Thursday, 25 June 2026

خلیفہ پنجم سیدنا حسنؓ بن علیؓ کے مستند فضائل ومنقبت اور سیرت

 

عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ‏:‏ لَمَّا وُلِدَ الْحَسَنُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ سَمَّيْتُهُ‏:‏ حَرْبًا، فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ‏: ”أَرُونِي ابْنِي، مَا سَمَّيْتُمُوهُ‏؟“‏ قُلْنَا‏:‏ حَرْبًا، قَالَ‏: ”بَلْ هُوَ حَسَنٌ‏.‏“ فَلَمَّا وُلِدَ الْحُسَيْنُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ سَمَّيْتُهُ حَرْبًا، فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ‏: ”أَرُونِي ابْنِي، مَا سَمَّيْتُمُوهُ‏؟“‏ قُلْنَا‏:‏ حَرْبًا، قَالَ‏: ”بَلْ هُوَ حُسَيْنٌ‏.“‏ فَلَمَّا وُلِدَ الثَّالِثُ سَمَّيْتُهُ‏:‏ حَرْبًا، فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ‏: ”أَرُونِي ابْنِي، مَا سَمَّيْتُمُوهُ‏؟“‏ قُلْنَا‏:‏ حَرْبًا، قَالَ‏: ”بَلْ هُوَ مُحْسِنٌ“، ثُمَّ قَالَ‏: ”إِنِّي سَمَّيْتُهُمْ بِأَسْمَاءِ وَلَدِ هَارُونَ‏:‏ شِبْرٌ، وَشَبِيرٌ، وَمُشَبِّرٌ‏.“

ترجمہ:

سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی ولادت ہوئی تو میں نے ان کا نام حرب رکھا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے میرا بیٹا دکھاؤ، تم نے اس کا نام کیا رکھا ہے؟“ ہم نے کہا: حرب۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”بلکہ وہ تو حسن ہے۔“ پھر جب سیدنا حسینؓ پیدا ہوئے تو میں نے ان کا نام حرب رکھا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے میرا بیٹا دکھاؤ، تم نے اس کا نام کیا رکھا ہے؟“ ہم نے کہا: حرب نام رکھا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”بلکہ اس کا نام حسین ہے۔“ جب تیسرا بیٹا پیدا ہوا تو اس کا نام میں نے حرب رکھا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو فرمایا: ”مجھے میرا بیٹا دکھاؤ، اس کا نام تم نے کیا رکھا ہے؟“ ہم نے کہا: حرب۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں، اس کا نام محسن ہے۔“ پھر فرمایا: ”میں نے ان کے نام ہارونؑ کے بیٹوں کے نام پر رکھے ہیں۔ ان کے نام شبر، شبیر اور مشبر تھے۔“

[الادب المفرد-للبخاري، كتاب الأسماء، حدیث: 823]

تخریج الحدیث:

[مسند أحمد: 769، ابن حبان: 6958، الطبراني:2773، الحاكم: 168/3، الضعيفة:3706]




ابورافع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حسن بن علی کے کان میں جس وقت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے انہیں جنا اذان کہتے دیکھا جیسے نماز کے لیے اذان دی جاتی ہے۔
[سنن ابي داود:5105]
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے،
۲- عقیقہ کے مسئلہ میں اس حدیث پر عمل ہے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کئی سندوں سے آئی ہے کہ لڑکے کی طرف سے دو بکریاں ایک جیسی اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری ذبح کی جائے،
۳- نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بھی مروی ہے کہ آپ نے حسن کی طرف سے ایک بکری ذبح کی، بعض اہل علم کا مسلک اسی حدیث کے موافق ہے۔
[سنن ترمذي:1514]
حسن
[الإرواء الغليل-ألباني:1173]





حلق-سر منڈروانا:
عن جعفر بن محمد، عن أبيه: أن فاطمة حلقت حسنًا وحسينًا يوم سابعهما فوزنت شعرهما فتصدقت بوزنه فضة.
ترجمہ:
جعفر بن محمد سے اپنے والد(محمد) سے روایت ہے کہ: فاطمہ نے حسن و حسین کے ساتویں دن سر منڈوائے، بالوں کا وزن کیا اور اس کا وزن چاندی میں صدقہ کیا۔








عقیقہ:
عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَقَّ عَنِ الْحَسَنِ وَالْحُسَيْنِ كَبْشًا كَبْشًا.
ترجمہ:
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حسن اور حسین کی طرف سے ایک ایک دنبہ کا عقیقہ کیا۔
[سنن ابي داود:2841، سنن النسائی:4224]
بِكَبْشَيْنِ كَبْشَيْنِ".
دو دو مینڈھے ذبح کیے۔
[سنن نسائي:4224]






عَنْ أَبِي رَافِعٍ مَوْلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ لَمَّا وُلِدَ أَرَادَتْ أُمُّهُ فَاطِمَةُ أَنْ تَعُقَّ عَنْهُ بِكَبْشَيْنِ، فَقَالَ: " لَا تَعُقِّي عَنْهُ، وَلَكِنْ احْلِقِي شَعْرَ رَأْسِهِ، ثُمَّ تَصَدَّقِي بِوَزْنِهِ مِنَ الْوَرِقِ فِي سَبِيلِ اللهِ "، ثُمَّ وُلِدَ حُسَيْنٌ بَعْدَ ذَلِكَ فَصَنَعَتْ مِثْلَ ذَلِكَ
ترجمہ:
حضرت ابورافع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی پیدائش ہوئی تو ان کی والدہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے دو مینڈھوں سے ان کا عقیقہ کرنا چاہا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ابھی اس کا عقیقہ نہ کرو بلکہ اس کے سر کے بال منڈوا کر اس کے وزن کے برابر چاندی اللہ کے راستے میں صدقہ کر دو، پھر حضرت حسن رضی اللہ عنہ کی پیدائش پر بھی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے ایسا ہی کیا (اور عقیقہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خود کیا)۔



سیدنا حسنؓ کے القاب:
حضرت حسن رضی اللہ عنہ کے جو القاب مورخین نے ذکر فرمائے ہیں، وہ یہ ہیں:  (۱)السید، (۲)المدنی، (۳)القرشی، (۴)الہاشمی، (۵)سبط النبی ﷺ.....پیغمبر ﷺ کے نواسہ، (۶)سید شباب اہل الجنہ.....جنتی جوانوں کے سردار، (۷)ریحانۃ النبی ﷺ.....پیغمبر کا خوشبو،  (۸)الشہید، (۹)امیر المومنین، (۱۰)خامس الخلفاء الراشدین۔ 



(۱) "الحسن بن علی بن ابی طالب بن عبد المطلب بن ہاشم بن عبد مناف القرشی الهاشمی، ابو محمد — یہ نبی کریم ﷺ کے نواسے ہیں، ان کی والدہ محترمہ فاطمہ بنت رسول اللہ ﷺ ہیں جو تمام جہان کی عورتوں کی سیدہ ہیں، اور یہ جنت کے نوجوانوں کے سردار ہیں، نبی ﷺ کی خوشبو (ریحانہ) اور آپ کے مشابہ (شبیہ) ہیں۔"
حوالہ
ب د ع: ‌الحسن ‌بْن ‌عَلِيِّ ‌بْنِ ‌أَبِي ‌طالب بن عبد المطلب بْن هاشم بْن عبد مناف القرشي الهاشمي أَبُو مُحَمَّد، سبط النَّبِيّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وأمه فاطمة بنت رَسُول اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سيدة نساء العالمين، وهو سيد شباب أهل الجنة، وريحانة النَّبِيّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وشبيهه."
[اسد الغابۃ-امام ابن اثیر: باب الحاء والسين، جلد:2، صفحه:13، طبع:دار الكتب العلمية]



(۲) "الحسن بن علی بن ابی طالب القرشی الهاشمی، ابو محمد مدنی — نبی ﷺ کے دہنے (سبط) ہیں اور دنیا میں آپ کی خوشبو (ریحانہ) ہیں، اور جنت کے نوجوانوں کے دو سرداروں میں سے ایک ہیں۔"
حوالہ
"‌الحسن ‌بْن ‌علي ‌بْن ‌أَبي ‌طَالِب القرشي الهاشمي، أَبُو مُحَمَّد المدني، سبط رَسُول اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وريحانته من الدنيا، وأحد سيدي شباب أهل اجنة."
[تهذيب الكمال في اسماء الرجال: حسن بن علي، جلد:6، صفحه: 220، طبع: موسسة الرسالة]



(۳) "الحسن بن علی بن ابی طالب بن عبد المطلب بن ہاشم بن عبد مناف — وہ امام، سید، نبی ﷺ کی خوشبو (ریحانہ)، آپ کے نواسے، اور جنت کے نوجوانوں کے سردار ہیں، ابو محمد قرشی ہاشمی مدنی ہیں، اور شہید ہیں۔"
حوالہ
"الحسن بن علي بن أبي طالب بن عبد المطلب ابن هاشم بن عبد مناف، الإمام السيد، ريحانة رسول الله -صلى الله عليه وسلم - وسبطه، وسيد شباب أهل الجنة، أبو محمد القرشي، الهاشمي، المدني، الشهيد."
[سير اعلام النبلاء-امام الذھبي: سير الخلفاء الراشدين، ومن صغار الصحابه، جلد:3، صفحه: 245، طبع: موسسة الرساله]



(۴) "الحسن بن علی بن ابی طالب، ابو محمد ہاشمی مدنی — نبی ﷺ کے نواسے (سبط) اور آپ کی خوشبو (ریحانہ) ہیں۔"
حوالہ
"الحسن بن علي بن أبي طالب أبو محمد الهاشمي المدني، سِبْطُ رسول الله - صلى الله عليه وسلم - وريحانته."
[تھذیب التھذیب-امام ابن حجر: حرف الحاء، جلد:2، صفحہ: 295، طبع: الفاروق الحديثة للطباعة والنشر]



(۵) "الحسن بن علی بن ابی طالب بن عبد المطلب بن ہاشم بن عبد مناف ہاشمی — نبی ﷺ کے نواسے (سبط) اور آپ کی خوشبو (ریحانہ) ہیں، اور امیر المؤمنین ہیں، ابو محمد۔"
حوالہ
"‌الحسن ‌بن ‌علي ‌بن ‌أبي ‌طالب بن عبد المطلب بن هاشم بن عبد مناف الهاشمي. سبط رسول اللَّه صلّى اللَّه عليه وسلّم وريحانته، أمير المؤمنين أبو محمد."
[الاصابہ فی تمییز الصحابہ-امام ابن حجر: الحاء بعدھا السین، جلد:2، صفحہ: 60، طبع: دار الکتب العلمیہ]




(۶) "الحسن بن علی بن ابی طالب ہاشمی قرشی، ابو محمد — پانچویں اور آخری خلیفۂ راشد ہیں، اور امامیہ (شیعہ اثنا عشریہ) کے نزدیک بارہ اماموں میں سے دوسرے امام ہیں۔"
حوالہ
"الحسن بن علي بن أبي طالب الهاشمي القرشي، أبو محمد: خامس الخلفاء الراشدين وآخرهم، وثاني الأئمة الاثني عشر عند الإمامية."
[الاعلام للزرکلی: الحسن بن علی، جلد:2، صفحہ: 199، طبع: دار العلم للملايين]





حضرت انس ؓ نے بیان کیا کہ:

لَمْ يَكُنْ أَحَدٌ أَشْبَهَ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ.

ترجمہ:

 حسن بن علی ؓ سے زیادہ اور کوئی شخص نبی کریم ﷺ سے زیادہ مشابہ نہیں تھا۔

[صحيح البخاری - حدیث نمبر 3752]


حضرت ابوجحیفہ ؓ بیان کرتے تھے کہ :

رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ عَلَيْهِمَا السَّلَام يُشْبِهُهُ

ترجمہ:

میں نے دیکھا ہے نبی کریم کو - رحمت ہو اللہ ان پر اور سلامتی - اور حسن بن علی - ان دونوں پر سلامتی ہو - میں آپ ﷺ کی شباہت پوری طرح موجود تھی۔

[صحيح البخاری :3544]


عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ: «الحَسَنُ أَشْبَهُ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا بَيْنَ الصَّدْرِ إِلَى الرَّأْسِ، وَالْحُسَيْنُ أَشْبَهُ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا كَانَ أَسْفَلَ مِنْ ذَلِكَ»۔
ترجمہ:
حضرت علی ؓ کہتے ہیں کہ حسن ؓ سینہ سے سر تک کے حصہ میں رسول اللہ ﷺ سے سب سے زیادہ مشابہ تھے، اور حسین ؓ اس حصہ میں جو اس سے نیچے کا ہے سب سے زیادہ نبی اکرم ﷺ سے مشابہ تھے۔
[سنن الترمذي:3779، مسند أحمد:774+854، صحيح ابن حبان: التقاسيم والأنواع:3311، الإحسان في تقريب صحيح ابن حبان:6974]

حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ کی سیرت و کردار

1. ولادت و نسب:
- ولادت: 15 رمضان 3ھ (4 مارچ 625ء) کو مدینہ منورہ میں پیدا ہوئے۔ آپ کی ولادت سورۃ الکوثر کی عملی تفسیر تھی، جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کثرتِ اولاد کی بشارت دی گئی تھی ۔  
- نسب:
  - والد: حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ۔  
  - والدہ: حضرت فاطمہ الزہراء رضی اللہ عنہا۔  
  - نانا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم۔  
  - سلسلۂ نسب: بنی ہاشم اور قریش سے ملتا ہے ۔  
- نامگذاری: اللہ کے حکم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نام "حسن" رکھا، جو عبرانی زبان کے نام "شَبَّر" (ہارون علیہ السلام کے بیٹے) کے مترادف ہے۔ یہ نام اسلام سے پہلے کسی کا نہیں تھا ۔  
- عقیقہ و کنیت: ولادت کے ساتویں دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود عقیقہ کیا، بال منڈوا کر چاندی صدقہ کی۔ آپ کی کنیت ابو محمد اور القاب مجتبیٰ، زکی، سید اور کریم اہل بیت مشہور ہیں ۔  

---

2. فضائل و مناقب:
- نبوی محبت: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ سے شدید محبت فرماتے تھے۔ ایک مرتبہ نماز پڑھاتے ہوئے سجدہ کو طویل کر دیا کیونکہ امام حسن آپ کی پشت پر سوار تھے۔ فرمایا:  
  > "حسن و حسین جنت کے جوانوں کے سردار ہیں"۔  
- مباہلہ میں شرکت: نجران کے عیسائیوں کے ساتھ مباہلہ کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آپ کو "ابنائنا" (ہمارے بیٹے) کے طور پر ساتھ لیا، جس پر آیتِ مباہلہ (آل عمران:61) نازل ہوئی ۔  
- آیاتِ قرآنی: آیتِ تطہیر (احزاب:33)، آیتِ مودت (شوریٰ:23) اور آیتِ اطعام (دہر:8) آپ کی شان میں نازل ہوئیں ۔  
- سخاوت: تین بار پوری دولت اور بیس بار آدھی دولت اللہ کی راہ میں دی، جس پر "کریم اہل بیت" کا لقب ملا۔ آپ نے 20 سے 25 بار پیدل حج کیا ۔  

---

3. زندگی کے اہم مراحل:
- رسول اللہ کے ساتھ: 7 سال نانا کی شفقت میں گزارے۔ مباہلہ نجران اور بیعت رضوان جیسے واقعات میں شریک رہے ۔  
- خلافتِ راشدہ:
  - حضرت عثمان کے محاصرے کے دوران حضرت علی کے حکم پر ان کے گھر کی حفاظت کی۔  
  - جنگِ جمل اور صفین میں اسلامی فوج کے کمانڈر رہے ۔  
- خلافت و صلح:
  - 40ھ میں حضرت علی کی شہادت کے بعد 40 ہزار لوگوں نے آپ کی بیعت کی۔  
  - معاویہ نے خلافت تسلیم نہ کی اور شام سے لشکر کشی کی۔  
  - امام حسن نے اپنے لشکر کے بے وفا ہونے (جیسے قبیلہ کندہ کے سالار کا 5 لاکھ درہم پر بک جانا) اور خونریزی روکنے کیلئے شرائط کے ساتھ صلح کی:  
    1. معاویہ قرآن و سنت پر عمل کرے گا۔  
    2. اپنا جانشین مقرر نہیں کرے گا۔  
    3. شیعانِ علی کو امن دے گا۔  
    4. کوفہ کا بیت المال امام حسن کو دے گا ۔  
- صلح کے بعد: مدینہ واپس آکر علمی و سماجی خدمات انجام دیں۔ معاویہ نے صلح کی تمام شرائط توڑ دیں اور یزید کو ولی عہد بنایا ۔  

---

4. شہادت و وصیت:
- شہادت: 28 صفر 50ھ (9 مارچ 670ء) کو زوجہ "جعدہ بنت اشعث" نے معاویہ کے کہنے پر زہر دیا۔ آپ 40 دن تک زہر کی تکلیف میں رہے۔
- تدفین: وصیت کے مطابق رسول اللہ کے پاس دفن ہونا چاہتے تھے، لیکن بنی امیہ کی مخالفت کی وجہ سے "جنت البقیع" میں سپردِ خاک ہوئے ۔  
- وصیت: معاویہ کو تین وصیتیں بھیجیں:  
  1. میرے جنازے پر سنگ باری نہ کی جائے۔  
  2. میرے اہلِ بیت کو اذیت نہ دی جائے۔  
  3. میرے قاتل کو سزا دی جائے ۔  

---

5. علمی و اخلاقی خدمات:
- احادیث: 500 احادیث روایت کیں۔ آپ کے راویوں کی تعداد 138 ہے، جن کا ذکر "مسند الامام المجتبیٰ" میں ملتا ہے ۔  
- اخلاقی تعلیمات:
  > "انسان کی ہلاکت تین چیزوں میں ہے: تکبر، حرص اور حسد"۔  
  - وضو کرتے وقت روتے اور دعا کرتے:  
    > "اے اللہ! تیرا مہمان تیرے دروازے پر ہے، اپنی رحمت سے میری برائیوں کو معاف فرما"۔  
- خاندان:
  - 9 ازواج (جعدہ بنت اشعث، ام اسحاق، خولہ بنت منظور وغیرہ)۔  
  - 15 اولادیں (زید، حسن المثنیٰ، فاطمہ، قاسم) ۔

---

6. تاریخی اسباق:
- صلح کی حکمت:  
  - امام حسن نے دس سال تک صبر کیا اور صلح کو "حکمتِ عملی" قرار دیا، جس سے:  
    - امت کا تحفظ ہوا۔
  - بنی امیہ کی حکومتی بے رحمی عیاں ہوئی۔  
    - جنگِ کربلا کی بنیاد پڑی۔  
- وفا کا معیار: جب ایک سائل نے مالی مدد مانگی تو آپ نے اُس دن کا سارا بیت المال دے دیا، حالانکہ گھر میں کھانا نہ تھا۔ 



خلاصہ:
امام حسن مجتبیٰ رضی اللہ عنہ کی زندگی "حکمت، صبر اور ایثار" کا شاہکار ہے۔ آپ نے اپنے فیصلوں سے امت کو انتشار سے بچایا اور اسلامی اقدار کی حفاظت کی۔ آپ کا مزار جنت البقیع میں مسلمانوں کے لیے روحانی مرکز ہے۔




 فضائل ومناقب:


عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ: سَأَلَتْنِي أُمِّي مَتَى عَهْدُكَ تَعْنِي بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ مَا لِي بِهِ عَهْدٌ مُنْذُ كَذَا وَكَذَا، فَنَالَتْ مِنِّي، فَقُلْتُ لَهَا: دَعِينِي آتِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأُصَلِّيَ مَعَهُ المَغْرِبَ، وَأَسْأَلُهُ أَنْ يَسْتَغْفِرَ لِي وَلَكِ، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّيْتُ مَعَهُ المَغْرِبَ فَصَلَّى حَتَّى صَلَّى العِشَاءَ، ثُمَّ انْفَتَلَ فَتَبِعْتُهُ، فَسَمِعَ صَوْتِي، فَقَالَ: «مَنْ هَذَا، حُذَيْفَةُ»؟ قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: «مَا حَاجَتُكَ غَفَرَ اللَّهُ لَكَ وَلِأُمِّكَ»؟ قَالَ: «إِنَّ هَذَا مَلَكٌ لَمْ يَنْزِلِ الأَرْضَ قَطُّ قَبْلَ هَذِهِ اللَّيْلَةِ اسْتَأْذَنَ رَبَّهُ أَنْ يُسَلِّمَ عَلَيَّ وَيُبَشِّرَنِي بِأَنَّ فَاطِمَةَ ‌سَيِّدَةُ ‌نِسَاءِ أَهْلِ الجَنَّةِ وَأَنَّ الحَسَنَ وَالحُسَيْنَ سَيِّدَا ‌شَبَابِ ‌أَهْلِ ‌الجَنَّةِ»
ترجمہ:
حضرت حذیفہ ؓ کہتے ہیں کہ مجھ سے میری والدہ نے پوچھا: تو نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حال ہی میں کب گئے تھے؟ میں نے کہا: اتنے اتنے دنوں سے میں ان کے پاس نہیں جاسکا ہوں، تو وہ مجھ پر خفا ہوئیں، میں نے ان سے کہا: اب مجھے نبی اکرم ﷺ کے پاس جانے دیجئیے میں آپ کے ساتھ نماز مغرب پڑھوں گا اور آپ سے میں اپنے اور آپ کے لیے دعا مغفرت کی درخواست کروں گا، چناچہ میں نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا اور آپ کے ساتھ مغرب پڑھی پھر آپ (نوافل) پڑھتے رہے یہاں تک کہ آپ نے عشاء پڑھی، پھر آپ لوٹے تو میں بھی آپ کے ساتھ پیچھے پیچھے چلا، آپ نے میری آواز سنی تو فرمایا: کون ہو؟ حذیفہ؟ میں نے عرض کیا: جی ہاں، حذیفہ ہوں، آپ نے فرمایا: بخشے اللہ تمہیں اور تمہاری ماں کو، کیا بات ہے؟ (پھر) آپ نے فرمایا: یہ ایک فرشتہ تھا جو اس رات سے پہلے زمین پر کبھی نہیں اترا تھا، اس نے اپنے رب سے مجھے سلام کرنے اور یہ بشارت دینے کی اجازت مانگی کہ فاطمہ جنتی عورتوں کی سردار ہیں اور حسن و حسین ؓ اہل جنت کے جوانوں (یعنی جو دنیا میں جوان تھے ان) کے سردار ہیں۔
[سنن الترمذي:3781، السنن الكبرى-النسائي:8240، مسند أحمد:23329+23330]












حسن و حسین رضی اللہ عنہما کے چاہنے والے اللہ کے محبوب: 


حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَکِيعٍ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالَا حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ يَعْقُوبَ الزَّمْعِيُّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَکْرِ بْنِ زَيْدِ بْنِ الْمُهَاجِرِ أَخْبَرَنِي مُسْلِمُ بْنُ أَبِي سَهْلٍ النَّبَّالُ أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ أَخْبَرَنِي أَبِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ قَالَ طَرَقْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ فِي بَعْضِ الْحَاجَةِ فَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُشْتَمِلٌ عَلَی شَيْئٍ لَا أَدْرِي مَا هُوَ فَلَمَّا فَرَغْتُ مِنْ حَاجَتِي قُلْتُ مَا هَذَا الَّذِي أَنْتَ مُشْتَمِلٌ عَلَيْهِ قَالَ فَکَشَفَهُ فَإِذَا حَسَنٌ وَحُسَيْنٌ عَلَی وَرِکَيْهِ فَقَالَ هَذَانِ ابْنَايَ وَابْنَا ابْنَتِيَ اللَّهُمَّ إِنِّي أُحِبُّهُمَا فَأَحِبَّهُمَا وَأَحِبَّ مَنْ يُحِبُّهُمَا قَالَ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ۔
ترجمہ:
حضرت اسامہ بن زیدؓ فرماتے ہیں کہ ایک رات میں کسی کام سے نبی اکرم ﷺ کے پاس گیا، آپ ﷺ اپنے اوپر کچھ لپیٹے ہوئے تھے مجھے معلوم نہیں کہ وہ کیا تھا۔ جب میں کام سے فارغ ہوا تو پوچھا یہ کیا ہے؟ آپ ﷺ نے کھولا تو آپ ﷺ کے کولہے پر حسنؓ اور حسینؓ تھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: یہ دونوں میرے اور میری بیٹی کے بیٹے ہیں۔ اے اللہ! میں ان سے محبت کرتا ہوں تو بھی ان سے محبت فرما اور جو ان سے محبت کرے اس سے بھی محبت فرما۔ یہ حدیث حسن غریب ہے۔
[سنن الترمذي:3769 (5/656) أَبْوَابُ الْمَنَاقِبِ، بَابُ مَنَاقِبِ أَبِي مُحَمَّدٍ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ]

[حديث حسن بطرقه وشاهده، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، سعيد - وهو ابن أبي هند- لم يذكروا له سماعاً من عائشة، ولا من أمِّ سَلَمة، وهو لم يسمع من أبي هريرة وأبي موسى، وعائشة وأمُّ سلمة أقدمُ وفاةً منهما.
وقد جاء مصرحاً بأنه سعيد بن أبي هند عند عبد بن حميد، وكذلك عند الذهبي في "تاريخ الإسلام" 3/11، وقد وهم الحافظ ابن حجر في تعيينه في "أطراف المسند" 9/393 حين سماه سعيد بن أبي سعيد المقبري، والله أعلم.
وهو عند أحمد في "الفضائل" (1357) ، بهذا الإسناد.
وأخرجه عبد بن حميد (1533) عن عبد الرزاق، عن عبد الله بن سعيد، عن أبيه، قال: قالت أمُّ سلمة، فذكر نحوه، فجعله عن أمِّ سلمةَ وحدَها دون شك.
وأخرجه الطبراني في "الكبير" (2815) من طريق الفضل بن موسى، عن عبد الله بن سعيد، عن أبيه، عن عائشة وحدَها.
وأورده الهيثمي في "مجمع الزوائد" 9/187، وقال: رواه أحمد، ورجاله رجال الصحيح.
وأخرجه ابن طهمان في "مشيخته" (3) عن عبَّاد بن إسحاق، وابنُ أبي عاصم في "الآحاد والمثاني" (429) ، والطبرانيُّ في "الكبير" (2821) ، والحاكمُ 4/398، والبيهقيُّ في "الدلائل" 6/468 من طريق موسى بن يعقوب الزَّمْعي، كلاهما عن هاشم بن هاشم بن عتبة، عن عبد الله بن وهب- وهو ابن زَمْعَة الأسدي الزَّمْعي عن أمِّ سَلَمة نحوه. قال الحاكم: صحيحٌ على شرط الشيخين ولم يخرجاه! ووافقه الذهبي! قلنا: موسى بن يعقوب الزَّمْعي- وإن كان ضعيفاً- توبع بعبّاد بن إسحاق.
وأخرجه ابن أبي شيبه 15/97-98، وابنُ أبي عاصم في "الآحاد والمثاني" (428) ، والطبراني في "الكبير" (2820) و23/ (754) من طريق موسى الجهني، عن صالح بن أربد، قال: قالت أمُّ سلمة 0 فذكر نحوه. فال البخاري في "التاريخ الكبير" 4/273: صالح بن أربد النخعي روى عنه موسى الجهني: منقطع.
وأخرجه الطبراني أيضاً (2817) من طريق عمرو بن ثابت، عن الأعمش، عن أبي وائل شقيق بن سلمة، عن أمِّ سلمة نحوه.
وعمرو بن ثابت، وهو النكري، ضعيف، كان يتشيع.
وأخرجه الطبراني أيضاً (2819) و23/ (637) من طريق يحيى الحماني، عن سليمان بن بلال، عن كثير بن زيد، عن المطلب بن عبد الله بن حنطب، عن أم سلمة نحوه. والحماني ضعيف، والمطلب لم يسمع من أحد من الصحابة.
وأخرجه الطبراني أيضاً (2814) من طريق ابن لهيعة، عن أبي الأسود، عن عروة بن الزبير، عن عائشة، مطولاً.
وأخرجه الدارقطني في "العلل" 5/ورقة 84 من طريق شعبة، عن عمارة بن غزيّة الأنصاري، عن أبيه، عن محمد بن إبراهيم بن الحارث التيمي، عن عائشة، فذكر نحوه.
وأخرجه الدارقطني أيضاً 5/84 من طريق سفيان، عن عمارة الأنصاري، عن محمد بن إبراهيم بن الحارث، عن عائشة، عن النبي صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نحوه، ولم يقل: عن أبيه. وهو الصحيح فيما قال.
وأخرجه البيهقي في "الدلائل" 6/470 من طريق يحيى بن أيوب، عن عمارة بن غزيّة، عن محمد بن إبراهيم، عن أبي سلمة بن عبد الرحمن، قال: كان لعائشة ... فذكر نحوه. وقال: هكذا رواه يحيى بن أيوب عن عمارة بن غزيّة مرسلاً، ورواه إبراهيم بن أبي يحيى، عن عمارة، موصولاً، فقال: عن محمد بن إبراهيم، عن أبي سلمة، عن عائشة.
قلنا: ويحيى بن أيوب- وهو المصري- فيه ضعف.
وفي الباب: عن أنس بن مالك، سلف برقم (13539) ، وإسناده ضعيف، وذكرنا هناك بقية أحاديث الباب.]










عشقِ حسنینؓ، عشق مصطفیؑ ہی ہے!

حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الْجَحَّافِ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ أَحَبَّهُمَا فَقَدْ أَحَبَّنِي، وَمَنْ أَبْغَضَهُمَا فَقَدْ أَبْغَضَنِي " يَعْنِي حَسَنًا وَحُسَيْنًا۔
ترجمہ:
حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے حضرات حسنینؓ کے متعلق فرمایا: جو ان دونوں سے محبت کرتا ہے در حقیقت وہ مجھ سے محبت کرتا ہے اور جو ان دونوں سے بغض رکھتا ہے درحقیقت وہ مجھ سے بغض رکھتا ہے۔ 
[المصنف - عبد الرزاق:6566(6369)، مسند إسحاق بن راهويه:211، مسند أحمد:7876+9673+10872، مسند البزار:9410، السنن الكبرى - النسائي:8112، المعجم الكبير للطبراني:2646+2647، المستدرك على الصحيحين للحاكم:4799، السنن الكبرى - البيهقي:6894]

صحابہ کرام کی اہل بیت سے محبت:
حضرت زید بن ارقمؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
أَنَا تَارِكٌ فِيكُمْ ثَقَلَيْنِ: أَوَّلُهُمَا كِتَابُ اللهِ فِيهِ الْهُدَى وَالنُّورُ فَخُذُوا بِكِتَابِ اللهِ، وَاسْتَمْسِكُوا بِهِ فَحَثَّ عَلَى كِتَابِ اللهِ وَرَغَّبَ فِيهِ، ثُمَّ قَالَ: «وَأَهْلُ بَيْتِي أُذَكِّرُكُمُ اللهَ فِي أَهْلِ بَيْتِي، أُذَكِّرُكُمُ اللهَ فِي أَهْلِ بَيْتِي، أُذَكِّرُكُمُ اللهَ فِي أَهْلِ بَيْتِي» 
ترجمہ:
اے لوگو میں تم میں دو بڑی چیزیں چھوڑے جاتا ہوں ۔ پہلی تو اللہ کی کتاب ہے اور اس میں ہدایت ہے اور نور ہے ۔ تو اللہ کی کتاب کو تھامے رہو اور اس کو مضبوط پکڑے رہو ۔ غرض کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی کتاب کی طرف رغبت دلائی ۔ پھر فرمایا کہ دوسری چیز میرے اہل بیت ہیں ۔ میں تمہیں اپنے اہل بیت کے بارے میں اللہ تعالیٰ یاد دلاتا ہوں ، تین بار فرمایا۔
[صحیح مسلم:2408]
«إِنِّي تَارِكٌ فِيكُمُ الثَّقَلَيْنِ كِتَابَ اللهِ وَعِتْرَتِي أَهْلَ بَيْتِي، وَإِنَّهُمَا لَنْ يَتَفَرَّقَا حَتَّى يَرِدَا عَلَيَّ الْحَوْضَ»
ترجمہ:
"بے شک میں تم میں دو بھاری چیزیں (ثقلین) چھوڑے جا رہا ہوں: اللہ کی کتاب اور میری عترت (یعنی) میرے اہل بیت۔ اور یہ دونوں ہرگز جدا نہیں ہوں گے یہاں تک کہ وہ حوض (کوثر) پر مجھ سے جا ملیں۔"

حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
أَحِبُّوا اللَّهَ لِمَا يَغْذُوكُمْ مِنْ نِعَمِهِ، ‏‏‏‏‏‏وَأَحِبُّونِي بِحُبِّ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏وَأَحِبُّوا أَهْلَ بَيْتِي لِحُبِّي.
ترجمہ:
”اللہ سے محبت کرو کیونکہ وہ تمہیں اپنی نعمتیں کھلا رہا ہے، اور محبت کرو مجھ سے اللہ کی خاطر، اور میرے اہل بیت سے میری خاطر“۔
[ترمذی 3789]


حضرت ابو سعید خدری‌ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَا يُبْغِضُنَا أَهْلَ الْبَيْتِ رَجُلٌ إِلَّا أَدْخَلَهُ الله النار
ترجمہ:
اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! جو کوئی اہل بیت سے بغض رکھے گا اللہ تعالیٰ اسے آگ میں داخل کرے گا ۔
[صحيح أبن حبان:6978، حاكم:4717، الصحيحة:3611]

دوسری روایت میں ہے:
حضرت ابن عباسؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا:
فَلَوْ أَنَّ رَجُلًا صَفَنَ بَيْنَ الرُّكْنِ وَالْمَقَامِ فَصَلَّى، وَصَامَ ثُمَّ لَقِيَ اللَّهَ وَهُوَ مُبْغِضٌ لِأَهْلِ بَيْتِ مُحَمَّدٍ دَخَلَ النَّارَ
ترجمہ:
پس اگر کوئی شخص حجر اسود اور مقام ابراہیم کے درمیان نماز پڑھتا ہو روزہ رکھتا ہو لیکن مرتے وقت دل میں اہل بیت سے بغض ہو، تو جہنم میں جائے گا۔


















سیدنا حسن بن علی ؓ کے متعلق نبی کریم ﷺ کی پیشگوئی:
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي مُوسَى ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ الْحَسَنَ ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ اسْتَقْبَلَ وَاللَّهِ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ مُعَاوِيَةَ بِكَتَائِبَ أَمْثَالِ الْجِبَالِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ:‏‏‏‏ إِنِّي لَأَرَى كَتَائِبَ لَا تُوَلِّي حَتَّى تَقْتُلَ أَقْرَانَهَا، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ لَهُ مُعَاوِيَةُ:‏‏‏‏ وَكَانَ وَاللَّهِ خَيْرَ الرَّجُلَيْنِ، ‏‏‏‏‏‏أَيْ عَمْرُو إِنْ قَتَلَ هَؤُلَاءِ هَؤُلَاءِ وَهَؤُلَاءِ هَؤُلَاءِ مَنْ لِي بِأُمُورِ النَّاسِ بِنِسَائِهِمْ مَنْ لِي بِضَيْعَتِهِمْ، ‏‏‏‏‏‏فَبَعَثَ إِلَيْهِ رَجُلَيْنِ مِنْ قُرَيْشٍ مِنْ بَنِي عَبْدِ شَمْسٍ:‏‏‏‏ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ سَمُرَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَامِرِ بْنِ كُرَيْزٍ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ اذْهَبَا إِلَى هَذَا الرَّجُلِ فَاعْرِضَا عَلَيْهِ، ‏‏‏‏‏‏وَقُولَا لَهُ، ‏‏‏‏‏‏وَاطْلُبَا إِلَيْهِ، ‏‏‏‏‏‏فَأَتَيَاهُ، ‏‏‏‏‏‏فَدَخَلَا عَلَيْهِ فَتَكَلَّمَا وَقَالَا لَهُ فَطَلَبَا إِلَيْهِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ لَهُمَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ:‏‏‏‏ إِنَّا بَنُو عَبْدِ الْمُطَّلِبِ قَدْ أَصَبْنَا مِنْ هَذَا الْمَالِ، ‏‏‏‏‏‏وَإِنَّ هَذِهِ الْأُمَّةَ قَدْ عَاثَتْ فِي دِمَائِهَا، ‏‏‏‏‏‏قَالَا:‏‏‏‏ فَإِنَّهُ يَعْرِضُ عَلَيْكَ كَذَا وَكَذَا، ‏‏‏‏‏‏وَيَطْلُبُ إِلَيْكَ وَيَسْأَلُكَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَمَنْ لِي بِهَذَا ؟ قَالَا:‏‏‏‏ نَحْنُ لَكَ بِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَمَا سَأَلَهُمَا شَيْئًا إِلَّا قَالَا نَحْنُ لَكَ بِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَصَالَحَهُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ الْحَسَنُ :‏‏‏‏ وَلَقَدْ سَمِعْتُ أَبَا بَكْرَةَ ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ، ‏‏‏‏‏‏وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ إِلَى جَنْبِهِ، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ يُقْبِلُ عَلَى النَّاسِ مَرَّةً وَعَلَيْهِ أُخْرَى، ‏‏‏‏‏‏وَيَقُولُ:‏‏‏‏ إِنَّ ابْنِي هَذَا سَيِّدٌ، ‏‏‏‏‏‏وَلَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يُصْلِحَ بِهِ بَيْنَ فِئَتَيْنِ عَظِيمَتَيْنِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ. قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ:‏‏‏‏ قَالَ لِي عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ:‏‏‏‏ إِنَّمَا ثَبَتَ لَنَا سَمَاعُ الْحَسَنِ مِنْأَبِي بَكْرَةَ بِهَذَا الْحَدِيثِ.
ترجمہ:
ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے ابوموسیٰ نے بیان کیا کہ میں نے امام حسن بصری سے سنا، وہ بیان کرتے تھے کہ قسم اللہ کی جب حسن بن علی ؓ (معاویہ ؓ کے مقابلے میں) پہاڑوں میں لشکر لے کر پہنچے، تو عمرو بن العاص ؓ نے کہا (جو امیر معاویہ ؓ کے مشیر خاص تھے) کہ میں ایسا لشکر دیکھ رہا ہوں جو اپنے مقابل کو نیست و نابود کیے بغیر واپس نہ جائے گا۔ معاویہ ؓ نے اس پر کہا اور قسم اللہ کی، وہ ان دونوں اصحاب میں زیادہ اچھے تھے، کہ اے عمرو! اگر اس لشکر نے اس لشکر کو قتل کردیا، یا اس نے اس کو قتل کردیا، تو (اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں) لوگوں کے امور (کی جواب دہی کے لیے) میرے ساتھ کون ذمہ داری لے گا، لوگوں کی بیوہ عورتوں کی خبرگیری کے سلسلے میں میرے ساتھ کون ذمہ دار ہوگا۔ لوگوں کی آل اولاد کے سلسلے میں میرے ساتھ کون ذمہ دار ہوگا۔ آخر معاویہ ؓ نے حسن ؓ کے یہاں قریش کی شاخ بنو عبد شمس کے دو آدمی بھیجے۔ عبدالرحمٰن بن سمرہ اور عبداللہ بن عامر بن کریز، آپ نے ان دونوں سے فرمایا کہ حسن بن علی ؓ کے یہاں جاؤ اور ان کے سامنے صلح پیش کرو، ان سے اس پر گفتگو کرو اور فیصلہ انہیں کی مرضی پر چھوڑ دو۔ چناچہ یہ لوگ آئے اور آپ سے گفتگو کی اور فیصلہ آپ ہی کی مرضی پر چھوڑ دیا۔ حسن بن علی ؓ نے فرمایا، ہم بنو عبدالمطلب کی اولاد ہیں اور ہم کو خلافت کی وجہ سے روپیہ پیسہ خرچ کرنے کی عادت ہوگئی ہے اور ہمارے ساتھ یہ لوگ ہیں، یہ خون خرابہ کرنے میں طاق ہیں، بغیر روپیہ دئیے ماننے والے نہیں۔ وہ کہنے لگے امیر معاویہ ؓ آپ کو اتنا اتنا روپیہ دینے پر راضی ہیں اور آپ سے صلح چاہتے ہیں۔ فیصلہ آپ کی مرضی پر چھوڑا ہے اور آپ سے پوچھا ہے۔ حسن ؓ نے فرمایا کہ اس کی ذمہ داری کون لے گا؟ ان دونوں قاصدوں نے کہا کہ ہم اس کے ذمہ دار ہیں۔ حسن نے جس چیز کے متعلق بھی پوچھا، تو انہوں نے یہی کہا کہ ہم اس کے ذمہ دار ہیں۔ آخر آپ نے صلح کرلی، پھر فرمایا کہ میں نے ابوبکرہ ؓ سے سنا تھا، وہ بیان کرتے تھے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو منبر پر یہ فرماتے سنا ہے اور حسن بن علی ؓ آپ ﷺ کے پہلو میں تھے، آپ ﷺ کبھی لوگوں کی طرف متوجہ ہوتے اور کبھی حسن ؓ کی طرف اور فرماتے کہ میرا یہ بیٹا سردار ہے اور شاید اس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کے دو عظیم گروہوں میں صلح کرائے گا۔
امام بخاریؒ نے کہا مجھ سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا کہ ہمارے نزدیک اس حدیث سے حسن بصری کا ابوبکرہ ؓ سے سننا ثابت ہوا ہے۔







حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ أَبُو مُوسَى، وَلَقِيتُهُ بِالْكُوفَةِ وَجَاءَ إِلَى ابْنِ شُبْرُمَةَ، فَقَالَ: أَدْخِلْنِي عَلَى عِيسَى فَأَعِظَهُ، فَكَأَنَّ ابْنَ شُبْرُمَةَ خَافَ عَلَيْهِ فَلَمْ يَفْعَلْ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ، قَالَ: لَمَّا سَارَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا إِلَى مُعَاوِيَةَ بِالْكَتَائِبِ، قَالَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ لِمُعَاوِيَةَ: أَرَى كَتِيبَةً لَا تُوَلِّي حَتَّى تُدْبِرَ أُخْرَاهَا، قَالَ مُعَاوِيَةُ: مَنْ لِذَرَارِيِّ الْمُسْلِمِينَ؟، فَقَالَ: أَنَا، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرٍ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَمُرَةَ: نَلْقَاهُ، فَنَقُولُ لَهُ: الصُّلْحَ، قَالَ الْحَسَنُ: وَلَقَدْ سَمِعْتُ أَبَا بَكْرَةَ، قَالَ: بَيْنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَخْطُبُ جَاءَ الْحَسَنُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ابْنِي هَذَا سَيِّدٌ، وَلَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يُصْلِحَ بِهِ بَيْنَ فِئَتَيْنِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ".
ترجمہ:
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، کہا ہم سے اسرائیل ابوموسیٰ نے بیان کیا اور میری ان سے ملاقات کوفہ میں ہوئی تھی۔ وہ ابن شبرمہ کے پاس آئے اور کہا کہ مجھے عیسیٰ (منصور کے بھائی اور کوفہ کے والی) کے پاس لے چلو تاکہ میں اسے نصیحت کروں۔ غالباً ابن شبرمہ نے خوف محسوس کیا اور نہیں لے گئے۔ انہوں نے اس پر بیان کیا کہ ہم سے حسن بصری نے بیان کیا کہ جب حسن بن علی، امیر معاویہ رضی اللہ عنہم کے خلاف لشکر لے کر نکلے تو عمرو بن العاص نے امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے کہا کہ میں ایسا لشکر دیکھتا ہوں جو اس وقت تک واپس نہیں جا سکتا جب تک اپنے مقابل کو بھگا نہ لے۔ پھر امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ مسلمانوں کے اہل و عیال کا کون کفیل ہو گا؟ جواب دیا کہ میں، پھر عبداللہ بن عامر اور عبدالرحمٰن بن سمرہ نے کہا کہ ہم سیدنا حسن رضی اللہ عنہ سے ملتے ہیں (اور ان سے صلح کے لیے کہتے ہیں)، حسن بصری نے کہا کہ میں نے ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے کہ حسن رضی اللہ عنہ آئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرا یہ بیٹا سید ہے اور امید ہے کہ اس کے ذریعہ اللہ مسلمانوں کی دو جماعتوں میں صلح کرا دے گا۔
[صحيح البخاري:7109]








حضرت معاویہؓ کی اہل بیت سے محبت:
حضرت معاویہ بن ابی سفیانؓ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:
رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَمُصُّ لِسَانَهُ - أَوْ قَالَ: شَفَتَهُ، يَعْنِي الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ صَلَوَاتُ اللهِ عَلَيْهِ - وَإِنَّهُ لَنْ يُعَذَّبَ لِسَانٌ أَوْ شَفَتَانِ مَصَّهُمَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
ترجمہ:
میں نے دیکھا کہ رسول اللہ ‌- صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سیدنا حسن بن علی ‌- صَلَوَاتُ اللهِ عَلَيْهِ - کی زبان کو یا ہونٹ کو چوس رہے تھے اور جس زبان یا ہونٹوں کو رسول اللہ ‌- صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نے چوما ہو، اسے عذاب نہیں ہوگا۔
[مسند احمد:16848، 16859، 16869، 16888، 16926]
[السنن الكبرى-للنسائي:5298-5299، شرح معاني الآثار-الطحاوي:3/159، الطبراني:844-846، مسند الشاميين للطبراني: ج: 28/ 62، ط: مؤسسة الرسالة]



معاویہؓ کے علیؓ کے متعلق تاثرات
فقال(معاوية) :
لا والله إني لأعلم أنه أفضل مني وأحق بالأمر مني
ترجمہ:
(معاویہؓ نے کہا کہ): اللہ کی قسم! علیؓ مجھ سے افضل ہیں۔
[سير أعلام النبلاء 140/3 وقال المحقق شعيب الأرنؤوط ورفقاؤه: رجاله ثقات]



حسنين كريمين اور امير معاويہ رضى الله عنہم کے تحائف:
امام جعفر صادق رحمہ اللہ اپنے والد محمد بن علي بن حسين بن على بن ابى طالب رضى الله عنهم سے بيان كرتے ہیں کہ حسن اور حسين رضى الله عنہما معاويہ رضى الله عنہ کے تحائف قبول كرتے تهے۔
أَنَّ الْحَسَنَ، وَالْحُسَيْنَ: «كَانَا يَقْبَلَانِ جَوَائِزَ مُعَاوِيَةَ»
حسن اور حسین معاویہ کے انعامات کو قبول کرتے تھے۔




سیدنا حسنؓ کی سیدنا معاویہؓ سے صلح
(محقق کبیر مولانا نافع رحمہ اللہ)

یہ واقعہ اسلام میں اپنے پس منظر میں ایک بڑی تاریخی اہمیت کا حامل ہے اور مؤرخین نے یہاں بہت کچھ رطب و یابس چیزیں فراہم کی ہوئی ہیں لیکن مناسب یہ ہے کہ اس واقعہ کو محدثین کی روایات کی روشنی میں پیش کیا جاۓ تاکہ اصل حقیقت حال کے زیادہ قریب ہو۔ بعد ازاں روایات درج کردی جائیں ۔

چنانچہ صحیح بخاری کتاب الصلح میں حضرت حسن بصری رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ حضرت حسنؓ اور امیر معاویہؓ کے پہاڑوں کے مانند لشکر اور جیوش باہم متقابل ہوۓ ۔ حضرت عمرو بن العاصؓ فرماتے ہیں کہ یہ لشکر اور عساکر ایک دوسرے کو قتل کیے بغیر پسپا ہونے والے نہیں تھے ۔ 

حضرت حسن بصری رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ حضرت امیر معاویہؓ اللہ کی قسم خیر الرجلین یعنی عمرو بن العاصؓ سے بہتر تھے ۔ انہوں نے حضرت عمرو بن العاصؓ سے کہا کہ اگر ایک فریق دوسرے کو قتل کر ڈالے اور دوسرا فریق پہلے فریق کو قتل کردے تو لوگوں کے معاملات کی دیکھ بھال کون کرے گا؟؟ ان عورتوں اور بال بچوں اور کمزور لوگوں کی نگہداشت کون کرے گا؟ یعنی اس صورت میں یہ لوگ ضائع اور برباد ہو جائیں گے ۔

تو ان حالات کے پیش نظر حضرت امیر معاویہؓ نے بنی عبد الشمس کے دو افراد عبد الرحمن بن سمرہ اور عبداللہ بن عامر کو حضرت حسنؓ کی طرف روانہ کیا اور فرمایا کہ حضرت حسنؓ کے پاس جاکر صلح نامہ پیش کیجیے اور انہیں صلح پر آمادہ کیجیے 

یہ دونوں حضرات حضرت حسنؓ کے پاس پہنچے اور اس مسئلے پر گفتگو کر کے صلح کی دعوت دی۔ اس پر سیدنا حسنؓ نے ان دونوں کو فرمایا کہ ہم بنو عبد المطلب ہیں ( اپنے اہل و عیال ، اقرباء اور خدام پر بخشش، توسع اور کرم کرنا ہماری جبلت میں داخل ہے ) اور اس مال سے ہم ان سب کے حقوق ادا کرتے ہیں اور اب اس امت میں بہت انتشار اور فساد واقع ہوگیا ہے ۔ 

اس پر ان دونوں بزرگوں نے کہا کہ آپکی ضروریات اور تقاضے پورے کیے جائیں گے اور مطالبات تسلیم کیے جائیں گے۔ حضرت سیدنا حسنؓ نے فرمایا کہ ان وعدوں کے ایفا کا ذمہ دار کون ہوگا ؟ ان دونوں نے کہا ہم ذمہ دار ہیں ۔ اس کے بعد مسئلۂ خلافت میں حضرت سیدنا حسنؓ نے حضرت امیر معاویہؓ سے صلح کرلی۔ 

حسن بصریؒ کہتے ہیں کہ یہ صلح حضور نبی کریمﷺ کی اس پیش گوئی کا مصداق ہے جو ابوبکرہؓ (نفیع بن حارث ثقفی) سے میں نے سنی۔ ابوبکرہؓ کہتے تھے کہ میں نے نبی کریمﷺ کو مدینہ منورہ میں منبر پر خطبہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا آپﷺ کے پہلو میں منبر پر حضرت حسنؓ ( عالم طفولیت میں ) بیٹھے تھے۔ آنجنابﷺ خطبہ کے دوران کبھی سیدنا حسنؓ کی طرف متوجہ ہوتے اور کبھی ہم لوگوں کی طرف التفات فرماتے۔ اس خطبہ میں نبی اقدسﷺ نے ارشاد فرمایا: ” یہ میرا بیٹا سردار ہے امید ہے اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے سے مسلمانوں کی دو عظیم جماعتوں کے درمیان صلح کرا دے گا“

اس موقع پر آپﷺ نے ہر جماعت کو فئۂ عظیمہ فرمایا، کسی ایک کو نہیں گرایا۔ 

((فصالحه قال الحسنؓ البصرى) ولقد سمعت ابا بكرۃؓ يقول رأيت رسول الله على المنبر والحسنؓ بن علىؓ الى جنبه وهو يقبل على الناس مرة وعليه اخرى ويقول إنَّ ابنى هذا سيد ولعل الله ان يصلح به بين فئتين عظيمتين من المسلمين)

فائدہ 
اس مقام پر یہ چیز قابلِ التفات ہے کہ نبوت کی عظیم پیش گوئی جس طرح حضرت حسنؓ کے اقدام ہذا کی صورت میں تمام ہوئی جو ان کے حق میں اعلیٰ فضیلت پر مشتمل ہے، اسی طرح اس میں حضرت امیر معاویہؓ کی نہایت خوش بختی ظاہر ہوئی کہ وہ اس بشارت عظیمہ کے پورے ہونے کا ذریعہ بنے اور اس کی تکمیل کا انھیں شرف نصیب ہوا اور اہل اسلام کے دو متحارب گروہوں کی مصالحت کا باعث ہوئے ۔ 

واقعۂ ہذا گزشتہ سطور میں محدثین کی روایات کی روشنی میں مذکور ہوا اور ایک حوالہ شیعہ کا بھی بطور تائید کے حاشیہ میں ذکر کر دیا ہے۔ اب اس واقعہ کو مؤرخین کی تاریخی روایات کی بنا پر ذکر کیا جاتا ہے تا کہ واقعہ کی مزید تفصیلات بھی سامنے آسکیں۔ 

چنانچہ ابن کثیرؒ ذکر کرتے ہیں کہ:

((ولما رأى الحسنؓ بن علىؓ تفرق جيشه عليه مقتهم وكتب عند ذالك الى معاويةؓ بن ابي سفيانؓ و كان قد ركب فى اهل الشام فنزل مسكن يراوضه على الصلح بينهما ۔فبعث اليه معاويۃؓ عبدالله بن عامر و عبد الرحمن بن سمرة – فقدما عليه الكوفة فبذلا له ما اراد من الاموال فاشترط ان ياخذ من بيت مال الكوفة خمسة الاف الف درهم، وان يكون خراج دار ابجرد له وان لا يسب علىؓ وهو يسمع، فاذا فعل ذلک فنزل عن الامرة لمعاويۃؓ و يحقن الدماء بين المسلمين فاصطلحوا على ذالك واجتمعت الكلمة على معاويةؓ له ) 

(وهو عبدالرحمن بن سمرة) ( كان احد السفيرين بين معاويةؓ والحسنؓ )

مطلب یہ ہے کہ مؤرخین کہتے ہیں کہ حضرت حسنؓ بن علیؓ نے اپنے جیش میں افتراق اور انتشار دیکھا تو انھیں سخت ناراضی ہوئی اور کبیدہ خاطر ہوئے۔ (اس روایت کی بنا پر ) اس پر آپؓ نے حضرت امیر معاویہؓ کی طرف خط لکھا۔ ادھر اہل شام آمادہ تھے پس اپنے مسکن پر ٹھہرے اور جانبین کے درمیان صلح کی کوشش کی گئی۔

حضرت امیر معاویہؓ نے عبداللہ بن عامر اور عبد الرحمن بن سمرہ کو اس مقصد کے لیے بھیجا۔ وہ دونوں حضرت حسنؓ کے پاس آئے اور انھوں نے حضرت سیدنا حسنؓ کے تقاضوں کو پورا کرنے کا ذمہ لیا۔ پس حضرت سیدنا حسنؓ نے شرط لگائی کہ کوفہ کے بیت المال سے وہ پچاس لاکھ درہم حاصل کریں گے اور دار ابجرد کا خراج بھی حضرت حسنؓ کے لیے ہو گا اور حضرت علی المرتضیٰؓ کے خلاف ان کی موجودگی میں ہتک آمیز کلام نہیں کیا جائے گا۔ 

ان شرائط پر سیدنا حسنؓ امر خلافت سے دست بردار ہوئے اور خلافت کا معاملہ امیر معاویہؓ کے سپرد کر دیا۔ اس صلح میں مسلمانوں کا خون ریزی سے بچاؤ کرنا اور مسلمانوں کو کلمۂ واحد پر جمع کرنا مقصود نظر تھا چنانچہ اس طور پر ان دونوں حضرات کے درمیان مصالحت ہوئی اور امیر معاویہؓ پر امر خلافت مجتمع ہو گیا۔ 



تنبیہ 
علمائے کرام نے اس موقع پر تحریر کیا ہے کہ حضرت امیر معاویہؓ نے حضرت سیدنا حسنؓ سے بہت سی شرائط پر مصالحت کی تھی اور جن امور کی انجام دہی کی ذمہ داری قبول کی ان کو ایفا کیا اور پورا کر دیا۔ چنانچہ ابن حجر مکیؒ تحریر کرتے ہیں کہ

(( انه اشترط عليه شروطا كثيرۃ فالتزمها ووفى له بها) 



شرائط صلح شیعہ کے بیانات کی روشنی میں: 

شیعوں کے قدیم ترین مؤرخ دینوری نے سیدنا حسنؓ اور سیدنا معاویہؓ کے درمیان صلح کے اس واقعہ کو تفصیل سے ذکر کیا ہے اور صلح کی شرائط کو مندرجہ ذیل عبارت میں تحریر کیا ہے: 

((ولما راى الحسن من اصحابه الفشل ارسل الى عبدالله بن عامر بشرائط اشترطها على معاوية على ان يسلم له الخلافة وكانت الشرائط الا ياخذ احدا من اهل العراق باحنة وان يومن الاسود والاحمر، ويحتمل ما يكون من هفواتهم، ويجعل له خراج الاهواز مسلما في كل عام ويحمل الى اخيه الحسين بن على فى كل عام الفى الف ويفضل بني هاشم في العطاء والصلاح علی بنی عبد الشمس)) 

"یعنی قدیم شیعی مؤرخ دینوری تحریر کرتا ہے کہ جب حضرت حسنؓ نے اپنے ساتھیوں کو بزدلی کا شکار پایا تو عبداللہ بن عامر کی طرف صلح کے لیے چند شرائط ارسال کیں کہ ان پر حضرت حسنؓ حضرت معاویہؓ کو خلافت سپرد کر دیں گے۔ وہ شرائط یہ تھیں : 

(1) اہل عراق پر دشمنی اور کینہ کی بنا پر گرفت نہیں کی جائے گی۔ 

(2) ہر اسود و احمر کو امان دی جائے گی (یعنی عام رعایا کو امان ہو گی )۔ 

(3) لوگوں کی یاوہ گوئی کو برداشت کیا جائے گا۔ 

(4) علاقہ "اہواز“ کا مکمل خراج ہر سال حضرت حسنؓ کے سپرد کیا جائے گا۔ 

(5) ان کے بردار حضرت حسینؓ بن علیؓ کو بیس لاکھ درہم سالانہ (وظیفہ ) دیا جائے گا۔ 

(6) عطایا اور صلہ جات میں بنی ہاشم کو بنی عبد الشمس پر فضیلت دی جائے گی اور ان کا حق فائق رکھا جائے گا 

اس مقام پر دینوری شیعی نے مزید لکھا ہے کہ عبداللہ بن عامر نے حضرت حسنؓ کی یہ شرائط حضرت امیر معاویہؓ  کی خدمت میں ارسال کر دیں اس طرح صلح ہذا مکمل ہو گئی اور جانبین اس پر راضی ہو گئے۔ 

2:مذکورہ واقعہ کو جو باہمی مصالحت کے دوران پیش آیا دیگر قدیم شیعہ مؤرخ یعقوبی نے بھی اپنے  انداز کے مطابق مفصل تحریر کیا ہے چنانچہ یعقوبی لکھتا ہے کہ حضرت امیر معاویہؓ نے حضرت حسنؓ کی طرف چند حضرات کو صلح کی غرض سے روانہ کیا۔ وہ حضرت مغیرہ بن شعبہؓ، عبداللہ بن عامر بن کریز اور عبدالرحمن بن ام الحکمؓ تھے۔ حضرت حسنؓ اس وقت مدائن کے جنگی حالات میں اقامت پذیر تھے ان لوگوں نے سیدنا حسنؓ کی خدمت میں حاضر ہو کر صلح کے متعلق گفتگو کی۔ اس کے بعد جب یہ حضرات سیدنا حسنؓ کی مجلس سے باہر آئے تو لوگوں کو سنا کر کہنے لگے کہ اللہ تعالیٰ نے رسول ﷲﷺ کے بیٹے کے ذریعے سے مسلمانوں کو خون ریزی سے بچالیا اور وہ فتنے کے فرو ہونے کا باعث ہوئے اور انھوں نے صلح منظور کرلی۔

جب یہ چیز سیدنا حسنؓ کے جیوش میں پہنچی تو وہاں ایک قسم کا اضطراب پیدا ہوگیا اور انھوں نے ان لوگوں کی صداقت میں کچھ شک نہ کیا اور جوش میں آکر حضرت حسنؓ کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے اور ان کا جنگی سامان لوٹ لیا۔ حضرت سیدنا حسنؓ اپنے گھوڑے پر سوار ہوئے اور اندھیرے میں چل دیے مگر جراح بن سنان اسدی نے چھپ کر نیزہ مارا اور آنجنابؓ کی ران کو زخمی کر دیا اور آپؓ کو نہایت بے آبرو کیا۔ اس کے بعد یعقوبی مزید ذکر کرتا ہے کہ :

(وحمل الحسن الى المدائن وقد نزف نزفا شديدا واشتدت به العلة فافترق عنه الناس وقدم معاويۃ العراق فغلب على الامر والحسنؓ عليل شديد العلة فلما رأى الحسنؓ ان لا قوة به وان اصحابه قد افترقوا عنه فلم يقوموا له. صالح معاوية، وصعد المنبر فحمد الله واثنى عليه وقال: أيها الناس ان الله هداكم باولنا وحقن دماكم باخرنا وقد سالمت معاوية .... الخ)

" (بقول شیعی مؤرخ ) مطلب یہ ہے کہ حضرت سیدنا حسنؓ کو زخمی حالت میں مدائن کی طرف لے جایا گیا۔ آپؓ خون آلود تھے۔ آپؓ کی بیماری شدت اختیار کر گئی ، لوگ آپؓ سے علیحدگی اختیار کرنے لگے۔ حضرت امیر معاویہؓ عراق میں جا پہنچے اور خلافت پر ان کا غلبہ ہونے لگا۔ حضرت سیدنا حسنؓ شدید علیل تھے۔ جب حضرت حسنؓ نے اپنے میں قوت نہ دیکھی اور ان کے ساتھی ان سے جدا ہو گئے اور تعاون سے کنارہ کش ہو گئے تو آپؓ نے حضرت امیر معاویہؓ سے صلح کر لی۔ 

( جب کچھ حالت بہتر ہوئی) تو منبر پر تشریف لائے اور حمد وثنا کی اور فرمایا: اے لوگو! اللہ تعالیٰ نے ہمارے اول کے ساتھ تمھیں ہدایت بخشی اور ہمارے آخر کے ساتھ تمھارے خون کی حفاظت کی تمھیں خوں ریزی سے بچالیا) میں نے امیر معاویہؓ سے صلح کر لی ہے یعنی امر خلافت ان کے سپرد کر دیا ہے۔"

یہ شیعہ مؤرخین کے بیانات ہیں جو انھوں نے اپنے نظریات کے مطابق درج کیے ہیں۔

نیز شیعہ کے مشاہیر علماء نے صلح ہذا کی شرائط میں مزید یہ چیز بھی ذکر کی ہے کہ حضرت سیدنا حسنؓ نے حضرت امیر معاویہؓ کے ساتھ صلح کرنے میں دیگر شرائط کے علاوہ یہ شرط بھی لگائی تھی کہ " کتاب اللہ، سنت رسول اللہﷺ اور سیرت خلفائے راشدین صالحینؓ پر عمل درآمد کرنا ہوگا۔“

شیعہ کا فاضل اربلی لکھتا ہے کہ: 

((بسم الله الرحمن الرحيم هذا ما صالح عليه الحسن بن علی بن ابی طالب معاوية بن ابي سفيان صالحه على ان يسلم اليه ولاية امر المسلمين على ان يعمل فيهم بكتاب الله تعالى و سنة رسوله وسيرة الخلفاء الراشدين الصالحين ...... الخ)) 

قبل ازیں یہ چیز شیعہ کی تصریحات کے مطابق درج کی جا چکی ہے کہ حضرت امیر معاویہؓ نے صلح کی تمام شرائط کو منظور کر لیا تھا اور ان کو پورا کیا تھا۔



فائدہ 
مندرجہ بالا صلح کی شرط سے یہ چیز ثابت ہوتی ہے کہ حضرت سیدنا حسنؓ کے نزدیک خلفائے ثلاثہؓ کی خلافت برحق اور صحیح تھی اور ان کی دینی وثاقت مسلم تھی اور ان حضرات کا عہد خلافت قابل تقلید تھا اسی بنا پر حضرت حسنؓ نے بھی ان سے صلح کرتے وقت خلفائے راشدینؓ کی سیرت پر عمل درآمد کی شرط لگائی۔ 

یہاں مزید اس چیز کو ذکر کر دینا ناظرین کرام کے لیے فائدہ بخش ہے کہ جس طرح سیدنا حسنؓ نے حضرت امیر معاویہؓ کے ساتھ شرائط صلح و مصالحت کر کے بیعت کر لی تھی اور وہ اس پر رضا مند اور مطمئن تھے اور کسی طرح بھی پشیمان اور پریشان نہیں تھے ، اسی طرح آں موصوف کے برادر گرامی سیدنا حسینؓ بھی بیعت ہذا میں شامل تھے اور اس معاہدہ کی تمام کارگزاری میں شریک کار تھے اور اس کو صحیح قرار دیتے تھے۔ 

لیکن اس دور میں بقول شیعہ مؤرخین سیدنا حسنؓ کی وفات کے بعد بعض لوگوں نے سیدنا حسینؓ  کو اس صلح و مصالحت کے خلاف برانگیختہ کرنے کی کوشش کی اور ان کو حضرت امیر معاویہؓ کی بیعت توڑ کر ان کے خلاف جنگ و پیکار پر آمادہ کرنا چاہا، تو سیدنا حسین ابن علیؓ  نے ان کی اس پیش کش کے جواب میں ارشاد فرمایا: 

((فقال الحسينؓ انا قد بايعنا وعاهدنا ولا سبيل الى نقض بيعتنا )) 

"یعنی حضرت سیدنا حسینؓ  نے فرمایا کہ ہم نے امیر معاویہؓ سے بیعت کر لی ہے اور ان سے ہمارا معاہدہ ہو چکا ہے۔ اب بیعت ہذا کو توڑ ڈالنے کے لیے کوئی راستہ نہیں ۔

اسی مسئلہ کو شیعہ کے مجتہدین نے مزید وضاحت سے بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ایک بار عراق کے شیعان علیؓ نے حضرت حسینؓ کی خدمت میں مکتوبات ارسال کیے جن میں حضرت امیر معاویہؓ کے ساتھ مصالحت اور باہمی معاہدہ کے نقض پر زور دیا اور اس عقد کو ختم کر دینے کا تقاضا کیا۔ 

شیخ مفید شیعی نے اس سلسلے میں حضرت سیدنا حسینؓ کے جواب کو بالفاظ ذیل تحریر کیا ہے: ((ان بينه وبين معاوية عهدا وعقدا لا يجوز له نقضه حتى تمضى المدة .... الخ)) 

اس کا مفہوم یہ ہے کہ حضرت سیدنا حسینؓ نے فرمایا کہ میرے اور معاویہؓ کے درمیان عہد اور عقد ( بیعت) ہو چکا ہے اس کو توڑنا جائز نہیں تا وقتیکہ معاہدہ کی مدت ( خلافت معاویہؓ ) ختم ہو جائے ۔“ 

مندرجات گزشتہ سے ثابت ہوا کہ حضرت امیر معاویہؓ کے ساتھ دونوں برادر حضراتؓ کی بیعت درست تھی اور ان کے نزدیک عقد مصالحت بالکل صحیح تھا اور اس پر دونوں حضرات حسنین شریفینؓ مدت العمر قائم رہے۔ 

یہ چیز حضرت معاویہؓ کی صحت خلافت کے لیے وزنی شہادت ہے اور ان کی حکومت عادلہ کی خاطر واضح دلیل ہے۔ 

بعض لوگوں نے مقام شرائط میں ایک شرط یہ بھی ذکر کی ہے کہ حضرت حسنؓ نے حضرت امیر معاویہؓ پر یہ شرط عائد کی تھی کہ " جناب معاویہؓ کے بعد حضرت حسنؓ خلیفہ ہوں گے ۔“ اس بنا پر حضرت امیر معاویہؓ نے حضرت حسنؓ کو زہر دلوا دیا تھا تاکہ وہ امر خلافت پر بعد میں ہمیشہ مسلط رہیں۔ اس شرط کے متعلق درج ذیل چیزیں قابل غور ہیں ان پر توجہ کر لینے سے اس شرط کا سقم واضح ہو جائے گا: 

1: قدیم مؤرخین طبری وغیرہ اور خصوصاً شیعہ کے قدیم تر مؤرخین دینوری، مسعودی اور یعقوبی وغیرہ نے جہاں شرائط صلح ذکر کی ہیں ہماری معلومات کی حد تک ان میں شرط مذکورہ بالا کا ذکر نہیں پایا جاتا۔ حالانکہ حضرت معاویہؓ پر طعن قائم کرنے کے لیے یہ عمدہ موقع تھا۔ نیز معلوم ہوتا ہے کہ ان مؤرخین کے دور تک شرائط میں یہ چیز شامل نہ تھی ایک مدت دراز کے بعد لوگوں نے اس شرط کا اضافہ کر لیا اور زہر خورانی کے طعن کے لیے اس کو زینہ بنایا۔ یہ چیز نقلی طور پر پیش کی گئی ہے۔ 

2: اب عقلی طور پر توجہ کریں کہ جب حضرت امیر معاویہؓ نے استخلاف یزید کا مسئلہ اس دور کے اکابر کے سامنے پیش کیا تو بعض اکابر نے اس چیز سے اختلاف کرتے ہوئے کلام کیا (جیسا کہ تواریخ میں منقول ہے ) تو اس موقع پر ان لوگوں نے یہ چیز نہیں ذکر کی کہ حضرت حسنؓ کی زندگی میں آپؓ کی خلافت تھی اب ان کی وفات کے بعد آپؓ کو خلافت کا حق نہیں اور صلح کی شرائط میں یہ مسئلہ داخل تھا۔ فلہذا اس بات کو اختلاف کرنے والے بزرگوں کا پیش نہ کرنا بھی اس بات کا قرینہ ہے کہ صلح کی شرائط میں یہ شرط داخل نہ تھی ورنہ وہ حضرات اس موقع پر اس شرط کو ضرور پیش کرتے۔

مذکورہ بالا سطور میں صلح کے متعلق شیعہ کے متقدمین و متأخرین علماء کی چند توضیحات ذکر کی ہیں۔ اس کے قریب قریب " تحفہ اثنا عشریہ" میں شاہ عبد العزیزؒ نے حضرت حسنؓ کی صلح کے متعلق شیعہ علماء کے بیانات درج کیے ہیں اور بیشتر بطور الزام نقل کیے ہیں۔ اس میں بھی اس بات کی وضاحت آ گئی ہے کہ یہ صلح اصلاح امت کے لیے تھی اور فتنہ کو ختم کرنے کی خاطر کی گئی۔ عبارت نقل کرنے میں تطویل ہوتی ہے۔ ناظرین کرام تسلی کے لیے درج ذیل مقام کی طرف رجوع کر سکتے ہیں: تحفہ اثنا عشریہ صفحہ 181 باب ہفتم در امامت تحت عقیدۂ ششم، طبع لاہور 

صلح و مصالحت کی تاریخ:

حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ اپنی مشہور تصنیف البدایہ والنہایہ میں ذکر کرتے ہیں کہ :

((وقال ابو الحسن علی بن المدينى كان تسليم الحسن الأمر الى معاویۃ في الخامس من ربیع  الأول سنة احدى واربعين وقال غيره في ربيع الاخر . يقال في غرة جمادی الاولى فالله اعلم)) 

اور اسی مسئلہ کو دیگر محدثین و مؤرخین نے بھی بالوضاحت اپنی اپنی تصانیف میں ذکر کیا ہے مثلاً : 

خلیفہ ابن خیاط نے اپنی تاریخ میں یہ الفاظ ذکر کیے ہیں کہ:

(( وفيها سنة الجماعة اجتمع الحسنؓ بن علىؓ بن ابی طالب و معاويةؓ (بن ابي سفيانؓ)فاجتمعا بمسكن من ارض السواد ومن ناحية الانبار فاصطلحا وسلم الحسنؓ بن علىؓ الى معاويةؓ وذالك في شهر ربيع الآخر او في جمادى الأولى سنة احدى واربعين)) 

"مندرجات بالا کا مطلب یہ ہے کہ عام الجماعت 41 ھ میں حضرت حسنؓ اور حضرت معاویہؓ "انبار" کے نزدیک ارض سواد کے مسکن میں جمع ہوئے اور دونوں نے (خلافت کے معاملہ میں) باہم صلح کر لی اور حضرت حسنؓ نے حضرت امیر معاویہؓ کو امر خلافت سپرد کر دیا اور کنارہ کش ہو گئے یہ واقعہ ربیع الاخری یا جمادی الاولی 41 ھ میں پیش آیا" ۔

حاشیہ میں مزید چند ایک حوالہ جات اس مسئلہ پر درج کر دیے ہیں تا کہ اہل تحقیق حضرات رجوع کر کے تسلی کر سکیں۔

چنانچہ یہ چیز اہل سنت والجماعت کی روایات کے اعتبار سے تو مسلم ہے لیکن شیعہ کے نزدیک بھی یہ مسئلہ مسلمات میں سے ہے اور بے شمار شیعہ علماء نے اپنی تصانیف میں بالوضاحت درج کیا ہے۔ ہم یہاں سیدنا جعفر صادقؒ کے فرمان کی روشنی میں بعض حوالہ جات ذیل میں ذکر کرتے ہیں: 

((قال سمعت ابا عبدالله يقول ان معاوية كتب الى الحسن بن على صلوت الله عليهما ان اقدم انت والحسين وأصحاب على فخرج معهم قيس بن سعد بن عبادة الانصارى فقدموا الشام فاذن لهم معاوية واعد لهم الخطباء فقال يا حسن قم فبايع فقام فبايع ثم قال للحسین قم فبايع فقام فبايع ثم قال يا قيس قم فبايع فالتفت الى الحسين ينظر ما يأمره فقال يا قيس انه امامی یعنی الحسن)) 

"مطلب یہ ہے کہ جناب جعفر صادقؒ فرماتے ہیں کہ امیر معاویہؓ نے حضرت سیدنا حسنؓ کی طرف مکتوب ارسال کیا کہ آپؓ اور آپؓ کے برادر حسینؓ اور حضرت علی المرتضیؓ کے دیگر احباب ہمارے ہاں تشریف لائیں۔ جب یہ حضرات حضرت امیر معاویہؓ کے ہاں جانے کے لیے روانہ ہوئے تو ان کے ہمراہ قیس بن سعد بن عبادہ انصاری بھی روانہ ہوئے۔ یہ حضرات ملک شام میں حضرت امیر معاویہؓ کے پاس تشریف لے گئے تو امیر معاویہؓ نے انھیں اندر آنے کی اجازت دے دی وہاں اس مجلس میں کئی خطباء جمع کیے گئے تھے پھر حضرت امیر معاویہؓ نے حضرت حسنؓ سے کہا کہ آپؓ اٹھیے اور بیعت کیجیے۔ پس حضرت حسنؓ اٹھے اور انھوں نے معاویہؓ کی بیعت کی۔ اس کے بعد انھوں نے (امیر معاویہؓ نے ) حضرت حسینؓ سے کہا کہ آپؓ بھی اٹھیں اور بیعت کریں پس حضرت حسینؓ اٹھے اور امیر معاویہؓ سے بیعت کی۔ اس کے بعد امیر معاویہؓ نے قیس بن سعد سے کہا تم بھی اٹھو اور بیعت کرو۔ قیسؓ نے حضرت حسینؓ کی طرف التفات کیا کہ حضرت حسینؓ اس مسئلہ میں کیا حکم دیتے ہیں؟ تو حضرت حسینؓ نے فرمایا اے قیس! وہ میرے امام ہیں ( آپ بھی بیعت کر لیں). "

2: اور اس مسئلہ کو شیخ ابو جعفر طوسی شیعی نے اپنی تصنیف "مالی شیخ طوسی" مجلس یاز دہم ماہ صفر 457 کے تحت بالفاظ ذیل درج کیا ہے۔ 

(( الا وانى قد بايعت هذا و أشار بيده الى معاوية))

"(یعنی حضرت حسنؓ نے) اپنے ہاتھ سے امیر معاویہؓ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا:

خبردار ! میں نے ان سے بیعت کرلی ہے۔"

شیعہ کے مندرجہ بالا حوالہ جات سے ثابت ہوا کہ حضرات حسنین شریفینؓ نے حضرت امیر معاویہؓ کے ساتھ جب امر خلافت میں صلح کی تھی تو اس وقت ان کے ہاتھ پر بیعت خلافت بھی کر دی تھی۔ یہ چیز شیعہ کی معتبر روایات کی روشنی میں ثابت ہے کوئی مختلف فیہ امر نہیں۔



تنبیہ:

شیعہ کے ہاں اس مقام پر مختلف روایات پائی جاتی ہیں مندرجہ بالا رجال کشی والی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ دونوں حضرات (حضرت حسنؓ و حضرت معاویہؓ) میں صلح و مصالحت تو پہلے ہو چکی تھی لیکن مزید توفیق و تصدیق کے طور پر ان حضرات حسنینؓ سے بیعت خلافت لی گئی اور انھوں نے بیعت کر دی تا کہ اس معاملہ میں شک وشبہ کی گنجائش نہ رہے۔ 

عام الجماعۃ:
حضرت حسنؓ اور حضرت امیر معاویہؓ کے مابین صلح کی اہل اسلام کے نزدیک بڑی اہمیت ہے اور اس کے ذریعے سے ایک بہت بڑے انتشار بین المسلمین کا خاتمہ ہوا اور افتراق کا فتنہ فرو ہو گیا۔ ایک مدت سے اعدائے اسلام پر غلبہ پانے اور انھیں فتح کرنے کے اقدامات رکے ہوئے تھے اور اہل اسلام کے مابین افتراق عظیم واقع ہو گیا تھا اور پھر اسی دوران میں باہمی جدال و قتال کے مواقع بھی پیش آچکے تھے لیکن آخر کار اللہ کریم جل مجدہ نے پھر اہل اسلام کو ایک کلمہ پر مجتمع ہونے کی توفیق بخشی اور اس دور کے تمام اہل اسلام فرقت کے بعد ایک مرکز پر متفق ہو گئے اور حضرت امیر معاویہؓ بن ابی سفیانؓ کو اپنا متفقہ امیر اور خلیفہ تسلیم کر لیا اور جو حضرات حضرت علی المرتضیٰؓ کے دور سے بیعت خلافت سے اجتناب اور علیحدگی اختیار کیے ہوئے تھے ان حضرات نے بھی حضرت امیر معاویہؓ ہی کو بالاتفاق خلیفہ تسلیم کر لیا اور ان پر رضا مند ہو گئے۔ اس بنا پر اس برس کو "عام الجماعۃ" کے نام سے موسوم کرتے ہیں۔




سیدنا حسنؓ بن علیؓ رضی اللہ عنہما کی تاریخِ شہادت:
حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہما کی تاریخِ شہادت کے بارے میں تاریخ کی کتابوں میں تین اقوال ملتے ہیں، یعنی ربیع الاول کے مہینے میں سن 49ھ یا 50ھ یا 51ھ میں وہ شہید ہوکر اس دارِ فانی سے کوچ کرگئے تھے۔

نواسۂ رسول حضرت حسن رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بارے میں یہ روایت ملتی ہے کہ انہیں زہر دیا گیا تھا،  یہ سن 49، 50 يا 51ھ کا واقعہ ہے،  البتہ مہینے  کے بارے میں معتبر کتب میں کوئی روایت نہیں مل سکی۔

پہلا حوالہ:
امام ابن الاثیرؒ(م630ھ) اپنی تاریخ کی کتاب میں لکھتے ہیں:

"اور ان (حضرت حسن) کی وفات کے سال میں اختلاف ہے۔

کہا گیا: سنہ 49 ہجری میں وفات پائی۔

کہا گیا: سنہ 50 ہجری میں۔

اور کہا گیا: سنہ 51 ہجری میں۔

وہ اپنے بالوں کو وسمہ (نیل/کٹھی) سے خضاب کرتے تھے۔

اور ان کی وفات کا سبب یہ تھا کہ ان کی بیوی جعدہ بنت اشعث بن قیس نے انہیں زہر پلا دیا۔
چنانچہ ان کے نیچے ایک طشت (برتن) رکھا جاتا تھا اور دوسرا اٹھایا جاتا تھا (یعنی خون یا پاخانہ وغیرہ کی وجہ سے) تقریباً چالیس دن تک۔ اسی زہر کی وجہ سے وہ وفات پا گئے۔

جب ان کی بیماری شدت کو پہنچی تو انہوں نے اپنے بھائی حسین (رضی اللہ عنہما) سے فرمایا:
"اے میرے بھائی! مجھے تین مرتبہ زہر پلایا گیا ہے، مگر اس بار جیسی کوئی اور نہ تھی۔ میں اپنا جگر (تکلیف میں) محسوس کر رہا ہوں۔"

حضرت حسین نے پوچھا: "اے بھائی! تمہیں کس نے زہر پلایا؟"

فرمایا: "تم اس کے بارے میں کیوں پوچھتے ہو؟ کیا تم ان سے جنگ کرنا چاہتے ہو؟ میں ان کا معاملہ اللہ عزوجل کے سپرد کرتا ہوں۔"

اور جب ان کی وفات کا وقت قریب آیا تو انہوں نے حضرت عائشہ صدیقہ (رضی اللہ عنہا) کے پاس پیغام بھیجا کہ وہ انہیں نبی کریم ﷺ کے ساتھ (آپ کے حجرے میں) دفن کرنے کی اجازت دیں۔ حضرت عائشہ نے اس پر رضامندی ظاہر کی۔

تب انہوں نے اپنے بھائی حسین سے کہا:
"جب میں فوت ہو جاؤں تو حضرت عائشہ سے درخواست کرنا کہ مجھے نبی ﷺ کے ساتھ دفن کیا جائے۔ میں پہلے بھی ان سے اس بارے میں کہہ چکا ہوں اور انہوں نے اجازت دے دی ہے، اب شاید وہ مجھ سے حیا کریں (اور انکار نہ کریں)۔ اگر وہ اجازت دیں تو مجھے ان کے گھر میں دفنا دینا۔

*"اور میرا خیال ہے کہ یہ لوگ (یعنی بنو امیہ) ضرور تمہیں روکیں گے۔ اگر وہ روکیں تو تم ان سے اس بارے میں کوئی جھگڑا نہ کرنا، اور مجھے**جنت البقیع *میں دفنا دینا۔"

چنانچہ جب ان کا انتقال ہوا تو حضرت حسین اس سلسلے میں حضرت عائشہ کے پاس آئے۔ انہوں نے فرمایا: "ہاں، خوش آمدید (یعنی اجازت ہے)۔"

یہ خبر مروان بن حکم اور بنو امیہ کو پہنچی تو انہوں نے کہا: "اللہ کی قسم! وہ ہرگز وہاں (نبی ﷺ کے حجرے میں) ہرگز دفن نہیں کیے جائیں گے۔"

یہ بات جب حضرت حسین کو پہنچی تو انہوں نے اور ان کے ساتھیوں نے ہتھیار پہن لیے، اور مروان نے بھی ہتھیار پہن لیے (جھڑپ کی تیاری)۔

یہ سن کر ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ) نے کہا:
"اللہ کی قسم! یہ بڑا ظلم ہے کہ حسن کو ان کے والد (نبی ﷺ) کے پاس دفن ہونے سے روکا جائے! اللہ کی قسم! وہ رسول اللہ ﷺ کے بیٹے (نواسے) ہیں۔"

پھر وہ حضرت حسین کے پاس آئے اور انہیں اللہ کی قسم دلاتے ہوئے کہنے لگے:
"کیا تمہارے بھائی (حسن) نے یہ نہیں کہا تھا کہ 'اگر تمہیں ڈر ہو تو مجھے مسلمانوں کے قبرستان (بقیع) میں دفنا دینا'؟"

چنانچہ حضرت حسین نے ایسا ہی کیا اور انہیں (حسن کو) بقیع میں دفن کر دیا۔

بنو امیہ میں سے سعید بن عاص کے علاوہ کوئی ان کی جنازے میں حاضر نہیں ہوا، جو اس وقت مدینہ کے امیر تھے۔ حضرت حسین نے انہیں جنازے کی نماز پڑھانے کے لیے آگے کیا اور فرمایا: "اگر سنت (یہ کہ امیرِ شہر جنازہ پڑھائے) نہ ہوتی تو میں تمہیں (امامت کے لیے) آگے نہ کرتا۔"

اور کہا گیا کہ جنازے میں خالد بن ولید بن عقبہ بن ابی معیط بھی شریک ہوئے، جنہوں نے بنو امیہ سے اجازت لی اور وہ حاضر ہوئے۔

اور حضرت حسن نے اپنے بھائی حسین کو وصیت کی تھی اور فرمایا تھا:
"میرا خیال ہے کہ اللہ ہمارے لیے نبوت اور خلافت کو جمع نہیں کرے گا (یعنی نبوت ہم میں ہے، خلافت دوسروں کو مل جائے گی)۔ پساہلِ کوفہ تمہیں ہرگز (بغاوت پر) آمادہ نہ کریں تاکہ تمہیں نکال باہر کریں (یعنی تم ان کے فتنے میں نہ آنا)۔"

امام فضل بن دکین کہتے ہیں:
جب حضرت حسن کی بیماری شدید ہوئی تو وہ بے چین ہوئے۔ ایک شخص نے ان کے پاس آ کر کہا:
"اے ابومحمد! یہ کیا بے چینی ہے؟ بس آپ کی روح آپ کے جسم سے جدا ہو گی اور آپ اپنے والدین (علی و فاطمہ)، اپنے نانا-دادی (نبی ﷺ اور خدیجہ)، اپنے چچاؤں (حمزہ اور جعفر)، اپنے بھائیوں (قاسم، طیب، طاہر اور ابراہیم) اور اپنی بہنوں (رقّیہ، ام کلثوم اور زینب) سے جا ملیں گے۔"

یہ سن کر ان کی بے چینی دور ہو گئی (اور وہ مطمئن ہو گئے)۔

اور جب حسن (رضی اللہ عنہ) فوت ہوئے تو بنو ہاشم کی عورتوں نے ایک ماہ تک ان پر بین (نوحہ/واویلا) کیا اور ایک سال تک سیاہ پوشی (سوگ) اختیار کی۔

[أسد الغابۃ فی معرفۃ الصحابۃ-امام ابن الاثیرؒ: (ج:1، ص:512)]



دوسرا حوالہ
امام ذھبیؒ(م748ھ) لکھتے ہیں:

"وقال المدائني، والغلابي، والزبير، وابن الكلبي، وغيرهم: مات سنة خمسين، وزاد بعضهم: في ربيع الأول. وقال البخاري: سنة إحدى وخمسين، وغلط أبو نعيم الملائي وقال: سنة ثمان وخمسين ... قال أبو عمر: وسلم في نصف جمادى الأول الأمر إلى معاوية, سنة إحدى وأربعين, قال: ومات فيما قيل: سنة تسع وأربعين. وقيل: في ربيع الأول سنة خمسين, وقيل: سنة إحدى وخمسين."

ترجمہ:

"اور امام مدائنی، غلابی، زبیر، ابن کلبی اور دیگر (مورخین) نے کہا:
ان کی وفات سنہ 50 ہجری میں ہوئی، اور بعض نے مزید کہا: (یہ وفات) ربیع الاول کے مہینے میں ہوئی۔

اور امام بخاری نے کہا:
ان کی وفات سنہ 51 ہجری میں ہوئی۔

اور ابو نعیم الملائی (اپنی روایت میں) غلطی کر بیٹھے جب انہوں نے کہا: سنہ 58 ہجری میں وفات ہوئی۔

... اور امام ابو عمر (یعنی ابن عبد البر) نے کہا:
(حضرت حسن نے) جمادی الاولیٰ کے نصف میں (یعنی آدھے مہینے میں) خلافت معاویہ کو سونپ دی، اور یہ سنہ 41 ہجری کا واقعہ ہے۔

اور انہوں نے (ابو عمر) نے کہا:
ان کی وفات، جیسا کہ کہا جاتا ہے، سنہ 49 ہجری میں ہوئی۔
اور کہا گیا: ربیع الاول میں سنہ 50 ہجری میں۔
اور کہا گیا: سنہ 51 ہجری میں۔"

[سير أعلام النبلاء: الطبقة الاولیٰ، ومن صغار الصحابة: الحسن بن علي بن أبي طالب،4/ 346، ط: دار الحديث- القاهرة]



تیسرا حوالہ
امام ابن کثیرؒ(م774ھ) اپنی تاریخ کی کتاب میں لکھتے ہیں:

"پھر سنہ 49 ہجری شروع ہوا۔
اس میں جو واقعات پیش آئے ان میں سے (یہ ہے): اس سال وفات پانے والے معزز شخصیات میں حسن بن علی بن ابی طالب (رضی اللہ عنہما) ہیں۔

محمد بن عمر واقدی نے کہا: مجھ سے عبداللہ بن جعفر نے ام بکر بنت مسور کے حوالے سے بیان کیا، انہوں نے کہا:
"حسن (رضی اللہ عنہ) کو کئی بار زہر پلایا گیا، ہر بار وہ بچ نکلتے، یہاں تک کہ آخری بار جس میں ان کی وفات ہوئی۔ اس بار ان کا جگر بکھر رہا تھا (زہر کے اثر سے)۔"

اور (واقدی نے) کہا: جب وہ فوت ہوئے تو بنو ہاشم کی عورتوں نے ایک ماہ تک ان پر نوحہ کیا۔

واقدی نے کہا: مجھ سے عبیدہ بنت نابل نے حضرت عائشہ سے روایت کیا، انہوں نے کہا:
"بنو ہاشم کی عورتوں نے حسن بن علی (رضی اللہ عنہ) پر ایک سال تک سوگ (حداد) اختیار کیا۔"

واقدی نے کہا: مجھ سے عبداللہ بن جعفر نے عبداللہ بن حسن کے حوالے سے بیان کیا، انہوں نے کہا:
"حسن بن علی (رض) بہت زیادہ شادیاں کرتے تھے، اور ان کی بیویاں شاذ و نادر ہی ان سے خوش ہوتی تھیں (یعنی انہیں طلاق یا علاحدگی کا سامنا تھا)، اور جس عورت سے بھی وہ شادی کرتے، وہ ان سے محبت کرنے لگتی اور ان پر فریفتہ ہو جاتی۔"

پھر واقدی نے کہا:
"انہیں زہر پلایا گیا اور وہ بچ گئے، پھر زہر پلایا گیا اور بچ گئے، پھر آخری بار جس میں انہوں نے وفات پائی۔"

جب ان کی وفات کا وقت قریب آیا تو معالج (طبیب) جو ان کے پاس آتا تھا، نے کہا:
"یہ شخص ہے جس کے زہر نے آنتوں کو کاٹ دیا ہے۔"

تب حضرت حسین (رض) نے کہا:
"اے ابومحمد (یعنی اے حسن)! مجھے بتاؤ، تمہیں کس نے زہر پلایا؟"

فرمایا: "اے میرے بھائی! کیوں پوچھتے ہو؟"

حسین نے کہا: "میں اللہ کی قسم! تمہیں دفنانے سے پہلے اسے قتل کر دوں گا، یا اگر وہ کسی اور علاقے میں ہو تو میں اس کے پاس جانے کی مشقت اٹھاؤں گا۔"

حسن نے فرمایا:
"اے میرے بھائی! یہ دنیا تو فنا ہو جانے والی راتیں ہیں، اسے چھوڑ دو یہاں تک کہ میں اور وہ اللہ کے حضور ملیں۔"
اور انہوں نے اس کا نام بتانے سے انکار کر دیا۔

اور میں نے بعض لوگوں سے سنا ہے کہ معاویہ نے اپنے بعض خادموں کے ذریعے زہر پلوانے کی کوشش کی تھی۔

محمد بن سعد نے کہا: ہمیں یحییٰ بن حماد نے، انہیں ابوعوانہ نے، انہیں مغیرہ نے، انہیں ام موسیٰ نے بتایا کہ
جعدہ بنت اشعث بن قیس نے حسن (رض) کو زہر پلایا، جس کی وجہ سے وہ ایک بیماری میں مبتلا ہوئے۔
"ان کے نیچے ایک طشت رکھا جاتا تھا اور دوسرا اٹھایا جاتا تھا، تقریباً چالیس دن تک۔"

اور مشہور یہ ہے کہ ان کی وفات سنہ 49 ہجری میں ہوئی، جیسا کہ ہم بیان کر چکے ہیں۔
اور بعض نے کہا: سنہ 50 ہجری میں وفات پائی۔
اور بعض نے کہا: سنہ 51 یا سنہ 58 ہجری میں۔
(اور اللہ تعالیٰ ہی صحیح جانتا ہے)۔

[البدایۃ والنہایۃ-امام ابن کثیرؒ: (ج:11، ص:180)]




خلاصہ اور اہم نکات
زہر دینے کا واقعہ:
حضرت حسن کو تین بار زہر پلایا گیا۔ پہلی دو بار بچ گئے، مگر تیسری بار زہر نے ان کی آنتوں کو کاٹ دیا اور چالیس دن تک تکلیف میں رہنے کے بعد وفات پائی۔

زہر دینے والی شخصیت جعدہ بنت اشعث تھیں (جو ان کی بیوی تھیں)۔ بعض روایات میں معاویہ کے ملوث ہونے کا اشارہ بھی ملتا ہے۔

بھائی حسین سے گفتگو:
حضرت حسین نے زہر دینے والے کو قتل کرنے کا عزم ظاہر کیا، مگر حضرت حسن نے انہیں روکا اور کہا کہ یہ دنیا فانی ہے، معاملہ اللہ پر چھوڑ دو۔

تدفین کا تنازع:
حضرت حسن کی خواہش تھی کہ وہ نبی کریم ﷺ کے پہلو میں (حضرت عائشہ کے حجرے میں) دفن کیے جائیں۔ حضرت عائشہ نے اجازت دے دی، مگر بنی امیہ (خاص طور پر مروان بن حکم) نے اسے روک دیا اور اسے ظلم قرار دیا گیا۔

ابوہریرہ نے اس مزاحمت کو "ظلم" کہا اور حضرت حسین کو اللہ کی قسم دلائی کہ اپنے بھائی کی وصیت پر عمل کریں اور جھگڑے سے بچیں۔

چنانچہ حضرت حسن کو جنت البقیع میں دفن کیا گیا۔

جنازہ اور سوگ:
جنازے کی نماز اس وقت کے امیرِ مدینہ سعید بن عاص نے پڑھائی، اور حضرت حسین نے اسے سنت کی بنا پر امام بنایا۔
بنو ہاشم کی عورتوں نے ایک ماہ تک نوحہ کیا اور ایک سال تک سوگ (سیاہ پوشی) اختیار کی۔

وصیت:
حضرت حسن نے اپنے بھائی حسین کو وصیت کی کہ اہلِ کوفہ کے فتنے میں نہ آنا اور ان کی تحریک پر بغاوت نہ کرنا، کیونکہ نبوت و خلافت کا اجتماع نہیں ہو سکتا۔

وفات کا سال:
اکثر مورخین کے نزدیک 49 ہجری ہے، مگر 50، 51 اور 58 ہجری کے اقوال بھی موجود ہیں۔





حضرت حسنؓ کی کتنی شادیاں تھیں ؟
حضرت حسنؓ کی شادیوں کے متعلق تاریخ کی کتابوں میں مختلف اقوال ہیں، ایک قول کے مطابق حضرت نے ستر (٧٠) شادیاں کی  تھیں، دوسرا قول سات سو(٧٠٠) کا اور تیسرا قول ہزار(١٠٠٠) کا ہے۔ البتہ بیک وقت چار سے زیادہ بیویاں نکاح  میں نہیں ہوتی تھیں، اور زیادہ نکاح کرنے کی وجہ یہ تھی کہ نبی ﷺ کے نواسہ اور اہل بیت کی محبت کی وجہ سے لوگ خود پیش کش کرکے اپنی بیٹیوں کے رشتے دیتے تھے۔

حوالہ



"اور (امام ذہبیؒ) نے یہ ہرگز نہیں کہا کہ حسن (رضی اللہ عنہ) نیتِ طلاق کے ساتھ شادیاں کرتے تھے۔

اور انہوں نے (یعنی محدثین نے) امام شمس الدین ذہبی کا یہ قول نقل کیا ہے کہ:
"وہ بہت زیادہ شادیاں کرنے والے اور بہت زیادہ طلاق دینے والے تھے، انہوں نے تقریباً ستر (۷۰) عورتوں سے شادی کی۔"

اور حضرت علی بن ابی طالب (رضی اللہ عنہ) نے فرمایا:
"اے اہلِ کوفہ! حسن سے شادی نہ کرو، کیونکہ وہ بہت طلاق دینے والا ہے۔"
تو ایک شخص نے کہا: "اللہ کی قسم! ہم انہیں (خواتین سے) ضرور شادی کروائیں گے، پس وہ جس سے راضی ہوا اسے روکے رکھا اور جسے ناپسند کیا اسے طلاق دے دی۔"
(سیر اعلام النبلاء، ج۳، ص۲۵۳)

اور انہوں نے عماد الدین ابن کثیر کی تاریخ (البدایۃ والنہایۃ) سے بھی نقل کیا ہے کہ:
"حسن بن علی (رضی اللہ عنہما) بہت زیادہ شادیاں کرتے تھے اور وہ چار آزاد عورتوں (ایک ساتھ) سے جدا نہیں ہوتے تھے، اور وہ بہت طلاق دینے والے تھے۔ وہ خود کہا کرتے تھے کہ میں نے ستر (۷۰) عورتوں کو محفوظ (یعنی نکاح میں) کیا ہے۔"
اور یہ بھی ذکر کیا ہے کہ انہوں نے ایک ہی دن میں دو عورتوں کو طلاق دی۔

اور حضرت علی اہلِ کوفہ سے کہا کرتے تھے: "اسے شادی نہ کرو، کیونکہ وہ بہت طلاق دینے والا ہے۔"
تو وہ کہتے: "اللہ کی قسم! اے امیرالمؤمنین! اگر وہ ہر روز ہمارے پاس (کسی عورت کے لیے) خطبہ دے، تو ہم اسے ضرور شادی کرا دیں گے، جس سے چاہے، رسول اللہ ﷺ کی نسب سے (دُوری اور) قرابت کی طلب میں (یعنی اس سے رشتہ جوڑنے کی خواہش میں)۔"

حضرت حسن (رضی اللہ عنہ) سے منقول اس روایت کا جواب:

میں کہتا ہوں (یعنی اس محقق کا قول ہے) اور اللہ سے توفیق مانگتا ہوں:

"میں نے اس قصے کو اس کی تمام طرق اور اسناد کے ساتھ تلاش کیا جو اس کے بارے میں روایت کی گئی ہیں، تو میں نے پایا کہ یہ (قصہ) اپنی تمام سندوں سے ثابت اور صحیح نہیں ہے۔"

پس یہ اثر جو حسن (رضی اللہ عنہ) کی طرف منسوب کیا جاتا ہے، اسے ابن ابی شیبہ نے اپنی مصنف میں حاتم بن اسماعیل سے، انہوں نے جعفر (یہ جعفر مشہور ہیں جعفر صادق کے نام سے، جو اُن بارہ ائمہ میں سے ہیں جن میں روافض (شیعہ) غلو کرتے ہیں) بن محمد سے، انہوں نے اپنے والد محمد (جنہیں باقر کا لقب دیا جاتا ہے، اور یہ بھی بارہ ائمہ میں سے ہیں جن میں روافض غلو کرتے ہیں، اور انہیں 'باقر' اس لیے کہا جاتا ہے کہ انہوں نے علوم کو چیر کر نکالا یعنی شگافتہ کیا) بن علی بن الحسین سے روایت کیا ہے۔

اور اس باب میں جو بھی آثار (روایات) وارد ہوئی ہیں، ان کا مدار (مرکز) محمد بن علی بن الحسین بن علی بن ابی طالب پر ہے۔

اور یہ (محمد بن علی، یعنی امام باقر) خود حجہ (معتبر راوی) ہیں، جیسا کہ زہری، نسائی (طبقات الحفاظ للسیوطی: ۱/۵۱)، ابن سعد اور عجلی (تہذیب التہذیب لابن حجر: ۹/۳۱۱) وغیرہ نے کہا ہے۔

البتہ ان (امام باقر) کی نبی ﷺ اور اپنے جدّ امجد (علی، حسن، حسین) سے روایات مرسل ہیں، کیونکہ انہوں نے انہیں (براہِ راست) نہیں پایا۔ جیسا کہ علائی نے کہا ہے:
"انہوں نے حسن، حسین اور اپنے سے اونچے جد (یعنی علی) سے مرسلاً روایت کیا ہے۔"
(تحفۃ التحصیل للعراقی: ۱/۲۸۲، اور جامع التحصیل للعلائی: ۱/۲۶۶)

اور امام ذہبی نے سیر میں کہا ہے:
"انہوں نے اپنے دو جدوں (نبی ﷺ اور علی رضی اللہ عنہ) سے مرسلاً روایت کیا، اور اپنے دو جدوں (حسن اور حسین) سے بھی مرسلاً۔"
(سیر اعلام النبلاء، ۴/۱۰۴)
اور اسی طرح ابن حجر نے تہذیب التہذیب (۹/۳۱۱) میں کہا ہے۔

پس جس شخص (محمد بن علی الباقر) نے یہ روایت بیان کی ہے، وہ (اپنے جدّوں سے) مرسل راوی ہے۔ اور مرسل (روایت) محدثین کے نزدیک مقبول نہیں، کیونکہ یہ ضعیف حدیث کی اقسام میں سے ہے۔

اور اس قصے کے (باطل اور) صحیح نہ ہونے کی دلیل اس کا معنوی طور پر نامعقول ہونا بھی ہے، دو پہلوؤں سے:

پہلا پہلو: یہ کہ حضرت علی (رضی اللہ عنہ) نے اس مرسل اثر میں اہلِ کوفہ کو اس (طلاق کی کثرت) پر ڈانٹا، اور حسن اس فعل پر (بار بار شادی اور طلاق) جاری رہے، اور وہ اس سے شادی کرتے رہے اور وہ (کوفی) ان کی شادی کرواتے رہے، پھر بھی حضرت علی (جو ان کے والد اور رسول اللہ ﷺ کے خلیفہ ہیں) نے انہیں اس فعل سے نہیں روکا۔ کیا اس فعل سے نہ روکنا، باوجود اس کی قدرت کے، حضرت علی (رضی اللہ عنہ) کے حق میں باعثِ قدح (نقصِ عدالت) نہیں ہے؟! (جب کہ ایسا ہرگز نہیں ہے)۔

دوسرا پہلو: یہ کہ حضرت علی (رضی اللہ عنہ) نے اس اثر کے مطابق حسن کے فعل کا انکار کیا اور اہلِ کوفہ کے عمل کا انکار کیا، اور نہ تو ان کی موافقت کی اور نہ انہیں اس فعل پر قرار دیا۔ اور ان کا یہ انکار اس بات کی دلیل ہے کہحسن کا فعل (طلاق کی کثرت) حجت نہیں، کیونکہ کسی صحابی کے قول یا فعل پر عمل کرنے کی شرط یہ ہے کہ دوسرے صحابہ اس کی مخالفت نہ کریں۔ اور یہاں حضرت علی (جو ان کے والد اور ان سے زیادہ فقہ و علم والے ہیں) نے ان کی مخالفت کی ہے (اور یہ اس قصے کی فرضی صحت کی صورت میں ہے)۔ واللہ اعلم۔

پھر کیا یہ بات رسول اللہ ﷺ کی بیٹی (فاطمہ) کے بیٹے، جنت کے نوجوانوں کے سردار (جیسا کہ نبی ﷺ نے صحیح حدیث میں فرمایا: "حسن اور حسین جنت کے نوجوانوں کے سردار ہیں") کے شایانِ شان ہے، اور وہ لوگ جنہوں نے نبی ﷺ کی گود میں پرورش پائی، اور انہیں زہد، ورع، علم، حلم، فقہ، صبر، حرام شہوات سے دوری، بلکہ شبہات سے دوری، اور مروّت کو نقصان پہنچانے والی باتوں سے دوری، اور پست اور حقیر کاموں سے دُوری، اور اللہ اور آخرت کی اعلیٰ منزلوں کی طرف رغبت سکھائی گئی۔

کیا اس سب کے بعد ہم ان کے بارے میں کہہ سکتے ہیں کہ وہ عورتوں سے شادی کرنے والے اور انہیں طلاق دینے والے تھے، محض دنیوی اور پست شہوات کی طلب اور لالچ میں؟

حاشا! ان کی ذات اس سے پاک ہے، اور ان کے والد، والدہ، اور ان کے نبی والد (محمد بن عبداللہ ﷺ) پر درود ہو۔



خلاصہ:
حضرت حسن بن علی (رضی اللہ عنہما) کے بارے میں جو روایت ہے کہ وہ بہت زیادہ شادیاں کرتے اور طلاق دیتے تھے، وہ سنداً ضعیف اور منقطع (مرسل) ہے، کیونکہ اس کا واحد راوی (امام محمد باقر) اپنے جد (حسن) کو نہیں پا سکے۔

اس کے علاوہ، اس روایت کے مفہوم میں دو بڑے اشکالات ہیں: (۱) حضرت علی کا خاموش رہنا (جو ان کی شان کے خلاف ہے) اور (۲) کسی صحابی کے فعل کی مخالفت۔

نیز یہ بات حضرت حسن کے اس منصبِ عالی (سید شباب اہل الجنۃ، نبی کے نواسے) کے بالکل خلاف ہے کہ ان پر ایسا الزام لگایا جائے۔


علماء کی ایک جماعت نے ان کے بارے میں کثرتِ ازدواج اور طلاق کا ذکر ضرور کیا ہے، مگر تحقیقِ اسناد سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ان کی متعدد (70، 90، 250، 300) شادیوں کے بارے میں جو مرویات ہیں، وہ ضعیف، منقطع اور موضوع (جعلی) ہیں۔ راجح قول یہی ہے کہ ان کی معروف بیویاں تعداد میں بہت محدود تھیں، اور یہ الزام ان کی شان کے خلاف ہے۔

1. ابتدائیہ (علماء کا ذکر)
اردو ترجمہ:

"کیا حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہما بہت زیادہ شادیاں کرنے والے تھے؟

ایک سے زیادہ اہلِ علم نے ذکر کیا ہے کہ حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہما بہت زیادہ شادیاں کرنے والے اور بہت زیادہ طلاق دینے والے تھے۔

امام ابن کثیر رحمہ اللہ نے کہا:
"انہوں نے کہا: وہ بہت زیادہ شادیاں کرتے تھے، اور ان سے کبھی چار آزاد عورتیں (ایک ساتھ) جدا نہیں ہوتی تھیں، اور وہ بہت طلاق دینے والے اور بہت مہر دینے والے تھے، کہا جاتا ہے کہ انہوں نے ستر عورتوں کو (نکاح میں) محفوظ کیا (یعنی ان سے شادی کی)۔"
(البدایۃ والنہایۃ، 8/42)

اور امام ذہبی رحمہ اللہ نے بھی اسی طرح کا ذکر کیا ہے (سیر اعلام النبلاء، 3/253)۔
نیز ملاحظہ کریں: تاریخ دمشق (ابن عساکر، 13/251)، تاریخ الاسلام (ذہبی، 4/37)، اور محاضرات الادباء (راغب اصفہانی، 1/408)۔"

2. تاریخ کی روایات کے بارے میں اہم تنبیہ
اردو ترجمہ:

"لیکن ہمیں یہ ضرور معلوم ہونا چاہیے کہ تاریخ کی بہت سی روایات صحیح نہیں ہوتیں۔ اس لیے ہمیں ان سے بچ کر رہنا چاہیے، خاص طور پر جب وہ اسلام کے کسی بڑے علمبردار اور مسلمانوں کے سردار سے متعلق ہوں۔

حافظ عراقی رحمہ اللہ نے اپنی 'الفية السیرة' (ص:1) میں کہا ہے:
"طلب علم کو یہ جان لینا چاہیے کہ سیرت (تاریخ) میں صحیح اور منکر (ناقابلِ قبول) دونوں طرح کی باتیں جمع ہو جاتی ہیں۔"

اور شیخ عبدالرحمن معلمی رحمہ اللہ نے کہا:
"تاریخ کو واقعات کے ناقلین (راویوں) کے حالات جاننے کی حدیث سے زیادہ ضرورت ہے؛ کیونکہ تاریخ میں جھوٹ اور تساہل (لاپروائی) زیادہ پائی جاتی ہے۔"
(علم الرجال وأهمیته، ص:24)"

3. اصل علمی تحقیق (ڈاکٹر علی محمد صلالبی کا مؤقف)
اردو ترجمہ:

"اور حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہما کے بارے میں جو کچھ آیا ہے کہ انہوں نے 70 سے زائد، یا 90، یا اس سے بھی زیادہ عورتوں سے شادی کی، تو ہمیں ان روایات کی کوئی ایسی سند نہیں ملی جس پر حجت قائم ہو سکے۔ پس انہیں قبول کرنے میں توقف (رک جانا) اور ان پر اعتماد کرنے میں تأنی (سوچ بچار) کرنی چاہیے۔

ڈاکٹر علی محمد صلالبی نے اپنی کتاب (حضرت حسن بن علی، ص:27) میں کہا ہے:

"مورخین نے ان کی جو بیویاں گنائی ہیں، وہ یہ ہیں:*
خولہ فزازیہ، جعدہ بنت اشعث، عائشہ خثعمیہ، ام اسحاق بنت طلحہ بن عبیداللہ تیمی، ام بشیر بنت ابی مسعود انصاری، ہند بنت عبدالرحمن بن ابی بکر، ام عبداللہ (بنت شلیل بن عبداللہ)، ایک ثقفی عورت، ایک بنی عمرو بن اہیم منقری عورت، اور ایک بنی شیبان (آل ہمام بن مرہ) کی عورت۔

"اور شاید یہ تعداد اس سے کچھ زیادہ ہو، لیکن یہ جیسا کہ آپ دیکھ رہے ہیں، اس مروجہ (مشہور) کثرت سے کوئی تعلق نہیں رکھتی، اور اس زمانے (کے معاشرتی رواج) کے اعتبار سے یہ کوئی غیر معمولی بات نہیں تھی۔"

*"اور رہی وہ روایات جو راویوں نے بیان کی ہیں کہ انہوں نے 70، یا 90، یا 250، یا 300 شادیاں کیں، یا اس سے بھی زیادہ، تو یہشذوذ (غیر معمولی اور ناقابلِ اعتبار) کی حد میں ہیں، اور یہ مروجہ کثرت موضوع (جعلی اور گھڑی ہوئی) ہے۔"

پھر انہوں نے ان تمام مرویات کو تخریج کیا اور ان کے ضعف اور وہان (کمزوری) کو بیان کیا (ملاحظہ کریں: ص 28-31)۔

پھر انہوں نے (ص:31) کہا:
"یقیناً حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ کی شادیوں کی خیالی اعداد و شمار کی طرف اشارہ کرنے والی تاریخی روایاتسنداً ثابت نہیں ہیں، اور اس لیے وہ قابلِ اعتماد نہیں ہیں، کیونکہ ان کے گرد شبہات اور طعنے موجود ہیں۔"

"اور یہاں سےعلمِ جرح و تعدیل اور روایات پر حکم لگانے کی اہمیت واضح ہوتی ہے، اور وہ عظیم کردار جو محدثین نے اس قسم کی جھوٹی خبروں کو بے نقاب کرنے میں ادا کیا ہے۔"

"اس لیے ہمصدرِ اسلام کی تاریخ پر تحقیق کرنے والوں کو نصیحت کرتے ہیں کہ وہ اس طرح کی روایات پر تنقید کرنے پر توجہ دیں، تاکہ صحیح کو سقیم (بیمار) سے ممتاز کر سکیں، اور امّت کی ایک عظیم خدمت کریں، اور اس طرح کے (علمی) دھوکے میں نہ پڑیں جس میں کچھ بزرگ (محققین) اپنی نیک نیتی کے باوجود، صرف ضعیف اور موضوع روایات پر انحصار کرنے کی وجہ سے پڑ گئے۔"

4. ابن کثیر کا اشارہ (نتیجہ)

"اور شاید حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ نے خود اس طرف اشارہ کیا ہے کہ اس سلسلے میں جو کچھ آیا ہے، وہ صحیح نہیں، کیونکہ انہوں نے کہا: 'يقال إنه أحصن سبعين امرأة' (یعنی: کہا جاتا ہے کہ اس نے ستر عورتوں کو محفوظ کیا)۔

اپنے کلام کو 'یقال' (کہا جاتا ہے) کے ساتھ شروع کرنا (یعنی تمریض/کمزوری کے ساتھ بیان کرنا) اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ یہ بات ثابت نہیں، یا کم از کم اس کی کوئی ایسی سند نہیں جس پر حجت قائم ہو۔

واللہ تعالیٰ اعلم۔"


خلاصہ:
اس پوری تحقیق کا نچوڑ یہ ہے:

دعویٰ (Claim): بہت سی تاریخی کتابوں میں حضرت حسن رضی اللہ عنہ کو "مزواج" (کثرت سے شادی کرنے والا) اور "مطلاق" (کثرت سے طلاق دینے والا) کہا گیا ہے، اور یہ تعداد 70 سے 300 تک بیان کی گئی ہے۔

حقیقت (Reality):

یہ تمام روایات سنداً ضعیف، منقطع اور ناقابلِ حجت ہیں۔ ان کا مدار ایک ہی مرسل راوی (امام محمد باقر) پر ہے، جنہوں نے اپنے جد (حسن) کو پایا ہی نہیں تھا۔

محققین (جیسے ڈاکٹر صلالبی) نے ان روایات کو تخریج کرکے ثابت کیا ہے کہ یہ "موضوع" (جعلی) یا "شاذ" (غیر معتبر) ہیں۔

معروف بیویاں: حضرت حسن کی جو بیویاں تاریخ میں معروف ہیں، ان کی تعداد بہت محدود (تقریباً 10-12) ہے، جو اس دور کے کسی سردار اور خلیفہ کے لیے بالکل معمولی اور عام بات تھی۔

ابن کثیر کا انداز: خود ابن کثیر نے جب یہ بات کہی تو "يقال" (کہا جاتا ہے) کا لفظ استعمال کیا، جو علمِ حدیث میں "تمریض" (کمزوری کی علامت) ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ خود اس کی صحت کو یقینی نہیں سمجھتے تھے۔

حتمی فیصلہ: حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہما کی شان میں "ستر یا اس سے زیادہ شادیوں" کا الزام علمی اعتبار سے باطل اور ناقابلِ قبول ہے، اور ایسی روایات کو تاریخ کے بجائے موضوعات (جعلیات) کے زمرے میں رکھنا چاہیے۔ ان کی ذات اس سے پاک و منزہ ہے۔





No comments:

Post a Comment