Saturday, 7 November 2026

ملامت کے معنیٰ، اقسام، احکام، انفرادی واجتماعی، عقلی و نقلی فوائد اور نقصانات اور راہِ اعتدال

 

اسلامی تعلیمات میں ملامت ایک دو رخا تصور ہے۔ ایک طرف یہ نفس کی اصلاح اور معاشرتی خرابیوں کی درستی کا ذریعہ ہے، تو دوسری طرف اس کے غلط استعمال سے نفسیاتی مسائل اور سماجی بگاڑ بھی جنم لے سکتا ہے۔ ذیل میں ملامت کے تمام پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ قرآن و سنت کی روشنی میں پیش کیا جا رہا ہے۔


ملامت کے معنی:

ملامت عربی زبان کے مادہ "ل و م" (لوم) سے ماخوذ ہے، جس کے لغوی معنی "سرزنش کرنا، برا بھلا کہنا، عیب جوئی کرنا یا کسی کے فعل پر نکیر کرنا" ہیں۔


اصطلاح میں ملامت سے مراد کسی شخص کے قول یا فعل پر اسے سرزنش اور نکوئش کرنا ہے، چاہے وہ سرزنش اصلاح کی نیت سے ہو یا محض طعن و تشنیع کے لیے۔


ملامت کی اقسام:

ملامت کو بنیادی طور پر اس کے مقصد اور نیت کے لحاظ سے دو واضح اقسام میں تقسیم کیا جاتا ہے:


ملامتِ محمودہ/سازندہ (تعمیری تنقید):

یہ وہ سرزنش ہے جس کا مقصد کسی فرد یا معاشرے کے رویے میں مثبت تبدیلی لانا اور اسے راہِ راست پر لانا ہوتا ہے۔ اس کا نشانہ شخصیت کی تخریب نہیں، بلکہ عمل کی اصلاح ہوتی ہے۔ فقہ اسلامی میں اسے امر بالمعروف و نہی از منکر کے دائرے میں رکھا جاتا ہے، بشرطیکہ اس کے شرعی آداب کو ملحوظ رکھا جائے۔


ملامتِ مذمومہ/مخرّب (تخریبی تنقید):

اس کے برعکس، یہ وہ سرزنش ہے جس کا مقصد صرف دوسرے کو اذیت پہنچانا، اس کی تذلیل کرنا یا اپنی برتری ثابت کرنا ہوتا ہے۔ یہ عمل عام طور پر تکبر اور خود پسندی سے جنم لیتا ہے اور اس کا کوئی تعمیری پہلو نہیں ہوتا۔

ملامت کے احکام:

ملامت کا شرعی حکم اس کی قسم اور نیت پر منحصر ہے:


جائز یا مستحسن: جب ملامت کا مقصد اصلاح ہو، وہ خلوت میں کی جائے (نصیحتاً)، اور اس سے شخصیت کو نشانہ نہ بنایا جائے، تو یہ امر بالمعروف(نیکی کا حکم کرنے) کے تحت جائز بلکہ مستحسن ہے۔


حرام: جب ملامت کا مقصد اذیت رسانی، تحقیر یا عوام میں رسوا کرنا ہو، تو یہ حرام ہے، کیونکہ یہ بغض و عناد اور فساد کا سبب بنتی ہے۔


ممنوع (حد سے تجاوز): اگر ملامت حد سے بڑھ جائے اور مسلسل کی جائے، تو یہ مذموم ہے، کیونکہ اس سے ضد، نفرت اور نفسیاتی بیماری پیدا ہوتی ہے، جیسا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "آسانی پیدا کرو، سختی نہ کرو"۔(صحيح البخاري:6125)

انفرادی اور اجتماعی پہلو:

انفرادی سطح پر:

ملامت کا سب سے اعلیٰ درجہ "نفسِ لوّامہ" ہے، یعنی انسان کا اپنا ضمیر جو اسے برے کام پر ٹوکتا ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے "نفسِ لوّامہ" کی قسم کھائی ہے۔ یہ نفس انسان کو گناہ سے روکنے اور توبہ کی طرف مائل کرنے کا اندرونی محرک ہے۔


اجتماعی سطح پر:

معاشرے میں سازندہ ملامت معاشرتی خود احتسابی کا کردار ادا کرتی ہے۔ یہ افراد کو سماجی ہنجاروں (norms) کی پاسداری پر آمادہ کرتی ہے اور بدعتوں اور برائیوں کے پھیلاؤ کو روکتی ہے۔

عقلی و نقلی فوائد:

نقلی دلائل (قرآن و سنت):


قرآن مجید: سورۃ المائدہ (5:54) میں اللہ نے اپنے مخلص بندوں کی تعریف میں فرمایا: "وَلَا يَخَافُونَ لَوْمَةَ لَائِمٍ" (وہ کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہیں ڈرتے)۔


نفسِ لوامہ: سورۃ القیامہ (75:2) میں نفسِ لوامہ کی قسم کھائی گئی ہے، جو اس کی اہمیت کو ظاہر کرتی ہے۔


سیرت النبی ﷺ: آپ ﷺ نے معاذ بن جبلؓ کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا: "بَشِّرْ وَلَا تُنَفِّرْ، یَسِّرْ وَلَا تُعَسِّرْ" (خوشخبری دو، نفرت مت دلاؤ؛ آسانی کرو، سختی مت کرو)۔ یہ ملامت کے اعتدال کا واضح معیار ہے۔


عقلی فوائد:


خود احتسابی: نفس کی ملامت انسان کو غلطیوں کا اعتراف اور اصلاح کی طرف راغب کرتی ہے۔


معاشرتی اصلاح: سازندہ تنقید معاشرے میں برائیوں کے خلاف آواز اٹھانے اور سماجی ذمہ داری کا احساس پیدا کرتی ہے۔


نقصانات اور تباہ کاریاں:

ملامت اگر حد سے تجاوز کرے یا غلط نیت سے کی جائے تو اس کے نتائج انتہائی مہلک ہو سکتے ہیں:


نفسیاتی تباہی: مسلسل ملامت خود اعتمادی کو ختم کر دیتی ہے، انسان مایوسی، ڈپریشن اور احساسِ کمتری کا شکار ہو جاتا ہے۔


ضد اور نفرت: حد سے زیادہ سرزنش مخالفت اور ضد کو جنم دیتی ہے، جس سے سدھار کا عمل رک جاتا ہے۔


رشتوں کی تباہی: مخرّب ملامت دوستیوں اور خاندانی تعلقات کو تباہ کر دیتی ہے اور بغض و عناد کو فروغ دیتی ہے۔


گناہ پر اصرار: بعض اوقات سخت ملامت انسان کو گناہ پر اور زیادہ اصرار کرنے پر مجبور کر دیتی ہے، کیونکہ اسے لگتا ہے کہ اب کوئی معافی نہیں۔

راہِ اعتدال

اسلام نے ملامت کے حوالے سے درمیانی راستہ اختیار کرنے کی تعلیم دی ہے:


نیت کی درستی: ملامت کا مقصد صرف اللہ کی رضا اور اصلاح ہونا چاہیے، نہ کہ اپنی برتری ثابت کرنا۔


طریقہ کار: ملامت الگ تھلگ (خلوت) میں کی جائے، نہ کہ محفل عام میں۔


اعتدال: ملامت حد سے زیادہ نہ ہو اور اس کے ساتھ حوصلہ افزائی بھی شامل ہو، تاکہ سامنے والا مایوس نہ ہو۔


عمل کی ملامت، شخصیت کی نہیں: برے عمل کو نشانہ بنایا جائے، شخصیت کو گرانے کی کوشش نہ کی جائے۔


نفس کی ملامت میں توازن: اپنے نفس کو ملامت کرتے وقت یاسیت اور ناامیدی سے بچیں، کیونکہ اللہ کی رحمت سے مایوس ہونا حرام ہے۔

خلاصہ:

ملامت ایک طاقتور اوزار ہے، جسے صحیح نیت، درست طریقے اور اعتدال کے ساتھ استعمال کیا جائے تو یہ فرد اور معاشرے کی اصلاح کا ضامن بن سکتا ہے۔ لیکن اگر یہ تکبر، بغض یا لاپرواہی سے کی جائے تو یہ نفسیاتی مسائل اور سماجی بگاڑ کا سبب بن جاتی ہے۔



یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَنْ یَّرْتَدَّ مِنْكُمْ عَنْ دِیْنِهٖ فَسَوْفَ یَاْتِی اللّٰهُ بِقَوْمٍ یُّحِبُّهُمْ وَ یُحِبُّوْنَهٗۤ١ۙ اَذِلَّةٍ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ اَعِزَّةٍ عَلَى الْكٰفِرِیْنَ١٘ یُجَاهِدُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ لَا یَخَافُوْنَ لَوْمَةَ لَآئِمٍ١ؕ ذٰلِكَ فَضْلُ اللّٰهِ یُؤْتِیْهِ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ﴿54﴾
ترجمہ:
اے ایمان والو ! اگر تم میں سے کوئی اپنے دین سے پھرجائے گا تو اللہ ایسے لوگ پیدا کردے گا جن سے وہ محبت کرتا ہوگا، اور وہ اس سے محبت کرتے ہوں گے جو مومنوں کے لیے نرم اور کافروں کے لیے سخت ہوں گے۔ اللہ کے راستے میں جہاد کریں گے، اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہیں ڈریں گے، یہ اللہ کا فضل ہے جو وہ جس کو چاہتا ہے عطا فرماتا ہے، اور اللہ بڑی وسعت والا، بڑے علم والا ہے۔
﴿سورۃ المائدۃ:54﴾



قَالَ لَا تَثْرِیْبَ عَلَیْكُمُ الْیَوْمَ١ؕ یَغْفِرُ اللّٰهُ لَكُمْ١٘ وَ هُوَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِیْنَ﴿92﴾
ترجمہ:
یوسف بولے : آج تم پر کوئی ملامت نہیں ہوگی، اللہ تمہیں معاف کرے، وہ سارے رحم کرنے والوں سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے۔
﴿سورۃ یوسف:92﴾



وَ قَالَ الشَّیْطٰنُ لَمَّا قُضِیَ الْاَمْرُ اِنَّ اللّٰهَ وَعَدَكُمْ وَعْدَ الْحَقِّ وَ وَعَدْتُّكُمْ فَاَخْلَفْتُكُمْ١ؕ وَ مَا كَانَ لِیَ عَلَیْكُمْ مِّنْ سُلْطٰنٍ اِلَّاۤ اَنْ دَعَوْتُكُمْ فَاسْتَجَبْتُمْ لِیْ١ۚ فَلَا تَلُوْمُوْنِیْ وَ لُوْمُوْۤا اَنْفُسَكُمْ١ؕ مَاۤ اَنَا بِمُصْرِخِكُمْ وَ مَاۤ اَنْتُمْ بِمُصْرِخِیَّ١ؕ اِنِّیْ كَفَرْتُ بِمَاۤ اَشْرَكْتُمُوْنِ مِنْ قَبْلُ١ؕ اِنَّ الظّٰلِمِیْنَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ﴿22﴾
ترجمہ:
اور جب ہر بات کا فیصلہ ہوجائے گا تو شیطان (اپنے ماننے والوں سے) کہے گا : حقیقت یہ ہے کہ اللہ نے تم سے سچا وعدہ کیا تھا اور میں نے تم سے وعدہ کیا تو اس کی خلاف ورزی کی۔ اور مجھے تم پر اس سے زیادہ کوئی اختیار حاصل نہیں تھا کہ میں نے تمہیں (اللہ کی نافرمانی کی) دعوت دی تو تم نے میری بات مان لی۔ لہذا اب مجھے ملامت نہ کرو۔ بلکہ خود اپنے آپ کو ملامت کرو۔ نہ تمہاری فریاد پر میں تمہاری مدد کرسکتا ہوں، اور نہ میری فریاد پر تم میری مدد کرسکتے ہو۔ تم نے اس سے پہلے مجھے اللہ کا جو شریک مان لیا تھا، (آج) میں نے اس کا انکار کردیا ہے۔ (16) جن لوگوں نے یہ ظلم کیا تھا، ان کے حصے میں تو اب دردناک عذاب ہے۔
﴿سورۃ ابراھیم:22﴾
تشریح:
(16) اللہ تعالیٰ کے ساتھ شیطان کو شریک ماننے کا مطلب یہ ہے کہ اس کی ایسی ہی اطاعت کی جائے جیسی اللہ تعالیٰ کی کرنی چاہیے۔ شیطان اس وقت کہے گا کہ اب میں تمہارے اس طریق کار کے صحیح ہونے کا انکار کرتا ہوں۔



لَا تَجْعَلْ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ فَتَقْعُدَ مَذْمُوْمًا مَّخْذُوْلًا۠ ﴿22﴾
ترجمہ:
اللہ کے ساتھ کسی اور کو معبود نہ بناؤ، ورنہ تم قابل ملامت (اور) بےیارومددگار ہو کر بیٹھ رہو گے۔ 
﴿سورۃ الاسراء:22﴾
تشریح:
آیت نمبر 19 میں فرمایا گیا تھا کہ آخرت کی بھلائی حاصل کرنے کے لیے بندے کو ویسی ہی کوشش کرنی ہے جیسی کرنی چاہیے۔ اس سے اللہ تعالیٰ کے احکام کی اطاعت کی طرف اشارہ تھا۔ اب یہاں سے ایسے کچھ احکام کی تفصیل بیان فرمائی جا رہی ہے جس کو سب سے پہلے توحید کے حکم سے شروع کیا گیا ہے۔ کیونکہ اس کے بغیر کوئی عمل مقبول نہیں ہوتا۔ اس کے بعد کچھ احکام حقوق العباد سے متعلق بیان کیے گئے ہیں۔



وَ لَا تَجْعَلْ یَدَكَ مَغْلُوْلَةً اِلٰى عُنُقِكَ وَ لَا تَبْسُطْهَا كُلَّ الْبَسْطِ فَتَقْعُدَ مَلُوْمًا مَّحْسُوْرًا﴿29﴾
ترجمہ:
اور نہ تو (ایسے کنجوس بنو کہ) اپنے ہاتھ کو گردن سے باندھ کر رکھو، اور نہ (ایسے فضول خرچ کہ) ہاتھ کو بالکل ہی کھلا چھوڑ دو جس کے نتیجے میں تمہیں قابل ملامت اور قلاش ہو کر بیٹھنا پڑے۔
﴿سورۃ الاسراء:29﴾



ذٰلِكَ مِمَّاۤ اَوْحٰۤى اِلَیْكَ رَبُّكَ مِنَ الْحِكْمَةِ١ؕ وَ لَا تَجْعَلْ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ فَتُلْقٰى فِیْ جَهَنَّمَ مَلُوْمًا مَّدْحُوْرًا﴿39﴾
ترجمہ:
(اے پیغمبر) یہ وہ حکمت کی باتیں ہیں جو تمہارے پروردگار نے تم پر وحی کے ذریعے پہنچائی ہیں۔ اور (اے انسان) اللہ کے ساتھ کسی اور کو معبود نہ بنا، ورنہ تجھے ملامت کرکے، دھکے دے کر دوزخ میں پھینک دیا جائے گا۔
﴿سورۃ الاسراء:39﴾



وَ الَّذِیْنَ هُمْ لِفُرُوْجِهِمْ حٰفِظُوْنَۙ﴿5﴾ اِلَّا عَلٰۤى اَزْوَاجِهِمْ اَوْ مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُهُمْ فَاِنَّهُمْ غَیْرُ مَلُوْمِیْنَۚ﴿6﴾
ترجمہ:
اور جو اپنی شرمگاہوں کی (اور سب سے) حفاظت کرتے ہیں۔ (4) سوائے اپنی بیویوں اور ان کنیزوں کے جو ان کی ملکیت میں آچکی ہوں۔ (5) کیونکہ ایسے لوگ قابل ملامت نہیں ہیں۔
﴿سورۃ المومنون:5-6﴾
تشریح:
(4) یعنی اس بات سے حفاظت کرتے ہیں کہ اپنی جنسی خواہشات کو پورا کرنے کے لیے کوئی ناجائز طریقہ اختیار کیا جائے۔
(5) اس سے مراد وہ کنیزیں ہیں جو شرعی احکام کے مطابق کسی کی ملکیت میں آئی ہوں لیکن آج کل ایسی کنیزوں کا کوئی وجود نہیں رہا۔



وَ الَّذِیْنَ هُمْ لِفُرُوْجِهِمْ حٰفِظُوْنَۙ﴿29﴾ اِلَّا عَلٰۤى اَزْوَاجِهِمْ اَوْ مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُهُمْ فَاِنَّهُمْ غَیْرُ مَلُوْمِیْنَۚ﴿30﴾
ترجمہ:
اور جو اپنی شرمگاہوں کی (اور سب سے) حفاظت کرتے ہیں۔ سوائے اپنی بیویوں اور ان باندیوں کے جو ان کی ملکیت میں آچکی ہوں، کیونکہ ایسے لوگوں پر کوئی ملامت نہیں ہے۔
﴿سورۃ المعارج:29-30﴾



فَالْتَقَمَهُ الْحُوْتُ وَ هُوَ مُلِیْمٌ﴿142﴾
ترجمہ:
پھر مچھلی نے انہیں نگل لیا، جبکہ وہ اپنے آپ کو ملامت کر رہے تھے۔
﴿سورۃ الصافات:142﴾
تشریح:
حضرت یونس ؑ کا واقعہ اختصار کے ساتھ سورة یونس (10۔ 98) میں بھی گزر چکا ہے، اور سورة انبیاء (21۔ 87) میں بھی۔ وہ عراق کے شہر نینوا میں بھیجے گئے تھے، اور انہوں نے ایک عرصے تک اپنی قوم کو ایمان لانے کی دعوت دی، اور جب وہ نہ مانی تو انہیں متنبہ کردیا کہ اب تم پر تین دن کے اندر اندر عذاب آکر رہے گا، قوم کے لوگوں نے آپس میں یہ طے کیا کہ حضرت یونس ؑ چونکہ کبھی جھوٹ نہیں بولتے، اس لئے اگر وہ بستی سے چلے جاتے ہیں تو یہ اس بات کی علامت ہوگی کہ وہ ٹھیک کہہ رہے تھے، اس کے بعد حضرت یونس ؑ اللہ تعالیٰ کے حکم سے ہ بستی چھوڑ کر باہر چلے گئے، ادھر بستی کے لوگوں نے جب دیکھا کہ آپ بستی میں نہیں ہیں اور کچھ عذاب کے آثار بھی محسوس کئے تو انہوں نے اللہ تعالیٰ سے عاجزی کے ساتھ توبہ کی جس کے نتیجے میں ان سے عذاب ٹل گیا، حضرت یونس ؑ کو ان کی توبہ کا حال معلوم نہیں تھا، اور جب انہوں نے یہ دیکھا کہ تین دن گزرگئے اور عداب نہیں آیا تو انہیں ڈرہوا کہ اگر میں بستی میں واپس جاؤں گا تو بستی والے مجھے جھوٹا بنائیں گے، اور اندیشہ یہ بھی تھا کہ جھوٹا سمجھ کر قتل نہ کردیں، اس لئے اس خوف کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کا حکم آنے سے پہلے ہی وہ اپنی بستی میں جانے کے بجائے سمندر کی طرف نکل کھڑے ہوئے اور ایک کشتی میں سوار ہوگئے جو آدمیوں سے بھری ہوئی تھی، اللہ تعالیٰ کے ایک جلیل القدر پیغمبر ہونے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کو آپ کی یہ بات پسند نہیں آئی کہ آپ اللہ تعالیٰ کا حکم آنے سے پہلے بستی کو چھوڑ کر کیوں چلے گئے، بڑے لوگوں کی معمولی چوک پر بھی گرفت ہوتی ہے، اس لئے اللہ تعالیٰ کا کرنا ایسا ہوا کہ وہ کشتی وزن زیادہ ہونے کی وجہ سے ڈدبنے کے قریب آگئی، اور قرعہ اندازی کی گئی کہ ایک شخص کو کشتی سے باہر پانی میں اتارا جائے، کئی مرتبہ قرعہ ڈالا گیا اور ہر بار قرعے میں انہی کا نام نکلا، چنانچہ انہیں پانی میں پھینک دیا گیا، جہاں اللہ تعالیٰ کے حکم سے ایک بڑی مچھلی آپ کی منتظر تھی، اس نے آپ کو نگل لیا اور آپ کچھ عرصے مچھلی کے پیٹ میں رہے، جیسا کہ سورة ٔانبیاء میں گزرا ہے، وہاں آپ یہ تسبیح پڑھتے رہے کہ : لَآ اِلٰهَ اِلَّآ اَنْتَ سُبْحٰــنَکَ اِنِّىْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِيْنَ۔




وَ فِیْ مُوْسٰۤى اِذْ اَرْسَلْنٰهُ اِلٰى فِرْعَوْنَ بِسُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍ﴿38﴾ فَتَوَلّٰى بِرُكْنِهٖ وَ قَالَ سٰحِرٌ اَوْ مَجْنُوْنٌ﴿39﴾ فَاَخَذْنٰهُ وَ جُنُوْدَهٗ فَنَبَذْنٰهُمْ فِی الْیَمِّ وَ هُوَ مُلِیْمٌؕ﴿40﴾
ترجمہ:
اور موسیٰ (کے واقعے) میں بھی (ہم نے ایسی ہی نشانی چھوڑی تھی) جب ہم نے انہیں ایک کھلی ہوئی دلیل کے ساتھ فرعون کے پاس بھیجا تھا۔ تو فرعون نے اپنی قوت بازو کے بل پر منہ موڑا، اور کہا کہ : یہ جادوگر ہے یا دیوانہ ہے۔ چنانچہ ہم نے اسے اور اس کے لشکر کو پکڑا اور سب کو سمندر میں پھینک دیا، اور وہ تھا ہی ملامت کے لائق۔
﴿سورۃ الذاریات:40﴾



كَذٰلِكَ مَاۤ اَتَى الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا قَالُوْا سَاحِرٌ اَوْ مَجْنُوْنٌۚ﴿52﴾ اَتَوَاصَوْا بِهٖ١ۚ بَلْ هُمْ قَوْمٌ طَاغُوْنَۚ﴿53﴾ فَتَوَلَّ عَنْهُمْ فَمَاۤ اَنْتَ بِمَلُوْمٍ٢ۗ٘﴿54﴾
ترجمہ:
اسی طرح ان سے پہلے جو لوگ تھے ان کے پاس بھی کوئی پیغمبر ایسا نہیں آیا جس کے بارے میں انہوں نے یہ نہ کہا ہو کہ : جادوگر ہے، یا دیوانہ ہے۔ کیا یہ ایک دوسرے کو اس بات کی وصیت کرتے چلے آئے ہیں ؟ نہیں، بلکہ یہ سرکش لوگ ہیں۔
 لہذا (اے پیغمبر!) تم ان سے بےرخی اختیار کرو، کیونکہ تم قابل ملامت نہیں ہو۔
﴿سورۃ الذاریات:54﴾



اِنَّا بَلَوْنٰهُمْ كَمَا بَلَوْنَاۤ اَصْحٰبَ الْجَنَّةِ١ۚ اِذْ اَقْسَمُوْا لَیَصْرِمُنَّهَا مُصْبِحِیْنَۙ﴿17﴾ وَ لَا یَسْتَثْنُوْنَ﴿18﴾ فَطَافَ عَلَیْهَا طَآئِفٌ مِّنْ رَّبِّكَ وَ هُمْ نَآئِمُوْنَ﴿19﴾ فَاَصْبَحَتْ كَالصَّرِیْمِۙ﴿20﴾ فَتَنَادَوْا مُصْبِحِیْنَۙ﴿21﴾ اَنِ اغْدُوْا عَلٰى حَرْثِكُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰرِمِیْنَ﴿22﴾ فَانْطَلَقُوْا وَ هُمْ یَتَخَافَتُوْنَۙ﴿23﴾ اَنْ لَّا یَدْخُلَنَّهَا الْیَوْمَ عَلَیْكُمْ مِّسْكِیْنٌۙ﴿24﴾ وَّ غَدَوْا عَلٰى حَرْدٍ قٰدِرِیْنَ﴿25﴾ فَلَمَّا رَاَوْهَا قَالُوْۤا اِنَّا لَضَآلُّوْنَۙ﴿26﴾ بَلْ نَحْنُ مَحْرُوْمُوْنَ﴿27﴾ قَالَ اَوْسَطُهُمْ اَلَمْ اَقُلْ لَّكُمْ لَوْ لَا تُسَبِّحُوْنَ﴿28﴾ قَالُوْا سُبْحٰنَ رَبِّنَاۤ اِنَّا كُنَّا ظٰلِمِیْنَ﴿29﴾ فَاَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلٰى بَعْضٍ یَّتَلَاوَمُوْنَ﴿30﴾ قَالُوْا یٰوَیْلَنَاۤ اِنَّا كُنَّا طٰغِیْنَ﴿31﴾ عَسٰى رَبُّنَاۤ اَنْ یُّبْدِلَنَا خَیْرًا مِّنْهَاۤ اِنَّاۤ اِلٰى رَبِّنَا رٰغِبُوْنَ﴿32﴾ كَذٰلِكَ الْعَذَابُ١ؕ وَ لَعَذَابُ الْاٰخِرَةِ اَكْبَرُ١ۘ لَوْ كَانُوْا یَعْلَمُوْنَ۠
ترجمہ:
ہم نے ان (مکہ والوں) کو اسی طرح آزمائش میں ڈالا ہے جیسے (ایک) باغ والوں کو اس وقت آزمائش میں ڈالا تھا جب انہوں نے قسم کھائی تھی کہ صبح ہوتے ہی ہم اس باغ کا پھل توڑ لیں گے۔ (7) اور یہ (کہتے ہوئے) وہ کوئی استثناء نہیں کر رہے تھے۔ (8) پھر ہوا یہ کہ جس وقت وہ سو رہے تھے، اس وقت تمہارے پروردگار کی طرف سے ایک بلا اس باغ پر پھیرا لگا گئی۔ جس سے وہ باغ صبح کو کٹی ہوئی کھیتی کی طرح ہوگیا۔ پھر صبح ہوتے ہی انہوں نے ایک دوسرے کو آواز دی۔ کہ اگر پھل توڑنے ہیں تو اپنے کھیت کی طرف سویرے چل نکلو۔ چنانچہ وہ ایک دوسرے سے چپکے چپکے یہ کہتے ہوئے روانہ ہوئے۔ کہ آج کوئی مسکین تمہارے پاس اس باغ میں نہ آنے پائے۔ اور وہ بڑے زوروں میں تیز تیز چلتے ہوئے نکلے۔ (9) پھر جب اس باغ کو دیکھا تو کہنے لگے کہ : ہم ضرور راستہ بھٹک گئے ہیں۔ (10) (پھر کچھ دیر بعد کے بعد کہا کہ) نہیں بلکہ ہم سب لٹ گئے ہیں۔ ان میں جو شخص سب سے اچھا تھا، وہ کہنے لگا : کیا میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ تم تسبیح کیوں نہیں کرتے ؟ (11) کہنے لگے : ہم اپنے پروردگار کی تسبیح کرتے ہیں، یقینا ہم ظالم تھے۔ پھر ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر ایک دوسرے کو ملامت کرنے لگے۔ (پھر) سب نے (متفق ہوکر) کہا کہ : افسوس ہے ہم سب پر ! یقینا ہم سب نے سرکشی اختیار کرلی تھی۔ کیا بعید ہے کہ ہمارا پروردگار ہمیں اس باغ کے بدلے اس سے اچھا عطا فرمادے۔ بیشک ہم اپنے پروردگار کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ (12) عذاب ایسا ہی ہوتا ہے اور آخرت کا عذاب یقینا سب سے بڑا ہے۔ کاش یہ لوگ جانتے۔
﴿سورۃ القلم:54﴾

تشریح:
(7) مکہ مکرمہ کے بعض مال دار کافروں کو یہ زعم تھا کہ اگر اللہ تعالیٰ ہم سے ناراض ہوتا تو ہمیں مال و دولت سے نہ نوازتا، جیسا کہ سورة مومنون : 56 میں اللہ تعالیٰ نے ان کے اس خیال کا ذکر فرمایا ہے۔ یہاں اللہ تعالیٰ یہ فرما رہے ہیں کہ ہم بعض اوقات کسی کو مال و دولت اس آزمانے کے لیے دیتے ہیں، اور اگر وہ اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے کے بجائے ناشکری کرے تو اس پر دنیا ہی میں عذاب آجاتا ہے۔ چنانچہ ان آیات میں اسی طرح کا ایک واقعہ بیان فرمایا گیا ہے جو اہل عرب میں مشہور تھا۔ واقعہ یہ ہے کہ ایک نیک شخص کا بہت بڑا باغ تھا۔ اس نیک آدمی کا معمول یہ تھا کہ وہ اپنے باغ اور کھیت کی پیداوار کا ایک اچھا خاصہ حصہ غریبوں کو دیا کرتا تھا۔ جب اس کا انتقال ہوا تو اس کے بیٹوں نے یہ طے کیا کہ ہمارا باپ بیوقوف تھا جو اتنی ساری پیداوار غریبوں کو دے کر اپنی دولت میں کمی کردیتا تھا۔ اب جو ہم باغ کی کٹائی کریں گے تو ایسا انتظام کریں گے کہ کوئی غریب آدمی وہاں آنے ہی نہ پائے۔ اس کے نتیجے میں جب وہ کٹائی کے لیے پہنچے تو اللہ تعالیٰ نے ان کے باغ پر ایک ایسی آفت بھیج دی کہ سارا باغ تباہ ہو کر رہ گیا۔ اکثر روایتوں کے مطابق یہ واقعہ یمن کے شہر صنعاء سے کچھ فاصلے پر ضروان نامی ایک علاقے میں پیش آیا تھا۔ یہ علاقہ اب بھی ضروان کہلاتا ہے، اور میں نے دیکھا ہے۔ وہاں چاروں طرف پھیلے ہوئے سبزے کے درمیان ایک کالے کالے پتھروں والا ویران علاقہ ہے جس کے بارے میں مشہور ہے کہ یہی اس باغ کی جگہ تھی جو بعد میں آباد نہیں ہوسکی۔ واللہ اعلم۔
(8) اس کا ایک مطلب تو یہ ہوسکتا ہے کہ انہوں نے یہ ارادہ کیا تھا کہ سارے کا سارا پھل ہم توڑ لیں گے، اور اس کے کسی حصے کا استثناء نہیں کریں گے، یعنی کوئی حصہ غریبوں کے لیے نہیں چھوڑیں گے۔ دوسرے استثناء کرنے کا ایک مطلب ”ان شاء اللہ“ کہنا بھی ہوتا ہے۔ اس صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ جب وہ یہ کہہ رہے تھے کہ ہم صبح ہوتے ہی پھل توڑ لیں گے تو اس وقت انہوں نے ”ان شاء اللہ“ نہیں کہا تھا
(9) اس کا ایک ترجمہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ”وہ یہ سوچ کر سویرے روانہ ہوئے کہ وہ غریبوں کو منع کرنے پر قادر ہوجائیں گے“
(10) ہے تو شروع میں یہ سمجھے کہ وہ راستہ بھٹک کر کہیں اور پہنچ گئے ہیں۔
(11) ان بھائیوں میں ایک دوسروں کی بہ نسبت اچھا تھا، اس نے پہلے بھی بھائیوں سے کہا تھا کہ اللہ کا ذکر کرو، اور غریبوں کو منع نہ کرو، لیکن بعد میں وہ بھی دوسرے بھائیوں کے ساتھ شامل ہوگیا تھا۔
(12) اس آیت سے بطاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس واقعے کے بعد انہوں نے توبہ کرلی تھی۔






وَ لَاۤ اُقْسِمُ بِالنَّفْسِ اللَّوَّامَةِؕ﴿2﴾
ترجمہ:
اور قسم کھاتا ہوں ملامت کرنے والے نفس کی۔ (1) (کہ ہم انسان کو ضرور دوبارہ زندہ کریں گے)
﴿سورۃ القیامۃ:2﴾

تشریح:
(1) ملامت کرنے والے نفس سے مراد انسان کا وہ ضمیر ہے جو اسے غلط کاموں پر ملامت کرتا ہے۔ نفس انسان کی اس اندرونی کیفیت کا نام ہے جس میں خواہشات اور ارادے پیدا ہوتے ہیں۔ قرآن کریم نے تین قسم کے نفس کا ذکر فرمایا ہے۔ ایک نفس امارہ یعنی برائی پر مائل کرنے والا (دیکھئے : 53)۔ دوسرے نفس لوامہ جس کا اس آیت میں ذکر فرمایا گیا ہے اور جو اچھائی کی طرف مائل کرتا اور برائی پر ملامت کرتا ہے۔ تیسرے نفس مطمئنہ (دیکھئے : 27)۔ اس سے مراد وہ نفس ہے جو مسلسل کوشش کر کے اچھائی پر مطمئن ہوگیا ہو، اور برائی کے تقاضے اس میں یا تو پیدا ہی نہ ہوتے ہوں، یا بہت کمزور ہوگئے ہوں۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے نفس لوامہ کی قسم کھائی جس کا مطلب یہ ہے کہ ہر انسان کی طبیعت میں اللہ تعالیٰ نے ایک ایسا مادہ رکھا ہے جو اسے برائی پر ملامت کرتا رہتا ہے۔ انسان کو غور کرنا چاہیے کہ یہ ملامت کرنے والی چیز جو خود اس کے وجود میں رکھی ہوئی ہے، خود اس بات کی دلیل ہے کہ جس ذات نے اسے پیدا کیا ہے، اس نے ساتھ ساتھ اس کو ایک تنبیہ کرنے والا وجود عطا فرما دیا ہے۔ اگر آخرت آنے والی نہ ہوتی، اور انسان کو اس کے اچھے برے اعمال کا بدلہ ملنے والا نہ ہوتا تو اس نفس لوامہ کی کیا ضرورت تھی۔
(8) اس کا ایک مطلب تو یہ ہوسکتا ہے کہ انہوں نے یہ ارادہ کیا تھا کہ سارے کا سارا پھل ہم توڑ لیں گے، اور اس کے کسی حصے کا استثناء نہیں کریں گے، یعنی کوئی حصہ غریبوں کے لیے نہیں چھوڑیں گے۔ دوسرے استثناء کرنے کا ایک مطلب ”ان شاء اللہ“ کہنا بھی ہوتا ہے۔ اس صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ جب وہ یہ کہہ رہے تھے کہ ہم صبح ہوتے ہی پھل توڑ لیں گے تو اس وقت انہوں نے ”ان شاء اللہ“ نہیں کہا تھا
(9) اس کا ایک ترجمہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ”وہ یہ سوچ کر سویرے روانہ ہوئے کہ وہ غریبوں کو منع کرنے پر قادر ہوجائیں گے“
(10) ہے تو شروع میں یہ سمجھے کہ وہ راستہ بھٹک کر کہیں اور پہنچ گئے ہیں۔
(11) ان بھائیوں میں ایک دوسروں کی بہ نسبت اچھا تھا، اس نے پہلے بھی بھائیوں سے کہا تھا کہ اللہ کا ذکر کرو، اور غریبوں کو منع نہ کرو، لیکن بعد میں وہ بھی دوسرے بھائیوں کے ساتھ شامل ہوگیا تھا۔
(12) اس آیت سے بطاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس واقعے کے بعد انہوں نے توبہ کرلی تھی۔









No comments:

Post a Comment