کیوں جنت میں گناہگار-مسلمان تو بالآخر جائے گا لیکن اچھا-کافر نہیں؟
جنت کی خصوصی نعمت:
حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا :
كَيْفِيَّةُ
دُخُولِ المُؤْمِنِينَ الجَنَّة (مومن جنت میں کیسے داخل ہوں گے)
(م) , عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ - رضي الله عنه - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم -: (" آتِي بَابَ الْجَنَّةِ يَوْمَ
الْقِيَامَةِ فَأَسْتَفْتِحُ، فَيَقُولُ الْخَازِنُ: مَنْ
أَنْتَ؟ , فَأَقُولُ: مُحَمَّدٌ، فَيَقُولُ: بِكَ أُمِرْتُ، لَا أَفْتَحُ لِأَحَدٍ قَبْلَكَ ")
ترجمہ:
حضرت
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"میں
قیامت کے دن جنت کے دروازے پر آؤں گا اور (دروازہ کھلوانے کے لیے) دستک دوں گا۔
(جنت کا) خازن (محافظ) پوچھے گا: 'تم کون ہو؟' میں کہوں گا: 'محمد (صلی اللہ علیہ
وسلم) ہوں۔' وہ کہے گا: 'مجھے آپ ہی کے لیے (پہلے کھولنے کا) حکم دیا گیا تھا، میں
آپ سے پہلے کسی کے لیے (یہ دروازہ) نہیں کھولوں گا۔'"
حوالہ جات:(م) صحیح مسلم: 197، (حم) مسند احمد: 12420
حدیث
سے حاصل اسباق ونکات:
- رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وسلم کی امتیازی شان اور فضیلت کے حوالے سے: یہ حدیث رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم کے بلند ترین مقام و مرتبے کی واضح ترین دلیل ہے۔
پوری امت کے نبی ہونے کے ناطے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم قیامت کے دن پہلے
شخص ہوں گے جن کے لیے جنت کا دروازہ کھولا جائے گا۔ یہ آپ کی شفاعتِ
عظمیٰ اور تمام مخلوقات پر آپ کی فضیلت کا ایک مظہر ہے۔
- سبق: ہر
مسلمان پر لازم ہے کہ وہ اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کو اپنے ایمان
کا حصہ بنائے، آپ کی اطاعت و اتباع کو اپنا شعار بنائے اور آپ کے مقام و
مرتبے کا پورا ادب و احترام ملحوظ رکھے۔
- جنت کے
دروازوں پر محافظ فرشتوں کے حوالے سے: حدیث میں
جنت کے "خازن" (محافظ/نگہبان فرشتے) کا ذکر ہے جو اللہ
کے حکم کے پابند ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جنت ایک محفوظ اور منظم جگہ
ہے جس کے داخل و خارج پر اللہ کی جانب سے مقرر کردہ فرشتے نگران ہیں۔
- سبق: جنت اللہ
کی ایک عظیم نعمت ہے، اس تک رسائی آسان نہیں۔ ہر چیز اللہ کے حکم اور اس کی
مشیت سے ہوتی ہے، حتیٰ کہ جنت کے دروازے بھی۔
- نبی صلی
اللہ علیہ وسلم کے نام کی برکت اور اس کی پہچان کے حوالے سے: جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنا
نام "محمد" بتاتے ہیں تو خازن فوراً پہچان
جاتا ہے اور کہتا ہے کہ اسے اسی نام کے لیے (پہلے دروازہ
کھولنے کا) حکم تھا۔ یہ "نامِ محمد" کی عظمت، برکت اور آسمانی دنیا
میں اس نام کی معروفیت و مقبولیت کو ظاہر کرتا ہے۔
- سبق: "محمد"
صلی اللہ علیہ وسلم کا نام محض ایک اسم نہیں، بلکہ وہ اسمِ اعظم ہے جو
آسمانوں میں معروف اور زمین پر رحمت بنا کر بھیجا گیا۔ ہمیں اس نام کی حرمت
و تعظیم کا ہمیشہ خیال رکھنا چاہیے۔
- قیامت کے
دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت کے آغاز کے حوالے سے: یہ واقعہ درحقیقت قیامت کے دن شفاعتِ
کبریٰ کے بعد کے مراحل میں سے ایک ہے۔ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم
اپنی امت کی شفاعت کر کے انہیں عذاب سے نجات دلا چکے ہوں گے، تو پھر جنت میں
داخلے کا مرحلہ آئے گا، جس کا آغاز خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جنت میں
داخلے سے ہوگا۔
- سبق: ہمیں نبی
صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت کی سخت ضرورت ہے۔ ہمیں اپنی زندگی میں ایسے
اعمال کرنے چاہئیں جو آپ کی شفاعت کے مستحق بنائیں، جیسے آپ پر درود و سلام
بھیجنا، سنتوں پر عمل کرنا اور آپ کی محبت کو زندہ رکھنا۔
- جنت میں
داخلے کا اعزاز اور اس کے لیے تیاری کے حوالے سے: یہ حدیث
ہر مومن کے دل میں جنت کی محبت اور اس میں داخل ہونے کی شدید خواہش پیدا
کرتی ہے۔ جب ہمارا محبوب نبی صلی اللہ علیہ وسلم وہاں پہلے داخل ہوں گے، تو
ہمارا دل بھی اس کے پیچھے جانے کو بے تاب ہوگا۔
- سبق: ہمیں جنت
کے لیے اپنے اعمال درست کرنے چاہئیں۔ جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی
کرے گا، اسی کے قدم جنت کی طرف بڑھیں گے۔ جنت کی طرف پہلا قدم دنیا میں ہی
نبی کی اطاعت کرنا ہے۔
خلاصہ:
یہ
مختصر مگر پُر معنی حدیث ہمیں قیامت کے ایک عظیم الشان منظر سے روشناس کراتی ہے۔
یہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سرفرازی، آپ کے نام کی عظمت اور آپ کی قیامت
کے دن اُمت کے لیے رحمت بن کر اُٹھنے کی تصویر پیش کرتی ہے۔ یہ حدیث ہمارے ایمان
کو تازہ کرتی ہے اور ہمیں جنت کی راہ پر گامزن ہونے کی ترغیب دیتی ہے۔
عَنْ
أَبِي ذَرٍّ - رضي الله عنه - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم -: (" مَنْ أَنْفَقَ زَوْجَيْنِ مِنْ
شَيْءٍ مِنْ الْأَشْيَاءِ فِي سَبِيلِ اللهِ) (١) وفي رواية: (مَا مِنْ عَبْدٍ مُسْلِمٍ يُنْفِقُ مِنْ كُلِّ
مَالٍ لَهُ زَوْجَيْنِ فِي سَبِيلِ اللهِ , إِلَّا) (٢) (دَعَاهُ
خَزَنَةُ الْجَنَّةِ , كُلُّ خَزَنَةِ بَابٍ) (٣) (يَدْعُوهُ
إِلَى مَا عِنْدَهُ:) (٤) (يَا
عَبْدَ اللهِ) (٥) (هَلُمَّ
فَادْخُلْ) (٦) (هَذَا
خَيْرٌ لَكَ (٧)) (٨) (فَإِنَّ
لِلْجَنَّةِ ثَمَانِيَةَ أَبْوَابٍ) (٩) (وَلِكُلِّ
أَهْلِ عَمَلٍ بَابٌ مِنْ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ يُدْعَوْنَ بِذَلِكَ الْعَمَلِ) (١٠) (فَمَنْ
كَانَ مِنْ أَهْلِ الصَلَاةِ , دُعِيَ مِنْ بَابِ الصَلَاةِ، وَمَنْ كَانَ مِنْ
أَهْلِ الْجِهَادِ , دُعِيَ مِنْ بَابِ الْجِهَادِ، وَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ
الصِّيَامِ , دُعِيَ مِنْ بَابِ الرَّيَّانِ (١١) وَمَنْ
كَانَ مِنْ أَهْلِ الصَّدَقَةِ , دُعِيَ مِنْ بَابِ الصَّدَقَةِ " , فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ -
رضي الله عنه -: بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللهِ) (١٢) (مَا عَلَى
أَحَدٍ مِنْ ضَرُورَةٍ مِنْ أَيِّهَا دُعِيَ (١٣)) (١٤) (فَهَلْ يُدْعَى
أَحَدٌ مِنْ تِلْكَ الْأَبْوَابِ كُلِّهَا؟، قَالَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه
وسلم -: " نَعَمْ) (١٥) (وَأَرْجُو
أَنْ تَكُونَ مِنْهُمْ يَا أَبَا بَكْرٍ ") (١٦)
ترجمہ:
حضرت
ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"جو شخص
اللہ کی راہ میں کسی بھی چیز (مال) کی ایک جوڑی (دو عدد) خرچ کرے،(١) (اور ایک دوسری روایت میں یوں ہے: ہر مسلمان بندہ جو اپنے ہر قسم کے مال میں سے ایک
جوڑی اللہ کی راہ میں خرچ کرے، سوائے اس کے کہ)(٢) جنت کے تمام محافظ (فرشتے)، ہر دروازے کا محافظ،(٣) اسے (دلکشی کے ساتھ)
بلائیں گے۔ وہ اسے اپنے پاس موجود (نعمت اور بہتری) کی طرف بلاتے ہوئے کہے گا:(٤) 'اے
اللہ کے بندے!(٥) ادھر آؤ، (اس دروازے سے) داخل ہو جاؤ،(٦) یہ تیرے لیے بہتر ہے۔'(٧) (٨)
کیونکہ بیشک جنت کے آٹھ دروازے ہیں،(٩) اور ہر عمل کرنے والے گروہ کے لیے جنت کے دروازوں میں سے ایک خاص دروازہ ہے، جس (خاص) عمل کے ذریعے وہ بلائے جائیں گے۔(١٠) پس جو نماز (نفل) پڑھنے والوں میں سے ہوگا، اسے 'باب الصلاة' (نماز کا دروازہ) سے بلایا جائے گا۔ جو جہاد کرنے والوں میں سے ہوگا، اسے 'باب الجهاد' (جہاد کا دروازہ) سے بلایا جائے گا۔ جو (نفلی) روزہ رکھنے والوں میں سے ہوگا، اسے 'باب الریان' (سیرابی اور ٹھنڈک کا دروازہ) سے بلایا جائے گا۔(١١) اور جو صدقہ و خیرات کرنے والوں میں سے ہوگا، اسے 'باب الصدقة' (صدقے کا دروازہ) سے بلایا جائے گا۔"
یہ سن کر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: "میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، اے اللہ کے رسول!(١٢) کسی شخص کے لیے اس بات کی کوئی سخت ضرورت تو نہیں کہ اسے ان تمام دروازوں سے کیوں نہ بلایا جائے؟ (کیونکہ ایک دروازے سے بلانے پر بھی جنت میں داخلہ کا اصل مقصد پورا ہو جاتا ہے۔)"(١٣) (١٤) پھر آپ نے دریافت فرمایا: "کیا کوئی ایسا بھی ہوگا جو ان تمام دروازوں سے بلایا جائے؟" رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "ہاں (ایسا بھی ہوگا)!(١٥) اور میں امید رکھتا ہوں کہ اے ابابکر! تم انہی (خوش نصیبوں) میں سے ہوگے۔"(١٦)
حوالہ جات و حواشی:
(١) (خ) صحیح بخاری: 3466 ، (م) صحیح مسلم: 85 (1027)
(٢) (س) سنن نسائی: 3185 ، (حم) مسند احمد: 21379 ، اور شیخ شعیب
الارناؤوط نے فرمایا: اس کی سند صحیح ہے۔
(٣) (خ) صحیح بخاری: 2686 ، 1798 ، 3044
(٤) (س) سنن نسائی: 3185 ، (حم) مسند احمد: 21379
(٥) (خ) صحیح بخاری: 1798 ، (م) صحیح مسلم: 85 (1027)
(٦) (س) سنن نسائی: 3184 ، (خ) صحیح بخاری: 2686
(٧) وضاحت: صعصعہ بن
معاویہ رحمہ اللہ نے حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے پوچھا: "ایک جوڑی
(زَوْجَيْنِ) سے کیا مراد ہے؟" تو انہوں نے فرمایا: "اگر (مال میں) غلام ہیں تو دو غلام، اگر اونٹ ہیں
تو دو اونٹ، اگر گائیں ہیں تو دو گائیں۔" (حم) مسند احمد: 21379
مزید
وضاحت: "اور اگر گھوڑے ہیں تو دو گھوڑے۔" یہاں
تک کہ انہوں نے ہر قسم کے مال کی جوڑی بیان کر دی۔ (حم) مسند احمد: 21451۔ اس
روایت کو دیکھیں: السلسلة الصحيحة تحت حديث: 2681 ، اور الارناؤوط نے کہا: اس کی
سند صحیح ہے۔
(٨) (س) سنن نسائی: 2439 ، (خ) صحیح بخاری: 1798 ، (م) صحیح مسلم: 85 (1027)
(٩) (حم) مسند احمد: 19456 ، دیکھیں السلسلة الصحيحة: 2681
(١٠) (حم) مسند احمد: 9799 ، اور شیخ شعیب الارناؤوط نے فرمایا: اس کی
سند حسن ہے۔
(١١) اہم تشریح (فتح الباری سے): اس میں
اشارہ ہے کہ مراد وہ نفلی اعمال ہیں جو مذکورہ عبادات (نماز، روزہ، وغیرہ)
میں کیے جائیں، نہ کہ ان کی فرض واجبات۔ کیونکہ بہت سے لوگ ایسے ہیں جن
پر تمام فرض واجبات کا اجتماع ہو جاتا ہے (یعنی ہر مسلمان پر فرض نماز، روزہ وغیرہ
لازم ہیں)، برخلاف نفلی عبادات کے، تو کم ہی لوگ ہیں جن پر ہر قسم کی نفلی عبادات
کا اجتماع ہو پاتا ہے۔ پھر جو شخص ان سب نفلی عبادات کو جمع کر لے، اسے تمام
دروازوں سے بلایا جانا اس کی خصوصی تعظیم و تکریم کے طور پر
ہوگا، ورنہ اس کا داخلہ درحقیقت صرف ایک ہی دروازے سے ہوگا، اور غالباً وہ اس عمل
کا دروازہ ہوگا جو اس پر سب سے زیادہ غلبہ رکھتا ہو (یعنی جس نفلی عمل میں وہ سب
سے زیادہ محنت کرتا ہو)۔ واللہ اعلم۔
ساتھ
ہی ایک اور حدیث کی وضاحت: اور جو حدیث امام مسلم نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ
سے روایت کی ہے کہ "جس نے وضو کیا پھر کلمہ شہادت پڑھا..." اس میں ہے "اس کے لیے جنت کے تمام دروازے کھول
دیے جاتے ہیں، وہ جس سے چاہے داخل ہو جائے"، تو یہ پہلی بات کے خلاف نہیں ہے، اگرچہ ظاہراً یہ متعارض دکھائی
دیتا ہے۔ اس کی یوں توجیہ کی جاتی ہے کہ یہ (دروازے کھلنا) اس کی تکریم کے
طور پر ہوتا ہے، پھر داخلے کے وقت وہ صرف اسی دروازے سے داخل ہوگا جس کا عمل اس پر
غالب تھا، جیسا کہ پہلے بیان ہوا۔ واللہ اعلم۔ (فتح الباری، جلد 10، صفحہ 464)
(١٢) (خ) صحیح بخاری: 1798
(١٣) تشریح (تحفة الاحوذي سے): یعنی
جس شخص کو ان دروازوں میں سے کسی ایک دروازے سے بلایا جائے، اس پر یہ ضرورت نہیں
کہ اسے باقی تمام دروازوں سے بھی بلایا جائے، کیونکہ مقصود (یعنی جنت میں داخلہ)
حاصل ہو جاتا ہے۔ اور یہ بات دراصل اس سوال کی تمہید ہے جو آپ نے فرمایا: "تو کیا کوئی ان
تمام دروازوں سے بلایا جائے گا؟" یعنی میں نے یہ سوال اس علم کے بعد کیا کہ جسے
ایک دروازے سے بلایا جائے، اسے باقی دروازوں سے بلانے کی کوئی ضرورت یا احتیاج
نہیں، کیونکہ اس کا مراد (جنت میں داخلہ) تو حاصل ہو ہی جاتا ہے۔ (تحفة الاحوذي:
9/85)
(١٤) (حم) مسند احمد: 7621 ، (خ) صحیح بخاری: 3466 ، (م) صحیح مسلم: 85 (1027)
(١٥) (خ) صحیح بخاری: 1798 ، (م) صحیح مسلم: 85 (1027)
(١٦) (خ) صحیح بخاری: 3466 ، (م) صحیح مسلم: 85 (1027) ، (ت) سنن ترمذی:
3674 ، (س) سنن نسائی: 2238
[الجامع الصحيح للسنن والمسانيد: ج3 ص 229]
حدیث
سے حاصل اسباق ونکات:
- مالی
عبادت کی عظمت اور اس کا بدلہ: حدیث کا بنیادی سبق یہ ہے کہ اللہ
کی رضا کے لیے مال خرچ کرنا نجات اور جنت میں بلند مقام کا ایک یقینی ذریعہ
ہے۔ صرف ہر قسم کے مال میں سے ایک "جوڑی" دینے پر جنت کے
ہر دروازے کے فرشتے اس شخص کو خصوصی عزت و محبت کے ساتھ اپنی طرف بلائیں گے۔
یہ عمل اللہ کے ہاں انتہائی محبوب ہے اور بندے کو اس کی خاص رحمت و قرب سے
نوازتا ہے۔
- جنت کے
دروازے اور اعمال کی مناسبت: یہ حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ:
- جنت کے آٹھ
دروازے ہیں، جو اس کی وسعت، عظمت اور مختلف درجات کی طرف اشارہ ہے۔
- ہر
دروازہ ایک خاص نیک عمل (نماز، روزہ، جہاد، صدقہ) کرنے
والوں کے لیے مخصوص ہے۔ اس سے ہر نیک عمل کی الگ فضیلت، شناخت اور جزا کا
پتہ چلتا ہے۔
- یہاں "اہل عمل" سے مراد
خصوصاً نفلی اعمال میں محنت کرنے والے ہیں، نہ کہ صرف
فرائض ادا کرنے والے۔
- نفلی
عبادات میں مکمل ہونے والوں کی اعلیٰ فضیلت: حضرت
ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے سوال اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے جواب سے
ایک گہرا سبق ملتا ہے۔ اگرچہ ایک ہی نیکی جنت میں لے جانے کے لیے کافی ہے،
لیکن جو شخص مختلف قسم کی نفلی عبادات (نماز، روزہ، جہاد، صدقہ) میں
پوری طرح سرگرم رہے اور اپنی زندگی کو ہر طرح کی نیکی سے معمور کر لے، اس کا
درجہ انتہائی بلند ہے۔ ایسے کامل مومنوں کو جنت کے تمام
دروازوں سے بلایا جائے گا، جو ان کے لیے اللہ کی جانب سے خصوصی تکریم
اور اعلیٰ مقام کی علامت ہوگی۔
- حضرت
ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی سیرت و عظمت: رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ "اور میں امید رکھتا ہوں کہ اے
ابابکر! تم انہی میں سے ہوگے" حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی جامع
نیکی، کامل اطاعت اور ہر میدان میں سبقت پر دلالت کرتا ہے۔ یہ ان کی
امتیازی فضیلت ہے کہ آپ نے ہر قسم کی نیکی میں پوری امت کے لیے نمونہ پیش
کیا۔
- عمل کے
ذریعے پہچان اور بلانے کا اصول: حدیث یہ
بھی سکھاتی ہے کہ آخرت میں ہر شخص کو اس کے اعمال کی بنیاد پر پہچانا
اور بلایا جائے گا۔ ہمارا عمل ہماری پہچان بن جائے گا۔ اس لیے ہمیں
ایسے اعمال اختیار کرنے چاہئیں جو ہمیں جنت کے ان دروازوں تک پہنچائیں۔
خلاصہ: یہ
حدیث ہمیں مالی قربانی کی فضیلت، جنت کے دروازوں کی حقیقت، نفلی عبادات کی اہمیت،
اور ایک کامل مومن بننے کی ترغیب دیتی ہے۔ یہ ہمارے دل میں اللہ کی راہ میں خرچ
کرنے کا جذبہ پیدا کرتی ہے اور ہمیں ہر قسم کی نیکی میں محنت کرنے پر اُبھارتی ہے
تاکہ ہم بھی ان خوش نصیبوں میں شامل ہو سکیں جنہیں جنت کے تمام دروازوں سے بلایا
جائے گا۔
عَنْ
جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ - رضي الله عنهما - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم -: (" يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِي) (١) (أَوَّلُ
زُمْرَةٍ (٢)) (٣) (سَبْعُونَ
أَلْفًا بِغَيْرِ حِسَابٍ) (٤) (مُتَمَاسِكُونَ
آخِذٌ بَعْضُهُمْ بَعْضًا , لَا يَدْخُلُ أَوَّلُهُمْ حَتَّى يَدْخُلَ آخِرُهُمْ) (٥) (تُضِيءُ
وُجُوهُهُمْ إِضَاءَةَ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ) (٦) (ثُمَّ
الَّذِينَ يَلُونَهُمْ عَلَى أَشَدِّ كَوْكَبٍ دُرِّيٍّ (٧) فِي
السَّمَاءِ إِضَاءَةً) (٨) (ثُمَّ
هُمْ بَعْدَ ذَلِكَ مَنَازِلُ ") (٩)
ترجمہ:
حضرت
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
فرمایا:
"میری
امت میں سے جنت میں سب سے پہلے داخل ہونے والی(١) (ایک) جماعت (ایک
روایت میں: سب سے پہلی
جماعت(٢)) (٣) ستر ہزار
(70,000) افراد ہوں گے جن کا حساب کتاب نہیں ہوگا۔(٤) (وہ اس
طرح ہوں گے کہ) ایک دوسرے سے
چمٹے ہوئے اور ایک دوسرے کو پکڑے ہوئے ہوں گے، ان میں سے پہلا شخص (بھی) داخل نہیں
ہوگا یہاں تک کہ ان کا آخری شخص (بھی پہنچ جائے اور) داخل ہو جائے۔(٥)
ان کے چہرے چودھویں رات کے چاند کی طرح چمکیں گے۔(٦) پھر ان کے بعد والے (گروہ) آسمان کے سب سے زیادہ چمکدار چمکتے ہوئے ستارے(٧) کی طرح روشن ہوں گے۔(٨) پھر اس کے بعد (جنت میں) ان کے (اپنے اپنے) درجات ہوں گے۔"(٩)
حوالہ جات اور حواشی:
(١) (خ) صحیح بخاری: 5474
(٢) "الزُّمرة" کا معنی: لوگوں
کی جماعت۔
(٣) (خ) صحیح بخاری: 3073
(٤) (م) صحیح مسلم: 216
(٥) (خ) صحیح بخاری: 6187
(٦) (خ) صحیح بخاری: 6176
(٧) "الدُّرِّيّ" کا معنی: شدید
روشنی والا تارا۔ امام فراء نے کہا: یہ وہ بڑے حجم کا تارا ہے، گویا کہ یہ
"دُر" (موتی) کی طرف منسوب ہے اس کی سفیدی اور چمک کی وجہ سے۔ (فتح
الباری، جلد 10، صفحہ 40)
(٨) (خ) صحیح بخاری: 3149
(٩) (م) صحیح مسلم: 2834
حدیث
سے حاصل اسباق ونکات:
- امت
محمدیہ کی خصوصی فضیلت اور بے حساب بخشش کا وعدہ: اس حدیث
کا سب سے پہلا اور اہم سبق یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے امت محمدیہ کے
ایک بڑے گروہ (70,000) کو بے حساب جنت میں داخلے کی سعادت عطا فرمائی ہے۔ یہ
صرف ان کے اعمال کی کثرت کی وجہ سے نہیں، بلکہ اللہ کے فضل، رحمت اور
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت کی برکت سے ہے۔ "بِغَيْرِ
حِسَابٍ" کا لفظ اس بات کی واضح دلیل ہے کہ یہ لوگ براہ راست رحمت الٰہی
اور شفاعتِ نبوی کی بدولت جنت میں جائیں گے۔
- سبق: ہمیں
اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر فخر ہونا چاہیے اور ان کی شفاعت کے حصول کی
کوشش میں لگے رہنا چاہیے۔ ساتھ ہی، ہمیشہ اللہ کی رحمت سے امید رکھنی چاہیے،
کیونکہ وہ اپنے فضل سے ہمیں وہ کچھ عطا فرما سکتا ہے جس کے ہم محاسبے کے
لحاظ سے مستحق نہیں۔
- اتحاد،
اخوت اور باہمی تعاون کی اہمیت اور اس کا اجر: حدیث میں
"مُتَمَاسِكُونَ آخِذٌ بَعْضُهُمْ بَعْضًا" (ایک دوسرے سے چمٹے
ہوئے اور ایک دوسرے کو پکڑے ہوئے) اور "لَا يَدْخُلُ أَوَّلُهُمْ حَتَّى
يَدْخُلَ آخِرُهُمْ" (ان میں سے پہلا شخص داخل نہیں ہوگا یہاں تک کہ
آخری شخص بھی داخل نہ ہو جائے) کی جو تصویر پیش کی گئی ہے، وہ مسلمانوں
کے درمیان مضبوط اتحاد، گہری اخوت اور ایک دوسرے کے ساتھ تعاون و ہمدردی کی
انتہائی خوبصورت علامت ہے۔ یہ بتاتا ہے کہ جنت صرف انفرادی عبادت ہی سے نہیں،
بلکہ اجتماعی بھلائی، ایک دوسرے کی فکر اور مل کر چلنے سے
بھی ملتی ہے۔
- سبق: ہمیں
اپنے دینی بھائیوں کے ساتھ محبت، ہمدردی اور مضبوط تعلق قائم رکھنا چاہیے۔
دوسروں کی مدد کرنا، انہیں نیکی کی طرف بلانا اور ان کے ساتھ مل کر جنت کی
راہ پر چلنا ہمارے ایمان کا حصہ ہونا چاہیے۔
- نیک اعمال
اور تقویٰ کا ظاہری اثر: چہرے کی نورانیت: حدیث میں
دو گروہوں کے چہروں کی روشنی کا ذکر ہے: پہلے گروہ کے چہرے چودھویں
رات کے چاند کی طرح، اور دوسرے گروہ کے چہرے سب سے چمکدار
ستارے کی طرح۔ یہ اس بات کی واضح نشانی ہے کہ دنیا میں
ایمان، تقویٰ، نیک اعمال اور اللہ کی یاد سے انسان کے باطن پر جو نورانیت اور
پاکیزگی آتی ہے، وہ آخرت میں اس کے چہرے کی چمک اور روشنی کی صورت میں ظاہر
ہوگی۔ یہی وجہ ہے کہ مومن کے چہرے قیامت کے دن روشن اور خوش نظر
آئیں گے۔
- سبق: ہمیں
اپنے اعمال اور اخلاق کو اس طرح سنوارنا چاہیے کہ ہمارا باطن نورِ ایمان سے
منور ہو۔ یہی نورانی باطن آخرت میں ہماری پہچان اور ہمارے چہرے کی رونق بنے
گا۔
- جنت میں
مراتب و درجات کا وجود: حدیث کے آخر میں "ثُمَّ
هُمْ بَعْدَ ذَلِكَ مَنَازِلُ" (پھر اس کے بعد ان کے (اپنے اپنے) درجات
ہوں گے) کا فرمانا اس اہم عقیدے کی طرف اشارہ ہے کہ جنت میں بھی
مراتب و درجات ہوں گے۔ ہر مومن کو اس کے ایمان، تقویٰ اور اعمال کے
مطابق جنت میں ایک خاص مقام اور درجہ عطا کیا جائے گا۔ ایک ہی جنت میں ہونے
کے باوجود، لوگوں کی نعمتیں، قربت اور مقامات مختلف ہوں گے۔
- *سبق: ہمیں صرف
جنت میں جانے پر ہی اکتفا نہیں کرنا چاہیے، بلکہ اعلیٰ سے اعلیٰ درجے کی جنت
اور اللہ کی رضا کے حصول کے لیے اپنے اعمال میں بہتری اور اضافے کی کوشش
جاری رکھنی چاہیے۔
خلاصہ: یہ
حدیث ہمیں امت محمدیہ کی فضیلت، اللہ کے فضل کی وسعت، مسلمانوں کے اتحاد کی اہمیت،
نیک اعمال کے نورانی اثرات اور جنت کے درجات کے بارے میں قیمتی سبق دیتی ہے۔ یہ
ہمارے دل میں اپنے نبی کی محبت، اپنے بھائیوں سے پیار اور اعلیٰ درجات کی جنت کی
تمنا پیدا کرتی ہے۔
صِفَةُ الْجَنَّة (جنت کی تفصیل)
القرآن:
"اور جو شخص اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے سے ڈرا، اس کے لیے دو جنتیں ہیں۔ پس (اے جن و انس!) تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟ دونوں گھنے درختوں والیاں ہیں۔ پس تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟ ان دونوں میں دو چشمے ہیں جو (مسلسل) بہہ رہے ہیں۔ پس تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟ ان دونوں میں ہر قسم کے پھل دو دو قسم کے ہیں۔ پس تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟ وہ (اہل جنت) ایسے بستروں پر تکیے لگائے ہوئے ہوں گے جن کے استر ریشم کے ہوں گے، اور دونوں باغوں کے پھل انتہائی قریب (سر جھکائے ہوئے) ہوں گے۔ پس تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟ ان (جنتوں) میں نگاہیں نیچی رکھنے والی (حوریں) ہیں جنہیں نہ تو ان سے پہلے کسی انسان نے ہاتھ لگایا ہے اور نہ کسی جن نے۔ پس تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟ گویا وہ (حوریں) یاقوت اور موتی ہیں۔ پس تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟ کیا احسان کا بدلہ احسان کے سوا کچھ اور بھی ہے؟ پس تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟ اور ان دونوں (جنوں) کے علاوہ دو اور جنتیں ہیں۔ پس تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟ دونوں گہرے سبز (شاندار) ہیں۔ پس تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟ ان دونوں میں دو چشمے ہیں جو (پانی) اچھلتے ہیں۔ پس تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھتاؤ گے؟ ان دونوں میں (طرح طرح کے) میوے ہیں، کھجوریں اور انار ہیں۔ پس تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟ ان میں (حوروں میں) اچھے اخلاق والی خوبصورت عورتیں ہیں۔ پس تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟ (یہ) خیموں میں محفوظ رکھی گئی حوریں ہیں۔ پس تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟ جنہیں ان سے پہلے نہ کسی انسان نے ہاتھ لگایا ہے اور نہ کسی جن نے۔ پس تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟ (اہل جنت) ہری بھری قالینوں اور بہترین دیوانوں پر تکیے لگائے ہوں گے۔ پس تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟ بڑی برکت والا ہے آپ کے رب کا نام جو صاحبِ جلال و اکرام ہے۔"
[سورۃ الرحمن (آیات 46-78)]
"بیشک نیکوکار (مومنین) ایسے پیالے (شراب) سے پئیں گے جس میں کافور (خوشبودار چشمہ) کی آمیزش ہوگی۔ (یہ) ایک ایسا چشمہ ہے جس سے اللہ کے بندے پئیں گے، اسے خوب رواں کر دیں گے۔ وہ (دنیا میں) نذر پوری کرتے تھے اور اس دن سے ڈرتے تھے جس کی مصیبت (ہر طرف) پھیلنے والی ہے۔ اور وہ اللہ کی محبت میں مسکین، یتیم اور قیدی کو کھانا کھلایا کرتے تھے۔ (کہتے ہوئے:) 'ہم تو صرف اللہ کی رضا کے لیے تمہیں کھلاتے ہیں، نہ تم سے کوئی بدلہ چاہتے ہیں اور نہ شکریہ۔ ہم اپنے رب کی طرف سے اس دن سے ڈرتے ہیں جو بہت ہی ترش رو اور سخت ہوگا۔' پس اللہ نے انہیں اس دن کی تکلیف سے بچا لیا اور انہیں تروتازگی اور خوشی عطا فرمائی۔ اور ان کے صبر کرنے پر انہیں جنت اور ریشم کا بدلہ دیا۔ وہ اس میں تختوں پر تکیے لگائے بیٹھے ہوں گے، نہ وہاں (شدید) دھوپ دیکھیں گے اور نہ سخت سردی۔ اور (درختوں کے) سائے ان پر جھکے ہوں گے اور پھلوں کے گچھے ان کے قریب کر دیے جائیں گے۔ اور ان کے پاس چاندی کے برتن اور بلوریں پیالے گردش کریں گے۔ (یعنی) چاندی کے ایسے بلور (شفاف) پیالے جنہیں انہوں نے خوب پورے انداز میں ٹھہرایا ہوگا۔ اور انہیں وہاں ایک ایسا پیالہ پلایا جائے گا جس میں زنجبیل کی آمیزش ہوگی۔ (یہ) ایک چشمہ ہے جس کا نام 'سلسبیل' ہے۔ اور ان کے پاس ہمیشہ رہنے والے نوجوان (خدمت کے لیے) گھومتے رہیں گے، جب آپ انہیں دیکھیں گے تو گمان کریں گے کہ بکھرے ہوئے موتی ہیں۔ اور جب آپ وہاں دیکھیں گے تو بڑی نعمت اور بڑی سلطنت (دیکھیں گے)۔ ان پر سبز ریشم اور گہرے ریشم کے کپڑے ہوں گے اور وہ چاندی کے کنگن پہنے ہوں گے، اور ان کا رب انہیں پاکیزہ مشروب پلائے گا۔ (ان سے کہا جائے گا:) 'بیشک یہ تمہارے لیے بدلہ ہے اور تمہاری کوشش (اللہ کے ہاں) مقبول ہوئی۔'"
[سورۃ الانسان (آیات 5-22)]
"بیشک جو لوگ
ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل کیے، (ان سے وعدہ ہے کہ) ہم ایسے شخص کا اجر ضائع
نہیں کرتے جو نیک عمل کرے۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کے لیے ہمیشہ رہنے والی جنتیں ہیں جن
کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی، وہ ان میں سونے کے کنگن پہنائے جائیں گے اور باریک اور
گہرے سبز ریشم کے کپڑے پہنیں گے، وہ ان میں تختوں پر تکیے لگائے بیٹھے ہوں گے۔ بہت
اچھا بدلہ ہے اور بہت اچھا آرام گاہ ہے۔"
[سورۃ الکہف (آیات 30-31)]
"(یہ) ہمیشہ رہنے والی جنتیں ہیں جن میں یہ لوگ داخل ہوں گے، وہاں انہیں سونے کے کنگنوں اور موتیوں سے آراستہ کیا جائے گا، اور وہاں ان کا لباس ریشم ہوگا۔ اور وہ کہیں گے: 'تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں جس نے ہم سے غم دور کر دیا۔ بے شک ہمارا رب بہت بخشنے والا، قدر شناس ہے۔ جس نے اپنے فضل سے ہمیں ہمیشہ رہنے والے گھر میں ٹھہرایا، نہ ہمیں اس میں کوئی تھکن لاحق ہوگی اور نہ ہمیں اس میں کوئی تھکن ہوگی۔'"
[سورۃ فاطر (آیات 33-35)]
آیات
سے حاصل اسباق و نکات
1. تقویٰ اور اللہ
کے خوف کا اجر
پہلی
آیت (الرحمن: 46) کا مرکزی پیغام یہ ہے کہ اللہ کے خوف اور تقویٰ کا اولین
اور عظیم ترین اجر جنت ہے۔ "جو شخص اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے سے
ڈرا" سے مراد وہ کامل خشیت اور احتساب کا احساس ہے جو انسان کو گناہوں سے
بچاتا اور نیکی پر ابھارتا ہے۔
2. احسان کا بدلہ
احسان ہے
سورت
الرحمن میں "هَلْ جَزَاءُ الْإِحْسَانِ إِلَّا الْإِحْسَانُ" کا اصول
بیان ہوا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بندے کے دنیا میں اللہ کے احسان (یعنی
ایمان و اطاعت) کا بدلہ آخرت میں اللہ کا اپنا احسان (یعنی جنت) ہے۔ یہ تعلق
محض لین دین نہیں، بلکہ محبت اور کرم پر مبنی ہے۔
3. نیکوکاروں
(الابرار) کی صفات
سورت
الانسان کی آیات میں الابرار (نیکوکاروں) کی جو صفات بیان ہوئیں،
وہ جنت میں داخلے کی عملی شرائط ہیں:
- نذر پوری
کرنا: اللہ سے کیے گئے عہد کو پورا
کرنا۔
- قیامت کے
دن کا خوف: آخرت کی ذمہ داری کا احساس
رکھنا۔
- خلوص کے
ساتھ صدقہ و خیرات: محض اللہ کی رضا کے لیے مسکین،
یتیم اور قیدی کی مدد کرنا، بدلے کی تمنا کے بغیر۔
4. جنت کی نعمتوں
کی حقیقت
ان
آیات میں جنت کی نعمتوں کی تفصیل محض ایک فہرست نہیں، بلکہ اللہ کی بے
پایاں رحمت، اس کی صناعی کے کمال، اور بندے کے لیے اس کی محبت کا اظہار
ہے۔ یہ نعمتیں دنیوی لذات سے بالاتر، پاکیزہ اور ہمیشہ رہنے والی ہیں۔
5. ایمان و عمل
صالح کا یقینی اجر
سورت
الکہف اور فاطر کی آیات میں بار بار ایمان اور عمل
صالح کے نتائج کو جنت کی صورت میں بیان کیا گیا ہے۔ اس سے اللہ
کے وعدے کی سچائی اور اس کے عدل پر پختہ یقین پیدا ہوتا ہے کہ وہ کسی
نیکی کو رائیگاں نہیں جانے دیتا۔
6. شکرگزاری اور
اللہ کی صفات کا اعتراف
سورت
فاطر میں اہل جنت کا یہ قول "الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَذْهَبَ عَنَّا
الْحَزَنَ" نعمت ملنے پر
شکرگزاری اور اللہ کی صفات غفور (بہت بخشنے والا) و شکور (قدردان) کے
اعتراف کی تربیت دیتا ہے۔ یہ جنت میں داخلے کے بعد بھی بندے کے اس شعور کو ظاہر
کرتا ہے کہ ہر کمال اس کے رب کے فضل سے ہے۔
نتیجہ
یہ
قرآنی آیات ہمیں ایک جامع تصویر پیش کرتی ہیں: دنیا میں تقویٰ، خوفِ الٰہی، خلوص اور احسان کا رویہ ہی آخرت میں
احسانِ الٰہی (جنت)، اس کی بیش بہا، پاکیزہ اور دائمی نعمتوں اور رب کے شکر سے
سرشار ابدی زندگی کا باعث بنتا ہے۔ یہ نہ صرف جزا و سزا کا نظام ہے بلکہ رب
اور بندے کے درمیان محبت اور احسان کے تعلق کا بھی عکس ہے۔
عَنْ
أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ - رضي الله عنه - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم -: (" لَقَابُ قَوْسِ أَحَدِكُمْ (١)) (٢) وفي
رواية: (مَوْضِعُ قَدَمٍ مِنْ الْجَنَّةِ،
خَيْرٌ مِنْ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا) (٣) (اقْرَءُوا
إِنْ شِئْتُمْ: {فَمَنْ
زُحْزِحَ عَن النَّارِ وَأُدْخِلَ الْجَنَّةَ فَقَدْ فَازَ , وَمَا الْحَيَاةُ
الدُّنْيَا إِلَّا مَتَاعُ الْغُرُورِ} (٤) ") (٥)
ترجمہ:
حضرت
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"تم میں
سے کسی شخص کی کمان کے خم (یا کمان کے پکڑنے کی جگہ) کے برابر(١) (٢) (ایک دوسری روایت میں ہے: جنت میں صرف ایک قدم کی جگہ بھی) دنیا اور جو کچھ اس میں ہے، اس سے بہتر ہے۔(٣) (اس کی
تائید میں) اگر چاہو تو یہ آیت پڑھ لو: {'پس جسے آگ سے
دور کر کے جنت میں داخل کر دیا گیا، اس نے یقیناً کامیابی پا لی، اور دنیا کی
زندگی دھوکے کے سامان کے سوا کچھ نہیں۔'} (٤) " (٥)
حوالہ جات و حواشی:
(١) تشریح:
"لَقَابُ قَوْسِ أَحَدِكُمْ"
"القاب" کا
معنی ہے: کمان کے ہتھے (پکڑنے کی جگہ) اور اس کی پشت (کمان کے خم) کے درمیان کا
حصہ۔
اور یہ
بھی کہا گیا ہے: کمان کی رَسّی (تانت) اور کمان کے درمیان کا حصہ۔ (تحفة الأحوذي،
جلد 4، صفحہ 327)
مراد: جنت کی
عظمت شان کو بیان کرنا ہے، اور یہ کہ اس کا انتہائی تھوڑا سا حصہ - چاہے اس کی مقدار کتنی ہی کم ہو - پوری دنیا اور
اس کی ہر چیز کے مجموعے سے بہتر ہے۔ (فیض القدیر، جلد 5، صفحہ 360)
(٢) (خ) صحیح بخاری: 2643 ، (ت) سنن ترمذی: 1651
(٣) (خ) صحیح بخاری: 6199 ، (ت) سنن ترمذی: 1651
(٤) یہ قرآن پاک کی سورۃ آل عمران کی آیت نمبر 185 کا
حصہ ہے۔
(٥) (ت) سنن ترمذی: 3013
[الجامع الصحيح للسنن والمسانيد: ج3 ص 232]
حدیث
سے حاصل اسباق ونکات:
- جنت کی
ناقابل تصور عظمت اور دنیا کی حقیقی بے وقعتی کے حوالے سے: یہ حدیث ہمارے سامنے جنت
کی عظمت اور دنیا کی بے حقیقی کا ایک ایسا موازنہ پیش کرتی ہے جو
ہمارے تصور سے باہر ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جنت کا ایک
قدم کے برابر، یا کمان کے اُس چھوٹے سے خم کے برابر حصہ بھی ساری
کی ساری دنیا اور اس میں موجود تمام خزانوں، جاہ و حشم اور لذتوں سے بہتر و
برتر ہے۔
- سبق: اس کا
واضح مطلب یہ ہے کہ ہماری تمام تر توجہ، محنت اور آرزوئیں آخرت کی ابدی
زندگی اور جنت کی نعمتوں کے حصول پر مرکوز ہونی چاہئیں۔ دنیا کی چمک دمک،
مال و متاع اور عارضی لذتیں ہمیں اپنی ابدی کامیابی (جنت) سے غافل نہیں کر
سکتیں۔
- دنیا کی
زندگی کی اصل حقیقت "متاع الغرور" کے حوالے سے: حدیث کے آخر میں رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم نے سورۃ آل عمران کی آیت 185 کی تلاوت فرما
کر اپنی بات کی وضاحت کی۔ اس آیت میں دنیا کو "مَتَاعُ الْغُرُور" یعنی "دھوکے کے
سامان" قرار دیا گیا ہے۔ دنیا اپنی چمک
دمک، آسائشوں اور لمحہ بہ لمحہ بدلنے والی لذتوں کے ساتھ انسان کو یہ دھوکا
دیتی ہے کہ یہی سب کچھ ہے، لیکن درحقیقت یہ عارضی، فانی اور دھوکے کا سامان
ہے۔
- سبق: مسلمان
کو چاہیے کہ وہ دنیا کے دھوکے میں نہ آئے۔ وہ اسے ایک کھیل، سامانِ آرایش یا
عارضی ٹھکانا سمجھے، نہ کہ ہمیشہ رہنے کی جگہ۔ دنیا میں رہتے ہوئے بھی اس کا
دل آخرت سے لگاؤ رکھے۔
- کامیابی
کی حقیقی تعریف اور اس کے معیار کے حوالے سے: آیت میں کامیابی
(الفوز) کی تعریف یہ کی گئی ہے: "فَمَنْ زُحْزِحَ عَن النَّارِ
وَأُدْخِلَ الْجَنَّةَ فَقَدْ فَازَ" یعنی جسے
جہنم سے دور کر کے جنت میں داخل کر دیا گیا، اسی نے حقیقی کامیابی پائی۔
دنیوی کامیابیاں جیسے دولت، عہدہ، شہرت سب اس وقت بے معنی ہو جائیں گی جب
انسان جہنم میں داخل ہو۔
- سبق: ہمیں
اپنی زندگی میں "کامیابی" کے معیار کو درست کرنا چاہیے۔ حقیقی
کامیابی وہ ہے جو قیامت کے دن ہمارے کام آئے۔ ہر وہ عمل جو ہمیں جہنم سے دور
اور جنت کے قریب کرے، وہی ہماری حقیقی کامیابی ہے۔
- حدیث کے
الفاظ میں بیان کردہ مثال سے عقل و فہم کے حوالے سے: رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وسلم نے جنت کی فضیلت کو سمجھانے کے لیے "قاب قوس" (کمان کے خم کے برابر جگہ) جیسی محسوس
اور قریب ترین مثال دی۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ جنت کی حقیقی عظمت اور
اس کی نعمتوں کی وسعت کا ہم اس دنیا میں مکمل ادراک نہیں کر سکتے۔
یہ مثال ہماری عقل کے قریب ترین ہے، ورنہ حقیقت اس سے کہیں بڑھ کر ہے۔
- سبق: ہمیں جنت
کی نعمتوں کے بارے میں جو کچھ قرآن و حدیث میں آیا ہے، اس پر ایمان لانا
چاہیے، خواہ ہم اس کا پورا ادراک نہ کر سکیں۔ ہمارا ایمان ہے کہ جو وعدہ
اللہ نے کیا ہے وہ اس سے کہیں بڑھ کر ہے۔
- عمل کے
لیے ترغیب اور محنت پر ابھارنے کے حوالے سے: یہ حدیث
اور آیت مل کر ایک طرف ڈراتی ہیں (جہنم سے) اور دوسری طرف لُبھاتی
ہیں (جنت کی طرف)۔ جب انسان کو معلوم ہو کہ اتنی چھوٹی سی جنت کی جگہ بھی
پوری دنیا سے بہتر ہے، تو پھر وہ جنت حاصل کرنے کے لیے ہر ممکن محنت
اور قربانی پر آمادہ ہو جاتا ہے۔
- *سبق: ہمیں جنت
کی قدر اور اس کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے اس کے حصول کے لیے سنجیدہ کوشش کرنی
چاہیے۔ یہ بے محنت اور لاپروائی سے نہیں ملے گی۔ ہمیں ہر وہ عمل کرنا چاہیے
جو جنت کے راستے میں مددگار ہو۔
خلاصہ:
یہ
مختصر مگر انتہائی وزنی حدیث ہمیں زندگی کے دو اہم ترین پہلوؤں سے آگاہ کرتی ہے: آخرت کی ابدی قدر و قیمت اور دنیا کی عارضی بے
وقعتی۔ یہ
ہمارے دل و دماغ میں یہ بات بٹھا دیتی ہے کہ ہماری ہر کوشش، ہر فکر اور ہر محنت کا
مرکز و محور صرف اور صرف آخرت کی کامیابی ہونی چاہیے۔ دنیا کو صرف ایک راستہ، ایک
ذریعہ اور ایک آزمائش سمجھتے ہوئے ہمیں اپنے رب کی رضا اور اس کی جنت کے حصول کے
لیے سرگرم عمل رہنا چاہیے۔
عَنْ وَاقِدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ قَالَ: (دَخَلْتُ عَلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ - رضي الله عنه - حِينَ قَدِمَ الْمَدِينَةَ، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ) (١) (فَقَالَ لِي: مَنْ أَنْتَ؟، قُلْتُ: أَنَا وَاقِدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ) (٢) (قَالَ: إِنَّكَ بِسَعْدٍ لَشَبِيهٌ، ثُمَّ بَكَى فَأَكْثَرَ الْبُكَاءَ، قَالَ: رَحْمَةُ اللهِ عَلَى سَعْدٍ، كَانَ مِنْ أَعْظَمِ النَّاسِ وَأَطْوَلِهِمْ، ثُمَّ قَالَ: " بَعَثَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم - جَيْشًا إِلَى أُكَيْدِرِ دُومَةَ "، فَأَرْسَلَ إِلَى رَسُولِ اللهِ - صلى الله عليه وسلم - بِجُبَّةِ دِيبَاجٍ مَنْسُوجٌ فِيهَا الذَّهَبُ , " فَلَبِسَهَا رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم -) (٣) (قَبْلَ أَنْ يَنْهَى عَنْ الْحَرِيرِ) (٤) (فَصَعِدَ الْمِنْبَرَ , فَقَامَ أَوْ قَعَدَ "، فَجَعَلَ النَّاسُ يَلْمِسُونَهَا، فَقَالُوا: مَا رَأَيْنَا كَالْيَوْمِ ثَوْبًا قَطُّ) (٥) (فَقَالَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم -: " أَتَعْجَبُونَ مِنْهَا؟ "، قَالُوا: مَا رَأَيْنَا ثَوْبًا قَطُّ أَحْسَنَ مِنْهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم -: " لَمَنَادِيلُ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ فِي الْجَنَّةِ أَحْسَنُ مِمَّا تَرَوْنَ ") (٦)
ترجمہ
حضرت
واقد بن عمرو بن سعد بن معاذ بیان کرتے ہیں کہ: (میں مدینہ منورہ میں حضرت انس بن
مالک رضی اللہ عنہ کے پاس حاضر ہوا اور انہیں سلام کیا)۔(١) (انہوں نے مجھ سے پوچھا:
تم کون ہو؟ میں نے کہا: میں واقد بن عمرو بن سعد بن معاذ ہوں)۔
(انہوں نے کہا: تم سعد (بن معاذ) سے
بہت مشابہت رکھتے ہو، پھر رونے لگے اور خوب روتے رہے۔ کہنے لگے: اللہ سعد پر رحم
فرمائے، وہ لوگوں میں سب سے بڑے قد آور اور لمبے تھے۔ پھر کہا: "رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لشکر اکیدرِ دومہ (کی طرف) بھیجا۔" تو اس (اکیدر)
نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک ایسا دیباجی (ریشمی) جبہ بھیجا
جس میں سونے کا کام کیا گیا تھا۔ "تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے
پہن لیا)(٣) (اس سے پہلے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم
ریشم (کے مردوں کے استعمال) سے منع فرماتے)۔
(پھر
آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر تشریف لے گئے، آپ کھڑے ہوئے یا بیٹھے)، تو لوگ اس
(جبہ) کو چھو چھو کر دیکھنے لگے اور کہنے لگے: آج سے پہلے ہم نے اس سے بہتر کپڑا
کبھی نہیں دیکھا)۔
(تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
فرمایا: "کیا تم اس سے تعجب کر رہے ہو؟" انہوں نے عرض کیا: ہم نے اس سے
بہتر کوئی کپڑا کبھی نہیں دیکھا۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"سعد بن معاذ کے جنت میں رومال (یا دسترخوان) اس سے بھی بہتر ہوں گے جو تم
دیکھ رہے ہو۔")
تمام
حوالہ جات کا نمبر وار ترجمہ و وضاحت
- (١)(س 5302): سنن نسائی، کتاب الزینۃ، حدیث
نمبر 5302۔
- (٢)(ت 1723): سنن ترمذی، کتاب صفۃ الجنتہ،
حدیث نمبر 1723۔ دیکھیے: "السلسلة الصحيحة" حدیث نمبر 3346 کے تحت۔
- (٣)(حب 7037): مصنف عبد الرزاق، حدیث نمبر
7037۔ (ت 1723): سنن ترمذی، حدیث نمبر 1723۔ (س 5302): سنن نسائی، حدیث نمبر 5302۔
- (٤)(حم 13171): مسند احمد، حدیث نمبر 13171۔ (هق 5901): اپنے دیے گئے حوالے کے مطابق
(ممکنہ طور پر کسی اور مجموعے کی طرف اشارہ ہے)۔ شیخ شعیب ارناؤوط نے فرمایا:
اس کی سند صحیح ہے۔
- (٥)(ت 1723): سنن ترمذی، حدیث نمبر 1723۔ (خ 2473): صحیح بخاری، کتاب الجھاد
والسیر، حدیث نمبر 2473۔ (م 127 (2469)): صحیح مسلم، کتاب اللباس
والزینۃ، حدیث نمبر 127 (بعض اشاعتوں میں 2469)۔
- (٦)(حم 12245): مسند احمد، حدیث نمبر 12245۔ (خ 2473): صحیح بخاری، حدیث نمبر 2473۔ (م 127 (2469)): صحیح مسلم، حدیث نمبر 127
(2469)۔ (ت 1723): سنن ترمذی، حدیث نمبر 1723۔
دیکھیے: "السلسلة الصحيحة"، حدیث نمبر 3346۔
حدیث
سے حاصل اسباق ونکات
- صحابہ
کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے محبت اور ان کی یاد: حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ
کا اپنے ساتھی حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کی مشابہت دیکھ کر بے اختیار
رونا اور ان کی عظمت کو یاد کرنا، صحابہ کرام کے آپس میں گہرے قلبی تعلق اور
ایک دوسرے کے لیے ان کی محبت و عقیدت کا مظہر ہے۔ یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ ہمیں
نیک لوگوں اور بالخصوص اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت اور ان کے
فضائل کو زندہ رکھنا چاہیے۔
- رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وسلم کا عملی سنت اور احکام کے مرحلے میں نرمی: حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک عطیے کے طور پر ملنے والا ریشمی جبہ، اس لیے
پہن لیا کہ اس وقت تک مردوں کے لیے خالص ریشم پہننا مکمل طور پر حرام نہیں
ہوا تھا۔ یہ اس اصول کی واضح مثال ہے کہ احکامِ شرعیہ بتدریج نافذ
ہوئے۔ اس میں امت کے لیے نرمی اور آسانی کا پہلو تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ
وسلم نے بعد میں واضح حکم دے کر ریشم کے عام استعمال سے منع فرما دیا۔
- دنیا کی
عظیم ترین چیز بھی آخرت کے مقابلے میں حقیر ہے: حدیث کا
سب سے اہم سبق یہ ہے کہ دنیا کی کوئی بھی چیز، خواہ وہ کتنی ہی قیمتی
اور دیدہ زیب کیوں نہ ہو، آخرت کی نعمتوں کے سامنے بہت ہی حقیر ہے۔ رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے کے کام والے نفیس ترین جبہ کو دیکھ کر صحابہ
کے تعجب کو جنت کی ایک چھوٹی سی نعمت (سعد بن معاذ کے رومال یا دسترخوان) کی
فضیلت بیان کر کے دور کیا۔ اس سے ہمارے اندر آخرت کی نعمتوں کی قدر و قیمت کا
صحیح تصور پیدا ہوتا ہے اور دنیا کی محبت دل سے نکلتی ہے۔
- جنت میں
مومن کو ملنے والی نعمتیں ناقابل تصور ہیں: رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان کہ جنت کا ایک رومال یا دسترخوان اس دنیا کے
بہترین لباس سے بھی افضل ہوگا، درحقیقت جنت کی نعمتوں کی حقیقی شان
اور اس کی بے پایاں خوبصورتی کی طرف اشارہ ہے۔ ان نعمتوں کا مشاہدہ
اس دنیا کی آنکھوں نے نہیں کیا، نہ کانوں نے سنا اور نہ ہی کسی انسان کے دل
نے ان کا تصور کیا ہے۔
- حضرت سعد
بن معاذ رضی اللہ عنہ کی جنت میں بلند مقام: یہ حدیث
حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کی جنت میں بلند درجے اور عظیم مقام کی بھی
واضح دلیل ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خاص طور پر ان کا نام لے کر
ان کی جنت کی نعمتوں کی بزرگی بیان فرمائی، جو ان کے ایمان، جہاد، اور اللہ و
رسول سے والہانہ محبت کے سبب ہے۔ یہ ہمارے لیے بھی اعلیٰ درجات کے حصول کے
لیے عمل صالح کی ترغیب ہے۔
عَنْ
سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ - رضي الله عنه - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم -: " لَوْ أَنَّ مَا يُقِلُّ (١) ظُفُرًا مِمَّا
فِي الْجَنَّةِ (٢) بَدَا (٣) لَتَزَخْرَفَتْ
لَهُ (٤) خَوَافِقُ
السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ (٥) وَلَوْ
أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ اطَّلَعَ فَبَدَتْ أَسَاوِرُهُ لَطَمَسَ
ضَوْءُهُ ضَوْءَ الشَّمْسِ , كَمَا تَطْمِسُ الشَّمْسُ ضَوْءَ النُّجُومِ " (٦)
ترجمہ:
حضرت
سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
فرمایا:
"اگر
جنت میں جو (نعمت) ہے اس میں سے ایک ناخن (کے نیچے آ سکنے والے ذرّے) کے برابر(١) (نعمت) بھی(٢) ظاہر ہو جائے،(٣) تو آسمانوں اور زمین کے کنارے(٥) اس (چھوٹے سے ذرّے) کے لیے
مزین ہو جائیں۔(٤) اور اگر اہل جنت میں سے کسی شخص کی (جنت کی کھڑکی سے)
جھانک ہو اور اس کے (بازو کے) کنگن ظاہر ہو جائیں، تو اس کی روشنی سورج کی روشنی
کو اس طرح ماند کر دے گی جس طرح سورج ستاروں کی روشنی کو ماند کر دیتا ہے۔"
حوالہ جات و حواشی:
(١) (يُقِلُّ): یعنی،
جتنا (وہ ذرّہ) اٹھا سکتا ہے یا سمیٹ سکتا ہے (یعنی ناخن کے نیچے آ سکنے والا
انتہائی خردبین ذرّہ)۔
(٢) (مِمَّا فِي
الْجَنَّةِ): یعنی، جنت کی نعمتوں میں سے۔ (تحفة الأحوذي، جلد
6، صفحہ 329)
(٣) (بَدَا): یعنی،
دنیا میں دیکھنے والوں پر ظاہر ہو جائے۔ (تحفة الأحوذي، جلد 6، صفحہ 329)
(٤) (تَزَخْرَفَتْ
لَهُ): یعنی، آراستہ اور مزین ہو جائیں۔ اس
"لَهُ" (اس کے لیے) سے مراد اس ذرّہ مقداری نعمت کے لیے۔ (تحفة الأحوذي،
جلد 6، صفحہ 329)
(٥) (خَوَافِقُ
السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ): "خَوَافِقُ"، "خَافِقَةٌ" کی جمع
ہے جس کا معنی ہے پہلو، کنارہ یا سمت۔ اصل میں یہ وہ کنارے ہیں جن سے ہوائیں چلتی
ہیں۔ "خَافِقَانِ" مشرق اور مغرب کو کہتے ہیں۔ (تحفة الأحوذي، جلد 6،
صفحہ 329)
(٦) یہ روایت درج ذیل کتب میں موجود ہے:
- (حم) مسند
احمد: 1449
- (ت) سنن
ترمذی: 2538
- صَحِيح
الْجَامِع للالبانی:
5251
- السلسلة
الصحيحة للالبانی:
3396
حدیث
سے حاصل اسباق ونکات
- جنت کی
نعمتوں کی عظمت اور اس کا دنیا سے ناقابل موازنہ ہونا: اس حدیث کا بنیادی مقصد ہمارے
سامنے جنت کی نعمتوں کی حقیقی عظمت اور شان کو ایسے بیان
کرنا ہے جس کا ہمارے دنیوی مشاہدے اور تصور سے کوئی مقابلہ نہیں۔ پہلی مثال
میں ناخن کے نیچے آنے والے ذرّے کے برابر جنت کی نعمت کو
پوری کائنات (آسمانوں
اور زمین کے کناروں) کی زیبائش
کے لیے کافی قرار دیا گیا ہے۔ یہ اس بات کی واضح دلیل ہے کہ جنت کی
نعمت کی اصل حقیقت اور اس کا معیار ہمارے دنیوی پیمانوں سے بالکل ہی ماورا
اور برتر ہے۔
- اہل جنت
کی عزت، وقار اور نورانیت: حدیث کی دوسری مثال میں اہل
جنت کے کنگنوں کی روشنی کا ذکر ہے جو سورج کی روشنی کو ایسے
ماند کر دے گی جیسے سورج ستاروں کی روشنی کو ماند کر دیتا ہے۔ یہ اہل جنت
کے بلند مقام، ان کی روحانی نورانیت اور جسمانی جلالت کی
طرف اشارہ ہے۔ یہ صرف ظاہری زیور ہی نہیں، بلکہ ان کے ایمان، تقویٰ اور
اعمالِ صالحہ کے نتیجے میں ملنے والی باطنی روشنی اور رفعت کا
اظہار ہے۔
- دنیا کی
سب سے بڑی چیزیں (سورج، ستارے) بھی آخرت کی عظمت کے سامنے ہیچ ہیں: حدیث نے دنیا میں روشنی کے سب
سے بڑے ماخذ سورج اور خوبصورت اجرام ستاروں کو
مثال بنا کر یہ سمجھایا ہے کہ دنیا کا سب سے تابناک اور عظیم ترین
نظارہ بھی آخرت کی حقیقی شان و شوکت کے سامنے بے نور اور معمولی ہے۔ اس
سے ہمارے ذہن میں یہ بات راسخ ہوتی ہے کہ ہماری تمام تر توجہ اور محنت کا
مرکز دنیوی چمک دمک نہیں، بلکہ آخرت کی ابدی نورانیت ہونی چاہیے۔
- جنت کی
نعمتوں کا ادراک انسانی عقل سے بالاتر ہے: حدیث میں
بیان کردہ دونوں تصاویر (ذرّہ بھر
نعمت سے سارے آسمان کی زیبائش اور کنگن کی
روشنی کا سورج کو ماند کر دینا) درحقیقت تمثیلی
اور استعاراتی ہیں۔ ان کا مقصد یہ بتانا ہے کہ ہم جنت کی حقیقت کو
اس دنیا میں مکمل طور پر سمجھ ہی نہیں سکتے۔ ہمارا دماغ اور
ہمارے الفاظ اس کی عظمت کو بیان کرنے سے قاصر ہیں۔ یہ ہمارے لیے عقیدے
اور یقین کا معاملہ ہے۔
- جنت کے
حصول کے لیے ترغیب اور عمل پر ابھارنا: جب رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسی عظیم نعمتوں اور ان کے حقداروں کی شان بیان
فرماتے ہیں، تو اس کا ایک بڑا مقصد ہمارے دلوں میں جنت کی محبت، اس
کی شدید طلب اور اس کے حصول کے لیے کوشش پیدا کرنا ہے۔ یہ حدیث ہمیں
بتاتی ہے کہ آخرت میں ملنے والا ہر نہایت چھوٹا سا انعام بھی دنیا کی ہر عظیم
شے سے افضل ہے۔ اس لیے ہمیں اس انعام کے حصول کے لیے اپنی زندگی کو سنوارنا
چاہیے۔
خلاصہ:
یہ
حدیث ہمیں جنت کی نعمتوں کی حقیقی عظمت کا ایک ایسا نقشہ دکھاتی ہے جو ہمارے دنیوی
تصورات سے بالاتر ہے۔ یہ بتاتی ہے کہ اہل جنت کا درجہ، ان کا نور اور ان کی نعمتیں
اس دنیا کی سب سے عظیم چیزوں (سورج، ستارے، آسمان و زمین) سے بھی کہیں زیادہ ہیں۔
یہ ہمارے ایمان کو مضبوط کرتی ہے، ہمارے دلوں میں جنت کی محبت بڑھاتی ہے اور ہمیں
اس عظیم انعام کے حصول کے لیے نیک اعمال کی طرف راغب کرتی ہے۔
عَنْ
الْمِقْدَامَ بْنَ مَعْدِيكَرِبٍ - رضي الله عنه - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم -: " مَا مِنْ أَحَدٍ يَمُوتُ سِقْطًا
وَلَا هَرِمًا - وَإِنَّمَا النَّاسُ فِيمَا بَيْنَ ذَلِكَ - إِلَّا بُعِثَ ابْنَ
ثَلَاثِينَ سَنَةً , فَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ , كَانَ عَلَى مِسْحَةِ
آدَمَ، وصُورَةِ يُوسُفَ، وَقَلَبِ أَيُّوبَ، وَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ النَّارِ ,
عُظِّمُوا وَفُخِّمُوا كَالْجِبَالِ "
ترجمہ:
حضرت
مقدام بن معدیکرب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
فرمایا:
"کوئی
شخص بھی چاہے شیر خوار (بچے کی صورت) میں مرے یا بڑھاپے (کی حالت) میں - اور لوگ
بس انہی دونوں (عمروں) کے درمیان ہی (مرتے) ہیں - سوائے اس کے کہ (قیامت کے دن)
تیس سال کے نوجوان کی صورت میں اٹھایا جائے گا۔ پس جو اہل جنت میں سے ہوگا، وہ آدم
(علیہ السلام) کے قدوقامت، یوسف (علیہ السلام) کی صورت اور ایوب (علیہ السلام) کے
دل (جیسی صبر و رضا والی صفات) پر ہوگا۔ اور جو اہل جہنم میں سے ہوگا، انہیں بڑا
کر دیا جائے گا اور موٹا تازہ (بھاری بھرکم) کر دیا جائے گا جیسے پہاڑ (ہوں)۔"
حوالہ :
(طب) المعجم الکبیر للطبرانی(حدیث نمبر663)، الصَّحِيحَة:2512، صَحِيح التَّرْغِيبِ وَالتَّرْهِيب:3701
حدیث
سے حاصل اسباق ونکات:
1. آخرت کی زندگی:
کامل، جوان اور فطری صورت میں: یہ حدیث ہمیں قیامت کے دن اٹھائے جانے کی ایک اہم
حقیقت سے آگاہ کرتی ہے کہ ہر انسان، چاہے وہ کسی بھی عمر میں فوت ہوا ہو،
جوان اور کامل ترین حالت میں اٹھایا جائے گا۔ "ابن ثلاثين سنة" (تیس
سال کا نوجوان) کا ذکر اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ یہ عمر جسمانی طاقت،
صحت، حسن و جمال کی معراج سمجھی جاتی ہے۔ اس سے دنیا کی کمزوری، بیماری
اور بڑھاپے کی تمام نشانیاں ختم ہو جائیں گی۔
2. اہل جنت کی
کمال کی صفات کا مجموعہ: حدیث میں اہل جنت کے لیے تین عظیم انبیاء کی صفات
کا ذکر ایک مجموعے کی صورت میں آیا ہے، جو جنت والوں کی شان کو واضح کرتا ہے:
* "عَلَى
مِسْحَةِ آدَمَ" (آدم علیہ السلام کے قدوقامت پر): اس سے مراد حسنِ
ترکیب، متناسب جسم اور فطری خوبصورتی ہے۔ آدم علیہ السلام کو اللہ نے
اپنے ہاتھ سے پیدا فرمایا اور انہیں بہترین صورت عطا کی۔
* "صُورَةِ
يُوسُفَ" (یوسف علیہ السلام کی صورت پر): اس سے مراد حسنِ
وجاہت، دیدہ زیب چہرہ اور انتہائی دلکش صورتی جمال ہے۔ قرآن میں یوسف
علیہ السلام کے لیے "احسن القصص" اور ان کے حسن کا ذکر ہے۔
* "قَلَبِ
أَيُّوبَ" (ایوب علیہ السلام کے دل پر): اس سے مراد صبر،
استقامت، رضا بالقضاء اور پاکیزہ باطن ہے۔ ایوب علیہ السلام شدید ترین
آزمائشوں میں بھی صبر کرنے والے تھے۔
* نتیجہ: گویا
اہل جنت ظاہری حسن و جمال، جسمانی کمال اور باطنی صبر و طہارت کا
ایک حسین امتزاج ہوں گے۔
3. اہل نار کی
صورت: عذاب کی علامت کے طور پر بدشکلی و بھاری پن: جہنم والوں کے
لیے "عُظِّمُوا وَفُخِّمُوا كَالْجِبَالِ" (بڑے اور موٹے تازہ کر دیے
جائیں گے جیسے پہاڑ) کا بیان دراصل ان کی ذلت، بوجھل پن اور بدن کی
بدصورتی کی طرف اشارہ ہے۔ یہ بڑائی کمال کی نہیں، بلکہ عذاب، بے
چینی اور حرکت میں دشواری کی علامت ہے۔ یہ اس بات کی عکاسی بھی ہے کہ ان
کے گناہوں کا بوجھ ان پر ظاہر ہوگا۔
4. دنیا و آخرت کی
زندگی کا واضح فرق: یہ حدیث دنیا کی عارضی اور ناقص زندگی اور آخرت
کی کامل و ابدی زندگی کے درمیان زمین آسمان کا فرق واضح کرتی ہے۔
دنیا میں انسان کمزور پیدا ہوتا ہے، جوان ہوتا ہے اور پھر بڑھاپے کی کمزوریوں میں
گھر جاتا ہے۔ لیکن آخرت کی زندگی ہمیشہ کی جوانی، صحت اور کمال کی زندگی ہوگی۔
5. عمل کا انجام
اور اس کے مطابق جزا و سزا: یہ حدیث اس اصول کی عکاسی کرتی ہے کہ آخرت
میں ہر شخص کو اس کے ایمان و اعمال کے مطابق ایک نئی صورت اور حالت عطا کی جائے گی۔
نیک عمل کرنے والوں کے لیے حسین و جمیل صورت، اور برے عمل کرنے والوں کے لیے بدشکل
و بھدا صورت۔ یہ اللہ کے عدل کا مظہر ہے۔
خلاصہ:
یہ
حدیث قیامت کے دن اٹھائے جانے کی ایک حیرت انگیز حقیقت بیان کرتی ہے۔ یہ ہمیں
بتاتی ہے کہ ہماری آخرت کی زندگی فطری طور پر جوان، صحت مند اور کامل ہوگی۔ اہل
جنت کو انبیاء کی اعلیٰ ترین صفات (آدم کا قد، یوسف کا چہرہ، ایوب کا دل) کا
مجموعہ عطا کیا جائے گا، جبکہ اہل جہنم کو عذاب کی علامت کے طور پر بدصورت اور
بھاری بھرکم بنا دیا جائے گا۔ یہ حدیث ہمارے دل میں آخرت کی تیاری اور حسن عمل کے
حصول کا جذبہ پیدا کرتی ہے۔
عَنْ
عَائِشَةَ - رضي الله عنها - قَالَتْ: " دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللهِ - صلى
الله عليه وسلم - وَعِنْدِي عَجُوزٌ مِنْ بَنِي عَامِرٍ، فَقَالَ: مَنْ هَذِهِ الْعَجُوزُ؟ " , فَقُلْتُ: مِنْ
خَالَاتِي، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ
اللهِ، ادْعُ اللهَ أَنْ يُدْخِلَنِي الْجَنَّةَ، فَقَالَ: " يَا أُمَّ فُلَانٍ، إِنَّ الْجَنَّةَ
لَا تَدْخُلُهَا عَجُوزٌ "، فَوَلَّتْ تَبْكِي، فَقَالَ: " أَخْبِرُوهَا أَنَّهَا لَا
تَدْخُلُهَا وَهِيَ عَجُوزٌ إِنَّ اللهَ تَعَالَى يَقُولُ: {إِنَّا
أَنْشَأنَاهُنَّ إِنْشَاءً , فَجَعَلْنَاهُنَّ أَبْكَارًا , عُرُبًا أَتْرَابًا} (١) " (٢)
ترجمہ:
حضرت
عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: "رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے، اس وقت میرے پاس بنو عامر کی ایک بڑھیا
(عجوز) تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: 'یہ بڑھیا کون ہے؟' میں نے عرض کیا:
'میری خالہ ہیں۔' تو وہ (بڑھیا) بولیں: 'اے اللہ کے رسول! آپ اللہ سے دعا فرمائیں
کہ وہ مجھے جنت میں داخل فرمائے۔' تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: 'اے فلاں کی ماں! بے شک جنت میں کوئی بڑھیا داخل
نہیں ہوگی۔'"
"(یہ سن کر) وہ روتے ہوئے
پلٹ گئیں۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: 'اسے
بتاؤ کہ وہ اس حال میں یعنی بڑھیا ہونے کی حالت میں جنت میں داخل نہیں ہوگی۔ بیشک
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: {بے شک ہم نے ان
(حوروں) کو (خاص) طور پر پیدا کیا ہے، پس ہم نے انہیں کنواریاں بنایا ہے، محبت
کرنے والیاں ہم عمر۔} (سورۃ الواقعہ: 35-37)'"
حوالہ:
- الشمائل المحمدية للترمذي:238
- السلسلة
الصحيحة للالباني:2987
- مختصر
الشمائل:205
- هداية
الرواة:4814
حدیث
سے حاصل اسباق ونکات:
1. جنت کی نعمتیں
کامل اور ہر نقص سے پاک ہیں: اس حدیث کا بنیادی پیغام جنت کی کامل
ترین اور لازوال زندگی کی طرف اشارہ ہے۔ دنیا کی زندگی میں بڑھاپا
کمزوری، بیماری اور حسن کے زوال کی علامت ہے۔ جنت ایک ایسی ابدی رحمت گاہ ہے جہاں کمزوری،
بیماری، بڑھاپا یا حسن کا زوال جیسے کوئی نقص موجود نہیں ہوگا۔ اس لیے آپ
صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جنت میں "عجوز" (بڑھیا) نہیں ہوں گی،
بلکہ سب ہمیشہ کی جوانی اور پوری آب و تاب میں ہوں گے۔
2. جنت میں داخلے
کی اصل حقیقت: نئی اور کامل تخلیق: جب وہ بڑھیا رونے لگیں تو رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم نے اللہ کے فرمان {إِنَّا
أَنْشَأنَاهُنَّ إِنْشَاءً} سے واضح کیا کہ جنت میں داخل ہونے والے تمام لوگ
(نہ صرف حوریں) ایک نئی اور کامل ترین صورت میں دوبارہ پیدا کیے جائیں گے۔
"إنشاء" کا لفظ ابتدا سے نیا سرے سے پیدا کرنے پر دلالت کرتا ہے۔ یعنی
دنیا کی عمر، شکل و صورت آخرت میں تبدیل ہو جائے گی۔
3. جنت میں ہر شخص
جوان، خوبصورت اور ہم عمر ہوگا: اللہ کے فرمان {فَجَعَلْنَاهُنَّ
أَبْكَارًا , عُرُبًا أَتْرَابًا} کی روشنی میں حدیث بتاتی ہے کہ جنت کی رہنے
والیاں (اور اسی طرح مرد بھی) ہوں گی:
* أَبْكَارًا: کنواری،
پاکیزہ، نئی تخلیق۔
* عُرُبًا: اپنے
شوہروں کی محبت میں ڈوبی ہوئی، خوش گفتار۔
* أَتْرَابًا: ہم
عمر، نہ کوئی بڑا نہ چھوٹا۔
یہ
صفات درحقیقت کمالِ جوانی، حسن، پاکیزگی اور خوشی کی علامت ہیں
جو ہر اہل جنت کو حاصل ہوں گی۔
4. رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم کی تعلیم کا حکیمانہ اور مؤثر انداز: یہ حدیث رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نرم اور حکیمانہ طریقہ تعلیم کا
بہترین نمونہ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے ایک مختصر اور چونکا دینے والی
بات فرمائی ("جنت میں کوئی
بڑھیا داخل نہیں ہوگی") تاکہ سننے والی کی توجہ پوری طرح مرکوز ہو جائے
اور وہ سوچنے پر مجبور ہو۔ پھر جب وہ سمجھ نہ سکیں اور پریشان ہوئیں، تو آپ صلی
اللہ علیہ وسلم نے قرآنی آیت کے ذریعے مکمل وضاحت فرما دی کہ
مراد یہ نہیں کہ وہ جنت میں نہیں جائیں گی، بلکہ یہ کہ وہ اس دنیا والی بڑھیا کی
شکل میں نہیں جائیں گی، بلکہ نئی جوان اور خوبصورت صورت میں جائیں گی۔
5. قرآن کریم
احادیث کی تشریح کرتا ہے: یہ حدیث اس اصول کی واضح مثال ہے کہ قرآن
کریم احادیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریح اور توضیح کرتا ہے۔ حدیث کے ایک
ابتدائی حصے (جسے سمجھنا مشکل تھا) کو قرآن کی آیات نے کھول کر رکھ دیا۔
6. اہل جنت کے لیے
خوشخبری اور تسلی: یہ حدیث ہر اس مومن مرد و عورت کے لیے بہت بڑی خوشخبری
اور تسلی ہے جو دنیا میں بڑھاپے کی کمزوریوں، بیماریوں یا حسن کے زوال سے
گزر رہا ہے۔ اسے یقین دلایا جا رہا ہے کہ اس کا آخرت کا جسم ہر کمزوری سے پاک،
ہمیشہ جوان اور خوبصورت ہوگا۔
خلاصہ:
یہ
حدیث ہمیں جنت کی زندگی کی ایک اہم حقیقت سے روشناس کراتی ہے: وہاں ہر شخص ایک نئی
اور کامل ترین تخلیق کے طور پر ہمیشہ جوان، صحت مند، خوبصورت اور پاکیزہ حالت میں
ہوگا۔ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم کے مؤثر انداز اور قرآن کے ذریعے
حدیث کی تشریح کا بھی خوبصورت نمونہ ہے، جو ہر مومن کے دل میں آخرت کی کمال والی
زندگی کی امید اور خوشی پیدا کرتی ہے۔
عَنْ
أَبِي هُرَيْرَةَ - رضي الله عنه - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم -: " مَا رَأَيْتُ مِثْلَ النَّارِ نَامَ
هَارِبُهَا، وَلَا مِثْلَ الْجَنَّةِ نَامَ طَالِبُهَا "
ترجمہ:
حضرت
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"میں نے
آگ (جہنم) سے بھاگنے والے کو (اس سے بے فکر ہو کر) سویا ہوا کبھی نہیں دیکھا، اور
نہ ہی جنت کے طالب (حاصل کرنے والے) کو (لاپرواہ ہو کر) سویا ہوا کبھی دیکھا۔"
حوالہ
جات:
- (ت) سنن ترمذی: حدیث نمبر 2601۔
- انظر
صَحِيح الْجَامِع: 5622: یعنی امام البانی رحمہ اللہ کی
کتاب "صحیح الجامع الصغیر و زیادتہ" میں اس حدیث کو نمبر 5622 پر
"صحیح" درجے کے ساتھ ذکر کیا گیا ہے۔
- الصَّحِيحَة:
953: یعنی امام البانی رحمہ اللہ کی
کتاب "سلسلة الأحاديث الصحيحة" میں اس حدیث کو نمبر 953 پر
"صحیح" قرار دیا گیا ہے۔
حدیث
سے حاصل اسباق ونکات
1. جہنم سے حقیقی
خوف اور اس سے بچنے کی مستقل سعی: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان "مَا
رَأَيْتُ مِثْلَ النَّارِ نَامَ هَارِبُهَا" (میں نے آگ سے بھاگنے والے کو
سویا ہوا نہیں دیکھا) کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص جہنم کے عذاب کی حقیقی طور
پر سمجھ رکھتا ہے اور اس سے ڈرتا ہے، وہ کبھی بھی اس سے بے فکر اور غافل نہیں ہو
سکتا۔ وہ ہر وقت اس خوف سے بیدار رہتا ہے کہ کہیں اس کا کوئی عمل اسے جہنم میں
نہ ڈال دے۔ وہ گناہوں سے بچنے، توبہ و استغفار کرنے اور اللہ کی نافرمانی سے دور
رہنے میں ہمہ وقت کوشاں رہتا ہے۔ اس کا دل ہمیشہ اللہ کے خوف سے لرزاں رہتا ہے۔
2. جنت کی حقیقی
طلب اور اس کے حصول کے لیے مسلسل عمل: آپ صلی اللہ
علیہ وسلم کے فرمان "وَلَا مِثْلَ الْجَنَّةِ نَامَ طَالِبُهَا" (اور نہ
ہی جنت کے طالب کو سویا ہوا کبھی دیکھا) کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص جنت کی
حقیقی قدر و قیمت جانتا ہے اور اس کی شدید خواہش رکھتا ہے، وہ کبھی بھی سست اور
غافل نہیں ہو سکتا۔ وہ ہر لمحہ اس فکر میں رہتا ہے کہ کون سا نیک عمل اسے جنت
کے قریب کر دے گا۔ وہ نماز، روزہ، صدقہ، ذکر و اذکار اور ہر قسم کی نیکی میں سبقت
لے جانے کی کوشش کرتا ہے۔ اس کا مقصدِ زندگی ہی جنت کا حصول بن جاتا ہے۔
3. ایمان کی جان:
خوف اور امید کا توازن: یہ حدیث ایک کامل مومن کی نفسیات کی عکاس ہے۔ ایک
سچا مومن ہمیشہ خوف (اللہ کے عذاب سے) اور امید (اللہ کی رحمت سے) کے درمیان
متوازن حالت میں رہتا ہے۔ وہ نہ تو صرف خوف سے ہی کرب میں گھرا رہتا ہے
کہ مایوس ہو جائے، اور نہ ہی صرف امید پر ہی بے فکر ہو کر بیٹھ جاتا ہے کہ لاپرواہ
ہو جائے۔ بلکہ وہ جہنم کے خوف سے گناہوں سے بچتا ہے اور جنت کی امید پر نیکیوں میں
آگے بڑھتا ہے۔
4. غفلت اور بے
فکری سے انکار: یہ حدیث درحقیقت دینی معاملات میں غفلت،
سستی اور بے فکری کی مذمت کرتی ہے۔ جو شخص یہ سمجھتا ہے کہ وہ ایمان لا
چکا ہے، اب چین کی نیند سونے اور دنیا کی لذتوں میں مگن رہنے کا وقت ہے، اسے اس
حدیث سے سبق لینا چاہیے۔ ایمان ایک متحرک، زندہ اور فعال کیفیت کا نام ہے جو انسان
کو ہمہ وقت بیدار رکھتی ہے۔
5. رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم کا صحابہ کو تربیتی انداز: یہ فرمان رسول
صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کو مستعد، چوکنا اور آخرت کے حصول میں
سرگرم رکھنے کے لیے ارشاد فرمایا۔ یہ مختصر مگر انتہائی جامع جملہ ان کے
دلوں میں خوف و رجاء کی کیفیت پیدا کرتا تھا اور انہیں ہمیشہ نیک عمل کی طرف
ابھارتا تھा۔
6. سچے طالب اور
حقیقی ہارب (بھاگنے والے) کی پہچان: حدیث ہمیں سچے جنت کے طالب اور حقیقی
جہنم سے بھاگنے والے کی علامت بتاتی ہے۔ اس کا امتحان یہ ہے کہ آیا وہ
اپنی زندگی میں غفلت و سستی کا شکار ہے یا پھر ہمہ وقت عمل و کوشش میں مصروف ہے۔
خلاصہ:
یہ
مختصر حدیث ایمان کے دو بنیادی اور لازمی تقاضوں کی طرف اشارہ کرتی ہے: اللہ کے عذاب سے حقیقی خوف اور اس کی رحمت (جنت)
سے حقیقی امید۔ یہ
دونوں جذبات مومن کو ہمیشہ بیدار، متحرک اور اپنے مقصد (آخرت کی کامیابی) کے حصول
میں سرگرم عمل رکھتے ہیں۔ یہ حدیث ہمیں غفلت، سستی اور بے فکری سے بچنے کی تلقین
کرتی ہے اور ہمارے دل میں یہ جذبہ پیدا کرتی ہے کہ ہم جہنم سے بچنے اور جنت پانے
کے لیے ہمہ تن کوشش کریں۔

عَدَدُ
أَبْوَابِ الْجَنَّة
جنت کے دروازوں کی تعداد
عَنْ
عُتْبَةَ بْنِ عمرو السُّلَمِيِّ - رضي الله عنه - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ -
صلى الله عليه وسلم -: " الْجَنَّةُ لَهَا ثَمَانِيَةُ أَبْوَابٍ، وَالنَّارُ
لَهَا سَبْعَةُ أَبْوَابٍ "
ترجمہ
حضرت عتبہ بن عمرو سلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "جنت کے آٹھ دروازے ہیں، اور جہنم کے سات دروازے ہیں۔"
🔍 حوالہ جات
(١) (الطبقات
الكبرى لابن سعد، جلد 7، صفحہ: 430) ، (صحيح الجامع:
3119) اور (الصحيحة: 1812) ملاحظہ کریں۔
[الجامع الصحيح للسنن والمسانيد: ج3 ص244]
📖 حدیث سے حاصل
اسباق یا نکات
- آخرت کی
حقیقتوں پر یقین: یہ حدیث ان غیبی حقیقتوں میں
سے ایک پر ایمان لانے کی دعوت دیتی ہے جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
بیان فرمایا ہے۔ جنت و جہنم کے دروازوں کی تعداد کا علم صرف وحی کے ذریعے ہی
ممکن ہے۔
- جنت کی
رحمت کی وسعت: جنت کے آٹھ دروازے ہونے
کا ذکر اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ جنت میں داخلے کے مختلف راستے اور
مراتب ہیں۔ یہ اس کی وسعت، کثرتِ نعمتوں اور مختلف درجات کی طرف بھی
اشارہ کرتا ہے۔ ہر دروازہ مختلف اعمال کرنے والوں کے لیے مخصوص ہو سکتا ہے،
جیسا کہ دیگر احادیث میں آیا ہے (مثلاً: نمازیوں، جہادیوں وغیرہ کے لیے الگ
دروازے)۔
- جہنم کے
عذاب کی شدت اور مختلف قسمیں: جہنم کے سات دروازے ہونے
کا تذکرہ اس کے عذاب کی شدت، وسعت اور مختلف اقسام کو ظاہر کرتا
ہے۔ ہر دروازہ مختلف درجے کے مجرموں یا گناہوں کے لیے ہو سکتا ہے، جیسا کہ
قرآن مجید میں ہے: {ہر گروہ کے لیے ایک مقررہ درجہ
ہے ان کے اعمال کے مطابق} (الاحقاف: 19)۔
- دونوں کی
تعداد میں فرق کا اشارہ: جنت کے دروازے جہنم کے دروازوں
سے زیادہ ہیں۔ اس میں اللہ کی رحمت کے غلبے کی طرف لطیف
اشارہ ہے، جیسا کہ ایک اور حدیث میں ہے: "بے شک
اللہ کی رحمت اس کی غضب پر غالب ہے۔" (صحیح البخاری)۔
- اعمال کی
طرف ترغیب و تنبیہ: یہ حدیث ہمیں نیکی کے
اعمال کی طرف دوڑنے اور برائیوں سے بچنے کی ترغیب دیتی ہے،
تاکہ ہم جنت کے وسیع دروازوں میں سے کسی ایک سے داخل ہو سکیں اور جہنم کے
دروازوں سے محفوظ رہیں۔
- تخیل اور
تصور سے بالاتر حقیقت: جنت و جہنم کے یہ دروازے ہماری
دنیاوی سوچ سے بالکل مختلف اور حقیقی ہیں۔ یہ حدیث ہمیں آخرت کی زندگی کو ایک پختہ
اور ٹھوس حقیقت کے طور پر قبول کرنے کی دعوت دیتی ہے۔
خلاصہ: یہ مختصر حدیث
جنت کی رحمت کی وسعت اور جہنم کے عذاب کی شدت دونوں کو بیان کرتی ہے۔ یہ ہمارے
ایمان کو مضبوط بناتی ہے اور ہمیں آخرت کی تیاری پر ابھارتی ہے، تاکہ ہم اللہ کی
وسیع رحمت کے امیدوار بنیں اور اس کے سخت عذاب سے بچ سکیں۔
عَنْ
أَبِي هُرَيْرَةَ - رضي الله عنه - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه
وسلم -: " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ , إِنَّ مَا بَيْنَ الْمِصْرَاعَيْنِ
(١) مِنْ مَصَارِيعِ الْجَنَّةِ كَمَا بَيْنَ مَكَّةَ وَهَجَرٍ (٢) " (٣)
ترجمہ
حضرت ابوہریرہ
رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! بے شک جنت کے دروازوں کے دو دروں
(١) کے درمیان کا فاصلہ مکہ اور ہجر (بحرین کا ایک شہر) (٢) کے درمیان کے فاصلے کے
برابر ہے۔" (٣)
🔍 حواشی و حوالہ
جات
(١) (الْمِصْرَاعَانِ): دروازے کے
دونوں پٹ (باب کے دونوں جانب/کواڑ)۔
(٢) (هَجَر): بحرین کا ایک
عظیم شہر۔
(٣) (صحیح البخاری:
4435) ، (صحیح مسلم: 194)
[الجامع الصحيح للسنن والمسانيد: ج3 ص245]
📖 حدیث سے حاصل
اسباق و نکات
- جنت کی
عظمت اور وسعت کی ناقابل تصویر حقیقت: نبی صلی
اللہ علیہ وسلم نے اپنی جان کی قسم کھا کر جنت کے صرف ایک دروازے کی وسعت بیان
فرمائی۔ یہ وسعت اس بات کی واضح دلیل ہے کہ جنت کی حقیقی عظمت، اس کی کشادگی
اور اس کی نعمتوں کی فراوانی ہمارے تصور اور اندازے سے بہت پرے ہے۔
جنت کے ایک دروازے کی چوڑائی ہی اتنی ہے کہ اس میں مکہ جیسے عظیم شہر سے
بحرین کے شہر ہجر تک کا فاصلہ سما جائے۔
- قیامت کے
خوفناک مناظر میں امید کی کرن: یہ حدیث قیامت کے دن کی
ہولناکیوں (جیسے حساب کتاب، صراط، حوض سے محرومی) کے بیان کے ساتھ آتی ہے۔ ان
تمام خوفناک مراحل کے بعد، جنت کے اس قدر وسیع اور کشادہ دروازوں کا تذکرہ ہر
مومن کے دل میں امید اور تسلی کا سامان ہے۔ یہ بتاتا ہے کہ منزل انتہائی
عظیم ہے، اس لیے راستہ مشکل ضرور ہے مگر ناممکن نہیں۔
- اللہ کی
رحمت کا غلبہ اور فضل کی کثرت: دروازے کی یہ عظیم الشان وسعت
درحقیقت اللہ تعالیٰ کی بے پایاں رحمت، اس کے فضل کی فراوانی اور اس کے
دامنِ بخشش کی وسعت کی علامت ہے۔ یہ گناہگار مومن کو یہ پیغام دیتی ہے
کہ جنت کا دامن تمہارے گمان سے کہیں زیادہ وسیع ہے، تمہارے گناہوں کے ڈھیر کے
باوجود اس میں تمہارے لیے جگہ ہے۔
- دنیا اور
آخرت کے پیمانوں کا فرق: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جنت
کی عظمت کو سمجھانے کے لیے دنیا کے معلوم اور طویل فاصلے (مکہ سے
ہجر) کو مثال بنایا۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ آخرت کی چیزوں کا ادراک ہمارے لیے
دنیاوی مشابہات کے بغیر ممکن نہیں۔ یہ ہمیں آخرت کی حقیقتوں کو دنیا کے
پیمانے پر ناپنے کی غلطی سے بچاتا ہے۔
- جنت کے
حصول کی ترغیب: اس تصویر کشی کا ایک مقصد ہمارے
دلوں میں جنت کی محبت اور اس کے حصول کی شدید خواہش پیدا کرنا ہے۔
جب انسان یہ جانے گا کہ منزل اتنی عظیم الشان ہے تو وہ اس تک پہنچنے کے لیے
مشکلات اور محنت سے نہیں گھبرائے گا۔
- جنت کے
دروازوں کی حقیقت: حدیث سے یہ بھی معلوم ہوتا है کہ جنت کے
دروازے محض علامتی نہیں، بلکہ حقیقی، ٹھوس اور نہایت عظیم ہیں، جن
کا ہم اس دنیا میں کوئی نظیر نہیں پا سکتے۔
خلاصہ: یہ حدیث ہمارے
سامنے جنت کی عظمت کا ایک ایسا منظر پیش کرتی ہے جو ہمارے ذہنوں کو حیران کر دیتا
ہے۔ یہ ہمیں بتاتی ہے کہ اللہ کا گھر (جنت) کتنا وسیع اور عظیم ہے۔ یہ تصویر ہمارے
ایمان کو تازہ کرتی ہے، ہمارے اندر اللہ کی رحمت پر یقین کو مضبوط بناتی ہے اور
ہمیں اپنی منزل (جنت) کی طرف دوڑنے پر آمادہ کرتی ہے۔
جنت کے درختوں کی صفت
(ت) , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رضي الله عنه - قَالَ: قَالَ
رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم -: " مَا فِي الْجَنَّةِ شَجَرَةٌ ,
إِلَّا وَسَاقُهَا مِنْ ذَهَبٍ "
ترجمہ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "جنت میں کوئی ایسا درخت نہیں جس کا تنا سونے کا نہ ہو۔"
🔍 حوالہ جات
(١) (الجامع
الصحيح للترمذي: 2525) اور (صحيح ابن حبان:
7410) ، (صحيح الجامع: 5647) ، (صحيح الترغيب
والترهيب: 3732) ملاحظہ
کریں۔
[الجامع الصحيح للسنن والمسانيد: ج3 ص246]
📖 حدیث سے حاصل
اسباق و نکات
- جنت کی
نعمتوں کی ناقابلِ تصور عظمت: یہ حدیث جنت کی نعمتوں کی عظمت
اور حقیقت کو سمجھانے کے لیے ایک واضح مثال ہے۔ ہمارے اس دنیا کے درختوں
کے تنے عام طور پر لکڑی کے ہوتے ہیں، لیکن جنت کے درختوں کا تنا خالص سونے کا
ہوگا۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ جنت کی نعمتیں ہمارے دنیاوی تصورات اور مشاہدے
سے بالاتر اور بہت اعلیٰ درجے کی ہیں۔
- اللہ
تعالیٰ کی کمال قدرت: جنت کے درختوں کا سونے کا ہونا اللہ
تعالیٰ کی بے پایاں قدرت کا اظہار ہے۔ اللہ کے لیے کسی بھی چیز کو کسی
بھی شکل میں پیدا کرنا ممکن ہے۔ یہ ہمارے ایمان کو مضبوط کرتا ہے کہ اللہ نے
جنت جیسی عظیم الشان جگہ بنائی ہے جس کا ہم تصور بھی نہیں کر سکتے۔
- دنیاوی
مال کی حقیقت کی نشاندہی: حدیث سے یہ سبق بھی ملتا ہے کہ
دنیا میں جو سونا اور دولت سب سے قیمتی سمجھی جاتی ہے، وہ جنت میں ایک
عام چیز ہوگی، بلکہ وہاں اس سے بھی قیمتی اور خوبصورت نعمتیں ہوں گی۔ یہ
ہمیں دنیا کی محبت اور لالچ سے بچاتا ہے اور آخرت کی نعمتوں کی طرف راغب کرتا
ہے۔
- جنت کی
خوبصورتی اور رونق کی تصویر: درختوں کے سونے کے تنوں کا ذکر
جنت کی حسین اور دلفریب فضا کی عکاسی کرتا ہے۔ ایسا منظر ہمارے لیے
اس دنیا میں تصور سے باہر ہے۔ یہ جنت کی خوبصورتی اور اس کی نعمتوں کی
فراوانی کو ظاہر کرتا ہے۔
- جنت کے
حصول کی ترغیب: اس قسم کی احادیث کا ایک اہم
مقصد مؤمن کے دل میں جنت کی محبت اور اس کے حصول کا شوق پیدا کرنا
ہے۔ جب انسان جنت کی ان نعمتوں کے بارے میں سنے گا تو وہ اسے پانے کے لیے
زیادہ سے زیادہ کوشش کرے گا۔
- غیب پر
ایمان کا تقاضا: یہ حدیث غیبی امور پر
ایمان لانے کی دعوت دیتی ہے۔ ہم نے نہ جنت دیکھی ہے اور نہ ہی اس کے
درخت، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بیان کے ذریعے ہم اس پر پختہ
ایمان رکھتے ہیں۔
خلاصہ: یہ مختصر حدیث
جنت کی نعمتوں کی عظمت کا ایک چھوٹا سا نمونہ پیش کرتی ہے۔ یہ ہمیں بتاتی ہے کہ
آخرت کی زندگی کس قدر حسین اور قیمتی ہوگی جہاں ہماری دنیا کی قیمتی ترین چیز
(سونا) ایک عام شے ہوگی۔ یہ ہمارے ایمان کو تازہ کرتی ہے اور ہمیں اس عظیم نعمت
(جنت) کے حصول کے لیے کوشش کرنے پر آمادہ کرتی ہے۔
صِفَةُ
فَاكِهَةِ الْجَنَّة وَ عِظَمِهَا
جنت کے پھل اور اس کی عظمت کی صفت
عَنْ
عُتْبَةَ بْنِ عَبْدٍ السُّلَمِيِّ - رضي الله عنه - قَالَ: جَاءَ أَعْرَابِيٌّ
إِلَى النَّبِيِّ - صلى الله عليه وسلم - فَسَأَلَهُ عَنْ الْحَوْضِ , وَذَكَرَ
الْجَنَّةَ , ثُمَّ قَالَ الْأَعْرَابِيُّ: فِيهَا فَاكِهَةٌ؟ , قَالَ: "
نَعَمْ , وَفِيهَا شَجَرَةٌ تُدْعَى طُوبَى , فَذَكَرَ شَيْئًا لَا أَدْرِي مَا
هُوَ " , قَالَ: أَيُّ شَجَرِ أَرْضِنَا تُشْبِهُ؟ , قَالَ: " لَيْسَتْ
تُشْبِهُ شَيْئًا مِنْ شَجَرِ أَرْضِكَ , ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله
عليه وسلم -: أَتَيْتَ الشَّامَ؟ " , فَقَالَ: لَا , قَالَ: " تُشْبِهُ
شَجَرَةً بِالشَّامِ تُدْعَى الْجَوْزَةُ , تَنْبُتُ عَلَى سَاقٍ وَاحِدٍ ,
وَيَنْفَرِشُ أَعْلَاهَا " , قَالَ: مَا عِظَمُ أَصْلِهَا (١)؟ قَالَ: "
لَوْ ارْتَحَلْتَ جَذَعَةً (٢) مِنْ إِبِلِ أَهْلِكَ , مَا أَحَاطَتْ بِأَصْلِهَا
حَتَّى تَنْكَسِرَ تَرْقُوَتُهَا (٣) هَرَمًا " , قَالَ: فِيهَا عِنَبٌ؟ ,
قَالَ: " نَعَمْ " , قَالَ: فَمَا عِظَمُ الْعُنْقُودِ؟ , قَالَ: "
مَسِيرَةُ شَهْرٍ لِلْغُرَابِ الْأَبْقَعِ (٤) وَلَا يَعْثُرُ " , قَالَ:
فَمَا عِظَمُ الْحَبَّةِ؟ قَالَ: " هَلْ ذَبَحَ أَبُوكَ تَيْسًا مِنْ غَنَمِهِ
قَطُّ عَظِيمًا؟ " , قَالَ: نَعَمْ , قَالَ: " فَسَلَخَ إِهَابَهُ (٥)
فَأَعْطَاهُ أُمَّكَ فَقَالَ: اتَّخِذِي لَنَا مِنْهُ دَلْوًا؟ " قَالَ:
نَعَمْ , قَالَ الْأَعْرَابِيُّ: فَإِنَّ تِلْكَ الْحَبَّةَ لَتُشْبِعُنِي
وَأَهْلَ بَيْتِي ,
قَالَ:
" نَعَمْ , وَعَامَّةَ عَشِيرَتِكَ " (٦)
ترجمہ
عتبہ
بن عبد سلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ایک اعرابی (دیہاتی) نبی صلی
اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ سے حوضِ کوثر کے بارے میں پوچھا، پھر
جنت کا ذکر کیا۔ اس کے بعد اعرابی نے پوچھا: کیا اس میں پھل بھی ہیں؟ آپ نے
فرمایا: "ہاں، اور اس میں ایک درخت ہے جسے 'طوبیٰ' کہا جاتا ہے، پھر آپ نے
کوئی اور بات فرمائی جو مجھے یاد نہیں رہی۔" اس نے پوچھا: ہماری زمین کے کس
درخت سے مشابہت رکھتا ہے؟ آپ نے فرمایا: "تمہاری زمین کے کسی درخت سے اس کی
مشابہت نہیں ہے۔" پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "کیا تم
شام گئے ہو؟" اس نے کہا: نہیں۔ آپ نے فرمایا: "یہ شام میں ایک درخت سے
مشابہت رکھتا ہے جسے 'الجوزہ' (اخروٹ) کہتے ہیں، جو ایک ہی تنا (سے اگتا) ہے اور
اس کا اوپری حصہ پھیل جاتا ہے۔"
اس نے
پوچھا: اس کی جڑ (یا تنا) کتنی بڑی ہے (١)؟ آپ نے فرمایا: "اگر تم اپنے
خاندان کی ایک 'جذعہ' (٢) اونٹنی پر سوار ہو کر چل پڑو تو اس کی جڑ کا احاطہ نہیں
کر سکو گے یہاں تک کہ وہ بڑھاپے کی وجہ سے اس کی 'ترقوہ' (ہنسلی کی ہڈی) (٣) ٹوٹ
جائے۔"
اس نے
پوچھا: کیا اس میں انگور بھی ہیں؟ آپ نے فرمایا: "ہاں۔" اس نے پوچھا:
پھر خوشہ کتنا بڑا ہوگا؟ آپ نے فرمایا: "ایک 'ابقع' (سفید دھبے والے) (٤) کوے
کی ایک ماہ کی مسافت کے برابر، اور وہ (خوشے کے نیچے اڑتے ہوئے) ٹھوکر نہیں کھائے
گا۔"
اس نے
پوچھا: پھر ایک دانہ کتنا بڑا ہوگا؟ آپ نے فرمایا: "کیا تمہارے باپ نے کبھی
اپنی بکریوں میں سے کوئی بڑا سا بکرا ذبح کیا تھا؟" اس نے کہا: جی ہاں۔ آپ نے
فرمایا: "پھر اس کی کھال اتاری (٥) اور تمہاری ماں کو دے کر کہا: ہمارے لیے
اس میں سے ایک ڈول بنا دو؟" اس نے کہا: جی ہاں۔ اعرابی بولا: "پھر تو وہ
ایک دانہ مجھے اور میرے گھر والوں کو سیر کر دے گا۔"
آپ نے
فرمایا: "ہاں، اور تمہاری پوری قبیلہ کو (بھی سیر کر دے گا)۔" (٦)
🔍 حواشی و حوالہ
جات
(١) أصلها: اس کا تنا/جڑ۔
(٢) (الجَذَعَة): وہ اونٹنی جس
پر چار سال گزر چکے ہوں اور پانچویں میں داخل ہو گئی ہو۔ (فتح الباري،
جلد 5، صفحہ 65)
(٣) التَرْقُوَة: گردن اور کندھے
کے درمیان ابھری ہوئی ہڈی (ہنسلی کی ہڈی)، یہ دو ہوتی ہیں۔
(٤) "
الْأَبْقَع
": وہ
(کوا) جس کی پیٹھ یا پیٹ پر سفید دھبے ہوں۔
(٥) أَيْ: اس کی کھال۔
(٦) (مسند الإمام
أحمد: 17679) ، (معجم الطبراني الكبير: 312) ، (صحيح الترغيب
والترهيب: 3729) ، (ظلال الجنة: 715، 716) ، (صحيح موارد
الظمآن: 2224) ملاحظہ
کریں۔
تخریج: یہ حدیث ابن
حبان (6450)، الطبرانی (312)، اور ابن ابی عاصم (715) وغیرہ نے روایت کی ہے۔
[الجامع الصحيح للسنن والمسانيد: ج3 ص247]
📖 حدیث سے حاصل
اسباق و نکات
- جنت کی
نعمتوں کی ناقابلِ تصور عظمت: یہ حدیث جنت کی نعمتوں، خاص طور
پر پھلوں کی حیرت انگیز وسعت اور عظمت کو بیان کرتی ہے۔ ایک درخت
کا تنا، ایک خوشہ اور ایک دانہ ہی اتنا عظیم ہے کہ اس دنیا کی کوئی مثال اس
کے سامنے پیش نہیں کی جا سکتی۔ یہ جنت کی حقیقی شان اور اللہ کے وعدے کی
سچائی کو ظاہر کرتا ہے۔
- انسانی
عقل اور مشاہدے کی محدودیت: جب اعرابی نے 'طوبیٰ' درخت کی
مثال پوچھی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہاری زمین کے کسی
درخت سے مشابہت نہیں رکھتا۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ آخرت کی نعمتیں اور اس
کی حقیقتیں ہمارے دنیاوی مشاہدے، تجربے اور عقل سے بالاتر ہیں۔
- تعلیمِ
نبوی کا حکیمانہ انداز: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سائل
کی سادہ فہم کے مطابق جواب دیا۔ جب وہ کوئی زمینی مثال نہ سمجھ سکا تو آپ نے
اسے 'شام کے اخروٹ کے درخت' کی مثال دی جو اس کے علم میں تھی، پھر اس کی عقل
میں اتارنے کے لیے ایک اونٹنی کے سفر، کوے کی پرواز اور بکری
کی کھال جیسی روزمرہ کی چیزوں کو پیمانہ بنایا۔ یہ معلّمِ انسانیت کی
عظیم بصیرت ہے۔
- اللہ کی
رحمت اور فضل کی فراوانی: ایک انگور کے دانے سے ایک پورا
خاندان اور قوم کے سیر ہونے کا بیان، اللہ کے دامنِ رحمت اور اس کے فضل
کی بے پایاں وسعت کو ظاہر کرتا ہے۔ جنت کی نعمتیں نہ صرف بے مثال ہیں
بلکہ ان میں کبھی کمی اور اختتام بھی نہیں آئے گا۔
- سوال کرنے
اور علم حاصل کرنے کی اہمیت: اعرابی کے ایک کے بعد ایک سوال
کرنے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صبر و تحمل کے ساتھ جواب دینے سے علم
کے حصول کی اہمیت اور اس کے آداب کا پتہ چلتا ہے۔ حصولِ علم کے لیے سوال
کرنا ایک پسندیدہ عمل ہے۔
- جنت کی
طرف رغبت دلانا: ایسی تفصیلات کا مقصد مؤمن کے
دل میں جنت کی محبت اور اس کے حصول کا شوق پیدا کرنا ہے۔ جب آدمی
یہ سنے گا کہ محض ایک پھل کا ایک دانہ کتنا عظیم ہوگا، تو وہ اس عظیم نعمت کے
حصول کے لیے ضرور کوشش کرے گا۔
- غیب پر
ایمان کی مضبوطی: یہ تمام بیانات غیبی امور
پر ایمان کو مضبوط کرتے ہیں۔ ہم نے نہ جنت دیکھی ہے نہ ہی اس کے درخت،
لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سچی خبر پر ہم کامل یقین رکھتے ہیں۔
خلاصہ: یہ حدیث ہمیں
آخرت کی زندگی کی حقیقی عظمت اور خوبصورتی سے متعارف کراتی ہے۔ یہ ہمارے ایمان کو
تازہ کرتی ہے، اللہ کی رحمت پر ہمارا اعتماد بڑھاتی ہے، اور ہمیں اس عظیم ترین
نعمت (جنت) کے حصول کے لیے نیک اعمال کی طرف دوڑنے پر آمادہ کرتی ہے۔ ساتھ ہی یہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حکمتِ تعلیم کا بھی شاہکار نمونہ ہے۔
عَنْ
عُتْبَةَ بْنِ عَبْدِ السُّلَمِيِّ - رضي الله عنه - قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا مَعَ
رَسُولِ اللهِ - صلى الله عليه وسلم - فَجَاءَ أَعْرَابِيُّ فَقَالَ: يَا رَسُولَ
اللهِ، ذَكَرَ اللهُ - عز وجل - فِي الْجَنَّةِ شَجَرَةً مُؤْذِيَةً، لَا أَعْلَمُ
فِي الدُّنْيَا شَجَرَةً أَكْثَرَ شَوْكًا مِنْهَا - يَعْنِي السِّدْرَ - فَقَالَ
رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم -: " أَلَيْسَ اللهُ - عز وجل - يَقُولُ:
{فِي سِدْرٍ مَخْضُودٍ} , فَإِنَّ اللهَ خَضَدَ (١) شَوْكَهُ , فَجَعَلَ مَكَانَ
كُلِّ شَوْكَةٍ ثَمَرَةً مِثْلَ خِصْيَةِ التَّيْسِ الْمَلْبُودِ - يَعْنِي
الْمَخْصِيَّ - فِيهَا سَبْعُونَ لَوْنًا مِنَ الطَّعَامِ، مَا فِيهِ لَوْنٌ
يُشْبِهُ الْآخَرَ " (٢)
اردو
ترجمہ
عتبہ
بن عبد سلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا کہ ایک اعرابی (دیہاتی) آیا اور بولا: اے اللہ کے
رسول! اللہ تعالیٰ نے جنت میں ایک ایسے درخت کا ذکر فرمایا ہے جو تکلیف دہ ہے، میں
دنیا میں اس درخت (یعنی بیر) سے زیادہ کانٹے والا کوئی درخت نہیں جانتا۔ تو رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "کیا اللہ تعالیٰ یہ نہیں فرماتا: {کانٹوں سے پاک
بیروں میں} (سورۃ الواقعة، آیت: 28)؟ پس بے شک اللہ نے اس کے کانٹوں کو کاٹ
(دور) کر دیا ہے (١)، اور ہر کانٹے کی جگہ ایک ایسا پھل بنا دیا ہے جو خصی بکرے کی
خصیہ (فوطہ) کے مانند ہے – یعنی بڑا اور بھرا ہوا – اس (پھل) میں کھانے کے ستر رنگ
ہیں، ان میں سے کوئی رنگ دوسرے سے مشابہت نہیں رکھتا۔" (٢)
🔍 حواشی و حوالہ
جات
(١) خَضَدَتُ
الشجر: میں نے
درخت کے کانٹے کاٹ دیے، پس وہ خَضِيد اور مَخضُود (یعنی کانٹوں سے پاک) ہے۔ اور الخَضْدُ درخت
سے کانٹے نوچنے کو کہتے ہیں۔ اللہ عزوجل کا قول ہے: (في سدر مخضود) یعنی وہ (سدر)
جس کے کانٹے کاٹ دیے گئے، پس اس میں کوئی کانٹا نہیں۔ (لسان العرب -
جلد 3 / صفحہ 162)
(٢) (معجم الطبراني
الكبير: 318) ، (الصحيحة: 2734) ، (صحيح الترغيب
والترهيب: 3742) ملاحظہ
کریں۔
تخریج: یہ حدیث
الطبرانی نے "المعجم الکبیر" (17/130) میں روایت کی ہے اور حافظ ہیثمی
نے "مجمع الزوائد" (10/414) میں کہا ہے کہ اس کے راوی صحیحین کے راوی
ہیں۔
[الجامع الصحيح للسنن والمسانيد: ج3 ص248]
📖 حدیث سے حاصل
اسباق و نکات
- قرآن کی
تفسیر سنتِ نبوی سے: یہ حدیث قرآن کریم کی کسی آیت
کی تفسیر و تشریح کا بہترین نمونہ ہے۔ جب اعرابی نے قرآن میں مذکور
"سدر" (بیر) کے درخت کے کانٹوں پر تعجب کا اظہار کیا، تو نبی کریم
صلی اللہ علیہ وسلم نے سورۃ الواقعة ہی کی آیت "سِدْرٍ
مَّخْضُودٍ" (کانٹوں سے پاک بیر) کی وضاحت فرما کر
اس کا جواب دیا۔ یہ اس اصول کی عملی مثال ہے کہ قرآن کی صحیح تفہیم کے لیے
سنتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف رجوع ضروری ہے۔
- دنیا و
آخرت کی نعمتوں میں بنیادی فرق: حدیث اس اہم عقیدے کو واضح کرتی
ہے کہ جنت کی نعمتیں ناموں کے علاوہ دنیا کی چیزوں سے مشابہت نہیں
رکھتیں۔ دنیا کا بیر کانٹوں بھرا ہوتا ہے، جبکہ جنت کا بیر "مخضود"
یعنی کانٹوں سے یکسر پاک ہے اور اس کی جگہ لذیذ پھل ہیں۔ اسی طرح، جنت کے ایک
ہی پھل میں کھانے کے 70 مختلف ذائقے ہوں گے، جو دنیا میں کسی ایک پھل میں
ناممکن ہے۔
- اللہ کی
قدرت کاملہ اور اس کے فضل کی وسعت: حدیث میں بیان ہونے والی تبدیلی
– کانٹے
کا پھل میں بدل جانا – اور ایک ہی پھل میں ذائقوں کی
بے پناہ تنوع، اللہ تعالیٰ کی لا محدود قدرت اور اس کے فضل کی وسعت کو
ظاہر کرتی ہے۔ یہ تبدیلی صرف اس کی مشیت سے ہوگی اور یہ جنت میں داخل ہونے
والے مومنوں پر اس کا خاص احسان ہوگا۔
- سوال کرنے
اور علم حاصل کرنے کی اہمیت: اعرابی کا یہ سوال پوچھنا اور
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اسے تفصیل سے جواب دینا علم دین سیکھنے
سکھانے کے آداب سکھاتا ہے۔ صحیح عقیدہ اور علم حاصل کرنے کے لیے سوال
کرنا نہ صرف جائز بلکہ پسندیدہ عمل ہے، جیسا کہ ایک اور حدیث میں آیا ہے کہ
صحابہ کرام فرماتے تھے: "اللہ ہمیں اعرابیوں اور ان کے سوالوں سے نفع
پہنچاتا ہے"۔
- جنت کی
نعمتوں کے متعلق غور و فکر: اعرابی کا غور کرنا اور اس بات
پر حیران ہونا کہ "جنت میں تکلیف دہ چیز کیسے ہو سکتی ہے؟" درحقیقت تفکّر
اور تدبّر کی ترغیب ہے۔ مومن کو چاہیے کہ وہ آخرت کی نعمتوں کے بارے میں
سوچے، قرآن و حدیث میں ان کی جو صفات آئی ہیں، ان پر غور کرے اور ان کے حصول
کی جدوجہد کرے۔
- ایک پھل
کی عظمت: پھل کا "خصیہ تیس" (بڑے بکرے کے
فوطے) جتنا ہونے کا بیان جنت کی نعمتوں کے عظمت، کشادگی اور فراوانی کو
ظاہر کرتا ہے۔ یہ دنیا کے پھلوں سے بالکل مختلف، نہایت عظیم اور بھرپور نعمت
ہوگی۔
خلاصہ: یہ حدیث ہمیں
سکھاتی ہے کہ جنت کی نعمتیں ہمارے دنیاوی مشاہدے اور تصور سے بالاتر ہیں۔ اللہ
تعالیٰ نے وہاں ہر عیب کو دور اور ہر نقص کو کمال میں بدل دیا ہے۔ ہمارا کام قرآن
و سنت سے ان نعمتوں کا علم حاصل کرنا، ان پر یقین رکھنا اور انہیں پانے کے لیے
اپنی زندگی کو سنوارنا ہے۔
جنت کے
درخت 'طُوبیٰ' کی عظمت و وسعت
عَنْ
أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ - رضي الله عنه - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه
وسلم -: (" إِنَّ فِي الْجَنَّةِ لَشَجَرَةً يَسِيرُ الرَّاكِبُ الْجَوَادُ
(١) الْمُضَمَّرُ (٢) السَّرِيعُ) (٣) (فِي ظِلِّهَا مِائَةَ عَامٍ لَا
يَقْطَعُهَا) (٤) (وَهِيَ شَجَرَةُ الْخُلْدِ) (٥) (وَإِنْ شِئْتُمْ فَاقْرَءُوا:
{وَأَصْحَابُ الْيَمِينِ مَا أَصْحَابُ الْيَمِينِ , فِي سِدْرٍ مَخْضُودٍ
وَطَلْحٍ مَنْضُودٍ , وَظِلٍّ مَمْدُودٍ , وَمَاءٍ مَسْكُوبٍ} (٦) ") (٧)
ترجمہ:
انس بن
مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
فرمایا: ("بے شک جنت میں ایک ایسا درخت ہے کہ ایک تیز رفتار، دُبلے پتلے
(تیار) اور تیز (١)(٢) گھوڑے پر سوار (٣) اس کے سائے میں سو سال تک چلتا رہے اور
اسے (سائے کو) قطع نہ کر سکے (٤)، اور وہ 'شجرۃ الخلد' (ہمیشگی کا درخت) ہے (٥)۔
اور اگر تم چاہو تو (قرآن) پڑھو: {اور داہنی طرف والے، کیا ہی خوب ہیں داہنی طرف
والے! کانٹوں سے پاک بیروں میں اور گھنے کیلیں، اور پھیلا ہوا سایہ، اور بہتا ہوا
پانی} (٦)۔") (٧)
🔍 حواشی و حوالہ
جات
(١) (الْجَوَاد): یہ گھوڑا ہے۔
کہا جاتا ہے: جَادَ الْفَرَس (گھوڑا تیز ہو گیا) جب وہ سبقت لے گیا۔ اس کی جمع:
جِيَاد ہے۔ (فتح
الباري، جلد 18 / صفحہ 400)
(٢) الْإِضْمَارُ
وَالتَّضْمِيرُ: یہ ہے
کہ تم گھوڑوں کو اس قدر چارہ کھلاؤ کہ وہ موٹے اور طاقتور ہو جائیں، پھر اس کے بعد
ان کا چارہ بقدرِ قوت کم کر دو، اور انہیں ایک کمرے میں داخل کیا جائے اور کمبلوں
سے ڈھانپ دیا جائے یہاں تک کہ وہ گرم ہو کر پسینہ پسینہ ہو جائیں، پھر جب ان کا
پسینہ خشک ہو جاتا ہے تو ان کا گوشت ہلکا ہو جاتا ہے اور دوڑنے پر طاقتور ہو جاتے
ہیں۔ (تحفة
الأحوذي، جلد 4 / صفحہ 382)
(٣) (صحیح البخاری:
6186) ، (صحیح مسلم: 2828)
(٤) (الجامع الصحيح
للترمذي: 2523)
(٥) (مسند الإمام
أحمد: 9870) ، اور شیخ شعیب الارناءوط نے کہا: (اس کی سند) صحیح ہے۔
(٦) [سورۃ الواقعة،
آیات: 27-31]
(٧) (صحیح البخاری:
4599) ، (الجامع الصحيح للترمذي: 3292)
[الجامع الصحيح للسنن والمسانيد: ج3 ص249]
📖 حدیث سے حاصل اسباق و نکات
- جنت کی
نعمتوں کی ناقابلِ تصور وسعت و عظمت: حدیث میں
جنت کے ایک درخت ('طوبیٰ' یا 'شجرۃ الخلد') کے سائے کی وسعت کو بیان کرنے کے
لیے جو مثال دی گئی ہے وہ حیرت انگیز ہے۔ ایک تیار اور تیز رفتار گھوڑے پر
سوار شخص مسلسل سو سال تک سیدھا چلتا رہے اور اس درخت کے سائے سے
باہر نہ نکل سکے۔ یہ جنت کی نعمتوں کی لامحدودیت، وسعت اور عظمت کو
سمجھانے کے لیے ایک ایسی تصویر کشی ہے جو ہمارے دنیاوی پیمانوں اور تصور سے
بالاتر ہے۔
- قرآن و
حدیث کا باہمی ربط اور تفسیر: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے
حدیث کے اختتام پر سورۃ الواقعة کی آیات (27-31) تلاوت فرما کر صحابہ کرام کو قرآن
کی طرف رجوع کرنے کی ترغیب دی۔ ان آیات میں جنت کی جن نعمتوں (بے کانٹے
کے بیر، گھنی کیلیں، پھیلا ہوا سایہ، بہتا پانی) کا ذکر ہے، حدیث ان میں
سے ایک نعمت ("وَظِلٍّ مَمْدُودٍ" – پھیلا ہوا
سایہ) کی حقیقی نوعیت اور عظمت کو واضح کرتی ہے۔ یہ سنتِ نبوی کا قرآن کی
تفسیر کرنے کا بہترین نمونہ ہے۔
- جنت کی
نعمتوں کا دائمی و ابدی ہونا: درخت کا نام "شجرۃ
الخلد" (ہمیشگی کا درخت) رکھا گیا ہے۔ یہ صرف
درخت ہی نہیں بلکہ جنت کی تمام نعمتوں کی دوام و بقا کی طرف اشارہ
ہے۔ جنت کی کوئی نعمت فنا یا زوال پذیر نہیں ہوگی، بلکہ ہمیشہ کے لیے
تروتازہ، لذیذ اور مکمل رہے گی۔ یہ مؤمن کے لیے اللہ کے وعدے کی سچائی پر
کامل یقین کا سبب ہے۔
- غیب پر
ایمان کی مضبوطی: ہم نے نہ جنت دیکھی ہے اور نہ
ہی اس کا یہ درخت، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بیان کے ذریعے ہم اس
پر پختہ ایمان رکھتے ہیں۔ ایسی احادیث ہمارے ایمان کو تازہ کرتی
ہیں اور ہمیں یہ یقین دلاتی ہیں کہ آخرت کی زندگی اور اس کی نعمتیں ہماری
دنیاوی سوچ سے کہیں زیادہ عظیم اور حقیقی ہیں۔
- جنت کے
حصول کی ترغیب و ترہیب: اس قسم کی تفصیلات کا ایک بڑا
مقصد مؤمن کے دل میں جنت کی محبت اور اس کے حصول کا شوق و جذبہ پیدا
کرنا ہے۔ جب انسان یہ جانے گا کہ منزل اتنی عظیم الشان ہے تو وہ اس تک پہنچنے
کے لیے دنیاوی مشکلات اور محنت سے نہیں گھبرائے گا۔ یہ ایک طرف رغبت (ترغیب)
ہے تو دوسری طرف اس بات سے ڈرانا (ترہیب) بھی ہے کہ ایسی عظیم نعمت سے محروم
نہ رہ جائیں۔
- اللہ کی
قدرتِ کاملہ کا اظہار: اس درخت کا وجود اور اس کی عظیم
الشان وسعت اللہ تعالیٰ کی لا محدود قدرت کا ایک مظہر ہے۔ اس کے
لیے ایسے درخت کا پیدا کرنا جو ہمارے تمام زمینی درختوں سے مختلف اور عظیم تر
ہے، کوئی مشکل کام نہیں۔
خلاصہ: یہ حدیث ہمیں
جنت کی نعمتوں کی حقیقی نوعیت اور عظمت سے آگاہ کرتی ہے۔ یہ ہمارے ایمان کو مضبوط
بناتی ہے، ہمیں قرآن و سنت کے باہمی ربط کا علم دیتی ہے، اور اس عظیم ترین نعمت
(جنت) کے حصول کے لیے نیک اعمال کی طرف دوڑنے پر آمادہ کرتی ہے۔ یہ سبق دیتی ہے کہ
ہمارا مقصدِ حیات اسی ابدی اور عظیم نعمت کو پانا ہونا چاہیے۔
عَنْ
أَسْمَاءَ بنتِ أَبِي بَكْرٍ - رضي الله عنها - قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ -
صلى الله عليه وسلم - وَذَكَرَ سِدْرَةَ الْمُنْتَهَى فَقَالَ: " يَسِيرُ
الرَّاكِبُ فِي ظِلِّ الْفَنَنِ (١) مِنْهَا مِائَةَ عَامٍ, فِيهَا فَرَاشُ
الذَّهَبِ (٢) كَأَنَّ ثَمَرَهَا الْقِلَالُ (٣) " (٤)
ترجمہ:
حضرت اسماء
بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم کو سیدرۃ المنتہیٰ کا ذکر کرتے ہوئے سنا، آپ نے فرمایا: "اس (درخت)
کے ایک شاخ کے سائے میں سوار سو سال تک چلتا رہے، اس (درخت) میں سونے کے تتلیاں
(٢) ہیں گویا کہ اس کے پھل ہجر کے مٹکوں (٣) کی مانند ہیں۔" (٤)
🔍 حواشی و حوالہ
جات
(١) یعنی:
شاخ کے سائے میں۔ اور اس کی جمع 'الْأَفْنَانُ' ہے، اسی سے اللہ تعالیٰ کا قول ہے {ذَوَاتَا
أَفْنَانٍ}۔
(٢) (الفَرَاشُ): 'فَرَاشَة'
(تتلی) کی جمع ہے، اور وہ جو پرواز کرتی ہے اور چراغ پر گرتی پڑتی ہے۔ (تحفة الأحوذي،
جلد 6، صفحہ 332)
(٣) (الْقِلَالُ): 'قُلَّة'
(مٹکا/کوزہ) کی جمع ہے، یعنی ہجر کے مٹکوں کی طرح بڑے۔ (تحفة الأحوذي،
جلد 6، صفحہ 332)
(٤) (الجامع الصحيح
للترمذي: 2541) ، (مستدرك الحاكم: 3748) ، (صحيح الترغيب
والترهيب: 3727) ملاحظہ
کریں۔ (اور حدیث (ت) یعنی ترمذی میں ضعیف ہے۔)
- راوی کے بارے میں: اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما صحابیہ ہیں، جو خلیفہ اول ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی، ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کی بہن، اور صحابیِ رسول حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کی زوجہ تھیں۔ آپؓ کا شمار اسلام قبول کرنے والے اولین افراد میں ہوتا ہے اور آپؓ کا لقب 'ذات النطاقین' ہے۔ آپؓ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کئی احادیث روایت کی ہیں۔
📖 حدیث سے حاصل
اسباق و نکات
اس
حدیثِ مبارک سے، اگرچہ اس کی سند کے بارے میں (ترمذی کی روایت کے حوالے سے) کچھ
علماء نے ضعف کا ذکر کیا ہے، مندرجہ ذیل اسباق و نکات حاصل ہوتے ہیں:
- سیدرۃ
المنتہیٰ کی عظمت و وسعت: حدیث جنت کے عظیم الشان درخت
'سیدرۃ المنتہیٰ' کی حیرت انگیز وسعت اور شان و شوکت کی ایک جھلک
پیش کرتی ہے۔ اس کے صرف ایک شاخ (فنن) کا سایہ اتنا وسیع ہے کہ ایک سوار
مسلسل سو سال تک اس میں سفر کرتا رہے۔ یہ جنت کی نعمتوں کی
لامحدودیت اور ان کے دنیوی پیمانوں سے بالاتر ہونے کی ایک اور دلیل ہے۔
- جنت کی
نعمتوں کی نادر و نفیس نوعیت: درخت پر سونے کی تتلیوں کا
ہونا اور اس کے پھلوں کا بڑے بڑے مٹکوں (قِلَال) جیسا ہونا، جنت کی
نعمتوں کی نادر، قیمتی اور عظیم الجثہ ہونے کی طرف اشارہ ہے۔ یہ
نعمتیں نہ صرف خوبصورت اور قیمتی دھات سے بنی ہیں بلکہ ان کا حجم و ہیئت بھی
ہمارے دنیاوی تصور سے کہیں زیادہ ہے۔
- غیبی امور
کی تفصیلات پر ایمان: 'سیدرۃ المنتہیٰ' کا ذکر قرآن
پاک (سورہ النجم) میں آیا ہے۔ یہ حدیث اس کی مزید کچھ غیبی تفصیلات بیان
کرتی ہے۔ ایسی احادیث مؤمن کے لیے غیب پر ایمان کو مضبوط بناتی ہیں اور یہ
یقین دلاتی ہیں کہ آخرت کی زندگی اور اس کی نعمتیں ہماری دنیاوی سوچ سے کہیں
زیادہ حقیقی اور عظیم ہیں۔
- جنت کی
طرف رغبت و ترغیب: ایسی تفصیلات سننے کا ایک بڑا
مقصد مؤمن کے دل میں جنت کی محبت، شوق اور اس کے حصول کی لگن پیدا
کرنا ہے۔ جب انسان یہ جانے گا کہ منزل میں اس قدر عجیب و غریب، خوبصورت اور
عظیم نعمتیں ہیں، تو وہ اسے پانے کے لیے زیادہ سے زیادہ کوشش اور محنت پر
آمادہ ہوگا۔
- حسنِ تخیل
اور بیان کی عظمت: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے
جنت کی ناقابلِ بیان چیزوں کو سمجھانے کے لیے دنیا سے ایسی مثالیں دی
ہیں جو سامعین کے لیے ملموس اور قابل فہم تھیں (جیسے تتلی، مٹکا)۔ یہ آپ صلی
اللہ علیہ وسلم کی تعلیم دینے کے حکیمانہ اور مؤثر انداز کی عکاسی
کرتا ہے۔
- حدیث کے
درجے کے بارے میں احتیاط: حاشیے میں درج ہے کہ یہ روایت
ترمذی کی کتاب میں ضعیف ہے۔ یہ ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ احادیث سے
استدلال اور عقیدہ مستحکم کرتے وقت حدیث کے درجے (صحیح، حسن، ضعیف) کا
علم رکھنا اور اہل علم کی جانب سے بیان کردہ درجے کا احترام کرنا ضروری
ہے۔ ضعیف احادیث فضائلِ اعمال یا ترغیب و ترہیب کے باب میں احتیاط کے ساتھ
بیان کی جا سکتی ہیں، لیکن عقائد یا حلال و حرام کے ثبوت کے لیے ان پر انحصار
نہیں کیا جا سکتا۔
خلاصہ: یہ حدیث ہمیں
جنت کے ایک عظیم درخت ('سیدرۃ المنتہیٰ') کی حیرت انگیز صفات سے متعارف کراتی ہے،
جو ہمارے ایمان کو تازہ کرتی ہے اور آخرت کی نعمتوں کے حصول کی طرف راغب کرتی ہے۔
ساتھ ہی، یہ حدیث کے درجے کے بارے میں علم رکھنے اور احتیاط برتنے کی بھی تعلیم
دیتی ہے۔
اگر آپ
کسی مخصوص موضوع یا راوی سے متعلق مزید احادیث جاننا چاہتے ہیں تو ضرور پوچھیے۔
عَنْ
أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ - رضي الله عنه - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ - صلى
الله عليه وسلم -: " طُوبَى لِمَنْ رَآنِي وَآمَنَ بِي , وَطُوبَى , ثُمَّ
طُوبَى , ثُمَّ طُوبَى لِمَنْ آمَنَ بِي وَلَمْ يَرَنِي , وفي رواية: (وَطُوبَى
لِمَنْ لَمْ يَرَنِي وَآمَنَ بِي سَبْعَ مَرَّاتٍ) (١) " , فَقَالَ لَهُ
رَجُلٌ: وَمَا طُوبَى؟ , قَالَ: " شَجَرَةٌ فِي الْجَنَّةِ , مَسِيرَةُ
مِائَةِ عَامٍ , ثِيَابُ أَهْلِ الْجَنَّةِ تَخْرُجُ مِنْ أَكْمَامِهَا (٢) "
(٣)
ترجمہ:
ابو
سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
نے فرمایا: "طوبیٰ ہے اس شخص کے لیے جس نے مجھے دیکھا اور مجھ پر ایمان لایا،
اور طوبیٰ ہے، پھر طوبیٰ ہے، پھر طوبیٰ ہے اس کے لیے جس نے مجھ پر ایمان لایا اور
مجھے نہیں دیکھا۔" اور ایک روایت میں ہے: (اور اس کے لیے
سات بار طوبیٰ ہے جس نے مجھے نہیں دیکھا اور مجھ پر ایمان لایا) (١)۔
تو ایک شخص نے آپ سے پوچھا: اور طوبیٰ کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: "جنت میں ایک
درخت ہے، (جس کی وسعت) سو سال کی مسافت کے برابر ہے، اہل جنت کے لباس اس کے پھولوں
کے خول (کلیوں) سے نکلتے ہیں (٢)۔" (٣)
🔍 حواشی و حوالہ
جات
(١) (مسند
أبي يعلى: 3391) , (صحيح ابن حبان: 7233) , (صحيح الجامع: 3924) , (الصحيحة: 1241)
(٢) (الأَكْمَام) 'كِمٌّ' کی جمع
ہے، اور وہ پھل اور بیج کا غلاف ہے اس سے پہلے کہ وہ ظاہر ہو۔ (حاشية السندي
على ابن ماجه، جلد 5، صفحہ 257)
(٣) (مسند الإمام
أحمد: 11691, 17426) , (صحيح الجامع: 3923) , (صحيح الترغيب
والترهيب: 3736) , (الصحيحة: 1985, 3432)
📖 حدیث سے حاصل
اسباق و نکات
- صحابہ
کرام کی عظیم فضیلت: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے
پہلے ان لوگوں کے لیے "طوبیٰ" کی بشارت دی جو آپ کو دیکھ کر
ایمان لائے۔ یہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی بے مثال فضیلت اور بلند
مقام کی واضح دلیل ہے۔ انہوں نے براہ راست آپ کا چہرہ مبارک دیکھا، آپ
کی بات سنی اور آپ کی صحبت سے فیضیاب ہوئے، اس لیے ان کا ایمان اور یقین
انتہائی مضبوط اور کامل تھا۔
- بعد والی
امت کے مومنین کے لیے بشارت و تسلی: اس کے بعد
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کے لیے بھی "طوبیٰ" کی خوشخبری
سنائی جو آپ کو بغیر دیکھے ایمان لائیں۔ یہ ہماری (صحابہ کے بعد کی)
تمام امت کے لیے عظیم بشارت، رحمت اور تسلی کا پیغام ہے۔ ایک روایت
میں سات بار "طوبیٰ" کا ذکر اس اجر کی کثرت کو ظاہر
کرتا ہے۔
- ایمان
بالغیب کی اہمیت و اجر: جو لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم
کو نہیں دیکھ سکے، ان کا ایمان ایمان بالغیب پر مبنی ہے۔ یہ ایمان
بھی اللہ کے ہاں انتہائی پسندیدہ اور قابلِ اجر ہے۔ حدیث ان تمام مومنین کے
دلوں میں یہ یقین اور اطمینان پیدا کرتی ہے کہ ان کا ایمان بھی مقبول ہے اور
ان کے لیے بھی بہترین اجر ہے۔
- "طوبیٰ"
درخت کی عظمت اور خصوصیت: جب صحابی نے "طوبیٰ"
کا معنی پوچھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے جنت کے ایک عظیم درخت کے طور
پر متعارف کرایا:
- وسعت: اس کی
وسعت سو سال کی مسافت کے برابر ہے۔ یہ جنت کی نعمتوں کی لامحدودیت
اور عظمت کو ظاہر کرتا ہے۔
- خصوصی
نعمت: اس درخت سے اہل جنت کے لباس نکلتے ہیں۔
یہ ایک حیرت انگیز بات ہے جو جنت کے نظام اور نعمتوں کی خوبصورتی اور کمال
کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ یہ لباس نہایت قیمتی، خوبصورت اور ہمیشہ رہنے والے
ہوں گے۔
- ایک جامع
دعا اور تحفہ: "طُوبَى" کا لفظ عربی میں
خوشی، بھلائی اور نیک انجام کے لیے ایک جامع کلمہ اور دعا ہے۔ نبی صلی اللہ
علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ "طوبیٰ ہے اس کے لیے" درحقیقت
اس شخص کے لیے دنیا و آخرت کی تمام بھلائیوں اور کامیابیوں کی دعا اور
ضمانت ہے۔
- جنت کی
نعمتوں کی طرف ترغیب: "طوبیٰ" درخت کی صفت سنانے
کا ایک مقصد مومن کے دل میں جنت کی نعمتوں کی محبت اور اس کے حصول کا
شوق پیدا کرنا ہے۔ اس درخت کی عظمت جنت کی عظمت کا ایک چھوٹا سا نمونہ
ہے، جو ہمیں اس عظیم نعمت کے حصول کے لیے کوشش کرنے پر ابھارتا ہے۔
خلاصہ: یہ حدیث دو بڑے
گروہوں (صحابہ اور بعد کے مومنین) کے لیے اللہ کی رحمت اور بشارت کا اعلان ہے۔ یہ
ایمان کی فضیلت، غیب پر ایمان کی اہمیت اور جنت کی ناقابلِ تصور نعمتوں کا احاطہ
کرتی ہے۔ یہ ہمارے لیے یقین، امید اور عمل کی تحریک کا بہترین ذریعہ ہے۔
عَنْ
ابْنِ عَبَّاسٍ - رضي الله عنهما - قَالَ: " نَخْلُ الْجَنَّةِ جُذُوعُهَا
مِنْ زُمُرُّدٍ أَخْضَرَ , وَكَرَبُهَا (١) ذَهَبٌ أَحْمَرُ , وَسَعَفُهَا (٢)
كِسْوَةٌ لِأَهْلِ الْجَنَّةِ , مِنْهَا مُقَطَّعَاتُهُمْ وَحُلَلُهُمْ ,
وَثَمَرُهَا أَمْثَالُ الْقِلَالِ وَالدِّلَاءِ، أَشَدُّ بَيَاضًا مِنْ اللَّبَنِ
, وَأَحْلَى مِنْ الْعَسَلِ , وَأَلْيَنُ مِنْ الزُّبْدِ , لَيْسَ فِيهَا عَجَمٌ
(٣) " (٤)
ترجمہ:
عبداللہ
بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے بیان کیا: "جنت کی کھجوروں کے
تنے سبز زمرد کے ہیں، اور ان کے سعف کے موٹے ڈنٹھل (١) سرخ سونے کے ہیں، اور ان کے
پتے (٢) اہل جنت کا لباس ہیں، ان ہی سے ان کے کپڑے اور عمدہ لباس بنتے ہیں، اور ان
کا پھل بڑے مٹکوں اور ڈولوں کی مانند ہے، جو دودھ سے زیادہ سفید، شہد سے زیادہ
میٹھا، اور مکھن سے زیادہ نرم ہے، اس میں گٹھلی نہیں ہے (٣)۔" (٤)
🔍 حواشی و حوالہ
جات
(١) (الْكَرَبُ): کھجور کے موٹے
اور چوڑے پتوں (سَعَف) کے ڈنٹھل (بُنیاد) ہیں۔ (تحفة الأحوذي،
جلد 6، صفحہ 316)
(٢) السَّعَف: کھجور کے پتے
اور اس کی شاخیں۔
(٣) یعنی: اس میں
گٹھلی (کھوکھلی) نہیں ہے۔
(٤) (مستدرك الحاكم:
3776) , (صحيح الترغيب والترهيب: 3735) ملاحظہ کریں۔
[الجامع الصحيح للسنن والمسانيد: ج3 ص252]
- راوی کے بارے میں: عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا زاد بھائی، جلیل القدر صحابی، اور امت کے عظیم مفسر ہیں۔ آپؓ کو "حَبْرُ الأُمَّة" (امت کے بڑے عالم) اور "تُرْجُمَانُ الْقُرْآن" (قرآن کے ترجمان) کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے۔ آپؓ نے بچپن میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی براہ راست صحبت اور تربیت پائی اور بے شمار احادیث روایت کی ہیں۔ یہ بیان آپؓ کا اپنا قول ہے جو آپؓ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہوا بیان فرمایا۔
📖 حدیث سے حاصل
اسباق و نکات
عبداللہ
بن عباس رضی اللہ عنہما کے اس بیان سے جنت کی نعمتوں کے بارے میں گہرے اسباق ملتے
ہیں:
- جنت کی
نعمتوں کی حسن و جمال کی حقیقت: حدیث جنت کے صرف ایک درخت
(کھجور) کی نہایت پرکشش، خوبصورت اور قیمتی صفات بیان کرتی ہے۔ اس
کا تنا سبز زمرد کا ہے جو دیکھنے میں سرسبزی اور حسینی کی علامت
ہے، اور اس کے ڈنٹھل سرخ سونے کے ہیں جو قیمت و وقار کو ظاہر کرتے
ہیں۔ یہ جنت کی نعمتوں کی نادر، نفیس اور خوش نما نوعیت کو ظاہر
کرتا ہے۔
- جنت کے
لباس کا ماخذ و خوبی: اس درخت کے پتے (سَعَف) سے
اہل جنت کے لباس اور قیمتی پوشاک تیار ہوتی ہیں۔ اس سے چند باتیں
واضح ہوتی ہیں:
- جنت کے
لباس قدرتی، پاکیزہ اور لطیف ہوں گے۔
- وہاں کے
لباس ہمارے دنیا کے کپڑوں (سوت، ریشم وغیرہ) سے یکسر مختلف اور اعلیٰ درجے
کے ہوں گے۔
- جنت میں
نعمتیں باہمی ربط رکھتی ہیں؛ ایک درخت سے خوراک بھی ملے گی اور لباس بھی۔
- پھل کی
عظمت اور کمال صفات: جنت کے پھل کی جو صفات بیان
ہوئی ہیں وہ اس کی کمالیت کو ظاہر کرتی ہیں:
- حجم میں
عظمت: وہ بڑے مٹکوں اور ڈولوں جیسا
ہوگا، جو اس کی کثرت اور فراخی کی دلیل ہے۔
- صفات میں
برتری: وہ دودھ سے زیادہ سفید (صفائی و
پاکیزگی)، شہد سے زیادہ میٹھا (ذائقے
میں لاجواب)، اور مکھن سے زیادہ نرم (لطافت و نرمی) ہوگا۔ یہ دنیا
کی تمام لذیذ چیزوں پر اس کی برتری ہے۔
- عیوب سے
پاکی: اس میں کوئی گٹھلی نہیں ہوگی۔
یعنی ہر چیز مکمل طور پر قابل استعمال، آسانی سے کھانے کے قابل اور بے عیب
ہوگی۔ یہ جنت کی نعمتوں میں کسی قسم کی ناقصیت یا تکلیف کے فقدان کی علامت
ہے۔
- اللہ کی
قدرت کاملہ کا شاہکار: یہ سارا بیان درحقیقت اللہ
تعالیٰ کی لا محدود قدرت اور اس کے صنعت کاری کے کمال کی طرف اشارہ ہے۔
ایسے درخت کا وجود جو قیمتی پتھروں اور دھاتوں سے بنا ہو، جو لباس بھی دے اور
لذیذ پھل بھی، صرف اسی کی قدرت سے ممکن ہے۔
- غیب کی
دنیا کا تصور اور ایمان: ہم نے نہ جنت دیکھی ہے اور نہ
ہی ایسے درخت، لیکن اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی کے بیان کے
ذریعے ہم اس پر پختہ ایمان رکھتے ہیں۔ ایسے بیانات ہمارے ایمان کو
تازہ کرتے اور آخرت کی زندگی کی حقیقت پر ہمارا یقین مضبوط کرتے ہیں۔
- جنت کی
نعمتوں کے حصول کی ترغیب: اس دلکش اور تفصیلی بیان کا ایک
بڑا مقصد مومن کے دل میں جنت کی محبت، اس کے شوق اور اسے پانے کی لگن پیدا
کرنا ہے۔ جب انسان یہ سنے گا کہ صرف ایک پھل کتنی عمدہ صفات کا حامل ہوگا، تو
وہ اس عظیم نعمت کے حصول کے لیے ضرور کوشش کرے گا۔
خلاصہ: عبداللہ بن
عباس رضی اللہ عنہما کا یہ بیان جنت کی نعمتوں کی ایک جھلک پیش کرتا ہے جو ہمارے
دنیاوی تصورات سے بالاتر ہے۔ یہ نہ صرف ہمارے ایمان کو مضبوط کرتا ہے بلکہ ہمیں اس
ابدی اور کمال والی زندگی کو پانے کے لیے نیک اعمال کی طرف راغب کرتا ہے۔ ہمیں
چاہیے کہ اس عظیم نعمت کے شکرانے کے طور پر اپنی زندگیاں اللہ کی رضا کے مطابق بسر
کریں۔
عَنِ
الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ - رضي الله عنه - أَنّهُ قَالَ فِي قَوْلِهِ - عز وجل -:
{وَذُلّلَتْ قُطُوفُهَا تَذْلِيلًا} قَالَ: أَهْلُ الْجَنَّةِ يَأكُلُونَ مِنْهَا
قِيَامًا وَقُعُودًا وَمُضْطَجِعِينَ , وَعَلَى أَيِّ حَالٍ شَاءُوا "
ترجمہ:
البراء
بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے اللہ عزوجل کے فرمان {اور اس (جنت)
کے پھل اس کے قریب کر دیے جائیں گے بہت قریب} (سورۃ
الانسان، آیت: ۱۴) کی تفسیر میں بیان کیا: "اہل جنت ان (پھلوں)
سے کھائیں گے کھڑے ہو کر، بیٹھ کر اور لیٹ کر، اور جس طرح بھی چاہیں گے۔"
🔍 حوالہ جات
(الفوائد
المنتقاة لابن أبي الفوارس) ، (مصنف ابن أبي
شيبة: 34085) ، (مستدرك الحاكم: 3884) ، (صحيح الترغيب
والترهيب: 3734) ملاحظہ
کریں۔
[الجامع الصحيح للسنن والمسانيد: ج3 ص253]
📖 راوی کے بارے
میں مختصر معلومات
- راوی: البراء بن
عازب بن الحارث الانصاری رضی اللہ عنہ، ایک جلیل القدر صحابی ہیں۔ آپؓ
نے غزوات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شرکت کی اور بعد میں
فتوحاتِ عراق و فارس میں بھی شریک رہے۔ آپؓ نے 305 احادیث روایت کی ہیں جن
میں سے 22 احادیث صحیح بخاری و مسلم میں موجود ہیں۔
📖 حدیث سے حاصل
اسباق و نکات
حضرت
البراء بن عازب رضی اللہ عنہ کے اس تفسیری بیان سے درج ذیل قیمتی اسباق حاصل ہوتے
ہیں:
- قرآن کی
تفسیر سنتِ صحابہ سے: یہ بیان اس اہم اصول کی عملی
مثال ہے کہ قرآن کریم کی صحیح تفہیم کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے تفاسیر و تشریحات کا علم حاصل کرنا
ضروری ہے۔ صحابہ کرام قرآن کے مخاطبِ اول، اس کے نازل ہونے کے براہ راست گواہ
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے معانی سیکھنے والے تھے۔
- جنت کی
نعمتوں کی آسانی اور فراوانی: اللہ تعالیٰ کے فرمان "ذُلِّلَتْ
قُطُوفُهَا تَذْلِيلًا" کی عملی تصویر یہ ہے کہ جنت کے
پھل اہل جنت کے لیے انتہائی آسان، قریب اور تابع ہوں گے۔ انسان کو
ان تک پہنچنے کے لیے کوئی مشقت نہیں اٹھانی پڑے گی، نہ درخت پر چڑھنا ہوگا،
نہ جھکنا ہوگا، نہ تھکنا ہوگا۔ نعمت خود بندے کی خدمت اور رضامندی کے لیے
حاضر ہوگی۔
- مکمل آرام
اور بے فکری کی حالت: یہ کہ پھل ہر حالت (کھڑے،
بیٹھے، لیٹے) میں کھایا جا سکے گا، اس بات کی دلیل ہے کہ جنت میں کسی
قسم کی کوئی تکلیف، رکاوٹ یا پریشانی نہیں ہوگی۔ یہ دنیا کی زندگی کے
بالکل برعکس ہے، جہاں ہم کھانے پینے کے لیے بھی کچھ نہ کچھ محنت اور پابندیوں
میں رہتے ہیں۔
- خواہشات
کی مکمل تکمیل: "وَعَلَى أَيِّ حَالٍ شَاءُوا" (اور جس طرح چاہیں) کے الفاظ جنت کی نعمتوں کی ایک اور خاصیت
واضح کرتے ہیں۔ وہاں کوئی حکم یا پابندی نہیں ہوگی، بلکہ ہر چیز مومن کی
مرضی اور خواہش کے تابع ہوگی۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے نیک بندوں
پر مکمل کرم اور ان کی خوشنودی کا اظہار ہے۔
- دنیا اور
آخرت کے نظام میں فرق: یہ تصویر ہمارے سامنے دنیوی
زندگی کی مشقتوں اور آخرت کی آسانیوں کا واضح تقابل پیش کرتی ہے۔ دنیا
میں ہماری ہر نعمت محنت، تگ و دو اور قوانین کے تابع ہے، جبکہ جنت میں ہر
نعمت راحت، سکون اور آزادی کے ساتھ میسر ہوگی۔
- جنت کے
حصول کی ترغیب: ایسی تفصیلات مؤمن کے دل میں جنت
کی محبت اور اس کی نعمتوں کا شوق پیدا کرتی ہیں۔ یہ انسان کو اس عظیم
نعمت کے حصول کے لیے محنت اور عبادت پر آمادہ کرتی ہیں، تاکہ وہ اس دائمی
آسانی اور سکون کا مستحق بن سکے۔
خلاصہ: البراء بن عازب
رضی اللہ عنہ کی یہ تفسیر ہمیں جنت کی نعمتوں کی ایک بنیادی خوبی سے متعارف کراتی
ہے: کامل
آسانی اور مطلق راحت۔ یہ اللہ کی رحمت کی وسعت، اس کے فضل کی فراوانی اور جنت کی
زندگی کی شان کو ظاہر کرتی ہے۔ یہ ہمارے لیے اس بات کا باعث ہے کہ ہم اس عظیم نعمت
کے حصول کے لیے کوشش کریں اور قرآن کو سمجھنے کے لیے صحابہ کرام کے علم سے استفادہ
کریں۔
عَنْ
أَبِي هُرَيْرَةَ - رضي الله عنه - قَالَ: " كَانَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله
عليه وسلم - يَوْمًا يُحَدِّثُ - وَعِنْدَهُ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ -
أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَهلِ الْجَنَّةِ اسْتَأذَنَ رَبَّهُ فِي الزَّرْعِ (١)
فَقَالَ لَهُ رَبُّهُ - عز وجل -: أَلَسْتَ فِيمَا شِئْتَ؟ , قَالَ: بَلَى،
وَلَكِنِّي أُحِبُّ أَنْ أَزْرَعَ، قَالَ: فَبَذَرَ، فَبَادَرَ الطَّرْفَ
نَبَاتُهُ وَاسْتِوَاؤُهُ وَاسْتِحْصَادُهُ , فَكَانَ أَمْثَالَ الْجِبَالِ (٢)
فَقَالَ لَهُ رَبُّهُ - عز وجل -: دُونَكَ (٣) يَا ابْنَ آدَمَ، فَإِنَّهُ لَا
يُشْبِعُكَ شَيْءٌ (٤) " , فَقَالَ الْأَعْرَابِيُّ: وَاللهِ لَا تَجِدُهُ
إِلَّا قُرَشِيًّا أَوْ أَنْصَارِيًّا , فَإِنَّهُمْ أَصْحَابُ زَرْعٍ، وَأَمَّا
نَحْنُ فَلَسْنَا بِأَصْحَابِ زَرْعٍ، " فَضَحِكَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله
عليه وسلم - " (٥)
ترجمہ:
ابوہریرہ
رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: "ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم (صحابہ سے) حدیث بیان فرما رہے تھے - اور آپ کے پاس ایک دیہاتی شخص (بھی)
موجود تھا - کہ جنت والوں میں سے ایک شخص نے اپنے رب سے کھیتی باڑی کرنے کی اجازت
چاہی (١)۔ تو اس کے رب عزوجل نے اس سے فرمایا: کیا تو اپنی مرضی کی ہر چیز میں
نہیں ہے؟ اس نے کہا: کیوں نہیں، لیکن میں کھیتی باڑی کرنا پسند کرتا ہوں۔ (رب نے
اجازت دی تو) اس نے بیج بویا، تو پلک جھپکتے ہی اس کا اگنا، پکنا اور کٹائی ہو
گئی، اور وہ پہاڑوں جیسا (ہو گیا) (٢)۔ تو اس کے رب عزوجل نے اس سے فرمایا: لے لے
(٣) اے آدم کے بیٹے! کیونکہ کوئی چیز تجھے سیر نہیں کر سکتی (٤)۔" تو وہ
دیہاتی بولا: "اللہ کی قسم! آپ اس شخص کو قریشی یا انصاری کے سوا نہیں پائیں
گے، کیونکہ یہی کاشتکار ہیں، اور رہے ہم (اہل بادیہ) تو ہم کاشتکار نہیں ہیں۔" تو رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وسلم (اس کی اس بات پر) مسکرا دیے (٥)۔
🔍 حواشی و حوالہ
جات
(١) یعنی:
اس نے اپنے رب سے اس بات کی اجازت چاہی کہ وہ خود کھیتی باڑی کا کام کرے۔ (فتح الباري،
جلد 7، صفحہ 205)
(٢) مراد یہ ہے کہ
جب اس نے بیج بویا، تو اس کے اور کھیت کے تیار ہونے اور اس کے سارے کام (جڑ سے
اکھاڑنا، کاٹنا، گاہنا، جمع کرنا اور ڈھیر لگانا) کے درمیان صرف ایک پلک
جھپکنے کے برابر وقت تھا۔ (فتح الباري، جلد 7، صفحہ 205)
(٣) یعنی: اسے لے
لو۔
(٤) اس حدیث کے
فوائد میں سے یہ ہے کہ جنت میں دنیا کے ہر وہ کام جو مطلوب ہو، ممکن ہے۔ (فتح الباري،
جلد 7، صفحہ 205)
(٥) (صحیح البخاری:
2221, 7081) ، (مسند الإمام أحمد: 10650)
[الجامع الصحيح للسنن والمسانيد: ج3 ص254]
📖 حدیث سے حاصل
اسباق و نکات
- جنت میں
نفسیاتی تسکین اور دلچسپی کی تکمیل: یہ حدیث
ظاہر کرتی ہے کہ جنت میں نعمتیں صرف 'حاصل شدہ چیزوں' تک محدود نہیں ہوں گی۔
بلکہ وہاں مومن کو اپنی پسندیدہ سرگرمیوں، مشاغل اور تخلیقی کاموں میں
مشغول رہنے کا بھی موقع ملے گا، چاہے وہ دنیا میں اس سے وابستہ رہا ہو۔ یہاں
'زراعت' ایک مثال ہے۔ اس سے جنت کی زندگی میں گہرائی اور معنویت کا پہلو واضح
ہوتا ہے۔
- جنت میں
قدرتِ الٰہی کا فوری ظہور: دنیا میں فصل اگانے میں مہینوں
کی محنت اور انتظار درکار ہوتا ہے۔ جنت میں یہ سارا عمل ایک لمحے، پلک
جھپکتے میں مکمل ہو جائے گا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی مطلق قدرت اور اس
کے وعدے کی فوری تکمیل کی علامت ہے۔ وہاں خواہش، عمل اور نتیجہ کے
درمیان کوئی فاصلہ نہیں ہوگا۔
- انسان کی
فطرت میں 'حصول' کی خواہش: حدیث میں جنت والے شخص کا یہ
کہنا کہ "میں کھیتی باڑی کرنا پسند کرتا
ہوں" انسانی فطرت کی ایک گہری سچائی
کو ظاہر کرتا ہے۔ کئی بار محض 'حاصل کر لینا' ('فِيمَا شِئْتَ') اتنا تسلی
بخش نہیں ہوتا جتنا کہ کسی مقصد کے لیے محنت کرنا، تخلیق کرنا اور اس کے
ثمرات دیکھنا ہوتا ہے۔ جنت میں یہ نفسیاتی تسکین بھی پوری کی جائے گی۔
- اللہ کی
طرف سے مکمل اختیار اور نعمتوں کی لامحدودیت: رب کا
فرمان "دُونَكَ يَا ابْنَ آدَمَ، فَإِنَّهُ لَا
يُشْبِعُكَ شَيْءٌ" دو اہم باتوں پر مشتمل ہے:
- "لے لے":
یہ اللہ کا اپنے بندے پر کرم اور اسے
مکمل اختیار دینے کا اظہار ہے۔
- "تیرا پیٹ
بھرنے والی کوئی چیز نہیں": یہ جنت
کی نعمتوں کی لامحدودیت کو بتاتا ہے۔ وہاں سیری اور تھکن کا کوئی
تصور نہیں، نعمتیں ہمیشہ تازہ اور مطلوب رہیں گی۔
- سادہ لوحی
پر نبی کی شفقت بھری مسکراہٹ: اعرابی (دیہاتی) کا یہ سمجھنا
کہ یہ واقعہ قریش یا انصار سے مخصوص ہوگا کیونکہ وہ کاشتکار تھے، اس کی سادگی،
محدود سوچ اور اپنے مشاہدے سے بات کرنے کی عکاسی کرتا ہے۔ نبی صلی اللہ
علیہ وسلم کا مسکرا دینا اس پر ناراضگی یا مذاق نہیں، بلکہ شفقت،
برداشت اور اس کی بے ساختہ فطرت پر پیار کا اظہار ہے۔ یہ آپ صلی اللہ
علیہ وسلم کے حسنِ اخلاق کا نمونہ ہے۔
- دنیا اور
آخرت کے تصورات میں فرق کی تعلیم: حدیث کا یہ پہلو صحابہ کو یہ
سکھاتا ہے کہ آخرت کے احوال کو محض دنیاوی قیاس اور تجربے سے نہیں
سمجھا جا سکتا۔ جنت کی زندگی اصولوں اور نظام کے اعتبار سے دنیا سے یکسر
مختلف ہوگی۔
خلاصہ: یہ حدیث جنت کی
زندگی کے ایک انتہائی دلچسپ اور گہرے پہلو کو پیش کرتی ہے۔ یہ دکھاتی ہے کہ جنت
محض 'سستی اور کاہلی' کی جگہ نہیں، بلکہ کامل آزادی، تخلیقی تسکین، فوری حصول
اور لامحدود برکتوں کی دائمی زندگی ہوگی۔ ساتھ ہی یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ
وسلم کے شفیق اور خوش اخلاق تربیتی انداز کی بھی عکاس ہے۔
صِفَةُ
أَنْهَارِ الْجَنَّة
جنت کی نہروں کی صفت
قَالَ
تَعَالَى: {مَثَلُ
الْجَنَّةِ الَّتِي وُعِدَ الْمُتَّقُونَ , فِيهَا أَنْهَارٌ مِنْ مَاءٍ غَيْرِ
آسِنٍ , وَأَنْهَارٌ مِنْ لَبَنٍ لَمْ يَتَغَيَّرْ طَعْمُهُ , وَأَنْهَارٌ مِنْ
خَمْرٍ لَذَّةٍ لِلشَّارِبِينَ وَأَنْهَارٌ مِنْ عَسَلٍ مُصَفًّى , وَلَهُمْ
فِيهَا مِنْ كُلِّ الثَّمَرَاتِ , وَمَغْفِرَةٌ مِنْ رَبِّهِمْ} (١)
(ت) , وَعَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ حَيْدَةَ - رضي الله عنه - قَالَ:
قَالَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم -: " إِنَّ فِي
الْجَنَّةِ بَحْرَ الْمَاءِ , وَبَحْرَ الْعَسَلِ , وَبَحْرَ اللَّبَنِ , وَبَحْرَ
الْخَمْرِ ثُمَّ تَشَقَّقُ الْأَنْهَارُ مِنْهَا بَعْدُ " (٢)
ترجمہ:
اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {اس جنت کی مثال جس کا متقین سے وعدہ کیا گیا ہے، اس میں بہتی ہوئی پانی کی نہریں ہیں جو بدبو نہیں دیتیں، اور دودھ کی نہریں ہیں جن کا ذائقہ نہیں بدلتا، اور شراب کی نہریں ہیں جو پینے والوں کے لیے انتہائی لذیذ ہیں، اور صاف شہد کی نہریں ہیں، اور ان کے لیے اس میں ہر قسم کے پھل ہیں، اور ان کے رب کی طرف سے مغفرت ہے} (١)
اور
معاویہ بن حیدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم نے فرمایا: "بے شک جنت میں پانی کا سمندر، شہد کا سمندر، دودھ کا سمندر اور شراب
کا سمندر ہے، پھر ان (سمندروں) سے نہریں پھوٹتی ہیں۔" (٢)
🔍 حوالہ جات
(١) [سورۃ
محمد، آیت: 15]
(٢) (الجامع الصحيح
للترمذي: 2571) , (مسند الإمام أحمد: 20064) , (صحيح الجامع: 2122) , (صحيح الترغيب
والترهيب: 3722)
📖 حدیث سے حاصل
اسباق یا نکات
- جنت کی
نعمتوں کی عظمت و کثرت کی تصویر: قرآن اور حدیث دونوں جنت میں
نہروں کی بہتات اور ان کی مختلف اقسام کا ذکر کرتے ہیں۔ یہ اس بات کی واضح
دلیل ہے کہ جنت میں نعمتیں نہ صرف لامحدود اور وافر ہوں گی بلکہ ان
کی قسمیں اور ذائقے بھی متنوع ہوں گے۔ ہر شخص اپنی پسند کے مطابق
ان سے لطف اندوز ہو سکے گا۔
- نعمتوں کی
پاکیزگی اور کمال: قرآن میں ان نہروں کی جو صفات
بیان ہوئی ہیں وہ ان کی صفائی، تازگی اور کامل حالت کو ظاہر کرتی
ہیں: پانی بے بدبو، دودھ کا ذائقہ
نہ بگڑنے والا، شہد مصفّٰی (صاف ستھرا)۔ یہ دنیا کی نعمتوں سے جنت
کی نعمتوں کی برتری کو ظاہر کرتا ہے۔
- "شراب"
سے مراد جنت کی پاکیزہ مشروب: یہاں "خمر" سے مراد
وہ لذیذ مشروب ہے جو دنیاوی شراب سے یکسر مختلف ہوگا۔ یہ نہ نشہ آور ہوگا، نہ
صحت کے لیے مضر، بلکہ پاکیزہ، لذیذ اور روح و بدن کے لیے مسرت بخش ہوگا۔
یہ جنت کی ایک خصوصی نعمت ہے جس کا دنیا کی ناپاک شراب سے کوئی تعلق نہیں۔
- نہروں کا
منبع و ابتدا: حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم
نے فرمایا کہ یہ نہریں چار عظیم سمندروں سے پھوٹتی ہیں۔ یہ اس بات
کی طرف اشارہ ہے کہ جنت کی یہ نعمتیں اتنی وسیع، گہری اور ناقابلِ ختم ہیں
کہ ان کا کوئی انتہائی وسیع منبع (سمندر) ہے۔ اس سے جنت کی وسعت اور عظمت کا
بھی اندازہ ہوتا ہے۔
- روحانی
اور جسمانی سیرابی کا مجموعہ: آیت کے آخر میں دو عظیم نعمتوں
کا ذکر ہے: ہر قسم کے پھل (جسمانی لذت) اور رب
کی طرف سے مغفرت (روحانی سکون و کامیابی)۔ یہ بتاتا ہے کہ جنت کی نعمتیں
صرف مادی اور جسمانی نہیں ہوں گی، بلکہ سب سے بڑی نعمت اللہ کی رضا اور اس کی
بخشش ہوگی۔
- متقین کے
لیے خاص انعام: یہ تمام نعمتیں خاص طور پر متقین (اللہ
سے ڈرنے والوں) کے لیے ہیں۔ یہ ان کی پرہیزگاری، نیک اعمال اور اللہ کے احکام
پر عمل کی وجہ سے ملنے والا انعامِ آخرت ہے۔
- جنت کے
حصول کی ترغیب: ایسے دلکش اور تفصیلی بیانات کا
ایک بڑا مقصد مومن کے دل میں جنت کی محبت اور اس کے حصول کی شدید خواہش پیدا
کرنا ہے۔ اس سے انسان کی محنت اور عبادت میں اضافہ ہوتا ہے۔
خلاصہ: یہ آیات و حدیث
جنت کی نعمتوں کی ایک خوبصورت اور جامع تصویر پیش کرتی ہیں۔ یہ نہ صرف ہمارے ایمان
کو مضبوط کرتی ہیں بلکہ ہمیں اس عظیم انعام کے حصول کے لیے پرہیزگاری اور نیک
اعمال کی طرف راغب کرتی ہیں۔
عَنْ
أَبِي هُرَيْرَةَ - رضي الله عنه - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه
وسلم -: " سَيْحَانُ وَجَيْحَانُ (١) وَالنِّيلُ وَالْفُرَاتُ , كُلٌّ مِنْ
أَنْهَارِ الْجَنَّةِ " (٢) الشرح (٣)
ترجمہ:
ابوہریرہ
رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "سیحان، جیحان،
نیل اور فرات (دریاؤں میں سے) ہر ایک جنت کی نہروں میں سے ہے۔" (٢)
الشرح (٣)
🔍 حواشی و حوالہ
جات
(١) جان لو
کہ سیحان اور جیحان، سیحون اور جیحون سے مختلف ہیں۔ پس سیحان اور جیحان جن کا اس
حدیث میں ذکر ہے اور جو جنت کی نہریں ہیں، وہ آرمینیا کے علاقے میں ہیں۔ جیحان
دریائے مصیصہ ہے اور سیحان دریائے ادینہ ہے، اور یہ دونوں بہت بڑے دریا ہیں، ان
میں سے زیادہ بڑا جیحان ہے۔ یہی ان کی صحیح جگہ ہے۔ اور جو جواہری نے اپنی کتاب
"الصحاح" میں کہا ہے کہ جیحان دریائے شام ہے، حازمب نے کہا: سیحان
دریائے مصیصہ کے پاس ہے، اور یہ سیحون سے مختلف ہے۔ اور صاحب "نھایۃ
الغریب" کہتے ہیں: سیحان اور جیحان: عواصم کے پاس مصیصہ اور طرسوس کے قریب دو
دریا ہیں۔ اور سب کا اس پر اتفاق ہے کہ جیحون خراسان کے پیچھے، بلخ کے قریب ایک
دریا ہے، اور سب اس پر متفق ہیں کہ یہ جیحان سے مختلف ہے، اور اسی طرح سیحون،
سیحان سے مختلف ہے۔ (شرح النووي، جلد 17، صفحہ 176)
(٢) (صحیح مسلم:
2839) , (مسند الإمام أحمد: 7873)
(٣) شرح: ان چار
دریاؤں کو (جنت کے دریا) اس لیے قرار دیا گیا ہے کہ ان کا پانی نہایت شیریں ہے اور
ان کے فوائد بہت زیادہ ہیں، گویا کہ وہ جنت کے دریا ہیں۔ اور یہ بھی احتمال ہے کہ
مراد وہ چار دریا ہیں جو جنت کے دریاؤں کی اصل (بنیاد) ہیں، اور رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم نے انہیں دنیا کے چار عظیم، مشہور، میٹھے اور عربوں کے ہاں سب سے
زیادہ مفید دریاؤں کے ناموں سے موسوم کیا ہے، تشبیہ اور مثال کے طور پر، تاکہ
معلوم ہو کہ جنت میں ان (دریاؤں) کا مقام ہے، اور دنیا میں جو قسم قسم کے فوائد
اور نعمتیں ہیں، وہ آخرت میں موجود چیزوں کی نمونے کی حیثیت رکھتی ہیں۔ اسی طرح
دنیا میں جو نقصان دہ اور تکلیف دہ چیزیں ہیں (وہ بھی جہنم کی چیزوں کی مثال ہیں)۔
ابن حزم کہتے ہیں: بعض نادانوں نے یہ گمان کیا ہے کہ وہ شریف روضہ (یعنی مسجد نبوی
کا وہ حصہ جو میرے گھر اور میرے منبر کے درمیان ہے) جنت کا ایک قطعہ ہے، اور یہ کہ
دریا سیحان، جیحان، فرات اور نیل جنت سے نازل ہوئے ہیں۔ یہ بات باطل ہے، کیونکہ
اللہ تعالیٰ جنت کے بارے میں فرماتا ہے: {بے شک تیرے لیے اس میں یہ ہے کہ نہ تو بھوکا ہو
اور نہ ننگا، اور یہ کہ نہ پیاسا ہو اور نہ دھوپ میں رہے} (سورہ
طہ، آیات: 118-119)، اور یہ صفت ان مذکورہ دریاؤں یا روضہ کی نہیں ہے۔ اسی وجہ سے
اگر کوئی اس (روضہ) میں داخل ہو کر قسم کھائے کہ اس نے جنت میں داخل ہو لیا ہے، تو
وہ قسم ٹوٹ جائے گی۔ پس یہ بات ثابت ہوئی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول "من الجنة" (جنت
میں سے ہے) سے مراد صرف اس کی فضیلت ہے، اور یہ کہ اس (روضہ) میں نماز جنت تک
پہنچاتی ہے، اور یہ کہ ان دریاؤں کو ان کی پاکیزگی اور برکت کی وجہ سے جنت کی طرف
منسوب کیا گیا ہے، جیسے بھیڑوں کے بارے میں کہا گیا ہے کہ "وہ جنت کے
جانوروں میں سے ہیں"۔ اور آیا ہے کہ ذکر (اللہ) کی محفلیں جنت کے
باغوں میں سے ہیں۔ (مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح، جلد 16، صفحہ
237)
[الجامع الصحيح للسنن والمسانيد: ج3 ص256]
📖 حدیث سے حاصل
اسباق یا نکات
- جنت کی
نعمتوں کی حقیقی عظمت کو دنیوی مثالوں سے سمجھانا: رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا کے چار عظیم، مشہور اور مفید دریاؤں (سیحان،
جیحان، نیل، فرات) کے نام لے کر یہ بتایا کہ جنت کے دریا ان سے کہیں زیادہ
عظیم، میٹھے اور مفید ہوں گے۔ یہ تعلیم کا ایک مؤثر اور سمجھنے میں آسان
طریقہ ہے۔
- دنیا کی
نعمتیں آخرت کی نعمتوں کا ناقص نمونہ ہیں: حدیث اور
اس کی تشریح سے یہ اصول واضح ہوتا ہے کہ دنیا میں جو اچھی چیزیں اور
نعمتیں ہیں (مثلاً میٹھے دریا، پھل، آرام)، وہ آخرت کی ان ہی چیزوں کے صرف
ایک ادنیٰ نمونے اور جھلک کی حیثیت رکھتی ہیں۔ اسی طرح دنیا کی تکلیفیں
اور برائیاں (مثلاً بیماری، غم، عذاب) آخرت کی تکلیفوں کا ایک ہلکا سا
نمونہ ہیں۔
- غیرمعمولی
فضیلت اور شرف کی طرف نسبت: کسی چیز کو جنت کی طرف منسوب
کرنے (جیسے "من أنهار الجنة") کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اس میں غیرمعمولی
فضیلت، پاکیزگی، برکت یا خوبی پائی جاتی ہے۔ یہ کوئی حرفی یا مادی معنوں
میں جنت سے آنا نہیں ہوتا، بلکہ تشبیہ اور تعظیم کے لیے ہوتا ہے، جیسے بھیڑوں
کے لیے "دواب الجنة" کہا گیا۔
- غلط
فہمیوں سے تحفظ اور عقیدے کی صحت: تشریح میں ابن حزم رحمہ اللہ نے
بعض لوگوں کی اس غلط فہمی کی واضح تردید کی ہے کہ مسجد نبوی کا
"روضہ" حرفی معنوں میں جنت کا ایک ٹکڑا ہے یا یہ دریائے جنت سے
نکلتے ہیں۔ یہ تردید اس اہم اصول کی وضاحت کرتی ہے کہ نصوصِ شرعیہ کو ان
کے صحیح مفہوم میں لینا چاہیے اور ایسی تاویلات سے بچنا چاہیے جو عقلی
اور شرعی دلائل کے خلاف ہوں۔
- جنت کے
حصول کی ترغیب: اس قسم کی احادیث کا ایک مقصد
مومن کے دل میں جنت کی محبت، اس کی نعمتوں کا شوق اور انہیں پانے کی لگن پیدا
کرنا ہے۔ جب انسان یہ جانے گا کہ دنیا کی بہترین چیزیں بھی جنت کے سامنے ہیچ
ہیں، تو وہ اس عظیم نعمت کے حصول کے لیے کوشش کرے گا۔
خلاصہ: یہ حدیث ہمیں
جنت کی عظمت کو سمجھنے کا ایک طریقہ سکھاتی ہے، غلط فہمیوں سے بچاتی ہے اور ہمیں
آخرت کی بہترین زندگی کے حصول کی ترغیب دیتی ہے۔
عَنْ
أَبِي هُرَيْرَةَ - رضي الله عنه - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه
وسلم -: " أَنْهَارُ الْجَنَّةِ تَخْرُجُ مِنْ تَحْتِ جِبَالِ مِسْكٍ "
ترجمہ:
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "جنت کی نہریں مشک کے پہاڑوں کے نیچے سے نکلتی ہیں۔"
🔍 حوالہ جات
(١) (صحيح
ابن حبان: 7408) ، (صحيح الترغيب والترهيب: 3721) ملاحظہ کریں۔
[الجامع الصحيح للسنن والمسانيد: ج3 ص257]
📖 حدیث سے حاصل
اسباق یا نکات
اس
مختصر مگر نہایت معنی خیز حدیث مبارک سے درج ذیل قیمتی اسباق حاصل ہوتے ہیں:
- جنت کی
نعمتوں کی پاکیزگی اور لطافت کا انتہائی درجہ: حدیث میں
جنت کی نہروں کا منبع یا منبع "مشک کے
پہاڑ" بتایا گیا ہے۔ مشک دنیا میں سب
سے عمدہ، پاکیزہ اور معطر خوشبو ہے۔ یہ تشبیہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ جنت
کی ہر چیز، یہاں تک کہ وہاں کا پانی بھی، نہایت پاکیزہ، خوشبودار اور
لطیف ہوگا۔ وہاں کی نعمتیں ناصرف دیکھنے میں حسین اور کھانے میں لذیذ
ہوں گی بلکہ ان میں سے انتہائی معطر اور دلکش خوشبو بھی آئے گی۔
- جنت کی ہر
چیز کا کمال اور خوبصورتی سے لبریز ہونا: نہروں کا
مشک کے پہاڑوں سے نکلنا جنت کے حسن و جمال، نفاست اور کمال کی ایک
جھلک پیش کرتا ہے۔ وہاں کا پانی صرف پیاس بجھانے کے لیے نہیں ہوگا، بلکہ وہ
اپنی خوشبو، ذائقہ، صفائی اور تاثیر کے اعتبار سے بھی کامل ہوگا۔ یہ تصویر
جنت کی نعمتوں کے جامع کمال کو ظاہر کرتی ہے۔
- خوشبوئیں
بھی جنت کی عظیم نعمت ہوں گی: اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوتا
ہے کہ جنت میں خوشبوؤں اور معطر چیزوں کی بھی بہتات ہوگی، اور وہ
دنیا کی خوشبوؤں سے کہیں زیادہ عمدہ اور پائیدار ہوں گی۔ یہ جنت کی حسی لذتوں
(ذائقہ، منظر، خوشبو) کی تکمیل کی طرف اشارہ ہے۔
- دنیا اور
آخرت کے پانیوں میں بنیادی فرق: دنیا کے دریا اور نہریں عام
پتھروں، مٹی یا برف کے پہاڑوں سے نکلتی ہیں۔ جنت کی نہریں مشک جیسی
قیمتی اور خوشبودار چیز کے پہاڑوں سے نکلتی ہیں۔ یہ فرق جنت کی نعمتوں
کی نوعیت اور ان کے دنیا کی چیزوں سے برتری کو واضح کرتا ہے۔
- غیب پر
ایمان اور جنت کے حصول کی ترغیب: یہ حدیث ایک غیبی حقیقت کے
بیان پر مشتمل ہے جسے ہم نے نہیں دیکھا۔ ایسے بیانات ہمارے ایمان کو تازہ
کرتے ہیں اور ہمارے دل میں جنت کی محبت اور اس کے حصول کی تمنا کو
بڑھاتے ہیں۔ ایسی خوبصورت اور پاکیزہ جگہ کو پانے کی خواہش ہی انسان کو نیک
اعمال کی طرف راغب کر سکتی ہے۔
خلاصہ: یہ حدیث جنت کی
نعمتوں کی پاکیزگی، لطافت، خوشبو اور کمال کی ایک مختصر مگر گہری تصویر پیش کرتی
ہے۔ یہ ہمیں بتاتی ہے کہ جنت کی ہر نعمت ہمارے دنیاوی تصورات سے بالاتر ہوگی اور
وہاں ہر حس کی تسکین انتہائی عمدہ ترین صورت میں ہوگی۔ یہ ہمارے ایمان کو مضبوط
کرتی ہے اور ہمیں اس خوبصورت ترین مقام کے حصول کے لیے کوشش کرنے پر آمادہ کرتی
ہے۔
حدیث نمبر 26
عَنْ
أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ - رضي الله عنه - قَالَ: " لَعَلَّكُمْ تَظُنُّونَ أَنَّ
أَنْهَارَ الْجَنَّةِ أُخْدُودٌ فِي الْأَرْضِ , لَا وَاللهِ، إِنَّهَا
لَسَائِحَةٌ عَلَى وَجْهِ الْأَرْضِ, إحدى حافَّتيها اللُّؤْلُؤُ, وَالْأُخْرَى
الْيَاقُوتُ وَطِينُهَا الْمِسْكُ الْأَذْفَرُ " , قُلْتُ: يَا رَسُولَ
اللهِ، وَمَا الْأَذْفَرُ؟، قَالَ: " الَّذِي لَا خَلْطَ له (١) " (٢)
ترجمہ:
انس بن
مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "شاید تم سمجھتے ہو
کہ جنت کی نہریں زمین میں کھدے ہوئے خندقوں کی طرح ہیں، اللہ کی قسم! وہ تو
(آزادانہ) زمین کی سطح پر بہتی ہیں۔ ان (نہروں) کے ایک کنارے موتی (لولؤ) کے ہیں
اور دوسرے کنارے یاقوت کے، اور ان (نہروں) کی مٹی خالص مشک کی ہے۔" میں (انس
بن مالک رضی اللہ عنہ) نے عرض کیا: یا رسول اللہ! "اَذْفَر" کیا ہوتا
ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: "جو ہر قسم کی ملاوٹ سے پاک ہو۔"(1)(2)
🔍 حوالہ جات
(1) یعنی: ہر قسم کی آلودگی سے صاف۔
(2) الصحيحة:
حديث نمبر 2513، صحیح الترغیب والترہیب: حديث نمبر 3723
[الجامع الصحيح للسنن والمسانيد: ج3 ص258]
📖 حدیث سے حاصل اسباق یا نکات:
- جنت کی نعمتیں ہماری دنیوی سوچ اور تصورات سے کہیں زیادہ حسین، وسیع اور نرالی ہیں۔
- جنت میں
پانی کی نہریں ہمارے عام نہروں کی طرح محدود اور زمین میں دبی ہوئی نہیں،
بلکہ کشادہ اور نمایاں طور پر بہتی ہوئی ہوں گی۔
- جنت کی
تعمیر و زیبائش میں انتہائی قیمتی جواہرات جیسے موتی اور یاقوت کا استعمال
ہوگا، جو وہاں کی شان و شوکت اور حسن کی دلیل ہے۔
- جنت کی ہر
چیز انتہائی پاکیزہ اور خالص ہوگی، حتیٰ کہ مٹی بھی خالص مشک کی ہوگی جس میں
کوئی ملاوٹ نہیں ہوگی۔ یہ پاکیزگی جنت کے روحانی اور حسی حسن کا اظہار ہے۔
- صحابہ
کرام رضی اللہ عنہم کی یہ شان تھی کہ وہ رسول اللہ ﷺ سے کسی بھی بات کی وضاحت
بلا جھجک دریافت کر لیتے تھے، تاکہ ان کا علم پورا اور واضح ہو جائے۔
حدیث نمبر 27
عَنْ
أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ - رضي الله عنه - قَالَ: (" بَيْنَمَا رَسُولُ اللهِ -
صلى الله عليه وسلم - ذَاتَ يَوْمٍ بَيْنَ أَظْهُرِنَا , إِذْ أَغْفَى إِغْفَاءَةً
, ثُمَّ رَفَعَ رَأسَهُ مُتَبَسِّمًا " , فَقُلْنَا: مَا أَضْحَكَكَ يَا
رَسُولَ اللهِ؟ , قَالَ: " أُنْزِلَتْ عَلَيَّ آنِفاً (١) سُورَةٌ ,
فَقَرَأَ: {بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ , إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ
الْكَوْثَرَ , فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ , إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الَأَبْتَرُ}
ثُمَّ قَالَ: أَتَدْرُونَ مَا الْكَوْثَرُ؟ " , فَقُلْنَا: اللهُ وَرَسُولُهُ
أَعْلَمُ) (٢) (فَقَالَ: هُوَ نَهَرٌ يَجْرِي , وَلَمْ يُشَقَّ شَقًّا) (٣) وفي
رواية: (يَجْرِي كَذَا عَلَى وَجْهِ الْأَرْضِ , لَيْسَ مَشْقُوقًا) (٤)
(أَعْطَانِيهُ اللهُ - عز وجل - فِي الْجَنَّةِ) (٥) (عَلَيْهِ خَيْرٌ كَثِيرٌ)
(٦) (عَلَيْهِ حَوْضٌ تَرِدُ عَلَيْهِ أُمَّتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ) (٧) (مَا
بَيْنَ نَاحِيَتَيْهِ) (٨) (كَمَا بَيْنَ أَيْلَةَ (٩) وَصَنْعَاءَ مِنَ
الْيَمَنِ) (١٠) (أَوْ كَمَا بَيْنَ الْمَدِينَةِ وَعُمَانَ) (١١) (وَزَوَايَاهُ
سَوَاءٌ) (١٢) (- يَعْنِي عَرْضُهُ مِثْلُ طُولِهِ -) (١٣) (حَافَّتَاهُ قِبَابُ
اللُّؤْلُؤِ الْمُجَوَّفِ) (١٤) (حَصَاهُ اللُّؤْلُؤُ) (١٥) (تُرَابُهُ الْمِسْكٌ)
(١٦) (يَغُتُّ فِيهِ مِيزَابَانِ يَمُدَّانِهِ مِنْ الْجَنَّةِ , أَحَدُهُمَا مِنْ
ذَهَبٍ , وَالْآخَرُ مِنْ وَفِضَّةٍ) (١٧) (مَاؤُهُ أَشَدُّ بَيَاضًا مِنَ اللَّبَنِ،
وَأَحْلَى مِنَ الْعَسَلِ) (١٨) (وَرِيحُهُ أَطْيَبُ مِنْ الْمِسْكِ) (١٩) (فِيهِ
أَبَارِيقُ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ كَعَدَدِ نُجُومِ السَّمَاءِ) (٢٠) (مَنْ
شَرِبَ مِنْهُ شَرْبَةً , لَمْ يَظْمَأ بَعْدَهَا أَبَدًا) (٢١) (وَلَمْ يَسْوَدَّ
وَجْهُهُ أَبَدًا) (٢٢) (تَرِدُهُ طَيْرٌ أَعْنَاقُهَا مِثْلُ أَعْنَاقِ الْجُزُرِ
(٢٣) " , فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ - رضي الله عنه -: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّهَا
لَنَاعِمَةٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم -: " أَكَلَتُهَا
(٢٤) أَنْعَمُ مِنْهَا) (٢٥) (وَإِنِّي لَأَرْجُو أَنْ تَكُونَ مِمَّنْ يَأكُلُ
مِنْهَا يَا أَبَا بَكْرٍ ") (٢٦)
ترجمہ:
انس بن
مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: "ایک دن رسول اللہ ﷺ ہمارے
درمیان (تشریف فرما) تھے کہ ایک جھپکی لے لی، پھر اپنا سر اٹھایا اور مسکراتے ہوئے
(فرمایا)۔ ہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ کو کس بات نے ہنسایا؟ آپ ﷺ نے
فرمایا: 'ابھی ابھی میرے اوپر ایک سورت نازل کی گئی ہے'، پھر آپ نے (اسے) پڑھا:
{بسم الله الرحمن الرحیم، إنا أعطيناك الكوثر، فصل لربك وانحر، إن شانئك هو
الأبتر}۔ پھر فرمایا: 'کیا تم جانتے ہو کہ کوثر کیا ہے؟' ہم نے کہا: اللہ اور اس
کا رسول بہتر جانتے ہیں۔"(2) آپ ﷺ نے فرمایا: "یہ ایک نہر ہے جو بہتی
ہے، اور (زمین میں) کھودی ہوئی نہیں ہے۔"(3) اور ایک روایت میں ہے: "وہ
اس طرح زمین کی سطح پر بہتی ہے، (زمین میں) کھودی ہوئی نہیں ہے۔"(4)
"اللہ عزوجل نے اسے مجھے جنت میں عطا کیا ہے۔"(5) "اس پر بہت زیادہ
خیر ہے۔"(6) "اس پر ایک حوض ہے جس پر قیامت کے دن میری امت آئے
گی۔"(7) "اس (نہر یا حوض) کے دونوں کناروں کے درمیان (فاصلہ)"(8)
"ایسا ہے جیسے یمن کے شہر اَیلہ (9) اور صنعاء کے درمیان ہے۔"(10) یا
(ایک روایت میں:) "جیسے مدینہ اور عمان کے درمیان (فاصلہ) ہے۔"(11)
"اور اس کے کنارے برابر ہیں۔"(12) یعنی اس کی چوڑائی اس کی لمبائی جیسی
ہے۔(13) "اس کے دونوں کناروں پر کھوکھلے موتیوں کے گنبد ہیں۔"(14)
"اس کی (تہہ کے) کنکر موتی کے ہیں۔"(15) "اس کی مٹی مشک
ہے۔"(16) "اس میں دو نالیاں (بھی) ہیں جو اسے جنت سے پانی پہنچاتی ہیں،
ایک سونے کی ہے اور دوسری چاندی کی۔"(17) "اس کا پانی دودھ سے زیادہ
سفید اور شہد سے زیادہ میٹھا ہے۔"(18) "اور اس کی خوشبو مشک سے زیادہ
پُر لطف ہے۔"(19) "اس میں سونے اور چاندی کے اتنے لوٹے ہیں جتنے آسمان
کے ستارے۔"(20) "جو اس میں سے ایک بار پانی پی لے، اسے پھر کبھی پیاس
نہیں لگے گی۔"(21) "اور اس کا چہرہ کبھی سیاہ نہیں ہوگا (یعنی ذلیل و
خوار نہیں ہوگا)۔"(22) "اس پر پرندے آئیں گے جن کی گردنیں اونٹوں کی
گردنوں کی طرح ہیں۔"(23) اس پر ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے
رسول! یہ (پرندے) تو بہت عمدہ (لذیذ) ہوں گے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "انہیں
کھانے والے ان سے بھی زیادہ عمدہ (آرام دہ اور پرلطف) ہوں گے۔"(25) "اور
میں امید رکھتا ہوں کہ اے ابوبکر! تم ان لوگوں میں سے ہوگے جو ان (پرندوں) سے
کھائیں گے۔"(26)
🔍 حوالہ جات
(1) یعنی: تھوڑی دیر پہلے۔
(2) صحیح
مسلم: 400
(3) مسند
احمد: 13603، سنن سعید بن منصور: 904
(4) مسند
احمد: 12564، صحیح (دیکھیے صحیح الترغیب والترہیب: 3619)، شیخ شعیب ارناؤوط نے
فرمایا: اس کا سند صحیح ہے۔
(5) مسند
احمد: 13500، سنن ابی داؤد: 784
(6) صحیح
مسلم: 400
(7) سنن
ابی داؤد: 4747، صحیح مسلم: 400
(8) صحیح
مسلم: 2299
(9) اَیلہ:
فلسطین کے انتہائی جنوب میں بحیرہ احمر کے ساحل پر ایک شہر ہے، اردن کے شہر العقبہ
کے قریب۔
(10) صحیح
بخاری: 6209، صحیح مسلم: 2303
(11) صحیح
ابن حبان: 4304
(12) صحیح
مسلم: 2292
(13) مسند
احمد: 15161، صحیح مسلم: 2300
(14) صحیح
بخاری: 4680، سنن ترمذی: 3359
(15) مسند
احمد: 12564، شیخ شعیب ارناؤوط نے فرمایا: اس کا سند صحیح ہے۔
(16) مسند
احمد: 13500، شیخ شعیب ارناؤوط نے فرمایا: اس کا سند حسن ہے۔
(17) صحیح
مسلم: 2301
(18) صحیح
مسلم: 2300، سنن ترمذی: 2444
(19) صحیح
بخاری: 6208، صحیح مسلم: 2292
(20) صحیح
ابن حبان: 4305، صحیح بخاری: 6209، صحیح مسلم: 247
(21) سنن
ترمذی: 2444، صحیح بخاری: 6208، صحیح مسلم: 2299
(22) مسند
احمد: 22210، شیخ شعیب ارناؤوط نے فرمایا: اس کا سند قوی ہے۔
(23) یعنی:
اونٹوں کی گردنوں کی طرح۔
(24) یعنی:
جو لوگ انہیں کھائیں گے۔
(25) مسند
احمد: 13500
(26) مسند
احمد: 13335، سنن ترمذی: 2542، صحیح الجامع: 4614، السلسلة الصحیحة: 2514، صحیح
الترغیب والترہیب: 3614, 3740، اور ارناؤوط نے کہا: صحیح ہے۔
[الجامع الصحيح للسنن والمسانيد: ج3 ص259]
📖 حدیث سے حاصل اسباق یا نکات
- نبی ﷺ کی
عظمت اور انعام: سورۃ الکوثر کا نزول اور جنت
میں کوثر عطا کیے جانا آپ ﷺ کی اللہ تعالیٰ کے ہاں بلند مقام اور آپ پر کیے
گئے خاص انعام کی واضح دلیل ہے۔
- الکوثر کی
حقیقت: یہ صرف ایک علامتی چیز نہیں
بلکہ جنت کی ایک حقیقی، دیدہ زیب اور عظیم الشان نہر ہے جس کی تفصیلات رسول
اللہ ﷺ نے بیان فرمائیں۔
- جنت کی
نعمتوں کی وسعت و عظمت: کوثر اور اس کے حوض کا وصف
(لمبائی، چوڑائی، کناروں کا حسن، قیمتی پتھر اور خوشبو) جنت کی نعمتوں کے
زمینی تصورات سے بالا تر ہونے اور ان کی لامحدود وسعت و خوبصورتی پر دلالت
کرتا ہے۔
- امت
محمدیہ کے لیے خاص انعام: یہ نہر اور حوض خاص طور پر نبی
ﷺ کی امت کے لیے ہیں، جس پر قیامت کے دن وہ پانی پینے آئیں گی۔ یہ امت پر آپ
ﷺ کی شفقت اور اسے ملنے والے خاص امتیاز کی علامت ہے۔
- پایندہ
اجر اور کامیابی: جو اہل ایمان اس سے سیراب ہوں
گے، انہیں ہمیشہ کے لیے سیرابی، نورانیت اور سعادت حاصل ہوگی۔ "پیاس نہ
لگنے" اور "چہرہ نہ سیاہ ہونے" سے مراد اخروی عذاب اور ذلت سے
ابدی نجات اور ہمیشہ کی خوشحالی ہے۔
- نیک صحابہ
کی بلند منزلت: آپ ﷺ کا حضرت ابوبکر صدیق رضی
اللہ عنہ کو اس نعمت میں شریک ہونے کی خوشخبری دینا، ان کے بلند درجے اور آپ
ﷺ کی ان سے محبت کا اظہار ہے۔
- آخرت پر
یقین اور ترغیب: حدیث کی اس تفصیل کا مقصد
مؤمنوں کے دلوں میں جنت کی محبت اور اس کی نعمتوں کے حصول کی جدوجہد کے لیے
ترغیب پیدا کرنا ہے۔
- دشمنوں کے
مقابلے میں کامیابی: سورت کا اختتام "إِنَّ
شَانِئَكَ هُوَ الْأَبْتَرُ" پر ہوتا ہے، جو بتاتا ہے کہ حقیقی نامور
اور کامیاب رسول اللہ ﷺ اور آپ کی تعلیمات کو تھامنے والے ہیں، نہ کہ آپ کے
دشمن۔
جنت کے باشندوں کے گھروں کی صفت
حدیث نمبر 28
عن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قلنا: يا رسول الله، الجنة ما بناؤها؟ قال: "لبنة من فضة، ولبنة من ذهب، وملا طها المسك الأذفر وحصباؤها اللؤلؤ والياقوت، وتربتها الزعفران."
ترجمہ:
حضرت ابوہریرہ
رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم نے عرض کیا: "یا رسول اللہ! جنت (کے گھروں)
کی تعمیر کس چیز سے ہے؟" آپ ﷺ نے فرمایا: "ایک اینٹ چاندی کی ہے اور ایک
اینٹ سونے کی ہے، اور ان کا گارا خالص مشک ہے۔ اس (کے صحن) کے کنکر موتی اور یاقوت
کے ہیں اور اس کی مٹی (یا خاک) زعفران کی ہے۔"
🔍 حوالہ جات اور وضاحتی نقاط:
(1) یعنی: کیا وہ (جنت کے گھر) پتھر اور مٹی (کی اینٹوں) سے بنے ہیں، یا
لکڑی سے، یا بال (یعنی جانوروں کے بالوں سے بنے ہوئے خیموں) سے؟ *(تحفۃ الاحوذی:
6/317)*
(2) لَبِنَةٌ: وہ شے جو تعمیر
سے پہلے مٹی یا دیگر مواد سے بنائی جاتی ہے (یعنی پکی ہوئی اینٹ یا کچی اینٹ)۔
(3) مِلاَطُهَا: وہ گارا یا
لیپا جو دو اینٹوں کے درمیان لگایا جاتا ہے۔ *(تحفۃ الاحوذی: 6/317)*
(4) الْمِسْكُ الْأَذْفَرُ: یعنی بہت تیز
اور پُر لطف خوشبو والا۔ *(تحفۃ الاحوذی: 6/317)*
(5)
[الجامع الصحيح للسنن والمسانيد: ج3 ص260]
📖 حدیث سے حاصل اسباق یا نکات:
- مادی اور
روحانی حسینیت کا اتحاد: جنت کے گھر انتہائی قیمتی اور
خوبصورت مادوں (سونے، چاندی، موتی، یاقوت) سے بنے ہیں، جو آنکھوں کو ٹھنڈک
پہنچاتے ہیں۔ ساتھ ہی، ان کی تعمیر میں خالص مشک اور زعفران جیسی معطر چیزوں
کا استعال ہے، جو خوشبو کے ذریعے روح کو مسرت بخشتے ہیں۔ یہ دنیوی تعمیرات سے
یکسر مختلف اور اعلیٰ ترین درجے کی عظمت و لطافت کی علامت ہے۔
- بے مثال
خوبصورتی اور نفاست: ہر جزو دنیا کی نایاب ترین اور
بیش قیمت چیزوں میں سے منتخب کیا گیا ہے۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ جنت میں ہر
چیز کمال درجے کی خوبصورتی، پاکیزگی اور نفاست سے آراستہ ہوگی، اور وہاں کی
کوئی بھی شے دنیا کی کسی بھی چیز سے مشابہت نہیں رکھتی۔
- اللہ
تعالیٰ کی نعمتوں کی وسعت اور کرم: یہ تفصیل اللہ تعالیٰ کے اس
وسیع فضل، عطا اور اپنے نیک بندوں کے لیے تیار کی گئی نعمتوں کی عظمت کو ظاہر
کرتی ہے۔ جو لوگ دنیا میں اس کی اطاعت کرتے ہیں، انہیں ایسی ناقابل تصور اور
بیش قیمت جزا ملے گی۔
- ایمان
والوں کے لیے ترغیب: ایسی احادیث سننے اور ان پر غور
کرنے سے مومن کے دل میں جنت کی محبت اور اس کے حصول کی شدید خواہش پیدا ہوتی
ہے۔ یہ اس راہ میں مشقتوں اور تکالیف کو آسان بناتی ہے اور آخرت کی کامیابی
کے لیے عمل صالح پر آمادہ کرتی ہے۔
- تخیل سے
پرے حقیقت: حدیث میں بیان کردہ تصورات ہمارے عام دنیوی
تجربے سے باہر ہیں۔ اس کا مقصد یہ بتانا ہے کہ جنت کی نعمتیں ہمارے محدود
تخیل اور فہم سے کہیں زیادہ عظیم، حسین اور حقیقی ہیں۔
نوٹ: آپ کے مطلوبہ
حوالہ جات کے مطابق، یہ حدیث سنن ترمذی (حدیث نمبر 2525)، مسند
احمد (حدیث نمبر 8030)، صحیح الجامع (حدیث نمبر 3116) اور صحیح
الترغیب والترہیب (حدیث نمبر 3711) میں موجود ہے۔
جنت میں خیمہ کی صفت
حدیث نمبر 29
عَنْ
أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ - رضي الله عنه - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم -: (" إِنَّ فِي الْجَنَّةِ خَيْمَةً مِنْ
لُؤْلُؤَةٍ مُجَوَّفَةٍ , عَرْضُهَا سِتُّونَ مِيلًا) (١) وفي رواية: (طُولُهَا سِتُّونَ مِيلًا) (٢) (فِي كُلِّ
زَاوِيَةٍ مِنْهَا لِلْمُؤْمِنِ أَهْلٌ (٣)) (٤) (يَطُوفُ
عَلَيْهِمْ (٥) فلَا يَرَى
بَعْضُهُمْ بَعْضًا (٦) ") (٧)
ترجمہ:
ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "بے شک جنت میں ایک کھوکھلے موتی (لولؤ) کا خیمہ ہے، جس کی چوڑائی (یا ایک روایت میں: لمبائی) ساٹھ میل ہے ۔ اس کے ہر کونے میں مؤمن کے لیے (اپنی) اہل و عیال (زوجات) ہیں ۔ مؤمن ان سب کے پاس گھومتا پھرتا (یعنی ان سے ہمبستری کرتا) ہے، اور (خیمے کی وسعت کی وجہ سے) وہ ایک دوسرے کو نہیں دیکھتے ۔"
حواشی
اور حوالہ جات:
(١) (خ)
٤٥٩٨: یہ حدیث صحیح بخاری میں حدیث نمبر 4598 پر
موجود ہے۔
(٢) (م)
٢٨٣٨: یہ حدیث صحیح مسلم میں حدیث نمبر 2838 پر
موجود ہے ۔
(٣) اَہْلٌ: اس سے
مراد مؤمن کی دنیا کی بیویاں اور حورِ جنت ہیں ۔
(٤) (خ)
٣٠٧١: یہ جزو صحیح بخاری میں حدیث نمبر 3071 پر بھی
آتا ہے۔
(٥) يَطُوفُ
عَلَيْهِمْ: یہاں "طواف" سے کنایہ مباشرت (ہمبستری)
سے ہے۔
(٦) فَلَا
يَرَى بَعْضُهُمْ بَعْضًا: یعنی خیمے کی عظمت اور وسعت کی وجہ سے۔
(٧) (م)
٢٨٣٨: یہ جزو بھی صحیح مسلم حدیث نمبر 2838 میں ہے ۔
حدیث
سے حاصل ہونے والے اسباق اور نکات:
- جنت کی
نعمتوں کی عظمت و وسعت: خیمے کا
ساٹھ میل چوڑا یا لمبا ہونا ، اور اس میں ایک گھر والوں کا دوسرے کو نہ
دیکھ پانا ، جنت کی اس عظیم الشان وسعت اور اس کی نعمتوں کی فراوانی کی
واضح دلیل ہے جو انسانی تصور سے بالاتر ہے۔
- مؤمن کے
لیے خاص انعامات: یہ خیمہ
اور اس میں موجود انعامات خاص طور پر مؤمن کے لیے ہیں ۔ اس میں اس کے
لیے اپنی بیویوں اور حوروں کا انتظام ہوگا، جو اس کے ایمان اور نیک اعمال کا
صلہ ہے۔
- نعمتوں کی
قسمیں اور نفاست: خیمہ
نایاب اور قیمتی کھوکھلے موتی سے بنا ہے ۔ یہ جنت کی نعمتوں کی ناقابلِ
بیان خوبصورتی، نفاست اور درجہ بندی کو ظاہر کرتا ہے۔
- دنیا کی
قیاس آرائی سے بالاتر حقیقت: حدیث میں
بیان کردہ منظر ہماری دنیوی سمجھ اور تجربے سے بالکل مختلف ہے۔ اس کا مقصد یہ
باور کروانا ہے کہ جنت کی حقیقت ہمارے محدود ذہن کے اندازوں سے کہیں زیادہ
عظیم اور حسین ہے۔
- عمل پر
ترغیب اور وعدہ: ایسی
احادیث مؤمن کے دل میں جنت کی محبت اور اس کے حصول کی لگن پیدا کرتی ہیں، جو
اسے دنیا کی مشکلات اور آزمائشوں میں ثابت قدم رکھتی ہے اور نیک اعمال کی طرف
رغبت دلاتی ہے۔
آپ اگر
جنت کے گھروں، باغات یا دیگر نعمتوں کے بارے میں مزید احادیث جاننا چاہیں تو
بتائیے، میں ان کا بھی اسی طرح ترجمہ و تشریح پیش کروں گا۔
جنتوں کی صفت اور رب کے دیدار کے بیان
حدیث نمبر 30
عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ - رضي الله عنه - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم -: (" إِنَّ فِي الْجَنَّةِ جَنَّتَيْنِ) (١) (مِنْ فِضَّةٍ , آنِيَتُهُمَا وَمَا فِيهِمَا (٢) وَجَنَّتَانِ مِنْ ذَهَبٍ , آنِيَتُهُمَا وَمَا فِيهِمَا , وَمَا بَيْنَ الْقَوْمِ وَبَيْنَ أَنْ يَنْظُرُوا إِلَى رَبِّهِمْ إِلَّا رِدَاءُ الْكِبْرِ عَلَى وَجْهِهِ (٣) فِي جَنَّةِ عَدْنٍ (٤) ") (٥)
ترجمہ:
ابو موسیٰ
اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"بے شک جنت میں دو جنتیں (باغ) ایسی ہیں (جن کے درخت، محل اور ہر شے) چاندی
کے ہیں، ان کے برتن اور جو کچھ ان میں ہے (وہ بھی چاندی کے ہیں)، اور دو جنتیں
سونے کی ہیں، ان کے برتن اور جو کچھ ان میں ہے (وہ بھی سونے کے ہیں)، اور بندوں
اور اپنے رب کے دیدار کے درمیان صرف اس کی کبریائی (عظمت) کا پردہ (رِداءُ
الْكِبْرِ) حائل ہے جو اس کے چہرے (کی تجلی) پر ہے، (یہ سب کچھ) جنت عدن میں
(ہوگا)۔"
حواشی
اور حوالہ جات:
(١) (ت) ٢٥٢٧: یہ حدیث سنن ترمذی میں حدیث نمبر 2527 پر موجود ہے۔
(٢) آنِيَتُهُمَا
وَمَا فِيهِمَا: یعنی
ان (باغات) میں موجود محل، فرنیچر (جیسے تخت)، درختوں کے تنے اور اس طرح کی دیگر
تمام چیزیں بھی چاندی یا سونے کی ہوں گی۔
(٣) رِدَاءُ
الْكِبْرِ عَلَى وَجْهِهِ: حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عزت اور
بے نیازی کا تقاضا یہ تھا کہ کوئی اسے نہ دیکھے، لیکن اپنے مؤمن بندوں پر اس کی
رحمت نے یہ تقاضا کیا کہ وہ نعمت کی تکمیل کے طور پر انہیں اپنا چہرہ (تجلی)
دکھائے۔ پس جب (قیامت کے دن) وہ رکاوٹ دور ہو جائے گی تو وہ ان کے ساتھ عزت و
کبریائی کے اصل تقاضے کے برعکس (یعنی دیدار کی نعمت سے) سرفراز فرمائے گا، گویا اس
نے ان سے وہ پردہ اٹھا لیا جو انہیں (دیدار سے) روکے ہوئے تھا۔
(٤) فِي
جَنَّةِ عَدْنٍ: یعنی
اور یہ سب کچھ جنت عدن میں ہوگا (جو جنت کا بلند ترین مقام ہے)۔
(٥) (خ) ٤٥٩٧ , (م) ١٨٠: یہ حدیث صحیح بخاری میں حدیث
نمبر 4597 اور صحیح
مسلم میں حدیث نمبر 180 پر بھی موجود ہے۔
حدیث
سے حاصل ہونے والے اسباق اور نکات:
- جنت میں
مراتب و درجات کا وجود: جنت کے باغات (جنتیں) سونے اور
چاندی جیسی قیمتی دھاتوں سے بنے ہوں گے، جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ جنت میں بھی
نعمتوں کے مختلف درجات اور مراتب ہوں گے، ہر مؤمن کو اس کے ایمان و عمل کے
مطابق مقام و نعمت ملے گی۔
- نعمتوں کی
تکمیل و انتہا: ان جنتوں میں نہ صرف ساخت بلکہ
وہاں موجود ہر چیز (برتن، فرنیچر، درخت) بھی انہیں قیمتی مواد سے ہوگی۔ یہ
جنت کی نعمتوں کے مکمل، ہمہ گیر اور انتہائی نفاست شعار ہونے کی دلیل ہے۔
- سب سے
عظیم نعمت: رب کا دیدار: تمام مادی نعمتوں کے بیان کے
بعد حدیث کا منتہا اور سب سے بڑا انعام "اللہ تعالیٰ کے چہرے کا
دیدار" ہے۔ یہ وہ اعلیٰ ترین نعمت ہے جو جنت عدن میں اہل ایمان کو عطا
کی جائے گی اور جس کے لیے صرف اس کی ذات کی عظمت و کبریائی کا ایک پردہ حائل
ہے جو قیامت کے دن اٹھا لیا جائے گا۔
- اللہ کی
رحمت کا غلبہ: حدیث کی تشریح واضح کرتی ہے کہ
اللہ کی عزت و کبریائی کا تقاضا تو یہ تھا کہ کوئی اسے نہ دیکھے، لیکن اپنی
بے انتہا رحمت کے باعث اس نے اپنے برگزیدہ بندوں کے لیے اس عظیم نعمت کو ممکن
فرما دیا۔ یہ اس کی رحمت کے غلبہ اور فضل عظیم کی نشانی ہے۔
- عمل کی
ترغیب اور مقصد کی وضاحت: یہ حدیث مؤمن کو یاد دلاتی ہے
کہ جنت کی تمام مادی نعمتیں تو ایک طرف، اس کا حقیقی مقصد اور سب سے بڑی خوشی
اپنے پروردگار کے دیدار کی سعادت حاصل کرنا ہے۔ یہ بات ایمان والوں کے دل میں
محبت الٰہی اور اس کے قرب کے حصول کی شدید خواہش پیدا کرتی ہے۔
اگر آپ
جنت کے حوض کوثر، درجات، یا دیگر خصوصیات کے بارے میں مزید احادیث جاننا چاہیں تو
بتائیے، میں ان کی بھی خدمت پیش کروں گا۔
جنت اور جہنم کے مقامات اور وراثت کا بیان
حدیث نمبر 31
عَنْ
أَبِي هُرَيْرَةَ - رضي الله عنه - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم
-: " مَا
مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا لَهُ مَنْزِلَانِ، مَنْزِلٌ فِي الْجَنَّةِ ,
وَمَنْزِلٌ فِي النَّارِ، فَإِذَا مَاتَ فَدَخَلَ النَّارَ، وَرِثَ أَهْلُ
الْجَنَّةِ مَنْزِلَهُ، فَذَلِكَ قَوْلُهُ تَعَالَى: {أُولَئِكَ هُمُ
الْوَارِثُونَ الَّذِينَ يَرِثُونَ الْفِرْدَوْسَ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ} (١) " (٢)
وَقَالَ
تَعَالَى: {وَلِمَنْ
خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ جَنَّتَانِ} (٣)
ترجمہ:
ابو ہریرہ رضی
اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "تم میں سے
ہر ایک کے لیے دو مقام (ٹھکانے) ہیں: ایک مقام جنت میں ہے اور ایک مقام جہنم میں۔
پھر جب وہ مرتا ہے اور جہنم میں داخل ہوتا ہے، تو اہل جنت اس کے (جنت والے) مقام
کے وارث بن جاتے ہیں۔ اور یہی اس قولِ تعالیٰ کی مراد ہے: {یہی وہ لوگ ہیں جو وارث
ہوں گے، جو فردوس کے وارث ہوں گے، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے} (الآیۃ)۔"
{اور جو شخص اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے (یعنی حساب) سے ڈرا، اس کے لیے دو جنتیں ہیں} ۔(۳)
حوالہ جات:
- (سورۃ المؤمنون: ١٠، ١١)۔
- حدیث کا حوالہ (٢): یہ حدیث صحیح ابن حبان میں حدیث نمبر 4341، مسند احمد بن منصور الرودی (هب) میں حدیث نمبر 377، صحیح الجامع میں حدیث نمبر 5799، اور السلسلة الصحیحہ میں حدیث نمبر 2279 پر موجود ہے۔
- (سورۃ الرحمن: 46)
حدیث
سے حاصل ہونے والے اسباق اور نکات:
- ہر انسان
کی ابدی منزل کا تعین: حدیث اس اصول کی وضاحت کرتی ہے
کہ ہر انسان کی تقدیر میں جنت اور جہنم دونوں کے لیے ایک ممکنہ مقام (منزل)
پہلے سے موجود ہے۔ اس کا حتمی فیصلہ اس کے ایمان، اعمال اور اللہ کے فضل و
عدل پر موقوف ہے۔
- جنت کی
نعمتوں میں اضافہ اور وراثت کا اصول: جب کوئی
کافر یا منافق اپنے جہنم والے مقام پر چلا جاتا ہے، تو اس کا جنت میں متعین
کردہ (لیکن غیر مستعمل) مقام اہل جنت کے درمیان تقسیم ہو جاتا ہے، جس سے ان
کی نعمتوں کی وسعت اور عظمت میں مزید اضافہ ہوتا ہے۔ یہ جنت کے خزانوں کی
لامحدودیت اور اہل جنت کے لیے مزید اضافی انعامات کا اظہار ہے۔
- قرآنی آیت
کی عملی تفسیر: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سورۃ
المؤمنون (آیت 11) میں وارد لفظ "الْوَارِثُونَ" (وارث) کی ایک عملی اور حسی تصویر پیش فرمائی، کہ یہ وراثت
صرف لفظی نہیں بلکہ حقیقی مقامات اور نعمتوں کی صورت میں ہوگی۔
- خوفِ
الٰہی کا مثبت نتیجہ: حدیث کے بعد ذکر کی گئی آیت
(سورۃ الرحمن: 46) اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ جنت کے ان عظیم انعامات کا
حصول "خوفِ مقامِ رب" (اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے کے خوف) سے وابستہ ہے۔ یہ خوف وہ
مثبت جذبہ ہے جو انسان کو گناہوں سے بچاتا اور نیکیوں پر ابھارتا ہے، نتیجتاً
اسے جنت کے بلند مقامات عطا ہوتے ہیں۔
- عمل پر
ابھار اور اطمینان: یہ حدیث مؤمن کو یہ اطمینان
دیتی ہے کہ اس کی محنت ضائع نہیں جائے گی، بلکہ جنت میں اس کا مقام محفوظ ہے۔
ساتھ ہی، یہ اسے اس عظیم انعام کے حصول کے لیے مزید جدوجہد پر ابھارتی ہے،
تاکہ وہ نہ صرف اپنا مقام پا سکے بلکہ دوسروں کے چھوڑے ہوئے مقامات کے وارثین
میں سے بھی بن سکے۔
- اللہ کی
حکمت اور عدل: ہر ایک کے لیے دونوں جگہ مقام
کا ہونا اللہ تعالیٰ کی کامل حکمت اور عدل کو ظاہر کرتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ
کون اپنے ایمان و عمل سے جنت کے مستحق ہوگا اور کون کفر و معصیت کی بنا پر
جہنم کا اہل ٹھہرے گا۔
اگر آپ
جنت کے درجات، حوض کوثر یا قیامت کے احوال کے بارے میں مزید احادیث جاننا چاہیں تو
بتائیے، میں ان کی بھی خدمت پیش کروں گا۔
جنت کے شفاف کمروں کی صفت اور ان کے وارثین کا بیان
حدیث نمبر 32
عَنْ
عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ - رضي الله عنه - قَالَ: قَالَ رَسُولُ
اللهِ - صلى الله عليه وسلم -: "إِنَّ فِي الْجَنَّةِ غُرَفًا يُرَى ظُهُورُهَا
مِنْ بُطُونِهَا, وَبُطُونُهَا مِنْ ظُهُورِهَا (١) " فَقَامَ أَعْرَابِيٌّ فَقَالَ:
لِمَنْ هِيَ يَا رَسُولَ اللهِ؟ , قَالَ: " لِمَنْ أَطَابَ الْكَلَامَ (٢) وَأَطْعَمَ
الطَّعَامَ (٣) وَأَدَامَ
الصِّيَامَ (٤) وَصَلَّى للهِ
بِاللَّيْلِ وَالنَّاسُ نِيَامٌ " (٥)
ترجمہ:
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "بے شک جنت میں (ایسے) کمرے ہیں کہ ان کی پشت (یعنی بیرونی جانب) ان کے پیٹ (یعنی اندرونی جانب) سے نظر آتی ہے اور ان کا پیٹ ان کی پشت سے (یعنی وہ شفاف اور صاف ہیں)۔"(١) تو ایک اعرابی (دیہاتی) کھڑا ہوا اور پوچھا: اے اللہ کے رسول! یہ کس کے لیے ہیں؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: "اس شخص کے لیے جس نے (اچھا) کلام کیا،(٢) کھانا کھلایا،(٣) (نفل) روزوں کو لگاتار جاری رکھا،(٤) اور اس حال میں رات کو اللہ کے لیے نماز پڑھی کہ لوگ سو رہے ہوں۔"(٥)
حواشی
اور حوالہ جات کا ترجمہ و وضاحت:
(١) یعنی
ان کے شفاف ہونے کی وجہ سے، جو پیچھے ہے وہ نظر آتا ہے (یعنی کوئی چیز نظر نہیں
روکتی)۔
(٢) یعنی
جس کے تمام مخلوق (لوگوں) کے ساتھ اچھے اخلاق ہوں۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: {اور
جب جاہل ان سے مخاطب ہوں تو وہ کہتے ہیں: سلام (جواب دیتے ہیں)}۔ پس یہ اس شخص کا
مرتبہ ہے جو رحمان کے ان بندوں میں شامل ہوگا جو زمین پر نرمی سے چلتے ہیں اور
جنہیں اللہ تعالیٰ نے اس قول سے بیان فرمایا: {یہی لوگ ہیں جو صبر کرنے کے بدلے
(جنت کے) اوپر کے کمرے کے وارث بنائے جائیں گے}۔
(٣) یعنی
اپنے اہل و عیال، فقراء، مہمانوں اور ان جیسوں کو۔
(٤) یعنی
فرض کے بعد (نفل) روزوں کی کثرت کی، یہاں تک کہ ان میں تسلسل رہا اور اس نے انہیں
یکسر ترک نہیں کیا۔ ابن الملک کا یہ قول ہے۔ اور ایک قول یہ ہے کہ اس کی کم سے کم
مقدار یہ ہے کہ ہر مہینے میں تین روزے رکھے۔
(٥) (ت) ٢٥٢٦ , ١٩٨٤ , (حم) ١٣٣٧ , انظر صَحِيح الْجَامِع: ٢١٢٣ , صَحِيح التَّرْغِيبِ وَالتَّرْهِيب: ٦١٧، ٢٦٩٢ , المشكاة: ١٢٣٣
یہ حدیث سنن ترمذی میں حدیث نمبر 2526 اور 1984 پر، مسند احمد میں حدیث نمبر 1337 پر موجود ہے۔ نیز دیکھیے: صحیح الجامع حدیث نمبر 2123، صحیح الترغیب والترہیب حدیث نمبر 617 اور 2692، اور مشکوٰۃ المصابیح حدیث نمبر 1233۔
حدیث
سے حاصل ہونے والے اسباق اور نکات:
- جنت کی
نعمتوں کا نادر اور ناقابل تصور حسن: کمروں کا
مکمل طور پر شفاف ہونا، جہاں اندر اور باہر کا منظر ایک دوسرے سے مل جاتا ہے،
جنت کی ان نعمتوں کی ایک جھلک ہے جو اس دنیا کی کسی بھی چیز سے مشابہت نہیں
رکھتیں۔ یہ حسن و خوبصورتی، نورانیت اور پاکیزگی کی انتہا کو ظاہر کرتا ہے۔
- اعلیٰ
مقام کے حصول کے لیے جامع شرائط: رسول اللہ
ﷺ نے اس عظیم انعام کے مستحق ہونے کے لیے چار جامع شرائط بیان فرمائیں، جو
ایک مکمل اسلامی شخصیت کی عکاس ہیں:
- اچھا
کلام (أَطَابَ الْكَلَامَ): یہ اچھے
اخلاق، نرم گفتگو، سچ بولنے، فحش گوئی اور غیبت سے بچنے، اور علم و نصیحت کے
اچھے کلام کی طرف اشارہ ہے۔ اس سے مراد وہ شخصیت ہے جو دوسروں کے ساتھ شفقت
اور احترام سے پیش آتی ہے۔
- کھانا
کھلانا (أَطْعَمَ الطَّعَامَ): یہ
سخاوت، غرباء و مساکین کی خبرگیری، مہمان نوازی اور اللہ کی راہ میں خرچ
کرنے کی صفت ہے۔ یہ عمل دل کی سختی کو دور کرتا ہے اور معاشرے میں محبت اور
ہمدردی کو فروغ دیتا ہے۔
- روزوں کو
لگاتار جاری رکھنا (أَدَامَ الصِّيَامَ): فرض
روزوں کے علاوہ نفلی روزے (جیسے ماہیوارہ، ایام بیض، یوم عرفہ کے روزے)
رکھنا۔ یہ تقویٰ، صبر، نفس کی تربیت اور اللہ سے قربت حاصل کرنے کا ذریعہ
ہے۔
- راتوں کو
قیام (تہجد) کرنا (صَلَّى بِاللَّيْلِ): یہ رات
کی تنہائی میں اپنے رب کے سامنے گڑگڑانا، عبادت میں یکسوئی، اور دل کے سکون
و منور ہونے کی علامت ہے۔ یہ وہ عبادت ہے جو مؤمن کی روحانی بلندی کا سبب
بنتی ہے۔
- انعام کی
عظمت اور عمل کا تناسب: جنت کا یہ نادر اور اعلیٰ ترین
"غرفہ" (اوپر والا کمرہ) انہی اعمال کا صلہ ہے۔ اس سے پتہ چلتا ہے
کہ جنت کے درجات اور نعمتیں ہمارے ایمان اور اعمال کے مطابق ہوں گی۔ جتنا عمل
اعلیٰ اور خالص ہوگا، اتنا ہی مقام بلند اور انعام نادر و نایاب ہوگا۔
- دل کی نیت
اور عمل کی صداقت: ان چاروں اعمال کا تعلق براہ
راست انسان کے دل، اس کی نیت اور اس کے تعلق مع اللہ اور خلق سے ہے۔ یہ حدیث
بتاتی ہے کہ جنت کے اعلیٰ مقامات صرف ظاہری عبادت ہی نہیں، بلکہ اخلاق، سخاوت
اور خلوص کی بنیاد پر ملتے ہیں۔
- ترغیب اور
عمل کا جامع نقشہ: یہ حدیث ہر مسلمان کے سامنے جنت
کے حصول کا ایک واضح، جامع اور قابل عمل نقشہ پیش کرتی ہے۔
حدیث نمبر 33
عَنْ
عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ - رضي الله عنه - أَنّهُ قَالَ فِي قَوْلِهِ - عز وجل
-: {مُتَّكِئِينَ عَلَى فُرُشٍ بَطَائِنُهَا مِنْ إِسْتَبْرَقٍ (١)} (٢) قال:
أُخْبِرْتُمْ بِالْبَطَائِنِ , فَكَيفَ بِالظَّهَائِرِ (٣)؟. (٤)
ترجمہ:
عبداللہ بن
مسعود رضی اللہ عنہ نے اللہ تعالیٰ کے اس قول کے بارے میں فرمایا: "مُتَّكِئِينَ
عَلَى فُرُشٍ بَطَائِنُهَا مِنْ إِسْتَبْرَقٍ" (سورۃ الرحمن: 54)۔ {ترجمہ: وہ (اہل جنت) ایسے بچھونوں پر تکیے لگائے بیٹھے ہوں گے جن کی استری
(اندرونی تہہ) موٹے دیباج (رقیق ریشم) کی ہے۔(۱)} (٢)
آپ رضی اللہ
عنہ نے فرمایا: تمہیں (اللہ تعالیٰ نے قرآن میں) ان بچھونوں کی "بطائن" (اندرونی تہوں) کا حال
بتایا ہے، تو پھر ان کی "ظواهر" (بیرونی سطحیں) کیسی ہوں گی(٣)؟ (٤)
حواشی
اور حوالہ جات کا ترجمہ و وضاحت:
(١) الإسْتِبْرَق: یہ موٹے ریشم
(دیباج) کی ایک قسم ہے۔
(٢) (سورۃ
الرحمن: 54)
(٣) یعنی
اگر بچھونے کی بھرائی (اندرونی حصہ) ریشم کی ہے، جو کپڑوں کی سب سے قیمتی قسم ہے،
تو پھر اس بچھونے کا بیرونی چہرہ (اوپری سطح) کس چیز کا ہوگا؟ (یعنی وہ اس سے بھی
کہیں زیادہ قیمتی اور خوبصورت ہوگا)۔
(٤) (ك) ٣٧٧٣ , انظر صَحِيح التَّرْغِيبِ وَالتَّرْهِيب: ٣٧٤٦
(5) یہ تفسیری اثر (قولِ صحابی) "الکامل فی ضعفاء الرجال" (ابن عدی) میں حدیث/اثر نمبر 3773 پر موجود ہے۔ نیز دیکھیے: صحیح الترغیب والترہیب حدیث نمبر 3746۔
اس
تفسیری اثر سے حاصل ہونے والے اسباق اور نکات:
- جنت کی
نعمتوں کی ناقابلِ بیان عظمت کا بیان: حضرت ابن
مسعود رضی اللہ عنہ کا یہ استدلال جنت کی نعمتوں کی حقیقی شان اور نفاست کو
سمجھنے کا ایک زبردست ذریعہ ہے۔ ان کا مقصد یہ بتانا ہے کہ قرآن نے جو عظمت
بیان کی ہے وہ صرف ایک جھلک ہے۔ اگر وہ چیز جو عام طور پر دکھائی نہیں دیتی
(اندرونی تہہ) اتنی قیمتی اور نفیس ہے، تو جو چیز نظر آتی ہے (بیرونی سطح) وہ
کتنی زیادہ خوبصورت، قیمتی اور حیرت انگیز ہوگی!
- قرآن پر
غور و فکر کی ترغیب: یہ اثر ہمیں سکھاتا ہے کہ قرآن
پاک کی آیات کو صرف پڑھنا ہی کافی نہیں، بلکہ ان پر غور و تدبر کرنا چاہیے۔
ایک صحابی رسول ﷺ نے ایک لفظ "بطائن" (اندرونی تہوں) سے استنباط کرکے "ظواهر" (بیرونی سطحوں) کی عظمت کا پورا ایک باب کھول دیا۔ یہ قرآن کے
معانی کی گہرائی اور اس کے بیانات کے حسن کو سمجھنے کی بہترین مثال ہے۔
- انسانی
تصور و تخیل سے بالا تر حقیقت: یہ بات واضح کرتی ہے کہ جنت کی
نعمتیں ہمارے دنیاوی تجربے، تصور اور تخیل کی حدوں سے بالکل پرے ہیں۔ ہم دنیا
میں موٹے ریشم (استبرق) کو نہایت قیمتی سمجھتے ہیں، لیکن جنت میں وہ قیمتی شے
ایک بچھونے کے "چھپے ہوئے حصے" کے لیے
استعمال ہو رہی ہے۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ جنت کی نعمتیں ہمارے عام تصورات اور
ہماری پسندیدہ ترین چیزوں سے بھی کہیں زیادہ اعلیٰ و ارفع ہیں۔
- جزا کی
فراوانی اور اللہ کے فضل کی وسعت: یہ تصور
مؤمن کے دل میں یہ یقین پیدا کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کو جو
کچھ عطا فرمائے گا، وہ ان کے اعمال سے کہیں زیادہ بڑھ کر، ناقابلِ تصور اور
ناقابلِ بیان ہوگا۔ اس سے عملِ صالح کے لیے دل میں مزید رغبت، شوق اور محبت
پیدا ہوتی ہے۔
- تخیل کی
حد بندی اور ایمان کی وسعت: اس قول کا مقصد ہمارے تخیل کو
جگانا بھی ہے اور اس کی حد بھی بتانا بھی ہے۔ ہم اندازہ لگا سکتے ہیں کہ
بیرونی سطح اندرونی تہہ سے بھی بہتر ہوگی، لیکن حقیقت میں وہ کیا ہوگی؟ اس کا
علم صرف اللہ کے پاس ہے اور اہل جنت کو اس وقت حاصل ہوگا۔ یہ ایمان بالغیب کی
عکاسی بھی کرتا ہے۔
یہ
تفسیری اثر جنت کی نعمتوں کے بیان میں ایک منفرد، فکر انگیز اور انتہائی مؤثر
انداز پیش کرتا ہے جو مؤمن کو اللہ کے وعدوں کی سچائی، اس کے فضل کی وسعت اور آخرت
کی تیاری پر ابھارنے کا بہترین ذریعہ ہے۔
خَدَمُ أَهْلِ الْجَنَّة
حدیث نمبر 34
(البعث والنشور) , وَعَنْ أَبِي أَيُّوبَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو - رضي الله عنهما - قَالَ: " إِنَّ أَدْنَى أَهْلِ الْجَنَّةِ مَنْزِلًا مَنْ يَسْعَى إِلَيْهِ أَلْفُ خَادِمٍ , كُلُّ خَادِمٍ عَلَى عَمَلٍ لَيْسَ عَلَيْهِ صَاحِبُهُ، قَالَ: وَتَلَا هَذِهِ الْآيَةَ: {وَيَطُوفُ عَلَيْهِمْ وِلْدَانٌ مُخَلَّدُونَ , إِذَا رَأَيْتَهُمْ حَسِبْتَهُمْ لُؤْلُؤًا مَنْثُورًا} (١) " (٢)
ترجمہ
"بے شک جنت میں سب سے کم درجے والے شخص کی خدمت کے لیے ایک ہزار خادم
دوڑتے پھرتے ہیں، ہر خادم ایک خاص کام پر مامور ہوتا ہے جس میں اس کا آقا (یعنی
جنت والا) کوئی مشقت نہیں اٹھاتا۔" (راوی کا بیان:) پھر انہوں نے یہ آیت
تلاوت کی: {اور ان (اہلِ جنت) کے پاس ہمیشہ جوان رہنے والے لڑکے (خدمت کے لیے)
گھومتے رہیں گے، جب تم انہیں دیکھو گے تو انہیں (حسن و صفائی میں) بکھرے ہوئے موتی
خیال کرو گے۔}(۱) (۲)
حوالہ جات:
(۱) [الانسان/١٩]: سورۃ الانسان، آیت نمبر 19۔
(۲)(هق في البعث والنشور) ٣٧١: یہ اثر امام بیہقی کی کتاب "البعث والنشور" میں حدیث نمبر 371 پر مذکور ہے۔ (الزهد لهناد بن السري) ج١ص١٣٣: یہ امام ہناد بن سری کی کتاب "الزہد" کے جلد اول، صفحہ 133 پر موجود ہے۔ (انظر صَحِيح التَّرْغِيبِ وَالتَّرْهِيب: ٣٧٠٥): شیخ البانی نے اسے اپنی کتاب "صحیح الترغیب والترہیب" میں حدیث نمبر 3705 پر نقل کرکے اس کی سند کو صحیح قرار دیا ہے۔
حدیث/اثر
سے حاصل ہونے والے اسباق اور نکات
- نعمتوں کی
وسعت و عظمت کا بیان: یہ اثر جنت کی نعمتوں کی عظمت
کو بیان کرنے کے لیے ایک محیرالعقول مثال پیش کرتا ہے۔ اگر سب سے کم درجے
والے شخص کے پاس بھی ایک ہزار مخصوص خادم ہیں، تو پھر اعلیٰ درجات کے حاملین
کے مقام اور نعمتوں کا کیا حال ہوگا؟ یہ انسانی تصور سے بالاتر ہے۔
- اللہ
تعالیٰ کے فضل و کرم کا عملی مظاہرہ: یہ پورا
منظر اللہ تعالیٰ کے اس وسیع فضل، عطا اور کرم کی عکاسی کرتا ہے جو اس نے
اپنے نیک بندوں کے لیے تیار کیا ہے۔ یہ اس بات کی واضح دلیل ہے کہ نیک اعمال
کا اجر صرف عمل کے برابر نہیں بلکہ اس سے کہیں زیادہ عظیم اور بے مثال ہے۔
- آخرت کی
نعمتوں کے لیے ترغیب و ترہیب: ایسے بیانات کا ایک اہم مقصد
مؤمن کے دل میں جنت کی محبت اور اس کے حصول کی لگن پیدا کرنا ہے۔ یہ تصور کہ
ایک ہزار حسین و جمیل، ہمیشہ جوان رہنے والے خادم خدمت کے لیے حاضر ہیں، دنیا
کی وقتی مشقتوں اور آزمائشوں کو برداشت کرنے کے لیے طاقت اور صبر فراہم کرتا
ہے۔
- جنت میں
خدمت کا نظام اور اس کی حکمت: جنت میں خادموں کا ہونا نعمتوں
کی تکمیل اور آرام کی علامت ہے۔ ان کے "ولدان
مخلدون" (ہمیشہ جوان رہنے والے لڑکے) ہونے میں
حکمت یہ ہے کہ یہ عمر خدمت کے لیے سب سے زیادہ چست، پُرجوش، تیز اور خوش شکل
ہوتی ہے، اور اس سے مخدوم کو کسی قسم کے تکلف یا حیا کا احساس نہیں ہوتا۔
- غلط
فہمیوں کی تردید: کچھ غیر معتبر ذرائع ان
"ولدان مخلدون" کے بارے میں انتہائی مکروہ اور غلط تصورات پیش کرتے
ہیں۔ علماء کرام نے واضح کیا ہے کہ یہ صرف اور صرف خدمت کے
لیے ہیں، خاص طور پر کھانے پینے اور دیگر ضروریات پہنچانے کے لیے۔ جنت
پاکیزگی اور طہارت کی جگہ ہے، ہر قسم کے قبیح اور ناشائستہ امور سے پاک۔
اگر آپ
جنت کی نعمتوں، مثلاً حور العین، باغات، یا درجات کے فرق کے بارے میں مزید احادیث
جاننا چاہیں تو آپ فرمائیں۔
حورِ
عین کی صفات
القرآن:
- سورۃ
الرحمن (آیت 56-58):
- عربی: {فِيهِنَّ
قَاصِرَاتُ الطَّرْفِ لَمْ يَطْمِثْهُنَّ إِنْسٌ قَبْلَهُمْ وَلَا جَانٌّ ,
فَبِأَيِّ آَلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ , كَأَنَّهُنَّ الْيَاقُوتُ
وَالْمَرْجَانُ}
- ترجمہ:
- "ان (جنت
کی بیویوں) میں (وہ حوریں ہیں) جو نگاہیں صرف اپنے شوہروں پر رکھتی ہیں، ان
سے پہلے نہ کسی انسان نے انہیں چھوا ہے نہ کسی جن نے، سو (اے گروہِ جن و
انس!) تم دونوں اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے؟ گویا وہ (حُوریں) یاقوت
اور مروارید ہیں۔"
- سورۃ
الرحمن (آیت 70-74):
- عربی: {فِيهِنَّ
خَيْرَاتٌ حِسَانٌ , فَبِأَيِّ آَلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ , حُورٌ
مَقْصُورَاتٌ فِي الْخِيَامِ , فَبِأَيِّ آَلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ,
لَمْ يَطْمِثْهُنَّ إِنْسٌ قَبْلَهُمْ وَلَا جَانٌّ}
- ترجمہ: "ان میں
خوش اخلاق خوبصورت (عورتیں) ہیں، سو تم دونوں اپنے رب کی کس کس نعمت کو
جھٹلاؤ گے؟ (وہ) حوریں ہیں جو (اپنے شوہروں کے لیے) خیموں میں محفوظ رکھی
گئی ہیں، سو تم دونوں اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے؟ ان سے پہلے نہ
کسی انسان نے انہیں چھوا ہے نہ کسی جن نے۔"
- سورۃ
الواقعۃ (آیت 22-23):
- عربی: {وَحُورٌ
عِينٌ , كَأَمْثَالِ اللُّؤْلُؤِ الْمَكْنُونِ}
- ترجمہ: "اور
(وہاں) حورِ عین ہیں، گویا وہ محفوظ موتی ہیں۔"
- سورۃ
الواقعۃ (آیت 35-37):
- عربی: {إِنَّا
أَنْشَأنَاهُنَّ إِنْشَاءً , فَجَعَلْنَاهُنَّ أَبْكَارًا , عُرُبًا
أَتْرَابًا}
- ترجمہ: "بے شک ہم
نے ان (حوروں) کو خاص طور پر پیدا فرمایا ہے، پس ہم نے انہیں کنواریاں بنایا
ہے، (اپنے شوہروں سے) محبت کرنے والیاں، ہم عمر۔"
آیات
سے حاصل ہونے والے اسباق اور نکات:
- پاکیزگی
اور عصمت کی اعلیٰ ترین مثال: حوروں کے لیے "لَمْ
يَطْمِثْهُنَّ إِنْسٌ قَبْلَهُمْ وَلَا جَانٌّ" (نہ کسی انسان نے انہیں چھوا نہ جن نے) اور "أَبْكَارًا" (کنواریاں) جیسی صفات کا تذکرہ ان کی مکمل پاکیزگی، طہارت اور
ان کے وجود کو صرف جنت کے شوہروں کے لیے خاص ہونے کی دلیل ہے۔ یہ دنیوی
تعلقات سے بالکل پاک اور اعلیٰ ترین معیار کی عفت کی علامت ہے۔
- حسن و
جمال کا ناقابلِ بیان معیار: ان کے حسن کو دنیا کی سب سے
قیمتی چیزوں "الْيَاقُوتُ" (یاقوت)، "الْمَرْجَانُ" (مروارید)، اور "اللُّؤْلُؤِ
الْمَكْنُونِ" (محفوظ موتی) سے تشبیہ دی گئی ہے۔ یہ
بتاتا ہے کہ ان کا جمال صفائی، چمک، نفاست، اور قدر و قیمت کے لحاظ سے اس
دنیا کے تمام تصورات سے بالاتر ہوگا۔
- اخلاقی
حسن اور وفاداری: وہ نہ صرف ظاہری طور پر "حِسَانٌ" (خوبصورت) ہیں بلکہ باطنی طور پر "خَيْرَاتٌ" (نیکی کرنے والی، خوش اخلاق) اور "عُرُبًا" (اپنے شوہروں سے محبت کرنے والی) بھی ہیں۔ ان کی نگاہیں "قَاصِرَاتُ
الطَّرْفِ" صرف اپنے شوہروں پر ہوں گی، جو محبت میں
وفاداری اور اعلیٰ اخلاق کی کامل تصویر ہے۔
- یکسانیت،
مساوات اور ہم عمری: سب حوریں "أَتْرَابًا" (ہم عمر) ہوں گی۔ اس میں یہ حکمت ہے کہ نہ کوئی بڑی ہوگی نہ
چھوٹی، نہ ہی کوئی اس بات پر رشک کرے گی کہ دوسری زیادہ جوان ہے۔ یہ جنت کی
کامل مساوات، نفسیاتی سکون اور ہر قسم کے تعفن اور حسد سے پاک ہونے کی علامت
ہے۔
- خصوصی
تخلیق اور مقصدیت: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: "إِنَّا
أَنْشَأنَاهُنَّ إِنْشَاءً" (ہم نے انہیں خاص طور پر پیدا فرمایا
ہے)۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ حوریں عام انسانی تخلیق کے طریقے سے نہیں، بلکہ
براہِ راست اللہ کی خاص قدرت سے جنت کے لیے پیدا کی گئی ہیں تاکہ وہ مؤمنوں
کے لیے مکمل راحت و انبساط کا سبب بنیں۔
- نعمتوں کی
تکمیل اور حفاظت: انہیں "مَقْصُورَاتٌ
فِي الْخِيَامِ" (خیموں میں محفوظ رکھی گئی) کہا گیا ہے۔
یہ ان کی قدر و منزلت، ان کی حفاظت اور اس بات کی دلیل ہے کہ وہ ہر نظرِ بد
سے محفوظ، صرف اپنے شوہروں کے لیے مخصوص ہیں۔
- اللہ کی
نعمتوں کا اعتراف اور انکار نہ کرنا: آیات میں
بار بار "فَبِأَيِّ آَلَاءِ رَبِّكُمَا
تُكَذِّبَانِ" (پس تم دونوں اپنے رب کی کس کس نعمت کو
جھٹلاؤ گے؟) کا جملہ تکرار کے ساتھ آیا ہے۔ اس کا واضح پیغام یہ ہے کہ اللہ
تعالیٰ نے جو نعمتیں بیان فرمائی ہیں، ان کا انکار یا انہیں حقیر سمجھنا
درحقیقت اللہ کے کلام کو جھٹلانا ہے۔ مؤمن کا کام ان نعمتوں پر یقین کرنا، اللہ
کا شکر ادا کرنا اور ان کے حصول کی جدوجہد کرنا ہے۔
اگر آپ
حور العین سے متعلق احادیثِ نبویہ ﷺ یا جنت کی دیگر نعمتوں کے بارے میں مزید
معلومات چاہیں تو فرمائیے۔
حدیث نمبر 35
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ - رضي الله عنه - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم -: " لَوْ أَنَّ امْرَأَةً مِنْ نِسَاءِ أَهْلِ الْجَنَّةِ اطَّلَعَتْ إِلَى الْأَرْضِ , لَأَضَاءَتْ مَا بَيْنَهُمَا (١) وَلَمَلَأَتْ مَا بَيْنَهُمَا رِيحًا (٢) وَلَطَابَ مَا بَيْنَهُمَا، وَلَنَصِيفُهَا (٣) عَلَى رَأسِهَا خَيْرٌ مِنْ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا " (٤)
ترجمہ:
حضرت انس بن
مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"اگر اہل جنت میں سے کوئی عورت زمین کی طرف جھانکے تو وہ زمین اور آسمان (یا
جنت و زمین) کے درمیان کے فاصلے کو روشن کر دے گی(١)، اور اس کے درمیان (کی فضا)
خوشبو سے بھر دے گی(٢)، اور اسے معطر کر دے گی، اور اس کے سر کا دوپٹہ (یا اوڑھنی)(٣) دنیا اور جو کچھ اس میں ہے، اس سے بہتر ہے۔"(٤)
حواشی
اور حوالہ جات:
- لَأَضَاءَتْ
مَا بَيْنَهُمَا (١): یعنی زمین اور جنت کے درمیان کے
فاصلے کو (اپنے نور اور چمک سے) روشن کر دے گی۔
- وَلَمَلَأَتْ
مَا بَيْنَهُمَا رِيحًا (٢): یعنی خوشبو سے (اس درمیانی فضا
کو) بھر دے گی۔
- وَلَنَصِيفُهَا
(٣): اس
سے مراد اس کا دوپٹہ یا اوڑھنی ہے۔
- (خ) ٦١٩٩ , (ت) ١٦٥١: یہ حدیث صحیح
بخاری میں حدیث نمبر 6199 اور سنن
ترمذی میں حدیث نمبر 1651 پر موجود
ہے۔
حدیث
سے حاصل ہونے والے اسباق اور نکات:
- حوروں کے
حسن و جمال اور نورانیت کی عظمت: حدیث اس
بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ جنت کی حوریں محض خوبصورت نہیں ہوں گی، بلکہ ان
میں ایک آسمانی نورانیت اور تابندگی ہوگی۔ ان کا حسن اس قدر چمکدار اور
نورانی ہوگا کہ اگر وہ زمین کی طرف جھانکیں تو ان کے چہرے کا نور زمین و
آسمان کے درمیان کا سارا فاصلہ منور کر دے گا۔ یہ تصور دنیوی حسن سے کوسوں
دور اور آسمانی خوبصورتی کا بیان ہے۔
- ان کی
پاکیزگی اور خوشبو کی لطافت: ان حوروں کی پاکیزگی اور خوشبو
اتنی معطر اور پر کشش ہوگی کہ اس سے زمین و آسمان کے درمیان کی فضا خوشبو سے
بھر جائے گی۔ یہ نہ صرف جسمانی بلکہ روحانی پاکیزگی اور طہارت کی علامت ہے جو
جنت کا خاصہ ہے۔
- دنیا کی
بے حقیقتی اور جنت کی نعمتوں کی عظمت کا موازنہ: حدیث کا
سب سے واضح اور زوردار پیغام یہ ہے کہ "لَنَصِيفُهَا
عَلَى رَأسِهَا خَيْرٌ مِنْ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا" یعنی جنت
کی ایک عورت کا محض سر کا دوپٹہ پوری دنیا اور اس کی ساری دولت، حسن، شان و
شوکت اور نعمتوں سے بہتر اور قیمتی ہے۔ یہ ایک ایسا بیانیہ ہے جو دنیا کی ہر
چیز کو جنت کے سامنے ہیچ اور بے وقعت ثابت کر دیتا ہے۔
- دنیا
پرستی سے بیزاری اور آخرت پر توجہ کی ترغیب: ایسی
احادیث کا مقصد مؤمن کے دل میں دنیا کی محبت اور لگاؤ کو کم کرنا اور آخرت کی
عظیم نعمتوں کے حصول کے لیے اسے تیار کرنا ہے۔ جب ایک دوپٹہ پوری دنیا سے
بہتر ہو سکتا ہے، تو پھر اس دوپٹہ والی عورت، اس کا گھر، اس کی جنت اور اس کا
رب کیسی عظمتوں والا ہوگا؟ یہ سوچ مؤمن کو دنیاوی لذتوں سے بے نیاز کر کے
آخرت کی تیاری پر آمادہ کرتی ہے۔
- اللہ کے
وعدوں کی سچائی اور اس کی قدرت کا اظہار: یہ بیان
جنت کی نعمتوں کی حقیقت کے بارے میں ہے۔ یہ محض کوئی تمثیل یا استعارہ نہیں،
بلکہ حقیقت ہے جو ہماری عقل کے دائرے سے باہر ہے۔ اللہ تعالیٰ جو وعدہ فرماتا
ہے، وہ اس پر پورا کرنے کی پوری قدرت رکھتا ہے۔
- نیکیوں
اور اعمالِ صالحہ پر ثبات قدمی کی ترغیب: اس حدیث
کو سن کر مؤمن کے دل میں جنت کے حصول کا شوق اور جذبہ پیدا ہوتا ہے۔ یہ اس
بات پر ابھارتی ہے کہ وہ اپنے اعمال کو درست کرے، نیکیوں میں مصروف رہے اور
ہر وہ کام کرے جو اس عظیم انعام کے حصول کا ذریعہ بن سکے۔
یہ
حدیث درحقیقت جنت کی نعمتوں کی عظمت کو بیان کرنے والی ان احادیث میں سے ایک ہے جو
مؤمن کے ایمان کو تازہ کرتی ہے، اس کے دل میں آخرت کی محبت پیدا کرتی ہے اور دنیا
کی فانی زندگی سے اس کی نظر ہٹا کر ہمیشہ رہنے والی زندگی کی طرف متوجہ کرتی ہے۔
حدیث نمبر 36
عَنْ
أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ - رضي الله عنه - قَالَ: قِيلَ
لِرَسُولِ اللهِ - صلى الله عليه وسلم -: هَلْ نَصِلُ إِلَى نِسَائِنَا فِي
الْجَنَّةِ (١)؟، قَالَ: "
نَعَمْ،
وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ دَحْمًا دَحْمًا (٢) إِنَّ الرَّجُلَ لَيَصِلُ فِي الْيَوْمِ إِلَى
مِائَةِ عَذْرَاءَ , فَإِذَا قَامَ عَنْهَا , رَجَعَتْ مُطَهَّرَةً بِكْرًا
" (٣)
ترجمہ:
حضرت ابو امامہ
باہلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا:
کیا ہم جنت میں اپنی (دنیاوی) بیویوں کے پاس (ہمبستری کے لیے) پہنچیں گے (١)؟ آپ ﷺ نے
فرمایا: "ہاں، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، (وہاں خوب) صحبت
ہوگی۔(٢) بے شک آدمی (جنت میں) ایک دن میں سو کنواریوں کے پاس پہنچے گا، پھر جب وہ ان
سے اٹھے گا تو وہ (ہر بار) پاک صاف کنواری بن کر لوٹ آئیں گی۔"(٣)
حواشی
اور حوالہ جات:
- (١) كناية عن الجِمَاع: یہ
ہمبستری (جماع) کے لیے کنایہ ہے۔
- (٢) الدَّحْمُ: النكاح والوطء...: "دَحْمًا"
کا معنی ہے نکاح اور جماع۔ "دَحَمَ الْمَرْأَةَ" کا مطلب ہے اس سے
ہمبستری کی۔
- (٣) (حب) ٧٤٠٢...: (حب) یہ حدیث صحيح ابن حبان میں حدیث نمبر 7402، السلسلة الصحیحہ میں حدیث نمبر 367 اور 3351 پر موجود
ہے۔ محدث شیخ شعیب الارنؤوط نے فرمایا ہے کہ اس کی سند حسن ہے۔
حدیث
سے حاصل ہونے والے اسباق اور نکات:
- دنیوی
بیویوں سے جنت میں ملاقات کی تصدیق: یہ حدیث
اہل ایمان کے لیے ایک عظیم بشارت ہے کہ جو نیک بیویاں دنیا میں ان کے ساتھ
تھیں، وہ جنت میں بھی انہیں ملیں گی اور وہاں ان کے ساتھ ازدواجی تعلق قائم
ہوگا۔ یہ رشتہ کی قدروقیمت اور نیک ساتھی کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔
- جنت کی
نعمتوں کی لامحدودیت اور عظمت: ایک دن میں سو کنواریوں تک
پہنچنے کا بیان جنت میں عطا کی جانے والی قوت، لذت اور نعمتوں کی فراوانی کی
اس انتہا کو ظاہر کرتا ہے جو دنیا کے کسی تصور میں نہیں آ سکتی۔ یہ اللہ کے
فضل کی وسعت کی دلیل ہے۔
- جنت کی
پاکیزگی اور تقدس کا اعلیٰ معیار: یہ بات
خاص طور پر قابل غور ہے کہ ہر بار ملاقات کے بعد حور یا بیوی کنواری اور پاک
صاف ہی رہتی ہے۔ یہ جنت کی ہر نعمت کے دائمی، ناقابل زوال اور ہر قسم کی
دنیاوی نفسیاتی یا جسمانی کمیابی سے پاک ہونے کی واضح علامت ہے۔ وہاں کی ہر
شے طہارت، پاکیزگی اور کمال پر قائم ہے۔
- نیکی پر
ثابت قدمی کی ترغیب: یہ حدیث مؤمن مرد اور عورت
دونوں کے لیے ترغیب کا باعث ہے کہ وہ دنیا میں نیک اور باوفا ساتھی بن کر
رہیں، تاکہ آخرت میں اس عظیم انعام کے مستحق ٹھہریں اور ہمیشہ کے لیے ایک
دوسرے کے ساتھ راحت و انبساط کی زندگی گزاریں۔
- جنت کے
احوال دنیا سے مختلف ہیں: حدیث میں بیان کردہ صورتحال
دنیا کے طبیعی قوانین اور محدودیتوں سے مکمل طور پر بالا ہے۔ اس کا مقصد ہمیں
یہ باور کرانا ہے کہ جنت کی حقیقت ہمارے عام تجربے اور فہم سے کہیں بالاتر
ہے، اور وہاں ہر نعمت اپنے اعلیٰ ترین اور کامل ترین روپ میں موجود ہوگی۔
- سوال کرنے
اور علم حاصل کرنے کی اہمیت: صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا یہ
سوال اور رسول اللہ ﷺ کا جواب، اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ آدمی کو آخرت کے
احوال کے بارے میں علم حاصل کرنا چاہیے اور جو بات سمجھ نہ آئے، اس کے بارے
میں پوچھنا چاہیے تاکہ اس کا یقین اور عمل دونوں درست ہو سکیں۔
حدیث نمبر 37
عَنْ
أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ - رضي الله عنه - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم
-: " يُعْطَى
الْمُؤْمِنُ فِي الْجَنَّةِ قُوَّةَ كَذَا وَكَذَا مِنَ الْجِمَاعِ
"، قِيلَ: يَا رَسُولَ
اللهِ أَوَيُطِيقُ ذَلِكَ؟ , قَالَ: " يُعْطَى قُوَّةَ مِائَةٍ "
ترجمہ:
حضرت انس بن
مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"مؤمن کو جنت میں (ہمبستری کی) اتنی اتنی قوت عطا کی جائے گی۔" عرض کیا
گیا: اے اللہ کے رسول! کیا وہ اس کی طاقت رکھے گا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: "اسے سو
(آدمیوں) کی قوت عطا کی جائے گی۔"
[یہ حدیث سنن ترمذی میں حدیث نمبر 2536 اور صحيح ابن حبان میں حدیث نمبر 7400 پر موجود ہے۔ امام البانی رحمہ اللہ نے مشکوٰۃ المصابیح میں حدیث نمبر 5636 پر اسے صحیح قرار دیا ہے۔]
حدیث
سے حاصل ہونے والے اسباق اور نکات:
- جنت میں
جسمانی قوت و طاقت کی تکمیل: یہ حدیث اس بات کی طرف اشارہ
کرتی ہے کہ جنت میں نہ صرف روحانی بلکہ جسمانی نعمتیں بھی اپنے عروج پر ہوں
گی۔ مؤمن کو ہمبستری کی ایسی غیرمعمولی قوت عطا کی جائے گی جو اس دنیا کے
تصور سے بالاتر ہے، جو اس بات کی علامت ہے کہ جنت کی ہر نعمت مکمل، بے مثال
اور ہر قسم کی کمی یا نقص سے پاک ہوگی۔
- دنیا اور
آخرت کے احوال میں بنیادی فرق: حدیث میں صحابی کا یہ سوال کہ
"کیا وہ اس کی طاقت رکھے گا؟" دنیوی محدودیتوں اور کمزوریوں کے
تناظر میں ہے۔ رسول اللہ ﷺ کے جواب سے واضح ہوتا ہے کہ آخرت کا جسم اور اس کی
صلاحیتیں اس دنیا کے جسم سے یکسر مختلف ہوں گی۔ وہاں کی نعمتیں اسی نئے اور
کامل جسم کے لحاظ سے ہوں گی، جو ہر قسم کی تھکن، بیماری، عمررسیدگی اور موت
سے پاک ہوگا۔
- اللہ
تعالیٰ کی قدرت کاملہ پر ایمان: ایسی
نعمتوں کا عطا ہونا اللہ تعالیٰ کی لا محدود قدرت اور اس کے فضل کی وسعت کو
ظاہر کرता ہے۔ وہ جس چیز کا وعدہ فرماتا ہے، اسے پورا
کرنے پر قادر ہے، خواہ وہ ہمارے محدود فہم اور تجربے سے کتنی ہی پرے کیوں نہ
ہو۔
- جنت کی
نعمتوں کے بارے میں تفصیل کا مقصد ترغیب ہے: ایسی
احادیث کا مقصد مؤمن کے دل میں جنت کی محبت اور اس کے حصول کا شوق پیدا کرنا
ہے۔ یہ اس بات کا اظہار ہے کہ جو لوگ دنیا میں پاکدامنی اختیار کرتے ہیں، نیک
بیویوں کے ساتھ رہتے ہیں اور اپنی خواہشات کو شرعی حدود میں رکھتے ہیں، انہیں
آخرت میں اس کا بے مثال، پاکیزہ اور مکمل بدلہ ملے گا۔
- نعمتوں کی
نوعیت پاکیزہ اور باعزت ہے: یہ بیان جنت کے پاکیزہ ماحول
اور باعزت زندگی کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ نعمتیں ہر قسم کی شہوت پرستی، گندگی
یا پستی سے پاک ہیں، بلکہ وہاں کی پاکیزہ زندگی کا ایک حصہ ہیں جو اللہ
تعالیٰ نے اپنے نیک بندوں کے لیے تیار کی ہے۔
یہ
حدیث جنت میں ملنے والی جسمانی نعمتوں کے ایک پہلو کو واضح کرتی ہے، جو مؤمن کے
ایمان کو تازہ کرتی ہے، اسے دنیا کی ناپائیدار لذتوں سے بے نیاز کرتی ہے اور آخرت
کی everlasting زندگی
کی طرف راغب کرتی ہے۔
حدیث نمبر 38
عَنْ
ابْنِ عُمَرَ - رضي الله عنهما - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم
-: " إِنَّ
أَزْوَاجَ أَهْلِ الْجَنَّةِ لَيُغَنِّينَ أَزْوَاجَهُنَّ بِأَحْسَنِ أَصْوَاتٍ
سَمِعَهَا أَحَدٌ قَطُّ , وَإِنَّ مِمَّا يُغَنِّينَ: نَحْنُ
الْخَيْرَاتُ الْحِسَانُ , أَزْوَاجُ قَوْمٍ كِرَامٍ , يَنْظُرْنَ بِقُرَّةِ
أَعْيَانٍ , وَإِنَّ
مِمَّا يُغَنِّينَ بِهِ: نَحْنُ الْخَالِدَاتُ فلَا يُمِتْنَهْ , نَحْنُ
الْآمِنَاتُ فلَا يَخَفْنَهْ , نَحْنُ الْمُقِيمَاتُ فلَا يَظْعَنَّ (١) " (٢)
ترجمہ:
حضرت عبداللہ
بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "بے شک اہلِ
جنت کی بیویاں اپنے شوہروں کو (ایسی) عمدہ ترین آوازوں میں گیت سناتی ہیں جو کسی
نے کبھی سنی ہوں۔ اور ان گیتوں میں سے ایک یہ ہے: 'ہم (نیک) خوبصورت عورتیں ہیں،
باعزت لوگوں کی بیویاں ہیں، ہم آنکھوں کی ٹھنڈک سے (اپنے شوہروں کو) دیکھتی ہیں۔'
اور ان گیتوں میں سے ایک یہ ہے: 'ہم ہمیشہ رہنے والیاں ہیں، پس ہمیں موت نہیں آئے
گی۔ ہم محفوظ رہنے والیاں ہیں، پس ہمیں کوئی خوف نہیں۔ ہم ہمیشہ ٹھہرنے والیاں
ہیں، پس ہم (کہیں) کوچ نہیں کریں گی۔'
حواشی
اور حوالہ جات:
- (١) "فلَا يَظْعَنَّ" کا مطلب
ہے: وہ کوچ نہیں کریں گی اور اپنے شوہروں کو نہیں چھوڑیں گی۔
- (٢) یہ حدیث طبرانی کی کتاب
"الصحیح" (طص) میں حدیث نمبر 734 پر موجود
ہے۔ نیز دیکھیے: صحیح الجامع حدیث
نمبر 1561 اور السلسلة الصحیحہ حدیث
نمبر 3749۔
حدیث
سے حاصل ہونے والے اسباق اور نکات (تحریری انداز میں):
- سماعتی
نعمت اور روحانی مسرت: حدیث اس بات کی طرف اشارہ کرتی
ہے کہ جنت میں نعمتیں صرف کھانے پینے، رہنے یا دیکھنے تک محدود نہیں ہیں،
بلکہ سماعت کو لطف اندوز کرنے والی نعمتیں بھی ہوں گی۔ اہل جنت کی بیویوں کی
آوازیں اس قدر سریلی اور دلنشیں ہوں گی کہ دنیا میں اس کی مثال نہیں مل سکتی۔
یہ جنت کی روحانی اور حسی مسرت کے ایک نئے دروازے کھولتی ہے۔
- اخلاقی و
ظاہری حسن کا اجتماع: حوریں اپنے گیت میں اپنے آپ کو "الْخَيْرَاتُ" (نیک کردار، خوش اخلاق) اور "الْحِسَانُ" (خوبصورت) دونوں قرار دیتی ہیں۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ جنت میں
عورتوں کا حسن محض ظاہری یا جسمانی نہیں ہوگا، بلکہ وہ باطنی اخلاقی خوبیوں
سے بھی آراستہ ہوں گی۔ یہ دنیا کے عام تصور سے ہٹ کر ایک مکمل اور متوازن حسن
کی تصویر پیش کرتا ہے۔
- شوہروں کے
مقام و مرتبہ کی بلندی: حوریں اپنے شوہروں کو "أَزْوَاجُ
قَوْمٍ كِرَامٍ" (باعزت اور بزرگوار لوگوں کی بیویاں)
کہتی ہیں۔ اس سے اہل جنت کے بلند مقام، ان کی عزت و شرف اور اللہ کے ہاں ان
کی قدر و منزلت کا پتہ چلتا ہے۔ یہ مؤمن کے لیے باعث فخر اور عمل پر ابھارنے
والی بات ہے۔
- باہمی
محبت، اطمینان اور آنکھوں کی ٹھنڈک: "يَنْظُرْنَ
بِقُرَّةِ أَعْيَانٍ" کا جملہ انتہائی گہرے معنی
رکھتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اپنے شوہروں کو دیکھ کر آنکھیں ٹھنڈی ہوتی
ہیں، یعنی ان کی نظر میں محبت، اطمینان، سکون اور کامل滿意
ہے۔ یہ
جنت کے ازدواجی تعلقات میں اضطراب، بے چینی، نااتفاقی یا بوریت کے شائبہ تک
کو جگہ نہ ہونے کی علامت ہے۔
- ہمیشگی،
امن اور استقرار کی نعمت: گیت کا دوسرا حصہ جنت کی بنیادی
نعمتوں کو بیان کرتا ہے، جو دراصل ہر نعمت کی اساس ہیں:
- "نَحْنُ
الْخَالِدَاتُ" (ہم
ہمیشہ رہنے والیاں): یہاں موت، فنا، بڑھاپا یا زوال کا کوئی تصور نہیں۔ ہر
چیز اور ہر رشتہ دائمی ہے۔
- "نَحْنُ
الْآمِنَاتُ" (ہم
محفوظ رہنے والیاں): جنت ہر قسم کے خوف، خطرے، بیماری، غم، پریشانی اور ہر
ذہنی یا نفسیاتی عذاب سے مکمل امن اور سلامتی کی جگہ ہے۔
- "نَحْنُ
الْمُقِيمَاتُ" (ہم
مستقل قیام کرنے والیاں): یہاں جدائی، ہجر، منتقلی یا بے سکونی کا کوئی تصور
نہیں۔ رشتے مستقل ہیں، گھر مستقل ہیں، مسرت مستقل ہے۔ یہ دنیا کی عارضیت کے
بالکل برعکس ہے۔
- شکر الٰہی
اور عمل کی ترغیب: رسول اللہ ﷺ کا ایسا دلکش اور
جامع بیان سن کر مؤمن کے دل میں اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا شکر ادا کرنے اور
ان عظیم انعامات کے حصول کے لیے نیک اعمال میں مشغول ہونے کا جذبہ پیدا ہوتا
ہے۔ یہ حدیث دنیا کی بے ثباتی اور آخرت کی everlasting زندگی کی
طرف راغب کرنے والی بہترین ترغیب ہے۔
اگر آپ
جنت کی دیگر تفصیلات کے بارے میں مزید احادیث چاہتے ہیں تو ضرور فرمائیے۔
حدیث نمبر 39
عَنْ
أَبِي صَالِحٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رضي الله عنه - قَالَ: "
إِنَّ فِي
الْجَنَّةِ نَهَرًا طُولَ الْجَنَّةِ , حَافَّتَاهُ الْعَذَارَى , قِيَامٌ
مُتَقَابِلَاتٌ , وَيُغَنِّينَ بِأَحْسَنِ أَصْوَاتٍ يَسْمَعُهَا الْخَلَائِقُ,
حَتَّى مَا يَرَوْنَ أَنَّ فِي الْجَنَّةِ لَذَّةً مِثْلَهَا " , قُلْنَا: يَا أَبَا
هُرَيْرَةَ , مَا ذَاكَ الْغِنَاءُ؟ , قَالَ: " إِنْ شَاءَ اللهُ التَّسْبِيحُ , وَالتَّحْمِيدُ
, وَالتَّقْدِيسُ , وَثَنَاءٌ عَلَى الرَّبِّ - عز وجل - "
ترجمہ:
ابو صالح سے
روایت ہے کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: "بے شک جنت میں ایک نہر ہے جس
کی لمبائی پوری جنت کے برابر ہے، اس کے دونوں کناروں پر (حوریں) کنواریاں (کی صورت
میں) کھڑی ہیں، آمنے سامنے (صف بستہ) ہیں، اور وہ ایسی عمدہ آوازوں میں گیت گا رہی
ہیں جو تمام مخلوق نے سنی ہیں، یہاں تک کہ وہ (اہل جنت) یہ نہیں سمجھتے کہ جنت میں
اس جیسی کوئی اور لذت ہے۔" ہم نے پوچھا: اے ابوہریرہ! وہ گیت کیا ہے؟ آپ نے
فرمایا: "اللہ نے چاہا تو (وہ) تسبیح (سبحان اللہ)، تحمید (الحمد للہ)، تقدیس
(پاکی بیان کرنا) اور پروردگار (عزوجل) کی ثناء (حمد و ستائش) ہے۔"
حوالہ:
- (١) یہ روایت امام بیہقی کی
کتاب "البعث والنشور" (هق في البعث والنشور) میں حدیث/اثر
نمبر 383 پر موجود ہے۔ نیز دیکھیے: صحیح
الترغیب والترہیب میں حدیث نمبر 3751۔
حدیث
سے حاصل ہونے والے اسباق اور نکات (تحریری انداز میں):
- روحانی
لذتوں کی فضیلت اور عظمت: یہ حدیث جنت کی نعمتوں کے ایک
اہم پہلو کی طرف نشاندہی کرتی ہے۔ عام طور پر جنت کی مادی نعمتوں (باغات،
محلات، خوراک وغیرہ) کا ذکر زیادہ ہوتا ہے، لیکن یہاں یہ بتایا گیا ہے کہ اہل
جنت کو ایک ایسی لذت حاصل ہوگی جسے وہ جنت کی تمام لذتوں سے بڑھ کر پائیں گے،
اور وہ ہے "تسبیح، تحمید، تقدیس اور ثناء
علی الرب" کی آوازوں کی لذت۔ اس سے معلوم ہوا کہ جنت
میں اعلیٰ ترین مسرت اور لذت دراصل اللہ کی یاد، اس کی حمد و ثناء اور اس کی
پاکیزگی بیان کرنے میں ہوگی۔ یہ لذت محض سماعتی نہیں بلکہ قلبی، روحانی اور
ایمانی ہوگی۔
- حوروں کی
اصلیت اور ان کا مقصدِ وجود: حدیث اس غلط فہمی کو دور کرتی
ہے کہ حوریں محض ظاہری حسن و جمال اور جسمانی تعلقات کے لیے ہیں۔ اس حدیث کے
مطابق وہ جنت کے کناروں پر اللہ کی تسبیح و تقدیس میں مصروف رہتی ہیں۔ ان کا
بنیادی کام اور ان کی اصلی خوشی اللہ کی عبادت اور اس کی حمد بیان کرنا ہے۔
وہ مؤمنوں کے لیے بھی اسی روحانی ماحول اور لذت کا حصہ بنیں گی۔
- اللہ کی
یاد ہی حقیقی مسرت ہے: حدیث کا مرکزی نکتہ یہی ہے کہ
آخرت کی everlasting زندگی میں بھی سب سے بڑی لذت اور مسرت کا
ذریعہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہی ہے۔ اس کی یاد، اس کی حمد، اس کی تسبیح ہی وہ
چیز ہے جو دل و روح کو حقیقی سکون اور سرشاری بخشے گی۔ یہ دنیا کے لیے بھی
ایک سبق ہے کہ حقیقی اطمینان اور سکون بھی اسی میں پنہاں ہے۔
- جنت کی
نعمتوں کا تنوع اور ہمہ گیری: جنت کی یہ نہر جو پوری جنت میں
پھیلی ہوئی ہے اور جس کے کناروں پر حوریں اللہ کی حمد بیان کر رہی ہیں، اس سے
جنت کے حسن، نظم اور نعمتوں کے ہمہ گیر ہونے کا پتہ چلتا ہے۔ ہر طرف اللہ کی
نعمت، اس کی یاد اور اس کے شکر کا ماحول ہوگا۔
- دنیا میں
عمل کی ترغیب: یہ حدیث مؤمن کو ترغیب دیتی ہے
کہ وہ دنیا میں ہی اللہ کی تسبیح و تحمید اور اس کی ثناء کو اپنا شعار بنائے۔
جو شخص دنیا میں اللہ کی یاد سے لذت حاصل کرے گا، وہی آخرت میں اس اعلیٰ ترین
روحانی لذت کا مستحق اور اہل ہوگا۔
- حدیث کے
راوی کی علمی دیانت: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ
جیسے جلیل القدر صحابی کا جواب "إن شاء
الله التسبيح والتحميد..." ان کی علمی احتیاط، عاجزی اور
بات کو اللہ کے حوالے کرن کے آداب کی عکاسی کرتا ہے، حالانکہ وہ یقینا جانتے
تھے۔ یہ بھی ایک تعلیم ہے۔
خلاصہ: یہ حدیث ہمیں
بتاتی ہے کہ جنت کی سب سے بڑی لذت دراصل "اللہ کی ذات" سے تعلق رکھنے
والی ہوگی۔ وہاں کی حوریں بھی اسی کے گن گا کر مؤمنوں کے دلوں کو مسرور کریں گی۔
اس کا عملی نتیجہ یہ ہے کہ ہمیں اپنی زندگی کا محور اللہ کی رضا، اس کی یاد اور اس
کی عبادت کو بنانا چاہیے، کیونکہ everlasting مسرت اسی میں ہے۔
حدیث نمبر 40
عَنْ
مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ - رضي الله عنه - قَالَ: قَال رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم
-: " لَا
تُؤْذِي امْرَأَةٌ زَوْجَهَا فِي الدُّنْيَا, إِلَّا قَالَتْ
زَوْجَتُهُ مِنْ الْحُورِ الْعِينِ: لَا تُؤْذِيهِ قَاتَلَكِ اللهُ , فَإِنَّمَا هُوَ
عِنْدَكَ دَخِيلٌ (١) يُوشِكُ
أَنْ يُفَارِقَكِ إِلَيْنَا (٢) " (٣)
ترجمہ:
حضرت معاذ بن
جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "دنیا میں کوئی عورت
اپنے شوہر کو تکلیف نہیں پہنچاتی مگر اس کی جنت والی بیوی (حور) کہتی ہے: 'اسے
تکلیف نہ دو، اللہ تجھے ہلاک کرے، وہ تو تیرے پاس محض ایک مہمان ہے،(١) وہ قریب ہے کہ
تجھے چھوڑ کر ہمارے پاس آ جائے۔'(٢) " (٣)
حواشی
اور حوالہ جات:
- (١) دَخِيلٌ: یعنی مہمان اور ٹھہرنے والا۔
- (٢) يُوشِكُ أَنْ يُفَارِقَكِ إِلَيْنَا: یعنی وہ
تیرے پاس محض ایک مہمان کی طرح ہے، اور تو حقیقت میں اس کی اہل (حقدار) نہیں،
بلکہ ہم (حوریں) ہی اس کی اہل ہیں۔ پس وہ تجھے چھوڑ دے گا اور ہمارے ساتھ آ
ملے گا۔
- (٣) یہ حدیث سنن ترمذی میں
حدیث نمبر 1174 اور صحیح ابن حبان میں
حدیث نمبر 2014 پر موجود ہے۔
حدیث
سے حاصل ہونے والے اسباق اور نکات (تحریری انداز میں):
- شوہر کے
حقوق کی عظمت اور ان کی پامالی کا گناہ: یہ حدیث
دنیا کی بیوی پر شوہر کے حقوق کی نہایت سخت الفاظ میں تاکید کرتی ہے۔ شوہر کو
تکلیف دینا ایک ایسا قبیح فعل ہے جس پر جنت کی حور بھی ناراضگی کا اظہار کرتی
ہے اور بددعا دیتی ہے۔ اس سے شوہر کی خدمت اور اس کے ساتھ اچھے سلوک کی اہمیت
اور فضیلت واضح ہوتی ہے۔
- دنیا کی
بیوی اور آخرت کی بیوی (حور) کے درمیان موازنہ اور تنبیہ:
حدیث میں
ایک زبردست موازنہ پیش کیا گیا ہے۔ دنیا کی بیوی جو شوہر کو تکلیف پہنچا رہی
ہے، وہ درحقیقت اس کی اصلی اور everlasting ساتھی نہیں، بلکہ محض عارضی
ساتھی ہے۔ اس کے برعکس، حورِ جنت خود کو شوہر کی اصلی "اہل"
(حقدار) کہتی ہے، جو اس کی ہمیشہ کی ساتھی ہے۔ یہ دنیا کی بیوی کے لیے ایک
سخت تنبیہ ہے کہ اگر اس نے شوہر کے ساتھ اچھا سلوک نہ کیا، تو وہ اسے آخرت
میں کھو دے گی اور حور اس کا مقام لے لے گی۔
- دنیوی
رشتے کی عارضیت اور آخرت کے رشتے کی دوامیّت: شوہر کو "دَخِيل" (مہمان) کہا گیا ہے۔ یہ لفظ دنیا کی زندگی، رشتوں اور جمع
پونجی کی عارضیت اور فنا پذیری کی طرف بلیغ اشارہ ہے۔ بیوی کا شوہر کے ساتھ
تعلق محض چند سالوں کا ہے، جبکہ شوہر کا حور کے ساتھ تعلق ہمیشہ ہمیشہ کے لیے
ہے۔ اس لیے عقل مندی اسی میں ہے کہ عارضی مہمان (شوہر) کی اس طرح خدمت کی
جائے کہ everlasting ساتھی (حور) بننے کا راستہ ہموار ہو، نہ کہ
اسے کھو دیا جائے۔
- حوروں کی
غیرت اور شوہر سے محبت: یہ حدیث حوروں کے صرف حسن و
جمال ہی نہیں، بلکہ ان کے اخلاق اور جذبات کا بھی پتہ دیتی ہے۔ وہ اپنے شوہر
سے اتنی محبت اور غیرت رکھتی ہیں کہ دنیا میں اگر کوئی اسے تکلیف دے رہی ہے
تو وہ غصے میں آ جاتی ہیں اور اسے بددعا دیتی ہیں۔ یہ جنت کے ازدواجی تعلقات
میں محبت، وفا اور جذباتی وابستگی کی انتہا کو ظاہر کرتا ہے۔
- نیکی پر
ابھارنے والی ترغیب اور برائی سے ڈرانے والی وعید: یہ حدیث
ایک طرف دنیا کی بیوی کو ڈراتی ہے کہ اگر اس نے شوہر کو تکلیف دی تو حوروں کی
بددعا اس کا مقدر بنے گی اور وہ اپنے شوہر کو آخرت میں کھو بیٹھے گی۔ دوسری
طرف یہ اسے ترغیب دیتی ہے کہ اگر اس نے شوہر کے ساتھ حسن سلوک کیا، تو وہ نہ
صرف دنیا میں اس کا احترام پائے گی بلکہ آخرت میں بھی اس کے ساتھ رہنے کی
مستحق ٹھہرے گی یا کم از کم اس کی وجہ سے اس کے درجات بلند ہوں گے۔
- عملی
زندگی کے لیے رہنمائی: اس حدیث کا نچوڑ یہ ہے کہ عورت
کو چاہیے کہ وہ اپنے شوہر کے ساتھ نرمی، محبت، تعاون اور خدمت کا رویہ اختیار
کرے۔ اس کی دل آزاری، حق تلفی، یا تکلیف دہ رویہ سے بچے، کیونکہ یہ نہ صرف
دنیا میں رشتے کو تباہ کرتا ہے بلکہ آخرت میں اس کی سزا بھی بہت سخت ہے۔
خلاصہ: یہ حدیث
مسلمانوں کے ازدواجی زندگی کے لیے ایک بنیادی اصول بیان کرتی ہے: شوہر کی خدمت
اور اس کے ساتھ اچھا سلوک ہی عورت کی کامیابی کی ضمانت ہے، نہ کہ اسے تکلیف دینا۔ یہ دنیا
اور آخرت دونوں میں فتح و کامیابی کا راستہ ہے۔
أَطْفَالُ أَهْلِ الْجَنَّة
اہلِ
جنت کے بچوں کے متعلق آیات و حدیث
قرآنی
آیات:
- آیت: {وَيَطُوفُ
عَلَيْهِمْ وِلْدَانٌ مُخَلَّدُونَ , إِذَا رَأَيْتَهُمْ حَسِبْتَهُمْ
لُؤْلُؤًا مَنْثُورًا}
- ترجمہ: "اور (جنت
میں) اہل جنت کے پاس ہمیشہ (ایک ہی صورت پر) رہنے والے لڑکے (خدمت کے لیے)
گھومتے رہیں گے۔ جب تم انہیں دیکھو گے تو (حسن و صفائی میں) انہیں بکھرے
ہوئے موتی خیال کرو گے۔"
- حوالہ: سورۃ
الانسان، آیت نمبر 19۔
- آیت: {وَيَطُوفُ
عَلَيْهِمْ غِلْمَانٌ لَهُمْ كَأَنَّهُمْ لُؤْلُؤٌ مَكْنُونٌ}
- ترجمہ: "اور (جنت
میں) ان کے پاس (خدمت کے لیے) لڑکے گھومتے رہیں گے، گویا وہ (صاف شفاف)
محفوظ موتی ہیں۔"
- حوالہ: سورۃ
الطور، آیت نمبر 24۔
حدیث نمبر 41
- عربی متن: عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ - رضي الله عنه - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم -: " الْمُؤْمِنُ إِذَا اشْتَهَى الْوَلَدَ فِي الْجَنَّةِ , كَانَ حَمْلُهُ وَوَضْعُهُ وَسِنُّهُ فِي سَاعَةٍ كَمَا يَشْتَهِي ".
- ترجمہ: حضرت ابو
سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
فرمایا: "جب جنت میں مؤمن (اپنے لیے) اولاد کی تمنا (یا خواہش) کرے گا
تو اس کی (یعنی بچے کی) حمل کے دوران، پیدائش اور (مطلوبہ) عمر (تک پہنچنا)
ایک ہی گھڑی میں ہو جائے گا، جیسا کہ وہ چاہے گا۔"
حواشی
اور حوالہ جات:
- حاشیہ (٣): "أَيْ:
أَنْ يَكُونَ ذَكَرًا أَوْ أُنْثَى أَوْ نَحْوَ ذَلِكَ." یعنی (مؤمن
چاہے گا کہ) وہ لڑکا ہو یا لڑکی یا اس طرح کی (اور کوئی صفت)۔
- حوالہ جات: یہ حدیث
مندرجہ ذیل کتب میں موجود ہے:
- سنن
ترمذی: حدیث نمبر 2563۔
- صحیح ابن
حبان: حدیث نمبر 4338۔
- صحیح
الجامع: حدیث نمبر 6649۔
- مشکوٰۃ
المصابیح: حدیث نمبر 5648۔
- صحیح
موارد الظمآن: حدیث
نمبر 2229۔
حدیث
سے حاصل ہونے والے اسباق اور نکات
- جنت کی
نعمتوں میں نفس کی مکمل تسکین: یہ حدیث جنت میں اللہ تعالیٰ کے
فضل کی انتہا کو ظاہر کرتی ہے۔ مؤمن کی ہر جائز خواہش، یہاں تک کہ اولاد کی
صورت، نوعیت اور عمر جیسی تفصیلات تک، فوراً اور بالکل اس کے دل کی مرضی کے
مطابق پوری کی جاتی ہے۔ یہ دنیا کی تمام تر محدودیتوں اور تاخیروں سے بالکل
مختلف ہے۔
- جنت کے
اطفال کی نوعیت پر روشنی: قرآن پاک میں جنت میں خدمت گزار
"ولدان مخلدون" اور "غلمان" کا ذکر ہے۔ علماء کے ہاں ان
کی حیثیت کے بارے میں مختلف اقوال ہیں: کچھ کے نزدیک یہ وہ بچے ہیں جو دنیا
میں مسلمانوں کے ہاں فوت ہو گئے، جبکہ دوسرے علماء کے نزدیک یہ جنت میں خاص
طور پر پیدا کردہ مخلوق ہیں (جیسے حورِ عین) جو ہمیشہ ایک ہی خوبصورت اور
نوجوان صورت میں خدمت میں مصروف رہیں گے۔
- اللہ کی
قدرت کاملہ کا مظہر: حمل، ولادت اور نشوونما کے تمام
مراحل کا ایک لمحے میں مکمل ہو جانا، اللہ تعالیٰ کی بے مثال اور لا محدود
قدرت کا ثبوت ہے۔ جنت میں وقت اور قوانینِ فطرت کا وہ تصور نہیں جو ہم دنیا
میں دیکھتے ہیں۔
- دنیا میں
صبر کا اجر: یہ حدیث ان والدین کے لیے خاص تسلی اور
بشارت ہے جن کے بچے دنیا میں چھوٹی عمر میں فوت ہو گئے۔ احادیث میں آیا ہے کہ
ایسے بچے جنت میں ہوں گے اور قیامت کے دن اپنے والدین کو جنت میں کھینچ لے
جائیں گے۔ نیز یہ کہ جنت میں داخلے کے بعد سب مؤمنین یکساں جوانی (مثلاً 33
سال) کی صورت میں ہوں گے۔
- خواہشات
کی تکمیل میں پاکیزگی: جنت میں خواہشات کی تکمیل ہر
قسم کے نقص، مشقت، فکر یا اخلاقی قباحت سے پاک ہے۔ اولاد کی خواہش اور اس کا
فوری حصول، جنت کی پاکیزہ زندگی اور نعمتوں کا ایک حصہ ہے۔
اگر آپ
جنت میں اولاد یا خدمت گزاروں کے متعلق علماء کی مزید تفصیلی آراء یا دیگر احادیث
کے بارے میں جاننا چاہیں تو بتائیے۔
جنت کے
کھانے پینے کی نعمتیں
قرآنی
آیات کا ترجمہ و حوالہ جات
- سورۃ
الزخرف (آیت 71-73):
- ترجمہ: "ان (اہل
جنت) کے پاس سونے کے طشتریاں اور جام (گردش کرتے) رہیں گے اور ان (برتنوں)
میں وہ (سب کچھ) ہوگا جس کی نفسوں کو خواہش ہوگی اور جس سے آنکھیں لطف
اٹھائیں گی، اور تم اس میں ہمیشہ رہو گے۔ اور یہ وہ جنت ہے جس کا تمہیں
تمہارے (نیک) اعمال کے باعث وارث بنایا گیا۔ تمہارے لیے اس میں بہت سے میوے
ہیں جنہیں تم کھاتے ہو۔"
- حوالہ: [الزخرف/71-73]
- سورۃ
الطور (آیت 22-23):
- ترجمہ: "اور ہم
انہیں ہر قسم کے پھلوں اور گوشت سے نوازیں گے جس کی وہ خواہش کریں۔ وہ (محبت
اور مسرت کے ساتھ) ایک دوسرے کے ہاتھ سے جام (یعنی جنت کا مخصوص مشروب) لیتے
جائیں گے، جس میں نہ کوئی بے ہودہ بات ہوگی نہ گناہ۔"
- حوالہ: [الطور/22-23]
- سورۃ
الواقعہ (آیت 17-34): (پوری تفصیل کا خلاصہ ترجمہ)
- ترجمہ: "ان (اہل
جنت) کے پاس ہمیشہ جوان رہنے والے لڑکے (خدمت کے لیے) گھومتے رہیں گے، (جن
کے ہاتھوں میں) جام اور صراحیاں اور چشموں کا (صاف و شفاف) جام ہوگا۔ جس سے
نہ ان کے سر میں درد ہوگا اور نہ ہی وہ نشے سے بے ہوش ہوں گے۔ اور وہ
پسندیدہ میووں میں سے (جو چاہیں گے) اور ان پرندوں کے گوشت میں سے (جس کی
خواہش کریں گے)۔ اور (ان کے لیے) حورِ عین ہوں گی، گویا وہ محفوظ موتی ہیں۔
یہ سب ان (نیک) اعمال کا بدلہ ہے جو وہ (دنیا میں) کرتے تھے۔ وہاں وہ نہ
کوئی بےہودہ بات سنیں گے نہ گناہ کی بات، سوائے (بار بار) 'سلام' 'سلام'
(کہنے) کے۔ اور داہنے بازو والے (یعنی نیکوکار)، کیا ہی اچھے ہیں داہنے بازو
والے! وہ بے کانٹے بیریوں اور لہلہاتی ہوئی کیلاں (یا آم کے درختوں) اور
پھیلے ہوئے سائے اور رواں پانی اور کبھی نہ ختم ہونے والے اور کبھی ممنوع نہ
ہونے والے بہت سے میووں اور اونچے بچھونوں میں ہوں گے۔"
- حوالہ: [الواقعة/17-34]
ان
آیات سے حاصل ہونے والے اسباق اور نکات
- نعمتوں کی
تکمیل و کمال: جنت کی نعمتیں محض کھانے پینے
تک محدود نہیں ہیں، بلکہ وہ ہر لحاظ سے کامل ہیں۔ برتن سونے چاندی کے ہیں
(بِصِحَافٍ
مِنْ ذَهَبٍ)، وہاں کی ہر چیز "مَا
تَشْتَهِيهِ الْأَنْفُسُ" (ہر وہ چیز جس کی نفس خواہش کرے) اور "تَلَذُّ
الْأَعْيُنُ" (آنکھوں کو خوش کرنے والی) ہے۔ یہ دونوں
صفات ایک ساتھ ہر نعمت کو خوبصورتی، لذت اور کمال سے نوازتی ہیں۔
- خواہشات
کی فوری تکمیل اور بے پایاں فراوانی: ہر قسم کے "فَاكِهَةٌ
كَثِيرَةٌ" (بہت سے میوے)، ہر طرح کے "لَحْمٍ
مِمَّا يَشْتَهُونَ" (ہر گوشت جس کی وہ خواہش کریں) موجود
ہوں گے، اور وہ بھی ایسے کہ "لَا مَقْطُوعَةٍ وَلَا
مَمْنُوعَةٍ" (نہ ختم ہونے والے، نہ روکے جانے والے)۔
یہ دنیا کی ہر کمی اور محرومی کے بالکل برعکس لامحدود عطا ہے۔
- جنت کا
مخصوص مشروب: شرابِ طہور: جنت کے مشروب
(كَأسٍ)
کی خصوصیت
یہ ہے کہ "لَا يُصَدَّعُونَ عَنْهَا وَلَا
يُنْزِفُونَ" (نہ اس سے سر درد ہوتا ہے نہ عقل جاتی
ہے) اور "لَا لَغْوٌ فِيهَا وَلَا
تَأثِيمٌ" (نہ اس میں بے ہودگی ہے نہ گناہ)۔ یہ
دنیوی شراب کے تمام نقصانات سے پاک، صرف لذت اور مسرت دینے والا ایک پاکیزہ
مشروب ہے۔ اسے شرابِ طہور (پاکیزہ شراب) کہا جاتا ہے۔
- اجتماعی
مسرت اور پاکیزہ ماحول: اہل جنت "يَتَنَازَعُونَ
فِيهَا كَأسًا" (محبت سے ایک دوسرے کو جام پلاتے ہیں)۔
ان کے درمیان کوئی ناچاقی، حسد یا تکبر نہیں ہوگا، بلکہ ہر طرف "قِيلًا
سَلَامًا سَلَامًا" (سلام ہی سلام کی آواز) ہوگی۔ کھانا
پینا ایک ایسے پاکیزہ، محبت آمیز اور باعزت ماحول میں ہوگا جو ہر قسم کی
برائی سے پاک ہے۔
- نعمت اور
عمل کا گہرا تعلق: ان تمام نعمتوں کو اللہ تعالیٹ
نے ان الفاظ کے ساتھ بیان فرمایا ہے: "جَزَاءً
بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ" (ان اعمال کا بدلہ جو وہ کرتے تھے) اور "أُورِثْتُمُوهَا
بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ" (تمہارے اعمال کی وجہ سے تمہیں اس کا
وارث بنایا گیا)۔ یہ واضح کرتا ہے کہ یہ نعمتیں فضلِ الٰہی ہیں، لیکن وہ نیک
اعمال کے بدلے میں ملیں گی۔ یہ مؤمن کے لیے عملِ صالح کی عظیم ترغیب ہے۔
- دائمی
تسلسل: یہ
تمام نعمتیں "وَأَنْتُمْ فِيهَا خَالِدُونَ" (تم اس میں ہمیشہ رہو گے) کے تحت ہیں۔ نہ کوئی نعمت ختم ہوگی،
نہ اس سے اکتاہٹ ہوگی، نہ اس کے اثرات ماند پڑیں گے۔ ہر لذت تازہ، ہر مسرت
دائمی ہوگی۔
- خدمت کا
اعلیٰ نظام: یہ نعمتیں "وِلْدَانٌ
مُخَلَّدُونَ" (ہمیشہ جوان رہنے والے خادم) پیش کریں
گے، جو حسن میں "لُؤْلُؤًا مَنْثُورًا" (بکھرے ہوئے موتی) کی مانند ہوں گے۔ یہ خدمت بھی جنت کی
نعمتوں کے حسن اور تکمیل کا ایک حصہ ہے۔
خلاصہ: قرآن مجید جنت
کے طعام و شراب کو محض بھوک پیاس مٹانے کی چیز نہیں بتاتا، بلکہ ایک ایسی کامل،
پاکیزہ، لامحدود اور everlasting لذت کے طور پر پیش کرتا ہے جو روح و جسم دونوں کو
تسکین بخشتی ہے، اجتماعی مسرت کا باعث بنتی ہے، اور اللہ کے فضل کا وہ انمول تحفہ
ہے جو اس کے نیک بندوں کے انعام کے طور پر ہمیشہ ہمیشہ کے لیے عطا کیا جائے گا۔
حدیث نمبر 42
عَنْ
أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ - رضي الله عنه - قَالَ: "
إِنَّ
الرَّجُلَ فِي الْجَنَّةِ لَيَشْتَهِي الطَّيْرَ مِنْ طُيورِ الْجَنَّةِ ,
فَيَخِرُّ بَيْنَ يَدَيْهِ مَشْوِيًّا "
ترجمہ:
حضرت ابو امامہ
باہلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"بے شک جنت میں مرد جنت کے پرندوں میں سے کسی پرندے کی خواہش کرے گا، تو وہ
(پرندہ) اس کے سامنے بھنا ہوا گر جائے گا۔"
حوالہ:
صَحِيح
التَّرْغِيبِ وَالتَّرْهِيب:
حدیث
سے حاصل ہونے والے اسباق یا نکات:
- خواہش کی
فوری تکمیل: یہ حدیث جنت کے فضل اور اس کی
نعمتوں کے عظیم الشان نظام کی عکاسی کرتی ہے۔ وہاں خواہش صرف دل میں پیدا
ہونے کی دیر ہے، بغیر کسی تاخیر، محنت یا انتظار کے، وہ چیز فوراً اور تیار
حالت میں حاضر ہو جاتی ہے۔ یہ دنیا کے تمام نظاموں سے بالکل مختلف ہے۔
- اللہ
تعالیٰ کی کامل قدرت اور بے پایاں کرم: جنت میں
ایسے معجزاتی واقعات کا ہونا اللہ تعالیٰ کی لا محدود قدرت اور اس کے بندوں
پر اس کے بے انتہا فضل کو ظاہر کرتا ہے۔ وہ اپنے نیک بندوں کو ایسی نعمتیں
عطا فرماتا ہے جو نہ صرف ان کی خواہشات سے مطابقت رکھتی ہیں بلکہ ان کے تصور
سے بھی بالاتر ہوتی ہیں۔
- طاعت
گزاری کی اہمیت: یہ تمام نعمتیں اور آسائشیں
اللہ تعالیٰ کی عطا ہیں جو اس کے اطاعت گزار اور فرمانبردار بندوں کے لیے خاص
ہیں۔ یہ حدیث مؤمن کو یہ باور کراتی ہے کہ دنیا کی چند روزہ مشقتیں اور
آزمائشیں اس everlasting انعام کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں، جس کا
وعدہ اللہ نے صبر اور فرمانبرداری کرنے والوں سے کیا ہے۔
- جنت کی
نعمتوں کی کیفیت: حدیث میں صرف پرندے کی خواہش کا
ذکر نہیں، بلکہ یہ بتایا گیا ہے کہ وہ "مَشْوِيًّا" (بھنا ہوا) حالت میں حاضر ہوگا۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ جنت
میں ہر نعمت مکمل اور تیار حالت میں ہوگی، جہاں کسی قسم کی کوئی مشقت یا
انتظار نہیں ہوگا۔
- عمل کے
لیے ترغیب: ایسی احادیث کا ایک بڑا مقصد
مؤمن کے دل میں جنت کی محبت اور اس کے حصول کا شوق پیدا کرنا ہے۔ یہ اسے دنیا
کی عارضی لذتوں اور مشکلات کے درمیان ثابت قدم رکھتی ہے اور نیک اعمال کی طرف
رغبت دلاتی ہے۔
حدیث نمبر 43
عَنْ
أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ - رضي الله عنه - قَالَ: "
إِنَّ
الرَّجُلَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ لَيَشْتَهِي الشَّرَابَ مِنْ شَرَابِ الْجَنَّةِ
, فَيَجِيءُ الْإبْريقُ فَيَقَعُ فِي يَدِهِ , فَيَشْرَبُ , ثُمَّ يَعُودُ إِلَى
مَكَانِهِ "
ترجمہ
حضرت ابو امامہ
باہلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "بے شک اہلِ جنت
میں سے ایک شخص جنت کے (کسی) مشروب کی خواہش کرے گا، تو (خود بخود) ایک صراحی آ کر
اس کے ہاتھ میں گرے گی، وہ پئے گا، پھر وہ (صراحی) اپنی جگہ پر لوٹ جائے گی".
حوالہ:
صَحِيح التَّرْغِيبِ
وَالتَّرْهِيب:
حدیث
سے حاصل ہونے والے اسباق یا نکات
- خواہش کی
فوری اور خودکار تکمیل: یہ حدیث جنت میں موجود "نظام نعمت" کی ایک
جھلک پیش کرتی ہے۔ وہاں انسان کے دل میں خواہش پیدا ہونے اور اس کی تکمیل کے
درمیان کوئی فاصلہ، محنت یا انتظار نہیں ہوتا۔ صراحی کا خود بخود حاضر ہو کر
واپس چلے جانا، نعمت کی فراہمی میں کامل آسانی اور سہولت کی
علامت ہے۔
- نعمتوں کا
باقاعدہ انتظام اور نظم: مشروب پینے کے بعد صراحی کا
اپنی جگہ واپس لوٹ جانا بتاتا ہے کہ جنت کی نعمتیں بے حساب ہونے
کے باوجود بے ترتیب اور بے ضابطہ نہیں ہوں گی۔ وہاں ہر چیز
ایک پاکیزہ اور مکمل نظم و ضبط کے ساتھ ہوگی، جو وہاں کی خوبصورتی اور سکون
میں اضافہ کرے گا۔
- دنیا اور
آخرت کے نظام میں بنیادی فرق: یہ منظر ہمارے دنیاوی تجربے سے
یکسر مختلف ہے، جہاں ہر چیز حاصل کرنے کے لیے محنت، وقت، اور وسائل درکار
ہوتے ہیں۔ یہ فرق ہمیں یہ باور کراتا ہے کہ جنت کی حقیقت ہماری عقل و
فہم سے بالاتر ہے اور وہاں کا نظام مکمل طور پر اللہ تعالیٰ کی خاص
قدرت اور قانون پر چلے گا۔
- عمل صالح
کے لیے زبردست ترغیب: ایسی احادیث کا ایک اہم مقصد
مؤمن کے دل میں جنت کی محبت اور اس کی نعمتوں کے حصول کا شوق پیدا کرنا ہے۔
یہ تصور کہ معمولی سی خواہش کا بھی اس طرح فوری احترام کیا جائے گا، انسان کو
دنیا کی عارضی مشکلات اور آزمائشوں میں صبر اور آخرت کے لیے نیک
اعمال کی طرف راغب کرتا ہے۔
- اللہ کے
وعدے کی سچائی اور اس کی قدرت پر یقین: ایسی
نعمتوں کا وعدہ ہمیں اس بات کی طرف متوجہ کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ جو وعدہ
فرماتا ہے، وہ اس پر پورا کرنے کی پوری قدرت رکھتا ہے، خواہ
وہ ہمارے محدود فہم اور تجربے سے کتنا ہی مختلف اور حیرت انگیز ہو۔
آیت کا تفسیری اثر:
حدیث نمبر 44
عَنْ
عِكْرِمَةَ أَنَّهُ قَالَ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: {وَكَأسًا
دِهَاقًا} (١) قَالَ:
مَلْأَى مُتَتَابِعَةً , قَالَ: وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ - رضي الله عنهما -:
سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ: اسْقِنَا كَأسًا دِهَاقًا. (٢)
ترجمہ:
حضرت عکرمہ سے روایت
ہے کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان: {وَكَأسًا
دِهَاقًا} (سورۃ النباء: 34) کے بارے میں کہا: (یعنی) لبریز اور مسلسل (بھری
ہوئی شراب)۔
انہوں نے کہا:
اور حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: میں نے اپنے والد (عباس بن
عبدالمطلب رضی اللہ عنہ) کو زمانۂ جاہلیت میں (شراب مانگتے وقت) یہ کہتے سنا:
"ہمیں لبریز شراب پلاؤ۔"
حوالہ جات:
- (١) [النبأ/٣٤]: سورۃ
النباء، آیت نمبر 34۔ اس آیت میں جنت کی ایک نعمت "كَأسًا
دِهَاقًا" کا ذکر ہے۔
- (٢) (خ) ٣٦٢٧: یہ تفسیری
اثر صحیح بخاری میں حدیث/اثر نمبر 3627 پر موجود
ہے۔
اس
تفسیری اثر سے حاصل ہونے والے اسباق اور نکات:
- قرآنی
الفاظ کی فصاحت و بلاغت کا اعتراف: یہ اثر اس
حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ قرآن مجید نے اپنے بیان میں عربوں کی معلوم
اور معروف زبان کو برتا ہے۔ لفظ "دِهَاقًا" زمانہ
جاہلیت کے فصیح عربی کلام میں شراب کی کثرت اور تسلسل کے لیے استعمال ہوتا
تھا۔ قرآن نے اسی فصیح لفظ کو برت کر جنت کی شراب (جو ایک پاکیزہ مشروب ہے)
کی فراوانی اور اس کے بہاؤ کو بیان فرمایا ہے۔ اس سے قرآن کی زبان کی بلاغت
اور اس کا لوگوں کی زبان سے ہم آہنگ ہونا ظاہر ہوتا ہے۔
- جنت کی
شراب کی صفت: لبریز اور مسلسل: "دِهَاقًا" کی تفسیر "مَلْأَى
مُتَتَابِعَةً" (لبریز اور مسلسل) سے جنت کے مشروب کی
دو اہم صفات واضح ہوتی ہیں:
- لبریز
(مَلْأَى): وہ جام کبھی خالی یا ادھورا نہیں ہوگا،
بلکہ ہمیشہ پورا بھرا ہوا ہوگا۔
- مسلسل
(مُتَتَابِعَةً): اس کا
بہاؤ، عطا اور لطف کبھی منقطع نہیں ہوگا۔ جیسے ہی ایک جام ختم ہوگا، دوسرا
تیار ہوگا۔ یہ جنت کی نعمتوں کے لامحدود اور everlasting ہونے کی
علامت ہے۔
- صحابہ
کرام کا تفسیری علم اور ان کا منہج: یہ اثر
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما جیسے مفسر قرآن کے علم کے ایک ذریعے کو
ظاہر کرتا ہے۔ آپ اپنے والد بزرگوار حضرت عباس رضی اللہ عنہ (جو نبی ﷺ کے چچا
اور زمانہ جاہلیت کے معزز اور فصیح شخص تھے) کے قول سے لفظ کی اصلیت اور معنی
بیان فرماتے ہیں۔ یہ صحابہ کرام کے ہاں تفسیر کے ایک اہم اصول "تفسیر
القرآن باللغة" (قرآن کی تفسیر زبان عربی کے ذریعے) کی
عملی مثال ہے۔
- جاہلیت کے
اشعار و اقوال کا تفسیر میں حجت ہونا: علماء کے
نزدیک زمانہ جاہلیت کے فصیح اشعار اور اقوال عربی الفاظ کے صحیح معنی سمجھنے
کے لیے ایک معتبر ماخذ ہیں، بشرطیکہ وہ شرعی عقائد یا احکام کے خلاف نہ ہوں۔
حضرت عباس رضی اللہ عنہ کا یہ قول اس بات کی دلیل ہے کہ وہ لفظ اسی معنی میں
استعمال ہوتا تھا جو قرآن نے مراد لیا ہے۔
- جنت کی
نعمتوں کی عظمت کا اظہار: قرآن نے جنت کی نعمتوں کو بیان
کرنے کے لیے دنیا میں موجود عمدہ ترین چیزوں کے نام اور صفات استعمال کی ہیں،
تاکہ لوگ ان کے معنی و مفہوم کو سمجھ سکیں۔ "كَأسًا
دِهَاقًا" کا لفظ جنت کے مشروب کی فراوانی، اس کے لطف
کے تسلسل اور اس کی کیفیت کو سمجھانے کے لیے ایک بلیغ اور موثر لفظ ہے۔
- لفظ کے
انتخاب میں حکمت: اس لفظ کا انتخاب یہ بھی بتاتا
ہے کہ جنت کی نعمتیں محض سادہ یا معمولی نہیں ہوں گی، بلکہ انتہائی نفاست،
کمال اور فراوانی کے ساتھ ہوں گی۔
خلاصہ: یہ تفسیری اثر
ہمیں قرآن کے ایک لفظ کی گہرائی اور اس کی لغوی بنیاد سمجھاتا ہے، ساتھ ہی یہ بھی
بتاتا ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم قرآن کو سمجھنے کے لیے کن معتبر ذرائع سے
استفادہ فرماتے تھے۔ اس سے جنت کی نعمتوں کی عظمت کا تصور بھی واضح ہوتا ہے۔
حدیث نمبر 45
عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ - رضي الله عنه - قَالَ: أَتَى النَّبِيَّ - صلى الله عليه وسلم - رَجُلٌ مِنْ الْيَهُودِ فَقَالَ: يَا أَبَا الْقَاسِمِ , أَلَسْتَ تَزْعُمُ أَنَّ أَهْلَ الْجَنَّةِ يَأكُلُونِ فِيهَا وَيَشْرَبُونَ؟ - وَقَالَ لِأَصْحَابِهِ: إِنْ أَقَرَّ لِي بِهَذِهِ خَصَمْتُهُ (١) - فَقَالَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم -: " بَلَى وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ , إِنَّ أَحَدَهُمْ لَيُعْطَى قُوَّةَ مِائَةِ رَجُلٍ فِي الْمَطْعَمِ , وَالْمَشْرَبِ , وَالشَّهْوَةِ , وَالْجِمَاعِ " , فَقَالَ لَهُ الْيَهُودِيُّ: فَإِنَّ الَّذِي يَأكُلُ وَيَشْرَبُ , تَكُونُ لَهُ الْحَاجَةُ (٢) فَقَالَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم -: " حَاجَةُ أَحَدِهِمْ عَرَقٌ يَفِيضُ مِنْ جُلُودِهِمْ مِثْلُ رِيحِ الْمِسْكِ , فَإِذَا بَطْنُهُ قَدْ ضَمُرَ (٣) " (٤)
ترجمہ
حضرت زید بن
ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ کے پاس ایک یہودی آیا اور کہا: اے
ابوالقاسم! کیا آپ یہ دعویٰ نہیں کرتے کہ جنت والے وہاں کھائیں گے اور پیئیں گے؟ –
اور اس نے (خود) اپنے ساتھیوں سے کہا: اگر اس نے اس بات کا اقرار کر لیا تو میں
اسے مناظرے میں شکست دے دوں گا (١) – تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "ہاں، اس ذات کی
قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! بے شک ان میں سے ہر ایک کو کھانے، پینے، شہوت اور
جماع میں سو آدمیوں کی قوت عطا کی جائے گی۔" اس یہودی نے آپ سے کہا: جو کھاتا
پیتا ہے اسے (قضائے) حاجت (بیت الخلاء جانے) کی ضرورت ہوتی ہے۔(٢) تو رسول اللہ ﷺ نے
فرمایا: "ان میں سے ہر ایک کی حاجت (یعنی فضلہ) ایک پسینہ ہوگا جو ان کی
جلدوں سے نکلا کرے گا مشک کی خوشبو کی طرح، پھر (اس کے بعد) اس کا پیٹ (دوبارہ) دب
جائے گا (یعنی خالی ہو جائے گا)۔
حواشی
اور حوالہ جات:
- (١) "إِنْ أَقَرَّ لِي بِهَذِهِ
خَصَمْتُهُ": یعنی میں اسے مناظرے میں شکست دے دوں گا (یہ سوچ کر کہ اگر
وہ کھانے پینے کا اقرار کرے گا تو میں کہوں گا کہ پھر تو انہیں قضائے حاجت کی
ضرورت ہوگی، جو جنت کے شایانِ شان نہیں)۔
- (٢) "تَكُونُ لَهُ الْحَاجَةُ":
یعنی پیشاب اور پاخانہ کے لیے جانے کی ضرورت۔
- (٣) "فَإِذَا بَطْنُهُ قَدْ
ضَمُرَ": یعنی کھانے پینے سے جو پیٹ پھولتا ہے، وہ سکڑ جائے گا (اور جسم
ہلکا ہو جائے گا)۔
- (٤) (حم) ١٩٢٨٨ , (حب) ٧٤٢٤ , انظر صَحِيح
الْجَامِع: ١٦٢٧ , صَحِيح التَّرْغِيبِ وَالتَّرْهِيب: ٣٧٣٩
- یہ حدیث مسند
احمد (حم) میں حدیث نمبر 19288، اور صحيح ابن حبان میں حدیث نمبرر 7424 پر موجود
ہے۔ نیز دیکھیے: صحیح
الجامع حدیث نمبر 1627، اور صحیح الترغیب والترہیب حدیث
نمبر 3739۔
حدیث
سے حاصل ہونے والے اسباق یا نکات
- جنت کی
نعمتوں کی حقیقت اور اس کے اعتراضات کا جواب: یہ حدیث
نبی اکرم ﷺ کی طرف سے جنت کے بارے میں ایک ممکنہ اعتراض کا مکمل اور علمی
جواب ہے۔ یہود کا خیال تھا کہ کھانے پینے سے جسمانی فضلات پیدا ہوتے ہیں جو
جنت کی پاکیزگی کے منافی ہیں۔ آپ ﷺ نے اس کا جواب دیتے ہوئے جنت کے جسمانی
نظام کی ایک ایسی حقیقت بیان فرمائی جو دنیا کے نظام سے یکسر مختلف ہے، جہاں
فضلہ بھی خوشبودار پسینے کی شکل میں ہوگا اور جسم فوراً ہلکا ہو جائے گا۔ یہ
جنت کی نعمتوں کے کامل، پاکیزہ اور بے نقص ہونے کی دلیل ہے۔
- جنت میں
جسمانی قوت و طاقت کی تکمیل: حدیث میں "قُوَّةَ
مِائَةِ رَجُلٍ" (سو آدمیوں کی قوت) کا ذکر ہے۔ یہ صرف
کھانے پینے کی قوت ہی نہیں، بلکہ "الْمَطْعَمِ
, وَالْمَشْرَبِ , وَالشَّهْوَةِ , وَالْجِمَاعِ" یعنی ہر
قسم کی جسمانی لذت اور قوت میں مکمل کمال اور فراوانی ہے۔ یہ اس بات کی واضح
نشانی ہے کہ جنت میں ہر نعمت اپنی انتہائی اور کامل ترین صورت میں ہوگی۔
- دنیا اور
آخرت کے قوانین و نظام میں بنیادی فرق: یہود کا
اعتراض درحقیقت دنیا کے طبیعی قوانین اور تجربے پر مبنی تھا۔ نبی ﷺ کے جواب
سے واضح ہوا کہ جنت کا نظام دنیا کے نظام سے بالکل الگ ہوگا۔
وہاں نہ کھانے سے فضلہ پیدا ہوگا، نہ بیماری ہوگی، نہ بڑھاپا آئے گا، نہ موت
ہوگی۔ ہر چیز ایک نئے، پاکیزہ اور کامل قانون کے تحت ہوگی جس کا ادراک ہماری
دنیوی عقل سے ممکن نہیں۔
- رسول اللہ
ﷺ کی حقانیت اور آپ کے علمِ غیب پر دلیل: یہود کے
اعتراض کا یہ جامع، عقلی اور حیرت انگیز جواب اس بات کا ثبوت ہے کہ آپ ﷺ محض
ایک دانشمند انسان نہیں تھے، بلکہ آپ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے علمِ
غیب عطا ہوا تھا۔ آپ نے جنت کی ایسی کیفیت بیان فرمائی جو کسی
انسانی قیاس یا تجربے سے معلوم نہیں ہو سکتی تھی۔
- دعوت و
مناظرے کا مؤثر اور حکیمانہ اسلوب: حدیث میں
یہود کے سوال کا طریقہ اور نبی ﷺ کے جواب کا انداز دعوت و تبلیغ کا ایک
بہترین نمونہ ہے۔ آپ ﷺ نے مخالف کے اعتراض کو سنا، اس کا اقرار کیا، پھر ایک
ایسی حقیقت بیان کر کے اس کے اعتراض کا ازالہ فرمایا جو اس کے تصور سے بالاتر
تھی۔ یہ منطقی اور مؤثر اسلوبِ دعوت ہے۔
- نعمتوں کی
تکمیل اور پاکیزگی کا اعلٰی معیار: جنت میں
کھانے پینے کا مطلب دنیا جیسی ضروریات یا نقائص نہیں۔ وہاں ہر لذت کے ساتھ اس
سے پیدا ہونے والی ہر ممکنہ برائی یا تکلیف کا خاتمہ ہوگا۔ کھانے سے پیٹ بھرے
گا مگر گرانی نہ ہوگی، لذت حاصل ہوگی مگر اس کا کوئی مضر اثر نہ ہوگا۔ یہی
جنت کی نعمتوں کا حقیقی کمال ہے۔
- ایمان
بالغیب کی اہمیت: اس حدیث کا بنیادی سبق یہ ہے کہ
مؤمن کو ایمان بالغیب پر کاربند رہنا چاہیے۔ جو کچھ اللہ
اور اس کے رسول ﷺ نے آخرت کے بارے میں بتایا ہے، ہمیں اس پر بلا چوں و چرا
ایمان لانا چاہیے، خواہ وہ ہماری عقل کے دائرے میں نہ آتا ہو، کیونکہ ہماری
عقل محدود ہے اور اللہ کی قدرت لامحدود۔
أَسْوَاقُ الْجَنَّة
جنت کی بازاریں
(م حم) , عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ - رضي الله عنه - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم -: (" إِنَّ فِي الْجَنَّةِ سُوقًا يَأتُونَهَا كُلَّ جُمُعَةٍ) (١) (فِيهَا كُثْبَانُ (٢) الْمِسْكِ، فَإِذَا خَرَجُوا إِلَيْهَا هَبَّتِ) (٣) (رِيحُ الشَّمَالِ، فَتَحْثُو فِي وُجُوهَهُمْ وَثِيَابَهُمْ) (٤) (وَبُيُوتَهُمْ مِسْكًا) (٥) (فَيَزْدَادُونَ حُسْنًا وَجَمَالًا , قَالَ: فَيَرْجِعُونَ إِلَى أَهْلِيهِمْ وَقَدِ ازْدَادُوا حُسْنًا وَجَمَالًا، فَيَقُولُ لَهُمْ أَهْلُوهُمْ: وَاللهِ لَقَدِ ازْدَدْتُمْ بَعْدَنَا حُسْنًا وَجَمَالًا، فَيَقُولُونَ: وَأَنْتُمْ وَاللهِ لَقَدِ ازْدَدْتُمْ بَعْدَنَا حُسْنًا وَجَمَالًا ") (٦)
ترجمہ:
حضرت
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "بے شک جنت
میں ایک بازار ہے جس میں وہ (اہل جنت) ہر جمعہ (ہفتہ) کو آئیں گے۔(١) اس میں مشک کے
ٹیلے ہوں گے(٢)، پھر جب وہ اس (بازار) کی طرف نکلیں گے(٣) تو شمالی ہوا چلے گی، پس وہ ان
کے چہروں اور ان کے کپڑوں پر (مشک) ڈال دے گی(٤) اور ان کے گھروں کو (بھی) مشک سے
(معطر کر دے گی)(٥)، پس وہ زیادہ حسن و جمال پائیں گے۔ (آپ ﷺ نے) فرمایا: پس وہ اپنے
اہل و عیال کی طرف لوٹیں گے اور (وہ دیکھیں گے کہ) انہوں نے حسن و جمال میں اضافہ
کر لیا ہے۔ تو ان کے گھر والے ان سے کہیں گے: اللہ کی قسم! تم ہم سے جدا ہونے کے
بعد (بھی) زیادہ حسن و جمال پا گئے ہو۔ اور وہ (باز آنے والے) کہیں گے: اور تم بھی
اللہ کی قسم! تم ہم سے جدا ہونے کے بعد (بھی) زیادہ حسن و جمال پا گئے ہو۔"
حواشی
اور حوالہ جات:
- (١) یہ حدیث صحیح
مسلم میں حدیث نمبر 2833 پر موجود
ہے۔
- (٢) "كُثْبَانُ"
کا مطلب ہے پہاڑیاں یا ٹیلے۔
- (٣) یہ حدیث
کا حصہ مسند احمد میں حدیث نمبر 14067 پر بھی
موجود ہے، اور شیخ شعیب الارنؤوط نے اس کی سند کو صحیح قرار
دیا ہے۔
- (٤) یہ حصہ صحیح
مسلم حدیث نمبر 2833 میں ہے۔
- (٥) یہ حصہ مسند
احمد حدیث نمبر 14067 میں ہے۔
- (٦) یہ مکمل
روایت صحیح مسلم حدیث نمبر 2833 میں مذکور
ہے۔
حدیث
سے حاصل ہونے والے اسباق یا نکات:
- اجتماعی
مسرت اور باہمی ملاقات کی نعمت: یہ
حدیث بتاتی ہے کہ جنت میں نعمتیں صرف انفرادی نہیں ہوں گی، بلکہ اجتماعی اور
معاشرتی مسرتیں بھی ہوں گی۔ اہل جنت ہر ہفتے (جمعہ کے دن) ایک خاص بازار میں
جمع ہوں گے۔ یہ ان کے درمیان ملاقات، تبادلۂ خیال اور باہمی محبت و مسرت کے
اظہار کا ایک ذریعہ ہوگا، جو دنیا کی مصروفیات اور جدائی کے برعکس ہے۔
- نعمتوں
میں مسلسل اضافہ اور ترقی: دنیا میں
ہر چیز زوال پذیر ہے، لیکن جنت میں ہر نعمت میں مسلسل اضافہ ہوتا رہے گا۔ اہل
جنت بازار جا کر واپس آتے ہیں تو ان کا حسن و جمال پہلے سے بڑھ جاتا ہے۔ یہاں
تک کہ ان کے گھر والے بھی ان سے جدا رہ کر زیادہ خوبصورت ہو جاتے ہیں۔ یہ جنت
کی نعمتوں کے لازوال، ترقی پذیر اور ہمیشہ تازہ رہنے کی
واضح علامت ہے۔
- خوشبو کی
نعمت اور جنت کی پاکیزگی: بازار میں "كُثْبَانُ
الْمِسْكِ" (مشک کے ٹیلے) کا ہونا، اور ہوا کا اس
مشک کو اٹھا کر اہل جنت کے چہروں، کپڑوں اور گھروں پر ڈال دینا، جنت کی ہوا،
ماحول اور ہر چیز کی پاکیزگی، خوشبو اور لطافت کی انتہا کو ظاہر کرتا ہے۔
وہاں کی ہوا بھی خوشبو اور مسرت پھیلانے والی ہوگی۔
- باہمی
تعریف اور محبت کا ماحول: حدیث کا
آخری حصہ جنت کے رہنے والوں کے باہمی تعلق کی ایک انتہائی خوبصورت تصویر پیش
کرتا ہے۔ وہ ایک دوسرے کی زیبائش دیکھ کر خوش ہوتے ہیں، ایک دوسرے کی تعریف
کرتے ہیں، اور ہر ایک دوسرے کو خود سے زیادہ خوبصورت پاتا ہے۔ یہاں حسد،
تنقید یا کسی کی کمی تلاش کرنے کا کوئی تصور نہیں، بلکہ محبت، مسرت
اور باہمی ستائش کا ماحول ہے۔
- دنیوی
جمعہ اور اخروی جمعہ میں نظیر: دنیا میں
مسلمان جمعہ کے دن اجتماعِ نماز اور ذکر و عبادت کے لیے مسجد میں جمع ہوتے
ہیں۔ حدیث اس کی ایک لطیف نظیر بیان کرتی ہے کہ آخرت میں اہل جنت ہر جمعہ کو اجتماعِ
مسرت و انبساط کے لیے بازار میں جمع ہوں گے۔ یہ دنیا اور آخرت کے
درمیان ایک معنوی ربط کی طرف اشارہ ہے۔
- جنت کی
زندگی میں تنوع اور دلچسپی: بازار کا
ہونا اس بات کی طرف بھی اشارہ ہے کہ جنت کی زندگی یکسانیت یا بوریت سے پاک
ہوگی۔ وہاں نعمتوں کے حصول اور ان کے اظہار کے مختلف طریقے اور مواقع ہوں گے
جو زندگی میں مسرت اور تنوع کا باعث بنیں گے۔
- عمل کی
ترغیب: ایسی
احادیث کا بنیادی مقصد مؤمن کے دل میں جنت کی محبت اور اس کے حصول کا شوق
پیدا کرنا ہے۔ اس خوبصورت اجتماع، پاکیزہ ماحول اور باہمی محبت کی تصویر کو
دیکھ کر انسان دنیا کی بے ثباتی اور آخرت کی everlasting مسرت کے درمیان فرق محسوس کرتا
ہے، اور اس
everlasting انعام
کے حصول کے لیے عملِ صالح پر آمادہ ہوتا ہے۔
دَوَابُّ الْجَنَّة
جنت کے مویشی
حدیث نمبر 47
(ت) , عَنْ بُرَيْدَةَ الْأَسْلَمِيِّ - رضي الله عنه - قَالَ: (سَأَلَ رَجُلٌ النَّبِيَّ - صلى الله عليه وسلم - فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ , إِنِّي أُحِبُّ الْخَيْلَ , أَفِي الْجَنَّةِ خَيْلٌ؟، فَقَالَ: " إِنْ يُدْخِلْكَ اللهُ الْجَنَّةَ، أُتِيتَ بِفَرَسٍ مِنْ يَاقُوتَةٍ لَهُ جَنَاحَانِ , فَحُمِلْتَ عَلَيْهِ , ثُمَّ طَارَ بِكَ فِيِ الْجَنَّةِ حَيْثُ شِئْتَ ") (١) (فَسَأَلَهُ رَجُلٌ آخَرُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، هَلْ فِي الْجَنَّةِ إِبِلٌ؟ , " فَلَمْ يَقُلْ لَهُ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم - مِثْلَ الَّذِي قَالَ لِصَاحِبِهِ، قَالَ: إِنْ يُدْخِلْكَ اللهُ الْجَنَّةَ , يَكُونُ لَكَ فِيهَا مَا اشْتَهَتْ نَفْسُكَ , وَقَرَّتْ عَيْنُكَ ") (٢)
ترجمہ
حضرت بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی اکرم ﷺ سے پوچھا: "یا رسول اللہ، مجھے گھوڑوں سے محبت ہے، کیا جنت میں گھوڑے ہوں گے؟" آپ ﷺ نے فرمایا: "اگر اللہ تعالیٰ تجھے جنت میں داخل کرے، تو تجھے یاقوت کا ایک ایسا گھوڑا دیا جائے گا جس کے دو پر ہوں گے، پھر تو اس پر سوار کیا جائے گا، پھر وہ تجھے جنت میں جہاں تو چاہے گا لے کر اڑ جائے گا۔"(١) (پھر) ایک دوسرے شخص نے آپ ﷺ سے سوال کیا: "یا رسول اللہ، کیا جنت میں اونٹ ہوں گے؟" تو رسول اللہ ﷺ نے اس سے وہ بات نہیں کہی جو آپ نے اس کے ساتھی (گھوڑے والے) سے کہی تھی، (بلکہ) آپ نے فرمایا: "اگر اللہ تعالیٰ تجھے جنت میں داخل کرے، تو وہاں تیرے لیے وہ سب کچھ ہوگا جس کی تیری نفس خواہش کرے گی اور تیری آنکھیں ٹھنڈک حاصل کریں گی۔"(٢)
حواشی
اور حوالہ جات:
- (١) یہ حصہ (گھوڑے والا) سنن
ترمذی میں حدیث نمبر 2544 اور مسند
احمد میں حدیث نمبر 23032 پر موجود
ہے۔
- (٢) یہ حصہ (اونٹ والا) سنن
ترمذی میں حدیث نمبر 2543 اور مسند
احمد میں حدیث نمبر 23032 پر موجود
ہے۔ نیز دیکھیے: السلسلة الصحیحہ حدیث
نمبر 3001 اور صحیح الترغیب
والترہیب حدیث نمبر 3756۔
- نوٹ: حدیث کے
دوسرے حصے (اونٹ والے) کی سند کے بارے میں امام ترمذی رحمہ اللہ نے خود ضعف (کمزوری)
کا حکم لگایا ہے۔ تاہم، اس کا عمومی مفہوم (جنت میں ہر وہ چیز ملے گی جو دل
چاہے) دیگر صحیح احادیث سے ثابت ہے۔
حدیث
سے حاصل ہونے والے اسباق یا نکات:
- جنت میں
خواہشات کی مکمل تکمیل: یہ حدیث جنت میں مؤمن کی ہر
جائز خواہش کے فوراً اور اس کے دل کے عین مطابق پوری ہونے کی تصدیق کرتی ہے۔
خواہ وہ گھوڑے کی شکل میں ایک فوق الفطرت سواری ہو یا کوئی اور نعمت، اللہ
تعالیٰ اپنے بندے کی مرضی اور خوشی کو پورا فرمائے گا۔
- انفرادیت
کے مطابق نعمتوں کی تقسیم: حدیث میں ایک سائل کو اس کی خاص
دلچسپی (گھوڑوں) کے مطابق تفصیلی نعمت بتائی گئی، جبکہ دوسرے سائل کو ایک
عمومی لیکن جامع وعدہ ("جو نفس چاہے اور آنکھ ٹھنڈک کرے") دیا گیا۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جنت میں نعمتیں ہر فرد کی انفرادی پسند، دلچسپی اور
درجے کے مطابق مخصوص اور منفرد ہوں گی۔
- جنت کی
نعمتوں کی فوق الفطرت نوعیت: گھوڑے کا "یاقوت" سے بنا
ہونا اور اس کے "دو پر" ہونے کا
ذکر اس بات کی واضح دلیل ہے کہ جنت کی نعمتیں اس دنیا کی نعمتوں سے نہ صرف
بڑھ کر ہوں گی، بلکہ ان کی نوعیت، حسن اور صلاحیتیں ہماری دنیوی سمجھ اور
قوانین فطرت سے بالاتر ہوں گی۔ یہ ایک ایسی سواری ہے جو جنت کے وسیع وعریض
باغات میں آزادی سے اڑنے کی طاقت رکھتی ہے۔
- مؤمن کے
مقام کے مطابق نعمتوں کا درجہ: یہ بھی ممکن ہے کہ دونوں سائل
کے درجات یا حالات میں فرق کی وجہ سے، یا پھر اس حکمت سے کہ گھوڑے کی خواہش
ایک واضح اور معین شکل رکھتی تھی جبکہ اونٹ کی خواہش عمومی تھی، رسول اللہ ﷺ
نے ایک کو تفصیل سے بتایا اور دوسرے کو ایک ایسے جامع اصول سے نوازا جو تمام
نعمتوں کو شامل ہے۔ یہ جنت کے درجات اور انعامات میں تفاوت کی طرف بھی اشارہ
کرتا ہے۔
- دنیوی
محبت کا آخرت میں پاکیزہ بدلہ: جس شخص کو دنیا میں گھوڑوں سے
محبت تھی، اسے آخرت میں اس محبت کا ایک پاکیزہ، حسین اور
everlasting بدلہ
دیا جائے گا۔ یہ اس بات کی ترغیب دیتا ہے کہ انسان اپنی جائز دلچسپیاں اور
محبتیں نیک نیت اور حلال طریقے سے رکھے، کیونکہ اللہ تعالیٰ اسے آخرت میں اس
سے بہتر شکل میں عطا فرمائے گا۔
- جنت کا
وعدہ مشروط ہے: نبی ﷺ کے فرمان "إِنْ
يُدْخِلْكَ اللهُ الْجَنَّةَ" (اگر اللہ تجھے جنت میں داخل کرے) سے یہ
اہم سبق ملتا ہے کہ یہ تمام نعمتیں اللہ تعالیٰ کے فضل سے جنت میں داخلے کے
بعد ہی میسر آئیں گی۔ اس لیے اصل کوشش اور توجہ جنت میں داخلے کے حصول پر
ہونی چاہیے، جو ایمان اور عمل صالح پر موقوف ہے۔
سَعَةُ الْجَنَّة
جنت کی وسعت
حدیث نمبر 48
(خ م ت) , عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ - رضي الله عنه - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم -: (" إِنَّ أَهْلَ الْجَنَّةِ لَيَتَرَاءَوْنَ) (١) (أَهْلَ الدَّرَجَاتِ الْعُلَى) (٢) (مِنْ فَوْقِهِمْ كَمَا تَتَرَاءَوْنَ الْكَوْكَبَ الدُّرِّيَّ (٣) "الْغَابِرَ (٤)) (٥) (فِي الْأُفُقِ مِنْ الْمَشْرِقِ أَوْ الْمَغْرِبِ , لِتَفَاضُلِ مَا بَيْنَهُمْ " , فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ , تِلْكَ مَنَازِلُ الْأَنْبِيَاءِ , لَا يَبْلُغُهَا غَيْرُهُمْ , قَالَ: " بَلَى وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ , رِجَالٌ آمَنُوا بِاللهِ وَصَدَّقُوا الْمُرْسَلِينَ ") (٦)
ترجمہ:
حضرت ابو سعید
خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "بے شک اہلِ جنت
اوپر والے درجوں کے لوگوں کو (نیچے سے) دیکھیں گے، جیسے تم مشرق یا مغرب کے کنارے
پر ڈوبتے ہوئے روشن اور چمکدار ستارے کو دیکھتے ہو، (یہ اس لیے کہ) ان کے درمیان
(ثواب اور درجات کا) فرق ہوگا۔" صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ تو
انبیاء کے مقام ہیں، ان کے سوا کوئی اور ان تک نہیں پہنچ سکتا۔ آپ ﷺ نے فرمایا:
"ہاں (ایسا ہی ہے)، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! (مگر) وہ
لوگ (بھی ہوں گے) جنہوں نے اللہ پر ایمان لایا اور رسولوں کی تصدیق کی۔"
حواشی
اور حوالہ جات:
- (١) یہ حدیث کا پہلا حصہ صحیح
مسلم میں حدیث نمبر 2831 اور صحیح
بخاری میں حدیث نمبر 3083 پر موجود
ہے۔
- (٢) یہ حصہ سنن ترمذی میں
حدیث نمبر 3658 پر بھی مذکور ہے۔
- (٣) "الدُّرِّيَّ":
یہ بہت
زیادہ چمک والا ستارہ ہے۔ فراء کہتے ہیں: یہ بڑے حجم والا ستارہ ہے، گویا یہ
موتی کی طرف منسوب ہے اس کی سفیدی اور چمک کی وجہ سے۔
- (٤) "الْغَابِرَ":
ڈوبنے یا
غائب ہونے والا۔
- (٥) یہ حصہ صحیح مسلم حدیث
نمبر 2831 اور صحیح بخاری حدیث
نمبر 3083 میں ہے۔
- (٦) یہ آخری حصہ صحیح بخاری حدیث
نمبر 3083 اور صحیح مسلم حدیث
نمبر 2831 میں موجود ہے۔
حدیث
سے حاصل ہونے والے اسباق یا نکات (تحریری انداز میں):
- جنت میں
مراتب و درجات کا واضح وجود اور فرق: یہ حدیث
جنت کے ایک اہم اصول کی وضاحت کرتی ہے کہ وہاں سب یکساں نہیں ہوں گے، بلکہ
ایمان، علم، عمل اور تقویٰ کی بنیاد پر بلند و پست درجات ہوں گے۔ یہ فرق اس
قدر واضح اور نمایاں ہوگا کہ نیچے والے درجے کے لوگ اوپر والوں کو دور سے
ایسے دیکھ سکیں گے جیسے ہم آسمان پر چمکتے ہوئے ستارے دیکھتے ہیں۔
- جنت کی
عظیم الشان وسعت: اوپر کے درجات کو نیچے سے ستارے
کی طرح دیکھے جانے کا تصور اس بات کی دلیل ہے کہ جنت کی وسعت اتنی زیادہ اور
وسیع ہوگی کہ اس میں فاصلے بھی بہت زیادہ ہوں گے۔ یہ دنیا کے کسی باغ یا شہر
کی وسعت سے بالکل مختلف اور لا محدود کے قریب ہوگی۔
- اعلیٰ
درجات تک ہر مومن کی رسائی کا امکان: جب صحابہ
کرام رضی اللہ عنہم نے سمجھا کہ یہ بلند مقام صرف انبیاء کے لیے مخصوص ہیں،
تو رسول اللہ ﷺ نے فوراً اس غلط فہمی کو دور کرتے ہوئے فرمایا کہ "رِجَالٌ
آمَنُوا بِاللهِ وَصَدَّقُوا الْمُرْسَلِينَ" (وہ لوگ جنہوں نے اللہ پر ایمان لایا اور رسولوں کی تصدیق کی)
بھی ان اعلیٰ مقامات کو پا سکتے ہیں۔ یہ ہر مؤمن مرد و عورت کے لیے انتہائی
خوشخبری اور ترغیب ہے کہ وہ اپنے اعمال کے ذریعے جنت کے سب سے بلند مقامات
حاصل کر سکتا ہے۔
- عملِ صالح
کی اہمیت اور محنت پر ابھار: حدیث کا یہ پیغام مؤمن کے دل
میں بلندی کی طلب اور اعلیٰ مقام کے حصول کا جذبہ پیدا کرتا ہے۔ یہ اسے بتاتا
ہے کہ جنت میں داخلہ ہی کافی نہیں، بلکہ اس میں بھی اعلیٰ سے اعلیٰ مقام کے
حصول کے لیے نیک اعمال میں مسابقت کرنی چاہیے۔ یہ دنیا کی ہر کوتاہی اور سستی
پر متنبہ کرتا ہے۔
- جنت کی
نعمتوں میں اضافہ اور خوبصورتی کا تسلسل: حدیث میں
ستارے کی چمک اور اس کے حسن کا ذکر اس بات کی طرف بھی اشارہ ہے کہ جنت کے
اعلیٰ درجات میں نعمتیں بھی زیادہ حسین، زیادہ روشن اور زیادہ کشش رکھنے والی
ہوں گی۔ درجات کا فرق صرف فاصلے کا نہیں، بلکہ نعمتوں کے معیار اور حسن میں
بھی تفاوت کا ہوگا۔
- باہمی حسد
یا کینہ سے پاک ماحول: اوپر کے درجات کو دیکھنے سے
نیچے والوں کے دلوں میں حسد، رشک یا ناامیدی پیدا نہیں
ہوگی، بلکہ وہ اسے ایک حقیقت کے طور پر دیکھیں گے۔ جنت کا ماحول ہر قسم کی
منفی جذبات سے پاک ہوگا۔ ممکن ہے کہ وہ ان اعلیٰ مقامات کو دیکھ کر ان کے
حصول کی خواہش کریں، لیکن یہ خواہش حسد سے پاک ہوگی۔
- رسولوں کی
تصدیق پر زور: اعلیٰ درجات کے وارثوں کی صفت
میں "وَصَدَّقُوا الْمُرْسَلِينَ" (اور رسولوں کی تصدیق کی) کا ذکر خاص اہمیت رکھتا ہے۔ اس سے
مراد محض زبانی اقرار نہیں، بلکہ ان کی لائی ہوئی تعلیمات پر کامل طور پر عمل
کرنا ہے۔
خلاصہ: یہ حدیث ہمیں
جنت کے نظامِ درجات، اس کی لا محدود وسعت اور ہر مؤمن کے لیے اعلیٰ ترین مقام تک
پہنچنے کے امکان سے آگاہ کرتی ہے۔ یہ ایمان والوں کے لیے عملِ صالح میں سبقت لے
جانے کا ایک طاقتور محرک ہے۔
حدیث نمبر 49
عَنْ
الْمُسْتَوْرِدِ بْنِ شَدَّادٍ - رضي الله عنه - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم -: " مَا الدُّنْيَا فِي الْآخِرَةِ
إِلَّا مِثْلُ مَا يَجْعَلُ أَحَدُكُمْ إِصْبَعَهُ فِي الْيَمِّ , فَلْيَنْظُرْ
بِمَاذَا يَرْجِعُ "
ترجمہ:
حضرت المستورد
بن شداد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "دنیا آخرت کے
مقابلے میں اس کے سوا کچھ نہیں، جیسے تم میں سے کوئی اپنی انگلی سمندر میں ڈالے،
پھر دیکھے کہ (اس کے ساتھ) کیا واپس آتا ہے۔"
حوالہ:
- (١) یہ حدیث مندرجہ ذیل کتب میں
مذکور ہے:
- سنن
ترمذی: حدیث نمبر 2323
- صحیح
مسلم: حدیث نمبر 55 اور 2858
- صحیح ابن
حبان: حدیث نمبر 4108
- مسند احمد: حدیث نمبر 18038
حدیث
سے حاصل ہونے والے اسباق یا نکات:
- دنیا اور
آخرت کی حقیقی قدر و قیمت کا موازنہ: یہ حدیث
دنیا اور آخرت کے درمیان جو بے پناہ فرق ہے، اسے انتہائی واضح اور جامع مثال
کے ساتھ سمجھاتی ہے۔ جس طرح سمندر کے سامنے انگلی پر لگنے والا پانی نہایت
قلیل اور بے وقعت ہے، اسی طرح پوری دنیا اور اس کی ساری دولت، شان و شوکت اور
لذتیں بھی آخرت اور اس کی everlasting نعمتوں کے سامنے ہیچ ہیں۔ دنیا
کی زندگی محض ایک امتحان گاہ اور کھیتی ہے، جبکہ آخرت ہی حقیقی زندگی، حساب
اور جزا و سزا کا دن ہے۔
- انجام پر
نظر رکھنے کی تلقین: فرمانِ رسول ﷺ "فَلْيَنْظُرْ
بِمَاذَا يَرْجِعُ" (پھر دیکھے کہ اس کے ساتھ کیا واپس آتا
ہے) ہر انسان کے لیے ایک طاقتور تنبیہ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان کو اپنی
تمام تر محنت، جدوجہد، جمع پونجی اور زندگی گزارنے کے طریقے پر غور کرنا
چاہیے کہ آخرت میں اس کا کیا نتیجہ نکلے گا۔ کیا وہ اپنے رب کی رضا اور جنت
لے کر واپس آئے گا، یا اس کی دنیا کی حرص و ہوس اس کے لیے آخرت میں رسوائی
اور عذاب کا باعث بنے گی؟ یہ ایک لمحہ فکریہ ہے جو انسان کو اس کے اصل مقصدِ
حیات کی طرف متوجہ کرتا ہے۔
- دنیا
پرستی سے بیزاری اور زہد کی ترغیب: جب دنیا
کی حقیقت اور اس کی بے قدری اتنی واضح ہو جائے، تو پھر عقل مند انسان کے لیے
یہی مناسب ہے کہ وہ اسے دل میں جگہ نہ دے۔ وہ دنیا کو ایک ذریعہ اور راستہ
سمجھے، نہ کہ مقصد۔ وہ صرف اتنا ہی دنیا سے لے جس سے آخرت کی تیاری میں مدد
ملے، اور ہمیشہ اس خوف سے کام کرے کہ کہیں دنیا کی محبت اس کے دل سے آخرت کی
محبت کو نہ نکال دے۔
- اعمال کے
نتائج کی طرف توجہ: حدیث کا لفظ "یرجع"
(واپس آنا) یہ بھی بتاتا ہے کہ انسان اپنے اعمال کا پھل ضرور دیکھے گا۔ جو
کچھ اس نے دنیا میں بویا تھا، آخرت میں وہی کاٹے گا۔ اگر اس نے نیکی اور
تقویٰ بویا تو جنت کی everlasting نعمتیں کاٹے گا، اور اگر اس نے
گناہ اور نافرمانی بویا تو جہنم کی سزا پائے گا۔
- اللہ کی
نعمتوں کی عظمت کا احساس: سمندر کی وسعت اور گہرائی اللہ
کی قدرت اور اس کی عطا کردہ نعمتوں کی عظمت کی علامت ہے۔ جس طرح سمندر میں
ڈالی انگلی سے ملنے والا قطرہ سمندر کے مقابلے میں کچھ نہیں، اسی طرح اللہ نے
آخرت میں اپنے بندوں کے لیے جو نعمتیں رکھی ہیں، دنیا کی ساری نعمتیں ان کے
سامنے کوئی حیثیت نہیں رکھتیں۔ اس لیے انسان کو چاہیے کہ وہ دنیا کی قلیل
نعمت پر اترانے کی بجائے، اللہ کا شکر ادا کرے اور اس کی
everlasting نعمتوں
کے حصول کی فکر کرے۔
- عملی
زندگی کے لیے رہنمائی: اس حدیث کا نچوڑ یہ ہے کہ انسان
کو اپنی زندگی کا محور اور مقصد آخرت بنانا چاہیے۔ دنیا میں رہتے ہوئے، اس کے
تمام معاملات، تجارت، عبادات اور تعلقات میں اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ
اس کا انجام کیا ہوگا۔ یہی وہ عقلمندی ہے جو انسان کو دنیا و آخرت دونوں میں
کامیاب کرتی ہے۔
خلاصہ: یہ مختصر مگر
بلیغ حدیث ہمارے سامنے دنیا اور آخرت کے درمیان ایک ایسا واضح اور ناقابل تردید
موازنہ پیش کرتی ہے جو ہر صاحب عقل کو سوچنے پر مجبور کر دیتی ہے کہ وہ کس چیز کے
پیچھے دوڑ رہا ہے اور اس کا انجام کیا ہوگا۔ یہ حدیث دنیا کی محبت کے دل سے نکالنے
اور آخرت کی تیاری پر آمادہ کرنے کے لیے کافی ہے۔
أَعْمَارُ أَهْلِ الْجَنَّة
اہل جنت کی عمر اور صورت کے بیان
حدیث نمبر 50
(طب) , عَنْ الْمِقْدَامَ بْنَ مَعْدِيكَرِبٍ - رضي الله عنه - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم -: " مَا مِنْ أَحَدٍ يَمُوتُ سِقْطًا وَلَا هَرِمًا - وَإِنَّمَا النَّاسُ فِيمَا بَيْنَ ذَلِكَ - إِلَّا بُعِثَ ابْنَ ثَلَاثِينَ سَنَةً , فَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ , كَانَ عَلَى مِسْحَةِ آدَمَ، وصُورَةِ يُوسُفَ، وَقَلَبِ أَيُّوبَ، وَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ النَّارِ , عُظِّمُوا وَفُخِّمُوا كَالْجِبَالِ "
ترجمہ
حضرت
مقدام بن معدیکرب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیک وسلم نے
فرمایا:
"کوئی
شخص نہیں مرتا، نہ بچپن میں گر کر (یعنی چھوٹی عمر میں) نہ بڑھاپے میں – اور لوگ
تو ان دونوں (عمروں) کے درمیان (ہی مرتے) ہیں – مگر یہ کہ وہ تیس سالہ جوان کی
صورت میں اٹھایا جائے گا۔ پھر جو شخص اہلِ جنت میں سے ہوگا، وہ آدم (علیہ السلام)
کی قدآوری، یوسف (علیہ السلام) کی خوبصورتی اور ایوب (علیہ السلام) کے صبر والے دل
پر ہوگا۔ اور جو اہلِ دوزخ میں سے ہوگا، وہ (عذاب میں) بڑے اور بھاری بھرکم کر دیے
جائیں گے گویا وہ پہاڑ ہیں۔"
حوالہ
جات کی ترتیب:
- (طب) ٦٦٣: یہ حدیث ابن سعد کی کتاب "الطبقات الکبری" میں حدیث نمبر 663 پر موجود ہے۔
- الصَّحِيحَة: ٢٥١٢: محدث شیخ البانی رحمہ اللہ نے اسے اپنی کتاب "السلسلة الصحیحہ" میں حدیث نمبر 2512 پر نقل کرکے "صحیح" قرار دیا ہے۔
- صَحِيح التَّرْغِيبِ وَالتَّرْهِيب: ٣٧٠١: شیخ البانی نے "صحیح الترغیب والترہیب" میں بھی اسے حدیث نمبر 3701 پر درج کیا ہے۔
حدیث
سے حاصل ہونے والے اسباق اور نکات
- آخرت میں
نئی تخلیق اور کامل جوانی: یہ حدیث اس اصول کی وضاحت کرتی
ہے کہ قیامت کے دن تمام انسان ایک نئی اور کامل تخلیق کے ساتھ اٹھائے جائیں
گے۔ موت کی ہر عمر (بچپن، جوانی، بڑھاپا) ختم ہو جائے گی اور ہر شخص کی عمر تینتیس
(33) سال کی کامل جوانی پر متعین ہوگی، جو انسانی قوت و حسن کا
بہترین وقت ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ اور اپنے بندوں پر اس کے فضل کا
مظہر ہے۔
- اہل جنت
کی جامع صفات کی بشارت: جو شخص جنت میں داخل ہونے کا
مستحق ٹھہرے گا، اسے تین عظیم انبیاء کی نمایاں صفات سے نوازا جائے گا:
- آدم علیہ
السلام کی قدآوری (طُول و قامت): جو تمام
انسانوں میں سب سے بلند اور خوبصورت تھی۔
- یوسف
علیہ السلام کی صورت (حُسن و جمال): جنہیں
قرآن نے "احسن القصص" اور روایات میں نصف کل جمال عطا ہونے والا
بتایا ہے۔
- ایوب
علیہ السلام کا دل (صبر و ثبات): جو ہر
قسم کی آزمائش میں ثابت قدم رہا۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ اہل جنت ظاہری حسن، خوبصورتی اور باطنی صبر و طہارت کی کامل ترین کیفیات سے متصف ہوں گے۔ - اہل نار
کے لیے ذلت و عذاب کی علامت: دوسری طرف اہلِ دوزخ کی صورتِ
حال بالکل مختلف ہوگی۔ وہ عذاب کی وجہ سے "عظیم و
فخیم" (بہت بڑے اور بھاری بھرکم) کر دیے جائیں
گے، جس سے ان کی ذلت، بے چارگی اور عذاب کی شدت ظاہر ہوتی ہے۔ یہ دنیا میں ان
کے تکبر، سرکشی یا جسمانی طاقت کے غلط استعمال کے مقابلے میں ایک عبرتناک
منظر ہوگا۔
- دنیا کی
محنت کا آخرت میں ظاہری اور باطنی بدلہ: یہ حدیث
اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ آخرت میں ملنے والی صورت حال درحقیقت دنیا کے
اعمال کا ہی بدلہ ہوگی۔ جو لوگ دنیا میں اللہ کی اطاعت اور صبر پر کاربند
رہے، انہیں حسین ترین صورت اور پرسکون دل ملے گا۔ اور جو لوگ تکبر و معصیت
میں زندگی گزارتے ہیں، ان کی یہی حالت ان کے لیے عذاب اور ذلت کا سبب بنے گی۔
- دنیوی
تفاخر کی بے حقیقتی اور آخرت کی تیاری کی ترغیب: اس بیان
کا ایک اہم مقصد یہ ہے کہ انسان دنیا میں اپنی عمر، طاقت یا حسن پر فخر کرنے
کی بجائے، اسے آخرت کی everlasting زندگی میں حسین صورت اور بلند
مقام کے حصول کا ذریعہ بنائے۔ یہ حدیث نیک اعمال کی طرف رغبت دلاتی ہے اور
گناہوں سے ڈراتی ہے۔
صِفَةُ أَهْلِ الْجَنَّة
جنت والوں کی صفات کا بیان
حدیث نمبر 51
(م حم) , عَنْ عِيَاضِ بْنِ حِمَارٍ الْمُجَاشِعِيِّ - رضي الله عنه - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم -: (" أَهْلُ الْجَنَّةِ ثَلَاثَةٌ: ذُو سُلْطَانٍ مُقْسِطٌ (١) مُتَصَدِّقٌ مُوَفَّقٌ , وَرَجُلٌ رَحِيمٌ , رَقِيقُ الْقَلْبِ لِكُلِّ ذِي قُرْبَى وَمُسْلِمٍ) (٢) (وَرَجُلٌ فَقِيرٌ) (٣) (ذُو عِيَالٍ , عَفِيفٌ مُتَعَفِّفٌ (٤)) (٥) (مُتَصَدِّقٌ ") (٦)
ترجمہ:
حضرت
عیاض بن حمار مجاشیعی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
نے فرمایا:
"اہلِ
جنت تین (اقسام کے) ہیں: وہ شخص جو عادل حکمران ہے،(١) سخاوت کرنے والا ہے اور
(اس میں) اللہ کی طرف سے توفیق پانے والا ہے۔ (2) اور وہ شخص جو نرم دل اور رحم دل
ہے، ہر رشتہ دار اور مسلمان کے ساتھ (نرمی کرتا ہے)(٢)۔ (3) اور وہ شخص جو محتاج ہے(٣)،
(لیکن) کنبہ والا ہے، پرہیزگار ہے، (ضرورت کے باوجود) پرہیزگاری اختیار کرنے والا
ہے(٤)) (٥)، (اور پھر بھی) صدقہ دینے والا ہے۔"(٦)
حواشی
اور حوالہ جات:
- مُقْسِطٌ
(١): یعنی
عادل۔
- (٢) یہ حدیث
کا پہلا حصہ صحیح مسلم میں حدیث نمبر 2865 پر موجود ہے۔
- (٣) یہ حدیث
کا دوسرا حصہ مسند احمد میں حدیث نمبر 17519 پر موجود ہے، اور شیخ شعیب
الارنؤوط نے اس کی سند کو صحیح قرار دیا ہے۔
- عَفِيفٌ
مُتَعَفِّفٌ (٤):
"عفيف"
کا مطلب ہے بہت زیادہ پرہیزگار، اور پرہیزگاری سے مراد بے حیائی کے کاموں سے
بچنا ہے۔
- (٥) یہ حصہ صحیح
مسلم حدیث نمبر 2865 میں ہے۔
- (٦) یہ حصہ مسند
احمد حدیث نمبر 17519 میں ہے۔
[الجامع الصحيح للسنن والمسانيد: ج3 ص285]
حدیث
سے حاصل ہونے والے اسباق اور نکات
- جنت تک
پہنچانے والے اخلاقی اور عملی راستوں کی تنوع: یہ
حدیث واضح کرتی ہے کہ جنت میں داخلہ محض ایک مخصوص قسم کے عمل یا پیشے سے
وابستہ نہیں ہے۔ بلکہ، سماج کے مختلف طبقوں اور مختلف اخلاقی کرداروں کے
حامل لوگ، اگر وہ اپنے دائرے میں اللہ کی رضا کے مطابق کام کریں، تو جنت کے
مستحق بن سکتے ہیں۔ یہ اسلام کی عالمگیریت اور اس کے اخلاقی معیار کی وسعت کو
ظاہر کرتا ہے۔
- عدل اور
سخاوت کا اجتماع (عادل حکمران): پہلی
قسم کا شخص وہ ہے جو "ذُو
سُلْطَانٍ مُقْسِطٌ مُتَصَدِّقٌ مُوَفَّقٌ"۔ اس میں دو بڑی صفات جمع ہیں:
- عدل
(إقساط): یہ
حکمرانی کی بنیادی شرط ہے۔ رعایا کے درمیان انصاف کرنا، حق ادا کرنا اور ظلم
سے بچنا۔
- سخاوت
(تصدق): صرف عدل
ہی کافی نہیں، بلکہ دولت کو اللہ کی راہ میں خرچ کرنا، غربا و مساکین کی مدد
کرنا۔
- "مُوَفَّقٌ" کا لفظ
بتاتا ہے کہ ایسے اعمال کرنا دراصل اللہ کی خاص توفیق اور مدد سے ہی ممکن
ہے۔
- نرم دلی
اور رحم کے جذبات (رحم دل انسان): دوسری
قسم کے شخص کی صفت "رَحِيمٌ ,
رَقِيقُ الْقَلْبِ لِكُلِّ ذِي قُرْبَى وَمُسْلِمٍ" ہے۔ یہ وہ
شخص ہے جس کا دل دوسروں کے دکھ درد سے پگھل جاتا ہے۔ یہ رحمت صرف رشتہ داروں (ذِي قُرْبَى) تک محدود نہیں، بلکہ ہر مسلمان (مُسْلِمٍ) تک وسیع ہے۔ یہ حدیث "مؤمنوں کی
باہمی محبت، رحمت اور ہمدردی" کی طرف خاص اشارہ کرتی ہے۔
- غربت میں
بھی عزت نفس، پرہیزگاری اور سخاوت (محتاج پرہیزگار): تیسری
قسم سب سے زیادہ قابل غور ہے۔ یہ وہ شخص ہے جو:
- "فَقِيرٌ
ذُو عِيَالٍ": محتاج ہے
اور گھر بار والا ہے (جس کی ذمہ داریاں زیادہ ہیں)۔
- "عَفِيفٌ
مُتَعَفِّفٌ": پرہیزگار
ہے اور (ضرورت کے باوجود) پرہیزگاری ہی اختیار کیے ہوئے ہے۔ یعنی وہ کسی کے
سامنے دست سوال دراز کرنے، حرام طریقے سے روزی کمانے یا اپنی ضرورت کا اظہار
کر کے دوسروں کو تکلیف میں ڈالنے سے بچتا ہے۔
- "مُتَصَدِّقٌ": اس کے
باوجود وہ صدقہ دینے والا ہے۔ یہ انتہائی بلند درجے کا
ایثار ہے کہ تنگ دستی میں بھی دوسرے مسلمان بھائی کی مدد کرے۔
- اس شخص
کی صفات صبر، قناعت، عزت نفس اور ایثار کی اعلیٰ ترین مثال
ہیں۔
- دنیاوی
مقام و مرتبہ سے بالاتر ہو کر اخلاق و عمل کو معیار بنانا: حدیث میں تینوں اقسام کے لوگ
سماجی لحاظ سے مختلف ہیں (حکمران، عام شہری، محتاج)، لیکن جنت میں داخلے کا
معیار ان کا سماجی رتبہ نہیں بلکہ ان کا اخلاق، ان کا عمل اور ان کا
دل ہے۔ یہ اسلام کے نزدیک "تقویٰ" ہی سب سے
بڑا معیارِ فضیلت ہے۔
- عملی
زندگی کے لیے رہنمائی اور ترغیب: یہ
حدیث ہر مسلمان کے لیے ایک عملی رہنمائی ہے کہ وہ اپنے
حالات اور مقام کے مطابق کون سا راستہ اختیار کرے۔ حکمران عدل و سخاوت کو
اپنائے، عام آدمی نرم دلی اور ہمدردی کو، اور تنگ دست شخص صبر و قناعت اور
عزت نفس کو۔ اس طرح ہر شخص اپنے دائرے میں جنت کا راستہ تلاش کر سکتا ہے۔
خلاصہ: یہ
حدیث جنت کے وارثین کی ایک جامع تصویر پیش کرتی ہے جو صرف عبادت گزاروں تک محدود
نہیں، بلکہ عادل حکمران، رحم دل انسان، اور صابر و قانغت محتاج سب
کو شامل کرتی ہے۔ یہ اسلام کے اخلاقی نظام کی وسعت، انسانی نفسیات کی گہری سمجھ
اور ہر طبقے کے لیے امید و ترغیب کا پیغام ہے۔
حدیث نمبر 52
عَنْ
عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو - رضي الله عنهما - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم -: (" أَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِأَهْلِ
الْجَنَّةِ؟ " , قَالُوا: بَلَى يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ: " هُمْ الضُّعَفَاءُ الْمَظْلُومُونَ) (١) وفي رواية: " كُلُّ ضَعِيفٍ مُسْتَضْعَفٍ (٢) لَوْ أَقْسَمَ
عَلَى اللهِ لَأَبَرَّهُ
" (٣)
ترجمہ:
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "کیا میں تمہیں جنت والوں (کی ایک قسم) سے آگاہ نہ کروں؟" صحابہ نے عرض کیا: کیوں نہیں، اے اللہ کے رسول! آپ ﷺ نے فرمایا: "وہ کمزور (اور) مظلوم لوگ ہیں۔"(١) اور ایک روایت میں ہے: "ہر وہ کمزور شخص جسے (دنیا میں) کمزور بنایا گیا ہو،(٢) اگر وہ اللہ کی قسم کھائے تو اللہ اسے پوری فرمائے گا۔"(٣)
حواشی
اور حوالہ جات:
- (١) (حم) ٨٨٠٧ , انظر الصَّحِيحَة: ٩٣٢
- یہ حدیث مسند
احمد میں حدیث نمبر 8807 پر موجود
ہے۔ نیز دیکھیے: السلسلة
الصحیحہ حدیث نمبر 932۔
- (٢) الْمُرَاد
بِالضَّعِيفِ... الْمُسْتَضْعَفِ...: یعنی
"ضعیف" سے مراد وہ شخص ہے جس کی ذات (نفس) اس کے تواضع اور دنیا
میں اس کی کمزور حالت کی وجہ سے کمزور (یعنی عاجز اور منکسر) ہے۔ اور
"مستضعف" سے مراد وہ شخص ہے جو دنیا میں اس کے گمنام اور حقیر ہونے
کی وجہ سے حقیر سمجھا جاتا ہے۔
- (٣) (جة) ٤١١٥ , (خ) ٤٦٣٤ , (م) ٢٨٥٣ , صَحِيح التَّرْغِيبِ
وَالتَّرْهِيب: ٣١٩٦
- یہ حدیث
(دوسری روایت) صحیح ابن حبان میں حدیث نمبر 4115، صحیح بخاری میں
حدیث نمبر 4634، صحیح مسلم میں حدیث
نمبر 2853، اور صحیح الترغیب والترہیب میں
حدیث نمبر 3196 پر موجود
ہے۔
حدیث
سے حاصل ہونے والے اسباق اور نکات:
- اللہ کے
ہاں عزت کا اصل معیار: یہ حدیث
دنیا اور آخرت میں عزت و ذلت کے تصورات کو یکسر بدل دیتی ہے۔ دنیا میں جو لوگ
طاقتور، مالدار اور بااثر سمجھے جاتے ہیں، اللہ کے ہاں ان کی کوئی حیثیت نہیں
اگر ان کے دل میں تکبر اور ظلم ہے۔ اس کے برعکس، وہ لوگ جو دنیا کی نظر میں "ضعیف" (غریب، بے سہارا، معاشرے میں کمتر) اور "مظلوم" ہیں، اگر وہ صبر و شکر اور
ایمان پر قائم رہیں تو اللہ کے ہاں وہی باعزت اور جنت کے اہل ہیں۔ یہاں "ضعف" سے مراد صرف مالی یا جسمانی
کمزوری نہیں، بلکہ دل کا انکسار، تواضع اور دنیا سے بے رغبتی بھی ہے۔
- مظلوموں
اور کمزوروں کی اللہ کی بارگاہ میں خاص اہمیت: حدیث
میں "المظلومون" اور "مستضعف" (جسے دبایا گیا ہو) کے الفاظ استعمال
ہوئے ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے ان بندوں کی داد رسی کے
لیے خاص طور پر موجود ہے جو دنیا میں ناحق ستائے جاتے ہیں، ان پر ظلم ہوتا ہے
یا انہیں حقیر سمجھا جاتا ہے۔ ان کے لیے جنت میں اعلیٰ مقام مخصوص ہے۔
- متواضع
اور منکسر القلب لوگوں کی مقبولیت: تشریح
کے مطابق "ضعیف" سے مراد وہ شخص ہے جس کی ذات
(نفس) اس کے تواضع کی وجہ سے "ضعیف" ہے۔ یعنی وہ شخص جو اپنے آپ کو
بڑا نہیں سمجھتا، تکبر نہیں کرتا، دوسروں پر رعب جھاڑنے کی بجائے عاجزی سے
پیش آتا ہے۔ ایسے لوگ دنیا میں نظرانداز ہو سکتے ہیں، لیکن اللہ کی نظر میں
بہت بلند مقام رکھتے ہیں۔
- ان کی دعا
اور قسم کی قبولیت کی بشارت: روایت میں
آیا ہے کہ ایسا کمزور شخص "لَوْ
أَقْسَمَ عَلَى اللهِ لَأَبَرَّهُ" (اگر وہ اللہ کی قسم کھائے تو اللہ اسے پوری فرمائے گا)۔ یہ
اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ ایسے بندگانِ صالح کی بات، ان کی دعا اور
ان کی قسموں کو بہت زیادہ قبول فرماتا ہے۔ یہ ان کی ایمانی طاقت اور اللہ کے
ہاں ان کے اعتماد کی علامت ہے۔
- دنیا کی
چمک دمک سے دھوکا نہ کھانا: اس حدیث
کا ایک واضح پیغام یہ ہے کہ مؤمن کو دنیا کی ظاہری چمک دمک، مال و دولت اور
طاقت کے پیچھے نہیں بھاگنا چاہیے۔ بلکہ اسے ان لوگوں کی طرف دیکھنا چاہیے
جنہیں دنیا نظرانداز کرتی ہے، کیونکہ ممکن ہے کہ وہی اللہ کے ہاں سب سے زیادہ
محبوب ہوں۔
- مظلوموں
کی حمایت اور ان کے حقوق کی ادائیگی کی ترغیب: یہ
حدیث ہر مسلمان کے لیے، خاص طور پر طاقتوروں کے لیے، یہ پیغام بھی رکھتی ہے
کہ وہ مظلوموں اور کمزوروں کی حمایت کریں، ان کے حقوق ادا کریں، انہیں ستانے
یا حقیر جاننے سے پرہیز کریں۔ کیونکہ جو لوگ دنیا میں مظلوم ہیں، وہ آخرت میں
اللہ کی خاص رحمت اور انعام کے مستحق ٹھہریں گے۔
خلاصہ: یہ
حدیث ایک طاقتور پیغام دیتی ہے کہ اللہ کی نظر میں عزت کا معیار دنیاوی
طاقت، دولت یا شہرت نہیں، بلکہ ایمان، تقویٰ، تواضع اور صبر ہے۔ جو لوگ
دنیا میں کمتر سمجھے جاتے ہیں، اگر وہ اپنے ایمان پر قائم رہیں تو وہ جنت کے اعلیٰ
مقامات کے حقدار ہیں۔ یہ حدیث مظلوموں کے لیے تسلی اور طاقتوروں کے لیے تنبیہ ہے۔
حدیث نمبر 53
ترجمہ:
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "جہنم اور جنت میں (اپنے اپنے حالات پر) بحث ہوئی۔ جہنم نے کہا: مجھے تکبر کرنے والوں اور ظالم حکمرانوں (کے داخلے) کی وراثت حاصل ہے۔ اور جنت نے کہا: میرا کیا حال ہے کہ میرے اندر صرف لوگوں کے کمزور، کمتر(١) اور عاجز ہی داخل ہوتے ہیں(٢)؟ تو اللہ تعالیٰ نے جنت سے فرمایا: 'تو میری رحمت ہے، میں تجھ سے اپنے بندوں میں سے جسے چاہوں رحم کرتا ہوں۔' اور جہنم سے فرمایا: 'تو میرے عذاب کی جگہ ہے، میں تجھ سے اپنے بندوں میں سے جسے چاہوں عذاب دیتا ہوں۔'(٣)
(اللہ نے فرمایا:) 'اور تم دونوں میں سے ہر ایک کے لیے میری طرف سے اس کا بھرنا واجب ہے۔ پس رہی جہنم تو وہ اس وقت تک نہیں بھرے گی جب تک اللہ تعالیٰ اس پر اپنا قدم(٤) (ایک روایت میں: اپنا پاؤں)(٥) نہیں رکھ دے گا۔ تب وہ بھر جائے گی اور اس کے بعض حصے بعض کی طرف سمیٹ دیے جائیں گے(٦)، پھر وہ کہے گی: کافی ہے(٧)، کافی ہے، کافی ہے(٨) (اے میرے رب) تیری عزت و کرم کی قسم(٩)۔ اور اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق میں سے کسی پر ظلم نہیں کرے گا۔ اور رہی جنت تو اس میں وہ (جگہ یا نعمت) باقی رہے گی جو اللہ چاہے گا(١٠)، پھر وہ اس کے لیے (نئی) مخلوق پیدا فرمائے گا(١١) اور انہیں جنت کے فضل (بچی ہوئی جگہ) میں بسائے گا۔'"(١٢)
حواشی
اور حوالہ جات:
- (١) سَقَطُهُمْ: "سَقَط"
کا جمع ہے۔ اس سے مراد وہ شخص ہے جس کی قدر کم ہے، جس کی طرف کوئی توجہ نہیں
دیتا۔ "سَقَطُ المَتَاع" (مال کا سقط) اس کے ردی اور خراب ہونے کو
کہتے ہیں۔
- (٢) عُجَّزُهُمْ: یعنی وہ
لوگ جو دنیا حاصل کرنے، اس میں مال و دولت اور طاقت پانے سے عاجز رہے۔ مراد
وہ اہل ایمان ہیں جو دنیا کے شکوک و شبہات کو نہ سمجھ سکے اور شیاطین نے
انہیں اس طرف مائل نہ کیا۔ پس وہ صحیح عقائد اور مضبوط ایمان والے ہیں اور
یہی اکثریت (جُمْهُور) ہیں۔ رہے علم و معرفت والے لوگ، تو ان کی تعداد ان کے
مقابلے میں کم ہے۔
- (٣) (م) ٢٨٤٦ , (خ) ۴۵۶۹: یہ حدیث کا پہلا حصہ صحیح
مسلم
(Muslim) میں حدیث
نمبر 2846 اور صحیح بخاری (Bukhari) میں حدیث نمبر 4569 پر موجود ہے۔
- (٤) (م) ٢٨٤٧ , (خ) ۴۵۶۹: یہ جملہ صحیح مسلم میں
حدیث نمبر 2847 اور صحیح بخاری میں
حدیث نمبر 4569 پر ہے۔
- (٥) (م) ٢٨٤٦: "قَدَمَهُ" والی روایت صحیح
مسلم میں حدیث نمبر 2846 پر ہے۔
- (٦) يُزْوَى بَعْضُهَا إِلَى بَعْضٍ: یعنی اس
کے بعض حلقے یا حصے ایک دوسرے کی طرف سکیڑ دیے جائیں گے، جمع ہو کر اس میں
موجود (لوگوں) پر آ ملیں گے۔
- (٧) قَطْ: یعنی "میرا بس چل گیا، یہ
(تعداد) مجھے کافی ہے۔"
- (٨) (م) ٢٨٤٧ , (خ) ۴۵۶۹: یہ جملہ صحیح مسلم میں
حدیث نمبر 2847 اور صحیح بخاری میں
حدیث نمبر 4569 پر ہے۔
- (٩) (خ) ۶۹۴۹ , (م) ٢٨٤٨: "بِعِزَّتِكَ وَكَرَمِكَ"
کا جملہ صحیح بخاری میں حدیث نمبر 6949 اور صحیح مسلم میں
حدیث نمبر 2848 پر ہے۔
- (١٠) (م) ٢٨٤٧ , (خ) ۴۵۶۹: "وَأَمَّا الْجَنَّةُ" تک
کا حصہ صحیح مسلم میں حدیث نمبر 2847 اور صحیح
بخاری میں حدیث نمبر 4569 پر ہے۔
- (١١) (م) ٢٨٤٨: "فَيَبْقَى فِيهَا..." کا
جملہ صحیح مسلم میں حدیث نمبر 2848 پر ہے۔
- (١٢) (خ) ۶۹۴۹: "فَيُنْشِئُ لَهَا
خَلْقًا..." کا جملہ صحیح بخاری میں حدیث نمبر 6949 پر ہے۔
حدیث
سے حاصل ہونے والے اسباق اور نکات (تحریری انداز میں):
اس
حدیث سے متعدد اہم اور گہرے سبق حاصل ہوتے ہیں:
- اللہ کی
کامل حاکمیت اور مطلق مشیت: جنت و جہنم کے مکالمے پر اللہ
کا فیصلہ کن جواب اس اصول کی واضح ترین دلیل ہے کہ ہر چیز اسی کی مرضی اور
حکم سے ہے۔ وہ جسے چاہے اپنی رحمت (جنت) میں جگہ دے اور جسے چاہے اپنے عدل
(جہنم) میں پکڑے۔ یہ اس کی ربوبیت اور حاکمیت اعلیٰ کا اظہار ہے۔
- دنیا و
آخرت میں عزت و ذلت کے معیار کا فرق: حدیث اس
بات پر زور دیتی ہے کہ اللہ کے ہاں عزت کا معیار دنیاوی طاقت، مال یا سماجی
رتبہ نہیں، بلکہ ایمان، تقویٰ، تواضع اور انکسار ہے۔ جو لوگ
دنیا میں "کمزور"، "کم تر" اور "معاشرتی لحاظ سے
غیر اہم" سمجھے جاتے ہیں، اگر وہ اپنے ایمان پر قائم رہیں تو وہی جنت کے
اصل وارث ہیں۔ اس کے برعکس، تکبر اور ظلم وہ
قبیح صفات ہیں جو انسان کو جہنم میں لے جانے کا سبب بنتی ہیں۔
- جہنم کی
ہولناکی، وسعت اور دوام: جہنم کا اس وقت تک نہ بھرنا اور
پھر اللہ کے خاص حکم ("قدم رکھنے") سے بھرنا، اس کی لامحدود
وسعت، اس میں داخل ہونے والوں کی کثیر تعداد، اور اس کے دائمی ہونے
کو ظاہر کرता ہے۔ اس کا "قَطْ قَطْ" (کافی ہے)
کہنا عذاب کی شدت اور گنجائش پوری ہونے کی علامت ہے۔ یہ تصویر ہر مؤمن کو
اللہ کی نافرمانی سے ڈرنے پر ابھارتی ہے۔
- اللہ کے
کامل عدل کی ضمانت: فرمان "وَلَا
يَظْلِمُ اللَّهُ مِنْ خَلْقِهِ أَحَدًا" ہر انسان
کے لیے ایک اطمینان بخش ضمانت ہے۔ ہر شخص کو اس کے ایمان، اعمال اور نیت کے
مطابق ہی جزا یا سزا ملے گی، ذرہ برابر ناانصافی نہیں ہوگی۔ یہ یقین انسان کو
دنیا کی ناانصافیوں کے درمیان صبر اور آخرت کے حساب پر یقین کی قوت دیتا ہے۔
- جنت کی
وسعت، اللہ کے فضل کی فراوانی اور نئی تخلیق: جنت میں
"فضل" (خالی جگہ/اضافی نعمت) باقی رہ جانا اور پھر اس میں نئی
مخلوق کو بسایا جانا، اس کی نعمتوں کی لامحدودیت، وسعت اور اللہ کے
فضل کی بے پایاں فراوانی کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ اس بات کی طرف بھی
اشارہ ہے کہ اللہ کا فضل اس قدر وسیع ہے کہ وہ اپنی رحمت کو نئی مخلوق کے
ساتھ بھی تقسیم فرمائے گا۔ یہ تصور مؤمن کے دل میں اللہ کی رحمت اور جنت کے
حصول کی امید کو تازہ کرتا ہے۔
یہ
حدیث درحقیقت ہمارے عقیدے، اخلاق اور آخرت کے تصور کو مضبوط بنانے والی ایک جامع
تعلیم ہے۔
حدیث نمبر 54
عَنْ
أَبِي هُرَيْرَةَ - رضي الله عنه - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم -: " يَدْخُلُ الْجَنَّةَ أَقْوَامٌ
أَفْئِدَتُهُمْ مِثْلُ أَفْئِدَةِ الطَّيْرِ (١) " (٢)
ترجمہ:
حضرت
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "ایسے لوگ جنت
میں داخل ہوں گے جن کے دل پرندوں کے دل جیسے ہوں گے۔
حواشی
اور حوالہ جات:
(١) اَفْئِدَتُهُمْ مِثْلُ أَفْئِدَةِ الطَّيْرِ:
اس تشبیہ کی
تفسیر میں علماء کے درمیان مختلف اقوال ہیں۔ حاشیہ میں امام نووی رحمہ اللہ تین
تفسیریں نقل فرماتے ہیں:
- نرمی اور
نزاکت کے لحاظ سے: یعنی ان کے دل انتہائی نرم،
رقیق اور حساس ہوں گے۔ جیسا کہ ایک اور حدیث میں ہے: "اہلِ یمن کے دل
زیادہ نرم اور زیادہ رقیق ہیں۔"
- خوف اور
ہیبت (اللہ کے خوف) کے لحاظ سے: کیونکہ پرندہ جانوروں میں سب سے
زیادہ خوفزدہ اور دہشت زدہ رہتا ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ ایسے لوگ ہیں جن پر
اللہ کا خوف اور ہیبت غالب رہتی ہے، جیسا کہ صحابہ اور سلف صالحین کے حالات
میں ان کے شدید خوفِ الٰہی کا تذکرہ ملتا ہے۔
- توکل کے
لحاظ سے: یعنی وہ پرندوں کی طرح اللہ پر بھروسہ کرنے
والے ہوں گے۔
[شرح نووی علی صحیح مسلم (جلد 9 / صفحہ 223)]
(٢) (م) ٢٨٤٠ , (حم) ٨٣٦٤:
یہ حدیث صحیح
مسلم میں حدیث نمبر 2840 اور مسند احمد میں حدیث نمبر 8364 پر موجود ہے۔
حدیث
سے حاصل ہونے والے اسباق اور نکات:
یہ
مختصر مگر بلیغ حدیث ایک بلند اخلاقی صفت کی طرف رہنمائی کرتی ہے، جس سے مندرجہ
ذیل اہم اسباق ملتے ہیں:
- دل کی
نرمی اور رِقَّت کی فضیلت: جنت میں داخلے کے لیے ضروری ہے
کہ آدمی کا دل نرم اور رقیق ہو۔ یہ نرمی محبت، شفقت، ہمدردی اور رحم دلی کی
علامت ہے۔ ایسا دل جو ظلم، قساوت، بے حسی یا تکبر سے پاک ہو، بلکہ دوسروں کی
تکلیف سے متاثر ہوتا ہو اور اپنے رب کی نافرمانی پر گھبراتا ہو۔
- خشیتِ
الٰہی کا مقام: دل کی نرمی کی ایک اعلیٰ صورت
اللہ تعالیٰ کا خوف اور اس کی ہیبت ہے۔ جنت کے یہ وارث اپنے رب کی عظمت و
جلال کے سامنے ہمہ وقت خائف و مضطرب رہتے ہیں، ان کی یہی کیفیت انہیں گناہوں
سے بچاتی اور نیکیوں پر جما دیتی ہے۔ یہی وہ خوف ہے جس کے بارے میں اللہ
تعالیٰ فرماتا ہے: "اللہ سے
اس کے بندوں میں سے وہی ڈرتے ہیں جو علم رکھتے ہیں۔"
- توکل علی
اللہ کی اہمیت: پرندے کا ایک وصف یہ بھی ہے کہ
وہ صبح کو خالی پیٹ اپنے گھونسلے سے نکلتا ہے اور یقین رکھتا ہے کہ اس کا رزق
اللہ نے مقدر کر رکھا ہے۔ اسی طرح مومن کا دل بھی اسباب کو اختیار کرنے کے
باوجود اپنے مالک حقیقی پر کامل بھروسہ اور توکل رکھتا ہے، نہ کہ اسباب یا
اپنی طاقت پر۔
- سادگی،
صفائی اور معصومیت: پرندے کا دل ایک سادہ، صاف شفاف
اور مکر و فریب سے پاک ہوتا ہے۔ جنت کے یہ اہل بھی اپنے اندر سادگی، اخلاص،
نیک نیتی اور نفاق و ریا سے پاکیزگی رکھتے ہیں۔
- انکساری
اور تکبر سے بیزاری: حدیث کے سیاق و سباق میں یہ بات
واضح ہوتی ہے کہ یہ صفات انہی لوگوں میں پائی جاتی ہیں جو دنیا میں متکبر و
متمرد نہیں ہوتے۔ یہ درحقیقت ان "ضعفاء" اور "عجّاز"
(عاجزوں) کی صفت ہے جو پچھلی حدیث میں جنت کے مستحق ٹھہرائے گئے تھے۔
خلاصہ: یہ حدیث ہمیں
جنت کے حقیقی متلاشی کی شخصیت کا ایک خوبصورت نقشہ دکھاتی ہے: وہ شخص جس کا دل
اللہ کے خوف سے لرزاں، مخلوق کے درد سے پگھلتا ہوا، اپنے رب پر بھروسہ سے لبریز
اور ہر قسم کے تکبر و غرور سے پاک ہو۔ یہ صفات حقیقی ایمان اور تقویٰ کا ثمرہ ہیں،
اور انہی کے ذریعے بندہ اپنے رب کی رحمت اور جنت کے انعام کا مستحق بنتا ہے۔
حدیث نمبر 55
عَنْ
عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ - رضي الله عنه - قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللهِ - صلى الله
عليه وسلم - بِمَرِّ الظَّهْرَانِ فِي حَجٍّ أَوْ عُمْرَةٍ , إِذْ
قَالَ: " انْظُرُوا هَلْ
تَرَوْنَ شَيْئًا؟ " , فَقُلْنَا: نَرَى غِرْبَانًا فِيهَا غُرَابٌ أَعْصَمُ (١) أَحْمَرُ
الْمِنْقَارِ وَالرِّجْلَيْنِ , فَقَالَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم -:
لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مِنْ النِّسَاءِ , إِلَّا مَنْ كَانَ مِنْهُنَّ مِثْلَ
هَذَا الْغُرَابِ فِي الْغِرْبَانِ
" (٢)
ترجمہ:
حضرت
عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے بیان کیا: ہم رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مر الظہران (مقام) پر حج یا عمرہ میں تھے کہ آپ ﷺ نے
(اچانک) فرمایا: "دیکھو، تمہیں کچھ نظر آتا ہے؟" ہم نے عرض کیا: ہمیں
کچے (سیاہ) کواں نظر آ رہی ہیں، جن میں ایک ایسا کوا ہے(١) جس کی چونچ اور ٹانگیں سرخ
ہیں۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "عورتوں میں سے جنت میں صرف
وہی داخل ہو گی جو ان (عورتوں) میں اسی کواں کی مانند ہو گی۔" (یعنی جس طرح
یہ سرخ چونچ والا کوا تمام کواں میں بہت کم ہے، اسی طرح جنت میں جانے والی عورتیں
تمام عورتوں میں بہت کم ہوں گی)۔(٢)
حواشی
اور حوالہ جات:
- (١) الْأَعْصَمُ: اس سے
مراد وہ کوا ہے جس کی چونچ اور ٹانگیں سرخ ہوں۔ یہ اس بات کی کنایت (اشارہ)
ہے کہ جنت میں داخل ہونے والی عورتیں بہت کم ہوں گی، کیونکہ یہ صفت (سرخ چونچ
والا کوا) کواں میں بہت ہی کم پایا جاتا ہے۔
- حوالہ: الصَّحِيحَة:
1849
- (٢) (حم) ١٧٨٠٥ , انظر الصَّحِيحَة: ١٨٥٠ , وَقَالَ
الْأَرْنَؤُوط: إسْنَادُهُ صَحِيحٌ:
- یہ حدیث مسند
احمد
(Ahmad) میں حدیث
نمبر 17805 پر موجود
ہے۔
- نیز
دیکھیے: السلسلة
الصحیحہ
(Al-Silsila al-Sahiha) حدیث
نمبر 1850۔
- محدث شیخ
شعیب الارنؤوط نے اس حدیث کی سند کو صحیح (Sahih) قرار دیا
ہے۔
حدیث
سے حاصل ہونے والے اسباق اور نکات:
یہ
حدیث ایک انتہائی اہم اور بلیغ تعلیم پر مشتمل ہے جو جنت میں داخل ہونے والے مردوں
اور عورتوں کی نسبت کے بارے میں ہے۔ اس سے مندرجہ ذیل اسباق و نکات حاصل ہوتے ہیں:
- جنت میں
داخلے کے لیے خواتین کی نسبتاً کم تعداد کا بیان: رسول اللہ
ﷺ نے ایک نادر سیاہ کواں (جس کی چونچ اور پاؤں سرخ ہوں) کی مثال دے کر یہ
واضح فرمایا کہ جنت میں داخل ہونے والی عورتیں تمام عورتوں میں سے
بہت ہی کم تعداد میں ہوں گی۔ یہ بات متعدد دیگر احادیث سے بھی ثابت ہے،
مثلاً یہ کہ جنت میں داخل ہونے والوں میں عورتیں مردوں کے مقابلے میں ایک
چالیسویں (یا اس سے بھی کم) حصے کے برابر ہوں گی۔
- مردوں کے
لیے بھی تنبیہ اور ترغیب: اگرچہ حدیث میں خاص طور پر
عورتوں کا ذکر ہے، لیکن اس کا مفہوم یہ ہے کہ جنت میں داخل ہونا بہرحال مردوں
اور عورتوں سب کے لیے آسان نہیں۔ یہ تصویر ہر مؤمن مرد و عورت کو یہ سوچنے پر
مجبور کرتی ہے کہ کیا وہ اس کم تعداد میں شامل ہو سکے گا/گی؟ اس طرح یہ حدیث
سب کے لیے عمل صالح میں زیادہ سے زیادہ محنت اور نیکیوں کی طرف سبقت
لے جانے کی ترغیب ہے۔
- احادیث کے
درمیان تطبیق اور حکمت کی تفہیم: دوسری
احادیث میں بیان ہوا ہے کہ دنیا میں عورتوں کی تعداد مردوں سے زیادہ ہے۔ اس
حدیث کے ساتھ مل کر یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اگرچہ عورتیں تعداد میں زیادہ
ہیں، لیکن جنت میں جانے والیوں کا تناسب کم ہے۔ اس کی متعدد حکمتیں ہو سکتی
ہیں، مثلاً: خواتین کے لیے دین پر قائم رہنا زیادہ آزمائشوں سے گھرا ہوا ہے،
یا یہ کہ معاشرے میں ان پر عائد کردہ ذمہ داریاں انہیں عبادت و طاعت کے اوقات
میں کمی کا باعث بنتی ہیں، وغیرہ۔ تاہم، یہ بات طے ہے کہ اللہ کا حکم
اور اس کا معیار ہی اصل ہے۔
- تعلیم کا
مؤثر اور یاد رکھنے کے قابل انداز: رسول اللہ
ﷺ نے صرف ایک عددی تناسب بتانے کی بجائے ایک بصری اور محسوس مثال
(تمثیل) پیش فرمائی جو سننے والوں کے ذہن پر نقش ہو گئی۔ راستے میں
موجود ایک نادر پرندے کو دیکھ کر اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے یہ اہم تعلیم
دینا، آپ ﷺ کے بہترین معلم اور مبین ہونے کی واضح دلیل ہے۔
- عمل پر
ابھار اور غفلت سے ڈرانا: یہ حدیث ایک زبردست انتباہ ہے
جو ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ صرف صنف یا ظاہری تعلق کافی نہیں۔ ہر
شخص کو اپنے اعمال کا حساب دینا ہے۔ یہ خواتین کے لیے بھی ایک واضح پیغام ہے
کہ وہ دنیا کی زیب و زینت اور فتنوں میں پڑ کر اپنی آخرت کو خراب نہ
کریں، بلکہ اپنی نجات کے لیے نیک اعمال میں محنت کریں۔ اسی طرح مردوں کے
لیے بھی یہ پیغام ہے کہ وہ اپنی ماؤں، بہنوں، بیویوں اور بیٹیوں کی دینی
تعلیم و تربیت کا خاص اہتمام کریں۔
خلاصہ: یہ
حدیث ہمیں جنت کے حصول کی جدوجہد میں سستی اور غفلت سے روٹی ہے۔ یہ واضح کرتی ہے
کہ جنت ہر کسی کے لیے نہیں، بلکہ صرف ان ہی لوگوں کے لیے ہے جو اپنے ایمان اور
اعمال کے ذریعے اس کے مستحق بنیں۔ یہ تعلیم ہمارے دل میں خوفِ الٰہی اور آخرت کی
فکر پیدا کرتی ہے، جو نیکیوں کی طرف رغبت اور گناہوں سے نفرت کا سبب بنتی ہے۔
حدیث نمبر 56
عَنْ
أَبِي التَّيَّاحِ قَالَ: كَانَ
لِمُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللهِ امْرَأَتَانِ، فَجَاءَ مِنْ عِنْدِ إِحْدَاهُمَا، فَقَالَتِ
الْأُخْرَى: جِئْتَ مِنْ
عِنْدِ فُلَانَةَ؟ , فَقَالَ: جِئْتُ مِنْ عِنْدِ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ -
رضي الله عنه - فَحَدَّثَنَا أَنَّ رَسُولَ اللهِ - صلى الله عليه وسلم - قَالَ: "
إِنَّ
أَقَلَّ سَاكِنِي الْجَنَّةِ النِّسَاءُ "
ترجمہ:
ابو
التیاح کہتے ہیں: مطرف بن عبداللہ کی دو بیویاں تھیں۔ وہ ایک بیوی کے پاس سے (گھر)
آئے تو دوسری بیوی نے کہا: "کیا آپ فلاں (پہلی بیوی) کے پاس سے آئے
ہیں؟" تو انہوں نے (یہ سن کر دوسری بات کرتے ہوئے) کہا: "میں عمران بن
حصین رضی اللہ عنہ کے پاس سے آ رہا ہوں، اور انہوں نے ہم سے بیان کیا کہ رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: 'بے شک جنت میں رہنے والوں میں سب سے کم تعداد
عورتوں کی ہے۔'"
حوالہ
جات:
(١) (م) ٢٧٣٨ , (حم) ١٩٨٥٠ , (حب) ٧٤٥٧
- (م) یہ حدیث صحیح
مسلم میں حدیث نمبر 2738 پر موجود ہے۔
- (حم) یہ حدیث مسند احمد میں
حدیث نمبر 19850 پر موجود ہے۔
- (حب) یہ حدیث صحيح ابن حبان میں حدیث نمبر 7457 پر موجود ہے۔
حدیث
سے حاصل ہونے والے اسباق اور نکات:
- جنت میں
خواتین کی نسبتاً کم تعداد کا واضح بیان: یہ حدیث
اس حقیقت کو واضح اور دوٹوک الفاظ میں بیان کرتی ہے کہ آخرت میں جنت میں داخل
ہونے والی خواتین کی مجموعی تعداد مردوں کے مقابلے میں کم ہوگی۔ یہ بات متعدد
دیگر صحیح احادیث (جیسے سرخ چونچ والے کواں والی حدیث) سے بھی ثابت ہے اور اس
پر ایمان لانا ضروری ہے۔
- خواتین کے
لیے خاص تنبیہ، انتباہ اور عمل پر ابھار: یہ بیان
خواتین کے لیے ایک بلیغ انتباہ ہے کہ وہ اپنی آخرت کی فکر کریں۔ دنیا کی زینت
و آرائش، فتنوں اور معاشرتی مشغولیات میں اس قدر نہ ڈوب جائیں کہ اپنی
everlasting نجات
کو خطرے میں ڈال بیٹھیں۔ یہ حدیث انہیں یاد دلاتی ہے کہ جنت کا حصول ہر ایک
کے لیے آسان نہیں، بلکہ اس کے لیے ایمان، عمل صالح، تقویٰ اور اللہ کی اطاعت
میں مسلسل جدوجہد درکار ہے۔
- مردوں کی
ذمہ داری اور فریضہ کی طرف اشارہ: اگر جنت
میں خواتین کی تعداد کم ہے تو اس کی ایک ممکنہ وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ مرد
(باپ، شوہر، بھائی) اپنی بیویوں، بیٹیوں، بہنوں اور ماؤں کی دینی تعلیم و
تربیت، ان کی رہنمائی اور ان کے جنت میں داخلے کے لیے دعا و کوشش میں کوتاہی
کرتے ہیں۔ اس لیے یہ حدیث مردوں کو بھی یہ احساس دلاتی ہے کہ وہ اپنے گھر کی
خواتین کی دینی، اخلاقی اور عملی رہنمائی کا خاص اہتمام کریں۔
- "کم
تعداد" کا مطلب محرومی یا ناامیدی ہرگز نہیں: یہ بات
ذہن میں رہنی چاہیے کہ "کم تعداد" کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ عورتیں
جنت سے محروم رہیں گی یا ان کے لیے جنت کے دروازے بند ہیں۔ بلکہ، جو عورتیں
ایمان، عمل صالح، اخلاق اور اپنی شرعی ذمہ داریوں کے ساتھ اپنی زندگی گزاریں
گی، وہ یقیناً جنت میں داخل ہوں گی، بلکہ بعض روایات میں ان کے لیے خاص
انعامات اور بلند درجات کا تذکرہ بھی ہے۔ مقصد محض تنبیہ، غفلت دور
کرنا اور عمل پر ابھارنا ہے۔
- اعمال کی
اہمیت اور تقویٰ کو معیار بنانا: یہ حدیث
اس اصول کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ آخرت میں نجات اور جنت میں داخلے کا اصل
معیار صرف "عورت" یا "مرد" ہونا نہیں، بلکہ اعمال،
تقویٰ، اخلاص اور اللہ کی رضا ہے۔ اگر عورتیں کم تعداد میں جنت میں
جائیں گی تو یہ ان کے اپنے اعمال اور ان کی آزمائشوں کے مختلف ہونے کی وجہ سے
ہوگا۔ لہٰذا ہر شخص، خواہ مرد ہو یا عورت، کو چاہیے کہ وہ اپنے اعمال کو درست
کرے، اپنی نیتوں کو صاف رکھے اور نیکیوں میں سبقت حاصل کرنے کی کوشش کرے۔
- اللہ کے
فیصلے پر ایمان اور اس کی حکمت کو تسلیم کرنا: آخرت کے
تمام معاملات اللہ تعالیٰ کے کامل علم، اس کی لامحدود حکمت اور اس کے عادلانہ
فیصلے پر مبنی ہیں۔ جنت و دوزخ میں مردوں اور عورتوں کا تناسب بھی اسی حکمت
کا ایک حصہ ہے جس کی تفصیل ہم نہیں جانتے۔ مومن کا کام اس پر پورا ایمان
رکھنا، اس کے فیصلے کو تسلیم کرنا اور اپنی everlasting نجات کے
حصول کے لیے ہر ممکن کوشش کرنا ہے، نہ کہ اس کے اسباب و حکمتیں گننے یا اس پر
اعتراض کرنے میں پڑ جانا۔
خلاصہ: یہ حدیث ہمیں
یہ یاد دلاتی ہے کہ جنت کی نعمتیں اور اس میں داخلہ محض خواہش یا تمنّا سے نہیں،
بلکہ ایمان، عمل صالح، تقویٰ اور اللہ کی رضا کے حصول کے صلے میں
ملتا ہے۔ یہ مرد و عورت دونوں کے لیے اپنے اعمال کا محاسبہ کرنے، اپنی غلطیوں پر
نظرثانی کرنے اور آخرت کی تیاری میں زیادہ سے زیادہ سنجیدہ ہونے کا پیغام ہے۔
آخِرُ رَجُلٍ يَدْخُلُ الْجَنَّة (جنت میں داخل ہونے والا آخری شخص)
حدیث نمبر 57
(خ م طب) , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رضي الله عنه - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم -: (يَفْرُغُ اللهُ مِنْ الْقَضَاءِ بَيْنَ الْعِبَادِ , وَيَبْقَى رَجُلٌ بَيْنَ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ , وَهُوَ آخِرُ أَهْلِ النَّارِ دُخُولًا الْجَنَّةَ , مُقْبِلٌ بِوَجْهِهِ عَلَى النَّارِ) (١) (فَهْوَ يَمْشِي مَرَّةً , وَيَكْبُو (٢) مَرَّةً , وَتَسْفَعُهُ النَّارُ مَرَّةً (٣)) (٤) (فَيَقُولُ: يَا رَبِّ اصْرِفْ وَجْهِي عَنْ النَّارِ , قَدْ قَشَبَنِي (٥) رِيحُهَا وَأَحْرَقَنِي ذَكَاؤُهَا (٦)) (٧) (فَلَا يَزَالُ يَدْعُو اللهَ، فَيَقُولُ اللهُ: لَعَلَّكَ إِنْ أَعْطَيْتُكَ أَنْ تَسْأَلَنِي غَيْرَهُ؟ , فَيَقُولُ: لَا وَعِزَّتِكَ لَا أَسْأَلُكَ غَيْرَهُ) (٨) (فَيُعْطِي اللهَ مَا يَشَاءُ مِنْ عَهْدٍ وَمِيثَاقٍ , فَيَصْرِفُ اللهُ وَجْهَهُ عَنْ النَّارِ) (٩) (فَإِذَا مَا جَاوَزَهَا الْتَفَتَ إِلَيْهَا فَقَالَ: تَبَارَكَ الَّذِي نَجَّانِي مِنْكِ , لَقَدْ أَعْطَانِي اللهُ شَيْئًا مَا أَعْطَاهُ أَحَدًا مِنْ الْأَوَّلِينَ وَالْآخِرِينَ , قَالَ: فَتُرْفَعُ لَهُ شَجَرَةٌ , فَيَقُولُ: أَيْ رَبِّ أَدْنِنِي مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ , فَلْأَسْتَظِلَّ بِظِلِّهَا , وَأَشْرَبَ مِنْ مَائِهَا , فَيَقُولُ اللهُ - عز وجل -: يَا ابْنَ آدَمَ , لَعَلِّي إِنَّ أَعْطَيْتُكَهَا سَأَلْتَنِي غَيْرَهَا؟ , فَيَقُولُ: لَا يَا رَبِّ , وَيُعَاهِدُهُ أَنْ لَا يَسْأَلَهُ غَيْرَهَا - وَرَبُّهُ يَعْذِرُهُ , لِأَنَّهُ يَرَى مَا لَا صَبْرَ لَهُ عَلَيْهِ - فَيُدْنِيهِ مِنْهَا , فَيَسْتَظِلُّ بِظِلِّهَا , وَيَشْرَبُ مِنْ مَائِهَا , ثُمَّ تُرْفَعُ لَهُ شَجَرَةٌ هِيَ أَحْسَنُ مِنْ الْأُولَى , فَيَقُولُ: أَيْ رَبِّ أَدْنِنِي مِنْ هَذِهِ لِأَشْرَبَ مِنْ مَائِهَا , وَأَسْتَظِلَّ بِظِلِّهَا , لَا أَسْأَلُكَ غَيْرَهَا , فَيَقُولُ: يَا ابْنَ آدَمَ , أَلَمْ تُعَاهِدْنِي أَنْ لَا تَسْأَلَنِي غَيْرَهَا؟) (١٠) (فَيَقُولُ: يَا رَبِّ , هَذِهِ لَا أَسْأَلُكَ غَيْرَهَا) (١١) (فَيَقُولُ: لَعَلِّي إِنْ أَدْنَيْتُكَ مِنْهَا تَسْأَلُنِي غَيْرَهَا؟ , فَيُعَاهِدُهُ أَنْ لَا يَسْأَلَهُ غَيْرَهَا - وَرَبُّهُ يَعْذُرُهُ لِأَنَّهُ يَرَى مَا لَا صَبْرَ لَهُ عَلَيْهِ - فَيُدْنِيهِ مِنْهَا , فَيَسْتَظِلُّ بِظِلِّهَا , وَيَشْرَبُ مِنْ مَائِهَا , ثُمَّ تُرْفَعُ لَهُ شَجَرَةٌ عِنْدَ بَابِ الْجَنَّةِ هِيَ أَحْسَنُ مِنْ الْأُولَيَيْنِ , فَيَقُولُ: أَيْ رَبِّ أَدْنِنِي مِنْ هَذِهِ لِأَسْتَظِلَّ بِظِلِّهَا, وَأَشْرَبَ مِنْ مَائِهَا , لَا أَسْأَلُكَ غَيْرَهَا , فَيَقُولُ: يَا ابْنَ آدَمَ , أَلَمْ تُعَاهِدْنِي أَنْ لَا تَسْأَلَنِي غَيْرَهَا؟ , قَالَ: بَلَى يَا رَبِّ , هَذِهِ لَا أَسْأَلُكَ غَيْرَهَا - وَرَبُّهُ يَعْذُرُهُ لِأَنَّهُ يَرَى مَا لَا صَبْرَ لَهُ عَلَيْهِ - قَالَ: فَيُدْنِيهِ مِنْهَا , فَإِذَا أَدْنَاهُ مِنْهَا) (١٢) (رَأَى بَهْجَتَهَا وَمَا فِيهَا مِنْ النَّضْرَةِ وَالسُّرُورِ) (١٣) (وَسَمِعَ أَصْوَاتَ أَهْلِ الْجَنَّةِ) (١٤) (فَيَسْكُتُ مَا شَاءَ اللهُ أَنْ يَسْكُتَ، ثُمَّ يَقُولُ: يَا رَبِّ أَدْخِلْنِي الْجَنَّةَ، فَيَقُولُ اللهُ: وَيْحَكَ يَا ابْنَ آدَمَ مَا أَغْدَرَكَ , أَلَيْسَ قَدْ أَعْطَيْتَ الْعُهُودَ وَالْمِيثَاقَ أَنْ لَا تَسْأَلَ غَيْرَ الَّذِي أُعْطِيتَ؟، فَيَقُولُ: يَا رَبِّ لَا تَجْعَلْنِي أَشْقَى خَلْقِكَ , فَيَضْحَكُ اللهُ - عز وجل - مِنْهُ , ثُمَّ يَأذَنُ لَهُ فِي دُخُولِ الْجَنَّةِ) (١٥) (فَيَأتِيهَا , فَيُخَيَّلُ إِلَيْهِ أَنَّهَا مَلْأَى , فَيَرْجِعُ فَيَقُولُ: يَا رَبِّ وَجَدْتُهَا مَلْأَى , فَيَقُولُ: اذْهَبْ فَادْخُلْ الْجَنَّةَ , فَيَأتِيهَا, فَيُخَيَّلُ إِلَيْهِ أَنَّهَا مَلْأَى, فَيَرْجِعُ فَيَقُولُ: يَا رَبِّ وَجَدْتُهَا مَلْأَى) (١٦) (فَيَقُولُ: يَا ابْنَ آدَمَ , مَا يَصْرِينِي مِنْكَ (١٧)؟ , أَيُرْضِيكَ أَنْ أُعْطِيَكَ مِثْلَ الدُّنْيَا) (١٨) (وَعَشَرَةَ أَمْثَالِهَا مَعَهَا؟) (١٩) (فَيَقُولُ: يَا رَبِّ , أَتَسْتَهْزِئُ مِنِّي وَأَنْتَ رَبُّ الْعَالَمِينَ؟ " , فَضَحِكَ ابْنُ مَسْعُودٍ - رضي الله عنه - وَقَالَ: أَلَا تَسْأَلُونِي مِمَّ أَضْحَكُ؟ , فَقَالُوا: مِمَّ تَضْحَكُ؟ قَالَ: " هَكَذَا ضَحِكَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم -[حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ (٢٠) "] (٢١) فَقَالُوا: مِمَّ تَضْحَكُ يَا رَسُولَ اللهِ , قَالَ: " مِنْ ضِحْكِ رَبِّ الْعَالَمِينَ حِينَ قَالَ: أَتَسْتَهْزِئُ مِنِّي وَأَنْتَ رَبُّ الْعَالَمِينَ؟ , فَيَقُولُ اللهُ - عز وجل -: إِنِّي لَا أَسْتَهْزِئُ مِنْكَ , وَلَكِنِّي عَلَى مَا أَشَاءُ قَادِرٌ) (٢٢) (قَالَ: فَإِذَا دَخَلَهَا قَالَ اللهُ لَهُ: تَمَنَّهْ، فَسَأَلَ رَبَّهُ وَتَمَنَّى) (٢٣) (حَتَّى تَنْقَطِعَ بِهِ الْأَمَانِيُّ) (٢٤) (حَتَّى إِذَا انْقَطَعَتْ أُمْنِيَّتُهُ قَالَ اللهُ - عز وجل -: تَمَنَّ مِنْ كَذَا وَكذَا) (٢٥) (فَيَتَمَنَّى، ثُمَّ يُقَالُ لَهُ: تَمَنَّ مِنْ كَذَا , فَيَتَمَنَّى) (٢٦) (- يُذَكِّرُهُ رَبُّهُ -) (٢٧) (حَتَّى إِذَا انْتَهَتْ بِهِ الْأَمَانِيُّ قَالَ اللهُ تَعَالَى: لَكَ ذَلِكَ , وَعَشَرَةُ أَمْثَالِهِ مَعَهُ) (٢٨) (قَالَ: ثُمَّ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ) (٢٩) (حَتَّى إِذَا دَنَا مِنَ النَّاسِ رُفِعَ لَهُ قَصْرٌ مِنْ دُرَّةٍ , فَيَخِرُّ سَاجِدًا، فَيُقَالَ لَهُ: ارْفَعْ رَأسَكَ, مَا لَكَ؟ , فَيَقُولُ: رَأَيْتُ رَبِّي , أَوْ تَرَاءَى لِي رَبِّي , فَيُقَالُ لَهُ: إِنَّمَا هُوَ مَنْزِلٌ مِنْ مَنَازِلِكَ, قَالَ: ثُمَّ يَلْقَى رَجُلًا , فَيَتَهَيَّأُ لِلسُّجُودِ لَهُ , فَيُقَالَ لَهُ: مَا لَكَ؟ , فَيَقُولُ: رَأَيْتُ أَنَّكَ مَلَكٌ مِنَ الْمَلَائِكَةِ، فَيَقُولُ: إِنَّمَا أَنَا خَازِنٌ مِنْ خُزَّانِكَ، عَبْدٌ مِنْ عَبِيدِكَ , تَحْتَ يَدِي أَلْفُ قَهْرَمَانٍ (٣٠) عَلَى مِثْلِ مَا أَنَا عَلَيْهِ , قَالَ: فَيَنْطَلِقُ أَمَامَهُ حَتَّى يَفْتَحَ لَهُ الْقَصْرَ , وَهُوَ فِي دُرَّةٍ مُجَوَّفَةٍ , سَقَائِفُهَا وَأَبْوَابُهَا وَأَغْلاقُهَا وَمَفَاتِيحُهَا مِنْهَا , تَسْتَقْبِلُهُ جَوْهَرَةٌ خَضْرَاءُ مُبَطَّنَةٌ بِحَمْرَاءَ , كُلُّ جَوْهَرَةٍ تُفْضِي إِلَى جَوْهَرَةٍ عَلَى غَيْرِ لَوْنِ الْأُخْرَى , فِي كُلِّ جَوْهَرَةٍ سُرَرٌ وَأَزْوَاجٌ، وَوَصَائِفُ , أَدْنَاهُنَّ حَوْرَاءُ (٣١) عَيْنَاءُ (٣٢) عَلَيْهَا سَبْعُونَ حُلَّةً (٣٣) يَرَى مُخُّ سَاقِهَا مِنْ وَرَاءِ حُلَلِهَا (٣٤) كَبِدُهَا مِرْآتُهُ , وَكَبِدُهُ مِرْآتُهَا , إِذَا أَعْرَضَ عَنْهَا (٣٥) إِعْرَاضَةً , ازْدَادَتْ فِي عَيْنِهِ سَبْعِينَ ضِعْفًا عَمَّا كَانَتْ قَبْلَ ذَلِكَ، وَإِذَا أَعْرَضَتْ عَنْهُ إِعْرَاضَةً , ازْدَادَ فِي عَيْنِهَا سَبْعِينَ ضِعْفًا عَمَّا كَانَ قَبْلَ ذَلِكَ، فَيَقُولُ لَهَا: وَاللهِ لَقَدِ ازْدَدْتِ فِي عَيْنِي سَبْعِينَ ضِعْفًا، وَتَقُولُ لَهُ: وَأَنْتَ وَاللهِ لَقَدِ ازْدَدْتَ فِي عَيْنِي سَبْعِينَ ضِعْفًا) (٣٦) وفي رواية: (فَتَدْخُلُ عَلَيْهِ زَوْجَتَاهُ مِنْ الْحُورِ الْعِينِ , فَتَقُولَانِ لَهُ: الْحَمْدُ للهِ الَّذِي أَحْيَاكَ لَنَا , وَأَحْيَانَا لَكَ) (٣٧) (ثُمَّ يُقَالُ لَهُ: أَشْرِفْ (٣٨) قَالَ: فَيُشْرِفُ، فَيُقَالُ لَهُ: مُلْكُكَ مَسِيرَةُ مِائَةِ عَامٍ يَنْفُذُهُ بَصَرُهُ) (٣٩) (فَيَقُولُ: مَا أُعْطِيَ أَحَدٌ مِثْلَ مَا أُعْطِيتُ) (٤٠) (وَذَلِكَ أَدْنَى أَهْلِ الْجَنَّةِ مَنْزِلَةً ") (٤١)
ترجمہ:
(بخاری، مسلم، طبرانی)، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "اللہ تعالیٰ بندوں کے درمیان فیصلے سے فارغ ہو جائے گا، اور ایک شخص جنت اور دوزخ کے درمیان باقی رہ جائے گا، اور وہ جہنم میں داخل ہونے والوں میں سے جنت میں داخل ہونے والا آخری شخص ہوگا، اپنا چہرہ دوزخ کی طرف کیے ہوئے۔ (1) (پھر وہ کبھی چلتا ہے اور کبھی منہ کے بل گرتا ہے (2) اور کبھی دوزخ اس کے چہرے کو جھلسا دیتی ہے (3)) (4) (تو وہ کہے گا: اے میرے رب! میرے چہرے کو دوزخ سے پھیر دے، اس کی ہوا نے مجھے جلا ڈالا ہے (5) اور اس کی شعلہ زنی نے مجھے جلا کر راکھ کر دیا ہے (6)) (7) (پھر وہ اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا رہے گا، تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا: شاید اگر میں نے تجھے یہ دے دیا تو تو مجھ سے کچھ اور مانگے گا؟ وہ کہے گا: نہیں، تیری عزت کی قسم! میں تیرے سوا کسی سے نہیں مانگوں گا) (8) (پھر اللہ تعالیٰ اس سے جتنا چاہے عہد و پیمان لے گا، پھر اللہ تعالیٰ اس کا چہرہ دوزخ سے پھیر دے گا) (9) (پھر جب وہ اس (دوزخ) سے گزر جائے گا تو اس کی طرف مڑ کر دیکھے گا اور کہے گا: بڑی برکت والا ہے وہ جس نے مجھے تجھ سے نجات دی، بیشک اللہ تعالیٰ نے مجھے ایسی چیز عطا فرمائی ہے جو اس نے اگلوں پچھلوں میں سے کسی کو نہیں دی۔ (راوی نے) کہا: پھر اس کے سامنے ایک درخت کھڑا کیا جائے گا، تو وہ کہے گا: اے میرے رب! مجھے اس درخت کے قریب لے جا، تاکہ میں اس کے سایہ میں سایہ لے لوں اور اس کے پانی سے پی لوں۔ تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا: اے آدم کے بیٹے! شاید اگر میں نے تجھے وہ درخت دے دیا تو تو مجھ سے کچھ اور مانگے گا؟ وہ کہے گا: نہیں، اے میرے رب! اور وہ اللہ سے عہد کرے گا کہ اس کے سوا کچھ نہیں مانگے گا — اور اس کا رب اس کے عذر کو قبول کرے گا، کیونکہ وہ دیکھ رہا ہے کہ اس میں وہ صبر نہیں ہے جو اس چیز پر کر سکے — پھر اللہ اسے اس درخت کے قریب لے جائے گا، تو وہ اس کے سایہ میں سایہ لے گا اور اس کے پانی سے پی لے گا۔ پھر اس کے سامنے ایک اور درخت کھڑا کیا جائے گا جو پہلے سے زیادہ خوبصورت ہوگا، تو وہ کہے گا: اے میرے رب! مجھے اس درخت کے قریب لے جا، تاکہ میں اس کے پانی سے پی لوں اور اس کے سایہ میں سایہ لے لوں، میں تجھ سے اس کے سوا کچھ نہیں مانگوں گا۔ تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا: اے آدم کے بیٹے! کیا تو نے مجھ سے عہد نہیں کیا تھا کہ تو مجھ سے اس کے سوا کچھ نہیں مانگے گا؟) (10) (تو وہ کہے گا: اے میرے رب! (یہ) میں تجھ سے اس کے سوا کچھ نہیں مانگوں گا) (11) (تو اللہ فرمائے گا: شاید اگر میں تجھے اس کے قریب لے گیا تو تو مجھ سے کچھ اور مانگے گا؟ پھر وہ اللہ سے عہد کرے گا کہ اس کے سوا کچھ نہیں مانگے گا — اور اس کا رب اس کے عذر کو قبول کرے گا، کیونکہ وہ دیکھ رہا ہے کہ اس میں وہ صبر نہیں ہے جو اس چیز پر کر سکے — پھر اللہ اسے اس کے قریب لے جائے گا، تو وہ اس کے سایہ میں سایہ لے گا اور اس کے پانی سے پی لے گا۔ پھر اس کے سامنے جنت کے دروازے پر ایک درخت کھڑا کیا جائے گا جو پہلے دونوں سے زیادہ خوبصورت ہوگا، تو وہ کہے گا: اے میرے رب! مجھے اس درخت کے قریب لے جا، تاکہ میں اس کے سایہ میں سایہ لے لوں اور اس کے پانی سے پی لوں، میں تجھ سے اس کے سوا کچھ نہیں مانگوں گا۔ تو اللہ فرمائے گا: اے آدم کے بیٹے! کیا تو نے مجھ سے عہد نہیں کیا تھا کہ تو مجھ سے اس کے سوا کچھ نہیں مانگے گا؟ اس نے کہا: ہاں اے میرے رب! (یہ) میں تجھ سے اس کے سوا کچھ نہیں مانگوں گا — اور اس کا رب اس کے عذر کو قبول کرے گا، کیونکہ وہ دیکھ رہا ہے کہ اس میں وہ صبر نہیں ہے جو اس چیز پر کر سکے — (راوی نے) کہا: پھر اللہ اسے اس کے قریب لے جائے گا، پھر جب اسے اس کے قریب لے جائے گا) (12) (تو وہ اس کی رونق اور اس میں موجود تازگی اور خوشیوں کو دیکھے گا) (13) (اور اہل جنت کی آوازیں سنے گا) (14) (پھر وہ کچھ دیر خاموش رہے گا جتنی دیر اللہ چاہے گا، پھر کہے گا: اے میرے رب! مجھے جنت میں داخل کر دے۔ تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا: افسوس ہے تیرے حال پر اے آدم کے بیٹے! تجھے کس چیز نے عہد شکنی پر اُبھارا ہے؟ کیا تو نے عہد و پیمان نہیں دیے تھے کہ جو کچھ تجھے دیا گیا ہے اس کے سوا کچھ نہیں مانگے گا؟ وہ کہے گا: اے میرے رب! مجھے اپنی مخلوق میں سے بدترین شخص نہ بنا۔ تو اللہ تعالیٰ اس (کی بات) پر ہنس دے گا، پھر اسے جنت میں داخل ہونے کی اجازت دے دے گا) (15) (پھر وہ جنت کے پاس آئے گا، تو اسے خیال ہوگا کہ وہ بھری ہوئی ہے، تو وہ واپس آ کر کہے گا: اے میرے رب! میں نے اسے بھری ہوئی پائی ہے۔ اللہ فرمائے گا: جا اور جنت میں داخل ہو جا۔ پھر وہ جنت کے پاس آئے گا، تو اسے خیال ہوگا کہ وہ بھری ہوئی ہے، تو وہ واپس آ کر کہے گا: اے میرے رب! میں نے اسے بھری ہوئی پائی ہے) (16) (تو اللہ فرمائے گا: اے آدم کے بیٹے! کونسی چیز ہے جو تجھے مجھ سے مانگنے سے روکتی ہے (17)؟ کیا تجھے یہ پسند ہے کہ میں تجھے دنیا جتنی جنت دے دوں) (18) (اور اس کے ساتھ دس گنا؟) (19) (تو وہ کہے گا: اے میرے رب! کیا تو میرا مذاق اڑا رہا ہے حالانکہ تو رب العالمین ہے؟" (راوی نے) کہا: (یہ سن کر) حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ہنس پڑے اور کہا: کیا تم مجھ سے نہیں پوچھو گے کہ میں کس چیز پر ہنس رہا ہوں؟ تو صحابہ نے کہا: آپ کس چیز پر ہنس رہے ہیں؟ انہوں نے کہا: "اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہنسے تھے [یہاں تک کہ آپ کے دندان مبارک ظاہر ہو گئے (20)]" (21) تو صحابہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ کس چیز پر ہنس رہے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "اپنے رب العالمین کے ہنسنے پر، جب اس (بندے) نے کہا: کیا تو میرا مذاق اڑا رہا ہے حالانکہ تو رب العالمین ہے؟ تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا: میں تیرا مذاق نہیں اڑا رہا، لیکن میں جو چاہتا ہوں کرنے پر قادر ہوں") (22) (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر جب وہ جنت میں داخل ہو گا تو اللہ تعالیٰ اس سے فرمائے گا: مانگ، تو وہ اپنے رب سے مانگے گا اور خواہش کرے گا) (23) (یہاں تک کہ اس کی خواہشیں ختم ہو جائیں) (24) (یہاں تک کہ جب اس کی خواہشیں ختم ہو جائیں گی تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا: یہ اور یہ مانگ) (25) (تو وہ مانگے گا، پھر اس سے کہا جائے گا: یہ اور یہ مانگ، تو وہ مانگے گا) (26) (—اس کا رب اسے یاد دلاتا ہے—) (27) (یہاں تک کہ جب اس کی خواہشیں ختم ہو جائیں گی تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تیرے لیے وہ سب ہے، اور اس کے ساتھ دس گنا ہے) (28) (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر وہ جنت میں داخل ہو گا) (29) (یہاں تک کہ جب وہ لوگوں کے قریب پہنچے گا تو اس کے لیے موتی کا ایک محل بلند کیا جائے گا، تو وہ سجدے میں گر پڑے گا۔ تو اس سے کہا جائے گا: اپنا سر اٹھا، تیرا کیا حال ہے؟ وہ کہے گا: میں نے اپنے رب کو دیکھ لیا ہے، یا میرے رب نے مجھ پر تجلی فرمائی ہے۔ تو اس سے کہا جائے گا: یہ تیرے محلات میں سے ایک محل ہے۔ (راوی نے) کہا: پھر وہ ایک شخص سے ملے گا، تو وہ اس کے سجدہ کرنے کے لیے تیار ہو گا۔ تو اس سے کہا جائے گا: تیرا کیا حال ہے؟ وہ کہے گا: میں نے دیکھا کہ تو فرشتوں میں سے ایک فرشتہ ہے۔ تو وہ (شخص) کہے گا: میں تیرا ایک خزانچی ہوں، تیرا بندہ ہوں، میرے زیر نگرانی ایک ہزار قلعہ دار (30) ہیں جو میرے ہی جیسے ہیں۔ (راوی نے) کہا: پھر وہ اس کے آگے آگے چلے گا یہاں تک کہ اس کے لیے محل کا دروازہ کھول دے گا۔ اور وہ (محل) ایک کھوکھلے موتی میں ہے، اس کی چھتیں، دروازے، تالے اور چابیاں سب اسی (موتی) سے ہیں۔ اسے ایک سبز جوہر ملا ہوا ہے جو سرخ جوہر کے ساتھ استرکاری ہوا ہے۔ ہر جوہر دوسرے جوہر کی طرف کھلتا ہے جو دوسرے کے رنگ سے مختلف ہے۔ ہر جوہر میں تخت ہیں، بیویاں ہیں، اور لونڈیاں ہیں۔ ان میں سے ادنیٰ (کم ترین مرتبے والی) حور، (31) جس کی آنکھیں بہت وسیع ہیں (32) اس پر ستر حُلے (33) ہیں۔ وہ اپنی پنڈلی کا گودا اپنے کپڑوں کے پیچھے سے دیکھ سکتی ہے (34) اس کا جگر اس کا آئینہ ہے، اور اس کا جگر اس کا آئینہ ہے۔ جب وہ اس سے (35) ایک بار پھیرتا ہے تو اس کی نگاہ میں وہ پہلے سے ستر گنا زیادہ خوبصورت ہو جاتی ہے، اور جب وہ اس سے ایک بار پھرتی ہے تو اس کی نگاہ میں وہ پہلے سے ستر گنا زیادہ خوبصورت ہو جاتا ہے۔ تو وہ اس سے کہے گا: اللہ کی قسم! تو میری نگاہ میں ستر گنا زیادہ خوبصورت ہو گئی ہے۔ اور وہ اس سے کہے گی: اور تو اللہ کی قسم! تو میری نگاہ میں ستر گنا زیادہ خوبصورت ہو گیا ہے) (36) اور ایک روایت میں ہے: (پھر اس کے پاس حور العین میں سے اس کی دو بیویاں آئیں گی، تو وہ دونوں اس سے کہیں گی: تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جس نے تجھے ہمارے لیے زندہ کیا اور ہمیں تیرے لیے زندہ کیا) (37) (پھر اس سے کہا جائے گا: اوپر دیکھو (38) (راوی نے) کہا: تو وہ اوپر دیکھے گا، تو اس سے کہا جائے گا: تیری سلطنت سو سال کی مسافت کی ہے، تیری نظر اس کی انتہا تک پہنچے گی) (39) (تو وہ کہے گا: کسی کو بھی ایسا نہیں دیا گیا جیسا مجھے دیا گیا) (40) (اور یہ جنت میں داخل ہونے والے سب سے کم درجے والے شخص کا حال ہے") (41)
حواشی اور وضاحت:
- (بخاری 773)
- یعنی: منہ کے بل گرتا ہے۔
- یعنی: اس کے چہرے پر مارتی ہے، اسے
سیاہ کر دیتی ہے اور اس میں اثر ڈالتی ہے۔ (النووی - ج 1 / ص 330)
- (مسلم 187)
- یعنی: اسے نقصان پہنچایا، تکلیف دی
اور تباہ کر دیا۔ داؤودی نے کہا: اس کا مطلب ہے، اس کی کھال اور صورت کو بدل
دیا۔ (النووی - ج 1 / ص 330)
- یعنی: اس کی لپٹ، بھڑک اور شدید گرمی۔
(النووی - ج 1 / ص 323)
- (بخاری 773)
- (بخاری 6204)
- (بخاری 773)
- (مسلم 187)
- (احمد 3714)
- (مسلم 187)
- (بخاری 773)
- (مسلم 187)
- (بخاری 773)
- (بخاری 6202 , مسلم 186)
- یعنی: تیری درخواست مجھ سے کون سی چیز
روکتی ہے؟۔ شرح النووی علی مسلم (ج 1 / ص 330)
- (مسلم 187 , احمد 3899)
- (بخاری 6202 , مسلم 186)
- نواجذ: داڑھوں کے بعد کے دانت، یا
کچکھلیاں (جو کچلیوں کے بعد ہوتی ہیں)۔
- (بخاری 6202 , مسلم 186)
- (مسلم 187 , احمد 3899)
- (بخاری 7000)
- (بخاری 6204)
- (بخاری 773)
- (بخاری 6204)
- (بخاری 773)
- (بخاری 773 , مسلم 188)
- (احمد 11232 ، اور شیخ شعیب
الارنؤوط نے کہا: اس کی سند صحیح ہے)
- قہرمان: امانت دار خزانچی جو اپنی ذمہ
داری کی حفاظت کرتا ہے، یہ فارسی زبان کا لفظ ہے۔
- حوراء: وہ جس کی آنکھیں شدید سفید اور
شدید سیاہ ہوں۔ (النهایة 1/1079)
- العین: عیناء کی جمع ہے، یعنی وسیع
آنکھوں والی۔ (النهایة ج 3 / ص 625)
- حُلَّہ: ایک ہی قسم کا تہبند اور چادر۔
(فتح الباری - حدیث 30)
- مراد: اس کے بالکل صاف اورشفاف ہونے
کی صفت ہے، اور ہڈی کے اندر کی چیز ہڈی، گوشت اور کھال سے نہیں چھپتی۔ فتح
الباری (ج 10 / ص 30)
- یعنی: پھر جائے۔
- (طبرانی 9763 ، صحیح، دیکھیں
صحیح الترغیب والترہیب: 3591)
- (مسلم 188 ، احمد 11232)
- یعنی: اوپر دیکھو۔
- (طبرانی 9763)
- (مسلم 188)
- (بخاری 6202 ، مسلم 186)
حدیث
سے حاصل ہونے والے اسباق و نکات:
- اللہ
تعالیٰ کی بے انتہا رحمت و مغفرت: یہ حدیث
اللہ تعالیٰ کی اپنے بندوں کے ساتھ نہایت وسیع رحمت اور بے پایاں مغفرت کی
عکاس ہے۔ جو شخص دوزخ کے بالکل قریب پہنچ چکا ہے، اس کے گناہوں کے باوجود
اللہ تعالیٰ اس کی التجا قبول فرماتا ہے اور اسے معاف کر کے جنت میں داخلہ
عطا کرتا ہے۔
- دعا کی
قوت اور اہمیت: اس شخص کا دوزخ کی ہولناکیوں کے
باوجود اللہ سے دست بستہ دعا کرنا اور اللہ کا اس کی دعا قبول فرمانا، دعا کی
اہمیت اور اس کے اثر کو واضح کرتا ہے۔ انسان کو ہر حال میں اللہ سے امید
رکھتے ہوئے دعا کرتے رہنا چاہیے۔
- عہد کی
پاسداری: حدیث میں بار بار عہد و پیمان
کا ذکر آیا ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندے سے عہد لیتا ہے اور بندے کی عہد شکنی
پر اسے تنبیہ بھی کرتا ہے۔ اس سے عہد کی پابندی کی اہمیت اور وعدہ خلافی کی
مذمت واضح ہوتی ہے۔
- انسانی
فطرت اور آزمائش: انسان کمزور اور حریص ہے۔ یہ
شخص بار بار اپنے عہد توڑتا ہے کیونکہ اس سے بہتر اور خوبصورت چیز دیکھ کر اس
کی خواہش بڑھ جاتی ہے۔ یہ انسانی نفسیات کی عکاسی ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کی اس
کمزوری کو جانتا ہے اور معاف فرماتا ہے۔
- اللہ
تعالیٰ کا ہنسنا: حدیث میں اللہ تعالیٰ کے ہنسنے
کا ذکر آیا ہے جو اس کی رحمت اور شفقت کی ایک نشانی ہے۔ یہ ہنسنا کسی مذاق یا
استہزا کے لیے نہیں بلکہ رحمت و کرم کے اظہار کے لیے ہے۔
- جنت کی
عظمت اور نعمتوں کی فراوانی: آخر میں جنت کی نعمتوں، محلات،
حوروں اور دیگر انعامات کا جو وصف بیان ہوا ہے، وہ انسانی تصور سے بھی بالاتر
ہے۔ یہ ایمان والوں کے لیے ترغیب ہے کہ وہ آخرت کی ان ابدی نعمتوں کے حصول کے
لیے نیک اعمال کریں۔
- آخرت میں
اعمال کا صلہ: یہ شخص اگرچہ جنت میں داخل ہونے
والا آخری شخص ہے اور جہنم کے قریب ترین تھا، لیکن پھر بھی اسے جو عظیم
انعامات دیے جاتے ہیں، وہ اس بات کی دلیل ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندے پر
ایک ذرہ برابر بھی ظلم نہیں کرے گا اور ہر نیکی کا صلہ بے حساب عطا فرمائے
گا۔
- توحید کا
اقرار: بندہ جب کہتا ہے
"أَتَسْتَهْزِئُ مِنِّي وَأَنْتَ رَبُّ الْعَالَمِينَ؟" تو اس میں
اس کا یہ عقیدہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اللہ کو رب العالمین مانتا ہے۔ یہی ایمان
اس کی نجات کا ذریعہ بنتا ہے۔
- اللہ
تعالیٰ کی قادر مطلق ہستی: حدیث کے آخر میں اللہ تعالیٰ کا
فرمان "إِنِّي
لَا أَسْتَهْزِئُ مِنْكَ , وَلَكِنِّي عَلَى مَا أَشَاءُ قَادِرٌ" اس
بات کی واضح دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے، اس کی عطا میں کوئی
کمی نہیں، اور وہ جسے چاہے بے حساب دے سکتا ہے۔
- امید اور
خوف کے درمیان اعتدال: مسلمان کو چاہیے کہ وہ اللہ کی
رحمت سے مایوس نہ ہو، جیسا کہ اس حدیث سے رحمت کی وسعت کا پتہ چلتا ہے، اور
نہ ہی اس کی نافرمانی میں بے خوف ہو جائے، کیونکہ ابتداء میں اس شخص کا دوزخ
کے قریب ہونا عذاب سے ڈرانا چاہتا ہے۔
حدیث نمبر 58
عَنْ
الْمُغِيرَةَ بْنِ شُعْبَةَ - رضي الله عنه - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم -: " سَأَلَ مُوسَى - عليه السلام -
رَبَّهُ , فَقَالَ: أَيْ
رَبِّ مَا أَدْنَى (١) أَهْلِ
الْجَنَّةِ مَنْزِلَةً؟ قَالَ: هُوَ رَجُلٌ
يَجِيءُ بَعْدَ مَا أُدْخِلَ أَهْلُ الْجَنَّةِ الْجَنَّةَ , فَيُقَالُ
لَهُ: ادْخُلْ الْجَنَّةَ , فَيَقُولُ: أَيْ
رَبِّ , كَيْفَ وَقَدْ نَزَلَ النَّاسُ مَنَازِلَهُمْ , وَأَخَذُوا أَخَذَاتِهِمْ؟ , فَيُقَالُ لَهُ: أَتَرْضَى
أَنْ يَكُونَ لَكَ مِثْلُ مُلْكِ مَلِكٍ مِنْ مُلُوكِ الدُّنْيَا؟ , فَيَقُولُ: رَضِيتُ
رَبِّ , فَيَقُولُ: لَكَ
ذَلِكَ , وَمِثْلُهُ وَمِثْلُهُ , وَمِثْلُهُ , وَمِثْلُهُ , فَقَالَ
فِي الْخَامِسَةِ: رَضِيتُ رَبِّ , فَيَقُولُ: هَذَا
لَكَ , وَعَشَرَةُ أَمْثَالِهِ , وَلَكَ مَعَ هَذَا مَا اشْتَهَتْ نَفْسُكَ ,
وَلَذَّتْ عَيْنُكَ , فَيَقُولُ: رَضِيتُ رَبِّ , قَالَ
مُوسَى: رَبِّ فَأَعْلَاهُمْ مَنْزِلَةً؟ , قَالَ: أُولَئِكَ
الَّذِينَ أَرَدْتُ (٢) غَرَسْتُ
كَرَامَتَهُمْ بِيَدِي (٣) وَخَتَمْتُ
عَلَيْهَا , فَلَمْ تَرَ عَيْنٌ , وَلَمْ تَسْمَعْ أُذُنٌ , وَلَمْ يَخْطُرْ عَلَى
قَلْبِ بَشَرٍ (٤) قَالَ:
وَمِصْدَاقُهُ فِي كِتَابِ اللهِ - عز وجل -: {فلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَا أُخْفِيَ لَهُمْ مِنْ قُرَّةِ أَعْيُنٍ ,
جَزَاءً بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ} (٥) " (٦)
ترجمہ:
(مسلم، ترمذی،
ابن حبان)، حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی
اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "موسیٰ
علیہ السلام نے اپنے رب سے سوال کیا اور عرض کی: اے میرے رب! جنت میں داخل ہونے
والوں میں سب سے کم درجے (1) والا کون ہوگا؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: وہ ایک
شخص ہے جو اس کے بعد آئے گا جب اہل جنت جنت میں داخل ہو چکے ہوں گے۔ تو اس سے کہا
جائے گا: جنت میں داخل ہو جاؤ۔ وہ عرض کرے گا: اے میرے رب! کیسے (داخل ہوں) جبکہ
لوگ اپنے اپنے مقامات پر جا چکے ہیں اور اپنا اپنا حصہ لے چکے ہیں؟ تو اس سے کہا
جائے گا: کیا تو اس بات پر راضی ہے کہ تیرے لیے دنیا کے کسی بادشاہ کی سی بادشاہت
ہو؟ وہ عرض کرے گا: اے رب! میں راضی ہوں۔ اللہ فرمائے گا: تیرے لیے وہ (ملک) ہے
اور اس کے مثل، اور اس کے مثل، اور اس کے مثل، اور اس کے مثل۔ پھر پانچویں بار وہ
عرض کرے گا: اے رب! میں راضی ہوں۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: یہ تیرے لیے ہے اور اس
کے دس گنا، اور تیرے لیے اس کے علاوہ بھی وہ سب کچھ ہے جس کی تیری نفس نے خواہش کی
اور تیری آنکھوں نے لذت محسوس کی۔ وہ عرض کرے گا: اے رب! میں راضی ہوں۔ موسیٰ علیہ
السلام نے عرض کیا: اے میرے رب! پھر سب سے بلند درجے والے کون
ہیں؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: وہ لوگ ہیں
جنہیں میں نے خود چن لیا ہے (2)۔ میں نے اپنے ہاتھ سے ان
کی عزت و کرامت کی بنیاد رکھی ہے (3) اور اس پر مہر لگا دی ہے۔ پھر نہ کسی آنکھ نے
دیکھا، نہ کسی کان نے سنا، اور نہ ہی کسی انسان کے دل پر (ان نعمتوں کا خیال) گزرا
ہے (4)۔" آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "اور اس کی تصدیق اللہ
تعالیٰ کی کتاب میں ہے: {پس کوئی شخص
نہیں جانتا کہ ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک کے لیے کیا کچھ پوشیدہ رکھا گیا ہے، یہ ان
اعمال کا بدلہ ہے جو وہ کرتے تھے}
(5)" (6)
حواشی اور وضاحت:
- یعنی: سب سے کم (درجہ رکھنے والا)۔
- یعنی: وہ لوگ ہیں جنہیں میں نے خود
منتخب کیا اور چن لیا۔ (النووی - ج 1 / ص 332)
- یعنی: میں نے انہیں چن لیا اور ان کی
ذمہ داری خود لی، پس ان کی عزت و کرامت میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔ (تحفہ
8/40)
- یعنی: کسی انسان کے دل پر وہ چیز نہیں
گزری جو میں نے ان کے لیے مخصوص کر رکھی ہے اور ان کے لیے تیار کی ہے۔ (تحفہ
8/40)
- [سورۃ السجدہ: 17]
- (مسلم 189، ترمذی 3198،
ابن حبان 6216، صحیح الجامع: 3594، صحیح الترغیب والترہیب: 3702)
حدیث
سے حاصل ہونے والے اسباق و نکات:
- اللہ کی
عطا کی وسعت و فراخی: یہ حدیث جنت میں اللہ تعالیٰ کی
عطا اور بخشش کی بے پایاں وسعت کو ظاہر کرتی ہے۔ سب سے کم درجے والے شخص کو
بھی دنیا کے کسی طاقتور بادشاہ کی سلطنت سے کئی گنا زیادہ ملے گی، پھر اس پر
مزید اضافہ کیا جائے گا۔ اس سے اللہ کے فضل کی عظمت کا اندازہ ہوتا ہے۔
- اللہ کا
چناؤ اور اصطفاء: سب سے بلند درجے والے وہ ہیں
جنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے خاص فضل و کرم سے چن لیا ہے۔ یہ چناؤ محض اعمال کی
بنیاد پر نہیں بلکہ اللہ کی خاص رحمت اور اس کی مرضی پر منحصر ہے۔ اس سے بندے
کو اللہ کی ذات پر توکل اور اس کی رحمت کی امید کرنی چاہیے۔
- پوشیدہ
انعامات: بلند ترین درجے والوں کے لیے جو
انعامات ہیں، وہ انسانی عقل، تصور، دید و شنید سے بالاتر ہیں۔ یہ بات قرآن
کریم ({فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ...}) سے بھی ثابت ہے۔ اس سے آخرت کی نعمتوں کی
حقیقی عظمت اور دنیوی لذتوں کی حقیقت معلوم ہوتی ہے۔
- رضا کی
اہمیت: حدیث میں جنت میں داخل ہونے
والا شخص بار بار "رَضِيتُ رَبِّ" (اے رب! میں راضی ہوں) کہتا ہے۔
یہ بندے کے لیے ایک اہم سبق ہے کہ وہ اللہ کے ہر فیصلے پر راضی رہے، خواہ وہ
ظاہری طور پر اس کی خواہش کے مطابق ہو یا نہ ہو۔
- نبیوں کا
علم حاصل کرنا: حضرت موسیٰ علیہ السلام کا اللہ
سے آخرت کے احوال دریافت کرنا، یہ بتاتا ہے کہ علم نافع حاصل کرنا، خاص کر
آخرت کے معاملات کا علم، انبیاء کی سنت ہے اور ہر مسلمان کے لیے باعث برکت
ہے۔
- ترغیبِ
عمل: اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا
کہ یہ پوشیدہ انعامات ان کے اعمال کی جزا ہیں ({جَزَاءً
بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ})۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بلند درجات حاصل کرنے
کے لیے نیک اعمال ناگزیر ہیں۔ اللہ کا فضل اعمال کے بعد ہے، اس کے بغیر نہیں۔
- تواضع اور
انکساری: جنت میں داخل ہونے والا آخری
شخص جب دیکھتا ہے کہ سب اپنا مقام لے چکے ہیں تو وہ شرمندگی محسوس کرتا ہے۔
یہ مؤمن کے شایانِ شان تواضع اور انکساری ہے، جو دنیا اور آخرت دونوں میں اس
کا زیور ہے۔
- دنیا اور
آخرت کا موازنہ: حدیث میں دنیا کے کسی بادشاہ کی
سلطنت کو جنت کے سب سے کم انعام کے پیمانے کے طور پر پیش
کیا گیا ہے۔ اس سے دنیا کی حقیقی قدر و قیمت اور آخرت کی عظمت واضح ہوتی ہے۔
حدیث نمبر 59
عَنْ
أَبِي هُرَيْرَةَ - رضي الله عنه - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم -: (" لَا يَدْخُلُ أَحَدٌ الْجَنَّةَ ,
إِلَّا أُرِيَ مَقْعَدَهُ مِنْ النَّارِ لَوْ أَسَاءَ، لِيَزْدَادَ شُكْرًا) (١) (فَيَقُولُ:
لَوْلَا أَنَّ اللهَ هَدَانِي) (٢) (وَلَا
يَدْخُلُ النَّارَ أَحَدٌ إِلَّا أُرِيَ مَقْعَدَهُ مِنْ الْجَنَّةِ لَوْ
أَحْسَنَ، لِيَكُونَ عَلَيْهِ حَسْرَةً) (٣) (فَيَقُولُ:
لَوْ أَنَّ اللهَ هَدَانِي ") (٤)
ترجمہ:
حضرت
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
- "کوئی شخص جنت میں داخل نہیں
ہوگا مگر یہ کہ اسے اس کے جہنم کے مقام کو دکھایا جائے گا اگر اس نے برائی کی
ہوتی، تاکہ اس کی شکرگزاری بڑھ جائے۔"
- تو وہ (یہ
دیکھ کر) کہے گا: "اگر اللہ نے مجھے ہدایت نہ دی ہوتی (تو میں بھی یہاں
ہوتا)۔"
- "اور کوئی شخص جہنم میں داخل
نہیں ہوگا مگر یہ کہ اسے اس کے جنت کے مقام کو دکھایا جائے گا اگر اس نے نیکی
کی ہوتی، تاکہ اس پر حسرت ہو۔"
- تو وہ (یہ
دیکھ کر) کہے گا: "کاش! اللہ نے مجھے ہدایت دی ہوتی۔"
حواشی
اور حوالہ جات:
(1) اور (3): یہ
دونوں فقرے صحیح بخاری (حدیث نمبر: 6200) میں مروی ہیں۔
(2) اور (4): یہ
دونوں فقرے مسند احمد (حدیث نمبر: 10660) میں مروی ہیں۔ محدث شیخ
شعیب الأرناءوط نے اس روایت کی سند کو صحیح قرار دیا ہے۔ نیز یہ "صحیح الجامع (حدیث نمبر: 4514)" اور "السلسلة الصحیحہ (حدیث نمبر: 2034)" میں
بھی درج ہے۔
حدیث
سے حاصل ہونے والے اسباق و نکات:
اس
پاکیزہ حدیث سے ہمیں مندرجہ ذیل اہم تعلیمات اور نصیحتیں ملتی ہیں:
1. نعمتِ ہدایت
اور مغفرت کا شکر: جنت میں داخل ہونے والا شخص جب اپنے لیے تیار کیے
گئے دوزخ کے مقام کو دیکھے گا تو اسے یقین ہو جائے گا کہ اس کی نجات صرف اللہ
تعالیٰ کے فضل، ہدایت اور بخشش کی وجہ سے ہے۔ اس کا ہر لمحہ یہی اقرار ہوگا کہ "اگر میرے رب نے مجھے راہِ راست نہ
دکھائی ہوتی۔" یہ احساس اس کی شکرگزاری کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے
تازہ رکھے گا۔
2. حسرت اور ندامت
کا ابدی عذاب: دوزخ میں داخل ہونے والے ہر شخص کو واضح طور پر
یہ دکھا دیا جائے گا کہ اگر اس نے ایمان لا کر نیک عمل کیے ہوتے تو جنت میں اس کا
کیا شاندار مقام ہوتا۔ یہ علم اس کے لیے حسرت و ندامت کے ایک ایسے عذاب کا سبب بنے
گا جو آگ کے عذاب سے بھی زیادہ تکلیف دہ ہوگا۔ وہ ہمیشہ اس بات پر آہ و زاری کرتا
رہے گا کہ "کاش! میں نے
راہِ راست پا لی ہوتی۔"
3. اللہ کی کامل
عدالت اور انصاف کا اعلان: یہ عمل اللہ تعالیٰ کی کامل عدالت کا منظر پیش
کرے گا۔ کسی پر کوئی ظلم نہیں ہوگا۔ ہر شخص کو اس کے اعمال کا پورا پورا بدلہ ملے
گا اور اسے یہ بھی واضح کر دیا جائے گا کہ اس کا انجام اس کے اپنے اختیار کردہ
راستے کا نتیجہ تھا۔
4. دنیا میں ہدایت
پر عمل کی فوری ترغیب: حدیث کا یہ منظر ہمارے سامنے ایک واضح انتباہ اور
ترغیب رکھتا ہے۔ یہ ہمیں فوراً اس بات پر آمادہ کرتا ہے کہ ہم اپنی قیمتی زندگی،
جو ہدایت پانے کا واحد موقع ہے، میں غفلت نہ برتیں۔ ہمیں اللہ کی دی ہوئی ہدایت
(قرآن و سنت) کو مضبوطی سے تھام لینا چاہیے اور نیک اعمال کے ذریعے اپنا مستقبل
سنوارنا چاہیے، قبل اس کے کہ ہمیشہ کی حسرت اور پچھتاوے کا موقع ہاتھ سے نکل جائے۔
5. خوف و رجاء
(امید) کے درمیان متوازن زندگی: مومن کا عقیدہ یہی ہے کہ وہ نہ صرف اللہ کی رحمت
سے مایوس نہ ہو اور نہ ہی اس کی نافرمانی میں غلط غرور میں مبتلا ہو۔ اس حدیث کا
مشاہدہ اس توازن کو مکمل کر دے گا۔ جنت والا اللہ کے فضل پر شکرگزاری سے معمور
ہوگا، اور اس کا یہ شکر درحقیقت دنیا میں اللہ کی رحمت پر اس کے یقین اور امید کی
تکمیل ہوگی۔
عَنْ
ابْنِ عَبَّاسٍ - رضي الله عنهما - قَالَ: " لَيْسَ فِي الْجَنَّةِ شَيْءٌ مِمَّا
فِي الدُّنْيَا إلَّا الْأَسْمَاء (١) " (٢)
ترجمہ
حضرت
ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد
فرمایا:
"جنت میں دنیا کی کسی چیز سے مشابہت نہیں، سوائے ناموں کے۔(١) " (٢)
حاشیہ اور وضاحت:
(۱) حدیث
میں مذکورہ "ناموں" سے مراد یہ ہے کہ جنت کی نعمتوں اور دنیوی چیزوں کے
درمیان محض نام کی مماثلت ہے۔ مثال کے طور پر جنت میں
"پھل"، "شہد"، "دودھ" یا "محل" کے نام
استعمال ہوں گے، لیکن ان کی حقیقت، ذائقہ، لذت، مقدار اور کیفیت دنیا
کی چیزوں سے یکسر مختلف اور بلند تر ہوگی۔ ان کے درمیان وہ فرق ہے جسے کوئی انسان
جان نہیں سکتا۔
یہ نام
محض تشبیہ اور تمثیل کے پیرائے میں استعمال ہوں گے تاکہ ہماری
محدود عقل کو جنت کی عظیم نعمتوں کا کچھ تصور دیا جا سکے۔ اس لیے یہ سمجھنا ضروری
ہے کہ جنت کی کوئی شے اپنی اصلیت میں دنیا کی کسی شے کے مشابہ نہیں ہوگی۔
ایک
اہم اشکال اور اس کا جواب: بعض لوگ یہ اشکال پیش کر سکتے ہیں کہ قرآن مجید
میں جنت کے پھلوں کے بارے میں ارشاد ہے: "جب انہیں وہاں
سے کسی پھل کا رزق دیا جائے گا تو کہیں گے: یہ وہی ہے جس کا ہمیں پہلے (دنیا میں)
رزق دیا گیا تھا۔ اور انہیں مشابہ (صورت میں) ہی دیا جائے گا۔" [البقرہ:
25]
اس کا
جواب یہ ہے کہ یہاں تشابہ (مشابہت) محض ظاہری شکل و صورت میں
ہے جس کی بنا پر اس کا نام رکھا جاتا ہے، نہ کہ حقیقت، ذائقہ اور عظمت میں۔
یعنی ایک چیز کو دیکھ کر وہ پہچان لی جائے گی کہ یہ "انگور" یا
"انار" ہے، لیکن اس کا ذائقہ، خوشبو اور تاثیر دنیا کی چیزوں سے لاکھوں
گنا بہتر ہوگی۔
(۲) (الضياء) جلد 10، صفحہ 16، صحیح الجامع: حدیث نمبر 5410، السلسلة الصحیحہ: حدیث نمبر 2188
[الجامع الصحيح للسنن والمسانيد: ج3 ص294]
حدیث
سے حاصل ہونے والے اسباق و نکات
- انسانی
عقل اور تصور کی محدودیت کا اعتراف: یہ حدیث
ہمیں بتاتی ہے کہ ہماری عقل اور ہمارا تجربہ مخلوق ہونے کے باعث محدود ہے۔
خالقِ کائنات کی طرف سے تیار کردہ ابدی نعمتوں کی حقیقی لذت اور کمال کو ہم
اس دنیا میں رہتے ہوئے پوری طرح سمجھ ہی نہیں سکتے۔ اس لیے ہمیں ان آیات و
احادیث کی تفصیلات میں غلط بیانی سے بچتے ہوئے، ان پر سادگی سے ایمان لانا
چاہیے۔
- جنت کی
نعمتوں کی بے مثال حقیقت: جنت میں داخل ہونے والا شخص
دیکھے گا کہ وہاں کی ہر چیز اس کی توقعات، خیالات اور دنیاوی مشابہات سے
بالکل ہی نئی، انوکھی اور حیرت انگیز ہے۔ وہاں کی چھوٹی سے چھوٹی نعمت بھی
دنیا کی عظیم ترین نعمت سے کہیں زیادہ بہتر ہوگی۔
- قرآن و
حدیث کا تمثیلی اسلوبِ بیان: اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی
اللہ علیہ وسلم ہماری رہنمائی کے لیے ہماری ہی زبان اور ہمارے ہی مشاہدے سے
مانوس چیزوں کے نام استعمال کرتے ہیں۔ یہ ایک سمجھانے کا مؤثر طریقہ ہے جو
ہمارے دلوں میں آخرت کی نعمتوں کی محبت اور ان کے حصول کی شدید خواہش پیدا
کرتا ہے۔
- اللہ کی
لامحدود قدرت پر کامل یقین: جس ذات نے یہ دنیا اور اس کی
رنگ برنگی نعمتیں بنائیں، وہ آخرت میں اس سے لاکھوں گنا بہتر اور مختلف
نعمتیں پیدا کرنے پر قطعی قادر ہے۔ اس حدیث پر ایمان درحقیقت اللہ تعالیٰ کی
بے پایاں قدرت پر ایمان کا تقاضا کرتا ہے۔
- دنیا کی
فانی لذتوں سے بے نیازی: جب یہ یقین دل میں بیٹھ جائے کہ
جنت کی معمولی سی نعمت بھی دنیا کی ہر چیز سے بہتر ہے، تو انسان کا دل فطری
طور پر ان فانی لذتوں اور عارضی آرائشوں سے بے نیاز ہونے لگتا ہے۔ اس کی ساری
کوشش اس ابدی اور بے مثال ٹھکانے کے حصول کے لیے ہوتی ہے۔
- شکر اور
عاجزی کا جذبہ: جنت میں داخل ہونے والا جب یہ
دیکھے گا کہ اسے جو کچھ ملا ہے وہ اس کے اپنے اعمال کے مقابلے میں کہیں زیادہ
ہے اور اس کی کوئی حقیقی مثال دنیا میں نہ تھی، تو اس کا شکر اور عاجزی کا
جذبہ ہمیشہ کے لیے تازہ ہو جائے گا۔
(خ م ت حم) , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رضي الله عنه - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم -: (إِذَا أَدْخَلَ اللهُ أَهْلَ الْجَنَّةِ
الْجَنَّةَ , وَأَهْلَ النَّارِ النَّارَ، أُتِيَ بِالْمَوْتِ) (١) (كَبْشًا
أَمْلَحاً (٢)) (٣) (مُلَبَّبًا
(٤) فَيُوقَفُ عَلَى السُّورِ بَيْنَ
أَهْلِ الْجَنَّةِ وَأَهْلِ النَّارِ، ثُمَّ يُقَالُ: يَا
أَهْلَ الْجَنَّةِ، فَيَطَّلِعُونَ خَائِفِينَ) (٥) (وَجِلِينَ أَنْ
يُخْرَجُوا مِنْ مَكَانِهِمْ الَّذِي هُمْ فِيهِ) (٦) (ثُمَّ يُقَالُ:
يَا أَهْلَ النَّارِ، فَيَطَّلِعُونَ مُسْتَبْشِرِينَ) (٧) (فَرِحِينَ أَنْ
يُخْرَجُوا مِنْ مَكَانِهِمْ الَّذِي هُمْ فِيهِ) (٨) (وَيَرَوْنَ
أَنْ قَدْ جَاءَ الْفَرَجُ) (٩) (فَيُقَالُ
لِأَهْلِ الْجَنَّةِ وَأَهْلِ النَّارِ) (١٠) (- وَكُلُّهُمْ قَدْ رَآهُ -:) (١١) (هَلْ
تَعْرِفُونَ هَذَا؟ , فَيَقُولُ
هَؤُلَاءِ وَهَؤُلَاءِ: قَدْ
عَرَفْنَاهُ , هُوَ الْمَوْتُ الَّذِي وُكِّلَ بِنَا، قَالَ: فَيُؤْمَرُ بِهِ فَيُضْجَعُ , فَيُذْبَحُ ذَبْحًا
عَلَى السُّورِ الَّذِي بَيْنَ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ) (١٢) (ثُمَّ يُقَالُ
لِلْفَرِيقَيْنِ كِلَاهُمَا: يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ , خُلُودٌ فِيمَا تَجِدُونَ،
لَا مَوْتَ فِيهَا أَبَدًا، وَيَا أَهْلَ النَّارِ , خُلُودٌ فِيمَا تَجِدُونَ لَا
مَوْتَ فِيهَا أَبَدًا) (١٣) (فَيَزْدَادُ
أَهْلُ الْجَنَّةِ فَرَحًا إِلَى فَرَحِهِمْ، وَيَزْدَادُ أَهْلُ النَّارِ حُزْنًا
إِلَى حُزْنِهِمْ) (١٤) وفي
رواية: (فَيَأمَنُ هَؤُلَاءِ، وَيَنْقَطِعُ
رَجَاءُ هَؤُلَاءِ) (١٥) (ثُمَّ
قَرَأَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم -: {وَأَنْذِرْهُمْ يَوْمَ الْحَسْرَةِ إِذْ قُضِيَ الْأَمْرُ وَهُمْ فِي
غَفْلَةٍ - وَهَؤُلَاءِ فِي غَفْلَةٍ أَهْلُ الدُّنْيَا - وَهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ} (١٦) ") (١٧)
ترجمہ:
(بخاری، مسلم، ترمذی، احمد) حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت
ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
- "جب اللہ تعالیٰ اہلِ جنت کو جنت
میں اور اہلِ دوزخ کو دوزخ میں داخل فرما دے گا، تو موت کو لایا جائے گا۔" (1)
- "(موت کو) ایک چتکبرے (2) مینڈھے کی شکل
میں۔"
(3)
- "(جسے) پکڑ کر کھینچا ہوا (4) لایا جائے
گا۔ پھر اسے جنت اور دوزخ والوں کے درمیان (موجود) دیوار پر کھڑا کیا جائے
گا۔ پھر اعلان کیا جائے گا: اے جنت والو! تو وہ (اس اعلان سے) ڈر کر جھانکیں
گے۔"
(5)
- "اس خوف سے کہ کہیں انہیں ان کی
موجودہ جگہ سے نکالا نہ جائے۔"
(6)
- "پھر اعلان ہوگا: اے دوزخ والو!
تو وہ خوش ہو کر جھانکیں گے۔"
(7)
- "اس خوشی میں کہ کہیں انہیں ان
کی موجودہ جگہ سے نکال دیا جائے۔" (8)
- "اور وہ یہ سمجھ رہے ہوں گے کہ
اب انہیں راحت ملنے والی ہے۔"
(9)
- "پھر جنت اور دوزخ دونوں گروہوں
سے کہا جائے گا:"
(10)
- "(حالانکہ) سبھی نے اس (موت) کو دیکھ
رکھا ہوگا:"
(11)
- "کیا تم اسے پہچانتے ہو؟ تو یہ
(جنت والے) بھی کہیں گے اور وہ (دوزخ والے) بھی کہیں گے: ہم نے اسے پہچان
لیا، یہ وہی موت ہے جو ہم پر مسلط تھی۔" راوی کہتے ہیں: پھر موت کے ساتھ
حکم ہوگا، اسے لیٹایا جائے گا، پھر جنت و دوزخ کے درمیان دیوار پر اس کا گلا
ذبح کر دیا جائے گا۔"
(12)
- "پھر دونوں گروہوں سے کہا جائے
گا: اے جنت والو! (اب) ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اس (نعمت) میں رہو جسے تم پا رہے
ہو، اب اس میں کبھی موت نہیں آئے گی۔ اور اے دوزخ والو! (اب) ہمیشہ ہمیشہ کے
لیے اس (عذاب) میں رہو جسے تم بھوگ رہے ہو، اب اس میں کبھی موت نہیں آئے گی۔" (13)
- "اس پر اہلِ جنت کی خوشی مزید
بڑھ جائے گی اور اہلِ دوزخ کے غم میں مزید اضافہ ہو جائے گا۔" (14)
- "اور ایک روایت میں ہے: "اس
(اعلان) پر ان (جنت والوں) کو اطمینان ہو جائے گا اور ان (دوزخ والوں) کی
امید بالکل منقطع ہو جائے گی۔"
(15)
- "پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم نے یہ آیت کریمہ تلاوت فرمائی: {اور آپ انہیں اس روز کے عذاب سے ڈرائیں
جب (سب) فیصلہ ہو چکا ہو گا، اور وہ (اب بھی دنیا میں) غفلت میں (پڑے) ہوں گے
اور ایمان نہیں لائیں گے۔} (16)" (17)
حاشیہ
اور وضاحت:
(١): (الجامع الصحيح للترمذي)، حدیث نمبر 2557
(٢): لفظ کی تفسیر: الْأَمْلَحُ اس (مینڈھے) کو کہتے ہیں جس پر سفیدی سیاہی سے زیادہ ہو۔
(٣): (صحيح البخاري)، حدیث نمبر 4453 اور (صحيح مسلم)، حدیث نمبر 2849
(٤): لفظ کی تفسیر: لَبَّبَهُ تَلْبِيبًا (اسے پکڑ کر کھینچنا): جھگڑے/کشتی کے دوران (حریف کے) گلے کے پاس سے اس کے کپڑے پکڑ کر اسے گھسیٹنا۔ حوالہ: (تحفة الاحوذی ج 6/ ص 350)۔
(٥): (الجامع الصحيح للترمذي)، حدیث نمبر 2557 اور (صحيح البخاري)، حدیث نمبر 4453
(٦): (سنن ابن ماجة)، حدیث نمبر 4327 اور (مسند الإمام أحمد)، حدیث نمبر 7537
(٧): (الجامع الصحيح للترمذي)، حدیث نمبر 2557
(٨): (سنن ابن ماجة)، حدیث نمبر 4327 اور (مسند الإمام أحمد)، حدیث نمبر 7537
(٩): (مسند الإمام أحمد)، حدیث نمبر 9463۔ شیخ شعیب الأرناءوط نے فرمایا: اس کی سند حسن ہے۔
(١٠): (الجامع الصحيح للترمذي)، حدیث نمبر 2557
(١١): (صحيح البخاري)، حدیث نمبر 4453
(١٢): (الجامع الصحيح للترمذي)، حدیث نمبر 2557 اور (صحيح مسلم)، حدیث نمبر 2849
(١٣): (سنن ابن ماجة)، حدیث نمبر 4327 اور (مسند الإمام أحمد)، حدیث نمبر 7537 اور (صحيح البخاري)، حدیث نمبر 4453
(١٤): (صحيح البخاري)، حدیث نمبر 6182 اور (صحيح مسلم)، حدیث نمبر 2850
(١٥): (معجم الطبراني الكبير)، حدیث نمبر 2898 اور (صحيح)۔ نیز دیکھیں: صحيح الترغيب والترهيب، حدیث نمبر 3774۔
(١٧):
(صحيح البخاري)، حدیث نمبر 4453 اور (صحيح مسلم)، حدیث نمبر 2849
حدیث
سے حاصل ہونے والے اسباق و نکات:
- موت کی
حقیقت اور اس کا خاتمہ: یہ حدیث اس عظیم حقیقت کو ظاہر
کرتی ہے کہ موت کوئی خود مختار قوت نہیں بلکہ اللہ کا پیدا کردہ ایک مخلوق
ہے، جسے اللہ نے انسانوں پر مسلط کر رکھا ہے۔ قیامت کے دن اس مخلوق کا ہمیشہ
کے لیے خاتمہ کر دیا جائے گا، جس کے بعد نہ جنت میں رہنے والے مریں گے اور نہ
دوزخ میں عذاب بھوگنے والے۔ یہ موت کے اختتام کا منظر ہے۔
- دنیوی
امید اور خوف کا آخری تجزیہ: جنت والوں کا ڈرنا اور دوزخ
والوں کا خوش ہونا ان کی نفسیات کو ظاہر کرتا ہے۔ جنت والوں کو خدشہ ہے کہ
کہیں ان کی نعمت چھن نہ جائے، جبکہ دوزخ والوں کو امید ہے کہ شاید ان کے عذاب
کا خاتمہ ہو جائے۔ یہ دنیا میں ایمان و عمل کے نتائج کی آخری عکاسی ہے۔
- ابدی
زندگی کا فیصلہ: موت کے ذبح ہونے کے بعد دونوں
گروہوں کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اپنے اپنے ٹھکانے میں رہنے کا اعلان، اللہ کے
فیصلے کی حتمیت اور عدالت کے مکمل ہونے کی واضح نشانی ہے۔ اب نہ کوئی درمیانہ
راستہ ہے، نہ بخشش کا موقع اور نہ ہی عذاب سے نکلنے کی کوئی صورت۔
- خوشی اور
غم میں اضافہ: جنت والوں کے لیے موت کے خاتمے
اور ہمیشہ کی زندگی کا اعلان ان کی خوشی کو دوبالا کر دے گا۔ اسی طرح دوزخ
والوں کے لیے راحت کی آخری امید کے ختم ہونے اور ابدی عذاب کی یقینی خبر ان
کے غم اور حسرت کو بے پناہ بڑھا دے گی۔ یہ جزا و سزا کی تکمیل کا منظر ہے۔
- دنیا میں
غفلت پر تنبیہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
کا آخری میں قرآن کی آیت پڑھنا اہم تنبیہ ہے۔ یہ بتاتا ہے کہ اس دن کی حسرت
اور ندامت ان لوگوں کے لیے ہے جو دنیا کی زندگی میں آخرت کی تیاری سے غافل
رہے، حق کو تسلیم نہیں کیا اور اس پر عمل نہیں کیا۔ حدیث کا یہ اختتام
درحقیقت ہمیں دنیا میں رہتے ہوئے ہوشیار رہنے اور اپنے انجام پر غور کرنے کی
دعوت دیتا ہے۔
- اللہ کی
قدرت کی نشانی: موت کو ایک مینڈھے کی شکل میں
پیش کرنا اور پھر اسے ذبح کر دینا، اللہ تعالیٰ کی کامل قدرت اور اس کے ہر شے
پر قابو رکھنے کی ایک جیتی جاگتی مثال ہے۔ جو چیز پوری دنیا پر حاکم تھی، اسے
ایک مرئو مجسم شکل دے کر اس کا خاتمہ کر دینا، قدرتِ الٰہی کے عظیم مظاہر میں
سے ایک ہے۔
وَقَالَ
تَعَالَى: {إِنَّكُمْ
لَذَائِقُو الْعَذَابِ الْأَلِيمِ , وَمَا تُجْزَوْنَ إِلَّا مَا كُنْتُمْ
تَعْمَلُونَ , إِلَّا عِبَادَ اللهِ الْمُخْلَصِينَ , أُولَئِكَ لَهُمْ رِزْقٌ
مَعْلُومٌ , فَوَاكِهُ وَهُمْ مُكْرَمُونَ , فِي جَنَّاتِ النَّعِيمِ , عَلَى
سُرُرٍ مُتَقَابِلِينَ , يُطَافُ عَلَيْهِمْ بِكَأسٍ مِنْ مَعِينٍ , بَيْضَاءَ
لَذَّةٍ لِلشَّارِبِينَ , لَا فِيهَا غَوْلٌ وَلَا هُمْ عَنْهَا يُنْزَفُونَ ,
وَعِنْدَهُمْ قَاصِرَاتُ الطَّرْفِ عِينٌ , كَأَنَّهُنَّ بَيْضٌ مَكْنُونٌ ,
فَأَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ يَتَسَاءَلُونَ , قَالَ قَائِلٌ مِنْهُمْ
إِنِّي كَانَ لِي قَرِينٌ , يَقُولُ أَإِنَّكَ لَمِنَ الْمُصَدِّقِينَ , أَإِذَا
مِتْنَا وَكُنَّا تُرَابًا وَعِظَامًا أَإِنَّا لَمَدِينُونَ قَالَ هَلْ أَنْتُمْ
مُطَّلِعُونَ , فَاطَّلَعَ فَرَآهُ فِي سَوَاءِ الْجَحِيمِ , قَالَ تَاللهِ إِنْ
كِدْتَ لَتُرْدِينِ , وَلَوْلَا نِعْمَةُ رَبِّي لَكُنْتُ مِنَ الْمُحْضَرِينَ ,
أَفَمَا نَحْنُ بِمَيِّتِينَ إِلَّا مَوْتَتَنَا الْأُولَى , وَمَا نَحْنُ
بِمُعَذَّبِينَ , إِنَّ هَذَا لَهُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ , لِمِثْلِ هَذَا
فَلْيَعْمَلِ الْعَامِلُونَ}
ترجمہ:
اور
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
"بے شک
تم (کافرو) دردناک عذاب کا مزہ چکھنے والے ہو، اور تمہیں صرف انہی اعمال کا بدلہ
دیا جائے گا جو تم کیا کرتے تھے، سوائے اللہ کے خالص بندوں کے۔ ان کے لیے ایک
معلوم رزق ہے، (یعنی) طرح طرح کے میوے، اور وہ عزت والے ہوں گے، نعمت بھری جنتوں
میں، تختوں پر آمنے سامنے بیٹھے ہوں گے۔ ان کے پاس ایک چشمے سے بھرا ہوا جام گردش
کرتا رہے گا، (شراب) سفید، پینے والوں کے لیے انتہائی لذیذ، نہ اس میں سر درد ہوگی
اور نہ ہی اس سے ان کی عقلیں مست ہوں گی۔ اور ان کے پاس شرمیلی نگاہ والی (حوریں)
ہوں گی، گویا وہ محفوظ کیے ہوئے انڈے ہیں۔ پھر (اہل جنت) ایک دوسرے کی طرف متوجہ
ہو کر (ان باتوں پر) گفتگو کریں گے۔ ان میں سے ایک کہنے والا کہے گا: بے شک میرا
ایک ساتھی (دنیا میں) تھا جو (مجھ سے) کہا کرتا تھا: کیا تو (قیامت کے آنے اور جزا
و سزا کے) یقین کرنے والوں میں سے ہے؟ کیا جب ہم مر کر مٹی اور ہڈیاں ہو جائیں گے
تو ہمیں (زندہ کر کے) حساب کے لیے پیش کیا جائے گا؟ (پھر اہل جنت سے) کہا جائے گا:
کیا تم (اسے) دیکھنا چاہتے ہو؟ تو وہ (جنت سے) جھانکے گا اور اسے دوزخ کے بیچوں
بیچ (اپنے اس ساتھی کو) دیکھے گا۔ وہ کہے گا: اللہ کی قسم! تو تو قریب تھا کہ مجھے
بھی ہلاک کر دے، اگر میرے رب کا فضل نہ ہوتا تو میں بھی (دوزخ میں) حاضر کیے جانے
والوں میں سے ہوتا۔ کیا (اب) ہم پھر کبھی نہیں مریں گے سوائے اپنی پہلی موت کے؟
اور کیا ہم عذاب نہیں دیے جائیں گے؟ بیشک یہی تو بہت بڑی کامیابی ہے۔ ایسی
(کامیابی) کے لیے عمل کرنے والوں کو عمل کرنا چاہیے۔
[سورۃ
الصافات:37-61]
عَنْ
أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ - رضي الله عنه - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم -: " إِنَّ اللهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى
يَقُولُ لِأَهْلِ الْجَنَّةِ: يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ , فَيَقُولُونَ: لَبَّيْكَ رَبَّنَا وَسَعْدَيْكَ , فَيَقُولُ: هَلْ
رَضِيتُمْ؟ , فَيَقُولُونَ: وَمَا لَنَا لَا نَرْضَى وَقَدْ أَعْطَيْتَنَا
مَا لَمْ تُعْطِ أَحَدًا مِنْ خَلْقِكَ؟ , فَيَقُولُ: أَنَا أُعْطِيكُمْ أَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ , فَقَالُوا: يَا
رَبِّ , وَأَيُّ شَيْءٍ أَفْضَلُ مِنْ ذَلِكَ؟ , فَيَقُولُ: أُحِلُّ عَلَيْكُمْ رِضْوَانِي فلَا أَسْخَطُ
عَلَيْكُمْ بَعْدَهُ أَبَدًا " (١)
وَقَالَ
تَعَالَى: {وَعَدَ اللهُ
الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ
خَالِدِينَ فِيهَا , وَمَسَاكِنَ طَيِّبَةً فِي جَنَّاتِ عَدْنٍ , وَرِضْوَانٌ
مِنَ اللهِ أَكْبَرُ , ذَلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ} (٢)
ترجمہ:
حضرت
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
فرمایا:
"بے شک اللہ
تبارک و تعالیٰ اہل جنت سے فرمائے گا: اے اہل جنت! وہ جواب دیں گے: ہم حاضر ہیں اے
ہمارے رب! تیری خدمت میں حاضر ہیں۔ اللہ پوچھے گا: کیا تم راضی ہو گئے؟ وہ عرض
کریں گے: ہم راضی کیوں نہ ہوں جبکہ تو نے ہمیں وہ کچھ عطا فرما دیا جو تیری مخلوق
میں سے کسی کو نہیں دیا؟ اللہ فرمائے گا: میں تمہیں اس سے بھی افضل چیز عطا فرماتا
ہوں۔ وہ عرض کریں گے: اے ہمارے رب! اس سے افضل اور کیا چیز ہو سکتی ہے؟ اللہ
تعالیٰ فرمائے گا: میں تم پر اپنی رضا کو حلال (و نازل) کرتا ہوں، پھر اس کے بعد
کبھی تم پر ناراض نہیں ہوں گا۔"
(1)
اور
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
"اللہ نے مومن
مردوں اور مومن عورتوں سے جنتوں کا وعدہ کیا ہے جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں، وہ
ان میں ہمیشہ رہنے والے ہیں، اور ہمیشہ رہنے والی جنتوں میں پاکیزہ مکانات ہیں،
اور اللہ کی رضا (ان سب نعمتوں سے) بڑی چیز ہے۔ یہی عظیم کامیابی ہے۔" (2)
حوالہ
جات:
- (1): صحیح
البخاری، حدیث نمبر 6183۔ صحیح مسلم، حدیث نمبر 2829۔
- (2): سورۃ
التوبہ، آیت نمبر 72۔
حدیث و
آیت سے حاصل ہونے والے اسباق و نکات:
- رضائے
الٰہی سب سے اعلیٰ نعمت: اس حدیث
کا مرکزی اور انتہائی اہم نکتہ یہ ہے کہ جنت کی تمام حسّی و مادی نعمتیں
(نہریں، قصور، حوریں، باغات) اگرچہ ناقابل بیان ہیں، لیکن ان سب سے بلند و
برتر نعمت "اللہ کی
رضا" ہے۔ جب اہل جنت یہ سمجھتے ہیں
کہ انہیں سب کچھ مل گیا ہے، تو اللہ تعالیٰ ان پر اپنی دائمی رضا نازل فرما
کر بتاتا ہے کہ حقیقی عطا اور سب سے بڑی کامیابی یہی ہے۔ قرآن مجید میں بھی
اسی بات کی تصدیق کی گئی ہے: "اور اللہ
کی رضا (ان سب نعمتوں سے) بڑی چیز ہے۔"
- ابدی امن
و سکون کا احساس: اللہ کے "لا اسخط
علیکم بعدہ ابداً" (پھر اس کے بعد میں تم پر کبھی ناراض
نہیں ہوں گا) کے الفاظ اہل جنت کو وہ دائمی اطمینان اور مکمل سلامتی عطا کرتے
ہیں جو کسی بھی نعمت کا حقیقی مقصود ہے۔ یہ وہ یقینی سکون ہے جس کے بعد کوئی
خوف، کوئی خطرہ، کوئی اندیشہ باقی نہیں رہتا۔
- اللہ کا
بے پایاں فضل اور اس کی عطا کا تسلسل: حدیث
میں اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان "أنا أعطیکم أفضل من ذلک" (میں تمہیں اس سے بھی افضل عطا کرتا
ہوں) اس حقیقت کو ظاہر کرتا ہے کہ اللہ کا فضل اور اس کی عطا کبھی ختم نہیں
ہوتی۔ بندہ جتنا بھی پا لے، اس کے رب کے خزانے میں اس سے بہتر اور عظیم چیز
موجود ہے۔ یہ اللہ کی کرم نوازی کی انتہا ہے۔
- شکر گزاری
اور عاجزی کا اظہار: اہل جنت
کا یہ جواب "وما لنا
لا نرضى وقد أعطیتنا ما لم تعط أحداً من خلقک" کہ وہ
راضی کیوں نہ ہوں، درحقیقت اللہ کے فضل کے اعتراف اور اس کے سامنے عاجزی کا
بہترین اظہار ہے۔ وہ اپنی کسی اہلیت یا عمل پر نہیں، بلکہ خالصتاً اپنے رب کے
عطا کردہ انعام پر نظر رکھتے ہیں۔
- دنیوی
زندگی کے لیے مقصد اور ترغیب: یہ حدیث
ہر مومن کے دل میں یہ جذبہ پیدا کرتی ہے کہ اس کی تمام تر کوششوں اور عبادات
کا حتمی ہدف صرف اور صرف اللہ کی رضا حاصل کرنا ہونا چاہیے۔
یہی وہ "عظیم کامیابی" ہے جس کی طرف قرآن نے اشارہ کیا ہے۔ مادی
نعمتوں کی تمنا کے ساتھ ساتھ، بلکہ اس سے بھی بالاتر ہو کر، دل میں اللہ کی
رضا کی طلب اور محبت پیدا کرنا مومن کی کامیابی کی علامت ہے۔
- مومن اور
رب کے درمیان محبت آمیز رشتہ: یہ مکالمہ
محض ایک سوال و جواب نہیں، بلکہ ایک محبوب کے ساتھ محب کی شیرین گفتگو ہے۔ رب
اپنے بندے سے اس کی خوشی دریافت فرما رہا ہے اور بندہ شکر و محبت سے جواب دے
رہا ہے۔ یہی وہ پاکیزہ تعلق ہے جس کی تکمیل آخرت میں ہوگی۔
عَنْ
أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ - رضي الله عنه - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم -: " أَتَانِي جِبْرِيلُ - عليه السلام -
وَفِي كَفِّهِ مِرْآةٌ بَيْضَاءٌ , فِيهَا نُكْتَةٌ سَوْدَاءُ , فَقُلْتُ: مَا
هَذِهِ يَا جِبْرِيلُ؟ , قَالَ: هَذِهِ الْجُمُعَةُ , يَعْرِضُهَا عَلَيْكَ
رَبُّكَ - عز وجل - لِتَكُونَ لَكَ عِيدًا , وَلِقَوْمِكَ مِنْ بَعْدِكَ , تَكُونُ
أَنْتَ الْأَوَّلَ , وَيَكُونُ الْيَهُودُ وَالنَّصَارَى مِنْ بَعْدِكَ، قُلْتُ: مَا لَنَا فِيهَا؟ , قَالَ: لَكُمْ فِيهَا خَيْرٌ، لَكُمْ فِيهَا سَاعَةٌ
مَنْ دَعَا رَبَّهُ - عز وجل - فِيهَا بِخَيْرٍ هُوَ لَهُ قَسْمٌ , أَعْطَاهُ
اللهُ - عز وجل - أَوْ لَيْسَ لَهُ بِقَسْمٍ , إِلَّا ذُخِرَ لَهُ مَا هُوَ
أَعْظَمُ مِنْهُ، أَوْ تَعَوَّذَ فِيهَا مِنْ شَرِّ مَا هُوَ مَكْتُوبٌ عَلَيْهِ ,
إِلَّا أَعَاذَهُ اللهُ مِنْ أَعْظَمَ مِنْهُ، وَنَحْنُ نَدْعُوهُ فِي
الْآخِرَةِ: يَوْمَ
الْمَزِيدِ، وَذَلِكَ أَنَّ رَبَّكَ اتَّخَذَ فِي الْجَنَّةِ وَادِيًا أَفْيَحَ (١) مِنْ مِسْكٍ
أَبْيَضَ، فَإِذَا كَانَ يَوْمُ الْجُمُعَةِ , نَزَلَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى مِنْ
عِلِّيِّينَ عَلَى كُرْسِيِّهِ، ثُمَّ حَفَّ الْكُرْسِيَّ بِمَنَابِرَ مِنْ نُورٍ،
ثُمَّ جَاءَ النَّبِيُّونَ حَتَّى يَجْلِسُوا عَلَيْهَا، ثُمَّ حَفَّ الْمَنَابِرَ
بِكَرَاسِيَّ مِنْ ذَهَبٍ، ثُمَّ جَاءَ الصِّدِّيقُونَ وَالشُّهَدَاءُ حَتَّى
يَجْلِسُوا عَلَيْهَا، ثُمَّ يَجِيءُ أَهْلُ الْجَنَّةِ حَتَّى يَجْلِسُوا عَلَى
الْكَثِيبِ (٢) وَهُوَ
كَثِيبٌ أَبْيَضُ مِنْ مِسْكٍ أَذْفَرَ (٣) فَيَتَجَلَّى
لَهُمْ رَبُّهُمْ - عز وجل - حَتَّى يَنْظُرُوا إِلَى وَجْهِهِ - عز وجل - وَهو يَقُولُ: أَنَا
الَّذِي صَدَقْتُكُمْ وَعْدِي , وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي، وَهَذَا
مَحَلُّ كَرَامَتِي , فَاسْأَلُونِي , فَيَسْأَلُونَهُ الرِّضَا، فَيَقُولُ: رِضَايَ أَحَلَّكُمْ دَارِي وَأَنَالَكُمْ
كَرَامَتِي، فَسَلُونِي، فَيَسْأَلُونَهُ حَتَّى تَنْتَهِيَ رَغْبَتُهُمْ ,
فَيُفْتَحُ لَهُمْ عِنْدَ ذَلِكَ مَا لَا عَيْنٌ رَأَتْ , وَلَا أُذُنٌ سَمِعَتْ ,
وَلَا خَطَرَ عَلَى قَلْبِ بَشَرٍ , إِلَى مِقْدَارِ مُنْصَرَفِهِمْ يَوْمَ
الْجُمُعَةِ , ثُمَّ يَرْجِعُ أَهْلُ الْغُرَفِ إِلَى غُرَفِهِمْ، وَهِيَ
زَبَرْجَدَةٌ (٤) خَضْرَاءُ
أَوْ يَاقُوتَةٌ (٥) حَمْرَاءُ،
مُطَّرِدَةٌ , فِيهَا أَنْهَارُهَا , مُتَدَلِّيَةٌ فِيهَا ثِمَارُهَا , فِيهَا
أَزْوَاجُهَا وَخَدَمُهَا، فَلَيْسُوا هُمْ فِي الْجَنَّةِ بِأَشْوَقَ إِلَى
شَيْءٍ مِنْهُمْ إِلَى يَوْمِ الْجُمُعَةِ , لِيَزْدَادُوا مِنْهُ كَرَامَةً ,
وَلِيَزْدَادُوا نَظَرًا إِلَى وَجْهِهِ - عز وجل - وَلِذَلِكَ دُعِيَ يَوْمَ
الْمَزِيدِ " (٦)
ترجمہ:
حضرت
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"میرے پاس
جبرائیل علیہ السلام آئے، ان کے ہاتھ میں ایک سفید آئینہ تھا جس میں ایک سیاہ نقطہ
تھا۔ میں نے پوچھا: اے جبرائیل! یہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا: یہ جمعہ ہے، آپ کا رب
عزوجل اسے آپ پر پیش کرتا ہے تاکہ یہ آپ کے لیے اور آپ کے بعد آپ کی امت کے لیے
عید ہو۔ اس میں آپ اولین ہیں، اور آپ کے بعد یہود و نصاریٰ ہیں۔ میں نے پوچھا: اس
میں ہمارے لیے کیا ہے؟ انہوں نے کہا: اس میں تمہارے لیے بہت خیر ہے۔ اس میں ایک
ایسی گھڑی ہے کہ جس نے اپنے رب عزوجل سے اس میں کوئی بھلائی مانگی جو اس کے مقدر
میں ہے، تو اللہ تعالیٰ اسے دے دے گا، اور اگر وہ چیز اس کے مقدر میں نہیں ہے تو
اس کے لیے اس سے بہتر چیز محفوظ کر دی جائے گی۔ یا اس میں کسی ایسی برائی سے پناہ
مانگی جو اس پر مقدر ہے، تو اللہ تعالیٰ اس سے بڑی برائی سے اسے پناہ دے دے گا۔
اور ہم آخرت میں اس دن کو 'یوم المزید' (زیادتی کا دن) کہتے ہیں۔ اور یہ اس لیے کہ
آپ کے رب نے جنت میں ایک کشادہ (1) وادی بنائی ہے جو سفید مشک سے ہے۔ پھر جب جمعہ
کا دن آتا ہے، تو تبارک وتعالیٰ علیین سے اپنے کرسی پر نزول فرماتا ہے۔ پھر کرسی
کے اردگرد نور کے منبر لگا دیے جاتے ہیں۔ پھر انبیاء آتے ہیں اور ان پر بیٹھ جاتے
ہیں۔ پھر ان منبروں کے گرد سونے کے تخت لگا دیے جاتے ہیں۔ پھر صدیقین اور شہداء
آتے ہیں اور ان پر بیٹھ جاتے ہیں۔ پھر اہل جنت آتے ہیں اور انبیاء، صدیقین و شہداء
کے پیچھے ایک سفید ٹیلے (2) پر بیٹھ جاتے ہیں جو نہایت خوشبودار (3) مشک کا ہے۔
پھر ان کا رب عزوجل ان پر تجلی فرماتا ہے یہاں تک کہ وہ اس کے چہرہ انور کو دیکھتے
ہیں، اور وہ فرما رہا ہوتا ہے: 'میں وہ ہوں جس نے تم سے اپنا وعدہ سچا کر دکھایا
اور تم پر اپنی نعمت پوری کر دی۔ اور یہ میری عزت و کرامت کا مقام ہے، پس مجھ سے
مانگو۔' تو وہ اس سے رضامندی مانگتے ہیں۔ وہ فرماتا ہے: 'میری رضامندی نے تمہیں
میرے گھر میں جگہ دی اور تمہیں میری عزت سے نوازا۔ اب مانگو۔' وہ مانگتے ہیں یہاں
تک کہ ان کی خواہشات ختم ہو جاتی ہیں۔ اس وقت ان کے لیے ایسی چیزیں کھولی جاتی ہیں
جنہیں نہ کسی آنکھ نے دیکھا، نہ کسی کان نے سنا اور نہ کسی انسان کے دل پر ان کا
خیال گزرا۔ یہ (نعمتیں) اس قدر ہوں گی جتنا جمعہ کے دن ان کے واپس ہونے کا وقت
ہوتا ہے۔ پھر غرفات (اعلیٰ محلات) والے اپنے محلوں میں واپس آتے ہیں جو یا تو
زبرجد (4) کے ہیں جو سبز ہے یا یاقوت (5) کے ہیں جو سرخ ہے، (یہ محل) کشادہ ہیں،
ان میں ان کی نہریں ہیں، ان میں ان کے پھل جھکے ہوئے ہیں، ان میں ان کی بیویاں اور
خدمت گار ہیں۔ وہ جنت میں کسی چیز کے لیے بھی اس قدر مشتاق نہیں ہوں گے جتنا کہ
جمعہ کے دن کے لیے، تاکہ اس دن وہ مزید عزت پائیں اور اپنے رب عزوجل کے چہرہ انور
کی زیارت سے مزید مستفید ہوں۔ اور اسی وجہ سے اس دن کو 'یوم المزید' (زیادتی کا
دن) کہا جاتا ہے۔"
(6)
حواشی
اور وضاحت:
(2) الكَثِيب: لمبی، اونچی اور ابھری ہوئی ریت کی پہاڑی۔
(3) الأذفَر: انتہائی اچھی اور شدید خوشبو والا۔
(4) الزَّبَرْجَد: زمرد، ایک قیمتی پتھر۔
(5) الْيَاقُوت: یاقوت، ایک قیمتی پتھر جو ہیرے کے بعد سب سے زیادہ سخت ہوتا ہے، خصوصاً سرخ رنگ کا۔
(6): معجم الطبرانی الأوسط، حدیث نمبر 6717۔ نیز دیکھیں: صحیح الترغیب والترہیب، حدیث نمبر 694، 3761۔
حدیث
سے حاصل ہونے والے اسباق و نکات:
- جمعہ کی
عظمت اور اس کا مرتبہ: یہ حدیث جمعہ کے دن کی بے پناہ
فضیلت و عظمت کو بیان کرتی ہے۔ یہ دن صرف ہفتہ وار نماز کا دن نہیں، بلکہ یہ
اللہ تعالیٰ کی طرف سے امت محمدیہ کے لیے ایک خاص تحفہ، ایک 'عید' کا
دن ہے۔ اسے یہود و نصاریٰ پر فضیلت دی گئی ہے۔
- دعا کی
قبولیت کی خاص گھڑی: حدیث میں جمعہ کے دن کی ایک خاص
گھڑی کا ذکر ہے جس میں دعا کی قبولیت کا خاص وعدہ ہے۔ اس گھڑی کی خصوصیت یہ
ہے کہ اگر بندہ اپنے مقدر میں لکھی بھلائی مانگے تو مل جائے گی، اور اگر نہ
لکھی ہوئی ہو تو اس سے بہتر چیز اس کے لیے ذخیرہ کر دی جائے گی۔ اسی طرح
برائی سے پناہ مانگنے پر اس سے بڑی برائی سے بچا لیا جائے گا۔ یہ اللہ کے فضل
کی وسعت کو ظاہر کرتا ہے۔
- اللہ
تعالیٰ کا اہل جنت سے خصوصی خطاب اور انعام: حدیث جمعہ
کے دن جنت میں ہونے والے ایک عظیم الاجتماع کا نقشہ کھینچتی ہے جہاں اللہ
تعالیٰ اپنے بندوں سے براہ راست مخاطب ہوتا ہے۔ اس دن کی خاص برکت 'یوم المزید' (زیادتی کا دن) کہلاتا ہے، کیونکہ اس دن
اہل جنت کو ان کی نعمتوں میں اضافہ ہوتا ہے، ان کی کرامت بڑھتی ہے اور سب سے
بڑھ کر انہیں اپنے رب کے دیدار کا شرف حاصل ہوتا ہے۔ یہ دیدار سب سے عظیم
نعمت ہے۔
- رضائے
الٰہی کی اہمیت: جب اللہ تعالیٰ اہل جنت سے
فرماتا ہے کہ مانگو، تو سب سے پہلے وہ اس کی 'رضا' مانگتے
ہیں۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ ہر نعمت، بلکہ جنت کی تمام نعمتوں سے بھی بڑھ کر
اللہ کی رضا اور اس کا دیدار مطلوب و مقصود ہے۔ یہی کامیابی کی انتہا ہے۔
- دنیا میں
جمعہ کی قدر و منزلت: یہ حدیث ہمیں دنیا میں جمعہ کی
قدر کرنے اور اس کے آداب و اعمال (غسل، مسجد
کا early آنا، خطبہ
سننا، نماز جمعہ ادا کرنا، دعا کرنا) پر
عمل کرنے کی ترغیب دیتی ہے۔ یہ ہمیں آخرت میں ملنے والے عظیم انعامات کی یاد
دلاتی ہے، تاکہ ہم اس دن کی برکات سے دنیا میں ہی فیضیاب ہونا شروع کر دیں۔
- دنیا اور
آخرت کا ربط: حدیث میں جمعہ کے دن کو 'یوم
المزید' کہا گیا ہے۔ یہ نام اسی لیے ہے کہ اس دن اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو
ان کی نعمتوں میں اضافہ عطا فرماتا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دنیا کا جمعہ
آخرت کے 'یوم المزید' کی ایک جھلک اور تیاری کا دن ہے۔ جو شخص دنیا میں اس دن
کی حقیقی قدر کرے گا، وہ آخرت میں اس دن کے انعامات کا مستحق ہوگا۔
عَنْ
صُهَيْبِ بْنِ سِنَانٍ - رضي الله عنه - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم - فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: {لِلَّذِينَ
أَحْسَنُوا الْحُسْنَى وَزِيَادَةٌ} (١) " (قَالَ: إِذَا دَخَلَ أَهْلُ الْجَنَّةِ
الْجَنَّةَ) (٢) (يَقُولُ
اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: تُرِيدُونَ شَيْئًا أَزِيدُكُمْ؟ فَيَقُولُونَ: أَلَمْ تُبَيِّضْ وُجُوهَنَا؟ , أَلَمْ
تُدْخِلْنَا الْجَنَّةَ وَتُنَجِّنَا مِنْ النَّارِ؟ قَالَ: فَيَكْشِفُ الْحِجَابَ) (٣) (فَيَنْظُرُونَ
إِلَيْهِ , فَوَاللهِ مَا) (٤) (أُعْطُوا
شَيْئًا أَحَبَّ إِلَيْهِمْ مِنْ النَّظَرِ إِلَى رَبِّهِمْ - عز وجل - ") (٥)
وَقَالَ
تَعَالَى: {وُجُوهٌ
يَوْمَئِذٍ نَاضِرَةٌ , إِلَى رَبِّهَا نَاظِرَةٌ} (٦)
حضرت صہیب بن سنان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان: {لِلَّذِينَ أَحْسَنُوا الْحُسْنَى وَزِيَادَةٌ}(١) کے بارے میں فرمایا:
"جب اہل جنت جنت میں داخل ہو جائیں گے، (2)تو اللہ تبارک و تعالیٰ فرمائے گا: کیا تم کسی چیز کا ارادہ رکھتے ہو کہ میں تمہیں اس میں اور زیادہ دوں؟ وہ عرض کریں گے: کیا تو نے ہمارے چہرے سفید (نورانی) نہیں کر دیے؟ کیا تو نے ہمیں جنت میں داخل نہیں کر دیا اور ہمیں دوزخ سے نجات نہیں دلائی؟ (راوی نے) کہا: پھر (اللہ) حجاب ہٹا دے گا، (3)
اور وہ اس کی طرف دیکھیں گے۔ اللہ کی قسم! (4)
انہیں (اللہ کی) دیدار سے زیادہ محبوب اور عزیز کوئی چیز عطا نہیں کی گئی ہوگی۔" (5)
اور
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
{اس
دن کئی چہرے تروتازہ ہوں گے، اپنے رب کی طرف دیکھ رہے ہوں گے۔} (6)
(1): یہ آیت سورۃ یونس (10) کی آیت نمبر 26 سے ہے، جس کا ترجمہ ہے: "نیک لوگوں کے لیے بہترین (بدلہ) ہے اور (اس پر) اضافہ (ہے)۔" حدیث میں اسی "زیادۃ" (اضافے) کی تشریح فرمائی گئی ہے۔
(2): اس فقرے کی روایت جامع ترمذی میں حدیث نمبر 3105 پر ہے۔
(3): اس فقرے کی روایت صحیح مسلم (حدیث نمبر 297 یا 181) اور جامع ترمذی (حدیث نمبر 3105) میں ہے۔
(4): اس فقرے کی روایت سنن ابن ماجہ (حدیث نمبر 187) میں ہے۔
(5): اس مکمل فقرے کی روایت صحیح مسلم (حدیث نمبر 297)، جامع ترمذی (حدیث نمبر 3105)، سنن ابن ماجہ (حدیث نمبر 187) اور مسند احمد (حدیث نمبر 18955) میں موجود ہے۔
(6): یہ آیات سورۃ القیامہ (75) کی آیات نمبر 22 اور 23 سے ہیں، جو حدیث کے مضمون کی قرآن سے تصدیق کرتی ہیں۔
حدیث و
آیات سے حاصل ہونے والے اسباق و نکات:
- "زیادۃ" کا حقیقی مفہوم: سورہ یونس کی آیت میں نیکوکاروں
کے لیے
"حُسْنٰی" (بہترین بدلہ) کے بعد "وَزِيَادَةٌ" (اور اضافہ) کا وعدہ ہے۔ اس حدیث مبارکہ
میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس "اضافے" کی حقیقت واضح فرمائی کہ
وہ اللہ تعالیٰ کا دیدار ہے۔ یہ وہ عظیم ترین نعمت ہے جو
جنت کی تمام نعمتوں سے بالاتر اور ان کا خلاصہ ہے۔
- اللہ کا
دیدار سب سے عظیم انعام: اہل جنت کو جنت کی تمام نعمتیں
ملنے کے بعد جب اللہ کا دیدار عطا ہوتا ہے، تو وہ خود اعتراف کرتے ہیں کہ یہی
وہ چیز ہے جو انہیں سب سے زیادہ عزیز و محبوب ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ حقیقی
کامیابی اور مکمل سکون صرف اسی میں ہے کہ بندہ اپنے پروردگار کو دیکھے۔ یہی
مقصودِ اصلی اور نعمتِ عظمٰی ہے۔
- اللہ کا
بے پایاں فضل اور اس کی عنایت: حدیث کا یہ منظر اللہ تعالیٰ کے
بے انتہا کرم اور اس کی شانِ بخشش کو ظاہر کرتا ہے۔ وہ اپنے بندوں کو جنت
جیسی عظیم نعمت دینے کے بعد پھر بھی پوچھتا ہے: "کیا تم اور چاہتے ہو؟" گویا اس کا خزانۂ رحمت کبھی
ختم نہیں ہوتا۔
- اہل ایمان
کی شکرگزاری اور قناعت: اہل جنت کا جواب (أَلَمْ
تُبَيِّضْ وُجُوهَنَا؟...) درحقیقت اللہ کے احسانات کا
اعتراف اور اس پر شکر کا اظہار ہے۔ وہ اپنے رب کے دیے ہوئے پر قانع اور
شکرگزار ہیں، یہی ان کی عظمت ہے۔
- قیامت کے
دن مومنین کے چہروں کی نورانیت: حدیث میں
اہل جنت کے "سفید (نورانی) چہروں" کا ذکر ہے اور سورۃ القیامہ میں "ناضرہ" (تر وتازہ، چمکدار) چہروں کا ذکر ہے۔ یہ
ایمان و تقویٰ، اطاعت و عبادت کے نور کی علامت ہے جو قیامت کے دن ان کے چہروں
سے ظاہر ہوگا۔
- دنیاوی
زندگی کے لیے ترغیب: یہ حدیث ہر مومن کے دل میں اپنے
رب کو دیکھنے کی ایک شدید خواہش اور طلب پیدا کرتی ہے۔ یہ طلب ہی اس کی اصل
محرک بننی چاہیے۔ اس عظیم انعام کے حصول کے لیے ضروری ہے کہ انسان دنیا میں "احسنوا" (نیکی کرنے والا) بنے، یعنی ایمان کے
ساتھ نیک اعمال بجا لائے۔ جو لوگ یہاں (دنیا میں) اپنے رب کے احکام پر چلتے
ہوئے اس کی رضا کے طالب رہیں گے، وہی وہاں (آخرت میں) اس کے دیدار کے مستحق
ہوں گے۔
- قرآن و
حدیث کا باہمی ربط: یہ حدیث قرآن مجید کی ایک آیت
کی عملی تفسیر اور تشریح ہے۔ اس سے قرآن و حدیث کے گہرے تعلق اور یہ دونوں
دین کے مکمل ماخذ ہونے کا ثبوت ملتا ہے۔
عَنْ
جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْبَجَلِيِّ - رضي الله عنه - قَالَ: (كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ - صلى الله عليه وسلم - " فَنَظَرَ إِلَى الْقَمَرِ لَيْلَةَ
الْبَدْرِ , فَقَالَ: إِنَّكُمْ سَتَرَوْنَ رَبَّكُمْ) (١) (عِيَانًا) (٢) (كَمَا تَرَوْنَ
هَذَا الْقَمَرَ , لَا تُضَامُونَ (٣) فِي رُؤْيَتِهِ
, فَإِنْ اسْتَطَعْتُمْ أَنْ لَا تُغْلَبُوا (٤) عَلَى صَلَاةٍ
قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ غُرُوبِهَا فَافْعَلُوا (٥) ثُمَّ قَرَأَ: {وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوعِ
الشَّمْسِ وَقَبْلَ الْغُرُوبِ} (٦) ") (٧)
ترجمہ:
حضرت
جریر بن عبداللہ بجلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں:
پھر آپ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی: {اور اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کرو سورج نکلنے سے پہلے اور ڈوبنے سے پہلے۔} (6)" (7)
حواشی اور
حوالہ جات:
(1): صحیح بخاری،
حدیث نمبر 529۔ صحیح مسلم، حدیث نمبر 633۔
(2): صحیح بخاری،
حدیث نمبر 6998۔ صحیح مسلم، حدیث نمبر 633۔
(3) لَا تُضَامُونَ: اس کا مطلب یہ ہے کہ اس وقت تمہیں کوئی تکلیف یا
رکاوٹ پیش نہیں آئے گی۔ مراد یہ ہے کہ دیکھنے میں کوئی ہجوم یا گھٹن محسوس نہیں
ہوگی۔ (فتح الباری، جلد 2، صفحہ 329)
(4) أَنْ لَا تُغْلَبُوا: اس میں ان تمام اسباب کو کاٹنے کا اشارہ ہے جو
طاقت اور استطاعت کے منافی ہیں، جیسے نیند یا مصروفیت۔ اس کا مقابلہ ان چیزوں کے
لیے پہلے سے تیاری کر کے کیا جائے گا۔ (فتح الباری، جلد 2، صفحہ 329)
(5) صَلَاةٍ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ غُرُوبِهَا (فجر
اور عصر کی نمازوں کی فضیلت و مناسبت): علماء کرام نے فرمایا: دیدارِ الٰہی کے ذکر کے
موقع پر ان دو نمازوں (فجر و عصر) کے ذکر کی مناسبت یہ ہے کہ نماز سب عبادات سے
افضل ہے، اور ان دو نمازوں کے لیے دوسری نمازوں پر جو فضیلت ثابت ہے (جیسے فرشتوں
کا ان میں اجتماع، اعمال کا ان اوقات میں پیش کیا جانا وغیرہ)، وہ بیان ہو چکی ہے۔
پس یہ دونوں نمازیں سب نمازوں سے افضل ہیں۔ لہٰذا یہ مناسب ہے کہ ان کی محافظت
کرنے والے کو بہترین عطیے، یعنی اللہ تعالیٰ کے دیدار، سے نوازا جائے۔ (فتح
الباری، جلد 2، صفحہ 329)
(6): سورۃ ق (50)،
آیت نمبر 39۔
(7): صحیح بخاری،
حدیث نمبر 529۔ صحیح مسلم، حدیث نمبر 633۔
[الجامع الصحيح للسنن والمسانيد: ج3 ص300]
حدیث
سے حاصل ہونے والے اسباق و نکات:
- دیدارِ
الٰہی کی حقیقت اور کیفیت: یہ حدیث قیامت کے دن مومنین کو
اللہ تعالیٰ کے براہ راست دیدار کی عظیم ترین نعمت کی خوشخبری دیتی ہے۔ اس
دیدار کی کیفیت کو سمجھانے کے لیے رسول اللہ ﷺ نے چودھویں رات کے چاند سے
تشبیہ دی، جو کھلا، واضح، بے روک ٹوک اور ہر کسی کے مشاہدے میں ہوتا ہے۔ یہ
دیدار کوئی تمثیلی یا روحانی نہیں، بلکہ حقیقی اور واضح ہوگا۔ "لا
تُضامون" کے الفاظ اس کی آسانی، وسعت اور ہر مؤمن کی سہولت کو ظاہر کرتے
ہیں۔
- اللہ کے
دیدار کی نعمت سب سے اعلیٰ: حدیث کا یہ وعدہ درحقیقت وہی
"زیادۃ" (اضافہ) ہے جس کا ذکر پچھلی حدیث (سورہ یونس کی آیت کی
تفسیر) میں آیا تھا۔ جنت کی تمام نعمتیں اس دیدار کے سامنے ہیچ ہیں، کیونکہ
یہی مومن کی نهایت آرزو اور کامیابی کا اعلیٰ ترین مقام ہے۔
- فجر اور
عصر کی نمازوں کی خصوصی اہمیت: نبی کریم ﷺ نے دیدارِ الٰہی کی
خوشخبری دینے کے فوراً بعد ہی ان دو فرض نمازوں کی پابندی پر زور دیا ہے۔ اس
سے ان کی عظمت اور ان کے اجر کی بزرگی واضح ہوتی ہے۔ یہ وہ نمازیں ہیں جن میں
فرشتوں کا اجتماع ہوتا ہے اور دن رات کے اعمال انہی اوقات میں اللہ کے حضور
پیش کیے جاتے ہیں۔
- اعمال اور
جزا کا گہرا تعلق: حدیث کا یہ اسلوب (دیدار کی
بشارت کے بعد نماز کی تاکید) ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ آخرت کی عظیم نعمتیں
دنیا میں کیے گئے اعمال صالحہ کا نتیجہ اور بدلہ ہیں۔ اللہ کی رضا اور اس کا
دیدار صرف انہی لوگوں کے لیے ہے جو اس کی اطاعت اور عبادت میں محنت اور
استقامت کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ خاص طور پر ان مشکل اوقات (فجر کی نیند، عصر کی
مصروفیت) میں نمازوں کی حفاظت ایمان کی مضبوطی کی علامت ہے۔
- مشقت پر
صبر اور استطاعت کی کوشش: "إِنِ اسْتَطَعْتُمْ أَنْ لَا
تُغْلَبُوا" کے الفاظ ہمیں بتاتے ہیں کہ نیک اعمال کی ادائیگی میں آنے
والی رکاوٹوں (جیسے نیند، سستی، کام کاج) پر قابو پانے کی کوشش کرنی چاہیے۔
اس کے لیے پہلے سے تیاری (مثلاً جلدی سونا، وقت کا انتظام) ضروری ہے۔ یہ
جہادِ نفس کا ایک حصہ ہے۔
- قرآن و
سنت کا مضبوط ربط: رسول اللہ ﷺ نے اپنی بات کی
تائید اور تکمیل کے لیے فوراً قرآن کریم کی آیت تلاوت فرما دی۔ یہ اس بات کی
واضح دلیل ہے کہ سنت قرآن کی عملی تفسیر اور تفصیل ہے۔ دونوں کا دین میں ایک
ہی مقام ہے۔
- دنیا میں
ہی آخرت کی تیاری کا شعور: یہ حدیث ہمارے دل میں آخرت کی
اس عظیم نعمت کی محبت اور طلب پیدا کرتی ہے۔ اس طلب کو ہماری عملی زندگی میں
فجر و عصر کی نمازوں کی پابندی کے ذریعے ترجیح دی جاتی ہے۔ یہ ہمیں سکھاتا ہے
کہ آخرت کی کامیابی کے لیے دنیا کی زندگی میں محنت اور نظم و ضبط ضروری ہے۔
عَنْ
أَبِي رَزِينٍ لَقِيطِ بْنِ صَبِرَةَ الْعُقَيْلِيِّ - رضي الله عنه
- قَالَ: (قُلْتُ: يَا
رَسُولَ اللهِ , أَكُلُّنَا يَرَى اللهَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُخْلِيًا بِهِ (١)؟ , وَمَا آيَةُ ذَلِكَ (٢) فِي خَلْقِهِ؟
, قَالَ: "
يَا أَبَا
رَزِينٍ , أَلَيْسَ كُلُّكُمْ يَرَى الْقَمَرَ لَيْلَةَ الْبَدْرِ مُخْلِيًا بِهِ؟
" , قُلْتُ: بَلَى يَا
رَسُولَ اللهِ , قَالَ: "
فَاللهُ
أَجَلُّ وَأَعْظَمُ (٣)) (٤) (وَذَلِكَ
آيَةٌ فِي خَلْقِهِ (٥) ") (٦)
ترجمہ:
حضرت
ابو رزین لقیط بن صبرہ عقیلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں:
- "میں نے عرض کیا: اے اللہ کے
رسول! کیا ہم میں سے ہر شخص قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کو (ایسے حال میں) دیکھے
گا کہ وہ اس کے ساتھ یکتا و تنہا ہوگا (1)؟ اور اس کی مخلوق میں اس (دیدار)
کی کیا علامت (2) ہے؟
- آپ ﷺ نے
فرمایا: اے ابو رزین! کیا تم میں سے ہر شخص چودھویں رات کا چاند (اسی طرح
یکتا و تنہا) دیکھتا نہیں ہے؟
- میں نے
کہا: کیوں نہیں، اے اللہ کے رسول!
- آپ ﷺ نے
فرمایا: تو اللہ (اس چاند سے) بہت زیادہ باعظمت اور بڑا ہے (3)۔ (4)
- اور یہی
(چاند کی مثال) اس (دیدار) کی اس کی مخلوق میں علامت ہے (5)۔" (6)
حواشی
اور حوالہ جات:
(1) مُخْلِيًا
بِهِ: اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر شخص اپنے رب کو ایسے حال
میں دیکھے گا کہ وہ اس کے ساتھ یکتا و تنہا ہوگا، جہاں دیدار میں کوئی چیز اسے
مزاحم (رکاوٹ) نہیں بنے گی۔ (عون المعبود، جلد 10، صفحہ 249)
(2) آيَةُ
ذَلِكَ: یعنی اس (دیدار) کی کیا علامت یا نشانی ہے۔ (عون
المعبود، جلد 10، صفحہ 249)
(3) أَجَلُّ
وَأَعْظَمُ: اس کا مطلب یہ ہے کہ پس وہ (اللہ تعالیٰ) دیدار
کے زیادہ لائق اور اہل ہے۔ (عون المعبود، جلد 10، صفحہ 249)
(4): سنن ابی داؤد،
حدیث نمبر 4731۔ سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر 180۔
(5) آيَةٌ
فِي خَلْقِهِ: یعنی اور ہم میں سے ہر شخص اسے دیکھے گا۔ (عون
المعبود، جلد 10، صفحہ 249)
(6): سنن ابن ماجہ،
حدیث نمبر 180۔ امام البانی رحمہ اللہ نے "ظلال الجنة" میں اسے حدیث
نمبر 459 اور 460 پر حسن قرار دیا ہے۔
[الجامع الصحيح للسنن والمسانيد: ج3 ص301]
حدیث
سے حاصل ہونے والے اسباق و نکات:
- دیدارِ
الٰہی کی حقیقت پر مضبوط ایمان: یہ حدیث
اس اہم عقیدے کو مضبوطی سے قائم کرتی ہے کہ مومن قیامت کے دن اپنے رب کو اپنی
آنکھوں سے براہ راست دیکھیں گے۔ یہ صرف ایک روحانی یا قلبی احساس نہیں، بلکہ
ایک حقیقی اور واضح دیدار ہوگا، جس کی کیفیت کو سمجھانے کے لیے نبی کریم ﷺ نے
محسوس اور مشاہدہ میں آنے والی چیز (چاند) سے تشبیہ دی ہے۔
- ہر مومن
کا انفرادی اور بے روک ٹوک دیدار: سائل کے
سوال میں "مُخْلِيًا بِهِ" (اس کے ساتھ یکتا و تنہا) کے الفاظ اور
اس کی تشریح سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ دیدار ہر فرد کا اپنا ذاتی، انفرادی اور
بلا شرکت غیرے ہوگا۔ اس میں نہ کوئی ہجوم ہوگا، نہ کوئی رکاوٹ ہوگی اور نہ ہی
کسی قسم کی مزاحمت۔ ہر شخص یہ محسوس کرے گا کہ اس وقت صرف وہ اور اس کا رب
ہیں۔ یہ اللہ کی قدرت کاملہ اور اس کے فضل کی عظیم شان ہے۔
- عقل و فہم
کے قریب تر مثال سے سمجھانا: نبی اکرم ﷺ نے ایک پیچیدہ اور
غیبی عقیدے (دیدارِ الٰہی) کو سمجھانے کے لیے دنیا کی ایک واضح اور سادہ سی
مثال (چودھویں رات کا چاند) استعمال فرمائی۔ یہ آپ ﷺ کے بہترین معلم ہونے کی
واضح دلیل ہے۔ آپ ﷺ جانتے تھے کہ انسان کی عقل براہ راست اس کیفیت کو سمجھنے
سے قاصر ہے، اس لیے مشابہت والی مثال دے کر اس کے قریب ترین تصور کو ذہن میں
بٹھا دیا۔
- مخلوق سے
خالق کی عظمت کا استدلال (آیت فی خلقہ): حدیث کا
یہ حصہ بہت گہرا ہے۔ سائل نے پوچھا کہ اس دیدار کی "مخلوق میں کیا علامت
ہے؟" یعنی کیا کوئی ایسی مثال یا نشانی ہے جو ہمارے مشاہدے میں ہو؟ آپ ﷺ
نے چاند کی مثال دے کر درحقیقت یہ سمجھایا کہ خالق اپنی مخلوق کی
صفات سے بہت بلند و برتر ہے۔ اگر یہ چھوٹی سی مخلوق (چاند) پوری آب و تاب
کے ساتھ پوری دنیا کے لوگوں کو یکساں طور پر دکھائی دے سکتا ہے، تو اس کے
خالق کی شان کیا ہوگی؟ وہ اپنے بندوں کو دکھائی دینے پر یقیناً قادر ہے۔ اس
طرح مخلوق میں موجود صفت (ظاہری دید) سے خالق کے لیے ایک اعلیٰ صفت (دیدارِ
ذاتی) کا اثبات ہوتا ہے۔
- سوال کرنے
اور علم حاصل کرنے کی ترغیب: صحابی رسول کا یہ سوال دین کے
بنیادی عقائد کو سیکھنے اور سمجھنے کی جستجو کو ظاہر کرتا ہے۔ آپ ﷺ نے ان کے
سوال کو غنیمت جانا اور نہایت پیار اور حکمت سے جواب دیا۔ یہ ہمارے لیے بھی
درس ہے کہ دین کی باتوں کو سمجھنے کے لیے مناسب طریقے سے سوال کرنا چاہیے۔
- چاند کی
مثال کی تکمیل: پچھلی حدیث (حضرت جریر بن
عبداللہ رضی اللہ عنہ کی روایت) میں بھی دیدارِ الٰہی کے لیے چاند کی مثال دی
گئی تھی۔ اس حدیث میں اس مثال کی ایک نئی جہت سامنے آتی ہے، یعنی "مُخْلِيًا
بِهِ" (یکتا و تنہا ہو کر) دیکھنا۔ گویا ایک
حدیث دیدار کی واضحیت بتا رہی ہے، تو دوسری اس کی انفرادیت اور وسعت بیان کر
رہی ہے۔ دونوں مل کر تصور کو مکمل کرتی ہیں۔
- اللہ
تعالیٰ کی ذات کی عظمت و کبریائی کا اعتراف: آپ ﷺ کے
الفاظ "فَاللهُ
أَجَلُّ وَأَعْظَمُ" (تو اللہ بہت زیادہ باعظمت اور بڑا ہے)
درحقیقت یہ بتاتے ہیں کہ ہم جو مثال بھی دیں، وہ اللہ کی شان کے سامنے ادنیٰ
اور ناقص ہے۔ وہ ہر مثال اور تشبیہ سے بالاتر ہے۔ اس لیے ہماری عقل جو کچھ
سمجھے، اس سے کہیں زیادہ حقیقت ہوگی۔
مَشْرُوعِيَّةُ سُؤالِ الْجَنَّة (جنت مانگنے کی مشروعیت)
حدیث نمبر 66
(حم) , عَنْ أَنَسٍ - رضي الله عنه - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم -: (" مَا سَأَلَ رَجُلٌ مُسْلِمٌ اللهَ - عز وجل - الْجَنَّةَ) (١) (ثَلَاثَ مَرَّاتٍ قَطُّ) (٢) (إِلَّا قَالَتِ الْجَنَّةُ: اللَّهُمَّ أَدْخِلْهُ إِيَّايَ , وَلَا اسْتَجَارَ مِنَ النَّارِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ إِلَّا قَالَتِ النَّارُ: اللَّهُمَّ أَجِرْهُ مِنِّي ") (٣)
ملحوظة (٤):
ترجمہ
عن أنس
رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:
تین مرتبہ صرف(2)
مگر جنت کہتی ہے: اے اللہ! اسے مجھ میں داخل فرما۔ اور کوئی شخص آگ (جہنم) سے تین مرتبہ پناہ نہیں مانگتا مگر آگ (جہنم) کہتی ہے: اے اللہ! اسے مجھ سے بچا لے۔" (3)
نوٹ(4)
حوالہ
جات کی تفصیل
(2): مسند احمد (حدیث نمبر 13781)، جامع ترمذی (حدیث نمبر 2572)، سنن نسائی (حدیث نمبر 5521)۔ شیخ شعیب الأرناءوط فرماتے ہیں: اس کی سند حسن ہے۔
(3): مسند احمد (حدیث نمبر 12191)، جامع ترمذی (حدیث نمبر 2572)، سنن نسائی (حدیث نمبر 5521)۔ صحیح الجامع (حدیث نمبر 5630)، صحیح الترغیب والترہیب (حدیث نمبر 3654)۔ شیخ شعیب الأرناءوط فرماتے ہیں: اس کی سند حسن ہے۔
(4) مصنف کی درخواست کے بارے میں
آپ کی طرف سے نقل کردہ متن کے آخر میں کتاب کے مصنف کی ایک درخواست بھی شامل ہے، جس کا مفہوم یہ ہے:
"اور اس کے بعد اے عزیز قاری! میں نے اس کتاب میں آپ کے لیے وہ سب کچھ جمع کیا ہے جو آخرت کے متعلق آپ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے، اس وقت سے جب آپ کی روح بدن سے نکلتی ہے، لے کر اس وقت تک جب آپ اپنے رب کو جنت میں اس کے اذن سے دیکھیں گے۔ پس اگر آپ میرے لیے اس خدمت پر کوئی دعا کرنا چاہیں تو یہ کہیں: 'اے اللہ! اس کتاب کے مؤلف کے پچھلے اور آنے والے گناہ بخش دے، اور اسے بغیر حساب اور بغیر عذاب کے جنت کے اعلیٰ درجے (فردوس الاعلیٰ) میں داخل فرما۔' اور فرشتہ آپ سے کہے گا: اور آپ کے لیے بھی ایسی ہی دعا ہے۔"
حدیث
سے حاصل ہونے والے اسباق و نکات
1. جنت مانگنے اور
جہنم سے پناہ چاہنے کی ترغیب
اس
حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں واضح طور پر یہ سکھایا ہے کہ ہمیں
اللہ سے براہ راست جنت مانگنی چاہیے اور جہنم سے پناہ
چاہنی چاہیے۔ یہ کوئی معمولی دعا نہیں بلکہ ایک ایسی دعا ہے جس کا اثر صرف دعا
کرنے والے پر ہی نہیں، بلکہ خود جنت اور جہنم پر ہوتا ہے۔
2. تکرار اور
استمرار (لگاتار مانگنے) کی اہمیت
حدیث
میں "تین مرتبہ" کا ذکر
اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اہم مقاصد کے حصول کے لیے دعا میں تکرار اور پersistence ہونی چاہیے۔ یہ محض ایک عدد نہیں بلکہ اس بات کا
اشارہ ہے کہ ہمیں اپنی دعاؤں میں لگاتار، مسلسل اور بار بار اپنی حاجات پیش کرنی
چاہئیں۔
3. مخلوقات کا
مؤمن کے لیے دعا گو ہونا
حدیث
کا سب سے حیرت انگیز پہلو یہ ہے کہ جب مؤمن اللہ سے جنت مانگتا ہے تو خود
جنت اس کے لیے دعا کرتی ہے کہ "اے اللہ! اسے مجھ میں داخل
فرما۔" اسی طرح جب وہ جہنم سے پناہ مانگتا ہے تو خود جہنم اس کے لیے
دعا کرتی ہے کہ "اے اللہ! اسے مجھ سے بچا لے۔" یہ مؤمن اور
اللہ کی مخلوقات کے درمیان ایک انتہائی خصوصی روحانی تعلق کو ظاہر کرتا ہے۔
4. دعا کی قبولیت
کا وعدہ
یہ
حدیث مؤمن کے دل میں یقین اور اعتماد پیدا کرتی ہے کہ اس کی دعا رائیگاں نہیں جائے
گی۔ جب اسے اللہ کی عطا کردہ مخلوقات بھی اس کے حق میں دعا کرنے لگیں، تو اس سے
زیادہ قبولیت کی کیا ضمانت ہو سکتی ہے؟
5. ایمان کی علامت
جنت کی
طلب اور جہنم سے خوف مؤمن کے ایمان کی دو اہم علامتیں ہیں۔ جو شخص واقعی اللہ پر
ایمان رکھتا ہے، وہ ضرور اس کی رضا اور اس کی جنت کا طالب ہوگا اور اس کی ناراضی
اور اس کی جہنم سے خائف ہوگا۔
6. عملی قدم: دعا
کا معمول
اس
حدیث سے ہمیں عملی طور پر یہ سبق ملتا ہے کہ ہمیں اپنی روزمرہ کی دعاؤں میں جنت کی
طلب اور جہنم سے پناہ کی دعا کو باقاعدہ طور پر شامل کر لینا چاہیے۔ خاص طور پر دن
میں کم از کم تین مرتبہ یہ دعا ضرور مانگنی چاہیے۔
جنت کی نعمتوں کی معمولی مقدار دنیا اور جو کچھ اس میں ہے پر غالب ہے:
سیدنا سعد بن ابووقاصؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لَوْ أَنَّ مَا يُقِلُّ ظُفُرٌ مِمَّا في الجَنَّةِ بَدَا: لَتَزَخْرَفَتْ لَهُ خَوَافِقُ السَّمَوَاتِ وَالأَرْض، وَلَوْ أَنَّ رَجُلاً مِن أَهْلِ الجَنَّةِ اطَّلَعَ فَبَدَتْ أَسَاوِرُهُ: لَطَمَسَ ضَوْؤُهَا ضَوْءَ الشَّمْس؛ كَمَا تَطْمِسُ الشَّمْسُ ضَوْءَ النُّجُوم۔
ترجمہ:
”اگر جنت کی ناخن کی مقدار سے کم چیز کو (دنیا) میں ظاہر کر دیا جائے تو آسمانوں اور زمینوں کے کنارے روشن ہو جائیں گے۔ اگر کوئی جنتی (دنیا میں جھانکے اور اس کے کنگن بھی نمودار ہوں تو (ان کی تابناکی کے سامنے) سورج کی روشنی بےنور ہو جائے گی، جیسے سورج، ستارے کی روشنی کو ختم کر دیتا ہے۔“
] مسند أحمد: 1449+1467، سنن الترمذي: 2538، مسند البزار: 1109 +1226، المعجم الأوسط للطبراني: 8880، صفة الجنة لأبي نعيم الأصبهاني: 57+210+266، صفة الجنة لابن أبي الدنيا: 215+276]
تفسير الثعالبي: سورة الذّاريات: آية15+16
الدر المنثور: سورة الْبَقَرَة:25
سیدنا حکیم بن معاویہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’جنت میں دودھ، پانی، شہد اور شراب کے سمندر ہیں، جن سے ان کی نہریں اور چشمے جاری ہوں گے۔‘‘
سیدنا ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’جب تم اللہ سے سوال کرو تو جنت الفردوس طلب کرو، کیونکہ وہ سب سے بہتر اور سب سے اعلیٰ جنت ہے، اسی کے اوپر رحمن کا عرش ہے اور اسی سے جنت کی نہریں جاری ہوتی ہیں۔‘‘

﴿كَذٰلِكَ وَزَوَّجْنَاهُمْ بِحُورٍ عِينٍ﴾
ترجمہ:
اسی طرح ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا:
﴿مُتَّكِئِينَ عَلَى سُرُرٍ مَصْفُوفَةٍ وَزَوَّجْنَاهُمْ بِحُورٍ عِينٍ﴾
ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا:
﴿وَحُورٌ عِينٌ كَأَمْثَالِ اللُّؤْلُؤِ الْمَكْنُونِ﴾
[سورۃ الواقعة: 22، 23]
حضرت ابو امامہؓ کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا:
بیہقی نے حضرت انس رضی اللہ عنہ کی مرفوع اور حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی موقوف حدیث بھی اسی طرح نقل کی ہے، اور مجاہد سے بھی یہ روایت آئی ہے۔
[الترغيب والترهيب للمنذري - ط العلمية:4/ 298]
حضرت ابن عباسؓ، حضرت انسؓ اور حضرت ابوسلمہ: بن عبدالرحمٰن (تابعی) اور حضر مجاہدؒ (تابعی) فرماتے ہیں کہ:
حضرت ابن ابی الحواری رحمہ اللہ فرماتے ہیں (کہ میں نے ابوسلیمان سے سنا):
سرکارِ دوعالم جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حورعین کے متعلق سوال کیا گیا کہ ان کوکس چیز سے پیدا کیا گیا ؟ توآپ نے ارشاد فرمایا:
"من ثلاثة أشياء: أسفلهن من المسك، وأوسطهن من العنبر، وأعلاهن من الكافور، وشعورهن وحوا جبهن سواد خط من نور".
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک اور روایت نقل کی گئی ہے کہ آپ نے ارشاد فرمایا:
"سألت جبريل عليه السلام فقلت: أخبرني كيف يخلق الله الحور العين؟ فقال لي: يامحمد! يخلقهن الله من قضبان العنبر والزعفران، مضروبات عليهن الخيام، أول مايخلق الله منهن نهداً من مسك أذفر أبيض عليه يلتام البدن".
حور کا افسوس:
ترجمہ:
«إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا قَامَ فِي الصَّلَاةِ، فُتِحَتْ لَهُ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ، وَكُشِفَتْ لَهُ الْحُجُبُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ رَبِّهِ، وَاسْتَقْبَلَتْهُ الْحُورُ الْعِينُ، مَا لَمْ يَمْتَخِطْ أَوْ يَتَنَخَّعْ».
ترجمہ:
جب مسلمان نماز کے لیے کھڑا ہوتا ہے تواس کے لیے جنت کو کھول دیا جاتا ہے، اس کے اور اس کے رب کے درمیان سے پردے ہٹادیے جاتے ہیں اور حور اس کی طرف اپنا رُخ کرلیتی ہے جب تک وہ نہ تھوکے اور ناک نہ سنکے (کیوں کہ حوریں اس نزلہ زکام وغیرہ سے پاک ہیں اور اُن سے نفرت کرتی ہیں)۔
[المعجم الكبير للطبراني:7980، البدور السافرۃ فی احوال الآخرۃ-السيوطي:۲۰۵۸]
حضرت ابن عباسؓ فرماتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
«مَنْ بَاتَ لَيْلَةً فِي خِفَّةٍ مِنَ الطَّعَامِ وَالشَّرَابِ يُصَلِّي، تداكَتْ حَوْلَهُ الْحُورُ الْعَيْنُ حَتَّى يُصْبِحَ».
جو شخص تھوڑا کھانا کھاکر نماز پڑھتے ہوئے رات گزارتا ہے صبح تک حورعین انتظار میں رہتی ہیں (کہ شاید اللہ تعالیٰ اس نیک بندے کے ساتھ ہمیں بیاہ دے)۔
[الزهد والرقائق - ابن المبارك - ت الأعظمي: صفحہ72]
"وَ"الْحُورُ": هُنَّ النِّسَاءُ النَّقِيَّاتُ الْبَيَاضِ، يَحَارُ فِيهِنَّ الطَّرْفُ مِنْ بَيَاضِهِنَّ وَصَفَاءِ لَوْنِهِنَّ، جمع حوراء، والعين: جمع العيناء وهى العظيم العينين. أخرج الطبراني عن أبى أمامة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: خلق الحور العين من الزعفران. وأخرج البيهقي مثله عن أنس مرفوعاً وعن ابن عباس موقوفاً وعن مجاهد كذلك. وأخرج ابن المبارك عن زيد بن أسلم قال: إن الله تبارك وتعالى لا يخلق الحور العين من تراب، إنما خلقهن من مسك وكافور وزعفران. وأخرج ابن أبي الدنيا عن أنس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: لو أن حوراً بزقت في بحر لعذب ذلك البحر من عذوبة ريقها. وأخرج ابن أبي الدنيا عن ابن عباس قال: لو أن حوراً أخرجت كفها بين السماء والأرض لافتتن الخلائق بحسنها، ولو أخرجت نصيفها لكان الشمس عند حسنه مثل الفتيلة فى الشمس لاضوء لها، ولو أخرجت وجهها لأضاء حسنها ما بين السماء والأرض. وأخرج هناد عن حبان بن احيلة قال: إن نساء أهل الدنيا إذا أدخلن الجنة فضلن على الحور العين".
اسلام میں حوروں کے فضائل کی غرض و غایت:
اسلام کا تدریجی و ارتقائی اسلوب ِتربیت اور حوروں کے فضائل کی غرض وغایت:معاشر ے میں ایسے افراد بھی ہوتے ہیں جو الہامی عقائد و نظریات سے شد و مد کے ساتھ اختلاف کرتے ہیں جس کی وجوہات میری ناقص رائے کے مطابق یہ ہو سکتی ہیں:
کیا اسلام میں حوروں کے فضائل اور ترغیب جنسی میلان کی ترغیب ہے؟
کیا حوریں اس عبادت کا بدل ہیں جو دنیا میں کی جاتی ہے؟
کیا یہ عورت کو محض جنسی تسکین کا ذریعہ سمجھنا نہیں کہلاتا؟
مردوں کے لیے حوروں کی ترغیب و فضائل ہیں لیکن عورتوں کے لیے اس قسم کے فضائل وترغیب کیوں نہیں بیان کیے گیے؟ وغیرہ وغیرہ
یہ تمام اشکالات اسلام کے تربیتی اسلوب کو نہ سمجھ سکنے کی وجہ سے ہےں اور مؤخر الذکر تو محض بے حیائی کا عکاس اور اسلام کے تصور حیا کو یکسر نہ سمجھ سکنے کی وجہ سے ہے۔ درا صل ان سطور کو لکھنے کا محرک بھی اسلام کے بارے میں شکوک و شبہات اور شر انگیزی پھیلانے والے فتنہ پردازوں کی سوشل میڈیا پراس قسم کی سرگرمیاں ہی ہیں ۔
اس میں کچھ شک نہیں کہ عبادت کا مقصود ِاصلی محض اللہ ہی کی رضاہے لیکن خوب ذہن نشین کر لیا جائے کہ رسول عربی ﷺ نے نہ صرف جہنم سے ڈرایا ہے بلکہ جنت کی بشارتیں بھی سنائی ہیں ۔قرآن پاک میں اللہ نے جنت کی طرف بڑھنے کا حکم فرمایا اور اس کی نعمتوں کا جا بجا تذکرہ فرمایا جن میں پاکیزہ بیویوں کا تذکرہ ان کے اوصاف اور حسن و جمال کے ساتھ فرمایا ہے۔لیکن سوال یہ ہے کہ آخر اسلام میں حوروں کے فضائل و استحضار کی غر ض وغایت کیا ہے ؟اگر اس سوال کے تشفی بخش جواب سے یقینی آگاہی حاصل ہو جائے تو کوئی وجہ نہیں کہ مذکورہ بالا اشکالات کی کوئی گنجائش باقی رہ جائے ۔اسلام میں قرن ِاول ہی سے افراد کی تربیت کا جو نظام وضع کیا گیا وہ آج کے ہر ہر فرد کے لیے بطریق ِ اولیٰ مؤثر ہے جس کا کوئی بھی متبادل نظام ِ تربیت قطعی طور پر ناکافی اور غیر مؤثر ہو گا۔اب اسلام کے نظام تزکیہ و تربیت کے اسلوب کو سمجھنا نہایت ضروری ہے۔اسلام کا تزکیہ و تربیت کا نظام تدریجی و ارتقائی ہے جو حکمت و بصیرت سے پُر ہے جس کے مدارج اور ارتقائی مراحل میں سے چند ایک کا ذکر ضروری سمجھتا ہوں۔
اول۔۔۔۔ فضائل و ترغیب اور استحضار ِ عمل(عمل پر اللہ کے وعدے کا یقین):
دوم۔۔۔۔ آسان سے مشکل کی طرف:
ذرا سوچیے ایسا کیوں نہ ہوا کہ تمام احکام شرعیہ بیک وقت نازل ہو جاتے؟ دیکھیے شراب کی حرمت اور پردے کی فرضیت کا عمر رضی اللہ عنہ کی فکر پر نازل ہونا تو ایک تکوینی امر تھا لیکن اعلان نبوت کے طویل عرصہ بعد ان احکامت کے نزول میں درحقیقت اسلام کا یہی تدریجی و ارتقائی اسلوب تربیت ہی حائل تھا گویا ان احکامات کا نزول ایک مناسب وقت کی تلاش میں تھا جیسے کسان بنجر اور سخت زمین میں بیج ہر گز نہیں ڈالتا بلکہ اس کو اس قابل بنا تا ہے کہ اس میں مطلوبہ فصل کاشت کی جا سکے بعینہ زیر تربیت عملہ کے مناسبِ احوال شرعیت مطہرہ کے احکامات متوجہ ہوتے رہے ۔انسانی تربیت کے اس نظام نے عبادات ،اخلاقیات و معاشرت اور معاملات کے دین سے ہوتے ہوئےقضا کے دین کو اپنی وسعتوں میں سمو لیا کہ ایک یہودی اور جلیل القدر صحابی حضرت علی رضی اللہ عنہ کا مقدمہ جب عدالت کے روبرو ہو تا ہے تو قاضی کا منصفانہ و عادلانہ فیصلہ یہودی کے ضمیر کو جھنجوڑکے رکھ دیتا ہے اور اسے قبول اسلام پر مجبور کر دیتا ہے ۔ پھر مصلح عظیم ﷺنے ایک فلاحی ریاست کی بنیاد رکھی اور تیس سال کی محنت شاقہ کے بعد اس دنیا سے اس حال میں پردہ فرمایا کہ ایک حقیقی اسلامی فلاحی ریاست قائم ہو چکی تھی گویا تکمیل دین کا عمل اپنی انتہا کو پہنچ چکا تھا ۔ اورآیت مبارکہ۔۔۔۔(ترجمہ:آج میں نے تمھارے لیے تمھار ادین مکمل کردیا ،تم پر اپنی نعمت پوری کر دی ،اور تمھارے لئے اسلام کو دین کے طور پر (ہمیشہ کے لئے ) پسند کر لیا ) ۔۔نازل ہوئی ۔
یاد رہے اس تمام تر تربیتی پروگرام میں محنت ِ دعوت کارفرما رہی اور آج بھی ختم نبوت کے طفیل یہی کار نبوت خیر امت کا منصب و اولین فریضہ ہے جس کی انفع صورت محض نہج نبوت پر تربیت کا یہی ارتقائی و تدریجی اسلوب ہے۔تاریخ شاہد ہے کہ جب تک امت مسلمہ اس فرضِ منصبی کو اجتماعی طور پر نبھاتی رہی تو مذکورہ بالا تما م امور میں دین کی بہاریں دکھائی دیتی رہیں جیسے ہی اجتماعی طور پر اس فریضے سے غفلت برتی گئی تو تربیت کا مذکورہ نظا م ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو تا چلا گیا اور نتیجتاًسب سے پہلے ریاستی نظا م میں بگاڑ آیا پھر قضا اور امور انتظام (Administration) کا دین جاتا رہا اور پھر معاشرت و معاملات کا وہ حال ہوا کہ آج ہم نہ صرف اپنی پہچان کھو بیٹھے ہیں بلکہ اغیار کی مشابہت کو قابل فخر سمجھتے ہیں اورآج امت کی حالت اس قدر پتلی ہو چکی ہے کہ محض عبادات کا دین کسی قدر نظر آتا ہے ۔
سوم ۔۔۔۔ قلبی کیفیت اور ظاہری نوعیت و مراتب کا لحاظ:
انسان طبعاً جنس ِ مخالف کی طرف میلان و رجحان اور حب مال و جاہ کا شکار رہتاہے ۔یہی دو چیزیں انسان کی تمام تر محنت اور کاوشوں کا مرکز و محور رہی ہیں۔مصلح کبھی بھی اپنے زیر تربیت عملہ کی طبیعت و مزاج ، میلان و رجحان کو نظر انداز نہیں کرتا ۔ یاد رہے جنس ِ مخالف کی طرف میلان و رجحان اور حب مال و جاہ انسان کی روز اول ہی سے کمزوری رہی ہیں لہٰذا ہر دو جانب سے رخ کو ہٹانے کے لئے ابتداً جنت کی حوروں ، نعمتوں کو بیان کیا جاتا ہے(یعنی فضائل و ترغیب اور استحضار عمل کے ضمن میں ) اور دنیا سے بے رغبتی پیدا کرنے کے لئے دنیا کی مذمت کی جاتی ہے اور مغیبات کے تذکرے کیے جاتے ہیں(یعنی احوال ِآخرت : برزخ ،جنت اور جہنم کو بیان کی جاتا ہے ) تاکہ محنت کا رخ پھر جائے مبادا دنیا کی عارضی شہوتوں ،لذتوں اور آرائش و زیبائش میں الجھ کر اپنے مقصد ِاصلی سے ہٹ جائے اور اپنے خالق حقیقی کو ناراض کر کے اپنی آخرت برباد کر لے ۔لیکن اصلاح ِ احوال ، تزکیہ نفس اور منازل ِسلوک طے کر لینے کے بعد اسی انسان میں نہ حوروں کی تمنا باقی رہتی ہے نہ جنت کی خواہش وہ محض اللہ ذوالجلال کی رضا کا متلاشی بن جاتا ہے ۔چوں کہ معاشرہ خاص و عام لوگوں کا مجموعہ ہوا کرتا ہے اور ایسا ممکن بھی نہیں کہ تمام تر افراد ایک ہی قلبی کیفیت ،نوعیت کے حامل ہوں لہٰذا اگر کوئی شخص کسی وجہ سے تربیت کے تمام ادوار سے نہ گذر سکے یا کسی وجہ سے اس کو تربیت کے مواقع میسر نہ آسکیں توترغیب و ترہیب سے کم از کم وہ فضائل (جنت کی حوروں اور دیگر نعمتوں) اور وعیدوں (جہنم کے عذاب) کو مد نظر رکھتے ہوئے اپنی عقلی بساط اور کیفیت قلبی کی بنیاد پر کسی نہ کسی درجے میں دین سے وابستہ رہتا ہے اور خالق حقیقی کی بندگی بجا لاتا رہتا ہے۔
"لا يدخل الجنة من النساء إلا من كان منهن مثل هذا الغراب في الغربان".
سَأَلْتُ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ ، وَأَبَا هُرَيْرَةَ ، عَنْ تَفْسِيرِ هَذِهِ الآيَةِ : وَمَسَاكِنَ طَيِّبَةً فِي جَنَّاتِ عَدْنٍ سورة التوبة آية 72 , فَقَالا : عَلَى الْخَبِيرِ سَقَطْتَ ، سَأَلْنَا عَنْهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ : " قَصْرٌ فِي الْجَنَّةِ مِنْ لُؤْلُؤَةٍ ، فِي ذَلِكَ الْقَصْرِ سَبْعُونَ دَارًا مِنْ يَاقُوتَةٍ حَمْرَاءَ ، فِي كُلِّ دَارٍ سَبْعُونَ بَيْتًا مِنْ زَبَرْجَدٍ خَضْرَاءَ ، فِي كُلِّ بَيْتٍ سَبْعُونَ أَلْفَ سَرِيرٍ ، عَلَى كُلِّ سَرِيرٍ سَبْعُونَ فَرْشًا مِنْ كُلِّ لَوْنٍ ، عَلَى كُلِّ فِرَاشٍ امْرَأَةٌ مِنَ الْحُورِ الْعِينِ ، وَفِي كُلِّ بَيْتٍ سَبْعُونَ مَائِدَةً ، عَلَى كُلِّ مَائِدَةٍ سَبْعُونَ لَوْنًا مِنْ كُلِّ الطَّعَامِ ، فِي كُلِّ بَيْتٍ سَبْعُونَ وَصَيْفًا وَوَصِيفَةً ، وَيُعْطَى الْمُؤْمِنُ مِنَ الْقُوَّةِ فِي غَدَاةٍ مَا يَأْتِي عَلَى ذَلِكَ كُلِّهِ " .
ترجمہ:
جنت میں ایک محل لؤلؤ کا ہوگا اس محل میں ستر گھر سرخ یاقوت کے ہوں گے پھر ہر گھر میں ستر کمرے سبز زمرد کے ہوں گے اور ہر کمرے میں ستر تخت ہوں گے اور ہر تخت پرہر رنگ کے ستر دسترخوان ہوں گے، ہر دسترخوان پر ستر قسم کے کھانے چنے ہوں گے، ہر کمرے میں ستر لڑکے اور ستر لڑکیاں (خدمتگار) ہوں گی اللہ عزوجل ہر مؤمن کو (ہر) ایک صبح میں اتنی طاقت عطاء فرمائیں گے کہ وہ ان سب نعمتوں سے مستفید ہوسکے گا۔
[الزهد والرقائق لابن المبارك » رقم الحديث: 1577، صفة الجنة لابن أبي الدنيا:177]
[تفسير ابن أبي حاتم » سورة التوبة:72، رقم الحديث: 10302]
(جاری ہے)

































No comments:
Post a Comment