عربی کے تین اہم فضائل:
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
أَنا عَرَبِيّ، وَالْقُرْآن عَرَبِيّ، وَكَلَام أهل الْجنَّة عَرَبِيّ.
ترجمہ:
"میں عربی ہوں، قرآن عربی ہے، اور اہل جنت کا کلام عربی ہے۔"
[مجمع الزوائد:16603، دارالکتب العلمیۃ بیروت 10/52، المعجم الأوسط:9147، دار الفکر 6/385]
یہ حدیث سند کے لحاظ سے اگر چہ صحیح نہیں، لیکن درج ذیل قرآنی شواھد اور احادیث وآثار اس مضمون کی تائید کیلئے کافی اور سند کی کمزوری کو قوت دیتے ہیں۔
قرآن عربی میں نازل کرنے کے مقاصد
(1)سمجھنے کیلئے۔
القرآن:
اِنَّاۤ اَنۡزَلۡنٰهُ قُرۡءٰنًا عَرَبِيًّا لَّعَلَّكُمۡ تَعۡقِلُوۡنَ ۞
ترجمہ:
ہم نے اس کو ایسا قرآن بنا کر اتارا ہے جو عربی زبان میں ہے، تاکہ تم سمجھ سکو۔
[سورة یوسف 2]
نوٹ:
تم یعنی اے اہلِ عرب! اس کے معانی واحکام کو سمجھ سکو۔ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ قرآن کے گہرے معنی، اس کی بلاغت، اس کے اعجاز اور اس کے دقیق اشارات کو سمجھنے کے لیے اہل عجم کیلئے عربی زبان کا علم تو ناگزیر ہے۔ ترجمے بلاشبہ مفید ہوتے ہیں، مگر وہ اصل متن کے مفہوم، اسلوب اور روحانی تاثیر کا صرف ایک جزء پیش کر پاتے ہیں۔ ایک عربی دان شخص جب قرآن پڑھتا ہے تو الفاظ کے چناؤ، جملوں کی ساخت اور محاورات کی گہرائی میں اتر کر کلامِ الٰہی کی عظمت کا مشاہدہ کر سکتا ہے۔
اِنَّا جَعَلۡنٰهُ قُرۡءٰنًا عَرَبِيًّا لَّعَلَّكُمۡ تَعۡقِلُوۡنَۚ ۞
ترجمہ:
ہم نے اسے عربی زبان کا قرآن بنایا ہے، تاکہ تم سمجھو۔
[سورة الزخرف 3]
(2)نصیحت و یاددہانی کیلئے۔
القرآن:
وَكَذٰلِكَ اَنۡزَلۡنٰهُ قُرۡاٰنًا عَرَبِيًّا وَّ صَرَّفۡنَا فِيۡهِ مِنَ الۡوَعِيۡدِ لَعَلَّهُمۡ يَتَّقُوۡنَ اَوۡ يُحۡدِثُ لَهُمۡ ذِكۡرًا ۞
ترجمہ:
اور ہم نے اسی طرح یہ وحی ایک عربی قرآن کی شکل میں نازل کی ہے، اور اس میں تنبیہات کو طرح طرح سے بیان کیا ہے، تاکہ لوگ پرہیزگاری اختیار کریں، یا یہ قرآن ان میں کچھ سوچ سمجھ پیدا کرے۔
[سورة طٰہٰ 113]
(3) تقویٰ/پرہیزگاری کیلئے۔
القرآن:
قُرۡاٰنًا عَرَبِيًّا غَيۡرَ ذِىۡ عِوَجٍ لَّعَلَّهُمۡ يَتَّقُوۡنَ ۞
ترجمہ:
یہ عربی قرآن جس میں کوئی ٹیڑھ نہیں، تاکہ لوگ تقویٰ (پرہیزگاری) اختیار کریں۔
[سورة الزمر:28]
---
۱. تفسیر ابن عباس رضی اللہ عنہما
غَيْرُ مَخْلُوقٍ
[الأسماء والصفات للبيهقي:518، الشريعة للآجري:160، الطيوريات:703]
ترجمہ:
حضرت ابن عباس (رضی اللہ عنہما) نے اس قولِ الٰہی {عربی قرآن، جس میں کوئی عوج (ٹیڑھ) نہیں} کی تفسیر میں فرمایا:
"یعنی (قرآن) مخلوق (تخلیق شدہ) نہیں ہے۔"
---
۲. تفسیر مجاہد رحمہ اللہ (پہلا قول)
{غَيْرَ ذِي عِوَجٍ} أي: غَيْرَ ذِي لَبْسٍ
[تفسير مجاهد: ص578]
ترجمہ:
"غَيْرَ ذِي عِوَجٍ" یعنی اس میں کوئی ابہام (الجھاؤ) نہیں ہے۔
تفسیر مجاہد رحمہ اللہ (دوسرا قول)
حضرت مجاہد (رحمہ اللہ) نے فرمایا:
قَالَ: غَيْرُ ذِي سَلَسَ
"یعنی اس میں کوئی خرابی (کمزوری یا ناہمواری) نہیں ہے۔"
[الدر المنثور:7/223]
(سَلَسَ کا معنی ہے: رسی کی گرہ یا کسی چیز میں خلل/خرابی، یعنی قرآن مکمل طور پر پختہ اور بےعیب ہے)
---
۳. تفسير السمعاني:
غَيْرُ مُخْتَلِفٍ؛ لِأَنَّ بَعْضَهُ يَصْدُقُ الْبَعْضَ
ترجمہ:
"یعنی (قرآن) باہم مختلف (متضاد) نہیں ہے، کیونکہ اس کا ایک حصہ دوسرے حصے کی تصدیق کرتا ہے (یعنی اس میں کوئی تناقض نہیں)"
[تفسير السمعاني:4/467]
---
۴. تفسیر ابن کثیر رحمہ اللہ
وقوله: ﴿قُرْآنًا عَرَبِيًّا غَيْرَ ذِي عِوَجٍ﴾ أي: هو قرآن بلسان عربي مبين لا اعوجاج فيه ولا انحراف ولا لبس بل هو بيان ووضوح وبرهان، وإنما جعله الله تعالى كذلك، وأنزله بذلك.
ترجمہ:
اور اللہ کا قول: {عربی قرآن جس میں کوئی کجی نہیں} یعنی یہ قرآن واضح عربی زبان میں ہے، جس میں کوئی ٹیڑھ، انحراف یا ابہام نہیں، بلکہ یہ صراحت، وضاحت اور برہان (دلیل) ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہی اسے ایسا بنایا اور اسی طرح اسے نازل کیا۔
[تفسير ابن كثير:6/450 ط ابن الجوزي]
---
۵. تفسیر طبری رحمہ اللہ (طویل استدلال)
قُرْآنًا عَرَبِيًّا غَيْرَ ذِي عِوَجٍ لَعَلَّهُمْ يَتَّقُونَ} وما أشبه ذلك من آي القرآن، التي أمر الله عبادَه وحثهم فيها على الاعتبار بأمثال آي القرآن، والاتِّعاظ بمواعظه- ما يدلّ على أنَّ عليهم معرفةَ تأويل ما لم يُحجب عنهم تأويله من آيه. لأنَّه محالٌ أن يُقال لمن لا يفهمُ ما يُقال له ولا يعقِل تأويلَه: "اعتبرْ بما لا فَهْم لك به ولا معرفةَ من القِيل والبيان والكلام"- إلا على معنى الأمر بأن يفهمَه ويفقَهَه، ثم يتدبَّره ويعتبرَ به. فأما قبلَ ذلك، فمستحيلٌ أمرُه بتدبره وهو بمعناه جاهل. كما محالٌ أن يقال لبعض أصناف الأمم الذين لا يعقلون كلامَ العرب ولا يفهمونه، لو أنشِد قصيدة شعرٍ من أشعار بعض العرب ذاتَ أمثالٍ ومواعظ وحِكم: "اعتبر بما فيها من الأمثال، وادّكر بما فيها من المواعظ"- إلا بمعنى الأمر لها بفهم كلامِ العرب ومعرفتِه، ثم الاعتبار بما نبهها عليه ما فيها من الحكم. فأما وهي جاهلة بمعاني ما فيها من الكلام والمنطق، فمحالٌ أمرُها بما دلَّت عليه معاني ما حوته من الأمثال والعِبَر. بل سواء أمرُها بذلك وأمرُ بعض البهائم به، إلا بعدَ العلم بمعاني المنطق والبيان الذي فيها. فكذلك ما في آي كتاب الله من العبر والحِكم والأمثال والمواعظ، لا يجوز أن يقال: "اعتبرْ بها" إلا لمن كان بمعاني بيانه عالمًا، وبكلام العرب عارفًا؛ وإلا بمعنى الأمر -لمن كان بذلك منهُ جاهلا- أنْ يعلم معاني كلام العرب، ثم يتدبَّره بعدُ، ويتعظ بحِكمَه وصُنوف عِبَرِه. فإذْ كان ذلك كذلك -وكان الله جل ثناؤه قد أمر عباده بتدبُّره وحثهم على الاعتبار بأمثاله- كان معلومًا أنه لم يأمر بذلك من كان بما يدُلُّ عليه آيُه جاهلا. وإذْ لم يجز أن يأمرهم بذلك إلا وهُمْ بما يدلهم عليه عالمون، صحَّ أنهم -بتأويل ما لم يُحجَبْ عنهم علمه من آيه الذي استأثر الله بعلمه منه دون خلقه، الذي قد قدّمنا صفَته آنفًا- عارفون. وإذْ صَحَّ ذلك فسَدَ قول من أنكر تفسيرَ المفسرين -من كتاب الله وتنزيلِه- ما لم يحجب عن خَلقه تأويله.
ترجمہ:
{عربی قرآن جس میں کوئی کجی نہیں تاکہ وہ پرہیزگاری اختیار کریں} اور قرآن کی ایسی تمام آیات جن میں اللہ نے بندوں کو حکم دیا ہے کہ وہ قرآن کی مثالوں سے سبق حاصل کریں اور اس کی مواعظ سے نصیحت پکڑیں — یہ اس بات کی دلیل ہے کہ ان پر (قرآن کے) ان تاویلات کا علم حاصل کرنا ضروری ہے جو ان سے مخفی نہیں کی گئیں۔
کیونکہ یہ محال ہے کہ کسی ایسے شخص سے جو بات سمجھے ہی نہیں اور اس کی تاویل سے واقف نہ ہو، یہ کہا جائے: "ان چیزوں سے عبرت حاصل کرو جن کا تمہیں علم اور فہم نہیں"، مگر یہ معنی مراد ہوں کہ اسے حکم دیا جائے کہ پہلے اسے سمجھے اور فقہ کرے، پھر اس پر تدبر کرے اور اس سے عبرت حاصل کرے۔ لیکن اس سے پہلے (یعنی سمجھے بغیر) اسے تدبر کا حکم دینا محال ہے، جبکہ وہ اس کے معنی سے جہالت رکھتا ہو۔
جس طرح یہ محال ہے کہ کسی ایسی قوم سے جو عربی کلام کو نہ سمجھتی ہو اور نہ جانتی ہو، اگر اسے عرب کا کوئی شعر سنایا جائے جس میں امثال، مواعظ اور حکم ہوں، تو کہا جائے: "اس میں موجود مثالوں سے عبرت حاصل کرو اور مواعظ کو یاد کرو" — مگر یہ معنی مراد ہوں کہ انہیں حکم دیا جائے کہ پہلے عربی کلام کو سمجھیں، پھر اس حکمت پر غور کریں جو اس نے انہیں بتائی ہے۔ لیکن جب تک وہ اس کلام کے معانی سے جاہل ہیں، انہیں اس کا حکم دینا محال ہے جس کی طرف اس کے معانی اشارہ کرتے ہیں۔ درحقیقت، اس حالت میں انہیں اور کسی جانور کو حکم دینا یکساں ہے، جب تک کہ انہیں اس منطق اور بیان کے معانی کا علم نہ ہو جائے۔
اسی طرح کتاب اللہ کی آیات میں موجود عبرتیں، حکمتیں، مثالیں اور نصیحتیں — ان کے بارے میں یہ کہنا جائز نہیں کہ "ان سے عبرت حاصل کرو" مگر اس شخص کے لیے جو اس کے بیان کے معانی سے عالم ہو اور عربی کلام سے آشنا ہو۔ ورنہ اس کا مطلب یہ ہوگا کہ جو شخص اس سے جاہل ہے، اسے حکم دیا جائے کہ پہلے عربی کلام کے معانی سیکھے، پھر اس پر تدبر کرے اور اس کی حکمتوں اور عبرتوں سے نصیحت حاصل کرے۔
چنانچہ جب یہ بات ثابت ہو گئی کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو قرآن پر تدبر کا حکم دیا ہے اور انہیں اس کی مثالوں سے عبرت حاصل کرنے کی ترغیب دی ہے، تو یہ بھی معلوم ہو گیا کہ اس نے اس شخص کو تدبر کا حکم نہیں دیا جو اس کی آیات کے مدلولات سے جاہل ہے۔ اور جب یہ جائز نہیں کہ وہ انہیں حکم دے مگر جب وہ اس کے مدلولات سے عالم ہوں، تو یہ ثابت ہو گیا کہ وہ قرآن کی ان تاویلات کو جانتے ہیں جن کا علم اللہ نے اپنے بندوں سے مخفی نہیں کیا۔
اور جب یہ ثابت ہو گیا تو ان لوگوں کا قول باطل ہو گیا جو مفسرین کی تفسیر کا انکار کرتے ہیں (یہ کہہ کر کہ اس کا علم صرف اللہ کو ہے) حالانکہ وہ (تفسیر) ان چیزوں کے بارے میں ہے جن کی تاویل اللہ نے اپنی مخلوق سے مخفی نہیں رکھی۔
[تفسير الطبري:1/ 82-83]
---
💎 ان تمام تفاسیر کا خلاصہ
مفسرین نے "غَيْرَ ذِي عِوَجٍ" کے مختلف معانی بیان کیے ہیں، جو درحقیقت ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں:
(1)ابن عباس» غیر مخلوق» (قرآن اللہ کا کلام ہے، مخلوق نہیں)
(2)مجاہد» غیر ذی لبس» (اس میں کوئی ابہام نہیں)
(3)مجاہد» غیر ذی سلس» (اس میں کوئی خرابی/کمزوری نہیں)
(4)سمعانی غیر مختلف (اس کا کوئی حصہ دوسرے سے متضاد نہیں)
(5)ابن کثیر» اس میں کوئی ٹیڑھ، انحراف یا ابہام نہیں، بلکہ صاف اور واضح ہے
(6)طبری» اس میں کوئی کجی نہیں، اور اس کے تدبر کے لیے عربی زبان کا علم ضروری ہے۔
ان تمام تفاسیر کا نکتۂ اتّفاق یہ ہے کہ قرآن مجید ایک ایسی کامل، واضح، اور بےعیب کتاب ہے جسے سمجھنے کے لیے عربی زبان کا علم بنیادی شرط ہے — جیسا کہ امام طبری نے تفصیل سے ثابت کیا ہے۔
(4)خبردار کرنے کیلئے۔
القرآن:
وَكَذٰلِكَ اَوۡحَيۡنَاۤ اِلَيۡكَ قُرۡاٰنًا عَرَبِيًّا لِّـتُـنۡذِرَ اُمَّ الۡقُرٰى وَمَنۡ حَوۡلَهَا وَتُنۡذِرَ يَوۡمَ الۡجَمۡعِ لَا رَيۡبَ فِيۡهِؕ فَرِيۡقٌ فِى الۡجَنَّةِ وَفَرِيۡقٌ فِى السَّعِيۡرِ ۞
ترجمہ:
اور اسی طرح ہم نے یہ عربی قرآن تم پر وحی کے ذریعے بھیجا ہے، تاکہ تم مرکزی بستی (مکہ) اور اس کے ارد گرد والوں کو اس دن سے خبردار کرو جس میں سب کو جمع کیا جائے گا، جس کے آنے میں کوئی شک نہیں ہے۔ ایک گروہ جنت میں جائے گا اور ایک گروہ بھڑکتی ہوئی آگ میں۔
[سورة الشوریٰ 7]
(5)ظالموں کو ڈرانے اور نیکوکاروں کو خوشخبری دینے کیلئے۔
القرآن:
وَمِنۡ قَبۡلِهٖ كِتٰبُ مُوۡسٰٓى اِمَامًا وَّرَحۡمَةً ؕ وَهٰذَا كِتٰبٌ مُّصَدِّقٌ لِّسَانًا عَرَبِيًّا لِّيُنۡذِرَ الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا ۖ وَبُشۡرٰى لِلۡمُحۡسِنِيۡنَۚ ۞
ترجمہ:
اور اس سے پہلے موسیٰ کی کتاب رہنما اور رحمت بن کر آچکی ہے، اور یہ (قرآن) وہ کتاب ہے جو عربی زبان میں ہوتے ہوئے اس کو سچا بتارہی ہے تاکہ ان ظالموں کو خبردار کرے، اور نیک کام کرنے والوں کے لیے خوشخبری بن جائے۔
[سورۃ الأحقاف، آیت نمبر 12]
اس سے معلوم ہوا کہ عربی ساری زبانوں میں بہتر زبان ہے، کیوں کہ اگر عربی سے کوئی اور بہتر زبان ہوتی تو اللہ تعالیٰ قرآن کو اس زبان میں نازل فرماتے، مگر جب اللہ تعالیٰ نے قرآن کے لیے ساری زبانوں میں سے عربی کو منتخب کیا اس وجہ سے عربی کو ”ملکة الالسنة“ کہتے ہیں۔ اور اصول فقہ میں قرآن کی تعریف کی تکمیل ان الفاظ سے ہوئی ہے:
ھو اسم للنظم والمعنیٰ جمیعا
یعنی قرآن نظم و معنی دونوں کا نام ہے۔
[حسامی، منار]
اسی بنا پر فقہاء نے ایک مسئلہ استنباط کیا ہے کہ:
عربی قرآن کے تحت کسی زبان میں ترجمہ کرنا تو جائز ہے، مگر بغیر عربی کے کسی زبان میں قرآن کا ترجمہ جائز نہیں ہے، کیوں کہ پھر تو قرآن عربی نہیں رہے گا، بلکہ عجمی بن جائے گا، حالاں کہ قرآن عربی زبان میں ہے۔
دیگر روایات سے شواھد:
---
📜 شرح الصنعاني:
"عربوں سے محبت کرو" (یہ نام ہے اس نسل کے لیے، خواہ وہ صحرا میں رہتے ہوں یا نہ رہتے ہوں، اس کا واحد (مفرد) لفظ اس سے مشتق نہیں ہے) "تین وجوہات کی بنا پر: (۱) کیونکہ میں عربی ہوں" یعنی میری زبان اور میرا کلام عربی ہے، جیسا کہ دوسری دو وجوہات سے ظاہر ہے، یا اس لیے کہ میرا نسب عربوں سے ملتا ہے اور ان کا نسب ایک ہے، یا دونوں وجوہات کی بنا پر۔ (۲) "اور کیونکہ قرآن عربی ہے" یعنی اس کی فصاحت، بلاغت اور اسلوب عربی ہے۔ (۳) "اور اہل جنت کی زبان عربی ہے" یعنی حور عین اور جنت میں موجود پہلے اور بعد والے سب عربی زبان بولیں گے۔
جب یہ تین خصوصیات عربوں کے لیے مخصوص ہیں تو ان کی محبت واجب ہو جاتی ہے۔ ظاہرِ حدیث میں کافر و مومن دونوں شامل ہیں، لیکن احتمال ہے کہ اس سے صرف ایمان والے عرب مراد ہوں۔ اگر عام معنی مراد ہیں تو پھر کافر عرب کو اس کی فصاحت اور بلاغت کی وجہ سے محبت کی جائے گی، حالانکہ وہ اپنے کفر کی وجہ سے مبغوض ہے۔ اگر مؤمنین مراد ہیں تو اس سے یہ فائدہ حاصل ہوتا ہے کہ مؤمن عرب کو غیر عرب مؤمنین پر محبت میں اضافی خصوصیت حاصل ہے، بصورت دیگر تمام مؤمنین سے محبت تو ہر حال میں مامور بہ ہے۔
🔍 تخریج اور سند کی حیثیت (راویوں کا جائزہ)
(یہ حدیث درج ذیل کتب میں مروی ہے):
· الطبرانی (المعجم الکبیر: ۱۱/۱۸۵، رقم ۱۱۴۴۱)
· الحاکم (المستدرک: ۴/۸۷)
· البیهقی (شعب الایمان: ۱۶۱۰)
لیکن ائمہ محدثین نے اسے (سند کے لحاظ سے) سخت ضعیف اور من گھڑت قرار دیا ہے:
· امام الذهبی نے "التلخیص" میں کہا: "میرے خیال میں یہ حدیث موضوع (من گھڑت) ہے"۔
· امام العقیلی نے "الضعفاء" میں کہا: "منکر ہے، اس کی کوئی اصل نہیں"۔
· امام الهیثمی نے "مجمع الزوائد" (۱۰/۵۲) میں کہا: "اس میں علاء بن عمرو الحنفی ہے، جس کی ضعف پر سب کا اتفاق ہے"۔
· امام ابن الجوزی نے اسے "الموضوعات" (۸۵۹) میں رکھا ہے۔
· امام ابن ابی حاتم نے "العلل" (۲/۳۷۵) میں اپنے والد (امام ابو حاتم) سے نقل کیا: "یہ حدیث جھوٹ (کذب) ہے"۔
· امام البانی نے اسے "ضعیف الجامع" (۱۷۳) اور "السلسلة الضعیفة" (۱۶۰) میں ضعیف قرار دیا ہے۔
📌 متن کے آخر میں شارح صنعانی کا تنقیدی نکتہ (رمز المصنف لصحته)
صنعانی فرماتے ہیں:
"مصنف (یعنی امام سیوطی نے الجامع الصغیر میں) اس (حدیث) پر صحت کی علامت (رمز) لگائی ہے، حالانکہ یہ علاء بن عمرو الحنفی کی روایت ہے، جو متروک (قابلِ ترک) راوی ہے۔
امام ابن حبان کہتے ہیں: 'اس سے کسی حال میں احتجاج جائز نہیں'۔
امام ابو حاتم کہتے ہیں: 'یہ حدیث جھوٹ ہے'۔
امام الذہبی نے المیزان میں اسے متروک کہا، پھر یہ روایت ذکر کر کے فرمایا: 'یہ موضوع (من گھڑت) ہے'۔
میں (صنعانی) کہتا ہوں: اس (تنقیح) سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ مصنف (سیوطی) کا صحت کی علامت لگانا درست نہیں۔ اور یہ بھی ثابت ہو جاتا ہے کہ مصنف کا اپنی کتاب کے مقدمے میں یہ کہنا کہ 'میں نے اسے (جامع الصغیر کو) ایسے وضاعین (جھوٹے راویوں) اور کذابین سے پاک رکھا ہے جو کسی حدیث میں منفرد ہوں' — یہ قول بھی درست نہیں ہے، جیسا کہ بہت سی دوسری احادیث کے بارے میں بھی گزر چکا ہے۔ ان احادیث کو اس کتاب میں شامل نہیں کرنا چاہیے تھا، کیونکہ مصنف نے خود مقدمے میں شرط رکھی تھی کہ وہ اپنی کتاب کو وضاعین اور کذابین سے پاک رکھے گا جب وہ کسی حدیث میں منفرد ہوں۔"
[التنوير شرح الجامع الصغير-الصنعاني:224]
---
💎 تشریح کا خلاصہ:
1. اس حدیث کا مفہوم (عربوں سے محبت) اگرچہ ایک عام جذبہ ہے، لیکن یہ روایت سنداً ناقابلِ اعتماد ہے اور متعدد کبار محدثین (ذہبی، ابن جوزی، ابن حبان، ابو حاتم، البانی) کے نزدیک موضوع یا منکر ہے۔
2. اس کی سند میں علاء بن عمرو الحنفی نامی راوی ہے، جس پر جھوٹ، وضع اور ترک کا الزام ہے۔
3. امام سیوطی نے اپنی کتاب "الجامع الصغیر" میں اس پر صحت کی علامت لگا دی، جس پر امام صنعانی شدید تنقید کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ مصنف کی اپنی شرط کے خلاف ہے۔
4. عربی زبان کی عظمت قرآن و سنت اور صحابہ کے اقوال سے ثابت ہے، اس کے لیے اس ضعیف روایت کی ضرورت نہیں۔
📜 عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، قَالَ: «تَعَلَّمُوا الْعَرَبِيَّةَ كَمَا تَعَلَّمُونَ حِفْظَ الْقُرْآنِ»
ترجمہ:
حضرت ابی بن کعب (رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا:
"عربی زبان کو ویسے ہی سیکھو (اور اس کا اہتمام کرو) جیسے تم قرآن کا حفظ کرتے ہو۔"
[مصنف ابن ابی شیبہ: 29915]
وضاحت:
اس قول کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح قرآن کا حفظ محنت، تکرار اور اہتمام طلب کرتا ہے، اسی طرح عربی زبان کو سیکھنے اور اس پر عمل کرنے میں بھی اتنی ہی محنت اور پابندی ہونی چاہیے، کیونکہ عربی کے بغیر قرآن کی صحیح تلاوت اور فہم ممکن نہیں۔
عربی تلفظ، لہجہ اور آواز میں قرآن پڑھنا۔
حضرت حذیفہ بن یمان سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا:
اقْرَءُوا الْقُرْآنَ بِلُحُونِ الْعَرَبِ وأَصْوَاتِها، وَإِيَّاكُمْ ولُحُونَ أَهْلِ الْكِتَابَيْنِ، وَأَهْلِ الْفسقِ، فَإِنَّهُ سَيَجِيءُ بَعْدِي قَوْمٌ يُرَجِّعُونَ بِالْقُرْآنِ تَرْجِيعَ الْغِنَاءِ وَالرَّهْبَانِيَّةِ وَالنَّوْحِ، لَا يُجَاوِزُ حَنَاجِرَهُمْ، مفتونةٌ قُلُوبُهُمْ، وقلوبُ مَنْ يُعْجِبُهُمْ شَأْنُهُمْ»
ترجمہ:
"قرآن کو عربوں کے طریقوں (لہجوں) اور ان کی آوازوں کے مطابق پڑھو، اور تم اہلِ کتاب (یہودیوں اور عیسائیوں) اور فاسقوں کے طریقوں (راگوں) سے بچو۔ کیونکہ میرے بعد کچھ لوگ آئیں گے جو قرآن کو گانے والوں کی طرح (آواز کو گھما کر)، راہبوں کی طرح اور نوحہ خوانوں کی طرح پڑھیں گے، (لیکن) ان کی تلاوت ان کے حلقوں سے اوپر نہیں جائے گی (یعنی قبول نہیں ہوگی)، ان کے دل فتنے میں مبتلا ہوں گے، اور ان لوگوں کے دل بھی (فتنے میں مبتلا ہوں گے) جو ان کا (یہ) انداز دیکھ کر پسند کریں گے۔"
[المعجم الاوسط للطبرانی:7223]
📜 شرح الصنعانی:
"اللحون اور الألحان (دونوں) لحن کی جمع ہیں، جس کے معنی آواز کو موسیقی کی طرز پر گھمانا (طرب)، اسے گھما کر پڑھنا، قرأت، شاعری اور گانے کو خوبصورت بنانا ہیں۔ بظاہر اس (حدیث) سے وہی مراد ہے جو آج کل کے قاری (اپنے زمانے کے قراء) کرتے ہیں، یعنی عجمی راگوں (نظائر) کے ساتھ قرآن پڑھنا جو وہ محفلوں میں کرتے ہیں، کیونکہ یہود و نصاریٰ بھی اپنی کتابوں کو اسی طرح پڑھتے ہیں۔
پھر (شارح) فرماتے ہیں:
"اور تم اہلِ کتاب اور فاسقوں کے طریقوں سے بچو" (کا مطلب یہ ہے کہ) عربوں کے طریقے اور ان کی آوازیں وہ ہیں جن میں کوئی تکلف (مصنوعی اداکاری) نہ ہو اور وہ فطرت سے باہر نہ نکالی گئی ہوں۔
اور جہاں تک حدیث "زينوا القرآن بأصواتكم" (قرآن کو اپنی آوازوں سے زینت دو) اور "لقد أوتي هذا مزماراً..." (اسے داؤد علیہ السلام کی خوش الحانی عطا ہوئی) کا تعلق ہے، تو ان کا مطلب پیدائشی اور خلقی (فطری) خوبصورت آواز ہے، نہ کہ ایسے مصنوعی راگ جو اس (آواز) کو اس کی فطری حالت سے خارج کر دیں。
"پس میرے بعد کچھ لوگ آئیں گے جو قرآن کو گانے والوں کی طرح گھما کر پڑھیں گے" (کے بارے میں) انہوں نے قراء کے حال میں فرمایا کہ لوگوں نے قرآن کی قرأت میں گانے والوں کی آوازیں ایجاد کر لی ہیں۔ اور کہا جاتا ہے کہ قرآن سے سب سے پہلے جس چیز کو گایا گیا وہ اللہ کا ارشاد ہے: {أَمَّا السَّفِينَةُ فَكَانَتْ لِمَسَاكِينَ يَعْمَلُونَ فِي الْبَحْرِ فَأَرَدْتُ أَنْ أَعِيبَهَا} (سورہ کہف: ۷۹)۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ انہوں نے اسے اس شاعر کے شعر کی طرز پر گنگنایا:
"أما القطاة فإني سوف أنعتها ... نعتا يوافق عندي بعض ما فيها" (یعنی جس طرح وہ شاعر تیتر پرندے کی تعریف کرتا ہے، اسی طرز پر انہوں نے یہ آیت پڑھی)۔
(اور "الرهبانية" کا مطلب) یہ لفظ "الرهب" (خوف) سے ہے۔ یہ (عیسائی راہب) دنیا کے کاموں کو چھوڑ کر، اس کی لذتوں کو ترک کر کے، اس سے زہد اختیار کر کے اور اس کے لوگوں سے علیحدگی اختیار کر کے ترہب (رہبانیت) اختیار کرتے تھے، اور اس کی مشقتوں کو برداشت کرتے تھے، یہاں تک کہ ان میں سے بعض اپنے آپ کو خصی کر لیتے تھے، اپنی گردن میں زنجیر ڈال لیتے تھے اور دوسری طرح کی تکلیفیں (عذاب) دیتے تھے۔
اور "النوح" (نوحہ خوانی) کے ساتھ (اسے پڑھیں گے)۔
"ان کی (تلاوت) ان کے حلقوں سے اوپر نہیں جائے گی" (حناجر، حنجرہ کی جمع ہے، جو حلق کا باہر والا حصہ ہے)۔ یہ اس بات کی کنایہ ہے کہ یہ تلاوت زبان سے تو صادر ہوگی مگر دل سے نہیں، اس لیے اس میں خشوع نہ ہوگا اور نہ ہی اس کے ذریعے اللہ کی رضا کا حصول مقصود ہوگا۔
"ان کے دل فتنے میں مبتلا ہوں گے" کیونکہ وہ اپنے منہ سے وہ کہیں گے جو ان کے دلوں میں نہیں ہے (یعنی ریا کاری)۔
"اور ان لوگوں کے دل بھی (فتنے میں مبتلا ہوں گے) جو ان کا یہ حال دیکھ کر پسند کریں گے" کیونکہ وہ تلاوت کے اصل مقصد (تدبر اور اخلاص) سے غافل ہو جائیں گے۔
(یہ حدیث طبرانی نے اوسط میں، حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے)۔
---
🔍 سند (رجال) کی تنقید:
ہیثمی (مجمع الزوائد) کہتے ہیں: اس میں ایک راوی ہے جس کا نام نہیں لیا گیا (مجهول)، اور بقیہ (یعنی ابن الولید) بھی (اس میں شامل ہے) جو ضعیف اور مدلس راویوں میں سے ہے۔
ابن عدی، بیہقی (شعب الایمان) نے بھی اسے روایت کیا ہے۔
ابن جوزی (العلل المتناهیہ) کہتے ہیں: "یہ صحیح نہیں"، کیونکہ ابو محمد (ایک راوی) مجهول ہیں، اور بقیہ ضعفاء سے حدیث روایت کرتے تھے اور تدلیس بھی کرتے تھے۔
ذہبی (المیزان) اور حافظ ابن حجر (اللسان) کہتے ہیں: "اس پر بقیہ نے تنہا (انفراد) کیا ہے جو قابلِ اعتماد نہیں، اور یہ خبر منکر ہے۔"
البانی نے بھی اسے "ضعیف الجامع" میں ضعیف قرار دیا ہے۔
ابن جوزی نے اپنی کتاب "العلل" میں کہا: "یہ حدیث صحیح نہیں" اور دوسرے علماء نے بھی ایسا ہی کہا ہے۔
[التنوير شرح الجامع الصغير:1333]
---
تشریح کا خلاصہ
امام صنعانی اس تشریح میں واضح کرتے ہیں کہ:
1. قرآن کو فطری اور پیدائشی طور پر اچھی آواز سے پڑھنا سنت ہے اور اسے "زينوا" جیسی احادیث سے ترغیب دی گئی ہے۔
2. ممنوع وہ طریقہ ہے جس میں تکلف کر کے گانے والوں، راہبوں یا نوحہ خوانوں کی طرز پر مصنوعی راگ ڈالے جائیں، کیونکہ یہ بدعت ہے اور اس میں ریاکاری کا خطرہ ہے۔
3. اس ممانعت والی حدیث اگرچہ سنداً ضعیف ہے، لیکن اس کا مفہوم (قرآن کو اس کی فطرت سے ہٹا کر پڑھنا) دوسرے اصولوں کی روشنی میں ناپسندیدہ ہے۔
4. اصل مقصد اخلاص، خشوع اور تدبر ہے، محض آواز کی خوبصورتی نہیں، ورنہ وہ تلاوت دل تک نہیں پہنچتی اور بارگاہِ الٰہی میں مقبول نہیں ہوتی۔
سمجھنے کیلئے نماز جتنی عربی سیکھنا عجمی پر لازم ہے۔
القرآن:
اے ایمان والو ! جب تم نشے کی حالت میں ہو تو اس وقت تک نماز کے قریب بھی نہ جانا جب تک تم جو کچھ کہہ رہے ہو اسے سمجھنے نہ لگو۔۔۔
[سورۃ النساء، آیت نمبر 43]
غیر عرب (عجمی) کے لیے عربی زبان کے معنی سیکھنے کا حکم دو سطحوں پر ہے:
📜 نماز کی ادائیگی کے لیے (فرضِ عین)
نماز کی درستی کے لیے عربی الفاظ کا "تلفظ" سیکھنا شرط ہے۔ تاہم، (نماز کے علاؤہ قرآن وحدیث کی یا مکمل عربی کے) معنی سیکھنا فرض عین (ہر فرد پر لازم) نہیں ہے، بشرطیکہ وہ عربی تلفظ درست ادا کر سکے۔
📖 دین کے فہم کے لیے (فرضِ کفایہ)
قرآن و سنت کو سمجھنے کے لیے عربی زبان سیکھنا فرضِ کفایہ(یعنی بعض کا سیکھنا کافی) ہے۔ یعنی اگر کچھ لوگ یہ علم حاصل کر لیں تو باقیوں پر سے یہ فرض ساقط ہو جاتا ہے۔
---
🗣️ علماء کرام کے اقوال
· امام شافعی رحمہ اللہ: فرماتے ہیں: "ہر مسلمان پر واجب ہے کہ وہ عربی زبان میں سے اتنا سیکھے جتنا اسے اپنے فرض (نماز) کو ادا کرنے کے لیے درکار ہو"۔
[ارشاد الفحول-للشوکاني» فیما نقله عنہ الحاشدی فی فن الحوار (ص99)]
· شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ: فرماتے ہیں: "خود عربی زبان دین کا حصہ ہے، اور اسے سیکھنا فرض واجب ہے؛ کیونکہ قرآن و سنت کا فہم فرض ہے، اور یہ فہم عربی زبان کو سمجھے بغیر ممکن نہیں"۔
[اقتضاء الصراط المستقیم(468/1)]
· سعودی عرب کی مستقل فتویٰ کمیٹی: فرماتی ہے: "اگر مسلمان کے لیے عربی سیکھنا ممکن ہے تو اس پر واجب ہے، تاکہ وہ اپنی نماز کی قرأت، تکبیر اور دعائیں عربی میں ادا کر سکے"۔
[فتاوى اللجنة الدائمة-المجموعة الثانية» جلد 5 صفحہ 329]
خلاصہ
· نماز کی ادائیگی: صرف عربی تلفظ سیکھنا ضروری ہے، معنی سیکھنا شرط نہیں۔
· دین کا فہم: عربی معنی سیکھنا امت کی ایک اہم ذمہ داری (فرض کفایہ) ہے تاکہ امت میں قرآن و سنت کا علم زندہ رہے۔
📜 اہم ائمہ کرام کے اقوال
· امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ (بانی حنفی فقہ): آپ کے نزدیک نماز کی قرأت (سورہ فاتحہ اور دیگر قرآنی آیات) کا عربی میں ہونا شرط ہے۔ البتہ، عربی کے علاوہ دوسری زبان میں دعا مانگنے کے بارے میں آپ کا موقف رخصت (اجازت) پر ہے، لیکن یہ مکروہ تحریمی (حرام کے قریب ناجائز) ہے۔
· امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ: آپ نے دعا اور اذکار کے بارے میں فرمایا کہ عربی کے علاوہ دوسری زبان میں دعا کرنا مکروہ ہے، البتہ اس شخص کو (سیکھنے تک) اجازت ہے جو عربی نہ جانتا ہو۔
[اقتضاء الصراط المستقیم(468/1)]
اکثر فقہاء (جمہور) کا مسلک یہی ہے کہ نماز میں قرأت اور واجب اذکار (تکبیر، تسبیحات، تشہد وغیرہ) کو عربی کے علاوہ کسی اور زبان میں پڑھنا جائز نہیں۔
📖 قرآن و سنت سے دلائل
· قرآن کریم کی دلیل: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: "بے شک ہم نے اسے عربی قرآن بنایا، تاکہ تم عقل سے کام لو" (سورہ یوسف: 2) اور "یہ صاف عربی زبان میں ہے" (سورہ الشعراء: 195)۔ قرآن کا معجزہ اس کے عربی الفاظ اور اسلوب میں ہے، اس لیے اسے کسی اور زبان میں پڑھنا "قرآن" نہیں رہتا۔
· احادیث نبوی ﷺ سے دلیل: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ﴿إِنَّ هَذِهِ الصَّلَاةَ لَا يَصْلُحُ فِيهَا شَيْءٌ مِنْ كَلَامِ النَّاسِ، إِنَّمَا هُوَ التَّسْبِيحُ وَالتَّكْبِيرُ وَقِرَاءَةُ الْقُرْآنِ.﴾ "بےشک نماز میں لوگوں کی (عام) باتوں میں سے کوئی چیز درست نہیں ہے"۔[صحیح مسلم:537] صحابہ کرام کے دور میں بے شمار عجمی مسلمان ہوئے، مگر آپ ﷺ یا کسی صحابی نے کبھی عربی کے علاوہ دوسری زبان میں نماز پڑھنے کی (دائمی) اجازت نہیں دی۔
. امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جس زبان کو اللہ تعالی نے اختیار کیا ہے، اور پھر اس زبان میں اپنی کتاب کو نازل کیا ہے، اور جو زبان خاتم الانبیاء محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ہے، وہ عربی زبان ہے۔ اسی لیے ہم (شوافع/شافعی مسلک والے) کہتے ہیں کہ ہر وہ آدمی جو عربی (پوری)زبان سیکھنے کی طاقت رکھتا ہے، وہ سیکھے، کیونکہ یہ بہترین و افضل زبان ہے۔
[اقتضاء الصراط المستقیم(464/1)]
خلاصہ
مذکورہ بالا تفصیل سے واضح ہے کہ نماز میں سورہ فاتحہ اور دیگر قرآنی آیات کی تلاوت، نیز تکبیر، تسبیحات، تشہد اور درود جیسے اذکار کو عربی زبان میں ہی ادا کرنا ضروری ہے۔
لہٰذا، ہر مسلمان (خواہ عرب ہو یا عجمی) پر نماز کی ادائیگی کے لیے ضروری عربی الفاظ سیکھنا واجب ہے، تاکہ اس کی نماز صحیح اور قبولیت کے مطابق ہو سکے۔ یہ حکم صرف اسی صورت میں ساقط ہو گا جب کوئی شخص واقعتاً عربی سیکھنے سے عاجز ہو۔
الٰہی/روحانی تعلق میں اضافہ:
عربی زبان سیکھنے کا سب سے بڑا فائدہ یہ بھی ہے کہ اس سے ہماری عبادات میں خشوع و خضوع بڑھتا ہے۔ جب ہم نماز میں قرآن کی آیات پڑھتے ہیں یا دعا مانگتے ہیں اور اس کے الفاظ و معانی کو سمجھتے ہیں تو ہمارے دل میں اللہ سے قربت اور تعلق کی کیفیت پیدا ہوتی ہے۔ یہ محض الفاظ کی ادائیگی نہیں رہتی بلکہ دل و دماغ کی حاضری بن جاتی ہے۔
عربی زبان کے فضائل ومقاصد، احکام و مسائل، ضرورت واہمیت
عربی زبان صرف ایک زبان نہیں، بلکہ اسلام کی پہچان، قرآن و سنت کا خزینہ، اور امت مسلمہ کے تشخص کی علامت ہے۔ یہ وہ زبان ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے آخری پیغام کے لیے منتخب فرمایا اور جس کے ذریعے انسانیت کو ہمیشہ کی ہدایت عطا کی۔ آئیے، اس مقدس زبان کے مقاصد، فضائل، احکام اور اہمیت کا جائزہ لیتے ہیں۔
---
١. عربی زبان کے فضائل
عربی زبان کو بیشمار فضائل حاصل ہیں، جن کا ذکر قرآن و حدیث میں ملتا ہے:
· اللہ کا انتخاب: یہ وہ زبان ہے جسے اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کے لیے منتخب فرمایا۔ قرآن کریم کی تقریباً دس آیات میں اس کی عربی ہونے کی طرف واضح اشارہ کیا گیا ہے، جیسے سورہ الزمر میں ارشاد ہے: "قُرْآنًا عَرَبِيًّا غَيْرَ ذِي عِوَجٍ لَعَلَّهُمْ يَتَّقُونَ" (یقیناً ہم نے اسے عربی قرآن بنایا تاکہ وہ پرہیزگاری اختیار کریں)۔
· فصاحت و بلاغت کا معیار: عربی زبان اپنی الہامی حیثیت، فصاحت، بلاغت، اور معنوی جامعیت کے باعث تمام زبانوں پر ممتاز ہے۔ ماہرِ لغت ابن فارس کے مطابق، عربی کی فضیلت اس لیے ہے کہ حق تعالیٰ نے اسے صفتِ "بیان" کے ساتھ موصوف کیا جو کہ کلام کی اعلیٰ ترین صفات میں سے ہے۔
· اہل جنت کی زبان: حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: "أنا عربي، والقرآن عربي، ولسان أهل الجنة عربي" (میں عربی ہوں، قرآن عربی ہے اور اہل جنت کی زبان عربی ہے)۔
[المستدرك على الصحيحين-الحاكم:6999 (7176)، المعجم الكبير للطبراني:11441، المعجم الأوسط للطبراني:5583، صفة الجنة-الضياء المقدسي:113، صفة الجنة لأبي نعيم الأصبهاني:268]
· محبت کا ذریعہ:
حضرت انس سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا:
من أحب العرب فقد أحبني، و من أبغض العرب فقد أبغضني۔
ترجمہ:
جو اہل عرب سے محبت رکھتا ہے وہ درحقیقت مجھ سے محبت رکھتا ہے، اور جو اہل عرب سے بغض و عناد رکھتا ہے وہ در حقیقت مجھ سے بغض وعناد رکھتا ہے۔
[المعجم الاوسط:2537، دار الفکر 2/66، مسند البزار:6997، مکتبۃ العلوم والحکم 13/357، مجمع الزوائد:302، دار الکتب العلمیۃ بیروت 1/53]
اس کا مطلب ہے کہ عربی زبان اور اس سے وابستہ لوگوں سے محبت، محبتِ رسول کا ایک حصہ ہے۔
---
٢. عربی زبان کے مقاصد
عربی زبان کے بنیادی مقاصد کا تعلق اس کی الہامی حیثیت اور عملی افادیت سے ہے:
· قرآن و سنت کا تحفظ اور ترویج: عربی زبان قرآن کریم اور احادیث نبویہ کی زبان ہے۔ اس کا بنیادی مقصد کلام اللہ اور ارشادات نبوی ﷺ کو ان کی اصل شکل میں محفوظ رکھنا اور انہیں امت تک پہنچانا ہے۔
· دینی احکام کی صحیح سمجھ: عربی میں مسلمانوں کی تمام دینی اصطلاحات اور الفاظ کا بیان ہے۔ اس لیے اس زبان کے بغیر اسلام کے نظام اور احکام کو گہرائی اور صحیح طور پر سمجھنا ناممکن ہے۔
· عبادات کی درستگی: نماز، اذان، حج وغیرہ کی اکثر دعائیں اور اذکار عربی میں ہی ادا کیے جاتے ہیں۔ اس کا مقصد عبادات کو ان کے صحیح اور طے شدہ طریقے پر انجام دینا ہے۔
· امت مسلمہ کی شناخت: عربی زبان اسلام کی سرکاری زبان ہے۔ یہ دنیا بھر کے مسلمانوں کو ایک مشترکہ ثقافتی اور فکری رشتے میں پرو کر ایک امت کی حیثیت دیتی ہے۔
---
۳. عربی زبان کے احکام و مسائل
عربی زبان سیکھنے اور اسے استعمال کرنے سے متعلق فقہاء کرام کے درمیان کچھ تفصیلی احکام ہیں:
· فرض کفایہ یا فرض عین: زیادہ تر علماء کا موقف ہے کہ عربی زبان سیکھنا فرض کفایہ ہے، یعنی اگر امت میں سے ایک گروہ اسے حاصل کر لے تو باقیوں پر سے یہ ذمہ داری ساقط ہو جاتی ہے۔ تاہم، نماز کی ادائیگی کے لیے ضروری عربی الفاظ (جیسے سورہ فاتحہ) کا علم ہر مسلمان پر فرض عین (انفرادی طور پر لازم) ہے۔
· دینی علوم کا ذریعہ: چونکہ دینی علوم کا اصل ماخذ عربی میں ہے، اس لیے انہیں سمجھنے کے لیے عربی زبان کا علم حاصل کرنا ایک شرط ہے۔ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ خود عربی زبان دین کا حصہ ہے اور اسے سیکھنا اس لیے واجب ہے کہ قرآن و سنت کا فہم فرض ہے، جو کہ عربی کے بغیر ممکن نہیں۔
· دعا و اذکار کا مسئلہ: نماز کی قرأت تو صرف عربی میں ہی درست ہے، البتہ بعض فقہاء کے نزدیک نماز کے علاوہ اپنی زبان میں دعا مانگنے کی گنجائش ہے، خاص طور پر اس شخص کے لیے جو عربی نہیں جانتا، لیکن اسے مکروہ سمجھا گیا ہے۔
· تعلیم و تدریس کا حکم: عربی زبان سکھانا باعثِ فضیلت اور اجر ہے کیونکہ یہ قرآن و سنت کو سیکھنے اور سکھانے کا ذریعہ ہے۔
۴. عربی زبان کی اہمیت و ضرورت
عربی زبان کی اہمیت اور ضرورت کو کسی تعارف کی ضرورت نہیں، یہ امت مسلمہ کے لیے زندگی کا مسئلہ ہے:
· دین کا لازمی جزو: عربی زبان محض الفاظ کا مجموعہ نہیں بلکہ حق کی صدا اور فصاحت کا معیار ہے۔ یہ قرآن و سنت کی زبان ہے، جسے سمجھے بغیر اسلام کے نظام اور اس کے عظیم تاریخی ذخیرے سے استفادہ کرنا ممکن نہیں۔
· عبادات کی بنیاد: اسلامی عبادات جیسے نماز، اذان، حج کے اعمال اور روزمرہ کے اذکار سب کا تعلق عربی زبان سے ہے۔ اس کے بغیر ان عبادات کو صحیح طریقے سے ادا کرنا ممکن نہیں۔
· زندہ اور متحرک زبان: عربی زبان ابتدائے اسلام سے لے کر آج تک ایک زندہ اور ترقی یافتہ زبان ہے، اور قرآن کریم کی وجہ سے اپنی اصلی حالت میں محفوظ ہے۔ برصغیر میں اس کے حوالے سے ایک کمزوری یہ ہے کہ اسے زبان کے طور پر بولنے اور لکھنے کی بجائے صرف ایک کتابی فن سمجھ لیا گیا۔
· تہذیب و ثقافت کا سرچشمہ: عربی زبان نے مسلمانوں کی بہت سی دوسری زبانوں (جیسے اردو، فارسی، ترکی) کو متاثر کیا ہے اور ان میں بے شمار عربی الفاظ موجود ہیں۔ اس کا مطالعہ اسلامی تہذیب و ثقافت کو سمجھنے کی کنجی ہے۔
---
خلاصہ
عربی زبان محض ایک لسانی مہارت نہیں، بلکہ ایمان کا ایک حصہ، شعائر اسلام میں سے ایک شعار، اور امت مسلمہ کی اجتماعی شناخت ہے۔
اس کا مقصد قرآن و سنت کا تحفظ، دین کی صحیح سمجھ اور عبادات کی درستی ہے۔ اس کے فضائل میں اللہ کا اسے منتخب کرنا، فصاحت و بلاغت میں ممتاز ہونا اور اہل جنت کی زبان ہونا شامل ہیں۔ احکام کے اعتبار سے یہ فرض کفایہ ہے، مگر نماز کی ادائیگی کے لیے ضروری حصہ فرض عین ہے۔ اس کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ یہ دین، عبادات اور اسلامی تہذیب کی بنیاد ہے۔
لہٰذا، امت مسلمہ کو چاہیے کہ وہ اس مقدس زبان کو سیکھنے، سمجھنے اور اسے فروغ دینے کو اپنی اولین ترجیحات میں شامل رکھے تاکہ وہ اپنے دین کو صحیح طور پر سمجھ سکے اور اس پر عمل کر سکے۔
عربی کی ابتداء (روایات کے مطابق):
عربی کی ایجاد اور ابتداء سے متعلق چند حدیثیں پیش خدمت ہیں جو ہماری کتاب انوار ہدایت کے اندر بھی موجود ہیں ، حدیث شریف ملاحظہ فرمائیے:
امام بیہقی نے اپنی کتاب شعب الایمان میں ایک حدیث نقل فرمائی ہے، جس میں حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد منقول ہے کہ: اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ الصلوٰۃ والسلام پر عربی زبان کی ابتداء کرنے کی وحی نازل فرمائی ہے۔
حوالہ
عن جابر، عن رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال: ألہم إبراہیم علیہ السلام بدأ اللسان العربي إلہاما۔
[شعب الایمان للبیہقي، فصل في الصلاۃ علی النبي صلی اللہ علیہ وسلم، دار الکتب العلمیۃ بییروت ۲؍۲۳۳ رقم:۱۶۱۸،المستدرک کتاب التفسیر، مکتبۃ نزار مصطفیٰ الباز ۴؍۱۲۴۴ رقم؍۳۳۱۵]
اس سے ثابت ہوا کہ عربی زبان کی ابتداء حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرمائی۔
جبکہ
حضرت جابر رضی اللہ عنہ کی دوسری روایت میں اس بات کا ذکر ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے سورۂ حم سجدہ کی تیسری آیت کی تلاوت فرمائی، اس کے بعد رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ: اس عربی زبان کا الہام حضرت اسماعیل علیہ السلام پر فرمایا گیا تھا۔
حوالہ
عن جابر، أن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تلا: قراٰنا عربیا لقوم یعلمون ثم قال: رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ألہم إسماعیل ہذا اللسان إلہامًا۔
[شعب الایمان للبیہقي، فصل في الصلاۃ علی النبي صلی اللہ علیہ وسلم، دارالکتب العلمیۃ بیروت۲/۲۳۴ رقم:۱۶۲۰، المستدرک علی الصحیحین، مکتبۃ نزار مصفطیٰ الباز ۴/۱۳۶۵، رقم:۳۰۲]
حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی روایت میں ہے کہ سب سے پہلے عربی زبان بولنے والے حضرت اسماعیل علیہ السلام ہیں ۔
حوالہ
عن ابن عباس قال: أول من نطق بالعربیۃ (إلی قولہ) ولدہ إسماعیل بن إبراہیم علیہما السلام۔
[شعب الایمان ۲/۲۳۳ رقم :۱۶۱۷، المستدرک، مکتبۃ نزار مصطفیٰ الباز ۴/۱۵۰۷ رقم :۴۰۲۹]
عربی زبان سیکھنے کے دو مراحل:
عربی زبان کی دو حیثیتیں ہیں: پہلی حیثیت: تو یہ کہ عربی زبان قرآن وسنت کی زبان ہے، اور اس میں مسلمانوں کی دینی اصطلاحات والفاظ کا بیان ہے، اسے سمجھے بغیر اسلام کے نظام واحکام کو سمجھنا اور اس کے ساڑھے چودہ سو سال پر محیط عظیم تاریخی ذخیرہ سے استفادہ کرنا مشکل ہے۔ یہ حیثیت اہم ترین اور مسلمانوں کی اس زبان سے وابستگی اور دلچسپی کی اصل وجہ ہے، اور اس کی وجہ سے ہر مسلمان کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اسے بے تکلف اور صحیح طور پر سمجھتے اور پڑھ سکتے ہوں۔ دوسری حیثیت: یہ ہے کہ عربی زبان ابتدائے اسلام سے لے کر آج تک اسلامی تاریخ کے ہر دور میں ایک زندہ زبان رہی ہے، اور فی زمانہ بھی ایک زندہ، ترقی یافتہ زبان ہے جوکہ اظہارِ خیال کی پوری صلاحیت رکھتی ہے، اور قرآن کریم کی وجہ سے اپنی اصلی حالت میں محفوظ ہے، اس حیثیت کا تقاضا یہ ہے کہ مسلمانوں کا اس سے ایک مضبوط اور عملی تعلق ہو،اس میں بے تکلفی سے تقریر وتحریر کرسکتے ہوں، حتیٰ کہ وہ عام لوگوں کی مجالس کی زبان ہو، بڑی عجیب او رناقابلِ فہم بات ہے کہ کوئی فرد یا جماعت اپنی زندگی کا ایک معتدبہ حصہ اور ذہنی صلاحیتیں ان علوم کے پڑھنے پڑھانے میں صرف کرے جو عربی زبان میں لکھی گئی ہیں، لیکن اس زبان میں عام گفتگو کرنےسے بالکل معذور اور قاصر ہو، زبان فہمی کا یہ عجیب وغریب سلسلہ صرف ہمارے ہاں برِصغیر پاک وہند کی خصوصیت ہے، جو کہیں اور نہیں پائی جاتی ۔
اس کمزوری کی اصل وجہ یہ ہے کہ عربی زبان کو کبھی بطور زبان پڑھنے پڑھانے کی کوشش نہیں کی گئی، بلکہ اسے ایک کتابی فن کی نظر سے دیکھا گیا اور صرف کتاب فہمی تک محدود رکھا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ اس کی عملی مشق اور تحریر وانشاء کی طرف توجہ نہیں دی گئی، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ہمارے مدارس کے فضلاء عربی زبان میں چند سطریں لکھنے یا چند منٹ گفتگو کرنے پر قادر نہیں ہوتے، خصوصاً جب کہ یہ تحریر یا گفتگو عام زندگی یا روزمرہ کی ضرورت سے متعلق ہو اور خالص دینی یا علمی بحث میں محدود نہ ہو، یہ کمی پہلے اہلِ نظر کومحسوس ہوتی تھی، لیکن اب جب کہ عربی ممالک کے علماء وفضلاء سے اختلاط وروابط بڑھنے لگے اور دینی خدمات کا میدان زیادہ وسیع ہوگیا ہے، یہ کمی زیادہ شدت سے محسوس کی جانے لگی ہے، جس کے پیشِ نظر مختلف مناہج ونصابوں کو مرتب کیا گیا، تاکہ جدید دور کی اشیا ء کے استعمال اور ان کے ناموں کی پہچان کرائی جاسکے۔
اسی طرح عربی زبان کے سیکھنے کے بھی دو اہم پہلو ہیں، جن میں سے ہر پہلو اہمیت کا حامل اور تفصیل طلب ہے، لہٰذا ہم یہاں دونوں پہلوؤں پر تفصیلی اصول اور کچھ ضوابط ذکر کریں گے، تاکہ شائقینِ عربی زبان اور طالب علموں کو اس کے سیکھنے میں آسانی اور رہنمائی مل سکے۔
عربی زبان سیکھنے کا پہلا مرحلہ
عربی زبان سیکھنے کی اولین سطح یہ ہے کہ آدمی عربی زبان کے صرف ونحو کے قواعد وضوابط اچھی طرح جان لے، عبارت کی تمام خوبیوں اور خرابیوں سے واقف ہو، اس کی ہر مشکل گرہ کھولنے پر قادر ہو اور نتیجتاً اس کے مطالب ومعانی کو خوب سمجھ سکے اور غلط کو خود ہی درست کرسکے، کوئی غلط فہم شخص اُسے کسی عبارت کا غلط مطلب مان لینے پر مجبور نہ کرسکے، اگرچہ وہ عربی کو لکھ اور بول نہ سکےاور اس مرحلے کا تعلق مشق واِجراء سے ہے، قواعدِ نحو وصرف پر جتنی مضبوط گرفت اور تطبیق واجراء ہوگا، اتنا ہی اس مرحلے میں پختگی ہوگی، اس مرحلے کی عربی جاننا ہر اس طالب علم کے لیے ناگزیر ہے جو دینی علوم کا حصول چاہتاہو، اس لیے کہ اس کے بغیر نہ تو وہ کسی عبارت کو سمجھ سکتاہے اورنہ ہی کسی مطلب تک اس کی رسائی ہوسکتی ہے، اور اگر کوئی کم علم یا کم فہم یا بد فہم اسے کسی عبارت کا غلط مطلب سمجھادے تو اس کی غلطی کو بھی معلوم نہیں کرسکتا، کیونکہ عبارت فہمی ہی واحد ذریعہ ہے جس سے انسان کسی عبارت کے غلط یا صحیح مطلب میں امتیاز کرسکتاہے، کسی بھی طالب علم کی ننانوے فیصد کامیابی یہی ہے کہ وہ عبارت کو اس حد تک ضرور سمجھ لے۔ اس کے بغیر دینی تعلیم کا حصول، کتاب وسنت کا فہم اور علومِ شرعیہ کا اکتساب محض ایک خواب ہی ہے، جس کی کوئی تعبیر نہیں ہے۔
عربی زبان سیکھنے کا دوسرا مرحلہ
عربی زبان سیکھنے کا دوسرا اہم پہلو یہ ہے کہ انسان کو آزادانہ طور پر عربی زبان میں کچھ تحریر کرنے اور لکھنے پر عبور حاصل ہو اور بلا جھجک اپنے ما فی الضمیر کو اوراق پر قلمبند کرسکے۔ اس سلسلے میں ماضی پر نظر دوڑائی جائے تو کافی حد تک کوتاہی برتی گئی ہے، لیکن اب مسئلہ مستقبل کو پیش نظر رکھتے ہوئے حال کا ہے۔ کچھ عرصہ سے تمام باطل تحریکوں اور نظریات نے، نیز مسلمانوں کی طرف منسوب بعض خطرناک تصورات کی حامل جماعتوں اور فرقوں نے عربی زبان پر قبضہ جمارکھاہے۔ یہ فرقے اسلام پر اور مسلمانوں کی راہِ اعتدال پر قائم جماعت پر طرح طرح کے اعتراضات کرتے ہیں اور مسلمہ قواعد واصول اور اکابرِ امت کی عظمت کی تمام عمارتوں کو مسمار کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ زبان اس وقت بطور خاص ایک ترقی یافتہ ہتھیار بن چکی ہے۔ اس وقت کی تحریکیں دیگر وسائل کے ساتھ بڑے بڑے معرکے زبان، لٹریچر اور ذرائع ابلاغ کے ذریعے ہی سر کرتی رہی ہیں۔ ہمارے ہاں اس سلسلے میں بڑی حد تک کوتاہی برتی گئی ہے اور اس حوالے سے جس احساس اور احساس کے بعد جس فکر وعمل کی ضرورت ہے، وہ یکسر مفقود ہے۔
عربی زبان کے حصول کی چند اہم ہدایات
دیکھیے! زبان کے حصول کی کچھ چیزیں اتنی اہم ہیں کہ اگر ان میں سے کسی ایک کے اندر بھی غفلت برتی جائے تو گویا کہ اس زبان کے حصول کی کوشش ناقص اور کافی حد تک بے نتیجہ رہ جاتی ہے۔ ہم یہاں ان چیزوں کو بطور ہدایات قدرے تفصیل سے بیان کریں گے، تاکہ بات پوری واضح ہوسکے۔
پہلی ہدایت: تکلم اورگفتگو میں مہارت کا طریقہ
سب سے پہلی بات یہ ہے کہ زبان کو بولنے، اپنی عام گفتگو میں جاری کرنے، نیز تقریر کرنے اور اپنے ما فی الضمیر کو زبانی طور پر اس میں ادا کرنے کی صلاحیت پیدا کی جائے، یعنی یہ کہ زبان کو ’’نطقاً ‘‘ حاصل کیا جائے، اگر ہمیشہ، ہر وقت اور ہر جگہ اپنی گفتگو اسی زبان میں کی جائے تو بولنا آسان ہوجاتاہے۔ اگر کم بولا جائے اور اس سلسلے میں شرم محسوس کی جائے کہ لوگ ہنسیں گے، مذاق اُڑائیں گےتو پھر عربی زبان کو نطقاً حاصل کرنا یکسر مشکل بلکہ ناممکن ہوجاتاہے۔
دوسری ہدایت: تحریر سیکھنے کا طریقہ کار
دوسری اہم بات یہ ہے کہ کسی بھی زبان کو کما حقہ سیکھنے کے لیے ضروری ہے کہ اسے ’’کتابتاً‘‘ بھی حاصل کرلیا جائے ، بلکہ ’’کتابتاً‘‘ حاصل کرنا ’’نطقاً ‘‘ اور’’خطابتاً‘‘ سیکھنے سے زیادہ ضروری ہے، اس لیے کہ تقریر اور گفتگو کا فائدہ عموماً وقتی ہوا کرتا ہے، جبکہ تحریر کا فائدہ دیرپا اور دور رس ہوا کرتا ہے۔ گفتگو کرنے والے کی گفتگو اور مقرر کی تقریر، خواہ وہ مقرر کتنا ہی لسَّان اور قادر الکلام ہو، اس کے دنیا سے جانے کے بعد بعض اوقات اس کی زندگی میں ہی ختم ہوجاتی ہے، لیکن اہلِ قلم کا مضمون اور مؤلف کی تالیفات بعض دفعہ صدیوں بلکہ ہمیشہ باقی رہتی ہیں۔ اس کی کئی مثالیں ہمارے سامنے ہیں، جیسے درس نظامی وغیرہ کی کتابیں درس میں پڑھتے ہیں یا مطالعہ کرتے ہیں، ان کے لکھنے والے صدیوں پہلے اس جہانِ فانی سے کوچ کرچکے ہیں، لیکن ان کی نگارشات اور رشحاتِ قلم سے ہم جیسے طالب علم فیض یاب ہورہے ہیں اور ان کے لیے دل وزبان سے دعا کرنے کو ذریعۂ نجات سمجھتے ہیں ۔
بہرحال تحریر وتقریر دونوں کی صلاحیت پیدا کرنا ضروری ہے، البتہ تحریر پر توجہ دینے کی شدید ضرورت ہے۔ اس میں یہ بات یاد رہے کہ زبان کو بولنے کی حدتک حاصل کرنا آسان ہے اور بہت تھوڑے ہی عرصے کاکا م ہے؛ لیکن کتابت وتحریر قدرے محنت طلب، صبر آزما اور بامشقت کام ہے جوکہ نفس پر سخت بھاری پڑتا ہے۔ اس کے برعکس نطق چند ماہ کی محنت سے سیکھا جاسکتا ہے اور اس کے لیے تو قواعد جاننے کی بھی ضرورت نہیں پڑتی، صَرف ونحو کے بغیر بھی لوگ عربی زبان بول لیتے ہیں، اگر چہ ہم عجمیوں کےلیے ذرا مشکل بھی ہے، لیکن اس کے باوجود اگر کسی کو ما حول مل جائے یا عربو ں کے ساتھ کچھ وقت گزارنے کا موقع مل جائےتو زیادہ مشکل نہیں ہوتی۔
آج کل ساری دنیا کے عجم معاش کی تلاش میں عرب ممالک کا رُخ کررہے ہیں اور بالکل اَن پڑھ لوگ بھی وہاں چند سال گزارنے کے بعد غلط سلط ہی سہی، لیکن رواں دواں عربی بولنے لگتے ہیں، یہاں تک کہ وہاں کی مقامی زبان کو تو پڑھے لکھے لوگوں سے بھی اچھی بولنے لگتے ہیں۔ خلاصہ اس تفصیل کا یہ ہوا کہ کسی بھی زبان کو صرف بولنے کے دائرے میں سیکھنا آسان ہے، جبکہ تحریر کے لیے زبان کے قواعد وآداب کی رعایت رکھنا انتہائی ضروری ہے۔
تیسری ہدایت: کثرتِ مشق اور قدیم نگارشات سے وابستگی
زبان پر کما حقہ عبور حاصل کرنے کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ اس زبان میں کثرتِ مشق اور قدیم نگارشات سے گہری وابستگی، مسلسل لکھتے رہنا، اساتذۂ ادب اور ان کی رشحاتِ قلم سے واقفیت کے ساتھ ساتھ گہرا مطالعہ اور استفادہ کرنا۔ جس زبان کو بھی سیکھاجائے اُس میں مختلف مصنفین کی کتابیں پڑھنا، ان کا اسلوبِ بیان سمجھنا بہت ضروری امر ہے جس کے بغیر تحریر میں عمدگی اور کلام کی شائستگی کا حصول محال کے درجے میں ہے۔ کسی لکھاری کی تحریر میں ایسی عمدگی اور خاص قسم کا طرزِ سخن پیدا ہونا کہ قاری جب مضمون یا کتا ب کو ہاتھ میں لے تو اُسے اول سے آخر تک پڑھے بغیر چین نہ آئے۔ اس درجہ کا حصول تب ممکن ہوگا جب ترتیب، تقدیم وتاخیر، بوقتِ ضرورت تفصیل واختصار، سہولت، سلاست، شیرینی، ادائےپرکشش، ایک خاص قسم کا اُتار چڑھاؤ، موضوع کی مناسبت سے الفاظ کا انتخاب اور دیگر محاسن وعناصر تحریری کی رعایت کی گئی ہو، اس کے بعد ہی کسی تحریر کو صحیح معنوں میں تحریر کہا جاسکتا ہے۔ ان عناصر سے خالی نگارشات کو صرف معتقدین یا متعلقہ افراد جن کے لیے اُن کاپڑھنا او ر اُن سے فائدہ اُٹھانا‘ناگزیر ہوتاہے، پڑھتے ہیں، ان کے علاوہ دیگر قارئین اُنھیں ہاتھ بھی نہیں لگاتے۔
(جاری ہے)
