Tuesday, 13 October 2026

دھوکہ دینے کیلئے سنہری-خوشنما باتیں

 دجالیت کا طریقہ:

القرآن:

اور (جس طرح یہ لوگ ہمارے نبی سے دشمنی کر رہے ہیں) اسی طرح ہم نے ہر (پچھلے) نبی کے لیے کوئی نہ کوئی دشمن پیدا کیا تھا، یعنی انسانوں اور جنات میں سے شیطان قسم کے لوگ، جو دھوکا دینے کی خاطر ایک دوسرے کو بڑی چکنی چپڑی باتیں سکھاتے رہتے تھے۔ اور اگر الله چاہتا تو وہ ایسا نہ کرسکتے۔ لہذا ان کو اپنی افترا پردازیوں میں پڑا رہنے دو۔

[سورۃ الأنعام:112]

تفسیر:

مفسرین کے مطابق، "زخرف القول" (سنہری/خوشنما بات) سے مراد وہ جھوٹی اور باطل باتیں ہیں جنہیں سنوار کر، سجا کر پیش کیا جائے تاکہ لوگ انہیں سچ سمجھ بیٹھیں۔


تفسیر:


 زُخْرُفَ الْقَوْلِ:- یعنی غلط اور باطل بات جسے سنہرا(خوبصورت) بنا کر پیش کیا جائے، یعنی دھوکہ دینے کی بات کو خوب مزین کرتے ہیں۔ یہ حق کے انکار(نہ ماننے) کی پانچویں وجہ ہے۔

جس طرح شیاطین جن و انس ہر پیغمبر کے دشمن ہوتے ہیں اور لوگوں کو گمراہ کرنے کے لیے پیغمبر کے خلاف جھوٹا پروپیگنڈا کرتے ہیں۔ اسی طرح حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے دشمن (شیاطین انس و جن) یہ کام سر انجام دے رہے ہیں اور مسئلہ توحید کے خلاف لوگوں کے دلوں میں وسوسے ڈالتے پھر رہے ہیں۔ مثلاً یہ شخص بے ادب ہے اور بزرگوں کی بے ادبی کرتا ہے اس سے بچو۔


تائید:

وَ مَا اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِکَ مِنْ رَّسُوْلٍ وَّ لَا نَبِیٍّ اِلّا اِذَا تَمَنّٰی اَلْقٰ الشَّیْطَانُ فیْ اُمْنِیَّتہ ۔ یعنی جب اللہ کا پیغمبر اللہ کی آیتیں لوگوں کو پڑھ کر سناتا اس وقت شیطان لوگوں کے دلوں میں اس کے بارے میں وسوسے ڈالنا شروع کردیتا۔


یہاں پھر وہی بات فرمائی جا رہی ہے کہ اگر الله تعالیٰ چاہتا تو شیاطین کو یہ قدرت نہ دیتا اور لوگوں کو زبردستی ایمان پر مجبور کردیتا لیکن چونکہ مقصد امتحان ہے، اس لئے زبردستی کا ایمان معتبر نہیں۔


دجال (یعنی بڑا دھوکہ باز) شخصیت کو کہتے ہیں جو شیطان کا سب سے بڑا اور آخری ہتھیار ہوگا۔

اور دجالیت، دجال(دھوکہ) کے طریقہ اور نظام کو کہتے ہیں۔


دجالیت


تلبیسِ ابلیس:
بےشک، دھوکے کو سنہری اور خوشنما باتوں سے آراستہ کرنے کا سلسلہ انسانوں اور جنوں میں سے شیاطین کی ایک پرانی چال ہے۔ یہ "زخرف القول" (سونے پانی والی باتیں) کا وہ خطرناک ہتھیار ہے جس سے باطل کو حق کا لباس پہنایا جاتا ہے۔ ذیل میں قرآن، سنت، تاریخ اور موجودہ دور سے اس کی مزید مثالیں پیش کی جا رہی ہیں:
📖 قرآن مجید سے مثالیں:
(1)آدم وحوا کو ابلیس کا دھوکہ
ابلیس نے آدم کے لئے اپنے فریب کو خوب مزین کیا تھا کہ: *اور ان کے سامنے "قسمیں" کھائیں کہ: یقین جانو میں تمہارے خیرخواہوں میں سے ہے۔*
[حوالہ»سورۃ الاعراف:21]

حضرت یوسفؑ کے بھائیوں کا دھوکہ:

انہوں نے حسد میں آ کر یوسفؑ کو قتل یا جلاوطن کرنے کا منصوبہ بنایا اور والد یعقوبؑ سے کہا: "اے ہمارے باپ! آپ یوسف کے بارے میں ہم پر اعتماد کیوں نہیں کرتے، حالانکہ ہم تو اس کے خیر خواہ ہیں؟"۔ یہ دھوکے کو خیر خواہی کا رنگ دے کر پیش کرنے کی واضح مثال ہے۔


· قومِ ثمود کا دھوکہ:

قرآن میں ہے کہ ثمود کی قوم کے نو سرداروں نے شہر میں فساد پھیلایا اور اللہ کے نبی صالحؑ کو قتل کرنے کی سازش کی۔ وہ اپنی اس سازش کو خیر خواہی اور اصلاح کے نام پر پیش کرتے تھے۔


· فرعون کا جادوگروں کو خوشنما باتیں سکھانا:

فرعون نے اپنے جادوگروں کو خوشنما باتیں سکھائیں تاکہ وہ موسیٰؑ کے معجزے کو جادو کے مقابلے میں پیش کر سکے اور عوام کو گمراہ کر سکے۔


· منافقین کا رویہ: 

قرآن میں منافقین کے بارے میں فرمایا گیا کہ جب وہ مومنین سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں "ہم ایمان لائے" اور جب اپنے ساتھیوں سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں "ہم تمہارے ساتھ ہیں، ہم تو صرف مذاق کر رہے تھے"۔ یہ دو رخا رویہ اور باتوں کو مزین کر کے پیش کرنا ہے۔


🕋 سنت نبویﷺ سے مثالیں:

· غلہ بیچنے والے کی دھوکہ دہی:

نبی کریمﷺ ایک غلہ بیچنے والے کے پاس سے گزرے۔ آپﷺ نے غلہ میں ہاتھ ڈالا تو اندر سے گیلا نکلا۔ آپﷺ نے فرمایا: "جو شخص دھوکہ دے وہ ہم میں سے نہیں"۔

· خوشامد کرنے والوں کی مذمت:

نبی کریمﷺ نے فرمایا: "خوشامد کرنے والوں سے ملو تو اُن کے منہ میں خاک جھونک دیا کرو!" (مسلم: 7505)۔ یہ حدیث خوشامد کے ذریعے دھوکہ دینے کی مذمت ہے۔




🌍 تاریخ کی مشہور مثالیں


· وکٹر لسٹگ (Victor Lustig): انہوں نے 1925 میں ایفل ٹاور کو دو بار فروخت کیا۔ انہوں نے خود کو سرکاری عہدیدار ظاہر کیا اور اسے سکریپ میٹل کے طور پر بیچنے کی کہانی گھڑی۔

· فرینک اباجینل (Frank Abagnale): جدید تاریخ کے سب سے بڑے دھوکے بازوں میں سے ایک۔ انہوں نے 21 سال کی عمر تک ایئر لائن پائلٹ، ڈاکٹر، وکیل اور مجرموں کے ایجنٹ جیسے دس مختلف روپ دھارے اور 26 ممالک میں لاکھوں ڈالر کے جعلی چیک کیش کروائے۔

· چارلس پونزی (Charles Ponzi): انہوں نے 1920 میں ایک اسکیم بنائی جس میں نئے سرمایہ کاروں کی رقم سے پرانے سرمایہ کاروں کو منافع دیا جاتا تھا۔ یہ "پونزی اسکیم" کے نام سے مشہور ہوئی۔

· برنی میڈوف (Bernie Madoff): انہوں نے ایک بہت بڑی پونزی اسکیم چلائی اور اربوں ڈالر کا فراڈ کیا۔


💻 موجودہ دور کے فراڈ


· "پگ بچرنگ" (Pig Butchering) اسکیمز:

اسکینڈلرز آن لائن دوستی کرتے ہیں، اعتماد حاصل کرتے ہیں، اور پھر جعلی پلیٹ فارمز میں بھاری سرمایہ کاری کرنے پر راضی کرتے ہیں، پھر پیسے لے کر غائب ہو جاتے ہیں۔

· ڈیپ فیک (Deepfake) فراڈ:

مصنوعی ذہانت سے کسی کی آواز یا ویڈیو بنائی جاتی ہے تاکہ دھوکہ دیا جا سکے۔ جعلی ویڈیوز میں بااثر شخصیات "نہ چھوڑنے والے" سرمایہ کاری کے مواقع پیش کرتے نظر آتے ہیں۔

· رومانس اسکینڈل:

مجرم ڈیٹنگ ایپس پر خود کو امیر بزنس مین یا محبت کرنے والا ظاہر کرتے ہیں اور جذباتی تعلق قائم کر کے پیسے بٹورتے ہیں۔ برطانیہ کی ایک خاتون نے ایک جعلی بزنس مین سے محبت کے جال میں پھنس کر 80 ہزار پاؤنڈ گنوا دیے۔

· ویب سائٹ اور ایپ اسپوفنگ:

اسکینڈلرز حقیقی مالیاتی اداروں کی ویب سائٹس کی نقل بناتے ہیں تاکہ صارفین کو اپنے لاگ ان کی تفصیلات اور رقم دینے پر مجبور کیا جا سکے۔

· "ریمپ اینڈ ڈمپ" اسکیمز:

سوشل میڈیا پر "نہ چھوڑنے والی" سرمایہ کاری کی تشہیر کی جاتی ہے، جس سے جعلی اسٹاک کی قیمت بڑھائی جاتی ہے، پھر دھوکے باز منافع کما کر غائب ہو جاتے ہیں اور عام لوگ نقصان اٹھاتے ہیں۔


· آن لائن رومانس اسکینڈل:

مجرم خود کو محبت کرنے والا ظاہر کرتے ہیں اور جذباتی تعلق قائم کر کے پیسے بٹورتے ہیں۔

· نکاح کے نام پر فراڈ: پاکستان میں نکاح کے نام پر پیسے لے کر فرار ہونے کے واقعات سامنے آ رہے ہیں۔

· کرپٹو کرنسی پونزی اسکیمز:

جعلی کرپٹو کرنسی پروجیکٹس میں بھاری منافع کا لالچ دے کر پیسے لٹوائے جاتے ہیں۔


💎 خلاصہ


ابلیس کا حضرت آدمؑ کو دھوکہ دینا، یوسفؑ کے بھائیوں کی چکنی چپڑی باتیں، تاریخ کے بڑے فراڈرز، اور آج کے ڈیپ فیک اور آن لائن اسکینڈلز، سب "زخرف القول" یعنی باطل کو خوشنما بنا کر پیش کرنے کی مختلف شکلیں ہیں۔ نبی کریمﷺ کی ہدایت ہے کہ "جو دھوکہ دے وہ ہم میں سے نہیں"۔ اس لیے ہمیں ہر اس بات میں غور و فکر کرنا چاہیے جو بہت زیادہ چکنی چپڑی اور دلکش لگے، کیونکہ باطل ہمیشہ سچ کا لباس پہن کر ہی آتا ہے۔






القرآن:

اور حق کو باطل کے ساتھ گڈمڈ نہ کرو، اور نہ حق بات کو چھپاؤ جبکہ (اصل حقیقت) تم اچھی طرح جانتے ہو۔

[سورۃ البقرة:42]



اللہ کی گہری حکمت کا تقاضا یہ ہے کہ جب تک یہ دنیا قائم رہنی ہے، نیکی اور بدی دونوں طاقتیں موجود رہیں گی۔ کوئی طاقت مکمل طور پر ختم یا بے بس نہیں ہو گی۔ اسی لیے ہدایت اور گمراہی، نیکی اور بدی کی ٹکر ہمیشہ سے جاری ہے۔

جیسے آج مشرک اور مخالف لوگ نبی کریم ﷺ کو فضول مطالبات سے پریشان کرتے ہیں اور طرح طرح کے حیلوں سے لوگوں کو حق کے راستے سے ہٹانے کی کوشش کرتے ہیں، اسی طرح ہر نبی کے مقابلے میں شیطانی طاقتیں کام کرتی رہی ہیں تاکہ نبی اپنے پاک مقصد یعنی لوگوں کی ہدایت میں کامیاب نہ ہو سکیں۔

اس برے مقصد کے لیے جنوں اور انسانوں کے شیطان مل کر کام کرتے ہیں اور ایک دوسرے کو دھوکے اور چکنی چپڑی باتوں کا ہنر سکھاتے ہیں۔ ان کی یہ عارضی آزادی بھی اللہ کے اسی عام نظام اور حکمت کے تحت ہے جو اس نے دنیا کی تخلیق میں رکھی ہے۔

اس لیے آپ اللہ کے دشمنوں کی فتنہ انگیزی اور گمراہ کرنے والے دھوکے پر زیادہ فکر اور غم نہ کریں۔ ان سے اور ان کے جھوٹ اور بہتان سے منہ موڑ کر معاملہ اللہ کے سپرد کر دیں۔







📖 تلبیسِ ابلیس کیا ہے؟ تلبیس، دجالیت اور خوشنما بات کا تعلق اور فرق کیا ہے؟


تلبیس کا لغوی معنی ہے "اختلاط" یعنی چیزوں کو اس طرح ملا دینا کہ حق اور باطل میں تمیز مشکل ہو جائے۔ علامہ ابن الجوزیؒ نے اس کی جامع تعریف یہ کی ہے:


"التلبيس إظهار الباطل في صورة الحق"

یعنی باطل کو حق کی صورت میں پیش کرنا۔


علامہ ابن الجوزیؒ (510-592ھ) نے اسی موضوع پر مشہور کتاب "تلبیس ابلیس" لکھی، جس میں تیرہ ابواب میں ابلیس کے دھوکے کے مختلف پہلوؤں کا پردہ چاک کیا گیا۔ انہوں نے دکھایا کہ ابلیس علما، عبادت گزاروں، جاہلوں، حکمرانوں اور عام لوگوں سب کو کس طرح بہکاتا ہے۔


🔍 تینوں میں فرق اور تعلق


پہلو تلبیسِ ابلیس زخرف القول دجالیت

حقیقت باطل کو حق کی صورت میں پیش کرنا جھوٹ کو سنہری الفاظ میں سجانا عالمی دھوکے کا نظام

کن کرتا ہے؟ ابلیس اور اس کے پیروکار شیاطین (جن و انس) شیاطینِ جن و انس، انسانوں کے دلوں میں ڈالتے ہیں دجال اعظم اور اس کے کارندے

طریقہ شبہ پیدا کرنا، حق کو مشکوک بنانا دلکش الفاظ سے باطل کو پیارا بنانا معجزات نما کرامات دکھا کر گمراہ کرنا

ہدف ہر انسان، خاص طور پر علماء اور عبادت گزار عوام اور کم علم لوگ پوری انسانیت، عالمی سطح پر

نتیجہ انسان گمراہی کو ہدایت سمجھ بیٹھے انسان باطل کو حق سمجھ بیٹھے انسان دجال کو خدا یا نبی مان لے

مقصد انسان کو جہنم میں لے جانا انسان کو دھوکہ دینا انسان کو اللہ کے ساتھ شرک میں مبتلا کرنا


🔗 تعلق کیا ہے؟


تلبیسِ ابلیس ایک جامع اور بنیادی عمل ہے۔ زخرف القول اس کا ایک اہم ہتھیار ہے، اور دجالیت اس کا آخری اور سب سے بڑا مظہر ہے۔


1. تلبیسِ ابلیس ⟵ زخرف القول: ابلیس جب باطل کو حق کی صورت میں پیش کرنا چاہتا ہے، تو زخرف القول (سنہری باتیں) اس کا ذریعہ بنتی ہیں۔

2. تلبیسِ ابلیس ⟵ دجالیت: دجال اعظم ابلیس کا سب سے بڑا شاگرد ہوگا جو اسی تلبیس کو عالمی سطح پر استعمال کرے گا。


📜 قرآن و سنت سے شواہد


قرآن میں تلبیس کے مظاہر:


· ابلیس کا آدمؑ سے دھوکہ: اس نے قسم کھائی کہ "میں تمہارا خیر خواہ ہوں" اور باطل کو حق بنا کر پیش کیا۔

· مشرکین کا اعتراض: وہ کہتے تھے "ما هذا إلا بشر مثلکم" (یہ تو تمہارے جیسا ہی انسان ہے) تاکہ نبوت کو مشکوک بنائیں。


احادیث میں تلبیس کے نمونے:


· جہاد میں ریاکاری: بہت سے لوگ جہاد میں نکلتے تو نیت دکھاوے کی ہوتی، تاکہ کہا جائے "فلاں غازی ہے"۔

· نماز میں وسوسے: ابلیس مصلیٰ کو یہ باور کراتا ہے کہ "تیری نماز نہیں ہوئی"، حالانکہ وہ ہو چکی ہوتی ہے۔

· علماء پر تلبیس: ابلیس عالم کو کہتا ہے "تمہارے جیسا عالم وعظ نہیں کرتا" تاکہ وہ وعظ کرنا چھوڑ دے।


🕰️ موجودہ دور میں تلبیسِ ابلیس


ابلیس آج بھی نئے انداز میں تلبیس کر رہا ہے:


· سودی نظام: "مفادات" اور "بینکنگ" کے خوبصورت ناموں سے سود کو حلال کہلوانے کی کوشش۔

· فیشن اور بے حیائی: "آزادی" اور "ترقی" کے نام پر بے حیائی کو فروغ دینا۔

· بدعت: "محبتِ رسولﷺ" کے نام پر ایسے اعمال ایجاد کرنا جو سنت سے ثابت نہیں۔

· فرقہ واریت: "اجتہاد" اور "اصلاح" کے نام پر امت میں تفرقہ ڈالنا۔


💎 خلاصہ


تلبیسِ ابلیس دھوکے کی بنیاد ہے، زخرف القول اس کا ہتھیار ہے، اور دجالیت اس کا عالمی نظام ہے۔ ابلیس کا اصل ہنر یہ ہے کہ وہ باطل کو حق کا لباس پہنا کر پیش کرتا ہے، اور انسان کو یہ احساس تک نہیں ہونے دیتا کہ وہ گمراہ ہو رہا ہے۔


نبی کریمﷺ نے ہمیں "اللہم إني أعوذ بك من فتنة الدجال" پڑھنے کی تعلیم دی ہے، اور ساتھ ہی ہر اس بات سے بچنے کی ہدایت دی ہے جو بہت زیادہ چکنی چپڑی اور دلکش ہو، کیونکہ باطل ہمیشہ سچ کا لباس پہن کر ہی آتا ہے۔






No comments:

Post a Comment