اللہ والوں کے تذکرہ کی فضیلت:
القرآن:
هٰذَا ذِكۡرٌؕ وَاِنَّ لِلۡمُتَّقِيۡنَ لَحُسۡنَ مَاٰبٍۙ
یہ ایک ذکر ہے اور یقینا متقین کے لیے بہت ہی اچھی لوٹنے کی جگہ ہے.
[سورۃ ص:49]
فرمایا:
ذِكۡرُ رَحۡمَتِ رَبِّكَ عَـبۡدَهٗ زَكَرِيَّا ۖ ۚ
یہ ذکر ہے آپ کے رب کی رحمت کا جو اس نے اپنے بندے زکریا پر کی
[سورة مريم:2]
وَاذۡكُرۡ فِى الۡـكِتٰبِ مَرۡيَمَۘ اِذِ انْتَبَذَتۡ مِنۡ اَهۡلِهَا مَكَانًا شَرۡقِيًّا ۙ
اور (اب) ذکر کیجیے اس کتاب (قرآن) میں مریم کا جبکہ وہ اپنے لوگوں سے الگ ہو کر ایک شرقی گوشے میں جا بیٹھی.
[مريم:16]
وَاذۡكُرۡ فِى الۡكِتٰبِ اِبۡرٰهِيۡمَ ۙ اِبۡرٰهِيۡمَ ۙ اِنَّهٗ كَانَ صِدِّيۡقًا نَّبِيًّا
اور تذکرہ کیجیے اس کتاب میں ابراہیم ؑ کا۔ یقیناً وہ صدیقّ نبی تھے۔
[مريم:41]
وَاذۡكُرۡ فِى الۡكِتٰبِ مُوۡسٰٓى اِنَّهٗ كَانَ مُخۡلَصًا وَّكَانَ رَسُوۡلًا نَّبِيًّا
اور کتاب میں تذکرہ کیجیے موسیٰ ؑ کا یقیناً وہ تھے خاص کیے گئے اور وہ تھے رسول نبی۔
[مريم:51]
وَاذۡكُرۡ فِى الۡـكِتٰبِ اِسۡمٰعِيۡلَ اِنَّهٗ كَانَ صَادِقَ الۡوَعۡدِ وَكَانَ رَسُوۡلًا نَّبِيًّا ۚ
اور تذکرہ کیجیے اس کتاب میں اسماعیل ؑ کا (بھی) یقیناً وہ وعدے کے سچے تھے اور وہ (بھی) رسول نبی تھے.
[مريم:54]
وَاذۡكُرۡ فِى الۡكِتٰبِ اِدۡرِيۡسَ اِنَّهٗ كَانَ صِدِّيۡقًا نَّبِيًّا ۙ
اور تذکرہ کیجیے کتاب میں ادریس ؑ کا (بھی) یقیناً وہ صدیقّ نبی تھے۔
[مريم:56]
اِصۡبِرۡ عَلٰى مَا يَقُوۡلُوۡنَ وَاذۡكُرۡ عَبۡدَنَا دَاوٗدَ ذَا الۡاَيۡدِۚ اِنَّـهٗۤ اَوَّابٌ
(اے محمد ﷺ !) آپ صبرکیجیے اس پر جو کچھ یہ لوگ کہہ رہے ہیں اور آپ ﷺ تذکرہ کیجیے ہمارے بندے دائود کا جو بہت قوت والا تھا بیشک وہ (اللہ کی طرف) بہت رجوع کرنے والا تھا۔
[ص:17]
وَاذۡكُرۡ عَبۡدَنَاۤ اَيُّوۡبَۘ اِذۡ نَادٰى رَبَّهٗۤ اَنِّىۡ مَسَّنِىَ الشَّيۡطٰنُ بِنُصۡبٍ وَّعَذَابٍؕ
اور ذرا یاد کیجیے ہمارے بندے ایوب ؑ کو جبکہ اس نے پکارا اپنے رب کو کہ مجھے شیطان نے شدید بیماری اور تکلیف میں مبتلا کردیا ہے۔
[ص:41]
وَاذۡكُرۡ عِبٰدَنَاۤ اِبۡرٰهِيۡمَ وَاِسۡحٰقَ وَيَعۡقُوۡبَ اُولِى الۡاَيۡدِىۡ وَالۡاَبۡصَارِ
اور تذکرہ کیجیے ہمارے بندوں ابراہیم ؑ اسحاق ؑ اور یعقوب ؑ کا جو قوت والے اور بصیرت والے تھے۔
[ص:45]
وَاذۡكُرۡ اِسۡمٰعِيۡلَ وَ الۡيَسَعَ وَذَا الۡكِفۡلِؕ وَكُلٌّ مِّنَ الۡاَخۡيَارِؕ
اور ذکرکیجیے اسماعیل ؑ الیسع ؑ اور ذوالکفل ؑ کا یہ سب بھی بہت عمدہ لوگوں میں سے تھے۔
[ص:48]
۞ وَاذۡكُرۡ اَخَا عَادٍؕ اِذۡ اَنۡذَرَ قَوۡمَهٗ بِالۡاَحۡقَافِ وَقَدۡ خَلَتِ النُّذُرُ مِنۡۢ بَيۡنِ يَدَيۡهِ وَمِنۡ خَلۡفِهٖۤ اَلَّا تَعۡبُدُوۡۤا اِلَّا اللّٰهَ ؕ اِنِّىۡۤ اَخَافُ عَلَيۡكُمۡ عَذَابَ يَوۡمٍ عَظِيۡمٍ
اور ذرا تذکرہ کیجیے قوم عاد کے بھائی (ہود (ؑ) کا جب اس نے خبردار کیا اپنی قوم کو احقاف میں اور اس سے پہلے بھی اور اس کے بعد بھی بہت سے خبردار کرنے والے گزر چکے تھے کہ مت عبادت کرو کسی کی سوائے اللہ کے مجھے اندیشہ ہے تم پر ایک بڑے دن کے عذاب کا۔
[الاحقاف:21]
سیرت الانبیاء قدم بہ قدم (عبداللہ فارانی)
بچوں کے لئے لکھے گئے مختلف انبیاء کرام علیہم السلام کے حالات واقعات
https://besturdubooks.net/seerat-ul-anbiya-qadam-ba-qadam/
وصایا انبیاء و اولیاء انسائیکلوپیڈیا
https://besturdubooks.net/wasaya-anbiya-o-auliya-encyclopedia/
انبیاء کرام انسائیکلوپیڈیا
https://besturdubooks.net/anbiya-kiram-encyclopedia/
سیرت النبی ﷺ قدم بہ قدم (عبداللہ فارانی)
https://besturdubooks.net/seerat-un-nabi-qadam-ba-qadam/
تذکرہ خاتم الانبیاء ﷺ
https://besturdubooks.net/tazkira-khatam-ul-anbiya/
گلدستہ اہل بیت
https://besturdubooks.net/guldasta-e-ahl-e-bait/
تذکرہ اہل بیت اطہارؓ
خانواده نبوت حضور ﷺ کی ازواج مطہرات، صاحبزادوں اور صاحبزادیوں، نواسوں، نواسیوں اور جملہ اہل بیت کا دلکش معلومات افزا اور ایمان افروز مفضل و مدلل تذکرہ
تالیف: مولانا محمد عبد المعبود صاحب
https://besturdubooks.net/tazkira-ahl-e-bait-athhaar/
خاندان نبوی ﷺ کے چشم و چراغ
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحبزادے ، صاحبزادیوں اور ان کی امہات کا ایمان افروز ، دلکش اور معلوماتی تذکرہ
https://besturdubooks.net/khandan-e-nabvi-kay-chashm-o-charagh/
امہات المومنین مع بنات اربعہ قدم بہ قدم (عبداللہ فارانی)
https://besturdubooks.net/ummahat-ul-mumineen-banat-e-arba-qadam-ba-qadam/
شاہ کونین کی شہزادیاں
حضور نبی کریم ﷺ کی چاروں صاحبزادیوں حضرت زینب، حضرت رقیہ، حضرت ام کلثوم اور حضرت فاطمہ الزہراء رضی اللہ عنہن کا بچپن، جوانی، شادی، خانہ داری، عبادت و ریاضت زہد و قناعت، جود و سخا، جذبہ خدمت خلق، تربیت اولاد، اعزہ و اقرباء کے ساتھ حسن معاشرت کو تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔
علاوہ ازیں قرآن و حدیث اور کتب انساب اور تاریخ کے محکم دلائل و براہین سے یہ ثابت کیا گیا ہے کہ چاروں سیدات مطہرات سرور دو عالم ﷺ کی حقیقی بیٹیاں تھیں اور یہ تاثر و تصور قطعی طور پر غلط، باطل، بلا دلیل اور بے بنیاد ہے کہ تین بنات رسول ﷺ کی حقیقی نہیں لے پالک ہیں بلکہ شیعہ کی معتبر کتب سے بھی چار صاحبزادیوں کے حوالہ جات پیش کر کے ان ہی کے باطل عقیدہ کو واضح کیا گیا ہے۔
https://besturdubooks.net/shah-e-konain-ki-shahzadian/
بچوں کے لئے لکھے گئے خلافتِ راشدہ کے حالات واقعات




No comments:
Post a Comment