Friday, 9 January 2026

شراب کے انفرادی، اجتماعی، عقلی و نقلی نقصانات وتباہ کاریاں


القرآن:

اے ایمان والو ! شراب، جوا، بتوں کے تھان اور جوے کے تیرے یہ سب ناپاک شیطانی کام ہیں، لہذا ان سے بچو، تاکہ تمہیں فلاح حاصل ہو۔

[سورۃ نمبر 5 المائدة، آیت نمبر 90]


القرآن:

لوگ آپ سے شراب اور جوے کے بارے میں پوچھتے ہیں۔ آپ کہہ دیجیے کہ ان دونوں میں بڑا گناہ بھی ہے، اور لوگوں کے لیے کچھ فائدے بھی ہیں، اور ان دونوں کا گناہ ان کے فائدے سے زیادہ بڑھا ہوا ہے۔۔۔

[سورۃ نمبر 2 البقرة،آیت نمبر 219]

تفسیر:

چونکہ اہلّ عرب صدیوں سے شراب کے عادی تھے، اس لئے الله تعالیٰ نے اس کی حرمت کے اعلان میں تدریج سے کام لیا، پہلے سورة نحل (آیت#67) میں ایک لطیف اشارہ دیا کہ نشہ لانے والی شراب اچھی چیز نہیں ہے، پھر سورة البقرۃ کی اس آیت(219) میں قدرے وضاحت سے فرمایا کہ شراب پینے کے نتیجے میں انسان سے بہت سی ایسی حرکتیں سرزد ہوجاتی ہیں جو گناہ ہیں اور اگرچہ اس میں کچھ فائدے بھی ہیں، مگر گناہ کے امکانات زیادہ ہیں، پھر سورة نساء(43) میں یہ حکم آیا کہ نشے کی حالت میں نماز نہ پڑھو بالاآخر سورة مائدہ(90۔91) میں شراب کو ناپاک اور شیطانی عمل قرار دے کر اس سے مکمل پرہیز کرنے کا صاف صاف حکم دے دیا گیا۔



حدیث نمبر 1
حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے مروی ہے كہ رسول اللہ  ‌ﷺ ‌نے فرمایا:
اجْتَنِبُوا الْخَمْرَ فَإِنَّهَا مِفْتَاحُ كُلِّ شَرٍّ.
ترجمہ:
شراب سے بچو، كیونکہ یہ ہر برائی كی چابی ہے۔
[الصحيحة:2798، مستدرك الحاكم:7340]




حدیث نمبر 2
عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْعَرِيِّ - رضي الله عنه - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم -:
" (لَيَكُونَنَّ مِنْ أُمَّتِي أَقْوَامٌ يَسْتَحِلُّونَ الْخَزَّ (¬1)
[ وفي رواية: يَسْتَحِلُّونَ الْحِرَ] (¬2) وَالْحَرِيرَ) (¬3) (وَلَيَشْرَبَنَّ نَاسٌ مِنْ أُمَّتِي الخمر يسمونها بِغَيْرِ اسْمِهَا , يُعْزَفُ عَلَى رُءُوسِهِمْ بِالْمَعَازِفِ (¬4) وَالْمُغَنِّيَاتِ) (¬5) (يَأْتِيهِمْ آتٍ (¬6) لِحَاجَةٍ , فَيَقُولُونَ: ارْجِعْ إِلَيْنَا غَدًا) (¬7) (فَيَخْسِفُ اللَّهُ بِهِمْ الْأَرْضَ) (¬8) (وَيَمْسَخُ مِنْهُمْ آخَرِينَ قِرَدَةً وَخَنَازِيرَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ) (¬9) "
¬_________
ترجمہ:

حضرت ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"میری امت میں کچھ ایسے لوگ ضرور پیدا ہوں گے جو 'خَزّ' (ریشم اور اون سے بنا ہوا ایک خاص کپڑا)
[اور دوسری روایت میں ہے: 'حِرَ' (زنا)] (¬2) اور حریر (خالص ریشم) کو حلال سمجھیں گے (¬3)، اور میرے امت میں کچھ لوگ شراب (خمر) پیں گے، اسے اس کے اصلی نام کے علاوہ (دوسرے ناموں سے) پکاریں گے، ان کے سروں پر باجے (معازف) (¬4) اور گانے والیاں بجائی جائیں گی (¬5)۔ (ان کے پاس کوئی حاجت مند (¬6) آئے گا تو وہ اس سے کہیں گے: 'کل ہمارے پاس آنا' (¬7)۔ پھر اللہ تعالیٰ انہیں زمین میں دھنسا دے گا (خسف) (¬8) اور ان میں سے بعض کو بندر اور سور بنا دے گا (مسخ) اور وہ قیامت کے دن تک (اسی حالت میں) رہیں گے (¬9)۔"

---

حواشی اور حوالہ جات:

(¬1) امام ابن اثیر کہتے ہیں: اس حدیث کی روایات میں مشہور لفظ "خَزّ" ہے، اور یہ ریشم کی ایک قسم ہے۔ [نیل الاوطار، جلد12، ص423] اور "ابریسم" (پتلا ریشم) کو بھی کہتے ہیں۔ [المصباح المنیر، ج2، ص340]

امام ابوداؤد (حدیث نمبر 4039) فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بیس یا اس سے زیادہ صحابہ نے 'خَزّ' پہنا ہے، ان میں حضرت انس اور حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہما شامل ہیں۔ [عون المعبود، ج9، ص64]

علامہ شوکانی نیل الاوطار (ج3، ص41) میں فرماتے ہیں: تم پر یہ بات مخفی نہ رہے کہ صحابہ کرام کے فعل میں کوئی حجت نہیں، اگرچہ وہ تعداد میں بہت ہوں۔ حجت تو ان کے اجماع میں ہے (ان لوگوں کے نزدیک جو اجماع کو حجت مانتے ہیں) اور صادق و مصدوق (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم) نے خبر دی ہے کہ عنقریب میری امت میں کچھ لوگ ایسے ہوں گے جو خز اور حریر کو حلال سمجھیں گے۔ پھر اس حدیث کے آخر میں ان کے لیے سخت وعید ہے کہ ان میں سے کچھ مسخ ہو کر بندر اور سور بنا دیے جائیں گے۔

حافظ ابن حجر فتح الباری (ج16، ص398) میں فرماتے ہیں: صحابہ اور دیگر ائمہ کی ایک جماعت سے خز پہننا ثابت ہے۔ ابوداؤد نے کہا: بیس سے زیادہ صحابہ نے اسے پہنا۔ ابن ابی شیبہ نے بھی اپنی مصنف میں ان کا تذکرہ کیا ہے۔ اس سلسلے میں سب سے اعلیٰ روایت وہ ہے جسے ابوداؤد اور نسائی نے عبداللہ بن سعد دشتی سے ان کے والد کے واسطے سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے کہا: میں نے ایک شخص (صحابی) کو خچر پر سوار دیکھا، ان پر سیاہ خز کی عمامہ تھی اور وہ فرما رہے تھے: یہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہنایا ہے۔ ابن ابی شیبہ نے عمار بن ابی عمار کے طریق سے روایت کیا ہے کہ مروان بن حکم کے پاس خز کی چادریں آئیں تو انہوں نے وہ صحابہ کرام کو پہنائیں۔

خز کی صحیح تفسیر یہ ہے کہ وہ ایسے کپڑے ہیں جن کا تانا ریشم کا اور بانا ریشم کے علاوہ (اون وغیرہ) کا ہو۔ بعض کہتے ہیں: یہ ریشم اور اون وغیرہ کو ملا کر بنے ہیں۔ بعض کا قول ہے: یہ اصل میں ایک جانور کا نام ہے جسے 'خَزّ' کہتے ہیں، اس کے بالوں سے بنے ہوئے کپڑے کو نرمی کی وجہ سے خز کہا گیا، پھر بعد میں ہر اس کپڑے کو خز کہا جانے لگا جس میں ریشم کی آمیزش ہو۔

اس بنا پر، صحابہ کے خز پہننے سے خالص ریشم کی ممانعت والی دلیل کمزور نہیں ہوتی، جب تک یہ ثابت نہ ہو جائے کہ وہ خز جسے صحابہ نے پہنا، ریشم کی ملاوٹ والا ہی تھا۔ حنفیہ اور حنابلہ نے خز پہننے کی اجازت دی ہے بشرطیکہ اس میں شہرت (نمائش) نہ ہو، اور امام مالک سے کراہت منقول ہے۔ یہ تمام اقوال خز کے بارے میں ہیں۔ [کلامِ حافظ کا خلاصہ]

(¬2) یہ روایت (بخاری تعلیقاً، رقم 5268) میں ہے، دیکھیے: صحیح الجامع: 5466، سلسلہ صحیحہ:91۔
"الْحِرَ" سے مراد زنا ہے۔ [سبل السلام، ج3، ص33]
اس روایت کو (مہملہ) حاء اور راء کے ساتھ (یعنی "الحر") روایت کرنے کی تائید اس حدیث سے بھی ہوتی ہے جسے ابن مبارک نے زہد میں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً روایت کیا ہے: "عنقریب میری امت عورتوں کی شرمگاہوں اور ریشم کو حلال سمجھے گی۔" اور داؤدی کی روایت میں یہ (معجمہ) خاء اور زاء کے ساتھ (یعنی "الخَزّ") ہے، پھر انہوں نے اس پر یہ کہہ کر اشکال کیا ہے کہ یہ لفظ محفوظ نہیں، کیونکہ بہت سے صحابہ نے اسے پہنا ہے۔ [نیل الاوطار، ج12، ص423]

(¬3) سنن ابی داود: حدیث نمبر 4039۔

(¬4) 'معازف' باجوں اور موسیقی کے آلات کو کہتے ہیں۔

(¬5) سنن ابن ماجہ: حدیث نمبر 4020، مسند امام احمد: حدیث نمبر 22951۔

(¬6) یعنی حاجت مند فقیر۔

(¬7) صحیح البخاری تعلیقاً: حدیث نمبر 5268۔

(¬8) سنن ابن ماجہ: حدیث نمبر 4020۔

(¬9) سنن ابی داود: حدیث نمبر 4039، صحیح البخاری تعلیقاً: حدیث نمبر 5268۔

[الجامع الصحيح للسنن والمسانيد: 1/916]
---

حاصل شدہ اسباق و نکات

1. حلال و حرام کے معاملے میں تاویل کا خطرہ: حدیث کا سب سے بڑا پیغام یہ ہے کہ امت میں کچھ لوگ ایسے بھی ہوں گے جو واضح حرام چیزوں (جیسے ریشم، زنا، شراب، موسیقی) کو مختلف تاویلوں اور نام بدل کر حلال قرار دے لیں گے۔ یہ امت محمدیہ کے لیے ایک عظیم الشان تنبیہ ہے کہ شرعی احکام میں تحریف نہ کی جائے۔
2. 'خَزّ' کا مسئلہ:
   · اگرچہ بعض صحابہ کرام سے خز پہننا ثابت ہے، لیکن اس کی وضاحت یہ کی گئی ہے کہ وہ خالص ریشم نہیں تھا بلکہ مخلوط تھا۔ مردوں کے لیے خالص ریشم حرام ہے۔
   · خز کے جواز میں علماء کا اختلاف ہے۔ حنفیہ و حنابلہ کے نزدیک جائز ہے جبکہ امام مالک کے نزدیک مکروہ ہے۔
3. معاصی کی نحوست: گناہوں کا ایک نتیجہ اللہ کا عذاب ہے، جو دنیا میں بھی آ سکتا ہے۔ اس حدیث میں تین قسم کے عذابوں کا ذکر ہے:
   · خسف: زمین میں دھنس جانا۔
   · مسخ: صورت کا بگڑ کر حیوانوں جیسی ہو جانا۔
   · آسمانی پتھر (دوسری روایت میں): پہاڑ سے چٹان گرنا۔
4. بے رحمی کا انجام: حدیث میں ان گناہ گاروں کی ایک اور صفت یہ بیان ہوئی کہ وہ ضرورت مند کو ٹال دیتے ہیں اور مدد نہیں کرتے۔ یہ بے رحمی اور بخل ان کے عذاب کا ایک سبب بنی۔
5. شراب کو نام بدل کر پینا: یہ امت مسلمہ میں بعد میں آنے والی ایک بہت بڑی خرابی ہے کہ لوگ شراب کو مختلف نام دے کر (جیسے مشروب، کولا وغیرہ) اسے حلال سمجھنے لگیں گے۔
6. موسیقی کی حرمت کی دلیل: اس حدیث کو موسیقی اور گانے بجانے کی حرمت کی سب سے قوی دلیل قرار دیا جاتا ہے، کیونکہ اس میں "معازف" (باجوں) کو حرام قرار دیے جانے والی چیزوں میں شمار کیا گیا ہے۔








حدیث نمبر 3
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

" (فِي هَذِهِ الْأُمَّةِ خَسْفٌ وَمَسْخٌ وَقَذْفٌ (¬1) " , فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ الْمُسْلِمِينَ: وَمَتَى ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟) (¬2) (قَالَ: " إِذَا شَرِبُوا الْخُمُورَ، وَاتَّخَذُوا الْقَيْنَاتِ (¬3) وَضَرَبُوا بِالْمَعَازِفِ) (¬4) وفي رواية: (إِذَا ظَهَرَتِ الْمَعَازِفُ وَالْقَيْنَاتُ , وَاسْتُحِلَّتِ الخمر) (¬5) "

ترجمہ:
**"اس امت میں خسف (زمین میں دھنسنا)، مسخ (صورت کا بگڑنا) اور قذف (آسمان سے پتھر برسنا) (¬1) ہوگا۔" ایک مسلمان شخص نے عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ (واقعات) کب ہوں گے؟ (¬2) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "جب لوگ شراب پئیں گے، قینات (گانے والی لونڈیاں) (¬3) رکھیں گے اور معازف (موسیقی کے آلات) بجائیں گے (¬4)۔" اور دوسری روایت میں ہے: "جب معازف (موسیقی کے آلات) اور قینات (گانے والیاں) ظاہر ہو جائیں، اور شراب حلال سمجھ لی جائے (¬5)۔" ***

---

حواشی اور تشریح:

(¬1) القذف: اس سے مراد آسمان کی طرف سے پتھر پھینکے جانا ہے۔ [فیض القدیر - جلد 4 / صفحہ 604]

(¬2) تخریج: جامع ترمذی: حدیث نمبر 2212، سنن ابن ماجہ: حدیث نمبر 4059۔

(¬3) القينات: "قینہ" کی جمع ہے، جس کا معنی ہے گانے والی لونڈی۔

(¬4) تخریج: ابن ابی الدنیا "ذم الملاهي" (ق 153/1) میں۔ نیز دیکھیے: صحیح الجامع: حدیث نمبر 5467، سلسلہ صحیحہ: حدیث نمبر 2203۔

(¬5) تخریج: معجم طبرانی کبیر: حدیث نمبر 5810، جامع ترمذی: حدیث نمبر 2212۔ نیز دیکھیے: صحیح الجامع: حدیث نمبر 3665۔

---

حاصل شدہ اسباق و نکات

1. تین عذابوں کی پیشگوئی: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے امت محمدیہ کے لیے تین قسم کے عذابوں کی خبر دی:
   · خسف: زمین میں دھنس جانا۔
   · مسخ: صورت کا بگڑ کر حیوان جیسی ہو جانا۔
   · قذف: آسمان سے پتھروں کی بارش۔
2. عذاب کے اسباب: ان عذابوں کا براہ راست تعلق تین چیزوں سے بتایا گیا:
   · شراب نوشی (خمر)
   · گانے والی عورتوں (قینات) کا اہتمام
   · موسیقی کے آلات (معازف) کا استعمال
3. قیامت کی نشانی: یہ حدیث قیامت کی ان نشانیوں میں سے ہے جو بتاتی ہیں کہ جب معاشرے میں یہ برائیاں عام ہو جائیں گی تو اللہ کا عذاب نازل ہوگا۔
4. موسیقی کی حرمت کی دلیل: اس حدیث کو علماء نے موسیقی کے آلات کی حرمت کی ایک قوی دلیل قرار دیا ہے، کیونکہ ان کے استعمال کو عذاب کے نزول کا سبب بتایا گیا۔
5. شراب کو حلال سمجھنا: دوسری روایت میں "استحلال الخمر" (شراب کو حلال سمجھنا) کا ذکر ہے۔ یہ نام بدل کر شراب پینے کی طرف اشارہ ہے، جیسا کہ پچھلی احادیث میں گزرا۔
6. اجتماعی گناہ، اجتماعی عذاب: جب یہ گناہ معاشرے میں عام ہو جائیں اور انہیں کھلم کھلا کیا جائے، اور ان کی قباحت ختم ہو جائے تو اللہ کا اجتماعی عذاب آتا ہے۔
7. صحابہ کا اندیشہ: صحابی کرام کا یہ سوال کہ یہ عذاب کب ہوں گے، اس بات کی دلیل ہے کہ وہ امت کی فکر رکھتے تھے اور برے کاموں سے بچنے کی ترغیب چاہتے تھے۔
8. انسان کی ذمہ داری: یہ حدیث ہر مسلمان کو انفرادی اور اجتماعی طور پر ان گناہوں سے بچنے کی تلقین کرتی ہے تاکہ وہ ان عذابوں کا مستحق نہ بنے۔






حدیث نمبر 4
حضرت ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
" (لَيَبِيتَنَّ أَقْوَامٌ مِنْ أُمَّتِي عَلَى أَكْلٍ وَلَهْوٍ وَلَعِبٍ , ثُمَّ لَيُصْبِحُنَّ قِرَدَةً وَخَنَازِيرَ) (¬1) (بِشُرْبِهِمُ الخمر، وَأَكْلِهِمُ الرِّبَا، وَلُبْسِهِمُ الْحَرِيرَ، وَاتِّخَاذِهِمُ الْقَيْنَاتِ , وَقَطِيعَتِهِمُ الرَّحِمَ) (¬2) "
ترجمہ: 
"میری امت کے کچھ لوگ ضرور ایسی رات گزاریں گے جس میں وہ کھانے، تفریح اور کھیل میں مشغول ہوں گے، پھر صبح اٹھیں گے تو وہ بندر اور سور بنا دیے جائیں گے (¬1)۔
(یہ عذاب انہیں اس لیے پہنچے گا کیونکہ وہ شراب پیتے ہیں، سود کھاتے ہیں، ریشم پہنتے ہیں، گانے والی لونڈیاں رکھتے ہیں اور قطع رحمی کرتے ہیں) (¬2)۔"

---

 حوالہ وحواشی:

(¬1)· المعجم الکبیر للطبرانی: حدیث نمبر 7997
· نیز دیکھیے: صحیح الجامع: حدیث نمبر 5354، السلسلہ الأحادیث الصحیحہ: حدیث نمبر 1604

· تشریح: "لیبیتن" سے مراد رات گزارنا ہے، اور "لهو ولعب" سے مراد وہ تفریحات اور کھیل ہیں جن میں اللہ کی نافرمانی ہوتی ہو۔ اس وعید میں بتایا گیا ہے کہ عذاب اچانک آئے گا جب یہ لوگ اپنی عیش و عشرت میں مگن ہوں گے۔

(¬2)· حوالہ: (ك) مستدرک حاکم: حدیث نمبر 8572
· نیز علامہ البانی نے اپنی کتاب "تحريم آلات الطرب" (صفحہ 67) میں اسے صحیح قرار دیا ہے۔

· تشریح:
  · بِشُرْبِهِمُ الخمر: شراب پینا۔ اس سے مراد ہر قسم کی نشہ آور چیز ہے۔
  · وَأَكْلِهِمُ الرِّبَا: سود کھانا۔ سود ان کبیرہ گناہوں میں سے ہے جن کے خلاف قرآن میں سخت وعیدیں آئی ہیں۔
  · وَلُبْسِهِمُ الْحَرِيرَ: ریشم پہننا (مردوں کے لیے)۔
  · وَاتِّخَاذِهِمُ الْقَيْنَاتِ: گانے والی لونڈیاں رکھنا۔ اس سے مراد گانے بجانے کا اہتمام کرنا اور اسے اپنی زندگی کا حصہ بنانا ہے۔
  · وَقَطِيعَتِهِمُ الرَّحِمَ: قطع رحمی کرنا، یعنی رشتہ داروں سے تعلقات توڑ لینا۔

---

حاصل شدہ اسباق و نکات:

1. پانچ کبیرہ گناہ: اس حدیث میں پانچ ایسے سنگین گناہوں کا ذکر ہے جو اللہ کے غضب کا سبب بنتے ہیں:
   · شراب نوشی
   · سود خوری
   · (مردوں کا) ریشم پہننا
   · گانے بجانے کا اہتمام (قینات)
   · قطع رحمی
2. مسخ کا واقعہ: یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ امت محمدیہ میں بھی مسخ (صورت کا بگڑ کر حیوانوں جیسی ہو جانا) ہو سکتا ہے۔ یہ گزشتہ امتوں کے ساتھ مخصوص نہیں ۔
3. اچانک عذاب کا آنا: "لیبیتن ... ثم لیصبحن" (رات گزاریں گے... پھر صبح اٹھیں گے) کے الفاظ سے معلوم ہوا کہ عذاب اس حال میں آئے گا جب لوگ اپنی غفلت اور عیش و عشرت میں مگن ہوں گے۔ یہ اللہ کی گرفت کی شدت کو ظاہر کرتا ہے۔
4. گناہوں کا مجموعہ: حدیث میں گناہوں کو اکٹھا ذکر کیا گیا ہے۔ جب معاشرے میں یہ تمام برائیاں جمع ہو جائیں تو اللہ کا عذاب نازل ہوتا ہے ۔
5. امت کے لیے انتباہ: یہ حدیث امت مسلمہ کے لیے ایک زبردست انتباہ ہے کہ وہ ان گناہوں سے بچے، ورنہ وہ بھی گزشتہ امتوں کی طرح اللہ کے عذاب کی مستحق ہو سکتی ہے ۔





حدیث نمبر 5
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

" إِنَّ أَوَّلَ مَا يُكْفَأُ فِي الْإِسْلَامِ الْإنَاءُ (¬1) " فَقِيلَ: كَيْفَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَقَدْ بَيَّنَ اللَّهُ فِيهَا مَا بَيَّنَ؟، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم -: " يسمونها بِغَيْرِ اسْمِهَا فَيَسْتَحِلُّونَهَا " (¬2)

ترجمہ:
"بلاشبہ سب سے پہلی چیز جو اسلام میں الٹی جائے گی (یا جس کے برتن الٹ دیے جائیں گے) وہ (شراب کا) برتن ہے (¬1)۔"
آپ سے عرض کیا گیا: یا رسول اللہ! یہ کیسے ممکن ہے جبکہ اللہ تعالیٰ نے اس (شراب) کے بارے میں (حکم) صاف صاف بیان کر دیا ہے؟
تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "وہ لوگ اسے اس کے اصلی نام کے علاوہ دوسرے ناموں سے پکاریں گے، اور اس طرح اسے حلال سمجھ لیں گے۔" (¬2)

---

حواشی اور تخریج:

(¬1) یعنی شراب (خمر) مراد ہے۔ برتن الٹنے سے مراد یہ ہے کہ شراب پینے کا رواج عام ہو جائے گا اور اس کے برتن (یعنی معاملات) درہم برہم ہو جائیں گے، یا یہ کہ لوگ اسے کھلے عام پئیں گے۔

(¬2) تخریج:

· (مي) سنن الدارمي: حدیث نمبر 2100
· نیز دیکھیے: سلسلہ صحیحہ: حدیث نمبر 89
· ہدایۃ الرواۃ: حدیث نمبر 5305

---

حاصل شدہ اسباق و نکات

1. تحریفِ احکام کا آغاز: اس حدیث میں امت مسلمہ کے لیے ایک انتہائی اہم پیشین گوئی کی گئی ہے کہ دین میں سب سے پہلی چیز جس میں تحریف کی جائے گی اور جس کے حکم کو بگاڑا جائے گا، وہ شراب کا مسئلہ ہوگا۔
2. نام بدل کر حلال کرنے کی سازش: حدیث کا مرکزی نکتہ یہ ہے کہ لوگ حرام چیز کو اس کا نام بدل کر حلال قرار دیں گے۔ یہ شیطان کا ایک پرانا حربہ ہے کہ وہ لوگوں کو برے کام کی برائی سے غافل کرنے کے لیے اس کا نام تبدیل کر دیتا ہے۔
3. واضح حکم کے باوجود تاویل: صحابہ کرام کا سوال کہ "اللہ نے تو اس کا حکم صاف صاف بیان کر دیا ہے" اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ صحابہ کے نزدیک اللہ کا حکم اتنا واضح تھا کہ اس میں کسی تاویل کی گنجائش نہیں تھی۔ لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا کہ بعد میں آنے والے لوگ اس وضاحت کے باوجود اپنی جاہلانہ تاویلوں اور نام بدلنے کے حربے سے اسے حلال سمجھ بیٹھیں گے۔
4. امت کے لیے انتباہ: یہ حدیث امت محمدیہ کے لیے ایک زبردست انتباہ ہے کہ وہ شراب (الکوحل، نشہ آور اشیاء) کے معاملے میں انتہائی محتاط رہے۔ آج کل شراب کو مختلف نام دے کر پیش کیا جاتا ہے جیسے "مشروب"، "بیئر"، "وائن"، "کاک ٹیل"، "اسپرٹ" وغیرہ۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ حقیقت کو دیکھیں، نام کو نہیں۔
5. پہلا حملہ: "اول ما يكفأ" (سب سے پہلی چیز جو الٹی جائے گی) سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جب کسی معاشرے میں اخلاقی انحطاط شروع ہوتا ہے تو سب سے پہلے شراب نوشی عام ہوتی ہے۔ یہ دروازہ ہے جس سے دوسری تمام برائیاں داخل ہوتی ہیں۔
6. علماء کا کردار: اس حدیث میں علماء اور عوام الناس کے لیے یہ پیغام ہے کہ وہ ناموں کے دھوکے میں نہ آئیں۔ اصل چیز کی حقیقت کو جاننا ضروری ہے، نہ کہ محض نام پر اعتماد کرنا۔





حدیث نمبر 6
حضرت ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
" لَا تَذْهَبُ اللَّيَالِي وَالْأَيَّامُ حَتَّى تَشْرَبَ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي الخمر , يسمونها بِغَيْرِ اسْمِهَا (¬1) " (¬2)
ترجمہ:
"رات اور دن (یعنی زمانہ) ختم نہ ہو گا (یعنی قیامت قائم نہ ہو گی) یہاں تک کہ میری امت کا ایک گروہ شراب پیے گا، وہ اسے اس کے اصلی نام کے علاوہ (دوسرے ناموں سے) پکاریں گے۔"

---

حواشی اور تشریح:

(¬1) یعنی: وہ شراب پینے تک پہنچنے کے لیے مباح (جائز) مشروبات (نبیذ) کے ناموں سے حیلہ کریں گے، جیسے شہد کا پانی، مکئی کا پانی اور ان جیسی چیزیں۔ اور وہ یہ گمان کریں گے کہ یہ حرام نہیں ہے، کیونکہ یہ انگور اور کھجور سے نہیں بنی، حالانکہ وہ اس دعویٰ میں جھوٹے ہیں۔ اس لیے کہ ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔ پس مدار (انحصار) نشہ آور چیز کی حرمت پر ہے۔ لہذا کسی معروف درخت کے چھلکے سے بنی ہوئی کافی پینے میں کوئی حرج نہیں، جبکہ اسے زیادہ پینے سے بھی نشہ نہ ہوتا ہو۔
اور رہا مسئلہ شراب پینے والوں کی مشابہت اختیار کرنے کا، تو جب یہ مشابہت یقینی ہو (کہ کوئی چیز اصل میں شراب ہے یا شراب کی طرح نشہ لاتی ہے) تو اس سے منع کیا جائے گا، خواہ وہ پانی، دودھ یا دیگر چیزوں کے پینے میں ہو (یعنی اگر کوئی شخص پانی پی کر شراب پینے والوں کی وضع قطع اور حرکات کرے تو وہ بھی ناجائز ہے)۔
[عون المعبود - (جلد 8 / صفحہ 189)]

(¬2) تخریج: سنن ابن ماجہ: حدیث نمبر 3384، سنن ابی داود: حدیث نمبر 3688۔

---

حاصل شدہ اسباق و نکات

1. قیامت کی نشانی: یہ حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک عظیم پیشگوئی ہے اور قیامت کی چھوٹی نشانیوں میں سے ہے کہ مسلمانوں میں سے کچھ لوگ شراب کو حلال سمجھ کر پینے لگیں گے۔
2. حلال و حرام میں حیلہ سازی کی مذمت: یہ حدیث امت محمدیہ کو اس خطرناک رویے سے آگاہ کرتی ہے کہ لوگ حرام چیزوں کو حلال ثابت کرنے کے لیے محض نام بدل دیں گے۔ شراب کو مشروب، انرجی ڈرنک، دواء یا کوئی اور نام دے کر پینا اس پیشگوئی کا مصداق ہے۔
3. علتِ حرمت کی وضاحت (قاعدہ کلّی): حاشیے میں واضح کیا گیا کہ اصل چیز نام نہیں بلکہ حقیقت ہے۔ فقہ کا عظیم اصول "كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ" (ہر نشہ آور چیز حرام ہے) اس حدیث کی تشریح میں بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ چاہے وہ انگور سے بنے یا کھجور سے، گندم سے بنے یا مکئی سے، اگر مشروب میں نشہ لانے کی صلاحیت ہے تو وہ حرام ہے۔
4. کافی جیسے مشروبات کا حکم: حاشیہ میں اس اصول کی روشنی میں "کافی" جیسے مشروب کو واضح طور پر مستثنیٰ کیا گیا ہے۔ جب تک کوئی چیز نشہ آور نہ ہو، وہ پینے کی اجازت ہے، خواہ وہ کسی بھی درخت کے چھلکے یا دانے سے بنائی جائے۔ اس سے اندیشہ ہائے بے جا دور ہوتے ہیں۔
5. مشابہت کا مسئلہ: حدیث کا مرکزی پیغام اگرچہ اصل حرام (شراب) کو حلال سمجھنے پر ہے، لیکن حاشیہ میں ایک باریک نکتہ یہ بھی بیان کیا گیا کہ اگر کوئی شخص جائز چیز (جیسے پانی یا دودھ) پی کر بھی شراب پینے والوں کی وضع قطع اور انداز اپنائے، تو یہ مشابہت بھی ناجائز ہے۔ اس سے مسلمانوں کی شناخت اور کردار کی حفاظت مقصود ہے۔
6. علماء کا کردار: اس قسم کی پیشگوئیوں کا مقصد امت کو چوکنا کرنا ہے کہ وہ علماء سے رجوع کرے اور دین کے صحیح احکام کو سمجھے، نہ کہ اپنی خواہشات کی تکمیل کے لیے نام بدل کر حیلے تلاش کرے۔













عَنْ سَالِمِ بن عَبْدِ اللهِ بن عُمَرَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ، وَعُمَرَ بن الْخَطَّابِ، وَنَاسًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ  صلی اللہ علیہ وسلم ، جَلَسُوا بَعْدَ وَفَاةِ رَسُولِ الهِأ  صلی اللہ علیہ وسلم ، فَذَكَرُوا أَعْظَمَ الْكَبَائِرِ، فَلَمْ يَكُنْ عِنْدَهُمْ فِيهَا عِلْمٌ، (يَنْتَهُون إِلَيْه) فَأَرْسَلُونِي إِلَى عَبْدِ اللهِ بن عَمْرِو بن الْعَاصِ أَسْأَلَهُ عَنْ ذَلِكَ، فَأَخْبَرَنِي أَنَّ أَعْظَمَ الْكَبَائِرِ شُرْبَ الْخَمْرِ، فَأَتَيْتُهُمْ فَأَخْبَرْتُهُمْ، فَأَنْكَرُوا ذَلِكَ وَوَثَبُوا إِلَيْهِ جَمِيعًا، (حَتَّى أَتَوْهُ فِي دَارِهِ) فَأَخْبَرَهُمْ أَنَّ رَسُولَ اللهِ  ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: إِنَّ مَلِكًا مِّنْ بني إِسْرَائِيلَ أَخَذَ رَجُلا فَخَيَّرَهُ بَيْنَ أَنْ يَّشْرَبَ الْخَمْرَ، أَوْ يَقْتُلَ صَبِيًّا، أَوْ يَزْنِيَ، أَوْ يَأْكُلَ لَحْمَ الْخِنْزِيرِ، أَوْ يَقْتُلُوهُ إِنْ أَبَى، فَاخْتَارَ أَنَّهُ يَشْرَبُ الْخَمْرَ، وَأَنَّهُ لَمَّا شَرِبَهَا لَمْ يَمْتَنِعْ مِنْ شَيْءٍ أرادوهُ مِنْهُ ، وَأَنَّ رَسُولَ اللهِ  ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ لَنَا حِينَئِذٍ: مَا مِنْ أَحَدٍ يَّشْرَبُهَا فَتُقْبَلُ لَهُ صَلاةٌ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً، وَلا يَمُوتُ وَفِي مَثَانَتِهِ مِنْهَا شَيْءٌ إِلا حُرِّمَتْ عَلَيْهِ الْجَنَّةُ، وَإِنْ مَّاتَ فِي الأَرْبَعِينَ مَاتَ مِيتَةً جَاهِلِيَّةً .
ترجمہ:
سالم بن عبداللہ بن عمر ؓ سے مروی ہے، وہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ابوبکر صدیق، عمر بن خطاب  ؓ اور رسول اللہ  ‌ﷺ ‌کے کچھ صحابہ رسول اللہ  ‌ﷺ ‌کی وفات کے بعد بیٹھے سب سے بڑے کبیرہ گناہ کا تذکرہ کر رہے تھے۔ ان کے پاس اس بارے میں کوئی حتمی علم نہیں تھا۔ (جس پر وہ سب متفق ہوسکیں)  انہوں نے مجھے عبداللہ بن عمرو بن عاص ؓ کی طرف بھیجا کہ میں ان سے اس بارے میں سوال کروں، انہوں نے مجھے بتایا کہ سب سے بڑا کبیرہ گناہ شراب پینا ہے۔ میں ان کے پاس آیا اور انہیں بتایا تو انہوں نے اس بات کا انکار کر دیا اور سب کے سب ان کی طرف چل پڑے۔ (اور ان کے گھر آگئے) عبداللہ  ؓ نے انہیں بتایا کہ رسول اللہ  ‌ﷺ ‌نے فرمایا: بنی اسرائیل میں ایک بادشاہ نے ایک آدمی کو پکڑااور اسے اختیار دیا کہ وہ شراب پئے یا بچے کو قتل کر دے۔ یا زنا کرے یا خنزیر کا گوشت کھائے۔ اگر اس نے انکار کیا تو وہ اسے قتل کر دیں گے۔اس نے شراب کو اختیار کیا، جب اس نے شراب پی لی،تو جن کاموں کا اس سے مطالبہ ہوا تھا کسی سے بھی باز نہیں رہا، اس وقت رسول اللہ  ‌ﷺ ‌نے ہم سے فرمایا: جو شخص شراب پیتا ہے چالیس دن تک اس کی نماز قبول نہیں ہوتی اور جو شخص مرجائے اور اس کے مثانے میں کچھ(تھوڑی سی ہی ) شراب ہو تو اس پر جنت حرام ہے،اور اگر وہ چالیس دن کے اندر مر جائے تو وہ جاہلیت کی موت مرے گا۔
[الصحيحة:2695، المعجم الكبير للطبراني:1528]





عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ  ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَخْطُبُ بِالْمَدِينَةِ قَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ اللهَ تَعَالَى يُعَرِّضُ بِالْخَمْرِ وَلَعَلَّ اللهَ سَيُنْزِلُ فِيهَا أَمْرًا فَمَنْ كَانَ عِنْدَهُ مِنْهَا شَيْءٌ فَلْيَبِعْهُ وَلْيَنْتَفِعْ بِهِ. فَمَا لَبِثْنَا إِلَّا يَسِيرًا حَتَّى قَالَ النَّبِيُّ  ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌إِنَّ اللهَ تَعَالَى حَرَّمَ الْخَمْرَ فَمَنْ أَدْرَكَتْهُ هَذِهِ الْآيَةُ وَعِنْدَهُ مِنْهَا شَيْءٌ فَلَا يَشْرَبْ وَلَا يَبِعْ .
ترجمہ:
ابو سعید خدری‌ؓ سے مروی ہے كہ رسول اللہ ﷺ نے مدینے میں خطبہ دیا: اے لوگو  اللہ تعالیٰ نے شراب کی حرمت کا اشارہ دیا ہے۔ اورممكن ہے جلد ہی اللہ تعالیٰ اس كے بارے میں كوئی حكم نازل كر دے۔ تو جس شخص كے پاس اس میں سے كوئی چیز ہے اسے بیچ دے اور اس سے فائدہ اٹھائے۔ ابھی تھوڑا ہی عرصہ گزرا تھا كہ نبی ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے شراب حرام كر دی ہے۔ جس شخص تك یہ آیت پہنچے اور اس كے پاس شراب ہو تو اسے نہ پئے اور نہ ہی فروخت كرے
[الصحيحة:2348، صحيح مسلم:2956،كِتَاب الْمُسَاقَاةِ، بَاب تَحْرِيمِ بَيْعِ الْخَمْرِ]
شراب کے نقصانات: عقلی و نقلی پہلو

انفرادی نقصانات (عقلی پہلو)

1. صحت پر تباہ کن اثرات (جگر کی بیماریاں، ہیپاٹائٹس، سروسس)
2. ذہنی صحت کا خراب ہونا (ڈپریشن، اضطراب، نفسیاتی مسائل)
3. یادداشت اور فیصلہ سازی کی صلاحیت متاثر ہونا
4. معاشی نقصان (ضروریات پر خرچ کی بجائے شراب پر پیسہ ضائع)
5. خاندانی تعلقات کی خرابی
6. جسمانی قوت و توانائی میں کمی
7. قبل از وقت بڑھاپا اور جسمانی حسن کا خاتمہ
8. حادثات کا خطرہ (ڈرائیونگ، کام کے مقام پر)
9. قوت مدافعت کا کمزور ہونا
10. جنسی صلاحیتوں میں کمی
11. نیند کے مسائل اور بے خوابی
12. غذائی قلت اور صحت مند غذا سے محرومی

اجتماعی نقصانات (عقلی پہلو)

1. خاندانی نظام کی تباہی
2. گھریلو تشدد میں اضافہ
3. معاشرتی جرائم میں اضافہ
4. حادثات اور اموات میں اضافہ
5. کارکردگی اور پیداواری صلاحیت میں کمی
6. صحت کے نظام پر بوجھ
7. غربت اور معاشی مسائل میں اضافہ
8. سماجی بے راہ روی
9. نئی نسل کی بربادی
10. سماجی تقدس اور اخلاقیات کا خاتمہ

نقلی دلائل (مذہبی نقصانات)

1. اللہ تعالیٰ کی نافرمانی (قرآن مجید میں صریح حرام قرار دی گئی)
2. نماز اور دیگر عبادات سے محرومی (الکبائر: امام نووی)
3. فرشتوں کی نفرت اور بددعا (صحیح مسلم)
4. شیطان کا قریب ہونا اور وسوسے بڑھنا
5. عقل کا زوال جو انسان کی امتیازی صفت ہے
6. دُعا کی قبولیت میں رکاوٹ (سنن الترمذی)
7. آخرت میں سخت عذاب کا سبب
8. ایمان کی کمزوری اور روحانی موت
9. نیک اعمال کے ثواب کی بربادی
10. برے عمل کی دعوت دینے والوں کی صحبت

مزید عقلی نقصانات

1. قانونی مسائل (شراب نوشی کے جرائم)
2. پیشہ ورانہ زندگی کا خاتمہ (ملازمت سے برطرفی)
3. سماجی عزت و وقار کا خاتمہ
4. بچوں کی پرورش پر منفی اثرات
5. خودکشی کے رجحانات میں اضافہ
6. دائمی بیماریوں کا باعث
7. معاشرتی علیحدگی اور تنہائی
8. انسانیت اور شرافت کی موت

مذہبی حوالے

· قرآن مجید میں شراب کو "رجس" (ناپاک چیز) قرار دیا گیا (المائدہ: 90)
· حدیث: "ہر نشہ آور چیز حرام ہے" (بخاری و مسلم)
· حدیث: "شراب تمام برائیوں کی جڑ ہے" (بیہقی)

نتیجہ: شراب انسانی زندگی کے ہر پہلو - فرد، خاندان، معاشرہ، صحت، معیشت اور آخرت - کے لیے تباہ کن ہے۔ عقلی دلائل بھی اس کے نقصانات پر شاہد ہیں اور نقلی دلائل (قرآن و حدیث) میں اس کی حرمت قطعی ہے۔






عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَر قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ  ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ثَلَاثَةٌ لَا يَنْظُرُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَيْهِمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ الْعَاقُّ لِوَالِدَيْهِ وَالْمَرْأَةُ الْمُتَرَجِّلَةُ وَالدَّيُّوثُ وَثَلَاثَةٌ لَا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ الْعَاقُّ لِوَالِدَيْهِ وَالْمُدْمِنُ الْخَمْرِ وَالْمَنَّانُ بِمَا أَعْطَى.
ترجمہ:
عبداللہ بن عمر  ؓ سے مروی ہے كہ رسول اللہ  ‌ﷺ ‌نے فرمایا: تین شخص ہیں جن كی طرف قیامت كے دن اللہ تعالیٰ دیکھے گا بھی نہیں۔ اپنے والدین كا نافرمان، مردوں كی مشابہت كرنے والی عورت، اور دیوث، اورتین شخص ہیں جوجنت میں داخل نہیں  ہوں گے۔ اپنے والدین كا نافرمان، دائمی شرابی، اور دے كر احسان جتلانے والا۔
[الصحيحة:674، سنن انسائي:2515،كِتَاب الزَّكَاةِ، باب الْمَنَّانُ بِمَا أَعْطَى]





عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مرفوعاً: لَا يَزْنِي الزَّانِي حِينَ يَزْنِي وَهُوَ مُؤْمِنٌ وَلَا يَشْرَبُ الْخَمْرَ حِينَ يَشْرَبُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ وَلَا يَسْرِقُ حِينَ يَسْرِقُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ وَلَا يَنْتَهِبُ نُهْبَةً يَرْفَعُ النَّاسُ إِلَيْهِ أَبْصَارَهُمْ وَهُوَ مُؤْمِنٌ.
ترجمہ:
ابو ہریرہ  ؓ سے مرفوعا مروی ہے كہ: زانی جب زنا كرتا ہے تو مومن نہیں رہتا، اور شرابی جب شراب پیتا ہے تو مومن نہیں رہتا اور  چور جب چوری كرتا ہے تو مومن نہیں رہتا اور ڈاكو جب ڈاكہ ڈالتا ہے اور لوگوں كی آنكھیں اس كی طرف اٹھی ہوں تو وہ مومن نہیں رہتا۔
[الصحيحة:3000، صحيح البخاري:2295، كِتَاب الْمَظَالِمِ وَالْغَصْبِ بَاب النُّهْبَى بِغَيْرِ إِذْنِ صَاحِبِهِ]





عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ  صلی اللہ علیہ وسلم : لَيَسْتَحِلَّنَّ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي الْخَمْرَ بِاسْمٍ يُسَمُّونَهَا إِيَّاهُ (وفي رواية: يُسَمُّونَهَا بِغَيْرِ اسْمِهَا).

ترجمہ:
عبادہ بن صامت ؓ  سے مروی ہے کہ رسول اللہ  ‌ﷺ ‌نے فرمایا: میری امت کا ایک گروہ شراب کا نام بدل کر اسے حلال کر لے گا۔ 
[الصحيحة:90، سنن ابن ماجة كِتَاب الْأَشْرِبَةِ بَاب الْخَمْرِ يُسَمُّونَهَا بِغَيْرِ اسْمِهَا رقم (3375-3376)، مسند أحمد:21651]


عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ  ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقُولُ: «إِنَّ أَوَّلَ مَا يُكْفَأُ». يَعْنِى الإِسْلاَمَ: «كَمَا يُكْفَأُ، يَعني الْخَمْر». فَقِيلَ: فَكَيْفَ يَا رَسُولَ اللهِ! وَقَدْ بَيَّنَ اللهُ فِيهَا مَا بَيَّنَ؟ قَالَ رَسُولُ اللهِ  صلی اللہ علیہ وسلم :«يُسَمُّونَهَا بِغَيْرِ اسْمِهَا».
ترجمہ:
عائشہ ؓ  سے مروی ہے کہ رسول اللہ  ‌ﷺ ‌نے فرمایا: سب سے پہلی چیز جو الٹ دی جائے گی یعنی اسلام میں سے جیسے برتن کو الٹ دیا جاتا ہے۔ یعنی شراب ہے۔ پوچھا گیا کہ: اے اللہ کے رسول یہ کیسے ہوگا جبکہ اس کے بارے یں تو اللہ تعالیٰ نے پوری وضاحت فرمادی ہے؟ کہا گیا: اے اللہ کے رسول  ‌ﷺ ‌!اللہ تعالیٰ نے تو اس میں واضح طور پر بیان کر دیا ہے؟رسول اللہ  ‌ﷺ ‌نے فرمایا: وہ اس کا نام بدل لیں گے۔
[الصحيحة:89، سنن الدارمي:2153، كتابة الأشربة باب مَا قِيلَ فِى الْمُسْكِرِ]


عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ  ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِنَّ أُنَاسًا مِنْ أُمَّتِي يَشْرَبُونَ الْخَمْرَ يُسَمُّونَهَا بِغَيْرِ اسْمِهَا.
ترجمہ:
نبی  ‌ﷺ ‌كے ایك صحابی نے بیان كیا كہ رسول اللہ  ‌ﷺ ‌نے فرمایا: میری امت كے كچھ لوگ شراب پیئں  گے اور اسے  كوئی دوسرا نام دیں گے۔
[الصحيحة:414، مسند أحمد رقم (17379]



عَنِ ابنِ عَبّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ  صلی اللہ علیہ وسلم : «لَيَبِيتَنّ قَوْمٌ من هَذِه الْأُمَّةِ عَلَى طعامٍ وَشَرَابٍ ولهوٍ، ويُصْبِحُوا قَدْ مُسِخُوا قِرَدَة وَخَنَازِير».
ترجمہ:
ابن عباس  ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نےفرمایا:اس امت میں سے ایک قوم شراب و کباب اور گانے بجانے میں رات گزارے گی صبح ہوگی تو ان کے چہرے  بندروں اور خنزیروں کی صورت میں تبدیل ہو چکے ہوں گے
[الصحيحة:1604، المعجم الصغير للطبراني رقم (168]



عَنْ أَنسٍ مَرفُوعاً: لَيَكُوننّ في هَذِه الْأَمَةِ خَسفٌ، وَقَذفٌ، وَمَسْخٌ وَذَلِك إِذَا شَرِبُوا الْخُمُور وَاتَّخَذُوا الْقَيْنَات وَضَرَبُوا بِالْمَعَازِف.
ترجمہ:
انس‌ؓ سے مرفوعا مروی ہے کہ اس امت میں زمین میں دھنسنا، پتھروں کی بارش اور چہروں کا بدلنا ہوگا، یہ اس وقت ہوگا جب لوگ شراب پئیں گے، اور گانے بجانے والیوں کو کا اہتمام کریں گے اور آلات موسیقی بجائیں گے۔
[الصحيحة:2203]





عن ابن عمر قَالَ: نَهَى ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌عَنْ مَطْعَمَيْنِ عَنِ الْجُلُوسِ عَلَى مَائدَةٍ يُشْرَبُ عَلَيْهَا الْخَمْرُ وَأَنْ يَأْكُلَ الرَّجُلُ وَهُومُنْبَطِحٌ عَلَى بَطْنِهِ.
ترجمہ:
عبداللہ بن عمر ؓ سے مروی ہے كہ آپ  ‌ﷺ ‌نے دوكھانوں (كھانے كی جگہوں) سے منع فرمایا۔ اس دستر خوان پر بیٹھنے سے جس پر شراب پی جاتی ہو۔ اور آدمی اس حالت میں كھائے كہ وہ اپنے پیٹ  کے بل لیٹا ہو۔
[الصحيحة:388، سنن أبي داؤد:3234،كِتَاب الْأَشْرِبَةِ، بَاب فِي الشُّرْبِ مِنْ ثُلْمَةِ الْقَدَحِ]





عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولَ اللهِ  صلی اللہ علیہ وسلم : أُتِيتُ بِالْبُرَاقِ وَهُوَ دَابَّةٌ أَبْيَضُ طَوِيلٌ فَوْقَ الْحِمَارِ وَدُونَ الْبَغْلِ يَضَعُ حَافِرَهُ عِنْدَ مُنْتَهَى طَرْفِهِ قَالَ فَرَكِبْتُهُ حَتَّى أَتَيْتُ بَيْتَ الْمَقْدِسِ قَالَ فَرَبَطْتُهُ بِالْحَلْقَةِ الَّتِي يَرْبِطُ بِهَا الْأَنْبِيَاءُ قَالَ: ثُمَّ دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ فَصَلَّيْتُ فِيهِ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ خَرَجْتُ فَجَاءَنِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام بِإِنَاءٍ مِنْ خَمْرٍ وَإِنَاءٍ مِنْ لَبَنٍ فَاخْتَرْتُ اللَّبَنَ فَقَالَ جِبْرِيلُ:  اخْتَرْتَ الْفِطْرَةَ.....
ترجمہ:
انس بن مالک‌ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میرے پاس براق لایا گیا، یہ ایک سفید لمبا جانور تھا۔ گدھے سے بڑا اور خچر سے چھوٹا، جہاں اس کی نگاہ ختم ہوتی وہاں اس کا قدم پڑتا، میں اس پر سوار ہوا اور بیت المقدس میں آیا، اور اسے اس ستون سے باندھ دیا جس سے انبیاء سواریاں باندھا کرتے تھے۔ پھر میں مسجد میں داخل ہوا اور اس  میں دو رکعت نماز پڑھی، پھر میں باہر نکلا، جبریل علیہ السلام میرے پاس ایک برتن لائے جس میں شراب تھی، اور دوسرا برتن لائے جس میں دودھ تھا، میں نے دودھ کو پسند کیا۔ جبریل علیہ السلام نے کہا: آپ نے فطرت کو اختیار کیا ہے....
[الصحيحة:3987، صحيح البخاري:3606، كِتَاب الْمَنَاقِبِ بَاب تَزْوِيجِ النَّبِيِّ ﷺ]











عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ عَنِ النَّبِيِّ  ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ عَاقٌّ وَلَا مُدْمِنُ خَمْرٍ وَلَا مُكَذِّبٌ بِقَدَرٍ.
ترجمہ:
ابودرداء‌ؓ سے مروی ہے كہ نبی  ‌ﷺ ‌نے فرمایا: (والدین کا) نافرمان، دا ئمی شرابی اور تقدیر كوجھٹلانے والا جنت میں  داخل نہیں   ہوں گے۔
[الصحيحة:675، مسند أحمد:26212]

عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍوعَنْ النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ عَاقٌّ وَلَا مَنَّانٌ وَلَا مُدْمِنُ خَمْرٍ (وَلَا وَلَدُ زِنْيَةٍ).
ترجمہ:
عبداللہ بن عمرو ؓ سے مروی ہے كہ نبی ‌ﷺ ‌نے فرمایا: (والدین کا) نافرمان، احسان جتلانے والا دائمی شرابی( اور زنا كا بچہ) جنت میں داخل نہیں ہوں گے۔
[الصحيحة:673، مسند أحمد:6598]






عن أبي مَوسَى الْأَشْعَرِيّ قال قال رَسُول الله صلی اللہ علیہ وسلم :لَا يَدْخُلُ الْجَنَّة مُدْمِنُ خَمْرٍ ولَا مُؤْمِنٌ بِسِحَر ولَا قَاطَعَ رَحِمٍ .
ترجمہ:
ابوموسیٰ اشعری‌ؓ سے مروی ہے كہ رسول اللہ ‌ﷺ ‌نے فرمایا: دائمی شرابی، جادو پر یقین ركھنے والا، اور رشتہ داری توڑنے والا جنت میں داخل نہیںِ ہوں گے۔
[الصحيحة:678، صحيح ابن حبان:1381]










عَنِ ابْنَ عَبَّاسٍ قال: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم يَقُولُ: أَتَانِي جِبْرِيلُ فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ! إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ لَعَنَ الْخَمْرَ وَعَاصِرَهَا وَمُعْتَصِرَهَا وَشَارِبَهَا وَحَامِلَهَا وَالْمَحْمُولَةَ إِلَيْهِ وَبَائعَهَا وَمُبْتَاعَهَا وَسَاقِيَهَا وَمُسْتَقِيَهَا.
ترجمہ:
عبداللہ بن عباس ؓ نے كہا كہ میں نے رسول اللہ  ‌ﷺ ‌سے سنا فرما رہے تھے:میرے پاس جبریل علیہ السلام آئے اور كہا: اے  محمد ﷺ! یقینا اللہ عزوجل نے شراب پر، اسے كشید كروانے والے پر، كشید  كرنے والے پر، پینے والے پر، اٹھانے والے پر، جس كی طرف لے جائی جائے اس پر، بیچنے والے پر، خریدنے والے پر، پلانے والے پر اور طلب كرنے والے پر لعنت فرمائی ہے۔
[الصحيحة:839، مسند أحمد رقم (2747)]













عَنِ ابن مَسعود، عَن النبي  ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قال: «بَيْن يَدَي السَّاعَة يَظْهَر الرِّبَا، وَالزِّنَا، وَالْخَمْر».
ترجمہ:
ابن مسعود ؓ  سے مروی ہے کہ نبی  ‌ﷺ ‌نے فرمایا: قیامت سے پہلے سود ،زنا اور شراب عام ہو جائے گی
[الصحيحة:3415، المعجم الأوسط للطبراني:7910]



عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ (بن عمر) عَنِ أَبِيهِ عَنْ النّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: حَرَّمَ اللهُ الْخَمْرَ وَكُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ.

ترجمہ:

سالم بن عبداللہ (بن عمر) ؓ اپنے والد سے بیا ن كرتے ہیں كہ نبی ‌ﷺ ‌نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے شراب حرام كر دی ہے، اور ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔

[الصحيحة:1814، سنن النسائي:5604،كِتَاب الْأَشْرِبَةِ، باب ذِكْرُ الْأَخْبَارِ]




عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ  ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقُولُ الْخَمْرُ مِنْ هَاتَيْنِ الشَّجَرَتَيْنِ النَّخْلَةِ وَالْعِنَبَةِ.

ترجمہ:

ابوہریرہ‌ؓ سے مروی ہے كہ میں نے رسول اللہ  ‌ﷺ ‌سے سنا فرما رہے تھے،شراب ان دودرختوں میں سے ہے:كھجور اور انگور۔

[الصحيحة:3159، صحيح مسلم:3672،كِتَاب الْأَشْرِبَةِ، بَاب بَيَانِ أَنَّ جَمِيعَ مَا يُنْبَذُ]




عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : مُدْمِنُ الْخَمْرِ إِنْ مَاتَ لَقِيَ اللهَ كَعَابِدِ وَثَنٍ.

ترجمہ:

عبداللہ بن عباس ؓ سے مروی ہے كہ رسول اللہ ‌ﷺ ‌نے فرمایا: دائمی شرابی اگر مرگیا تواللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملے گا گویا وہ بت كا پجاری ہو۔

[الصحيحة:2265، سنن الترمذي:2303،كِتَاب الزُّهْدِ،بَاب مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ كَثْرَةِ الْأَكْلِ]





عَنْ أَبِي ذَرٍّ رضی اللہ عنہ  قَالَ: خَرَجْتُ لَيْلَةً مِنْ اللَّيَالِي فَإِذَا رَسُولُ اللهِ  ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَمْشِي وَحْدَهُ لَيْسَ مَعَهُ إِنْسَانٌ قَالَ: فَظَنَنْتُ أَنَّهُ يَكْرَهُ أَنْ يَمْشِيَ مَعَهُ أَحَدٌ قَالَ: فَجَعَلْتُ أَمْشِي فِي ظِلِّ الْقَمَرِ قَالَ: فَالْتَفَتَ فَرَآنِي فَقَالَ: مَنْ هَذَا؟ قُلْتُ: أَبُو ذَرٍّ جَعَلَنِي اللهُ فِدَاءَكَ قَالَ: يَا أَبَا ذَرٍّ! تَعَالَهْ قَالَ: فَمَشَيْتُ مَعَهُ سَاعَةً فَقَالَ: إِنَّ الْمُكْثِرِينَ هُمْ الأَقَلُّونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلَّا مَنْ أَعْطَاهُ اللهُ خَيْرًا فَنَفَحَ فِيهِ يَمِينَهُ وَشِمَالَهُ وَبَيْنَ يَدَيْهِ وَوَرَاءَهُ وَعَمِلَ فِيهِ خَيْرًا قَالَ فَمَشَيْتُ مَعَهُ سَاعَةً فَقَالَ لِي: اجْلِسْ هَا هُنَا فَقَالَ: فَأَجْلَسَنِي فِي قَاعٍ حَوْلَهُ حِجَارَةٌ فَقَالَ لِي: اجْلِسْ هَا هُنَا حَتَّى أَرْجِعَ إِلَيْكَ قَالَ: فَانْطَلَقَ فِي الْحَرَّةِ حَتَّى لَا أَرَاهُ فَلَبِثَ عَنِّي فَأَطَالَ اللُّبْثَ ثُمَّ إِنِّي سَمِعْتُهُ وَهُوَ مُقْبِلٌ يَقُولُ: وَإِنْ سَرَقَ وَإِنْ زَنَى! قَالَ: فَلَمَّا جَاءَ لَمْ أَصْبِرْ حَتَّى فَقُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللهِ! جَعَلَنِي اللهُ فِدَاءَكَ مَنْ تُكَلِّمُ فِي جَانِبِ الْحَرَّةِ؟ مَا سَمِعْتُ أَحَدًا يَرْجِعُ إِلَيْكَ شَيْئًا قَالَ: ذَلِكَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام عَرَضَ لِي فِي جَانِبِ الْحَرَّةِ قَالَ بَشِّرْ أُمَّتَكَ أَنَّهُ مَنْ مَاتَ لَا يُشْرِكُ بِاللهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ قُلْتُ يَا جِبْرِيلُ! وَإِنْ سَرَقَ وَإِنْ زَنَى؟ قَالَ نَعَمْ قَالَ قُلْتُ وَإِنْ سَرَقَ وَإِنْ زَنَى؟ قَالَ نَعَمْ وَإِنْ شَرِبَ الْخَمْرَ.

ترجمہ:

ابو ذر  ؓ كہتے ہیں كہ ایك رات میں باہر نكلا كیا دیكھتا ہوں كہ رسول اللہ ﷺ اكیلے چلے جا رہے ہیں، ان كے ساتھ كوئی  بھی نہیں۔ میں سمجھا شاید انہیں اچھا نہ لگتا ہو كہ كوئی ان كے ساتھ چلے، میں چاند كے سائے میں چلنے لگا۔ آپ نے میری طرف دیكھا تو پوچھا: كون ہو؟ میں نے كہا: اللہ تعالیٰ مجھے آپ پر قربان كرے،میں ابو ذر ہوں۔ فرمایا اے  ابو ذرآجاؤ میں كچھ دیر آپ كے ساتھ چلا تو آپ نے كہا: زیادہ جمع كرنے والے قیامت كے دن سب سے كم مال والے ہوں گے سوائے اس كے جسے اللہ تعالیٰ مال عطا كرے، تو وہ اسے اپنے دائیں بائیں آگے پیچھے خرچ كرے اور اس كے ساتھ بھلائی كا كام كرے۔ پھر میں كچھ دیر آپ كے ساتھ چلتا رہاآپ نے مجھے ایک نرم زمین  پربٹھایا  اس کے اردگرد پتھر پڑے ہوئے تھےتو آپ نے مجھ سے كہا یہاں بیٹھ جاؤ۔ جب تك میں واپس نہ آ جاؤں، آپ حرہ (نامی وادی)میں چلتے ہوئے آنكھوں سے اوجھل ہو گئے۔ آپ كافی دیر بعد آئے، پھر میں نے انہیں كہتے ہوئے سنا: اگرچہ وہ چوری كرے یا زنا كرے۔ جب وہ آئے تو مجھ سے صبر نہ ہو سكا میں نے كہا: اے اللہ كے نبی ﷺ! اللہ تعالیٰ مجھے آپ پر قربان كرے، حرہ كی طرف كس سے بات كی جا رہی تھی؟ میں نے كسی شخص كو جواب دیتے ہوئے نہیں سنا۔ آپ  ‌ﷺ ‌نے فرمایا: وہ جبریل تھے جو حرہ كی جانب مجھ سے ملے اور كہنے لگے اپنی امت كو خوشخبری دے دیجئے كہ جو شخص اس حال میں مرا كہ اس نے اللہ تعالیٰ كے ساتھ شرك نہ كیا ہو وہ جنت میں داخل ہو گا۔ میں نے كہا: اے جبریل  اگرچہ اس نے چوری كی ہو اور زنا كیا ہو؟ جبریل نے كہا: ہاں۔ میں نے كہا: اگر چہ اس نے چوری كی ہو اور زنا كیا ہو؟ جبریل نے كہا: ہاں۔ اگرچہ اس نے شراب بھی كیوں نہ پی ہو۔

[الصحيحة:826، صحيح البخاري:5962، كِتَاب الرِّقَاقِ بَاب الْمُكْثِرُونَ هُمْ الْمُقِلُّونَ]






عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَدِمَ وَفْدُ عَبْدِ الْقَيْسِ عَلَى رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَقَالُوا: يَا رَسُول اللهِ! إِنَّا هَذَا الْحَيِّ مِنْ رَبِيعَة وَقَد حَالَت بَيْنَنَا وَبَيْنَكَ كُفَار مُضَر فَلَا نَخْلُصُ إِلَيْكَ إِلَّا فِي الشَّهْرِ الْحَرَامِ فَمُرْنَا بِأَمْرٍ نَعْمَلَ بِه وَنَدْعُوإِلَيْهِ مَنْ وَرَائنَا قَالَ آمُرُكُمْ بِأَرْبَعٍ وَأَنْهَاكُمْ عَنْ أَرْبَعٍ الْإِيمَانِ بِاللهِ ثُمَّ فَسَّرَهَا لَهُمْ فقال: شَهَادَةُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَأَنَّ مُحَمَّدَ رَسُولُ اللهِ وَعَقَدَ وَاحِدةً وَإِقَامُ الصَّلَاةِ وَإِيتَاءُ الزَّكَاةِ وَأَنْ تُؤَدُّوا خُمُسَ مَا غَنِمْتُمْ وَأَنْهَاكم عَنْ الدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَالنَّقِيرِ وَالْمُقَيَّرِ.

ترجمہ:

عبداللہ بن عباس ؓ سے مروی ہے كہ عبدالقیس کا وفد رسول اللہ ‌ﷺ ‌كے پاس آیا اور كہا: اے اللہ كے رسول ہم بنو ربیعہ سے تعلق ركھتے ہیں۔ ہمارے اور آپ كے درمیان كفارِ مضر ہیں ہم آپ كے پاس صرف حرمت والے مہینوں میں آسكتے ہیں۔ ہمیں كسی ایسے كام كا حكم دیجئے جس پر ہم عمل كر سكیں اور جوہمارے پیچھے ہیں انہیں اس كی دعوت دیں آپ ‌ﷺ ‌نے فرمایا: میں تمہیں چار باتوں كا حكم دیتا ہوں اورچار باتوں سے منع كرتا ہوں۔ اللہ پر ایمان، پھر ان كے لئے وضاحت كی كہ اس بات كی گواہی دینا كہ اللہ كے علاوہ كوئی معبودِ برحق نہیں، اور میں محمد ‌ﷺ ‌اللہ کا رسول ہوں، آپ نے ان کے لیے اس کی تفسیر بیان کی۔ نماز قائم كرنا، زكوٰۃ ادا كرنا، اور تمہیں جوغنیمت حاصل ہواس كا پانچواں حصہ دینا اور میں تمہیں کدوکے برتن،شراب والے برتن(جوسبزی مائل ہوتاہے)،تارکول ملے ہوئے برتن اور لکڑی کے برتن سے منع کرتا ہوں۔  

[الصحيحة:3957، صحيح البخاري:492،كِتَاب مَوَاقِيتِ الصَّلَاةِ،بَاب قَوْلُ اللَّهِ تَعَالَى: مُنِيبِينَ إِلَيْهِ...]





عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌نَهَى عَنْ ثَمَنِ الْخَمْرِ وَمَهْرِ الْبَغِيِّ وَثَمَنِ الْكَلْبِ وَقَالَ: إِذَا جَاءَكَ يَطْلُبُ ثَمَنَ الْكَلْبِ فَامْلَأْ كَفَّيْهِ تُرَابًا.

ترجمہ:

) عبداللہ بن عباس ؓ سے مروی ہے كہ آپ ‌ﷺ ‌نے شراب كی قیمت، زانیہ كی كمائی اور كتے كی قیمت لینے سے منع فرمایا،اور فرمایا كہ جب كوئی شخص تمہارے پاس كےس كی قیمت لینے آئے تو اس كے دونوں ہاتھ مٹی سے بھر دو۔

[الصحيحة:1303، مسند أحمد:3103]






عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی اللہ عنہ مرفوعا: إِنَّ رَجُلًا كَانَ يَبِيْعُ الخَمْرَ فِي سَفِينَةٍ، وَكَانَ يَشُوْبُ الخَمْرَ بِالمَاء، وَمَعَهُ قِرْدٌ فَأَخذَ الكِيْس فَصَعِدَ الدَّقَلَ، فَجَعَلَ يُلقي دِينَارًا فِي الْبَحْرِ وَدِينَارًا فِي السَّفِينَةِ ، حَتَّى جَعلَه نِصفَين.

ترجمہ:

ابو ہریرہ ؓ سے مروی ہے كہ كسی كشتی میں ایك آدمی شراب بیچ رہا تھا اور شراب میں پانی ملا رہا تھا۔ اس كے پاس ایك بندر بیٹھا ہوا تھا۔ اس نے تھیلی پکڑی اور بادبان کی لکڑی پر چڑھ گیا اور ایك دینار سمندر میں اور ایك دینار كشتی میں پھینكنا شروع كر دیا۔ حتی كہ انہیں دو حصوں میں تقسیم كر دیا۔

[الصحيحة:2844، مسند أحمد:7710، شعب الإيمان للبيهقي :5075]







عَنْ عَبْدِ اللهِ بن عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : ثَمَنُ الْخَمْرِ حَرَامٌ، وَمَهْرُ الْبَغِيِّ حَرَامٌ، وَثَمَنُ الْكَلْبِ حَرَامٌ، وَالْكُوبَةُ حَرَامٌ، وَإِنْ أَتَاكَ صَاحِبُ الْكَلْبِ يَلْتَمِسُ ثَمَنَهُ، فَامْلأْ يَدَيْهِ تُرَابًا، وَالْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَكُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ.

ترجمہ:

عبداللہ بن عباس ؓ سے مروی ہے كہ رسول اللہ ‌ﷺ ‌نے فرمایا: شراب كی كمائی حرام ہے، زانیہ كی كمائی حرام ہے، كتےكی كمائی حرام ہے۔شطرنج یا نرد(ڈگڈگی، طبلے وغیرہ)حرام ہیں،اگر تمہارے پاس كتے كا مالك آئے اور قیمت كا مطالبہ كرے تو اس كے دونوں ہاتھ مٹی سے بھر دو، شراب، جوا، اور ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔

[الصحيحة:1806، المعجم الكبير للطبراني:12435]





عَنْ عَائِشَةَ زَوْج النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَتْ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌عَنْ هَذِهِ الْآيَةِ: وَ الَّذِیۡنَ یُؤۡتُوۡنَ مَاۤ اٰتَوۡا وَّ قُلُوۡبُہُمۡ وَجِلَۃٌ (المؤمنون: ٦٠)قَالَتْ عَائِشَةُ: أَهُمُ الَّذِينَ يَشْرَبُونَ الْخَمْرَ وَيَسْرِقُونَ؟ قَالَ: لَا يَا بِنْتَ الصِّدِّيقِ! وَلَكِنَّهُمْ الَّذِينَ يَصُومُونَ وَيُصَلُّونَ وَيَتَصَدَّقُونَ وَهُمْ يَخَافُونَ أَنْ لَا يُقْبَلَ مِنْهُمْ اُولٰٓئِکَ یُسٰرِعُوۡنَ فِی الۡخَیۡرٰتِ (المؤمنون: ٦١) .

ترجمہ:

عائشہ ؓ سے مروی ہے كہ میں نے اس آیت كے متعلق رسول اللہ ‌ﷺ ‌سے سوال كیا: وَ الَّذِیۡنَ یُؤۡتُوۡنَ مَاۤ اٰتَوۡا وَّ قُلُوۡبُہُمۡ وَجِلَۃٌ (المؤمنون: ٦٠) وہ لوگ جو دیتے ہیں اور ان كے دل ڈر رہے ہوتے ہیں۔ عائشہ ؓ نے كہا: كیا یہ وہ لوگ ہیں جو شراب پیتے ہیں اور فضول خرچی كرتے ہیں؟ آپ ‌ﷺ ‌نے فرمایا: نہیں صدیق كی بیٹی! یہ وہ لوگ ہیں جو روزہ ركھتے ہیں، نماز پڑھتے ہیں، صدقہ كرتے ہیں، اور ڈرتے ہیں كہ شاید قبول نہ كیا جائے اُولٰٓئِکَ یُسٰرِعُوۡنَ فِی الۡخَیۡرٰتِ (المؤمنون: ٦١) یہی لوگ نیك كاموں میں جلدی كرتے ہیں۔

[الصحيحة:162، سنن الترمذي:3099،كِتَاب تَفْسِيرِ الْقُرْآنِ، بَاب وَمِنْ سُورَةِ الْمُؤْمِنُونَ]







عَنْ عَبْدِ اللهِ بن عَمْرِو مرفوعاً: الْخَمْرُ أُمُّ الْخَبَائِثِ، وَمَنْ شَرِبَهَا لَمْ يَقْبَلِ اللهُ مِنْهُ صَلاتَهُ أَرْبَعِينَ يَوْمًا، فَإِنْ مَاتَ وَهِيَ فِي بَطْنِهِ مَاتَ مَيْتَةً جَاهِلِيَّةً.

ترجمہ:

عبداللہ بن عمرو ؓ سے مرفوعا مروی ہے كہ: شراب خبائث كی جڑ (ام الخبائث)ہے۔ جس شخص نے شراب پی اللہ تعالیٰ چالیس دن تك اس كی نماز قبول نہیں كرے گا، اگر وہ مرگیا اور شراب اس كے پیٹ میں ہوئی تو وہ جاہلیت كی موت مرے گا۔

[الصحيحة:1829، غريب الحديث لأبي عبيدة (2/102)]






عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَفعَه: الْخَمْرُ أُمُّ الْفَوَاحِشِ وَأَكْبَرُ الْكَبَائِرِ مَنْ شَرِبَهَا وَقَعَ عَلَى أُمِّهِ وَخَالَتِهِ وَعَمَّتِهِ.

ترجمہ:

عبداللہ بن عباس ؓ سے مرفوعا مروی ہے كہ: شراب فواحش كی جڑ ہے، اور سخت كبیرہ گنا ہ ہے۔ جس شخص نے شراب پی گویا وہ اپنی ماں، خالہ اور پھوپھی پر واقع ہوا( یعنی زناكیا)۔ 

[الصحيحة:1854، المعجم الأوسط:3810]






عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ مرفوعاً: كُلُّ مُخَمِّرٍ خَمْرٌ وَكُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ وَمَنْ شَرِبَ مُسْكِرًا بُخِسَتْ صَلاَتُهُ أَرْبَعِينَ صَبَاحًا فَإِنْ تَابَ تَابَ اللهُ عَلَيْهِ فَإِنْ عَادَ الرَّابِعَةَ كَانَ حَقًّا عَلَى اللهِ أَنْ يَسْقِيَهُ مِنْ طِينَةِ الْخَبَالِ. قِيلَ: وَمَا طِينَةُ الْخَبَالِ؟ قَالَ: صَدِيدُ أَهْلِ النَّارِ وَمَنْ سَقَاهُ صَغِيرًا لاَ يَعْرِفُ حَلاَلَهُ مِنْ حَرَامِهِ كَانَ حَقًّا عَلَى اللهِ أَنْ يُسْقِيَهُ مِنْ طِينَةِ الْخَبَالِ.

ترجمہ:

عبداللہ بن عباس ؓ سے مرفوعا مروی ہے كہ ہر نشہ آور چیز شراب كے زمرے میں آتی ہے۔ اور ہر نشہ آور چیز حرام ہے، جس شخص  نے شراب پی اس كی نماز چالیس دن تك ضائع كر دی گئی۔ اگر اس نے توبہ كر لی تو اللہ تعالیٰ بھی اس كی توبہ قبول كر لے گا، اگر اس نے چوتھی مرتبہ شراب پی تو اللہ تعالیٰ كا حق ہے كہ اسے طینۃ الباسل سے پلائے۔ پوچھا گیا یہ طینۃ الباہل كیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: دوزخیوں كی پیپ، اور جس شخص نے كسی چھوٹے بچے كو شراب پلائی جسے حلال و حرام كی سمجھ نہیں تھی اللہ تعالیٰ پر لازم ہے كہ اسے جہنمیوں كی پیپ پلائے۔

[الصحيحة:2039، سنن أبى داود:3682، كتاب الأشربة باب النَّهْىِ عَنِ الْمُسْكِرِ]






عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِنَّ اللهَ حَرَّمَ عَلَى أُمَّتِي الْخَمْرَ وَالْمَيْسِرَ وَالْمِزْرَ وَالْكُوبَةَ وَالْقِنِّينَ وَزَادَنِي صَلَاةَ الْوَتْرِ.

ترجمہ:

عبداللہ بن عمرو ؓ سے مروی ہے كہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے میری امت پر شراب،جوا، مکئی، جو اور گندم جَوسےبنائی گئی نبیذ،شطرنج یا طبلہ/ ڈگڈگی اور شراب کاجام حرام كیا اور مجھے نمازِ وتر زیادہ عطا كی

[الصحيحة:1708، مسند أحمد:6260]





عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِى سُفْيَانَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِذَا شَرِبُوا الْخَمْرَ فَاجْلِدُوهُمْ ثُمَّ إِنْ شَرِبُوا فَاجْلِدُوهُمْ ثُمَّ إِنْ شَرِبُوا فَاجْلِدُوهُمْ ثُمَّ إِنْ شَرِبُوا (الرَابِعَة) فَاقْتُلُوهُمْ.

ترجمہ:

 معاویہ بن ابی سفیان ؓ سے مروی ہے كہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب لوگ شراب پئیں تو انہیں كوڑے مارو، پھر شراب پئیں توپھر كوڑے مارو، پھر شراب پئیں تو پھر كوڑے مارو، پھر اگر(چوتھی مرتبہ) شراب پئیں تو انہیں قتل كردو

[الصحيحة:1360، سنن أبى داود:4484، كتاب الحدود باب إِذَا تَتَابَعَ فِى شُرْبِ الْخَمْرِ]






عَنْ سَبِيْعَةَ الأَسْلَمِيْة، قَالَتْ: دَخَلَ عَلَى عَائِشَة نِسْوَة مِنْ أَهْلِ الشَّام فَقَالَتْ عَائِشَة : مِمَّنْ أَنْتُنَّ؟ فَقُلْنَ: مِنْ أَهْلِ حِمْص. فَقَالَتْ : صَوَاحِبُ الْحَمَّامَات؟. فَقُلْنَ: نَعَمْ . قَالَتْ عَائِشَة : سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللهِ  ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقُوْل :«الحَمَّامُ حَرَامٌ عَلَى نِسَاءِ أُمَّتِي » قَالَتِ امْرَأَةٌ مِنْهُنَّ:فَلِيَ بَنَات أَمْشِطُهُنَّ بِهَذَا الشَّرابِ ؟ قَالَتْ: بِأَيِّ الشَرَاب؟ فَقَالَتْ: الخَمْر! فَقَالَتْ عَائِشَة: أَفَكُنْتِ طَيِّبَة النَّفْسِ أَنْ تَمْتَشطِي بِدَم خِنْزِيْر؟ قَالَتْ: لاَ قَالَتْ: فَإِنَّهُ مِثْلَهُ .

ترجمہ:

سبیعہ اسلمیہ سے مروی ہے کہتی ہیں کہ عائشہ ؓ کے پاس شام سے کچھ عورتیں آئیں۔ عائشہ ؓ نے پوچھا: تم کن لوگوں سے تعلق رکھتی ہو؟ انہوں نے کہا: اہل حمص سے۔ عائشہ ؓ نے کہا: حمام والی ہو؟ کہنے لگی: جی ہاں۔ عائشہ ؓ نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا فرما رہے تھے: میری امت کی عورتوں پر حمام حرام ہے۔ ان میں سے ایک عورت نے کہا: میری بیٹیاں ہیں جن کے بال شراب سے دھو کر کنگھی کرتی ہوں۔ عائشہ ؓ نے کہا: کون سا مشروب ہے؟ اس نے کہا:شراب،عائشہ ؓ نے کہا: خنزیر کے خون سے دھونا پسند کرو گی؟اس نے کہا نہیں۔عائشہ ؓ نے کہا: یہ شراب بھی اس خون جیسی ہے

[الصحيحة:3439، المستدرك على الصحيحين للحاكم:7892]



عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّه قَالَ: قَالَ رَسُولَ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : « مَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ فِى الدُّنْيَا وَلَمْ يَتُبْ لَمْ يَشْرَبْهَا فِى الآخِرَةِ و إِنْ أُدْخلَ الْجَنَّةَ ».

ترجمہ:

عبداللہ بن عمر ؓ سے مروی ہے كہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس شخص نے دنیا میں شراب پی اور توبہ نہ كی، وہ آخرت میں شراب نہ پی سكے گا اگرچہ جنت میں ہی كیوں نہ داخل ہو جائے۔

[الصحيحة:2634، شعب الإيمان:5573]






عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ: مَنْ لَبِسَ الْحَرِيرَ فِي الدُّنْيَا لَمْ يَلْبَسْهُ فِي الْآخِرَةِ، وَمَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ فِي الدُّنْيَا لَمْ يَشْرَبْهُ فِي الْآخِرَةِ،وَمَنْ شَرِبَ فِي آنِيَةِالذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ فِي الدُّنْيَا،لَمْ يَشْرَبْ بِهَا فِي الأَخِرَة،ثُمَّ قَالَ:لِبَاسُ أَهْل الْجَنَّة وَشَرَاب أَهْل الْجَنَّة وَآنِيَة أَهْل الْجَنَّة »

ترجمہ:

ابو ہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس شخص نے دنیا میں ریشم پہنا وہ آخرت میں ریشم نہیں پہن سکے گا۔ جس شخص نے دنیا میں شراب پی وہ آخرت میں شراب نہیں پی سکے گا۔ جس شخص نے دنیا میں سونے چاندی کے برتنوں میں پیا، وہ آخرت میں ان برتنوں میں پی نہیں سکے گا۔ پھر فرمایا: یہ اہل جنت کا لباس، اہل جنت کا مشروب اور اہل جنت کے برتن ہیں۔

[الصحيحة:384، المستدرك على الصحيحين للحاكم:7324]







عَنْ أَبِي أُمَامَة الْبَاهِلِيّ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللهِ  صلی اللہ علیہ وسلم ، يَقُوْل: أَتَانِي رَجُلَانِ ، فَأَخَذَا بِضَبْعِي ، فَأَتَيَا بِي جَبَلًا وَعْرًا، فَقَالَا: اصْعُدْ. فَقُلْتُ: إِنِّي لَا أُطِيْقُهُ . فَقاَلاَ: إِنَّا سَنُسَهِّلُهُ لَكَ. فَصَعَدْتُّ حَتَّى إِذَا كُنْتُ فِي سَوَاء الْجَبَل، إِذَا أَنا بِأَصْواَتٍ شَدِيْدَةٍ ، فَقُلْتُ: مَا هَذِهِ الْأَصْوَات ؟ قَالُوا: هَذاَ عَوَاءُ أَهْلِ النَّار ، ثُمَّ انْطَلَقَ بِي فَإِذَا أَنَا بِقَوْمٍ مُعَلِّقِيْنَ بِعَرَاْقِيْبِهِمْ مُشَقَّقَة أَشْدَاقُهُمْ تَسِيْلُ أَشْدَاْقُهُمْ دَمًا ، قَالَ: قُلْتُ: مَنْ هَؤُلَاءِ؟ قَالَ: هَؤُلَاء الَّذِين يُفْطِرُوْنَ قَبْلَ تَحِلَّةِ صَوْمِهِم ،فَقَالَ: خَابَتِ الْيَهُوْدُ وَالنَّصَارَى فَقَالَ سُلَيْمَانِ: مَا أَدْرِي أَسِمعَهُ أَبُو أُمَامَةَ مِنْ رَسُوْلِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌أَمْ شَيْءٌ مِنْ رَأْيِہ؟!  ثُمَّ انْطَلَقَا بِي ، فَإِذَا بِقَوْم أَشَدّ شَيْءٍ انْتِفَاخًا ، وَأَنْتَنِهِ رِيْحًا ، وَأَسْوَئِهِ مَنْظَرًا ، فَقُلْتُ: مَنْ هَؤُلَاءِ؟ فَقَالَ: هَؤُلاَءِ قَتْلَى الكُفَّارِ .ثُمَّ انْطَلَقَا بِي فَإِذَا بِقَوْمٍ أَشَدَّ شَيْءٍ وَأَنْتَنِهِ رِيحًا، كَأَنَّ رِيْحَهُمْ المَرَاحِيْضُ، قُلْتُ: مَنْ هَؤُلَاء؟ قَالَ: هَؤُلاَءِ الزّانُوْنَ وَالزَّوَانِي ، ثُمَّ انْطَلَقَا بِي ، فَإِذَا انا بِنَسَاءٍ تَنْهَشُ ثُدِيَّهُنّ الْحَيَّاتُ ، قُلْتُ: مَا بَالُ هَؤُلَاءِ؟ قِيْل : هَؤُلَاء اللَّاتِي يَمْنَعْنَ أَوْلَادَهُنَّ أَلْبَانَهُنَّ ، ثُمَّ انْطَلَقَ بِي ، فَإِذَا أَناَ بِغِلْمَانٍ يَلْعَبُونَ بَيْن نَهْرَيْنِ ، فَقُلْتُ: مَنْ هَؤُلَاءِ ؟ قَالاَ : هَؤُلَاءِ ذَرَارِيُّ الْمُؤْمِنِيْن ، ثُمَّ أشَرَفَا بِي شَرَفًا ، فَإِذَا أَناَ بِنَفَرٍ ثَلَاثَةٍ يَشْرَبُون مِنْ خَمرٍ لَهُمْ ، قُلْتُ: مَنْ هَؤُلَاءِ؟ قَالُوْا: هَؤُلَاءِ جَعْفَرُ وَزَيْدُ وَابْنُ رَوَاحَةَ . ثُمَّ أشْرَفَا بِي شَرَفًا آخَر، فَإِذَا أَناَ بِنَفَرٍ ثَلَاثَةٍ، قُلْتُ: مَنْ هَؤُلَاءِ؟ قَالَ: هَذاَ إِبْرَاهِيْم ، وَمُوسَى ، وَعِيسَى وَهَم يَنْتَظِرُونَكَ .

ترجمہ:

ابو امامہ باہلی ؓ كہتےہیں كہ رسول اللہ ﷺ نےفرمایا:میرے پاس دو آدمی آئے، انہوں نے میرے بازؤوں سے مجھے پكڑا اورایك خوفناک پہاڑ كے پاس لے آئے۔ كہنے لگے: اس پر چڑھئے، میں نے كہا: مجھ میں اتنی طاقت نہیں۔ انہوں نے كہا: ہم آپ كی مدد كرتے ہیں۔ میں اوپر چڑھ گیا اور پہاڑ كی چوٹی پر پہنچ گیا۔ اچانك میں نے شدید چیخ و پكار سنی، میں نے كہا: یہ كیسی آواز یں ہیں؟ انہوں نے كہا: یہ جہنمیوں كی آہ و بكا ہے، پھر وہ مجھے لے كر چل پڑے، میرے سامنے كچھ لوگ آئےجو الٹے لٹکے ہوئے تھے، ان كی باچھیں چیری ہوئی تھیں، ان كی باچھوں سے خون بہہ رہا تھا۔ میں نے پوچھا: یہ كون لوگ ہیں؟انہوں نے کہا: یہ روزے كا وقت ہونے سے پہلے ہی روزہ افطار كر لیا كرتے تھے۔ آپ نے فرمایا: یہودونصاریٰ ہلاك ہو گئے۔ سلیمان نے كہا: مجھے نہیں معلوم كہ یہ جملہ  ابو امامہ نے آپ سے سنا ہے یا ان كی اپنی رائے ہے۔ پھر وہ( مجھے) لے كر ایسی قوم كے پاس گئے جن كے پیٹ پھولے ہوئے تھے، انتہائی بدبو اٹھ رہی تھی اور سیاہ ہو چكے تھے۔ میں نے پوچھا یہ كون لوگ ہیں؟ انہوں نے كہا: یہ كفار كے مقتولین ہیں، پھر وہ مجھے لے كر ایسی قوم كے پاس گئے، جو پھولے ہوئے تھے، گویا ان كی بدبو پاخانے كی طرح تھی، میں نے پوچھا یہ كون لوگ ہیں؟ اس نے كہا كہ زانی مرد اور عورتیں ہیں۔ پھر مجھے لے كر ایسی عورتوں كے پاس گئے جن كے پستانوں كو سانپ ڈس رہے تھے۔ میں نے پوچھا: ان كا كیا معاملہ ہے؟ اس نے كہا: یہ وہ عورتیں ہیں جو اپنے بچوں كو دودھ نہیں پلاتی تھیں۔ پھر مجھے لے كرایسے بچوں كے پاس گئے جو دو نہروں كے درمیان كھیل رہے تھے، میں نے پوچھا یہ كون لوگ ہیں؟ انہوں نے كہا: یہ مومنین کی (بچپن میں فوت ہوجانے والی) اولاد ہیں۔ پھر مجھے ایك اونچی جگہ لے گئے۔ میں نے تین آدمیوں كی ٹولی دیكھی جو شراب سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔ میں نے پوچھا: یہ كون لوگ ہیں؟ اس نے كہا: جعفر، زیداورابنِ رواحہ ؓ ہیں پھر مجھے ایك دوسرے ٹیلے پر لے گئے۔ میں نے تین آدمی دیكھے، میں نے پوچھا یہ كون لوگ ہیں؟ اس نے كہا: یہ ابراہیم،موسیٰ اور عیسیٰ علیہم السلام ہیں جو آپ كے منتظر ہیں۔

[الصحيحة:2601، صحيح مسلم:274،كِتَاب الْإِيمَانِ، بَاب آخِرِ أَهْلِ النَّارِ خُرُوجًا]









No comments:

Post a Comment