Wednesday, 10 June 2015

مقاصدِ نزولِ قرآنِ مجید

1) تدبر(غور وفکر) اور تذکر(نصیحت) کے لئے
مبارک کتاب:
كِتٰبٌ أَنزَلنٰهُ إِلَيكَ مُبٰرَكٌ لِيَدَّبَّروا ءايٰتِهِ وَلِيَتَذَكَّرَ أُولُوا الأَلبٰبِ {38:29}
ایک کتاب ہے جو اتاری ہم نے تیری طرف برکت کی تا دھیان کریں لوگ اسکی باتیں اور تا سمجھیں عقل والے [۳۲]
یعنی جب نیک اور بد کا انجام ایک نہیں ہو سکتا تو ضرور تھا کہ کوئی کتاب ہدایت مآب حق تعالیٰ کی طرف سے آئے جو لوگوں کو خوب معقول طریقہ سے ان کے انجام پر آگاہ کر دے۔ چنانچہ اس وقت یہ کتاب آئی جس کو قرآن مبین کہتے ہیں۔ جس کے الفاظ، حروف، نقوش اور معانی و مضامین ہر چیز میں برکت ہے۔ اور جو اسی غرض سے اتاری گئ ہے کہ لوگ اس کی آیات میں غور کریں اور عقل رکھنے والے اسکی نصیحتوں سے منتفع ہوں چنانچہ اس آیت سے پہلے ہی آیت میں دیکھ لو کس قدر، صاف، فطری اور معقول طریقہ سے مسئلہ معاد کو حل کیا ہے کہ تھوڑی عقل والا بھی غور کرے تو صحیح نتیجہ پر پہنچ سکتا ہے۔ (تنبیہ) شاید "تدبر" سے قوت علمیہ کی اور "تذکر" سے قوۃ عملیہ کی تکمیل کی طرف اشارہ ہو۔ یہ سب باتیں حضرت داؤدؑ کے تذکرہ کے ذیل میں آ گئ تھیں۔ آگے پھر ان کے قصہ کی تکمیل فرماتےہیں۔

2)غفلت وگمراہی کے اندھیروں سے نکال کر ہدایت کی روشنی میں لیجانے کیلئے:
قرآن کی عظمت شان:
الر ۚ كِتٰبٌ أَنزَلنٰهُ إِلَيكَ لِتُخرِجَ النّاسَ مِنَ الظُّلُمٰتِ إِلَى النّورِ بِإِذنِ رَبِّهِم إِلىٰ صِرٰطِ العَزيزِ الحَميدِ {14:1}
الرٓ یہ ایک کتاب ہے کہ ہم نے اتاری تیری طرف کہ تو نکالے لوگوں کو اندھیروں سے اجالے کی طرف انکے رب کے حکم سے [۱] رستہ (راہ) پر (کی طرف) اس زبردست خوبیوں والے
یعنی اس کتاب کی عظمت شان کا اندزاہ اس بات سے کرنا چاہئےکہ ہم اس کےاتارنے والے ، اور آپ جیسی رفیع الشان شخصیت اس کی اٹھانے والی ہے اور مقصد بھی اس قدر اعلیٰ و ارفع ہے جس سے بلند تر کوئی مقصد نہیں ہو سکتا۔ وہ یہ کہ خدا کے حکم و توفیق سےتمام دنیا کےلوگوں کو خواہ عرب ہوں یا عجم ، کالے ہوں یا گورے ، مزدور ہوں یا سرمایہ دار بادشاہ ہوں یا رعایا سب کو جہالت و اوہام کی گھٹا ٹوپ اندھیریوں سے نکال کر معرفت و بصیرت اور ایمان و ایقان کی روشنی میں کھڑا کرنے کی کوشش کی جائے۔

قرآن سب سے بڑھکر معجزہ ہے:
أَوَلَم يَكفِهِم أَنّا أَنزَلنا عَلَيكَ الكِتٰبَ يُتلىٰ عَلَيهِم ۚ إِنَّ فى ذٰلِكَ لَرَحمَةً وَذِكرىٰ لِقَومٍ يُؤمِنونَ {29:51}
کیا ان کو یہ کافی نہیں کہ ہم نے تجھ پر اتاری کتاب کہ ان پر پڑھی جاتی ہے بیشک اس میں رحمت ہے اور سمجھانا ان لوگوں کو جو مانتے ہیں [۸۴]
یعنی کیا یہ نشان کافی نہیں۔ جو کتاب رات دن پڑھ کر سنائی جاتی ہے اس سے بڑا نشان کونسا ہو گا۔ دیکھتے نہیں کہ اس کتاب کے ماننے والے کس طرح سمجھ حاصل کرتے جاتے ہیں اور اللہ کی رحمت سے بہرہ ور ہو رہے ہیں۔

:رسول ہی حقدار_بیان(تفسیر) ہے
بِالبَيِّنٰتِ وَالزُّبُرِ ۗ وَأَنزَلنا إِلَيكَ الذِّكرَ لِتُبَيِّنَ لِلنّاسِ ما نُزِّلَ إِلَيهِم وَلَعَلَّهُم يَتَفَكَّرونَ {16:44}
بھیجا تھا انکو نشانیاں دے کر اور ورقے (اوراق) [۶۵] اور اتاری ہم نے تجھ پر یہ یاداشت کہ تو کھول دے لوگوں کے سامنے وہ چیز جو اتری انکے واسطے [۶۶] تاکہ وہ غور (دھیان) کریں [۶۷]
یعنی حضور  کا کام مضامین قرآن کو کھول کر بیان کرنا اور لوگوں کا کام اس میں غور و فکر کرنا ہے۔
"یاداشت" سے مراد ہے قرآن کریم جو اگلی امتوں کے ضروری احوال و شرائع کا محافظ انبیائے سابقین کےعلوم کا جامع ، اور ہمیشہ کے لئے خدائی احکام اور فلاح دارین کے طریقوں کو یاد دلانے والا اور خواب غلفت سے بیدار کرنے والا ہے ۔ مطلب یہ ہوا کہ جس طرح پہلے رسول بھیجے گئے ، کتابیں اتاری گئیں ، آج تم کو (اے محمد ) ہم نے ایسی کتاب دے کر بھیجا جو تمام کتب سابقہ کا خلاصہ اور انبیائے سابقین کے علوم کی مکمل یاداشت ہے۔ آپ کا کام یہ ہے کہ تمام دنیا کے لوگوں کے لئے اس کتاب کے مضامین خوب کھول کر بیان فرمائیں اور اس کی مشکلات کی شرح اور مجملات کی تفصیل کر دیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ قرآن کا مطلب وہ ہی معتبر ہے جو احادیث رسول اللہ  کے موافق ہو۔
یعنی معجزات اور وہ علوم جو اوراق میں لکھے جاتےہیں۔
وَما أَنزَلنا عَلَيكَ الكِتٰبَ إِلّا لِتُبَيِّنَ لَهُمُ الَّذِى اختَلَفوا فيهِ ۙ وَهُدًى وَرَحمَةً لِقَومٍ يُؤمِنونَ {16:64}
اور ہم نے اتاری تجھ پر کتاب اسی واسطے کہ کھول کر سنا دے تو ان کو وہ چیز کہ جس میں جھگڑ رہے ہیں [۹۴] اور سیدھی راہ سجھانے کو اور واسطے بخشش ایمان لانے والوں کے (رحمت ان لوگوں کے لئے جو ایمان لائے) [۹۵]
یعنی قرآن صرف اس لئے اتارا گیا ہے کہ جن سچے اصولوں میں لوگ اختلاف کر رہے ہیں اور جھگڑے ڈال رہے ہیں (مثلاً توحید و معاد اور احکام حلال و حرام وغیرہ) ان سب کو وضاحت و تحقیق کے ساتھ بیان کر دے۔ کوئی اشکال و خفا باقی نہ رہے۔ گویا نبی کریم  بذریعہ قرآن تمام نزاعات کا دو ٹوک فیصلہ سنا دیں اور بندوں پر خدا کی حجت تمام کر دیں۔ آگے ماننا نہ ماننا خود مخاطبین کا کام ہے جسے توفیق ہو گی قبول کرے گا۔ آپ کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔
یعنی فیصلہ اور بیان تو سب کے لئے ہے لیکن اس کی ہدایت سے منتفع ہونا اور رحمت الہٰیہ کی آغوش میں آنا انہی کا حصہ ہے جو اس فیصلہ کو صدق دل سے تسلیم کرتے ہیں اور بطوع و رغبت ایمان لاتے ہیں۔

معذب قوموں کی ہلاکت:
وَنُنَزِّلُ مِنَ القُرءانِ ما هُوَ شِفاءٌ وَرَحمَةٌ لِلمُؤمِنينَ ۙ وَلا يَزيدُ الظّٰلِمينَ إِلّا خَسارًا {17:82}
اور ہم اتارتے ہیں قرآن میں سے جس سے روگ دفع ہوں اور رحمت ایمان والوں کے واسطے اور گنہگاروں کو تو اس سے نقصان ہی بڑھتا ہے [۱۲۸]
یعنی جس طرح حق کے آنے سے باطل بھاگ جاتا ہے ۔ قرآن کی آیات سے جو بتدریج اترتی رہتی ہیں روحانی بیماریاں دور ہوتی ہیں دلوں سے عقائد باطلہ ، اخلاق ذمیمہ اور شکوک و شبہات کے روگ مٹ کر صحت باطنی حاصل ہوتی ہے بلکہ بسا اوقات اس کی مبارک تاثیر سے بدنی صحت بھی حاصل کی جاتی ہے جیسا کہ "روح المعانی" اور "زادالمعاد" وغیرہ میں اس کا فلسفہ اور تجربہ بیان کیا گیا ہے ۔بہرحال جو لوگ ایمان لائیں یعنی اس نسخہ شفا کو استعمال کریں گے ، تمام قلبی و روحانی امرض سے نجات پا کر خدا تعالیٰ کی رحمت خصوصی اور ظاہری و باطنی نعمتوں سے سرفراز ہوں گے ۔ ہاں جو مریض اپنی جان کا دشمن طبیب اور علاج سے دشمنی ہی کی ٹھان لے تو ظاہر ہے کہ جس قدر علاج و دوا سے نفرت کر کے دور بھاگے گا اسی قدر نقصان اٹھائے گا۔ کیونکہ مرض امتداد زمانہ سے مہلک ہوتا جائے گا جو آخر جان لے کر چھوڑے گا ۔ تو یہ آفت قرآن کی طرف سے نہیں ، خود مریض ظالم کی طرف سے آئی کما قال تعالیٰ { وَاَمَّا الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِھِمْ مَرَضٌ فَزَادَتْھُمْ رِجْسًا اِلٰی رِجْسِھِمْ وَمَاتُوْا وَھُمْ کَافِرُوْن } (توبہ رکوع۱۶)۔




3) لوگوں کے اختلاف میں انصاف سے فیصلہ کرنے کیلئے:
ایک مسلمان چور اور یہودی کا قصہ:
إِنّا أَنزَلنا إِلَيكَ الكِتٰبَ بِالحَقِّ لِتَحكُمَ بَينَ النّاسِ بِما أَرىٰكَ اللَّهُ ۚ وَلا تَكُن لِلخائِنينَ خَصيمًا {4:105}
بیشک ہم نے اتاری تیری طرف کتاب سچی کہ تو انصاف کرے لوگوں میں جو کچھ سمجھاوے تجھ کو اللہ اور تو مت ہو دغابازوں کی طرف سے جھگڑنے والا [۱۶۳]
منافق اور ضعیف الاسلام لوگوں میں جب کوئی کسی گناہ اور خرابی کا مرتکب ہوتا تو سزا اور بدنامی سے بچنے کے لئے حیلہ گھڑتے اور آپ کی خدمت میں ایسے انداز سے اس کا اظہار کرتے کہ آپ ان کو بَری سمجھ جائیں بلکہ کسی بری الذمہ کے ذمہ تہمت لگا کر اس کے مجرم بنانے میں سعی کرتے اور رل مل کر باہم مشورہ کرتے چنانچہ ایک دفعہ یہ ہوا کہ ایک ایسے ہی مسلمان نے دوسرے مسلمان کے گھر میں نقب دیا ایک تھیلا آٹے کا اور اس کے ساتھ کچھ ہتھیار چرا کر لے گیا۔ اس تھیلے میں اتفاقًا سوراخ تھا چور کے گھر تک رستہ میں آٹا گرتا گیا چور نے یہ تدبیر کی کہ مال اپنے گھر میں نہ رکھا بلکہ رات ہی میں لے جا کر ایک یہودی کے پاس امانت رکھ آیا جو اس کا واقف تھا۔ صبح کو مالک نے آٹے کے سراغ پر چور کو جا پکڑا مگر تلاشی پر اس کے گھر میں کچھ نہ نکلا ادھر چور نے قسم کھا لی کہ مجھ کو کچھ خبر نہیں آٹے کا سراغ آگے کو چلتا نظر آیا تو مالک نے اسی سراغ پر یہودی کو جا پکڑا اس نے مال کا اقرار کر لیا کہ میرے گھر میں موجود ہے مگر میرے پاس تو رات فلاں شخص امانت رکھ گیا ہے میں چور نہیں ہوں مالک نے یہ قضیہ حضرت فخر عالم کی خدمت میں پہنچایا چور کی قوم اور اس کی جماعت نے اتفاق کیا کہ جس طرح ہو سکے اس پر چوری ثابت نہ ہونے دو یہودی کو چور بناؤ چنانچہ یہودی سے جھگڑے اور آپ کی خدمت میں چور کی برأت پر جھوٹی قسمیں کھائیں گواہی دی قریب تھا کہ یہودی چور سمجھا جائے اور مجرم قرار دیا جائے اس پر حق سبحانہ نے متعدد آیتیں نازل فرمائیں اور حضرت رسول مقبول کو اور سب کو متنبہ فرما دیا کہ چور یہی مسلمان ہے یہودی اس میں سچا اور بےقصور ہے۔ اور ہمت کے لیے ایسے لوگوں کی قلعی کھول کر سب کو متنبہ کر دیا۔ آیت کا مطلب یہ ہے کہ اے رسول ہم نے اپنی سچی کتاب تجھ پر اس لئے اتاری کہ ہمارے سمجھانے اور بتلانے کے موافق تمام لوگوں میں نیک ہوں یا بد مومن ہوں یا کافر حکم اور انصاف کیا جائے اور جو دغاباز ہیں ان کی بات کا اعتبار اور ان کی طرفداری ہرگز مت کرو اور ان کی قسم اور ان کی گواہی پر کسی بےقصور کو مجرم مت بناؤ یعنی ان دغابازوں کی طرف ہو کر یہودی سے مت جھگڑو۔

قرآن مہیمن ہے مہیمن کی تشریح:
وَأَنزَلنا إِلَيكَ الكِتٰبَ بِالحَقِّ مُصَدِّقًا لِما بَينَ يَدَيهِ مِنَ الكِتٰبِ وَمُهَيمِنًا عَلَيهِ ۖ فَاحكُم بَينَهُم بِما أَنزَلَ اللَّهُ ۖ وَلا تَتَّبِع أَهواءَهُم عَمّا جاءَكَ مِنَ الحَقِّ ۚ لِكُلٍّ جَعَلنا مِنكُم شِرعَةً وَمِنهاجًا ۚ وَلَو شاءَ اللَّهُ لَجَعَلَكُم أُمَّةً وٰحِدَةً وَلٰكِن لِيَبلُوَكُم فى ما ءاتىٰكُم ۖ فَاستَبِقُوا الخَيرٰتِ ۚ إِلَى اللَّهِ مَرجِعُكُم جَميعًا فَيُنَبِّئُكُم بِما كُنتُم فيهِ تَختَلِفونَ {5:48}
اور تجھ پر اتاری ہم نے کتاب سچی تصدیق کرنے والی سابقہ کتابوں کی اور ان کے مضامیں پر نگہبان [۱۵۱] سو تو حکم کر ان میں موافق اسکے جو کہ اتارا اللہ نے [۱۵۲] اور انکی خوشی پر مت چل چھوڑ کر سیدھا راستہ جو تیرے پاس آیا [۱۵۳] ہر ایک کو تم میں سے دیا ہم نے ایک دستور اور راہ [۱۵۴] اور اللہ چاہتا تو تم کو ایک دین پر کر دیتا لیکن تم کو آزمانا چاہتا ہے اپنے دیے ہوئے حکموں میں [۱۵۵] سو تم دوڑ کر لو خوبیاں [۱۵۶] اللہ کے پاس تم سب کو پہنچنا ہے پھر جتا دے گا جس بات میں تم کو اختلاف تھا [۱۵۷]
قرآن مہیمن ہے مہیمن کی تشریح: مہیمن کے کئ معنی بیان کئےگئے ہیں۔ امین، غالب، حاکم، محافظ و نگہبان اور ہر معنی کے اعتبار سے قرآن کریم کا کتب سابقہ کے لئے مہیمن ہونا صحیح ہے۔ خدا کی جو امانت تورات و انجیل وغیرہ کتب سماویہ میں ودیعت کی گئ تھی وہ مع شے زاید قرآن میں محفوظ ہے۔ جس میں کوئی خیانت نہیں ہوئی۔ اور جو بعض فروعی چیزیں ان کتابوں میں اس زمانہ یا ان مخصوص مخاطبین کے حسب حال تھیں ان کو قرآن نے منسوخ کر دیا اور جو حقائق ناتمام تھیں۔ ان کی پوری تکمیل فرما دی ہے اور جو حصہ اس وقت کے اعتبار سے غیر مہم تھا اسے بالکل نظر انداز کر دیا ہے۔
یہودیوں کے نزاعات میں رسول اللہ کا فیصلہ: یہود میں باہم کچھ نزاع ہو گئ تھی۔ ایک فریق جس میں ان کے بڑے بڑے مشہور علماء اور مقتدا شامل تھے آنحضرت کی خدمت میں حاضر ہوا اور فصل نزاع کی درخواست کی اور یہ بھی کہا کہ آپ کو معلوم ہے کہ عمومًا قوم یہود ہمارے اختیار و اقتدار میں ہے۔ اگر آپ فیصلہ ہمارےموافق کر دیں گے تو ہم مسلمان ہو جائیں گے اور ہمارے اسلام لانے سے جمہور یہود اسلام قبول کر لیں گے۔ نبی کریم نے اس رشوتی اسلام کو منظور نہ کیا اور ان کی خواہشات کی پیروی سےصاف انکار فرما دیا۔ اس پر یہ آیات نازل ہوئیں۔ (ابن کثیر)
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان عصمت اور عصمت انبیاء: گذشتہ فائدہ میں ان آیات کی جو شان نزول ہم لکھ چکے ہیں اس سےصاف عیاں ہے کہ آیت کا نزول بعد اس کے ہوا کہ آپ ان کی خوشی اور خواہش پر چلنے سے انکار فرما چکے تھے۔ تو یہ آیات آپ کی استقامت کی تصویب اور آیندہ بھی ایسی ہی شان عصمت پر ثابت قدم رہنے کی تاکید کے لئے نازل ہوئیں۔ جو لوگ اس قوم کی آیات کو نبی کی شان عصمت کے خلاف تصور کرتے ہیں وہ نہایت ہی قاصر الفہم ہیں۔ اول تو کسی چیز سے منع کرنا اس کی دلیل نہیں کہ جس کو منع کیا جا رہا ہے وہ اس ممنوع چیز کا ارتکاب کرنا چاہتا تھا۔ دوسرے انیباء علیہم الصلوٰۃ والسلام کی معصومیت کا مطلب یہ ہے کہ خدا کی معصیت ان سے صادر نہیں ہو سکتی یعنی کسی کام کو یہ سمجھتے ہوئے کہ خدا کو ناپسند ہے ہر گز اختیار نہیں کر سکتے۔ اور اگر اتفاقًا کسی وقت بھول چوک یا رائے و اجتہاد کی غلطی سے راجح و افضل کی جگہ مرجوح و مفضول کو اخیتار کر لیں یا غیر مرضی کو سمجھ کر عمل کر گذریں جس کو اصطلاح میں زلۃ کہتے ہیں تو اس طرح کے واقعات مسئلہ، عصمت کے منافی نہیں۔ جیسا کہ حضرت آدمؑ اور بعض دیگر انبیاءؑ کے واقعات شاہد ہیں۔ اس حقیقت کو سمجھ لینے کے بعد { وَلَا تَتَبِعْ اَھْوَاءَ ھُمْ عَمَّا جَآءَکَ مِنَ الْحَقِّ } اور { واحذ زھم ان یفتنوک عن بعض ما انزل اللہ الیک } اور اسی طرح کی دوسری آیات کا مطلب سمجھنے میں کوئی خلجان نہیں رہتا۔ کیونکہ ان میں صرف اس بات پر متنبہ کیا گیا ہے کہ آپ ان ملعونوں کی تلمیع اور سخن سازی سےقطعًا متاثر نہ ہوں اور کوئ ایسی رائے قائم نہ فرما لیں جس میں بلا قصد ان کی خواہشات کے اتباع کی صورت پیدا ہو جائے۔ مثلًا اسی قصہ میں جو ان آیات کی شان نزول ہے یہود نے کیسی عیارانہ اور پرفریب صورت حضور کے سامنے پیش کی تھی کہ اگر آپ ان کے حسب منشاء فیصلہ کر دیں تو سب یہود مسلمان ہو جائیں گے۔ وہ جانتے تھے کہ اسلام سے بڑھ کر دنیا میں کوئی چیز آپ کے نزدیک محبوب اور عزیز نہیں۔ ایسے موقع پر امکان تھا کہ بڑے سے بڑا مستقیم انسان بھی یہ رائے قائم کر لے کہ ان کی ایک چھوٹی سے خواہش کے قبول کر لینے میں جب کہ اتنی عظیم الشان دینی منفعت کی توقع ہو کیا مضائقہ ہے۔ اس طرح کے خطرناک اور مزلۃ الاقدام موقع پر قرآن کریم پیغمبر کو متنبہ کرتا ہے کہ دیکھو بھول کر بھی کوئی ایسی رائے قائم نہ کر لیجیے جو آپ کی شان رفیع کے مناسب نہ ہو۔ حضور کا کمال تقویٰ اور انتہائی فہم و تدبر تو نزول آیت سے پہلے ہی ان ملاعین کے مکر و فریب کو رد کر چکا تھا۔ لیکن فرض کر لیجئے اگر ایسا نہ ہو چکا ہوتا تب بھی آیت کا مضمون جیسا کہ ہم تقریر کر چکے ہیں حضور کی شان عصمت کے اصلا مخالف نہیں۔
شریعتوں کے اختلاف کی حقیقت: یعنی خدا نے ہر امت کا آئین اور طریق کار اس کے احوال و استعداد کے مناسب جداگانہ رکھا ہے اور باوجودیکہ تمام انبیاء اور ملل سماویہ اصول دین اور مقاصد کلیہ میں جن پر نجات ابدی کا مدار ہے باہم متحد اور ایک دوسرےکے مصدق رہے ہیں۔ پھر بھی جزئیات و فروع کے لحاظ سے ہر امت کو ان کےماحول اور مخصوص استعداد کے موافق خاص خاص احکام و ہدایات دی گئیں۔ اس آیت میں اس فرعی اختلاف کی طرف اشارہ ہے۔ صحیح بخاری کی ایک حدیث میں جو سب انبیاءؑ کو علاتی بھائی فرمایا ہے جن کا باپ ایک ہو اور مائیں مختلف ہوں اس کا مطلب بھی یہ ہی ہے کہ اصول سب کے ایک ہیں اور فروع میں اختلاف ہے اور چونکہ بچہ کو تولید میں باپ فاعل و مفیض اور ماں قابل اور محل افاضہ بنتی ہے اس سے نہایت لطیف اشارہ اس طرف بھی ہو گیا کہ شرائع سماویہ کا اختلاف مخاطبین کی قابلیت و استعداد پر مبنی ہے ورنہ مبداء فیاض میں کوئی اختلاف و تعدد نہیں۔ سب شرائع و ادیان سماویہ کا سرچشمہ ایک ہی ذات اور اس کا علم ازلی ہے۔
یعنی کون تم میں سے خدا کی مالکیت مطلقہ، علم محیط اور حکمت بالغہ پر یقین کر کے ہر نئے حکم کو حق و صواب سمجھ کر بطوع و رغبت قبول کرتا ہے اور ایک وفادار غلام کی طرح ہر جدید حکم کے سامنے گردن جھکا دینے کے لئے تیار رہتا ہے۔
یعنی شرائع کے اختلاف کو دیکھ کر خواہ مخواہ کی قیل و قال اور کج بحثیوں میں پڑ کر وقت نہ گنواؤ۔ وصول الی اللہ کا ارادہ کرنے والوں کو عملی زندگی میں اپنی دوڑ دھوپ رکھنی چاہئے اور جو عقائد، اخلاق اور اعمال کی خوبیاں شریعت سماویہ پیش کر رہی ہے ان کے لینے میں چستی دکھلانی چاہئے۔
تو انجام کا خیال کر کے حسنات و خیرات کی تحصیل میں مستعدی دکھاؤ۔ اختلافات کی سب حقیقت وہاں جا کر کھل جائے گی۔


4) خبردار کرنے کے لئے:


يس {36:1} وَالقُرءانِ الحَكيمِ {36:2} إِنَّكَ لَمِنَ المُرسَلينَ {36:3} عَلىٰ صِرٰطٍ مُستَقيمٍ {36:4}
یٰس۔ قسم ہے اس پکے قرآن کی۔ تو تحقیق ہے بھیجے ہوؤں میں سے۔ اوپر سیدھی راہ کے [۱]
یعنی قرآن کریم اپنی اعجازی شان، پر حکمت تعلیمات، اور پختہ مضامین کے لحاظ سے بڑا زبردست شاہد اس بات کا ہے کہ جو نبی امّی اس کو لے کر آیا یقینًا وہ اللہ کا بھیجا ہوا اور بے شک و شبہ سیدھی راہ پر ہے۔ اس کی پیروی کرنے والوں کو کوئی اندیشہ منزل مقصود سے بھٹکنے کا نہیں۔

تَنزيلَ العَزيزِ الرَّحيمِ {36:5} لِتُنذِرَ قَومًا ما أُنذِرَ ءاباؤُهُم فَهُم غٰفِلونَ {36:6}
اتارا زبردست رحم والے نے [۲] تاکہ تو ڈرائے ایک قوم کو کہ ڈر نہیں سنا انکے باپ دادوں نے سو ان کو خبر نہیں
یعنی یہ دین کا سیدھا راستہ یا قرآن حکیم اس خدا کا اتارا ہوا ہے جو زبردست بھی ہے کہ منکر کو سزا دیے بغیر نہ چھوڑے، اور رحم فرمانے والا بھی کہ ماننے والوں کو نوازش و بخشش سے مالا مال کر دے اسی لئے آیات قرآنیہ میں بعض آیات شان لطف و مہر کا اور بعض شان غضب و قہر کا پہلو لیے ہوئے ہیں۔



وَهٰذا كِتٰبٌ أَنزَلنٰهُ مُبارَكٌ مُصَدِّقُ الَّذى بَينَ يَدَيهِ وَلِتُنذِرَ أُمَّ القُرىٰ وَمَن حَولَها ۚ وَالَّذينَ يُؤمِنونَ بِالءاخِرَةِ يُؤمِنونَ بِهِ ۖ وَهُم عَلىٰ صَلاتِهِم يُحافِظونَ {6:92}
اور یہ قرآن وہ کتاب ہے جو کہ ہم نے اتاری برکت والی تصدیق کرنے والی ان کی جو اس سے پہلی ہیں [۱۱۷] اور تاکہ تو ڈرا دے مکہ والوں کو اور اس کے آس پاس والوں کو [۱۱۸] اور جن کو یقین ہے آخرت کا وہ اس پر ایمان لاتے ہیں اور وہ ہیں اپنی نماز سے خبردار [۱۱۹]
تورات کے وجود سے استدلال: یعنی اگر خدا نے کوئی چیز نہیں اتاری تو یہ مبارک کتاب کہاں سے آئی جس کا نام قرآن ہے اور جو تمام پچھلی کتابوں کے مضامین کی تصدیق کرنے والی ہے۔ اگر یہ آسمانی کتاب نہیں تو بتلاؤ کس کی تصنیف ہے جس کا مثل لانے پر جن و انس قادر نہ ہوں کیا اسے ایک اُمّی کی تصنیف کہہ سکتے ہیں۔
اُمّ القریٰ"اُمّ القریٰ " بستیوں کی اصل اور جڑ کو کہتے ہیں۔ مکہ معظمہ تمام عرب کا دینی و دنیوی مرجع تھا اور جغرافیائی حیثیت سے بھی قدیم دنیا کے وسط میں مرکز کی طرح واقع ہے اور جدید دنیا (امریکہ) اس کےنیچے ہے اور روایات حدیثیہ کے موافق پانی سے زمین بنائی گئ تو اول یہ ہی جگہ کھلی تھی۔ ان وجوہ سے مکہ کو "اُمّ القریٰ" فرمایا۔ اور آس پاس سے مراد یا عرب ہے کیونکہ دنیا میں قرآن کے اول مخاطب وہ ہی تھے ان کے ذریعہ سے باقی دنیا کو خطاب ہوا اور یا سارا جہان مراد ہو جیسے فرمایا { لِیَکُوْنَ لِلْعٰلَمِیْنَ نَذِیْرًا }۔
جسے آخرت کی زندگی پر یقین اور بعدالموت کا خیال ہو گا اسی کو ہدایت اور طریق نجات کی تلاش ہو گی وہ ہی پیغام الہٰی کو قبول اور نماز وغیرہ عبادات کی حفاظت کرے گا۔




5) تقویٰ یا نصیحت کے لئے:

وَكَذٰلِكَ أَنزَلنٰهُ قُرءانًا عَرَبِيًّا وَصَرَّفنا فيهِ مِنَ الوَعيدِ لَعَلَّهُم يَتَّقونَ أَو يُحدِثُ لَهُم ذِكرًا {20:113}
اور اسی طرح اتارا ہم نے قرآن عربی زبان کا اور پھیر پھیر کر سنائی ہم نے اُس میں ڈرانے کی باتیں تاکہ وہ پرہیز کریں یا ڈالے اُنکے دل میں سوچ [۱۱۷]
قرآن کریم کی تنبیہ صاف ہے: یعنی جیسے یہاں محشر کے احوال اور نیک و بد کے نتائج صاف صاف سنا دیے اسی طرح ہم نے پورا قرآن صاف زبان عربی میں نازل کیا ۔ تا جو لوگ اس کے اولین مخاطب ہیں اس کو پڑھ کر خدا سے ڈریں اور تقویٰ کی راہ اختیار کریں ، اور اتنا نہ ہو تو کم از کم ان کےدلوں میں اپنےانجام کی طرف سے کچھ سوچ تو پیدا ہو جائے ممکن ہے یہ ہی سوچ اور غور و فکر آگے بڑھتے بڑھتے ہدایت پر لے آئے ۔ اور ان کے ذریعہ سے دوسروں کو ہدایت ہو۔

سورَةٌ أَنزَلنٰها وَفَرَضنٰها وَأَنزَلنا فيها ءايٰتٍ بَيِّنٰتٍ لَعَلَّكُم تَذَكَّرونَ {24:1}
یہ ایک سورت ہے کہ ہم نے اتاری اور ذمہ پر لازم کی اور اتاریں اس میں باتیں صاف تاکہ تم یاد رکھو [۱]
یہ سورت بعض نہایت ضروری احکام و حدود، امثال و مواعظ، حقائق توحید اور بہت ہی اہم تنبیہات و اصلاحات پر مشتمل ہے۔ اس کا سب سے زیادہ ممتاز اور سبق آموز حصہ وہ ہے جس کا تعلق قصہ "افک" سے ہے۔ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہؓ پر منافقین نے جو جھوٹی تہمت لگائی تھی اس میں بعض سادہ دل اور مخلص مسلمانوں کے پائے استقامت کو بھی قدرے لغزش ہو گئ تھی۔ جس کا خطرناک اثر نہ صرف عائشہ صدیقہؓ کی پوزیشن پر پڑتا تھا، بلکہ ایک حیثیت سے خود پیغمبر علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بارگاہ مجدد شرف تک پہنچتا تھا، اس لئے ضروری ہوا کہ قرآن کریم پورے اہتمام اور قوت سے ایسی خوفناک غلط کاری یا غلط فہمی کی اصلاح کرے اور ہمیشہ کے لئے ایمانداروں کے کان کھول دے کہ آئندہ کبھی دشمنوں کے پروپیگنڈے سے متاثر ہو کر ایسی ٹھوکر نہ کھائیں پیغمبر علیہ السلام کا مرتبہ رفیع یا امہات المومنین کی پاک و متحرم حیثیت ایسی نہیں جس کے سمجھنے اور یاد رکھنے میں کوئی مسلمان کسی وقت بھی ذرا سا تساہل روا رکھے۔ شاید اسی لئے سورت کا آغاز ان الفاظ سے فرمایا { سُوْرَۃٌ اَنْزَلْنٰھَا وَ فَرَضْنٰہَا } الخ تا مخاطبین سمجھ لیں کہ اس کے مضامین ایک خاص اہمیت رکھتے ہیں اور بہت زیادہ محفوظ رکھنے اور لازم پکڑنے کے مستحق ہیں۔ اور جو صاف صاف نصیحتیں اور کھری کھری باتیں اس سورت میں بیان فرمائی گئ ہیں، اس لائق ہیں کہ ہر مسلمان ان کو حرز جان بنائے اور یاد رکھے۔ ایک منٹ کے لئے اس سے غفلت نہ رکھے۔ ورنہ دین و دنیا کی تباہی ہے۔

وَهٰذا ذِكرٌ مُبارَكٌ أَنزَلنٰهُ ۚ أَفَأَنتُم لَهُ مُنكِرونَ {21:50}
اور یہ ایک نصیحت ہے برکت کی جو ہم نے اتاری سو کیا تم اُسکو نہیں مانتے [۵۹]
یعنی ایک نصیحت کی کتاب یہ قرآن تمہارے سامنے موجود ہے جس کا جلیل القدر ، عظیم النفع اور کثیر الخیر ہونا ، تورات سے بھی زیادہ روشن ہے۔ کیا ایسی واضح اور روشن کتاب کے تم منکر ہوتے ہو جہاں انکار کی گنجائش ہی نہیں۔

6) رحمت کے لئے:

وَهٰذا كِتٰبٌ أَنزَلنٰهُ مُبارَكٌ فَاتَّبِعوهُ وَاتَّقوا لَعَلَّكُم تُرحَمونَ {6:155}
اور ایک یہ کتاب ہے کہ ہم نے اتاری برکت والی سو اس پر چلو اور ڈرتے رہو تاکہ تم پر رحمت ہو [۲۱۳]
یعنی تورات تو تھی ہی جیسی کچھ تھی ، لیکن ایک یہ کتاب ہے (قرآن کریم) جو اپنے درخشاں اور ظاہر و باہر حسن و جمال کے ساتھ تمہارے سامنے ہے۔ اس کی خوبصورتی اور کمال کا کیا کہنا۔ آفتاب آمد دلیل آفتاب۔ اس کی ظاہری و باطنی برکات اور صوری و معنوی کمالات کو دیکھ کر بےاختیار کہنا پڑتا ہے ؂ بہار عالم حسنش دل و جاں تازہ میدارد۔ برنگ اصحاب صورت رابہ بوارباب معنی را۔ اب دائیں بائیں دیکھنے کی ضرورت نہیں۔ اگر خدا کی رحمت سے حظ و افر لینا چاہتے ہو تو اس آخری اور مکلم کتاب پر چل پڑو اور خدا سے ڈرتے رہو کہ اس کتاب کے کسی حصہ کی خلاف ورزی نہ ہونے پائے۔

7) گناہوں کے کفارہ اور عظیم اجر کے لئے:
ذٰلِكَ أَمرُ اللَّهِ أَنزَلَهُ إِلَيكُم ۚ وَمَن يَتَّقِ اللَّهَ يُكَفِّر عَنهُ سَيِّـٔاتِهِ وَيُعظِم لَهُ أَجرًا {65:5}
یہ حکم ہے اللہ کا جو اتارا تمہاری طرف اور جو کوئی ڈرتا رہے اللہ سے اتار دے اس پر سے اسکی برائیاں اور بڑا دے اُسکو ثواب [۱۷]
جملہ جملہ کے بعد اتقاء اور اللہ کے ڈر کا مضمون مختلف پیرایوں میں دہر ایا گیا ہے تا پڑھنے والا بار بار متنبہ ہو کہ عورتوں کے معاملات میں اس کی بہت زیادہ ضرورت ہے۔


كِتٰبٌ أُنزِلَ إِلَيكَ فَلا يَكُن فى صَدرِكَ حَرَجٌ مِنهُ لِتُنذِرَ بِهِ وَذِكرىٰ لِلمُؤمِنينَ {7:2}
یہ کتاب اتری ہے تجھ پر سو چاہئے کہ تیرا جی تنگ نہ ہو اس کے پہنچانے سے [۱] تاکہ تو ڈرائے اس سے اور نصیحت ہو ایمان والوں کو [۲]
ابن عباسؓ نے {حَرَجٌ } کی تفسیر شک سےکی ہے گویا { فَلْا یَکُنْ فِیْ صَدْرِکَ حَرَجٌ ۔ فَلَا تَکُوْنَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِیْنَ } کے ہم معنی ہو گا۔ یعنی پیغمبر جس پر خدا نے اپنی کتاب نازل فرمائی اس کی شان یہ نہیں کہ ذرا سا بھی کھٹکا یا شک و شبہ کتاب کے احکام و اخبار کے متعقلق اس کے دل میں راہ پائے۔ دوسرے مفسرین نے ان الفاظ کو ان کے ظاہر پر رکھا۔ جیسا کہ مترجم محققؒ نے اختیار فرمایا ہے۔ یعنی تمام خلائق میں سے چن کر جس پر خدا نے اپنی کتاب اتاری اسے لائق نہیں کہ احمقوں اور معاندین کے طعن و تشنیع یا بیہودہ سوالات سے متاثر ہو کر اس کتاب کےکسی حصہ کی تبلیغ سے منقبض اور تنگ دل ہو { فَلَعَلَّکَ تَارِکٌ بَعْضَ مَایُوْحٰٓی اِلَیْکَ وَضَآئِقٌ بِہٖ صَدْرُکَ اَنْ یَّقُوْلُوْا لَوْ لَآ اُنْزِلَ عَلَیْہِ کَنْزٌ اَوْجَآءَ مَعَہٗ مَلَکٌ } (ہود رکوع۲) اگر بفرض محال خود پیغمبرکے دل میں کتاب اور اس کے مستقبل کی طرف سے نہایت کامل وثوق و انشراح حاصل نہ ہو، تو وہ اپنے فرض انذار و تذکیر کو کس طرح قوت و جرأت کے ساتھ ادا کر سکے گا۔
یعنی کتاب کے اتارنے سے غرض یہ ہے کہ تم ساری دنیا کو اس کے مستقبل سے آگاہ کر دو۔ اور بدی کےانجام سے ڈراؤ اور ایمان لانے والوں کے حق میں خاص طور پر یہ ایک موثر پیغام نصیحت ثابت ہو۔

تَبارَكَ الَّذى نَزَّلَ الفُرقانَ عَلىٰ عَبدِهِ لِيَكونَ لِلعٰلَمينَ نَذيرًا {25:1}
بڑی برکت ہے اسکی جس نے اتاری فیصلہ کی کتاب [۱] اپنے بندہ پر [۲] تاکہ رہے جہان والوں کے لئے ڈرانے والا [۳]
"فُرقان" (فیصلہ کی کتاب) قرآن کریم کو فرمایا جو حق و باطل کا آخری فیصلہ اور حرام و حلال کو کھلے طور پر ایک دوسرے سے جدا کرتا ہے۔ یہ ہی کتاب ہے جس نے اپنے اتارنے والے کی عظمت شان، علو صفات اور اعلیٰ درجہ کی حکمت و رافت کو انتہائی شکل میں پیش کیا اور تمام جہان کی ہدایت و اصلاح کا تکفل اور ان کو خیر کثیر اور غیر منقطع برکت عطا کرنے کا سامان بہم پہنچایا۔
یعنی قرآن کریم سارے جہان کو کفر و عصیان کے انجام بد سے آگاہ کرنے والا ہے چونکہ سورت ہذا میں مکذبین و معاندین کا ذکر بکثرت ہوا ہے شاید اسی لئے یہاں صفت “نذیر” کو بیان فرمایا۔ “بشیر” کا ذکر نہیں کیا۔ اور “للعالمین” کے لفظ سے بتلا دیا کہ یہ قرآن صرف عرب کے اُمیوں کے لئے نہیں اترا بلکہ تمام جن و انس کی ہدایت و اصلاح کے واسطے آیا ہے۔
یعنی اپنے اس کامل و اکمل بندہ (محمد رسول اللہ ) پر جن کا ممتاز لقب ہی کمال عبودیت کی وجہ سے “عبداللہ” ہو گیا۔ صلوات اللہ و سلامہ علیہ۔

دل کو ثابت کرنے کے لئے آھستہ آھستہ قرآن نازل کرنا

وَقالَ الَّذينَ كَفَروا لَولا نُزِّلَ عَلَيهِ القُرءانُ جُملَةً وٰحِدَةً ۚ كَذٰلِكَ لِنُثَبِّتَ بِهِ فُؤادَكَ ۖ وَرَتَّلنٰهُ تَرتيلًا {25:32}
اور کہنے لگے وہ لوگ جو منکر ہیں کیوں نہ اترا اس پر قرآن سارا ایک جگہ ہو کر [۴۵] اسی طرح اتارا تاکہ ثابت رکھیں ہم اس سےتیرا دل اور پڑھ سنایا ہم نے اسکو ٹھہر ٹھہر کر [۴۶]
یعنی نبی کے دشمن لوگوں کو گمراہ کرنے کے لئے ایسے ایسے اعتراض چھانٹتے ہیں کہ صاحب! دوسری کتابوں کی طرح پورا قرآن ایک ہی دفعہ کیوں نہ اتارا گیا، برسوں میں جو تھوڑا تھوڑا کر کے اتارا، کیا اللہ میاں کو کچھ سوچنا پڑتا تھا اس سے تو شبہ ہوتا ہے کہ خود محمد سوچ سوچ کر بناتے ہیں۔ پھر موقع مناسب دیکھ کر تھوڑا تھوڑا سناتے رہتے ہیں۔
یعنی یہ کیا ضرور ہے کہ تھوڑا تھوڑا کر کے اتارنا اس سبب سےہو جو تم نے سمجھا۔ اگر غور کرو گے تو اس طرح نازل کرنے میں بہت سے فوائد ہیں جو دفعۃً نازل کرنے کی صورت میں پوری طرح حاصل نہ ہوتے ۔ مثلاً اس صورت میں قرآن کا حفظ کرنا زیادہ آسان ہوا، سمجھنے میں سہولت رہی، کلام پوری طرح منضبط ہوتا رہا اور جن مصالح و حکم کی رعایت اس میں کی گئ تھی، لوگ موقع بموقع ان کی تفاصیل پر مطلع ہوتے رہے۔ ہر آیت کی جداگانہ شان نزول کو دیکھ کر اس کا صحیح مطلب متعین کرنے میں مدد ملی ہر ضرورت کے وقت ہر بات کا بروقت جواب ملتے رہنے سے پیغمبر اور مسلمانوں کے قلوب تسکین پاتے رہے۔ اور ہر آیت کے نزول پر گویا دعوے اعجاز کی تجدید ہوتی رہی اس سلسلہ میں جبریلؑ کا بار بار آنا جانا ہوا جو ایک مستقل برکت تھی، وغیر ذٰلک من الفوائد۔ ان ہی میں سے بعض فوائد کی طرف یہاں اشارہ فرمایا ہے۔

لوگوں کے لئے قرآن کو نازل کرنا:

إِنّا أَنزَلنا عَلَيكَ الكِتٰبَ لِلنّاسِ بِالحَقِّ ۖ فَمَنِ اهتَدىٰ فَلِنَفسِهِ ۖ وَمَن ضَلَّ فَإِنَّما يَضِلُّ عَلَيها ۖ وَما أَنتَ عَلَيهِم بِوَكيلٍ {39:41}
ہم نے اتاری ہے تجھ پر کتاب لوگوں کے واسطے سچے دین کے ساتھ پھر جو کوئی راہ پر آیا سو اپنے بھلے کو اور جو کوئی بہکا سو یہی بات ہے کہ بہکا اپنے برے کو اور تو ان کا ذمہ دار نہیں [۵۵]
یعنی تیری زبان پر اس کتاب کے ذریعہ سچی بات نصیحت کی کہہ دی گئ اور دین کا راستہ ٹھیک ٹھیک بتلا دیا گیا۔ آگے ہر ایک آدمی اپنا نفع و نقصان سوچ لے نصیحت پر چلے گا تو اسی کا بھلا ہے ورنہ اپنا ہی انجام خراب کرے گا۔ تجھ پر اس کی کوئی ذمہ داری نہیں کہ زبردستی ان کو راہ پر لے آئے۔ صرف پیغام حق پہنچا دینا آپ کا فرض تھا وہ آپ نے ادا کر دیا۔ آگے معاملہ خدا کے سپرد کر دیجئے جس کے ہاتھ میں مارنا جلانا اور سلانا جگانا سب کچھ ہے۔

No comments:

Post a Comment