اللہ پاک بندوں (کے اعمال) کا حساب دو طرح کا لیتا گا:
(1)حسابا شدیدا.....سخت حساب
[حوالہ سورۃ الطلاق:8]
(2)حسابا یسیرا.....آسان حساب
[حوالہ سورۃ الانشقاق:8]
کن سے آسان حساب لیا جائے گا؟
حدیث نمبر 1
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
من هدي لِلْإِسْلَامِ وقنع بِمَا آتَاهُ الله تَعَالَى دخل الْجنَّة بِغَيْر حِسَاب
ترجمہ:
"جس شخص کو اسلام کی ہدایت مل گئی اور اس نے اللہ تعالیٰ کے دیے ہوئے (رزق) پر قناعت کی، وہ بغیر حساب کے جنت میں داخل ہوگا۔"
[المبسوط للسرخسي: 30/ 276]
---
تشریح:
· "من هدي للإسلام": یعنی جسے اللہ نے اسلام کی راہ دکھائی، اس نے اسے قبول کیا اور اس پر عمل کیا۔
· "وقنع بما آتاه الله": یعنی جو اللہ کے دیے ہوئے رزق (مال، صحت، عافیت وغیرہ) پر راضی اور مطمئن رہا، اور حرص و طمع سے دور رہا۔
· "دخل الجنة بغير حساب": ایسا شخص قیامت کے دن بغیر کسی سخت حساب و کتاب کے جنت میں داخل ہوگا۔
یہ حدیث اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ توحید، اسلام پر استقامت، اور اللہ کی تقسیم پر رضا و قناعت جنت میں بغیر حساب داخلے کا ذریعہ ہے۔
یاد رہے: یہ حدیث مختلف اسانید سے مروی ہے، اور بعض محققین نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ یہ حدیثِ قدسی نہیں، بلکہ نبوی ہے۔
تین خصلتیں – آسان حساب اور جنت کی بشارت
حدیث نمبر 2
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
«ثَلَاثٌ مَنْ كُنَّ فِيهِ حَاسَبَهُ اللَّهُ حِسَابًا يَسِيرًا وَأَدْخَلَهُ الْجَنَّةَ بِرَحْمَتِهِ» قَالُوا: لِمَنْ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «تُعْطِي مَنْ حَرَمَكَ، وَتَعْفُو عَمَّنْ ظَلَمَكَ، وَتَصِلُ مَنْ قَطَعَكَ» قَالَ: فَإِذَا فَعَلْتُ ذَلِكَ، فَمَا لِي يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «أَنْ تُحَاسَبَ حِسَابًا يَسِيرًا وَيُدْخِلَكَ اللَّهُ الْجَنَّةَ بِرَحْمَتِهِ»
ترجمہ:
"تین خصلتیں جس شخص میں ہوں گی، اللہ تعالیٰ اس کا آسان حساب لے گا اور اسے اپنی رحمت سے جنت میں داخل کرے گا۔"
صحابہ کرام نے عرض کیا: "یا رسول اللہ! یہ (خصلتیں) کن کے لیے ہیں؟"
آپ ﷺ نے فرمایا: "(یہ وہ شخص ہے) جو تمہیں محروم کرے اسے دو، جو تم پر ظلم کرے اسے معاف کرو، اور جو تمہارا رشتہ توڑے اس سے تعلق جوڑو (صلہ رحمی کرو)۔"
(صحابی نے) عرض کیا: "اگر میں نے ایسا کر لیا تو میرے لیے کیا ہے، یا رسول اللہ؟"
آپ ﷺ نے فرمایا: "(تمہارا) آسان حساب ہو گا اور اللہ تمہیں اپنی رحمت سے جنت میں داخل کرے گا۔"
[مسند(امام)البزار:8635، المعجم الأوسط(امام)الطبرانی:909، المستدرک (امام)الحاکم:3912(7285)، السنن الکبریٰ(امام)البیھقی:21092]
شرح المناوی:
"تین خصلتیں جس شخص میں بھی ہوں گی، اللہ تعالیٰ اس کا قیامت کے روز بہت آسان حساب لے گا،"
· یعنی اس سے مواخذہ نہیں کرے گا، نہ اس پر سختی کرے گا، اور نہ ہی اسے (حساب کے لیے) **زیادہ دیر کھڑا رکھے گا۔
"اور اسے اپنی رحمت سے جنت میں داخل کرے گا"
· یعنی اگرچہ اس کا عمل (اپنی مقدار میں) اس (جنت) کو نہ پہنچتا ہو (یعنی اعمال کی کمی کی وجہ سے وہ اس کا مستحق نہ ہو، تب بھی اللہ کی رحمت اسے داخل کر دے گی)۔
(وہ تین خصلتیں کیا ہیں؟)
"تُعْطِي مَنْ حَرَمَكَ"
(تم اسے دو جس نے تمہیں محروم کیا) – یعنی اسے عطیہ، مودت (محبت) یا احسان دو۔
"وَتَعْفُو عَمَّنْ ظَلَمَكَ"
(اور تم معاف کرو اسے جس نے تم پر ظلم کیا) – خواہ وہ ظلم جان، مال یا آبرو میں ہو۔
"وَتَصِلُ مَنْ قَطَعَكَ"
(اور تم تعلق جوڑو اس سے جس نے تمہارا رشتہ توڑا) – خواہ وہ رشتہ دار ہوں یا غیر (عام مسلمان)۔
طبرانی کی روایت میں مکمل اضافہ (تتمہ):
(اس حدیث کا یہ بھی حصہ ہے کہ) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا:
"إِذَا فَعَلْتُ هَذَا فَمَا لِي يَا نَبِيَّ اللهِ؟" (اگر میں نے یہ (تینوں کام) کر لیے تو میرے لیے کیا ہے، اے اللہ کے نبی؟)
تو آپ ﷺ نے فرمایا:
"يُدْخِلُكَ اللَّهُ الْجَنَّةَ" (اللہ تعالیٰ تمہیں جنت میں داخل کرے گا)۔
تخریج اور حکم:
یہ حدیث درج ذیل کتب میں مروی ہے:
· (ابن ابی الدنیا) ابوبکر القرشی نے اپنی کتاب "ذَمِّ الغَضَب" میں۔
· (طس) المعجم الأوسط للطبرانی میں۔
· (ك) المستدرک علی الصحیحین للحاکم میں (تفسیر کے باب میں)۔
سند کا سلسلہ:
سلیمان بن داود الیمانی ← یحییٰ بن ابی کثیر ← ابوسلمہ ← ابوہریرہ رضی اللہ عنہ
محدثین کرام کا راوی (سلیمان بن داود الیمانی) پر تنقیدی جائزہ:
امام حاکم "صحيح" انہوں نے اسے اپنی "مستدرک" میں نقل کیا اور اسے صحیح قرار دیا۔
امام ذہبی "سليمان ضعيف" انہوں نے حاکم کے حکم کو رد کرتے ہوئے کہا کہ سلیمان ضعیف ہے۔
امام ذہبی (دوسرا قول) "سليمان واهٍ" (المہذب میں) انہوں نے اسے "واہ" (شدید کمزور) کہا۔
امام بخاری "منكر الحديث" (میزان الاعتدال میں) امام بخاری نے فرمایا: سلیمان منکر الحدیث ہے، اور جو شخص میرے نزدیک منکر الحدیث ہے، اس کی حدیث روایت کرنا جائز نہیں۔
امام علائی "ضعفه غير واحد" اسے متعدد محدثین نے ضعیف قرار دیا ہے۔
امام ہیثمی "متروك" (مجمع الزوائد میں) انہوں نے اسے متروک (ترک کرنے کے قابل) کہا ہے۔
امام البانی "ضعيف جدا" (السلسلۃ الضعیفۃ) میں اسے شدید ضعیف قرار دیا ہے۔
[فیض القدیر شرح الجامع الصغیر:3419]
---
حاصل شدہ اسباق و نکات
۱. متن (معنی) صحیح ہے، لیکن سند ضعیف ہے
اگرچہ اس حدیث کی سند میں سلیمان بن داود الیمانی نامی راوی کی وجہ سے ضعف ہے، لیکن اس کا متن (معنی) قرآن و سنت کے دیگر قطعی مصادر سے ثابت ہے۔
· قرآن میں ہے: {وَلْيَعْفُوا وَلْيَصْفَحُوا أَلَا تُحِبُّونَ أَنْ يَغْفِرَ اللَّهُ لَكُمْ} (النور: ۲۲)۔
· دوسری صحیح احادیث میں عفو و درگزر، سخاوت، اور صلہ رحمی کی بہت زیادہ ترغیب آئی ہے۔
۲. جنت میں داخلہ "رحمت" سے ہے، نہ کہ صرف اعمال سے
حدیث کا فریم "برحمته" (اس کی رحمت سے) انتہائی اہم ہے۔
· اس کا مطلب یہ ہے کہ اگرچہ انسان کے اعمال (اپنی مقدار میں) جنت کے لیے ناکافی ہوں، تب بھی اللہ کی رحمت اسے داخل کر دے گی۔
· یہ اہلِ سنت کا عقیدہ ہے کہ کسی کا جنت میں جانا صرف اللہ کے فضل و رحمت سے ہے، نہ کہ صرف اعمال کی جزا سے۔
۳. تین عظیم اخلاقی صفات (خلاصہ)
· سخاوت (ایثار): محروم کرنے والے کو دینا – نفس کو بخل سے پاک کرنا۔
· عفو و درگزر: ظلم کرنے والے کو معاف کرنا – انتقام اور کینہ سے بچنا۔
· صلہ رحمی: رشتہ توڑنے والے سے تعلق جوڑنا – قطع رحمی (رشتہ توڑنے) کے وبال سے بچنا۔
یہ تینوں وہ صفات ہیں جو انسان کو اللہ کا محبوب اور جنت کا حقدار بناتی ہیں۔
۴. راوی کی تنقید (جرح) دین کی حفاظت کے لیے ہے
اس حدیث کی مثال محدثین کرام کے "فنِّ جرح و تعدیل" کی اہمیت کو ظاہر کرتی ہے۔
· ایک راوی (سلیمان بن داود) کی وجہ سے پوری حدیث ضعیف قرار دے دی گئی، حالانکہ اس کا مفہوم صحیح ہے۔
· اس سے معلوم ہوا کہ دین کی حفاظت کے لیے راویوں کی پہچان اور ان کی تنقید ضروری ہے، تاکہ جھوٹی یا کمزور روایات دین میں داخل نہ ہو سکیں۔
۵. صحابہ کا آخرت کے بارے میں شوق
اس روایت میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا یہ پوچھنا کہ "فَمَا لِي؟" (میرے لیے کیا ہے؟) اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ صحابہ کرام ہر نیکی کے بعد اس کے اجر و ثواب کے بارے میں ضرور دریافت کرتے تھے۔
· یہ ہمارے لیے سبق ہے کہ ہم بھی اپنی نیکیوں کے ثواب کو یاد رکھیں اور اللہ کی رحمت کے طلبگار رہیں۔
۶. اس تحریر کا جدید دور میں اطلاق (عملی پیغام)
آج کل معاشرے میں بخل، انتقام، اور رشتوں کی بےرخی عام ہو چکی ہے۔
یہ حدیث (اگرچہ سنداً ضعیف ہے، مگر معنیً صحیح ہے) ہمیں تین بنیادی اصول سکھاتی ہے:
· دینا (اگرچہ دوسرا روکے) – فیاضی کو فروغ دیں۔
· معاف کرنا (اگرچہ دوسرا ظلم کرے) – دل کو کینہ اور نفرت سے پاک کریں۔
· تعلق جوڑنا (اگرچہ دوسرا توڑ دے) – خاندانی اور معاشرتی رشتوں کو مضبوط کریں۔
اگر ہم یہ کریں تو اللہ ہمارا حساب آسان کرے گا اور اپنی رحمت سے ہمیں جنت میں داخل کرے گا۔
---
واللہ أعلم بالصواب
مسلمان بھائی کی مدد کرنا۔
حدیث نمبر 3
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
«من مشى إلى حاجة أخيه المسلم كتب الله له بكل خطوة يخطوها حسنة إلى أن يرجع من حيث فارقه، فإن قضيت حاجته خرج من ذنوبه كيوم ولدته أمه، وإن هلك فيا من هالك دخل الجنة بغير حساب»
ترجمہ:
”جو شخص اپنے مسلمان بھائی کی ضرورت کے لیے چلتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے ہر قدم کے بدلے میں ایک نیکی لکھ دیتا ہے یہاں تک کہ وہ واپس آجائے۔ اس نے اسے جہاں چھوڑا ہے۔ پھر اگر اس کی حاجت پوری ہو جائے تو وہ اپنے گناہوں سے اس دن کی طرح رہائی پاتا ہے جس دن اس کی ماں نے اسے جنم دیا تھا اور اگر وہ (اس درمیان) مرنے والوں میں سے ہو گیا تو بغیر حساب کے جنت میں داخل ہو گا۔
[مسند أبي يعلى:2789، مكارم الأخلاق للخرائطي:93، الترغيب في فضائل الأعمال-ابن شاهين:419، تاريخ جرجان:553]
حدیث نمبر 4
عنوان:
صبر اور احتساب کی فضیلت – غلام آزاد کرنے سے بھی افضل
"الصَّبْرُ وَالِاحْتِسَابُ أَفْضَلُ مِنْ عِتْقِ الرِّقَابِ، وَيُدْخِلُ اللهُ صَاحِبَهُنَّ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ"
ترجمہ:
"صبر اور احتساب (یعنی مصیبت پر اللہ سے ثواب کی امید رکھنا) غلام آزاد کرنے سے بھی بہتر ہے، اور اللہ تعالیٰ ان (صفات) کے مالک کو بغیر حساب جنت میں داخل کر دے گا۔"
تخریج:
(طب) المعجم الکبیر للطبرانی (٣/ ٢١٧) میں حضرت حکیم بن عمیر الثمالی (رض) سے مروی ہے، اور مصنف (سیوطی / الصنعانی) نے اس پر "ض" (ضعیف) کا نشان لگایا ہے۔
---
تشریح الصنعاني:
(1) "الصَّبْرُ وَالِاحْتِسَابُ أَفْضَلُ" (صبر اور احتساب بہتر ہے)
· احتساب سے مراد: اللہ تعالیٰ کے ہاں اس (مصیبت) کے ثواب کو شمار کرنا اور اس کی امید رکھنا، جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے۔
(2) "مِنْ عِتْقِ الرِّقَابِ" (غلام آزاد کرنے سے)
· وجہ افضلیت: کیونکہ صبر ہر اطاعت کی جڑ (اصل) ہے۔ تمام عبادات یا تو افعال (کرنے والی چیزیں) ہیں یا تروک (چھوڑنے والی چیزیں) اور بندہ ان میں سے کسی کو بھی صبر کے بغیر مکمل طور پر ادا نہیں کر سکتا۔
(3) "وَيُدْخِلُ اللهُ صَاحِبَهُنَّ" (اور اللہ ان کا مالک / ان صفات والا شخص)
· ضمیر "هن" (جمع مؤنث) کا استعمال دو (صبر اور احتساب) کے ساتھ کیا گیا، حالانکہ عربی قاعدے کے مطابق دو کے لیے جمع مؤنث کا استعمال معمول نہیں۔ اس کی توجیہ یہ ہے کہ:
· یہ ضمیر صبر اور احتساب دونوں کی طرف لوٹ سکتی ہے۔
· یا اس میں عتق الرقاب (غلام آزاد کرنا) کو بھی شامل کر لیا گیا ہے (کیونکہ پہلے اس کا ذکر آیا)۔
(4) "الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ" (بغیر حساب جنت میں)
· اس کی وجہ ان (صفات) کا عظیم اجر ہے، جو حساب و کتاب کی ضرورت کو ختم کر دیتا ہے۔
(5) تخریج اور سند کی حیثیت:
· اسے امام طبرانی نے المعجم الکبیر (٣/ ٢١٧) میں حکیم بن عمیر الثمالی سے روایت کیا ہے۔
· علامہ البانی رحمہ اللہ نے اسے اپنی کتب:
· ضعیف الجامع (٣٥٣٧)
· السلسلۃ الضعیفۃ (١٨٦٠) میں "ضعیف" قرار دیا ہے۔
· اسی وجہ سے مصنف/شارح (سیوطی / الصنعانی) نے اس پر "ض" (ضعیف) کا نشان لگایا ہے۔
[التنویر شرح الجامع الصغیر" – امام الصنعانی، رقم: 5115]
---
حاصل شدہ اسباق و نکات
1. صبر کی فضیلت – ہر عبادت کی بنیاد
· صبر کو غلام آزاد کرنے (جو کہ ایک بہت بڑی نیکی ہے) پر بھی فضیلت دی گئی۔
· وجہ: کوئی بھی عبادت (نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ، یا گناہ سے بچنا) صبر کے بغیر مکمل نہیں ہو سکتی۔
· اگر صبر نہ ہو تو انسان عبادت میں سستی، بےصبری، اور جزع (شکایت) کا شکار ہو جاتا ہے۔
2. "احتساب" – مصیبت کو نیکی میں بدلنے کا راز
· احتساب کا مطلب ہے: مصیبت یا تکلیف کو اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے برداشت کرنا اور اس کا ثواب صرف اللہ سے امید رکھنا۔
· جب کوئی شخص صبر کے ساتھ احتساب کرتا ہے، تو اس کی ہر مصیبت (چاہے وہ بیماری، مالی نقصان، یا کسی کی تکلیف ہو) عبادت اور ثواب کا ذریعہ بن جاتی ہے۔
3. بغیر حساب جنت میں داخلہ (عظیم بشارت)
· اس حدیث کے مطابق، صبر اور احتساب کا نتیجہ بغیر حساب جنت میں داخلہ ہے۔
· اس کا مطلب یہ ہے کہ ایسے شخص کے اعمال کی تفتیش (مناقشہ) نہیں کیا جائے گا، اور نہ ہی اسے حساب کی طوالت کا سامنا کرنا پڑے گا۔
4. ضمیر کی جمع (صاحبهن) کی حکمت
· عربی زبان میں عموماً دو کے لیے تثنیہ کا استعمال ہوتا ہے، لیکن یہاں جمع مؤنث ("هن") آیا۔
· اس کی دو توجیہات ہیں:
· (الف) یہ صبر اور احتساب دونوں کی طرف لوٹتی ہے۔
· (ب) یہ ان دونوں کے ساتھ عتق الرقاب (غلام آزاد کرنا) کو بھی شامل کر لیتی ہے (کیونکہ وہ بھی اس جملے کا حصہ ہے)۔
· اس سے معلوم ہوا کہ عربی زبان کا باریک بینی سے استعمال معانی میں وسعت پیدا کرتا ہے۔
5. محدثین کا احتیاطی رویہ (جرح و تعدیل)
· اگرچہ اس حدیث کا مفہوم بہت عمدہ ہے، لیکن محدثین کرام نے اسے "ضعیف" قرار دیا کیونکہ اس کے راوی (حکیم بن عمیر الثمالی) کی سند میں کچھ کمزوری ہے۔
· اس سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ حدیث کی قبولیت کے لیے سند کا صحیح ہونا ضروری ہے، چاہے اس کا متن کتنا ہی اچھا کیوں نہ ہو۔
· البتہ اس کا مفہوم دوسری صحیح احادیث (مثلاً: "عجباً لأمر المؤمن..." وغیرہ) سے ثابت ہے۔
6. اس تحریر کا جدید دور میں اطلاق (عملی پیغام)
· آج کل ہم چھوٹی چھوٹی مصیبتوں پر بےصبری، شکایت، اور جزع کا شکار ہو جاتے ہیں۔
· یہ حدیث ہمیں سکھاتی ہے کہ ہر مشکل کو اللہ کی رضا کے لیے برداشت کریں اور اس کا ثواب صرف اللہ سے امید رکھیں۔
· اگر ہم یہ کر لیں تو ہماری معمولی مشکلات بھی جنت کے عظیم درجات کا سبب بن سکتی ہیں، اور ہمارا حساب آسان ہو جائے گا۔
---
واللہ أعلم بالصواب
حدیث نمبر 5
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا۔
«مَنْ رَبَّى صَبِيًّا حَتَّى يَقُولَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، لَمْ يُحَاسِبْهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ»
ترجمہ:
’’جس نے کسی بچے کی پرورش کی یہاں تک کہ وہ کہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، تو اللہ تعالیٰ اس سے (سخت) حساب نہیں لے گا‘‘۔
[مكارم الأخلاق للخرائطي:662، حديث أبي الطيب الحوراني:21، المعجم الأوسط للطبراني:4865، مكارم الأخلاق للطبراني:110، المعجم الصغير للطبراني:711، الفوائد المنتقاة الحسان للخلعي (الخلعيات) رواية السعدي:187، الخامس من الخلعيات:41، مجمع الزوائد:13506، جامع الأحاديث-السيوطي:22254]
عنوان: بچے کی اسلامی تربیت اور اس کا اجر – (فیض القدیر شرح الجامع الصغیر: ۸۶۹۶)
---
عبارت کا مکمل اردو ترجمہ
متن حدیث (ترجمہ):
"جس شخص نے کسی چھوٹے (بچے) کی پرورش اس طرح کی یہاں تک کہ اس نے «لا إله إلا الله» کہا، تو اللہ تعالیٰ اس (مربی) کا حساب نہیں لے گا۔"
شرح (فیض القدیر):
(۱) "لم يحاسبه الله" (اللہ اس کا حساب نہیں لے گا) یعنی میدانِ محشر (موقف) میں۔
(۲) "الصغير" (چھوٹا) کا لفظ اپنی اولاد، دوسروں کی اولاد، یتیم، اور غیر یتیم سب کو شامل ہے۔
(۳) وجہ یہ ہے کہ: ہر بچہ فطرتِ اسلام پر پیدا ہوتا ہے، اور اس کے ماں باپ ہی اسے یہودی، نصرانی یا مجوسی بناتے ہیں، جیسا کہ حدیث میں ہے۔
پس جو شخص اسے اصلی فطرت کے مطابق (اسلامی تربیت دے کر) پالے یہاں تک کہ وہ عاقل ہو جائے اور شہادۃ الحق (لا إله إلا الله) کا اقرار کرے، تو اسے اس کا بدلہ مطلقاً (بغیر کسی قید کے) جنت میں بغیر حساب داخل کر کے دیا جائے گا۔
(۴) اور یہ بھی احتمال ہے کہ "بغیر حساب" سے مراد آسان حساب ہے جس کا انجام سلامتی پر ہو، کیونکہ یہ نقصان اور مشقت سے خالی ہے، اس لیے اسے "بغیر حساب" سے تعبیر کیا گیا (مبالغے کے طور پر)۔
(۵) یہ اس لیے کہا گیا تاکہ بچوں (خاص طور پر یتیموں) کو اسلامی آداب کی تربیت دینے کی ترغیب دی جائے، تاکہ وہ اس پر عمل کرنے کی مشق کریں اور اسی پر پروان چڑھیں۔
(۶) ظاہر یہ ہے کہ یہ حکم ان لوگوں کے بارے میں ہے جو کبائر (بڑے گناہوں) سے بچتے ہیں، اور احتمال ہے کہ یہ مطلق (بغیر شرط) ہو، اور اللہ کا فضل وسیع ہے۔
---
تخریج اور سند کی حیثیت
مآخذ (کتب تخریج):
· (طس) – المعجم الأوسط للطبرانی
· (عد) – الکامل فی ضعفاء الرجال لابن عدی
سند کا سلسلہ:
أبو عمیر عبد الکبیر بن محمد ← الشاذکونی (سلیمان بن داود) ← عیسیٰ بن یونس ← ہشام ← عروہ ← حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا
---
محدثین کرام کا اس سند پر تنقیدی جائزہ:
محدث کتاب / قول حکم / وضاحت
امام ابن عدی "الکامل" "لا يصح" (یہ صحیح نہیں)، اور اس میں اصل بلا "أبو عمیر" سے ہے۔ اور یہ روایت ابراہیم بن البراء نے بھی شاذکونی سے روایت کی ہے، اور ابراہیم (باطل روایات) بیان کرتا تھا۔
امام ہیثمی (مجمع الزوائد) "فيه سليمان بن داود الشاذكوني وهو ضعيف" (اس میں سلیمان بن داود شاذکونی ہے، جو ضعیف ہے)۔
امام ذہبی "میزان الاعتدال" "متنه موضوع" (اس کا متن جعلی ہے)۔
امام ذہبی "لسان المیزان" "خبر باطل والشاذكوني هالك" (یہ خبر باطل ہے اور شاذکونی ہلاک (کذاب) ہے)۔
---
حاصل شدہ اسباق و نکات
۱. بچوں کی تربیت کی اہمیت
اس حدیث کا مفہوم (اگرچہ سنداً ضعیف/موضوع ہے) ہمیں بچوں کی اسلامی تربیت کی اہمیت سکھاتا ہے۔
· ہر بچہ فطرتِ اسلام پر پیدا ہوتا ہے۔
· والدین اور مربی کا کردار اس فطرت کو محفوظ رکھنا یا اسے تبدیل کرنا ہے۔
۲. بچے کو "لا إله إلا الله" سکھانے کا اجر
· جو شخص بچے کو توحید اور کلمہ سکھائے اور اسے اس پر جیتا جائے، اس کو اجر عظیم ملے گا۔
· خواہ وہ بچہ اپنی اولاد ہو، یتیم ہو، یا کوئی اور۔
۳. محدثین کا احتیاطی منہج (جرح و تعدیل کی اہمیت)
· اس حدیث کا متن (معنی) اگرچہ بہت عمدہ اور دوسری احادیث سے مطابقت رکھتا ہے، لیکن محدثین کرام نے اسے موضوع (جعلی) قرار دیا کیونکہ اس کی سند میں سلیمان بن داود الشاذکونی جیسا ضعیف اور متروک راوی ہے۔
· اس سے ہمیں سبق ملتا ہے کہ دین کی حفاظت کے لیے راویوں کی تنقید نہایت ضروری ہے۔ کوئی بھی روایت، چاہے اس کا مفہوم کتنا ہی اچھا ہو، اگر سند صحیح نہ ہو تو اسے قبول نہیں کیا جا سکتا۔
۴. "موضوع" اور "ضعیف" روایت کے ساتھ معاملہ
· اس حدیث کو موضوع (جعلی) قرار دیا گیا ہے، اس لیے اسے نبی ﷺ کی طرف منسوب کرنا جائز نہیں۔
· البتہ اس کا مفہوم (بچوں کی تربیت اور انہیں توحید سکھانے کی اہمیت) دوسری صحیح احادیث سے ثابت ہے، جیسے:
· "كُلُّ مَوْلُودٍ يُولَدُ عَلَى الفِطْرَةِ..." (بخاری، مسلم)۔
· "مَنْ سَلَكَ طَرِيقًا يَلْتَمِسُ فِيهِ عِلْمًا..." (مسلم)۔
اگرچہ یہ روایت ضعیف ہے۔
[الكامل في ضعفاء الرجال-ابن عدي(م365ھ) : ج4 / ص 304]
لیکن فضائلِ اعمال (یعنی نیک کام کے ثواب کے شوق دلانے) میں بیان کرنا جائز ہے، اسی لئے ضعف کی نشان دہی کے ساتھ روایت کیا گیا۔
لیکن اس بات کو قطعی یقینی لازم ماننا-عقیدہ بنانا جائز نہیں، لہٰذا اس خبر کے کمزور درجہ کی ہونے کے سبب اس کے ضعیف ہونے کی نشاندہی کی گئی ہے۔
---
واللہ أعلم بالصواب
حدیث نمبر 5
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
((من قال في دبر كل صلاةٍ مفروضةٍ قبل أن يتكلم مئة مرةٍ: سبحان الله وبحمده دخل الجنة بغير حسابٍ))
ترجمہ:
جو شخص ہر فرض نماز میں بولنے سے پہلے سو مرتبہ یہ کہے: سبحان الله وبحمده، وہ جنت میں داخل ہو گا بغیر حساب کے۔
[موجبات الجنة لابن الفاخر:281]
حدیث نمبر 6
حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من احتفر بئراً بفلاةٍ من الأرض إيماناً واحتساباً دخل الجنة بغير حسابٍ۔
ترجمہ:
جو شخص کسی ویران زمین میں ایمان اور ثواب کی نیت سے کنواں کھودتا ہے وہ بغیر حساب کے جنت میں داخل ہوگا۔
[موجبات الجنة لابن الفاخر:282]
حدیث نمبر 7
«من حاسب نفسه في الدنيا لم يحاسبه الله يوم القيامة»
ترجمہ:
"جس نے اس دنیا میں اپنے آپ کو جوابدہ بنایا (اپنا حساب خود لیا)، قیامت کے دن اللہ اس سے جوابدہ نہیں ہو گا (حساب نہیں لے گا)۔"
[المفردات في غريب القرآن-الراغب الأصفهاني(م502ھ) : صفحہ 233]
[عمدة الحفاظ في تفسير أشرف الألفاظ-السمين الحلبي(م756ھ) : جلد1/ صفحہ402، 4/ 300]
[بصائر ذوي التمييز في لطائف الكتاب العزيز-الفيروزآبادي(م817ھ) : 2/ 462]
حدیث نمبر 8
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا:
((شفاعتي يوم القيامة لأهل الكبائر))، فقلت: ما هذا يا جابر؟ قال نعم يا محمد، إنه من زادت حسناته على سيئاته يوم القيامة فذلك الذي يدخل الجنة بغير حساب، ومن استوت حسناته على سيئاته يوم القيامة، فذلك الذي يحاسب حساباً يسيراً، ثم يدخل الجنة، وإنما شفاعة رسول الله صلى الله عليه وسلم لمن أوبق نفسه وأغلق ظهره))
ترجمہ:
"میری شفاعت قیامت کے روز گناہِ کبیرہ والوں کے لیے ہوگی۔"
(راوی محمد کہتے ہیں) میں نے کہا: اے جابر! یہ کیا ہے؟ تو انہوں نے کہا: اے محمد! (یہ سچ ہے کہ) جس شخص کی قیامت کے روز نیکیاں برائیوں سے زیادہ ہوں گی، وہ بغیر حساب کے جنت میں داخل ہوگا۔ اور جس کی نیکیاں اور برائیاں برابر ہوں گی، اس کا حساب آسان (مختصر) ہوگا، پھر وہ جنت میں داخل ہوگا۔ لیکن رسول اللہ ﷺ کی شفاعت تو خاص طور پر اس شخص کے لیے ہے جس نے خود کو (گناہوں کے بوجھ سے) ہلاک کر لیا ہو اور اپنی پیٹھ (گناہوں کا بوجھ) لاد لی ہو۔"
[شرح أصول اعتقاد أهل السنة والجماعة-اللالكائي:2055، البعث والنشور للبيهقي ت الشوامي:531 ص383، موجبات الجنة لابن الفاخر:296، صفات رب العالمين - ابن المحب الصامت:824]
---
تشریح:
1. "شفاعتي لأهل الكبائر"
یعنی رسول اللہ ﷺ کی عظیم شفاعت قیامت کے روز ان مسلمانوں کے لیے ہوگی جنہوں نے بڑے گناہ (کبائر) کیے ہوں، لیکن شرک نہ کیا ہو اور وہ ایمان پر مرے ہوں۔
2. "حسنات سیئات سے زیادہ ہوں"
ایسے لوگ تو بغیر حساب کے جنت میں داخل ہوں گے، کیونکہ ان کا پلڑا نیکیوں کی وجہ سے بھاری ہوگا۔
3. "نیکیاں اور برائیاں برابر ہوں"
ایسے لوگوں کا حساب مختصر ہوگا، پھر وہ جنت میں جائیں گے۔ اس کا مفہوم یہ ہے کہ وہ جہنم میں نہیں جائیں گے، بلکہ عارضی طور پر احتساب کے بعد جنت میں داخل ہوں گے۔
4. "اوبق نفسه وأغلق ظهره"
یعنی جن لوگوں نے اپنے آپ کو گناہوں میں ڈال کر ہلاک کر لیا (اور ان کی برائیاں زیادہ ہیں)، ان کے لیے شفاعت خاص طور پر ہوگی۔ یہی وہ لوگ ہیں جنہیں نبی ﷺ کی شفاعت سے جہنم سے نکالا جائے گا۔
---
خلاصہ:
یہ حدیث گناہِ کبیرہ والوں کے لیے رسول اللہ ﷺ کی شفاعت کی بشارت دیتی ہے، اور یہ بھی بتاتی ہے کہ بغیر حساب جنت میں داخلے کے لیے نیکیوں کا غالب ہونا ضروری ہے۔




No comments:
Post a Comment