اور یہ دو قسموں پر ہے:
1. محمود (قابلِ تعریف) فضل: جیسے علم اور حلم (بردباری) کا فضل۔
2. مذموم (قابلِ مذمت) فضل: جیسے غضب کا اس حد سے زیادہ ہونا جو اس کے لیے مناسب ہو۔
تاکہ (وہ) {تَفْضِيلًا} (فضیلت والے) ہو جائیں۔
[المفردات في غريب القرآن-امام الراغب الأصفهاني: ص 639]
1. دعا میں فضل و رحمت کا سوال:
· نبی کریم ﷺ نے اس موقع پر اللہ تعالیٰ سے فضل (زیادتی اور احسان) اور رحمت (خاص عنایت) مانگی، حالانکہ آپ ﷺ کو مادی طور پر کسی چیز کی ضرورت تھی۔ اس سے معلوم ہوا کہ دعا میں اللہ سے اس کے فضل اور رحمت کا سوال کرنا سنت ہے، کیونکہ یہی وہ دو چیزیں ہیں جن کے بغیر انسان کچھ نہیں پا سکتا۔
2. رزق اور حاجت صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے:
· آپ ﷺ کا فرمان "فَإِنَّهُ لَا يَمْلِكُهَا إِلَّا أَنْتَ" (ان دونوں کا مالک تیرے سوا کوئی نہیں) اس بات کی دلیل ہے کہ ہر قسم کا رزق اور ہر حاجت صرف اللہ کے قبضۂ قدرت میں ہے، اس لیے اس سے ہی مانگنا چاہیے۔
3. دعا کی فوری قبولیت:
· آپ ﷺ کے دعا کرنے کے فوری بعد ہی بکری بطور ہدیہ آگئی، جیسا کہ حدیث میں "فَأُهْدِيَتْ" (پس ہدیہ پیش کیا گیا) کے لفظ سے ظاہر ہے۔ اس میں فاء تعقیب (فوری ترتیب) ہے، جو دعا کی قبولیت کی سرعت کو ظاہر کرتی ہے۔
4. فضل اور رحمت میں فرق:
5. صبر اور انتظار کی تعلیم:
· آپ ﷺ نے مادی نعمت (بکری) ملنے کے باوجود رحمت کا انتظار فرمایا۔ اس سے معلوم ہوا کہ مومن کو دنیاوی نعمتوں پر اکتفا نہیں کرنا چاہیے، بلکہ ہمیشہ اللہ کی رحمت اور آخرت کی بھلائی کا طلب گار رہنا چاہیے۔
6. مہمان نوازی کا ادب:
· اس حدیث سے مہمان نوازی کا ادب بھی معلوم ہوتا ہے کہ مہمان کی آمد پر اس کی ضیافت کا اہتمام کرنا سنت ہے، اور اگر گھر میں کچھ نہ ہو تو اللہ سے دعا کرنی چاہیے، نہ کہ مہمان کو بے عزتی کا سامنا کرنا پڑے۔
---
📝 خلاصہ
یہ حدیث نبی کریم ﷺ کی اللہ پر بھروسہ، دعا میں اضطرار، اور فضل و رحمت کے طلب کا عملی نمونہ ہے۔ اس میں دعا کی قبولیت کی سرعت، رزق صرف اللہ کے ہاتھ میں ہونے کا عقیدہ، اور دنیاوی نعمت کے باوجود آخرت کی رحمت کا انتظار کرنے کی تعلیم ہے۔ یہ حدیث صحیح ہے اور اس پر عمل کرنا سنت ہے۔
حضرت عبداللہ بن مسعود سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
«سَلُوا اللهَ مِنْ فَضْلِهِ؛ فَإِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ يُحِبُّ أَنْ يُسْأَلَ»، وَأَفْضَلُ الْعِبَادَةِ انْتِظَارُ الْفَرَجِ.
ترجمہ:
اللہ سے اس کے فضل کا سوال کیا کرو کیونکہ اللہ کو یہ پسند ہے کہ اس سے سوال کیا جائے، اور افضل عبادت (دعا مانگتے رہنے کے اثر سے) کشادگی(خوشحالی) کا انتظار کرنا ہے۔
[جامع الأحاديث-السيوطي:13138، مشكاة المصابيح:2237]
تخریج:
[سنن الترمذي:3571، تفسير الطبري:9257، الفرج بعد الشدة لابن أبي الدنيا:2، الفرج بعد الشدة للتنوخي:7، المعجم الكبير للطبراني:10088، المعجم الأوسط للطبراني:5169، شعب الإيمان للبيهقي:10007، مصابيح السنة للبغوي:1602]
...اور اللہ سے اس کا فضل مانگا کرو...
[سورۃ النساء:32]
شرح عبد الحق الدهلويؒ(متوفی 1052ھ):
یہ (بات) صبر اور شکایت (اور بے صبری) کو ترک کرنے کی طرف اشارہ ہے۔
اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
{إِنَّمَا يُوَفَّى الصَّابِرُونَ أَجْرَهُمْ بِغَيْرِ حِسَابٍ}
[سورۃ الزمر: ۱۰]
(بیشک صبر کرنے والوں کو ان کا اجر بے حساب (پورا) دیا جائے گا۔)
[لمعات التنقيح في شرح مشكاة المصابيح:2237]
شرح ابن الملكؒ(متوفی 854ھ):
"سَلُوا الله مِن فضلِه"
یعنی اپنی حاجتیں اللہ کریم سے طلب کرو۔
"فإن الله يحبُّ أنْ يُسألَ"
یعنی اللہ کو یہ پسند ہے کہ اس سے حاجتیں مانگی جائیں۔
"وأفضلُ العبادةِ انتظارُ الفَرَج"
یعنی مصیبت کے نازل ہونے پر شکایت ترک کرنا، اس پر صبر کرنا، اور اس کے ختم ہونے (فرج) کا انتظار کرنا –
کیونکہ مصیبت میں صبر کرنا اللہ تعالیٰ کی تقدیر کے آگے جھک جانا ہے، اور یہی بہترین عبادت ہے۔
[شرح المصابيح لابن الملك:1602]
شرح مظهر الدين الزيدانيؒ(متوفی 727ھ):
آپ ﷺ کا فرمان:
"سلُوا الله من فضلِهِ؛ فإنَّ الله يحبُّ أن يُسألَ"
یعنی: اپنی حاجتوں کو اللہ سے طلب کرو؛ کیونکہ وہ کریم ہے اور کریم کو یہ پسند ہے کہ اس سے حاجتیں مانگی جائیں۔ وہ غنی ہے اور حاجات پوری کرنے پر قادر ہے۔
آپ ﷺ کا فرمان:
"وأفضلُ العبادةِ انتظارُ الفَرَج"
یعنی: جب کسی شخص پر کوئی بلا (مصیبت یا غم) آئے، تو وہ
شکایت نہ کرے،
صبر کرے،
اور فرج (بلا کے ختم ہونے اور غم کے دور ہونے) کا انتظار کرے،
تو یہ عبادت (کا بہترین حصہ) ہے؛
کیونکہ مصیبت میں صبر کرنا اور اللہ کی تقدیر کے آگے جھک جانا بہترین عبادت ہے۔
اور آپ ﷺ کا یہ فرمان:
"أفضل العبادة انتظار الفرج"
کے بعد (یعنی اس کے ساتھ ہی) یہ فرمان:
"يحب أن يسأل"
کا مفہوم یہ ہے کہ:
تم اللہ سے بلا اور غم کو دور کرنے کے لیے دعا کرو،
اور فرج (کشائش) کا انتظار کرو،
اور دعا کی قبولیت میں جلدی نہ کرو،
اور دعا کو اس وجہ سے (بھی) نہ چھوڑو کہ اس کی قبولیت میں تاخیر ہو رہی ہے۔
[المفاتيح في شرح المصابيح:1602]
شرح الملا على القاريؒ(متوفی 1014ھ):
"يُحِبُّ أَنْ يُسْأَلَ"
یعنی وہ (اللہ) پسند کرتا ہے کہ اس سے (اس کا فضل) مانگا جائے،
اور اس میں اس (بات) کی طرف اشارہ ہے کہ کوئی بھی اس (اللہ) کے مثل (اور برابر) نہیں ہو سکتا (یعنی اس کا کوئی ہمسر نہیں، اس لیے اس سے ہی مانگنا چاہیے)۔
"وَأَفْضَلُ الْعِبَادَةِ انْتِظَارُ الْفَرَجِ"
یعنی مصیبت اور غم کے ختم ہونے کا انتظار کرنا،
اور یہ (انتظار) اس طرح ہے کہ غیر اللہ (یعنی مخلوق) کے سامنے شکایت کو ترک کر دیا جائے۔
اور اس (انتظار) کو بہترین عبادت اس لیے کہا گیا ہے
کیونکہ مصیبت میں صبر کرنا اللہ کی تقدیر کے آگے مکمل اطاعت (انقیاد) ہے،
اور یہ اللہ کا فضل ہے، جسے وہ جسے چاہے عطا کرتا ہے۔
[مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح:2237]
📜 شرح مناویؒ(متوفی 1031ھ):
"(سَلُوا الله)"
یعنی اللہ سے دعا کرو تاکہ وہ بلا (مشقت اور بیماری) کو دور کرے،
اور ایک قول یہ ہے کہ "الدعاء" (یعنی دعا کرنا) ہی مراد ہے۔
"(مِن فَضْلِهِ)"
یعنی اس کے اس احسان و فضل کی زیادتی سے جو اس نے تم پر کیا ہے۔
طیبی نے کہا:
"الفضل" کا معنی زیادتی ہے، اور ہر وہ عطیہ جو دینے والے پر لازم نہ ہو (یعنی فرض نہ ہو) اسے بھی "فضل" کہا جاتا ہے۔
اور اس (مقام) سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا عطا کرنا بندے کے استحقاق (کسی لائقیت یا عمل) کی وجہ سے نہیں ہے،
بلکہ یہ اس کا محض فضل اور احسان ہے جو اس کی طرف سے بغیر کسی سابقہ سبب کے ہے۔
اور کوئی چیز تمہیں (اللہ سے) سوال کرنے سے نہ روکے۔
پھر اس (حکم) کی علت (وجہ) یہ بیان فرمائی:
"فَإِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ أَنْ يُسْأَلَ"
یعنی اللہ تعالیٰ کو یہ پسند ہے کہ اس سے (اس کا فضل) مانگا جائے،
کیونکہ اس کے خزانے بھرے ہوئے ہیں،
رات اور دن کی مسلسل عطا (نفقہ) سے وہ خالی نہیں ہوتے۔
پس جب (نبی ﷺ) نے اس زبردست طریقے سے سوال (دعا) کی ترغیب دی،
اور یہ جان لیا کہ بعض لوگ دعا کی قبولیت میں تاخیر کی وجہ سے دعا کرنا چھوڑ دیتے ہیں،
تو آپ ﷺ نے فرمایا:
"وَأَفْضَلُ الْعِبَادَةِ انْتِظَارُ الْفَرَجِ"
یعنی بہترین عبادت (دعا میں) فرج (نزولِ رحمت اور قبولیتِ دعا) کا انتظار کرنا ہے،
یعنی بہترین دعا یہ ہے کہ دعا کرنے والا (دعا کی) قبولیت کا انتظار کرے،
اور اس (انتظار) میں اپنی عاجزی، گڑگڑاہٹ اور عبادت (جو اللہ کو محبوب ہے) میں اضافہ کرے۔
اور یہی مراد اللہ تعالیٰ کے قول "فإن الله يحب..." (اللہ کو پسند ہے کہ اس سے سوال کیا جائے) سے ہے۔
[فيض القدير شرح الجامع الصغير - المناوي: حدیث 4701]
شرح الصنعانیؒ(متوفی 1182ھ):
طیبیؒ نے کہا:
"الفضل" کا معنی زیادتی ہے، اور ہر وہ عطیہ جو دینے والے پر لازم نہ ہو (یعنی فرض نہ ہو) اسے بھی "فضل" کہا جاتا ہے۔
اور اس (مقام) سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا عطا کرنا بندے کے استحقاق (کسی لائقیت یا عمل) کی وجہ سے نہیں ہے، بلکہ یہ اس کا محض فضل اور احسان ہے جو اس کی طرف سے بغیر کسی سابقہ سبب کے ہے۔
"فَإِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ أَنْ يُسْأَلَ"
یعنی (اللہ تعالیٰ کو یہ پسند ہے) کہ اس سے (اس کا فضل) مانگا جائے،
کیونکہ اس کے خزانے بھرے ہوئے ہیں، اور اس پر (خرچ کرنے سے) کوئی کمی نہیں آتی۔
"وَأَفْضَلُ الْعِبَادَةِ انْتِظَارُ الْفَرَجِ"
یعنی بہترین عبادت (دعا میں) فرج (نزولِ رحمت اور قبولیتِ دعا) کا انتظار کرنا ہے،
یعنی بہترین دعا یہ ہے کہ دعا کرنے والا (دعا کی) قبولیت کا انتظار کرے،
اور اس (انتظار) میں اپنی عاجزی، عبادت اور تذلل (گڑگڑاہٹ) میں اضافہ کرے۔
[التنوير شرح الجامع الصغير - الصنعاني: حدیث 4685]









No comments:
Post a Comment