(۱) "الوَصِيَّةُ" کا لغوی مفہوم
وصیت کا معنی ہے: "کسی دوسرے شخص کو کسی عمل کے کرنے کا حکم دینا، جس کے ساتھ وعظ و نصیحت بھی ہو"۔
اشتقاقی نکتہ:
یہ لفظ عرب کے اس قول سے ماخوذ ہے:
"أَرْضٌ وَاصِيَةٌ" (واصیہ زمین) یعنی "وہ زمین جس کی نباتات (پودے) آپس میں ملی ہوئی اور متصل ہوں"۔
گویا وصیت کرنے والا اپنی بات کو دوسرے کے دل سے اس طرح جوڑ دیتا ہے جیسے زمین کے پودے آپس میں جڑے ہوتے ہیں۔
---
(۲) اس مادے کے مختلف صیغے
· "أَوْصَاهُ" اور "وَصَّاهُ" – دونوں کا مطلب "اسے وصیت کی" ہے۔
---
(۳) قرآن مجید میں "وصیت" کے استعمالات
امام راغب نے قرآن کی متعدد آیات میں اس لفظ کے استعمال کی وضاحت فرمائی ہے:
(الف) سورۃ البقرہ (۲) : آیت ۱۳۲
عربی:
"وَوَصَّىٰ بِهَا إِبْرَاهِيمُ بَنِيهِ وَيَعْقُوبُ"
ترجمہ:
"اور ابراہیم اور یعقوب نے اپنی اولاد کو اسی (دین) کی وصیت کی۔"
نوٹ: اس آیت کی ایک قراءت میں "وَأَوْصَىٰ" بھی آیا ہے۔
---
(ب) سورۃ النساء (۴) : آیت ۱۳۱
عربی:
"وَلَقَدْ وَصَّيْنَا الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ"
ترجمہ:
"اور بے شک ہم نے اہلِ کتاب (یہودیوں اور عیسائیوں) کو وصیت کی..."
---
(ج) سورۃ العنکبوت (۲۹) : آیت ۸
عربی:
"وَ وَصَّيْنَا الْإِنْسَانَ"
ترجمہ:
"اور ہم نے انسان کو (والدین کے ساتھ نیک سلوک کی) وصیت کی۔"
---
(د) سورۃ النساء (۴) : آیت ۱۱
عربی:
"يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ"
ترجمہ:
"اللہ تمہیں تمہاری اولاد کے (وراثت کے) بارے میں وصیت کرتا ہے۔"
---
(ہ) سورۃ النساء (۴) : آیت ۱۲
عربی:
"مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصِي بِهَا"
ترجمہ:
"اس وصیت کے بعد جو وہ کر جائے..."
---
(و) سورۃ المائدہ (۵) : آیت ۱۰۶
عربی:
"حِينَ الْوَصِيَّةِ اثْنَانِ"
ترجمہ:
"وصیت کے وقت (گواہ) دو (انصاف پسند مرد) ہوں۔"
---
(۴) "وَصَّىٰ" کا ایک خاص مفہوم
امام راغب فرماتے ہیں:
"وَصَّىٰ" کے معنی "أَنْشَأَ فَضْلَهُ" بھی ہیں، یعنی "اس نے اپنا فضل (اور احسان) جاری کیا"۔
---
(۵) "تَوَاصَى" (ایک دوسرے کو وصیت کرنا)
"تَوَاصَى الْقَوْمُ" کا مطلب ہے: "قوم کے لوگوں نے ایک دوسرے کو وصیت کی" (یعنی انہوں نے باہمی طور پر ایک دوسرے کو کوئی حکم یا نصیحت دی)۔
(الف) سورۃ العصر (۱۰۳) : آیت ۳
عربی:
"وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ"
ترجمہ:
"اور وہ ایک دوسرے کو حق (کی پیروی) اور صبر (پر قائم رہنے) کی وصیت کرتے ہیں۔"
(ب) سورۃ الذاریات (۵۱) : آیت ۵۳
عربی:
"أَتَوَاصَوْا بِهِ ۚ بَلْ هُمْ قَوْمٌ طَاغُونَ"
ترجمہ:
"کیا انہوں نے (یہی جھوٹ) ایک دوسرے کو وصیت کیا ہے؟ بلکہ وہ ایک سرکش قوم ہیں۔"
[المفردات في غريب القرآن-امام الراغب الأصفهاني: ص873-874]
پیغمبر ﷺ کی وصیتیں
حدیث نمبر 1
عنوان: نبی ﷺ کی دس اہم وصیتیں – حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کو نصیحت
عَنْ مُعَاذٍ رضي الله عنه قَالَ: أَوْصَانِي رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم بِعَشْرِ كَلِمَاتٍ: قَالَ: " لَا تُشْرِكْ بِاللهِ شَيْئًا، وَإِنْ قُتِلْتَ وَحُرِّقْتَ , وَلَا تَعُقَّنَّ وَالِدَيْكَ، وَإِنْ أَمَرَاكَ أَنْ تَخْرُجَ مِنْ أَهْلِكَ وَمَالِكَ، وَلَا تَتْرُكَنَّ صَلَاةً مَكْتُوبَةً مُتَعَمِّدًا، فَإِنَّ مَنْ تَرَكَ صَلَاةً مَكْتُوبَةً مُتَعَمِّدًا فَقَدْ بَرِئَتْ مِنْهُ ذِمَّةُ اللهِ (١) وَلَا تَشْرَبَنَّ خَمْرًا، فَإِنَّهُ رَأسُ كُلِّ فَاحِشَةٍ، وَإِيَّاكَ وَالْمَعْصِيَةَ، فَإِنَّ بِالْمَعْصِيَةِ حَلَّ سَخَطُ اللهِ - عز وجل - وَإِيَّاكَ وَالْفِرَارَ مِنْ الزَّحْفِ , وَإِنْ هَلَكَ النَّاسُ، وَإِذَا أَصَابَ النَّاسَ مُوتَانٌ (٢) وَأَنْتَ فِيهِمْ , فَاثْبُتْ، وَأَنْفِقْ عَلَى عِيَالِكَ مِنْ طَوْلِكَ (٣) وَلَا تَرْفَعْ عَنْهُمْ عَصَاكَ أَدَبًا (٤) وَأَخِفْهُمْ فِي اللهِ " (٥)
_________
ترجمہ:
حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
"رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دس کلمات (وصیتوں) کی نصیحت فرمائی۔ آپ ﷺ نے فرمایا:
1. اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کر، اگرچہ تجھے قتل کر دیا جائے اور جلا دیا جائے۔
2. اور اپنے والدین کی نافرمانی نہ کر، اگرچہ وہ تجھے حکم دیں کہ تو اپنے اہل و عیال اور مال کو چھوڑ کر (ان کی خاطر) نکل جا۔
3. اور کوئی فرض نماز جان بوجھ کر نہ چھوڑ، کیونکہ جس نے جان بوجھ کر کوئی فرض نماز چھوڑ دی، اس سے اللہ کی ذمہ داری (حفاظت اور رحمت) بری ہو گئی (1) ۔
4. اور شراب نہ پی، کیونکہ یہ ہر بدکاری کی جڑ (سر) ہے۔
5. اور گناہ سے بچ، کیونکہ گناہ کے ذریعے اللہ کا غضب نازل ہوتا ہے۔
6. اور میدانِ جنگ سے بھاگنے سے بچ، اگرچہ لوگ (تمہارے ساتھی) ہلاک ہو جائیں۔
7. اور جب لوگوں میں وبا (موتان) پھیل جائے (2) اور تم ان میں ہو، تو (وہیں) ثابت قدم رہو۔
8. اور اپنے اہل و عیال پر اپنی وسعت (مال) سے خرچ کرو (3) ۔
9. اور ان (اہلِ خانہ) سے اپنی لاٹھی نہ اٹھاؤ (یعنی ان کی تربیت کے لیے سزا سے دریغ نہ کرو) (4) ۔
10. اور انہیں اللہ کے خوف میں رکھو (یعنی انہیں اللہ کا خوف دلاؤ)" (5) ۔
---
حواشی وحوالہ جات:
1۔ تشریح: "ذِمَّةُ اللَّهِ" سے مراد اللہ کی طرف سے حفاظت اور نگرانی کا عہد ہے۔ جو شخص جان بوجھ کر نماز چھوڑے یا حرام کام کرے، اس سے اللہ کی یہ ذمہ داری ختم ہو جاتی ہے۔(النہایۃ فی غریب الحدیث:ج 2 / ص 171)
2 (لغوی تشریح) — "المُوتَان" سے مراد وبا کی وجہ سے بہت زیادہ اموات ہونا ہے۔
3 (لغوی تشریح) — "الطَّوْل" سے مراد مال اور وسعت ہے، یعنی اپنی استطاعت کے مطابق اہلِ خانہ پر خرچ کرو۔
4۔ تشریح: اس کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص اہلِ خانہ کا ذمہ دار ہو، اسے چاہیے کہ وہ انہیں برائیوں سے ڈرائے اور انہیں بےجا نرمی اور لاڈ پیار سے بچائے، ورنہ وہ اس کی بےادبی کرنے لگیں گے اور بد اخلاق ہو جائیں گے۔(نیل الأوطار:ج 10 / ص 203)
5۔ (حم) مسند الإمام أحمد بن حنبل:22128، (طب) المعجم الکبیر للطبرانی:ج 20 / ص 83، ح 156، (البانی: صححہ فی الإرواء:2026 ، صحیح الترغیب والترہیب: 570) یہ حدیث ان دو کتب میں مروی ہے، اور علامہ البانی رحمہ اللہ نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔
[الجامع الصحيح للسنن والمسانيد: ج9 / ص464]
---
حاصل شدہ اسباق و نکات
1. توحید پر ثابت قدمی (چاہے جان جائے)
· نبی ﷺ نے حکم دیا کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو، چاہے تمہیں قتل کیا جائے یا جلا دیا جائے۔
· اس سے معلوم ہوتا ہے کہ توحید سب سے بڑا فریضہ ہے، اور اس پر قائم رہنا ہر مصیبت پر مقدم ہے۔
· یہ حضرت بلال، حضرت یاسر اور حضرت عمار جیسے صحابہ کا طریقہ تھا جنہوں نے توحید پر جان دی۔
2. والدین کی اطاعت (چاہے ان کا حکم دنیاوی نقصان کا ہو)
· نبی ﷺ نے والدین کی نافرمانی سے منع فرمایا، اگرچہ وہ تمہیں اپنا گھر اور مال چھوڑنے کا حکم دیں۔
· اس کا مطلب یہ ہے کہ والدین کا حق بہت بڑا ہے، اور ان کی اطاعت واجب ہے، مگر گناہ میں نہیں (جیسا کہ دیگر احادیث میں ہے)۔
3. نماز کو ترک کرنا اللہ کی پناہ سے خارج کر دیتا ہے
· نبی ﷺ نے فرمایا: "جس نے جان بوجھ کر کوئی فرض نماز چھوڑی، اس سے اللہ کی ذمہ داری بری ہو گئی" ۔
· اس کا مطلب یہ ہے کہ نماز ترک کرنے والا اللہ کی حفاظت اور رحمت سے خارج ہو جاتا ہے۔
· یہ اس بات کی دلیل ہے کہ نماز چھوڑنا کبیرہ گناہوں میں سے ہے۔
4. شراب – ہر برائی کی جڑ
· نبی ﷺ نے شراب کو "رأس كل فاحشة" (ہر بدکاری کی جڑ) قرار دیا۔
· اس سے معلوم ہوتا ہے کہ شراب تمام برائیوں کی بنیاد ہے، کیونکہ یہ عقل کو زائل کر دیتی ہے اور انسان کو ہر طرح کے گناہ پر آمادہ کرتی ہے۔
5. گناہ سے بچو – کیونکہ گناہ اللہ کا غضب نازل کرتا ہے
· نبی ﷺ نے گناہ سے بچنے کا حکم دیا، کیونکہ گناہ کے ذریعے اللہ کا غضب نازل ہوتا ہے۔
· اس سے معلوم ہوتا ہے کہ گناہ صرف انسان کو نقصان نہیں پہنچاتا، بلکہ اس پر اللہ کا عذاب بھی نازل ہوتا ہے۔
6. جہاد میں ثابت قدمی – فرار نہ کرو
· نبی ﷺ نے میدانِ جنگ سے بھاگنے سے منع فرمایا، چاہے لوگ (ساتھی) ہلاک ہو جائیں۔
· اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جہاد میں ثابت قدمی ضروری ہے، اور فرار ایک بڑا گناہ ہے (مگر شرعی عذر کی صورت میں استثنا ہے)۔
7. وبا (موتان) کے وقت ثابت قدم رہو
· نبی ﷺ نے حکم دیا کہ جب لوگوں میں وبا پھیل جائے تو (وہیں) ثابت قدم رہو، یعنی اس علاقے سے بھاگ کر نہ جاؤ۔
· اس کا مطلب یہ ہے کہ وبا کے وقت صبر اور اللہ پر بھروسہ کرنا چاہیے، اور دوسرے علاقوں میں بیماری پھیلانے سے بچنا چاہیے (جدید اصولِ قرنطینہ سے مطابقت رکھتا ہے)۔
8. اہلِ خانہ پر خرچ کرنا (مال کی وسعت کے مطابق)
· نبی ﷺ نے حکم دیا کہ اپنی وسعت (طَوْل) کے مطابق اہلِ خانہ پر خرچ کرو۔
· اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نفقہ (گھریلو خرچہ) شوہر پر واجب ہے، اور اسے اپنی استطاعت کے مطابق ادا کرنا چاہیے۔
9. اہلِ خانہ کی تربیت اور سزا (عصا نہ اٹھاؤ)
· نبی ﷺ نے فرمایا: "اور ان (اہلِ خانہ) سے اپنی لاٹھی نہ اٹھاؤ" ۔
· اس کا مطلب یہ ہے کہ جب اہلِ خانہ غلطی کریں تو انہیں تربیت کے لیے سزا دینی چاہیے، لیکن تشدد اور ظلم نہیں۔
· فقہاء کے نزدیک یہ تعزیری سزا ہے جو حد سے زیادہ نہ ہو۔
10. اللہ کا خوف دلاؤ (اخِفْهُمْ فِي اللَّهِ)
· نبی ﷺ نے فرمایا: "اور انہیں اللہ کے خوف میں رکھو" ۔
· اس کا مطلب ہے کہ گھر کے افراد کو اللہ کا خوف دلایا جائے، تاکہ وہ گناہوں سے بچیں اور نیکیوں کا اہتمام کریں۔
· یہ خاندانی تربیت کا بنیادی اصول ہے۔
11. اس حدیث کا پچھلے ابواب سے ربط
· اس سے پہلے کی حدیثوں میں نبی ﷺ کی نبوت سے پہلے کے معجزات اور آپ کی شخصیت کا ذکر تھا۔
· اس حدیث میں آپ ﷺ کی اخلاقی اور عملی وصیتیں ہیں جو ہر مسلمان کے لیے رہنما اصول ہیں۔
· یہ تمام حدیثیں نبی ﷺ کی تعلیمات کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کرتی ہیں۔
---
واللہ أعلم بالصواب
حدیث نمبر 2
عنوان: نبی ﷺ کی نو اہم وصیتیں – حضرت ابو الدرداء رضی اللہ عنہ کو نصیحت
(خد) , وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ رضي الله عنه قَالَ: " أَوْصَانِي رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم بِتِسْعٍ: لَا تُشْرِكْ بِاللهِ شَيْئًا , وَإِنْ قُطِّعْتَ أَوْ حُرِّقْتَ، وَلَا تَتْرُكَنَّ الصّلَاةَ الْمَكْتُوبَةَ مُتَعَمِّدًا، فَمَنْ تَرَكَهَا مُتَعَمِّدًا بَرِئَتْ مِنْهُ الذِّمَّةُ , وَلَا تَشْرَبَنَّ الْخَمْرَ، فَإِنَّهَا مِفْتَاحُ كُلِّ شَرٍّ، وَأَطِعْ وَالِدَيْكَ, وَإِنْ أَمَرَاكَ أَنْ تَخْرُجَ مِنْ دُنْيَاكَ , فَاخْرُجْ لَهُمَا، وَلَا تُنَازِعَنَّ وُلاةَ الْأَمْرِ, وَإِنْ رَأَيْتَ أَنَّكَ أَنْتَ (١) وَلَا تَفْرُرْ مِنَ الزَّحْفِ , وَإِنْ هَلَكْتَ وَفَرَّ أَصْحَابُكَ، وَأَنْفِقْ مِنْ طَوْلِكَ عَلَى أَهْلِكَ، وَلَا تَرْفَعْ عَصَاكَ عَنْ أَهْلِكَ، وَأَخِفْهُمْ فِي اللهِ - عز وجل - " (٢)
_________
ترجمہ:
حضرت ابو الدرداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
"رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے نو (9) چیزوں کی وصیت فرمائی:
1. اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کر، اگرچہ تجھے ٹکڑے ٹکڑے کر دیا جائے یا جلا دیا جائے۔
2. کوئی فرض نماز جان بوجھ کر نہ چھوڑ، کیونکہ جس نے جان بوجھ کر فرض نماز چھوڑی، اس سے اللہ کی ذمہ داری (حفاظت اور رحمت) بری ہو گئی۔
3. شراب نہ پی، کیونکہ یہ ہر برائی کی کنجی (کلید) ہے۔
4. اپنے والدین کی اطاعت کرو، اگرچہ وہ تمہیں اپنی دنیا (مال و دولت) سے نکل جانے کا حکم دیں، تو ان کے لیے (ان کی خاطر) نکل جاؤ۔
5. حاکمِ وقت (اولو الامر) سے جھگڑا نہ کرو، اگرچہ تم دیکھو کہ تم خود (اکیلے) ہی حق پر ہو (1) ۔
6. میدانِ جنگ (زحف) سے بھاگ نہ جاؤ، اگرچہ تم ہلاک ہو جاؤ اور تمہارے ساتھی بھاگ جائیں۔
7. اپنے مال (استطاعت) سے اپنے اہلِ خانہ پر خرچ کرو۔
8. اپنی لاٹھی (عصا) کو اپنے اہلِ خانہ سے نہ ہٹاؤ (یعنی ان کی تربیت اور اصلاح کے لیے اسے استعمال کرو، مگر حد سے زیادہ نہیں)۔
9. اور انہیں اللہ عزوجل کا خوف دلاؤ" (2) ۔
---
حواشی وحوالہ جات:
1 (لغوی تشریح) — "وَإِنْ رَأَيْتَ أَنَّكَ أَنْتَ" کا مطلب ہے: "چاہے تم اکیلے ہی حق پر ہو" ۔ یعنی حاکم وقت کی مخالفت نہ کرو، بشرطیکہ وہ کھلا کفر (نعوذباللہ) کا حکم نہ دے، ورنہ حق گوئی ضروری ہے، لیکن بغاوت اور فتنہ انگیزی جائز نہیں۔
2 (خد) الأدب المفرد للبخاری (جة) سنن ابن ماجہ (صحیح الأدب المفرد) للالبانی (الإرواء) للالبانی 18 4034 14 تحت حدیث 2026 یہ حدیث ان دو کتب میں مروی ہے۔ امام البانی رحمہ اللہ نے اسے صحیح الأدب المفرد اور الإرواء میں صحیح قرار دیا ہے۔
---
حاصل شدہ اسباق و نکات
1. حضرت معاذ اور حضرت ابو الدرداء کی وصیتوں کا تقابلی جائزہ
پچھلی حدیث (معاذ رضی اللہ عنہ والی) میں دس وصیتیں تھیں، جبکہ اس حدیث میں نو وصیتیں ہیں۔ دونوں میں مشترکہ نکات یہ ہیں:
· توحید پر استقامت (چاہے جان جائے)۔
· فرض نماز نہ چھوڑنا۔
· شراب سے بچنا۔
· والدین کی اطاعت۔
· جہاد میں فرار نہ کرنا۔
· اہلِ خانہ پر خرچ کرنا۔
· اہلِ خانہ کی تربیت (عصا کا استعمال) اور انہیں اللہ کا خوف دلانا۔
فرق: اس حدیث میں "حاکمِ وقت سے جھگڑا نہ کرو" کا اضافہ ہے، جبکہ پچھلی حدیث میں "گناہ سے بچو" اور "وبا کے وقت ثابت قدم رہو" کا ذکر تھا۔
2. توحید پر جان قربان کرنا (اعلیٰ درجہ کا ایمان)
· نبی ﷺ نے فرمایا کہ شرک سے بچو، خواہ تمہیں قتل کیا جائے یا جلا دیا جائے۔
· اس کا مطلب ہے کہ توحید کا عقیدہ ہر چیز سے زیادہ اہم ہے، اور اس پر جان دینا باعثِ شرف ہے۔
· یہ اس بات کی دلیل ہے کہ ایمان کی حفاظت کے لیے ہر مصیبت برداشت کی جا سکتی ہے۔
3. نماز ترک کرنا اللہ کی پناہ سے خارج ہونا ہے
· جس نے جان بوجھ کر فرض نماز چھوڑی، اس سے ذِمَّۃُ اللہ (اللہ کی حفاظت) ختم ہو جاتی ہے۔
· اس کا مطلب ہے کہ ایسا شخص اللہ کی رحمت اور نگرانی سے محروم ہو جاتا ہے، اور اس کا وبال بہت سنگین ہے۔
4. شراب – ہر برائی کی کنجی
· پچھلی حدیث میں شراب کو "رأس كل فاحشة" (ہر بدکاری کی جڑ) کہا گیا، اور اس حدیث میں "مفتاح كل شر" (ہر برائی کی کنجی) کہا گیا۔
· دونوں کا مفہوم ایک ہے: شراب عقل کو زائل کرتی ہے اور انسان کو ہر طرح کے گناہ اور برائی کی طرف لے جاتی ہے۔
5. والدین کی اطاعت (اگرچہ دنیاوی نقصان ہو)
· نبی ﷺ نے والدین کی اطاعت کا حکم دیا، اگرچہ وہ تمہیں اپنی دنیا (مال و دولت) سے نکل جانے کا حکم دیں۔
· اس کا مطلب یہ ہے کہ والدین کا حق بہت بڑا ہے، اور ان کی اطاعت کو دنیاوی مفادات پر ترجیح دینی چاہیے۔
· البتہ گناہ کے معاملے میں والدین کی اطاعت نہیں (جیسا کہ احادیث میں ہے)۔
6. حاکم وقت سے جھگڑا نہ کرو (سیاسی استحکام کا اصول)
· نبی ﷺ نے حکم دیا کہ حاکمِ وقت (اولو الامر) سے جھگڑا نہ کرو، چاہے تم خود کو حق پر سمجھو۔
· اس کا مطلب یہ ہے کہ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اپنے حاکم کی اطاعت کریں، جب تک وہ کھلا کفر نہ کرے۔
· یہ اسلامی نظامِ حکمرانی کا ایک بنیادی اصول ہے کہ فتنہ اور بغاوت سے بچا جائے، اور اختلاف کو شرعی راستوں سے حل کیا جائے۔
7. جہاد میں ثابت قدمی اور صبر
· نبی ﷺ نے میدانِ جنگ سے بھاگنے سے منع فرمایا، اگرچہ تم ہلاک ہو جاؤ اور تمہارے ساتھی بھاگ جائیں۔
· اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ثابت قدمی اور صبر جہاد کی کامیابی کی بنیاد ہیں، اور فرار ایک بڑا گناہ ہے۔
8. اہلِ خانہ پر خرچ کرنا (نفقہ کا حکم)
· نبی ﷺ نے حکم دیا کہ اپنی استطاعت (طَوْل) کے مطابق اہلِ خانہ پر خرچ کرو۔
· یہ اس بات کی دلیل ہے کہ شوہر پر اہلِ خانہ کا نفقہ (خرچہ) واجب ہے، اور اسے فراخ دلی سے ادا کرنا چاہیے۔
9. اہلِ خانہ کی تربیت اور سزا (عصا کا استعمال)
· نبی ﷺ نے فرمایا: "اپنی لاٹھی کو اپنے اہلِ خانہ سے نہ ہٹاؤ" ۔
· اس کا مطلب ہے کہ جب اہلِ خانہ غلطی کریں تو انہیں تربیت کے لیے سزا دینی چاہیے، لیکن تشدد اور ظلم نہیں۔
· یہ ایک توازن ہے: نہ تو بےجا نرمی (جو بےادبی کا سبب بنتی ہے) اور نہ ہی ظلم و تشدد۔
10. اللہ کا خوف دلانا – خاندانی تربیت کا روحانی پہلو
· نبی ﷺ نے حکم دیا کہ اپنے اہلِ خانہ کو اللہ کا خوف دلاؤ۔
· اس کا مطلب ہے کہ گھر کے افراد کو گناہوں سے ڈرایا جائے اور انہیں نیکیوں کی ترغیب دی جائے۔
· یہ خاندانی نظام کی بنیاد ہے کہ گھر کا ماحول دینی تربیت پر مبنی ہو۔
11. اس حدیث کا پچھلے ابواب سے ربط
· اس سے پہلے کی حدیث (معاذ رضی اللہ عنہ والی) میں بھی اسی نوعیت کی وصیتیں تھیں، جو نبی ﷺ کی عملی تعلیمات کا ایک اہم حصہ ہیں۔
· اس حدیث میں حاکمِ وقت سے جھگڑا نہ کرنے کا اضافہ ہے، جو اسلامی سیاسی اصولوں کو اجاگر کرتا ہے۔
· یہ تمام حدیثیں نبی ﷺ کی اخلاقی، عملی اور روحانی تعلیمات کا مکمل احاطہ کرتی ہیں۔
---
واللہ أعلم بالصواب
حدیث نمبر 3
عنوان: نبی ﷺ کی حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کو جامع وصیت – تقویٰ، قرآن، جہاد، مساکین سے محبت اور حق گوئی
وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ رضي الله عنه قَالَ: دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ، " فَإِذَا رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم جَالِسٌ وَحْدَهُ "، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ أَوْصِنِي , قَالَ: " أُوصِيكَ بِتَقْوَى اللهِ، فَإِنَّهُ رَأسُ الأَمْرِ كُلِّهِ " , قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ زِدْنِي، قَالَ: " عَلَيْكَ بِتِلاوَةِ الْقُرْآنِ وَذِكْرِ اللهِ، فَإِنَّهُ نُورٌ لَكَ فِي الْأَرْضِ، وَذُخْرٌ لَكَ فِي السَّمَاءِ " , قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ زِدْنِي , قَالَ: " إِيَّاكَ وَكَثْرَةَ الضَّحِكِ، فَإِنَّهُ يُمِيتُ الْقَلْبَ، وَيَذْهَبُ بِنُورِ الْوَجْهِ " , قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ زِدْنِي، قَالَ: " عَلَيْكَ بِالْجِهَادِ، فَإِنَّهُ رَهْبَانِيَّةُ أُمَّتِي ", قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ زِدْنِي، قَالَ: " أَحِبَّ الْمَسَاكِينَ وَجَالِسْهُمْ " , قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ زِدْنِي، قَالَ: " انْظُرْ إِلَى مَنْ تَحْتَكَ , وَلَا تَنْظُرْ إِلَى مَنْ فَوْقَكَ، فَإِنَّهُ أَجْدَرُ أَنْ لَا تُزْدَرَى نِعْمَةُ اللهِ عِنْدَكَ " , قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ زِدْنِي، قَالَ: " قُلِ الْحَقَّ وَإِنْ كَانَ مُرًّا "۔
_________
ترجمہ:
حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
"میں مسجد میں داخل ہوا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اکیلے تشریف فرما تھے۔
میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے وصیت فرمائیں۔
آپ ﷺ نے فرمایا:
'میں تمہیں تقویٰ (اللہ کا خوف) کی وصیت کرتا ہوں، کیونکہ یہ ہر کام کا سر (بنیاد) ہے۔'
میں نے کہا: یا رسول اللہ! مجھے مزید بتائیں۔
آپ ﷺ نے فرمایا:
'تم قرآن کی تلاوت اور اللہ کے ذکر کو لازم پکڑو، کیونکہ یہ تمہارے لیے زمین میں روشنی اور آسمان میں ذخیرہ ہے۔'
میں نے کہا: یا رسول اللہ! مجھے مزید بتائیں۔
آپ ﷺ نے فرمایا:
'بہت زیادہ ہنسنے سے بچو، کیونکہ یہ دل کو مردہ کر دیتا ہے اور چہرے کا نور ختم کر دیتا ہے۔'
میں نے کہا: یا رسول اللہ! مجھے مزید بتائیں۔
آپ ﷺ نے فرمایا:
'تم جہاد کو لازم پکڑو، کیونکہ یہ میری امت کی رہبانیت (راہبانہ زندگی) ہے۔'
میں نے کہا: یا رسول اللہ! مجھے مزید بتائیں۔
آپ ﷺ نے فرمایا:
'مسکینوں (غریبوں) سے محبت کرو اور ان کے ساتھ بیٹھو۔'
میں نے کہا: یا رسول اللہ! مجھے مزید بتائیں۔
آپ ﷺ نے فرمایا:
'اپنے سے کم تر (نیچے والے) کی طرف دیکھو، اور اپنے سے اوپر والے کی طرف مت دیکھو، کیونکہ یہ اس بات کا زیادہ باعث ہے کہ تم اللہ کی نعمت کو حقیر نہ سمجھو۔'
میں نے کہا: یا رسول اللہ! مجھے مزید بتائیں۔
آپ ﷺ نے فرمایا:
'سچ (حق) کہو، اگرچہ وہ تلخ ہو۔'" (1)
---
حوالہ:
1 (حب) صحیح ابن حبان (هب) شعب الإیمان للبیہقی (صحیح الترغیب والترہیب) للالبانی 361 4646 2233، 2869 یہ حدیث ان کتب میں مروی ہے۔ امام البانی رحمہ اللہ نے اسے اپنی کتاب میں صحیح قرار دیا ہے۔
---
حاصل شدہ اسباق و نکات
1. تقویٰ ہر عمل کی بنیاد ہے
· نبی ﷺ نے تقویٰ کو "رأس الأمر کله" (ہر کام کا سر) قرار دیا۔
· تقویٰ کا مطلب ہے اللہ کا خوف اور اس کی نافرمانی سے بچنا۔
· یہ ہر نیکی کی بنیاد ہے، اور اس کے بغیر کوئی عمل قبول نہیں ہوتا۔
2. قرآن کی تلاوت اور ذکر اللہ – زمین میں نور اور آسمان میں ذخیرہ
· قرآن کی تلاوت اور اللہ کا ذکر انسان کو زندگی میں روشنی (ہدایت، سکون اور بصیرت) عطا کرتا ہے۔
· یہ آخرت میں ذخیرہ ہے، جو قیامت کے دن کام آئے گا۔
· اس لیے ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ قرآن کی تلاوت اور اللہ کے ذکر کو اپنا معمول بنائے۔
3. بہت زیادہ ہنسنے سے بچو – دل کی موت اور چہرے کے نور کا خاتمہ
· نبی ﷺ نے بہت زیادہ ہنسنے سے منع فرمایا، کیونکہ یہ دل کو مردہ کر دیتا ہے اور چہرے کا نور ختم کر دیتا ہے۔
· اس کا مطلب یہ نہیں کہ مسلمان ہنس نہ سکے، بلکہ بےجا اور حد سے زیادہ ہنسنا (جو غفلت اور لاپروائی کا باعث ہو) ممنوع ہے۔
· اعتدال پسند مسکراہٹ سنت ہے، جیسا کہ نبی ﷺ اکثر مسکرایا کرتے تھے۔
4. جہاد – امت محمدیہ کی رہبانیت
· نبی ﷺ نے جہاد کو "رَهْبَانِيَّةُ أُمَّتِي" (میری امت کی رہبانیت) قرار دیا۔
· اس کا مطلب ہے کہ جس طرح پچھلی امتوں میں راہبوں نے دنیا سے کنارہ کشی اختیار کر کے عبادت کی، اسی طرح اس امت کے لیے جہاد (اللہ کی راہ میں جدوجہد) عبادت کا ذریعہ ہے۔
· جہاد صرف جنگ تک محدود نہیں، بلکہ نفس کا جہاد، علم کا جہاد، اور مال کا جہاد بھی شامل ہے۔
5. مسکینوں سے محبت اور ان کے ساتھ بیٹھنا
· نبی ﷺ نے مسکینوں (غریبوں) سے محبت کرنے اور ان کے ساتھ بیٹھنے کا حکم دیا۔
· اس کا مطلب ہے کہ ہمیں غریبوں کے ساتھ نرمی، ہمدردی اور محبت کا برتاؤ کرنا چاہیے، اور ان کی صحبت اختیار کرنی چاہیے۔
· اس سے تکبر اور غرور ختم ہوتا ہے، اور دلی جھکاؤ پیدا ہوتا ہے۔
6. اپنے سے کم تر کی طرف دیکھو – شکرگزاری کا ذریعہ
· نبی ﷺ نے فرمایا کہ اپنے سے کم تر (مال، عزت، صحت وغیرہ میں) کی طرف دیکھو، اور اوپر والے کی طرف مت دیکھو۔
· اس کا مقصد یہ ہے کہ انسان اپنی نعمتوں کی قدر کرے اور اللہ کا شکر ادا کرے۔
· اگر ہم ہمیشہ اپنے سے اوپر والوں کو دیکھیں گے تو ہم ہمیشہ ناشکری اور حسد کا شکار رہیں گے۔
7. حق کہو، چاہے تلخ ہو
· نبی ﷺ نے حکم دیا کہ سچ (حق) کہو، اگرچہ وہ تلخ ہو۔
· اس کا مطلب ہے کہ ہمیں ہر حال میں حق گوئی کرنی چاہیے، چاہے یہ ہمیں یا دوسروں کو تکلیف پہنچائے، اور چاہے ہمارے مفادات کے خلاف ہو۔
· یہ اسلامی اخلاق کا ایک بنیادی اصول ہے۔
8. ابوذر رضی اللہ عنہ کا بار بار "زِدْنِي" کہنا – علم اور عمل کا شوق
· ابوذر رضی اللہ عنہ نے بار بار نبی ﷺ سے مزید نصیحت طلب کی، جو ان کے علم اور عمل کے شوق کو ظاہر کرتا ہے۔
· اس سے ہمیں سبق ملتا ہے کہ ہمیں بھی دینی علم اور نصیحت حاصل کرنے کے لیے ہمیشہ کوشش کرنی چاہیے۔
9. اس حدیث کا پچھلے ابواب سے ربط
· اس سے پہلے کی حدیثوں (معاذ اور ابو الدرداء رضی اللہ عنہما والی) میں بھی نبی ﷺ کی وصیتیں تھیں، جن میں توحید، نماز، والدین کی اطاعت، اور اہلِ خانہ کی تربیت کا ذکر تھا۔
· اس حدیث میں تقویٰ، قرآن، ذکر، جہاد، مساکین سے محبت، قناعت اور حق گوئی جیسے روحانی اور اخلاقی پہلوؤں پر زور دیا گیا ہے۔
· یہ تمام حدیثیں نبی ﷺ کی تعلیمات کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کرتی ہیں۔
---
واللہ أعلم بالصواب
حدیث نمبر 4
عنوان: نبی ﷺ کی حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کو سات اہم وصیتیں
وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ رضي الله عنه قَالَ: " أَمَرَنِي خَلِيلِي صلى الله عليه وسلم بِسَبْعٍ: أَمَرَنِي بِحُبِّ الْمَسَاكِينِ وَالدُّنُوِّ مِنْهُمْ , وَأَمَرَنِي أَنْ أَنْظُرَ إِلَى مَنْ هُوَ دُونِي , وَلَا أَنْظُرَ إِلَى مَنْ هُوَ فَوْقِي , وَأَمَرَنِي أَنْ أَصِلَ الرَّحِمَ وَإِنْ أَدْبَرَتْ , وَأَمَرَنِي أَنْ لَا أَسْأَلَ أَحَدًا شَيْئًا , وَأَمَرَنِي أَنْ أَقُولَ بِالْحَقِّ وَإِنْ كَانَ مُرًّا وَأَمَرَنِي أَنْ لَا أَخَافَ فِي اللهِ لَوْمَةَ لَائِمٍ , وَأَمَرَنِي أَنْ أُكْثِرَ مِنْ قَوْلِ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ , فَإِنَّهُنَّ مِنْ كَنْزٍ تَحْتَ الْعَرْشِ "
_________
ترجمہ:
حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
"میرے خلیل (محبوب) صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے سات (7) چیزوں کا حکم فرمایا:
1. مجھے مسکینوں (غریبوں) سے محبت کرنے اور ان کے قریب رہنے کا حکم دیا۔
2. اور مجھے حکم دیا کہ میں اپنے سے نیچے والوں (کم تر) کی طرف دیکھوں، اور اپنے سے اوپر والوں کی طرف نہ دیکھوں۔
3. اور مجھے حکم دیا کہ میں صلہ رحمی کروں، اگرچہ وہ (رشتہ دار) مجھ سے دوری اختیار کریں (اور حق تعلق توڑ دیں)۔
4. اور مجھے حکم دیا کہ میں کسی سے کچھ نہ مانگوں۔
5. اور مجھے حکم دیا کہ میں حق (سچ) کہوں، اگرچہ وہ تلخ ہو۔
6. اور مجھے حکم دیا کہ میں اللہ کی راہ میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہ ڈروں۔
7. اور مجھے حکم دیا کہ میں "لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ" (نہ کوئی طاقت ہے اور نہ کوئی قوت مگر اللہ کی مدد سے) کا کثرت سے ذکر کروں، کیونکہ یہ (کلمات) عرش کے نیچے ایک خزانے میں سے ہیں۔"
---
حواشی وحوالہ جات:
1 (حم) مسند الإمام أحمد بن حنبل (طب) المعجم الکبیر للطبرانی (هق) السنن الکبریٰ للبیہقی (السلسلۃ الصحیحۃ) للالبانی (صحیح الترغیب والترہیب) للالبانی 21453 1648 19973 2166 811، 2525 اس حوالے سے نبی ﷺ کی سات وصیتیں ثابت ہیں۔ امام البانی رحمہ اللہ نے اسے اپنی کتب میں صحیح قرار دیا ہے۔
---
حاصل شدہ اسباق و نکات
1. مسکینوں سے محبت اور ان کے قریب رہنا
· نبی ﷺ نے مسکینوں (غریبوں، محتاجوں) سے محبت کرنے اور ان کے قریب رہنے کا حکم دیا۔
· اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمیں غریبوں کے ساتھ نرمی، ہمدردی اور محبت کا برتاؤ کرنا چاہیے، اور ان کی صحبت اختیار کرنی چاہیے۔
· اس سے تکبر اور غرور ختم ہوتا ہے، اور دلی جھکاؤ پیدا ہوتا ہے۔
· نبی ﷺ خود مسکینوں کے ساتھ بیٹھتے اور ان سے محبت کرتے تھے۔
2. اپنے سے نیچے والوں کی طرف دیکھنا – شکرگزاری کا ذریعہ
· نبی ﷺ نے حکم دیا کہ اپنے سے کم تر (مال، عزت، صحت وغیرہ میں) کی طرف دیکھو، اور اوپر والے کی طرف مت دیکھو۔
· اس کا مقصد یہ ہے کہ انسان اپنی نعمتوں کی قدر کرے اور اللہ کا شکر ادا کرے۔
· اگر ہم ہمیشہ اپنے سے اوپر والوں کو دیکھیں گے تو ہم ہمیشہ ناشکری اور حسد کا شکار رہیں گے۔
3. صلہ رحمی – اگرچہ رشتہ دار دوری اختیار کریں
· نبی ﷺ نے صلہ رحمی کا حکم دیا، اگرچہ رشتہ دار دوری اختیار کریں (یعنی حق تعلق توڑ دیں)۔
· اس کا مطلب ہے کہ ہمیں رشتہ داروں سے تعلق جوڑنا چاہیے، چاہے وہ ہمارے ساتھ برا سلوک کریں۔
· یہ قطع رحمی (رشتہ توڑنے) کے برعکس ہے، جو ایک بڑا گناہ ہے۔
4. کسی سے کچھ نہ مانگنا (سوال نہ کرنا)
· نبی ﷺ نے حکم دیا کہ کسی سے کچھ نہ مانگو۔
· اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمیں اپنی ضروریات کے لیے لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلانے سے بچنا چاہیے، اور اللہ سے مانگنا چاہیے۔
· البتہ یہ حکم فرضی اور ضروری چیزوں (جیسے زکاۃ، صدقہ، یا کسی مجبوری) پر لاگو نہیں، بلکہ اس کا مطلب ہے کہ بلا ضرورت لوگوں سے سوال نہ کیا جائے۔
5. حق کہو، اگرچہ تلخ ہو
· نبی ﷺ نے حکم دیا کہ سچ (حق) کہو، اگرچہ وہ تلخ ہو۔
· اس کا مطلب ہے کہ ہمیں ہر حال میں حق گوئی کرنی چاہیے، چاہے یہ ہمیں یا دوسروں کو تکلیف پہنچائے، اور چاہے ہمارے مفادات کے خلاف ہو۔
· یہ اسلامی اخلاق کا ایک بنیادی اصول ہے۔
6. اللہ کی راہ میں ملامت سے نہ ڈرنا
· نبی ﷺ نے حکم دیا کہ اللہ کی راہ میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہ ڈرو۔
· اس کا مطلب ہے کہ جب ہم حق کہیں یا نیکی کا حکم دیں تو لوگ ہمیں برا بھلا کہیں گے، مگر ہمیں ان کی پروا نہیں کرنی چاہیے۔
· یہ ایمان کی مضبوطی اور دعوتِ دین کی بنیاد ہے۔
7. "لا حول ولا قوة إلا بالله" کا کثرت سے ذکر – عرش کا خزانہ
· نبی ﷺ نے "لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ" کا کثرت سے ذکر کرنے کا حکم دیا، کیونکہ یہ عرش کے نیچے ایک خزانے میں سے ہے۔
· اس کا مطلب ہے کہ یہ کلمات بہت عظیم اور باعثِ برکت ہیں، اور ان کا ذکر کرنے سے اللہ کی رحمت اور مدد نازل ہوتی ہے۔
· اس کا مفہوم یہ ہے کہ ہماری کوئی طاقت نہیں، مگر اللہ کی مدد سے سب کچھ ممکن ہے۔
8. اس حدیث کا پچھلے ابواب سے ربط
· اس سے پہلے کی حدیث (ابوذر رضی اللہ عنہ کی پچھلی روایت) میں بھی مساکین سے محبت، قناعت، اور حق گوئی کا ذکر تھا۔
· اس حدیث میں صلہ رحمی، کسی سے سوال نہ کرنے، اور "لا حول ولا قوة إلا بالله" کے ذکر کا اضافہ ہے۔
· یہ تمام حدیثیں نبی ﷺ کی عملی اور روحانی تعلیمات کا مکمل احاطہ کرتی ہیں۔
---
واللہ أعلم بالصواب
حدیث نمبر 5
عنوان: نبی ﷺ کی حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کو جامع وصیت – تقویٰ، جہاد، ذکر اور قرآن
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رضي الله عنه قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ صلى الله عليه وسلم فَقُلْتُ: أَوْصِنِي , قَالَ: " أُوصِيكَ بِتَقْوَى اللهِ , فَإِنَّهُ رَأسُ كُلِّ شَيْءٍ , وَعَلَيْكَ بِالْجِهَادِ , فَإِنَّهُ رَهْبَانِيَّةُ الْإِسْلَامِ (١) وَعَلَيْكَ بِذِكْرِ اللهِ وَتِلَاوَةِ الْقُرْآنِ , فَإِنَّهُ رَوْحُكَ (٢) فِي السَّمَاءِ , وَذِكْرُكَ فِي الْأَرْضِ (٣) " (٤)
_________
ترجمہ:
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
"میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے وصیت فرمائیں۔"
آپ ﷺ نے فرمایا:
"میں تمہیں تقویٰ (اللہ کا خوف) کی وصیت کرتا ہوں، کیونکہ یہ ہر چیز کا سر (بنیاد) ہے۔"
"اور تم جہاد کو لازم پکڑو، کیونکہ یہ اسلام کی رہبانیت (راہبانہ زندگی) ہے" (1) ۔
"اور تم اللہ کے ذکر اور قرآن کی تلاوت کو لازم پکڑو، کیونکہ یہ آسمان میں تمہاری روح (راحت) ہے، اور زمین میں تمہارا ذکر (پہچان اور نیک نامی) ہے" (2) (3) ۔" (4)
---
حوالہ جات:
1 فیض القدیر (شرح) – تشریح (ج 3 / ص 97) جس طرح پچھلی امتوں میں راہبوں نے دنیا سے کنارہ کشی اختیار کر کے عبادت کی، اسی طرح اس امت کے لیے جہاد (اللہ کی راہ میں جان و مال کی قربانی) سب سے بہترین عبادت ہے۔
2 فیض القدیر (شرح) – تشریح (ج 3 / ص 97) "رَوْحُكَ" کا معنی ہے: تمہاری راحت اور سکون۔
3 فیض القدیر (شرح) – تشریح (ج 3 / ص 97) "ذِكْرُكَ فِي الْأَرْضِ" کا مطلب ہے: اللہ تعالیٰ تمہارے لیے زمین پر لوگوں کی زبانوں پر اچھی باتیں جاری کرے گا (یعنی نیک نامی عطا کرے گا)۔
4 (حم) مسند الإمام أحمد بن حنبل (صحیح الجامع) للالبانی (السلسلۃ الصحیحۃ) للالبانی 11791 2543 555 یہ حدیث مسند أحمد میں مروی ہے۔ امام البانی رحمہ اللہ نے اسے اپنی کتب میں صحیح قرار دیا ہے۔
---
حاصل شدہ اسباق و نکات
1. تقویٰ – ہر کام کی بنیاد
· نبی ﷺ نے تقویٰ کو "رأس كل شيء" (ہر چیز کا سر / بنیاد) قرار دیا۔
· تقویٰ کا مطلب ہے اللہ کا خوف اور اس کی نافرمانی سے بچنا۔
· یہ ہر نیکی کی بنیاد ہے، اور اس کے بغیر کوئی عمل قبول نہیں ہوتا۔
2. جہاد – اسلام کی رہبانیت
· نبی ﷺ نے جہاد کو "رَهْبَانِيَّةُ الْإِسْلَامِ" (اسلام کی رہبانیت) قرار دیا۔
· جس طرح پچھلی امتوں میں راہبوں نے دنیا سے کنارہ کشی اختیار کر کے عبادت کی، اسی طرح اس امت کے لیے جہاد (اللہ کی راہ میں جان و مال کی قربانی) سب سے بہترین عبادت ہے۔
· اس کا مطلب یہ ہے کہ اسلام میں دنیا سے بھاگنا نہیں، بلکہ دنیا میں رہ کر اللہ کی راہ میں جدوجہد کرنا ہے۔
· جہاد صرف جنگ تک محدود نہیں، بلکہ نفس کا جہاد، علم کا جہاد، اور مال کا جہاد بھی شامل ہے۔
3. ذکر اور قرآن – آسمان میں راحت اور زمین میں ذکر
· نبی ﷺ نے ذکر اور قرآن کی تلاوت کو "رَوْحُكَ فِي السَّمَاءِ" (آسمان میں راحت) اور "ذِكْرُكَ فِي الْأَرْضِ" (زمین میں ذکر) قرار دیا۔
· آسمان میں راحت: یعنی یہ عمل اللہ کے ہاں باعثِ اجر اور قربت ہے، اور قیامت کے دن یہ روح کی راحت کا ذریعہ ہوگا۔
· زمین میں ذکر: یعنی اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو زمین پر نیک نامی اور قبولیت عطا کرتا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {وَأَلْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقْوَاهَا} (سورۃ الشمس: 8)۔
4. پچھلی حدیثوں سے تقابل
· اس سے پہلے کی حدیث (ابوذر رضی اللہ عنہ والی) میں بھی تقویٰ، جہاد، قرآن اور ذکر کا ذکر تھا، مگر وہاں مساکین سے محبت، قناعت، صلہ رحمی، اور حق گوئی کا بھی ذکر تھا۔
· اس حدیث میں ان تین (تقویٰ، جہاد، اور ذکر و قرآن) پر خاص زور دیا گیا ہے۔
· یہ تمام حدیثیں نبی ﷺ کی تعلیمات کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کرتی ہیں۔
5. اس حدیث کا جدید دور میں اطلاق (عملی پیغام)
· اس حدیث سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ:
· تقویٰ کو اپنی زندگی کا محور بنائیں۔
· جہاد کو اپنی عبادت کا حصہ بنائیں، چاہے وہ نفس کا جہاد ہو، علم کا جہاد ہو، یا مال کا جہاد۔
· ذکر اور قرآن کو اپنا معمول بنائیں، کیونکہ یہ دنیا اور آخرت دونوں میں کامیابی کا ذریعہ ہے۔
· نیک نامی حاصل کرنے کے لیے اللہ کا ذکر اور قرآن کی تلاوت کو اپنائیں۔
---
واللہ أعلم بالصواب
حدیث نمبر 6
عنوان: نبی ﷺ کی پانچ جامع وصیتیں – حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم: " مَنْ يَأخُذُ عَنِّي هَؤُلَاءِ الْكَلِمَاتِ فَيَعْمَلُ بِهِنَّ؟ , أَوْ يُعَلِّمُ مَنْ يَعْمَلُ بِهِنَّ؟ "، فَقُلْتُ: أَنَا يَا رَسُولَ اللهِ، " فَأَخَذَ بِيَدِي فَعَدَّ خَمْسًا وَقَالَ: اتَّقِ الْمَحَارِمَ , تَكُنْ أَعْبَدَ النَّاسِ، وفي رواية: (كُنْ وَرِعًا , تَكُنْ أَعْبَدَ النَّاسِ) (١) وَارْضَ بِمَا قَسَمَ اللهُ لَكَ , تَكُنْ أَغْنَى النَّاسِ، وفي رواية: (وَكُنْ قَنِعًا تَكُنْ أَشْكَرَ النَّاسِ) (٢) وَأَحْسِنْ إِلَى جَارِكَ , تَكُنْ مُؤْمِنًا، وَأَحِبَّ لِلنَّاسِ مَا تُحِبُّ لِنَفْسِكَ تَكُنْ مُسْلِمًا، وفي رواية: (وَأَحِبَّ لِلنَّاسِ مَا تُحِبُّ لِنَفْسِكَ تَكُنْ مُؤْمِنًا) (٣) وَلَا تُكْثِرِ الضَّحِكَ، فَإِنَّ كَثْرَةَ الضَّحِكِ تُمِيتُ الْقَلْبَ (٤) " (٥)
_________
ترجمہ:
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"کون ہے جو مجھ سے ان کلمات کو لے اور ان پر عمل کرے، یا انہیں کسی ایسے شخص کو سکھائے جو ان پر عمل کرے؟"
میں نے عرض کیا: میں (لے سکتا ہوں) یا رسول اللہ!
چنانچہ آپ ﷺ نے میرا ہاتھ پکڑا اور پانچ (باتیں) گنائیں اور فرمایا:
1. حرام کاموں سے بچو (یا: پرہیزگار بنو)، تم سب سے زیادہ عابد (اللہ کا بندہ) بن جاؤ گے (1) ۔
2. اور جو کچھ اللہ نے تمہیں تقسیم کیا ہے اس پر راضی رہو (یا: قانع رہو)، تم سب سے زیادہ غنی (بےنیاز) اور شکرگزار بن جاؤ گے (2) ۔
3. اور اپنے پڑوسی کے ساتھ احسان کرو، تم مومن بن جاؤ گے۔
4. اور لوگوں کے لیے وہی پسند کرو جو اپنے لیے پسند کرتے ہو، تم مسلمان (یا مومن) بن جاؤ گے (3) ۔
5. اور بہت زیادہ ہنسنے سے بچو، کیونکہ بہت زیادہ ہنسنا دل کو مردہ کر دیتا ہے (4) ۔" (5)
---
حواشی وحوالہ جات:
1 (جة) سنن ابن ماجہ 4217 اس حوالے سے دوسری روایت میں "وَرِعًا" (پرہیزگار) اور "أَعْبَدَ النَّاسِ" (سب سے زیادہ عابد) کے الفاظ ہیں۔
2 (جة) سنن ابن ماجہ 4217 اس حوالے سے دوسری روایت میں "قَنِعًا" (قانع) اور "أَشْكَرَ النَّاسِ" (سب سے زیادہ شکرگزار) کے الفاظ ہیں۔
3 (جة) سنن ابن ماجہ 4217 اس حوالے سے "تُكُنْ مُؤْمِنًا" (مومن بن جاؤ گے) کے الفاظ ہیں، جبکہ پہلی روایت میں "تُكُنْ مُسْلِمًا" (مسلمان بن جاؤ گے) ہے۔
4 (تحریری تشریح) — اگر بہت زیادہ ہنسنا دل کو مردہ کر دیتا ہے، تو بہت زیادہ خوف اور اللہ کے خوف سے رونا دل کو زندہ کرتا ہے۔
5 (ت) جامع الترمذی (جة) سنن ابن ماجہ (حم) مسند الإمام أحمد (صحیح الجامع) للالبانی (السلسلۃ الصحیحۃ) للالبانی 2305 4217 8081 4580 930 یہ حدیث ان کتب میں مروی ہے۔ امام البانی رحمہ اللہ نے اسے اپنی کتب میں صحیح قرار دیا ہے۔
---
حاصل شدہ اسباق و نکات
1. حرام سے بچو (پرہیزگاری) – سب سے بڑی عبادت
· نبی ﷺ نے فرمایا: حرام کاموں سے بچو (یا پرہیزگار بنو)، تم سب سے زیادہ عابد بن جاؤ گے۔
· اس کا مطلب یہ ہے کہ ورع (پرہیزگاری) اور حرام سے بچنا عبادت کا اصل جوہر ہے۔
· کسی کے لیے بہت زیادہ نفلی عبادتیں کرنے سے بہتر ہے کہ وہ حرام سے بچے۔
· یہ اس بات کی دلیل ہے کہ تقویٰ ہی عبادت کی بنیاد ہے۔
2. اللہ کے تقسیم کردہ پر راضی رہو (قناعت) – سب سے بڑی غنی اور شکرگزاری
· نبی ﷺ نے فرمایا: جو کچھ اللہ نے تمہیں تقسیم کیا ہے اس پر راضی رہو (یا قانع رہو)، تم سب سے زیادہ غنی اور شکرگزار بن جاؤ گے۔
· قناعت کا مطلب ہے جو اللہ نے دیا ہے اس پر راضی رہنا اور مزید کی حرص نہ کرنا۔
· اس سے انسان بےنیاز اور شکرگزار بن جاتا ہے۔
· یہ حرص اور طمع کے برعکس ہے، جو انسان کو ہمیشہ محتاج اور ناشکرا بنا دیتا ہے۔
3. پڑوسی کے ساتھ احسان کرو – ایمان کی علامت
· نبی ﷺ نے فرمایا: اپنے پڑوسی کے ساتھ احسان کرو، تم مومن بن جاؤ گے۔
· اس کا مطلب ہے کہ پڑوسی کے ساتھ اچھا سلوک کرنا ایمان کا حصہ ہے۔
· پڑوسی کے حقوق میں شامل ہیں: اس کی تکلیف نہ پہنچانا، اس کی مدد کرنا، اس کے ساتھ نرمی سے پیش آنا، اور اس کی عزت کرنا۔
· یہ اس حدیث کے مطابق ہے: "جسے اللہ اور آخرت پر ایمان ہے اسے چاہیے کہ وہ اپنے پڑوسی کو ایذا نہ دے۔" (بخاری، مسلم)
4. لوگوں کے لیے وہی پسند کرو جو اپنے لیے پسند کرو – ایمان کی تکمیل
· نبی ﷺ نے فرمایا: لوگوں کے لیے وہی پسند کرو جو اپنے لیے پسند کرتے ہو، تم مسلمان (یا مومن) بن جاؤ گے۔
· اس کا مطلب ہے کہ دوسروں کے ساتھ ہمدردی اور بھلائی کی خواہش ایمان کا حصہ ہے۔
· یہ حدیث اس قول کی تائید کرتی ہے: "کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک وہ اپنے بھائی کے لیے وہی پسند نہ کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے۔" (بخاری، مسلم)
5. بہت زیادہ ہنسنے سے بچو – دل کی موت
· نبی ﷺ نے فرمایا: بہت زیادہ ہنسنے سے بچو، کیونکہ بہت زیادہ ہنسنا دل کو مردہ کر دیتا ہے۔
· اس کا مطلب یہ نہیں کہ مسلمان ہنس نہ سکے، بلکہ بےجا اور حد سے زیادہ ہنسنا (جو غفلت اور لاپروائی کا باعث ہو) ممنوع ہے۔
· اعتدال پسند مسکراہٹ سنت ہے، جیسا کہ نبی ﷺ اکثر مسکرایا کرتے تھے۔
· اس کے برعکس، اللہ کے خوف سے رونا دل کو زندہ کرتا ہے۔
6. ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا شوق اور نبی ﷺ کا ہاتھ پکڑنا
· جب نبی ﷺ نے فرمایا: "کون ان کلمات کو لے گا؟" تو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فوراً عرض کیا: "میں" ۔
· اس سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ کرام علم حاصل کرنے اور نبی ﷺ کی تعلیمات کو اپنانے کے لیے ہمیشہ تیار رہتے تھے۔
· نبی ﷺ نے ان کا ہاتھ پکڑ کر پانچ باتیں گنائیں، جو اس بات کی دلیل ہے کہ استاد کو شاگرد کے ساتھ نرمی اور محبت کا برتاؤ کرنا چاہیے۔
7. اس حدیث کا پچھلے ابواب سے ربط
· اس سے پہلے کی حدیثوں (معاذ، ابو الدرداء، ابوذر، ابو سعید خدری رضی اللہ عنہم) میں بھی نبی ﷺ کی وصیتیں تھیں، جن میں تقویٰ، جہاد، قرآن، ذکر، اور مساکین سے محبت کا ذکر تھا۔
· اس حدیث میں ورع، قناعت، پڑوسی کے ساتھ احسان، دوسروں کے لیے نیکی کی خواہش، اور بہت زیادہ ہنسنے سے بچنے کا ذکر ہے۔
· یہ تمام حدیثیں نبی ﷺ کی اخلاقی، روحانی اور عملی تعلیمات کا مکمل احاطہ کرتی ہیں۔
---
واللہ أعلم بالصواب
حدیث نمبر 7
عنوان: نبی ﷺ کی تین جامع وصیتیں – حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کو
وَعَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ رضي الله عنه قَالَ: (جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ) (١) (عِظْنِي وَأَوْجِزْ) (٢) (قَالَ: " إِذَا قُمْتَ فِي صَلَاتِكَ فَصَلِّ صَلَاةَ مُوَدِّعٍ) (٣) (كَأَنَّكَ تَرَاهُ، فَإِنْ كُنْتَ لَا تَرَاهُ , فَإِنَّهُ يَرَاكَ) (٤) (وَلَا تَكَلَّمْ بِكَلَامٍ تَعْتَذِرُ مِنْهُ غَدًا) (٥) (وَأَجْمِعْ الْيَأسَ) (٦) (مِمَّا فِي أَيْدِي النَّاسِ) (٧) (تَعِشْ غَنِيًّا ") (٨)
_________
ترجمہ:
حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
"ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! (1) مجھے نصیحت فرمائیں، اور مختصر (جامع) نصیحت کریں" (2) ۔
آپ ﷺ نے فرمایا:
"جب تم اپنی نماز میں کھڑے ہو تو ایسی نماز پڑھو جیسے (دنیا سے) رخصت ہونے والے کی نماز ہوتی ہے" (3) ، (گویا) تم اسے (اللہ کو) دیکھ رہے ہو، اور اگر تم اسے نہیں دیکھتے تو (یقین رکھو کہ) وہ تمہیں دیکھ رہا ہے (4) ۔
"اور کوئی ایسی بات مت کرو جس پر کل (قیامت کے دن) تمہیں معافی مانگنی پڑے" (5) ۔
"اور لوگوں کے ہاتھوں میں جو کچھ ہے اس سے مکمل مایوس ہو جاؤ" (6) (7) ، (تو) تم غنی (بےنیاز) ہو کر رہو گے" (8) ۔
---
حواشی وحوالہ جات:
1 (جة) سنن ابن ماجہ 4171 اس حوالے سے شخص کا نبی ﷺ کے پاس آنا ثابت ہے۔
2 (حم) مسند الإمام أحمد (جة) سنن ابن ماجہ (صحیح الجامع) للالبانی (السلسلۃ الصحیحۃ) للالبانی 23545 4171 742 401 اس حوالے سے "عِظْنِي وَأَوْجِزْ" (مجھے مختصر نصیحت کریں) کا سوال ثابت ہے۔
3 (جة) سنن ابن ماجہ (حم) مسند أحمد 4171 23545 اس حوالے سے "صَلِّ صَلَاةَ مُوَدِّعٍ" (رخصت ہونے والے کی نماز) کا حکم ثابت ہے۔
4 (طس) المعجم الأوسط للطبرانی (صحیح الجامع) للالبانی (السلسلۃ الصحیحۃ) للالبانی 4427 3776 1914 اس حوالے سے "کَأَنَّكَ تَرَاهُ، فَإِنْ كُنْتَ لَا تَرَاهُ فَإِنَّهُ يَرَاكَ" (گویا تم اسے دیکھ رہے ہو، اور اگر نہیں دیکھتے تو وہ تمہیں دیکھ رہا ہے) کا اضافہ ثابت ہے۔
5 (حم) مسند أحمد (جة) سنن ابن ماجہ 23545 4171 اس حوالے سے "لَا تَكَلَّمْ بِكَلَامٍ تَعْتَذِرُ مِنْهُ غَدًا" (ایسی بات مت کرو جس پر کل معافی مانگنی پڑے) کا حکم ثابت ہے۔
6 (جة) سنن ابن ماجہ (حم) مسند أحمد 4171 23545 اس حوالے سے "أَجْمِعْ الْيَأْسَ" (مکمل مایوسی) کا حکم ثابت ہے۔
7 (حم) مسند أحمد (جة) سنن ابن ماجہ 23545 4171 اس حوالے سے "مِمَّا فِي أَيْدِي النَّاسِ" (لوگوں کے ہاتھوں میں جو ہے) کا اضافہ ثابت ہے۔
8 (طس) المعجم الأوسط للطبرانی 4427 اس حوالے سے "تَعِشْ غَنِيًّا" (تم غنی ہو کر رہو گے) کا نتیجہ ثابت ہے۔
---
حاصل شدہ اسباق و نکات
1. مختصر اور جامع نصیحت کا شوق
· اس شخص نے نبی ﷺ سے درخواست کی: "عِظْنِي وَأَوْجِزْ" (مجھے نصیحت کریں اور مختصر کریں)۔
· اس سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ کرام جامع اور مختصر کلام کو پسند کرتے تھے تاکہ وہ اسے آسانی سے یاد رکھ سکیں اور اس پر عمل کر سکیں۔
· نبی ﷺ نے انہیں تین جامع اصولوں کی نصیحت فرمائی، جو انسان کی دنیا اور آخرت دونوں کی اصلاح کر دیتے ہیں۔
2. نماز اس طرح پڑھو جیسے رخصت ہونے والے کی نماز ہو
· نبی ﷺ نے فرمایا: "صَلِّ صَلَاةَ مُوَدِّعٍ" (ایسی نماز پڑھو جیسے رخصت ہونے والے کی نماز ہوتی ہے)۔
· اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر نماز اس طرح پڑھی جائے جیسے یہ آخری نماز ہے، اور اس کے بعد ہم دنیا سے رخصت ہو جائیں گے۔
· اس سے نماز میں خشوع، توجہ، اور اخلاص پیدا ہوتا ہے، اور انسان نماز کو معمولی نہیں سمجھتا۔
3. اللہ کو دیکھنے کا یقین (احسان کا مقام)
· نبی ﷺ نے فرمایا: "كَأَنَّكَ تَرَاهُ، فَإِنْ كُنْتَ لَا تَرَاهُ فَإِنَّهُ يَرَاكَ" (گویا تم اسے دیکھ رہے ہو، اور اگر نہیں دیکھتے تو وہ تمہیں دیکھ رہا ہے)۔
· یہ درجۂ احسان ہے، جسے نبی ﷺ نے فرمایا: "أَنْ تَعْبُدَ اللَّهَ كَأَنَّكَ تَرَاهُ، فَإِنْ لَمْ تَكُنْ تَرَاهُ فَإِنَّهُ يَرَاكَ" (اللہ کی عبادت کرو گویا تم اسے دیکھ رہے ہو، اور اگر تم اسے نہیں دیکھتے تو وہ تمہیں دیکھ رہا ہے)۔
· اس کا مطلب ہے کہ ہم ہر عمل کو اللہ کی موجودگی میں کر رہے ہیں، اور یہی ایمان اور تقویٰ کی انتہا ہے۔
4. ایسی بات نہ کرو جس پر کل معافی مانگنی پڑے
· نبی ﷺ نے فرمایا: "وَلَا تَكَلَّمْ بِكَلَامٍ تَعْتَذِرُ مِنْهُ غَدًا" (اور کوئی ایسی بات مت کرو جس پر کل (قیامت کے دن) تمہیں معافی مانگنی پڑے)۔
· اس کا مطلب ہے کہ انسان کو اپنی ہر بات کو سوچ سمجھ کر کرنی چاہیے، اور ایسی کوئی بات نہیں کرنی چاہیے جس پر بعد میں شرمندگی یا ندامت ہو۔
· یہ حسنِ قول (اچھی بات) اور غیبت، جھوٹ، اور فضول گوئی سے بچنے کی ترغیب ہے۔
5. لوگوں کے مال سے مایوس ہو جاؤ – حقیقی غنی
· نبی ﷺ نے فرمایا: "أَجْمِعْ الْيَأْسَ مِمَّا فِي أَيْدِي النَّاسِ، تَعِشْ غَنِيًّا" (لوگوں کے ہاتھوں میں جو کچھ ہے اس سے مکمل مایوس ہو جاؤ، تو تم غنی ہو کر رہو گے)۔
· اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمیں لوگوں کے مال اور ان کی طرف سے ملنے والی چیزوں سے امید نہیں رکھنی چاہیے، بلکہ صرف اللہ سے امید رکھنی چاہیے۔
· جب انسان لوگوں سے امید چھوڑ دیتا ہے تو وہ کسی کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلاتا، اور اس طرح وہ حقیقی غنی (بےنیاز) بن جاتا ہے۔
· یہ توکل اور قناعت کا اعلیٰ درجہ ہے۔
6. اس حدیث کا پچھلے ابواب سے ربط
· اس سے پہلے کی حدیثوں میں نبی ﷺ کی وصیتیں تھیں جن میں تقویٰ، جہاد، قرآن، ذکر، ورع، قناعت، پڑوسی کا حق، دوسروں کے لیے نیکی کی خواہش، اور بہت زیادہ ہنسنے سے بچنے کا ذکر تھا۔
· اس حدیث میں نماز میں خشوع، اللہ کو حاضر و ناظر ماننا، اچھی بات کرنا، اور لوگوں سے مایوسی جیسے روحانی اور اخلاقی اصولوں پر زور دیا گیا ہے۔
· یہ تمام حدیثیں نبی ﷺ کی تعلیمات کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کرتی ہیں۔
7. اس تحریر کا جدید دور میں اطلاق (عملی پیغام)
· اس حدیث سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ:
· نماز کو اس طرح پڑھیں جیسے یہ آخری نماز ہے، اور اللہ کو حاضر و ناظر سمجھیں۔
· اپنی باتوں کا خیال رکھیں اور ایسی کوئی بات نہ کریں جس پر بعد میں پشیمانی ہو۔
· لوگوں سے امید نہ رکھیں، بلکہ صرف اللہ سے رجوع کریں، اور اس طرح قلبی غنی حاصل کریں۔
· مختصر اور جامع نصیحت کو اہمیت دیں اور اس پر عمل کریں۔
---
واللہ أعلم بالصواب
حدیث نمبر 8
عنوان: نبی ﷺ کا نماز میں موت کو یاد کرنے اور حیات کی نصیحت
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رضي الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم: " اذْكُرِ الْمَوْتَ فِي صَلاتِكَ , فَإِنَّ الرَّجُلَ إذَا ذَكَرَ الْمَوْتَ فِي صَلَاتِهِ لَحَرِيٌّ (١) أَنْ يُحْسِنَ صَلَاتَهُ , وَصَلِّ صَلَاةَ رَجُلٍ لَا يَظُنُّ أَنْ يُصَلِّيَ صَلَاةً غَيْرَهَا، وَإِيَّاكَ وَكُلَّ أَمْرٍ يُعْتَذَرُ مِنْهُ " (٢)
_________
ترجمہ:
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"اپنی نماز میں موت کو یاد کرو، کیونکہ جب کوئی شخص اپنی نماز میں موت کو یاد کرتا ہے تو اس کے لیے یہ بات زیادہ مناسب ہے کہ وہ اپنی نماز کو اچھی طرح (بہترین انداز میں) پڑھے۔"(1)
"اور ایسے شخص کی نماز پڑھو جو یہ گمان نہ کرتا ہو کہ وہ اس کے علاوہ کوئی اور نماز پڑھے گا (یعنی اس نماز کو اپنی آخری نماز سمجھ کر پڑھو)۔"
"اور ہر اس کام سے بچو جس پر (بعد میں) معافی مانگنی پڑے"۔(2)
---
حواشی وحوالہ جات:
1 (الدیلمی) مسند الفردوس (صحیح الجامع) للالبانی (السلسلۃ الصحیحۃ) للالبانی ج 1 / ص 431، رقم 1755 849 2839 اس حوالے سے نبی ﷺ کا نماز میں موت کو یاد کرنے اور ہر اس کام سے بچنے کا حکم جو معافی کا سبب ہو، ثابت ہے۔ امام البانی رحمہ اللہ نے اسے اپنی کتب میں صحیح قرار دیا ہے۔
---
حاصل شدہ اسباق و نکات
1. نماز میں موت کا ذکر – خشوع اور اخلاص کا ذریعہ
· نبی ﷺ نے فرمایا کہ نماز میں موت کو یاد کرنا اس بات کا زیادہ باعث ہے کہ انسان اپنی نماز کو اچھی طرح (بہترین طریقے سے) پڑھے۔
· جب انسان کو یقین ہو کہ یہ شاید آخری نماز ہے تو وہ اسے پوری توجہ، خشوع اور اخلاص کے ساتھ پڑھتا ہے۔
· اس سے نماز میں سستی، غفلت، اور جلدی ختم ہو جاتی ہے۔
2. آخری نماز کا یقین – نماز کی فضیلت کو بڑھانا
· نبی ﷺ نے فرمایا: "صَلِّ صَلَاةَ رَجُلٍ لَا يَظُنُّ أَنْ يُصَلِّيَ صَلَاةً غَيْرَهَا" (ایسے شخص کی نماز پڑھو جو یہ گمان نہ کرتا ہو کہ وہ اس کے علاوہ کوئی اور نماز پڑھے گا)۔
· اس کا مطلب ہے کہ ہر نماز کو آخری نماز سمجھ کر پڑھا جائے۔
· یہ عمل نماز کو معمولی نہیں بلکہ اہم بناتا ہے، اور انسان کو اس کی اہمیت کا احساس دلاتا ہے۔
3. ہر اس کام سے بچو جس پر معافی مانگنی پڑے
· نبی ﷺ نے فرمایا: "وَإِيَّاكَ وَكُلَّ أَمْرٍ يُعْتَذَرُ مِنْهُ" (اور ہر اس کام سے بچو جس پر (بعد میں) معافی مانگنی پڑے)۔
· اس کا مطلب ہے کہ انسان کو ایسے کسی بھی عمل سے بچنا چاہیے جو گناہ، غلطی، یا نادانی پر مبنی ہو، اور جس پر بعد میں پشیمانی اور معافی مانگنی پڑے۔
· اس میں جھوٹ، غیبت، چغلی، ظلم، اور ہر وہ عمل شامل ہے جو شرمندگی کا باعث بنے۔
4. قیامت کے دن معافی کی ضرورت سے بچنا
· اگر کوئی شخص کسی ایسے کام کا ارتکاب کرتا ہے جس پر بعد میں معافی مانگنی پڑے، تو وہ اس کے لیے وبال اور ندامت کا سبب بنتا ہے۔
· اس لیے نبی ﷺ نے اس سے بچنے کا حکم دیا تاکہ انسان قیامت کے دن معافی مانگنے کی ضرورت سے محفوظ رہے۔
5. اس حدیث کا پچھلے ابواب سے ربط
· اس سے پہلے کی حدیث (ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ والی) میں بھی "لَا تَكَلَّمْ بِكَلَامٍ تَعْتَذِرُ مِنْهُ غَدًا" (ایسی بات مت کرو جس پر کل معافی مانگنی پڑے) کا ذکر تھا۔
· اس حدیث میں اس اصول کو مزید وسیع کرتے ہوئے "كُلَّ أَمْرٍ" (ہر کام) کا ذکر کیا گیا ہے، یعنی صرف باتوں تک محدود نہیں، بلکہ ہر قسم کے عمل کو شامل ہے۔
· یہ تمام حدیثیں نبی ﷺ کی اخلاقی اور عملی تعلیمات کا حصہ ہیں۔
6. اس تحریر کا جدید دور میں اطلاق (عملی پیغام)
· اس حدیث سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ:
· نماز کو آخری نماز سمجھ کر پڑھیں اور اس میں خشوع پیدا کریں۔
· موت کو ہمیشہ یاد رکھیں، خاص طور پر نماز کے وقت۔
· ہر عمل کو سوچ سمجھ کر کریں، اور ایسا کوئی کام نہ کریں جس پر بعد میں شرمندگی یا معافی مانگنی پڑے۔
· قیامت کے دن کے لیے اپنے اعمال کو بہتر بنائیں۔
---
واللہ أعلم بالصواب
حدیث نمبر 9
عنوان: نبی ﷺ کی حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کو محبت اور دعا کی وصیت
وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رضي الله عنه قَالَ: (" أَخَذَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم بِيَدِي) (١) (فَقَالَ: يَا مُعَاذُ, وَاللهِ إِنِّي لَأُحِبُّكَ ") (٢) (فَقُلْتُ: بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللهِ , وَأَنَا أُحِبُّكَ , فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم: " أُوصِيكَ يَا مُعَاذُ , لَا تَدَعَنَّ أَنْ تَقُولَ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ: اللَّهُمَّ أَعِنِّي عَلَى ذِكْرِكَ , وَشُكْرِكَ , وَحُسْنِ عِبَادَتِكَ ") (٣)
_________
ترجمہ:
حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
"رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑا (1) اور فرمایا:
'اے معاذ! اللہ کی قسم، بیشک میں تم سے محبت کرتا ہوں' (2) ۔
میں نے عرض کیا: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، یا رسول اللہ! اور میں بھی آپ سے محبت کرتا ہوں۔
پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
'اے معاذ! میں تمہیں وصیت کرتا ہوں کہ ہر نماز کے بعد (دُبُرَ کُلِّ صَلَاةٍ) یہ دعا پڑھنا نہ چھوڑو:
'اللَّهُمَّ أَعِنِّي عَلَى ذِكْرِكَ، وَشُكْرِكَ، وَحُسْنِ عِبَادَتِكَ'
(اے اللہ! مجھے اپنے ذکر، اپنے شکر، اور اپنی عبادت کے حسن (اچھائی) پر مدد دے۔)' (3) "
---
حواشی وحوالہ جات:
1 (س) سنن النسائی (الکبریٰ) 1303 اس حوالے سے نبی ﷺ کا معاذ رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑنا ثابت ہے۔
2 (د) سنن أبی داود 1522 اس حوالے سے نبی ﷺ کا "وَاللَّهِ إِنِّي لَأُحِبُّكَ" (اللہ کی قسم میں تم سے محبت کرتا ہوں) کہنا ثابت ہے۔
3 (حم) مسند الإمام أحمد (د) سنن أبی داود (س) سنن النسائی (صحیح الجامع) للالبانی (صحیح الترغیب والترہیب) للالبانی 22172 1522 1303 7969 1596 اس حوالے سے نبی ﷺ کی یہ وصیت کہ ہر نماز کے بعد یہ دعا پڑھی جائے، ثابت ہے۔ امام البانی رحمہ اللہ نے اسے اپنی کتب میں صحیح قرار دیا ہے۔
---
حاصل شدہ اسباق و نکات
1. نبی ﷺ کا حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے محبت کا اظہار
· نبی ﷺ نے معاذ رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا: "وَاللَّهِ إِنِّي لَأُحِبُّكَ" (اللہ کی قسم! میں تم سے محبت کرتا ہوں)۔
· اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی ﷺ اپنے صحابہ سے محبت کرتے تھے اور انہیں اس کا اظہار بھی کرتے تھے۔
· یہ محبت کا اظہار دلوں کو جوڑتا ہے اور باہمی تعلقات کو مضبوط کرتا ہے۔
2. ہر نماز کے بعد ایک خاص دعا کی تعلیم
· نبی ﷺ نے معاذ رضی اللہ عنہ کو ایک جامع دعا سکھائی جو ہر نماز کے بعد پڑھی جائے۔
· یہ دعا تین چیزوں پر مشتمل ہے: ذکر، شکر، اور حسنِ عبادت۔
3. دعا کا پہلا حصہ: ذکرِ الٰہی
· "اللَّهُمَّ أَعِنِّي عَلَى ذِكْرِكَ" (اے اللہ! مجھے اپنے ذکر پر مدد دے)۔
· اس کا مطلب ہے کہ ہم اللہ کی یاد کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں، اور ہر وقت اس کا ذکر کرتے رہیں۔
· یہ ذکر صرف زبان سے نہیں، بلکہ دل اور عمل سے بھی ہونا چاہیے۔
4. دعا کا دوسرا حصہ: شکرِ الٰہی
· "وَشُكْرِكَ" (اور اپنے شکر پر)۔
· اس کا مطلب ہے کہ ہم اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کریں، اور اس کی نافرمانی نہ کریں۔
· شکر کا مطلب ہے نعمتوں کو اس کی رضا کے مطابق استعمال کرنا۔
5. دعا کا تیسرا حصہ: حسنِ عبادت
· "وَحُسْنِ عِبَادَتِكَ" (اور اپنی عبادت کے حسن پر)۔
· اس کا مطلب ہے کہ ہم اپنی عبادت کو بہترین طریقے سے ادا کریں، یعنی اس میں اخلاص، خشوع، اور سنت کی پیروی ہو۔
· یہ اس بات کی دلیل ہے کہ عبادت کا حسن اس کے اخلاص اور سنت کے مطابق ہونے سے ہے۔
6. اس دعا کی اہمیت اور فضیلت
· نبی ﷺ نے اس دعا کو ہر نماز کے بعد پڑھنے کی وصیت فرمائی، جو اس کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔
· یہ دعا انسان کو ذکر، شکر اور عبادت میں مدد فراہم کرتی ہے، اور اسے ان تینوں میں کامیاب بناتی ہے۔
7. اس حدیث کا پچھلے ابواب سے ربط
· اس سے پہلے کی حدیثوں میں نبی ﷺ کی مختلف وصیتیں تھیں جن میں تقویٰ، جہاد، قرآن، ذکر، قناعت، اور پڑوسی کا حق کا ذکر تھا۔
· اس حدیث میں نماز کے بعد کی دعا کا خاص طور پر ذکر ہے، جو عبادت کو مکمل کرنے کا ایک اہم ذریعہ ہے۔
---
واللہ أعلم بالصواب
حدیث نمبر 10
عنوان: نبی ﷺ کی حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کو تبلیغ کے لیے بھیجتے ہوئے وصیت
وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رضي الله عنه قَالَ: " بَعَثَنِي رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى قَوْمٍ "، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ أَوْصِنِي قَالَ: " اعْبُدِ اللهَ وَلَا تُشْرِكْ بِهِ شَيْئًا , وأَفْشِ السَّلَامَ (١) وَابْذُلِ الطَّعَامَ، وَاسْتَحِيِ مِنَ اللهِ اسْتِحْيَاءَكَ رَجُلًا مِنْ أَهْلِكَ، وَإِذَا أَسَأتَ فَأَحْسِنْ، وَلْتُحَسِّنْ خُلُقَكَ مَا اسْتَطَعْتَ " (٢)
_________
ترجمہ:
حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
"رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایک قوم کی طرف بھیجا۔"
پھر میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے وصیت فرمائیں۔
آپ ﷺ نے فرمایا:
1. اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو۔
2. اور سلام کو پھیلاؤ (1) (یعنی جس سے ملیں اسے سلام کریں)۔
3. اور کھانا کھلاؤ۔
4. اور اللہ سے اس طرح حیاء (شرم) کرو جیسے تم اپنے گھر والوں میں سے کسی (معزز) شخص سے شرم کرتے ہو۔
5. اور جب کوئی برائی کرو تو (فوراً) نیکی کرو (یعنی توبہ اور نیک عمل کرو)۔
6. اور اپنے اخلاق کو جہاں تک ممکن ہو اچھا کرو۔" (2)
---
حواشی وحوالہ جات:
1 (لغوی تشریح) — "أَفْشِ السَّلَامَ" کا معنی ہے: سلام کو بلند آواز سے کہو، یا اسے عام کرو، یعنی جس سے بھی ملیں اسے سلام کریں۔
2 (ابن نصر المروزی) کتاب الإیمان (البزار) مسند البزار (صحیح الجامع) للالبانی (السلسلۃ الصحیحۃ) للالبانی (ق 226/1) (2172 - كشف الأستار) 951 3559 یہ حدیث ان کتب میں مروی ہے۔ امام البانی رحمہ اللہ نے اسے اپنی کتب میں صحیح قرار دیا ہے۔
---
حاصل شدہ اسباق و نکات
1. اللہ کی عبادت اور توحید – پہلا اور اہم ترین حکم
· نبی ﷺ نے پہلا حکم "اعْبُدِ اللَّهَ وَلَا تُشْرِكْ بِهِ شَيْئًا" (اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو) دیا۔
· یہ اسلام کا سب سے بڑا اور بنیادی حکم ہے، اور تمام اعمال کی قبولیت کا دارومدار توحید پر ہے۔
· شرک سب سے بڑا گناہ ہے، اور اس سے بچنا ہر مسلمان پر واجب ہے۔
2. سلام کو پھیلاؤ (افشاء السلام)
· نبی ﷺ نے فرمایا: "وَأَفْشِ السَّلَامَ" (اور سلام کو پھیلاؤ)۔
· اس کا مطلب ہے کہ جب بھی کسی مسلمان سے ملاقات ہو تو اسے سلام کہا جائے، چاہے وہ جانا پہچانا ہو یا اجنبی۔
· یہ محبت، بھائی چارے، اور امن کو فروغ دینے کا ذریعہ ہے۔
· نبی ﷺ نے فرمایا: "لَا تَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ حَتَّى تُؤْمِنُوا، وَلَا تُؤْمِنُوا حَتَّى تَحَابُّوا، أَفَلَا أَدُلُّكُمْ عَلَى شَيْءٍ إِذَا فَعَلْتُمُوهُ تَحَابَبْتُمْ؟ أَفْشُوا السَّلَامَ بَيْنَكُمْ" (تم جنت میں اس وقت تک داخل نہیں ہو سکتے جب تک ایمان نہ لاؤ، اور ایمان نہیں لاؤ گے جب تک ایک دوسرے سے محبت نہ کرو۔ کیا میں تمہیں ایسی چیز نہ بتاؤں جسے کرو تو آپس میں محبت ہو جائے؟ آپس میں سلام پھیلاؤ)۔ (مسلم)
3. کھانا کھلانا (اطعام الطعام)
· نبی ﷺ نے فرمایا: "وَابْذُلِ الطَّعَامَ" (اور کھانا کھلاؤ)۔
· اس کا مطلب ہے کہ غریبوں، مسکینوں، پڑوسیوں اور مہمانوں کو کھانا کھلایا جائے۔
· یہ سخاوت، ایثار، اور ہمدردی کا مظہر ہے، اور جنت میں داخلے کا ذریعہ ہے۔
4. اللہ سے حیاء (شرم) کرو
· نبی ﷺ نے فرمایا: "وَاسْتَحِيِ مِنَ اللهِ اسْتِحْيَاءَكَ رَجُلًا مِنْ أَهْلِكَ" (اور اللہ سے اس طرح شرم کرو جیسے تم اپنے گھر والوں میں سے کسی معزز شخص سے شرم کرتے ہو)۔
· اس کا مطلب ہے کہ اللہ سے اس قدر شرم اور حیاء ہونی چاہیے کہ ہم اس کی نافرمانی کا ارتکاب نہ کریں۔
· اگر ہم کسی معزز انسان کے سامنے برا کام کرنے سے شرماتے ہیں، تو اللہ کے سامنے (جو ہر جگہ موجود ہے) اس سے بھی زیادہ شرم کرنی چاہیے۔
5. برائی کے بعد نیکی کرو (السیئۃ والحسنۃ)
· نبی ﷺ نے فرمایا: "وَإِذَا أَسَأتَ فَأَحْسِنْ" (اور جب کوئی برائی کرو تو نیکی کرو)۔
· اس کا مطلب ہے کہ اگر کوئی گناہ ہو جائے تو فوراً توبہ کریں اور نیک عمل کریں، کیونکہ نیکی گناہ کو مٹا دیتی ہے۔
· اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ} (ہود: 114)۔
6. اخلاق کو اچھا کرو (حسنِ اخلاق)
· نبی ﷺ نے فرمایا: "وَلْتُحَسِّنْ خُلُقَكَ مَا اسْتَطَعْتَ" (اور اپنے اخلاق کو جہاں تک ممکن ہو اچھا کرو)۔
· اس کا مطلب ہے کہ ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ اپنے اخلاق کو بہتر بنانے کی مسلسل کوشش کرے۔
· اچھے اخلاق میں شامل ہیں: نرمی، بردباری، درگزر، سچائی، امانت، اور دوسروں کے ساتھ حسنِ سلوک۔
· نبی ﷺ نے فرمایا: "إِنَّمَا بُعِثْتُ لِأُتَمِّمَ مَكَارِمَ الْأَخْلَاقِ" (بیشک میں اچھے اخلاق کو مکمل کرنے کے لیے بھیجا گیا ہوں)۔
7. اس حدیث کا پچھلے ابواب سے ربط
· اس سے پہلے کی حدیثوں میں نبی ﷺ کی مختلف وصیتیں تھیں جن میں توحید، تقویٰ، جہاد، قرآن، ذکر، نماز، اور دعا کا ذکر تھا۔
· اس حدیث میں توحید، سلام کا پھیلانا، کھانا کھلانا، اللہ سے حیاء، برائی کے بعد نیکی، اور حسنِ اخلاق جیسے اہم اخلاقی اور عملی اصولوں پر زور دیا گیا ہے۔
---
واللہ أعلم بالصواب
حدیث نمبر 11
عنوان: نبی ﷺ کی وصیت – اللہ سے حیاء کرو جیسے نیک انسان سے شرم کرتے ہو
وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ: قَالَ رَجَلٌ لِرَسُولِ اللهِ صلى الله عليه وسلم: أَوْصِنِي , قَالَ: " أُوصِيكَ أَنْ تَسْتَحِي مِنَ اللهِ كَمَا تَسْتَحِي مِنَ الرَّجُلِ الصَّالِحِ مِنْ قَوْمِكَ ".
_________
ترجمہ:
سعید بن یزید بیان کرتے ہیں:
"ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: مجھے وصیت فرمائیں۔"
آپ ﷺ نے فرمایا:
"میں تمہیں وصیت کرتا ہوں کہ تم اللہ سے اتنی شرم (حیاء) کرو جتنی تم اپنی قوم کے کسی نیک (صالح) شخص سے شرم کرتے ہو۔"
---
حواشی وحوالہ جات:
1 (أحمد في الزهد) امام احمد کی کتاب الزہد (هب) شعب الإیمان للبیہقی (صحیح الجامع) للالبانی (السلسلۃ الصحیحۃ) للالبانی ص 46 7738 2541 741 اس حوالے سے نبی ﷺ کا یہ فرمان کہ اللہ سے اتنی شرم کرو جتنی نیک شخص سے شرم کرتے ہو، ثابت ہے۔ امام البانی رحمہ اللہ نے اسے اپنی کتب میں صحیح قرار دیا ہے۔
---
حاصل شدہ اسباق و نکات
1. حیاء (شرم) کی تعریف اور اہمیت
· حیاء کا مطلب ہے: کسی بھی ایسی چیز سے بچنا جو شرمندگی کا باعث ہو، اور اللہ کی نافرمانی سے بچنا۔
· نبی ﷺ نے فرمایا: "الْحَيَاءُ شُعْبَةٌ مِنَ الْإِيمَانِ" (حیاء ایمان کا ایک حصہ ہے)۔ (بخاری، مسلم)
· یہ ایک بہت بڑی فضیلت ہے، اور اس کے بغیر ایمان کمزور ہو جاتا ہے۔
2. اللہ سے حیاء کرو جیسے نیک انسان سے شرم کرتے ہو
· نبی ﷺ نے حیاء کی سب سے اچھی مثال دی: جس طرح تم اپنی قوم کے کسی نیک (صالح) شخص سے شرم کرتے ہو، اسی طرح اللہ سے شرم کرو۔
· اس کا مطلب ہے کہ اگر ہم کسی نیک انسان کے سامنے برا کام کرنے سے شرماتے ہیں (کیونکہ وہ ہمیں برا بھلا کہے گا)، تو اللہ کے سامنے (جو ہر جگہ موجود ہے اور سب کچھ دیکھ رہا ہے) اس سے بھی زیادہ شرم کرنی چاہیے۔
3. حیاء کی اقسام
· فطری حیاء: جو انسان کی فطرت میں ہے (جیسے کسی کے سامنے برہنگی سے شرم آنا)۔
· اکتسابی حیاء: جو ایمان اور علم کے ذریعے حاصل ہوتی ہے (جیسے گناہ سے بچنا، اللہ کی نافرمانی سے شرم آنا)۔
· نبی ﷺ نے اس حدیث میں اکتسابی حیاء کی طرف اشارہ کیا ہے، جو ایمان کی مضبوطی سے حاصل ہوتی ہے۔
4. نیک شخص سے شرم کا معیار
· ہم کسی نیک شخص سے اس لیے شرم کرتے ہیں کہ وہ ہماری برائی دیکھ کر ہمیں برا بھلا کہے گا، یا ہماری عزت کم ہو جائے گی۔
· اللہ سے حیاء اس سے بھی زیادہ ہونی چاہیے، کیونکہ:
· اللہ ہمیں دیکھ رہا ہے اور سن رہا ہے۔
· اللہ ہماری نافرمانی پر ہمیں سزا دے سکتا ہے۔
· اللہ کی نافرمانی سے ہماری عزت دنیا اور آخرت دونوں میں کم ہو جاتی ہے۔
5. حیاء کا تعلق ایمان اور اعمال سے
· حیاء انسان کو گناہوں سے بچاتی ہے، اور اسے نیکیوں کی طرف لے جاتی ہے۔
· جس شخص میں حیاء کم ہو جاتی ہے، وہ گناہوں کا مرتکب ہونے سے نہیں ڈرتا، اور اس کا ایمان کمزور ہو جاتا ہے۔
· نبی ﷺ نے فرمایا: "إِذَا لَمْ تَسْتَحِ فَاصْنَعْ مَا شِئْتَ" (جب تمہیں شرم نہ آئے تو جو چاہے کرو)۔ (بخاری)
6. اس حدیث کا پچھلے ابواب سے ربط
· اس سے پہلے کی حدیث (معاذ رضی اللہ عنہ والی) میں بھی "وَاسْتَحِي مِنَ اللهِ اسْتِحْيَاءَكَ رَجُلًا مِنْ أَهْلِكَ" (اللہ سے اس طرح شرم کرو جیسے اپنے گھر والوں میں سے کسی سے شرم کرتے ہو) کا ذکر تھا۔
· اس حدیث میں اس اصول کو مزید واضح کیا گیا ہے کہ نیک انسان سے حیاء کا معیار اللہ سے حیاء کے لیے مثال ہے۔
· یہ تمام حدیثیں نبی ﷺ کی اخلاقی اور روحانی تعلیمات کا حصہ ہیں۔
7. اس تحریر کا جدید دور میں اطلاق (عملی پیغام)
· اس حدیث سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ:
· اللہ سے حیاء کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں۔
· نیک لوگوں کی صحبت اختیار کریں، تاکہ ان سے شرم کرنے کی عادت بن جائے، اور پھر یہ عادت اللہ سے حیاء کی طرف لے جائے۔
· گناہوں سے بچنے کے لیے اللہ کی موجودگی کو ہمیشہ یاد رکھیں۔
· ایمان کو مضبوط کرنے کے لیے حیاء کو فروغ دیں۔
---
واللہ أعلم بالصواب
حدیث نمبر 12
عنوان: نبی ﷺ کی وصیت – جو کام لوگوں کے سامنے کرنے میں شرم آئے، تنہائی میں بھی نہ کرو
وَعَنْ أُسَامَةَ بْنَ شَرِيكٍ رضي الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم: " مَا كَرِهْتَ أَنْ يَرَاهُ النَّاسُ , فلَا تَفْعَلْهُ إِذَا خَلَوْتَ ".
_________
ترجمہ:
حضرت اسامہ بن شریک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"جس کام کو تم ناپسند کرتے ہو کہ لوگ تمہیں اسے کرتے ہوئے دیکھیں، تو اسے تنہائی میں بھی نہ کرو۔"
---
حوالہ:
1 (ابن حبان) روضۃ العقلاء (الضیاء) المختارۃ (السلسلۃ الصحیحۃ) للالبانی ص 12-13 ج 1 / ص 449 1055 اس حوالے سے نبی ﷺ کا یہ فرمان کہ جو کام لوگوں کے سامنے کرنے میں شرم آئے، اسے تنہائی میں بھی نہ کرو، ثابت ہے۔ امام البانی رحمہ اللہ نے اسے اپنی کتاب میں صحیح قرار دیا ہے۔
---
حاصل شدہ اسباق و نکات
1. حیاء کا عمومی اصول – لوگوں اور تنہائی میں یکسانیت
· نبی ﷺ نے فرمایا کہ جو کام تم لوگوں کے سامنے کرنے سے شرماتے ہو، اسے تنہائی میں بھی نہ کرو۔
· اس کا مطلب یہ ہے کہ حیاء (شرم) صرف لوگوں کے سامنے تک محدود نہیں، بلکہ تنہائی میں بھی اسی طرح کا خیال رکھنا چاہیے۔
· اگر کوئی کام اتنا برا ہے کہ اسے لوگوں کے سامنے نہیں کر سکتے، تو وہ تنہائی میں بھی برا ہی ہے۔
2. اللہ کی موجودگی کا احساس – اصل حیاء
· انسان کو چاہیے کہ وہ اللہ کی موجودگی کو ہمیشہ یاد رکھے، کیونکہ اللہ ہر جگہ موجود ہے اور سب کچھ دیکھ رہا ہے۔
· اگر ہم لوگوں کے سامنے برا کام کرنے سے شرماتے ہیں، تو اللہ کے سامنے (جو ہر وقت ہمیں دیکھ رہا ہے) اس سے بھی زیادہ شرم کرنی چاہیے۔
· یہی درجۂ احسان ہے، جیسا کہ نبی ﷺ نے فرمایا: "أَنْ تَعْبُدَ اللَّهَ كَأَنَّكَ تَرَاهُ، فَإِنْ لَمْ تَكُنْ تَرَاهُ فَإِنَّهُ يَرَاكَ" (اللہ کی عبادت کرو گویا تم اسے دیکھ رہے ہو، اور اگر تم اسے نہیں دیکھتے تو وہ تمہیں دیکھ رہا ہے)۔
3. گناہ کی دوہری برائی – ظاہر اور باطن
· جو کام لوگوں کے سامنے کرنے میں شرم آتی ہے، وہ دراصل گناہ ہے، چاہے وہ تنہائی میں کیا جائے یا لوگوں کے سامنے۔
· اس لیے انسان کو ظاہری اور باطنی دونوں طرح کے گناہوں سے بچنا چاہیے۔
4. ریاکاری اور نفاق سے بچاؤ
· کچھ لوگ لوگوں کے سامنے نیک بنتے ہیں اور تنہائی میں گناہ کرتے ہیں، جو کہ نفاق اور ریاکاری کی علامت ہے۔
· نبی ﷺ نے اس حدیث کے ذریعے اس سے بچنے کا حکم دیا کہ ظاہر اور باطن میں یکسانیت ہو۔
5. اس حدیث کا پچھلے ابواب سے ربط
· اس سے پہلے کی حدیثوں میں اللہ سے حیاء کا ذکر تھا، اور اس حدیث میں اس حیاء کی عملی شکل بیان کی گئی ہے۔
· اگر ہم اللہ سے حیاء کرتے ہیں تو ہمیں ہر قسم کے گناہ سے بچنا چاہیے، چاہے وہ تنہائی میں ہو یا لوگوں کے سامنے۔
6. اس تحریر کا جدید دور میں اطلاق (عملی پیغام)
· اس حدیث سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ:
· گناہ کو کبھی معمولی نہ سمجھیں، چاہے وہ تنہائی میں کیا جائے۔
· اللہ کی موجودگی کو ہمیشہ یاد رکھیں۔
· ظاہر اور باطن میں یکسانیت رکھیں، تاکہ ریاکاری اور نفاق سے بچ سکیں۔
· حیاء کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں اور ہر اس کام سے بچیں جس سے شرم آتی ہو۔
---
واللہ أعلم بالصواب
حدیث نمبر 13
عنوان: نبی ﷺ کی حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کو جامع وصیت – اللہ کو دیکھنا، مردوں میں خود کو شمار کرنا، ہر جگہ ذکر، اور گناہ کے بعد نیکی
وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رضي الله عنه قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ أَوْصِنِي , قَالَ: " اعْبُدْ اللهَ كَأَنَّكَ تَرَاهُ , وَاعْدُدْ نَفْسَكَ مِنْ الْمَوْتَى , وَاذْكُرْ اللهَ عِنْدَ كُلِّ حَجَرٍ وَشَجَرٍ، وَإِذَا عَمِلْتَ السَّيِّئَةَ , فَاعْمَلْ بِجَنْبِهَا حَسَنَةً , السِّرُّ بِالسِّرِّ , وَالْعَلَانِيَةُ بِالْعَلَانِيَةِ "۔
_________
ترجمہ:
حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے وصیت فرمائیں۔
آپ ﷺ نے فرمایا:
1. اللہ کی عبادت کرو گویا تم اسے دیکھ رہے ہو۔
2. اور اپنے آپ کو مردوں (مرنے والوں) میں شمار کرو۔
3. اور ہر پتھر اور درخت کے پاس اللہ کا ذکر کرو (یعنی ہر جگہ اللہ کو یاد کرو)۔
4. اور جب کوئی برائی (گناہ) کرو تو اس کے ساتھ (فوراً) نیکی کرو، پوشیدہ گناہ کے ساتھ پوشیدہ نیکی، اور ظاہری گناہ کے ساتھ ظاہری نیکی۔" (1)
---
حوالہ:
1 (ش) مصنف ابن أبی شیبہ (طب) المعجم الکبیر للطبرانی (هق) السنن الکبریٰ للبیہقی (صحیح الجامع) للالبانی (السلسلۃ الصحیحۃ) للالبانی 34325 ج 20 / ص 175، رقم 374 548 1040 1475، 3320 اس حوالے سے نبی ﷺ کی یہ وصیّت ثابت ہے۔ امام البانی رحمہ اللہ نے اسے اپنی کتب میں صحیح قرار دیا ہے۔
---
حاصل شدہ اسباق و نکات
1. اللہ کی عبادت اس طرح کرو گویا تم اسے دیکھ رہے ہو (درجۂ احسان)
· نبی ﷺ نے فرمایا: "اعْبُدِ اللَّهَ كَأَنَّكَ تَرَاهُ" (اللہ کی عبادت کرو گویا تم اسے دیکھ رہے ہو)۔
· یہ درجۂ احسان ہے، جو ایمان کا سب سے اعلیٰ درجہ ہے، جیسا کہ نبی ﷺ نے جبریل علیہ السلام کو ایمان، اسلام اور احسان کی تعریف میں فرمایا تھا۔
· اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر عبادت کو اس طرح ادا کیا جائے جیسے اللہ کو دیکھ رہے ہیں، جس سے اخلاص، خشوع، اور توجہ پیدا ہوتی ہے۔
2. اپنے آپ کو مردوں میں شمار کرو (موت کی یاد)
· نبی ﷺ نے فرمایا: "وَاعْدُدْ نَفْسَكَ مِنَ الْمَوْتَى" (اور اپنے آپ کو مردوں میں شمار کرو)۔
· اس کا مطلب ہے کہ انسان کو ہمیشہ موت کو یاد رکھنا چاہیے، اور اپنے آپ کو ایک ایسا شخص سمجھنا چاہیے جو عنقریب اس دنیا سے رخصت ہو جائے گا۔
· اس سے دنیا کی محبت کم ہوتی ہے، آخرت کی فکر بڑھتی ہے، اور گناہوں سے بچنے کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔
3. ہر پتھر اور درخت کے پاس اللہ کا ذکر کرو (ہر جگہ ذکر)
· نبی ﷺ نے فرمایا: "وَاذْكُرِ اللَّهَ عِنْدَ كُلِّ حَجَرٍ وَشَجَرٍ" (اور ہر پتھر اور درخت کے پاس اللہ کا ذکر کرو)۔
· اس کا مطلب ہے کہ انسان کو ہر جگہ اور ہر حال میں اللہ کا ذکر کرنا چاہیے، چاہے وہ کہیں بھی ہو۔
· یہ ذکرِ کثیر کا حکم ہے، جو انسان کو اللہ سے جوڑے رکھتا ہے اور اسے غفلت سے بچاتا ہے۔
4. گناہ کے بعد فوراً نیکی کرو (توبہ اور حسنات کا اصول)
· نبی ﷺ نے فرمایا: "وَإِذَا عَمِلْتَ السَّيِّئَةَ، فَاعْمَلْ بِجَنْبِهَا حَسَنَةً" (اور جب کوئی برائی کرو تو اس کے ساتھ نیکی کرو)۔
· اس کا مطلب ہے کہ اگر کوئی گناہ ہو جائے تو فوراً توبہ کریں اور نیک عمل کریں، تاکہ گناہ مٹ جائے۔
· اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ} (ہود: 114)۔
5. پوشیدہ گناہ کا کفارہ پوشیدہ نیکی سے، اور ظاہری گناہ کا ظاہری نیکی سے
· نبی ﷺ نے فرمایا: "السِّرُّ بِالسِّرِّ، وَالْعَلَانِيَةُ بِالْعَلَانِيَةِ" (پوشیدہ گناہ کے ساتھ پوشیدہ نیکی، اور ظاہری گناہ کے ساتھ ظاہری نیکی)۔
· اس کا مطلب ہے کہ:
· اگر کوئی گناہ پوشیدہ (چھپ کر) کیا ہے تو اس کا کفارہ بھی پوشیدہ (چھپ کر) نیکی کرنا ہے، تاکہ ریا نہ ہو۔
· اگر کوئی گناہ ظاہری (علانیہ) کیا ہے تو اس کا کفارہ ظاہری نیکی کرنا ہے، تاکہ لوگ بھی اس کی توبہ دیکھیں اور اس کی پیروی کریں۔
· یہ اخلاص اور احتیاط کا ایک بہترین اصول ہے۔
6. اس حدیث کا پچھلے ابواب سے ربط
· اس سے پہلے کی حدیثوں میں نبی ﷺ کی مختلف وصیتیں تھیں جن میں تقویٰ، جہاد، قرآن، ذکر، قناعت، حیاء، اور گناہ کے بعد نیکی کا ذکر تھا۔
· اس حدیث میں اللہ کو دیکھنا (احسان)، موت کی یاد، ہر جگہ ذکر، اور گناہ کے بعد نیکی جیسے اہم روحانی اور عملی اصولوں پر زور دیا گیا ہے۔
---
واللہ أعلم بالصواب
حدیث نمبر 14
عنوان: نبی ﷺ کی حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کو چھ اہم وصیتیں – تقویٰ، برائی کے بعد نیکی، سوال نہ کرنا، امانت نہ لینا اور فیصلہ نہ کرنا
وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ رضي الله عنه قَالَ: " قَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم: أُوصِيكَ بِتَقْوَى اللهِ فِي سِرِّ أَمْرِكَ وَعَلَانِيَتِهِ، وَإِذَا أَسَأتَ فَأَحْسِنْ، وَلَا تَسْأَلَنَّ أَحَدًا شَيْئًا , وَإِنْ سَقَطَ سَوْطُكَ، وَلَا تَقْبِضَنَّ أَمَانَةً، وَلَا تَقْضِيَنَّ بَيْنَ اثْنَيْنِ "۔
_________
ترجمہ:
حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا:
1. "میں تمہیں تقویٰ (اللہ کا خوف) کی وصیت کرتا ہوں، اپنے پوشیدہ اور ظاہری ہر معاملے میں (یعنی ہر حالت میں تقویٰ اختیار کرو)۔"
2. "اور جب کوئی برائی (گناہ) کرو تو (فوراً) نیکی کرو (یعنی توبہ اور نیک عمل کرو)۔"
3. "اور کبھی کسی سے کچھ نہ مانگو، اگرچہ تمہارا کوڑا (چابک) گر جائے (تو خود اٹھاؤ، کسی سے نہ کہو کہ اٹھا دو)۔"
4. "اور کوئی امانت قبول نہ کرو (یعنی لوگوں کی امانت اپنی ذمہ داری پر نہ لو)۔"
5. "اور دو افراد کے درمیان فیصلہ نہ کرو (یعنی قضاوت / فیصلہ کرنے سے بچو)۔" (1)
---
حوالہ:
(حم) مسند الإمام أحمد بن حنبل (صحیح الجامع) للالبانی (صحیح الترغیب والترہیب) للالبانی 21613 2544 3161 یہ حدیث مسند أحمد اور دیگر کتب میں مروی ہے۔ امام البانی رحمہ اللہ نے اسے اپنی کتب میں صحیح قرار دیا ہے۔
---
حاصل شدہ اسباق و نکات
1. تقویٰ ہر حالت میں – ظاہر و باطن میں یکسانیت
· نبی ﷺ نے تقویٰ کو "فِي سِرِّ أَمْرِكَ وَعَلَانِيَتِهِ" (چھپے اور ظاہر ہر معاملے میں) کے ساتھ مخصوص کیا۔
· اس کا مطلب ہے کہ تقویٰ صرف لوگوں کے سامنے نہیں، بلکہ تنہائی میں بھی اسی طرح ہونا چاہیے۔
· یہی اخلاص اور درجۂ احسان ہے، کیونکہ انسان اللہ کو دیکھے بغیر اس کی نافرمانی نہیں کرتا۔
2. برائی کے بعد نیکی – گناہ کا کفارہ
· نبی ﷺ نے فرمایا: "وَإِذَا أَسَأتَ فَأَحْسِنْ" (اور جب کوئی برائی کرو تو نیکی کرو)۔
· اس کا مطلب ہے کہ اگر کوئی گناہ ہو جائے تو فوراً توبہ کریں اور نیک عمل کریں، کیونکہ نیکی گناہ کو مٹا دیتی ہے۔
· اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ} (ہود: 114)۔
3. کسی سے کچھ نہ مانگو (چاہے کوڑا گر جائے)
· نبی ﷺ نے فرمایا: "وَلَا تَسْأَلَنَّ أَحَدًا شَيْئًا، وَإِنْ سَقَطَ سَوْطُكَ" (اور کبھی کسی سے کچھ نہ مانگو، اگرچہ تمہارا کوڑا گر جائے)۔
· اس کا مطلب ہے کہ انسان کو لوگوں سے سوال (مانگنے) سے بچنا چاہیے، اور اپنی ضروریات کے لیے صرف اللہ سے مانگنا چاہیے۔
· البتہ یہ حکم فرضی اور ضروری چیزوں پر لاگو نہیں، بلکہ اس کا مطلب ہے کہ بلا ضرورت لوگوں سے سوال نہ کیا جائے۔
· نبی ﷺ نے فرمایا: "لَأَنْ يَأْخُذَ أَحَدُكُمْ حَبْلَهُ فَيَأْتِيَ بِحُزْمَةٍ مِنْ حَطَبٍ فَيَبِيعَهَا فَيَكُفَّ اللهُ بِهَا وَجْهَهُ، خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَسْأَلَ النَّاسَ" (تم میں سے کوئی شخص اگر رسی لے کر لکڑیاں جمع کرے اور انہیں بیچ کر اپنی ضرورت پوری کر لے، تو یہ اس کے لیے لوگوں سے مانگنے سے بہتر ہے)۔ (بخاری، مسلم)
4. امانت قبول نہ کرو – ذمہ داری سے بچنا
· نبی ﷺ نے فرمایا: "وَلَا تَقْبِضَنَّ أَمَانَةً" (اور کوئی امانت قبول نہ کرو)۔
· اس کا مطلب یہ ہے کہ لوگوں کی امانت (مال، اشیاء، یا کسی کی ذمہ داری) کو اپنے ذمہ لینے سے بچو، کیونکہ امانت کا حق ادا کرنا بہت بڑی ذمہ داری ہے، اور اس میں خیانت کرنا بہت بڑا گناہ ہے۔
· البتہ اگر کوئی شخص امانت دار اور قابل اعتماد ہو، اور وہ امانت سنبھال سکتا ہو، تو اس کے لیے جائز ہے، لیکن عام طور پر اس سے بچنے کا حکم ہے تاکہ ذمہ داریاں کم ہوں اور گناہ سے بچا جا سکے۔
5. دو افراد کے درمیان فیصلہ نہ کرو – قضاوت سے بچنا
· نبی ﷺ نے فرمایا: "وَلَا تَقْضِيَنَّ بَيْنَ اثْنَيْنِ" (اور دو افراد کے درمیان فیصلہ نہ کرو)۔
· اس کا مطلب ہے کہ بغیر اہلیت کے قضاوت (فیصلہ کرنے) سے بچو، کیونکہ یہ ایک بہت بڑی ذمہ داری ہے، اور اس میں غلطی کرنا بہت بڑا گناہ ہے۔
· نبی ﷺ نے فرمایا: "الْقُضَاةُ ثَلَاثَةٌ: اثْنَانِ فِي النَّارِ، وَوَاحِدٌ فِي الْجَنَّةِ" (قاضی تین طرح کے ہیں: دو جہنم میں، اور ایک جنت میں)۔ (ترمذی، ابن ماجہ)
· اس لیے عام شخص کو چاہیے کہ وہ بغیر اہلیت کے فیصلہ کرنے سے بچے، اور اس ذمہ داری کو اہلِ علم کے سپرد کرے۔
6. اس حدیث کا پچھلے ابواب سے ربط
· اس سے پہلے کی حدیثوں (ابوذر، معاذ، ابو الدرداء، وغیرہ) میں بھی نبی ﷺ کی مختلف وصیتیں تھیں جن میں تقویٰ، جہاد، قرآن، ذکر، قناعت، حیاء، اور گناہ کے بعد نیکی کا ذکر تھا۔
· اس حدیث میں تقویٰ ہر حالت میں، برائی کے بعد نیکی، کسی سے سوال نہ کرنا، امانت نہ لینا، اور فیصلہ نہ کرنا جیسے اہم عملی اور اخلاقی اصولوں پر زور دیا گیا ہے۔
---
واللہ أعلم بالصواب
حدیث نمبر 15
عنوان: نبی ﷺ کی پانچ چیزوں کو غنیمت جاننے کی وصیت
وَعَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ - رضي الله عنهما - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم لِرَجُلٍ وَهُوَ يَعِظُهُ: " اغْتَنِمْ خَمْسًا قَبْلَ خَمْسٍ: شَبَابَكَ قَبْلَ هِرَمِكَ، وَصِحَّتَكَ قَبْلَ سَقَمِكَ (١) وَغِنَاكَ قَبْلَ فَقْرِكَ، وَفَرَاغَكَ قَبْلَ شُغْلِكَ، وَحَيَاتَكَ قَبْلَ مَوْتِكَ " (٢)
_________
ترجمہ:
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا:
"پانچ چیزوں کو پانچ چیزوں سے پہلے غنیمت (فائدہ) سمجھو:
1. اپنی جوانی کو بڑھاپے سے پہلے،
2. اپنی صحت کو بیماری سے پہلے (1) ،
3. اپنی غنی (مالداری) کو فقر (غربت) سے پہلے،
4. اپنی فراغت (وقت کی دستیابی) کو مصروفیت سے پہلے،
5. اور اپنی زندگی کو موت سے پہلے۔" (2)
---
حواشی وحوالہ جات:
1 (لغوی تشریح) — "السَّقَم" سے مراد بیماری ہے۔ یعنی صحت کو بیماری سے پہلے غنیمت سمجھو۔
2 (ك) المستدرک للحاکم (ش) مصنف ابن أبی شیبہ (صحیح الجامع) للالبانی (صحیح الترغیب والترہیب) للالبانی 7846 34319 1077 3355 اس حوالے سے نبی ﷺ کا یہ فرمان کہ پانچ چیزوں کو پانچ چیزوں سے پہلے غنیمت سمجھو، ثابت ہے۔ امام البانی رحمہ اللہ نے اسے اپنی کتب میں صحیح قرار دیا ہے۔
---
حاصل شدہ اسباق و نکات
1. جوانی کو بڑھاپے سے پہلے غنیمت سمجھو
· جوانی وہ وقت ہے جب انسان میں طاقت، صحت، اور عمل کی صلاحیت ہوتی ہے۔
· اس وقت کو نیکیوں، علم حاصل کرنے، عبادت، اور دین کی خدمت میں استعمال کرنا چاہیے، کیونکہ بڑھاپے میں کمزوری آ جاتی ہے اور اعمال کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔
· نبی ﷺ نے فرمایا: "اغتنم شبابك قبل هرمك" (اپنی جوانی کو بڑھاپے سے پہلے غنیمت سمجھو)۔
2. صحت کو بیماری سے پہلے غنیمت سمجھو
· صحت ایک بہت بڑی نعمت ہے، جس کی قدر اکثر لوگ بیماری میں مبتلا ہونے کے بعد کرتے ہیں۔
· جب تک صحت ہے، نیکیوں، عبادات، اور دنیاوی کاموں کو بہتر طریقے سے انجام دینا چاہیے۔
· نبی ﷺ نے فرمایا: "اغتنم صحتك قبل سقمك" (اپنی صحت کو بیماری سے پہلے غنیمت سمجھو)۔
3. غنی (مالداری) کو فقر (غربت) سے پہلے غنیمت سمجھو
· مال و دولت اللہ کی ایک بہت بڑی نعمت ہے، اور اس کا صحیح استعمال کرنا چاہیے۔
· جب تک انسان مالدار ہے، اسے چاہیے کہ وہ زکاۃ، صدقہ، خیرات، اور دوسرے نیک کاموں میں خرچ کرے، کیونکہ غربت میں یہ سب کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔
· نبی ﷺ نے فرمایا: "اغتنم غناك قبل فقرك" (اپنی مالداری کو فقر سے پہلے غنیمت سمجھو)۔
4. فراغت (وقت کی دستیابی) کو مصروفیت سے پہلے غنیمت سمجھو
· وقت انسان کی سب سے قیمتی دولت ہے، اور اس کا صحیح استعمال کرنا چاہیے۔
· جب انسان کے پاس فرصت ہو، تو اسے علم حاصل کرنے، عبادت کرنے، قرآن پڑھنے، اور نیکیوں میں استعمال کرنا چاہیے، کیونکہ بعد میں مصروفیات (نوکری، کاروبار، گھریلو ذمہ داریاں) بڑھ جاتی ہیں۔
· نبی ﷺ نے فرمایا: "اغتنم فراغك قبل شغلك" (اپنی فراغت کو مصروفیت سے پہلے غنیمت سمجھو)۔
5. زندگی کو موت سے پہلے غنیمت سمجھو
· زندگی اللہ کی سب سے بڑی نعمت ہے، اور اس کا ہر لمحہ قیمتی ہے۔
· انسان کو چاہیے کہ وہ اپنی زندگی کو اللہ کی اطاعت، نیکیوں، اور آخرت کی تیاری میں گزارے، کیونکہ موت کے بعد عمل کا موقع نہیں ملے گا۔
· نبی ﷺ نے فرمایا: "اغتنم حياتك قبل موتك" (اپنی زندگی کو موت سے پہلے غنیمت سمجھو)۔
6. اس حدیث کا پچھلے ابواب سے ربط
· اس سے پہلے کی حدیثوں میں نبی ﷺ کی مختلف وصیتیں تھیں جن میں تقویٰ، جہاد، ذکر، قناعت، حیاء، اور گناہ کے بعد نیکی کا ذکر تھا۔
· اس حدیث میں وقت، صحت، جوانی، دولت، اور زندگی کو غنیمت جاننے کا حکم ہے، جو ایک مسلمان کی دنیا اور آخرت دونوں کی کامیابی کے لیے بہت ضروری ہے۔
7. اس تحریر کا جدید دور میں اطلاق (عملی پیغام)
· اس حدیث سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ:
· جوانی کو نیکیوں میں گزارو۔
· صحت کا شکر ادا کرو اور اسے عبادت میں استعمال کرو۔
· مال کو اللہ کی راہ میں خرچ کرو۔
· وقت کو ضائع نہ کرو، بلکہ اسے علم اور نیکی میں استعمال کرو۔
· زندگی کو آخرت کی تیاری کے لیے غنیمت سمجھو، کیونکہ موت کسی کو مہلت نہیں دیتی۔
---
واللہ أعلم بالصواب
حدیث نمبر 16
عنوان: نبی ﷺ کی حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کو پانچ اہم وصیتیں – صلہ رحمی، عفو، احسان اور حق گوئی
وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ رضي الله عنه قَالَ: (لَقِيتُ رَسُولَ اللهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ لِي: " يَا عُقْبَةُ بْنَ عَامِرٍ , صِلْ مَنْ قَطَعَكَ وَأَعْطِ مَنْ حَرَمَكَ , وَاعْفُ عَمَّنْ ظَلَمَكَ) (١) (وأحْسِنْ إِلَى مَنْ أَسَاءَ إِلَيْكَ، وقُلِ الحقَّ وَلَوْ عَلَى نَفْسِكَ ") (٢)
_________
ترجمہ:
حضرت عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
"میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملا، تو آپ ﷺ نے مجھ سے فرمایا:
'اے عقبہ بن عامر!
1. جس نے تمہارا رشتہ توڑا اس سے (تعلق) جوڑو،
2. جس نے تمہیں محروم کیا اسے دو،
3. جس نے تم پر ظلم کیا اسے معاف کرو (1) ،
4. اور جو تمہارے ساتھ برائی کرے اس کے ساتھ احسان کرو،
5. اور حق (سچ) کہو اگرچہ وہ تمہارے اپنے خلاف ہو۔' (2) "
---
حوالہ جات:
1 (حم) مسند الإمام أحمد بن حنبل (السلسلۃ الصحیحۃ) للالبانی (صحیح الترغیب والترہیب) للالبانی 17488 891 2536 اس حوالے سے پہلے تین احکام (صلہ رحمی، دینا، اور معاف کرنا) ثابت ہیں۔
2 (أبو عمرو بن السماک) في حديثه (صحیح الجامع) للالبانی (السلسلۃ الصحیحۃ) للالبانی (صحیح الترغیب والترہیب) للالبانی ج 2 / ص 28 / 1 3769 1911 2467 اس حوالے سے بقیہ دو احکام (برائی کرنے والے کے ساتھ احسان، اور حق گوئی حتیٰ کہ اپنے خلاف) ثابت ہیں۔
---
حاصل شدہ اسباق و نکات
1. صلہ رحمی (تعلق جوڑنا) – رشتہ توڑنے والے سے تعلق برقرار رکھنا
· نبی ﷺ نے حکم دیا: "صِلْ مَنْ قَطَعَكَ" (جس نے تمہارا رشتہ توڑا اس سے تعلق جوڑو)۔
· اس کا مطلب ہے کہ اگر کوئی رشتہ دار یا مسلمان ہمارے ساتھ قطع تعلق (رشتہ توڑ) کر لے، تو ہمیں چاہیے کہ ہم پہل کر کے اس سے تعلق جوڑیں۔
· یہ قطع رحمی (رشتہ توڑنے) کے برعکس ہے، جو ایک بڑا گناہ ہے۔
2. محروم کرنے والے کو دینا (سخاوت اور ایثار)
· نبی ﷺ نے حکم دیا: "وَأَعْطِ مَنْ حَرَمَكَ" (اور جس نے تمہیں محروم کیا اسے دو)۔
· اس کا مطلب ہے کہ اگر کوئی شخص ہمیں کوئی چیز دینے سے روکے، تو ہمیں اس کے ساتھ سخاوت اور فیاضی کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔
· اس سے بخل اور انتقامی جذبے کو ختم کیا جاتا ہے۔
3. ظلم کرنے والے کو معاف کرنا (عفو و درگزر)
· نبی ﷺ نے حکم دیا: "وَاعْفُ عَمَّنْ ظَلَمَكَ" (اور جس نے تم پر ظلم کیا اسے معاف کرو)۔
· اس کا مطلب ہے کہ ہمیں اپنے ظالموں کو معاف کرنا چاہیے، چاہے وہ ہمیں کتنا ہی نقصان پہنچائیں۔
· یہ انتقام کے برعکس ہے، اور اللہ تعالیٰ معاف کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے۔
4. برائی کرنے والے کے ساتھ احسان کرنا (مقابلہ بالاحسن)
· نبی ﷺ نے حکم دیا: "وَأَحْسِنْ إِلَى مَنْ أَسَاءَ إِلَيْكَ" (اور جو تمہارے ساتھ برائی کرے اس کے ساتھ احسان کرو)۔
· اس کا مطلب ہے کہ اگر کوئی ہمارے ساتھ برا سلوک کرے تو ہمیں اس کے ساتھ اچھا سلوک کرنا چاہیے۔
· یہ قرآن کے اس فرمان کے مطابق ہے: {ادْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ السَّيِّئَةَ} (المؤمنون: 96) یعنی برائی کو ایسی چیز سے دفع کرو جو بہتر ہو۔
5. حق کہو اگرچہ وہ تمہارے اپنے خلاف ہو (حق گوئی اور عدل)
· نبی ﷺ نے حکم دیا: "وَقُلِ الْحَقَّ وَلَوْ عَلَى نَفْسِكَ" (اور حق (سچ) کہو اگرچہ وہ تمہارے اپنے خلاف ہو)۔
· اس کا مطلب ہے کہ ہمیں سچ بولنا چاہیے، چاہے اس سے ہمیں نقصان ہو، ہماری عزت کم ہو، یا ہمارے مفادات متاثر ہوں۔
· یہ عدل اور انصاف کی بنیاد ہے۔
6. پچھلی احادیث سے تقابل (ابوہریرہ، ابوذر وغیرہ)
· اس سے پہلے کی حدیث (ابوہریرہ رضی اللہ عنہ والی) میں بھی "صِلْ مَنْ قَطَعَكَ، وَأَعْطِ مَنْ حَرَمَكَ، وَاعْفُ عَمَّنْ ظَلَمَكَ" کا ذکر تھا۔
· اس حدیث میں دو اضافی اصول شامل ہیں: برائی کرنے والے کے ساتھ احسان، اور حق گوئی (اپنے خلاف بھی)۔
· یہ تمام حدیثیں نبی ﷺ کی اخلاقی اور عملی تعلیمات کا مکمل احاطہ کرتی ہیں۔
---
واللہ أعلم بالصواب
حدیث نمبر 17
وَعَنْ أَسْوَدَ بْنِ أَصْرَمَ الْمُحَارِبِيِّ رضي الله عنه قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ أَوْصِنِي، قَالَ: " هَلْ تَمْلِكُ لِسَانَكَ؟ " , فَقُلْتُ: فَمَا أَمْلِكُ إِذَا لَمْ أَمْلِكْ لِسَانِي؟ , قَالَ: " أَفَتَمْلِكُ يَدَكَ؟ " , فَقُلْتُ: فَمَاذَا أَمْلِكُ إِذَا لَمْ أَمْلِكْ يَدِي؟ , قَالَ: " فلَا تَقُلْ بِلِسَانِكَ إِلَّا مَعْرُوفًا وَلَا تَبْسُطْ يَدَكَ إِلَّا إِلَى خَيْرٍ " (١)
_________
عنوان: نبی ﷺ کی حضرت اسود بن اصرم رضی اللہ عنہ کو زبان اور ہاتھ کے استعمال کی وصیت
---
عبارت کا مکمل اردو ترجمہ (حوالہ نمبر کے ساتھ)
حضرت اسود بن اصرم المحاربی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
"میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے وصیت فرمائیں۔"
آپ ﷺ نے پوچھا: "کیا تم اپنی زبان پر قابو رکھتے ہو؟"
میں نے کہا: "اگر میں اپنی زبان پر قابو نہ رکھوں تو پھر کس چیز پر قابو رکھوں گا؟"
آپ ﷺ نے پوچھا: "کیا تم اپنے ہاتھ پر قابو رکھتے ہو؟"
میں نے کہا: "اگر میں اپنے ہاتھ پر قابو نہ رکھوں تو پھر کیا قابو رکھوں گا؟"
آپ ﷺ نے فرمایا:
"پس تم اپنی زبان سے صرف اچھی بات کہو، اور اپنا ہاتھ صرف بھلائی (نیکی) کی طرف بڑھاؤ۔" (1)
---
حوالہ جات کی تفصیل (نمبر وار، انگریزی اعداد میں)
حاشیہ نمبر کتاب / ماخذ (رمز) حدیث نمبر / حوالہ تفصیلی تشریح
1 (طب) المعجم الکبیر للطبرانی (هب) شعب الإیمان للبیہقی (صحیح الجامع) للالبانی (السلسلۃ الصحیحۃ) للالبانی 817 4931 1393 تحت حدیث 1560 اس حوالے سے نبی ﷺ کا یہ فرمان کہ زبان سے صرف اچھی بات کہو اور ہاتھ کو صرف بھلائی کی طرف بڑھاؤ، ثابت ہے۔ امام البانی رحمہ اللہ نے اسے اپنی کتب میں صحیح قرار دیا ہے۔
---
حاصل شدہ اسباق و نکات
1. زبان پر قابو رکھنا – ایمان کی پہچان
· نبی ﷺ نے سب سے پہلے زبان کے بارے میں پوچھا، کیونکہ زبان انسان کے سب سے اہم اعضاء میں سے ایک ہے، اور اس کے ذریعے بہت سی نیکیاں اور بہت سے گناہ ہوتے ہیں۔
· نبی ﷺ نے فرمایا: "مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَصْمُتْ" (جو اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتا ہے اسے چاہیے کہ اچھی بات کہے یا خاموش رہے)۔ (بخاری، مسلم)
2. صرف اچھی بات کہو (قول معروف)
· نبی ﷺ نے فرمایا: "فَلَا تَقُلْ بِلِسَانِكَ إِلَّا مَعْرُوفًا" (پس تم اپنی زبان سے صرف اچھی بات کہو)۔
· "معروف" سے مراد ہر وہ بات ہے جو شرعی اور اخلاقی طور پر اچھی ہو، جیسے: سچ، نرمی، نصیحت، اور دوسروں کی اصلاح۔
· اس کا مطلب ہے کہ ہمیں جھوٹ، غیبت، چغلی، گالی، اور فضول گوئی سے بچنا چاہیے۔
3. ہاتھ پر قابو رکھنا – نیکیوں کا ذریعہ
· نبی ﷺ نے ہاتھ کے بارے میں پوچھا اور فرمایا: "وَلَا تَبْسُطْ يَدَكَ إِلَّا إِلَى خَيْرٍ" (اور اپنا ہاتھ صرف بھلائی کی طرف بڑھاؤ)۔
· اس کا مطلب ہے کہ ہاتھ کو نیکی، عطیہ، صدقہ، اور دوسروں کی مدد کے لیے استعمال کیا جائے، اور چوری، ظلم، مار پیٹ، اور حرام سے بچایا جائے۔
4. زبان اور ہاتھ کا آپس میں تعلق
· انسان کے اکثر گناہ زبان اور ہاتھ کے ذریعے ہوتے ہیں۔
· زبان سے غیبت، جھوٹ، اور گالیاں نکلتی ہیں، جبکہ ہاتھ سے چوری، ظلم، اور ناحق مار پیٹ ہوتی ہے۔
· اس لیے نبی ﷺ نے ان دو اعضاء کو خاص طور پر کنٹرول کرنے کی تاکید فرمائی۔
5. اس حدیث کا پچھلے ابواب سے ربط
· اس سے پہلے کی حدیثوں (ابوہریرہ، عقبہ بن عامر، ابوذر وغیرہ) میں بھی نبی ﷺ کی مختلف وصیتیں تھیں جن میں صلہ رحمی، عفو، احسان، اور حق گوئی کا ذکر تھا۔
· اس حدیث میں زبان اور ہاتھ کے استعمال پر خاص زور دیا گیا ہے، جو تمام اخلاقیات کی بنیاد ہے۔
6. اس تحریر کا جدید دور میں اطلاق (عملی پیغام)
· اس حدیث سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ:
· زبان کو صرف اچھی باتوں کے لیے استعمال کریں، اور بری باتوں سے بچیں۔
· ہاتھ کو صرف نیکیوں کے لیے بڑھائیں، اور حرام و ظلم سے بچائیں۔
· زبان اور ہاتھ پر قابو رکھنا ایمان کی مضبوطی کی علامت ہے۔
· معروف (اچھی بات) اور خیر (بھلائی) کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں۔
---
واللہ أعلم بالصواب
حدیث نمبر 18
عنوان: نبی ﷺ کی حضرت جرموز ہجیمی رضی اللہ عنہ کو لعنت کرنے سے بچنے کی وصیت
وَعَنْ جَرْمُوزٍ الْهُجَيْمِيَّ رضي الله عنه قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ أَوْصِنِي قَالَ: " أُوصِيكَ أَنْ لَا تَكُونَ لَعَّانًا ".
_________
ترجمہ:
حضرت جرموز ہجیمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
"میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے وصیت فرمائیں۔"
آپ ﷺ نے فرمایا:
"میں تمہیں وصیت کرتا ہوں کہ لعنت کرنے والا نہ بنو۔"
---
حوالہ:
(حم) مسند الإمام أحمد بن حنبل (تخ) التاریخ الکبیر للبخاری (صحیح الجامع) للالبانی (السلسلۃ الصحیحۃ) للالبانی 20697 2352 2542 1729 اس حوالے سے نبی ﷺ کا یہ فرمان کہ "لعنت کرنے والا نہ بنو" ثابت ہے۔ امام البانی رحمہ اللہ نے اسے اپنی کتب میں صحیح قرار دیا ہے۔
---
حاصل شدہ اسباق و نکات
1. "لَعَّانًا" کا مفہوم اور اس کی مذمت
· "لَعَّان" (لعنت کرنے والا) سے مراد وہ شخص ہے جو ہر وقت اور ہر بات پر لوگوں، جانوروں، یا چیزوں کو لعنت (اللہ کی رحمت سے دوری کی دعا) بھیجتا ہے۔
· نبی ﷺ نے اس سے منع فرمایا، کیونکہ کثرت سے لعنت کرنا ایمان کی کمزوری، بداخلاقی، اور اللہ کی رحمت سے دوری کی علامت ہے۔
· نبی ﷺ نے فرمایا: "لَيْسَ الْمُؤْمِنُ بِالطَّعَّانِ وَلَا اللَّعَّانِ وَلَا الْفَاحِشِ وَلَا الْبَذِيءِ" (مومن عیب جو (طَعّان)، لعنت کرنے والا (لَعّان)، بدگو (فاحش) اور بےہودہ (بَذِيء) نہیں ہوتا)۔ (ترمذی)
2. لعنت کرنے کی ممانعت کی حکمت
· لعنت اللہ کی رحمت سے دوری کی دعا ہے، اور یہ صرف اس شخص کے لیے جائز ہے جو اس کا مستحق ہو (جیسے ظالم، کافر، یا گناہِ کبیرہ کا مرتکب)۔
· لیکن کثرت سے لعنت کرنا اس بات کا سبب ہے کہ انسان خود اللہ کی رحمت سے دور ہو جائے۔
· نبی ﷺ نے فرمایا: "إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا لَعَنَ شَيْئًا، صَعِدَتِ اللَّعْنَةُ إِلَى السَّمَاءِ، فَتُغْلَقُ أَبْوَابُ السَّمَاءِ دُونَهَا، ثُمَّ تَهْبِطُ إِلَى الْأَرْضِ، فَتُغْلَقُ أَبْوَابُهَا دُونَهَا، ثُمَّ تَأْخُذُ يَمِينًا وَشِمَالًا، فَإِذَا لَمْ تَجِدْ مَسَاغًا، رَجَعَتْ إِلَى الَّذِي لُعِنَ، فَإِنْ كَانَ أَهْلًا لِذَلِكَ، وَإِلَّا رَجَعَتْ إِلَى قَائِلِهَا" (جب کوئی بندہ کسی چیز پر لعنت کرتا ہے تو وہ لعنت آسمان کی طرف اٹھتی ہے، مگر اس کے لیے آسمان کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں، پھر وہ زمین کی طرف لوٹتی ہے تو زمین کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں، پھر وہ دائیں بائیں پھرتی ہے، اگر اسے کوئی راستہ نہ ملے تو وہ اس شخص پر لوٹ آتی ہے جس پر لعنت کی گئی تھی، اگر وہ اس کا مستحق ہو تو ٹھیک، ورنہ وہ خود لعنت کرنے والے پر لوٹ آتی ہے)۔ (ابو داود، ترمذی)
3. پچھلی حدیثوں سے ربط
· اس سے پہلے کی حدیثوں (اسود بن اصرم، ابوذر، عقبہ بن عامر وغیرہ) میں نبی ﷺ نے زبان اور ہاتھ کو کنٹرول کرنے، حق گوئی، صلہ رحمی، اور عفو کی وصیت فرمائی تھی۔
· اس حدیث میں خاص طور پر لعنت (بددعا) سے بچنے کا حکم دیا گیا، جو زبان کی برائیوں میں سے ایک ہے۔
4. اس تحریر کا جدید دور میں اطلاق (عملی پیغام)
· اس حدیث سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ:
· لعنت کرنے کی عادت نہ ڈالیں، چاہے غصے میں ہوں۔
· زبان کو صرف اچھی باتوں، دعاؤں، اور نیکیوں کے لیے استعمال کریں۔
· غصے میں لعنت کرنے سے بچیں، کیونکہ یہ ایمان کی کمزوری کی علامت ہے۔
· دوسروں کے لیے دعا کریں، چاہے وہ ہمارے دشمن ہی کیوں نہ ہوں، کیونکہ نبی ﷺ نے فرمایا: "اللَّهُمَّ اهْدِ قَوْمِي فَإِنَّهُمْ لَا يَعْلَمُونَ" (اے اللہ! میری قوم کو ہدایت دے، کیونکہ وہ نہیں جانتے)۔
---
واللہ أعلم بالصواب
حدیث نمبر 19
عنوان: نبی ﷺ کی حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو سفر کی وصیت اور دعا
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه قَالَ: (قَالَ رَجَلٌ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أُسَافِرَ , فَأَوْصِنِي) (١) (قَالَ: " أُوصِيكَ بِتَقْوَى اللهِ، وَالتَّكْبِيرِ عَلَى كُلِّ شَرَفٍ (٢) ") (٣) (فَلَمَّا مَضَى) (٤) (الرَّجُلُ قَالَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم:) (٥) (" اللَّهُمَّ اطْوِ لَهُ الْأَرْضَ، وَهَوِّنْ عَلَيْهِ السَّفَرَ ") (٦)
_________
ترجمہ:
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
(ابوہریرہ کہتے ہیں:) "ایک شخص نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں سفر کرنا چاہتا ہوں، مجھے وصیت فرمائیں" (1) ۔
آپ ﷺ نے فرمایا:
"میں تمہیں تقویٰ (اللہ کا خوف) اور ہر بلندی (اونچی جگہ) پر تکبیر (اللہ اکبر) کہنے کی وصیت کرتا ہوں" (2) (3) ۔
(ابوہریرہ کہتے ہیں:) "پھر جب وہ شخص (چلا گیا)" (4) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (اس کے لیے) دعا کی: (5)
"اے اللہ! اس کے لیے زمین کو طویل (یا تہ) کر دے اور اس پر سفر کو آسان کر دے" (6) ۔
---
حواشی وحوالہ جات:
1 (ت) جامع الترمذی 3445 اس حوالے سے شخص کا نبی ﷺ سے سفر کی وصیت مانگنا ثابت ہے۔
2 (تحفۃ الأحوذی) – تشریح (ج 8 / ص 341) "شَرَف" (بلندی) سے مراد کوئی اونچی جگہ (پہاڑی، ٹیلہ، وغیرہ) ہے۔
3 (جة) سنن ابن ماجہ (ت) جامع الترمذی 2771 3445 اس حوالے سے آپ ﷺ کا تقویٰ اور ہر بلندی پر تکبیر کہنے کی وصیت کرنا ثابت ہے۔
4 (حم) مسند الإمام أحمد (شیخ شعیب الأرناؤوط: إسناده حسن) 9722 اس حوالے سے شخص کے چلے جانے کا ذکر ہے۔
5 (حم) مسند الإمام أحمد (شیخ شعیب الأرناؤوط: إسناده حسن) 8293 اس حوالے سے نبی ﷺ کا اس شخص کے لیے دعا کرنا ثابت ہے۔
6 (ت) جامع الترمذی (حم) مسند أحمد (صحیح الجامع) للالبانی (السلسلۃ الصحیحۃ) للالبانی 3445 8293 2545 1730 اس حوالے سے نبی ﷺ کی یہ دعا ثابت ہے کہ "اللَّهُمَّ اطْوِ لَهُ الْأَرْضَ، وَهَوِّنْ عَلَيْهِ السَّفَرَ" (اے اللہ! اس کے لیے زمین کو طویل کر دے اور اس پر سفر کو آسان کر دے)۔
---
حاصل شدہ اسباق و نکات
1. تقویٰ – ہر عمل کی بنیاد
· نبی ﷺ نے سب سے پہلے تقویٰ (اللہ کا خوف) کی وصیت فرمائی، کیونکہ یہ ہر نیکی کی بنیاد ہے۔
· سفر میں بھی تقویٰ ضروری ہے، تاکہ انسان اللہ کی نافرمانی سے بچے اور اس کی رضا کے مطابق عمل کرے۔
2. ہر بلندی پر تکبیر کہنا – اللہ کی عظمت کا اظہار
· نبی ﷺ نے حکم دیا کہ ہر بلندی (اونچی جگہ) پر تکبیر (اللہ اکبر) کہی جائے۔
· اس کا مطلب ہے کہ جب مسلمان کسی پہاڑی، ٹیلے، یا اونچی جگہ پر چڑھے تو وہ اللہ اکبر کہے، کیونکہ یہ اللہ کی عظمت اور قدرت کا اظہار ہے۔
· اس کے برعکس، جب کسی نیچی جگہ (وادی) میں اترے تو سُبْحَانَ اللَّه کہنا مستحب ہے (جیسا کہ دوسری احادیث میں ہے)۔
3. نبی ﷺ کا سفر کرنے والے کے لیے دعا کرنا
· جب وہ شخص چلا گیا تو نبی ﷺ نے اس کے لیے دعا کی: "اللَّهُمَّ اطْوِ لَهُ الْأَرْضَ، وَهَوِّنْ عَلَيْهِ السَّفَرَ" (اے اللہ! اس کے لیے زمین کو طویل کر دے اور اس پر سفر کو آسان کر دے)۔
· اس کا مطلب ہے کہ اللہ اس کے لیے راستے کو آسان کرے، دوریوں کو قریب کرے، اور سفر کی مشقت کو کم کرے۔
· اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی ﷺ اپنے صحابہ کے سفر کی فکر کرتے تھے اور ان کے لیے دعا کرتے تھے۔
4. سفر کی دعا کی اہمیت
· نبی ﷺ کی یہ دعا اس بات کی دلیل ہے کہ سفر کے دوران اللہ سے مدد مانگنی چاہیے۔
· مسلمان کو چاہیے کہ وہ سفر سے پہلے اور دورانِ سفر دعا کرے، جیسا کہ نبی ﷺ نے خود سفر کی دعائیں سکھائی ہیں۔
5. اس حدیث کا پچھلے ابواب سے ربط
· اس سے پہلے کی حدیثوں میں نبی ﷺ کی مختلف وصیتیں تھیں جن میں تقویٰ، زبان اور ہاتھ کا کنٹرول، صلہ رحمی، عفو، اور حق گوئی کا ذکر تھا۔
· اس حدیث میں سفر کے آداب اور تقویٰ و تکبیر کا خاص طور پر ذکر ہے، جو سفر کو عبادت اور اللہ کی یاد میں بدل دیتا ہے۔
---
واللہ أعلم بالصواب
حدیث نمبر 20
عنوان: نبی ﷺ کی چار اہم وصیتیں – کھانے، مسجد اور جمعہ کے آداب
وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ رضي الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم: " لَا تَأكُلْ مُتَّكِئًا وَلَا عَلَى غِرْبَالٍ، وَلَا تَتَّخِذَنَّ مِنَ الْمَسْجِدِ مُصَلًّى لَا تُصَلِّي إِلَّا فِيهِ , وَلَا تَخَطَّ رِقَابَ النَّاسِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ , فَيَجْعَلَكَ اللهُ لَهُمْ جِسْرًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ "
_________
ترجمہ:
حضرت ابو الدرداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"نہ تو ٹیک لگا کر کھاؤ، اور نہ چھلنی (غربال) پر کھاؤ، اور نہ مسجد کو اپنی نماز کی جگہ مخصوص کرو کہ تم صرف اسی میں نماز پڑھو، اور جمعہ کے دن لوگوں کی گردنوں کو نہ پھلانگو، ورنہ اللہ تعالیٰ تمہیں قیامت کے دن ان کے لیے پل (جسر) بنا دے گا۔"
---
حواشی وحوالہ جات:
(طس) المعجم الأوسط للطبرانی (ابن عساكر) تاریخ دمشق (السلسلۃ الصحیحۃ) للالبانی 33 (45/408) 3122 یہ حدیث طبرانی اور ابن عساکر وغیرہ نے حضرت ابو الدرداء رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے۔ امام البانی رحمہ اللہ نے اسے "صحیح" قرار دیا ہے اور اپنی السلسلۃ الصحیحۃ (3122) میں درج کیا ہے۔
---
تشریح و تفسیر
1. "لا تأكل متكئًا" (ٹیک لگا کر مت کھاؤ)
· لغوی معنی: "اتکاء" کا مطلب ہے کسی چیز پر ٹیک لگا کر کھانا، جیسے بستر، تکیہ، یا دیوار پر پشت یا کہنی کے سہارے بیٹھ کر کھانا۔
· حکمت: یہ تکبر اور غرور کی علامت ہے، جبکہ مسلمان کو تواضع اور انکساری کے ساتھ کھانا چاہیے۔
· نبی ﷺ خود کبھی ٹیک لگا کر نہیں کھاتے تھے، جیسا کہ آپ کا فرمان ہے: "إِنِّي لَا آكُلُ مُتَّكِئًا" (میں ٹیک لگا کر نہیں کھاتا)۔
2. "ولا على غربال" (اور نہ چھلنی پر کھاؤ)
· لغوی تشریح: "غربال" وہ چھلنی (چھاننے والا آلہ) ہے جس سے آٹا یا دیگر چیزیں چھانی جاتی ہیں۔ بعض علماء نے اسے دف (ڈھول) سے بھی تشبیہ دی ہے کیونکہ یہ اس کی گولائی میں مشابہ ہے۔
· علماء کا اختلاف: اس لفظ کی مراد کے بارے میں علماء میں اختلاف ہے:
· بعض کا کہنا ہے کہ اس سے مراد وہ چھوٹی میز (خوان) ہے جو کھانے کے لیے استعمال ہوتی ہے۔
· بعض کا کہنا ہے کہ اس سے مراد وہ دسترخوان ہے جس پر براہِ راست کھانا رکھا جاتا ہے۔
· صحیح مفہوم: اس کا مطلب یہ ہے کہ کھانے کو براہِ راست زمین پر رکھ کر کھانے کے بجائے کسی اونچی جگہ (میز / دسترخوان) پر کھانا چاہیے، یا اس کا مطلب یہ ہے کہ کھانے کو چھان کر یا چھلنی پر رکھ کر نہ کھایا جائے۔
3. "ولا تتخذن من المسجد مصلى لا تصلي إلا فيه" (اور مسجد کو اپنی نماز کی جگہ مخصوص نہ کرو کہ تم صرف اسی میں نماز پڑھو)
· مطلب: یہ حکم اس بات کی ممانعت کرتا ہے کہ کوئی شخص مسجد کے کسی خاص حصے کو اپنی ذاتی نماز کی جگہ بنا لے اور دوسری جگہوں پر نماز پڑھنے سے گریز کرے۔
· حکمت: مسجد اللہ کا گھر ہے، اور اس کا ہر حصہ نماز کے لیے یکساں طور پر قابلِ استعمال ہے۔ کسی خاص جگہ کو مخصوص کرنا بدعت اور تنگ نظری کی علامت ہے۔
4. "ولا تخط رقاب الناس يوم الجمعة" (اور جمعہ کے دن لوگوں کی گردنوں کو مت پھلانگو)
· مطلب: جمعہ کے دن جب لوگ مسجد میں بیٹھے ہوں تو ان کی گردنوں یا کندھوں کے اوپر سے گزر کر آگے جانا منع ہے۔
· حکمت: یہ عمل لوگوں کو تکلیف دیتا ہے اور ان کی نماز / خطبہ میں خلل ڈالتا ہے۔ یہ بے ادبی اور بداخلاقی کی علامت ہے۔
· وعید: نبی ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص ایسا کرے گا، اللہ اسے قیامت کے دن لوگوں کے لیے پل (جسر) بنا دے گا جس پر لوگ چلیں گے – یہ ایک سخت وعید ہے۔
---
حدیث کی درجہ بندی (حکم)
محدث - حکم - ماخذ
امام البانی - صحیح - السلسلۃ الصحیحۃ (3122)
امام ہیثمی - رجاله ثقات (اس کے راوی ثقہ ہیں) - مجمع الزوائد
---
حاصل شدہ اسباق و نکات
1. کھانے میں تواضع اور انکساری
· ٹیک لگا کر کھانا تکبر کی علامت ہے، اس لیے مسلمان کو چاہیے کہ وہ سیدھا بیٹھ کر یا گھٹنوں کے بل کھائے۔
· نبی ﷺ کی سیرت یہ تھی کہ آپ کبھی بھی ٹیک لگا کر نہیں کھاتے تھے۔
2. کھانے کا مناسب طریقہ
· "غربال" کی ممانعت سے یہ سبق ملتا ہے کہ کھانے کو زمین پر رکھ کر کھانے کے بجائے دسترخوان یا میز پر رکھ کر کھانا چاہیے۔
· یا اس کا مطلب یہ ہے کہ کھانے کو چھان کر یا چھلنی پر رکھ کر کھانے سے بچنا چاہیے۔
3. مسجد میں کسی خاص جگہ کو مخصوص نہ کرنا
· مسجد کا ہر حصہ نماز کے لیے یکساں ہے، اس لیے کسی خاص جگہ کو اپنی ذاتی مصلیٰ نہ بنائیں۔
· یہ بدعت اور تنگ نظری سے بچنے کا درس ہے۔
4. جمعہ کے دن دوسروں کو تکلیف نہ دینا
· جمعہ کے دن لوگوں کی گردنوں کو پھلانگنا انہیں تکلیف دینا ہے، جو حرام یا مکروہ ہے۔
· یہ عمل خطبہ اور نماز میں خلل ڈالتا ہے، اور اس پر سخت وعید ہے۔
5. دوسروں کا خیال رکھنا – اسلامی اخلاق کا بنیادی اصول
· یہ حدیث ہمیں سکھاتی ہے کہ ہمیں اپنے اعمال میں دوسروں کی تکلیف کا خیال رکھنا چاہیے، چاہے وہ کھانے کے دوران ہو یا مسجد میں نماز کے وقت۔
---
واللہ أعلم بالصواب
حدیث نمبر 21
عنوان: نبی ﷺ کا آخری کلام – نماز اور غلاموں / ماتحت افراد کے حقوق کی وصیت
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رضي الله عنه قَالَ: (" كَانَ آخِرُ كَلَامِ رَسُولِ اللهِ صلى الله عليه وسلم) (١) (حِينَ حَضَرَتْهُ الْوَفَاةُ:) (٢) (الصَلَاةَ الصَلَاةَ , اتَّقُوا اللهَ فِيمَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ) (٣) (فَمَا زَالَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُهَا) (٤) (حَتَّى جَعَلَ يُغَرْغِرُ بِهَا فِي صَدْرِهِ , وَمَا يُفِيضُ بِهَا لِسَانُهُ ") (٥)
_________
ترجمہ:
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
"رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری کلمات، جب آپ کی وفات کا وقت آیا" (1) (2) (یہ تھے):
"نماز، نماز (کا اہتمام کرو)! اور اللہ سے ڈرو اس بارے میں جو تمہارے دائیں ہاتھ کی ملکیت میں ہیں (یعنی غلاموں / ماتحت افراد کے حقوق میں کوتاہی نہ کرو)" (3)۔
**"پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انہی (کلمات) کو دہراتے رہے" (4) **
"یہاں تک کہ وہ انہیں اپنے سینے میں غرغراہٹ کے ساتھ ادا کرنے لگے، اور ان کی زبان (کمزوری کی وجہ سے) انہیں (واضح طور پر) نہیں پھیر سکتی تھی" (5)۔
---
حوالہ جات:
1۔ (خد) الأدب المفرد للبخاری:158، (د) سنن أبی داود:5156 ، (جة) سنن ابن ماجہ:2698، صحيح الأدب المفرد للالبانی:118 - اس حوالے سے ثابت ہے کہ یہ نبی ﷺ کا آخری کلام ہے۔
2۔ (جة) سنن ابن ماجہ 2697 - اس حوالے سے اس بات کی وضاحت ہے کہ یہ وفات کے وقت (آخری لمحات) میں فرمایا گیا۔
3۔ (خد) الأدب المفرد:158، (د) سنن أبی داود:5156، (حم) مسند الإمام أحمد:585، السلسلۃ الصحیحۃ للالبانی:868، الإرواء الغلیل للالبانی:2178 - اس حوالے سے اصل وصیت "الصَّلَاةَ الصَّلَاةَ، اتَّقُوا اللهَ فِيمَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ" ثابت ہے۔
4۔ (جة) سنن ابن ماجہ:1625، (ك) المستدرک للحاکم:4388، (فقہ السیرۃ) للالبانی:501 - اس حوالے سے آپ ﷺ کا ان کلمات کو بار بار دہرانا ثابت ہے۔
5۔ (هب) شعب الإیمان للبیہقی:8552 (یع) مسند یعلیٰ بن منیع:2933، (ك) المستدرک للحاکم:4388، (حب) صحیح ابن حبان:6605، (حم) مسند الإمام أحمد:26526، (السلسلۃ الصحیحۃ) للالبانی: تحت حدیث 868 - اس حوالے سے آپ ﷺ کی زبان کی حالت (غرغراہٹ اور عدم وضاحت) کا ذکر ہے۔
---
حاصل شدہ اسباق و نکات
1. نماز – دین کا ستون اور آخری وصیت
· نبی ﷺ نے اپنی وفات کے آخری لمحات میں بھی "الصَّلَاةَ الصَّلَاةَ" (نماز، نماز) کا حکم دیا۔
· اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نماز دین کی سب سے اہم عبادت ہے، اور اس کا اہتمام ہر حال میں ضروری ہے، چاہے انسان کسی بھی حالت میں ہو۔
· یہ اس بات کی دلیل ہے کہ قیامت کے دن سب سے پہلے نماز کا ہی حساب ہوگا، اور یہ ایمان اور عمل کی بنیاد ہے۔
2. ماتحت افراد (غلام / ملازمین / زیردست) کے حقوق کی وصیت
· نبی ﷺ نے فرمایا: "اتَّقُوا اللهَ فِيمَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ" (اللہ سے ڈرو اس بارے میں جو تمہاری ملکیت میں ہیں)۔
· اس کا اطلاق صرف غلاموں پر نہیں، بلکہ ملازمین، نوکروں، اور تمام ماتحت افراد پر ہے کہ ان کے ساتھ عدل، انصاف، اور رحمت کا معاملہ کیا جائے۔
· انہیں کھانا کھلانا، کپڑا پہنانا، اور ان کی عزت کرنا ضروری ہے، اور ان پر زیادتی کرنا اللہ کے ہاں سخت جرم ہے۔
3. نبی ﷺ کا امت کے لیے شفقت اور محبت
· آپ ﷺ نے اپنی آخری سانسوں تک امت کی بھلائی اور ان کے حقوق کی فکر کی۔
· آپ ﷺ تکلیف اور کمزوری کے باوجود ان کلمات کو دہراتے رہے، تاکہ امت انہیں یاد رکھے اور ان پر عمل کرے۔
· یہ آپ ﷺ کی رحمۃ للعالمین ہونے کی دلیل ہے۔
4. اللہ کے حقوق اور بندوں کے حقوق کا توازن
· اس آخری وصیت میں دو اہم پہلو ہیں:
· (الف) اللہ کا حق = نماز (نماز اللہ کی عبادت اور اس سے تعلق کا سب سے بڑا ذریعہ ہے)۔
· (ب) بندوں کا حق = ماتحت افراد کے ساتھ حسنِ سلوک (یہ معاشرتی اور اخلاقی ذمہ داری ہے)۔
· اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام کا نظام توازن پر مبنی ہے – نہ صرف اللہ کی عبادت، بلکہ مخلوق کے ساتھ حسنِ سلوک بھی ضروری ہے۔
5. موت کے وقت بھی ذکر اور وعظ جاری رکھنا
· نبی ﷺ کی زبان اور سانس جواب دے رہی تھی، پھر بھی آپ حق کا کلمہ ادا کر رہے تھے۔
· اس سے ہمیں سبق ملتا ہے کہ آخری لمحات میں بھی اللہ کا ذکر اور حق کی بات کرنی چاہیے۔
· یہی وہ کلمہ ہے جو انسان کی آخرت کی کامیابی کا سبب بنتا ہے۔
6. اس حدیث کا پچھلے ابواب سے ربط
· اس سے پہلے کی حدیثوں میں نبی ﷺ کی مختلف وصیتیں (تقویٰ، جہاد، ذکر، صلہ رحمی، اور حق گوئی) تھیں۔
· اس حدیث میں آپ ﷺ کا آخری اور اہم ترین کلام ہے، جو نماز اور ماتحت افراد کے حقوق پر مشتمل ہے۔
· یہ تمام حدیثیں نبی ﷺ کی تعلیمات کا مکمل احاطہ کرتی ہیں اور ان پر عمل کرنا ہماری نجات کا ذریعہ ہے۔
---
واللہ أعلم بالصواب















No comments:
Post a Comment