اللہ پاک بندوں (کے اعمال) کا حساب دو طرح لے گا:
(1)حسابا شدیدا.....سخت حساب
[حوالہ سورۃ الطلاق:8]
(2)حسابا یسیرا.....آسان حساب
[حوالہ سورۃ الانشقاق:8]
القرآن:
بھلائی انہی لوگوں کے حصے میں ہے جنہوں نے اپنے رب کا کہنا مانا ہے اور جنہوں نے اس کا کہنا نہیں مانا، اگر ان کے پاس دنیا بھر کی ساری چیزیں بھی ہوں گی، بلکہ اتنی ہی اور بھی، تو وہ (قیامت کے دن) اپنی جان بچانے کے لیے وہ سب کچھ دینے کو تیار ہوجائیں گے۔ ان لوگوں کے حصے میں بری طرح کا حساب ہے، اور ان کا ٹھکانا جہنم ہے اور وہ بہت برا ٹھکانا ہے۔
[سورۃ الرعد، آیت نمبر 18]
اور جن رشتوں کو الله نے جوڑے رکھنے کا حکم دیا ہے، یہ لوگ انہیں جوڑے رکھتے ہیں، (21) اور اپنے پر ورگار سے ڈرتے ہیں، اور حساب کے برے انجام سے خوف کھاتے ہیں۔
[سورۃ الرعد، آیت نمبر 21]
تفسیر:
21: یعنی الله تعالیٰ نے جن تعلقات کو قائم رکھنے اور ان کے حقوق ادا کرنے کا حکم دیا ہے، انہیں پوری طرح ادا کرتے ہیں اس میں رشتہ داروں کے تمام حقوق بھی داخل ہیں اور دینی رشتے سے جو حقوق پیدا ہوتے ہیں وہ بھی چنانچہ الله تعالیٰ نے جتنے انبیائے کرام پر ایمان لانے کا حکم دیا ہے ان سب پر ایمان بھی لاتے ہیں اور جن کی اطاعت کا حکم دیا ہے، ان کی اطاعت بھی کرتے ہیں۔
کن سے آسان حساب لیا جائے گا؟
حدیث نمبر 1
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
من هدي لِلْإِسْلَامِ وقنع بِمَا آتَاهُ الله تَعَالَى دخل الْجنَّة بِغَيْر حِسَاب
ترجمہ:
"جس شخص کو اسلام کی ہدایت مل گئی اور اس نے اللہ تعالیٰ کے دیے ہوئے (رزق) پر قناعت کی، وہ بغیر حساب کے جنت میں داخل ہوگا۔"
[المبسوط للسرخسي: 30/ 276]
---
تشریح:
· "من هدي للإسلام": یعنی جسے اللہ نے اسلام کی راہ دکھائی، اس نے اسے قبول کیا اور اس پر عمل کیا۔
· "وقنع بما آتاه الله": یعنی جو اللہ کے دیے ہوئے رزق (مال، صحت، عافیت وغیرہ) پر راضی اور مطمئن رہا، اور حرص و طمع سے دور رہا۔
· "دخل الجنة بغير حساب": ایسا شخص قیامت کے دن بغیر کسی سخت حساب و کتاب کے جنت میں داخل ہوگا۔
یہ حدیث اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ توحید، اسلام پر استقامت، اور اللہ کی تقسیم پر رضا و قناعت جنت میں بغیر حساب داخلے کا ذریعہ ہے۔
یاد رہے: یہ حدیث مختلف اسانید سے مروی ہے، اور بعض محققین نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ یہ حدیثِ قدسی نہیں، بلکہ نبوی ہے۔
تین خصلتیں – آسان حساب اور جنت کی بشارت
حدیث نمبر 2
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
«ثَلَاثٌ مَنْ كُنَّ فِيهِ حَاسَبَهُ اللَّهُ حِسَابًا يَسِيرًا وَأَدْخَلَهُ الْجَنَّةَ بِرَحْمَتِهِ» قَالُوا: لِمَنْ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «تُعْطِي مَنْ حَرَمَكَ، وَتَعْفُو عَمَّنْ ظَلَمَكَ، وَتَصِلُ مَنْ قَطَعَكَ» قَالَ: فَإِذَا فَعَلْتُ ذَلِكَ، فَمَا لِي يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «أَنْ تُحَاسَبَ حِسَابًا يَسِيرًا وَيُدْخِلَكَ اللَّهُ الْجَنَّةَ بِرَحْمَتِهِ»
ترجمہ:
"تین خصلتیں جس شخص میں ہوں گی، اللہ تعالیٰ اس کا آسان حساب لے گا اور اسے اپنی رحمت سے جنت میں داخل کرے گا۔"
صحابہ کرام نے عرض کیا: "یا رسول اللہ! یہ (خصلتیں) کن کے لیے ہیں؟"
آپ ﷺ نے فرمایا: "(یہ وہ شخص ہے) جو تمہیں محروم کرے اسے دو، جو تم پر ظلم کرے اسے معاف کرو، اور جو تمہارا رشتہ توڑے اس سے تعلق جوڑو (صلہ رحمی کرو)۔"
(صحابی نے) عرض کیا: "اگر میں نے ایسا کر لیا تو میرے لیے کیا ہے، یا رسول اللہ؟"
آپ ﷺ نے فرمایا: "(تمہارا) آسان حساب ہو گا اور اللہ تمہیں اپنی رحمت سے جنت میں داخل کرے گا۔"
[مسند(امام)البزار:8635، المعجم الأوسط(امام)الطبرانی:909، المستدرک (امام)الحاکم:3912(7285)، السنن الکبریٰ(امام)البیھقی:21092]
شرح المناوی:
"تین خصلتیں جس شخص میں بھی ہوں گی، اللہ تعالیٰ اس کا قیامت کے روز بہت آسان حساب لے گا،"
· یعنی اس سے مواخذہ نہیں کرے گا، نہ اس پر سختی کرے گا، اور نہ ہی اسے (حساب کے لیے) **زیادہ دیر کھڑا رکھے گا۔
"اور اسے اپنی رحمت سے جنت میں داخل کرے گا"
· یعنی اگرچہ اس کا عمل (اپنی مقدار میں) اس (جنت) کو نہ پہنچتا ہو (یعنی اعمال کی کمی کی وجہ سے وہ اس کا مستحق نہ ہو، تب بھی اللہ کی رحمت اسے داخل کر دے گی)۔
(وہ تین خصلتیں کیا ہیں؟)
"تُعْطِي مَنْ حَرَمَكَ"
(تم اسے دو جس نے تمہیں محروم کیا) – یعنی اسے عطیہ، مودت (محبت) یا احسان دو۔
"وَتَعْفُو عَمَّنْ ظَلَمَكَ"
(اور تم معاف کرو اسے جس نے تم پر ظلم کیا) – خواہ وہ ظلم جان، مال یا آبرو میں ہو۔
"وَتَصِلُ مَنْ قَطَعَكَ"
(اور تم تعلق جوڑو اس سے جس نے تمہارا رشتہ توڑا) – خواہ وہ رشتہ دار ہوں یا غیر (عام مسلمان)۔
طبرانی کی روایت میں مکمل اضافہ (تتمہ):
(اس حدیث کا یہ بھی حصہ ہے کہ) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا:
"إِذَا فَعَلْتُ هَذَا فَمَا لِي يَا نَبِيَّ اللهِ؟" (اگر میں نے یہ (تینوں کام) کر لیے تو میرے لیے کیا ہے، اے اللہ کے نبی؟)
تو آپ ﷺ نے فرمایا:
"يُدْخِلُكَ اللَّهُ الْجَنَّةَ" (اللہ تعالیٰ تمہیں جنت میں داخل کرے گا)۔
تخریج اور حکم:
یہ حدیث درج ذیل کتب میں مروی ہے:
· (ابن ابی الدنیا) ابوبکر القرشی نے اپنی کتاب "ذَمِّ الغَضَب" میں۔
· (طس) المعجم الأوسط للطبرانی میں۔
· (ك) المستدرک علی الصحیحین للحاکم میں (تفسیر کے باب میں)۔
سند کا سلسلہ:
سلیمان بن داود الیمانی ← یحییٰ بن ابی کثیر ← ابوسلمہ ← ابوہریرہ رضی اللہ عنہ
محدثین کرام کا راوی (سلیمان بن داود الیمانی) پر تنقیدی جائزہ:
امام حاکم "صحيح" انہوں نے اسے اپنی "مستدرک" میں نقل کیا اور اسے صحیح قرار دیا۔
امام ذہبی "سليمان ضعيف" انہوں نے حاکم کے حکم کو رد کرتے ہوئے کہا کہ سلیمان ضعیف ہے۔
امام ذہبی (دوسرا قول) "سليمان واهٍ" (المہذب میں) انہوں نے اسے "واہ" (شدید کمزور) کہا۔
امام بخاری "منكر الحديث" (میزان الاعتدال میں) امام بخاری نے فرمایا: سلیمان منکر الحدیث ہے، اور جو شخص میرے نزدیک منکر الحدیث ہے، اس کی حدیث روایت کرنا جائز نہیں۔
امام علائی "ضعفه غير واحد" اسے متعدد محدثین نے ضعیف قرار دیا ہے۔
امام ہیثمی "متروك" (مجمع الزوائد میں) انہوں نے اسے متروک (ترک کرنے کے قابل) کہا ہے۔
علامہ البانی "ضعيف جدا" (السلسلۃ الضعیفۃ) میں اسے شدید ضعیف قرار دیا ہے۔
[فیض القدیر شرح الجامع الصغیر:3419]
---
حاصل شدہ اسباق و نکات
۱. متن (معنی) صحیح ہے، لیکن سند ضعیف ہے
اگرچہ اس حدیث کی سند میں سلیمان بن داود الیمانی نامی راوی کی وجہ سے ضعف ہے، لیکن اس کا متن (معنی) قرآن و سنت کے دیگر قطعی مصادر سے ثابت ہے۔
· قرآن میں ہے: {وَلْيَعْفُوا وَلْيَصْفَحُوا أَلَا تُحِبُّونَ أَنْ يَغْفِرَ اللَّهُ لَكُمْ} (النور: ۲۲)۔
· دوسری صحیح احادیث میں عفو و درگزر، سخاوت، اور صلہ رحمی کی بہت زیادہ ترغیب آئی ہے۔
۲. جنت میں داخلہ "رحمت" سے ہے، نہ کہ صرف اعمال سے
حدیث کا فریم "برحمته" (اس کی رحمت سے) انتہائی اہم ہے۔
· اس کا مطلب یہ ہے کہ اگرچہ انسان کے اعمال (اپنی مقدار میں) جنت کے لیے ناکافی ہوں، تب بھی اللہ کی رحمت اسے داخل کر دے گی۔
· یہ اہلِ سنت کا عقیدہ ہے کہ کسی کا جنت میں جانا صرف اللہ کے فضل و رحمت سے ہے، نہ کہ صرف اعمال کی جزا سے۔
۳. تین عظیم اخلاقی صفات (خلاصہ)
· سخاوت (ایثار): محروم کرنے والے کو دینا – نفس کو بخل سے پاک کرنا۔
· عفو و درگزر: ظلم کرنے والے کو معاف کرنا – انتقام اور کینہ سے بچنا۔
· صلہ رحمی: رشتہ توڑنے والے سے تعلق جوڑنا – قطع رحمی (رشتہ توڑنے) کے وبال سے بچنا۔
یہ تینوں وہ صفات ہیں جو انسان کو اللہ کا محبوب اور جنت کا حقدار بناتی ہیں۔
۴. راوی کی تنقید (جرح) دین کی حفاظت کے لیے ہے
اس حدیث کی مثال محدثین کرام کے "فنِّ جرح و تعدیل" کی اہمیت کو ظاہر کرتی ہے۔
· ایک راوی (سلیمان بن داود) کی وجہ سے پوری حدیث ضعیف قرار دے دی گئی، حالانکہ اس کا مفہوم صحیح ہے۔
· اس سے معلوم ہوا کہ دین کی حفاظت کے لیے راویوں کی پہچان اور ان کی تنقید ضروری ہے، تاکہ جھوٹی یا کمزور روایات دین میں داخل نہ ہو سکیں۔
۵. صحابہ کا آخرت کے بارے میں شوق
اس روایت میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا یہ پوچھنا کہ "فَمَا لِي؟" (میرے لیے کیا ہے؟) اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ صحابہ کرام ہر نیکی کے بعد اس کے اجر و ثواب کے بارے میں ضرور دریافت کرتے تھے۔
· یہ ہمارے لیے سبق ہے کہ ہم بھی اپنی نیکیوں کے ثواب کو یاد رکھیں اور اللہ کی رحمت کے طلبگار رہیں۔
۶. اس تحریر کا جدید دور میں اطلاق (عملی پیغام)
آج کل معاشرے میں بخل، انتقام، اور رشتوں کی بےرخی عام ہو چکی ہے۔
یہ حدیث (اگرچہ سنداً ضعیف ہے، مگر معنیً صحیح ہے) ہمیں تین بنیادی اصول سکھاتی ہے:
· دینا (اگرچہ دوسرا روکے) – فیاضی کو فروغ دیں۔
· معاف کرنا (اگرچہ دوسرا ظلم کرے) – دل کو کینہ اور نفرت سے پاک کریں۔
· تعلق جوڑنا (اگرچہ دوسرا توڑ دے) – خاندانی اور معاشرتی رشتوں کو مضبوط کریں۔
اگر ہم یہ کریں تو اللہ ہمارا حساب آسان کرے گا اور اپنی رحمت سے ہمیں جنت میں داخل کرے گا۔
---
واللہ أعلم بالصواب
مسلمان بھائی کی مدد کرنا۔
حدیث نمبر 3
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
«من مشى إلى حاجة أخيه المسلم كتب الله له بكل خطوة يخطوها حسنة إلى أن يرجع من حيث فارقه، فإن قضيت حاجته خرج من ذنوبه كيوم ولدته أمه، وإن هلك فيا من هالك دخل الجنة بغير حساب»
ترجمہ:
”جو شخص اپنے مسلمان بھائی کی ضرورت کے لیے چلتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے ہر قدم کے بدلے میں ایک نیکی لکھ دیتا ہے یہاں تک کہ وہ واپس آجائے۔ اس نے اسے جہاں چھوڑا ہے۔ پھر اگر اس کی حاجت پوری ہو جائے تو وہ اپنے گناہوں سے اس دن کی طرح رہائی پاتا ہے جس دن اس کی ماں نے اسے جنم دیا تھا اور اگر وہ (اس درمیان) مرنے والوں میں سے ہو گیا تو بغیر حساب کے جنت میں داخل ہو گا۔
[مسند أبي يعلى:2789، مكارم الأخلاق للخرائطي:93، الترغيب في فضائل الأعمال-ابن شاهين:419، تاريخ جرجان:553]
حدیث نمبر 4
عنوان:
صبر اور احتساب کی فضیلت – غلام آزاد کرنے سے بھی افضل
"الصَّبْرُ وَالِاحْتِسَابُ أَفْضَلُ مِنْ عِتْقِ الرِّقَابِ، وَيُدْخِلُ اللهُ صَاحِبَهُنَّ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ"
ترجمہ:
"صبر اور احتساب (یعنی مصیبت پر اللہ سے ثواب کی امید رکھنا) غلام آزاد کرنے سے بھی بہتر ہے، اور اللہ تعالیٰ ان (صفات) کے مالک کو بغیر حساب جنت میں داخل کر دے گا۔"
تخریج:
(طب) المعجم الکبیر للطبرانی (٣/ ٢١٧) میں حضرت حکیم بن عمیر الثمالی (رض) سے مروی ہے، اور مصنف (سیوطی / الصنعانی) نے اس پر "ض" (ضعیف) کا نشان لگایا ہے۔
---
تشریح الصنعاني:
(1) "الصَّبْرُ وَالِاحْتِسَابُ أَفْضَلُ" (صبر اور احتساب بہتر ہے)
· احتساب سے مراد: اللہ تعالیٰ کے ہاں اس (مصیبت) کے ثواب کو شمار کرنا اور اس کی امید رکھنا، جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے۔
(2) "مِنْ عِتْقِ الرِّقَابِ" (غلام آزاد کرنے سے)
· وجہ افضلیت: کیونکہ صبر ہر اطاعت کی جڑ (اصل) ہے۔ تمام عبادات یا تو افعال (کرنے والی چیزیں) ہیں یا تروک (چھوڑنے والی چیزیں) اور بندہ ان میں سے کسی کو بھی صبر کے بغیر مکمل طور پر ادا نہیں کر سکتا۔
(3) "وَيُدْخِلُ اللهُ صَاحِبَهُنَّ" (اور اللہ ان کا مالک / ان صفات والا شخص)
· ضمیر "هن" (جمع مؤنث) کا استعمال دو (صبر اور احتساب) کے ساتھ کیا گیا، حالانکہ عربی قاعدے کے مطابق دو کے لیے جمع مؤنث کا استعمال معمول نہیں۔ اس کی توجیہ یہ ہے کہ:
· یہ ضمیر صبر اور احتساب دونوں کی طرف لوٹ سکتی ہے۔
· یا اس میں عتق الرقاب (غلام آزاد کرنا) کو بھی شامل کر لیا گیا ہے (کیونکہ پہلے اس کا ذکر آیا)۔
(4) "الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ" (بغیر حساب جنت میں)
· اس کی وجہ ان (صفات) کا عظیم اجر ہے، جو حساب و کتاب کی ضرورت کو ختم کر دیتا ہے۔
(5) تخریج اور سند کی حیثیت:
· اسے امام طبرانی نے المعجم الکبیر (٣/ ٢١٧) میں حکیم بن عمیر الثمالی سے روایت کیا ہے۔
· علامہ البانی رحمہ اللہ نے اسے اپنی کتب:
· ضعیف الجامع (٣٥٣٧)
· السلسلۃ الضعیفۃ (١٨٦٠) میں "ضعیف" قرار دیا ہے۔
· اسی وجہ سے مصنف/شارح (سیوطی / الصنعانی) نے اس پر "ض" (ضعیف) کا نشان لگایا ہے۔
[التنویر شرح الجامع الصغیر" – امام الصنعانی، رقم: 5115]
---
حاصل شدہ اسباق و نکات
1. صبر کی فضیلت – ہر عبادت کی بنیاد
· صبر کو غلام آزاد کرنے (جو کہ ایک بہت بڑی نیکی ہے) پر بھی فضیلت دی گئی۔
· وجہ: کوئی بھی عبادت (نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ، یا گناہ سے بچنا) صبر کے بغیر مکمل نہیں ہو سکتی۔
· اگر صبر نہ ہو تو انسان عبادت میں سستی، بےصبری، اور جزع (شکایت) کا شکار ہو جاتا ہے۔
2. "احتساب" – مصیبت کو نیکی میں بدلنے کا راز
· احتساب کا مطلب ہے: مصیبت یا تکلیف کو اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے برداشت کرنا اور اس کا ثواب صرف اللہ سے امید رکھنا۔
· جب کوئی شخص صبر کے ساتھ احتساب کرتا ہے، تو اس کی ہر مصیبت (چاہے وہ بیماری، مالی نقصان، یا کسی کی تکلیف ہو) عبادت اور ثواب کا ذریعہ بن جاتی ہے۔
3. بغیر حساب جنت میں داخلہ (عظیم بشارت)
· اس حدیث کے مطابق، صبر اور احتساب کا نتیجہ بغیر حساب جنت میں داخلہ ہے۔
· اس کا مطلب یہ ہے کہ ایسے شخص کے اعمال کی تفتیش (مناقشہ) نہیں کیا جائے گا، اور نہ ہی اسے حساب کی طوالت کا سامنا کرنا پڑے گا۔
4. ضمیر کی جمع (صاحبهن) کی حکمت
· عربی زبان میں عموماً دو کے لیے تثنیہ کا استعمال ہوتا ہے، لیکن یہاں جمع مؤنث ("هن") آیا۔
· اس کی دو توجیہات ہیں:
· (الف) یہ صبر اور احتساب دونوں کی طرف لوٹتی ہے۔
· (ب) یہ ان دونوں کے ساتھ عتق الرقاب (غلام آزاد کرنا) کو بھی شامل کر لیتی ہے (کیونکہ وہ بھی اس جملے کا حصہ ہے)۔
· اس سے معلوم ہوا کہ عربی زبان کا باریک بینی سے استعمال معانی میں وسعت پیدا کرتا ہے۔
5. محدثین کا احتیاطی رویہ (جرح و تعدیل)
· اگرچہ اس حدیث کا مفہوم بہت عمدہ ہے، لیکن محدثین کرام نے اسے "ضعیف" قرار دیا کیونکہ اس کے راوی (حکیم بن عمیر الثمالی) کی سند میں کچھ کمزوری ہے۔
· اس سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ حدیث کی قبولیت کے لیے سند کا صحیح ہونا ضروری ہے، چاہے اس کا متن کتنا ہی اچھا کیوں نہ ہو۔
· البتہ اس کا مفہوم دوسری صحیح احادیث (مثلاً: "عجباً لأمر المؤمن..." وغیرہ) سے ثابت ہے۔
6. اس تحریر کا جدید دور میں اطلاق (عملی پیغام)
· آج کل ہم چھوٹی چھوٹی مصیبتوں پر بےصبری، شکایت، اور جزع کا شکار ہو جاتے ہیں۔
· یہ حدیث ہمیں سکھاتی ہے کہ ہر مشکل کو اللہ کی رضا کے لیے برداشت کریں اور اس کا ثواب صرف اللہ سے امید رکھیں۔
· اگر ہم یہ کر لیں تو ہماری معمولی مشکلات بھی جنت کے عظیم درجات کا سبب بن سکتی ہیں، اور ہمارا حساب آسان ہو جائے گا۔
---
واللہ أعلم بالصواب
حدیث نمبر 5
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا۔
«مَنْ رَبَّى صَبِيًّا حَتَّى يَقُولَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، لَمْ يُحَاسِبْهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ»
ترجمہ:
’’جس نے کسی بچے کی پرورش کی یہاں تک کہ وہ کہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، تو اللہ تعالیٰ اس سے (سخت) حساب نہیں لے گا‘‘۔
[مكارم الأخلاق للخرائطي:662، حديث أبي الطيب الحوراني:21، المعجم الأوسط للطبراني:4865، مكارم الأخلاق للطبراني:110، المعجم الصغير للطبراني:711، الفوائد المنتقاة الحسان للخلعي (الخلعيات) رواية السعدي:187، الخامس من الخلعيات:41، مجمع الزوائد:13506، جامع الأحاديث-السيوطي:22254]
عنوان: بچے کی اسلامی تربیت اور اس کا اجر – (فیض القدیر شرح الجامع الصغیر: ۸۶۹۶)
---
عبارت کا مکمل اردو ترجمہ
متن حدیث (ترجمہ):
"جس شخص نے کسی چھوٹے (بچے) کی پرورش اس طرح کی یہاں تک کہ اس نے «لا إله إلا الله» کہا، تو اللہ تعالیٰ اس (مربی) کا حساب نہیں لے گا۔"
شرح (فیض القدیر):
(۱) "لم يحاسبه الله" (اللہ اس کا حساب نہیں لے گا) یعنی میدانِ محشر (موقف) میں۔
(۲) "الصغير" (چھوٹا) کا لفظ اپنی اولاد، دوسروں کی اولاد، یتیم، اور غیر یتیم سب کو شامل ہے۔
(۳) وجہ یہ ہے کہ: ہر بچہ فطرتِ اسلام پر پیدا ہوتا ہے، اور اس کے ماں باپ ہی اسے یہودی، نصرانی یا مجوسی بناتے ہیں، جیسا کہ حدیث میں ہے۔
پس جو شخص اسے اصلی فطرت کے مطابق (اسلامی تربیت دے کر) پالے یہاں تک کہ وہ عاقل ہو جائے اور شہادۃ الحق (لا إله إلا الله) کا اقرار کرے، تو اسے اس کا بدلہ مطلقاً (بغیر کسی قید کے) جنت میں بغیر حساب داخل کر کے دیا جائے گا۔
(۴) اور یہ بھی احتمال ہے کہ "بغیر حساب" سے مراد آسان حساب ہے جس کا انجام سلامتی پر ہو، کیونکہ یہ نقصان اور مشقت سے خالی ہے، اس لیے اسے "بغیر حساب" سے تعبیر کیا گیا (مبالغے کے طور پر)۔
(۵) یہ اس لیے کہا گیا تاکہ بچوں (خاص طور پر یتیموں) کو اسلامی آداب کی تربیت دینے کی ترغیب دی جائے، تاکہ وہ اس پر عمل کرنے کی مشق کریں اور اسی پر پروان چڑھیں۔
(۶) ظاہر یہ ہے کہ یہ حکم ان لوگوں کے بارے میں ہے جو کبائر (بڑے گناہوں) سے بچتے ہیں، اور احتمال ہے کہ یہ مطلق (بغیر شرط) ہو، اور اللہ کا فضل وسیع ہے۔
---
تخریج اور سند کی حیثیت
مآخذ (کتب تخریج):
· (طس) – المعجم الأوسط للطبرانی
· (عد) – الکامل فی ضعفاء الرجال لابن عدی
سند کا سلسلہ:
أبو عمیر عبد الکبیر بن محمد ← الشاذکونی (سلیمان بن داود) ← عیسیٰ بن یونس ← ہشام ← عروہ ← حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا
---
محدثین کرام کا اس سند پر تنقیدی جائزہ:
محدث کتاب / قول حکم / وضاحت
امام ابن عدی "الکامل" "لا يصح" (یہ صحیح نہیں)، اور اس میں اصل بلا "أبو عمیر" سے ہے۔ اور یہ روایت ابراہیم بن البراء نے بھی شاذکونی سے روایت کی ہے، اور ابراہیم (باطل روایات) بیان کرتا تھا۔
امام ہیثمی (مجمع الزوائد) "فيه سليمان بن داود الشاذكوني وهو ضعيف" (اس میں سلیمان بن داود شاذکونی ہے، جو ضعیف ہے)۔
امام ذہبی "میزان الاعتدال" "متنه موضوع" (اس کا متن جعلی ہے)۔
امام ذہبی "لسان المیزان" "خبر باطل والشاذكوني هالك" (یہ خبر باطل ہے اور شاذکونی ہلاک (کذاب) ہے)۔
---
حاصل شدہ اسباق و نکات
۱. بچوں کی تربیت کی اہمیت
اس حدیث کا مفہوم (اگرچہ سنداً ضعیف/موضوع ہے) ہمیں بچوں کی اسلامی تربیت کی اہمیت سکھاتا ہے۔
· ہر بچہ فطرتِ اسلام پر پیدا ہوتا ہے۔
· والدین اور مربی کا کردار اس فطرت کو محفوظ رکھنا یا اسے تبدیل کرنا ہے۔
۲. بچے کو "لا إله إلا الله" سکھانے کا اجر
· جو شخص بچے کو توحید اور کلمہ سکھائے اور اسے اس پر جیتا جائے، اس کو اجر عظیم ملے گا۔
· خواہ وہ بچہ اپنی اولاد ہو، یتیم ہو، یا کوئی اور۔
۳. محدثین کا احتیاطی منہج (جرح و تعدیل کی اہمیت)
· اس حدیث کا متن (معنی) اگرچہ بہت عمدہ اور دوسری احادیث سے مطابقت رکھتا ہے، لیکن محدثین کرام نے اسے موضوع (جعلی) قرار دیا کیونکہ اس کی سند میں سلیمان بن داود الشاذکونی جیسا ضعیف اور متروک راوی ہے۔
· اس سے ہمیں سبق ملتا ہے کہ دین کی حفاظت کے لیے راویوں کی تنقید نہایت ضروری ہے۔ کوئی بھی روایت، چاہے اس کا مفہوم کتنا ہی اچھا ہو، اگر سند صحیح نہ ہو تو اسے قبول نہیں کیا جا سکتا۔
۴. "موضوع" اور "ضعیف" روایت کے ساتھ معاملہ
· اس حدیث کو موضوع (جعلی) قرار دیا گیا ہے، اس لیے اسے نبی ﷺ کی طرف منسوب کرنا جائز نہیں۔
· البتہ اس کا مفہوم (بچوں کی تربیت اور انہیں توحید سکھانے کی اہمیت) دوسری صحیح احادیث سے ثابت ہے، جیسے:
· "كُلُّ مَوْلُودٍ يُولَدُ عَلَى الفِطْرَةِ..." (بخاری، مسلم)۔
· "مَنْ سَلَكَ طَرِيقًا يَلْتَمِسُ فِيهِ عِلْمًا..." (مسلم)۔
اگرچہ یہ روایت ضعیف ہے۔
[الكامل في ضعفاء الرجال-ابن عدي(م365ھ) : ج4 / ص 304]
لیکن فضائلِ اعمال (یعنی نیک کام کے ثواب کے شوق دلانے) میں بیان کرنا جائز ہے، اسی لئے ضعف کی نشان دہی کے ساتھ روایت کیا گیا۔
لیکن اس بات کو قطعی یقینی لازم ماننا-عقیدہ بنانا جائز نہیں، لہٰذا اس خبر کے کمزور درجہ کی ہونے کے سبب اس کے ضعیف ہونے کی نشاندہی کی گئی ہے۔
---
واللہ أعلم بالصواب
حدیث نمبر 5
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
((من قال في دبر كل صلاةٍ مفروضةٍ قبل أن يتكلم مئة مرةٍ: سبحان الله وبحمده دخل الجنة بغير حسابٍ))
ترجمہ:
جو شخص ہر فرض نماز میں بولنے سے پہلے سو مرتبہ یہ کہے: سبحان الله وبحمده، وہ جنت میں داخل ہو گا بغیر حساب کے۔
[موجبات الجنة لابن الفاخر:281]
حدیث نمبر 6
حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من احتفر بئراً بفلاةٍ من الأرض إيماناً واحتساباً دخل الجنة بغير حسابٍ۔
ترجمہ:
جو شخص کسی ویران زمین میں ایمان اور ثواب کی نیت سے کنواں کھودتا ہے وہ بغیر حساب کے جنت میں داخل ہوگا۔
[موجبات الجنة لابن الفاخر:282]
حدیث نمبر 7
«من حاسب نفسه في الدنيا لم يحاسبه الله يوم القيامة»
ترجمہ:
"جس نے اس دنیا میں اپنے آپ کو جوابدہ بنایا (اپنا حساب خود لیا)، قیامت کے دن اللہ اس سے جوابدہ نہیں ہو گا (حساب نہیں لے گا)۔"
[المفردات في غريب القرآن-الراغب الأصفهاني(م502ھ) : صفحہ 233]
[عمدة الحفاظ في تفسير أشرف الألفاظ-السمين الحلبي(م756ھ) : جلد1/ صفحہ402، 4/ 300]
[بصائر ذوي التمييز في لطائف الكتاب العزيز-الفيروزآبادي(م817ھ) : 2/ 462]
حدیث نمبر 8
وقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من قرأ سورة الحاقة حاسبه الله حسابا يسيرا.
ترجمه:
جو شخص سورة الحاقة کی تلاوت کرے گا، اللہ تعالیٰ اس کا آسان حساب کرے گا۔
[فضائل القرآن للمستغفري:1236، ترتيب الأمالي الخميسية للشجري:478-479، الإيماء إلى زوائد الأمالي والأجزاء:13]
وَمَنْ قَرَأَ سُورَةَ الْأَنْبِيَاءِ، حَاسَبَهُ اللَّهُ حِسَابًا يَسِيرًا
ترجمہ:
اور جو سورۃ الانبیاء پڑھے گا اللہ تعالیٰ اس کا آسان حساب دے گا۔
[فضائل القرآن للمستغفري:1188، ترتيب الأمالي الخميسية للشجري:476]
وَمَنْ قَرَأَ هَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ الْغَاشِيَةِ، حَاسَبَهُ اللَّهُ حِسَابًا يَسِيرًا.
ترجمہ:
اور جو (سورۃ الغاشیہ) پڑھتا ہے، اللہ تعالیٰ اسے آسان حساب دے گا۔
[فضائل القرآن للمستغفري:1255، ترتيب الأمالي الخميسية للشجري:479، الإيماء إلى زوائد الأمالي والأجزاء:13]
حدیث نمبر 9
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا:
((شفاعتي يوم القيامة لأهل الكبائر))، فقلت: ما هذا يا جابر؟ قال نعم يا محمد، إنه من زادت حسناته على سيئاته يوم القيامة فذلك الذي يدخل الجنة بغير حساب، ومن استوت حسناته على سيئاته يوم القيامة، فذلك الذي يحاسب حساباً يسيراً، ثم يدخل الجنة، وإنما شفاعة رسول الله صلى الله عليه وسلم لمن أوبق نفسه وأغلق ظهره))
ترجمہ:
"میری شفاعت قیامت کے روز گناہِ کبیرہ والوں کے لیے ہوگی۔"
(راوی محمد کہتے ہیں) میں نے کہا: اے جابر! یہ کیا ہے؟ تو انہوں نے کہا: اے محمد! (یہ سچ ہے کہ) جس شخص کی قیامت کے روز نیکیاں برائیوں سے زیادہ ہوں گی، وہ بغیر حساب کے جنت میں داخل ہوگا۔ اور جس کی نیکیاں اور برائیاں برابر ہوں گی، اس کا حساب آسان (مختصر) ہوگا، پھر وہ جنت میں داخل ہوگا۔ لیکن رسول اللہ ﷺ کی شفاعت تو خاص طور پر اس شخص کے لیے ہے جس نے خود کو (گناہوں کے بوجھ سے) ہلاک کر لیا ہو اور اپنی پیٹھ (گناہوں کا بوجھ) لاد لی ہو۔"
[شرح أصول اعتقاد أهل السنة والجماعة-اللالكائي:2055، البعث والنشور للبيهقي ت الشوامي:531 ص383، موجبات الجنة لابن الفاخر:296، صفات رب العالمين - ابن المحب الصامت:824]
---
تشریح:
1. "شفاعتي لأهل الكبائر"
یعنی رسول اللہ ﷺ کی عظیم شفاعت قیامت کے روز ان مسلمانوں کے لیے ہوگی جنہوں نے بڑے گناہ (کبائر) کیے ہوں، لیکن شرک نہ کیا ہو اور وہ ایمان پر مرے ہوں۔
2. "حسنات سیئات سے زیادہ ہوں"
ایسے لوگ تو بغیر حساب کے جنت میں داخل ہوں گے، کیونکہ ان کا پلڑا نیکیوں کی وجہ سے بھاری ہوگا۔
3. "نیکیاں اور برائیاں برابر ہوں"
ایسے لوگوں کا حساب مختصر ہوگا، پھر وہ جنت میں جائیں گے۔ اس کا مفہوم یہ ہے کہ وہ جہنم میں نہیں جائیں گے، بلکہ عارضی طور پر احتساب کے بعد جنت میں داخل ہوں گے۔
4. "اوبق نفسه وأغلق ظهره"
یعنی جن لوگوں نے اپنے آپ کو گناہوں میں ڈال کر ہلاک کر لیا (اور ان کی برائیاں زیادہ ہیں)، ان کے لیے شفاعت خاص طور پر ہوگی۔ یہی وہ لوگ ہیں جنہیں نبی ﷺ کی شفاعت سے جہنم سے نکالا جائے گا۔
---
خلاصہ:
یہ حدیث گناہِ کبیرہ والوں کے لیے رسول اللہ ﷺ کی شفاعت کی بشارت دیتی ہے، اور یہ بھی بتاتی ہے کہ بغیر حساب جنت میں داخلے کے لیے نیکیوں کا غالب ہونا ضروری ہے۔
عنوان: غریب اور صابر لوگ جو بغیر حساب جنت میں داخل ہوں گے۔
عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو - رضي الله عنهما - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم -: " تَجْتَمِعُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَيُقَالُ: أَيْنَ فُقَرَاءُ هَذِهِ الْأُمَّةِ؟ , فَيَقُومُونَ، فَيُقَالُ لَهُمْ: مَاذَا عَمِلْتُمْ؟ , فَيَقُولُونَ: رَبَّنَا , ابْتُلِينَا فَصَبَرْنَا، وَولَّيْتَ الْأُمُورَ وَالسُّلْطَانَ غَيْرَنَا , فَيَقُولُ اللهُ - عز وجل -: صَدَقْتُمْ، فَيَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ قَبْلَ النَّاسِ، وَتَبْقَى شِدَّةُ الْحِسَابِ عَلَى ذَوِي الْأَمْوَالِ وَالسُّلْطَانِ "، قَالُوا: فَأَيْنَ الْمُؤْمِنُونَ يَوْمَئِذٍ؟ , قَالَ: " يُوضَعُ لَهُمْ كَرَاسِيُّ مِنْ نُورٍ، مُظَلَّلٌ عَلَيْهِمُ الْغَمَامُ، يَكُونُ ذَلِكَ الْيَوْمُ أَقْصَرَ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ مِنْ سَاعَةٍ مِنْ نَهَارٍ ".
_________
ترجمہ:
حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"تم قیامت کے دن جمع ہو گے، پھر کہا جائے گا: 'اس امت کے غریب لوگ کہاں ہیں؟'
پس وہ کھڑے ہو جائیں گے، پھر ان سے کہا جائے گا: 'تم نے کیا عمل کیا؟'
وہ کہیں گے: 'اے ہمارے رب! ہمیں آزمایا گیا، پس ہم نے صبر کیا، اور تو نے معاملات اور حکومت ہمارے علاوہ دوسروں کو سونپی۔'
پس اللہ عزوجل فرمائے گا: 'تم نے سچ کہا۔'
پھر وہ لوگوں سے پہلے جنت میں داخل ہو جائیں گے، اور مالداروں اور حکمرانوں پر شدید حساب باقی رہے گا۔"
(صحابہ نے) پوچھا: 'پھر اس دن مومنین کہاں ہوں گے؟'
آپ ﷺ نے فرمایا:
'ان کے لیے نور کے تخت (کراسي) رکھے جائیں گے، جن پر بادل کا سایہ ہوگا، اور مومنین کے لیے وہ دن (قیامت) دن کی ایک گھنٹی سے بھی کم (مختصر) ہوگا۔'
[صحیح ابن حبان:7419، المجالسة والجواهر العلم:2037، منصف ابن ابي شيبة:34028، 34715]
علامہ البانی رحمہ اللہ نے اسے اپنی کتب میں صحیح قرار دیا ہے۔
[صحیح الترغیب والترھیب:3187، صحیح موارد الظمآن:2193]
[الجامع الصحيح للسنن والمسانيد: ج3/ص94]
---
حاصل شدہ اسباق و نکات
1. غریبوں کی فضیلت اور ان کا بلند مقام
· قیامت کے دن غریب اور صابر لوگوں کو خاص طور پر بلایا جائے گا۔
· ان سے پوچھا جائے گا کہ انہوں نے دنیا میں کیا عمل کیا؟ تو وہ کہیں گے کہ ہمیں آزمایا گیا اور ہم نے صبر کیا۔
· اس کا مطلب ہے کہ غربت اور مصیبت اگر صبر کے ساتھ برداشت کی جائے تو یہ جنت کا ذریعہ بن جاتی ہے۔
2. غریب اور صابر لوگ پہلے جنت میں داخل ہوں گے
· اللہ تعالیٰ انہیں لوگوں سے پہلے جنت میں داخل کرے گا۔
· اس کا مطلب یہ نہیں کہ مالدار جنت میں نہیں جائیں گے، بلکہ یہ کہ غریبوں کا حساب آسان اور جلدی ہوگا، جبکہ مالداروں اور حکمرانوں کا حساب طویل اور سخت ہوگا۔
3. مالداروں اور حکمرانوں پر شدید حساب
· حدیث میں ہے کہ ذَوي الْأَمْوَالِ وَالسُّلْطَانِ (مال والے اور حکمران) پر شدید حساب باقی رہے گا۔
· اس کا مطلب یہ ہے کہ جسے اللہ نے مال اور اقتدار دیا، اس سے اس کے استعمال کے بارے میں سخت سوال ہوگا۔
· اس لیے مالداروں اور حکمرانوں کو چاہیے کہ وہ اپنے مال اور اختیار کو اللہ کی رضا اور عدل کے مطابق استعمال کریں۔
4. مومنین کے لیے قیامت کا دن مختصر ہوگا
· نبی ﷺ نے فرمایا کہ مومنین کے لیے قیامت کا دن ایک گھنٹی سے بھی کم ہوگا۔
· ان کے لیے نور کے تخت رکھے جائیں گے اور بادل کا سایہ ہوگا۔
· اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ اپنے مومن بندوں پر رحمت اور سکون نازل فرمائے گا، اور انہیں اس دن کی طویل مشقت سے بچائے گا۔
5. اس حدیث کا پچھلے ابواب سے ربط
· اس سے پہلے کی حدیثوں میں بغیر حساب جنت میں داخلے کا ذکر تھا۔
· اس حدیث میں غریبوں کو خاص طور پر اس فضیلت کا مستحق قرار دیا گیا ہے۔
· یہ ان احادیث کی تکمیل ہے جو غربت، صبر، اور قناعت کی فضیلت بیان کرتی ہیں۔
6. اس تحریر کا جدید دور میں اطلاق (عملی پیغام)
· اس حدیث سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ:
· غربت اور مصیبت کو صبر کے ساتھ برداشت کریں، کیونکہ یہ جنت کا ذریعہ ہے۔
· مال اور اقتدار کو اللہ کی رضا کے مطابق استعمال کریں، تاکہ حساب آسان ہو۔
· مومنین کو قیامت کے دن اللہ کی رحمت اور سکون حاصل ہوگا۔
· صبر کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں، خاص طور پر مشکل وقت میں۔
---
واللہ أعلم بالصواب
عنوان: فقراء مہاجرین – سب سے پہلے جنت میں بغیر حساب داخل ہونے والے
وَعَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو - رضي الله عنهما - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم -: (" هَلْ تَدْرُونَ أَوَّلَ مَنْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مِنْ خَلْقِ اللهِ؟ " , فَقَالُوا: اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ , قَالَ: " أَوَّلُ مَنْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مِنْ خَلْقِ اللهِ الْفُقَرَاءُ وَالْمُهَاجِرُونَ , وفي رواية: (فُقَرَاءُ الْمُهَاجِرِينَ) (١) الَّذِينَ تُسَدُّ بِهِمْ الثُّغُورُ (٢) وَتُتَّقَى بِهِمْ الْمَكَارِهُ) (٣) (وَإِذَا أُمِرُوا سَمِعُوا وَأَطَاعُوا , وَإِذَا كَانَتْ لِرَجُلٍ مِنْهُمْ حَاجَةٌ إِلَى السُّلْطَانِ لَمْ تُقْضَ لَهُ , حَتَّى يَمُوتَ وَهِيَ فِي صَدْرِهِ , وَإِنَّ اللهَ - عز وجل - يَدْعُو يَوْمَ الْقِيَامَةِ الْجَنَّةَ , فَتَأتِي بِزُخْرُفِهَا وَزِينَتِهَا , فَيَقُولُ: أَيْنَ عِبَادِي الَّذِينَ قَاتَلُوا فِي سَبِيلِي , وَقُتِلُوا فِي سَبِيلِي , وَأُوذُوا فِي سَبِيلِي وَجَاهَدُوا فِي سَبِيلِي؟ , ادْخُلُوا الْجَنَّةَ , فَيَدْخُلُونَهَا بِغَيْرِ حِسَابٍ وَلَا عَذَابٍ) (٤) (فَيَقُولُ اللهُ - عز وجل - لِمَنْ يَشَاءُ مِنْ مَلَائِكَتِهِ: ائْتُوهُمْ فَحَيُّوهُمْ , فَتَقُولُ الْمَلَائِكَةُ: نَحْنُ سُكَّانُ سَمَائِكَ , وَخِيرَتُكَ مِنْ خَلْقِكَ , أَفَتَأمُرُنَا أَنْ نَأتِيَ هَؤُلَاءِ فَنُسَلِّمَ عَلَيْهِمْ؟ , فَيَقُولُ: إِنَّهُمْ كَانُوا عِبَادًا يَعْبُدُونِي لَا يُشْرِكُونَ بِي شَيْئًا , وَتُسَدُّ بِهِمْ الثُّغُورُ , وَيُتَّقَى بِهِمْ الْمَكَارِهُ , وَيَمُوتُ أَحَدُهُمْ وَحَاجَتُهُ فِي صَدْرِهِ لَا يَسْتَطِيعُ لَهَا قَضَاءً , قَالَ: فَتَأتِيهِمُ الْمَلَائِكَةُ عِنْدَ ذَلِكَ فَيَدْخُلُونَ عَلَيْهِمْ مِنْ كُلِّ بَابٍ: {سَلَامٌ عَلَيْكُمْ بِمَا صَبَرْتُمْ , فَنِعْمَ عُقْبَى الدَّارِ} (٥) ") (٦)
_________
ترجمہ:
حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"کیا تم جانتے ہو کہ اللہ کی مخلوقات میں سے سب سے پہلے جنت میں کون داخل ہوگا؟"
صحابہ نے کہا: اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔
آپ ﷺ نے فرمایا:
"اللہ کی مخلوقات میں سے سب سے پہلے جنت میں داخل ہونے والے فقراء اور مہاجرین ہیں" (1) ، (اور ایک روایت میں ہے: فقراء مہاجرین) (2) ،
"وہ لوگ جن کے ذریعے سرحدیں (ثغور) محفوظ رکھی جاتی ہیں (3) اور جن کے ذریعے مصیبتوں اور مشکلات کا سامنا کیا جاتا ہے، (4) اور جب انہیں حکم دیا جائے تو وہ سنتے اور اطاعت کرتے ہیں،
اور جب ان میں سے کسی شخص کی حاکم (سلطان) سے کوئی حاجت ہوتی ہے تو وہ اس وقت تک پوری نہیں کی جاتی جب تک وہ مر نہیں جاتا اور وہ حاجت اس کے سینے میں (دفن) رہ جاتی ہے۔
اور بیشک اللہ عزوجل قیامت کے دن جنت کو بلائے گا، تو وہ اپنی آرائش اور زینت کے ساتھ آئے گی، پھر اللہ فرمائے گا:
'میرے وہ بندے کہاں ہیں جنہوں نے میری راہ میں جنگ کی، میری راہ میں قتل کیے گئے، میری راہ میں اذیت دیے گئے، اور میری راہ میں جہاد کیا؟
جنت میں داخل ہو جاؤ!'
پس وہ بغیر حساب اور بغیر عذاب کے جنت میں داخل ہو جائیں گے (5) ۔
پھر اللہ عزوجل اپنے فرشتوں میں سے جسے چاہے گا ان کے پاس بھیجے گا اور فرمائے گا: 'ان کے پاس جاؤ اور انہیں سلام کرو۔'
فرشتے کہیں گے: 'ہم تیرے آسمان کے باشندے ہیں اور تیری مخلوقات میں سے تیرے برگزیدہ لوگ ہیں، کیا تو ہمیں حکم دیتا ہے کہ ہم ان کے پاس جائیں اور انہیں سلام کریں؟'
اللہ فرمائے گا: 'یقیناً وہ میرے بندے تھے جو میری عبادت کرتے تھے، میرے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتے تھے، ان کے ذریعے سرحدیں محفوظ رکھی جاتی تھیں، ان کے ذریعے مشکلات کا سامنا کیا جاتا تھا، اور ان میں سے ہر ایک اپنی حاجت کو پورا نہ کر سکنے کی حالت میں مر جاتا تھا۔'
پس اس وقت فرشتے ان کے پاس آتے ہیں اور ہر دروازے سے ان کے پاس داخل ہوتے ہیں اور کہتے ہیں:
{سَلَامٌ عَلَيْكُمْ بِمَا صَبَرْتُمْ ۖ فَنِعْمَ عُقْبَى الدَّارِ}
(تم پر سلام ہو اس صبر کی بدولت جو تم نے کیا، پس کیا ہی اچھا ہے آخرت کا گھر۔)" (6) (7)
---
حواشی وحوالہ جات:
(1) اس حوالے سے "فُقَرَاءُ وَالْمُهَاجِرُونَ" (فقراء اور مہاجرین) کا ذکر ثابت ہے۔ یہ روایت مسند الإمام أحمد (رقم: 6571) میں مروی ہے، اور شیخ شعیب الأرناؤوط نے اسے "صحيح" قرار دیا ہے۔
(2) دوسری روایت میں "فُقَرَاءُ الْمُهَاجِرِينَ" (فقراء مہاجرین) کے الفاظ ہیں۔ یہ مسند الإمام أحمد (رقم: 6570) میں موجود ہے، جسے شیخ شعیب نے "إسناده جيد" کہا ہے، اور علامہ البانی نے اسے "السلسلۃ الصحیحۃ" (رقم: 2559) میں درج کیا ہے۔
(3) "الثُّغُور" (سرحدیں) سے مراد وہ علاقے ہیں جو مسلمانوں اور کافروں کے درمیان حد فاصل ہیں۔ اس کا ذکر مسند أحمد (6570) میں ہے۔
(4) "تُسَدُّ بِهِمْ الثُّغُورُ وَتُتَّقَى بِهِمْ الْمَكَارِهُ" (ان کے ذریعے سرحدیں محفوظ رکھی جاتی ہیں اور ان کے ذریعے مشکلات کا سامنا کیا جاتا ہے) کا ذکر بھی مسند أحمد (6570) میں ہے۔
(5) "يَدْخُلُونَهَا بِغَيْرِ حِسَابٍ وَلَا عَذَابٍ" (وہ بغیر حساب اور بغیر عذاب کے جنت میں داخل ہوں گے) کا ذکر مسند أحمد (6571)، السلسلۃ الصحیحۃ (2559)، اور صحیح الترغیب والترہیب (1373) میں ہے۔
(6) فرشتوں کا سلام سورۃ الرعد کی آیت نمبر 23 کے مطابق ہے: {سَلَامٌ عَلَيْكُمْ بِمَا صَبَرْتُمْ ۖ فَنِعْمَ عُقْبَى الدَّارِ}۔
(7) مکمل حدیث مسند الإمام أحمد (6570) اور صحیح ابن حبان (7421) میں مروی ہے۔ شیخ شعیب الأرناؤوط نے صحیح ابن حبان کی اس سند کو "صحيح" قرار دیا ہے۔
---
حاصل شدہ اسباق و نکات
1. فقراء مہاجرین – جنت میں سب سے پہلے داخل ہونے والے
نبی ﷺ نے واضح فرمایا کہ اللہ کی مخلوقات میں سے سب سے پہلے جنت میں داخل ہونے والے فقراء مہاجرین ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ غربت، ہجرت، اور صبر جنت کی راہ میں بہت بڑے مقامات ہیں۔
2. ان کی خصوصیات
· سرحدوں کی حفاظت کرنے والے: وہ لوگ جو اسلام کی سرحدوں کی نگہبانی کرتے ہیں۔
· مصیبتوں کا سامنا کرنے والے: وہ مشکلات اور تکلیفوں کو برداشت کرتے ہیں۔
· فرماں بردار: جب حکم دیا جائے تو سنتے اور اطاعت کرتے ہیں۔
· محروم حاجت: ان کی حاجت سلطان کے پاس رہ جاتی ہے اور پوری نہیں ہوتی، یعنی وہ دنیا میں اپنی ضروریات کو پورا کرنے سے محروم رہتے ہیں۔
3. بغیر حساب و عذاب جنت میں داخلہ
یہ لوگ بغیر حساب اور بغیر عذاب کے جنت میں داخل ہوں گے۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ دنیا کی محرومیاں اور تکلیفیں آخرت میں عظیم انعام کا سبب بنتی ہیں۔
4. فرشتوں کا ان پر سلام
اللہ تعالیٰ فرشتوں کو حکم دے گا کہ وہ ان کے پاس جائیں اور انہیں سلام کریں۔ فرشتے ان کی شان بیان کریں گے اور انہیں جنت کی بشارت دیں گے۔
5. "صبر" کا اجر – جنت کی خوشخبری
فرشتے کہیں گے: {سَلَامٌ عَلَيْكُمْ بِمَا صَبَرْتُمْ} (تم پر سلام ہو اس صبر کی بدولت جو تم نے کیا)۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ صبر جنت کا باعث ہے۔
6. اس حدیث کا پچھلے ابواب سے ربط
اس سے پہلے کی حدیث (عبداللہ بن عمرو کی پچھلی روایت) میں بھی فقراء کا بغیر حساب جنت میں داخل ہونا تھا۔ اس حدیث میں ان کی مزید خصوصیات بیان کی گئی ہیں اور ان کے مرتبہ کو واضح کیا گیا ہے۔
7. اس تحریر کا جدید دور میں اطلاق (عملی پیغام)
اس حدیث سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ:
· غربت اور مصیبت کو صبر کے ساتھ برداشت کریں، کیونکہ یہ جنت کا ذریعہ ہے۔
· حکمرانوں سے اپنی حاجات کو پوری نہ ہونے پر صبر کریں۔
· سرحدوں کی حفاظت اور امت کی خدمت کو اپنا مقصد بنائیں۔
· فرماں برداری کو اپنی عادت بنائیں۔
· صبر کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں تاکہ آخرت میں فرشتوں کا سلام اور جنت کی بشارت مل سکے۔
---
واللہ أعلم بالصواب
عنوان: مہاجرین – جنت میں داخل ہونے والا پہلا گروہ
وَعَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو - رضي الله عنه - قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم -: " أَتَعْلَمُ أَوَّلَ زُمْرَةٍ تَدْخُلُ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِي؟ "، قُلْتُ: اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ , فَقَالَ: " الْمُهَاجِرُونَ , يَأتُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلَى بَابِ الْجَنَّةِ وَيَسْتَفْتِحُونَ، فَيَقُولُ لَهُمُ الْخَزَنَةُ: أَوَقَدْ حُوسِبْتُمْ؟ , فَيَقُولُونَ: بِأَيِّ شَيْءٍ نُحَاسَبُ؟، وَإِنَّمَا كَانَتْ أَسْيَافُنَا عَلَى عَوَاتِقِنَا فِي سَبِيلِ اللهِ حَتَّى مِتْنَا عَلَى ذَلِكَ "، قَالَ: " فَيُفْتَحُ لَهُمْ، فَيَقِيلُونَ فِيهَا أَرْبَعِينَ عَامًا قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَهَا النَّاسُ "
_________
ترجمہ:
حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا:
"کیا تم جانتے ہو کہ میری امت میں سے سب سے پہلا گروہ (زمرہ) کون ہے جو جنت میں داخل ہوگا؟"
میں نے کہا: اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔
آپ ﷺ نے فرمایا:
"مہاجرین (ہجرت کرنے والے)۔ وہ قیامت کے دن جنت کے دروازے پر آئیں گے اور (داخل ہونے کی) اجازت مانگیں گے۔
پس خزانہ دار (خزنة الجنة) ان سے کہیں گے: 'کیا تمہارا حساب ہو چکا ہے؟'
وہ کہیں گے: 'ہم کس چیز کا حساب دیں گے؟ ہماری تو تلواریں اللہ کی راہ میں ہماری گردنوں پر (لٹکی) رہیں، اور ہم اسی حالت پر مر گئے۔'
پھر ان کے لیے (جنت کا) دروازہ کھول دیا جائے گا، اور وہ لوگوں کے داخل ہونے سے چالیس سال پہلے (یعنی اس عرصے تک) اس (جنت) میں قیلولہ (آرام) کریں گے۔"
---
حوالہ جات:
(1) اس حدیث کو امام حاکم نے اپنی "المستدرک علی الصحیحین" (رقم: 2389) میں روایت کیا ہے۔ نیز علامہ البانی نے اسے "صحیح الجامع" (رقم: 96) اور "السلسلۃ الصحیحۃ" (رقم: 853) میں درج کیا ہے اور اس کی صحت کی طرف اشارہ کیا ہے۔
---
حاصل شدہ اسباق و نکات
1. مہاجرین – جنت میں داخل ہونے والا پہلا گروہ
نبی ﷺ نے واضح فرمایا کہ مہاجرین (وہ لوگ جو اپنے وطن سے اللہ کی راہ میں ہجرت کر گئے) جنت میں داخل ہونے والا پہلا گروہ ہوں گے۔ یہ ان کی عظیم فضیلت اور قربانی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
2. جنت کے دروازے پر اجازت مانگنا
مہاجرین قیامت کے دن جنت کے دروازے پر آئیں گے اور استفتاح (داخل ہونے کی اجازت) مانگیں گے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جنت میں داخل ہونے کے لیے بھی ایک نظام اور ادب ہے، اور ہر کوئی بغیر اجازت داخل نہیں ہو سکتا۔
3. خزانہ داروں کا سوال – "کیا تمہارا حساب ہو چکا ہے؟"
جنت کے خزانہ دار (خزنة الجنة) مہاجرین سے پوچھیں گے: "أَوَقَدْ حُوسِبْتُمْ؟" (کیا تمہارا حساب ہو چکا ہے؟)۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جنت میں داخل ہونے سے پہلے عام طور پر حساب و کتاب ہوتا ہے، لیکن مہاجرین ایسے ہیں کہ ان کا حساب پہلے ہی ختم ہو چکا ہوگا یا انہیں حساب ہی نہیں کرنا پڑے گا۔
4. مہاجرین کا جواب – "ہم کس چیز کا حساب دیں؟"
مہاجرین کہیں گے: "بِأَيِّ شَيْءٍ نُحَاسَبُ؟" (ہم کس چیز کا حساب دیں گے؟)۔ وہ کہیں گے کہ ہماری زندگی تو اللہ کی راہ میں جہاد اور تلوار کے ساتھ گزری، اور ہم اسی حالت پر مر گئے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انہوں نے اپنی زندگی مکمل طور پر اللہ کی راہ میں وقف کر دی تھی، اس لیے ان سے کوئی حساب نہیں لیا جائے گا۔
5. جنت کا دروازہ کھلنا اور چالیس سال قبل آرام
مہاجرین کے لیے جنت کا دروازہ کھول دیا جائے گا، اور وہ لوگوں کے داخل ہونے سے چالیس سال پہلے جنت میں داخل ہو کر قیلولہ (آرام) کریں گے۔ یہ ان کی عظمت اور فضیلت کو ظاہر کرتا ہے کہ وہ دوسروں سے پہلے جنت میں داخل ہوں گے اور وہاں بہترین مقام حاصل کریں گے۔
6. اس حدیث کا پچھلے ابواب سے ربط
پچھلی حدیثوں میں بھی فقراء مہاجرین کا بغیر حساب جنت میں داخل ہونا بیان ہوا تھا۔ اس حدیث میں خاص طور پر مہاجرین کو جنت میں داخل ہونے والا پہلا گروہ قرار دیا گیا ہے اور ان کے جنت میں داخلے کا ایک منظر پیش کیا گیا ہے۔
7. اس تحریر کا جدید دور میں اطلاق (عملی پیغام)
اس حدیث سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ:
· ہجرت فی سبیل اللہ (اللہ کی راہ میں اپنا وطن چھوڑنا) ایک عظیم عمل ہے۔
· جہاد اور اللہ کی راہ میں جان کی قربانی جنت میں جلدی داخلے کا ذریعہ ہے۔
· حساب و کتاب سے بچنے کا راستہ یہ ہے کہ انسان اپنی زندگی اللہ کی رضا میں گزارے۔
· پہلے جنت میں داخل ہونے والوں کا مقام بہت بلند ہوگا۔
· ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی زندگی کو اللہ کی راہ اور اس کی رضا کے لیے وقف کریں، تاکہ ہم بھی ان مہاجرین میں شامل ہو سکیں۔
---
واللہ أعلم بالصواب
عنوان: سترہزار افراد جو بغیر حساب و عذاب جنت میں داخل ہوں گے
وَعَنْ حُصَيْنٍ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ , فَقَالَ: أَيُّكُمْ رَأَى الْكَوْكَبَ الَّذِي انْقَضَّ (١) الْبَارِحَةَ؟ , فَقُلْتُ: أَنَا , ثُمَّ قُلْتُ: أَمَا إِنِّي لَمْ أَكُنْ فِي صَلَاةٍ , وَلَكِنِّي لُدِغْتُ , قَالَ: فَمَاذَا صَنَعْتَ؟ , قُلْتُ: اسْتَرْقَيْتُ (٢) قَالَ: فَمَا حَمَلَكَ عَلَى ذَلِكَ؟ , قُلْتُ: حَدِيثٌ حَدَّثَنَاهُ الشَّعْبِيُّ , فَقَالَ: وَمَا حَدَّثَكُمْ الشَّعْبِيُّ؟ , قُلْتُ: حَدَّثَنَا عَنْ بُرَيْدَةَ بْنِ حُصَيْبٍ الْأَسْلَمِيِّ - رضي الله عنه - أَنَّهُ قَالَ: لَا رُقْيَةَ إِلَّا مِنْ عَيْنٍ أَوْ حُمَةٍ (٣) فَقَالَ: قَدْ أَحْسَنَ مَنْ انْتَهَى إِلَى مَا سَمِعَ , وَلَكِنْ حَدَّثَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ - صلى الله عليه وسلم - قَالَ: " عُرِضَتْ عَلَيَّ الْأُمَمُ , فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ وَمَعَهُ الرُّهَيْطُ (٤) وَالنَّبِيَّ وَمَعَهُ الرَّجُلُ وَالرَّجُلَانِ , وَالنَّبِيَّ لَيْسَ مَعَهُ أَحَدٌ , إِذْ رُفِعَ لِي سَوَادٌ عَظِيمٌ (٥) فَظَنَنْتُ أَنَّهُمْ أُمَّتِي , فَقِيلَ لِي: هَذَا مُوسَى - صلى الله عليه وسلم - وَقَوْمُهُ , وَلَكِنْ انْظُرْ إِلَى الْأُفُقِ , فَنَظَرْتُ , فَإِذَا سَوَادٌ عَظِيمٌ , فَقِيلَ لِي: انْظُرْ إِلَى الْأُفُقِ الْآخَرِ , فَإِذَا سَوَادٌ عَظِيمٌ فَقِيلَ لِي: هَذِهِ أُمَّتُكَ, وَمَعَهُمْ سَبْعُونَ أَلْفًا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ وَلَا عَذَابٍ , ثُمَّ نَهَضَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم - فَدَخَلَ مَنْزِلَهُ " , فَخَاضَ النَّاسُ فِي أُولَئِكَ الَّذِينَ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ وَلَا عَذَابٍ , فَقَالَ بَعْضُهُمْ: لَعَلَّهُمْ الَّذِينَ صَحِبُوا رَسُولَ اللهِ - صلى الله عليه وسلم - وَقَالَ بَعْضُهُمْ: لَعَلَّهُمْ الَّذِينَ وُلِدُوا فِي الْإِسْلَامِ , وَلَمْ يُشْرِكُوا بِاللهِ شَيْئًا , وَذَكَرُوا أَشْيَاءَ , " فَخَرَجَ عَلَيْهِمْ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم - فَقَالَ: مَا الَّذِي تَخُوضُونَ فِيهِ؟ " , فَأَخْبَرُوهُ , فَقَالَ: " هُمْ الَّذِينَ لَا يَرْقُونَ , وَلَا يَسْتَرْقُونَ (٦) وَلَا يَتَطَيَّرُونَ (٧) [وَلَا يَكْتَوُونَ] (٨) وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ " (٩)
الشرح (١٠)
_________
(حصین بن عبدالرحمن کہتے ہیں:) میں سعید بن جبیر کے پاس تھا، تو انہوں نے کہا: "تم میں سے کس نے گزشتہ رات ٹوٹنے والا (گریز) ستارہ دیکھا؟" (1)
میں نے کہا: میں نے (دیکھا)۔ پھر میں نے کہا: اگرچہ میں نماز میں نہیں تھا، لیکن مجھے (بچھو نے) ڈس لیا تھا۔
انہوں نے پوچھا: "پھر تم نے کیا کیا؟"
میں نے کہا: میں نے دم (رقية) کروائی (2)۔
انہوں نے پوچھا: "تمہیں اس پر کس چیز نے آمادہ کیا؟"
میں نے کہا: ایک حدیث جو ہمیں شعبی نے بیان کی تھی۔
انہوں نے پوچھا: "شعبی نے تمہیں کیا حدیث بیان کی؟"
میں نے کہا: ہمیں بریدہ بن حصیب اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: "کوئی دم (رقية) نہیں مگر نظر بد (عین) یا زہریلے جانور (حُمَة) کے ڈس جانے کی صورت میں" (3)۔
(سعید بن جبیر نے) کہا: "جس نے جو سنا اس پر اکتفا کیا، اس نے اچھا کیا، لیکن ہمیں ابن عباس رضی اللہ عنہما نے نبی ﷺ سے روایت کی کہ آپ ﷺ نے فرمایا:"
"مجھ پر ساری امتیں پیش کی گئیں، پس میں نے ایک نبی کو دیکھا جس کے ساتھ تھوڑے سے لوگ (رُهَيْط) تھے (4) ، ایک نبی کے ساتھ ایک یا دو آدمی تھے، اور ایک نبی ایسا بھی تھا جس کے ساتھ کوئی نہیں تھا۔
پھر اچانک میرے لیے ایک بہت بڑا سیاہ (گروہ) اٹھایا گیا (5) ، میں نے سمجھا کہ یہ میری امت ہے، تو مجھ سے کہا گیا: یہ موسیٰ علیہ السلام اور ان کی قوم ہے، لیکن تم افق کی طرف دیکھو۔
میں نے دیکھا تو ایک بہت بڑا سیاہ گروہ تھا، پھر مجھ سے کہا گیا: دوسرے افق کی طرف دیکھو، تو وہاں بھی ایک بہت بڑا سیاہ گروہ تھا۔
مجھ سے کہا گیا: یہ تمہاری امت ہے، اور ان میں ستر ہزار افراد ایسے ہیں جو بغیر حساب اور بغیر عذاب جنت میں داخل ہوں گے۔"
پھر رسول اللہ ﷺ اٹھے اور اپنے گھر میں داخل ہو گئے۔
پس لوگ ان لوگوں کے بارے میں بحث کرنے لگے جو بغیر حساب اور بغیر عذاب جنت میں داخل ہوں گے۔
بعض نے کہا: شاید وہ وہ ہیں جو رسول اللہ ﷺ کے ساتھ رہے (صحابہ)۔
اور بعض نے کہا: شاید وہ وہ ہیں جو اسلام میں پیدا ہوئے اور انہوں نے کبھی شرک نہیں کیا۔
اور انہوں نے بہت سی باتیں کیں۔
پھر رسول اللہ ﷺ (گھر سے) نکل کر ان کے پاس آئے اور فرمایا: "تم کس چیز میں بحث کر رہے ہو؟"
لوگوں نے آپ کو بتایا، تو آپ ﷺ نے فرمایا:
"وہ وہ لوگ ہیں جو دم (رقية) نہیں کرتے، دم نہیں کرواتے (6) ، شگون منحوس نہیں مانتے (7) ، (اور) داغ (کیٓی) نہیں لگواتے (8) ، اور اپنے رب پر توکل کرتے ہیں" (9) ۔
(10)
---
حواشی وحوالہ جات:
(1) "انْقَضَّ" کا معنی: ٹوٹا / گرا۔
(2) "استرقى" کا معنی: دم (رقية) کروانا، جو بیماری (جیسے بخار، صرع، یا حسد) پر پڑھی جاتی ہے تاکہ شفا ملے۔
(3) امام ابو داود نے فرمایا: "الحُمَة" سانپ اور ڈسنے والے ہر جانور کو کہتے ہیں۔
(4) "الرُّهَيْط" "رَهْط" کی تصغیر ہے، یعنی دس سے کم تعداد کا گروہ۔
(5) "السَّوَاد" سے مراد: بڑا مجمع، کثیر تعداد، یا عام لوگ۔ (تحفۃ الأحوذی: ج 6 / ص 238)
(6) اس حاشیہ میں شیخ تقی الدین ابن تیمیہ اور دیگر محدثین کا ایک طویل علمی بحث ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ:
· ابن تیمیہ نے اس روایت کا انکار کیا اور اسے راوی کی غلطی قرار دیا، کیونکہ جبریل علیہ السلام نے نبی ﷺ کو دم کیا، اور نبی ﷺ نے صحابہ کو دم کرنے کی اجازت دی۔
· جواب: دوسرے محدثین نے کہا کہ یہ زیادہ قابلِ اعتماد راویوں سے مروی ہے، اور اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ لوگ مکمل توکل کے حامل ہیں، اس لیے وہ دوسروں سے دم کروانے یا داغ لگوانے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے۔
· قرطبی نے وضاحت کی کہ دم اور داغ لگوانا خود میں برا نہیں، لیکن ان کا ترک کرنا توکل کی اعلیٰ ترین منزل ہے۔
· نیز یہ کہ ستر ہزار افراد کا بغیر حساب داخل ہونا ان کی فضیلت کو ظاہر نہیں کرتا کہ وہ دوسروں سے افضل ہیں، بلکہ یہ اللہ کا خاص فضل ہے، کیونکہ دوسرے لوگ (جن کا حساب ہوگا) ان سے افضل ہو سکتے ہیں۔ (فتح الباری: 11/409)
(7) "لا يتطيرون" سے مراد یہ ہے کہ وہ بدشگونی (تطیر) نہیں مانتے، جیسا کہ جاہلیت میں لوگ کرتے تھے۔ (فتح الباری: 18/389)
(8) "ولا يكتوون" (اور داغ نہیں لگواتے) کا ذکر صحیح البخاری (رقم: 5378) میں ہے۔
(9) (م) صحیح مسلم (رقم: 220)، (خ) صحیح البخاری (رقم: 6175)، (حم) مسند أحمد (رقم: 2448)۔
(10) اس حاشیہ میں "وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ" کی تشریح ہے:
· یہ جملہ پچھلی صفات (دم نہ کرنا، داغ نہ لگوانا، بدشگونی نہ ماننا) کی تفسیر ہو سکتا ہے، یا یہ عام ہے کہ ان کی ہر صفت توکل کی ایک شکل ہے۔
· صوفیہ کی ایک جماعت کہتی ہے کہ توکل کا مطلب یہ ہے کہ انسان کے دل میں اللہ کے سوا کسی کا خوف نہ ہو، حتیٰ کہ اگر شیر حملہ کرے تو بھی وہ بےچین نہ ہو، اور وہ رزق کی تلاش میں بھی نہ جائے۔
· جمہور علماء نے اسے رد کیا اور کہا کہ توکل کا صحیح مفہوم یہ ہے کہ انسان اللہ کے وعدے پر بھروسہ رکھے، اس کے فیصلے پر یقین رکھے، اور سنت کے مطابق رزق کی تلاش کرے (کھانا، پینا، ہتھیار تیار کرنا، دروازہ بند کرنا وغیرہ)، لیکن دل میں ان اسباب پر بھروسہ نہ کرے، بلکہ یقین رکھے کہ نفع و نقصان سب اللہ کے ہاتھ میں ہے۔
· قشیری نے فرمایا: توکل کا مقام دل ہے، ظاہری حرکت اس کی منافی نہیں، بشرطیکہ بندہ یقین رکھے کہ سب کچھ اللہ کی طرف سے ہے۔ (فتح الباری: 11/410)
---
حاصل شدہ اسباق و نکات
1. ستر ہزار افراد کا بغیر حساب جنت میں داخلہ
یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ امت محمدیہ میں سے ستر ہزار افراد بغیر حساب اور بغیر عذاب کے جنت میں داخل ہوں گے۔ یہ اللہ کا خاص فضل اور ان کی عبادت و توکل کا نتیجہ ہے۔
2. ان کی خصوصیات (دم نہ کرنا، بدشگونی نہ ماننا، داغ نہ لگوانا)
· دم (رقية) نہ کرنا اور نہ کروانا: اس کا مطلب یہ نہیں کہ دم کرنا حرام ہے، بلکہ یہ لوگ اپنے مکمل توکل کی وجہ سے دوسروں سے دم کروانے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے۔ البتہ دم کرنا خود جائز ہے، جیسا کہ نبی ﷺ نے خود دم کیا اور دم کرنے کی اجازت دی۔
· بدشگونی (تطیر) نہ ماننا: یہ جاہلیت کی رسم تھی، اور اسلام نے اسے سختی سے منع کیا ہے۔
· داغ (كي) نہ لگوانا: یہ بھی ایک علاج کا طریقہ تھا، لیکن ان لوگوں نے اسے بھی ترک کر دیا، کیونکہ وہ مکمل توکل پر یقین رکھتے تھے۔
3. توکل کا صحیح مفہوم (جمہور کا موقف)
· توکل کا مطلب یہ نہیں کہ انسان اسباب (کھانا، پینا، علاج، حفاظت) کو مکمل طور پر ترک کر دے۔
· بلکہ توکل کا مطلب ہے کہ انسان اسباب کو اختیار کرے، لیکن دل میں ان اسباب پر بھروسہ نہ کرے، بلکہ یقین رکھے کہ سب کچھ اللہ کے ہاتھ میں ہے۔
· نبی ﷺ خود اسباب اختیار کرتے تھے (جیسے جنگ کے لیے ہتھیار تیار کرنا، دروازہ بند کرنا، کھانا پینا)، لیکن ان کا دل اللہ پر ہی تھا۔
4. اس حدیث کا پچھلے ابواب سے ربط
· پچھلی حدیثوں میں فقراء مہاجرین اور مہاجرین کا بغیر حساب جنت میں داخلہ بیان ہوا تھا۔
· اس حدیث میں ان ستر ہزار افراد کی مزید خصوصیات بیان کی گئی ہیں، جن میں توکل اور دم و داغ سے بچنا شامل ہے۔
· یہ تمام حدیثیں بغیر حساب جنت میں جانے والوں کے مختلف گروہوں اور ان کی صفات کو بیان کرتی ہیں۔
5. اس تحریر کا جدید دور میں اطلاق (عملی پیغام)
· ہمیں چاہیے کہ ہم توکل کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں، یعنی اللہ پر بھروسہ کریں، لیکن اسباب اختیار کرنا نہ چھوڑیں۔
· بدشگونی (تطیر) سے بچیں، کیونکہ یہ شرک اور جاہلیت کی علامت ہے۔
· دم (رقية) کو جائز سمجھیں، لیکن اسے اپنا واحد سہارا نہ بنائیں، بلکہ اللہ پر توکل کو ترجیح دیں۔
· علاج کے ذرائع (جیسے دوا، ڈاکٹر) کو استعمال کریں، لیکن دل میں یقین رکھیں کہ شفا دینے والا صرف اللہ ہے۔
---
واللہ أعلم بالصواب
عنوان: ستر ہزار اور ستر ہزار کے ساتھ مزید ستر ہزار – جنت میں بغیر حساب داخل ہونے والوں کی کثرت
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ - رضي الله عنه - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم -: (" وَعَدَنِي رَبِّي أَنْ يُدْخِلَ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِي سَبْعِينَ أَلْفًا لَا حِسَابَ عَلَيْهِمْ وَلَا عَذَابَ , مَعَ كُلِّ أَلْفٍ سَبْعُونَ أَلْفًا , وَثَلَاثُ حَثَيَاتٍ مِنْ حَثَيَاتِ رَبِّي - عز وجل - (١)) (٢) وفي رواية (٣): " أُعْطِيتُ سَبْعِينَ أَلْفًا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ , وُجُوهُهُمْ كَالْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ (٤) وَقُلُوبُهُمْ عَلَى قَلْبِ رَجُلٍ وَاحِدٍ (٥) فَاسْتَزَدْتُ رَبِّي - عز وجل - (٦) فَزَادَنِي مَعَ كُلِّ وَاحِدٍ سَبْعِينَ أَلْفًا "
_________
ترجمہ:
حضرت ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"میرے رب نے مجھ سے وعدہ کیا ہے کہ وہ میری امت میں سے ستر ہزار افراد کو جنت میں داخل کرے گا، جن پر کوئی حساب نہیں ہوگا اور نہ ہی کوئی عذاب، اور ہر ایک ہزار کے ساتھ ستر ہزار (اور) میرے رب کی تین مٹھیاں (بھی شامل ہوں گی)۔" (1) (2)
اور ایک دوسری روایت میں (3) ہے:
"مجھے ستر ہزار (افراد) عطا کیے گئے جو بغیر حساب جنت میں داخل ہوں گے، ان کے چہرے چودھویں رات کے چاند کی طرح ہوں گے (4) اور ان کے دل ایک ہی دل پر ہوں گے (5) ۔
پھر میں نے اپنے رب عزوجل سے مزید (افراد) مانگے (6) ، تو اس نے مجھے ہر ایک کے ساتھ ستر ہزار (مزید) عطا کر دیے۔"
---
حواشی وحوالہ جات:
(1) میری طرف سے (شارح کا قول): بغیر تین مٹھیوں کے ان کی تعداد سترہ ملیں ہوگی (یعنی 70,000 × 70,000 = 4,900,000,000، تقریباً 5 ارب – اللہ ہمیں ان میں شامل کرے)۔
(2) یہ روایت جامع الترمذی (رقم: 2437) اور سنن ابن ماجہ (رقم: 4286) میں موجود ہے۔
(3) دوسری روایت مسند الإمام أحمد (رقم: 22) میں مروی ہے، اور اسے علامہ البانی نے "صحیح الجامع" (رقم: 1057) اور "السلسلۃ الصحیحۃ" (رقم: 1484) میں درج کیا ہے۔
(4) یعنی ان کی چہروں کی چمک چودھویں رات کے چاند کی روشنی کی طرح ہوگی۔ (فیض القدیر: 1/726)
(5) یعنی ان کے دل صفائی اور وضاحت میں ایک دوسرے کے مطابق اور ہم آہنگ ہوں گے۔
(6) یعنی میں نے اللہ سے ستر ہزار کے علاوہ مزید افراد (بغیر حساب) مانگے۔
---
حاصل شدہ اسباق و نکات
1. اللہ کا اپنے نبی ﷺ سے وعدہ اور اس کی وسعت
اس حدیث میں نبی ﷺ نے اپنے رب کے وعدے کو بیان کیا کہ وہ ستر ہزار افراد کو بغیر حساب و عذاب جنت میں داخل کرے گا۔ پھر آپ ﷺ نے مزید مانگا تو اللہ نے ہر ایک کے ساتھ ستر ہزار کا اضافہ کر دیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کی رحمت اور اس کا فضل بےحد وسیع ہے، اور وہ اپنے نبی ﷺ کی ہر درخواست کو قبول کرتا ہے۔
2. بغیر حساب و عذاب جنت میں داخلہ – عظیم فضیلت
یہ لوگ ایسے ہوں گے جن کا قیامت کے دن کوئی حساب نہیں لیا جائے گا، اور نہ ہی انہیں کوئی عذاب ہوگا۔ یہ اللہ کا خاص فضل ہے جو انہیں ان کے کامل توکل، اخلاص، اور اعلیٰ درجے کی عبادت کی وجہ سے ملے گا۔
3. ان کی صفات – چاند جیسے چہرے اور متحد دل
ان کے چہرے چودھویں رات کے چاند کی طرح روشن ہوں گے، اور ان کے دل ایک ہی دل کی طرح متحد اور ہم آہنگ ہوں گے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کے درمیان کوئی اختلاف، کینہ، یا بغض نہیں ہوگا، بلکہ وہ کامل محبت اور اتحاد میں ہوں گے۔
4. نبی ﷺ کا امت کے لیے شفقت اور مزید مانگنا
نبی ﷺ نے ستر ہزار (جو پہلے ہی ایک بہت بڑی تعداد ہے) پر اکتفا نہیں کیا، بلکہ اللہ سے مزید مانگا اور اس نے ہر ایک کے ساتھ ستر ہزار کا اضافہ کر دیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ ﷺ اپنی امت کے لیے کس قدر شفیق اور محبت کرنے والے تھے، اور وہ چاہتے تھے کہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس فضیلت سے مستفید ہوں۔
5. عددی کثرت اور اللہ کی رحمت کی وسعت
پہلی روایت میں تین مٹھیوں (حثیات) کا ذکر ہے، جو اللہ کی رحمت کی بےپناہ وسعت کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ اعداد و شمار (70,000 + 70,000 × 70,000 + تین مٹھیاں) اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ جنت میں داخل ہونے والوں کی تعداد صرف ایک مخصوص عدد تک محدود نہیں، بلکہ اللہ کی رحمت ہر حد سے زیادہ ہے۔
6. اس حدیث کا پچھلے ابواب سے ربط
پچھلی حدیثوں میں بھی ستر ہزار کا ذکر تھا جو بغیر حساب جنت میں داخل ہوں گے، اور ان کی صفات میں دم نہ کرنا، بدشگونی نہ ماننا، داغ نہ لگوانا، اور توکل شامل تھے۔ اس حدیث میں اس عدد کو مزید بڑھا دیا گیا، اور ان کی صفات میں چاند جیسا چہرہ اور متحد دل کا اضافہ کیا گیا۔
7. اس تحریر کا جدید دور میں اطلاق (عملی پیغام)
· اس حدیث سے ہمیں سبق ملتا ہے کہ ہم اللہ کی رحمت سے کبھی مایوس نہ ہوں، اور ہمیشہ اس سے مزید مانگیں۔
· ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے دلوں کو اتحاد اور محبت سے بھریں، تاکہ ہم ان لوگوں میں شامل ہو سکیں۔
· توکل، اخلاص، اور سنت کی پیروی کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں، تاکہ ہم بغیر حساب جنت میں داخل ہونے والوں میں سے ہو سکیں۔
· نبی ﷺ کی امت کے لیے شفقت اور محبت کو اپنایں، اور دوسروں کی بھلائی کے لیے دعا کریں۔
---
واللہ أعلم بالصواب
عنوان: چار لاکھ افراد کی جنت میں داخلے کا وعدہ اور ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کا مکالمہ
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ - رضي الله عنه - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم -: " إِنَّ اللهَ - عز وجل - وَعَدَنِي أَنْ يُدْخِلَ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِي أَرْبَعَ مِائَةِ أَلْفٍ " , فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ - رضي الله عنه -: زِدْنَا يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ: " وَهَكَذَا - وَجَمَعَ كَفَّهُ - "، قَالَ: زِدْنَا يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ: " وَهَكَذَا " , فَقَالَ عُمَرُ - رضي الله عنه -: حَسْبُكَ يَا أَبَا بَكْرٍ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: دَعْنِي يَا عُمَرُ، مَا عَلَيْكَ أَنْ يُدْخِلَنَا اللهُ - عز وجل - الْجَنَّةَ كُلَّنَا؟ , فَقَالَ عُمَرُ: إِنَّ اللهَ - عز وجل - إِنْ شَاءَ أَدْخَلَ خَلْقَهُ الْجَنَّةَ بِكَفٍّ وَاحِدٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم -: " صَدَقَ عُمَرُ "
_________
ترجمہ:
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"بیشک اللہ عزوجل نے مجھ سے وعدہ کیا ہے کہ وہ میری امت میں سے چار لاکھ (۴۰۰،۰۰۰) افراد کو جنت میں داخل کرے گا۔"
پس حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ہمیں مزید دیں، یا رسول اللہ!
آپ ﷺ نے فرمایا: "اور اس طرح (مزید) - اور آپ نے اپنی ہتھیلی کو (پھیلا کر) جمع کیا۔"
انہوں نے کہا: ہمیں مزید دیں، یا رسول اللہ!
آپ ﷺ نے فرمایا: "اور اس طرح (مزید)۔"
پس حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ابوبکر! تمہارے لیے یہ کافی ہے۔
تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے عمر! مجھے چھوڑ دو، تمہیں کیا نقصان ہے اگر اللہ عزوجل ہم سب کو جنت میں داخل کر دے؟
پس عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: بیشک اللہ عزوجل اگر چاہے تو ایک ہی ہتھیلی سے اپنی تمام مخلوقات کو جنت میں داخل کر سکتا ہے۔
تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "عمر نے سچ کہا۔"
---
حوالہ جات:
یہ حدیث مسند الإمام أحمد (رقم: 12718) میں مروی ہے، اور شیخ شعیب الأرناؤوط نے اس کی سند کو "صحيح" قرار دیا ہے۔
---
حاصل شدہ اسباق و نکات
1. اللہ کا نبی ﷺ سے وعدہ اور امت کے لیے شفقت
اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو وعدہ دیا کہ وہ آپ کی امت میں سے چار لاکھ افراد کو جنت میں داخل کرے گا۔ یہ نبی ﷺ کی امت کے لیے شفقت اور اللہ کی رحمت کا مظہر ہے۔
2. ابوبکر رضی اللہ عنہ کا مزید طلب کرنا – امت کی بھلائی کا جذبہ
حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺ سے مزید افراد کے لیے دعا کی درخواست کی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنی امت کی بھلائی اور جنت میں داخلے کے لیے کس قدر فکرمند تھے۔ انہوں نے نبی ﷺ کی ہر بات کو سنبھالا اور مزید کی درخواست کی۔
3. نبی ﷺ کا ہاتھ پھیلا کر اشارہ کرنا – رحمت کی وسعت
آپ ﷺ نے اپنی ہتھیلی پھیلا کر اشارہ کیا کہ مزید افراد بھی شامل ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کی رحمت اتنی وسیع ہے کہ وہ صرف ایک خاص تعداد تک محدود نہیں، بلکہ وہ بےپناہ افراد کو جنت میں داخل کر سکتا ہے۔
4. عمر رضی اللہ عنہ کا مداخلت کرنا اور ابوبکر کو روکنا
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کو روکا اور کہا کہ ان کے لیے یہ کافی ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ مزید افراد کے داخلے کے خلاف تھے، بلکہ ان کا مقصد یہ تھا کہ اللہ کی رحمت اور قدرت کو اس کے حقیقی مقام پر رکھا جائے، اور یہ کہ اللہ اگر چاہے تو ایک ہی ہتھیلی سے تمام مخلوقات کو جنت میں داخل کر سکتا ہے۔
5. ابوبکر کا جواب – امت کی بھلائی کی خواہش
ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: "تمہیں کیا نقصان ہے اگر اللہ ہم سب کو جنت میں داخل کر دے؟" اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کا دل امت کی بھلائی کے لیے دھڑکتا تھا، اور وہ چاہتے تھے کہ زیادہ سے زیادہ افراد اللہ کی رحمت سے مستفید ہوں۔
6. عمر رضی اللہ عنہ کا قول – اللہ کی قدرت کی عظمت کا اعتراف
عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اللہ ایک ہی ہتھیلی سے تمام مخلوقات کو جنت میں داخل کر سکتا ہے۔ یہ اللہ کی قدرت اور رحمت کی وسعت کا اعتراف ہے، اور اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کے فضل کی کوئی حد نہیں۔
7. نبی ﷺ کا "صدق عمر" کہنا – عمر رضی اللہ عنہ کی تصدیق
نبی ﷺ نے عمر رضی اللہ عنہ کے قول کی تصدیق فرمائی اور کہا: "عمر نے سچ کہا۔" اس سے معلوم ہوتا ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ کی بات صحیح تھی، اور اللہ کی رحمت اور قدرت ہر طرح کی حد سے بالا ہے۔
8. اس حدیث کا پچھلے ابواب سے ربط
پچھلی حدیثوں میں ستر ہزار اور ستر ہزار کے ساتھ مزید ستر ہزار کا ذکر تھا۔ اس حدیث میں چار لاکھ کا عدد آیا ہے، جو اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ اللہ کی رحمت اور اس کا فضل مختلف اعداد و شمار میں ظاہر ہوتا ہے، اور یہ کہ نبی ﷺ اپنی امت کے لیے ہمیشہ مزید مانگتے رہے۔
9. اس تحریر کا جدید دور میں اطلاق (عملی پیغام)
· ہمیں چاہیے کہ ہم اللہ کی رحمت سے کبھی مایوس نہ ہوں، اور ہمیشہ اس سے مزید مانگیں۔
· ہمیں امت کی بھلائی کے لیے دعا کرنی چاہیے، جیسا کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کیا۔
· ہمیں اللہ کی قدرت کا اعتراف کرنا چاہیے کہ وہ جسے چاہے اپنی رحمت سے نواز سکتا ہے۔
· ہمیں صحابہ کرام کے اس مکالمے سے یہ سبق ملتا ہے کہ اختلاف رائے کے باوجود وہ آپس میں محبت اور احترام کے ساتھ پیش آتے تھے۔
---
واللہ أعلم بالصواب
عنوان: شفاعت اور ستر ہزار سے بڑھ کر تین مٹھیوں کا عطیہ
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رضي الله عنه - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم -: " سَأَلْتُ اللهَ - عز وجل - الشَّفَاعَةَ لِأُمَّتِي، فَقَالَ لِي: لَكَ سَبْعُونَ أَلْفًا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ , فَقُلْتُ: يَا رَبِّ زِدْنِي , فَقَالَ: فَإِنَّ لَكَ هَكَذَا , فَحَثَا بَيْنَ يَدَيْهِ , وَعَنْ يَمِينِهِ , وَعَنْ شِمَالِهِ "، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ - رضي الله عنه -: حَسْبُنَا يَا رَسُولَ اللهِ، فَقَالَ عُمَرُ - رضي الله عنه -: دَعْ رَسُولَ اللهِ - صلى الله عليه وسلم - يُكْثِرُ لَنَا كَمَا أَكْثَرَ اللهُ تَعَالَى لَنَا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم -: " صَدَقَ أَبُو بَكْرٍ "۔
_________
ترجمہ:
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"میں نے اللہ عزوجل سے اپنی امت کے لیے شفاعت مانگی۔
تو اللہ نے مجھ سے فرمایا: 'تیرے لیے ستر ہزار (افراد) ہیں جو بغیر حساب جنت میں داخل ہوں گے۔'
میں نے کہا: 'اے میرے رب! مجھے مزید دے۔'
تو اللہ نے فرمایا: 'پھر تیرے لیے اس طرح (مزید) ہے' – اور اس نے اپنے سامنے، اپنی دائیں اور اپنی بائیں جانب (مٹھی بھر کر) جھاڑا۔
پس حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: 'ہمیں یہ کافی ہے، یا رسول اللہ!'
پس حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: 'رسول اللہ ﷺ کو ہمارے لیے (دعا کر کے) زیادہ کرنے دیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے لیے زیادہ کیا ہے۔'
تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: 'ابوبکر نے سچ کہا۔'"
---
حوالہ جات:
یہ حدیث "مسند ابن الجعد" (رقم: 2849) میں مروی ہے، اور علامہ البانی نے اسے "السلسلۃ الصحیحۃ" (رقم: 1879) میں "صحیح" قرار دیا ہے۔
---
حاصل شدہ اسباق و نکات
1. نبی ﷺ کا امت کے لیے شفاعت کا سوال اور رحمت کی وسعت
نبی ﷺ نے اللہ سے اپنی امت کے لیے شفاعت مانگی، اور اللہ نے ستر ہزار افراد کو بغیر حساب جنت میں داخل ہونے کا وعدہ فرمایا۔ پھر آپ ﷺ نے مزید مانگا تو اللہ نے تین مٹھیاں (سامنے، دائیں اور بائیں) جھاڑ کر مزید افراد عطا کیے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کی رحمت بےحد وسیع ہے، اور نبی ﷺ اپنی امت کے لیے ہر ممکن طور پر شفاعت اور رحمت حاصل کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔
2. ابوبکر رضی اللہ عنہ کا قول "حسبنا" – قناعت اور شکرگزاری
حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺ کے اس عظیم وعدے کو سن کر کہا: "حَسْبُنَا" (ہمیں یہ کافی ہے)۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ وہ اللہ کی اس عظیم رحمت اور نبی ﷺ کی شفاعت پر راضی تھے، اور اس سے زیادہ کی طلب کرنا انہوں نے مناسب نہیں سمجھا۔ یہ ان کے قناعت اور شکرگزاری کے جذبے کو ظاہر کرتا ہے۔
3. عمر رضی اللہ عنہ کا قول – اللہ کی رحمت کی وسعت پر بھروسہ
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نبی ﷺ کو مزید مانگنے دیا جائے، کیونکہ اللہ نے خود اپنی رحمت کو بےپناہ کیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمیں اللہ کی رحمت کی وسعت پر مکمل بھروسہ ہونا چاہیے، اور ہمیں اپنی دعاؤں میں ہمیشہ مزید کی توقع رکھنی چاہیے۔
4. نبی ﷺ کا "صدق ابوبکر" کہنا – قناعت اور شکرگزاری کی فضیلت
نبی ﷺ نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کے قول کی تصدیق فرمائی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اگرچہ مزید مانگنا بھی جائز ہے، لیکن قناعت اور شکرگزاری بھی ایک اعلیٰ درجہ ہے، اور اسے پسندیدگی حاصل ہے۔ عمر رضی اللہ عنہ کا موقف بھی درست تھا، لیکن اس موقع پر ابوبکر رضی اللہ عنہ کی قناعت کو ترجیح دی گئی۔
5. صحابہ کرام کا آپس میں محبت اور ادب کا تعلق
ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما کے اس مکالمے سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ کرام آپس میں کس قدر محبت اور احترام کے ساتھ پیش آتے تھے۔ انہوں نے ایک دوسرے کی بات کو سنبھالا، اور نبی ﷺ کی موجودگی میں اپنی رائے کا اظہار کیا، لیکن کسی بھی قسم کی تلخی یا ناراضی کا مظاہرہ نہیں کیا۔
6. اس حدیث کا پچھلے ابواب سے ربط
پچھلی حدیثوں میں بھی ستر ہزار اور تین مٹھیوں کا ذکر تھا، اور ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کا ایک اور مکالمہ بھی گزرا تھا۔ اس حدیث میں بھی اسی موضوع پر روشنی ڈالی گئی ہے، جس میں ابوبکر رضی اللہ عنہ قناعت پسند ہیں جبکہ عمر رضی اللہ عنہ مزید کی ترغیب دیتے ہیں، اور نبی ﷺ نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کی تصدیق فرمائی۔
7. اس تحریر کا جدید دور میں اطلاق (عملی پیغام)
· ہمیں چاہیے کہ ہم اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہوں، اور ہمیشہ اس سے مزید مانگتے رہیں۔
· ساتھ ہی، ہمیں قناعت اور شکرگزاری کو بھی اپنی زندگی کا حصہ بنانا چاہیے، کیونکہ یہ بھی ایک اعلیٰ درجہ ہے۔
· ہمیں چاہیے کہ ہم صحابہ کرام کے اس انداز سے سیکھیں کہ اختلاف رائے کے باوجود آپس میں محبت اور احترام کو برقرار رکھا جائے۔
· ہمیں نبی ﷺ کی شفاعت پر ایمان رکھنا چاہیے اور اس کے لیے دعا کرنی چاہیے۔
---
واللہ أعلم بالصواب
بغیر حساب جنت کی احادیث کا باہمی تعارض(ٹکراؤ) اور ان کا حل
🔹 پہلا تعارف: بظاہر متعارض احادیث کا جائزہ
درج ذیل احادیث میں بغیر حساب جنت میں داخل ہونے والوں کی تعداد مختلف ذکر ہوئی ہے:
حدیث تعداد ماخذ
حدیث ابن عباس / ابوہریرہ ستر ہزار (70,000) صحیح بخاری، مسلم
حدیث ابو امامہ 70,000 + 70,000 × 70,000 + تین مٹھیاں ترمذی، ابن ماجہ
حدیث انس بن مالک چار لاکھ (400,000) مسند احمد
حدیث ابوہریرہ (دوسری) 70,000 + تین مٹھیاں (سامنے، دائیں، بائیں) مسند ابن الجعد
بظاہر تعارض: ایک حدیث میں 70,000، دوسری میں 70,000 کا ستر ہزار کے ساتھ ضرب اور تین مٹھیاں، تیسری میں 400,000، اور چوتھی میں 70,000 اور تین مٹھیاں۔ یہ اعداد مختلف ہیں، تو کیا یہ باہم متعارض ہیں؟
---
🔹 تعارض کا حل – ممکنہ تطبیقات (موافقات)
محدثین کرام کا اصول ہے کہ جب دو احادیث بظاہر متعارض ہوں تو پہلے ان میں تطبیق (توفیق) کی کوشش کی جاتی ہے، اور اگر ممکن نہ ہو تو ترجیح دی جاتی ہے۔ یہاں تطبیق بہ آسانی ممکن ہے۔
حل اول: مختلف مواقع اور درجات (شفاعت کے مراحل)
نبی ﷺ نے متعدد بار اللہ سے شفاعت مانگی، اور ہر بار اللہ نے اضافہ فرمایا۔ جیسا کہ احادیث میں واضح ہے:
· پہلی بار: 70,000 عطا ہوئے۔ (حدیث ابن عباس، ابوہریرہ)
· دوسری بار: ہر ایک کے ساتھ 70,000 مزید (یعنی 70,000 × 70,000)۔ (حدیث ابو امامہ)
· تیسری بار: تین مٹھیاں (حثیات) مزید۔ (حدیث ابو امامہ، ابوہریرہ)
· چوتھی بار: 400,000 کا اضافہ (حدیث انس بن مالک) یا شاید یہ ایک الگ گروہ ہے۔
نتیجہ: یہ سب ایک ہی سلسلے کی کڑیاں ہیں، نہ کہ متضاد بیانات۔ ہر حدیث ایک الگ موقع یا ایک الگ مرحلے کو بیان کرتی ہے۔
---
حل دوم: "عدد" سے مراد "کثرت" ہے، نہ کہ حقیقی گنتی
عربی زبان میں بعض مخصوص اعداد (جیسے 70, 70,000, 400,000) کثرت کے لیے بطورِ کنایہ استعمال ہوتے ہیں، خاص طور پر جب کوئی بہت بڑی تعداد بیان کرنی ہو۔
· شاہد: حدیث میں "تین مٹھیاں" (حثیات) کا ذکر ہے، جو اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے، اور اس کا شمار ممکن نہیں۔
· اسی طرح 400,000 بھی ایک بہت بڑی تعداد کو ظاہر کرنے کے لیے استعمال ہوا ہے، جس کا مطلب ہے کہ یہ ایک بہت بڑا گروہ ہے، نہ کہ قطعی عدد۔
نتیجہ: یہ اعداد محض کثرت کے اظہار کے لیے ہیں، حقیقی گنتی کے لیے نہیں۔ اس لیے ان میں کوئی حقیقی تضاد نہیں۔
---
حل سوم: مختلف گروہ اور ان کی مختلف صفات
· 70,000 کا گروہ خاص صفات والا ہے (جو دم نہیں کرتے، بدشگونی نہیں مانتے، داغ نہیں لگواتے، اور توکل کرتے ہیں)۔
· 400,000 کا گروہ کوئی اور ہو سکتا ہے (مثلاً وہ لوگ جن کا حساب تو ہوگا لیکن عذاب نہیں، یا وہ جو نبی ﷺ کی شفاعت سے اس درجے پر پہنچے)۔
· تین مٹھیاں اللہ کی خاص رحمت کا اظہار ہیں جو ہر قسم کے گروہوں کو شامل ہو سکتی ہیں۔
نتیجہ: یہ مختلف گروہ ہیں، ایک ہی گروہ کی مختلف تعداد نہیں۔ اس لیے ان میں کوئی تضاد نہیں۔
---
حل چہارم: شفاعت کے مختلف مراحل اور اوقات
نبی ﷺ نے شفاعت مانگی اور اللہ نے مختلف اوقات میں مختلف اضافے فرمائے۔ جیسا کہ حدیث ابوہریرہ میں ہے:
"سَأَلْتُ اللهَ الشَّفَاعَةَ لِأُمَّتِي، فَقَالَ: لَكَ سَبْعُونَ أَلْفًا... فَقُلْتُ: زِدْنِي، فَحَثَا بَيْنَ يَدَيْهِ وَعَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ"
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ ایک ہی واقعہ ہے جس میں متعدد مراحل ہوئے۔ ہر راوی نے ایک مرحلے کو بیان کیا، یا ایک ہی واقعہ کو مختلف الفاظ میں نقل کیا۔
نتیجہ: یہ سب ایک ہی واقعے کی مختلف روایات ہیں، جن میں کوئی حقیقی تضاد نہیں۔
---
حل پنجم: علماء کا منہج – تطبیق کو ترجیح دینا
ائمہ محدثین (جیسے امام نووی، ابن حجر، البانی) کا اصول ہے کہ جب دو احادیث بظاہر متعارض ہوں تو:
1. تطبیق (توفیق) کی کوشش کی جائے (جیسا کہ اوپر کیا گیا)۔
2. اگر تطبیق ممکن نہ ہو تو ترجیح دی جائے (زیادہ ثقہ راوی، زیادہ متصل سند وغیرہ)۔
3. اگر ترجیح بھی ممکن نہ ہو تو توقف (رک جانا) کیا جائے۔
یہاں تطبیق بہ آسانی ممکن ہے، اس لیے کسی ترجیح یا توقف کی ضرورت نہیں۔
---
🔹 حاصل شدہ نتیجہ (خلاصہ)
اعتراض حل
مختلف اعداد (70,000، 400,000، وغیرہ) یہ شفاعت کے مختلف مراحل ہیں، ایک ہی موقع نہیں۔
70,000 اور 70,000×70,000 میں فرق یہ پہلے 70,000، پھر ہر ایک کے ساتھ 70,000 کا اضافہ ہے۔
تین مٹھیاں (حثیات) کا ذکر یہ اللہ کی رحمت کی وسعت کا اظہار ہے، کوئی قطعی عدد نہیں۔
400,000 کا عدد یہ کثرت کے لیے بطورِ کنایہ ہے، یا ایک الگ گروہ ہے۔
بظاہر تضاد تطبیق (توفیق) سے تمام احادیث میں ہم آہنگی ممکن ہے۔
---
🔹 آخری نتیجہ
یہ تمام احادیث دراصل ایک ہی حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہیں:
"اللہ کی رحمت بےحد وسیع ہے، اور نبی ﷺ کی شفاعت سب سے بڑی ہے۔ بغیر حساب جنت میں داخل ہونے والوں کی تعداد اتنی زیادہ ہوگی کہ اس کا کوئی قطعی شمار نہیں، مگر اللہ نے اپنے نبی کو یہ عطا کیا ہے۔"
اس لیے ان میں کوئی حقیقی تعارض نہیں، بلکہ یہ رحمتِ الٰہی اور شفاعتِ نبوی کی وسعت کو مختلف زاویوں سے بیان کرتی ہیں۔
---
واللہ أعلم بالصواب




No comments:
Post a Comment