Friday, 25 July 2025

پسندیدہ اور ناپسندیدہ غیرت

’’غیرت‘‘ عربی زبان کا لفظ ہے جس کے مفہوم میں اہل زبان دو باتوں کا بطور خاص ذکر کرتے ہیں۔ ایک یہ کہ کوئی ناگوار بات دیکھ کر دل کی کیفیت کا متغیر ہو جانا، اور دوسرا یہ کہ اپنے کسی خاص حق میں غیر کی شرکت کو برداشت نہ کرنا۔ ان دو باتوں کے اجتماع سے پیدا ہونے والے جذبہ کا نام غیرت ہے۔


قرآن مجید میں لفظ "غیرت" براہ راست استعمال نہیں ہوا، لیکن اس کے فطری جذبے، حدود اور اس سے متعلقہ اخلاقی نظام کی واضح بنیادیں موجود ہیں۔ مندرجہ ذیل آیات وہ قرآنی تصورات پیش کرتی ہیں جو شرعی "غیرت" کے جائز دائرے کی بنیاد ہیں:


1️⃣ غیرت کی فطری بنیاد: عزت و عفت کی حفاظت


قرآن مجید نے اپنے احکامات کے ذریعے وہ فطری ماحول قائم کیا ہے جہاں عزت و عصمت کی حفاظت کا جذبہ (غیرت) پروان چڑھے۔


· پردے کا حکم: یہ حکم نہ صرف عفت کے تحفظ بلکہ اجتماعی غیرت کے اظہار کا بھی سبب بنا۔

  "اے نبی! اپنی بیویوں اور بیٹیوں اور مسلمانوں کی عورتوں سے کہہ دو کہ اپنے اوپر اپنی چادریں لٹکا لیا کریں۔ یہ زیادہ مناسب طریقہ ہے تاکہ وہ پہچان لی جائیں اور نہ ستائی جائیں..."

[سورۃ الاحزاب: 59]

· عفت عامہ کا حکم: یہ آیت فحاشی سے بچنے کے حکم سے معاشرے میں عفت کے تحفظ اور اس پر غیرت کرنے کی فضا قائم کرتی ہے۔

  "بتا دو کہ میرے رب نے تو انہی (باتوں) کو حرام کیا ہے جو کھلی بے حیائی ہوں..."

[سورۃ الأعراف: 33]


2️⃣ غیرتِ مذمومہ سے تحذیر: بے جا شک اور تہمت


آپ نے پہلے جو حدیث پڑھی، اس میں بلاوجہ غیرت کرنے سے منع کیا گیا ہے۔ قرآن اس سے بھی واضح طور پر خبردار کرتا ہے۔


· بدگمانی سے پرہیز: یہ آیت بے بنیاد شک (جو غلط غیرت کا سبب بنتا ہے) کی بنیادی روک ہے۔

  "اے ایمان والو! بہت سے گمانوں سے بچتے رہو، بیشک بعض گمان گناہ ہوتے ہیں..."

[سورۃ الحجرات: 12]

· پاک دامن عورتوں پر تہمت: بے جا غیرت کا سب سے بڑا ظلم پاک دامن خواتین پر الزام تراشی ہے، جس پر قرآن میں سخت وعید آئی ہے۔

  "جو لوگ پاک دامن عورتوں پر تہمت لگائیں پھر چار گواہ نہ لاسکیں، انہیں اسی (80) کوڑے لگاؤ..."

[سورۃ النور: 4]


3️⃣ غیرت کی اعلیٰ ترین شکل: توحید اور اللہ کی محرمات کی حفاظت

علماء کرام کے مطابق اللہ تعالیٰ کی ذات میں غیرت کا سب سے بڑا مظہر توحید ہے، جس میں کسی کو شریک ٹھہرانے کو گوارا نہیں کیا جاتا۔ اسی طرح مؤمن کی غیرت کا سب سے اعلیٰ درجہ یہ ہے کہ وہ اللہ کی حرام کی ہوئی باتوں کو پامال ہوتا دیکھ کر بے چین ہو جائے۔ اس کی اصل بنیاد قرآن میں یوں بیان ہوئی ہے:

"بیشک اللہ اس بات کو ہرگز معاف نہیں کرتا کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک بنایا جائے، اور اس سے کم (درجے کے گناہوں) کو جس کے لیے چاہتا ہے معاف کر دیتا ہے..."

[سورۃ النساء: 48]


خلاصہ اور اہم نکات:

· لفظ نہیں، تصور ہے: قرآن براہ راست "غیرت" کا لفظ استعمال نہیں کرتا، لیکن اس کا پورا اخلاقی و قانونی نظام (عفت، پردہ، تہمت کی مذمت) ایسے معاشرے کی بنیاد رکھتا ہے جہاں حقیقی غیرت (یعنی عزت کا تحفظ) فروغ پائے۔

· حدود کا تعین: قرآن نے واضح حدود بتا کر اس جذبے کو بے لگام ہونے سے روکا ہے۔ خصوصاً بدگمانی اور تہمت سے منع کر کے یہ بتا دیا کہ بے دلیل شک پر اٹھایا گیا کوئی بھی قدم (چاہے وہ غیرت کے نام پر ہی کیوں نہ ہو) ناجائز ہے۔

· اعلیٰ ترین درجہ: غیرت کا سب سے بڑا اور پسندیدہ درجہ دینی غیرت ہے، یعنی اللہ کے حقوق (جیسے توحید) اور اس کی حرام کردہ باتوں کی خلاف ورزی پر بے چینی محسوس کرنا۔


آپ کے سوال کے مطابق قرآن مجید سے براہ راست کوئی ایسی آیت نہیں ملتی جو "غیرت" کے لفظ کے ساتھ اس جذبے کی تعریف کرتی ہو۔ تاہم، جو احکام و ہدایات قرآن نے عزت و عفت کے تحفظ اور غلط شکوک سے بچنے کے لیے دی ہیں، وہ درحقیقت اس جذبے کی صحیح شرعی شکل اور حدود کو متعین کرتے ہیں۔





اللہ رب العزت کی غیرت


حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

" (لَا أَحَدَ [وفي رواية: لَا شَخْصَ] (¬1) أَغْيَرُ مِنْ اللَّهِ (¬2) وَلِذَلِكَ (¬3) حرم الْفَوَاحِشَ ما ظَهَرَ مِنْهَا وما بَطَنَ (¬4) وَلَا أَحَدَ أَحَبَّ إِلَيْهِ الْمَدْحُ مِنْ اللَّهِ , وَلِذَلِكَ (¬5) مَدَحَ نَفْسَهُ) (¬6) 

[ وفي رواية: وَلِذَلِكَ وَعَدَ اللَّهُ الْجَنَّةَ] (¬7) (وَلَا أَحَدَ أَحَبُّ إِلَيْهِ الْعُذْرُ مِنْ اللَّهِ , مِنْ أَجْلِ ذَلِكَ أَنْزَلَ الْكِتَابَ , وَأَرْسَلَ الرُّسُلَ (¬8)) (¬9) (مُبَشِّرِينَ وَمُنْذِرِينَ) (¬10) "


ترجمہ:

’’کوئی ایک (اور ایک روایت میں: کوئی شخص) (¬1) اللہ سے زیادہ غیرت والا نہیں (¬2)، اور اسی وجہ سے (¬3) اس نے تمام فواحش (بے حیائی کے کام) حرام کیے ہیں، خواہ وہ ظاہر ہوں یا پوشیدہ (¬4). اور کوئی ذات اللہ سے زیادہ مدح (تعریف) کو پسند نہیں کرتی، اور اسی وجہ سے (¬5) اس نے اپنی ذات کی تعریف فرمائی (¬6). (اور ایک روایت میں: اور اسی وجہ سے اللہ نے جنت کا وعدہ فرمایا) (¬7). اور کوئی ذات اللہ سے زیادہ عذر (معذرت) کو پسند نہیں کرتی، اسی لیے اس نے کتاب نازل فرمائی اور رسول بھیجے (¬8) (¬9) (خوشخبری دینے والے اور ڈر سنانے والے) (¬10).‘‘

---

حواشی وحوالہ جات:

(¬1) صحیح مسلم (1499)۔ اور عبید اللہ القواریری نے کہا: جہمیہ (منکرین صفات) پر اس حدیث سے زیادہ سخت کوئی حدیث نہیں، اس قول کی وجہ سے: ’’کوئی شخص اللہ عز وجل سے زیادہ مدح (تعریف) کو پسند نہیں کرتا‘‘۔ مسند احمد (18194)۔


(¬2) غیرت کا اصل معنی منع (روکنا) ہے۔ آدمی اپنے اہل پر غیرت کرتا ہے، یعنی انہیں کسی غیر سے نظر یا بات یا کسی اور طرح کے تعلق سے روکتا ہے۔ غیرت کمال کی صفت ہے۔ پس نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی کہ اللہ سب سے زیادہ غیرت والا ہے، اور اسی وجہ سے اس نے فواحش (بیہودگیوں) کو حرام کیا۔ پس اللہ تعالیٰ کی غیرت کا مطلب یہ ہے کہ وہ لوگوں کو فواحش سے روکتا ہے۔ شرح النووی على مسلم (ج5/ص268)۔


(¬3) یعنی غیرت کی وجہ سے۔ تحفة الأحوذي (ج8/ص428)۔


(¬4) اس سے مراد فواحش (بیہودگیوں) کا چھپا ہوا اور ظاہر ہونا ہے۔ تحفة الأحوذي (ج8/ص428)۔


(¬5) یعنی اپنی مدح (تعریف) کی محبت کی وجہ سے۔ تحفة الأحوذي (ج8/ص428)۔


(¬6) صحیح بخاری (4358)، صحیح مسلم (2760)۔


(¬7) صحیح بخاری (6980)، صحیح مسلم (1499)۔ اور اس قول ’’جنت کا وعدہ فرمایا‘‘ کا معنی یہ ہے کہ جب اس نے جنت کا وعدہ فرمایا اور اس کی ترغیب دی تو لوگوں کی اس سے سوال و طلب اور اس کی تعریف زیادہ ہو گئی۔ اور اس سے یہ دلیل نہیں لی جا سکتی کہ انسان اپنی تعریف کر سکتا ہے، کیونکہ یہ مذموم اور منع ہے۔ البتہ اگر دل میں محض تعریف کی محبت ہو اور کوئی چارہ نہ ہو تو یہ مذموم نہیں۔ اللہ سبحانہ وتعالیٰ اپنے کمال کی وجہ سے تعریف کے مستحق ہیں۔ اور بندہ ہمیشہ نقص کا حامل ہے، اگرچہ کسی وجہ سے وہ تعریف کا مستحق ہو، لیکن تعریف اس کے دل کو فاسد کرتی ہے اور اسے اپنی ذات میں بڑا سمجھنے لگتا ہے یہاں تک کہ دوسروں کو حقیر جاننے لگتا ہے۔ اسی لیے آیا ہے: ’’مداحوں کے چہروں پر خاک ڈالو‘‘، اور یہ صحیح حدیث ہے جسے مسلم نے روایت کیا ہے۔ فتح الباری لابن حجر (ج20/ص492)۔


(¬8) یعنی اس نے رسولوں کو اپنی مخلوق کے لیے عذر (واضح حجت) اور ڈر سنانے کے لیے بھیجا، انہیں عذاب میں پکڑنے سے پہلے۔ اور یہ اس کے قول تعالیٰ کی مانند ہے: ’’تاکہ لوگوں کے پاس رسولوں کے بعد اللہ پر کوئی حجت نہ رہے‘‘ (النساء: 165)، اور اس کے قول تعالیٰ کی مانند: ’’اور ہم عذاب دینے والے نہیں ہیں یہاں تک کہ ہم رسول بھیج دیں‘‘ (الاسراء: 15)۔ فتح الباری لابن حجر (ج20/ص492)۔ پس انسان کو چاہیے کہ وہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے اپنے بندوں کے ساتھ معاملہ سے ادب سیکھے، کیونکہ وہ انہیں فوراً عذاب نہیں دیتا، بلکہ انہیں ڈراتا اور متنبہ کرتا ہے، اور بار بار انہیں تنبیہ کرتا ہے اور مہلت دیتا ہے۔ اسی طرح بندے کو چاہیے کہ وہ قتل وغیرہ میں جلدی نہ کرے جب اس کا موقع نہ ہو، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں فوراً عذاب نہیں دیا، اگرچہ اگر وہ فوراً عذاب دے دیتا تو وہ اس کی طرف سے عدل ہوتا۔ شرح النووی على مسلم (ج5/ص268)۔


(¬9) صحیح مسلم (2760)، صحیح بخاری (6980)۔


(¬10) صحیح مسلم (1499)، مسند احمد (18193)۔


[الجامع الصحيح للسنن والمسانيد: ج1 ص134]

---


حاصل شدہ اسباق ونکات:


1. اللہ کی حرام کردہ چیزوں سے بچنا: اللہ کی غیرت کا تقاضا ہے کہ مسلمان تمام محرمات (ظاہری و پوشیدہ) سے بچے اور اللہ کی حرمتوں کی تعظيم کرے۔

2. اللہ (کی نافرمانی) سے حیا و شرم محسوس کرنا: اللہ نے غیرت کی وجہ سے فواحش حرام کی ہیں، لہٰذا بندے کو چاہیے کہ وہ اللہ سے حیا کرے اور اسے نافرمانی کی جگہوں پر نہ دیکھے۔

3. اللہ کی کثرت سے حمد و ثنا کرنا: اللہ تعالیٰ مدح کو محبوب رکھتا ہے، اس لیے مسلمان کو چاہیے کہ وہ ہر حال میں اللہ کی حمد و ثناء کا اہتمام کرے۔

4. دین پر غیرت رکھنے کی صفت اپنانا: مسلمان کے دل میں دین الله پر غیرت ہونی چاہیے؛ وہ محارم الله کی حفاظت کرے، معروف کا حکم دے اور منکر سے روکے، نیز مسلمانوں کی عزت و آبرو کی حفاظت کرے۔

5. شرعی قوانین کی حکمت اور مصلحت کو سمجھنا: ہر شرعی حکم و منع کے پیچھے اللہ کی بڑی حکمت اور رحمت پوشیدہ ہے۔ فواحش کی حرمت درحقیقت اللہ کی غیرت کا اظہار ہے جو بندوں کی عزت و پاکیزگی کے لیے ہے۔

6. غیرت اللہ تعالیٰ کی صفتِ کمال ہے: اللہ کی غیرت کمال کی صفت ہے جو اس کی شان کے لائق ہے اور مخلوق کی غیرت سے بالکل مختلف ہے؛ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ اپنے بندوں کو برائیوں سے روکتا ہے۔

7. اللہ کے اپنے بندوں کے ساتھ سلوک کے آداب سیکھنا: اللہ اپنے بندوں کے ساتھ نرمی کرتا ہے، فوراً عذاب نہیں دیتا، بلکہ بار بار ڈراتا اور مہلت دیتا ہے۔ بندے کو بھی چاہیے کہ وہ اپنے معاملات میں جلد بازی نہ کرے، خصوصاً قتل وغیرہ میں، جب تک موقع نہ ہو۔

8. اپنے لیے (لوگوں کی) تعریف حاصل کرنے کی کوشش نہ کرنا: اگرچہ اللہ مدح کو محبوب رکھتا ہے، لیکن بندے کے لیے اپنی تعریف کروانا مذموم ہے، کیونکہ یہ تکبر اور دوسروں کی حقارت کا باعث بنتا ہے۔

---

خلاصہ:

یہ حدیث اللہ تعالیٰ کی صفتِ غیرت، محبتِ مدح اور محبتِ عذر کو بیان کرتی ہے، اور ان صفات کے تقاضوں کے طور پر فواحش کی حرمت، ذاتِ الٰہی کی مدح، اور کتاب و رسولوں کی بعثت کی حکمت بتاتی ہے۔ اس سے مسلمان کو اللہ کی حرمتوں کی تعظيم، حیا، کثرت سے حمد و ثناء، دین پر غیرت اور شرعی احکام کی حکمت سمجھنے جیسے اہم اسباق ملتے ہیں۔





📖 تشریح امام نووی:

"اور لفظ 'الْغَيْرَةُ' (غین کے فتحہ کے ساتھ) ہمارے حق میں تو 'الأنفة' (شریف النفس ہونے کی کیفیت) ہے۔ رہا اللہ تعالیٰ کا حق، تو اسے یہاں عمرو الناقد کی روایت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان سے بیان کیا گیا ہے: 'اور اللہ کی غیرت یہ ہے کہ مومن وہ کام کرے جو اللہ نے اس پر حرام کیا ہے' یعنی اللہ کی غیرت کا مطلب اس کا بندے کو منع کرنا اور حرام ٹھہرانا ہے۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان: 'اور کوئی ذات اللہ تعالیٰ سے زیادہ مدح (تعریف) کو پسند نہیں کرتی' — اس کی حقیقت بندوں کے لیے مصلحت میں ہے، کیونکہ جب وہ اس سبحانہ و تعالیٰ کی تعریف کرتے ہیں تو وہ انہیں ثواب دیتا ہے اور وہ فائدہ اٹھاتے ہیں، حالانکہ وہ سبحانہ تمام جہانوں سے بے نیاز ہے، نہ تو ان کی تعریف اسے نفع پہنچاتی ہے اور نہ ہی اس کے چھوڑنے سے اسے کوئی نقصان ہوتا ہے۔

اس میں اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی تعریف کرنے، اس کی تسبیح (سبحان اللہ کہنا)، تهلیل (لا إله إلا اللہ کہنا)، تحميد (الحمد للہ کہنا)، تکبیر (اللہ أكبر کہنا) اور دیگر اذکار کے فضیلت کی طرف تنبیہ ہے۔"

[شرح مسلم للنووي: ج17 / ص77]


💎 اہم نکات اور سابقہ اسباق کے ساتھ ارتباط:

1. غیرت کا معنی اور اس کا مصدر یہاں امام نووی غیرت کے دو درجوں کی وضاحت کرتے ہیں:

(الف) بندے کی غیرت: یہ 'الأنفة' یعنی شرافت نفس، کسی ناپسندیدہ چیز سے بچنے کا جذبہ ہے۔ یہ پچھلی بحث میں مومن کی غیرت سے متعلق ہے۔

(ب) رب کی غیرت: یہ اس کا منع اور تحریم (حرام کرنا) ہے۔ یہ بات آپ کی پہلی پوسٹ میں بیان کردہ اصل حدیث "لَا أَحَدَ أَغْيَرُ مِنْ اللَّهِ وَلِذَلِكَ حرم الْفَوَاحِشَ" کی ہی تفسیر ہے۔

2. محبتِ مدح کی حکمت اور مصلحت یہ نکتہ پہلے پیش کردہ ابن حجر وغیرہ کے اقوال کو مزید واضح کرتا ہے کہ اللہ کا اپنی تعریف پسند کرنا درحقیقت بندوں کے لیے خیر کا ذریعہ ہے۔ جب وہ اللہ کی حمد و ثنا کرتے ہیں تو اس کا ثواب انہیں خود فائدہ پہنچاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہر تعریف سے بے نیاز ہے۔

3. مختلف اذکار کی فضیلت کی طرف اشارہ امام نووی اس بات کی طرف رہنمائی کرتے ہیں کہ یہ حدیث ہمیں ہر قسم کے ذکر (تسبیح، تهلیل، تحميد، تکبیر) کی فضیلت کی طرف متوجہ کرتی ہے۔ اس لیے مومن کو چاہیے کہ وہ ان اذکار کو کثرت سے اپنی زبان پر جاری رکھے۔

✨ نتیجہ اور عملی پہلو:

اس تشریح سے یہ سبق ملتا ہے کہ مومن کو دو طرح کی غیرت اپنے اندر پروان چڑھانی چاہیے:

1. شرعی غیرت: یہ وہ جذبہ ہے جو اسے اللہ کی حرام کردہ تمام چیزوں (فواحش) سے بچاتا ہے، کیونکہ یہی اللہ کی غیرت کا تقاضا ہے۔

2. ذکری غیرت: یعنی اس کوشش میں رہنا کہ ہم اللہ کی حمد و ثنا، اس کی تسبیح و تقدیس میں کسی سے پیچھے نہ رہیں، کیونکہ یہ وہ عمل ہے جسے اللہ پسند فرماتا ہے اور جس میں بندے کے لیے بے پایاں اجر ہے۔





📖 تشریح امام ابن حجر:

امام ابن حجر عسقلانی اپنی شہرہ آفاق شرح "فتح الباری شرح صحیح البخاری" میں باب الغیرۃ کی تشریح کرتے ہوئے درج ذیل اہم نکات بیان فرماتے ہیں:

1. لفظ "الغیرۃ" کا لغوی و شرعی مفہوم:

· لفظی ساخت: یہ لفظ "غَیْرَۃٌ" (غین معجمہ مفتوح، یاء ساکن، راء مفتوح) کے وزن پر ہے۔

· بندوں کے حوالے سے مفہوم: علماء جیسے قاضی عیاض نے کہا ہے کہ یہ لفظ دل کے تبدل اور غصہ کے ہیجان سے مشتق ہے، جو کسی مخصوص شے میں دوسرے کی شرکت پر پیدا ہوتا ہے۔ یہ کیفیت سب سے شدید شوہر اور بیوی کے درمیان پائی جاتی ہے۔

· اللہ تعالیٰ کے حوالے سے مفہوم: امام خطابی فرماتے ہیں کہ اس کی بہترین تفسیر وہی ہے جو حدیث ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ (جو اسی باب میں آ رہی ہے) میں موجود ہے، یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان: "اور اللہ کی غیرت یہ ہے کہ مومن وہ کام کرے جو اللہ نے اس پر حرام کیا ہے۔" قاضی عیاض کہتے ہیں کہ اللہ کے حق میں "غیرت" سے مراد اس کام کے کرنے والے کے حال میں تبدیلی (یعنی اس پر عذاب یا عقوبت کا نزول) بھی ہو سکتی ہے۔

· غیرت کا اصل معنی: کہا جاتا ہے کہ غیرت کا اصل معنی "الحمیۃ والأنفۃ" (حمیت اور شریف النفس ہونے کا جذبہ) ہے، جو درحقیقت غصہ کے لازمے (اثرات) میں سے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں اپنے لیے غضب اور رضا دونوں کو ثابت کیا ہے۔

· صفاتِ باری تعالیٰ کے بیان کا اصول: ابن العربی فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے لیے تغیر (بدلنا) قطعی دلائل کی روشنی میں محال ہے۔ لہٰذا اس قسم کے الفاظ کو ان کے لازم (نتیجے یا اثر) پر محمول کیا جائے گا، جیسے وعید سنانا یا فاعل پر عقوبت نازل کرنا۔ اسی طرح کا کچھ بیان کتاب الکسوف میں گزر چکا ہے جسے یہاں یاد رکھنا چاہیے۔

2. غیرتِ الٰہی کی ایک عظیم شکل: خاص لوگوں کی عصمت:

ابن حجر لکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی غیرت کے معزز ترین مظاہر میں سے ایک یہ ہے کہ وہ بعض لوگوں کو خاص عصمت (حفاظت) سے نوازتا ہے۔ یعنی جو شخص (نبی یا ولی ہونے کا) کوئی ایسا دعویٰ کرے جو درحقیقت صرف اللہ کی خاص عنایت سے مخصوص لوگوں کے لیے ہے، تو اللہ تعالیٰ اسے سزا دیتا ہے۔

3. رسول اللہ ﷺ کی شدید ترین غیرت:

ابن حجر بیان کرتے ہیں کہ انسانوں میں سب سے زیادہ غیرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تھی، کیونکہ آپ اللہ کے لیے، اس کے دین کے لیے غیرت کرتے تھے۔ اسی لیے آپ اپنے ذاتی معاملات میں کبھی انتقام نہیں لیتے تھے۔

[فتح الباري شرح صحيح البخاري: ج9 / ص320]




اللہ تعالیٰ کی غیرت اور بندے کی غیرت:

شرح للمناوي:

بیشک اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندے پر غیرت کرتا ہے، اور مومن (بھی) غیرت کرتا ہے۔ اور اللہ کی غیرت یہ ہے کہ مومن وہ کام کرے یعنی ایسا عمل کرے جو اللہ نے اس پر حرام کیا ہے۔ اور اسی وجہ سے اس نے فواحش (بیہودگیاں) حرام کی ہیں اور ان پر سب سے بڑے عذاب اور بدترین سزائیں مقرر کی ہیں۔ اور اس کی غیرت اپنی بندیوں اور بندوں پر شدید ہے۔ پس اگر یہ سزائیں شرعاً معطل کر دی جائیں تو وہ سبحانہ اُنہیں تقدیراً نافذ کر دیتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کی غیرت میں سے اس کی غیرت اپنے توحید، اپنے دین اور اپنی کلام (قرآن) پر ہے کہ اس کے اہل کے علاوہ کوئی اس سے بہرہ ور ہو، تو اس نے غیرت کے باعث ان کے اور اس (فہم) کے درمیان حائل کردیا: {اور ان کے دلوں پر پردے ڈال دیے کہ وہ اسے سمجھیں} (سورة الانعام: 25)۔

اور جو یہ ذکر کیا گیا ہے کہ روایت ہے کہ "مومن وہ کام کرے جو اللہ نے اس پر حرام کیا ہے" یہی اکثر کے نزدیک ہے۔ لیکن یہ مسلم میں الفاظ "ما حرم الله عليه" (جسے اللہ نے اس پر حرام کیا ہے) کے ساتھ فاعل کی جانب سے تعمیر کے طور پر ہے، اور اس پر اضافہ ہے اور ضمیر مومن کی طرف لوٹتی ہے۔ اور ابوذر رضی اللہ عنہ کی روایت میں "أن لا يأتي" (کہ وہ نہ کرے) کے الفاظ ہیں جس میں "لا" کا اضافہ ہے۔ الصغائی نے کہا: اور صحیح بات "لا" کو حذف کرنا ہے۔ اور الطیبی نے کہا: اس کا تقدیر یہ ہے کہ "اللہ کی غیرت اس لیے ثابت ہے کہ (بندہ) نہ کرے"۔ الکرمانی نے کہا: اور اگر "لا" کو ثابت مانا جائے تو معنى درست نہیں بنتا، پس یہ اس کے اضافی ہونے کی دلیل ہے، اور اس کا کثرت سے اضافہ ہونا معلوم ہے۔ اور اس حدیث میں گناہوں اور ایسے آثام کے دائرے میں گھسنے سے سخت ڈرایا گیا ہے جو ہلاکت اور دارالسلام (جنت) سے نکالے جانے کا باعث بنتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی غیرت بزرگوں (اولیاء) پر یہ ہے کہ جب وہ اس کے سوا کسی چیز سے لگاؤ رکھیں یا اس کے علاوہ کسی طرف توجہ دیں تو وہ ان کے معاملات میں خلل ڈال دیتا ہے اور انہیں آزماتا ہے یہاں تک کہ ان کے اسرار (دل) اس کے لیے صاف ہو جائیں، جیسا کہ اس نے یوسف علیہ السلام کے ساتھ کیا جب آپ نے اس شخص سے کہا جسے آپ نے بچ جانے والا سمجھا: "اپنے رب (یعنی بادشاہ مصر) کے پاس میرا ذکر کرنا"۔ پس آپ اس وجہ سے اتنا عرصہ قید میں رہے۔ اور ابراہیم علیہ السلام کے ساتھ، جب اسماعیل علیہ السلام آپ کو بہت پسند آئے تو آپ کو انہیں ذبح کرنے کا حکم دیا گیا۔ اور ایک ولی نے ایک جوان کو (غیرتِ الٰہی کے باعث) ایک نظر دیکھا، تو ہوا کے ایک ہاتھ نے اسے طمانچہ مارا اور اس کی آنکھ گر گئی، اور اس نے ایک آواز سنی: "ایک نظر پر ایک طمانچہ، اور اگر تم (نظر) بڑھاؤ گے تو ہم (عذاب) بڑھائیں گے"۔ اور یہ ان کا اللہ کے نزدیک بلند مرتبہ ہونے کی وجہ سے ہے۔


· مسند احمد (حم) میں کتاب التوبہ کے باب میں۔

· سنن ترمذی (ت) میں کتاب النکاح کے باب میں۔

· یہ حدیث حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔

· پوری حدیث کا شیخین (بخاری و مسلم) کی طرف بلا قید و شرط نسبت کرنا درست نہیں ہے۔

· حافظ عراقی نے کہا: بخاری نے "اور مومن غیرت کرتا ہے" نہیں کہا۔

· صدر المناوی نے کہا: بخاری نے اسے "اور مومن غیرت کرتا ہے" کے الفاظ کے سوا روایت کیا ہے، اور اسی طرح ترمذی نے بھی۔

· اور ابن حجر نے کہا: مسلم نے بخاری کے مقابلے میں اضافہ کیا ہے، اور وہ ہے "اور مومن غیرت کرتا ہے"۔

[فيض القدير-للمناوي:1919]

---

حاصل شدہ اسباق و نکات:

اس شرح اور تنقیح سے درج ذیل اہم اسباق و نکات ملتے ہیں:

1. غیرتِ الٰہی کا مفہوم: اللہ کی غیرت کا ایک مظہر یہ ہے کہ وہ اپنے بندے کو اس بات پر غیرت کرتا ہے کہ وہ اس کی حرام کردہ چیزوں کا ارتکاب نہ کرے۔ یہ غیرت درحقیقت بندے کی حفاظت اور پاکیزگی کا باعث ہے۔

2. فواحش پر سزاؤں کی حکمت: فواحش پر شرعی سزائیں (حدود) اللہ کی غیرت کا اظہار ہیں۔ اگر انہیں معطل کر دیا جائے تو اللہ تعالیٰ اپنی غیرت کے تحت انہیں تقدیراً نافذ کر سکتا ہے (جیسے معاشرتی برائیاں، آفات وغیرہ)۔

3. دین و توحید پر غیرت: اللہ تعالیٰ کو اپنے دین، اپنی توحید اور اپنی کتاب (قرآن) پر سخت غیرت ہے۔ وہ نہیں چاہتا کہ اس کے اہل (اہل ایمان و علم) کے علاوہ نااہل لوگ اس کی باریکیوں تک پہنچیں یا اسے ناحق استعمال کریں، اسی لیے وہ ان کے دلوں پر پردے ڈال دیتا ہے۔

4. اولیاء و مقربین پر آزمائش: اللہ تعالیٰ اپنے مقرب بندوں (اولیاء، انبیاء) پر خاص غیرت رکھتا ہے۔ اگر وہ ذرا سی بھی توجہ اس کے سوا کسی اور طرف موڑیں، تو وہ انہیں آزمائش میں ڈال کر ان کے دلوں کو پاک اور اپنی طرف مائل کر لیتا ہے۔ حضرت یوسف، حضرت ابراہیم اور ایک ولی کا واقعہ اس کی واضح مثالیں ہیں۔ یہ آزمائش درحقیقت ان کی بلند مراتب کی وجہ سے ہوتی ہے۔

5. حدیث کی تخریج میں احتیاط: شارحین نے حدیث کے الفاظ کی روایت اور اس کی تخریج (حوالہ جات) میں بڑی احتیاط برتی ہے۔ پوری حدیث کو یکجا بخاری و مسلم دونوں کی طرف منسوب کرنا درست نہیں، بلکہ "اور مومن غیرت کرتا ہے" کا جزو صرف مسلم کی زیادت ہے۔ یہ اصول ہمیں حدیث کی نسبت میں دقیق ہونے کی تعلیم دیتا ہے۔

6. گناہوں سے ڈرانا: حدیث اور اس کی شرح کا مقصد انسان کو گناہوں کی حدود (حمى المعاصي) میں داخل ہونے سے سخت ڈرانا ہے، کیونکہ یہی وہ راستہ ہے جو انسان کو اللہ کی رحمت سے دور اور ہلاکت کی طرف لے جاتا ہے۔

7. بندے کی غیرت کی بنیاد: مومن کی غیرت کا معیار وہی ہونا چاہیے جو اللہ کی غیرت کا ہے، یعنی وہ اپنے آپ کو، اپنے اہل و عیال کو اور اپنے معاشرے کو ہر اس چیز سے بچائے جو اللہ نے حرام ٹھہرائی ہے۔ یہ غیرت محبتِ الٰہی کا تقاضا ہے۔



حدیث:

حضرت جابر بن عتیک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

"إِنَّ مِنْ الغيرة مَا يُحِبُّ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ , وَمِنْهَا مَا يَبْغُضُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ , وَمِنْ الْخُيَلَاءِ مَا يُحِبُّ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ , وَمِنْهَا مَا يَبْغُضُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ , فَأَمَّا الْغَيْرَةُ الَّتِي يُحِبُّ اللَّهُ , فالغيرة في الريبة , وَأَمَّا الْغَيْرَةُ الَّتِي يُبْغِضُ اللَّهُ , فَالْغَيْرَةُ فِي غير رِيبَةٍ , وَأَمَّا الِاخْتِيَالُ الَّذِي يُحِبُّ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ , اخْتِيَالُ الرَّجُلِ بِنَفْسِهِ عِنْدَ الْقِتَالِ وَعِنْدَ الصَّدَقَةِ , وَالِاخْتِيَالُ الَّذِي يَبْغُضُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ , الْخُيَلَاءُ فِي الْبَاطِلِ , 

[ وفي رواية: اخْتِيَالُ الرَّجُلِ فِي الْفَخْرِ وَالْبَغْيِ]


ترجمہ:

"بے شک غیرت کی کچھ قسمیں ایسی ہیں جنہیں اللہ عز وجل پسند کرتا ہے، اور کچھ ایسی ہیں جنہیں اللہ ناپسند کرتا ہے۔ اسی طرح تکبر (خُیَلاء) کی بھی کچھ قسمیں اللہ کو پسند ہیں اور کچھ ناپسند۔ پس اللہ کو جو غیرت پسند ہے، وہ شک و شبہ (ریبہ) کے موقع پر ہوتی ہے۔ اور جو غیرت اللہ کو ناپسند ہے، وہ بلا شک و شبہ ہوتی ہے۔ اور اللہ کو جو تکبر پسند ہے، وہ آدمی کا اپنی ذات پر لڑائی کے میدان میں اور صدقہ دیتے وقت ہوتا ہے۔ اور جو تکبر اللہ کو ناپسند ہے، وہ باطل میں ہوتا ہے۔ (ایک روایت میں ہے: آدمی کا فخر اور ظلم میں تکبر کرنا۔)"


[احمد:23747-23752، الدارمي:2272، ابن ماجة:1996، ابوداؤد:2659، نسائي:2558، صحيح ابن حبان:4762، الطبراني:1772-1774، حاكم:1525، البيهقي:14801.18478، وحسنه الألباني في الإرواء:1999، صحيح الجامع:2221]


فقہ المحدثین:

باب: مرد کا اپنے گھوڑے پر دو صفوں کے درمیان تکبر کرنا مستحب ہے، کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کو پسند ہے۔

[صحيح ابن حبان:4762]


اللہ کی صفات: اللہ پسند کرتا ہے اور ناپسند کرتا ہے۔

[الأسماء والصفات للبيهقي:1053]


باب: بیوی کے شوہر پر حقوق میں سے ایک حق: غیرت میں اعتدال برتنا۔

باب: جہاد میں فخر و تکبر کا بیان۔

[الجامع الصحيح للسنن والمسانيد: (4/132) (7/71)]




شرح سیوطی:

غیرت کی وہ قسم جسے اللہ پسند کرتا ہے وہ ہے جب انسان کو کسی عار کا احساس ہو۔ عار یا تو دینی معاملے میں ہوتا ہے جو پسندیدہ ہے، یا پھر وہ معاملہ جسے جاہل اور فاسق لوگ عیب سمجھتے ہیں حالانکہ حقیقت میں وہ قابل تعریف ہوتا ہے، جیسا کہ ہندوستان کے فاسق لوگوں میں بیواؤں کی شادی نہ کرنا رائج ہے اور افغانوں میں یہ کہ بیوہ عورت کا شوہر کے قریبی رشتہ دار کے علاوہ کسی سے نکاح نہ کرنا۔ اس لیے یہ معاملہ ہر علاقے کے رسم و رواج سے مختلف ہوتا ہے، کیونکہ عرف کا اس میں بہت دخل ہے۔ ایک علاقے کے لوگ کسی چیز کو عار سمجھتے ہیں تو دوسرے علاقے کے نہیں۔ پس ایسی غیرت مذموم ہے۔ اللہ اپنے بندے پر رحم کرے جو اپنے نبی کی سنت کی پیروی کرے اور باطل خیالات سے بچے۔

آپ کا فرمان "غیرت شک و شبہ کے موقع پر ہوتی ہے" یعنی وہ جگہ جہاں الزام لگانے، شک اور تردد کا امکان ہو، جیسے آدمی کی بیوی یا لونڈی پر کوئی اجنبی شخص آئے اور ان کے درمیان مذاق یا کشادگی ہو۔ اگر ایسا نہ ہو تو یہ بدگمانی میں شامل ہے جس سے ہمیں منع کیا گیا ہے۔

[شرح سنن ابن ماجة للسيوطي:1996]




شرح سندی:

"غیرت شک و شبہ کے موقع پر ہوتی ہے" یعنی فساد کے امکان پر، جب فساد کی علامات کسی جگہ ظاہر ہوں تو وہاں غیرت کا اظہار کرنا پسندیدہ ہے۔ لیکن اگر کوئی علامت ظاہر نہ ہو اور غیرت کا اظہار کیا جائے تو وہ مذموم ہے، کیونکہ اس میں مسلمانوں پر بلاوجہ برے الزام لگانا ہے۔ زوائد میں ہے کہ اس کی سند ضعیف ہے۔

[حاشية السندي على سنن ابن ماجة:1996]




شرح مناوی:

(دو غیرتیں ہیں) غیرت سے مراد حمیت اور انف ہے۔ (ایسی اللہ کو پسند ہے اور ایسی اللہ کو ناپسند ہے، اور دو تکبر ہیں) (ایسی اللہ کو پسند ہے اور ایسی اللہ کو ناپسند ہے۔ شک و شبہ کے موقع پر غیرت) یعنی جب شک کی بنیاد قائم ہو (اللہ کو پسند ہے، اور بغیر شک و شبہ کے غیرت) محض بدگمانی پر (اللہ کو ناپسند ہے)۔ اور یہ غیرت محبت کو خراب کرتی ہے اور محبت کرنے والے اور محبوب کے درمیان دشمنی ڈالتی ہے۔ باطل غیرت میں سے وہ ہے جو بعض صوفیا سے سرزد ہوئی کہ ان سے پوچھا گیا: کیا تم اسے دیکھنا پسند کرو گے؟ انہوں نے کہا: نہیں۔ پوچھا: کیوں؟ کہا: میں اس جمال کو اپنے جیسے کی نظر سے پاک سمجھتا ہوں۔ اور یہ ایک مذموم بات ہے۔ حالانکہ اللہ کو دیکھنا جنت کی سب سے بڑی نعمت ہے اور اس کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی ہے۔ (اور تکبر جب آدمی صدقہ دے تو اللہ کو پسند ہے) کیونکہ انسان سخاوت کی خوشبو سے متاثر ہو کر اسے خوشی سے دیتا ہے۔ (اور تکبر میں تکبر اللہ کو ناپسند ہے)۔ ابن حجر کہتے ہیں: یہ حدیث اس غیرت کی حد بندی کرتی ہے جس پر آدمی ملامت کیا جاتا ہے اور جس پر نہیں۔ یہ تفصیل خاص طور پر مرد کے لیے ہے۔ رہی عورت، اگر وہ اپنے شوہر سے کسی حرام کام یا حق میں کمی یا بے انصافی پر غیرت کرے اور اسے یقین ہو یا قرائن ظاہر ہوں تو یہ شرعی غیرت ہے۔ اگر محض وہم اور بغیر کسی شک کے غیرت کرے تو یہ مذموم ہے۔ اگر شوہر عادل ہو اور ہر بیوی کو اس کا حق دے تو عورت کی غیرت اگر فطری جبلت کی وجہ سے ہو تو معاف ہے جب تک کوئی حرام کام نہ کرے۔

[فیض القدیر-للمناوی:5783]




شرح شاہ ولی اللہ دہلوی:

میں کہتا ہوں: مصلحت اور سیاست(ضروری انتظام) اور بے وجہ برے اخلاق و بیزاری میں فرق ہے۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

"مرد عورتوں کے محافظ اور نگران ہیں..." (النساء: 34)۔

[حجة الله البالغة:2/210]

---

حاصل شدہ اسباق ونکات:

1. غیرت اور فخر دونوں کی دو قسمیں ہیں: اللہ کو پسندیدہ اور ناپسندیدہ۔

2. پسندیدہ غیرت: جائز شک اور فساد کی علامت پر مبنی ہو۔

3. ناپسندیدہ غیرت: بے بنیاد وہم، بدگمانی اور معاشرتی باطل روایات پر مبنی ہو۔

4. پسندیدہ فخر: جہاد کے میدان اور صدقہ و احسان کے موقع پر ہو۔

5. ناپسندیدہ فخر: باطل، ظلم اور گناہ کے کاموں میں ہو۔

6. عورت کی شرعی غیرت کا معیار: شوہر کے حرام کام یا اپنے حقوق کی پامالی کا یقین یا واضح شبہ۔

7. شریعت میں عرف و رواج کا دخل ہوتا ہے، لیکن اس کی حدیں ہیں۔ ہر وہ چیز جسے عرف عار سمجھے وہ شرعی طور پر عار نہیں ہوتی۔

8. اصل مقصد نیک نیتی، توازن اور اللہ کی رضا ہے۔


اہل عرب نے اس وقت اپنے طور پر غیرت کے تقاضے بنا رکھے تھے اور ان کے نزدیک غیرت کے معیار کچھ اور ہی تھے۔ فلاں کے اونٹ نے میرے اونٹ سے پہلے پانی کیوں پیا، فلاں کا اونٹ میرے اونٹ سے آگے کیوں نکل گیا۔ فلاں نے میرے خاندان یا میرے باپ دادا کے بارے میں یہ کیوں کہا، سالہا سال انہی باتوں پر خون بہائے جاتے تھے۔ یا پھر بیٹی کی پیدائش کو غیرت کے خلاف سمجھتے۔
[أخلاق العرب بين الجاهلية والإسلام: ص121]

سورہ النحل میں ارشاد باری ہے:
’’ان میں سے جب کسی کو بیٹی پیدا ہونے کی خبر دی جاتی تو اس کا چہرہ بے رونق ہو جاتا اور دل ہی دل میں گھٹتا رہتا اور بری خبر کی شرم سے لوگوں سے منہ چھپاتا پھرتا کہ اس ذلت کو برداشت کرے یا اسے مٹی میں گاڑ دے۔‘‘
[سورۃ النحل :58-59]

غیرتِ مذمومہ:
ایک آدمی نبی کریم ﷺ کے پاس ایک صاحب آئے، اور کہا: یا رسول اللہ! ہم لوگ جاہلیت والے اور بتوں کی عبادت کرنے والے لوگ تھے، ہم اپنی اولاد کو قتل کردیتے تھے، اور میری ایک بیٹی تھی، جب وہ  کچھ بڑی ہوئی، اور اس کا حال یہ تھا کہ جب میں اسے بلاتا تو وہ میرے بلانے سے خوش ہوتی تھی، تو ایک دن میں نے اسے بلایا، وہ میرے پیچھے ہو لی، میں چلا یہاں تک کہ اپنے قبیلے کے ایک کنویں پر آیا جو زیادہ دور نہیں تھا، پھر میں نے اس کا ہاتھ پکڑا، اور اسے کنویں میں ڈال دیا، اور آخری الفاظ جو اس نے مجھے کہے وہ یہ تھے: "اے میرے ابا، اے میرے ابا" .  نبی کریم ﷺ  کو یہ  واقعہ سن کر   رونا آگیا، یہان تک کہ آپﷺ کے آنسو چھلک پڑے، تو ان صاحب سے مجلس میں بیٹھے ایک دوسرے صاحب نے فرمایا کہ آپ نے نبی کریمﷺ کو غمگین کردیا۔ اس کہنے والے سے حضورﷺ نے فرمایا:" اسے کچھ نہ کہو، یہ اس چیز کے بارے میں پوچھ رہا ہے جس نے اسے پریشان کیا ہوا ہے"۔ پھر دوبارہ ان قصہ سنانے والے صاحب سے کہا کہ اپنا واقعہ مجھے دوبارہ سناؤ۔ انہوں نے واقعہ دوبارہ سنایا، آپﷺ پھر روئے یہاں تک کہ آپ کے آنسو آپ کی داڑھی پر بہہ پڑے۔ پھر ان صاحب سے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے اہل جاہلیت کے تمام برے افعال (اسلام لانے کی وجہ سے) معاف فرما دئے  ہیں، لہٰذا اب نئے سرے سے اعمال کرو۔
[سنن دارمي۔حدیث:2]

غیرتِ محمودہ:
صعصعۃ مجاشعی ؓ سے روایت کیا کہ جو فرزدق(شاعر) کے دادا تھے کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! میں نے زمانہ جاہلیت میں کچھ نیک عمل کیے تھے کیا اس میں میرے لیے اجر ہوگا پوچھا تو نے کیا عمل کیا تھا؟ عرض کیا کہ میں نے تین سو ساٹھ زندہ درگور کی ہوئی لڑکیوں کو زندہ کیا اور میں نے ان میں سے ہر ایک کو دو دس ماہ کی گابھن اونٹنیوں، اور ایک اونٹ کے بدلے میں خریدا کیا اس میں میرے لیے اجر ہوگا نبی ﷺ نے فرمایا تیرے لیے اس میں اجر یہ ہے تب تو اللہ تعالیٰ نے تجھے اسلام کی توفیق عطا فرمائی۔

رسول اکرم ﷺ کی تشریف آوری کے وقت اس معاشرے میں غیرت مندی کے ایسے معیار تھے لیکن رسول اکرم ﷺ نے غیرت کے ان تمام معیاروں کو بدل کر رکھ دیا۔ 


اللہ رب العزت ہمیں بھی زمانہ جاہلیت کے ان غیرت کے معیاروں سے محفوظ فرمائے۔ اور خیر مجسمﷺ جیسی غیرت مندی نصیب فرمائے۔ آمین




’’غیرت‘‘ عربی زبان کا لفظ ہے جس کے مفہوم میں اہل زبان دو باتوں کا بطور خاص ذکر کرتے ہیں۔ ایک یہ کہ کوئی ناگوار بات دیکھ کر دل کی کیفیت کا متغیر ہو جانا، اور دوسرا یہ کہ اپنے کسی خاص حق میں غیر کی شرکت کو برداشت نہ کرنا۔ ان دو باتوں کے اجتماع سے پیدا ہونے والے جذبہ کا نام غیرت ہے۔

آپ ﷺنے فرمایا:

((إِنَّ اللهَ يَغَارُ وَإِنَّ الْمُؤْمِنَ يَغَارُ))

’’ اللہ تعالی غیرت کرتا ہے اور بندہ مؤمن بھی غیرت کرتا ہے۔‘‘

((وَغَيْرَةُ اللهِ أَنْ يَأْتِيَ الْمُؤْمِنُ مَا حَرَّمَ اللَّهُ))

’’اور اللہ تعالیٰ کا غیرت کرنا اس بات پر اور اس وقت ہوتا ہے جب کوئی بندہ وہ کام (شرک/گناہ) کرتا ہے جو اللہ تعالی نے حرام کر رکھا ہو ۔‘‘
[مسلم:2761]

علماء کرام نے اللہ تعالیٰ کے اس اعلان کا باعث بھی غیرت ہی کو قرار دیا ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ وہ جس گناہ کو چاہیں گے بخش دیں گے لیکن شرک کو کبھی معاف نہیں کریں گے۔ علماء کا کہنا ہے کہ بندگی اور عبادت اللہ تعالیٰ کا خاص حق ہے، اس لیے اس خاص حق میں کسی دوسرے کی شرکت کو گوارا کرنا غیرت کے خلاف ہے، اور یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم میں سب سے زیادہ مذمت شرک کی بیان کی گئی ہے۔

غیرت کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ جس شخصیت کے ساتھ محبت ہو اس کی کسی درجہ میں بھی توہین برداشت نہیں ہوتی۔ حافظ ابن القیم کے بقول جس شخص کو جس شخصیت کے ساتھ جس قدر محبت ہو اسی قدر اسے اس پر غیرت آتی ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ کی ذات گرامی، قرآن کریم، اور جناب نبی اکرمؐ کی بے حرمتی پر ایک مسلمان سب سے زیادہ طیش میں آتا ہے کہ بحیثیت مسلمان اس کی محبت سب سے زیادہ انہی کے ساتھ ہوتی ہے۔ چنانچہ غیرت محبت کی علامت بھی ہے کہ جس کے ساتھ جتنی محبت ہوگی انسان اس پر اتنی ہی غیرت کھائے گا۔

اللہ تعالیٰ، قرآن کریم ، اور رسول اکرم ﷺ کے بعد غیرت کا مظاہرہ جس چیز پر سب سے زیادہ ہوتا ہے وہ میاں بیوی کا تعلق ہے اور عصمت و عفت کے باہمی تعلقات کا تحفظ ہے۔ اس کے بارے میں غیرت کے اظہار کے بیسیوں واقعات احادیث کے ذخیرے میں موجود ہیں۔ حتیٰ کہ اس حوالہ سے خود جناب نبی اکرمؐ اور ازواج مطہرات کے متعدد واقعات ہیں جو اسلامی تعلیمات میں اس جذبۂ صادقہ کی اہمیت کو واضح کرتے ہیں۔ ان میں سے چند واقعات کا تذکرہ اختصار کے ساتھ کیا جا رہا ہے۔

ابو داؤد کی روایت ہے کہ آنحضرتؐ ایک بار ام المومنین حضرت عائشہؓ کے پاس ان کے حجرہ میں تشریف لائے تو ایک نوجوان کو ان کے حجرے میں بیٹھے ہوئے دیکھا۔ یہ دیکھتے ہی آپؐ کے چہرے کا رنگ متغیر ہوگیا جسے حضرت عائشہؓ نے بھانپ لیا اور فورًا وضاحت کی کہ یا رسول اللہ! یہ میرا رضاعی بھائی ہے۔

اور یہ بھی غیرت ہی کا اظہار تھا کہ قرآن کریم میں پردے کا حکم ابھی نازل نہیں ہوا تھا مگر حضرت عمرؓ نے حضورؐ سے درخواست کی کہ یا رسول اللہ! آپ کی مجلس میں مسلمان، منافق، کافر ہر قسم کے لوگ آتے ہیں اور مجھے یہ بات اچھی نہیں لگتی کہ آپ کی بیویوں اور بیٹیوں پر ان لوگوں کی نگاہ پڑے، اس لیے آپ انہیں پردہ کا حکم دیجیے۔ مفسرین کرام کا کہنا ہے کہ اسی کے بعد سورۃ الاحزاب کی یہ آیت نازل ہوئی:

’’اے پیغمبر! اپنی بیویوں، بیٹیوں اور مسلمانوں کی عورتوں کو حکم دیجیے کہ وہ اپنے اوپر چادریں لٹکا کر رکھا کریں۔‘‘

غیرت کا تعلق مرد و عورت دونوں سے ہے۔ اسلام نے دونوں کا یہ حق مساوی تسلیم کیا ہے کہ اگر دوسرا فریق ان کے خاص حق میں کسی دوسرے کو شریک کرتا ہے تو وہ اس پر غصہ کا اظہار کرے اور اس پر احتجاج کرے۔ حتیٰ کہ کسی مرد کی ایک سے زائد بیویاں ہوں تو ان بیویوں کا یہ حق بھی اسلام میں تسلیم کیا گیا ہے کہ وہ باہمی معاملات کے توازن میں کوئی فرق محسوس کریں تو اس کا اظہار کریں۔ چنانچہ نسائی کی روایت میں ہے کہ ام المومنین حضرت عائشہؓ نے ایک بار اپنی باری والے دن تھوڑی دیر کے لیے رسول اللہؐ کو اپنے پاس نہ پایا۔ انہیں خدشہ ہوا کہ آپؐ کسی اور بیوی کے ہاں تو نہیں چلے گئے تھے۔ حضورؐ جب واپس آئے تو حضرت عائشہؓ نے آپؐ کے سر کے بالوں میں انگلیاں داخل کر کے یہ دیکھا کیا کہ کہیں آپ غسل کر کے تو نہیں آئے۔

جناب نبی اکرمؐ نے غیرت کو نہ صرف اچھا جذبہ قرار دیا ہے بلکہ اس کا احترام بھی کیا ہے۔ چنانچہ صحیح روایت میں ہے کہ آپؐ نے خواب میں جنت کی سیر کرتے ہوئے حضرت عمرؓ کا محل دیکھا اور اس میں داخل ہونا چاہا مگر کونے میں ایک خوبصورت خاتون کو وضو کرتے دیکھ کر رک گئے اور محل کے اندر نہیں گئے۔ اس کی وجہ یہ بیان فرمائی کہ مجھے عمرؓ کی غیرت کا خیال آگیا تھا۔

اپنے گھر کے ماحول میں عصمت و عفت کے ماحول کو قائم رکھنا اور پردہ داری کے تقاضوں کا لحاظ کرنا گھر کے سربراہ کی ذمہ داریوں میں شمار کیا گیا ہے۔ چنانچہ نسائی کی روایت ہے کہ آنحضرتؐ نے فرمایا کہ ’’دیوث‘‘ شخص پر جنت حرام کر دی گئی ہے۔ اور پھر لفظ دیوث کی وضاحت بھی آپؐ نے خود فرمائی کہ وہ شخص جو اپنے گھر والوں میں بے حیائی کی باتیں برداشت کر لے۔

تاریخی روایات میں آتا ہے کہ حضرت عثمانؓ سے خلافت سے دستبرداری کا مطالبہ کرنے والے باغی جب انہیں شہید کرنے کے لیے گھر میں داخل ہوگئے تو امیر المومنینؓ کی اہلیہ محترمہ حضرت نائلہؓ نے عربوں کے رواج کے مطابق سر کے بال بکھیر کر حملہ آوروں کو رحم کی دہائی دینا چاہی۔ اس پر حضرت عثمانؓ نے دور سے چلا کر آواز دی کہ:


’’اپنی چادر اوڑھ لو۔ کیونکہ تمہارا ننگے سر ہونا میرے لیے ان لوگوں کے حملے سے زیادہ تکلیف دہ ہے۔‘‘

احادیث کے ذخیرہ میں اس کے علاوہ بھی بیسیوں واقعات ہیں جن میں غیرت کے اسی دینی جذبہ کا اظہار ہوتا ہے۔ مگر جس طرح انسان کے دوسرے اوصاف اور خصلتوں کی حدود بیان کی گئی ہیں اسی طرح جناب نبی اکرمؐ نے غیرت کے جائز اور ناجائز پہلوؤں کی بھی نشاندہی کی ہے اور اس کی حدود بیان فرمائی ہیں۔ مثلاً ابوداؤد میں حضرت جابرؓ سے روایت ہے کہ آنحضرتؐ نے فرمایا کہ ایک غیرت وہ ہے جو اللہ تعالیٰ کو ناپسند ہے۔ پھر فرمایا کہ جو غیرت کسی سبب کی وجہ سے ہو وہ پسندیدہ ہے جبکہ غیرت کا جو اظہار کسی سبب کے بغیر خواہ مخواہ ہو اسے اللہ تعالیٰ پسند نہیں فرماتے بلکہ اس سے اللہ تعالیٰ ناراض ہوتے ہیں۔ اس کا مطلب واضح ہے کہ کسی سبب اور وجہ کے ظاہر ہونے پر اگر غصہ اور غیرت کا اظہار کیا جائے تو بجا ہے مگر بلاوجہ اور بلاسبب خواہ مخواہ غیرت کا اظہار شرعاً درست نہیں ہے۔

اسی طرح غیرت اور غصہ کا جائز حد تک اظہار تو بجا ہے مگر قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی گئی۔ جیسا کہ بخاری کی روایت میں ہے کہ جب زنا کے ثبوت اور اس کی سزا کے لیے چار گواہوں کی شرط قرآن کریم میں نازل ہوئی تو حضرت سعد بن عبادہؓ نے تعجب سے پوچھا کہ یا رسول اللہ! کیا میں اپنی بیوی کے ساتھ غیر مرد کو دیکھ کر چار گواہ تلاش کرتا پھروں گا؟ نہیں بلکہ بخدا میں تو تلوار کے ساتھ اس کا کام تمام کر دوں گا۔ جناب نبی اکرمؐ نے اس پر فرمایا کہ دیکھو سعدؓ کتنا غیرت والا ہے، میں بھی غیرت والا ہوں اور اللہ تعالیٰ سب سے زیادہ غیرت والا ہے۔ یعنی آپؐ نے حضرت سعدؓ کی غیرت کا تذکرہ تو فرمایا مگر قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی۔

اسی طرح بخاری میں حضرت عبد اللہ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ امیر المومنین حضرت عمرؓ کی اہلیہ ان کے دور خلافت میں فجر اور عشاء کی نماز کے لیے باقاعدگی کے ساتھ مسجد میں جایا کرتی تھیں۔ حضرت عمرؓ کو یہ بات اپنی طبعی غیرت کی وجہ سے پسند نہیں تھی مگر منع بھی نہیں کرتے تھے۔ اس کی وجہ حضرت عبد اللہ بن عمرؓ یہ بیان کرتے ہیں کہ جناب نبی اکرمؐ نے ارشاد فرمایا ہے کہ:


’’اللہ کی بندیوں کو مسجد میں جانے سے نہ روکا کرو۔‘‘

اس لیے حضرت عمرؓ پسند نہ ہونے کے باوجود اپنی اہلیہ کو مسجد میں جانے سے نہیں روکتے تھے۔ اس کا مطلب ہے کہ غیرت کا اظہار بہت اچھی چیز ہے لیکن جو حقوق عورت کو شریعت نے دے رکھے ہیں انہیں غیرت کے نام پر ان سے روکنا درست نہیں ہے۔ الغرض غیرت ایک اچھا جذبہ ہے جو نہ صرف ہمارے ایمان و عقیدہ کی حفاظت کرتا ہے بلکہ عورت اور مرد کے عفت و عصمت کے نظام اور خاندانی ماحول کے تقدس کا محافظ بھی ہے۔ البتہ اس کے اظہار اور استعمال کی حدود بھی متعین ہیں کہ غیرت کے نام پر نہ قانون کو ہاتھ میں لینے کی اجازت ہے اور نہ ہی عورتوں کو ان کے شرعی حقوق سے محروم کر دینے کا کوئی جواز ہے۔


غیرت کی خاطر قتل ہونے والے کو شہادت کا درجہ دیا گیا ہے جیسا کہ حدیث میں ہے:
((مَنْ قُتِلَ دُونَ أَهْلِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ))
’’اور جو اپنے اہل خانہ کی حفاظت اور دفاع کرتے ہوئے قتل کر دیا گیا تو وہ شہید ہے۔‘‘
[نسائی:4095]


اور غیرت کی اہمیت کو نہایت ہی تاکیدی الفاظ میں بیان کرتے ہوئے فرمایا:

((ثلاثة لا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ أبداً))

’’فرمایا: تین قسم کے لوگ ہرگز جنت میں نہیں جائیں گے۔‘‘

((الديوتُ ، وَالرَّجُلَة مِنَ النِّسَاءِ، وَمُدْمِنُ الْخَمْرِ )

’’ایک دیوث ایک زنانہ مرد اور تیسرا شراب کارسیا‘‘

فَقَالُو: ((يَا رَسُولَ اللَّهِ أَمَّا مُدْمِنُ الْخَمْرِ فَقَدْ عَرَفْنَاهُ))

’’صحابہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسولﷺ: شراب کا رسیا تو ہمیں معلوم ہے، کیا ہوتا ہے۔‘‘

((فَمَا الديوث))

’’مگر دیوث کون ہوتا ہے؟‘‘

قَالَ: ((الَّذِي لَا يُبَالِي مَنْ دَخَلَ عَلَى أَهْلِهِ))

’’فرمایا: دیوث وہ ہوتا ہے جو پرواہ نہ کرے کہ اس کے اہل خانہ کے پاس کون آتا جاتا ہے۔‘‘


اور دیوث کا اردو میں مترادف: بے غیرت اور بھڑوا ہے۔

قُلْنَا: ((فَالرَّجُلَةُ مِنَ النِّسَاءِ؟))

’’ہم نے عرض کیا: ” اور عورتوں میں زنانہ مرد کون ہوتے ہیں ؟‘‘

قالَ: ((الَّتِي تَشَبَهُ بِالرِّجَالِ))

’’فرمایا: عورتوں میں زنانہ مرد وہ عورتیں ہوتی ہیں جو وضع قطع چال ڈھال اور لباس میں مردوں کی مشابہت اختیار کرتی ہیں ۔‘‘
[شعب الایمان:10800،صحيح الترغيب والترهيب:2071]

دیوت کی ایک سزا یہ ہے کہ قیامت کے دن اللہ تعالی اس کی طرف دیکھیں گے بھی نہیں۔
[نسائی:2562]


تو اللہ تعالی غیرت کرتا ہے اور اللہ تعالی سے بڑھ کر کوئی غیرت کرنے والا نہیں ہے، جیسا کہ حدیث میں ہے، آپ ﷺنے فرمایا:

((لا أحَدَ أَغْيَرُ مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ))

’’اللہ تعالی سے بڑھ کر غیرت کرنے والا کوئی نہیں ہے۔‘‘

((وَلِذَلِكَ حَرَّمَ الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ))

’’چنانچہ اس لیے اللہ تعالی نے ہر قسم کی ظاہری و باطنی فحاشی کو حرام قرار دیا ہے۔‘‘

[صحيح البخاري:4634]



غیرت فطری ہے اور بےحیائی خلافِ فطرت:
ایک نوجوان نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا:
اے اللہ کے رسول ﷺ! مجھے زنا کرنے کی اجازت دے دیجئے۔
لوگ اس کی طرف متوجہ ہو کر اسے ڈانٹنے لگے اور اسے پیچھے ہٹانے لگے۔ لیکن نبی ﷺ نے اسے فرمایا:
میرے قریب آجاؤ۔
وہ نبی ﷺ کے قریب جا کر بیٹھ گیا۔ نبی ﷺ نے اس سے پوچھا کیا:
تم اپنی والدہ کے حق میں اسے پسند کرو گے؟ (کہ کوئی تیری ماں سے زنا کی اجازت مانگے)
اس نے کہا:
اللہ کی قسم! کبھی نہیں، میں آپ پر قربان جاؤں۔
نبی ﷺ نے فرمایا:
لوگ بھی اسے اپنی ماں کے لئے پسند نہیں کرتے۔
پھر پوچھا:
کیا تم اپنی بیٹی کے حق میں اسے پسند کرو گے؟
اس نے کہا:
اللہ کی قسم! کبھی نہیں، میں آپ پر قربان جاؤں۔
نبی ﷺ نے فرمایا:
لوگ بھی اسے اپنی بیٹی کے لئے پسند نہیں کرتے۔
پھر پوچھا:
کیا تم اپنی بہن کے حق میں اسے پسند کرو گے؟
اس نے کہا:
اللہ کی قسم! کبھی نہیں، میں آپ پر قربان جاؤں۔
نبی ﷺ نے فرمایا:
لوگ بھی اسے اپنی بہن کے لے پسند نہیں کرتے۔
پھر پوچھا:
کیا تم اپنی پھوپھی کے حق میں اسے پسند کرو گے؟
اس نے کہا:
اللہ کی قسم! کبھی نہیں، میں آپ پر قربان جاؤں۔
نبی ﷺ نے فرمایا:
لوگ بھی اسے اپنی پھوپھی کے لئے پسند نہیں کرتے۔
پھر پوچھا:
کیا تم اپنی خالہ کے حق میں اسے پسند کرو گے؟
اس نے کہا:
اللہ کی قسم! کبھی نہیں، میں آپ پر قربان جاؤں۔
نبی ﷺ نے فرمایا:
لوگ بھی اسے اپنی خالہ کے لئے پسند نہیں کرتے۔
پھر نبی ﷺ نے اپنا دست مبارک اس کے جسم پر رکھا اور دعاء کی کہ اے اللہ! اس کے گناہ معاف فرما، اس کے دل کو پاک فرما اور اس کی شرمگاہ کی حفاظت فرما۔
راوی کہتے ہیں کہ اس کے بعد اس نوجوان نے کبھی کسی کی طرف توجہ بھی نہیں کی۔
[الصَّحِيحَة:370، مسند احمد:22211(21189) طبرانی:7679+7759]
اب آئیے صحابہ کرام کی غیرت کے چند نمونے ملاحظہ کرتے ہیں، حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں:

((لَوْ رَأَيْتُ رَجُلًا مَعَ امْرَأَتِي لَضَرَبْتُهُ بِالسَّيْفِ غَيْرَ مُصْفِح))

’’اگر میں کسی کو اپنی بیوی کے ساتھ دیکھوں تو میں تلوار کی ہموار اور چپنی طرف سے نہیں بلکہ تلوار کی دھار کی طرف سے اُس کو ضرب لگاؤں گا۔ یعنی کاٹ کے رکھ دوں گا۔‘‘

تو آپ ﷺ نے فرمایا

((اتعجبون من غيرة سعد؟))

’’کیا تمہیں سعد کی غیرت پر تعجب ہو رہا ہے؟‘‘

((فَوَ اللَّهِ لَأَنَا أَغَيْرُ مِنْهُ))

’’اللہ تعالی کی قسم میں سعد سے بھی زیادہ غیرت مند ہوں ۔‘‘

((والله اغير مني))

’’اور اللہ تعالی مجھ سے بھی زیادہ غیرت مند ہے۔‘‘

[صحيح البخاري:7416]




اسی طرح حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ کی شہادت کا واقعہ تو آپ نے سنا ہوگا، باقی جب حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ کے گھر میں حملہ کرنے کے لیے داخل ہوئے تو حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ کی زوجہ محترمہ حضرت نائلہ رضی اللہ تعالی عنہا نے اپنے سر کے بال حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ پر پھیلا دیئے تا کہ وہ قتل نہ کریں اور وہ محض ڈوبتے کو تنکے کا سہارا تھا، جو ایک طرح اُن کی مروت کے ذریعے بچاؤ کی ایک ہلکی سی امید تھی۔

تو حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ کی غیرت کا عالم ملاحظہ کیجئے کہ میں اس وقت کہ جب قاتل قتل کرنے کے لیے سر پر کھڑے تھے، فرماتے ہیں۔

((خُذِي خِمَارَكِ، فَلَعَمْرِي لَدُخُولُهُمْ عَلَىَّ أَهْوَنُ مِنْ حُرمَةِ شَعْرِكِ))
’’اپنے چادر لو مجھے اُس عمر دینے والے کی قسم ان کا مجھ پر حملہ آور ہوتا تمہارے بالوں کی عزت و حرمت کے مقابلے میں بہت حقیر اور ہیچ ہے۔‘‘

[تاريخ المدينه لابن شيبه: 4/1300]




یعنی اپنی موت سے بڑھ کر حضرت نائلہ بھی بجھا کے بالوں کی حرمت کی غیرت اور فکر تھی۔ اسی طرح دیگر متعدد صحابہ کرام کی غیرت کے واقعات احادیث میں مذکور ہیں، اگرچہ تمام کے تمام صحابہ کرام ہی شدید غیرت والے تھے، بلکہ اسلام سے پہلے بھی تمام عرب انتہائی سخت غیرت رکھتے تھے۔

حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی غیرت کی آپ ﷺنے خود گواہی دی، حدیث میں ہے، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں:

((قَالَ بَيْنَا نَحْنُ عِندَ رَسُولِ الله جلوس))

’’ایک بار ہم آپ ﷺکی خدمت میں بیٹھے ہوئے تھے۔‘‘

((فَقَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: ((بَيْنَا أَنَا نَائِم رَأَيْتَنِي فِي الْجَنَّةِ))

’’تو آپ ﷺنے فرمایا: میں سو رہا تھا کہ میں نے اپنے آپ کو جنت میں پایا۔ (انبیاء اسلام کے خواب بھی وہی ہوتے ہیں )‘‘

((فَإِذَا امْرَأَةً تَتَوَضَّأُ إِلَى جَانِبِ قَصْرٍ))

’’دیکھا کہ ایک عورت محل کے ایک طرف وضو کر رہی ہے۔‘‘

((فَقُلْتُ لِمَنْ هٰذَا؟))

’’میں نے پوچھا یہ کس کا ہے؟‘‘

((قَالَ: هٰذَا لِعُمَرَ))

’’انہوں نے کہا کہ یہ محل عمر کا ہے۔‘‘

((فَذَكَرْتُ غَيْرَتَهُ فَوَلَّيْتُ مُدْبِرًا))

’’ تو مجھے عمر کی غیرت یاد آئی اور میں وہاں سے واپس لوٹ آیا۔‘‘

((فَبَكَى عُمَرُ ، وَهُوَ فِي الْمَجْلِسِ ، ثُمَّ قَالَ: أَوْ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللهِ آغَارُ))

’’تو حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ جو کہ مجلس میں موجود تھے، رو پڑے اور کہا: اے اللہ کے رسولﷺ میں آپ پر غیرت کروں گا ؟ ‘‘

[صحیح البخاری:5227]

یعنی جہاں سے غیرت کا ڈر اور خوف نہ ہو وہاں آدمی غیرت کیسے کر سکتا ہے، جیسا کہ کسی عورت کے پاس اس کا باپ یا بھائی بیٹھا ہو، تو غیرت کا کیا تک بنتا ہے۔

صحابہ کرام کی غیرت کے عجیب و غریب اور حیران کن واقعات ہیں اور پھر تاریخ اسلامی میں مسلمانوں کے خون کو گرما دینے والے واقعات بھی موجود ہیں۔ اور اسلام سے پہلے عرب میں غیرت انتہائی سخت تھی بلکہ بعض اوقات تو حد سے تجاوز کر جاتی تھی۔ جیسا کہ ایک جاہلی شاعر، یعنی زمانہ جاہلیت کا مشہور شاعر تھا اور شدت غیرت میں بہت مشہور تھا۔

ایک روز اپنی بیوی کے ساتھ جا رہا تھا، اُس نے دیکھا کہ کوئی آدمی اس کی بیوی کی طرف دیکھ رہا ہے تو اس نے وہیں اپنی بیوی کو طلاق دے دی، اور پھر کچھ شعر کہے، جن میں سے دو ایک یہ ہیں کہ:

إِذَا وَقَعَ الذُّبَابُ عَلَى طَعَامٍ

رَفَعْتُ يَدِي وَنَفْسِي تَشْتَهِيهِ

’’جب مکھیاں کھانے پر بیٹھ جائیں تو میں کھانے سے ہاتھ اٹھا لیتا ہوں اگر چہ جی چاہ بھی رہا ہوتا ہے۔‘‘

وتَجْتَنِبُ الْأَسودُ وَرُوْدَ مَاءٍ

إِذَا كَانَ الْكِلَابُ وَلَغْنَ فِيهِ

’’اور شیر اُس پانی سے دور رہتے ہیں، کہ جس میں کتے منہ مارتے ہوں ۔‘‘

تو یہ ایک احمقانہ غیرت تھی، اس کا حقیقی غیرت سے کوئی تعلق نہیں ہے، صرف شدت غیرت کا ذکر کرنا مقصود تھا۔

مگر جو غیرت ہمیں عزت، شرافت، شرم و حیا، پاکدامنی اور پاکیزہ زندگی گزارنے کا سبق دیتی ہے آئیے اس کا ایک اور واقعہ بھی سنتے چلیں۔

حضرت خنساء رضی اللہ تعالی عنہا ایک بہت بہادر اور مضبوط شخصیت کی مالک صحابیہ تھیں اور بہت بڑی شاعرہ تھیں، جنگ قادسیہ کے موقعے پر اپنے چار بیٹوں کو میدان جنگ میں اتارنے سے پہلے چند نصیحتیں کرتی ہوئی کہتی ہیں۔

((يَا بَنِيَّ إِنَّكُمْ أَسْلَمْتُم وَهَاجَرْتُمْ مُخْتَارِينَ))

’’اے میرے بیٹو! تم اسلام لائے ہو اور تم نے اپنی مرضی اور اختیار سے ہجرت کی ہے۔‘‘

((وَاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ غَيْرُهُ))

’’اس اللہ کی قسم کہ جس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے ۔‘‘

((إِنَّكُمْ بِنُو رَجُلٍ وَاحِدٍ))

’’تم ایک ہی مرد کے بیٹے ہو۔‘‘

((كَمَا أَنَّكُمْ بَنُو إِمْرَأَةِ وَاحِدَةٍ))

’’جس طرح تم ایک ہی عورت کے بیٹے ہو ۔‘‘

((مَا خُنْتُ اَبَاكُمْ))

’’میں نے تمہارے باپ سے خیانت نہیں کی ۔‘‘

((وَلَا فَضَحْتُ خَالَكُمْ))

’’اور نہ تمہارے ماموں کو شرمندہ کیا ۔‘‘

((وَلا هَجَنْتُ حَسَبكُمْ))

’’اور میں نے تمہاری نسل کو دوغلا اور دو نسلا نہیں بنایا ۔‘‘

((وَلَا غَيَّرَتُ نَسَبكُمْ))

’’اور نہ تمہارے نسب کو بدلا ہے۔‘‘

((وَاعْلَمُوا أَنْ الدَّارَ الْبَاقِيَةَ خَيْرٌ مِنَ الدَّارِ الفانية))

’’جان لو کہ دار باقی اس دار فانی سے بہتر ہے۔‘‘

[نهاية الأرب في فنون الأدب ، ج:19 ، ص:216]




امام ابن کثیر رحمہ اللہ نے 286ھ کا ایک واقعہ نقل کیا ہے، کہ ایک عورت قاضی کے پاس اپنے خاوند کے خلاف 500 دینا ر حق مہر کا دعوی لے کر آئی اور کہنے لگی کہ میرے خاوند نے میرا حق مہر ادا نہیں کیا۔ خاوند انکاری ہوا۔ قاضی نے عورت سے کہا: گو اہ لاؤ۔
گواہ پیش کئے، تو ایک گواہ نے کہا کہ یہ عورت اپنے چہرے سے پردہ ہٹائے تا کہ میں جان سکوں کہ کیا یہ وہی عورت ہے، قاضی نے کہا: چہرے سے پردہ ہٹاؤ۔
خاوند نے دیکھا اور کہا قاضی صاحب، پر دہ نہ ہٹاؤ، میں قبول کرتا ہوں کہ میں نے اس کے500 دین حق مہر دینا ہے۔ دوسری طرف عورت نے اپنے خاوند کی غیرت کا یہ نظارہ دیکھا تو کہنے لگی قاضی صاحب گواہ رہنا کہ میں اپنے خاوند کو اپنا حق مہر معاف کرتی ہوں ۔
[جلباب المرأة المسلمة للالباني:113، تاريخ بغداد:13 /53، شعب الايمان ، الغيرة والمذاء]
[عیون الحکایات، الحکایۃ السادسۃ بعد الثلاثمائۃ، ص ۲۷۵]


تو جس معاشرے کی عورتیں اس طرح کی پاک باز، پاکدامن اور بلند اخلاق کی مالک ہوں ، اس معاشرے جیسا دنیا میں کوئی معاشرہ نہیں ہو سکتا اور اسے دنیا کی کوئی طاقت مغلوب نہیں کر سکتی۔


No comments:

Post a Comment