Saturday, 24 May 2025

جہنم کا بیان

 جہنم۔۔۔بھڑکتی ہوئی "آگ" ہے۔

[سورۃ النساء:55]

اللہ کے غضب اور عذاب کا

[النساء:93]

طے شدہ(وعدہ گاہ) ہے

[الحجر:43]

برا ٹھکانہ

[البقرۃ:204]

بدترین مکان

[الفرقان:34]

قیدخانہ ہے

[الاسراء:8]


تکبر(حق کا انکار)کرنے والوں کیلئے

[النحل؛29]

اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرنے(مرنے)والوں کیلئے

[الجن:23]

یقیناً اللہ"بھردے"گا جہنم کو(کافر)جنوں اور انسانوں سے۔

[ھود:119،السجدۃ:13]

اور سارے شیطانوں کو

[مریم:68]

اور ان سب کو بھی جو شیطان کے پیچھے چلے۔

[ص:85]


یقین رکھو کہ جن لوگوں نے مومن مردوں اور عورتوں کو ظلم کا نشانہ بنایا ہے، پھر توبہ نہیں کی ہے، ان کے لیے جہنم کا عذاب ہے اور ان کو آگ میں جلنے کی سزا دی جائے گی۔

[البروج:10]

اللہ اکٹھا کرے گا(مسلمانوں کو ستانے والے)منافقین اور کافرین سب کو جہنم میں

[النساء:140]


جس سے بچنے کیلئے کوئی راہِ فرار نہیں ملے گی۔

[النساء:121]

جس میں وہ(مجرم)نہ مریں گے اور نہ جئیں گے

[طٌہٰ:74]

اور نہ ہی عذاب ہلکا کیا جائے گا

[فاطر:36]

یقیناً اسکا عذاب(وہ تباہی)ہے جو لازم ہوجانے-چمٹ کر رہ جانے والا ہے

[الفرقان:65]


جس میں وہ"ہمیشہ"رہیں گے، وہی ان کیلئے کافی ہے۔۔۔اور ان کیلئے اٹل عذاب ہے۔

[التوبہ:68]

ان کیلئے تو جہنم ہی کا بچھونا ہے، اور اوپر سے اسی کا اوڑھنا ہے

[الأعراف:41]

اس دن تپایا جائے گا ان کا مال جہنم کی آگ میں(اللہ کے راہ سے روکنے میں استعمال کرنے اور زکوٰۃ نہ دینے کے سبب)، پھر داغا جائے گا اس سے ان کی پیشانیوں، پہلؤو  اور پیٹھوں کو

[التوبہ:35]

اور جو کچھ انہوں نے کمایا وہ ان کے کچھ کام آئے گا، اور نہ وہ کام آئیں گے جن کو انہوں نے اللہ کے بجائے اپنا رکھوالا بنا رکھا ہے

[الجاثیہ:10]

یقیناً جہنم تمام منکروں کو یقیناً"گھیرنے"والی ہے۔

[التوبہ:49]

...پھر ہم ان کو جہنم کے گرد اس طرح لے کر آئیں گے کہ یہ سب گھٹنوں کے بل گرے ہوئے ہوں گے

[مریم:68]

ان کے چہرے"سیاہ"ہوں گے

[الزمر:60]

جنہیں گھیر کر منہ کے بل

[الفرقان:34]

پیاسے جانوروں کی طرح

[مریم:86]

ملامت کرکے، دھکے دیکر

[الاسراء:18-39]

کہا جائے گا کہ جہنم کے دروازوں میں ہمیشہ داخل ہوجاؤ

[الزمر:72]

وہاں پیپ کا پانی پلایا جائے گا

[ابراھیم:16]

جہنم کے آگ گرمی میں کہیں زیادہ سخت ہے، کاش وہ(گرمی میں جہاد نہ کرنے والے)سمجھتے۔

[التوبہ:81]

ان کا ٹھکانہ جہنم"بدلہ"ہے ان(باتوں)کا جو وہ کماتے تھے۔

[التوبہ:95]

مکمل وبھرپور بدلہ

[الاسراء،63]

کیونکہ وہ میری آیات کا اور میرے رسولوں کا مذاق اڑایا کرتے تھے۔

[الکھف:106]

جب کبھی اس کی آگ دھیمی ہونے لگے گی،ہم اسے اور زیادہ بھڑکادیں گے

[الاسراء:97]

ہم نے اسے بنایا ہے

[الکھف:102]

یقیناً اللہ"بھردے"گا جہنم کو(کافر)جنوں اور انسانوں سے۔

[ھود:119،السجدۃ:13]

اور سارے شیطانوں کو

[مریم:68]

اور ان سب کو بھی جو شیطان کے پیچھے چلے

[ص:85]

ہم جہنم سے کہیں گے کہ:کیا تو بھر گئی؟ اور وہ کہے گی کہ:کیا کچھ اور بھی ہے؟

[ق:30]

یہ وہی جہنم ہے جسے مجرم جھٹلاتے تھے

[الرحمن:43]

اور اس دن جہنم کو سامنے لایا جائے گا، تو اس دن انسان کو سمجھ آئے گی اور اس وقت سمجھ آنے کا موقع کہاں ہوگا؟

[الفجر:23]

أَسْمَاءُ النَّار (جہنم کے نام)

(١) کیا آپ نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جنہوں نے اللہ کی نعمت کو ناشکری سے بدل دیا اور اپنی قوم کو تباہی کے گھر (یعنی دوزخ) میں پہنچا دیا، جس میں وہ داخل ہوں گے اور وہ بہت برا ٹھکانا ہے۔

[سورۃ ابراہیم:28-29]

(٢) عنقریب میں اسے دوزخ میں ڈالوں گا، اور تم کیا سمجھے کہ دوزخ کیا ہے؟ نہ وہ (کسی کو) باقی رکھتی ہے اور نہ چھوڑتی ہے، جو انسان کے لیے (جلانے والی) ہے۔ اس پر (عذاب کرنے والے) انیس (فرشتے مقرر) ہیں۔

[سورۃ المدثر:26-30]

(٣) ہرگز نہیں! یہ (دوزخ) بہت شعلہ زن ہے، جو کھال کو اتار دینے والی ہے۔ اسے وہی بلاتی ہے جس نے (حق سے) منہ موڑا اور پیٹھ پھیری اور (مال) جمع کیا اور (خزانوں میں) بند کرتا رہا۔

[سورۃ المعارج:15-18]

(٤) اور جس کے پلڑے ہلکے ہوں گے، تو اس کا ٹھکانا "ہاویہ" ہے، اور تم کیا سمجھے کہ وہ "ہاویہ" کیا ہے؟ (وہ) دہکتی ہوئی آگ ہے۔

[سورۃ القارعہ:8-11]

(٥) ہرگز نہیں! اسے ضرور "حطمہ" میں پھینکا جائے گا، اور تم کیا سمجھے کہ "حطمہ" کیا ہے؟ (یہ) اللہ کی بھڑکائی ہوئی آگ ہے، جو دلوں تک پہنچ جاتی ہے۔ بیشک وہ (دوزخ) ان پر (مضبوطی سے) بند کر دی جائے گی، لمبے لمبے ستونوں میں۔

[سورۃ الہمزہ:4-9]

(٦) بے شک جو لوگ یتیموں کے مال ناحق کھاتے ہیں، وہ درحقیقت اپنے پیٹوں میں آگ بھر رہے ہیں، اور عنقریب وہ بھڑکتی ہوئی آگ (سعیر) میں داخل ہوں گے۔

[سورۃ النساء:10]

[الجامع الصحيح للسنن والمسانيد: ج3 ص180]


حواشی:

یہ آیات قرآن مجید میں جہنم کے لیے استعمال ہونے والے مختلف ناموں اور اس کی بعض ہولناک صفات کو بیان کرتی ہیں:

۱جَہَنَّم: یہ جہنم کا سب سے مشہور اور عام نام ہے۔
۲دارُ الْبَوَار: تباہی اور بربادی کا گھر۔
۳سَقَر: یہ نام دوزخ کی شدت حرارت اور تباہ کن ہونے کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ یہ کسی چیز کو باقی نہیں رکھتی، سب کو جلا کر راکھ کر دیتی ہے۔
۴لَظٰی: بھڑکتی ہوئی، شعلہ بار آگ۔ یہ اس کی تیز شعلہ زنی کو ظاہر کرتا ہے۔
۵ہَاوِیَہ: یہ نام اس کی گہرائی اور اس میں گرنے کے عمل (ہوائی) کی طرف اشارہ کرتا ہے۔
۶حُطَمَہ: توڑنے، کچلنے اور ریزہ ریزہ کر دینے والی۔ یہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ یہ آگ ہڈیوں تک کو توڑ کر رکھ دے گی۔
۷سَعِیر: بھڑکتی ہوئی آگ، جس کی لپیٹ میں سب کچھ آ جاتا ہے۔

  • یہ تمام نام ایک ہی حقیقت (جہنم) کے مختلف پہلوؤں کو بیان کرتے ہیں، جیسے اس کی شدت، ہولناکی، تباہ کن اثرات اور اس میں پڑنے والوں کی حالت۔
  • ان آیات میں جہنم کی صفات بیان کر کے انسانوں کو اللہ کی نافرمانی، کفر اور ظلم (جیسے یتیموں کا مال کھانا) سے ڈرایا گیا ہے اور آخرت کے عذاب سے خبردار کیا گیا ہے۔
  • بعض آیات میں جہنم پر مقرر فرشتوں (جیسے انیس) کا بھی ذکر ہے، جو اس کی حفاظت اور عذاب دینے پر مامور ہیں۔
  • آخری آیت میں یتیموں کے مال ناحق کھانے کو اپنے پیٹ میں آگ بھرنے کے مترادف قرار دیا گیا ہے، جو دنیا میں اس گناہ کی شناعت اور آخرت میں اس کی سزا کی شدت کو واضح کرتا ہے۔

 

صِفَةُ النَّار (جہنم کی تفصیل)

(١) اے ایمان والو! اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو اس آگ سے بچاؤ جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہوں گے، جس پر سخت دل اور مضبوط فرشتے (مقرر) ہیں۔ وہ اللہ کے حکم کی نافرمانی نہیں کرتے اور جو کچھ انہیں حکم دیا جاتا ہے اسے بجا لاتے ہیں۔ 

[سورۃ التحريم:6]

(٢) بلکہ انہوں نے قیامت کو جھٹلایا اور ہم نے قیامت کے جھٹلانے والے کے لیے بھڑکتی ہوئی آگ تیار کر رکھی ہے۔ جب وہ (آگ) انہیں دور ہی سے دیکھے گی تو وہ اس کے غصے بھرے شور اور بھاپ (کی آواز) سنیں گے۔ اور جب انہیں زنجیروں میں جکڑ کر اس کے کسی تنگ مقام میں ڈالا جائے گا تو وہاں ہلاکت (ہی ہلاکت) پکاریں گے۔ (اُن سے کہا جائے گا:) آج ایک ہلاکت مت پکارو، بہت سی ہلاکتیں پکارو۔

[سورۃ الفرقان:11-14]

(٣) اور جن لوگوں نے اپنے رب کا انکار کیا، ان کے لیے جہنم کا عذاب ہے، اور وہ بہت برا ٹھکانا ہے۔ جب وہ اس میں ڈالے جائیں گے تو وہ اس کی خوفناک چیخ سنیں گے اور وہ (غصے سے) کھولتی رہے گی، قریب ہے کہ غصے سے پھٹ پڑے۔ 

[سورۃ الملک:6-8]

(٤) اور صور پھونکا جائے گا، یہ ہوگی وہ دن جس کا ڈر سنایا گیا تھا۔ اور ہر شخص (اپنے اعمال لے کر) آئے گا، اس کے ساتھ ایک (فرشتہ) ہانکنے والا اور ایک (فرشتہ) گواہی دینے والا ہوگا۔ (اس سے کہا جائے گا:) بے شک تو اس (دن) سے غفلت میں تھا، پس ہم نے تیرا پردہ تیری آنکھوں سے اٹھا دیا، سو آج تیری نظر بہت تیز ہے۔ اور اس کا ساتھی (شیطان) کہے گا: یہ (اس کا نامۂ اعمال) ہے جو میرے پاس تیار ہے۔ (حکم ہوگا:) دونوں ہر سخت انکار کرنے والے کافر کو جہنم میں ڈال دو، بھلائی سے روکنے والے، حد سے گزر جانے والے، شک کرنے والے کو، جس نے اللہ کے ساتھ دوسرا معبود بنا لیا تھا، سو تم دونوں اسے سخت عذاب میں ڈال دو۔ اس کا ساتھی (شیطان) کہے گا: اے ہمارے رب! میں نے اسے سرکش نہیں بنایا، لیکن وہ خود ہی دور کی گمراہی میں تھا۔ (اللہ) فرمائے گا: تم میرے سامنے جھگڑا مت کرو، بلکہ میں نے تمہیں پہلے ہی ڈر سنا دیا تھا۔ میرے ہاں بات بدلی نہیں جاتی اور میں بندوں پر ذرا بھی ظلم کرنے والا نہیں۔ جس دن ہم جہنم سے کہیں گے: کیا تو بھر گئی؟ اور وہ کہے گی: کیا اور زیادہ (لوگ) ہیں؟

[سورۃ ق:20-30]

(٥) بے شک ہم نے کافروں کے لیے زنجیریں، طوق اور بھڑکتی ہوئی آگ تیار کر رکھی ہے۔

[سورۃ الانسان:4]

(٦) پس میں نے تمہیں بھڑکتی ہوئی آگ سے ڈرایا ہے، جس میں وہی داخل ہوگا جو بہت بدبخت ہے، جس نے (حق کو) جھٹلایا اور (اس سے) منہ موڑ لیا۔

[سورۃ الليل:14-15]

(٧) (اے مجرمو!) تین شاخوں والے سائے کی طرف چلو۔ (حالانکہ) وہ نہ سایہ دے گا اور نہ شعلے سے بچا پائے گا۔ بے شک وہ (آگ) محل جیسے شرارے اگلتی ہے، گویا وہ زرد اونٹ ہیں۔

[سورۃ المرسلات:30-33]


حواشی:

یہ آیات جہنم کی مختلف ہولناک صفات اور اس میں ہونے والے عذاب کی تفصیل بیان کرتی ہیں:

۱ایندھن: جہنم کا ایندھن کافر انسان اور پتھر (مشرکین کے بت) ہوں گے، جو اس کی شدت اور ذلت کو ظاہر کرتا ہے۔
۲نگہبان: اس پر نہایت سخت دل، طاقتور اور اللہ کے حکم کے سامنے سراپا اطاعت فرشتے مقرر ہیں، جو کسی رحم یا سفارش کے قابل نہیں ہوں گے۔
۳آوازیں اور جذبات: جہنم کو ایک زندہ وجود کے طور پر پیش کیا گیا ہے جو غصے سے کھولتی، پھنکارتی، چیختی اور قریب ہے کہ غیظ و غضب سے پھٹ پڑے۔ یہ نفسیاتی دباؤ اور ہولناکی میں اضافہ کرتا ہے۔
۴جگہ کی تنگی: مجرموں کو زنجیروں میں جکڑ کر تنگ اور محدود جگہوں میں ڈالا جائے گا، جس سے جسمانی اور ذہنی تکلیف میں شدت آئے گی۔
۵روشن ضمیر کا کھل جانا: قیامت کے دن ہر شخص کی غفلت کا پردہ اٹھ جائے گا، اسے اپنے اعمال اور ساتھ رہنے والے شیطان کی رفاقت کا واضح علم ہو جائے گا۔ گویا ضمیر بیدار ہو جائے گا۔
۶شیطان سے مکالمہ: کافر کو اس کا ساتھی شیطان مورد الزام ٹھہرائے گا اور گمراہی کی ذمہ داری اس پر ڈالے گا، جس سے پتہ چلتا ہے کہ شیطان روز قیامت اپنے پیروکاروں سے برأت کر لے گا۔
۷طوق و زنجیر: کافروں کے لیے جسمانی قید و بند کی شکلیں (زنجیریں، طوق) بھی تیار ہیں، جو عذاب کی ایک اضافی شکل ہے۔
۸آگ کی لپیٹ اور شرارے: آگ کی شاخیں ہونگی، لیکن وہ سایہ یا آرام نہیں دیں گی۔ اس سے نکلنے والے شرارے انتہائی بڑے اور تباہ کن ہوں گے جن کی مثال زرد اونٹوں سے دی گئی ہے۔ یہ اس کی تباہی کی وسعت اور ہیبت کو ظاہر کرتا ہے۔
۹جہنم کی بھوک: یہ بات انتہائی خوفناک ہے کہ جہنم مزید عذاب یافتہ افراد کی طلبگار رہے گی، جس سے اس کی لامتناہی گنجائش اور عذاب کی شدت کا اظہار ہوتا ہے۔








حدیث نمبر 1

عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ - رضي الله عنهماأَنَّهُ قَالَ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: {إِنَّهَا تَرْمِي بِشَرَرٍ كَالْقَصْرِ} (١قَالَ: كُنَّا نَعْمِدُ إِلَى الْخَشَبَةِ ثَلَاثَةَ أَذْرُعٍ أَوْ فَوْقَ ذَلِكَ , فَنَرْفَعُهُ لِلشِّتَاءِ فَنُسَمِّيهِ الْقَصْرَ , {كَأَنَّهُ جِمَالَةٌ صُفْرٌ} (٢قَالَ: حِبَالُ السُّفُنِ , تُجْمَعُ حَتَّى تَكُونَ كَأَوْسَاطِ الرِّجَالِ. (٣)


ترجمہ:

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے فرمان: {إِنَّهَا تَرْمِي بِشَرَرٍ كَالْقَصْرِ} (یہ (دوزخ) محل جیسے شرارے اگلتی ہے) (١) کے بارے میں بیان فرماتے تھے: ہم (سردیوں میں اپنے اوپر چھپر ڈالنے کے لیے) تین ہاتھ یا اس سے زیادہ لمبے لکڑی کے تختے (شہتیر) کا انتظام کرتے تھے، پھر ہم اسے (چھپر میں) اٹھاتے (نصب کرتے) تھے، ہم اسے "قَصْر" (محل) کہتے تھے۔ اور آیت {كَأَنَّهُ جِمَالَةٌ صُفْرٌ} (گویا وہ زرد اونٹ ہیں) (٢) کے بارے میں فرمایا: (یہ) کشتیوں کی رسیاں ہیں، جو جمع کی جاتی ہیں یہاں تک کہ مردوں کی کمر جیسی موٹی ہو جاتی ہیں۔ (٣)


حوالہ جات:

  1. سورۃ المرسلات، آیت: 32۔
  2. سورۃ المرسلات، آیت: 33۔
  3. صحیح بخاری، حدیث نمبر: 4649۔


اسباق و نکات:

یہ روایت قرآن مجید کی تفہیم اور اس کے بیانیہ اسلوب کے حوالے سے انتہائی قیمتی اصول پیش کرتی ہے:

1. قرآن فہمی کا عملی اور مقامی اصول

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے قرآن میں موجود تشبیہات کو اپنے معاصر عربی معاشرے کی روزمرہ کی اشیاء سے سمجھایا ہے۔ جب قرآن نے جہنم کے شرارے کے لیے "قَصْر" (محل) کا لفظ استعمال کیا، تو آپ نے اس کی تشریح اپنے زمانے کے دیہاتی عربوں کے لیے مانوس چیز موسم سرما میں بنائے جانے والے چھپر کے بڑے شہتیر سے کی، جنہیں وہ "قصر" کہتے تھے۔ یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ قرآن کو سمجھنے کے لیے اس کے نزول کے زمانے کے ثقافتی اور لغوی تناظر کو سامنے رکھنا ضروری ہے۔

2. بیانیہ انداز میں مبالغہ نہیں بلکہ حقیقت ہے

قرآن میں جہنم کے شراروں کی دو تشبیہیں دی گئی ہیں:

  • "قصر" جیسے: جو اُس دور کے لحاظ سے تین ہاتھ (تقریباً ڈیڑھ میٹر) یا اس سے بڑے شہتیر کے برابر ہیں۔
  • "زرد اونٹ" جیسے: جس کی تشریح میں آپ نے کشتیوں کی موٹی رسیوں سے کی، جو جمع ہونے پر آدمیوں کی کمر جتنی موٹی ہو جاتی تھیں۔
    یہ تشبیہات محض ادبی مبالغہ آرائی نہیں ہیں، بلکہ جہنم کی حقیقی ہولناکی اور اس کے مادی عذاب کی شدت کو ذہن میں مجسم کرانے کے لیے ہیں۔ یہ تصوراتی نہیں بلکہ حقیقی اور ٹھوس عذاب ہے۔

3. صحابہ کرام کی تفسیری حکمت

اس روایت سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے تفسیری طریقہ کار کا اہم پہلو سامنے آتا ہے۔ وہ قرآن کی آیات کی تشریح محض قیاس آرائی سے نہیں، بلکہ اپنے مشاہدے، تجربے اور عرب کے رواجی علم کی بنیاد پر بھی کرتے تھے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما جیسے مفسر نے آیات کے ظاہری مفہوم کو عام لوگوں کی سمجھ کے قریب تر کرنے کی کوشش کی۔

4. قرآن کے اسلوب بیان کی تاثیر

قرآن اپنے پیغام کو مؤثر طریقے سے پہنچانے کے لیے سامعین کے قریب ترین اور مانوس مناظر سے تشبیہات لیتا ہے۔ عرب کے لوگ جو کشتیوں اور ان کی مضبوط رسیوں سے واقف تھے، یا جو بڑے شہتیروں سے چھپر بناتے تھے، ان کے ذہن میں آیت کا نقشہ فوراً کھنچ جاتا تھا۔ یہ تعلیم و تبلیغ کا ایک بہترین نمونہ ہے کہ مخاطب کی ذہنی سطح اور اس کے ماحول کو سامنے رکھتے ہوئے بات کی جائے۔

5. جہنم کے عذاب کی نوعیت کا ادراک

یہ تشریح جہنم کے عذاب کو محض "آگ" کا ایک عام تصور بننے سے بچاتی ہے۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ جہنم کی آگ سے نکلنے والے شعلے اور شرارے ہماری دنیا کی عام آگ سے بالکل مختلف، نہایت عظیم الجثہ اور تباہ کن ہوں گے۔ اس طرح ایمان والے کے دل میں اللہ کے عذاب کا صحیح خوف اور احتیاط پیدا ہوتا ہے۔

6. داعی کے لیے عملی رہنمائی

یہ روایت داعیانِ دین کو یہ سبق دیتی ہے کہ وہ لوگوں کو آخرت کے عذاب سے ڈراتے وقت ایسی واضح، محسوس اور تصویر کش مثالیں استعمال کریں جو سننے والے کے ذہن میں فوراً اُبھر آئیں۔ جیسے آج کے دور میں کوئی "عمارت جیسے شعلے" یا "کنکریٹ مکسٹر جیسی گرم ریت" جیسی جدید تشبیہات دے سکتا ہے۔

خلاصہ:
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کی یہ تفسیر ہمیں قرآن کو سمجھنے کا ایک عملی اور زمینی نقطہ نظر عطا کرتی ہے۔ یہ ہمیں سکھاتی ہے کہ قرآن کا کلام اپنی حقیقت میں تو عظیم ہے ہی، لیکن اس کے الفاظ اور تشبیہات اُس زمانے کے لوگوں کی روزمرہ زندگی سے اس قدر جڑے ہوئے ہیں کہ ہر کوئی اس سے سبق حاصل کر سکتا ہے۔ اس کے ذریعے جہنم کا خوف دل میں اس طرح بیٹھ جاتا ہے جیسے کوئی بڑا شہتیر آگ کا شرارہ بن کر گر رہا ہو۔

 

حدیث نمبر 2

عَنْ أَنَسٍ - رضي الله عنهقَالَ: " قَالَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم - لِجِبْرِيلَ - عليه السلام -: مَا لِي لَمْ أَرَ مِيكَائِيلَ ضَاحِكًا قَطُّ؟ قَالَمَا ضَحِكَ مِيكَائِيلُ مُنْذُ خُلِقَتِ النَّارُ"


ترجمہ:

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت جبرائیل علیہ السلام سے پوچھا: "مجھے حضرت میکائیل علیہ السلام کبھی ہنستے ہوئے کیوں نہیں دیکھا؟" جبرائیل علیہ السلام نے جواب دیا: "میکائیل علیہ السلام جب سے دوزخ پیدا کی گئی ہے، تب سے کبھی نہیں ہنسے۔


حوالہ:

  1. مسند احمد، حدیث نمبر: 13367۔ السلسلۃ الصحیحۃ للالبانی، حدیث نمبر: 2511۔ صحیح الترغیب والترہیب، حدیث نمبر: 3664۔

حدیث سے حاصل ہونے والے اسباق و نکات:

یہ مختصر مگر انتہائی پُر معنی حدیث ہمیں درج ذیل اہم ترین مضامین کی طرف متوجہ کرتی ہے:

1. جہنم کی شدت اور ہولناکی کا ادراک

اس حدیث کا مرکزی پیغام یہ ہے کہ جہنم کا عذاب ناقابلِ تصور حد تک شدید اور ہولناک ہے۔ حضرت میکائیل علیہ السلام کا جب سے جہنم پیدا ہوئی، کبھی نہ ہنسنا، یہ بتاتا ہے کہ جہنم کی تخلیق کا علم ہی اتنے عظیم المرتبت فرشتے کی طبیعت پر دائمی غم اور گھبراہٹ طاری کرنے کے لیے کافی تھا۔ اگر ایک فرشتہ، جو براہِ راست اللہ کی عبادت میں مشغول ہے، اس کی ہیبت سے اس قدر متاثر ہے، تو پھر گناہگار انسان کو اس کے بارے میں کتنا سنجیدہ ہونا چاہیے۔

2. فرشتوں کی فطرت اور ان کا مقام

حدیث سے فرشتوں کی حساس اور باخبر فطرت کا پتہ چلتا ہے۔ وہ محض بے حس مخلوق نہیں ہیں، بلکہ اللہ کی تخلیقات (جیسے جہنم) کے نتائج سے پوری طرح آگاہ ہیں اور ان کا اس پر ایک ردِعمل (عدمِ تبسم) ہے۔ یہ ان کے اللہ کے عذاب کے سامنے کامل خوف اور ادب کی علامت ہے۔

3. غفلت سے بیداری اور ہوشیاری کا سبق

نبی کریم ﷺ کا حضرت جبرائیل علیہ السلام سے یہ سوال پوچھنا درحقیقت ہماری تعلیم و تربیت کے لیے تھا۔ آپ ﷺ ہمارے سامنے ایک ایسا منظر پیش فرما رہے ہیں جو ہماری غفلت کو توڑنے کے لیے کافی ہے۔ ہم جو اپنی روزمرہ کی مصروفیات میں مگن رہتے ہیں، ہمیں یہ سوچنا چاہیے"کیا ہمارا رویہ اس انسان سے بہتر ہے جس پر عذاب کا خطرہ نہیں؟ یا پھر کیا ہم ان فرشتوں سے بھی زیادہ بے خوف ہیں جو اللہ کے قریب ترین ہیں؟"

4. آخرت پر یقین کی مضبوطی

یہ حدیث آخرت، جنت اور جہنم کے حقیقی ہونے پر ایمان کو مضبوط کرتی ہے۔ یہ محض ایک فلسفیانہ یا اخلاقی تصور نہیں، بلکہ ایک ایسی حیّ و حاضر حقیقت ہے جس کا اثر مقرب ترین فرشتوں کی کیفیات پر بھی پڑتا ہے۔ اس لیے انسان کو اس پر پختہ یقین رکھنا چاہیے۔

5. عملی زندگی کے لیے رہنما اصول

  • خوفِ الٰہی: حدیث خوفِ الٰہی کی تربیت دیتی ہے۔ مومن کا دل اللہ کے عذاب کے خوف سے ہمیشہ لرزہ زدہ رہنا چاہیے، جیسا کہ حضرت میکائیل علیہ السلام کا حال ہے۔
  • گناہوں سے حفاظت: جہنم کی اس ہیبت کو یاد رکھنا گناہوں سے بچنے کی طاقت اور نیکیوں پر ثابت قدمی کا ذریعہ ہے۔
  • دعا کی اہمیت: اس حدیث کو پڑھنے کے بعد انسان کو فوراً یہ دعا زبان پر جاری کرنی چاہیے"اے اللہ! ہمیں جہنم کے عذاب سے بچا۔"
  • دعوت کا انداز: یہ حدیث دعوت و تبلیغ کے ایک مؤثر انداز کی طرف راہنمائی کرتی ہے — لوگوں کے سامنے آخرت کی ہولناکیوں کو اس طرح پیش کیا جائے کہ ان کے دلوں پر اثر ہو، جیسے فرشتوں کے دل پر ہوا۔

خلاصہ:
یہ حدیث ہمارے سامنے جہنم کی ہولناکی کو بیان کرنے کا ایک انتہائی مؤثر اور دل کو ہلا دینے والا اسلوب ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ہماری تمام تر توجہ اپنے آخری ٹھکانے کو بہتر بنانے پر ہونی چاہیے، اور ہمیں اس عذاب سے بچنے کے لیے ہمہ وقت کوشاں رہنا چاہیے، کیونکہ یہ ایک ایسی سخت حقیقت ہے جس نے اللہ کے مقرب فرشتے کو بھی مسکراہٹ سے محروم کر دیا ہے۔

حدیث نمبر 3

عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ - رضي الله عنهقَالَسَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ - صلى الله عليه وسلميَخْطُبُ يَقُولُ: " أَنْذَرْتُكُمْ النَّارَ , أَنْذَرْتُكُمْ النَّارَ أَنْذَرْتُكُمْ النَّارَ , حَتَّى لَوْ أَنَّ رَجُلًا كَانَ فِي [أَقْصَى] (١السُّوقِ لَسَمِعَهُ مِنْ مَقَامِي هَذَا, حَتَّى وَقَعَتْ خَمِيصَةٌ (٢كَانَتْ عَلَى عَاتِقِهِ عِنْدَ رِجْلَيْهِ" (٣)


ترجمہ:

حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خطبہ دیتے ہوئے سنا، آپ فرما رہے تھے: "میں نے تمہیں دوزخ سے ڈرایا، میں نے تمہیں دوزخ سے ڈرایا، میں نے تمہیں دوزخ سے ڈرایا، یہاں تک کہ اگر کوئی شخص بازار کے (انتہائی) دور حصے میں ہوتا(١) تو وہ بھی میرے اس مقام سے میری بات سن لیتا۔" یہاں تک کہ آپ کے مونڈھے پر رکھی ہوئی خمیصہ (ایک قسم کی چادر)(٢) آپ کے قدموں کے پاس گر گئی۔ (٣)


حوالہ وحواشی:

(۱) مسند احمد، حدیث نمبر: 18423 میں "أَقْصَى" (انتہائی دور) کا لفظ ہے، اور شیخ شعیب الارناؤوط نے فرمایا کہ اس کی سند حسن ہے۔

(۲) خمیصہ: دھاری دار ریشم یا اون کا بنا ہوا ایک کپڑا۔

(۳) صحیح اب حبان (حدیث نمبر:667)، البانی نے "مشکاۃ المصابیح" (حدیث نمبر: 5687) اور "ہدایۃ الرواۃ" (حدیث نمبر: 5615) میں صحیح کہا ہے۔ نیز "صحیح الترغیب والترہیب" (حدیث نمبر: 3659) میں بھی ہے۔

حدیث سے حاصل ہونے والے اسباق و نکات:

یہ حدیث رسول اللہ ﷺ کی دعوتی اور تربیتی روش کے کئی اہم پہلوؤں کو واضح کرتی ہے:

  1. انذار (ڈر سنانا) کا مؤثر اسلوب: آپ ﷺ نے صرف ایک بار نہیں، بلکہ تین مرتبہ "میں نے تمہیں دوزخ سے ڈرایا" کہہ کر اپنی بات پر زور دیا۔ یہ تکرار پیغام کی اہمیت، فوری توجہ کی ضرورت اور سامعین کے دلوں پر اس کے گہرے اثر کے لیے تھی۔
  2. بلند آواز میں خلوص کی علامت: آپ ﷺ نے اتنی بلند آواز اور پوری توانائی کے ساتھ خطاب فرمایا کہ دور بازار میں موجود شخص تک کی سماعت تک رسائی ممکن تھی۔ یہ محض آواز اونچی کرنے کا معاملہ نہیں، بلکہ دل کی گہرائیوں سے نکلنے والی خلوص اور فکر مندی کا اظہار تھا۔ آپ ﷺ کو اپنی امت کی نجات کی اس قدر پروا تھی کہ آپ نے ہر ممکن طریقے سے ان تک اہم ترین پیغام پہنچانے کی کوشش کی۔
  3. پیغام کی نتیجہ خیزی پر مکمل توجہ: حدیث میں آیا کہ آپ ﷺ کے مونڈھے پر رکھی ہوئی "خمیصہ" (چادر) آپ کے پاؤں کے پاس گر گئی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ ﷺ اپنے پیغام کی تاثیر اور اسے پہنچانے میں اس قدر مصروف اور منہمک تھے کہ آپ کو اپنی ظاہری حالت کا احساس تک نہ رہا۔ یہ ایک داعی اور معلم کے لیے سبق ہے کہ جب وہ لوگوں کو آخرت کی ہولناکیوں سے آگاہ کرے تو اس میں پوری یکسوئی اور خلوص ہونا چاہیے۔
  4. دعوت میں جدت اور تاثیر: آپ ﷺ نے اپنی دعوت کو مؤثر بنانے کے لیے صرف الفاظ ہی نہیں، بلکہ آواز کے اتار چڑھاؤ اور جسمانی کیفیت کو بھی بروئے کار لایا۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ کسی اہم پیغام کو پہنچاتے وقت مناسب اسلوب اور ذرائع کا استعمال کرنا چاہیے تاکہ مخاطب کے دل و دماغ پر گہرا اثر ہو۔
  5. قیادت کا مثالی نمونہ: یہ حدیث آپ ﷺ کی مکمل فکر مندی اور ذمہ داری کے احساس کو ظاہر کرتی ہے۔ ایک رہنما کی حیثیت سے آپ نے اپنی امت کو خطرے سے آگاہ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ یہ قائدین اور مربیان کے لیے یہ سبق ہے کہ انہیں اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرنے میں انتہائی سنجیدہ اور فکر مند ہونا چاہیے۔
  6. آخرت کی یاددہانی کی اہمیت: بنیادی پیغام یہ ہے کہ ایک مومن کو ہمیشہ آخرت اور جہنم کے عذاب کو یاد رکھنا چاہیے۔ یہ یاددہانی گناہوں سے بچنے، نیک اعمال کی ترغیب اور تزکیہ نفس کے لیے انتہائی مؤثر ذریعہ ہے۔ آپ ﷺ نے اس یاددہانی کو انتہائی مؤثر طریقے سے امت کے سامنے رکھا۔

خلاصہ:
یہ حدیث ہمیں سکھاتی ہے کہ دین کی دعوت دیتے وقت خلوص نیت، مؤثر اسلوب، پوری توجہ اور ذمہ داری کا احساس ضروری ہے۔ رسول اللہ ﷺ کا یہ عمل ہمارے لیے ہمیشہ مشعل راہ رہے گا کہ کس طرح لوگوں کی بھلائی کے جذبے سے سرشار ہو کر انہیں آخرت کے عذاب سے بچانے کی کوشش کی جائے۔

 

حدیث نمبر 4

عَنْ عُمَرَ - رضي الله عنهقَالَأَكْثِرُوا ذِكْرَ النَّارِ , فَإِنَّ حَرَّهَا شَدِيدٌ، وَإِنَّ قَعْرَهَا بَعِيدٌ، وَإِنَّ مَقَامِعَهَا (١حَدِيدٌ. (٢)


ترجمہ:

حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: "تم آگ (جہنم) کا ذکر کثرت سے کیا کرو، کیونکہ اس کی گرمی سخت ہے، اور اس کی تہہ بہت گہری ہے، اور اس کے (عذاب کے) کوڑے(١) لوہے کے(٢) ہیں۔"


حواشی وحوالہ جات:

(۱) "مَقَامِعَهَا": اس کی واحد "مِقْمَعَة" ہے۔ یہ لوہے کے بنے ہوئے کوڑے ہیں جن کے سرے مڑے ہوئے ہوتے ہیں۔ (النهاية في غريب الأثر، جلد 4، صفحہ 175)
(۲) اس اثر کو امام ترمذی نے اپنی "الشمائل" (حدیث نمبر: 2575) میں روایت کیا ہے، اور امام بیہقی نے "شعب الإيمان" (حدیث نمبر: 34156) میں۔ نیز "صحیح الترغیب والترہیب" (حدیث نمبر: 3671) میں بھی موجود ہے۔

حدیث سے حاصل ہونے والے اسباق و نکات:

حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا یہ فرمان انتہائی جامع اور مؤثر ہے، جو جہنم کے ذکر کے فائدے اور اس کی ہولناکی کو تین واضح خصوصیات میں بیان کرتا ہے:

1. ذکرِ جہنم کی کثرت کی تاکید: ایک عملی ہتھیار

سب سے پہلا اور اہم سبق یہ ہے کہ مومن کو چاہیے کہ وہ جہنم کا ذکر خوب کثرت سے کرے۔ یہ محض ایک نصیحت نہیں، بلکہ ایک عملی روحانی ہتھیار ہے۔ اس ذکر کا مقصد انسان کے دل میں آخرت کی یاد تازہ رکھنا، گناہوں کی طرف مائل ہونے سے روکنا، اور نیکیوں پر ثابت قدمی کی تحریک دینا ہے۔ جب دل میں جہنم کا خوف بیٹھ جائے گا تو انسان فطری طور پر اس سے بچنے کے راستے تلاش کرے گا۔

2. گرمی کی شدت: گناہوں کی تلافی کی فکر

جہنم کی گرمی کی شدت اور حدت کا ذکر اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اس کی آگ ہماری دنیاوی آگ سے بالکل مختلف اور کئی گنا شدید ہے۔ یہ یاد دہانی انسان کو اس بات پر غور کرنے پر مجبور کرتی ہے کہ چھوٹے سے چھوٹا گناہ بھی اگر معاف نہ ہوا تو اس شدید گرمی کا سبب بن سکتا ہے۔ اس لیے گناہوں سے توبہ اور نیک اعمال کی کثرت ضروری ہے۔

3. تہہ کی گہرائی: نجات کے دیرپا ثمرات

جہنم کی تہہ کے بہت دور اور گہرا ہونے کا ذکر درحقیقت اس کے عذاب سے نکلنے کی دشواری اور طولانی مدت کی طرف اشارہ ہے۔ یہ تصور انسان کو یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ تھوڑی سی دنیوی لذت کے عوض ایک ایسے عذاب میں پھنس جانا کتنی بڑی نادانی ہے جس سے نکلنا ناممکن کے قریب ہے۔ اس کے برعکس، نیکی کی مشکلات عارضی ہیں جبکہ اس کا اجر دائمی ہے۔

4. لوہے کے کوڑے: عذاب کی سنگینی اور ظلم کی حقیقت

یہ بیان کہ جہنم کے کوڑے لوہے کے ہیں، عذاب کی سنگینی، کڑک اور جسم کو چیر دینے والی کیفیت کو واضح کرتا ہے۔ یہ محض اذیت نہیں بلکہ ذلت و رسوائی کا ایک پہلو بھی ہے۔ یہ بات اس عقیدے کو مضبوط کرتی ہے کہ اللہ کا عذاب نہایت سخت اور مؤثر ہے، اور یہ کہ انسان کے اپنے کئے ہوئے ظلم (اپنے نفس پر یا دوسروں پر) کا بدلہ اسی طرح سخت ہوگا۔

5. نفسیاتی اثر: خوف اور رجاء کا توازن

یہ تینوں صفات مل کر انسان کے دل پر ایک گہرا نفسیاتی اثر ڈالتی ہیں۔ یہ ذکر انسان کو غفلت کی نیند سے جگاتا ہے اور اسے اپنے انجام کے بارے میں سوچنے پر مجبور کرتا ہے۔ اس کا مقصد صرف ڈرانا ہی نہیں، بلکہ اللہ کی رحمت کی قدر سکھانا اور اس کی طرف دوڑنے پر آمادہ کرنا بھی ہے۔ کیونکہ جو شخص عذاب کی شدت کو جانتا ہے، وہ معافی اور نجات کی اہمیت کو بھی پہچانتا ہے۔

خلاصہ:
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا یہ قول ایک مختصر مگر جامع تنبیہ اور روحانی علاج ہے۔ یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ جہنم کا ذکر ہمارے ایمان کی مضبوطی، گناہوں سے پرہیز اور آخرت کی تیاری کا ایک طاقتور زریعہ ہے۔ اسے یاد رکھ کر ہی انسان دنیا کی فانی لذتوں کے مقابلے میں آخرت کی دائمی کامیابی کو ترجیح دینا سیکھتا ہے۔

 


عَدَدُ أَبْوَابِ جَهَنَّم (جہنم کے دروازوں کی تعداد)

قَالَ تَعَالَى: {وَإِنَّ جَهَنَّمَ لَمَوْعِدُهُمْ أَجْمَعِينَ , لَهَا سَبْعَةُ أَبْوَابٍ , لِكُلِّ بَابٍ مِنْهُمْ جُزْءٌ مَقْسُومٌ} (١)

حدیث نمبر 5

(ابن سعد) , وَعَنْ عُتْبَةَ بْنِ عَمْرٍو السُّلَمِيِّ - رضي الله عنهقَالَقَالَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم -: " الْجَنَّةُ لَهَا ثَمَانِيَةُ أَبْوَابٍ، وَالنَّارُ لَهَا سَبْعَةُ أَبْوَابٍ " (٢)


ترجمہ:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے"اور بے شک جہنم یقیناً ان سب کے وعدے کی جگہ ہے، اس کے سات دروازے ہیں، ہر دروازے کے لیے ان (کافروں) کا ایک مقررہ حصہ ہے" (۱)۔

اور حضرت عتبہ بن عمرو السلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا"جنت کے آٹھ دروازے ہیں اور جہنم کے سات دروازے" (۲)۔


حواشی:

(۱) سورۃ الحجر، آیات: 43-44۔
(۲) اس اثر کو امام ابن سعد نے "الطبقات الکبریٰ" (جلد 7، صفحہ 430) میں روایت کیا ہے۔ نیز علامہ البانی نے "صحیح الجامع الصغیر" (حدیث نمبر: 3119) اور "سلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ" (حدیث نمبر: 1812) میں اسے صحیح قرار دیا ہے۔
[الجامع الصحيح للسنن والمسانيد: ج3 ص186]

حدیث اور آیات سے حاصل ہونے والے اسباق و نکات:

حضرت عتبہ بن عمرو السلمی رضی اللہ عنہ کی مذکورہ حدیث اور سورۃ الحجر کی آیات سے درج ذیل اہم اسباق اور نکات حاصل ہوتے ہیں:

1. عدلِ الٰہی کا واضح اظہار

جہنم کے سات دروازے ہونا اور ہر دروازے کے لیے گنہگاروں کا ایک مقررہ حصہ ہونا، اللہ تعالیٰ کے کامل عدل اور منظم انتظام کی واضح دلیل ہے۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ عذاب بے ترتیب نہیں ہوگا، بلکہ ہر قسم کے مجرموں اور ان کے جرائم کی نوعیت کے مطابق ان کے داخلے اور رہنے کی جگہ مقرر ہوگی۔ اس سے اللہ کی حکمت اور اس کے نظام میں تفصیل و تدبیر کا پتہ چلتا ہے۔

2. گناہوں کے درجات اور عذاب کی انواع کی طرف اشارہ

جہنم کے دروازوں کی تعدد درحقیقت گناہوں کی مختلف اقسام اور ان کی شدت کی طرف ایک علامتی اشارہ ہے۔ جس طرح دنیا میں جرائم چھوٹے بڑے ہوتے ہیں، اسی طرح آخرت میں بھی عذاب کے درجات ہوں گے۔ ممکن ہے کہ ہر دروازہ کسی خاص قسم کے گناہ (جیسے شرک، ظلم، تکبر) کرنے والوں یا ان کے عذاب کی کسی خاص نوعیت کے لیے مخصوص ہو۔ یہ بات انسان کو ہر قسم کے گناہ، چھوٹے یا بڑے، سے بچنے کی ترغیب دیتی ہے۔

3. جنت و جہنم کے درمیان فرق کی نشاندہی

حدیث میں جنت کے آٹھ اور جہنم کے سات دروازوں کا ذکر، ان دونوں جگہوں کے درمیان ایک بنیادی فرق اور فضیلت کو ظاہر کرتا ہے۔ جنت کے دروازوں کی زیادہ تعداد اس کی وسعت، رحمت کے سیلاب اور نیکیوں کے راستوں کی کثرت کی علامت ہے، جبکہ جہنم کے دروازے اس کی سختی اور محدود راستوں کی طرف بھی اشارہ کر سکتے ہیں۔

4. تنبیہ اور ڈر کا پہلو

جہنم کے دروازوں کا تصور اپنے اندر ایک شدید تنبیہ سموئے ہوئے ہے۔ یہ ذہن میں یہ نقشہ کھینچتا ہے کہ جہنم ایک ایسی جگہ ہے جس میں داخل ہونے کے کئی راستے ہیں، اور بہت سے لوگ اپنے اعمال کی وجہ سے ان میں سے کسی نہ کسی راستے سے ضرور داخل ہوں گے۔ یہ تصور انسان کو گناہوں سے باز رکھنے اور آخرت کی فکر کرنے پر مجبور کرتا ہے۔

5. توفیقِ الٰہی کی اہمیت کا احساس

حدیث یہ سبق بھی دیتی ہے کہ انسان کو ہمیشہ اللہ سے ہدایت اور جہنم کے ان تمام ساتوں دروازوں سے بچنے کی توفیق مانگتے رہنا چاہیے۔ جنت کا ایک دروازہ بھی داخلے کے لیے کافی ہے، لیکن جہنم کا کوئی ایک دروازہ بھی تباہی کے لیے کافی ہے۔ اس لیے دعا کرنی چاہیے"اے اللہ! ہمیں جہنم کے ہر دروازے سے اور ہر قسم کے عذاب سے محفوظ رکھ۔"

6. قرآن و حدیث کی باہمی موافقت

یہ حدیث قرآن مجید میں بیان کردہ حقیقت (سورۃ الحجر: 44) کی توضیح اور تصدیق کرتی ہے۔ اس سے رسول اللہ ﷺ کے فرامین کی قرآنی تعلیمات کے ساتھ مکمل ہم آہنگی ثابت ہوتی ہے اور سنت رسول کا مقام و مرتبہ واضح ہوتا ہے۔

خلاصہ:
جہنم کے سات دروازوں کا ذکر محض ایک عددی بیان نہیں، بلکہ ایک گہرے معنوی اور تربیتی پیغام کا حامل ہے۔ یہ اللہ کے عدل، اس کے نظام کی تفصیل، گناہوں کی سنگینی اور آخرت کے انجام سے خبردار کرنے والی ایک مؤثر علامت ہے۔ ایک مسلمان کو چاہیے کہ وہ ان تمام راستوں سے بچنے کی کوشش کرے جو جہنم کی طرف لے جاتے ہیں اور ان نیک اعمال کو اختیار کرے جو جنت کے آٹھوں دروازے کھولنے کا سبب بنیں۔

 

حدیث نمبر 6

سَعَةُ جَهَنَّم (جہنم کی وسعت)

(م حم) , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رضي الله عنهقَالَ: (كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللهِ - صلى الله عليه وسلم - يَوْمًا , فَسَمِعْنَا وَجْبَةً (١فَقَالَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم -: " تَدْرُونَ مَا هَذَا؟ " , فَقُلْنَااللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ) (٢) (قَالَ: " هَذَا حَجَرٌ رُمِيَ بِهِ فِي جَهَنَّمَ مُنْذُ سَبْعِينَ خَرِيفًا، فَهُوَ يَهْوِي فِي النَّارِ) (٣) (فَالْآنَ انْتَهَى إِلَى قَعْرِهَا) (٤) (فَسَمِعْتُمْ وَجْبَتَهَا ") (٥)


ترجمہ:

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ بیان کرتے ہیں"ہم ایک دن رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر تھے کہ ہم نے ایک (گرنے کی) زوردار آواز سنی۔) تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: 'تم جانتے ہو یہ کیا ہے؟' ہم نے عرض کیا: اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔'(٢) آپ ﷺ نے فرمایا: 'یہ ایک پتھر ہے جسے ستر سال پہلے جہنم میں پھینکا گیا تھا، اور وہ آگ میں گرتا ہی جا رہا تھا،(٣) اب اس وقت وہ اس کی تہہ میں جا پہنچا ہے،(٤) تو تم نے اس کے گرنے کی آواز سنی ہے۔'(٥)"


حواشی:

  1. الوَجْبَة: گرنے کی آواز۔
  2. اس حصہ کو امام احمد نے اپنی "مسند" (حدیث نمبر: 8826) اور امام مسلم نے اپنی "صحیح" (حدیث نمبر: 2844) میں روایت کیا ہے۔
  3. یہ جملہ امام مسلم (حدیث نمبر: 2844) کی روایت میں موجود ہے۔
  4. یہ جملہ امام احمد (حدیث نمبر: 8826) اور امام مسلم (حدیث نمبر: 2844) دونوں کی روایت میں موجود ہے۔
  5. یہ جملہ امام مسلم (حدیث نمبر: 2844) کی روایت میں موجود ہے۔

حدیث سے حاصل ہونے والے اسباق و نکات:

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث جہنم کی ہولناکی، اس کی لامحدود وسعت اور گہرائی کے بارے میں ایک ایسا منظر پیش کرتی ہے جو انسانی عقل و تصور سے بالا ہے۔ اس سے درج ذیل قیمتی اسباق ملتے ہیں:

1. جہنم کی ناقابلِ فہم گہرائی اور وسعت

اس حدیث کا سب سے واضح اور مرکزی پیغام جہنم کی لامحدود گہرائی اور وسعت کا بیان ہے۔ ایک پتھر کو ستر سال (خرِيفًا: خزاں/سال) تک مسلسل گرتے رہنے کے بعد جہنم کی تہ تک پہنچنے کا تصور اس بات کی واضح دلیل ہے کہ جہنم کی گہرائی ہمارے پیمانوں اور دنیاوی فاصلوں سے کہیں زیادہ وسیع ہے۔ یہ ہمارے ذہن میں اس کی عظمت اور ہیبت کا ایک نقشہ کھینچتا ہے۔

2. عذاب کی ہولناکی اور اس کی مدت

یہ بات ذہن نشین کرنے کے لیے کافی ہے کہ ایک بے جان پتھر بھی جہنم میں گرتے ہوئے اس قدر طویل سفر طے کرتا ہے۔ پھر وہاں ایک گناہگار انسان کو ملنے والے عذاب کا کیا حال ہوگا؟ یہ تصور عذاب کی شدت اور اس کے ممکنہ طولانی عرصے (اگر اللہ نہ بخشے) کی طرف ایک خوفناک اشارہ ہے، جو ہر عقل مند کو گناہوں سے بچنے پر آمادہ کرنے کے لیے کافی ہے۔

3. تعلیم و تربیت کا مؤثر اسلوب

رسول اللہ ﷺ نے اچانک سنی جانے والی آواز کو تعلیمی موقع میں تبدیل کر دیا۔ آپ ﷺ نے صحابہ کرام سے سوال پوچھ کر ان کی توجہ حاصل کی اور انہیں سوچنے پر مجبور کیا۔ یہ سقراطی طریقہ تعلیم کا بہترین نمونہ ہے، جس میں سوال کے ذریعے طالب علم کو خود سوچنے اور حقیقت تک پہنچنے کا موقع دیا جاتا ہے۔

4. ادب اور علم کی کمی کا اعتراف

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا یہ جواب کہ "اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں"، ایک مسلمان کا ہر ایسے معاملے میں بہترین جواب اور ادب ہے جس کا اسے علم نہ ہو۔ یہ جواب عجز و انکساری کا اظہار ہے اور یہ تسلیم کرنا ہے کہ علم کا سرچشمہ اللہ کی وحی اور اس کے رسول کی تعلیمات ہیں۔

5. غیبی امور پر ایمان کی تربیت

یہ حدیث غیب پر ایمان کی مضبوطی کا سبب بنتی है۔ ہم اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھ سکتے، لیکن رسول اللہ ﷺ کے بیان کردہ اس واقعے پر ایمان لاتے ہیں کہ جہنم میں ستر سال قبل ایک پتھر پھینکا گیا تھا جو اب تہ تک پہنچا ہے۔ یہ ایمان بالغیب کی ایک عملی مشق ہے۔

6. نفسیاتی اثر اور تنبیہ

اس واقعے کو بیان کرنے کا مقصد محض ایک معلوماتی بات بیان کرنا نہیں تھا، بلکہ صحابہ کرام کے دلوں پر ایک گہرا اثر ڈالنا تھا۔ اس آواز اور اس کی حقیقت کو سن کر ان کے دل میں جہنم کا خوف اور اس سے بچنے کی لگن پیدا ہوئی ہوگی۔ یہی اس حدیث کا اصل مقصد ہےتنبیہ اور بیداری۔

7. توبہ اور استغفار کی ترغیب

ایسے منظر کو ذہن میں رکھتے ہوئے ہر عقلمند انسان کا دل اس طرف مائل ہونا چاہیے کہ وہ فوراً سے فوراً اللہ کی طرف رجوع کرے، اپنے گناہوں پر نادم ہو، توبہ و استغفار کرے اور ایسے اعمال کرے جو اس عظیم خطرے سے نجات کا سبب بنیں۔

خلاصہ:
یہ حدیث جہنم کی وسعت و گہرائی کو بیان کرنے کا ایک انتہائی مؤثر اور تصویری انداز ہے۔ یہ صرف الفاظ کا بیان نہیں، بلکہ ایک ایسا منظر نامہ ہے جو سننے والے کے دل و دماغ پر نقش ہو جاتا ہے۔ اس کا مقصد انسان کو اس عظیم خطرے سے آگاہ کرنا، اسے غفلت کی نیند سے جگانا اور اسے نجات کے راستے پر گامزن کرنا ہے۔

اگر آپ کسی خاص پہلو پر مزید وضاحت چاہتے ہیں تو ضرور پوچھیں۔

 


حدیث نمبر 7

عَنْ معاذ بن جبل - رضي الله عنهقَالَقَالَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم -: " وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، إِنَّ قَدْرَ مَا بَيْنَ شَفِيرِ (١النَّارِ وَقَعْرِهَا، كَصَخْرَةٍ زِنَتُهَا سَبْعُ خَلِفَاتٍ (٢بِشُحُومِهِنَّ وَلُحُومِهِنَّ وَأَوْلَادِهِنَّ، تَهْوِي فِيمَا بَيْنَ شَفِيرِ النَّارِ إِلَى أَنْ تَبْلُغَ قَعْرَهَا سَبْعِينَ خَرِيفًا " (٣)


ترجمہ:

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا"اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد (ﷺ) کی جان ہے! بے شک جہنم کے کنارے(١) اور اس کی تہہ کے درمیان جو فاصلہ ہے، وہ ایسے پتھر کے مانند ہے جس کا وزن سات حاملہ اونٹنیاں ہوں(٢) اپنی چربی، گوشت اور اپنے بچوں سمیت، جو جہنم کے کنارے سے گرتا ہے اور اس کی تہ تک پہنچنے میں ستر سال لگاتا ہے۔"(٣)


حواشی:
(١شَفِير: کنارہ، حاشیہ، جانب۔
(٢خَلِفَات: "خَلِفَة" کی جمع، مراد حاملہ اونٹنی جو دسویں مہینے میں ہو۔
(٣اس اثر کو امام طبرانی نے "المعجم الکبیر" (جلد 20، صفحہ 169، حدیث نمبر: 361) میں روایت کیا ہے۔ نیز "المعجم الأوسط" (حدیث نمبر: 8767) میں بھی ہے۔ علامہ البانی نے "صحیح الجامع الصغیر" (حدیث نمبر: 5248)، "سلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ" (حدیث نمبر: 1612 اور 2165) اور "صحیح الترغیب والترہیب" (حدیث نمبر: 3674) میں اسے صحیح قرار دیا ہے۔

حدیث سے حاصل ہونے والے اسباق و نکات:

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث جہنم کی ہولناک وسعت اور گہرائی کو بیان کرنے کے لیے رسول اللہ ﷺ کے مؤثر ترین بیانات میں سے ایک ہے۔ اس میں دو طاقتور تشبیہات (وزن اور وقت) کے ذریعے ایک ایسا منظر کھینچا گیا ہے جو انسانی عقل کو دنگ کر دینے والا ہے۔ اس سے درج ذیل گہرے اسباق ملتے ہیں:

1. جہنم کی وسعت کا ناقابلِ تصور پیمانہ

حدیث میں جہنم کی گہرائی کو دو طریقوں سے سمجھایا گیا ہے:

  • وزن کے لحاظ سے: ایک ایسا پتھر جس کا وزن سات حاملہ اونٹنیوں (ان کے بچوں سمیت) کے برابر ہے۔ یہ اس پتھر کے عظیم الجثہ، گھنے اور بے پناہ بھاری ہونے کی نشاندہی کرتا ہے۔
  • وقت کے لحاظ سے: ایسا بھاری پتھر جہنم میں ستر سال تک مسلسل گرتا رہے تب جا کر تہ تک پہنچتا ہے۔ یہ اس کی لامحدود گہرائی کو ظاہر کرنے کے لیے وقت کا وہ پیمانہ ہے جو انسانی فہم میں آ سکے۔

یہ دونوں تشبیہات مل کر جہنم کی حقیقی عظمت اور ہیبت کو وضاحت کے دائرے میں لانے کی کوشش ہیں، حالانکہ اس کی اصل حقیقت کا ادراک انسانی عقل سے بالا تر ہے۔

2. قسم کی تاکید: پیغام کی سچائی اور اہمیت

آپ ﷺ نے اپنی جان کی قسم کھا کر بات شروع فرمائی"والذی نفس محمد بیدہ"۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ جو کچھ بیان ہونے والا ہے وہ:

  • نہایت سچا اور یقینی ہے۔
  • انتہائی اہم اور خطرناک ہے۔
  • سننے والے کے دل پر گہرا اثر ڈالنے کے لیے ہے۔
    یہ قسم گویا سامعین کے کان کھولنے اور ان کی توجہ مرکوز کرنے کے لیے ایک 'الارم بیل' کا کام کرتی ہے۔

3. تشبیہات کی تاثیر: عقل و دل دونوں کو مخاطب بنانا

آپ ﷺ نے انتہائی مناسب، مانوس اور طاقتور تشبیہات استعمال کیں۔ عرب کے لوگوں کے لیے اونٹنیوں کا وزن اور سالوں کا طویل سفر ایسے تصورات تھے جنہیں وہ بخوبی سمجھ سکتے تھے۔ یہ اس بات کی عکاسی ہے کہ پیغام کو مؤثر طریقے سے پہنچانے کے لیے مخاطب کی ذہنی سطح، ثقافت اور روزمرہ کی زندگی سے جڑی مثالیں دینا کتنا ضروری ہے۔ اس سے دل کے ساتھ ساتھ عقل بھی قائل ہوتی ہے۔

4. خوفِ الٰہی کی شدت اور غفلت کی مذمت

ایسے بیان کا بنیادی مقصد مومن کے دل میں خوفِ الٰہی کو زندہ اور شدید کرنا ہے۔ اگر جہنم کی گہرائی کا یہ حال ہے تو اس میں گرنے والے گناہگار انسان کی کیاحالت ہوگی؟ یہ تصور انسان کو ہر قسم کی غفلت، بے فکری اور گناہ میں آسانی کے رویے سے روکتا ہے۔ جو شخص اس حدیث کو سمجھ کر سنے، وہ کبھی یہ نہیں کہہ سکتا کہ "صرف ایک چھوٹا سا گناہ ہے۔"

5. عذاب سے نجات کی فکر اور عمل کی ترغیب

اس ہولناک منظر کے بیان کا مثبت پہلو یہ ہے کہ یہ انسان کو نجات کے راستے پر دوڑنے پر اکساتا ہے۔ جب انسان جہنم کی اس وسعت کا یقین کرے گا تو وہ فوراً اپنے اعمال درست کرنے، توبہ واستغفار کرنے اور ایسے نیک کام کرنے کی کوشش کرے گا جو اس گہرے گڑھے میں گرنے سے بچا سکیں۔ یہ حدیث درحقیقت عمل صالح کے لیے ایک زبردست محرک ہے۔

6. اللہ کی قدرت کاملہ پر ایمان

جہنم کی یہ عظیم الشان تخلیق اللہ تعالیٰ کی بے پناہ قدرت، حکمت اور عظمت کی واضح نشانی ہے۔ یہ کوئی معمولی آگ نہیں، بلکہ ایک ایسی ہیبت ناک مخلوق ہے جس کی وسعت کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔ اس پر ایمان لانا اللہ کی صفت 'القدیر' (ہر چیز پر قادر) پر ایمان کا حصہ ہے۔

خلاصہ:
نبی کریم ﷺ کی یہ حدیث جہنم کے عذاب کی ہولناکی کو سمجھانے کے لیے تشبیہ و تمثیل کے بیانیہ اسلوب کا شاہکار ہے۔ یہ نہ صرف عقل کو حیران کر دیتی ہے بلکہ دل کو بھی لرزا دیتی ہے۔ اس کا مقصد انسان کو اس عظیم خطرے سے آگاہ کرنا، اسے غفلت سے بیدار کرنا اور اسے اللہ کی رحمت کی طرف دوڑنے پر آمادہ کرنا ہے۔ یہ حدیث ہمارے لیے ہمیشہ ایک تنبیہی نشان اور روحانی محرک کا کام دے سکتی ہے۔


حدیث نمبر 8

عَنْ مُجَاهِدٍ قَالَقَالَ لِيَ ابْنُ عَبَّاسٍ - رضي الله عنهما -: أَتَدْرِي مَا سَعَةُ جَهَنَّمَ؟قُلْتُلَا، قَالَأَجَلْ وَاللهِ مَا تَدْرِي , إنَّ بَيْنَ شَحْمَةِ أُذُنِ أَحَدِهِمْ وَبَيْنَ عَاتِقِهِ مَسِيرَةَ سَبْعِينَ خَرِيفًا , تَجْرِي فِيهَا أَوْدِيَةُ الْقَيْحِ وَالدَّمِقُلْتُأَنْهَارًا؟قَالَلَا، بَلْ أَوْدِيَةًثُمَّ قَالَأَتَدْرُونَ مَا سِعَةُ جَهَنَّمَ؟، حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ - رضي الله عنها - أَنَّهَا سَأَلَتْ رَسُولَ اللهِ - صلى الله عليه وسلم - عَنْ قَوْلِهِ - عز وجل -: {وَالْأَرْضُ جَمِيعًا قَبْضَتُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَالسَّمَوَاتُ مَطْوِيَّاتٌ بِيَمِينِهِ} (١قَالَتْ: فَأَيْنَ يَكُونُ النَّاسُ يَوْمَئِذٍ يَا رَسُولَ اللهِ؟، فَقَالَ: " هُمْ عَلَى جِسْرِ جَهَنَّمَ (٢) " (٣)


ترجمہ:

حضرت مجاہد سے روایت ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے مجھ سے فرمایا"کیا تم جہنم کی وسعت جانتے ہو؟" میں نے کہا: نہیں۔ آپ نے فرمایا"ہاں، اللہ کی قسم! تم نہیں جانتے۔ بے شک ان (جہنم میں ڈالے جانے والوں) میں سے کسی ایک کے کان کی لو اور اس کے کندھے کے درمیان ستر سال کی مسافت ہے، جس میں پیپ اور خون کی وادیاں بہتی ہیں۔" میں نے پوچھا"کیا (یہ) نہریں ہیں؟" آپ نے فرمایا"نہیں، بلکہ وادیاں ہیں۔" پھر آپ نے (مجھ سے) فرمایا"کیا تم جہنم کی وسعت جانتے ہو؟ (یہ سن کر) حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے مجھ سے بیان کیا کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے اللہ عز وجل کے اس فرمان: {اور قیامت کے دن ساری زمین اس کی مٹھی میں ہوگی اور آسمان اس کے دائیں ہاتھ میں لپٹے ہوں گے} (1) کے بارے میں پوچھا۔ انہوں نے کہا"اے اللہ کے رسول! اس دن لوگ کہاں ہوں گے؟" آپ ﷺ نے فرمایا"وہ جہنم کے پل (صراط) پر ہوں گے۔" (2)


حواشی:

(1) سورۃ الزمر، آیت نمبر: 67۔
(2) "جِسْرِ جَهَنَّمَ" سے مراد یہاں "الصِّرَاط" یعنی وہ پل ہے جو جہنم پر گزارا جائے گا۔ (شرح النووي على مسلم، جلد 2، صفحہ 14)
اس اثر کو امام احمد نے اپنی "مسند" (حدیث نمبر: 24900) میں، امام مسلم نے اپنی "صحیح" (حدیث نمبر: 2791) میں اور امام ترمذی نے اپنی "جامع" (حدیث نمبر: 3121) میں روایت کیا ہے۔ نیز علامہ البانی نے "السلسلۃ الصحیحۃ" (حدیث نمبر: 561) میں اسے صحیح قرار دیا ہے۔

حدیث سے حاصل ہونے والے اسباق و نکات:

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کا یہ بیان، جو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث سے جڑتا ہے، جہنم کی ہولناک وسعت اور قیامت کے دن کی ہیبت کے بارے میں انتہائی گہرے تصورات پیش کرتا ہے۔ اس سے درج ذیل اہم اسباق ملتے ہیں:

1. جہنم کی وسعت کا انسانی تصور سے باہر ہونا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کا یہ فرمان کہ "اللہ کی قسم! تم نہیں جانتے"، اس بات کی واضح دلیل ہے کہ جہنم کی حقیقی وسعت اور ہیبت کا ادراک انسانی عقل و فہم سے بالاتر ہے۔ پھر آپ نے اسے سمجھانے کے لیے ایک خوفناک مثال دی: جہنم میں ڈالے جانے والے ایک شخص کے کان کی لو اور کندھے کے درمیان ستر سال کی مسافت۔ یہ تصور اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ جہنم میں عذاب کی جگہیں، اس کے گڑھے اور وادیاں ہماری دنیاوی پیمائشوں سے کہیں زیادہ وسیع ہیں۔ عذاب میں گرفتار لوگوں کے جسم بھی عذاب کی وسعت کے مطابق ہوں گے۔

2. عذاب کی نئی اور مکروہ انواع

حدیث میں جہنم میں "پیپ اور خون کی وادیوں" کا ذکر ہے۔ یہ صرف آگ ہی نہیں، بلکہ گندے، بدبودار اور انتہائی مکروہ مادوں کا عذاب بھی ہے، جس سے جہنم کے عذاب کی مختلف اور متنوع ہولناکیوں کا پتہ چلتا ہے۔ یہ وادیاں اس قدر وسیع ہیں کہ انہیں "نہریں" نہیں بلکہ "وادیاں" کہا گیا ہے۔

3. صراط پر قیامت کی ہیبت اور آزمائش

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث قیامت کے اس منظر کی طرف لے جاتی ہے جب سارا جہان اللہ کی قبضۂ قدرت میں ہوگا۔ اس وقت تمام انسان جہنم پر بچھائے گئے پل (صراط) پر جمع ہوں گے۔ یہ منظر انتہائی خوفناک، ہیبت ناک اور اضطراب انگیز ہوگا۔ یہ حدیث آخرت کی ذمہ داری اور حساب و کتاب کی شدت کو ذہن نشین کرانے کے لیے کافی ہے۔

4. صحابیات کی علمی جستجو اور فہم

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا اللہ کے فرمان کی گہرائی میں جا کر سوچنا اور پھر رسول اللہ ﷺ سے اس کے عملی مفہوم کے بارے میں سوال کرنا، امہات المومنین کے علمی مقام، فہم و ذکا اور دین کو سمجھنے کے لیے سوال کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ ہر طالب علم کے لیے مثال ہے کہ علم حاصل کرنے میں کنجوسی نہیں برتنی چاہیے۔

5. تعلیم کا سلسلہ اور علم کی منتقلی

اس روایت میں علم کی منتقلی کا ایک خوبصورت سلسلہ نظر آتا ہےرسول اللہ ﷺ → حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا → حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما → حضرت مجاہد۔ یہ اس بات کی عکاسی ہے کہ صحابہ اور تابعین کس طرح علم کو محفوظ کرنے، اسے آگے پہنچانے اور اس پر غور و فکر کرنے میں مصروف رہتے تھے۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما اپنے شاگرد کو تعلیم دیتے ہوئے ایک بزرگ صحابیہ کا حوالہ دے رہے ہیں، جو علم میں تواضع اور احترام کی بھی تعلیم دیتا ہے۔

6. خوف و رجاء کے درمیان توازن

ان بیانات کا مقصد محض ڈرانا ہی نہیں ہے۔ بلکہ یہ خوفِ الٰہی پیدا کر کے انسان کو نجات کے راستے پر گامزن کرنا ہے۔ جہنم کی وسعت کا خوف اور صراط پر کھڑے ہونے کا تصور انسان کو اس بات پر آمادہ کرتا ہے کہ وہ دنیا میں ہی اپنے اعمال درست کر لے، تاکہ قیامت کے دن اس ہولناک مقام سے کامیابی سے گزر سکے۔

7. اللہ کی عظمت اور انسان کی حقیقت کا احساس

حدیث کا اختتامی حصہ اللہ تعالیٰ کی عظمت و کبریائی کو اس طرح پیش کرتا ہے کہ سارا جہان اس کی مٹھی میں سما جاتا ہے، جبکہ انسان ایک نازک اور خطرناک مقام (صراط) پر کھڑا ہے۔ یہ تصور انسان کے عجز، محتاجی اور اپنے رب کے سامنے جوابدہی کے احساس کو زندہ کرتا है۔

خلاصہ:
یہ مجموعۂ روایات ہمیں جہنم کی ناقابلِ فہم وسعت، عذاب کی ہولناک انواع اور قیامت کے دن کی دہشت کے بارے میں بتاتا ہے۔ یہ بیانات ہمارے دل میں اللہ کے عذاب کا صحیح خوف پیدا کرتے ہیں، ہمیں غفلت سے بیدار کرتے ہیں اور اپنے آخرت کے انجام کو بہتر بنانے کی ترغیب دیتے ہیں۔ ساتھ ہی یہ علم سیکھنے، سکھانے اور سوال کر کے سمجھنے کے آداب بھی سکھاتے ہیں۔

 


حدیث نمبر 9

عَنْ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللهِ - صلى الله عليه وسلمقَالَكُنْتُ قَائِمًا عِنْدَ رَسُولِ اللهِ - صلى الله عليه وسلم - فَجَاءَ حَبْرٌ (١مِنْ أَحْبَارِ الْيَهُودِفَقَالَالسَّلَامُ عَلَيْكَ يَا مُحَمَّدُ , فَدَفَعْتُهُ دَفْعَةً كَادَ يُصْرَعُ (٢مِنْهَافَقَالَلِمَ تَدْفَعُنِي؟فَقُلْتُأَلَا تَقُولُ يَا رَسُولَ اللهِ؟فَقَالَ الْيَهُودِيُّإِنَّمَا نَدْعُوهُ بِاسْمِهِ الَّذِي سَمَّاهُ بِهِ أَهْلُهُ , فَقَالَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم -: " إِنَّ اسْمِي الَّذِي سَمَّانِي بِهِ أَهْلِي مُحَمَّدٌ " , فَقَالَ الْيَهُودِيُّجِئْتُ أَسْأَلُكَ , فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم -: " أَيَنْفَعُكَ شَيْءٌ إِنْ حَدَّثْتُكَ؟قَالَ: أَسْمَعُ بِأُذُنَيَّ , " فَنَكَتَ (٣رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم - بِعُودٍ مَعَهُفَقَالَسَلْ " , فَقَالَ الْيَهُودِيُّأَيْنَ يَكُونُ النَّاسُ يَوْمَ تُبَدَّلُ الْأَرْضُ غَيْرَ الْأَرْضِ وَالسَّمَوَاتُ؟ , فَقَالَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم -: " هُمْ فِي الظُّلْمَةِ دُونَ الْجِسْرِ (٤) " (٥)


ترجمہ:

حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ، جو رسول اللہ ﷺ کے آزاد کردہ غلام ہیں، سے روایت ہے کہ وہ بیان کرتے ہیں"میں رسول اللہ ﷺ کے پاس کھڑا تھا کہ یہودی علماء میں سے ایک عالم آیا(١) اور اس نے کہا: 'السلام علیک اے محمد!' تو میں نے اسے ایسا دھکا دیا کہ وہ قریب تھا کہ اس سے گر پڑے۔(٢) تو اس نے کہا: 'تم مجھے کیوں دھکیلتے ہو؟' میں نے کہا: 'کیا تم 'یا رسول اللہ' نہیں کہہ سکتے؟' یہودی بولا: 'ہم تو اسے اسی نام سے پکارتے ہیں جس نام سے اس کے گھر والے پکارتے ہیں۔' تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: 'بے شک وہ نام جس سے میرے گھر والے مجھے پکارتے ہیں، محمد ہے۔' پھر یہودی بولا: 'میں آپ سے پوچھنے آیا ہوں۔' رسول اللہ ﷺ نے اس سے فرمایا: 'کیا اگر میں تمہیں بتاؤں تو کوئی چیز تمہارے کام آئے گی؟' اس نے کہا: 'میں اپنے کانوں سے سنوں گا۔' پھر رسول اللہ ﷺ نے اپنے ہاتھ میں موجود ایک چھڑی سے زمین پر کچھ نشان بنائے(٣) اور فرمایا: 'پوچھو۔' یہودی نے پوچھا: 'جس دن زمین کو بدل کر دوسری زمین کر دیا جائے گی اور آسمان (بھی بدل دیے جائیں گے)، اس دن لوگ کہاں ہوں گے؟' رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: 'وہ پل (صراط) کے نیچے تاریکی میں ہوں گے۔'(٤) " (٥)


حواشی:
(١الحَبْر: وہ عالم جو علم میں گہرائی رکھتا ہو۔
الصَّرْع: گرنا، زمین پر گر پڑنا۔
(٣النَّكْت: کسی چھڑی، انگلی یا کسی اور چیز سے زمین کو ٹکور کرنا، جس سے اس کا سرا زمین میں اثر کرے۔
(٤الجِسْر: یہاں اس سے مراد "الصِّرَاط" یعنی وہ پل ہے جو جہنم پر گزارا جائے گا۔ (شرح النووي على مسلم، جلد 2، صفحہ 14)
(٥)اس حدیث کو امام مسلم نے اپنی "صحیح مسلم" (کتاب الایمان، باب بیان حال ایمان من رغب عن أبيه، حدیث نمبر: 315) میں روایت کیا ہے۔

حدیث سے حاصل ہونے والے اسباق و نکات:

حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث رسول اللہ ﷺ کے ادب، آپ کی شریعت کی تعلیمات کے تحفظ، اور قیامت کے ایک اہم منظر کے بیان پر مشتمل ہے۔ اس سے درج ذیل اسباق ملتے ہیں:

1. ادبِ رسول ﷺ کی غیرت و حمیت

حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ کا یہودی عالم کو دھکا دینا، اگرچہ ظاہری طور پر سخت معلوم ہوتا ہے، لیکن یہ درحقیقت رسول اللہ ﷺ کے ادب و احترام کے جذبے سے سرشار تھا۔ وہ یہ برداشت نہ کر سکے کہ کوئی شخص براہِ راست آپ ﷺ کا نام لے کر مخاطب کرے، جبکہ ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ آپ ﷺ کے لیے "یا رسول اللہ" جیسے الفاظ استعمال کیے جائیں جو آپ کے بلند مرتبے کی عکاسی کرتے ہیں۔ یہ صحابہ کرام کے دل میں رسول اللہ ﷺ کی محبت اور تعظیم کے جذباتی درجے کو ظاہر کرتا ہے۔

2. رسول اللہ ﷺ کی عاجزی اور حلم

اس واقعے میں رسول اللہ ﷺ کی عظیم عاجزی، حلم و بردباری جھلکتی ہے۔ آپ ﷺ نے نہ تو حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ کے جذبے پر ناراضی ظاہر کی، اور نہ ہی یہودی عالم کے نام لینے کے طریقے پر کوئی سختی کی۔ بلکہ آپ ﷺ نے معتدل اور پرامن طریقے سے بات آگے بڑھائی۔ آپ ﷺ نے اپنے نام کی تصدیق کی اور سوال کرنے پر تیار ہو گئے۔ یہ آپ ﷺ کی اعلیٰ اخلاقی تربیت کا مظہر ہے۔

3. ایمان کی شرط کے بغیر علم کی بے حاصلی

جب یہودی عالم نے سوال کرنا چاہا، تو رسول اللہ ﷺ نے اس سے بنیادی اور اہم ترین سوال فرمایا"کیا اگر میں تمہیں بتاؤں تو کوئی چیز تمہارے کام آئے گی؟" یہودی کا جواب تھا"میں اپنے کانوں سے سنوں گا۔" یہ جواب ایمان لانے اور قبول کرنے کے عزم سے خالی تھا۔ اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ علم تبھی مفید ہوتا ہے جب اسے قبول کرنے اور اس پر عمل کرنے کا عزم ہو۔ محض سن لینا یا جان لینا، اگر اسے تسلیم نہ کیا جائے، تو بے فائدہ ہے۔ یہ ایک داعی کے لیے بھی اہم سبق ہے کہ وہ پہلے مخاطب کے رویے اور تیاری کو پرکھے۔

4. قیامت کی ہولناکی اور صراط کا مقام

یہودی عالم کے سوال کے جواب میں رسول اللہ ﷺ نے قیامت کے ایک اہم منظر کو بیان فرمایا: جب زمین و آسمان بدل دیے جائیں گے، تو تمام انسان "ظلمت" (گہری تاریکی) میں "جِسْر" (صراط) کے نیچے ہوں گے۔ یہ تصور انتہائی ہیبت ناک اور خوفزدہ کن ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قیامت کے دن نہ کوئی روشنی ہوگی اور نہ کوئی ٹھکانہ، سوائے اس پل کے جس پر سے گزر کر ہی جنت تک پہنچا جا سکتا ہے۔ یہ مؤمنوں کے لیے عمل صالح کی ترغیب اور گناہوں سے اجتناب کی شدید ترغیب ہے۔

5. پوچھنے کے آداب اور رسول ﷺ کی تعلیمی حکمت

اس واقعے میں رسول اللہ ﷺ کا تعلیمی طریقہ کار بھی نمایاں ہے۔ آپ ﷺ نے سوال کرنے والے کو ذہنی طور پر تیار کرنے کی کوشش کی۔ آپ ﷺ نے چھڑی سے زمین پر نشان بنائے، جو ممکنہ طور پر توجہ مرکوز کرنے، یا گفتگو کے اہم موڑ کی نشاندہی کرنے کے لیے تھا۔ یہ ایک معلم کے طور پر آپ ﷺ کی حکمت و تدبیر کی عکاسی کرتا ہے۔

6. اہل کتاب کے ساتھ مکالمے کا اسلوب

یہ واقعہ اس بات کی بھی عکاسی کرتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ اہل کتاب کے علما کے ساتھ مکالمے اور ان کے سوالوں کے جواب دینے پر آمادہ تھے۔ لیکن آپ ﷺ کا اسلوب حکیمانہ اور مدبرانہ تھا، جس میں دعوت کی بنیادی شرط (ایمان لانے کی تیاری) کو نظر انداز نہیں کیا جاتا تھا۔

خلاصہ:
یہ حدیث ہمیں رسول اللہ ﷺ کے ادب و احترام کی اہمیت، علم کے مفید ہونے کی شرائط، اور قیامت کے ہولناک مناظر کی طرف متوجہ کرتی ہے۔ یہ ہمیں سکھاتی ہے کہ محبت میں غیرت اور حمیت ضروری ہے، لیکن اس کا اظہار حکمت اور اعتدال کے ساتھ ہونا چاہیے، جیسا کہ خود رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ ساتھ ہی یہ حدیث ہمیں اپنے آخرت کے سفر کی تیاری کی طرف بھی متوجہ کرتی ہے۔



حدیث نمبر 10

عَنْ خَالِدِ بْنِ عُمَيْرٍ الْعَدَوِيِّ قَالَ: (خَطَبَنَا عُتْبَةُ بْنُ غَزْوَانَ - رضي الله عنه - وَكَانَ أَمِيرًا عَلَى الْبَصْرَةِ-فَحَمِدَ اللهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَأَمَّا بَعْدُ , فَإِنَّ الدُّنْيَا قَدْ آذَنَتْ (١) بِصُرْمٍ (٢وَوَلَّتْ حَذَّاءَ (٣وَلَمْ يَبْقَ مِنْهَا إِلَّا صُبَابَةٌ (٤كَصُبَابَةِ الْإنَاءِ يَتَصَابُّهَا (٥صَاحِبُهَا , وَإِنَّكُمْ مُنْتَقِلُونَ مِنْهَا إِلَى دَارٍ لَا زَوَالَ لَهَا , فَانْتَقِلُوا بِخَيْرِ مَا بِحَضْرَتِكُمْ) (٦)

(فَإِنَّ رَسُولَ اللهِ - صلى الله عليه وسلمقَالَ لَنَا: " إنَّ الصَّخْرَةَ الْعَظِيمَةَ لَتُلْقَى مِنْ شَفِيرِ (٧جَهَنَّمَ , فَتَهْوِي فِيهَا سَبْعِينَ عَامًا وَمَا تُفْضِي إِلَى قَرَارِهَا (٨) ") (٩) (وَوَاللهِ لَتُمْلَأَنَّ , أَفَعَجِبْتُمْ؟ , وَلَقَدْ ذَكَرَ لَنَا رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم - أَنَّ مَا بَيْنَ مِصْرَاعَيْنِ (١٠مِنْ مَصَارِيعِ الْجَنَّةِ مَسِيرَةُ أَرْبَعِينَ سَنَةً , وَلَيَأتِيَنَّ عَلَيْهَا يَوْمٌ وَهُوَ كَظِيظٌ (١١مِنْ الزِّحَامِ ") (١٢)


ترجمہ:

حضرت خالد بن عمیر العدوی سے روایت ہے، انہوں نے بیان کیا"حضرت عتبہ بن غزوان رضی اللہ عنہ نے ہمیں خطبہ دیا، وہ بصرہ کے گورنر تھے۔ انہوں نے اللہ کی حمد و ثنا بیان کی، پھر فرمایا: 'اما بعد، بے شک دنیا نے خبر دے دی ہے(١) (اپنے) ٹوٹ جانےاور جدا ہونے کی(٢اور پیٹھ پھیر کر چلی جا رہی ہے(۳، اور اس میں سے (کچھ نہیں بچا) سوائے ایک چھینٹا کے(٤)، جیسے برتن کا چھینٹا جسے اس کا مالک پی لیتا ہے۔(٥) اور بے شک تم اس (دنیا) سے اس گھر کی طرف منتقل ہونے والے ہو جس کا زوال نہیں، پس (اپنا) بہترین سامان اپنے ساتھ لے کر منتقل ہو جاؤ۔'(٦)

'(کیونکہ) بے شک رسول اللہ ﷺ نے ہم سے فرمایا تھا: "بے شک ایک بہت بڑا پتھر جہنم کے کنارے(٧) سے پھینکا جائے گا، پھر وہ اس میں ستر سال گرتا رہے گا اور اس کی تہ تک نہیں پہنچے گا۔"(٨)'(٩)

"'اور اللہ کی قسم! وہ (جہنم) ضرور بھر دی جائے گی، کیا تم تعجب کرتے ہو؟ اور بے شک رسول اللہ ﷺ نے ہم سے ذکر فرمایا تھا کہ جنت کے دروازوں میں سے ایک دروازے کے دونوں پٹوں(١٠) کے درمیان چالیس سال کی مسافت ہے، اور (قیامت کے دن) اس (جنت) پر وہ دن ضرور آئے گا جب وہ بھیڑ سے خوب اٹی(١١) پڑی ہوگی۔'(١٢)"


حواشی:
(١) آذَنَتْ: یعنی خبر دی، اطلاع دی۔
(٢صُرْم: قطع تعلق، جدا ہونا، چلے جانا۔
(۳وَلَّتْ حَذَّاءَ: یعنی پیٹھ پھیر کر تیزی سے جدا ہوتی ہوئی چلی گئی۔
(٤صُبَابَةٌ: برتن کے نیچے رہ جانے والی تھوڑی سی بچی ہوئی چیز (جیسے پانی کا چھینٹا)۔
(٥يَتَصَابُّهَا: یعنی اسے پی لیتا ہے۔
(٦اس حصے کو امام مسلم نے اپنی "صحیح" (حدیث نمبر:2967) میں روایت کیا ہے۔
(٧شَفِير: کنارہ، جانب۔
(٨قَرَارِهَا: اس کی تہہ، اس کا نیچے والا ٹھکانا۔
(٩اس حصے کو امام ترمذی نے "الشمائل" (حدیث نمبر:2575) اور امام مسلم نے اپنی "صحیح" (حدیث نمبر:2967) میں روایت کیا ہے۔
(١٠مِصْرَاعَيْن: دروازے کے دو پٹ۔
(١١)كَظِيظ: کھچا کھچ بھرا ہوا۔
اس حصے کو امام مسلم نے اپنی "صحیح" (حدیث نمبر:2967) میں اور امام احمد نے اپنی "مسند" (حدیث نمبر: 17611) میں روایت کیا ہے۔ نیز علامہ البانی نے "صحیح الجامع الصغیر" (حدیث نمبر:2190، 5590) اور "السلسلۃ الصحیحۃ" (حدیث نمبر:1698) میں اسے صحیح قرار دیا ہے۔

حدیث سے حاصل ہونے والے اسباق و نکات:

حضرت عتبہ بن غزوان رضی اللہ عنہ کا یہ خطبہ، جو ایک گورنر کی حیثیت سے دیا گیا، اسلامی تعلیمات کا ایک جامع اور انتہائی مؤثر خلاصہ پیش کرتا ہے۔ اس میں دنیا کی حقیقت، آخرت کی ہولناکی و رحمت، اور ایک مومن کے لیے عملی رہنمائی سب کچھ سمٹ آیا ہے۔

1. دنیا کی فانی حقیقت اور اس سے بے رغبتی

حضرت عتبہ رضی اللہ عنہ نے دنیا کی حقیقت کو انتہائی خوبصورت اور دلنشیں تشبیہات کے ذریعے بیان کیا:

  • "آذَنَتْ بِصُرْمٍ": دنیا خود اپنے اختتام اور ٹوٹ جانے کی خبر دے رہی ہے۔ یہ کوئی پائیدار ٹھکانہ نہیں۔
  • "وَلَّتْ حَذَّاءَ": وہ تیزی سے رخصت ہو رہی ہے۔
  • "صُبَابَةٌ": اس میں جو کچھ بچا ہے وہ برتن کے نیچے کے تھوڑے سے پانی کے چھینٹے کے مانند ہے، جو ایک ہی بار میں ختم ہو جائے گا۔
  • سبق: مومن کا دل دنیا کی محبت اور اس میں غرق ہونے سے بچنا چاہیے۔ ہمیشہ رہنے والی آخرت کے مقابلے میں اس کی قدر و قیمت نہ ہونے کے برابر ہے۔

2. اچھے اعمال کے ساتھ آخرت کی طرف کوچ

  • "مُنْتَقِلُونَ... إِلَى دَارٍ لَا زَوَالَ لَهَا": ہم سب ایک ایسے ہمیشہ رہنے والے گھر کی طرف کوچ کرنے والے ہیں۔ یہ تصور ہمیں دنیا کی بے ثباتی کے بعد ایک مستقل اور ابدی حقیقت کی طرف متوجہ کرتا ہے۔
  • "فَانْتَقِلُوا بِخَيْرِ مَا بِحَضْرَتِكُمْ": یہ خطبے کا مرکزی عملی پیغام ہے۔ یعنی اپنے ساتھ بہترین سامان (نیک اعمال) لے کر جاؤ۔ یہی وہ واحد سرمایہ ہے جو آخرت میں کام آئے گا۔

3. جہنم کی ہولناک گہرائی اور اس کا ضرور بھرنا

  • رسول اللہ ﷺ کا ارشاد: ایک عظیم پتھر ستر سال گرنے کے باوجود جہنم کی تہ تک نہیں پہنچتا۔ یہ جہنم کی ناقابلِ تصور گہرائی اور وسعت کو واضح کرتا ہے۔
  • "وَوَاللهِ لَتُمْلَأَنَّ": اللہ کی قسم! وہ ضرور بھر دی جائے گی۔ یہ ایک یقینی خبر اور سخت ترین تنبیہ ہے کہ گناہوں کی کثرت کی وجہ سے جہنم بھری جائے گی۔ یہ سن کر ہر عقل مند کو اپنے اعمال پر غور کرنا چاہیے۔

4. جنت کی وسعت اور اس میں داخل ہونے والوں کی کثرت

  • جنت کے ایک دروازے کے دو پٹوں کے درمیان چالیس سال کی مسافت کا ذکر جنت کی عظیم الشان وسعت، اس کی رفعت اور عظمت کو ظاہر کرتا ہے۔
  • "لَيَأتِيَنَّ عَلَيْهَا يَوْمٌ... كَظِيظٌ مِنْ الزِّحَامِ": اور (قیامت کے دن) جنت ایک ایسے دن کھچا کھچ بھری ہوئی ہوگی۔ یہ ایک امید اور خوشخبری کا پہلو ہے کہ اللہ کی رحمت وسیع ہے اور اس میں داخل ہونے والے بہت ہوں گے۔ یہ جہنم کے بیان کے ساتھ خوف و رجاء (ڈر اور امید) کے توازن کو قائم کرتا ہے۔

5. ایک حکمران کی ذمہ داری اور نصیحت

یہ خطبہ اس بات کی واضح مثال ہے کہ ایک اسلامی حکمران کی اولین ذمہ داری اپنی رعایا کی دینی تعلیم و تربیت اور انہیں آخرت کے لیے تیار کرنا ہے۔ حضرت عتبہ رضی اللہ عنہ نے اپنی حکمرانی کو دعوت و تبلیغ کے لیے استعمال کیا، نہ کہ دنیوی تفاخر کے لیے۔ یہ خلافت راشدہ کے حکمرانوں کے مثالی کردار کی عکاسی کرتا ہے۔

6. خطیبانہ حکمت اور مؤثر ترتیب

حضرت عتبہ رضی اللہ عنہ نے اپنے خطبے کو ایک زبردست منطقی ترتیب کے ساتھ پیش کیا:

  1. دنیا کی بے ثباتی (تخلیص اور بے رغبتی پیدا کرنا)۔
  2. آخرت کی طرف کوچ کی تیاری کا حکم (عملی ہدایت)۔
  3. جہنم کی ہولناکی کا بیان (ڈرانا اور گناہوں سے روکنا)۔
  4. جنت کی وسعت اور نعمتوں کا بیان (امید دلانا اور نیکی پر ابھارنا)۔
    یہ ترغیب و ترہیب کا مکمل اور کامل نمونہ ہے۔

خلاصہ:
یہ خطبہ درحقیقت ایک مکمل اسلامی مینی فیسٹو ہے۔ یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ دنیا کی زندگی محض ایک عبوری سفر ہے، جس میں ہمیں نیک اعمال کا سامان جمع کر کے ایک ہمیشہ رہنے والے گھر (آخرت) کی طرف کوچ کرنا ہے۔ یہ ہمیں جہنم کے عذاب سے ڈراتا ہے اور جنت کی نعمتوں کی امید دلاتا ہے۔ اور یہ ہمارے حکمرانوں کو یاد دلاتا ہے کہ ان کی سب سے بڑی کامیابی عوام کو اس حقیقت سے آگاہ کرنا اور انہیں آخرت کی کامیابی کے لیے تیار کرنا ہے۔

 


شِدَّةُ حَرِّهَا (جہنم کی آگ کی شدت)

حدیث نمبر 11

(خ م ت حم) , عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ - رضي الله عنهقَالَقَالَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم -: (" نَارُكُمْ هَذِهِ الَّتِي تُوقِدُونَ , جُزْءٌ وَاحِدٌ مِنْ سَبْعِينَ جُزْءًا مِنْ حَرِّ نَارِ جَهَنَّمَ) (١) (وَضُرِبَتْ بِالْبَحْرِ مَرَّتَيْنِ , وَلَوْلَا ذَلِكَ مَا جَعَلَ اللهُ فِيهَا مَنْفَعَةً لِأَحَدٍ) (٢) (فَقَالُوا: وَاللهِ يَا رَسُولَ اللهِ إِنْ كَانَتْ لَكَافِيَةً (٣قَالَ: " فَإِنَّهَا فُضِّلَتْ عَلَيْهَا بِتِسْعَةٍ وَسِتِّينَ جُزْءًا , كُلُّهُنَّ مِثْلُ حَرِّهَا (٤) ") (٥)


ترجمہ:

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا"تمہاری یہ آگ جو تم روشن کرتے ہو، جہنم کی آگ کی گرمی کے سترویں حصے کا ایک حصہ ہے۔"(١"اور اسے (دنیاوی آگ کو) سمندر میں دو مرتبہ ڈبویا گیا، اور اگر ایسا نہ کیا جاتا تو اللہ تعالیٰ نے اس میں کسی کے لیے کوئی نفع نہ رکھا ہوتا۔"(٢"تو (صحابہ نے) کہا: اللہ کی قسم! اے اللہ کے رسول! کیا یہ (دنیا کی آگ) کافی نہیں تھی؟ (یعنی عذاب کے لیے)) آپ ﷺ نے فرمایا: 'بے شک اس (دنیاوی آگ) پر جہنم کی آگ کو انہتر حصوں سے زیادہ کر دیا گیا ہے، اور یہ سب (انہتروں حصے) اس (دنیاوی آگ) کی گرمی کے برابر ہیں۔' (٤) (٥)"


حواشی:

(١اس حصے کو امام ترمذی نے اپنی "جامع" (حدیث نمبر: 2589) اور امام بخاری نے اپنی "صحیح" (حدیث نمبر: 3092) میں روایت کیا ہے۔
(٢اس حصے کو امام احمد نے اپنی "مسند" (حدیث نمبر: 7323) میں روایت کیا ہے۔ شیخ شعیب الارناؤوط نے فرمایا کہ اس کی سند صحیح ہے۔
صحابہ کرام کے اس سوال کا مطلب یہ تھا"یہ دنیاوی آگ جو ہم دیکھتے ہیں، اگر آخرت میں نافرمانوں کے عذاب کے لیے کافی ہوتی تو (جہنم کی آگ کیوں بنائی گئی؟)، پھر آخر اس کی گرمی میں اضافہ کیوں کیا گیا؟" (تحفة الأحوذي، جلد 6، صفحہ 385)
(٤اس کا مطلب یہ ہے کہ جہنم کی آگ کے انہتر حصوں میں سے ہر ایک حصہ دنیاوی آگ کی گرمی کے برابر ہے۔ یعنی جہنم کی آگ دنیاوی آگ سے انہتر گنا زیادہ گرم ہے۔ یہ اضافہ اس حکمت سے ہے کہ اللہ کا عذاب لوگوں کے عذاب سے سخت ہو۔ اللہ تعالیٰ نے دنیا میں آگ کا یہ ایک چھوٹا سا نمونہ ظاہر کیا ہے تاکہ آخرت کی آگ کا تصور ہو سکے۔ (تحفة الأحوذي، جلد 6، صفحہ 385)
(٥)اس حصے کو امام مسلم نے اپنی "صحیح" (حدیث نمبر: 2843) اور امام بخاری نے اپنی "صحیح" (حدیث نمبر: 3092) میں روایت کیا ہے۔

حدیث سے حاصل ہونے والے اسباق و نکات:

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث جہنم کی آگ کی ناقابلِ تصور شدت اور اس کی دنیاوی آگ سے بنیادی فرق کو انتہائی واضح اور عددی انداز میں بیان کرتی ہے۔ اس سے درج ذیل گہرے اسباق ملتے ہیں:

1. جہنم کی آگ کی شدت کا ریاضیاتی تصور

حدیث میں جہنم کی آگ کی گرمی کو ایک عدد اور تناسب کے ذریعے سمجھایا گیا ہے:

  • دنیا کی آگ جہنم کی آگ کی گرمی کا صرف ایک سترواں (1/70) حصہ ہے۔
  • جہنم کی آگ دنیاوی آگ سے انہتر گنا (69 گنا) زیادہ گرم ہے (کیونکہ ستر میں سے ایک حصہ دنیا میں ہے، باقی 69 جہنم میں)۔
  • یہ محض ایک تشبیہ ہے، حقیقت نہیں: یہ اعداد درحقیقت جہنم کی آگ کی ناقابلِ بیان شدت اور ہولناکی کو سمجھانے کے لیے ہیں۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ انسان اس بات کا تصور کر سکے کہ جہنم کی آگ کتنی شدید ہوگی۔ حقیقت میں اس کی شدت ان اعداد سے بھی کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔

2. اللہ کی حکمت: دنیاوی آگ کی تخفیف

اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے دنیا کی آگ کو اس کی اصل شدت (جو جہنم کی آگ کا ایک حصہ ہے) سے سمندر میں ڈبو کر کم کر دیا۔ اگر ایسا نہ کیا جاتا تو یہ دنیا کی آگ بھی اتنی شدید ہوتی کہ کوئی اس سے فائدہ نہ اٹھا سکتا (نہ کھانا پکا سکتا، نہ گرمی حاصل کر سکتا)۔ یہ اللہ کی حکمت، رحمت اور بندوں پر احسان کی عکاسی کرتا ہے کہ اس نے اپنی رحمت سے اسے ہمارے لیے قابلِ استعمال بنا دیا۔

3. صحابہ کرام کی فطری عقل کا اظہار اور علم کا حصول

صحابہ کرام کا یہ سوال "کیا یہ (دنیا کی آگ) کافی نہیں تھی؟" ان کی فطری عقل اور تجسس کو ظاہر کرتا ہے۔ وہ سوچ رہے تھے کہ دنیا کی یہ آگ بھی تو بہت سخت ہے، پھر آخرت میں اس سے کہیں زیادہ شدید آگ کی ضرورت کیوں پڑی؟ یہ سوال ان کی علم کے حصول کی لگن اور تفہیم کی خواہش کو دکھاتا ہے۔

4. اللہ کے عذاب کی نوعیت اور حکمت کا فرق

رسول اللہ ﷺ کے جواب سے معلوم ہوا کہ اللہ کا عذاب مخلوق کے عذاب سے بنیادی طور پر مختلف اور سخت تر ہے۔ اس میں اللہ کی شانِ عدالت، قہاریت اور اس کے غضب کا اظہار ہے۔ یہ اس لیے ہے کہ گناہ درحقیقت اللہ کی نافرمانی ہے، جو بہت بڑا جرم ہے، اس لیے اس کی سزا بھی انتہائی سخت ہے۔ اس سے گناہ کی سنگینی کا بھی اندازہ ہوتا ہے۔

5. دنیا، آخرت کا نمونہ اور نشانی

دنیا کی آگ درحقیقت آخرت کی آگ کا ایک چھوٹا سا نمونہ (اُنْمُوذَج) یا نشانی ہے۔ اللہ نے ہمیں دنیا ہی میں ایک عملی مثال دے کر آخرت کے عذاب کی ہولناکی سے آگاہ کر دیا ہے، تاکہ ہم غور کریں اور بچنے کی کوشش کریں۔ جو شخص اس دنیا کی آگ سے ڈرتا ہے، اسے جہنم کی اس آگ سے کہیں زیادہ ڈرنا چاہیے جو انہتر گنا زیادہ گرم ہے۔

6. ایمان بالغیب کی تربیت

ہم اپنی آنکھوں سے جہنم کی آگ نہیں دیکھتے، لیکن رسول اللہ ﷺ کے بیان کردہ اس واضح اور منطقی عددی فرق پر ایمان لاتے ہیں۔ یہ ایمان بالغیب کی مضبوطی کا سبب بنتا ہے۔ جس طرح ہم دنیا کی آگ کی شدت کو مانتے ہیں، اسی طرح ہمیں جہنم کی آگ کی شدید تر حقیقت پر بھی یقین رکھنا چاہیے۔

7. گناہوں سے بچنے کا عملی محرک

اس حدیث کو سمجھنے کے بعد کوئی بھی عقل مند انسان یہ سوچے گا"اگر میں اس دنیا کی آگ کا ایک چھوٹا سا شعلہ بھی برداشت نہیں کر سکتا، تو پھر میں جہنم کی انہتر گنا زیادہ گرم آگ میں کیسے جل سکتا ہوں؟" یہ خوف اسے گناہوں سے باز رکھنے اور نیک اعمال کی طرف مائل کرنے کا طاقتور ترین ذریعہ بن سکتا ہے۔

خلاصہ:
یہ حدیث ہمیں اعداد کے ذریعے جہنم کی آگ کی شدت کا ایک ایسا نقشہ دکھاتی ہے جو ہمارے ذہن میں آسانی سے بیٹھ جاتا ہے۔ یہ اللہ کی رحمت (دنیاوی آگ کی تخفیف) اور اس کے عذاب کی شدت دونوں کو واضح کرتی ہے۔ اس کا مقصد ہمیں غفلت سے جگانا، عذاب الٰہی سے ڈرانا اور ہمیں اپنے انجام کے بارے میں سنجیدہ ہونے پر آمادہ کرنا ہے۔ یہ حدیث ہمارے ایمان کو مضبوط بناتی ہے اور ہمیں عمل صالح کی طرف راغب کرتی ہے۔

 


حدیث نمبر 12

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رضي الله عنهقَالَقَالَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم -: " أَتَحْسَبُونَ أَنَّ نَارَ جَهَنَّمَ مِثْلُ نَارِكُمْ هَذِهِ؟ , هِيَ أَشَدُّ سَوَادًا مِنَ الْقَارِ (١هِيَ جُزْءٌ مِنْ بَضْعَةٍ وَسِتِّينَ جُزْءًا مِنْهَا " (٢)


ترجمہ:

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا"کیا تم گمان کرتے ہو کہ جہنم کی آگ تمہاری اس آگ (دنیا کی آگ) کے مانند ہے؟ وہ قیر (تارکول)(١) سے زیادہ سیاہ ہے۔ وہ (دنیاوی آگ) اس (جہنم کی آگ) کے باسٹھ حصوں میں سے ایک حصہ ہے۔"(٢)


حواشی:

(١الْقَارُ: تارکول، قیر۔
(٢اس اثر کو امام البانی نے "صحیح الترغیب والترہیب" (حدیث نمبر:3666، 3670) میں صحیح قرار دیا ہے۔

حدیث سے حاصل ہونے والے اسباق و نکات:

یہ حدیث رسول اللہ ﷺ کے بیانات میں سے ایک انتہائی مختصر مگر جامع بیان ہے جو جہنم کی آگ کی نوعیت اور شدت کو دو واضح پہلوؤں سے بیان کرتا ہے۔ اس سے درج ذیل اسباق حاصل ہوتے ہیں:

1. تصوراتی غلطی کی اصلاح

رسول اللہ ﷺ نے اپنی امت کے ذہن میں موجود ایک ممکنہ غلط فہمی یا کم فہمی کو دور کرنے کے لیے سوالیہ انداز میں بات شروع فرمائی"کیا تم گمان کرتے ہو کہ جہنم کی آگ تمہاری اس آگ کے مانند ہے؟" یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ انسان فطری طور پر اپنے مشاہدے اور تجربے کی چیزوں کے ذریعے ہی نئی چیزوں کا تصور کرتا ہے۔ لیکن جہنم کی آگ ہمارے تمام مشاہدات اور تجربات سے بالاتر اور مختلف ہے۔ اس لیے اسے دنیاوی آگ کے مماثل سمجھنا درست نہیں۔

2. رنگ کی شدت: سیاہی اور تاریکی کا پہلو

آپ ﷺ نے جہنم کی آگ کی پہلی خاصیت یہ بیان فرمائی کہ وہ "قیر (تارکول) سے زیادہ سیاہ ہے"۔ یہ ایک انتہائی اہم اور منفرد وصف ہے، کیونکہ عام طور پر آگ کو سرخ، پیلے یا سفید روشنی اور شعلے کے ساتھ دیکھا جاتا ہے۔ سیاہ آگ کا تصور اس بات کی طرف اشارہ ہے:

  • یہ محض روشنی اور شعلہ نہیں، بلکہ گہری تاریکی اور سیاہی کا ایک عذاب ہے۔
  • یہ اس کی ہولناکی، کثافت اور وحشت کو ظاہر کرتا ہے۔ قیر (تارکول) اپنی چپچپاہٹ، گاڑھا پن اور جلنے پر دھویں دار شعلے کے لیے جانا جاتا ہے۔ جہنم کی آگ اس سے بھی زیادہ سیاہ اور خوفناک ہے۔
  • یہ مایوسی اور تاریکی کے عالم کی علامت بھی ہو سکتی ہے، جہاں روشنی اور امید کا کوئی نام و نشان نہیں۔

3. شدت کا عددی پیمانہ: باسٹھ گنا زیادہ گرم

پھر آپ ﷺ نے اس کی شدت کو ایک عددی مثال سے واضح فرمایا: دنیا کی آگ جہنم کی آگ کے باسٹھ حصوں میں سے صرف ایک حصہ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ جہنم کی آگ دنیاوی آگ سے 61 گنا زیادہ گرم ہے (کیونکہ اگر کل 62 حصے ہیں اور دنیا کی آگ 1 حصہ ہے، تو جہنم کی آگ 61 حصے ہوئی)۔

  • یہاں "بضعة" کا لفظ استعمال ہوا ہے، جس کے معنی تین سے دس کے درمیان کسی عدد کے ہوتے ہیں۔ لیکن مفسرین کے نزدیک یہاں اس سے مراد "باسٹھ" (62) ہی ہے، جو پچھلی احادیث میں موجود "ستر" (70) کے عدد کے قریب ہے۔ اس فرق کی حکمت یہ ہو سکتی ہے کہ یہ اعداد حقیقی پیمانہ نہیں بلکہ سمجھانے کے لیے ہیں، اور یہ بتاتے ہیں کہ جہنم کی آگ کی شدت کا حقیقی اندازہ لگانا ممکن نہیں، یہ ہمارے مشاہدے سے کہیں زیادہ ہے۔

4. احادیث میں بیان کا تنوع اور مکمل تصویر

یہ حدیث پچھلی حدیث (جس میں دنیاوی آگ کو جہنم کی آگ کا 1/70 حصہ بتایا گیا) کے ساتھ مل کر یہ سبق دیتی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک ہی حقیقت کو مختلف انداز اور مختلف اعداد کے ذریعے سمجھایا ہے۔ مقصد عدد میں الجھنا نہیں، بلکہ بنیادی پیغام کو سمجھنا ہے کہ"جہنم کی آگ دنیاوی آگ سے بہت زیادہ شدید اور مختلف ہے۔" اعداد اس کی شدت کے تصور کو ذہن میں بٹھانے کے لیے ہیں۔

5. نفسیاتی اثر: خوف اور ہوشیاری

دنیاوی آگ کا سیاہ قیر سے بھی زیادہ سیاہ ہونے کا تصور، اور اس کے 61 گنا زیادہ گرم ہونے کا خیال، سننے والے کے دل و دماغ پر گہرا نفسیاتی اثر ڈالتا ہے۔ یہ تصور انسان کو غفلت سے بیدار کرتا ہے اور اسے یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ اگر میں اس دنیا کی معمولی سی آگ سے ڈرتا ہوں، تو میں اس آگ کے عذاب سے کس طرح بے خوف ہو سکتا ہوں جو اس سے کئی گنا سخت اور سیاہ ہے؟

6. ایمان بالغیب کی مضبوطی

ہم نے کبھی سیاہ آگ نہیں دیکھی، نہ ہی ہم اس کی شدت کا صحیح اندازہ لگا سکتے ہیں، لیکن ہم رسول اللہ ﷺ کے بیان پر ایمان لاتے ہیں۔ یہ ایمان بالغیب کی تربیت ہے۔ ہمارا ایمان ہے کہ جو کچھ آپ ﷺ نے بتایا ہے وہ سچ اور برحق ہے، چاہے ہماری عقل اس کا ادراک نہ کر سکے۔

7. عمل کی ترغیب: اس شدید عذاب سے بچاؤ

اس حدیث کا اصل مقصد عملی زندگی میں تبدیلی لانا ہے۔ اس کا سننا اور سمجھنا انسان کو فوراً اپنے اعمال کی طرف متوجہ کر دینا چاہیے۔ انسان کو سوچنا چاہیے"کیا میں اپنے چھوٹے چھوٹے گناہوں اور غفلتوں کی وجہ سے اس ہولناک اور سیاہ آگ میں جانے کے لیے تیار ہوں؟" یہ خوف ہی اسے توبہ، استغفار، نیکیوں کی طرف دوڑانے کا سبب بنے گا۔

خلاصہ:
یہ مختصر سی حدیث جہنم کی آگ کی ہولناکی کو اس کی سیاہی (ظاہری شکل) اور اس کی شدت (عدد) دونوں پہلوؤں سے واضح کرتی ہے۔ یہ ہمارے ذہن میں موجود دنیاوی آگ کے عام تصور کو توڑتی ہے اور ایک انتہائی خوفناک، سیاہ اور ناقابلِ برداشت عذاب کا نقشہ پیش کرتی ہے۔ اس کا مقصد ہمیں حقیقت سے روشناس کرا کے ہمیں اپنی نجات کی فکر کرنے پر آمادہ کرنا ہے۔

حدیث نمبر 13

 عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ - رضي الله عنهقَالَقَالَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم -: (" إِنَّ أَهْوَنَ أَهْلِ النَّارِ عَذَابًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ رَجُلٌ تُوضَعُ فِي أَخْمَصِ (١قَدَمَيْهِ جَمْرَتَانِ , يَغْلِي مِنْهُمَا دِمَاغُهُ كَمَا يَغْلِي الْمِرْجَلُ (٢)) (٣) (مَا يَرَى أَنَّ أَحَدًا أَشَدُّ مِنْهُ عَذَابًا , وَإِنَّهُ لَأَهْوَنُهُمْ عَذَابًا) (٤) (وَمِنْهُمْ مَنْ هُوَ فِي النَّارِ إِلَى كَعْبَيْهِ مَعَ إِجْرَاءِ الْعَذَابِ , وَمِنْهُمْ مَنْ هُوَ فِي النَّارِ إِلَى رُكْبَتَيْهِ مَعَ إِجْرَاءِ الْعَذَابِ , وَمِنْهُمْ مَنْ هُوَ فِي النَّارِ إِلَى صَدْرِهِ مَعَ إِجْرَاءِ الْعَذَابِ , وَمِنْهُمْ مَنْ هُوَ فِي النَّارِ إِلَى أَرْنَبَتِهِ (٥مَعَ إِجْرَاءِ الْعَذَابِ , وَمِنْهُمْ مَنْ اغْتُمِرَ فِي النَّارِ مَعَ إِجْرَاءِ الْعَذَابِ ") (٦)


ترجمہ:

حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا"بے شک قیامت کے دن جہنم والوں میں سب سے ہلکے عذاب والا شخص وہ ہوگا جس کے دونوں پاؤں کے تلووں(١) میں دو انگارے رکھ دیے جائیں گے، جن کی وجہ سے اس کا دماغ اس طرح کھولے گا جس طرح ہانڈی(٢) کھولتی ہے۔"(٣"وہ (اپنے اس عذاب کے دوران) یہ سمجھے گا کہ اس سے زیادہ سخت عذاب کسی کا نہیں ہے، حالانکہ وہ ان میں سب سے ہلکے عذاب والا ہے۔"(٤"اور ان (دوزخیوں) میں سے کوئی شخص ایسا ہے جسے عذاب پورے طور پر دیئے جانے کے باوجود جہنم میں صرف ٹخنوں تک ڈالا جائے گا، اور کوئی گھٹنوں تک، اور کوئی سینے تک، اور کوئی ناک کے نوک تک) (یعنی سر تک)، اور کوئی شخص ایسا ہے جسے عذاب پورے طور پر دیئے جانے کے باوجود جہنم میں ڈوبا دیا جائے گا (یعنی پورا جسم)۔"(٦)


حواشی:

(١)الأَخْمَص: پاؤں کا وہ حصہ جو چلتے وقت زمین کو نہیں چھوتا، یعنی تلا۔
(٢الْمِرْجَل: وہ برتن جس میں پانی وغیرہ ابالا جاتا ہے، ہانڈی۔
(٣اس حصے کو امام بخاری نے اپنی "صحیح" (حدیث نمبر: 6194، 6193) اور امام مسلم نے اپنی "صحیح" (حدیث نمبر: 213) میں روایت کیا ہے۔
(٤اس حصے کو امام مسلم نے اپنی "صحیح" (حدیث نمبر: 213) میں روایت کیا ہے۔
الأَرنَبة: ناک کا اگلا سرا، نوک۔
(٦اس حصے کو امام احمد نے اپنی "مسند" (حدیث نمبر: 11115) میں روایت کیا ہے۔ نیز امام البانی نے "صحیح الترغیب والترہیب" (حدیث نمبر: 3686) میں اسے صحیح قرار دیا ہے اور شیخ شعیب الارناؤوط نے بھی اس کی سند کو صحیح کہا ہے۔

حدیث سے حاصل ہونے والے اسباق و نکات:

حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث جہنم کے عذاب کی ہولناکی کے ایک نئے اور انتہائی دردناک پہلو کو کھولتی ہے، یعنی عذاب کے مختلف درجات اور ان کی نسبتی شدت۔ یہ حدیث ایمان والے کے دل پر ایک ایسا نقش ثبت کرتی ہے جو زندگی بھر اسے گناہوں سے بچاتا رہے۔

1. عذاب کے درجات: اللہ کے عدل کی کامل ترین نشانی

یہ حدیث واضح کرتی ہے کہ جہنم میں عذاب یکساں نہیں ہوگا۔ گناہوں کی نوعیت اور شدت کے مطابق عذاب کے مختلف درجات ہوں گے، بالکل اسی طرح جیسے جنت میں درجات ہیں۔

  • ایک شخص صرف ٹخنوں تک جہنم میں ہوگا۔
  • دوسرا گھٹنوں تک۔
  • تیسرا سینے تک۔
  • چوتھا ناک (یعنی سر) تک۔
  • اور کسی کو پورے طور پر ڈوبا دیا جائے گا۔
    یہ تفصیل اللہ تعالیٰ کے کامل عدل کی زندہ دلیل ہے۔ ہر شخص کو اس کے اعمال کے مطابق عذاب ملے گا، نہ کسی پر زیادتی ہوگی اور نہ ہی کسی کا حق مارا جائے گا۔

2. "ہلکے عذاب" کا حقیقی تصور: انسانی فہم کی حدوں سے پرے

حدیث کا سب سے زبردست اور رُوح کو کپکپا دینے والا پہلو یہ ہے کہ اس نے "سب سے ہلکے عذاب" کی جو تصویر کشی کی ہے، وہ انسانی تصور سے باہر ہے:

  • محض دو انگارے پاؤں کے تلووں پر رکھے جائیں گے۔
  • اس کا اثر سر تک پہنچے گا، یہاں تک کہ دماغ ہانڈی کی طرح کھولنے لگے گا۔
  • وہ شخص اپنے آپ کو سب سے زیادہ عذاب میں سمجھے گا، حالانکہ وہ سب سے کم عذاب پا رہا ہوگا۔
    یہ بتانے کے لیے کافی ہے کہ اگر "ہلکا" عذاب ایسا ہوگا، تو پھر سخت ترین عذاب کا کیا حال ہوگا؟ یہ تصور انسانی عقل کو ششدر کر دینے والا ہے اور یہی اس حدیث کا مقصد ہے۔

3. عذاب کی نفسیاتی کیفیت: اپنے آپ کو بدترین سمجھنا

حدیث میں ایک انتہائی گہرا نفسیاتی پہلو بیان ہوا ہے: جس شخص کا عذاب سب سے ہلکا ہوگا، وہ یہی سمجھے گا کہ اس سے بڑھ کر عذاب کوئی نہیں بھگت رہا۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ:

  • عذاب صرف جسمانی نہیں ہوگا، بلکہ نفسیاتی اور احساساتی طور پر بھی انتہائی کرب ناک ہوگا۔
  • ہر شخص اپنے عذاب میں اس قدر مبتلا اور گھرا ہوا ہوگا کہ اسے دوسروں کا حال معلوم ہی نہیں ہوگا۔
  • یہ مایوسی اور تنہائی کی انتہا ہوگی۔

4. چھوٹے گناہوں سے غفلت کی مذمت

اگر صرف دو انگاروں کا عذاب اتنا شدید ہے، تو یہ بات ہر اس شخص کے لیے سخت تنبیہ ہے جو چھوٹے گناہوں کو معمولی سمجھتا ہے یا یہ کہتا ہے کہ "صرف ایک چھوٹا سا گناہ ہے۔" حدیث واضح کرتی ہے کہ جہنم میں داخلہ کا سبب بننے والا ہر گناہ، چاہے وہ کتنا ہی چھوٹا کیوں نہ ہو، اس کے نتیجے میں ملنے والا عذاب کسی صورت بھی "چھوٹا" نہیں ہوگا۔

5. اعمال کی قدر و قیمت کا احساس

یہ درجات ہمیں اپنے ہر عمل کی قدر و قیمت اور اس کے نتائج کے بارے میں سوچنے پر مجبور کرتے ہیں۔ ایک نیکی کس درجے کی نجات کا سبب بنے گی؟ اور ایک گناہ کس درجے کے عذاب میں ڈال سکتا ہے؟ یہ تصور انسان کو چھوٹی چھوٹی نیکیوں کی طرف مائل کرتا ہے اور چھوٹے چھوٹے گناہوں سے بچنے پر آمادہ کرتا ہے۔

6. اللہ کی رحمت کی وسعت کا اندازہ

اگرچہ حدیث عذاب بیان کر رہی ہے، لیکن اس کا ایک مثبت پہلو یہ بھی ہے کہ یہ اللہ کی رحمت کی وسعت کا اندازہ کرواتی है۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے عدل میں عذاب کے درجات رکھے ہیں۔ اگر کوئی شخص ایمان کی حالت میں فوت ہوا مگر گناہگار تھا، تو ممکن ہے وہ عذاب کے سب سے نچلے درجے (ٹخنوں تک) میں ہو، پھر اللہ کی رحمت سے نکل آئے۔ اس لیے مومن کو کبھی مایوس نہیں ہونا چاہیے، بلکہ گناہوں سے بچنے اور معافی مانگنے کی کوشش جاری رکھنی چاہیے۔

7. عملی زندگی کے لیے فوری دعوت

اس حدیث کو سننے اور سمجھنے کے بعد کسی بھی عقل مند کے لیے فوری عمل کے سوا کوئی راستہ نہیں بچتا۔ یہ حدیث اس بات کی آخری وارننگ ہے کہ:

  • توبہ کرو ابھی، فوراً۔
  • برے کام چھوڑ دو چاہے وہ کتنے ہی چھوٹے معلوم ہوں۔
  • نیکیوں میں مقابلہ کرو تاکہ جہنم سے دوری اور جنت کے بلند درجات حاصل ہوں۔

خلاصہ:
یہ حدیث جہنم کے عذاب کی ہولناکی کو بیان کرنے کا ایک ایسا منفرد، تفصیلی اور دل دہلا دینے والا انداز ہے جو شاید ہی کسی اور تعلیم میں موجود ہو۔ یہ ہمیں بتاتی ہے کہ عذاب میں بھی درجات ہیں، اور سب سے ہلکا عذاب بھی ہماری دنیوی پیمائش کے لحاظ سے ناقابلِ برداشت ہے۔ یہ حدیث ہمارے دل میں گناہوں کے خلاف ایک مضبوط ڈھال اور نیکیوں کی طرف تیز رفتار محرک بن سکتی ہے، بشرطیکہ ہم اسے سنجیدگی سے سنیں، سمجھیں اور اس پر عمل کریں۔

 

حدیث نمبر 14

عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ - رضي الله عنهماقَالَقَالَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم -: (" أَهْوَنُ أَهْلِ النَّارِ عَذَابًا أَبُو طَالِبٍ) (١) (لَعَلَّهُ تَنْفَعُهُ شَفَاعَتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ , فَيُجْعَلُ فِي ضَحْضَاحٍ (٢مِنْ النَّارِ يَبْلُغُ كَعْبَيْهِ) (٣)

وفي رواية: (وَهُوَ مُنْتَعِلٌ بِنَعْلَيْنِ مِنْ نَارٍ , يَغْلِي مِنْهُمَا دِمَاغُهُ ") (٤)


ترجمہ:

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا"جہنم والوں میں سب سے ہلکے عذاب والے (شخص) ابو طالب ہوں گے۔"(١"شاید قیامت کے دن میری شفاعت اسے فائدہ پہنچائے، پس اسے جہنم کی ایک ایسی تہہمیں ڈالا جائے گا جو اس کے ٹخنوں تک پہنچے گی۔"(٣)

اور ایک روایت میں ہے"اور وہ آگ کے دو جوتے پہنے ہوئے ہوگا، جن سے اس کا دماغ کھولے گا۔"(٤)


حوالہ وحواشی:

(١اس حصے کو امام مسلم نے اپنی "صحیح" (حدیث نمبر:212) میں روایت کیا ہے۔
الضَّحْضَاح: پانی کی وہ مقدار جو ٹخنوں تک پہنچے۔ یہاں جہنم کی آگ کے ایک پتلے طبقے کے لیے استعارہ ہے۔
(٣اس حصے کو امام بخاری نے اپنی "صحیح" (حدیث نمبر:3672) اور امام مسلم نے اپنی "صحیح" (حدیث نمبر:210) میں روایت کیا ہے۔
(٤اس روایت کو امام احمد نے اپنی "مسند" (حدیث نمبر:2636) اور امام مسلم نے اپنی "صحیح" (حدیث نمبر:212) میں روایت کیا ہے۔

حدیث سے حاصل ہونے والے اسباق و نکات:

یہ حدیث، جو رسول اللہ ﷺ کے چچا حضرت ابو طالب کے بارے میں ہے، اسلامی عقیدے کے چند انتہائی اہم اور نازک پہلوؤں کو واضح کرتی ہے۔ یہ ایمان کی اہمیت، شفاعت کی حقیقت اور عذاب کے درجات کے بارے میں گہرے سبق دیتی ہے۔

1. ایمان و اسلام کی بنیادی شرط: لا الہ الا اللہ

اس حدیث کا سب سے بڑا اور واضح سبق یہ ہے کہ رشتہ داری، قربت یا دنیاوی احسان کسی کو جہنم کے عذاب سے بالکل نہیں بچا سکتے اگر اس نے ایمان کی بنیادی شرط (کلمہ توحید) کو قبول نہ کیا ہو۔ ابو طالب رسول اللہ ﷺ کے چچا، آپ ﷺ کے پرورش کرنے والے اور سخت ترین اوقات میں آپ ﷺ کے سب سے بڑے محافظ و مددگار تھے۔ لیکن چونکہ انہوں نے دل سے "لا الہ الا اللہ" کا اقرار نہیں کیا، اس لیے وہ نجات یافتہ نہیں ہیں۔ یہ توحید کی عظمت اور ایمان کی ضرورت پر زور دیتا ہے۔

2. شفاعت کی حقیقت اور اس کی شرائط

حدیث میں آپ ﷺ کا ارشاد "لَعَلَّهُ تَنْفَعُهُ شَفَاعَتِي" (شاید میری شفاعت اسے فائدہ پہنچائے) سے درج ذیل اسباق ملتے ہیں:

  • شفاعت مکمل نجات نہیں ہے: شفاعت کا مطلب یہ نہیں کہ کافر کو جہنم سے نکال کر جنت میں داخل کر دیا جائے گا۔ بلکہ یہاں شفاعت کا مطلب ہے کہ عذاب کی نوعیت اور درجے میں تخفیف ہوگی۔
  • شفاعت خاص ہے: یہ شفاعت صرف امت محمدیہ کے گناہگار مومنین کے لیے مکمل نجات کا سبب بنے گی۔ کفار کے لیے نہیں۔ ابو طالب کے معاملے میں شفاعت صرف عذاب ہلکا کرنے کے لیے ہے۔
  • اللہ کی مرضی پر منحصر ہے: آپ ﷺ نے "لَعَلَّ" (شاید) کا لفظ استعمال فرمایا، جو اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ شفاعت کا فیصلہ بالآخر اللہ تعالیٰ کی مشیت و رضا پر ہے۔

3. عذاب کے درجات: "ضحضاح من النار" کی مثال

ابو طالب کو "ضحضاح من النار" (ٹخنوں تک جہنم کی آگ) میں ڈالا جائے گا۔ یہ تصور پچھلی حدیث (نعمان بن بشیر والی) میں بیان کردہ عذاب کے درجات کی تصدیق کرتا है۔ اس سے معلوم ہوتا ہے:

  • جہنم میں داخل ہونے والوں کے عذاب میں سخت تفریق ہوگی۔
  • ٹخنوں تک کی آگ سب سے ہلکے درجے کی علامت ہے۔
  • روایت میں آگ کے جوتے پہننے اور دماغ کے کھولنے کا ذکر اس بات کو واضح کرتا ہے کہ یہ "ہلکا" عذاب بھی ہماری دنیوی پیمائش کے لحاظ سے کتنا شدید اور دردناک ہوگا۔

4. رسول اللہ ﷺ کی شفقت و رحمت

اس حدیث سے آپ ﷺ کے رحمۃ للعالمین ہونے کا اظہار ہوتا ہے۔ آپ ﷺ اپنے اس عزیز چچا کے لیے، جو آپ پر سب سے بڑا احسان رکھتے تھے، دل میں درد و غم رکھتے تھے۔ آپ ﷺ کی یہ خواہش کہ کاش آپ کی شفاعت ان کے کچھ کام آئے، آپ ﷺ کے شریفانہ جذبات، احسان مندی اور نرم دل ہونے کی عکاسی کرتی ہے۔

5. ایمان کی حتمی قدر

یہ حدیث ہر اس شخص کے لیے ایک سخت انتباہ ہے جو یہ سمجھتا ہے کہ نیک اولاد، کسی بزرگ کی نسبت، یا کسی ولی کی دوستی اسے نجات دلائے گی۔ ابو طالب جیسا عظیم محسن اور رسول کا چچا اگر صرف ایمان نہ لانے کی وجہ سے جہنم میں ہے (اگرچہ ہلکے عذاب میں)، تو پھر ہر شخص کو اپنے ایمان و عمل کی فکر کرنی چاہیے۔ نسل، رشتہ یا سماجی حیثیت کوئی چیز آخرت میں وزن نہیں رکھتی۔

6. دعوت و تبلیغ میں حکمت

رسول اللہ ﷺ نے اپنے چچا کے بارے میں یہ بیان فرما کر اہل مکہ اور قریش کو یہ پیغام دیا کہ قریبی رشتہ بھی تمہیں نجات نہیں دلاسکتا۔ یہ ان لوگوں کے لیے ایک طاقتور دعوتی دلیل تھی جو صرف اپنے آباء و اجداد پر فخر کرتے تھے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دعوت میں مخاطب کے حالات سے متعلق مؤثر مثالیں دینا کتنا ضروری ہے۔

7. غور و فکر کی دعوت

یہ حدیث ہر سننے والے کو اس گہرے غور و فکر پر مجبور کرتی ہے"اگر رسول اللہ ﷺ کے چچا کا یہ حال ہے، تو میرے اپنے والدین، رشتہ داروں اور میں خود کہاں ہوں گے؟" یہ سوچ انسان کو فوری طور پر اپنے ایمان اور اعمال کی جانچ پر پرکھنے اور انہیں درست کرنے پر اکساتی ہے۔

خلاصہ:
یہ حدیث اسلامی عقیدے کی دو بنیادی حقیقتوں کو یکجا کرتی ہےتوحید و ایمان کی حتمی اہمیت اور شفاعت کی حقیقی نوعیت۔ یہ ہمیں بتاتی ہے کہ نجات کا دارومدار صرف اور صرف اللہ پر ایمان اور اس کے رسول کی اطاعت پر ہے۔ ساتھ ہی یہ رسول اللہ ﷺ کی عظیم شفقت اور اللہ کے عدل و رحمت کے درمیان توازن کو بھی واضح کرتی ہے۔ یہ حدیث ہر مومن کے لیے اپنے عقیدے کو درست کرنے اور دوسروں کو سمجھانے کا اہم ذریعہ ہے۔

حدیث نمبر 15

 عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ - رضي الله عنهقَالَقَالَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم -: (" يُؤْتَى بِأَنْعَمِ أَهْلِ الدُّنْيَا مِنْ أَهْلِ النَّارِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ) (١) (فَيُقَالُ: اغْمِسُوهُ فِي النَّارِ غَمْسَةً (٢فَيُغْمَسُ فِيهَا، ثُمَّ يُقَالُ لَهُ) (٣) (يَا ابْنَ آدَمَ، هَلْ رَأَيْتَ خَيْرًا قَطُّ؟ , هَلْ مَرَّ بِكَ نَعِيمٌ قَطُّ؟فَيَقُولُلَا وَاللهِ يَا رَبِّ) (٤) (مَا رَأَيْتُ خَيْرًا قَطُّ، وَلَا قُرَّةَ عَيْنٍ قَطُّ) (٥) (وَيُؤْتَى بِأَشَدِّ الْمُؤْمِنِينَ ضُرًّا وَبَلَاءً) (٦) (كَانَ فِي الدُّنْيَا) (٧) (فَيُقَالُ: اغْمِسُوهُ غَمْسَةً فِي الْجَنَّةِ , فَيُغْمَسُ فِيهَا غَمْسَةً، فَيُقَالُ لَهُ:) (٨) (يَا ابْنَ آدَمَ، هَلْ رَأَيْتَ بُؤْسًا قَطُّ؟ , هَلْ مَرَّ بِكَ شِدَّةٌ قَطُّ؟فَيَقُولُلَا وَاللهِ يَا رَبِّ، مَا مَرَّ بِي بُؤُسٌ قَطُّ، وَلَا رَأَيْتُ شِدَّةً قَطُّ ") (٩)


ترجمہ:

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا"قیامت کے دن دنیا والوں میں سے سب سے زیادہ ناز و نعم میں رہنے والا شخص دوزخیوں میں سے (پیش) کیا جائے گا۔"(١"تو اس سے کہا جائے گا: 'اسے ایک بار جہنم میں ڈبو دو۔') پس اسے اس میں ایک بار ڈبویا جائے گا، پھر اس سے کہا جائے گا:"(٣"'اے آدم کے بیٹے! کیا تو نے کبھی کوئی بھلائی دیکھی ہے؟ کیا تجھ پر کبھی کوئی نعمت گزری ہے؟' تو وہ کہے گا: 'نہیں، اللہ کی قسم! اے میرے رب!(٤) میں نے کبھی کوئی بھلائی نہیں دیکھی، نہ کبھی آنکھوں کی ٹھنڈک (کا مزہ چکھا ہے)'۔"(٥"اور دنیا میں(٧) سب سے زیادہ تکلیف اور آزمائش میں مبتلا رہنے والا مومن (پیش) کیا جائے گا۔"(٦"تو اس سے کہا جائے گا: 'اسے ایک بار جنت میں ڈبو دو۔' پس اسے اس میں ایک بار ڈبویا جائے گا، پھر اس سے کہا جائے گا:"(٨"'اے آدم کے بیٹے! کیا تو نے کبھی کوئی رنج و محن دیکھا ہے؟ کیا تجھ پر کبھی کوئی سختی گزری ہے؟' تو وہ کہے گا: 'نہیں، اللہ کی قسم! اے میرے رب! مجھ پر کبھی کوئی رنج و محن نہیں گزرا، اور میں نے کبھی کوئی سختی نہیں دیکھی۔'(٩)"


حوالہ وحواشی:

(١صحیح مسلم (حدیث نمبر:2807)
)غَمْسَةً: اس کا مطلب ہے"اسے ایک بار اس میں ڈال دو، جیسا کہ پانی یا اس جیسی چیز میں ڈبویا جاتا ہے۔" یہاں "ڈبونا" محض مشابہت کے لیے استعمال ہوا ہے۔ (حاشية السندي على ابن ماجه، جلد 8، صفحہ 172)
(٣سنن ابن ماجہ (حدیث نمبر: 4321)
(٤صحیح مسلم (حدیث نمبر:2807)
(٥مسند احمد (حدیث نمبر:13685) میں روایت کیا ہے۔ شیخ شعیب الارناؤوط نے فرمایا کہ اس کی سند صحیح ہے۔
(٦)سنن ابن ماجہ (حدیث نمبر: 4321)
(٧)مسند احمد (حدیث نمبر:13685)
(٨)سنن ابن ماجہ (حدیث نمبر: 4321)
(٩)صحیح مسلم (حدیث نمبر:2807)


حدیث سے حاصل ہونے والے اسباق و نکات:

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث دنیا اور آخرت کے درمیان حقیقی تعلق، خوشی اور غم کی اصل تعریف، اور عذاب و نعمت کی نسبیت کو بیان کرنے والی حدیثوں میں انتہائی منفرد اور گہرے اثر رکھتی ہے۔

1. دنیاوی نعمت اور آزمائش کا حقیقی مقام و معیار

یہ حدیث ہمارے پیمانوں کو یکسر بدل دیتی ہے۔ اس کا بنیادی پیغام یہ ہے:

  • جو کچھ دنیا میں عظیم نعمت سمجھا جاتا ہے (دولت، عیش، آرام)، اگر وہ آخرت کی نعمتوں کے مقابلے میں رکھا جائے تو ہیچ اور بے وقعت ہے۔
  • جو کچھ دنیا میں سخت ترین آزمائش سمجھا جاتا ہے (غربت، بیماری، مصیبت)، اگر اس کا موازنہ جہنم کے عذاب سے کیا جائے تو محض ایک چھوٹا سا انتظار ہے۔
  • حقیقی خوشی اور حقیقی مصیبت کا معیار آخرت ہے، دنیا نہیں۔

2. مقابلہ اور نسبیت کا احساس زائل ہو جانا

حدیث میں دونوں افراد کے جوابات ("نہیں، میں نے کبھی بھلائی/تکلیف نہیں دیکھی") انتہائی معنی خیز ہیں:

  • دنیا کا عیش پرست: جہنم میں صرف ایک ڈبکی لگتے ہی اس کے لیے دنیا کی تمام نعمتیں بالکل بھولی بھالی اور بے معنی ہو جاتی ہیں۔ جہنم کا عذاب اس پر اس قدر حاوی ہو جاتا ہے کہ اس کی یادداشت سے دنیا کی ہر خوشی مکمل طور پر مٹ جاتی ہے۔
  • دنیا کا مصیبت زدہ مومن: جنت میں صرف ایک ڈبکی لگتے ہی اس کے لیے دنیا کی تمام تکلیفیں اور پریشانیاں ایک خواب کی مانند ہو جاتی ہیں، گویا کبھی تھی ہی نہیں۔ جنت کی نعمت اس پر اس قدر غالب آ جاتی ہے کہ وہ دنیا کے کسی دکھ کو یاد ہی نہیں رکھ پاتا۔
  • یہ دونوں صورتیں نعمت اور عذاب کی حتمی اور مطلق نوعیت کو ظاہر کرتی ہیں۔

3. دنیا کی آزمائش کی حقیقی قدر

حدیث کا دوسرا حصہ مصیبتوں میں صبر کرنے والے مومنوں کے لیے انتہائی بڑی خوشخبری اور تسلی ہے۔ یہ بتاتا ہے کہ:

  • دنیا میں جو تکلیف اور مصیبت آتی ہے، وہ درحقیقت آخرت میں بے پایاں نعمتوں کے حصول کا ذریعہ ہے۔
  • اس آزمائش کی حقیقی قدر اور بدلہ اتنا عظیم ہوگا کہ خود اس آزمائش زدہ شخص کو بھی وہ تکلیف یاد نہیں رہے گی۔
  • یہ مومن کے لیے صبر، شکر اور استقامت کا سب سے بڑا محرک ہے۔

4. دنیا کی نعمت کے غلط استعمال کا خوفناک انجام

حدیث کا پہلا حصہ دنیا کی نعمتوں میں ڈوبے ہوئے، لیکن آخرت کو بھلانے والوں کے لیے سخت ترین انتباہ ہے۔ یہ بتاتا ہے کہ:

  • اگر دنیا کی نعمت آخرت کی نافرمانی اور غفلت کا سبب بنی، تو وہی نعمت عذاب کا باعث بن جائے گی۔
  • عیش و عشرت میں ڈوبا ہوا کافر یا گنہگار آخرت میں دنیا کی ہر نعمت کو فراموش کر دے گا، صرف اپنے عذاب کو یاد رکھے گا۔
  • یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ دنیاوی خوشی وقتی اور فریب نظر ہے۔

5. فکر آخرت اور زہد کی ترغیب

یہ حدیث انسان کو دنیا کی محبت، اس کے مال و جاہ کے پیچھے دوڑنے، اور مصیبتوں پر گھبرانے سے روکتی ہے۔ یہ سکھاتی ہے کہ:

  • اصل کامیابی آخرت کی کامیابی ہے۔
  • اصل خوشی جنت کی خوشی ہے۔
  • اصل نقصان جہنم کا عذاب ہے۔
  • اس لیے انسان کو چاہیے کہ وہ دنیا میں زاہدانہ زندگی گزارے، نعمت ملے تو شکر کرے اور مصیبت آئے تو صبر کرے۔

6. نفسیاتی تربیت: مستقبل کی روشنی میں حال کو دیکھنا

حدیث ہمیں ایک نفسیاتی اور ذہنی تربیت دیتی ہے کہ ہم ہر حال میں آخرت کے انجام کو سامنے رکھیں۔

  • جب کوئی نعمت ملے، تو سوچیں"کیا یہ مجھے آخرت سے غافل تو نہیں کر رہی؟"
  • جب کوئی مصیبت آئے، تو سوچیں"اس صبر کا آخرت میں کتنا بڑا اجر ملے گا!"
  • یہ تربیت انسان کو مستقل مزاجی، توازن اور حکمت سے زندگی گزارنے پر آمادہ کرتی ہے۔

7. خوف و رجاء (ڈر اور امید) کا توازن

یہ حدیث خوف و رجاء دونوں کو ایک ساتھ پیدا کرتی ہے۔

  • خوف: اس بات سے کہ دنیا کی نعمتیں ہمیں جہنم میں نہ لے جائیں۔
  • رجاء (امید): اس بات کی کہ دنیا کی مصیبتیں ہمارے درجات بلند کر کے جنت میں لے جائیں گی۔
    ایک مومن کا دل ان دونوں جذبات کے درمیان متوازن رہتا ہے۔

خلاصہ:
یہ حدیث دنیا اور آخرت کے درمیان ایک واضح اور حتمی موازنہ پیش کرتی ہے۔ یہ ہمیں سکھاتی ہے کہ ہمارے تمام معیارات، خوشی اور غم کے تصورات کو آخرت کی روشنی میں ناپنا اور تولنا چاہیے۔ یہ حدیث عیش پرست کو ڈراتی ہے اور مصیبت زدہ مومن کی ہمت بندھاتی ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ یہ دنیا محض ایک امتحان گاہ اور ایک عبوری مسکن ہے، جبکہ اصل زندگی، اصل خوشی اور اصل تکلیف تو آخرت میں ہے۔ اس لیے ہمیں اپنی توجہ، محنت اور امیدیں اسی اصل گھر کی تعمیر پر مرکوز کرنی چاہئیں۔

 



حدیث نمبر 16

عَنْ أَبِي ذَرٍّ - رضي الله عنهقَالَ: (كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللهِ - صلى الله عليه وسلم - فِي سَفَرٍ) (١) (وَمَعَهُ بِلَالٌ) (٢) (فَأَرَادَ أَنْ يُؤَذِّنَ لِلظُّهْرِ (٣)) (٤وفي رواية: (فَأَرَادَ أَنْ يُقِيمَ) (٥) (فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم -: " انْتَظِرْ , انْتَظِرْ ") (٦) (ثُمَّ أَرَادَ أَنْ يُؤَذِّنَ , فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم -: " أَبْرِدْ ") (٧) (قَالَ: حَتَّى رَأَيْنَا فَيْءَ التُّلُولِ (٨)) (٩وفي رواية: حَتَّى سَاوَى الظِّلُّ التُّلُولَ (١٠)) (١١) (ثُمَّ أَقَامَ فَصَلَّى) (١٢) (فَقَالَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم -: " إِذَا كَانَ الْيَوْمُ الْحَارُّ , فَأَبْرِدُوا (١٣بِالصَلَاةِ) (١٤وفي رواية: (فَأَبْرِدُوا بِالظُّهْرِ) (١٥) (فَإِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ (١٦اشْتَكَتِ النَّارُ إِلَى رَبِّهَا فَقَالَتْ: رَبِّ أَكَلَ بَعْضِي بَعْضاًفَأَذِنَ لَهَا بِنَفَسَيْنِنَفَسٍ فِي الشِّتَاءِ , وَنَفَسٍ فِي الصَّيْفِ) (١٧) (فَأَشَدُّ مَا تَجِدُونَ مِنْ الْحَرِّ) (١٨) (فَمِنْ نَفَسِ جَهَنَّمَ) (١٩) (وَأَشَدُّ مَا تَجِدُونَ مِنَ الزَّمْهَرِيرِ (٢٠)) (٢١) (فَمِنْ نَفَسِ جَهَنَّمَ (٢٢)) (٢٣)

وفي رواية (٢٤): " فَأَمَّا نَفَسُهَا فِي الشِّتَاءِ فَزَمْهَرِيرٌ، وَأَمَّا نَفَسُهَا فِي الصَّيْفِ فَسَمُومٌ " (٢٥)

وفي رواية (٢٦): " فَشِدَّةُ مَا تَجِدُونَ مِنَ الْبَرْدِ مِنْ زَمْهَرِيرِهَا , وَشِدَّةُ مَا تَجِدُونَ مِنَ الْحَرِّ مِنْ سَمُومِهَا "


ترجمہ:

حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے بیان کیا"ہم ایک سفر میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے" (۱"اور آپ ﷺ کے ساتھ حضرت بلال رضی اللہ عنہ تھے" (۲"تو انہوں نے ظہر کی اذان دینے کا ارادہ کیا" (۴)۔ اور ایک روایت میں ہے"تو انہوں نے اقامت کہنے کا ارادہ کیا" (۵"تو رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا: 'ٹھہرو، ٹھہرو'" (۶)۔ "پھر انہوں نے اذان دینے کا ارادہ کیا، تو رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا: 'ٹھنڈا کرو (مطلب: ٹھنڈے وقت تک مؤخر کرو)'" (۷)۔ "(ابوذر رضی اللہ عنہ) کہتے ہیں: یہاں تک کہ ہم نے ٹیلوں کا سایہ دیکھا" (۹)۔ اور ایک روایت میں ہے"یہاں تک کہ سایہ ٹیلوں کے برابر ہو گیا" (۱۱)۔ "پھر انہوں نے اقامت کہی اور نماز پڑھی" (۱۲)۔ "تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: 'جب سخت گرمی کا دن ہو تو نماز (ظہر) کو ٹھنڈا کر کے پڑھو'" (۱۴)۔ اور ایک روایت میں ہے"تو ظہر کو ٹھنڈا کر کے پڑھو'" (۱۵)۔ "'کیونکہ سخت گرمی جہنم کے غلبے (یا لپٹ) سے ہے۔ آگ (جہنم) نے اپنے رب سے شکایت کی، پس اس نے کہا: اے میرے رب! میرا ایک حصہ دوسرے حصے کو کھا گیا ہے۔ تو اس نے اسے دو سانسوں کی اجازت دی: ایک سانس سردی (یعنی سردی کی شدت) میں اور ایک سانس گرمی (یعنی گرمی کی شدت) میں۔'" (۱۷"'پس تم جو سخت گرمی پاتے ہو'" (۱۸"'وہ جہنم کی سانس سے ہے'" (۱۹"'اور تم جو سخت سردی پاتے ہو'" (۲۱"'وہ (بھی) جہنم کی سانس سے ہے'" (۲۳)۔

اور ایک روایت میں ہے (۲۴): "پس اس کی سانس سردی میں زمہریر (نہایت شدید سردی) ہے، اور اس کی سانس گرمی میں سموم (تپتی ہوئی آندھی) ہے" (۲۵)۔

اور ایک روایت میں ہے (۲۶): "پس تم جو سردی کی شدت پاتے ہو وہ اس کے زمہریر (نہایت شدید سردی) سے ہے، اور تم جو گرمی کی شدت پاتے ہو وہ اس کے سموم (تپتی ہوئی آندھی) سے ہے۔"


حوالہ وحواشی:

  1. امام بخاری (حدیث نمبر: ۵۱۴)۔
  2. امام ترمذی (حدیث نمبر: ۱۵۸)۔
  3. مصنف (امام بخاری) کی ایک روایت میں اذان کے شروع کرنے کے بعد ہی ابراد (ٹھنڈا کرنے) کا حکم آیا ہے۔ دونوں روایات کے درمیان تطبیق یہ ہے کہ وہ اذان شروع کر چکے تھے، تو ان سے کہا گیا: ٹھنڈا کرو، پس انہوں نے روک لیا۔ لہٰذا (أذن) کے معنی اذان شروع کرنے کے ہیں اور (أراد أن يؤذن) کے معنی اذان مکمل کرنے کے ارادے کے ہیں۔ (فتح الباری، جلد ۲، صفحہ ۳۰۵)
  4. امام بخاری (حدیث نمبر: ۵۱۴)، امام مسلم (حدیث نمبر: ۶۱۶)۔
  5. امام ترمذی (حدیث نمبر: ۱۵۸)۔
  6. امام بخاری (حدیث نمبر: ۵۱۱)، امام مسلم (حدیث نمبر: ۶۱۶)۔
  7. امام بخاری (حدیث نمبر: ۵۱۱)، امام ابو داؤد (حدیث نمبر: ۴۰۱)۔
  8. الْفَيْءُ: زوال کے بعد کا سایہ۔ التُّلُولُ: "تل" کی جمع، جو عموماً اونچی اور نمایاں ہوتی ہیں، اس کا سایہ ظہر کے زیادہ تر وقت گزرنے کے بعد ہی ظاہر ہوتا ہے۔ علماء نے ابراد کی انتہا میں اختلاف کیا ہے، لیکن اصول یہ ہے کہ یہ حالات کے اختلاف سے مختلف ہوگا، البتہ یہ شرط ہے کہ وقت کے آخر تک نہ پہنچ جائے۔ (فتح الباری، جلد ۲، صفحہ ۳۰۹)
  9. امام بخاری (حدیث نمبر: ۵۱۱)، امام مسلم (حدیث نمبر: ۶۱۶)۔
  10. اس روایت کے ظاہر سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ ﷺ نے نماز اس قدر مؤخر کی کہ ہر چیز کا سایہ اس کے برابر ہو گیا۔ یہ بھی ممکن ہے کہ اس مساوات سے مراد یہ ہو کہ ٹیلے کے پہلو میں سایہ ظاہر ہوا جبکہ پہلے نہیں تھا، یعنی ظہور میں اس کے برابر ہو گیا، مقدار میں نہیں۔ یا یہ کہا جائے کہ یہ سفر میں تھا، شاید آپ ﷺ نے ظہر مؤخر کی تاکہ اسے عصر کے ساتھ جمع کر سکیں۔ (فتح الباری، جلد ۲، صفحہ ۳۰۹)
  11. امام بخاری (حدیث نمبر: ۶۰۳)۔
  12. امام ترمذی (حدیث نمبر: ۱۵۸)۔
  13. "فَأَبْرِدُوا" کا مطلب ہے: ٹھنڈے وقت تک مؤخر کرو۔ جمہور علماء سخت گرمی میں ظہر کو ٹھنڈے وقت تک مؤخر کرنے کو مستحب سمجھتے ہیں۔ بعض نے اسے جماعت کے ساتھ خاص کیا ہے، جبکہ منفرد کے لیے تعجیل افضل ہے۔ امام احمد سے مروی ہے کہ بلا تخصیص و قید تعجیل و تاخیر میں مساوات ہے۔ بعض کے نزدیک تعجیل ہی مطلقاً افضل ہے۔ جواب یہ دیا گیا ہے کہ حدیث خباب محمول ہے اس پر کہ انہوں نے ابراد (ٹھنڈے وقت) سے بھی زیادہ تاخیر چاہی تھی جو وقت خروج کا باعث بن سکتی تھی، اس لیے آپ ﷺ نے قبول نہیں کیا۔ یا یہ منسوخ ہے۔ صحیح یہ ہے کہ ابراد والی احادیث رسول اللہ ﷺ کا آخری عمل ہیں۔ بعض نے جمع کیا ہے کہ ابراد رخصت ہے اور تعجیل افضل۔ بعض نے اس کے برعکس کہا ہے۔ (فتح الباری، جلد ۲، صفحہ ۳۰۴)
  14. امام مسلم (حدیث نمبر: ۶۱۵)، امام بخاری (حدیث نمبر: ۵۱۲)۔
  15. امام ابن ماجہ (حدیث نمبر: ۶۷۸)، امام احمد (حدیث نمبر: ۸۸۸۷)۔
  16. فَيْحُ جَهَنَّمَ: جہنم کا جوش مارنا، اس کی لپٹ اور تپش کا پھیلنا۔ جہنم کا بھڑکنا اس کے فَيْح (جوش) کا سبب ہے اور اس کا فَيْح سخت گرمی کے وجود کا سبب ہے، جو خشوع خضوع کے زائل ہونے کا موقع ہے، اس لیے اس میں نماز نہیں پڑھنی چاہیے۔ شارع کی طرف سے جب کوئی تعلیل آئے تو اسے قبول کرنا واجب ہے، چاہے اس کا معنی سمجھ میں نہ آئے۔ (فتح الباری، جلد ۲، صفحہ ۳۰۴)
  17. امام بخاری (حدیث نمبر: ۵۱۲)، امام مسلم (حدیث نمبر: ۶۱۷)۔
  18. امام بخاری (حدیث نمبر: ۳۰۸۷)، امام مسلم (حدیث نمبر: ۶۱۷)۔
  19. امام مسلم (حدیث نمبر: ۶۱۷)۔
  20. الزَّمْهَرِيرِ سے مراد سردی کی شدت ہے۔ اس کے جہنم میں ہونے پر اشکال کیا گیا ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ یہاں "آگ" سے مراد اس کا مقام (جہنم) ہے جس میں ایک زمہریری (نہایت سرد) طبقہ بھی ہے۔ (تحفة الأحوذي، جلد ۶، صفحہ ۳۸۸)
  21. امام بخاری (حدیث نمبر: ۳۰۸۷)، امام مسلم (حدیث نمبر: ۶۱۷)۔
  22. مذکورہ تعلیل سے یہ وہم ہوتا ہے کہ سخت سردی کے وقت بھی نماز مؤخر کرنا مشروع ہے، لیکن کسی نے یہ نہیں کہا؛ کیونکہ یہ عموماً فجر کے وقت ہوتی ہے جو سورج نکلنے کے بعد ہی زائل ہوتی ہے، اگر نماز مؤخر کی جائے تو وقت نکل جائے گا۔ (فتح الباری، جلد ۲، صفحہ ۳۰۶)
  23. امام مسلم (حدیث نمبر: ۶۱۷)۔
  24. امام ترمذی (حدیث نمبر: ۲۵۹۲)۔
  25. السَّمُوم: تپتی ہوئی گرم ہوا، جو عموماً دن کے وقت ہوتی ہے۔ (تحفة الأحوذي، جلد ۶، صفحہ ۳۸۸)
  26. امام ابن ماجہ (حدیث نمبر: ۴۳۱۹)۔ نیز امام البانی نے "السلسلۃ الصحیحۃ" (حدیث نمبر: ۱۴۵۷) میں اسے صحیح قرار دیا ہے۔

حدیث سے حاصل ہونے والے اسباق و نکات:

حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کی یہ طویل اور جامع حدیث درحقیقت رسول اللہ ﷺ کی ایک سنت (ابراد بالظہر) کی حکمت، مشروعیت، حدود اور اس کے پیچھے موجود عظیم غیبی حقیقت کو واضح کرتی ہے۔ اس سے درج ذیل متعدد قیمتی اسباق ملتے ہیں:

1. شریعت میں آسانی اور رعایت: ابراد بالظہر کا حکم

حدیث کا مرکزی عملی درس یہ ہے کہ سخت گرمی کے دنوں میں ظہر کی نماز کو اس قدر مؤخر کیا جائے کہ گرمی کی شدت کم ہو جائے اور سایہ پھیلنے لگے۔ رسول اللہ ﷺ نے اپنے عمل اور قول دونوں سے اس کی ترغیب دی۔ اس میں مومنوں کے لیے آسانی، سہولت اور رحمت ہے تاکہ وہ نماز کو طمانیت و خشوع کے ساتھ ادا کر سکیں۔ یہ اسلام کے آسان، معتدل اور فطری ہونے کی دلیل ہے۔

2. سنت نبوی کی تعمیل میں ادب و احتیاط

حضرت بلال رضی اللہ عنہ کا اذان شروع کرنا اور پھر رسول اللہ ﷺ کے حکم پر فوراً رک جانا، اتباع سنت اور رسول ﷺ کے حکم پر فوری تعمیل کے ادب کو ظاہر کرتا ہے۔ "انْتَظِرْ" کہہ کر آپ ﷺ نے انہیں موقع دیا کہ وہ گرمی کی شدت کو ملاحظہ کریں اور حکمت سمجھیں۔

3. شریعت کی حکمتوں میں غور و فکر

اس حدیث کی عظمت اس میں ہے کہ آپ ﷺ نے صرف حکم ہی نہیں دیا، بلکہ اس کی حکمت اور وجہ بھی بیان فرما دی۔ یہ بتایا کہ سخت گرمی محض ایک موسمی کیفیت نہیں، بلکہ اس کا تعلق جہنم سے ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ شریعت کے احکام حکمتوں اور مصلحتوں پر مبنی ہیں، چاہے ہم انہیں پوری طرح سمجھ سکیں یا نہ سکیں۔

4. جہنم کی ہولناکی کا دنیا میں مشاہدہ

حدیث میں دنیا کی انتہائی گرمی اور سردی کو جہنم کی سانسوں سے تعبیر کیا گیا ہے۔ اس تشبیہ کا مقصد یہ ہے کہ:

  • ہماری دنیا کی سخت ترین گرمی اور سردی بھی درحقیقت جہنم کی عظیم آگ کے مقابلے میں محض ایک سانس یا ایک جھلک ہے۔
  • جہنم کی آگ میں مختلف اور متضاد قسم کے عذاب ہیں — انتہائی تپش (سَمُوم) اور انتہائی سرمایہ (زَمْهَرِير) دونوں۔
  • یہ تصور ہمارے دل میں جہنم کے عذاب کا ایک زندہ اور محسوس خوف پیدا کرتا ہے۔ ہم دنیا کی معمولی گرمی سے جو تکلیف محسوس کرتے ہیں، اسے دیکھ کر جہنم کی آگ کی ہولناکی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

5. توحید کی نشانی: جمادات کی شکایت اور رب کا جواب

حدیث کا یہ حصہ کہ "آگ (جہنم) نے اپنے رب سے شکایت کی..." درحقیقت توحید اور اللہ کی قدرت کاملہ کی ایک عجیب و غریب نشانی بیان کرتا ہے۔ یہ بتاتا ہے:

  • اللہ کی مخلوقات میں سے ایک مخلوق (جہنم) بھی حی و ناطق (زندہ اور بولنے والی) ہے، وہ اپنے رب سے ہم کلام ہوتی ہے۔
  • اللہ تعالیٰ اپنی حکمت کے تحت اس کی شکایت سنتا ہے اور اسے دو سانسوں کی اجازت دیتا ہے، جو دنیا میں گرمی و سردی کی انتہاؤں کا سبب بنتی ہیں۔
  • یہ عقیدہ کہ ہر چیز اللہ کی تسبیح کرتی ہے، اس کی ایک عملی مثال ہے۔

6. فقہی تنوع اور مسائل میں گنجائش

حواشی میں علماء کے مختلف اقوال (مستحب، افضل، رخصت) کا ذکر اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ شرعی مسائل میں گنجائش اور تنوع ہوتا ہے۔ مختلف حالات، مقامات اور لوگوں کے لیے حکم میں فرق ہو سکتا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا اسوہ اور ارشاد ہمارے لیے اصل رہنما ہے، اور علماء نے اپنی اجتہادی کوشش سے اس سے رہنمائی حاصل کی ہے۔

7. مومن کے لیے ہر حال میں ذکر آخرت

یہ حدیث مومن کو سکھاتی ہے کہ وہ ہر موسمی تغیر کو آخرت کی یاد دہانی بنائے۔

  • گرمی میں: جب سخت گرمی پڑے، تو اسے جہنم کی آگ یاد آئے اور اس سے پناہ مانگے۔
  • سردی میں: جب سخت سردی پڑے، تو اسے جہنم کے زمہریر (نہایت سرد عذاب) کا خیال آئے۔
    اس طرح اس کی روزمرہ کی زندگی کا ہر لمحہ اللہ کی یاد اور آخرت کی فکر سے جڑ جاتا ہے۔

8. عملی زندگی میں تطبیق: خشوع و خضوع کا اہتمام

ابراد کا بنیادی مقصد نماز میں خشوع و خضوع اور طمانیت کا حصول ہے۔ شدید گرمی میں نماز پڑھنے سے انسان بے چین ہو سکتا ہے اور نماز کا اصل مقصد فوت ہو سکتا ہے۔ اس لیے شریعت نے بہتر وقت کی نشاندہی کی ہے۔ یہ سبق ہے کہ ہر عبادت کو اس کے کمال اور ادائیگی کے بہترین حالات میں سرانجام دیا جائے۔

خلاصہ:
یہ حدیث ایک ظاہری سنت (ابراد) کو غیبی حقیقت (جہنم کی سانسیں) سے جوڑتی ہے۔ یہ ہمیں سکھاتی ہے کہ شریعت کے چھوٹے سے چھوٹے حکم کے پیچھے بھی عظیم حکمتیں اور مصلحتیں کارفرما ہیں۔ یہ حدیث ہمارے لیے عملی رہنمائی بھی ہے، عقیدے کی توضیح بھی، اور دل میں خوفِ آخرت پیدا کرنے کا ذریعہ بھی ہے۔ اسے پڑھ کر انسان کو چاہیے کہ وہ نہ صرف گرمی میں ظہر مؤخر کرے، بلکہ ہر گرمی و سردی کے لمحے میں اپنے آخری انجام کو یاد رکھے۔

 



حضرت ابوھریرہ رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے تھے، فرمایا کہ ان میں سے ایک نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مجھ پر حدیث بیان کی، آپ نے فرمایا:
"جب کوئی بہت گرم دن ہو تو اللہ تعالیٰ اپنا کان اور نظر آسمان والوں اور زمین والوں کی طرف پھیر دیتا ہے، پھر جب بندہ کہتا ہے: ’لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، اس دن کی گرمی کتنی شدید ہے، اے اللہ! مجھے جہنم کی گرمی سے بچا لے‘ تو اللہ عزوجل جہنم سے فرماتا ہے: ’میرے بندوں میں سے ایک بندے نے تیری (گرمی) سے میری پناہ مانگی ہے، اور میں تجھے گواہ بناتا ہوں کہ میں نے اسے پناہ دے دی ہے۔‘ اور جب سخت سردی کا دن ہو تو اللہ تعالیٰ اپنا کان اور نظر آسمان والوں اور زمین والوں کی طرف پھیر دیتا ہے، پھر جب بندہ کہتا ہے: ’لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، اس دن کی سردی کتنی شدید ہے، اے اللہ! مجھے جہنم کے زمہریر (سخت سرد عذاب) سے بچا لے‘ تو اللہ عزوجل جہنم سے فرماتا ہے: ’میرے بندوں میں سے ایک بندے نے تیرے زمہریر سے میری پناہ مانگی ہے، اور میں تجھے گواہ بناتا ہوں کہ میں نے اسے پناہ دے دی ہے۔‘ صحابہ نے پوچھا: جہنم کا زمہریر کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: ’وہ ایک گھر ہے جس میں کافر ڈالا جائے گا، تو اس کی شدید سردی کی وجہ سے اس کے جسم کے ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں گے۔‘" 
[الأسماء والصفات للبيهقي:387، عمل اليوم والليلة لإبن السني:307، جامع الأحاديث-للسيوطي:2695]



القرآن:
وہ ان (جنتی) باغوں میں آرام دہ اونچی نشستوں پر تکیہ لگائے بیٹھے ہوں گے، جہاں نہ دھوپ کی تپش دیکھیں گے اور نہ کڑا کے کی سردی۔
[سورۃ نمبر 76 الانسان،آیت نمبر 13]



حاصل اسباق و نکات:

1. اللہ کی بارگاہ میں التجا کی عظمت: حدیث اس بات پر زور دیتی ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی پکار کو سنتا ہے اور ان کی ضرورتوں اور دعاؤں کی طرف توجہ دیتا ہے، یہاں تک کہ موسمی تکالیف کے اظہار کو بھی قبولیت کی نوید بناتا ہے۔
2. موجودہ تکلیف کو آخرت کی یاد دہانی بنانا: حدیث ہمیں سکھاتی ہے کہ دنیا کی معمولی تکلیفیں (جیسے گرمی اور سردی) بھی آخرت کی عظیم تر تکلیفوں (جہنم کی آگ اور زمہریر) سے پناہ مانگنے کا ذریعہ بنائی جا سکتی ہیں۔ یہ مومن کی فکر اور آخرت کے بارے میں اس کی بیداری کی علامت ہے۔
3. توحید کی بنیاد پر دعا: حدیث میں مخصوص دعا کا آغاز کلمہ توحید "لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ" سے ہوتا ہے، جو اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ہر دعا اور التجاء کا اصل دارومدار اللہ کی وحدانیت پر ایمان ہے۔
4. اللہ کی رحمت اور جہنم کی ہیبت: حدیث اللہ تعالیٰ کی وسیع رحمت اور جہنم کے عذاب کی ہولناکی دونوں کی تصویر کشی کرتی ہے۔ یہ مومن کو اللہ کی رحمت کی امید اور اس کے عذاب سے ڈر کے درمیان متوازن رہنے کی ترغیب دیتی ہے۔
5. جہنم کی مختلف اقسام: حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ جہنم میں نہ صرف آگ (حَرّ) کا عذاب ہے بلکہ انتہائی سردی (زَمْهَرِير) کا عذاب بھی ہے، جو کافر کے لیے مخصوص ہے۔
6. مومن کا اعزاز: جب ایک مومن اس طرح دعا مانگتا ہے تو اللہ تعالیٰ جہنم کو بھی اس بات کی گواہ بناتا ہے کہ اس نے اپنے بندے کو پناہ دے دی ہے۔ یہ مومن کے ساتھ اللہ کے خاص تعلق اور اس کی عظمت کو ظاہر کرتا ہے۔

خلاصہ:
یہ حدیث مومن کو یہ سکھاتی ہے کہ وہ اپنی روزمرہ کی چھوٹی بڑی تکالیف کو اللہ کی طرف رجوع کرنے، اس کی وحدانیت کا اعتراف کرتے ہوئے اور اس کی رحمت سے آخرت کے عذاب سے نجات کی دعا مانگنے کا ذریعہ بنا سکتا ہے۔ اس عمل سے اللہ کی خصوصی توجہ حاصل ہوتی ہے اور بندہ جہنم کے عذاب سے محفوظ ہو جاتا ہے۔



حدیث نمبر 17

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رضي الله عنهقَالَقَالَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم -: " لَوْ كَانَ فِي هَذَا الْمَسْجِدِ مِائَةُ أَلْفٍ أَوْ يَزِيدُونَ , وَفِيهِ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ النَّارِ , فَتَنَفَّسَ فَأَصَابَهُمْ نَفَسُهُ , لَاحْتَرَقَ الْمَسْجِدُ وَمَنْ فِيهِ "(۱)


ترجمہ:

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا"اگر اس مسجد میں ایک لاکھ یا اس سے زیادہ لوگ ہوں اور ان میں جہنمیوں میں سے ایک آدمی (بھی) ہو، پھر وہ سانس لے اور اس کی سانس ان (سب) کو لگ جائے تو مسجد اور اس میں موجود سب (لوگ) جل جائیں گے۔"(۱)


حوالہ:

  1. اس اثر کو امام بیہقی نے "شعب الإيمان" (حدیث نمبر: 6670) میں روایت کیا ہے۔ نیز علامہ البانی نے "السلسلۃ الصحیحۃ" (حدیث نمبر: 2509) میں اسے صحیح قرار دیا ہے۔

حدیث سے حاصل ہونے والے اسباق و نکات:

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث جہنم کی آگ کی شدت، گناہگار کی حالت اور آخرت کے عذاب کی ہولناکی کو بیان کرنے کے لیے رسول اللہ ﷺ کے بیانات میں انتہائی مختصر مگر نہایت ہی شدید تاثیر رکھنے والا بیان ہے۔ اس سے درج ذیل گہرے اور پرزور اسباق حاصل ہوتے ہیں:

1. جہنم کی آگ کی مطلق اور ناقابلِ تصور شدت

حدیث کا بنیادی پیغام جہنم کی آگ کی حقیقی نوعیت اور اس کی مطلق شدت کو واضح کرنا ہے۔ یہاں تک کہ جہنم میں داخل ہونے والے ایک شخص کا صرف ایک سانس، اگر وہ دنیا میں کسی جگہ پہنچ جائے، تو ایک لاکھ سے زیادہ لوگوں اور ایک پوری عظیم الشان مسجد کو فوراً خاکستر کر سکتا ہے۔ یہ تصور اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ:

  • جہنم کی آگ ہماری دنیا کی آگ سے بالکل مختلف نوعیت کی ہے۔ یہ محض درجہ حرارت کا فرق نہیں، بلکہ ایک تباہ کن قوت اور مہلک اثر ہے۔
  • اس کی شدت کا اندازہ لگانا انسانی عقل و فہم سے بالاتر ہے۔

2. گناہ اور کفر کی حقیقی سنگینی

یہ حدیث گناہ، کفر اور نافرمانی کی حقیقی ہولناکی اور سنگینی کو بے نقاب کرتی ہے۔ یہ بتاتی ہے کہ جو شخص اپنے گناہوں کی وجہ سے جہنم کا مستحق ہو جاتا ہے، اس کی ذات اور حالت کیا خطرناک تبدیلی سے گزرتی ہے۔ اس کا ایک سانس بھی اتنا مہلک اور تباہ کن ہو سکتا ہے۔ یہ تصور ہر عقل مند کو ہر قسم کے گناہ، چھوٹے یا بڑے، سے ڈرانے کے لیے کافی ہے۔

3. ظاہر اور باطن کا فرق: بیرونی نمائش کی بے حقیقی

حدیث ایک اہم نفسیاتی اور سماجی سبق دیتی ہےظاہری حالت اور باطنی حقیقت میں فرق ہو سکتا ہے۔

  • مسجد میں ایک لاکھ لوگ موجود ہیں — یہ ظاہری طور پر نیکی، عبادت اور دینی ماحول کی علامت ہے۔
  • لیکن ان میں ایک شخص ایسا بھی ہو سکتا ہے جو اپنے باطن، عقیدے یا اعمال کی وجہ سے جہنم کا اہل ہو۔
  • اس کا ظاہر دوسروں جیسا ہے، لیکن اس کا باطن اور انجام مہلک اور تباہ کن ہے۔
    یہ سبق ہمیں دکھاوے، ریاکاری اور محض ظاہری نیکی سے ڈرانا ہے۔

4. اجتماعی برکت اور اجتماعی عذاب کے اصول کی طرف اشارہ

حدیث ایک اور اصول کی طرف اشارہ کرتی ہےبرائی اور گناہ کا اثر صرف فرد تک محدود نہیں رہتا، بلکہ اس کا اجتماعی اثر ہوتا ہے۔

  • ایک گنہگار کی موجودگی پورے معاشرے یا جماعت کے لیے خطرہ بن سکتی ہے، اگرچہ یہ دنیا میں ظاہر نہ ہو۔
  • یہ تصور ہمیں اجتماعی گناہوں، برائیوں کے پھیلاؤ اور معاشرے میں فساد سے بچنے کی ترغیب دیتا ہے۔
  • اس کا مثبت پہلو یہ ہے کہ اسی طرح ایک نیک شخص کی برکت پورے معاشرے کو پہنچ سکتی ہے۔

5. اللہ کے حفظ و امان میں رہنے کی اہمیت

اگر ایک جہنمی کا سانس اس قدر مہلک ہو سکتا ہے، تو یہ بات واضح کرتی ہے کہ دنیا میں ہمارا محفوظ رہنا محض اللہ تعالیٰ کے حفظ و امان کا نتیجہ ہے۔ اللہ نے اپنی حکمت اور رحمت سے جہنم کی آگ اور اس کے اثرات کو آخرت تک محدود رکھا ہوا ہے۔ اس لیے ہمیں ہر لمحہ اللہ کی پناہ اور اس کے حفظ کا طلب گار رہنا چاہیے۔

6. خوفِ آخرت کی شدید ترین ترغیب

اس حدیث کا سب سے بڑا مقصد مومن کے دل میں آخرت کے عذاب کا ایسا زندہ اور شدید خوف پیدا کرنا ہے جو اسے گناہوں سے روک دے۔ جب انسان یہ سوچے کہ صرف ایک سانس کی صورت میں جہنم کی آگ اتنی تباہ کن ہے، تو پھر اس آگ میں گر کر رہنا کتنا ہولناک ہوگا؟ یہ تصور توبہ و استغفار کی طرف تیزی سے دوڑانے کے لیے کافی ہے۔

7. ایمان بالغیب کی مضبوطی

ہم نے کبھی ایسا منظر نہیں دیکھا، نہ ہی ہمارا تجربہ ہے، لیکن ہم رسول اللہ ﷺ کے بیان پر پورا ایمان رکھتے ہیں۔ یہ ایمان بالغیب کی ایک اعلیٰ تربیت ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ جو کچھ آپ ﷺ نے فرمایا وہ سچ ہے، چاہے ہماری عقل اسے پوری طرح ادراک نہ کر سکے۔

8. اپنے باطن کی اصلاح کی فوری دعوت

یہ حدیث ہر فرد کو اپنے باطن، اپنے ایمان اور اپنے اعمال کو درست کرنے کی فوری ترغیب دیتی ہے۔ انسان کو چاہیے کہ وہ خود کو دھوکہ نہ دے کہ میں مسجد میں بیٹھا ہوں، تو سب ٹھیک ہے۔ بلکہ یہ دیکھے کہ اس کا دل، اس کا عقیدہ اور اس کے اعمال کس حال میں ہیں۔ کیونکہ آخرت میں باطن ہی اصل معیار ہوگا، نہ کہ ظاہری جگہیں۔

خلاصہ:
یہ حدیث ایک انتہائی مختصر مگر انتہائی ہیبت ناک انتباہ ہے۔ یہ ہمیں جہنم کی آگ کی حقیقی قوت، گناہ کی مہلک نوعیت اور باطنی حالت کی اہمیت سے آگاہ کرتی ہے۔ اس کا مقصد ہمیں غفلت کی گہری نیند سے جگانا ہے اور ہمیں اس بات پر آمادہ کرنا ہے کہ ہم فوراً اپنے گناہوں سے توبہ کریں، اپنے ایمان و عمل کو درست کریں، اور اللہ کی پناہ میں آجائیں، قبل اس کے کہ وہ دن آئے جب جہنم کا ایک سانس ہی سب کچھ بھسم کر دے۔ یہ حدیث ہمارے دل میں ایک ایسا خوف پیدا کرتی ہے جو ہمیں ہمیشہ نیکی کی طرف دوڑاتا رہے۔

 



حدیث نمبر 18

عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ - رضي الله عنه - أَنَّهُ قَالَ فِي قَوْلِهِ - عز وجل -: {وَقُودُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ} (١قَالَ: " حِجَارَةٌ مِنْ كِبْرِيتٍ , خلقها اللهُ عِنْدَهُ كَمَا شَاءَ " (٢)


ترجمہ:

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے فرمان {وَقُودُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ} (اس کا ایندھن انسان اور پتھر ہیں) (۱) کی تفسیر میں فرمایا"گندھک کے پتھر ہیں، جنہیں اللہ نے اپنے پاس اپنی مرضی سے پیدا کیا ہے۔" (۲)


حوالہ جات:

  1. سورۃ البقرۃ، آیت: 24۔ (یہ آیت نمبر اصل عبارت میں سورۃ البقرہ آیت 24 ہے، جبکہ سورۃ التحريم آیت 6 میں بھی یہی الفاظ ہیں۔ حوالہ سورۃ البقرہ کا دینا صحیح ہے)۔
  2. اس اثر کو امام بیہقی نے "شعب الإيمان" (حدیث نمبر:3827) اور امام طبرانی نے "المعجم الكبير" (حدیث نمبر:9026) میں روایت کیا ہے۔ نیز امام البانی نے "صحیح الترغیب والترہیب" (حدیث نمبر:3675) میں اسے صحیح قرار دیا ہے۔

حدیث سے حاصل ہونے والے اسباق و نکات:

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا یہ تفسیری بیان قرآن مجید میں بیان کردہ جہنم کے ایندھن کے ایک پہلو کو واضح کرتا ہے۔ یہ مختصر مگر جامع بیان درج ذیل اہم نکات کی طرف رہنمائی کرتا ہے:

1. قرآن کی تفسیر میں صحابہ کرام کا منہج

اس اثر سے پتہ چلتا ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم قرآن مجید کی تفسیر کرتے وقت الفاظ کے ظاہری معنی پر قائم رہتے تھے، لیکن جہاں کسی چیز کی حقیقت کے بارے میں تفصیل مطلوب ہوتی تو وہ رسول اللہ ﷺ سے معلوم شدہ علم کی بنیاد پر بات کرتے تھے۔ یہاں حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے "حجارة" (پتھروں) کی تفسیر "حجارة من كبريت" (گندھک کے پتھر) سے کی، جو اس بات کی نشاندہی ہے کہ یہ محض عام پتھر نہیں ہوں گے، بلکہ ایک خاص قسم کے پتھر ہوں گے جو گندھک کی خصوصیات رکھتے ہوں گے۔

2. اللہ کی تخلیقی قدرت کی وسعت

"خَلَقَهَا اللهُ عِنْدَهُ كَمَا شَاءَ" (اللہ نے انہیں اپنے پاس پیدا کیا جیسے چاہا) کے فقرے سے اللہ تعالیٰ کی تخلیقی قدرت کی کامل وسعت اور اختیار کا اظہار ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے پیدا کر سکتا ہے، اور اس کی مخلوقات ہماری محدود سوچ سے بالاتر ہو سکتی ہیں۔ گندھک کے پتھر کا ذکر بھی شاید ان پتھروں کی شدید آتشگیر خصوصیت کی طرف اشارہ ہے، جو عام پتھروں سے مختلف ہوگی۔

3. جہنم کا ایندھن: انسان اور پتھر

قرآن مجید نے جہنم کا ایندھن دو چیزیں بتایا1. انسان (کافر) 2. پتھر۔ اس سے کئی اسباق ملتے ہیں:

  • کفار کی ذلت: کافر انسان جہنم کا ایندھن بنے گا، جو اس کی دنیا و آخرت میں ذلت و رسوائی کی انتہا ہے۔
  • مشرکانہ عقائد کی تذلیل: "حجارة" سے مراد بت بھی لیے جاتے ہیں جن کی یہ لوگ عبادت کرتے تھے۔ قیامت کے دن یہی بت ان کے عذاب کا ایندھن بنیں گے، جو شرک کی حقیقت بے حقیقتی اور اس کے ماننے والوں کی جہالت پر واضح تنبیہ ہے۔
  • عذاب کی شدت: ایندھن کی یہ دو قسمیں جہنم کے عذاب کی شدت، ہولناکی اور مختلف النوع ہونے کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔

4. غیب پر ایمان کی تربیت

ہم نہیں جانتے کہ یہ "گندھک کے پتھر" حقیقتاً کیا ہیں، لیکن ہم اللہ کے کلام اور اس کے رسول کے صحابی کی تفسیر پر ایمان لاتے ہیں۔ یہ ایمان بالغیب کی تربیت ہے۔ ہمارا علم محدود ہے، اللہ کا علم لامحدود ہے۔

5. عمل کی ترغیب

یہ تفسیر ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ہم جہنم کے ایندھن بننے سے بچنے کی کوشش کریں۔ اس کے لیے توحید خالص، شرک سے اجتناب اور نیکیوں کی طرف رغبت ضروری ہے۔

خلاصہ:
یہ تفسیری اثر جہنم کے عذاب کی ایک تفصیل بیان کرتا ہے جو ہمارے ایمان کو مضبوط کرتی ہے۔ یہ ہمیں اللہ کی قدرت، شرک کی برائی اور آخرت کے عذاب کی ہولناکی سے آگاہ کرتی ہے، تاکہ ہم اس عذاب سے بچنے کے لیے اپنے اعمال درست کریں۔

 



كَيْفِيَّةُ دُخُولِ الْكُفَّارِ النَّار (کافروں کے جہنم میں داخل ہونے کی کیفیت)

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

"اور ہم قیامت کے دن انہیں ان کے منہ کے بل اندھے، گونگے اور بہرے کر کے اٹھائیں گے۔ ان کا ٹھکانا جہنم ہے۔ جب بھی وہ (آگ) بجھنے لگے گی ہم اس پر بھڑکا دیں گے۔"

[سورۃ الإسراء، آیت: 97]

اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

"پس تم ہرگز یہ خیال نہ کرنا کہ اللہ اپنے رسولوں کے ساتھ کیے ہوئے وعدے کی خلاف ورزی کرے گا۔ بے شک اللہ غالب ہے، انتقام لینے والا ہے۔ جس دن زمین کو بدل کر دوسری زمین کر دی جائے گی اور آسمان (بھی بدل دیے جائیں گے)، اور وہ سب اللہ واحد قہار کے سامنے بے نقاب ہوں گے۔ اور تم مجرموں کو اس دن دیکھو گے کہ زنجیروں میں جکڑے ہوئے ہیں، ان کے کرتے قطران (پگھلے ہوئے تانبے) کے ہوں گے، اور ان کے چہروں کو آگ ڈھانپ لے گی، تاکہ اللہ ہر شخص کو اس کے کئے کا بدلہ دے۔ بے شک اللہ جلد حساب لینے والا ہے۔"

[سورۃ ابراہیم، آیات: 47-51]

اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

"اور (اے پیغمبر!) کاش تم دیکھو جب وہ اپنے رب کے سامنے کھڑے کیے جائیں گے (تو) اللہ فرمائے گا: کیا یہ (عذاب) حق نہیں ہے؟ وہ کہیں گے: کیوں نہیں، ہمارے رب کی قسم! فرمائے گا: پھر چکھو عذاب اسی بات پر کہ تم کفر کرتے تھے۔ بیشک وہ لوگ خسارے میں رہے جنہوں نے اللہ سے ملاقات کا انکار کیا، یہاں تک کہ جب اچانک ان پر قیامت آ پہنچی (تو) کہنے لگے: ہائے افسوس! ہم نے اس (دنیا) میں جو کوتاہی کی، اور وہ اپنے گناہوں کا بوجھ اپنی پیٹھوں پر اٹھائے ہوں گے۔ آگاہ ہو جاؤ! بہت برا ہے وہ بوجھ جو وہ اٹھا رہے ہیں۔"

[سورۃ الانعام، آیات: 30-31]

اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

"اور کاش! تم دیکھو جب وہ آگ کے سامنے کھڑے کیے جائیں گے (تو) کہیں گے: اے کاش! ہم (دنیا میں) لوٹائے جاتے اور اپنے رب کی آیات کو نہ جھٹلاتے اور ایمان والوں میں سے ہو جاتے۔"

[سورۃ الانعام، آیت: 27]

اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

"اور تم ظالموں کو دیکھو گے جب عذاب دیکھیں گے (تو) کہیں گے: کیا (دنیا میں) پلٹنے کا کوئی راستہ ہے؟ اور تم انہیں دیکھو گے کہ اس (آگ) پر پیش کیے جائیں گے ذلت سے جھکے ہوئے، وہ چھپے ہوئے اشاروں سے (خوفزدہ نظروں سے) دیکھتے ہوں گے۔ اور ایمان والے کہیں گے: بے شک خسارہ اٹھانے والے وہی ہیں جنہوں نے اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو قیامت کے دن خسارے میں ڈال دیا۔ آگاہ ہو جاؤ! بے شک ظالم لوگ ہمیشہ رہنے والے عذاب میں ہوں گے۔"

[سورۃ الشوری، آیات: 44-45]

اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

"پس اس دن جھٹلانے والوں کے لیے ہلاکت ہے۔ جو لوگ (حق بات میں) بے کار بحثوں میں پڑے رہتے ہیں۔ جس دن وہ جہنم کی آگ کی طرف دھکیلے جائیں گے (اس طرح کہ) جھٹکے لگتے جائیں گے۔ (کہا جائے گا:) یہی وہ آگ ہے جسے تم جھٹلایا کرتے تھے۔ تو کیا یہ (عذاب) جادو ہے یا تم دیکھتے نہیں ہو؟ اس میں جاؤ، اب صبر کرو یا نہ کرو، تمہارے لیے برابر ہے۔ تمہیں صرف اسی کا بدلہ دیا جا رہا ہے جو تم کرتے تھے۔"

[سورۃ الطور، آیات: 11-16]

اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

"بلکہ انہوں نے قیامت کو جھٹلایا اور ہم نے قیامت کے جھٹلانے والے کے لیے بھڑکتی ہوئی آگ تیار کر رکھی ہے۔ جب وہ (آگ) انہیں دور ہی سے دیکھے گی تو وہ اس کے غصے بھرے شور اور بھاپ (کی آواز) سنیں گے۔ اور جب انہیں زنجیروں میں جکڑ کر اس کے کسی تنگ مقام میں ڈالا جائے گا تو وہاں ہلاکت (ہی ہلاکت) پکاریں گے۔ (اُن سے کہا جائے گا:) آج ایک ہلاکت مت پکارو، بہت سی ہلاکتیں پکارو۔"

[سورۃ الفرقان، آیات: 12-14]

اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

"(اللہ) فرمائے گا: تم بھی ان امتوں میں داخل ہو جاؤ جو تم سے پہلے گزر چکی ہیں، جن و انسانوں کی (امتوں میں)۔ جب بھی کوئی امت (جہنم میں) داخل ہوگی (تو) اپنی (پیچھے آنے والی) بہن (امت) پر لعنت کرے گی، یہاں تک کہ جب وہ سب اس میں (پیچھے) پہنچ جائیں گے تو پچھلی امت پہلی امت سے کہے گی: اے ہمارے رب! انہوں نے ہی ہمیں گمراہ کیا تھا، سو انہیں آگ کا دوگنا عذاب دے۔ (اللہ) فرمائے گا: ہر ایک کے لیے (عذاب) دوگنا ہے لیکن تم نہیں جانتے۔"

[سورۃ الأعراف، آیت: 38]


آیات سے حاصل ہونے والے اسباق و نکات:

یہ آیات قیامت کے دن کافروں اور مجرموں کے جہنم میں داخلے کے ہولناک اور دردناک منظر نامے کو تفصیل سے بیان کرتی ہیں۔ یہ صرف عذاب کی کیفیت ہی نہیں، بلکہ اس دن کی نفسیاتی اور جذباتی کیفیات کو بھی واضح کرتی ہیں۔

1. داخلے کی ذلت آمیز کیفیت: منہ کے بل، اندھے، گونگے، بہرے

  • علی وجوہھم: انہیں منہ کے بل اٹھایا اور ہانکا جائے گا۔ یہ دنیا میں ان کے تکبر، غرور اور انکارِ حق کا بدلہ ہے۔
  • عمیًا و بکماً و صمًا: وہ اندھے، گونگے اور بہرے ہوں گے۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ آخرت میں ان کی عقلیں، زبانیں اور کان سب کام کرنا بند کر دیں گے، کیونکہ انہوں نے دنیا میں حق کو دیکھنے، سننے اور بولنے سے انکار کر دیا تھا۔ یہ ان کے اپنے کئے کا نتیجہ ہے۔

2. ہیئت و حلیہ کی بدصورتی: زنجیریں، قطران کے کرتے، چہروں پر آگ

  • مقرنین في الأصفاد: وہ زنجیروں میں جکڑے ہوں گے۔ یہ ان کی غلامی، بے بسی اور حرکت کی محدودیت کی علامت ہے۔
  • سرابیلھم من قطران: ان کے کرتے پگھلے ہوئے تانبے کے ہوں گے، جو جسم سے چپک کر جلتے رہیں گے۔
  • تغشی وجوھم النار: ان کے چہروں کو آگ ڈھانپ لے گی، جو ذلت، رسوائی اور عذاب کی شدت کو ظاہر کرتا ہے۔
    یہ تمام صورتیں ان کی دنیاوی شان و شوکت، لباس اور چہرے کے غرور کے بالکل برعکس ہوں گی۔

3. نفسیاتی کیفیات: حسرت، پچھتاوا، ندامت اور مایوسی

  • یَا حَسْرَتَنَا: "ہائے افسوس!" کا نعرہ۔ یہ عمیق پچھتاوا اور ناکامی کا اظہار ہے۔
  • یا لیتنا نرد: "کاش ہم لوٹائے جاتے!" یہ شدید ترین آرزو اور خواہش ہے جو پوری نہیں ہوگی۔
  • ھل الی مرد من سبیل: "کیا پلٹنے کا کوئی راستہ ہے؟" یہ مکمل مایوسی کا اعلان ہے۔
  • خاشعین من الذل: "ذلت سے جھکے ہوئے۔" دنیا کا تکبر اور غرور بالکل خاک میں مل چکا ہوگا۔
  • ینظرون من طرف خفي: "چھپے ہوئے اشاروں سے دیکھتے ہوئے۔" یہ انتہائی خوف، دہشت اور شرمندگی کی کیفیت ہے۔

4. جہنم کا ردعمل: غصہ، شور اور بھاپ

  • تغیظا و زفیرا: آگ انہیں دیکھ کر غصے میں شور اور بھاپ مچائے گی۔ یہ جہنم کو ایک زندہ، باشعور اور جذبات رکھنے والی مخلوق کے طور پر پیش کرتا ہے جو کفار سے سخت نفرت رکھتی ہے۔

5. اجتماعی تعلقات کا بگاڑ: لعن طعن اور الزام تراشی

  • کلما دخلت امة لعنت اختھا: جب بھی کوئی امت داخل ہوگی، اپنے سے پہلے والی امت پر لعنت کرے گی۔ اس کی وجہ یہ ہوگی کہ وہ یہ سمجھیں گی کہ پہلی امت نے انہیں گمراہ کیا۔
  • ربنا ھؤلاء اضلونا: پچھلی امتیں پہلی امتوں سے شکایت کریں گی"اے ہمارے رب! انہوں نے ہمیں گمراہ کیا۔" یہ دنیا میں گمراہ کن قیادت، برے ساتھ اور غلط تقلید کا انجام ہے۔ ہر ایک دوسرے کو موردِ الزام ٹھہرائے گا۔
  • لکل ضعف: اللہ کا فرمان کہ ہر ایک کے لیے (عذاب) دوگنا ہے، اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ہر شخص اپنی ذاتی گمراہی کا بھی ذمہ دار ہے اور دوسروں کو گمراہ کرنے کا بھی۔ عذاب دونوں پہلوؤں سے ملے گا۔

6. اللہ کے عدل کا کامل اظہار

  • لیجزی اللہ کل نفس ما کسبت: "تاکہ اللہ ہر شخص کو اس کے کئے کا بدلہ دے۔" یہ تمام تفصیلات درحقیقت اللہ کے کامل، بے لاگ اور تفصیلی عدل کا مظہر ہیں۔ کوئی چھوٹا یا بڑا عمل ضائع نہیں جائے گا۔
  • انما تجزون ما کنتم تعملون: "تمہیں صرف اسی کا بدلہ دیا جا رہا ہے جو تم کرتے تھے۔" یہ واضح اعلان ہے کہ عذاب ظلم نہیں، بلکہ انصاف ہے۔

7. عملی زندگی کے لیے سبق

  1. تکبر اور انکار سے بچو: جو شخص دنیا میں منہ کے بل چلنا نہیں چاہتا، اسے تکبر اور حق کا انکار نہیں کرنا چاہیے۔
  2. حق کو دیکھو، سنو اور منو: جو آخرت میں اندھا، گونگا، بہرا نہیں بننا چاہتا، اسے دنیا میں ہی حق کی طرف دیکھنا، سننا اور اس کا اقرار کرنا چاہیے۔
  3. پچھتاوا سے پہلے سنبھل جاؤ: قیامت کے دن "کاش" کی آواز بے کار ہے۔ اس سے پہلے کہ حسرت و پچھتاوا کا دن آئے، ابھی سے اپنی اصلاح کر لو۔
  4. گمراہ کن راستوں اور ساتھ سے بچو: جو جہنم میں دوسروں پر لعنت کرنا اور الزام لگانا نہیں چاہتا، اسے دنیا میں گمراہ کن عقائد، برے ساتھیوں اور غلط رہنماؤں سے بچنا چاہیے۔
  5. ہر عمل کا حساب ہوگا: ہر چھوٹا بڑا عمل لکھا جا رہا ہے۔ اس لیے اپنے ہر قول و فعل پر نگاہ رکھو۔

خلاصہ:
یہ آیات ایک مکمل اور جامع ڈرامائی منظر نامہ پیش کرتی ہیں جو قیامت کے دن کافروں کی جسمانی، نفسیاتی اور اجتماعی تباہی کو واضح کرتا ہے۔ یہ صرف عذاب کا بیان نہیں، بلکہ انسان کو اس کے انجام سے آگاہ کرنے، اسے ڈرانے اور اسے سیدھے راستے پر لانے کی انتہائی مؤثر دعوت ہے۔ یہ تصویر ہر عقلمند انسان کے لیے کافی ہے کہ وہ فوراً اپنے رب کی طرف رجوع کرے، توبہ کرے اور ایسے اعمال کرے جو اس ہولناک انجام سے نجات کا سبب بنیں۔

 


(کافروں و مجرموں کا) جہنم میں ٹھکانا

  1. اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: "بیشک جن لوگوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا اور ان کے مقابلے میں تکبر کیا، ان کے لیے آسمان کے دروازے کھولے نہیں جائیں گے اور وہ جنت میں داخل نہ ہوں گے یہاں تک کہ اونٹ سوئی کے ناکے میں داخل ہو جائے، اور ہم مجرموں کو اسی طرح بدلہ دیتے ہیں۔ ان کے لیے جہنم کا بچھونا ہے اور ان کے اوپر (آگ کے) پردے ہوں گے، اور ہم ظالموں کو اسی طرح بدلہ دیتے ہیں۔"[سورۃ الأعراف: 40-41]
  2. اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: "(اے پیغمبر!) آپ کہہ دیجیے: بیشک نقصان اٹھانے والے وہی ہیں جو قیامت کے دن اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو نقصان میں ڈالیں گے۔ آگاہ ہو جاؤ! یہی ہے صریح نقصان۔ ان کے اوپر آگ کے سائبان ہوں گے اور ان کے نیچے (بھی) آگ کے سائبان، اس (عذاب) کے ذریعے اللہ اپنے بندوں کو ڈراتا ہے۔ اے میرے بندو! تم (صرف) میری ہی نافرمانی سے بچو۔" [سورۃ الزمر: 15-16]
  3. اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: "اور بائیں بازو والے، کیا ہی برے ہیں بائیں بازو والے! (وہ) تپتی ہوئی لُو اور کھولتے ہوئے پانی میں ہوں گے، اور سیاہ دھویں کے سائے میں، جو نہ ٹھنڈا ہوگا اور نہ خوشگوار۔" [سورۃ الواقعة: 41-44]
  4. اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: "کیا آپ نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو اللہ کی آیات میں جھگڑا کرتے ہیں؟ انہیں کہاں سے پھیرا جا رہا ہے (یعنی کس طرح حق سے منہ موڑ رہے ہیں)؟ جن لوگوں نے کتاب اور اس (دین) کو جھٹلایا ہے جو ہم نے اپنے رسولوں کے ساتھ بھیجا، تو عنقریب وہ جان لیں گے، جب ان کی گردنوں میں طوق ہوں گے اور زنجیروں میں جکڑے ہوئے گھسیٹے جائیں گے، کھولتے ہوئے پانی میں، پھر آگ میں جھونکے جائیں گے۔" [سورۃ غافر: 69-72]

حواشی:

  1. سورۃ الأعراف (40-41):
    • "حَتَّى يَلِجَ الْجَمَلُ فِي سَمِّ الْخِيَاطِ": یہ ایک مشہور عربی محاورہ ہے جو کسی چیز کے نہ ہونے یا ناممکن ہونے کی انتہا کو بیان کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کافروں کا جنت میں داخل ہونا بالکل ناممکن ہے، جیسے اونٹ کا سوئی کے ناکے میں سے گزرنا ناممکن ہے۔
    • "مِهَادٌ": بچھونا، بستر۔ مراد یہ کہ جہنم ہی ان کا آرام گاہ ہوگی، جو انتہائی طنز اور ذلت ہے۔
    • "غَوَاشٍ": پردے، ڈھانپنے والی چیزیں۔ مراد یہ کہ جہنم کی آگ انہیں چاروں طرف سے گھیرے رکھے گی، اوپر سے بھی اور نیچے سے بھی، نکلنے کی کوئی گنجائش نہیں ہوگی۔
  2. سورۃ الزمر (15-16):
    • "الْخُسْرَانُ الْمُبِينُ": واضح، عیاں اور بے مثال نقصان۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ آخرت میں روحانی اور ابدی نقصان، دنیاوی مالی نقصان سے کہیں زیادہ سنگین اور واضح ہے۔
    • "ظُلَلٌ مِنَ النَّارِ": آگ کے سائبان۔ یہ تصویر اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ عذاب ہر طرف سے محیط ہوگا، کوئی پناہ گاہ نہیں ہوگی۔
    • "ذَلِكَ يُخَوِّفُ اللهُ بِهِ عِبَادَهُ": اس آیت کا یہ حصہ واضح کرتا ہے کہ عذاب کے ان مناظر کا بیان محض ڈرانا اور ڈرا کر راہِ راست پر لانا ہے۔ یہ اللہ کی رحمت کا ایک پہلو ہے۔
  3. سورۃ الواقعة (41-44):
    • "أَصْحَابُ الشِّمَالِ": بائیں بازو والے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کو قیامت کے دن ان کے اعمال نامے بائیں ہاتھ میں دیے جائیں گے، جو جہنم میں جانے کی علامت ہے۔
    • "سَمُومٍ": تپتی، جھلسا دینے والی گرم ہوا (لو)۔
    • "حَمِيمٍ": کھولتا ہوا پانی۔
    • "يَحْمُومٍ": گاڑھا سیاہ دھواں۔ یہ تصویر انتہائی کرب ناک ماحول کی عکاسی کرتی ہے جہاں نہ سایہ راحت دے گا اور نہ ہی پانی ٹھنڈک۔
  4. سورۃ غافر (69-72):
    • "يُصْرَفُونَ": پھیرے جا رہے ہیں، یعنی حق سے منہ موڑ رہے ہیں۔ یہ ان کے اپنے تعصب، ہٹ دھرمی اور ضد کی وجہ سے ہے۔
    • "الْأَغْلَالُ فِي أَعْنَاقِهِمْ وَالسَّلَاسِلُ": گردنوں میں طوق اور زنجیریں۔ یہ غلامی، ذلت اور ہر قسم کی آزادی سے محرومی کی علامت ہے۔
    • "يُسْحَبُونَ": گھسیٹے جائیں گے۔ یہ ان کی بے بسی اور ان کی مرضی کے خلاف عذاب کی طرف لے جانے کو ظاہر کرتا ہے۔
    • "فِي الْحَمِيمِ ثُمَّ فِي النَّارِ يُسْجَرُونَ": پہلے کھولتے پانی میں، پھر آگ میں جھونکے جائیں گے۔ یہ عذاب کی مراحل وار شدت اور مختلف اقسام کی طرف اشارہ ہے۔

آیات سے حاصل ہونے والے اسباق و نکات:

یہ آیات مجرموں کے جہنم میں ٹھکانے اور عذاب کی مختلف النوع شکلوں کو انتہائی موثر انداز میں پیش کرتی ہیں، جس سے درج ذیل گہرے اور قیمتی اسباق حاصل ہوتے ہیں:

1. تکبر اور انکارِ آیات کا خوفناک انجام

پہلی آیت (سورۃ الاعراف) واضح کرتی ہے کہ تکبر اور آیات الٰہیہ کے انکار کی سزا صرف جہنم ہی نہیں، بلکہ اس میں بھی ذلت آمیز مقام ہے۔ جنت کی راہ بالکل بند ہو جاتی ہے۔ "اونٹ کے سوئی کے ناکے میں داخل ہونے" جیسی ناممکن مثال اس ناامیدی کو انتہا تک پہنچا دیتی ہے۔

2. عذاب کا احاطہ: اوپر اور نیچے سے گھیراؤ

دوسری آیت (سورۃ الزمر) میں "ظُلَلٌ مِنَ النَّارِ" (آگ کے سائبان) کا ذکر ایک انتہائی دردناک نفسیاتی تصویر پیش کرتا ہے۔ یہ محض نیچے کی آگ نہیں، بلکہ ایک ایسا مکمل محیط نظام ہے جس سے فرار ناممکن ہے۔ اس کا مقصد بندوں کو خوفزدہ کر کے پرہیزگاری کی طرف لانا ہے، جو درحقیقت اللہ کی رحمت ہے۔

3. جہنم کے ماحول کی ہولناک تفصیل

تیسری آیت (سورۃ الواقعة) "بائیں بازو والوں" کے لیے سَمُوم (تپتی لو)، حَمِيم (کھولتا پانی) اور يَحْمُوم (سیاہ دھواں) کے ماحول کا ذکر کرتی ہے۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ جہنم کا عذاب متنوع، ہمہ گیر اور ہر طرح سے تکلیف دہ ہے۔ یہاں تک کہ سایہ (ظِلٍّ) بھی، جو عام طور پر راحت کا ذریعہ ہوتا ہے، عذاب کا حصہ بن جاتا ہے۔

4. حق میں جھگڑا کرنے والوں کی ذلت

چوتھی آیت (سورۃ غافر) ان لوگوں کے انجام کو بیان کرتی ہے جو آیات میں جھگڑا کرتے اور کتاب و رسولوں کو جھٹلاتے ہیں۔ ان کی سزا میں طوق و زنجیر (ذلت و قید)، گھسیٹا جانا (بے بسی)، کھولتا پانی اور پھر آگ شامل ہے۔ یہ اس بات کی واضح علامت ہے کہ علمی استکبار اور ضد کا انجام عملی ذلت و عذاب ہے۔

5. اللہ کی ڈرانے والی رحمت

سورۃ الزمر کی آیت میں "ذَلِكَ يُخَوِّفُ اللهُ بِهِ عِبَادَهُ" کا فقرہ انتہائی اہم ہے۔ یہ بتاتا ہے کہ عذاب کے یہ تمام بیانات درحقیقت بندے کی بھلائی اور اس کی نجات کے لیے ہیں۔ اللہ چاہتا ہے کہ بندہ ڈر کر گناہوں سے بچ جائے۔ اس لیے یہ بیانات رحمت کے پہلو سے خالی نہیں ہیں۔

6. عملی زندگی کے لیے رہنما اصول

  • تکبر اور انکار سے بچیں: کسی بھی قسم کے تکبر اور حقائق کے انکار سے خود کو بچانا چاہیے۔
  • خالص پرہیزگاری: صرف اور صرف اللہ کی نافرمانی سے بچنے کو اپنا مطمع نظر بنانا چاہیے۔
  • اعمال نامے کا خیال: ہمیشہ یہ سوچ کر عمل کرنا چاہیے کہ کل کس ہاتھ میں ہمارا نامۂ اعمال تھما دیا جائے گا۔
  • علمی ضد اور جھگڑے سے پرہیز: حقائق کو جھٹلانے یا ان میں محض جھگڑا کرنے کے بجائے انہیں سمجھنے اور قبول کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

خلاصہ:

ان آیات کا مجموعی پیغام یہ ہے کہ جہنم محض آگ کا ایک الاؤ نہیں، بلکہ ایک مکمل نظام عذاب ہے جس میں ذلت، بے بسی، گھیراؤ، ہمہ گیریت اور مختلف النوع اذیتیں شامل ہیں۔ یہ تمام کچھ انسان کے اپنے اعمال کا منطقی نتیجہ ہے۔ ان بیانات کا بنیادی مقصد انسان کو اس خوفناک انجام سے ڈرا کر، اسے فوری طور پر اپنے رب کی طرف رجوع، توبہ اور صالح اعمال کی طرف متوجہ کرنا ہے۔ یہ اللہ کی اس رحمت کا اظہار ہے جو وہ اپنے بندوں سے چاہتا ہے کہ وہ ہلاکت سے بچ جائیں۔

 

حدیث نمبر 19

ضَخَامَةُ أَحْجَامِ أَهْلِ النَّار (جہنم والوں کے جسموں کی جسامت وضخامت)

(م ت حم) , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رضي الله عنهقَالَقَالَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم -: ("مَا بَيْنَ مَنْكِبَيْ (١الْكَافِرِ فِي النَّارِ مَسِيرَةُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ للرَّاكِبِ الْمُسْرِعِ) (٢) (وَغِلَظَ جِلْدِهِ اثْنَانِ وَأَرْبَعُونَ ذِرَاعًا) (٣) (بِذِرَاعِ الْجَبَّارِ (٤)) (٥) (وَضِرْسَهُ مِثْلُ أُحُدٍ) (٦) (وَفَخِذُهُ مِثْلُ الْبَيْضَاءِ (٧وَمَقْعَدُهُ مِنْ النَّارِ) (٨) (كَمَا بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ ") (٩)


ترجمہ:

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا"جہنم میں کافر کے دونوں مونڈھوں کے درمیان(١) تیز رفتار سوار کے تین دن کے سفر کا فاصلہ ہوگا۔(٢) اور اس کی کھال کی موٹائی بڑّار (یمن کے ایک بادشاہ))(٥) کے باعتبار سے بائیس (42) ہاتھ ہوگی۔(٣) اس کا ڈاڑھ پہاڑ اُحد جیسا ہوگا،(٦) اس کی ران کوہ بیضاء (ایک پہاڑ) جیسی ہوگی) اور اس کی جہنم میں بیٹھنے کی جگہ(٨) مکہ اور مدینہ کے درمیان کے فاصلے کے برابر ہوگی۔"(٩)


حواشی وحوالہ جات:

(١المنكب: کندھے اور بازو کا جوڑ۔
(٢)صحیح مسلم (حدیث نمبر:2852) صحیح بخاری(حدیث نمبر:6186)۔
(٣)سنن ترمذی (حدیث نمبر:2577)
)الْجَبَّار: یمن کا ایک بادشاہ جس کا ایک خاص ہاتھ (باع) معروف تھا جس کا مقررہ پیمانہ تھا۔
(٥)مسند احمد (حدیث نمبر:10944) میں روایت کیا ہے۔ نیز امام البانی نے "صحیح الجامع" (حدیث نمبر:3888) میں اسے صحیح قرار دیا ہے۔
(٦)سنن ترمذی (حدیث نمبر:2577) صحیح مسلم (حدیث نمبر:2851)
)الْبَيْضَاءُ: اُحد جیسا ایک پہاڑ۔
(٨)سنن ترمذی (حدیث نمبر:2578)۔
(٩)سنن ترمذی (حدیث نمبر:2577)۔ نیز امام البانی نے "السلسلۃ الصحیحۃ" (حدیث نمبر:1105) میں اسے صحیح قرار دیا ہے۔

حدیث سے حاصل ہونے والے اسباق و نکات:

یہ حدیث جہنم میں کافروں کے ہولناک جسمانی احجام اور حجم کو بیان کرتی ہے، جو انسانی تصور سے باہر ہے۔ اس سے درج ذیل گہرے اسباق حاصل ہوتے ہیں:

1. عذاب کی جسمانی نوعیت کا حقیقی ادراک

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جہنم کے عذاب کو محض ایک خیالی یا روحانی تصور نہیں بنایا، بلکہ حقیقی، مادی اور جسمانی عذاب کے طور پر بیان فرمایا ہے۔ جسم کے اعضاء کا اتنا بڑا ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ عذاب ٹھوس اور محسوس ہوگا۔

2. گناہوں کے حجم کے مطابق عذاب کا حجم

انسان کے جسم کا یہ عظیم الجثہ حجم درحقیقت اس کے گناہوں کے حجم اور سنگینی کی علامت ہے۔ جس طرح اس نے دنیا میں گناہوں کو بڑا سمجھا اور ان میں مگن رہا، آخرت میں اس کے جسم اور عذاب کا حجم بھی اسی کے مطابق بڑا کر دیا جائے گا۔

3. اللہ کی قدرت کاملہ کا مظہر

ایک معمولی انسان کے جسم کو اتنا بڑا اور ہیبت ناک بنانا اللہ تعالیٰ کی بے پناہ قدرت کا مظہر ہے۔ جس طرح وہ جنت میں مومنین کے جسم کو حسین اور نورانی بنائے گا، اسی طرح جہنم میں کافروں کے جسم کو بدصورت اور عظیم الجثہ بنا دے گا۔

4. جہنم کی وسعت کا اندازہ

کافر کے بیٹھنے کی جگہ کا مکہ اور مدینہ کے درمیان کے فاصلے کے برابر ہونا، اور مونڈھوں کے درمیان تیز رفتار سوار کے تین دن کے سفر کا فاصلہ ہونا جہنم کی لامحدود وسعت اور گنجائش کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ جہنم تمام گنہگاروں کو سمونے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے۔

5. دنیا اور آخرت کے احجام کا فرق

حدیث میں بیان کردہ پیمانے (اُحد جیسا ڈاڑھ، کوہ بیضاء جیسی ران) ہمارے سامنے دنیا اور آخرت میں احجام و جسامت کے بنیادی فرق کو واضح کرتے ہیں۔ آخرت کی دنیا ہماری اس دنیا سے بالکل مختلف اور بڑے پیمانے پر ہوگی۔

6. کفر و شرک کی سنگینی کا اظہار

یہ عظیم الجثہ اور بدصورت جسمانی ساخت درحقیقت کفر و شرک کی روحانی بدصورتی اور اس کی ہولناکی کا مظہر ہے۔ جس طرح کفر دل کو سیاہ اور بدنما کرتا ہے، آخرت میں وہی بدنمائی جسم کی صورت میں ظاہر ہوگی۔

7. انسانی عقل کی محدودیت کا اعتراف

ہم ان حجموں کا صحیح تصور نہیں کر سکتے، کیونکہ یہ ہماری دنیاوی پیمائشوں سے بالاتر ہیں۔ یہ حدیث ہمیں اپنی عقل کی محدودیت کا اعتراف کرنا سکھاتی ہے اور غیب پر ایمان کی تربیت دیتی ہے۔

8. عملی سبق: گناہوں سے بچاؤ

اس ہولناک تصویر کو دیکھ کر ہر عقل مند انسان کا فرض بنتا ہے کہ وہ ہر قسم کے کفر، شرک اور گناہوں سے بچنے کی کوشش کرے۔ اگر ایک کافر کا جسمانی عذاب اتنا ہولناک ہوگا، تو پھر ہمیں اپنے چھوٹے بڑے تمام گناہوں سے سخت پرہیز کرنا چاہیے۔

خلاصہ:
یہ حدیث جہنم کے عذاب کے ایک نئے پہلو کو واضح کرتی ہے — عذاب یافتہ لوگوں کے جسمانی حجم کی ہولناکی۔ یہ تصویر نہ صرف عذاب کی شدت کو ظاہر کرتی ہے بلکہ کفر کے روحانی زہر کے جسمانی مظہر کو بھی پیش کرتی ہے۔ یہ حدیث ہمارے ایمان کو مضبوط بناتی ہے، ہمیں غفلت سے بیدار کرتی ہے اور ہمیں ہر قسم کے گناہوں سے بچنے کی ترغیب دیتی ہے۔

 



حدیث نمبر 20

عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ - رضي الله عنهقَالَقَالَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم -: " إِنَّ الرَّجُلَ مِنْ أَهْلِ النَّارِ لَيَعْظُمُ لِلنَّارِ، حَتَّى يَكُونَ الضِّرْسُ مِنْ أَضْرَاسِهِ كَأُحُدٍ " (١)


ترجمہ:

حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا"بے شک جہنم والوں میں سے ایک شخص جہنم میں اتنا بڑا (عظیم الجثہ) ہو جائے گا کہ اس کا ایک ڈاڑھ پہاڑ اُحد جیسا ہو جائے گا۔"


حواشی:

  1. اس اثر کو امام احمد نے اپنی "مسند" (حدیث نمبر: 19285) میں روایت کیا ہے۔ نیز امام البانی نے "صحیح الجامع الصغیر" (حدیث نمبر: 1628) اور "السلسلۃ الصحیحۃ" (حدیث نمبر: 1601) میں اسے صحیح قرار دیا ہے۔

حدیث سے حاصل ہونے والے اسباق و نکات:

یہ حدیث رسول اللہ ﷺ کے اس فرمان کی تائید اور مزید وضاحت کرتی ہے جو پچھلی حدیث (ابوہریرہ والی) میں "ضِرْسَهُ مِثْلُ أُحُدٍ" (اس کا ڈاڑھ پہاڑ اُحد جیسا ہوگا) کے الفاظ میں بیان ہوا تھا۔ اس مختصر مگر انتہائی مؤثر بیان سے درج ذیل اسباق حاصل ہوتے ہیں:

1. جہنم کی عظمت کے مطابق مجرموں کی جسامت

حدیث کا مرکزی نکتہ یہ ہے کہ جہنم میں داخل ہونے والوں کے جسم خود جہنم کی عظمت اور وسعت کے مناسب ہوں گے۔ فعل "لَيَعْظُمُ" (وہ بڑا ہو جائے گا) یہ بتاتا ہے کہ یہ عظیم الجثہ ہونا ایک خاص تیاری اور تبدیلی کا نتیجہ ہوگا، تاکہ وہ شخص جہنم کے عظیم عذاب کا مستحق اور قابل بن جائے۔ یہ نہ صرف اذیت کا ذریعہ ہے بلکہ ذلت اور رسوائی کا پہلو بھی ہے۔

2. واحد عضو کی ہولناکی کا بیان

پچھلی حدیث میں متعدد اعضاء کا ذکر تھا، جبکہ اس حدیث میں صرف ایک ڈاڑھ کی مثال پر اکتفا کیا گیا ہے۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اگر صرف ایک ڈاڑھ کا حجم پہاڑ اُحد جتنا ہو سکتا ہے، تو پورے جسم کا حجم اور ہیبت کیا ہوگی؟ یہ استغراق اور مبالغہ کا ایک مؤثر بیانیہ اسلوب ہے جو سامع کے ذہن پر گہرا اثر ڈالتا ہے۔

3. مانوس مثال کے ذریعے تصویر کشی

"پہاڑ اُحد" کی مثال انتہائی جامع اور برمحل ہے۔ مدینہ منورہ کے قریب واقع یہ پہاڑ صحابہ کرام اور اہل مدینہ کے لیے نہایت مانوس اور معروف تھا۔ اس پہاڑ کا حجم، عظمت اور استحکام سب جانتے تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے اس مانوس چیز کو مثال بنا کر ایک ایسی حقیقت کو سمجھایا جو ان کے مشاہدے سے باہر تھی۔ یہ تعلیم و تربیت کا بہترین نمونہ ہے۔

4. جسمانی عذاب کی قطعیت

یہ حدیث اس عقیدے کو مزید پختہ کرتی ہے کہ جہنم کا عذاب روحانی یا نفسیاتی تک محدود نہیں، بلکہ اس کا براہِ راست جسمانی اور مادی پہلو ہوگا۔ ہڈیوں (ڈاڑھ) کا حجم بڑھنا اس بات کی واضح دلیل ہے کہ عذاب ٹھوس اور محسوس ہوگا۔

5. کفر کے نتائج کی ہولناکی

اس تصویر کشی کا بنیادی مقصد کفر، شرک اور گناہ کے انجام کی ہولناکی کو دل و دماغ پر نقش کر دینا ہے۔ ایک انسان کا ڈاڑھ پہاڑ جیسا ہونا درحقیقت کفر کی روحانی بدصورتی اور سنگینی کا مادی اظہار ہے۔ جو چیز دل میں تھی (کفر)، وہ آخرت میں جسم کی صورت میں ظاہر ہوگی۔

6. اللہ کی قدرت کاملہ پر ایمان

ایک معمولی انسان کے عضو کو پہاڑ جتنا بنا دینا اللہ تعالیٰ کی بے پناہ قدرت اور تخلیقی حکمت کا واضح ثبوت ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آخرت کی دنیا میں قوانینِ فطرت اور طبیعیات کے تمام معمول بدل دیے جائیں گے۔ اللہ جو چاہے کر سکتا ہے۔

7. عملی سبق: گناہوں کی سنگینی کا ادراک

ایسے بیانات کا مقصد محض ڈرانا نہیں، بلکہ عملی تبدیلی لانا ہے۔ جب انسان یہ سوچے کہ اس کے گناہوں کی وجہ سے اس کا کوئی عضو پہاڑ جتنا بڑا ہو کر عذاب کا شکار ہو سکتا ہے، تو اسے فوراً اپنے اعمال پر نظر ثانی کرنی چاہیے۔ یہ حدیث توبہ، استغفار اور نیکی کی طرف دوڑانے کا باعث بننی چاہیے۔

8. خوفِ آخرت کی تربیت

یہ تصویر مومن کے دل میں خوفِ الٰہی اور خوفِ آخرت پیدا کرتی ہے۔ یہ خوف مثالی ہے اگر وہ انسان کو غفلت سے بیدار کرے اور اللہ کی اطاعت پر آمادہ کرے۔

خلاصہ:
حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث پچھلی احادیث میں بیان کردہ حقیقت کی تکرار اور تصدیق کرتی ہے، لیکن اپنے مختصر اور مرکوز اسلوب کے ساتھ۔ یہ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ جہنم کا عذاب محض ایک خیال نہیں، بلکہ ایک ایسی ٹھوس حقیقت ہے جس کی ہولناکی کا اندازہ ہم پہاڑ اُحد جیسی مانوس چیز کے ذریعے لگا سکتے ہیں۔ اس کا مقصد ہمارے ایمان کو تازہ کرنا، ہمیں گناہوں سے بچانا اور ہمیں نجات کے راستے پر گامزن کرنا ہے۔

 


طَعَامُ أَهْلِ النَّار (جہنم والوں کا کھانا)

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

"کیا (جنت کی نعمتیں) بہتر ہیں مہمانی کے لحاظ سے یا زقوم کا درخت؟ ہم نے اس درخت کو ظالموں کے لیے فتنہ (آزمائش) بنایا ہے۔ یہ ایک ایسا درخت ہے جو دوزخ کی تہ میں اُگتا ہے۔ اس کا پھل گویا شیطانوں کے سروں کی طرح (بدشکل) ہے۔ تو یہ لوگ ضرور اس میں سے کھائیں گے اور اس سے اپنے پیٹ بھریں گے۔ پھر ان کے لیے اس پر کھولتے ہوئے پانی کا آمیزہ ہے۔ پھر ان کا لوٹنا یقیناً دوزخ ہی کی طرف ہے۔" 

[سورۃ الصافات، آیات: 62-68]

اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

"بے شک زقوم کا درخت گناہگار کا کھانا ہے۔ (یہ) گاڑھے گندے پیپ کی طرح ہے جو پیٹوں میں کھولے گا، کھولتے ہوئے پانی کی طرح۔ (حکم ہوگا:) اسے پکڑو اور دوزخ کے بیچوں بیچ گھسیٹ کر لے جاؤ۔ پھر اس کے سر پر کھولتے ہوئے پانی کا عذاب انڈیل دو۔ (کہا جائے گا:) ذائقہ چکھ، تو ہی تو زبردست تھا، عزت والا تھا!" 

[سورۃ الدخان، آیات: 43-49]

اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

"کچھ چہرے اس دن جھکے ہوئے ہوں گے، (دنیا میں) محنت کرنے اور تھک جانے والے (مگر برے کاموں میں)، وہ دہکتی ہوئی آگ میں جھلسائے جائیں گے، انہیں کھولتی ہوئی چشمے کا پانی پلایا جائے گا، ان کے لیے کانٹے دار بدبودار گھاس (ضریع) کے سوا کوئی کھانا نہ ہوگا، جو نہ موٹا کرے گا اور نہ بھوک مٹائے گا۔" 

[سورۃ الغاشیۃ، آیات: 2-7]

اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

"بے شک ہمارے پاس (ان کے لیے) بیڑیاں، دوزخ اور گلا گھونٹنے والا کھانا اور دردناک عذاب ہے۔" 

[سورۃ المزمل، آیات: 12-13]

اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

"اور جس کا نامۂ اعمال اس کے بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا (وہ) کہے گا: ہائے افسوس! کاش مجھے میرا نامۂ اعمال نہ دیا جاتا، اور میں ہرگز نہ جانتا کہ میرا حساب کیا ہے، کاش! یہ (موت ہی) فیصلہ کر دینے والی ہوتی۔ میرے مال نے میرے کچھ کام نہ آیا، میری سلطنت (میری حکومت و طاقت) مجھ سے رخصت ہو گئی۔ (حکم ہوگا:) اسے پکڑو اور طوق ڈال دو، پھر اسے دوزخ میں جھونک دو، پھر ستر ہاتھ لمبی زنجیر میں اسے جکڑ دو۔ بے شک وہ اللہ عظیم پر ایمان نہیں لاتا تھا، اور نہ ہی مسکین کو کھانا کھلانے پر ابھارتا تھا۔ پس آج اس کے لیے یہاں نہ کوئی حمیم (دل سوز دوست) ہے، اور نہ کوئی کھانا ہے سوائے غسلین (پیپ اور زخموں کے رَس) کے۔" 

[سورۃ الحاقۃ، آیات: 25-36]


آیات سے حاصل ہونے والے اسباق و نکات:

یہ آیات جہنم کے عذاب کے ایک خاص پہلو "طعام" (کھانے پینے) کو انتہائی ہولناک تفصیل سے بیان کرتی ہیں، جو ظالموں اور کافروں کے لیے ایک مکمل اور مسلسل اذیت کا نظام ہے۔

1️ طعام کی اقسام: عذاب کی متنوع شکلیں

  • شجرۃ الزقوم: جہنم کی تہ میں اگنے والا ایک بدصورت، شیطانی اور لعنتی درخت، جس کا پھل کھانے کے بعد کھولتا پانی (حمیم) پیا جائے گا۔ یہ درجہ بہ درجہ عذاب ہے۔
  • الضریع: ایک کانٹے دار، بدبودار اور بے غذائیت کی گھاس جو نہ تسکین دے گی نہ فائدہ۔
  • الغسلین: زخموں اور ناسور کا پیپ اور رَس، جو کھانے کی نہایت گھناؤنی شکل ہے۔
  • طعام ذا غصة: گلا گھونٹنے والا کھانا جو نگلنے میں شدید تکلیف دہ ہوگا۔

2️ عدل الٰہی: اعمال کا عین مطابق بدلہ

  • تکبر کا بدلہ: جو لوگ دنیا میں "أنا العزیز الکریم" (میں زبردست ہوں، عزت والا ہوں) کہہ کر تکبر کرتے تھے، انہیں جہنم میں "ذُقْ إِنَّكَ أَنتَ الْعَزِيزُ الْكَرِيمُ" (ذائقہ چکھ، تو ہی تو زبردست تھا، عزت والا تھا!) کہہ کر ذلیل کیا جائے گا۔
  • بخل اور بے رحمی کا بدلہ: جو شخص دنیا میں مسکین کو کھانا کھلانے پر ابھارنے کی بجائے روکتا تھا، اس کے لیے آخرت میں "غِسْلِين" (پیپ) کا کھانا ہوگا اور اس کا کوئی "حَمِيم" (دل سوز دوست) نہ ہوگا۔
  • محنت ضائع ہونے کا بدلہ: جو لوگ دنیا میں "عاملۃ ناصبۃ" محنت کر کے تھکے، مگر برے اعمال میں، ان کی محنت کا صلہ بے فائدہ گھاس (ضریع) ہے۔

3️ نفسیاتی عذاب: بے بسی اور گھناؤنا پن

  • مجبوری: یہ کھانا انہیں مجبوری میں کھانا پڑے گا۔ "فَإِنَّهُمْ لَآكِلُونَ مِنْهَا" (تو یہ لوگ ضرور اس میں سے کھائیں گے)۔
  • گھناؤنا پن: شیطانوں کے سروں جیسا پھل، پیپ، گلا گھونٹنے والا کھانا — یہ تمام چیزیں انتہائی گھناؤنی اور متعفن ہوں گی، جو کھانے کے بنیادی مقصد (لذت و تسکین) کو مکمل طور پر الٹ دیں گی۔

4️ جسمانی عذاب: جلن، درد اور ایذا

  • "كَٱلْمُهْلِ يَغْلِى فِى ٱلْبُطُونِ" — یہ کھانا پیٹ میں گاڑھے تیل یا پیپ کی طرح کھولے گا، جو اندرونی جلن اور درد کا باعث ہوگا۔
  • غصة (گلا گھونٹنا) نگلنے میں شدید تکلیف ہوگی۔
  • یہ کھانا نہ تسکین دے گا، نہ غذا، نہ بھوک مٹائے گا۔ یہ صرف عذاب کا ایک ذریعہ ہوگا۔

5️ اجتماعی عذاب: لعنت اور الزام تراشی

سورۃ الصافات کی آیت "إِنَّا جَعَلْنَاهَا فِتْنَةً لِّلظَّالِمِينَ" (ہم نے اس درخت کو ظالموں کے لیے فتنہ بنایا ہے) کے تحت یہ پہلو بھی ہے کہ یہ درخت اور یہ کھانا ان ظالموں کے درمیان باہمی لعنت و ملامت کا سبب بھی بنے گا، جب وہ دیکھیں گے کہ ان کی بداعمالیوں کا یہ حشر ہے۔

6️ عملی سبق: دنیا میں انتخاب کی اہمیت

یہ آیات ہر عقل مند کو سوچنے پر مجبور کرتی ہیں:

  • آخرت کا کھانا انتخاب کرنا: ہمیں اپنے اعمال سے جنت کے پاکیزہ کھانے (پھل، گوشت، شراب طہور) یا جہنم کے گندے کھانے (زقوم، غسلین) میں سے ایک کو اختیار کرنا ہے۔
  • بخل سے بچنا: مسکین کو کھانا کھلانا صرف صدقہ نہیں، بلکہ جہنم کے گندے کھانے سے بچنے کا ذریعہ ہے۔
  • تکبر سے بچنا: دنیا کا تکبر آخرت میں ذلت کے ان الفاظ ("ذُقْ إِنَّكَ أَنتَ الْعَزِيزُ الْكَرِيمُ") میں بدل جائے گا۔
  • اعمال کی نیت درست کرنا: محنت اگر نیک اعمال میں نہ ہو تو "عاملۃ ناصبۃ" بن کر رہ جاتی ہے جس کا صلہ "ضريع" ہے۔

خلاصہ:

یہ آیات جہنم کے عذاب کو صرف آگ تک محدود نہیں رکھتیں، بلکہ ایک مکمل زندگی کے نظام کے طور پر پیش کرتی ہیں جہاں کھانا پینا بھی عذاب کا ایک ہولناک ذریعہ بن جاتا ہے۔ یہ تصویر اس لیے پیش کی گئی ہے کہ انسان دنیا میں اپنے کھانے پینے، اپنے مال اور اپنے تکبر کو آخرت کے ان عذابات کے تناظر میں دیکھے اور فوراً اپنے رب کی طرف رجوع کرے، اس کی نافرمانی سے بچے اور مسکینوں پر احسان کرے۔

 



حدیث نمبر 21

عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ - رضي الله عنهماقَالَ: " قَرَأَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم - {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ} (١ثُمَّ قَالَ: لَوْ أَنَّ قَطْرَةً مِنْ الزَّقُّومِ قُطِرَتْ) (٢) (فِي الْأَرْضِ لَأَفْسَدَتْ عَلَى أَهْلِ الدُّنْيَا مَعِيشَتَهُمْ) (٣) (فَكَيْفَ بِمَنْ هُوَ طَعَامُهُ؟ , وَلَيْسَ لَهُ طَعَامٌ غَيْرُهُ؟ ") (٤)


ترجمہ:

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں"رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی: {اے ایمان والو! اللہ سے اس طرح ڈرو جیسے اس سے ڈرنے کا حق ہے اور تمہاری موت نہ ہو مگر اس حال میں کہ تم مسلمان ہو(١)۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: 'اگر زقوم (جہنم کے ایک درخت) کا ایک قطرہ(٢) زمین پر ٹپکا دیا جائے تو دنیا والوں کی زندگی برباد کر دے۔ (٣)تو جس کا کھانا یہ (زقوم) ہے اور اس کے علاوہ اس کے پاس کوئی کھانا نہیں، اس کا کیا حال ہوگا؟(٤)"


حواشی و حوالہ جات:

(١)سورۃ آل عمران، آیت نمبر: 102
(٢)سنن ترمذی (حدیث نمبر: 2585)۔
(٣سنن ابن ماجہ (حدیث نمبر: 4325)۔
(٤مسند احمد (حدیث نمبر:3136)، سنن ابن ماجہ (حدیث نمبر:4325)، اور امام بخاری نے "الأدب المفرد" میں (حدیث نمبر:7470) روایت کیا ہے۔ نیز امام البانی نے "صحیح الجامع" (حدیث نمبر:5250) اور "مشکاۃ المصابیح" (حدیث نمبر:5683) میں اسے صحیح قرار دیا ہے۔ تاہم امام البانی نے ترمذی اور ابن ماجہ کی روایت کو "ضعیف الترغیب والترہیب" (حدیث نمبر:2159) میں ضعیف کہا ہے۔
جبکہ شیخ ارناؤوط نے مسند احمد اور الأدب المفرد کی روایت کے بارے میں کہا ہے کہ یہ امام بخاری اور امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے۔
(یہاں یہ بات واضح رہے کہ اس حدیث کے سلسلے میں محدثین کے درمیان اختلافِ رائے ہے، اس لیے اصلاحِ نفس اور تذکیر کے لیے اس کے مفہوم پر عمل کرنا مناسب ہے)۔

حدیث سے حاصل ہونے والے اسباق و نکات:

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کی یہ روایت رسول اللہ ﷺ کے بیان کردہ جہنم کے ایک خاص عذاب "شجرۃ الزقوم" کی شدت و ہولناکی کو انتہائی مؤثر انداز میں سمجھاتی ہے۔ اس سے مندرجہ ذیل قیمتی اسباق حاصل ہوتے ہیں:

1. تقوٰی کی حقیقی منزلت اور آیت کا سیاق

اس روایت کی خاص بات یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے تقوٰی کی اعلیٰ ترین سطح کی دعوت دینے والی آیت پڑھ کر فوراً جہنم کے عذاب کا ذکر فرمایا۔ یہ طریقہ بتاتا ہے کہ اصلاحِ نفس اور تزکیہ کے لیے خوفِ آخرت اور خوفِ جہنم ایک بنیادی محرک اور مؤثر ذریعہ ہے۔ جب انسان جہنم کے عذاب کی شدت کا یقین کرے گا تو وہ فطری طور پر اس سے بچنے کی کوشش میں اللہ کی اطاعت اور پرہیزگاری اختیار کرے گا۔

2. زقوم کی ہولناکی کا معیار: ایک قطرہ دنیا کی تباہی کے لیے کافی

رسول اللہ ﷺ نے جہنم کے عذاب کو سمجھانے کے لیے جو مثال دی وہ انتہائی طاقتور ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اگر صرف زقوم کا ایک قطرہ بھی زمین پر آجائے تو وہ پوری دنیا کی زندگی کو تباہ و برباد کر دے۔ یہ تصور انسانی عقل کے لیے یہ اندازہ لگانا مشکل بنا دیتا ہے کہ پھر اس درخت کا ایک پھل یا اس کا ایک ٹکڑا کتنا ہولناک ہوگا، اور جو شخص اسے مستقل اور واحد خوراک کے طور پر کھانے پر مجبور ہوگا، اس پر کیا گزرے گی۔ یہ عذاب کی شدت کو بیان کرنے کا ایک ناقابلِ تردید منطقی انداز ہے۔

3. جہنم کے عذاب کی نوعیت: نہ صرف جلانا بلکہ ذلیل و رسوا کرنا

زقوم صرف جلانے والی چیز نہیں، بلکہ قرآن میں اسے انتہائی بدصورت، گھناؤنا اور ذلت آمیز کھانا بتایا گیا ہے۔ اس روایت سے اس کی شدت کا ایک اور پہلو واضح ہوتا ہے کہ وہ اتنی زہریلی اور متعفن ہے کہ اس کا ایک قطرہ ہی دنیا کے نظام کو درہم برہم کر سکتا ہے۔ یہ تصور جہنم کے عذاب کو صرف "آگ" کے عمومی تصور سے نکال کر ایک مکمل، متنوع اور انتہائی کرب ناک اذیت کے نظام کے طور پر پیش کرتا ہے۔

4. دنیا اور آخرت کے عذاب میں بنیادی فرق

حدیث کا یہ پہلو بھی غور طلب ہے کہ دنیا کی پوری آبادی زقوم کے ایک قطرے کی تاب نہیں لا سکتی، جبکہ آخرت میں ایک گنہگار کو اسے بطور خوراک مستقل برداشت کرنا ہوگا۔ یہ فرق واضح کرتا ہے کہ آخرت کا عذاب دنیوی تکالیف اور پیمانوں سے مکمل طور پر بالاتر اور مختلف ہے۔

5. عذاب کا سبب: ناشکری اور غفلت

زقوم کا تذکرہ اس آیت کے ساتھ ہونا جو تقوٰی اور اسلام پر ثابت قدمی کی تلقین کرتی ہے، درحقیقت ایک واضح پیغام ہے۔ یہ بتاتا ہے کہ جہنم کا یہ عذاب انہی لوگوں کے لیے ہے جو اللہ کی نعمتوں کی ناشکری کرتے ہیں، اس کے احکام سے غفلت برتتے ہیں، اور کفر و نافرمانی کی زندگی گزار کر حق تقوٰی ادا نہیں کرتے۔

6. عملی سبق: فوری بیداری اور تیاری

اس حدیث کا سننا ہر عقلمند انسان کو فوری طور پر جھنجھوڑنے کے لیے کافی ہے۔

  • انسان کو سوچنا چاہیے: کیا میں اپنی چھوٹی سی غلطیوں، لہو و لعب اور دنیا کی محبت میں مگن رہ کر اس ہولناک عذاب کو دعوت دے رہا ہوں؟
  • کیا میرا آج کا کھانا پینا، میری آسائشیں آخرت میں زقوم جیسی گھناؤنی خوراک میں بدلنے کے قابل ہیں؟
  • یہ خیال انسان کو فوراً توبہ و استغفار، اعمال کی اصلاح اور آخرت کی تیاری کی طرف دوڑانے کے لیے ایک زبردست محرک ہے۔

7. رسول اللہ ﷺ کی شفقت اور خیر خواہی

یہ بیان درحقیقت رسول اللہ ﷺ کی اپنی امت کے لیے بے پناہ شفقت اور فکر مندی کا اظہار ہے۔ آپ ﷺ نہیں چاہتے تھے کہ آپ کی کوئی بھی امت کا فرد اس عذاب کا مزہ چکھے۔ اس لیے آپ ﷺ نے انتہائی مؤثر اور دل دہلا دینے والے انداز میں انہیں ڈرایا، تاکہ وہ بیدار ہو جائیں اور بچ جائیں۔

8. ایمان بالغیب کی مضبوطی

ہم نے زقوم نہیں دیکھا، نہ ہی ہم اس کی حقیقی شدت کا مکمل ادراک کر سکتے ہیں، لیکن ہم رسول اللہ ﷺ کے بیان پر پورا ایمان لاتے ہیں۔ یہ ایمان بالغیب کی تربیت ہے اور اس پر یقین ہی مومن کو اس عذاب سے بچنے کے لیے عملی قدم اٹھانے پر آمادہ کرتا ہے۔

خلاصہ: یہ حدیث جہنم کے عذاب کی ہولناکی کو ایک منطقی اور حسی مثال کے ذریعے اس طرح بیان کرتی ہے کہ سننے والے کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ اس کا مقصد انسان کو غفلت کی گہری نیند سے بیدار کرنا، اسے اپنے انجام سے ڈرانا اور اسے اللہ کی رحمت کی طرف دوڑنے پر آمادہ کرنا ہے۔ یہ حدیث ہمارے لیے ایک طاقتور تنبیہ ہے کہ ہم اپنے ہر قول و فعل پر غور کریں اور ایسے اعمال کریں جو ہمیں زقوم جیسے عذاب سے محفوظ رکھیں۔

 




حدیث نمبر 22

عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ - رضي الله عنهقَالَقَالَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم -: " يُلْقَى عَلَى أَهْلِ النَّارِ الْجُوعُ , فَيَعْدِلُ مَا هُمْ فِيهِ مِنْ الْعَذَابِ , فَيَسْتَغِيثُونَ فَيُغَاثُونَ بِطَعَامٍ مِنْ ضَرِيعٍ (١لَا يُسْمِنُ وَلَا يُغْنِي مِنْ جُوعٍ , فَيَسْتَغِيثُونَ بِالطَّعَامِ , فَيُغَاثُونَ بِطَعَامٍ ذِي غُصَّةٍ (٢فَيَذْكُرُونَ أَنَّهُمْ كَانُوا يُجِيزُونَ الْغُصَصَ فِي الدُّنْيَا بِالشَّرَابِ , فَيَسْتَغِيثُونَ بِالشَّرَابِ , فَيُرْفَعُ إِلَيْهِمْ الْحَمِيمُ (٣بِكَلَالِيبِ (٤الْحَدِيدِ , فَإِذَا دَنَتْ مِنْ وُجُوهِهِمْ شَوَتْ وُجُوهَهُمْ , فَإِذَا دَخَلَتْ بُطُونَهُمْ قَطَّعَتْ مَا فِي بُطُونِهِمْ " (٥) (ضعيف)


 ترجمہ:
حضرت ابو الدرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا"جہنم والوں پر بھوک مسلط کی جائے گی، تو وہ (بھوک) جو عذاب وہ بھگت رہے ہیں اس کے برابر ہو جائے گی۔ پس وہ فریاد کریں گے، تو انہیں 'ضریع' (ایک کانٹے دار پودا) کا کھانا دیا جائے گا جو نہ موٹا کرے گا اور نہ بھوک مٹائے گا۔ پھر وہ کھانے کے لیے فریاد کریں گے، تو انہیں گلے میں اٹکنے والا کھانا دیا جائے گا۔ تب انہیں یاد آئے گا کہ وہ دنیا میں (غصہ وغیرہ) کو پی کر اُتارا کرتے تھے، تو وہ پانی کے لیے فریاد کریں گے۔ پس ان کی طرف لوہے کے آنکڑوں سے کھولتا ہوا پانی ('حمیم') لایا جائے گا۔ جب وہ ان کے چہروں کے قریب پہنچے گا تو ان کے چہرے جھلس جائیں گے، اور جب وہ ان کے پیٹوں میں داخل ہوگا تو ان کے پیٹ میں جو کچھ ہے اسے کاٹ ڈالے گا۔"


حواشی:

  1. الضريع: حجاز میں ایک کانٹے دار پودا ہے جس کے بڑے کانٹے ہوتے ہیں، اسے "الشِّبْرِق" بھی کہتے ہیں۔ (لسان العرب، جلد 8، صفحہ 221)
  2. الغُصَّة: وہ چیز جو کھانے پینے میں حلق میں اٹک جائے۔
  3. الحميم: گرم پانی، کھولتا ہوا پانی۔
  4. الْكَلَالِيب: "كَلّوب" کی جمع، جس کا سرا مڑا ہوا ہوتا ہے۔
  5. اس اثر کو امام ترمذی نے اپنی "جامع" (حدیث نمبر: 2586) میں روایت کیا ہے اور اسے ضعيف قرار دیا ہے۔ (ترمذی نے کہا: یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں... اور اس میں 'عبدالرحمن بن زیاد' ہے جو ضعیف ہے۔)

حدیث سے حاصل ہونے والے اسباق و نکات:

اگرچہ یہ روایت سند کے اعتبار سے ضعیف ہے، لیکن اس کا مفہوم دیگر صحیح قرآنی آیات اور احادیث (جیسے سورۃ الغاشیۃ آیت 6-7، سورۃ الدخان آیت 48 وغیرہ) سے متفق ہے جو جہنم کے کھانے پینے کے عذاب کو بیان کرتی ہیں۔ اس سے درج ذیل اسباق حاصل ہوتے ہیں:

1. عذاب کی ہمہ گیری اور تسلسل

یہ روایت جہنم کے عذاب کے مسلسل اور ہمہ گیر ہونے کو ظاہر کرتی ہے۔ عذاب صرف آگ تک محدود نہیں، بلکہ بھوک، ناقص خوراک، اور پھر مزید تکلیف دہ مشروب کی شکل میں ایک کے بعد ایک مصیبت آتی ہے۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ جہنم میں سکون یا راحت کا لمحہ نہیں ہوگا۔

2. ناکافی اور تکلیف دہ خوراک: ضريع اور طعام ذي غصة

  • ضريع: یہ ایسی خوراک ہے جو بظاہر بھوک مٹانے کے لیے ہے مگر درحقیقت بے فائدہ اور ناکافی ہے۔ یہ دنیا میں ان لوگوں کے اعمال کی مانند ہے جو دکھاوے کی نیکی کرتے ہیں مگر حقیقی فائدہ نہیں رکھتے۔
  • طعام ذي غصة: یہ وہ خوراک ہے جو کھانے کے عمل ہی میں عذاب بن جاتی ہے۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ آخرت میں گناہگاروں کو ہر عمل، یہاں تک کہ بنیادی ضروریات پوری کرنا بھی، عذاب میں بدل جائیں گی۔

3. دنیا اور آخرت کے اعمال کا منطقی تعلق

روایت میں ایک انتہائی گہرا نفسیاتی پہلو بیان ہوا ہے: جب وہ گلے میں اٹکنے والا کھانا کھائیں گے تو انہیں دنیا کا وہ عمل یاد آئے گا جب وہ غصے، گالم گلوچ یا برے جذبات کو پی جاتے تھے (یا غصہ پی جاتے تھے)۔

  • یہ دنیاوی عمل اور اخروی عذاب کے درمیان منطقی ربط کو ظاہر کرتا ہے۔ دنیا میں جو چیز انہوں نے "نفس پر جبراً اتاری" تھی، آخرت میں وہی ان پر جبراً مسلط کر دی جائے گی، مگر عذاب کی شکل میں۔
  • یہ تصور ہمیں سکھاتا ہے کہ ہمارے چھوٹے چھوٹے بظاہر معمولی اعمال بھی آخرت کے حساب میں وزن رکھتے ہیں۔

4. پانی کا عذاب: 'الحميم' کا ہولناک منظر

کھولتے ہوئے پانی (حمیم) کا ذکر، جو لوہے کے آنکڑوں سے لایا جائے گا، اس عذاب کی سنگینی، ذلت اور جسمانی تباہی کو واضح کرتا ہے۔ یہ محض پیاس بجھانے والا نہیں، بلکہ جلانے اور اندرونی اعضاء کو کاٹ ڈالنے والا عذاب ہے۔ چہرے کا جھلسنا اور پیٹ کا کٹنا عذاب کی مکمل تباہ کن نوعیت کو ظاہر کرتا ہے۔

5. استغاثہ اور بے کسی کا احساس

روایت میں تین مرتبہ "فَيَسْتَغِيثُونَ" (پس وہ فریاد کریں گے) کا لفظ آیا ہے۔ یہ جہنم میں گرفتار لوگوں کی مکمل بے کسی، لاچاری اور مایوسی کو ظاہر کرتا ہے۔ وہ مدد کے لیے پکاریں گے، مگر ان کی مدد کے نام پر ان پر عذاب کے نئے دروازے کھول دیے جائیں گے۔ یہ احساسِ ندامت اور پچھتاوے کو انتہا تک پہنچا دینے والا ہے۔

6. ضعیف روایت سے تعامل کا اصول

یہ روایت ضعیف ہے، اس لیے:

  • ہم اسے عقیدے یا حلال و حرام کے احکام کی بنیاد نہیں بنا سکتے۔
  • تاہم، ترغیب و ترہیب، اصلاحِ نفس اور عبرت حاصل کرنے کے لیے اس کے مفہوم پر غور کر سکتے ہیں، کیونکہ یہ قرآن اور صحیح احادیث میں بیان کردہ جہنم کے عمومی عذاب کے منطقی توسیعی تصور کے مطابق ہے۔
  • اس طرح کی روایات سے وعظ و نصیحت کے دوران استفادہ کیا جا سکتا ہے، بشرطیکہ اس کی ضعیف ہونے کی صراحت کر دی جائے۔

7. عملی سبق: اعمال کی نوعیت پر غور

یہ روایت ہمیں اپنے روزمرہ کے چھوٹے چھوٹے اعمال پر غور کرنے کی دعوت دیتی ہے۔

  • کیا ہماری نیکیاں 'ضريع' کی مانند ہیں (دکھاوے کی، بے فائدہ) یا حقیقی نفع بخش ہیں؟
  • کیا ہم 'غصہ پی جانے' جیسے عمل (یعنی برے جذبات کو دباتے ہوئے بھی) میں احتیاط برتتے ہیں؟
  • ہمیں ایسے اعمال سے بچنا چاہیے جو آخرت میں ہمارے لیے 'طعام ذي غصة' یا 'حميم' بن سکتے ہیں۔

خلاصہ: یہ روایت (اگرچہ ضعیف) جہنم کے عذاب کے ایک مخصوص پہلو کو بیان کرتی ہے جس میں بھوک، ناقص خوراک اور کھولتے پانی کے ذریعے ایک مسلسل عذاب کا سلسلہ ہے۔ یہ ہمیں آخرت میں دنیاوی اعمال کے منطقی نتائج، عذاب کی ہمہ گیری اور اپنے ہر عمل کے انجام پر غور کرنے کی ترغیب دیتی ہے۔ اس سے اصلاحِ نفس اور گناہوں سے بچنے کا سبق ملتا ہے۔

 



شَرَابُ أَهْلِ النَّار (جہنم والوں کا پینا)

1. اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے"اور انہوں نے (کافروں نے اپنے رسول سے) فتح چاہی اور ہر جبار (ظالم) اور دشمن (حق کا) نامراد رہا۔ اس کے پیچھے جہنم ہے اور اسے پیپ کا پانی پلایا جائے گا، وہ اسے (نہایت تکلیف سے) گھونٹ گھونٹ پئے گا اور قریب ہے کہ اسے نگل ہی نہ سکے، اور اسے ہر طرف سے موت آئے گی اور وہ مرے گا نہیں، اور اس کے پیچھے (تو) سخت عذاب ہے۔" 

[سورۃ ابراہیم، آیات:15-17]

2. اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے"بے شک ہم نے ظالموں کے لیے ایسی آگ تیار کر رکھی ہے جس کے گھیراؤ (چھپے) ان کو گھیر لیں گے، اور اگر وہ (پیاس کی شدت سے) فریاد کریں تو انہیں تیل کے کھوٹ کی طرح کا پانی پلایا جائے گا جو چہروں کو بھون ڈالے گا، کیا ہی برا مشروب ہے اور کیا ہی برا ٹھکانا ہے۔" 

[سورۃ الکہف، آیت:29]

3. اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے"یہ (عذاب) ہے، اور بیشک سرکشوں کے لیے بدترین لوٹنے کی جگہ ہے، جہنم جس میں وہ داخل ہوں گے، پس کیا ہی برا بچھونا ہے! یہ ہے (عذاب) تو چکھیں اسے، کھولتا ہوا پانی اور پیپ، اور اسی قسم کے اور (عذاب) بھی ہیں۔" 

[سورۃ ص، آیات:55-58]

4. اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے"بے شک جہنم گھات میں ہے، سرکشوں کے لوٹنے کی جگہ، وہ اس میں مدت تک رہیں گے، نہ وہاں ٹھنڈک چکھیں گے اور نہ (کوئی اور) مشروب، مگر کھولتا ہوا پانی اور پیپ، (یہ) موافق بدلہ ہے۔" 

[سورۃ النبأ، آیات:21-26]

5. اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے"اور انہیں کھولتا ہوا پانی پلایا جائے گا پس وہ ان کی آنتیں کاٹ ڈالے گا۔" 

[سورۃ محمد، آیت:15]

6. اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے"کئی چہرے اس دن عاجزی سے جھکے ہوئے ہوں گے، محنت کرنے تھکنے والے (مگر گناہوں میں)، دہکتی ہوئی آگ میں جھلسائے جائیں گے، انہیں ایک کھولتے ہوئے چشمے کا پانی پلایا جائے گا۔" 

[سورۃ الغاشیة، آیات:2-5]


آیات سے حاصل ہونے والے اسباق و نکات:

یہ آیات جہنم کے عذاب کے ایک اور ہولناک پہلو "مشروبات" کی تفصیل بیان کرتی ہیں، جو جہنم والوں کے لیے پانی کے نام پر ایک نئے عذاب کا دروازہ کھولتی ہیں۔ یہ تصویر صرف جسمانی اذیت ہی نہیں، نفسیاتی مایوسی اور ذلت کو بھی انتہا تک پہنچاتی ہے۔

1️ عذاب کی انواع: متنوع اور ہولناک مشروبات

جہنم والوں کو جو مشروبات پلائے جائیں گے، ان میں چار اہم اقسام بیان ہوئی ہیں:

  • ماء صديد (پیپ کا پانی): یہ زخموں اور ناسوروں کا رِسا ہوا پیپ اور مواد ہے، جو نہایت گندہ، بدبودار اور متعفن ہوگا۔
  • ماء كالمهل (تیل کے کھوٹ/گدلاہٹ جیسا پانی): یہ گاڑھا، کالا اور انتہائی گرم مادہ ہے جو پینے سے پہلے ہی چہرے جلا دے گا۔
  • حميم (کھولتا ہوا پانی): یہ نہایت شدید درجہ حرارت کا پانی ہے جو پیٹ کی آنتیں تک کاٹ ڈالنے کی طاقت رکھتا ہے۔
  • غساق (پیپ/ٹھنڈا مواد): مفسرین کے نزدیک یہ نہایت ٹھنڈا، گندا اور بدذائقہ مادہ ہوگا، یا پھر پیپ ہی کی ایک قسم۔
    یہ تمام چیزیں پینے کے بنیادی مقصد (تسکین، سیرابی، تروتازگی) کو یکسر غارت کر دیتی ہیں۔

2️ نفسیاتی عذاب: شدید پیاس اور انتہائی گھناؤنے مشروب کا تصادم

آیات میں فریاد اور استغاثہ کا ذکر ہے۔ جہنم والے پیاس کی شدت سے "یستغیثون" (فریاد کریں گے)۔ ان کی اس مجبوری اور حاجت کا فائدہ اٹھا کر انہیں "یغاثوا" (مدد کی جائے گی) مگر وہ مدد درحقیقت ایک نئے اور شدید تر عذاب کی صورت میں ہوگی۔ یہ امید پر مایوسی کا وہ دردناک عمل ہے جو نفسیاتی عذاب کو انتہا تک پہنچا دے گا۔

3️ جسمانی عذاب: نگلنے میں ناکامی اور اندرونی تباہی

  • یتجرعه ولا يكاد يسيغه: وہ اسے گھونٹ گھونٹ پئے گا اور قریب ہے کہ اسے نگل ہی نہ سکے۔ یہ نگلنے کے عمل میں ہی شدید کرب کی کیفیت ہے۔
  • يَشْوِي الْوُجُوهَ: چہرے جلا دینا۔ مشروب منہ تک پہنچنے سے پہلے ہی تباہی پھیلاتا ہے۔
  • فقطع أمعاءهم: ان کی آنتیں کاٹ ڈالنا۔ یہ عذاب کی اندرونی تباہ کاری اور جسم کے اعضاء کو پارہ پارہ کرنے والی کیفیت ہے۔

4️ عدل الٰہی: گناہوں کے عین مطابق بدلہ

  • جزاء وفاقا: "موافق بدلہ"۔ یہ عذاب بے ترتیب نہیں، بلکہ ان کے اعمال کے عین مطابق اور متناسب ہے۔
  • جبار عنيد، طاغین، ظالمین: یہ عذاب خاص طور پر تکبر کرنے والوں، حد سے گزر جانے والوں اور ظالموں کے لیے ہے۔ دنیا میں جو غرور، سرکشی اور دوسروں پر ظلم تھا، اس کا بدلہ یہ ہے کہ وہ خود ذلت، بے بسی اور اندرونی و بیرونی عذاب میں گھر جائیں گے۔

5️ دائمی عذاب کی حقیقت: موت کی تمنا اور فرار ناممکن

"ويأتيه الموت من كل مكان وما هو بميت" (اور اسے ہر طرف سے موت آئے گی اور وہ مرے گا نہیں)۔ یہ جملہ جہنم کے عذاب کی دائمی اور لازوال نوعیت کو انتہائی خوفناک انداز میں بیان کرتا ہے۔ عذاب اس قدر شدید ہوگا کہ موت اس سے نجات دینے آئے گی، مگر موت خود ہی مر جائے گی، یعنی نجات کا کوئی راستہ نہیں ہوگا۔ یہ مایوسی کی انتہا ہے۔

6️ عملی سبق: دنیا کے پانی اور نعمتوں کی قدر

ان آیات کو پڑھ کر ایک مومن کو دنیا کی نعمتوں پر غور کرنا چاہیے:

  • صاف، ٹھنڈا، میٹھا پانی اللہ کی کتنی بڑی نعمت ہے۔
  • اس نعمت کو اللہ کی نافرمانی میں استعمال کرنا، یا اس پر شکر ادا نہ کرنا، درحقیقت اس عذاب کو دعوت دینا ہے۔
  • یہ آیات ہمیں ہر گھونٹ پانی پیتے وقت شکر ادا کرنے اور اسے حرام کاموں میں استعمال نہ کرنے کی تلقین کرتی ہیں۔

7️ انتخاب کا موقع: جنت کے مشروبات یا جہنم کے عذاب

قرآن جہنم کے ان مشروبات کے بیان کے ساتھ ساتھ جنت کے پاکیزہ مشروبات (شراب طہور، عین سلسبیل، رحيق مختوم) کا ذکر بھی کرتا ہے۔ انسان کے سامنے دونوں کا انتخاب ہے۔ جو شخص آج اپنے رب کی نافرمانی کا "زقوم" یا "حمیم" تیار کر رہا ہے، وہ کل وہی کھائے پئے گا۔ اور جو آج اپنے رب کی اطاعت اور شکر کا "رحيق" تیار کر رہا ہے، وہ کل وہی پئے گا۔

خلاصہ:

یہ آیات جہنم کے عذاب کو محض آگ کے شعلوں سے آگے بڑھا کر انسانی ضرورت (پانی) کے ذریعے عذاب کی ایک نئی جہت پیش کرتی ہیں۔ یہ عذاب جسمانی، نفسیاتی اور دائمی ہے۔ اس کا بیان ڈرانے کے لیے ہے، تاکہ انسان اپنے تکبر، ظلم اور ناشکری کے اعمال پر نظرثانی کرے، اور اس عذاب سے بچنے کے لیے فوری توبہ اور نیک اعمال کی طرف رجوع کرے۔ یہ اللہ کی رحمت ہے کہ وہ ہمیں انجام سے پہلے آگاہ کر رہا ہے۔

 


حدیث نمبر 23

عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ - رضي الله عنهقَالَقَالَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلمفِي قَوْلِهِ تَعَالَى: {مِنْ وَرَائِهِ جَهَنَّمُ وَيُسْقَى مِنْ مَاءٍ صَدِيدٍ , يَتَجَرَّعُهُ وَلَا يَكَادُ يُسِيغُهُقَالَ: " يُقَرَّبُ إِلَى فِيهِ فَيَكْرَهُهُ , فَإِذَا أُدْنِيَ مِنْهُ شَوَى وَجْهَهُ وَوَقَعَتْ فَرْوَةُ رَأسِهِ , فَإِذَا شَرِبَهُ قَطَّعَ أَمْعَاءَهُ حَتَّى تَخْرُجَ مِنْ دُبُرِهِيَقُولُ اللهُ تَعَالَى: {وَسُقُوا مَاءً حَمِيمًا فَقَطَّعَ أَمْعَاءَهُمْ} (١وَيَقُولُ: {وَإِنْ يَسْتَغِيثُوا يُغَاثُوا بِمَاءٍ كَالْمُهْلِ يَشْوِي الْوُجُوهَ , بِئْسَ الشَّرَابُ وَسَاءَتْ مُرْتَفَقًا} (٢) (ضعيف) (٣)


ترجمہ:

حضرت ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کے فرمان {اس کے پیچھے جہنم ہے اور اسے پیپ کا پانی پلایا جائے گا، وہ اسے (نہایت تکلیف سے) گھونٹ گھونٹ پئے گا اور قریب ہے کہ اسے نگل ہی نہ سکے} کی تفسیر میں فرمایا: "اس کے منہ کے قریب لایا جائے گا تو وہ اسے ناپسند کرے گا، پھر جب وہ اس کے قریب لایا جائے گا تو اس کے چہرے کو جھلس دے گا اور اس کے سر کے بال گر جائیں گے، پھر جب وہ اسے پیے گا تو اس کی آنتیں کاٹ ڈالے گا یہاں تک کہ وہ اس کی مقعد سے نکل جائیں گی۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: {اور انہیں کھولتا ہوا پانی پلایا جائے گا پس وہ ان کی آنتیں کاٹ ڈالے گا} (١) اور فرماتا ہے: {اور اگر وہ (پیاس کی شدت سے) فریاد کریں تو انہیں تیل کے کھوٹ کی طرح کا پانی پلایا جائے گا جو چہروں کو بھون ڈالے گا، کیا ہی برا مشروب ہے اور کیا ہی برا ٹھکانا ہے(٢)۔" (ضعيف)(٣)


حوالہ جات:

  1. (١سورۃ محمد، آیت نمبر: 15۔
  2. (٢سورۃ الکہف، آیت نمبر: 29۔
  3. (٣اس اثر کو امام ترمذی نے اپنی "جامع" (حدیث نمبر: 2583) میں روایت کیا ہے اور اسے ضعيف قرار دیا ہے۔ (امام ترمذی نے کہا: يحيى بن يزيد بن عبد الملك النوفلي ضعيف)

حدیث سے حاصل ہونے والے اسباق و نکات:

اگرچہ یہ روایت سند کے اعتبار سے ضعیف ہے، لیکن اس کا مفہوم اور اس میں بیان کردہ عذاب کی تفصیلات قرآن مجید کی مذکورہ آیات اور دوسری صحیح احادیث کے کلی مفہوم سے متفق اور ان کی تصویر کشی کرتی ہیں۔ اس سے درج ذیل اسباق حاصل ہوتے ہیں:

1. قرآن کی تفسیر نبوی: عملی تصویر کشی

یہ روایت اس بات کی مثال ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قرآن مجید کی آیات کی تفسیر صرف الفاظ سے نہیں کرتے تھے، بلکہ بعض اوقات ایک مکمل، متحرک اور دل دہلا دینے والا منظر نامہ پیش فرما کر مخاطبین کے دل و دماغ پر گہرا اثر ڈالتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے "یتجرعه ولا يكاد يسيغه" کے الفاظ کو منہ کے قریب لانے، ناپسند کرنے، چہرہ جھلسنے، بال گرنے اور آنتیں کٹ کر نکلنے کی مرحلہ وار تصویر میں ڈھال دیا۔ یہ تعلیم اور تفہیم کا بہترین اسلوب ہے۔

2. عذاب کی مرحلہ وار شدت: نفسیاتی اور جسمانی کرب

روایت میں عذاب کے تدریجی مراحل بیان ہوئے ہیں:

  • پہلا مرحلہ (نفسیاتی): "یقرّب إلی فیه فیکرھه" – پانی منہ کے قریب لایا جائے گا تو وہ طبیعی طور پر اس کی بدبو، گرمی یا شکل دیکھ کر اسے سخت ناپسند کرے گا۔ یہ نفسیاتی عذاب ہے۔
  • دوسرا مرحلہ (بیرونی جسمانی): "فإذا أدنی منه شوی وجهه ووقعت فروة رأسه" – جب قریب لایا جائے گا تو چہرہ جھلس جائے گا اور سر کے بال جھڑ جائیں گے۔ یہ باہری جسمانی تباہی ہے جو پینے سے پہلے ہی ہوگی۔
  • تیسرا مرحلا (داخلی جسمانی): "فإذا شربه قطع أمعاءه..." – جب پانی نگلا جائے گا تو اندرونی اعضاء (آنتیں) کٹ جائیں گی اور مقعد سے نکل جائیں گی۔ یہ اندرونی تباہی ہے جو عذاب کی آخری اور ہولناک ترین شکل ہے۔

3. قرآن کی مختلف آیات کے درمیان ربط اور ہم آہنگی

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آیت (ابراہیم: 16-17) کی تفسیر بیان کرتے ہوئے دوسری آیات (محمد: 15، الکہف: 29) کو بطور دلیل پیش فرمایا۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ:

  • قرآن مجید کے تمام حصے ایک دوسرے کی تفسیر و توضیح کرتے ہیں۔
  • "ماء صديد" (پیپ کا پانی)، "ماء حميم" (کھولتا پانی) اور "ماء كالمهل" (گاڑھے تیل جیسا پانی) — یہ سب جہنم کے مختلف مگر ہم معنی مشروبات ہیں جو ایک ہی ہولناک حقیقت کی مختلف تعبیریں ہیں۔
  • ایک مومن کو چاہیے کہ وہ قرآن کو ایک مربوط مکمل کتاب سمجھے جس کے اجزا ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔

4. عذاب کی نوعیت: مکمل تباہی اور ذلت

اس روایت میں بیان کردہ عذاب صرف درد ہی نہیں، بلکہ مکمل تباہی اور ذلت ہے:

  • چہرہ جھلستا ہے: چہرہ انسان کی پہچان اور عزت کی علامت ہے، اس کا جلنا ذلت اور بے حجابی ہے۔
  • بال گرتے ہیں: یہ بے بسی، کمزوری اور بدنمائی کی علامت ہے۔
  • آنتیں کٹ کر نکلتی ہیں: یہ اندرونی نظام کی مکمل تباہی اور انتہائی کرب ناک اذیت کو ظاہر کرتا ہے۔

5. ضعیف روایت سے تعامل کا اصول (دوبارہ تذکرہ)

یہ روایت ضعیف ہے، لیکن:

  • یہ قرآن مجید کے صریح بیانات (ماء صديد، حميم، يشوي الوجوه، قطع أمعاءهم) کی تفصیلی تشریح اور منظر کشی کرتی ہے۔
  • اس لیے وعظ و نصیحت، اصلاح نفس اور ترہیب (ڈرانا) کے مقصد سے اس کے مفہوم سے استفادہ کیا جا سکتا ہے، بشرطیکہ:
    • اسے عقیدے یا حلال و حرام کے کسی حکم کی بنیاد نہ بنایا جائے۔
    • اس کی ضعیف ہونے کی صراحت کر دی جائے، جیسا کہ اوپر کیا گیا۔

6. عملی سبق: دنیا کے پانی اور نعمتوں پر شکر

اس ہولناک عذاب کی تفصیل سن کر ہر عقل مند کو دنیا کی نعمتوں پر غور کرنا چاہیے:

  • ہم جو صاف، ٹھنڈا اور میٹھا پانی آسانی سے پیتے ہیں، وہ اللہ کی کتنی بڑی رحمت ہے۔
  • کیا ہم اس نعمت پر شکر ادا کرتے ہیں، یا غفلت اور ناشکری میں ڈوبے ہوئے ہیں؟
  • یہ تصور ہمیں ہر گھونٹ پانی پیتے وقت اللہ کا شکر ادا کرنے اور اس نعمت کو برے کاموں میں استعمال نہ کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔

7. خوف آخرت اور توبہ کی ترغیب

ایسے بیانات کا بنیادی مقصد مومن کے دل میں خوف آخرت پیدا کرنا ہے۔ یہ خوف مثالی ہے اگر وہ انسان کو:

  • غفلت سے بیدار کرے۔
  • گناہوں سے روکے۔
  • فوری توبہ اور استغفار پر آمادہ کرے۔
  • نیک اعمال کی طرف دوڑانے کا سبب بنے۔

خلاصہ: یہ روایت (اگرچہ ضعیف) قرآن مجید میں بیان کردہ جہنم کے ایک مخصوص عذاب (پیپ اور کھولتے پانی کے مشروبات) کی مرحلہ وار ہولناک تصویر کشی کرتی ہے۔ یہ ہمیں قرآن کی تفسیر نبوی کے اسلوب، عذاب کی نفسیاتی و جسمانی کیفیات اور دنیا کی نعمتوں کی قدر کرنے کا سبق دیتی ہے۔ اس کا مقصد ہمارے ایمان کو تازہ کرنا اور ہمیں اس عذاب سے بچنے کے لیے عمل پر آمادہ کرنا ہے۔

 



حدیث نمبر 24

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ - رضي الله عنهقَالَقَالَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلمفِي قَوْلِهِ تَعَالَى: {وَإِنْ يَسْتَغِيثُوا يُغَاثُوا بِمَاءٍ كَالْمُهْلِ} (١قَالَ: " كَعَكَرِ الزَّيْتِ , فَإِذَا قَرَّبَهُ إِلَى وَجْهِهِ سَقَطَتْ فَرْوَةُ وَجْهِهِ فِيهِ " (٢) (ضعيف)


ترجمہ:
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اللہ تعالیٰ کے فرمان {اور اگر وہ فریاد کریں تو انہیں تیل کے کھوٹ کی طرح کا پانی پلایا جائے گا(١) کی تفسیر میں فرمایا"یہ گندے تیل کی طرح ہوگا، پس جب اسے اس کے چہرے کے قریب لایا جائے گا تو اس کے چہرے کا گوشت اس میں گر جائے گا۔"(٢) (ضعيف)


حوالہ جات:

(١) سورۃ الکہف، آیت: 29۔
(٢اس اثر کو امام ترمذی نے اپنی "جامع" (حدیث نمبر: 3322) میں روایت کیا ہے اور اسے ضعيف قرار دیا ہے۔

حدیث سے حاصل ہونے والے اسباق و نکات:

اگرچہ یہ روایت ضعیف ہے، لیکن اس سے درج ذیل اسباق حاصل ہوتے ہیں جو قرآن مجید کے عمومی مفہوم کے مطابق ہیں:

1. "المهل" کی تشریح اور عذاب کی شدت

رسول اللہ ﷺ نے لفظ "كَالْمُهْلِ" (تیل کے کھوٹ کی طرح) کی تشریح "كَعَكَرِ الزَّيْتِ" (گندے تیل کی طرح) سے فرمائی۔ یہ وہ گاڑھا، کالا اور نہایت گندا رسوب ہے جو تیل کے نیچے بیٹھ جاتا ہے۔ یہ تشریح اس عذاب کی گندگی، کثافت اور انتہائی ناگوار ہونے کو واضح کرتی ہے۔

2. عذاب کی ہولناک کیفیت

"فَإِذَا قَرَّبَهُ إِلَى وَجْهِهِ سَقَطَتْ فَرْوَةُ وَجْهِهِ فِيهِ" (جب اسے اس کے چہرے کے قریب لایا جائے گا تو اس کے چہرے کا گوشت اس میں گر جائے گا)۔ یہ منظر جہنم کے عذاب کی سنگینی اور تباہ کن نوعیت کو ظاہر کرتا ہے:

  • یہ محض پینے کا عذاب نہیں، بلکہ پینے سے پہلے ہی چہرے کو تباہ کر دینے والا عذاب ہے۔
  • "فروۃ الوجہ" (چہرے کا گوشت) کا گرنا مکمل بے حجابی، بدصورتی اور بدن کے اعضاء کے بکھرنے کی علامت ہے۔

3. نفسیاتی اور جسمانی عذاب کا مجموعہ

یہ عذاب جسمانی ہونے کے ساتھ ساتھ نفسیاتی بھی ہے:

  • جسمانی عذاب: چہرے کے گوشت کا پگھل کر گرنا۔
  • نفسیاتی عذاب: اتنا گھناؤنا مشروب دیکھ کر خوف، گھن اور ناامیدی کا پیدا ہونا۔

4. قرآن کی تفسیر نبوی کا اسلوب

یہ حدیث اس بات کی مثال ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے قرآن کے بعض الفاظ کی تشریح مشاہداتی اور مانوس مثالیں دے کر فرمائی تاکہ صحابہ کرام کے ذہن میں اس کا صحیح تصور قائم ہو سکے۔

5. ضعیف روایت سے تعامل کا اصول

  • یہ روایت ضعیف ہے، اس لیے اسے عقیدے یا احکام کی بنیاد نہیں بنایا جا سکتا۔
  • تاہم، ترغیب و ترہیب اور اصلاح نفس کے لیے اس کے مفہوم سے استفادہ کیا جا سکتا ہے، کیونکہ یہ قرآن میں بیان کردہ جہنم کے عذاب کے عمومی تصور سے ہم آہنگ ہے۔

6. عملی سبق: دنیا کی نعمتوں کی قدر اور شکرگزاری

یہ عذاب کی تصویر ہمیں دنیا کی نعمتوں خصوصاً صاف پانی کی عظمت اور قدر سمجھاتی ہے، اور اس پر شکر ادا کرنے کی ترغیب دیتی ہے۔


خلاصہ:
یہ حدیث (اگرچہ ضعیف) جہنم کے عذاب کے ایک پہلو کی تصویر کشی کرتی ہے جو قرآن مجید میں بیان کردہ عذاب کی شدت کو مزید واضح کرتی ہے۔ اس سے ہمیں عذاب کی ہولناکی کا تصور، قرآن کی تفسیر کے اسلوب اور دنیا کی نعمتوں کی قدر کرنے کا سبق ملتا ہے۔

 



حَيَّاتُ وَعَقَارِبُ جَهَنَّم (جہنم کے سانپ اور بچھو)


حدیث نمبر 25

(حم) , عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ جَزْءٍ الزُّبَيْدِيَّ - رضي الله عنهقَالَقَالَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم -: " إِنَّ فِي النَّارِ حَيَّاتٍ كَأَمْثَالِ أَعْنَاقِ الْبُخْتِ (١تَلْسَعُ إِحْدَاهُنَّ اللَّسْعَةَ, فَيَجِدُ حَمْوَتَهَا (٢أَرْبَعِينَ خَرِيفًا، وَإِنَّ فِي النَّارِ عَقَارِبَ كَأَمْثَالِ الْبِغَالِ الْمُوكَفَةِ (٣تَلْسَعُ إِحْدَاهُنَّ اللَّسْعَةَ , فَيَجِدُ حَمْوَتَهَا أَرْبَعِينَ سَنَةً " (٤)


ترجمہ:

حضرت عبداللہ بن حارث بن جزء زبیدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا"بے شک جہنم میں سانپ ہیں لمبی گردن والے اونٹوں کی مانند،(١) ان میں سے ایک اگر ڈنک مارے تو اس کا درد(٢) چالیس خریف (سال) تک محسوس ہوتا رہے گا۔ اور بے شک جہنم میں بچھو ہیں گدھوں کی مانند جن پر زین (کاٹھی) اور لگام (پٹا) ہو،(٣) ان میں سے ایک اگر ڈنک مارے تو اس کا درد چالیس سال تک محسوس ہوتا رہے گا۔"(٤)


حواشی وحوالہ جات:

(١أَعْنَاقِ الْبُخْت: لمبی گردن والے اونٹوں کی ایک قسم۔
(٢حَمْوَتَهَا: یعنی ڈنک کے درد کا اثر اور تکلیف۔
(٣الْمُوكَفَة: وہ جانور جس پر زین (کاٹھی) اور لگام وغیرہ ہو۔
(٤اس حدیث کو امام احمد نے اپنی مسند (حدیث نمبر: 17749) میں اور امام بخاری نے الأدب المفرد (حدیث نمبر: 7471) میں روایت کیا ہے۔ نیز علامہ البانی نے السلسلۃ الصحیحۃ (حدیث نمبر: 3429) اور صحیح الترغیب والترہیب (حدیث نمبر: 3676) میں اسے صحیح قرار دیا ہے۔

حدیث سے حاصل ہونے والے اسباق و نکات:

یہ حدیث جہنم کے عذاب کی ایک نئی اور انتہائی خوفناک نوعیت کو بیان کرتی ہے — زہریلے اور عظیم الجثہ حشرات الارض (سانپ اور بچھو) کا عذاب۔ اس سے درج ذیل گہرے اسباق حاصل ہوتے ہیں:

1. عذاب کی متنوع شکلیں: صرف آگ ہی نہیں

یہ حدیث واضح کرتی ہے کہ جہنم کا عذاب محض آگ، پانی یا خوراک تک محدود نہیں۔ بلکہ اس میں زندہ مخلوقات کے ذریعے عذاب بھی شامل ہے۔ سانپ اور بچھو کا وجود اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ جہنم میں ہر ممکن طریقے سے اذیت پہنچانے کا مکمل نظام موجود ہوگا، جو عذاب کی ہمہ گیری کو ظاہر کرتا ہے۔

2. حجم کی ہیبت: عظیم الجثہ مخلوقات

  • سانپ لمبی گردن والے اونٹوں جیسے ہوں گے۔
  • بچھو زین اور لگام والے گدھوں جیسے ہوں گے۔
    یہ تصور ان مخلوقات کے ناقابلِ تصور حجم، طاقت اور ہیبت کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ معمولی سانپ یا بچھو نہیں ہوں گے، بلکہ دیوہیکل اور دہشت ناک مخلوقات ہوں گی جن کا صرف دیدار ہی کافی ہوگا۔

3. عذاب کی شدت اور طوالت: ایک ڈنک کا چالیس سال تک درد

  • ایک ہی ڈنک کا درد چالیس سال تک برقرار رہے گا۔
  • یہ صرف ایک سانپ یا ایک بچھو کا ڈنک ہے۔ تصور کریں کہ اگر ان میں سے متعدد ایک شخص پر حملہ آور ہوں تو کیا ہوگا؟
  • یہ طوالت اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ جہنم کا عذاب عارضی یا وقتی نہیں، بلکہ طویل المدت اور مسلسل ہوگا۔

4. درد کی نوعیت: دنیوی اور اخروی درد کا فرق

دنیا میں سانپ یا بچھو کا ڈنک کچھ دنوں، ہفتوں یا مہینوں میں ٹھیک ہو جاتا ہے (اگر انسان بچ جائے)۔ لیکن جہنم میں اس کا درد چالیس سال تک مسلسل برقرار رہے گا۔ یہ فرق آخرت کے عذاب کی شدت اور اس کے قوانینِ فطرت سے الگ ہونے کو ظاہر کرتا ہے۔

5. نفسیاتی خوف: زہریلے جانوروں کا عمومی خوف

سانپ اور بچھو سے خوف انسان کی فطری اور عام نفسیات ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے اسی عام انسانی خوف کو بنیاد بنا کر آخرت کے عذاب کی شدت کو سمجھایا۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ جہنم میں ہر وہ چیز جو دنیا میں خوف کا باعث ہے، وہ کئی گنا بڑھ کر عذاب کا ذریعہ بنے گی۔

6. اللہ کی تخلیقی قدرت کا اظہار

ایسے عظیم الجثہ اور ہولناک مخلوقات کا وجود اللہ تعالیٰ کی لا محدود تخلیقی قدرت کا واضح ثبوت ہے۔ جس طرح وہ جنت میں حور و قصور اور نہریں پیدا فرمائے گا، اسی طرح جہنم میں عذاب کی یہ نئی شکلیں بھی اسی کی قدرت سے ہوں گی۔

7. عملی سبق: چھوٹے گناہوں سے غفلت کی مذمت

اگر ایک سانپ یا بچھو کا ایک ڈنک اتنا دردناک اور طویل ہو سکتا ہے، تو یہ تصور ہر عقل مند کو چھوٹے گناہوں کو معمولی سمجھنے سے روکتا ہے۔ انسان سوچے کہ کیا میں اپنی چھوٹی چھوٹی نافرمانیوں کے عوض اس طرح کے ہولناک عذاب کو دعوت دے رہا ہوں؟

8. جہنم سے بچاؤ کی فوری تدبیر

ایسے بیانات کا بنیادی مقصد عملی تبدیلی لانا ہے۔ اس حدیث کو سننے کے بعد انسان کا دل فوراً توبہ اور استغفار کی طرف مائل ہونا چاہیے۔ یہ خوف انسان کو نیکیوں کی طرف دوڑانے اور برائیوں سے بچانے کا باعث بننا چاہیے۔

9. خوف و رجاء کا توازن

یہ حدیث خوف پیدا کرتی ہے، لیکن مومن کو مایوس نہیں کرتی۔ کیونکہ ساتھ ہی یہ ایمان ہے کہ اللہ کی رحمت وسیع ہے۔ جو شخص ان عذابات سے ڈر کر توبہ کرے گا اور نیک عمل کرے گا، اللہ اسے معاف فرما دے گا۔ یہ خوف اس لیے ہے کہ انسان بے خوف ہو کر گناہ نہ کرے۔

خلاصہ:
یہ حدیث جہنم کے عذاب کے ایک نئے اور انتہائی خوفناک پہلو کو کھولتی ہے۔ یہ بتاتی ہے کہ جہنم میں نہ صرف عنصری عذاب (آگ، پانی) ہوں گے، بلکہ زندہ مخلوقات کا عذاب بھی ہوگا، جو اپنے حجم اور اثر دونوں میں ناقابلِ تصور ہوگا۔ اس کا مقصد انسان کے دل میں آخرت کا صحیح خوف پیدا کرنا، اسے گناہوں سے روکنا اور اسے نجات کے راستے پر گامزن کرنا ہے۔ یہ حدیث ہمارے ایمان کو مضبوط بناتی ہے اور ہمیں اپنے اعمال کی اصلاح کی دعوت دیتی ہے۔

 



حدیث نمبر 26

عن مُجَاهِدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ شَجَرَةَ الرَّهَاوِيِّ - وَكَانَ مِنْ أُمَرَاءِ الشَّامِ -وَكَانَ مُعَاوِيَةُ يَسْتَعْمِلُهُ عَلَى الْجُيُوشِ، فَخَطَبَنَا ذَاتَ يَوْمٍ فَقَالَ: (إِنَّ لِجَهَنَّمَ سَاحِلًا كَسَاحِلِ الْبَحْرِ، فِيهِ هَوَامٌّ (١وَحَيَّاتٌ كَالنَّخْلِ , وَعَقَارِبٌ كَالْبِغَالِ، فَإِذَا اسْتَغَاثَ أَهْلُ جَهَنَّمَ أَنْ يُخَفَّفَ عَنْهُمْقِيلَاخْرُجُوا إِلَى السَّاحِلِ , فَيَخْرُجُونَ، فَيَأخُذُ الْهَوَامُّ بِشِفَاهِهِمْ وَوُجُوهِهِمْ وَمَا شَاءَ اللهُ , فَيَكْشِفُهُمْ , فَيَسْتَغِيثُونَ فِرَارًا مِنْهَا إِلَى النَّارِ وَيُسَلِّطُ عَلَيْهِمُ الْجَرَبَ, فَيَحَكُّ وَاحِدٌ جِلْدَهُ حَتَّى يَبْدُوَ الْعَظْمُفَيَقُولُ أَحَدُهُمْيَا فُلَانُ، هَلْ يُؤْذِيكَ هَذَا؟فَيَقُولُنَعَمْفَيَقُولُذَلِكَ بِمَا كُنْتَ تُؤْذِي الْمُؤْمِنِينَ) (٢).


ترجمہ:

حضرت مجاہد، یزید بن شجرہ رہاوی سے روایت کرتے ہیں — جو شام کے حکمرانوں میں سے تھے اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ انہیں لشکروں پر امیر مقرر کرتے تھے — ایک دن انہوں نے ہمیں خطبہ دیا اور کہا"بے شک جہنم کا ایک کنارہ (ساحل) ہے سمندر کے کنارے کی طرح، اس میں زہریلے کیڑے) اور سانپ ہیں کھجور کے درختوں کی مانند، اور بچھو ہیں خچروں کی مانند۔ جب جہنم والے اس بات کے لیے فریاد کرتے ہیں کہ ان سے عذاب ہلکا کر دیا جائے، تو کہا جاتا ہے: 'کنارے (ساحل) کی طرف نکل جاؤ۔' پس وہ نکلتے ہیں، تو وہ زہریلے کیڑے ان کے ہونٹوں، چہروں اور جہاں تک اللہ کی مرضی ہوتی ہے پکڑ لیتے ہیں اور انہیں (عذاب میں) کھولتے ہیں، پس وہ ان (کیڑوں) سے بھاگ کر آگ کی طرف پناہ کے لیے فریاد کرते ہیں، اور ان پر خارش (جرب) مسلط کر دیا جاتا ہے۔ پس ان میں سے ایک اپنی کھال کو کھجلاتا ہے یہاں تک کہ ہڈی ظاہر ہو جاتی ہے۔ ان میں سے ایک (دوسرے سے) کہتا ہے: 'اے فلاں! کیا یہ (خارش) تجھے تکلیف دیتی ہے؟' وہ کہتا ہے: 'ہاں۔' تو وہ (پہلا) کہتا ہے: 'یہ اسی وجہ سے ہے کہ تو دنیا میں مؤمنوں کو تکلیف دیا کرتا تھا۔'(٢)"


حواشی وحوالہ جات:

)الهَوامّ: "هامَّة" کی جمع، ہر وہ زہریلی چیز جو جان لیوا ہو، نیز وہ سب کیڑے جو رینگتے ہیں چاہے وہ مہلک ہوں یا نہ ہوں۔
(٢)اس اثر کو امام بیہقی نے "شعب الإيمان" (حدیث نمبر:6087) اور "البعث والنشور" (حدیث نمبر:562) میں روایت کیا ہے۔ نیز امام عبداللہ بن المبارک نے "الزهد" (جلد 2، صفحہ 95) میں روایت کیا ہے۔ امام البانی نے "صحیح الترغیب والترہیب" (حدیث نمبر:3677) میں اسے صحیح قرار دیا ہے۔

حدیث سے حاصل ہونے والے اسباق و نکات:

یزید بن شجرہ رہاوی کا یہ بیان (جو ایک تابعی اور عظیم فوجی کمانڈر ہیں) جہنم کے عذاب کے ایک انتہائی ہولناک اور نفسیاتی پہلو کو کھولتا ہے۔ یہ صرف جسمانی عذاب ہی نہیں، بلکہ گنہگاروں کے درمیان ہونے والا ایک ایسا مکالمہ پیش کرتا ہے جو ان کی دنیاوی زندگی اور اخروی عذاب کے درمیان براہِ راست تعلق قائم کرتا ہے۔

1. جہنم کی وسعت اور اس کے مختلف "علاقے"

"إِنَّ لِجَهَنَّمَ سَاحِلًا" (بے شک جہنم کا ایک کنارہ ہے) کا بیان جہنم کی عظیم وسعت اور اس کے مختلف حصوں کی طرف اشارہ کرتا ہے، بالکل اسی طرح جیسے سمندر کے مختلف کنارے اور علاقے ہوتے ہیں۔ یہ تصور جہنم کو ایک وسیع و عریض "دنیا" کے طور پر پیش کرتا ہے جہاں عذاب کی مختلف اقسام اور مقامات ہیں۔

2. عذاب کی منتقلی: ایک عذاب سے دوسرے عذاب کی طرف بھاگنا

اس بیان میں عذاب کی ایک انتہائی دردناک کیفیت سامنے آتی ہےجب ایک عذاب سے نجات کی درخواست کی جاتی ہے، تو انہیں دوسرے عذاب کی طرف بھیج دیا جاتا ہے جو پہلے سے بدتر ہوتا ہے۔

  • وہ آگ میں جلنے کے عذاب سے ہلکے عذاب کی درخواست کرتے ہیں۔
  • انہیں جہنم کے ساحل پر بھیج دیا جاتا ہے، جہاں دیوہیکل سانپ اور بچھو ہیں۔
  • جب وہ ان کیڑوں کے عذاب سے تنگ آکر پھر آگ کی طرف بھاگنے کی درخواست کرتے ہیں۔
  • تو ان پر خارش (جرب) مسلط کر دیا جاتا ہے، جو ایک نئی قسم کی مستقل اذیت ہے۔
    یہ سلسلہ مایوسی، بے بسی اور عذاب سے فرار کی ناممکنی کو انتہائی واضح کرتا ہے۔

3. دنیاوی ایذا کا اخروی بدلہ: مؤمنوں کو تکلیف دینے کا انجام

اس بیان کا سب سے گہرا اور سبق آموز حصہ وہ آخری مکالمہ ہے جو دو عذاب زدہ افراد کے درمیان ہوتا ہے۔

  • ایک دوسرے سے پوچھتا ہے"کیا یہ (خارش) تجھے تکلیف دیتی ہے؟"
  • دوسرا جواب دیتا ہے"ہاں۔"
  • پہلا شخص خود ہی وجہ بتاتا ہے"یہ اسی وجہ سے ہے کہ تو دنیا میں مؤمنوں کو تکلیف دیا کرتا تھا۔"
    یہ مکالمہ درحقیقت اللہ کے عدل کا خودکار اعلان ہے۔ عذاب میں مبتلا شخص خود اپنے ہی گناہ کی شناخت کرتا ہے۔ یہ واضح کرتا ہے کہ:
    • آخرت کا ہر عذاب دنیا کے کسی نہ کسی گناہ کا منطقی نتیجہ ہے۔
    • مؤمنوں کو تکلیف دینا ایک انتہائی سنگین جرم ہے جس کا بدلہ جہنم میں اسی طرح کی تکلیف کی صورت میں ملے گا۔
    • عذاب بے مقصد یا بے جوڑ نہیں ہوتا، بلکہ ہر شخص کو اس کے مخصوص گناہوں کے عین مطابق عذاب ملتا ہے۔

4. عذاب کی نفسیاتی پہچان اور ضمیر کی آواز

یہاں عذاب زدہ شخص اپنے عذاب کی وجہ خود بتا رہا ہے۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ قیامت کے دن ہر شخص کا ضمیر بالکل بیدار ہوگا اور اسے اپنے ہر عمل اور اس کے نتائج کا کامل علم ہوگا۔ کوئی انکار یا بہانہ بازی کام نہ آئے گی۔ گویا عذاب ہی اس کے گناہوں کا اعتراف اور اقرار کروا رہا ہوگا۔

5. عظیم الشان مخلوقات: سانپ اور بچھوؤں کا حجم

  • سانپ کھجور کے درختوں جیسے لمبے اور بڑے۔
  • بچھو خچروں جیسے۔
    یہ تصور ان مخلوقات کی دیوہیکل جسامت اور ہیبت کو ظاہر کرتا ہے، جو پچھلی حدیث میں بیان ہوئی تصویر کی تائید و تکمیل کرتا है۔

6. ایک حکمران اور کمانڈر کی ذمہ داری: رعایا کو ڈرانا

یزید بن شجرہ رہاوی ایک فوجی کمانڈر اور گورنر تھے۔ ان کا یہ خطبہ اس بات کی عکاسی ہے کہ حکمرانوں اور ذمہ دار افراد کا فرض صرف دنیوی انتظام ہی نہیں، بلکہ اپنی رعایا کو آخرت کے انجام سے ڈرانا اور ان کی اصلاح کرنا بھی ہے۔ انہوں نے اپنی فوج کے سامنے جہنم کے عذاب کا یہ ہولناک منظر پیش کیا تاکہ وہ اللہ سے ڈریں اور مؤمنوں کو تکلیف دینے جیسے گناہوں سے بچیں۔

7. عملی سبق: مؤمنوں کے حقوق کا تحفظ

اس حدیث کا سب سے واضح عملی سبق یہ ہے کہ کسی مؤمن کو کسی قسم کی جسمانی، زبانی یا نفسیاتی تکلیف پہنچانا انتہائی خطرناک جرم ہے۔ چاہے وہ طعنہ زنی ہو، غیبت ہو، دھوکہ ہو یا کوئی اور ظلم، اس کا بدلہ آخرت میں اسی نوعیت کی تکلیف کی صورت میں ملے گا۔ لہٰذا ہر مسلمان کو دوسرے مسلمان بھائی کے حقوق اور اس کی عزت نفس کا نہایت خیال رکھنا چاہیے۔

8. تسلسل عذاب سے بچنے کا واحد راستہ

یہ تصویر ہمیں بتاتی ہے کہ جہنم میں داخل ہونے کے بعد عذاب سے نجات یا کمی کی کوئی امید نہیں ہے۔ اس لیے ابھی، دنیا میں رہتے ہوئے، اس عذاب سے بچنے کی فکر کرنی چاہیے۔ اور بچنے کا راستہ اللہ کی نافرمانی چھوڑنا، مؤمنوں کو تکلیف نہ دینا، اور نیک اعمال اختیار کرنا ہے۔

خلاصہ:
یزید بن شجرہ رہاوی کا یہ بیان جہنم کے عذاب کی ہمہ گیری، مسلسل تبدیلی اور گناہوں کے ساتھ براہِ راست تعلق کو انتہائی مؤثر انداز میں پیش کرتا ہے۔ یہ خصوصاً مؤمنوں کو تکلیف دینے والوں کے لیے سخت انتباہ ہے۔ یہ حدیث حکمرانوں، فوجی کمانڈروں اور ہر عام فرد کو یہ سبق دیتی ہے کہ وہ اپنے اعمال پر غور کریں، خاص طور پر دوسروں کے حقوق کا خیال رکھیں، کیونکہ آخرت میں ہر ایذا کا بدلہ اسی طرح کی ایذا کی صورت میں ملے گا۔ یہ تصویر ہمارے دل میں خوفِ الٰہی پیدا کر کے ہمیں نیکی کی طرف دوڑانے کے لیے کافی ہے۔

 


حدیث نمبر 27

عَنْ عَبْدِ اللهِ بن مَسْعُودٍ - رضي الله عنه - أَنَّهُ قَالَ فِي قَوْلِهِ - عز وجل -: {زِدْنَاهُمْ عَذَابًا فَوْقَ الْعَذَابِ} (١قَالَ: " زِيدُوا عَقَارِبًا أَنْيَابُهَا كَالنَّخْلِ الطِّوَالِ. (٢)


ترجمہ: حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے فرمان {زِدْنَاهُمْ عَذَابًا فَوْقَ الْعَذَابِ} {ہم نے ان پر عذاب کے اوپر عذاب بڑھا دیا}(١) کی تفسیر میں فرمایا"ان پر ایسے بچھو بڑھا دیے جائیں گے جن کے ڈنک لمبی کھجوروں کی طرح ہوں گے۔"(٢)


حوالہ جات:

(١)سورۃ النحل، آیت نمبر:88۔
(٢)اس اثر کو امام بیہقی نے "شعب الإيمان" (حدیث نمبر:2659) اور "السنن الكبرى" (حدیث نمبر:8755) میں روایت کیا ہے۔ نیز امام البانی نے "صحیح الترغیب والترہیب" (حدیث نمبر:3678) میں اسے صحیح قرار دیا ہے۔

حدیث سے حاصل ہونے والے اسباق و نکات:

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا یہ تفسیری بیان قرآن مجید میں بیان کردہ جہنم کے عذاب کے ایک اور پہلو کی تصویر کشی کرتا ہے۔ اگرچہ یہ براہِ راست رسول اللہ ﷺ کا فرمان نہیں، لیکن ایک جلیل القدر صحابی کا قول ہونے کی وجہ سے قابلِ غور ہے اور قرآن کے مفہوم کی تشریح کرتا ہے۔

1. قرآن کی تفسیر میں صحابہ کرام کا منہج

یہ اثر اس بات کی واضح مثال ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم قرآن مجید کی تفسیر کرتے وقت الفاظ کے ظاہری معنی کو برقرار رکھتے ہوئے اس کی عملی تصویر کشی کرتے تھے۔ انہوں نے "عذاب کے اوپر عذاب" کی تشریح ایک مخصوص اور ہولناک شکل ("بچھو جن کے ڈنک لمبی کھجوروں کی طرح") میں بیان کی۔ یہ ان کے گہرے فہمِ قرآن کی دلیل ہے۔

2. عذاب کی ترقی پذیر اور بڑھتی ہوئی نوعیت

آیت میں "زِدْنَاهُمْ عَذَابًا فَوْقَ الْعَذَابِ" کا ذکر ہے۔ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے اس کی عملی صورت یہ بتائی کہ یہ اضافہ صرف شدت میں نہیں، بلکہ عذاب کی نئی اقسام میں بھی ہوگا۔ پہلے سے موجود عذاب پر بچھوؤں جیسی نئی مخلوقات کا عذاب بڑھا دیا جائے گا۔ یہ جہنم کے عذاب کے مسلسل اور ترقی پذیر ہونے کی طرف اشارہ ہے۔

3. عذاب کی ہولناک تفصیل: ڈنک کی لمبائی کا تصور

"أَنْيَابُهَا كَالنَّخْلِ الطِّوَالِ" (ان کے ڈنک لمبی کھجوروں کی طرح)۔ یہ تشبیہ انتہائی مؤثر ہے:

  • کھجور کا درخت لمبا، سخت اور مضبوط ہوتا ہے۔
  • بچھو کے ڈنک کا اس سے تشبیہ دینا اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ یہ ڈنک نہایت لمبے، سخت اور گہرے ہوں گے، جو جسم میں داخل ہو کر شدید ترین درد پہنچائیں گے۔
  • یہ تصور عذاب کی شدت اور جسمانی نقصان کو واضح کرتا ہے۔

4. جہنم میں مخلوقات کا عذاب: سانپ اور بچھو

یہ اثر پچھلی احادیث میں بیان کردہ جہنم میں سانپوں اور بچھوؤں کے وجود کی تائید کرتا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جہنم میں صرف آگ اور گرمی ہی نہیں، بلکہ زندہ مخلوقات کے ذریعے عذاب بھی ہوگا، جو اس کی ہولناکی میں اضافہ کرتا ہے۔

5. کفار و مجرمین کے لیے خصوصی عذاب

آیت اور اس تفسیر سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ اضافی عذاب خاص طور پر کفار اور مجرمین کے لیے ہے جو اللہ کی نافرمانی میں حد سے گزر جاتے ہیں۔ یہ ان کے تکبر، سرکشی اور گناہوں کی کثرت کے مناسب بدلہ ہے۔

6. خوفِ آخرت کی تربیت

ایسے بیانات کا بنیادی مقصد مومن کے دل میں خوفِ آخرت پیدا کرنا ہے۔ جب انسان یہ سنے کہ جہنم میں ایسے بچھو ہوں گے جن کے ڈنک کھجور کے درخت جیسے لمبے ہوں گے، تو اس کا دل اللہ کی نافرمانی سے ڈرنا چاہیے۔ یہ خوف اسے گناہوں سے باز رکھنے اور نیکیوں پر ابھارنے کا ذریعہ بنتا ہے۔

7. اللہ کی قدرت کاملہ پر ایمان

ایسے عظیم الجثہ اور ہولناک مخلوقات کا وجود اللہ تعالیٰ کی لا محدود قدرت کا ثبوت ہے۔ وہ جو چاہے پیدا کر سکتا ہے۔ جنت کی نعمتیں بھی اسی کی قدرت ہیں اور جہنم کے عذاب بھی۔

8. عملی سبق: گناہوں سے بچاؤ اور توبہ

اس ہولناک عذاب کا ذکر سن کر ہر عقل مند انسان کو چاہیے کہ:

  • اپنے گناہوں پر غور کرے۔
  • فوری توبہ و استغفار کرے۔
  • ایسے اعمال سے بچے جو اس عذاب کا سبب بن سکتے ہیں۔
  • اللہ کی رحمت کی طرف دوڑے، جو توبہ قبول کرنے والا ہے۔

خلاصہ:
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا یہ تفسیری بیان قرآن مجید کے ایک عام فقرے ("عذاب کے اوپر عذاب") کو ایک ہولناک اور محسوس شکل میں پیش کرتا ہے۔ یہ جہنم کے عذاب کی متنوع، ترقی پذیر اور ناقابلِ تصور شدت کو ظاہر کرتا ہے۔ اس کا مقصد ہمیں خوفِ آخرت کی تربیت دینا، ہمیں گناہوں سے ڈرانا اور ہمیں نجات کے راستے پر گامزن کرنا ہے۔ یہ اثر ہمارے ایمان کو مضبوط بناتا ہے اور ہمیں عمل صالح کی ترغیب دیتا ہے۔




أَصْنَافٌ أُخْرَى مِنَ الْعَذَابِ فِي جَهَنَّم (جہنم میں عذاب کی دیگر اقسام)

اللہ تعالیٰ نے فرمایا: "یہ (عذاب) اور یقیناً سرکشوں کے لیے بہت برا ٹھکانا ہے، جہنم جس میں وہ جلیں گے، پس وہ بہت برا بستر ہے، یہ ہے تو چاہیے کہ وہ کھولتا ہوا پانی اور پیپ بھرا مواد چکھیں، اور اسی طرح کے اور بھی قسمیں ہیں۔"

[سورۃ ص:55-58]

اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا: "جن لوگوں نے کتاب اور اس چیز کو جھٹلایا جس کے ساتھ ہم نے اپنے رسول بھیجے تو عنقریب وہ جان لیں گے، جب ان کی گردنوں میں طوق ہوں گے اور زنجیریں ہوں گی جن میں جکڑ کر وہ گھسیٹے جائیں گے، کھولتے ہوئے پانی میں پھر آگ میں جھونکے جائیں گے۔"

[سورۃ غافر:70-72]

اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا: "اسے پکڑو اور دوزخ کے درمیان میں لے جاؤ، پھر اس کے سر پر کھولتے ہوئے پانی کا عذاب انڈیلو، چکھ لے تو ہی تو عزت والا اور کرم والا تھا، یہی وہ عذاب ہے جس میں تم شک کرتے تھے۔"

[سورۃ الدخان:43-50]

اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا: "پس جن لوگوں نے کفر کیا ان کے لیے آگ کے کپڑے کاٹے جائیں گے، ان کے سروں پر سے کھولتا ہوا پانی انڈیلا جائے گا، اس سے ان کے پیٹوں اور کھالوں کا گوشت پگھلایا جائے گا، اور ان کے لیے لوہے کے گرز ہوں گے، جب بھی وہ غم سے نکلنا چاہیں گے اس میں واپس لوٹا دیے جائیں گے، اور جلانے والے عذاب کا مزہ چکھو۔"

[سورۃ الحج:19-22]


حدیث سے حاصل اسباق و نکات (تحریری حوالہ وحواشی نمبر وار):

  1. پہلی آیت (ص:55-58) کے حوالے سے:
    • اس آیت میں سرکش لوگوں کے لیے جہنم میں کھولتا ہوا پانی اور پیپ (غساق) کے عذاب کا ذکر ہے۔ احادیث میں جہنم کے مختلف عذابوں کی تفصیل آئی ہے، جیسے کہ صحیح بخاری میں ہے کہ جہنم میں "حمیم" (کھولتا پانی) ایسا ہے کہ اگر ایک قطرہ زمین پر گرے تو تمام دنیا والوں کو ہلاک کر دے۔ (بخاری، کتاب بدء الخلق، حدیث نمبر 3261)
    • سبق: تکبر اور سرکشی سے بچنا چاہیے، کیونکہ یہ جہنم کی طرف لے جاتے ہیں۔ ایمان و اطاعت ہی نجات کا ذریعہ ہے۔
  2. دوسری آیت (غافر:70-72) کے حوالے سے:
    • اس آیت میں کتاب اور رسولوں کو جھٹلانے والوں کے لیے زنجیروں اور طوقوں میں جکڑے جانے کا بیان ہے۔ صحیح مسلم میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "جہنم میں لوہے کے پنجرے ہوں گے جن میں کافروں کو بند کیا جائے گا۔" (مسلم، کتاب الجنة و النار، حدیث نمبر 2845)
    • سبق: اللہ کی کتاب اور اس کے تمام رسولوں پر ایمان لانا ضروری ہے۔ انکار کی سزا انتہائی شدید ہے، اس لیے حق کو تسلیم کریں۔
  3. تیسری آیت (الدخان:43-50) کے حوالے سے:
    • اس آیت میں متکبر لوگوں کے سر پر کھولتا پانی انڈیلے جانے کا ذکر ہے۔ سنن ترمذی میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "جو شخص دل میں ذرہ برابر تکبر رکھے گا، وہ جنت میں داخل نہیں ہوگا۔" (ترمذی، کتاب البر والصلة، حدیث نمبر 1999)
    • سبق: دنیا میں غرور اور تکبر سے پرہیز کریں، کیونکہ آخرت میں یہ جہنم کے عذاب کا سبب بنتا ہے۔ عجز و انکساری اختیار کریں۔
  4. چوتھی آیت (الحج:19-22) کے حوالے سے:
    • اس آیت میں کافروں کے لیے آگ کے کپڑے، کھولتا پانی، لوہے کے گرز، اور جہنم سے نکلنے کی کوشش پر واپس ڈالے جانے کا بیان ہے۔ صحیح بخاری میں ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "جہنم سے ایک شخص کو نکالا جائے گا اور جنت میں داخل کیا جائے گا، پھر اس سے پوچھا جائے گا: اے فلاں! تمہیں کیا ملا؟ وہ کہے گا: میرے رب، مجھے تو تیری رحمت ملی۔ پھر اسے دوبارہ جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔" (بخاری، کتاب الرقاق، حدیث نمبر 6510) یہ عذاب کی شدت اور ہمیشگی کو ظاہر کرتا ہے۔
    • سبق: کفر کے نتائج نہایت بھیانک ہیں، اس لیے ایمان و تقویٰ پر استقامت اختیار کریں۔ جہنم کے عذاب سے بچنے کے لیے اللہ کی پناہ مانگیں۔

خلاصہ: یہ آیات اور احادیث جہنم کے عذابوں کی مختلف انواع کو بیان کرتی ہیں، جن سے یہ سبق ملتا ہے کہ تکبر، کفر، اور نافرمانی سے بچتے ہوئے ایمان و اطاعت کی راہ پر چلنا چاہیے، تاکہ آخرت میں نجات حاصل ہو سکے۔

 



حدیث نمبر 28

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رضي الله عنهقَالَقَالَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم -: " إِنَّ الْحَمِيمَ لَيُصَبُّ عَلَى رُءُوسِهِمْ، فَيَنْفُذُ الْحَمِيمُ حَتَّى يَخْلُصَ إِلَى جَوْفِهِ، فَيَسْلِتُ مَا فِي جَوْفِهِ حَتَّى يَمْرُقَ مِنْ قَدَمَيْهِ - وَهُوَ الصَّهْرُ - ثُمَّ يُعَادُ كَمَا كَانَ "


ترجمہ:

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "بے شک جہنم میں ان (کافروں) کے سروں پر کھولتا ہوا پانی (الْحَمِيمُ) انڈیلا جائے گا، یہ کھولتا پانی (سر کے اندر) سرایت کرتا ہوا ان کے پیٹ تک پہنچ جائے گا، پھر ان کے پیٹ کی ہر چیز کو کھینچ کر باہر نکال دے گا یہاں تک کہ وہ ان کے پاؤں سے گزر جائے گا (یہی عمل "پگھلانا" ہے)، پھر انہیں پہلی حالت پر لوٹا دیا جائے گا (تاکہ عذاب دوبارہ شروع ہو)۔"

[سنن الترمذي: 2582، مسند أحمد: 8851، انظر: السلسلة الصحيحة: 3470، صحیح الترغیب والترهيب: 3679۔ یہ حدیث اپنے مآخذ کے اعتبار سے ضعیف ہے۔]

[الجامع الصحيح للسنن والمسانيد: ج3 ص 214]

حدیث سے حاصل اسباق و نکات:

  1. عذاب کی شدت اور نوعیت کے حوالے سے:
    • حدیث میں جہنم کے ایک خاص عذاب "الحمیم" (کھولتا ہوا پانی) کی ہولناکی کو انتہائی مبالغہ اور تشبیہ کے ساتھ بیان کیا گیا ہے کہ یہ صرف سر ڈالنے تک محدود نہیں، بلکہ سر سے داخل ہو کر پورے جسم کے اندرونی اعضا کو تباہ و برباد کر دیتا ہے۔
    • نکتہ: یہ بیان آخرت کے عذاب کی حقیقی شدت اور اس کے جسم و روح پر ہونے والے کامل اثرات کو سمجھنے کے لیے ایک تصویر پیش کرتا ہے، اگرچہ اس کی سند ضعیف ہے، لیکن قرآن مجید میں "الحمیم" کے عذاب کا متعدد مقامات پر ذکر موجود ہے (جیسے سورہ الحج:19، سورہ الدخان:48)۔
  2. عذاب کے تسلسل اور تکرار کے حوالے سے:
    • حدیث کے آخر میں "پھر انہیں پہلی حالت پر لوٹا دیا جائے گا" کے الفاظ عذاب کے لامتناہی تسلسل اور تکرار کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ یعنی عذاب کا ایک دور مکمل ہونے کے بعد مُعذَّب کو دوبارہ اسی حالت میں لوٹا دیا جاتا ہے تاکہ عذاب ازسرنو شروع ہو۔
    • نکتہ: یہ تصور جہنم کے عذاب کی ہمیشگی اور اس سے فرار کی ناممکنی کو واضح کرتا ہے، جو قرآن کریم کی متعدد آیات (جیسے سورہ الزخرف:74) کے مطابق ہے۔
  3. حدیث کے درجے اور احتیاطی تدبیر کے حوالے سے:
    • محدثین کے نزدیک یہ روایت اپنے اصل مآخذ (سنن ترمذی، مسند احمد) کے اعتبار سے ضعیف ہے۔ البانی رحمہ اللہ نے "السلسلة الصحيحة" میں اسے ذکر کیا ہے اور اس کی سند میں ضعف کی نشاندہی کی ہے۔ نیز "صحیح الترغیب والترهيب" میں بھی اس کا حوالہ دیا گیا ہے۔
    • اہم نکتہ و سبق: فقہاء اور علماء کا اصول ہے کہ عقائد و ایمانیات کے اثبات کے لیے صرف صحیح یا حسن درجے کی احادیث ہی حجت ہوتی ہیں۔ ضعیف احادیث، خواہ وہ ترغیب و ترہیب (ڈراوے اور ترغیب دینے) کے باب میں ہوں، ان سے عقیدہ ثابت نہیں کیا جا سکتا۔ البتہ، عملی فضائل یا بعض اخلاقی نصیحتوں کے لیے شرائط کے ساتھ ان سے استدلال کیا جا سکتا ہے، لیکن یہاں عذاب جہنم کی نوعیت کا تذکرہ ہے جو ایمانیات میں داخل ہے۔
    • لہٰذا اصل سبق یہ ہے: اس حدیث سے جہنم کے عذاب کی ہولناکی کا ایک تصوری نقشہ تو ملتا ہے، لیکن اس کے تفصیلی بیان کو عقیدے کے طور پر نہیں پکڑا جا سکتا، کیونکہ اس کی سند قابل اعتماد نہیں۔ ہمارا عقیدہ قرآن کریم اور صحیح احادیث سے ہی ثابت شدہ عذاب کی انواع پر ہی مبنی ہوگا۔ اس حدیث سے صرف یہ سبق لیا جا سکتا ہے کہ جہنم کا عذاب ناقابل تصور حد تک شدید اور تکرار پر مبنی ہے، اور ہمیں اس سے اللہ کی پناہ مانگنی چاہیے۔
  4. عملی سبق کے حوالے سے:
    • اس قسم کے بیان (چاہے وہ ضعیف ہی کیوں نہ ہو) کا ایک مقصد تنبیہ و انذار ہے۔ یہ مومن کو گناہوں کی سنگینی اور نافرمانی کے انجام سے ڈراتا ہے، جس سے تقویٰ اور آخرت کی فکر پیدا ہوتی ہے۔
    • نتیجہ: ہمیں چاہیے کہ ہر قسم کے عذاب سے بچنے کے لیے اپنے ایمان و اعمال کو درست کریں، اللہ کی نافرمانی سے بچیں اور اس کی رضا کے حصول کی کوشش کریں، کیونکہ قرآن و صحیح حدیث میں جہنم کا وجود اور اس کا عذاب یقینی طور پر ثابت ہے۔

 




حدیث نمبر 29

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ - رضي الله عنهقَالَقَالَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم - فِي قَوْلِ اللهِ - عز وجل -: {تَلْفَحُ وُجُوهَهُمُ النَّارُ وَهُمْ فِيهَا كَالِحُونَ} (١قَالَ: " تَشْوِيهِ النَّارُ , فَتَقَلَّصُ شَفَتُهُ الْعَالِيَةُ حَتَّى تَبْلُغَ وَسَطَ رَأسِهِ , وَتَسْتَرْخِي شَفَتُهُ السُّفْلَى حَتَّى تَضْرِبَ سُرَّتَهُ " (٢)


 ترجمہ:

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان"آگ ان کے چہروں کو جھلساتی ہے اور وہ اس میں بگڑے ہوئے (بدصورت) ہوں گے" (1) کے بارے میں فرمایا"آگ ان (کے چہروں) کو جلا کر بگاڑ دے گی، پس ان کا اوپری ہونٹ سکڑ کر اس کے سر کے درمیان تک پہنچ جائے گا، اور ان کا نچلا ہونٹ ڈھیلا ہو کر ان کی ناف پر لٹک جائے گا۔" (2)

(1) [المؤمنون:104]
(2) [سنن الترمذي: 2587، مسند أحمد: 11854]


حدیث سے حاصل اسباق و نکات:

  1. عذاب کی ہولناکی کی کیفیت کے حوالے سے:
    • یہ حدیث قرآن مجید میں مذکور جہنم میں چہرے کے جھلسنے (تَلْفَحُ وُجُوهَهُمُ النَّارُ) کی ہولناک تصویر کو مزید واضح کرتی ہے۔ یہ بیان کرتی ہے کہ یہ صرف سطحی جلن نہیں ہوگی، بلکہ اس کی شدت سے انسان کی شکل مسخ ہو جائے گی، اس کے اعضا اپنی اصلی حالت اور جگہ سے بگڑ جائیں گے۔
    • نکتہ: یہ آخرت کے عذاب کے بدنی اور مشاہداتی پہلو پر زور دیتی ہے، جو صرف روحانی تکلیف نہیں بلکہ جسمانی اعضا کی تباہی اور بدصورتی پر منتج ہوگی۔
  2. حدیث کے درجے اور احتیاط کے حوالے سے:
    • اس روایت کو علامہ ترمذی وغیرہ نے نقل کیا ہے، لیکن اہل علم کے ہاں یہ ضعیف درجے کی حدیث ہے۔ یعنی اس کی سند کمزور ہے۔
    • اہم سبق و نکتہ: ضعیف احادیث سے عقائد یا شرعی احکام ثابت نہیں ہوتے۔ لہٰذا، جہنم کے عذاب کا اصل عقیدہ قرآن کریم اور صحیح احادیث سے لیا جائے گا۔ اس حدیث سے صرف عذاب کی شدت اور ہولناکی کے ایک تصوری پہلو کا اندازہ ہوتا ہے، نہ کہ اس کی تفصیل کو قطعی عقیدے کے طور پر لیا جائے۔ ایمان کے بنیادی مسائل کے لیے صحیح ترین دلائل ہی معتبر ہیں۔
  3. قرآن کی تفسیر کے حوالے سے:
    • یہ روایت ایک تفسیری حدیث ہے، جو قرآن مجید کی ایک آیت کی وضاحت کرتی ہے۔ اگرچہ یہ ضعیف ہے، لیکن یہ بتاتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام کے سامنے آیات کے مضمرات اور کیفیت کو کس طرح واضح فرماتے تھے تاکہ ان کے دل میں آخرت کی ہولناکیوں کا نقشہ بیٹھ جائے۔
    • نکتہ: قرآن مجید کے اجمالی بیان کو احادیث مزید کھولتی ہیں، لیکن ان احادیث کا درجہ (صحیح یا ضعیف) ہمیشہ ملحوظ رہنا چاہیے۔
  4. عملی سبق اور انذار کے حوالے سے:
    • اس قسم کے ضعیف بیان کا اگر کوئی فائدہ ہے تو وہ صرف ترہیب (ڈرانے) کا ہے۔ یہ مومن کے دل میں گناہوں اور نافرمانی کے انجام سے خوف پیدا کرتی ہے۔
    • نتیجہ: ہمیں چاہیے کہ اس طرح کے بیانات سے ڈر کر اپنے اعمال کی اصلاح کریں، اللہ کی نافرمانی سے بچیں، اور اس کی رضا کے حصول کی کوشش کریں۔ ہمارا اصل رہنما قرآن کریم کی وہ صریح آیات ہیں جو جہنم کے عذاب کے یقینی ہونے پر دلالت کرتی ہیں، مثلاً"بے شک ظالموں کے لیے برا ٹھکانا ہے، جہنم جس میں وہ جلےں گے، پس وہ کیا ہی برا بستر ہے۔" (ص: 55-56)

خلاصہ: یہ حدیث ضعیف ہونے کے باوجود، جہنم کے عذاب کی شدت اور انسان کی شکلیہ مسخ ہونے کے ایک خوفناک اندازے کو پیش کرتی ہے، جس کا مقصد انسان کو گناہوں سے ڈرانا ہے۔ تاہم، عقیدے کے لیے ہم صرف قرآن و صحیح حدیث پر انحصار کریں گے۔

 



بُكَاءُ أَهْلِ النَّار (جہنم والوں کا رونا)

حدیث نمبر 30

(جة) , عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ - رضي الله عنهقَالَقَالَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم -: " يُرْسَلُ الْبُكَاءُ عَلَى أَهْلِ النَّارِ، فَيَبْكُونَ حَتَّى تَنْقَطِعَ الدُّمُوعُ "


ترجمہ:

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا"جہنم والوں پر رونے (کی طاقت یا حالَت) مسلط کر دی جائے گی، پس وہ اس قدر روئیں گے یہاں تک کہ ان کے آنسو خشک ہو جائیں گے۔"

[شعب الإيمان للبيهقي: 4324، انظر صحیح الجامع: 8083]


حدیث سے حاصل اسباق و نکات:

  1. عذاب کی نفسیاتی اور جذباتی کیفیت کے حوالے سے:
    • یہ حدیث جہنم کے عذاب کے ایک نئے پہلو کو واضح کرتی ہے، جو محض جسمانی تکلیف (جلن، مار) ہی نہیں بلکہ ایک گہری نفسیاتی اذیت اور جذباتی کرب پر مشتمل ہے۔ رونا انتہائی دکھ، پچھتاوے اور ناامیدی کا اظہار ہے۔
    • نکتہ: جہنم میں انسان کو صرف بیرونی عذاب ہی نہیں دیا جائے گا، بلکہ اس کے اندرونی وجود (دماغ، دل، جذبات) پر بھی ایسی کیفیت مسلط کر دی جائے گی کہ وہ مسلسل اور بے اختیار روئے گا، جو خود ایک الگ عذاب ہے۔
  2. پچھتاوے اور ندامت کے حوالے سے:
    • اس رونے کی بنیادی وجہ دنیا میں کیے ہوئے اعمال پر شدید پچھتاوا اور حسرت ہوگی۔ قرآن مجید میں جہنم والوں کے اقوال نقل ہوئے ہیں جیسے"اے کاش! میں نے (دنیا میں) اپنے لیے (نیک اعمال کا) کوئی سامان آگے بھیجا ہوتا۔" (الفجر: 24)۔ یہ رونا اسی ابدی حسرت و ندامت کا مظہر ہوگا۔
    • سبق: ہمیں دنیا میں ہی اپنے اعمال پر غور کر لینا چاہیے اور ان کاموں سے پچھتانے سے بچنا چاہیے جو آخرت میں ہمیشہ رلانے کا سبب بنیں۔
  3. عذاب کی تکمیل اور انتہا کے حوالے سے:
    • حدیث میں "یہاں تک کہ ان کے آنسو خشک ہو جائیں گے" کے الفاظ عذاب کی انتہا کو ظاہر کرتے ہیں۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ جہنم میں نعمتوں کا کوئی شائبہ تک باقی نہیں رہے گا۔ آنسو، جو رحمت الٰہی کا ایک ظلی نشان بھی ہیں، وہ بھی ختم ہو جائیں گے، گویا رحمت کی تمام امیدوں کا خاتمہ ہو جائے گا۔
    • نکتہ: جہنم مکمل محرومی، ناامیدی اور عذاب کی انتہائی صورت ہے۔ یہاں تک کہ رونے جیسی فطری راحت بھی ختم ہو جائے گی۔
  4. حدیث کے درجے کے حوالے سے (تحقیق طلب):
    • یہ روایت البیہقی کی "شعب الایمان" سے نقل کی گئی ہے۔ محدثین کے ہاں اس کی سند پر تفصیلی کلام ہے۔ البانی رحمہ اللہ نے "صحیح الجامع" میں اسے ذکر کیا ہے اور اسے صحیح کہا ہے (حدیث نمبر: 8083)۔ تاہم، دیگر علماء نے بھی اس پر کلام کیا ہے۔
    • اہم سبق: چونکہ یہ روایت ترغیب و ترہیب (ڈرانے والے بیان) سے تعلق رکھتی ہے، اور بعض محققین نے اسے صحیح قرار دیا ہے، اس لیے اس سے عذاب کی ایک کیفیت کا علم ہوتا ہے۔ لیکن عمومی اصول یہی ہے کہ ضعیف احادیث سے عقائد ثابت نہیں ہوتے۔ اگرچہ بعض علماء نے اسے صحیح کہا ہے، لیکن احتیاط کا تقاضا ہے کہ عذاب کی تفصیلات کے اثبات کے لیے انتہائی مستند احادیث کو ترجیح دی جائے۔
  5. عملی سبق اور انذار کے حوالے سے:
    • اس حدیث کا مقصد مومن کے دل میں آخرت کی سزاؤں کا خوف اور دنیا کی بے ثباتی کا احساس پیدا کرنا ہے۔ یہ تصویر بتاتی ہے کہ آخرت کا دکھ صرف جلنے تک محدود نہیں، بلکہ دل کا ٹوٹنا اور روح کا گھٹنا بھی شامل ہے۔
    • نتیجہ: ہمیں ایسے اعمال سے اجتناب کرنا چاہیے جو جہنم کا سبب بنیں، اور ان نیک اعمال کی طرف دوڑنا چاہیے جو جنت اور اللہ کی رضا کا ذریعہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمیں جہنم کے ہر قسم کے عذاب (خواہ جسمانی ہو یا نفسیاتی) سے محفوظ رکھے۔

خلاصہ: یہ حدیث جہنم کے عذاب کے جذباتی اور نفسیاتی پہلو کو اجاگر کرتی ہے، جہاں لوگ شدید پچھتاوے اور اذیت میں اتنا روئیں گے کہ ان کے آنسو خشک ہو جائیں گے۔ یہ مومن کو دنیا میں غفلت اور گناہوں سے ڈراتی ہے اور آخرت کی شدید تر عذابی کیفیات سے آگاہ کرتی ہے۔

 


حدیث نمبر 31

عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ - رضي الله عنهقَالَقَالَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم -: " إِنَّ أَهْلَ النَّارِ لَيَبْكُونَ، حَتَّى لَوْ أُجْرِيَتِ السُّفُنُ فِي دُمُوعِهِمْ لَجَرَتْ، وَإِنَّهُمْ لَيَبْكُونَ الدَّمَ - يَعْنِي مَكَانَ الدَّمْعِ - "


ترجمہ:

حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا"بے شک دوزخ والے اس قدر روئیں گے کہ اگر ان کے آنسوؤں میں کشتیاں چلائی جائیں تو ضرور چلنے لگیں، اور وہ خون روئیں گے - یعنی آنسوؤں کی جگہ خون۔"

[المستدرك على الصحيحين للحاكم: 8791، انظر صحیح الجامع: 2032، السلسلة الصحيحة: 1679]

[الجامع الصحيح للسنن والمسانيد: ج3 ص 217]


حدیث سے حاصل اسباق و نکات:

  1. عذاب کی شدت اور وسعت کے حوالے سے:
    • یہ حدیث جہنم میں پچھتاوے اور رونے کے عذاب کی انتہائی مبالغہ آمیز تشبیہ دے کر اس کی ہولناکی اور وسعت کو سمجھاتی ہے۔ "کشتیوں کا چلنا" ایک استعارہ ہے جو ان کے رونے کی کثرت، مسلسل اور ناقابل تصور مقدار کو بیان کرتا ہے۔
    • نکتہ: یہ بیانات آخرت کے عذاب کی حقیقی شدت کو الفاظ میں بیان کرنے کی انسانی کوشش ہیں، جس کا ادراک اس دنیا میں مکمل طور پر ممکن نہیں۔
  2. نفسیاتی اور جذباتی عذاب کی انتہا کے حوالے سے:
    • رونا ایک فطری ردعمل ہے جو شدید دکھ، حسرت اور بے بسی میں ظاہر ہوتا ہے۔ جہنم میں یہ رونا اتنا شدید اور مسلسل ہوگا کہ اس کی کوئی انتہا نہیں ہوگی۔ یہ صرف جسمانی عذاب ہی نہیں، بلکہ روح اور دل کو چیر دینے والے جذباتی کرب کی علامت ہے۔
    • سبق: یہ حدیث آخرت کی سزا کو صرف جلنے یا مارنے تک محدود نہیں سمجھاتی، بلکہ اس سے کہیں بڑھ کر ایک ہمہ گیر نفسیاتی اذیت کی تصویر پیش کرتی ہے۔
  3. عذاب کی مختلف کیفیات کے حوالے سے:
    • حدیث کے دوسرے حصے "وہ خون روئیں گے" میں عذاب کی ایک نئی کیفیت بیان ہوئی ہے۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ جہنم میں تکالیف کی مختلف شکلیں اور مراحل ہوں گے۔ آنسوؤں کا ختم ہو کر خون میں تبدیل ہو جانا عذاب کی شدت میں مزید اضافے اور بدن کے نظاموں کے درہم برہم ہونے کی علامت ہے۔
    • نکتہ: جہنم کا عذاب جامد نہیں ہوگا، بلکہ اس کی انواع و اقسام اور مراحل ہوں گے، ہر ایک پچھلے سے زیادہ سخت اور ہولناک۔
  4. حدیث کے درجے کے حوالے سے:
    • اس روایت کو حاکم نے اپنی "مستدرک" میں نقل کیا ہے۔ محدث العصر علامہ البانی رحمہ اللہ نے "السلسلة الصحيحة" (1679) میں اسے "حسن" درجے کی حدیث قرار دیا ہے، یعنی اس کی سند قابل قبول ہے۔ نیز "صحیح الجامع" (2032) میں بھی اسے صحیح قرار دیا گیا ہے۔
    • اہم نکتہ: یہ روایت پچھلی روایت (انس بن مالک والی) سے زیادہ قوی سند رکھتی ہے۔ اس سے جہنم والوں کے رونے اور اس کی شدت کا بیان صحیح طور پر ثابت ہوتا ہے، اور اسے عقیدے یا ترہیب کے لیے بطور دلیل پیش کیا جا سکتا ہے۔
  5. عملی سبق اور انذار کے حوالے سے:
    • اس واضح اور ثابت شدہ حدیث کا بنیادی مقصد مومن کو آخرت کی ہولناکیوں سے ڈرانا اور دنیاوی زندگی میں غفلت اور گناہوں سے بچنے کی ترغیب دینا ہے۔
    • حتمی سبق: ہمیں اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو اس عذاب سے بچانے کی ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے۔ اس کا واحد راستہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت، گناہوں سے توبہ اور نیک اعمال میں جلدی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے"اور تم اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو اس آگ سے بچاؤ جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہوں گے۔" (التحریم: 6)۔

 



صِفَةُ أَهْلِ النَّار (جہنم میں جانے والوں کی صفات-پانچ اقسام)

حدیث نمبر 32

(م) , عَنْ عِيَاضِ بْنِ حِمَارٍ الْمُجَاشِعِيِّ - رضي الله عنهقَالَقَالَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم -: " أَهْلُ النَّارِ خَمْسَةٌ: الضَّعِيفُ الَّذِي لَا زَبْرَ لَهُ (١الَّذِينَ هُمْ فِيكُمْ تَبَعٌ , لَا يَبْتَغُونَ (٢أَهْلًا وَلَا مَالًا (٣وَالْخَائِنُ الَّذِي لَا يَخْفَى عَلَيْهِ طَمَعٌ وَإِنْ دَقَّ إِلَّا خَانَهُ , وَرَجُلٌ لَا يُصْبِحُ وَلَا يُمْسِي إِلَّا وَهُوَ يُخَادِعُكَ عَنْ أَهْلِكَ وَمَالِكَ , وَذَكَرَ الْبُخْلَ أَوْ الْكَذِبَ , وَالشِّنْظِيرُ (٤الْفَحَّاشُ " (٥)


ترجمہ:

حضرت عیاض بن حمار مجاشی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (ایک دن اپنے خطبے میں) فرمایا:

"جہنم میں جانے والے پانچ (قسم کے لوگ) ہیں:

  1. وہ کمزور شخص جس میں (صحیح اور غلط کی تمیز کرنے کی) عقل نہیں ہوتی(1)، جو تم میں (دوسروں کے) پیچھے چلنے والا ہوتا ہے(2)، نہ وہ اپنے اہل (خاندان) کی فکر کرتا ہے اور نہ ہی اپنے مال کی۔(3)
  2. وہ خیانت کرنے والا شخص جس کی لالچ (کسی چیز کے لیے طمع) چھپی نہیں رہتی، چاہے وہ چیز کتنی ہی معمولی کیوں نہ ہو، وہ اس میں بھی خیانت کرتا ہے۔
  3. وہ شخص جو صبح و شام (ہر وقتصرف تمہارے اہل و عیال اور تمہارے مال کے بارے میں تمہیں دھوکہ دینے میں لگا رہتا ہے۔
    اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بخل یا جھوٹ کا (بھی) ذکر فرمایا۔(4)
  4. اور بداخلاق، بدزبان شخص۔"(5)

حواشی وحوالہ جات:

(1) یعنی: اس کے پاس وہ (صحیح) عقل نہیں ہوتی جو اسے (برے کاموں سے) روکے اور اس چیز سے منع کرے جو اس کے لیے زیبا نہیں ہے۔

(2) یعنی: وہ (اپنے اہل و عیال کی کفالت اور مال حلال کی) طلب نہیں کرتے۔

(3) پس ایک شخص نے مُطَرِّف بن عبداللہ شیخیر (تابعی) سے پوچھا: اے ابوعبداللہ! کیا (ایسے بے فکر، بے عقل لوگ) واقعی ہوتے ہیں؟ انہوں نے کہا: ہاں، اللہ کی قسم! میں نے انہیں جاہلیت کے دور میں (زندہ) پایا ہے۔ (وہاں تو) ایک آدمی کسی قبیلے کی بکریاں چَرایا کرتا تھا، اس کے پاس (خوش حالی کے لیے) سوائے اس (قبیلے) کی لونڈی کے کچھ نہ تھا جس سے وہ (بدکاری کرتا تھا اور بس)۔

(4) ("الشِّنْظِير"): رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود حدیث ہی میں اس کی تفسیر "الْفَحَّاش" (بدزبان، فحش گو) سے فرمائی ہے، اور وہ بداخلاق، گندی زبان بولنے والا شخص ہوتا ہے۔

(5) (م) صحیح مسلم: 2865، (حم) مسند احمد: 17519


حدیث سے حاصل اسباق و نکات:

  1. پہلی قسم: بے عقل، بے فکر اور اندھے پیروکار کے حوالے سے:
    • یہ وہ شخص ہے جس میں صحیح اور غلط کی تمیز کرنے کی بنیادی عقل (زَبْر) نہیں ہوتی۔ وہ کسی بھی قول یا فعل کی تحقیق اور غوروفکر کیے بغیر، محض دیکھا دیکھی یا جذبات میں بہہ کر دوسروں کی اندھی تقلید کرتا ہے۔ وہ اپنے اعمال کی ذمہ داری نہیں اٹھاتا۔
    • اس کی دوسری علامت یہ ہے کہ وہ اپنے اہل خانہ (بیوی بچے) کی دینی و دنیاوی تربیت اور ان کے حقوق کا خیال نہیں رکھتا، اور نہ ہی اپنے مال کو حلال طریقے سے کمائی اور خرچ کرنے کی فکر کرتا ہے۔
    • سبق: مسلمان کو چاہیے کہ اپنی عقل کو استعمال کرے، تحقیق کرے، دین کی بنیادی سمجھ بوجھ حاصل کرے، اور اندھی تقلید سے بچے۔ ساتھ ہی، اس پر اپنے اہل و عیال کی دینی و اخلاقی تربیت اور اپنی کمائی و خرچ میں دیانت داری کی ذمہ داری ہے۔
  2. دوسری قسم: خائن اور لالچی شخص کے حوالے سے:
    • یہ ایسا شخص ہے جس کی حرص و طمع اس قدر غالب ہوتی ہے کہ معمولی سے معمولی موقع پر بھی وہ خیانت سے باز نہیں آتا۔ اس کا مقصد صرف اپنا فائدہ ہوتا ہے، چاہے وہ کسی کے حق کو مار کر یا دھوکہ دے کر حاصل کرنا پڑے۔
    • سبق: ایمان اور امانت داری لازم و ملزوم ہیں۔ مسلمان کو ہر قسم کی خیانت (چاہے وہ مال کی ہو، راز کی ہو، یا امانت کی ہو) سے بچنا چاہیے، خواہ اسے فائدہ ہی کیوں نہ نظر آئے۔ لالچ انسان کو برائی کی طرف دھکیلتی ہے۔
  3. تیسری قسم: مستقل دھوکہ باز کے حوالے سے:
    • یہ شخص اپنی عادت بنالیتا ہے کہ وہ صبح و شام (یعنی ہر وقت) دوسروں کو ان کے سب سے عزیز ترین معاملات—ان کے گھر والوں اور ان کے مال—میں دھوکہ دینے کی فکر میں لگا رہتا ہے۔ یہ بہت بڑا جرم اور اعتماد کو مکمل طور پر توڑنے والا عمل ہے۔
    • سبق: دھوکہ دہی ایمان کے منافی ہے۔ مسلمان کو اپنے ہر معاملے میں سچا اور شفاف ہونا چاہیے۔ دوسروں کے خاندانی معاملات اور مالی معاملات میں دخل دے کر یا انہیں نقصان پہنچا کر فائدہ اٹھانے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔
  4. چوتھی قسم: بخیل یا جھوٹے شخص کے حوالے سے:
    • حدیث کے ایک روایت میں "بخل" اور دوسری میں "جھوٹ" ذکر ہوا ہے۔ یہ دونوں صفتیں اکٹھی بھی پائی جاتی ہیں۔ بخل انسان کو اللہ کی راہ میں خرچ کرنے، ضرورت مندوں کی مدد کرنے اور حقوق ادا کرنے سے روکتا ہے۔ جھوٹ معاشرے میں اعتماد کی بنیادوں کو ختم کرتا ہے اور فساد کا سبب بنتا ہے۔
    • سبق: سخی بننا اور سچ بولنا ایمان کی علامت ہے۔ مال کی محبت میں اندھا ہو کر حقوق ادا نہ کرنا یا معاملات کو جھوٹ کے ذریعے چلانا انسان کو تباہی کی طرف لے جاتا ہے۔
  5. پانچویں قسم: بداخلاق اور بدزبان شخص کے حوالے سے:
    • "الشِّنْظِيرُ الْفَحَّاشُ" ایسے شخص کو کہتے ہیں جس کی عادت ہی گالی گلوچ، فحش کلامی، لوگوں کی تحقیر اور زبان درازی ہو۔ یہ شخص معاشرے میں نفرت، جھگڑے اور برائی پھیلاتا ہے۔
    • سبق: اسلام میں حسن اخلاق کو بہت اہمیت دی گئی ہے۔ مسلمان کو نرم گفتار، دوسے کی عزت کرنے والا اور پاکیزہ کلام کرنے والا ہونا چاہیے۔ بری زبان استعمال کرنا صرف دوسروں کو ہی نہیں، بلکہ خود استعمال کرنے والے کو بھی جہنم کے قریب لے جاتا ہے۔

خلاصہ: یہ حدیث ہمیں چند ایسی بری عادات اور اخلاقی خرابیوں سے واضح طور پر آگاہ کرتی ہے جو صرف معاشرتی زندگی ہی کو نہیں بگاڑتیں، بلکہ آخرت میں جہنم کا سبب بھی بن سکتی ہیں۔ یہ احادیث ایک انتباہ ہیں تاکہ ہم اپنے اخلاق و اعمال کا جائزہ لیں اور ان کمزوریوں سے توبہ کرکے خود کو درست کریں۔

 



حدیث نمبر 33

عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو - رضي الله عنهماقَالَقَالَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم -: (" أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِأَهْلِ النَّارِ؟ " , قَالُوابَلَى يَا رَسُولَ اللهِ) (١) (قَالَ: " كُلُّ عُتُلٍّ (٢جَوَّاظٍ (٣مُسْتَكْبِرٍ) (٤) (جَعْظَرِيٍّ (٥جَمَّاعٍ (٦مَنَّاعٍ (٧) ") (٨)


ترجمہ:
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "کیا میں تمہیں جہنم والوں (کی خاص صفات) سے آگاہ نہ کروں؟" صحابہ نے عرض کیا: "ضرور، اے اللہ کے رسول!"(١) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "(جہنم والا) ہر وہ شخص ہے جو سخت گیر (عتل)(٢)، بد اخلاق و درشت (٣)، تکبر کرنے والا (٤)، مغرور)، مال اکٹھا کرنے والا(٦) اور (اسے خرچ کرنے سے) باز رہنے والا(٧) ہو۔"(٨)

حوالہ جات:

(١(م) صحیح مسلم:2853
(۲) (العُتُلّ): سخت دل، بے رحم، باطل بات پر سخت جھگڑا کرنے والا۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے: سخت دل، کھردرا اور درشت۔ (تحفة الأحوذي - جلد 6 / صفحہ 401)
(۳) (الْجَوَّاظ): کھردرا، درشت، یعنی برے اخلاق والا۔
(٤(خ) صحیح بخاری:4634، (م) صحیح مسلم:2853
(۵) (الْجَعْظَرِيّ): کھردرا، درشت اور متکبر۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے: وہ شخص جو اپنی تعریف خود کرے اور ایسی باتوں کا دعویٰ کرے جو اس میں موجود نہ ہوں۔
(۶) (الجَمَّاع): مال بہت زیادہ اکٹھا کرنے والا۔
(۷) یعنی: اس (مال) کو دینے (یا خرچ کرنے) سے بہت زیادہ روکنے والا، کنجوس اور اس کے خزانہ کرنے پر تلا ہوا رہنے والا۔
(۸(حم) مسند احمد:7010، "الصحيحة" للالباني:1741، اور محقق شعیب ارناؤوط نے فرمایا: اس کی سند صحیح ہے۔

حدیث سے حاصل اسباق و نکات:

  1. پہلا وصف 'عُتُل' (سخت گیر، جفا کار) کے حوالے سے:
    • اس لفظ کا معنی ہے وہ شخص جو نہایت سخت دل، جفا کار اور بے رحم ہو، جو لوگوں کے ساتھ سختی سے پیش آئے اور باطل بات پر بھی جھگڑا کرنے والا ہو .
    • سبق: اسلام نے نرم خوئی، رحم دلی اور دوسروں کے ساتھ نرمی و شفقت سے پیش آنے کی تلقین کی ہے۔ اس وصف سے بچنا ضروری ہے کیونکہ یہ انسان کو دوسروں کے حقوق پامال کرنے اور معاشرے میں عداوت پھیلانے پر آمادہ کرتا ہے۔
  2. دوسرا وصف 'جَوَّاظ' (بد اخلاق، درشت) کے حوالے سے:
    • یہ وہ شخص ہے جس کا اخلاق نہایت برا اور اس کی گفتگو سخت و درشت ہو۔ وہ لوگوں سے کھردرا برتاؤ کرتا ہے اور اس کی باتوں میں تلخی ہوتی ہے۔
    • سبق: حسن اخلاق اسلام کا بنیادی تقاضا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نرم گفتار تھے۔ اس وصف سے بچنے کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنی زبان اور برتاؤ کو نرم اور مؤدبانہ رکھے۔
  3. تیسرا وصف 'مُسْتَكْبِر' (تکبر کرنے والا) کے حوالے سے:
    • تکبر ایک ایسا قبیح اخلاق ہے جس میں انسان اپنے آپ کو دوسروں سے بہتر سمجھتا ہے۔ قرآن و حدیث میں تکبر کرنے والوں کی مذمت کی گئی ہے اور ان کے لیے جہنم کی وعید سنائی گئی ہے۔
    • سبق: انسان کو اپنے اندر عاجزی اور انکساری پیدا کرنی چاہیے۔ یہ یاد رکھنا چاہیے کہ تمام تر تعریف و بزرگی صرف اللہ تعالیٰ کے لیے ہے۔ تکبر انسان کو گمراہی کی طرف لے جاتا ہے اور اسے جہنم میں داخل کر سکتا ہے۔
  4. چوتھا وصف 'جَعْظَرِي' (مغرور اور اپنی تعریف کرنے والا) کے حوالے سے:
    • یہ شخص نہ صرف متکبر ہوتا ہے بلکہ اپنی تعریف خود کرتا ہے اور ایسی باتوں کا دعویٰ کرتا ہے جو اس میں موجود نہیں ہوتیں۔
    • سبق: اپنی تعریف کرنا اور اپنے آپ کو بڑا ظاہر کرنا مذموم ہے۔ مومن کو چاہیے کہ وہ اپنی خوبیوں کو چھپائے اور اللہ کی نعمتوں پر شکر ادا کرے۔
  5. پانچواں وصف 'جَمَّاع' (مال اکٹھا کرنے والا) کے حوالے سے:
    • یہ وہ شخص ہے جو حلال و حرام کی تمیز کیے بغیر محض دنیاوی لالچ میں مال و دولت جمع کرنے میں لگا رہتا ہے۔ وہ اسے صرف گننے اور جمع کرنے کی حد تک ہی استعمال کرتا ہے۔
    • سبق: مال ایک آزمائش ہے۔ اسے حلال طریقے سے کمانا اور اللہ کی راہ میں خرچ کرنا ضروری ہے۔ مال کو محض جمع کرتے رہنے اور اس میں کنجوسی کرنے کی مذمت قرآن مجید میں بھی آئی ہے۔
  6. چھٹا وصف 'مَنَّاع' (بخیل، خرچ کرنے سے روکنے والا) کے حوالے سے:
    • یہ صفت 'جماع' سے ملتی جلتی ہے۔ یہ شخص نہ صرف مال جمع کرتا ہے بلکہ اسے خرچ کرنے سے بھی گریز کرتا ہے، چاہے وہ حق اللہ ہو یا حق العباد۔ وہ مال کے استعمال میں کنجوسی اور بخل سے کام لیتا ہے۔
    • سبق: اسلام سخاوت اور خرچ کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔ مال میں غریبوں، مسکینوں اور رشتہ داروں کا حق ہے۔ بخل رکھنے سے نہ صرف انسان کا مال ضائع ہوتا ہے بلکہ یہ اسے آخرت میں سخت عذاب میں بھی مبتلا کر سکتا ہے۔

خلاصہ: یہ حدیث ہمیں چھ ایسی خطرناک اخلاقی بیماریوں سے آگاہ کرتی ہے جو انسان کو جہنم کی طرف لے جاتی ہیں۔ ان میں درشتی، بد اخلاقی، تکبر، غرور، مال کی محبت اور بخل شامل ہیں۔ ایک مومن کو ان تمام بری صفات سے بچنے کی حتی الامکان کوشش کرنی چاہیے اور ان کے برعکس صفات مثلاً نرمی، خوش اخلاقی، عاجزی، انکساری، سخاوت اور اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کی عادت اپنانی چاہیے۔ یہ حدیث ہمارے لیے ایک انتباہ ہے کہ ہم اپنے اخلاق و اعمال کا جائزہ لیں اور ان خرابیوں سے توبہ کر کے اللہ کی پناہ طلب کریں۔

 




حدیث نمبر 34

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رضي الله عنهقَالَقَالَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم -: (" تَحَاجَّتْ النَّارُ وَالْجَنَّةُ، فَقَالَتْ النَّارُأُوثِرْتُ بِالْمُتَكَبِّرِينَ وَالْمُتَجَبِّرِينَ وَقَالَتْ الْجَنَّةُ: مَا لِي لَا يَدْخُلُنِي إِلَّا ضُعَفَاءُ النَّاسِ وَسَقَطُهُمْ (١وَعُجَّزُهُمْ (٢)؟فَقَالَ اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى لِلْجَنَّةِأَنْتِ رَحْمَتِي أَرْحَمُ بِكِ مَنْ أَشَاءُ مِنْ عِبَادِي، وَقَالَ لِلنَّارِأَنْتِ عَذَابِي أُعَذِّبُ بِكِ مَنْ أَشَاءُ مِنْ عِبَادِي) (٣) (وَلِكُلِّ وَاحِدَةٍ مِنْكُمَا عَلَيَّ مِلْؤُهَا، فَأَمَّا النَّارُ فلَا تَمْتَلِئُ حَتَّى يَضَعَ اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى رِجْلَهُ) (٤وفي رواية: (قَدَمَهُ عَلَيْهَا) (٥) (فَهُنَالِكَ تَمْتَلِئُ, وَيُزْوَى بَعْضُهَا إِلَى بَعْضٍ (٦فَتَقُولُ: قَطْ (٧قَطْ, قَطْ) (٨) (بِعِزَّتِكَ وَكَرَمِكَ) (٩) (وَلَا يَظْلِمُ اللهُ - عز وجل - مِنْ خَلْقِهِ أَحَدًا, وَأَمَّا الْجَنَّةُ) (١٠) (فَيَبْقَى فِيهَا مَا شَاءَ اللهُ أَنْ يَبْقَى) (١١) (فَيُنْشِئُ لَهَا خَلْقًا , فَيُسْكِنَهُمْ فَضْلَ الْجَنَّةِ ") (١٢)


ترجمہ:

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
"جہنم اور جنت نے (اپنے اپنے حالات پر) ایک دوسرے سے (اللہ کے حضور) بحث کی۔ جہنم نے کہا: مجھ میں تو متکبر اور ظالم لوگ (بڑے بڑے) داخل کیے گئے ہیں۔ اور جنت نے کہا: مجھ میں تو صرف لوگوں کے کمزور، حقیر(١) اور بے بس (سمجھے جانے والے) ہی کیوں داخل ہوتے ہیں؟(۲) تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے جنت سے فرمایا: تو میری رحمت ہے، میں اپنے بندوں میں سے جسے چاہوں گا تجھ پر رحم کروں گا۔ اور جہنم سے فرمایا: تو میرا عذاب ہے، میں اپنے بندوں میں سے جسے چاہوں گا تجھ سے عذاب دوں گا۔(٣) اور تم دونوں میں سے ہر ایک کا (آبادی میں سے اپنا) حصہ مجھ پر (بھرنا) لازم ہے۔ پس رہی جہنم، تو وہ اس وقت تک بھری نہیں جائے گی جب تک کہ اللہ تبارک و تعالیٰ اس پر اپنی پنڈلی (اپنی شان کے مطابق) نہ رکھ دے۔"(٤) اور ایک روایت میں ہے: "(اپنا قدم اس پر رکھے)"(٥) "پھر وہ (تب) بھر جائے گی اور اس کے (حصوں کو) ایک دوسرے سے ملا دیا جائے گا،) پس وہ کہے گی: بس!(٧) بس! بس!(٨) تیری عزت اور کرم کی قسم!(٩) اور اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق میں سے کسی پر ذرہ برابر بھی ظلم نہیں کرے گا۔ اور رہی جنت،(١٠) تو اس میں اللہ کے بقدر (مقامات اور نعمتیں) باقی رہیں گی جتنا اللہ چاہے گا کہ باقی رہیں،(١١) پھر اللہ (اس خالی جگہ کے لیے) نئی مخلوق پیدا فرمائے گا اور انہیں جنت کے اس اضافی حصے میں بسائے گا۔"(١٢)

حوالہ جات:

(١) (سقط) کا جمع ہے، اور اس سے مراد وہ شخص ہے جو پست مرتبہ ہے، جس کی کوئی قدر و منزلت نہیں سمجھی جاتی۔ اور "سقط المتاع" (گھٹیا سامان) کا مطلب ہے: اس کا ردی اور کم ترین حصہ۔ (فتح الباری، جلد 21 / صفحہ 22)
(۲یعنی: وہ لوگ جو دنیا کی طلب، اس میں مستحکم ہونے، دولت و طاقت حاصل کرنے سے عاجز ہیں۔ اس سے مراد اہل ایمان ہیں جو (دنیاوی معاملات میں) شکوک و شبہات میں نہیں پڑتے اور شیاطین نے ان کے دلوں میں اس قسم کی (دنیا پرستی کی) وسوسہ اندازی نہیں کی۔ پس وہ صحیح عقائد اور ثابت قدم ایمان والے لوگ ہیں، اور یہی اکثریت ہیں۔ رہے اہل علم و معرفت، تو وہ ان کے مقابلے میں تعداد میں کم ہیں۔ (فتح الباری جلد 21 / صفحہ 22، النووی 9/229)
(٣(م) صحیح مسلم:2846، (خ) صحیح بخاری:4569
(٤) (م) صحیح مسلم:2847، (خ) صحیح بخاری:4569
(٥(م) صحیح مسلم:2846
یعنی: اس (جہنم) کے بعض حصوں کو بعض کے ساتھ ملایا جائے گا، پس وہ (عذاب میں) اکٹھی ہو جائے گی اور اس میں موجود لوگوں پر یکساں طاری ہو جائے گی۔ (النووی 9/229)
(٧) یعنی: میرے لیے کافی ہے، یہ (عذاب) مجھے (بھرنے کے لیے) کافی ہے۔
(٨(م) صحیح مسلم:2847، (خ) صحیح بخاری:4569
(٩(خ) صحیح بخاری:6949، (م) صحیح مسلم:2848
(١٠(م) صحیح مسلم:2847، (خ) صحیح بخاری:4569
(١١(م) صحیح مسلم:2848
(١٢) (خ) صحیح بخاری:6949

حدیث سے حاصل اسباق ونکات:

  1. تکبر و غرور کی ہلاکت کے حوالے سے: جہنم کا یہ کہنا کہ اس میں متکبرین و متجبرین (تکبر اور جبر کرنے والے) بھیجے گئے ہیں، ان خطرناک اخلاقی بیماریوں پر واضح انتباہ ہے۔ یہ صفات انسان کو اس قابل بنا دیتی ہیں کہ وہ اپنے آپ کو دوسروں سے بڑا سمجھے، ان پر ظلم کرے اور حق کو قبول نہ کرے، جو جہنم کی طرف لے جاتی ہیں۔
    • سبق: عاجزی اور انکساری اختیار کرنی چاہیے۔ دنیاوی طاقت، مال یا علم پر فخر کرنا انسان کو تباہی میں ڈال دیتا ہے۔
  2. ضعیف اور کم تر سمجھے جانے والے مومنوں کی قدر و منزلت کے حوالے سے: جنت کا یہ کہنا کہ اس میں ضعفاء الناس و سقطھم و عجزھم (لوگوں کے کمزور، حقیر اور بے بس) داخل ہوتے ہیں، درحقیقت ان مومنوں کی تعریف ہے جنہیں دنیا نظرانداز کرتی ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو دنیا کی دوڑ اور نمود و نمائش میں پیچھے رہ گئے، لیکن ان کا ایمان صحیح، عمل خالص اور دل پاک تھا۔
    • سبق: انسان کی اللہ کے ہاں قدر و منزلت کا معیار اس کی دنیاوی حیثیت نہیں، بلکہ اس کا ایمان، تقویٰ اور اخلاص ہے۔ غریبوں، کمزوروں اور بظاہر غیر اہم لوگوں کو حقیر نہیں سمجھنا چاہیے، کیونکہ وہ اللہ کے ہاں بہت عزیز ہو سکتے ہیں۔
  3. اللہ کی کامل حکمت، عدل اور مالکیت کے حوالے سے: اللہ تعالیٰ کے جنت و جہنم سے کیے گئے خطاب "أنت رحمتي" اور "أنت عذابي" سے دو اہم باتیں واضح ہوتی ہیں:
    • پہلی: جنت صرف اللہ کی رحمت ہے، اس کا کوئی حق نہیں۔ کوئی شخص اپنے اعمال کے بل بوتے پر جنت کا مستحق نہیں بن سکتا، یہ محض اللہ کا فضل اور رحمت ہے جسے وہ چاہے اپنے بندوں پر نازل فرمائے۔
    • دوسری: ہر چیز کا مالک اور مختار صرف اللہ ہے۔ وہ جسے چاہے رحمت سے نوازے اور جسے چاہے عذاب دے، اس پر کسی کو کوئی اعتراض نہیں۔
    • سبق: بندے کو ہمیشہ اللہ کی رحمت کا امیدوار اور اس کے عذاب سے خائف رہنا چاہیے۔ اپنے اعمال پر ناز نہ کرے، بلکہ اللہ کے فضل کا محتاج سمجھے۔
  4. جہنم کی وسعت اور اس کے بھرنے کے واقعے کے حوالے سے: حدیث میں "قدمہ علیها" (اپنا قدم اس پر رکھے) کا بیان انتہائی عجیب اور ہولناک ہے جو جہنم کی لامحدود گہرائی اور وسعت کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ ایک ایسا معجزاتی واقعہ ہوگا جس کے بعد جہنم پھٹ پڑے گی اور بھر جائے گی۔
    • سبق: جہنم کا عذاب انتہائی شدید اور اس کی گنجائش بہت زیادہ ہے۔ اس سے ڈر کر ہر قسم کے گناہوں سے بچنا چاہیے۔
  5. اللہ کی کامل عدالت کے حوالے سے: اللہ تعالیٰ کا فرمان "وَلا يَظْلِمُ اللهُ مِنْ خَلْقِهِ أَحَدًا" اس بات کی ضمانت ہے کہ قیامت کے دن ہر شخص کو اس کے چھوٹے بڑے ہر عمل کا پورا پورا بدلہ ملے گا۔ کوئی ایک ذرہ برابر نیکی یا بدی رائیگاں نہیں جائے گی۔
    • سبق: انسان کو اپنے ہر عمل کی ذمہ داری محسوس کرنی چاہیے۔ اللہ کی عدالت کامل ہے، وہاں سے کوئی چھپ کر یا سفارش سے نہیں بچ سکے گا۔
  6. جنت کی لامحدود وسعت اور اضافی نعمتوں کے حوالے سے: حدیث کے آخر میں جنت کے "فضل" (اضافی حصے) کا ذکر اور اس میں نئی مخلوقات کو بسائے جانے کا بیان جنت کی بے پایاں وسعت اور اللہ کی نعمتوں کی کوئی انتہا نہ ہونے کی دلیل ہے۔
    • سبق: جنت کی نعمتیں ہماری سوچ و فہم سے بالا تر ہیں۔ اللہ کی رحمت اس کے غضب پر غالب ہے۔ مومن کو ہمیشہ جنت کی امید رکھنی چاہیے اور اس کے حصول کی کوشش کرنی چاہیے۔

خلاصہ: یہ حدیث ہمیں جنت و جہنم کی حقیقت، اللہ کی حکمت و عدل، تکبر کی مذمت اور عاجزوں کی فضیلت سمجھاتی ہے۔ یہ ہمارے دل میں آخرت کا خوف اور امید دونوں پیدا کرتی ہے، تاکہ ہم گناہوں سے بچیں اور نیکیوں کی طرف دوڑیں۔

 





غیر موحدین (کافروں) کا عذاب میں ہمیشہ رہنا

القرآن:

اللہ تعالیٰ نے فرمایا"بے شک جن لوگوں نے کفر کیا اور ظلم کیا، اللہ انہیں ہرگز نہ بخشے گا اور نہ ہی انہیں کوئی راستہ دکھائے گا، سوائے دوزخ کے راستہ کے جس میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے، اور یہ اللہ پر بالکل آسان ہے۔" (سورۃ النساء: 168-169)

  1. اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا"بے شک اللہ نے کافروں پر لعنت فرمائی ہے اور ان کے لیے بھڑکتی ہوئی آگ تیار کر رکھی ہے، جس میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے، نہ کوئی حمایتی پائیں گے اور نہ کوئی مددگار۔" (سورۃ الاحزاب: 64-65)
  2. اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا"بے شک جن لوگوں نے ہماری آیات کا انکار کیا، ہم انہیں عنقریب آگ میں جھونکیں گے، جب بھی ان کی کھالیں پک جائیں گی ہم ان کی کھالیں بدل دیں گے تاکہ وہ عذاب (کا مزہ) چکھتے رہیں۔" (سورۃ النساء: 56)
  3. اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا"بے شک جو شخص اپنے رب کے پاس مجرم بن کر آئے گا اس کے لیے دوزخ ہے، جس میں نہ وہ مرے گا اور نہ جیئے گا۔" (سورۃ طہ: 74)
  4. اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا"اور جنہوں نے کفر کیا ان کے لیے دوزخ کی آگ ہے، نہ ان کے بارے میں فیصلہ کیا جائے گا کہ مر جائیں (اور عذاب ختم ہو) اور نہ ہی ان کے عذاب میں کچھ تخفیف کی جائے گی۔ ہم ہر ناشکرے شخص کو اسی طرح سزا دیتے ہیں۔ اور وہ اس میں چیخ رہے ہوں گے: اے ہمارے رب! ہمیں باہر نکال، ہم نیک عمل کریں گے، ان اعمال کے خلاف جو ہم کرتے تھے۔ کیا ہم نے تمہیں اتنی عمر نہیں دی کہ اس میں جو نصیحت حاصل کرنا چاہے سوچ سکتا؟ اور تمہارے پاس ڈر سنانے والا (رسول) بھی آچکا تھا۔ پس (اب عذاب کا) مزہ چکھو، ظالموں کا کوئی مددگار نہیں ہوگا۔" (سورۃ فاطر: 36-37)
  5. اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا"اور (اے رسول!) اگر آپ اس وقت کو دیکھیں جب مجرم لوگ اپنے رب کے حضور سر جھکائے ہوں گے (کہہ رہے ہوں گے) اے ہمارے رب! ہم نے دیکھ لیا اور سن لیا، پس ہمیں واپس بھیج دیجیے، ہم نیک عمل کریں گے، ہم (اب) یقین رکھते ہیں۔ (اللہ فرمائے گا:) اگر ہم چاہتے تو ہر شخص کو اس کی ہدایت عطا فرما دیتے، لیکن میری طرف سے یہ بات پکے طور پر طے ہو چکی ہے کہ میں جہنم کو جنوں اور انسانوں ( کے گناہگاروں ) سے ضرور بھر دوں گا۔ پس (ان سے کہا جائے گا:) چکھو اس وجہ سے کہ تم اپنے اس دن کی ملاقات کو بھول گئے تھے، (اب) ہم بھی تمہیں بھلا دیتے ہیں، اور ہمیشہ رہنے والے عذاب کا مزہ چکھو اس بدلے میں جو تم کرتے رہے ہو۔" (سورۃ السجدۃ: 12-14)

حدیث سے حاصل اسباق ونکات:

  1. کفر اور شرک کی سنگینی اور اس کے ابدی نتائج کے حوالے سے: ان تمام آیات میں ایک مشترکہ بات کفر پر اللہ کی سخت ترین وعید ہے۔ اللہ تعالیٰ نے صاف فرمایا ہے کہ جو شخص شرک اور کفر پر مرے گا، اس کی بخشش نہیں ہوگی اور اس کے لیے جہنم کا دائمی عذاب ہے۔ یہ عذاب "خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا" (ہمیشہ ہمیشہ اس میں رہنے والے) کے الفاظ سے واضح ہے۔
    • سبق: توحید (اللہ کی وحدانیت کا اقرار) نجات کی بنیادی شرط ہے۔ کفر و شرک سے بچنا ہر انسان کی پہلی اور سب سے بڑی ذمہ داری ہے، کیونکہ یہی وہ گناہ ہے جسے اللہ معاف نہیں فرماتا اگر انسان اسی حالت میں فوت ہو جائے۔
  2. جہنم کے عذاب کی نوعیت اور اس کی شدت کے حوالے سے: آیات میں عذاب کی مختلف ہولناک کیفیات بیان ہوئی ہیں:
    • عذاب کا تسلسل: کھالیں جل کر ختم ہو جائیں گی تو نئی کھالیں پیدا کر دی جائیں گی تاکہ عذاب کا احساس برقرار رہے (آیت 3)۔
    • نہ موت نہ زندگی: ایسی حالت کہ نہ تو وہ مر کر عذاب سے چھٹکارا پا سکیں گے اور نہ ہی زندگی کے معمول کے مزے (آیت 4)۔
    • نہ تخفیف نہ فرار: نہ عذاب ہلکا ہوگا اور نہ ہی اس سے نکلنے کا کوئی راستہ ہوگا (آیت 5)۔
    • سبق: جہنم کا عذاب محض ایک جذباتی خیال نہیں، بلکہ ایک حقیقی، مسلسل اور ناقابل برداشت جسمانی و روحانی تکلیف ہے جس سے فرار کا کوئی راستہ نہیں۔
  3. قیامت کے دن پچھتاوے اور توبہ کی قبولیت نہ ہونے کے حوالے سے: آیات (5 اور 6) میں مجرموں کی اس التجا کا ذکر ہے کہ "ہمیں دنیا میں واپس بھیج دیجیے، ہم نیک عمل کریں گے۔" لیکن اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جب زندگی کا وقت گزر گیا اور موت آگئی تو پھر توبہ اور عمل کا موقع ختم ہو جاتا ہے۔
    • سبق: دنیا عمل کی جگہ ہے، آخرت نتیجہ بھگتنے کی۔ قیامت کے دن پچھتانے سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ انسان کو چاہیے کہ اپنی مختصر سی عمر میں ہی جو موقع ملا ہے اس میں اللہ کی اطاعت کرے اور اپنے اعمال درست کر لے۔
  4. اللہ کی کامل حکمت اور عدل کے حوالے سے: آیت (6) میں اللہ کا فرمان "وَلَكِنْ حَقَّ الْقَوْلُ مِنِّي" (لیکن میری طرف سے بات پکی ہو چکی ہے) اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ یہ ابدی عذاب اللہ کی حکمت اور عدل کے مطابق ہے۔ اللہ نے ہدایت کے تمام ذرائع مہیا کیے، رسول بھیجے، لیکن جنہوں نے سرکشی اور انکار کو اختیار کیا، ان کے لیے یہی انجام ہے۔
    • سبق: اللہ کسی پر ظلم نہیں کرتا۔ جہنم میں داخلہ انسان کے اپنے اختیار کردہ کفر، شرک اور نافرمانی کے اعمال کا نتیجہ ہے۔ اللہ نے پہلے ہی واضح انذار کر دیا تھا۔
  5. موت سے پہلے توبہ اور ایمان کی فوری ضرورت کے حوالے سے: ان آیات کا مجموعی پیغام ایک واضح انذار (ڈرانا) اور تبشیر (خوشخبری) ہے۔ یہ ان لوگوں کے لیے ڈراوا ہے جو کفر و شرک پر ہیں کہ وہ فوراً توبہ کرکے اسلام قبول کر لیں۔ اور ان مومنین کے لیے خوشخبری ہے جو توحید پر قائم ہیں کہ انہیں یہ دائمی عذاب نہیں بھگتنا پڑے گا۔
    • سبق: ہر انسان کو چاہیے کہ اپنے عقیدے کا جائزہ لے۔ اگر اس میں شرک یا کفر کی کوئی آمیزش ہے تو فوراً توبہ کرے اور خالص توحید کی طرف لوٹے۔ یہی ابدی نجات کا واحد ذریعہ ہے۔

خلاصہ: یہ آیات اس اسلامی عقیدے کی واضح ترین دلیل ہیں کہ جو شخص کفر (اللہ کے وجود، اس کی وحدانیت، اس کے رسولوں یا اس کی کتابوں کے انکار) پر مرے گا، اس کے لیے جہنم کا عذاب دائمی اور لازمی ہے۔ یہ عذاب نہ ختم ہونے والا، نہ ہلکا ہونے والا اور نہ ہی اس سے نکلنے کا موقع ملنے والا ہے۔ اس سے بچنے کا واحد راستہ دنیا کی زندگی میں ہی اللہ کی توحید کو پہچاننا، اس پر ایمان لانا اور اسی پر ثابت قدم رہنا ہے۔




حدیث نمبر 35

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رضي الله عنهقَالَقَالَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم -: (" إِذَا أَدْخَلَ اللهُ أَهْلَ الْجَنَّةِ الْجَنَّةَ, وَأَهْلَ النَّارِ النَّارَ، أُتِيَ بِالْمَوْتِ) (١) (كَبْشًا أَمْلَحاً (٢)) (٣) (مُلَبَّبًا (٤فَيُوقَفُ عَلَى السُّورِ بَيْنَ أَهْلِ الْجَنَّةِ وَأَهْلِ النَّارِ، ثُمَّ يُقَالُيَا أَهْلَ الْجَنَّةِ، فَيَطَّلِعُونَ خَائِفِينَ) (٥) (وَجِلِينَ أَنْ يُخْرَجُوا مِنْ مَكَانِهِمْ الَّذِي هُمْ فِيهِ) (٦) (ثُمَّ يُقَالُ: يَا أَهْلَ النَّارِ، فَيَطَّلِعُونَ مُسْتَبْشِرِينَ) (٧) (فَرِحِينَ أَنْ يُخْرَجُوا مِنْ مَكَانِهِمْ الَّذِي هُمْ فِيهِ) (٨) (وَيَرَوْنَ أَنْ قَدْ جَاءَ الْفَرَجُ) (٩) (فَيُقَالُ لِأَهْلِ الْجَنَّةِ وَأَهْلِ النَّارِ) (١٠) (-وَكُلُّهُمْ قَدْ رَآهُ-:) (١١) (هَلْ تَعْرِفُونَ هَذَا؟فَيَقُولُ هَؤُلَاءِ وَهَؤُلَاءِقَدْ عَرَفْنَاهُ , هُوَ الْمَوْتُ الَّذِي وُكِّلَ بِنَا، قَالَفَيُؤْمَرُ بِهِ فَيُضْجَعُ , فَيُذْبَحُ ذَبْحًا عَلَى السُّورِ الَّذِي بَيْنَ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ) (١٢) (ثُمَّ يُقَالُ لِلْفَرِيقَيْنِ كِلَاهُمَا: يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ , خُلُودٌ فِيمَا تَجِدُونَ، لَا مَوْتَ فِيهَا أَبَدًا، وَيَا أَهْلَ النَّارِ , خُلُودٌ فِيمَا تَجِدُونَ، لَا مَوْتَ فِيهَا أَبَدًا) (١٣) (فَيَزْدَادُ أَهْلُ الْجَنَّةِ فَرَحًا إِلَى فَرَحِهِمْ، وَيَزْدَادُ أَهْلُ النَّارِ حُزْنًا إِلَى حُزْنِهِمْ) (١٤)

وفي رواية: (فَيَأمَنُ هَؤُلَاءِ، وَيَنْقَطِعُ رَجَاءُ هَؤُلَاءِ) (١٥) (ثُمَّ قَرَأَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم -: {وَأَنْذِرْهُمْ يَوْمَ الْحَسْرَةِ إِذْ قُضِيَ الْأَمْرُ وَهُمْ فِي غَفْلَةٍ - وَهَؤُلَاءِ فِي غَفْلَةٍ أَهْلُ الدُّنْيَا - وَهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ} (١٦) ") (١٧)


 ترجمہ:

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
"جب اللہ تعالیٰ اہل جنت کو جنت میں اور اہل دوزخ کو دوزخ میں داخل فرما دے گا، تو موت کو لایا جائے گا(١)، ایک سفید رنگ کا مینڈھا بنا کر)،(٣) جسے (ذبح کے لیے) پکڑ رکھا گیا ہوگا۔) پھر اسے جنت اور دوزخ کے درمیان موجود دیوار پر کھڑا کیا جائے گا۔ پھر اعلان کیا جائے گااے اہل جنت! تو وہ (جھانک کر) دیکھیں گے، خوفزدہ(٥) اور ڈرتے ہوئے کہ کہیں انہیں ان کی اس جگہ سے نکالا تو نہیں جائے گا جس میں وہ ہیں۔(٦) پھر اعلان کیا جائے گااے اہل دوزخ! تو وہ (جھانک کر) دیکھیں گے، خوشی سے پُر،(٧) یہ امید کرتے ہوئے کہ شاید انہیں اس جگہ سے نکال لیا جائے گا جس میں وہ ہیں،(٨) اور وہ سمجھیں گے کہ اب (آخرکار) چھٹکارے کی گھڑی آ گئی ہے۔(٩) پھر اہل جنت اور اہل دوزخ دونوں سے کہا جائے گا -(١٠اور سب کے سب اس (موت) کو دیکھ رہے ہوں گے -(١١): کیا تم اسے پہچانتے ہو؟ تو یہ اور وہ (دونوں گروہ) کہیں گے: ہم نے اسے پہچان لیا ہے، یہ وہی موت ہے جسے ہمارے اوپر مقرر کیا گیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر موت کو حکم دیا جائے گا، تو اسے لٹایا جائے گا اور جنت و دوزخ کے درمیان اس دیوار پر ذبح کر دیا جائے گا۔(١٢) پھر دونوں گروہوں سے کہا جائے گااے اہل جنت! (اب) ہمیشہ رہنا ہے اس (نعمت) میں جو تم پا رہے ہو، اس میں اب کبھی موت نہیں آئے گی۔ اور اے اہل دوزخ! (اب) ہمیشہ رہنا ہے اس (عذاب) میں جو تم پا رہے ہو، اس میں اب کبھی موت نہیں آئے گی۔(١٣) پس اہل جنت اپنی خوشی پر مزید خوش ہوں گے اور اہل دوزخ اپنے غم پر مزید غمگین ہوں گے۔"(١٤)

اور ایک روایت میں ہے: "(اس وقت) یہ (اہل جنت) اطمینان پا جائیں گے، اور ان (اہل دوزخ) کی امید بالکل ٹوٹ جائے گی۔"(١٥) پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (درج ذیل آیت) تلاوت فرمائی"اور آپ انہیں اس حسرت کے دن سے ڈرائیں جب (ہر) کام طے ہو چکا ہو گا، اور وہ (دنیا میں ہی) غفلت میں ہوں گے، اور وہ ایمان نہیں لاتے۔" (١٦) (١٧)

حوالہ جات:

(١(ت) سنن ترمذی:2557
) (الْأَمْلَحُ): وہ (مینڈھا) جس کی سفیدی اس کی سیاہی سے زیادہ ہو۔
(٣(خ) صحیح بخاری:4453، (م) صحیح مسلم:2849
) (لَبَّبَهُ تَلْبِيبًا): اس (مینڈھے) کے گلے میں ہاتھ ڈال کر اس کے کپڑوں (یا جسم) کو ذبح کی جگہ پر جمع کرنا اور پھر اسے گھسیٹ کر لے جانا۔ (تحفة الأحوذي: جلد 6 / صفحہ 350)
(٥) (ت) سنن ترمذی:2557، (خ) صحیح بخاری:4453
(٦) (جة)سنن  ابن ماجہ:4327، مسند احمد:7537
(٧(ت) سنن ترمذی:2557
(٨) (جة)سنن  ابن ماجہ:4327، مسند احمد:7537
(٩) (حم)مسند احمد:9463، الشیخ شعیب ارناؤوط نے فرمایا: اس کی سند حسن ہے۔)
(١٠(ت) سنن ترمذی:2557
(١١(خ) صحیح بخاری:4453
(١٢(ت) سنن ترمذی:2557، (م) صحیح مسلم:2849
(١٣) (جة)سنن  ابن ماجہ:4327، (حم)مسند احمد:7537، (خ)صحیح بخاری:4453
(١٤(خ) صحیح بخاری:6182، (م) صحیح مسلم:2850
(١٥) مسند ابویعلیٰ:2898، انظر صحیح الترغیب والترہیب:3774
(١٦سورۃ مریم:39
(١٧(خ) صحیح بخاری:4453، (م) صحیح مسلم:2849

حدیث سے حاصل اسباق ونکات:

  1. موت کی حقیقی اور مجسم صورت کے حوالے سے: یہ حدیث قیامت کے ایک عظیم الشان اور ناقابل تصور واقعے کو بیان کرتی ہے، جہاں موت، جسے ہم ایک غیر مرئی قدر سمجھتے ہیں، کو اللہ تعالیٰ ایک سفید مینڈھے کی صورت میں مجسم کر کے سب کے سامنے پیش فرمائے گا۔ یہ اللہ کی لامحدود قدرت کی ایک نشانی ہے کہ وہ ہر چیز کو اپنے حکم سے نئی شکل دے سکتا ہے۔
    • سبق: موت ایک حقیقت ہے اور اس کا ایک وجود ہے۔ اس کا یہ مجسم ہونا اس بات کی علامت ہے کہ آخرت میں ہر چیز اپنی اصلی اور واضح حقیقت کے ساتھ ظاہر ہوگی۔
  2. اہل جنت اور اہل جہنم کی نفسیاتی کیفیت کے فرق کے حوالے سے: حدیث میں دونوں گروہوں کے ردعمل میں زمین آسمان کا فرق دکھایا گیا ہے۔ اہل جنت کو جب پکارا جاتا ہے تو ان کے دل میں خوف اور گھبراہٹ ہوتی ہے کہ کہیں ان کی نعمت چھن نہ جائے۔ یہ ان کی نعمت کی قدردانی، عاجزی اور اللہ کے احکام کے سامنے ادب کی علامت ہے۔ اس کے برعکس، اہل جہنم سراسر خوشی اور امید کے ساتھ جھانکتے ہیں کہ شاید اب انہیں عذاب سے نجات مل جائے۔ یہ ان کی سابقہ غفلت اور آخرت کے معاملے میں بے فکری کی عکاسی ہے۔
    • سبق: مومن کو ہمیشہ اللہ کی نعمتوں پر شکر گزار اور اس کے عذاب سے ڈرنے والا ہونا چاہیے۔ کبھی بھی اپنے اعمال پر ناز نہ کرے یا یہ گمان نہ کرے کہ جنت پر اس کا حق ہے۔
  3. موت کے ذبح ہونے اور ہمیشہ کی زندگی کے اعلان کے حوالے سے: حدیث کا مرکزی سبق یہ ہے کہ موت کو خود ذبح کر دیا جائے گا۔ اس کے بعد اہل جنت کے لیے خوف اور اہل جہنم کے لیے امید، دونوں ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائیں گے۔ اہل جنت کے لیے یہ ابدی زندگی کی خوشخبری ہے، جبکہ اہل جہنم کے لیے یہ ابدی عذاب کا فیصلہ ہے۔
    • سبق: دنیا کی زندگی عارضی ہے اور یہاں موت ایک مسلمہ حقیقت ہے۔ لیکن آخرت کی زندگی ہمیشہ کی ہے، جہاں نہ موت ہوگی نہ فنا۔ لہٰذا ہمیں اپنی توجہ اسی ہمیشہ کی زندگی کو سنوارنے پر مرکوز کرنی چاہیے۔
  4. دنیاوی غفلت اور پچھتاوے کے حوالے سے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پورے واقعے کے بعد سورہ مریم کی آیت 39 کی تلاوت فرمائی، جو اس حدیث کا خلاصہ اور سبق ہے۔ یہ آیت دنیا میں رہنے والوں کو "یوم الحسرت" (پچھتاوے کے دن) سے ڈراتی ہے، جب سب کچھ طے ہو چکا ہوگا اور دنیا کی غفلت کا وقت ختم ہو چکا ہوگا۔
    • سبق: انسان کو چاہیے کہ دنیا کی فانی زندگی میں غفلت نہ برتے۔ موت کے بعد پچھتانے سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ فیصلہ کا دن آج ہے، کل نہیں۔ اپنے ایمان و اعمال کی اصلاح ابھی کر لو، جب کہ وقت ہے۔
  5. آخرت میں ابدیت کا یقین اور اس کے نتائج کے حوالے سے: "خلودٌ فِيمَا تَجِدُونَ" (جس چیز میں تم ہو اس میں ہمیشہ رہنا ہے) کا اعلان ایک ایسا فیصلہ ہے جو اہل جنت کی خوشی اور اہل جہنم کے غم کو دائمی بنا دے گا۔ یہی اصل کامیابی یا ناکامی ہے۔
    • سبق: ہمارا ہر عمل، ہمارا ہر فیصلہ درحقیقت اسی ابدی مستقبل کا تعین کر رہا ہے۔ ہمیں ہر قدم اس شعور کے ساتھ اٹھانا چاہیے کہ یہ ہمیں یا تو ہمیشہ کی خوشی کی طرف لے جا رہا ہے یا ہمیشہ کے عذاب کی طرف۔

خلاصہ: یہ حدیث ایک طویل اور تفصیلی بیان ہے جو آخرت کی زندگی کی دو ابدی حقیقتوں کو واضح کرتی ہےجنت میں ابدی زندگی بغیر موت کے، اور جہنم میں ابدی عذاب بغیر موت کے۔ یہ دنیا میں رہنے والے ہر انسان کے لیے ایک واضح انتباہ اور نصیحت ہے کہ وہ اپنے مختصر سے وقت کو غفلت میں نہ گزارے، بلکہ اپنی آخرت سنوارنے میں لگا دے، کیونکہ جس دن موت کو ذبح کر دیا جائے گا، اس دن پچھتانے سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔

 



حدیث نمبر 36

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رضي الله عنهقَالَقَالَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم -: " يَقْضِي اللهُ بَيْنَ خَلْقِهِ , الْجِنِّ , وَالإِنْسِ , وَالْبَهَائِمِ، وَإِنَّهُ لَيَقِيدُ (١يَوْمَئِذٍ الْجَمَّاءَ مِنَ الْقَرْنَاءِ , حَتَّى إِذَا لَمْ يُبْقِ تَبِعَةً (٢عِنْدَ وَاحِدَةٍ لأُخْرَىقَالَ اللهُكُونُوا تُرَابًا، فَعِنْدَ ذَلِكَ يَقُولُ الْكَافِرُ: {يَا لَيْتَنِي كُنْتُ تُرَابًا} (٣) " (٤)


ترجمہ:
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"اللہ تعالیٰ اپنی مخلوقات کے درمیان (قیامت کے دن) فیصلہ کرے گا: جنوں، انسانوں اور چوپایوں (و دیگر جانوروں) کے درمیان۔ اور اس دن وہ بے سینگ والی (جانور) کا بدلہ(١) سینگ والی (جانور) سے لے گا، یہاں تک کہ جب (ایک جانور کے پاس) دوسرے (جانور) کا کوئی حق(٢) باقی نہ رہے گا، تو اللہ فرمائے گا: 'مٹی ہو جاؤ۔' اس وقت کافر کہے گا: 'کاش! میں مٹی ہوتا۔'(٣) " (٤)

حوالہ جات:
(١يَقِيدُ: قصاص لے گا، بدلہ لے گا۔
(٢تَبِعَةً: مظلمہ، ظلم کا حق۔
(٣قرآن کریم کی آیت [النبأ/40] کا حوالہ۔
(٤اس روایت کو امام ابن جریر الطبری نے اپنی تفسیر (جلد 30، صفحات 17-18) میں نقل کیا ہے۔ نیز علامہ البانی رحمہ اللہ نے "السلسلة الصحيحة" (حدیث نمبر 1966) میں اس کی تخریج کی ہے۔


حدیث سے حاصل اسباق و نکات:

  1. اللہ کی کامل عدالت اور احتساب کے جامع ہونے کے حوالے سے: یہ حدیث قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کی کامل، وسیع اور تفصیلی عدالت کی عکاس ہے۔ عدالت صرف انسانوں یا جنوں تک محدود نہیں ہوگی، بلکہ جانوروں تک کو اس میں شامل کیا جائے گا۔ اس میں ایک بے سینگ والی بکری کا سینگ والی بکری سے بدلہ لیا جانا اس بات کی واضح دلیل ہے کہ اللہ کے ہاں کوئی چھوٹی سے چھوٹی زیادتی، چاہے وہ بے زبان جانوروں کے درمیان ہی کیوں نہ ہو، بے حساب نہیں رہے گی۔
    • سبق: ہمیں اپنے ہر چھوٹے بڑے عمل کا حساب دینے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ اللہ کی عدالت اس قدر جامع ہے کہ اس میں کسی پر ذرہ برابر بھی ظلم نہیں ہوگا۔ ہر حق دار کو اس کا حق مل کر رہے گا۔
  2. حقوق العباد (مخلوق کے حقوق) کی اہمیت اور سنجیدگی کے حوالے سے: اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ حقوق العباد کا معاملہ کتنا سنجیدہ اور نازک ہے۔ یہاں تک کہ بے زبان جانوروں کے حقوق بھی اس طرح ادا کیے جائیں گے۔ اگر جانوروں کے حقوق کا اتنا اہتمام ہے تو انسانوں کے حقوق کا معاملہ کتنا زیادہ سنگین ہوگا۔ دنیا میں کسی پر ظلم، کسی کا مال ناحق کھانا، کسی کی عزت پر ڈاکہ ڈالنا یہ سب ایسے جرائم ہیں جن کا حساب قیامت کے دن ضرور ہوگا۔
    • سبق: ہمیں ہر مخلوق کے حقوق کا خیال رکھنا چاہیے، چاہے وہ انسان ہو یا جانور۔ کسی پر ظلم، زیادتی یا اس کا حق مارنا اللہ کی عدالت میں سخت ترین سزا کا سبب بن سکتا ہے۔ اپنے سے کمزور انسانوں اور بے زبان جانوروں پر رحم کرنا چاہیے۔
  3. کفر کے انجام اور اس پر پچھتاوے کے حوالے سے: حدیث کے آخر میں کافر کے اس فرمان کا ذکر ہے جو وہ اس وقت کہے گا جب تمام معاملات طے ہو چکے ہوں گے اور اسے ابدی عذاب کی طرف لوٹایا جا رہا ہوگا۔ وہ "کاش! میں مٹی ہوتا" کی حسرت کرے گا۔ یہ پچھتاوا اس لیے ہوگا کہ وہ دیکھے گا کہ مٹی (یعنی بے عقل و شعور مادہ) تو عذاب سے بچ گئی، لیکن اسے اپنے کفر اور گناہوں کی پاداش میں ہمیشہ کا عذاب بھگتنا پڑ رہا ہے۔
    • سبق: یہ تصویر ہر اس شخص کے لیے سخت انتباہ ہے جو دنیا میں اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرتا ہے۔ آخرت میں ایسا پچھتاوا ہوگا کہ موت کی تمنا بھی پوری نہیں ہوگی اور انسان آرزو کرے گا کہ کاش وہ بے جان مٹی ہوتا۔ اس لیے کفر و شرک سے بچنا ہر انسان کی پہلی اور سب سے بڑی ذمہ داری ہے۔
  4. قیامت کی ہولناکی اور اس دن کی ناقابل بیان کیفیت کے حوالے سے: یہ حدیث قیامت کے ایک منفرد اور عجیب منظر کو پیش کرتی ہے جہاں جانور ایک دوسرے سے اپنے حقوق وصول کریں گے۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ قیامت کا دن ایسے واقعات اور مناظر سے پر ہوگا جن کا ہم آج تصور بھی نہیں کر سکتے۔ ہر چیز اپنی اصلی حقیقت کے ساتھ ظاہر ہوگی اور ہر زیادتی کا بدلہ لیا جائے گا۔
    • سبق: ہمیں آخرت کے دن کی ہولناکیوں اور اس کے مختلف مراحل پر ایمان رکھنا چاہیے، خواہ ہم انہیں مکمل طور پر سمجھ نہ پائیں۔ یہ ایمان ہمیں گناہوں سے بچنے اور نیکیوں کی طرف راغب کرتا ہے۔

خلاصہ: یہ حدیث ہمیں اللہ تعالیٰ کی کامل عدالت، حقوق العباد کی اہمیت اور کفر کے انجام پر شدید پچھتاوے سے آگاہ کرتی ہے۔ یہ درس دیتی ہے کہ ہمیں ہر چھوٹے بڑے عمل کا حساب دینے کے لیے تیار رہنا چاہیے، تمام مخلوقات کے حقوق کا خیال رکھنا چاہیے اور ایسے اعمال سے بچنا چاہیے جو آخرت میں ہمیں اس قابل بنا دیں کہ ہم مٹی ہونے کی تمنا کریں۔

 



حدیث نمبر 37

عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو - رضي الله عنهماقَالَ: " إنَّ أَهْلَ النَّارِ لَيَدْعُونَ مَالِكًا: {يَا مَالِكُ لِيَقْضِ عَلَيْنَا رَبُّك} (١فَلَا يُجِيبُهُمْ أَرْبَعِينَ عَامًاثُمَّ يَقُولُ: {إنَّكُمْ مَاكِثُونَ}، ثُمَّ يَدْعُونَ رَبَّهُمْ فَيَقُولُونَ: {رَبَّنَا غَلَبَتْ عَلَيْنَا شِقْوَتُنَا وَكُنَّا قَوْمًا ضَالِّينَ , رَبَّنَا أَخْرِجْنَا مِنْهَا فَإِنْ عُدْنَا فَإِنَّا ظَالِمُونَ} (٢قَالَ: فَلَا يُجِيبُهُمْ مِثْلَ الدُّنْيَا، ثُمَّ يَقُولُ: {اخْسَئُوا فِيهَا وَلَا تُكَلِّمُونِ} (٣ثُمَّ يَيْأَسْ الْقَوْمُ , فَمَا هُوَ إِلَّا الزَّفِيرُ وَالشَّهِيقُ , تُشْبِهُ أَصْواتُهُم أَصْوَاتَ الْحَمِيرِ , أَوَّلُهَا شَهِيقٌ , وَآخِرُهُا زَفيرٌ " (٤)


ترجمہ:

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"قیامت کے دن جہنم کے لوگ مالک (جہنم کے فرشتے) کو پکاریں گے: 'اے مالک! تمہارے رب سے ہمارا فیصلہ کردے۔'(١)  لیکن وہ (مالک) انہیں چالیس سال تک کوئی جواب نہیں دے گا۔ پھر (چالیس سال بعد) کہے گا'بے شک تم (اس میں) ہمیشہ رہنے والے ہو۔'

اس کے بعد وہ لوگ اپنے رب کو پکاریں گے اور کہیں گے'اے ہمارے رب! ہم پر ہماری بدبختی غالب آگئی اور ہم گمراہ لوگ تھے۔ اے ہمارے رب! ہمیں اس (جہنم) سے نکال دے، اگر ہم پھر (برائی کی طرف) لوٹے تو یقیناً ہم ظالموں میں سے ہوں گے۔'"(٢)

فرمایا: تو اللہ تعالیٰ بھی انہیں ایک دنیا (کی عمر) جتنی مدت تک کوئی جواب نہیں دے گا۔ پھر فرمائے گا'اس میں ذلیل ہو کر رہو اور مجھ سے بات مت کرو۔'(٣)

اس پر وہ لوگ مایوس ہو جائیں گے۔ اب ان کے لیے کچھ باقی نہ رہے گا سوائے آہیں بھرنے اور سسکیاں لینے کے۔ ان کی آوازیں گدھوں کی آوازوں سے مشابہ ہوں گی۔ ان کی پہلی آواز سسکی اور آخری آہ ہوگی۔"(٤)


حوالہ جات:

(١سورۃ الزخرف(43)، آیت:77
(٢سورۃ المؤمنون(23)، آیت:107
(٣سورۃ المؤمنون(23)، آیت:108
(٤) المعجم الکبیر طبرانی(14171) المستدرک حاکم(3492، 8770) صحیح الترغیب و الترغیب:3691

حدیث سے حاصل اسباق و نکات:

  1. موقع کی نعمت کی حقیقی قدر کے حوالے سے: حدیث میں دنیا میں پکارے جانے اور قبولیت کے موقع کے مقابلے میں آخرت میں 40 سال یا پوری دنیوی عمر کے برابر جواب نہ ملنے کا ذکر، اس بات کی واضح علامت ہے کہ اللہ کی رحمت سے فیضیاب ہونے کا اصل موقع یہی دنیوی زندگی ہے۔ قیامت کے دن نہ تو فرشتوں کے پاس سفارش کا اختیار ہوگا اور نہ ہی اعمال کے دروازے کھلیں گے۔
    • سبق: انسان کو چاہیے کہ دنیا میں ہی اپنے رب کی طرف رجوع کرے، توبہ و استغفار کرے اور نیک اعمال کرے، کیونکہ یہی وہ واحد وقت ہے جب دعا قبول ہوتی ہے اور خطا معاف ہوتی ہے۔
  2. توبہ کے اصل موقع اور اس کی شرائط کے حوالے سے: اہل جہنم جب اپنے رب سے خود التجا کریں گے اور اپنی غلطی تسلیم کرتے ہوئے وعدہ کریں گے کہ اگر نکل آئے تو نیک عمل کریں گے، تب بھی ان کی درخواست رد کر دی جائے گی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ توبہ کا اصل اور قابل قبول وقت دنیا کی زندگی کا وقت ہے۔ آخرت میں صرف حسرت و ندامت ہوگی، توبہ قبول نہیں ہوگی۔
    • سبق: آج، اس وقت، جب موت نہیں آئی اور دل میں ذرہ برابر نرمی ہے، فوراً اپنے گناہوں پر نادم ہو کر اللہ کی طرف رجوع کر لینا چاہیے۔ کل کی کوئی ضمانت نہیں۔
  3. اللہ کے فیصلے کی حتمیت اور عدل کے حوالے سے: اللہ تعالیٰ کا فرمان 'اخسئوا فيها ولا تكلمون' (اس میں ذلیل ہو کر رہو اور مجھ سے بات مت کرو) اس بات کا اعلان ہے کہ فیصلہ ہو چکا ہے اور اب تبدیلی کا کوئی امکان نہیں۔ یہ اللہ کے کامل عدل کا مظہر ہے کہ ہر شخص کو اپنے اختیار کردہ راستے کا پورا بدلہ دے دیا جائے گا۔
    • سبق: انسان کو اپنے ہر عمل کے نتائج کو سامنے رکھ کر فیصلے کرنے چاہئیں، کیونکہ ہر عمل کا حساب ہوگا اور فیصلہ حتمی ہوگا۔
  4. جہنم کی ہولناکی اور اس کی نفسیاتی اذیت کے حوالے سے: حدیث کا اختتام اہل جہنم کی مکمل مایوسی اور ان کی آوازوں کے گدھوں کی آواز جیسا ہونے کے بیان پر ہوتا ہے۔ یہ صرف جسمانی عذاب ہی نہیں، بلکہ روحانی کرب، ذلت اور امید کے خاتمے کی انتہا کو ظاہر کرتا ہے۔
    • سبق: جہنم کی سزا محض جلنے یا درد کا نام نہیں، بلکہ اللہ کی رحمت سے محرومی، ہمیشہ کی ذلت اور انتہائی درجے کی بدبختی کا نام ہے۔ ہر صورت میں اس سے بچنا ضروری ہے۔
  5. دنیا میں غفلت کے انجام کے حوالے سے: پوری روایت درحقیقت قرآن مجید کے اس فرمان کی عملی تفسیر ہے جس کا ذکر حدیث کے آخر میں کیا گیا'وَأَنذِرْهُمْ يَوْمَ الْحَسْرَةِ إِذْ قُضِيَ الْأَمْرُ وَهُمْ فِي غَفْلَةٍ' (اور آپ انہیں اس حسرت کے دن سے ڈرائیں جب معاملہ طے ہو چکا ہوگا اور وہ غفلت میں ہوں گے)۔
    • سبق: یہ حدیث ایک واضح انتباہ (تنبیہ) ہے کہ جو لوگ دنیا میں اللہ اور آخرت کے حساب سے غافل رہتے ہیں، ان کا انجام انتہائی دردناک اور حسرت ناک ہوگا۔

 



حدیث نمبر 38

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ - رضي الله عنهقَالَقَالَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم -: " مَنْ قَضَى اللهُ عَلَيْهِ الْخُلُودَ , لَمْ يَخْرُجْ مِنْهَا "


ترجمہ:
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
"جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے ہمیشہ (جہنم میں) رہنے کا فیصلہ کر لیا، وہ اس سے ہرگز نہیں نکلے گا۔"

حوالہ جات:(صحيح بشواهده) - ظلال الجنة: 977


حدیث سے حاصل اسباق و نکات:

  1. کفر و شرک پر ابدی عذاب کے حتمی عقیدے کے حوالے سے: یہ حدیث ایک بنیادی اور قطعی اسلامی عقیدے کی وضاحت کرتی ہے کہ جو لوگ حالتِ کفر (اللہ، اس کے رسول، یا اس کی کتاب کے انکار) پر فوت ہوں گے، ان کے لیے جہنم کا عذاب دائمی اور ابدی ہے۔ یہ کوئی عارضی سزا نہیں ہوگی۔ "لم يخرج منها" (وہ اس سے ہرگز نہیں نکلے گا) کے الفاظ اس دائمی پن پر قطعی دلیل ہیں۔
    • سبق: توحید پر ایمان لانا اور شرک سے بچنا نجات کی اولین شرط ہے۔ انسان کو چاہیے کہ اپنے عقیدے کی حفاظت کرے اور ہر قسم کے کفر و شرک سے اپنے آپ کو بچائے، کیونکہ ان پر مرنے والے کے لیے بخشش کا کوئی دروازہ نہیں کھلا رہے گا۔
  2. اللہ کے علمِ کامل اور حتمی فیصلے کے حوالے سے: حدیث میں "مَنْ قَضَى اللهُ عَلَيْهِ" (جس کے بارے میں اللہ نے فیصلہ کر لیا) کے الفاظ اللہ تعالیٰ کے ازلی و ابدی علم کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ اللہ کو معلوم ہے کہ کون اپنی آزاد مرضی اور اختیار سے کفر کی راہ اختیار کرے گا اور اسی پر ڈٹا رہے گا۔ اللہ کا فیصلہ انسان کے اپنے اعمال کے مطابق ہوتا ہے، اور یہ فیصلہ عدل و حکمت پر مبنی ہوتا ہے۔
    • سبق: انسان کو اپنے انجام سے بے خبر نہیں ہونا چاہیے۔ اللہ کا علم ہر چیز کو محیط ہے۔ ہمیں اپنے اختیار کو استعمال کرتے ہوئے وہ راستہ اختیار کرنا چاہیے جو ہمیں اس ابدی عذاب سے بچائے۔
  3. دنیا میں موقع موجود ہونے کے باوجود غفلت برتنے والوں کے انجام کے حوالے سے: یہ حدیث درحقیقت ان لوگوں کے لیے سخت انتباہ ہے جو دنیا کی زندگی میں ہدایت کے واضح راستے کے ہوتے ہوئے بھی اسے ٹھکرا دیتے ہیں۔ جب وہ آخرت میں اپنا مقدر دیکھیں گے تو چاہیں گے کہ کاش وہ مٹی ہو جاتے، لیکن اس وقت پچھتانے سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔
    • سبق: دنیا کی زندگی ہی عمل اور انتخاب کی جگہ ہے۔ یہاں ہدایت کے تمام ذرائع موجود ہیں۔ انسان کو چاہیے کہ اس موقع کو غنیمت جانے، اپنے رب کی طرف رجوع کرے اور ایسے اعمال سے بچے جو اسے ابدی ہلاکت میں ڈال دیں۔
  4. جہنم سے نکلنے کی امید کے بارے میں واضح موقف کے حوالے سے: اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ جہنم میں داخل ہونے والے ہر شخص کے لیے نکلنے کی کوئی امید نہیں ہے۔ یہ خاص طور پر ان کافروں اور مشرکوں کے لیے ہے جن کے بارے میں اللہ کا فیصلہ ہو چکا ہے۔ بعض دیگر احادیث میں گنہگار مومنوں کے عذاب کی عارضی نوعیت کا ذکر ہے، لیکن کافر کے لیے یہ دروازہ بند ہے۔
    • سبق: ہمیں اپنی آخرت کی فکر کرنی چاہیے۔ یہ نہ سمجھیں کہ جہنم میں جانے کے بعد بھی نکلنے کا کوئی موقع مل سکتا ہے۔ خاص طور پر کفر و شرک ایسے گناہ ہیں جن کی معافی کا کوئی وعدہ نہیں۔

خلاصہ: یہ مختصر مگر انتہائی وزنی حدیث ہمیں آخرت کے ایک اہم ترین عقیدے سے آگاہ کرتی ہےکفر پر مرنے والا شخص جہنم سے کبھی نہیں نکلے گا۔ یہ عقیدہ ہمارے دل میں اللہ کے خوف، اس کی توحید کی محبت اور کفر و شرک سے نفرت پیدا کرتا ہے۔ یہ ہمیں ہر اس عمل سے بچنے کی ترغیب دیتا ہے جو ہمیں اس ابدی عذاب کے قریب لے جا سکتا ہے۔

 



حدیث نمبر 39

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رضي الله عنهقَالَقَالَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم -: (" لَا يَدْخُلُ أَحَدٌ الْجَنَّةَ إِلَّا أُرِيَ مَقْعَدَهُ مِنْ النَّارِ لَوْ أَسَاءَ، لِيَزْدَادَ شُكْرًا) (١) (فَيَقُولُ: لَوْلَا أَنَّ اللهَ هَدَانِي) (٢) (وَلَا يَدْخُلُ النَّارَ أَحَدٌ إِلَّا أُرِيَ مَقْعَدَهُ مِنْ الْجَنَّةِ لَوْ أَحْسَنَ، لِيَكُونَ عَلَيْهِ حَسْرَةً) (٣) (فَيَقُولُ: لَوْ أَنَّ اللهَ هَدَانِي ") (٤)


ترجمہ:

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"کوئی شخص جنت میں داخل نہیں ہوگا مگر یہ کہ اسے دوزخ میں اپنا ٹھکانا دکھایا جائے گا اگر اس نے برائی کی ہوتی (تو وہاں ہوتا)، تاکہ اس کی شکر گزاری بڑھ جائے،(١) تو وہ کہے گا'اگر اللہ نے مجھے ہدایت نہ دی ہوتی (تو میں بھی یہاں ہوتا)'۔(٢) اور کوئی شخص دوزخ میں داخل نہیں ہوگا مگر یہ کہ اسے جنت میں اپنا ٹھکانا دکھایا جائے گا اگر اس نے نیکی کی ہوتی (تو وہاں ہوتا)، تاکہ اس پر حسرت رہے،(٣) تو وہ کہے گا'کاش! اللہ نے مجھے ہدایت دی ہوتی۔'"(٤)

حوالہ جات:

(١)(خ) صحیح بخاری:6200
(٢)(حم) مسند احمد:10660 (شیخ شعیب ارناؤوط نے کہا: اس کی سند صحیح ہے)
(٣)(خ) صحیح بخاری:6200
(٤)(حم) مسند احمد:10660، صحیح الجامع:4514، السلسلة الصحيحة:2034

حدیث سے حاصل اسباق و نکات:

  1. اللہ کے فضل و رحمت اور ہدایت کی نعمت کے حوالے سے: یہ حدیث اس اہم ترین سبق کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ جنت میں داخلہ درحقیقت اللہ تعالیٰ کے فضل، اس کی رحمت اور اس کی ہدایت کا نتیجہ ہے۔ جنت والے جب دوزخ میں اپنا ممکنہ ٹھکانا دیکھیں گے تو ان کے دل میں یہ احساس پختہ ہو جائے گا کہ اگر اللہ کی ہدایت اور توفیق نہ ہوتی تو وہ بھی وہیں ہوتے۔ اس لیے ان کی زبان پر فطری طور پر "لولا أن الله هداني" (اگر اللہ نے مجھے ہدایت نہ دی ہوتی) جاری ہوگا۔
    • سبق: مومن کو اپنی کامیابی پر کبھی غرور نہیں کرنا چاہیے اور نہ ہی یہ سمجھنا چاہیے کہ اس کے اعمال ہی اسے جنت میں لے گئے۔ بلکہ اسے ہمیشہ اللہ کے فضل اور رحمت کا محتاج سمجھنا چاہیے اور اس پر شکر ادا کرنا چاہیے۔
  2. دنیا میں ہدایت کے انتخاب کے فیصلے کی اہمیت اور حسرت کے حوالے سے: حدیث کا دوسرا حصہ اہل دوزخ کی حالت بیان کرتا ہے۔ انہیں دکھایا جائے گا کہ اگر وہ دنیا میں نیک راہ اختیار کرتے تو ان کا ٹھکانا جنت میں ہوتا۔ یہ نظارہ ان پر ایک ایسی ابدی حسرت اور پچھتاوا مسلط کر دے گا جس کا اظہار ان کے الفاظ "لو أن الله هداني" (کاش اللہ نے مجھے ہدایت دی ہوتی) میں ہوگا۔ یہ درحقیقت اس بات کی علامت ہے کہ دنیا کی زندگی میں صحیح فیصلہ کرنے کا موقع سب کو دیا گیا تھا، لیکن انہوں نے اسے گنوا دیا۔
    • سبق: انسان کو دنیا کی زندگی کو سنجیدگی سے لینا چاہیے۔ یہی وہ واحد موقع ہے جب ہدایت قبول کر کے اپنی آخرت سنواری جا سکتی ہے۔ کل پچھتانے سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔
  3. اللہ کی کامل حکمت اور نفسیات کے علم کے حوالے سے: حدیث میں بیان کردہ یہ پورا منظر اللہ تعالیٰ کی بے پایاں حکمت کی عکاسی کرتا ہے۔ اہل جنت کو ان کی ممکنہ تباہی دکھا کر ان کی شکرگزاری اور اللہ کے فضل کی معرفت میں اضافہ کیا جائے گا، جس سے ان کی خوشی دوبالا ہو جائے گی۔ اور اہل دوزخ کو ان سے چھنی ہوئی نعمت دکھا کر ان کے درد اور حسرت کو ہمیشہ کے لیے تازہ رکھا جائے گا، جو ان کے عذاب کا ایک اضافی پہلو ہوگا۔
    • سبق: اللہ کی ہر تدبیر اور ہر فعل میں حکمت ہوتی ہے۔ ہمارے ساتھ پیش آنے والی ہر آزمائش یا نعمت درحقیقت ہمارے ایمان، صبر یا شکر کو بڑھانے کا ذریعہ ہے۔
  4. انسان کے سامنے اس کے اعمال کے مکمل نتائج کی واضح نمائش کے حوالے سے: یہ حدیث اس بات کی طرف بھی اشارہ کرتی ہے کہ قیامت کے دن ہر شخص کو اس کے اعمال کے ممکنہ نتائج کا پورا شعور دے دیا جائے گا۔ اسے یہ بھی دکھایا جائے گا کہ اگر اس نے کوئی دوسری راہ اختیار کی ہوتی تو کیا ہوتا۔ یہ مکمل انصاف، شفافیت اور حساب کے دن کی حقیقت ہے۔
    • سبق: ہر انسان کو چاہیے کہ وہ اپنے ہر عمل، ہر فیصلے کے نتائج کو سامنے رکھے، کیونکہ کل کو اس سے پورا حساب ہوگا۔

خلاصہ: یہ حدیث ہمیں جنت و دوزخ کی ابدی زندگی کے دو اہم پہلوؤں سے آگاہ کرتی ہے۔ اہل جنت کے لیے اللہ کی ہدایت پر شکر اور اس کے فضل کا اعتراف ان کی نعمت کو مزید شیرین کر دے گا۔ جبکہ اہل دوزخ کے لیے گنوائی ہوئی نعمت پر حسرت اور پچھتاوا ان کے عذاب میں اضافہ کر دے گا۔ یہ ہمارے لیے ایک بہت بڑا سبق ہے کہ ہم دنیا میں ہی ہدایت کی راہ اختیار کریں اور اللہ کے فضل کے شکر گزار بنیں۔

 



مَشْرُوعِيَّةُ الِاسْتِعَاذَةِ مِنْ النَّار (جہنم کی آگ سے پناہ مانگنے کی مشروعیت)

حدیث نمبر 40

(حم) , عَنْ أَنَسٍ - رضي الله عنهقَالَقَالَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم -: (" مَا سَأَلَ رَجُلٌ مُسْلِمٌ اللهَ - عز وجل - الْجَنَّةَ) (١) (ثَلَاثَ مَرَّاتٍ قَطُّ) (٢) (إِلَّا قَالَتِ الْجَنَّةُ: اللَّهُمَّ أَدْخِلْهُ إِيَّايَوَلَا اسْتَجَارَ مِنَ النَّارِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ إِلَّا قَالَتِ النَّارُاللَّهُمَّ أَجِرْهُ مِنِّي ") (٣)


ترجمہ:
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"کوئی مسلمان شخص اللہ تعالیٰ سے جنت(١) تین مرتبہ سوال نہیں کرتا(٢) مگر یہ کہ جنت کہتی ہے: 'اے اللہ! اسے مجھ میں داخل فرما۔' اور کوئی آگ سے تین مرتبہ پناہ نہیں مانگتا مگر یہ کہ آگ (جہنم) کہتی ہے: 'اے اللہ! اسے میری آگ سے بچا لے۔'"(٣)

حوالہ جات:

  1. (١(حم) مسند احمد:12607، (ت) سنن ترمذی:2572، (س) سنن نسائی:5521 (شیخ شعیب ارناؤوط نے کہا: اس کی سند حسن ہے)
  2. (٢(حم) مسند احمد:13781، (ت) سنن ترمذی:2572، (س) سنن نسائی:5521 (شیخ شعیب ارناؤوط نے کہا: اس کی سند حسن ہے)
  3. (٣(حم) مسند احمد:12191، (ت) سنن ترمذی:2572، (س) سنن نسائی:5521، صَحِيح الْجَامِع: ٥٦٣٠، صَحِيح التَّرْغِيبِ وَالتَّرْهِيب: ٣٦٥٤ , وقال شعيب الأرناءوط: إسناده حسن.

حدیث سے حاصل اسباق ونکات:

  1. دعا کی قبولیت اور فضیلت کے حوالے سے: یہ حدیث ہمیں سکھاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ سے مسلسل اور پختہ ارادے کے ساتھ دعا کرنا کتنا مؤثر ہے۔ جنت اور جہنم جیسی عظیم ہستیوں کا خود بول اٹھنا اس بات کی علامت ہے کہ اللہ اپنے بندے کی دہرائی ہوئی دعا کو پسند فرماتا ہے اور اسے رد نہیں کرتا۔
    • سبق: ہمیں اپنی دعاؤں میں ثابت قدمی اور اصرار کے ساتھ اللہ کی بارگاہ میں حاضر ہونا چاہیے، خاص طور پر آخرت کی بہتری سے متعلق دعائیں۔
  2. دنیا میں دعا کا آخرت پر اثر کے حوالے سے: یہ تصور کہ جنت اور جہنم انسان کی دعا پر ردعمل ظاہر کرتی ہیں، یہ بتاتا ہے کہ ہماری دعائیں محض الفاظ نہیں بلکہ ایک زندہ حقیقت ہیں جو آخرت میں ہمارے مقام کو متاثر کرتی ہیں۔ بندہ دنیا میں جنت مانگتا ہے اور جہنم سے پناہ مانگتا ہے، تو آخرت کی یہ مخلوقات خود اس کی سفارشی بن جاتی ہیں۔
    • سبق: ہمیں اپنی دعاؤں پر یقین رکھنا چاہیے اور سمجھنا چاہیے کہ وہ آخرت میں ہمارے لیے نجات اور بلندی کا سبب بن سکتی ہیں۔
  3. اللہ کی رحمت اور بندے سے محبت کے حوالے سے: جنت کا یہ کہنا "اللھم ادخلہ ایای" اور جہنم کا یہ کہنا "اللھم اجرہ منی" درحقیقت اللہ کی اپنے بندے کے لیے محبت اور شفقت کا اظہار ہے۔ اللہ چاہتا ہے کہ اس کا بندہ جنت میں داخل ہو اور جہنم سے بچ جائے، اور وہ اس کے لیے راستے بھی پیدا کرتا ہے۔
    • سبق: اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی بہتری چاہتا ہے۔ ہمیں اس کی رحمت سے مایوس نہیں ہونا چاہیے اور ہمیشہ اس کے فضل و کرم کا سوالی بنے رہنا چاہیے۔
  4. تین عدد کی تکراریت کی حکمت کے حوالے سے: حدیث میں "تین مرتبہ" کا ذکر خاص طور پر آیا ہے۔ یہ عدد تاکید، پختگی اور دعا میں مضبوطی کی علامت ہے۔ یہ بتاتا ہے کہ دعا میں ایک بار نہیں، بلکہ مسلسل اور بار بار اپنی حاجت کو دہرانا اسے قبولیت کے قریب لے جاتا ہے۔
    • سبق: دعا میں ہم کو چاہیے کہ ہم اپنی حاجت کو بار بار اللہ کے سامنے پیش کریں، اور اس سے مانگنے میں کبھی بھی کسل یا مایوسی نہ کریں۔
  5. جنت اور جہنم کی ذاتی شحصیت اور شعور کے حوالے سے: اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ جنت اور جہنم محض بے جان مقامات نہیں، بلکہ ان کی ایک ذاتی حیثیت اور شعور ہے۔ وہ اللہ کے حکم سے بولتی ہیں اور مومنین کے حق میں دعا گو بنتی ہیں۔ یہ عقیدہ آخرت کے بارے میں ہمارے تصور کو اور زیادہ گہرا بناتا ہے۔
    • سبق: ہمیں جنت اور جہنم کو محض خیالی تصورات نہیں سمجھنا چاہیے، بلکہ انہیں زندہ اور حقیقی مخلوقات کے طور پر جاننا چاہیے جو ہمارے اعمال سے متاثر ہوتی ہیں۔

خلاصہ:
یہ حدیث ہمیں آخرت میں کامیابی کے لیے دنیا میں ایک آسان لیکن طاقتور ہتھیار، یعنی دعا، سے متعلق رہنمائی کرتی ہے۔ یہ ہمیں سکھاتی ہے کہ اللہ سے جنت مانگنا اور جہنم سے پناہ مانگنا نہ صرف ہمارا فریضہ ہے، بلکہ یہ ایسے عمل ہیں جنہیں اللہ اتنا پسند کرتا ہے کہ جنت اور جہنم خود ہمارے لیے دعا کرنے لگتی ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی روزمرہ کی دعاؤں میں جنت کی طلب اور جہنم سے پناہ کا ورد ضرور شامل کریں۔

 



سب سے ہلکا-آسان مطالبہ:
حضرت انس‌ؓ سے مروی ہے كہ نبی ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ قیامت كے دن سب سے كم عذاب والے جہنمی سے فرمائے گا:
(اے ابن آدم  تمہارا ٹھكانہ كیسا رہا؟ وہ كہے گا: یہ بدترین ٹھكانہ ہے۔ اس سے كہا جائے گا:)
اگر تمہیں دنیا اور جو كچھ اس میں ہے سب مل جائے تو كیا تم اسے بدلے میں دے دو گے؟
(اگر پوری زمین کے برابر تیرے پاس سونا ہو تو کیا اس کو فدیہ دے کر عذاب سے نجات لے سکتا ہے؟)
وہ كہے گا: ہاں۔
اللہ تعالیٰ فرمائے گا: (تو جھوٹ بولتا ہے) میں نے تجھ سے اس سے بھی ہلکی﴿آسان﴾ بات كا مطالبہ كیا تھا جب تم اپنے باپ كی پشت میں تھے، (آدم كی پشت میں تھے:) كہ تو میرے ساتھ(كسی كو) شریک نہ كرنا (پھر میں تجھے جہنم میں داخل نہیں كروں گا) تم نے شرک پر ہی اصرار كیا(جمے رہے)، پھر اسے جہنم میں ڈالنے كا حكم دے دیا جائے گا۔
[مسند احمد:12312، صحیح بخاری:3334﴿6538﴾6557، صحیح مسلم:2805(7083)، صحیح ابن حبان:7350، مسند ابویعلیٰ:3497]

یہ (مضمون) اللہ پاک نے (اپنے ان الفاظ میں بھی یوں) فرمایا ہے:
جن لوگوں نے کفر اپنایا اور کافر ہونے کی حالت ہی میں مرے، ان میں سے کسی سے پوری زمین بھر کر سونا قبول نہیں کیا جائے گا، خواہ وہ اپنی جان چھڑانے کے لیے اس کی پیشکش ہی کیوں نہ کرے۔ ان کو تو دردناک عذاب ہو کر رہے گا، اور ان کو کسی قسم کے مددگار میسر نہیں آئیں گے۔
[سورۃ آل عمران:91، تفسير الطبري:7384، البعث والنشور للبيهقي ت حيدر:92، البعث والنشور للبيهقي ت الشوامي:655]


تشریح:
امام عیاض رحمہ اللہ نے اس (فرمان کہ "میں نے تجھ سے وہ عہد لیا تھا") کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ اس سے مراد اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: {وَإِذْ أَخَذَ رَبُّكَ مِنْ بَنِي آدَمَ مِنْ ظُهُورِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ...} [سورة الأعراف: 172] (اور جب آپ کے رب نے بنی آدم کی پشتوں سے ان کی اولاد کو نکالا...) تو یہ وہی میثاق (عہد و پیمان) ہے جو ان سے صلب آدم (حضرت آدم علیہ السلام کی پشت) میں لیا گیا تھا۔ پس جو شخص اپنے دنیا میں وجود پانے کے بعد بھی اس عہد کو پورا کرے (یعنی توحید پر قائم رہے)، وہ مومن ہے، اور جو اسے پورا نہ کرے، وہ کافر ہے۔
[فتح الباری شرح صحیح البخاری:11/403]

شرح للمناوی:
(قیامت کے دن اللہ تعالیٰ "اہون" یعنی سب سے آسان عذاب والے "اہل النار" سے فرمائے گا۔ اور ایک اور حدیث میں آیا ہے کہ وہ شخص ابو طالب ہے)۔[بخاری:3672 مسلم:210-212]
(لو أن لك ما في الأرض من شيء) یعنی اگر یہ بات ثابت ہو جائے (کہ تیرے پاس ہے)، کیونکہ "لو" ماضی کے فعل کو متقاضی ہوتی ہے، اور جب "لو" کے بعد "أن" مفتوحہ آجائے تو فعل کے حذف ہونے کا حکم ہے۔ کیونکہ "أن" میں تحقق اور ثبوت کا معنی ہے جو حذف شدہ فعل کی جگہ پر ہوتا ہے۔ (كنت تفتدي به) یعنی آگ (جہنم) سے اپنی جان چھڑاتا۔ اور یہ "فاء" کے ساتھ "افتداء" (فدیہ دینے) سے ہے، یعنی اپنے آپ کو جو مصیبت پہنچی ہے اس سے اپنے مال کے ذریعے خلاصی پانا۔ اور یہ اس آیت کی جانب اشارہ ہے: {وَلَوْ أَنَّ لَهُم مَّا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا وَمِثْلَهُ مَعَهُ لَافْتَدَوْا بِهِ} (اور اگر ان کے پاس وہ سب کچھ ہو جو زمین میں ہے اور اس کے ساتھ اسی کا مثل (اور) بھی (ہو) تو وہ اس (سب) کو (عذاب سے بچنے کے لیے) فدیہ میں دے دیں) [الزمر:47]۔

(مصنف کہتے ہیں:) ماضی کے صیغے سے اس لیے تعبیر کیا گیا ہے کہ اس کا وقوع یقینی ہے۔ (نعم) یعنی ہاں، میں ایسا ہی کروں گا۔ (قال الله تعالى: فقد سألتك ما هو أهون من هذا) یعنی میں نے تجھے اس سے کہیں ہلکی چیز کا حکم دیا تھا (توحید کا)، اور (یہ محال ہے کہ) کوئی چیز اس کی خواہش کے خلاف واقع ہو۔ اور اس بات کے ثابت ہونے سے کہ "ارادۃ" (خواہش) کا معنی یہاں "امر" (حکم) ہے، معتزلہ کا اس آیت سے استدلال ختم ہو جاتا ہے جو یہ گمان کرتے ہیں کہ معنی یہ ہے کہ "میں نے تجھ سے توحید کا ارادہ (چاہا) تھا اور تو نے میرے ارادے کی مخالفت کی"۔ طیبی رحمہ اللہ کہتے ہیں: اور یہاں "ارادۃ" (خواہش) سے مراد وہ "میثاق" (عہد) ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں لیا: {وَإِذْ أَخَذَ رَبُّكَ مِن بَنِي آدَمَ مِن ظُهُورِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ} (اور جب آپ کے رب نے بنی آدم کی پشتوں سے ان کی اولاد کو نکالا) [الأعراف:172]۔

بقرینہ قوله (وأنت في صلب) أبيك (آدم) عليه السلام حين أخذت الميثاق (أن) أي بأن (لا تشرك بي شيئا فأبيت)
یعنی جب میں نے عہد لیا تھا اس وقت تو اپنے والد آدم علیہ السلام کی پشت میں تھا، (تو نے عہد کیا تھا) کہ تو میرے ساتھ کسی چیز کو شریک نہیں ٹھہرائے گا، پس تو نے انکار کر دیا جب میں نے تجھے دنیا میں بھیجا۔ (إلا الشرك) یعنی تو نے شرک کے سوا (کچھ اختیار) نہیں کیا۔ اس میں اس آیت کی طرف اشارہ ہے: {أَوْ تَقُولُوا إِنَّمَا أَشْرَكَ آبَاؤُنَا مِن قَبْلُ} (یا یہ کہو کہ ہمارے باپ دادا ہی پہلے سے شرک کرتے چلے آئے ہیں) [الأنعام:148]۔

اور یہاں "الآباء" (باپ دادا) سے مراد اس عہد کو توڑنا ہے۔ اور یہ "استثناء مفرغ" ہے اور "مستثنیٰ منہ" (جس سے استثنا کیا گیا) کو حذف کر دیا گیا ہے، حالانکہ یہ کلام مثبت (موجب) ہے۔ کیونکہ "إباء" (انکار) میں "امتناع" (ممانعت) کا معنی ہے، تو اس کا معنی نفی ہوگا۔ یعنی (گویا) تو نے شرک کے سوا (کچھ) اختیار ہی نہیں کیا۔

[فیض القدیر-للمناوی:1922]
---
حاصل شدہ اسباق و نکات:

1. توحید کی عظمت اور شرک کی سنگینی:
یہ حدیث قدسی اور اس کی شرح اس بات کی انتہائی مؤثر وضاحت ہے کہ توحید (خدا کو ایک ماننا) ایک ایسی آسان، فطری اور عظیم ترین عبادت ہے جس کا مطالبہ اللہ نے ہر انسان سے کیا۔ دوسری طرف شرک ایک ایسا عظیم جرم ہے جس کے لیے انسان قیامت کے دن اپنی ساری دنیوی دولت بھی فدیہ میں دینے کو تیار ہو جائے گا، مگر اسے معافی نہیں ملے گی۔
2. فطرتِ انسانی پر اللہ کا میثاق: 
شرح میں واضح کیا گیا ہے کہ اللہ کا "ارادہ" یا "سوال" درحقیقت وہ فطری میثاق (عہد) ہے جو اللہ نے تخلیقِ آدم کے وقت تمام بنی آدم کی روحوں سے لے لیا تھا کہ وہ اسے اپنا رب مانیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر بچہ فطرتِ اسلام پر پیدا ہوتا ہے۔
3. دنیوی مال کی حقیقت اور آخرت کی بے وقعتی: 
حدیث اس بات کی واضح ترین دلیل ہے کہ قیامت کے دن ساری دنیا کی دولت اور سارے خزانے ایک لمحہ کے عذاب کو ٹالنے کے لیے بھی بے کار ثابت ہوں گے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آخرت کی نجات کے مقابلے میں دنیوی متاع کی کوئی حقیقی قدر نہیں۔
4. معتزلہ کے عقیدہ کے رد کی علمی بنیاد:
 امام مناوی رحمہ اللہ نے شرح میں ایک اہم کلامی نکتہ واضح کیا ہے۔ معتزلہ فرقہ اس حدیث کو یہ کہہ کر اللہ کے "ارادہ" پر حجت بناتے تھے کہ اللہ نے ہر انسان سے توحید کا ارادہ (چاہ) کیا تھا، مگر انسان نے اس کی مخالفت کی۔ شارح نے وضاحت کی کہ یہاں "ارادہ" سے مراد "حکم اور عہد لینا" ہے، نہ کہ وہ تخلیقی ارادہ جس کی کوئی مخلوق مخالفت نہیں کر سکتی۔ اس طرح معتزلہ کے استدلال کا بطلان واضح ہو جاتا ہے۔
5. عذاب میں درجات اور اس کی مناسبت:
پچھلی حدیث (جس میں پاؤں کے تلوے پر انگارے رکھنے کا ذکر تھا) اور اس حدیث قدسی کو ملا کر دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ جہنم کے عذاب میں بھی سخت درجہ بندی ہے۔ سب سے ہلکے عذاب والا شخص بھی وہ ہوگا جس نے شرک کیا، جو سب سے بڑا جرم ہے۔ اس سے اللہ کی عدالت کاملہ کا پتہ چلتا ہے کہ ہر شخص کو اس کے جرم کے مطابق ہی سزا ملے گی۔
6. عملی سبق:
   · اس حدیث سے شرک کی ہر شکل (چھوٹی بڑی، ظاہری پوشیدہ) سے بچنے کا عزم پیدا کرنا چاہیے۔
   · ہر قسم کی عبادت اور التجاء کو صرف اللہ کے لیے خاص رکھنا چاہیے۔
   · دنیوی مال و متاع پر فخر یا بھروسہ نہیں کرنا چاہیے، بلکہ اسے آخرت کی کامیابی کے لیے راستہ بنانا چاہیے۔
   · فطرتِ سلیمہ کو برقرار رکھنے اور اس میثاق کو یاد رکھنے کی کوشش کرنی چاہیے جس کا اقرار ہماری روحوں نے ابتداء میں کیا تھا۔

یہ حدیث اور اس کی شرح انسان کو اس بات پر غور کرنے پر مجبور کر دیتی ہے کہ آخر اس نے اپنی اصل (فطرتِ توحید) سے منہ کیوں موڑا اور ایک ایسے جرم (شرک) میں کیوں ملوث ہوا جس کی سزا اتنی ہولناک ہے۔


فلسفۂ زندگی:
(1)عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «حُجِبَتِ النَّارُ بِالشَّهَوَاتِ، وَحُجِبَتِ الجَنَّةُ بالمكاره».
ترجمہ:
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "جہنم کو (ممنوع) خواہشات کے ساتھ ڈھانپ دیا گیا ہے، اور جنت کو ناپسندیدہ (مشکل) کاموں کے ساتھ ڈھانپ دیا گیا ہے۔"
[صحيح البخاري:6487]

تشریح:
(حجبت) غطيت. (بالشهوات) الملذات التي منع الشرع من تعاطيها أو التي قد تؤدي إلى ترك الواجبات أو الوقوع في المحرمات. (بالمكاره) المشاق التي تستلزمها الطاعات وترك المحرمات. قال في الفتح وهذا من جوامع كلمه صلى الله عليه وسلم وبديع بلاغته في ذم الشهوات وإن مالت إليها النفوس والحض على الطاعات وإن كرهتها النفوس وشق عليها.
ترجمہ:
· "حجبت" کا معنی ہے: "ڈھانپ دیا گیا، چھپا دیا گیا"۔
· "بالشهوات" سے مراد وہ لذتیں اور خواہشات ہیں جن سے شرع نے منع کیا ہے، یا جو واجبات چھوڑنے یا حرام میں پڑنے کا سبب بن سکتی ہیں۔
· "بالمكاره" سے مراد وہ مشقتیں ہیں جو طاعات (فرائض و نوافل) بجالانے اور محرمات چھوڑنے کے تقاضے ہیں۔
· یہ حدیث آپ ﷺ کے جامع اور بلیغ کلام کی عمدہ مثال ہے، جو خواہشات نفس کی مذمت کرتی ہے اگرچہ نفس ان کی طرف مائل ہوتا ہے، اور ان طاعات کی ترغیب دیتی ہے اگرچہ نفس انہیں ناپسند کرتا ہے اور اس پر گراں گزرتی ہیں۔
[خلاصہ فتح الباری]


تشریح علامہ مناوی:

"(جہنم خواہشات سے ڈھکی ہوئی ہے)" اور قضاعی کی روایت میں "حفت" ہے۔ یعنی وہ لذیذ چیزیں جو دنیا کے معاملات میں سے ہیں جن سے شریعت نے بنیادی طور پر منع کیا ہے یا کیونکہ وہ کسی مأمور (کام) کے ترک کا باعث بنتی ہیں، اور اس میں مشتبہات اور حرمت میں گرنے کے خوف سے مباح چیزوں کی کثرت بھی شامل ہے۔ "(اور جنت مشکلات سے ڈھکی ہوئی ہے)" یعنی وہ چیزیں جن کا مکلف کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ فعلًا و ترکًا اپنے نفس سے ان کی مجاہدہ کرے، جیسے عبادت کو اس کے صحیح طریقے پر ادا کرنا، اس کی حفاظت کرنا اور منہی (حرام) باتوں اور افعال سے بچنا۔ انہیں "مکاریہ" (ناپسندیدہ چیزیں) اس لیے کہا گیا ہے کہ عامل (عمل کرنے والے) پر ان کی مشقت اور دشواری ہے۔ پس خواہشات کو اختیار کیے بغیر جہنم تک نہیں پہنچا جاتا اور مشکلات (جنہیں مکروہات سے تعبیر کیا گیا ہے) کو اٹھائے بغیر جنت تک نہیں پہنچا جاتا۔ اور یہ دونوں (جنت و جہنم) ڈھکی ہوئی ہیں، پس جس نے (اپنے راستے کا) حجاب پھاڑا وہ (مطلوبہ مقام) میں داخل ہو گیا۔

(خ نے ابوہریرہ سے روایت کی) اور مصنف کے کام کا ظاہری مطلب یہ ہے کہ یہ (روایت) وہ ہے جس میں بخاری نے اپنے ساتھی (مسلم) سے انفراد حاصل کیا ہے، لیکن یہ بات ذہول پر مبنی ہے، بلکہ یہ مسلم میں بھی ہے جیسا کہ دیلمی وغیرہ نے ذکر کیا ہے۔

[فیض القدیر-للمناوی:3676]

---



(2)عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «حُفَّتِ الْجَنَّةُ بالمكاره، وَحُفَّتِ النَّارُ بِالشَّهَوَاتِ»
ترجمہ:
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "جنت کو ناپسندیدہ (مشکل) کاموں سے گھیر دیا گیا ہے، اور جہنم کو (ممنوع) خواہشات سے گھیر دیا گیا ہے۔"
[صحيح مسلم:2822]

تشریح:
(حفت الجنة بالمكاره) هكذا رواه مسلم حفت ووقع في البخاري حفت ووقع فيه أيضا حجت وكلاهما صحيح قال العلماء هذا من بديع الكلام وفصبحه وجوامعه التي أوتيها صلى الله عليه وسلم من التمثيل الحسن ومعناه لا يوصل إلى الجنة إلا بارتكاب المكاره والنار إلا بالشهوات وكذلك هما محجوبتان بهما فمن هتك الحجاب وصل إلى المحبوب فهتك حجاب الجنة باقتحام المكاره وهتك حجاب النار بارتكاب الشهوات.
ترجمہ:
· "حفت" کا معنی ہے: "گھیر لیا گیا، چھپا لیا گیا"۔ یہ لفظ "حجبت" کے ہم معنی ہے۔
· علماء کہتے ہیں: یہ آپ ﷺ کے بدیع، فصیح اور جامع کلام میں سے ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جنت تک صرف ناپسندیدہ چیزوں (مشقتوں) کو اٹھا کر ہی پہنچا جا سکتا ہے، اور جہنم تک صرف خواہشات کے ذریعے ہی پہنچا جا سکتا ہے۔
· دونوں (جنت و جہنم) ان چیزوں (مشقتوں اور خواہشات) کے ذریعے "پردے میں" ہیں۔ جو شخص اس پردے کو چاک کرے گا، وہ مطلوبہ چیز تک پہنچ جائے گا۔ پس، جنت کے پردے کو مشقتوں پر صبر کر کے چاک کیا جاتا ہے، اور جہنم کے پردے کو خواہشات کے پیچھے بھاگ کر چاک کیا جاتا ہے۔
[خلاصہ شرح نووی]


تشریح علامہ مناوی:

"(جنت مشکلات سے گھری ہوئی ہے)" یعنی جنت کے اطراف و اکناف تمام ایسی ناپسندیدہ چیزوں سے گھیرے ہوئے ہیں جنہیں انسان ناپسند کرتا ہے اور جن پر عمل پیرا ہونا اس کے لیے دشوار ہے، جیسے عبادات کے حقوق کو ان کے کامل طریقے پر ادا کرنا، موسم سرما میں پوری طرح وضو کرنا، اور مصیبتوں پر صبر کو نگل لینا۔ قرطبی فرماتے ہیں: اس کا اصل مقصد یہ ہے کہ جنت ہر طرف سے اس (مشکل) سے گھری ہوئی ہے جو اسے گھیرے ہوئے ہے، اور انسان اس تک نہیں پہنچ سکتا جب تک کہ اس (مشکل) کو پار نہ کر لے۔ پس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مشکلات اور خواہشات کی اس سے مثال دی ہے۔ لہٰذا جنت مشکلات کے صحراؤں کو عبور کرنے اور ان پر صبر کرنے کے بغیر حاصل نہیں ہوتی، اور جہنم سے نجات نفس کو اس کی مطلوبہ چیزوں سے روکے بغیر حاصل نہیں ہوتی۔ ابن حجر فرماتے ہیں: یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے جامع کلمات اور آپ کی بدیع البلاغت میں سے ہے، جس میں خواہشات کی مذمت کی گئی ہے اگرچہ نفوس ان کی طرف مائل ہوں، اور طاعات کی ترغیب دی گئی ہے اگرچہ نفوس انہیں ناپسند کریں اور ان پر عمل ان کے لیے شاق ہو۔ (اور دوسری روایت میں "حفت" کے بجائے دونوں مقامات پر "حجبت" یعنی "جنت مشکلات سے ڈھکی ہوئی ہے" آیا ہے)۔ "(اور جہنم خواہشات سے گھری ہوئی ہے)" یعنی ہر وہ چیز جو نفس کو موافق اور پسند ہو اور وہ اس کی طرف بلائے۔ قرطبی نے اسے یوں بیان کیا ہے کہ وہ (جہنم) ہر طرف سے ان (خواہشات) سے تہ بہ تہ ہے۔ یہ بہت خوبصورت تمثیل ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ جنت تک طاعت میں محنت اور مشقت کرنے اور خواہشات سے صبر کرنے کی مشکلات کو اٹھا کر ہی پہنچا جاتا ہے، جیسے کسی چیز سے روکے ہوئے شخص کو اس کے حجاب کو پھاڑ کر ہی اس چیز تک پہنچا جاتا ہے۔ اور جہنم تک خواہشات کو اپنا کر پہنچا جاتا ہے۔ اور مصیبتوں پر صبر بھی انہی مشکلات میں سے ہے۔ پس انسان جس بھی (مصیبت) پر صبر کرتا ہے، وہ جنت کے ایک حجاب کو توڑ دیتا ہے۔ وہ اس کے حجابات کو توڑتا رہتا ہے یہاں تک کہ اس کے اور جنت کے درمیان صرف روح کا بدن سے جدا ہونا باقی رہ جاتا، پھر کہا جاتا ہے: {اے مطمئن نفس! تو اپنے رب کی طرف لوٹ آ، تو اس سے راضی اور وہ تجھ سے راضی}۔ غزالی فرماتے ہیں: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جنت کا راستہ کٹھن، راہ دشوار، بہت سی رکاوٹوں اور سخت مشقتوں والا، منزلیں دور، بڑے بڑے فتنوں، بہت سی رکاوٹوں اور مزاحمتوں، پوشیدہ ہلاکتوں اور قطع تعلق کرنے والی چیزوں، دشمنوں اور ڈاکوؤں کی کثرت، اور پیروکاروں اور مددگاروں کی کمی والا ہے۔ اور ایسا ہی ہونا چاہیے۔

(ح م) جنت کی صفت میں (ت) جنت کی صفت میں (انس بن مالک سے روایت ہے) (م نے ابو ہریرہ سے روایت کی، ح م نے زہد میں ابن مسعود سے موقوفاً روایت کی) مصنف (المناوی) کے کام کا ظاہری مطلب یہ ہے کہ یہ (حدیث) وہ ہے جس میں مسلم نے اپنے ساتھی (بخاری) سے انفراد حاصل کیا ہے، لیکن یہ بات ذہول پر مبنی ہے، بلکہ بخاری نے اسے الرقائق میں روایت کیا ہے اور کہا ہے: "حفت" کے بجائے "احتجبت" ہے۔ تعجب کی بات ہے کہ مصنف نے الدرر میں اسے شیخین (بخاری و مسلم) دونوں سے بالکل اسی الفاظ کے ساتھ منسوب کیا ہے جو یہاں انس کی حدیث سے مذکور ہیں۔

[فیض القدیر-للمناوی:3732]




حاصل شدہ اسباق و نکات:

1. جنت کا حصول مشکل ہے: جنت تک پہنچنے کا راستہ کٹھن، دشوار گزار اور بہت سی مشقتوں، رکاوٹوں اور آزمائشوں سے بھرا ہوا ہے۔

2. جنت کا حجاب: جنت مشکلات اور ناپسندیدہ چیزوں (جیسے عبادات کی کامل ادائیگی، مصیبتوں پر صبر) سے ڈھکی ہوئی ہے۔ ان مشکلات پر صبر کر کے اور انہیں عبور کر کے ہی اس حجاب کو ہٹایا جا سکتا ہے۔

3. جہنم کا حجاب: جہنم نفسانی خواہشات اور لذتوں سے ڈھکی ہوئی ہے۔ ان خواہشات (حتیٰ کہ مباحات کی کثرت اور مشتبہات) کے ترک اور ان سے بچنے کے بغیر جہنم سے نجات ممکن نہیں۔

4. صبر کا مرکزی کردار: ہر قسم کی مصیبت (چھوٹی یا بڑی) پر صبر، جنت کے ایک حجاب کو توڑ دیتا ہے۔ مسلسل صبر کرنے والا آخرت میں جنت کے قریب تر ہوتا چلا جاتا ہے۔

5. نفس کی مجاہدہ: جنت کے راستے کی سب سے بڑی شرط اپنے نفس سے جنگ کرنا ہے، خواہ وہ نیک اعمال کرنے میں ہو یا برائیوں سے روکنے میں۔

6. حدیث نبوی کی جامعیت و بلاغت: یہ حدیث نبی اکرم ﷺ کے جامع اور بلیغ کلمات میں سے ہے جو ایک مختصر جملے میں کائنات کی ایک اہم ترین حقیقت بیان کر دیتا ہے۔

7. عبادات میں کیفیت کی اہمیت: محض عبادت کرنا کافی نہیں، بلکہ اسے اس کے آداب و شرائط کے ساتھ مکمل طور پر (جیسے سردی میں پوری طرح وضو کرنا) ادا کرنا ضروری ہے۔

8. مصائب پر صبر کا اجر: دنیا کی ہر مصیبت پر صبر، آخرت میں درجات کی بلندی اور جنت کے قرب کا سبب بنتا ہے۔

9. خواہشات کا خطرہ: نفسانی خواہشات جہنم تک لے جانے والی سب سے بڑی راہ ہیں۔ ان سے بچنا اور ان پر قابو پانا ضروری ہے۔

10. علماء کے اقوال کی توثیق: مختلف ائمہ اور مفسرین (جیسے قرطبی، ابن حجر، غزالی) کے اقوال اس حدیث کی اہمیت، تفہیم اور تطبیق کو مزید واضح اور موثر بناتے ہیں۔

11. روایات کا اختلاف: بعض روایات میں لفظ "حفت" (گھیر لینا) ہے اور بعض میں "حجبت" (ڈھانپ لینا) ہے۔ دونوں کا مفہوم قریب قریب ہے اور ایک دوسرے کی تائید کرتا ہے۔

12. صحیحین (بخاری و مسلم) کا تعاون: یہ حدیث بلند پایہ کی ہے اور صحیحین دونوں میں مختلف الفاظ اور سندوں کے ساتھ موجود ہے، جو اس کی صحت و اہمیت کو مزید تقویت دیتی ہے۔





(3)عَنْ، حُصَيْنِ بْنِ عُقْبَةَ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: «وَإِنَّ الْجَنَّةَ حُفَّتْ بالمكاره , وَإِنَّ النَّارَ حُفَّتْ بِالشَّهَوَاتِ , فَمَنِ اطَّلَعَ بِحِجَابٍ وَاقِعٍ مَا وَرَاءَهُ»
ترجمہ:
حضرت حصین بن عقبہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عبداللہ (بن مسعود رضی اللہ عنہ) نے فرمایا:
"بے شک جنت ناگوار (مشکل) کاموں سے گھیر دی گئی ہے، اور بے شک جہنم (ممنوع) خواہشات سے گھیر دی گئی ہے۔ پس جس شخص نے (کسی) موجود پردے (رکاوٹ) سے (اس کے) پیچھے کی چیز کو دیکھ لیا (یعنی اسے عبور کر لیا)، تو وہ وہاں پہنچ جائے گا۔"
[مصنف ابن ابی شیبہ:34527]









(3)عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَمَّا خَلَقَ اللَّهُ الْجَنَّةَ قَالَ لِجِبْرِيلَ: اذْهَبْ فَانْظُرْ إِلَيْهَا، فَذَهَبَ فَنَظَرَ إِلَيْهَا، ثُمَّ جَاءَ، فَقَالَ: أَيْ رَبِّ وَعِزَّتِكَ لَا يَسْمَعُ بِهَا أَحَدٌ إِلَّا دَخَلَهَا، ثُمَّ حَفَّهَا بالمكاره، ثُمَّ قَال: يَا جِبْرِيلُ اذْهَبْ فَانْظُرْ إِلَيْهَا، فَذَهَبَ فَنَظَرَ إِلَيْهَا، ثُمَّ جَاءَ فَقَالَ: أَيْ رَبِّ وَعِزَّتِكَ لَقَدْ خَشِيتُ أَنْ لَا يَدْخُلَهَا أَحَدٌ " قَالَ: " فَلَمَّا خَلَقَ اللَّهُ النَّارَ قَالَ: يَا جِبْرِيلُ اذْهَبْ فَانْظُرْ إِلَيْهَا، فَذَهَبَ فَنَظَرَ إِلَيْهَا، ثُمَّ جَاءَ فَقَالَ: أَيْ رَبِّ وَعِزَّتِكَ لَا يَسْمَعُ بِهَا أَحَدٌ فَيَدْخُلُهَا، فَحَفَّهَا بِالشَّهَوَاتِ ثُمَّ قَالَ: يَا جِبْرِيلُ اذْهَبْ فَانْظُرْ إِلَيْهَا، فَذَهَبَ فَنَظَرَ إِلَيْهَا، ثُمَّ جَاءَ فَقَالَ: أَيْ رَبِّ وَعِزَّتِكَ لَقَدْ خَشِيتُ أَنْ لَا يَبْقَى أَحَدٌ إِلَّا دَخَلَهَا ".
ترجمہ:
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "جب اللہ تعالیٰ نے جنت پیدا فرمائی تو جبریل علیہ السلام سے فرمایا: 'جاؤ، اسے دیکھو۔' وہ گئے اور اسے دیکھا، پھر حاضر ہو کر کہا: 'اے میرے رب! تیری عزت کی قسم! جو بھی اس (کی خوبی) کے بارے میں سنے گا، وہ ضرور اس میں داخل ہوگا۔' پھر اللہ نے اسے ناپسندیدہ (مشکل) کاموں سے گھیر دیا۔ پھر فرمایا: 'اے جبریل! جاؤ، اسے دیکھو۔' وہ گئے اور دیکھا، پھر حاضر ہو کر کہا: 'اے میرے رب! تیری عزت کی قسم! مجھے ڈر ہے کہ اب کوئی بھی اس میں داخل نہ ہو سکے گا۔'
آپ ﷺ نے فرمایا: "پھر جب اللہ تعالیٰ نے جہنم پیدا فرمائی تو فرمایا: 'اے جبریل! جاؤ، اسے دیکھو۔' وہ گئے اور دیکھا، پھر حاضر ہو کر کہا: 'اے میرے رب! تیری عزت کی قسم! جو بھی اس (کی ہولناکی) کے بارے میں سنے گا، وہ ہرگز اس میں داخل نہ ہوگا۔' پھر اللہ نے اسے خواہشات سے گھیر دیا۔ پھر فرمایا: 'اے جبریل! جاؤ، اسے دیکھو۔' وہ گئے اور دیکھا، پھر حاضر ہو کر کہا: 'اے میرے رب! تیری عزت کی قسم! مجھے ڈر ہے کہ اب کوئی بھی باقی نہ بچے گا، سب ہی اس میں داخل ہو جائیں گے۔'"
[سنن ابوداؤد:4744، سنن الترمذي:2560، سنن النسائي:3763]

---

مجموعی اسباق و نکات:

1. دنیا امتحان گاہ ہے: یہ احادیث دنیوی زندگی کے بنیادی امتحان کی نوعیت کو واضح کرتی ہیں۔ اللہ نے جنت اور جہنم تک پہنچنے کے راستوں کو ایسی چیزوں سے ڈھانپ رکھا ہے جو انسانی نفس کے لیے کشش یا نفرت کا باعث ہیں، تاکہ ایمان دار اور صابر لوگوں کو بے ایمان اور شہوات کے غلاموں سے الگ کیا جا سکے۔


2. جنت کا راستہ مشکل ہے: جنت کا حصول آسان نہیں۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ:


   · نفس کی ناپسندیدہ چیزوں (نماز، روزہ، حج، جہاد، والدین کی خدمت، صدقہ، علم حاصل کرنا وغیرہ) کو بجالایا جائے۔
   · مشقتوں، تکلیفوں اور مشکلات پر صبر کیا جائے۔
   · آرام اور آسانی کے پیچھے نہ بھاگا جائے جب وہ دین پر عمل میں رکاوٹ بنیں۔

3. جہنم کا راستہ آسان اور پرکشش ہے: جہنم ایسی چیزوں سے گھری ہوئی ہے جو نفس کو بھلی لگتی ہیں:


   · ہر وہ گناہ اور معصیت جو فوری لذت دیتا ہے۔
   · ہر وہ حرام خواہش جس کی پیریکی کی جائے۔
   · فرائض کو چھوڑ کر آرام حاصل کرنا۔

4. نفس کی حقیقت کو پہچاننا: انسان کا نفس فطری طور پر مشقت سے گھبراتا اور لذت کی طرف مائل ہوتا ہے۔ ان احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ کامیابی اسی میں ہے کہ نفس کی اس فطرت کے برعکس چلا جائے: لذت (گناہ) کو چھوڑا جائے اور مشقت (طاعت) کو اٹھایا جائے۔


5. توازن کا اصول: یہ مطلب نہیں کہ ہر خواہش بری ہے۔ جائز لذتیں اور آرام حاصل کرنا منع نہیں۔ مسئلہ "حرام خواہشات" کا ہے اور "واجبات کی ادائیگی میں پیش آنے والی مشقت" کا ہے۔


6. ترغیب و تنبیہ: احادیث ایک طرف جنت کی خاطر مشکلات اٹھانے کی ترغیب دیتی ہیں، تو دوسری طرف جہنم سے بچنے کے لیے خواہشات پر قابو پانے کی تاکید کرتی ہیں۔ یہ ایمان والے کے لیے ہمیشہ توجہ اور جہد مسلسل کا تقاضا کرتی ہیں۔


7. اللہ کی حکمت: تیسری حدیث میں بیان کردہ واقعہ اللہ تعالیٰ کی کامل حکمت کو ظاہر کرتا ہے۔ اگر جنت کا راستہ بالکل آسان اور جہنم کا راستہ بالکل کڑوا ہوتا، تو امتحان کا مقصد فوت ہو جاتا۔ اس طرح ہر شخص اپنے اختیار اور محنت کے مطابق بدلہ پائے گا۔

عملی اطلاق:
ہمیں اپنی روزمرہ زندگی میں ہر اس عمل پر غور کرنا چاہیے جو نفس کے لیے مشکل ہے لیکن شرعاً مطلوب ہے (جیسے صبح کی نماز، روزہ، سچ بولنا، غصہ روکنا) — یہ جنت کی طرف لے جانے والی سیڑھیاں ہیں۔ اور ہر اس آسان لذت سے بچنا چاہیے جو شرعاً ممنوع ہے (جیسے غیبت، چغلی، دھوکہ، حرام نظر) — یہ جہنم کے گڑھے ہیں۔





القرآن:
(اے نبی) تم ان کے لیے استغفار کرو یا نہ کرو، اگر تم ان کے لیے ستر مرتبہ استغفار کرو گے تب بھی الله انہیں معاف نہیں کرے گا۔ یہ اس لیے کہ انہوں نے الله اور اس کے رسول کے ساتھ کفر کا رویہ اپنایا ہے، اور الله نافرمان لوگوں کو ہدایت تک نہیں پہنچاتا۔
[سورۃ التوبة، آیت نمبر 80]
۔۔۔اور انہوں نے کہا تھا کہ: اس گرمی میں نہ نکلو، کہو کہ: جہنم کی آگ گرمی میں کہیں زیادہ سخت ہے۔ کاش! ان کو سمجھ ہوتی۔
[سورۃ التوبہ:81]






القرآن:
پھر بھی وہ یہ لالچ کرتا ہے کہ میں اسے اور زیادہ دوں۔ ہرگز نہیں! وہ ہماری آیتوں کا دشمن بن گیا ہے۔ عنقریب میں اسے صعود(ایک کٹھن چڑھائی) پر چڑھاؤں گا۔
[سورۃ المدثر،آیت نمبر 15-17]



القرآن:
یقین جانو کہ زقوم کا درخت، گنہگار کا کھانا ہوگا۔ تیل کی تلچھٹ جیسا۔ وہ لوگوں کے پیٹ میں اس طرح جوش مارے گا۔ جیسے کھولتا ہوا پانی۔ (فرشتوں سے کہا جائے گا) اس کو پکڑو، اور گھسیٹ کر دوزخ کے بیچوں بیچ تک لے جاؤ۔ پھر اس کے سر کے اوپر کھولتے ہوئے پانی کا عذاب انڈیل دو۔
(کہا جائے گا کہ) لے چکھ۔ تو ہی ہے وہ بڑا صاحب اقتدار، بڑا عزت والا۔
[سورۃ الدخان، آیت نمبر 43-49]
تفسیر:
یعنی دنیا میں تو اپنے آپ کو بڑا صاحب اقتدار اور بڑا با عزت سمجھتا تھا اور اس پر تجھے گھمنڈ تھا، آج اپنی یہ حالت دیکھ لے کہ تکبر، گھمنڈ اور حق کے انکار کا انجام کیا ہوتا ہے؟



القرآن:
ہم نے اس درخت کو ان ظالموں کے لیے ایک آزمائش بنادیا ہے۔ (10) دراصل وہ درخت ہی ایسا ہے جو درزخ کی تہہ سے نکلتا ہے۔ اس کا خوشہ ایسا ہے جیسے شیطانوں کے سر۔ (11) چنانچہ دوزخی لوگ اسی میں سے خوراک حاصل کریں گے، اور اسی سے پیٹ بھریں گے۔
[سورۃ الصافات، آیت نمبر 63-66]
تفسیر:
(10)جب قرآن کریم نے یہ بتایا کہ دوزخ میں زقوم کا درخت ہوگا جو دوزخیوں کی خوراک بنے گا، تو کافروں نے مذاق اڑایا کہ بھلا آگ میں کوئی درخت کیسے ہوسکتا ہے۔ الله تعالیٰ فرما رہے ہیں کہ زقوم کا ذکر کرکے ان کافروں کو ایک اور آزمائش میں ڈالا گیا ہے کہ یہ الله تعالیٰ کی بات کی تصدیق کرتے ہیں، یا اس کا انکار کرتے ہیں۔
(11) اس کا ایک ترجمہ سانپوں کے سر سے بھی کیا گیا ہے۔ اسی وجہ سے بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ اردو میں جس درخت کو ناگ پھنی کا درخت کہا جاتا ہے، وہی زقوم ہے۔

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَرَأَ هَذِهِ الآيَةَ: {اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلاَ تَمُوتُنَّ إِلاَّ وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ}
قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَوْ أَنَّ قطرة من الزقوم قُطِرَتْ فِي دَارِ الدُّنْيَا لأَفْسَدَتْ عَلَى أَهْلِ الدُّنْيَا مَعَايِشَهُمْ، فَكَيْفَ بمن يَكُونُ طَعَامَهُ؟.

[احمد:2735، طيالسي:2643،ابن ماجه:4325، ترمذي:5285، تفسیر ابن أبي حاتم:1098(3912)، صحیح ابن حبان:7470، طبراني:11068، حاكم:451-452، البعث والنشور-للبيهقي:543 ، البغوي:4408]











فجر وعصر کے فضیلت:
حضرت عمارہ بن رویبہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ:
لَنْ يَلِجَ النَّارَ أَحَدٌ صَلَّی قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ غُرُوبِهَا يَعْنِي الْفَجْرَ وَالْعَصْرَ
ترجمہ:
وہ آدمی ہرگز دوزخ میں نہیں جائے گا جس نے سورج نکلنے سے پہلے اور سورج کے غروب ہونے سے پہلے نماز پڑھی یعنی فجر اور عصر کی۔
[صحیح مسلم:213(1436)، سنن نسائی:471، سنن ابوداؤد:427، صحیح ابن خزیمہ:319-320، صحیح ابن حبان:1738-1740، بیھقی:2187، بغوی:382]


القرآن:
۔۔۔۔۔اور سورج نکلنے سے پہلے اور اس کے غروب سے پہلے اپنے رب کی تسبیح اور حمد کرتے رہو۔۔۔۔۔
[سورۃ نمبر 20 طه،آیت نمبر 130]
القرآن:
تمام نمازوں کا پورا خیال رکھو، اور (خاص طور پر) بیچ کی نماز کا۔۔۔۔۔
[سورۃ نمبر 2 البقرة، آیت نمبر 238]


اللہ کے خوف سے رونے کی فضیلت:
حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ  رسول اللہ  ﷺ  نے فرمایا:
لَا يَلِجُ النَّارَ رَجُلٌ بَكَى مِنْ خَشْيَةِ اللَّهِ حَتَّى يَعُودَ اللَّبَنُ فِي الضَّرْعِ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا يَجْتَمِعُ غُبَارٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَدُخَانُ جَهَنَّمَ
ترجمہ:
اللہ کے ڈر سے رونے والا جہنم میں داخل نہیں ہوگا یہاں تک کہ دودھ تھن میں واپس لوٹ جائے،  (اور یہ محال ہے)  اور جہاد کا غبار اور جہنم کا دھواں ایک ساتھ جمع نہیں ہوں گے۔   
[سنن الترمذي:1633+2311،سنن النسائی:3108، سنن ابن ماجہ:2774﴿مصنف ابن ابی شیبہ:19364،مسند احمد:10560،حاکم:7667﴾]

القرآن:
اور وہ روتے ہوئے ٹھوڑیوں کے بل گرجاتے ہیں اور یہ (قرآن) ان کے دلوں کی عاجزی کو اور بڑھا دیتا ہے۔
[سورۃ الإسراء،آیت نمبر 109]
القرآن:
....جب ان کے سامنے خدائے رحمن کی آیتوں کی تلاوت کی جاتی تو یہ روتے ہوئے سجدے میں گرجاتے تھے۔
[سورۃ مريم،آیت نمبر 58]
القرآن:
اور (اس کا مذاق بنا کر) ہنستے ہو، اور روتے نہیں ہو۔
[سورۃ النجم، آیت نمبر 60]









گھٹی












القرآن:

جو پاکیزہ رزق ہم نے تمہیں عطا کیا ہے اس میں سے کھاؤ، اور اس میں سرکشی نہ کرو جس کے نتیجے میں تم پر میرا غضب نازل ہوجائے۔ اور جس کسی پر میرا غضب نازل ہوجاتا ہے وہ تباہی میں گر کر رہتا ہے۔

[سورۃ نمبر 20 طه،آیت نمبر 81]





No comments:

Post a Comment