Wednesday, 5 December 2012

جنّت کا بیان

جنّت آسمان میں[قرآن، سورۃ الذاریات:22] سدرۃ المنتہیٰ کے پاس[النجم:14] (آخری جنتی کیلئے)آسمانوں اور زمین کی چوڑائی کے برابر[آلِ عمران:133]آرام کی جگہ ہے۔[الفرقان:76]
نہیں ہے وہاں موت[الدخان:56] سورج وسردی[الدھر:13] تکلیف[الحجر:48] غم[فاطر:34] گناہ وبیہودہ بات[]الواقعہ:25]
اس جو دل چاہیں گے موجود ہوگا،وہ بھی ملے گا جن سے آنکھوں کو لذت ہوگی۔ جنتی اس میں ہمیشہ رہیں گے اور وہ کہیں اور جانا پسند نہ کریں گے۔[الزخرف:71،الفرقان:16،الکہف:108]


القرآن : سو کوئی شخص نہیں جانتا کہ انکے لئے کیسی آنکھوں کی ٹھنڈک چھپا کر رکھی گئی ہے۔ یہ ان اعمال کا صلہ ہے جو وہ کرتے تھے۔ بھلا جو مومن ہو وہ اس شخص کی طرح ہو سکتا ہے جو نافرمان ہو؟ دونوں برابر نہیں ہو سکتے۔ [الم سجدہ: ١٧-١٨]

جنت کی خصوصی نعمت:
جس طرح راتوں کی تاریکی میں لوگوں سے چھپ کر انہوں نے بے ریا عبادت کی۔ اس کے بدلے میں اللہ تعالیٰ نے جو نعمتیں چھپا رکھی ہیں۔ ان کی پوری کیفیت کسی کو معلوم نہیں۔ جس وقت دیکھیں گے آنکھیں ٹھنڈی ہو جائیں گی حدیث میں ہے کہ میں نے اپنے نیک بندوں کے لئے جنت میں وہ چیز چھپا رکھی ہے جو نہ آنکھوں نے دیکھی نہ کانوں نے سنی نہ کسی بشر کے دل میں گذری۔ (تنبیہ) سر سید وغیرہ نے اس حدیث کو لے کر جنت کی نعمائے جسمانی کا انکار کیا ہے۔ میرا ایک مضمون "ہدیہ سنیہ" کے نام سے چھپا ہے اس میں جواب دیکھ لیا جائے۔

ابوہریرہ  ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا : (( قَالَ اللّٰہُ تَبَارَکَ وَ تَعَالٰی أَعْدَدْتُ لِعِبَادِيَ الصَّالِحِیْنَ مَا لَا عَیْنٌ رَأَتْ، وَلَا أُذُنٌ سَمِعَتْ، وَلَا خَطَرَ عَلٰی قَلْبِ بَشَرٍ، قَالَ أَبُوْ ھُرَیْرَۃَ اقْرَؤُوْا إِنْ شِءْتُمْ : (فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّآ اُخْفِيَ لَهُمْ مِّنْ قُرَّةِ اَعْيُن) [السجدۃ:۱۷]))
[ بخاري، التفسیر، باب قولہ : ( فلا تعلم نفس ما أخفي۔۔ ) : ٤۷۷۹۔ مسلم : ۲۸۲٤ ]
’’اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے، میں نے اپنے صالح بندوں کے لیے وہ کچھ تیار کر رکھا ہے جو نہ کسی آنکھ نے دیکھا اور نہ کسی کان نے سنا اور نہ کسی بشر کے دل میں اس کا خیال آیا۔‘‘ ابوہریرہ  ؓ نے فرمایا، اگر چاہو تو اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان پڑھ لو : (سو کوئی شخص نہیں جانتا کہ انکے لئے کیسی آنکھوں کی ٹھنڈک چھپا کر رکھی گئی ہے۔) [السجدۃ:۱۷]

سیدنا مغیرہ بن شعبہ  ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ موسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے عرض کی، اے باری تعالیٰ ! ادنیٰ جنتی کا درجہ کیا ہے ؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا، ادنیٰ جنتی وہ شخص ہے جو تمام جنتیوں کے جنت میں چلے جانے کے بعد آئے گا، اس سے کہا جائے گا، جنت میں داخل ہو جاؤ۔ وہ کہے گا، اے اللہ ! کہاں جاؤں، ہر ایک نے تو اپنی اپنی جگہ پر قبضہ کر لیا ہے اور اپنی چیزیں سنبھال لی ہیں۔ اس سے کہا جائے گا کہ کیا تو اس پر خوش ہے کہ تیرے لیے اتنا ہو جتنا دنیا کے کسی بہت بڑے بادشاہ کے پاس تھا؟ وہ کہے گا، اے میرے رب ! میں اس پر خوش ہوں۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا، تجھے یہ سب کچھ دیا جاتا ہے اور اتنا اور، اتنا اور، اتنا اور، اتنا اور، اتنا اور۔ پانچویں بار یہ کہے گا، ( بس بس) اے میرے رب ! میں راضی ہو گیا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا، یہ سب ہم نے تجھے دیا اور اس کا دس گنا اور بھی دیا اور جس چیز کو بھی تیرا دل چاہے اور جس سے تیری آنکھیں ٹھنڈی رہیں (وہ بھی تو لے لے)۔ یہ کہے گا، میرے پروردگار ! میں راضی ہو گیا۔ موسیٰ علیہ السلام نے کہا، پھر اے اللہ ! اعلیٰ درجے کے جنتی کی کیفیت کیا ہے ؟ فرمایا، یہ وہ لوگ ہیں جن کو میں نے خود چنا اور ان کی بزرگی و عزت کو میں نے اپنے ہاتھ سے لکھا اور اس پر اپنی مہر لگا دی ہے، پھر نہ تو وہ کسی کے دیکھنے میں آئی، نہ کسی کے سننے میں اور نہ کسی کے خیال میں۔‘‘ اور اس چیز کی تصدیق یہ آیت کرتی ہے : (فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّآ اُخْفِيَ لَهُمْ مِّنْ قُرَّةِ اَعْيُنٍ ۚ جَزَاۗءًۢ بِمَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ  ) [السجدۃ:۱۷]
[ مسلم، کتاب الإیمان، باب أدنی أہل الجنۃ منزلۃ فیہا : ۱۸۹ ]



سیدنا مغیرہ بن شعبہ  ؓ بیان کرتے ہیں کہ ہمارے نبی ﷺ نے ہمارے رب کی طرف سے ہمیں یہ خبر دی ہے کہ جو کوئی ہم میں سے (جہاد میں) مارا جائے گا، وہ جنت میں ایسی نعمتوں میں پہنچ جائے گا جن نعمتوں کے مثل اس نے کبھی کوئی نعمت نہیں دیکھی ہو گی۔
[ بخاری، کتاب الجزیۃ والموادعۃ، باب الجزیۃ والموادعۃ مع أہل الذمۃ والحرب : ۳۱۵۹ ]

جنت کا وعدہ کن باتوں کو نہ کرنے میں ہے؟
کبیرہ گناہ خصوصاََ کھلی بےحیائی[قرآن، سورۃ الشوریٰ:36-37]
شرک، جھوٹ، زنا[الفرقان:68+76]
تکبر [الم سجدۃ:15-17]
بےفائدہ فضولیات [المومنون:3+11]
اللہ و رسول ﷺ کے(دین)دشمنوں سے دوستی[المجادلۃ:22]
خواہش پرستی [النازعات:40-41]
فساد [قصص:83] یعنی قتل، ڈاکہ، چوری، زنا، پاکباز عورتوں پر تہمت، دین سے پھرنا پھیرنا، دین کی باتوں کو چھپانا، بدلنا اور ملاوٹ کرنا وغیرہ

=========================
القرآن : احوال اس بہشت کا جس کا وعدہ ہوا ہے ڈرنے والوں سے اس میں نہریں ہیں پانی کی جو بو نہیں کر گیا اور نہریں ہیں دودھ کی جس کا مزہ نہیں پھرا اور نہریں ہیں شراب کی جس میں مزہ ہے پینے والوں کے واسطے اور نہریں ہیں شہد کی جھاگ اترا ہوا اور انکے لئے وہاں سب طرح کے میوےہیں اور معافی ہے انکے رب سے یہ برابر ہے اسکے جو سدا رہے آگ میں اور پلایا جائے انکو کھولتا پانی تو کاٹ نکالے انکی آنتیں۔ [محمد : ١٥]


جنت کی نہریں:
یعنی طول مکث یا کسی چیز کے اختلاط سے اس کی بو نہیں بدلی۔ شہد سے زیادہ شیریں اور دودھ سے زیادہ سفید ہے۔ کسی طرح کے تغیر کو اسکی طرف راہ نہیں۔


دودھ کی نہریں:
یعنی دنیا کے دودھ پر قیاس نہ کرو۔ اتنی مدت گذرنے پر بھی اسکے مزے میں فرق نہیں آیا۔


شراب کی نہریں:
یعنی وہاں کی شراب میں خالص لذت اور مزہ ہی ہے نہ نشہ ہے نہ شکستگی نہ تلخی نہ سرگرانی نہ کوئی اور عیب و نقصان۔
شہد کی نہریں:


یعنی صاف و شفاف شہد جس میں تکدر تو کہاں ہوتا جھاگ تک نہیں (تنبیہ) یہاں چار قسم کی نہروں کا ذکر ہوا جن میں پانی تو ایسی چیز ہے کہ انسان کی زندگی اس سے ہے اور دودھ غذائے لطیف کا کام دیتا ہے اور شراب سرور و نشاط کی چیز ہے۔ اور شہد کو شِفَآءٌ لِّلنَّاسِ فرمایا گیا ہے۔


 سیدنا حکیم بن معاویہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’ جنت میں دودھ، پانی، شہد اور شراب کے سمندر ہیں، جن سے ان کی نہریں اور چشمے جاری ہوں گے۔‘‘ [ مسند أحمد : ۵؍۵، ح : ۲۰۰۷٤۔ ترمذی، کتاب صفۃ الجنۃ، باب ما جاء فی صفۃ أنہار الجنۃ : ۲۵۷۱ ] 

سیدنا ابوہریرہ  ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’جب تم اللہ سے سوال کرو تو جنت الفردوس طلب کرو، کیونکہ وہ سب سے بہتر اور سب سے اعلیٰ جنت ہے، اسی کے اوپر رحمن کا عرش ہے اور اسی سے جنت کی نہریں جاری ہوتی ہیں۔‘‘ [ بخاری، کتاب الجہاد، باب درجات المجاہدین فی سبیل اللہ : ۲۷۹۰ ] 



مشروبات کے بعد یہ ماکولات کا ذکر فرما دیا۔
یعنی سب خطائیں معاف کر کے جنت میں داخل کر یں گے ۔ وہاں پہنچ کر کبھی خطاؤں کا ذکر بھی نہ آئے گا جو انکی کلفت کا سبب بنے اور نہ آئندہ کسی بات پر گرفت ہو گی۔


جہنم میں کفار کی سزائیں:
یعنی کھولتا ہوا پانی جب دوزخیوں کو پلائیں گے تو آنتیں کٹ کر باہر آ پڑیں گی۔ (اعاذنا اللہ منہ)۔






***********************************

دوکروڑ چالیس لاکھ دس ہزار حوروں والا محل:
سَأَلْتُ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ ، وَأَبَا هُرَيْرَةَ ، عَنْ تَفْسِيرِ هَذِهِ الآيَةِ : وَمَسَاكِنَ طَيِّبَةً فِي جَنَّاتِ عَدْنٍ سورة التوبة آية 72 , فَقَالا : عَلَى الْخَبِيرِ سَقَطْتَ ، سَأَلْنَا عَنْهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ : " قَصْرٌ فِي الْجَنَّةِ مِنْ لُؤْلُؤَةٍ ، فِي ذَلِكَ الْقَصْرِ سَبْعُونَ دَارًا مِنْ يَاقُوتَةٍ حَمْرَاءَ ، فِي كُلِّ دَارٍ سَبْعُونَ بَيْتًا مِنْ زَبَرْجَدٍ خَضْرَاءَ ، فِي كُلِّ بَيْتٍ سَبْعُونَ أَلْفَ سَرِيرٍ ، عَلَى كُلِّ سَرِيرٍ سَبْعُونَ فَرْشًا مِنْ كُلِّ لَوْنٍ ، عَلَى كُلِّ فِرَاشٍ امْرَأَةٌ مِنَ الْحُورِ الْعِينِ ، وَفِي كُلِّ بَيْتٍ سَبْعُونَ مَائِدَةً ، عَلَى كُلِّ مَائِدَةٍ سَبْعُونَ لَوْنًا مِنْ كُلِّ الطَّعَامِ ، فِي كُلِّ بَيْتٍ سَبْعُونَ وَصَيْفًا وَوَصِيفَةً ، وَيُعْطَى الْمُؤْمِنُ مِنَ الْقُوَّةِ فِي غَدَاةٍ مَا يَأْتِي عَلَى ذَلِكَ كُلِّهِ " .
[الزهد والرقائق لابن المبارك » رقم الحديث: 1554]
[البحر الزخار مسند البزار » مُسْنَدُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ رَضِيَ اللَّهُ ... رقم الحديث: 3035]
[الوسيط في تفسير القرآن المجيد » سورة التوبة رقم الحديث: 416]

حدیث:حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت وَمَسَاكِنَ طَيِّبَةً فِي جَنَّاتِ عَدْنٍ (التوبۃ:۷۲) کی تفسیر میں ارشاد فرمایا:
ترجمہ:جنت میں ایک محل لؤلؤ کا ہوگا اس محل میں سترگھرسرخ یاقوت کے ہوں گے پھرہرگھر میں سترکمرے سبززمرد کے ہوں گے اور ہرکمرے میں ستر تخت ہوں گے اور ہرتخت پرہررنگ کے ستردسترخوان ہوں گے، ہردسترخوان پرستر قسم کے کھانے چنے ہوں گے، ہرکمرے میں سترلڑکے اور سترلڑکیاں (خدمتگار) ہوں گی اللہ عزوجل ہرمؤمن کو (ہر) ایک صبح میں اتنی طاقت عطاء فرمائیں گے کہ وہ نعمتوں سے مستفید ہوسکے گا۔ 
(ابن ابی الدنیا:۱۸۱۔ زوائد مروزی علیٰ زاہد ابن المبارک:۱۵۷۷)

فائدہ:اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اس محل میں (۲۴۰۱۰۰۰۰) حورعین ہوں گی اور اتنے ہی رنگ کے کھانے اور اتنے ہی خادم اور خادمائیں ہوں گی۔


المصدر : الترغيب والترهيب الصفحة أو الرقم: 4/375 خلاصة حكم المحدث :[لا يتطرق إليه احتمال التحسين]
المحدث : ابن كثير

المصدر : نهاية البداية والنهاية الصفحة أو الرقم: 2/239 خلاصة حكم المحدث : غريب



































(جاری ہے)





















































No comments:

Post a Comment