی کی، اس نے اللہ سے کھلے عام جنگ کا اعلان کر دیا۔ بے شک اللہ تعالیٰ نیکوکار، پرہیزگار، پوشیدہ رہنے والوں (گمنام) لوگوں کو محبت کرتا ہے، جو اگر غائب ہوں تو تلاش نہیں کیے جاتے، اور اگر موجود ہوں تو پہچانے نہیں جاتے۔ ان کے دل ہدایت کے چراغ ہیں، وہ ہر تاریک اور گرد آلود جگہ سے (حق لے کر) نکل آتے ہیں۔"

[المستدرک للحاکم:4، الأسماء والصفات للبيهقي:1046]

شواہد:

[سنن ابن ماجہ:3989، شعب الایمان-للبیھقی:6393، المستدرک الحاکم:7933]






تواضع الحاکم (حاکم کا عاجزی اختیار کرنا)

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا:

" جَلَسَ جِبْرِيلُ إِلَى النَّبِيِّ - صلى الله عليه وسلم - فَنَظَرَ إِلَى السَّمَاءِ، فَإِذَا مَلَكٌ يَنْزِلُ، فَقَالَ جِبْرِيلُ: إِنَّ هَذَا الْمَلَكَ مَا نَزَلَ مُنْذُ يَوْمِ خُلِقَ قَبْلَ السَّاعَةِ، فَلَمَّا نَزَلَ قَالَ: يَا مُحَمَّدُ، أَرْسَلَنِي إِلَيْكَ رَبُّكَ، قَالَ: أَفَمَلِكًا نَبِيًّا يَجْعَلُكَ أَوْ عَبْدًا رَسُولًا؟ , فَقَالَ جِبْرِيلُ: تَوَاضَعْ لِرَبِّكَ يَا مُحَمَّدُ، قَالَ: بَلْ عَبْدًا رَسُولًا "۔

ترجمہ:

"جبرائیل علیہ السلام نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ انہوں نے آسمان کی طرف دیکھا تو ایک فرشتہ اتر رہا تھا۔ جبرائیل نے کہا: یہ فرشتہ اس وقت سے نہیں اترا جب سے اسے پیدا کیا گیا تھا، (یعنی) قیامت سے پہلے۔ جب وہ اترا تو اس نے کہا: اے محمد! میرے رب نے مجھے آپ کے پاس بھیجا ہے۔ (اس نے پوچھا) کیا آپ کو (اللہ) بادشاہ نبی بنائے یا بندہ رسول؟ تو جبرائیل نے کہا: اے محمد! اپنے رب کے سامنے عاجزی اختیار کریں۔ آپ نے فرمایا: بلکہ بندہ رسول (بنایا جائے)۔"


[مسند احمد:7160، صحیح ابن حبان:6365، السلسلۃ الصحیحۃ:1002، صحیح الترغیب والترہیب:3280 شیخ شعیب الارناؤوط نے فرمایا: اس کی سند شیخین (بخاری و مسلم) کی شرط پر صحیح ہے۔]


---

حاصل شدہ اسباق و نکات:

1. بندہ رسول کا انتخاب: اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک عظیم انتخاب کا موقع دیا گیا کہ وہ اللہ کے ہاں بادشاہ نبی بن کر رہنا چاہتے ہیں یا بندہ رسول۔ آپ نے اللہ کے سامنے عاجزی کرتے ہوئے بندہ رسول بننے کو ترجیح دی۔

2. تواضع کی انتہائی مثال: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا کی بادشاہت اور عظیم سلطنت کو ٹھکرا کر بندگی اور رسالت کو قبول کیا۔ یہ آپ کی عاجزی کی انتہائی مثال ہے۔

3. جبرائیل علیہ السلام کا مشورہ: جبرائیل علیہ السلام نے آپ کو مشورہ دیا کہ اپنے رب کے سامنے عاجزی اختیار کریں، یعنی بندہ رسول بننے کو ترجیح دیں۔ یہ خود جبرائیل کا بھی ادب اور تواضع تھا۔

4. بادشاہ نبی اور بندہ رسول میں فرق: بادشاہ نبی کو دنیاوی طاقت اور سلطنت بھی ملتی ہے، جبکہ بندہ رسول صرف اللہ کی عبادت اور پیغام رسانی پر توجہ دیتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آخرت کی عظمت کو دنیا کی بادشاہت پر ترجیح دی۔

5. تواضع کا صلہ: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے عاجزی اختیار کی تو اللہ نے آپ کو دنیا اور آخرت دونوں میں بلند مقام عطا فرمایا۔ آپ سید المرسلین اور خاتم النبیین بنے۔

6. حاکم اور عاجزی: اس حدیث کا عنوان "تواضع الحاکم" (حاکم کا عاجزی اختیار کرنا) اس لیے رکھا گیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بادشاہ بننے کا موقع ملا تھا، لیکن آپ نے عاجزی اختیار کی۔ یہ ہر حاکم اور ذمہ دار کے لیے ایک عظیم سبق ہے کہ وہ عاجزی اختیار کرے۔

7. عملی سبق:

   · ہمیں بھی دنیاوی عہدے، مرتبے اور بڑائی کی بجائے اللہ کی بندگی اور اس کی رضا کو ترجیح دینی چاہیے۔

   · کسی بھی عہدے یا اقتدار میں ہوں تو عاجزی اور انکساری کو نہیں بھولنا چاہیے۔

   · اللہ کے سامنے سر تسلیم خم کرنا اور اس کی بندگی اختیار کرنا ہی اصل کامیابی ہے۔

   · رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت سے تواضع کا سبق سیکھنا چاہیے۔


یہ حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عظیم تواضع اور اللہ کی بارگاہ میں بندگی کے جذبے کی عکاسی کرتی ہے، جو ہر مسلمان کے لیے نمونہ ہے۔






حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا:

" (نُهِينَا فِي الْقُرْآنِ أَنْ نَسْأَلَ رَسُولَ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - عَنْ شَيْءٍ (¬1) فَكَانَ يُعْجِبُنَا أَنْ يَجيءَ الرَّجُلُ الْعَاقِلُ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ فَيَسْأَلَهُ وَنَحْنُ نَسْمَعُ (¬2)) (¬3) (فَبَيْنَمَا نَحْنُ جلوس مَعَ النَّبِيِّ - صلى الله عليه وسلم - فِي الْمَسْجِدِ (¬4) إذْ دَخَلَ رَجُلٌ) (¬5) (مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ) (¬6) (على جَمَلٍ فَأَنَاخَهُ فِي الْمَسْجِدِ (¬7) ثُمَّ عَقَلَهُ (¬8) ثُمَّ قَالَ لَنَا: أَيُّكُمْ مُحَمَّدٌ؟) (¬9) (- وَالنَّبِيُّ - صلى الله عليه وسلم - مُتَّكِئٌ بَيْنَ ظَهْرَانَيْنا - فَقُلْنَا: هَذَا الرَّجُلُ الَأَبْيَضُ (¬10) الْمُتَّكِئُ (¬11) ") (¬12)

ترجمہ:

"ہمیں قرآن میں (اس بات سے) منع کیا گیا تھا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی چیز کے بارے میں سوال کریں۔ (1) (اس لیے) ہمیں یہ بات اچھی لگتی تھی کہ دیہات کا کوئی عاقل شخص آ کر آپ سے سوال کرے اور ہم (بیٹھ کر) سنیں۔ (2) (3) (چنانچہ) ایک دن ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے (4) کہ ایک شخص (5) دیہات سے (6) ایک اونٹ پر سوار ہو کر آیا، اس نے اونٹ کو مسجد میں بٹھایا (7) پھر اسے باندھا (8) پھر ہم سے پوچھا: تم میں سے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کون ہیں؟ (9) ـ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت ہمارے درمیان تکیہ لگائے ہوئے تھےـ تو ہم نے کہا: یہ سفید رنگ کے (10) تکیہ لگائے ہوئے (11) بزرگ ہیں۔ (12)


---


حواشی و تشریحات:


(¬1) یعنی جس کی ضرورت نہ ہو (ایسی چیز کے بارے میں سوال کرنے سے منع کیا گیا تھا)۔ شرح النووی علی مسلم - (ج 1 / ص 74)


ایسا معلوم ہوتا ہے کہ حضرت انس نے سورۃ المائدہ کی آیت (101) کی طرف اشارہ کیا ہے، اور اس کی تفصیل آئے گی ان شاء اللہ۔ (فتح الباری - ح63)


(¬2) ابو عوانہ نے اپنی صحیح میں یہ اضافہ کیا ہے: "اور وہ لوگ اس سلسلے میں ہم سے زیادہ جری تھے" یعنی صحابہ (سوال کرنے سے) رکے ہوئے تھے، اور وہ (دیہاتی) اپنی ناواقفیت کی وجہ سے معذور سمجھے جاتے تھے، کیونکہ انہیں سوال کرنے کی ممانعت نہیں پہنچی تھی۔ اور وہ چاہتے تھے کہ کوئی عاقل آئے تاکہ وہ جانتا ہو کہ کس چیز کے بارے میں سوال کرنا ہے۔ ضمام (بن ثعلبہ) کی عقل ان کے سوال کرنے سے پہلے معذرت پیش کرنے سے ظاہر ہوئی، کیونکہ ان کا خیال تھا کہ وہ اس گفتگو کے بغیر اپنے مقصد تک نہیں پہنچ سکتے۔ ثابت کی روایت میں یہ اضافہ ہے کہ انہوں نے آپ سے پوچھا: "آسمان کس نے بلند کیا اور زمین کس نے پھیلائی؟" اور دوسری مخلوقات کے بارے میں بھی، پھر انہی چیزوں کی قسم دے کر آپ سے تصدیق طلب کی کہ وہ ان کے سوال کے بارے میں سچ فرمائیں، اور ہر سوال میں تاکید کے لیے قسم دہرائی، پھر تصدیق کا اعلان کیا۔ یہ سب ان کی اچھی گفتگو اور عقل کی پختگی کی دلیل ہے۔ اسی لیے حضرت عمر نے ابوہریرہ کی روایت میں فرمایا: "میں نے ضمام سے بہتر سوال کرنے والا اور زیادہ جامع کسی کو نہیں دیکھا۔" (فتح الباری - ح63)


(¬3) (م) صحیح مسلم: حدیث نمبر 12، (س) سنن نسائی: حدیث نمبر 2091


(¬4) یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد۔ (فتح الباری - ح63)


(¬5) (خ) صحیح بخاری: حدیث نمبر 63، (م) صحیح مسلم: حدیث نمبر 12


(¬6) (م) صحیح مسلم: حدیث نمبر 12، (ت) جامع ترمذی: حدیث نمبر 619


(¬7) (خ) صحیح بخاری: حدیث نمبر 63، (م) صحیح مسلم: حدیث نمبر 12، (د) سنن ابی داؤد: حدیث نمبر 486


(مسجد میں بٹھانے کے مسئلے پر فتح الباری کا حاشیہ): ابن بطال وغیرہ نے اس سے یہ استنباط کیا ہے کہ اونٹوں کے پیشاب اور لید (گوبر) پاک ہیں، کیونکہ جب تک وہ مسجد میں رہا اس سے یہ چیزیں نکلنے سے محفوظ نہ تھی، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر نکیر نہیں فرمائی۔ لیکن یہ دلیل واضح نہیں، کیونکہ اس میں صرف احتمال ہے۔ اسے ابو نعیم کی روایت رد کرتی ہے: "وہ اپنے اونٹ پر سوار ہو کر آیا یہاں تک کہ مسجد میں آیا، اسے بٹھایا، پھر باندھا، پھر مسجد میں داخل ہوا۔" یہ سیاق اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ وہ اونٹ کو مسجد میں لے کر داخل نہیں ہوا۔ اس سے بھی زیادہ صریح ابن عباس کی وہ روایت ہے جو احمد اور حاکم نے بیان کی ہے، اس کے الفاظ ہیں: "اس نے اپنا اونٹ مسجد کے دروازے پر بٹھایا، پھر اسے باندھا، پھر داخل ہوا۔" اس بنا پر حضرت انس کی روایت میں حذف کا مجاز ہے، اور تقدیر یہ ہوگی: اسے مسجد کی صحن میں بٹھایا، یا اس کے قریب۔ (فتح الباری - ح63)


(¬8) یعنی اونٹ کی ٹانگ کو گھٹنے سے موڑ کر اس میں رسی ڈال دی۔ (فتح الباری - ح63)


(¬9) (خ) صحیح بخاری: حدیث نمبر 63، (م) صحیح مسلم: حدیث نمبر 12، (د) سنن ابی داؤد: حدیث نمبر 486


(¬10) (سفید): سے مراد وہ سفید جو سرخی مائل ہو۔ جیسا کہ حارث بن عمیر کی روایت میں لفظ "الامغر" ہے۔ حمزہ بن حارث نے کہا: اس سے مراد سفید سرخی مائل ہے۔ اور اس کی تائید آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صفت میں آنے والی حدیث سے ہوتی ہے کہ آپ نہ خالص سفید تھے اور نہ گندمی۔ (فتح الباری - ح63)


(¬11) اس میں امام کا اپنے ساتھیوں کے درمیان تکیہ لگا کر بیٹھنا جائز ہے۔ اور اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا تکبر ترک کرنا بھی ہے۔ آپ کا فرمان "بَيْنَ ظَهْرَانَيْنا" (ہمارے درمیان) اس بات کی دلیل ہے کہ آپ صحابہ کے بیچوں بیچ تشریف فرما تھے، ان کے آگے پیچھے سب طرف صحابہ تھے۔ (فتح الباری - ح63)


(¬12) (خ) صحیح بخاری: حدیث نمبر 63، (س) سنن نسائی: حدیث نمبر 2092


---


حاصل شدہ اسباق و نکات:


1. قرآن کریم کا ادب: صحابہ کرام کو قرآن کے حکم (لَا تَسْأَلُوا عَنْ أَشْيَاءَ إِن تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ) کی پابندی سکھائی گئی کہ غیر ضروری سوالات سے اجتناب کریں۔ یہ ان کی عظمت اور ادب کو ظاہر کرتا ہے۔

2. علم حاصل کرنے کی حکمت: صحابہ علم حاصل کرنے کے خواہشمند تھے لیکن ادب کی حدوں میں رہ کر۔ وہ دیہاتی عاقل شخص کے آنے کو غنیمت سمجھتے تھے جو بلا جھجک سوال کر سکتا تھا اور وہ سن کر علم حاصل کر سکتے تھے۔

3. دعوت و تبلیغ کا مؤثر طریقہ: اس حدیث میں ضمام بن ثعلبہ کے واقعہ سے دعوت و تبلیغ کا عمدہ طریقہ سامنے آتا ہے کہ پہلے توحید اور اللہ کی قدرت کی نشانیوں کا ذکر کر کے ذہن کو تیار کیا جائے، پھر رسالت اور احکامِ اسلام کی بات کی جائے۔

4. توحیدِ ربوبیّت کی اہمیت: دیہاتی نے سب سے پہلے آسمان و زمین اور پہاڑوں کے خالق کے بارے میں پوچھ کر توحیدِ ربوبیّت کو تسلیم کیا، جو ایمان کی بنیاد ہے۔

5. ارکانِ اسلام کی جامعیت: اس شخص نے نماز، زکوٰۃ، روزہ اور حج کے بارے میں سوال کر کے اسلام کے تمام اہم ارکان کا اقرار کیا۔

6. صحابہ کا ادب اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا تواضع: صحابہ نے ادب سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف اشارہ کیا، اور آپ خود بھی اپنی عظمت کے باوجود صحابہ کے درمیان سادگی اور تواضع سے بیٹھے ہوئے تھے۔

7. عملی سبق:

   · دین میں غیر ضروری تکلف اور فضول سوالوں سے بچنا چاہیے۔

   · علم حاصل کرنے کے لیے ادب اور حکمت والے طریقے اختیار کرنے چاہئیں۔

   · دعوت دیتے وقت توحید اور اللہ کی عظمت سے بات شروع کرنی چاہیے۔

   · اسلام کے تمام ارکان پر ایمان لانا اور ان پر عمل کرنا ضروری ہے۔

   · عاجزی اور تواضع کو اپنا شعار بنانا چاہیے۔






حضرت اسود سے روایت ہے، انہوں نے کہا:

(سَأَلْتُ عَائِشَة - رضي الله عنها -: مَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - يَصْنَعُ فِي بَيْتِهِ؟) (¬1) (قَالَتْ: " كَانَ بَشَرًا مِنْ الْبَشَرِ) (¬2) (يَخْصِفُ نَعْلَهُ (¬3) وَيَرْقَعُ ثَوْبَهُ) (¬4) (وَيَحْلُبُ شَاتَهُ، وَيَخْدُمُ نَفْسَهُ) (¬5) (وَيَعْمَلُ مَا يَعْمَلُ الرِّجَالُ فِي بُيُوتِهِمْ) (¬6) (فَإِذَا حَضَرَتْ الصَّلَاةُ خَرَجَ إِلَى الصَلَاةِ ") (¬7)

ترجمہ:

"میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں کیا کام کیا کرتے تھے؟" (1)

انہوں نے جواب دیا: "وہ بھی انسانوں میں سے ایک انسان تھے (یعنی عام انسانوں کی طرح زندگی بسر کرتے تھے) (2) اپنا جوتا خود گانٹھتے (پیوند لگاتے) تھے (3) اور اپنے کپڑے خود سیا کرتے تھے (4) اپنی بکری خود دوہتے تھے اور اپنے کام خود کرتے تھے (5) اور جو کام گھر میں مرد کیا کرتے ہیں وہ (سب) کرتے تھے (6) پھر جب نماز کا وقت آتا تو نماز کے لیے تشریف لے جاتے۔" (7)


---

حواشی و تشریحات:


(¬1) (خ) صحیح بخاری: حدیث نمبر 644


(¬2) (حم) مسند امام احمد: حدیث نمبر 26237، دیکھیں: السلسلۃ الصحیحۃ: حدیث نمبر 671، اور شیخ شعیب الارناؤوط نے فرمایا: حدیث صحیح ہے۔ 


(¬3) الخصف: جوتے کی مرمت کرنا اور سوا سے اسے سینا۔ (صحيح ابن حبان - ج 28 / ص 416) 


(¬4) (حم) مسند امام احمد: حدیث نمبر 24793، دیکھیں: صحیح الجامع: حدیث نمبر 4937، اور شیخ شعیب الارناؤوط نے فرمایا: حدیث صحیح ہے۔ 


(¬5) (حم) مسند امام احمد: حدیث نمبر 26237 


(¬6) (حم) مسند امام احمد: حدیث نمبر 24947، (خ) صحیح بخاری: حدیث نمبر 5048، اور شیخ شعیب الارناؤوط نے فرمایا: حدیث صحیح ہے۔ 


(¬7) (خ) صحیح بخاری: حدیث نمبر 644، (ت) جامع ترمذی: حدیث نمبر 2489، (حم) مسند امام احمد: حدیث نمبر 24272 

---

حاصل شدہ اسباق و نکات:

1. رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتہائی تواضع اور انکساری: اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تواضع کی انتہائی اعلیٰ مثال ملتی ہے۔ اللہ کے سب سے محبوب اور برگزیدہ رسول ہونے کے باوجود آپ نے اپنے گھر کے کام خود کیے اور کبھی بھی اپنی عظمت کو حجاب نہیں بنایا۔ 

2. بشریت کا اقرار اور عملی نمونہ: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے الفاظ "كان بشرا من البشر" (وہ بھی انسانوں میں سے ایک انسان تھے) بہت معنی خیز ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے اپنی زندگی میں کبھی بھی فرشتہ صفت یا مافوق البشر ہونے کا دعویٰ نہیں کیا، بلکہ عام انسانوں کی طرح زندگی بسر کی تاکہ امت کے لیے عملی نمونہ بن سکیں۔ 

3. خدمتِ نفس کی ترغیب: حدیث سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ انسان کو اپنے کام خود کرنے چاہئیں، خواہ اس کا دنیوی مرتبہ کتنا ہی بلند کیوں نہ ہو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود کپڑے سیے، جوتے گانٹھے اور بکری دوہی۔ اس میں بڑے سے بڑے آدمی کے لیے بھی خدمتِ نفس کا سبق ہے۔ 

4. گھریلو زندگی میں شریک حیات کا کردار: حدیث اس بات کی بھی وضاحت کرتی ہے کہ شوہر کا صرف باہر کما کر لانا ہی کافی نہیں، بلکہ اسے گھر کے کاموں میں بھی اپنی بیوی کا ہاتھ بٹانا چاہیے۔ جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھر کے کاموں میں حصہ لیتے تھے۔ 

5. نماز کی پابندی اور اہمیت: آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھر کے کاموں میں مصروف ہوتے ہوئے بھی نماز کا خاص خیال رکھتے تھے اور جیسے ہی نماز کا وقت ہوتا، فوراً مسجد تشریف لے جاتے۔ یہ ہمارے لیے بھی سبق ہے کہ ہم مصروفیات کے باوجود نماز کو ہرگز نہ بھولیں۔ 

6. غلامی اور محکومی کا خاتمہ: اس حدیث سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ اسلام نے انسان کو غلامی اور دوسروں پر انحصار کرنے کی ترغیب نہیں دی، بلکہ خودداری اور اپنے کام خود کرنے کی تلقین کی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود بھی اس پر عمل پیرا تھے۔ 

7. عملی سبق:

   · ہمیں بھی چاہیے کہ ہم اپنے گھر کے کاموں میں اپنی بیوی کا ہاتھ بٹائیں۔

   · اپنے ذاتی کام دوسروں پر ڈالنے کی بجائے خود کریں۔

   · دنیاوی کاموں میں مصروفیت نماز کی پابندی میں حائل نہ ہو۔

   · اپنے مرتبے اور عہدے کے باوجود عاجزی اور انکساری کو اپنا شعار بنائیں۔ 






عَنْ عَائِشَةَ - رضي الله عنها - قَالَتْ:

قُلْتُ: يَا رَسُولَ الله، كُلْ مُتَّكِئًا جَعَلَنِي اللَّهُ فِدَاكَ , فَإِنَّهُ أَهونُ عَلَيْكَ قَالَتْ: " فَأَصْغَى بِرَأْسِهِ حَتَّى كَادَ أَنْ تُصِيبَ جَبْهَتُهُ الْأَرْضَ، ثُمَّ قَالَ: لَا، بَلْ آكُلُ كَمَا يَأْكُلُ الْعَبْدُ، وَأَجْلِسُ كَمَا يَجْلِسُ الْعَبْدُ "

ترجمہ:

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا:

میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! (آپ) تکیہ لگا کر کھایا کریں، اللہ مجھے آپ پر قربان کرے، کیونکہ یہ آپ کے لیے زیادہ آسان ہے۔ (حضرت عائشہ نے) کہا: "پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر جھکا دیا یہاں تک کہ قریب تھا کہ آپ کی پیشانی زمین کو چھو لے، پھر آپ نے فرمایا: نہیں، بلکہ میں اس طرح کھاؤں گا جیسے غلام کھاتا ہے اور اس طرح بیٹھوں گا جیسے غلام بیٹھتا ہے۔"


---

حوالہ جات:

· الطبقات الکبریٰ لابن سعد: (1/381)

· مسند ابویعلیٰ: حدیث نمبر 4920

· دیکھیں: صحیح الجامع: حدیث نمبر 7، اور السلسلۃ الصحیحۃ: حدیث نمبر 544


---


حاصل شدہ اسباق و نکات:


1. تواضع کی انتہائی مثال: اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تواضع کی انتہائی عمدہ مثال ملتی ہے۔ اللہ کے رسول ہونے کے باوجود آپ نے دنیاوی آرام و سہولت کو قبول کرنے سے انکار کیا اور غلام کی مانند زندگی گزارنے کو ترجیح دی۔

2. بندگی کا احساس: آپ کا فرمان "آکُلُ كَمَا يَأْكُلُ الْعَبْدُ" (میں اس طرح کھاؤں گا جیسے غلام کھاتا ہے) یہ ظاہر کرتا ہے کہ آپ نے اپنے آپ کو ہمیشہ اللہ کا بندہ سمجھا اور کبھی بھی بادشاہانہ انداز اختیار نہیں کیا۔

3. ام المؤمنین کا جذبہ محبت: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا یہ کہنا کہ "اللہ مجھے آپ پر قربان کرے" اور آپ کے لیے آرام کی خواہش، ان کے جذبہ محبت اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کی بے پناہ وابستگی کو ظاہر کرتی ہے۔

4. تکبر سے بچنے کی تعلیم: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تکیہ لگا کر کھانے سے اس لیے انکار فرمایا کہ یہ انداز بادشاہوں اور متکبرین کا ہوتا ہے۔ آپ نے ہمیشہ سادگی اور عاجزی کو ترجیح دی۔

5. آپ کی بشریت اور امت کے لیے نمونہ: آپ نے اپنے اس عمل سے امت کو عملی طور پر سکھایا کہ مسلمان کو ہر حال میں عاجزی اور انکساری کو اپنا شعار بنانا چاہیے، اور دنیاوی آرام و سہولت کی بجائے آخرت کی فکر کرنی چاہیے۔

6. عملی سبق:

   · ہمیں بھی اپنی زندگی میں سادگی اور عاجزی کو اپنانا چاہیے۔

   · کھانے پینے اور رہن سہن میں تکبر اور نمائش سے بچنا چاہیے۔

   · رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کو اپنے لیے نمونہ بنانا چاہیے۔

   · دنیاوی آرام و سہولت کی بجائے آخرت کی کامیابی کو ترجیح دینی چاہیے۔

   · اپنے آپ کو اللہ کا بندہ سمجھنا چاہیے اور اسی مناسبت سے زندگی گزارنی چاہیے۔


یہ حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی انتہائی تواضع اور عاجزی کی عکاسی کرتی ہے، جو آپ کی سیرت کا نمایاں ترین وصف تھا۔






عَنْ عَبْدِ الله بْنِ بُسْرٍ - رضي الله عنه - قَالَ:

أَهْدَيْتُ لِلنَّبِيِّ - صلى الله عليه وسلم - شَاةً , " فَجَثَا رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - على رُكْبَتَيْهِ يَأْكُلُ " , فَقَالَ أَعْرَابِيٌّ: مَا هَذِهِ الْجِلْسَةُ؟ , فَقَالَ: " إِنَّ اللَّهَ جَعَلَنِي عَبْدًا كَرِيمًا , وَلَمْ يَجْعَلْنِي جَبَّارًا عَنِيدًا "

ترجمہ:

حضرت عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا:

میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک بکری بطور تحفہ پیش کی۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (اسے کھانے کے لیے) گھٹنوں کے بل بیٹھ گئے اور کھانے لگے۔ ایک اعرابی (دیہاتی) نے کہا: یہ کیسی بیٹھک ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "اللہ نے مجھے ایک عزت والا بندہ بنایا ہے، اور مجھے سرکش اور ضدی نہیں بنایا۔"


[سنن ابن ماجہ:3263، سنن ابی داؤد:3773، صحیح الجامع:1740، صحیح الترغیب والترہیب:2122]

---

حاصل شدہ اسباق و نکات:


1. تواضع کی اعلیٰ مثال: اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عاجزی کی انتہائی خوبصورت مثال ملتی ہے۔ آپ نے بادشاہوں اور متکبروں کی طرح تکیہ لگا کر یا اونچی نشست پر بیٹھ کر کھانے کے بجائے غلاموں کی طرح گھٹنوں کے بل زمین پر بیٹھ کر کھانا تناول فرمایا۔

2. بندگی کا شعار: آپ نے فرمایا کہ اللہ نے مجھے ایک "عبداً كريماً" (عزت والا بندہ) بنایا ہے۔ اس میں دو باتیں ہیں: ایک یہ کہ آپ اللہ کے بندے ہیں، اور دوسری یہ کہ آپ کو بندگی میں ہی عزت دی گئی ہے۔ آپ نے بادشاہی اور غلبہ کو قبول نہیں کیا۔

3. تکبر کی مذمت: آپ نے فرمایا کہ اللہ نے مجھے "جباراً عنيداً" (سرکش اور ضدی) نہیں بنایا۔ اس میں ان تمام لوگوں کے لیے وعید ہے جو تکبر کرتے ہیں، لوگوں پر ظلم کرتے ہیں اور حق کو ماننے سے انکار کرتے ہیں۔

4. اعتراض کا جواب: جب اعرابی نے آپ کے بیٹھنے کے انداز پر تعجب کیا تو آپ نے نہایت نرمی اور حکمت سے اسے جواب دیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی کے انداز پر اعتراض کرنے والے کو بھی نرمی سے سمجھانا چاہیے۔

5. کھانے کے آداب: حدیث سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ زمین پر بیٹھ کر کھانا سنت ہے اور تکبر سے بچنے کا ذریعہ ہے۔

6. عملی سبق:

   · ہمیں بھی کھانے پینے اور رہن سہن میں عاجزی اور سادگی کو اپنانا چاہیے۔

   · اپنے آپ کو اللہ کا بندہ سمجھنا چاہیے اور اسی مناسبت سے زندگی گزارنی چاہیے۔

   · تکبر اور سرکشی سے بچنا چاہیے، کیونکہ یہ صفات اللہ کو ناپسند ہیں۔

   · کسی کے انداز یا عادت پر تنقید کرتے وقت نرمی اور حکمت سے کام لینا چاہیے۔

   · رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کو ہر معاملے میں اپنا نمونہ بنانا چاہیے۔


یہ حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عاجزی اور بندگی کے جذبے کی عکاسی کرتی ہے، جو آپ کی پوری زندگی کا نمایاں وصف تھا۔





عَنْ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ - رضي الله عنه - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم -:

(" لَا تُطْرُونِي كَمَا أَطْرَتْ النَّصَارَى ابْنَ مَرْيَمَ) (¬1) (فَإِنَّمَا أَنَا عَبْدٌ) (¬2) (فقولوا: عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ ") (¬3)

ترجمہ:

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

"میری (تعریف میں) اس طرح غلو نہ کرو جس طرح عیسائیوں نے ابن مریم (عیسیٰ علیہ السلام) کے بارے میں غلو کیا۔(¬1) میں تو صرف ایک بندہ ہوں،(¬2) سو (مجھے) عبداللہ (اللہ کا بندہ) اور اس کا رسول کہو۔"(¬3)


[صحیح بخاری:3261، مسند احمد:164


---

حاصل شدہ اسباق و نکات:

1. نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات میں غلو کی ممانعت: اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے امت کو واضح طور پر منع فرمایا ہے کہ وہ آپ کی ذات کے بارے میں کسی بھی قسم کا غلو (حد سے تجاوز) نہ کریں۔ آپ نے خود اپنا مقام متعین فرما دیا کہ میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں۔

2. غلو کی تاریخ: آپ نے عیسائیوں کی مثال دی کہ وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں غلو کرتے ہوئے حد سے گزر گئے اور انہیں اللہ کا بیٹا قرار دے دیا۔ یہ ایک سنگین غلطی تھی جس نے انہیں شرک میں مبتلا کر دیا۔

3. توحید کی حفاظت: اس حدیث کا مقصد توحید کی حفاظت کرنا ہے کہ مسلمان کسی نبی یا بزرگ کی ذات میں غلو کر کے شرک میں مبتلا نہ ہو جائیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اپنا مقام واضح کر کے اس دروازے کو بند کر دیا۔

4. محبت اور ادب کا صحیح طریقہ: نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت اور ادب کا یہ مطلب نہیں کہ انہیں الوہیت کے مقام پر فائز کر دیا جائے۔ صحیح طریقہ یہ ہے کہ انہیں اللہ کا بندہ اور رسول مانا جائے اور ان کی اتباع کی جائے۔

5. عبودیت کا اعلیٰ مقام: آپ نے اپنے لیے "عبد" (بندہ) کا لفظ پسند فرمایا۔ یہ بتاتا ہے کہ بندگی کا مقام الل� کے ہاں سب سے اعلیٰ مقام ہے۔

6. دوسری امتوں کے طریقوں سے اجتناب: حدیث میں دوسری امتوں کے غلط طریقوں کی طرف بھی اشارہ ہے کہ مسلمانوں کو ان سے بچنا چاہیے۔

7. عملی سبق:

   · نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات میں کسی بھی قسم کا غلو نہ کریں۔

   · آپ کو صرف "عبداللہ ورسولہ" کے لقب سے پکاریں۔

   · کسی بھی نبی، بزرگ یا ولی کے بارے میں حد سے نہ گزریں۔

   · توحید کی حفاظت کریں اور شرک کے تمام ذرائع سے بچیں۔

   · عیسائیوں اور دیگر گمراہ فرقوں کے طریقوں سے سبق حاصل کریں۔


یہ حدیث عقیدہ کی حفاظت اور توحید کی پاسبانی کے لیے ایک عظیم الشان نصیحت ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے امت کو عطا فرمائی۔






عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ - رضي الله عنه - قَالَ:

أَتَى النَّبِيَّ - صلى الله عليه وسلم - رَجُلٌ فَكَلَّمَهُ , فَجَعَلَ تُرْعَدُ فَرَائِصُهُ (¬1) فَقَالَ لَهُ: " هَوِّنْ عَلَيْكَ , فَإِنِّي لَسْتُ بِمَلِكٍ , إِنَّمَا أَنَا ابْنُ امْرَأَةٍ تَأْكُلُ الْقَدِيدَ (¬2) " (¬3)

ترجمہ:

حضرت ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا:

ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ سے گفتگو کرنے لگا تو اس کے پہلو کے پٹھے (ڈر سے) کانپنے لگے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: "اپنے اوپر آسانی کرو (گھبراؤ نہیں)، میں کوئی بادشاہ نہیں ہوں۔ میں تو صرف ایک عورت کا بیٹا ہوں جو (کبھی) خشک گوشت کھایا کرتی تھی۔"


---


حواشی و تشریحات:


(¬1) الْفَرَائِص: "فَرِيصَة" کی جمع ہے، یہ پہلو کا وہ گوشت ہے جو گھبراہٹ کے وقت کانپنے لگتا ہے۔ یہاں ڈر اور گھبراہٹ کو کنایۃً بیان کیا گیا ہے۔ (حاشیہ السندی، ج 6، ص 309)


(¬2) الْقَدِيد: نمک لگا ہوا گوشت جو دھوپ میں خشک کر دیا گیا ہو۔ (حاشیہ السندی علی ابن ماجہ، ج 6، ص 309)


(¬3) (جة) سنن ابن ماجہ: حدیث نمبر 3312، دیکھیں: صحیح الجامع: حدیث نمبر 7052، اور السلسلۃ الصحیحۃ: حدیث نمبر 1876


---


حاصل شدہ اسباق و نکات:


1. رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتہائی تواضع: اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عاجزی کی انتہائی اعلیٰ مثال ملتی ہے۔ آپ نے اپنے آپ کو بادشاہ کہلوانے سے انکار کیا اور فرمایا کہ میں تو صرف ایک عام عورت کا بیٹا ہوں۔

2. لوگوں میں گھبراہٹ دور کرنا: آپ نے اس شخص کی گھبراہٹ دیکھ کر فوراً اسے تسلی دی اور فرمایا کہ گھبراؤ نہیں، میں کوئی بادشاہ نہیں ہوں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ ایک دوسرے سے ملتے وقت خوش اخلاقی اور نرمی سے پیش آئیں تاکہ دوسرا شخص گھبرائے نہیں۔

3. بشریت کا اقرار: آپ نے اپنی بشریت کا اقرار کیا اور فرمایا کہ میں ایک عورت کا بیٹا ہوں۔ اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ آپ بھی عام انسانوں کی طرح پیدا ہوئے، کھاتے پیتے تھے، اور عام زندگی بسر کرتے تھے۔

4. سادگی کی ترغیب: آپ نے اپنی والدہ ماجدہ کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ خشک گوشت کھایا کرتی تھیں۔ اس سے آپ کے گھر کی سادگی اور معمولی زندگی کا پتہ چلتا ہے، اور امت کو سادگی اختیار کرنے کی ترغیب ملتی ہے۔

5. بادشاہوں کے طریقے سے اجتناب: اس حدیث میں بادشاہوں کے طریقے (تکبر، شان و شوکت، اور لوگوں سے دوری) سے بچنے کی تلقین ہے۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ عاجزی اور انکساری کو اپنا شعار بنائیں۔

6. عملی سبق:

   · ہمیں بھی دوسروں سے ملتے وقت نرمی اور خوش اخلاقی سے پیش آنا چاہیے۔

   · اگر کوئی شخص گھبرا رہا ہو تو اس کی گھبراہٹ دور کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

   · اپنے مرتبے اور عہدے پر فخر کرنے کی بجائے عاجزی اختیار کرنی چاہیے۔

   · سادگی کو اپنا شعار بنانا چاہیے اور نمائش سے بچنا چاہیے۔

   · رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کو ہر معاملے میں اپنا نمونہ بنانا چاہیے۔


یہ حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی انتہائی عاجزی اور لوگوں کے ساتھ نرمی کے برتاؤ کی عکاسی کرتی ہے، جو آپ کی سیرت کا نمایاں ترین وصف تھا۔






عَنْ طارق بن شهاب قال:

خرج عمر بن الخطاب - رضي الله عنه - إلى الشام ومعنا أبو عبيدة بن الجراح - رضي الله عنه - , فأتوا على مخاضة (¬1) وعمر على ناقة له , فنزل عنها وخلع خفيه فوضعهما على عاتقه , وأخذ بزمام ناقته فخاض بها المخاضة , فقال أبو عبيدة: يا أمير المؤمنين , أنت تفعل هذا؟ , تخلع خفيك وتضعهما على عاتقك وتأخذ بزمام ناقتك وتخوض بها المخاضة؟ فَيَتلقاك الجنود وبطارقة الشام وأنت على حالك , فقال عمر: أوَّاه لو قال هذا غيرك يا أبا عبيدة لجعلته نكالا لأمة محمد - صلى الله عليه وسلم - , إنا كنا أذل قوم فأعزنا الله بالإسلام , فمهما نطلب العز بغير ما أعزنا الله به أذلنا الله. (¬2)

ترجمہ:

طارق بن شہاب سے روایت ہے، انہوں نے کہا:

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شام (کے سفر) کے لیے روانہ ہوئے اور ہمارے ساتھ ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ وہ لوگ ایک دریا کے گھاٹ (پانی اترنے کی جگہ) پر پہنچے(¬1) اور عمر رضی اللہ عنہ اپنی اونٹنی پر سوار تھے۔ (اس مقام پر) آپ اونٹنی سے اترے، اپنے موزے اتار کر اپنے کندھے پر رکھے، اپنی اونٹنی کی نکیل پکڑی اور اس (اونٹنی) سمیت دریا میں اتر گئے۔

ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اے امیر المومنین! آپ یہ کر رہے ہیں؟ آپ اپنے موزے اتار کر کندھے پر رکھتے ہیں، اپنی اونٹنی کی نکیل پکڑتے ہیں اور اس سمیت دریا میں اترتے ہیں؟ (حالانکہ) شام کے لشکر اور بڑے بڑے افسران آپ سے اس حالت میں ملیں گے۔

عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: افسوس! اے ابو عبیدہ! اگر تمہارے علاوہ کسی اور نے یہ بات کہی ہوتی تو میں اسے امت محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے عبرتناک مثال بنا دیتا۔ ہم (اسلام سے پہلے) سب سے ذلیل قوم تھے، اللہ نے ہمیں اسلام کے ذریعے عزت بخشی۔ پس اگر ہم اللہ کے اس عطا کردہ عزت کے علاوہ کسی اور چیز سے عزت حاصل کرنا چاہیں گے تو اللہ ہمیں ذلیل کر دے گا۔" (¬2)


---


حواشی و تشریحات:


(¬1) الخَوْضُ: پانی میں چلنا، اور جگہ کو "مخاضة" کہتے ہیں، یعنی وہ مقام جہاں سے لوگ پیدل یا سوار ہو کر (دریا) عبور کرتے ہیں۔ (لسان العرب، ج 7، ص 147)


(¬2) (ك) مستدرک حاکم: حدیث نمبر 207، دیکھیں: السلسلۃ الصحیحۃ: حدیث نمبر 51، صحیح الترغیب والترہیب: حدیث نمبر 2893


---

حاصل شدہ اسباق و نکات:


1. خلیفہ کا انتہائی تواضع: اس واقعہ میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی عاجزی کی اعلیٰ مثال ملتی ہے۔ امیر المومنین ہونے کے باوجود انہوں نے خود اپنے ہاتھوں سے اونٹنی کو دریا عبور کرایا اور موزے کندھے پر رکھے۔

2. ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کا خیال: ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کا خیال تھا کہ خلیفہ کو اپنا وقار برقرار رکھنا چاہیے اور لشکر کے سامنے عزت و احترام سے پیش آنا چاہیے۔ یہ ایک فطری خیال تھا، لیکن حضرت عمر نے اسے ایک اعلیٰ اصول کی بنیاد پر رد کیا۔

3. عزت کا حقیقی سرچشمہ: حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ہماری عزت کا اصل سرچشمہ اسلام ہے۔ اللہ نے ہمیں اسلام کی وجہ سے عزت دی، نہ کہ دنیاوی عہدوں یا ظاہری شان و شوکت کی وجہ سے۔

4. اسلام سے پہلے کی حالت: آپ نے اس حقیقت کی طرف بھی اشارہ کیا کہ اسلام سے پہلے عرب قوم ذلیل و رسوا تھی، دوسری قومیں ان پر حاوی تھیں۔ اسلام نے انہیں عزت اور سربلندی عطا کی۔

5. اسلام کے علاوہ کسی اور چیز سے عزت طلب کرنا: آپ نے ایک اہم اصول بیان فرمایا کہ اگر ہم اسلام کے علاوہ کسی اور چیز (جیسے نسب، مال، طاقت، یا ظاہری شان و شوکت) سے عزت حاصل کرنا چاہیں گے تو اللہ ہمیں ذلیل کر دے گا۔

6. عبرت اور نصیحت: حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اگر ابو عبیدہ کے علاوہ کسی اور نے یہ بات کہی ہوتی تو وہ اسے عبرتناک مثال بنا دیتے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے اس بات کو کتنی اہمیت دی اور لوگوں کو اس اصول کی پابندی پر کتنا زور دیا۔

7. عملی سبق:

   · مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اپنی عزت کا سرچشمہ صرف اسلام کو سمجھیں۔

   · کسی بھی عہدے یا دنیوی چیز پر فخر کرنے کی بجائے اسلام پر فخر کریں۔

   · اسلام سے پہلے کی جہالت اور ذلت کو یاد رکھیں اور اللہ کا شکر ادا کریں کہ اس نے ہمیں اسلام سے نوازا۔

   · کسی بھی شخص کی بات سنتے وقت اس کے مقام و مرتبے کا خیال رکھیں۔

   · عاجزی اور انکساری کو اپنا شعار بنائیں اور دکھاوے اور نمائش سے بچیں۔


یہ واقعہ نہایت عبرتناک اور اسلامی تعلیمات کا آئینہ دار ہے، جو ہمیں بتاتا ہے کہ اصل عزت اللہ اور اس کے دین سے وابستگی میں ہے نہ کہ دنیاوی شان و شوکت میں۔





عَنْ عَبْدِ الله بْنِ بُرَيْدَةَ قَالَ:

(رَحَلَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - إِلَى فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ - رضي الله عنه - وَهُوَ) (¬1) (عَامِلٌ) (¬2) (بِمِصْرَ , فَقَدِمَ عَلَيْهِ) (¬3) (فَرَآهُ شَعِثَ الرَّأْسِ مُشْعَانًّا) (¬4) (فَقَالَ: أَمَا إِنِّي لَمْ آتِكَ زَائِرًا) (¬5) (إِنَّمَا أَتَيْتُكَ لِحَدِيثٍ بَلَغَنِي عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - رَجَوْتُ أَنْ يَكُونَ عِنْدَكَ مِنْهُ عِلْمٌ) (¬6) (قَالَ: وَمَا هُوَ؟ , قَالَ: كَذَا وَكَذَا) (¬7) (ثُمَّ قَالَ: مَا لِي أَرَاكَ شَعِثًا وَأَنْتَ أَمِيرُ الْبَلَدِ؟ , فَقَالَ: " إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - كَانَ يَنْهَانَا عَنْ كَثِيرٍ مِنْ الْإِرْفَاهِ ") (¬8) (قَالَ: فَمَا لِي لَا أَرَى عَلَيْكَ حِذَاءً؟ , قَالَ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - يَأْمُرُنَا أَنْ نَحْتَفِيَ أَحْيَانًا ") (¬9) (فَسُئِلَ ابْنُ بُرَيْدَةَ عَنْ الْإِرْفَاهِ فَقَالَ: مِنْهُ التَّرَجُّلُ) (¬10) (كُلَّ يَوْمٍ) (¬11).

ترجمہ:

حضرت عبداللہ بن بریدہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ایک شخص فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ کے پاس گئے(¬1)، جو عامل (گورنر) تھے(¬2) اس وقت مصر کے(¬3)، وہ ان کے پاس آئے تو دیکھا کہ ان کے سر کے بال بکھرے ہوئے ہیں اور وہ خستہ حال ہیں۔(¬4) (آنے والے) نے کہا: میں آپ کے پاس زیارت کے لیے نہیں آیا،(¬5) بلکہ ایک حدیث کی وجہ سے آیا ہوں جو مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہنچی ہے، مجھے امید تھی کہ آپ کو اس کا علم ہوگا۔(¬6) فضالہ نے پوچھا: وہ کون سی حدیث ہے؟ انہوں نے کہا: فلاں فلاں (بات)۔(¬7) پھر کہا: مجھے کیا ہوا کہ میں آپ کو خستہ حال دیکھ رہا ہوں حالانکہ آپ اس شہر کے امیر ہیں؟ فضالہ نے جواب دیا: "رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں زیادہ آرام دہ زندگی (کے طریقوں) سے منع فرمایا کرتے تھے۔"(¬8) پھر انہوں نے پوچھا: میں آپ کے پاؤں میں جوتا کیوں نہیں دیکھ رہا؟ فضالہ نے کہا: "رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں حکم دیتے تھے کہ کبھی کبھی ننگے پاؤں بھی چلا کرو۔"(¬9)

ابن بریدہ سے "الإرفاه" (آرام دہ زندگی) کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا: اس میں سے (ایک) کنگھی کرنا ہےہر روز(¬10) ہر روز.(¬11)


---

(1)سنن ابوداؤد:4160

(2)سنن نسائی:5058

(3)سنن ابوداؤد:4160

(4)سنن نسائی:5058

(5)سنن ابوداؤد:4160

(6)مسند احمد:24015، سنن ابوداؤد:4160، السلسلۃ الصحیحۃ:502

(7)سنن ابوداؤد:4160

(8)مسند احمد:24015، سنن ابوداؤد:4160، سنن نسائی:5239

(9)سنن ابوداؤد:4160، مسند احمد:24015، السلسلۃ الصحیحۃ:502، ہدایۃ الرواۃ:4377

(10)سنن نسائی:5239

(11)سنن نسائی:5058

---

حاصل شدہ اسباق و نکات:


1. دنیاوی عہدے کے باوجود سادگی: اس حدیث میں حضرت فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ کا واقعہ ہے کہ مصر جیسے بڑے صوبے کے گورنر ہونے کے باوجود انہوں نے سادگی اور زہد کو اپنا شعار بنائے رکھا۔ ان کے بال بکھرے ہوئے تھے اور وہ ننگے پاؤں بھی چلتے تھے۔

2. زیادہ آرام دہ زندگی (الإرفاه) سے اجتناب: فضالہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں زیادہ آرام دہ زندگی (کے طریقوں) سے منع فرمایا کرتے تھے۔ اس میں وہ تمام چیزیں شامل ہیں جو انسان کو عیش و عشرت اور دنیا پرستی کی طرف لے جائیں۔

3. ننگے پاؤں چلنے کی ترغیب: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی کبھی ننگے پاؤں چلنے کا حکم دیتے تھے۔ اس میں عاجزی، تواضع اور تکبر سے بچنے کا سبق ہے۔

4. ہر روز کنگھی کرنے کی ممانعت: ابن بریدہ کی تفسیر کے مطابق "الإرفاه" میں ہر روز کنگھی کرنا بھی شامل ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ کنگھی کرنا ہی منع ہے، بلکہ اس سے مراد ہے کہ انسان کو دنیاوی آرائش اور بناؤ سنگھار میں اس قدر مشغول نہیں ہونا چاہیے کہ وہ آخرت سے غافل ہو جائے۔

5. علم حدیث کی تلاش: اس واقعہ میں ایک صحابی کا دوسرے صحابی کے پاس حدیث کی تلاش میں جانا، علم حدیث کی اہمیت اور اس کے حصول کے لیے سفر کرنے کی فضیلت کو ظاہر کرتا ہے۔

6. صحابہ کا آپس میں تعاون: آنے والے صحابی نے فضالہ رضی اللہ عنہ سے براہ راست پوچھا اور انہوں نے بھی بلا تکلف جواب دیا۔ اس سے صحابہ کے آپس میں تعاون اور علم کے تبادلے کا اندازہ ہوتا ہے۔

7. عملی سبق:

   · دنیاوی عہدوں اور ذمہ داریوں کے باوجود سادگی اور زہد کو اپنانا چاہیے۔

   · عیش و عشرت اور زیادہ آرام دہ زندگی سے بچنا چاہیے۔

   · کبھی کبھار ننگے پاؤں چل کر عاجزی کا اظہار کرنا چاہیے۔

   · بناؤ سنگھار اور دنیاوی آرائش میں مشغول ہو کر آخرت کو فراموش نہیں کرنا چاہیے۔

   · علم حدیث کی تلاش اور اس کے حصول کے لیے کوشش کرنی چاہیے۔


یہ حدیث صحابہ کرام کے زہد و تقویٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات پر ان کے عمل کی عکاسی کرتی ہے۔






گمنامی اور تواضع (عاجزی)

لقمان علیہ السلام کی اپنے بیٹے کی وصیت سے متعلق ہے۔ حافظ ابوبکر بن ابی الدنیا نے اس موضوع پر ایک مستقل کتاب جمع کی ہے، ہم اس میں سے اہم مقاصد ذکر کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا: ہم سے ابراہیم بن المنذر نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن موسیٰ المدنی نے، ان سے اسامہ بن زید بن حفص بن عبداللہ بن انس نے، انہوں نے اپنے دادا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:

"بہت سے پراگندہ حال، دو پرانے کپڑوں والے (غریب اور معمولی شکل و صورت والے) لوگ ایسے ہوتے ہیں جنہیں لوگ دروازوں سے ہٹا دیا کرتے ہیں (یعنی ان کی کوئی وقعت نہیں کرتے)، اگر وہ اللہ پر قسم اٹھا لیں (کسی بات کی) تو اللہ ان کی قسم سچی کر دیتا ہے (ان کی دعا قبول فرماتا ہے)۔" پھر انہوں نے (ابوبکر بن ابی الدنیا نے) اسے جعفر بن سلیمان کی سند سے ثابت اور علی بن زید کے واسطے سے انس رضی اللہ عنہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم تک روایت کیا، اور اس میں یہ اضافہ کیا: "انہیں میں سے براء بن مالک ہیں۔"

[صحیح مسلم:2622(7190)، جامع ترمذی:3854]

اور ابوبکر بن سہل التمیمی نے کہا: ہم سے ابن ابی مریم نے بیان کیا، ان سے نافع بن زید نے، ان سے عیاش بن عباس نے، ان سے عیسیٰ بن عبدالرحمن نے، ان سے زید بن اسلم نے، انہوں نے اپنے والد (اسلم) سے، انہوں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ وہ مسجد نبوی میں داخل ہوئے تو دیکھا کہ معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مبارک کے پاس رو رہے ہیں۔ عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: اے معاذ! تمہیں کیا چیز رلا رہی ہے؟ انہوں نے کہا: ایک حدیث جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی تھی (اسے یاد کر کے رو رہا ہوں)۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: "بے شک ریاکاری کا تھوڑا سا حصہ بھی شرک ہے، اور بے شک اللہ تعالیٰ متقیوں، پوشیدہ رہنے والوں (گمناموں) اور (دنیا سے) بے نیاز لوگوں سے محبت کرتا ہے، جو لوگ جب غائب ہوتے ہیں تو ان کی کمی محسوس نہیں کی جاتی، اور جب حاضر ہوتے ہیں تو انہیں پہچانا نہیں جاتا، ان کے دل ہدایت کے چراغ ہوتے ہیں، وہ ہر تاریک اور اندھیری مصیبت سے نجات پا جاتے ہیں۔"

[سنن ابن ماجہ:3989، شعب الایمان-للبیھقی:6393، المستدرک الحاکم:7933]

[المستدرک للحاکم:4، الأسماء والصفات للبيهقي:1046]


ہم سے ولید بن شجاع نے بیان کیا، ان سے عفان بن علی نے، ان سے حمید بن عطاء الاعرج نے، ان سے عبداللہ بن الحارث نے، ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا، آپ نے فرمایا: "بہت سے دو پرانے کپڑوں والے (غریب) ایسے ہوتے ہیں جن کی کوئی پروا نہیں کرتا، اگر وہ اللہ پر قسم اٹھا لیں تو اللہ ان کی قسم سچی کر دیتا ہے (دعا قبول کرتا ہے)، اگر وہ کہے: اے اللہ! میں تجھ سے جنت مانگتا ہوں، تو اللہ اسے جنت عطا فرما دے گا، اور دنیا میں سے اسے کچھ بھی نہیں دے گا (یعنی اس کا حصہ آخرت میں ہو گا)۔"

[تفسیر ابن کثیر: 6/305]


تشریح علامہ مناوی:

(رب ذي طمرين لا يؤبه به) یعنی اس کی پروا نہیں کی جاتی اور نہ اس کی طرف توجہ کی جاتی ہے اس کے حقیر ہونے کی وجہ سے (لو أقسم على الله لأبره) یعنی اللہ اس کی قسم کو پورا فرما دیتا ہے۔ اور ابن عدی کی روایت میں اس کی مکمل وضاحت یوں ہے: "اگر وہ کہے: اے اللہ! میں تجھ سے جنت مانگتا ہوں، تو اللہ اسے جنت عطا فرما دے گا، اور دنیا میں سے اسے کچھ بھی نہیں دے گا۔"

بعض صوفیاء نے کہا: یہ بلند پایہ جماعت (اولیاء) اہلِ ولایتِ کبریٰ ہیں جو تخلّق (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق اپنانے) اور تَحَقُّق (حقائق تک پہنچنے) کے ذریعے حاصل کی جاتی ہے۔ یہ دنیا میں اس مقام پر ہیں جیسے جسم میں دل کا مقام ہوتا ہے۔ یہ حق تعالیٰ کے حکم کے تحت ہیں، انبیاء علیہم السلام کے مرتبے سے نیچے اور عوام الناس سے اوپر ہیں (ان کے پاس) تصرف کی قدرت ہے اور (مرتبے میں) ان سے نیچے ہیں محتاجی کے لحاظ سے۔ یہ لوگ تسلیم و رضا، ادب، علم، عمل، انکساری، محتاجی، ذلت، عجز، مصیبتوں پر صبر، اسباب کے تحت قیام کرنے والے، تلخیاں نگلنے والے (یعنی مشکلات برداشت کرنے والے) ہیں۔ یہ سرخ، نیلے، سفید اور سیاہ موت (یعنی ہر قسم کی مشکلات اور مصیبتوں) کو برداشت کرنے والے ہیں۔ یہ صاحبِ ہمت، دعوت دینے والے، پوشیدہ اور ظاہر، الہام سے بہرہ ور، مقید (پابند) اور مطلق (آزاد)، مراتب اور اسباب کے حقوق کی حفاظت کرنے والے، اور ہر چیز میں گہری اور نافذ القدم رکھنے والے ہیں۔ یہی لوگ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیروکار، آپ کے وارث، نائب، نگہبان، وکیل اور (قیامت میں) حشر و نشر، حساب و وزن اور صراط پر چلنے والے ہیں جیسے عام مومن چلتے ہیں۔ یہ اکثر لوگوں کے نزدیک دونوں جہان (دنیا و آخرت) میں نا شناس ہوتے ہیں، کیونکہ دنیا میں ان پر سرداروں والی کوئی صفت ظاہر نہیں ہوتی۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہیں سب سے بڑی گھبراہٹ (قیامت کی ہولناکی) غمگین نہیں کرے گی، یہ ثابت قدم رہنے والے ہیں جب محشر میں پنڈلی کھولی جائے گی (سخت ترین مرحلہ آئے گا)۔ یہ وہ لوگ ہیں جو مخلوق میں تقدیر کے جاری ہونے اور اس کے رواں ہونے پر مطلع ہیں۔ یہ اختیاراً بندے ہیں اور اضطراری طور پر سردار ہیں، جو ازل سے ابد تک کے تمام زمانوں کے علم سے ایک ہی نفس میں آگاہ کر دیے جاتے ہیں۔ جس طرح حق تعالیٰ اپنی خبر دینے کے ذریعے (حدیث میں) ہمیں بتاتا ہے کہ وہ آسمانِ دنیا پر نازل ہوتا ہے تاکہ ہمیں آپس میں تواضع سکھائے، اسی طرح یہ اولیاء بھی عوام الناس کے ساتھ ان کی سمجھ کے مطابق (نیچے اتر کر) پیش آتے ہیں۔

اس حدیث میں گمنامی (خمول) کی تعریف کی طرف اشارہ ہے۔ اور کہا گیا ہے: گمنامی پر اکتفا کرنا سلامتی کا زیادہ موجب ہے۔ کتنے ہی حقیر لوگ اللہ کے نزدیک دنیا کے بہت سے بڑے لوگوں سے زیادہ عظیم المرتبت ہوتے ہیں۔ لوگوں کا اطلاع تو صرف ظاہری حالات پر ہوتا ہے، انہیں پوشیدہ باتوں کا علم نہیں ہوتا۔ اللہ کے نزدیک اصل چیز دلوں کی خلوص اور پرہیزگاری ہے، اور لوگوں کا علم اس سے بے خبر ہوتا ہے۔ اس لیے کسی کو بھی کسی دوسرے پر جرات نہیں کرنی چاہیے کہ وہ اس شخص کا مذاق اڑائے جسے وہ اپنی آنکھ سے دیکھے کہ اس کی حالت پست ہے، یا اس کے جسم میں کوئی نقص ہے، یا بات چیت میں نرم نہیں ہے، کیونکہ ممکن ہے وہ اس سے زیادہ خالص ضمیر رکھتا ہو اور اس سے زیادہ پرہیزگار ہو۔ اس طرح (مذاق کرنے والا) اس شخص کو حقیر سمجھ کر جسے اللہ نے عزت دی ہے اور اس کی تحقیر کر کے جسے اللہ نے بڑا بنایا ہے، وہ اپنی جان پر ظلم کرتا ہے۔ سلف صالحین کا احتیاط اور بچاؤ اس حد تک تھا کہ عمرو بن شرحیل نے کہا: اگر میں کسی شخص کو دیکھوں کہ وہ (بکری کا تھن منہ میں لے کر) بکری کا دودھ پی رہا ہے اور میں اس پر ہنس پڑوں تو مجھے ڈر ہے کہ میں بھی وہی کچھ کر بیٹھوں گا جو اس نے کیا۔ (یعنی میرا ہنسنا میرے لیے باعثِ عتاب نہ بن جائے)۔ یہ بات زمخشری نے ذکر کی ہے۔

بعض عارفین نے کہا: اللہ کی مخلوق میں سے کسی کو حقیر نہ سمجھو، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس وقت اسے حقیر نہیں سمجھا جب اسے پیدا کیا۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ اللہ تعالیٰ نے کسی کو عدم سے وجود میں لانے میں عنایت کا اظہار کیا ہو اور تم اسے حقیر سمجھو؟ یہ تو اس ذات کی حقارت ہے جس نے اسے وجود بخشا، اور یہ کبیرہ گناہوں میں سے ہے۔

(بزار) نے اپنی مسند میں (ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے) روایت کیا ہے۔ ہیثمی نے کہا: اس کے راوی صحیح (بخاری و مسلم) کے راویوں کی طرح ہیں سوائے جاریہ بن ہرم کے، اور ابن حبان نے اس کے ضعیف ہونے کے باوجود اسے ثقہ کہا ہے۔

[فیض القدیر-للمناوی: حدیث 4402]

---

حاصل کردہ اسباق و نکات:

1. گمنام اور حقیر لوگوں کی حقیقت: جو لوگ دنیا کی نگاہ میں حقیر، غریب اور کوئی حیثیت نہیں رکھتے، وہ اللہ کے ہاں بہت بلند مرتبہ رکھتے ہیں۔ ان کی دعائیں قبول ہوتی ہیں اور انہیں آخرت میں عظیم انعامات ملیں گے، چاہے دنیا میں انہیں کچھ نہ ملا ہو۔

2. اولیاء کے درجات اور صفات: صوفیاء کی تشریح میں اولیاء (اللہ کے دوستوں) کی ایک خاص جماعت کا ذکر ہے جو "اہلِ ولایتِ کبریٰ" کہلاتی ہے۔ ان کی صفات میں شامل ہیں:

   · رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع اور وراثت۔

   · علم و عمل کا امتزاج۔

   · انکساری، عجز اور محتاجی۔

   · مصیبتوں اور مشکلات پر صبر۔

   · لوگوں میں گمنام رہنا اور ظاہری شان و شوکت سے دوری۔

   · قیامت کی ہولناکیوں میں ثابت قدم رہنا۔

   · حقائق اور تقدیر کے اسرار سے آگاہی۔

3. گمنامی میں سلامتی: عبارت میں واضح کیا گیا کہ گمنامی کو اختیار کرنا سلامتی کا باعث ہے۔ شہرت اور ناموری میں فتنے کا خطرہ ہوتا ہے، جبکہ گمنامی اخلاص اور دین کی سلامتی کا ذریعہ ہے۔

4. ظاہری حالت سے دھوکہ نہ کھانا: لوگوں کی اصل قیمت ان کے ظاہری لباس، دولت یا جسمانی ساخت سے نہیں لگائی جا سکتی۔ ہمیں کسی کو اس کی ظاہری حالت دیکھ کر حقیر نہیں سمجھنا چاہیے، کیونکہ ممکن ہے وہ اللہ کے نزدیک بہت مقرب اور ہم سے بہتر ہو۔

5. کسی کی تحقیر کرنا گناہِ کبیرہ: کسی بھی شخص کو اس کی پست حالت پر حقیر سمجھنا اور اس کا مذاق اڑانا درحقیقت اللہ کی اس مخلوق کی تحقیر ہے جسے اللہ نے پیدا کیا اور عزت دی۔ یہ اللہ کی ذات کی طرف اشارہ ہے، اس لیے یہ کبیرہ گناہ ہے۔

6. سلف صالحین کا احتیاط: صحابہ اور تابعین کا حال یہ تھا کہ وہ کسی بھی شخص کی ظاہری حالت پر ہنسنے یا اسے حقیر سمجھنے سے بھی ڈرتے تھے، کیونکہ انہیں اندیشہ تھا کہ کہیں یہ عمل ان کے لیے وبال نہ بن جائے۔

7. دل کی نیت اور تقویٰ معیار ہیں: اللہ کے ہاں اصل چیز دلوں کا خلوص، نیت کی پاکیزگی اور تقویٰ ہے۔ لوگ صرف ظاہر دیکھ سکتے ہیں، باطن کا علم صرف اللہ کو ہے۔ اس لیے ظاہری حالتوں کی بنیاد پر فیصلہ کرنا درست نہیں۔

8. اولیاء کا عوام کے ساتھ برتاؤ: اولیاء کرام عوام الناس کے ساتھ ان کی سمجھ کے مطابق پیش آتے ہیں اور ان کے ساتھ تواضع کا معاملہ کرتے ہیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے آسمانِ دنیا پر نازل ہو کر اپنے بندوں سے قربت کا اظہار فرماتا ہے۔

9. دنیا اور آخرت میں مقام کا تضاد: اس عبارت میں بار بار اس نکتے کو اجاگر کیا گیا کہ دنیا میں پست اور حقیر سمجھے جانے والے لوگ آخرت میں بلند ترین مقامات پر فائز ہوں گے، اور دنیا کے بڑے اور مالدار لوگ آخرت میں ناکام ہو سکتے ہیں۔

10. حدیث کی سند کے بارے میں آگاہی: اس حدیث کو بزار نے روایت کیا ہے اور اس کے راویوں پر محدثین نے کلام کیا ہے۔ ہیثمی نے اسے تقریباً صحیح قرار دیا ہے، جبکہ جاریہ بن ہرم کے بارے میں اختلاف ہے۔ اس سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ حدیث کی سند پر بھی غور کرنا چاہیے۔





انہوں نے (ابن ابی الدنیا نے) یہ بھی کہا: ہم سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا، ان سے ابومعاویہ نے، ان سے اعمش نے، ان سے سالم بن ابی الجعد نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "بے شک میری امت میں کچھ لوگ ایسے ہیں کہ اگر وہ تم میں سے کسی کے پاس آ کر اس سے ایک دینار، ایک درہم یا ایک فلس مانگیں تو وہ انہیں نہیں دے گا، لیکن اگر وہ اللہ سے جنت مانگیں تو اللہ انہیں وہ عطا فرما دے گا، اور اگر وہ اس سے دنیا مانگیں تو اللہ انہیں دنیا نہیں دے گا، اور اللہ نے انہیں دنیا اس لیے نہیں دی کہ وہ اس کی نگاہ میں حقیر ہیں (بلکہ یہ ان کی بخشش اور آخرت کی بلندی کی وجہ ہے)، وہ دو پرانے کپڑوں والے ہیں، ان کی کوئی پروا نہیں کرتا، اگر وہ اللہ پر قسم اٹھا لیں تو اللہ ان کی قسم سچی کر دیتا ہے۔" یہ روایت اس سند سے مرسل ہے۔


انہوں نے یہ بھی کہا: ہم سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا، ہم کو جعفر بن سلیمان نے خبر دی، ہم سے عوف نے بیان کیا کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "بے شک جنت کے بادشاہوں میں سے کچھ وہ ہیں جو پراگندہ حال، گرد آلود، دو پرانے کپڑوں والے ہیں، جن کی کوئی پروا نہیں کرتا، وہ لوگ کہ جب حکمرانوں کے ہاں حاضر ہونے کی اجازت مانگتے ہیں تو انہیں اجازت نہیں دی جاتی، جب عورتوں کو پیغام نکاح دیتے ہیں تو ان سے نکاح نہیں کیا جاتا، جب بولتے ہیں تو ان کی بات نہیں سنی جاتی، ان میں سے ہر ایک کی حاجتیں اس کے سینے میں دھڑکتی رہتی ہیں (کوئی پوچھنے والا نہیں)، اگر قیامت کے دن ان کا نور لوگوں میں تقسیم کیا جائے تو وہ سب کو ڈھانپ لے۔"

[شعب الإيمان-للبيهقي:10004-10006]


کہا: اور مجھ سے عمر بن شَبَّہ نے ابن عائشہ کے حوالے سے یہ شعر پڑھا کہ عبداللہ بن مبارک نے کہا:

خبردار! کتنے ہی دو پرانے کپڑوں والے (غریب) ہوں گے جن کے گھروں میں (آخرت میں) مخملی فرشیں بچھی ہوں گی اور گاؤ تکیے لگے ہوں گے۔

ان کے محلات کے گرد نہریں جاری ہوں گی، اور باغات (کی رونق) پھیلی ہوئی اور انہیں گھیرے ہوئے ہو گی۔

اور عبیداللہ بن زحر سے، انہوں نے علی بن زید سے، انہوں نے قاسم سے، انہوں نے ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً (نبی صلی اللہ علیہ وسلم تک منسوب کرتے ہوئے) یہ بھی روایت کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میرے نزدیک میرے اولیاء میں سب سے زیادہ قابلِ رشک وہ مومن ہے جو ہلکا پھلکا ہو (دنیا کا بوجھ نہ رکھتا ہو)، نماز کا حصہ رکھتا ہو، اپنے رب کی عبادت بہترین طریقے سے کرے اور پوشیدہ طور پر اس کی اطاعت کرے، لوگوں میں گم نام رہے، انگلیوں سے اس کی طرف اشارہ نہ کیا جاتا ہو، اور وہ اس (گمنامی) پر صبر کرے۔ راوی کہتے ہیں: پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا اور فرمایا: "اس کی موت جلد آئے گی، اس کا ترکہ (مال) کم ہو گا، اور اس پر رونے والے کم ہوں گے۔"

اور عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: اللہ کے نزدیک اللہ کے بندوں میں سب سے محبوب "غرباء" ہیں۔ پوچھا گیا: غرباء کون ہیں؟ کہا: وہ لوگ جو اپنے دین کی خاطر (فتنوں سے) بھاگنے والے ہیں، قیامت کے دن وہ عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام کے ساتھ جمع کیے جائیں گے۔

اور فضیل بن عیاض نے کہا: مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن بندے سے فرمائے گا: کیا میں نے تجھ پر انعام نہیں کیا؟ کیا میں نے تجھے (نعمتیں) نہیں دیں؟ کیا میں نے تیری پردہ پوشی نہیں کی؟ کیا میں نے (ایسا اور ایسا) نہیں کیا؟ کیا میں نے تیرا ذکر (دنیا میں) گمنام نہیں رکھا؟ پھر فضیل نے کہا: اگر تو یہ کر سکتا ہے کہ (لوگوں میں) پہچانا نہ جائے تو کر، تجھ پر کیا حرج ہے اگر لوگ تیری تعریف نہ کریں؟ تجھ پر کیا حرج ہے اگر تو لوگوں کے نزدیک مذموم ہو اور اللہ کے نزدیک محمود ہو؟ ابن محیریز کہا کرتے تھے: اے اللہ! میں تجھ سے گمنام ذریعہ (شہرت) مانگتا ہوں۔ اور خلیل بن احمد کہا کرتے تھے: اے اللہ! مجھے اپنے ہاں اپنی مخلوق میں سب سے بلند مقام عطا فرما، اور میرے نزدیک مجھے اپنی مخلوق میں سب سے کمتر رکھ، اور لوگوں کے درمیان مجھے متوسط رکھ۔

[تفسیر ابن کثیر: 6/305]


ہم نبی ﷺ کے ساتھ ایک جنازے میں تھے تو آپ ﷺ نے فرمایا: کیا میں تمہیں اللہ کے بدترین بندوں کے بارے میں نہ بتاؤں؟ (وہ) سخت کلام کرنے والا،(¬1) تکبر کرنے والا (ہے)۔ کیا میں تمہیں اللہ کے بہترین بندوں کے بارے میں نہ بتاؤں؟ (وہ) کمزور، حقیر سمجھا جانے والا، پرانے دو کپڑوں والا (ہے)،(¬2) اگر وہ اللہ پر قسم کھا لے تو اللہ اس کی قسم پوری کر دیتا ہے۔"

[مسند امام احمد:23504، صحیح الترغیب والترھیب: 2904، 3198]

---

حاصل کردہ اسباق و نکات:

1. گمنامی (خمول) کی فضیلت: اللہ تعالیٰ ان بندوں سے محبت فرماتا ہے جو دنیا میں گمنام رہتے ہیں، لوگ انہیں نہیں پہچانتے، نہ ان کی طرف انگلیاں اٹھتی ہیں اور نہ ہی ان کی شہرت ہوتی ہے۔ یہ گمنامی ان کے لیے اللہ کے قرب اور محبت کا ذریعہ بنتی ہے۔

2. ریاکاری سے بچاؤ: حدیث میں ریاکاری کے معمولی حصے کو بھی شرک قرار دیا گیا ہے۔ اس لیے اعمال میں اخلاص بنیادی شرط ہے اور گمنامی اخلاص کے تحفظ کا ایک ذریعہ ہے۔

3. ظاہری حیثیت اور اللہ کے ہاں مقام میں تضاد: بہت سے لوگ جو دنیا کی نظر میں حقیر، غریب، پراگندہ حال اور کوئی حیثیت نہ رکھنے والے ہوتے ہیں، اللہ کے ہاں بڑے مقرب اور بلند مرتبہ ہوتے ہیں۔ ان کی دعائیں قبول ہوتی ہیں اور اللہ ان کی قسمیں پوری کرتا ہے۔

   · اس کی واضح مثال حضرت براء بن مالک رضی اللہ عنہ ہیں۔

4. متقی اور پوشیدہ بندوں کی صفات:

   · اللہ سے ڈرنے والے (اتقیاء)۔

   · لوگوں سے پوشیدہ رہنے والے (اخفیاء)۔

   · دل سے دنیا سے بے نیاز (اثریاء)۔

   · ان کی غیر موجودگی کوئی محسوس نہیں کرتا۔

   · ان کی موجودگی میں کوئی ان کی طرف خاص توجہ نہیں دیتا۔

   · ان کے دل ہدایت کے چراغ ہوتے ہیں۔

   · وہ مشکلات اور اندھیروں سے نجات پاتے ہیں۔

5. دنیا اور آخرت میں مقام کا فرق: ایسے گمنام اور نیک بندوں کو اللہ دنیا کی دولت سے محروم رکھتا ہے کیونکہ ان کا اصل حصہ اور انعام آخرت یعنی جنت ہے۔ اگر وہ دنیا مانگیں تو نہیں دی جاتی، لیکن اگر جنت مانگیں تو ضرور دی جاتی ہے۔

6. آخرت میں عزت و مرتبہ: یہی گمنام اور حقیر سمجھے جانے والے لوگ آخرت میں جنت کے بادشاہ ہوں گے۔ وہاں ان کے لیے عظیم نعمتیں ہیں جن کا دنیا والوں کو کوئی تصور بھی نہیں۔ ان کا نور قیامت کے میدان میں پھیلا ہوا ہوگا۔

7. دنیا میں بے وقعتی اور آخرت میں بلندی: ان لوگوں کی دنیا میں کوئی عزت نہیں ہوتی:

   · وہ بڑے لوگوں کے ہاں جاتے ہیں تو انہیں اجازت نہیں ملتی۔

   · شادی کا پیغام دیتے ہیں تو کوئی قبول نہیں کرتا۔

   · ان کی بات کو کوئی اہمیت نہیں دیتا۔

   · ان کی پریشانیاں اور حاجتیں دل ہی دل میں رہ جاتی ہیں۔

     مگر آخرت میں ان کا مقام و مرتبہ بہت بلند ہوگا۔

8. اللہ کے نزدیک قابلِ رشک بندہ: وہ مومن جو دنیا کا بوجھ ہلکا رکھے، عبادت گزار ہو، اپنی عبادت کو چھپائے، لوگوں میں گمنام رہے اور اس گمنامی پر صبر کرے۔ ایسے شخص کی عمر کم ہو، وراثت میں تھوڑا مال چھوڑے اور اس پر رونے والے بھی کم ہوں۔

9. دین کی خاطر تنہائی (غرباء): وہ لوگ جو فتنوں سے بچنے اور اپنے دین کو بچانے کے لیے لوگوں سے علیحدگی اختیار کرتے ہیں، وہ اللہ کے محبوب بندے ہیں اور قیامت کے دن حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ ہوں گے۔

10. گمنامی کی دعا اور اپنی قدر: صحابہ اور سلف صالحین گمنامی کی دعا مانگتے تھے۔ وہ چاہتے تھے کہ اللہ انہیں دنیا میں گمنام رکھے اور ان کی اصل قدر و منزلت اپنے ہاں عطا فرمائے۔ ان کی نظر میں اپنی ذات کو کمتر رکھنا اور اللہ کے ہاں بلند مقام کی امید رکھنا بہت بڑی خوبی ہے۔

11. اللہ کی سب سے بڑی نعمتوں میں سے ایک نعمت "گمنامی" ہے: اللہ قیامت کے دن اپنے نیک بندوں کو یاد دلائے گا کہ اس نے ان پر کیسے کیسے انعام کیے، ان میں سے ایک یہ بھی ہو گا کہ اس نے ان کا ذکر دنیا میں گمنام رکھا۔

12. عملی زندگی میں اپنانے کی باتیں:

    · نیکی کو جتنا ہو سکے چھپا کر کریں۔

    · شہرت اور ناموری کی خواہش کو دل سے نکالیں۔

    · لوگوں کی تعریف یا مذمت کی پروا نہ کریں، بس اللہ کی رضا کو مطلوب بنائیں۔

    · اپنی ذات کو کم تر سمجھنا اور عاجزی اختیار کرنا سیکھیں۔

    · دعا کریں کہ اللہ ہمیں ریا اور شہرت کی محبت سے بچائے اور گمنامی میں اپنی اطاعت کی توفیق دے۔





حضرت ابو امامہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ:

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میرے نزدیک میرے اولیاء میں سب سے زیادہ قابلِ رشک وہ مومن ہے جو ہلکا پھلکا ہو (دنیا کا بوجھ نہ رکھتا ہو)، نماز کا حصہ رکھتا ہو، اپنے رب کی عبادت بہترین طریقے سے کرے اور پوشیدہ طور پر اس کی اطاعت کرے، لوگوں میں گم نام رہے، انگلیوں سے اس کی طرف اشارہ نہ کیا جاتا ہو، اور وہ اس (گمنامی) پر صبر کرے۔ راوی کہتے ہیں: پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا اور فرمایا: "اس کی موت جلد آئے گی، اس کا ترکہ (مال) کم ہو گا، اور اس پر رونے والے کم ہوں گے۔"

[احمد:22167، ترمذي:2347 ابن ماجة:4117 طبراني:7860 بغوي:4044]


حاشیہ علامہ سندھی:

ترمذی کی روایت ہے "إِنَّ أغبط أوليائي" یعنی میرے نزدیک میرے محبوب مومن بندوں میں سب سے زیادہ قابلِ رشک (اور مراد یہ ہے کہ) تمام اولیاء میں سے وہ شخص جس کی حالت کو لوگ اپنے لیے حاصل کرنا چاہیں۔

(خَفِيفُ الْحَاذِ) ذال معجمہ کی تخفیف کے ساتھ۔ سیوطی نے کہا: یعنی ہلکی پھلکی حالت والا، یا بال بچوں (کی ذمہ داری) سے ہلکا پھلکا۔ طیبی نے کہا: جس کے بال بچے اور زیادہ مشغولیتیں نہ ہوں۔

(ذُو حَظٍّ من صَلَاةٍ) نماز میں خشوع و خضوع رکھنے والا، یا کثرت سے نماز پڑھنے والا۔ اور کہا گیا ہے کہ مراد یہ ہے کہ وہ دنیوی تھکان سے نجات پانے کے لیے نماز کے ذریعے اللہ سے مناجات کرتے ہوئے راحت حاصل کرتا ہے۔

(غَامِضٌ) غین اور ضاد معجمہ کے ساتھ، یعنی دبا ہوا، گم نام، مشہور نہ ہو۔

(كَفَافًا) کاف کے فتحہ (زبر) کے ساتھ، یعنی بقدر ضرورت، اس سے زیادہ نہ ہو۔

(عَجِلَتْ منيته) یعنی اس کی بیماری کا کسی کو پتہ نہ چلا اور اچانک وہ مر گیا۔ یہ ان لوگوں کی شان ہے جو لوگوں میں مشہور نہیں ہوتے، کیونکہ اگر وہ کثرت سے بیمار بھی ہوں تو ان کی بیماری کے بارے میں کم ہی لوگ جانتے ہیں۔

(وَقَلَّ تُرَاثُهُ) یعنی اس نے اپنے وارثوں کے لیے ورثے میں تھوڑا مال چھوڑا۔

(وَقَلَّتْ بِوَاكِيهِ) یعنی جب وہ مرتا ہے تو اس پر رونے والے لوگ کم ہوتے ہیں۔

(فوائد) میں ہے: اس کی سند ضعیف ہے، کیونکہ ایوب بن سلیمان ضعیف راوی ہیں، ان کے بارے میں ابوحاتم نے کہا: مجہول ہے، اور ذہبی نے طبقات وغیرہ میں ان کی پیروی کی ہے۔ اور صدقہ بن عبداللہ کے ضعیف ہونے پر سب کا اتفاق ہے۔

میں (سندی) کہتا ہوں: ابوامامہ کی حدیث کو ترمذی نے ایک اور سند کے ساتھ اضافہ کے ساتھ روایت کیا ہے، جسے انہوں نے حسن کہا ہے۔

[حاشیہ السندی علی سنن ابن ماجہ: حدیث 4117]

---

حاصل کردہ اسباق و نکات:

1. قابلِ رشک مومن کی تعریف: اس حدیث میں اللہ تعالیٰ کے نزدیک "اغبط" (سب سے زیادہ قابلِ رشک) اولیاء کی صفات بیان کی گئی ہیں، یعنی وہ مقرب بندے جن جیسی کیفیت اور حالت پانے کی ہر کسی کو خواہش ہونی چاہیے۔

2. خفيف الحاذ کے معنی:

   · محدثین اور شارحین نے اس کی مختلف تفسیریں کی ہیں:

     · سیوطی: ہلکی پھلکی حالت والا، یا کم بال بچوں والا۔

     · طیبی: جس کے بال بچے اور زیادہ دنیوی مشغولیتیں نہ ہوں۔

   · حاصل یہ ہے کہ یہ شخص دنیوی بوجھ اور ذمہ داریوں سے ہلکا ہوتا ہے، جس کی وجہ سے وہ آخرت کے لیے زیادہ وقت اور توجہ دے سکتا ہے۔

3. نماز میں حظ (لذت) کی اہمیت:

   · "ذُو حَظٍّ من صَلَاةٍ" سے مراد صرف نماز پڑھنا نہیں، بلکہ نماز میں خشوع و خضوع اور اللہ سے مناجات کی لذت حاصل کرنا ہے۔

   · یہ وہ مقام ہے جہاں نماز بندے کے لیے دنیوی تھکانوں سے نجات اور روحانی راحت کا ذریعہ بن جاتی ہے۔

4. غامض (گمنام) ہونے کی فضیلت:

   · "غامض" یعنی لوگوں میں گم نام اور غیر معروف رہنا۔ یہ صفت اخلاص کے تحفظ اور ریا سے بچنے کا بہترین ذریعہ ہے۔

   · گمنام بندے کی بیماری اور موت کی خبر بھی لوگوں کو نہیں ہوتی، جو اس کی دنیا سے بے رغبتی اور آخرت کی طرف مکمل توجہ کی علامت ہے۔

5. کفاف (بقدر ضرورت) رزق:

   · "كَفَافًا" سے مراد وہ رزق ہے جو ضرورت سے زیادہ نہ ہو، بلکہ بقدر کفایت ہو۔ اس میں قناعت اور توکل کی صفت پوشیدہ ہے۔

   · ایسا شخص نہ تو مال کی فراوانی کی فکر میں مبتلا ہوتا ہے اور نہ ہی محتاجی کی پریشانی میں۔

6. ورثہ اور رونے والوں کا کم ہونا:

   · اس قابلِ رشک مومن کا ترکہ (ورثہ) کم ہوتا ہے، یعنی وہ دنیا میں زیادہ مال جمع نہیں کرتا۔

   · اس کے مرنے پر رونے والے کم ہوتے ہیں، کیونکہ وہ دنیا والوں کے دلوں میں اپنی محبت نہیں ڈالتا بلکہ اللہ کی محبت میں مشغول رہتا ہے۔

7. حدیث کی سند کے بارے میں اہم نکات:

   · سندی حاشیہ میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ روایت سند کے اعتبار سے ضعیف ہے، کیونکہ اس کے راویوں پر جرح کی گئی ہے۔

   · تاہم ترمذی نے ایک اور سند سے اس حدیث کو نقل کیا ہے جسے انہوں نے "حسن" قرار دیا ہے۔

   · اس سے معلوم ہوتا ہے کہ محدثین مختلف اسانید کی بنیاد پر حدیث کے درجات میں فرق کرتے ہیں۔

8. عملی زندگی کے لیے رہنما اصول:

   · دنیوی بوجھ اور ذمہ داریوں کو ہلکا کرنے کی کوشش کریں تاکہ آخرت کے لیے توجہ مرکوز ہو سکے۔

   · نماز کو محض رسم نہ سمجھیں بلکہ اس میں خشوع، لذت اور مناجات کی کیفیت پیدا کریں۔

   · شہرت اور ناموری کی خواہش کو دل سے نکالیں اور گمنامی میں رہ کر اللہ کی عبادت کریں۔

   · رزق میں قناعت اور توکل کو اپنائیں، ضرورت سے زیادہ جمع کرنے کے بجائے بقدر کفایت پر اکتفا کریں۔

   · لوگوں کی توجہ اور تعریف کے بجائے اللہ کی رضا کو مطلوب بنائیں۔





تشریح علامہ مناوی:

(إن أغبط الناس عندي) ایک روایت میں "إن أغبط أوليائي" ہے یعنی میرے نزدیک سب سے زیادہ قابلِ رشک (میرے دوستوں میں سے) (لمؤمن خفيف الحاذ) "حاذ" حاء مہملہ اور ذال معجمہ کے ساتھ، خفیف (تخفیف کے ساتھ) یعنی کم مال والا، بال بچوں (اور ذمہ داریوں) سے ہلکا پھلکا (ذو حظ من الصلاة) یعنی اللہ سے مناجات کرنے میں راحت پانے والا اور (اللہ کے حضور) مشاہدے میں محو رہنے والا، اسی معنی میں حدیث ہے "ارحنا يا بلال بالصلاة" (اے بلال! ہمیں نماز سے راحت پہنچا) (أحسن عبادة ربه) یہ تخصیص کے بعد عموم ہے (یعنی پہلے نماز کا خاص طور پر ذکر کیا، پھر عام طور پر تمام عبادات کی خوبصورت ادائیگی)، اور مراد عبادت کو اخلاص کے ساتھ بہترین طریقے سے بجا لانا ہے، اور اسی پر (أطاعه في السر) (اس کی پوشیدہ اطاعت کی) کا عطف تفسیری ہے (یعنی اخلاص کے ساتھ عبادت کرنے کی تفسیر یہ ہے کہ وہ چھپ کر اللہ کی اطاعت کرے) (وكان غامضا في الناس) یعنی لوگوں میں دبا ہوا، گم نام، مشہور نہ ہو (لا يشار إليه) یعنی لوگ اس کی طرف اشارہ نہ کریں (بالأصابع) انگلیوں سے، یہ غموض (گمنامی) کے معنی کی وضاحت اور تشریح ہے (وكان رزقه كفافا) یعنی بقدر ضرورت، نہ زیادہ نہ کم (فصبر على ذلك) اس سے بیان فرمایا کہ ان تمام باتوں کی اصل (بنیاد) صبر ہے اور اسی صبر کی وجہ سے وہ طاعت (فرمانبرداری) پر قادر ہوتا ہے، جیسا کہ ارشاد باری ہے: {أولئك يجزون الغرفة بما صبروا} (یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے صبر کی وجہ سے جنت کے بالاخانے سے نوازے جائیں گے

(عجلت منيته) یعنی اس کی روح جلد قبض کر لی گئی، کیونکہ اس کا دل دنیا سے کم وابستہ تھا اور آخرت کی طلب غالب تھی (وقل تراثه (1)) ایک روایت میں یہ اضافہ ہے: "وقلت بواكيه" یعنی اس کے رونے والے کم تھے، اس کے بال بچوں کی کمی اور لوگوں کی نگاہ میں اس کی حقارت اور ان کے بے اعتنائی کی وجہ سے۔

شیخ ابن عربی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ وہ برگزیدہ ہستیاں ہیں جنہوں نے ولایت کے اعلیٰ ترین مراتب حاصل کر لیے، یہ وہ لوگ ہیں جنہیں اللہ نے اپنی طرف مخصوص کر لیا، اپنی حفاظت میں رکھا اور غیرتِ الٰہی کے خیموں میں محفوظ کر دیا۔ مخلوق میں سے کسی کے بس میں یہ نہیں کہ ان لوگوں کے حقوق ادا کر سکے، کیونکہ ان کا مرتبہ بہت بلند ہے۔ چنانچہ اللہ نے ان کے ظواہر کو عادات اور ظاہری اعمال (جیسے عبادات) کے خیموں میں روک رکھا ہے، وہ نہ کسی خرقِ عادت (معجزے یا کرامت) سے پہچانے جاتے ہیں، نہ ان کی تعظیم کی جاتی ہے، اور نہ عام لوگوں کی اصطلاح میں "صالح" سمجھ کر ان کی طرف انگلیاں اٹھائی جاتی ہیں۔ یہی لوگ دنیا میں پرہیزگار، امین اور لوگوں میں گم نام اولیاء ہیں۔

بڑے اولیاء جب اپنی طبیعت پر چھوڑ دیے جائیں تو ان میں سے کوئی بھی شہرت اور ظہور کو پسند نہیں کرتا، کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں صرف اپنے لیے پیدا کیا ہے، اس لیے وہ اپنے آپ کو اسی میں مشغول رکھتے ہیں جس کے لیے وہ پیدا کیے گئے ہیں۔ اگر اللہ تعالیٰ ان کے کسی اختیار کے بغیر، لوگوں کے دلوں میں ان کی محبت ڈال کر انہیں ظاہر فرما دے تو یہ اس کا کام ہے، اس میں ان کا کوئی عمل دخل نہیں۔ اور اگر وہ انہیں چھپائے رکھے اور لوگوں کے دلوں میں ان کی کوئی قدر و منزلت نہ ڈالے کہ وہ ان کی تعظیم کریں، تو یہ بھی اسی کی طرف سے ہے۔ ان کا اللہ کے انتخاب کے مقابلے میں کوئی اختیار نہیں۔ ان میں سے بہترین لوگ وہ ہیں جو پردہ (گمنامی) اور اللہ کی طرف منقطع ہونے کو پسند کرتے ہیں۔

(تتمہ) ابن عطاء اللہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اپنے نفس کو پاکدامنی کی وجہ سے کوئی نسبت نہ دے، نہ تھوڑے مال اور بقدر کفایت رزق کی وجہ سے (اپنی تعریف نہ کر)، بلکہ اپنے اوپر اللہ کے فضل کا مشاہدہ کر۔

(اس حدیث کو) امام احمد، ترمذی، ابن ماجہ اور حاکم نے "کتاب الاطعمة" میں روایت کیا ہے، اور امام حاکم نے اسے صحیح کہا ہے (عن أبي أمامة) حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔ ابن القطان نے کہا: جس نے اسے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی طرف منسوب کیا اس نے غلطی کی۔ "المنار" میں ہے: یہ حدیث ضعیف ہے کیونکہ اسے عبداللہ بن زحر نے علی بن یزید سے اور انہوں نے قاسم سے روایت کیا ہے، اور یہ سب ضعیف راوی ہیں۔ امام ذہبی نے حاکم کے اسے صحیح کہنے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا: بلکہ یہ حدیث ضعف سے قریب تر ہے۔ حافظ عراقی نے کہا: اسے ترمذی اور ابن ماجہ نے دو ضعیف سندوں کے ساتھ روایت کیا ہے۔ ابن جوزی نے کہا: یہ حدیث صحیح نہیں، اس کے راویوں میں مجہول اور ضعیف دونوں قسم کے لوگ ہیں، اور بعید نہیں کہ یہ انہی کا وضع کردہ ہو۔

---

(1) یعنی وہ مال جو اس نے پیچھے چھوڑا۔ یہ صفت اویس قرنی اور ان کے مانند دوسرے ظاہری (غریب اور گمنام) لوگوں کی ہے۔ اور اولیاء میں سے کچھ ایسے بھی ہیں جو ان سے بھی بلند مرتبہ ہیں، اور وہ وہ بندہ ہے جسے اللہ نے (اپنی مشیت کے لیے) استعمال کیا ہے، وہ اللہ کی قبضے میں ہے، اسی (اللہ) کے ساتھ وہ بولتا ہے، اسی کے ساتھ دیکھتا ہے، اسی کے ساتھ سنتا ہے، اسی کے ساتھ پکڑتا ہے۔ اللہ نے اسے اولیاء کا علمبردار، اہل زمین کے لیے امان، اہل آسمان کی نظر (کیا ہوا)، اللہ کا خاصہ، اس کی نگاہ کا مرکز، اس کے راز کا معدن، اس کا کوڑا (عذاب) جس سے وہ اپنی مخلوق کو ادب سکھاتا ہے، اس کے دیدار سے مردہ دلوں کو زندہ کرتا ہے۔ وہ اولیاء کا امیر اور قائد ہے، جو اپنے رب کی حمد و ثنا میں مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے کھڑا ہے، اللہ اس پر فرشتوں کے سامنے فخر کرتا ہے، اور وہی "قطب" ہے۔

[فیض القدیر-للمناوی:2210]

---

حاصل کردہ اسباق و نکات:

1. اللہ کے نزدیک قابلِ رشک مومن کی صفات: حدیثِ قدسی میں اللہ تعالیٰ نے اپنے نزدیک قابلِ رشک اولیاء (مقرب بندوں) کی پانچ اہم صفات بیان فرمائی ہیں:

   · خفيف الحاذ: دنیوی بوجھ (مال، اولاد اور ذمہ داریوں) سے ہلکا ہونا۔

   · ذو حظ من الصلاة: نماز میں لذت اور راحت پانا، اللہ سے مناجات میں محو ہو جانا۔

   · إحسان العبادة والطاعة في السر: عبادت کو خوبصورتی سے ادا کرنا اور پوشیدہ طور پر اللہ کی اطاعت گزار ہونا (یعنی اخلاصِ کامل)۔

   · غامض في الناس: لوگوں میں گم نام، غیر معروف اور مشہور نہ ہونا۔

   · رزقہ كفاف: روزی بقدر ضرورت اور کفایت پر صابر رہنا۔

2. ان صفات کا حاصل "صبر" ہے: ان تمام صفات کی بنیاد اور ان پر قائم رہنے کا راز "صبر" ہے۔ صبر ہی وہ چیز ہے جو بندے کو ان خوبیوں پر قائم رکھتی ہے اور آخرت کی بلندیوں تک پہنچاتی ہے۔

3. گمنامی (خمول) کا مقام: سلف صالحین اور اولیاء کرام کی نظر میں شہرت سے بچنا اور گمنام رہنا ایک پسندیدہ اور اعلیٰ صفت ہے۔ یہ اخلاص کے تحفظ کا ذریعہ ہے۔ ایسے لوگوں کی طرف لوگ انگلیاں نہیں اٹھاتے، نہ انہیں عام اصطلاح میں "بڑا بزرگ" سمجھا جاتا ہے۔

4. دنیا اور آخرت کا تضاد: یہ گمنام اور دنیا میں حقیر سمجھے جانے والے لوگ آخرت میں اللہ کے مقرب ترین بندے ہوں گے۔ دنیا میں ان کی کوئی عزت نہیں ہوتی، مگر اللہ کے ہاں ان کا مرتبہ بہت بلند ہے۔

5. اولیاء کے مراتب: ابن عربی کی شرح سے اولیاء کے دو درجے واضح ہوتے ہیں:

   · اولیاء غامضون (پوشیدہ اولیاء): اوپر بیان کردہ صفات والے لوگ، جو اللہ کی طرف منقطع ہیں، مخلوق سے چھپے ہوئے ہیں اور کسی کرامت یا خرقِ عادت سے ظاہر نہیں ہوتے۔

   · اولیاء کاملون (مکمل اولیاء): جو اللہ کے قبضۂ قدرت میں ہیں، اللہ انہیں استعمال کرتا ہے، وہ اللہ ہی سے بولتے، دیکھتے، سنتے اور پکڑتے ہیں۔ یہ "قطب" کا مقام ہے۔ ان کا مرتبہ پوشیدہ اولیاء سے بھی بلند ہے، جیسے اویس قرنی اور ان کے مانند بزرگ۔

6. اللہ کی مرضی کے سامنے سر تسلیم خم: کامل اولیاء کی شان یہ ہے کہ وہ اپنے ظہور یا اخفا میں اپنا کوئی اختیار نہیں رکھتے۔ اگر اللہ انہیں چھپائے رکھے تو شکر کرتے ہیں، اور اگر لوگوں کے دلوں میں ان کی محبت ڈال کر ظاہر فرما دے تو اسے بھی اللہ ہی کی طرف سے مانتے ہیں، اس میں اپنا کوئی عمل نہیں سمجھتے۔ بہترین لوگ وہ ہیں جو پردہ اور گمنامی کو پسند کرتے ہیں۔

7. نسبت سے بچنا اور فضلِ الٰہی کا مشاہدہ کرنا: ابن عطاء اللہ کا قیمتی اصول ہے کہ اپنی پاکدامنی، قناعت اور صبر کو دیکھ کر اپنی تعریف نہ کرو اور نہ ان صفات کو اپنی جانب منسوب کرو، بلکہ ان نعمتوں کو اللہ کا فضل سمجھ کر اس کا مشاہدہ کرو۔ یہ عین عجز اور تواضع ہے۔

8. حدیث کی سند کے بارے میں تنبیہ: اگرچہ حدیث کے معنی اور مضامین دوسرے صحیح دلائل سے ثابت ہیں، لیکن یہ خاص روایت (ابوامامہ رضی اللہ عنہ والی) محدثین کے نزدیک سند کے اعتبار سے ضعیف ہے۔ اس کے راویوں پر جرح کی گئی ہے اور اسے صحیح نہیں کہا جا سکتا۔ تاہم اس کے معنی و مفہوم قرآن و سنت کے عام اصولوں سے مطابقت رکھتے ہیں۔

9. قطب کا تصور: حاشیے میں "قطب" کا ذکر اولیاء کے ایک خاص درجے کے طور پر کیا گیا ہے، جو اولیاء کے سردار اور اللہ کے خاص بندے ہوتے ہیں۔ یہ تصور تصوف کی اصطلاحات میں سے ہے اور اس کی حقیقت کا علم اللہ ہی کو بہتر معلوم ہے۔

10. عملی زندگی میں ان نکات کو اپنانے کا طریقہ:

    · نماز کو محض ایک رسم نہ سمجھیں بلکہ اس میں راحت اور لذت تلاش کریں۔

    · نیکی کو جتنا ممکن ہو چھپا کر کریں۔

    · شہرت کی خواہش کو دل سے نکالیں۔

    · اللہ کی طرف سے ملنے والے تھوڑے پر صبر اور قناعت کریں۔

    · اپنی عبادت اور اطاعت کو اللہ کا فضل سمجھیں، اپنی تعریف نہ کریں۔









حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

"بے شک میری امت میں کچھ لوگ ایسے ہیں کہ اگر وہ تم میں سے کسی کے پاس آ کر اس سے ایک دینار مانگے تو وہ اسے نہ دے، اگر اس سے ایک درہم مانگے تو وہ اسے نہ دے، اور اگر اس سے ایک فلس (سب سے چھوٹا سکہ) مانگے تو بھی وہ اسے نہ دے۔ لیکن اگر وہ اللہ سے جنت مانگے تو اللہ اسے وہ عطا فرما دے، اور اگر وہ اس سے دنیا مانگے تو اللہ اسے دنیا نہ دے، اور اللہ نے اسے دنیا اس لیے نہیں دی کہ وہ اس کی نگاہ میں حقیر ہے (بلکہ یہ اس کی بخشش اور آخرت کی بلندی کی وجہ ہے)۔ وہ دو پرانے کپڑوں والا (غریب اور معمولی شکل و صورت والا) ہے، جس کی کوئی پروا نہیں کرتا، اگر وہ اللہ پر (کسی بات کی) قسم اٹھا لے تو اللہ اس کی قسم سچی کر دیتا ہے (اس کی دعا قبول فرماتا ہے)۔"


[الزهد لأحمد بن حنبل:67، ھناد فی الزہد:587، دیکھیں: الصحیحہ:2643]

---

(1) ابرَّ اللهُ قَسَمَه: یعنی اللہ نے اس کی قسم سچی کر دی، اس کی دعا قبول فرما لی اور اسے پورا کیا۔

---

حاصل کردہ اسباق و نکات:

1. دنیا میں بے وقعتی، آخرت میں بلندی: اس حدیث میں ایک بار پھر اس حقیقت کو واضح کیا گیا ہے کہ بہت سے نیک اور مقرب بندے دنیا میں انتہائی حقیر اور گمنام زندگی گزارتے ہیں۔ ان کی ظاہری حالت اتنی معمولی ہوتی ہے کہ لوگ انہیں ایک معمولی سکہ (فلس) بھی دینے سے انکار کر دیتے ہیں۔

2. اللہ کے ہاں مقامِ قبولیت: دنیا میں ان کی بے وقعتی کے باوجود، اللہ کے ہاں ان کا مرتبہ بہت بلند ہے۔ ان کی دعائیں قبول ہوتی ہیں، یہاں تک کہ اگر وہ جنت جیسی عظیم نعمت کا سوال کریں تو اللہ انہیں عطا فرما دیتا ہے۔

3. دنیا سے محرومی، آخرت کی طرف توجہ کا سبب: اللہ تعالیٰ دانستہ طور پر اپنے ان برگزیدہ بندوں کو دنیا کی دولت اور رونق سے محروم رکھتا ہے، تاکہ ان کا دل آخرت کی طرف مکمل طور پر متوجہ رہے۔ یہ محرومی ان کی حقارت کی وجہ سے نہیں، بلکہ ان کے لیے اللہ کی خاص عنایت اور حکمت ہے۔

4. ''ذو طمرین'' کی صفت: یہ حدیث بھی گزشتہ احادیث کی طرح ''ذو طمرین'' (دو پرانے کپڑوں والے) کے تصور کو واضح کرتی ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو دنیاوی اعتبار سے نہایت سادہ اور معمولی ہیں، لیکن اللہ کے ہاں مقرب ہیں۔

5. ''لا یؤبہ لہ'' یعنی بے قدری: ان کی زندگی کا یہ عالم ہوتا ہے کہ کوئی ان کی قدر نہیں کرتا، نہ ان کی بات سنی جاتی ہے اور نہ ہی ان کی حاجت پوچھی جاتی ہے۔ یہ ان کے اخلاص اور تواضع کی نشانی ہے۔

6. قسم کے سچے ہونے کا مطلب: ''لو یقسم علی اللہ لابرہ'' کا مطلب ہے کہ ان کے مقام و مرتبہ کی برکت سے ان کی دعائیں قبول ہوتی ہیں اور اللہ ان کے حق میں بہتری ہی کا فیصلہ فرماتا ہے۔

7. اللہ کی بخشش کا انداز: اللہ اپنے ان بندوں کو دنیا دے کر ''خراب'' نہیں کرنا چاہتا، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ دنیا ان کے لیے فتنہ بن سکتی ہے۔ اس لیے وہ ان کے حصے میں آخرت کی نعمتیں رکھتا ہے، جو بے فنا اور لازوال ہیں۔

8. دنیا اور آخرت میں تضاد کا اصول: یہ حدیث دنیا اور آخرت کے درمیان گہرے تضاد کو واضح کرتی ہے۔ دنیا میں جسے لوگ حقیر سمجھتے ہیں، وہ اللہ کے ہاں عظیم ہو سکتا ہے، اور دنیا میں جسے بڑا سمجھا جاتا ہے، وہ اللہ کے ہاں کچھ حیثیت نہیں رکھتا۔

9. عملی زندگی کے لیے رہنما اصول:

   · ہمیں لوگوں کی ظاہری حالت اور دنیوی مال و دولت سے متاثر نہیں ہونا چاہیے، بلکہ ان کے باطن اور تقویٰ کو دیکھنا چاہیے۔

   · گمنامی اور سادگی کو برا نہ سمجھیں، یہ اللہ کی طرف سے خاص عنایت ہو سکتی ہے۔

   · اپنی دعاؤں میں جنت کا سوال ضرور کریں، کیونکہ یہی اصل کامیابی ہے۔

   · اللہ کی بخشش پر بھروسہ رکھیں، چاہے دنیا میں ہمیں کوئی اہمیت نہ بھی دے۔






No comments:

Post a Comment