اللہ تعالیٰ نے اس امت ( حضرت خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کی امت ) کو مجموعی طور پر برباد ہونے اور باطل پر جمع ہونے سے محفوظ رکھا ہے۔ اس امت کا کسی چیز پر متفق ہو جانا اس بات کی دلیل ہے کہ یہ بات صحیح ہے ، اسلام میں امتِ محمدیہ کا اجماع معصوم تسلیم کیا گیا ہے۔ اس امت کا پہلا طبقہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین تھے یہ سب حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے تزکیہ قلب کی دولت پائے ہوئے تھے اس لیے ان کا کسی بات پر متفق ہوجانا ( جیسے کہ یہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی امامت اور خلافت پر جمع ہوگئے یا مسلیمہ کذاب کے مقابلہ میں انکارِ ختم نبوت کے کفر ہونے اور لائق جہاد ہونے پر جمع ہوگئے تھے) اس کے حق ہونے کا نشان ہے۔
صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کے بعد امت میں ہرطرح کے اچھے بُرے لوگ پائے گئے (گوتابعین کے دور میں بُرے بہت کم لوگ ہوں گے ) اس لیے اب ان ادوار میں ہر کہ ومہ کی رائے کا اعتبار نہ ہو گا اب اجماع کی اصطلاحی تعریف یہ کی جائے گی :”کسی زمانے کے تمام معتمد علمائے مجتہدین کا کسی امر پر متفق ہونا۔ “
یہ امت کسی ایک دور میں بھی باطل پر جمع نہیں ہو سکتی اس لیے علمائے مجتہدین کسی ایک دور میں بھی کسی بات پر جمع ہوجائیں تو اجماع امت منعقد ہو جاتا ہے جسے بعد کا کوئی اختلاف ( گوکسی بڑے سے بڑے آدمی کا ہو ) نہیں توڑ سکتا۔
جیسے ایک مجلس میں دی گئی تین طلاقوں پر تمام ائمہ مجتہدین کا اجماع ہے کہ یہ تینوں ہی واقع ہوتی ہیں۔ اسلام کی پہلی چھ صد یوں میں اس پر کسی مجتہد کا اختلاف نہیں ملتا۔ سو بعد میں حافظ ابن تیمیہ رحمہ اللہ کا اس سے اختلاف اس پہلے اجماع کو نہ توڑ سکے گا۔ اس لیے اب تک اجماع امت وہی شمار ہوتا ہے۔
اجماع کے لیے ضروری نہیں کہ سب اہل علم کسی ایک مجلس میں شریک ہوں یا اس میں تمام بلاد کی نمائند گی ہو یا ایک ہی دن میں سب اہل علم نے اس پر اتفاق کیا ہو ، اگر کسی جگہ عامہ اہل علم کسی بات پر متفق ہوجائیں یہاں تک کہ تمام بلاد ِ اسلامیہ اسے امت کا فیصلہ تسلیم کرلیں اور پھر یہی نہیں کہ اس پر کوئی مختصر لمحہ اوقات گزرے سالوں تک اس پر کوئی نقد نہ ہو پھر صد ہا سال مسلمانو ں کا یہی موقف سمجھا جائے تو تسلیم کرنے سے چارہ نہ رہے گا کہ یہ ”اجماعِ امت“ ہے اور امت کے معتمد علمائے مجتہدین سب اسی رائے پر جمع ہیں مجتہدین کی انفرادی آراء میں خطاء کا احتمال رہتا ہے لیکن مجتہدین کے اجماع میں احتمال خطا نہیں ہوتا۔ اس اتفاق کی وجہ سے اس رائے میں اللہ تعالیٰ کی رضا سامنے آجاتی ہے اب یہ جو فیصلہ ہے اس سے اللہ راضی ہے۔
اجماع کی لغوی معنىٰ
اجماع کا لغوی معانی (پختہ ارادہ) اتفاق کرنا ہے جیسے کہا جاتا ہے: ’’اَجْمَعَ الْقَوْمُ عَلٰی کَذَا‘‘
[المنجد، ص:166، دارالاشاعت کراچی]
عربی کا لفظ اجماع، احسان کے وزن پر باب افعال کا مصدر ہے، لغت میں اس کے دو معنىٰ ہیں:
- کسی چیز کا پختہ ارادہ کرلینا۔ یعنی جب کوئی شخص کسی کام کا ارادہ کرلیتا ہے تو محاورہ میں کہا جاتا ہے "اجمع فلاں علیٰ کذا"۔ اس معنىٰ کے اعتبار سے ایک شخص کے عزم پر بھی اجماع کا اطلاق صحیح ہوگا۔ آیتِ قرآنی : فَأَجمِعوا أَمرَكُم {10:71} میں یہی معنى مراد ہے۔
- کسی چیز پر ایک سے زائد لوگوں کا اتفاق کرلینا۔ چناچہ جب قوم کسی بات پر متفق ہوجاتی ہے تو کہا جاتا ہے، "إجمع القوم على كذا"۔ اس معنىٰ کی رُو سے کسی بھی جماعت کے کسی بھی دینی آیا دنیوی امر (بات) پر اتفاق کو اجماع کہا جاتا ہے، حتیٰ کہ یہود و نصاریٰ کے اجماع کو بھی۔
اجماع کی سب سے زیادہ جامع و مانع تعریف حضرت ابن السبکی ؒ(م771ھ) کی ہے:
| ” | هو إتفاق المجتهدي الأمة بعد وفاة محمد صلى الله عليه وسلم في عصر على أي أمر كان۔
ترجمہ: یہ امت (محمدیہ) کے مجتہدین کے اس اتفاق کا نام ہے جو حضرت محمد صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے بعد کسی زمانہ میں کسی بھی بات پر ہوا ہو۔ [جمع الجوامع على ہامش البنانی، 2، ص: 121]
| “ |
تعریف کی وضاحت:
«أمة» کی قید سے دوسری امتوں کا اجماع خارج ہوگیا۔ اور امت سے مراد : امتِ اجابت (جو اسلام لاچکے ہیں) ہے ، امتِ دعوت (جن کو دعوتِ اسلام دی جاۓ) نہیں ۔
«مجتہدین» کی قید سے مراد ماہر علماء مراد ہیں، جنہیں فقہاء بھی کہتے ہیں.
«بعد وفاة محمد صلى الله عليه وسلم» کی قید سے مراد اجماع کی ابتداء کے وقت کا بیان ہے ۔ جو اجماع نبی کریمﷺ کے زمانے میں ہوا ہو، اس کا کوئی اعتبار نہیں کیونکہ وہ تو نزول وحی کا زمانہ تھا۔ جس سے قطعی حکم نازل ہوجاتا تھا.
«في عصر» کی قید سے مراد نبوت کے زمانے کے بعد کسی بھی زمانے میں کیا ہوا اجماع قابل قبول ہوگا ، چاہے وہ صحابہ کے زمانے میں ہوا ہو یا اس کے بعد والے کسی زمانے میں۔
«على أي أمر كان» کی قید سے مراد صرف امر عام ہے. یعنی دینی امر کے ساتھ ساتھ عقلی یا دنیوی علوم و فنون میں اس علم و فن کے ماہروں کا اتفاق بھی اجماع میں شمار ہوگا.
لہٰذا مسائل فقہ میں فقہاء کا اجماع، مسائل نحو (عربی گرامر) میں نحوییں کا اجماع، مسائل اصول میں اصولیین کا اجماع اور مسائل کلام میں متکلمین کا اجماع معتبر ہوگا۔ (یعنی غیرعالم عوام یا علم کے دوسرے شعبے والوں کا اجماع معتبر نہیں۔)
حجیتِ اجماع قرآن مجید سے:
جمہور مسلمین اجماع کی حجیت کے قائل ہیں، اجماع کی حجیت کتاب وسنت سے ثابت ہے، ارشادِ باری تعالٰیٰ ہے:
(1)...وَاعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللّٰهِ جَمِیْعًا وَّ لَا تَفَرَّقُوْا...
ترجمہ:
...اور مضبوطی سے تھامے رکھو اللہ کی رسی(قرآن)کو...سب مِل کر...اور آپس میں جدائی نہ ڈالو...
[تفسیر الطبري:7577»سورۃ آل عمران:103]
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے تفرقہ (انتشار/اختلاف) سے منع فرمایا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اجماع کی مخالفت تفرقہ ہے، لہٰذا وہ منع ہے۔ اور اجماع کے حجت(دلیل وثبوت) ہونے کا مفہوم اس کی مخالفت سے منع کرنے اور اس(اجماع) کی اتباع(پیچھے چلنے) کی وجوب(لازم ہونے) کے سوا کچھ نہیں ہے۔
["الإجماع" از ڈاکٹر عبدالفتاح حسینی (ص ۱۰۱)، "حجیۃ الإجماع" (ص ۱۷۸)]
قرآن مجید کا اللہ کی کتاب یا کلام ہونے کا ثبوت(دلیل) بھی اجماع سے ہے، ورنہ اللہ کے رسول محمد ﷺ کے بغیر قرآن/وحی نہ ہم پر نازل ہوئی اور نہ ہی اللہ نے ہم سے براہِ راست کلام کیا۔

سورۃ آل عمران کی اس آیت(103) کی تفسیر میں علامہ ابن جریر طبریؒ(م310ھ) حضرت عبد الله بن مسعود (رضی اللہ عنہما) سے مروی ایک روایت بیان کرتے ہیں:
’’يَا أَيُّهَا النَّاسُ عَلَيْكُمْ بِالطَّاعَةِ وَالْجَمَاعَةِ فَإِنَّهُمَا حَبْلُ اللهِ الَّذِي أَمَرَ بِهٖ، وَإِنَّ مَا تَكْرَهُونَ فِي الْجَمَاعَةِ وَالطَّاعَةِ هُوَ خَيْرٌ مِّمَّا تَسْتَحِبُّونَ فِي الْفُرْقَةِ‘‘
ترجمہ:
’’اے لوگو!تم پر اطاعت (اللہ عزوجل اور اس کے رسول کریم (ﷺ) اور جماعت (کے ساتھ وابستگی) لازم ہے پس بے شک اللہ عزوجل کی رسی اطاعت و جماعت کی رسی ہے جس کے بارے میں حکم فرمایا گیاہے اور بے شک جس کو تم جماعت اور اطاعت میں ناپسند کرتے ہو وہ اس سے بہتر ہے جس کو تم تفرقہ بازی میں پسند کرتے ہو‘‘-
وَتَفْسِيرُ الْجَمَاعَةِ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ: هُمْ أَهْلُ الْفِقْهِ وَالْعِلْمِ.
اور علماء کے نزدیک "الجماعت" کی تفسیر: فقہ اور علم والے ہیں۔
(2) وَمَنْ يُشَاقِقِ الرَّسُولَ مِنْ بَعْدِ مَاتَبَيَّنَ لَهُ الْهُدَى وَيَتَّبِعْ غَيْرَ سَبِيلِ الْمُؤْمِنِينَ نُوَلِّهِ مَا تَوَلَّى وَنُصْلِهِ جَهَنَّمَ وَسَاءَتْ مَصِيرًا"۔
ترجمہ:
اور جو شخص رسول کی مخالفت کرے گا اس کے بعد کہ اس پر ہدایت واضح ہوچکی ہو اور مومنوں کے راستے کے علاوہ دوسرے راستہ کی پیروی کرے گا تو ہم اس کو اس طرف چلائیں گے جدھر وہ خود پھرگیا اور اسے جہنم میں داخل کریں گے۔
[سورۃ النساء:115]
وجہِ استدلال (دلالت کا پہلو):
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے عذاب کا وعید (دھمکی) اس شخص کو دی ہے جو اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرتا ہے اور (رسول کی ماننے والے)مؤمنین کے راستے ، جو مؤمنین نے اپنے لیے منتخب کیا ہے، کے سوا دوسرا راستہ اختیار کرتا ہے، یہ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ مؤمنین کے راستے کی پیروی کرنا واجب ہے اور ان کی مخالفت کرنا جائز نہیں ہے۔
[ملاحظہ کریں: "الموافقات" للشاطبی (۴/ ۳۸)، "الإجماع عند الأصولیین" لجمعة (ص ۴۴)، "الإجماع في الشریعة الإسلامیۃ" (ص ۵۷)]
آیتِ بالہ میں اللہ تعالیٰ نے رسول ﷺ کی مخالفت اور مؤمنین کی سبیل(راستے) کے علاوہ دوسروں کے سبیل(راستے) کی اتباع(پیچھے چلنے) پر وعید(دھمکی) بیان فرمائی ہے اور جس چیز پر وعید(دھمکی) بیان کی جائے وہ حرام ہوتی ہے؛ لہٰذا رسول کی مخالفت اور سبیل مؤمنین کے راستہ کو چھوڑنا دونوں حرام ہوں گی، اور جب یہ دونوں حرام ہیں تو ان کی ضد یعنی (1)رسول اور (2)مؤمنین یعنی ایمان والوں کی جماعت کے سبیل اتباع واجب ہوگی، اور مؤمنین کی سبیل اور اختیار کردہ راستہ کا نام ہی اجماع ہے؛ لہٰذا اجماع کی اتباع کا واجب ہونا ثابت ہوگیا اور جب اجماع کا اتباع واجب ہے تو اس کا حجت ہونا بھی ثابت ہوگیا۔
قاضی ابویعلیؒ (متوفی:۴۵۸ھ) اور علامہ آمدی نے اس آیت سے اجماع کی حجیت کے ثبوت پر بڑی نفیس بحث کی ہے جو لائقِ مطالعہ ہے۔
[الاحکام آمدی:۱/۲۸۷۔ اصول الفقہ ابوزہرہ:۱۶۱۔ ارشاد الفحول:۱۱۳]
امام شافعیؒ(م150ھ) نے فرمایا:
قلت إذا كانت جماعتهم متفرقة في البلدان فلا يقدر أحد أن يلزم جماعة وأبدان قومٍ متفرقين وقد وُجِدَت الأبدان تكون مجتمعة من المسلمين والكافرين والأتقياء والفُجَّار فلم يكن في لزوم الأبدان معنى لأنه لا يمكن ولأن اجتماع الأبدان لا يصنع شيئاً فلم يكن للزوم جماعتهم معنى إلا عليهم جماعتهم من التحليل والتحريم والطاعة فيهما
ومن قال بما تقول به جماعةُ المسلمين فقد لزم جماعتهم ومن خالف ما تقول به جماعةُ المسلمين فقد خالف جماعتهم التي أمر بلزومها وإنما تكون الغفلة في الفُرقة فأما الجماعة فلا يمكن فيها كافةً غفلةٌ عن معنة كتاب ولا سنة ولا قياس إن شاء الله
ترجمہ:
اگر مسلمانوں کی جماعت (کمیونٹی) مختلف ممالک میں بکھری ہوئی ہو تو اس بکھری ہوئی جماعت کی پیروی کرنا کسی کے لئے ممکن ہی نہیں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بکھری ہوئی جماعت میں تو مسلمان، کافر، نیک اور بد سبھی شامل ہوں گے۔ اس وجہ سے مسلمانوں کی بکھری ہوئی جماعت کی پیروی کرنا ممکن ہی نہیں ہے۔ جماعت کی پیروی کا اس کے سوا اور کوئی مطلب نہیں ہو سکتا کہ جس چیز کو پوری جماعت حلال یا حرام قرار دے، اس کی پیروی کی جائے۔
جو شخص مسلمانوں کی جماعت کے نقطہ نظر کے مطابق رائے رکھتا ہے اس نے جماعت کی پیروی کر لی ہے اور جو اس کے خلاف رائے رکھتا ہے تو وہ جماعت کی مخالفت کر رہا ہے۔ گروہ بندی سے ہی (دین کے احکام میں) غفلت پیدا ہوتی ہے۔ پوری مسلمان کمیونٹی میں (بحیثیت مجموعی) کتاب، سنت اور قیاس کے بارے میں غلطی نہیں پائی جائے گی۔
امام ابن کثیرؒ (م774ھ) نے فرمایا:
والذي عول عليه الشافعي رحمه الله في الاحتجاج على كون الإجماع حجة تحرم مخالفته، هذه الآية الكريمة، بعد التروي والفكر الطويل، وهو من أحسن الاستنباطات وأقواها۔
ترجمہ:
مزید غور وخوض اور طویل سوچ بچار کے بعد امام شافعیؒ نے اجماع کی حجیت اور اس کی مخالفت پر استدلال کے لئے جس آیت پر اعتماد کیا، وہ یہی آیت ہے، اور اس سے حجیت اجماع پر استدلال سب سے بہترین اور سب سے قوت والا استنباط ہے۔

اولوا الامر(علماء وفقہاء) کا اجماع ہی اصل ہے۔
(3) يٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنوا أَطيعُوا اللَّهَ وَأَطيعُوا الرَّسولَ وَأُولِى الأَمرِ مِنكُم ۖ فَإِن تَنٰزَعتُم فى شَيءٍ فَرُدّوهُ إِلَى اللَّهِ وَالرَّسولِ إِن كُنتُم تُؤمِنونَ بِاللَّهِ وَاليَومِ الءاخِرِ ۚ ذٰلِكَ خَيرٌ وَأَحسَنُ تَأويلًا
ترجمہ:
اے ایمان والو! حکم مانو اللہ کا اور حکم مانو رسول کا اور اولوا الاَمر کا جو تم میں سے ہوں، پھر اگر جھگڑ پڑو کسی چیز میں تو اسے لوٹاؤ اللہ اور رسول کی طرف، اگر تم ایمان (ویقین) رکھتے ہو اللہ پر، اور قیامت کے دن پر، یہ بات اچھی ہے اور بہت بہتر ہے اس کا انجام.
[سورۃ-النساء:59]
وضاحت:
اس آیات میں چاروں دلیلوں کی طرف اشارہ ہے:
(1) اَطِيْعُوا اللّٰهَ سے مراد ’’قرآن مجید‘‘ہے۔
(2) اَطِيْعُوا الرَّسُوْلَ سے مراد اسوۃ حسنہ یعنی ’’نبوی زندگی‘‘ ہے اس کے بعد مراد ’’سنّت‘‘ ہے۔
(3) اُولِوا الْاَمْرِ سے مراد ’’فقہاء‘‘ ہیں، ان میں اگر اختلاف و تنازع نہ ہو بلکہ اتفاق ہوجاتے تو اسے ’’اجماعِ فقہاء‘‘ کہتے ہیں۔(یعنی اجماعِ فقہاء کو بھی مانو)۔
(4) اگر ان اُولِي الْاَمْرِ(فقہاء) میں اختلاف ہو تو ہر ایک "مجتہد" کے اجتہاد کو ’’قیاسِ شرعی‘‘ کہتے ہیں۔
حوالہ جات:
نوٹ:
جب مومنوں پر فقہاء کے اجماع کی اتباع لازم ہے، تو مومنوں کا اجماع تابع(پیچھے چلنے والا) ہے فقہاء کے اجماع کے اور فقہاء کا اجماع ہی اصل(بنیادی) اجماع ہے۔
وجہِ استدلال:
اللہ تعالیٰ نے اولی الامر کی اطاعت کا جزم (یقینی) حکم دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کسی کو اس کی اطاعت کا حکم اس وقت تک نہیں دیتا جب تک کہ وہ خطا سے معصوم نہ ہو؛ کیونکہ اگر وہ معصوم نہ ہوتا تو اللہ تعالیٰ نے اس کی اطاعت کا حکم اس صورت میں بھی دیا ہوتا جب وہ خطا پر اقدم بھی ہو (جو ناممکن ہے)۔ اس لیے یہ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اولی الامر (جو اہلِ حل و عقد اور مجتہدین ہیں) کی اطاعت کا حکم ان کے اجماع اور عدمِ تنازع کی صورت میں دیا ہے۔
["حجیۃ الإجماع" (ص ۱۶۷)، "المہذب" (۲/ ۸۵۷)، "الإجماع" لحسینی (ص ۱۰۳)]
(4) {كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ}
[سورہ آل عمران: آیت ۱۱۰]
ترجمہ:
تم بہترین امت ہو جو لوگوں کے لیے ظاہر کی گئی، تم نیکی کا حکم دیتے ہو اور برائی سے روکتے ہو۔
وجہِ استدلال:
اللہ تعالیٰ نے اس امت کی خیریت (بہترین ہونے) کی خبر دی ہے کیونکہ وہ ہر معروف (نیکی) کا حکم دیتی ہے اور ہر منکر (برائی) سے روکتی ہے۔
یہ اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ ان کا قول ہر حال میں حق اور صواب ہو۔ خیریت (بہترین ہونے) اس بات کی متقاضی ہے کہ جن چیزوں پر وہ جمع ہوں وہ حق ہو؛ کیونکہ اگر وہ حق نہ ہوتا تو ضلالت (گمراہی) ہوتی۔ پس جب وہ کسی چیز کی مشروعیت پر جمع ہوں تو وہ چیز معروف ہے، اور جب کسی چیز کی عدمِ مشروعیت پر جمع ہوں تو وہ چیز منکر ہے۔ اس طرح ان کا اجماع حجت ہے۔
["المہذب" للنملۃ (۲/ ۸۵۷)، "حجیۃ الإجماع" (ص ۱۶۱)، "الإجماع في الشریعة الإسلامیۃ" (ص ۶۲)]
امام ابوبکر جصاصؒ(م 370ھ) فرماتے ہیں کہ یہ آیت کئی وجوہ سے حجیتِ اجماع پر دلالت کررہی ہے:
وَفِي هَذِهِ الْآيَةِ دَلَالَةٌ عَلَى صِحَّةِ إجْمَاعِ الْأُمَّةِ مِنْ وُجُوهٍ. أَحَدُهَا: كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ, وَلَا يَسْتَحِقُّونَ مِنْ اللَّهِ صِفَةَ مَدْحٍ إلَّا وَهُمْ قَائِمُونَ بِحَقِّ اللَّهِ تَعَالَى غَيْرَ ضَالِّينَ. وَالثَّانِي: إخْبَارُهُ بِأَنَّهُمْ يَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ فِيمَا أُمِرُوا بِهِ فَهُوَ أَمْرُ اللَّهِ تَعَالَى; لِأَنَّ الْمَعْرُوفَ هُوَ أَمْرُ اللَّهِ. وَالثَّالِثُ: أَنَّهُمْ يُنْكِرُونَ الْمُنْكَرَ, وَالْمُنْكَرُ هُوَ مَا نَهَى اللَّهُ عَنْهُ, وَلَا يَسْتَحِقُّونَ هَذِهِ الصِّفَةَ إلَّا وَهُمْ لِلَّهِ رِضًى; فَثَبَتَ بِذَلِكَ أَنَّ مَا أَنْكَرَتْهُ الْأُمَّةُ فَهُوَ مُنْكَرٌ وَمَا أَمَرَتْ بِهِ فَهُوَ مَعْرُوفٌ وَهُوَ حُكْمُ اللَّهِ تَعَالَى وَفِي ذَلِكَ مَا يَمْنَعُ وُقُوعَ إجْمَاعِهِمْ عَلَى ضَلَالٍ, وَيُوجِبُ أَنَّ مَا يَحْصُلُ عَلَيْهِ إجْمَاعُهُمْ هُوَ حُكْمُ اللَّهِ تَعَالَى.
ترجمہ:
’’یہ آیت متعدد طریقوں میں سے اجماع امت کے صحیح ہونے کا ثبوت فراہم کرتی ہے۔ پہلی وجہ یہ ہے کہ ’’كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ‘‘ فرما کر اس امت کی تعریف کی گئی ہے یہ اللہ عزوجل کی طرف سے تعریف کی مستحق اس وقت ہوسکتی ہے جب امتی حقوق اللہ کو قائم کرنے والے ہوں اور گمراہ نہ ہوں‘‘-
دوسری وجہ یہ ہے کہ ان کے بارے میں فرمایاگیا ہے کہ یہ معروف کا حکم دیں گے اوروہ(معروف) اللہ تعالیٰ کا امر ہوگا کیونکہ معروف اللہ عزوجل کا امرہی ہوتاہے-
تیسری وجہ یہ کہ ان کے بارے میں فرمایا گیا ہے کہ وہ برائی سے روکیں گے اور منکَر وہ ہے جس سے اللہ عزوجل نے منع فرمایا ہے اور یہ اس صفت کے مستحق اس وقت ہو سکتے ہیں جب کہ یہ اللہ کے ہر حکم پر راضی ہوں-پس اس سے ثابت ہوا کہ امت جس چیز سے روکے گی وہ منَکر ہوگی اور جس چیز کا حکم دے گی وہ معروف ہوگی اور وہ اللہ عزوجل کا حکم ہوگا- اس سے معلوم ہوا کہ کسی گمراہی پر امت کا اجماع نہیں ہوسکے گا اور جس پر اجماع ہوگا وہ اللہ کا حکم ہوگا‘‘-
(5) {وَكَذَلِكَ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطًا لِتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ وَيَكُونَ الرَّسُولُ عَلَيْكُمْ شَهِيدًا}
[سورہ بقرہ: آیت ۱۴۳]
(ترجمہ: اور اسی طرح ہم نے تمہیں ایک وسط (اعتدال والی) امت بنایا ہے تاکہ تم لوگوں پر گواہ بنو اور رسول تم پر گواہ ہو۔)
وجہِ استدلال (دلالت کا پہلو):
اللہ تعالیٰ نے اس امت کو "وسط" (اعتدال والی/منصفانہ) قرار دیا ہے، اور وسط کا معنی بہترین اور عادل ہے۔ اس کی دلیل سورہ قلم کی آیت ۲۸ ہے: {قَالَ أَوْسَطُهُمْ أَلَمْ أَقُلْ لَكُمْ} یعنی ان میں سے سب سے زیادہ عادل (بہتر) شخص نے کہا۔
اللہ تعالیٰ نے انہیں ان کی گواہی کو قبول کرنے کے ساتھ عادل بھی قرار دیا ہے، اور گواہ کی شہادت حجت ہوتی ہے۔ پس اس سے امت کے اجماع کی حجیت اور اس پر عمل کرنے کی وجوب ثابت ہوتی ہے۔
["الإجماع عند الأصولیین" لجمعة (ص ۴۴)، "الإجماع في الشریعة الإسلامیۃ" (ص ۶۰)]
امام ابن يونس الصقلي (م 451ھ) اپنی کتاب "الجامع لمسائل المدونة" کے (چوتھا باب: ان طریقوں(دلیلوں) کا بیان جن سے حق معلوم ہوتا ہے۔) (تیسری فصل: مسلمانوں کے اجماع کی پیروی کا حکم) ثابت کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
وقال سبحانه وتعالى في وصف عدالة أمة نبيه صلى الله عليه وسلم، والأمر باتباعهم والتحذير عن مخالفتهم: {وَكَذَلِكَ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطًا لِتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ وَيَكُونَ الرَّسُولُ عَلَيْكُمْ شَهِيدًا}.
ترجمہ:
اور اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی امت کے عدل کو بیان کرتے ہوئے فرمایا، ان کی اطاعت کا حکم دیا اور ان کی مخالفت سے تنبیہ فرمائی: {اور اسی طرح ہم نے تم کو ایک عادل امت بنایا ہے تاکہ تم لوگوں پر گواہ بنو اور تم پر رسول بنو}۔(سورہ بقرہ:143)
[الجامع لمسائل المدونة-الصقلي:24/ 24]
امام ابو منصور ماتریدیؒ(م333ھ) اپنی تفسیر میں اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی تشریح کرتے ہوئے کہتے ہیں:
اللہ تعالیٰ کا قول:
{وَكَذَلِكَ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطًا}
اور اسی طرح ہم نے تمہیں ایک وسط (اعتدال والی) امت بنایا ہے
[سورہ بقرہ:143]
"وسط" کا معنی "عدل" (انصاف، اعتدال اور راست بازی) ہے۔
اللہ عزوجل نے خبر دی ہے کہ اس نے اس امت کو عدل (انصاف پسند اور معتدل) بنایا ہے، اور جو شخص عدل والا ہو، وہی گواہی اور گواہی کے قبول کرنے کا مستحق ہے۔
پس اس آیت میں اس بات کی واضح دلیل ہے کہ اس امت کا اجماع حجت (شرعی دلیل) ہے؛ کیونکہ اللہ نے اس امت کو عدالت کی صفت سے متصف کیا ہے اور اسے اہلِ شہادت (گواہی والوں) میں شامل کیا ہے۔
چنانچہ جب یہ امت (یعنی اس کے مجتہدین و علماء) کسی چیز پر جمع ہو جائیں اور اس پر گواہی دیں، تو اس گواہی کو قبول کرنا اور اس کے مطابق فیصلہ کرنا لازم ہے، اور اس گواہی کا مفہوم یہ ہے کہ یہ حکم اللہ کی طرف سے ہے اور انہیں (یہ حق) حاصل ہوا ہے۔
[تفسير الماتريدي: 1 / 584-585]
باب: اجماع کی صحت کے بارے میں قول
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
{وَكَذَلِكَ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطاً لِتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ} [سورہ بقرہ: ۱۴۳]
لغوی معنی:
اہلِ لغت نے کہا ہے کہ "وسط" کا معنی عدل (انصاف) ہے، اور یہ کمزور اور غلو (زیادتی) کرنے والے کے درمیان کا درجہ ہے۔ اور کہا گیا ہے کہ اس کا معنی بہترین (خیار) ہے — اور یہ دونوں معانی ایک ہی ہیں، کیونکہ عدل ہی خیار (بہترین) ہے۔
شاعر زہیر نے کہا ہے:
"وہ ایسے معتدل (وسط) ہیں کہ لوگ ان کے فیصلے پر راضی ہیں، جب کوئی بڑی رات (مشکل) آئے۔"
"لِتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ" کا مطلب ہے "تاکہ تم بن جاؤ" اور "اس لیے کہ تم ایسے ہو جاؤ"۔
شہادت کی تفسیر:
بعض نے کہا: وہ لوگوں پر ان کے اعمال کی گواہی دیں گے جن میں انہوں نے دنیا اور آخرت میں حق کی مخالفت کی، جیسا کہ ارشاد ہے: {وَجِيءَ بِالنَّبِيِّينَ وَالشُّهَدَاءِ} [سورہ زمر: ۶۹]۔
بعض نے کہا: وہ انبیاء علیہم السلام کے لیے گواہی دیں گے اور ان کی تکذیب کرنے والی امتوں کے خلاف گواہی دیں گے کہ انہوں نے (انبیاء نے) اپنا پیغام پہنچا دیا تھا۔
بعض نے کہا: "لِتَكُونُوا شُهَدَاءَ" کا مطلب یہ ہے کہ تم حجت (دلیل) بن جاؤ، جس طرح نبی ﷺ حجت تھے، اور اس لیے انہیں "شہید" کہا گیا۔
ابوبکر (جصاص) کہتے ہیں:
یہ تمام معانی اس لفظ میں ممکن ہیں، اور اللہ تعالیٰ کا مقصد ان سب سے ہو سکتا ہے۔ پس وہ (یہ امت) لوگوں پر دنیا اور آخرت میں ان کے اعمال کی گواہی دیں گے، اور انبیاء کے لیے ان کی امتوں کے تکذیب کرنے پر گواہی دیں گے، اور وہ اپنے بعد آنے والوں پر شریعت کی نقل، ان کے احکام اور عقائد کے بارے میں حجت ہیں۔
اس آیت میں اجماع کی صحت پر دو وجوہ سے دلالت ہے:
پہلی وجہ:
اللہ نے اس امت کو عدل اور خیار (بہترین) قرار دیا ہے، اور یہ اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ اس کے قول کو سچا اور صحیح سمجھا جائے، اور یہ اس کے گمراہی پر جمع ہونے کی نفی کرتا ہے۔
دوسری وجہ:
اللہ کا ارشاد "لِتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ" یعنی لوگوں پر حجت بننا، جس طرح رسول ﷺ کو ان پر حجت قرار دیا گیا اور آپ کو "شہید" کہا گیا۔ اور جب اللہ نے انہیں دوسروں پر گواہ بنایا، تو اس نے ان کی عدالت اور قول کی قبولیت کا حکم دے دیا، کیونکہ اللہ کے گواہ نہ تو کافر ہوتے ہیں اور نہ گمراہ۔
پس اس آیت کا تقاضا ہے کہ یہ امت آخرت میں ہر اس دور کے لوگوں پر گواہی دے گی جس کو انہوں نے دیکھا، ان کے اعمال کی بنا پر، نہ کہ ان پر جو ان کے زمانے سے پہلے مر چکے — جیسا کہ نبی ﷺ کو صرف اپنے دور کے لوگوں پر گواہ بنایا گیا۔
اور اگر شہادت سے مراد "حجت" ہو تو وہ ہر اس شخص پر حجت ہے جسے انہوں نے دیکھا (دوسرے دور کے لوگ) اور ان کے بعد آنے والوں پر قیامت تک — جیسا کہ نبی ﷺ پوری امت پر حجت تھے۔ اس لیے کہ جب اللہ کی حجت کسی وقت ثابت ہو جائے، تو وہ ہمیشہ کے لیے ثابت رہتی ہے۔
آخرت میں اعمال پر گواہی اور حجت والی گواہی میں فرق اس آیت سے ظاہر ہے:
{فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَجِئْنَا بِكَ عَلَى هَؤُلاءِ شَهِيداً} [سورہ نساء: ۴۱]
جب اللہ نے اعمال پر گواہی کا ارادہ کیا تو اس نے اسے صرف اپنے دور کے لوگوں تک محدود کیا۔ اور جیسا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے کہا: {وَكُنْتُ عَلَيْهِمْ شَهِيداً مَا دُمْتُ فِيهِمْ فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي كُنْتَ أَنْتَ الرَّقِيبَ عَلَيْهِمْ} [سورہ مائدہ: ۱۱۷]۔
پس یہ واضح ہوا کہ اعمال پر گواہی صرف مشاہدے کی حالت تک محدود ہے، جبکہ حجت والی گواہی پوری امت (اول و آخر) کے لیے عام ہے، جیسا کہ نبی ﷺ سب پر حجت ہیں۔ اسی طرح ہر دور کے اہلِ علم جب اللہ کی حجت بن جائیں، تو وہ اپنے دور کے لوگوں (جو ان کے اجماع میں شامل ہیں) اور بعد کے تمام ادوار کے لوگوں پر حجت ہیں۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کسی دور کے علماء کسی مسئلے پر اجماع کر لیں، پھر ان میں سے کوئی اس اجماع سے نکل جائے، تو وہ پہلے اجماع سے محجوج (اس کے خلاف حجت قائم ہو جائے گی) ہو گا، کیونکہ نبی ﷺ نے اس جماعت کی صحت اور حجیت کی گواہی دی ہے، اور جو شخص اس کے خلاف جائے وہ اس دلیل اور حجت کو ترک کرنے والا ہے۔ اور اللہ کی دلیل کا اس کے مدلول (مفہوم) سے خالی ہونا جائز نہیں ہے۔
مطلب: نبی ﷺ کے بعد نسخ کا وجود محال ہے
نبی ﷺ کے بعد نسخ (کسی حکم کا منسوخ ہونا) محال ہے، اس لیے کسی اجماع کو نسخ کی وجہ سے چھوڑنا جائز نہیں ہے۔ اس لیے جب بھی امت کا کسی مسئلے پر اجماع ہو جائے، تو وہ اللہ کی حجت ہے، اور کسی کے لیے اسے چھوڑنا یا اس سے نکلنا جائز نہیں ہے۔
اور جس طرح یہ آیت پہلے دور (صحابہ) کے اجماع کی صحت پر دلالت کرتی ہے، اسی طرح ہر دور کے اجماع کی صحت پر بھی دلالت کرتی ہے، کیونکہ اللہ نے اسے کسی خاص دور تک محدود نہیں کیا۔
اور اگر کوئی کہے کہ اس آیت کا خطاب صرف نزول کے وقت موجود لوگوں سے ہے، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہی اس کے مخاطب ہیں، دوسرے نہیں؟
اس کا جواب: یہ غلط ہے، کیونکہ اللہ کا ارشاد "جَعَلْنَاكُمْ" پوری امت کے لیے ہے — اول و آخر، جو نزول کے وقت موجود تھے اور جو قیامت تک آئیں گے۔ جیسا کہ ارشاد ہے: {كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ} [سورہ بقرہ: ۱۸۳] اور {كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِصَاصُ} [سورہ بقرہ: ۱۷۸] — یہ تمام احکام پوری امت کے لیے ہیں، جس طرح نبی ﷺ پوری امت کے لیے بعثت کیے گئے: جو آپ کے دور میں تھے اور جو بعد میں آئیں گے۔ اللہ کا ارشاد ہے: {يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِنَّا أَرْسَلْنَاكَ شَاهِداً وَمُبَشِّراً وَنَذِيراً} [سورہ احزاب: ۴۵] اور {وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِلْعَالَمِينَ} [سورہ انبیاء: ۱۰۷]۔ اور کوئی مسلمان یہ نہیں کہہ سکتا کہ نبی ﷺ پوری امت (اول و آخر) کے لیے نہیں بھیجے گئے اور وہ ان پر حجت اور گواہ نہیں ہیں۔
اگر کوئی کہے: اللہ نے "أُمَّةً" کا لفظ استعمال کیا ہے، جو تمام موجودین اور بعد میں آنے والوں کو شامل ہے، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ پوری امت کو عدالت اور قبولِ شہادت کا حکم دیا گیا ہے، نہ کہ کسی ایک خاص دور کو۔ پھر آپ نے ہر دور کے لوگوں کو عدالت کا حکم کیسے دیا؟
اس کا جواب: جب جن لوگوں کو عدالت کا حکم دیا گیا، وہ اپنی خبروں اور اللہ کے احکام کے بارے میں اپنے عقائد میں دوسروں پر حجت بن گئے، اور یہ صفت انہیں دنیا میں حاصل ہو گئی، اور اللہ نے خبر دی کہ وہ لوگوں پر گواہ ہیں، تو اگر پوری امت (اول و آخر) کو ایک حجت سمجھا جائے تو ہم جان لیں گے کہ مقصد ہر دور کے لوگ ہیں، کیونکہ ہر دور کے لوگوں کو "أُمَّة" کہا جا سکتا ہے (یہ لفظ ایک جماعت کے لیے بولا جاتا ہے جو ایک ہی سمت کی طرف متوجہ ہو)۔ اور ہر دور کے لوگ اس نام کو اپنے اوپر لے سکتے ہیں، اور اس میں کوئی رکاوٹ نہیں کہ "أُمَّة" کا لفظ کسی ایک دور کے لوگوں کے لیے بولا جائے۔
کیا تم نہیں دیکھتے کہ تم کہتے ہو: "امت نے ماؤں اور بہنوں کی حرمت پر اجماع کیا" اور "امت نے قرآن نقل کیا" — اور یہ اس وقت بھی صحیح ہے جب آخرِ امت (قیامت تک کے لوگ) ابھی پیدا نہیں ہوئے؟ پس یہ ثابت ہوا کہ اللہ کا مقصد ہر دور کے لوگ ہیں۔
اور نیز اللہ نے "جَعَلْنَاكُمْ" کہہ کر انہیں نکرہ (غیر معین) لفظ سے تعبیر کیا جب انہیں حجت قرار دیا، اور یہ ہر دور کے لوگوں کو شامل ہے، کیونکہ "جَعَلْنَاكُمْ" سب کے لیے خطاب ہے اور یہ صفت ہر اس امت کو لاحق ہے جو مخاطب ہے۔
کیا تم نے ارشاد نہیں سنا: {وَمِنْ قَوْمِ مُوسَى أُمَّةٌ يَهْدُونَ بِالْحَقِّ} [سورہ اعراف: ۱۵۹] — تمام قومِ موسیٰ ایک امت تھی، پھر اللہ نے ان میں سے بعض کو الگ سے "أُمَّة" کہا کیونکہ انہیں اس صفت (حق پر ہدایت) سے متصف کیا۔ پس یہ ثابت ہوا کہ ہر دور کے لوگوں کو "أُمَّة" کہنا جائز ہے، اگرچہ یہ نام پوری امت (اول و آخر) پر بھی اطلاق ہوتا ہے۔
اس آیت میں اس بات کی بھی دلیل ہے کہ جس شخص کا کفر ظاہر ہو (جیسے مشبہہ — یعنی اللہ کو مخلوق سے تشبیہ دینے والے) اور جو جبر (مجبوری کے نظریے) کا صریحاً قائل ہو اور یہ اس سے معلوم ہو، اس کی اجماع میں کوئی حیثیت نہیں ہے۔
اور اسی طرح جس کا فسق (گناہ) ظاہر ہو، اس کی بھی اجماع میں کوئی حیثیت نہیں ہے — جیسے خوارج اور روافض (شیعہ)۔
اور اس میں کوئی فرق نہیں کہ فسق عمل کی وجہ سے ہو یا اعتقاد کی وجہ سے، کیونکہ اللہ نے صرف ان لوگوں کو گواہ بنایا جنہیں اس نے عدالت اور خیر کی صفت سے متصف کیا، اور یہ صفت کافروں اور فاسقوں کو حاصل نہیں ہے۔
اور اس میں کوئی اختلاف نہیں کہ جو شخص تأویل (غلط تشریح) کی وجہ سے فاسق یا کافر ہوا ہو یا نص کے رد کی وجہ سے — سب پر مذمت کی صفت شامل ہے اور عدالت کی صفت انہیں ہرگز حاصل نہیں ہے، واللہ اعلم۔
[أحكام القرآن للجصاص:2/ 106-110]
حجیتِ اجماع احادیث سے
اجماع فقہاء و عابدین:
ترجمہ :
حضرت علیؓ فرماتے ہیں کہ میں نے پوچھا یا رسول الله ﷺ! اگر ہمیں کوئی ایسی بات (واقعہ) پیش آۓ جس کے متعلق (قرآن و سنّت میں) کوئی حکم یا ممانعت موجود نہ ہو تو میرے لئے آپ کا کیا حکم ہے؟ آپ نے فرمایا کہ ایسے معاملہ میں فقہاء و عابدین سے مشورہ کرلیا کرو اور کسی خاص شخص کی راۓ کو نافذ نہ کرو.
تشریح :
یہ حدیث دلائل اجماع میں بہت اہمیت کی حامل ہے کیونکہ اس میں آنحضرت صلی الله علیہ وسلم نے واضح ارشاد فرمایا ہے کہ جس امر میں کوئی نص موجود نہ ہو تو اس میں صرف فقہاء و مجتہدین کے قول پر عمل کرو اور (غیرفقیہ اور غیرعابد شخص کی) انفرادی راۓ پر نہ چلو. اجماع بھی فقہاء و مجتہدین (کا اتفاقی) قول ہوتا ہے، لہذا حدیث کی رو سے اجماع (فقہاء کے بعد عابدین) کا اتباع ضروری ٹھہرا۔
علامہ ابو عبد اللہ محمد بن احمد مالکی قرطبیؒ(م671ھ) فرماتے ہیں کہ امام اور خلیفہ کو مقرر کرنا کس قدر اہم مسئلہ تھا لیکن حضرت عمرفاروق (رضی اللہ عنہ) نے اس کے انتخاب کا معاملہ اربابِ حل وعقد کے باہمی مشورہ اور اتفاق پہ چھوڑدیا-
امام بخاریؒ(م256ھ) نقل فرماتے ہیں کہ:
وَكَانَتِ الْأَئِمَّةُ بَعْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَشِيرُونَ الْأُمَنَاءَ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ فِي الْأُمُورِ الْمُبَاحَةِ لِيَأْخُذُوا بِأَسْهَلِهَا.
’’نبی کریم (ﷺ) کے بعد آئمہ دین مباح کاموں میں امین لوگوں سے مشورہ کیا کرتے تھے‘‘۔
حضرت سفیان ثوریؒ(م161ھ) نے فرمایا کہ:
يَكُنْ أَهْلُ مَشُورَتِكَ أَهْلَ التَّقْوَى وَالْأَمَانَةِ، وَمَنْ يَخْشَى اللَّهَ تَعَالَى.
’’متقی اور امانت دار شخص سے مشورہ کرنا چاہیے، اور جو اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہو‘‘۔
حضرت حسن بصریؒ(م110ھ) ارشاد فرماتے ہیں:
وَاللَّهِ مَا تَشَاوَرَ قَوْمٌ بَيْنَهُمْ إِلَّا هَدَاهُمْ لِأَفْضَلِ مَا يَحْضُرُ بِهِمْ.
’’اللہ کی قسم! جو لوگ مشورہ کرتے ہیں اللہ عزوجل ان کی صحیح حل کی طرف رہنمائی فرماتا ہے‘‘۔

امت بحیثیت مجموعی خطاء سے معصوم ہے۔
(1)حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ (ﷺ) نے ارشاد فرمایا:
’’لَا تَزَالُ طَائِفَةٌ مِّنْ أُمَّتِي ظَاهِرِينَ عَلَى الْحَقِّ، لَا يَضُرُّهُمْ مَنْ خَذَلَهُمْ، حَتَّى يَأْتِيَ أَمْرُ اللهِ وَهُمْ كَذَلِكَ‘‘
ترجمہ:
"میری امت کا ایک گروہ ہمیشہ حق پر غالب رہے گا، کوئی انہیں نقصان نہیں پہنچا سکتا یہاں تک کہ اللہ کا حکم (قیامت) آ جائے اور وہ اسی حال پر ہوں۔"
[صحیح بخاری:731، صحیح مسلم:1921]
اس حدیث مبارک کی شرح میں علامہ نوویؒ رقمطراز ہیں :
’’وَفِي هَذَا الْحَدِيثِ مُعْجِزَةٌ ظَاهِرَةٌ فَإِنَّ هَذَا الْوَصْفَ مَا زَالَ بِحَمْدِ اللَّهِ تَعَالَى مِنْ زَمَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْآنَ وَلَا يَزَالُ حَتَّى يَأْتِيَ أَمْرُ اللَّهِ الْمَذْكُورُ فِي الْحَدِيثِ وَفِيهِ دَلِيلُ لِكَوْنِ الْإِجْمَاعِ حُجَّةً ‘‘
ترجمہ:
’’اس حدیث مبارک میں حضور نبی کریم (ﷺ)کے ایک واضح معجزے کا اظہار ہے کیونکہ یہ وصف بحمداللہ تعالیٰ سید ی رسول اللہ (ﷺ) کے دور مبارک سے لے کر آج تک قائم ہے اوراسی طرح (ان شاء اللہ) ہوتا رہے گا یہاں تک کہ حدیث مبارک میں مذکور اللہ پاک کا امر (قیامت)آجائے اور اس میں اجماع کے حجت ہونے پر دلیل ہے‘‘-
(2) عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّ اللَّهَ لَا يَجْمَعُ أُمَّتِي أَوْ قَالَ أُمَّةَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى ضَلَالَةٍ۔
ترجمہ:
حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ: بےشک اللہ تعالیٰ میری امت کو یا (راوی نے) کہا کہ محمد صلى الله عليه وسلم کی اُمت کو گمراہی پر مجتمع نہیں کرے گا۔
[صحيح الترمذي»حدیث نمبر:2167، صحيح الكتب التسعة وزوائده:5646]
(3) نیز حدیث میں ہے:
"فَمَا رَأَى الْمُسْلِمُونَ حَسَنًا، فَهُوَ عِنْدَ اللَّهِ حَسَنٌ، وَمَا رَأَى الْمُسْلِمُونَ سَيِّئًا فَهُوَ عِنْدَ اللَّهِ سَيِّئٌ"۔
ترجمہ:
جس چیز کو مسلمان اچھا سمجھیں وہ اللہ کے نزدیک بھی اچھی ہے اور جس چیز کو مسلمان بُرا سمجھیں وہ اللہ تعالٰیٰ کے نزدیک بھی بری ہے۔
[مسند احمد، حدیث نمبر 3600، فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل:541، المستدرك على الصحيحين للحاكم:4465]
وَقَدْ رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: «مَا رَآهُ الْمُؤْمِنُونَ حَسَنًا فَهُوَ عِنْدَ اللَّهِ حَسَنٌ، وَمَا رَآهُ الْمُسْلِمُونَ قَبِيحًا فَهُوَ عِنْدَ اللَّهِ قَبِيحٌ»
ترجمہ:
اور نبی کریم ﷺ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا:
"جو چیز مسلمانوں کو اچھی لگے، وہ اللہ کے نزدیک بھی اچھی ہے، اور جو چیز مسلمانوں کو بری لگے، وہ اللہ کے نزدیک بھی بری ہے۔"
تشریح:
شيخ عثمان الكماخي(م1171ھ) نے موطا محمد کی اس حدیث کی شرح کرتے فرمایا:
"بظاہر یہ (اجماع کی حجیت) اپنے منطوق (ظاہری الفاظ) اور مفہوم کے اعتبار سے سورہ نساء کی اس آیت سے مستفاد ہے:
{اور جو شخص رسول کی مخالفت کرے گا اس کے بعد کہ اس پر ہدایت واضح ہوچکی ہو اور مومنوں کے راستے کے علاوہ دوسرے راستہ کی پیروی کرے گا تو ہم اس کو اس طرف چلائیں گے جدھر وہ خود پھرگیا اور اسے جہنم میں داخل کریں گے۔} [النساء: ۱۱۵]
اور اس کی تائید اس حدیث سے ہوتی ہے:
"میری امت گمراہی پر جمع نہیں ہو گی" — جسے امام احمد نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے۔
اور اعتبار (حجت) اکثریت (جمہور) کا ہے، اس لیے (اس اجماع کے خلاف) شیعہ کی کراہیت (ناخوشی) اس(اجماع) کی مخالفت نہیں کر سکتی، کیونکہ ان کی صفات (عقائد واعمال) ناگوار (شنیع) ہیں۔
اور (اس کی تائید) نبی ﷺ کے اس فرمان سے بھی ہوتی ہے:
"تم پر لازم ہے کہ سوادِ اعظم (بڑی جماعت/اکثریت) کے ساتھ رہو۔"
واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم۔"
علامہ ابوالحسنات لکھنویؒ(۱۳۰۴ھ) نے موطا محمد کی اس حدیث کی شرح کرتے فرمایا:
امام محمد کا قول: (جو مومن اچھا سمجھیں، وہ اللہ کے نزدیک اچھا ہے…)
آگے چل کر وہ کہتے ہیں:
"جان لو! بہت سے فقہاء کی عادت ہے کہ وہ اس حدیث سے ان عبادات اور طاعات کو بھی حسن (اچھا) ثابت کرتے ہیں جو قرونِ ثلاثہ (پہلی تین بہترین صدیوں) کے بعد ایجاد ہوئیں — اپنے اس گمان کی بنا پر کہ انہیں بعض علماء اور صالحین نے پسند کیا ہے، اور جو پسند کیا گیا وہ اللہ کے نزدیک بھی اچھا ہے، اس حدیث کی بنا پر۔
لیکن ان پر دو اعتراضات ہیں:
پہلا اعتراض:
یہ حدیث موقوف ہے (یعنی حضرت ابن مسعود کا قول ہے، نبی ﷺ کا نہیں)، اس لیے اس میں حجت نہیں ہے۔
اس کا جواب:
اگر یہ حدیث مرفوع (نبی ﷺ سے منسوب) ثابت ہو جائے تو ٹھیک ہے، ورنہ اس سے ہمارا مقصد ضائع نہیں ہوتا، کیونکہ صحابی کا قول جب ایسے معاملے میں ہو جو عقل سے معلوم نہ ہو، تو اس کا حکماً مرفوع ہونا ضروری ہے — جیسا کہ اصولِ حدیث میں واضح ہے۔ پس یہ قول اگرچہ ابن مسعود کا ہے، لیکن چونکہ یہ محض رائے سے معلوم نہیں ہو سکتا، اس لیے یہ حکماً مرفوع ہے اور اس سے استدلال صحیح ہے۔
دوسرا اعتراض:
اس حدیث میں "المؤمنین" (مسلمانوں) پر داخل ہونے والا حرفِ تعریف (لام) چار طرح کا ہو سکتا ہے:
(۱) لامِ جنس (ہر مسلمان)، (۲) لامِ عہد (کسی خاص متعین گروہ کے لیے)، (۳) لامِ استغراق (تمام مسلمانوں کے لیے)۔
اگر لامِ جنس ہو تو یہ باطل ہے، کیونکہ اس صورت میں کسی ایک مسلمان کی پسند کو بھی اللہ کے نزدیک اچھا کہنا پڑے گا، چاہے جمہور اس کے خلاف ہوں — اور اس کا کوئی قائل نہیں ہے۔
نیز اس سے یہ بھی لازم آئے گا کہ گمراہ فرقوں کی ایجاد کردہ بدعات بھی اچھی ہوں، کیونکہ ایک مسلمان نے انہیں اچھا سمجھا — اور یہ اجماع کے خلاف ہے۔
نیز اس کا تقاضا ان احادیث کے خلاف ہے جو فرقوں کی مذمت اور بدعت کی ممانعت پر دلالت کرتی ہیں۔
اگر لامِ عہد ہو تو معہود (متین گروہ) یا تو کامل مسلمان ہیں، جیسے اہلِ اجتہاد — جیسا کہ علی قاری نے "مرقات" میں کہا: "مقصود مسلمانوں کا نچوڑ اور ان کے ستون ہیں، اور وہ ہیں کتاب و سنت کے عالم، شُبہات و حرام سے بچنے والے" — یا پھر صحابہ کرام، جو کہ زیادہ ظاہر ہے، بلکہ سچا دل اس کے سوا کسی اور کی طرف مائل نہیں ہوتا، کیونکہ یہ ایک طویل حدیث کا حصہ ہے جس میں صحابہ کی تعریف آئی ہے۔ اور لام کا اصل عہد خارجی ہی ہے۔
اس کی تائید اس بات سے بھی ہوتی ہے کہ روایت کے اصل میں "فما رآه المسلمون" پر فاء (پھر) ہے، حالانکہ عام طور پر اسے لوگوں نے حذف کر دیا ہے۔
پس اس حدیث سے صرف وہی چیز حسن (اچھی) ثابت ہوتی ہے جسے صحابہ یا کامل اہلِ اجتہاد نے اچھا سمجھا — نہ کہ وہ جو بعد کے علماء نے اچھا سمجھا، خاص طور پر جو قرونِ ثلاثہ کے بعد ہیں اور جنہیں اجتہاد کا درجہ حاصل نہیں۔
اگر لامِ استغراق ہو تو وہ یا تو حقیقی ہوگا (تمام مسلمان) — تو یہ صرف اس چیز کو اچھا کہے گا جس پر تمام مسلمان متفق ہوں، نہ کہ جس میں اختلاف ہو۔
یا عرفی ہوگا (معروف اور معتبر مسلمان) — یعنی صحابہ، تابعین اور ان کے بعد کے مجتہدین۔
نتیجہ:
امام محمد (رحمہ اللہ) کا کلام یہاں ہر قسم کی آلودگیوں سے پاک ہے، کیونکہ انہوں نے اس حدیث سے صرف رمضان میں باجماعت قیام (تراویح) کے حسن کو ثابت کیا ہے، اور یہ ایک ایسا عمل ہے جسے صحابہ، تابعین، ائمہ مجتہدین اور کامل علماء نے اچھا سمجھا — اور جو انہوں نے اچھا سمجھا، وہ اللہ کے نزدیک بلا شبہ اچھا ہے، اور جو انہوں نے برا سمجھا، وہ اللہ کے نزدیک بلا شبہ برا ہے۔
خلاصہ:
یہ حدیث اس بات کے لیے بہترین دلیل ہے کہ جو چیز صحابہ اور دوسرے مجتہدین نے اچھی سمجھی، وہ اچھی ہے، اور جو بری سمجھی، وہ بری ہے۔
البتہ جو چیزیں بعد کے علماء نے اچھی سمجھیں، ان کا فیصلہ قرونِ ثلاثہ کے عمل، یا کسی شرعی اصل میں داخل ہونے کی بنا پر ہوگا۔
پس جو چیز قرونِ ثلاثہ میں نہ پائی جائے، اور نہ اسے اہلِ اجتہاد نے اچھا سمجھا ہو، اور نہ اس کی کوئی صریح دلیل ہو یا کوئی شرعی اصل جس میں وہ داخل ہو — تو وہ بلا شبہ ضلالت ہے، خواہ کوئی اسے کتنا ہی اچھا سمجھے۔
سمجھ لو!
(4) ایک اور موقع سے نبی ﷺ نے فرمایا:
"مَنْ فَارَقَ الْجَمَاعَةَ شِبْراً فَقَدْ خَلَعَ رِبْقَةَ الْإِسْلَامِ مِنْ عُنُقِهِ"
ترجمہ:
جو شخص جماعت سے بالشت برابر جدا ہوا تو اس نے اسلام کی رسی اپنی گردن سے الگ کردی۔
[مسند أحمد:21561، سنن أبي داود:4758، مسند البزارؒ:4058]
وجہِ استدلال:
نبی ﷺ نے جماعت سے مفارقت (یعنی مخالفت) کرنے والے کو — جب جماعت اپنے معاملے میں متحد ہو جائے — اس بات سے تعبیر کیا کہ اس نے "ربقۂ اسلام" (اسلام کا پھندا) اپنی گردن سے اتار پھینکا ہے۔
امام ابن الجزریؒ کہتے ہیں:
"ربقہ دراصل ایک رسی کا پھندا ہوتا ہے جو جانور کی گردن یا ہاتھ میں ڈالا جاتا ہے تاکہ اسے قابو میں رکھا جا سکے، پھر اسے اسلام کے لیے استعارہ کیا گیا، یعنی وہ چیزیں جن سے مسلمان اپنے آپ کو باندھتا ہے، جیسے حدود، احکام، اوامر اور نواہی۔"
["النہایۃ في غریب الأثر" (۲/ ۱۹۰)؛ نیز ملاحظہ کریں: "غریب الحدیث" للخطابی (۲/ ۱۸۱)]
یہ اس فعل (جماعت کی مخالفت) کے مرتکب کے لیے سخت وعید (دھمکی) ہے۔ پس اس سے جماعت کی اتباع کا وجوب، اس کی مخالفت اور مفارقت کی ممانعت، اور اس کے اجماع کے شرعی حجت ہونے پر دلالت ہوتی ہے۔
[ملاحظہ کریں: "الإجماع مصدر ثالث من مصادر التشریع" (ص ۷۳)؛ "المہذب" (۲/ ۸۵۲)؛ "أحكام الإجماع والتطبيقات عليها" (ص ۳۸)۔ حدیث میں "الجماعة" کے معنی کے بارے میں علماء کے پانچ اقوال ہیں، جنہیں امام شاطبی نے "الاعتصام" (۲/ ۷۷۰) میں ذکر کیا ہے، وہاں رجوع کریں۔]
ایک جگہ ارشاد ہے:
"مَنْ فَارَقَ الْجَمَاعَةَ مَاتَ مِيتَةً جَاهِلِيَّةً"۔
ترجمہ:
جو جماعت سے الگ ہوجائے تواس کی موت جاہلیت کے طرز پر ہوگی۔
[مصنف عبدالرزاق، كتاب الصلاة، باب الأمراء يؤخرون الصلاة، حدیث نمبر:3779 المحقق: حبيب الرحمن الأعظمي]
[مسند أحمد:15681، الأحاديث المختارة:222-223]
جماعت کے چھ معانی:
احادیثِ نبویہ میں مذکور "جماعت" کے مفہوم میں علماء کے اختلاف کی تفصیل
علماء نے ان احادیث (مثلاً: "عَلَيْكُمْ بِالسَّوَادِ الْأَعْظَمِ" اور "لَا تَجْتَمِعُ أُمَّتِي عَلَى ضَلَالَةٍ" وغیرہ) میں مذکور "جماعت" کے مفہوم کے بارے میں متعدد اقوال بیان کیے ہیں۔ ان اقوال کا خلاصہ درج ذیل ہے:
پہلا قول:
جماعت سے مراد اسلامی معاشرے کا "سوادِ اعظم" (بڑی اکثریت) ہے۔ اس میں امت کے مجتہدین، علماء اور شریعت پر عمل کرنے والے اہلِ شرع شامل ہیں، اور ان کے علاوہ باقی لوگ (عوام) بھی انہی کے حکم میں داخل ہیں (کیونکہ وہ ان کے تابع ہیں)۔
دوسرا قول:
جماعت سے مراد "ائمہ مجتہدین علماء" کی جماعت ہے۔
یہی وہ قول ہے جسے امام بخاری (رحمہ اللہ) نے اختیار کیا، جہاں انہوں نے کہا: "وہ اہلِ علم ہیں۔"
اور اسی کو امام ترمذی (رحمہ اللہ) نے بھی اختیار کیا، جہاں انہوں نے کہا: "وہ اہلِ فقہ، علم اور حدیث ہیں۔"
تیسرا قول:
جماعت سے خصوصی طور پر "صحابہ کرام" مراد ہیں۔ کیونکہ انہوں نے دین کے ستون کھڑے کیے اور اس کی بنیادیں مضبوط کیں، اور وہ ہیں جو کبھی گمراہی پر جمع نہیں ہو سکتے۔
چوتھا قول:
جماعت سے مراد "مسلمانوں کی وہ جماعت ہے جو کسی امر پر متفق ہو جائے" (یعنی اجماع)۔ جب علماء شریعت کے کسی حکم یا عقیدے پر متفق ہو جائیں تو ان کے حکم کی پیروی کرنا اور اسے مضبوطی سے تھامنا لازم ہے۔ یہ قول درحقیقت پہلے اور دوسرے قول کی طرف لوٹتا ہے۔
پانچواں قول:
جماعت سے مراد "مسلمانوں کی وہ جماعت ہے جو کسی امیر (خلیفہ/حاکم) پر جمع ہو جائے" — اس صورت میں اس پر خروج (بغاوت) کرنا جائز نہیں ہے۔
یہ قول امام ابو جعفر طبری کا انتخاب ہے، انہوں نے کہا: "صحیح یہ ہے کہ حدیث میں جس جماعت کے لزوم کا حکم دیا گیا ہے، اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو اس امیر کی اطاعت میں ہیں جس پر انہوں نے اجتماع کیا ہے، اور جو اس کی بیعت توڑے گا وہ جماعت سے خارج ہو جائے گا۔"
چھٹا قول:
جماعت سے مراد "جماعتِ حق" ہے۔
امام بربہاری نے "شرح السنۃ" میں کہا: "وہ جماعتِ حق اور اس کے اہل ہیں۔"
اور ابن کثیر نے کہا: "پس اہلِ حق (بیشتر) امت کی اکثریت ہیں، خاص طور پر پہلے دور میں، اور ان میں کوئی بدعتی نہیں ملتا۔ البتہ بعد کے ادوار میں حق کسی نہ کسی گروہ کے ذریعے ضرور قائم رہتا ہے۔"
[حاصلِ کلام]
ان تمام اقوال کا نچوڑ (حاصل) ایک ہی ہے:
"منہجِ حق" کی پیروی کرنا جسے رسول اللہ ﷺ اور آپ کے صحابہ نے واضح کیا۔
اس کا تقاضا یہ ہے کہ اہلِ علم و اجتہاد کو مقدم رکھا جائے — وہ لوگ جو اتباع (سنت کی پیروی) کے پابند ہوں اور ابتداع (نئی چیزوں کو دین میں داخل کرنے) سے بچتے ہیں۔
اصل معیار حق کی پیروی اور اس پر جمے رہنا ہے، اور حق کی پیروی کرنے والے اور اس پر قائم رہنے والے بہترین لوگ وہ علماء ہیں جو سنت کے تابع ہیں، چاہے وہ تعداد میں کم ہی کیوں نہ ہوں اور صحابہ کرام کی پیروی کرنے والے ہوں۔
جب کوئی بندہ ان کو پا لیتا ہے تو اس پر ان کی اطاعت اور ان کے راستے کی لزوم (پابندی) واجب ہے۔
پس علماء ہی سوادِ اعظم (اصلی بڑی جماعت) ہیں، اور عوام ان کے تابع ہیں۔
ان (علماء) کی صفات میں سے یہ بھی ہے کہ وہ مسلمانوں کے امام (حاکم) کی پیروی کرتے ہیں، الا یہ کہ وہ اس سے کھلا کفر (کفر بواح) دیکھیں — تو اس صورت میں (بغاوت کا) مدار اسی کفر پر ہوگا۔
(5) حضرت عَرْفَجَةَ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ میں نے نبی کریم (ﷺ) کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا:
« مَنْ أَتَاكُمْ وَأَمْرُكُمْ جَمِيعٌ عَلَى رَجُلٍ وَاحِدٍ يُرِيدُ أَنْ يَشُقَّ عَصَاكُمْ أَوْ يُفَرِّقَ جَمَاعَتَكُمْ فَاقْتُلُوهُ»
ترجمہ:
"جس نے تمہارے پاس آ کر (کوشش کی) جبکہ تمہارا معاملہ ایک ہی شخص (خلیفہ/امام) پر جمع(متفق) ہو، اور وہ تمہاری لاٹھی کو توڑنا (تمہارے اتحاد کو ختم کرنا) یا تمہاری جماعت کو تفرقہ میں ڈالنا چاہتا ہو، تو اسے قتل کر دو۔"
(6) عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ :"لا يَجْمَعُ اللَّهُ هَذِهِ الأُمَّةَ , أَوْ قَالَ أُمَّتِي عَلَى الضَّلالَةِ أَبَدًا ، وَاتَّبَعُوا السَّوَادَ الأَعْظَمَ فَإِنَّهُ مَنْ شَذَّ شَذَّ فِي النَّارِ"؛ ترجمہ:
حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ: میری امت کسی گمراہی پر جمع (متفق) نہیں ہوگی، بس تم سوادِ اعظم (سب سے بڑی جماعت) کا اتباع کرو، کیونکہ جو شخص الگ راستہ اختیار کرے گا جہنم میں جا رہے گا۔ [الصحيحة:1331، حاکم:391-396، اللالکائي:154 ﴿ابن ماجہ:3950﴾ ]
[الصحاح للجوهري:١/٤٨٩]
وجہِ استدلال:
نبی ﷺ نے خبر دی کہ امت کبھی گمراہی پر جمع نہیں ہو گی، اور جو جماعت سے الگ ہو گیا وہ جہنم میں جائے گا۔ اس سے ثابت ہوا کہ یہ امت جب کسی امر پر اجماع کر لے تو معصوم ہے، اور یہ اس بات کی دلیل ہے کہ امتِ محمدیہ ﷺ کا اجماع حجت ہے۔
[ملاحظہ کریں: "الموافقات" (۲/ ۴۳۴)، "حجیۃ الإجماع" (ص ۱۸۲)]
📜 شرح الصنعانی:
"بے شک میری امت (کسی قول، فعل یا ترک میں) گمراہی پر جمع نہیں ہوگی۔" گمراہی (ضلالة) ہدایت کے مقابل ہے، اور اس کی اصل کفر ہے، یعنی وہ کفر پر جمع نہیں ہوں گے۔ اس مفہوم کی بہت سی احادیث ہیں۔
"پس جب تم اختلاف دیکھو" - اس میں یہ اشارہ ہے کہ اس حدیث میں "ضلالة" سے مراد محض کفر نہیں ہے۔ اسی لیے اصولیین نے اسے اہلِ اجتہاد پر محمول کیا ہے اور اسے اجماع کی دلیل بنایا ہے۔ البتہ اس پر اعتراض کیا گیا ہے کہ امت کا گمراہی پر جمع نہ ہونا اس بات کو لازمی نہیں بناتا کہ وہ حق پر جمع ہوں، کیونکہ ممکن ہے کہ وہ کسی خطا پر جمع ہوں جو نہ تو ضلالت ہے اور نہ حق۔
"پس تم لازم پکڑو سب سے بڑی جماعت (السواد الأعظم) کو" - یہ ہدایت ہے کہ جب اختلاف واقع ہو تو نجات اس میں ہے جو اہلِ ایمان کی اکثریت کے پاس ہے۔ اس میں اشارہ ہے کہ یہاں اختلاف سے مراد خلافت (امارت) اور متعدد دعویداروں کا مسئلہ ہے، اور نجات اکثریت کی پیروی میں ہے، جیسا کہ دوسری حدیث میں ہے: "اللہ کا ہاتھ جماعت کے ساتھ ہے، جو اس سے الگ ہوگا وہ جہنم میں الگ ہوگا۔" (ترمذی: 2167)
(یہ حدیث) ابن ماجہ (3950) نے حضرت انس سے روایت کی ہے، اور اس کی سند میں کچھ نرمی (لین) ہے۔
📜 شرح المناوی:
"(بے شک میری امت)" — یعنی اجابت کرنے والی امت (جو دعوتِ نبوی پر لبیک کہنے والی ہے) — "(ہرگز)" اور ایک لفظ میں "(نہیں)" آیا ہے — "(گمراہی پر جمع نہیں ہوگی)"، اور اسی لیے ان کا اجماع حجت (شرعی دلیل) ہے۔
"(پس جب تم اختلاف دیکھو)" — خواہ وہ دین کے معاملے میں ہو (جیسے عقائد) یا دنیا کے معاملے میں (جیسے عظیم امامت / خلافت کے بارے میں جھگڑا یا اس کے علاوہ) — "(تو تمہیں لازم ہے سب سے بڑی جماعت (السواد الأعظم) کو)"، یعنی اہلِ اسلام میں سے — "مسلمانوں کی جمہور (اکثریت) کی پیروی کو لازم پکڑو"، کیونکہ وہی واجب حق اور ثابت شدہ فرض ہے جس کی مخالفت جائز نہیں۔ "پس جس نے مخالفت کی تو وہ جاہلیت کی موت مرا۔"
الله کی مسجدوں کو تو وہی لوگ آباد کرتے ہیں جو الله اور یومِ آخرت پر ایمان لائے ہوں، اور نماز قائم کریں، اور زکوٰۃ ادا کریں، اور الله کے سوا کسی سے نہ ڈریں۔ ایسے ہی لوگوں سے یہ توقع ہوسکتی ہے کہ وہ صحیح راستہ اختیار کرنے والوں میں شامل ہوں گے۔
[سورۃ التوبہ:18،تفسیر ابن کثیر:4/105]
یہ تمام احادیث قدرے مشترک اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ یہ امت اجتماعی طور پر خطا سے محفوظ ہے، یعنی پوری امت خطا اور ضلالت پر اتفاق کرے ایسا نہیں ہوسکتا ہے اور جب ایسا ہو تو اجماع امت کے ماننے اور اس کے حجتِ شرعی ہونے میں کوئی کلام نہیں ہے.
اجماع کی حجیت کے بارے میں امام بخاریؒ صحیح بخاری میں پورا باب نقل کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
’’بَابُ مَا ذَكَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَحَضَّ عَلَى اتِّفَاقِ أَهْلِ العِلْمِ، وَمَا أَجْمَعَ عَلَيْهِ الحَرَمَانِ مَكَّةُ، وَالمَدِينَةُ، وَمَا كَانَ بِهَا مِنْ مَشَاهِدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالمُهَاجِرِينَ، وَالأَنْصَارِ، وَمُصَلَّى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالمِنْبَرِ وَالقَبْرِ‘‘۔
ترجمہ:
’’باب: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے علم والوں کے اتفاق کرنے کا جو ذکر فرمایا ہے اس کی ترغیب دی ہے اور مکہ اور مدینہ کے عالموں کے اجماع کا بیان، اور مدینہ میں جو نبی ﷺ اور مہاجرین انصار کے متبرک مقامات ہیں اور نبی ﷺ کے نمازگاہ اور منبر اور قبر کا بیان‘‘۔
[صحیح البخاری: كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة، ج۹، ص۲۷۹]

امام مالکؒ(م179ھ) نے اہلِ مدینہ کا اجماع بھی حجت قراردیا ہے۔ امام بخاریؒ کے کلام سے یہ نکلتا ہے کہ اہلِ مکہ اور اہلِ مدینہ دونوں کا اجماع بھی حجت ہے، امام بخاریؒ کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اہلِ مدینہ اور اہلِ مکہ کا اجماع حجت ہے بلکہ ان کا مطلب یہ ہے کہ اختلاف کے وقت اس جانب کو ترجیح ہوگی جس پر اہل مکہ اور مدینہ اتفاق کریں‘‘۔
[فتح الباری شرح صحيح البخاری: كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة، قَوْلُهُ بَابُ مَا ذَكَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَحَضَّ،ج۱۲، ص۳۰۶]

امام مالک کیلئے مدینہ والوں کا عمل دلیلِ شرعی تھا۔
[تاریخ(امام)ابن خلدون:1/418، مقدمہ]
دلائل:
مدینہ والوں (علم وایمان میں) فضیلت:
حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے، نبی ﷺ کا فرمان ہے:
يوشِكُ أن يَضربَ النَّاسُ أَكْبادَ الإبلِ يطلُبونَ العلمَ فلا يجدونَ أحدًا أعلمَ مِن عالِمِ المدينةِ.
ترجمہ:
عنقریب لوگ تلاشِ علم میں اونٹوں پر سوار ہو کر نکلیں گے، بس مدینہ کے عالم سے زیادہ کسی کو علم میں نہیں پائیں گے۔
[سنن الترمذي: ابواب العلم، باب في عالم المدينة، حديث#2680]
إنَّ الإيمَانَ لِيأْرِزُ إلَى الْمَدِيْنَةِ ، كَمَا تأْرِزُ الحيةُ إلى جُحرِها.
ترجمہ:
ایمان(اسلام)سمٹ کر اس طرح مدینہ میں آۓ گا جس طرح سے سانپ سمٹ کر اپنے بل میں چلا جاتا ہے۔
[صحیح البخاري:كتاب فضائل المدينة، باب الإيمان يأرز الى المدينة، حديث#1876]
لَا تَقُوْمِ السَّاعَةُ حَتّٰى تَنْفٍيَ الْمَدِيْنَةُ شِرَارَهَا كَمَا يَنْفِي الْكِيْرُ خَبَثَ الْحَدِيْدِ.
ترجمہ:
قیامت قائم نہیں ہوگی تاآنکہ مدینہ بدکار لوگوں کو دور کردے جس طرح بھٹی فولاد(لوہے) کے میل کچیل کو دور کردیتی ہے۔
[صحیح مسلم: كتاب الحج، باب المدينة تنفي شرارها، حديث#1381]
حقیقت اجماع
اجماع اصل میں محض رائے ہے؛ جیسا کہ قیاس رائے ہے؛ البتہ اجماع وقیاس کے درمیان فرق یہ ہے کہ قیاس کے تحت جو رائے ہوتی ہے وہ انفرادی یا زیادہ سے زیادہ چند افراد کی ہوتی ہے اور "اجماع" ایک زمانے کے تمام مجتہدین کی متفقہ رائے کا نام ہے اسی اجتماعیت کی وجہ سے اس کو قیاس پر فوقیت حاصل ہے۔
[المدخل:۱۹۳۔ اصول الفقہ عبیداللہ الاسعدی:۲۱۲]
بدعتی اور فاسق مجتہد کا اجماع
اجماع میں تقویٰ اور تدین بھی ضروری ہے؛ کیونکہ ایسے شخص کی رائے اجماع میں قابلِ اعتبار نہ ہوگی جودین کا پابند نہ ہو یادین کی قطعی اور اصولی باتوں کی کوئی پرواہ نہ کرتا ہو اور فسق وفجور اور بدعت میں مبتلا ہو؛ کیونکہ ایسا شخص شریعت کی نگاہ میں لائق مذمت ہے، امام مالکؒ، امام اوزاعیؒ، محمدبن حسنؒ وغیرہ ایسے شخص کو اہل ہویٰ وضلال کہتے ہیں اور اس کے اجماع کو معتبر نہیں مانتے۔
[الاحکام فی اصول الاحکام لابن حزم:۱/۲۳۷۔ المستصفی للغزالی:۱/۱۸۳]
البتہ علامہ صیرفی رحمہ اللہ کا خیال ہے کہ ایسے شخص کا اجماع بھی معتبر ہے؛ یہی قول امام غزالیؒ، علامہ آمدیؒ اوردیگر اصولی حضرات کا ہے؛ کیونکہ فاسق اور اہل بدعت بھی ارباب حل وعقد میں سے ہوتے ہیں اور لفظ "امت" کے مصداق میں شامل ہیں اور یہ بات بھی طے ہے کہ تقویٰ وتدین جب ہوگا تولوگوں کو اس کی رائے پر اعتماد ہوگا، جب تقویٰ کی شرط صرف رائے پر اعتماد کی خاطر ہے توظاہر ہے کہ تقویٰ اگرنہ بھی ہوتب بھی استنباط کی صلاحیت وصحت پر فی نفسہ کوئی اثر مرتب نہ ہوگا۔
[ارشاد الفحول:۱۳۱۔ المستصفی من علم الاصول الغزالی:۱/۱۸۳۔ البحرالمحیط:۴/۴۶۷۔ الاحکام فی اصول الاحکام للآمدی:۱/۳۲۶]
عامی کی مخالفت یا موافقت کا حکم
جمہور کے نزدیک عوام کے قول کا اجماع میں اعتبار نہ ہوگا چاہے وہ قول موافق ہو یامخالف ؛ کیونکہ اس کے لیے اجتہاد اور فکر ونظر کی صلاحیت کی ضرورت ہوتی ہے اور عامی میں یہ صلاحیت نہیں ہوتی ہے؛ لہٰذا ان کا قول انعقاد اجماع میں مسموع نہ ہوگا۔
[ارشاد الفحول:۱۳۳۔ المستصفی من علم الاصول الغزالی:۱/۱۸۳۔ الاحکام فی اصول الاحکام للآمدی:۱/۱۵۱]
اجماع میں اکثریت واقلیت کی بحث
اجماع کے انعقاد کے لیے پوری امت کے مجتہدین کا متفق الرائے ہونا ضروری ہے، محض اکثریت کی رائے کواجماع کے لیے جمہور کافی نہیں سمجھتے؛ لیکن ابوبکررازیؒ، ابوالحسن خیاطؒ معتزلی اور ابنِ جریر طبریؒ کا خیال ہے کہ محض ایک دو آدمی مخالفت کریں تواجماع کے انعقاد پر اس سے کوئی اثرمرتب نہیں ہوگا، بعض حضرات کی رائے ہے کہ موافقین کے مقابلہ میں اگرچہ مخالفین کی تعداد کم ہو ؛لیکن حدتواتر تک پہنچی ہوئی ہو تواجماع منعقد نہیں ہوگا؛ اگرتواتر تک نہیں پہنچی ہو تواجماع منعقد ہوجائے گا۔
[فواع الرحموت:۲/۳۲۲۔ المستصفی الغزالی:۱/۱۷۴]
اقلیت واکثریت کی اس بحث میں یہ بھی ذہن میں رکھنا چاہیے کہ مخالفت اگراخلاص واجتہاد کی بناء پر ہوتو وہ اجماع کے انعقاد وعدمِ انعقاد میں ملحوظ ہوگی؛ ورنہ اگراخلاص واجتہاد کے بجائے حب جاہ یاکوئی دوسرا جذبہ مخالفت کے پیچھے کارفرما ہوتو ایسی مخالفت کا بالکل اعتبار نہ ہوگا؛ یہی وجہ ہے کہ خلیفہ اوّل کے انتخاب کے موقعہ پر حضرت سعد بن عبادہؓ نے مخالفت کی تھی؛ لیکن وہ معتبر نہیں مانی گئی اورحضرت ابوبکرصدیقؓ کی خلافت بالاجماع منعقد ہوئی۔
[اصول الفقہ الاسلامی:۱/۵۲۱۔ فقہی خدمات وتقاضے:۱۸۵]
کیا اجماع کسی خطہ کے ساتھ مخصوص ہے
چونکہ "لَا تَجْتَمِعُ أُمَّتِیْ" میں جو لفظ امت ہے اس کا عموم پوری امت کو شامل ہے اور اجماع کا دائرہ پوری امت کو محیط ہے، اس لیے نہ تومحض اہلِ مدینہ کا اجماع کافی ہے اور وہ نہ صرف اہلِ حرمین کا اور نہ تنہا اہلِ بصرہ وکوفہ کا اور نہ صرف اہلِ بیت کا۔
[المستصفیٰ للغزالی:۱/۱۵۷]
ڈاکٹر وہبہ زحیلی نے یہ لکھا ہے کہ کسی مخصوص خطہ کااجماع معتبر نہ ہوگا؛ کیونکہ یہ پوری امت کا اجماع نہیں ہے اجماع وہی معتبر ہے جوپوری امت کا ہو،علامہ قرافیؒ اور ابن حاجبؒ نے بھی یہی لکھا ہے کہ اجماع کسی بلدہ وخطہ کے ساتھ مخصوص نہیں ہے۔
[فواتح الرحوت:۲/۲۲۲۔ المستصفی للغزالی:۱/۱۸۷]
اجماع کے اعتبار کے لیے کیا مجتہدین کی موت ضروری ہے
چونکہ زندگی میں انسان کی رائے بدلتی رہتی ہے اور ہوسکتا ہے کہ اجماع کے بعد کسی مجتہد کی رائے میں تبدیلی ہوجائے، جس کی وجہ سے اتفاق باقی نہ رہ سکے، اس لیے اصولی حضرات نے یہ بحث بھی کی ہے کہ کیا اس احتمال سے کہ کسی مجتہد کی رائے بدل سکتی ہے، اجماع غیرمعتبر ہوگا؟ اس سلسلہ میں اصولی حضرات میں اختلاف پایا جاتا ہے۔
[الاحکام آمدی:۱/۳۶۶۔ اصول الفقہ الاسلامی:۱/۵۲۷]
امام اعظم ابوحنیفہؒ، اشاعرہ، معتزلہ اور اکثرشوافع کا مسلک یہ ہے کہ اجماع کرنے والے مجتہدین کی وفات اجماع کے اعتبار کے لیے ضروری نہیں ہے؛ کیونکہ جس لمحہ میں اتفاق وجود میں آتا ہے، اس لمحہ میں اجماع منعقد ہوجاتا ہے، اتفاق ہوجانے کے بعد مسئلہ نزاع سے خارج ہوجاتا ہے اور سب کے لیے لازم ہوجاتا ہے؛ اس لیے بعد میں رائے کی تبدیلی کا کوئی اثر اجماع کے انعقاد پر نہیں پڑےگا؛ یہاں تک کہ اجماع کے متصلاً بعد اگرکوئی شخص اللہ تعالیٰ کی قدرت ورحمت سے مجتہد بن جائے تواس کی بھی رائے کا اجماع کے لیے اعتبار نہیں ہوگا اور یہی موقف صحیح معلوم ہوتا ہے؛ کیونکہ جن نصوص سے اجماع کا حجت ہونا ثابت ہوتا ہے ان میں اطلاق ہے، مجتہدین کی وفات کی قید نہیں ہے، اس لیے ملامحب اللہ بہاریؒ نے بجا لکھا ہے: "الانقراض لامدخل لہ فی الاصابۃ ضرورۃ"۔ ترجمہ:وفات کا اجماع کی حجت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
امام غزالی رحمہ اللہ(م505ھ) کی عبارت اس موقع پر کافی وضاحت سے روشنی ڈالتی ہے، فرماتے ہیں:
"الْحُجَّةَ فِي اتِّفَاقِهِمْ لَا فِي مَوْتِهِمْ وَقَدْ حَصَلَ قَبْلَ الْمَوْتِ"۔
ترجمہ:
اجماع تو ان کے اتفاق سے حجت بن جاتا ہے، موت سے اس کا کیا سروکار ہے۔
[المستصفى-الغزالي: صفحہ152، نفائس الاصول فی شرح المحصول:۶/۲۷۸۶۔]
اجماع کی بنیاد
اجماع کے لیے ضروری ہے کہ اس کی بنیاد کسی نہ کسی اصل شرعی پر ہو؛ کیونکہ اجماع اور قیاس خود کوئی مستقل دلیل نہیں ہیں، اجماع کے لیے ضروری ہے کہ اس کی اصل کتاب وسنت یا پھر قیاس میں موجود ہو ، اجماع کی اصل کی ضرورت اس لیے ہے کہ اہل اجماع بنفسِ نفیس احکام کو بیان نہیں کرسکتے؛ کیونکہ انشاء شریعت کا حق صرف اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول حضرت محمد ﷺ کو حاصل ہے؛ یہی وجہ ہے کہ جن مسائل پر صحابہ کرامؓ نے اجماع کیا ہے ان سب میں وہ کسی نہ کسی اصل پر بحث کرتے ہوئے انہی پر اپنی آراء کی بنیاد رکھتے اور اس طرح اجماع کا انعقاد ہوجاتا ہے، میراث جدہ کے بارے میں صحابہ کرامؓ نے حضرت مغیرہ بن شعبہؓ کی خبر پر اعتماد کیا اور جمع بین المحارم کی حرمت کے سلسلہ میں حضرت ابوہریرہؓ کی روایت پر اعتماد کیا، اسی طرح حقیقی بھائیوں کی عدم موجودگی میں علاتی بھائیوں کا وراثت میں اعتبار کیا گیا ، اس مسئلہ میں صحابہ کرامؓ نے حضور ﷺ کی اس تعبیر پر اعتماد کیا جس میں یہ بیان کیا گیا ہے:
"وَدخولھم فِی عموم الاخوۃ"۔
اور جمہور علماء کرام کا کتاب وسنت کو اجماع کی اصل قرار دینے پر اتفاق ہے، جیسا کہ سطورِ بالا میں اس کی وضاحت ہوچکی ہے، ان میں اجماع کی اساس سنت ہے۔
[اصول الفقہ اسعدی:۲۱۵۔ اصول الفقہ ابوزہرہ:۱۶۵۔ البحرالمحیط:۴/۴۵۰۔ الکوکب المنیر:۲/۲۲۸]
فقہاء کرام کا اس بارے میں اختلاف ہے کہ قیاس واجتہاد بھی اجماع کی اصل بن سکتے ہیں یانہیں؟ اس سلسلے میں تین اقوال ملتے ہیں ؛لیکن دلیل کے اعتبار سے وزنی وہ بات معلوم ہوتی ہے جوعلامہ آمدیؒ نے بیان کیا ہے، وہ لکھتے ہیں کہ اجتہاد وقیاس کو بھی اجماع کی اصل قرار دیا جاسکتا ہے اور اس کی کئی مثالیں صحابہ کرامؓ کی زندگی سے ملتی ہیں، مثلاً صحابہ کرامؓ کا حضرت ابوبکر صدیقؓ کی خلافت پر اتفاق کرنا یہ محض اجتہاد اور رائے کی وجہ سےتھا؛ حتی کہ بعض صحابہ کرام نے یہ الفاظ تک کہے: "رضیہ رسول اللہ لدیننا افلا نرضاہ لدنیانا"۔ ترجمہ:اور بعض صحابہ کرامؓ نے یہ جملہ کہا "ان تولوھا ابابکر تجدوہ قویا فی امراللہ ضعیفاً فی بدنہ"۔
[الاحکام آمدی:۱/۲۸۰]
اسی طرح مانعینِ زکاۃ سے قتال کرنے پر ان حضرات کا اجماع ہوا وہ بھی قیاس ورائے کی بناء پر تھا، خنزیر کی چربی کی حرمت پر اجماع اس کے گوشت پر قیاس کے ذریعہ کیا گیا تھا، حضرت عمرؓ کے دورِ خلافت میں شراب پینے والے کی حد اسی (۸۰) کوڑے بالاجماع مقرر کی گئی یہ بھی اجتہاد کی روشنی میں تھا؛ چنانچہ حضرت علیؓ نے کہا تھا کہ اس پر حدقذف جاری کرنی چاہیے؛ کیونکہ شرب خمر کے بعد عام طور پر تہمت زنی کی باتیں سرزد ہوتی ہیں، حضرت عبدالرحمن بن عوفؓ نے کہا کہ اس پر حد جاری کرنی چاہیے اور اقلِ حد اسی کوڑے ہیں، ان کے علاوہ جنایت کا تاوان قریبی رشتہ داروں کا نفقہ اور ائمہ وقضاۃ کی عدالت کے متعلق جواجماع دورِ صحابہ کرامؓ میں کیا گیا یہ سب بطریق اجتہاد وقیاس تھا؛ لہٰذا اجتہاد اور قیاس کو بنیاد بناکر جو اجماع کیا جاتا ہے وہ بھی شرعاً قابلِ حجت ہے اور اس کی اتباع ضروری ہے۔
[الاحکام آمدی:۱/۲۸۰۔ اصول الفقہ اسعدی:۱۶۶۔ نفائس الاصول:۶/۲۸۷۴۔ حیات ابن تیمیہؒ:۶۸۵]
اجماع کی قسمیں:
اجماع کی دو صورتیں ہیں "اجماع صریحی اور اجماع سکوتی" اجماعِ صریحی یہ ہے کہ سب کے سب مجتہدین اپنی رائے کا صراحۃ اظہار کرکے اتفاق کریں اور اجماع سکوتی یہ ہے کہ ایک مجتہد اپنی رائے کا اظہار کرے اور بقیہ حضرات انکار نہ کریں ؛بلکہ خاموش رہیں، اجماع صریحی بالاتفاق معتبر ہے؛ لیکن سکوتی معتبر ہے یانہیں اس سلسلہ میں اصولی حضرات کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے؛ لیکن اس بارے میں صحیح قول یہ ہے کہ اجماعِ سکوتی نہ توہرصورت میں معتبر ہے نہ ہرحالت میں قابلِ رد ؛بلکہ رضا کی علامت کی شکل میں: "السکوت فی معرض البیان بیان"۔ کے اصول کے مطابق معتبر ہونا چاہیے اور اگررضا کی علامت نہ ہو یاانکار کی صراحت ہوتوقابل رد ہونا چاہیے۔
[ارشاد الفحول:۱۲۷۔:۱۸۹۔ حیات امام احمد بن حنبلؒ:۳۷۳۔ اصول الفقہ اسعدی:۲۱۵]
اجماعِ صحابہ رضی اللہ عنہم
اجماعِ صحابہ بلااختلاف حجت ہے، ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
"كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ"۔
ترجمہ:
تم لوگ اچھی جماعت ہو کہ وہ جماعت لوگوں کے لیے ظاہر کی گئی ہے۔
[سورۃ آل عمران:۱۱۰]
ایک جگہ اور ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
"وَكَذَلِكَ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطًا لِتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ"۔
ترجمہ:
اور ہم نے تم کوایسی ہی ایک جماعت بنادی ہے جو (ہرپہلو سے) اعتدال پر ہے؛ تاکہ تم (مخالف) لوگوں کے مقابلہ میں گواہ ہو۔
[سورۃ البقرۃ:۱۴۳]
اِن آیات کے اولین مخاطب صحابہ کرامؓ ہیں اور "خیرامت" اور "امت وسط" کا اجماع شرعاً معتبر ہونا ہی چاہیے؛ نیزبہت سی احادیث میں رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کرامؓ کی تعریف کی ہے مثلاً ایک حدیث میں فرمایا:
"۔۔۔۔۔۔وَأَصْحَابِي أَمَنَةٌ لِأُمَّتِي۔۔۔۔۔"۔
ترجمہ:
۔۔۔۔۔اور میرے صحابہ میری امت کے نگہداشت ہیں۔۔۔۔۔۔
[صحیح مسلم، بَاب بَيَانِ أَنَّ بَقَاءَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَانٌ لِأَصْحَابِهِ وَبَقَاءَ أَصْحَابِهِ أَمَانٌ لِلْأُمَّةِ ،حدیث نمبر:4596(2531))]
ایک حدیث میں ہے:
"أَصْحَابِي كَالنُّجُومِ بِأَيِّهِمْ اقْتَدَيْتُمْ اهْتَدَيْتُمْ"۔
ترجمہ:
میرے صحابہ ستاروں کی طرح ہیں ان میں سے جس کی اقتداء کروگے راہ یاب ہوجاؤ گے۔
[شرح السنة للبربهاري: ص56، الشريعة للآجري:1166، الإبانة الكبرى لابن بطة:702، آداب الصحبة لأبي عبد الرحمن السلمي:192، تفسير الثعلبي:1183، جامع بيان العلم وفضله:1760، جامع الأصول:6369]
[منهاج السنة النبوية:7/142،فصل البرهان الثالث عشر " إِنَّمَا أَنْتَ مُنْذِرٌ وَلِكُلِّ قَوْمٍ هَادٍ " والجواب عليه]
ان کے علاوہ اور بہت سی احادیث ہیں جو صحابہ کرامؓ کے صدق اور حق پر ہونے کو ظاہر کرتی ہیں؛ پس آنحضور ﷺ کا حضراتِ صحابہ کرام کے عادل اور صادق ہونے کی شہادت دینا اس بات کی بین دلیل ہے کہ ان حضرات کا اجماع معتبر ہوگا۔
حجیت اجماع پر چند آثار صحابہؓ
صحابہ کرام کے اجماع کی اہمیت
(1)حضرت عبداللہ بن مسعود (رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے، انہوں نے کہا:
«إِنَّ اللهَ تَعَالَى نَظَرَ فِي قُلُوبِ الْعِبَادِ فَاخْتَارَ مُحَمَّدًا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَعَثَهُ بِرِسَالَتِهِ، وَانْتَخَبَهُ بِعِلْمِهِ، ثُمَّ نَظَرَ فِي قُلُوبِ النَّاسِ فَاخْتَارَ أَصْحَابَهُ فَجَعَلَهُمْ وُزَرَاءَ نَبِيِّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وأنصارَ دِينِهِ، فَمَا رَآهُ الْمُؤْمِنُونَ حَسَنًا فَهُوَ عِنْدَ اللهِ حَسَنٌ، وَمَا رَآهُ الْمُؤْمِنُونَ قَبِيحًا فَهُوَ عِنْدَ اللهِ قَبِيحٌ»
ترجمہ:
"بیشک اللہ تعالیٰ نے بندوں کے دلوں میں جھانک کر دیکھا تو محمد ﷺ کو منتخب کیا اور آپ کو اپنی رسالت دے کر بھیجا، اور آپ کو اپنے علم کے لیے چن لیا۔ پھر اس نے لوگوں کے دلوں میں جھانک کر دیکھا تو صحابہ کرام کو منتخب کیا، اور انہیں اپنے نبی ﷺ کا وزیر (مددگار) اور اپنے دین کا انصار (حامی و حمایتی) بنایا۔ پس جو چیز مومنوں کو اچھی لگی، وہ اللہ کے نزدیک بھی اچھی ہے، اور جو چیز مومنوں کو بری لگی، وہ اللہ کے نزدیک بھی بری ہے۔"
خلاصة حكم المحدث:
ثابت عنه
[الطرق الحكمية-ابن القيم:81]
حسن
[المقاصد الحسنة-السخاوي:431، مختصر المقاصد-الزرقاني :889، موافقة الخبر الخبر-ابن حجر العسقلاني:2/435]
وضاحت (تشریح):
امام محمدؒ(م189ھ) نے فرمایا:
ماہِ رمضان میں (تراویح کی) نماز پڑھنے میں کوئی حرج نہیں ہے کہ لوگ کسی امام کے ساتھ (باجماعت) نفل (تطوع) پڑھیں، کیونکہ مسلمانوں کا اس پر اجماع ہے اور انہوں نے اسے اچھا سمجھا ہے۔
امام اصبھانیؒ(م430ھ) نے اس روایت سے امامت(نبوت کی جانشینی) کو قائم کرنے اور ان کے ترتیب کو درست ثابت کرنے پر بھی استدلال کیا۔
امام الهيثميؒ(م807هـ) نے اس روایت سے استدلال کیا اجماع پر۔
"المؤمنین" (مومنین) سے مراد ان کے خواص (خاص لوگ) ہیں؛ اور وہ اہلِ علم، کتاب (قرآن)، سنت اور فقہ کے عالم ہیں؛ اور صحابہ کرام انہی میں سے ہیں۔ اور ان چیزوں میں سے جو انہوں نے اچھی سمجھیں، (مثال کے طور پر) بیس رکعات تراویح ہے، پس یہ اللہ اور مسلمانوں کے نزدیک شرع (مشروع) بن گئی۔ اور چونکہ اہلِ مکہ ہر چار رکعات کے درمیان ایک طواف کرتے تھے، تو اہلِ مدینہ نے ہر طواف کی جگہ چار رکعات کا اضافہ کیا تاکہ وہ عبادت میں اہلِ مکہ کے برابر ہو جائیں، پس ان کی تراویح چھتیس (۳۶) رکعات ہو گئیں۔
اور داؤد بن قیس نے کہا: میں نے اہلِ مدینہ کو ابان بن عثمان اور عمر بن عبدالعزیز کی امارت (خلافت) کے دوران قیام (تراویح) کرتے ہوئے پایا، وہ چھتیس (۳۶) رکعات پڑھتے تھے اور تین رکعات وتر پڑھتے تھے۔
اور امام مالک نے فرمایا: ہمارے ہاں (اہلِ مدینہ کا) معمول انتالیس (۳۹) رکعات کا ہے (یعنی ۳۶ تراویح + ۳ وتر)، اور مکہ میں تیئس (۲۳) رکعات کا ہے (یعنی ۲۰ تراویح + ۳ وتر) — یعنی دونوں میں وتر شامل ہیں۔ اور ان (اعداد و تفریق) میں سے کسی میں بھی کوئی حرج نہیں، کیونکہ یہ رات کی نماز ہے جس کی کوئی (محدود) حد نہیں۔
لیکن جو کچھ اہلِ مدینہ کرتے ہیں، وہ صرف ان کے لیے مخصوص ہے، بخلاف باقی اسلامی علاقوں کے — تو تراویح کی مقدار (ان علاقوں میں) بیس رکعات ہے، اور جو کوئی زیادہ پڑھنا چاہے تو وہ رات کے آخر میں جتنی چاہے تہجد پڑھ لے۔ واللہ اعلم۔
(2) میمون بن مہرانؒ بیان کرتے ہیں جب کو ئی معاملہ حضرت ابوبکر صدیق (رضی اللہ عنہ) کو پیش ہوتا تو آپ (رضی اللہ عنہ) اس کا حکم قرآن مجید میں تلاش کرتے- اگر مل جاتاتو آپ (رضی اللہ عنہ) اس کے مطابق فیصلہ فرماتے اگر نہ ملتا تو حضور نبی رحمت (ﷺ) کی حدیث مبارک یادہوتی تو اس کے موافق فیصلہ فرماتے- اگر کوئی حدیث مبارک بھی معلوم نہ ہوتی تو اُٹھ کرمسلمانوں سے دریافت فرماتے کہ میرے سامنے ایسامعاملہ پیش ہواہے تمہیں معلوم ہے کہ سیدی رسول اللہ (ﷺ) نے اس معاملے کے بارے میں کوئی فیصلہ فرمایا ہو؟ تو بعض اوقات کئی لوگ کہتے کہ رسول اللہ (ﷺ) نے اس معاملہ میں اس طرح فیصلہ مبارک فرمایا تھا اور اس پر آپ (رضی اللہ عنہ) فرماتے کہ اللہ عزوجل کا شکر ہے کہ اس نے ہم میں ایسے اشخاص بھی پیدا فرمائے ہیں جو اپنے نبی پاک (ﷺ) کی باتوں کو یاد رکھتے ہیں- اگر کوئی حدیث مبارک بھی نہ ملتی تو آپ (رضی اللہ عنہ) جلیل القدر اور معززین صحابہ کرام (رضی اللہ عنہم) کو جمع فرما کر مشورہ کرتے اور جس بات پر ان کا اتفاق ہوتا اسی کے موافق فیصلہ فرماتے۔
[سنن الدارمی:163، السنن الکبریٰ للبیھقی:20341]
(3) امیرالمومنین حضرت عمرفاروق رضی اللہ عنہ نے اپنے مشہور قاضی ’’شریح‘‘ کو عدالتی فیصلوں کے لیے جو بنیادی اصول لکھ کر بھیجے ان میں تیسرا اصول یہی تھا کہ جس مسئلہ کا حکم قرآن وسنت میں (صریح طور پر) نہ ملے، اس میں امت کے اجماعی فیصلہ پرعمل کریں۔ حضرت عمر ؓ کا یہ سرکاری فرمان امام شعبیؒ نے ان الفاظ میں نقل کیا ہے کہ:۔
کتب عمر الیٰ شریح ان اقض بما فی کتاب اللّٰہ ، فان اتاک امر لیس فی کتاب اللّٰہ فاقض بما سن رسول اللّٰہ ﷺ ، فان اتاک امرلیس فی کتاب اللّٰہ ولم یسنہ رسول اللّٰہ ﷺ فانظر لہ الذی اجتمع علیہ الناس ، فان جاء ک امرلم یتکلم فیہ احد فای الامرین شئت فخذ بہ ان شئت فتقدم وان شئت فتأخر ولا اری التأخر الاخیراً لک۔
ترجمہ:
حضرت عمرؓ نے شریح کو لکھ بھیجا کہ تم فیصلے قرآن حکیم کے مطابق کرو اور اگر تمہارے پاس کوئی ایسا مقدمہ آئے جس کا (صریح) حکم قرآن شریف میں نہ ہو تورسول اللہ ا کی سنت کے مطابق فیصلہ کرو، اور اگر کوئی ایسا مقدمہ آئے جس کاحکم (صریح طور پر) نہ قرآن حکیم میں ہو، نہ رسول اللہ ﷺ کی سنت میں تو تم اس کے لیے وہ فیصلہ تلاش کرو جس پر سب لوگ متفق ہوچکے ہوں اور اگر کوئی ایسا مقدمہ آجائے جس کے متعلق کسی کا فیصلہ موجود نہ ہو (نہ قرآن میں نہ سنت میں نہ اجماع میں) تو اب دو صورتوں میں سے جس کو چاہو اختیار کرلو، یعنی چاہو تو آگے بڑھ کر (اپنے اجتہاد سے فیصلہ کردو) اور چاہو تو پیچھے ہٹ جاؤ(یعنی اپنے اجتہاد سے فیصلہ کرنے کے بجائے اہل علم سے پوچھ کر عمل کرو) اور میں تمہارے لیے ایسے موقع پر پیچھے ہٹ جانا ہی بہتر سمجھتا ہوں۔
[سنن الدارمی:169، نسائی:5399، بیھقی:20313]
(4) حضرت ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ کا ارشاد ہے کہ:
اتقو اللہ وعلیکم بالجماعۃ فان اللّٰہ لم یکن لیجمع امۃ محمد ا علیٰ ضلالۃ۔
اللہ سے ڈرو اور الجماعت کے ساتھ ساتھ رہو کیونکہ اللہ محمد ا کی امت کو کبھی بھی کسی گمراہی پرمتفق نہیں کرے گا۔
اجماع کا فائدہ اور سند اجماع:
یہاں ایک یہ بات قابل ذکر ہے کہ اجماع کے حجت ہونے کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ اجماع کرنے والوں کو شرعی احکام میں نعوذ باللہ خدائی اختیارات مل گئے ہیں کہ وہ قرآن وسنت سے آزاد ہوکر جس چیز کو چاہیں حرام اور جس کو چاہیں حلال کردیں۔ خوب سمجھ لینا چاہیے کہ فقہ کا کوئی مسئلہ قرآن وسنت کے بغیرثابت نہیں ہوسکتا، اجماع کا بھی ہر فیصلہ قرآن وسنت کا محتاج ہے، چنانچہ فقہ کے جس مسئلہ پر بھی اجماع منعقد ہوتا ہے وہ مسئلہ یا تو قرآن حکیم کی کسی آیت سے ماخوذ ہوتا ہے ، یا رسول ﷺ کی سنت سے، یا ایسے قیاس سے جس کی اصل قرآن یا سنت میں موجود ہو، غرض ہر اجماعی فیصلہ کسی نہ کسی دلیل شرعی پر مبنی ہوتا ہے جس کو ’’سندِ اجماع‘‘ کہا جاتا ہے۔
اہلِ مدینہ کا اجماع
جمہور کے نزدیک صرف اہلِ مدینہ کا اجماع حجت نہیں ہے؛ البتہ امام مالکؒ(م179ھ) سے منقول ہے کہ صرف اہلِ مدینہ کا اجماع معتبر ہے امام مالک رحمہ اللہ کی دلیل یہ ہے کہ مدینہ طیبہ کے بارے میں نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
«الْمَدِينَةُ كَالْكِيرِ تَنْفِي الْخَبَثَ كَمَا يَنْفِي الْكِيرُ خَبَثَ الْحَدِيدِ»۔
ترجمہ:
مدینہ طیبہ لوہار کی بھٹی کی طرح ہے، مدینہ اپنے خبث کو اس طرح دور کردیتا ہے، جس طرح لوہار کی بھٹی لوہے کے زنگ اور میل کچیل کو دور کردیتی ہے۔
[مصنف ابن أبي شيبة:32423، مسند أحمد:15132]
اور خالص جوہر کو نکھار دیتی ہے۔
[صحيح البخاري:1883، صحيح مسلم:1383، سنن الترمذي:3920، سنن النسائي:4185]
لہٰذا خطاء بھی ایک قسم کا خبث ہے؛ پس جب مدینہ اور اہلِ مدینہ سے خبث منتفی ہے توان سے خطاء بھی منتفی ہوگی اور جب اہلِ مدینہ سے خطاء منتفی ہے توان کا قول صواب اور ان کی متابعت واجب ہوگی؛ لہٰذا اہلِ مدینہ کسی دینی امر پراتفاق کریں گے تووہ سب کے لیے حجت ہوگا اور ان کا اجماع اور اتفاق معتبر ہوگا؛ نیز مدینہ طیبہ دارالھجرت ہے صحابہ کرامؓ کا سب سے بڑا مرکزِ علم ہے، مدفن نبیﷺ ہے ،رسول اکرمﷺ کے احوال سے سب سے زیادہ اہلِ مدینہ واقف ہیں؛ پس جب مدینہ طیبہ اس قدر خصوصیات پر مشتمل ہے توحق اہلِ مدینہ کے اجماع سے باہر نہ ہوگا اور ان کے اجماع سے متجاوز نہ ہوگا۔
[المستصفی للغزالی:۱/۱۸۷۔ حیات امام مالک:۳۵۷]
- دلائل کا تنقیدی جائزہ
مگر واقعہ یہ ہے مذکورہ باتیں مدینہ اور اہلِ مدینہ کی فضیلت پر دلالت کرتی ہیں؛لیکن نہ تووہ مدینہ کے علاوہ دوسرے مقامات کی فضیلت کی نفی نہیں کرتی ہیں اور نہ اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ اجماع صرف اہلِ مدینہ کے ساتھ خاص ہے؛ کیونکہ مکۃ المکرمۃ بھی بہت سے فضائل پر مشتمل ہے، مثلاً بیت الحرام، رکنِ یمانی، مقامِ ابراہیم، زمزم، حجرِاسود، صفاومروہ اور دوسرے مناسکِ حج نیزرسول اللہﷺکا مولد ہے؛ مگریہ سب باتیں اس پر دلالت نہیں کرتی ہیں کہ اجماع صرف اہلِ مکہ کے ساتھ خاص ہے ،وجہ اس کی یہ ہے کہ کسی جگہ کے لوگوں کے اجماع کے معتبر ہونے میں اس جگہ کا کوئی دخل نہیں ہوتا ہے؛ بلکہ علم واجتہاد کا اعتبار ہوتا ہے اور علم واجتہاد میں مکہ، مدینہ اور شرق وغرب سب برابر ہیں؛ پس صحیح قول کے مطابق اجماع معتبر ہونے میں صرف علم واجتہاد کا اعتبار ہوگا ،مدنی یاغیرمدنی کا اعتبار نہ ہوگا۔
[البحرالمحیط:۴/۴۸۳۔ الاحکام لابن حزم:۴/۳۰۳۔ ارشادالفحول:۱۲۴۔ الاحکام آمدی:۱/۳۴۹۔ اصول احمدبن حنبل:۳۵۰]
اہلِ بیت کا اجماع
جمہور کے نزدیک اہلِ بیت کا انفرادی اجماع بھی قابلِ حجت نہیں ہے؛ لیکن روافض میں سے فرقہ "زیدیہ" اور "امامیہ"اس بات کا قائل ہے کہ حضورﷺ کے صرف اقرباء کا اجماع معتبر ہے اور وہ حضرات کتاب اللہ، سنت رسول اللہ اور عقل تینوں سے استدلال کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
"إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا"۔
ترجمہ:
اللہ تعالیٰ کویہ منظور ہے کہ اے گھروالو! تم سے آلودگی کو دور رکھے اور تم کو (ہرطرح ظاہراً وباطناً) پاک صاف رکھے۔
[سورۃ الاحزاب:۳۳]
آیت بالا سے وہ اس طرح استدلال کرتے ہیں کہ کلمہ حصر (اِنَّمَا) کے ذریعہ اہلِ بیت سے رجس کی نفی فرمائی گئی ہے اور رجس سے مراد خطاء ہے اب مطلب یہ ہوگا کہ خطاء صرف اہلِ بیت سے منتفی ہے اور جس سے خطاء منتفی ہوتی ہے وہ معصوم عن الخطاء ہوتا ہے؛ لہٰذا اہلِ بیت معصوم عن الخطاء ہوں گے اور معصوم عن الخطاء کا قول صواب اور درست ہوتا ہے اور جوقول صواب ہو وہ قابلِ حجت ہوتا ہے؛ لہٰذا ان کا قول حجت ہوگا؛ نیزآپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے۔
"إِنِّي قَدْ تَرَكْتُ فِيكُمْ مَاإِنْ أَخَذْتُمْ بِهِ لَنْ تَضِلُّوا كِتَابَ اللَّهِ وَعِتْرَتِي أَهْلَ بَيْتِي"۔
ترجمہ:
میں تم میں دو عظیم چیزیں چھوڑوں گا جب تک تم ان دونوں کو تھامے رکھو گے گمراہ نہ ہوگے، (1) کتاب اللہ (2)اور میرے اہلِ بیت۔
[سنن الترمذي: كِتَاب الْمَنَاقِبِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بَاب مَنَاقِبِ أَهْلِ بَيْتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حدیث نمبر:3786]
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ ضلالت سے معصوم ہونا کتاب اللہ اور عترتِ رسول اللہﷺ میں منحصر ہے؛ لہٰذا ان کے علاوہ کوئی اور چیز میں ہدایت نہ ہوگی اور جب ایسا ہے تو ثابت ہوگیا کہ اہلِ بیت کا اتفاق واجماع حجت ہے ۔ اور ان کی عقلی دلیل یہ ہے کہ اہلِ بیت شرف ونسب کے لحاظ سے دوسروں پرفوقیت رکھتے ہیں اور اسباب تنزیل اور رسول اللہﷺ کے اقول وافعال سے یہ حضرات زیادہ واقف ہیں؛ پس اس کرامت وشرافت اور خصوصیت کی وجہ سے اہلِ بیت اس بات کے زیادہ مستحق ہیں کہ ان کا اجماع معتبر ہو۔
- دلائل کا تنقیدی جائزہ
لیکن ان دلائل پر اگرغور کیا جائے توواقعہ یہ ہے کہ ان کا مدعی ثابت ہونا محل تامل ہے؛ جہاں تک آیت سے استدلال کی بات ہے تواس کی بنیاد اس پر ہے کہ آیت میں رجس سے مراد خطاء ہے؛ حالانکہ آیت میں رجس سے مراد خطا نہیں ہے؛ بلکہ رجس سے تہمت مراد ہے اور اس سے باری تعالیٰ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ ازواجِ مطہرات سے ہم تہمت دور کرنا چاہتے ہیں اور جہاں تک حدیث کی بات ہے تووہ خبرِواحد ہے اور خود روافض کے نزدیک اخبار احاد اس لائق نہیں ہیں کہ ان پر عمل کیا جائے؛ پس جب اخبار احاد ان کے یہاں عمل کے لائق نہیں ہیں توان سے ان کا استدلال کرنا کیسے صحیح ہوگا؟ اور ان کی دلیل عقلی کے متعلق یہ کہا جاسکتا ہے کہ اجماع میں شرف نسب کا کوئی دخل نہیں ہے، اس میں توعلم واجتہاد کی صلاحیت کا اعتبار ہوتا ہے اور یہ باتیں اہلِ سنت کے علاوہ میں بھی ہوسکتی ہیں اور رہا رسول اکرمﷺ کے ساتھ مخالطت کا معاملہ تو یہ بات اہلِ بیت کے علاوہ دوسرے لوگوں میں بھی پائی جاتی تھی جوسفراور حضر میں آپﷺ کے ساتھ رہتے تھے؛ لہٰذا اس بنیاد پر بھی صرف اہلِ بیت کا قول حجت نہ ہوگا؛ بلکہ اہلِ بیت کی طرح دوسرے لوگوں کا قول اور اجماع بھی حجت ہوگا اگرصرف اہلِ بیت کا قول حجت ہوتا جیسا کہ روافض کہتے ہیں توجنگ "صفین" کے موقع پر حضرت علیؓ اپنے مخالفین پرنکیرفرماتے اور یہ کہتے کہ صرف میرا قول حجت ہے اور میں معصوم ہوں؛ حالانکہ حضرت علیؓ نے یہ نہیں فرمایا اور نہ مخالفین اپنی مخالفت سے باز آئے، الحاصل یہ قول بھی درست نہیں ہے۔
[المسودۃ فی الفقہ:۳۷۰۔ الاحکام آمدی:۱/۳۵۷۔ ارشاد الفحول:۱۲۴۔ الاحکام للآمدی:۱/۳۴۹۔ اصول احمد بن حنبلؒ:۳۵۰]
کن چیزوں میں اجماع کا اعتبار ہے؟
اجماع کا تعلق خالص دینی اور شرعی امور سے ہے الفاظ کے لغوی معنی کے سلسلے میں اجماع کا اعتبار نہیں، عقلی اور دنیوی امور وتدابیر میں بھی اجماع کا اعتبار نہیں؛ کیونکہ ایک مکلف کے افعال سے ان چیزوں کا کوئی تعلق نہیں۔
[اصول الفقہ للخضری:۲۸۱۔ فواتح الرحموت:۲/۲۴۶]
اجماع کا حکم
اجماع کا حکم یہ ہے کہ اگر کوئی اجماع قطعی کا انکار کرے تو وہ کافر ہوجائے گا، بعض اصولیین نے یہ تفریق کی ہے کہ اگر ضروریاتِ دین پر اجماع ہوا ہو اور وہ عوام وخواص کے درمیان متعارف ہو تو ان کا منکر کافر ہوگا؛ لیکن جو اجماع اس قبیل سے نہ ہو تو اس کے منکر کو کافر قرار نہیں دیا جائے گا، جیسا کہ بعض مسائل وراثت پر اجماع ہوا ہے اور فخر الاسلام بزدویؒ کا کہنا ہے کہ صحابہؓ کا جس مسئلہ پر اجماع ہوا ہو اس کا کوئی انکار کرے جیسے:- مانعینِ زکاۃ سے قتال وغیرہ تو اس کو کافر شمار کریں گے اور صحابہ کرامؓ کے بعد کے لوگوں کا اجماع کا کوئی منکر ہو تو وہ گمراہ اور ضال ہوگا۔
[الموسوعۃ الفقہیۃ:۲/۴۹۔ اصول البزدوی:۲۴۵۔ البحرالمحیط:۴/۵۲۴]
علامہ ابن تیمیہؒ اور اجماع
علامہ ابنِ تیمیہؒ کے نزدیک حجت ہونے کے اعتبار سے کتاب وسنت کے بعد اجماع کا درجہ ہے؛ چنانچہ فرماتے ہیں:فقہاء، صوفیہ اور عامۃ المسلمین کے نزدیک بالاتفاق اجماع حجت ہے؛ البتہ اہلِ بدعت مثلاً معتزلہ اور شیعہ وغیرہ اس کے مخالف ہیں۔
[الرسائل والمسائل:۵/۲۱۔ حیات ابنِ تیمیہؒ:۶۸۷]
اسی لیے علامہ ابنِ تیمیہؒ نے کئی مسائل میں اجماع کا حوالہ دیا ہے، مثلاً وہ ایک جگہ لکھتے ہیں حضرت امیرمعاویہ بن ابی سفیانؓ کا ایمان نقل متواتر سے ثابت ہے اور اہلِ علم کا اس پر اجماع ہے۔
[فتاویٰ ابن تیمیہ:۴/۴۳۳]
ایک جگہ صحابہ کرامؓ کی ایک جماعت کی پاک بازی کے متعلق فرماتے ہیں یہ توکتاب اللہ اور سنتِ رسول اللہ اور سلف کے اجماع سے ثابت ہے۔
[فتاویٰ ابن تیمیہ:۴/۴۳۳]
ایک جگہ تحریر فرماتے ہیں :کئی اہل علم نے اس بات پر علماء کا اجماع ذکر کیا ہے کہ حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ، حضرت علیؓ سے اعلم تھے۔
[فتاویٰ:۴/۳۸۹]
مذکورہ عبارتوں کے پیش کرنے کا مقصد یہ ہے کہ علامہ ابنِ تیمیہؒ دوسرے تمام اہلِ سنت والجماعت کی طرح اپنی تالیفات میں "اجماع" سے استدلال کرتے ہیں اور حق بات یہ ہے کہ جس امر پر صحابہ کرامؓ خصوصاً خلفاءِ راشدین اجماع کرلیں ان کا انکار کرنا زندقہ اور نفاق ہی کی بنیاد پر ہوسکتا ہے۔
غیرمقلدین (عرف اہل حدیث) اور اجماع
غیرمقلدین کی ایک گمراہی یہ ہے کہ وہ اجماع کے منکر ہیں، ان کے نزدیک اسلامی عقیدہ کے اصول صرف کتاب وسنت ہیں؛ حتی کہ وہ اجماع صحابہ کے بھی منکر ہیں ان کا یہ عقیدہ بھی شیعوں کے ساتھ توافق اور مسلکی موافقت کا مظہر ہے ،شیعہ،معتزلہ اورغیرمقلدین کے علاوہ کوئی فرقہ ہمارے علم میں ایسا نہیں کہ جس نے اجماع کا انکار کیا ہو وہ اجماع کہ جس کے اصول دین ہونے پر حضراتِ صحابہؓ خلفاء راشدین اور پوری امت کا اتفاق ہے، علامہ ابنِ تیمیہؒ روافض پر رد کرتے ہوئے لکھتے ہیں:"اجماع روافض کے نزدیک حجت نہیں ہے"۔
[منہاج السنۃ:۳/۲۶۶]
بہرِحال انکار اجماع روافض کا مذہب ہے اہلِ سنت کا مذہب نہیں؛ غیرمقلدین بھی اس مسئلہ میں شیعوں کے ساتھ ہیں، ان کے عقیدوں کی تفصیل نواب نورالحسن صاحب نے "عرف الجادی" میں کی ہے؛ چنانچہ وہ لکھتے ہیں:"دین اسلام کی اصل صرف دو ہیں:کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ اور اجماع کوئی چیز نہیں ہے اور فرماتے ہیں ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اجماع کی اس ہیئت کو دلوں سے نکال دیں جو دلوں میں بیٹھی ہوئی ہے جواجماع کا دعویٰ کرتا ہے تواس کا یہ دعویٰ بہت بڑا ہے؛ کیونکہ وہ اس کوثابت نہیں کرسکتا۔
[عرف الجادی:۳]
ایک اور جگہ رقمطراز ہیں: "حق بات یہ ہے کہ اجماع ممنوع ہے"۔
[عرف الجادی:۳]
یہ توتھاغیرمقلدین کا عقیدہ ؛لیکن اس بارے میں سلفیوں کا عقیدہ غیرمقلدین کے بالکل برخلاف ہے، سلفی حضرات اجماع کوایک دلیلِ شرعی سمجھتے ہیں۔
[الاحکام فی اصول الاحکام للآمدی،الاصل الثالث،فی الاجماع،۱/۷۳]
علامہ ابنِ تیمیہ رحمہ اللہ کی کتابیں پڑھنے والوں پر یہ بات مخفی نہیں ہے۔
اجماع کی چند مثالیں:
مختلف مواقع پر مختلف احکام وطریقوں میں (1)پہلے عمل کو منسوخ کرنے والی ناسخ حدیث (2)یا جائز کے مقابلے میں افضل حکم وطریقہ کے اختلاف میں کسی ایک روایت کو ترجیح دیکر اسی پر جمع ومتفق ہونا، جیسے:
(۱)رسول اللہ ﷺ نے صرف دو رات تراویح باجماعت پڑھیں، اس کے بعد یہ فرماکر تراویح پڑھنی چھوڑ دی کہ مجھے اندیشہ ہے کہ کہیں یہ تمہارے اوپر فرض نہ کردی جائے۔
(صحيح البخاري:924+1129، صحيح مسلم:761)
پھر صحابہ کرامؓ کے درمیان عملاً وقولاً اختلاف رہا؛ پھر حضرت عمرؓ کے زمانہ میں پورے رمضان مواظبت (ہمیشگی) کے ساتھ بیس رکعات باجماعت تراویح پر صحابہ کرامؓ کا اجماع منعقد ہوگیا۔
(الطبقات الكبرى-ابن سعد: نمبر160، الحاوي الكبير-الماوردي:جلد2/ صفحہ291، الاستذكار-ابن عبد البر:2/ 68، الحوادث والبدع-الطرطوشي: ص56، المغني لابن قدامة - ت التركي-:2/ 604، الشرح الكبير على متن المقنع ط المنار:1/ 748، مختصر خلافيات البيهقي:2/ 277، سير أعلام النبلاء-الذهبي:1/ 400-401 بحوالہ سنن أبو داود:1429)جامع المسانيد والسنن-ابن كثير: حدیث نمبر 31
[نصب الراية-الزيلعي:۲/۱۵۳]
(۲)ایک مجلس کی تین طلاق سے ایک طلاق واقع ہو یا تین ہی واقع ہوں، یہ مسئلہ بھی صحابہ کرامؓ میں مختلف فیہ رہا؛ پھر حضرت عمرؓ کے دور میں اس پر صحابہؓ کا اجماع ہوگیا اور اس کے بعد سے جمہور اس پر متفق چلے آرہے ہیں کہ ایک مجلس کی تین طلاق تین ہی واقع ہوتی ہیں۔
[شرح معاني الآثار-الطحاوي:4475، بحوالہ صحيح مسلم:1472]
(۳)رسول اللہﷺ سے نمازِ جنازہ کی تکبیرات پانچ بھی منقول ہیں اور سات، نو اور چار بھی؛ اسی لیے صحابہ کرامؓ کے مابین اس میں اختلاف رہا ہے، اس کے بعد حضرت عمرؓ نے صحابہ کو جمع کرکے فرمایا کہ تم صحابہ کی جماعت ہوکر اختلاف کر رہے ہو تو تمہارے بعد آنے والوں میں کتنا شدید اختلاف ہوگا؛ پس غور وخوص کرکے چار تکبیرات پر صحابہ کرامؓ کا اجماع منعقد ہوگیا۔
[المصنف - ابن أبي شيبة:11787(11445)، شرح معاني الآثار-الطحاوي: حدیث نمبر 2860، اختلاف العلماء للطحاوي - اختصار الجصاص:1/ 389(مسئلہ نمبر 365)، المحلى بالآثار-ابن حزم:3/ 347، التمهيد - ابن عبد البر:4/ 295+303، بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع-الكاساني:1/ 312، المغني لابن قدامة - ت التركي:3 / 499]
(۴)اگر کوئی شخص متعدد بار چوری کرے اور ایک مرتبہ میں اس کا دایاں ہاتھ اور دوسری مرتبہ میں اس کا بایاں پیرکٹ چکا ہو اور پھرتیسری اور چوتھی بار چوری کرے تواس کے ہاتھ وپیر کاٹ کر سزادیجائے یاقطع کے علاوہ دیگر کوئی سزا دی جائے اس سلسلہ میں اختلاف رہا ہے، اس کے بعد حضرت عمرؓ اور حضرت علیؓ نے ایک صورت متعین فرمادی کہ تیسری چوتھی مرتبہ میں قطع نہ ہوگا اور صحابہ کرامؓ نے اس پر سکوت اختیار کیا؛ پس یہی توارث ہوگیا، اس سے بھی معلوم ہوا کہ اس مسئلہ میں بھی صحابہ کرامؓ کا اجماع ہے۔
[الخراج لأبي يوسف: صفحہ190، الأم للشافعي:6/ 142، الحاوي الكبير-الماوردي:13/ 325، بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع-الكاساني:7/ 78، المجموع شرح المهذب-النووي:20/ 10 3، نصب الراية-الزيلعي:3/ 375، الدراية في تخريج أحاديث الهداية-ابن حجر العسقلاني:2/ 112]
[بحوالہ المصنف - ابن أبي شيبة:30149(28273)]
(موطأ مالك رواية محمد بن الحسن الشيباني:689، المصنف - عبد الرزاق:19970(18770)، سنن الدارقطني:3494(۳/۸۰)، السنن الكبرى - البيهقي:16536)
(۵)جماع بدون الانزال کے موجب غسل ہونے میں ابتداً صحابہ کرامؓ میں اختلاف تھا؛ چنانچہ انصار وجوبِ غسل کے قائل نہیں تھے اور مہاجرین وجوبِ غسل کے قائل تھے؛ لیکن جب حضرت عمرؓ نے انصار ومہاجرین دونوں کو جمع کرکے پوری صورت حال ان کے سامنے رکھی اور ان کو وجوبِ غسل پر آمادہ کیا تو حضرت عمرؓ کے اس فیصلہ پر سب متفق ہوگئے اور کسی نے کوئی نکیر نہیں کی۔
[المصنف - ابن أبي شيبة - ت الشثري:952(947)، مسند أحمد:21096، معجم الصحابة للبغوي:2/ 328، الأوسط في السنن والإجماع والاختلاف-ابن المنذر:575، أحكام القرآن للطحاوي:1527، شرح معاني الآثار-الطحاوي:335+337+338+348، شرح مشكل الآثار-الطحاوي:3965، المعجم الكبير للطبراني:4536]
[التمهيد - ابن عبد البر - ت بشار:15/ 35، ]
(۶)امام طحاویؒ اور امام بیہقیؒ نے علقمہ بن ابی وقاصؓ سے روایت کیا ہے کہ حضرت عثمانؓ نے اپنی ایک زمین جو بصرہ میں تھی حضرت طلحہ بن عبیداللہؓ کے ہاتھ فروخت کی، کسی نے حضرت طلحہؓ سے کہا کہ آپ کو اس معاملہ میں خسارہ ہوگیا ہے، یہ سن کر حضرت طلحہؓ نے فرمایا: مجھے اختیار ہے؛ کیونکہ میں نے بغیر دیکھے زمین خریدی ہے، حضرت عثمانؓ سے کہا گیا کہ آپ کو خسارہ ہوگیا؛ انھوں نے فرمایا کہ مجھے اختیار ہے؛ کیونکہ میں اپنی زمین بغیر دیکھے فروخت کی ہے، دونوں حضرات نے جبیر بن مطعمؓ کو حکم(جج) مقرر کیا، حضرت جبیر بن مطعمؓ نے فیصلہ کیا کہ طلحہ کو خیار رؤیت حاصل ہے، عثمان کو حاصل نہیں ہے، یہ واقعہ صحابہ کرامؓ کی موجودگی میں پیش آیا؛ مگر کسی نے نکیر نہیں کی ، گویا اس پر صحابہ کرامؓ کا اجماع منعقد ہوگیا کہ خیار رؤیت مشتری کو حاصل ہوگا بائع کو حاصل نہ ہوگا۔
[شرح مشكل الآثار-الطحاوي:7325، السنن الكبرى - البيهقي:10424، التجريد للقدوري:10432، التمهيد - ابن عبد البر - ت بشار:8/ 125، المهذب في فقه الإمام الشافعي - الشيرازي:2 /15، بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع-الكاساني: 5/ 292،الهداية في شرح بداية المبتدي-المرغيناني:3 /34، المجموع شرح المهذب-النووي:9 /288]
کیا اجماع کی اطلاع ممکن ہے؟
ابو مسلم اصفہانیؒ کا موقف یہ ہے کہ دورِ صحابہ کے بعد کے اجماع کی اطلاع متعذرہے؛ کیونکہ مجتہدین کسی ایک شہر میں نہیں رہے اور نہ ہیں؛ بلکہ شرق سے غرب تک پھیلے ہوئے ہیں، ان سب کی آراء کوحاصل کرنا عقلاً ممکن ہونے کے باوجود واقعاتی طور پر مشکل ہے، امام احمد، علامہ ابن تیمیہ اور آپ کے شاگرد رشید حافظ ابن القیم اور ظاہریہ کا بھی یہی خیال ہے امام احمدؒ نے تویہاں تک فرمایا ہے کہ:
"مَنْ ادَّعَى الْإِجْمَاعَ فَهُوَ كَاذِبٌ، لَعَلَّ النَّاسَ اخْتَلَفُوا، وَلَمْ يَنْتَهِ إلَيْهِ، فَيَقُولُ: لَا نَعْلَمُ النَّاسَ اخْتَلَفُوا"۔
ترجمہ:
جو کوئی اجماع کا دعویٰ کرے وہ جھوٹا ہے ، ممکن ہے کہ لوگوں کا اس میں اختلاف ہو اور اس کی اطلاع اس کو نہ ملی ہو، ایسی حالت میں یہ کہنا چاہیے ہمیں لوگوں کے اختلاف کا علم نہیں ہے۔
[المحلى بالآثار-ابن حزم:11/ 36، المسودة في أصول الفقه-ابن تيمية: ص315، المستدرك على مجموع الفتاوى-ابن تيمية:2/ 114، الصلاة - ابن القيم:1 /171، إعلام الموقعين-ابن القيم:1/ 24، 2/ 175، زاد المعاد-ابن القيم: 5/ 317، ارشاد الفحول:۱۱۱]
لیکن اکثر علماء کرام کا مسلک یہ ہے کہ اجماع کی اطلاع ممکن ہے، ہر بلد وخطہ کا والی اپنے یہاں کے مجتہدین کو جمع کرکے ان کی رائے لے یا مراسلات کے ذریعہ ان سے رابطہ قائم کرکے ان کی آراء حاصل کرلے، اس طرح اجماع کی اطلاع مل سکتی ہے، ماضی میں جو اجماع ہوئے کتابوں کے ذریعہ ان کی اطلاع تو ہے ہی، اس زمانہ میں ذرائع ابلاغ کی بہتات ہے اور اس کی سہولتیں ہیں ، ان سے فائدہ اٹھایا جائے تو حال میں ہونے والے اجماع کی بھی اطلاع بآسانی مل سکتی ہے۔
[فقہ اسلامی — خدمات وتقاضے: ص190۔ البحر المحيط في أصول الفقه-بدر الدين الزركشي:4/ 428، الإحكام في أصول الأحكام - الآمدي:1/ 284، المستصفى-الغزالي:1/ 157(۱/۱۷۵)۔ حیات امام ابن القیم:۲۹۲]
امام خطیب بغدادیؒ(م 463ھ) لکھتے ہیں:
باب: اس قول کی وضاحت کہ ہر دور کے اہلِ علم کا اجماع حجت ہے، اور یہ صرف صحابہ کرام تک محدود نہیں ہے۔
جب کسی دور کے اہلِ علم (مجتہدین) کسی چیز پر اجماع کر لیں تو ان کا اجماع حجت ہے، اور ان کا خطا (غلطی) پر جمع ہونا ممکن نہیں ہے۔
داؤد بن علی ظاہری(م 270ھ) نے کہا:
"اجماع صرف صحابہ کرام کا ہے، ان کے علاوہ کسی اور کا نہیں۔"
اور انہوں نے اس پر اللہ تعالیٰ کے دو ارشادات سے استدلال کیا:
{وَكَذَلِكَ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطًا} [سورہ بقرہ: ۱۴۳]
{كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ} [سورہ آل عمران: ۱۱۰]
انہوں نے کہا: "یہ دونوں آیات براہِ راست (مواجہۃً) صحابہ کرام سے خطاب ہیں، ان کے علاوہ کسی اور کو ان میں دخل نہیں ہے۔"
اور انہوں نے کہا: "اس لیے بھی کہ عقل بڑی تعداد پر خطا کے وقوع کو جائز رکھتی ہے، اور عصمت (خطا سے حفاظت) تو صرف شرع کے ذریعے ثابت ہوئی ہے، اور شرع نے صحابہ کرام کے اجماع کی عصمت ثابت کی ہے، نہ کہ دوسروں کی۔ پس جو شخص دوسروں کی عصمت کا دعویٰ کرے، اس پر دلیل قائم کرنا لازم ہے۔"
لیکن یہ قول (داؤد ظاہری کا) صحیح نہیں ہے، اس کی وجہ یہ ہے:
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: {وَيَتَّبِعُ غَيْرَ سَبِيلِ الْمُؤْمِنِينَ} [سورہ نساء: ۱۱۵] — اس میں اللہ نے صحابہ اور غیر صحابہ کے درمیان کوئی فرق نہیں کیا، بلکہ یہ عام ہے۔
نیز نبی ﷺ کے احادیث، جیسے:
"لَا تَجْتَمِعُ أُمَّتِي عَلَى ضَلَالَةٍ" (میری امت گمراہی پر جمع نہیں ہو گی)۔
"إِنَّ يَدَ اللَّهِ عَلَى الْجَمَاعَةِ" (اللہ کا ہاتھ جماعت پر ہے)۔
"مَنْ فَارَقَ الْجَمَاعَةَ مَاتَ مَيْتَةً جَاهِلِيَّةً" (جو جماعت سے الگ ہوا، اس کی موت جاہلیت کی موت ہے)۔
اور ان جیسی دوسری احادیث جو ہم پہلے بیان کر چکے ہیں — یہ سب احادیث صحابہ اور دوسروں (غیر صحابہ) سب کے لیے عام ہیں۔
دونوں آیات کے بارے میں جواب یہ ہے:
یہ خطاب پوری امت کے لیے ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے دیگر ارشادات ہیں:
{وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ} [سورہ بقرہ: ۴۳]
{وَقَاتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ} [سورہ بقرہ: ۱۹۰]
{فَانْكِحُوا مَا طَابَ لَكُمْ مِنَ النِّسَاءِ} [سورہ نساء: ۳]
— یہ تمام احکام پوری امت کے لیے ہیں، اسی طرح یہاں (وسط اور خیریت کی صفت) بھی پوری امت کے لیے ہے۔
اس کی دلیل یہ ہے کہ چھوٹے صحابہ (جو ان آیات کے نزول کے وقت بچے تھے، اور بعد میں بالغ ہو کر اہلِ اجتہاد بن گئے) بھی ان آیات میں داخل ہیں۔ اس سے ثابت ہوا کہ یہ خطاب عام ہے، جیسا کہ ہم نے کہا۔
اور ان (داؤد ظاہری) کے اس قول کا جواب کہ "شرع نے صحابہ کو عصمت(محفوظ ہونے) کے ساتھ خاص کیا ہے" — تو اس کا جواب یہ ہے کہ ہر وہ شرعی دلیل جس سے ہم نے اجماع کی حجیت ثابت کی ہے، وہ صحابہ اور غیر صحابہ (یعنی تمام ادوار کے مجتہدین) سب کے لیے عام ہے، اس لیے ان کا یہ قول صحیح نہیں ہے۔
========================================
وہ مسائل جو قرآن وحدیث میں صراحتاً ثابت نہیں» امام ابن المنذرؒ (م319ھ) اپنی کتاب الاجماع میں 765 مسائل جمع کئے ہیں، ان میں:
مسئلہ#1
أجمع أهل العلم على أن الصلاة لا تجزئ بطهارة إذا وجد المرء إليها السبيل.
ترجمہ:
اہلِ علم کا اجماع ہے کہ نماز بغیر وضو درست نہیں، اگر پالے کوئی (شخص) اس(وضو) تک پہنچنے کا راستہ(قدرت)۔
[الإجماع لابن المنذر: صفحہ 33، کتاب الوضو (الناشر:دار المسلم)]
تشریح:
یعنی اگر وضو پر قدرت نہ ہو، جیسے:-
(1)پانی تلاش کرنے کے باوجود نہ پاسکے
(2)اگر پانی پالے لیکن اسے خرید نہ سکے
(3) یا زخمی ہو اور پانی کے استعمال سے نقصان پہنچتا ہو
(4) یا انتہائی سردی میں ٹھنڈے پانی کے استعمال سے بیمار پڑنے کا اندیشہ ہو۔
(5)یا کمزور وبوڑھا شخص ہو اور ٹھنڈے پانی کے استعمال سے مرنے کا اندیشہ ہو۔
(6)اور اگر گرم پانی پالینے کی قدرت بھی ہو لیکن نماز کا وقت ختم ہورہا ہو اور نماز کے فوت ہوجانے کا اندیشہ ہو وغیرہ وغیرہ
۔۔۔تو ایسے حالات میں بغیر وضو (صرف مٹی سے تیمم کرکے) نماز پڑھنا درست ہے۔
نوٹ:
(1)دینی اعمال کے متعلق یہ الفاظ نہ اللہ پاک نے فرمائے ہیں، اور نہ اللہ کے نبی ﷺ نے فرمائے ہیں۔
(2)یہ فقہی اصول وکُلّیہ ہے جو پورے قرآن اور تمام صحیح احادیث سے نکال کر، اپنے الفاظ میں، جامع اور عام فہم کرکے، فُقہاء(یعنی دین کی فِقہ-گہری سمجھ رکھنے والے والے ماہرین علماء) نے غیرواضح مسائل کا حل پیش کیا ہے، جس پر فقہاء کا اتفاق رہا۔
(3)کیونکہ دنیا کے دیگر کاموں اور شعبوں کی حفاظت کیلئے، تمام مسلمانوں کو دین میں فقہ یعنی گہری سمجھ حاصل کرنے کیلئے درکار مکمل توجہ، وقت، اور عمر دینا فرض نہیں بنایا۔
القرآن:
اور مسلمانوں کے لیے یہ بھی مناسب نہیں ہے کہ وہ (ہمیشہ) سب کے سب (جہاد کے لیے) نکل کھڑے ہوں۔ لہذا ایسا کیوں نہ ہو کہ ان کی ہر بڑی جماعت میں سے ایک گروہ (جہاد کے لیے) نکلا کرے، تاکہ (جو لوگ جہاد میں نہ گئے ہوں وہ دین میں فِقہ حاصل کرنے کے لیے محنت کریں، اور جب ان کی قوم کے لوگ (جو جہاد میں گئے ہیں) ان کے پاس واپس آئیں تو یہ ان کو مُتنبہ(خبردار) کریں، تاکہ وہ (غلطیوں/نافرمانیوں سے) بچ کر رہیں۔
[سورۃ التوبہ:122]
مسئلہ#2
وأجمعوا على أن خروج الغائط من الدبر، وخروج البول من الذكر، وكذلك المرأة، وخروج المني، وخروج الريح من الدبر، وزوال العقل بأي وجه زال العقل: أحداث ينقض كل واحد منها الطهارة، ويوجب الوضوء۔
ترجمہ:
اور اجماع ہے اس پر کہ پیشاب، پاخانہ، منی، ہوا "خارج" ہونے نیز کسی بھی طرح عقل کے زائل ہونے(جیسے:-بیہوش،جنون،نیند وغیرہ) سے طہارت زائل ہوجاتی ہے، اور وضو واجب ہوتا ہے۔
[الإجماع لابن المنذر» كتاب الوضوء، جلد 1 صفحہ 33، ت فؤاد ط المسلم]
امت مسلمہ کے 765 اجماعی مسائل
فقہ اسلامی کی نادر کتابیں جو عصر حاضر کی تحقیقی کاوشوں کے نتیجہ میں سامنے آئیں انھی میں امام ابن المنذر نیشاپوری کی کتاب ’الاجماع‘ بھی ہے۔ اجماع کا معنی یہ ہے کہ مسلمان علما شریعت کے کسی حکم پر متفق ہو جائیں اور جب امت کا اجماع کسی شرعی حکم پر ثابت ہو جائے تو کسی کے لیے جائز نہیں کہ ان کے اجماع سے خروج کرے۔ کیونکہ امت مسلمہ کسی ضلالت کے اوپر جمع نہیں ہو سکتی۔ فقہ اسلامی کی لا متناہی بساط سے صرف اجماعی مسائل کا انتخاب بڑی دیدہ ریزی اور ہمت کا کام ہے۔ امام ابن المنذر نے امت کے اس تقاضہ کو پورا کیا اور اس موضوع پر سب سے پہلی کتاب قلمبند کی۔ زیر نظر کتاب ’امت مسلمہ کے اجماعی مسائل‘ ابن المنذر کی اسی کتاب کا اردو ترجمہ ہے جسے ہم اردو قارئین کی خدمت میں پیش کر رہے ہیں۔ ترجمہ میں یکسانیت اور مسائل کے مفہوم کا خاص لحاظ رکھا گیا۔ تحقیقی حوالہ جات سے گریز کرتے ہوئے صرف مفید حواشی کا انتخاب کیا گیا۔ کتاب کو اردو میں منتقل کرنے کی ذمہ داری ابو القاسم عبدالعظیم نے بخوبی نبھائی ہے۔
مزيد تفصيلات کیلئے اس کتاب "اجماع اور اس کی شرعی حیثیت" کو مفت ڈاون لوڈ کرنے کیلئے یہ لنک پیشِ خدمت ہے۔
اجماع وقیاس کی حجیت-مفتی جمیل احمد صاحب سکروڈوی
فقہ میں اجماع کا مقام-مفتی محمد شفیع عثمانی
حجیت اجماع
ایک ایسی کتاب جو بیک وقت قاری کو علمی باریکیوں، فقہی موشگافیوں اور فقری بالیدگیوں سے لطف اندوز کرنے کی جامعیت رکھتی ہے …. تحقیق، تنقید اور دعوت فکر کا حسین امتزاج اس کا امتیاز ہے۔
تالیف: مولانا مفتی حماد الله وحید استاذ الحدیث جامعہ انوار القرآن کراچی
صفحات: ۲۲۴
اشاعت: 2009
ناشر: مکتبہ عمر فاروق کراچی
ma sha allah
ReplyDelete