Tuesday, 30 June 2026

اہل سنت کے مخالف رافضی اور ناصبی کون؟


رافضی، ناصبی اور سنی میں بنیادی فرق:

جو لوگ حضرت علیؓ سے محبت میں حد سے بڑھے انہیں ’’رافضی‘‘ کہا جاتا، اور جو لوگ حضرت علیؓ سے بغض میں سے حد بڑھنے والوں کو ’’ناصبی‘‘ کہا جاتا، اور جو لوگ حضرت علیؓ سے بغض سے دور اور محبت میں معتدل ہوں وہ اہل السنت والجماعت کہتے ہیں۔

حوالہ

زبان رسالتِ مآب ﷺ نے اپنے بعض اصحابِ کرام کو بعض جزوی وصف کی بنا پر بعض گزشتہ انبیاء سے تشبیہ دی۔ سیدنا صدیق اکبر سے متعلق فرمایا کہ یہ سیدنا ابراہیم کے مشابہ ہیں۔ فاروقِ اعظم کی جلالی طبیعت کے پیش نظر ان کے جلال کو جلالِ موسوی سے تشبیہ دی اور سیدنا علی المرتضیٰؓ سے متعلق خود انھیں مخاطب کر کے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

«فِيكَ مَثَلٌ مِنْ عِيسَى عَلَيْهِ السَّلامُ، أَبْغَضَتْهُ يَهُودُ حَتَّى بَهَتُوا أُمَّهُ، وَأَحَبَّتْهُ النَّصَارَى حَتَّى أَنْزَلُوهُ بِالْمَنْزِلَةِ الَّتِي لَيْسَ بِهِ» ثُمَّ قَالَ: يَهْلِكُ فِيَّ رَجُلَانِ: مُحِبٌّ مُفْرِطٌ يُقَرِّظُنِي بِمَا لَيْسَ فِيَّ، وَمُبْغِضٌ يَحْمِلُهُ شَنَآنِي عَلَى أَنْ يَبْهَتَنِي.

ترجمہ:

”تمہارے معاملہ میں وہی ہوگا جیسا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ ہوا، یہودیوں نے ان سے بغض کیا یہاں تک کہ ان کی والدہ پر گناہ کا بہتان باندھا، اور عیسائیوں نے ان سے اتنی محبت کی کہ انہیں اس مقام پر پہنچا دیا جو ان کا مقام و مرتبہ نہ تھا۔“

پھر سیدنا علیؓ نے فرمایا کہ میرے متعلق دو قسم کے لوگ ہلاک ہوں گے، ایک وہ محبت میں حد سے آگے بڑھ جانے والے جو مجھے اس مقام پر فائز کر دیں گے جو میرا مقام نہیں ہے، اور دوسرے وہ بغض رکھنے والے جو میری عداوت میں آ کر مجھ پر ایسے بہتان باندھیں گے جن کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

[فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل:1221، مسند احمد:1376، السنن الكبرى للنسائي:8434، معجم شيوخ ابن الأعرابي:1551، مسند أبو يعلى:534، مسند البزار:758، مجلسان من أمالي الجوهري:20، الشريعة للآجري:2033، شرح مذاهب أهل السنة لابن شاهين:119، السنة لابن أبي عاصم:1004، فضائل الخلفاء الراشدين لأبي نعيم الأصبهاني:54، مشكاة المصابيح:6102، كنز العمال:33032]


خلاصة حكم المحدث:

گو یہ روایت اسناداً ضعیف ہے تاہم معنوی اعتبار سے بالکل درست ہے۔

[ظلال الجنة للألباني:987]

إسناده حسن

[تخريج المسند لشاكر:1376، 2/355]




📜 شرح عبد الحق الدهلويؒ:


(حضرت علیؓ کے بارے میں) آپ (نبی کریم ﷺ) کا قول: "یُقَرِّظُنِی" یعنی وہ میری تعریف کرتا ہے۔

اور "تَقْرِیظ" (ظاء معجمہ کے ساتھ) کے معنی ہیں: زندہ انسان کی تعریف اور اس کی توصیف کرنا۔

اور (القاموس) میں، جو (الصحاح) کے مطابق ہے، آیا ہے کہ: "تَقْرِیظ" کے معنی کسی زندہ انسان کی تعریف کرنا ہے، خواہ وہ تعریف حق (سچائی) کے ساتھ ہو یا باطل (جھوٹ) کے ساتھ۔

اور وہ دونوں (تعریف کرنے والے) ایک دوسرے کی تعریف کرتے ہیں، ہر ایک اپنے ساتھی کی مدح کرتا ہے۔


اور لفظ "شَنَآن" (جس کا نون فتحہ اور سکون، اور مد کے ساتھ پڑھا جائے) کے معنی "عداوت" (دشمنی) ہیں،

اور بعض نے کہا ہے کہ اس کے معنی "شِدَّتِ بُغض" (سخت دشمنی اور کینہ) ہیں۔

اور بیضاوی نے اللہ تعالیٰ کے قول: {وَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَآنُ قَوْمٍ} [المائدہ: ۲] کی تفسیر "ان کی شدید عداوت اور دشمنیوں" سے کی ہے۔

[لمعات التنقيح في شرح مشكاة المصابيح:6102 (9 /663)]





📜 شرح ملا علی القاریؒ:

حضرت علیؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا:

"(نبی کریم ﷺ) نے مجھ سے (یعنی مجھے خاص طور پر مخاطب کرتے ہوئے) فرمایا:

"تمہاری مثال (یعنی تمہارے بارے میں ایک شَبَہ و مشابہت) عیسیٰ (علیہ السلام) سے ہے"

یعنی دو متضاد پہلوؤں سے، دو مختلف گروہوں (کی وجہ سے)۔

"(عیسیٰ علیہ السلام) سے یہود نے سخت دشمنی کی"

یعنی حد سے زیادہ بغض کیا،

"یہاں تک کہ انہوں نے ان کی والدہ (محترمہ مریم) پر بہتان لگایا"

"بہَتَهُ" (بہتان لگایا) کے معنی ہیں، جیسے "مَنَعَهُ" کے وزن پر، کسی پر وہ بات کہنا جو اس نے نہ کی ہو۔ اور معنی یہ ہے کہ انہوں نے ان (مریم) پر جھوٹا الزام لگایا کہ انہیں زنا کی تہمت لگائی۔

"اور نصاریٰ (عیسائیوں) نے ان (عیسیٰ) سے محبت کی"

یعنی بلیغ اور شدید محبت کی،

"یہاں تک کہ انہیں اس مقام پر پہنچا دیا جو ان کا نہیں تھا"

یعنی اگرچہ اس مقام (الہیات یا الوہیت) کے بارے میں ان کے (نصاریٰ کے) باہمی اختلافات بھی تھے۔

"پھر (علی رضی اللہ عنہ) نے (اپنے قول کو جاری رکھتے ہوئے موقوفاً) فرمایا:"

"میرے بارے میں (یعنی میرے حق میں) دو شخص گمراہ (اور ہلاک) ہوں گے"

"ان میں سے ایک رافضی ہے اور دوسرا خارجی ہے۔"

"(ایک) محبت میں حد سے گزرنے والا (مُفْرِط مُحِبّ) ہے"

"مُفْرِط" (ضمہ اور سکون کے ساتھ) یعنی حد سے تجاوز کرنے والا اور مبالغہ کرنے والا،

"جو میری ایسی تعریف (تَقْرِیظ) کرتا ہے"

"تَقْرِیظ" (راء مشددہ کے کسرہ کے ساتھ) یعنی وہ میری مدح اور تعریف کرتا ہے،

"ان باتوں کے ساتھ جو مجھ میں نہیں ہیں"

"یعنی مجھے تمام صحابہ کرام پر فضیلت دینا، یا انبیاء علیہم السلام پر فضیلت دینا، یا میرے لیے الوہیت ثابت کرنا، جیسے نصیریہ فرقہ کرتا ہے۔"

"اور (دوسرا) بغض رکھنے والا (مُبْغِض) ہے"

"اور یہاں (بغض رکھنے والے کے لیے) "مُفْرِط" (حد سے گزرنے والا) کا لفظ اس لیے نہیں کہا کیونکہ بغض تو اپنی اصل ہی میں ممنوع ہے، بخلاف محبت کے جس کی اصل میں تو تعریف کی جاتی ہے (مگر اس میں غلو ممنوع ہے)۔"

"اس کی عداوت (شَنَآن) اسے (بغض کی طرف) اکساتی ہے"

"یعنی اسے مجبور کرتی ہے اور اس پر ابھارتی ہے،"

"شَنَآن" (فتحہ نون کے ساتھ اور دوسرے حرف کو ساکن کر کے، اور ہمزہ کو ترک کرنے کا بھی ذکر ہے) یعنی "میری عداوت و دشمنی"

"اس بات پر کہ وہ مجھ پر بہتان لگائے"

"یعنی وہ میرے بارے میں جھوٹی باتیں کہے، اور مجھ کی طرف جھوٹ اور نافرمانیاں منسوب کرے۔"

"اسے امام احمد (بن حنبل) نے روایت کیا ہے"

"یعنی مسند میں، اور امام احمد (رض) سے (ایک اور روایت) مروی ہے کہ حضرت علی (رض) نے فرمایا:

"میرے ساتھ محبت کرنے والے کچھ لوگ اس قدر بڑھ جائیں گے کہ وہ میری محبت میں جہنم میں داخل ہوں گے، اور میرے ساتھ بغض رکھنے والے کچھ لوگ اس قدر بڑھ جائیں گے کہ وہ میرے بغض کی وجہ سے جہنم میں داخل ہوں گے۔" اسے امام احمد نے "المناقب" میں روایت کیا ہے۔

"اور سدی (رحمہ اللہ) سے روایت ہے کہ حضرت علی (رض) نے فرمایا:

"اے اللہ! ہر اس شخص پر لعنت فرما جو ہم سے بغض رکھتا ہے، اور ہر اس شخص پر لعنت فرما جو ہم سے محبت کرنے میں حد سے گزر جانے والا (غالی) ہے۔" اسے امام احمد نے "المناقب" میں خارج کیا ہے۔

[مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح:6102]



یہ پیش گوئی حرف بحرف پوری ہوئی۔ ایک گروہ نے انھیں اس قدر بلند کیا کہ مرتبہ الوہیت پر فائز کر دیا، تو دوسرے نے اس قدر گرایا کہ انھیں قاتلین عثمان کی صف میں شامل کر دیا۔ یہ دونوں ہی گروہ ضلالت اور گمراہی پر منتج ہوئے۔ تاہم اس ضلالت گمراہی کے بھی مختلف مراتب ہیں حب علی نے مطلقاً منزلِ الوہیت کو نہیں چھوا بلکہ اس سفرِ ضلالت کی بھی کئی منزلیں ہیں۔ کہیں ان کے فضائل و مناقب میں موضوع روایتیں تیار کی گئیں، کہیں  انھیں شیخین کریمین پر مطلقاً فضیلت دی گئی اور ان کی محبت کے نام پر کبار اصحاب رسولﷺ کی توہین کا ارتکاب کیا گیا تو کہیں انبیائے عظام سے افضل قرار دیا گیا تآنکہ ایک منزل ایسی آئی کہ ان کی ذات میں جزوی اور کلی طور پر جلوہ الوہیت کی کار فرمائی دیکھی جانے لگی۔


دوسری طرف حسادِ علی کا بھی سفرِ ضلالت یکدم اس مقام پر نہیں پہنچا۔ حضرت علی کے جائز مقام و منصب کا انکار کیا گیا، مختلف انداز سے ان کی کسر شان کی سعی کی گئی، انھیں سیدنا عثمان کا قاتل باور کرایا گیا اور خوارج نے انھیں مطلقاً کافر قرار دیا۔

یہ دونوں ہی طبقات اپنے آغاز سے انجام تک ہلاکت و بربادی کی راہ میں گامزن رہے۔

اسلام میں محبت و عقیدت وہی مستحسن اور مطلوب ہے جو حد سے متجاوز نہ ہو اور عقل و شریعت کے مسلمہ اصولوں کے عین مطابق ہو، محبت اور نفرت کا اصل پیمانہ محبت الٰہی ہے۔ الحب للہ و البغض فی اللہ۔ ارشادِ نبوی ہے:

"من أحب لله وأبغض لله وأعطى لله ومنع لله فقد استكمل الإيمان۔”

ترجمہ:

"جو اللہ کے لیے محبت رکھے، اللہ ہی کے لیے نفرت کرے، اللہ کے لیے دے، اور اللہ کی خاطر رک جائے بلاشبہ اس کا ایمان کامل ہو گیا۔”

[ابوداؤد:4683، ترمذي:2521، طبراني:7613، بغوي:3469،  الصحيحة:380]


موالات ہو یا معادات، الٰہی پیمانوں کے مطابق ہی ہوں گے۔ ایسی محبت و عقیدت جو حد سے متجاوز ہو اور مسلمہ اسلامی تعلیمات سے متصادم وہ اصلاً گمراہی ہے، خواہ کتنی ہی خوشنما نظر آئے، اور اپنے غیر معتدل ہونے کے سبب راہ مستقیم سے باہر کر دیتی ہے۔ فضائل و مناقب کے باب میں بھی حدود شریعت کی پیروی لازم ہے۔ حتیٰ کہ غلو اگر انبیائے کرام کی ذات میں بھی کی جائے تو وہ بھی غیر مستحسن ہے اور بعض اوقات باعثِ کفر بھی۔ چنانچہ عیسائی حضرت عیسیٰ کی ذات میں غلو کا شکار ہوئے اور نعوذ باللہ انھیں اللہ رب العزت کا فرزند قرار دینے لگے جس کے باعث قرآنِ کریم نے انھیں "الضالین” قرار دیا۔ یہی وجہ تھی رسول اللہ ﷺ نے اپنی امت کو بطورِ خاص یہ تعلیم دی:


"لَا تُطْرُونِي كَمَا أَطْرَتِ النَّصَارَى ابْنَ مَرْيَمَ فَإِنَّمَا أَنَا عَبْدُهُ ، فَقُولُوا : عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ.”

ترجمہ:

مجھے اتنا نہ بڑھاؤ جیسے  نصاریٰ (عیسایوں) نے عیسیٰ بن مریم (کی تعریف میں مبالغہ کیا کہ اللہ کا بیٹا ہی بناکر ان) کو بڑھایا ہے میں تو محض اللہ کا بندہ ہوں تو تم بھی یہی کہو کہ اللہ کا بندہ اور اس کا رسول۔



اسی طرح کسی سے نفرت بھی اللہ ہی کی خاطر کی جائے گی۔ ایک مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ وہ کسی دوسرے مسلمان بھائی سے تین دن سے زیادہ ناراض ہو چہ جائیکہ وہ کسی صحابی رسول سے بغض رکھے۔ ارشاد نبوی ہے


”اللہ اللہ فی أصحابی۔ اللہ اللہ فی أصحابی لا تتخذوھم غرضا من بعدی فمن أحبہم فبحبی أحبہم و من أبغضھم فببغضی أبغضھم و من آذاھم فقد آذانی ومن آذانی فقد آذی اللہ و من آذی اللہ فیوشک أن یأخذہ۔” 

ترجمہ:

"اللہ سے ڈرو، اللہ سے ڈرو میرے صحابہ کے معاملہ میں، مکرر کہتا ہوں، اللہ سے ڈرو، اللہ سے ڈرو، میرے صحابہ کے معاملہ میں، ان کو میرے بعد ہدف تنقید نہ بنانا۔ کیوں کہ جس نے ان سے محبت کی تو میری محبت کی بنا پر، اور جس نے ان سے بغض رکھا تو مجھ سے بغض کی بنا پر، جس نے ان کو ایذا دی اس نے مجھے ایذا دی اور جس نے مجھے ایذا دی اس نے اللہ کو ایذا دی۔ اور جس نے اللہ کو ایذا دی تو قریب ہے کہ اللہ اسے پکڑ لے۔”

[ترمذی:3862، احمد:20549، الروياني:882، السُّنَّة لأبي بكر بن الخلال:830، الشريعة للآجري:1991، البغوي:3860، التاريخ الكبير(امام)البخاري:389، ابن أبي عاصم:992]



اہل سنت والجماعت کے ہاں رافضی اور ناصبی دو الگ الگ اصطلاحات ہیں، جو فکری اور اعتقادی انحراف کی نشاندہی کرتی ہیں۔ ان میں بنیادی فرق یہ ہے کہ رافضی اہل بیت (علیہم السلام) سے محبت کا دعویٰ کرتے ہوئے صحابہ کرام (رضی اللہ عنہم) کو گالی دیتے ہیں، جبکہ ناصبی صحابہ کرام کی تو تعظیم کرتے ہیں مگر اہل بیت سے بغض و عداوت رکھتے ہیں۔


یہاں ان دونوں اصطلاحات کی تفصیلی وضاحت اور ان کے درمیان فرق دلائل کے ساتھ پیش کیا جا رہا ہے۔


1. رافضی (Rafidi) کون ہے؟

لغوی معنی: لفظ "رافضی" عربی کے لفظ "رفض" سے ماخوذ ہے، جس کے معنی ہیں "ترک کرنا"، "چھوڑ دینا"، یا "منتشر ہو جانا"۔


اصطلاحی معنی (تاریخی پس منظر):

اسلامی تاریخ کے مطابق، یہ اصطلاح سب سے پہلے ان لوگوں کے لیے استعمال ہوئی جو امام زید بن علی (زید الشہید) کی حمایت سے دستبردار ہو گئے تھے۔ جب امام زید نے حضرت ابوبکر اور حضرت عمر (رضی اللہ عنہما) کی تعریف کی تو ان کے کچھ ساتھیوں نے اعتراض کیا اور انہیں چھوڑ دیا۔ اس پر امام زید نے فرمایا: "رَفَضُونَا الْیَوْم" (انہوں نے آج ہمیں چھوڑ دیا)، جس کے بعد یہ گروہ "رافضہ" کہلایا۔


اعتقادی تعریف:

اہل سنت کے نزدیک رافضی وہ شخص ہے جو خلافت راشدہ کے پہلے تین خلفاء (حضرت ابوبکر، عمر، عثمان رضی اللہ عنہم) اور دیگر صحابہ کرام کو غلط کہے، انہیں گالی دے، اور یہ عقیدہ رکھے کہ خلافت صرف حضرت علی (رضی اللہ عنہ) کا حق تھی۔ شیعہ فرقہ کی بعض تحریروں میں بھی "رافضی" کی اصطلاح ان لوگوں کے لیے استعمال ہوئی ہے جنہوں نے اپنے امام کو چھوڑ دیا۔


اہل سنت کا موقف:

اہل سنت تمام صحابہ کرام (رضی اللہ عنہم) کو عادل اور قابل احترام مانتے ہیں۔ ان میں سے کسی کو گالی دینا یا برا بھلا کہنا جائز نہیں ہے۔ لہٰذا، اہل سنت کے نزدیک رافضی وہ شخص ہے جو صحابہ کرام، خاص طور پر خلفائے راشدین کی شان میں گستاخی کرے۔


2. ناصبی (Nasibi) کون ہے؟

لغوی معنی:

لفظ "ناصبی" "نصب" سے ماخوذ ہے، جس کے معنی "دشمنی رکھنا" یا "مخالفت کرنا" کے ہیں۔

اصطلاحی معنی:

ناصبی وہ شخص یا گروہ ہے جو حضرت علی اور ان کی آل (اہل بیت) سے بغض، کینہ اور عداوت رکھتا ہے۔


اہل سنت کا موقف:

اہل سنت کسی بھی ایسے شخص کو ناصبی کہتے ہیں جو اہل بیت (علیہم السلام) سے بغض رکھتا ہو، ان کی توہین کرتا ہو، یا انہیں تکلیف پہنچائے۔

علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے فرمایا کہ ناصبی وہ ہے جو اہل بیت کو اپنے قول یا فعل سے تکلیف پہنچائے۔

اعلیٰ حضرت احمد رضا خان رحمہ اللہ نے بھی ناصبی کی تعریف اہل بیت کا دشمن ہونے سے کی ہے۔


ایک اہم وضاحت:

تمام اہل سنت ناصبی نہیں ہیں۔ بلکہ اہل سنت اہل بیت سے محبت کرتے ہیں اور ان کی تعظیم کرتے ہیں۔ تاہم، بعض شیعہ ذرائع میں غلط طور پر تمام اہل سنت کو ناصبی قرار دے دیا جاتا ہے، کیونکہ وہ حضرت معاویہ (رضی اللہ عنہ) کو بھی ایک صحابی اور امیر المومنین مانتے ہیں۔ یہ طرزِ عمل خود شیعہ علما نے بھی نوٹ کیا ہے کہ وہ اپنے تمام مخالفین کو ناصبی کہہ کر پکارتے ہیں۔


رافضی اور ناصبی میں بنیادی فرق (جدول)

خصوصیت-رافضی-ناصبی

خصوصیت(۱)بنیادی عقیدہ:

صحابہ کرام (خاص طور پر خلفائے راشدین) سے بغض اور ان کی شان میں گستاخی۔

اہل بیت (حضرت علی، حسن، حسین علیہم السلام) سے بغض اور ان کی دشمنی۔

خصوصیت(۲)نظرِ ثانی:

خلافت کے بارے میں غلوّ اور حضرت علی (رض) کو ہر دوسرے صحابی پر فوقیت دینا۔

اہل بیت کی حق تلفی کرنا اور ان کی اہمیت کو کم کرنا۔

خصوصیت(۳)اہل سنت کے نزدیک حیثیت

بالکل گمراہ اور باطل، کیونکہ صحابہ کرام کی توہین کفر تک لے جا سکتی ہے۔

سخت قابلِ مذمت اور گمراہ، کیونکہ اہل بیت سے دشمنی رکھنا ایمان کے خلاف ہے۔

خصوصیت(۴)تاریخی آغاز

زید بن علی (شہید) کے واقعہ کے بعد یہ اصطلاح وجود میں آئی۔

یہ اصطلاح بھی ابتدائی اسلامی تاریخ میں خاص طور پر بنو امیہ کے دور میں ابھری۔ بعض مورخین کے مطابق یہ اصطلاح شیعہ ہی کی ایجاد کردہ ہے۔

خصوصیت(۵)دوسرے فرقوں سے تعلق:

شیعہ فرقہ کی ایک شاخ (خاص طور پر اثنا عشریہ) کا حصہ۔

کوئی مخصوص فرقہ نہیں بلکہ ایک رجحان یا رویہ ہے، جو کسی بھی گروہ میں ہو سکتا ہے۔


خلاصہ

خلاصہ یہ ہے کہ رافضی اور ناصبی دونوں ہی اہل سنت والجماعت کے نقطہ نظر سے گمراہ اور باطل فرقے یا طرزِ فکر ہیں، لیکن ان کی گمراہی کی نوعیت مختلف ہے:


رافضی کی بنیادی خصوصیت صحابہ کرام سے بغض اور ان کی تحقیر ہے، جبکہ وہ اہل بیت سے محبت کا دعویٰ کرتے ہیں۔


ناصبی کی بنیادی خصوصیت اہل بیت سے بغض اور دشمنی ہے، جبکہ وہ صحابہ کرام کی تعظیم کر سکتے ہیں (حالانکہ یہ رویہ بھی صحابہ کے منہج کے خلاف ہے)۔


اہل سنت کا منہج اعتدال ہے - وہ نہ تو صحابہ کرام کو گالی دیتے ہیں (جیسے رافضی) اور نہ ہی اہل بیت سے بغض رکھتے ہیں (جیسے ناصبی)۔ بلکہ وہ تمام صحابہ کرام اور اہل بیت (علیہم السلام) دونوں کی تعظیم کرتے ہیں اور انہیں اہل اسلام کی عزت و عظمت کا ذریعہ مانتے ہیں۔






ناصبیت تحقیق کے بھیس میں

آج کل ہر اس شخص کو لوگ سنّی سمجھ بیٹھتے ہیں جو دوسروں پر ناصبیت کا فتویٰ جڑ دے، لیکن معلوم ہونا چاہئے کہ دوسروں پر ناصبیت کا فتویٰ لگانے والے اکثر رافضی ہوتے ہیں، اورناصبیت کی اصطلاح رافضیوں ہی کی ایجاد کردہ ہے، تیسری صدی ہجری تک کسی بھی سنی عالم نے کسی دوسرے سنی عالم کو ناصبی نہیں کہا ہے، بلکہ اس دور میں اگر کوئی شخص کسی کو ناصبی کہتا تھا تو یہ اس کے رافضی ہونے کی دلیل سمجھی جاتی تھی۔


امام شافعیؒ(م150ھ) علیہ فرماتے ہیں:

جب ہم حضرت علی رضی اللہ عنہ کے مناقب بیان کرتے ہیں تو جاہلوں کے نزدیک  ہمارا شمار روافض میں ہوتا ہے اور جب میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے مناقب بیان کرتا ہوں تو  مجھے ناصبی ہونے کا طعنہ دیا جاتا ہے ، پس میں  رافضی اور ناصبی رہونگا ان کی محبت کی وجہ سے یہاں تک کہ قبر میں دفن کیا جاؤں ۔

[دیوان الامام شافعی مترجم اردو صفحہ نمبر 203 مطبوعہ انڈیا]




امام علی بن المدینی رحمہ اللہ (المتوفی:۲۳۴)سے منقول ہے: 
’ومن قال:فلان ناصبي علمنا أنه رافضي‘‘
’’جو کہتا تھا کہ فلاں ناصبی ہے تو ہم جان لیتے تھے کہ وہ رافضی ہے‘‘ 
[شرح أصول اعتقاد أہل السنۃ :۱؍۱۶۶]




اس کی سند کے بعض رواۃ کا ترجمہ نہیں مل سکا مگر علی بن المدینی رحمہ اللہ کے شاگرد امام أبو حاتم الرازی (المتوفی:۲۷۷) نے بھی یہی بات کہی ہے اور اسے اپنے دور کے تمام علماء کی طرف منسوب کیا ہے، کما سیاتی، اس سے اس نقل کی تائید ہوتی ہے، کیونکہ ظاہر ہے کہ اس نسبت میں ان کے استاذ علی بن المدینی رحمہ اللہ بدرجہ اولیٰ شامل ہیں۔



امام أبو حاتم الرازی (المتوفی:۲۷۷)اور امام أبو زرعہ الرازی (المتوفی:۲۶۴)رحمہما اللہ نے کہا:
’’وعلامة الرافضة تسميتهم أهل السنة ناصبة‘‘
’’رافضیوں کی علامت یہ ہے کہ وہ اہل سنت کو ناصبی کہتے ہیں ‘‘
[شرح اعتقاد أہل السنۃ للالکائی:۱؍۲۰۱،وإسنادہ صحیح ، أصل السنۃ واعتقاد الدین للرازیین:(ق؍۱۶۸ب)وإسنادہ صحیح وانظر:تکحیل العینین:ص :۲۲۲]


یاد رہے کہ یہ صرف ان دو ائمہ ہی کا کہنا نہیں ہے بلکہ ان کے دور کے تمام علماء کا یہی ماننا تھا ، جیساکہ امام ابوحاتم رازیؒ اور امام ابوزرعہ رازیؒ نے یہ بات کہنے سے پہلے اس کی صراحت اس طرح کی ہے:
’’أدركنا العلماء فى جميع الأمصار حجازا وعراقا وشاما ويمنا فكان من مذهبهم…‘‘
’’ہم نے تمام شہروں ، حجاز ، عراق ، شام ، یمن کے علماء کو پایا ہے ان سب کا ماننا یہ تھا کہ … (حوالہ مذکور)


امام أبو محمد الحسن بن علی بن خلف البربہاری (المتوفی:۳۲۹)نے کہا:
’’وإذا سمعت الرجل يقول: فلان ناصبي فاعلم أنه رافضي‘‘
’’جب تم کسی شخص کو کہتے ہوئے سنو کہ:فلاں ناصبی ہے ، تو جان لو کہ وہ رافضی ہے‘‘
[شرح السنہ للبربھاری :ص:۱۱۸، طبقات الحنابلۃ:۲؍۳۶]



لہٰذا آج بھی کسی کی زبان سے ناصبی کالفظ سنائی دے تو اس کے بارے میں اچھی طرح تفتیش کرلینا چاہئے۔




سیدنا علیؓ کہتے ہیں کہ نبی امی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا:
لَقَدْ عَهِدَ إِلَيَّ النَّبِيُّ الْأُمِّيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ لَا يُحِبُّكَ إِلَّا مُؤْمِنٌ، وَلَا يَبْغَضُكَ إِلَّا مُنَافِقٌ ".
”تم سے صرف مومن ہی محبت کرتا ہے اور منافق ہی بغض رکھتا ہے“ ۱؎۔ عدی بن ثابت کہتے ہیں: میں اس طبقے کے لوگوں میں سے ہوں، جن کے لیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی۔
[سنن ترمذي:3736، صحیح مسلم:78، سنن النسائی:5021، 5025، سنن ابن ماجہ:114]


No comments:

Post a Comment