Friday, 30 October 2026

کمزور مسلمان کی اہمیت اور فضیلت


مجموعی عنوانات:

کمزوروں کی فضیلت اور امت کی نصرت میں ان کا کردار

ضعفاء کی برکت سے رزق اور نصرت

اسلام میں کمزوروں کی اہمیت

نصرتِ امت کے آسمانی راز: ضعفاء کی دعائیں

کمزور مومن: امت کی پوشیدہ طاقت


کمزور کون؟

القرآن:

اور جنہیں "کمزور" سمجھا گیا تھا وہ ان سے کہیں گے جو بڑے بنے ہوئے تھے کہ: نہیں، یہ تمہاری رات دن کی مکاری ہی تو تھی (جس نے ہمیں روکا تھا) جب تم ہمیں تاکید کرتے تھے کہ ہم الله سے کفر کا معاملہ کریں، اور اس کے ساتھ (دوسروں کو) شریک مانیں۔ اور یہ سب جب عذاب کو دیکھ لیں گے تو اپنا پچھتاوا چھپا رہے ہوں گے۔ (17) اور جن جن لوگوں نے کفر اختیار کیا تھا ہم ان سب کے گلوں میں طوق ڈال دیں گے۔ ان کو کسی اور بات کا نہیں، انہی اعمال کا بدلہ دیا جائے گا جو وہ کیا کرتے تھے۔

[سورۃ سبإ، آیت نمبر 33]

تفسیر:

(17) یعنی ظاہر میں تو ایک دوسرے کو الزام دے رہے ہوں گے، لیکن دل میں سمجھتے ہوں گے کہ در اصل جرم میں ہم سب شریک ہیں، اس لیے دل ہی دل میں پچھتا رہے ہوں گے۔




ممکنہ عنوانات:

ضعفاء کی دعا، نماز اور اخلاص سے امت کی نصرت

اللہ کی مدد کمزور مومنوں کے ذریعے

کمزوروں کی برکت سے امت کو غلبہ

نصرتِ الٰہی کا ذریعہ: دعا، نماز اور اخلاص

امت کی قوت اس کے ضعفاء میں پوشیدہ ہے

ضعفاء کی دعاؤں میں امت کی فتح


حدیث نمبر 1

حضرت سعد بن ابی وقاص سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا:

”بے شک اللہ تعالیٰ اس امت کی مدد اس کے کمزور لوگوں کے ذریعے کرتا ہے — ان کی دعاؤں، ان کی نمازوں اور ان کے اخلاص کی برکت سے۔“

حوالہ

*«إِنَّمَا يَنْصُرُ اللَّهُ هَذِهِ الْأُمَّةَ بِضَعِيفِهَا، بِدَعْوَتِهِمْ، وَصَلَاتِهِمْ، وَإِخْلَاصِهِمْ»*

[سنن النسائی:3178، السنن الکبریٰ للبیھقی:6389، جامع الأحادیث-السیوطی:9026]

---

📖 شرح:


قال ابن بطال تأویله أن الضعفاء أشد إخلاصا في الدعاء وأکثر خشوعا في العبادة لخلاء قلوبھم عن التعلق بزخرف الدنیا (فتح الباری:)

یعنی ضعفاء دعا کرتے وقت اخلاص میں بہت سخت ہوتے ہیں اور عبادت میں ان کا خشوع زیادہ ہوتا ہے اور ان کے دل دنیاوی زیب و زینت سے پاک ہوتے ہیں۔

اس لئے ضعیف لوگوں سے دعا کرانا بہت ہی موجب برکت ہے۔


«إنما ينصر الله هذه الأمة بضعيفها بدعوتهم»

یعنی کمزور لوگوں کا اللہ تعالیٰ سے اس اسلامی جماعت کے لیے نصرت اور کامیابی طلب کرنا۔

«وصلاتهم وإخلاصهم»

یعنی ان کی نمازوں اور تمام اعمال میں اخلاص کے ذریعے۔


کشاف میں ہے: ”نصر“ کا معنی مدد کرنا اور دشمن پر غلبہ دینا ہے۔ اسی سے ہے: «نصر الله الأرض» یعنی اللہ نے زمین کی مدد کی (بارش کے ذریعے)۔


(ن) یعنی نسائی میں مصعب بن سعد کی حدیث سے، وہ سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ سعد نے محسوس کیا کہ انہیں اپنے سے کم درجے والوں پر فضیلت حاصل ہے، تو نبی ﷺ نے یہ ارشاد فرمایا۔ اسی طرح اسے طبرانی(الاوسط:4148)، ابو نعیم اور دیلمی نے بھی روایت کیا۔


---


💡 اہم نکات


۱. کمزوروں کی اہمیت


· اللہ تعالیٰ ظاہری طاقت کے بجائے دعا، نماز اور اخلاص کی بنیاد پر مدد فرماتا ہے۔

· کمزور سے مراد جسمانی یا مالی کمزوری ہے، مگر دل کی طاقت (ایمان، دعا، اخلاص) سے مالا مال ہیں۔


۲. دعا، نماز اور اخلاص کا کردار


· دعا: دشمن کے مقابلے میں اللہ سے مدد مانگنا۔

· نماز: اللہ سے تعلق مضبوط کرنا۔

· اخلاص: تمام اعمال میں صرف اللہ کی رضا کا ارادہ۔


۳. سعد رضی اللہ عنہ کا واقعہ


· حضرت سعد بن ابی وقاص جلیل القدر صحابی، عشرہ مبشرہ میں سے، اور فاتحِ ایران تھے۔

· پھر بھی انہیں اپنی فضیلت پر ناز محسوس ہوا، تو نبی ﷺ نے انہیں عاجزی اور کمزوروں کی اہمیت کا درس دیا۔


۴. نصرت کا صحیح ذریعہ


· ظاہری اسباب (فوج، ہتھیار، تعداد) اپنی جگہ اہم ہیں، مگر اصل نصرت اللہ کی طرف سے آتی ہے، اور وہ دعا، نماز اور اخلاص کے ذریعے آتی ہے۔

· قرآن میں ہے: «وَمَا النَّصْرُ إِلَّا مِنْ عِنْدِ اللَّهِ» (آل عمران: 126) — ”اور نصرت صرف اللہ کی طرف سے ہے۔“

---

📌 خلاصہ

اللہ تعالیٰ ہمیں دعا، نماز اور اخلاص کی حقیقت کو سمجھنے اور ان پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے، اور اس امت کی نصرت کا ذریعہ بنائے۔ آمین۔



---


📖 قرآن سے شواہد


1. نصرت صرف اللہ کی طرف سے ہے:


﴿وَمَا النَّصْرُ إِلَّا مِنْ عِنْدِ اللَّهِ﴾ (آل عمران: 126)

”اور نصرت صرف اللہ کی طرف سے ہے۔“


2. اللہ مدد کرے تو کوئی غالب نہیں:


﴿إِن يَنصُرْكُمُ اللَّهُ فَلَا غَالِبَ لَكُمْ﴾ (آل عمران: 160)

”اگر اللہ تمہاری مدد کرے تو کوئی تم پر غالب نہیں آ سکتا۔“


3. اللہ کے دین کی مدد کرو تو اللہ تمہاری مدد کرے گا:


﴿إِن تَنصُرُوا اللَّهَ يَنصُرْكُمْ﴾ (محمد: 7)

”اگر تم اللہ (کے دین) کی مدد کرو گے تو وہ تمہاری مدد کرے گا۔“


4. تھوڑے لوگ اللہ کے اذن سے زیادہ پر غالب آتے ہیں:


﴿كَم مِّن فِئَةٍ قَلِيلَةٍ غَلَبَتْ فِئَةً كَثِيرَةً بِإِذْنِ اللَّهِ﴾ (البقرة: 249)

”کئی بار تھوڑی جماعت نے اللہ کے اذن سے بڑی جماعت کو شکست دی۔“


5. بدر میں مسلمان کمزور تھے، پھر اللہ نے مدد کی:


﴿وَلَقَدْ نَصَرَكُمُ اللَّهُ بِبَدْرٍ وَأَنتُمْ أَذِلَّةٌ﴾ (آل عمران: 123)

”اور یقیناً اللہ نے بدر میں تمہاری مدد کی، جبکہ تم کمزور تھے۔“


6. مستضعفین کی یاد دہانی:


﴿وَاذْكُرُوا إِذْ أَنتُمْ قَلِيلٌ مُّسْتَضْعَفُونَ فِي الْأَرْضِ﴾ (الأنفال: 26)

”اور یاد کرو جب تم زمین میں تھوڑے اور کمزور تھے۔“


7. دعا کا حکم اور قبولیت:


﴿ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ﴾ (غافر: 60)

”مجھ سے دعا کرو، میں تمہاری دعا قبول کروں گا۔“


8. استغاثہ (مدد طلب کرنا) اور اللہ کا جواب:


﴿إِذْ تَسْتَغِيثُونَ رَبَّكُمْ فَاسْتَجَابَ لَكُمْ﴾ (الأنفال: 9)

”جب تم اپنے رب سے مدد طلب کر رہے تھے، تو اس نے تمہاری دعا قبول کی۔“


9. نماز قائم کرنے کا حکم:


﴿وَأَقِمِ الصَّلَاةَ لِذِكْرِي﴾ (طه: 14)

”اور میری یاد کے لیے نماز قائم کر۔“


10. اخلاصِ دین کا حکم:


﴿وَمَا أُمِرُوا إِلَّا لِيَعْبُدُوا اللَّهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ﴾ (البينة: 5)

”اور انہیں صرف یہی حکم دیا گیا کہ اللہ کی عبادت کریں، اس کے لیے دین کو خالص کرتے ہوئے۔“


11. اللہ صابرین کے ساتھ ہے:


﴿وَاللَّهُ مَعَ الصَّابِرِينَ﴾ (البقرة: 249)

”اور اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔“




ممکنہ عنوانات:

کمزوروں کو تلاش کرو: رزق اور نصرت کا ذریعہ

ضعفاء کی موجودگی میں رزق اور فتح

امت کی مدد کمزوروں کی برکت سے

کمزوروں کو قریب کرو، اسی میں رزق و نصرت ہے

رزق و نصرت کا راز: ضعفاء

کمزور مومنوں کی دعا سے رزق اور غلبہ


حدیث نمبر 2

حضرت ابودرداء سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا:

”تم میرے لیے کمزوروں کو تلاش کرو (اور انہیں قریب کرو)، کیونکہ تمہیں رزق اسی وجہ سے دیا جاتا ہے اور اسی وجہ سے مدد دی جاتی ہے کہ تمہارے درمیان کمزور موجود ہیں۔“

حوالہ

ابغُوني الضعفاءَ، فإنما تُرزَقُون وتُنْصَرون بضعفائِكم۔

[سنن ابوداؤد:2594، سنن ترمذي:1797، سنن النسائي:3179، صحیح البخاری:2896، المعجم الصغير للطبراني:993]

﴿مسند احمد:21731، صحيح ابن حبان:4767﴾



📌 عنوانات
جنت والے اور جہنم والے: قرآن و حدیث کی روشنی میں
کمزور مظلوم مسلمان: جنت کا معیار
تکبر اور غرور: جہنم کا راستہ
«لو أقسم على الله لأبره»: اللہ کے نزدیک مقبول بندے کی علامت

حدیث نمبر 3

عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو - رضي الله عنهما - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم -: (" أَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِأَهْلِ الْجَنَّةِ؟ " , قَالُوا: بَلَى يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ: " هُمْ الضُّعَفَاءُ الْمَظْلُومُونَ) (١) وفي رواية: " كُلُّ ضَعِيفٍ مُسْتَضْعَفٍ (٢) لَوْ أَقْسَمَ عَلَى اللهِ لَأَبَرَّهُ " (٣)

ترجمہ:

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "کیا میں تمہیں جنت والوں (کی ایک قسم) سے آگاہ نہ کروں؟" صحابہ نے عرض کیا: کیوں نہیں، اے اللہ کے رسول! آپ ﷺ نے فرمایا: "وہ کمزور (اور) مظلوم لوگ ہیں۔"(١) 

اور ایک روایت میں ہے:

"ہر وہ کمزور شخص جسے (دنیا میں) کمزور بنایا گیا ہو،(٢) اگر وہ اللہ کی قسم کھائے تو اللہ اسے پوری فرمائے گا۔"(٣)

[صحيح البخاري:6657-4918، صحيح مسلم:2853 (7189)، جامع الترمذي:2605، سنن ابن ماجه:4116،سنن أبي داود:4801]

حواشی اور حوالہ جات:

  1. (١) (حم) ٨٨٠٧ , انظر الصَّحِيحَة: ٩٣٢
    • یہ حدیث مسند احمد میں حدیث نمبر 8807 پر موجود ہے۔ نیز دیکھیے: السلسلة الصحیحہ حدیث نمبر 932۔
  2. (٢) الْمُرَاد بِالضَّعِيفِ... الْمُسْتَضْعَفِ...: یعنی "ضعیف" سے مراد وہ شخص ہے جس کی ذات (نفس) اس کے تواضع اور دنیا میں اس کی کمزور حالت کی وجہ سے کمزور (یعنی عاجز اور منکسر) ہے۔ اور "مستضعف" سے مراد وہ شخص ہے جو دنیا میں اس کے گمنام اور حقیر ہونے کی وجہ سے حقیر سمجھا جاتا ہے۔
  3. (٣) (جة) ٤١١٥ , (خ) ٤٦٣٤ , (م) ٢٨٥٣ , صَحِيح التَّرْغِيبِ وَالتَّرْهِيب: ٣١٩٦
    • یہ حدیث (دوسری روایت) صحیح ابن حبان میں حدیث نمبر 4115، صحیح بخاری میں حدیث نمبر 4634، صحیح مسلم میں حدیث نمبر 2853، اور صحیح الترغیب والترہیب میں حدیث نمبر 3196 پر موجود ہے۔



القرآن:

اور جنہیں "کمزور" سمجھا گیا تھا وہ ان سے کہیں گے جو بڑے بنے ہوئے تھے کہ: نہیں، یہ تمہاری رات دن کی مکاری ہی تو تھی (جس نے ہمیں روکا تھا) جب تم ہمیں تاکید کرتے تھے کہ ہم الله سے کفر کا معاملہ کریں، اور اس کے ساتھ (دوسروں کو) شریک مانیں۔ اور یہ سب جب عذاب کو دیکھ لیں گے تو اپنا پچھتاوا چھپا رہے ہوں گے۔ (17) اور جن جن لوگوں نے کفر اختیار کیا تھا ہم ان سب کے گلوں میں طوق ڈال دیں گے۔ ان کو کسی اور بات کا نہیں، انہی اعمال کا بدلہ دیا جائے گا جو وہ کیا کرتے تھے۔

[سورۃ سبإ، آیت نمبر 33]







📖 تشریح:

۱. «ضَعِيفٍ مُتَضَعَّفٍ» (کمزور اور دبایا ہوا)
حافظ ابن حجر فرماتے ہیں: ”«مُتَضَعَّف» کا مطلب ہے وہ شخص جسے لوگ کمزور سمجھیں اور حقیر جانیں، کیونکہ دنیا میں اس کا حال کمزور ہے۔“ اور کسرہ کے ساتھ «مُتَضَعِّف» کا مطلب ہے ”عاجزی اختیار کرنے والا، گمنام اور فروتن“۔

ابن باز رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”«متضعف» اور «مستضعف» دونوں روایتیں ہیں، اور سب کا معنی ایک ہی ہے“۔

امام نووی فرماتے ہیں: ”اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر کمزور جنت میں جائے گا اور ہر طاقتور جہنم میں، بلکہ مطلب یہ ہے کہ جنت والوں کی غالب صفت یہی کمزوری اور عاجزی ہوگی، جیسے جہنم والوں کی غالب صفت تکبر ہوگی“ (شرح مسلم)۔

ضعيف سے مراد کمزور و ناتواں اور مُتضعف سے مراد وہ شخص جسے لوگ اس کے ضعف حال کے پیش نظر حقیر خیال کرتے ہوں۔

امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ سے سوال کیا گیا کہ اس حدیث میں ضعیف سے مراد کون ہے؟ تو انہوں نے فرمایا:
جو انسان ایک دن میں پچیس سے پچاس مرتبہ لا حول ولا قوة إلا باللہ پڑھتا ہو، یعنی جو انسان خود کو بری کرتا ہو کہ مجھ میں اللہ کی توفیق کے علاوہ نیکی کرنے اور گناہ سے بچنے کی ہمت نہیں ہے۔
(فتح الباري: 662/11)

اس کے معنی یہ ہیں کہ ہر کمزور مسلمان جنتی ہے اور ہر بدخلق، متکبر انسان دوزخی ہے۔
اس کا برعکس مراد نہیں کہ اس کے علاوہ دوسرے اوصاف کے حاملین جنت یا دوزخ میں نہیں جائیں گے۔
(عمدةالقاري: 706/15)

۲. «لَوْ أَقْسَمَ عَلَى اللَّهِ لَأَبَرَّهُ» (اگر اللہ پر قسم کھائے تو اللہ اسے پورا کر دے)
ابن حجر فرماتے ہیں: ”اس کا مطلب ہے کہ اگر وہ اللہ کے کرم کی امید میں کوئی قسم کھا لے، تو اللہ اسے پورا کر دے گا“۔ امام نووی فرماتے ہیں: ”اللہ اسے جھوٹا نہیں کرے گا، کیونکہ وہ اللہ کے نزدیک معزز ہے“ (شرح مسلم)۔

یہ اللہ کی طرف سے اس بندے کی کرامت ہے کہ اس کی دعا اور قسم قبول ہوتی ہے، کیونکہ اس کا دل اخلاص اور توکل سے بھرا ہوتا ہے۔

۳. «جَوَّاظٍ، عُتُلٍّ، مُسْتَكْبِرٍ» (سخت، اکڑنے والا، متکبر)
«جَوَّاظ»: بہت زیادہ جمع کرنے والا، بخیل، یا موٹا اور اکڑ کر چلنے والا۔

«عُتُلّ»: سخت، کج خلق، جھگڑالو، حق قبول نہ کرنے والا۔

«مُسْتَكْبِر»: حق سے تکبر کرنے والا، لوگوں پر بڑائی جتانے والا۔

ابن حجر فرماتے ہیں: ”مراد یہ ہے کہ جنت والوں کی غالب صفت یہ (کمزوری) ہے اور جہنم والوں کی غالب صفت یہ (تکبر) ہے، نہ کہ ہر ایک کا حصر“۔

حدیث سے حاصل ہونے والے اسباق اور نکات:

  1. اللہ کے ہاں عزت کا اصل معیار: یہ حدیث دنیا اور آخرت میں عزت و ذلت کے تصورات کو یکسر بدل دیتی ہے۔ دنیا میں جو لوگ طاقتور، مالدار اور بااثر سمجھے جاتے ہیں، اللہ کے ہاں ان کی کوئی حیثیت نہیں اگر ان کے دل میں تکبر اور ظلم ہے۔ اس کے برعکس، وہ لوگ جو دنیا کی نظر میں "ضعیف" (غریب، بے سہارا، معاشرے میں کمتر) اور "مظلوم" ہیں، اگر وہ صبر و شکر اور ایمان پر قائم رہیں تو اللہ کے ہاں وہی باعزت اور جنت کے اہل ہیں۔ یہاں "ضعف" سے مراد صرف مالی یا جسمانی کمزوری نہیں، بلکہ دل کا انکسار، تواضع اور دنیا سے بے رغبتی بھی ہے۔
  2. مظلوموں اور کمزوروں کی اللہ کی بارگاہ میں خاص اہمیت: حدیث میں "المظلومون" اور "مستضعف" (جسے دبایا گیا ہو) کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے ان بندوں کی داد رسی کے لیے خاص طور پر موجود ہے جو دنیا میں ناحق ستائے جاتے ہیں، ان پر ظلم ہوتا ہے یا انہیں حقیر سمجھا جاتا ہے۔ ان کے لیے جنت میں اعلیٰ مقام مخصوص ہے۔
  3. متواضع اور منکسر القلب لوگوں کی مقبولیت: تشریح کے مطابق "ضعیف" سے مراد وہ شخص ہے جس کی ذات (نفس) اس کے تواضع کی وجہ سے "ضعیف" ہے۔ یعنی وہ شخص جو اپنے آپ کو بڑا نہیں سمجھتا، تکبر نہیں کرتا، دوسروں پر رعب جھاڑنے کی بجائے عاجزی سے پیش آتا ہے۔ ایسے لوگ دنیا میں نظرانداز ہو سکتے ہیں، لیکن اللہ کی نظر میں بہت بلند مقام رکھتے ہیں۔
  4. ان کی دعا اور قسم کی قبولیت کی بشارت: روایت میں آیا ہے کہ ایسا کمزور شخص "لَوْ أَقْسَمَ عَلَى اللهِ لَأَبَرَّهُ" (اگر وہ اللہ کی قسم کھائے تو اللہ اسے پوری فرمائے گا)۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ ایسے بندگانِ صالح کی بات، ان کی دعا اور ان کی قسموں کو بہت زیادہ قبول فرماتا ہے۔ یہ ان کی ایمانی طاقت اور اللہ کے ہاں ان کے اعتماد کی علامت ہے۔
  5. دنیا کی چمک دمک سے دھوکا نہ کھانا: اس حدیث کا ایک واضح پیغام یہ ہے کہ مؤمن کو دنیا کی ظاہری چمک دمک، مال و دولت اور طاقت کے پیچھے نہیں بھاگنا چاہیے۔ بلکہ اسے ان لوگوں کی طرف دیکھنا چاہیے جنہیں دنیا نظرانداز کرتی ہے، کیونکہ ممکن ہے کہ وہی اللہ کے ہاں سب سے زیادہ محبوب ہوں۔
  6. مظلوموں کی حمایت اور ان کے حقوق کی ادائیگی کی ترغیب: یہ حدیث ہر مسلمان کے لیے، خاص طور پر طاقتوروں کے لیے، یہ پیغام بھی رکھتی ہے کہ وہ مظلوموں اور کمزوروں کی حمایت کریں، ان کے حقوق ادا کریں، انہیں ستانے یا حقیر جاننے سے پرہیز کریں۔ کیونکہ جو لوگ دنیا میں مظلوم ہیں، وہ آخرت میں اللہ کی خاص رحمت اور انعام کے مستحق ٹھہریں گے۔

خلاصہ: یہ حدیث ایک طاقتور پیغام دیتی ہے کہ اللہ کی نظر میں عزت کا معیار دنیاوی طاقت، دولت یا شہرت نہیں، بلکہ ایمان، تقویٰ، تواضع اور صبر ہے۔ جو لوگ دنیا میں کمتر سمجھے جاتے ہیں، اگر وہ اپنے ایمان پر قائم رہیں تو وہ جنت کے اعلیٰ مقامات کے حقدار ہیں۔ یہ حدیث مظلوموں کے لیے تسلی اور طاقتوروں کے لیے تنبیہ ہے۔






📖 قرآن سے شواہد
۱. کمزوروں اور مستضعفین کی فضیلت
اللہ تعالیٰ کا فرمان:

﴿وَنُرِيدُ أَن نَّمُنَّ عَلَى الَّذِينَ اسْتُضْعِفُوا فِي الْأَرْضِ وَنَجْعَلَهُمْ أَئِمَّةً وَنَجْعَلَهُمُ الْوَارِثِينَ﴾ (القصص: 5)
”اور ہم چاہتے ہیں کہ جن لوگوں کو زمین میں کمزور کر دیا گیا ہے، ان پر احسان کریں اور انہیں امام اور وارث بنائیں۔“

یہ آیت مستضعفین کی فتح اور وراثت کا وعدہ ہے، جو حدیث کے مفہوم «كل ضعيف متضعف» کی تائید کرتی ہے۔

۲. متکبرین کی مذمت
اللہ تعالیٰ کا فرمان:

﴿وَلَا تَمْشِ فِي الْأَرْضِ مَرَحًا ۖ إِنَّكَ لَن تَخْرِقَ الْأَرْضَ وَلَن تَبْلُغَ الْجِبَالَ طُولًا﴾ (الإسراء: 37)
”اور زمین پر اکڑ کر نہ چل، کیونکہ تو نہ زمین کو پھاڑ سکتا ہے اور نہ پہاڑوں کی بلندی کو پہنچ سکتا ہے۔“

اللہ تعالیٰ کا فرمان:

﴿أَلَيْسَ فِي جَهَنَّمَ مَثْوًى لِّلْمُتَكَبِّرِينَ﴾ (الزمر: 60)
”کیا جہنم میں متکبرین کے لیے ٹھکانہ نہیں ہے؟“

یہ آیات تکبر کی مذمت اور متکبرین کے انجام کو واضح کرتی ہیں، جو حدیث کے «كل جواظ عتل مستكبر» کی تصدیق کرتی ہیں۔

۳. ضعفاء اور متکبرین کا باہمی تعلق
اللہ تعالیٰ کا فرمان:

﴿فَقَالَ الضُّعَفَاءُ لِلَّذِينَ اسْتَكْبَرُوا إِنَّا كُنَّا لَكُمْ تَبَعًا فَهَلْ أَنتُم مُّغْنُونَ عَنَّا نَصِيبًا مِّنَ النَّارِ﴾ (غافر: 47)
”پس کمزور لوگ متکبروں سے کہیں گے: ہم تو تمہارے پیروکار تھے، تو کیا تم ہم سے جہنم کا کچھ حصہ دور کر سکتے ہو؟“

یہ آیت آخرت میں ضعفاء اور متکبرین کے انجام کو بیان کرتی ہے، جو حدیث کے دونوں گروہوں کی تصویر کشی کرتی ہے۔

۴. اللہ کی مدد اور نصرت
اللہ تعالیٰ کا فرمان:

﴿وَمَا النَّصْرُ إِلَّا مِنْ عِندِ اللَّهِ﴾ (آل عمران: 126)
”اور نصرت صرف اللہ کی طرف سے ہے۔“

اللہ تعالیٰ کا فرمان:

﴿إِن يَنصُرْكُمُ اللَّهُ فَلَا غَالِبَ لَكُمْ﴾ (آل عمران: 160)
”اگر اللہ تمہاری مدد کرے تو کوئی تم پر غالب نہیں آ سکتا۔“

یہ آیات «لو أقسم على الله لأبره» کے مفہوم کی تائید کرتی ہیں، یعنی اللہ اپنے مخلص بندوں کی مدد کرتا ہے اور ان کی قسم پوری کرتا ہے۔

۵. تواضع اور عاجزی کا حکم
اللہ تعالیٰ کا فرمان:

﴿وَاخْفِضْ مِن صَوْتِكَ﴾ (لقمان: 19)
”اور اپنی آواز پست رکھ۔“

اللہ تعالیٰ کا فرمان:

﴿وَعِبَادُ الرَّحْمَٰنِ الَّذِينَ يَمْشُونَ عَلَى الْأَرْضِ هَوْنًا﴾ (الفرقان: 63)
”اور رحمان کے بندے وہ ہیں جو زمین پر عاجزی سے چلتے ہیں۔“

یہ آیات عاجزی اور تواضع کی تعلیم دیتی ہیں، جو «كل ضعيف متضعف» کی عملی تصویر ہیں۔

💎 خلاصہ
عنصر خلاصہ
حدیث کا مفہوم جنت والے عاجز و کمزور ہیں، جہنم والے متکبر و سخت ہیں
«ضعيف متضعف» دبایا ہوا، عاجز، فروتن
«لو أقسم على الله لأبره» اللہ اس کی قسم پوری کرتا ہے، کیونکہ وہ اس کا مقبول بندہ ہے
«جواظ عتل مستكبر» سخت، اکڑنے والا، حق سے تکبر کرنے والا
قرآنی شواہد مستضعفین کی وراثت (القصص: 5)، متکبرین کی مذمت (الزمر: 60)، عاجزی کا حکم (الفرقان: 63)
نتیجہ:
یہ حدیث دنیاوی معیار (طاقت، دولت، حیثیت) کو نہیں، بلکہ آخرت کے معیار (عاجزی، اخلاص، تواضع) کو اجاگر کرتی ہے۔ اللہ کے نزدیک عزت کا معیار تقویٰ ہے، نہ کہ ظاہری طاقت و دولت۔

اللہ تعالیٰ ہمیں عاجزی اور تواضع اختیار کرنے، اور تکبر و غرور سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔





عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رضي الله عنه - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم -: (" تَحَاجَّتْ النَّارُ وَالْجَنَّةُ، فَقَالَتْ النَّارُ: أُوثِرْتُ بِالْمُتَكَبِّرِينَ وَالْمُتَجَبِّرِينَ وَقَالَتْ الْجَنَّةُ: مَا لِي لَا يَدْخُلُنِي إِلَّا ضُعَفَاءُ النَّاسِ وَسَقَطُهُمْ (١) وَعُجَّزُهُمْ (٢)؟ , فَقَالَ اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى لِلْجَنَّةِ: أَنْتِ رَحْمَتِي أَرْحَمُ بِكِ مَنْ أَشَاءُ مِنْ عِبَادِي، وَقَالَ لِلنَّارِ: أَنْتِ عَذَابِي أُعَذِّبُ بِكِ مَنْ أَشَاءُ مِنْ عِبَادِي) (٣) (وَلِكُلِّ وَاحِدَةٍ مِنْكُمَا عَلَيَّ مِلْؤُهَا، فَأَمَّا النَّارُ فلَا تَمْتَلِئُ حَتَّى يَضَعَ اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى رِجْلَهُ) (٤) وفي رواية: (قَدَمَهُ عَلَيْهَا) (٥) (فَهُنَالِكَ تَمْتَلِئُ, وَيُزْوَى بَعْضُهَا إِلَى بَعْضٍ (٦) فَتَقُولُ: قَطْ (٧) قَطْ, قَطْ) (٨) (بِعِزَّتِكَ وَكَرَمِكَ) (٩) (وَلَا يَظْلِمُ اللهُ - عز وجل - مِنْ خَلْقِهِ أَحَدًا, وَأَمَّا الْجَنَّةُ) (١٠) (فَيَبْقَى فِيهَا مَا شَاءَ اللهُ أَنْ يَبْقَى) (١١) (فَيُنْشِئُ لَهَا خَلْقًا , فَيُسْكِنَهُمْ فَضْلَ الْجَنَّةِ ") (١٢)

ترجمہ:

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "جہنم اور جنت میں (اپنے اپنے حالات پر) بحث ہوئی۔ جہنم نے کہا: مجھے تکبر کرنے والوں اور ظالم حکمرانوں (کے داخلے) کی وراثت حاصل ہے۔ اور جنت نے کہا: میرا کیا حال ہے کہ میرے اندر صرف لوگوں کے کمزور، کمتر(١) اور عاجز ہی داخل ہوتے ہیں(٢)؟ تو اللہ تعالیٰ نے جنت سے فرمایا: 'تو میری رحمت ہے، میں تجھ سے اپنے بندوں میں سے جسے چاہوں رحم کرتا ہوں۔' اور جہنم سے فرمایا: 'تو میرے عذاب کی جگہ ہے، میں تجھ سے اپنے بندوں میں سے جسے چاہوں عذاب دیتا ہوں۔'(٣)

(اللہ نے فرمایا:) 'اور تم دونوں میں سے ہر ایک کے لیے میری طرف سے اس کا بھرنا واجب ہے۔ پس رہی جہنم تو وہ اس وقت تک نہیں بھرے گی جب تک اللہ تعالیٰ اس پر اپنا قدم(٤) (ایک روایت میں: اپنا پاؤں)(٥) نہیں رکھ دے گا۔ تب وہ بھر جائے گی اور اس کے بعض حصے بعض کی طرف سمیٹ دیے جائیں گے(٦)، پھر وہ کہے گی: کافی ہے(٧)، کافی ہے، کافی ہے(٨) (اے میرے رب) تیری عزت و کرم کی قسم(٩)۔ اور اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق میں سے کسی پر ظلم نہیں کرے گا۔ اور رہی جنت تو اس میں وہ (جگہ یا نعمت) باقی رہے گی جو اللہ چاہے گا(١٠)، پھر وہ اس کے لیے (نئی) مخلوق پیدا فرمائے گا(١١) اور انہیں جنت کے فضل (بچی ہوئی جگہ) میں بسائے گا۔'"(١٢)


حواشی اور حوالہ جات:

  • (١) سَقَطُهُمْ: "سَقَط" کا جمع ہے۔ اس سے مراد وہ شخص ہے جس کی قدر کم ہے، جس کی طرف کوئی توجہ نہیں دیتا۔ "سَقَطُ المَتَاع" (مال کا سقط) اس کے ردی اور خراب ہونے کو کہتے ہیں۔
  • (٢) عُجَّزُهُمْ: یعنی وہ لوگ جو دنیا حاصل کرنے، اس میں مال و دولت اور طاقت پانے سے عاجز رہے۔ مراد وہ اہل ایمان ہیں جو دنیا کے شکوک و شبہات کو نہ سمجھ سکے اور شیاطین نے انہیں اس طرف مائل نہ کیا۔ پس وہ صحیح عقائد اور مضبوط ایمان والے ہیں اور یہی اکثریت (جُمْهُور) ہیں۔ رہے علم و معرفت والے لوگ، تو ان کی تعداد ان کے مقابلے میں کم ہے۔
  • (٣) (م) ٢٨٤٦ , (خ) ۴۵۶۹: یہ حدیث کا پہلا حصہ صحیح مسلم (Muslim) میں حدیث نمبر 2846 اور صحیح بخاری (Bukhari) میں حدیث نمبر 4569 پر موجود ہے۔
  • (٤) (م) ٢٨٤٧ , (خ) ۴۵۶۹: یہ جملہ صحیح مسلم میں حدیث نمبر 2847 اور صحیح بخاری میں حدیث نمبر 4569 پر ہے۔
  • (٥) (م) ٢٨٤٦: "قَدَمَهُ" والی روایت صحیح مسلم میں حدیث نمبر 2846 پر ہے۔
  • (٦) يُزْوَى بَعْضُهَا إِلَى بَعْضٍ: یعنی اس کے بعض حلقے یا حصے ایک دوسرے کی طرف سکیڑ دیے جائیں گے، جمع ہو کر اس میں موجود (لوگوں) پر آ ملیں گے۔
  • (٧) قَطْ: یعنی "میرا بس چل گیا، یہ (تعداد) مجھے کافی ہے۔"
  • (٨) (م) ٢٨٤٧ , (خ) ۴۵۶۹: یہ جملہ صحیح مسلم میں حدیث نمبر 2847 اور صحیح بخاری میں حدیث نمبر 4569 پر ہے۔
  • (٩) (خ) ۶۹۴۹ , (م) ٢٨٤٨: "بِعِزَّتِكَ وَكَرَمِكَ" کا جملہ صحیح بخاری میں حدیث نمبر 6949 اور صحیح مسلم میں حدیث نمبر 2848 پر ہے۔
  • (١٠) (م) ٢٨٤٧ , (خ) ۴۵۶۹: "وَأَمَّا الْجَنَّةُ" تک کا حصہ صحیح مسلم میں حدیث نمبر 2847 اور صحیح بخاری میں حدیث نمبر 4569 پر ہے۔
  • (١١) (م) ٢٨٤٨: "فَيَبْقَى فِيهَا..." کا جملہ صحیح مسلم میں حدیث نمبر 2848 پر ہے۔
  • (١٢) (خ) ۶۹۴۹: "فَيُنْشِئُ لَهَا خَلْقًا..." کا جملہ صحیح بخاری میں حدیث نمبر 6949 پر ہے۔

حدیث سے حاصل ہونے والے اسباق اور نکات (تحریری انداز میں):

اس حدیث سے متعدد اہم اور گہرے سبق حاصل ہوتے ہیں:

  1. اللہ کی کامل حاکمیت اور مطلق مشیت: جنت و جہنم کے مکالمے پر اللہ کا فیصلہ کن جواب اس اصول کی واضح ترین دلیل ہے کہ ہر چیز اسی کی مرضی اور حکم سے ہے۔ وہ جسے چاہے اپنی رحمت (جنت) میں جگہ دے اور جسے چاہے اپنے عدل (جہنم) میں پکڑے۔ یہ اس کی ربوبیت اور حاکمیت اعلیٰ کا اظہار ہے۔
  2. دنیا و آخرت میں عزت و ذلت کے معیار کا فرق: حدیث اس بات پر زور دیتی ہے کہ اللہ کے ہاں عزت کا معیار دنیاوی طاقت، مال یا سماجی رتبہ نہیں، بلکہ ایمان، تقویٰ، تواضع اور انکسار ہے۔ جو لوگ دنیا میں "کمزور"، "کم تر" اور "معاشرتی لحاظ سے غیر اہم" سمجھے جاتے ہیں، اگر وہ اپنے ایمان پر قائم رہیں تو وہی جنت کے اصل وارث ہیں۔ اس کے برعکس، تکبر اور ظلم وہ قبیح صفات ہیں جو انسان کو جہنم میں لے جانے کا سبب بنتی ہیں۔
  3. جہنم کی ہولناکی، وسعت اور دوام: جہنم کا اس وقت تک نہ بھرنا اور پھر اللہ کے خاص حکم ("قدم رکھنے") سے بھرنا، اس کی لامحدود وسعت، اس میں داخل ہونے والوں کی کثیر تعداد، اور اس کے دائمی ہونے کو ظاہر کرता ہے۔ اس کا "قَطْ قَطْ" (کافی ہے) کہنا عذاب کی شدت اور گنجائش پوری ہونے کی علامت ہے۔ یہ تصویر ہر مؤمن کو اللہ کی نافرمانی سے ڈرنے پر ابھارتی ہے۔
  4. اللہ کے کامل عدل کی ضمانت: فرمان "وَلَا يَظْلِمُ اللَّهُ مِنْ خَلْقِهِ أَحَدًا" ہر انسان کے لیے ایک اطمینان بخش ضمانت ہے۔ ہر شخص کو اس کے ایمان، اعمال اور نیت کے مطابق ہی جزا یا سزا ملے گی، ذرہ برابر ناانصافی نہیں ہوگی۔ یہ یقین انسان کو دنیا کی ناانصافیوں کے درمیان صبر اور آخرت کے حساب پر یقین کی قوت دیتا ہے۔
  5. جنت کی وسعت، اللہ کے فضل کی فراوانی اور نئی تخلیق: جنت میں "فضل" (خالی جگہ/اضافی نعمت) باقی رہ جانا اور پھر اس میں نئی مخلوق کو بسایا جانا، اس کی نعمتوں کی لامحدودیت، وسعت اور اللہ کے فضل کی بے پایاں فراوانی کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ اس بات کی طرف بھی اشارہ ہے کہ اللہ کا فضل اس قدر وسیع ہے کہ وہ اپنی رحمت کو نئی مخلوق کے ساتھ بھی تقسیم فرمائے گا۔ یہ تصور مؤمن کے دل میں اللہ کی رحمت اور جنت کے حصول کی امید کو تازہ کرتا ہے۔

یہ حدیث درحقیقت ہمارے عقیدے، اخلاق اور آخرت کے تصور کو مضبوط بنانے والی ایک جامع تعلیم ہے۔







برائی پر غصہ ہونا اور برائی سے روکنے کی استطاعت نہ ہونا.....

القرآن:

اور جب موسیٰ غصے اور رنج میں بھرے ہوئے اپنی قوم کے پاس واپس آئے تو انہوں نے کہا: تم نے میرے بعد میری کتنی بری نمائندگی کی۔ کیا تم نے اتنی جلد بازی سے کام لیا کہ اپنے رب کے حکم کا بھی انتظار نہیں؟ اور (یہ کہہ کر) انہوں نے تختیاں پھینک دیں۔ اور اپنے بھائی (ہارون ؑ) کا سر پکڑ کر ان کو اپنی طرف کھینچنے لگے۔ اے میری ماں کے بیٹے! *یقین جانیے کہ ان لوگوں نے مجھے کمزور سمجھا، اور قریب تھا کہ مجھے قتل ہی کردیتے۔ اب آپ دشمنوں کو مجھ پر ہنسنے کا موقع نہ دیجیے، اور مجھے ان ظالم لوگوں میں شمار نہ کیجیے۔*

[سورۃ الأعراف، آیت نمبر 150]

*...مجھے یہ(بھی) اندیشہ تھا کہ تم یہ کہو گے کہ تم نے بنی اسرائیل میں تفرقہ ڈال دیا، اور میری بات کا پاس نہیں کیا۔*

[سورۃ طٰہٰ:94]

تفسیر:

یعنی میرے چلے جانے سے قوم دو ٹکڑوں میں بٹ جاتی، کچھ لوگ میرا ساتھ دیتے، اور کچھ ان گمراہوں کا جو مجھے قتل تک کرنے کے درپے تھے، لہذا آپ نے جو فرمایا تھا کہ اصلاح کرتے رہنا۔ مجھے اندیشہ تھا کہ ایسا کرنے سے آپ اس کے حکم کی خلاف ورزی ہوجاتی۔

https://raahedaleel.blogspot.com/2016/01/blog-post_4.html


عنوان:

اللہ پر توکل اور اسباب اختیار کرنا۔


ممنوعہ بات...اگر میں ایسا کرتا تو ایسا ہوتا۔


لفظ «اگر» سے تقدیر پر اعتراض کا شبہ




کمزور کون؟ صابر مومن۔


«المؤمن القوي» کی وضاحت — لوگوں کے ساتھ صبر اور نفع رسانی والا


حدیث نمبر 8


عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رضي الله عنه - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم -: " الْمُؤْمِنُ الْقَوِيُّ خَيْرٌ وَأَحَبُّ إِلَى اللهِ مِنْ الْمُؤْمِنِ الضَّعِيفِ (١) وَفِي كُلٍّ خَيْرٌ (٢) احْرِصْ عَلَى مَا يَنْفَعُكَ (٣) وَاسْتَعِنْ بِاللهِ وَلَا تَعْجَزْ (٤) وَإِنْ أَصَابَكَ شَيْءٌ فَلَا تَقُلْ: لَوْ أَنِّي فَعَلْتُ كَانَ كَذَا وَكَذَا، وَلَكِنْ قُلْ: قَدَرُ اللهِ، وَمَا شَاءَ فَعَلَ، وفي رواية: (قَدَّرَ اللهُ، وَمَا شَاءَ فَعَلَ)، فَإِنَّ لَوْ تَفْتَحُ عَمَلَ الشَّيْطَانِ " (٥)


ترجمہ:


حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”طاقتور مومن کمزور مومن سے بہتر اور اللہ کو زیادہ محبوب ہے،(1) اور ہر ایک میں خیر ہے۔(2) جو تجھے نفع دے اُس کی حرص کر،(3) اور اللہ سے مدد مانگ اور بے بس و سست نہ ہو۔(4) اور اگر تجھے کوئی (ناخوشگوار) چیز پہنچے تو یہ نہ کہہ: کاش میں نے ایسا کیا ہوتا تو ایسا ایسا ہوتا؛ بلکہ کہہ: اللہ نے تقدیر کی اور جو اُس نے چاہا کیا۔

اور ایک روایت میں ہے:

”اللہ نے تقدیر کی اور جو چاہا کیا“، کیونکہ ”لو“ (کاش) شیطان کے عمل کا دروازہ کھولتی ہے۔“(5)


حوالہ جات


[صحیح مسلم: 2664، سنن ابن ماجة: 79، السنن الكبرى للبيهقي:20173،]


حاشیہ و حوالہ جات:


1. یہاں قوت سے مراد نفس کا عزم اور آخرت کے معاملات میں بصیرت ہے، پس اس وصف والا شخص جہاد میں دشمن پر زیادہ دلیری سے حملہ آور ہوگا، اُس کی طرف نکلنے اور اُس کے طلب میں جانے میں تیز ہوگا، امر بالمعروف و نہی عن المنکر میں زیادہ پختہ عزم رکھے گا، اِن سب میں اذیت پر صبر کرے گا، اللہ تعالیٰ کی راہ میں مشقتوں کو برداشت کرے گا، نماز، روزے، اذکار اور دیگر عبادات میں زیادہ رغبت رکھے گا، اُن کے طلب اور حفاظت میں زیادہ سرگرم ہوگا، وغیرہ۔ [شرح النووی علی مسلم: 9/19]

2. یعنی قوی اور ضعیف دونوں میں خیر ہے، کیونکہ دونوں ایمان میں شریک ہیں، نیز ضعیف جو عبادات کرتا ہے۔ [شرح النووی علی مسلم: 9/19]

3. اللہ تعالیٰ کی اطاعت پر حریص ہو، اُس کے پاس جو ہے اُس کی رغبت کر، اور اِس پر اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کر۔ [شرح النووی علی مسلم: 9/19]

4. یعنی سست نہ ہو اور اطاعت کے طلب سے اور مدد کے طلب سے کاہل نہ ہو۔ [شرح النووی علی مسلم: 9/19]

5. تخریج: [صحیح مسلم: 2664؛ سنن ابن ماجة: 79]۔

6. بعض علماء نے کہا: یہ نہی تنہا اُس شخص کے لیے ہے جو یہ کہے اور اِسے حتمی طور پر اعتقاد رکھے کہ اگر میں ایسا کرتا تو مجھے قطعاً نہ پہنچتا؛ البتہ جو اِسے اللہ تعالیٰ کی مشیت کی طرف لوٹائے کہ اُسے وہی پہنچے گا جو اللہ چاہے، وہ اِس نہی میں داخل نہیں۔ اور ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے غار میں قول ”اگر اِن میں سے کوئی اپنے قدموں کی طرف دیکھ لیتا تو ہمیں دیکھ لیتا“ سے استدلال کیا گیا، اِس میں کوئی حجت نہیں، کیونکہ اُنہوں نے مستقبل کی خبر دی، اِس میں واقع ہو چکے تقدیر کو رد کرنے کا دعویٰ نہیں۔ اِسی طرح حدیث ”اگر تمہاری قوم کفر سے نیا عہد نہ ہوتا تو میں بیت اللہ کو ابراہیم کے بنیادوں پر مکمل کر دیتا“، اور ”اگر میں بغیر گواہ کے رجم کرتا تو اِس عورت کو رجم کرتا“، اور ”اگر مجھے اپنی امت پر مشقت کا خوف نہ ہوتا تو میں اُنہیں مسواک کا حکم دیتا“، وغیرہ۔ یہ سب مستقبل ہیں، اِن میں تقدیر پر اعتراض نہیں، اس لیے کراہت نہیں؛ کیونکہ اُس نے اپنے اعتقاد کی خبر دی کہ اگر مانع نہ ہوتا تو میں کیا کرتا، اور جو اُس کی قدرت میں ہے۔ بہر حال جو گزر گیا، وہ اُس کی قدرت میں نہیں۔ پس میرے نزدیک حدیث کا معنی یہ ہے کہ نہی اپنے ظاہر اور عموم پر ہے، لیکن وہ نہی تنزیہی ہے، اور اِس پر نبی ﷺ کا قول ”کیونکہ لو شیطان کے عمل کا دروازہ کھولتی ہے“ دلالت کرتا ہے، یعنی دل میں تقدیر کی معارضت ڈالتی ہے اور شیطان اِس کا وسوسہ کرتا ہے۔ اور ماضی میں ”لو“ کا استعمال آیا ہے، جیسے آپ ﷺ کا قول ”اگر میں اپنے معاملے میں آگے کی بات کرتا جتنی پیچھے کی، تو میں ہدی نہ لاتا“ وغیرہ۔ ظاہر یہ ہے کہ نہی اِس چیز کو مطلق کہنے سے ہے جس میں کوئی فائدہ نہیں، پس وہ نہی تنزیہی ہوگی نہ کہ تحریمی۔ البتہ جو شخص یہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت فوت ہونے پر افسوس کے طور پر کہے، یا جو اِس سے متعذر تھا وغیرہ، تو اِس میں کوئی حرج نہیں، اور احادیث میں اکثر استعمال اِسی پر محمول ہے۔ [شرح النووی علی مسلم: 9/19]


شرح المُظْهِرِي:


اُس قول: ”طاقتور مومن بہتر اور (اللہ کو) زیادہ محبوب ہے“ میں ”قوی“ سے مراد وہ شخص ہے جو لوگوں کے ساتھ بیٹھنے، اُن کی اذیت برداشت کرنے، اُنہیں بھلائی سکھانے اور ہدایت کی طرف رہنمائی کرنے پر صبر کرے؛ پس وہ اُس مومن سے اللہ تعالیٰ کو زیادہ محبوب ہے جو لوگوں سے بھاگتا ہے اور صرف اپنے نفس کو نفع پہنچاتا ہے۔


[المفاتيح في شرح المصابيح:4091]




شرح البغوی:


یعنی: (یہ کہنا کہ) ”اگر معاملہ میرے اختیار میں ہوتا اور میں فعل و ترک کا خود مختار ہوتا تو ایسا ایسا ہوتا“ — اِس میں گزری ہوئی چیز پر افسوس ہے، تقدیر سے نزاع ہے، اور یہ وہم پیدا کرنا ہے کہ جو کام وہ اپنے اختیار اور اپنی رائے کے تقاضے سے کرتا، وہ اُس چیز سے بہتر تھا جس کی طرف تقدیر نے اُسے پہنچایا؛ کیونکہ ”لو“ ماضی میں ایک چیز کے نہ ہونے پر دوسری چیز کے نہ ہونے پر دلالت کرتی ہے۔ اِسی وجہ سے نبی ﷺ نے اُسے ناپسند فرمایا اور اُسے شیطان کے عمل کا دروازہ کھولنے والا قرار دیا۔


اور آپ ﷺ کا قول — حدیثِ فسخِ حج الی العمرہ میں — ”اگر میں اپنے معاملے میں آگے کی بات کرتا جتنی پیچھے کی، تو میں ہدی نہ لاتا“ — یہ اِس قبیل سے نہیں ہے؛ بلکہ یہ ایسا کلام ہے جس کا مقصد اُن کے دلوں کو خوش کرنا اور اُنہیں احرام کھولنے اور عمرہ کے اعمال کرنے کی ترغیب دینا تھا، واللہ اعلم۔


[تحفة الأبرار في شرح المصابيح: 1309-4091]




وضاحت:


اس شرح کا خلاصہ یہ ہے کہ گزری ہوئی تقدیر پر ”کاش ایسا ہوتا“ کہنا ممنوع ہے، کیونکہ اِس میں تقدیر سے نزاع اور افسوس ہے۔ البتہ آپ ﷺ کا وہ ارشاد جس میں مستقبل کے لیے ”لو“ آیا، وہ اِس ممانعت میں داخل نہیں؛ اُس کا مقصد صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے دلوں کو تسلی اور ترغیب دینا تھا۔



درجات میں فضیلت
القرآن:
اور تمہارے لیے کونسی وجہ ہے کہ تم الله کے راستے میں خرچ نہ کرو، حالانکہ آسمانوں اور زمین کی ساری میراث الله ہی کے لیے ہے۔ تم میں سے جنہوں نے (مکہ کی) فتح سے پہلے خرچ کیا، اور لڑائی لڑی، وہ (بعد والوں کے) برابر نہیں ہیں۔ وہ درجے میں ان لوگوں سے بڑھے ہوئے ہیں جنہوں نے (فتح مکہ کے) بعد خرچ کیا، اور لڑائی لڑی۔ یوں الله نے بھلائی کا وعدہ ان سب سے کر رکھا ہے، اور تم جو کچھ کرتے ہو الله اس سے پوری طرح باخبر ہے۔
[سورة الحديد،آیت نمبر 10]



No comments:

Post a Comment