Thursday, 16 July 2026

فضل کے معانی، اقسام، فضائل

 

...اور اللہ سے اس کا فضل مانگا کرو...
[سورۃ النساء:32]

فضل کے معنی مہربانی، عنایت، کرم، فضیلت، بڑائی، بزرگی، بخشش، عطا، احسان، زیادتی ہے۔





📜عربی لغت میں:

"الْفَضْلُ" (فضل) کا معنی ہے: اقتصاد (اعتدال) سے زیادتی۔

اور یہ دو قسموں پر ہے:

1. محمود (قابلِ تعریف) فضل: جیسے علم اور حلم (بردباری) کا فضل۔

2. مذموم (قابلِ مذمت) فضل: جیسے غضب کا اس حد سے زیادہ ہونا جو اس کے لیے مناسب ہو۔

"الْفَضْلُ" کا استعمال محمود (اچھی) چیزوں میں زیادہ ہوتا ہے،
جبکہ "الْفُضُولُ" (فضول) کا استعمال مذموم (بری) چیزوں میں ہوتا ہے۔
---
جب "الْفَضْلُ" کسی دو چیزوں میں سے ایک کی دوسری پر زیادتی کے معنی میں استعمال ہو، تو اس کی تین اقسام ہیں:

پہلی قسم: جنس (نوعِ عام) کے اعتبار سے فضل
جیسے جانور کی جنس کا نباتات (پودوں) کی جنس پر فضل۔

دوسری قسم: نوع (نوعِ خاص) کے اعتبار سے فضل
جیسے انسان کا دوسرے جانوروں پر فضل۔
اسی پر اللہ کا قول ہے:
{وَلَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِي آدَمَ}
(اور ہم نے اولادِ آدم کو (دوسری مخلوق پر) فضیلت دی)
(سورۃ الإسراء: ۷۰)

تاکہ (وہ) {تَفْضِيلًا} (فضیلت والے) ہو جائیں۔

تیسری قسم: ذات (انفرادی) کے اعتبار سے فضل
جیسے ایک شخص کا دوسرے شخص پر فضل۔
---
پہلی دو قسمیں (جنس اور نوع کے اعتبار سے فضل) ذاتی (جوهري) ہیں،
جس میں ناقص (کمتر) چیز کے لیے اپنی کمی کو دور کرنا اور فضل حاصل کرنا ممکن نہیں،
جیسے گھوڑا اور گدھا انسان کے لیے مخصوص فضیلت حاصل نہیں کر سکتے۔

تیسری قسم (ذات کا فضل) عرضی (عارضی) ہو سکتی ہے،
جس میں اسے حاصل کرنے کی گنجائش موجود ہے۔
اور اسی قسم کا فضل ہے جو ان آیات میں مذکور ہے:
· {وَاللَّهُ فَضَّلَ بَعْضَكُمْ عَلَى بَعْضٍ فِي الرِّزْقِ}
    (اور اللہ نے تم میں سے بعض کو بعض پر رزق میں فضیلت دی ہے)۔
(سورۃ النحل: ۷۱)

· {لِتَبْتَغُوا فَضْلًا مِنْ رَبِّكُمْ}
    (تاکہ تم اپنے رب کا فضل (مال اور کمائی) تلاش کرو)۔
(سورۃ الإسراء: ۱۲)

· {الرِّجَالُ قَوَّامُونَ عَلَى النِّسَاءِ بِمَا فَضَّلَ اللَّهُ بَعْضَهُمْ عَلَى بَعْضٍ}
    (مرد عورتوں پر نگران ہیں، اس وجہ سے کہ اللہ نے ان میں سے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے)۔
(سورۃ النساء: ۳۴)
اس آیت سے مراد وہ ذاتی فضیلت ہے جو مرد کو عورت پر دی گئی ہے (طاقت، قوت، مال، جاه وغیرہ)۔

· {وَلَقَدْ فَضَّلْنَا بَعْضَ النَّبِيِّينَ عَلَى بَعْضٍ}
    (اور ہم نے بعض پیغمبروں کو بعض پر فضیلت دی)۔
(سورۃ الإسراء: ۵۵)

· {فَضَّلَ اللَّهُ الْمُجَاهِدِينَ عَلَى الْقَاعِدِينَ}
    (اللہ نے مجاہدوں کو بیٹھنے والوں پر فضیلت دی)۔
(سورۃ النساء: ۹۵)
---

اور ہر وہ عطیہ جو دینے والے پر لازم نہ ہو (یعنی فرض نہ ہو)، اسے بھی "فَضْلٌ" کہا جاتا ہے،
جیسے:
· {وَاسْأَلُوا اللَّهَ مِنْ فَضْلِهِ}
    (اور اللہ سے اس کا فضل مانگو)۔
(سورۃ النساء: ۳۲)

· {ذَلِكَ فَضْلُ اللَّهِ}
    (یہ اللہ کا فضل ہے)۔
(سورۃ المائدۃ: ۵۴)

· {ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيمِ}
    (وہ بڑے فضل والا ہے)۔
(سورۃ آل عمران: ۷۴)

· {قُلْ بِفَضْلِ اللَّهِ}
    (کہو: اللہ کے فضل سے)۔
(سورۃ یونس: ۵۸)

· {وَلَوْلَا فَضْلُ اللَّهِ}
    (اور اگر اللہ کا فضل نہ ہوتا)۔
(سورۃ النساء: ۸۳)

[المفردات في غريب القرآن-امام الراغب الأصفهاني: ص 639]






حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا:
نبی کریم ﷺ کے ہاں ایک مہمان آیا (اور آپ کے پاس مہمان کی ضیافت کے لیے کچھ نہ تھا)۔ چنانچہ آپ ﷺ نے اپنی ازواج مطہرات کے پاس کھانا تلاش کرنے کے لیے پیغام بھیجا، مگر ان میں سے کسی ایک کے پاس بھی (کھانا) نہ پایا۔
تو آپ ﷺ نے دعا کی:
«اللهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ  وَرَحْمَتِكَ؛ فَإِنَّهُ لَا يَمْلِكُهَا إِلَّا أَنْتَ»
ترجمہ:
"اے اللہ! میں تجھ سے تیرے فضل اور تیری رحمت کا سوال کرتا ہوں، کیونکہ ان دونوں (فضل و رحمت) کا مالک تیرے سوا کوئی نہیں۔"
پھر آپ ﷺ کو (کسی کی طرف سے) بھنی ہوئی بکری بطور ہدیہ پیش کی گئی۔
تو آپ ﷺ نے فرمایا:
"یہ (بکری) اللہ کے فضل (اور احسان) کی وجہ سے (آئی) ہے، اور ہم رحمت کا انتظار کر رہے ہیں۔"

تخریج:
---
🏷️ حکم (درجہ)
یہ حدیث صحيح ہے۔
· امام ہیثمی نے "مجمع الزوائد" میں کہا:
  "اس کے راوی صحیح (بخاری و مسلم) کے راوی ہیں، سوائے محمد بن زیاد البرجمی کے، اور وہ ثقہ ہیں۔"
[مجمع الزوائد للهیثمی:3674 (10/159)]
· علامہ البانی نے اس حدیث کو "صحيح" قرار دیا ہے۔
[سلسلة الأحاديث الصحیحة:1543، صحيح الجامع:1278]
---
💡 شرح و اہمیت

1. دعا میں فضل و رحمت کا سوال:

· نبی کریم ﷺ نے اس موقع پر اللہ تعالیٰ سے فضل (زیادتی اور احسان) اور رحمت (خاص عنایت) مانگی، حالانکہ آپ ﷺ کو مادی طور پر کسی چیز کی ضرورت تھی۔ اس سے معلوم ہوا کہ دعا میں اللہ سے اس کے فضل اور رحمت کا سوال کرنا سنت ہے، کیونکہ یہی وہ دو چیزیں ہیں جن کے بغیر انسان کچھ نہیں پا سکتا۔

2. رزق اور حاجت صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے:

· آپ ﷺ کا فرمان "فَإِنَّهُ لَا يَمْلِكُهَا إِلَّا أَنْتَ" (ان دونوں کا مالک تیرے سوا کوئی نہیں) اس بات کی دلیل ہے کہ ہر قسم کا رزق اور ہر حاجت صرف اللہ کے قبضۂ قدرت میں ہے، اس لیے اس سے ہی مانگنا چاہیے۔

3. دعا کی فوری قبولیت:

· آپ ﷺ کے دعا کرنے کے فوری بعد ہی بکری بطور ہدیہ آگئی، جیسا کہ حدیث میں "فَأُهْدِيَتْ" (پس ہدیہ پیش کیا گیا) کے لفظ سے ظاہر ہے۔ اس میں فاء تعقیب (فوری ترتیب) ہے، جو دعا کی قبولیت کی سرعت کو ظاہر کرتی ہے۔

4. فضل اور رحمت میں فرق:

· جب بکری آئی تو آپ ﷺ نے اسے "فضل" (اللہ کا احسان) قرار دیا، اور رحمت کا انتظار فرمایا۔
· اس کی وجہ یہ ہے کہ فضل (جسے آپ ﷺ نے حاصل کر لیا) مادی اور عاجلہ نعمت ہے، جبکہ رحمت (جس کا انتظار ہے) آخرت کی نعمت یا دین کی مزید توفیق ہے، جو دائمی اور بہتر ہے۔

5. صبر اور انتظار کی تعلیم:

· آپ ﷺ نے مادی نعمت (بکری) ملنے کے باوجود رحمت کا انتظار فرمایا۔ اس سے معلوم ہوا کہ مومن کو دنیاوی نعمتوں پر اکتفا نہیں کرنا چاہیے، بلکہ ہمیشہ اللہ کی رحمت اور آخرت کی بھلائی کا طلب گار رہنا چاہیے۔

6. مہمان نوازی کا ادب:

· اس حدیث سے مہمان نوازی کا ادب بھی معلوم ہوتا ہے کہ مہمان کی آمد پر اس کی ضیافت کا اہتمام کرنا سنت ہے، اور اگر گھر میں کچھ نہ ہو تو اللہ سے دعا کرنی چاہیے، نہ کہ مہمان کو بے عزتی کا سامنا کرنا پڑے۔

---

📝 خلاصہ

یہ حدیث نبی کریم ﷺ کی اللہ پر بھروسہ، دعا میں اضطرار، اور فضل و رحمت کے طلب کا عملی نمونہ ہے۔ اس میں دعا کی قبولیت کی سرعت، رزق صرف اللہ کے ہاتھ میں ہونے کا عقیدہ، اور دنیاوی نعمت کے باوجود آخرت کی رحمت کا انتظار کرنے کی تعلیم ہے۔ یہ حدیث صحیح ہے اور اس پر عمل کرنا سنت ہے۔









حضرت عبداللہ بن مسعود سے روایت ہے کہ رسول اللہ  نے ارشاد فرمایا:

«سَلُوا اللهَ مِنْ فَضْلِهِ؛ فَإِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ يُحِبُّ أَنْ يُسْأَلَ»، وَأَفْضَلُ الْعِبَادَةِ انْتِظَارُ الْفَرَجِ.

ترجمہ:

اللہ سے اس کے فضل کا سوال کیا کرو کیونکہ اللہ کو یہ پسند ہے کہ اس سے سوال کیا جائے، اور افضل عبادت (دعا مانگتے رہنے کے اثر سے) کشادگی(خوشحالی) کا انتظار کرنا ہے۔

[جامع الأحاديث-السيوطي:13138، مشكاة المصابيح:2237]

تخریج:

[سنن الترمذي:3571، تفسير الطبري:9257، الفرج بعد الشدة لابن أبي الدنيا:2، الفرج بعد الشدة للتنوخي:7،  المعجم الكبير للطبراني:10088، المعجم الأوسط للطبراني:5169، شعب الإيمان للبيهقي:10007، مصابيح السنة للبغوي:1602]


...اور اللہ سے اس کا فضل مانگا کرو...

[سورۃ النساء:32]



شرح عبد الحق الدهلويؒ(متوفی 1052ھ):

یہ (بات) صبر اور شکایت (اور بے صبری) کو ترک کرنے کی طرف اشارہ ہے۔

اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

{إِنَّمَا يُوَفَّى الصَّابِرُونَ أَجْرَهُمْ بِغَيْرِ حِسَابٍ}

[سورۃ الزمر: ۱۰]

(بیشک صبر کرنے والوں کو ان کا اجر بے حساب (پورا) دیا جائے گا۔)

[لمعات التنقيح في شرح مشكاة المصابيح:2237]






شرح ابن الملكؒ(متوفی 854ھ):

"سَلُوا الله مِن فضلِه"

یعنی اپنی حاجتیں اللہ کریم سے طلب کرو۔


"فإن الله يحبُّ أنْ يُسألَ"

یعنی اللہ کو یہ پسند ہے کہ اس سے حاجتیں مانگی جائیں۔


"وأفضلُ العبادةِ انتظارُ الفَرَج"

یعنی مصیبت کے نازل ہونے پر شکایت ترک کرنا، اس پر صبر کرنا، اور اس کے ختم ہونے (فرج) کا انتظار کرنا –

کیونکہ مصیبت میں صبر کرنا اللہ تعالیٰ کی تقدیر کے آگے جھک جانا ہے، اور یہی بہترین عبادت ہے۔

[شرح المصابيح لابن الملك:1602]





شرح مظهر الدين الزيدانيؒ(متوفی 727ھ):

آپ ﷺ کا فرمان:

"سلُوا الله من فضلِهِ؛ فإنَّ الله يحبُّ أن يُسألَ"

یعنی: اپنی حاجتوں کو اللہ سے طلب کرو؛ کیونکہ وہ کریم ہے اور کریم کو یہ پسند ہے کہ اس سے حاجتیں مانگی جائیں۔ وہ غنی ہے اور حاجات پوری کرنے پر قادر ہے۔


آپ ﷺ کا فرمان:

"وأفضلُ العبادةِ انتظارُ الفَرَج"

یعنی: جب کسی شخص پر کوئی بلا (مصیبت یا غم) آئے، تو وہ


شکایت نہ کرے،


صبر کرے،


اور فرج (بلا کے ختم ہونے اور غم کے دور ہونے) کا انتظار کرے،

تو یہ عبادت (کا بہترین حصہ) ہے؛

کیونکہ مصیبت میں صبر کرنا اور اللہ کی تقدیر کے آگے جھک جانا بہترین عبادت ہے۔


اور آپ ﷺ کا یہ فرمان:

"أفضل العبادة انتظار الفرج"

کے بعد (یعنی اس کے ساتھ ہی) یہ فرمان:

"يحب أن يسأل"

کا مفہوم یہ ہے کہ:


تم اللہ سے بلا اور غم کو دور کرنے کے لیے دعا کرو،


اور فرج (کشائش) کا انتظار کرو،


اور دعا کی قبولیت میں جلدی نہ کرو،


اور دعا کو اس وجہ سے (بھی) نہ چھوڑو کہ اس کی قبولیت میں تاخیر ہو رہی ہے۔

[المفاتيح في شرح المصابيح:1602]






شرح الملا على القاريؒ(متوفی 1014ھ):


"يُحِبُّ أَنْ يُسْأَلَ"

یعنی وہ (اللہ) پسند کرتا ہے کہ اس سے (اس کا فضل) مانگا جائے،

اور اس میں اس (بات) کی طرف اشارہ ہے کہ کوئی بھی اس (اللہ) کے مثل (اور برابر) نہیں ہو سکتا (یعنی اس کا کوئی ہمسر نہیں، اس لیے اس سے ہی مانگنا چاہیے)۔


"وَأَفْضَلُ الْعِبَادَةِ انْتِظَارُ الْفَرَجِ"

یعنی مصیبت اور غم کے ختم ہونے کا انتظار کرنا،

اور یہ (انتظار) اس طرح ہے کہ غیر اللہ (یعنی مخلوق) کے سامنے شکایت کو ترک کر دیا جائے۔


اور اس (انتظار) کو بہترین عبادت اس لیے کہا گیا ہے

کیونکہ مصیبت میں صبر کرنا اللہ کی تقدیر کے آگے مکمل اطاعت (انقیاد) ہے،

اور یہ اللہ کا فضل ہے، جسے وہ جسے چاہے عطا کرتا ہے۔

[مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح:2237]





📜 شرح مناویؒ(متوفی 1031ھ):

"(سَلُوا الله)"

یعنی اللہ سے دعا کرو تاکہ وہ بلا (مشقت اور بیماری) کو دور کرے،

اور ایک قول یہ ہے کہ "الدعاء" (یعنی دعا کرنا) ہی مراد ہے۔

"(مِن فَضْلِهِ)"

یعنی اس کے اس احسان و فضل کی زیادتی سے جو اس نے تم پر کیا ہے۔

طیبی نے کہا:

"الفضل" کا معنی زیادتی ہے، اور ہر وہ عطیہ جو دینے والے پر لازم نہ ہو (یعنی فرض نہ ہو) اسے بھی "فضل" کہا جاتا ہے۔

اور اس (مقام) سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا عطا کرنا بندے کے استحقاق (کسی لائقیت یا عمل) کی وجہ سے نہیں ہے،

بلکہ یہ اس کا محض فضل اور احسان ہے جو اس کی طرف سے بغیر کسی سابقہ سبب کے ہے۔

اور کوئی چیز تمہیں (اللہ سے) سوال کرنے سے نہ روکے۔

پھر اس (حکم) کی علت (وجہ) یہ بیان فرمائی:

"فَإِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ أَنْ يُسْأَلَ"

یعنی اللہ تعالیٰ کو یہ پسند ہے کہ اس سے (اس کا فضل) مانگا جائے،

کیونکہ اس کے خزانے بھرے ہوئے ہیں،

رات اور دن کی مسلسل عطا (نفقہ) سے وہ خالی نہیں ہوتے۔

پس جب (نبی ﷺ) نے اس زبردست طریقے سے سوال (دعا) کی ترغیب دی،

اور یہ جان لیا کہ بعض لوگ دعا کی قبولیت میں تاخیر کی وجہ سے دعا کرنا چھوڑ دیتے ہیں،

تو آپ ﷺ نے فرمایا:

"وَأَفْضَلُ الْعِبَادَةِ انْتِظَارُ الْفَرَجِ"

یعنی بہترین عبادت (دعا میں) فرج (نزولِ رحمت اور قبولیتِ دعا) کا انتظار کرنا ہے،

یعنی بہترین دعا یہ ہے کہ دعا کرنے والا (دعا کی) قبولیت کا انتظار کرے،

اور اس (انتظار) میں اپنی عاجزی، گڑگڑاہٹ اور عبادت (جو اللہ کو محبوب ہے) میں اضافہ کرے۔

اور یہی مراد اللہ تعالیٰ کے قول "فإن الله يحب..." (اللہ کو پسند ہے کہ اس سے سوال کیا جائے) سے ہے۔

[فيض القدير شرح الجامع الصغير - المناوي: حدیث 4701]









شرح الصنعانیؒ(متوفی 1182ھ):

طیبیؒ نے کہا:

"الفضل" کا معنی زیادتی ہے، اور ہر وہ عطیہ جو دینے والے پر لازم نہ ہو (یعنی فرض نہ ہو) اسے بھی "فضل" کہا جاتا ہے۔

اور اس (مقام) سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا عطا کرنا بندے کے استحقاق (کسی لائقیت یا عمل) کی وجہ سے نہیں ہے، بلکہ یہ اس کا محض فضل اور احسان ہے جو اس کی طرف سے بغیر کسی سابقہ سبب کے ہے۔

"فَإِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ أَنْ يُسْأَلَ"

یعنی (اللہ تعالیٰ کو یہ پسند ہے) کہ اس سے (اس کا فضل) مانگا جائے،

کیونکہ اس کے خزانے بھرے ہوئے ہیں، اور اس پر (خرچ کرنے سے) کوئی کمی نہیں آتی۔

"وَأَفْضَلُ الْعِبَادَةِ انْتِظَارُ الْفَرَجِ"

یعنی بہترین عبادت (دعا میں) فرج (نزولِ رحمت اور قبولیتِ دعا) کا انتظار کرنا ہے،

یعنی بہترین دعا یہ ہے کہ دعا کرنے والا (دعا کی) قبولیت کا انتظار کرے،

اور اس (انتظار) میں اپنی عاجزی، عبادت اور تذلل (گڑگڑاہٹ) میں اضافہ کرے۔

[التنوير شرح الجامع الصغير - الصنعاني: حدیث 4685]












اپنے اعمال پر بھروسہ نہ کریں۔

حضرت ابوھریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا:
"تم میں سے کسی کو اس کا عمل اسے جہنم سے نجات نہیں دے سکتا۔"
[صحیح مسلم:2816، سنن ابن ماجہ:4201]
(یا فرمایا)
لَنْ يُدْخِلَ أَحَدًا مِنْكُمْ عَمَلُهُ الْجَنَّةَ. قَالُوا: وَلَا أَنْتَ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: وَلَا أَنَا، إِلَّا أَنْ يَتَغَمَّدَنِيَ اللهُ مِنْهُ بِفَضْلٍ وَرَحْمَةٍ.»
ترجمہ:
"تم میں سے کسی کا عمل اسے جنت میں داخل نہیں کرے گا۔"
صحابہ نے عرض کیا: "اور آپ کو بھی نہیں، یا رسول اللہ؟"
آپ ﷺ نے فرمایا: "اور مجھے بھی نہیں، مگر یہ کہ اللہ مجھے اپنے فضل اور رحمت سے ڈھانپ لے۔"
[صحیح مسلم:2816، الجامع-معمر بن راشد:20562]

وَوَضَعَ يَدَهُ عَلَى رَأْسِهِ
ترجمہ:
اور آپ ﷺ نے اپنا ہاتھ اپنے سر پر رکھ لیا۔
[مسند احمد:7479-9002-10061۔10614]

وَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ هَكَذَا - وَأَشَارَ وَهْبٌ - يَقْبِضُهَا وَيَبْسُطُهَا۔
ترجمہ:
اور رسول اللہ ﷺ نے اپنے ہاتھ سے اس طرح اشارہ کیا – اور وہب (راوی) نے اشارہ کیا – کہ (آپ ﷺ) اسے قبض (بند) اور بسط (کھلا) کر رہے تھے۔
[مسند احمد:8330]


تشریح:
(کیونکہ) اعمال کی توفیق، ان میں اخلاص کی ہدایت، اور ان اعمال کی قبولیت – یہ سب اللہ کی رحمت اور فضل سے ہے۔
[شرح مسلم للنووی: ج17 / ص162]
جنت کے منازل(درجات) ہیں جو اعمال کے ذریعے حاصل ہوتی ہیں، اور جنت میں داخلہ  اور ہمیشگی کی اصل(بنیاد) تو اللہ کی رحمت و فضل سے ہے۔
[تفسير المظهري: 6/ 342 سورة الحج:56]


القرآن:
....جس نے ہمیں اتارا ہمیشہ رہنے کے گھر(جنت) میں اپنے "فضل" سے...
[سورۃ فاطر:35 تفسیر ابن کثیر:]
خوشخبری دیتا ہے انہیں ان کا رب "رحمت" کی اپنی طرف سے اور خوشنودی کی، اور ان کیلئے دائمی نعمتوں والی جنتوں کی۔
[سورۃ التوبہ:21 تفسیر القشیری:2/ 15]
جس سے ہٹادیا گیا عذاب اس(قیامت کے)دن، یقیناً اس پر "رحم" کیا گیا اور یہی بڑی کامیابی ہے۔
[سورۃ الانعام:16 تفسیر الماتریدی:4/ 35]
وہ(اللہ) خاص(منتخب) کرلیتا ہے اپنی "رحمت" سے جس کو چاہتا ہے اور اللہ بڑے "فضل" والا ہے۔
[سورۃ آل عمران:74 تفسیر الراغب:2 /651]
(انعام یافتہ لوگوں میں شامل ہونے کا) یہ فضل ملتا ہے اللہ کی طرف سے۔۔۔
[سورۃ النساء:70 موسوعة التفسير المأثور:19010]


فَسددوا وقَاربُوا ﴿وَأَبْشِرُوا﴾ واغُدوا ورُوحُوا وشَئٌ مِن الدُّلجَة، والقَصد القَصد تَبلُغوا.
ترجمہ:
"لہٰذا تم سیدھے ہوجاؤ، اور قریب ہو جاؤ، ﴿اور خوش ہوجاؤ﴾، اور صبح و شام(کے اطراف) اور (کچھ)رات میں بھی عمل کرو اور (درمیان میں) آرام کرو (تاکہ عبادت سے اُکتاہٹ نہ ہو)، اور رات کو تھوڑا سا (جاگ کر عبادت) کرو۔ اور اعتدال و میانہ روی کو لازم پکڑو، (تاکہ تم اپنی منزل ومقصد) تک پہنچ جاؤ۔"
[الأدب المفرد للبخاري:461، ﴿مسند احمد:10256-10939﴾ مسند ابوداؤد الطيالسي:2441، للسنن الكبرى للبيهقي:4803، شرح السنة للبغوي:4192، الصحيحة:2602]



وَلَا يَتَمَنَّيَنَّ أَحَدُكُمُ الْمَوْتَ، إِمَّا مُحْسِنًا فَلَعَلَّهُ أَنْ يَزْدَادَ خَيْرًا، وَإِمَّا مُسِيئًا فَلَعَلَّهُ أَنْ يَسْتَعْتِبَ.» 
ترجمہ:
"اور تم میں سے کوئی موت کی تمنا نہ کرے۔ اگر وہ نیک ہے تو شاید وہ (مزید) بھلائی حاصل کر لے، اور اگر وہ برا ہے تو شاید وہ (اللہ سے) معافی مانگ لے (اور توبہ کر لے)۔"
[صحیح البخاری:5673-6463]



واعلموا أن أحب العمل إلى الله أدومه وإن قل۔
ترجمہ:
"اور جان لو کہ اللہ کو سب سے زیادہ پسندیدہ عمل وہ ہے جو مسلسل (اور ہمیشہ) کیا جائے، چاہے وہ تھوڑا ہو۔"
[الصحيحة:2602]صحیح البخاری:6464، صحیح مسلم:783، سنن ابن ماجہ:4240، مسند احمد:12302]



شواھد:
(1)حديث أبى هريرة:
[مسند أحمد:10430، صحیح مسلم:2816، سنن ابن ماجه:4101، صحیح ابن حبان:348]

(2)حديث عائشة:
[صحیح مسلم:2818]

(3)حديث جابر:
[مسند أحمد:14944، صحیح مسلم:2817، مسند الدارمى:2733]
🔰🔰🔰🔰🔰🔰🔰🔰
📜 شرح المناوی:

"(سددوا)"
یعنی سیدھا راستہ اختیار کرو، یعنی صواب (درستی) اور راست بازی کو اپنا لو، یا اس میں مبالغہ کرو (پوری کوشش کرو)۔
یہ "سَدَّدَ الرَّجُلُ" سے ہے، جب آدمی صاحبِ سداد (راست باز) بن جائے، اور "سَدَّ فِي رَمِيَّتِهِ" سے ہے، جب وہ اپنے نشانے کو پوری طرح درست کرے اور اسے لگائے۔

"(وقاربوا)"
یعنی غلو نہ کرو (انتہا پسندی نہ کرو)، اور مقاربہ (اعتدال) کا مطلب ہے ان امور میں میانہ روی جہاں نہ غلو ہے اور نہ تقصیر۔

"(وأبشروا)"
یعنی بہت بڑے ثواب کی خوشخبری حاصل کرو۔

"(واعلموا أنه لن يدخل)" (بکسر الخاء)
"(أحدكم)" (اے مومنو!)
"(الجنة عمله)"
بلکہ (وہاں داخل ہوگا) اللہ کے فضل اور رحمت سے۔

قاضی (عیاض) نے کہا:
اس کا مقصد یہ بتانا ہے کہ عذاب سے نجات اور ثواب کا حصول اللہ کے فضل و رحمت سے ہے، اور عمل ان دونوں پر موجَب (لازم سبب) اور مقتضی (علت) کے طور پر مؤثر نہیں ہے، بلکہ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ عمل بندے کو اس قابل بناتا ہے کہ اللہ اس پر فضل کرے اور اسے رحمت سے قریب کر دے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

{إِنَّ رَحْمَتَ اللَّهِ قَرِيبٌ مِنَ الْمُحْسِنِينَ}
(بیشک اللہ کی رحمت نیکوکاروں کے قریب ہے) – [سورۃ الأعراف: ۵۶]

اور اس کا مطلب عمل کو کمزور کرنا یا اس کا انکار نہیں ہے،
بلکہ بندوں کو اس بات پر وقف کرنا ہے کہ عمل صرف اللہ کے فضل اور رحمت سے مکمل ہوتا ہے،
تاکہ وہ اپنے اعمال پر بھروسہ نہ کریں اور ان سے دھوکہ نہ کھائیں۔

اور اس (حدیث) کی آیت سے کوئی تضاد نہیں:

{ادْخُلُوا الْجَنَّةَ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ}
(جنت میں داخل ہو جاؤ اس وجہ سے جو تم عمل کرتے تھے) – [سورۃ النحل: ۳۲]

کیونکہ:

· حدیث "دخولِ جنت" (اصل میں داخل ہونے) کے بارے میں ہے،
· اور آیت "منازلِ جنت" (جنت کے اندر درجات اور مقامات) کے حصول کے بارے میں ہے۔

کرمانی نے کہا:
"بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ" میں "باء" سببیت کے لیے نہیں، بلکہ ملابست (ساتھ ہونے) کے لیے ہے، یعنی تمہیں تمہارے اعمال کی وجہ سے (یہ جنت) ملی ہے، یعنی تمہارے اعمال کے ثواب کے ساتھ، یا یہ کہ مقابلہ (معاوضہ) ہے، جیسے "میں نے بکری ایک درہم کے بدلے دی"۔

یا اس کا مطلب ہے:
"کسی خاص جنت" کے بارے میں ہے جو ان اعمال کی وجہ سے اس خاص اعلیٰ درجہ کے ساتھ مخصوص ہے،
اور اصل دخول (جنت میں داخلہ) تو رحمت سے ہے، عمل سے نہیں۔

اور نووی کا یہ جواب کہ
"جنت میں داخلہ عمل کی وجہ سے ہے، اور عمل خود رحمت سے ہے"
اس پر اعتراض ہے کہ پہلی مقدمہ خود حدیث کے صریح خلاف ہے، اس لیے اس کی طرف التفات نہیں کیا جاتا۔

---

"(ولا أنا)"
یہاں ظاہر کے تقاضے (یعنی ولا إياي) سے ہٹ کر اسمیہ جملے میں منتقل کیا گیا ہے،
گویا تقدیر ہے: "اور نہ ہی آپ ان لوگوں میں سے ہیں جنہیں ان کا عمل بچائے گا"،
یہ اس نسبت کو اپنی طرف سے دور کرنے کے لیے ہے۔

"(إلا أن يتغمدني الله بمغفرته ورحمته)"
یعنی اللہ مجھے اپنی مغفرت اور رحمت سے ڈھانپ لے،
"تغمد" "غمد السيف" (تلوار کے نیام) سے ماخوذ ہے، جس کا معنی ہے چھپانا اور ڈھانپنا،
گویا وہ اپنی رحمت کو میرے گرد اس طرح حائل کر دے جیسے غلاف اس چیز کو گھیر لیتا ہے جو اس میں محفوظ کی جاتی ہے۔

قاضی نے اس کا ذکر کیا ہے۔

بعض عارفین نے کہا:

"جو اپنے اعمال کے ساتھ (اللہ کے) سامنے آئے گا، اس کا معاملہ عدل کے ساتھ ہوگا، اور جو اپنی افلاس (لاچاری) کے ساتھ آئے گا، اس کا معاملہ فضل کے ساتھ ہوگا۔"

رافعی نے کہا:
"اس میں یہ بات ہے کہ کسی عامل (عمل کرنے والے) کو چاہیے کہ وہ اپنے عمل پر بھروسہ نہ کرے – نہ نجات کے حصول میں، نہ درجات کے حصول میں –
کیونکہ اس نے عمل صرف اللہ کی توفیق سے کیا، اور گناہ کو صرف اللہ کی عظمت کی وجہ سے چھوڑا،
یہ سب اللہ کے فضل اور رحمت سے ہے۔"

---

🚨 تنبیہ (تنبیه):

حکیم ترمذی نے حضرت جابرؓ سے روایت کیا ہے، انہوں نے کہا:
"رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس آئے اور فرمایا: میرے پاس ابھی جبرائیل آئے اور کہا: اے محمد! اللہ کا ایک بندہ ہے جس نے پانچ سو سال تک ایک پہاڑ کی چوٹی پر اللہ کی عبادت کی،
اور سمندر اس کے گرد تھا،
اور اللہ نے اس کے لیے ایک انگشت (چھوٹی) کے برابر تازہ پانی کا چشمہ نکالا جو پانی بہاتا تھا،
اور ایک انار کا درخت پیدا کیا جو ہر رات ایک انار دیتا تھا، جس سے وہ غذا حاصل کرتا تھا۔
پھر جب شام ہوتی تو وہ وضو کے لیے نیچے آتا، پھر نماز کے لیے کھڑا ہو جاتا۔
اس نے اپنے رب سے دعا کی کہ اسے سجدے کی حالت میں قبض کرے اور زمین یا کسی دوسری چیز کو اس پر کوئی راستہ نہ دے تاکہ وہ سجدے میں ہی اٹھایا جائے۔
چنانچہ ایسا ہی ہوا – ہم اس کے پاس سے گزرتے ہیں جب اترتے ہیں اور جب چڑھتے ہیں۔
قیامت کے روز اسے بلایا جائے گا اور اسے اللہ کے سامنے کھڑا کیا جائے گا۔
اللہ فرمائے گا: 'اسے میرے فضل و رحمت سے جنت میں داخل کرو۔'
وہ کہے گا: 'نہیں، بلکہ میرے عمل کی وجہ سے، اے رب!'
اللہ فرمائے گا: 'میرے بندے کے اس پر میرے احسانات اور اس کے اعمال کا موازنہ کرو۔'
پس تولا جائے گا تو پائے گا کہ آنکھ کی نعمت (جو اسے عبادت کرنے میں مددگار تھی) پانچ سو سال کی عبادت کو گھیر لے گی،
اور جسم کی باقی نعمتیں اس پر (اعمال سے) بڑھ کر فضیلت رکھتی ہیں۔
پس اللہ فرمائے گا: 'اسے جہنم میں لے جاؤ!'
وہ پکارے گا: 'اے رب! اپنی رحمت سے (مجھے بچا لے)!'
اللہ فرمائے گا: 'اسے واپس لوٹاؤ۔'
پھر وہ اسے کھڑا کرے گا اور فرمائے گا: 'تمہیں کس نے پیدا کیا جبکہ تم کچھ بھی نہ تھے؟'
وہ کہے گا: 'آپ نے، اے رب!'
اللہ فرمائے گا: 'کیا یہ (پیدائش) تمہاری طرف سے تھی یا میری رحمت سے؟'
وہ کہے گا: 'آپ کی رحمت سے!'
اللہ فرمائے گا: 'اسے جنت میں داخل کرو میری رحمت سے۔'"

پس یہی وہ چیز ہے جس کا رسول اللہ ﷺ نے اس حدیث میں ذکر فرمایا ہے – کہ قیامت کے روز صرف اللہ کی رحمت ہی نجات دیتی ہے۔

اور کیا اعمال (جوارحی) توفیق الٰہی کے بغیر وجود میں آئے؟
اور کیا اسے (بندے کو) توفیق صرف اللہ کی رحمت سے ملی؟

---

📌 فائدہ:

غزالی نے کہا:
"ابن واسع اور ابن دینار ایک جگہ ملے۔
ابن دینار نے کہا: 'یا تو اللہ کی اطاعت ہے یا جہنم!'
ابن واسع نے کہا: 'یا تو اللہ کی رحمت ہے یا جہنم!'
ابن دینار نے کہا: 'مجھے تم جیسے استاد کی کتنی ضرورت ہے!'"

اور بسطامی نے کہا:
"میں نے تیس سال تک عبادت کی مشقت برداشت کی،
پھر میں نے ایک قائل کو سنا کہ:
'اے ابو یزید! اس (اللہ) کے خزانے عبادت سے بھرے ہوئے ہیں،
اگر تم اس تک پہنچنا چاہتے ہو تو عاجزی اور احتیاج (افلاس) کو لازم پکڑو۔'"

---

📝 تتمہ (تکملہ):

ابن عطاء اللہ نے کہا:
"عمل پر بھروسہ کرنے کی علامت یہ ہے کہ
(جب کوئی لغزش ہو) تو امید (رجاء) میں کمی آجائے،
اور (اگر طاعت ہو) تو تم اس پر خوش نہ ہو کہ وہ تم سے ظاہر ہوئی ہے،
بلکہ اس پر خوش ہو کہ وہ اللہ کی طرف سے (اس کی توفیق سے) ظاہر ہوئی ہے،
جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
{قُلْ بِفَضْلِ اللَّهِ وَبِرَحْمَتِهِ فَبِذَلِكَ فَلْيَفْرَحُوا هُوَ خَيْرٌ مِمَّا يَجْمَعُونَ}
(کہہ دو: اللہ کے فضل اور اس کی رحمت سے، پس انہیں چاہیے کہ اسی پر خوشی کریں، یہ اس سے بہتر ہے جو وہ جمع کرتے ہیں) – [سورۃ یونس: ۵۸]

(یہ حدیث) حم (امام احمد) اور ق (ابن ماجہ) نے حضرت عائشہؓ سے بھی روایت کی ہے۔

[فیض القدیر شرح الجامع الصغير – المناوی: حدیث 4688]






📜 شرح امام نووی:

🧠 اہل سنت کا عقیدہ (مذہبِ اہلِ سنت)

جان لو کہ اہل سنت کا مذہب یہ ہے کہ:

1. عقل (صرف اپنی) سے ثواب، عقاب، وجوب، تحریم، اور تکلیف کی کوئی بھی قسم ثابت نہیں ہوتی۔
      یہ سب چیزیں اور ان کے علاوہ دیگر احکام صرف شرع (وحی اور سنت) سے ثابت ہیں، عقل سے نہیں۔
2. اور اہل سنت کا یہ بھی مذہب ہے کہ اللہ تعالیٰ پر کوئی چیز واجب نہیں ہے۔
      وہ بلند و بالا ہے، سارا عالم اس کی ملکیت ہے، دنیا اور آخرت دونوں اس کی سلطنت میں ہیں،
      وہ ان میں جو چاہے کرتا ہے۔
   پس اگر وہ تمام اطاعت کرنے والوں اور صالحوں کو عذاب دے اور انہیں جہنم میں ڈال دے تو یہ اس کا عدل ہوگا،
      اور اگر وہ انہیں عزت دے، نعمت دے اور جنت میں داخل کر دے تو یہ اس کا فضل ہوگا۔
      اور اگر وہ کافروں کو نعمت دے اور جنت میں داخل کر دے تو بھی اس کے لیے (یہ) جائز تھا،
      لیکن اس نے (وحی میں) خبر دی ہے اور اس کی خبر سچ ہے کہ وہ ایسا نہیں کرے گا،
      بلکہ وہ مومنوں کو بخشے گا اور انہیں اپنی رحمت سے جنت میں داخل کرے گا،
      اور منافقوں کو عذاب دے گا اور انہیں جہنم میں ہمیشہ کے لیے ڈالے گا –
      یہ اس کا عدل ہوگا۔

---

❌ معتزلہ کا عقیدہ

اور رہے معتزلہ،
تو وہ احکام کو عقل سے ثابت کرتے ہیں،
اور اعمال کا ثواب واجب سمجھتے ہیں،
اور اللہ پر "اصلح" (بہتر کام) کرنا واجب سمجھتے ہیں،
اور اس کے خلاف کو منع کرتے ہیں –
یہ سب ان کی لمبی چوڑی خرافات میں ہے۔
اللہ تعالیٰ ان کی باطل ایجادات سے بلند و بالا ہے جو شرعی نصوص کے خلاف ہیں۔

---

📖 احادیث کی روشنی میں اہل حق کا موقف

ان احادیث کا ظاہر مفہوم (جیسے "لن یدخل احدکم عملہ الجنۃ")
اہل حق (اہل سنت) کے اس عقیدے کی دلیل ہے کہ کوئی بھی شخص اپنی اطاعت کی وجہ سے ثواب اور جنت کا مستحق نہیں ہے۔

---

❓ اعتراض: قرآن کی آیات کا کیا مفہوم؟

اور اللہ تعالیٰ کا فرمان:

{ادْخُلُوا الْجَنَّةَ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ}
(جنت میں داخل ہو جاؤ اس عمل کی وجہ سے جو تم کرتے تھے) – [سورۃ النحل: ۳۲]

اور:

{تِلْكَ الْجَنَّةُ الَّتِي أُورِثْتُمُوهَا بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ}
(یہ وہ جنت ہے جس کے تم وارث بنائے گئے ہو اس عمل کی وجہ سے جو تم کرتے تھے) – [سورۃ الزخرف: ۷۲]

اور ان جیسی دوسری آیات جو اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ اعمال کے ذریعے جنت میں داخل ہوتے ہیں،
وہ ان احادیث کی مخالف نہیں ہیں،
بلکہ آیات کا مطلب یہ ہے کہ جنت میں داخلہ اعمال کے سبب سے ہے،
لیکن اس کے ساتھ اعمال کی توفیق، ان میں اخلاص کی ہدایت، اور ان کی قبولیت – یہ سب اللہ کی رحمت اور فضل سے ہے۔

پس یہ درست ہے کہ وہ محض عمل کی وجہ سے (جنت میں) داخل نہیں ہوا – اور یہی احادیث کا مفہوم ہے،
اور یہ بھی درست ہے کہ وہ اعمال کی وجہ سے (باعث) داخل ہوا، کیونکہ اعمال (اس داخلے کا) سبب ہیں، اور یہ اعمال خود رحمت الٰہی سے ہیں۔
واللہ اعلم۔

---

📝 لغوی تشریح: "یَتَغَمَّدُنِي بِرَحْمَتِهِ"

"یَتَغَمَّدُنِي بِرَحْمَتِهِ"
یعنی وہ مجھے اپنی رحمت میں ڈھانپ لے، مجھے اس میں چھپا لے اور اسے میرے اوپر حائل کر دے۔
یہ لفظ "أَغْمَدْتُ السَّيْفَ" یا "غَمَدْتُهُ" سے ماخوذ ہے،
جس کا معنی ہے تلوار کو اس کے نیام (غمَد) میں ڈالنا اور اسے اس سے ڈھانپ لینا۔

---

🎯 "سَدِّدُوا وَقَارِبُوا" کا مطلب

"سَدِّدُوا وَقَارِبُوا"
یعنی سَدَاد (راست بازی اور درستی) کو تلاش کرو اور اس پر عمل کرو،
اور اگر تم اس سے عاجز ہو تو اس کے قریب ہو جاؤ (یعنی قریب قریب درستی اختیار کرو)۔
"السَّدَادُ" کا معنی صواب (درستی) ہے،
اور یہ افراط (زیادتی) اور تفریط (کمی) کے درمیان (اعتدال) ہے،
پس نہ غلو کرو اور نہ تقصیر کرو۔

[شرح مسلم للنووی: 17/159-162]























No comments:

Post a Comment