Thursday, 22 January 2026

کیوں شرک ناقابلِ معافی جرم اور سب سے بڑا ظلم ہے؟


اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا:

جس بندے نے کہا:

لَا إلٰهَ إلَّا اللهُ

(نہیں ہے کوئی خدا سوائے اللہ کے)، پھر اسی (گواہی/حالت) پر وہ مرا

(دوسرے موقع پر فرمایا:)

﴿جو مرا (اس حال میں کہ) اس نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرایا﴾

تو وہ داخل ہوگا جنت میں۔۔۔اگرچہ اس نے زنا کیا ہو اور چوری کی ہو۔ 

[احمد:21466، بخاری:5827﴿7487﴾، مسلم:94(273)]


...اور اگرچہ اس نے شراب پی ہو۔

[بخاری:6443، مسلم:94]




القرآن:-

بےشک اللہ نہیں بخشتا کہ (اس گناہ کو کہ کوئی کسی کو) شریک ٹھہرائے اس کا، اور بخشتا ہے جو (گناہ) اس کے سوا ہیں جس کیلئے وہ چاہے، اور جس نے (کسی کو)شریک ٹھہرایا اللہ کا...

۔۔۔پس اس نے باندھا بہتانِ عظیم۔

[سورۃ النساء:48]

...پس وہ راہ سے گم ہوا بہت دور کی گمراہی میں۔

[سورۃ النساء:116]


تم پیچھے چلو اس کے جو وحی(حکمِ الٰہی) آئی (سے پیغمبر!) تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے کہ نہیں ہے کوئی خدا سوائے اس(رب) کے، اور مشرکوں سے کنارہ کرلو۔

[سورۃ الأنعام:106]


اللہ نے مشرک پر جنت کو حرام کیا اور جھنم کو اسکا ٹھکانہ بنایا اور مدد(شفاعت) سے بھی محروم کیا

[سورة المائدة:72]


۔۔۔بےشک شرک عظیم ظلم ہے۔

[سورة لقمان:13]


...اور اگر وہ(انبیاء)بھی شرک کرتے تو یقیناً ضایع ہوجاتے جو کچھ انہوں نے عمل کیے تھے.

[سورة الأنعام:88]


اور (اگر بالفرض تم نے بھی شرک کیا تو) تو ہوجاۓ گا نقصان پانے والوں میں.

[سورة الزمر:65]


🔍 شرک کی سنگینی اور دیگر گناہوں سے فرق:

· سب سے بڑا ظلم و جرم: شرک صرف ایک گناہ نہیں، بلکہ بنیادی حق کی نفی ہے۔ یہ خالق کے ساتھ کیے گئے عہد کی سب سے بڑی خلاف ورزی ہے، اس لیے اسے "ظلم عظیم" کہا گیا ہے۔

· تعلق کی بنیاد ہی غلط: دیگر گناہ عبادت گزار بندے کی نافرمانیاں ہیں، جبکہ شرک عبادت کی بنیاد (توحید) ہی کو بگاڑ دیتا ہے۔ یہ ایسا ہے جیسے کوئی ملازم کام میں کوتاہی کرے (جس پر معافی ہو سکتی ہے) بجائے اس کے کہ وہ خود کو مالک کا شریک یا دوسرا مالک ہی بتانے لگے (جو اساس کے خلاف ہے)۔

· اللہ کا واضح اعلان: اللہ تعالیٰ نے خود واضح فرما دیا کہ وہ شرک کو ہرگز معاف نہیں کرے گا، جبکہ اس کے سوا ہر گناہ اُس کی مشیت پر منحصر ہے۔


💡 حکمتیں اور اہمیت


· توحید کی حفاظت: یہ حکم توحید کے مرکزی عقیدے کی حفاظت اور اُس کی اہمیت کو ہمیشہ زندہ رکھنے کا ذریعہ ہے۔

· انسانی فطرت کا تحفظ: انسان فطرتاً عبادت کی طرف مائل ہے۔ یہ حکم اس فطرت کو صرف ایک ہی معبود (اللہ) کی طرف مرکوز رکھنے میں مدد دیتا ہے۔

· نظامِ کائنات کا تقاضا: کائنات کا پورا نظام توحید پر قائم ہے۔ شرک اس نظام کے بنیادی اصول کے خلاف بغاوت ہے۔


🌟 امید کا پیغام اور معافی کے راستے


یہ یاد رہے کہ شرک کے علاوہ ہر گناہ کے لیے معافی کا دروازہ کھلا ہے، لیکن شرائط کے ساتھ:


· حقوق اللہ (مثلاً نماز چھوڑنا): توبہ اور قضا (چھوٹے ہوئے فرائض کی تلافی) ضروری ہے۔

· حقوق العباد (مالی، مثلاً چوری): توبہ اور حق دار کو اس کا حق واپس دینا ضروری ہے۔ اگر مالک فوت ہو چکا ہو تو وارثوں کو دینا یا صدقہ کرنا لازم ہے۔

· حقوق العباد (غیر مالی، مثلاً بدکلامی): توبہ اور معافی مانگنا ضروری ہے۔ اگر ممکن نہ ہو تو اس کے لیے دعا کرنی چاہیے۔


اہم نکتہ: شرک پر مرنے والے کی بخشش نہیں، لیکن اگر کوئی شرک کرنے کے بعد توبہ کر کے اسلام قبول کر لے، تو اللہ کی رحمت سے اُس کے تمام سابقہ گناہ معاف ہو سکتے ہیں۔ حضرت وحشی رضی اللہ عنہ کا واقعہ (جو حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کے قاتل تھے) اس کی واضح مثال ہے۔


✨ خلاصہ


شرک کی ناقابلِ معافی کا حکم درحقیقت توحید کی عظمت اور مرکزیت کو قائم رکھنے کے لیے ہے۔ یہ حکم اللہ کے عدل اور رحمت دونوں کو ظاہر کرتا ہے: عدل اس لیے کہ سب سے بڑے جرم کی سب سے بڑی سزا ہے، اور رحمت اس لیے کہ اس کے سوا ہر گناہ گزار کے لیے توبہ اور معافی کا وسیع میدان موجود ہے۔





شرک سب سے بڑا ظلم کیوں ہے؟ اسے آسان عقلی اور مثالی پہلوؤں سے سمجھیں:


1️⃣ ظلم کی تعریف میں شرک کی نوعیت


ظلم کا مطلب ہے "حق کو اس کی جگہ نہ رکھنا"۔


· ظلمِ خفیف: نیکی میں تاخیر کرنا (جیسے نماز دیر سے پڑھنا)

· ظلمِ متوسط: چوری، جھوٹ (حقوق العباد کی خلاف ورزی)

· ظلمِ عظیم: خالق کو مخلوق کی جگہ رکھ دینا - یہی شرک ہے۔


2️⃣ عقلی پہلو: منطقی بغاوت


· مثال 1: اگر کوئی شخص اپنے باپ کو ہی نہ پہچانے اور کسی اجنبی کو باپ مان لے، تو یہ صرف نافرمانی نہیں بلکہ رابطے کی بنیاد ہی غلط ہے۔ شرک اسی طرح خالق کو نہ پہچاننے کا عمل ہے۔

· مثال 2: جیسے کوئی مریض ڈاکٹر کی بجائے دیوار سے علاج مانگے، یہ صرف بیوقوفی نہیں بلکہ علاج کے نظام کی بنیاد کو ہی مسترد کرنا ہے۔


3️⃣ عملی مثالوں سے سمجھیں


مثال: بادشاہ کا قاصد


ایک بادشاہ نے آپ کو قلعہ دیا، روزی دی، محافظ دیے۔ پھر اپنا خاص قاصد بھیجا جو آپ سے کہتا ہے: "بادشاہ تم سے محبت کرتا ہے، بس اس ایک بات پر عمل کرو: میری طرف سے ہر پیغام مانو۔"


· آپ نے قاصد کو ہی بادشاہ مان لیا، یا

· نوکروں کو بادشاہ کا شریک ٹھہرایا

  یہ صرف نافرمانی نہیں، بلکہ بادشاہ کی ذات اور حکمرانی کا انکار ہے۔


مثال: زندگی کی ٹرین


زندگی ایک ٹرین ہے جس کے:


· مالک/چالک: اللہ

· راستہ/منزل: دنیا سے آخرت

· ٹکٹ/ہدایت: قرآن و سنت


شرک ایسے ہے جیسے:


1. مالک کو ہی انکار کردیا

2. کسی مسافر کو ڈرائیور بنا لیا

3. اپنی مرضی کا راستہ بنا لیا

   نتیجہ: ٹرین پٹری سے اتر جائے گی - یہ صرف غلطی نہیں، بلکہ سفر کا نظام تباہ کرنا ہے۔


4️⃣ شرک کا "تین طرفہ" ظلم


1. اللہ پر ظلم:

   · اس کی خالقیت، رزاقیت، حاکمیت میں دوسروں کو شریک ٹھہرانا

   · جیسے کسی مصنف کی کتاب پر دوسرے کا نام لگا دینا

2. مخلوق پر ظلم:

   · بتوں، ستاروں، بزرگوں کو وہ مقام دینا جو ان کی استطاعت سے باہر ہے

   · جیسے کسی غلام کو بادشاہ بنا کر اس پر بھی بوجھ ڈالنا

3. اپنی ذات پر ظلم:

   · اپنی عقل، فطرت اور روح کو جھوٹے معبودوں کے آگے جھکا کر اپنی عزت گنوا دینا

   · مخلوق کی غلامی اختیار کر کے خالق کی غلامی چھوڑ دینا


5️⃣ فطری پہلو: انسان کی پیدائشی سمجھ


ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے (حدیث: "ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے...")


· فطرت کا تقاضا: خالق واحد کی پہچان

· شرک: اس فطری رشتے کو توڑ کر مصنوعی رشتے بنانا

· جیسے: تازہ پانی میں زہر ملانا - پانی کی اصل کو ہی بگاڑ دینا


6️⃣ نتیجہ کی سطح پر فرق


  • گناہ نافرمانی ہے، لیکن شرک بغاوت ہے۔
  • گناہ نظام میں خرابی ہے، شرک نظام ہی غلط ہے۔
  • گناہ تعلقات میں کشیدگی، شرک تعلق ہی ختم
  • گناہ جزوی نقصان ہے، شرک مکمل تباہی ہے۔


7️⃣ آخری بات: شرک کیوں ناقابلِ معافی؟


· معافی کا فلسفہ: معافی تعلق کی بنیاد پر ملتی ہے

· شرک: تعلق کی بنیاد ہی ختم کر دیتا ہے

· جیسے: درخت کی جڑ کاٹ دی، پھر شاخیں سینچنے کا فائدہ؟ 💧


خلاصہ: شرک محض "گناہ" نہیں، بلکہ حقیقت کو الٹ دینے کا عمل ہے۔ یہ ایسے ہے جیسے کوئی پوری کتاب کو ہی غلط پڑھ لے، صرف اغلاط درست نہ ہوں۔






قرآنِ کریم نے شرک کو "ظلم عظیم" قرار دیا ہے اور اس کی سنگینی کو متعدد آیات میں واضح کیا ہے۔ درج ذیل آیات اس بارے میں واضح دلائل ہیں:


📖 1. شرک کو "ظلم عظیم" قرار دینا


وَإِذْ قَالَ لُقْمَانُ لِابْنِهِ وَهُوَ يَعِظُهُ يَا بُنَيَّ لَا تُشْرِكْ بِاللَّهِ ۖ إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ

"اور (یاد کرو) جب لقمان نے اپنے بیٹے سے نصیحت کرتے ہوئے کہا: اے بیٹے! اللہ کے ساتھ شرک نہ کر، بیشک شرک بہت بڑا ظلم ہے۔"


📖 2. شرک ہی ناقابلِ معافی گناہ ہے


إِنَّ اللَّهَ لَا يَغْفِرُ أَن يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَٰلِكَ لِمَن يَشَاءُ

"بیشک اللہ اس بات کو نہیں بخشتا کہ اس کے ساتھ شرک کیا جائے، اور اس کے سوا دوسرے گناہوں کو جس کے لیے چاہے بخش دیتا ہے۔"


ایک دوسری آیت میں بھی یہی بات دہرائی گئی ہے:


إِنَّ اللَّهَ لَا يَغْفِرُ أَن يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَٰلِكَ لِمَن يَشَاءُ

"بیشک اللہ اس بات کو نہیں بخشتا کہ اس کے ساتھ شرک کیا جائے، اور اس کے سوا دوسرے گناہوں کو جس کے لیے چاہے بخش دیتا ہے۔"


📖 3. شرک کرنے والے پر جنت حرام ہے


إِنَّهُ مَن يُشْرِكْ بِاللَّهِ فَقَدْ حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ وَمَأْوَاهُ النَّارُ

"بیشک جو شخص اللہ کے ساتھ شرک کرے، اللہ نے اس پر جنت حرام کر دی ہے اور اس کا ٹھکانا دوزخ ہے۔"


📖 4. شرک تمام نیک اعمال کو ضائع کر دیتا ہے


وَلَقَدْ أُوحِيَ إِلَيْكَ وَإِلَى الَّذِينَ مِن قَبْلِكَ لَئِنْ أَشْرَكْتَ لَيَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ

"اور (اے پیغمبر) تمہاری طرف اور تم سے پہلے کے رسولوں کی طرف یہ وحی کی گئی ہے کہ اگر تم شرک کرو گے تو تمہارا سارا عمل ضائع ہو جائے گا۔"


📖 5. شرک: اللہ کے سوا دوسروں کو اُسی کی مانند محبت دینا


وَمِنَ النَّاسِ مَن يَتَّخِذُ مِن دُونِ اللَّهِ أَندَادًا يُحِبُّونَهُمْ كَحُبِّ اللَّهِ

"اور بعض لوگ ایسے ہیں جو اللہ کے سوا دوسروں کو (اس کا) ہمسر بناتے ہیں، ان سے اللہ جیسی محبت کرتے ہیں۔"


📖 6. شرک سے بچنے کا حکم اور اس کی خطرناک مثال


حُنَفَاءَ لِلَّهِ غَيْرَ مُشْرِكِينَ بِهِ ۚ وَمَن يُشْرِكْ بِاللَّهِ فَكَأَنَّمَا خَرَّ مِنَ السَّمَاءِ فَتَخْطَفُهُ الطَّيْرُ أَوْ تَهْوِي بِهِ الرِّيحُ فِي مَكَانٍ سَحِيقٍ

"اللہ کے لیے یکسو ہو کر (اس کی عبادت کرو) اس کے ساتھ شرک نہ کرو۔ اور جو شخص اللہ کے ساتھ شرک کرے، گویا وہ آسمان سے گر پڑا، پھر اسے پرندے اُچک لے گئے یا ہوا کسی دور دراز جگہ لے گئی۔"


📖 7. شرک دور کی گمراہی ہے


وَمَن يُشْرِكْ بِاللَّهِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلَالًا بَعِيدًا

"اور جو شخص اللہ کے ساتھ شرک کرے، وہ یقیناً بہت دور کی گمراہی میں بھٹک گیا۔"


📖 8. عمل کی قبولیت کی شرط: شرک سے پاک ہونا


فَمَن كَانَ يَرْجُو لِقَاءَ رَبِّهِ فَلْيَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا وَلَا يُشْرِكْ بِعِبَادَةِ رَبِّهِ أَحَدًا

"پس جو شخص اپنے رب کی ملاقات کی امید رکھتا ہو، اسے چاہیے کہ نیک عمل کرے اور اپنے رب کی عبادت میں کسی کو شریک نہ ٹھہرائے۔"


خلاصہ


قرآنِ کریم کے ان واضح بیانات سے معلوم ہوتا ہے کہ:


1. شرک کو "ظلم عظیم" قرار دیا گیا ہے، کیونکہ یہ خالق کے بنیادی حق (توحید) کی نفی ہے۔

2. شرک واحد گناہ ہے جو اللہ کے ہاں ناقابلِ معافی ہے، جبکہ اس کے سوا دیگر گناہوں کی معافی ممکن ہے۔

3. شرک کرنے والے پر جنت حرام ہو جاتی ہے اور اس کا انجام دوزخ ہے۔

4. شرک ساری نیکیوں کو ضائع کر دیتا ہے، چاہے عمل کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو۔

5. شرک کی صورت میں محبت و عبادت کا رخ اللہ کے بجائے مخلوق کی طرف پھر جاتا ہے، جو فطری رشتے کی خرابی ہے۔

6. شرک سے بچنے کا حکم ہے اور اسے آسمان سے گرنے اور پرندوں کے پھاڑ کھانے جیسے خطرناک عمل سے تشبیہ دی گئی ہے۔


یہ آیات مل کر اس حقیقت کو واضح کرتی ہیں کہ شرک محض ایک "گناہ" نہیں، بلکہ پورے دینی نظام کی بنیاد (توحید) کے خلاف بغاوت ہے۔ اسی لیے اسے سب سے بڑا ظلم قرار دیا گیا ہے۔



شروعاتی حدیث کی شروحات:


1. شرح البخاری:

امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ: هَذَا عِنْدَ المَوْتِ، أَوْ قَبْلَهُ إِذَا تَابَ وَنَدِمَ، وَقَالَ: لاَ إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، غُفِرَ لَهُ

ترجمہ:

یہ (مرتد کی توبہ کا ذکر) موت کے وقت یا اس سے پہلے ہے، جب وہ توبہ کرے اور نادم ہو اور کہے: لا إله إلا الله، تو اسے بخش دیا جائے گا۔

[صحیح بخاری:5827، بَابُ الثِّيَابِ البِيضِ]





2. شرح ابن حبان:

امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

ذِكْرُ خَبَرٍ ثَانٍ أَوْهَمَ مَنْ لَمْ يُحْكِمْ صِنَاعَةَ الْحَدِيثِ أَنَّ الْإِيمَانَ بِكَمَالِهِ هُوَ الْإِقْرَارُ بِاللِّسَانِ دُونَ أَنْ يَقْرِنَهُ الْأَعْمَالُ بِالْأَعْضَاءِ۔

ترجمہ:

دوسری خبر کا ذکر جس نے حدیث کی صنعت کو نہ سمجھنے والوں کو یہ غلط فہمی دی کہ ایمان کی تکمیل صرف زبان سے اقرار ہے بغیر اس کے کہ اعضاء کے ساتھ اعمال بھی شامل ہوں۔

[صحیح ابن حبان:169]





3. شرح للنووی:

امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

أَنَّ هَذَا كَانَ قَبْلَ نُزُولِ الْفَرَائِضِ وَالْأَمْرِ وَالنَّهْيِ وَقَالَ بَعْضُهُمْ هِيَ مُجْمَلَةٌ تَحْتَاجُ إِلَى شَرْحٍ وَمَعْنَاهُ مَنْ قَالَ الْكَلِمَةَ وَأَدَّى حَقَّهَا وَفَرِيضَتَهَا وَهَذَا قَوْلُ الْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ وَقِيلَ إِنَّ ذَلِكَ لِمَنْ قَالَهَا عِنْدَ النَّدَمِ وَالتَّوْبَةِ وَمَاتَ عَلَى ذَلِكَ وَهَذَا قَوْلُ الْبُخَارِيِّ وَهَذِهِ التأويلات إِنَّمَا هِيَ إِذَا حُمِلَتِ الْأَحَادِيثُ عَلَى ظَاهِرِهَا وَأَمَّا إِذَا نَزَلَتْ مَنَازِلَهَا فَلَا يُشْكِلُ تَأْوِيلُهَا عَلَى مَا بَيَّنَهُ الْمُحَقِّقُونَ فَنُقَرِّرَ أولا أَنَّ مَذْهَبَ أَهْلِ السُّنَّةِ بِأَجْمَعِهِمْ مِنَ السَّلَفِ الصَّالِحِ وَأَهْلِ الْحَدِيثِ وَالْفُقَهَاءِ وَالْمُتَكَلِّمِينَ عَلَى مَذْهَبِهِمْ مِنَ الْأَشْعَرِيِّينَ أَنَّ أَهْلَ الذُّنُوبِ فِي مَشِيئَةِ الله تَعَالَى وَأَنَّ كُلَّ مَنْ مَاتَ عَلَى الْإِيمَانِ وَتَشَهَّدَ مُخْلِصًا مِنْ قَلْبِهِ بِالشَّهَادَتَيْنِ فَإِنَّهُ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ فَإِنْ كَانَ تَائِبًا أَوْ سَلِيمًا مِنَ الْمَعَاصِي دَخَلَ الْجَنَّةَ بِرَحْمَةِ رَبِّهِ وَحَرُمَ عَلَى النَّارِ بِالْجُمْلَةِ فَإِنْ حَمَلْنَا اللَّفْظَيْنِ الْوَارِدَيْنِ عَلَى هَذَا فِيمَنْ هَذِهِ صِفَتُهُ كَانَ بَيِّنًا وَهَذَا مَعْنًى تَأْوِيلَيِ الْحَسَنِ وَالْبُخَارِيِّ وإن كَانَ هَذَا مِنَ الْمُخَلِّطِينَ بِتَضْيِيعِ مَا أَوْجَبَ اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهِ أَوْ بِفِعْلِ مَا حُرِّمَ عَلَيْهِ فَهُوَ فِي الْمَشِيئَةِ لا يُقْطَعُ فِي أَمْرِهِ بِتَحْرِيمِهِ عَلَى النَّارِ ولا بِاسْتِحْقَاقِهِ الْجَنَّةَ لِأَوَّلِ وَهْلَةٍ بَلْ يُقْطَعُ بِأَنَّهُ لابد مِنْ دُخُولِهِ الْجَنَّةَ آخِرًا وَحَالُهُ قَبْلَ ذَلِكَ فِي خَطَرِ الْمُشِيئَةِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى عَذَّبَهُ بِذَنْبِهِ وَإِنْ شَاءَ عَفَا عَنْهُ بِفَضْلِهِ وَيُمْكِنُ أَنْ تَسْتَقِلَّ الْأَحَادِيثُ بِنَفْسِهَا وَيُجْمَعُ بَيْنَهَا فَيَكُونُ الْمُرَادُ بِاسْتِحْقَاقِ الْجَنَّةِ مَا قَدَّمْنَاهُ مِنْ إِجْمَاعِ أَهْلِ السُّنَّةِ أَنَّهُ لَا بُدَّ مِنْ دُخُولِهَا لِكُلِّ مُوَحِّدٍ إِمَّا معجلا مُعَافًى وَإِمَّا مؤخرا بعد عقابه وَالْمُرَادُ بِتَحْرِيمِ النَّارِ تَحْرِيمُ الْخُلُودِ خلافا لِلْخَوَارِجِ والمعتزلة فى المسئلتين وَيَجُوزُ فِي حَدِيثِ مَنْ كَانَ آخِرُ كلامه لَا إله إلا اللَّهُ دَخَلَ الْجَنَّةَ أَنْ يَكُونَ خُصُوصًا لِمَنْ كَانَ هَذَا آخِرَ نُطْقِهِ وَخَاتِمَةَ لَفْظِهِ وَإِنْ كَانَ قَبْلُ مُخَلِّطًا فَيَكُونُ سَبَبًا لِرَحْمَةِ اللَّهِ تَعَالَى إِيَّاهُ وَنَجَاتِهِ رَأْسًا مِنَ النَّارِ وَتَحْرِيمِهِ عَلَيْهَا بخلاف مَنْ لَمْ يَكُنْ ذَلِكَ آخِرَ كَلَامِهِ مِنَ الْمُوَحِّدِينَ الْمُخَلِّطِينَ وَكَذَلِكَ مَا وَرَدَ فِي حَدِيثِ عُبَادَةَ مِنْ مِثْلِ هَذَا وَدُخُولُهُ مِنْ أَيِّ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ شَاءَ يَكُونُ خُصُوصًا لِمَنْ قَالَ مَا ذَكَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَرَنَ بِالشَّهَادَتَيْنِ حَقِيقَةَ الْإِيمَانِ وَالتَّوْحِيدِ الَّذِي وَرَدَ فِي حَدِيثِهِ فَيَكُونُ لَهُ مِنَ الْأَجْرِ مَا يَرْجَحُ عَلَى سَيِّئَاتِهِ وَيُوجِبُ لَهُ الْمَغْفِرَةَ وَالرَّحْمَةَ وَدُخُولَ الْجَنَّةِ لِأَوَّلِ وَهْلَةٍ إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى والله أَعْلَمُ هَذَا آخِرُ كلام الْقَاضِي عِيَاضٍ رَحِمَهُ اللَّهُ وَهُوَ فِي نِهَايَةِ الْحُسْنِ وَأَمَّا مَا حكاه عن بن الْمُسَيَّبِ وَغَيْرِهِ فَضَعِيفٌ بَاطِلٌ وَذَلِكَ لِأَنَّ رَاوِيَ أَحَدِ هَذِهِ الْأَحَادِيثِ أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَهُوَ مُتَأَخِّرُ الإسلام أَسْلَمَ عَامَ خَيْبَرَ سَنَةَ سَبْعٍ بالاتفاق وَكَانَتْ أَحْكَامُ الشَّرِيعَةِ مُسْتَقِرَّةً وَأَكْثَرُ هَذِهِ الْوَاجِبَاتِ كَانَتْ فُرُوضُهَا مُسْتَقِرَّةً وَكَانَتِ الصلاة وَالصِّيَامُ وَالزَّكَاةُ وَغَيْرُهَا مِنَ الْأَحْكَامِ قَدْ تَقَرَّرَ فَرْضُهَا وَكَذَا الْحَجُّ عَلَى قَوْلِ مَنْ قَالَ فُرِضَ سَنَةَ خَمْسٍ أَوْ سِتٍّ وَهُمَا أَرْجَحُ مِنْ قَوْلِ مَنْ قَالَ سَنَةَ تِسْعٍ وَاللَّهُ أَعْلَمُ وَذَكَرَ الشَّيْخُ أَبُو عَمْرِو بْنُ الصلاح رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى تأويلا آخَرَ فِي الظَّوَاهِرِ الْوَارِدَةِ بِدُخُولِ الْجَنَّةِ بِمُجَرَّدِ الشَّهَادَةِ فَقَالَ يَجُوزُ أَنْ يَكُونَ ذَلِكَ اقْتِصَارًا مِنْ بَعْضِ الرُّوَاةِ نَشَأَ مِنْ تَقْصِيرِهِ فِي الْحِفْظِ وَالضَّبْطِ لا مِنْ رَسُولِ الله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بدلالة مَجِيئِهِ تَامًّا فِي رِوَايَةِ غَيْرِهِ وَقَدْ تَقَدَّمَ نَحْوُ هَذَا التَّأْوِيلِ قَالَ وَيَجُوزُ أَنْ يَكُونَ اخْتِصَارًا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا خَاطَبَ بِهِ الْكُفَّارَ عَبَدَةَ الْأَوْثَانِ الَّذِينَ كَانَ تَوْحِيدُهُمْ لِلَّهِ تَعَالَى مَصْحُوبًا بِسَائِرِ مَا يَتَوَقَّفُ عَلَيْهِ الإسلام وَمُسْتَلْزِمًا لَهُ وَالْكَافِرُ إِذَا كَانَ لَا يُقِرُّ بِالْوَحْدَانِيَّةِ كَالْوَثَنِيِّ وَالثَّنَوِيِّ فَقَالَ لَا إله إلا اللَّهُ وَحَالُهُ الْحَالُ الَّتِي حَكَيْنَاهَا حُكِمَ بإسلامه ولا نَقُولُ وَالْحَالَةُ هَذِهِ مَا قَالَهُ بَعْضُ أَصْحَابِنَا مِنْ أَنَّ مَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ يُحْكَمُ بِإِسْلَامِهِ ثُمَّ يُجْبَرُ عَلَى قَبُولِ سَائِرِ الْأَحْكَامِ فَإِنَّ حَاصِلَهُ رَاجِعٌ إِلَى أَنَّهُ يُجْبَرُ حِينَئِذٍ عَلَى إِتْمَامِ الْإِسْلَامِ وَيُجْعَلُ حُكْمُهُ حُكْمَ الْمُرْتَدِّ إِنْ لَمْ يَفْعَلْ مِنْ غَيْرِ أَنْ يُحْكَمَ بِإِسْلَامِهِ بِذَلِكَ فِي نَفْسِ الْأَمْرِ وَفِي أَحْكَامِ الْآخِرَةِ وَمَنْ وَصَفْنَاهُ مُسْلِم فِي نَفْسِ الْأَمْرِ وَفِي أَحْكَامِ الْآخِرَةِ والله أَعْلَمُ قَوْلُهُ

ترجمہ:

یہ حدیث فرائض اور امر و نہی کے نزول سے پہلے کی ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ یہ مجمل ہے جس کی شرح کی ضرورت ہے، اور اس کا معنی یہ ہے کہ جس نے کلمہ کہا اور اس کے حقوق و فرائض ادا کیے۔ یہ حسن بصری کا قول ہے۔ اور کہا گیا ہے کہ یہ اس شخص کے لیے ہے جو ندامت و توبہ کے وقت یہ کلمہ کہے اور اسی پر مر جائے۔ یہ امام بخاری کا قول ہے۔ یہ تاویلات اس صورت میں ہیں جب احادیث کو ظاہر پر محمول کیا جائے، لیکن اگر ان کو ان کے مناسب مقام پر رکھا جائے تو ان کی تاویل میں کوئی اشکال نہیں، جیسا کہ محققین نے بیان کیا ہے۔ پہلے ہم اس بات کو مقرر کرتے ہیں کہ اہل سنت کا تمام سلف صالحین، اہل حدیث، فقہاء اور متکلمین میں سے اشعری مسلک کے مطابق یہی مذہب ہے کہ گنہگار اللہ تعالیٰ کی مشیت پر ہیں، اور جو شخص ایمان پر مرے اور خلوص دل سے شہادتین کا اقرار کرے، وہ جنت میں داخل ہوگا۔ اگر وہ تائب ہو یا معصیت سے پاک ہو تو اپنے رب کی رحمت سے جنت میں داخل ہوگا اور جہنم پر حرام ہو جائے گا۔ اگر ہم وارد ہونے والے الفاظ کو اس شخص پر محمول کریں جس کی یہ صفت ہے تو بات واضح ہو جاتی ہے، اور یہی حسن بصری اور امام بخاری کی تاویل کا معنی ہے۔ اور اگر یہ شخص ان گناہگاروں میں سے ہے جو اللہ کے واجبات کو ضائع کرتے ہیں یا حرام کام کرتے ہیں، تو وہ مشیت الٰہی پر ہے، اس کے بارے میں قطعی طور پر نہیں کہا جا سکتا کہ وہ جہنم پر حرام ہے یا فوراً جنت کا مستحق ہے، بلکہ یہ قطعی ہے کہ آخر کار وہ جنت میں داخل ہوگا۔ اس سے پہلے اس کا حال مشیت الٰہی کے خطرے میں ہے، اگر اللہ چاہے تو اسے اس کے گناہ کی سزا دے، اور اگر چاہے تو اپنے فضل سے معاف کر دے۔ اور ممکن ہے کہ احادیث کو خود ان کے ساتھ جمع کیا جائے، تو مراد جنت کا مستحق ہونا وہ ہے جو ہم نے پہلے اہل سنت کے اجماع سے بیان کیا کہ ہر موحد کا جنت میں داخل ہونا ضروری ہے، خواہ فوراً معافی کے ساتھ یا عذاب کے بعد۔ اور تحریم النار سے مراد جہنم میں ہمیشہ رہنا حرام ہے، خوارج اور معتزلہ کے خلاف جو دونوں مسائل میں مخالف ہیں۔ اور حدیث "من كان آخر كلامه لا إله إلا الله دخل الجنة" میں ممکن ہے کہ یہ خاص اس شخص کے لیے ہو جس کا آخری نطق یہی ہو، خواہ وہ پہلے گناہگار رہا ہو، تو یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت اور نجات کا سبب بن جاتا ہے۔ اسی طرح حدیث عبادہ میں جو ذکر ہے کہ وہ جنت کے جس دروازے سے چاہے داخل ہو، یہ خاص اس شخص کے لیے ہے جس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کیا اور شہادتین کے ساتھ ایمان اور توحید کی حقیقت کو جوڑا، تو اس کے لیے اتنا ثواب ہوگا کہ اس کی برائیاں مٹ جائیں گی اور اس کے لیے مغفرت اور رحمت اور فوراً جنت میں داخلہ ہو گا، اگر اللہ چاہے۔ واللہ اعلم۔ یہ قاضی عیاض رحمہ اللہ کا آخری کلام ہے اور یہ انتہائی خوبصورت ہے۔ اور جو کچھ انہوں نے ابن المسیب وغیرہ سے نقل کیا ہے وہ ضعیف اور باطل ہے، کیونکہ ان احادیث میں سے ایک کے راوی ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ہیں جو متاخر الاسلام ہیں، انہوں نے سال سات ہجری میں اسلام قبول کیا، اور اس وقت شرعی احکام مستقر ہو چکے تھے، اور بیشتر واجبات کے فرض ہونے کا استقرار ہو چکا تھا، نماز، روزہ، زکوٰۃ وغیرہ کے احکام مقرر ہو چکے تھے، اسی طرح حج بھی، ان کے قول کے مطابق جو سال پانچ یا چھ ہجری میں فرض ہوا، اور یہ قول سال نو ہجری کے قول سے راجح ہے۔ واللہ اعلم۔ اور شیخ ابو عمرو بن الصلاح رحمہ اللہ نے ظاہری احادیث جو صرف شہادت پر جنت میں داخلہ بتاتی ہیں، کے بارے میں ایک اور تاویل بیان کی ہے، کہا: ممکن ہے کہ یہ بعض راویوں کی اختصار ہو جو حفظ و ضبط میں تقصیر کی وجہ سے ہو، نہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے، کیونکہ دوسری روایت میں یہ کامل حالت میں آئی ہے۔ اور پہلے بھی ایسی تاویل گزر چکی ہے۔ اور کہا: ممکن ہے کہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے مختصر ہو، جو آپ نے ان کافروں سے خطاب میں فرمایا جو بت پرست تھے، جن کا توحید پر اقرار دیگر اسلام کے ضروری امور کے ساتھ ہوتا تھا۔ اور کافر جب توحید کا اقرار نہیں کرتا، جیسے وثنی اور ثنوی، پھر وہ لا إله إلا الله کہے اور اس کی حالت وہ ہو جو ہم نے بیان کی، تو اس کے اسلام کا حکم لگایا جاتا ہے۔ اور ہم یہ نہیں کہتے، جیسا کہ ہمارے بعض اصحاب کہتے ہیں، کہ جو لا إله إلا الله کہے اس کے اسلام کا حکم لگایا جاتا ہے پھر اسے دیگر احکام قبول کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے، کیونکہ اس کا حاصل یہ ہے کہ اسے اسلام کو مکمل کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے اور اگر نہ کرے تو مرتد کا حکم ہوتا ہے، لیکن خود اس کے اسلام کا حکم نہیں لگایا جاتا۔ اور جو شخص ہم نے بیان کیا، وہ نفس الامر اور آخرت کے احکام میں مسلم ہے۔ واللہ اعلم۔

[شرح مسلم للنووی:ج1 / ص119، باب الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ مَنْ مَاتَ عَلَى التَّوْحِيدِ]





4. شرح للبیھقی:

امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

وَلَهُ شَوَاهِدُ عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، وَعَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، وَعُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، وَجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ وَغَيْرِهِمْ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. " وَلَيْسَ بَيْنَ هَذِهِ الْأَحَادِيثِ، وَبَيْنَ حَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَأَبِي سَعِيدٍ مُنَافَاةٌ، وَقَدْ يَكُونُ دُخُولُهُ الْجَنَّةَ بَعْدَ الاقتصاص، والاقتصاص قَدْ يَكُونُ بِالتَّعْذِيبِ عَلَى مَا طُرِحَ عَلَيْهِ مِنَ سَيِّئَاتِ خَصْمِهِ وَحَبِطَ مِنْ أَجْرِ حَسَنَاتِهِ فَيَبْقَى مُرْتَهِنًا بِسَيِّئَاتِهِ، وَسَيِّئَاتِ خَصْمِهِ، وَقَدْ يُثِيبُ اللهُ تَعَالَى الْمَظْلُومَ وَيَعْفُو عَنِ الظَّالِمِ إِنْ صَحَّ الْخَبَرُ الْوَارِدُ بِهِ، أَمَّا التَّعْزِيرُ بِالنَّفْسِ فَمَا لَا يَرْضَاهُ عَاقِلٌ، وَمَنْ لَا يَصْبِرُ عَلَى وَجَعِ سِنٍّ، وَحُمَّى يَوْمٍ فَحَقِيقٌ أَنْ يَحْتَرِزَ مِنْ أَمْرٍ يُعَرِّضُهُ لِعَذَابٍ وَجِيعٍ وِعِقَابٍ أَلِيمٍ لَا يَعْلَمُ شِدَّتَهُ ولا نِهَايَتَهُ إِلَّا اللهُ عَزَّ وَجَلَّ، وَقَدْ جَاءَ فِي حَدِيثِ أَبِي ظلال، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ عَبْدًا فِي جَهَنَّمَ يُنَادِي أَلْفَ سَنَةٍ يَا حَنَّانُ يَا مَنَّانُ حَتَّى يَأْمُرَ بِهِ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السلام فَيُخْرِجَهُ مِنْهَا نَعُوذُ بالله مِنْ عَذَابِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ "

ترجمہ:

اس حدیث کے شواہد ابو الدرداء، عثمان بن عفان، عبداللہ بن مسعود، عبادہ بن الصامت، جابر بن عبداللہ اور دیگر سے بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہیں۔ اور ان احادیث اور ابو ہریرہ و ابو سعید کی حدیث کے درمیان کوئی منافات نہیں۔ ہو سکتا ہے کہ جنت میں داخلہ حساب کتاب کے بعد ہو، اور حساب کتاب عذاب کے ساتھ ہو سکتا ہے جس میں اس کے گناہوں کا بدلہ دیا جائے گا اور اس کی نیکیوں کے ثواب میں سے کچھ ضائع ہو جائے گا، تو وہ اپنے گناہوں اور اپنے حریف کے گناہوں میں مرہون رہے گا۔ اور اللہ تعالیٰ مظلوم کو ثواب دے سکتا ہے اور ظالم کو معاف کر سکتا ہے، اگر اس بارے میں وارد خبر صحیح ہو۔ رہا نفس کی تعزیر، تو کوئی عاقل اسے پسند نہیں کرتا۔ اور جو شخص دانت کے درد اور ایک دن کے بخار پر صبر نہیں کر سکتا، اسے اس امر سے احتیاط کرنی چاہیے جو اسے دردناک عذاب اور شدید سزا میں ڈال دے، جس کی شدت اور انتہا کو صرف اللہ عز وجل ہی جانتا ہے۔ اور حدیث ابو ظلال میں ہے، جو انس بن مالک سے مروی ہے، کہ جہنم میں ایک بندہ ہزار سال تک پکارتا رہے گا: یا حنان یا منان، یہاں تک کہ جبریل علیہ السلام کو حکم دیا جائے گا اور وہ اسے جہنم سے نکال لیں گے۔ ہم اللہ کے عذاب سے پناہ مانگتے ہیں۔

[شعب الایمان-للبیھقی:341]




5. شرح ابن حجر:

قَالَ الزَّيْن بْن الْمُنِير: حَدِيث أَبِي ذَرّ مِنْ أَحَادِيث الرَّجَاء الَّتِي أَفْضَى الِاتِّكَال عَلَيْهَا بِبَعْضِ الْجَهَلَة إِلَى الْإِقْدَام عَلَى الْمُوبِقَات، وَلَيْسَ هُوَ عَلَى ظَاهِره , فَإِنَّ الْقَوَاعِد اِسْتَقَرَّتْ عَلَى أَنَّ حُقُوق الْآدَمِيِّينَ لَا تَسْقُط بِمُجَرَّدِ الْمَوْت عَلَى الْإِيمَان، وَلَكِنْ لَا يَلْزَم مِنْ عَدَم سُقُوطهَا أَنْ لَا يَتَكَفَّل اللَّه بِهَا عَمَّنْ يُرِيد أَنْ يُدْخِلهُ الْجَنَّة، وَمِنْ ثَمَّ رَدَّ - صلى الله عليه وسلم - عَلَى أَبِي ذَرّ اِسْتِبْعَاده , وَيَحْتَمِل أَنْ يَكُون الْمُرَاد بِقَوْلِهِ " دَخَلَ الْجَنَّة " أَيْ: صَارَ إِلَيْهَا إِمَّا اِبْتِدَاء مِنْ أَوَّل الْحَال , وَإِمَّا بَعْد أَنْ يَقَع مَا يَقَع مِنْ الْعَذَاب، نَسْأَل اللَّه الْعَفْو وَالْعَافِيَة , وَفِي هَذَا الْحَدِيث " مَنْ قَالَ لَا إِلَه إِلَّا اللَّه نَفَعَتْهُ يَوْمًا مِنْ الدَّهْر، أَصَابَهُ قَبْل ذَلِكَ مَا أَصَابَهُ " , وَفِي الْحَدِيث أَنَّ أَصْحَاب الْكَبَائِر لَا يُخَلَّدُونَ فِي النَّار، وَأَنَّ الْكَبَائِر لَا تَسْلُب اِسْم الْإِيمَان، وَأَنَّ غَيْر الْمُوَحِّدِينَ لَا يَدْخُلُونَ الْجَنَّة , وَالْحِكْمَة فِي الِاقْتِصَار عَلَى الزِّنَا وَالسَّرِقَة الْإِشَارَة إِلَى جِنْس حَقّ اللَّه تَعَالَى وَحَقّ الْعِبَاد، وَكَأَنَّ أَبَا ذَرّ اِسْتَحْضَرَ قَوْله - صلى الله عليه وسلم - " لَا يَزْنِي الزَّانِي حِين يَزْنِي وَهُوَ مُؤْمِن " لِأَنَّ ظَاهِره مُعَارِض لِظَاهِرِ هَذَا الْخَبَر، لَكِنَّ الْجَمْع بَيْنهمَا عَلَى قَوَاعِد أَهْل السُّنَّة بِحَمْلِ هَذَا عَلَى الْإِيمَان الْكَامِل , وَبِحَمْلِ حَدِيث الْبَاب عَلَى عَدَم التَّخْلِيد فِي النَّار. (فتح الباري لابن حجر - ج 4 / ص 261)

ترجمہ:

زین بن المنیر کہتے ہیں: ابو ذر کی حدیث رجاء (امید) کی احادیث میں سے ہے جس پر بعض جاہل اعتماد کر کے ہلاکت والے کاموں پر جرأت کرتے ہیں، حالانکہ یہ حدیث ظاہر پر نہیں ہے۔ کیونکہ قواعد یہ مستقر ہیں کہ آدمیوں کے حقوق صرف ایمان پر مرنے سے ساقط نہیں ہوتے۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ اللہ تعالیٰ ان حقوق کو ادا نہیں کر سکتا جسے وہ جنت میں داخل کرنا چاہے۔ اسی لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو ذر کے استبعاد کو رد کیا۔ اور ممکن ہے کہ قول "دخل الجنة" کا مطلب یہ ہو کہ وہ جنت میں داخل ہوگا، خواہ فوراً یا عذاب کے بعد۔ ہم اللہ سے عفو و عافیت مانگتے ہیں۔ اور اس حدیث میں ہے: "جس نے لا إله إلا الله کہا، تو یہ اسے زندگی کے کسی دن فائدہ دے گی، خواہ اس سے پہلے اس پر جو کچھ بھی گزرے۔" اور حدیث میں یہ بھی ہے کہ کبیرہ گناہوں والے جہنم میں ہمیشہ نہیں رہیں گے، اور کبیرہ گناہ ایمان کے نام کو سلب نہیں کرتے، اور غیر موحدین جنت میں داخل نہیں ہوں گے۔ اور زنا اور چوری کے ذکر میں حکمت یہ ہے کہ حق اللہ اور حق العباد کی طرف اشارہ ہے۔ گویا ابو ذر رضی اللہ عنہ کے ذہن میں وہ حدیث تھی: "لا يزني الزاني حين يزني وهو مؤمن" کیونکہ اس کا ظاہر اس خبر کے ظاہر کے معارض(خلاف) ہے، لیکن اہل سنت کے قواعد کے مطابق ان کے درمیان جمع یوں کیا جاتا ہے کہ اس حدیث کو کامل ایمان پر محمول کیا جائے، اور باب کی حدیث کو جہنم میں ہمیشگی نہ ہونے پر محمول کیا جائے۔(فتح الباري لابن حجر - ج 4 / ص 261)

[الجامع الصحیح للسنن والمسانید: ج1 / ص73]






6. شرح للمناوی:

علامہ مناوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: 

· پہلا اقتباس:

وَاقْتصر من الْكَبَائِر على ذَيْنك لأنّ الْحق إمّا لله أَو للْعَبد فَأَشَارَ بِالزِّنَا للأوّل وبالسرقة للثَّانِي والبشارة لُغَة اسْم لخَبر يُغير بشرة الْوَجْه مُطلقًا سارا أَو محزنا لَكِن غلب اسْتِعْمَاله فِي الأوّل وَصَارَ اللَّفْظ حَقِيقَة لَهُ بِحكم الْعرف حَتَّى لَا يفهم مِنْهُ غَيره وَاعْتبر فِيهِ الصدْق فَالْمَعْنى الْعرفِيّ للبشارة وَالْخَبَر الصدْق السارّ الَّذِي لَيْسَ عِنْد الْمخبر بِهِ علمه۔۔۔۔

وَإِن ارْتكب كل كَبِيرَة فَلَا بدّ من دُخُوله إِيَّاهَا إمّا ابْتِدَاء إِن عُفيَ عَنهُ أَو بعد دُخُوله النَّار حَسْبَمَا نطقت بِهِ الْأَخْبَار۔

ترجمہ:

اور کبیرہ گناہوں میں سے صرف ان دو (زنا اور چوری) کا ذکر اس لیے کیا کہ حق یا تو اللہ کا ہوتا ہے یا بندے کا۔ پس زنا کو حق اللہ کی طرف اشارہ کیا اور چوری کو حق العباد کی طرف۔ اور بشارت کا لفظ خوشخبری کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اور اگر کوئی ہر کبیرہ گناہ کرے تو اس کا جنت میں داخلہ ضروری ہے، خواہ فوراً اگر معاف کر دیا جائے یا جہنم میں داخل ہونے کے بعد۔

[التیسیر بشرح الجامع الصغیر-للمناوی:1/20]





· دوسرا اقتباس:

فِيهِ حجَّة لأهل السّنة على حُصُول الشَّفَاعَة لأهل الْكَبَائِر

ترجمہ:

اس میں اہل سنت کے لیے حجت ہے کہ کبیرہ گناہوں والوں کے لیے شفاعت حاصل ہوگی۔

[التیسیر بشرح الجامع الصغیر-للمناو:2/78]



· تیسرا اقتباس:

ففيه استفهام مقدر ووجه الاستفهام ما تقرر عنده قبل ذلك من الآيات الواردة في وعيد أهل الكبائر بالنار فلما سمع أن من مات لا يشرك بالله شيئا دخل الجنة أستفهم عن ذلك بقوله " وإن " إلى آخره۔۔۔۔

كرر الاستفهام استثباتا واشتياقا واستعظاما لشأن الدخول مع مباشرة الكبائر أو تعجبا منه واقتصر من الكبائر على ذينك لأن الحق إما لله أو للعباد فأشار بالزنا إلى الأول وبالسرقة إلى الثاني وبين أن دخول الجنة لا يتوقف على تجنبهما. قال السكي: وآثر ذكر السرقة على القتل مع كونه أقبح لكثرة وقوعها وقلة وقوع القتل فآثر ما يكثر وقوعه لشدة الحاجة للسؤال عنه على ما يندر. قال: والأحاديث الدالة على دخول من مات غير مشرك الجنة يبلغ القدر المشترك منها مبلغ التواتر وهي قاصمة لظهور المعتزلة الزاعمين خلود أرباب الكبائر في النار ثم أكد جبريل ما ذكره تتميما للمبالغة بقوله: (وإن شرب الخمر) فإن شربها لا يمنعه من دخولها ونص عليه إشارة إلى نحوسة هذه الكبيرة وفظاعتها لأنها تؤدي إلى خلل العقل الذي شرف به الإنسان على غيره من الحيوان وبوقوع الخلل فيه يزول التوقي الحاجز عن ارتكاب بقية الكبائر فأعظم به من مفسدة ومع ذلك يدخل شاربه الجنة وفيه إشعار بأن مجيء جبريل وإخباره بذلك كان بعد تحريمها

ترجمہ:

اس میں مقدر سوال ہے اور سوال کا سبب یہ ہے کہ پہلے سے کبیرہ گناہوں والوں کے لیے جہنم کا وعید آئی ہوئی تھی، پس جب یہ سنا کہ جو شخص شرک نہ کرے وہ جنت میں داخل ہوگا، تو سوال کیا "اگر زنا اور چوری کرے تو؟"۔ سوال کا تکرار تصدیق اور اشتیاق اور عظمت واردات کے لیے ہے۔ اور کبیرہ گناہوں میں سے صرف ان دو کا ذکر کیا کیونکہ حق یا اللہ کا ہے یا بندوں کا۔ اور بتایا کہ جنت میں داخلہ ان گناہوں سے پرہیز پر موقوف نہیں۔ سکری کہتے ہیں: چوری کا ذکر قتل پر ترجیح دی گئی حالانکہ قتل زیادہ قبیح ہے، لیکن چوری کا وقوع زیادہ ہے، اس لیے زیادہ وقوع والے گناہ کے بارے میں سوال کیا۔ اور وہ احادیث جو بتاتی ہیں کہ جو شخص شرک نہ کرے وہ جنت میں داخل ہوگا، متواتر کے قریب ہیں اور معتزلہ کے خلاف قاطع ہیں جو کبیرہ گناہوں والوں کی جہنم میں ہمیشگی کے قائل ہیں۔ پھر جبریل علیہ السلام نے شراب نوشی کا ذکر کر کے تاکید کی کہ یہ بھی داخلے میں مانع نہیں۔

[فیض القدیر-للمناوی:77(1/94)]





· چوتھا اقتباس:

وارتكب كل كبيرة واقتحم كل فجور فلا بد من دخوله إياها إما ابتداء إن عفي عنه أو بعد دخوله النار حسبما نطقت به الأخبار الدالة على أنه لا يبقى في النار موحد فالكبائر لا تسلب الإيمان ولا تحبط الطاعة إذ لو كانت محبطة موازنة أو غيرها لزم أن لا تبقى لبعض الزناة أو السراق طاعة والقائل بالاحباط يحيل دخول الجنة وبما تقرر آنفا علم أن جواب أن محذوف لدلالة الواو عليه لأنها ترد الكلام على أوله ولو سقطت الواو لكان الزنا والسرقة شرطا في دخول الجنة فالمعنى وإن زنى وإن سرق لم يمنعه ذلك من دخولها ثم إن في اختلاف هذا الحديث وما قبله زيادة ونقصانا وتقديما وتأخيرا مع اتحاد الصحابي إما لأنه سمعه من المصطفى مرتين كذلك أو حكاه بلفظه مرة وبمعناه أخرى وسكت عن الخمر في إحدى الروايتين سهوا أو لعروض شاغل (تتمة) سئل شيخ الطائفة الجنيد: هل يسرق العارف؟ قال: لا قيل: فهل يزني؟ فأطرق مليا ثم قال: {وكان أمر الله قدرا مقدورا} 

. قال بعض المحققين: قد تتخذ البطلة أمثال هذه الأخبار ذريعة إلى طرح التكاليف وإبطال العمل ظنا أن ترك الشرك كاف وهذا يستلزم طي بساط الشريعة وإبطال الحدود وأن الترغيب في الطاعة والترهيب من المعصية لا أثر له فتفضي إلى الانخلاع من الدين وانفكاك قيد الشريعة والخروج عن الضبط والولوج في الخبط وترك الناس سدى هملا وذلك مفض إلى خراب الدنيا والآخرة مع أن قوله في بعض طرق الحديث " أن تعبدوه ولا تشركوا به شيئا " يتضمن اشترط العمل فيجب ضم بعض الأحاديث إلى بعض فإنها كالحديث الواحد فيحمل مطلقها على مقيدها انتهى. وهذه قعقعة لا حاجة إليها مع ما قررناه أنفا أن كل من مات مؤمنا دخل الجنة فإن كان تائبا أو سليما من المعاصي دخلها وحرم على النار وإلا فيقطع بدخوله الجنة آخرا وحاله قبل ذلك في خطر المشيئة إن شاء عذبه وإن شاء عفا عنه كما قال النووي أنه مذهب أهل السنة قال الطيبي: وهو قانون عظيم في الدين وعليه مبني قواعد الجماعة أن الحسن والقبح شرعيان وأن الله يفعل ما يشاء ويحكم ما يريد۔

ترجمہ:

اور اگر کوئی ہر کبیرہ گناہ کرے اور ہر برائی کا ارتکاب کرے، تو اس کا جنت میں داخلہ ضروری ہے، خواہ فوراً اگر معاف کر دیا جائے یا جہنم میں داخل ہونے کے بعد۔ اور یہ ان احادیث کے مطابق ہے جو بتاتی ہیں کہ جہنم میں کوئی موحد ہمیشہ نہیں رہے گا۔ پس کبیرہ گناہ ایمان کو سلب نہیں کرتے اور طاعات کو حبط نہیں کرتے۔ اور جو شخص احباط کا قائل ہے وہ جنت میں داخلے کا انکار کرتا ہے۔ اور جو کچھ بیان کیا گیا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جواب محذوف ہے اور واو پر دلالت کرتی ہے۔ اور اگر واو ساقط ہوتی تو زنا اور چوری جنت میں داخلے کے لیے شرط ہوتے، لیکن معنی یہ ہے کہ اگر زنا اور چوری بھی کرے تو وہ اسے جنت میں داخل ہونے سے نہیں روکتے۔ پھر اس حدیث اور پہلی حدیث میں اختلاف ہے، ممکن ہے کہ صحابی نے دو بار سنا ہو یا ایک بار لفظاً اور ایک بار معنیاً بیان کیا ہو۔ شراب کا ذکر ایک روایت میں سہواً چھوٹ گیا ہو۔ پھر جنید رحمہ اللہ سے پوچھا گیا: کیا عارف چوری کر سکتا ہے؟ کہا: نہیں۔ پوچھا: کیا زنا کر سکتا ہے؟ تو خاموش رہے پھر فرمایا: "وكان أمر الله قدرا مقدورا"۔ بعض محققین کہتے ہیں: بعض بدعتی ایسی احادیث کو تکیہ بنا کر تکالیف کو چھوڑ دیتے ہیں، حالانکہ شرک چھوڑنا کافی نہیں۔ یہ شریعت کو باطل کرنے کے مترادف ہے۔ لیکن ہم نے پہلے بیان کیا ہے کہ اہل سنت کا مذہب ہے کہ ہر مؤمن جنت میں داخل ہوگا، اگر تائب ہو یا معصیت سے پاک ہو تو فوراً داخل ہوگا، ورنہ مشیت الٰہی پر ہے، جیسا کہ نووی نے کہا۔ طیبی کہتے ہیں: یہ دین میں ایک عظیم قانون ہے۔



· پانچواں اقتباس:

أي وإن زنى وإن سرق ومات مصرا على ذلك ولم يتب فهو تحت المشيئة إن شاء عذبه الله ثم أدخله الجنة وإن شاء عفى عنه ابتداء فلم يدخله النار وفيه رد على المعتزلة الزاعمين أن صاحب الكبيرة إذا مات بغير توبة يخلد في النار

ترجمہ:

یعنی اگر زنا اور چوری کرے اور اسی پر مصر ہو کر مر جائے اور توبہ نہ کرے تو وہ مشیت الٰہی پر ہے، اگر اللہ چاہے تو عذاب دے پھر جنت میں داخل کرے، یا معاف کر دے اور جہنم میں داخل ہی نہ کرے۔ اس میں معتزلہ کا رد ہے جو کہتے ہیں کہ کبیرہ گناہ کرنے والا اگر بغیر توبہ مرے تو ہمیشہ جہنم میں رہے گا۔

[فیض القدیر-للمناوی:6075(4/500)]






7. شرح الشاه ولي الله الدهلوي:

شاہ ولی اللہ دہلوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

أَقُول مَعْنَاهُ حرمه الله على النَّار الشَّدِيدَة المؤبدة الَّتِي أعدهَا للْكَافِرِينَ وَإِن عمل الْكَبَائِر.

والنكتة فِي سوق الكلام هَذَا السِّيَاق، أَن مَرَاتِب الأثم بَينهَا تفَاوت بَين، وَإِن كَانَ يجمعها كلهَا اسْم الأثم، فالكبائر إِذا قيست بالْكفْر لم يكن لَهَا قدر محسوس، ولا تَأْثِير يعْتد بِهِ، وَلَا سَبَبِيَّة لدُخُول النَّار تسمى سَبَبِيَّة وَكَذَلِكَ الصَّغَائِر بِالنِّسْبَةِ إِلَى الْكَبَائِر، فَبين النَّبِي صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْفرق بَينهَا على آكِد وَجه بِمَنْزِلَة الصِّحَّة والسقم، فَإِن الْأَعْرَاض الْبَادِيَة كالزكام وَالنّصب إِذا قيست إِلَى سوء المزاج المتمكن كالجذام والسل والاستسقاء يحكم عَلَيْهَا بِأَنَّهَا صِحَة وَأَن صَاحبهَا لَيْسَ بمريض وَأَن لَيْسَ بِهِ قلبة - وَرب داهية تنسي داهية - كمن أَصَابَهُ شَوْكَة ثمَّ وتر أَهله وَمَاله، قَالَ: لم يكن بِي مُصِيبَة قبل أصلا.


ترجمہ:


میرا کہنا ہے کہ اس کا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے اس شدید اور ہمیشہ رہنے والی آگ پر حرام کر دیا جو کافروں کے لیے تیار کی گئی ہے، چاہے وہ کبیرہ گناہ کرے۔ اور اس کلام میں نکتہ یہ ہے کہ گناہوں کے درجات میں تفاوت ہے، اگرچہ سب کو گناہ کہا جاتا ہے۔ کبیرہ گناہوں کا کفر سے موازنہ کیا جائے تو ان کی کوئی قدر نہیں رہتی، اور نہ ہی وہ جہنم میں داخلے کا سبب بنتے ہیں۔ اسی طرح صغیرہ گناہوں کا کبیرہ گناہوں سے موازنہ۔ پس نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے درمیان فرق واضح کیا، جیسے صحت اور بیماری کا فرق۔ جب ظاہری بیماریوں جیسے زکام اور تھکان کا موازنہ گہری بیماریوں جیسے جذام، سل اور استسقاء سے کیا جائے، تو انہیں صحت کہا جاتا ہے اور مریض نہیں کہا جاتا۔ اسی طرح جس کو کانٹا چبھے پھر اس کا اہل و مال تباہ ہو جائے، وہ کہے گا کہ مجھے کوئی مصیبت نہیں تھی۔

[حجة الله البالغة: ج1 / ص281]


---


حاصل شدہ تمام اسباق ونکات


1. توبہ کی قبولیت: موت کے وقت سچی ندامت اور توبہ کے ساتھ "لا إله إلا الله" کہنے سے گناہ معاف ہو سکتے ہیں۔

2. ایمان کی حقیقت: ایمان محض زبانی اقرار نہیں بلکہ اعمال کے بغیر ناقص ہے۔

3. تاریخی تناظر کی اہمیت: بعض احادیث کو ان کے تاریخی پس منظر (جیسے فرائض کے نزول سے پہلے کا دور) میں سمجھنا ضروری ہے۔

4. اہل سنت کا عقیدہ: گنہگار مؤمن اللہ کی مشیت پر ہیں، آخرت میں وہ جنت میں داخل ہوں گے، خواہ فوراً یا عذاب کے بعد۔

5. تحریم النار کی تشریح: جہنم پر حرام ہونے کا مطلب ہمیشہ جہنم میں رہنا حرام ہے، عارضی عذاب ممکن ہے۔

6. آخری کلام کی برکت: موت کے وقت "لا إله إلا الله" کہنا اللہ کی رحمت اور نجات کا سبب بن سکتا ہے۔

7. احادیث میں تطبیق: ظاہری تعارض کی صورت میں احادیث کے درمیان جمع ممکن ہے، ان میں حقیقی تضاد نہیں۔

8. ضعیف روایات سے احتیاط: بعض روایات ضعیف ہیں، ان پر عقیدہ کی بنیاد نہیں رکھنی چاہیے۔

9. حقوق العباد کا معاملہ: آدمیوں کے حقوق صرف ایمان پر مرنے سے ساقط نہیں ہوتے، لیکن اللہ چاہے تو انہیں معاف کر سکتا ہے۔

10. کبیرہ گناہوں کا انجام: کبیرہ گناہ کرنے والا مؤمن جہنم میں ہمیشہ نہیں رہے گا اور اس کا ایمان سلب نہیں ہوتا۔

11. شفاعت کا ثبوت: اہل سنت کے نزدیک کبیرہ گناہوں والوں کے لیے شفاعت ثابت ہے۔

12. متواتر احادیث کی قوت: موحد کے جنت میں داخل ہونے کی احادیث متواتر کے قریب ہیں، یہ معتزلہ کے خلاف قاطع دلیل ہیں۔

13. شراب نوشی کا حکم: شراب نوشی بھی جنت میں داخلے کی ممانعت نہیں کرتی، اگرچہ یہ کبیرہ گناہ ہے۔

14. رجاء پر غلط انحصار نہ کریں: احادیث رجاء پر بھروسہ کر کے گناہوں پر جرأت نہیں کرنی چاہیے، بلکہ احتیاط لازم ہے۔

15. گناہوں کے درجات: گناہوں کے درجات ہیں، کبیرہ گناہ کفر کے مقابلے میں ہلکے ہیں۔

16. دین کی صحیح فہم: احادیث کی صحیح فہم کے لیے اصول حدیث اور سلف کے اقوال کو سمجھنا ضروری ہے۔

17. بدعات سے بچاؤ: بعض بدعتی احادیث کے ظاہر پر عمل کر کے شریعت کے دیگر احکام کو نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔

18. اللہ کی مشیت پر ایمان: مؤمن گنہگار کے بارے میں قطعی طور پر نہیں کہا جا سکتا کہ وہ عذاب سے بالکل بچ جائے گا، بلکہ یہ اللہ کی مشیت پر ہے۔

19. توحید کی بنیادی اہمیت: شرک سب سے بڑا گناہ ہے، توحید کی بنیاد پر ہی جنت میں داخلہ ممکن ہے۔

20. عمل کی ضرورت: ایمان کے ساتھ عمل بھی ضروری ہے، اگرچہ عمل میں کمی ہو تو بھی آخرت میں جنت ملے گی، لیکن ممکن ہے عذاب ہو۔

21. حدیث کی صنعت کا علم: حدیث کی صحیح تفسیر کے لیے اصول حدیث کا علم ضروری ہے تاکہ غلط فہمیوں سے بچا جا سکے۔

22. معتزلہ اور خوارج کا رد: اہل سنت کا عقیدہ ہے کہ کبیرہ گناہوں والا مؤمن جہنم میں ہمیشہ نہیں رہے گا، جو معتزلہ اور خوارج کے عقیدے کے خلاف ہے۔

23. صغیرہ و کبیرہ گناہوں میں فرق: گناہوں کے درجات ہیں، صغیرہ گناہوں کو کبیرہ گناہوں کے ساتھ اور کبیرہ گناہوں کو کفر کے ساتھ ملانا صحیح نہیں۔

24. اللہ کی رحمت پر بھروسہ: اللہ تعالیٰ کی رحمت وسیع ہے، وہ چاہے تو گناہگار کو بغیر عذاب کے بھی جنت میں داخل کر سکتا ہے۔

25. احتیاطی تدابیر: جہنم کے عذاب کی شدت کو مدنظر رکھتے ہوئے گناہوں سے بچنا چاہیے۔


یہ تمام نکات ان شروحات سے مستنبط ہیں اور اہل سنت والجماعت کے عقائد و افکار کو واضح کرتے ہیں۔



 

No comments:

Post a Comment