قرآنِ کریم نے شرک کو "ظلم عظیم" قرار دیا ہے اور اس کی سنگینی کو متعدد آیات میں واضح کیا ہے۔ درج ذیل آیات اس بارے میں واضح دلائل ہیں:
📖 1. شرک کو "عظیم ظلم" قرار دینا
القرآن:
وَإِذْ قَالَ لُقْمَانُ لِابْنِهِ وَهُوَ يَعِظُهُ يَا بُنَيَّ لَا تُشْرِكْ بِاللَّهِ ۖ إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ
"اور (یاد کرو) جب لقمان نے اپنے بیٹے سے نصیحت کرتے ہوئے کہا: اے بیٹے! اللہ کے ساتھ شرک نہ کر، بیشک شرک بہت بڑا ظلم ہے۔"
[سورة لقمان:13]
ظلم کے معنی یہ ہیں کسی کا حق چھین کر دوسرے کو دے دیا جائے، شرک اس لحاظ سے واضح طور پر بہت بڑا ظلم ہے کہ عبادت اللہ تعالیٰ کا خالص حق ہے شرک کرنے والے اللہ تعالیٰ کا یہ حق ادا کرنے کے بجائے خود اسی کے بندوں اور اسی کی مخلوقات کو دیتے ہیں۔

لفظ "ظلم" کا لغوی معنی ہے "کسی چیز کو اس کے حقیقی مقام سے ہٹا کر رکھ دینا" یا "حق کو ناحق پر مقدم کرنا"۔ جب اس تعریف کو عقلی پیمانے پر پرکھا جائے تو شرک کے عظیم ظلم ہونے کی پانچ بنیادی عقلی وجوہات واضح ہوتی ہیں:
۱. عظیم حق کا عظیم استخفاف (حق تلفی کا تناسب)
عقلی اصول ہے: ظلم کی شدت اس حق کے حجم کے تناسب سے ہوتی ہے جسے تلف کیا جا رہا ہے۔
فرض کریں کسی کا ایک روپے کا حق مارنا ایک چھوٹا ظلم ہے، اور کسی کا لاکھوں روپے کا حق مارنا بڑا ظلم ہے۔ لیکن اگر کسی کا پوری کائنات اور ہر انسان کی زندگی پر مکمل حق ہو، اور اس حق کو چھین کر کسی اور کو دے دیا جائے، تو یہ ظلم کی انتہا ہے۔
عقلی نکتہ:
اللہ تعالیٰ کا ہر چیز پر حقِ الوہیت، حقِ عبادت، حقِ اطاعت، اور حقِ محبت ہے۔ شرک کا مطلب یہ ہے کہ انسان اس عظیم ترین حق (جو خود اللہ کا ہے) کو چھین کر ایک کمزور، محدود اور فانی مخلوق کو دے دیتا ہے۔ عقل کہتی ہے کہ جس قدر حق بڑا ہو، اس کے چھیننے کا جرم بھی اسی قدر بڑا ہوتا ہے۔ اس لیے شرک عظیم ترین ظلم ہے۔
۲. بے مثال احسان کا بے مثل انکار (ناشکری کی انتہا)
انسانی عقل یہ مانتی ہے کہ جس کا احسان جتنا بڑا ہو، اس کا شکر ادا کرنا اتنا ہی ضروری ہے، اور اس کے احسان کو بھول کر اس کی مخالفت کرنا انتہائی ظلم ہے۔
اللہ نے انسان کو وجود بخشا، اسے عقل دی، اس کے لیے زمین و آسمان کی تمام نعمتوں کو مسخر کر دیا، اور ہر لمحہ اس کی پرورش فرماتا ہے۔
عقلی نکتہ:
اس بےپناہ احسان کے باوجود، اگر کوئی شخص شرک کرے اور کسی اور کو اللہ کا ہمسر ٹھہرا کر اس کی عبادت کرے، تو عقل کہتی ہے کہ اس سے بڑھ کر ناشکری اور احسان فراموشی کوئی نہیں۔ یہ اس شخص کی مانند ہے جسے کوئی بادشاہ اپنا وزیر بنا دے، اور وہ بادشاہ کا دشمن بن کر اس کے خلاف علم بلند کر لے۔
۳. مخلوق کا خالق سے موازنہ (محدود کو لامحدود کے برابر کرنا)
عقل کا تقاضا ہے کہ دو چیزوں کا موازنہ تب تک نہیں کیا جا سکتا جب تک وہ ایک جیسی صفات کی حامل نہ ہوں۔
اللہ تعالیٰ کی صفات (جیسے قدرتِ مطلق، علمِ کامل، غنی، سرمدی) لامحدود اور غیرفانی ہیں۔ جبکہ تمام مخلوقات (انسان، فرشتے، بت، ستارے) محدود، فانی اور محتاج ہیں۔
عقلی نکتہ:
شرک کرنا یعنی ایک ایسی مخلوق کو، جو خود ایک ذرے کی حیثیت رکھتی ہے، اس ہستی کے برابر ٹھہرانا جس نے اس ذرے کو پیدا کیا۔ عقل اسے ایک سنگین غلطی اور بدترین جہالت قرار دیتی ہے۔ یہ کسی پتھر کو ہیرا کہنے یا چمگادڑ کو شہباز کہنے سے بھی بڑا ظلم ہے، کیونکہ یہ حقیقت کو جھٹلانے کی انتہا ہے۔
۴. نظامِ کائنات اور بادشاہی سے بغاوت (Sovereignty کی خلاف ورزی)
دنیا میں کسی بھی بادشاہت یا نظام کا سب سے بڑا جرم بغاوت اور حاکمیت کو چیلنج کرنا ہوتا ہے۔
کائنات کا ایک منظم نظام ہے، جس کا ایک خالق، مالک اور منتظم ہے۔ وہ اللہ ہے۔
عقلی نکتہ:
شرک کرنے والا عملاً اس نظام کے خلاف بغاوت کر رہا ہے۔ وہ اللہ کی حاکمیت کو چیلنج کر رہا ہے اور اس کے فیصلوں کو مسترد کر کے دوسروں کو فیصلہ ساز بنا رہا ہے۔ کوئی بھی حکمران اپنی سلطنت میں اس بغاوت کو ”چھوٹا جرم“ نہیں کہتا۔ اسی طرح اللہ کی بادشاہت میں شرک سب سے بڑی بغاوت ہے، جو اس کی عدالت میں عظیم ظلم ہے۔
۵. اپنے نفس پر بدترین ظلم (Tyranny against the Self)
ظلم صرف دوسروں پر نہیں، بلکہ انسان اپنے اوپر بھی ظلم کر سکتا ہے، اور شرک سب سے بڑا خودکُش ظلم ہے۔
اللہ نے انسان کو جنت اور ابدی کامیابی کے لیے پیدا کیا۔
عقلی نکتہ:
شرک کرنے والا شخص اپنے ہاتھوں اپنی جنت، اللہ کی رضا، اور ہمیشہ کی نعمتوں کو تباہ کر کے خود کو جہنم کے لیے تیار کر رہا ہے۔ عقل کہتی ہے کہ جو شخص اپنی ابدی زندگی کو برباد کر دے، وہ اپنے اوپر سب سے بڑا ظلم کر رہا ہے۔
💎 تمام عقلی نکات کا خلاصہ:
شرک کا ”عظیم ظلم“ کیوں؟
حق کا تناسب
اللہ کا حق سب سے بڑا ہے، اس لیے اس کو چھیننا سب سے بڑا ظلم ہے۔
ناشکری کی انتہا
لامحدود نعمتوں کے باوجود غیر کو اللہ کا ہمسر بنانا بدترین احسان فراموشی ہے۔
محدود کا لامحدود سے موازنہ
ایک فانی مخلوق کو خالقِ ازلی کے برابر ٹھہرانا عقلی اور منطقی جرم ہے۔
بادشاہی میں بغاوت
کائنات کے بادشاہ کی حاکمیت کو چیلنج کرنا انتہائی سنگین جرم ہے۔
خود کشی (Self-Destruction)
اپنے ہاتھوں اپنی جنت اور نجات کو تباہ کرنا بدترین خودکُشی اور ظلم ہے۔
🔑 حتمی نتیجہ:
عقلِ سلیم یہ حکم کرتی ہے کہ ”ظلم“ کی تعریف کسی چیز کو اس کی جگہ سے ہٹانا ہے۔ شرک میں انسان اللہ کو اس کے سب سے بڑے اور خاص مقام (معبود ہونے، مالک ہونے، اور حاکم ہونے) سے ہٹا کر اسے اس کے برعکس (مخلوق کے مقام) پر رکھ دیتا ہے۔
یہ کوئی معمولی انحراف نہیں، بلکہ حق، حقیقت، نظام، احسان اور اپنی ذات — ان پانچوں بنیادی ستونوں کے خلاف یکمشت بغاوت ہے۔ اس لیے اللہ نے اسے "ظُلْمٌ عَظِيمٌ" (بےمثال ظلم) قرار دیا، اور عقل بھی اسی نتیجے پر پہنچتی ہے کہ اس سے بڑھ کر کوئی ظلم اور ناانصافی ممکن ہی نہیں۔
📖 2. شرک اللہ پر بڑا بہتان باندھنا ہے
القرآن:
... اور جس نے (کسی کو) شریک ٹھہرایا اللہ کا پس اس نے باندھا بہتانِ عظیم۔
[سورۃ النساء:48]
بہتان کا مطلب ہے کسی کے بارے میں غلط بات کہنا، اس کی صفت بیان کرنا جو اس میں نہ ہو، یا اس کا کام کسی اور کو سونپ دینا۔ جب کوئی شخص شرک کرتا ہے، تو وہ درحقیقت اللہ تعالیٰ کے بارے میں سب سے بڑا جھوٹ بولتا ہے۔
آئیے اسے عقلی (منطقی) دلائل کی روشنی میں سمجھتے ہیں:
۱. وجود اور صفات میں تضاد کا الزام (مخلوق کو خالق کے مشابہ ٹھہرانا)
عقلی دلیل:
کائنات میں ہر چیز کا ایک خالق (Creator) اور ایک مخلوق (Creation) ہے۔ خالق کی صفات (جیسے قدرت، علم، رزق دینا، سننا، دیکھنا) لامحدود (Infinite) ہیں، جبکہ مخلوق کی صفات محدود (Finite) ہیں۔
جب کوئی شخص کسی مخلوق (جیسے کسی نبی، ولی، فرشتہ، یا بت) کو اللہ کا شریک ٹھہراتا ہے، تو وہ ایک محدود وجود کو لامحدود صفات کا حامل قرار دیتا ہے۔
یہ بہتان کیوں ہے؟
یہ کہنا کہ ”ایک مخلوق بھی اللہ کی طرح قدرت رکھتی ہے“، عقل کے خلاف ہے۔ ایک مخلوق تو خود ایک لمحے پہلے موجود نہیں تھی اور اب موجود ہے، پھر وہ دوسروں کو وجود کیسے دے سکتی ہے؟ یہ ایک ایسی صفت ہے جو صرف خالق میں ہو سکتی ہے۔ اسے کسی اور میں ثابت کرنا سراسر جھوٹ ہے۔
۲. خود ساختہ اور بے دلیل عقیدہ (Reasonless Claim)
عقلی دلیل:
ہر منطقی اور علمی دعویٰ کے لیے دلیل اور ثبوت کی ضرورت ہوتی ہے۔ عقلمند انسان کسی بھی معاملے میں بغیر ثبوت کے فیصلہ نہیں کر سکتا۔
شرک کرنے والے کے پاس اس بات کا کوئی عقلی یا نقلی ثبوت نہیں ہے کہ اللہ نے کسی کو اپنا شریک بنایا ہے، یا کوئی اس کی عبادت کا حقدار ہے۔
یہ بہتان کیوں ہے؟
اگر کوئی شخص کسی بادشاہ کے بارے میں یہ کہے کہ ”اس کا ایک اور ہم مرتبہ شریکِ حکومت ہے“، بغیر کسی دستاویز یا بادشاہ کے اپنے اعلان کے، تو یہ بادشاہ پر ایک بہتان (جھوٹا الزام) ہوگا۔ اسی طرح، اللہ تعالیٰ نے خود اپنی تمام کتب اور انبیاء کے ذریعے صاف اعلان کیا کہ ”مَیں اکیلا ہی معبود ہوں، میرا کوئی شریک نہیں“۔ اس کے برعکس کوئی دعویٰ کرنا اللہ پر بغیر ثبوت کے جھوٹا الزام لگانا ہے۔
۳. حق اور انصاف کی نفی (ناشکری اور ناانصافی)
عقلی دلیل:
عقل کا تقاضا ہے کہ انسان احسان مند (احسان کرنے والے) کا شکر ادا کرے اور اس کی نعمتوں کو پہچانے۔ اللہ تعالیٰ وہ ذات ہے جس نے انسان کو پیدا کیا، اسے عقل دی، رزق دیا، اور کائنات کی تمام چیزیں اس کے تابع کر دیں۔
شرک کا مطلب ہے ان تمام نعمتوں کے باوجود، عبادت اور شکر کسی اور کی طرف موڑ دینا۔
یہ بہتان کیوں ہے؟
یہ کہنا کہ ”اللہ کی نعمتوں کا کوئی دوسرا بھی حقدار ہے“، درحقیقت یہ الزام لگانا ہے کہ اللہ نے اپنی نعمتیں ناقص دی ہیں، یا اس نے کسی اور کو بھی ان کا اختیار دے رکھا ہے۔ حالانکہ اللہ نے خود اپنی کتاب میں فرمایا: ”اور تم اللہ کی نعمتوں کو شمار نہیں کر سکتے“ (سورۃ النحل: 18)۔ ان نعمتوں کو کسی غیر کا نام لے کر ضائع کرنا اور اس کے حقیقی خالق کے سوا کسی اور کا شکر ادا کرنا، اللہ پر یہ الزام لگانے کے مترادف ہے کہ اس نے اپنی نعمتوں کا صحیح انتظام نہیں کیا، حالانکہ ایسا نہیں ہے۔
۴. اس کے کمالات میں کمی کا الزام (توہینِ ذات)
عقلی دلیل:
اللہ تعالیٰ کی سب سے بڑی صفت غنی (بے نیاز) اور قادرِ مطلق ہونا ہے۔ وہ کسی کا محتاج نہیں، اور ہر کام کرنے پر قادر ہے۔
جب کوئی شخص شرک کرتا ہے اور کسی اور کو پکارتا ہے، تو وہ درحقیقت یہ سمجھتا ہے کہ اللہ یا تو سن نہیں رہا، یا جواب نہیں دے سکتا، یا اسے کسی ”واسطے“ (مخلوق) کی ضرورت ہے۔
یہ بہتان کیوں ہے؟
یہ سوچنا کہ اللہ کو اپنی مخلوق کو سننے، دیکھنے، یا ان کی حاجت پوری کرنے کے لیے کسی ”ذریعے“ یا ”واسطے“ کی ضرورت ہے، اس کی قدرتِ کاملہ اور علمِ کامل پر حرف گیری ہے۔ یہ اس بات کے مترادف ہے کہ ہم اللہ کو ناقص یا لاچار قرار دے رہے ہیں، حالانکہ وہ ”سمیع“ (سب کچھ سننے والا) اور ”بصیر“ (سب کچھ دیکھنے والا) ہے۔ یہ اس کی ذات کے بارے میں سب سے بڑا جھوٹ اور بہتان ہے۔
💎 خلاصہ
شرک کو اللہ پر بڑا بہتان کہنے کی عقلی وجوہات یہ ہیں:
محدود کو لامحدود کے برابر کرنا (جو عقل کے خلاف ہے)۔
بغیر کسی ثبوت کے ایک عظیم دعویٰ کرنا (جو علمی اور منطقی طور پر غلط ہے)۔
اللہ کے احسان کا شکر ادا نہ کرنا بلکہ اسے کسی اور کا نام دے دینا (ناشکری اور ناانصافی)۔
اللہ کے کمالات کو ناقص سمجھنا اور اسے دوسروں کا محتاج ٹھہرانا (توہینِ ذات)۔
قرآن مجید نے اسی حقیقت کو ان الفاظ میں بیان کیا ہے:
”اور جو شخص اللہ کے ساتھ شرک کرتا ہے تو اس نے بہت بڑا بہتان گھڑ لیا اور بہت بڑا گناہ کر لیا۔“ (سورۃ النساء: 48)
یہ عقلی وضاحت ہے کہ شرک نہ صرف ایک غلط عقیدہ ہے، بلکہ عقلی اور منطقی طور پر یہ اللہ تعالیٰ کی ذات کے بارے میں ایک انتہائی سنگین جھوٹ اور بہتان ہے۔
📖 3. شرک ہی ناقابلِ معافی گناہ ہے
القرآن:
إِنَّ اللَّهَ لَا يَغْفِرُ أَن يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَٰلِكَ لِمَن يَشَاءُ...
بےشک اللہ نہیں بخشتا کہ (اس گناہ کو کہ کوئی کسی کو) شریک ٹھہرائے اس کا، اور بخشتا ہے جو (گناہ) اس کے سوا ہیں جس کیلئے وہ چاہے... اور جس نے (کسی کو) شریک ٹھہرایا اللہ کا پس اس نے باندھا بہتانِ عظیم۔
[سورۃ النساء:48]
ایک دوسری آیت میں بھی یہی بات دہرائی گئی ہے:
[سورۃ النساء:116]
اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا:
جو مرا (اس حال میں کہ) اس نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرایا...تو وہ داخل ہوگا جنت میں۔۔۔اگرچہ اس نے زنا کیا ہو اور چوری کی ہو۔
[احمد:21466، بخاری:5827﴿7487﴾، مسلم:94(273)]
...اور اگرچہ اس نے شراب پی ہو۔
[بخاری:6443، مسلم:94]
عقل اسے سمجھنے کے لیے چند بنیادی اصولوں کو سامنے رکھتی ہے:
۱. استثنا کا اصول (حد توڑ دینا):
عام طور پر کسی بادشاہ یا مالک کی عدالت میں، وہ اپنے خلاف بغاوت یا توہین کو معاف کر سکتا ہے، لیکن اگر کوئی شخص بادشاہت کے نظام ہی کو ختم کرنے کی کوشش کرے (یعنی کسی اور کو بادشاہ مان لے)، تو یہ اتنا بنیادی جرم ہے کہ اسے معاف کرنا اپنے وجود اور نظام کے خلاف ہوگا۔ شرک بھی اللہ کی ربوبیت (مالکیت) اور الوہیت (معبود ہونے) کے پورے نظام کے خلاف بغاوت ہے۔
۲. توحید پرستی کا تقاضا (مقصدِ تخلیق):
اللہ نے انسانوں اور جنوں کو صرف ایک مقصد کے لیے پیدا کیا: "صرف میری عبادت کرو" (سورۃ الذاریات: ۵۶)۔ شرک اس بنیادی مقصد کو جڑ سے ختم کر دیتا ہے۔ اگر کوئی انسان اپنی تخلیق کے عین مقصد کو ماننے سے انکار کر دے اور اس کے برعکس کرے، تو اس کے لیے معافی کا دروازہ کیسے کھل سکتا ہے، جبکہ اس کا پورا وجود ہی اس مقصد کے لیے بنا ہے؟
۳. بے انتہا ناشکری اور احسان فراموشی:
انسان کی ہر سانس، ہر لمحہ اللہ کا احسان ہے۔ اس کے باوجود، اگر کوئی شخص ان تمام نعمتوں کو بھول کر اور ان کا خالق اکیلا ہے، اسے نظر انداز کر کے کسی اور کو اس کا شریک ٹھہراتا ہے، تو یہ ناشکری کی انتہا ہے۔ معافی عام طور پر اس وقت ہوتی ہے جب مجرم اپنی غلطی تسلیم کرے اور معافی مانگے، لیکن شرک کا مطلب ہے کہ انسان اپنی غلطی کو ہی درست سمجھ رہا ہے، اس لیے توبہ کی حقیقت ہی مفقود ہو جاتی ہے۔
۴. حقِ عبادت کی خلاف ورزی (بڑا ظلم):
عقلی طور پر، عبادت کا حق صرف اسی کو دیا جا سکتا ہے جو بے نیاز، ہر چیز کا مالک، اور ہر حاجت کو پورا کرنے والا ہو۔ یہ صفات صرف اللہ میں ہیں۔ کسی انسان، فرشتے، یا بت کو اس مقام پر رکھنا، اس کی حد سے تجاوز ہے۔ جس طرح ایک انسان کا کسی اور کا پیسہ چرانا ایک ظلم ہے، لیکن کسی اور کو خود کا مالک اور مختار مان لینا اس سے بھی بڑا ظلم ہے۔
⚠️ ایک انتہائی اہم وضاحت (باریک نکتہ):
"ناقابلِ معافی" کا مطلب یہ نہیں کہ کوئی مشرک اگر اس دنیا میں توبہ (یعنی شرک چھوڑ کر خالص توحید کی طرف لوٹ آئے) تو اللہ اسے معاف نہیں کرتا۔
اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا ہے کہ وہ توبہ کرنے والوں کو ضرور معاف کرتا ہے، چاہے ان کا گناہ شرک ہی کیوں نہ ہو۔ ارشاد ہے:
"کہہ دو کہ اے میرے بندو! جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی، اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو، بے شک اللہ سارے گناہ معاف کر دیتا ہے" (سورۃ الزمر: ۵۳)۔
لیکن "ناقابلِ معافی" اس لیے کہا گیا کہ اگر کوئی شخص مرتے دم تک شرک پر قائم رہا اور اس حالت میں اس کی روح قبض ہو گئی، تو اس کے لیے معافی کا کوئی راستہ نہیں، کیونکہ دنیا کا امتحان ختم ہو چکا اور توبہ کا وقت گزر گیا۔
📖 4. شرک دور کی گمراہی ہے.
القرآن:
...وَمَن يُشْرِكْ بِاللَّهِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلَالًا بَعِيدًا
...اور جو شخص اللہ کے ساتھ شرک کرے، وہ یقیناً بہت دور کی گمراہی میں بھٹک گیا۔
[سورۃ النساء:116]
💡 عقلی دلیل: حق تلفی اور ناشکری کا مظہر
عقل کے پیمانے پر شرک کی قباحت اس کی انتہائی ناانصافی اور حقیقت سے دوری کی وجہ سے ہے۔
حق تلفی کا عظیم ترین ظلم: "ظلم" کا مطلب ہے کسی چیز کو اس کے حقیقی مقام سے ہٹا کر رکھ دینا۔ اس لحاظ سے شرک سے بڑھ کر کوئی ظلم نہیں کیونکہ اس میں اللہ تعالیٰ کا حقِ عبادت، جو صرف اسی کا ہے، اس کے بندوں میں سے کسی اور کو دے دیا جاتا ہے۔
ناشکری اور احسان فراموشی: انسان اور کائنات کی ہر چیز اللہ تعالیٰ کی تخلیق ہے اور ہر سانس اسی کی عطا کردہ ہے۔ اس کے باوجود اس کی نعمتوں کو بھول کر اور اس کی عطا کردہ عقل و فکر کو نظر انداز کر کے کسی اور کو اس کا شریک ٹھہرانا عقل کے خلاف اور انتہائی ناشکری ہے۔
بےبنیاد اور باطل عقیدہ: شرک کا مطلب ہے مخلوق کو خالق کے مرتبے پر فائز کرنا یا اس کی صفات میں شریک کرنا۔ یہ ایک ایسی بات ہے جس کی کوئی عقلی دلیل نہیں، اور نہ ہی اس کی تائید میں کوئی حقیقی سند پیش کی جا سکتی ہے۔
📖 5. شرک کرنے والے پر جنت حرام ہے
القرآن:
إِنَّهُ مَن يُشْرِكْ بِاللَّهِ فَقَدْ حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ وَمَأْوَاهُ النَّارُ
"بیشک جو شخص اللہ کے ساتھ شرک کرے، اللہ نے اس پر جنت حرام کر دی ہے اور اس کا ٹھکانا دوزخ ہے۔"
[سورۃ المائدہ:72]
📖 6. شرک تمام نیک اعمال کو ضائع کر دیتا ہے
القرآن:
وَلَقَدْ أُوحِيَ إِلَيْكَ وَإِلَى الَّذِينَ مِن قَبْلِكَ لَئِنْ أَشْرَكْتَ لَيَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ
"اور (اے پیغمبر) تمہاری طرف اور تم سے پہلے کے رسولوں کی طرف یہ وحی کی گئی ہے کہ اگر(اے پیغمبر) تم شرک کرو گے تو تمہارا سارا عمل ضائع ہو جائے گا۔"
[سورة الزمر:65]
القرآن:
...وَلَوْ أَشْرَكُوا لَحَبِطَ عَنْهُمْ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ
...اور اگر وہ(انبیاء)بھی شرک کرتے تو یقیناً ضایع ہوجاتے جو کچھ انہوں نے عمل کیے تھے.
[سورة الأنعام:88]
یہ آیت شرک کے اثرات کو اس کی انتہا تک لے جاتی ہے۔ ارشاد ہے کہ اگر انبیاء علیہم السلام جیسے برگزیدہ ترین لوگ بھی شرک کرتے تو ان کی ساری عمر کی عبادات، جہاد، تبلیغ اور نیکیاں بالکل ضائع (حبط) ہو جاتیں۔ اس کا مطلب ہے کہ شرک اعمال کو مٹا دیتا ہے چاہے وہ کتنے ہی بڑے کیوں نہ ہوں۔
عقلی دلیل:
کسی بھی چیز کی قبولیت کا دارومدار اس کی بنیاد پر ہوتا ہے۔ اگر گھر کی بنیاد (توحید) ہی تباہ ہو جائے تو خوبصورت سے خوبصورت کمرہ (نیک اعمال) بھی منہدم ہو جاتا ہے۔ جس طرح ایک زہریلی گولی میں تھوڑا سا زہر بھی پوری دوا کو بے اثر کر دیتا ہے، اسی طرح عمل میں اگر نیّت یا عقیدہ میں غیر اللہ کا حصہ (شرک) شامل ہو جائے تو وہ مکمل طور پر بے کار ہو جاتا ہے۔ عقل کہتی ہے کہ بغیر صحیح نیت کے کسی کام کا کوئی اخلاقی اور دینی وزن نہیں۔
📖 7. شرک: اللہ کے سوا دوسروں کو اُسی کی مانند محبت دینا
القرآن:
وَمِنَ النَّاسِ مَن يَتَّخِذُ مِن دُونِ اللَّهِ أَندَادًا يُحِبُّونَهُمْ كَحُبِّ اللَّهِ
"اور بعض لوگ ایسے ہیں جو اللہ کے سوا دوسروں کو (اس کا) ہمسر بناتے ہیں، ان سے اللہ جیسی محبت کرتے ہیں۔"
[سورۃ البقرۃ:165]
قرآن حکیم میں محبت کو عبادت اور اطاعت سے جوڑا گیا ہے:
"کہہ دو: اگر تم اللہ سے محبت رکھتے ہو تو میری پیروی کرو، اللہ تم سے محبت کرے گا اور تمہارے گناہ معاف کر دے گا۔"
(سورۃ آل عمران: ۳:۳۱)
اس کا مطلب ہے کہ اللہ کی محبت کا تقاضا اس کی اطاعت ہے۔ جو شخص کسی اور کو اللہ کی مانند محبت کرتا ہے، وہ اس کی اطاعت بھی ایسے ہی کرے گا جیسے اللہ کی اطاعت کرتا ہے، جو شرک ہے۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
"تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک کامل ایمان والا نہیں ہو سکتا جب تک میں اسے اس کے والد، اولاد اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہوں۔"
(صحیح بخاری، صحیح مسلم)
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ محبت کا یہ درجہ صرف اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے لیے مخصوص ہے۔ اگر کوئی کسی اور کو اس درجہ کی محبت دے تو وہ حد سے تجاوز کرتا ہے، جو شرک کی طرف لے جاتا ہے۔
۱. اشد محبت کا حقیقی مستحق صرف اللہ ہے:
عقلی طور پر، محبت کسی کی صفات اور احسانات کے جواب میں پیدا ہوتی ہے۔ اللہ کی صفات (جیسے رحمان، رحیم، قادر، غنی، وغیرہ) لامحدود ہیں، اور اس کے احسانات (تخلیق، رزق، ہدایت، وغیرہ) بے شمار ہیں۔ لہٰذا، اس کی مانند سب سے زیادہ محبت کا مستحق صرف وہی ہے۔ کسی مخلوق کو اس کی مانند اشد محبت دینا، اس کی صفات اور احسانات کو نظر انداز کرنا یا ان کو کم تر سمجھنا ہے، جو عقل کے خلاف ہے۔
۲. محبت کا تعلق اطاعت اور ہم آہنگی سے ہے:
محبت کا فطری نتیجہ اطاعت اور ہم آہنگی ہے۔ جب کوئی شخص کسی سے محبت کرتا ہے، تو وہ اس کی مرضی اور احکام کو اپنی زندگی میں ترجیح دیتا ہے۔ اگر کوئی کسی غیر اللہ کو اللہ کی مانند محبت کرے تو وہ اس کی مرضی کو اللہ کی مرضی پر ترجیح دے گا، جو شرک اور گمراہی ہے۔
۳. محبت کا اخلاص سے تعلق:
اخلاص کا مطلب ہے عمل کو صرف اللہ کے لیے خالص کرنا۔ محبت کا اخلاص میں بنیادی کردار ہے۔ جب دل میں غیر اللہ کی محبت اللہ کی محبت کے برابر یا اس سے زیادہ ہو جائے، تو اخلاص ٹوٹ جاتا ہے اور عمل شرک میں بدل جاتا ہے۔ عقل کہتی ہے کہ ایک دل میں باہم ٹکراتی یا دو بڑی محبتیں جمع نہیں ہو سکتیں، کیونکہ دل کا تعلق صرف ایک ہی مرکز سے ہو سکتا ہے۔
۴. محبت کا ظلم اور ناشکری سے تعلق:
اللہ کی لامحدود نعمتوں کا شکر ادا کرنا عقلی طور پر واجب ہے۔ اس کے باوجود اگر کوئی شخص ان نعمتوں کو بھول کر کسی اور کو اس کی مانند اشد محبت کرے، تو یہ ناشکری اور ظلم ہے، کیونکہ وہ احسان کرنے والے کو چھوڑ کر کسی اور کی طرف متوجہ ہو رہا ہے۔
⚠️ محبت کی اقسام اور شرک کی حد:
محبت کی کچھ اقسام فطری اور جائز ہیں، جیسے ماں باپ، اولاد، دوستوں سے محبت۔ لیکن شرک اس وقت ہوتا ہے جب:
۱. محبت کی شدت اللہ کی محبت کے برابر یا اس سے زیادہ ہو۔
۲. محبت کا تقاضا اطاعت اور عبادت کی شکل اختیار کر لے، یعنی شخص غیر اللہ کی مرضی کو اللہ کی مرضی پر ترجیح دے۔
۳. محبت میں تقدیس (مقدس سمجھنا) اور خوف و امید کا عنصر شامل ہو، جو صرف اللہ کے لیے ہیں۔
📖 8. شرک سے بچنے کا حکم اور اس کی خطرناک مثال
القرآن:
حُنَفَاءَ لِلَّهِ غَيْرَ مُشْرِكِينَ بِهِ ۚ وَمَن يُشْرِكْ بِاللَّهِ فَكَأَنَّمَا خَرَّ مِنَ السَّمَاءِ فَتَخْطَفُهُ الطَّيْرُ أَوْ تَهْوِي بِهِ الرِّيحُ فِي مَكَانٍ سَحِيقٍ
"اللہ کے لیے یکسو ہو کر (اس کی عبادت کرو) اس کے ساتھ شرک نہ کرو۔ اور جو شخص اللہ کے ساتھ شرک کرے، گویا وہ آسمان سے گر پڑا، پھر اسے پرندے اُچک لے گئے یا ہوا کسی دور دراز جگہ لے گئی۔"
[سورۃ الحج:31]
اللہ تعالیٰ نے شرک کی قباحت کو ایک بے مثال اور ہولناک تشبیہ کے ذریعے بیان فرمایا ہے۔ اس تشبیہ کو اگر عقلی (منطقی) زاویے سے پرکھا جائے تو اس میں شرک کی سنگینی کے چار بنیادی پہلو واضح ہوتے ہیں، جو محض ایک جذباتی انتباہ نہیں بلکہ گہرے عقلی اور فلسفیانہ حقائق پر مبنی ہیں۔
آئیے اس تشبیہ کے اجزاء کو عقلی طور پر تجزیہ کرتے ہیں:
تشبیہ کا اجمالی ترجمہ:
"اللہ کے لیے یکسو (توحید پر قائم) رہو، اس کے ساتھ شرک نہ کرو۔ اور جو شخص اللہ کے ساتھ شرک کرے تو گویا وہ آسمان سے گرا، پھر یا تو پرندے اسے اچک لے جائیں، یا ہوا اسے کسی دور دراز گہری جگہ پھینک دے۔"
۱. آسمان سے گرنا (زوالِ بلندی اور استحکام):
عقلی پہلو:
آسمان بلندی، حفاظت، روشنی، اور استحکام کی علامت ہے۔ آسمان پر موجود ہر شے اپنے مدار اور نظام میں ہے، جہاں اسے ایک کامل توازن حاصل ہے۔ اس سے گرنے کا مطلب ہے کہ انسان اپنے فطری اور بلند مقام (جو توحید ہے) سے نیچے آ گیا۔
عقلی نکتہ:
عقل یہ کہتی ہے کہ جو چیز اپنی جگہ سے ہٹ کر نیچے گرتی ہے، وہ اپنی قدر و قیمت کھو دیتی ہے۔ اونچائی انسان کو ایک وسیع نظریہ، اعلیٰ مقاصد اور رحمتِ الٰہی کا ادراک دیتی ہے۔ جب کوئی شرک کرتا ہے، تو وہ اپنے اس بلند فطری مرتبے (جو اللہ کی معرفت ہے) سے گر جاتا ہے اور ایک پست، بےیقینی اور تاریکی والی زندگی میں جا پڑتا ہے۔
دوسرا نکتہ:
گرنا ایک غیر ارادی اور مہلک عمل ہے۔ آسمان سے گرنے والا خود کو بچا نہیں سکتا۔ اسی طرح عقل کہتی ہے کہ شرک کرنے والے کے پاس اپنی نجات کا کوئی ذریعہ نہیں رہتا، کیونکہ اس نے اپنی پناہ گاہ (اللہ کی پناہ) کو ہی چھوڑ دیا۔
۲. پرندوں کا اچک لینا (بکھراؤ، تفرقہ اور شناخت کی موت):
عقلی پہلو:
گرتے ہوئے انسان کو راستے میں پرندے اچک کر پھاڑ ڈالتے ہیں، اور اس کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیتے ہیں۔
عقلی نکتہ:
شرک انسان کی داخلی اکائی (unity) کو تباہ کر دیتا ہے۔ جب انسان کے دل میں اللہ کے ساتھ بہت سے معبود یا مراکزِ محبت و اطاعت آ جاتے ہیں، تو اس کی توجہ، اس کی محبت، اور اس کی عبادت بٹ جاتی ہے۔ عقل کہتی ہے کہ "ایک دل دو محبتوں کو برداشت نہیں کر سکتا"۔ مشرک کا وجود مختلف خواہشات، مختلف معبودوں اور مختلف رجحانات میں بٹ کر بکھر جاتا ہے۔ اس کی کوئی ایک واضح شناخت نہیں رہتی، جس طرح پرندے کھائے ہوئے مردار کا کوئی نام و نشان نہیں رہتا۔ یہ روحانی اور نفسیاتی طور پر ایک المیہ ہے، کیونکہ انسان اپنے نفس کا مسلمان ہونے کی بجائے متضاد قوتوں کا کھلونا بن جاتا ہے۔
۳. ہوا کا دور دراز گہری جگہ پھینک دینا (مکمل دوری اور گمشدگی):
عقلی پہلو:
اگر پرندے بھی نہ پکڑیں، تو ہوا اسے اٹھا کر ایک دور دراز، گہری اور ناقابلِ رسائی جگہ (سَحِیق) پر پھینک دیتی ہے، جہاں سے واپسی ممکن نہیں۔
عقلی نکتہ:
اس کا مطلب ہے امید کی موت اور رحمت سے دوری۔ عقل کہتی ہے کہ جو شخص اللہ کی رحمت اور توحید کی روشنی سے دور ہو جاتا ہے، وہ ایک ایسی اندھیری وادی میں چلا جاتا ہے جہاں سے راستہ تلاش کرنا تقریباً ناممکن ہو جاتا ہے۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ شرک انسان کو اللہ کی طرف رجوع کرنے کی صلاحیت سے محروم کر دیتا ہے، جس طرح ایک جگہ سے دوسری دور دراز جگہ پر پہنچ جانے والا بندہ اپنے گھر کا رخ بھول جاتا ہے۔
۴. فطرت کے خلاف جنگ (خلافِ فطرت عمل):
اس آیت سے پہلے والی آیت (سورۃ الحج: 30) میں اللہ تعالیٰ نے فطرتِ الٰہی کا ذکر فرمایا ہے کہ انسان توحید پر پیدا ہوا ہے۔
عقلی نکتہ:
شرک کرنا اس فطرت کے خلاف جانا ہے۔ عقل کا تقاضا ہے کہ انسان اپنی اصل (فطرت) کے مطابق زندگی گزارے۔ کششِ ثقل کے خلاف اوپر کی طرف جانا محال ہے، اور اسی طرح فطرت کے خلاف شرک کرنا بھی عدمِ توازن اور تباہی کا باعث ہے۔ جس طرح زمین سے اوپر پھینکا ہوا پتھر واپس نیچے آتا ہے، اسی طرح شرک کرنے والا اپنی تباہی کی طرف دوڑتا ہے۔
💎 آیت کی مجموعی عقلی توجیہ (نتیجہ):
عقل مند انسان تین بڑی چیزوں کی قدر کرتا ہے:
۱. بلندی (عزت اور خودداری)،
۲. اکائی (یکسوئی اور استحکام)،
۳. قرب (اللہ سے دوری نہ ہونا)۔
یہ آیت بتاتی ہے کہ شرک ان تینوں کو ایک ساتھ ختم کر دیتا ہے:
آسمان سے گرنا --- بلندی، امن اور عزت سے محروم ہونا --- انسان اپنے اشرف المخلوقات والے مقام سے نیچے آ جاتا ہے۔
پرندوں کا اچکنا --- بکھراؤ، تفرقہ اور شناخت کی موت --- دل اور عمل میں شرک کی کثرت کی وجہ سے وہ اپنی روحانی اکائی کھو دیتا ہے۔
دور دراز جگہ پھینکنا --- رحمت سے دُوری اور مایوسی --- وہ اللہ کی بخشش اور نجات سے اتنا دور ہو جاتا ہے کہ واپسی مشکل ہو جاتی ہے (اگر توبہ نہ کرے)۔
حتمی عقلی نکتہ:
انسان ایک معقول ذات ہے۔ کوئی معقول شخص اپنے آپ کو بلند و بالا مکان (جو محفوظ ہے) سے چھوڑ کر ایسی جگہ نہیں گرتا جہاں اسے پرندے کھا جائیں یا ہوا گم کر دے۔ لیکن جو شخص شرک کرتا ہے، وہ عملاً اپنی آخرت اور عقل کے ساتھ یہی پاگل پن کر رہا ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ نے اس تشبیہ کے ذریعے عقلاء کو یہ باور کرایا کہ شرک سے بڑھ کر کوئی تباہ کن اور بے وقوفی کا کام نہیں۔
📖 9. عمل کی قبولیت کی شرط: شرک سے پاک ہونا
القرآن:
فَمَن كَانَ يَرْجُو لِقَاءَ رَبِّهِ فَلْيَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا وَلَا يُشْرِكْ بِعِبَادَةِ رَبِّهِ أَحَدًا
"پس جو شخص اپنے رب کی ملاقات کی امید رکھتا ہو، اسے چاہیے کہ نیک عمل کرے اور اپنے رب کی عبادت میں کسی کو شریک نہ ٹھہرائے۔"
[سورۃ الکھف:110]
یہ حکم صرف مذہبی حکم کی حد تک نہیں، بلکہ خالص عقلی (منطقی) بنیادوں پر بھی دیا جا سکتا ہے۔ عقل جب اس شرط پر غور کرتی ہے تو یہ بات ایک فطری اور ناگزیر حقیقت معلوم ہوتی ہے۔ آئیے اسے پانچ عقلی ستونوں کی روشنی میں سمجھتے ہیں:
۱. مقصد اور عمل کا لازمی اتحاد (Cause & Effect کی منطق)
عقل کا پہلا اصول یہ ہے کہ کسی بھی عمل کی کامیابی کا انحصار اس کے مقصد (Intention) اور انجام (Execution) کے آپس میں مکمل ہم آہنگ ہونے پر ہے۔
مثال کے طور پر:
اگر کوئی شخص گاڑی میں پٹرول ڈالنے کی بجائے پانی ڈال دے، تو وہ کہہ سکتا ہے کہ "میں نے بڑی محنت سے پانی ڈالا"، لیکن گاڑی اس مقصد (چلنا) کے لیے تیار نہیں ہوگی۔
عقلی نکتہ:
اللہ تعالیٰ نے انسان کو جنات اور انسانوں کو صرف ایک مقصد کے لیے پیدا کیا: "صرف میری عبادت کرو" (سورۃ الذاریات: ۵۶)۔ اگر کوئی عمل (نماز، روزہ، صدقہ وغیرہ) اسی مقصد کے تحت نہ کیا جائے، بلکہ اس میں غیر اللہ کو شریک کر دیا جائے، تو عقل کہتی ہے کہ عمل اپنے مقصد سے ہم آہنگ نہیں رہا، اس لیے وہ اپنا مقصد پورا کرنے میں ناکام ہے۔
۲. بادشاہ اور وفاداری کا اصول (Sovereignty & Loyalty)
عقلی طور پر، کوئی بھی حاکم یا مالک اپنے خلاف وفاداری تقسیم کرنے والے کو قبول نہیں کرتا۔
فرض کریں کہ کسی بادشاہ نے ایک سپاہی کو اپنی خاص فوج میں شامل کیا اور اسے وظیفہ دیا۔ اگر وہ سپاہی بادشاہ کی موجودگی میں کسی دوسرے باغی گروہ کو بھی سلامی دینے لگے اور ان کی اطاعت کرنے لگے، تو بادشاہ اس سپاہی کو خائن قرار دے کر اس کی تمام خدمات کو رد کر دے گا۔
عقلی نکتہ:
اللہ تعالیٰ کامل اور بےنیاز مالک ہے۔ وہ اپنی بادشاہت (ربوبیت) میں کسی کو شریک نہیں رکھتا۔ شرک کا مطلب ہے کہ انسان اللہ کے ساتھ ساتھ دوسروں کو بھی وفاداری اور اطاعت کا درجہ دے رہا ہے۔ ایک عقلمند شخص بخوبی جانتا ہے کہ ایسی ”تقسیم شدہ وفاداری“ کو کوئی بھی مالک قبول نہیں کرتا، کیونکہ یہ اس کی حاکمیت کے خلاف چیلنج ہے۔
۳. مجموعی کا جزو سے استثنیٰ کا اصول (The Whole vs. The Part)
عقلی طور پر، اگر کسی مکمل چیز کا کوئی ایک حصہ بھی فاسد (زہریلا) ہو جائے، تو پوری چیز متاثر ہو جاتی ہے۔
مثال:
ایک پیالہ میں خالص دودھ ہے۔ اگر اس میں زہر کا ایک قطرہ بھی ڈال دیا جائے، تو وہ دودھ اب ایک شخص کی جان بچانے کی بجائے اسے ہلاک کر دے گا۔ اب یہ کہنا کہ ”۹۹ فیصد دودھ ہے اور ۱ فیصد زہر ہے، اس لیے یہ مفید ہے“، عقل کے خلاف ہے۔
عقلی نکتہ:
اعمالِ صالحہ انسان کا روحانی ”دودھ“ ہیں، اور شرک اس میں زہر کا قطرہ ہے۔ شرک کی موجودگی میں عمل کا جوہر (Essence) فاسد ہو جاتا ہے، کیونکہ قبولیت کا دارومدار نیت کی ”مکمل صفائی“ پر ہے، نہ کہ ”جزوی صفائی“ پر۔ عقل کہتی ہے کہ ایک چھوٹا سا فساد بھی پورے نظام کو تباہ کر دیتا ہے۔
۴. اجرت اور مزدوری کا تقاضا (Employee-Employer Contract)
دنیاوی معاملات میں، جب کوئی ملازم کسی کام پر رکھا جاتا ہے، تو اس کی ساری محنت اور وقت اس ایک مالک کے لیے مختص ہوتا ہے۔
اگر وہ ملازم مالک کا وقت استعمال کرکے کسی اور کی نجی محنت کر لے، تو مالک اس وقت کی اجرت ادا کرنے سے انکار کر دے گا۔
عقلی نکتہ:
عبادت اور نیکیاں درحقیقت اللہ کی بارگاہ میں ایک ”معاہدہ“ ہے، جس کا بدلہ جنت اور رضائے الٰہی ہے۔ اگر انسان یہ عمل اللہ کے ساتھ ساتھ دوسرے (لوگوں کی تعریف، یا غیر اللہ کی خوشنودی) کے لیے بھی کرتا ہے، تو وہ اپنی اجرت کا مستحق نہیں رہتا، کیونکہ اس نے اپنی محنت ایک دوسرے کے ساتھ بھی بانٹ دی۔ عقل یہ کہتی ہے کہ ایک مالک ہی اپنے مزدور کو اجرت دیتا ہے، دو مالکوں کا مزدور بےاجرت رہ جاتا ہے۔
۵. فطرت اور داخلی اکائی کا تقاضا (Natural Disposition & Unity of the Self)
انسانی نفس، عقل اور فطرت ایک ہی سمت میں سکون پاتی ہے۔
عقلی طور پر، انسان کا دل اور دماغ دو متضاد سمتوں میں بیک وقت نہیں چل سکتے۔ جس طرح ایک جسم ایک ہی وقت میں دائیں اور بائیں نہیں جا سکتا، اسی طرح دل کی محبت، خشیت اور توکل کا مرکز ایک ہی ہونا چاہیے۔
عقلی نکتہ:
شرک اس داخلی اکائی (Unity of Intention) کو توڑ دیتا ہے۔ جب انسان کا عقیدہ بکھر جاتا ہے، تو اس کا عمل بھی بکھر جاتا ہے۔ قبولیت کے لیے ضروری ہے کہ بندہ اپنی پوری ہستی کو ایک مرکز (اللہ) کی طرف مائل کرے۔ عقل کہتی ہے کہ جب تک انسان اپنے اندر یکسوئی (اخلاص) پیدا نہیں کرتا، اس کا کوئی عمل مکمل اور معتبر نہیں ہو سکتا۔
💎 خلاصہ اور حتمی عقلی فیصلہ:
عقل مند انسان کوئی بھی معاملہ اس کی حقیقت (Reality) اور مقصد (Purpose) کو دیکھ کر کرتا ہے۔
حقیقت: اللہ ہر چیز کا خالق، مالک اور مختار ہے۔ عبادت کا حقدار صرف وہی ہے۔
مقصد: انسان کو اللہ کی رضا کے لیے بنایا گیا۔
اگر کوئی عمل ان دو بنیادی حقیقتوں کے خلاف ہو (یعنی شرک اس میں شامل ہو)، تو عقل کا تقاضا ہے کہ وہ عمل "مقصد کے خلاف"، "خائن"، "زہریلا"، اور "بکھرا ہوا" ہے۔ ایسا عمل اپنے خالق تک کیسے پہنچ سکتا ہے اور کیسے قبول ہو سکتا ہے؟
قرآن نے اسی عقلی حقیقت کو ان الفاظ میں بیان فرمایا:
"پس جو کوئی اللہ سے ملاقات کی امید رکھتا ہے تو اسے چاہیے کہ نیک عمل کرے اور اپنی عبادت میں کسی کو اپنے رب کا شریک نہ کرے۔" (سورۃ الکہف: ۱۱۰)
یہی وجہ ہے کہ شرک سے پاک ہونا صرف ایک مذہبی شرط نہیں، بلکہ عقل و منطق کا عین تقاضا ہے۔ عمل کا ایک ظاہری جسم ہے اور ایک روح (نیت)۔ شرک اس روح کو گلا گھونٹ دیتا ہے، چاہے جسم (عمل) کتنا ہی خوبصورت کیوں نہ ہو۔
📖 10. توحید کے متقاضی اور مشرکین سے مکمل علیحدگی کا حکم۔
القرآن:
تم پیچھے چلو اس کے جو وحی(حکمِ الٰہی) آئی (اے پیغمبر!) تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے کہ نہیں ہے کوئی خدا سوائے اس(رب) کے، اور مشرکوں سے کنارہ کرلو۔
[سورۃ الأنعام:106]
یہ حکم محض ایک سماجی یا نفسیاتی رویہ نہیں، بلکہ یہ توحید (اللہ کی وحدانیت) کا عقلی اور منطقی تقاضا ہے۔
سورۃ الانعام (۶:۱۰۶) میں حکم دیا گیا: "اور مشرکوں سے کنارہ کرلو"۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ مسلمان دوسروں سے بدسلوکی کرے، بلکہ اس کا مطلب عقیدے، محبت، اطاعت اور طرزِ زندگی میں مکمل علیحدگی ہے۔
آئیے اس حکم کی خالص عقلی (منطقی) وجوہات کو پانچ بنیادی ستونوں کی روشنی میں سمجھتے ہیں:
۱. تضاد (Contradiction) کا منطقی اصول - ایک دل دو محبتوں کا ناقابلِ جمع ہونا
عقل کا پہلا اصول یہ ہے کہ دو متضاد چیزیں ایک ہی جگہ جمع نہیں ہو سکتیں۔
عقلی نکتہ: توحید کا مطلب ہے اللہ کو محبوبِ حقیقی اور مالکِ مطلق ماننا، اور شرک کا مطلب ہے اس کے ساتھ دوسروں کو شریک کرنا۔ یہ دو راستے ہیں جو ایک دوسرے کے بالکل برعکس ہیں (ضدین)۔
اگر کوئی شخص مشرکین کے ساتھ قریبی تعلق، دوستی اور ہم آہنگی رکھے، اور ان کے عقائد کو معمولی سمجھے، تو عقلی طور پر وہ ایک ہی دل میں دو متضاد محبتوں اور دو متضاد نظاموں کو سمیٹ رہا ہے۔ جس طرح ایک شخص بیک وقت مشرق اور مغرب کی طرف نہیں چل سکتا، اسی طرح ایک مومن دل میں توحید اور شرک کا میل نہیں کر سکتا۔ مکمل علیحدگی اس تضاد کو عملاً ختم کرنے کا واحد منطقی حل ہے۔
۲. طہارت اور ملاوٹ کا اصول (Purity vs. Contamination)
عقلی طور پر، کوئی بھی خالص چیز اگر ناپاک یا مخالف مادے کے ساتھ مل جائے تو وہ اپنی خالصیت کھو دیتی ہے۔
عقلی نکتہ: توحید ایک ایسا خالص اور نفیس عقیدہ ہے جو مشرکانہ خیالات، رسومات اور فلسفے کے ساتھ گھل مل کر اپنی شناخت کھو دیتا ہے۔ مشرکین کے ساتھ گھلنے ملنے، ان کی تقریبات میں شریک ہونے، یا ان کے عقائد کو بغیر کسی نفرت کے برداشت کرنے کا مطلب یہ ہے کہ آپ اپنے عقیدۂ توحید کو ملاوٹ (Impurification) کے خطرے میں ڈال رہے ہیں۔
عقل کہتی ہے کہ اگر آپ کو ایک قیمتی اور نایاب جوہر (توحید) کی حفاظت کرنی ہے تو اسے اس کے متضاد (شرک) سے دور رکھنا ہوگا۔ اسی لیے علیحدگی اس قیمتی چیز کی بقا کے لیے ناگزیر ہے۔
۳. معاشرتی اثر اور خودکار رویوں کا اصول (Social Psychology & Behavioral Influence)
انسانی فطرت یہ ہے کہ وہ اپنے قریبی ماحول سے متاثر ہوتا ہے، چاہے وہ جان بوجھ کر نہ بھی چاہے۔
عقلی نکتہ: نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "آدمی اپنے دوست کے دین پر ہوتا ہے" (یہ ایک عقلی حقیقت بھی ہے)۔ اگر کوئی شخص مشرکین کے ساتھ گہرا تعلق رکھے اور ان کی فکر، ان کے طریقے اور ان کے معبودوں کو معمولی سمجھنے لگے، تو رفتہ رفتہ اس کے دل میں توحید کی محبت کمزور پڑ جاتی ہے اور شرک قابلِ قبول محسوس ہونے لگتا ہے۔
عقل کا تقاضا ہے کہ اپنے ایمان کی حفاظت کے لیے، ایک مسلمان اپنے آپ کو اس ماحول سے دور رکھے جو اس کے بنیادی عقیدے کو آہستہ آہستہ ختم کر سکتا ہے۔ یہ علیحدگی ایک "ذہنی و روحانی ویکسین" ہے۔
۴. وفاداری اور بادشاہی کا قانون (Law of Allegiance to Sovereignty)
دنیا میں کسی بھی خود مختار حکمران کا قانون یہ ہے کہ اس کے وفادار اس کے دشمنوں سے دوستی نہیں رکھ سکتے۔
عقلی نکتہ: جب آپ توحید کا اقرار کرتے ہیں، تو آپ اللہ تعالیٰ کی بادشاہت اور حکمرانی کو تسلیم کرتے ہیں۔ مشرکین وہ لوگ ہیں جو اس بادشاہ (اللہ) کے خلاف بغاوت کر رہے ہیں، اس کی حاکمیت کو چیلنج کر رہے ہیں، اور اس کے ساتھ دوسروں کو شریک ٹھہرا رہے ہیں۔
اب سوچیں: کیا ایک عقلمند شخص اپنے بادشاہ کا وفادار ہوتے ہوئے، بادشاہ کے باغی دشمنوں کے ساتھ گہری دوستی اور تعلقات رکھ سکتا ہے؟ عقل یہ کہتی ہے کہ یہ وفاداری کی دوہری پالیسی ہے، جسے کوئی بھی حاکم قبول نہیں کرتا۔ توحید کا تقاضا ہے کہ اللہ کی محبت کو فوقیت دیتے ہوئے اس کے دشمنوں (مشرکین کے شرکیہ نظام) سے عملی اور قلبی تعلق ختم کر دیا جائے۔
۵. شناخت اور صف بندی کا اصول (Distinct Identity & Alignment)
کسی بھی گروہ، قوم یا نظام کی شناخت اس کی امتیازی خصوصیات ہیں۔
عقلی نکتہ: توحید اور شرک دو مختلف راستے ہیں جن کا انجام بالکل جدا ہے (جنت اور جہنم)۔ عقل کہتی ہے کہ اگر آپ کا انجام اور راستہ الگ ہے تو آپ کا طریقہِ کار، آپ کی محفلیں، اور آپ کی اقدار بھی الگ ہونی چاہئیں۔
مشرکین سے مکمل علیحدگی اس بات کی عملی علامت ہے کہ ایک مسلمان کی شناخت خالص توحید ہے، نہ کہ ایک الجھا ہوا ہائبرڈ۔ جس طرح روشنی اندھیرے سے الگ ہے اور ان کا آپس میں کوئی میل نہیں، اسی طرح ایک موحد کا راستہ مشرک سے الگ ہے۔
💎 اختتامی عقلی خلاصہ:
مشرکین سے مکمل علیحدگی کا حکم دراصل توحید کی بقا، حفاظت اور عملی نفاذ کا عقلی اور منطقی تقاضا ہے:
عقلی اصول علیحدگی کیوں ضروری ہے؟
تضاد کا اصول ایک دل دو متضاد محبتوں کا مرکز نہیں بن سکتا۔
طہارت کا اصول خالص عقیدہ ملاوٹ (شرک) سے آلودہ ہو کر بےاثر ہو جاتا ہے۔
نفسیاتی اثر قریبی تعلق انسان کے عقیدے کو آہستہ آہستہ بدل دیتا ہے۔
وفاداری کا قانون اللہ کا وفادار اس کے باغیوں (مشرکین) سے دوستی نہیں رکھ سکتا۔
شناخت کا اصول موحد کی پہچان اور راستہ مشرک سے مکمل طور پر الگ ہے۔
اس لیے قرآن میں یہ حکم محض ایک جذباتی یا تعصبی حکم نہیں، بلکہ عقلِ سلیم کا عین تقاضا ہے کہ اگر آپ کسی چیز (توحید) کو اپنا سب سے قیمتی سرمایہ مانتے ہیں، تو آپ کو اس کے نقصان پہنچانے والے ہر عنصر (شرک اور مشرکانہ نظام) سے مکمل طور پر کنارہ کشی اختیار کرنی ہوگی۔
خلاصہ
قرآنِ کریم کے ان واضح بیانات سے معلوم ہوتا ہے کہ:
1. شرک کو "ظلم عظیم" قرار دیا گیا ہے، کیونکہ یہ خالق کے بنیادی حق (توحید) کی نفی ہے۔
2. شرک واحد گناہ ہے جو اللہ کے ہاں ناقابلِ معافی ہے، جبکہ اس کے سوا دیگر گناہوں کی معافی ممکن ہے۔
3. شرک کرنے والے پر جنت حرام ہو جاتی ہے اور اس کا انجام دوزخ ہے۔
4. شرک ساری نیکیوں کو ضائع کر دیتا ہے، چاہے عمل کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو۔
5. شرک کی صورت میں محبت و عبادت کا رخ اللہ کے بجائے مخلوق کی طرف پھر جاتا ہے، جو فطری رشتے کی خرابی ہے۔
6. شرک سے بچنے کا حکم ہے اور اسے آسمان سے گرنے اور پرندوں کے پھاڑ کھانے جیسے خطرناک عمل سے تشبیہ دی گئی ہے۔
یہ آیات مل کر اس حقیقت کو واضح کرتی ہیں کہ شرک محض ایک "گناہ" نہیں، بلکہ پورے دینی نظام کی بنیاد (توحید) کے خلاف بغاوت ہے۔ اسی لیے اسے سب سے بڑا ظلم قرار دیا گیا ہے۔
مدد کیلئے غائبانہ پکار ودعا میں صرف اللہ کو پکارنا توحید(ایک ماننا) ہے۔
شرک کی اصل کیا ہے؟ اللہ کے علاوہ کو پکارنا شرک وکفر ہے۔
القرآن:
ذٰلِكُمۡ بِاَنَّهٗۤ اِذَا دُعِىَ اللّٰهُ ((وَحۡدَهٗ)) كَفَرۡتُمۡ ۚ وَاِنۡ ((يُّشۡرَكۡ)) بِهٖ تُؤۡمِنُوۡا ؕ فَالۡحُكۡمُ لِلّٰهِ الۡعَلِىِّ الۡكَبِيۡرِ ۞
ترجمہ:
(جواب دیا جائے گا کہ :) تمہاری یہ حالت اس لیے ہے کہ الله کو ((تنہا)) پکارا جاتا تھا تو تم انکار کرتے تھے، اور اگر اس کے ساتھ کسی اور کو ((شریک ٹھہرایا)) جاتا تھا تو تم مان لیتے تھے۔ اب تو فیصلہ الله ہی کا ہے جس کی شان بہت اونچی، جس کی ذات بہت بڑی ہے۔
[سورۃ غافر، آیت نمبر 12]
اس آیت کی روشنی میں، دعا و پکار کو شرک کی اصل یا جڑ قرار دینے کی وجوہات عقائد اور اعمال دونوں سطحوں پر گہرے فساد کا سبب بنتی ہیں، جس کی تفصیل درج ذیل ہے۔
۱. عقیدے کے اعتبار سے فساد: توحید کی بنیاد کا انکار۔
دعا دراصل عبادت کا مغز اور روح ہے، اور یہی وجہ ہے کہ اس کا تعلق براہِ راست عقیدۂ توحید سے ہے۔
دعا عبادت ہے: نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”دعا عبادت ہے“ اور ایک اور موقع پر اسے ”مغزِ عبادت“ (عبادت کا مرکز اور روح) قرار دیا۔
[ترمذی:2969-3247، ابوداؤد:1479، ابن ماجة:3828]
اس کا مطلب یہ ہے کہ دعا صرف زبان سے مانگنے کا نام نہیں، بلکہ یہ اپنی عاجزی، احتیاج اور اللہ کی بارگاہ میں اپنی بندگی کا اظہار ہے۔
توحید فی الدعا: جب کوئی بندہ صرف اللہ تعالیٰ کو پکارتا ہے، تو وہ درحقیقت توحید کا اقرار کر رہا ہوتا ہے، کیونکہ وہ صرف اللہ ہی کو مشکلات کا حل کرنے والا، حاجت روا اور سننے والا مان رہا ہوتا ہے۔
شرک فی الدعا: اس کے برعکس، جب کوئی غیر اللہ کو پکارتا ہے اور اسے حقیقی فریاد رس سمجھتا ہے، تو وہ اسے اللہ کی صفات میں شریک ٹھہرا رہا ہوتا ہے۔ یہی شرک فی الدعا ہے، جو عقیدۂ توحید کے منافی ہے۔
آیت 12 کا پس منظر اسی حقیقت کو واضح کرتا ہے:
”...جب اکیلے اللہ کو پکارا جاتا تھا تو تم انکار کرتے تھے اور اگر اس کے ساتھ (کسی کو) شریک ٹھہرایا جاتا تو تم مان لیتے تھے...“
[سورۃ غافر:12]
مشرکینِ مکہ اللہ تعالیٰ کو تو خالقِ کائنات مانتے تھے، لیکن وہ اس کی ”وحدہ“ (تنہائی) کو قبول نہیں کرتے تھے۔ انہیں اکیلے اللہ کی دعوت اور پکار ناگوار گزرتی تھی اور وہ اسے قبول کرنے سے انکار کر دیتے تھے۔ لیکن جب اللہ کے ساتھ دوسرے معبودوں کو بھی پکارا جاتا، تو وہ اسے بآسانی مان لیتے تھے۔ یہ ان کے عقیدے میں خرابی کی واضح دلیل ہے کہ وہ توحید خالص کو برداشت نہیں کر سکتے تھے اور شرک کو ترجیح دیتے تھے۔
۲. اعمال کے اعتبار سے فساد: عبادت کا رخ پھیرنا
اعمال کے دائرے میں، دعا کا تعلق کسی کی عبادت اور اطاعت کے رخ سے ہے۔
عبادت کا انصراف:
جب دعا عبادت کا مغز ہے، تو اس کا رخ کسی اور کی طرف موڑ دینا، عبادت کا رخ بھی اسی طرف پھیر دینا ہے۔ جو شخص اللہ کو چھوڑ کر کسی اور سے دعا مانگتا ہے، وہ عملاً اس کی عبادت کر رہا ہے، چاہے وہ اسے عبادت کا نام نہ دے۔
غیر اللہ کی طرف رجوع:
قرآن مجید میں واضح حکم ہے: ”پس اللہ کے ساتھ کسی اور کو مت پکارو“ (سورۃ الجن: 18)۔ اس حکم کی خلاف ورزی کرنا اور غیر اللہ کی طرف رجوع کرنا، شرک کا عملی مظہر ہے۔
آیت 12 کے مطابق، مشرکین کا طرزِ عمل یہ تھا کہ وہ اکیلے اللہ کی پکار (یعنی خالص توحید کی دعوت) کو نہیں مانتے تھے اور شرک (اللہ کے ساتھ دوسروں کو شریک کرنے) کو مان لیتے تھے۔ یہ ان کے عمل کا فساد تھا کہ وہ حق (توحید) کو چھوڑ کر باطل (شرک) کی طرف مائل ہو رہے تھے۔
نتیجہ
سورۃ غافر کی آیت 12 کے مطابق، دعا و پکار کو شرک کی اصل یا جڑ قرار دینے کی وجہ یہ ہے کہ:
عقیدے میں فساد: دعا کا تعلق کسی کی الوہیت اور ربوبیت کے عقیدے سے ہے۔ غیر اللہ کو پکارنا اسے اللہ کی صفات میں شریک کرنا ہے، جو شرک فی الدعا ہے اور توحید کے خلاف ہے۔ مشرکین کا اکیلے اللہ کی پکار سے انکار، ان کے عقیدۂ توحید میں بنیادی خرابی کو ظاہر کرتا ہے۔
اعمال میں فساد: چونکہ دعا عبادت کا مغز ہے، اس لیے اس کا رخ غیر اللہ کی طرف موڑنا، عملاً اس کی عبادت کرنا اور اطاعت کا رخ پھیرنا ہے۔ یہی وہ عمل ہے جس کی وجہ سے مشرکین کو عذاب کا مستحق قرار دیا گیا۔
آخر میں آیت کہتی ہے: ”پس فیصلہ اللہ کے لیے ہے، جو بلند و بالا اور عظیم ہے۔“ یعنی حقیقی اختیار اور فیصلہ صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے، اور وہی فیصلہ کرے گا کہ کس نے توحید کو قبول کیا اور کس نے شرک کا راستہ اختیار کیا۔
شرک (polytheism) کی لغوی معنی:
لفظ 'شرک' عربی زبان کے مادہ 'شرک' سے ماخوذ ہے جس کے لغوی معنی 'حصہ دار'، 'ساجھی پن'، 'ملاوٹ'، 'شراکت' اور 'اختلاط' کے ہیں۔
اصطلاحی معنی:
شریعت کی اصطلاح میں شرک سے مراد اللہ تعالیٰ کی ربوبیت اور الوہیت میں کسی اور کو شریک کرنا ہے۔
علامہ تفتازانی رحمۃ اللہ علیہ اپنی کتاب ''شرح عقائدِ نسفی'' میں شرک کی تعریف اس طرح فرماتے ہیں: ''کسی کو شریک ٹھہرانے سے مراد یہ ہے کہ مجوسیوں کی طرح کسی کو الٰہ (خدا) اور واجب الوجود سمجھا جائے یا بت پرستوں کی طرح کسی کو عبادت کے لائق سمجھا جائے''۔
مختصراً، شرک کے معنی ہوئے اللہ کی طرح کسی اور کو خدا ماننا یا خدا کی ذات و صفات میں کسی کو شریک ماننا۔
شرک کی اقسام:
شرک کو مختلف اعتبارات سے تقسیم کیا گیا ہے:
(الف) ظاہر اور چھپے ہونے کے اعتبار سے:
1. شرکِ جلی (شرکِ اکبر): کھلم کھلا شرک، مثلاً بت پرستی۔ خواہ ایک لمحے کے لیے ہی کیوں نہ ہو، بندہ فوراً دائرۂ اسلام سے نکل جاتا ہے۔
2. شرکِ خفی (شرکِ اصغر): پوشیدہ شرک، مثلاً ریا (دکھاوا)۔ یہ گناہ ضرور ہے مگر اس کا مرتکب مسلمان ہی رہتا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ''جس چیز کا مجھے تم پر زیادہ خوف ہے، وہ شرکِ اصغر ہے'' اور صحابہ کرام سے فرمایا کہ ''شرکِ اصغر ریا (دکھاوا) ہے''۔
(ب) متعلقہ پہلو کے اعتبار سے:
1. شرک فی العبادۃ: اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی اور کو مستحقِ عبادت سمجھنا۔
2. شرک فی الذات: کسی ذات کو اللہ تعالیٰ جیسا ماننا، جیسا کہ مجوسی دو خداؤں کو مانتے تھے۔
3. شرک فی الصفات: کسی ذات یا شخصیت میں اللہ تعالیٰ جیسی صفات ماننا۔
شرک کا مقصد (یعنی اس کے نتائج و انجام)
شرک ایک ایسی لعنت ہے جو انسان کو جہنم کے گڑھے میں پھینک دیتی ہے۔ یہ ظلمِ عظیم ہے، کبیرہ گناہوں میں سب سے بڑا ہے، رب کی بغاوت ہے، ناقابلِ معافی جرم ہے، ایمان کے لیے زہر قاتل ہے، اور اعمالِ صالحہ کے لیے چنگاری ہے۔ قرآن کریم میں ارشاد ہے: ''اور ان میں سے اکثر لوگ اللہ پر اس حالت میں ایمان رکھتے ہیں کہ وہ مشرک بھی ہیں''۔
شرک سے بچنے کی اہمیت
- شرک سے بچنا ہر مسلمان پر فرض ہے کیونکہ یہ ایمان کی اساس کو تباہ کر دیتا ہے۔
- شرکِ جلی (اکبر) انسان کو دائرۂ اسلام سے خارج کر دیتا ہے۔
- شرکِ خفی (اصغر) اگرچہ مسلمان کو کافر نہیں بناتا مگر یہ گناہِ کبیرہ ہے جس سے ہر ممکن بچنا چاہیے۔
- شرک اعمالِ صالحہ کو ضائع کر دیتا ہے اور انسان کو جہنم کا مستحق بنا دیتا ہے۔
خلاصہ
توحید اور شرک دونوں اسلامی عقیدے کے مرکزی تصورات ہیں۔ توحید اللہ کی وحدانیت کا اقرار اور اس کی عبادت میں کسی کو شریک نہ کرنا ہے، جبکہ شرک اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا ہے۔ توحید کی تین اقسام (ربوبیت، الوہیت، اسماء و صفات) ہیں، جبکہ شرک کی مختلف اعتبارات سے اقسام ہیں (جلی/خفی اور عبادت/ذات/صفات کے اعتبار سے)۔ توحید دین اسلام کی بنیاد اور انسان کی نجات کی ضمانت ہے، جبکہ شرک سب سے بڑا گناہ اور ہلاکت کا سبب ہے۔
· سب سے بڑا ظلم و جرم: شرک صرف ایک گناہ نہیں، بلکہ بنیادی حق کی نفی ہے۔ یہ خالق کے ساتھ کیے گئے عہد کی سب سے بڑی خلاف ورزی ہے، اس لیے اسے "ظلم عظیم" کہا گیا ہے۔
· تعلق کی بنیاد ہی غلط: دیگر گناہ عبادت گزار بندے کی نافرمانیاں ہیں، جبکہ شرک عبادت کی بنیاد (توحید) ہی کو بگاڑ دیتا ہے۔ یہ ایسا ہے جیسے کوئی ملازم کام میں کوتاہی کرے (جس پر معافی ہو سکتی ہے) بجائے اس کے کہ وہ خود کو مالک کا شریک یا دوسرا مالک ہی بتانے لگے (جو اساس کے خلاف ہے)۔
· اللہ کا واضح اعلان: اللہ تعالیٰ نے خود واضح فرما دیا کہ وہ شرک کو ہرگز معاف نہیں کرے گا، جبکہ اس کے سوا ہر گناہ اُس کی مشیت پر منحصر ہے۔
💡 حکمتیں اور اہمیت
· توحید کی حفاظت: یہ حکم توحید کے مرکزی عقیدے کی حفاظت اور اُس کی اہمیت کو ہمیشہ زندہ رکھنے کا ذریعہ ہے۔
· انسانی فطرت کا تحفظ: انسان فطرتاً عبادت کی طرف مائل ہے۔ یہ حکم اس فطرت کو صرف ایک ہی معبود (اللہ) کی طرف مرکوز رکھنے میں مدد دیتا ہے۔
· نظامِ کائنات کا تقاضا: کائنات کا پورا نظام توحید پر قائم ہے۔ شرک اس نظام کے بنیادی اصول کے خلاف بغاوت ہے۔
🌟 امید کا پیغام اور معافی کے راستے
یہ یاد رہے کہ شرک کے علاوہ ہر گناہ کے لیے معافی کا دروازہ کھلا ہے، لیکن شرائط کے ساتھ:
· حقوق اللہ (مثلاً نماز چھوڑنا): توبہ اور قضا (چھوٹے ہوئے فرائض کی تلافی) ضروری ہے۔
· حقوق العباد (مالی، مثلاً چوری): توبہ اور حق دار کو اس کا حق واپس دینا ضروری ہے۔ اگر مالک فوت ہو چکا ہو تو وارثوں کو دینا یا صدقہ کرنا لازم ہے۔
· حقوق العباد (غیر مالی، مثلاً بدکلامی): توبہ اور معافی مانگنا ضروری ہے۔ اگر ممکن نہ ہو تو اس کے لیے دعا کرنی چاہیے۔
اہم نکتہ: شرک پر مرنے والے کی بخشش نہیں، لیکن اگر کوئی شرک کرنے کے بعد توبہ کر کے اسلام قبول کر لے، تو اللہ کی رحمت سے اُس کے تمام سابقہ گناہ معاف ہو سکتے ہیں۔ حضرت وحشی رضی اللہ عنہ کا واقعہ (جو حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کے قاتل تھے) اس کی واضح مثال ہے۔
✨ خلاصہ
شرک کی ناقابلِ معافی کا حکم درحقیقت توحید کی عظمت اور مرکزیت کو قائم رکھنے کے لیے ہے۔ یہ حکم اللہ کے عدل اور رحمت دونوں کو ظاہر کرتا ہے: عدل اس لیے کہ سب سے بڑے جرم کی سب سے بڑی سزا ہے، اور رحمت اس لیے کہ اس کے سوا ہر گناہ گزار کے لیے توبہ اور معافی کا وسیع میدان موجود ہے۔
1️⃣ ظلم کی تعریف میں شرک کی نوعیت
ظلم کا مطلب ہے "حق کو اس کی جگہ نہ رکھنا"۔
· ظلمِ خفیف: نیکی میں تاخیر کرنا (جیسے نماز دیر سے پڑھنا)
· ظلمِ متوسط: چوری، جھوٹ (حقوق العباد کی خلاف ورزی)
· ظلمِ عظیم: خالق کو مخلوق کی جگہ رکھ دینا - یہی شرک ہے۔
2️⃣ عقلی پہلو: منطقی بغاوت
· مثال 1: اگر کوئی شخص اپنے باپ کو ہی نہ پہچانے اور کسی اجنبی کو باپ مان لے، تو یہ صرف نافرمانی نہیں بلکہ رابطے کی بنیاد ہی غلط ہے۔ شرک اسی طرح خالق کو نہ پہچاننے کا عمل ہے۔
· مثال 2: جیسے کوئی مریض ڈاکٹر کی بجائے دیوار سے علاج مانگے، یہ صرف بیوقوفی نہیں بلکہ علاج کے نظام کی بنیاد کو ہی مسترد کرنا ہے۔
3️⃣ عملی مثالوں سے سمجھیں
مثال: بادشاہ کا قاصد
ایک بادشاہ نے آپ کو قلعہ دیا، روزی دی، محافظ دیے۔ پھر اپنا خاص قاصد بھیجا جو آپ سے کہتا ہے: "بادشاہ تم سے محبت کرتا ہے، بس اس ایک بات پر عمل کرو: میری طرف سے ہر پیغام مانو۔"
· آپ نے قاصد کو ہی بادشاہ مان لیا، یا
· نوکروں کو بادشاہ کا شریک ٹھہرایا
یہ صرف نافرمانی نہیں، بلکہ بادشاہ کی ذات اور حکمرانی کا انکار ہے۔
مثال: زندگی کی ٹرین
زندگی ایک ٹرین ہے جس کے:
· مالک/چالک: اللہ
· راستہ/منزل: دنیا سے آخرت
· ٹکٹ/ہدایت: قرآن و سنت
شرک ایسے ہے جیسے:
1. مالک کو ہی انکار کردیا
2. کسی مسافر کو ڈرائیور بنا لیا
3. اپنی مرضی کا راستہ بنا لیا
نتیجہ: ٹرین پٹری سے اتر جائے گی - یہ صرف غلطی نہیں، بلکہ سفر کا نظام تباہ کرنا ہے۔
4️⃣ شرک کا "تین طرفہ" ظلم
1. اللہ پر ظلم:
· اس کی خالقیت، رزاقیت، حاکمیت میں دوسروں کو شریک ٹھہرانا
· جیسے کسی مصنف کی کتاب پر دوسرے کا نام لگا دینا
2. مخلوق پر ظلم:
· بتوں، ستاروں، بزرگوں کو وہ مقام دینا جو ان کی استطاعت سے باہر ہے
· جیسے کسی غلام کو بادشاہ بنا کر اس پر بھی بوجھ ڈالنا
3. اپنی ذات پر ظلم:
· اپنی عقل، فطرت اور روح کو جھوٹے معبودوں کے آگے جھکا کر اپنی عزت گنوا دینا
· مخلوق کی غلامی اختیار کر کے خالق کی غلامی چھوڑ دینا
5️⃣ فطری پہلو: انسان کی پیدائشی سمجھ
ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے (حدیث: "ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے...")
· فطرت کا تقاضا: خالق واحد کی پہچان
· شرک: اس فطری رشتے کو توڑ کر مصنوعی رشتے بنانا
· جیسے: تازہ پانی میں زہر ملانا - پانی کی اصل کو ہی بگاڑ دینا
6️⃣ نتیجہ کی سطح پر فرق
- گناہ نافرمانی ہے، لیکن شرک بغاوت ہے۔
- گناہ نظام میں خرابی ہے، شرک نظام ہی غلط ہے۔
- گناہ تعلقات میں کشیدگی، شرک تعلق ہی ختم
- گناہ جزوی نقصان ہے، شرک مکمل تباہی ہے۔
7️⃣ آخری بات: شرک کیوں ناقابلِ معافی؟
· معافی کا فلسفہ: معافی تعلق کی بنیاد پر ملتی ہے
· شرک: تعلق کی بنیاد ہی ختم کر دیتا ہے
· جیسے: درخت کی جڑ کاٹ دی، پھر شاخیں سینچنے کا فائدہ؟ 💧
خلاصہ: شرک محض "گناہ" نہیں، بلکہ حقیقت کو الٹ دینے کا عمل ہے۔ یہ ایسے ہے جیسے کوئی پوری کتاب کو ہی غلط پڑھ لے، صرف اغلاط درست نہ ہوں۔
اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا:
جو مرا (اس حال میں کہ) اس نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرایا...تو وہ داخل ہوگا جنت میں۔۔۔اگرچہ اس نے زنا کیا ہو اور چوری کی ہو۔
[احمد:21466، بخاری:5827﴿7487﴾، مسلم:94(273)]
...اور اگرچہ اس نے شراب پی ہو۔
[بخاری:6443، مسلم:94]
شروعاتی حدیث کی شروحات:
1. شرح البخاری:
امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ: هَذَا عِنْدَ المَوْتِ، أَوْ قَبْلَهُ إِذَا تَابَ وَنَدِمَ، وَقَالَ: لاَ إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، غُفِرَ لَهُ
ترجمہ:
یہ (مرتد کی توبہ کا ذکر) موت کے وقت یا اس سے پہلے ہے، جب وہ توبہ کرے اور نادم ہو اور کہے: لا إله إلا الله، تو اسے بخش دیا جائے گا۔
[صحیح بخاری:5827، بَابُ الثِّيَابِ البِيضِ]
2. شرح ابن حبان:
امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
ذِكْرُ خَبَرٍ ثَانٍ أَوْهَمَ مَنْ لَمْ يُحْكِمْ صِنَاعَةَ الْحَدِيثِ أَنَّ الْإِيمَانَ بِكَمَالِهِ هُوَ الْإِقْرَارُ بِاللِّسَانِ دُونَ أَنْ يَقْرِنَهُ الْأَعْمَالُ بِالْأَعْضَاءِ۔
ترجمہ:
دوسری خبر کا ذکر جس نے حدیث کی صنعت کو نہ سمجھنے والوں کو یہ غلط فہمی دی کہ ایمان کی تکمیل صرف زبان سے اقرار ہے بغیر اس کے کہ اعضاء کے ساتھ اعمال بھی شامل ہوں۔
[صحیح ابن حبان:169]
3. شرح للنووی:
امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
أَنَّ هَذَا كَانَ قَبْلَ نُزُولِ الْفَرَائِضِ وَالْأَمْرِ وَالنَّهْيِ وَقَالَ بَعْضُهُمْ هِيَ مُجْمَلَةٌ تَحْتَاجُ إِلَى شَرْحٍ وَمَعْنَاهُ مَنْ قَالَ الْكَلِمَةَ وَأَدَّى حَقَّهَا وَفَرِيضَتَهَا وَهَذَا قَوْلُ الْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ وَقِيلَ إِنَّ ذَلِكَ لِمَنْ قَالَهَا عِنْدَ النَّدَمِ وَالتَّوْبَةِ وَمَاتَ عَلَى ذَلِكَ وَهَذَا قَوْلُ الْبُخَارِيِّ وَهَذِهِ التأويلات إِنَّمَا هِيَ إِذَا حُمِلَتِ الْأَحَادِيثُ عَلَى ظَاهِرِهَا وَأَمَّا إِذَا نَزَلَتْ مَنَازِلَهَا فَلَا يُشْكِلُ تَأْوِيلُهَا عَلَى مَا بَيَّنَهُ الْمُحَقِّقُونَ فَنُقَرِّرَ أولا أَنَّ مَذْهَبَ أَهْلِ السُّنَّةِ بِأَجْمَعِهِمْ مِنَ السَّلَفِ الصَّالِحِ وَأَهْلِ الْحَدِيثِ وَالْفُقَهَاءِ وَالْمُتَكَلِّمِينَ عَلَى مَذْهَبِهِمْ مِنَ الْأَشْعَرِيِّينَ أَنَّ أَهْلَ الذُّنُوبِ فِي مَشِيئَةِ الله تَعَالَى وَأَنَّ كُلَّ مَنْ مَاتَ عَلَى الْإِيمَانِ وَتَشَهَّدَ مُخْلِصًا مِنْ قَلْبِهِ بِالشَّهَادَتَيْنِ فَإِنَّهُ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ فَإِنْ كَانَ تَائِبًا أَوْ سَلِيمًا مِنَ الْمَعَاصِي دَخَلَ الْجَنَّةَ بِرَحْمَةِ رَبِّهِ وَحَرُمَ عَلَى النَّارِ بِالْجُمْلَةِ فَإِنْ حَمَلْنَا اللَّفْظَيْنِ الْوَارِدَيْنِ عَلَى هَذَا فِيمَنْ هَذِهِ صِفَتُهُ كَانَ بَيِّنًا وَهَذَا مَعْنًى تَأْوِيلَيِ الْحَسَنِ وَالْبُخَارِيِّ وإن كَانَ هَذَا مِنَ الْمُخَلِّطِينَ بِتَضْيِيعِ مَا أَوْجَبَ اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهِ أَوْ بِفِعْلِ مَا حُرِّمَ عَلَيْهِ فَهُوَ فِي الْمَشِيئَةِ لا يُقْطَعُ فِي أَمْرِهِ بِتَحْرِيمِهِ عَلَى النَّارِ ولا بِاسْتِحْقَاقِهِ الْجَنَّةَ لِأَوَّلِ وَهْلَةٍ بَلْ يُقْطَعُ بِأَنَّهُ لابد مِنْ دُخُولِهِ الْجَنَّةَ آخِرًا وَحَالُهُ قَبْلَ ذَلِكَ فِي خَطَرِ الْمُشِيئَةِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى عَذَّبَهُ بِذَنْبِهِ وَإِنْ شَاءَ عَفَا عَنْهُ بِفَضْلِهِ وَيُمْكِنُ أَنْ تَسْتَقِلَّ الْأَحَادِيثُ بِنَفْسِهَا وَيُجْمَعُ بَيْنَهَا فَيَكُونُ الْمُرَادُ بِاسْتِحْقَاقِ الْجَنَّةِ مَا قَدَّمْنَاهُ مِنْ إِجْمَاعِ أَهْلِ السُّنَّةِ أَنَّهُ لَا بُدَّ مِنْ دُخُولِهَا لِكُلِّ مُوَحِّدٍ إِمَّا معجلا مُعَافًى وَإِمَّا مؤخرا بعد عقابه وَالْمُرَادُ بِتَحْرِيمِ النَّارِ تَحْرِيمُ الْخُلُودِ خلافا لِلْخَوَارِجِ والمعتزلة فى المسئلتين وَيَجُوزُ فِي حَدِيثِ مَنْ كَانَ آخِرُ كلامه لَا إله إلا اللَّهُ دَخَلَ الْجَنَّةَ أَنْ يَكُونَ خُصُوصًا لِمَنْ كَانَ هَذَا آخِرَ نُطْقِهِ وَخَاتِمَةَ لَفْظِهِ وَإِنْ كَانَ قَبْلُ مُخَلِّطًا فَيَكُونُ سَبَبًا لِرَحْمَةِ اللَّهِ تَعَالَى إِيَّاهُ وَنَجَاتِهِ رَأْسًا مِنَ النَّارِ وَتَحْرِيمِهِ عَلَيْهَا بخلاف مَنْ لَمْ يَكُنْ ذَلِكَ آخِرَ كَلَامِهِ مِنَ الْمُوَحِّدِينَ الْمُخَلِّطِينَ وَكَذَلِكَ مَا وَرَدَ فِي حَدِيثِ عُبَادَةَ مِنْ مِثْلِ هَذَا وَدُخُولُهُ مِنْ أَيِّ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ شَاءَ يَكُونُ خُصُوصًا لِمَنْ قَالَ مَا ذَكَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَرَنَ بِالشَّهَادَتَيْنِ حَقِيقَةَ الْإِيمَانِ وَالتَّوْحِيدِ الَّذِي وَرَدَ فِي حَدِيثِهِ فَيَكُونُ لَهُ مِنَ الْأَجْرِ مَا يَرْجَحُ عَلَى سَيِّئَاتِهِ وَيُوجِبُ لَهُ الْمَغْفِرَةَ وَالرَّحْمَةَ وَدُخُولَ الْجَنَّةِ لِأَوَّلِ وَهْلَةٍ إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى والله أَعْلَمُ هَذَا آخِرُ كلام الْقَاضِي عِيَاضٍ رَحِمَهُ اللَّهُ وَهُوَ فِي نِهَايَةِ الْحُسْنِ وَأَمَّا مَا حكاه عن بن الْمُسَيَّبِ وَغَيْرِهِ فَضَعِيفٌ بَاطِلٌ وَذَلِكَ لِأَنَّ رَاوِيَ أَحَدِ هَذِهِ الْأَحَادِيثِ أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَهُوَ مُتَأَخِّرُ الإسلام أَسْلَمَ عَامَ خَيْبَرَ سَنَةَ سَبْعٍ بالاتفاق وَكَانَتْ أَحْكَامُ الشَّرِيعَةِ مُسْتَقِرَّةً وَأَكْثَرُ هَذِهِ الْوَاجِبَاتِ كَانَتْ فُرُوضُهَا مُسْتَقِرَّةً وَكَانَتِ الصلاة وَالصِّيَامُ وَالزَّكَاةُ وَغَيْرُهَا مِنَ الْأَحْكَامِ قَدْ تَقَرَّرَ فَرْضُهَا وَكَذَا الْحَجُّ عَلَى قَوْلِ مَنْ قَالَ فُرِضَ سَنَةَ خَمْسٍ أَوْ سِتٍّ وَهُمَا أَرْجَحُ مِنْ قَوْلِ مَنْ قَالَ سَنَةَ تِسْعٍ وَاللَّهُ أَعْلَمُ وَذَكَرَ الشَّيْخُ أَبُو عَمْرِو بْنُ الصلاح رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى تأويلا آخَرَ فِي الظَّوَاهِرِ الْوَارِدَةِ بِدُخُولِ الْجَنَّةِ بِمُجَرَّدِ الشَّهَادَةِ فَقَالَ يَجُوزُ أَنْ يَكُونَ ذَلِكَ اقْتِصَارًا مِنْ بَعْضِ الرُّوَاةِ نَشَأَ مِنْ تَقْصِيرِهِ فِي الْحِفْظِ وَالضَّبْطِ لا مِنْ رَسُولِ الله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بدلالة مَجِيئِهِ تَامًّا فِي رِوَايَةِ غَيْرِهِ وَقَدْ تَقَدَّمَ نَحْوُ هَذَا التَّأْوِيلِ قَالَ وَيَجُوزُ أَنْ يَكُونَ اخْتِصَارًا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا خَاطَبَ بِهِ الْكُفَّارَ عَبَدَةَ الْأَوْثَانِ الَّذِينَ كَانَ تَوْحِيدُهُمْ لِلَّهِ تَعَالَى مَصْحُوبًا بِسَائِرِ مَا يَتَوَقَّفُ عَلَيْهِ الإسلام وَمُسْتَلْزِمًا لَهُ وَالْكَافِرُ إِذَا كَانَ لَا يُقِرُّ بِالْوَحْدَانِيَّةِ كَالْوَثَنِيِّ وَالثَّنَوِيِّ فَقَالَ لَا إله إلا اللَّهُ وَحَالُهُ الْحَالُ الَّتِي حَكَيْنَاهَا حُكِمَ بإسلامه ولا نَقُولُ وَالْحَالَةُ هَذِهِ مَا قَالَهُ بَعْضُ أَصْحَابِنَا مِنْ أَنَّ مَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ يُحْكَمُ بِإِسْلَامِهِ ثُمَّ يُجْبَرُ عَلَى قَبُولِ سَائِرِ الْأَحْكَامِ فَإِنَّ حَاصِلَهُ رَاجِعٌ إِلَى أَنَّهُ يُجْبَرُ حِينَئِذٍ عَلَى إِتْمَامِ الْإِسْلَامِ وَيُجْعَلُ حُكْمُهُ حُكْمَ الْمُرْتَدِّ إِنْ لَمْ يَفْعَلْ مِنْ غَيْرِ أَنْ يُحْكَمَ بِإِسْلَامِهِ بِذَلِكَ فِي نَفْسِ الْأَمْرِ وَفِي أَحْكَامِ الْآخِرَةِ وَمَنْ وَصَفْنَاهُ مُسْلِم فِي نَفْسِ الْأَمْرِ وَفِي أَحْكَامِ الْآخِرَةِ والله أَعْلَمُ قَوْلُهُ
ترجمہ:
یہ حدیث فرائض اور امر و نہی کے نزول سے پہلے کی ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ یہ مجمل ہے جس کی شرح کی ضرورت ہے، اور اس کا معنی یہ ہے کہ جس نے کلمہ کہا اور اس کے حقوق و فرائض ادا کیے۔ یہ حسن بصری کا قول ہے۔ اور کہا گیا ہے کہ یہ اس شخص کے لیے ہے جو ندامت و توبہ کے وقت یہ کلمہ کہے اور اسی پر مر جائے۔ یہ امام بخاری کا قول ہے۔ یہ تاویلات اس صورت میں ہیں جب احادیث کو ظاہر پر محمول کیا جائے، لیکن اگر ان کو ان کے مناسب مقام پر رکھا جائے تو ان کی تاویل میں کوئی اشکال نہیں، جیسا کہ محققین نے بیان کیا ہے۔ پہلے ہم اس بات کو مقرر کرتے ہیں کہ اہل سنت کا تمام سلف صالحین، اہل حدیث، فقہاء اور متکلمین میں سے اشعری مسلک کے مطابق یہی مذہب ہے کہ گنہگار اللہ تعالیٰ کی مشیت پر ہیں، اور جو شخص ایمان پر مرے اور خلوص دل سے شہادتین کا اقرار کرے، وہ جنت میں داخل ہوگا۔ اگر وہ تائب ہو یا معصیت سے پاک ہو تو اپنے رب کی رحمت سے جنت میں داخل ہوگا اور جہنم پر حرام ہو جائے گا۔ اگر ہم وارد ہونے والے الفاظ کو اس شخص پر محمول کریں جس کی یہ صفت ہے تو بات واضح ہو جاتی ہے، اور یہی حسن بصری اور امام بخاری کی تاویل کا معنی ہے۔ اور اگر یہ شخص ان گناہگاروں میں سے ہے جو اللہ کے واجبات کو ضائع کرتے ہیں یا حرام کام کرتے ہیں، تو وہ مشیت الٰہی پر ہے، اس کے بارے میں قطعی طور پر نہیں کہا جا سکتا کہ وہ جہنم پر حرام ہے یا فوراً جنت کا مستحق ہے، بلکہ یہ قطعی ہے کہ آخر کار وہ جنت میں داخل ہوگا۔ اس سے پہلے اس کا حال مشیت الٰہی کے خطرے میں ہے، اگر اللہ چاہے تو اسے اس کے گناہ کی سزا دے، اور اگر چاہے تو اپنے فضل سے معاف کر دے۔ اور ممکن ہے کہ احادیث کو خود ان کے ساتھ جمع کیا جائے، تو مراد جنت کا مستحق ہونا وہ ہے جو ہم نے پہلے اہل سنت کے اجماع سے بیان کیا کہ ہر موحد کا جنت میں داخل ہونا ضروری ہے، خواہ فوراً معافی کے ساتھ یا عذاب کے بعد۔ اور تحریم النار سے مراد جہنم میں ہمیشہ رہنا حرام ہے، خوارج اور معتزلہ کے خلاف جو دونوں مسائل میں مخالف ہیں۔ اور حدیث "من كان آخر كلامه لا إله إلا الله دخل الجنة" میں ممکن ہے کہ یہ خاص اس شخص کے لیے ہو جس کا آخری نطق یہی ہو، خواہ وہ پہلے گناہگار رہا ہو، تو یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت اور نجات کا سبب بن جاتا ہے۔ اسی طرح حدیث عبادہ میں جو ذکر ہے کہ وہ جنت کے جس دروازے سے چاہے داخل ہو، یہ خاص اس شخص کے لیے ہے جس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کیا اور شہادتین کے ساتھ ایمان اور توحید کی حقیقت کو جوڑا، تو اس کے لیے اتنا ثواب ہوگا کہ اس کی برائیاں مٹ جائیں گی اور اس کے لیے مغفرت اور رحمت اور فوراً جنت میں داخلہ ہو گا، اگر اللہ چاہے۔ واللہ اعلم۔ یہ قاضی عیاض رحمہ اللہ کا آخری کلام ہے اور یہ انتہائی خوبصورت ہے۔ اور جو کچھ انہوں نے ابن المسیب وغیرہ سے نقل کیا ہے وہ ضعیف اور باطل ہے، کیونکہ ان احادیث میں سے ایک کے راوی ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ہیں جو متاخر الاسلام ہیں، انہوں نے سال سات ہجری میں اسلام قبول کیا، اور اس وقت شرعی احکام مستقر ہو چکے تھے، اور بیشتر واجبات کے فرض ہونے کا استقرار ہو چکا تھا، نماز، روزہ، زکوٰۃ وغیرہ کے احکام مقرر ہو چکے تھے، اسی طرح حج بھی، ان کے قول کے مطابق جو سال پانچ یا چھ ہجری میں فرض ہوا، اور یہ قول سال نو ہجری کے قول سے راجح ہے۔ واللہ اعلم۔ اور شیخ ابو عمرو بن الصلاح رحمہ اللہ نے ظاہری احادیث جو صرف شہادت پر جنت میں داخلہ بتاتی ہیں، کے بارے میں ایک اور تاویل بیان کی ہے، کہا: ممکن ہے کہ یہ بعض راویوں کی اختصار ہو جو حفظ و ضبط میں تقصیر کی وجہ سے ہو، نہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے، کیونکہ دوسری روایت میں یہ کامل حالت میں آئی ہے۔ اور پہلے بھی ایسی تاویل گزر چکی ہے۔ اور کہا: ممکن ہے کہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے مختصر ہو، جو آپ نے ان کافروں سے خطاب میں فرمایا جو بت پرست تھے، جن کا توحید پر اقرار دیگر اسلام کے ضروری امور کے ساتھ ہوتا تھا۔ اور کافر جب توحید کا اقرار نہیں کرتا، جیسے وثنی اور ثنوی، پھر وہ لا إله إلا الله کہے اور اس کی حالت وہ ہو جو ہم نے بیان کی، تو اس کے اسلام کا حکم لگایا جاتا ہے۔ اور ہم یہ نہیں کہتے، جیسا کہ ہمارے بعض اصحاب کہتے ہیں، کہ جو لا إله إلا الله کہے اس کے اسلام کا حکم لگایا جاتا ہے پھر اسے دیگر احکام قبول کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے، کیونکہ اس کا حاصل یہ ہے کہ اسے اسلام کو مکمل کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے اور اگر نہ کرے تو مرتد کا حکم ہوتا ہے، لیکن خود اس کے اسلام کا حکم نہیں لگایا جاتا۔ اور جو شخص ہم نے بیان کیا، وہ نفس الامر اور آخرت کے احکام میں مسلم ہے۔ واللہ اعلم۔
[شرح مسلم للنووی:ج1 / ص119، باب الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ مَنْ مَاتَ عَلَى التَّوْحِيدِ]
4. شرح للبیھقی:
امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
وَلَهُ شَوَاهِدُ عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، وَعَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، وَعُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، وَجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ وَغَيْرِهِمْ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. " وَلَيْسَ بَيْنَ هَذِهِ الْأَحَادِيثِ، وَبَيْنَ حَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَأَبِي سَعِيدٍ مُنَافَاةٌ، وَقَدْ يَكُونُ دُخُولُهُ الْجَنَّةَ بَعْدَ الاقتصاص، والاقتصاص قَدْ يَكُونُ بِالتَّعْذِيبِ عَلَى مَا طُرِحَ عَلَيْهِ مِنَ سَيِّئَاتِ خَصْمِهِ وَحَبِطَ مِنْ أَجْرِ حَسَنَاتِهِ فَيَبْقَى مُرْتَهِنًا بِسَيِّئَاتِهِ، وَسَيِّئَاتِ خَصْمِهِ، وَقَدْ يُثِيبُ اللهُ تَعَالَى الْمَظْلُومَ وَيَعْفُو عَنِ الظَّالِمِ إِنْ صَحَّ الْخَبَرُ الْوَارِدُ بِهِ، أَمَّا التَّعْزِيرُ بِالنَّفْسِ فَمَا لَا يَرْضَاهُ عَاقِلٌ، وَمَنْ لَا يَصْبِرُ عَلَى وَجَعِ سِنٍّ، وَحُمَّى يَوْمٍ فَحَقِيقٌ أَنْ يَحْتَرِزَ مِنْ أَمْرٍ يُعَرِّضُهُ لِعَذَابٍ وَجِيعٍ وِعِقَابٍ أَلِيمٍ لَا يَعْلَمُ شِدَّتَهُ ولا نِهَايَتَهُ إِلَّا اللهُ عَزَّ وَجَلَّ، وَقَدْ جَاءَ فِي حَدِيثِ أَبِي ظلال، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ عَبْدًا فِي جَهَنَّمَ يُنَادِي أَلْفَ سَنَةٍ يَا حَنَّانُ يَا مَنَّانُ حَتَّى يَأْمُرَ بِهِ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السلام فَيُخْرِجَهُ مِنْهَا نَعُوذُ بالله مِنْ عَذَابِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ "
ترجمہ:
اس حدیث کے شواہد ابو الدرداء، عثمان بن عفان، عبداللہ بن مسعود، عبادہ بن الصامت، جابر بن عبداللہ اور دیگر سے بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہیں۔ اور ان احادیث اور ابو ہریرہ و ابو سعید کی حدیث کے درمیان کوئی منافات نہیں۔ ہو سکتا ہے کہ جنت میں داخلہ حساب کتاب کے بعد ہو، اور حساب کتاب عذاب کے ساتھ ہو سکتا ہے جس میں اس کے گناہوں کا بدلہ دیا جائے گا اور اس کی نیکیوں کے ثواب میں سے کچھ ضائع ہو جائے گا، تو وہ اپنے گناہوں اور اپنے حریف کے گناہوں میں مرہون رہے گا۔ اور اللہ تعالیٰ مظلوم کو ثواب دے سکتا ہے اور ظالم کو معاف کر سکتا ہے، اگر اس بارے میں وارد خبر صحیح ہو۔ رہا نفس کی تعزیر، تو کوئی عاقل اسے پسند نہیں کرتا۔ اور جو شخص دانت کے درد اور ایک دن کے بخار پر صبر نہیں کر سکتا، اسے اس امر سے احتیاط کرنی چاہیے جو اسے دردناک عذاب اور شدید سزا میں ڈال دے، جس کی شدت اور انتہا کو صرف اللہ عز وجل ہی جانتا ہے۔ اور حدیث ابو ظلال میں ہے، جو انس بن مالک سے مروی ہے، کہ جہنم میں ایک بندہ ہزار سال تک پکارتا رہے گا: یا حنان یا منان، یہاں تک کہ جبریل علیہ السلام کو حکم دیا جائے گا اور وہ اسے جہنم سے نکال لیں گے۔ ہم اللہ کے عذاب سے پناہ مانگتے ہیں۔
[شعب الایمان-للبیھقی:341]
5. شرح ابن حجر:
قَالَ الزَّيْن بْن الْمُنِير: حَدِيث أَبِي ذَرّ مِنْ أَحَادِيث الرَّجَاء الَّتِي أَفْضَى الِاتِّكَال عَلَيْهَا بِبَعْضِ الْجَهَلَة إِلَى الْإِقْدَام عَلَى الْمُوبِقَات، وَلَيْسَ هُوَ عَلَى ظَاهِره , فَإِنَّ الْقَوَاعِد اِسْتَقَرَّتْ عَلَى أَنَّ حُقُوق الْآدَمِيِّينَ لَا تَسْقُط بِمُجَرَّدِ الْمَوْت عَلَى الْإِيمَان، وَلَكِنْ لَا يَلْزَم مِنْ عَدَم سُقُوطهَا أَنْ لَا يَتَكَفَّل اللَّه بِهَا عَمَّنْ يُرِيد أَنْ يُدْخِلهُ الْجَنَّة، وَمِنْ ثَمَّ رَدَّ - صلى الله عليه وسلم - عَلَى أَبِي ذَرّ اِسْتِبْعَاده , وَيَحْتَمِل أَنْ يَكُون الْمُرَاد بِقَوْلِهِ " دَخَلَ الْجَنَّة " أَيْ: صَارَ إِلَيْهَا إِمَّا اِبْتِدَاء مِنْ أَوَّل الْحَال , وَإِمَّا بَعْد أَنْ يَقَع مَا يَقَع مِنْ الْعَذَاب، نَسْأَل اللَّه الْعَفْو وَالْعَافِيَة , وَفِي هَذَا الْحَدِيث " مَنْ قَالَ لَا إِلَه إِلَّا اللَّه نَفَعَتْهُ يَوْمًا مِنْ الدَّهْر، أَصَابَهُ قَبْل ذَلِكَ مَا أَصَابَهُ " , وَفِي الْحَدِيث أَنَّ أَصْحَاب الْكَبَائِر لَا يُخَلَّدُونَ فِي النَّار، وَأَنَّ الْكَبَائِر لَا تَسْلُب اِسْم الْإِيمَان، وَأَنَّ غَيْر الْمُوَحِّدِينَ لَا يَدْخُلُونَ الْجَنَّة , وَالْحِكْمَة فِي الِاقْتِصَار عَلَى الزِّنَا وَالسَّرِقَة الْإِشَارَة إِلَى جِنْس حَقّ اللَّه تَعَالَى وَحَقّ الْعِبَاد، وَكَأَنَّ أَبَا ذَرّ اِسْتَحْضَرَ قَوْله - صلى الله عليه وسلم - " لَا يَزْنِي الزَّانِي حِين يَزْنِي وَهُوَ مُؤْمِن " لِأَنَّ ظَاهِره مُعَارِض لِظَاهِرِ هَذَا الْخَبَر، لَكِنَّ الْجَمْع بَيْنهمَا عَلَى قَوَاعِد أَهْل السُّنَّة بِحَمْلِ هَذَا عَلَى الْإِيمَان الْكَامِل , وَبِحَمْلِ حَدِيث الْبَاب عَلَى عَدَم التَّخْلِيد فِي النَّار. (فتح الباري لابن حجر - ج 4 / ص 261)
ترجمہ:
زین بن المنیر کہتے ہیں: ابو ذر کی حدیث رجاء (امید) کی احادیث میں سے ہے جس پر بعض جاہل اعتماد کر کے ہلاکت والے کاموں پر جرأت کرتے ہیں، حالانکہ یہ حدیث ظاہر پر نہیں ہے۔ کیونکہ قواعد یہ مستقر ہیں کہ آدمیوں کے حقوق صرف ایمان پر مرنے سے ساقط نہیں ہوتے۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ اللہ تعالیٰ ان حقوق کو ادا نہیں کر سکتا جسے وہ جنت میں داخل کرنا چاہے۔ اسی لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو ذر کے استبعاد کو رد کیا۔ اور ممکن ہے کہ قول "دخل الجنة" کا مطلب یہ ہو کہ وہ جنت میں داخل ہوگا، خواہ فوراً یا عذاب کے بعد۔ ہم اللہ سے عفو و عافیت مانگتے ہیں۔ اور اس حدیث میں ہے: "جس نے لا إله إلا الله کہا، تو یہ اسے زندگی کے کسی دن فائدہ دے گی، خواہ اس سے پہلے اس پر جو کچھ بھی گزرے۔" اور حدیث میں یہ بھی ہے کہ کبیرہ گناہوں والے جہنم میں ہمیشہ نہیں رہیں گے، اور کبیرہ گناہ ایمان کے نام کو سلب نہیں کرتے، اور غیر موحدین جنت میں داخل نہیں ہوں گے۔ اور زنا اور چوری کے ذکر میں حکمت یہ ہے کہ حق اللہ اور حق العباد کی طرف اشارہ ہے۔ گویا ابو ذر رضی اللہ عنہ کے ذہن میں وہ حدیث تھی: "لا يزني الزاني حين يزني وهو مؤمن" کیونکہ اس کا ظاہر اس خبر کے ظاہر کے معارض(خلاف) ہے، لیکن اہل سنت کے قواعد کے مطابق ان کے درمیان جمع یوں کیا جاتا ہے کہ اس حدیث کو کامل ایمان پر محمول کیا جائے، اور باب کی حدیث کو جہنم میں ہمیشگی نہ ہونے پر محمول کیا جائے۔(فتح الباري لابن حجر - ج 4 / ص 261)
[الجامع الصحیح للسنن والمسانید: ج1 / ص73]
6. شرح للمناوی:
علامہ مناوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
· پہلا اقتباس:
وَاقْتصر من الْكَبَائِر على ذَيْنك لأنّ الْحق إمّا لله أَو للْعَبد فَأَشَارَ بِالزِّنَا للأوّل وبالسرقة للثَّانِي والبشارة لُغَة اسْم لخَبر يُغير بشرة الْوَجْه مُطلقًا سارا أَو محزنا لَكِن غلب اسْتِعْمَاله فِي الأوّل وَصَارَ اللَّفْظ حَقِيقَة لَهُ بِحكم الْعرف حَتَّى لَا يفهم مِنْهُ غَيره وَاعْتبر فِيهِ الصدْق فَالْمَعْنى الْعرفِيّ للبشارة وَالْخَبَر الصدْق السارّ الَّذِي لَيْسَ عِنْد الْمخبر بِهِ علمه۔۔۔۔
وَإِن ارْتكب كل كَبِيرَة فَلَا بدّ من دُخُوله إِيَّاهَا إمّا ابْتِدَاء إِن عُفيَ عَنهُ أَو بعد دُخُوله النَّار حَسْبَمَا نطقت بِهِ الْأَخْبَار۔
ترجمہ:
اور کبیرہ گناہوں میں سے صرف ان دو (زنا اور چوری) کا ذکر اس لیے کیا کہ حق یا تو اللہ کا ہوتا ہے یا بندے کا۔ پس زنا کو حق اللہ کی طرف اشارہ کیا اور چوری کو حق العباد کی طرف۔ اور بشارت کا لفظ خوشخبری کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اور اگر کوئی ہر کبیرہ گناہ کرے تو اس کا جنت میں داخلہ ضروری ہے، خواہ فوراً اگر معاف کر دیا جائے یا جہنم میں داخل ہونے کے بعد۔
[التیسیر بشرح الجامع الصغیر-للمناوی:1/20]
· دوسرا اقتباس:
فِيهِ حجَّة لأهل السّنة على حُصُول الشَّفَاعَة لأهل الْكَبَائِر
ترجمہ:
اس میں اہل سنت کے لیے حجت ہے کہ کبیرہ گناہوں والوں کے لیے شفاعت حاصل ہوگی۔
[التیسیر بشرح الجامع الصغیر-للمناو:2/78]
· تیسرا اقتباس:
ففيه استفهام مقدر ووجه الاستفهام ما تقرر عنده قبل ذلك من الآيات الواردة في وعيد أهل الكبائر بالنار فلما سمع أن من مات لا يشرك بالله شيئا دخل الجنة أستفهم عن ذلك بقوله " وإن " إلى آخره۔۔۔۔
كرر الاستفهام استثباتا واشتياقا واستعظاما لشأن الدخول مع مباشرة الكبائر أو تعجبا منه واقتصر من الكبائر على ذينك لأن الحق إما لله أو للعباد فأشار بالزنا إلى الأول وبالسرقة إلى الثاني وبين أن دخول الجنة لا يتوقف على تجنبهما. قال السكي: وآثر ذكر السرقة على القتل مع كونه أقبح لكثرة وقوعها وقلة وقوع القتل فآثر ما يكثر وقوعه لشدة الحاجة للسؤال عنه على ما يندر. قال: والأحاديث الدالة على دخول من مات غير مشرك الجنة يبلغ القدر المشترك منها مبلغ التواتر وهي قاصمة لظهور المعتزلة الزاعمين خلود أرباب الكبائر في النار ثم أكد جبريل ما ذكره تتميما للمبالغة بقوله: (وإن شرب الخمر) فإن شربها لا يمنعه من دخولها ونص عليه إشارة إلى نحوسة هذه الكبيرة وفظاعتها لأنها تؤدي إلى خلل العقل الذي شرف به الإنسان على غيره من الحيوان وبوقوع الخلل فيه يزول التوقي الحاجز عن ارتكاب بقية الكبائر فأعظم به من مفسدة ومع ذلك يدخل شاربه الجنة وفيه إشعار بأن مجيء جبريل وإخباره بذلك كان بعد تحريمها
ترجمہ:
اس میں مقدر سوال ہے اور سوال کا سبب یہ ہے کہ پہلے سے کبیرہ گناہوں والوں کے لیے جہنم کا وعید آئی ہوئی تھی، پس جب یہ سنا کہ جو شخص شرک نہ کرے وہ جنت میں داخل ہوگا، تو سوال کیا "اگر زنا اور چوری کرے تو؟"۔ سوال کا تکرار تصدیق اور اشتیاق اور عظمت واردات کے لیے ہے۔ اور کبیرہ گناہوں میں سے صرف ان دو کا ذکر کیا کیونکہ حق یا اللہ کا ہے یا بندوں کا۔ اور بتایا کہ جنت میں داخلہ ان گناہوں سے پرہیز پر موقوف نہیں۔ سکری کہتے ہیں: چوری کا ذکر قتل پر ترجیح دی گئی حالانکہ قتل زیادہ قبیح ہے، لیکن چوری کا وقوع زیادہ ہے، اس لیے زیادہ وقوع والے گناہ کے بارے میں سوال کیا۔ اور وہ احادیث جو بتاتی ہیں کہ جو شخص شرک نہ کرے وہ جنت میں داخل ہوگا، متواتر کے قریب ہیں اور معتزلہ کے خلاف قاطع ہیں جو کبیرہ گناہوں والوں کی جہنم میں ہمیشگی کے قائل ہیں۔ پھر جبریل علیہ السلام نے شراب نوشی کا ذکر کر کے تاکید کی کہ یہ بھی داخلے میں مانع نہیں۔
[فیض القدیر-للمناوی:77(1/94)]
· چوتھا اقتباس:
وارتكب كل كبيرة واقتحم كل فجور فلا بد من دخوله إياها إما ابتداء إن عفي عنه أو بعد دخوله النار حسبما نطقت به الأخبار الدالة على أنه لا يبقى في النار موحد فالكبائر لا تسلب الإيمان ولا تحبط الطاعة إذ لو كانت محبطة موازنة أو غيرها لزم أن لا تبقى لبعض الزناة أو السراق طاعة والقائل بالاحباط يحيل دخول الجنة وبما تقرر آنفا علم أن جواب أن محذوف لدلالة الواو عليه لأنها ترد الكلام على أوله ولو سقطت الواو لكان الزنا والسرقة شرطا في دخول الجنة فالمعنى وإن زنى وإن سرق لم يمنعه ذلك من دخولها ثم إن في اختلاف هذا الحديث وما قبله زيادة ونقصانا وتقديما وتأخيرا مع اتحاد الصحابي إما لأنه سمعه من المصطفى مرتين كذلك أو حكاه بلفظه مرة وبمعناه أخرى وسكت عن الخمر في إحدى الروايتين سهوا أو لعروض شاغل (تتمة) سئل شيخ الطائفة الجنيد: هل يسرق العارف؟ قال: لا قيل: فهل يزني؟ فأطرق مليا ثم قال: {وكان أمر الله قدرا مقدورا}
. قال بعض المحققين: قد تتخذ البطلة أمثال هذه الأخبار ذريعة إلى طرح التكاليف وإبطال العمل ظنا أن ترك الشرك كاف وهذا يستلزم طي بساط الشريعة وإبطال الحدود وأن الترغيب في الطاعة والترهيب من المعصية لا أثر له فتفضي إلى الانخلاع من الدين وانفكاك قيد الشريعة والخروج عن الضبط والولوج في الخبط وترك الناس سدى هملا وذلك مفض إلى خراب الدنيا والآخرة مع أن قوله في بعض طرق الحديث " أن تعبدوه ولا تشركوا به شيئا " يتضمن اشترط العمل فيجب ضم بعض الأحاديث إلى بعض فإنها كالحديث الواحد فيحمل مطلقها على مقيدها انتهى. وهذه قعقعة لا حاجة إليها مع ما قررناه أنفا أن كل من مات مؤمنا دخل الجنة فإن كان تائبا أو سليما من المعاصي دخلها وحرم على النار وإلا فيقطع بدخوله الجنة آخرا وحاله قبل ذلك في خطر المشيئة إن شاء عذبه وإن شاء عفا عنه كما قال النووي أنه مذهب أهل السنة قال الطيبي: وهو قانون عظيم في الدين وعليه مبني قواعد الجماعة أن الحسن والقبح شرعيان وأن الله يفعل ما يشاء ويحكم ما يريد۔
ترجمہ:
اور اگر کوئی ہر کبیرہ گناہ کرے اور ہر برائی کا ارتکاب کرے، تو اس کا جنت میں داخلہ ضروری ہے، خواہ فوراً اگر معاف کر دیا جائے یا جہنم میں داخل ہونے کے بعد۔ اور یہ ان احادیث کے مطابق ہے جو بتاتی ہیں کہ جہنم میں کوئی موحد ہمیشہ نہیں رہے گا۔ پس کبیرہ گناہ ایمان کو سلب نہیں کرتے اور طاعات کو حبط نہیں کرتے۔ اور جو شخص احباط کا قائل ہے وہ جنت میں داخلے کا انکار کرتا ہے۔ اور جو کچھ بیان کیا گیا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جواب محذوف ہے اور واو پر دلالت کرتی ہے۔ اور اگر واو ساقط ہوتی تو زنا اور چوری جنت میں داخلے کے لیے شرط ہوتے، لیکن معنی یہ ہے کہ اگر زنا اور چوری بھی کرے تو وہ اسے جنت میں داخل ہونے سے نہیں روکتے۔ پھر اس حدیث اور پہلی حدیث میں اختلاف ہے، ممکن ہے کہ صحابی نے دو بار سنا ہو یا ایک بار لفظاً اور ایک بار معنیاً بیان کیا ہو۔ شراب کا ذکر ایک روایت میں سہواً چھوٹ گیا ہو۔ پھر جنید رحمہ اللہ سے پوچھا گیا: کیا عارف چوری کر سکتا ہے؟ کہا: نہیں۔ پوچھا: کیا زنا کر سکتا ہے؟ تو خاموش رہے پھر فرمایا: "وكان أمر الله قدرا مقدورا"۔ بعض محققین کہتے ہیں: بعض بدعتی ایسی احادیث کو تکیہ بنا کر تکالیف کو چھوڑ دیتے ہیں، حالانکہ شرک چھوڑنا کافی نہیں۔ یہ شریعت کو باطل کرنے کے مترادف ہے۔ لیکن ہم نے پہلے بیان کیا ہے کہ اہل سنت کا مذہب ہے کہ ہر مؤمن جنت میں داخل ہوگا، اگر تائب ہو یا معصیت سے پاک ہو تو فوراً داخل ہوگا، ورنہ مشیت الٰہی پر ہے، جیسا کہ نووی نے کہا۔ طیبی کہتے ہیں: یہ دین میں ایک عظیم قانون ہے۔
· پانچواں اقتباس:
أي وإن زنى وإن سرق ومات مصرا على ذلك ولم يتب فهو تحت المشيئة إن شاء عذبه الله ثم أدخله الجنة وإن شاء عفى عنه ابتداء فلم يدخله النار وفيه رد على المعتزلة الزاعمين أن صاحب الكبيرة إذا مات بغير توبة يخلد في النار
ترجمہ:
یعنی اگر زنا اور چوری کرے اور اسی پر مصر ہو کر مر جائے اور توبہ نہ کرے تو وہ مشیت الٰہی پر ہے، اگر اللہ چاہے تو عذاب دے پھر جنت میں داخل کرے، یا معاف کر دے اور جہنم میں داخل ہی نہ کرے۔ اس میں معتزلہ کا رد ہے جو کہتے ہیں کہ کبیرہ گناہ کرنے والا اگر بغیر توبہ مرے تو ہمیشہ جہنم میں رہے گا۔
[فیض القدیر-للمناوی:6075(4/500)]
7. شرح الشاه ولي الله الدهلوي:
شاہ ولی اللہ دہلوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
أَقُول مَعْنَاهُ حرمه الله على النَّار الشَّدِيدَة المؤبدة الَّتِي أعدهَا للْكَافِرِينَ وَإِن عمل الْكَبَائِر.
والنكتة فِي سوق الكلام هَذَا السِّيَاق، أَن مَرَاتِب الأثم بَينهَا تفَاوت بَين، وَإِن كَانَ يجمعها كلهَا اسْم الأثم، فالكبائر إِذا قيست بالْكفْر لم يكن لَهَا قدر محسوس، ولا تَأْثِير يعْتد بِهِ، وَلَا سَبَبِيَّة لدُخُول النَّار تسمى سَبَبِيَّة وَكَذَلِكَ الصَّغَائِر بِالنِّسْبَةِ إِلَى الْكَبَائِر، فَبين النَّبِي صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْفرق بَينهَا على آكِد وَجه بِمَنْزِلَة الصِّحَّة والسقم، فَإِن الْأَعْرَاض الْبَادِيَة كالزكام وَالنّصب إِذا قيست إِلَى سوء المزاج المتمكن كالجذام والسل والاستسقاء يحكم عَلَيْهَا بِأَنَّهَا صِحَة وَأَن صَاحبهَا لَيْسَ بمريض وَأَن لَيْسَ بِهِ قلبة - وَرب داهية تنسي داهية - كمن أَصَابَهُ شَوْكَة ثمَّ وتر أَهله وَمَاله، قَالَ: لم يكن بِي مُصِيبَة قبل أصلا.
ترجمہ:
میرا کہنا ہے کہ اس کا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے اس شدید اور ہمیشہ رہنے والی آگ پر حرام کر دیا جو کافروں کے لیے تیار کی گئی ہے، چاہے وہ کبیرہ گناہ کرے۔ اور اس کلام میں نکتہ یہ ہے کہ گناہوں کے درجات میں تفاوت ہے، اگرچہ سب کو گناہ کہا جاتا ہے۔ کبیرہ گناہوں کا کفر سے موازنہ کیا جائے تو ان کی کوئی قدر نہیں رہتی، اور نہ ہی وہ جہنم میں داخلے کا سبب بنتے ہیں۔ اسی طرح صغیرہ گناہوں کا کبیرہ گناہوں سے موازنہ۔ پس نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے درمیان فرق واضح کیا، جیسے صحت اور بیماری کا فرق۔ جب ظاہری بیماریوں جیسے زکام اور تھکان کا موازنہ گہری بیماریوں جیسے جذام، سل اور استسقاء سے کیا جائے، تو انہیں صحت کہا جاتا ہے اور مریض نہیں کہا جاتا۔ اسی طرح جس کو کانٹا چبھے پھر اس کا اہل و مال تباہ ہو جائے، وہ کہے گا کہ مجھے کوئی مصیبت نہیں تھی۔
[حجة الله البالغة: ج1 / ص281]
---
حاصل شدہ تمام اسباق ونکات
1. توبہ کی قبولیت: موت کے وقت سچی ندامت اور توبہ کے ساتھ "لا إله إلا الله" کہنے سے گناہ معاف ہو سکتے ہیں۔
2. ایمان کی حقیقت: ایمان محض زبانی اقرار نہیں بلکہ اعمال کے بغیر ناقص ہے۔
3. تاریخی تناظر کی اہمیت: بعض احادیث کو ان کے تاریخی پس منظر (جیسے فرائض کے نزول سے پہلے کا دور) میں سمجھنا ضروری ہے۔
4. اہل سنت کا عقیدہ: گنہگار مؤمن اللہ کی مشیت پر ہیں، آخرت میں وہ جنت میں داخل ہوں گے، خواہ فوراً یا عذاب کے بعد۔
5. تحریم النار کی تشریح: جہنم پر حرام ہونے کا مطلب ہمیشہ جہنم میں رہنا حرام ہے، عارضی عذاب ممکن ہے۔
6. آخری کلام کی برکت: موت کے وقت "لا إله إلا الله" کہنا اللہ کی رحمت اور نجات کا سبب بن سکتا ہے۔
7. احادیث میں تطبیق: ظاہری تعارض کی صورت میں احادیث کے درمیان جمع ممکن ہے، ان میں حقیقی تضاد نہیں۔
8. ضعیف روایات سے احتیاط: بعض روایات ضعیف ہیں، ان پر عقیدہ کی بنیاد نہیں رکھنی چاہیے۔
9. حقوق العباد کا معاملہ: آدمیوں کے حقوق صرف ایمان پر مرنے سے ساقط نہیں ہوتے، لیکن اللہ چاہے تو انہیں معاف کر سکتا ہے۔
10. کبیرہ گناہوں کا انجام: کبیرہ گناہ کرنے والا مؤمن جہنم میں ہمیشہ نہیں رہے گا اور اس کا ایمان سلب نہیں ہوتا۔
11. شفاعت کا ثبوت: اہل سنت کے نزدیک کبیرہ گناہوں والوں کے لیے شفاعت ثابت ہے۔
12. متواتر احادیث کی قوت: موحد کے جنت میں داخل ہونے کی احادیث متواتر کے قریب ہیں، یہ معتزلہ کے خلاف قاطع دلیل ہیں۔
13. شراب نوشی کا حکم: شراب نوشی بھی جنت میں داخلے کی ممانعت نہیں کرتی، اگرچہ یہ کبیرہ گناہ ہے۔
14. رجاء پر غلط انحصار نہ کریں: احادیث رجاء پر بھروسہ کر کے گناہوں پر جرأت نہیں کرنی چاہیے، بلکہ احتیاط لازم ہے۔
15. گناہوں کے درجات: گناہوں کے درجات ہیں، کبیرہ گناہ کفر کے مقابلے میں ہلکے ہیں۔
16. دین کی صحیح فہم: احادیث کی صحیح فہم کے لیے اصول حدیث اور سلف کے اقوال کو سمجھنا ضروری ہے۔
17. بدعات سے بچاؤ: بعض بدعتی احادیث کے ظاہر پر عمل کر کے شریعت کے دیگر احکام کو نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔
18. اللہ کی مشیت پر ایمان: مؤمن گنہگار کے بارے میں قطعی طور پر نہیں کہا جا سکتا کہ وہ عذاب سے بالکل بچ جائے گا، بلکہ یہ اللہ کی مشیت پر ہے۔
19. توحید کی بنیادی اہمیت: شرک سب سے بڑا گناہ ہے، توحید کی بنیاد پر ہی جنت میں داخلہ ممکن ہے۔
20. عمل کی ضرورت: ایمان کے ساتھ عمل بھی ضروری ہے، اگرچہ عمل میں کمی ہو تو بھی آخرت میں جنت ملے گی، لیکن ممکن ہے عذاب ہو۔
21. حدیث کی صنعت کا علم: حدیث کی صحیح تفسیر کے لیے اصول حدیث کا علم ضروری ہے تاکہ غلط فہمیوں سے بچا جا سکے۔
22. معتزلہ اور خوارج کا رد: اہل سنت کا عقیدہ ہے کہ کبیرہ گناہوں والا مؤمن جہنم میں ہمیشہ نہیں رہے گا، جو معتزلہ اور خوارج کے عقیدے کے خلاف ہے۔
23. صغیرہ و کبیرہ گناہوں میں فرق: گناہوں کے درجات ہیں، صغیرہ گناہوں کو کبیرہ گناہوں کے ساتھ اور کبیرہ گناہوں کو کفر کے ساتھ ملانا صحیح نہیں۔
24. اللہ کی رحمت پر بھروسہ: اللہ تعالیٰ کی رحمت وسیع ہے، وہ چاہے تو گناہگار کو بغیر عذاب کے بھی جنت میں داخل کر سکتا ہے۔
25. احتیاطی تدابیر: جہنم کے عذاب کی شدت کو مدنظر رکھتے ہوئے گناہوں سے بچنا چاہیے۔
یہ تمام نکات ان شروحات سے مستنبط ہیں اور اہل سنت والجماعت کے عقائد و افکار کو واضح کرتے ہیں۔


No comments:
Post a Comment