’’غیرت‘‘ عربی زبان کا لفظ ہے جس کے مفہوم میں اہل زبان دو باتوں کا بطور خاص ذکر کرتے ہیں۔ ایک یہ کہ کوئی ناگوار بات دیکھ کر دل کی کیفیت کا متغیر ہو جانا، اور دوسرا یہ کہ اپنے کسی خاص حق میں غیر کی شرکت کو برداشت نہ کرنا۔ ان دو باتوں کے اجتماع سے پیدا ہونے والے جذبہ کا نام غیرت ہے۔
1️⃣ غیرت کی فطری بنیاد: عزت و عفت کی حفاظت
قرآن مجید نے اپنے احکامات کے ذریعے وہ فطری ماحول قائم کیا ہے جہاں عزت و عصمت کی حفاظت کا جذبہ (غیرت) پروان چڑھے۔
· پردے کا حکم: یہ حکم نہ صرف عفت کے تحفظ بلکہ اجتماعی غیرت کے اظہار کا بھی سبب بنا۔
"اے نبی! اپنی بیویوں اور بیٹیوں اور مسلمانوں کی عورتوں سے کہہ دو کہ اپنے اوپر اپنی چادریں لٹکا لیا کریں۔ یہ زیادہ مناسب طریقہ ہے تاکہ وہ پہچان لی جائیں اور نہ ستائی جائیں..."
[سورۃ الاحزاب: 59]
· عفت عامہ کا حکم: یہ آیت فحاشی سے بچنے کے حکم سے معاشرے میں عفت کے تحفظ اور اس پر غیرت کرنے کی فضا قائم کرتی ہے۔
"بتا دو کہ میرے رب نے تو انہی (باتوں) کو حرام کیا ہے جو کھلی بے حیائی ہوں..."
[سورۃ الأعراف: 33]
2️⃣ غیرتِ مذمومہ سے تحذیر: بے جا شک اور تہمت
آپ نے پہلے جو حدیث پڑھی، اس میں بلاوجہ غیرت کرنے سے منع کیا گیا ہے۔ قرآن اس سے بھی واضح طور پر خبردار کرتا ہے۔
· بدگمانی سے پرہیز: یہ آیت بے بنیاد شک (جو غلط غیرت کا سبب بنتا ہے) کی بنیادی روک ہے۔
"اے ایمان والو! بہت سے گمانوں سے بچتے رہو، بیشک بعض گمان گناہ ہوتے ہیں..."
[سورۃ الحجرات: 12]
· پاک دامن عورتوں پر تہمت: بے جا غیرت کا سب سے بڑا ظلم پاک دامن خواتین پر الزام تراشی ہے، جس پر قرآن میں سخت وعید آئی ہے۔
"جو لوگ پاک دامن عورتوں پر تہمت لگائیں پھر چار گواہ نہ لاسکیں، انہیں اسی (80) کوڑے لگاؤ..."
[سورۃ النور: 4]
3️⃣ غیرت کی اعلیٰ ترین شکل: توحید اور اللہ کی محرمات کی حفاظت
علماء کرام کے مطابق اللہ تعالیٰ کی ذات میں غیرت کا سب سے بڑا مظہر توحید ہے، جس میں کسی کو شریک ٹھہرانے کو گوارا نہیں کیا جاتا۔ اسی طرح مؤمن کی غیرت کا سب سے اعلیٰ درجہ یہ ہے کہ وہ اللہ کی حرام کی ہوئی باتوں کو پامال ہوتا دیکھ کر بے چین ہو جائے۔ اس کی اصل بنیاد قرآن میں یوں بیان ہوئی ہے:
"بیشک اللہ اس بات کو ہرگز معاف نہیں کرتا کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک بنایا جائے، اور اس سے کم (درجے کے گناہوں) کو جس کے لیے چاہتا ہے معاف کر دیتا ہے..."
[سورۃ النساء: 48]
خلاصہ اور اہم نکات:
· لفظ نہیں، تصور ہے: قرآن براہ راست "غیرت" کا لفظ استعمال نہیں کرتا، لیکن اس کا پورا اخلاقی و قانونی نظام (عفت، پردہ، تہمت کی مذمت) ایسے معاشرے کی بنیاد رکھتا ہے جہاں حقیقی غیرت (یعنی عزت کا تحفظ) فروغ پائے۔
· حدود کا تعین: قرآن نے واضح حدود بتا کر اس جذبے کو بے لگام ہونے سے روکا ہے۔ خصوصاً بدگمانی اور تہمت سے منع کر کے یہ بتا دیا کہ بے دلیل شک پر اٹھایا گیا کوئی بھی قدم (چاہے وہ غیرت کے نام پر ہی کیوں نہ ہو) ناجائز ہے۔
· اعلیٰ ترین درجہ: غیرت کا سب سے بڑا اور پسندیدہ درجہ دینی غیرت ہے، یعنی اللہ کے حقوق (جیسے توحید) اور اس کی حرام کردہ باتوں کی خلاف ورزی پر بے چینی محسوس کرنا۔
آپ کے سوال کے مطابق قرآن مجید سے براہ راست کوئی ایسی آیت نہیں ملتی جو "غیرت" کے لفظ کے ساتھ اس جذبے کی تعریف کرتی ہو۔ تاہم، جو احکام و ہدایات قرآن نے عزت و عفت کے تحفظ اور غلط شکوک سے بچنے کے لیے دی ہیں، وہ درحقیقت اس جذبے کی صحیح شرعی شکل اور حدود کو متعین کرتے ہیں۔
اللہ رب العزت کی غیرت
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
" (لَا أَحَدَ [وفي رواية: لَا شَخْصَ] (¬1) أَغْيَرُ مِنْ اللَّهِ (¬2) وَلِذَلِكَ (¬3) حرم الْفَوَاحِشَ ما ظَهَرَ مِنْهَا وما بَطَنَ (¬4) وَلَا أَحَدَ أَحَبَّ إِلَيْهِ الْمَدْحُ مِنْ اللَّهِ , وَلِذَلِكَ (¬5) مَدَحَ نَفْسَهُ) (¬6)
[ وفي رواية: وَلِذَلِكَ وَعَدَ اللَّهُ الْجَنَّةَ] (¬7) (وَلَا أَحَدَ أَحَبُّ إِلَيْهِ الْعُذْرُ مِنْ اللَّهِ , مِنْ أَجْلِ ذَلِكَ أَنْزَلَ الْكِتَابَ , وَأَرْسَلَ الرُّسُلَ (¬8)) (¬9) (مُبَشِّرِينَ وَمُنْذِرِينَ) (¬10) "
ترجمہ:
’’کوئی ایک (اور ایک روایت میں: کوئی شخص) (¬1) اللہ سے زیادہ غیرت والا نہیں (¬2)، اور اسی وجہ سے (¬3) اس نے تمام فواحش (بے حیائی کے کام) حرام کیے ہیں، خواہ وہ ظاہر ہوں یا پوشیدہ (¬4). اور کوئی ذات اللہ سے زیادہ مدح (تعریف) کو پسند نہیں کرتی، اور اسی وجہ سے (¬5) اس نے اپنی ذات کی تعریف فرمائی (¬6). (اور ایک روایت میں: اور اسی وجہ سے اللہ نے جنت کا وعدہ فرمایا) (¬7). اور کوئی ذات اللہ سے زیادہ عذر (معذرت) کو پسند نہیں کرتی، اسی لیے اس نے کتاب نازل فرمائی اور رسول بھیجے (¬8) (¬9) (خوشخبری دینے والے اور ڈر سنانے والے) (¬10).‘‘
---
حواشی وحوالہ جات:
(¬1) صحیح مسلم (1499)۔ اور عبید اللہ القواریری نے کہا: جہمیہ (منکرین صفات) پر اس حدیث سے زیادہ سخت کوئی حدیث نہیں، اس قول کی وجہ سے: ’’کوئی شخص اللہ عز وجل سے زیادہ مدح (تعریف) کو پسند نہیں کرتا‘‘۔ مسند احمد (18194)۔
(¬2) غیرت کا اصل معنی منع (روکنا) ہے۔ آدمی اپنے اہل پر غیرت کرتا ہے، یعنی انہیں کسی غیر سے نظر یا بات یا کسی اور طرح کے تعلق سے روکتا ہے۔ غیرت کمال کی صفت ہے۔ پس نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی کہ اللہ سب سے زیادہ غیرت والا ہے، اور اسی وجہ سے اس نے فواحش (بیہودگیوں) کو حرام کیا۔ پس اللہ تعالیٰ کی غیرت کا مطلب یہ ہے کہ وہ لوگوں کو فواحش سے روکتا ہے۔ شرح النووی على مسلم (ج5/ص268)۔
(¬3) یعنی غیرت کی وجہ سے۔ تحفة الأحوذي (ج8/ص428)۔
(¬4) اس سے مراد فواحش (بیہودگیوں) کا چھپا ہوا اور ظاہر ہونا ہے۔ تحفة الأحوذي (ج8/ص428)۔
(¬5) یعنی اپنی مدح (تعریف) کی محبت کی وجہ سے۔ تحفة الأحوذي (ج8/ص428)۔
(¬6) صحیح بخاری (4358)، صحیح مسلم (2760)۔
(¬7) صحیح بخاری (6980)، صحیح مسلم (1499)۔ اور اس قول ’’جنت کا وعدہ فرمایا‘‘ کا معنی یہ ہے کہ جب اس نے جنت کا وعدہ فرمایا اور اس کی ترغیب دی تو لوگوں کی اس سے سوال و طلب اور اس کی تعریف زیادہ ہو گئی۔ اور اس سے یہ دلیل نہیں لی جا سکتی کہ انسان اپنی تعریف کر سکتا ہے، کیونکہ یہ مذموم اور منع ہے۔ البتہ اگر دل میں محض تعریف کی محبت ہو اور کوئی چارہ نہ ہو تو یہ مذموم نہیں۔ اللہ سبحانہ وتعالیٰ اپنے کمال کی وجہ سے تعریف کے مستحق ہیں۔ اور بندہ ہمیشہ نقص کا حامل ہے، اگرچہ کسی وجہ سے وہ تعریف کا مستحق ہو، لیکن تعریف اس کے دل کو فاسد کرتی ہے اور اسے اپنی ذات میں بڑا سمجھنے لگتا ہے یہاں تک کہ دوسروں کو حقیر جاننے لگتا ہے۔ اسی لیے آیا ہے: ’’مداحوں کے چہروں پر خاک ڈالو‘‘، اور یہ صحیح حدیث ہے جسے مسلم نے روایت کیا ہے۔ فتح الباری لابن حجر (ج20/ص492)۔
(¬8) یعنی اس نے رسولوں کو اپنی مخلوق کے لیے عذر (واضح حجت) اور ڈر سنانے کے لیے بھیجا، انہیں عذاب میں پکڑنے سے پہلے۔ اور یہ اس کے قول تعالیٰ کی مانند ہے: ’’تاکہ لوگوں کے پاس رسولوں کے بعد اللہ پر کوئی حجت نہ رہے‘‘ (النساء: 165)، اور اس کے قول تعالیٰ کی مانند: ’’اور ہم عذاب دینے والے نہیں ہیں یہاں تک کہ ہم رسول بھیج دیں‘‘ (الاسراء: 15)۔ فتح الباری لابن حجر (ج20/ص492)۔ پس انسان کو چاہیے کہ وہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے اپنے بندوں کے ساتھ معاملہ سے ادب سیکھے، کیونکہ وہ انہیں فوراً عذاب نہیں دیتا، بلکہ انہیں ڈراتا اور متنبہ کرتا ہے، اور بار بار انہیں تنبیہ کرتا ہے اور مہلت دیتا ہے۔ اسی طرح بندے کو چاہیے کہ وہ قتل وغیرہ میں جلدی نہ کرے جب اس کا موقع نہ ہو، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں فوراً عذاب نہیں دیا، اگرچہ اگر وہ فوراً عذاب دے دیتا تو وہ اس کی طرف سے عدل ہوتا۔ شرح النووی على مسلم (ج5/ص268)۔
(¬9) صحیح مسلم (2760)، صحیح بخاری (6980)۔
(¬10) صحیح مسلم (1499)، مسند احمد (18193)۔
[الجامع الصحيح للسنن والمسانيد: ج1 ص134]
---
حاصل شدہ اسباق ونکات:
1. اللہ کی حرام کردہ چیزوں سے بچنا: اللہ کی غیرت کا تقاضا ہے کہ مسلمان تمام محرمات (ظاہری و پوشیدہ) سے بچے اور اللہ کی حرمتوں کی تعظيم کرے۔
2. اللہ (کی نافرمانی) سے حیا و شرم محسوس کرنا: اللہ نے غیرت کی وجہ سے فواحش حرام کی ہیں، لہٰذا بندے کو چاہیے کہ وہ اللہ سے حیا کرے اور اسے نافرمانی کی جگہوں پر نہ دیکھے۔
3. اللہ کی کثرت سے حمد و ثنا کرنا: اللہ تعالیٰ مدح کو محبوب رکھتا ہے، اس لیے مسلمان کو چاہیے کہ وہ ہر حال میں اللہ کی حمد و ثناء کا اہتمام کرے۔
4. دین پر غیرت رکھنے کی صفت اپنانا: مسلمان کے دل میں دین الله پر غیرت ہونی چاہیے؛ وہ محارم الله کی حفاظت کرے، معروف کا حکم دے اور منکر سے روکے، نیز مسلمانوں کی عزت و آبرو کی حفاظت کرے۔
5. شرعی قوانین کی حکمت اور مصلحت کو سمجھنا: ہر شرعی حکم و منع کے پیچھے اللہ کی بڑی حکمت اور رحمت پوشیدہ ہے۔ فواحش کی حرمت درحقیقت اللہ کی غیرت کا اظہار ہے جو بندوں کی عزت و پاکیزگی کے لیے ہے۔
6. غیرت اللہ تعالیٰ کی صفتِ کمال ہے: اللہ کی غیرت کمال کی صفت ہے جو اس کی شان کے لائق ہے اور مخلوق کی غیرت سے بالکل مختلف ہے؛ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ اپنے بندوں کو برائیوں سے روکتا ہے۔
7. اللہ کے اپنے بندوں کے ساتھ سلوک کے آداب سیکھنا: اللہ اپنے بندوں کے ساتھ نرمی کرتا ہے، فوراً عذاب نہیں دیتا، بلکہ بار بار ڈراتا اور مہلت دیتا ہے۔ بندے کو بھی چاہیے کہ وہ اپنے معاملات میں جلد بازی نہ کرے، خصوصاً قتل وغیرہ میں، جب تک موقع نہ ہو۔
8. اپنے لیے (لوگوں کی) تعریف حاصل کرنے کی کوشش نہ کرنا: اگرچہ اللہ مدح کو محبوب رکھتا ہے، لیکن بندے کے لیے اپنی تعریف کروانا مذموم ہے، کیونکہ یہ تکبر اور دوسروں کی حقارت کا باعث بنتا ہے۔
---
خلاصہ:
یہ حدیث اللہ تعالیٰ کی صفتِ غیرت، محبتِ مدح اور محبتِ عذر کو بیان کرتی ہے، اور ان صفات کے تقاضوں کے طور پر فواحش کی حرمت، ذاتِ الٰہی کی مدح، اور کتاب و رسولوں کی بعثت کی حکمت بتاتی ہے۔ اس سے مسلمان کو اللہ کی حرمتوں کی تعظيم، حیا، کثرت سے حمد و ثناء، دین پر غیرت اور شرعی احکام کی حکمت سمجھنے جیسے اہم اسباق ملتے ہیں۔
📖 تشریح امام نووی:
"اور لفظ 'الْغَيْرَةُ' (غین کے فتحہ کے ساتھ) ہمارے حق میں تو 'الأنفة' (شریف النفس ہونے کی کیفیت) ہے۔ رہا اللہ تعالیٰ کا حق، تو اسے یہاں عمرو الناقد کی روایت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان سے بیان کیا گیا ہے: 'اور اللہ کی غیرت یہ ہے کہ مومن وہ کام کرے جو اللہ نے اس پر حرام کیا ہے' یعنی اللہ کی غیرت کا مطلب اس کا بندے کو منع کرنا اور حرام ٹھہرانا ہے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان: 'اور کوئی ذات اللہ تعالیٰ سے زیادہ مدح (تعریف) کو پسند نہیں کرتی' — اس کی حقیقت بندوں کے لیے مصلحت میں ہے، کیونکہ جب وہ اس سبحانہ و تعالیٰ کی تعریف کرتے ہیں تو وہ انہیں ثواب دیتا ہے اور وہ فائدہ اٹھاتے ہیں، حالانکہ وہ سبحانہ تمام جہانوں سے بے نیاز ہے، نہ تو ان کی تعریف اسے نفع پہنچاتی ہے اور نہ ہی اس کے چھوڑنے سے اسے کوئی نقصان ہوتا ہے۔
اس میں اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی تعریف کرنے، اس کی تسبیح (سبحان اللہ کہنا)، تهلیل (لا إله إلا اللہ کہنا)، تحميد (الحمد للہ کہنا)، تکبیر (اللہ أكبر کہنا) اور دیگر اذکار کے فضیلت کی طرف تنبیہ ہے۔"
[شرح مسلم للنووي: ج17 / ص77]
💎 اہم نکات اور سابقہ اسباق کے ساتھ ارتباط:
1. غیرت کا معنی اور اس کا مصدر یہاں امام نووی غیرت کے دو درجوں کی وضاحت کرتے ہیں:
(الف) بندے کی غیرت: یہ 'الأنفة' یعنی شرافت نفس، کسی ناپسندیدہ چیز سے بچنے کا جذبہ ہے۔ یہ پچھلی بحث میں مومن کی غیرت سے متعلق ہے۔
(ب) رب کی غیرت: یہ اس کا منع اور تحریم (حرام کرنا) ہے۔ یہ بات آپ کی پہلی پوسٹ میں بیان کردہ اصل حدیث "لَا أَحَدَ أَغْيَرُ مِنْ اللَّهِ وَلِذَلِكَ حرم الْفَوَاحِشَ" کی ہی تفسیر ہے۔
2. محبتِ مدح کی حکمت اور مصلحت یہ نکتہ پہلے پیش کردہ ابن حجر وغیرہ کے اقوال کو مزید واضح کرتا ہے کہ اللہ کا اپنی تعریف پسند کرنا درحقیقت بندوں کے لیے خیر کا ذریعہ ہے۔ جب وہ اللہ کی حمد و ثنا کرتے ہیں تو اس کا ثواب انہیں خود فائدہ پہنچاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہر تعریف سے بے نیاز ہے۔
3. مختلف اذکار کی فضیلت کی طرف اشارہ امام نووی اس بات کی طرف رہنمائی کرتے ہیں کہ یہ حدیث ہمیں ہر قسم کے ذکر (تسبیح، تهلیل، تحميد، تکبیر) کی فضیلت کی طرف متوجہ کرتی ہے۔ اس لیے مومن کو چاہیے کہ وہ ان اذکار کو کثرت سے اپنی زبان پر جاری رکھے۔
✨ نتیجہ اور عملی پہلو:
اس تشریح سے یہ سبق ملتا ہے کہ مومن کو دو طرح کی غیرت اپنے اندر پروان چڑھانی چاہیے:
1. شرعی غیرت: یہ وہ جذبہ ہے جو اسے اللہ کی حرام کردہ تمام چیزوں (فواحش) سے بچاتا ہے، کیونکہ یہی اللہ کی غیرت کا تقاضا ہے۔
2. ذکری غیرت: یعنی اس کوشش میں رہنا کہ ہم اللہ کی حمد و ثنا، اس کی تسبیح و تقدیس میں کسی سے پیچھے نہ رہیں، کیونکہ یہ وہ عمل ہے جسے اللہ پسند فرماتا ہے اور جس میں بندے کے لیے بے پایاں اجر ہے۔
📖 تشریح امام ابن حجر:
امام ابن حجر عسقلانی اپنی شہرہ آفاق شرح "فتح الباری شرح صحیح البخاری" میں باب الغیرۃ کی تشریح کرتے ہوئے درج ذیل اہم نکات بیان فرماتے ہیں:
1. لفظ "الغیرۃ" کا لغوی و شرعی مفہوم:
· لفظی ساخت: یہ لفظ "غَیْرَۃٌ" (غین معجمہ مفتوح، یاء ساکن، راء مفتوح) کے وزن پر ہے۔
· بندوں کے حوالے سے مفہوم: علماء جیسے قاضی عیاض نے کہا ہے کہ یہ لفظ دل کے تبدل اور غصہ کے ہیجان سے مشتق ہے، جو کسی مخصوص شے میں دوسرے کی شرکت پر پیدا ہوتا ہے۔ یہ کیفیت سب سے شدید شوہر اور بیوی کے درمیان پائی جاتی ہے۔
· اللہ تعالیٰ کے حوالے سے مفہوم: امام خطابی فرماتے ہیں کہ اس کی بہترین تفسیر وہی ہے جو حدیث ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ (جو اسی باب میں آ رہی ہے) میں موجود ہے، یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان: "اور اللہ کی غیرت یہ ہے کہ مومن وہ کام کرے جو اللہ نے اس پر حرام کیا ہے۔" قاضی عیاض کہتے ہیں کہ اللہ کے حق میں "غیرت" سے مراد اس کام کے کرنے والے کے حال میں تبدیلی (یعنی اس پر عذاب یا عقوبت کا نزول) بھی ہو سکتی ہے۔
· غیرت کا اصل معنی: کہا جاتا ہے کہ غیرت کا اصل معنی "الحمیۃ والأنفۃ" (حمیت اور شریف النفس ہونے کا جذبہ) ہے، جو درحقیقت غصہ کے لازمے (اثرات) میں سے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں اپنے لیے غضب اور رضا دونوں کو ثابت کیا ہے۔
· صفاتِ باری تعالیٰ کے بیان کا اصول: ابن العربی فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے لیے تغیر (بدلنا) قطعی دلائل کی روشنی میں محال ہے۔ لہٰذا اس قسم کے الفاظ کو ان کے لازم (نتیجے یا اثر) پر محمول کیا جائے گا، جیسے وعید سنانا یا فاعل پر عقوبت نازل کرنا۔ اسی طرح کا کچھ بیان کتاب الکسوف میں گزر چکا ہے جسے یہاں یاد رکھنا چاہیے۔
2. غیرتِ الٰہی کی ایک عظیم شکل: خاص لوگوں کی عصمت:
ابن حجر لکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی غیرت کے معزز ترین مظاہر میں سے ایک یہ ہے کہ وہ بعض لوگوں کو خاص عصمت (حفاظت) سے نوازتا ہے۔ یعنی جو شخص (نبی یا ولی ہونے کا) کوئی ایسا دعویٰ کرے جو درحقیقت صرف اللہ کی خاص عنایت سے مخصوص لوگوں کے لیے ہے، تو اللہ تعالیٰ اسے سزا دیتا ہے۔
3. رسول اللہ ﷺ کی شدید ترین غیرت:
ابن حجر بیان کرتے ہیں کہ انسانوں میں سب سے زیادہ غیرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تھی، کیونکہ آپ اللہ کے لیے، اس کے دین کے لیے غیرت کرتے تھے۔ اسی لیے آپ اپنے ذاتی معاملات میں کبھی انتقام نہیں لیتے تھے۔
[فتح الباري شرح صحيح البخاري: ج9 / ص320]
اللہ تعالیٰ کی غیرت اور بندے کی غیرت:
شرح للمناوي:
بیشک اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندے پر غیرت کرتا ہے، اور مومن (بھی) غیرت کرتا ہے۔ اور اللہ کی غیرت یہ ہے کہ مومن وہ کام کرے یعنی ایسا عمل کرے جو اللہ نے اس پر حرام کیا ہے۔ اور اسی وجہ سے اس نے فواحش (بیہودگیاں) حرام کی ہیں اور ان پر سب سے بڑے عذاب اور بدترین سزائیں مقرر کی ہیں۔ اور اس کی غیرت اپنی بندیوں اور بندوں پر شدید ہے۔ پس اگر یہ سزائیں شرعاً معطل کر دی جائیں تو وہ سبحانہ اُنہیں تقدیراً نافذ کر دیتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کی غیرت میں سے اس کی غیرت اپنے توحید، اپنے دین اور اپنی کلام (قرآن) پر ہے کہ اس کے اہل کے علاوہ کوئی اس سے بہرہ ور ہو، تو اس نے غیرت کے باعث ان کے اور اس (فہم) کے درمیان حائل کردیا: {اور ان کے دلوں پر پردے ڈال دیے کہ وہ اسے سمجھیں} (سورة الانعام: 25)۔
اور جو یہ ذکر کیا گیا ہے کہ روایت ہے کہ "مومن وہ کام کرے جو اللہ نے اس پر حرام کیا ہے" یہی اکثر کے نزدیک ہے۔ لیکن یہ مسلم میں الفاظ "ما حرم الله عليه" (جسے اللہ نے اس پر حرام کیا ہے) کے ساتھ فاعل کی جانب سے تعمیر کے طور پر ہے، اور اس پر اضافہ ہے اور ضمیر مومن کی طرف لوٹتی ہے۔ اور ابوذر رضی اللہ عنہ کی روایت میں "أن لا يأتي" (کہ وہ نہ کرے) کے الفاظ ہیں جس میں "لا" کا اضافہ ہے۔ الصغائی نے کہا: اور صحیح بات "لا" کو حذف کرنا ہے۔ اور الطیبی نے کہا: اس کا تقدیر یہ ہے کہ "اللہ کی غیرت اس لیے ثابت ہے کہ (بندہ) نہ کرے"۔ الکرمانی نے کہا: اور اگر "لا" کو ثابت مانا جائے تو معنى درست نہیں بنتا، پس یہ اس کے اضافی ہونے کی دلیل ہے، اور اس کا کثرت سے اضافہ ہونا معلوم ہے۔ اور اس حدیث میں گناہوں اور ایسے آثام کے دائرے میں گھسنے سے سخت ڈرایا گیا ہے جو ہلاکت اور دارالسلام (جنت) سے نکالے جانے کا باعث بنتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی غیرت بزرگوں (اولیاء) پر یہ ہے کہ جب وہ اس کے سوا کسی چیز سے لگاؤ رکھیں یا اس کے علاوہ کسی طرف توجہ دیں تو وہ ان کے معاملات میں خلل ڈال دیتا ہے اور انہیں آزماتا ہے یہاں تک کہ ان کے اسرار (دل) اس کے لیے صاف ہو جائیں، جیسا کہ اس نے یوسف علیہ السلام کے ساتھ کیا جب آپ نے اس شخص سے کہا جسے آپ نے بچ جانے والا سمجھا: "اپنے رب (یعنی بادشاہ مصر) کے پاس میرا ذکر کرنا"۔ پس آپ اس وجہ سے اتنا عرصہ قید میں رہے۔ اور ابراہیم علیہ السلام کے ساتھ، جب اسماعیل علیہ السلام آپ کو بہت پسند آئے تو آپ کو انہیں ذبح کرنے کا حکم دیا گیا۔ اور ایک ولی نے ایک جوان کو (غیرتِ الٰہی کے باعث) ایک نظر دیکھا، تو ہوا کے ایک ہاتھ نے اسے طمانچہ مارا اور اس کی آنکھ گر گئی، اور اس نے ایک آواز سنی: "ایک نظر پر ایک طمانچہ، اور اگر تم (نظر) بڑھاؤ گے تو ہم (عذاب) بڑھائیں گے"۔ اور یہ ان کا اللہ کے نزدیک بلند مرتبہ ہونے کی وجہ سے ہے۔
· مسند احمد (حم) میں کتاب التوبہ کے باب میں۔
· سنن ترمذی (ت) میں کتاب النکاح کے باب میں۔
· یہ حدیث حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔
· پوری حدیث کا شیخین (بخاری و مسلم) کی طرف بلا قید و شرط نسبت کرنا درست نہیں ہے۔
· حافظ عراقی نے کہا: بخاری نے "اور مومن غیرت کرتا ہے" نہیں کہا۔
· صدر المناوی نے کہا: بخاری نے اسے "اور مومن غیرت کرتا ہے" کے الفاظ کے سوا روایت کیا ہے، اور اسی طرح ترمذی نے بھی۔
· اور ابن حجر نے کہا: مسلم نے بخاری کے مقابلے میں اضافہ کیا ہے، اور وہ ہے "اور مومن غیرت کرتا ہے"۔
[فيض القدير-للمناوي:1919]
---
حاصل شدہ اسباق و نکات:
اس شرح اور تنقیح سے درج ذیل اہم اسباق و نکات ملتے ہیں:
1. غیرتِ الٰہی کا مفہوم: اللہ کی غیرت کا ایک مظہر یہ ہے کہ وہ اپنے بندے کو اس بات پر غیرت کرتا ہے کہ وہ اس کی حرام کردہ چیزوں کا ارتکاب نہ کرے۔ یہ غیرت درحقیقت بندے کی حفاظت اور پاکیزگی کا باعث ہے۔
2. فواحش پر سزاؤں کی حکمت: فواحش پر شرعی سزائیں (حدود) اللہ کی غیرت کا اظہار ہیں۔ اگر انہیں معطل کر دیا جائے تو اللہ تعالیٰ اپنی غیرت کے تحت انہیں تقدیراً نافذ کر سکتا ہے (جیسے معاشرتی برائیاں، آفات وغیرہ)۔
3. دین و توحید پر غیرت: اللہ تعالیٰ کو اپنے دین، اپنی توحید اور اپنی کتاب (قرآن) پر سخت غیرت ہے۔ وہ نہیں چاہتا کہ اس کے اہل (اہل ایمان و علم) کے علاوہ نااہل لوگ اس کی باریکیوں تک پہنچیں یا اسے ناحق استعمال کریں، اسی لیے وہ ان کے دلوں پر پردے ڈال دیتا ہے۔
4. اولیاء و مقربین پر آزمائش: اللہ تعالیٰ اپنے مقرب بندوں (اولیاء، انبیاء) پر خاص غیرت رکھتا ہے۔ اگر وہ ذرا سی بھی توجہ اس کے سوا کسی اور طرف موڑیں، تو وہ انہیں آزمائش میں ڈال کر ان کے دلوں کو پاک اور اپنی طرف مائل کر لیتا ہے۔ حضرت یوسف، حضرت ابراہیم اور ایک ولی کا واقعہ اس کی واضح مثالیں ہیں۔ یہ آزمائش درحقیقت ان کی بلند مراتب کی وجہ سے ہوتی ہے۔
5. حدیث کی تخریج میں احتیاط: شارحین نے حدیث کے الفاظ کی روایت اور اس کی تخریج (حوالہ جات) میں بڑی احتیاط برتی ہے۔ پوری حدیث کو یکجا بخاری و مسلم دونوں کی طرف منسوب کرنا درست نہیں، بلکہ "اور مومن غیرت کرتا ہے" کا جزو صرف مسلم کی زیادت ہے۔ یہ اصول ہمیں حدیث کی نسبت میں دقیق ہونے کی تعلیم دیتا ہے۔
6. گناہوں سے ڈرانا: حدیث اور اس کی شرح کا مقصد انسان کو گناہوں کی حدود (حمى المعاصي) میں داخل ہونے سے سخت ڈرانا ہے، کیونکہ یہی وہ راستہ ہے جو انسان کو اللہ کی رحمت سے دور اور ہلاکت کی طرف لے جاتا ہے۔
7. بندے کی غیرت کی بنیاد: مومن کی غیرت کا معیار وہی ہونا چاہیے جو اللہ کی غیرت کا ہے، یعنی وہ اپنے آپ کو، اپنے اہل و عیال کو اور اپنے معاشرے کو ہر اس چیز سے بچائے جو اللہ نے حرام ٹھہرائی ہے۔ یہ غیرت محبتِ الٰہی کا تقاضا ہے۔
حضرت جابر بن عتیک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"إِنَّ مِنْ الغيرة مَا يُحِبُّ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ , وَمِنْهَا مَا يَبْغُضُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ , وَمِنْ الْخُيَلَاءِ مَا يُحِبُّ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ , وَمِنْهَا مَا يَبْغُضُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ , فَأَمَّا الْغَيْرَةُ الَّتِي يُحِبُّ اللَّهُ , فالغيرة في الريبة , وَأَمَّا الْغَيْرَةُ الَّتِي يُبْغِضُ اللَّهُ , فَالْغَيْرَةُ فِي غير رِيبَةٍ , وَأَمَّا الِاخْتِيَالُ الَّذِي يُحِبُّ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ , اخْتِيَالُ الرَّجُلِ بِنَفْسِهِ عِنْدَ الْقِتَالِ وَعِنْدَ الصَّدَقَةِ , وَالِاخْتِيَالُ الَّذِي يَبْغُضُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ , الْخُيَلَاءُ فِي الْبَاطِلِ ,
[ وفي رواية: اخْتِيَالُ الرَّجُلِ فِي الْفَخْرِ وَالْبَغْيِ]
ترجمہ:
"بے شک غیرت کی کچھ قسمیں ایسی ہیں جنہیں اللہ عز وجل پسند کرتا ہے، اور کچھ ایسی ہیں جنہیں اللہ ناپسند کرتا ہے۔ اسی طرح تکبر (خُیَلاء) کی بھی کچھ قسمیں اللہ کو پسند ہیں اور کچھ ناپسند۔ پس اللہ کو جو غیرت پسند ہے، وہ شک و شبہ (ریبہ) کے موقع پر ہوتی ہے۔ اور جو غیرت اللہ کو ناپسند ہے، وہ بلا شک و شبہ ہوتی ہے۔ اور اللہ کو جو تکبر پسند ہے، وہ آدمی کا اپنی ذات پر لڑائی کے میدان میں اور صدقہ دیتے وقت ہوتا ہے۔ اور جو تکبر اللہ کو ناپسند ہے، وہ باطل میں ہوتا ہے۔ (ایک روایت میں ہے: آدمی کا فخر اور ظلم میں تکبر کرنا۔)"
[احمد:23747-23752، الدارمي:2272، ابن ماجة:1996، ابوداؤد:2659، نسائي:2558، صحيح ابن حبان:4762، الطبراني:1772-1774، حاكم:1525، البيهقي:14801.18478، وحسنه الألباني في الإرواء:1999، صحيح الجامع:2221]
فقہ المحدثین:
باب: مرد کا اپنے گھوڑے پر دو صفوں کے درمیان تکبر کرنا مستحب ہے، کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کو پسند ہے۔
[صحيح ابن حبان:4762]
اللہ کی صفات: اللہ پسند کرتا ہے اور ناپسند کرتا ہے۔
[الأسماء والصفات للبيهقي:1053]
باب: بیوی کے شوہر پر حقوق میں سے ایک حق: غیرت میں اعتدال برتنا۔
باب: جہاد میں فخر و تکبر کا بیان۔
[الجامع الصحيح للسنن والمسانيد: (4/132) (7/71)]
شرح سیوطی:
غیرت کی وہ قسم جسے اللہ پسند کرتا ہے وہ ہے جب انسان کو کسی عار کا احساس ہو۔ عار یا تو دینی معاملے میں ہوتا ہے جو پسندیدہ ہے، یا پھر وہ معاملہ جسے جاہل اور فاسق لوگ عیب سمجھتے ہیں حالانکہ حقیقت میں وہ قابل تعریف ہوتا ہے، جیسا کہ ہندوستان کے فاسق لوگوں میں بیواؤں کی شادی نہ کرنا رائج ہے اور افغانوں میں یہ کہ بیوہ عورت کا شوہر کے قریبی رشتہ دار کے علاوہ کسی سے نکاح نہ کرنا۔ اس لیے یہ معاملہ ہر علاقے کے رسم و رواج سے مختلف ہوتا ہے، کیونکہ عرف کا اس میں بہت دخل ہے۔ ایک علاقے کے لوگ کسی چیز کو عار سمجھتے ہیں تو دوسرے علاقے کے نہیں۔ پس ایسی غیرت مذموم ہے۔ اللہ اپنے بندے پر رحم کرے جو اپنے نبی کی سنت کی پیروی کرے اور باطل خیالات سے بچے۔
آپ کا فرمان "غیرت شک و شبہ کے موقع پر ہوتی ہے" یعنی وہ جگہ جہاں الزام لگانے، شک اور تردد کا امکان ہو، جیسے آدمی کی بیوی یا لونڈی پر کوئی اجنبی شخص آئے اور ان کے درمیان مذاق یا کشادگی ہو۔ اگر ایسا نہ ہو تو یہ بدگمانی میں شامل ہے جس سے ہمیں منع کیا گیا ہے۔
[شرح سنن ابن ماجة للسيوطي:1996]
شرح سندی:
"غیرت شک و شبہ کے موقع پر ہوتی ہے" یعنی فساد کے امکان پر، جب فساد کی علامات کسی جگہ ظاہر ہوں تو وہاں غیرت کا اظہار کرنا پسندیدہ ہے۔ لیکن اگر کوئی علامت ظاہر نہ ہو اور غیرت کا اظہار کیا جائے تو وہ مذموم ہے، کیونکہ اس میں مسلمانوں پر بلاوجہ برے الزام لگانا ہے۔ زوائد میں ہے کہ اس کی سند ضعیف ہے۔
[حاشية السندي على سنن ابن ماجة:1996]
شرح مناوی:
(دو غیرتیں ہیں) غیرت سے مراد حمیت اور انف ہے۔ (ایسی اللہ کو پسند ہے اور ایسی اللہ کو ناپسند ہے، اور دو تکبر ہیں) (ایسی اللہ کو پسند ہے اور ایسی اللہ کو ناپسند ہے۔ شک و شبہ کے موقع پر غیرت) یعنی جب شک کی بنیاد قائم ہو (اللہ کو پسند ہے، اور بغیر شک و شبہ کے غیرت) محض بدگمانی پر (اللہ کو ناپسند ہے)۔ اور یہ غیرت محبت کو خراب کرتی ہے اور محبت کرنے والے اور محبوب کے درمیان دشمنی ڈالتی ہے۔ باطل غیرت میں سے وہ ہے جو بعض صوفیا سے سرزد ہوئی کہ ان سے پوچھا گیا: کیا تم اسے دیکھنا پسند کرو گے؟ انہوں نے کہا: نہیں۔ پوچھا: کیوں؟ کہا: میں اس جمال کو اپنے جیسے کی نظر سے پاک سمجھتا ہوں۔ اور یہ ایک مذموم بات ہے۔ حالانکہ اللہ کو دیکھنا جنت کی سب سے بڑی نعمت ہے اور اس کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی ہے۔ (اور تکبر جب آدمی صدقہ دے تو اللہ کو پسند ہے) کیونکہ انسان سخاوت کی خوشبو سے متاثر ہو کر اسے خوشی سے دیتا ہے۔ (اور تکبر میں تکبر اللہ کو ناپسند ہے)۔ ابن حجر کہتے ہیں: یہ حدیث اس غیرت کی حد بندی کرتی ہے جس پر آدمی ملامت کیا جاتا ہے اور جس پر نہیں۔ یہ تفصیل خاص طور پر مرد کے لیے ہے۔ رہی عورت، اگر وہ اپنے شوہر سے کسی حرام کام یا حق میں کمی یا بے انصافی پر غیرت کرے اور اسے یقین ہو یا قرائن ظاہر ہوں تو یہ شرعی غیرت ہے۔ اگر محض وہم اور بغیر کسی شک کے غیرت کرے تو یہ مذموم ہے۔ اگر شوہر عادل ہو اور ہر بیوی کو اس کا حق دے تو عورت کی غیرت اگر فطری جبلت کی وجہ سے ہو تو معاف ہے جب تک کوئی حرام کام نہ کرے۔
[فیض القدیر-للمناوی:5783]
شرح شاہ ولی اللہ دہلوی:
میں کہتا ہوں: مصلحت اور سیاست(ضروری انتظام) اور بے وجہ برے اخلاق و بیزاری میں فرق ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
"مرد عورتوں کے محافظ اور نگران ہیں..." (النساء: 34)۔
[حجة الله البالغة:2/210]
---
حاصل شدہ اسباق ونکات:
1. غیرت اور فخر دونوں کی دو قسمیں ہیں: اللہ کو پسندیدہ اور ناپسندیدہ۔
2. پسندیدہ غیرت: جائز شک اور فساد کی علامت پر مبنی ہو۔
3. ناپسندیدہ غیرت: بے بنیاد وہم، بدگمانی اور معاشرتی باطل روایات پر مبنی ہو۔
4. پسندیدہ فخر: جہاد کے میدان اور صدقہ و احسان کے موقع پر ہو۔
5. ناپسندیدہ فخر: باطل، ظلم اور گناہ کے کاموں میں ہو۔
6. عورت کی شرعی غیرت کا معیار: شوہر کے حرام کام یا اپنے حقوق کی پامالی کا یقین یا واضح شبہ۔
7. شریعت میں عرف و رواج کا دخل ہوتا ہے، لیکن اس کی حدیں ہیں۔ ہر وہ چیز جسے عرف عار سمجھے وہ شرعی طور پر عار نہیں ہوتی۔
8. اصل مقصد نیک نیتی، توازن اور اللہ کی رضا ہے۔




No comments:
Post a Comment