Friday, 7 July 2023

احادیث غدیر خم اور اس کی حقیقت

یہ لفظ ‌’’ غَدير ‌خُم ’’ ہے۔ خُم ایک وادی کا نام ہے جو مکہ اور مدینہ کے درمیان ایک مشہور مقام جحفہ سے دو تین میل کے فاصلے پر واقع ہے۔ وہاں تالاب ہے جس کے لیے عربی میں لفظ ’غدیر’ بولا گیا ہے۔

[الاقتضاب في غريب الموطأ وإعرابه على الأبواب 1/ 363، شرح النووي على مسلم 15/ 179]

حجۃ الوداع سے واپسی پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہاں پر پڑاؤ فرمایا تھا اور صحابہ کرام کو خطاب فرمایا تھا، جس کی تفصیل کتبِ احادیث وغیرہ کے اندر موجود ہے، اسی وجہ سے یہ مقام مشہور ہو گیا۔ غدیر خم کا ماء زمزم کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے، کیونکہ زمزم کا کنواں تو مکہ بلکہ مسجد حرام کے اندر ہے۔

احادیثِ غدیرِ خم:

(1)حضرت جابر بن عبدللہ ؓ کی روایت:

حَدَّثَنَا مُطَّلِبُ بْنُ زِیَادٍ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِیلٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللہِ، قَالَ: کُنَّا بِالْجُحْفَۃِ بِغَدِیرِ خُمٍّ إذْ خَرَجَ عَلَیْنَا رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَأَخَذَ بِیَدِ عَلِیٍّ ، فَقَالَ : مَنْ کُنْتُ مَوْلاَہُ فَعَلِیٌّ مَوْلاَہُ۔
ترجمہ:
حضرت جابر بن عبداللہ ؓ فرماتے ہیں کہ ہم غدیر خُمّ (یعنی خُمّ نام کے تالاب) کے موقع پر حجفہ مقام میں تھے کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے پھر حضرت علی ؓ کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا: جس کا میں مولا(دوست/محبوب) ہوں، پس علی بھی اس کا مولا(دوست/محبوب) ہے۔
[مصنف ابن ابی شیبہ» کتاب: فضائل کا بیان» باب:-حضرت علی بن ابی طالب (رض) کے فضائل کا بیان، حدیث نمبر: 32734]

حکم الحدیث:
حديث متواتر نصّ على تواتره عدد من الأئمة الكرام منهم الحافظ ابن حجر رحمه الله فقد قال في الفتح الباری (٧/ ٩٣)





تشریح:



(1)لفظ مولا کے معانی:
عربی زبان میں بہت سے الفاظ ایسے جو بیس بیس یا اس سے بھی زیادہ معنوں میں استعمال ہوتے ہیں۔ لفظ مولیٰ بھی انہیں الفاظ میں سے ہے۔ عربی لغت کی مشہور و مستند ترین کتاب "القاموس المحیط" میں اس لفظ مولیٰ کے مندرجہ ذیل ۲۱ معنی لکھے ہیں۔
مولیٰ کی ایک بھی معنیٰ "خلیفہ بلافصل" نہیں:
المولى:
(1)المالك (2)والعبد (3)والعتق (4)والمعتق (5)والصاحب (6)والقريب كابن العم ونحوه (7)والجار (8)والحليف (9)والابن (10)والعم (11)والنزيل (12)والشريك (13)وابن الاخت (14)والولى (15)والرب (16)والناصر (17)والمنعم (18)والمنعم عليه (19)والمحب (20)والتابع (21)والصهر.
ترجمہ:
(1)مالک (2)غلام (3)چھوڑ دیا گیا (4) آزاد کرنے والا (5)صاحب (6)قریبی رشتہ دار جیسے چچازاد بھائی (7)پڑوسی (8)حلیف (9)بیٹا (10)چچا (11)مہمان (12)ساتھی (13)بھتیجا (14)سرپرست (15) تربیت کرنے والا (16)مددگار (17)انعام۔احسان کرنے والا (18)فائدہ اٹھانے والا (19)محب-عاشق (20)تابعدار-پیروکار (21)سسر۔

مولا، بمعنیٰ غلام وخادم:
شہری علماء میں 11 مولائے رسول اللہ ﷺ کے نام:
(۱)أبو كبشة (۲)أبو رافع (۳)أبوعسيب (۴)ذكوان (۵)شقران (۶)رباح (۷)زيد (۸)طهمان (۹) (۱۰)كيسان (۱۱)نافع






معلوم ہونا چاہئے کہ قرآن پاک کی کسی آیت یا حضور ﷺ کے کسی ارشاد میں یا کسی بھی فصیح و بلیغ کلام میں جب کوئی کثیر المعنیٰ لفظ استعمال ہو تو خود اس میں یا اس کے سیاق و سباق میں ایسا قرینہ موجود ہوتا ہے جو اس لفظ کے معنیٰ اور اس کی مراد متعین کر دیتا ہے .... اس زیرِ تشریح حدیث میں خود قرینہ موجود ہے، جس سے اس حدیث کے لفظ مولیٰ کے معنیٰ متعین ہو جاتے ہیں، حدیث کا آخری دعائیہ جملہ ہے:

حضرت (1)براء بن عاذب، (2)ابوالطفیل، (3)زید بن ارقم (4) عبد الرحمٰن بن ابی لیلیٰ، (5)ابوھریرہ ۔۔۔۔۔ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا:
"مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَإِنَّ هَذَا مَوْلَاهُ، اللَّهُمَّ وَالِ مَنْ وَالَاهُ، وَعَادِ مَنْ عَادَاهُ"

﴿وأحب مَنْ أحبه، وَأَبْغِضْ مَنْ يُبْغِضُهُ﴾

﴿وَانْصُرْ مَنْ نَصَرَهُ، وَاخْذُلْ مَنْ خَذَلَهُ﴾

ترجمہ:

جس کا میں مولا ہوں، تو بےشک یہ(علی) بھی اس کا مولا ہے۔اے اللہ! تو اس سے دوستی فرما جو اس(علی) سے دوستی رکھے ، اور تو اس کے ساتھ عداوت(دشمنی) رکھ جو اس(علی) سے عداوت(دشمنی) رکھے۔
[صحیح ابن حبان:6931، سنن ابن ماجہ:116، مسند احمد:950-961-18479-19279-19302-19324-19328-23143، مصنف ابن ابی شیبہ:32091-32092-32118، مسند البزار:492-632-4298-4299-4327-6103-9659، مسند ابویعلی:567-6423، الشريعة للآجري:1522-1527-1706، المعجم الأوسط للطبراني:1111-1966-2254-6232، المعجم الصغير للطبراني:175-، المعجم الكبير للطبراني:4053-4969-4971، المستدرك الحاكم:4576، ]

﴿اور تو اس(شخص) کی مدد فرما جو مدد کرے اسکی، اور تو اس(شخص) کو بےیار ومددگار چھوڑدے جو اسے بےیار ومددگار چھوڑے۔
[مسند احمد:964]

﴿اور تو اس سے محبت فرما جو اس(علی) سے محبت رکھے، اور تو اس کے ساتھ بغض رکھ جو اس(علی) سے بغض رکھے﴾۔

[مسند البزار:786، الشريعة للآجري:1542، مجمع الزوائد:14614]
[مسند احمد:951]



نبی کے مولیٰ(ساتھی) کون کون؟
القرآن:
....وَاِنۡ تَظٰهَرَا عَلَيۡهِ فَاِنَّ اللّٰهَ هُوَ مَوۡلٰٮهُ وَجِبۡرِيۡلُ وَصَالِحُ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ‌ۚ وَالۡمَلٰٓئِكَةُ بَعۡدَ ذٰلِكَ ظَهِيۡرٌ ۞ 
ترجمہ:
.....اور اگر نبی کے مقابلے میں تم نے ایک دوسری کی مدد کی، تو (یاد رکھو کہ) ان کا ساتھی اللہ ہے اور جبریل ہیں اور نیک مسلمان ہیں، اور اس کے علاوہ فرشتے ان کے مددگار ہیں۔
[سورۃ التحريم:4]

ولایت(دوستی)کے قابل کون؟
القرآن:
اِنَّمَا وَلِيُّكُمُ اللّٰهُ وَرَسُوۡلُهٗ وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوا الَّذِيۡنَ يُقِيۡمُوۡنَ الصَّلٰوةَ وَيُؤۡتُوۡنَ الزَّكٰوةَ وَهُمۡ رَاكِعُوۡنَ‏ ۞ 
ترجمہ:
(مسلمانو) تمہارے یارومددگار تو اللہ، اس کے رسول اور وہ ایمان والے ہیں جو اس طرح نماز قائم کرتے اور زکوٰۃ ادا کرتے ہیں کہ وہ (دل سے) اللہ کے آگے جھکے ہوئے ہوتے ہیں۔
[سورۃ المائدة:55]






شیعہ موقف اور رد:
شیعہ دعویٰ:
"مولیٰ" سے مراد امامت و حکومت ہے، یعنی علی رضی اللہ عنہ کو نبی کا جانشین مقرر کیا گیا۔

اہل سنت کا رد:
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات میں آپ ہی حاکمِ کل تھے۔
لفظ "مولیٰ" میں حکومت کا معنی ثابت نہیں۔
اسے محبت و نصرت پر محمول کرنا ہی درست ہے۔

اہل سنت کے نزدیک یہ ’’حضرت علی کی فضیلت‘ ہے، اور شیعہ کے نزدیک یہ ’’خلافت-بلافصل‘‘ کی دلیل ہے۔

یعنی ماننے والے کیلئے لازم ہے کہ وہ (1)حضرت ابوبکر کے "پہلا" خلیفہ ہونے کا انکار کرے، (2)حضرت عمر کے "دوسرا" خلیفہ ہونے کا انکار کرے، (3)حضرت عثمان کے "تیسرا" خلیفہ ہونے کا انکار کرے، (4)اور حضرت علی کے "چوتھا" خلیفہ ہونے کا بھی انکار کرے۔




شیعہ کتب سے فرمانِ سیدنا علی»

جو مجھے خلفاء میں چوتھا نہ مانے، تو اس پر اللہ کی لعنت ہو۔
حوالہ:

ابن شاذان: عن علي بن الحسين، عن أبيه (عليهما السلام): قال أمير المؤمنين (عليه السلام): «من لم يقل إني رابع الخلفاء الأربعة، فعليه لعنة الله». 

[مناقب علامہ ابن شہر آشوب سوم ، 63]
[كتاب البرهان في تفسير القرآن - العلامة هاشم البحراني - جلد 1 - الصفحة 169]

[کتاب مناقب آل أبي طالب - ابن شهر آشوب - جلد 3 - الصفحة 78]



غدیر خم: شیعہ-سنی اختلافات اور تاریخی حقیقت

غدیر خم کا واقعہ اسلامی تاریخ کا ایک اہم موڑ ہے جو 18 ذی الحجہ 10 ہجری کو حجۃ الوداع کے موقع پر پیش آیا۔ اس کے بارے میں شیعہ اور سنی مکاتب فکر کے درمیان بنیادی اختلافات درج ذیل ہیں، جن کی تفصیل تاریخی شواہد کی روشنی میں پیش کی جاتی ہے:


1. واقعہ غدیر خم کی تاریخی بنیاد

  • واقعہ کی تفصیل: رسول اللہ ﷺ نے مکہ سے واپسی پر غدیر خم (مکہ اور مدینہ کے درمیان ایک مقام) پر تقریباً ایک لاکھ بیس ہزار صحابہ کو خطاب کیا۔ آپ نے حضرت علیؑ کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا:

    "مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ، اللَّهُمَّ وَالِ مَنْ وَالَاهُ وَعَادِ مَنْ عَادَاهُ"
    ("جس کا میں مولا ہوں، اس کے علیؑ مولا ہیں۔ اے اللہ! جو ان سے محبت رکھے، تو اس سے محبت رکھ، اور جو ان سے دشمنی رکھے، تو اس سے دشمنی رکھ") .

  • نزول آیات: یہ اعلان سورۃ المائدہ کی آیت 67 (آیۃ التبلیغ) اور آیت 3 (آیۃ الاکمال) کے نزول کے بعد کیا گیا، جس میں "دین کی تکمیل" کا ذکر ہے .

  • بعد از خطبہ: صحابہ نے حضرت علیؑ کو مبارکباد دی، جن میں حضرت عمرؓ بھی شامل تھے، جن کے الفاظ تھے:
    "ہنیئاً لک یا علی! أصبحت مولای ومولٰی کل مؤمن" ("مبارک ہو اے علی! آپ میرے اور ہر مومن کے مولا بن گئے") .


2. شیعہ اور سنی موقف میں بنیادی اختلافات

درج ذیل جدول دونوں مکاتب فکر کے کلیدی اختلافات کو واضح کرتا ہے:

پہلوشیعہ موقفسنی موقف
جانشینی کا اعلانرسول اللہ ﷺ نے حضرت علیؑ کو بلافصل جانشین مقرر کیا، جو الہی حکم تھا .یہ خطبہ حضرت علیؑ کی فضیلت اور محبت کی تاکید تھی، نہ کہ خلافت کا اعلان .
لفظ "مولا" کی تشریح"مولا" سے مراد حاکم، رہنما اور جانشین ہے۔ اس کی تائید 110 صحابہ اور 84 تابعین کی روایات سے ہوتی ہے ."مولا" کا مطلب دوست، محبوب یا مددگار ہے۔ خلافت کے لیے صریح الفاظ (مثلاً "خلیفہ") استعمال نہیں ہوئے .
سقیفہ بنی ساعدہ کا اثرسقیفہ (رسول اللہ ﷺ کی وفات کے 70 دن بعد) میں خلافت کا فیصلہ غدیر کے اعلان کی خلاف ورزی تھا .خلافت کا انتخاب شوریٰ (مشاورت) کے اصول پر ہوا، جو اسلامی حکومت کا بنیادی طریقہ کار ہے .
امامت کی شرائطامام کے لیے نصِ رسول، عصمت، اور علم میں برتری ضروری ہے، جو صرف ائمہ اہل بیتؑ میں پائی جاتی ہیں .خلافت کے لیے اجماعِ امت، صفاتِ قیادت، اور شوریٰ کافی ہیں .

3. اتحادِ امت کے پہلو

اگرچہ نظریاتی اختلافات گہرے ہیں، لیکن دونوں مکاتب فکر کئی مشترکہ نکات پر متفق ہیں:

  • حضرت علیؑ کی فضیلت: دونوں ان کی علم، تقویٰ اور شجاعت کو مسلمہ سمجھتے ہیں .

  • غدیر کی تاریخی اہمیت: واقعہ کی سند اور وقوع پر کوئی اختلاف نہیں، صرف تفسیر مختلف ہے .

  • دشمنوں کی سازشوں سے آگاہی: دونوں گروہ اس بات پر متفق ہیں کہ غدیر کو تفرقے کا ذریعہ نہیں بنانا چاہیے۔ آیت اللہ خامنہ ای کے الفاظ میں:

    "شیعہ اپنے عقائد کی حفاظت کریں، لیکن انہیں عالمِ اسلام میں اختلاف کا باعث نہیں بننے دیں گے" .






غدیر خم ایک چشمہ کا نام تھا جس کے نام سے ایک علاقہ کا نام مشہور ہے جو مکہ مدینہ کے درمیان مقامِ جحفہ سے تین میل کے فاصلہ پر واقع ہے ،حجة الوداع سے واپسی کے موقع پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہاں قیام فرمایا تھا اور یہیں ایک خطبہ دیا تھا ،خطبہ کا پسِ منظر یہ ہے کہ ماہِ رمضان المبارک کی دس ہجری کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علیکو تین سو آدمیوں کا سردار بناکر یمن کی جانب روانہ فرمایا تھا اس دوران کچھ صحابہ کو بتقاضہ بشریت حضرت علی سے کچھ دوستانہ شکایت ہو گئی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجمع عام میں حضرت علیکے خلوص اور ان کے مرتبہ کا اظہار فرمایاتاکہ لوگوں کے دل صاف ہوجائیں اور حضرت علیکی عظمت کا پتہ چل جائے ۔حدیث کے الفاظ یہ ہیں:

(2)حضرت براء بن عاذب ؓ کی روایت:

حضرت براء بن عازب اور حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غدیر خم پر نزول اور قیام فرمایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑ کر (عام حاضرین و رفقاء سفر سے خطاب کرتے ہوئے ) فرمایا کہ أَلَسْتُمْ تَعْلَمُونَ أَنِّی أَوْلَی بِالْمُؤْمِنِینَ مِنْ أَنْفُسِہِمْ (کیا تم نہیں جانتے ہو کہ میں مسلمانوں کا ان کے نفسوں اور ان کی جانوں سے بھی زیادہ دوست اور محبوب ہوں) سب نے عرض کیا کیوں نہیں ہاں ! بے شک ایسا ہی ہے (اس کے بعد) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا أَلَسْتُمْ تَعْلَمُونَ أَنِّی أَوْلَی بِکُلِّ مُؤْمِنٍ مِنْ نَفْسِہِ (کیا تم نہیں جانتے کہ میں ہر مسلمان کا اس کے نفس اور اس کی جان سے زیادہ دوست اور محبوب ہوں) سب نے عرض کیا کیوں نہیں ہاں ! بے شک ایسا ہی ہے (اس کے بعد) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اَللَّہُمَّ مَنْ کُنْتُ مَوْلَاہُ، فَعَلِیٌّ مَوْلَاہُ، اللَّہُمَّ وَالِ مَنْ وَالَاہُ، وَعَادِ مَنْ عَادَاہُ (اے اللہ ! میں جس کا دوست ہوں تو یہ علی بھی اس کے دوست ہیں ، اے اللہ جو علیسے دوستی رکھے تو اس سے دوستی فرما اور جو اس سے دشمنی رکھے تو اس کے ساتھ دشمنی کا معاملہ فرما) اس کے بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ملے اور (ان کو مبارک باد دیتے ہوئے ) فرمایا کہ تمہیں مبارک ہو اے ابن ابی طالب ! کہ تم ہر صبح اور ہر شام (یعنی ہر وقت) ہر مومن اور مومنہ کے دوست اور محبوب ہو گئے۔
[مسند احمد»حدیث نمبر: 17753]





عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ قَالَ: لَمَّا رَجَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ حَجَّةِ الْوَدَاعِ، وَنَزَلَ غَدِيرَ خُمٍّ أَمَرَ بَدَوْحَاتٍ فَقُمِمْنَ ثُمَّ قَالَ: " كَأَنِّي قَدْ دُعِيتُ، فَأَجَبْتُ، إِنِّي قَدْ تَرَكْتُ فِيكُمُ الثَّقَلَيْنِ أَحَدُهُمَا أَكْبَرُ مِنَ الْآخِرِ: كِتَابُ اللهِ وَعِتْرَتِي أَهْلُ بَيْتِي، فَانْظُرُوا كَيْفَ تَخْلُفُونِي فِيهِمَا، فَإِنَّهُمَا لَنْ يَتَفَرَّقَا حَتَّى يَرِدَا عَلَيَّ الْحَوْضَ " ثُمَّ قَالَ: «إِنَّ اللهَ مَوْلَايَ، وَأَنَا وَلِيُّ كُلِّ مُؤْمِنٍ» ثُمَّ أَخَذَ بِيَدِ عَلِيٍّ فَقَالَ: «مَنْ كُنْتُ وَلِيَّهُ، فَهَذَا وَلِيُّهُ، اللهُمَّ وَالِ مَنْ وَالَاهُ، وَعَادِ مَنْ عَادَاهُ» فَقُلْتُ لِزَيْدٍ: سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ: «مَا كَانَ فِي الدَّوْحَاتِ أَحَدٌ إِلَّا رَآهُ بِعَيْنَيْهِ، وَسَمِعَهُ بِأُذُنَيْهِ»
ترجمہ
حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ:
"جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حجۃ الوداع سے واپس ہوئے اور غدیر خم میں اترے، تو آپ نے (وہاں موجود) چند بڑے درختوں کو صاف کرنے کا حکم دیا۔ جب یہ جگہ صاف ہو گئی تو آپ نے فرمایا:
’گویا مجھے (اللہ کی طرف سے) بلا لیا گیا ہے اور میں نے اس دعوت کو قبول کر لیا ہے (یعنی میرا وقتِ وصال قریب آ گیا ہے)۔ بے شک میں تم میں دو بھاری چیزیں (ثقلین) چھوڑے جا رہا ہوں، ان میں سے ایک دوسرے سے بھی بڑا ہے: اللہ کی کتاب اور میری عترت یعنی میرے اہل بیت۔ پس دیکھو کہ تم ان دونوں کے بارے میں میرے بعد کیسا سلوک کرتے ہو۔ یہ دونوں ہرگز جدا نہ ہوں گے یہاں تک کہ میرے پاس حوض (کوثر) پر آ جائیں۔‘
پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’بے شک اللہ میرا مولا (مالک و سرپرست) ہے، اور میں ہر مومن کا ولی (دوست و سرپرست) ہوں۔‘
پھر آپ نے حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑا اور فرمایا:
’جس کا میں ولی (دوست و سرپرست) ہوں، یہ (علی) اس کا ولی ہے۔ اے اللہ! جو اس سے دوستی کرے، تو اس سے دوستی کر، اور جو اس سے دشمنی کرے، تو اس سے دشمنی کر۔‘
(زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:)
میں نے (راوی سے پوچھا) کہ کیا آپ نے یہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے؟
تو انہوں نے فرمایا: ’ان درختوں کے نیچے کوئی بھی ایسا نہ تھا جس نے اسے اپنی آنکھوں سے نہ دیکھا ہو اور اپنے کانوں سے نہ سنا ہو۔‘“






امام ابوبکر محمد بن حسین الآجریؒ (متوفی 360ھ) فرماتے ہیں:

ہمیں ابوبکر بن ابی داؤد نے حدیث بیان کی، کہا: مجھ سے میرے چچا محمد بن اشعث نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں زید بن عوف نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں ابو عوانہ نے اعمش سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں حبیب بن ابی ثابت نے عمرو بن واثلہ سے، اور انہوں نے زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی۔

زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کا بیان
زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نے کہا:
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حجۃ الوداع سے واپس ہوئے اور غدیر خم میں اترے، تو آپ نے حکم دیا کہ چند بڑے درختوں (دوح) کو صاف کیا جائے۔ جب یہ جگہ صاف ہو گئی تو آپ کھڑے ہوئے اور فرمایا:

"گویا مجھے (اللہ کی طرف سے) بلا لیا گیا ہے اور میں نے (اس دعوت کو) قبول کر لیا ہے (یعنی میری وفات قریب آ گئی ہے)۔ بیشک میں تم میں دو بھاری چیزیں (ثقلین) چھوڑے جا رہا ہوں: ان میں سے ایک اللہ عزوجل کی کتاب ہے، اور دوسری میری عترت یعنی میرے اہل بیت۔ دیکھو کہ تم ان کے بارے میں میرے بعد کیسا سلوک کرتے ہو۔ یہ دونوں (کتاب و عترت) ہرگز جدا نہ ہوں گے یہاں تک کہ میرے پاس حوض (کوثر) پر آ جائیں۔"

پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

"بیشک اللہ عزوجل میرا مولیٰ (سرپرست) ہے، اور میں ہر مومن کا مولیٰ ہوں۔"

پھر آپ نے علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑا اور فرمایا:

"جس کا میں ولی (دوست، سرپرست) ہوں، تو یہ (علی) اس کا ولی ہے۔ اے اللہ! جو اس سے دوستی کرے، تو اس سے دوستی کر، اور جو اس سے دشمنی کرے، تو اس سے دشمنی کر۔"

زید بن ارقم کہتے ہیں: میں نے زید بن ارقم سے پوچھا: کیا آپ نے خود یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے؟ انہوں نے جواب دیا: "ان درختوں کے نیچے کوئی بھی ایسا نہ تھا جس نے اسے اپنی آنکھوں سے نہ دیکھا ہو اور اپنے کانوں سے نہ سنا ہو۔"

اعمش نے کہا: اور ہمیں عطیہ نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے بھی اسی طرح کی حدیث بیان کی۔

محمد بن حسین (الآجریؒ) فرماتے ہیں:

یہ (حدیث) اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا خطبہ حجۃ الوداع میں منیٰ میں تھا، جس میں آپ نے اپنی امت کو کتاب اللہ اور اپنی سنت کے ساتھ مضبوطی سے تھامے رہنے کا حکم دیا۔ اور اسی حج سے واپسی پر غدیر خم میں آپ نے اپنی امت کو کتاب اللہ کے ساتھ تھامے رہنے، اپنے اہل بیت سے محبت رکھنے، اور علی بن ابی طالب سے دوستی (موالات) کرنے کا حکم دیا، اور لوگوں کو علی کے شرف و فضیلت سے آگاہ کیا۔

یہ بات عقل مند مومنین کو بتاتی ہے کہ ہر مسلمان پر واجب ہے کہ وہ:

اللہ کی کتاب کو مضبوطی سے تھامے رکھے،

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کو تھامے رکھے،

خلفاء راشدین مہدیین کی سنت کو تھامے رکھے،

ان سے محبت رکھے،

اہل بیت اطہار سے محبت رکھے،

ان کے اخلاق شریفہ کو اپنائے اور ان کی پیروی کرے۔

جو شخص ایسا کرے گا، وہ سیدھے راستے پر ہے۔

حدیث عرباض بن ساریہ کا حوالہ
کیا تم نہیں دیکھتے کہ عرباض بن ساریہ سلمی رضی اللہ عنہ نے کہا:

ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایسا مؤثر وعظ فرمایا کہ آنکھیں بہہ پڑیں اور دل تھر تھرا گئے۔ ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ تو ایسا وعظ ہے جیسے وداع کرنے والے کا وعظ ہو، آپ ہمیں کیا وصیت فرماتے ہیں؟

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"میں تمہیں اللہ سے ڈرنے (تقویٰ) کی وصیت کرتا ہوں، اور سننے اور اطاعت کرنے کی وصیت کرتا ہوں، چاہے تمہارا حاکم حبشی غلام ہی کیوں نہ ہو۔ کیونکہ تم میں سے جو میرے بعد زندہ رہے گا، وہ بہت زیادہ اختلافات دیکھے گا۔ لہٰذا تم میری سنت اور خلفاء راشدین مہدیین کی سنت کو مضبوطی سے تھامے رکھو، انہیں اپنی داڑھوں سے پکڑ لو (یعنی سختی سے ان کا اتباع کرو)۔ اور دین میں نئی ایجاد کردہ چیزوں (بدعتوں) سے بچو، کیونکہ ہر بدعت گمراہی ہے۔"

خلفاء راشدین کی تعریف
محمد بن حسین (الآجری) فرماتے ہیں:

خلفاء راشدین یہ ہیں: ابوبکر، عمر، عثمان اور علی رضی اللہ عنہم اجمعین۔

جو شخص ان سے محبت رکھے، ان کی خلافت پر راضی ہو، اور ان کی پیروی کرے، تو وہ درحقیقت کتاب اللہ اور سنت رسول کی پیروی کر رہا ہے۔

اور جو شخص رسول اللہ کے اہل بیت اطہار سے محبت رکھے، ان سے دوستی کرے، ان کے اخلاق کو اپنائے اور ان کے آداب سے متمسک ہو، تو وہ واضح راستے، سیدھی روش اور رشد و ہدایت پر ہے، اور اس کے لیے نجات کی امید ہے۔ جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

"میرے اہل بیت کی مثال نوح علیہ السلام کی کشتی کی طرح ہے، جس نے اس پر سوار ہوا وہ نجات پا گیا، اور جو اس سے پیچھے رہ گیا وہ ہلاک ہو گیا۔"

اہم سوال اور اس کا جواب (معتقدات اہل سنت کا بیان)
اگر کوئی پوچھے: اس شخص کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں جو یہ دعویٰ کرتا ہے کہ وہ ابوبکر، عمر اور عثمان سے محبت رکھتا ہے، لیکن علی بن ابی طالب، حسن اور حسین سے محبت کرنے سے پیچھے رہ جاتا ہے، اور علی کی خلافت سے راضی نہیں ہے؟ کیا اسے ابوبکر و عمر کی محبت فائدہ دے گی؟

الآجری کا جواب:

معاذ اللہ! یہ منافق کی صفت ہے، مومن کی صفت نہیں۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے علی بن ابی طالب سے فرمایا تھا:
"تم سے صرف مومن محبت کرے گا اور تم سے صرف منافق بغض رکھے گا۔" (صحیح مسلم)

اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"جس نے علی کو اذیت دی، اس نے مجھے اذیت دی۔" (مسند احمد، سنن ترمذی)

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے علی کے لیے خلافت، جنت، شہادت اور یہ کہ اللہ اور اس کے رسول علی سے محبت کرتے ہیں، کی گواہی دی۔

نیز آپ نے حسن و حسین سے اپنی محبت کا اظہار کیا۔

لہٰذا جو شخص ان (علی، حسن، حسین) سے محبت نہیں رکھتا اور ان سے دوستی نہیں کرتا، اس پر دنیا و آخرت میں اللہ کی لعنت ہے، اور ابوبکر، عمر، عثمان بھی اس سے بری ہیں۔

دوسرا فریق (غالی شیعہ) کا رد
اسی طرح وہ شخص جو یہ دعویٰ کرتا ہے کہ وہ علی بن ابی طالب اور ان کے اہل بیت سے محبت کرتا ہے، لیکن ابوبکر، عمر اور عثمان کی خلافت سے راضی نہیں، ان سے محبت نہیں رکھتا، بلکہ ان پر طعن کرتا ہے اور ان سے بیزاری (تبری) اختیار کرتا ہے، تو ہم یقین کے ساتھ اللہ کی گواہی دیتے ہیں کہ:

علی بن ابی طالب، حسن اور حسین رضی اللہ عنہم اس شخص سے بری ہیں۔ اسے ان کی محبت اس وقت تک فائدہ نہیں دے گی جب تک وہ ابوبکر، عمر اور عثمان سے محبت نہ کرے۔

جیسا کہ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے خود ان (ابوبکر و عمر) کی تعریف و توصیف کی ہے، ان کا فضل بیان کیا ہے، اور ان لوگوں سے بیزاری اختیار کی ہے جو ان سے محبت نہیں رکھتے۔

یہی عقلمند مسلمانوں کا راستہ ہے۔

ہم اس شخص سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں جو اہل بیت رسول پر ابوبکر و عمر و عثمان پر طعن کرنے کا الزام لگائے۔ یہ تو اہل بیت پر بہتان اور ایسی بات کا الزام ہے جس سے اللہ نے انہیں پاک رکھا ہے۔

اور کیا ابوبکر و عمر و عثمان کی اکثر فضیلتیں ہمیں علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی روایت کردہ احادیث کے علاوہ کہیں اور سے ملی ہیں؟ (یعنی علی خود ان کی فضیلت کے راوی ہیں)





حضرت براء بن عازب ؓ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حجۃ الوداع کے موقع پر آئے، آپ نے راستے میں ایک جگہ نزول فرمایا اور عرض کیا:الصلاة جامعة، یعنی نماز کیلئے سب کو اکٹھا ہونے کا حکم دیا، پھر علی ؓ کا ہاتھ پکڑا اور فرمایا: کیا میں مومنوں کی جانوں کا مومنوں سے زیادہ حقدار نہیں ہوں؟ ، صحابہ کرام ؓ نے عرض کیا: کیوں نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: کیا میں ہر مومن کا اس کی جان سے زیادہ حقدار نہیں ہوں؟ ، صحابہ کرام ؓ نے عرض کیا: کیوں نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: یہ (علی) دوست ہیں اس کے جس کا میں دوست ہوں، اے اللہ! جو علی سے محبت رکھے تو اس سے محبت رکھ، جو علی سے عداوت رکھے تو اس سے عداوت رکھ ۔
[سنن ابنِ ماجہ - سنت کی پیروی کا بیان - حدیث نمبر 116 (تحفة الأشراف: ١٧٩٧، ومصباح الزجاجة: ٤٨)]
[سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: 1750]



تشریح:

قَوْله فَنزل فِي بعض الطَّرِيق أَي بغدير خم بِضَم خاء مُعْجمَة وَتَشْديد مِيم اسْم لغيضة على ثَلَاثَة أَمْيَال من الْجحْفَة بهَا غَدِير مَاء وَفِي الْقَامُوس غَدِير خم مَوضِع بِالْجُحْفَةِ بَين الْحَرَمَيْنِ
ترجمہ:
"قَوْله فَنَزَلَ فِي بَعْضِ الطَّرِيقِ" کے قول میں (یعنی راستے میں ایک جگہ اترے) اس سے مراد "بِغَدِيرِ خُمٍّ" ہے۔ "خُم" (خاء معجمہ پر پیش اور میم مشددہ کے ساتھ) ایک گھنی جھاڑی کا نام ہے جو جُحفہ سے تین میل کے فاصلے پر واقع ہے۔ وہاں ایک پانی کا تالاب (غدیر) ہے۔ "القاموس" میں ہے: "غدیر خم" جُحفہ میں ایک مقام ہے جو حرمین شریفین (مکہ و مدینہ) کے درمیان واقع ہے۔"

[شرح سنن ابن ماجه للسيوطي: ص 12]




من كنت مَوْلَاهُ فعلي مَوْلَاهُ قَالَ فِي النِّهَايَة الْمولى اسْم يَقع على جمَاعَة كَثِيرَة فَهُوَ الرب الْمَالِك وَالسَّيِّد والمنعم وَالْمُعتق والناصر والمحب التَّابِع وَالْجَار وَابْن الْعم والحليف والصهر وَالْعَبْد وَالْمُعتق والمنعم عَلَيْهِ وَهَذَا الحَدِيث يحمل على أَكثر الْأَسْمَاء الْمَذْكُورَة وَقَالَ الشَّافِعِي عَنى بذلك وَلَاء الْإِسْلَام كَقَوْلِه تَعَالَى ذَلِك بِأَن الله مولى الَّذين آمنُوا وان الْكَافرين لَا مولى لَهُم وَقيل سَبَب ذَلِك ان أُسَامَة قَالَ لعَلي رَضِي لست مولَايَ انما مولَايَ رَسُول الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَك مِصْبَاح الزجاجة
ترجمہ:
"من كنت مَوْلَاهُ فعلي مَوْلَاهُ" (جس کا میں مولا ہوں، اس کے علی مولا ہیں)۔
"النہایہ" (ابن اثیر کی کتاب) میں ہے کہ "مولیٰ" ایک ایسا اسم ہے جو بہت سے معانی پر بولا جاتا ہے:
"الرَّبُّ، الْمَالِكُ، السَّيِّدُ، الْمُنْعِمُ، الْمُعْتِقُ، النَّاصِرُ، الْمُحِبُّ، التَّابِعُ، الْجَارُ، ابْنُ الْعَمِّ، الْحَلِيفُ، الصِّهْرُ، الْعَبْدُ، الْمُعْتَقُ، الْمُنْعَمُ عَلَيْهِ"
(یعنی: "رب، مالک، آقا، احسان کرنے والا، آزاد کرنے والا، مددگار، محبت کرنے والا، تابعدار، پڑوسی، چچا زاد بھائی، حلیف، داماد، غلام، آزاد شدہ غلام، جس پر احسان کیا گیا ہو")۔
یہ حدیث ان زیادہ تر معانی پر محمول ہے۔
امام شافعی نے فرمایا: اس سے مراد "ولاءِ اسلام" (دینی رفاقت اور محبت) ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
"ذَٰلِكَ بِأَنَّ اللَّهَ مَوْلَى الَّذِينَ آمَنُوا وَأَنَّ الْكَافِرِينَ لَا مَوْلَىٰ لَهُمْ" (ترجمہ: یہ اس لیے کہ اللہ ایمان والوں کا مولیٰ (مددگار اور دوست) ہے اور یقیناً کافروں کا کوئی مولیٰ نہیں)۔ [سورۃ محمد: 11]
اور کہا جاتا ہے کہ اس حدیث کا سبب یہ تھا کہ حضرت اسامہ بن زید نے حضرت علی سے کہا: "آپ میرے مولیٰ نہیں ہیں، میرے مولیٰ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں"، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حدیث ارشاد فرمائی۔
(عبارت کے آخر میں "مِصْبَاحُ الزُّجَاجَة" کا حوالہ ہے، جو سیوطی کی ایک اور شرح کا نام ہے)

[شرح سنن ابن ماجه للسيوطي: ص 12]




واقعہ اتنا ہی تھا؛ البتہ شیعوں نے اس جملہ ”من کنت مولاہ فعلی مولاہ الخ“ حضرت علیکے خلیفہ بلا فصل ہونے پر استدلال کرنا شروع کردیا جس کی تائید کسی بھی طرح نہیں ہوتی۔ مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو
(رد شیعیت: ۴/۴،نجم الفتاوی: ۱/۲۹۳، کتاب النوازل ۲/۴۹۲وغیرہ )








حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ: ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ قَالَ: أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ عَنِ الْبَرَاءِ , قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ ; قَالَ: فَنَزَلْنَا بِغَدِيرِ خُمٍّ , قَالَ: فَنُودِيَ: الصَّلَاةُ جَامِعَةٌ , وَكُسِحَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَحْتَ شَجَرَةٍ فَصَلَّى الظُّهْرَ فَأَخَذَ بِيَدِ عَلِيٍّ فَقَالَ: «أَلَسْتُمْ تَعْلَمُونَ أَنِّي أَوْلَى بالمؤمنين من أَنْفُسِهِمْ» , قَالُوا: بَلَى , قَالَ: «أَلَسْتُمْ تَعْلَمُونَ أَنِّي أَوْلَى بِكُلِّ مؤمن مِنْ نَفْسِهِ» , قَالُوا: بَلَى قَالَ: فَأَخَذَ بِيَدِ عَلِيٍّ فَقَالَ: «اللهم مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ , اللهم وال مَنْ والاه وَعَادِ مَنْ عَادَاهُ» , قَالَ: فَلَقِيَهُ عُمَرُ بَعْدَ ذَلِكَ فَقَالَ: هَنِيئًا لَكَ يَا ابْنَ أَبِي طَالِبٍ , أَصْبَحْتَ وَأَمْسَيْتَ مَوْلَى كُلِّ مُؤْمِنٍ ومؤمنة۔

ترجمہ:

ہم سے عفان نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں حماد بن سلمہ نے حدیث بیان کی، کہا کہ ہمیں علی بن زید نے عدی بن ثابت سے، اور انہوں نے براء بن عازبؓ سے خبر دی، انہوں نے کہا:
ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک سفر میں تھے، پھر ہم غدیر خم میں ٹھہرے۔ آپ ﷺ نے اعلان کرایا: ”نماز جمع ہے۔“ آپ ﷺ کے لیے درخت کے نیچے جگہ صاف کی گئی، آپ نے ظہر کی نماز پڑھائی، پھر حضرت علیؓ کا ہاتھ پکڑا اور فرمایا: ”کیا تم لوگ نہیں جانتے کہ میں مومنوں پر خود ان سے زیادہ حق رکھتا ہوں؟“ انہوں نے کہا: ”کیوں نہیں، یا رسول اللہ!“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم نہیں جانتے کہ میں ہر مومن پر خود اس سے زیادہ حق رکھتا ہوں؟“ انہوں نے کہا: ”کیوں نہیں۔“ پھر آپ ﷺ نے حضرت علیؓ کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا: ”اے اللہ! جس کا میں مولا ہوں، اس کے علی مولا ہیں۔ اے اللہ! جو ان سے دوستی رکھے، تو اس سے دوستی رکھ، اور جو ان سے دشمنی رکھے، تو اس سے دشمنی رکھ۔“
راوی نے کہا: پھر بعد میں عمر بن خطابؓ نے حضرت علیؓ سے ملاقات کی اور کہا: ”آپ کو مبارک ہو، اے ابنِ ابی طالب! آپ ہر مومن مرد اور مومن عورت کے مولا بن گئے (یعنی دوست اور سرپرست بن گئے)۔
[مصنف ابن ابی شیبہ» کتاب:-فضائل کا بیان، باب:-حضرت علی بن ابی طالب (رض) کے فضائل کا بیان، حدیث نمبر: 32780]


تشريح الصنعاني:
(من كنت مولاه فعلي) بن أبي طالب. (مولاه) قد استوعبنا الكلام في هذا وما فيه من شرف الوصي (٣) وفضله بما لا مزيد عليه في الروضة الندية شرح التحفة العلوية وإنما نبين ما قاله الأئمة من الحفاظ في هذا الحديث: قال الحافظ ابن حجر: حديث كثير الطرق جدًّا استوعبها ابن عقدة في كتاب مفرد منها صحاح ومنها حسان وفي بعضها قال ذلك يوم غدير خم، وزاد البزار في روايته: "اللهم وال من والاه وعاد من عاداه وأحب من أحبه وأبغض من أبغضه  وانصر من نصره واخذل من خذله" (١). ولما سمع أبو بكر وعمر ذلك قالا فيما أخرجه الدارقطني عن سعد بن أبي وقاص: "أمسيت يا ابن أبي طالب مولى كل مؤمن ومؤمنة" (٢). وأخرج أيضًا أنه قيل لعمر "إنك تصنع بابن أبي طالب شيئًا لا تصنعه بغيره من الصحابة قال إنه مولاي". (حم هـ) (٣) عن البراء بن عازب (حم) عن بريدة (هـ ت ن) والضياء عن زيد بن أرقم) رمز المصنف لصحته، وقال الهيثمي: رجال أحمد ثقات، وقال في موضع آخر: ورجاله رجال الصحيح، وقال المصنف: حديث متواتر.

ترجمہ
(حدیث نمبر 8981 کی شرح میں فرماتے ہیں:) "جس کا میں مولا ہوں، اس کا علی (بن ابی طالب) مولا ہے۔" ہم نے اس حدیث اور اس میں موجود وصی (علی) کے شرف و فضیلت کے بارے میں مکمل گفتگو "الروضة الندية شرح التحفة العلوية" میں کر دی ہے جس پر مزید کچھ کہنے کی ضرورت نہیں۔ البتہ ہم یہاں وہ کچھ بیان کر رہے ہیں جو ائمہ حفاظ نے اس حدیث کے بارے میں فرمایا ہے:

حافظ ابن حجر عسقلانی فرماتے ہیں: یہ حدیث بہت زیادہ طرق سے مروی ہے۔ ابن عقدہ نے ان تمام طرق کو ایک علیحدہ کتاب میں جمع کیا ہے۔ ان میں سے بعض صحیح ہیں اور بعض حسن۔ ان میں سے بعض روایات میں ہے کہ یہ واقعہ "یوم غدیر خم" کا ہے۔

امام بزار نے اپنی روایت میں یہ اضافہ کیا ہے: "اے اللہ! جو اس سے دوستی کرے، تو اس سے دوستی کر، جو اس سے دشمنی کرے، تو اس سے دشمنی کر، جو اس سے محبت کرے، تو اس سے محبت کر، جو اس سے بغض رکھے، تو اس سے بغض رکھ، جو اس کی مدد کرے، تو اس کی مدد کر، اور جو اسے چھوڑ دے، تو اسے چھوڑ دے۔"

جب حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما نے یہ حدیث سنی تو انہوں نے (جیسا کہ دارقطنی نے سعد بن ابی وقاص سے روایت کیا ہے) کہا: "اے ابن ابی طالب! آپ صبح و شام ہر مومن مرد اور مومن عورت کے مولا بن گئے۔"

دارقطنی نے یہ بھی روایت کیا ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے کہا گیا: "آپ ابن ابی طالب کے ساتھ ایسا سلوک کرتے ہیں جو آپ صحابہ میں سے کسی اور کے ساتھ نہیں کرتے۔" تو انہوں نے جواب دیا: "بے شک وہ میرے مولا ہیں۔"

یہ حدیث مسند احمد میں براء بن عازب سے، مسند احمد ہی میں بریدہ سے، نیز سنن ابن ماجہ، سنن ترمذی، سنن نسائی اور الضیاء المقدسی نے زید بن ارقم سے روایت کی ہے۔ مصنف (سیوطی) نے اس پر صحت کی علامت رمز کی ہے۔

ہیثمی فرماتے ہیں: "مسند احمد کے رجال ثقہ ہیں۔" اور دوسری جگہ فرماتے ہیں: "اس کے رجال صحیح (بخاری و مسلم) کے رجال ہیں۔" اور مصنف (محمد بن اسماعیل الصنعانی) خود فرماتے ہیں: یہ حدیث متواتر ہے۔

[التنوير شرح الجامع الصغير-الصنعاني:8981]




تشريح محدث عبد الحق دہلوی:

قائل کے قول: "جب آپ اترے" یعنی حجۃ الوداع سے واپسی پر۔ "غدیر خم میں" (جیم) خاء معجمہ پر پیش اور میم مشددہ کے ساتھ۔ "القاموس" میں ہے کہ یہ جحفہ میں حرمین شریفین کے درمیان ایک جگہ ہے، یا "خم" وہاں کی ایک جھاڑی کا نام ہے جس کے پاس پانی کا تالاب ہے۔

اور آپ کا قول: پھر آپ نے (صحابہ کو جمع کر کے) فرمایا: "کیا تم نہیں جانتے کہ میں مومنوں پر خود ان سے زیادہ اولیٰ (حق رکھنے والا) ہوں؟" اور بعض روایات میں ہے کہ آپ نے یہ تین بار دہرایا اور وہ تصدیق و اعتراف کرتے رہے۔ آپ اس سے اللہ کے اس فرمان کی طرف اشارہ کر رہے تھے: "النَّبِيُّ أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ" (الاحزاب: ۶) یعنی ہر معاملے میں، کیونکہ آپ انہیں کسی ایسے کام کا حکم نہیں دیتے اور نہ ان کے لیے اسے پسند کرتے ہیں جو ان کی بہبود اور کامیابی کے خلاف ہو، برخلاف نفس کے، اسی لیے یہ کہا گیا۔ پس ضروری ہے کہ وہ آپ کو اپنی جانوں سے زیادہ محبوب رکھیں، آپ کا حکم اپنے حکم سے زیادہ نافذ سمجھیں، اور آپ پر ان کی شفقت اپنی جان سے زیادہ ہو۔ روایت ہے کہ جب آپ نے غزوہ تبوک کا ارادہ فرمایا تو لوگوں کو نکلنے کا حکم دیا، کچھ لوگوں نے کہا: ہم اپنے باپ اور ماں سے اجازت لیتے ہیں، تب یہ آیت نازل ہوئی۔

اور قرأت میں ہے: "وهو أب لهم" یعنی دین میں، کیونکہ ہر نبی اپنی امت کا باپ ہے، اس لیے کہ وہ اس چیز کا اصل ہے جس سے ابدی زندگی ملتی ہے، اسی لیے مومن بھائی بھائی ہیں۔ جیسا کہ تفسیر بیضاوی میں ہے۔

اور آپ کا قول: "میں ہر مومن پر خود اس سے زیادہ حق رکھتا ہوں" یہ تاکید اور تکرار ہے، جس سے یہ مفہوم نکلتا ہے کہ آپ ہر ایک مومن پر انفرادی طور پر بھی اولیٰ ہیں، جیسا کہ پہلا جملہ ان تمام کے لیے اولیٰ ہونے کو ظاہر کرتا ہے۔

اور آپ کا قول: "اے اللہ! جس کا میں مولا ہوں، اس کے علی مولا ہیں" اور ایک روایت میں ہے: "پھر آپ نے علی کا ہاتھ اٹھایا اور فرمایا" ۔

اور آپ کا قول: "اور جو اس سے دشمنی کرے، تو اس سے دشمنی کر" اور ایک روایت میں اضافہ ہے: "اور جو اس سے بغض رکھے اس سے بغض رکھ، جو اس کی مدد کرے اس کی مدد کر، جو اسے چھوڑے اسے چھوڑ دے، اور حق کو اس کے ساتھ گھما دے جہاں بھی وہ جائے" ۔

علم رہے کہ یہ حدیث سب سے قوی چیز ہے جسے شیعہ نے اپنے اس دعوے میں بطور دلیل پکڑا ہے کہ علی رضی اللہ عنہ کی خلافت پر صریح اور تفصیلی نص موجود ہے۔ وہ کہتے ہیں: "مولیٰ" کے معنی "اولیٰ بالولایہ" (حکومت کا زیادہ حق رکھنے والا) کے ہیں، اس دلیل سے کہ آپ نے پہلے فرمایا: "کیا میں تم پر زیادہ حق نہیں رکھتا؟" ۔ "مولیٰ" کے معنی "ناصر و محبوب" کے نہیں ہیں، ورنہ آپ کو لوگوں کو اس مقصد کے لیے جمع کرنے اور علی کے لیے دعا کرنے کی ضرورت نہ تھی، کیونکہ یہ تو ہر کسی کو معلوم تھا۔ وہ کہتے ہیں: یہ دعا کسی معصوم اور مفترض الطاع امام کے سوا کسی کے لیے نہیں ہو سکتی۔ پس علی پر وہی ولایت ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ان پر تھا۔ یہ ان کی خلافت پر صریح نص ہے۔ یہ حدیث صحیح ہے، اس میں کوئی شک نہیں۔ اسے جماعت نے روایت کیا ہے، جیسے ترمذی، نسائی، احمد اور اس کی سندیں بہت زیادہ ہیں۔ اسے سولہ صحابہ نے روایت کیا ہے۔ ایک روایت میں احمد کے ہاں ہے کہ انہوں نے یہ حدیث تیس صحابہ سے سنی، اور انہوں نے علی رضی اللہ عنہ کی خلافت کے دنوں میں جب ان سے منازعت کی گئی تو اس کی گواہی دی۔ اس کی بہت سی سندیں صحیح اور حسن ہیں۔ جو اس کی صحت میں طعن کرے اس کی پرواہ نہیں، اور نہ اس قول کی کہ "اے اللہ! جو اس سے دوستی کرے" کا اضافہ موضوع ہے، کیونکہ یہ بہت سی سندوں سے آیا ہے جن میں سے بہت سی کو ذہبی نے صحیح کہا ہے۔ جیسا کہ شیخ ابن حجر ہیتمی نے "الصواعق المحرقة" (۱/۱۰۶-۱۱۹) میں فرمایا۔

اور انہوں نے یہ بھی فرمایا: لیکن ہم شیعہ پر لازم کریں گے کہ انہوں نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ امامت کے دلائل میں تواتر کا اعتبار کیا جائے گا، اور یہاں تواتر مفقود ہے کیونکہ اس کی صحت میں اختلاف ہے۔ اگرچہ یہ رد ہے، بلکہ اس کی صحت میں طعن کرنے والوں میں حدیث کے بڑے بڑے ائمہ اور ثقہ راوی شامل ہیں جن کی طرف رجوع کیا جاتا ہے، جیسے ابوداؤد سجستانی، ابوحاتم رازی اور دیگر۔ اور بعض متقن حفاظ نے اسے روایت نہیں کیا جنہوں نے شہروں کا سفر کیا اور حدیث کی تلاش میں شہر بہ شہر گھومے، جیسے امام بخاری، مسلم، واقدی اور دیگر محدثین کے بڑے بڑے نام۔ یہ اگرچہ اس کی صحت میں خلل نہیں ڈالتا، لیکن ایسی حدیث میں تواتر کا دعویٰ کرنا حیرت انگیز ہے، اور انہوں نے امامت کی احادیث میں تواتر کی شرط رکھی ہے۔

پس اہل سنت نے ان پر رد کیا ہے، اور اس سلسلے میں ان کا کلام بہت طویل ہے جیسا کہ شیخ ابن حجر ہیتمی کی "الصواعق المحرقة" میں مذکور ہے۔ ہم نے اس میں سے جو ممکن ہوا مختصراً نقل کیا ہے، وہ کہتے ہیں: ہم اس بات کو تسلیم نہیں کرتے کہ "مولیٰ" کے معنی وہی ہیں جو انہوں نے کہے، بلکہ اس کے معنی "ناصر" کے ہیں، کیونکہ یہ لفظ مشترک ہے اور اس کے معانی ہیں: آزاد کرنے والا، آزاد شدہ، معاملات میں تصرف کرنے والا، مددگار اور محبوب۔ بغیر کسی دلیل کے مشترک لفظ کے بعض معانی متعین کرنا محض تحکم ہے جس کی کوئی اہمیت نہیں۔ ہم اور وہ اس بات پر متفق ہیں کہ "حِبّ" (محبوب) اور "ناصر" کے معانی مراد لینا درست ہے، اور علی رضی اللہ عنہ ہمارے سید، حبیب اور ناصر ہیں۔ نیز "مولیٰ" کے معنی "امام" کے کبھی لغت میں ثابت نہیں ہیں، نہ شرعاً۔ کسی امام لغت نے یہ نہیں کہا کہ "مفعل" "افعل" کے معنی میں آتا ہے، اور کہا جاتا ہے: فلاں فلاں سے اولیٰ ہے، "مولیٰ فلاں سے" نہیں کہا جاتا، اور "اولی الرجلین" کہا جاتا ہے نہ کہ "مولاهما"۔

پس اس حدیث میں ولایت علیؓ کی تصریح کا مقصد لوگوں کو ان سے بغض رکھنے سے بچانا تھا، کیونکہ اس طرح تصریح کرنا ان کے شرف میں مزید اضافہ کا باعث ہے۔ اور آپ نے اس سے پہلے یہ فرمایا: "کیا میں تم پر خود تم سے زیادہ حق نہیں رکھتا؟" تاکہ لوگ اسے زیادہ مضبوطی سے قبول کریں، اور اسی طرح ان کے لیے دعا بھی کی۔

اور ہمارے اس موقف کی تائید اس بات سے بھی ہوتی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خطبے میں اپنے اہل بیت کو عام طور پر اور علی کو خصوصی طور پر ان کی طرف راغب کیا، جیسا کہ طبرانی وغیرہ نے صحیح سند کے ساتھ نقل کیا ہے۔

نیز اس کا سبب، جیسا کہ حافظ شمس الدین جزری نے ابن اسحاق سے نقل کیا ہے، یہ تھا کہ یمن میں علی کے ساتھ موجود بعض لوگوں نے ان کے بارے میں ناگفتہ بہ باتیں کی تھیں۔ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حج مکمل کیا تو آپ نے یہ خطبہ ان کی عظمت کو ظاہر کرنے اور ان پر طعن کرنے والوں (جیسے بریدہ) کو جواب دینے کے لیے دیا، جیسا کہ صحیح بخاری میں ہے کہ وہ علیؓ سے بغض رکھتا تھا۔ ذہبی نے صحیح کہا ہے کہ وہ ان کے ساتھ یمن گیا تو اس نے ان میں کچھ جفا دیکھی، چنانچہ اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ان کی کمزوری بیان کی، تو آپ کا چہرہ متغیر ہو گیا اور آپ نے فرمایا: "اے بریدہ! کیا میں مومنوں پر خود ان سے زیادہ حق نہیں رکھتا؟" میں نے کہا: کیوں نہیں، یا رسول اللہ! آپ نے فرمایا: "جس کا میں مولا ہوں، اس کے علی مولا ہیں" ۔

ہم تسلیم کرتے ہیں کہ وہ اولیٰ ہیں، لیکن ہم یہ تسلیم نہیں کرتے کہ اس سے مراد خلافت ہے، بلکہ مراد "اتباع اور قربت" ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: "إِنَّ أَوْلَى النَّاسِ بِإِبْرَاهِيمَ لَلَّذِينَ اتَّبَعُوهُ" (آل عمران: ۶۸)۔ اور نہ کوئی قاطع دلیل ہے اور نہ ہی ظاہری جو اس احتمال کو رد کرتی ہو، بلکہ یہی واقعہ ہے۔

اور یہی وہ معنی ہے جسے ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما نے سمجھا، اور ان دونوں کا حدیث کو سمجھنا کافی ہے۔ جب انہوں نے یہ سنا تو علیؓ سے کہا: "اے ابن ابی طالب! آپ شام و سحر ہر مومن مرد اور عورت کے مولا بن گئے" ۔ اسے دارقطنی نے روایت کیا ہے۔ اور یہ بھی مروی ہے کہ کسی نے عمر سے کہا: آپ علی کے ساتھ ایسا سلوک کرتے ہیں جو آپ نبی کے کسی اور صحابی کے ساتھ نہیں کرتے، تو انہوں نے کہا: "وہ میرے مولا ہیں" ۔

ہم تسلیم کرتے ہیں کہ وہ امامت کے لیے اولیٰ ہیں، لیکن اس سے مراد "مستقبل" ہے، ورنہ تو وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں ہی امام ہوتے، اور اس میں وقت کے اعتبار سے کوئی تصریح نہیں ہے۔ پس مراد وہ وقت ہے جب ان کی بیعت کا عقد ہو۔ اس لیے یہ ان تینوں خلفاء کے ان پر مقدم ہونے کے منافی نہیں، کیونکہ ان کی بیعت پر اجماع منعقد ہو گیا تھا، جس میں خود علی بھی شامل تھے، ان اخبار کی بنا پر جو صراحتاً ابوبکر کی خلافت پر دلالت کرتے ہیں۔

اور کیسے یہ ان کی امامت پر نص ہو سکتی ہے جبکہ انہوں نے خود، نہ عباس نے اور نہ کسی اور نے ضرورت کے وقت اسے بطور دلیل پیش کیا؟ بلکہ علیؓ نے صرف اپنی خلافت کے ایام میں اس سے استدلال کیا، تو ان کا وقت خلافت تک خاموش رہنا اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ انہیں معلوم ہو گیا تھا کہ اس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد فوری طور پر ان کی خلافت کی کوئی نص نہیں ہے۔

بلکہ خود علی رضی اللہ عنہ نے صراحت فرمائی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ ان پر نص کی اور نہ کسی اور پر، جیسا کہ صحیح اخبار میں ہے۔

اور صحیح بخاری وغیرہ میں ہے کہ علی اور عباس نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے نکلے... حدیث۔ اور اگر "من کنت مولاه" والی حدیث علی کی امامت پر نص ہوتی تو انہیں اور عباس کو آپ سے رجوع کرنے کی ضرورت نہ پڑتی، اور جب عباس نے کہا: "اگر یہ معاملہ ہم میں ہے تو ہم اسے جانتے ہیں" ۔ حالانکہ غدیر کے دن کو ابھی دو ماہ ہی ہوئے تھے۔ اور باقی صحابہ کرام پر نسیان کا احتمال رکھنا اور ان کا اسے چھپا دینا، باوجود علم کے، ایک عامی معاملہ ہے جسے عقل مند اپنی معمولی بدیہی سے بھی محال جانے گا، اور وہ جانتے ہیں کہ انہوں نے ابوبکر کی بیعت کرتے وقت اس حدیث کو یاد رکھا تھا اور اس کے معنی جانتے تھے۔

اور یہ کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے غدیر کے دن کے بعد خطبہ دیا اور ابوبکر و عمر کے حق کا اعلان کیا، اور ان سے فرمایا: "میرے بعد تم دونوں پر کوئی امیر نہیں ہو گا" ، جیسا کہ ابن سعد نے بسطام بن اسلم سے روایت کیا ہے۔

اور یہ ثابت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف اپنے اہل بیت سے محبت، مودت اور ان کی اتباع کی ترغیب دی تھی، اور ان میں اور خلافت کے منصب میں بہت بڑا فرق ہے۔

اور شیعہ و روافض کا یہ گمان کہ صحابہ نے اس نص کو جان کر بھی عناد، جبر اور ظلم کے باعث اسے قبول نہیں کیا، اور علیؓ نے اسے تقیہً چھوڑ دیا، سراسر جھوٹ اور بہتان ہے، کیونکہ وہ اپنی قوم کے پاس بڑی تعداد اور بہادری کے باعث ایک محفوظ جگہ پر تھے۔ اور جب ابوبکر نے "ائمہ من قریش" والی حدیث سے استدلال کیا تو انہوں نے یہ استدلال کیوں تسلیم کر لیا؟ اور انہوں نے ان سے کیوں نہ کہا: علی کی امامت پر نص موجود ہے، تو تم اس عمومی حدیث سے کیسے استدلال کر رہے ہو؟

اور بیہقی نے ابوحنیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے فرمایا: "شیعہ کا اصل عقیدہ صحابہ کی تضلیل ہے، اور روافض ان کی تکفیر کرتے ہیں، کیونکہ انہوں نے علی کی امامت کی نص کو چھوڑ کر سازش کی" ۔

اور قاضی ابوبکر باقلانی نے فرمایا: "روافض کا یہ قول سرے سے اسلام کا ہی خاتمہ ہے، کیونکہ اگر یہ ممکن ہو گیا کہ وہ نصوص کو چھپانے پر جمع ہو جائیں، تو یہ بھی ممکن ہے کہ وہ جھوٹی باتیں گھڑ کر کسی غرض کے تحت ان پر اتفاق کر لیں، اس لیے جو کچھ انہوں نے کیا ہے وہ سب جھوٹ اور باطل ہے" ۔

نیز کیا چیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس سے روک سکتی تھی کہ آپ غدیر کے دن اپنے اس خطبے میں فرما دیتے: "یہ میرے بعد خلیفہ ہے" ۔ تو آپ کا اس سے عدول کر کے "من کنت مولاه" کہنا اس بات پر ظاہر ہے کہ آپ کا یہ ارادہ نہیں تھا۔

اور ابو نعیم نے حسن مثنیٰ بن حسین سبط سے روایت کیا ہے کہ جب ان سے کہا گیا کہ "من کنت مولاه" کی خبر علی کی امامت پر نص ہے، تو انہوں نے فرمایا: "اللہ کی قسم! اگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارادہ امارت اور سلطانی ہوتا تو وہ ان سے صاف صاف کہہ دیتے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسلمانوں سے بات کرنے میں سب سے زیادہ واضح اور صاف گو تھے، اور وہ ان سے فرماتے: اے لوگو! یہ میرے بعد تم پر میرا والی اور حاکم ہے، تم اس کی بات سنو اور اطاعت کرو۔ اللہ کی قسم! اگر اللہ اور اس کے رسول نے علیؓ کو اس معاملے اور مسلمانوں پر ان کے بعد حکومت کرنے کے لیے چن لیا تھا، پھر علیؓ نے اللہ اور اس کے رسول کے حکم کو چھوڑ دیا کہ وہ اسے سنبھالیں یا اس کے بارے میں مسلمانوں سے معذرت کریں، تو علیؓ سب سے بڑے خطاکار ہوتے۔ اللہ اس سے پاک ہے۔ اور میں نے صحیح دلائل سے ثابت کر دیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کی خلافت پر نص نہیں کی، اور یہ خود علیؓ کے کلام سے ثابت ہے۔ اور اس مقام پر کلام بہت طویل ہے، اور یہ مقدار انصاف کرنے والے کے لیے کافی ہے، اور جو تعصب کرے اور کج روی اختیار کرے تو اس کے ساتھ خاموشی کے سوا کوئی کلام نہیں۔ واللہ اعلم، اور اس کا علم سب سے زیادہ حکمت والا ہے۔

[لمعات التنقيح في شرح مشكاة المصابيح-عبد الحق الدهلوي:6103 (9/ 664-670)]



📖 تشریح اور کلیدی نکات
یہ عبارت دراصل حدیث غدیر پر ایک جامع اور مناظرانہ شرح ہے۔ ذیل میں اس کے اہم نکات پیش کیے جا رہ ہیں:

1. حدیث کا سیاق و سباق (Context)
متن کے مطابق، یہ واقعہ حجۃ الوداع کے بعد پیش آیا جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم غدیر خم کے مقام پر اترے۔ یہاں آپ نے ایک طویل خطبہ دیا جس کا پس منظر یہ تھا:

یمن سے واپسی: حضرت علی رضی اللہ عنہ کو یمن بھیجا گیا تھا، جہاں بعض لوگوں (جیسے بریدہ) نے ان کے طرز عمل پر ناگواری کا اظہار کیا۔

اشکالات کا ازالہ: نبی ﷺ نے چاہا کہ لوگوں کے دلوں سے علیؓ کے لیے کدورت نکال کر ان کی محبت ڈالی جائے۔

2. "مولیٰ" کے معنی پر بنیادی اختلاف
یہی وہ نکتہ ہے جس پر شیعہ اور اہل سنت کے درمیان پوری عمارت کھڑی ہے:

شیعہ مؤقف اہل سنت مؤقف
"مولیٰ" کے معنی "اولیٰ بالتصرف" (حکمرانی کا زیادہ حق رکھنے والا، آقا، حاکم) ہیں۔ "مولیٰ" کے متعدد معانی ہیں: محبوب، مددگار، دوست، آزاد کرنے والا، چچا زاد بھائی وغیرہ۔
یہ حدیث علیؓ کی خلافت و امامت پر صریح اور فیصلہ کن نص ہے۔ یہ حدیث علیؓ کی محبت، فضیلت اور اہمیت کو ظاہر کرتی ہے، نہ کہ سیاسی جانشینی کو۔
3. شیعہ دلائل (جیسا کہ عبارت میں ہے)
مصنف نے شیعہ کے پانچ اہم دلائل نقل کیے ہیں:

سیاق و سباق: آپ نے پہلے فرمایا تھا: "ألست أولى بكم من أنفسكم" (کیا میں تم پر زیادہ حق نہیں رکھتا؟)۔ جب لوگوں نے اقرار کر لیا تو پھر "من کنت مولاه" کہہ کر اسی ولایت کو علیؓ کی طرف منتقل کر دیا۔

اجتماع کی ضرورت: اگر یہ صرف محبت کی بات ہوتی تو اتنا بڑا اجتماع اور اعلان کرنے کی ضرورت نہ تھی۔

دعا: آپ نے علیؓ کے لیے دعا فرمائی: "اللهم وال من والاه" ، جو کسی معمولی شخص کے لیے نہیں کی جاتی۔

تواتر: یہ حدیث 30 صحابہ سے مروی ہے، جس سے یہ متواتر کے درجے کو پہنچ جاتی ہے۔

صحیح سند: اسے ترمذی، نسائی، احمد بن حنبل جیسے کبار محدثین نے روایت کیا ہے۔

4. اہل سنت کا رد (جیسا کہ عبارت میں ہے)
مصنف (عبد الحق دہلوی) نے اہل سنت کے دلائل کو بڑی تفصیل سے پیش کیا ہے:

لغوی دلیل: "مولیٰ" کے معنی امام یا حاکم کے کبھی ثابت نہیں ہیں۔ یہ تو "محبوب اور ناصر" کے معنی میں آیا ہے۔

صحابہ کا فہم: ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما نے اس سے محبت اور دوستی کا مفہوم لیا، جیسا کہ عمرؓ نے کہا: "هنيئاً لك يا ابن أبي طالب، أصبحت مولى كل مؤمن" ۔

عدم احتجاج: اگر یہ خلافت پر نص ہوتی تو علیؓ خود اسے ابوبکرؓ کی خلافت کے وقت بطور دلیل پیش کرتے، لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا۔

تواتر کا فقدان: شیعہ خود امامت کے دلائل میں تواتر شرط رکھتے ہیں، جبکہ اس حدیث کی صحت میں خود ان کے ائمہ (جیسے ابوداؤد، ابوحاتم) نے اختلاف کیا ہے۔

تقیہ کا الزام باطل: یہ کہنا کہ علیؓ نے تقیہً خاموشی اختیار کی، سراسر جھوٹ ہے، کیونکہ وہ اپنی قوم کے درمیان طاقت ور تھے۔

5. حدیث کا اصل مقصد
مصنف نے ابن رجب اور ابن تیمیہ کے حوالے سے واضح کیا ہے کہ غدیر خم کا خطبہ دراصل وصیت کا خطبہ تھا، جس میں دو بھاری چیزیں (ثقلین) یعنی قرآن اور اہل بیت سونپی گئیں۔ نبی ﷺ کا مقصد تھا:

امت کو قرآن سے مضبوطی سے وابستہ رہنے کی ترغیب دینا۔

اور اہل بیت کے ساتھ محبت، ان کی تعظیم اور ان کے حقوق کی ادائیگی کی وصیت کرنا۔
یہ کوئی نیا شرعی حکم نہیں تھا، اور نہ ہی اس میں کسی کی خلافت کا اعلان تھا۔

6. اشکالات کے جوابات
متن میں کچھ باریک اشکالات اور ان کے جوابات بھی ملتے ہیں:

اشکال: اگر یہ محض محبت کی بات تھی تو "من کنت مولاه" کہنے کی کیا ضرورت تھی؟
جواب: یہ محبت کے باوجود کچھ لوگوں (جیسے بریدہ) کے دل میں موجود کدورت کو دور کرنے کے لیے کہا گیا۔

اشکال: حضرت عمرؓ کا "مولى كل مؤمن" کہنا خلافت کی طرف اشارہ ہے؟
جواب: نہیں، یہ ان کی بے پناہ محبت اور تعظیم کے اظہار کا ایک انداز تھا۔


✨ خلاصہ
علامہ عبد الحق دہلوی کی یہ عبارت حدیث غدیر پر ایک علمی مناقشہ ہے جس میں انہوں نے شیعہ کے دلائل کو بڑی تفصیل سے پیش کرنے کے بعد اہل سنت کے دلائل سے ان کا مدلل جواب دیا ہے۔ عبارت سے یہ واضح ہوتا ہے کہ:

یہ حدیث سنداً صحیح ہے اور اس کی اہمیت مسلم ہے۔

لفظ "مولیٰ" کے لغوی معنی میں محبت و دوستی کو ترجیح دی گئی ہے، نہ کہ خلافت کو۔

نبی ﷺ کا اصل مقصد اہل بیت سے محبت اور ان کی تعظیم کی تلقین تھا۔

اگر یہ خلافت پر نص ہوتی تو خود علیؓ اور دیگر صحابہ کا طرز عمل اس کے خلاف ہوتا، جبکہ ایسا نہیں تھا۔

یہ عبارت انصاف پسند قاری کے لیے ایک روشن دلیل ہے، اور تعصب سے کام لینے والوں کے ساتھ خاموشی ہی بہتر ہے۔

اگر آپ اس عبارت کے کسی مخصوص حصے کی مزید وضاحت چاہیں تو ضرور بتائیے۔









تشریح:
یہ واقعہ جس کا ذکر اس روایت میں کیا گیا، حجۃ الوداع کے سفر سے واپسی کا ہے۔ "غدیر" کے معنی تالاب کے ہیں اور خم ایک مقام کا نام ہے جس کے قریب یہ تالاب تھا، یہ مقام مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ جاتے ہوئے مشہور بستی "الجحفہ" سئ تین چار میل کے فاصلہ پر واقع تھا۔ آنحضرت ﷺ حجۃ الوداع سے واپس ہوتے ہوئے اپنے فرقاء سفر کے پورے قافلہ کے ساتھ جس میں مدینہ منورہ اور قرب و جوار کے تمام ہی وہ صحابہ کرامؓ تھے جو اس مبارک سفر میں آپ ﷺ کے ساتھ تھے، ۱۸؍ ذی الحجہ کو اس مقام پر پہنچے تھے، اور قیام فرمایا تھا، یہاں آپ ﷺ نے ان رفقاء سفر کو جمع کر کے ایک خطبہ ارشاد فرمایا۔ اس خطبہ سے متعلق حدیث کی کتابوں میں جو روایات ہیں۔ ان سے کو جمع کرنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ آپ ﷺ نے اس خطاب میں کچھ اہم باتیں ارشاد فرمائی تھی جن میں سے ایک بات حضرت علی مرتضیٰ ؓ کے بارے میں وہ بھی تھی جو اس روایت میں ذکر کی گئی ہے۔ یہ بات آپ ﷺ نے ایک تمہید کے ساتھ خاص اہمیت سے بیان فرمائی۔
سورہ احزاب کے آیت نمبر 6 میں ارشاد فرمایا گیا ہے: "النَّبِيُّ أَوْلَىٰ بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنفُسِهِمْ" اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر انسان کو فطری طور پر سب سے زیادہ محبت و خیرخواہی اپنے نفس اور اپنی عزیز جان کے ساتھ ہوتی ہے، ہمارے پیغمبر حضرت محمد ﷺ کا حق ہے کہ اہل ایمان اپنے نفس اور اپنی جان عزیز سے بھی زیادہ آپ ﷺ کے ساتھ محبت رکھیں۔ قرآن پاک کی اس آیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے حضور ﷺ نے حاضرین سے فرمایا کہ کیا تم یہ بات نہیں جانتے کہ میں سب ایمان والوں کی دوستی اور محبت کا ان کے نفسوں اور ان کی جانوں سے بھی زیادہ حق دار ہوں۔ سب حاضرین نے بیک زبان عرض کیا کہ ہاں! بےشک ایسا ہی ہے، اس کے بعد رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا۔ "کیا تم یہ بات نہیں جانتے کہ ہر مومن کو اپنے نفس اور اپنی عزیز جان سے جو محبت اور تعلق ہے اس سے زیادہ محبت اور تعلق اس کو میرے ساتھ ہونا چاہئے۔ سب حاضرین نے عرض کیا کہ ہاں بےشک ایسا ہی ہے، آپ ﷺ کا ھق ہم میں سے ہر ایک پر یہ ہے کہ اپنے نفس اور اپنی جان عزیزسے بھی زیادہ محبت آپ ﷺ کے ساتھ ہو ..... اس کے بعد آپ ﷺ نے حضرت علیؓ کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر فرمایا۔
«اَللَّهُمَّ مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ، فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ، اللَّهُمَّ وَالِ مَنْ وَالَاهُ، وَعَادِ مَنْ عَادَاهُ»
ترجمہ:
اے اللہ! (تو گواہ رہ کہ) میں جس کا دوست اور محبوب ہوں تو یہ علی بھی اس کے دوست اور محبوب ہیں، تو اے اللہ! میری تجھ سے دعا ہے کہ جو علیؓ سے محبت رکھے تو اس سے محبت کا معاملہ فرما اور جو اس سے عداوت رکھے تو اس کے ساتھ عداوت کا معاملہ فرما۔



.....حضور ﷺ کے اس خطاب کے بعد حضرت عمرؓ، حضرت علی مرتضیٰؓ سے ملے اور مبارک باد دیتے ہوئے فرمایا: اے ابن ابی طالب! تم کو مبارک اور خوشگوار ہو کہ آنحضرت ﷺ کے ارشاد کے مطابق ہر ایمان والے اور ہر ایمان والی کے تم محبوب ہو گئے، ہر ایک تم سے ہمیشہ محبت کا تعلق رکھے گا۔
یہاں تک صرف حدیث کے مضمون کی تشریح کی گئی، اس موقع پر راقم سطور ناظرین کو یہ بتلانا بھی مناسب سمجھتا ہوں کہ شیعہ علماء و مصنفین اس حدیث کو اپنے اس عقیدہ اور دعوے کی مضبوط ترین اور سب سے زیادہ وزنی دلیل کے طور پر پیش کرتے ہیں، غدیر خم کے خطاب میں رسول اللہ ﷺ نے اپنے بعد کے لئے حضرت علی مرتضیٰؓ کو خلیفہ و جانشین اور امت کا امام و حاکم بنا دیا تھا اور اس خطاب کا خاص مقصد یہی تھا، وہ کہتے ہیں کہ مولیٰ کے معنی آقا، مالک اور حاکم کے ہیں اور حدیث کا مطلب یہ ہے کہ میں جن لوگوں کا آقا اور حاکم ہوں علیؓ ان سب کے آقا اور حاکم ہیں، پس یہ حضرت علی مرتضیٰؓ کی خلافت اور امت پر ان کی حاکمیت کا اعلان تھا ..... ان شاء اللہ آئندہ سطور سے ناظرین کرام کو معلوم ہو جائے گا کہ شیعہ علماء کا یہ دعویٰ اور ان کی یہ دلیل کس قدر لچر ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ عربی زبان میں بہت سے الفاظ ایسے جو بیس بیس یا اس سے بھی زیادہ معنوں میں استعمال ہوتے ہیں۔ لفظ مولیٰ بھی انہیں الفاظ میں سے ہے۔ عربی لغت کی مشہور و مستند ترین کتاب "القاموس المحیط" میں اس لفظ مولیٰ کے مندرجہ ذیل ۲۱ معنی لکھے ہیں۔
مولیٰ کی ایک بھی معنیٰ خلیفہ نہیں:
المولى:
(1)المالك (2)والعبد (3)والعتق (4)والمعتق (5)والصاحب (6)والقريب كابن العم ونحوه (7)والجار (8)والحليف (9)والابن (10)والعم (11)والنزيل (12)والشريك (13)وابن الاخت (14)والولى (15)والرب (16)والناصر (17)والمنعم (18)والمنعم عليه (19)والمحب (20)والتابع (21)والصهر.
ترجمہ:
(1) مالک (2) غلام (3) چھوڑ دیا گیا (4) چھوڑ دیا گیا (5) ساتھی (6) رشتہ دار جیسے چچازاد بھائی (7) پڑوسی (8) حلیف (9) بیٹا (10) چچا (11) مہمان (12) ساتھی (13) بھتیجا (14) سرپرست (14) سرپرست (14) سرپرست (14) مدد گار۔ احسان کرنے والا (18) فائدہ اٹھانے والا (19) عاشق (20) پیروکار (21) سسر۔

(ان تمام الفاظ کا ترجمہ مصباح اللغات کی عبارت میں ناظرین کرام ملاحظہ فرمائیں گے جو آگے نقل کی جا رہی ہے)

اور عربی لغت کی دوسری مستند و معروف کتاب "اقرب الموارد" میں بھی لفظ مولیٰ کے یہی سب معنیٰ لکھے گئے ہیں۔

لغت حدیث کی مشہور و مستند ترین کتاب "النهاية لابن الاثير(م606ھ) فى غريب الحديث والاثر" میں بھی قریبا یہ سب معنیٰ لکھے گئے ہیں، علامہ طاہر پٹنی نے مجمع بحار الانوار میں نہایہ ہی کے حوالہ سے اس کی پوری عبارت نقل کر دی ہے۔

[مصباح اللغات:صفحه 926المنجد: صفحه 987]

جس میں عربی الفاظ کے معنی اردو زبان میں لکھے گئے ہیں، اس میں قریب قریب ان سب الفاظ کا ترجمہ آ گیا ہے جو "القاموس المحیط" اور "اقرب الموارد" وغیرہ مندرجہ بالا کتابوں میں لکھے گئے ہیں، ہم اس کی عبارت بعینہٖ ذیل میں درج کرتے ہیں:

المولی = مالک و سردار، غلام آزاد کرنے والا، آزاد شدہ، انعام دینے والا جس کو انعام دیا جائے، محبت کرنے والا، ساتھی۔ حلیف پڑوسی، مہمان، شریک، بیٹا، چچا کا بیٹا، بھانجا، چچا، داماد، رشدہ دار، والی، تابع۔




تشریحاتِ ائمہ محدثین:
امام لالکائی(م418ھ) فرماتے ہیں: 
" أنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: أنا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ: نا مُحَمَّدُ بْنُ خَلَفٍ، قَالَ: نا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ، قَالَ: نا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، قَالَ: نا هِلَالُ بْنُ مَيْمُونٍ الرَّمْلِيُّ، قَالَ: قُلْتُ لِأَبِي بِسْطَامٍ مَوْلَى أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ: أَرَأَيْتَ قَوْلَ النَّاسِ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ» ؟ قَالَ: نَعَمْ، وَقَعَ بَيْنَ أُسَامَةَ وَبَيْنَ عَلِيٍّ تَنَازُعٌ، قَالَ: فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ: فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: «يَا عَلِيُّ، يَقُولُ هَذَا لِأُسَامَةَ، فَوَاللَّهِ إِنِّي لَأُحِبُّهُ» . وَقَالَ لِأُسَامَةَ: «يَا أُسَامَةُ، يَقُولُ هَذَا لِعَلِيٍّ، فَمَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ»".
ترجمہ:
"میں محمد بن عبدالرحمن ہوں، انہوں نے کہا: میں حسین بن اسماعیل ہوں، انہوں نے کہا: ہمیں محمد بن خلف نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں زکریا بن عدی نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں مروان بن معاویہ نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں ہلال بن میمون رَمْلی نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: میں نے ابو بسطام (حضرت اسامہ بن زید کے آزاد کردہ غلام) سے پوچھا:
"لوگوں کے اس قول کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’جس کا میں مولا ہوں، اس کا علی مولا ہے‘؟"
انہوں (ابو بسطام) نے جواب دیا: ہاں! (یہ صحیح ہے)، حضرت اسامہ اور حضرت علی کے درمیان جھگڑا ہوا تھا۔  
ابو بسطام نے کہا:
"میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ کو یہ واقعہ سنایا۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی سے فرمایا:
’اے علی! تم اسامہ کے بارے میں یہ کہتے ہو؟ اللہ کی قسم! میں اسامہ سے محبت کرتا ہوں۔‘
پھر حضرت اسامہ سے فرمایا:
’اے اسامہ! تم علی کے بارے میں یہ کہتے ہو؟ (سنو!) جس کا میں مولا ہوں، اس کا علی مولا ہے۔‘"
[شرح أصول اعتقاد أهل السنة والجماعة، رقم الحديث: 2640، ج 8 ص 1459، ط: دار طيبة]







امام بیھقی(م458ھ) نے اپنی کتاب "الاعتقاد"میں لکھا ہے:

"فَقَدْ ذَكَرْنَا مِنْ طُرُقِهِ فِي كِتَابِ الْفَضَائِلِ مَا دَلَّ عَلَى مَقْصودِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ ذَلِكَ وَهُوَ أَنَّهُ لَمَّا بَعَثَهُ إِلَى الْيمَنِ كَثُرَتِ الشَّكَاةُ عَنْهُ، وَأَظْهَرُوا بُغْضَهُ، فَأَرَادَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَذْكُرَ اخْتِصَاصَهُ بِهِ وَمَحبَّتَهُ إِيَّاهُ، وَيَحُثُّهُمْ بِذَلِكَ عَلَى مَحَبَّتِهِ وَمُوَالِاتِهِ وَتَرْكِ مُعَادَاتِهِ، فَقَالَ: «مِنْ كُنْتُ وَلِيَّهُ فَعَلِيٌّ وَلِيَّهُ»، وَفِي بَعْضِ الرُّوَايَاتِ: «مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ، اللَّهُمْ وَالِ مِنْ وَالِاهُ وَعَادِ مِنْ عَادَاهُ». وَالْمُرَادُ بِهِ وَلَاءُ الْإِسْلَامِ وَمَودَّتُهُ، وَعَلَى الْمُسْلِمِينَ أَنْ يوَالِيَ بَعْضُهُمْ بَعْضًا، وَلَا يُعَادِي بَعْضُهُمْ بَعْضًا، وَهُوَ فِي مَعْنَى مَا ثَبَتَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ: وَالَّذِي فَلَقَ الْحَبَّةَ وَبَرَأَ النَّسَمَةَ إِنَّهُ لَعَهْدُ النَّبِيِّ الْأُمِّيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيَّ «أَنَّهُ لَا يُحِبُّنِي إِلَا مُؤْمِنٌ وَلَا يُبْغِضُنِي إِلَّا مُنَافِقٌ» . وَفِي حَدِيثِ بُرَيْدَةَ شَكَا عَلِيًّا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَبْغِضُ عَلِيًّا؟ فَقُلْتُ: نَعَمْ، فَقَالَ: لَا تُبْغِضْهُ، وَأَحْبِبْهُ وَازْدَدْ لَهُ حُبًّا، قَالَ بُرَيْدَةُ: فَمَا كَانَ مِنَ النَّاسِ أَحَدٌ أَحَبُّ إليَّ مِنْ عَلِيٍّ بَعْدَ قَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ترجمہ:
> "ہم نے اپنی کتاب 'الفضائل' میں اس حدیث کی متعدد سندوں کے ذریعے بیان کیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اس (قول) سے مقصد یہ تھا: جب آپ ﷺ نے حضرت علیؓ کو یمن بھیجا تو ان کے خلاف شکایات کی کثرت ہو گئی اور لوگوں نے ان سے عداوت ظاہر کی۔ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چاہا کہ علیؓ کے ساتھ اپنے خصوصی تعلق اور ان کی محبت کا ذکر کر کے لوگوں کو ان سے محبت، موالات (دوستی) اور عداوت ترک کرن کی ترغیب دیں۔  
> پس آپ ﷺ نے فرمایا:  
> «جس کا میں ولی ہوں، اس کے علی ولی ہیں»،  
> اور بعض روایات میں ہے:  
> «جس کا میں مولا ہوں، اس کے علی مولا ہیں۔ اے اللہ! جو اس سے دوستی رکھے، تو اس سے دوستی رکھ، اور جو اس سے دشمنی رکھے، تو اس سے دشمنی رکھ»۔  
> اس سے مراد ولائے اسلام اور مودت (دینی محبت) ہے۔ مسلمانوں پر لازم ہے کہ وہ آپس میں ایک دوسرے سے محبت رکھیں، نہ کہ عداوت۔  
> یہی معنی اس حدیث کے مطابق ہے جو حضرت علیؓ سے ثابت ہے کہ انہوں نے فرمایا:  
> «اس ذات کی قسم! جس نے دانے کو پھاڑا اور جاندار کو پیدا کیا! بے شک نبی امی ﷺ کا میرے نام عہد ہے: مجھے صرف مومن ہی محبت کرے گا، اور صرف منافق ہی مجھ سے بغض رکھے گا»۔  
> نیز بریدہ (بن حصیب)ؓ کی حدیث میں ہے کہ انہوں نے علیؓ کی شکایت کی تو نبی ﷺ نے پوچھا: کیا تم علی سے بغض رکھتے ہو؟ میں نے کہا: ہاں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: «ان سے بغض مت رکھو، ان سے محبت کرو اور محبت میں مزید اضافہ کرو»۔  
> بریدہؓ کہتے ہیں: اس کے بعد رسول اللہ ﷺ کے فرمان کی وجہ سے علیؓ مجھے تمام لوگوں سے زیادہ محبوب ہو گئے۔"
[الاعتقاد للبيهقي: 1/ 354]



ترمذی کی حدیث کی تشریح کرتے امام سیوطی(م911ھ) فرماتے ہیں:
"من كُنْتُ مَوْلاَهُ فعَليٌّ مَوْلاهُ". أراد بذلك ولاء الإسلام، كقوله تعالى: ﴿ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ مَوْلَى الَّذِينَ اٰمَنُوا وَاَنَّ الْكٰفِرِيْنَ لَا مَوْلٰى لَهُمْ﴾ [محمد:١١] وقيل: سبب ذلك أن أسَامة قال لعَلي: لسْتَ مولاي، إنما مولاي رسُول الله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فقال صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذلك''.
ترجمہ:
"جس کا میں مولا ہوں، اس کا علی مولا ہے۔" اس سے مراد "ولاء الاسلام" (اسلامی اخوت و نصرت کا رشتہ) ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿یہ اس لیے کہ بے شک اللہ اہلِ ایمان کا مولیٰ (مددگار) ہے اور بے شک کافروں کا کوئی مددگار نہیں﴾ (سورۃ محمد:11)۔
> اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اس (حدیث) کا سبب یہ تھا کہ حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کہا: "آپ میرے مولا نہیں ہیں، میرے مولا تو صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔" تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ (فرماکر جواب دیا)۔  
[قوت المقتذي علي جامع الترمذي: أبواب المناقب 2/1002 ط: رسالة الدكتوراة بجامعة أم القري]



سنن ابن ماجہ کی حدیث کی تشریح کرتے امام سیوطی(م911ھ) فرماتے ہیں:

"«من كنت مَوْلَاهُ فعلي مَوْلَاهُ» قَالَ فِي النِّهَايَة: الْمولى اسْم يَقع على جمَاعَة كَثِيرَة، فَهُوَ الرب الْمَالِك، وَالسَّيِّد، والمنعم، وَالْمُعتق، والناصر، والمحب التَّابِع، وَالْجَار، وَابْن الْعم، والحليف، والصهر، وَالْعَبْد، وَالْمُعتق، والمنعم عَلَيْهِ. وَهَذَا الحَدِيث يحمل على أَكثر الْأَسْمَاء الْمَذْكُورَة، وَقَالَ الشَّافِعِي: عَنى بذلك وَلَاء الْإِسْلَام، كَقَوْلِه تَعَالَى: ﴿ذٰلِكَ بِاَنَّ اللهَ مَوْلَى الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَاَنَّ الْكٰفِرِيْنَ لَا مَوْلٰى لَهُمْ﴾،[محمد:١١] وَقيل: سَبَب ذَلِك أن أُسَامَة قَالَ لعَلي رَضِي الله عنه: لستَ مولَايَ، إنما مولَايَ رَسُول الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم ذلك".
 ترجمہ:
"جس کا میں مولا ہوں، اس کا علی مولا ہے۔(حدیث)  
(کتاب) "النِّهَايَة" میں کہا گیا ہے: "مولا" ایک ایسا اسم ہے جو بہت سے معانی پر دلالت کرتا ہے۔ پس وہ معبود و مالک، سردار، احسان کرنے والا، آزاد کرنے والا، مددگار، محبت کرنے والا پیروکار، پڑوسی، چچا زاد بھائی، حلیف (قبیلے کا دوست/ساتھی)، داماد، غلام، آزاد کردہ غلام، اور جس پر احسان کیا جائے (احسان یافتہ)، سب کے لیے آتا ہے۔
> اور یہ حدیث مذکورہ معانی میں سے اکثر پر محمول ہوتی ہے۔  
> امام شافعی رحمہ اللہ نے کہا: اس سے مراد "ولاء الاسلام" (اسلامی اخوت و ولاء/نصرت کا رشتہ) ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿یہ اس لیے کہ بے شک اللہ اہلِ ایمان کا مولیٰ (مددگار) ہے اور بے شک کافروں کا کوئی مددگار نہیں﴾ (سورۃ محمد:11)۔  
> اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس (حدیث) کا سبب یہ تھا کہ حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کہا: "آپ میرے مولا نہیں ہیں، میرے مولا تو صرف رسول اللہ  ہیں۔" تو رسول اللہ ﷺ نے یہ (فرماکر جواب دیا)۔

[شرح ابن ماجة للسيوطي: باب اتباع السنة، ١/ ١٢ ،ط: قديمي]




مشکٰوۃ کے شارح، ملا علی قاری(م1014ھ) لکھتے ہیں:

"(وَعَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ) ذِكْرُهُ تَقَدَّمَ (أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " «مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ» ") . قِيلَ: مَعْنَاهُ: مَنْ كُنْتُ أَتَوَلَّاهُ فَعَلِيٌّ يَتَوَلَّاهُ، مِنَ الْوَلِيِّ ضِدِّ الْعَدُوِّ أَيْ: مَنْ كُنْتُ أُحِبُّهُ فَعَلِيٌّ يُحِبُّهُ، وَقِيلَ مَعْنَاهُ: مَنْ يَتَوَلَّانِي فَعَلِّيٌّ يَتَوَلَّاهُ، كَذَا ذَكَرَهُ شَارِحٌ مِنْ عُلَمَائِنَا. وَفِي النِّهَايَةِ: الْمَوْلَى يَقَعُ عَلَى جَمَاعَةٍ كَثِيرَةٍ، فَهُوَ الرَّبُّ، وَالْمَالِكُ، وَالسَّيِّدُ، وَالْمُنْعِمُ، وَالْمُعْتِقُ، وَالنَّاصِرُ، وَالْمُحِبُّ، وَالتَّابِعُ، وَالْخَالُ، وَابْنُ الْعَمِّ، وَالْحَلِيفُ، وَالْعَقِيدُ، وَالصِّهْرُ، وَالْعَبْدُ، وَالْمُعْتَقُ، وَالْمُنْعَمُ عَلَيْهِ، وَأَكْثَرُهَا قَدْ جَاءَتْ فِي الْحَدِيثِ، فَيُضَافُ كُلُّ وَاحِدٍ إِلَى مَا يَقْتَضِيهِ الْحَدِيثُ الْوَارِدُ فِيهِ، وَقَوْلُهُ: « مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ» يُحْمَلُ عَلَى أَكْثَرِ هَذِهِ الْأَسْمَاءِ الْمَذْكُورَةِ. قَالَ الشَّافِعِيُّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ -: يَعْنِي بِذَلِكَ وَلَاءَ الْإِسْلَامِ كَقَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ مَوْلَى الَّذِينَ اٰمَنُوْا وَاَنَّ الْكٰفِرِيْنَ لَا مَوْلٰى لَهُمْ﴾ [محمد:١١] وَقَوْلِ عُمَرَ لِعَلِيٍّ: أَصْبَحْتَ مَوْلَى كُلِّ مُؤْمِنٍ [أَيْ: وَلِيَّ كُلِّ مُؤْمِنٍ]، وَقِيلَ: سَبَبُ ذَلِكَ أَنَّ أُسَامَةَ قَالَ لِعَلِيٍّ: لَسْتَ مَوْلَايَ إِنَّمَا مَوْلَايَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ». " قُضِيَ " قَالَتِ الشِّيعَةُ: هُوَ مُتَصَرِّفٌ، وَقَالُوا: مَعْنَى الْحَدِيثِ أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَسْتَحِقُّ التَّصَرُّفَ فِي كُلِّ مَا يَسْتَحِقُّ الرَّسُولُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ التَّصَرُّفَ فِيهِ، وَمِنْ ذَلِكَ أُمُورُ الْمُؤْمِنِينَ فَيَكُونُ إِمَامَهُمْ. أَقُولُ: لَا يَسْتَقِيمُ أَنْ تُحْمَلَ الْوِلَايَةُ عَلَى الْإِمَامَةِ الَّتِي هِيَ التَّصَرُّفُ فِي أُمُورِ الْمُؤْمِنِينَ، لِأَنَّ الْمُتَصَرِّفَ الْمُسْتَقِلَّ فِي حَيَاتِهِ هُوَ هُوَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَا غَيْرُ، فَيَجِبُ أَنْ يُحْمَلَ عَلَى الْمَحَبَّةِ وَوَلَاءِ الْإِسْلَامِ وَنَحْوِهِمَا. وَقِيلَ: سَبَبُ وُرُودِ هَذَا الْحَدِيثِ كَمَا نَقَلَهُ الْحَافِظُ شَمْسُ الدِّينِ الْجَزَرِيُّ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ أَنَّ عَلِيًّا تَكَلَّمَ فيه بَعْضُ مَنْ كَانَ مَعَهُ بِالْيَمَنِ، فَلَمَّا قَضَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَجَّهَ، خَطَبَ بِهَا تَنْبِيهًا عَلَى قَدْرِهِ، وَرَدًّا عَلَى مَنْ تَكَلَّمَ فِيهِ كَبُرَيْدَةَ، كَمَا فِي الْبُخَارِيِّ. وَسَبَبُ ذَلِكَ كَمَا رَوَاهُ الذَّهَبِيُّ، وَصَحَّحَهُ أَنَّهُ خَرَجَ مَعَهُ إِلَى الْيَمَنِ، فَرَأَى مِنْهُ جَفْوَةَ نَقْصِهِ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَعَلَ يَتَغَيَّرُ وَجْهُهُ عَلَيْهِ السَّلَامُ، وَيَقُولُ: «يَا بُرَيْدَةُ أَلَسْتُ أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ؟» قُلْتُ: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: «مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ. وَفِي الْجَامِعِ: رَوَاهُ أَحْمَدُ وَابْنُ مَاجَهْ : عَنِ الْبَرَاءِ، وَأَحْمَدُ عَنْ بُرَيْدَةَ، وَالتِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَالضِّيَاءُ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ. فَفِي إِسْنَادِ الْمُصَنِّفِ الْحَدِيثَ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ إِلَى أَحْمَدَ وَالتِّرْمِذِيِّ مُسَامَحَةٌ لَاتَخْفَى، وَفِي رِوَايَةٍ لِأَحْمَدَ وَالنَّسَائِيِّ وَالْحَاكِمِ عَنْ بُرَيْدَةَ بِلَفْظِ: «مَنْ كُنْتُ وَلِيُّهُ». وَرَوَى الْمَحَامِلِيُّ فِي أَمَالِيهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَلَفْظُهُ: «عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ مَوْلَى مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ». وَالْحَاصِلُ أَنَّ هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ لَا مِرْيَةَ فِيهِ، بَلْ بَعْضُ الْحُفَّاظِ عَدَّهُ مُتَوَاتِرًا؛ إِذْ فِي رِوَايَةٍ لِأَحْمَدَ أَنَّهُ سَمِعَهُ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثُونَ صَحَابِيًّا، وَشَهِدُوا بِهِ لِعَلِيٍّ لَمَّا نُوزِعَ أَيَّامَ خِلَافَتِهِ، وَسَيَأْتِي زِيَادَةُ تَحْقِيقٍ فِي الْفَصْلِ الثَّالِثِ عِنْدَ حَدِيثِ الْبَرَاءِ".
ترجمہ:
> "(اور زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے) جن کا ذکر پہلے گزر چکا ہے (کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «جس کا میں مولا ہوں، اس کے علی مولا ہیں»)۔  
> کہا گیا کہ اس کا معنی ہے: جس سے میں محبت رکھتا ہوں، علی اس سے محبت رکھتے ہیں (لفظ "مولی" کے معنی "دوست/سرپرست" کے ہیں)۔  
> ایک قول یہ ہے کہ: جس کا میں والی ہوں، علی اس کے والی ہیں۔  
> ہمارے علماء کے ایک شارح نے یہ معنی ذکر کئے ہیں۔  
> کتاب "النہایہ" میں ہے: لفظ "مولی" بہت سے معنی رکھتا ہے، جیسے: رب، مالک، آقا، محسن، آزاد کرنے والا، مددگار، محبوب، تابعدار، ماموں، چچا زاد، حلیف، معاہد کرنے والا، داماد، غلام، آزاد کردہ، محسن علیہ۔ ان میں سے بیشتر معنی احادیث میں آئے ہیں۔ ہر معنی کو سیاقِ حدیث کے مطابق لیا جائے گا۔  
> امام شافعی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اس سے مراد "ولاءِ اسلام" (دینی رفاقت) ہے، جیسے اللہ کا فرمان: «یہ اس لیے کہ اللہ اہلِ ایمان کا مولیٰ (مددگار) ہے اور کافروں کا کوئی مددگار نہیں» (سورۃ محمد:11)۔  
> نیز حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا علی رضی اللہ عنہ سے کہنا: «آپ ہر مومن کے مولیٰ (ولی/دوست) بن گئے»۔  
> روایت ہے کہ اس حدیث کا سبب یہ تھا کہ "اسامہ بن زید" نے علی رضی اللہ عنہ سے کہا: "آپ میرے مولیٰ نہیں، میرے مولیٰ تو رسول اللہ ﷺ ہیں"، تو آپ ﷺ نے فرمایا: «جس کا میں مولا ہوں، اس کے علی مولا ہیں»۔  
> شیعہ کہتے ہیں: اس سے مراد "تصرف" (حکومت و اختیار) ہے، یعنی علی رضی اللہ عنہ ہر اس معاملے میں تصرف (اختیار) رکھتے ہیں جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رکھتے تھے، بشمول امورِ امت، لہٰذا وہ امام ہیں۔  
> ہم کہتے ہیں: یہ بات درست نہیں کہ "ولایت" کو امامت (حکومت) پر محمول کیا جائے، کیونکہ آپ ﷺ کی زندگی میں خود مختار متصرف صرف آپ ﷺ تھے۔ لہٰذا اسے "محبت اور ولائے اسلام" پر محمول کرنا چاہیے۔  
> حافظ شمس الدین جزری نے ابن اسحاق سے نقل کیا ہے کہ اس حدیث کا سبب یہ تھا کہ یمن سے واپسی پر کچھ لوگوں (مثلاً بریدہ رضی اللہ عنہ) نے علی رضی اللہ عنہ کی شکایت کی، تو آپ ﷺ نے غدیر خم میں ان کے مقام کی وضاحت فرمائی۔ جیسا کہ صحیح بخاری میں ہے۔  
> امام ذہبی کی صحیح روایت کے مطابق: بریدہ رضی اللہ عنہ یمن سے واپس ہوئے تو انہوں نے علی رضی اللہ عنہ کی جانب سے نبی ﷺ کی بے ادبی کا ذکر کیا۔ آپ ﷺ کا چہرہ متغیر ہو گیا اور فرمایا: «کیا میں مومنوں پر ان کی جانوں سے زیادہ حق نہیں رکھتا؟» میں نے کہا: کیوں نہیں! پھر آپ نے فرمایا: «جس کا میں مولا ہوں، اس کے علی مولا ہیں»۔ (مسند احمد، سنن ترمذی)۔  
> جامع کتب میں: یہ حدیث احمد، ابن ماجہ (براء بن عازب سے)، احمد (بریدہ سے)، ترمذی، نسائی، ضیاء مقدسی (زید بن ارقم سے) روایت ہوئی۔  
> خلاصہ: یہ حدیث "صحیح" ہے، بلکہ بعض حفاظ نے اسے "متواتر" قرار دیا ہے۔ احمد بن حنبل کی روایت کے مطابق "30 صحابہ" نے اسے سنا اور حضرت علی کی خلافت کے وقت گواہی دی۔ مزید تفصیل فصل سوم میں آئے گی۔"

[مرقاة المفاتيح: باب مناقب علي بن أبي طالب، ج:٩ ط: دار الفكر]




فقط واللہ اعلم






اس سے متعین طور پر معلوم ہو جاتا ہے کہ حدیث میں لفظ مولیٰ دوست اور محبوب کے معنیٰ میں استعمال ہوا ہے، اور "مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ، فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ" کا مطلب وہی ہے جو اوپر تشریح میں بیان کیا گیا ہے۔
پھر آنحضرت ﷺ کی وفات کے بعد جو کچھ ہوا، وہ اس بات کی روشن اور قطعی دلیل ہے کہ غدیر خم کے ہزاروں صحابہ کرام کے اس مجمع میں کسی فرد نے، خود حضرت علی مرتضیٰؓ اور ان کے قریب ترین حضرات نے بھی حضور کے اس ارشاد کا مطلب یہ نہیں سمجھا تھا کہ آنحضرت ﷺ اپنے بعد کے لئے ان کی خلافت و حاکمیت اور امت کی امامت عامہ کا اعلان فرما رہے ہیں، اگر خود حضرت علی مرتضیٰؓ نے اور ان کے علاوہ جس نے بھی ایسا سمجھا ہوتا، تو ان کا فرض تھا کہ جس وقت خلافت کا مسئلہ طے ہو رہا تھا تو یہ لوگ کہتے کہ ابھی صرف ستر (۷۰) بہتر (۷۲) دن پہلے غدیر خم کے موقعہ پر حضور ﷺ نے حضرت علیؓ کو اپنا خلیفہ اور جانشین بنا دیا تھا اور اہتمام سے اس کا اعلان فرمایا تھا الغرض یہ مسئلہ خود حضور ﷺ طے فرما گئے ہیں اور حضرت علیؓ کو اپنے بعد کے لئے خلیفہ نامزد فرما گئے ہیں، اب وہی حضور ﷺ کے خلیفہ اور آپ ﷺ کی جگہ امت کے حکمران اور سربراہ ہیں .... لیکن معلوم ہے کہ نہ حضرت علیؓ نے یہ بات کہی اور نہ کسی اور نے، سبھی نے حضرت ابو بکر صدیقؓ کو آنحضرت ﷺ کا خلیفہ اور جانشین تسلیم کر کے بیعت کر لی۔ بلکہ واقعہ یہ ہے کہ اگر شیعہ علماء کی یہ بات مان لی جائے کہ حضور ﷺ نے غدیر خم کے اس خطبہ میں "مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ، فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ" فرما کر حضرت علی مرتضیٰؓ کی خلافت و جانشینی صاف صاف اعلان فرمایا تھا تو معاذ اللہ حضرت علی ؓ سب سے بڑے مجرم ٹھہریں گے کہ انہوں نے حضور ﷺ کی وصال کے بعد اس کی بنیاد پر خلافت کا دعویٰ کیوں نہیں فرمایا؟ ان کا فرض تھا کہ حضور ﷺ کی اس تجویز کی تنقید اور اس فرمان و اعلان کو عمل میں لانے کے لئے میدان میں آتے اگر کوئی خطرہ تھا تو اس کا مقابلہ فرماتے۔

یہی بات حضرت حسن ؓ کے پوتے حسن مثلث نے اس شخص کے جواب میں فرمائی تھی جو حضرت علی مرتضیٰؓ کے بارے میں رافضیوں والا غالیانہ عقیدہ رکھتا تھا اور حضور ﷺ کے ارشاد: من کنت مولاہ فعلی مولاہ کے بارے میں کہتا تھا کہ اس ارشاد کے ذریعہ آنحضرت ﷺ نے حضرت علی مرتضیٰؓ کو خلیفہ نامزد فرمایا تھا، تو حضرت حسن مثلث(77ھ –145ھ) نے اس شخص سے فرمایا تھا۔
لو كان الأمر كما تقولون: أن النبي صلى الله عليه وسلم اختار عليا لهذا الأمر والقيام على الناس بعده – كان عليّ أعظم الناس جرما وخطيئة، إذ ترك أمر رسول الله صلى الله عليه وسلم أن يقوم به، ويُعذر إلى الناس.
ترجمہ:
اگر بات وہ ہو جو تم لوگ کہتے ہو کہ اللہ تعالیٰ نے اور اس کے رسول علیہ الصلوٰۃ والسلام نے علیؓ کو رسول کے بعد خلافت کے لئے منتخب اور نامزد فرما دیا تھا تو علیؓ سب سے زیادہ خطاکار اور مجرم ٹھہریں گے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے حکم کی تعمیل نہیں کی۔
[سمط النجوم العوالي في أنباء الأوائل والتوالي-لعبد الملك المعصمي:2/ 341]

اور جب اس شخص نے حضرت حسن مثلث(77ھ –145ھ) سے یہ بات سن کر اپنے عقیدہ کی دلیل میں رسول اللہ ﷺ کے ارشاد "مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ، فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ" کا حوالہ دیا تو حضرت حسن مثلث(77ھ –145ھ) نے فرمایا۔

أما والله إن رسول الله صلى الله عليه وسلم إن كان يعني بذلك الأمرة والسلطان والقيام على الناس بعده لأفصح لهم بذلك كما أفصح لهم بالصلاة والزكاة وصيام رمضان وحج البيت، ولقال لهم إن هذا ولي أمركم من بعدي فاسمعو له وأطيعوا.
ترجمہ:
سن لو! میں اللہ کی قسم کھا کے کہتا ہوں کہ اگر رسول اللہ ﷺ کا مقصد علی مرتضیٰؓ کو خلیفہ اور حاکم بنانا ہوتا تو یہ بات آپ ﷺ اسی طرح فصاحت(یعنی صراحت اور کثرت) سے فرماتے جس طرح آپ ﷺ نے نماز، زکوٰۃ، روزوں اور حج کے بارے میں فصاحت(یعنی صراحت اور کثرت) سے فرمایا ہے اور صاف صاف یوں فرماتے کہ اے لوگو! یہ علی میرے بعد ولی الامر اور حاکم ہوں گے لہٰذا تم ان کی بات سننا اور اطاعت و فرمانبرداری کرنا۔
[الأعتقاد-للبيهقي: صفحه 182 -183 ، تفسير روح المعاني-الآلوسي:6 /195]

اس کے بعد یہ بات وضاحت طلب رہ جاتی ہے کہ پھر رسول اللہ ﷺ کا مقصد اس ارشاد سے کیا تھا اور حضرت علی مرتضیٰؓ کے بارے میں اس خطاب میں آپ ﷺ نے یہ بات کس خاص وجہ سے اور کس غرض سے فرمائی۔
واقعہ یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے حجۃ الوداع سے کچھ عرصہ پہلے حضرت علی مرتضیٰؓ کو قریبا تین سو افراد کی جمیعت کے ساتھ یمن بھیج دیا تھا، وہ حجۃ الوداع میں یمن سے مکہ مکرمہ آ کر ہی رسول اللہ ﷺ سے ملے تھے، یمن کے زمانہ قیام میں ان کے چند ساتھیوں کو ان کے بعض اقدامات سے اختلاف ہوا تھا، وہ لوگ بھی حجۃ الوداع میں شرکت کے لئے ان کے ساتھ ہی مکہ مکرمہ آئے تھے، یہاں آ کر ان میں سے بعض لوگوں نے رسول اللہ ﷺ سے بھی اپنے احساس و خیال کے مطابق حضرت علیؓ کی شکایت کی (2) اور دوسرے لوگوں نے بھی ذکر کر دیا ..... بلا شبہ یہ ان کی بہت بڑی غلطی تھی۔ آنحضرت ﷺ سے جن لوگوں نے شکایت کی، حضور ﷺ نے حضرت علی مرتضیٰؓ کا عنداللہ اور دین میں جو مقام و مرتبہ ہ ان کو بتلا کر اور ان کے اقدامات کی تصویب اور توثیق فرما کر ان کے خیالات کی اصلاح فرما دی، لیکن بات دوسرے لوگوں تک بھی پہنچ چکی تھی، شیطان ایسے موقعوں سے فائدہ اٹھا کر دلوں میں کدورت اور افتراق پیدا کر دیتا ہے۔ آنحضرت ﷺ کو جب اس صورت حال کا علم ہوا تو آپ ﷺ نے ضرورت محسوس فرمائی کہ حضرت علی مرتضیٰؓ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے محبوبیت اور مقبولیت کا جو مقام حاصل ہے اس سے عام لوگوں کو آگاہ فرما دیں اور اس کے اظہار و اعلان کا اہتمام فرمائیں .... اسی مقصد سے آپ ﷺ نے غدیر خم کے اس خطبہ میں جس کے لئے آپ ﷺ نے اپنے تمام رفقاء سفر صحابہ کرامؓ کو جمع فرما دیا تھا، خاص اہتمام سے حضرت علیؓ کا ہاتھ اپنے دست مبارک میں لے کر ارشاد فرمایا تھا: "مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ، فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ، اللَّهُمَّ وَالِ مَنْ وَالَاهُ، وَعَادِ مَنْ عَادَاهُ"
جیسا کہ تفصیل سے اوپر ذکر کیا جا چکا ہے آنحضرت ﷺ کے اس ارشاد کا مطلب یہی ہے کہ میں جس کا محبوب ہوں یہ علیؓ بھی اس کے محبوب ہیں لہذا جو مجھ سے محبت کرے اس کو چاہئے وہ ان علی سے بھی محبت کرے، آگے آپ ﷺ نے دعا فرمائی، اے اللہ جو بندہ علی سے محبت و موالاۃ کا تعلق رکھے اس سے تو محبت و موالاۃ کا معاملہ فرما اور جو کوئی علی سے عداوت رکھے اس کے ساتھ عداوت کا معاملہ فرما، جیسا کہ پہلے بھی عرض کیا گیا یہ دعائیہ جملہ اس کا واضح قرینہ ہے کہ اس حدیث میں مولیٰ کا لفظ محبوب ہے اور دوست کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ الغرض رسول اللہ ﷺ کے اس ارشاد: "مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ، فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ ..... الخ" کا مسئلہ امامت و خلافت سے کوئی تعلق نہیں۔
امید ہے کہ یہاں تک جو کچھ اس مسئلہ کے بارے میں عرض کیا گیا وہ ہر صاحب ایمان سلیم القلب کے لئے ان شاء اللہ کافی و شافی ہو گا۔
إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَذِكْرَىٰ لِمَن كَانَ لَهُ قَلْبٌ أَوْ أَلْقَى السَّمْعَ وَهُوَ شَهِيدٌ.
ترجمہ:
یقینا اس میں اس شخص کے لیے بڑی نصیحت کا سامان ہے جس کے پاس دل ہو، یا جو حاضر دماغ بن کر کان دھرے۔
[معارف الحدیث»حدیث نمبر: 2068]

[مشکوٰۃ المصابیح» کتاب:-كتاب المناقب» باب:-علی بن ابی طالب ؓ کے مناقب کا بیان» خج حدیث نمبر: 6103]




وضاحت:
یہ حدیث نبی کریم ﷺ نے حجۃ الوداع سے لوٹتے وقت غدیرخم میں بیان فرمائی، یہ مکہ اور مدینہ کے بیچ جحفہ میں ایک مقام کا نام ہے، اس حدیث سے علی ؓ کی خلافت بلافصل پر استدلال درست نہیں:
(١) کیونکہ اس کے لئے شیعہ مذہب میں حدیث متواتر چاہیے، اور یہ متواتر نہیں ہے۔
(٢) ولی اور مولیٰ مشترک المعنی لفظ ہیں، اس لئے کوئی خاص معنی متعین ہو یہ ممنوع ہے۔
(٣) امام معہود و معلوم کے لئے مولیٰ کا اطلاق اہل زبان کے یہاں مسلم نہیں۔
(٤) خلفاء ثلاثہ (ابوبکر، عمر، عثمان ؓ) کی تقدیم اجماعی مسئلہ ہے، اور اس اجماع میں خود حضرت علی ؓ شامل ہیں۔
(٥) اگر اس سے خلافت بلافصل مراد ہوتی تو صحابہ کرام ؓ ہرگز اس سے عُدُول(نافرمانی، سرتابی، انکار، روگردانی) نہ کرتے، وہ اہل زبان اور منشاء نبوی کو ہم سے بہتر جاننے والے تھے۔
(٦) اس حدیث میں اس بات پر تنبیہ ہے کہ علی ؓ سے محبت کی جائے اور ان کے بغض سے اجتناب کیا جائے، اور یہ اہل سنت والجماعت کا اجماعی عقیدہ ہے کہ سارے صحابہ کرام ؓ بالخصوص امہات المومنین اور آل رسول سے محبت کی جائے، اور ان سے بغض و عداوت کا معاملہ نہ رکھا جائے۔



نوٹ:
(١) 9 ذی الحج کو "یوم عرفہ" کہتے ہیں، 18 ذی الحج کو نہیں جب غدیرِ خم کا خطبہ فرمایا گیا.
(٢) عرفہ میں وقوف کرنے والوں کے لیے عید(الأضحى) کا دن ہے:
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
یوم عرفہ اور یوم النحر(يعني قربانی کا دن) اور ایامِ تشریق (یعنی ١١ ، ١٢ ، ١٣ ذی الحجہ کے دن) ہم اہل اسلام کی عید کےدن ہیں اوریہ سب کھانے پینے کے دن ہیں۔
[سنن نسائی:3007، سنن ابوداؤد:2419، سنن الترمذی:773]






(3)حضرت علی بن ابی طالب ؓ کی روایت:

حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ الْكِنْدِيِّ عَنْ زَاذَانَ أَبِي عُمَرَ قَالَ سَمِعْتُ عَلِيًّا فِي الرَّحْبَةِ وَهُوَ يَنْشُدُ النَّاسَ مَنْ شَهِدَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ غَدِيرِ خُمٍّ وَهُوَ يَقُولُ مَا قَالَ فَقَامَ ثَلَاثَةَ عَشَرَ رَجُلًا فَشَهِدُوا أَنَّهُمْ سَمِعُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَقُولُ مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ
ترجمہ:
حضرت زاذان کہتے ہیں کہ میں نے صحن مسجد میں حضرت علی ؓ کو لوگوں کو اللہ کی قسم دے کر یہ پوچھتے ہوئے سنا کہ غدیر خُمّ کے موقع پر نبی ﷺ کی خدمت میں کون حاضر تھا اور کس نے نبی ﷺ کا فرمان سنا تھا؟ اس پر تیرہ آدمی کھڑے ہوگئے اور ان سب نے گواہی دی کہ انہوں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جس کا میں مولیٰ ہوں علی بھی اس کے مولیٰ ہیں۔
[مسند احمد» حدیث نمبر: 606]




دوسری روایت:

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ يَعْنِي ابْنَ أَبِي صَالِحٍ الْأَسْلَمِيَّ حَدَّثَنِي زِيَادُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَنْشُدُ النَّاسَ فَقَالَ أَنْشُدُ اللَّهَ رَجُلًا مُسْلِمًا سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ يَوْمَ غَدِيرِ خُمٍّ مَا قَالَ فَقَامَ اثْنَا عَشَرَ بَدْرِيًّا فَشَهِدُوا
ترجمہ:
حضرت زاذان کہتے ہیں کہ میں نے صحن مسجد میں حضرت علی ؓ کو لوگوں کو اللہ کی قسم دے کر یہ پوچھتے ہوئے سنا کہ غدیر خُمّ کے موقع پر نبی ﷺ کی خدمت میں کون حاضر تھا اور کس نے نبی ﷺ کا فرمان سنا تھا؟ اس پر بارہ بدری صحابہ ؓ کھڑے ہوگئے اور ان سب نے گواہی دی۔
[مسند احمد»حدیث نمبر: 633]

رسول الله ﷺ نے مجمعے میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں فرمایا:
جس کا میں مولا، اسکا علی مولا۔ 

یہ صرف رسول اللہ ﷺ نے ہی نہیں فرمایا بلکہ صحابہ میں بھی آپ کو مولا کہا جاتا تھا، چنانچہ:

رباح بن الحارث فرماتے ہیں ایک مرتبہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ ایک کھلی جگہ پر تشریف فرما تھے پر کہ ایک قافلہ آیا اور کہنے لگا:
السلام علیک یا مولانا (اے ہمارے مولا آپ پر سلام ہو)۔
حضرت علی نے کہا:
میں تمھارا مولا کیسے ہوسکتا ہوں جبکہ تم قوم ِعرب ہو۔
انہوں نے جواب دیا کہ ہم نے غدیر خوم کے موقع پر رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا تھا:
جسکا میں مولا اسکا علی مولا۔
راوی کہتا میں نے اس قافلے کے جانے کے بعد اسے قافلے کا پیچھا کیا اور پوچھا یہ کون ہیں معلوم ہوا کہ یہ انصار کا ایک گروہ ہے جس میں ابو ایوب الانصاری رضی اللہ عنہ بھی ہیں۔

مسند احمد 23563، 38/541-542، شیخ ارناوط نے اسکی سند کو صحیح قرار دیا ہے۔ امام ھیثمی اس واقعہ کے مختلف طرق نقل کرنے بعد فرماتے ہیں:
وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ
(مسند احمد کے راوی ثقہ ہیں)۔
[مجمع الزوائد: 14610، 9/104-105]
یہ روایت معجم الصحابة 4/364 للبغوي میں بھی صحیح سند سے مروی ہے۔

نیز بعض علماء کا یہ کہنا اس میں سیدنا زید رضی اللہ عنہ بھی شامل ہے، تو یہ نہات مظالطہ آمیز اور سطحی قسم کی بات ہے کیونکہ نبی ﷺ نے فرمایا جس کا میں مولا ہوں اسکا علی مولا ہے تو نبی کریم ﷺ کو مولا بنانا واجب ہے اسکے بغیر چارہ ہی نہیں۔ جبکہ سیدنا زید رضی اللہ عنہ کو فرمایا تھا آپ ہمارے مولا ہے جو کہ سیدنا علی والے معاملے سے کم درجہ کا معاملہ ہے۔ تو یہ وجوب کا درجہ رکھتا ہے۔ من کنت مولاہ میں یہ شرط ہے اور فھذا علي مولاہ اسکی جزا ہے جس سے اس میں لزوم کا معنی پیدا ہوجاتا ہے۔

امام ابن شاھین(م385ھ) فرماتے ہیں:
تَفَرَّدَ عَلِيٌّ بِهَذِهِ الْفَضِيلَةِ، لَمْ يَشْرَكْهُ فِيهَا أَحَدٌ
ترجمہ:
سیدنا علی رضی اللہ عنہ اس فضیلت میں منفرد ہیں اس میں کوئی انکے ساتھ شریک نہیں۔
[شرح مذاھب اھل السنة 1/103]


تیسری روایت:

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَكِيمٍ الْأَوْدِيُّ أَنْبَأَنَا شَرِيكٌ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ وَهْبٍ وَعَنْ زَيْدِ بْنِ يُثَيْعٍ قَالَا نَشَدَ عَلِيٌّ النَّاسَ فِي الرَّحَبَةِ مَنْ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ يَوْمَ غَدِيرِ خُمٍّ إِلَّا قَامَ قَالَ فَقَامَ مِنْ قِبَلِ سَعِيدٍ سِتَّةٌ وَمِنْ قِبَلِ زَيْدٍ سِتَّةٌ فَشَهِدُوا أَنَّهُمْ سَمِعُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لِعَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَوْمَ غَدِيرِ خُمٍّ أَلَيْسَ اللَّهُ أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ قَالُوا بَلَى قَالَ اللَّهُمَّ مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ اللَّهُمَّ وَالِ مَنْ وَالَاهُ وَعَادِ مَنْ عَادَاهُ حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَكِيمٍ أَنْبَأَنَا شَرِيكٌ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ عَمْرٍو ذِي مُرٍّ بِمِثْلِ حَدِيثِ أَبِي إِسْحَاقَ يَعْنِي عَنْ سَعِيدٍ وَزَيْدٍ وَزَادَ فِيهِ وَانْصُرْ مَنْ نَصَرَهُ وَاخْذُلْ مَنْ خَذَلَهُ حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا عَلِيٌّ أَنْبَأَنَا شَرِيكٌ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ
ترجمہ:
حضرت سعید بن وہب اور زید بن یثیع کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت علی ؓ نے صحن کوفہ میں لوگوں کو قسم دے کر فرمایا کہ جس شخص نے غدیر خُمّ کے موقع پر نبی ﷺ کا میرے حوالے سے کوئی ارشاد سنا ہو تو وہ کھڑا ہوجائے، اس پر سعید کی رائے کے مطابق بھی چھ آدمی کھڑے ہوگئے اور زید کی رائے کے مطابق بھی چھ آدمی کھڑے ہوگئے اور ان سب نے اس بات کی گواہی دی کہ انہوں نے نبی ﷺ کو غدیر خم کے موقع پر حضرت علی ؓ کے متعلق یہ فرماتے ہوئے سنا تھا کہ کیا اللہ کو مومنین پر کوئی حق نہیں؟ سب نے عرض کیا کیوں نہیں! فرمایا: اے اللہ! جس کا میں مولیٰ ہوں، علی بھی اس کے مولیٰ ہیں اے اللہ جو علی سے دوستی کرے تو اس سے دوستی فرما اور جو اس سے دشمنی کرے تو اس سے دشمنی فرما۔ گذشتہ روایت ایک دوسری سند سے بھی مروی ہے کہ جس کے آخر میں یہ اضافہ بھی ہے کہ جو علی کی مدد کرے تو اس کی مدد فرما اور جو اس سے دشمنی کرے تو اس سے دشمنی فرما۔ گذشتہ روایت اس دوسری سند سے حضرت زید بن ارقم ؓ سے بھی مروی ہے۔
[مسند احمد»حدیث نمبر: 906]







چوتھی روایت:

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ أَرْقَمَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى قَالَ شَهِدْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي الرَّحَبَةِ يَنْشُدُ النَّاسَ أَنْشُدُ اللَّهَ مَنْ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ يَوْمَ غَدِيرِ خُمٍّ مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ لَمَّا قَامَ فَشَهِدَ قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ فَقَامَ اثْنَا عَشَرَ بَدْرِيًّا كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى أَحَدِهِمْ فَقَالُوا نَشْهَدُ أَنَّا سَمِعْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ يَوْمَ غَدِيرِ خُمٍّ أَلَسْتُ أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ وَأَزْوَاجِي أُمَّهَاتُهُمْ فَقُلْنَا بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ فَمَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ اللَّهُمَّ وَالِ مَنْ وَالَاهُ وَعَادِ مَنْ عَادَاهُ
ترجمہ:
حضرت عبدالرحمن بن ابی لیلی کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت علی ؓ نے صحن کوفہ میں لوگوں کو قسم دے کر فرمایا کہ جس نے غدیر خُمّ کے موقع پر نبی ﷺ کا یہ ارشاد مبارک سنا ہو تو وہ کھڑا ہوجائے، کہ جس کا میں مولیٰ ہوں، علی بھی اس کے مولیٰ ہیں، اس پر بارہ بدری صحابہ ؓ کھڑے ہوگئے اور ان سب نے اس بات کی گواہی دی کہ ہم سب نے نبی ﷺ کو غدیر خم کے موقع پر حضرت علی ؓ کے متعلق یہ فرماتے ہوئے سنا تھا کہ کیا اللہ کو مومنین پر کوئی حق نہیں؟ سب نے عرض کیا کیوں نہیں! فرمایا جس کا میں مولیٰ ہوں، علی بھی اس کے مولیٰ ہیں اے اللہ جو علی سے دوستی کرے تو اس سے دوستی فرما اور جو اس سے دشمنی کرے تو اس سے دشمنی فرما۔
[مسند احمد»حدیث نمبر: 915]





پانچویں روایت:

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُمَرَ الْوَكِيعِيُّ حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ عُقْبَةَ بْنِ نِزَارٍ الْعَنْسِيُّ حَدَّثَنِي سِمَاكُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ الْوَلِيدِ الْعَبْسِيُّ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى فَحَدَّثَنِي أَنَّهُ شَهِدَ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي الرَّحَبَةِ قَالَ أَنْشُدُ اللَّهَ رَجُلًا سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَشَهِدَهُ يَوْمَ غَدِيرِ خُمٍّ إِلَّا قَامَ وَلَا يَقُومُ إِلَّا مَنْ قَدْ رَآهُ فَقَامَ اثْنَا عَشَرَ رَجُلًا فَقَالُوا قَدْ رَأَيْنَاهُ وَسَمِعْنَاهُ حَيْثُ أَخَذَ بِيَدِهِ يَقُولُ اللَّهُمَّ وَالِ مَنْ وَالَاهُ وَعَادِ مَنْ عَادَاهُ وَانْصُرْ مَنْ نَصَرَهُ وَاخْذُلْ مَنْ خَذَلَهُ فَقَامَ إِلَّا ثَلَاثَةٌ لَمْ يَقُومُوا فَدَعَا عَلَيْهِمْ فَأَصَابَتْهُمْ دَعْوَتُهُ
ترجمہ:
حضرت عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت علی ؓ نے صحن کوفہ میں لوگوں کو قسم دے کر فرمایا: جس نے غدیر خم کے موقع پر نبی ﷺ سے میرے حوالے سے کوئی ارشاد سنا ہو تو وہ کھڑا ہوجائے اور وہی کھڑا ہو جس نے نبی ﷺ کو دیکھا ہو، اس پر بارہ آدمی کھڑے ہوگئے اور کہنے لگے کہ ہم نے خود دیکھا کہ نبی ﷺ نے حضرت علی ؓ کا ہاتھ پکڑا اور ہم نے انہیں یہ فرماتے ہوئے سنا، اے اللہ جو علی سے دوستی کرے تو اس سے دوستی فرما اور جو اس سے دشمنی کرے تو اس سے دشمنی فرما جو علی کی مدد کرے تو اس کی مدد فرما اور جو اسے تنہا چھوڑے تو اسے تنہا فرما، اس موقع پر تین آدمی ایسے بھی تھے جو کھڑے نہیں ہوئے، حضرت علی ؓ نے انہیں بد دعا دی اور وہ اس کا شکار ہوگئے۔
[مسند احمد»حدیث نمبر: 918]



چھٹی روایت:

حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ وَأَبُو نُعَيْمٍ الْمَعْنَى قَالَا ثَنَا فِطْرٌ عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ قَالَ جَمَعَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ النَّاسَ فِي الرَّحَبَةِ ثُمَّ قَالَ لَهُمْ أَنْشُدُ اللَّهَ كُلَّ امْرِئٍ مُسْلِمٍ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ يَوْمَ غَدِيرِ خُمٍّ مَا سَمِعَ لَمَّا قَامَ فَقَامَ ثَلَاثُونَ مِنْ النَّاسِ وَقَالَ أَبُو نُعَيْمٍ فَقَامَ نَاسٌ كَثِيرٌ فَشَهِدُوا حِينَ أَخَذَهُ بِيَدِهِ فَقَالَ لِلنَّاسِ أَتَعْلَمُونَ أَنِّي أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ قَالُوا نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَهَذَا مَوْلَاهُ اللَّهُمَّ وَالِ مَنْ وَالَاهُ وَعَادِ مَنْ عَادَاهُ قَالَ فَخَرَجْتُ وَكَأَنَّ فِي نَفْسِي شَيْئًا فَلَقِيتُ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ فَقُلْتُ لَهُ إِنِّي سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ يَقُولُ كَذَا وَكَذَا قَالَ فَمَا تُنْكِرُ قَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ذَلِكَ لَهُ۔
ترجمہ:
حضرت ابوالطفیل کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت علی ؓ نے صحن کوفہ میں لوگوں کو جمع کیا اور فرمایا جس مسلمان نے غدیرخم کے موقع پر نبی کریم ﷺ کا ارشاد سنا ہو میں اسے قسم دے کر کہتاہوں کہ اپنی جگہ پر کھڑا ہوجائے چناچہ تیس آدمی کھڑے ہوگئے کہ نبی کریم ﷺ نے حضرت علی ؓ کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا کیا تم لوگ نہیں جانتے کہ مجھے مسلمانوں پر ان کی اپنی جانوں سے بھی زیادہ حق حاصل ہے؟ صحابہ ؓ نے عرض کیا کیوں نہیں پھر نبی کریم ﷺ نے حضرت علی ؓ کا ہاتھ دبا کر فرمایا جس کا میں محبوب ہوں علی بھی اس کے محبوب ہونے چاہئیں اے اللہ، اے اللہ! جو علی ؓ سے محبت کرتا ہے تو اس سے محبت فرما اور جو اس سے دشمنی کرتا ہے تو اس سے دشمنی فرما میں وہاں سے نکلا تو میرے دل میں اس کے متعلق کچھ شکوک و شبہات تھے چناچہ میں حضرت زید بن ارقم ؓ سے ملا اور عرض کیا کہ میں نے حضرت علی ؓ کو اس اس طرح کہتے ہوئے سنا ہے انہوں نے فرمایا تمہیں اس پر تعجب کیوں ہورہا ہے؟ میں نے خود نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے۔
[مسند احمد»حدیث نمبر: 18501]






(4)حضرت زید بن ارقم ؓ کی روایت:

حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ يَعْنِي ابْنَ أَبِي سُلَيْمَانَ عَنْ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ قَالَ سَأَلْتُ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ فَقُلْتُ لَهُ إِنَّ خَتَنًا لِي حَدَّثَنِي عَنْكَ بِحَدِيثٍ فِي شَأْنِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ يَوْمَ غَدِيرِ خُمٍّ فَأَنَا أُحِبُّ أَنْ أَسْمَعَهُ مِنْكَ فَقَالَ إِنَّكُمْ مَعْشَرَ أَهْلِ الْعِرَاقِ فِيكُمْ مَا فِيكُمْ فَقُلْتُ لَهُ لَيْسَ عَلَيْكَ مِنِّي بَأْسٌ فَقَالَ نَعَمْ كُنَّا بِالْجُحْفَةِ فَخَرْجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْنَا ظُهْرًا وَهُوَ آخِذٌ بِعَضُدِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ فَقَالَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ أَلَسْتُمْ تَعْلَمُونَ أَنِّي أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ قَالُوا بَلَى قَالَ فَمَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ قَالَ فَقُلْتُ لَهُ هَلْ قَالَ اللَّهُمَّ وَالِ مَنْ وَالَاهُ وَعَادِ مَنْ عَادَاهُ قَالَ إِنَّمَا أُخْبِرُكَ كَمَا سَمِعْتُ۔
ترجمہ:
عطیہ عوفی کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت زید بن ارقم ؓ کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان سے عرض کیا کہ میرے ایک داماد نے حضرت علی ؓ کی شان میں غدیرخم کے موقع کی حدیث آپ کے حوالے سے میرے سامنے بیان کی ہے، میں چاہتا ہوں کہ براہ راست آپ سے اس کی سماعت کروں؟ انہوں نے فرمایا اے اہل عراق! مجھے تم سے اندیشہ ہے میں نے عرض کیا کہ میری طرف سے آپ بےفکر رہیں انہوں نے کہا اچھا ایک مرتبہ ہم لوگ مقام جحفہ میں تھے کہ ظہر کے وقت نبی کریم ﷺ حضرت علی ؓ کا ہاتھ پکڑے ہوئے ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا لوگو! کیا تم لوگ نہیں جانتے کہ مجھے مسلمانوں پر ان کی اپنی جانوں سے بھی زیادہ حق حاصل ہے؟ صحابہ کرام ؓ نے عرض کیا کیوں نہیں، پھر نبی کریم ﷺ نے حضرت علی ؓ کا ہاتھ دبا کر فرمایا جس کا میں محبوب ہوں علی بھی اس کے محبوب ہونے چاہئیں میں نے عرض کیا کہ نبی کریم ﷺ نے یہ فرمایا تھا اے اللہ! جو علی ؓ سے محبت کرتا ہے تو اس سے محبت فرما اور جو اس سے دشمنی کرتا ہے تو اس سے دشمنی فرما؟ انہوں نے فرمایا میں نے جو سنا تھا وہ تمہیں بتادیا۔
[مسند احمد»حدیث نمبر: 18480]




دوسری روایت:

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنِ الْمُغِيرَةِ عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ عَنْ مَيْمُونٍ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ زَيْدُ بْنُ أَرْقَمَ وَأَنَا أَسْمَعُ نَزَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِوَادٍ يُقَالُ لَهُ وَادِي خُمٍّ فَأَمَرَ بِالصَّلَاةِ فَصَلَّاهَا بِهَجِيرٍ قَالَ فَخَطَبَنَا وَظُلِّلَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِثَوْبٍ عَلَى شَجَرَةِ سَمُرَةٍ مِنْ الشَّمْسِ فَقَالَ أَلَسْتُمْ تَعْلَمُونَ أَوَلَسْتُمْ تَشْهَدُونَ أَنِّي أَوْلَى بِكُلِّ مُؤْمِنٍ مِنْ نَفْسِهِ قَالُوا بَلَى قَالَ فَمَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَإِنَّ عَلِيًّا مَوْلَاهُ اللَّهُمَّ عَادِ مَنْ عَادَاهُ وَوَالِ مَنْ وَالَاهُ۔
ترجمہ:
حضرت زید بن ارقم ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ کسی سفر میں نبی کریم ﷺ کے ہمراہ تھے ہم نے "غدیر خم" کے مقام پر پڑاؤ ڈالا، کچھ دیر بعد " الصلوٰۃ جامعۃ " کی منادی کردی گئی دو درختوں کے نیچے نبی کریم ﷺ کے لئے جگہ تیار کردی گئی نبی کریم ﷺ نے نماز ظہر پڑھائی اور حضرت علی ؓ کا ہاتھ پکڑ کردو مرتبہ فرمایا کیا تم لوگ نہیں جانتے کہ مجھے مسلمانوں پر ان کی اپنی جانوں سے بھی زیادہ حق حاصل ہے؟ صحابہ ؓ نے عرض کیا کیوں نہیں پھر نبی کریم ﷺ نے حضرت علی ؓ کا ہاتھ دبا کر فرمایا جس کا میں محبوب ہوں علی بھی اس کے محبوب ہونے چاہئیں اے اللہ، اے اللہ! جو علی ؓ سے محبت کرتا ہے تو اس سے محبت فرما اور جو اس سے دشمنی کرتا ہے تو اس سے دشمنی فرما۔
[مسند احمد»حدیث نمبر: 18523]



شرح المناوي:
(من كنت مولاه فعلي مولاه) أي وليه وناصره ولاء الإسلام {ذلك بأن الله مولى الذين آمنوا} وخصه لمزيد علمه ودقائق مستنبطاته وفهمه وحسن سيرته وصفاء سريرته وكرم شيمته ورسوخ قدمه قيل سببه أن أسامة قال لعلي: لست مولاي إنما مولاي رسول الله فقال النبي صلى الله تعالى عليه وعلى آله وسلم ذلك ومن الغريب ما ذكره في لسان الميزان في ترجمة اسفنديار بن الموفق الواعظ أنه كان يتشيع وكان متواضعا عابدا زاهدا عن ابن الجوزي ⦗٢١٨⦘ أنه حكى عن بعض العدول أنه حضر مجلسه فقال لما قال رسول الله صلى الله عليه وسلم من كنت مولاه فعلي مولاه تغير وجه أبي بكر وعمر ونزلت {فلما رأوه زلفة سيئت وجوه الذين كفروا} الآية هكذا ذكره الحافظ في اللسان بنصه ولم أذكره إلا للتعجب من هذا الضلال وأستغفر الله قال ابن حجر: حديث كثير الطرق جدا استوعبها ابن عقدة في كتاب مفرد منها صحاح ومنها حسان وفي بعضها قال ذلك يوم غدير خم وزاد البزار في رواية " اللهم وال من والاه وعاد من عاداه وأحب من أحبه وأبغض من أبغضه وانصر من نصره واخذل من خذله " ولما سمع أبو بكر وعمر ذلك قالا فيما خرجه الدارقطني عن سعد بن أبي وقاص " أمسيت يا بن أبي طالب مولى كل مؤمن ومؤمنة " وأخرج أيضا قيل لعمر إنك تصنع بعلي شيئا لا تصنعه بأحد من الصحابة قال إنه مولاي وفي تفسير الثعلبي عن ابن عيينة أن النبي صلى الله عليه وعلى آله وسلم لما قال ذلك طار في الآفاق فبلغ الحارث بن النعمان فأتى رسول الله صلى الله تعالى عليه وآله وسلم فقال: يا محمد أمرتنا عن الله بالشهادتين فقبلنا وبالصلاة والزكاة والصيام والحج فقبلنا ثم لم ترض حتى رفعت بضبعي ابن عمك تفضله علينا فهذا شيء منك أم من الله فقال: " والذي لا إله إلا هو إنه من الله " فولى وهو يقول: اللهم إن كان ما يقوله محمد صلى الله عليه وسلم حقا فأمطر علينا حجارة من السماء أو اتتنا بعذاب أليم فما وصل لراحلته حتى رماه الله بحجر فسقط على هامته فخرج من دبره فقتله ولا حجة في ذلك كله على تفضيله على الشيخين كما هو مقرر بمحله من فن الأصول

(حم هـ عن البراء) بن عازب (حم عن بريدة) بن الحصيب (ت ن والضياء) المقدسي (عن زيد بن أرقم) قال الهيثمي: رجال أحمد ثقات وقال في موضع آخر: رجاله رجال الصحيح وقال المصنف: حديث متواتر

ترجمہ:

"جس کا میں مولا ہوں، اس کا علی مولا ہے" یعنی علی اس کے ولی اور مددگار ہیں، "ولاءِ اسلام" (دینی محبت و سرپرستی) کے طور پر، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: "یہ اس لیے کہ اللہ ایمان والوں کا مولیٰ (مددگار) ہے" (سورہ محمد: 11)۔

اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علیؓ کو اس لیے خصوصیت دی کہ ان کا علم وسیع تھا، ان کے استنباطات باریک تھے، ان کی فہم گہری تھی، ان کی سیرت اچھی تھی، ان کا باطن صاف تھا، ان کی عادات کریمانہ تھیں، اور ان کا قدم (دین میں) مضبوط تھا۔

سبب حدیث (اسامہ بن زید کا واقعہ)
کہا جاتا ہے کہ اس حدیث کا سبب یہ تھا کہ حضرت اسامہ بن زید نے حضرت علیؓ سے کہا: "آپ میرے مولا نہیں ہیں، میرے مولا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں"، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ (حدیث) ارشاد فرمائی۔

ایک عجیب و غریب روایت (جھوٹی اور موضوع)
اور عجیب بات وہ ہے جو "لسان المیزان" میں "اسفندیار بن الموفق الواعظ" کے ترجمے میں ذکر کی گئی ہے کہ وہ متشع (شیعہ مائل) تھا، لیکن متواضع، عابد اور زاہد تھا۔ ابن جوزی نے بعض عادل افراد سے حکایت کی ہے کہ وہ اس کے مجلس میں حاضر ہوا، تو اس نے کہا: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "جس کا میں مولا ہوں، اس کا علی مولا ہے"، تو ابوبکر اور عمر کا چہرہ بدل گیا اور یہ آیت نازل ہوئی: "پھر جب انہوں نے اسے قریب دیکھا تو کافروں کے چہرے بری ہو گئے" (سورہ ملک: 27)۔

حافظ ابن حجر (العسقلانی) نے "لسان المیزان" میں یہی عبارت نقل کی ہے۔ مَیں نے (علامہ مناوی نے) اسے صرف اس غلطی اور ضلالت پر تعجب کرنے کے لیے ذکر کیا ہے، اور میں اللہ سے مغفرت طلب کرتا ہوں۔

حافظ ابن حجر کا قول (حدیث کی کثرت طرق)
حافظ ابن حجر فرماتے ہیں: یہ حدیث بہت زیادہ طرق سے مروی ہے، جسے ابن عقدہ نے ایک علیحدہ کتاب میں جمع کیا ہے۔ ان میں سے بعض صحیح ہیں اور بعض حسن۔ ان میں سے بعض روایات میں ہے کہ یہ واقعہ 'یوم غدیر خم' کا ہے۔

امام بزار کا اضافہ
امام بزار نے اپنی روایت میں یہ اضافہ کیا ہے: "اے اللہ! جو اس سے دوستی کرے، اس سے دوستی کر، جو اس سے دشمنی کرے، اس سے دشمنی کر، جو اس سے محبت کرے، اس سے محبت کر، جو اس سے بغض رکھے، اس سے بغض رکھ، جو اس کی مدد کرے، اس کی مدد کر، اور جو اسے چھوڑ دے، اسے چھوڑ دے۔"

حضرت ابوبکر و عمر کا ردعمل
جب حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما نے یہ سنا، تو انہوں نے (جیسا کہ دارقطنی نے سعد بن ابی وقاص سے روایت کیا ہے) کہا: "اے ابن ابی طالب! آپ ہر مومن مرد اور مومن عورت کے مولا بن گئے۔"

اور دارقطنی نے یہ بھی روایت کیا ہے کہ حضرت عمر سے کہا گیا: "آپ علی کے ساتھ ایسا سلوک کرتے ہیں جو آپ صحابہ میں سے کسی اور کے ساتھ نہیں کرتے؟" تو انہوں نے جواب دیا: "بیشک وہ میرے مولا ہیں۔"

حارث بن نعمان کا واقعہ (تفصیل سے تشریح میں)
اور تفسیر الثعلبی میں ابن عیینہ سے روایت ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ (حدیث) فرمائی تو یہ خبر دنیا بھر میں پھیل گئی، یہاں تک کہ حارث بن نعمان تک پہنچی۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا:

"اے محمد! آپ نے ہمیں اللہ کی طرف سے دو شہادتوں کا حکم دیا، ہم نے قبول کیا۔ نماز، زکوة، روزہ اور حج کا حکم دیا، ہم نے قبول کیا۔ پھر آپ راضی نہ ہوئے یہاں تک کہ آپ نے اپنے چچا زاد بھائی (علی) کا بازو اٹھا کر ہم پر فضیلت دی۔ یہ آپ کی طرف سے ہے یا اللہ کی طرف سے؟"

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "اس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں! یہ اللہ کی طرف سے ہے۔"

تو وہ (حارث) واپس پلٹا اور کہنے لگا: "اے اللہ! اگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم جو کہہ رہے ہیں وہ سچ ہے، تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا دے یا ہم پر کوئی دردناک عذاب لے آ۔"

اپنی سواری تک پہنچنے سے پہلے ہی اللہ نے اسے ایک پتھر مارا جو اس کے سر پر لگا اور نیچے سے نکل گیا، اور وہ مر گیا۔

علامہ مناوی کا اہم نکتہ
لیکن اس سب میں (حارث کے واقعہ میں بھی) کوئی دلیل نہیں ہے کہ علیؓ کو شیخین (ابوبکر و عمر) پر فضیلت حاصل ہے، جیسا کہ اصولِ فقہ کی اپنی جگہ پر یہ بات ثابت ہے۔

تخریج (اسناد)
یہ حدیث مسند احمد میں براء بن عازب سے، مسند احمد ہی میں بریدہ بن الحصیب سے، اور سنن ترمذی، سنن نسائی اور الضیاء المقدسی نے زید بن ارقم سے روایت کی ہے۔

محدثین کے اقوال
امام ہیثمی فرماتے ہیں: "مسند احمد کے رجال ثقہ ہیں۔" اور دوسری جگہ فرماتے ہیں: "اس کے رجال صحیح (بخاری و مسلم) کے رجال ہیں۔"

امام سیوطی (مصنف الجامع الصغیر) فرماتے ہیں: یہ حدیث متواتر ہے۔







خطبہ غدیرِ خُمّ» حدیثِ ثقلین(دو بھاری چیزیں)۔

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَشُجَاعُ بْنُ مَخْلَدٍ جَمِيعًا عَنْ ابْنِ عُلَيَّةَ قَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنِي أَبُو حَيَّانَ حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ حَيَّانَ قَالَ انْطَلَقْتُ أَنَا وَحُصَيْنُ بْنُ سَبْرَةَ وَعُمَرُ بْنُ مُسْلِمٍ إِلَی زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ فَلَمَّا جَلَسْنَا إِلَيْهِ قَالَ لَهُ حُصَيْنٌ لَقَدْ لَقِيتَ يَا زَيْدُ خَيْرًا کَثِيرًا رَأَيْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسَمِعْتَ حَدِيثَهُ وَغَزَوْتَ مَعَهُ وَصَلَّيْتَ خَلْفَهُ لَقَدْ لَقِيتَ يَا زَيْدُ خَيْرًا کَثِيرًا حَدِّثْنَا يَا زَيْدُ مَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَا ابْنَ أَخِي وَاللَّهِ لَقَدْ کَبِرَتْ سِنِّي وَقَدُمَ عَهْدِي وَنَسِيتُ بَعْضَ الَّذِي کُنْتُ أَعِي مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَا حَدَّثْتُکُمْ فَاقْبَلُوا وَمَا لَا فَلَا تُکَلِّفُونِيهِ ثُمَّ قَالَ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا فِينَا خَطِيبًا بِمَائٍ يُدْعَی خُمًّا بَيْنَ مَکَّةَ وَالْمَدِينَةِ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَی عَلَيْهِ وَوَعَظَ وَذَکَّرَ ثُمَّ قَالَ أَمَّا بَعْدُ أَلَا أَيُّهَا النَّاسُ فَإِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ يُوشِکُ أَنْ يَأْتِيَ رَسُولُ رَبِّي فَأُجِيبَ وَأَنَا تَارِکٌ فِيکُمْ ثَقَلَيْنِ أَوَّلُهُمَا کِتَابُ اللَّهِ فِيهِ الْهُدَی وَالنُّورُ فَخُذُوا بِکِتَابِ اللَّهِ وَاسْتَمْسِکُوا بِهِ فَحَثَّ عَلَی کِتَابِ اللَّهِ وَرَغَّبَ فِيهِ ثُمَّ قَالَ وَأَهْلُ بَيْتِي أُذَکِّرُکُمْ اللَّهَ فِي أَهْلِ بَيْتِي أُذَکِّرُکُمْ اللَّهَ فِي أَهْلِ بَيْتِي أُذَکِّرُکُمْ اللَّهَ فِي أَهْلِ بَيْتِي فَقَالَ لَهُ حُصَيْنٌ وَمَنْ أَهْلُ بَيْتِهِ يَا زَيْدُ أَلَيْسَ نِسَاؤُهُ مِنْ أَهْلِ بَيْتِهِ قَالَ نِسَاؤُهُ مِنْ أَهْلِ بَيْتِهِ وَلَکِنْ أَهْلُ بَيْتِهِ مَنْ حُرِمَ الصَّدَقَةَ بَعْدَهُ قَالَ وَمَنْ هُمْ قَالَ هُمْ آلُ عَلِيٍّ وَآلُ عَقِيلٍ وَآلُ جَعْفَرٍ وَآلُ عَبَّاسٍ قَالَ کُلُّ هَؤُلَائِ حُرِمَ الصَّدَقَةَ قَالَ نَعَمْ
ترجمہ:
زہیر بن حرب، شجاع بن مخلد ابن علیہ، زہیر اسماعیل بن ابراہیم، ابوحیان حضرت یزید بن حیان ؓ فرماتے ہیں کہ میں حضرت حصین بن سبرہ اور عمر بن مسلمہ ؓ، حضرت زید بن ارقم ؓ کی طرف چلے تو جب ہم ان کے پاس جا کر بیٹھ گئے تو حضرت حصین ؓ نے حضرت زید ؓ سے کہا اے زید! تو نے بہت بڑی نیکی حاصل کی ہے کہ تو نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا ہے اور آپ سے یہ حدیث سنی ہے اور تو نے آپ کے ساتھ مل کر جہاد کیا ہے اور تو نے آپ کے پیچھے نماز پڑھی ہے، اے زید! آپ نے رسول اللہ ﷺ سے احادیث سنی ہیں، وہ ہم سے بیان کرو، حضرت زید بن ارقم ؓ نے فرمایا: اے میرے بھتیجے! اللہ کی قسم میری عمر بڑھاپے کو پہنچ گئی ہے اور ایک زمانہ گزر گیا (جس کی وجہ سے) میں بعض وہ باتیں جو میں نے رسول اللہ ﷺ سے سن کو یاد رکھی تھیں، بھول گیا ہوں، اس وجہ سے میں تم سے بیان کروں تو تم اسے قبول کرو اور جو میں تم سے بیان نہ کروں تو تم اس کے بارے میں مجھے مجبور نہ کرنا، حضرت زید ؓ نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ ایک دن ایک پانی کہ جسے خم کہہ کر پکارا جاتا ہے جو کہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے درمیان ہے پر ہمیں خطبہ ارشا فرمانے کے لئے کھڑے ہوئے تو آپ نے فرمایا: بعد حمد و صلوٰہ! آگاہ رہو اے لوگو! میں ایک آدمی ہوں، قریب ہے کہ میرے رب کا بھیجا ہوا میرے پاس آئے تو میں اسے قبول کروں اور میں تم میں دو بھاری چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں، ان میں سے پہلی اللہ کی کتاب ہے، جس میں ہدایت اور نور ہے تو تم اللہ کی اس کتاب کو پکڑے رکھو اور اس کے ساتھ مضبوطی سے قائم رہو اور آپ نے اللہ کی کتاب (قرآن مجید) کی خوب رغبت دلائی، پھر آپ نے فرمایا (دوسری چیز) میرے اہل بیت ہیں، میں تم لوگوں کو اپنے اہل بیت کے بارے میں اللہ یاد دلاتا ہوں، میں اپنے اہل بیت کے بارے میں تم لوگوں کو اللہ یاد دلاتا ہوں، حضرت حصین ؓ نے حضرت زید ؓ سے عرض کیا اے زید! آپ کے اہل بیت کون ہیں؟ کیا آپ کی ازواج مطہرات ؓ اہل بیت میں سے نہیں ہیں؟ حضرت زید ؓ نے فرمایا: آپ کی ازواج مطہرات ؓ آپ کے اہل بیت میں سے ہیں اور وہ سب اہل بیت میں سے ہیں کہ جن پر آپ کے بعد صدقہ (زکوٰہ، صدقہ و خیرات وغیرہ) حرام ہے، حضرت حصین ؓ نے عرض کیا وہ کون ہیں؟ حضرت زید ؓ نے فرمایا حضرت علی ؓ کا خاندان، حضرت عقیل کا خاندان، آل جعفر، آل عباس، حضرت حصٰین نے عرض کیا ان سب پر صدقہ وغیرہ حرام ہے؟ حضرت زید ؓ نے فرمایا ہاں! ان سب پر صدقہ، زکوٰۃ وغیرہ حرام ہے۔
[صحیح مسلم»کتاب: فضائل کا بیان» باب: حضرت علی بن ابی طالب (رض) کے فضائل کے بیان میں» حدیث نمبر: 6225]


تشریح:
سمي كتاب الله وأهل بيته بذلك, لعظم قدرهما, أو لشدة الأخذ بهما والكلفة في القيام بحقوقهما.
ترجمہ:
"کتاب اللہ اور اہل بیت (علیہم السلام) کو 'ثقلین' اس لیے کہا گیا ہے:
ان دونوں کی بڑی عظمت اور قدر و منزلت کی وجہ سے،
اور (دوسری وجہ) ان پر عمل کرنے کی شدید اہمیت اور ان کے حقوق کو ادا کرنے میں بھاری پن (مشقت) کی وجہ سے۔"
[تحفة الأبرار شرح مصابيح السنة-ناصر الدين البيضاوي:1564]


تشریح امام ابن رجب حنبلی:
ابن رجب نے اس حدیث کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بڑی بصیرت سے فرمایا: "بیشک نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کتاب اللہ کے ساتھ مضبوطی سے وابستہ رہنے کی ترغیب دلائی اور اپنے اہل بیت کے بارے میں وصیت فرمائی۔"
یہی وہ مطلب ہے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان سے لیا جاتا ہے: "میں تم میں دو بھاری چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں: پہلی اللہ کی کتاب جس میں ہدایت اور نور ہے، پس اللہ کی کتاب کو تھامو اور مضبوطی سے پکڑو۔" پھر فرمایا: "اور میرے اہل بیت: میں تمہیں اللہ کے حوالے سے اپنے اہل بیت کی یاد دلاتا ہوں، میں تمہیں اللہ کے حوالے سے میرے اہل بیت کی یاد دلاتا ہوں، میں تمہیں اللہ کے حوالے سے میرے اہل بیت کی یاد دلاتا ہوں۔"

اس کا مطلب یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دو عظیم چیزوں کی وصیت کی:
کتاب اللہ کو مضبوطی سے تھامے رکھنا، اس پر عمل کرنا اور اس سے وابستہ رہنا۔
اور اپنے اہل بیت کے بارے میں اللہ سے ڈرتے رہنے کی تاکید، یعنی ان کے ساتھ حسن سلوک، ان کی تعظیم، ان سے محبت، اور ان کے حقوق کی ادائیگی۔

اہل بیت سے محبت اور ان کی تعظیم کا تقاضا ہے کہ ان کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی رشتہ داری کے باعث نرمی اور مہربانی کا برتاؤ کیا جائے اور ان کے حقوق کو پہنچانے میں کوئی کوتاہی نہ کی جائے۔ خاص طور پر جب یہ تعلق کتاب اللہ پر عمل کرنے اور سنت نبوی کی پابندی کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔

ابن تیمیہ نے منهاج السنہ (4/85) میں فرمایا: "بیشک اس حدیث میں صرف کتاب اللہ کی اتباع کی وصیت موجود ہے، آپ نے عترت کی اتباع کا حکم نہیں دیا، بلکہ فرمایا: 'میں تمہیں اللہ کے حوالے سے اپنے اہل بیت کی یاد دلاتا ہوں۔'" امت کو ان کے بارے میں یاد دلانے کا مطلب ہے کہ ان کے حقوق ادا کیے جائیں اور ان پر ظلم سے بچا جائے۔

یہ وہ وصیت تھی جو غدیر خم سے پہلے بھی موجود تھی؛ چنانچہ یہ ثابت ہوتا ہے کہ غدیر خم میں کوئی نیا شرعی حکم نازل نہیں ہوا، نہ علی رضی اللہ عنہ کی امامت کے بارے میں اور نہ ہی کسی اور کے بارے میں۔
[جامع العلوم والحكم-ابن رجب الحنبلي:2/765  - ت أبي النور]





شرح النووي:
الْحَدِيثِ بَيَانُ فَضِيلَةِ الْعِلْمِ وَالدُّعَاءُ إِلَى الْهُدَى وَسَنُّ السُّنَنِ الْحَسَنَةِ قَوْلُهُ

[٢٤٠٨] (مَاءٌ يُدْعَى خُمًّا بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ) هُوَ بِضَمِّ الْخَاءِ الْمُعْجَمَةِ وَتَشْدِيدِ الْمِيمِ وَهُوَ اسْمٌ لِغَيْضَةٍ عَلَى ثَلَاثَةِ أَمْيَالٍ مِنَ الْحَسَنَةِ عِنْدَهَا غَدِيرٌ مَشْهُورٌ يُضَافُ إِلَى الْغَيْضَةِ فَيُقَالُ غَدِيرُ خُمٍّ قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ (وَأَنَا تَارِكٌ فِيكُمْ ثَقَلَيْنِ فَذَكَرَ كِتَابَ اللَّهِ وَأَهْلَ بَيْتِهِ) قَالَ الْعُلَمَاءُ سُمِّيَا ثَقَلَيْنِ لِعِظَمِهِمَا وَكَبِيرِ شَأْنِهِمَا وَقِيلَ لِثِقَلِ الْعَمَلِ بِهِمَا قَوْلُهُ (وَلَكِنْ أَهْلُ بَيْتِهِ مَنْ حُرِمَ الصَّدَقَةَ) هُوَ بِضَمِّ الْحَاءِ وَتَخْفِيفِ الرَّاءِ وَالْمُرَادُ بِالصَّدَقَةِ الزَّكَاةِ وَهِيَ حَرَامٌ عِنْدَنَا عَلَى بَنِي هَاشِمٍ وَبَنِي الْمُطَّلِبِ وَقَالَ مَالِكٌ بَنُو هَاشِمٍ فَقَطْ وَقِيلَ بَنُو قُصَيٍّ وَقِيلَ قُرَيْشٌ كُلُّهَا قَوْلُهُ فِي الرِّوَايَةِ الْأُخْرَى فَقُلْنَا مِنْ أَهْلِ بَيْتِهِ نِسَاؤُهُ قَالَ لَا هَذَا دَلِيلٌ لِإِبْطَالِ قَوْلِ مَنْ قَالَ هُمْ قُرَيْشٌ كُلُّهَا فَقَدْ كَانَ فِي نِسَائِهِ قُرَشِيَّاتٌ وَهُنَّ عَائِشَةُ وَحَفْصَةُ وَأُمُّ سَلَمَةَ وَسَوْدَةُ وَأُمُّ حَبِيبَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُنَّ وَأَمَّا قَوْلُهُ فِي الرِّوَايَةِ الْأُخْرَى نِسَاؤُهُ مِنْ أَهْلِ بَيْتِهِ وَلَكِنْ أَهْلُ بَيْتِهِ مَنْ حُرِمَ الصَّدَقَةَ قَالَ وَفِي الرِّوَايَةِ الْأُخْرَى فَقُلْنَا مِنْ أَهْلِ بَيْتِهِ نِسَاؤُهُ قَالَ لا فهاتان الروايتان ظاهر هما التَّنَاقُضُ وَالْمَعْرُوفُ فِي مُعْظَمِ الرِّوَايَاتِ فِي غَيْرِ مُسْلِمٍ أَنَّهُ قَالَ نِسَاؤُهُ لَسْنَ مِنْ أَهْلِ بَيْتِهِ فَتُتَأَوَّلُ الرِّوَايَةُ الْأُولَى عَلَى أَنَّ الْمُرَادَ انهن من اهل بيته الذين يساكنونه وَيَعُولُهُمْ وَأَمَرَ بِاحْتِرَامِهِمْ وَإِكْرَامِهِمْ وَسَمَّاهُمْ ثَقَلًا وَوَعَظَ فِي حُقُوقِهِمْ وَذَكَرَ فَنِسَاؤُهُ دَاخِلَاتٌ فِي هَذَا كُلِّهِ وَلَا يَدْخُلْنَ فِيمَنْ حُرِمَ الصَّدَقَةَ وَقَدْ أَشَارَ إِلَى هَذَا فِي الرِّوَايَةِ الْأُولَى بِقَوْلِهِ نِسَاؤُهُ مِنْ أَهْلِ بَيْتِهِ وَلَكِنْ أَهْلُ بَيْتِهِ مَنْ حُرِمَ الصَّدَقَةَ 
فَاتَّفَقَتِ الرِّوَايَتَانِ قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ (كتاب الله هُوَ حَبْلُ اللَّهِ) قِيلَ الْمُرَادُ بِحَبْلِ اللَّهِ عَهْدُهُ وَقِيلَ السَّبَبُ الْمُوَصِّلُ إِلَى رِضَاهُ وَرَحْمَتِهِ وَقِيلَ هُوَ نُورُهُ الَّذِي يَهْدِي بِهِ قَوْلُهُ (المرأة تكون مَعَ الرَّجُلِ الْعَصْرَ مِنَ الدَّهْرِ) أَيِ الْقِطْعَةَ مِنْهُ قَوْلُهَا

 ترجمہ:

"(یہ باب) حدیث کے علم کی فضیلت، ہدایت کی طرف دعوت اور اچھی سنتوں کو جاری کرنے کے بیان میں ہے۔

راوی کا قول: "پانی کا ایک چشمہ یا تالاب جسے 'خم' کہا جاتا ہے، مکہ اور مدینہ کے درمیان"

تشریح: یہ 'خم' ہے، خاء معجمہ پر پیش (زبر) اور میم مشددہ کے ساتھ۔ یہ ایک گھنی جھاڑی کا نام ہے جو 'الحسنہ' (یہ 'الجحفہ' ہونا چاہیے، راوی کا وہم) سے تین میل کے فاصلے پر واقع ہے۔ اس کے پاس ایک مشہور تالاب ہے جو اسی جھاڑی کی طرف منسوب کیا جاتا ہے، چنانچہ اسے 'غدیر خم' کہا جاتا ہے۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا قول: "میں تم میں دو بھاری چیزیں (ثقلین) چھوڑے جا رہا ہوں" – پھر آپ نے کتاب اللہ اور اپنے اہل بیت کا ذکر فرمایا۔

علماء کا قول: ان دونوں کو 'ثقلین' اس لیے کہا گیا کہ ان کی عظمت بہت زیادہ ہے اور ان کا شان بہت بلند ہے۔ اور کہا گیا: ان پر عمل کرنے کی بھاری پن (مشقت) کی وجہ سے۔

راوی کا قول: "لیکن آپ کے اہل بیت وہ ہیں جن پر صدقہ (زکوٰۃ) حرام کیا گیا ہے"

تشریح: 'حُرِمَ' ہے، حاء پر پیش اور راء کی تخفیف (بدون تشدید) کے ساتھ۔ 'صدقہ' سے مراد زکوٰۃ ہے۔ ہمارے نزدیک (شافعیہ کے مطابق) زکوٰۃ بنی ہاشم اور بنی مطلب پر حرام ہے۔ امام مالک نے کہا: صرف بنی ہاشم پر (بنی مطلب شامل نہیں)۔ اور کہا گیا: بنی قصی پر، اور کہا گیا: تمام قریش پر حرام ہے۔

دوسری روایت میں راوی کا قول: "ہم نے کہا: کیا آپ کی بیویاں (ازواج مطہرات) آپ کے اہل بیت میں شامل ہیں؟ آپ نے فرمایا: نہیں۔"

تشریح: یہ اس قول کے بطلان کی دلیل ہے جو کہتا ہے کہ تمام قریش اہل بیت ہیں۔ کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں میں قریشی خواتین بھی تھیں، جیسے عائشہ، حفصہ، ام سلمہ، سودہ، ام حبیبہ رضی اللہ عنہن۔

تیسری روایت میں راوی کا قول: "آپ کی بیویاں آپ کے اہل بیت میں سے ہیں، لیکن آپ کے اہل بیت (خاص) وہ ہیں جن پر صدقہ حرام کیا گیا ہے۔"

تشریح: پہلی روایت (جس میں کہا گیا کہ بیویاں اہل بیت نہیں) اور دوسری روایت (جس میں کہا گیا کہ بیویاں اہل بیت ہیں) بظاہر متعارض ہیں۔ لیکن مشہور یہ ہے کہ صحیح مسلم کے علاوہ دیگر کتب میں زیادہ تر روایات میں ہے کہ آپ نے فرمایا: "میری بیویاں میرے اہل بیت میں سے نہیں ہیں" ۔

پس پہلی روایت (جس میں بیویوں کو اہل بیت کہا گیا) اس طرح تاویل کی جائے گی کہ ان سے مراد وہ لوگ ہیں جو آپ کے ساتھ رہتے تھے اور جن کی آپ کفالت کرتے تھے، اور آپ نے ان کی تعظیم و تکریم کا حکم دیا، اور انہیں بھی 'ثقل' کہا، اور ان کے حقوق کے بارے میں وصیت فرمائی۔ چنانچہ آپ کی بیویاں ان تمام معاملات میں داخل ہیں، لیکن وہ ان لوگوں میں داخل نہیں ہیں 'جن پر صدقہ حرام کیا گیا' ۔ اور پہلی روایت میں آپ نے خود اس طرف اشارہ فرمایا: "آپ کی بیویاں آپ کے اہل بیت میں سے ہیں، لیکن آپ کے اہل بیت (خاص) وہ ہیں جن پر صدقہ حرام کیا گیا ہے" ۔ اس طرح دونوں روایات میں تطبیق ہو جاتی ہے۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا قول: "کتاب اللہ اللہ کی رسی ہے"

تشریح: کہا گیا: 'حبل اللہ' سے مراد اللہ کا عہد ہے۔ کہا گیا: اس سے مراد وہ سبب ہے جو اللہ کی رضا اور رحمت تک پہنچاتا ہے۔ اور کہا گیا: وہ اس کا نور ہے جس کے ذریعے وہ ہدایت دیتا ہے۔

راوی کا قول: "عورت مرد کے ساتھ زمانے کا ایک حصہ (العصر من الدهر) گزارتی ہے"

تشریح: یعنی زمانے کا ایک قطعہ (تھوڑا سا وقت)۔"

[شرح النووي على مسلم: ج15  ص 182]




عن على: أن النبى - صلى الله عليه وسلم - حضر الشجرة بخم ثم خرج آخذا بيد على فقال يا أيها الناس ألستم تشهدون أن الله ربكم قالوا بلى قال ألستم تشهدون أن الله ورسوله أولى بكم من أنفسكم وأن الله ورسوله مولاكم قالوا بلى قال فمن كان الله ورسوله مولاه فإن هذا مولاه وقد تركت ما إن أخذتم به فلن تضلوا بعده كتاب الله سببه بيده وسببه بأيديكم وأهل بيتى
[جامع الاحادیث:32347، كنز العمال:36441، أخرجه ابن أبى عاصم فى السنة (٢/٦٠٥، رقم ١٣٦١) ، والمحاملى فى أماليه (١/٨٥، رقم ٣٥) .]

لكن هذا الحديث يرتقي بشواهده الكثيرة، وقد سبق بيان أن الحديث متواتر في الجملة، وعليه فحديث علي رضي الله عنه هذا صحيح لغيره.
[المطالب العالية محققا-ابن حجر العسقلاني: حدیث نمبر 3943، 16 / 144]





عترت/اھل بیت کا مطلب، شیعہ کتب سے:
(1)
فلم ندر ما الثقلان حتّى قام رجل من المهاجرين فقال: بأبي أنت و امّي ما الثقلان؟ قال: الأكبر منهما كتاب اللّه سبب طرف بيد اللّه عزّ و جلّ و طرف بأيديكم فتمسّكوا به لا تزلّوا و لا تضلّوا. و الأصغر منهما عترتي لا تقتلوهم و لا تقهروهم، فإنّي سألت اللطيف الخبير أن يردّوا عليّ الحوض فأعطاني، فقاهر هما قاهري و خاذلهما خاذلي، و وليّهما وليّي، و عدوّ هما عدوّي.
ترجمہ:
نبی  نے جب ثقلین(دو بھاری چیزوں)کا بیان فرمایا تو ہم ثقلین کا مطلب نہ سمجھ سکے، حتیٰ کہ مہاجرین میں سے ایک شخص کھڑا ہوا، اس نے عرض کیا: آپ پر میرے ماں باپ فدا ہوں، ثقلین کیا چیز ہے؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ان دونوں میں سے بڑی چیز تو اللہ کی کتاب ہے، اس کا ایک سِرا تو الله کے دستِ قدرت میں ہے اور دوسرا تمہارے ہاتھوں میں ہے، بس اس سے تمسّک کرو گے تو نہ پھسلوگے اور نہ ہی گمراہ ہوگے۔
اور ان دونوں بھاری چیزوں میں سے جو چھوٹی ہے، وہ نبی کی اولاد ہے، ان کو قتل نہ کرنا، ان پر قہر و تشدد نہ کرنا، میں نے اپنے رب سے سوال کیا کہ یہ مجھے حوض پر ملیں، تو یہ سوال منظور ہوا۔ ان پر قہر کرنا، رسوا و ذلیل کرنا گویا میرے ساتھ یہ معاملہ کرنا ہے، جو دونوں بھاری چیزوں کا دوست ہے، وہ ہمارا دوست ہے جو ان کا دشمن ہے وہ بھی دشمن ہے۔
[كشف الغمه:١/٦٧ مع ترجمہ فارسی، ترجمہ المناقب، طبع جدید،ایران]



(2)
ثُمَّ تَرِدُ عَلَيَّ رَايَةٌ مَعَ سَامِرِيِّ هَذِهِ الْأُمَّةِ فَأَقُولُ لَهُمْ مَا فَعَلْتُمْ بِالثَّقَلَيْنِ مِنْ بَعْدِي- فَيَقُولُونَ أَمَّا الْأَكْبَرُ فَعَصَيْنَاهُ وَ تَرَكْنَاهُ- وَ أَمَّا الْأَصْغَرُ فَخَذَلْنَاهُ وَ ضَيَّعْنَاهُ- وَ صَنَعْنَا بِهِ كُلَّ قَبِيحٍ- فَأَقُولُ رِدُوا النَّارَ ظِمَاءً مُظْمَئِينَ مُسْوَدَّةً وُجُوهُكُمْ- ثُمَّ تَرِدُ عَلَيَّ رَايَةُ ذِي الثُّدَيَّةِ مَعَ أَوَّلِ الْخَوَارِجِ وَ آخِرِهِمْ- فَأَسْأَلُهُمْ مَا فَعَلْتُمْ بِالثَّقَلَيْنِ مِنْ بَعْدِي- فَيَقُولُونَ أَمَّا الْأَكْبَرُ فَفَرَّقْنَاهُ [فَمَزَّقْنَاهُ‌] وَ بَرِئْنَا مِنْهُ- وَ أَمَّا الْأَصْغَرُ فَقَاتَلْنَاهُ وَ قَتَلْنَاهُ، فَأَقُولُ رِدُوا النَّارَ ظِمَاءً مُظْمَئِينَ مُسْوَدَّةً وُجُوهُكُمْ، ثُمَّ تَرِدُ عَلَيَّ رَايَةٌ مَعَ إِمَامِ الْمُتَّقِينَ وَ سَيِّدِ الْوَصِيِّينَ- وَ قَائِدِ الْغُرِّ الْمُحَجَّلِينَ وَ وَصِيِّ رَسُولِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، فَأَقُولُ لَهُمْ مَا فَعَلْتُمْ بِالثَّقَلَيْنِ مِنْ بَعْدِي- فَيَقُولُونَ أَمَّا الْأَكْبَرُ فَاتَّبَعْنَاهُ وَ أَطَعْنَاهُ- وَ أَمَّا الْأَصْغَرُ فَأَحْبَبْنَاهُ وَ وَالَيْنَاهُ- وَ وَازَرْنَاهُ وَ نَصَرْنَاهُ- حَتَّى أُهْرِقَتْ فِيهِمْ دِمَاؤُنَا، فَأَقُولُ رِدُوا الْجَنَّةَ رِوَاءً مَرْوِيِّينَ مُبْيَضَّةً وُجُوهُكُمْ- ثُمَّ تَلَا رَسُولُ اللَّهِ ص «يَوْمَ تَبْيَضُّ وُجُوهٌ وَ تَسْوَدُّ وُجُوهٌ
ترجمہ:
(حضور علیہ السلام نے فرمایا) پھر پانچواں جھنڈا امام المتقین، سید الوصیین، قائد غر المحجلیں، وصی رسول رب العالمین کا میرے پاس وارد ہوگا۔ میں ان سے دریافت کروں گا کہ تم میرے بعد "ثقلین(یعنی دو بھاری چیزوں)" کے ساتھ کس طرح پیش آۓ؟ وہ جواب میں عرض کریں گے کہ ثقل اکبر(یعنی بڑی بھاری چیز) کی ہم نے پیروی اور اطاعت کی اور ثقل اصغر(یعنی چھوٹی بھاری چیز) سے ہم نے محبت اور موالات کی اور ان کو یہاں تک مدد دی کہ ان کے بارے میں ہمارے خوں تک بھادیئے گئے، پس ان سے میں کہوں گا کہ تم سیر وسیراب ہوکر سفید رو(یعنی چہروں والے) بن کر جنت میں چلے جاؤ. اس کے بعد رسول الله ﷺ نے یہ آیتیں (سورہ آل عمران:106) تلاوت فرمائیں.
[تفسیر قمی عربی : صفحہ ٥٩ ایران (ضمیمہ: صفحہ ٥٨ مولوی مقبول احمد صاحب)]




(3)
ثم قال: أنشدكم بالله أتعلمون أن رسول الله صلى الله عليه وآله قال في حجة الوداع: أيها الناس إني قد تركت فيكم ما لم تضلوا بعده: كتاب الله وعترتي أهل بيتي فأحلوا حلاله، وحرموا حرامه، واعملوا بمحكمه، وآمنوا بمتشابهه، وقولوا: آمنا 
ترجمہ:
پھر آپ (امام حسن رضی الله عنہ) نے (اپنے مخاطبین کو قسم دے کر) فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ رسول اللہ ﷺ نے حجۃ الوداع میں فرمایا: اے لوگو! میں نے تم میں اس چیز کو چھوڑا ہے جس کے بعد تم گمراہ نہ ہو گے، وہ کتاب اللہ ہے اور میری اولاد ہے۔ کتاب اللہ کے حلال کو حلال جانو اور اس کے حرام کو حرام جانو اور اسکے محکم (واضح حکموں) کے ساتھ عمل کرو اور متشابہ(غیرواضح آیات)پر ایمان رکھو اور کہو کہ اللہ نے جو کتاب اتاری ہے اس کے ساتھ ایمان لائے۔ اور اہل بیت کے ساتھ محبت رکھو اور جو شخص ان کے ساتھ دوستی رکھے تم اس کے ساتھ دوستی رکھو، اور جو ان کے ساتھ دشمنی رکھے تم اس کا خلاف کرو، اور یہ دونوں تم میں رہیں گے حتیٰ کہ قیامت کے روز میرے پاس حوض پر پہنچیں۔
[الاحتجاج طبرسی: ص139]




(5)حضرت ابو ایوب انصاری ؓ کی روایت:

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا حَنَشُ بْنُ الْحَارِثِ بْنِ لَقِيطٍ النَّخَعِيُّ الْأَشْجَعِيُّ عَنْ رِيَاحِ بْنِ الْحَارِثِ قَالَ جَاءَ رَهْطٌ إِلَى عَلِيٍّ بالرَّحْبَةِ فَقَالُوا السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا مَوْلَانَا قَالَ كَيْفَ أَكُونُ مَوْلَاكُمْ وَأَنْتُمْ قَوْمٌ عَرَبٌ قَالُوا سَمِعْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ غَدِيرِ خُمٍّ يَقُولُ مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَإِنَّ هَذَا مَوْلَاهُ قَالَ رِيَاحٌ فَلَمَّا مَضَوْا تَبِعْتُهُمْ فَسَأَلْتُ مَنْ هَؤُلَاءِ قَالُوا نَفَرٌ مِنْ الْأَنْصَارِ فِيهِمْ أَبُو أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ حَدَّثَنَا حَنَشٌ عَنْ رِيَاحِ بْنِ الْحَارِثِ قَالَ رَأَيْتُ قَوْمًا مِنْ الْأَنْصَارِ قَدِمُوا عَلَى عَلِيٍّ فِي الرَّحْبَةِ فَقَالَ مَنْ الْقَوْمُ قَالُوا مَوَالِيكَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ۔
ترجمہ:
ریاح بن حارث کہتے ہیں کہ ایک گروہ " رحبہ " میں حضرت علی ؓ کے پاس آیا اور کہنے لگا " السلام علیک یا مولانا " حضرت علی ؓ نے فرمایا کہ میں تمہارا آقا کیسے ہوسکتا ہوں جبکہ تم عرب قوم ہو؟ انہوں نے کہا کہ ہم نے نبی کریم ﷺ کو غدیر خُمّ کے مقام پر یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ میں جس کا مولیٰ ہوں علی بھی اس کے مولیٰ ہیں جب وہ لوگ چلے گئے تو میں بھی ان کے پیچھے چل پڑا اور میں نے پوچھا کہ یہ لوگ کون ہیں؟ لوگوں نے بتایا کہ یہ کچھ انصاری لوگ ہیں جن میں حضرت ابوایوب انصاری ؓ بھی شامل ہیں۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
[مسند احمد»حدیث نمبر: 22465]







عيد
العادۃ کسی فعل یا انفعال کو "بار بار کرنا" حتی کہ وہ طبعی فعل کی طرح سہولت سے انجام پاسکے۔ اسی لئے بعض نے کہا ہے کہ عادۃ طبیعتِ ثانیہ کا نام ہے۔
العید وہ ہے جو بار بار لوٹ کر آئے۔
اصطلاحِ شریعت میں یہ لفظ فطرہ کے دن اور قربانی کے دن پر بولا جاتا ہے۔ چونکہ شرعی طور پر یہ دن خوشی کے لئے مقرر کیا گیا ہے۔ جیسا کہ حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
«يَوْمُ عَرَفَةَ، وَيَوْمُ النَّحْرِ، وَأَيَّامُ التَّشْرِيقِ عِيدُنَا أَهْلَ الْإِسْلَامِ، وَهِيَ أَيَّامُ أَكْلٍ وَشُرْبٍ.»
ترجمہ:
یوم عرفہ(یعنی نویں ذی الحجہ)، یوم النحر(یعنی دسویں ذی الحجہ) اور ایامِ تشریق (یعنی گیارہویں، بارہویں اور تیرہویں ذی الحجہ) ہم اہلِ اسلام کی عید ہے، اور یہ (1)کھانے اور (2)پینے کے دن ہیں۔
[سنن ابو داؤد:2419، سنن الترمذی:773، سنن النسائی:3007، صحيح ابن خزيمة:2100، صحيح ابن حبان:3603]

«أَلَا ، لَا تَصُومُوا هَذِهِ الْأَيَّامَ فَإِنَّهَا أَيَّامُ أَكْلٍ وَشُرْبٍ ، وَذِكْرِ اللهِ»
ترجمہ:
خبردار!ان دنوں میں روزہ مت رکھو، کیونکہ یہ دن ہیں: (1)کھانے اور (2)پینے اور (3)ذکر اللہ کے۔
[سلسلة الأحاديث الصحيحة:‌‌3573، شرح معاني الآثار:4100]
ذکر اللہ سے مراد یہ ہے کہ ایامِ تشریق میں فرض نمازوں کے بعد اللہ اکبر۔اللہ اکبر کہیں۔
[تفسیر ابن کثیر:1 /417 سورۃ البقرۃ:203]

تیسری روایت میں ہے کہ بھیجا رسول اللہ ﷺ نے حضرت علیؓ کو ایامِ تشریق میں، کہ وہ اعلان کریں (لوگوں میں):
فَإِنَّهَا أَيَّامُ أَكْلٍ وَشُرْبٍ وَبِعَالٍ»
ترجمہ:
(اے لوگو!) یہ دن ہیں: (1)کھانے اور (2)پینے اور (3)میل جول کے۔
[مصنف ابن أبي شيبة:15265، (شرح معاني الآثار:4111) (الآحاد والمثاني لابن أبي عاصم:3376)]
يَعْنِي النِّكَاحَ
[مسند إسحاق بن راهويه:2419]
وملاعبةُ الرجلِ أهلَه
ترجمہ:
اور کھیلنے کیلئے مرد کا اپنے گھروالی سے۔
[غريب الحديث للقاسم بن سلام:58]

اس لئے ہر وہ دن جس میں کوئی شادمانی حاصل ہو اس پر عید کا لفظ بولا جانے لگا ہے۔
چناچہ آیت کریمہ:۔
أَنْزِلْ عَلَيْنا مائِدَةً مِنَ السَّماءِ تَكُونُ لَنا عِيداً
ترجمہ:
ہم پر آسمان سے خوان (نعمت) نازل فرما۔ ہمارے لئے (وہ دن) عید قرار پائے۔
[سورۃ المائدة:114]
میں عید سے شادمانی کا دن ہی مراد ہے۔ اور العید اصل میں (خوشی یا غم کی) اس حالت کو کہتے ہیں جو بار بار انسان پر لوٹ کر آئے اور العائدۃ ہر اس منفعت کو کہتے ہیں جو انسان کو کسی چیز سے حاصل ہو۔

[المفردات في غريب القرآن - امام الراغب الأصفهانيؒ(م502ھ) : صفحہ593، الناشر: دار القلم، الدار الشامية - دمشق بيروت]

اس لیے کہ عید منانا سب لوگوں کی شرست اور طبیعت میں شامل ہے اور ان کے احساسات سے مرتبط ہوتی ہے، لہٰذا سب لوگ یہ پسند کرتے ہیں کہ ان کے لیے کوئي نہ کوئي تہوار ہونا چاہیے جس میں وہ سب جمع ہو کر اپنی خوشی وفرحت اور سرور کا اظہار کریں۔



لوگوں کی بنائی عیدیں غیراسلامی(بدعت) ہیں:
حضرت طاؤسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا:
لَا تَتَّخِذُوا ‌شَهْرًا ‌عِيدًا، وَلَا تَتَّخِذُوا يَوْمًا عِيدًا۔
’’تم (اپنی طرف سے) کسی مہینے کو عید نہ بناؤ، اور نہ کسی دن کو عید بناؤ‘‘.
[مصنف عبد الرزاق:8100 (7853) ، لطائف المعارف لابن رجب: ص118]

کفار امتوں کی عیدیں اور تہوار اس کے دنیاوی معاملات کے اعتبار سے منائي جاتی ہیں مثلا: سال نو کا تہوار یا پھر زراعت کا موسم شروع ہونے کا تہوار اور بیساکھی کا تہوار یا موسم بہار کا تہوار ، یا کسی ملک کے قومی دن کا تہوار یا پھر کسی حکمران کا مسند اقدار پر براجمان ہونے کے دن کا تہوار اس کے علاوہ اور بھی بہت سارے تہوار منائے جاتے ہيں ۔

اور اس کے ساتھ ساتھ ان کے کچھ دینی تہوار بھی ہوتے ہیں، مثلا: یھود  کے خاص دینی تہوار یا عیسائيوں کے تہواروں میں جمعرات کا تہوار شامل ہے، جس کے بارہ میں ان کا خیال ہے کہ جمعرات کے دن عیسی علیہ السلام پر مائدہ یعنی آسمان سے دسترخوان نازل کیا گیا تھا اور سال کے شروع میں کرسمس کا تہوار ، اسی طرح شکر کا تہوار ، عطاء کا تہوار ، بلکہ اب تو عیسائي سب یورپی اور امریکی اور اس کے علاوہ دوسرے ممالک جن میں نصرانی نفوذ پایا جاتا ہے ان تہواروں کو مناتے ہیں اگرچہ بعض ممالک میں اصلا نصرانیت تو نہيں لیکن اس کے باوجود کچھ ناعاقبت اندیش قسم کے کچھ مسلمان بھی کم علمی یا پھر نفاق کی بنا پر ان تہواروں میں شامل ہوتے ہیں ۔

اسی طرح مجوسیوں کے بھی کچھ خاص تہوار اور عیدیں ہیں مثلا: مھرجان اور نیروز وغیرہ کا تہوار مجوسیوں کا ہے  ۔

اور اسی طرح فرقہ باطنیہ کے بھی کچھ تہوار ہیں، مثلا: عید الغدیر کا تہوار جس کے بارہ میں ان لوگوں کا خیال ہے کہ اس دن میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضي اللہ تعالی عنہ اور ان کے بعد بارہ اماموں سے خلافت پر بیعت کی تھی۔



مسلمانوں کی عید میں دوسروں سے امتیاز:

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان مسلمانوں کی ان دو عیدوں پر دلالت کرتا ہے اور مسلمانوں کی ان دو عیدوں کے علاوہ کوئي اور عید ہی نہیں :

حضرت عائشہ ؓ نے بتلایا کہ حضرت ابوبکر ؓ تشریف لائے تو میرے پاس انصار کی دو لڑکیاں وہ اشعار گا رہی تھیں جو انصار نے بعاث کی جنگ کے موقع پر کہے تھے۔ حضرت عائشہ ؓ نے کہا کہ یہ گانے والیاں نہیں تھیں، حضرت ابوبکر ؓ نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ کے گھر میں یہ شیطانی باجے؟ اور یہ عید(الفطر) کا دن تھا۔ آخر رسول اللہ ﷺ نے ابوبکر ؓ سے فرمایا: اے ابوبکر!
إِنَّ ‌لِكُلِّ ‌قَوْمٍ ‌عِيدًا، وَهَذَا عِيدُنَا۔
ہر قوم کی عید ہوتی ہے اور آج یہ ہماری عید ہے۔
[صحيح البخاري:952، صحيح مسلم:892، (سنن ابن ماجه:1898)]

لھذا مسلمانوں کے لیے جائز اورحلال نہيں کہ وہ کفار اور مشرکوں سے ان کے تہواروں اورعیدوں میں مشابہت کریں نہ تو کھانے اورنہ ہی لباس میں اورنہ ہی آگ جلاکر اورعبادت کرکے ان کی مشابہت کرنا بھی جائز نہيں ، اور اسی طرح ان کے تہواروں اورعیدوں میں بچوں کو کھیل کود کرنے بھی نہيں دینا چاہیے ، اورنہ ہی زيب وزينت کا اظہار کیا جائے اوراسی طرح مسلمانوں کے بچوں کو کفار کے تہواروں اور عیدوں میں شریک ہونے کی اجازت بھی نہیں دینی چاہیے  ۔

ہر کفریہ اوربدعت والی عید اورتہوار حرام ہے مثلا سال نو کا تہوار منانا ، انقلاب کا تہوار ، عید الشجرۃ ، عیدالجلاء ، سالگرہ منانا ، ماں کا تہوار ، مزدوروں کا تہوار ، نیل کا تہوار ، اساتذہ کا تہوار ، اورعید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ سب بدعات اورحرام ہیں ۔

مسلمانوں کی صرف اور صرف دو عیدیں اور تہوار ہيں ، عید الفطر اور عیدالاضحی ، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا بھی یہی فرمان ہے۔

حضرت انس رضي اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ نبویہ تشریف لائے تو اہل مدینہ کے دو تہوار تھے جن میں وہ کھیل کود کرتے اورخوشی وراحت حاصل کرتے تھے ، لھذا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا یہ دو دن کیسے ہیں ؟
لوگوں نے جواب دیا کہ ہم دور جاہلیت میں ان دنوں میں کھیل کود کیا کرتے تھے ، تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إِنَّ اللَّهَ قَدْ أَبْدَلَكُمْ بِهِمَا خَيْرًا مِنْهُمَا: يَوْمَ الْأَضْحَى، وَيَوْمَ الْفِطْرِ
یقینا اللہ تعالی نے تمہیں ان دو دنوں کے بدلے میں اچھے دن دیے ہیں عید الاضحی اور عیدالفطر۔
[سنن ابوداود: حدیث نمبر 1134]۔

یہ دونوں عیدیں اللہ تعالی کے شِعار(یعنی نشان، پہچان،رسم،عادت) اورعلامتوں میں سے جن کا احیاء کرنا اوران کے مقاصد کا ادراک اوران کے معانی کو سمجھنا ضروری ہے ۔





خلاصہ:
(1)کسی بھی حدیث میں غدیر کے دن کو عید کہنے اور منانے کا ذکر یا حکم نہیں ملتا۔
(2)مولا کے معنیٰ خلیفہ نہیں۔


ہمارے سامنے ہمارے اکابرین کی تعلیمات موجود ہیں کہ وہ حدیث غدیر سے کیا معنی اخذ کرتے تھے ۔صرف چار حوالوں پہ اکتفاء کرتا ہوں ۔

1– امام بزدوی علیہ الرحمہ المتوفی 493ء عقیدہ اہل سنت پر مشتمل اپنی مشہور کتاب "اصول الدین ” میں من کنت مولاہ فعلی مولاہ کے تحت لکھتے ہیں :

رہی بات حدیث ولایت علی رضی اللہ تعالی عنہ کی تو اس سے بھی استدلال کرنا درست نہیں ، اس لئے اس میں لفظ مولیٰ کو ذکر کیا گیا ہے اور عربی کلام میں ایسا ہوتا ہے کہ لفظ مولی کو ذکر کرکے اس سے مدد گار مراد لیا جاتا ہے، ۔۔۔۔۔۔۔۔اس حدیث میں لفظ مولیٰ سے آقا اور غلام آزاد کرنے والا تو مراد نہیں لیا جا سکتا ، ہاں البتہ مددگار اور مُحبّ مراد لیا جاسکتا ہے ، اور محب و محبوب کے الفاظ سے استحقاق خلافت کا ثبوت نہیں فراہم ہوتا ، اسی وجہ سے ہم بھی یہی کہتے ہیں: اس حدیث سے جناب علی المرتضی کی رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد خلافت کا استحقاق ثابت نہیں ہوتا۔
[اصول الدین مترجم: ص 512، پروگریسو بکس لاہور]

حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی علیہ الرحمہ نے بھی اپنی رفض توڑ کتاب ” تحفہ اثناء عشریہ ” میں اس روایت کا مطلب حضرت علی کی دوستی کو واجب ٹھہرانا اور دشمنی سے ڈرانا لکھا ہے ۔

[تحفہ اثناء عشریہ مترجم: ص418]

2– قاضی ثناء اللہ پانی پتی علیہ الرحمہ اس حدیث کے تحت لکھتے ہیں:

حدیث مذکورہ میں مولا سے مراد محبوب ہے حدیث کے آخری دعائیہ الفاظ اس پر قرینہ ہیں ، حدیث میں کوئی لفظ ایسا موجود نہیں ، جو اس بات کا قرینہ بن سکے کہ مولا سے مراد امام ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا: کہ "میں جس کا مولا ہوں” اس سے بعد والی بات کو سامعین کے ذہن میں پختہ کرنے کی غرض سے ہے ، اگر آپ اس موقع پر امامت علی ہی کا اعلان فرما رہے ہوتے ، تو اس سے صریح اور واضح تر لفظ میں امامت کا اعلان کر سکتے تھے۔

[السیف المسلول مترجم: ص 244، فاروقی کتب خانہ ملتان]

ان حوالہ جات سے پتا چلا کہ اس حدیث سے مولا علی کی محبت کا درس ملتا ہے نہ کہ کسی قسم کی خلافت یا جانشینی کا ۔۔۔۔جیسا کہ رافضی سمجھتے ہیں اور منہاجی بھی جشن منا کر اس کی بھرپور تائید کررہے ہیں۔



پس منظر:
(یعنی وہ علم، حالات و اسباب جو کسی بات یا واقعہ کو ظہور میں لانے کا باعث ہوں یا اسے سمجھنے میں مدد دیں، کسی شخص کے خاندانی حالات، تعلیم و تربیت اور تجربات وغیرہ بحیثیت مجموعی)

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ’’حجۃ الوداع‘‘سے مدینہ منورہ واپسی کے موقعہ پر غدیرخُم (جومکہ اورمدینہ کے درمیان ایک مقام ہے) پر خطبہ ارشاد فرمایا تھا، اور اس خطبہ میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کی نسبت ارشاد فرمایا تھا:  "من کنت مولاه فعلي مولاه" یعنی جس کا میں دوست ہوں علی بھی اس کا دوست ہے۔

اس کا پس منظر یہ تھا کہ ’’حجۃ الوداع‘‘ سے پہلے رسول اللہ ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو یمن کی طرف والی/عامل بناکر بھیجا تھا، وہاں کے محصولات وغیرہ وصول کرکے ان کی تقسیم اور بیت المال کے حصے کی ادائیگی کے فوراً بعد حضرت علی رضی اللہ عنہ حضور ﷺ کے پاس حج کی ادائیگی کے لیے پہنچے۔ اس موقع پر محصولات کی تقسیم وغیرہ کے حوالے سے بعض حضرات نے حضرت علی رضی اللہ عنہ  پر اعتراض کیا، اور یہ اعتراض براہِ راست نبی کریم ﷺ  کی خدمت میں حاضر ہوکر دوہرایا، آپ ﷺ نے انہیں اسی موقع پر انفرادی طور پر سمجھایا اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کی تصویب فرمائی، بلکہ یہ بھی ارشاد فرمایا کہ علی کا اس سے بھی زیادہ حق تھا۔[صحيح البخاري:4350]، نیز آپ ﷺ نے انہیں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے محبت کا حکم دیا اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں دل میں کدورت اور میل رکھنے سے منع فرمایا، چناں چہ ان حضرات کے دل حضرت علی رضی اللہ عنہ کی طرف سے بالکل صاف ہوگئے، وہ خود بیان فرماتے ہیں کہ  نبی کریم ﷺ کے اس ارشاد کے بعد ہمارے دلوں میں حضرت علی رضی اللہ عنہ محبوب ہوگئے۔
[مسند احمد:22967(21893)]
البتہ اسی حوالے سے کچھ باتیں سفرِ حج سے واپسی تک قافلے میں گردش کرتی رہیں،  آپ ﷺ نے محسوس فرمایا کہ اس حوالے سے آپ ﷺ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی قدر و منزلت اور ان کا حق ہونا بیان فرمائیں، چناں چہ سفرِ حج سے واپسی پر مقام غدیرِ خم میں نبی کریم ﷺ نے ایک خطبہ ارشاد فرمایا، جس میں بلیغ حکیمانہ اسلوب میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کا حق واضح فرمایا، اور جن لوگوں کے دل میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں کوئی شکوہ یا شبہ تھا اسے یوں ارشاد فرماکر دور فرمادیا:
«اللَّهُمَّ مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ، اللَّهُمَّ وَالِ مَنْ وَالِاهُ، وَعَادِ مَنْ عَادَاهُ»
یعنی
اے اللہ! جو مجھے دوست رکھے گا وہ علی کو بھی دوست رکھے گا/میں جس کا محبوب ہوں گا علی بھی اس کا محبوب ہوگا، اے اللہ! جو علی سے محبت رکھے تو اس سے محبت رکھ، اور جو علی سے دشمنی رکھے تو اس کا دشمن ہوجا۔

فَلَقِيَهُ عُمَرُ بَعْدَ ذَلِكَ، فَقَالَ: هَنِيئًا لَكَ يَا ابْنَ أَبِي طَالِبٍ! أَصْبَحْتَ وَأَمْسَيْتَ مَوْلَى كُلِّ مُؤْمِنٍ وَمُؤْمِنَةٍ"
آپ ﷺ کے اس ارشاد کے بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ملے تو فرمایا: اے ابن ابی طالب! آپ کو مبارک ہو! آپ صبح و شام ہر مؤمن مرد اور ہر مؤمنہ عورت کے محبوب بن گئے۔
[مصنف ابن ابی شیبہ:32780، مسند احمد:17753]

حضراتِ شیخین سمیت تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کے دل میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کی محبت پہلے سے تھی، جن چند لوگوں کے دل میں کچھ شبہات تھے، آپ ﷺ کے اس ارشاد کے بعد ان کے دل بھی حضرت علی رضی اللہ عنہ کی محبت سے سرشار ہوگئے۔ اس خطبہ سے آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا مقصود یہ بتلانا تھا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ اللہ کے محبوب اور مقرب بندے ہیں ، ان سے اور میرے اہلِ بیت سے تعلق رکھنا مقتضائے ایمان ہے، اور ان سے بغض وعداوت یا نفرت وکدورت ایمان کے منافی ہے۔

مذکورہ پس منظر سے یہ بات بخوبی واضح ہے کہ آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا  غدیرخُم  میں "من کنت مولاه فعلي مولاه" ارشاد فرمانا حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خلافت کے اعلان کے لیے نہیں، بلکہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی قدرومنزلت بیان کرنے اور معترضین کے شکوک دور کرنے کے لیے تھا، نیز حضرت علی رضی اللہ عنہ کی محبت کو ایک فریضہ لازمہ کے طور پر امت کی ذمہ داری قراردینے کے لیے تھا۔ اورالحمدللہ! اہلِ سنت والجماعت اتباعِ سنت میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی محبت کو اپنے ایمان کا جز سمجھتے ہیں، اور بلاشبہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے اہلِ ایمان ہی محبت رکھتے ہیں۔

مذکورہ خطبے اور ارشاد کی حقیقت یہی تھی جو بیان ہوچکی۔ باقی  ایک گم راہ فرقہ اس سے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے لیے خلافت بلافصل ثابت کرتا ہے، اور چوں کہ یہ خطبہ ماہ ذوالحجہ میں ہی ارشاد فرمایا تھا، اس لیے ماہ ذوالحجہ کی اٹھارہ تاریخ کو اسی خطبہ کی مناسبت سے عید مناتا ہے، اور اسے ’’عید غدیر‘‘ کا نام دیا جاتا ہے۔ اس دن عید کی ابتدا  کرنے والا ایک حاکم معز الدولۃ گزرا ہے، اس شخص نے 18 ذوالحجہ 351 ہجری کو بغداد میں عید منانے کا حکم دیا تھا اور اس کا نام "عید خُم غدیر" رکھا۔

اولاً تو اس عیدِ (غدیر) کی شریعت میں کوئی حقیقت اور حکم نہیں، دوسری طرف ماہ ذوالحجہ کی اٹھارہ تاریخ کو خلیفہ سوم امیرالمومنین حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی شہادت بھی ہے۔ ان کی مخالفت میں بھی بعض بدنصیب لوگ اس دن اپنے بغض کا اظہار کرتے ہیں۔ اہلِ ایمان و اسلام کو چاہیے کہ اس طرح کی خرافات سے دور رہیں۔ 

الغرض! دینِ اسلام میں صرف دوعیدیں ہیں:  ایک عیدالفطر اوردوسری عیدالاضحیٰ ۔  ان دوکے علاوہ دیگرتہواروں اورعیدوں کاشریعت میں کوئی ثبوت نہیں ، اس لیے نہ مناناجائزہے اورنہ ان میں شرکت درست ہے۔


*غدیر خم کی حقیقت:*

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ’’حجۃ الوداع‘‘سے مدینہ منورہ واپسی کے موقعہ پر غدیرخُم (جومکہ اورمدینہ کے درمیان ایک مقام ہے)پر خطبہ ارشادفرمایاتھا، اوراس خطبہ میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کی نسبت ارشادفرمایاتھا: "من کنت مولاه فعلي مولاه"یعنی جس کامیں دوست ہوں علی بھی اس کادوست ہے۔


اس کا پس منظر یہ تھا کہ ’’حجۃ الوداع‘‘ سے پہلے رسول اللہ ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو یمن کی طرف والی/ عامل بناکر بھیجا تھا، وہاں کے محصولات وغیرہ وصول کرکے ان کی تقسیم اور بیت المال کے حصے کی ادائیگی کے فوراً بعد حضرت علی رضی اللہ عنہ حضور ﷺ کے پاس حج کی ادائیگی کے لیے پہنچے۔ اس موقع پر محصولات کی تقسیم وغیرہ کے حوالے سے بعض حضرات نے حضرت علی رضی اللہ عنہ پر اعتراض کیا، اور یہ اعتراض براہِ راست نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوکر دوہرایا، آپ ﷺ نے انہیں اسی موقع پر انفرادی طور پر سمجھایا اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کی تصویب فرمائی، بلکہ یہ بھی ارشاد فرمایا کہ علی کا اس سے بھی زیادہ حق تھا، نیز آپ ﷺ نے انہیں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے محبت کا حکم دیا اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں دل میں کدورت اور میل رکھنے سے منع فرمایا، چناں چہ ان حضرات کے دل حضرت علی رضی اللہ عنہ کی طرف سے بالکل صاف ہوگئے، وہ خود بیان فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کے اس ارشاد کے بعد ہمارے دلوں میں حضرت علی رضی اللہ عنہ محبوب ہوگئے۔ البتہ اسی حوالے سے کچھ باتیں سفرِ حج سے واپسی تک قافلے میں گردش کرتی رہیں، آپ ﷺ نے محسوس فرمایا کہ اس حوالے سے آپ ﷺ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی قدر و منزلت اور ان کا حق ہونا بیان فرمائیں، چناں چہ سفرِ حج سے واپسی پر مقام غدیرِ خم میں نبی کریم ﷺ نے ایک خطبہ ارشاد فرمایا، جس میں بلیغ حکیمانہ اسلوب میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کا حق واضح فرمایا، اور جن لوگوں کے دل میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں کوئی شکوہ یا شبہ تھا اسے یوں ارشاد فرماکر دور فرمادیا: «اللَّهُمَّ مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ، اللَّهُمَّ وَالِ مَنْ وَالِاهُ، وَعَادِ مَنْ عَادَاهُ»، قَالَ: فَلَقِيَهُ عُمَرُ بَعْدَ ذَلِكَ، فَقَالَ: هَنِيئًا لَكَ يَا ابْنَ أَبِي طَالِبٍ! أَصْبَحْتَ وَأَمْسَيْتَ مَوْلَى كُلِّ مُؤْمِنٍ وَمُؤْمِنَةٍ" یعنی اے اللہ! جو مجھے دوست رکھے گا وہ علی کو بھی دوست رکھے گا/میں جس کا محبوب ہوں گا علی بھی اس کا محبوب ہوگا، اے اللہ! جو علی سے محبت رکھے تو اس سے محبت رکھ، اور جو علی سے دشمنی رکھے تو اس کا دشمن ہوجا۔ آپ ﷺ کے اس ارشاد کے بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ملے تو فرمایا: اے ابن ابی طالب! آپ کو مبارک ہو! آپ صبح و شام ہر مؤمن مرد اور ہر مؤمنہ عورت کے محبوب بن گئے۔ حضراتِ شیخین سمیت تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کے دل میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کی محبت پہلے سے تھی، جن چند لوگوں کے دل میں کچھ شبہات تھے آپ ﷺ کے اس ارشاد کے بعد ان کے دل بھی حضرت علی رضی اللہ عنہ کی محبت سے سرشار ہوگئے۔ اس خطبہ سے آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کامقصود یہ بتلاناتھاکہ حضرت علی رضی اللہ عنہ اللہ کے محبوب اورمقرب بندے ہیں ، ان سے اورمیرے اہلِ بیت سے تعلق رکھنامقتضائے ایمان ہے،اوران سے بغض وعداوت یانفرت وکدورت ایمان کے منافی ہے۔


مذکورہ پس منظر سے یہ بات بخوبی واضح ہے کہ آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا غدیرخُم میں "من کنت مولاه فعلي مولاه"ارشادفرمانا حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خلافت کے اعلان کے لیے نہیں، بلکہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی قدرومنزلت بیان کرنے اور معترضین کے شکوک دور کرنے کے لیے تھا نیز حضرت علی رضی اللہ عنہ کی محبت کو ایک فریضہ لازمہ کے طورپر امت کی ذمہ داری قراردینے کے لیے تھا ۔ اورالحمدللہ!اہلِ سنت والجماعت اتباعِ سنت میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی محبت کواپنے ایمان کاجز سمجھتے ہیں، اور بلاشبہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے اہلِ ایمان ہی محبت رکھتے ہیں۔


مذکورہ خطبے اور ارشاد کی حقیقت یہی تھی جو بیان ہوچکی۔ باقی ایک گم راہ فرقہ اس سے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے لیے خلافت بلافصل ثابت کرتاہے، اور چوں کہ یہ خطبہ ماہ ذوالحجہ میں ہی ارشادفرمایاتھا، اس لیے ماہ ذوالحجہ کی اٹھارہ تاریخ کو اسی خطبہ کی مناسبت سے عید مناتاہے، اوراسے ’’عید غدیر‘‘ کانام دیاجاتاہے۔اس دن عید کی ابتدا کرنے والاایک حاکم معزالدولۃ گزراہے، اس شخص نے 18ذوالحجہ 351ہجری کو بغدادمیں عیدمنانے کا حکم دیاتھا اوراس کانام "عید خُم غدیر" رکھا۔


اولاً تو اس عیدِ غدیر کی شریعت میں کوئی حقیقت نہیں ہے، دوسری طرف ماہ ذوالحجہ کی اٹھارہ تاریخ کو خلیفہ سوم امیرالمومنین حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی شہادت بھی ہے۔ ان کی مخالفت میں بھی بعض بدنصیب لوگ اس دن اپنے بغض کا اظہار کرتے ہیں۔ اہلِ ایمان و اسلام کو چاہیے کہ اس طرح کی خرافات سے دور رہیں۔


الغرض! دینِ اسلام میں صرف دوعیدیں ہیں: ایک عیدالفطر اوردوسری عیدالاضحیٰ ۔ ان دوکے علاوہ دیگرتہواروں اورعیدوں کاشریعت میں کوئی ثبوت نہیں ، اس لیے نہ مناناجائزہے اورنہ ان میں شرکت درست ہے۔


حضرت عبداللہ بن بریدہ نے اور ان سے ان کے والد (بریدہ بن حصیب) نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی جگہ علی رضی اللہ عنہ کو (یمن) بھیجا تاکہ غنیمت کے خمس (پانچواں حصہ) کو ان سے لے آئیں۔ مجھے علی رضی اللہ عنہ سے بہت بغض تھا اور میں نے انہیں غسل کرتے دیکھا تھا۔ میں نے خالد رضی اللہ عنہ سے کہا تم دیکھتے ہو علی رضی اللہ عنہ نے کیا کیا (اور ایک لونڈی سے صحبت کی) پھر جب ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو میں نے آپ سے بھی اس کا ذکر کیا۔ آپ نے دریافت فرمایا: (بریدہ) کیا تمہیں علی سے بغض ہے؟ میں نے عرض کیا کہ جی ہاں، فرمایا: علی سے دشمنی نہ رکھنا کیونکہ خمس (غنیمت کے پانچویں حصے) میں اس سے بھی زیادہ حق ہے۔
[صحيح البخاري:4350]

حضرت بریدہ ؓ سے مروی ہے کہ ابتداء مجھے حضرت علی ؓ سے اتنی نفرت تھی کہ کسی سے اتنی نفرت کبھی نہیں رہی تھی اور صرف حضرت علی ؓ سے نفرت کی وجہ سے میں قریش کے ایک آدمی سے محبت رکھتا تھا ایک مرتبہ اس شخص کو چند شہسواروں کا سردار بنا کر بھیجا گیا تو میں بھی اس کے ساتھ چلا گیا اور صرف اس بنیاد پر کہ وہ حضرت علی ؓ سے نفرت کرتا تھا ہم لوگوں نے کچھ قیدی پکڑے اور نبی کریم ﷺ کے پاس یہ خط لکھا کہ ہمارے پاس کسی آدمی کو بھیج دیں جو مال غنیمت کا خمس وصول کرلے چناچہ نبی کریم ﷺ نے حضرت علی ؓ کو ہمارے پاس بھیج دیا۔ ان قیدیوں میں " وصیفہ " بھی تھی جو قیدیوں میں سب سے عمدہ خاتون تھی حضرت علی ؓ نے خمس وصول کیا اور اسے تقسیم کردیا پھر وہ باہر آئے تو ان کا سر ڈھکا ہوا تھا ہم نے ان سے پوچھا اے ابوالحسن! یہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا تم نے وہ " وصیفہ " دیکھی تھی جو قیدیوں میں شامل تھی میں نے خمس وصول کیا تو وہ خمس میں شامل تھی پھر وہ اہل بیت نبوت میں آگئی اور وہاں سے آل علی میں آگئی اور میں نے اس سے مجامعت کی ہے اس شخص نے نبی کریم ﷺ کو خط لکھ کر اس صورت حال سے آگاہ کیا میں نے اس سے کہا یہ خط میرے ہاتھ بھیجو چناچہ اس نے مجھے اپنی تصدیق کرنے کے لئے بھیج دیا میں بارگاہ نبوت میں حاضر ہو کر خط پڑھنے لگا اور کہنے لگا کہ انہوں نے سچ کہا نبی کریم ﷺ نے اس خط پر سے میرے ہاتھ کو اٹھا کر فرمایا: کیا تم علی سے نفرت کرتے ہو؟ میں نے عرض کیا: جی ہاں! نبی کریم ﷺ نے فرمایا: تم اس سے نفرت نہ کرو بلکہ اگر محبت کرتے ہو تو اس میں مزید اضافہ کردو کیونکہ اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد ﷺ کی جان ہے خمس میں آل علی کا حصہ " وصیفہ " سے بھی افضل ہے. چنانچہ اس فرمان کے بعد میری نظروں میں حضرت علی ؓ سے زیادہ کوئی شخص محبوب نہ رہا۔
[مسند احمد:22967(21893)]

"فضائل الصحابة لأحمد ابن حنبل" میں ہے:

"حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، نا عَفَّانُ قال: ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ قَالَ: أنا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَنَزَلْنَا بِغَدِيرِ خُمٍّ، فَنُودِيَ فِينَا: الصَّلَاةُ جَامِعَةٌ، وَكُسِحَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَحْتَ شَجَرَتَيْنِ، فَصَلَّى الظُّهْرَ وَأَخَذَ بِيَدِ عَلِيٍّ فَقَالَ: «أَلَسْتُمْ تَعْلَمُونَ أَنِّي أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ؟» قَالُوا: بَلَى، قَالَ: «أَلَسْتُمْ تَعْلَمُونَ أَنِّي أَوْلَى بِكُلِّ مُؤْمِنٍ مِنْ نَفْسِهِ؟» قَالُوا: بَلَى، قَالَ: فَأَخَذَ بِيَدِ عَلِيٍّ فَقَالَ: «اللَّهُمَّ مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ، اللَّهُمَّ وَالِ مَنْ وَالِاهُ، وَعَادِ مَنْ عَادَاهُ»، قَالَ: فَلَقِيَهُ عُمَرُ بَعْدَ ذَلِكَ، فَقَالَ: هَنِيئًا لَكَ يَا ابْنَ أَبِي طَالِبٍ! أَصْبَحْتَ وَأَمْسَيْتَ مَوْلَى كُلِّ مُؤْمِنٍ وَمُؤْمِنَةٍ".
ترجمہ:
"عبداللہ (امام احمد کے بیٹے) بیان کرتے ہیں: میرے والد (امام احمد بن حنبل) نے عفّان سے روایت کی، انہوں نے حماد بن سلمہ سے، انہوں نے علی بن زید سے، انہوں نے عدی بن ثابت سے، انہوں نے براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ:  
ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے۔ ہم غدیر خم پر اترے، تو ہمیں نماز کے لیے جمع ہونے کی پکار سنائی دی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے دو درختوں کے نیچے جگہ صاف کی گئی۔ آپ نے ظہر کی نماز پڑھائی، پھر علی رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا: ’’کیا تم نہیں جانتے کہ میں مومنوں کی جانوں سے زیادہ حق رکھتا ہوں؟‘‘ سب نے کہا: کیوں نہیں! پھر آپ نے فرمایا: ’’جس کا میں مولا ہوں، اس کا علی مولا ہے۔ اے اللہ! جو اس سے دوستی رکھے، تو اس سے دوستی رکھ، اور جو اس سے دشمنی رکھے، تو اس سے دشمنی رکھ۔‘‘
براء بن عازب کہتے ہیں:
اس کے بعد عمر رضی اللہ عنہ علی سے ملے اور کہا: ’’اے ابن ابی طالب! مبارک ہو، تم صبح و شام ہر مومن مرد و عورت کے مولا بن گئے ہو۔‘‘" 
[فضائل الصحابة لأحمد ابن حنبل:١٠١٦، فضائل علي رضي الله عنه ، ٢/ ٥٩٦،ط: مؤسسة الرسالة بيروت]




"حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ح وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَا: ثنا شَرِيكٌ، عَنْ حَنَشِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ رِيَاحِ بْنِ الْحَارِثِ، قَالَ: بَيْنَا عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ جَالِسٌ فِي الرَّحَبَةِ إِذْ جَاءَ رَجُلٌ وَعَلَيْهِ أَثَرُ السَّفَرِ، فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا مَوْلَايَ، فَقِيلَ: مَنْ هَذَا؟ قَالَ: أَبُو أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيُّ، فَقَالَ: أَبُو أَيُّوبَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ»".
ترجمہ:
عبید بن غنام، ابوبکر بن ابی شیبہ، حسین بن اسحاق تستری اور عثمان بن ابی شیبہ بیان کرتے ہیں کہ شریک نے حنش بن حارث سے، انہوں نے ریاح بن حارث سے روایت کی:  
"علی رضی اللہ عنہ رحبہ (کوفہ) میں بیٹھے تھے کہ ایک مسافر آیا اور کہا: السلام علیک یا مولايا! پوچھا گیا: یہ کون ہے؟ تو اس نے کہا: میں ابوایوب انصاری ہوں۔ پھر ابوایوب نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ’جس کا میں مولا ہوں، اس کا علی مولا ہے۔‘"
[المعجم الكبير للطبراني: رقم الحديث: ٤٠٥٢، ٤/ ١٧٣، ط: مكتبة ابن تيمية]









---









*- یقیناً حضرت علی رضی اللہ عنہ کی دوستی تمام مومنین سے مخفی اور پیچیدہ نہیں تھی لیکن بعض واقعات کو لیکر اس وضاحت کی ضرورت پڑی کیونکہ یمن کے غزوہ میں بعض معاملات کو لیکر حضرت علی رضی اللہ عنہ سے متعلق بعض أصحاب کے دلوں میں بے چینی تھی جس کا ذکر انہوں نے برملا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اپنے خاص أسلوب میں سمجھایا تو ان کی سمجھ میں بھی آ گیا اور بعض روایات کے مطابق انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے اپنی اٹوٹ کا اقرار بھی کیا لیکن بات چونکہ چند افراد سے نکل کر آگے بڑھ چکی تھی اس لئے ضرورت تھی کہ اس غلط فہمی کا ازالہ سب کے سامنے ہو چنانچہ حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ کی روایت ہے، 
عَنْ بُرَيْدَةَ ، قَالَ : غَزَوْتُ مَعَ عَلِيٍّ الْيَمَنَ، فَرَأَيْتُ مِنْهُ جَفْوَةً، فَلَمَّا قَدِمْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرْتُ عَلِيًّا فَتَنَقَّصْتُهُ، فَرَأَيْتُ وَجْهَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَغَيَّرُ، فَقَالَ : " يَا بُرَيْدَةُ، أَلَسْتُ أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ ؟ " قُلْتُ : بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ : " مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ ".
[مسند احمد بن حنبل :22945]
یعنی حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ یمن کا غزوہ کیا تو میں نے ان کے اندر کچھ سختی دیکھی تو جب میں مدینہ آیا تو میں نے اس کا ذکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شان کم کرکے بیان کی تو میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے کو بدلتے ہوئے دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے بریدہ کیا میں تمام مومنین کے نزدیک ان کی جانوں سے زیادہ حق نہیں رکھتا؟ تو بریدہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کیوں نہیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ،پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس کا میں دوست اس کا علی رضی اللہ عنہ بھی دوست،
تو جب روایات میں اس کی وجہ موجود ہے اور اہل تشیع کے مطابق ان روایات کی اسناد متواتر ہیں تو ہم اپنے من سے بنائی ہوئی باتوں کو کیسے مان لیں؟ اسی طرح جلال الدین سیوطی نے شرح إبن ماجہ میں امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ سے نقل کیا ہے:
" وَقَالَ الشَّافِعِي: عَنى بذلك وَلَاء الْإِسْلَام، كَقَوْلِه تَعَالَى: ﴿ذٰلِكَ بِاَنَّ اللهَ مَوْلَى الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَاَنَّ الْكٰفِرِيْنَ لَا مَوْلٰى لَهُمْ﴾،[محمد:١١] وَقيل: سَبَب ذَلِك أن أُسَامَة قَالَ لعَلي رَضِي الله عنه: لستَ مولَايَ، إنما مولَايَ رَسُول الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم ذلك".
[شرح إبن ماجہ-للسیوطی: باب اتباع السنة، ١/ ١٢ ،ط: قديمي]
یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حدیث مبارکہ میں اسلامی بھائی چارہ مراد لیا ہے جیسا کہ سورہ محمد آیت گیارہ میں" یہ اس وجہ سے کہ اللہ مومنین کا دوست ہے اور کافروں کا کوئی دوست نہیں" اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس کا سبب ورود یہ بھی ہے کہ حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کہا کہ آپ میرے دوست نہیں میرے دوست رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حدیث ارشاد فرمائی،
*- یہ بات بھی مسلم ہے کہ حضرت علی کی دوستی عام نہیں تھی بلکہ اک خاص دوستی تھی اس کی پہلی وجہ تو یہی کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سابقین اولین میں سے ہیں جو درجہ اور رتبہ کے اعتبار سے بہت بلندی کا مقام تھا پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ خاص طور پر اہل بیت میں سے ہیں جن کی پاسداری کا اقرار الگ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کرایا تھا جب معاملہ یہ ہے تو پھر یہ عام دوستی کہاں رہی؟ اس سے یہ استدلال کرنا کہ "جس طرح میں تمہارا رہبر و سر پرست ہوں علی بھی رہبر و سرپرست ہیں" بالکل غلط ہے صحیح احادیث اس کی تائید نہیں کرتیں یہ مفہوم تو متعصب ہی نکال سکتا ہے انصاف پسند سے بعید ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بہت سارے أصحاب سے متعلق خصوصی محبت اور دوستی کے وعدے اور اقرار لئے ہیں تو کیا وہ سب خلافت اور ولایت کے وعدے ہیں؟
*- اس موقع پر حضرت علی رضی اللہ عنہ کو خصوصی مبارکباد حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے دی جیسا کہ مسند احمد کی بعض روایات سے ثابت ہے لیکن اس سے خلافت علی رضی اللہ عنہ پر استدلال کرنا بالکل صحیح نہیں ہے کیونکہ اگر معاملہ یہی ہوتا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد خلافت کے لئے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا نام پیش نا کرتے؟ صرف مبارک باد پیش کرنے سے مسئلہ کیسے خلافت کا ثابت ہو گیا؟ ایسے مبارکبادیں تو اور بھی ثابت ہیں خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کو ان کی توبہ کی قبولیت پر مبارکباد دی، آیت تیمم کے نزول پر صحابہ نے آل ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو مبارکباد پیش فرمائی ان کے علاوہ اور بھی مبارکبادیں ثابت ہیں، محض مبارکباد سے مسئلہ خلافت ثابت نہیں ہوتا، مبارکباد سے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی قدر و منزلت ضرور ثابت ہوتی ہے جس کا ہمیں اقرار ہے اور اس سے مولی کے معنی زبردستی حاکم اور خلیفہ کے لینا محض غلط ہیں، اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اگر مولی کا معنی حاکم یا خلیفہ لیا جائے تو یہ سیاق و سباق کے خلاف ہے ظاہر سی بات ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کا حاکم اور خلیفہ ہونا خلاف حقیقت ہے جبکہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی کی چل رہی ہے الفاظ اس کی تائید نہیں کرتے، کیا یہ عجیب بات نہیں لگتی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ کہیں " جس کا میں والی و حاکم ہوں، علی اس کے والی و حاکم ہیں"؟ لہذا مولی کا معنی والی و حاکم لینا کسی طرح مناسب نہیں ہے بلکہ اس کا وہی مفہوم ہے جو اوپر بیان کیا گیا ہے اور وہ دوست، مددگار وغیرہ ہے
*- اور جہاں تک حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کی طرف منسوب قصیدے کی بات ہے جو انہوں نے غدیر خم کے موقع کی مناسبت سے کہا اور جس میں خلافت علی رضی اللہ عنہ کا ذکر کیا ہے تو یہ سراسر باطل اور من گھڑت ہے اس کی سند حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ تک ثابت نہیں کی جا سکتی؟ پھر حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ سے حضرت ابوبکر صدیق و عمر بن الخطاب اور حضرت عثمان رضی اللہ تعالٰی عنہم کے مراثی ثابت ہیں، یہ کیسے ممکن ہے کہ حضرت حسان ایسے لوگوں کی تعریفیں کریں جنہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کا حق غصب کر لیا ہو؟
(4) واقعہ غدیر خم کی بنیاد پر 18/ ذی الحجہ کو عید کا دن قرار دینا بالکل غلط ہے اس کا حکم نا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دیا ہے اور نا ہی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے اس کا ثبوت ہے بلکہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بھی کبھی اس کو بطور عید نہیں منایا جبکہ اس واقعہ کے تیس سال تک حضرت علی رضی اللہ عنہ با حیات رہے چھبیس سال بلا خلافت اور ساڑھے چار سال خلافت کے، کم از کم یہ خلافت کے ایام میں تو 18/ذی الحجہ کو بطور عید مناتے؟ ان کے بعد بھی صدیوں تک اس کو بطور عید نہیں منایا گیا 351 ہجری میں معز الدولہ نے بغداد میں سب سے پہلے اس کو منایا اور اس کا نام عید غدیر خم رکھا اور یہ سب جانتے ہیں بادشاہ نہایت بد کردار اور شیعہ تھا
(5) دراصل عید غدیر خم کی آڑ میں اہل تشیع شہادت عثمان رضی اللہ عنہ کی تاریخ پر خوشیاں مناتے ہیں کیونکہ یہی تاریخ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی مظلومانہ شہادت کی ہے جس طرح حضرت معاویہ کی وفات پر کونڈوں کی رسم ادا کی جاتی ہے لیکن بعض نادان اہل سنت بھی ان کی چالوں سے نا واقف ہونے کی بنیاد پر ان کے ساتھ شریک ہوتے ہیں اللہ ان کو ہدایت عطاء فرمائے آمین

سوال:
(1)آپ کے بقول "مسئلۂ امامت" اصولِ دین سے ہے، پھر اس اہم اصول کا اعلان نہ مکہ میں، نہ مدینہ میں، نہ بیت اﷲ میں، نہ مسجد نبوی میں، بلکہ ایسا اہم اعلان جنگل کے تالاب پر اور وہ بھی غیر واضح الفاظ میں کیوں؟
(2)رحمتِ کائنات صلی اﷲ علیہ وسلم نے اَوس و خزرج کے قبائلی تعصب کو مٹا کر شیر و شکر کیا، مکہ کے مہاجرین اور مدینہ کے انصار کو اُخُوَّت کے رشتہ میں پیوست کیا، ایسی امن والی …… مبارک ہستی کے نزدیک مولیٰ سے مراد خلیفہ بلافصل ہوتا تو ذو معنیٰ لفظ کبھی ارشاد نہ فرماتے بلکہ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم فصیح(واضح) لفظ استعمال کرتے ہوئے فرماتے:
عَلِیْ خلیفتی من بعدی۔
لیکن کسی حدیث میں مذکورہ انداز میں ارشاد موجود نہیں۔
(3)آپ کے بقول خلافت کا فیصلہ خطبہ غدیر خم (۱۸ ذوالحجہ) کے موقع پر ہو چکا تھا تو قابل غور پہلو ہے، جب مسجدِ نبوی میں سیدنا ابوبکر رضی ﷲ عنہ کی بیعت عام ہوئی تو اس وقت حضرت علی رضی ﷲ عنہ نے انھیں خبردار کیوں نہ کیا کہ تم نبی کریم صلی ﷲ علیہ وسلم کے فرمان کی نافرمانی اختیار کر رہے ہو، کیونکہ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم نے خطبہ غدیر میں میری خلافت کا اعلان فرمایا تھا۔ مگر ایسی کوئی بات ان کے معتمدین سے منقول نہیں بلکہ انھوں نے رضامندی سے سیدنا ابوبکر رضی اﷲ عنہ کی بیعت کر لی۔
(4)خلفاءِ ثلاثہ کے دور میں اُن کے معاون و مشیر رہے اور خطبۂ غدیر میں اپنی فضیلت سے متعلق خلفاءِ ثلاثہ کے دوران خلافت کا کہیں ذکر نہیں کیا، البتہ اپنے دورِ خلافت میں دار الخلافہ میں ذکر ضرور کیا، جس کا باعث یہ تھا کہ ایک طرف خوارج نے انھیں پریشان کر رکھا تھا، دوسری طرف خود ان کے حلقہ میں بعض افراد ان کی پالیسی سے متفق نہ تھے۔
سیدنا علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ نے سیدنا معاویہ رضی اﷲ عنہ سے اختلاف کے دور میں اُن کو خط لکھا، شیخ سید رضی (م۴۰۴ھ) نے نقل کیا ہے:
(وَمِنْ کِتَابٍ لَہُ عَلَیْہ السَّلامُ اِلٰی مُعَاوِیَۃَ) اِنَّہُ بَایَعَنِیْ الْقَوْمُ الَّذِیْنَ بَایَعُوْا أَبابَکْرٍ وَ عُمَرَ و عُثْمَانَ عَلٰی مَا بَایَعْوْہُمْ عَلَیْہِ فَلَمْ یَکُنْ للشَّاہِدِ أَنْ یَخْتَارَ وَلَا لِلْغَائِبً أَنْ یَرُدَّ وَ اِنَّمَا الشُوْرٰی لِلْمُہَاجِرِیْنَ وَ الأنْصَارِ فَاِن اجْتَمَعُوْا عَلٰی رَجُلٍ و سَمُّوْہ اِمَامًا کَانَ ذَلِکَ لِلّٰہِ رِضًی
[نہج البلاغہ، الجزء الثالث، ۲۶۶، باب المختار من کتب امیر المؤمنین و رسائلہ]
ترجمہ:
حضرت علیؓ معاویہؓ بن ابی سفیانؓ کے نام مکتوب میں تحریر فرماتے ہیں کہ جن لوگوں نے ابوبکرؓ، عمرؓ ، عثمانؓ کی بیعت کی تھی، انھوں نے میرے ہاتھ پر اسی اصول کے مطابق بیعت کی، جس اصول پر وہ ان کی بیعت کر چکے تھے اور اس کی بنا پر جو حاضر ہے اسے پھر نظر ثانی کا حق نہیں اور جو بروقت موجود نہ ہو، اسے رد کرنے کا اختیار نہیں اور شوریٰ کا حق صرف مہاجرین و انصار کو ہے، وہ اگر کسی پر ایکا کر لیں اور اسے خلیفہ سمجھ لیں تو اسی میں اﷲ کی رضا و خوشنودی سمجھی جائیگی۔
[نہج البلاعہ، مترجم اردو، ۲۴۳، مکتوب نمبر۶، از مفتی جعفرحسین، مطبوعہ لاہور]
قابل غور پہلو ہے اگر غدیر خم کے موقع پر نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم نے سیدنا علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ کی خلافت کا اعلان کر دیا تھا تو پھر سیدنا علی رضی اﷲ عنہ نے خط میں یہ کیوں فرمایا کہ امام کے تقرر میں مہاجرین و انصار کی شوریٰ کا فیصلہ ہی تسلیم کیا جائے۔
یہ خط اس امر کا بین ثبوت ہے کہ حضرت علی رضی اﷲ عنہ بخوبی واقف تھے کہ ان کی خلافت بلافصل کے بارے میں کوئی نص شرعی نہ تھی بلکہ ان کا اعتماد اس بات پر تھا کہ امارت و خلافت کا انعقاد مجلس شوریٰ کے فیصلہ پر ہے۔






No comments:

Post a Comment