Wednesday, 10 June 2015

فضائل قرآن اور مقام قُراء


 

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے فرمانِ رسول ﷺ بھی مروی ہے:
إِنَّ هَذَا الْقُرْآنَ مأدبة اللَّهِ فَتَعَلَّمُوا مِنْ مَأْدُبَتِهِ مَا اسْتَطَعْتُمْ، إِنَّ هَذَا الْقُرْآنَ هُوَ حَبْلُ اللَّهِ الَّذِي أَمَرَ بِهِ، وَهُوَ النُّورُ الْمُبِينُ وَالشِّفَاءُ النَّافِعُ، عِصْمَةٌ لِمَنِ اعْتَصَمَ بِهِ، وَنَجَاةٌ لِمَنْ تَمَسَّكَ بِهِ، لَا يَعْوَجُّ فَيُقَوَّمُ، وَلَا يَزُوغُ فَيُشَعَّبَ، وَلَا تَنْقَضِي عَجَائِبُهُ وَلَا يَخْلَقُ عَنْ رَدٍّ، اتْلُوهُ فَإِنَّ اللَّهَ يَأْجُرُكُمْ لِكُلِّ حَرْفٍ عَشْرَ حَسَنَاتٍ، لَمْ أَقُلْ لَكُمْ {الم} (البقرة: 1)
وَلَكِنْ أَلِفٌ حَرْفٌ وَلَامٌ حَرْفٌ وَمِيمٌ حَرْفٌ
ترجمہ
۔۔۔۔۔بے شک یہ قرآن اللہ کی رسی ہے جس کا اس نے حکم دیا ہے، اور یہ روشن نور اور نفع بخش شفا ہے۔ یہ اس شخص کے لیے پناہ ہے جو اسے تھامے، اور اس شخص کے لیے نجات ہے جو اس سے وابستہ رہے۔ یہ نہیں ٹیڑھا ہوتا کہ اسے سیدھا کیا جائے، نہ کج ہوتا ہے کہ اسے درست کیا جائے۔ اس کے عجائب ختم نہیں ہوتے اور بار بار پڑھنے سے یہ پرانا نہیں ہوتا۔ تم اسے پڑھو کیونکہ اللہ تمہیں ہر حرف کے بدلے دس نیکیاں عطا فرمائے گا۔ میں تم سے یہ نہیں کہتا کہ 'الم' ایک حرف ہے، بلکہ الف ایک حرف ہے، لام ایک حرف ہے اور میم ایک حرف ہے۔"

[مصنف عبد الرزاق:6017، تنبيه الغافلين-السمرقندي:650، الترغيب في فضائل الأعمال لإبن شاهين:202، المستدرك علي  الصحيحين-ل الحاكم:2040، شعب الإيمان-للبيهقي:1786-1832، مجمع الزوائد:2208]






---
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
"إِنَّ هَذَا القُرآنَ مَأدُبَةُ اللَّهِ، فَخُذُوا مِنهُ مَا استَطَعتُم، فَإِنِّي لَا أَعلَمُ شَيئًا أَصفَرَ مِن خَيرٍ مِن بَيتٍ لَيسَ فِيهِ مِن كِتَابِ اللَّهِ شَيءٌ، وَإِنَّ القَلبَ الَّذِي لَيسَ فِيهِ مِن كِتَابِ اللَّهِ شَيءٌ خَرِبٌ كَخَرَابِ البَيتِ الَّذِي لَا سَاكِنَ لَهُ."
ترجمہ:
"بے شک یہ قرآن اللہ کا دسترخوان ہے، اس سے جتنا تمہارے بس میں ہو لے لو۔ کیونکہ میں نہیں جانتا کہ اس گھر سے زیادہ بھلائی میں کوئی چیز زیادہ خالی اور تہی دست ہو جس میں کتابِ اللہ کی کوئی چیز نہ ہو۔ اور یقیناً وہ دل جس میں کتابِ اللہ کی کوئی چیز نہ ہو، ایسے ویران گھر کی طرح ویران ہے جس کا کوئی باسی نہ ہو۔"
[سنن الدارمي:3350]
(إسناده صحيح) 
[سلسلة الآثار الصحيحة:146]



دوسری روایت میں ہے کہ:
.....فَإِنَّ أَصْفَرَ الْبُيُوتِ مِنَ الْخَيْرِ الْبَيْتُ الَّذِي لَيْسَ فِيهِ مِنْ كِتَابِ الله تَعَالَى شَيءٌ، وَإِنَّ الْبَيْتَ الَّذِي لَيْسَ فِيهِ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ شَيءٌ خَرِبٌ كَخَرَابِ الْبَيْتِ الَّذِي لَا عَامِرَ لَهُ، وَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَخْرُجُ مِنَ الْبَيْتِ يَسْمَعُ سُورَةَ الْبَقَرَةِ تُقْرَأُ فِيهِ»
ترجمہ:
...کیونکہ بھلائی (اور برکت) سے سب سے زیادہ خالی گھر وہ ہے جس میں اللہ تعالیٰ کی کتاب میں سے کچھ نہ ہو۔ اور یقیناً وہ گھر جس میں اللہ کی کتاب میں سے کچھ نہ ہو، اس گھر کی طرح ویران ہے جس کا کوئی آباد کرنے والا نہ ہو۔ اور بے شک شیطان اس گھر سے نکل جاتا ہے جس میں سورۃ البقرہ پڑھی جاتی  ہے۔"

[مصنف عبد الرزاق:5998]

ایک اور روایت میں ہے کہ:
...فَمَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ أَنْ يَأْخُذَ مِنْ مَأْدُبَةِ اللَّهِ فَلْيَفْعَلْ، فَإِنَّمَا الْعِلْمُ بِالتَّعَلُّمِ
ترجمہ:
"... لہٰذا تم میں سے جو شخص اللہ کے دسترخوان سے (کچھ) لے سکتا ہے اسے ایسا کرنا چاہیے، کیونکہ علم تو سیکھنے سے ہی حاصل ہوتا ہے۔"
[مسند البزار:2055، مجمع الزوائد:539]

---
تشریح:
1. مأدبة اللہ: قرآن کو اللہ کا دسترخوان اس لیے کہا گیا کہ جس طرح ایک دسترخوان پر طرح طرح کے کھانے ہوتے ہیں اور لوگ ان سے اپنی ضرورت کے مطابق لیتے ہیں، اسی طرح قرآن میں ہر قسم کی روحانی غذا، ہدایت، علم، نور، شفا اور رحمت موجود ہے۔ ہر شخص اپنی استطاعت اور ضرورت کے مطابق اس سے فیض حاصل کر سکتا ہے۔
2. أصفر من خیر: "أصفر" کے معنی خالی ہونا۔ عرب لوگ خالی ہاتھ کو "صفر الیدین" کہتے ہیں۔ یعنی اس گھر سے زیادہ بھلائی سے خالی کوئی چیز نہیں جس میں قرآن نہ ہو۔
3. گھر کی ویرانی: حدیث میں گھر کو قرآن سے خالی ہونے کی وجہ سے ویران قرار دیا گیا، خواہ وہ گھر ظاہری طور پر آباد کیوں نہ ہو۔
4. دل کی ویرانی: دل کی اصل آبادی قرآن ہے۔ جس دل میں قرآن نہ ہو وہ گویا ایسے گھر کی طرح ہے جس میں کوئی باسی نہ ہو، یعنی بالکل ویران اور سنسان۔
---
شرح للمناوی:
"(بے شک یہ قرآن اللہ کی مأدبہ ہے)" (مأدبہ میں دال کے پیش کے ساتھ مشہور ہے) یعنی اللہ کی دعوت (کھانا)۔ قرآن کو اس دعوت سے تشبیہ دی گئی ہے جو اللہ نے لوگوں کے لیے تیار کی ہے، جس میں ان کے لیے بھلائی اور منافع ہیں۔ اور یہ معقول (چیز) کو محسوس (چیز) کے قائم مقام کرنے کی ایک مثال ہے۔
علامہ زمخشری رحمہ اللہ نے فرمایا: "مأدبہ" (دال کے زیر کے ساتھ) مصدر ہے "ادب" کے وزن پر، جس کے معنی کھانے کی دعوت دینے کے ہیں، جیسے "معتبہ" کے معنی "عتب" (ناراضی) کے ہیں۔ اور "مأدبہ" (دال کے پیش کے ساتھ) خود اس دعوت (کھانے) کا نام ہے، جیسے "وکیرہ" اور "ولیمہ"۔
"(اس کی مأدبہ میں سے جو تم سے ہو سکے قبول کرو)" ۔
اس حدیث کا مکمل متن امام حاکم کے نزدیک یوں ہے:
"یہ قرآن اللہ کی رسی، روشن نور، نفع بخش شفا ہے۔ یہ اس شخص کے لیے پناہ ہے جو اسے تھامے، اور اس شخص کے لیے نجات ہے جو اس کی پیروی کرے۔ یہ ٹیڑھا نہیں ہوتا کہ اسے سیدھا کیا جائے، نہ کج ہوتا ہے کہ اسے درست کیا جائے۔ اس کے عجائب ختم نہیں ہوتے اور کثرت سے پڑھنے سے یہ پرانا نہیں ہوتا۔ تم اسے پڑھو کیونکہ اللہ تمہیں اس کی تلاوت پر ہر حرف کے بدلے دس نیکیوں کا اجر دے گا۔ میں یہ نہیں کہتا کہ 'الف لام میم' ایک حرف ہے، بلکہ الف ایک حرف ہے، لام ایک حرف ہے اور میم ایک حرف ہے۔" [انتہیٰ]

[فیض القدیر-للمناوی: حدیث نمبر 2513]
---
حاصل شدہ اسباق و نکات

1. قرآن: اللہ کا دسترخوان:
   قرآن کو "مأدبۃ اللہ" (اللہ کا دسترخوان) قرار دیا گیا۔ جس طرح دسترخوان پر طرح طرح کے کھانے ہوتے ہیں اور ہر کوئی اپنی ضرورت اور استطاعت کے مطابق کھاتا ہے، اسی طرح قرآن میں ہر قسم کی روحانی غذا، ہدایت، علم، نور اور شفا موجود ہے۔ ہر شخص اس سے اپنی استطاعت بھر فیض حاصل کر سکتا ہے۔
2. قرآن: اللہ کی مضبوط رسی:
   قرآن کو "حبل اللہ" (اللہ کی رسی) قرار دیا گیا ہے جو اللہ اور بندے کے درمیان تعلق قائم کرتی ہے۔ یہ وہ وسیلہ ہے جس کے ذریعے انسان اللہ تک پہنچ سکتا ہے۔
3. قرآن: نور اور شفا:
   قرآن "نور مبین" (روشن نور) ہے جو ظلمتوں کو دور کرتا ہے اور صحیح راستہ دکھاتا ہے۔ یہ "شفاء نافع" (نفع بخش شفا) ہے جو دلوں کے امراض، شکوک و شبہات اور روحانی بیماریوں کا علاج کرتا ہے۔
4. پناہ اور نجات کا ذریعہ:
   قرآن ان لوگوں کے لیے "عصمت" (پناہ) ہے جو اس سے وابستہ ہوتے ہیں اور ان کے لیے "نجات" ہے جو اسے تھامے رہتے ہیں۔ یہ گمراہی اور جہنم سے بچانے کا ذریعہ ہے۔
5. قرآن کی استقامت:
   "قرآن میں کوئی کجی اور ٹیڑھ نہیں کہ اسے سیدھا کرنے کی ضرورت ہو۔ یہ بالغ نظر اور ہر دور کے لیے موزوں ہے۔
6. قرآن کے عجائب کی عدم انتہا:
   "لا تنقضی عجائبہ" یعنی قرآن کے عجائب ختم نہیں ہوتے۔ ہر دور میں اس سے نئے نئے علوم، حکمتیں اور اسرار دریافت ہوتے رہتے ہیں۔
7. قرآن کی تازگی:
   "لا یخلق من کثرۃ الرد" یعنی بار بار پڑھنے سے قرآن پرانا نہیں ہوتا۔ جتنا پڑھیں، اس کی تازگی اور لذت برقرار رہتی ہے۔
8. تلاوت کا عظیم اجر:
   قرآن کے ہر حرف پر دس نیکیوں کا وعدہ ہے۔ "الم" کو تین حروف شمار کیا گیا، جو اس بات کی وضاحت کرتا ہے کہ حروفِ مقطعات بھی الگ الگ حروف ہیں اور ان پر بھی اجر ملتا ہے۔
9. قرآن سیکھنے کی ترغیب:
   "فَمَنِ اسْتَطَاعَ أَنْ يَتَعَلَّمَ مِنْهُ شَيْئًا فَلْيَفْعَلْ" (جو شخص اس میں سے کچھ سیکھ سکتا ہے، اسے ایسا کرنا چاہیے)۔ یہ جملہ قرآن سیکھنے کی ترغیب دیتا ہے، خواہ تھوڑا ہی سہی۔ ہر مسلمان پر کم از کم اتنا قرآن سیکھنا ضروری ہے جو نماز میں پڑھنے کے لیے کافی ہو۔
10. استطاعت کے مطابق فیض:
ہر شخص کو چاہیے کہ اپنی استطاعت کے مطابق قرآن سے فیض حاصل کرے۔ کوئی بھی شخص اس سے محروم نہیں رہنا چاہیے۔
11. گھر میں قرآن کی موجودگی ضروری:
جس گھر میں قرآن نہ پڑھا جاتا ہو، نہ اس کی تلاوت ہوتی ہو، وہ گھر بھلائی اور برکت سے خالی ہے۔
12. دل کی آبادی قرآن سے ہے:
دل کی حقیقی آبادی اور زندگی قرآن سے وابستہ ہے۔ جس دل میں قرآن نہ ہو وہ مردہ اور ویران ہے۔
13. قرآن سے غفلت باعثِ محرومی:
قرآن سے غفلت انسان کو بھلائی اور خیر سے محروم کر دیتی ہے۔
14. علم کی اہمیت:
   "فإنما العلم بالتعلم" یعنی علم سیکھنے سے حاصل ہوتا ہے۔ قرآن سے فیض یاب ہونے کے لیے اسے سیکھنا، سمجھنا اور اس پر عمل کرنا ضروری ہے۔
15. علم حاصل کرنے کا ذریعہ:
قرآن سیکھنے کی ترغیب دے کر علم کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا ہے۔ علم حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ قرآن ہے۔
16. قرآن کی جامعیت:
    ان روایات میں قرآن کی متعدد صفات بیان کی گئی ہیں جو اس کی جامعیت اور عظمت کو ظاہر کرتی ہیں۔ یہ ہدایت کا مکمل ضابطہ ہے۔
17. گھر کی برکت:
   جس گھر میں قرآن پڑھا جاتا ہے، اس میں برکت ہوتی ہے۔ فرشتے رحمت کے لیے اترتے ہیں اور شیطان بھاگتا ہے۔
18. قرآن سے خالی گھر کی ویرانی:
   "أَصْفَرَ الْبُيُوتِ مِنَ الْخَيْرِ" یعنی بھلائی سے سب سے زیادہ خالی گھر وہ ہے جس میں قرآن نہ ہو۔ خواہ وہ گھر ظاہری طور پر آباد اور پرتعیش کیوں نہ ہو، اگر اس میں قرآن کی تلاوت نہیں ہوتی تو وہ گھر بھلائی اور برکت سے خالی ہے۔
19. گھر کا آباد ہونا قرآن سے ہے:
   "خَرِبٌ كَخَرَابِ الْبَيْتِ الَّذِي لَا عَامِرَ لَهُ" یعنی جس گھر میں قرآن نہ ہو، وہ اس گھر کی طرح ویران ہے جس میں کوئی بسنے والا نہ ہو۔ اس سے معلوم ہوا کہ گھر کی حقیقی آبادی اور رونق قرآن کی تلاوت سے ہے۔
20. سورۃ البقرہ کی فضیلت:
   حدیث میں خاص طور پر سورۃ البقرہ کا ذکر ہے کہ شیطان اس گھر سے نکلتا ہے جہاں یہ سورت پڑھی جاتی ہے۔ یہ اس سورت کی عظمت اور برکت کو ظاہر کرتا ہے۔
21. شیطان کا بھاگنا:
   "وَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَخْرُجُ مِنَ الْبَيْتِ يَسْمَعُ سُورَةَ الْبَقَرَةِ تُقْرَأُ فِيهِ" یعنی شیطان اس گھر سے نکل بھاگتا ہے جہاں سورۃ البقرہ کی تلاوت سنتا ہے۔ یہ اس سورت کے پڑھنے والے اور سننے والے کے لیے ایک بڑی حفاظت ہے۔
22. عمل کی ترغیب:
   اس اثر میں قرآن کی تلاوت، تعلیم اور تدبر کی ترغیب دی گئی ہے۔ بتایا گیا کہ اس عظیم دولت سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانا چاہیے۔
23. گھروں کو قرآن سے منور کریں:
   ہر مسلمان کو چاہیے کہ اپنے گھر کو قرآن کی تلاوت سے منور کرے، تاکہ گھر برکتوں سے بھر جائے اور شیطان وہاں سے دور بھاگے۔
24. قرآن سے دوری روحانی ویرانی:
    قرآن سے دوری انسان کو روحانی طور پر ویران کر دیتی ہے، خواہ وہ دنیوی اعتبار سے کتنا ہی خوش حال کیوں نہ ہو۔
25. صحابہ کا قرآن سے تعلق:
    حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا یہ قول صحابہ کرام کے قرآن سے گہرے تعلق اور ان کی فکر کو ظاہر کرتا ہے کہ وہ امت کو قرآن سے وابستہ رہنے کی تلقین کرتے تھے۔
26. امت کی ذمہ داری:
    ان روایات سے امت مسلمہ پر واضح ہوتا ہے کہ قرآن سے تعلق مضبوط کرنا، اسے پڑھنا، سمجھنا اور اس پر عمل کرنا ان کی بنیادی ذمہ داری ہے۔








جنت کے درجات قرآن کی آیتوں کے مطابق ہیں.

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
" دَرَجُ الْجَنَّةِ عَلَى قَدْرِ آيَاتِ الْقُرْآنِ، بِكُلِّ آيَةٍ دَرَجَةٌ، فَبِكُلِّ سِتَّةٍ أَلْفٌ وَمِائَتَا آيَةٍ وَسِتَّ عَشْرَةَ، بَيْنَ كُلِّ دَرَجَتَيْنِ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ. قَالَ: فَيَنْتَهِي الْقَارِئُ بِهِ إِلَى أَعْلَى عِلِّيِّينَ، لَهَا سَبْعُونَ أَلْفَ رُكْنٍ، كُلُّ رُكْنٍ يَاقُوتَةٌ تُضِيءُ مَسِيرَةَ أَيَّامٍ وَلَيَالِيَ، وَيُصَبُّ عَلَيْهِ حُلَّةُ الْكَرَامَةِ، فَلَوْلَا أَنَّهُ يَنْظُرُ إِلَيْهَا بِرَحْمَةِ اللَّهِ لَأَذْهَبَ تَلَأْلُؤُهَا بِبَصَرِهِ "

ترجمہ
"جنت کے درجات قرآن کی آیتوں کی تعداد کے مطابق ہیں، ہر آیت کے بدلے ایک درجہ ہے۔ پس (قرآن) چھ ہزار دو سو سولہ آیتیں ہیں۔ ہر دو درجوں کے درمیان آسمان و زمین کے درمیان کا فاصلہ ہے۔" آپ نے فرمایا: "پس قاری (قرآن پڑھنے والا) اس کے ذریعے اعلیٰ علیین تک پہنچ جائے گا۔ اس (جنت) کے ستر ہزار ستون ہیں، ہر ستون ایک یاقوت ہے جو کئی دنوں اور راتوں کی مسافت تک روشنی پھیلاتا ہے۔ اور اس پر عزت کا لباس انڈیلا جائے گا۔ اگر وہ اللہ کی رحمت سے اسے نہ دیکھے تو اس کی چمک اس کی بصارت کو ختم کر دے۔"
[الترغيب في فضائل الأعمال-لابن شاهين:206]
---
تخریج و حوالہ جات
یہ حدیث درج ذیل کتب میں مروی ہے:
· فردوس الأخبار للديلمي: حدیث نمبر 3064 
· جامع الأحاديث للسيوطي: حدیث نمبر 12292
· كنز العمال للمتقي الهندي: حدیث نمبر 2425

حكم الحديث
یہ حدیث ضعیف ہے۔
[سلسلة الأحاديث الضعيفة:5718]
لیکن
اس حدیث کا مضمون دیگر روایات سے صحیح ثابت ہے، جو درج ذیل ہیں:
---

حاصل شدہ اسباق و نکات:
*1. ضعیف ہونے کے باوجود مفہوم کی صحت:* اگرچہ یہ حدیث سنداً ضعیف ہے، لیکن اس کا مفہوم (قرآن پڑھنے والے کے جنت میں بلند درجات) دوسری صحیح احادیث سے ثابت ہے۔
*2. صحیح احادیث میں قرآن والوں کی فضیلت:*
   · حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کی حدیث:
"يُقَالُ لِصَاحِبِ الْقُرْآنِ: اقْرَأْ وَارْتَقِ وَرَتِّلْ كَمَا كُنْتَ تُرَتِّلُ فِي الدُّنْيَا، فَإِنَّ مَنْزِلَكَ عِنْدَ آخِرِ آيَةٍ تَقْرَؤُهَا"
  (قرآن والے سے کہا جائے گا: پڑھتے جاؤ اور چڑھتے جاؤ، اور خوب ٹھہر ٹھہر کر پڑھو جیسے تم دنیا میں ٹھہر ٹھہر کر پڑھتے تھے، کیونکہ تمہارا مقام آخری آیت کے مقابل ہوگا۔)
[سنن ابی داود: 1464، سنن ترمذی: 2914]
   · حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی حدیث:
"يُقَالُ لِصَاحِبِ الْقُرْآنِ إِذَا دَخَلَ الْجَنَّةَ: اقْرَأْ وَاصْعَدْ، فَيَقْرَأُ وَيَصْعَدُ بِكُلِّ آيَةٍ دَرَجَةً"
(قرآن والے سے جنت میں داخل ہونے پر کہا جائے گا: پڑھو اور چڑھتے جاؤ، وہ پڑھے گا اور ہر آیت کے ساتھ ایک درجہ چڑھتا جائے گا۔)
[مسند احمد: 11360، سنن ابن ماجہ: 3780] 
*3. حدیث کا بنیادی مضمون صحیح ہے کہ:*
   · قرآن پڑھنے والے کا جنت میں بلند مقام ہوگا
   · اس کا درجہ اس کی قراءت کے مطابق بلند ہوگا
   · قرآن والوں کے لیے اللہ کے ہاں خصوصی عزت و کرامت ہے۔
*4. نیت کا خلوص:* قرآن پڑھنے والے کے لیے ضروری ہے کہ وہ خلوصِ نیت کے ساتھ پڑھے، نہ کہ دنیا کے حصول کے لیے۔
*5. اعلیٰ علیین کا مقام:* حدیث میں مذکور "اعلیٰ علیین" جنت کا سب سے بلند مقام ہے، جیسا کہ قرآن میں بھی مذکور ہے {خبردار ! نیک لوگوں کا اعمال نامہ علیین میں ہے۔} [المطففین: 18]۔
*6. اللہ کی رحمت کا دخل:* حدیث کے آخری حصے میں یہ نکتہ اہم ہے کہ انسان اللہ کی رحمت ہی سے جنت کی نعمتوں کو دیکھ سکتا ہے۔


گگگگ 


۱۔ عَنْ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ " .
ترجمہ:
حضرت عثمانؓ سے حضور اقدس ﷺ کا ارشاد منقول ہے کہ تم میں سب سے بہتر وہ شخص ہے جو قرآن شریف کو سیکھے اور سکھائے۔


(رواہ البخاری وابوداؤد و الترمذی والنسائی وابن ماجۃ ھٰذافی الترغیب وعزاہ الٰی مسلم ایضًالکن حکی الحافظ فی الفتح عن ابی العلائِ اَنَّ مسلمًا سکت عنہ)۔

اکثر کتب میں یہ روایت واو کے ساتھ ہے جس کا ترجمہ لکھا گیا ہے اس صورت میں فضیلت اس شخص کے لئے ہے جو کلام پاک سیکھے اور اس کے بعد دوسروں کو سکھائے لیکن بعص کتب میں یہ روایت او کے ساتھ وارد ہوئی ہے اس صورت میں بہتری اور فضیلت عام ہو گی کہ خود سیکھے یا دوسروں کو سکھائے دونوں کے لئے مستقل خیر و بہتری ہے۔
کلام پاک چونکہ اصل دین ہے اس کی بقاء اشاعت پر ہی دین کا مدار ہے اس لیے اس کے سیکھنے اور سکھانے کا افضل ہونا ظاہر ہے کسی توضیح کا محتاج نہیں البتہ اس کی انواع مختلف ہیں کمال اس کا یہ ہے کہ مطالب و مقاصد سمیت سیکھے اور ادنی درجہ اس کا یہ ہے کہ فقط الفاظ سیکھے نبی کریم ﷺ کا دوسرا ارشاد حدیث مذکور کی تائید کرتا ہے جو سعید بن سلیم سے مرسلا منقول ہے کہ جو شخص قرآن شریف کو حاصل کر لے اور پھر کسی دوسرے شخص کو جو کوئی اور چیز عطا کیا گیا ہو اپنے سے افضل سمجھے تو اس سے حق تعالیٰ شانہ کے اس انعام کی جو اپنے کلام پاک کی وجہ سے اس پر فرمایا ہے تحقیر کی ہے اور کھلی ہوئی بات ہے کہ جب کلام الی سب کلاموں سے افضل ہے جیسا کہ مستقل احادیث میں انے والا ہے تو اس کا پڑھنا پڑھانا یقینا سب چیزوں سے افضل ہونا ہی چاہئے ایک دوسری حدیث سے ملا علی قاری نے نقل کیا ہے کہ جس شخص نے کلام پاک کو حاصل کر لیا اس نے علوم نبوت کو اپنی پیشانی میں جمع کر لیا سہل تستری فرماتے ہیں کہ حق تعالیٰ شانہ سے محبت کی علامت یہ ہے کہ اس کے کلام پاک کی محبت قلب میں ہو شرح احیاء میں ان لوگوں کی فہرست میں جو قیامت کے ہولناک دن میں عرش کے سایہ کے نیچے رہیں گے ان لوگوں کو بھی شمار کیا ہے جو مسلمانوں کے بچوں کو قرآن پاک کی تعلیم دیتے ہیں نیز ان لوگوں کو بھی شمار کیا ہے جو بچپن میں قرآن شریف سیکھتے ہیں اور بڑے ہو کر اس کی تلاوت کا اہتمام کرتے ہیں۔


قرآن سکھانے کا عظیم اجر:
حضرت عثمان سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا:
مَنْ عَلَّمَ آيَةً مِنْ كِتَابِ اللَّهِ كَانَ لَهُ مِثْلُ أَجْرِ مَنْ تَعَلَّمَهَا ضِعْفَيْنِ
ترجمہ:
"جس شخص نے کتاب اللہ کی ایک آیت سکھائی، اس کے لیے اس شخص کے اجر کے برابر دوگنا اجر ہے جس نے وہ (آیت) سیکھی۔"
[جامع الاحادیث-للسیوطی:22970، کنزالعمال:28885]
---
حاصل شدہ اسباق و نکات

1. حدیث کا درجہ: اگرچہ یہ حدیث سنداً ضعیف ہے، لیکن قرآن سکھانے کی فضیلت پر بے شمار صحیح احادیث موجود ہیں۔
2. معلم قرآن کا اجر: صحیح احادیث میں قرآن سکھانے والے کے لیے عظیم اجر کی بشارت دی گئی ہے:
   · "خیركم من تعلم القرآن وعلمه" (تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو قرآن سیکھے اور سکھائے) [صحیح بخاری:5027]۔
   · "من علم آية من كتاب الله كان له ثوابها ما تليت" (جس نے قرآن کی ایک آیت سکھائی، اسے اس کا ثواب ملتا رہے گا جب تک وہ پڑھی جاتی رہے) [سلسلۃ الاحادیث الصحیحہ:1335]۔
3. اجر میں اضافہ: قرآن سکھانے والے کو نہ صرف اپنی تلاوت کا اجر ملتا ہے، بلکہ ہر اس شخص کے تلاوت کا بھی اجر ملتا ہے جس نے اس سے سیکھا، اور یہ سلسلہ قیامت تک جاری رہتا ہے۔
4. دعا کی تاکید: جب کوئی شخص قرآن سکھائے تو اس کے لیے دعا کرنی چاہیے کہ اللہ اسے جزائے خیر عطا فرمائے۔
5. نیت کا خلوص: قرآن سکھاتے وقت نیت خالص اللہ کی رضا ہونی چاہیے، نہ کہ دنیوی مفاد یا نام و نمود۔
6. عمل کی ترغیب: اگرچہ یہ حدیث بالخصوص سند کے اعتبار سے ضعیف ہے، لیکن اس کے مضامین (قرآن سکھانے کی فضیلت اور اجر) دوسری صحیح احادیث سے ثابت ہیں، اس لیے اس پر عمل کرنے میں کوئی حرج نہیں۔


قرآن سکھانے کا عظیم اجر:
حضرت انس سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا:
مَنْ عَلَّمَ آيَةً مِنْ كِتَابِ اللَّهِ كَانَ لَهُ ثَوَابُهَا مَا تُلِيَتْ
ترجمہ:
"جس شخص نے کتاب اللہ کی ایک آیت سکھائی، اس کے لیے اس (آیت) کا ثواب ہے جب تک (وہ آیت) پڑھی جاتی رہے گی۔" 
[جامع الاحادیث-للسیوطی:22969]

تخریج:
ابن لال عن ابان عن انس
علامہ البانی نے اسے سلسلہ الأحادیث الصحیحہ (1335) میں اسے صحیح قرار دیا ہے۔ 






۲۔ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَقُولُ الرَّبُّ عَزَّ وَجَلَّ : مَنْ شَغَلَهُ الْقُرْآنُ وَذِكْرِي عَنْ مَسْأَلَتِي أَعْطَيْتُهُ أَفْضَلَ مَا أُعْطِي السَّائِلِينَ ، وَفَضْلُ كَلَامِ اللَّهِ عَلَى سَائِرِ الْكَلَامِ كَفَضْلِ اللَّهِ عَلَى خَلْقِهِ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ .
ترجمہ:
حضرت ابو سعیدؓ سے حضور اکرم ﷺ کا ارشاد منقول ہے کہ حق سبحانہ و تقدس کا یہ فرمان ہے کہ جس شخص کو قرآن شریف کی مشغولی کی وجہ سے ذکر کرنے اور دعائیں مانگنے کی فرصت نہیں ملتی، میں اسکو سب دعائیں مانگنے والوں سے زیادہ عطا کرتا ہوں اور ﷲ تعالی شانہ کے کلام کو سب کلاموں پر ایسی فضیلت ہے جیسی کہ خود حق تعالیٰ شانہ کو تمام مخلوق پر۔
المصدر : تخريج مشكاة المصابيح الصفحة أو الرقم: 2/373 | خلاصة حكم المحدث : [حسن كما قال في المقدمة]


یعنی جس شخص کو قرآن پاک کے یاد کرنے یا جاننے اور سمجھنے میں اس درجہ مشغولی ہے کہ کسی دوسری دعا وغیرہ کے مانگنے کا وقت نہیں ملتا میں دعا مانگنے والوں کے مانگنے سے بھی افضل چیز اس کو عطا کروں گا دنیا کا مشاہدہ ہے کہ جب کوئی شخص شیرینی وغیرہ تقسیم کر رہا ہو اور کوئی مٹھائی لینے والا اس کے ہی کام میں مشغول ہو اور اس کی وجہ سے نہ آ سکتا ہو تو یقیناً اس کا حصہ پہلے ہی نکلا لیا جاتا ہے ایک دوسری حدیث میں اسی موقہ پر مذکور ہے کہ میں اس کو شکر گزار بندوں کے ثواب سے افضل ثواب عطا کروں گا۔

تشریح علامہ مناوی:
(قرآن کی فضیلت) ایک روایت میں ہے: "اللہ کے کلام کی فضیلت دوسرے تمام کلاموں پر ایسی ہے جیسے رحمن کی فضیلت اپنی تمام مخلوقات پر۔" اور ترمذی کی ایک روایت میں "اللہ کی فضیلت" کا لفظ ہے۔ یہاں "رحمن" کا لفظ اس مناسبت سے لایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {الرحمٰنُ عَلَّمَ الْقُرْآنَ} (الرحمن: 1-2) یعنی "رحمن نے قرآن سکھایا۔" (یہ فضیلت) اللہ کی تمام مخلوقات پر ہے۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ کلام (بات) کی فصاحت و بلاغت اس کے بولنے والے کے مرتبے کے مطابق ہوتی ہے، اور کلام کا درجہ متکلم کے درجے پر منحصر ہوتا ہے۔ پس اللہ کے کلام کی بلاغت اس کی مخلوق کے کلام پر اس کی اپنی مخلوقات پر فضیلت کے مطابق ہے۔ ہر بولنے والے کا بیان اس کے علم کے احاطہ کے مطابق ہوتا ہے۔ جب انسان کسی موجود چیز کے بارے میں بیان دیتا ہے تو وہ اپنی ادراک کے مطابق بیان کرتا ہے، لیکن وہ اس کے پورے علم کا احاطہ نہیں کر پاتا، اس لیے وہ اپنے بیان میں انتہائی بلاغت تک نہیں پہنچ پاتا۔ اور جب وہ ماضی کے بارے میں خبر دیتا ہے تو اپنے ناقص علم کے مطابق خبر دیتا ہے، کیونکہ انسان کو بھولنے کا عارضہ لاحق رہتا ہے۔ اور جب وہ مستقبل کے بارے میں بتانا چاہتا ہے تو اس کا بیان بالکل عاجز ہو جاتا ہے، سوائے تھوڑے سے اندازے کے۔ پس موجود (حال) کے بارے میں اس کا بیان ناقص ہے، ماضی کے بارے میں اس سے بھی زیادہ ناقص، اور مستقبل کے بارے میں اس کا بیان بالکل ساقط ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {بَلْ يُرِيدُ الْإِنْسَانُ لِيَفْجُرَ أَمَامَهُ} (القیامہ: 5) یعنی "بلکہ انسان چاہتا ہے کہ آگے بڑھ کر گناہ کرے۔"

اور اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا بیان موجود (حال) کے بارے میں اس حد تک پہنچا ہوا ہے جتنا اس کا علم اسے گھیرے ہوئے ہے۔ {قُلْ إِنَّمَا الْعِلْمُ عِنْدَ اللَّهِ} (الملک: 26) یعنی "کہہ دیجئے کہ علم تو صرف اللہ کے پاس ہے۔" اور ماضی کے بارے میں (اس کا بیان) اس کے مطابق ہے جو اس نے اسے گھیر رکھا ہے، اور وہ بھولنے سے پاک ہے: {لَا يَضِلُّ رَبِّي وَلَا يَنْسَى} (طٰہٰ: 52) یعنی "میرا رب نہ بھٹکتا ہے نہ بھولتا ہے۔" اور مستقبل کے بارے میں جو کچھ حق ہے اور واقع ہونے والا ہے: {فَلَنَقُصَّنَّ عَلَيْهِمْ بِعِلْمٍ وَمَا كُنَّا غَائِبِينَ} (الاعراف: 7) یعنی "پھر ہم علم کے ساتھ ان کے سامنے بیان کریں گے اور ہم غائب تو نہ تھے۔"

اور حق بیان کرنے والا (اللہ) ایسا ہے کہ اس کا بیان کسی قسم کے وہم کو جنم نہیں دیتا جس سے اس کے بیان میں کوئی کمی محسوس ہو۔ اور انسان خود اپنے بیان میں متہم ہوتا ہے اور اسے خوف ہوتا ہے کہ کہیں اس پر عیب نہ لگ جائے، اس لیے اس کے بیان کا مفہوم کمزور ہوتا ہے۔ جبکہ قرآن کے بیان کا مفہوم اس کے الفاظ کی وضاحت سے کئی گنا زیادہ ہوتا ہے۔ یہ بات حرالی نے ذکر کی ہے۔

[فیض القدیر للمناوی: حدیث نمبر 5865]
---

حاصل اہداف و نکات

1. قرآن کی عظمت و برتری: اس عبارت میں قرآن مجید کی فضیلت کو اللہ تعالیٰ کی اپنی مخلوق پر فضیلت سے تشبیہ دے کر اس کی انتہائی عظمت کو واضح کیا گیا ہے۔ قرآن اللہ کا کلام ہے، اور اللہ کا کلام اس کی ذات کی طرح اعلیٰ اور برتر ہے۔

2. کلام کا درجہ متکلم کے درجے پر منحصر ہے: ایک اہم نکتہ یہ بیان کیا گیا ہے کہ کسی بھی کلام کی فصاحت، بلاغت اور قدر و قیمت کا انحصار اس کے بولنے والے کے علم، حیثیت اور مرتبے پر ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی ذات سب سے اعلیٰ ہے، اس لیے اس کا کلام بھی سب سے اعلیٰ ہے۔

3. انسانی علم کی محدودیت: انسان کا علم محدود ہے، وہ ماضی، حال اور مستقبل کے بارے میں مکمل معلومات نہیں رکھتا۔ اسے نسیان (بھولنا) بھی لاحق ہوتی ہے، اس لیے اس کا بیان ہمیشہ ناقص اور ادھورا ہوتا ہے۔ اس کے برعکس، اللہ کا علم محیط ہے، وہ ہر چیز سے باخبر ہے، اور نہ بھولنا اس کی صفت ہے۔

4. اللہ کے علم کی وسعت اور کاملیت: اللہ تعالیٰ کا علم ہر چیز (ماضی، حال، مستقبل) پر حاوی ہے۔ وہ نہ بھٹکتا ہے نہ بھولتا ہے۔ اس کی ہر خبر اور بیان مکمل، درست اور حقیقت پر مبنی ہوتا ہے۔

5. قرآن کا بیان، انسانی بیان سے بالا تر: قرآن کا بیان نہ صرف الفاظ میں معجز ہے بلکہ اس کے معانی اور مفہوم بھی انتہائی گہرے اور وسیع ہیں۔ اس کا مفہوم اس کے الفاظ کی وضاحت سے کہیں زیادہ اور بے شمار ہے، جبکہ انسان کا بیان اکثر کمزور اور محدود ہوتا ہے۔

6. قرآن، اللہ کی یاد اور مناجات کا ذریعہ: حدیث کے ایک حصے میں آیا ہے کہ جو شخص قرآن میں مشغول ہو کر اللہ کی یاد اور دعا سے منہ موڑ لے، تو اللہ اسے دعا مانگنے والوں سے بھی بہتر عطا فرماتا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ قرآن کی تلاوت اور اس پر غور و فکر بذات خود ایک عظیم عبادت ہے۔









۳۔ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، قَالَ : خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَنَحْنُ فِي الصُّفَّةِ ، فَقَالَ : أَيُّكُمْ يُحِبُّ أَنْ يَغْدُوَ كُلَّ يَوْمٍ إِلَى بُطْحَانَ ، أَوْ إِلَى الْعَقِيقِ فَيَأْتِيَ مِنْهُ بِنَاقَتَيْنِ كَوْمَاوَيْنِ ، فِي غَيْرِ إِثْمٍ ، وَلَا قَطْعِ رَحِمٍ ؟ فَقُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، نُحِبُّ ذَلِكَ ، قَالَ : " أَفَلَا يَغْدُو أَحَدُكُمْ إِلَى الْمَسْجِدِ فَيَعْلَمُ ، أَوْ يَقْرَأُ آيَتَيْنِ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ، خَيْرٌ لَهُ مِنْ نَاقَتَيْنِ ، وَثَلَاثٌ خَيْرٌ لَهُ مِنْ ثَلَاثٍ ، وَأَرْبَعٌ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَرْبَعٍ ، وَمِنْ أَعْدَادِهِنَّ مِنَ الإِبِلِ ؟ " .
ترجمہ:
حضرت عقبہ بن عامرؓ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم تشریف لائے، ہم لوگ صفہ میں بیٹھے تھے آپ ﷺ نے فرمایا کہ تم میں سے کون شخص اس کو پسند کرتا ہے کہ علی الصبح بازار "بطحان" یا "عقیق" میں جاوے اور دو اونٹنیاں عمدہ سے عمدہ بلا کسی قسم کے گناہ اور قطع رحمی کے پکڑ لائے؟ صحابہ نے عرض کیا کہ اس کو تو ہم میں سے ہر شخص پسند کرے گا۔ حضور صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مسجد میں جا کر دو آیتوں کا پڑھنا یا پڑھا دینا دو اونٹنیوں سے، اور تین آیات کا تین اونٹنیوں سے، اسی طرح چار کا چار سے افضل ہے اور ان کے برابر اونٹوں سے افضل ہے۔




صفہ :مسجد نبوی میں ایک خاص معین چبوترہ کا نام ہے جو فقراء مہاجرین کی نشست گاہ تھی اصحاب صفہ کی تعداد مختلف اوقات میں کم و بیش ہو تی رہتی تھی علامہ سیوطی نے ایک سو ایک نام گنوائے ہیں اور مستقل رسالہ ان کے اسماے گرامی میں تصنیف کیا ہے بطحان اور عقیق مدینہ طیبہ کے پاس دو جگہ ہیں جہاں اونٹوں کا بازار لگتا تھا عرب کے نزدیک اونٹ نہایت پسندہ چیز تھی بالخصوص وہ اونٹنی جس کا کوہان فربہ ہو بغیر گناہ کا مطلب یہ ہے کہ بے محنت چیز اکثر یا جھین کر کسی سے لی جاتی ہے یا یہ کہ میراث وعیرہ میں کسی رشتہ دار کے مال پر قبضہ کر لے یا کسی کا مال چرا لے اس لئے حصور اکرمﷺ نے ان سب کی نفی فر ما دی کہ بالکل بلا مشقت اور بدون کسی گناہ کے حاصل کر لینا جس قدر پسندیدہ ہے اس سے زیادہ بہتر و افضل ہے چند آیات کا حاصل کر لینا اور یہ یقینی امر ہے کہ ایک دو اونٹ در کنار ہفت اقلیم کی سلطنت بھی اگر کسی کو مل جاوے تو کیا آج نہیں تو کل موت اس سے جبراً جدا کر دے گی لیکن ایک آیت کا اجر ہمیشہ کے لئے ساتھ رہنے والی چیز ہے دنیا ہی میں دیکھ لیجئے کہ آپ کسی شخص کو ایک روپیہ عطا فر ما دیجئے اس کی اس کو مسرت ہو گی بمقابلہ اس کے کہ ایک ہزار روپیہ اس کے حوالے کر دیں کہ اس کو اپنے پاس رکھ لے میں ابھی واپس آ کر لے لوں گا کہ اس صورت میں بوجز اس پر بار امانت کے اور کوئی فائدہ اس کو حاصل نہیں ہو گا در حقیقت اس حدیث شریف میں فانی و باقی کے تقابل پر تنبیہ بھی مقصود ہے کہ آدمی اپنی حرکت و سکون پر غور کرے کہ کسی فانی چیز پر اس کو ضائع کر رہا ہوں یا باقی رہنے والی چیز پر اور پھر حسرت ہے ان اوقات پر جو باقی رہنے والا وبال کماتے ہوں حدیث کا اخیر جملہ اور ان کے برابر اونٹوں سے افصل ہے تین مطالب کا متحمل ہے اول یہ کہ چار کے عدد تک بالتفصیل ارشاد فرمایا اور اس کے مافوق کو اجمالاً فرما دیا کہ جس قدر آیات کوئی شخص حاصل کرے گا اس کے بقدر اونٹوں سے افضل ہے اس صورت میں اونٹون سے جنس مراد ہے خواہ اونٹ ہوں یا اونٹنیاں اور بیان ہے چار سے زیادہ کا اس لئے کہ چار تک کا ذکر خود تصریحاً مذکور ہو چکا دوسرا مطلب یہ ہے کہ انہیں اعداد کا ذکر ہے جو پہلے مذکور ہو چکے اور مطلب یہ ہے کہ رغبات مختلف ہوا کرتی ہیں کسی کو اونٹنی پسند ہے تو کوئی اونٹ کا گرویدہ ہے اس لئے حضور نے اس لفظ سے یہ ارشاد فرما دیا کہ ہر آیت ایک اونٹنی سے بھً افضل ہے اور اگر کوئی شخص اونٹ سے محبت رکھتا ہو تو ایک آیت ایک اونٹ سے بھی افضل ہے تیسرا مطلب یہ ہے کہ یہ بیان انہیں اعداد کا ہے جو پہلے ذکر کئے گئے چار سے زائد کا نہیں ہے مگر دوسرے مطلب میں جو تقریر گذری کہ ایک اونٹنی یا ایک اونٹ سے افضل ہے یہ نہیں بلکہ مجموعہ مراد ہے کہ ایک آیت ایک اونٹ اور ایک اونٹنی دونوں کے مجموعہ سے افضل ہے اسی طرح ہر آیت اپنے موفق عدد اونٹنی اور اونٹ دونوں کے مجموعے سے افضل ہے تو گویا فی آیت کا مقابلہ ایک جوڑا سے میرے والد صاحب نور اﷲ مرقدہ نے اسی مطلب کو پسند فرمایا ہے کہ اس میں فضیلت کی زیادتی ہے اگرچہ یہ مراد نہیں کہ ایک آیت کا اجر ایک اونٹ یا دو اونٹ کا مقابلہ کر سکتا ہے یہ صرف تنبیہ اور تمثیل ہے میں پہلے لکھ چکا ہوں کہ ایک یت جس کا ثواب دائمی اور ہمیشہ رہنے والا ہے ہفت اقلیم کی بادشاہت سے جو فنا ہو جانے ولی ہے افضل اور بہتر ہے ۔
ملا علی قاری نے لکھا ہے کہ ایک بزرگ کے بعض تجارت پیشہ احباب نے ان سے درخواست کی کہ جہاز سے اترنے کے وقت حضرت جدہ تشریف فرما ہوں تا کہ جناب کی برکت سے ہمارے مال میں نفع ہو اور مقصود یہ تھا کہ تجارت کے منافع سے حضرت کے بعض خدام کو کچھ نفع حاصل ہو اول تو حضرت نے عذر فرمایا مگر جب انھوں نے اصرار کیا تو حضرت نے دریافت فرمایا کہ تمہیں زائد سے زائد جو نفع مال تجارت میں ہوتا ہے وہ کیا مقدار ہے انھوں نے عرض کیا کہ مختلف ہوتا ہے زائد سے زائد ایک کے دو ہو جاتے ہیں حضرت نے فرمایا کہ اس قلیل نفع کے لئے اس قدر مشقت اٹھاتے ہو اتنی سے بات کے لئے ہم حرم محترم کی نماز کیسے چھوڑ دیں جہاں ایک کے لاکھ ملتے ہیں در حقیقت مسلمانوں کے غور کرنے کی جگہ ہے کہ وہ ذرا سے دنیوی متاع کی خاطر کس قدر دینی منافع کو قربان کر دیتے ہیں۔





حضرت ابو امامہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا:
«مَنْ تَعَلَّمَ آيَةً مِنْ كِتَابِ اللَّهِ اسْتَقْبَلَتْهُ يَوْمَ القيامة تضحك فِي وجهه».
ترجمہ:
"جس شخص نے کتاب اللہ (قرآن) کی ایک آیت سیکھی، وہ (وہ آیت) قیامت کے دن اس کے استقبال کو آئے گی اور اس کے چہرے پر مسکرا رہی ہوگی۔"

[المعجم الكبير-للطبراني:7588، مسند الشاميين للطبراني:3421، کنزالعمال:2385-28851]

حکم المحدث:
وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.
اس(حدیث)کے رجال قابلِ اعتماد ہیں۔
[مجمع الزوائد:11639]

---
حاصل شدہ اسباق و نکات

1. قرآن سیکھنے کی فضیلت: قرآن سیکھنے اور سکھانے کی فضیلت پر بے شمار صحیح احادیث موجود ہیں، جیسے نبی کریم ﷺ کا فرمان: "خیركم من تعلم القرآن وعلمه" (تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو قرآن سیکھے اور سکھائے) [صحیح بخاری:5027]۔

2. قیامت میں قرآن کی شفاعت: قرآن قیامت میں اپنے پڑھنے والوں کے لیے شفاعت کرے گا۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "اقرؤوا القرآن فإنه يأتي یوم القیامة شفیعا لأصحابه" (قرآن پڑھا کرو کیونکہ یہ قیامت کے دن اپنے پڑھنے والوں کی شفاعت کرے گا) [صحیح مسلم:804]۔

3. تھوڑا قرآن سیکھنا بھی عظیم نعمت ہے: ایک آیت سیکھنا بھی اللہ کے ہاں بہت بڑی نعمت ہے۔ صحیح حدیث میں ہے: "لأن یغدو أحدكم إلى المسجد فیعلم آیتین من کتاب الله خیر له من ناقتین" (تم میں سے کوئی شخص صبح مسجد جا کر دو آیتیں سیکھے، یہ دو اونٹوں سے بہتر ہے) [صحیح مسلم:803] ۔

4. قرآن کا نور: قرآن سیکھنے والے کے دل میں قرآن نور بن کر داخل ہوتا ہے جو دنیا و آخرت میں اس کا رہنما ہوتا ہے۔

5. عمل کی ترغیب: قرآن سیکھنے کے بعد اس پر عمل کرنا بھی ضروری ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "القرآن حجة لك أو علیك" (قرآن تمہارے حق میں یا تمہارے خلاف حجت ہوگا) [صحیح مسلم:223]۔













۴۔ عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْمَاهِرُ بِالْقُرْآنِ مَعَ السَّفَرَةِ الْكِرَامِ الْبَرَرَةِ ، وَالَّذِي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَيَتَتَعْتَعُ فِيهِ وَهُوَ عَلَيْهِ شَاقٌّ ، لَهُ أَجْرَانِ " .
ترجمہ:
حضرت عائشہؓ نے حضور اقدس ﷺ کا یہ ارشاد نقل کیا ہے کہ قرآن کا ماہر ان ملائکہ کے ساتھ ہے جو میر منشی ہیں اور نیک کار ہیں اور جو شخص قرآن شریف کو اٹکتا ہوا پڑھتا ہے اور اس میں دقت اٹھاتا ہے اس کو دوہرا اجر ہے ۔

قرآن شریف کا ماہر وہ کہلاتا ہے جس کو یاد بھی خوب ہو اور پڑھتا بھی خوب ہو اور اگر معانی و مراد پر بھی قادر ہو تو پھر کیا کہنا ملائکہ کے ساتھ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ وہ بھی قرآن شریف کے لوح محفوظ سے نقل کرنے والے ہیں اور یہ بھی اس کا نقل کرنے والا اور پہنچانے والا ہے تو گویا دونوں ایک ہی مسلک پر ہیں یا یہ کہ حشر میں ان کے ساتھ اجتماع ہو گا اٹکنے والے کو دوہرا اجر ایک اس کی قرآئت کا دوسرا اس کی اس مشققت کا جو اس بار بار کے اٹکنے کی وجہ سے برداشت کرتا ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ یہ اس ماہر سے بٹھ جا وے ماہر کیلئے جو فضیلت ارشاد فرمائی گئی ہے وہ اس سے بہت بڑھ کر ہے کہ مخصوص ملائکہ کے ساتھ اس کا اجتماع فرمایا ہے بلکہ مقصود یہ ہے کہ اس کے اٹکنے کی وجہ سے اس مشقت کا اجر مستقل ملے گا لہٰذا اس عذر کی وجہ سے کسی چھوڑنا نہیں چاہئے ملا علی قاری نے طبرانی اور بیہقی کی روایت سے نقل کیا ہے کہ جو شخص قرآن شریف پڑھتا ہے اور وہ یاد نہیں ہوتا تو اس کیلئے دوہرا اجر ہے اور جو اس کو یاد کرنے کی تمنا کرتا رہے لیکن یاد کرنے کی طاقت نہیں رکھتا مگر وہ پڑھنا بھی ً نہیں چھوڑتا تو حق تعالی شانہ اس کا حفاظ ہی کے ساتھ حشر فرمائیں گے ۔





حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
" الْمَاهِرُ بِالْقُرْآنِ مَعَ السَّفَرَةِ الْكِرَامِ الْبَرَرَةِ ، وَالَّذِي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَيَتَتَعْتَعُ فِيهِ وَهُوَ عَلَيْهِ شَاقٌّ ، لَهُ أَجْرَانِ " .
ترجمہ:

"قرآن میں ماہر (خوب روانی پڑھنے والا) ان بزرگوار اور نیک فرشتوں (سفیروں) کے ساتھ ہوگا۔ اور جو شخص قرآن پڑھتا ہے اور اس میں (پڑھتے ہوئے) لڑکھڑاتا ہے (اٹکتا ہے) اور وہ (پڑھنا) اس پر دشوار ہے، اس کے لیے دو اجر ہیں۔"

[صحيح مسلم:798، سنن ابن ماجة:3779، السنن الكبرى للبيهقي:4055، جامع الأحاديث-للسيوطي:24457]
(مسند احمد:24667-26028-26296، صحیح البخاري:4937، سنن الترمذي:2904)
---
شرح و وضاحت:

· الْمَاهِرُ بِالْقُرْآنِ: ماہر سے مراد وہ شخص ہے جو قرآن کو خوب اچھی طرح یاد ہو اور روانی کے ساتھ پڑھتا ہو، تجوید کے ساتھ پڑھنے والا۔
· السَّفَرَةِ الْكِرَامِ الْبَرَرَةِ: "سفرة" سے مراد فرشتے ہیں۔ انہیں سفیر اس لیے کہا گیا کہ وہ اللہ اور اس کے رسولوں کے درمیان پیغام پہنچاتے ہیں۔ "کرام" یعنی بزرگوار، "بررة" یعنی نیک اور فرمانبردار۔
· يَتَتَعْتَعُ فِيهِ: رک رک کر پڑھنا، پڑھنے میں مشقت محسوس کرنا، ہچکچانا۔
· وَهُوَ عَلَيْهِ شَاقٌّ: اور قرآن پڑھنا اس کے لیے دشوار ہے، یعنی اسے پڑھنے میں دقت ہوتی ہے۔
· لَهُ أَجْرَانِ: اس کے لیے دو اجر ہیں: ایک اجر تلاوت کا، دوسرا اجر مشقت اور محنت کا۔

---

حاصل شدہ اسباق و نکات

1. قرآن پڑھنے والوں کے دو درجے: حدیث میں قرآن پڑھنے والوں کی دو قسمیں بیان کی گئی ہیں:

   · ماہر قاری: جو قرآن کو روانی اور خوبصورتی سے پڑھتا ہے۔
   · غیر ماہر قاری: جو مشقت اور دقت سے پڑھتا ہے۔


2. ماہر قاری کا مرتبہ: جو شخص قرآن میں مہارت رکھتا ہے (روان پڑھتا ہے)، وہ قیامت میں اللہ کے مقرب فرشتوں کے ساتھ ہوگا۔ یہ بہت بلند مرتبہ ہے۔


3. غیر ماہر کے لیے دوہرا اجر: جو شخص قرآن پڑھنے میں مشقت اٹھاتا ہے، رک رک کر پڑھتا ہے، اس کے لیے دو اجر ہیں:

   · ایک اجر تلاوت کا۔
   · دوسرا اجر مشقت اور محنت کا۔


4. تلاوت کی مشقت کا اجر: حدیث سے معلوم ہوا کہ جس کام میں محنت ہو، اس کا اجر زیادہ ہے۔ اللہ تعالیٰ بندے کی نیت اور اس کی کوشش کو دیکھتا ہے۔


5. نیکی کی نیت اور استقامت: قرآن پڑھنے میں اگر روانی نہ بھی ہو، تب بھی اس کی فضیلت ختم نہیں ہوتی۔ بلکہ محنت کرنے والے کو خاص اجر ملتا ہے۔


6. فرشتوں کی عظمت: حدیث میں فرشتوں کے لیے "کرام بررة" کے الفاظ آئے ہیں، جو ان کے بلند مرتبے اور نیکی کو ظاہر کرتے ہیں۔


7. قرآن سے تعلق کی اہمیت: یہ حدیث ہر مسلمان کو قرآن سے جڑے رہنے کی ترغیب دیتی ہے، خواہ وہ ماہر ہو یا نہ ہو۔


8. محنت اور مہارت دونوں کی فضیلت: اسلام میں محنت اور مہارت دونوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ مہارت والے کو بلند مرتبہ، اور محنت والے کو دوہرا اجر۔


9. تلاوت قرآن کا تسلسل: انسان کو چاہیے کہ وہ قرآن پڑھتا رہے، چاہے وہ غلطیاں ہی کیوں نہ کرتا ہو، کیونکہ یہ عادت اسے آہستہ آہستہ ماہر بنا دے گی۔


10. امید کا پیغام: جو لوگ قرآن پڑھنے میں کمزوری محسوس کرتے ہیں، ان کے لیے اس حدیث میں بہت بڑی خوشخبری ہے کہ ان کی محنت رائیگاں نہیں جائے گی۔





تشریح علامہ مناوی:

(الْمَاهِرُ بِالْقُرْآنِ) یعنی قرآن میں ماہر، حاذق اور skillful وہ شخص جو (پڑھتے ہوئے) رکتا نہ ہو اور اس پر قراءت (پڑھنا) مشکل نہ ہو، کیونکہ اس کا حفظ اچھا ہے، اس میں اتقان ہے اور وہ آسانی سے مخارج کی رعایت رکھتا ہے۔ یہ "مہارت" سے ہے جس کے معنی حذق (skillfulness) کے ہیں۔

(مَعَ السَّفَرَةِ) یعنی "سفرة" (لکھنے والے فرشتوں) کے ساتھ۔ "سفرة" "سافر" کی جمع ہے، جو "سفر" سے ماخوذ ہے۔ اس کی اصل "کشف" (ظاہر کرنا) ہے، کیونکہ کاتب (لکھنے والا) جو کچھ لکھتا ہے اسے ظاہر اور واضح کرتا ہے۔ اسی سے "سِفر" (بکسر السین) کہا جاتا ہے کتاب کو، کیونکہ یہ حقیقتوں کو ظاہر کرتا ہے اور ان سے پردہ اٹھاتا ہے۔ یہاں مراد وہ فرشتے ہیں جو "لوح محفوظ" کے متولی ہیں۔ انہیں "سفرة" اس لیے کہا گیا کہ وہ اللہ کی نازل کردہ کتابوں کو انبیاء تک منتقل کرتے ہیں، گویا وہ ان کی نقل اتارتے ہیں۔ اور بعض نے کہا: اس لیے کہ وہ اللہ کے پیغامات لے کر لوگوں کے پاس سفر کرتے ہیں۔

(الْكِرَامِ) یعنی بزرگوار، "کریم" کی جمع ہے۔ (الْبَرَرَةِ) یعنی نیک اور فرمانبردار، "بار" کی جمع ہے جس کے معنی "محسن" کے ہیں۔

اور (ماہر قاری) کا ان فرشتوں کے ساتھ رفیق ہونے کا مطلب یہ ہے کہ وہ ان کے مرتبے پر فائز ہے، ان کے بلند درجے پر پہنچ گیا ہے، اور ان کی عالی شان بستیوں میں جا بسا ہے جو اللہ تعالیٰ کے قرب میں ہیں۔ جیسا کہ ارشاد ہے: "بے شک متقی لوگ جنتوں اور نہروں میں ہوں گے، سچے مقام پر، قدرت والے بادشاہ کے پاس۔" (سورۃ القمر: 54-55)

اس بلند مقام و مرتبہ پر پہنچ کر کہے گا: "إنا للہ وإنا إلیہ راجعون" (ہم اللہ کے لیے ہیں اور اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں)۔

اور بعض نے کہا: اس کا معنی یہ ہے کہ وہ ان (فرشتوں) جیسا عمل کرنے والا ہے بلکہ ان سے بھی افضل ہے۔ کیونکہ بعض روایات میں آیا ہے کہ فرشتوں کو قرآن حفظ کرنے کی فضیلت نہیں دی گئی اور وہ اسے بنی آدم سے سننے کے لیے حریص رہتے ہیں۔ پس اس سے بڑھ کر شریف صفت اور کیا ہوگی؟ اور اللہ رب العالمین کے کلام سے بڑھ کر کون سی چیز عظیم ہے جو اسی سے شروع ہوا اور اسی کی طرف لوٹے گا؟

قاضی (عیاض) نے فرمایا: "ماہر بالقرآن" وہ ہے جو قرآن کا حافظ ہو، اس پر امین ہو، اسے مومنین تک پہنچاتا ہو، اور ان کے لیے ان مشتبہ چیزوں کو واضح کرتا ہو۔ ایسا شخص "سفرة" (فرشتوں) کے زمرے میں شمار ہوگا، کیونکہ وہ (فرشتے) اس (قرآن) کی اصل کے حامل اور اس کے محافظ ہیں، اسے لے کر اللہ کے انبیاء و رسل پر اترتے ہیں، ان تک اس کے الفاظ پہنچاتے ہیں اور اس کے معانی واضح کرتے ہیں۔

(وَالَّذِي يَقْرَؤُهُ وَيَتَعْتَعُ) یعنی جو قرآن پڑھتا ہے اور اس کی تلاوت میں رک جاتا ہے۔ کلام میں "تعتعہ" کا مطلب ہے کلام میں تردد ہونا، خواہ وہ گھبراہٹ کی وجہ سے ہو، یا لکنت اور رکاوٹ کی وجہ سے، یا کمزور حفظ کی وجہ سے۔ (وَهُوَ عَلَيْهِ) یعنی اور وہ قرآن اس قاری پر (شَاقٌّ) یعنی دشوار ہے، (لَهُ أَجْرَانِ) یعنی اس کے لیے دو اجر ہیں: ایک اجر اس کی قراءت کا، اور دوسرا اجر اس کی مشقت کا۔

اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ تتعتع (رک رک کر پڑھنے والا) ماہر (روان پڑھنے والے) سے افضل ہے، کیونکہ ماہر کا فرشتوں کے ساتھ ہونا دو اجر پانے سے بہتر ہے۔ بلکہ (ماہر کا) ایک اجر بھی (غیر ماہر کے) بہت سے اجر وں سے افضل ہو سکتا ہے ۔

(تخریج: ق د هـ عن عائشة) یعنی اس حدیث کو امام ابن ماجہ (ق)، امام ابوداؤد (د) اور امام ابن ماجہ (هـ) نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا ہے۔

مصنف (منذری) کے طریقہ کار سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان چار (بخاری، مسلم، ابوداؤد، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ) میں سے صرف دو نے اسے روایت کیا ہے، حالانکہ معاملہ اس کے برعکس ہے، بلکہ ان سب (بخاری و مسلم سمیت) نے اسے روایت کیا ہے ۔

[فیض القدیر-للمناوی: حدیث نمبر 9165]

---

خلاصہ و حاصل شدہ اسباق

1. مہارت کی تعریف: قرآن میں ماہر وہ ہے جو روانی سے پڑھے، بغیر کسی رکاوٹ کے، اور تجوید و مخارج کا خیال رکھے۔


2. سفرة سے مراد: "سفرة" سے مراد وہ فرشتے ہیں جو لوح محفوظ کے متولی ہیں اور اللہ کی کتابوں کو انبیاء تک پہنچاتے ہیں۔


3. ماہر قاری کا مرتبہ: ماہر قاری قیامت میں ان بزرگوار فرشتوں کے ساتھ ہوگا، یعنی انہی کے مرتبے پر فائز ہوگا۔


4. فرشتوں سے افضلیت کا امکان: بعض علماء نے کہا کہ ماہر قاری فرشتوں سے بھی افضل ہو سکتا ہے، کیونکہ فرشتے قرآن حفظ کرنے کی فضیلت سے محروم ہیں اور اسے انسانوں سے سننے کے حریص ہیں ۔


5. تتعتع (رک رک کر پڑھنے والا) کا درجہ: جو شخص قرآن پڑھنے میں مشقت اٹھاتا ہے، رک رک کر پڑھتا ہے، اس کے لیے دو اجر ہیں:


   · ایک اجر تلاوت کا
   · دوسرا اجر مشقت اور محنت کا

6. افضلیت کا مسئلہ: مناوی نے واضح کیا کہ تتعتع کرنے والا ماہر قاری سے افضل نہیں ہے، کیونکہ ماہر کا فرشتوں کے ساتھ ہونا دو اجر پانے سے بہتر ہے۔ ایک بڑا اجر کئی چھوٹے اجر وں سے افضل ہوتا ہے ۔


7. قاضی عیاض کی تشریح: قاضی عیاض نے "ماہر بالقرآن" کی ایک جامع تشریح کی ہے کہ وہ نہ صرف حافظ ہو، بلکہ امین ہو، قرآن کو لوگوں تک پہنچانے والا ہو اور اس کے معانی واضح کرنے والا ہو۔ ایسا شخص حقیقی معنوں میں فرشتوں کی صفات کا حامل ہے

۔


۵۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَا حَسَدَ إِلَّا فِي اثْنَتَيْنِ : رَجُلٌ آتَاهُ اللَّهُ الْقُرْآنَ فَهُوَ يَتْلُوهُ آنَاءَ اللَّيْلِ وَآنَاءَ النَّهَارِ ، وَرَجُلٌ آتَاهُ اللَّهُ مَالًا فَهُوَ يُنْفِقُهُ آنَاءَ اللَّيْلِ وَآنَاءَ النَّهَارِ.
ترجمہ:
حضرت ابن عمرؓ سے حضور اقدس ﷺکا یہ ارشاد منقول ہے کہ حسد دو شخصوں کے سوا کسی پر جائز نہیں ایک وہ جس کو حق تعالیٰ شانہ نے قرآن شریف کی تلاوت عطا فرمائی اور وہ دن رات اس میں مشغول رہتا ہے دوسرے وہ جس کو حق سبحانہ نے مال کی کثرت عطا فرمائی اور وہ دن رات اس کو خرچ کرتا ہے ۔




قرآن شریف کی آیات اور احادیث کثیرہ کے عموم سے حسد کی برائی اور ناجائز ہونا مطلقاً معلوم ہوتا ہے اس حدیث شریف سے دو آدمیوں کے بارے میں جواز معلوم ہوتا ہے چونکہ وہ روایات زیادہ مشہور و کثیر ہیں اس لئے علماء نے اس حدیث کے دو مطلب ارشاد فرمائے ہیں اول یہ کہ حسد اس حدیث شریف میں رشک کے معنی میں ہے جس کو عربی میں غبطہ کہتے ہیں حسد اور غبطہ میں یہ فرق ہے کہ حسد میں کسی کے پاس کوئی نعمت دیکھ کر یہ آرزو ہوتی ہے کہ اس کے پاس یہ نعمت نہ رہے خواہ اپنے پاس حاصل ہو یا نہ اور رشک میں اپنے پاس اس کے حصول کی تمنا و آرزو ہوتی ہے عام ہے کہ دوسرے سے زائل ہو یا نہ ہو چونکہ حسد بالاجماع حرام ہے اس لئے علما ء نے اس لفظ حسد کو مجازاً غبطہ کے معنی میں ارشاد فرمایا ہے جو دنیوی امور میں مباح ہے اور دینی امور میں مستحب دوسرا مطلب یہ بھی ممکن ہے کہ بسا اوقات کلام علی سبیل الفرض و التقدیر مستعمل ہوتا ہے یعنی اگر حسد جائز ہوتا تو یہ دو چیزیں ایسی تھیں کہ ان میں جائز ہوتا ۔




۶۔ عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَثَلُ الْمُؤْمِنِ الَّذِي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ كَمَثَلِ الْأُتْرُجَّةِ رِيحُهَا طَيِّبٌ وَطَعْمُهَا طَيِّبٌ ، وَمَثَلُ الْمُؤْمِنِ الَّذِي لَا يَقْرَأُ الْقُرْآنَ كَمَثَلِ التَّمْرَةِ لَا رِيحَ لَهَا وَطَعْمُهَا حُلْوٌ ، وَمَثَلُ الْمُنَافِقِ الَّذِي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ مَثَلُ الرَّيْحَانَةِ رِيحُهَا طَيِّبٌ وَطَعْمُهَا مُرٌّ ، وَمَثَلُ الْمُنَافِقِ الَّذِي لَا يَقْرَأُ الْقُرْآنَ كَمَثَلِ الْحَنْظَلَةِ لَيْسَ لَهَا رِيحٌ وَطَعْمُهَا مُرٌّ " .
ترجمہ:
حضرت ابو موسیؓ نے حضور اقدس ﷺ کا یہ ارشاد نقل کیا ہے کہ جو مؤمن قرآن شریف پڑھتا ہے اس ما مثال ترنج کی سی ہے اس کی خوشبو بھی عمدہ ہوتی ہے اور مزہ بھی لذیذ اور جو مومن قرآن شریف نہ پڑھے اس کی مثال کھجور کی سی ہے کہ خوزبو کچھ نہیں مگر مزہ شیریں ہوتا ہے اور جو منافق قرآن شریف نہیں پڑھتا اس کی مثال حنظل کے پھل کی سی ہے کہ مزہ کڑوا اور خوشبو کچھ نہیں اور جو منافق قرآن شریف پڑھتا ہے اس کی مثال خوشبودار پھول کی سی ہے کہ خوشبو عمدہ اور مزہ کڑوا۔

مقصود اس حدیث سے غیر محسوس شے کو محسوس کے ساتھ تشبیہ دینا ہے تا کہ ذہن میں فرق کلام پاک کے پڑھنے اور نہ پڑھنے میں سہولت سے آ جاوے ورنہ ظاہر ہے کہ کلام پاک کی حلاوت و مہک سے کیا نسبت ترنج و کھجور کو اگرچہ ان اشیاء کے ساتھ تشبیہ میں خاص نکات بھی ہیں جو علوم نبویہ سے تعلق رکھتے ہیں اور نبی کریم ﷺ کے علوم کی وسعت کی طرف مشیر ہیں مثلاً ترنج ہی کو لے لیجئے منہ میں خوشبو پیدا کرتا ہے معدہ کو صاف کرتا ہے ہضم میں قوت دیتا ہے وغیرہ وغیرہ یہ منافع ایسے ہیں کہ قرآت قرآن شریف کے ساتھ خاص مناسبت رکھتے ہیں مثلاً منہ کا خوشبودار ہونا باطن کا صاف کرنا روحانیت میں قوت پیدا کرنا یہ منافع تلاوت میں ہیں جو پہلے منافع کے ساتھ بہت ہی مشابہت رکھتے ہیں ایک خاص کا اثر ترنج میں یہ بھی بتلایا جاتا ہے جس گھر میں ترنج ہو وہاں جن نہیں جاسکتا اگر یہ صحیح ہے تو پھر کلام پاک کے ساتھ خاص مشابہت ہے بعض اطباء سے میں نے سنا ہے کہ ترنج سے حافظہ بھی قوی ہوتا ہے اور حضرت علی کرم ﷲ وجہہ سے احیاء میں نقل کیا ہے کہ تین چیزیں حافظہ کو بڑھاتی ہیں ۔
(1) مسواک اور (2) روزہ اور (3) تلاوت کلام ﷲ شریف
[إحياء علوم الدين-الغزالي: ج1 / ص274]

ابو داؤد کی روایت میں اس حدیث کے ختم پر ایک اور مضمون نہایت ہی مفید ہے کہ بہترہم نشیں کی مثال مشک والے آدمی کی سی ہے اگر تجھے مشک نہ مل سکا تو اس کی خوشبو تو کہیں گئی نہیں اور بدتر ہم نشین کی مثال آگ کی بھٹی والے کی طرح سے ہے کہ اگر سیاہی نہ پہنچے تب بھی دھواں تو کہیں گیا ہی نہیں نہایت ہی اہم بات ہے آدمی کو اپنے ہم نشینوں پر بھً نظر کرنا چاہئے کہ کس قسم کے لوگوں میں ہر وقت نشست و برخاست ہے ۔

۷۔عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : إِنَّ اللَّهَ يَرْفَعُ بِهَذَا الْكِتَابِ أَقْوَامًا ، وَيَضَعُ بِهِ آخَرِينَ.
ترجمہ:
حضرت عمرؓ حضور ﷺ کا یہ ارشاد نقل کرتے ہیں کہ حق تعالیٰ شانہ اس کتاب یعنی قرآن پاک کی وجہ سے کتنے ہی لوگوں کو بلند مرتبہ کرتا ہے اور کتنے ہی لوگوں کو پست و ذلیل کرتا ہے ۔

یعنی جو لوگ اس پر ایمان لاتے ہیں عمل کرتے ہیں حق تعالی شانہ ان کو دنیا و آخرت میں رفعت و عزت عطا فرماتے ہیں اور جو لوگ اس پر عمل نہیں کرتے حق سبحانہ و تقدس ان کو ذلیل کرتے ہیں کلام اﷲ شریف کی آیات سیً بھی یہ مضمون ثابت ہوتا ہے ایک جگہ ارشاد ہے یُضِلُّ بِہٖ کَثِیْرًا وَّیَھْدِیْ بِہٖ کَثِیْرًا حق تعالیٰ شانہ اس کی وجہ سے بہت سے لوگوں کو ہدایت فرماتے ہیں اور بہت سے لوگوبں کو کمراہ دوسری جگہ ارشاد ہےوَ نُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْاٰنِ مَا ھُوَشِفَآئٌ وَّرَحْمَۃٌ لِّلْمُؤْ مِنِیْنَ وَلَا یَزِیْدُ الظّٰلِمِیْنَ اِلَّا خَسَارًا( بنی اسرائیل ۔۹)حضور اکرمﷺ کا ارشاد منقول ہے کہ اس امت کے بہت سے منافق قاری ہوں گے بعض مشائخ سے احیاء میں نقل کیا ہے کہ بندہ ایک سورت کلام پاک کی شروع کرتا ہے تو ملائکہ اس کے لئے ر: حمت کی دعا کرتے رہتے ہیں یہاں تک کہ وہ فارغ ہو اور دوسرا شخص ایک سورت شروع کرتا ہے تو ملائکہ اس کے ختم تک اس پر لعنت کرتے ہیں بعض علماء سے منقول ہے کہ آدمی تلاوت کرتا ہے اور خود اپنے اوپر لعنت کرتا ہے اور اس کو خبر بھی نہیں ہوتی قرآن شریف میں پڑھتا ہے اَلَا لَعْنَۃُ اللّٰہِ عَلیَ الظَّالِمیْن( ہود ۔۲)اور خود ظالم ہونے کی وجہ سے اس وعید میں داخل ہوتا ہے اسی طرح پڑھتا ہے لَعْنَۃُ اللّٰہِ عَلیَ الْکٰذِبِیْن (سورہ آل عمران۔(۶) اور خود جھوٹا ہونے کی وجہ سے اس کا مستحق ہوتا ہے ۔
عامر بن واثلہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر نے نافع بن عبدالحارث کو مکہ مکرمہ کا حاکم بنا رکھا تھا ان سے ایک دفعہ دریافت فرمایا کہ جنگلات کا ناظم کس کو مقرر کر رکھا ہے انھوں نے عرض کیا کہ ابن ابزٰی ؓکو حضرت عمر نے پوچھا کہ ابن ابزٰی کون شخص ہے انہوں نے عرض کیا کہ ہمارا ایک غلام حضرت عمر نے اعتراضاً فرمایا کہ غلام کو امیر کیوں بنا دیا انہوں نے کہا کہ کتاب اﷲ کا پڑھنے والا ہے حضرت عمر ؓنے اس حدیث کو نقل کیا ہے کہ نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے کہ حق تعالیٰ شانہ اس کلام کی بدولت بہت سے لوگوں کے رفع درجات فرماتے ہیں اور بہت سوں کو پست کرتے ہیں۔

*قرآن کی لعنت، بعض قرآن پڑھنے والوں پر»*
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ:
رب تال للقرآن والقرآن يلعنه۔
ترجمہ:
بہت سے قرآن کی تلاوت کرنے والے( ایسے ہوتے ہیں کہ وہ قرآن پڑھ رہے ہوتے ہیں) حالانکہ قرآن ان پر لعنت کر رہا ہوتا ہے۔
[احیاء علوم الدین-امام غزالی» (274/1، ط: دار المعرفۃ)]
تشریح:
بعض اسلاف نے فرمایا کہ ایک بندہ جب قرآن کریم کی کوئی سورۃ شروع کرتا ہے، تو قرآن کریم اس کے لیے رحمت کی دعا کرتا ہے، یہاں تک وہ بندہ اس کی قرأت سے فارغ ہوجاتا ہے، اور ایک بندہ جب قرآن کریم کی کوئی سورۃ شروع کرتا ہے، تو قرآن کریم اس پر لعنت کرتا ہے، یہاں تک وہ بندہ اس کی قرأت سے فارغ ہوجاتا ہے، تو کہا گیا کہ یہ کیسے ہوتا ہے؟ تو جواب میں فرمایا: جب قرآن کریم کی حلال کردہ چیزوں کو حلال جانے اور حرام کردہ چیزوں کو حرام جانے، یعنی جب اس کے اوامر و احکام کو پورا کرے اور اس کی منع کردہ چیزوں سے اپنے آپ کو روکے، تو قرآن کریم اس کے لیے رحمت کی دعا کرتا ہے، ورنہ لعنت کرتا ہے۔
بعض علمائے کرام نے فرمایا: بندہ (بسا اوقات )تلاوت کرتا ہے، تو اپنے اوپر لعنت کرتا ہے، حالانکہ اس کو اس کا پتہ نہیں ہوتا ہے، (کیونکہ) وہ آیت پڑھتا ہے: "الا لعنةالله على الظالمين" (خبردار ظالموں پر اللہ تعالی کی لعنت ہے۔) حالانکہ وہ خود اپنے اوپر یا دوسروں پر ظلم کرتا ہے، وہ آیت پڑھتا ہے: "الا لعنةالله على الكاذبين" (خبردار جھوٹوں پر اللہ تعالی کی لعنت ہے۔) حالانکہ وہ خود جھوٹوں میں سے ہوتا ہے۔
[اتحاف السادة المتقين بشرح إحياء علوم الدين » (469/4، ط: مؤسسۃ التاریخ الاسلامی)]

حضرت عائشہ نے فرمایا:
كم من قارئ يقرأ القرآن والقرآن يلعنه يقرأ ألا لعنة الله على الظالمين، وهو ظالم.
ترجمہ:
کتنے ہی قرآن کریم پڑھنے والے ایسے ہیں، جو قرآن کریم پڑھتے ہیں، حالانکہ قرآن کریم ان پر لعنت کرتا ہے، وہ پڑھتا ہے: ﴿خبردار! ظالموں پر اللہ تعالی کی لعنت ہے۔ (سورۃ ھود:18.الاعراف:44)﴾ حالانکہ وہ خود ظالم ہوتا ہے
[المدخل-لابن الحاج» ج:٢،ص:٢٩٥،ط:دار التراث]

امام ابن ابی حاتم نے اپنی تفسیر میں مہران بن میمون (جو کہ تابعی ہیں) کا قول نقل کیا ہے:
إن الرجل ليصلي ويلعن نفسه في قراءته فيقول: ألا لعنة الله على الظالمين وإنه لظالم۔
ترجمہ:
یقیناً آدمی نماز پڑھتا ہے اور قرأت میں اپنے آپ پر لعنت کرتا ہے، کیونکہ وہ قرآن مجید کی آیت پڑھتا ہے: "الا لعنة الله على الظالمين" ﴿خبردار! ظالموں پر اللہ تعالی کی لعنت ہے۔ (سورۃ ھود:18.الاعراف:44)﴾ حالانکہ وہ خود ظالم ہوتا ہے۔
[تفسير-لابن أبي حاتم» حدیث نمبر:8484]
[تقریب التھذیب:7049 (ص: 585، ط: دار الیسر)]

دائمی فتوی کمیٹی کے فتاوی: (3 / 213) دوسرا ایڈیشن ، میں ہے کہ:
مسلمان کو قرآن کریم پر عمل کے بغیر پڑھنے سے خبردار کیا گیا ہے؛ کیونکہ کچھ اللہ کے بندے ایسے بھی ہوتے ہیں جو قرآن بھی پڑھتے ہیں اور ایسے کام بھی کرتے ہیں جن سے قران کریم روکتا ہے، مثلاً: قرآن کریم سودی لین دین سے روکتا ہے لیکن وہ پھر بھی سودی لین دین کرتا ہے، قرآن کریم ظلم سے روکتا ہے لیکن پھر بھی وہ ظلم کرتا ہے، اسی طرح قرآن کریم غیبت سے روکتا ہے لیکن وہ پھر بھی غیبت کرتا ہے، اسی طرح قرآن کریم کے دیگر احکامات اور ممنوعہ اعمال کا معاملہ ہے۔ اللہ تعالی عمل کی توفیق دے۔

قرآن کریم میں ایسی چیزیں جو اس شخص کی مذمت اور لعنت کا تقاضا کرتی ہیں، مثلاً: وہ شخص قرآن کریم بھی پڑھتا ہے لیکن اس کے احکامات کی مخالفت کرتا ہے، یا ممنوعہ کاموں کا ارتکاب کرتا ہے، وہ شخص اللہ کی کتاب بھی پڑھتا ہے لیکن قرآن کریم کے احکامات اور ممنوعات کا خیال نہیں کرتا جس کی وجہ سے وہ برا بھلا کہلائے جانے کا حقدار ٹھہرتا ہے۔
اگر یہ روایت نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے صحیح ثابت ہو جائے تو اس کا صحیح ترین معنی یہی ہو گا۔"
[مجموع فتاوى ابن باز : 26 / 61]

۸۔عَنْ عَبْدِ الرّحَمْنٰؓ بْنِ عَوْفٍ عَنِ النَّبِیِّ  قَالَ ثَلاثَةٌ تَحْتَ الْعَرْشِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ : القُرْآنُ يُحَاجُّ الْعِبَادَ لَهُ ظَهْرٌ وَبَطْنٌ ، وَالأَمَانَةُ ، وَالرَّحِمُ تُنَادِي : أَلا مَنْ وَصَلَنِي وَصَلَهُ اللَّهُ ، وَمَنْ قَطَعَنِي قَطَعَهُ اللَّهُ " . هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ . .
ترجمہ:
حضرت عبدالرحمن بن عوفؓ حضور اقدس ﷺ سے نقل کرتے ہیں کہ تین چیزیں قیامت کے دن عرش کے نیچے ہوں گی ایک کلام پاک کہ جھگڑے گا بندوں سے قرآن پاک کیلئے ظاہر ہے اور باطن دوسری چیز امانت ہے اور تیسری رشتہ داری جو پکارے گی کہ جس شخص نے مجھ کو جوڑا ﷲ اسکو اپنی رحمت سے ملاوے اور جس نے مجھ کو توڑا ﷲ اپنی رحمت سے اسکو جدا کرے۔

المصدر : تخريج مشكاة المصابيح الصفحة أو الرقم: 2/372 | خلاصة حكم المحدث : [حسن كما قال في المقدمة]


ان چیزوں کے عرش کے نیچے ہونے سے مقصود ان کا کمال قرب ہے یعنی حق سبحانہ و تقدس کے عالی دربار میں بہت ہی قریب ہوں گی کلام ﷲ شریف کے جھگڑنے کا مطلب یہ ہے کہ جن لوگوں نے اس کی رعایت کی اس کا حق ادا کیا اس پر عمل کیا ان کی طرف سے دربار حق سبحانہ میں جھگڑے گا اور شفاعت کرے گا ان کے درجے بلند کرائے گا ملا علی قاری نے بروایت ترمذی نقل کیا ہے کہ قرآن شریف بارگاہ الٰہی میں عرص کرے گا کہ اس کو جوڑا مرحمت فرمائیں تو حق تعالی شانہ کرامت کا تاج مرحمت فرماویں گے پھر وہ زیادتی کی درخواست کرے گا تو حق تعالیٰ شانہ اکرام کا پورا جوڑا مرحمت فرماویں گے پھر وہ درخواست کرے گا کہ یا ﷲ آپ اس شخص سے راضی ہو جائیں تو حق سبحانہ و تقدس اس سے رضا کا اظہار فرماویں گے اور جب کہ دنیا میں محبوب کی رضا سے بڑھ کر کوئی بھی بڑی سے بڑی نعمت نہیں ہوتی تو آخرت میں محبوب کی رصا کا مقابلہ کون سے نعمت کر سکتی ہے اور جن لوگوں نے اس کی حق تلفی کی ہے ان سے اس بارے مطالبہ کرے گا کہ میری کیا رعایت کی میرا کیا حق ادا کیا شرح احیاء میں امام صاحب سے نقل کیا ہے کہ سا میں دو مرتبہ ختم کرنا قرآن شریف کا حق ہے اب وہ حضرات جو کبھی بھول کر بھی تلاوت نہیں کرتے ذرا غور فرمالیں کہ اس قوی مقابل کے سامنے کیا جواب دہی کریں گے موت بہر حال آنے والی چیز ہے اس سے کسی طرح مفر نہیں قرآن شریف کے ظاہر اور باطن ہونے کا مطلب ظاہر یہ ہے کہ ایک ظاہری معنی ہیں جن کو ہر شخص سمجھتا ہے اور ایک باطنی معنی ہیں جن کو ہر شخص نہیں سمجھتا جس کی طرف حضور اقدس ﷺ نے اس ارشاد نے اشارہ کیا ہے جو شخص قرآن پاک میں اپنی رائے سے کچھ کہے اگر وہ صحیح بھی ہو تب بھی اس شخص نے خطا کی بعض مشائخ نے ظاہر سے مراد اس کے الفاظ فرمائے ہیں کہ جن کی تلاوت میں ہر شخص برابر ہے اور باطن سے مراد اس کے معنی اور مطالب ہیں جو حسب استعداد مختلف ہوتے ہیں ابن مسعود فرماتے ہیں کہ اگر علم چاہتے ہو تو قرآن پاک کے معانی میں غورو فکر کرو کہ اس میں اورلین و آخرین کا علم ہے مگر کلام پاک کے معنی کے لئے جو شرائط و آداب ہیں ان کی رعایت ضروری ہے یہ نہیں کہ ہمارے زمانے کی طرح سے جو شخص عربی کے چند الفاظ کے معنی جان لے بلکہ اس سے بھی بڑھ کر بغیر کسی لفظ کے معنی جانے اردو ترجمے دیکھ کر اپنی رائے کو اس میں داخل کر دے اہل فن نے تفسیر کے لیے پندرہ علوم پر مہارت ضروری بتلائی ہے وقتی ضرورت کی وجہ سے مختصراً عرص کرتا ہوں جس سے معلوم ہو جاوے گا کہ بطن کلام پاک تک رسائی ہر شخص کو نہیں ہو سکتی اول لغت جس سے کلام پاک کے مفر الفاظ کے معنی معلوم ہو جاویں مجاہد کہتے ہیں کہ جو شخص اﷲ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتا ہے اس کو جائز نہیں کہ بدوں معرفت لغات عرب کے کلام پاک میں کجھ لب کشائی کرے اور چند لعات کا معلوم ہوجانا کافی نہیں اس لیے کہ بسا اوقات لفظ چند معانی میں مشترک ہوتا ہے اور وہ ان میں سے ایک دو معنی جانتا ہے اور فی الواقع اس جگہ کوئی اور معنی مراد ہوتے ہیں دوسری نحو کا جاننا صروری ہے اس لئے کہ اعراب کے تعیر و تبدل سے معنی بالکل بدل جاتے ہیں اور اعراب کی معرفت نحو پر موقوف ہے تیسرے صرف کا جاننا ضروری ہے اس لئے کہ بنا اور صیغوں کے اختلاف سے معانی بالکل مختلف ہو جاتے ہیں ابن فارس کہتے ہیں کہ جس شخص سے کلم صرف فوت ہو گیا اس سے بہت خچھ فوت ہو گیا علامہ زمخشری اعجوبات تفسیر مین نقل کرتے ہیں کہ ایک شخص نے کلام پاک کی آیت یوم ندعوا کل اناس بامامھم ترجمہ: ( جس دن کہ پکاریں گے ہم ہر شخص کو اس کے مقتدا اور پیش رو کے ساٹھ ) اس کی تفسیر صرف کی ناواقفیت کی وجہ سے یہ کی کہ جس دن پکاریں گے ہر شخص کو ان کی ماؤں کے ساٹھ امام کا لفظ جو مفرد تھا اس کو ام کی جمع سمجھ گیا اگر وہ صرف سے واقف ہوتا تو معلوم ہو جاتا کہ ام کی جمع امام نہیں جوتھے اشتقاق کا جاننا ضروری ہے اس لئے کہ لفظ جب کہ دو مادوں سے مشتق ہو تو اس کے معنی مختلف ہو ں گے جیسا کہ مسیح کا لفظ ہے کہ اس کا اشتقاق مسح سے بھی ہے جس کے معنی چھونے اور تر ہاتھ کسی چیز پر پھیرنے کے ہیں اور مساحت سے بھی ہے جس کے معنی پیمائش کے ہیں پانچویں علم معانی کا جاننا ضروری ہے جس سے کلام کی ترکیبیں معنی کے اعتبار سے معلوم ہوتی چھٹے علم بیان کا جاننا ضروری ہے جس سے کلام کا ظہور و خفا تشبیہ و کنایہ معلوم ہوتا ہے ساتویں علم بدیع جس سے کلام کی خوبیاں تعبیر کے اعتبار سے معلوم ہوتی ہیں یہ تینوں فن علم بلاغت کہلاتے ہیں مفسر کے اہم علوم میں سے ہیں اس لیے کہ کلام پاک جو سراسر اعجاز ہے اس سے اس کا اعجاز معلوم ہوتا ہے اٹھویں علم قرائت کا جاننا بھی ضروری ہے اس لیے کہ مختلف قرائتوں کی وجہ سے مختلف معنی معلوم ہوتے ہیں بعض معنی کی دوسرے معنی پر ترجیح معلوم ہو جاتی ہے نویں علم عقائد کا جاننا بھی ضروری ہے اس لئے کہ کلام پاک میں بعض ایات ایسی بھی ہیں جن کے ظاہری معنی کا اطلاق حق سبحانہ و تقدس پر صحیح نہیں اس لئے ان میں کسی تاویل کی ضرورت پڑے گی جیسے کہ ید اﷲ فوق ایدیھم دسویں اصول فقہ کا معلوم ہونا ضروری ہے کہ جس سے وجوہ استدلال و استنباط معلوم ہو سکیں گیارھوین اسباب نزول کا معلوم ہونا بھی ضروری ہے کہ شان نزول سے آیت کے معنی زیادہ وصح ہوں گے اور بسا اوقات اصل معنی کا معلوم ہونا بھی شان نزول پر موقوف ہوتا ہے بارہویں ناسخ و منسوخ کا معلوم ہونا بھی ضروری ہے تا کہ منسوخ شدہ احکام ’’معمول بہا‘‘ سے ممتاز ہو سکیں تیرھویں علم فقہ کا معلوم ہونا بھی ضروری ہے کہ جزئیات کے احاطہ سے کلیات پہچانے جاتے ہیں چودھویں ان حادیث کا جاننا ضروری ہے جو قرآن پاک کی مجمل آیات کی تفسیر واقع ہوئی ہیں ۔
ان سب کے بعد پندرھواں وہ علم وہبی ہے جو حق سبحانہ و تقدس کا عطیہ خاص ہے اپنے مخصوص بندوں کو عطا فرماتا ہے جس کی طرف اس حدیث شریف میں اشارہ ہے من عمل بما علم ورث اﷲ علم مال یعلم( جب کہ بندہ اس چیز پر عمل کرتا ہے جس کو جانتا ہے تو حق تعالی شانہ ایسی چیزوں کا علم عطا فرماتے ہیں جن کو وہ نہیں جانتا ) ۔
اسی کی طرف حضرت علی کرم اﷲ وجہ نے اشارہ فرمایا جب کہ ان سے لوگوں نے پوچھا کہ حضور اکرم ﷺ نے آپ کو کچھ خاص علوم عطا فرمائے ہیں یا خاص وصایا جو عام لوگوں کے علاوہ آپ کے ساتھ مخصوص ہیں انہوں نے فرمایا کہ قسم ہے اس ذات پاک کی جس نے جنت بنائی اور جان پیدا کی اس فہم کے علاوہ کچھ نہیں ہے جس کو اﷲ تعالیٰ شانہ نے اپنے کلام پاک کے سمجھنے کے لئے کسی کو عطا فرمادیں ابن ابی الدنیا کا مقولہ ہے کہ علوم قرآن اور جو اس سے حاصل ہو وہ ایسا سمندر ہے کہ جس کا کنارہ نہیں یہ علوم جو بیان کئے گئے مفسر کے لیء بطور آلہ کے ہیں اگر کوئی شخص ان علوم کی واقفیت بغیر تفسیر کرے تو وہ تفسیر بالرائے میں داخل ہے جس کی ممانعت آئی ہے صحابہ رضی اﷲ تعالی عنہم کے لئے علوم عربیہ طبعاً حاصل تھے اور بقیہ علوم مشکوۃ نبوت سے مستفاد تھے۔ علامہ سیوطی کہتے ہیں کہ شاید تجھے یہ خیال ہو کہ علم وہبی کا حاصل کرنا بندہ کی قدرت سے باہر ہے لیکن حقیقت ایسی نہیں بلکہ اس کے حاصل کرنے کا طریقہ ان اسباب کا حاصل کرنا ہے جس پر حق تعالی شانہ اس کو مرتب فرماتے ہیں مثلاً علم پر عمل اور دنیا سے بے رغبتی وغیرہ وغیرہ۔
کیمیائے سعادت میں لکھا ہے کہ قرآن شریف کی تفسیر تین شخصوں پر ظاہر نہیں ہوتی: اول وہ جو علوم عربیہ سے واقف نہ ہو، دوسرے وہ شخص جو کسی کبیرہ پر مصر ہو یا بدعتی ہو کہ اس گناہ اور بدعت کی وجہ سے اس کا دل سیاہ ہو جاتا ہے جس کی وجہ سے معرفت قرآن سے قاصر رہتا ہے، تیسرے وہ شخص کہ کسی اعتقادی مسئلہ میں ظاہر کا قائل ہو اور کلام ﷲ کی جو عبارت اس کے خلاف ہواس طبیعت اچٹتی ہو اس شخص کو بھی فہم قرآن سے حصہ نہیں ۔ اللھم احفظنا منھم۔




۹۔ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يُقَالُ لِصَاحِبِ الْقُرْآنِ اقْرَأْ وَارْتَقِ وَرَتِّلْ كَمَا كُنْتَ تُرَتِّلُ فِي الدُّنْيَا ، فَإِنَّ مَنْزِلَكَ عِنْدَ آخِرِ آيَةٍ تَقْرَؤُهَا " .
ترجمہ:
حضرت عبداﷲ بن عمروؓ نے حضور اقدس ﷺ کا ارشاد نقل کیا ہے ( کہ قیامت کے دن ) صاحبِ قرآن سے کہا جاوے گا کہ قرآن شریف پڑھتا جا اور بہشت کے درجوں پر چڑھتا جا اور ٹھہر ٹھہر کر پڑھ جیسا کہ تو دنیا میں ٹھہر ٹھہر کر پڑھا کرتا تھا بس تیرا مرتبہ وہی ہے جہاں آخری آیت پر پہنچے۔



صاحب القرآن سے بظاہر حافظ مراد ہے اور ملا علی قاری نے بڑی تفصیل سے اس کو واضح کیا ہے کہ یہ فضیلت حافظ ہی کے لئے ہے ناظرہ خواں اس میں داخل نہیں اول اس وجہ سے کہ صاحب قرآن کا لفظ بھی اسی طرف مشیر ہے دوسرے اس وجہ سے کہ مسند احمد کی روایت میں ہے حَتّٰی یَقْرَأَ شَیْئًا مَّعَہ ( یہاں تک کہ پڑھے جو کچھ قرآن شریف اس کے ساتھ ہے ) یہ لفظ اس امر میں زیادہ ظاہر ہے کہ اس سے حافظ مراد ہے اگرچہ محتمل وہ ناظرہ خواں بھی ہے جو کہ قرآن شریف بہت کثرت کے ساتھ پڑھتا ہو مرقاۃ میں لکھا ہے وہ پڑھنے والا مراد نہیں جس کو قرآن لعنت کرتا ہوں یہ اس حدیث کی طرف اشارہ ہے کہ بہت سے قرآن پڑھنے والے ایسے ہیں کہ وہ قرآن کو پڑھتے ہیں اور قرآن ان کو لعنت کرتا ہے اس لئے اگر کسی شخص کے عقائد وغیرہ درست نہ ہوں تو قرآن شریف کے پڑرھنے سے اس کی مقبولیت پر استدلال نہیں ہوسکتا خوارج کے بارے میں بکثرت اس قسم کی احادیث وارد ہوئی ہیں ۔
ترتیل کے متعلق شاہ عبدالعزیز صاحب نور اﷲ مرقدہ نے اپنی تفسیر میں تحریر فرمایا ہے کہ ترتیل لعت میں صاحف اور واضح طور سے پڑھنے کو کہتے ہیں اور شرع شریف میں کئی چیز کی رعایت کے ساتھ تلاوت کرنے کو کہتے ہیں اول حرفوں کو صحیح نکالنا یعنی اپنے مخرج سے پڑھنا ا کہ طا ؔکی جگہ تا اؔور ضاد ؔکی جگہ ظا نہؔ نکلے دوسرے وقوف کی جگہ پر اھی طرح سے ٹھہرنا تا کہ وصل اور قطع کلام کا بے محل نہ ہو جاوے تیقرے حرکتوں میں اشباع کرنا یعنی زیر زبر پیش کو اھی طرح سے ظاہر کرنا چوٹھے آواز کوتھوڑا سے بلند کرنا تا کہ کلام پاک کے الفاظ زبان سے نکل کر کانوں تک پہنچیں اور وہاں سے دل پر اثر کریں پانچویں آواز کو ایسی طرح سے درست کرنا کہ اس میں درد پیدا ہوجاوے اور دل پر جلدی اثر کرے کہ درد والی آواز دل پر جلدی اثر کرتی ہے اور اس سے روح کو قوت اور تاثر زیادہ ہوتا ہے اسی وجہ سے اطبا نے کہا ہے کہ جس دوا کا اثر دل پر پہنچانا ہو اس کو خوشبو میں ملا کر دیا جاء کہ دل اس کو جلدی کھینچتا ہے اور جس دوا کا اثر جگر میں پہنچانا ہو اس کو شیرینی میں ملایا جائے کہ جگر مٹھائی کا جاذب ہے اسی وجہ سے بندہ کے نزدیک اگر تلاوت کے وقت خوشبو کا خاص استعمال کیا جاوے تو دل پر تاثیر میں زیادہ تقویت ہو گی چھٹے تشدید اور مد اچھی طرح ظاہر کیا جاوے کہ اس کے اظہار سے کلام پاک میں عظمت ظاہر ہوتی ہے اور تاثیر میں اعانت ہوتی ہے ساتوین آیات رحمت و عذاب کا حق ادا کرے جیسا کہ تمہید میں گذر چکا یہ سات چیزیں ہیں جن کی رعایت ترتیل کہلاتی ہے اور مقصود ان سب سے صرف ایک ہے یعنی کلام پاک کا فہم و تدبر حضرت ام المؤمنین ام سلمہ سے کسی نے پوچھا کہ حضور کلام اﷲ شریف کس طرح پڑھتے تھے انھوں نے کہا کہ سب حرکتوں کو بڑھاتے تھے یعنی زیر زبر وغیرہ کو پورا نکالتے تھے اور ایک ایک حرف الگ الگ ظاہر ہوتا تھا ترتیل سے تلاوت مستحب ہے اگرچہ معنی نہ سمجھتا ہو۔
ابن عباسؓ کہتے ہیں کہ میں ترتیل سے القارعۃ اور اذا زلزلت پڑھوں یہ بہتر ہے اس سے کہ بلاترتیل سورہ بقرۃ اور آل عمران پڑھوں ۔
شراح اور مشائخ کے نزدیک حدیث بالا کا مطلب یہ ہے کہ قرآن پاک کی ایک ایک آیت پڑھتا جا اور ایک ایک درجہ اوپر چڑھتا جا اسلئے کہ روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ جنت کے درجات کلام ﷲ شریف کی آیات کے برابر ہیں لہٰذا جو شخص جتنی آیات کا ماہر ہو گا اتنے ہی درجہ اوپر اسکا ٹھکانہ ہو گا اور جو شخص تمام کلام پاک کا ماہر ہوگا وہ سب سے اوپر کے درجے میں ہو گا ۔
ملا علی قاری نے لکھا ہے کہ حدیث میں وارد ہے کہ قرآن پڑھنے والے سے اوپر کوئی درجہ نہیں پس قراء آیات کی بقدر ترقی کریں گے اور علامہ دانی سے اہل فن کا اس پر اتفاق نقل کیا ہے کہ قرآن شریف کی آیات چھ ہزار (۶۰۰) ہیں لیکن اس کے بعد کی مقدار میں ( یعنی تعداد میں ) اختلاف ہے اور اتنے اقوال نقل کئے ہیں۔۲۰۴۔ ۱۴۔ ۱۹۔ ۲۵۔ ۳۶۔
شرح احیاء میں لکھا ہے کہ ہر آیت ایک درجہ ہے جنت میں پس قاری سے کہا جاوے گا کہ جنت کے درجات پر اپنی تلاوت کے بقدر چڑھتے جاؤ جو شخص قرآن پاک تمام پورا کرلے گا وہ جنت کے اعلی درجے پر پہنچے گا اور جو شخص کچھ حصہ پڑھا ہوا ہو گا وہ اس کی بقدر درجات پر پہنچے گا بالجملہ منتہائے ترقی منتہائے قرات ہو گی بندہ کے نزدیک حدیث بال کا مطلب کچھ اور معلوم ہوتا ہے فَاِنْ کَانَ صَوَاباً فَمِنَ اللّٰہِ وَاِنْ کَانَ خَطَأً فَمِنِّیْ وَمِنَ الَّشیْطَانِ وَاللّٰہُ وَرَسُوْلُہٗ مِنْہُ بَرٓیْا ناگر درست ہو تو حق تعالی شانہ کی اعانت سے ہے اور اگر غلط ہو تو میری اپنی تقصیر سے ہے اﷲ اور رسول اس سے بری ہیں ۔
حاصل اس مطلب کا یہ ہے کہ حدیث بالا سے درجات کی وہ ترقی مراد نہیں جو آیات کے لحاظ سے فی آیت ایک درجہ ہے اس لئے کہ اس ترقی میں ترتیل سے پڑھنے نہ پڑھنے کو بظاہر کوئی تعلق نہیں معلوم ہوتا جب ایک آیت پڑھی جائے ایک درجہ کی ترقی ہو گی عام ہے کہ ترتیل سے ہو یا بلا ترتیل بلکہ اس حدیث میں بظاہر دوسری ترقی باعتبار کیفیت مراد ہے جس میں ترتیل سے پڑھنے نہ پڑھنے کو دخل ہے لہٰذا جس ترتیل سے دنیا میں پڑھتا تھا اسی ترتیل سے آخرت میں پڑھ سکے گا اور اس کے موافق درجات میں ترقی ہوتی رہے گی ملا علی قاری نے ایک حدیث سے نقل کیا ہے کہ اگر دنیا میں بکثرت تلاوت کرتا رہا تب تو اس وقت بھی یاد ہو گا ورنہ بھول جائے گا اﷲ جل شانہ اپنا فضل فرماویں کہ ہم میں بہت سے لوگ ایسے ہیں جن کو والدیں نے دینی شوق میں یاد کرا دیا تھا مگر وہ اپنی لاپرواہی اور بے توجہی سے دنی ہی میں ضائع کر دیتے ہیں اور اس کے بالمقابل بعض احادیث میں وارد ہوا ہے کہ جو شخص قرآن پاک یاد کرتا ہوا اور اس میں محنت و مشقت برداشت کرتا ہوا مرجائے وہ حفاظ کی جماعت میں شمار ہو گا حق تعالیٰ کے یہاںعطا میں کوئی کمی نہیں کوئی لینے والا ہو۔
اس کے الطاف تو ہیں عام شہیدی سب پر
تجھ سے کیا ضد تھی اگر تو کسی قابل ہوتا






حافظِ قرآن کا جنت میں بلند درجہ:
حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
" (يقال لصاحب القرآن يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِذَا دَخَلَ الْجَنَّةَ: اقْرَأْ وَاصْعَدْ) (¬1) (وَرَتِّلْ كَمَا كُنْتَ تُرَتِّلُ فِي الدُّنْيَا، فَإِنَّ مَنْزِلَتَكَ عِنْدَ آخِرِ آيَةٍ تَقْرَؤُهَا) (¬2) (فَيَقْرَأُ وَيَصْعَدُ بِكُلِّ آيَةٍ دَرَجَةً , حَتَّى يَقْرَأَ آخِرَ شَيْءٍ مَعَهُ) (¬3) "
ترجمہ:
"قرآن والے (حافظِ قرآن) سے جب وہ جنت میں داخل ہو گا تو کہا جائے گا: (قرآن) پڑھتے جاؤ اور چڑھتے جاؤ (¬1)، اور ٹھہر ٹھہر کر پڑھو جیسے تم دنیا میں ٹھہر ٹھہر کر پڑھا کرتے تھے، کیونکہ تمہارا مقام آخری آیت کے مقابل ہے جو تم پڑھو گے (¬2)۔ پس وہ پڑھے گا اور ہر آیت کے ساتھ ایک درجہ چڑھتا جائے گا، یہاں تک کہ وہ اپنی آخری آیت پڑھ لے گا جو اس کے پاس ہے (¬3)۔"
---
تخریج و حوالہ جات:
(¬1)سنن ابن ماجہ:3780، مسند احمد:11360، سنن ترمذی:2914، صحیح الجامع:8121

(¬2)سنن ابی داود:1464، سنن ترمذی:2914، مسند احمد:6799، الصحيحة:2240

(¬3)سنن ابن ماجہ:3780، مسند احمد:11378

[الجامع الصحيح للسنن والمسانيد: ج4/ص720]
---
تشریح امام السیوطی:
"قرآن والے سے کہا جائے گا" - 
امام توربشتی رحمہ اللہ نے فرمایا:
"کسی چیز کی صحبت (رفاقت) کا مطلب ہے اس کا لازم پکڑنا۔ یہ جسمانی طور پر ہوتا ہے جو اصل اور زیادہ ہے، اور یہ توجہ اور ہمت سے بھی ہوتا ہے۔ 'صاحب القرآن' وہ ہے جو اپنی ہمت اور توجہ سے قرآن کو لازم پکڑے۔ یہ کبھی حفظ و تلاوت سے ہوتا ہے اور کبھی تدبر اور عمل سے۔
اگر ہم پہلے معنی (حفظ و تلاوت) لیں تو مراد یہ ہے کہ درجات میں سے بعض (حفظ کے مطابق) ملتے ہیں، بعض نہیں، اور حدیث میں جو منزلت کا ذکر ہے وہ صرف حفظ و تلاوت کے مطابق ملنے والی عزت ہے۔ ایسا اس لیے کہ ہم دین کے اس اصول کو جانتے ہیں کہ کتاب اللہ پر عمل کرنے والا اور اس میں تدبر کرنے والا، اس حافظ اور قاری سے افضل ہے جو عمل و تدبر میں اس کے مقام تک نہیں پہنچا۔
اور اگر ہم دوسرے معنی (تدبر و عمل) لیں - جو دونوں میں زیادہ حق اور کامل ہے - تو مراد یہ ہے کہ وہ تمام درجات جو آیات کے ذریعے ملتے ہیں، ان میں سے ہر ایک کا استحقاق ہوگا۔ اس صورت میں قیامت کی تلاوت کا اندازہ عمل کے مطابق ہوگا۔ کوئی شخص کوئی آیت اس وقت تک نہیں پڑھ سکے گا جب تک اس نے اس کے تمام واجبات ادا نہ کر لیے ہوں۔ اور اس کا مکمل حصول صرف نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ہے، پھر امت کے لیے ان کے دین میں مراتب و منازل کے مطابق۔ ہر شخص اس قدر پڑھے گا جتنا اس نے قرآن کو تدبر و عمل سے لازم پکڑا تھا۔"
[قوت المغتذي على جامع الترمذي للسيوطي: 2/732]
---
 وضاحت:
علامہ البانی نے سلسلة الأحاديث الصحیحة (2240) میں فرمایا:
"جان لو کہ 'صاحب القرآن' سے مراد حافظِ قرآن ہے جو اسے سینے میں یاد کیے ہوئے ہو، جیسا کہ نبی ﷺ کا فرمان ہے: "يؤم القوم أقرؤهم لكتاب الله" یعنی ان میں سب سے زیادہ حافظ قرآن امامت کرائے۔ پس جنت کے درجات میں تفاضل کا دارومدار دنیا میں حفظ پر ہے، نہ کہ قیامت کے دن کی قراءت پر جیسا کہ بعض لوگوں نے سمجھا ہے۔ اس میں حافظ قرآن کے لیے واضح فضیلت ہے، بشرطیکہ اس نے اللہ تعالیٰ کے لیے حفظ کیا ہو، نہ کہ دنیا اور درہم و دینار کے لیے۔ ورنہ نبی ﷺ نے فرمایا: "أكثر منافقي أمتي قراؤها" (میری امت کے اکثر منافق قرآن پڑھنے والے ہیں)۔"
﴿نوٹ: اکثر قرآن پڑھنے والے منافق ہیں، نہیں فرمایا۔﴾
امام طیبی نے فرمایا:
"اس حدیث میں حافظ قرآن کی عظمت بیان کی گئی ہے کہ اس کے عمل کے مطابق اس کا درجہ بلند ہوگا۔ 'اقرأ واصعد' کا مطلب ہے کہ جنت میں اس کا درجہ اس کی قراءت کے مطابق بلند ہوتا جائے گا۔"
---
حاصل شدہ اسباق و نکات
1. حافظ قرآن کا بلند مرتبہ: حافظ قرآن کو جنت میں خصوصی عزت دی جائے گی اور اس کا درجہ اس کی قراءت کے مطابق بلند ہوگا۔
2. ترتیل کی اہمیت: حدیث میں دنیا کی طرح جنت میں بھی ترتیل (ٹھہر ٹھہر کر پڑھنے) کا حکم ہے، جو اس بات کی دلیل ہے کہ ترتیل ہمیشہ محبوب ہے۔
3. درجات کا دارومدار: جنت میں درجات کا دارومدار دنیا میں کیے گئے عمل پر ہے، نہ کہ صرف قیامت کے دن کی قراءت پر۔
4. نیت کی شرط: علامہ البانی نے واضح کیا کہ یہ فضیلت صرف اس حافظ کو ملے گی جس کی نیت خالص اللہ کی رضا ہو، نہ کہ دنیا کا کوئی مفاد۔
5. منافق قاری کا خطرہ: تشریح کی حدیث میں منافق قاریوں سے بھی خبردار کیا گیا ہے جو قرآن تو پڑھتے ہیں لیکن ان کے دل میں نفاق ہے۔
6. عمل کی جزا: یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو ان کے اعمال کی جزا بھرپور عطا فرمائے گا۔
7. قرآن کی عظمت: قرآن پڑھنے والے کا جنت میں بلند ہونا اس کتاب کی عظمت کو ظاہر کرتا ہے۔
8. تلاوت کا تسلسل: قیامت/جنت میں بھی قرآن کی تلاوت جاری رہے گی، جو اس کی لذت اور فضیلت کو ظاہر کرتی ہے۔




۱۰۔ عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ " مَنْ قَرَأَ حَرْفًا مِنْ كِتَابِ اللَّهِ فَلَهُ بِهِ حَسَنَةٌ ، وَالْحَسَنَةُ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا ، لَا أَقُولُ الم حَرْفٌ ، وَلَكِنْ أَلِفٌ حَرْفٌ وَلَامٌ حَرْفٌ وَمِيمٌ حَرْفٌ " ۔
ترجمہ:
حضرت ابن مسعودؓ نے حضور اقدس ﷺ کا ارشاد نقل کیا ہے: جو شخص ایک حرف کتاب ﷲ کا پڑھے اس کیلئے اس حرف کے عوض ایک نیکی ہے اور ایک نیکی کا اجر دس نیکی کے برابر ملتا ہے میں یہ نہیں کہتا کہ سارا الم ایک حرف ہے بلکہ الف ایک حرف لام ایک حرف میم ایک حرف۔
(رواہ الترمذی وقال ھذا حدیث حسن صحیح غریب اسناد او الدارمی)
المحدث : الألباني 
المصدر : صحيح الترمذي الصفحة أو الرقم: 2910 | خلاصة حكم المحدث : صحيح
المصدر : صحيح الجامع الصفحة أو الرقم: 6469 | خلاصة حكم المحدث : صحيح
المصدر : صحيح الترغيب الصفحة أو الرقم: 1416 | خلاصة حكم المحدث : صحيح

مقصود یہ ہے کہ جیسے اور جملہ اعمال میں پورا عمل ایک شمار کیا جاتا ہے کلام پاک میں ایسے نہیں بلکہ اجزاء عمل بھی پورے عمل شمار کئے جاتے ہیں اور اس لئے تلاوت کلام پاک میں ہر ہر حرف ایک ایک نیکی شمار کی جاتی ہے اور ہر نیکی پر حق تعالی شانہ کی طرف سےمَنْ جَآئَ بِا لْحَسَنَۃِ فَلَہٗ عَشْرُ اَمْثَا لِھَا( سورہ انعام۱۰) ( جو شخص ایک نیکی لاوے اس کو دس نیکی کے بقدر اجر ملتا ہے ) دس حصہ اجر کا وعدہ ہے اور یہ اقل درجہ ہے وَاﷲُ یُضَاعِفُ لِمَنْ یَّشَآئ (سورہ مقرہ:۳۶) حق تعالیٰ شانہ جس کے لئے چاہتے ہیں اجر زیادہ فرما دیتے ہیں ) ہر حرف کو مستقل نیکی شمار کرنے کی مثال حضور نے ارشاد فرمادی کہ الم پورا ایک حرف شمار نہیں ہو گا بلکہ الف لام میم علیحدہ علیحدہ حرف شمار کیء جائیں گے اور اس طرح پر الم کے مجموعہ پر تیس نیکیاں ہو گئیں اس میں اختلاف ہے کہ الم سے سورہ بقرہ کا شروع مراد ہے یا اَلَمْ تَرَکَیْفَ فَعَلَ رَبُّکَ بِاَ صْحَابِ الْفِیْل مراد ہے اگر سورہ بقرہ کا شروع مراد ہے تو بظاہر مطلب یہ ہے کہ لکھے ہوئے حروف کا اعتبار ہے اور لکھنے میں چونکہ وہ بھی تین ہی حروف لکھے جاتے ہیں اس لئے تیس نیکیاں ہوئیں اور اگر اس سے سورہ فیل کا شروع مراد ہے تو پھرسورہ بقرہ کے شروع میں جو الم ہے وہ نو حروف ہیں اس لئے اس کا اجر نوے نیکیاں ہو گئیں بیہقی کی روایت میں ہے کہ میں یہ نہیں کہتا کہ بسم اﷲ ایک حرف ہے بلکہ ب س م یعنی علیحدہ علیحدہ حروف مراد ہیں ۔




قرآن کے ہر حرف پر اجر۔
حديث#1
حضرت عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
مَنْ قَرَأَ حرفا مِنْ كِتَابِ اللَّهِ كَتَبَ اللَّهُ لَهُ حَسَنَةً، لَا أَقُولُ: {الم ذَلِكَ الْكِتَابُ} (البقرة: 2) ، وَلَكِنَّ الْحُرُوفَ مُقَطَّعَةٌ عَنِ الْأَلِفِ وَاللَّامِ والميم ".:
[وفي رواية]
وَلَكِنَّ الْأَلِفَ حرف، وَاللَّامَ حَرْفٌ، والميم حَرْفٌ، وَالذَّالَ حَرْفٌ، وَاللَّامَ حَرْفٌ، وَالْكَافَ حرف»
ترجمہ:
"جس شخص نے کتاب اللہ کا ایک حرف پڑھا، اللہ اس کے لیے ایک نیکی لکھتا ہے۔ میں یہ نہیں کہتا کہ 'الم' ایک حرف ہے، لیکن حروف کو الگ الگ کیا جائے گا (یعنی الف، لام، میم)۔"
دوسری روایت میں ہے:
"لیکن الف ایک حرف ہے، لام ایک حرف ہے، میم ایک حرف ہے، ذال ایک حرف ہے، لام ایک حرف ہے، کاف ایک حرف ہے۔"
[المعجم الأوسط-للطبراني:314، الترغيب والترهيب للأصبهاني:2294، مجمع الزوائد-للهيثمي:11654]
تخریج:
[مصنف ابن أبي شيبة:29933، مسند البزار:2761، شعب الإيمان-للبيهقي:1830]





حديث#2
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: 
مَنْ قَرَأَ حرفا مِنْ كِتَابِ اللهِ فَلَهُ بِهِ حَسَنَةٌ، وَالحَسَنَةُ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا، لاَ أَقُولُ الم حرف، وَلَكِنْ أَلِفٌ حرف وَلاَمٌ حَرْفٌ وَمِيمٌ حرف
[وفي رواية]
...ذَلِكَ بِأَنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ: {مَنْ جَاءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهُ عَشْرُ أَمْثَالِها} (الأنعام: 160)
ترجمہ:
"جس شخص نے کتاب اللہ کا ایک حرف پڑھا، اس کے لیے اس کے بدلے ایک نیکی ہے، اور نیکی دس گنا ہے۔ میں یہ نہیں کہتا کہ 'الم' ایک حرف ہے، لیکن الف ایک حرف ہے، لام ایک حرف ہے، اور میم ایک حرف ہے۔"
اور ایک روایت میں اضافہ ہے:
یہ اس لیے کہ اللہ عزوجل فرماتا ہے: {جو شخص ایک نیکی لے کر آئے گا، اس کے لیے اس کے دس گنا ہیں} (الانعام: 160)۔
[المعجم الكبير-للطبراني:8648]
تخريج:
[سنن الترمذي:2910، شعب الإيمان-للبيهقي:1830، فضائل الأعمال لمقدسي:522، الترغيب والترهيب للمنذري:2185، سلسلة الاحاديث الصحيحة:3327، صحيح الترغيب:1416، صحيح الجامع:6469]



حديث#3
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

((من قرأ حرفا من القرآن كتب الله له به عشر حسنات، إني لا أقول {الم} حرف، ولكن ((ألف)) عشر، و ((لام)) عشر، و ((ميم)) عشر)) . 
ترجمہ:
"جس شخص نے قرآن کا ایک حرف پڑھا، اللہ اس کے لیے اس کے بدلے دس نیکیاں لکھتا ہے۔ میں یہ نہیں کہتا کہ 'الم' ایک حرف ہے، لیکن الف کے بدلے دس نیکیاں، لام کے بدلے دس نیکیاں، اور میم کے بدلے دس نیکیاں ہیں۔"
[الترغيب والترهيب للأصبهاني:2295]
---

حاصل شدہ اہم نکات:
1.  اجر کا دارومدار قرآن کے اصل حروف پر ہےقرآن مجید کے ہر حرف کو الگ شمار کیا جائے گا، خواہ وہ کسی بھی صورت میں لکھا گیا ہو۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کے ہاں قرآن کی ہر اکائی کی قدر ہے۔
2. ہر حرف پر دس نیکیوں کا اجر: احادیث صحیحہ سے ثابت ہے کہ قرآن کے ہر حرف کے پڑھنے پر کم از کم دس نیکیاں ملتی ہیں۔
3. حروف مقطعات کی تفصیل: نبی ﷺ نے وضاحت فرمائی کہ "الم" کو تین حروف شمار کیا جائے گا: الف، لام اور میم۔
4. اجر میں عمومیت: یہ اجر ہر اس شخص کو ملے گا جو قرآن پڑھے، خواہ نماز میں ہو یا باہر، خواہ بہت پڑھے یا تھوڑا۔ 
5. پڑھنے پر اجر: قرآن کو اگرچہ سمجھ کر پڑھنا افضل ہے، لیکن بغیر سمجھے پڑھنا بھی بہرحال ثواب سے خالی نہیں۔
6. قرآن اور حدیث کا باہمی ربط: حدیث ابن مسعود میں قرآن کی آیت {مَنْ جَاءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهُ عَشْرُ أَمْثَالِها} سے استدلال کیا گیا۔ یہ بتاتا ہے کہ احادیث قرآن کی تفسیر کرتی ہیں۔





احادیث میں ظاہری تعارض کا حل

حضرت عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے: "مَنْ قَرَأَ حَرْفًا مِنْ كِتَابِ اللَّهِ كَتَبَ اللَّهُ لَهُ حَسَنَةً" (جس نے قرآن کا ایک حرف پڑھا، اللہ اس کے لیے ایک نیکی لکھتا ہے)۔ جبکہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے: "مَنْ قَرَأَ حَرْفًا مِنْ كِتَابِ اللهِ فَلَهُ بِهِ حَسَنَةٌ، وَالْحَسَنَةُ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا" (جس نے قرآن کا ایک حرف پڑھا، اس کے لیے ایک نیکی ہے، اور نیکی دس گنا ہے)۔ ان دونوں میں ظاہری تعارض(ٹکراؤ) کو محدثین اور علماء نے کئی طریقوں سے حل کیا ہے۔

---

تعارض کے حل کی راہیں

پہلا طریقہ: جمع و تطبیق

اس طریقے کی رو سے دونوں حدیثوں میں کوئی تعارض نہیں، بلکہ ایک دوسرے کی تفسیر کرتی ہے:

· عبداللہ بن مسعود کی حدیث میں وضاحت ہے کہ "نیکی دس گنا ہے"۔
· عوف بن مالک کی حدیث میں صرف "نیکی" کا ذکر ہے، اس کی مقدار متعین نہیں کی گئی۔
· ابن مسعود کی حدیث عوف بن مالک کی حدیث کی تفسیر اور تفصیل ہے۔ یعنی عوف بن مالک کی حدیث میں جو "حسنة" (ایک نیکی) ہے، وہ دراصل دس نیکیوں پر مشتمل ہے۔

امام ترمذی نے ابن مسعود کی حدیث کو روایت کرنے کے بعد فرمایا: "حديث حسن صحيح" ۔ اس حدیث میں خود نبی ﷺ نے وضاحت فرما دی ہے کہ "لا أقول {الم} حرف، ولكن ألف حرف، ولام حرف، وميم حرف" (میں یہ نہیں کہتا کہ "الم" ایک حرف ہے، بلکہ الف ایک حرف، لام ایک حرف، اور میم ایک حرف ہے) ۔

دوسرا طریقہ: مطلق اور مقید

· عوف بن مالک کی حدیث مطلق ہے، اس میں صرف "نیکی" کا ذکر ہے۔
· ابن مسعود کی حدیث مقید ہے، اس میں نیکی کو "دس گنا" سے مقید کیا گیا ہے۔
· اصولِ حدیث میں مطلق کو مقید پر محمول کیا جاتا ہے۔

امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب دو حدیثوں میں ایک مطلق ہو اور دوسری مقید، تو مقید حدیث مطلق کی تفسیر کرتی ہے۔

تیسرا طریقہ: قرآن سے استدلال

ابن مسعود کی حدیث میں خود قرآن کی آیت سے استدلال کیا گیا ہے:
{مَنْ جَاءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهُ عَشْرُ أَمْثَالِها} (الأنعام: 160) 

یعنی اللہ تعالیٰ نے خود فرمایا ہے کہ ایک نیکی کا کم از کم اجر دس گنا ہے۔ اس لیے تلاوتِ قرآن کی نیکی بھی اس عمومی اصول سے مستثنیٰ نہیں ہے۔

چوتھا طریقہ: امام ابن قیم کا نفیس نکتہ

امام ابن قیم رحمہ اللہ نے اس مسئلے پر بہت عمدگی سے روشنی ڈالی ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ "ثواب کی دو قسمیں ہیں: ایک اجر و ثواب جو تعداد میں زیادہ ہو، دوسرا اجر و ثواب جو قدر و منزلت میں بلند ہو" ۔

· جو شخص زیادہ تعداد میں قرآن پڑھتا ہے، اسے کثرتِ عدد کا ثواب ملتا ہے۔
· جو شخص تدبر اور توجہ سے پڑھتا ہے، اسے رفعتِ قدر کا ثواب ملتا ہے۔

امام ابن قیم نے مثال دی:
"پہلا شخص ایسا ہے جس نے بہت سارے درہم صدقہ کیے، اور دوسرا ایسا ہے جس نے ایک قیمتی جوہر صدقہ کیا۔ دونوں کا اپنی جگہ ثواب ہے۔" 

اس لحاظ سے عوف بن مالک کی حدیث میں عام فضیلت بیان ہوئی، اور ابن مسعود کی حدیث میں اس فضیلت کی مقدار واضح کی گئی۔

پانچواں طریقہ: "حرف" کے معنی میں وسعت

بعض علماء نے کہا ہے کہ عرب میں "حرف" کے کئی معنی ہیں :

1. حروف المبانی (حروف تہجی) - جیسے الف، ب، ت۔
2. حروف المعانی (معنی والے حروف) - جیسے حروف جر۔
3. کلمہ (لفظ) - بعض اوقات پورے لفظ کو بھی حرف کہہ دیا جاتا ہے۔

اس لحاظ سے دونوں حدیثوں میں مختلف معنی مراد ہو سکتے ہیں۔ ایک میں حروف تہجی مراد ہیں، دوسرے میں کلمات۔ لیکن یہ تطبیق زیادہ مقبول نہیں ہے۔

---

محدثین کا متفقہ موقف

ائمہ محدثین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ دونوں حدیثوں میں کوئی حقیقی تعارض نہیں ہے:

علامہ البانی رحمہ اللہ نے ابن مسعود کی حدیث کو "سلسلة الاحاديث الصحيحة" (3327) میں اور "صحيح الجامع" (6469) میں صحیح قرار دیا ہے۔

---

نتیجہ اور خلاصہ

1. عبداللہ بن مسعود کی حدیث میں خود نبی ﷺ نے وضاحت فرما دی کہ "ألف حرف، ولام حرف، وميم حرف" یعنی ہر حرف پر دس نیکیاں ہیں۔
2. عوف بن مالک کی حدیث میں صرف "حسنة" کا ذکر ہے، جو ابن مسعود کی حدیث کی روشنی میں دس گنا ہی ہے۔
3. قرآن کی آیت {مَنْ جَاءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهُ عَشْرُ أَمْثَالِها} [الأنعام: 160] اس بات کی دلیل ہے کہ ہر نیکی کا کم از کم اجر دس گنا ہے۔
4. دونوں حدیثوں میں تعارض نہیں، بلکہ ایک دوسری کی مفسر ہے۔
5. اجر میں مزید اضافہ اللہ کے فضل سے ہو سکتا ہے، جیسا کہ دوسری احادیث میں آیا ہے کہ بعض نیکیاں سات سو گنا تک بڑھا دی جاتی ہیں۔

امام ابن قیم رحمہ اللہ کا نکتہ بہت اہم ہے کہ:

· کثرتِ عدد کا ثواب (زیادہ پڑھنے والوں کے لیے)
· رفعتِ قدر کا ثواب (تدبر سے پڑھنے والوں کے لیے)
  دونوں الگ الگ ہیں اور اپنی جگہ فضیلت رکھتے ہیں ۔

لہٰذا مومن کو چاہیے کہ وہ:

1. کثرت سے قرآن پڑھے (تعداد میں اضافہ کرے)
2. تدبر اور توجہ سے پڑھے (قدر و قیمت میں اضافہ کرے)
3. دونوں کو جمع کرنے کی کوشش کرے

واللہ اعلم بالصواب

 






۱۱۔ عَنْ ‌مُعَاذٍ الْجُهَنِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ قَرَأَ الْقُرْآنَ وَعَمِلَ بِمَا فِيهِ أُلْبِسَ ‌وَالِدَاهُ ‌تَاجًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ ضَوْءُهُ أَحْسَنُ مِنْ ضَوْءِ الشَّمْسِ فِي بُيُوتِ الدُّنْيَا لَوْ كَانَتْ فِيكُمْ، فَمَا ظَنُّكُمْ بِالَّذِي عَمِلَ بِهَذَا»
ترجمہ:
حضرت معاذ جہنیؓ نے حضور اکرم ﷺ کا یہ ارشاد نقل کیا ہے کہ جو شخص قرآن پڑھے اور اس پر عمل کرے اسکے والدین کو قیامت کے دن ایک تاج پہنایا جاوے گا جسکی روشنی آفتاب کی روشنی سے بھی زیادہ ہوگی اگر وہ آفتاب تمہارے گھروں میں ہو پس کیا گمان ہے تمہارا اس شخص کے متعلق جو خود عامل ہے ۔
[سنن أبي داود » كِتَابِ الصَّلَاةِ » ‌‌بَابٌ فِي ثَوَابِ قِرَاءَةِ الْقُرْآنِ »  ... رقم الحديث: 1453]

یعنی قرآن پاک کے پڑھنے اور اس پر عمل کرنے کی برکت یہ ہے کہ اس پڑھنے والے کے والدیں کو ایسا تاج پہنایا جاوے گا جس کی روشنی آفتاب کی روشنی سے بہت زیادہ ہو اگر وہ آفتاب تمہارے گھروں میں ہو یعنی آفتاب اتنی دور سے اس قدر روشنی پھیلاتا ہے اگر وہ گھر کے اندر آ جائے تو یقینا بہت زیادہ روشنی اور چمک کا سبب ہو گا تو پڑھنے والے کے والدیں کو جو تاج پہنایا جاوے گا اس کی روشنی اس روشنی سے زیادہ ہو گی جس کو گھر میں طلوع ہونے والا آفتاب پھیلا رہا ہے اور جب کہ والدین کے لئے یہ ذخیرہ ہے تو خود پڑھنے والے کے اجر کا خود اندازہ کر لیا جاوے کہ کس قدر ہو گا کہ جب اس کے طفیلیوں کا یہ حال ہے تو خود اصل کا حال بدرجہا زیادہ ہو گا کہ والدین کو یہ اجر صرف اس وجہ سے ہوا ہے کہ وہ اس کے وجود یا تعلیم کا سبب ہو ئے ہیں آفتاب کے تھر میں ہونے سے جو تشبیہہ دی گئی ہے اس میں علاوہ ازیں کہ قرب میں روشنی زیادہ محسوس ہوتی ہے ایک اور لطیف امر کی طرف بھی اشارہ ہے وہ یہ کہ جو چیز ہر وقت پاس رہتی ہے اس سے انس و الفت زیادہ ہوتی ہے اس لئے آفتاب کی دوری کی وجہ سے جو اس سے بیگانگی ہے وہ ہر وقت کے قرب کی وجہ سے مبدل یہ انس ہو جاوے گی تو اس صورت میں روشنی کے علاوہ اس کے ساتھ موانست کی طرف بھی اشارہ ہے اور اس طرف بھی کہ وہ اپنی ہو گی کہ آفتاب سے اگرجہ ہر شخص نفع اٹھاتا ہے لیکن اگر وہ کسی کو ہبہ کر دیا جائے تو اس کے لئے کس قدر افتخار کی چیز ہو۔
حاکم نے بریدہ ؓسے حضور اقدس ﷺ کا ارشاد نقل کیا ہے جو شخص قرآن شریف پڑھے اور اس پر عمل کرے اس کو ایک تاج پہنایا جائے گا جو نور سے بنا ہوا ہو گا اور اس کے والدین کو ایسے دو جورے پہنائے جاویں گے کہ تمام دنیا اس کا مقابلہ نہیں کرسکتی وہ عرص کریں گے کہ یا اﷲ یہ جوڑے کس صلہ میں ہیں تو ارشاد ہو گا کہ تمہارے بچے کے قرآن شریف پڑھنے کے عوض میں ۔
جمع الفوائد میں طبرانی سے نقل کیا ہے کہ حضرت انس ؓنے حضور اقدس ﷺ کا یہ ارشاد نقل کیا ہے کہ جو شخص اپنے بیٹے کو ناظرہ قرآن شریف سکھلاوے اس کے سب اگلے اور پچھلے گناہ معاف ہو جاتے ہیں اور جو شخص حفظ کرائے اس کو قیامت میں چودھویں رات کے چاند کے مشابہ اٹھایا جاوے گا اور اس کے بیٹے سے کہا جاوے گا کہ پڑھنا شروع کر جب بیٹا ایک آیت پڑھے گا باپ کا ایک درجہ بلند کیا جاوے گا حتیٰ کہ اسی طرح تمام قرآن شریف پورا ہو۔
بچے کے قرآن شریف پڑھنے پر باپ کے لئے یہ فضائل ہیں اور اسی پر بس نہیں دوسری بات بھی سن لیجے کہ اگر خدانخواستہ آپ نے اپنے بچے کو چار پیسے کے لالج میں دین سے محروم رکھا تو یہ ہی نہیں کہ آپ اس لا یزال ثواب سے محروم رہیں گے بلکہ اﷲ کے یہاں آپ کو جواب دہی بھی کرنی پڑء گی آپ اس ڈر سے کہ یہ مولوی و حافظ پڑھنے کے بعدصرف مسجد کے ملانیاور ٹکڑے کے محتاج بن جاتے ہیں اس وجہ سے آپ اپنے لاڈلے بچے کو اس سے بچاتے ہیں یاد رکھیں کہ اس سے آپ اس کو تو دائمی مصیبت میں گرفتار کر ہی رہے ہیں مگر ساٹھ ہی اپنے اوپر بھی بڑی سخت جواب دہی لے رہے ہیں حدیث کا ارشاد ہے: ’’کلُّکُمْ رَاعٍ وَکُلُّکُمْ مَسْئُوْلٌ عَنْ رَّ عِیَّتِہٖ‘‘ (الحدیث)) ہر شخص سے اس کے ماتحتوں اور دست نگروں کا بھی سوال ہوگا کہ ان کو کس قدر دین سکھلایا ۔ہاں یہ ضرور ہے کہ ان عیوب سے آپ بچنے اور بچانے کی کوشش کیجئے مگر جوؤں کے ڈر سے کپڑا نہ پہننا کوئی عقل کی بات نہیں البتہ اس کے صاف رکھنے کی ضرور کوشش چاہیے بالجملہ اگر آپ اپنے بچے کو دینداری کی صلاحیت سکھلائیں گے اپنی جواب دہی سے سبک دوش ہوں گے اور اس وقت تک وہ زندہ رہے جس قدر نیک اعمال رکے گا دعا و استغفار اپ کے لیے کرے گا آپ کے لے رفع درجات کا سبب بنے گا لیکن دنیا کی خاطر چار پیسے کے لالج سے آپ نے اس کو دین سے بے بہرہ رکھا تو یہی نہیں کہ خود آپ کو اپنی حرکت کا وبال بھگتنا پڑے گا جس قدر بد اطواریاں فسق و فجور اس سے سرزد ہوں گے آپ کے نامئہ اعمال بھی اس ذخیرہ سے خالی نہ رہیں گے خدارا اپنے حال پر رحم کھائیں دنیا بہر حال گذر جانے والی چیز ہی اور موت ہر بڑی سے بڑی تکلیف کا خاتمہ ہے لیکن جس تکلیف کے بعد موت بھی نہیں اس کوئی منتہا نہیں ۔





۱۲۔ عَنْ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ مِشْرَحِ بْنِ هَاعَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " لَوْ جُعِلَ الْقُرْآنُ فِي إِهَابٍ ، ثُمَّ أُلْقِيَ فِي النَّارِ ، مَا احْتَرَقَ " . 
ترجمہ:
حضرت عقبہ بن عامرؓ کہتے ہیں کہ میں حضور اقدس ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ اگر رکھ دیا جائے قرآن شریف کو کسی چمڑے میں پھر وہ آگ میں ڈال دیا جاوے تو نہ جلے۔
خلاصة حكم المحدث : إسناده حسن
[المحدث : الألباني - المصدر : السلسلة الصحيحة - الصفحة أو الرقم: 3562]

مشائخ حدیث اس روایت کے مطلب میں دو طرف گئے ہیں بعض کے نزدیک چمڑے سے عام مراد ہے جس جانور کا ہو اور آگ سے دنیوی آگ مراد ہے اس صورت میں یہ مخصوص معجزہ ہے جو حضور اقدس ﷺ کے زمانے کے ساتھ خاص تھا جیسا کہ اور انبیاء کے مغجزے ان کے زمانے کے ساتھ خاص ہوئے ہیں۔ دوسرے مطلب یہ ہے کہ چمڑے سے مراد آدمی کا چمڑا ہے اور آگ سے جہنم، اس صورت میں یہ حکم عام ہو گا کسی زمانے کے ساتھ مخصوص نہ ہو گا یعنی جو شخص کہ حافظ قرآن ہو اگر وہ کسی جرم میں جہنم میں ڈالا بھی جاوے گا تو آگ اس پر اثر نہ کرے گی۔ ایک روایت میں ﴿ما مستہ النار﴾ کا لفظ بھی آیا یعنی آگ اس کو چھونے کی بھی نہیں۔[مسند احمد:17421] حضرت ابو امامہ کی روایت جس کو [شرح السنۃ:1180] میں ملا علی قاری نے نقل کیا ہے اس دوسرے معنی کی تائید کرتی ہے جس کا ترجمہ یہ ہے کہ قرآن شریف کو حفظ کیا کرو اس لئے کہ حق تعالی شانہ اس قلب کو عذاب نہیں فرماتے جس میں کلام پاک محفوط ہو یہ حدیث اپنے مضمون میں صاف اور نص ہے جو لوگ حفظ قرآن شریف کو فضول بتلاتے ہیں وہ خدارا ذرا ان فضائل پر بھی غور کریں کہ یہی ایک فضیلت ایسی ہے جس کی وجہ سے ہر شخص کو حفظ قرآن پر جان دے دینا چاہیے اس لیے کون شخص ایسا ہو گا جس نے گناہ نہ کئے ہوں جس کی وجہ سے آگ کا مستحق نہ ہو ۔
شرح احیاء میں ان لوگوں کی فہرست مین جو قیامت کے ہولناک اور وحشت اثر دن میں اﷲ کے عرش کے سائے کے نیجے رہیں گے حضرت علیؓ کی حدیث سے بروایت دیلمی نقل کیا ہے کہ حاملین قرآن یعنی حفظ اﷲ کے سائے کے نیچے انبیاء اور برگزیدہ لوگوں کے ساتھ ہوں گے۔[الغرائب الملتقطہ:1/70]



۱۳۔ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ قَرَأَ الْقُرْآنَ فَاسْتَظْهَرَهُ ، شُفِّعَ فِي عَشَرَةٍ مِنْ أَهْلِ بَيْتِهِ قَدْ وَجَبَتْ لَهُمْ النَّارُ " .
ترجمہ:
حضرت علیؓ نے حضور اقدس ﷺ ارشاد نقل کیا ہے کہ جس شخص نے قرآن پڑھا پھر اس کو حفظ یاد کیا اور اس کے حلال کو حلال جانا اور حرام کو حرام حق تعالیٰ شانہ اس کو جنت میں داخل فرماویں گے اور اس کے گھرانے میں سے ایسے دس آدمیوں کے بارے میں اس کی شفاعت قبول فرماویں گے جن کے لئے جہنم واجب ہو چکی ہو۔
[سنن ابن ماجه » كِتَاب ابْنُ مَاجَهْ » أَبْوَابُ فِي فَضَائِلِ أَصَحَابِ رَسُولِ اللَّهِ ... رقم الحديث: 212 ]

دخول جنت ویسے تو ہر مومن کے لیے انشاء اﷲ ہے ہی اگرچہ بداعمالیوں کی سزا بھگت کر ہی کیوں نہ ہو لیکن حفاظ کے لئے یہ فضیلت ابتداء دخول کے اعتبار سے ہے وہ دس شخص جن کے بارے شفاعت قبول فرمائی گئی وہ فسق و فجار ہیں جو مرتکب کبائر کے ہیں اس لئے کہ کفار کے بارے میں تو شفاعت ہے ہی نہیں حق تعالی شانہ کا ارشاد ہے اِنَّہٗ مَنْ یُّشْرِکْ باللّٰہِ فَقَدْ حَرَّمَ اللّٰہُ عَلَیْہِ الْجَنَّۃَ وَمَأْوَاہُ النَّارُ وَمَا لِلظّٰلِمِیْنَ مِنْ اَنْصَار(سورہ مائدہ ۱۰) ( مشرکین پر اﷲ نے جنت کو حرام کر دیا اور ان کا ٹھکانہ جہنم ہے اور ظالمین کا کوئی مدد گار نہیں ) دوسری جگہ ارشاد ہے مَاکَانَ لِلِنَّبِیِّ وَالَّذِیْنَ اَمَنُوْا اَنْ یَّسْتَغِفُرْوالِلْمُشْرِکِیْنَ (سورہ توبہ۱۴۰) ( نبیت اور مسمانوں کیلئے اس کی گنجائش نہیں کہ وہ مشرکین کے استغفار کریں اگرچہ وہ رشتہ دار ہوں) وغیرہ وغیرہ نصوص اس مضمون میں صاف ہیں کہ مشرکین کی مغفرت نہیں ہے اس لئے حفاظ کی شافعت سے ان مسلمانوں کی شفاعت مراد ہے جن کے معاصی کی وجہ سے ان کا جہنم میں داخل ہونا ضروری بن گیا تھا جو لوگ جہنم سے محفوظ رہنا چاہتے ہیں ان کے لئے ضروری ہے کہ اگر وہ حافظ نہیں اور خود حفظ نہیں کر سکتے تو کم از کم اپنے کسی قریبی رشتر ہی کو حافظ بنا دیں کہ اس کے طفیل یہ بھی اپنی بد اعمالیوں کی سزا سے محفوط رہ سکیں اﷲ کا کس قدر انعام ہے اس شخص پر جس کے باپ چچا تائے دادا نانا ماموں سب ہی حافظ ہیں اَللّٰھُمَّ زِدْفَزِد۔



۱۴۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَ ۃَؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ تَعَلَّمُوا الْقُرْآنَ وَاقْرَءُوهُ ، فَإِنَّ مَثَلَ الْقُرْآنِ لِمَنْ تَعَلَّمَهُ فَقَرَأَهُ وَقَامَ بِهِ ، كَمَثَلِ جِرَابٍ مَحْشُوٍّ مِسْكًا يَفُوحُ رِيحُهُ فِي كُلِّ مَكَانٍ ، وَمَثَلُ مَنْ تَعَلَّمَهُ فَيَرْقُدُ وَهُوَ فِي جَوْفِهِ ، كَمَثَلِ جِرَابٍ وُكِئَ عَلَى مِسْكٍ.
ترجمہ:
حضرت ابوہریرہؓ نے حضور اکرم ﷺ کا ارشاد نقل کیا ہے کہ قرآن شریف کو سیکھو پھر اسکو پڑھو اس لئے کہ جو شخص قرآن شریف سیکھتا ہے اور پڑھتا ہے اور تہجد میں اس کو پڑھتا رہتا ہے اس کی مثال اس تھیلی کی سی ہے جو مشک سے بھری ہوئی ہو کہ اسکی خوشبو تمام مکان میں پھیلتی ہے اور جس شخص نے سیکھا اور پھر سوگیا اس مثال اس مشک کی تھیلی کی ہے جسکا منہ بند کر دیا گیا ہو ۔


یعنی جس شخص نے قرآن پاک پڑھا اور اس کی خبر گیری کی راتوں کو نماز میں تلاوت کی اس کی مثال اس مشک دان کی سی ہے کہ جو کھلا ہوا ہو کہ اس کی خوشبو سے تمام مکان مہکتا ہے اسی طرح اس حافظ کی تلاوت سے تمام مکان انوار و برکات سے معمور رہتا ہے اور اگر وہ حافظ سو جاوے یا غفلت کی وجہ سے نہ پڑھ سکے تب بھی اس کے قلب میں جو کلام پاک ہے وہ تو بہرحال مشک ہی ہے، اس غفلت سے اتنا نقصان ہوا کہ دوسرے لوگ اس کی برکات سے محروم رہے لیکن اس کا قلب تو بہرحال اس مشک کو اپنے اندر لئے ہوئے ہے ۔



۱۵۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ الَّذِي لَيْسَ فِي جَوْفِهِ شَيْءٌ مِنَ الْقُرْآنِ كَالْبَيْتِ الْخَرِبِ "، قَالَ : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
ترجمه:
حضرت عبداﷲ بن عباسؓ نے نبی کریم ﷺ کا یہ ارشاد نقل کیا ہے کہ جس شخص کے قلب میں قرآن شریف کا کوئی حصہ بھی محفوظ نہیں وہ بمنزلہ ویران گھر کے ہے۔

ویران گھر کے ساٹھ تشبیہہ دینے میں ایک خاص لطیفہ بھی ہے وہ یہ کہ خانہ خالی رادیو مے گیرد اسی طرح جو قلب کلام پاک سے خالی ہوتا ہے شیاطین کا اس پر تسلط زیادہ ہوتا ہے اس حدیث میں حفظ کی کس قدر تاکید فرمائی ہے کہ اس دل کو ویران گھر ارشاد ہوا ہے جس میں کلام پاک محفوظ نہیں ابو ہریرہ فرماتے ہیں کہ جس گھر میں کلام مجید پڑھا جاتا ہے اس کے اہل و عیال کثیر ہو جاتے ہیں اس میں خیر و برکت بڑہ جاتی ہے ملائکہ اس میں نازل ہوتے ہیں اور شیاطین اس گھر سے نکل جاتے ہیں اور جس گھر میں تلاوت نہیں ہوتی اس میں تنگی اور بے برکتی ہوتی ہے ملائکہ اس گھر سے چلے جاتے ہیں شیاطین اس میں گھس جاتے ہیں ابن مسعود سے منقول ہے اور بعض لوگ حضور ﷺ سے نقل کرتے ہیں کہ خالی گھر وہی ہے جس میں تلاوت قرآن شریف نہ ہوتی ہو ۔




نفلی عبادات کے درجات»
۱۶۔ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " قِرَاءَةُ الْقُرْآنِ فِي الصَّلاةِ ، أَفْضَلُ مِنْ قِرَاءَةِ الْقُرْآنِ فِي غَيْرِ الصَّلاةِ ، وَقِرَاءَةُ الْقُرْآنِ فِي غَيْرِ الصَّلاةِ ، أَفْضَلُ مِنَ التَّكْبِيرِ وَالتَّسْبِيحِ ، وَالتَّسْبِيحُ أَفْضَلُ مِنَ الصَّدَقَةِ ، وَالصَّدَقَةُ أَفْضَلُ مِنَ الصَّوْمِ ، وَالصَّوْمُ جُنَّةٌ مِنَ النَّارِ " .
ترجمہ:
حضرت عائشہؓ نے حضور اقدس ﷺ کا یہ ارشاد نقل کیا ہے کہ نماز میں قرآن شریف کی تلاوت بغیر نماز کی تلاوت سے افضل ہے اور بغیر نماز کی تلاوت تسبیح و تکبیر سے افضل ہے اور تسبیح صدقہ سے افضل ہے اور صدقہ روزہ سے افضل ہے اور روزہ بچاؤ ہے آگ سے۔

تلاوت کا اذکار سے افضل ہونا ظاہر ہے اس لئے کہ یہ کلام الٰہی ہے اور پہلے معلوم ہو چکا کہ اﷲ تعالی کے کلام کو اوروں کے کلام پر وہی فضیلت ہے جو اﷲ تعالی کو فضیلت ہے مخلوق پر ذکر اﷲ کا افضل ہونا صدقہ سے اور روایات میں بھی وارد ہے اور صدقہ کا روزہ سے افصل ہونا جیسا کہ اس روایت سے معلوم ہوتا ہے دوسری بعض روایات کے خلاف ہے جن سے روزہ کی فصیلت معلوم ہوتی ہے لیکن یہ احوال کے اعتبار سے مختلف ہے بعض حالتوں میں روزہ افضل ہے اور بعض میں صدقہ اسی طرح لوگوں کے اعتبار سے بھی مختلف ہے بعض لوگوں کے لئے روزہ افضل ہے اور جب کہ روزہ آگ سے بچاؤ ہے جس کا درجہ اس روایت میں سب سے اخیر میں ہے تو پھر تلاوت کلام اﷲ کا کیا کہنا جو سب سے اول ہے صاحب احیاء نے حضرت علی کرم اﷲ وجہہ سے نقل کیا ہے کہ جس شخص نے نماز میں کھڑے ہو کر کلام پاک پڑھا اس کو ہر حرف پر سو نیکیاں ملیں گی اور جس شخص نے نماز میں بیٹھ کر پڑھا اس کے لئے پچاس نیکیاں اور جس نے بغیر نماز کے وضو کے ساٹھ پڑھا اس کے لء پچیس نیکیاں اور جس نے بلا وضو پڑھا اس کے لئے دس نیکیاں اور جو شخص پڑھے نہیں بلکہ صرف پڑھنے والے کی طرف کان لگا کر سنے اس کے لئے بھً ہر حرف کے بدلے ایک نیکی۔



۱۷۔ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ إِذَا رَجَعَ إِلَى أَهْلِهِ ، أَنْ يَجِدَ فِيهِ ثَلَاثَ خَلِفَاتٍ عِظَامٍ سِمَانٍ ؟ قُلْنَا : نَعَمْ ، قَالَ : فَثَلَاثُ آيَاتٍ يَقْرَأُ بِهِنَّ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاتِهِ ، خَيْرٌ لَهُ مِنْ ثَلَاثِ خَلِفَاتٍ عِظَامٍ سِمَانٍ " .
ترجمہ:
حضرت ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ حضور اقدس ﷺ نے فرمایا کیا تم میں سے کوئی پسند کرتا ہے کہ جب گھر واپس آئے تو تین اونٹنیاں حاملہ بڑی اور موٹی اس کو مل جاویں ہم نے عرض کیا کہ بے شک ( ضرور پسند کرتے ہیں ) حضور نے فرمایا کہ تین آیتیں جن کو تم میں سے کوئی نماز میں پڑھ لے وہ تین حاملہ بڑیاور موٹی اونٹنیوں سے افضل ہیں ۔

اس سے ملتا جلتا مضمون حدیث نمبر ۳ میں گذر چکا ہے اس حدیث شریف میں چونکہ نماز میں پڑھنے کا ذکر ہے اور وہ بغیر نماز کے پڑھنے سے افضل ہے اسلئے تشبیہہ حاملہ اونٹنیوں سے دی گئی اسلئے کہ وہاں بھی دو عبادتیں ہیں نماز اور تلاوت ایسے ہی یہاں بھی دو چیزیں ہیں اونٹنی اور اس کا حمل میں حدیث نمبر ۳ کے فائدے میں لکھ چکا ہوں کہ اس قسم کی احادیث سے صرف تشبیہہ مراد ہوتی ہے ورنہ ایک آیت کا باقی اجر ہزار فانی اونٹنیوں سے افضل ہے ۔



۱۸۔ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدُ اللّٰہِ بْنِ اَوْسِ الثَقْفِیِّ عَنْ جَدِّہٖ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ  : " قِرَاءَةُ الْقُرْآنِ فِي غَيْرِ الْمُصْحَفِ ، أَلْفُ دَرَجَةٍ ، وَقِرَاءَتُهُ فِي الْمُصْحَفِ ، تُضَعَّفُ عَلَى ذَلِكَ أَلْفَيْ دَرَجَةٍ " .
ترجمہ:
حضرت اوس ثقفی ؓنے حضور اقدس ﷺ سے نقل کیا ہے کہ کلام ﷲ شریف کا حفظ پڑھنا ہزار درجہ ثواب رکھتا ہے اور قرآن پاک میں دیکھ کر پڑھنا دو ہزار تک بڑھ جاتا ہے ۔

حافظ قرآن کے متعدد فضائل پہلے گذر چکے ہیں اس حدیث شریف میں جو دیکھ کر پڑھنے کی فضیلت ہے وہ اس وجہ سے ہے کہ قرآن پاک کے دیکھ کر پڑھنے میں تدبر اور فکر کے زیادہ ہونے کے علاوہ وہ کئی عبادتوں کو متضمن ہے قرآن پاک کو دیکھنا اس کو چھونا وغیرہ وغیرہ اس وجہ سے یہ افضل ہوا چونکہ روایات کا مفہوم مختلف ہے اسی وجہ سے علماء نے اس میں اختلاف فرمایا ہے کہ کلام پاک کا حفظ پڑھنا افضل ہے یا دیکھ کر ایک جماعت کی رائے ہے کہ حدیث بالا کی وجہ سے اور اس وجہ سے کہ اس میں غلط پڑھنے سے امن رہتا ہے قرآن پاک پر نظر رہتی ہے قرآن شریف کو دیکھ کر پڑھنا افضل ہے دوسری جماعت دوسری روایت کی وجہ سے اور اس وجہ سے کہ حفظ پڑھنا زیادتی خشوع کا سبب ہوتا ہے ریا سے دور ہوتا ہے اور نیز نبی کریم ﷺ کی عادت شریفہ حفظ پڑھنے کی حفظ کو ترجیح دیتی ہے امام تووی نے اس میں یہ فیصلہ کیا ہے کہ فضیلت آدمیوں کے لحاظ سے مختلف ہے بعض کے لیے دیکھ کر پڑھنا افضل ہے جس کو اس میں تدبر و تفکر زیادہ حاصل ہوتا ہو جس کو حفظ میں تدبر زیادہ حاصل ہوتا ہو اس کے لئے حفظ پڑھنا افضل ہے۔
حافظ(ابن حجر) نے بھی فتح الباری میں اسی تفصیل کو پسند کیا ہے کہا جاتا ہے کہ حضرت عثمان کے پاس کثرت تلاوت کی وجہ سے دو کلام مجید پھٹے تھے۔ عمرو بن میمون نے شرح احیاء میں نقل کیا ہے کہ جو شخص صبح کی نماز پڑھ کر قرآن مجید کھولے اور بقدر سو آیت کے پڑھ لے تمام دنیا کی بقدر اس کا ثواب لکھا جاتا ہے۔ قرآن شریف کا دیکھ کر پڑھنا نگاہ کے لئے مفید بتلایا جاتا ہے۔ ابو عبید نے حدیث مسلسل نقل کی ہے جس میں ہر راوی نے کہا ہے کہ مجھے آنکھوں کی شکایت تھی تو اسراد نے قرآن شریف دیکھ کر پڑھنے کو بتلایا۔ حضرت امام شافعی صاحب بسا اوقات عشاء کے بعد قرآن شریف کھولتے تھے اور صبح کی نماز کے وقت بند کرتے تھے۔




عثمان بن عبداللہ بن اوس ثقفی نے اپنے دادا (حضرت اوس بن ابی اوس ثقفی) سے روایت کیا، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

«قِرَاءَةُ الرَّجُلِ الْقُرْآنَ في غير المصحف أَلْفُ دَرَجَةٍ، وَقِرَاءَتُهُ فِي الْمُصْحَفِ يُضَاعَفُ عَلَى ذَلِكَ إِلَى ألفي دَرَجَةٍ» 
ترجمہ:
"آدمی کا قرآن پڑھنا بغیر مصحف (یعنی زبانی) کے ہزار درجے ہے، اور اس کا مصحف میں (دیکھ کر) پڑھنا اس سے بڑھ کر دو ہزار درجے تک پہنچ جاتا ہے۔"

[المعجم الكبير-للطبراني:601، شعب الإيمان-للبيهقي:2026، مشكاة المصابيح:2167، مجمع الزوائد:11668، جامع الصغير-للسيوطي:8511، كنزالعمال:2304-2405]
---
علامہ طیبی رحمہ اللہ نے فرمایا: 
"ألف درجة" (ہزار درجے) "قراءة القرآن" کی خبر ہے، تقدیر مضاف کے ساتھ، یعنی ذات ألف درجة (ہزار درجوں والی) تاکہ حمل (خبر کا مبتدا پر) درست ہو، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے فرمان {هُمْ دَرَجَاتٌ} (ان کے درجات ہیں) یعنی وہ درجات والے ہیں۔
اور مصحف میں پڑھنے کی فضیلت ان وجوہ کی بنا پر ہے: اس میں دیکھنا (نظر)، اسے اٹھانا، چھونا، اس میں غور و فکر کرنے کی صلاحیت، اور اس کے معانی اخذ کرنا۔
اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان "إلى ألفي درجة" (دو ہزار درجے تک) حال ہے، یعنی یہ دو ہزار درجے تک پہنچ جاتا ہے۔
(تخریج: طب ہب عن أوس بن أبي أوس الثقفي) 
اور ابواوس کا نام حذیفہ ہے، جو ایک معروف صحابی ہیں، اور یہ صحیح قول کے مطابق صحابی اوس بن اوس ثقفی سے مختلف ہیں۔ پس یہاں مذکور راوی اوس بن ابی اوس ہیں اور وہ (دوسرے) اوس بن اوس ہیں، اور یہ دونوں صحابی ہیں۔
امام ذہبی رحمہ اللہ نے فرمایا: "کہا جاتا ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں وفد کیا تھا، اور کہا جاتا ہے کہ وہ عمرو بن اوس کے والد ہیں۔"
امام ہیثمی رحمہ اللہ نے فرمایا: "اس کی سند میں ابوسعید بن عون ہیں، امام ابن معین نے ایک مرتبہ ان کی توثیق کی اور دوسری مرتبہ تضعیف کی، اور باقی راوی ثقہ ہیں۔"
[فیض القدیر للمناوی: حدیث نمبر 6113]

---

حاصل شدہ اسباق و نکات

1. مصحف میں دیکھ کر قرآن پڑھنے کی فضیلت: اس حدیث میں واضح کیا گیا کہ مصحف میں دیکھ کر قرآن پڑھنے کا ثواب زبانی پڑھنے سے دگنا ہے۔ یہ فضیلت ان وجوہ کی بنا پر ہے جو علامہ طیبی نے بیان کیں: نظر (آنکھوں کا مصحف پر جمنا)، مصحف کو اٹھانا اور چھونا، غور و فکر میں آسانی، اور معانی پر تدبر۔
2. درجات کا مفہوم: "ہزار درجے" اور "دو ہزار درجے" سے مراد جنت میں بلند درجات ہیں۔ یہ تعداد کثرت اور فضیلت کو ظاہر کرتی ہے۔
3. حدیث کی سند کا مرتبہ:
   · امام ہیثمی نے فرمایا کہ راوی ابوسعید بن عون کے بارے میں امام ابن معین سے دو مختلف اقوال منقول ہیں، ایک میں توثیق اور دوسرے میں تضعیف۔ باقی راوی ثقہ ہیں۔
   · امام البانی رحمہ اللہ نے اس حدیث کو "حسن" قرار دیا ہے۔
   · علامہ سیوطی نے اسے جامع صغیر میں ذکر کیا ہے۔
4. صحابی اوس بن ابی اوس ثقفی: یہ ایک معروف صحابی ہیں، اور ان کا نام حذیفہ بھی ہے۔ ان کے بیٹے عمرو بن اوس بھی مشہور تابعی ہیں۔
5. مصحف میں دیکھ کر پڑھنے کے فوائد:
   · نظر کی عبادت: مصحف کی طرف دیکھنا بھی عبادت ہے۔
   · غلطیوں سے بچاؤ: زبانی پڑھنے میں غلطی کا احتمال زیادہ ہوتا ہے، مصحف دیکھ کر پڑھنے سے تجوید اور مخارج کا خیال رہتا ہے۔
   · تدبر میں آسانی: آنکھوں کے سامنے آیات ہونے سے غور و فکر زیادہ ہوتا ہے۔
   · حرمتِ مصحف: مصحف کو چھونا اور اٹھانا بھی ادب اور تعظیم کا تقاضا ہے۔
6. امام نووی رحمہ اللہ کا قول: امام نووی نے فرمایا کہ اگر خشوع اور تدبر دونوں حالتوں میں یکساں ہو تو مصحف میں دیکھ کر پڑھنا افضل ہے۔ اور اگر زبانی پڑھنے میں زیادہ خشوع ہوتا ہو تو وہ افضل ہے۔
7. عملِ امت: صحابہ کرام اور ائمہ سلف مصحف میں دیکھ کر قرآن پڑھنے کے حریص تھے۔ امام احمد بن حبل رحمہ اللہ کا معمول تھا کہ وہ مصحف میں دیکھ کر قرآن پڑھتے تھے۔
8. امید کا پیغام: یہ حدیث مسلمانوں کو قرآن کی تلاوت کی ترغیب دیتی ہے اور بتاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس امت پر کیسے فضل فرمایا کہ مصحف میں دیکھ کر پڑھنے پر دوگنا ثواب عطا فرمایا۔
9. علم حدیث میں تحقیق: اس حدیث کی سند پر محدثین کے مختلف اقوال ہیں، لیکن اس کے معنی اور فضیلت پر دوسرے دلائل بھی موجود ہیں۔
10. خلاصہ: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ قرآن مجید کی تلاوت کا ثواب اس کے طریقے اور کیفیت کے مطابق مختلف ہو سکتا ہے۔ مصحف میں دیکھ کر پڑھنا باعثِ فضیلت ہے، اس لیے مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اس عظیم عمل کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں۔



مصحف میں دیکھ کر پڑھنے کی فضیلت

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
" مَنْ سَرَّهُ أَنْ يُحِبَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فليقرأ في المصحف ".
ترجمہ:
"جو شخص اس بات سے خوش ہو کہ وہ اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرے، تو اسے چاہیے کہ وہ مصحف میں (دیکھ کر) قرآن پڑھے۔"

[الترغيب في فضائل الأعمال-ابن شاهين:191، , وابن عدي (111/ 2) ,  حلية الأولياء-أبو نعيم (7/ 209)، شعب الإيمان-للبيهقي:2027...صَحِيح الْجَامِع:6289، الصَّحِيحَة:2342]

---

تشریح علامہ مناوی:

(من سره أن يحب الله ورسوله) یعنی جس شخص کو یہ بات خوش کرے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول کی محبت میں اضافہ کرے (فليقرأ) قرآن پڑھے (في المصحف) مصحف میں دیکھ کر۔
یہ اس بناء پر ہے کہ ظاہری سیاق سے فاعل "یحب" کا بندہ ہے۔
لیکن بعض رومی موالی (علماء) نے کہا: "یحب" کا فاعل لفظِ جلالہ اور رسول ہے (یعنی اللہ اور رسول (بندے سے) محبت کریں)، یعنی جس شخص کو یہ بات خوش کرے کہ اللہ اور اس کا رسول اس سے محبت کریں تو وہ مصحف میں دیکھ کر قرآن پڑھے۔
اور یہ (تشریح) اس لیے ہے کہ مصحف میں دیکھ کر قراءت کرنے میں ذات اور صفات پر زیادہ غور و تدبر ہوتا ہے، جس سے (اللہ کے ساتھ) زیادہ تعلق اور وابستگی پیدا ہوتی ہے جو محبت میں اضافے کا سبب بنتی ہے۔

اور بعض صوفیہ کے مشائخ کا طریقہ یہ تھا کہ جب کوئی مرید (طالب) ان کے پاس آتا تو وہ اسے اسمِ جلالہ (اللہ) کے ذکر میں مشغول کر دیتے اور اسے اس کی ہتھیلی پر لکھ کر ذکر کے دوران اس کی طرف دیکھنے کا حکم دیتے۔
علماء نے کہا: یہ (مصحف میں دیکھ کر پڑھنا) پہلی چیز ہے جو اٹھا لی جائے گی، جیسا کہ حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے فرمایا۔ اور اس کے بعد زبان پر (صرف نام) رہ جائے گا، پھر لوگ اس میں سستی کریں گے یہاں تک کہ (یہ عمل) اپنے علماء کے اٹھ جانے سے ختم ہو جائے گا، پھر قیامت بدترین لوگوں پر آئے گی جن میں کوئی (بھی) "اللہ اللہ" کہنے والا نہ ہوگا۔

[فیض القدیر-للمناوی:8744]

---

حاصل شدہ اسباق و نکات

1. محبت الٰہی کا ذریعہ: اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ مصحف میں دیکھ کر قرآن مجید پڑھنا اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت حاصل کرنے کا ذریعہ ہے۔

2. نظر کی عبادت: مصحف میں دیکھ کر قرآن پڑھنے میں آنکھوں کا قرآن پر جمنا بھی عبادت ہے، جیسا کہ امام نووی رحمہ اللہ نے فرمایا کہ مصحف میں دیکھ کر پڑھنا یاد سے پڑھنے سے افضل ہے کیونکہ اس میں قراءت اور مصحف کو دیکھنے کی عبادت جمع ہو جاتی ہے ۔

3. تدبر کا ذریعہ: مناوی کی شرح کے مطابق مصحف میں دیکھ کر پڑھنے سے ذات و صفات پر زیادہ غور و تدبر ہوتا ہے جو محبت میں اضافے کا سبب بنتا ہے۔

4. علماء کی پیشگوئی: حدیث میں حضرت عبادہ بن صامت کے حوالے سے جو پیشگوئی بیان کی گئی کہ مصحف میں دیکھ کر پڑھنا اٹھا لیا جائے گا، اس سے مراد یہ ہے کہ آخر زمانے میں لوگ قرآن پڑھنا چھوڑ دیں گے یا صرف رسمی طور پر پڑھیں گے۔

5. امام احمد کا عمل: امام احمد بن حبل رحمہ اللہ مصحف میں دیکھ کر قرآن پڑھنے کے بہت حریص تھے اور اسے ترک نہیں کرتے تھے ۔

6. صوفیہ کا طریقہ: بعض صوفیاء کا اسمِ جلالہ کو دیکھ کر ذکر کرنے کا طریقہ اس حدیث سے استفادہ کرتے ہوئے اختیار کیا گیا ہے۔

7. مسئلہ: مصحف میں دیکھ کر پڑھنا بہتر ہے یا زبانی؟

   · امام نووی رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اگر خشوع اور تدبر دونوں حالتوں میں یکساں ہو تو مصحف میں دیکھ کر پڑھنا افضل ہے۔
   · اگر زبانی پڑھنے میں زیادہ خشوع اور تدبر ہوتا ہو تو وہ افضل ہے ۔

8. خلاصہ: اگرچہ بعض محدثین نے اس حدیث کی سند میں کلام ہے، لیکن مصحف میں دیکھ کر قرآن پڑھنے کی فضیلت پر صحابہ کرام اور ائمہ سلف کے اقوال موجود ہیں، اور یہ عمل امت میں مستحسن رہا ہے

۔

۱۹۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ هَذِهِ الْقُلُوبَ تَصْدَأُ ، كَمَا يَصْدَأُ الْحَدِيدُ إِذَا أَصَابَهُ الْمَاءُ " ، قِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَمَا جِلاؤُهَا ؟ قَالَ : " كَثْرَةُ ذِكْرِ الْمَوْتِ ، وَتِلاوَةُ الْقُرْآنِ " .
ترجمہ:
حضرت عبد ﷲ بن عمرؓ نے حضور اکرم ﷺ سے نقل کیا ہے کہ دلوں کو بھی زنگ لگ جاتا ہے جیسا کہ لوہے کو پانی لگنے سے زنگ لگتا ہے پوچھا گیا کہ حضور ان کی صفائی کی کیا صورت ہے آپ نے فرمایا کہ موت کو اکثر یاد کرنا اور قرن پاک کی تلاوت کرنا ۔

یعنی گناہوں کی کثرت اور اﷲ جل شانہ کی یاد سے غفلت کی وجہ سے دلوں پر بھً زنگ لگ جاتا ہے جیسا کہ لوہے کو پانی لگ جانے زنگ لگ جاتا ہے اور کلام پاک کی تلاوت اور موگ کی یاد ان کے لئے صیقل کا کام دیتا ہے دل کی مثال ایک آئینہ کی سی ہے جس قدر وہ دھندلا ہو گا معرفت کا انعکاس اس میں کم ہو گا اور جس قدر صاف اور شفاف ہو گا اسی قدر اس میں معرفت کا انعکاس واصح ہوگا اسی لئے آدمی جس قدر معاصی شہوانیہ یا شیطانیہ میں مبتلا ہو گا اسی قدر معرفت سے دور ہو گا اور اسی آئینہ کے صاف کرنے کیلئے مشائخ سلوک ریاضات و مجاہدات اذکار و اشغال تلقین فرماتے ہیں احادیث میں وارد ہوا ہے کہ جب بندہ گناہ کرتاہے تو ایک سیاہ نقطہ اس کے قلب میں پڑ جاتا ہے اگر وہ سچی توبہ کر لیتا ہے تو وہ نقطہ زائل ہو جاتا ہے اور اگر دوسرا گناہ کر لیتا ہے تو دوسرا نقطہ پیدا ہو جاتا ہے اسی طرح سے اگر گناہوں میں بڑھتا رہتا ہے تو شدہ شدہ ان نقطوں کی کثرت سے دل بالکل سیاہ ہو جاتا ہے پھر اس قلب میں خیر کی رغبت ہی نہیں رہتی بلکہ شر ہی کی طرف مائل ہوتا ہے اللّٰھُمَّ اْحْفِظْنَا مِنْہُ
اسی کی طرف قرآن پاک کی اس آیت میں اشارہ ہے کَلَّا بَلْ رَانَ عَلٰی قُلُوْبِھِمْ مَا کَانُواْ یَکْسِبُوْنْ (سورہ تطفیف) ( بے شک ان کے قلوب پر زنگ جما دیا ان کی بد اعمالیوں نے) ایک حدیث میں آتا ہے کہ حضور اقدس ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ دو واعظ چھوڑتا ہوں ایک بولنے والا دوسرا خاموش بولنے والا قرآن شریف ہے اور کاش موت کی یاد حضور کا ارشاد سر آنکھوں پر مگر واعظ تو اس کے لئے ہو جو نصیحت قبول کرے نصیحت کی ضرورت سمجھے جہاں سرے سے دین ہی بیکار ہو ترقی کی راہ میں مانع ہو وہاں نصیحت کی ضرورت کسے اور نصیحت کرے گی کیا حسن بصری کہتے ہیں کہ پہلے لوگ قرآن شریف کو اﷲ کا فرمان سمجھتے تھے رات بھر اس میں عور و تدبر کرتے تھے اور دن کو اس پر عمل کرتے تھے اور تم لوگ اس کے حروف اور زبر و زیر تو بہت درست کرتے ہو مگر اس کو فرمان شاہی نہیں سمجھتے اس میں غوروتدبر نہیں کرتے ۔



۲۰۔ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهَا ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ لِكُلِّ شَيْءٍ شَرَفًا يَتَبَاهَوْنَ بِهِ ، وَإِنَّ بَهَاءَ أُمَّتِي وَشَرَفَهَا الْقُرْآنُ " .
ترجمہ:
حضرت عائشہؓ حضور اقدس ﷺ کا یہ ارشاد نقل کرتی ہیں کہ ہر چیز کیلئے کوئی شرافت و افتخار ہوا کرتا ہے جس سے وہ تفاخر کیا کرتا ہے میری امت کی رونق اور افتخار قرآن شریف ہے ۔

یعنی لوگ اپنے آباو اجداد سے خاندان سے اور اسی طرح بہت سی چیزروں سے اپنی شرافت و بڑائی ظاہر کیا کرتے ہیں میری امت کے لئے ذریعہ افتخار کلام اﷲ شریف سے کہ اس کے پڑھنے سے اس کے باد کرنے سے اس کے پڑھانے سے اس پر عمل کرنے سے غرض اس کی ہر چیز قابل افتخار ہے اور کیوں نہ ہو کہ محبوب کا کلام ہےآقا کا فرمان ہے دنیا کا کوئی بڑے سے بڑاشرف بھی اس کے برابر نہیں ہو سکتا نیز دنیا کے جس قدر کمالات ہیں وہ آج نہیں تو کل زائل ہونے والے ہیں لیکن کلام پاک کا شرف و کمال دائمی ہے کبھی ختم ہونے والا نہیں ہے قرآن شریف کے چھوٹے چھوٹے اوصاف بھی ایسے ہیں کہ افتخار کے لئے ان میں کا ہر ایک کافی ہے چہ جائیکہ اس میں وہ سب اوصاف کام طور پر پایے جاتے ہیں مثلا اس کی حسن تالیف حسن سیاق الفاظ کا تناسب کلام کا ارتباط گذشتہ اور آئندہ واقعات کی اطلاع لوگوں کے متعلق ایسے طعن کہ وہ اگر اس کی تکزیب بھی کرنا چاہیں تو نہ کر سکیں جیسے کہ یہود کا باوجود ادعائے محبت کے موت کی تمنا نہ کر سکنا نیز سننے والے کا اس سے متاثر ہونا پڑھنے والے کا کبھی نہ اکتانا حالانہ ہر کلام خواہ وہ کتنا ہی دل کو پیارا معلوم ہوتا ہو مجنون بنا دینے والے محبوب کا خط ہی کیوں نہ ہو دن میں دس دفعہ پڑھنے سے دل نہ اکتائے تو بیس دفعہ سے اکتا جائے گا بیس سے نہ سہی چالیس سے اکتاوے کا بہر حال اکتاوے گا پھر اکتاوے گا مگر کلام پاک کا رکوع یاد کیجئے دو سو مرتبہ پڑھئے چار سو مرتبہ پڑھئے عمر بھر پڑھتے رہئے کبھی نہ اکتاوے گا اگر کوئی عارص پیش آ جاوے تو وہ خود عارضی ہو گا اور جلد زائل ہو جانے والا جتنی کثرت کیجئے اتنی ہی طراوت اور لذت میں اضافہ ہو گا وغیرہ وغیرہ یہ امور ایسے ایں کہ اگر کسی کے کلام میں ان میں سے ایک بھی پایا جاوے خواہ پورے طور سے نہ ہو تو اس پر کتنا افتخار کیا جاتا ہے پھر جب کہ کسی کلام میں یہ سب کے سب امور علی وجہ الکمال پائے جاتے ہوں تو اس سے کتنا افتخار ہو گا اس کے بعد ایک لمحہ ہمیں اپنی حالت پر بھی غور کرنا ہے ہم میں سے کتنے لوگ ہیں جن کو اپنے حافظ قرآن ہونے پر فخر ہے یا ہماری نگاہ میں کسی کا حافظ قرآن ہونا باعث شرف ہے ہماری شرافت ہمارا افتخار اونچی اونچی ڈگریوں سے بڑے بڑیالقب سے دنیوی جاہ و جلال اور مرنے کے بعد چھوٹ جانے والے مال و متاع سے ہے فَاِلَی اللّٰہِ ا لْمُشْتَکٰی۔

۲۱۔ عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَوْصِنِي قَالَ أُوصِيكَ بِتَقْوَى اللَّهِ فَإِنَّهُ رَأْسُ الْأَمْرِ كُلِّهِ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ زِدْنِي قَالَ عَلَيْكَ بِتِلَاوَةِ الْقُرْآنِ وَذِكْرِ اللَّهِ فَإِنَّهُ نُورٌ لَكَ فِي الْأَرْضِ وَذُخْرٌ لك في السماء...
ترجمہ:
حضرت ابو ذر ؓکہتے ہیں کہ میں نے حضور ﷺسے درخواست کی کہ مجھے کچھ وصیت فرمائیں حضور نے فرمایا تقوی کا اہتمام کرو کہ تمام امور کی جڑ ہے میں نے عرض کیا کہ اس کے ساتھ کچھ اور بھی ارشاد فرماویں تو حضور نے فرمایا کہ تلاوت قرآن کا اہتمام کرو کہ دنیا میں یہ نور ہے اور آخرت میں ذخیرہ۔

تقوی حقیقتاً تمام امور کی جڑ ہے جس دل میں ﷲ کا ڈر پیدا ہو جاوے اس سے پھر کوئی بھی ً معصیت نہیں ہوتی اور نہ پھر اس کو کسی قسم کی تنگی پیش آتی ہے ۔وَ مَنْ یَّتَّقِ اللّٰہَ یَجْعَلْ لَّہ‘ مَخْرَجًا وَّ یَرْزُقْہُ مِنْ حَیْثُ لَا یَحْتَسِبُ ( جو شخص تقوی حاصل کرے تو حق تعالیٰ شانہ اس کے لئے ہر ضیق میں کوئی راستہ نکال دیتے ہیں اور اس طرح اس کو روزی پہنچاتے ہیں جس کا اس کو گمان بھی نہیں ہوتا ۔
تلاوت کا نور ہونا پہلی روایات سے بھی معلوم ہوچکا شرح احیاء میں معرتہ ابو نعیم سے نقل کیا ہے کہ حضرت باسط نے حضور اقدس ﷺ کا یہ ارشاد زکر کیا کہ جن گھروں میں کلام پاک کی تلاوت کی جاتی ہے وہ مکانات آسمان والوں کے لئے ایسے چمکتے ہیں جیسا کہ زمیں والوں کے لئے آسمان پر ستارے یہ حدیث ترغیب وغیرہ میں اتنی ہی نقل کی گئی یہ مختصر ہے اصل روایت بہت طویل ہے جس کو ابن حبان وغیرہ سے ملا علی قاری نے مفصل اور سیوطی نے کچھ مختصر نقل کیا ہے اگر چہ ہمارے رسالہ کے مناسب اتنا ہی جزو ہے جو اوپر گذر چکا مگر چونکہ پوری حدیث بہت سے ضروری اور مفید مضامین پر مشتمل ہے اس لیے تمام حدیث کا مطلب ذکر کیا جاتا ہے جو حسب ذیل ہے ۔
حضرت ابو ذر غفاری کہتے ہیں کہ میں نے حضور اکرم ﷺ سے پوچھا کہ حق تعالی شانہ نے کل کتابیں کس قدر نازل فرمائی ہیں آپ نے ارشاد فرمایا کہ سو صحائف اور چار کتابیں پچاس صحیفے حضرت شیث پر اور تیس صحیفے حضرت ادریس پر اور دس صحیفے حضرت ابراہیم پر اور دس صحیفے حضرت موسی پر تورات سے پہلے اور ان کے علاوہ چار کتابیں توراۃ انجیل زبور اور قرآن شریف نازل فرمائی میں پوچھا کہ حضرت ابراہیم ں کے صحیفوں میں کیا چیز تھی ارشاد فرمایا کہ وہ سب ضرب المثلیں تھیں مثلاً او متسلط و مغرور بادشاہ میں نے تجھ کو اس لئے نہیں بھًجا تھا کہ تو پیسہ پر پیسہ جمع کرتا رہے میں نے تجھے اس لئے بھیجا تھا کہ مجھ تک مظلوم کی فریاد نہ پہنچنے دے تو پہلے ہی اس کا انتظام کردے اس لئے کہ میں مظلوم کی فریاد کو رد نہیں کرتا اگرچہ فریادی کافر ہی کیوں نہ ہو بندہ ناچیز کہتا ہے کہ حضور اکرم ﷺ جب اپنے صحابہ کو امیر اور حاکم بنا کر بھیجا کرتے تھے تو منجملہ اور نصائح کے اس کو بھی اہتمام سے فرمایا کرتے تھے’’وَ اَّتِق دَ عْوَۃَ الْمَظَلُوْ مِ فَاِنَّہٗ لَیْسَ بَیْنَھَا وَ بَیْنَ اللَّہِ حِجَاب‘‘کہ مظلوم کی بد دعا سے بچنا اس لئے کہ اس کے اور اﷲ جل شانہ کے درمیان میں حجاب اور واسطہ نہیں ۔
بترس از آہ مظلوماں کہ ہنگام دعا کردن
اجابت از در حق بہراستبال می آید
نیز ان صحیفوں میں یہ بھی تھا کہ عاقل کے لئے ضروری ہے جب تک کہ وہ مغلوب العقل نہ ہو جائے کہ اپنے تمام اوقات کو تین حصوں پر منقسم کرے ایک حصہ میں اپنے رب کی عبادت کرے  اور ایک حصہ میں اپنے نفس کا محاسبہ کرے اور سوچے کہ کتنے کام اچھے کئے اور کتنے برے اور ایک حصہ کو کسب حلال میں خرچ کرے عاقل پر یہ بھی ضروری ہے کہ اپنے اوقات کی نگہبانی کرے اپنے حالات کی درستگی کے فکر میں رہے اپنی زبان کی فضل گوئی اور بے نفع گفتگو سے حفاظت کرے جو شخص اپنے کلام کا محاسبہ کرتا رہے گا اس کی زبان بے فائدہ کلام میں کم چلے گی عاقل کے لئے ضروری ہے کہ تین چیزوں کے علاوہ سفر نہ کرے یا آخرت کے لئے توشہ مقصود ہو یا کچھ فکر معاش ہو یا تفریح بشرطیکہ مباح ہو میں نے پوچھا یا رسول اﷲ حضرت موسی ں کے صحیفوں میں کیا چیز تھی ارشاد فرمایا کہ سب کی سب عبرت کی باتیں تھیں مثلاً میں تعجب کرتا ہوں اس شخص پر کہ جس کو موت کا یقین ہو پھر کسی بات پر خوش ہو ( اس لئے کہ جب کسی شخص کو مثلاً یہ یقین ہو جاوے کہ مجھے پھانسی کا حکم ہو چکا عنقریب سولی پر چڑھنا ہے پھر وہ کسی چیز سے خوش نہیں ہو سکتا ) میں تعجب کرتا ہوں اس شخص پر کہ اس کو موت کا یقین ہے پھر وہ ہنستا ہے میں تعجب کرتا ہوں اس شخص پر جو دنیا کے حوادث تعیرات انقلابات ہر وقت دیکھتا ہے پھر دنیا پر اطمینان کر لیتا ہے میں تعجب کرتا ہوں اس شخص پر کہ جس کو تقدیر کا یقین ہے پھر رنج و مشقت میں مبتلا ہوتا ہے میں تعجب کرتا ہوں اس شخص پر جس کو عنقریب حساب کا یقین ہے پھر نیک اعمال نہیں کرتا میں نے عرص کیا یا رسول اﷲ ﷺ مجھے کچھ وصیت فرمائیں حضورﷺ نے سب سے اول تقوی کی وصیت فرمائی اور ارشاد فرمایا کہ یہ تمام امور کی بنیاد اور جڑ ہے میں نے عرض کیا کہ کچھ اور بھی اضافہ فرما دیجئے ارشاد ہوا کہ تلاوت قرآن اور ذکر اﷲ کا اہتمام کر کہ یہ دنیا میں نور ہے اور آسمان میں زخیرہ ہے میں نیاور اضافہ چاہا تو ارشاد ہوا کہ زیادہ ہنسی سے احتراز کر کہ اس سے دل مر جاتا ہے چہرے کی رونق جاتی رہتی ہے ( یعنی ظاہر و باطن دونوں کو نقصان پہنچانے والی چیز ہے ) میں نے اور اصافہ کی درخواست کی تو ارشاد ہوا کہ جہاد کا اہتمام کر کہ میری امت کے لئے یہی رہبانیت ہے ( راہب پہلی امتوں میں وہ لوگ کہلاتے تھے کہ جو دنیا کے سب تعلقات منقطع کر کے اﷲ والے بن جاویں ) میں نے اور اور ضافہ چاہا تو ارشاد فرمایا کہ فقراء اور مساکین کے ساتھ میل جول رکھ ان کو دوست بنا ان کے پاس بیٹھا کر میں نے اور اصافہ چاہا تو ارشاد ہوا کہ اپنے سے کم درجے والے پر نگاہ رکھا کر ( تا کہ شکر کی عادت ہو ) اپنے سے اوپر کے درجہ والوں کو مت دیکھ مباد اﷲ کی نعمتوں کی جو تجھ پر ہیں تحقیر کرنے لگے میں نے اور اضافہ چاہا تو ارشاد ہوا کہ تجھے اپنے عیوب لوگوں پر حرف گیری سے روک دیں اور ان کے عیوب پر اطلاع کی کوشش مت کر کہ تو ان میں خود مبتلا ہے تجھے عیب لگانے کے لئے کافی ہے کہ تو لوگون میں ایسے عیب پہچانے جو تجھ میں خود موجود ہیں اور تو ان سے بے خبر اور ایسی باتیں ان میں پکڑے جن کو تو خود کرتا ہے پھر حضور نے اپنا دست شفقت میرے سینے پر مار کر ارشاد فرمایا کہ ابو ذر تدبیر کے برابر کوئی عقل مندی نہیں اور ناجائز امور سے بچنے کے برابر تقوی نہیں اور خوش خلقی سے بڑھ کر کوئی شرافت نہیں ا ھ۔ اس میں خلاصہ اور مطلب کا زیادہ لحاظ کیا گیا تمام الفاظ کے ترجمہ کا لحاظ نہیں کیا گیا۔

۲۲۔ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَا اجْتَمَعَ قَوْمٌ فِي بَيْتٍ مِنْ بُيُوتِ اللَّهِ تَعَالَى يَتْلُونَ كِتَابَ اللَّهِ وَيَتَدَارَسُونَهُ بَيْنَهُمْ إِلَّا نَزَلَتْ عَلَيْهِمُ السَّكِينَةُ ، وَغَشِيَتْهُمُ الرَّحْمَةُ ، وَحَفَّتْهُمُ الْمَلَائِكَةُ ، وَذَكَرَهُمُ اللَّهُ فِيمَنْ عِنْدَهُ " .
ترجمہ:
حضرت ابو ہریرہ ؓنے حضور اقدس ﷺ کا یہ ارشاد نقل کیا ہے کہ کوئی قوم ﷲ کے گھروں میں سے کسی گھر میں مجتمع ہو کر تلاوت کلام پاک اور اسکا دور نہیں کرتی مگر ان پر سکینہ نازل ہوتی ہے اور رحمت انکو ڈھانپ لیتی ہے ملائکہ رحمت انکو گھیر لیتے ہیں اور حق تعالیٰ شانہ انکا ذکر ملائکہ کی مجلس میں فرماتے ہیں۔

اس حدیث شریف میں مکاتب اور مدرسوں کی خاص فضیلت ذکر فرمائی گئی جو بہت سے انواع اکرام کو شامل ہے ان میں سے ہر ہر اکرام ایسا ہے کہ جس کے حاصل کرنے مین اگر کوئی شخص اپنی تمام عمر خرچ کر دے تب بھی ارزاں ہے پھر جہ جائیکہ ایسے ایسے متعدد انعامات فرمائے جائیں بالخصوص آخری فضیلت آقا کے دربار میں ذکر محبوب کی مجلس میں یاد ایک ایسی نعمت ہے جس کا مقابلہ کوئی چیز بھی نہیں کر سکتی۔
سکینہ کا نازل ہونا متعدد روایات میں وارد ہوا ہے اس کے مصداق مین مشائخ حدیث کے چند قول ہیں لیکن ان میں کوئی ایسا اختلاف نہیں کہ جس سے آپس میں کچھ تعارض ہو بلکہ سب کا مجموعہ بھی مراد ہو سکتا ہے حضرت علیؓ سے سکینہ کی تفسیر یہ نقل کی گئی کہ وہ ایک خاص ہوا ہے جس کا چہرہ انسان کے چھرہ جیسا ہوتا ہے۔ علامہ سدیؒ سے نقل کیا گیا کہ وہ جنت کے ایک طشت کا نام ہے جو سونے کا ہوتا ہے اس میں انبیاء کے قلوب کو غسل دیا جاتا ہے۔ بعض نے کہا ہے کہ یہ خاص رحمت ہے۔ طبری نے اس کو پسند کیا ہے کہ اس سے سکون قلب مراد ہے بعض نے کہا ہے کہ طمانیت مراد ہے بعض نے اس کی تفسیر وقار سے کی ہے تو کسی نے ملائکہ سے بعض نے اوربھی اقوال کہے ہیں حافظ کی رائے فتح الباری میں یہ ہے کہ سکینہ کا اطلاق سب پر آتا ہے۔ نووی کی رائے ہے کہ یہ کوئی ایسی چیز ہے جو جامع ہے طمانیت رحمت وغیرہ کو اور ملائکہ کے ساتھ نازل ہوتی ہے کلام ﷲ شریف میں ارشاد ہے فاَنْزَلَ اللّٰہُ سَکِیْنَتَہٗ عَلَیْہِ (توبہ آیہ ۴۰) دوسری جگہ ارشاد ہے ھُوَالَّذِیْ اَنْزَلَ ا لسَّکِیْنَۃَ فِیْ قُلُوُبِ الْمُومِنِیْن (فتح آیہ ۴) ایک جگہ ارشاد ہے فِیْہِ سَکِیْنَۃٌ مِّن رَّبِّکُم ( سورہ بقرہ آیہ ۲۴۸) غرض متعدد آیات میں اس کا ذکر ہے اور احادیث میں متعدد روایات میں اس کی بشارت فرمائی گئی ہے احیاء میں نقل کیا گیا ہے کہ ابن ثوبان نے اپنے کسی عزیز سے اس کے ساتھ افطار کا وعدہ کیا مگر دوسرے روز صبح کے وقت پہنچے انہوں نے شکایت کی تو کہا کہ اگر میری تم سے وعدہ نہ ہوتا تو ہر گز نہ بتاتا کہ کیا مانع پیش آیا مجھے اتفاقاً دیر ہو گئی تھی حتی کہ عشاء کی نماز کا وقت آ گیا خیال ہوا کہ وتر بھی ساتھ ہی پڑھ لوں کہ موت کا اطمینان نہیں کبھی رات میں مر جاؤں اور وہ زمہ پر باقی رہ جائیں میں دعائے قنوت پڑھ رہا تھا کہ مجھے جنت کا ایک سبز باغ نظر آیا جس میں ہر نوع کے پھول وغیرہ تھے اس کے دیکھنے میں ایسامشغول ہوا کہ صبح ہو گئی اس قسم کے سینکٹوں واقعات ہیں جو بزرگوں کے حالات میں درج ہیں لیکن ان کا اظہار اس وقت ہوتا ہے جب ماسوا سے انقطاع ہو جاوے اور اسی جانب توجہ کامل ہو جاوے ۔
ملائکہ کا ڈھانکنا بھی متعدد روایات میں وارد ہوا ہے اسید بن حضیر کا مفصل قصہ کتب حدیث میں آتا ہے کہ انہوں نے تلاوت کرتے ہوء پرنے اوپر ایک ابر سا چھایا ہوا محسوس کیا حضور ﷺنے فرمایا کہ یہ ملائکہ تھے جو قرآن شریف سننے کے لایے آئے تھے ملائکہ ازدہام کی وجہ سے ابر سا معلوم ہوتے تھے ایک صحابی کو ایک مرتبہ ابر سا محسوس ہوا تو حضورﷺ نے فرمایا کہ یہ سکینہ تھا یعنی رحمت جو قرآن شریف کی وجہ سے نازل ہوئی تھی مسلم شریف میں یہ حدیث زیادہ مفصل آئی جس میں اور بھی مضامین ہیں اخیر میں ایک جملہ یہ بھی زیادہ ہے ’’ مًنْ بًطًّأ بٍہ عَمَلُہٗ لَمْ یُسْرِعْ بِہ نَسَبُہ‘‘( جس شخص کو اسکے برے اعمال رحمت سے دور کریں اس کا عالی نسب ہونا اونچے خاندان کا ہونا رحمت سے قریب نہیں کر سکتا ) ایک شخص جو پشتانی شریف النسب ہے مگر فسق و فجور میں مبتلا ہے وہ اﷲ کے نزدیک اس رذیل اور کم زات مسلمان کی برابری کسی طرح بھی نہیں کر سکتا جو متقی پرہیز گار ہے اِنَّ اَکْرَمَکُمْ عِنْدَ اللّٰہِ اَتْقَاکُم

۲۳۔عَنْ أَبِي ذَرٍّ الْغِفَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّكُمْ لا تَرْجِعُونَ إِلَى اللَّهِ بِشَيْءٍ أَفْضَلَ مِمَّا خَرَجَ مِنْهُ " يَعْنِي الْقُرْآنَ .
ترجمہ:ؒ
حضرت ابوذرؓ حضور اقدس ﷺ سے نقل کرتے ہیں کہ تم لوگ ﷲ جل شانہ کی طرف رجوع اور اس کے یہاں تقرب اس چیز سے بڑھ کر کسی اور چیز سے حاصل نہیں کر سکتے جو خود حق سبحانہ سے نکلی ہے یعنی کلام پاک۔
[المستدرك على الصحيحين » كِتَابُ فَضَائِلِ الْقُرْآنِ ... رقم الحديث: 1975(1 : 555)، الأسماء والصفات للبيهقي » 510(503)


متعدد روایات سے یہ مضمون ثابت ہے کہ حق تعالیٰ شانہ کے دربار میں کلام پاک سے بڑھ کر تقرب کسی چیز سے حاصل نہیں ہوتا امام احمد بن حنبل کہتے ہیں کہ میں نے حق تعالیٰ زانہ کی خواب میں زیارت کی تو پوچھا کہ سب سے بہتر چیز جس سے آپ کے دربار میں تقرب ہو کیا چیز ہے ارشاد ہوا کہ احمد میرا کلام ہے میں نے عرض کیا کہ سمجھ کر یا بلا سمجھے ارشاد ہوا کہ سمجھ کر پڑھے یا بلا سمجھے دونوں طرح موجب تقرب ہے اس حدیث شریف کی تو ضیح اور تلاوت کلام پاک کا سب سے بہتر طریقہ تقرب ہونے کی تشریح حضرت اقدس بقیۃ الف حجت الخلف مولانا شاہ عبدالعیز صاحب دہلوی نور اﷲ مرقدہ کی تفسیر سے مستنبط ہوتی ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ سلوک الی اﷲ یعنی مرتبہ احسان حق سبجانہ و تقدس کی حضوری کا نام ہے جو تین طریقوں سے حاصل ہو سکتی ہے اول تصور جس کو عرف شرع میں تفکر و تدبر سے تعبیر کرتے ہین اور صوفیہ کے یہاں مراقبہ سے دوسرا زکر لسانی اور تیسرا تلاوت کلام پاک سب سے اول طریقہ بھی چونکہ ذکر قلبی ہے اس لئے دراصل طریقے دو ہی ہیں اول زکر عام ہے کہ زبانی ہو یا قلبی دوسرے تلاوت سو جس لفط کا اطلاق حق سبحانہ و تقدس پر ہو گا اور اس کو بار بار دہرایا جاوے گا جو زکر کا حاصل ہے تو مدرکہ کے اس ذات کی طرف توجہ اور التفات کا سبب ہو گا اور گویا وہ زات مستحضر ہو گی اور استحضار کے دوام کا معیت ہے جس کو اس حدیث شریف میں ارشاد فرمایا ہے ’’ لَایَزَالُ عَبْدِیْ یَتَقَرَّبُ اِلَیَّ بِا لنَّواَفِلِ حَتّٰی اَحْبَبْتُہٗ فَکُنْتُ سَمْعَہُ الَّذِیْ یَسْمَعُ بِہٖ وَبَصَرَہُ الَّذِیْ یَبْصُرُ بِہِ وَیَدَہُ الَّتِیْ یَبْطِشُ بِھَا‘‘( حق سبحانہ و تقدس کا ارشاد ہے کہ بندہ نفل عبادتوں کے ساتھ میرے ساتھ تقرب حاصل کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ میں بھی اس کو محبوب بنا لیتا ہوں حتیٰ کہ میں اس کا کان بن جاتا ہوں جس سے وہ سنتا ہے اور آنکھ بن جاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے اور ہاتھ جس سے وہ کسی چیز پکڑتا ہے اور پاؤں جس سے وہ چلتا ہے ) یعنی جب کہ بندہ کثرت عبادت سے حق تعالیٰ شانہ کا مقرب بن جاتا ہے تو حق تعالیٰ شانہ اس کے اعصاء کے محافظ بن جاتے ہیں اور آنکھ کان وغیرہ سب مرضی آقا کے تابع ہوجاتے ہیں اور نفل عبادات کی کثرت اس لئے ارشاد فرمائی کہ فرائض متعین ہیں جن میں کثرت نہیں ہوتی اور اس کے لئے ضرورت ہے دوام استحضار کی جیسا کہ پہلے معلوم ہو چکا لیکن تقرب کا یہ طریقہ صرف اسی محبوب کی پاک زات کے لئے ہے اگر کوئی چاہے کہ کسی دوسرے کے نام کی تسبیح پڑھ کر اس سے تقرب حاصل کر لے تو یہ ممکن نہیں اس وجہ سے کہ اس قسم کے تقرب میں جس کی طرف تقرب ہو اس میں دو بات کا پایا جانا ضروری ہے اول یہ کہ اس کا علم محیط ہو ذاکرین کے قلبی اور زبانی اذکار کو اگرچہ وہ مختلف زمانوں اور مختلف اوقات میں ذکر کریں دوسرے یہ کہ ذکر کرنے والے مدرکہ میں تجلی اور اس کے پر کر دینے کی قدرت ہو جس کو عرف میں دنو اور تدلی تزول اور قرب سے تعبیر کرتے ہیں یہ دونوں باتیں چونکہ اسی مطلوب میں پائی جاتی ہیں اس لئے طریق بالا سے تقرب بھی اسی پاک ذات سے حاصل ہو سکتا ہے اور اسی کی طرف اس حدیث قدسی میں اشارہ ہے جس میں ارشاد ہے ’’مَنْ تَقَرَّبَ اِلَیَّ شِبْرًاتَقَرَّبْتُ اِلَیَہِ ذِرَاعًا۔ الحدیث‘‘ ( جو شخص میری طرف ایک بالشت نزدیک ہوتا ہے تو میں اس کی طرف ایک ہاتھ قریب ہوتا ہوں اورجو شخص میری طرف ایک ہاتھ اتا ہے میں اس کی طرف ایک باع آتا ہوں یعنی دونوں ہاتھوں کی لمبائی کے بقدر اور جو شخص میری طرف معمولی رفتار سے اتا ہے میں اس کی طرف دوڑ کر چلتا ہوں ) یہ سب تشبیہات سمجھانے کے ليے ہیں ورنہ حق سبحانہ و تقدس چلنا پھرنا وغیرہ سب سے مبرا ہیں مقصود یہ ہے کہ حق سبحانہ و تقدس اپنے یاد کرنے اور ڈھونڈنے والوں کی طرف ان کی طلب اور سعی سے زیادہ توجہ اور نزول فرماتے ہیں اور کیوں نہ فرماویں کہ کریم کے کرم کا مقتصی یہی ہے پس جب کہ یا کرنے والوں کی طرف یاد کرنے میں دوام ہوتا ہے تو پاک آقا کی طرف سے توجہ اور نزول میں دوام ہوتا ہے کلام الی چونکہ سرا سر زکر ہے اور اس کی کوئی آیت ذکر و توجہ الی اﷲ سے خالی نہیں اس لئے یہی بات اس میں بھی پائی جاتی ہے مگر اس میں ایک خصوصیت زیادہ ہے جو زیادتی تقرب کا سبب ہے وہ یہ ہر کلام متکلم کی صفات و اثرات اپنے اندر لئے ہوئے ہوا کرتا ہے اور یہ کھلی ہوئی بات ہے کہ فساق و فجار کے اشعار کا ورد رکھنے سے اس کے اثرات پائے جاتے ہیں اور اتقیا کے اشعار سے ان کے ثمرات پیدا ہوتے ہیں اسی وجہ سے منطق فلسفہ میں علو سے نخوت تکبر پیدا ہوتا ہے اور حدیث کی کثرت مزاولت سے تواضع پیدا ہوتی ہے یہی وجہ ہے کہ فارسی اور انگریزی نفس زبان ہونے میں دونوں برابر ہیں لیکن مصنفین جن کی کتب پڑھائی جاتی ہیں ان کے اختلاف اثرات سے ثمرات میں بھی اختلاف ہوتا ہے بالجملہ چونکہ کلام میں ہمیشہ متکلم کے تاثرات پائے جاتے ہیں اس لئے کلام الی کے تکرار ورد سے اس کے متکلم کے اثرات کا پیدا ہونا اور ان سے طبعاً مناسبت پیدا ہو جاتا یقینی ہے نیز ہر مصنف کا قاعدہ ہے کہ جب کوئی شخص اس کی تالیف کا اہتمام کیا کرتا ہے تو فطرۃٹ اس کی طرف التفات اور توجہ ہوا کرتی ہے اس لئے حق تعالیٰ شانہ کے کلام کا ورد رکھنے والے کی طرف حق سبحانہ و تقدس کی زیادتی توجہ بھی بدیہی اور یقینی ہے جو زیادتی قرب کا سبب ہوتی ہے آقائے کریم اپنے کرم سے مجھے بھی اس لطف سے نوازیں اور تمہیں بھی۔

۲۴۔ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ لِلَّهِ أَهْلِينَ مِنَ النَّاسِ " ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ هُمْ ؟ قَالَ : " هُمْ أَهْلُ الْقُرْآنِ أَهْلُ اللَّهِ وَخَاصَّتُهُ " .
ترجمہ:
حضرت انسؓ نے حضور اکرم ﷺ کا ارشاد نقل کیا ہے حق تعالی شانہ کے لئے لوگوں میں سے بعض لوگ خاص گھر کے لوگ ہیں۔ صحابہ نے عرض کیا کہ وہ کون لوگ ہیں فرمایا کہ قرآن شریف والے )کیوں(کہ وہ ﷲ کے اہل ہیں اور خواص۔

قرآن والے وہ لوگ ہیں جو ہر وقت کلام پاک میں مشغول رہتے ہوں اس کے ساتھ خصوصیت رکھتے ہوں ان کا اﷲ کے اہل اور خواص ہونا ظاہر ہے اور گذشتہ مضمون سے واضح ہو گیا کہ جب یہ ہر وقت کلام پاک میں مشغول رہتے ہیں تو الطاف باری بھی ہر وقت ان کی طرف متوجہ رہتے ہیں اور جو لوگ ہر وقت کے پاس رہنے والے ہوتے ہیں وہ اہل اور خوص ہوتے ہی ہیں کس قدر بڑی فضیلت ہے کہ ذرا سی محنت و مشقت سے اﷲ والے بنتے ہیں اﷲ کے اہل شمار کئے جاتے ہیں اور اس کے خوص ہونے کا شرف حاصل ہو جاتا ہے دنیوی دربار میں صرف داخلہ کی اجازت کے لئے ممبروں میں صرف شمول کے لیے کس قدر جانی اور مالی قربانی کی جاتی ہے ووٹروں کے سامنے خوشمد کرنی پڑتی ہے زلتین برداشت کرنی پڑتی ہیں اور اس سب کو کام شمجہا جاتا ہے لیکن قرآن شریف کی محنت کو بے کار سمجھا جاتا ہے۔
ببین تفاوت رہ از کجا است تا بہ کجا



۲۵۔ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا أَذِنَ اللَّهُ لِشَيْءٍ مَا أَذِنَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَغَنَّى بِالْقُرْآنِ ".
ترجمہ:
حضرت ابو ہریرہ ؓنے حضور اقدس ﷺ سے نقل کیا کہ کہ حق سبحانہ اتنا کسی کی طرف توجہ نہیں فرماتے جتنا کہ اس نبی کی آواز کو توجہ سے سنتے ہیں جو کلامِ الٰہی خوش الحانی سے پڑھتا ہو۔

پہلے معلوم ہو چکا کہ حق تعالیٰ شانہ اپنے کلام کی طرف خصوصیت سے توجہ فرماتے ہیں پڑھنے والوں میں انبیاء چونکہ آداب تلاوت کو بکمالہ ادا کرتے ہیں اس لئے ان کی طرف اور زیادہ توجہ ہونا بھی ظاہر ہے پھر جب کہ حسن آواز اس کے ساتھ مل جاوے تو سونے پر سہاگہ ہے جتنی بھی توجہ ہو ظاہر ہے اور انبیاء کے بعد الافل فالافضل حسب حیثیت پڑھنے والے کی طرف توجہ ہوتی ہے ۔



۲۶۔ عَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَلَّهُ أَشَدُّ أَذَنَا إِلَى الرَّجُلِ الْحَسَنِ الصَّوْتِ بِالْقُرْآنِ ، مِنْ صَاحِبِ الْقَيْنَةِ إِلَى قَيْنَتِهِ " .
ترجمہ:
حضرت فضالۃ ابن عبیدؓ نے حضور اقدس ﷺ سے نقل کیا ہے حق تعالیٰ شانہ قاری کی آواز کی طرف اس شخص سے زیادہ کان لگاتے ہیں جو اپنی گانے والی باندی کا گانا سن رہا ہوں.

(رواہ ابن ماجۃ وابن حبان والحاکم کذافی شرح الاحیاء قلت وقال الحاکم صحیح علی شر طھا وقال الذھبی منقطع)
المحدث : ابن تيمية | المصدر : جامع الرسائل: 2/26 | خلاصة حكم المحدث : صحيح

گانے کی آواز کی طرف فطرۃً اور طبعاً توجہ ہوتی ہے مگر شرعی روک کی وجہ سے دیندار لوگ ادھر متوجہ نہیں ہوتے لیکن گانے والی اپنی مملوکہ ہو تو اس کا گانا سننے میں کوئی شرعی نقص بھی نہیں اس لیے اس طرف کم توجہ ہوتی ہے البتہ کلام پاک میں یہ ضروری ہے کہ گانے کی آواز میں نہ پڑھا جائے احادیث میں اس کی ممانعت آئی ہے ایک حدیث میں ہے:
 اِیَّاکُمْ وَ لُحُوْنَ اَھْلِ الْعِشْق(الحدیث) یعنی اس سے بچو کہ جس طرح عاشق غزلوں کی آواز بنا بنا کر موسیقی قوانین پر پڑھتے ہیں اس طرح مت پڑھو۔
مشائخ نے لکھا ہے کہ اس طرح کا پڑھنے والا فاسق اور سننے والا گناہ گار ہے مگر گانے کے قواعد کی رعایت کیے بغیر خوش آوازی مطلوب ہے حدیث میں متعدد جگہ اس کی ترغیب آئی ہے ایک جگہ ارشاد ہے کہ اچھی آواز سے قرآن شریف کو مزین کرو۔ ایک جگہ ارشاد ہے کہ اچھی آواز سے کلام ﷲ شریف کا حسن دو بالا ہو جاتا ہے حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ ﷲ علیہ اپنی کتاب غنیہ میں ارشاد فرماتے ہیں کہ عبدﷲ بن مسعودؓ ایک مرتبہ کوگہ کے نواح میں جارہے تھے کہ ایک جگہ فساق کا مجمع ایک گھر مین جمع تھا ایک گویا جس کا نام زاذان تھا گا رہا تھا اور سارنگی بجا رہا تھا ابن مسعودؓ نے اس کی آواز سن کر ارشاد فرمایا کیا ہی اچھی آواز تھی اگر قرآن شریف کی تلاوت میں ہوتی اور اپنے سر پر کپڑا ڈال کر گذرے ہوئے چلے گئے زاذان نے ان کو بولتے ہوئے دیکھا لوگوں سے پوچھنے پر معلوم ہوا عبدﷲ بن مسعود صحابی ہیں اور یہ ارشاد فرما گئے اس پر اس مقولہ کی کچہ ایسی ہیبیت طاری ہوئی کہ حد نہیں اور قصہ مختصر کہ وہ اپنے سب آلات توڑ کر ابن مسعود کے پیچھے لگ لئے اور علامہ وقت ہوئے غرض متعدد روایات میں اچھی آواز سے تلاوت کی مدح آئی ہے مگر اس کے ساتھ ہی گانے کی آواز میں پڑھنے کی ممانعت آئی ہے جیسا کہ اوپر گزر چکا۔ خذیفہ کہتے ہیں کہ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ قرآن شریف کو عرب کی آواز میں پڑھو عشق بازوں اور یہود و نصاریٰ کی آواز میں مت پڑھو عنقریب ایک قوم آنے والی ہے جو گانے اور نوحہ کرنے والوں کی طرح سے قرآن شریف کو بنا بنا کر پڑھے گی وہ تلاوت ذرا بھی ان کے لئے نافع نہ ہو گی خود بھی وہ لوگ فتنے میں پڑیں گے اور جن کو وہ پڑھنا اچھا معلوم ہوگا ان کو بھی فتنہ میں ڈالیں گے۔
طاؤس کہتے ہیں کہ کسی نے حضور اقدس ﷺ سے پوچھا کہ اچھی آواز سے پڑھنے والا کون شخص ہے؟ حضور ﷺنے ارشاد فرمایا کہ وہ شخص کہ جب تو اس کو تلاوت کرتے دیکھے تو محسوس کرے کہ اس پر اﷲ کا خوف ہے۔


یعنی اس کی آواز سے مرعوب ہونا محسوس ہوتا ہو اس سب سے ساتہ اﷲ جل و علا کا بڑا انعام یہ ہے کہ آدمی اپنی حیثیت و طاقت کے موافق اس کا مکلف ہے حدیث میں ہے حق سبحانہ و تقدس کی طرف سے فرشتہ اس کام پر مقرر ہے کہ جو شخص کلام پاک پڑھے اور کما حقہ اس کو درست نہ پڑھ سکے وہ فرشتہ اس کو درست کرنے بعد اوپر لے جاتا ہے ۔اَللّٰھُمَّ لَا اُحْصِیْ ثَنَا ء عَلَیْک۔

۲۷۔ عَنْ عُبَيْدَةَ الْمُلَيْكِيِّ ، وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا أَهْلَ الْقُرْآنِ ، لا تَوَسَّدُوا الْقُرْآنَ ، وَاتْلُوهُ حَقَّ تِلاوَتِهِ ، آِنَاءَ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ ، وأفْشُوهُ ، وَتَغَنَّوْهُ ، وَتَدَبَّرُوا مَا فِيهِ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ ، وَلا تَعْجَلُوا تِلاوَتَهُ فَإِنَّ لَهُ ثَوَابًا " .
ترجمہ:
حضرت عبیدہ ملیکیؓ نے حضور اکرم ﷺ سے نقل کیا ہے: قرآن والو! قرآن شریف سے تکیہ نہ لگاؤ اور اس کی تلاوت شب و روز ایسی کرو جیسا کہ اسکا حق ہے کلام پاک کی اشاعت کرو اور اس کو اچھی آواز سے پڑھو اور اس کے معانی میں تدبر کرو تا کہ تم فلاح کو پہنچو اور اس کا بدلہ (دنیا میں) طلب نہ کرو کہ (آخرت میں ) اس کیلئے بڑا اجر و بدلہ ہے
[شعب الإيمان للبيهقي » التَّاسِعَ عَشَرَ مِن شُعَبِ الإِيمَانِ هَو بَابٌ ... » فَصْلٌ فِي إِدْمَانِ تِلاوَةِ الْقُرْآنِ ... رقم الحديث: 1856+1858(2006)]
الراوي : المهاصر بن حبيب | المحدث : ابن كثير | المصدر : فضائل القرآن: 185 | خلاصة حكم المحدث : مرسل


حدیث بالہ میں چند امور ارشاد فرمائے ہیں (۱) قرآن شریف سے تکیہ نہ لگاؤ قرآن شریف سے تکیہ نہ لگانے کے دو مفہوم ہیں اول یہ کہ اس پر تکیہ نہ لگاؤ کہ یہ خلاف ادب ہے ابن حجر نے لکھا ہے کہ قرآن پاک پر تکیہ لگانا اس کی طرف پاؤں پھیلانا اس کی طرف پشت کرنا اس کو روندنا وغیرہ حرام ہے دوسرے یہ کہ کنایہ ہے غفلت سے کہ کلام پاک برکت کے واسطے تکیہ ہی پر رکھا رہے جیسا کہ بعض مزارات پر دیکھا گیا کہ قبر کے سرہانے برکت کے واسطے رحل پر رکھا رہتا ہے یہ کلام پاک کی حق تلفی ہے اس کا حق یہ ہے کہ اس تلاوت کی جائے (۲) اور اس کی تلاوت کرو جیسا کہ اس کا حق ہے یعنی کثرت سے آداب کی رعایت رکھتے ہوئے خود کلام پاک میں بھی اس کی طرف متوجہ فرمایا گیا ارشاد ہے اَلَّذِیْنَ اٰ تَیْنَا ھُمُ الْکِتَاَبَ یَتْلُوْنَہٗ حَقَّ تلِاَ وَتِہ ( بقرہ آیہ ۱۲۱)جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی ہے وہ اس کی تلاوت کرتے ہین جیسا کہ اس کی تلاوت ک حق ہے ) یعنی جس عزت سے بادشاہ کا فرمان اور جس شوق سے محبوب کا کلام پڑھا جاتا ہے اسی طرح پڑہنا چاہئے (۳) اور اس کی اشاعت کرو یعنی تقریر سے تحریر سے ترعیب سے عملی شرکت سے جس طرح ہوسکے اس کی اشاعت جتنی ہو سکے کرو نبی کریم ﷺ کلام پاک کی اشاعت اور اس کے پھیلانے کا حکم فرماتے ہیں لیکن ہمارے روشن دماغ اس کے پڑھنے کو فضول بتلاتے ہیں اور ساٹہ ہی حب رسول اور حب اسلام کے لمبے چوڑے دعوے بھی ً ہاتھ سے نہیں جاتے۔
ترسم نہ رسی بکعبہ اے اعرابی
کی رہ کہ تومی روی بترکستان است
آقا کا حکم ہے کہ قرآن پاک کو پھیلاؤ مگر ہمارا عمل ہے کہ جو کوشش اس کی رکاوٹ میں ہو سکے دریغ نہ کریں گے جبر یہ تعلیم کے قوانین بنوائیں گے تا کہ بچے بجائے قرآن پاک کے پرائمری پڑھیں ہمیں اس پر غصہ ہے کہ مکتب کے میاں جی بجوں کی عمر ضائع کر دیتے ہین اس لئے ہم وہاں نہیں پڑھانا چاہتے مسلم وہ یقیناکوتاہی کرتے ہیں مگر ان کی کوتاہی سے آپ سبکدوش ہو جاتے ہیں یا آپ پر س/spanے قرآن پاک کی اشاعت کا فریضہ ہٹ جاتا ہے اس صورت میں تو یہ فریضہ آپ پر عائد ہوتا ہے وہ اپنی کوتاہیوں کے جواب دہ ہیں مگر ان کی کوتاہی سے آپ بچوں کو جبراً قرآن پاک کے مکاتب سے ہٹا دیں اور ان کے والدین پر نوٹس جاری کرائیں کہ وہ قرآن پاک حفظ یا ناظرہ پڑھانے سے مجبور ہوں اور اس کا وبال آپ کی گردن پر رہے یہ حمی دق کا علاج سنکھیا سے نہیں تو اور کیا ہے عدالت عالیہ میں اپنے اس جواب کو اس لئے جبرآً تعلیم قرآن سے ہٹا دیا کہ مکتب کے میاں جی بہت بری طرح سے پڑھاتے تھے آپ خود ہی سوچ لیجئے کہ کتنا وزن رکھتا ہے بنئے کی دکان پر جانے کے واسطے یا انگریزوں کی چاکری کے واسطے۳ بٹا ۴ کی تعلیم اہمیت رکھتی ہو مگر اﷲ کے یہاں تعلیم قرآن سب سے اہم ہے (۴) خوش آوازی سے پڑھو جیسا کہ اس سے پہلی حدیث میں گزر چکا (۵) او اس کے معنی میں غور کرو تورات سے احیاء میں نقل کیا ہے حق سبحانہ و تقدس ارشاد فرماتے ہیں اے میرے بندے تجھے مجھ سے شرم نہیں آتی تیرے پاس راستے میں کسی دوست کا خط آ جاتا ہے تو چلتے چلتے راستے میں ٹھہر جاتا ہے الگ کو بیٹھ کر عور سے پڑھتا ہے ایک ایک لفظ پر عور کرتا ہے میری کتاب تجھ پر گذرتی ہے میں نے اس میں سب کچھ واضح کر دیا ہے بعض اہم امور کا بار بار تکرار کیا ہے تا کہ تو اس پر عور کرے اور تو بے پرواہی سے اڑا دیتا ہے کیا میں تیرے نزدیک تیرے دوستوں سے بھی ذلیل ہوں اے میرے بندے تیرے بعض دوست تیرے پاس بیٹھ کر باتیں کرتے ہیں تو ہمہ تن ادھر متوجہ ہو جاتا ہے کان لگاتا ہے غور کرتا ہے کوئی بیچ میں تجھ سے بات کرنے لگتا ہے تو تو اشارے سے اس کو روکتا ہے منع کرتا ہے میں تجھ سے اپنے کلام کے ذریعے سے باتیں کرتا ہوں اور تو ذرا بھً متوجہ نہیں ہوتا کیا میں تیرے نزدیک تیرے دوستوں سے بھی زیادہ ذلیل ہوں ا ھ تدبر اور غور کرنے کے متعلق کچہ مقدمہ میں اور کجھ حدیث نمبر ۸ کے ذیل میں مذکور ہو چکا ہے (۶) اور اس کا بدلہ دنیا میں نہ چاہو یعنی تلاوت پر کوئی معاوضہ نہ لو کہ آخرت میں اس کا بہت بڑا معاوضہ ملنے والا ہے دنیا میں اگر اس کا معاوضہ لے لیا جاوے گا تو ایسا ہے جیسا کہ روپیوں کے بدلے کوئی شخص کوڑیوں پر راضی ہو جاوے حضور اقدس ﷺ کا ارشاد ہے کہ جب میری امت دینار و درہم کو بڑی چیز سمجھنے لگے گی اسلام کی ہیبت اس سے جاتی رہے گی اور جب امر بالمعروف اور نہی عن المنکر چھوڑ دے گی تو برکت وحی سے یعنی فہم قرآن سے محروم ہو جائے گی ۔کذا فی الیحاء اللھم احفظنا منہ۔

۲۸۔ عَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " أُعْطِيتُ مَكَانَ التَّوْرَاةِ السَّبْعَ ، وَأُعْطِيتُ مَكَانَ الزَّبُورِ الْمَئِينَ ، وَأُعْطِيتُ مَكَانَ الْإِنْجِيلِ الْمَثَانِيَ ، وَفُضِّلْتُ بِالْمُفَصَّلِ " .
ترجمہ:
حضرت واثلہؓ نے حضور اقدس ﷺ سے نقل کیا ہے کہ مجھے تورات کے بدلہ میں سبع طوال ملی ہیں اور زبور کے بدلہ میں مئین اور انجیل کے بدلہ میں مثانی اور مفصل مخصوص ہیں  میرے ساتھ ۔
[مسند أبي داود الطيالسي » وَاثِلَةُ بْنُ الأَسْقَعِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى ... رقم الحديث: 1096(1105)]
المحدث : الألباني | المصدر : صحيح الجامع: 1059 | خلاصة حكم المحدث : صحيح


کلام پاک کی اول سات سورتیں طول کہلاتی ہیں اس کے بعد کی گیارہ سورتیں مئین کہلاتی ہیں اس کے بعد کی بیس سورتیں مثانی اس کے بعد ختم قرآن تک مفصل یہ مشہور قول ہے بعض بعض سورتوں میں اختلاف بھی ہے کہ یہ طول میں داخل ہیں یا مئین میں اسی طرح مثانی میں داخل ہیں یا مفصل میں مگر حدیث شریف کے مطلب و مقصود میں اس اختلاف سے کوئی فرق نہیں آتا مقصد یہ ہے کہ جس قدر کتب مشہورہ سماویہ پہلے نازل ہوئی ہیں ان سب کی نظیر قرآن شریف میں موجود ہے اور ان کے علاوہ مفصل اس کلام پاک میں مخصوص ہے جس کی مثال پہلی کتابوں میں نہیں ملتی۔


۲۹۔ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : " جَلَسْتُ فِي عِصَابَةٍ مِنْ ضُعَفَاءِ الْمُهَاجِرِينَ ، وَإِنَّ بَعْضَهُمْ لَيَسْتَتِرُ بِبَعْضٍ مِنَ الْعُرْيِ ، وَقَارِئٌ يَقْرَأُ عَلَيْنَا إِذْ جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَامَ عَلَيْنَا ، فَلَمَّا قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَكَتَ الْقَارِئُ ، فَسَلَّمَ ، ثُمَّ قَالَ : مَا كُنْتُمْ تَصْنَعُونَ ؟ ، قُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّهُ كَانَ قَارِئٌ لَنَا يَقْرَأُ عَلَيْنَا ، فَكُنَّا نَسْتَمِعُ إِلَى كِتَابِ اللَّهِ ، قَالَ : فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَعَلَ مِنْ أُمَّتِي مَنْ أُمِرْتُ أَنْ أَصْبِرَ نَفْسِي مَعَهُمْ ، قَالَ : فَجَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسْطَنَا لِيَعْدِلَ بِنَفْسِهِ فِينَا ، ثُمَّ قَالَ بِيَدِهِ : هَكَذَا فَتَحَلَّقُوا وَبَرَزَتْ وُجُوهُهُمْ لَهُ ، قَالَ : فَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَرَفَ مِنْهُمْ أَحَدًا غَيْرِي ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَبْشِرُوا يَا مَعْشَرَ صَعَالِيكِ الْمُهَاجِرِينَ بِالنُّورِ التَّامِّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ تَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ قَبْلَ أَغْنِيَاءِ النَّاسِ بِنِصْفِ يَوْمٍ وَذَاكَ خَمْسُ مِائَةِ سَنَةٍ " .
ترجمہ:
حضرت ابو سعید خدری ؓکہتے ہیں کہ میں ضعفاء مہاجرین کی جماعت مین ایک مرتبہ بیٹھا ہوا تھا ان لوگوں کے پاس کپڑا بھی اتنا نہ تھا کہ جس سے پورا بدن ڈھانپ لیں بعض لوگ بعض کی اوٹ کرتے تھے اور ایک شخص قرآن شریف پڑھ رہا تھا کہ اتنے میں حضور ﷺ تشریف فرما ہوئے اور بالکل ہمارے قریب کھڑے ہو گئے حضور ﷺ کے آنے پر قاری چپ ہو گیا تو حضور ﷺ نے سلام کیا اور پھر دریافت فرمایاکہ تم لوگ کیا کر رہے تھے ہم نے عرص کیا کہ کلام ﷲ سن رہے تھے حضور ﷺ نے فرمایا کہ تمام تعریف اس ﷲ کے لئے ہے جس نے میری امت میں ایسے لوگ پیدا فرمائے کہ مجھے ان میں ٹھہرنے کا حکم کیا گیا اس کے بعد حضور ﷺ ہمارے بیچ میں بیٹھ گئے تاکہ سب کے برابر رہیں کسی کے قریب کسی سے دور نہ ہوں اس کے بعد سب کو حلقہ کرے بیٹھنے کا حکم فرمایا سب حضور ﷺ کی طر ف منہ کر کے بیٹھ گئے تو حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اے فقراے مہاجرین! تمہیں مژدہ)خوشخبری( ہے قیامت کے دن نور کامل کا اور اس بات کا کہ تم اغنیاء سے آدھے دن پہلے جنت مین داخل ہو گے اور یہ آدھا دن پانسو برس کے برابر ہو گا۔
[سنن أبي داود » كِتَاب الْعِلْمِ » بَاب فِي الْقَصَصِ ... رقم الحديث: 3183(3666)]

ننگے بدن سے بظاہر محل ستر کے علاوہ مراد ہے مجمع میں ستر کے علاوہ اور بدن کے کھلنے سے بھی حجاب معلوم ہوا کرتا ہے اس لئے ایک دوسرے کے پیچھے بیٹھ گئے تھے کہ بدن نظر نہ آوے حضور ﷺکے تشریف لانے کی اول تو ان لوگوں کو اپنی مشغولی کی وجہ سے خبر نہ ہوئیلیکن جب حضور ﷺبالکل سر پر تشریف لے آئے تو معلوم ہوا اور قاری ادب کی وجہ سے خاموش ہو گئے ۔
حضور ﷺکا دریافت فرمانا بظاہر اظہار مسرت کے لئے تھا ورنہ حضورﷺ قاری کو پڑھتے ہوئے دیکھ ہی چکے تھے آخرت کا ایک دن دنیا کے ہزار برس کے برابر ہوتا ہے وَاِنَّ یَوْ مًا عِنْدَ رَبِّکَ کَاَ لْفِ سَنَۃٍ مِّمَّا تَعُدُّوْنَ ( حج آیہ ۴۷) اور اسی وجہ سے بظاہر جہاں قیامت کا ذکر آتا ہے غداً کے ساتھ آتا ہے جس کے معنی کل آئندہ کے ہیں لیکن یہ سب باعتبار اغلب اور عام مؤمنین کے ہے ورنہ کافرین کے لئے وارد ہوا ہے فِیْ یَوْمٍ کَانَ مِقْدَارُہٗ خَمْسِیْنَ اَلْفَ سَنَۃٍ ایسا دن جو پچاس ہزار برس کا ہو گا اور خواص مؤمنین کیلئے حسب حیثیت کم معلوم ہو گا چنانچہ وارد ہوا ہے کہ بعض مؤمنین کے لے بمنزلہ دو رکعت فجر کے ہو گا قرآن شریف کے پڑھنے کے فضائل جیسا کہ بہت سے روایات میں وارد ہوئے ہیں بیحد ہیں اس کے سننے کے فضائل بھی متعدد روایات میں آئے ہیں اس سے بڑھ کر اور کیا فضیلت ہو گی کہ سید المرسلین کو ایسی مجلس میں شرکت کا حکم ہوا ہے جیسا کہ اس روایت سے معلوم ہوابعض علماء کا فتوی ہے کہ قرآن پاک کا سننا پڑھنے سے بھی زیادہ افضل ہے اس لئے کہ قرآن پاک کا پڑھنا نفل ہے اور سننا فرض اور فرض کا درجہ نفل سے بڑھا ہوا ہوتا ہے اس حدیث سے ایک اور مسئلہ بھی مستنبط ہوتا ہے جس میں علماء کا اختلاف ہے کہ وہ نادار جو صبر کرنے والا ہو اپنے فقر و فاقہ کو کسی پر ظاہر نہ کرتا ہو وہ افضل ہے یا وہ مالدار جو شکر کرنے والا ہو حقوق ادا کرنے والا ہو اس حدیث سے صابر حاجت مند کی افضلیت پر استدلال کیا جاتا ہے ۔



۳۰۔ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " مَنْ اسْتَمَعَ إِلَى آيَةٍ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ تَعَالَى ، كُتِبَ لَهُ حَسَنَةٌ مُضَاعَفَةٌ ، وَمَنْ تَلَاهَا كَانَتْ لَهُ نُورًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .
ترجمہ:
حضرت ابو ہریرۃ ؓ نے حضور اقدس ﷺ سے نقل کیا ہے کہ جو شخص ایک آیت کلام ﷲ کی سنے اس کیلئے دو چند نیکی لکھی جاتی ہے اور جو تلاوت کرے اس کیلئے قیامت کے دن نور ہو گا۔
(رواہ احمد عن عبادۃ بن میسرۃ واختلف فی تو ثیقہ عن الحسن عن ابی ھریرۃ الجمھور علی ان الحسن لم یسمع عن ابی ھریرۃ)
 المحدث : أحمد شاكر | المصدر : عمدة التفسير: 2/94 | خلاصة حكم المحدث : [أشار في المقدمة إلى صحته]
المحدث : السيوطي | المصدر : الدر المنثور: 6/726 | خلاصة حكم المحدث : إسناده حسن


محدثین نے سند کے اعتبار سے اگرچہ اس میں کلام کیا ہے مگر مضمون بہت سے روایات سے مؤید ہے کہ کلام پاک کا سننا بھی بہت اجر رکھتا ہے حتیٰ کہ بعص لوگوں نے اس کو پڑھنے سے بھی افضل بتلایا ہے۔ ابن مسعودؓ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضورﷺ منبر پر تشریف فرما تھے ارشاد فرمایاکہ مجھے قرآن شریف سنا میں نے عرض کیا کہ حضور ﷺپر تو خود نازل ہی ہوا حضورﷺ کو کیا سناؤں ارشاد ہوا کہ میرا دل چاہتا ہے کہ سنوں اس کے بعد انہوں نے سنایا تو حضورﷺ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گیے ایک مرتبہ سالم مولی حذیفہ کلام مجید پڑھ رہے تھے کہ حضور اکرم ﷺدیر تک کھڑے ہوئے سنتے رہے ابو موسی اشعریؓ کا قرآن شریف سنا تو تعریف فرمائی ۔

۳۱۔ عَنْعُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " الْجَاهِرُ بِالْقُرْآنِ كَالْجَاهِرِ بِالصَّدَقَةِ ، وَالْمُسِرُّ بِالْقُرْآنِ كَالْمُسِرِّ بِالصَّدَقَةِ".
ترجمہ:
حضرت عقبہ بن عامرؓ نے حضور اکرم ﷺ سے نقل کیا ہے کہ کلام ﷲ کا آواز سے پڑھنے والا علانیہ صدقہ کرنے والے کے مشابہ ہے اور آہستہ پڑھنے والا خفیہ صدقہ کرنے والے کی مانند ہے۔
(رواہ الترمذی وابوداود والنسائی والحاکم وقال علی شرط البخاری)

صدقہ بعض اوقات علانیہ افضل ہوتا ہے جس وقت دوسروں کی ترغیب کا سبب ہو یا اور کوئی مصلحت ہو اور بعض اوقات مخفی افضل ہوتا ہے جہاں ریا کا شبہ ہو یا دوسرے تذلیل ہوتی ہو وغیرہ وغیرہ اسی طرح کلام اﷲ شریف کا بعض اوقات اواز سے پڑھنا افضل ہے جہاں دوسروں کی ترغیب کا سبب ہواور اس میں دوسرے کے سننے کا ثواب بھی ہوتا ہے اور بعض اوقات آہستہ پڑھنا افضل ہوتا ہے جہاں دوسروں کو تکلیف ہو یا ریا کا احتمال ہو وغیرہ وغیرہ اسی وجہ سے زور سے اور آہستہ دونوں طرح پڑھنے کی مستقل فضیلتیں بھی ائی ہیں کہ بعض اوقات یہ مناسب تھا اور بص وقت وہ افضل تھا آہستہ پڑھنے کی فضیلت پر بہت سے لوگوں نے خود اس صدقہ والی حدیث سے بھی استدلال کیا ہے۔ امام بیہقی نے کتاب شعب الایما میں ( مگر یہ روایت بقواعد محدثین ضعف ہے ) حضرت عائشہ ؓسے نقل کیا ہے کہ آہستہ کا عمل اعلانیہ کے عمل سے ستر حصہ زیادہ بڑھ جاتا ہے۔ جابرؓ نے حضور اقدس ﷺ سے نقل کیا ہے کہ پکار کر اس طرح مت پڑھو کہ ایک کی آواز دوسرے کے ساٹہ خلط ہو جائے عمر بن عبدالعزیز نے مسجد نبوی میں ایک شخص کو آواز سے تلاوت کرتے سنا تو اس کو منع کر دیا پڑھنے والے نے کچھ حجت کی تو عمر بن عبدالعزیز نے فرمایاکہ اگر اﷲ کے واسطے پڑھتا ہے تو آہستہ پڑھ اور لوگوں کی خاطر پڑھتا ہے تو پڑھنا بیکار ہے اسی طرح حضور ﷺسے پکار کر پڑھنے کا ارشاد بھی نقل کیا گیا شرح احیاء میں دونوں طرح کی روایات و آثار ذکر کئے گئے۔



۳۲۔ عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الْقُرْآنُ مُشَفَّعٌ ، وَمَا حِلٌ مُصَدَّقٌ ، مَنْ جَعَلَهُ إِمَامَهُ قَادَهُ إِلَى الْجَنَّةِ ، وَمَنْ جَعَلَهُ خَلْفَ ظَهْرِهِ سَاقَهُ إِلَى النَّارِ ".
ترجمہ:
حضرت جابرؓ نے حضور اقدس ﷺ سے نقل کیا کہ قرآن پاک ایسا شفیع ہے جسکی شفاعت قبول کی گئی اور ایسا جھگڑالو ہے کہ جسکا جھگڑا تسلیم کر لیا گیا جو شخص اس کو اپنے آگے رکھے اسکو یہ جنت کی طرف کھینچتا ہے اور جو اسکو پس پشت ڈال دے اسکو یہ جہنم میں گرا دیتا ہے۔
[صحيح ابن حبان » كِتَابُ الْعِلْمِ » بَابُ الزَّجْرِ عَنْ كِتْبَةِ الْمَرْءِ السُّنَنَ ... رقم الحديث: 124]
[شعب الإيمان للبيهقي » التَّاسِعَ عَشَرَ مِن شُعَبِ الإِيمَانِ هَو بَابٌ ... » فَصْلٌ فِي إِدْمَانِ تِلاوَةِ الْقُرْآنِ ... رقم الحديث: 1859(2006)]

یعنی جس کی یہ شفاعت کرتا ہے اس کی شفاعت حق تعالیٰ شانہ کے یہاں مقبول ہے اور جس کے بارے میں جھگڑا کرتا ہے اور جھگڑے کی تفصیل حدیث نمبر ۸ کے ذیل میں گذر جکی ہے کہ اپنی رعایت رکھنے والوں کے لیے درجات کے بڑھانے میں اﷲ کے دربار میں جھگڑتا ہے اور اپنی حق تلفی کرنے والوں سے مطالبہ کرتا ہے کہ میرا حق کیوں نہیں دادا کیا جو شخص اس کو اپنے آگے رکھ لے یعنی اس کا اتباع اور اس کی پیروی اپنا دستور العمل بنا لے اس کو جنت میں پہنچا دیتا ہے اور جو اس کو پشت کے پیچھے ڈال دے یعنی اس کا اتباع نہ کرے اس جہنم میں گرنا ظاہر ہے بندہ کے نزدیک کلام پاک کے ساتھ لاپرواہی برتنا بھی اس کے مفہوم میں داخل ہو سکتا ہے متعدد احادیث میں کلام اﷲ شریف کے ساتھ بے پروائی پر وعیدیں وارد ہوئی ہیں بخاری شریف کی اس طویل حدیث میں جس میں نبی کریمﷺ کو بعض سزاؤں کی سیر کرائی گئی ایک شخص کا حال دکھلایا گیا جس کے سر پر ایک پتھر اس زور سے مارا جاتا تھا کہ اس کا سر کچل جاتا تھا حضور ﷺکے دریافت فرمانے پر بتلایا گیا کہ اس شخص کو حق تعالیٰ شانہ نے اپنا کلام پاک سکھلایا تھا مگر اس نے نہ شب کو اس کی تلاوت کی نہ دن میں اس پر عمل کیا لہٰذا قیامت تک اس کے ساتھ یہی معاملہ رہے گا حق تعالیٰ شانہ اپنے لطف کے ساتھ اپنے عزاب سے محفوظ رکھیں کہ درحقیقت کلام اﷲ شریف اتنی بڑی نعمت ہے کہ اس کے ساتھ بے توجہی پر جو سزا دی جاوے مناسب ہے ۔



روزہ اور قرآن، دو مقبول سفارشی»
۳۳۔ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الصِّيَامُ وَالْقُرْآنُ يَشْفَعَانِ لِلْعَبْدِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، يَقُولُ : الصِّيَامُ أَيْ رَبِّ ، مَنَعْتُهُ الطَّعَامَ وَالشَّهَوَاتِ بِالنَّهَارِ ، فَشَفِّعْنِي فِيهِ ، وَيَقُولُ الْقُرْآنُ : مَنَعْتُهُ النَّوْمَ بِاللَّيْلِ ، فَشَفِّعْنِي فِيهِ ، قَالَ فَيُشَفَّعَانِ " .
ترجمہ:
حضرت عبدﷲ بن عمرؓو حضور ﷺسے نقل کرتے ہیں کہ روزہ اور قرآن شریف دونوں بندہ کے لئے شفاعت کرتے ہیں۔ روزہ عرض کرتا ہے کہ یا ﷲ! میں نے اس کو دن میں کھانے پینے سے روکے رکھا، میری شفاعت قبول کیجئے۔ اور قرآن شریف کہتا ہے کہ یا ﷲ! میں نے رات کو اس کو سونے سے روکا میری شفاعت قبول کیجئے، پس دونوں کی شفاعت قبول کی جاتی ہے۔

 (رواہ احمد وابن ابی الدنیا والطبرانی فی الکبیر والحاکم وقال صحیح علی ما شرط مسلم)

تخریج:
· الزهد لابن المبارک والزهد لنعیم بن حماد: 2/114
· مسند أحمد: 6626
· معجم طبرانی کبیر: 88
· مستدرک حاکم: 2036
· شعب الإيمان للبيهقي: 1839
· تفسیر البغوي: 151
· الترغيب والترهيب للمنذري: 1455، 2205
· مجمع الزوائد للهيثمي: 5081
· جامع الأحاديث للسيوطي: 13854
· صحيح الترغيب: 984، 1429
· صحيح الجامع: 3882

حكم الحديث:
یہ حدیث صحیح ہے۔
---
تشریح علامہ مناوی:
مصنف کے نسخے میں «الطعام والشهوات» (کھانے اور شہوات) کے الفاظ ہیں، اور بعض نسخوں میں اس کے بدلے «الشراب» (پینا) ہے جو کہ تصحیف (تحریف) ہے۔ یعنی دن میں کھانے پینے سے روکا۔

«فَشَفِّعْنِي فِيهِ» (پس میری شفاعت اس کے حق میں قبول فرما)
«فَيُشَفَّعَانِ» (پس وہ دونوں شفاعت کریں گے) - یہ لفظ پیش کے ساتھ اور شین کے تشدید کے ساتھ ہے، یعنی اللہ تعالیٰ ان دونوں کو اس کے حق میں شفاعت کرنے دے گا اور اسے جنت میں داخل کرے گا۔
یہ بات کئی احتمالات رکھتی ہے:

1. حقیقت: یہ ممکن ہے کہ روزے اور قرآن کے ثواب کو مجسم شکل دے دی جائے اور اللہ ان میں گویائی پیدا کر دے۔ اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔

2. فرشتے کا وکالت: یہ ممکن ہے کہ اللہ کسی فرشتے کو مقرر کرے جو ان کی طرف سے یہ بات کہے۔

3. مجاز اور تمثیل: یہ ممکن ہے کہ یہ مجاز اور تمثیل کی صورت ہو۔

[فیض القدیر للمناوی: حدیث نمبر 5203]
---
حاصل شدہ اسباق و نکات

1. روزے اور قرآن کی شفاعت: قیامت کے دن یہ دونوں نیک اعمال بندے کے حق میں سفارش کریں گے اور اللہ ان کی شفاعت قبول فرمائے گا۔

2. روزے کی دلیل: روزہ کہے گا کہ میں نے اسے دن میں کھانے پینے اور شہوات سے روکا۔ یہ روزے کی مشقت اور نفس کی تربیت کی طرف اشارہ ہے۔

3. قرآن کی دلیل: قرآن کہے گا کہ میں نے اسے رات کو سونے سے روکا۔ اس سے مراد تلاوتِ قرآن، تہجد کی نماز، اور رات کے اوقات میں عبادت ہے۔

4. دونوں کا باہمی تکمیل: روزہ دن کی عبادت ہے اور قرآن رات کی عبادت (تلاوت اور تدبر) سے تعلق رکھتا ہے۔ یوں دن اور رات دونوں کو عبادت سے معمور کرنے والے کے لیے شفاعت کا وعدہ ہے۔

5. اعمال کا مجسم ہونا: قیامت کے دن اعمال کو مجسم شکل دی جائے گی، جیسا کہ دوسری احادیث میں آیا ہے کہ قرآن ایک شخص کی صورت میں آئے گا۔

6. اللہ کی قدرت: مناوی نے پہلے احتمال میں اللہ کی قدرت کا حوالہ دیا: {وَاللهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ} (اللہ ہر چیز پر قادر ہے)۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ کے لیے اعمال میں گویائی پیدا کرنا بالکل ممکن ہے۔

7. شفاعت کی قبولیت: حدیث کے آخر میں «فيشفعان» (پس وہ دونوں شفاعت کریں گے) سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ ان کی شفاعت قبول فرمائے گا اور بندے کو جنت میں داخل کرے گا۔

8. عبادات کا باہمی ربط: روزہ اور قرآن دونوں کا تعلق صبر اور مشقت سے ہے۔ یہ دونوں بندے کو گناہوں سے روکتے ہیں اور اللہ کی طرف لے جاتے ہیں۔

9. دن اور رات کی عبادت کی اہمیت: حدیث میں دن کی عبادت (روزہ) اور رات کی عبادت (تلاوتِ قرآن) دونوں کو یکجا کیا گیا ہے۔ یہ مومن کی مکمل تصویر ہے۔

10. شہوات سے بچنے کی فضیلت: روزہ کا یہ کہنا کہ "میں نے اسے شہوات سے روکا" اس بات کی دلیل ہے کہ صرف بھوکا پیاسا رہنا کافی نہیں، بلکہ شہوات (گناہوں) سے بچنا بھی ضروری ہے۔

11. قرآن کی تلاوت کا اجر: رات کو جاگ کر قرآن پڑھنا اتنا بلند مقام رکھتا ہے کہ قرآن خود قیامت میں اس کی شفاعت کرے گا۔

12. امید کا پیغام: یہ حدیث ان لوگوں کے لیے بہت بڑی خوشخبری ہے جو دن میں روزے رکھتے ہیں اور رات میں قرآن کی تلاوت کرتے ہیں۔




ترغیب میں الطعام والشراب کا لفظ ہے جس کا ترجمہ کیا گیا حاکم میں شراب کی جگہ شہوات کا لفظ ہے یعنی میں نے روزہ دار کو دن میں کھا نے اور خواہشات نفسانیہ سے روکا اس میں اشارہ ہے کہ روزہ دار کو خواہشات نفسانیہ سے جدا رہنا چاہیے اگرچہ وہ جائز ہوں جیسا کہ پیار کرنا لپٹنا بعض روایات میں آیا ہے کہ قرآن مجید جوانمرد کی شکل میں آئے گا اور کہے گا کہ میں ہی ہوں جس نے تجھے راتوں کو جگایا اور دن میں پیاسا رکھا نیز اس حدیث شریف میں شارہ ہے اس طرف کہ کلام اﷲ شریف کے حفظ کا مقتضی یہ ہے کہ رات کو نوافل میں اس کی تلاوت بھی کرے حدیث نمبر ۲۷ میں اس کی تصریح بھی گذر چکی خود کلام پاک میں متعدد جگہ اس کی ترغیب نازل ہوئی ایک جگہ ارشاد ہے وَمِنَ اللَّیْلِ فَتَھَجَّدْبِہٖ نَافِلَۃ لَّکَ (سورہ بنی اسرائیل آیہ۔۷۹) دوسری جگہ ارشاد ہے وَمِنَ الَّلیْلِ فَاسْجُدْلَہٗ وَسَبِّحْہُ لَیْلاً طَوِیْلً (سورہ دہر آیہ۔۲۶)ایک جگہ ارشاد ہے یَتْلُوْنَ اٰیَاتِ اللّٰہِ اٰنَآئَ اللَّیْلِ وَھُمْ یَسْجُدُوْن(سورہ آل عمران آیہ۔۱۱۳) ایک جگہ ارشاد ہے وَالَّذِیْنَ یَبِیْتُوْنَ لِرَبِّھِمْ سُجَّدًاوَّقِیَامًا (سورہ فرقان آیہ ۶۴) چنانچہ نبی کریم ﷺ اور حضرات صحابہ رضوان اﷲ علیہم اجمعین کو بعض مرتبہ تلاوت کرتے ہوئے تمام تمام رات گزر جاتی تھی حضرت عثمان ؓسے مروی ہے کہ بعض مرتبہ وتر کی ایک رکعت میں وہ تمام قرآن شریف پورا فرما لیا کرتے تھے سعید بن جبیر نے دو رکعت میں کعبہ کے اندر تمام قرآن شریف پڑھا ثابت بنانی دن رات میں ایک قرآن شریف ختم کرتے تھے اور اسی طرح ابو حرۃ ابو شیخ ہنائی کہتے ہیں کہ میں نے ایک رات میں دو قرآن مجید پورے اور تیسرے میں سے دس پارے پڑھے اگر چاہتا تو تیسرا بھی پورا کر لیتا صالح بن کیسان جب حج کو گئے تو راستے میں اکثر ایک رات میں دو کلام مجید پورے کرتے تھے منصور بن زاذان صلوۃ الضحیٰ میں ایک کلام مجید اور دوسرا ظہر سے عصر تک پورا کرتے تھیاور تمام رات نوافل میں گذارتے تھے اور اتنا روتے تھے کہ عمامہ کا شملہ تر ہو جاتا تھا اس طرح اور حضرات بھی جیسا کہ محمد بن نصر نے قیام اللیل می تخریج کیا ہے شرح احیاء میں لکھا ہے کہ سلف کی عادات ختم قرآن مجید میں مختلف رہی ہیں بعض حضرات کا ایک ختم روزانہ کرتے تھے جیسا کہ امام شافعی صاحب کا معمول رمضان المبارک میں تھا اور یہی معمول اسود اور صالح بن کیسان سعید بن جبیر اور ایک جماعت کا تھا بعض کا معمول تین ختم روزانہ کا تھا چنانچہ سلیم بن عتر جو بڑے تابعین میں شمار کئے جاتے تھے حضرت عمر کے زمانے میں فتح مصر میں شریک تھیاور حضرت معاویہ نے قصص کا امیر ان کو بنایا تھا ان کا معمول تھا کہ ہر شب میں تین ختم قرآن شریف کے کرتے تھے نووی کتاب الازکار میں نقل کرتے ہیں کہ زیادہ سے زیادہ مقدار جو تلاوت کے باب میں ہم کو پہنچی ہے وہ ابن الکاتب کا معمول تھاکہ دن رات میں آٹھ قرآن شریف روزانہ پڑھتے تھے ابن قدامہ نے امام احمد سے نقل کیا ہے کہ اس کی کوئی تحدید نہیں پڑھنے والے کے نشاط پر موقوف ہے اہل تاریخ نے امام اعظم سے نقل کیا ہے کہ رمضان شریف میں اکسٹھ قرآن شریف پڑھتے تھے ایک دن کا اور ایک رات کا اور ایک تمام رمضان شریف میں تراویح کا مگر حضور اقدس ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ تین دن سے کم میں ختم کرنے والا تدبر نہیں کرسکتا اسی وجہ سے بن جزم وغیرہ نے تین دن سے کم میں ختم کو حرام بتلایا ہے بندہ کے نزدیک یہ حدیث شریف باعتبار اکثر افراد کے ہے اس لئے کہ صحابہ کی ایک جماعت سے اس سے کم میں پڑھنا بھی ثابت ہے اسی طرح زیادتی میں بھی جمہور کے نزدیک تحدید نہیں جتنے ایام میں بسہولت ہو سکے کلام مجید ختم کر لے مگر بعض علماء کا مذہب ہے کہ چالیس دن سے زائد ایک قرآن شریف میں خرچ نہ ہوں جس کا حاصل یہ ہے کہ کم از کم تین پاؤ روزانہ پڑھنا ضروری ہے اگر کسی وجہ سے کسی دن نہ پڑھ سکے تو دوسرے دن اس کی قضا کر لے غرض چالیس دن کے اندر اندر ایک مرتبہ کلام مجید پورا ہو جاوے جمہور کے نزدیک اگرچہ یہ ضروری نہیں مگر جب بعض علماء کا مذہب ہے تو احتیاط اس میں ہے کہ اس سے کم نہ ہو نیز بعض احادیث سے اس کی تائید بھی ہوتی ہے۔ صاحب مجمع نے ایک حدیث نقل کی ہے من قراء القران فی اربعین لیلۃ فقد عزب جس شخص نے قرآن شریف چالیس رات میں ختم کیا اس نے بہت دیر کی۔ بعض علماء کا فتوی ہے کہ ہر مہینہ میں ایک ختم کرنا چاہئے اور بہتر یہ ہے کہ سات روز میں ایک کلام مجید ختم کر لے کہ صحابہ کا معمول عامۃً یہی نقل کیا جاتا ہے جمعہ کے روز شروع کرے اور سات روز میں ایک منزل روزانہ کر کے پنجشنبہ کے روز ختم کر لے امام صاحب کا مقولہ پہلے گذر چکا کہ سا میں دو مرتبہ ختم کرنا قرآن شریف کا حق ہے لہٰذا اس سے کم کسی طرح نہ ہونا چاہئے ایک حدیث میں وارد ہے کہ کلام پاک کا ختم اگر دن کے شروع میں ہو تو تمام دن اور رات کے شروع میں ہو تو تمام رات ملائکہ اس کے لئے رحمت کی دعا کرتے ہیں اس سے بعض مشائخ نے استنباط فرمایا ہے کہ گرمی کے ایام میں دن کے ابتدا میں ختم کرے اور موسم سرما میں ابتدائی شب میں تاکہ بہت سا وقت ملائکہ کی دعا کی میسر ہو۔




۳۴۔عَنْ سَعِیْدِ بْنِ سُلَیْمٍ مُرْسلَاً قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ مَا مِنْ شَفِیْعٍ اَفْضَلُ مَنْزِلَۃً عِنْدَ اللّٰہِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ مَنَ الْقُرْاٰنِ لَا نَبِیٌّ وَلَا مَلَکٌ وَلَاغَیْرُہٗ۔
ترجمہ:
حضرت سعید بن سلیم حضور اکرم ﷺ کا ارشاد نقل کرتے ہیں کہ قیامت کے دن ﷲ کے نزدیک کلام پاک سے بڑھ کر کوئی سفارش کرنیوالا نہ ہوگا، نہ کوئی نبی، نہ فرشتہ وغیرہ۔
(قال العراقی رواہ عبدالملک بن حبیب کذا فی شرح الاحیاء)
المحدث : العراقي | المصدر : تخريج الإحياء: 1/362 | خلاصة حكم المحدث : مرسل
کلام ﷲ شریف کا شفیع اور اس درجہ کا شفیع ہونا جس کی شفاعت مقبول ہے اور بھی متعدد روایات سے معلوم ہو چکا حق تعالیٰ شانہ اپنے فضل سے میرے اور تمہارے لئے اس کو شفیع بنا دے نہ کہ فریق مخالف اور مدعی لالی مصنوعہ ( نام کتاب) میں بزار کی روایت سے نقل کیا ہے اور وضع کا حکم بھی اس پر نہیں لگایا کہ جب آدمی مرتا ہے تو اس کے گھر کے لوگ تجہیز و تکفین میں مشغول ہوتے ہیں اور اس کے سرہانے نہایت حسین و جمیل صورت میں ایک شخص ہوتا ہے جب کفن دیا جاتا ہے تو وہ شخص کفن کے اور سینہ کے درمیان ہوتا ہے جب دفن کرنے کے بعد لوگ لوٹتے ہیں اور منکر نکیر آتے ہیں تو وہ اس شخص کو علیحدہ کرنا چاہتے ہیں کہ سوال یکسوئی میں کریں مگر یہ کہتا ہے یہ میرا ساتھی ہے میرا دوست ہے میں کسی حال میں بھی اسکو تنہا نہیں چھوڑ سکتا تم سوالات کے اگر مامور ہو تو اپنا کام کرو میں اس وقت تک اس سے جدا نہیں ہو سکتا کہ جنت میں داخل کراؤں اس کے بعد وہ اپنے ساتھی کی طرف متوجہ ہو کر کہتا ہے کہ میں ہی وہ قرآن ہوں جسکو تو کبھی بلند پڑھتا تھا اور کبھی آہستہ تو بے فکر رہ منکر نکیر کے سوالات کے بعد تجھے کوئی غم نہیں ہے اس کے بعد جب وہ اپنے سوالات سے فارغ ہو جاتے ہیں تو یہ ملا اعلی سے بستر وغیرہ کا انتظام کرتا ہے جو ریشم کا ہوتا ہے اور اس کے درمیان مشک بھرا ہوا ہوتا ہے حق تعالیٰ اپنے فضل سے مجھے بھیً نصیب فرماویں اور تمہیں بھی یہ حدیث بڑے فضائل پر شامل ہے جس کو تطویل کے خوف سے مختصر کر دیا ہے ۔

۳۵۔ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ قَرَأَ الْقُرْآنَ فَقَدِ اسْتَدَرَجَ النُّبُوَّةَ بَيْنَ جَنْبَيْهِ غَيْرَ أَنَّهُ لا يُوحَى إِلَيْهِ ، لا يَنْبَغِي لِصَاحِبِ الْقُرْآنِ أَنْ يَجِدَّ مَعَ جِدٍّ ، وَلا يَجْهَلَ مَعَ جَهْلٍ وَفِي جَوْفِهِ كَلامُ اللَّهِ تَعَالَى " . هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الإِسْنَادِ ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ .
ترجمہ:
حضرت عبدﷲ بن عمروؓ نے حضور اقدس ﷺ کا ارشاد نقل کیا ہے کہ جس شخص نے کلام ﷲ شریف پڑھا اس نے علوم نبوت کو اپنی پسلیوں کے درمیان لے لیا گو اسکی طرف وحی نہیں بھیجی جاتی۔ حامل قرآن کیلئے مناسب نہیں کہ غصہ والوں کیساتھ غصہ کرے یا جاہلوں کیساتھ جہالت کرے حالانکہ اسکے پیٹ میں ﷲ کا کلام ہے ۔
(رواہ الحاکم وقال صحیح الاسناد)

چونکہ وحی کا سلسلہ نبی کریم ﷺ کے بعد ختم ہو گیا اس لئے وحی تو اب آ نہیں سکتی لیکن چونکہ یہ حق سبحانہ و تقدس کا پاک کلام ہے اس لئے علم نبوت ہونے میں کیا تامل ہے اور جب کوئی شخص علوم نبوت سے نوازا جاوئے تو نہایت ہی ضروری ہے کہ اس کے مناسب اخلاق پیدا کرے اور برے اخلاق سے احتراز کرے فضیل بن عیاض کہتے ہیں کہ حافظ قرآن اسلام کا جھنڈا اٹھانے والا ہے اس کیلئے مناسب نہیں کہ لہو و لعب میں لگنے والوں میں لگ جاوے یا عافلین میں شریک ہو جاوے یا بے کار لوگوں میں داخل ہو جاوے ۔

۳۶۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ : " ثَلاثَةٌ لا يَهُولُهُمُ الْفَزَعُ الأَكْبَرُ وَلا يَنَالُهُمُ الْحِسَابُ هُمْ عَلَى كَثِيبٍ مِنْ مِسْكٍ حَتَّى يَفْرُغَ مِنْ حِسَابِ الْخَلائِقِ : رَجُلٌ قَرَأَ الْقُرْآنَ ابْتِغَاءَ وَجْهِ اللَّهِ وَأَمَّ بِهِ قَوْمًا وَهُمْ يَرْضَوْنَ بِهِ ، وَدَاعٍ يَدْعُو إِلَى الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ ابْتِغَاءَ وَجْهِ اللَّهِ ، وَعَبْدٌ أَحْسَنَ فِيمَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ رَبِّهِ وَفِيمَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ مَوَالِيهِ ".
[المعجم الكبير للطبراني » بَابُ التَّاءِ » بَابٌ  رقم الحديث: 13417(13584)]
[المعجم الأوسط للطبراني » بَابُ الْوَاوِ » مَنِ اسْمُهُ وَلِيدٌ ... رقم الحديث: 9513(9280)]
[المعجم الصغير للطبراني » بَابُ الْوَاوِ » مَنِ اسْمُهُ الْوَلِيدُ ... رقم الحديث: 1113(124)]
المحدث : المنذري | الترغيب والترهيب: 1/228(1/146)2/300 | خلاصة حكم المحدث : إسناده لا بأس به
المحدث : الدمياطي | المصدر : المتجر الرابح: 192 | خلاصة حكم المحدث : إسناده لا بأس به
المحدث : الهيتمي المكي | المصدر :الزواجر: 1/146 | خلاصة حكم المحدث : إسناده لا بأس به

حضرت ابن عمرؓ حضور اقدس ﷺ کا ارشاد نقل کرتے ہیں کہ تین آدمی ایسے ہیں جنکو قیامت کا خوف دامن گیر نہ ہو گا نہ انکو حساب کتاب دینا پڑے گا اتنے مخلوق اپنے حساب کتاب سے فارغ ہو وہ مشک کے ٹیلوں پر تفریح کرین گے ایک وہ شخص جس نے اﷲ کے واسطے قرآن شریف پڑھا اور امامت کی اس طرح پر کہ مقتدی اس سے راضی رہے دوسرا وہ شخص جو لوگوں کو نماز کیلئے بلاتا ہو صرف اﷲ کے واسطے تیسرا وہ شخص جو اپنے مالک سے بھی اچھا معاملہ رکھے اور اپنے ماتحتوں سے بھی قیامت کی سختی اس کی دہشت اس کا خوف اس کی مصیبتیں اور تکالیف ایسی نہیں کہ کسی مسلمان کا دل اس سے خالی ہو یا بے خبر ہو اس دن میں کسی بات کی وجہ سے بے فکری نصیب ہو جاوے یہ بھی لاکھوں نعمتوں سے بڑھ کر اور کروڑوں راحتوں سے مغتنم ہے پھر اس کے ساتھ اگر تفریح و تنعم بھی نصیب ہو جاوے تو خوش نصیب اس شخص کے جس کو یہ میسر ہو اور بربادی و خسران ہے ان بے حسوں کے لئے جو اس کو لغو بیکار اور اضاعت وقت سمجھتے ہیں۔ معجم کبیر میں اس حدیث شریف کے شروع میں روایت کرنے والے صحابی عبداﷲ بن عمر سے نقل کیا ہے کہ اگر میں نیاس حدیث کو حضور اقدس ﷺ سے ایک مرتبہ اور ایک مرتبہ اور ایک مرتبہ غرض سات دفعہ یہ لفظ کہا یعنی اگر سات مرتبہ نہ سنا ہوتا کبھی نقل نہ کرتا ۔(رواہ الطبرانی فی المعا جم الثلا ثۃ)


۳۷۔ عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا أَبَا ذَرٍّ لَأَنْ تَغْدُوَ فَتَعَلَّمَ آيَةً مِنْ كِتَابِ اللَّهِ ، خَيْرٌ لَكَ مِنْ أَنْ تُصَلِّيَ مِائَةَ رَكْعَةٍ ، وَلَأَنْ تَغْدُوَ فَتَعَلَّمَ بَابًا مِنَ الْعِلْمِ عُمِلَ بِهِ أَوْ لَمْ يُعْمَلْ ، خَيْرٌ لَكَ مِنْ أَنْ تُصَلِّيَ أَلْفَ رَكْعَةٍ " .
ترجمہ:
حضرت ابوذرؓ کہتے ہیں کہ حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اے ابو ذر! اگر تو صبح کو جا کر ایک آیت کلام اﷲ شریف کی سیکھ لے تو نوافل کی سو رکعات سے افضل ہے اور اگر ایک باب علم کا سیکھ لے خواہ اس وقت وہ معمول بہ ہو یا نہ ہو تو ہزار رکعات نفل پڑھنے سے بہتر ہے ۔
(رواہ ابن ماجۃ با سناد حسن)
[سنن ابن ماجه » كِتَاب ابْنُ مَاجَهْ » أَبْوَابُ فِي فَضَائِلِ أَصَحَابِ رَسُولِ اللَّهِ ... » بَاب فَضْلِ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ ... رقم الحديث: 215(219)]
المحدث : المنذري | المصدر : الترغيب والترهيب: 1/77(2/304) | خلاصة حكم المحدث : إسناده حسن
المحدث : الدمياطي | المصدر : المتجر الرابح: 191(21 ) | خلاصة حكم المحدث : إسناده حسن

بہت سے احادیث اس مضمون میں وارد ہیں کہ علم کا سیکھنا عبادت سے افصل ہے فضائل علم میں جس قدر روایات وارد ہوئی ہیں ان کا احاطہ بالخصوص اس مختصر رسالہ میں دشوار ہے حضور ﷺ کا ارشاد ہے کہ عالم کی عابد پر فضیلت ایسی ہے جیسا کہ میری فضیلت تم میں سے ادنی شخص پر ایک جگہ ارشاد ہے کہ شیطان پر ایک فقیہہ ہزار عابدوں سے زیادہ سخت ہے۔

۳۸۔ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ قَرَأَ عَشْرَ آيَاتٍ فِي لَيْلَةٍ لَمْ يُكْتَبْ مِنَ الْغَافِلِينَ " . هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ.
ترجمہ:
حضرت ابو ہریرہؓ نے حضور اکرم ﷺ سے نقل کیا ہے کہ جو شخص دس آیتوں کی تلاوت کسی رات میں کرے وہ اس رات میں غافلین سے شمار نہیں ہو گا ۔
[المستدرك على الصحيحين » كِتَابُ فَضَائِلِ الْقُرْآنِ ... رقم الحديث: 1977(1 : 555)]

دس آیات کی تلاوت سے جس کے پڑھنے میں چند منٹ صرف ہوتے ہیں تمام رات کی غفلت سے نکل جاتا ہے اس سے بڑھ کر اور کیا فضیلت ہو گی ۔

۳۹۔ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ حَافَظَ عَلَى هَؤُلاءِ الصَّلَوَاتِ الْمَكْتُوبَاتِ لَمْ يُكْتَبْ مِنَ الْغَافِلِينَ ، وَمَنْ قَرَأَ فِي لَيْلَةٍ مِائَةَ أَيَّةٍ لَمْ يُكْتَبْ مِنَ الْغَافِلِينَ ، أَوْ كُتِبَ مِنَ الْقَانِتِينَ " .
ترجمہ:
حضرت ابو ہریرہ ؓنے حضور اکرم ﷺ کا ارشاد نقل کیا ہے کہ جو شخص ان پانچوں فرض نمازوں پر مداومت کرے وہ غافلین سے نہیں لکھا جاوے گا جو شخص سو آیات کی تلاوت کسی رات میں کرے وہ اس رات میں قانتین سے لکھا جاوے گا ۔
 (رواہ ابن خزیمۃ فی صحیحہ والحاکم وقال صحیح علی شرطھما)
[المستدرك على الصحيحين » كِتَابِ صَلاةِ التَّطَوُّعِ ... رقم الحديث: 1094(1 : 308)]
المحدث : الألباني | صحيح الترغيب: 640(1437 )[السلسلة الصحيحة: 657] | خلاصة حكم المحدث : صحيح

حسن بصری نے حضور اکرم ﷺ سے نقل کیا ہے کہ جو شخص سو آیتیں رات کو پڑھے کلام ﷲ شریف کے مطالبے سے بچ جاوے گا جو دو سو پڑھ لے اس کیلئے ایک قنطار ہے صحابہ نے پوچھا کہ قنطار کیا ہوتاہے حضور نے ارشاد فرمایا کہ بارہ ہزار کے برابر ( درہم مراد ہوں یا دینار)

۴۰۔ عَنْ اِبْنِ عَبَّاسٍؓ قَالَ نَزَلَ جِبْرَئِیْلُ عَلَیْہِ السَّلَام عَلٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ  فَاَ خْبَرَہٗ اَنَّہٗ سَتَکُوْنُ فِتَنٌ قَالَ فَمَا الْمَخْرَجُ مِنْھَا یَا جِبْرَئِیْل قَالَ کِتَابُ اللّٰہِ۔
ترجمہ:
حضرت ابن عباسؓ کہتے ہیں کہ حضرت جبرئیلؑ نے حضور اقدس ﷺ کو اطلاع دی کہ بہت سے فتنے ظاہر ہوں گے۔ حضور ﷺ نے دریافت فرمایا کہ ان سے خلاصی کی کیا صورت ہے؟ انہوں نے کہا کہ قرآن شریف ۔
(رواہ زین کذا فی الرحمۃ المھداۃ)
الشواهد: عن علي بن أبي طالب
وقد خرج رزين بسنده عن ابن عمر رضي الله عنهما قال: نزل جبريل على رسول الله صلى الله عليه وسلم فأخبره أنها ستكون فتن, قال: فما المخرج منها يا جبريل؟ , قال: كتاب الله تعالى .
[جامع الأصول (7/95) ورقمه (6232) وقد ذكره ابن كثير في فضائل القرآن بمعناه عقب حديث الحارث عن عبد الله بن مسعود, وقال: رواه أبو عبيد القاسم بن سلام في كتابه "فضائل القرآن" وقال: هذا غريب من هذا الوجه.]


کتاب اﷲ پر عمل بھی فتنوں سے بچنے کا کفیل ہے اور اس کی تلاوت کی برکت بھی فتنوں سے خلاصی کا سبب ہے حدیث نمبر ۲۲ میں گذر چکا کہ جس گھر میں کلام پاک کی تلاوت کی جاتی ہے سکینہ اور رحمت اس گھر میں نازل ہوتی ہے اور شیاطین اس گھر سے نکل جاتے ہیں فتنوں سے مراد خروج دجال فتنہ تاتار وغیرہ علماء نے بتلائے ہیں حضرت علیؓ سے بھی ایک طویل روایت میں حدیث بالا کا مضمون وارد ہوا ہے کہ حضرت علیؓ کی روایت میں وارد ہے کہ حضرت یحییٰ نے بنی اسرائیل سے کہا کہ حق تعالیٰ شانہ تم کو اپنے کلام کے پڑھنے کا حکم فرماتا ہے اور اسکی مثال ایسی ہے کہ جیسے کوئی قوم اپنے قلعہ میں محفوظ ہو اور اسکی طرف کوئی دشمن متوجہ ہو کہ جس جانب سے بھی وہ حملہ کرنا چاہے اسی جانب میں اﷲ کے کلام کو اسکا محافظ پاوے گا اور وہ اس دشمن کو دفع کر د یگا ۔
خٰاتِمَہ
فی غدۃ روایات زائدۃ علی الاربعنۃ لا بد منذکرھا لاغراض تناسب المقام

۱۔ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ مرسلا ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فِي فَاتِحَةِ الْكِتَابِ ، شِفَاءٌ مِنْ كُلِّ دَاءٍ " .
ترجمہ:
حضرت عبدالملک بن عمیرؒ حضور اکرم ﷺ کا ارشاد نقل کرتے ہیں کہ سورہ فاتحہ میں ہر بیماری سے شفاء ہے ۔

[سنن الدارمي » وَمِنْ كِتَابِ فَضَائِلِ الْقُرْآنِ » بَاب فَضْلِ فَاتِحَةِ الْكِتَابِ ... رقم الحديث: 3275(3370)]
[شعب الإيمان للبيهقي » التَّاسِعَ عَشَرَ مِن شُعَبِ الإِيمَانِ هَو بَابٌ ... » ذِكْرُ فَاتِحَةِ الْكِتَابِ ... رقم الحديث: 2166(2370)]
المحدث : ابن حجر العسقلاني | المصدر : بذل الماعون: 87 | خلاصة حكم المحدث : مرسل جيد
المحدث : السيوطي | المصدر : الدر المنثور: 1/17(1/16) | خلاصة حكم المحدث : [إسناده] رجاله ثقات
المحدث : الشوكاني | المصدر : فتح القدير: 1/13 | خلاصة حكم المحدث : سند رجاله ثقات


خاتمہ میں بعض ایسی سورتوں کے فضائل ہیں جو پڑھنے میں بہت مختصر لیکن فضائل میں بہت بڑھی ہوئی ہیں اور اسی طرح دو ایک ایسے خاص امر ہیں جن پر تنبیہہ قرآن پڑھنے والے کے لئے ضروری ہے ۔
سورہ فاتحہ کے فضائل بہت سے روایات میں وارد ہوء ہیں ایک حدیث میں آیا ہے کہ ایک صحابی نماز پڑھتے تھے حضورﷺ نے ان کو بلایا وہ نماز کی وجہ سے جواب نہ دے دکے جب فارغ ہو کر حاضر ہوئے تو حضورﷺ نے فرمایا کہ قرآن شریف کی آیت میں نہیں پڑھا { یٰاَ یُّھَاالَّذِیْنَ اٰمَنُوا اسْتَجِیْبُوْا لِلّٰہِ وَلِلرَّسُوْلِ اِذَا دَعَا کُم } (سورہ انفال آیہ ۲۴) ( اے ایمان والوں اﷲ اور اس کے رسول کی پکار کا جواب دو جب بھی وہ تم کو بلاویں ) پھر حضور ﷺنے ارشاد فرمایا کہ تجھے قرآن شریف کی سب سے بڑی سورت یعنی سب سے افضل بتلاؤں پھر حضورﷺ نے ارشاد فرمایا کہ وہ الحمد کی سات آیتیں ہیں یہ سبع مثانی ہیں اور قرآن عظیم بعض صوفیاء سے منقول ہے کہ جو کچھ پہلی کتابوں میں تھا وہ سب کلام پاک میں آ گیا اور جو کلام پاک میں وہ سب سورہ فاتحہ میں آ گیا اور جو کچھ فاتحہ میں ہے وہ بسم اﷲ میں آ گیا اور جو بسم اﷲ میں ہے وہ اس کی ب میں آ گیا اس کی شرح بتلاتے ہیں کہ ب کے معنی اس جگہ ملانے کے ہیں اور مقصود سب چیز سے بندہ کا اﷲ جل شانہ کے ساتھ ملا دینا ہے بعض نے اس کے ساتھ اضافہ کیا ہے کہ ب میں جو کچھ ہے وہ اس کے نقطہ میں آ گیا یعنی وحدانیت کہ نقطہ اصطلاح میں کہتے ہیں اس چیز کو جس کی تقسیم نہ ہو سکتی ہو بعض مشائخ سے منقول ہیکہ ایاک نعبد و ایک نستعین میں تمام مقاصد دینی و دنیوی آ گئے ایک دوسری روایت میں حضور ﷺکا ارشاد وارد ہوتا ہے کہ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے کہ اس جیسی سورت نازل نہیں ہو ئی نہ توراۃ میں نہ انجیل میں نہ زبور نہ بقیہ قرآن پاک میں مشائخ نے لکھا ہے کہ اگرسورہ فاتحہ کو ایمان و یقین کے ساتھ پڑھے تو ہر بیماری سے شفاء ہوتی ہے دینی ہو یا دنیوی ظاہری ہو یا باطنی لکھ کر لٹکانا اور چاٹنا بھی امراض کے لئے نافع ہے صحاح کی کتابوں میں وارد ہے کہ صحابہ نے سانپ بچھو کے کاٹے ہوؤں پر اور مرگی والوں پر اور دیوانوں پر سورہ فاتحہ پڑھ کر دم کیا اور حضورﷺ نے اس کو جائز بھی رکھا نیز ایک روایت میں آیا ہے کہ سائب بن یزید پر حضورﷺ نے اس سورت کو دم فرمایا اور یہ سورت پڑھ کر لعاب دہن درد کی جگہ لگایا اور ایک روایت میں آیا ہے کہ جو شخص سونے کے ارادہ سے لیٹے اور سورہ فاتحہ اور قل ہو اﷲ احد پڑھ کر اپنے اوپر دم کر لے موت کے سوا ہر بلا سے امن پاوے ایک روایت میں آیا ہے کہ سورہ فاتحہ ثواب میں دو تہائی قرآن کے برابر ہے ایک روایت میں آیا ہے کہ عرش کے خاص خزانہ سے مجھ کو چار چیزیں ملی ہیں کہ اور کوئی چیز اس خزانہ سے کسی کو نہیں ملی (۱) سورہ فاتحہ(۲) آیتہ الکرسی (۳) سورہ بقرہ کی آخری آیات اور (۴) سور کوثر ایک روایت میں آیا ہے کہ حسن بصری حضور ﷺسے نقل کرتے ہیں کہ جس نے سورہ فاتحہ کو پڑھا اس نے تویا توراۃ انجیل زبور اور قرآن شریف کو پڑھا ایک روایت میں آیا ہے کہ ابلیس کو اپنے اوپر نوحہ اور زاری اور سر پر خاک ڈالنے کی چار مرتبہ نوبت آئی اول جب کہ اس پر لعنت ہوئی دوسرے جب کہ اس کو آسمان سے زمین پر ڈالا گیا تیسرے جب کہ حضور اکرمﷺ کو نبوت ملی چوتھے جب کہ سورہ فاتحہ نازل ہوئی شعبی سے روایت ہے کہ ایک شخص ان کے پاس آیا اور درد گردہ کی شکایت کی شعبی نے کہا کہ اساس القرآن پڑھ کر درد کی جگہ دم کر اس نے پوجھا کہ اساس القرآن کیا شعبی نے کہا سورہ فاتحہ مشائخ کے اعمال مجرب میں لکھا ہے کہ سرہ فاتحہ اسم اعظم ہے ہر مطلب کے لئے پڑھنی چاہئے اوراس کے دو طریقے ہیں ایک یہ کہ عبح کی سنت اور فرض کے درمیان بسم اﷲ الرحمن الرحیم کے میم کے ساتھ الحمد ﷲ کا لام ملا کر اکتالیس بار چالیس دن تک پڑھے جو مطلب ہو گا انشا ء اﷲ تعالی حاصل ہو گا اور اگر کسی مریض یا جادو کئے ہوئے کے لئے ضرورت ہو تو پانی پر دم کر کے اس کو پلاوے دوسرے یہ کہ نو چندی اتوار کو صبح کی سنت اور فرض کے درمیان بلا قید میم ملانے کے ستربار پڑھے اور اس کے بعد ہر روز اسی وقت پڑھے اور دس دس بار کم کرتا جاوے یہاں تک کہ ہفتہ ختم ہوجاوے اول مہینے میں اگر مطلب پورا ہو جاوے تبہا ورنہ دوسرے تیسرے مہینے میں اسی طرح کرے نیز اس سورت کا چینی کے برتن پر گلاب اور مشک و زعفران سے لکھ کر اور دھو کر پلانا چالیس روز تک امراض مزمنہ کے لئے مجرب ہے نیز دانتوں کے درد اور سر کے درد پیٹ کے درد کے لئے سات بار پڑھ کر دم کرنا مجرب ہے ( یہ سب مضمون مظاہر حق سے مختصر طور پر نقل کیا گیا)
مسلم شریف کی ایک حدیث میں ابن عباس ؓسے روایت ہے کہ حضورﷺ ایک مرتبہ تشریف فرما تھے حضور ﷺنے فرمایا کہ آسمان کا ایک دروازہ آج کھلا ہے جو آج سے قبل کبھی نہیں کھلا تھا پھر اس میں سے ایک فرشتہ نازل ہوا حضورﷺ نے نے فرمایا کہ یہ ایک فرشتہ نازل ہوا جو آج سے قبل کبھی نازل نہیں ہوا تھا پھر اس فرشتہ نے عرض کیا کہ دو نوروں کی بشارت لیجئے جو آپ سے قبل کسی کو نہیں دیئے گئے ایک سورہ فاتحہ دوسرا خاتمہ سورہ بقرہ یعنی سورہ بقرہ کا اخیر رکوع ان کو نور اس لئے فرمایا کہ قیامت کے دن اپنے پڑھنے والے کے آگے آگے چلیں گے ۔




۲۔ عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، قَالَ : بَلَغَنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ قَرَأَ يس فِي صَدْرِ النَّهَارِ ، قُضِيَتْ حَوَائِجُهُ " .
ترجمہ:
حضرت عطا بن ابی رباحؒ کہتے ہیں کہ مجھے حضور اکرم ﷺ کا یہ ارشاد پہنچا ہے کہ جو شخص سورہ یسین کو شروع دن مین پڑھے اس کی تمام دن کی حوائج پوری ہو جائیں ۔


احادیث میں سورہ یس کے بھی بہت سے فضائل وارد ہوئے ہیں ایک روایت میں وارد ہوا ہے کہ ہر چیز کے لئے ایک دل ہوا کرتا ہے قرآن شریف کا دل سورہ یس ہے جو شخص سورہ یس پڑھتا ہے حق تعالیٰ شانہ اس کے لء دس قرآنوں کا ثواب لکھتا ہے ایک روایت میں آیا ہے کہ حق تعالیٰ شانہ نے سورہ طہ اور سورہ یس کو آسمان و زمیں کے پیدا کرنے سے ہزار برس پہلے پڑھا جب فرشتوں نے سنا تو کہنے لگے کہ خوشحالی ہے اس امت کے لئے جن پر یہ قرآن اتارا جائے گا اور خوشحالی ہے ان دلوں کے لئے جو اس کو اٹھائیں گے یعنی یاد کریں گے اور خوشحالی ہے ان زبانوں کے لئے جو اس کو تلاوت کریں گی ایک حدیث میں ہے کہ جو شخص سورہ یس کو صرف اﷲ کی رضا کے واسطے پڑھے اس کے پہلے سب گناہ معاف ہو جاتے ہیں پس اس سورۃ کو اپنے مردوں پر پڑھا کرو ایک روایت مین آیا ہے کہ سورہ یس کا نام توراۃ میںمنعمہ ہے کہ اپنے پڑھنے والے کے لئے دنیا و آخرت کی بھلائیوں پر مشتمل ہے ا ور یہ دنیا و آخرت کی مصیبت کو دور کرتی ہے اور آخرت کی ہول کو دور کرتی ہے اس سورۃ کا نام رافعہ خافضہ بھی ہے یعنی مومنوں کے رتبے بلند کرنے والی اور کافروں کو پست کرنے والی ایک روایت میں ہے کہ حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ میرا دل چاہتا ہے کہ سورہ یس میرے ہر امتی کے دل میں ہو ایک روایت میں ہے کہ جس نے سورہ یس کو ہر رات مین پڑھا پھر مر گیا تو شہید مرا ایک روایت میں ہے کہ جو یس کو پڑھتا ہے اس کی مغفرت کی جاتی ہے اور جو بھوک کی حالت میں پڑھتا ہے وہ سیر ہو جاتا ہے اور جو راستہ گم ہوجانے کی وجہ سے پڑھتا ہے وہ راستہ پا لیتا ہے اور جو شخص جانور کے گم ہوجانے کی وجہ سے پڑھے وہ پالیتا ہے اور جو ایسی حالت میں پڑھے کہ کھانا کم ہوجانیکا خوف ہو تو وہ کھانا کافی ہو جاتا ہے اورجو ایسے شخص کے پاس پڑھے جو نزع مین ہو تو اس پر نزع میں اسانی ہو جاتی ہے اور جوایسی عورت پر پڑھے جس کے بچہ ہونے میں دشواریہو رہی ہو اس کے لئے بچہ جننے میں سہولت ہوتی ہے مقری کہتے ہیں کہ جب بادشاہ یا دشمن کا کوف ہو اور اس کے لئے سورہ یس پڑھے تو وہ خوف جاتا رہتا ہے ایک روایت مین آتا ہے کہ جس نیسورہ یس اور والصفت جمعہ کے دن پڑھی اور پھر اﷲ سے دعا کی اس کی دعا پوری ہوتی ہے( اس کا بھی اکثر مظاہر حق سے منقول ہے مگر مشائخ حدیث کو بعض روایات کی صحت میں کلام ہے )۔

۳۔ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ قَرَأَ سُورَةَ الْوَاقِعَةِ ، فِي كُلِّ لَيْلَةٍ ، لَمْ يُصِبْهُ فَاقَةٌ أَبَدًا " . وَكَانَ ابْنُ مَسْعُودٍ ، يَأْمُرُ بَنَاتِهِ يَقْرَأْنَهَا كُلَّ لَيْلَةٍ.
ترجمہ:
حضرت ابن مسعودؓ نے حضور ﷺ کا یہ ارشاد نقل کیا ہے کہ جو شخص ہر رات کو سورہ واقعہ پڑھے اس کو کبھی فاقہ نہیں ہوگا اور ابن مسعودؓ اپنی بیٹیوں کو حکم فرمایا کرتے تھے کہ ہر شب میں اس سورۃ کو پڑھیں۔
[شعب الإيمان للبيهقي » التَّاسِعَ عَشَرَ مِن شُعَبِ الإِيمَانِ هَو بَابٌ ... » ذِكْرُ الْمُفَصَّلِ ... رقم الحديث: 2283(2498)]
المحدث : الزيلعي | المصدر : تخريج الكشاف: 3/412 | خلاصة حكم المحدث : إسناده جيد
المحدث : ابن حجر العسقلاني | نتائج الأفكار: 3/262(الفتوحات الربانية: 3/279) | خلاصة حكم المحدث : غريب


سورہ واقعہ کے فصائل بھی متعدد روایات میں وارد ہوئے ہیں ایک روایت میں آیا ہے کہ جو شخص سورہ حدید اور سورہ واقعہ اور سورہ رحمن پڑھتا ہے وہ جنت الفردوس کے رہنے والوں میں پکارا جاتا ہے ایک روایت میں ہے کہ سورہ واقعہ سورۃ الغنی ہے اس کو پڑھو اور اپنی اولاد کو سکھاؤ ایک روایت میں ہے کہ اس کو اپنی بیبیوں کو سکھاؤ اور حضرت عائشہ رضی اﷲ عنہا سے بھی اس کے پڑھنے کی/span تاکید منقول ہے مگر بہت ہی پست خیالی ہے کہ چار پیسے کے لئے اس کو پڑھا جاوے البتہ اگر غنائے قلب اور آخرت کی نیت سے پڑھے تو دنیا خود بخود ہاتھ جوڑ کر حاضر ہو گی۔

۴۔ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " سُورَةٌ مِنَ الْقُرْآنِ ثَلَاثُونَ آيَةً تَشْفَعُ لِصَاحِبِهَا حَتَّى يُغْفَرَ لَهُ : تَبَارَكَ الَّذِي بِيَدِهِ الْمُلْكُ " .
ترجمہ:
حضرت ابو ہریرہؓ نے حضور ﷺ کا یہ ارشاد نقل کیا ہے کہ قرآن شریف میں ایک سورت تیس آیات کی ایسی ہے کہ وہ اپنے پڑھنے والے کی شفاعت کرتی رہتی ہے یہاں تک کہ اس کی مغفرت کرا دے وہ سورت تبارک الذی ہے۔
[جامع الترمذي » كِتَاب فَضَائِلِ الْقُرْآنِ » بَاب مَا جَاءَ فِي فَضْلِ فَاتِحَةِ الْكِتَابِ ... رقم الحديث: 2835(2 : 728)]
[سنن ابن ماجه » كِتَاب الْأَدَبِ » بَاب ثَوَابِ الْقُرْآنِ ... رقم الحديث: 3784(4 : 241)]
[صحيح ابن حبان » كِتَابُ الرَّقَائِقِ » بَابُ قِرَاءَةِ الْقُرْآنِ ... رقم الحديث: 794+795(787+788)]
[المستدرك على الصحيحين » كِتَابُ فَضَائِلِ الْقُرْآنِ ... رقم الحديث: 2007(1 : 565)]



سورہ تبارک الذی کے متعلق بھی ایک روایت میں حضور ﷺ کا ارشاد آیا ہے کہ میرا دل چاہتا ہے کہ یہ سورۃ ہر مومن کے دل میں ہو۔ ایک روایت میں ہے کہ جس نے تبارک الذی اور الم سجدہ کو مغرب اور عشاء کے درمیان پڑھا گویا اس نے لیلۃ القدر میں قیام کیا۔ ایک روایت میں ہے کہ جس نے ان دونوں سورتوں کو پڑھا اس کے لئے ستر نیکیاں لکھی جاتی ہیں اور ستر برائیاں دور کی جاتی ہیں ایک روایت میں ہے کہ جس نے ان دونوں سورتوں کو پڑھا اس کے لئے عبادت لیلۃ القدر کے برابر ثواب لکھا جاتا ہے( کذا فی المظاہر)
ترمزی نے ابن عباس سے نقل کیا ہے کہ بعض صحابہ نے ایک جگہ خیمہ لگایا ان کو علم نہ تھا کہ وہاں قبر ہے اچانک ان خیمہ لگانے والوں نیاس جگہ کسی کو سورہ تبارک الذی پڑھتے ہوئے سنا تو حضور سے آکر عرض کیا حضور ﷺنے فرمایا کہ یہ سورۃ اﷲ کے عذاب سے روکنے والی ہے اور نجات دینے والی ہے حضرت جابرؓ کہتے ہیں کہ حضور ﷺ اس وقت تک نہ سوتے تھے جب تک الم سجدہ اور سورہ تبارک الذی نہ پڑھ لیتے تھے۔ خالد بن معدان کہتے ہیں مجھے یہ روایت پہنچی ہے کہ ایک شخص بڑا گناہ گار تھا اور سورہ سجدہ پڑھا کرتا تھا اس کے علاوہ اور کچھ نہیں پڑھتا تھا اس سورت نے اپنے پر اس شخص پر پھیلا دیئے کہ اے رب! یہ شخص میری بہت تلاوت کرتا تھا اس کی شفاعت قبول کی گئی اور حکم ہو گیا کہ ہر خطا کے بدلے ایک نیکی دی جائے خالد بن معدان یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ سورت اپنے پڑھنے والے کی طرف سے قبر میں جھگڑتی ہے اور کہتی ہے کہ اگر میں تیری کتاب میں سے ہوں تو میری شفاعت قبول ورنہ مجھے اپنی کتاب سے مٹا دے اور بمنزلہ پرندہ کے بن جاتی ہے اور اپنے پر میت پر پھیلا یتی ہے اور اس پر عذاب قبر ہونے سے مانع ہوتی ہے اور یہی سارا مضمون وہ تبارک الذی کے بارے میں بھی کہتے ہیں خالد بن معدان اس وقت تک نہ سوتے تھے جب تک دونوں سورتیں نہ پڑھ لیتے طاؤس کہتے ہیں کہ یہ دونوں سورتیں تمام قرآن کی ہر سورۃ پر ساٹھ نیکیاں زیادہ رکھتی ہیں عذاب قبر کوئی معمولی چیز نہیں ہر شخص کو مرنے کے بعد سب سے پہلے قبر سے سابقہ پڑتا ہے حضرت عثمان جب کسی قبر پر کھڑے ہوتے تو اس قدر روتے کہ ریش مبارک تر ہو جاتی کسی نے پوچھا کہ آپ جنت و جہنم کے تذکرہ سے بھی اتنا نہیں روتے جتنا کہ قبر سے آپ نے فرمایا کہ میں نے نبی کریم ﷺ سے سنا ہے کہ قبر منازل آخرت میں سب سے پہلی منزل ہے جو شخص اس کے عزاب سے نجات پا لے آئندہ کے واقعات اس کیلئے سہل ہوتے ہیں اور اگر اس سے نجات نہ پائے تو آنے والے حوادث اس سے سکت ہوتے ہیں نیز میں نے یہ بھی سنا ہے کہ قبر سے زیادہ متوحش کوئی منظر نہیں ( جمع الفوائد)۔اَللّٰھُمَّ احْفَظْنَا مِنْہُ بِفَضْلِکَ وَ مَنِّک۔



۵۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَيُّ الْعَمَلِ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ ؟ ، قَالَ : " الْحَالُّ الْمُرْتَحِلُ " ، قَالَ : وَمَا الْحَالُّ الْمُرْتَحِلُ ؟ ، قَالَ : " الَّذِي يَضْرِبُ مِنْ أَوَّلِ الْقُرْآنِ إِلَى آخِرِهِ ، كُلَّمَا حَلَّ ارْتَحَلَ ".
ترجمہ:
حضرت ابن عباسؓ کہتے ہیں کہ حضور اقدس ﷺ سے کسی نے پوچھا کہ بہترین اعمال میں سے کونسا عمل ہے؟ آپﷺ نے رشاد فرمایا کہ حال مرتحل۔ لوگوں نے پوجھا کہ حال مرتحل کیا چیز ہے؟ حضورﷺ نے ارشاد فرمایا کہ وہ صاحب القرآن ہے جو اول سے چلے حتیٰ کہ آخیر تک پہنچے اور اخیر کے بعد پھر اول پر پہنچے جہاں ٹھہرے پھر آ گے چل دے ۔
 (رواہ الترمذی کما فی الرحمۃ والحاکم وقال تفردبہ صالح المری وھومن زھاد اھل البصرۃ الا ان الشیخین لم یخرجاہ وقال الذھبی صالح متروک قلت ھو من رواۃابی داؤدوالترمذی(

حال کہتے ہیں منزل پر آنیوالے کو اور مرتحل کوچ کرنے والیکو یعنی یہ کہ جب کلام پاک ختم ہو جایے تو پھر از سر نو شروع کر لے یہ نہیں کہ بس اب ختم ہو گیا دوبارہ پھر دیکھآ جائے گا کنز العمال کی ایک روایت میں اس کی شرح وارد ہوئی ہے الخاتم المفتح ختم کرنے والا اور ساتھ ہی شروع کرنے والا یعنی ایک قرآن ختم کرنے کے بعد ساتھ ہی دوسرا شروع کر لے اسی سے غالباً وہ عادت ماخوز ہے جو ہمارے صیار میں متعارف ہے کہ ختم قرآن شریف کے بعد مفلحون تک پڑھا جاتا ہے مگر اب لوگ اسی کو مستقل ادب سمجھتے ہیں اور پھر پورا کرنے کا اہتمام نہیں کرتے حالانکہ ایسا نہیں بلکہ دراصل معاً دوسرا قرآن شریف شروع کرنا بظاہر مقصود ہے جس کو پورا بھی کرنا چا ہئے شرح احیاء میں اور علامہ سیوطی نے اتقان میں بروایت دارمی نقل کیا ہے کہ حضور اکرم ﷺ جب قل اعوذ برب الناس پڑھا کرتے تو سورہ بقرہ سے مفلحون تک ساتھ ہی پڑھتے اور اس کے بعد ختم قرآن کی دعا فرماتے تھے ۔

۶۔ عَنْ أَبِي مُوسَى ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : "تَعَاهَدُوا الْقُرْآنَ ، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَهُوَ أَشَدُّ تَفَصِّيًا مِنَ الْإِبِلِ فِي عُقُلِهَا " .
ترجمہ:
حٰضرت ابو موسی اشعریؓ نے حضور اکرم ﷺ سے نقل کیا ہے کہ قرآن شریف کی خبر گیری کیا کرو قسم ہے اس ذات پاک کی کہ جس کے قبضہ میں میری جان ہے کہ قرآن پاک جلد نکل جانے والا ہے سینوں سے بہ نسبت اونٹ کے اپنی رسیوں سے ۔

[صحيح مسلم » كِتَاب صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا » باب فَضَائِلِ الْقُرْآنِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِهِ بَاب ... رقم الحديث: 1323(792)]

یعنی آدمی اگر جانور کی حفاظت سے غافل ہو جاوے اور وہ رسی سے نکل جاوے تو بھاگ جاوے گا اسی طرح کلام پاک کی اگر حفاظت نہ کی جاوے تو وہ بھی یاد نہیں رہے گا اور بھول جاوے گا اور اصل بات یہ ہے کہ کلام اﷲ شریف کا حفظ یاد ہو جانا در حقیقت یہ خود قرآن شریف کا ایک کھلا ہوا معجزہ ہے ورنہ اس سے آدھی تہائی مقدار کی کتاب بھی یاد ہونا مشکل ہی نہیں بلکہ قریب یہ محال ہے اسی وجہ سے حق تعالیٰ شانہ نے اس کے یاد ہو جانے کو سورہ قمر میں بطور احسان کے ذکر فرمایا اور بار بار اس پر تنبیہہ فرمائی:
وَلَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ لِذِّکْرِ فَھَلْ مِنْ مُّدَّکِرٍ ( سورہ قمر آیہ ۴۰)
کہ ہم نے قرآن پاک کو حفظ کرنے کے لئے سہل کر رکھا ہے کوئی ہے حفظ کرنے والا۔


صاحب جلالین نے لکھا ہے کہ استفہام اس آیت میں امر کے معنی میں ہے تو جس چیز کو حق تعالیٰ شانہ بار بار تاکید سے فرما رہے ہوں اس کو ہم مسلمان لغو اور حماقت اور بیکار اضاعت وقت سے تعبیر کرتے ہوں اس حماقت کے بعد پھر بھی ہماری تباہی کے لئے کسی اور چیز کے انتظار کی ضرورت باقی ہے تعجب کی بات ہے کہ حضرت عزیر ؑاگر اپنی یاد سے تورات لکھا دیں تو اس کی وجہ سے ﷲ کے بیٹے پکارے جاویں اور مسلمانوں کے لئے ﷲ جل شانہ نے اس لطف و احسان کو عام فرما رکھا ہے تو اس کی یہ قدر دانی کی جاوے۔
 فَسَیَعْلَمُ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْآاَیَّ مُنْقَلَبٍ یَّنْقَلِبُوْنَ 
بالجملہ یہ محض حق تعالیٰ شانہ کا لطف و انعام ہے کہ یہ یاد ہو جاتا ہے اس کے بعد اگر کسی شخص کی طرف سے بے توجہی پائی جاتی ہے تو اس سے بھلا دیا جاتا ہے قرآن شریف پڑھ کر بھلا دینے میں بڑی سخت وعیدیں آئی ہیں حضورﷺ کا ارشاد ہے کہ مجھ پر امت کے گناہ پیش کئے گئے میں نے اس سے بڑھ کر کوئی گناہ نہیں پایا کہ کوئی شخص قرآن شریف پڑھ کر بھلا دے۔ دوسری جگہ ارشاد ہے کہ جو شخص قرآن شریف پڑھ کر بھلا دے قیامت کے دن اﷲ کے دربار میں کوڑھی حاضر ہو گا۔
جمع الفوائد میں رَزِین کی روایت سے آیت ذیل کو دلیل بنایا ہے۔
 قَالَ رَبِّ لِمَ حَشَرْ تَنِیْ اَعْمٰی وَقَدْ کُنْتُ بَصِیْرًا
جو شخص ہمارے ذکر سے اعراض کرتا ہے اس کی زندگی تنگ کر دیتے ہیں اور قیامت کے روز اس کو اندھا اٹھائیں گے وہ عرض کرے گا کہ یا اﷲ میں تو آنکھوں والا تھا مجھے اندھا کیوں کر دیا ارشاد ہو گا اس لئے کہ تیرے پاس ہماری آیتیں آئیں اور تو نے ان کو بھلادیا پس آج تو بھی اسی طرح بھلا دیا جائے گا یعنی تیری کوئی اعانت نہیں ۔





۷۔ عَنْ بُرَؓیْدَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ  : " مَنْ قَرَأَ الْقُرْآنَ ، يَتَأَكَّلُ بِهِ النَّاسَ ، جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، وَوَجْهُهُ عَظْمٌ ، لَيْسَ عَلَيْهِ لَحْمٌ " .
ترجمہ:
حٰضرت بریدہؓ نے حضور اقدس ﷺ کا یہ ارشاد نقل کیا ہے کہ جو شخص قرآن پڑھے تاکہ اس کی وجہ سے کھاوے لوگوں سے قیامت کے دن وہ ایسی حالت میں آئے گا کہ اس کا چہرہ محض ہڈی ہو گا جس پر گوشت نہ ہوگا ۔



یعنی جو لوگ قرآن شریف کو طلب دنیا کی غرض سے پڑھتے ہیں ان کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں حضور اکرم ﷺ کا ارشاد ہے کہ ہم قرآن شریف پڑھتے ہیں اور ہم میں عجمی و عربی ہر طرح کے لوگ ہیں جس طرح پڑھتے ہو پڑھتے رہو عنقریب ایک جماعت آنیوالی ہے جو قرآن شریف کے حروف کو اس طرح سیدھاکریں گے جس طرح تیر سیدھا کیا جاتا ہے یعنی خوب سنواریں گے ایک ایک حرف کو گھنٹوں درست کریں گے اور مخارج کی رعایت میں خوب تکلف کریں گے اور یہ سب دنیا کے واسطے ہو گا آخرت سے ان لوگوں کو کچھ بھی سرو کار نہ ہوگا مقصد یہ ہے کہ محض خوش آوازی بیکار ہے جب کہ اس میں اخلاص نہ ہو محض دنیا کمانے کے واسطے کیا جاوے چہرہ پر گوشت نہ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ جب اس نیاشرف الاشیاء کو ذلیل چیز کمانے کا ذریعہ کیا تو اشرف الاعضاء چہرہ کو رونق سے محروم کر دیا جائے گا عمران بن حصین کا ایک واعظ پر گذر ہوا جو تلاوت کے بعد لوگوں سے کچھ طلب کر رہا تھا یہ دیکھ کر انہوں نے انا ﷲ پڑھی اور فرمایا کہ میں نے حضور اکرم ﷺ سے سنا ہے کہ جو شخص تلاوت کرے اس کو جو مانگنا ہو اﷲ سے مانگے عنقریب ایسے لوگ آئیں گے جو پڑھنے کے بعد لوگوں سے بھیک مانگیں گے مشائخ سے منقول ہے کہ جو شخص علم کے ذریعے سے دنیا کماوے اس کی مثال ایسی ہے کہ جوتے کو اپنے رخسار سے صاف کرے اس میں شک نہیں کہ جوتا تو صاف ہو جاوے گا مگر چہرہ سے صاف کرنا حماقت کی منتہا ہے ایسے ہی لوگوں کے بارے میں نازل ہوا ہے{ اُولٰٓئِکَ الَّذِیْنَ اشْتَرَوُالضَّلَالَۃَ بِالْھُدَیٰ۔۔۔۔۔}(سورہ بقرہ آیہ ۔۱۶) (یہی لوگ ہیں جنہوں نے ہدایت کے بدلہ میں گمراہی خریدی ہے پس نہ ان کی تجارت کجھ نفع والی ہے اور نہ یہ لوگ ہدایت یافتہ ہیں ) ابی بن کعب کہتے ہیں کہ میں نے ایک شخص کو قرآن شریف کی ایک سورت پڑھائی تھی اس نے ایک کمان مجھے ہدیہ کے طور سے دی میں نے حضور سے اس کا تذکرہ کیا تو حضورﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جہنم کی ایک کمان تو نے لے لی اس طرح کا واقعہ عبادۃ بن الضامت نے اپنے متعلق نقل کیا اور حضورﷺ کا جواب یہ نقل کیا کہ جہنم کی ایک چنگاری اپنے مونڈھوں کے درمیان لٹکا دی دوسری روایت مین ہے کہ اگر تو چاہے کہ جہنم کا ایک طوق گلہ میں دالے تو اس کو قبول کر لے ۔
یہاں پہنچ کر میں ان حفاظ کی خدمت میں جن کا مقصود قران شریف کے مکتبوں سے فقط پیسہ ہی کمانا ہے بڑے ادب سے عرض کروں گا کہ ﷲ اپنے منصب اور اپنی ذمہ داری کا لحاظ کیجئے جو لوگ آپ کی بدنیتیوں کی وجہ سے کلام مجید پڑھانا یا حفظ کرنا بند کرتے ہیں اس کے وبال میں وہ تنہا گرفتار نہیں خود آپ لوگ بھی اس کے جواب دہ اور قرآن پاک کے بند کرنے والوں میں شریک ہیں آپ لوگ سمجھتے ہیں کہ ہم اشاعت کرنے والے ہیں لیکن درحقیقت اس اشاعت کے روکنے والے ہم ہی لوگ ہیں جن کی بد اطواریان اور بد نیتیاں دنیا کو مجبور کر رہی ہیں کہ وہ قرآن پاک ہی کو چھور بیٹھیں علماء نے تعلیم کی تنخواہ کو اس لئے جائز نہیں فرمایا کہ ہم لوگ اسی کو مقصود بنا لیں بلکہ حقیقتاً مدرسین کی اصل غرض صرف تعلیم اور اشاعت علم و قرآن شریف ہونے کی ضرورت ہے اور تنخواہ اس کا معاوضہ نہیں بلکہ رفع صرورت کی ایک صورت ہے جس کو مجبوراً اور اضطرار کی وجہ سے اختیار کیا گیا۔




تتمہ
قرآن پاک کے ان سب فضائل اور خوبیاوں کے ذکر کرنے سے مقصود اس کے ساتھ محبت پیدا کرنا ہے اس لئے کلام اﷲ شریف کی محبت حق تعالی شانہ کی محبت کے لئے لازم و ملزوم ہے اور ایک کی محبت دوسرے کی محبت کا سبب ہوتی ہے دنیا میں آدمی کی خلقت صرف اﷲ جل شانہ کی معرفت کیلئے ہوئی ہے اور آدمی کے علاوہ سب چیز کی خلقت آدمی کیلئے
اباد ومہ و خورشید و فلک در کارند
تاتونا نے بکف آری و بغفلت نخوری
ہمہ از بہر تو سگشتہ و فرماں بردار
شرط انصاف نہ باشد کہ تو فرماں نبری
کہتے ہیں بادل و ہوا چاند سورج آسمان و زمین غرض ہر چیز تیری خاطر کام میں مشغول ہے تا کہ تو اپنی حوائج ان کے زریعے سے پوریکرے اور عبرت کی نگاہ سے دیکھے کہ آدمی کی ضروریات کے لئے یہ سب چیزیں کس قدر فرماں بردار و مطیع اور وقت پر کام کرنے والی ہیں اور تنبیہہ کے لئے کبھی کبھی ان میں تکلف بھی تھوری دیر کیلئے کر دیا جاتا ہے بارش کے وقت بارش نہ ہونا ہوا کے وقت ہوا نہ چلنا اسی طرح گرہن کے ذریعے سے چاند سورج عرض ہر چیز کو ئی تغیر بھی پیدا کیا جاتا ہے تا کہ ایک غافل کیلئے تنبیہہ کا تازیانہ بھی لگے اس سب کے بعد کس قدر جیرت کی بات ہے کہ تیری وجہ سے یہ سب چیزیں تیری ضروریات کے تابع کی جاویں اور ان کی فرمان برداری بھی تیری اطاعت اور فرمانبرداری کا سبب نہ بنے اور اطاعت و فرمانبرداری کے لیے بہتریں معین محبت ہے’’اِنَّ الْمُحِبَّ لِمَنْ یُّحِبُّ مُطِیْعٌ‘‘ جب کسی شخص سے محبت ہو جاتی ہے عشق و فریفتگی پیدا ہو جاتی ہے تو اس کی اطاعت و فرمان برداری طبیعت اور عادت بن جاتی ہے اور اس کی نافرمانی ایسی ہی گراں اور شاق ہوتی ہی جیسے کہ بغیر محبت کے کسی کی اطاعت ظلاف عادت و طبع ہونے کی وجہ سے بار ہوتی ہے کسی چیز سے محبت پیدا کرنے کی صورت اس کے کمالات و جمال کامشاہدہ ہے حواس ظاہرہ سے ہو یا حواس باطنہ میں استحضار سے اگر کسی کے چہرے کو دیکھ کر بے اختیار اس سے وابستگی ہو جاتی ہے تو کسی کی دل آویز آواز بھی بسا اوقات مقناطیس کا اثر رکھتی ہے۔
نہ تنہا عشق از دیدار خیزد
بسا کیں دولت از گفتار خیزد
عشق ہمیشہ صورت ہی سے پیدا نہیں ہوتا بسا اوقات یہ مبارک دولت بات سے بھی پیدا ہو جاتی ہے کان میں آواز پڑ جانا اگر کسی کی طرف بے اختیار کھینچتا ہے تو کسی کے کلام کی خوبیاں اس کے جوہر اس کے ساتھ الفت کا سبب بن جاتی ہیں کسی کے ساتھ عشق پیدا کرنے کی تدبیر اہل فن نے یہ بھی لکھی ہے کہ اس کی خوبیوں کا استحضار کیا جاوے اس کے غیر کو دل میں جگہ نہ دی جاوے جیسا کہ عشق طبعی میں یہ سب باتیں بے اختیار ہوتی ہیں کسی کا حسین چہرہ یا ہاتھ نظر پڑ جاتا ہے تو آدمی سعی کرتا ہے کوشش کرنا ہے کہ بقیہ اعضاے کو دیکھے تا کہ محبت میںاضافہ قلب کو تسکین ہو حالانکہ تسکین ہوتی نہیں مرص بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی کسی کھیت میں بیج ڈالنے کے بعد اگر اس کی آبپاشی کی خبر نہ لی گئی توپیداوار نہیں ہوتی اگر کسی کی محبت دل میں بے اختیار آ جانے بعد اس کی طرف التفات نہ کیا جاوے تو آج نہیں تو کل دل سے محو ہو جاویگی لیکن اس کے خط و خل سراپا اور رفتار و گفتار کے تصور سے اس قلبی بیج کو سینچتا رہے تو اس میں ہر لمحہ اضافہ ہو گا ۔
مکتب عشق کے انداز نرالے دیکھے
اس کو چھٹی نہ ملی جس نے سبق یاد کیا
اس سبق کو بھلا دو گے فوراً چھٹی مل جاوے گی جتنا جتنا یاد کرو گے اتنا ہی جکڑے جاؤ گے اسی طرح کسی قابل عشق سے محبت پیدا کرنی ہو تو اس کے کمالات اس کی دل آویزیوں کا تتبع کرے جوہروں کو تلاش کرے اور جس قدر معلوم ہو جاویں اس پر بس نہ کرے بلکہ اس سے زائد کا متلاشی ہو کہ فنا ہونے والے محبوب کے کسی ایک عضو کو دیکھنے پر قناعت نہیں کی جاتی اس سے زیادہ کی ہوس جہان تک کہ امکان میں ہو باقی رہتی ہے حق سبحانہ و تقدس جو حقیقتاً ہر جمال و حسن کا منبع ہیں اور حقیقتاً دنیا میں کوئی بھی جمال ان کے علاوہ نہیں ہے یقیناً ایسے محبوب ہیں کہ جن کے کسی جمال و کمال پر بس نہیں نہ اس کی کوئی غایت ان ہی بے نہایت کمالات میں سے ان کاکلام بھیہے جس کے متعلق میں پہلے اجمالاً کہہ چکا ہوں کہ اس انتساب کے بعد پھر کسی کمال کی ضرورت نہیں عشاق کیلئے اس انتساب کے برابر اور کون سے چیز ہو گی ۔
اے گل بتو کر سندم تو بوئے کسے داری
قطع نظر اس سے کہ اس انتساب کو اگر چھوڑ بھی دیا جاویء کہ اس کا موجد کون ہے اور وہ کس کی صفت ہے تو پھر حضور اقدس ﷺ کے ساتھ اس کو جو جو نسبتیں ہیں ایک مسلمان کی فریفتگی کے لئے وہ کیا کم ہیں اگر اس سے بھی قطع نظر کی جائے تو خود کلام پاک ہی میں عور کیجئے کہ کون سے خوبی دنیا میں ایسی ہے جو کسی چیز میں پائی جاتی ہے اور کلام پاک میں نہ ؎
دامان نگہ تنگ و تل حسن تو بسیار
گل چیں بہار تو زداماں گلہدارد
فدا ہو آپ کی کس کس ادا پر
ادائیں لاکھ اور بیتاب دل ایک
احادیث سابقہ کو غور سے پڑھنے والوں پر مخفی نہیں کہ کوئی بھی چیز دنیا میں ایسی نہیں جس کی طرف احادیث بالا میں متوجہ نہ کر دیا ہو اور انواع محبت و افتخار میں سے کسی نوع کا دلدادہ بھی ایسا نہ ہوگا کہ اسی رنگ میں کلام اﷲ شریف کی افضلیت و برتری ۔اس نوع میں کمال درجہ کی نہ بتلا دی گئی ہو مثلاً کلی اوراجمالی بہترائی جو دنیا بھر کی چزیوں کو شامل ہے ہر جمال و کمال اس میں داخل ہے سب ے پہلی حدیث (۱) نے کلی طپور پر ہر چیز سے اس کی افصلیت اور برتری بتلادی محبت کی کوئی سے نوع لے لیجئے کسی شخص کو اسباب غیر متناہیہ میں سے کسی وجہ سے کوئی پسند آئے قرآن شریف اسی کلی افضلیت میں اس سے افضل ہے اس کے بعد بالعموم جو اسباب تعلق و محبت ہوتے ہین جزئیات و تمثیل کے طور سے ان سب پر قرآن شریف کی افضلیت بتلادی گئی حدیث(۲) اگر کسی کو ثمرات اور منافع کی وجہ سے کسی سے محبت ہوتی ہے تو اﷲ جل شانہ کاوعدہ ہے کہ ہر مانگنے والے سے زیادہ عطا کروں اگر کسی کو ذاتی فضیلت ذاتی جوہر زاتی کمال سے کوئی بھاتا ہے تو اﷲ جل شانہ نے بتلا دیا کہ دنیا کی ہر بات پر قرآن شریف کی اتنی فضیلت ہے جتنی خالق کو مخلوق پر آقا کو بندوں پر مالک کو مملوک پر حدیث (۳)اگر کوئی مال و متاع حشم و خدم اور جانوروں کا گرویدہ ہے اور کسی نوع کے جانور پالنے پر دل کھوئے ہوئے ہے تو جانوروں کے بے مشقت حاصل کرنے سے تحصیل کلام پاک کی افضلیت پر متنبہ کر دیا حدیث (۴) اگر کو ئی صوفی منش تقدس و تقوی کا بھوکا ہے اس کے لئے سرگرداں ہے تو حضور نے بتلا دیا کہ قرآن کے ماہر کا ملائکہ کے ساتھ شمار ہے جن کے برابر تقوی کا ہونا مشکل ہے کہ ایک آن بھی خلاف اطاعت نہیں گزار سکتے مزید یہ فضلیت ہے کہ اگر کوئی شخص دوہرا حصہ ملنے سے افتخار کرتا ہے یا اپنی بڑائی اسی میں سمجھتا ہے کہ اس کی رائے دو رائیوں کے برابر شمار کی جاوے تو اٹکنے والے کے دوہرا اجر ہے حدیث(۵) اگر کوئی حاسد بد اخلاقیوں کا متوالا ہے دنیا میں حسد ہی کا خوگر ہو گیا ہو اس کی زندگی حسد سے نہیں ہٹ سکتی تو حصور نے بتلا دیا کہ اس قابل جس کے کمال پر واقعی حسد ہو سکتا ہے وہ حافظ قرآن ہے حدیث (۶) اگر کو فواکہ کا متوالا ہے اس پر جان دیتا ہے پھل بغیر اس کو چین نہیں پڑتا تو قرآن شریف ترنج کی مشابہت رکھتا ہے اگر کوئی میٹھے کاعاشق ہے مٹھائی بغیر اس کا گذر نہیں تو قرآن شریف کھجور سے زیادہ میٹھا ہے حدیث (۷) اگر کوئی شخص عزت و وقار کادلدادہ ہے ممبری اورکونسل بغیر اس سے نہیں رہاجاتا تو قرآن شریف دنیا اور آخرت میں رفع درجات کا ذریعہ ہے حدیث(۸) اگر کوئی شخص معین و مدد گار چاہتا ہے ایسا جان نثارچاہتا ہے کہ ہر جھگڑے میں اپنے ساتھی کی طرف سے لڑنے کو تیار ہے تو قرآن شریف سلطان السلاطین ملک الملوک شہنشاہ سے اپنے ساتھی کی طرف سے جھگڑنے کو تیار ہے مزید یہ فضیلت ہے کہ اگر کوئی نکتہ رس باریک بینیوں میں عمر خرچ کرنا چاہتا ہے اس کے نزدیک ایک باریک نکتہ حاصل کرلینا دنیا بھر کی لزات سے اعراض کو کافی ہے تو بطن قرآن شریف دقائق کا خزانہ ہے مزید برآناسی طرح اگر کوئی شخص مخفی رازوں کا پتہ لگانا کمال سمجھتا ہے محکمہ سی آئی ڈی میں تجربہ کو ہنر سمجھتا ہے عمر کھپاتا ہے تو بطن قرآن شریف ان اسرار مخفیہ پر متنبہ کرتا ہے جن کی انتہا نہیں (۹) اگر کوئی شخص اونچے مکان بنانے پر مر رہا ہے ساتویں منزل پر اپنا خاص کمرہ بنانا چاہتا ہے تو قرآن شریف ساتوین ہزار منزل پر پہنچاتا ہے حدیث (۱۰) اگر کو ئی اس کا گرویدہ ہے کہ ایسی سہل تجارت کروں جس میں محنت کچھ نہ ہو اور نفع بہت سا ہو جاوے تو قرآن شریف ایک حرف پر دس نیکیں دلاتا ہے حدیث (۱۱) اگر کوئی تاج و تخت کا بھوکا ہے اس کا خاطر دنیا سے لڑتا ہے تو قرآن شریف اپنے فریق کے والدین کو بھی وہ تاج دیتا ہے جس کی چمک دمک کی دنیا میں کوئی نظیر ہی نہیں حدیث (۱۲) اگر کوئی شعبدہ بازی میں کمال پیدا کرتا ہے آگ ہاتھ پر رکھتا ہے جلتی دیا سلائی منہ میں رکھ لیتا ہے تو قرآن شریف جہنم تک کی آگ کو اثر کرنے سے مانع ہے حدیث (۱۳) اگر کوئی حکام رسی پر مرتا ہیاس پر ناز ہے کہ ہمارے ایک خط سے فلاں حاکم نے اس ملزم کو چھور دیا ہم نے فلاں شخص کو سزا نہیں ہونے دی اتنی سے بات حاصل کرنے کے لئے جج و کلکڑ کی دعوتوں اور خوشامدوں میں جان و مال صائع کرتا ہے ہر روز کسی نہ کسی حاکم کی دعوت میں سرگرداں رہتا ہے تو قرآن شریف اپنے ہر رفیق کے ذریعے ایسے دس شخصوں کو خلاصی دلاتا ہے جن کو جہنم کا حکم مل چکا ہے حدیث(۱۴) اگر کوئی خوشبوؤں پر مرتا ہے چمن اورپھولوں کا دلدادہ ہے تو قرآن شریف بالچھڑ ہے مزید فضیلت یہ ہے کہ اگر کوئی عطور کا فرفتہ ہے حنائے مشکی میں غسل چاہتا ہو تو کلام مجید سرا پا مشک ہے اور غور کرو گے تو معلوم ہو جاوے گا کہ اس مشک سے اس مشک کو کچھ بھی نسبت نہیں چہ نسبت خاک را بہ عالم پاک
کار زلف تست مشک افشانی اما عاشقاں
مصلحت را تہمتے بر آ ہوء چین بستہ اند
حدیث (۱۵) اگر کوئی جوتہ کا آشنا ڈر سے کوئی کام کر سکتا ہے ترغیب اس کے لئے کار آمد نہیں تو قرآن شریف سے خالی ہوناگھر کی بربادی کے برابر ہے حدیث (۱۶) اگر کو ئی عابد افضل العبادات کی تحقیق میں رہتا ہے اور ہر کام میں اس کا متمنی ہے کہ جس چیز میں زیادہ ثواب ہو اسی میں مشغول رہوں تو قرات قرآن افصل العبادات ہے اور تصریح سے بتالا دیا کہ نفل نماز روزہ تسبیح و تہلیل وغیرہ سب سے افضل ہے حدیث(۱۷۔ ۱۸)بہت سے لوگوں کو حاملہ جانوروں سے دلچسپی ہوتی ہے حاملہ جانور قیمتی داموں میں خریدے جاتے ہیں حضورﷺ نے متنبہ فرما دیا اور خصوصیت سے اس جزو کو بھی مثال میں ذکر فرمایا کہ قرآن شریف اس سے بھی افضل ہے حدیث (۱۹) اکثر لوگوںکی صحت کی فکر دامنگیر رہتی ہے ورزش کرتے ہیں روزانہ غسل کرتے ہیں د وڑتے ہیں علی الصبح تفریح کرتے ہیںاسی طرح سے بعض لوگوں کو رنج و غم فکر و تشویش دامن گیر رہتی ہے حضور ﷺ نے فرما دیا کہ سورہ فاتحہ ہر بیماری کی شفا ہے اور قرآن شریف دلوں کی بیماری کو دور کرنے والا ہے حدیث (۲۰) لوگوں کو افتخار کے اسباب کزشتہ افتخارات کے علاوہ اور بھی بہت سے ہوتے ہیں جن کا احاطہ مشکل ہے اکثر اپنے نسب پر افتخار ہوتا ہے کسی کو اپنی عادتوں پر کسی کو اپنی ہر دلغزیزی پر کسی کو اپنے حسن تدبیر پر حضور نے فر ما دیا کہ حقیقتاً قابل افتخار جو چیز ہے وہ قرآن شریف ہے اور کیوں نہ ہو کہ در حقیقت ہر جمال و کمال کو جامع ہے ۔
آنچہ خوبان ہمہ دارند تو تنہا داری
حدیث (۲۱) اکثر لوگوں کو خزانہ جمع کرنے کا شوق ہوتا ہے کھانیاور پہننے میںتنگی کرتے ہیں تکالیف برداشت کرتے ہیں اور ننانوے کے پھیر میں ایسے پھنس جاتے ہین جس سے نکلنا دشوار ہوتا ہے حضورﷺ نے ارشاد فرما دیا کہ ذخیرہ کے قابل کلام پاک ہے جتنا دل چاہے آدمی جمع کرے کہ اس سے بہتر کوئی خزینہ نہیں حدیث (۲۲) اسی اگر برقی روشنیوں کا آ پکو شوق ہے آپ اپنے کمرے میں دس قمقمے بجلی کے اس لئے نصب کرتے ہیں کہ کمرہ جگمگا اٹھے تو قرآن شریف سے بڑھ کر نورانیت کس چیز میںہو سکتی ہے مزید برآن یہ کہ اگر آپ اس پر جان دیتے ہیں کہ آپ کے پاس ہدایا آیا کریں دوست روزانہ کچھ نہ کچھ بھیجتے رہا کریں تو آپ توسیع تعلقات اسی کی خاطر کرتے ہیں جو دوست آشنا اپنے باغ کے پھلوں میں آپ کا حصہ نہ لگائے تو آپ اس کی شکایت کرتے ہیں تو قرآن شریف سے بہتر تحائف دینے والا کون ہے کہ سکینہ اس کے پاس بھیجی جاتی ہے پس آپ کے کسی پر مرنے کی گر یہی وجہ ہے کہ وہ آپ کے پاس روزانہ کجھ نذرانہ لاتا ہے تو قرآن شریف میں اس کا بھی بدل ہے اگر آپ خواہاں ہیں اور آپ کسی وزیر کے اس لئے ہر وقت قدم چومتے ہیں کہ وہ دربار میں آپ کا ذکر کر دے گا کسی پیش کار کی اس لئے خوشامد کرتے ہیں کہ وہ کلکٹر کے یہاں آپ کی کچھ تعریف کر دے گا یا کسی کی آپ اس لئے چاپلوسی کرتے ہیں کہ محبوب کی مجلس میں آپ کا ذکر کر دے تو قران شریف احکم الحاکمین محبوب حقیقی کے دربار میں آپ کا ذکر کود محبوب و آقا کی زبان سے کراتا ہے حدیث(۲۳) اگر آپ اس کے جویاں رہتے ہیں کہ محبوب کو سب سے زیادہ مرغوب چیز کیا ہے کہ اس کے مہیا کرنے میں پہاڑوں سے دودھ کی نہر نکالی جائے تو قرآن شریف کے برابر آقا کو کوئی چیز بھی مرغوب نہیں حدیث (۲۴) اگر آپ درباری بننے میں عمر کھپارے ہیں سلطان کے مصاحب بنے کے لئے ہزار تدبیر اختیار کرتے ہیں تو کلام اﷲ شریف کے ذریعے آپ اس بادشاہ کے مصاحب شمار ہوتے ہیںجس کے سامنے کسی بڑے سے بڑے کی بادشاہت کچھ حقیقت نہیں رکھتی مزید برآں کتنے تعجب کی بات ہے کہ لوگ کونسل کی ممبری کے لئے اور اتنی سے بات کے لئے کہ کلکٹر صاحب شکار مین جاویں تو آپ کو بھی ساتھ لے لیں آپ کس قدر سربانیاں کرتے راحت و ارام جان و مال نثار کرتے ہین لوگوں سے کوشش کراتے ہیں دین اور دنیا دونوں کو برباد کرتے ہیں صرف اس لئے کہ آپ کی نگاہ میں اس سے آپ کا اعزاز ہوتا ہے تو پھر کیا حقیقی اعزاز کے لئے حقیقی حاکم و بادشاہ کی مصاحبت کے لئے واقعی درباری بننے کیلئے آپ کو ذرا سی توجہ کی بھی ضرورت نہیں آپ اس نمائشی اعزاز پر عمر خرچ کیجئے مگر خدارا اس عمر کا تھوڑا سا حصہ عمر دینے والے کی خوشنودی کیلئے بھی تو خرچ کیجئے (۲۵) اسی طرح اگر آپ میں چشتیت پھونک دی گئی ہے اور ان مجالس بغیر آپ کو قرار نہیں تو مجالس تلاوت اس سے کہین زیادہ دل کو پکڑنے والی ہیں اور بڑے سے بڑے مستغنی کے کان اپنی طرف متوجہ کر لیتی ہیں حدیث (۲۶) اسی طرح اگر آپ آقا کو اپنی طرف متوجہ کرنا چاہتے ہیں تو تلاوت کیجئے حدیث (۲۷) اورآپ اسلام کے مدعی ہیں مسلم ہونے کا دعوی ہے تو حکم ہے نبی کریمﷺ کا کہ قرآن شریف کیایسی تلاوت کرو جیسا کہ اس کا حق ہے اگر آپ کے نزدیک اسلام صرف زبانی جمع خرچ نہیں ہے اور اﷲ اور اس کے رسول کی فرماں برداری سے بھی آپ کے اسلام کو کوئی سروکار ہے تو یہ اﷲ کا فرمان ہے اور اس کے رسسول کی طرف سے اس کا تلاوت کا حکم ہے مزید برآں اگر آپ میں قومی جوش بہت زور کرتا ہے ترکی ٹوپی کے آپ صرف اس لئے دلدادہ ہیں کہ وہ آپ کے نزدیک خالص اسلام لباس ہے قومی شعار میں آپ بہت خاص دلچسپی رکھتے ہیں ہر طرح اس کے پگھلانے کی آپ تدبیریں اختیار کرتے ہیں اخبارات میں مضامین شائع کرتے ہیں جلسوں میں ریزولیوشن پاس کرتے ہیں تو اﷲ کا رسول آپ کو حکم دیتا ہے کہ جس قدر ممکن ہو قرآن شریف کو پھیلاؤ۔
بے جا نہ ہو گا اگر میں یہاں پہنچ کر سر بر آوردگان قوم کی شکایت کروں کہ قرآن پاک کی اشاعت میں آپ کی طرف سے کیا اعانت ہوتا ہے اور یہی نہیں بلکہ خدا را ذرا عور سے جواب دیجئے کہ اس کے سلسلہ کو بند کرنے میں آپ کا کس قدر حصہ ہے آج اس کی تعلیم کو بیکار بتلایا جاتا ہے اضاعت عمر سمجھا جاتا ہیاس کو بیکار دماغ سوزی اور بے نتیجہ عرض ریزی کہا جاتا ہے ممکن ہے کہ آپ اس کے موافق نہ ہوں لیکن ایک جماعت جب ہمہ تن اس میں کوشاں ہے تو کیا آپ کا سکوت اس کی اعانت نہیں ہے مانا کہ آپ اس خیال سے بیزار ہیں مگر آپ کی اس بیزاری نے کیا فائدہ دیا۔
ہم نے مانا کہ تغافل نہ کرو گے لیکن
خاک ہو جائیں گے ہم تم کو خبر ہونے تک
آج اس کی تعلیم پر بڑء زور سے اس لئے انکار کیا جاتا ہے کہ مسجد کے ملانوں نے اپنے ٹکڑوں کے لئے دھندا کر رکھا ہے گو یہ عامۃً نیتوں پر حملہ ہے جو بڑی سخت ذمہ داری ہے اور اپنے وقت پر اس کا ثبوت دینا ہوگا مگر میں نہایت ہی ادب سے پوچھتا ہوں کہ خدارا ذرا اس کو تو غور کیجئے کہ ان خود غرض ملانوں کی ان خود غرضیوں کے ثمرات آپ دنیا میں کیا دیکھ رہے ہیں اور آپ کی ان بے غرصانہ تجاویز کے ثمرات کیا ہون گے اور نزر و اشاعت کلام پاک میں آپ کی ان مفید تجاویز سے کس قدر مدد ملے گی بہر حال حضورﷺ کا ارشاد آپ کے لئے قرآن شریف کے پھیلانے کا ہے اس میں آپ خود ہی فیصلہ کر لیجئے کہ اس ارشاد نبوی کا کس درجہ امتثال آپ کی زات سے ہوا اور ہو رہا ہے دیکھئے ایک دوسری بات کا بھی خیال رکھیں بہت سے لوگوں کا یہ خیال ہوتا ہے کہ ہم اس خیال میں شریک نہیں تو ہم کو کیا مگر اس سے آپ اﷲ کی پکڑ سے بچ نہیں سکتے صحابہ نے حضور اکرمﷺ سے پوچھا تھا اَنُھْلِکُ وَفِیْنَا الصَّالِحُوْنَ قَالَ نَعَمْ اِذَا کَثُرَ الْخُبْث ( کیا ہم ایسی حالت میں ہلاک ہو جاویں گے کہ ہم میں صلحاء موجود ہوں حضور ﷺنے ارشاد فرمایا کہ ہاں جب خباثت غالب ہو جاوے) اسی طرح ایک روایت میں آیا ہے کہ حق تعالیٰ شانہ نے ایک گاؤں کے الٹ دینے کا حکم فرمایا حضرت جبریئل ں نے عرض کیا کہ اس میں فلاں بندہ ایسا ہے کہ جس نے کبھی گناہ نہیں کیا ارشاد ہوا کہ صحیح ہے مگر یہ میری نافرمانی ہوتے ہوء دیکھتا رہ اور کبھی اس کی پیشانی پر بل نہین پرا در حقیقت علماء کو یہی امور مجبور کرتے ہیں کہ وہ ناجایز امور کو دیکھ کر ناگواری کا اظہار کریں جس کو ہمارے روشن خیل تنگ نظری سے تعبیر کرتے ہین آپ حضرات اپنی اس وسعت کیالی اور وسعت اخلاق پر مطمئن نہ رہیں کہ یہ فریضہ صرف علماء ہی کے ذمہ نہیں ہر اس شخص کے ذمہ ہے جو کسی ناجایز بات کا وقوع دیکھے اور اس پر ٹوکنے کی قدرت رکھتا ہو پھر نہ ٹوکے بلال بن سعد سے مروی ہے کہ معصیت جب مخفی طور سے کی جاتی ہے تو اس کا وبال صرف کرنے والے پر ہوتا ہے لیکن جب کھلم کھلا کی جاوی اور اس پر انکار نہ کیا جاوے تو اس کا وبال عام ہوتا ہے (۲۸) اسی طرح اگر آپ تاریخ کے دلدادہ ہیں جہاں کہیں معتبر تاریخ آپ کو ملتی ہے آپ اس کے لئے سفر کرتے ہیں تو قرآن شریف مین تمام ایسی کتب کا بدل موجود ہے جو قرون سابقہ میں حجت و معتبر مانی گئی ہیں حدیث (۲۹) اگر آپ اس قدر کاہل ہیں کہ کجھ کر ہی نہیں سکتے تو بے محنت بے مشقت اکرام بھی آپ کو صرف کلام اﷲ شریف مین ملے گا کہ چپ چاپ کسی مکتب میں بیٹھے بچوں کا کلام مجید سنے جائے اور مفت کا ثواب لیجئے حدیث(۳۱) اگر آپ مختلف الوان کے گرویدہ ہیں ایک نوع سے اکتا جاتے ہیں تو قرآن شریف کے معنی میں مختلف الوان مختلف مضامین حاصل کیجئے کہیں رحمت کہیں عذاب کہیں قصے کہیں احکام اور کیفیت تلاوت میں کبھی پکار کر پڑھیں اور کبھی آہستہ حدیث (۳۲) اگر آپ کی سیہ کاریاں حد سے متجاوز ہیں اور مرنے کا آپ کو یقین بھی ہے تو پھر تلاوت کلام پاک میں ذرا بھی کوتاہی نہ کیجئے کہ اس درجہ کا سفارشی نہ ملے گا اور پھر ایسا کہ جس کی شفارش کے قبول ہونے کا یقین بھی ہو حدیث (۳۳) اسی طرح اگر آپ اس قدر باوقار واقع ہوئے ہیں کہ جھگڑالو سے گھبراتے ہیں لوگوں کے جھگڑے کے ڈر سے آپ بہت سے قربانیاں کر جاتے ہیں تو قرآن شریف کے مطالبہ سے ڈریئے کہ اس جیسا جھگڑا لو آپ کو نہ ملے گا فریقین کے جھگڑے میں ہر شخص کا کوئی نہ کوئی طرفدار ہوتا ہے مگر اس کے جھگڑنے میں اس کی تصدیق کی جاتی ہے اور ہر شخص اسی کو سچا بتلائے گا اور آپ کا کوئی طرف دار نہ ہوگا حدیث (۳۴) اگر آپ کو ایسا رہبر درکار ہے اوراس پر آپ قربان ہیں جو محبوب کے گھر تک پہنچادے تو تلاوت کیجئے اور اگر آپ اس سے ڈرتے ہیں کہ کہیں جیل خانہ نہ ہو جایے تو ہر حالت میں قرآن شریف کی تلاوت بغیر چارہ نہیں حدیث(۳۵) اگر آپ علوم انبیاء حاصل کرنا چاہتے ہیں اور اس کے گرویدہ اور شیدائی ہیں تو قرآن شریف پڑھ اور جتنا چاہے کمال پیدا کیجئے اسی طرح اگر آپ بہترین اخلاق پر جان دینے کو تیار ہیں تو بھی تلاوت کی کثرت کیجئے حدیث(۳۶) اگر اپ کا مچلا ہوا دل ہمیشہ شملہ اور منصوری کی چوٹیوں ہی پر تفریح میں بہلتا ہے اور سو جان سے آپ ایک پہاڑ کے سفر پر قربان ہیں تو قرآن پاک مشک کے پہاڑوں پر ایسے وقت میں تفریح کراتا ہے کہ تمام عالم نفسا نفسی کا زور ہو حدیث (۳۷ ۔۳۸ ۔۳۹) اگر آپ زاہدوں کی اعلی فہرست میں شمار چاہتے ہیں اور رات دن نوافل سے آپ کو فرصت نہیں تو کلام پاک سیکھنا سکھانا اس سے پیش پیش ہے حدیث نمبر (۴۰) اگر دنیا کے ہر جھگڑے سے آپ نجات چاہتے ہیں ہر مخمصہ سے آپ علیحدہ رہنے کے دلدادہ ہیں تو صرف قرآن پاک ہی میں ان سے مخلصی ہے ۔
حدیث خاتمہ
(1)اگر آپ کسی طبیب کے ساتھ وابستگی چاہتے ہیں تو سورہ فاتحہ میں ہر بیماری کی شفا ہے (۲) اگر آپ کی بے نہایت غرصیں پوری نہیں ہوتیں تو کیوں روزانہ سورہ یس کی تلاوت آپ نہیں کرتے حدیث (۳) اگر آپ کو پیسہ کی محبت ایسی ہے کہ اس کے بغیر آپ کسی کے بھی نہیں تو کیوں روزانہ سورہ واقعہ کی تلاوت نہیں کرتے۔ حدیث(۴) اگر آپ کو عذاب قبر کا خوف دامن گیر ہے اور آپ اس کے متحمل نہیں تو اس کے لئے بھی کلام پاک میں نجات ہے حدیث (۵) اگر اگر آپ کو کوئی دائمی مشعلہ درکار ہے کہ جس میں آپ کے مبارکاوقات ہمیشہ مصروفر رہیں تو قرآن پاک سے بڑھ کر نہ ملے گا حدیث( ۶ ۷ ) مگر ایسا نہ ہو کہ یہ دولت حاصل ہونے کے بعد چھن جاوے کہ سلطنت ہاتھ آنے کے بعد پھر ہاتھ سے نکل جانا زیادہ حسرت و خسران کا سبب ہوتا ہے اور کوئی حرکت ایسی بھی نہ کر جائے کہ نیکی برباد گناہ لازم ۔ وَمَا عَلَیْنَا اِلَّاالْبَلَاغُ
مجھ سا ناکارہ قرآن پاک کی خوبیوں پر کیا متنبہ ہوسکتا ہے ناقص سمجھ کے موافق جو ظاہری طور پر سمجھ میں آیا ظاہر کر دیا مگر اہل فہم کے لئے غور کا راستہ ضرور کھل گیا اس لئے کہ اسباب محبت جن کو اہل فن نے کسی کے ساتھ محبت کا ذریعہ بتلایا ہے پانچ چیز مین منحصر ہے اول اپنا وجود کہ طبعاً آدمی اس کو محبوب رکھتا ہے قرآن شریف میں حوادث سے امن ہے اس لئے وہ اپنی حیات و بقا کا سبب ہے دوسرے طبعی مناسبت جس کے متعلق اس سے زیادہ وضاحت کیا کر سکتا ہوں کہ کلام صفت الٰہی ہے اور مالک اور مملوک آقا اور بندہ میں جو مناسبت ہے وہ واقفوں سے مخفی نہیں۔
ہست رب الناس رابا جان ناس
اتصال بے تکیف و بے قیاس
سب سے ربط آشنائی ہے اسے
دل میں ہر اک کے رسائی ہے اسے
تیسرے جمال چوتھے کمال پانچویں احسان ان ہر سہ امور کے متعلق احادیث بالا میں اگر عور فرمائیں گے تو نہ صرف اس جمال و کمال پر جس کی طرف ایک ناقص الفہم نے اشارہ کیا ہے اقتصار کریں گے بلکہ وہ خود بے تردد اس امر تک پہنچیں گے کہ عزت افتخار شوق و سکون جمال و کمال اکرام و احسان لذت و راحت مال و متاع غرض کوئی بھی ایسی چیز نہ پاویں گے جو محبت کے اسباب میں ہو سکتی ہے اور نبی کریم ﷺ نے اس پر تنبیہہ فرما کر قرآن شریف کو اسی نوع میں اس سے افضل ارشاد نہ فرمایا ہو البتہ حجاب میں مستور ہونا دنیا کے لوازمات میں سے ہے لیکن عقلمند شخص اس وجہ سے کہ لیچی کا چھلکا خاردار ہے اس کے گودہ سے اعرص نہیں کرتا اور کوئی دل کھویا ہوا اپنی محبوبہ سے اس لئے نفرت نہیں کر تا کہ وہ اس وقت برقعہ میں ہے پردہ کے ہٹانیکی ہر ممکن سے ممکن کوشش کرے گا اور کامیاب نہ بھی ہو سکا تو اس پردہ کے اوپر ہی سے آنکھیں ٹھنڈی کرے گا اس کا یقین ہو جاوئے کہ جس کی خاطر برسوں سے سرگرداں ہوں وہ اسی چادر میں ہے ممکن نہیں کہ پھراس چادر سے نگاہ ہٹ سکے اسی طرح قرآن پاک کے ان فضائل و مناقب اور کمالات کے بعد اگر وہ کسی حجاب کی وجہ سے محسوس نہیں ہوتے تو عاقل کا کام نہین کہ اس سے بے توجہی اور لا پرواہی کرے بلکہ اپنی تقصیر اور نقصان پر افسوس کرے اور کمالات میں غور حضرت عثمانؓ اور حضرت حذیفہؓ سے مروی ہے کہ اگر قلوب نجاست سے پاک ہو جاویں تو تلاوت کلام اﷲ سے کبھی بھی سیری نہ ہو ثابت بنانی کہتے ہیں کہ بیس برس میں نے کلام پاک کو مشقت سے پڑہا اور بیس برس سے مجھے اس کی ٹھنڈک پہنچ رہی ہے پس جو شخص بھی معاصی سے توبہ کے بعد غور کرے گا کلام پاک کو آنچہ خوبان ہمہ دارند تو تنہاداری کا مصداق پائے گا اے کاش کہ ان الفاظ کے معنی مجھ پر بھی صادق آتے میں ناظرین سے یہ بھی درخواست کروں گا کہ کہنے والے کی طرف التفات نہ فرمائیں کہ میری ناکارگی آپ کو اہم مقصود سے نہ روکے بلکہ بات کی طرف توجہ فرمائیں اور جہاں سے یہ امور ماخوز ہیں اس کی طرف التفات کیجئے کہ میں درمیان میں صرف نقل کا واسطہ ہوں یہاں تک پہنچنے کے بعد اﷲ کی ذات سے بعد نہیں کہ وہ کسی دل میں حفظ قرآن پاک کا ولولہ پیدا کر دے پس اگر بچہ کو حفظ کرانا ہے تو اس کے لئے کسی عمل کی ضرورت نہیں کہ بچپن کی عمر خود حفظ کے لئے معین و مجرب ہے البتہ اگر کوئی شخص بڑی عمر مین حفظ کا ارادہ کرے تو اس کیلئے حضور اقدس ﷺ کا ارشاد فرمایا ہوا ایک مجرب عمل لکھتا ہوں جس کو ترمذی حاکم وغیرہ نے روایت کیا ہے حضرت ابن عباسؓ کہتے ہیں کہ میں حضور اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر تھا کہ حضرت علی ؓحاضر ہوئے اور عرض کیا کہ یا رسول اﷲ میرے ماں باپ آپ پر قربان ہو جاویں قرآن پاک میرے سینے سے نکل جاتا ہے جو یاد کرتا ہوں وہ محفوظ نہیں رہتا حضور ﷺنے ارشاد فرمایا کہ مین تجھے ایسی ترکیب بتلاؤں کہ جو تجھے بھی نفع دے اور جس کو تو بتلاوے اس کے لئے بھی نافع ہو اور جو کچھ تو سیکھے وہ محفوظ رہے حضرت علی ؓکے دریافت کرنے پر حضور اقدسﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جب جمعہ کی شب آوے تو اگر یہ ہوسکتا ہو کہ رات کے اخیر تہائی حصہ میں اٹھے تو یہ بہت ہی اچھا ہے کہ یہ وقت ملائکہ کے نازل ہونے کا اگر آپ مختلف الوان کے گرویدہ ہیں ایک نوع سے اکتا جاتے ہیں تو قرآن شریف کے معنی میں مختلف الوان مختلف مضامین حاصل کیجئے کہیں رحمت کہیں عذاب کہیں قصے کہیں احکام اور کیفیت تلاوت میں کبھی پکار کر پڑھیں اور کبھی آہستہ حدیثہے اور دعا اس وقت میں خاص طور سے قبول ہو تی ہے اسی وقت کے انتظار میں حضرت یعقوب ںنے اپنے بیٹوں سے کہا تھا سَوْفَ اَسْتَغْفِرُ لَکُمْ رَبِّیعنقریب میں تمہارے لئے اپنے رب سے معفرت طلب کرونگا ( یعنی جمہ کی رات کے آخری حصہ میں ) پس اگر اس وقت میں جاگنا دشوار ہو تو آدھی رات کے وقت اور یہ بھی نہ ہو سکے تو پھر شروع ہی رات میں کھڑا ہو اور چار رکعت نفل اس طرح پڑھے کہ پہلی رکعت میں سورہ فاتحہ کے بعد سورہ یس شریف پڑھے اور دوسری رکعت مین سورہ فاتحہ کے بعد سورہ دخان اور تیسری رکعت میں فاتحہ کے بعد سورہ الم سجدہ اور چوتھی رکعت میں فاتحہ کے بعد سوہ ملک پڑھے اور جب التحیات سے فارغ ہو جاوے تو اول حق تعالیٰ شانہ کی خوب حمد و ثنا کر اس کے بعد مجھ پر درود اور سلام بھیج اس کے بعد تمام انبیاء پر درود بھیج اس کے بعد تمام مؤمنین کے لئے اور ان تمام مسلمان بھائیوں کے لئے جو تجھ سے پہلے مر چکے ہیں استعفار کر اور اس کے بعد یہ دعا پڑھ۔
ف: دعا آگے آ رہی ہے اس کے ذکر سے قبل مناسب ہے کہ حمد وثنا وغیرہ جن کا حضورﷺ نے حکم فرمایا ہے دوسری روایات سے جن کو شروح حصن اورمناجات مقبول وغیرہ میں نقل کیا ہے مختصر طور پر ایک ایک دعا نقل کر دی جاوے تا کہ جو لوگ اپنے طور پر نہیں پڑھ سکتے وہ اس کو پڑھیں اورجو حضرات خود پڑھ سکتے ہوں وہ اس پر قناعت نہ کریں بلکہ حمو صلوۃ کو بہت اچھی طرح سے مبالغہ سے پڑھیں۔ دعا یہ ہے۔
اَلْحَمْدُلِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ عَدَدَ خَلْقِہٖ وَرِضَا نَفْسِہِ وَزِنَۃَ عَرْ شِہٖ وَمِدَادَ کَلِمَتِہٖ اَللّٰھُمَّ لَااُحْصِیْ ثَنَآئً عَلَیْکَ اَنْتَ کَمَا اَثْنَیْتَ عَلًی نَفْسِکَ اَللّٰھُمَّ صَلِّ وَسَلِّمْ وَبَارِکْ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمدِّالنَّبِیِّ الْاُمِّیِّ الْھَا شِمِیِّ وَعَلٰی اَلِہٖ وَ اَصْحَابِہِ اْلبَرَرَۃِ الْکِرَامِ وَعَلٰی سَائِرِ الْاَنْبَیآئِ وَ الْمُرْسَلِیْنَ وَالْمَلَائِکَۃِ الْمُقَرَّبِیْنَ رَبَّنَا اغْفِرْلَنَاوَلِاِاخْوَانِنَا الَّذِیْنَ سَبَقُوْنَا بِا لْاِ یْمَانِ وَلَاتَجْعَلْ فِیْ قُلُوْبِنَا غِلاًّ لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوْرَبَّنَا اِنَّکَ رَؤُفٌ رَّحِیْمٌ اَلّٰلُھَّم اغْفِرْلِیْ وَلِوَالِدَیَّ وَلِجَمِیْعِ الْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُؤْمِنَاتِ وَالْمُسْلِمِیْنَ وَالْمُسَلِمَاتِ اِنَّکَ سَمِیْعٌ مُّجِیْبُ الدَّعْوَاتِ ط
تمام تعریف جہانوں کے پر وردگار کے لئے ہے ایسی تعریف جو اس کی مخلوقات کے اعداد کے برابر ہو اس کی مرضی کے موافق ہو اس کے عرش کے وزن کے برابر ہو اس کے کلمات کی سیاہیوں کے برابر ہو اے اﷲ میں تیری تعریف کا احاطہ نہیں کر سکتا تو ایسا ہی ہے جیسا کہ تو نے اپنی تعریف خود بیان کی اے اﷲ ہمارے سردار نبی امی اور ہاشمی پر درود و سلام اور برکات نازل فرما اور تمام نبیوں اور رسولوں اور ملائکہ مقربین پر بھی اے ہمارے رب ہماری اور ہم سے پہلے مسلمانون کی مغفرت فرما اور ہمارے دلوں میں مؤمنین کی طرف سے کینہ پیدا نہ کر اے ہمارے رب تو مہربان اور رحیم ہے اے الہ العالمین میری اور میری والدین کی اور تمام مؤمنین اور مسلمانوں کی مغفرت فرما بیشک تو دعاؤں کو سننے والا اور قبول کرنے والا ہے اس کے بعد وہ دعا پڑھے جو حضور اقدس ﷺ نے حدیث بالا میں حضرت علی رضی اﷲ عنہ کو تعلیم فرمائی اور وہ یہ ہے ۔
اَللّٰھُمَّ ارْحَمْنِیْ بِتَرْکِ الْمَعَاصِیْ اَبَدًا مَّا اَبْقَیْتَنِیْ وَارْحَمْنِیْ اَنْ اَتَکَلَّفَ مَا لَایَعْنِیْنِیْ وَارْزُقْنِیْ حُسْنَ النَّظْرِ فِیْمَا یُرْ ضِیْکَ عَنِیْ اَللّٰھُمَّ بَدِ یْعَ السَّمٰوَاتِ وَالْاَرْضِ ذَاالْجَلَالِ وَالْاِ کْرَامِ وَالْعِزَّۃِ الَّتِیْ لَا تُرَامُ اَسْئَلُکَ یَااَللّٰہُ یَارَحْمٰنُ بِجَلَالِکَ وَنُوْرِ وَجْھِکَ اَنْ تُلْزِمَ قَلْبِیْ حِفْظَ کِتَا بِکَ کَمَا عَلَّمْتَنِیْ وَارْزُقْنِیْ اَنْ اَقْرَأَہ‘ عَلَی النَّحْوِ الَّذِیْ یُرْ ضِیْکَ عَنِّیْ اَللّٰھُمَّ بَدِیْعَ السّمٰوٰاتِ وَالْاَرْضِ ذَاالْجَلَالِ وَالْاِکْرَامِ وَالْعِزَّۃِ الَّتِیْ لَاتُرَامُ اَسْئَلُکَ یَا اَللّٰہُ یَا رَحْمٰنُ بِجَلَالِکَ وَ نُوْرِ وَجْھِکَ اَنْ تُنَوِّرَ بِکِتَابِکَ بَصَرِیْ وَاَنْ تُطْلِقَ بِہٖ لِسَانِیْ وَ اَنْ تُفَرِّجَ بِہٖ عَنْ قَلْبِیْ وَ اَنْ تَشْرَحَ بِہٖ صَدْرِیْ وَاَنْ تَغْسِلَ بِہٖ بَدَنِیْ فَاِنَّہ‘ لَا یُعِیْنُنِیْ عَلَی الْحَقِّ غَیْرُکَ وَ لَا یُؤْتِیْہِ اِلَّآ اَنْتَ وَلَاحَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ الْعَلِیِّ الْعَظِیْمِ ط
اے الہ العلمین! مجھ پر رحم فرما کہ جب تک میں زندہ رہوں گناہوں سے بچتا رہوں اور مجھ پر رحم فرما کہ میں بیکار چیزوں میں کلفت نہ اٹھاؤں اور اپنی مرضیات میں خوش نظری مرحمت فرما اے ﷲ زمین اور آسمان کے بے نمونہ پیدا کرنے والے! اے عظمت اور بزرگی والے! اور اس غلبہ یا عزت کے مالک! جسکے حصول کا ارادہ بھی نا ممکن ہے، اے ﷲ! اے رحمن! میں تیری بزرگی اور تیری زات کے نور کے طفیل تجھ سے مانگتا ہوں کہ جس طرح تو نے اپنی کلام پاک مجھے سکھادی اسی طرح اس کی یاد بھی میرے دل سے چسپاں کر دے اور مجھے توفیق عطا فرما کہ میں اسکو اس طرح پڑھوں جس سے تو راصی ہو جاوے اے ﷲ! زمین اور آسمانوں کے بے نمونہ پیدا کرنے والے! اے عظمت اور بذرگی والے! اور اس غلبہ یا عزت کے مالک جسکے حصول کا ارادہ بھی ناممکن، اے ﷲ! اے رحمن! میں تیری بزرگی اور تیری ذات کے نور کے طفیل تجھ سے مانگتا ہوں
کہ تو میری نظر کو اپنی کتاب کے نور سے منور کر دے اور میری زبان کو اس پر جاری کردے اور اس کی برکت سے میرے دل کی تنگی کو دور کر دے اور میرے سینے کو کھول دے اور اس کی برکت سے میرے جسم کے گناہوں کا میل دھو دے کہ حق پر تیرے سوا میرا کوئی مدد گار نہیں اور تیرے سوا میری یہ آرزو کوئی پوری نہین کر سکتا اور گناہوں سے بچنا یا عبادت پر قدرت نہیں ہو سکتی مگر اﷲ بر تر و بزرگی والے کی مدد سے۔
پھر حضور اقدس ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اے علی اس عمل کو تین جمعہ یا پانچ جمعہ یا سات جمعہ کر انشاء اﷲ دعا ضرور قبول کی جائے گی قسم ہے اس ذات پاک کی جس نے مجھے نبی بنا کر بھیجا ہے کسی مومن سے بھی قبولیت دعا نہ چوکے گی ابن عباسؓ کہتے ہیں علی کو پانچ یا سات ہی جمعہ گزرے ہو نگے کہ وہ حضورﷺ کی مجلس میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اﷲﷺ میں تقریباً چار آیتیں پڑھتا تھا اور وہ بھی مجھے یاد نہ ہوتی تھیں اور اب تقریاًچالیس آیتیں پڑھتا ہوں اور ایسی ازبر ہو جاتی ہیں کہ گویا قرآن شریف میرے سامنے کھلا ہوا رکھا ہے اور پہلے میں حدیث سنتا تھا اور جب اس کو دوبارہ کہتا تھا تو ذہن میں نہیں رہتی تھی اور اب احادیث سنتا ہوں اور جب دوسروں سے نقل کرتا ہوں تو ایک لفظ بھی نہیں چھوٹتا۔
حق تعالیٰ شانہ اپنے نبی کی رحمت کے طفیل مجھے بھی قرآن و حدیث کے حفظ کی توفیق عطا فرماویں اور تمہیں بھی۔وَصَلَّی اللّٰہُ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی عَلٰی خَیْرِ خَلْقِہٖ سَیِّدِ نَا وَمَوْلَانَا مُحَمَّدٍ وَّاٰلِہٖ وَصَحْبِہٖ وَسَلَّمَ بِرَ حْمَتِکَ یَا اَرْحَمَ الرَّاحِمِیْن۔
تکملہ
اوپرجو چہل حدیث لکھی گئی ہے وہ ایک خاص مضمون کے ساتھ مخصوص ہونے کی وجہ سے اس میں اختصار کی رعایت نہیں ہو سکی اس زمانے میں چونکہ ہمتیں نہایت پست ہو گئی ہیں دین کے لئے کسی معمولی سی مشقت کا بھی برداشت کرنا گراں ہے اس لئے اس جگہ ایک دوسری چہل حدیث نقل کرتا ہوں جو نہایت ہی مختصر ہے اور نبی کریم ﷺ سے ایک ہی جگہ منقول ہے اس کے ساتھ ہی بڑی خوبی اس میں یہ ہے کہ مہمات دینیہ کو ایسی جامع ہے کہ اس کی نظیر ملنا مشکل ہے کنز العمال میں قدمائے محدثین کی ایک جماعت کی طرف اس کا انتساب کیا ہے اور متاخرین مین سے مولانا قطب الدین صاحب مہاجر مکی نے بھی اس کو ذکر فرمایا ہے کیا ہی اچھا ہو کہ دین کے ساتھ وابستگی رکھنے والے حضرات کم از کم اس کو ضرور حفظ کر لیں کہ کوڑیوں میں لعل ملتے ہیں وہ حدیث یہ ہے :
عَنْ سَلْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الأَرْبَعِينَ حَدِيثًا ، الَّتِي قَالَ : مَنْ حَفِظَهَا مِنْ أُمَّتِي دَخَلَ الْجَنَّةَ . فَقُلْتُ : وَمَا هُوَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : أَنْ تُؤْمِنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ ، وَالْمَلائِكَةِ ، وَالنَّبِيِّينَ ، وَالْبَعْثِ بَعْدَ الْمَوْتِ ، وَالْقَدَرِ خَيْرِهِ وَشَرِّهِ مِنَ اللَّهِ وَأَنْ تَشْهَدَ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ ، وَتُقِيمَ الصَّلاةَ بِوُضُوءٍ سَابِغٍ لِوَقْتِهَا ، وَتُؤْتِيَ الزَّكَاةَ ، وَتَصُومَ رَمَضَانَ ، وَتَحُجَّ الْبَيْتَ إِنْ كَانَ لَكَ مَالٌ ، وَتُصِلِّيَ اثْنَتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً فِي كُلِّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ ، وَالْوِتْرُ لا يَتْرُكُهَا فِي كُلِّ لَيْلَةٍ ، لا تُشْرِكْ بِاللَّهِ شَيْئًا ، وَلا تَعُقَّ وَالِدَيْكَ ، وَلا تَأْكُلْ مَالَ الْيَتِيمِ ظُلْمًا ، وَلا تَشْرَبِ الْخَمْرَ ، وَلا تَزْنِ ، وَلا تَحْلِفْ بِاللَّهِ كَاذِبًا ، وَلا تَشْهَدْ شَهَادَةَ زُورٍ ، وَلا تَعْمَلْ بِالْهَوَى ، وَلا تَعْتِبْ أَخَاكَ ، وَلا تَقْذِفِ الْمُحْصَنَةَ ، وَلا تَغُلَّ أَخَاكَ الْمُسْلِمَ ، وَلا تَلْعَبْ وَلا تَلْهُ مَعَ اللاهِينَ ، وَلا تَقُلْ لِلْقَصِيرِ يَا قَصِيرُ تُرِيدُ بِذَلِكَ عَيْبَهُ ، وَلا تَسْخَرْ بِأَحَدٍ مِنَ النَّاسِ ، وَلا تَمْشِ بِالنَّمِيمَةِ بَيْنَ الإِخْوَانِ ، وَاشْكُرْ للَّهِ عَلَى نِعْمَتِهِ ، وَتَصْبِرَ عِنْدَ الْبَلاءِ وَالْمَعْصِيَةِ ، لا تَأْمَنْ عِقَابَ اللَّهِ ، وَلا تَقْطَعْ مِنْ أَقْرِبَائِكَ وَصِلْهُمْ ، وَلا تَلْعَنْ أَحَدًا مِنْ خَلْقِ اللَّهِ ، وَأَكْثِرْ مِنَ التَّسْبِيحِ وَالتَّكْبِيرِ وَالتَّهْلِيلِ ، وَلا تَدَعْ حُضُورَ الْجُمُعَةِ وَالْعِيدَيْنِ ، وَاعْلَمْ أَنَّ مَا أَصَابَكَ لَمْ يَكُنْ لِيُخْطِيَكَ ، وَمَا أَخْطَاكَ لَمْ يَكُنْ لِيُصِيَبَكَ ، وَلا تَدَعْ قِرَاءَةَ الْقُرْآنِ عَلَى كُلِّ حَالٍ . قَالَ سَلْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا ثَوَابُ مَنْ حَفِظَ هَذِهِ الأَرْبَعِينَ ؟ قَالَ : حَشَرَهُ اللَّهُ مَعَ الأَنْبِيَاءِ وَالْعُلَمَاءِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ .
ترجمہ:
حضرت سلمانؓ کہتے ہیں کہ میں نے حضور اقدس ﷺ سے پوچھا کہ وہ چالیس حدیثیں جن کے بارے میں یہ کہا ہے کہ جو ان کو یاد کر لے جنت میں داخل ہو گا وہ کیا ہیں حضور اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: )ﷲ پر ایمان لاوے یعنی اس کی دات وصفات پر (۲) اور آخرت کے دن پر(۳) اور فرشتوں کے وجود پر (۴) اور کتابوں پر (۵) اور تمام انبیاء ؑپر (۶)اورمرنے کے بعد دوبارہ زندگی پر(۷)اور تقدیر پر کہ بھلا اور برا جو کچھ ہوتا ہے سب اﷲ ہی کی طرف سے ہے (۸) اور گواہی دے تو اس امر کی کہ اﷲ کے سواکوئی معبود نہیں اور حضور اکرم ﷺ اس کے سچے رسول ہیں(۹)ہر نماز کے وقت کامل وضو کرکے نماز قائم کرے کامل وضو وہ کہلاتا ہے جس میں اداب ومستحبات کی رعایت رکھی گئی ہو اور ہر نماز کے وقت اشارہ ہے اس با کی طرف کہ نیا وضو ہر نماز کیلئے کرے۔ اگرچہ پہلے وضو ہو کہ یہ مستحب ہے اور نماز کے قائم کرنے سے اس کے تمام سنن و مستحبات کا اہتمام کرنا مردا ہے۔چنانچہ دوسری روایت میں وارد ہے ان تسویۃ الصفوف من اقامۃ الصلوۃ یعنی جماعت میں صفوں کا ہموار کرنا کہ کسی قسم کی کجی یادرمیان میں خلانہ رہے، یہ بھی نماز قائم کرنے کے مفہوم میں داخل ہے۔(۱۰)زکوۃ ادا کرے (۱۱) اوررمضان کے روزے رکھے(۱۲)اگر مال ہو تو حج کرے یعنی اگر جانے کی قدرت رکھتا ہو تو حج بھی کرے۔ چونکہ اکثر مانع مال ہی ہوتا ہے اس لئے اسی کو ذکر فرمادیا ورنہ مقصود یہ ہے کہ حج کے شرائط پائے جاتے ہوں تو حج کرے(۱۳) بارہ رکعات سنت موکدہ روزانہ ادا کرے(اس کی تفصیل دوسری روایات میں اس طرح آتی ہے کہ صبح سے پہلے دو رکعت، ظہر سے قبل چار رکعت، ظہر کے بعد دورکعت،مغرب کے بعد دو رکعت،عشاء کے بعد دورکعت(۱۴)اور وتر کو کسی رات میں نہ چھوڑے(چونکہ وہ وجب ہے اوراس کااہتمام سنتوں سے زیادہ ہے اس لئے اس کو تاکیدی لفظ سے ذک فرمایا(۱۵) اور ﷲ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کرے(۱۶)اور والدین کی نافرمانی نہ کرے(۱۷) اور ظلم سے یتیم کا مال نہ کھاوے( یعنی اگر کسی وجہ سے یتیم کا مال کھانا جائز ہو جیسا کہ بعض صورتوں میں ہوتا ہے تو مضائقہ نہیں(۱۸)اور شراب نہ پئے(۱۹)زنا نہ کرے(۲۰)جھوٹی قسم نہ کھاوے (۲۱)جھوٹی گواہی نہ دے(۲۲)خواہشات نفسانیہ پر عمل نہ کرے(۲۳) مسلمان بھائی کی غیبت نہ کرے(۲۴)عفیفہ عورت کو تہمت نہ لگائے(اسی طرح عفیف مردکو (۲۵)اپنے مسلمان بھائی سے کینہ نہ رکھے (۲۶)لہوولعب میں مشغول نہ ہو (۲۷)تماشائیوں میں شریک نہ ہو (۲۸)کسی پستہ قد کو عیب کی نیت سے ٹھنگنا مت کہو( یعنی اگر کوئی عیب دار لفظ اسیا مشہور ہوگیا ہو کہ اس کے کہنے سے نہ عیب سمجھا جاتا ہو نہ عیب کی نیت سے کہا جاتا ہو جیسا کہ کسی کانام بدھو پڑجاوے تو مضائقہ نہیں لیکن طعن کی غرض سے کسی کو ایسا کہنا جائز نہیں (۲۹)کسی کا مذاق مت اڑا (۳۰)نہ مسلمانوں کے درمیان چغل خوری کر (۳۱) اور ہر حال میں ﷲ جل شانہ کی نعمتوں پر اس کا شکر کر (۳۲) بلااورمصیبت پر صبر کر (۳۳) اور ﷲ کے عذاب سے بے خوف مت ہو (۳۴)اعزہ سے قطع تعلق مت کر (۳۵)بلکہ ان کے ساتھ صلہ رحمی کر (۳۶)ﷲ کی کسی مخلوق کو لعنت مت کر (۳۷)سحان ﷲ الحمد ﷲ لا الہ الا ﷲ ﷲ اکبر ان الفاظ کا اکثر وردر کھا کر(۳۸)جمعہ اور عیدین میں حاضری مت چھوڑ(۳۹) اور اس بات کا یقین رکھ کہ جو تکلیف وراحت تجھے پہنچی وہ مقدر میں تھی جو ٹلنے والی نہ تھی اورجو کچھ نہیں پہنچا وہ کسی طرح بھی پہنچنے والا نہ تھا (۴۰)اورکلام اﷲ شریف کی تلاوت کسی حال میں بھی مت چھوڑ۔
سلمانؓ کہتے ہیں میں نے حضور ﷺ سے پوچھا کہ جو شخص اسکو یاد کر لے اسکو کیا اجر ملے گا۔ حضو رﷺ نے ارشاد فرمایا کہ حق سبحانہ وتقدس اسکا انبیاء اور علماء کیساتھ حشر فرما ویں گا۔
(رواہ الحافظ ابو القاسم بن عبدالرحمن بن محمد بن اسحاق بن مندۃ والحافظ ابوالحسن علی بن ابی القاسم بن بابویہ الرازی فی الا ربعین وابن عساکر والرافعی عن سلمان(

حق سبحانہ و تقدس ہماری سیئات سے در گزر فرما کر اپنے نیک بندوں میں محض اپنے لطف سے شامل فرمائیں تو اس کی کریمی شان سے کچھ بھی بعید نہیں پڑھنے والے حضرات سے بڑی ہی لجاجت کے ساتھ استدعا ہے کہ دعائے خیر سے اس سیہ کار کی بھی دستگیری فرماویں ۔وَ مَا تَوْفِیْقِیْٓ اِلَّابِاللّٰہِ عَلَیْہِ تَوَ کَّلْتُ وَ اِلَیْہِ اُنِیْب۔
محمد زکریا کاندھلوی عفی عنہ
مقیم مدرسہ مظاہر العلوم سہارن پور ،۲۹ ذی الحجہ ۱۳۳۴۸ ؁ھ پنجشنبہ






حضرت ابن عباسؓ سے رسول اللہ ﷺ کا فرمان مروی ہے:
فَإِن الْمعلم إِذا قَالَ للصَّبِيّ قل بِسم الله الرَّحْمَن الرَّحِيم فَقَالَ كتب الله برأة للصَّبِيّ وبرأة للمعلم وبرأة لِأَبَوَيْهِ من النَّار
ترجمہ:
بےشک معلم(تعلیم دینے والا قرآن کی ابتداء کرواتے) جب کہتا ہے بچے سے کہ کہو: ﴿شروع الله کے نام سے جو سب پر مہربان انتہائی رحم والا ہے۔﴾ پھر وہ کہتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس بچے کیلئے اور تعلیم دینے والے اور اس کے والدین کیلئے جہنم سے آزادی لکھ دیتے ہیں۔
حوالہ
[المشيخة البغدادية-امام أبي طاهر السلفي(م576ھ) » جلد#43 صفحہ#7]
[مسند الفردوس-امام الديلمي(م509ھ) » حدیث#6597،
زھرۃ الفردوس-امام ابن حجر عسقلانی(م852ھ) » حدیث#2470]

تفسیر-امام الثعلبي(م427ھ): حدیث#146»سورۃ الفاتحہ1





مولف
شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا صاحب نور اﷲ مرقدہ
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
مقدمہ
اَلْحَمْدُلِلّٰہِ الَّذِیْ خَلَقَ الْاِنْسَانَ وَعَلَّمَہُ الْبَیَانَ وَاَنْزَلَ لَہُ الْقُرْاٰنَ وَجَعَلَہ‘ مَوْعِظَۃً وَّشِفَائً وَّھُدًی وَّرَحْمَۃً لِّذَوِی الْاِیْمَانِ لَا رَیْبَ فِیْہِ وَلَمْ یَجْعَلْ لَّہ‘ عِوَجًاوَّاَنْزَلَہ‘ قَیِّماً حُجَّۃً نُوْرَاًلِّذَوِی الْاِیْقَانِ وَالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ الْاَتَمَّانِ الْاَکْمَلَانِ عَلٰی خَیْرِالْخَلَائِقِ مِنَ الْاِنْسِ وَالْجَٓانِ الَّذِیْ نَوَّرَ الْقُلُوْبَ وَالْقُبُوْرَ نُوْرُہ‘ وَرَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْنَ ظُھُوْرُہ‘ وَعَلٰٓی اٰلِہٖ وَصَحْبِہِ الَّذِیْنَ ھُمْ نُجُوْمُ الْھِدَایَۃِ وَنَاشِرُو الْفُرْقَانِ وَعَلٰی مَنْ تَبِعَھُمْ بِالْاِیْمَانِ وَبَعْدُ فَیَقُوْلُ الْمُفْتَقِرُاِلٰی رَحْمَۃِ رَبِّہِ الْجَلِیْلِ عَبْدُہُ الْمَدْعُوُّ بِزَکَرِیَّابِنِ یَحْیٰی بِنِ اِسْمٰعِیْلَ ھٰذِہِ الْعُجَالَۃُ اَرْبَعُوْنَۃٌ فِیْ فَضَائِلِ الْقُراٰنِ اَلَّفْتُھَا مُمْتَثِلًا لِاَمْرِ مَنْ اِشَارَتُہ‘ حُکْمٌ وَّطَاعَتُہٗ غُنْمٌ۔
تمام تعریف اس ذات پاک کیلئے ہے جس نے انسان کو پیدا کیا اور اس کو وضاحت سکھائی اور اس کیلئے وہ قرآن پاک نازل فرمایا جس کو نصیحت اور شفا اور ہدایت اور رحمت ایمان والوں کیلئے بنایا جس میں نہ کوئی شک ہے اور نہ کسی قسم کی کجی بلکہ وہ بالکل مستقیم ہے اور حجت و نور ہے یقین والوں کیلئے اور کامل و مکمل درودو سلام اس بہترین خلائق پر ہو جیو، جس کے نور نے زندگی میں دلوں کو اور مرنے کے بعد قبروں کو منور فرما دیا اور جسکے ظہور تمام عالم کیلئے رحمت ہے اور آپکی اولاد اور اصحاب پر جو ہدایت کے ستارے ہیں اور کلام پاک کے پھیلانے والے نیز ان مومنین پر بھی جو ایمان کیساتھ انکے پیچھے لگنے والے ہیں حمد صلوۃ کے بعد اﷲ کی رحمت کا محتاج بندہ زکریا بن یحییٰ بن اسمٰعیل عرض کرتا ہے کہ یہ جلدی میں لکھے ہوے۔
چند اوراق فضائل قرآن میں ایک چہل حدیث ہے جس کو میں نے ایسے حضرات کے امتشال حکم میں جمع کیا ہے جن کا اشارہ بھی حکم ہے اور انکی اطاعت ہر طرح مغتنم ہے۔
حق سبحانہ و تقدس کے ان انعامات خاصہ میں سے جو مدرسہ عالیہ مظاہر علوم سہارن پور کے ساتھ ہمیشہ مخصوص رہے ہیں مدرسے کا سالانہ جلسہ ہے جو ہر سال مدرسے کے اجمالی حالات سنانے کے لئے منعقد ہوتا ہے مدرسے کے اس جلسہ میں مقررین واعظین اور مشاہیر اہل ہند کے جمع کرنے کا اس قدر اہتمام نہیں کیا جاتا جتنا کہ ﷲ والے قلوب والے گمنامی میں رہنے والے مشائخ کے اجتماع کی سعی کی جاتی ہے وہ زمانہ اگرچہ دور ہو گیا ہے جب کہ حجتہ الاسلام حضرت مولانا محمد قاسم صاحب نانوتوی قدس اﷲ سترہ العزیز اور قطب الارشاد حضرت اقدس مولانا رشید احمد صاحب گنگوہی نور اﷲ مرقدہ کی تشریف آوری حاضرین جلسہ کے قلوب کو منور فرمایا کرتی تھی مگر وہ منظر ابھی آنکھوں سے زیادہ دور نہیں ہوا جب کہ ان مجد دین اسلام اور شموس ہدایت کے جانشین حصرت شیخ الہند رحمتہ اﷲ علیہ حضرت شاہ عبد الرحیم صاحب رحمتہ اﷲ علیہ حضرت مولانا خلیل احمد صاحب رحمتہ اﷲ علیہ حضرت مولانا اشرف علی صاحب نور اﷲ مرقدہ مدرسہ کے سالانہ جلسہ میں مجتمع ہو کر مردہ قلوب کیلئے زندگی و نورانیت کیلئے چشمے جاری فرمایا کرتے تھے اور عشق کے پیاسوں کو سیراب فرماتے تھے۔
دور حاضر میں مدرسے کا جلسہ ان بدور ہدایت سے بھی گو محروم ہو گیا مگر ان کے سچے جانشین حضار جلسہ کو اب بھی اپنے فیوض و برکات سے مالا مال فرماتے ہیں جو لوگ امسال جلسے میں شریک رہے ہیں وہ اس کے لئے شاہد عدل ہیں آنکھوں والے برکات دیکھتے ہیں لیکن ہم سے بے بصر بھی اتنا ضرور محسوس کرتے ہیں کہ کوئی بات ضرور ہے۔
مدرسہ کے سالانہ جلسہ میں اگر کوئی شخص شستہ تقاریر زور دار لیکچروں کا طالب بن کے آئے تو شاید وہ اتنا مسرور نہ جائے جس قدر کہ دورائے دل کا طالب کامگار و فیض یاب جائے گا فللہ الحمد و المنۃ۔
اسی سلسلہ میں سال رواں ۲۷ ذیقعدہ ۱۳۴۸ ھ کے جلسہ میں حضرت الشاہ حافظ محمد یسین صاحب نگینوی نے قدم رنجہ فرما کر اس سیہ کار پر جس قدر شفقت و لطف کا مینہ برسایا یہ ناکارہ اس کے تشکر سے بھی قاصر ہے ممدوح کے متعلق یہ معلوم ہو جانے کے بعد کہ آپ حضرت گنگوہی رحمۃ اﷲ علیہ کے خلفاء میں سے ہیں پھر آپ کے اوصاف جلیلہ یک سوئی تقدس مظہر انوار و برکات وغیرہ کے ذزکر کی صرورت نہیں رہتی جلسہ سے فراغت کے بعد ممدوح جب مکان واپس تشریف لے گئے تو گرامی نامہ مکرمت نامہ عزت نامہ سے مجھے اس کا حکم فرمایا کہ فضائل قرآن میں ایک چہل حدیث جمع کر کے اس کا ترجمہ خدمت میں پیش کروں اور نیز یہ کہ اگر ممدوح کے حکم سے میں نے انحراف کیا تو وہ میرے جانشین شیخ اور مثیل والد چچا جان مولانا الحافظ مولوی محمد الیاس صاحب رحمۃ اﷲ علیہ سے اپنے اس حکم کو مؤکد کرائیں گے اور بہرحال یہ خدمت ممدوج کو مجھ جیسے ناکارہ ہی سے لینا ہے یہ افتخار نامہ اتفاقا ایسی حالت میں پہنچا کہ میں سفر میں تھا اور میرے چچا جان یہاں تشریف فرما تھے انھوں نے میری واپسی پر یہ گرمی نامہ اپنے تاکیدی حکم کے ساتھ میرے حوالے فرمایا کہ جس کے بعد نہ مجھے کسی معذرت کی گنجائش رہی اور نہ اپنی عدم ایلیت کے پیش کرنے کا موقع رہا میرے لئے شرح موطاامام مالک کی مشغولیت بھی ایک قوی عذر تھا مگر ارشادات عالیہ کی اہمیت کی وجہ سے اس کو چند روز کے ملتوی کر کے ما حضر خدمات عالیہ میں پیش کرتا ہوں اور ان لغزشوں سے جن کا وجود میری نا اہلیت کے لئے لازم ہے معافی کا خواستگار ہوں ۔
رَجَائَ الْحَشْرِفِیْ سِلْکِ مَنْ قَالَ فِیْھِمُ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَنْ حَفِظَ عَلٰی اُمَّتِیْ اَرْبَعِیْنَ حَدِیْثًا فِیْ اَمْرِدِیْنِھَا بَعَثَہُ اللّٰہُ فَقِیْھًا وَکُنْت لَہ‘ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ شَافِعًا وَّشَھِیْدًاقَالَ الْعَلْقَمِیُّ اَلْحِفْظُ ضَبْط الشَّیْ وَمَنْعُہ مِنَ الضِّیَاعِ فَتَارَۃً یَکُوْنُ حِفْظُ الْعِلْمِ بِالْقَلْب وَاِن لَّمْ یَکْتُبْ وَتَارَۃً فی الْکِتَابِ وَاِنْ لَّمْ یَحْفَظْہُ بِقَلْبِہٖ فَلَوْ حَفِظَ فِیْ کِتَابٍ ثُمَّ نَقَلَ اِلَی االنَّاسِ دَخَلَ فِیْ وَعْدِ الْحَدِیْثِ وَقَالَ الْمُنَاوِیُّ قَوْلُہ‘ مَنْ حَفِظَ عَلٰی اُمَّتِیْ اَیْ نَقَلَ اِلَیْھِمْ بِطَرِیْقِ التَّخْرِیْجِ وَالْاِسنَادِ وَقِیْلَ مَعْنٰی حَفِظَھَا اَنْ یَنْقُلَھَا اِلَی الْمُسْلِمِیْنَ وَاِنْ لَّمْ یَحْفَظْھَا وَلَا عَرَفَ مَعْنَاھَاوَقَوْلُہ‘ اَرْبَعِیْنَ حَدِیْثًا صِحَاحًا اَوْحِسَانَا قِیْلَ اَوْضِعْافًا یُعْمَلُ بِھَا فِی الْفَضَائِلِ اھ فَلِلَّہِ دَرُّ الْاِسْلَامِ مَا اَیْسَرَہ‘ وَلِلّٰہِ دَرُّاَھْلِہٖ مَا اَجْوَدَ مَا اسْتَنْبَطُوْا، رَزَقَنِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَاِیَّاکُمْ کَمَالَ الْاِسْلَامِ وَمِمَّالَابُدَّ مِنَ التَّنْبِیْہِ عَلَیْہِ اَنِّیْ اِعْتَمَدْتُّ فِی التَّخْرِیْجِ عَلَی الْمِشْکٰوۃِ وَتَخْرِیْجِہٖ وَشَرْحِہِ الْمِرْقَاۃِ وَشَرْحِ الْاِحْیَائِ لِلسَّیِّدِ مُحَمَّدِن الْمُرْتَضٰی وَالتَّرْغِیْبِ لِلْمُنْذِرِیِّ وَمَا عَزَوْتُ اِلَیْھَا لِکَثْرَۃِ الْاَخْذ عَنْھَا وَمَا اَخَذْتُ عَنْ غَیْرِھَاعَزَوْتُہ‘اِلٰی مَاْخَذِہ وَیَنْبَغِیْ لِلْقَارِیْ مُرَاعَاتُ اٰدَابِ التِّلَاوَ ۃِ عِنْدَ الْقِرَائَ ۃِ ۔
اس جماعت کیساتھ حشر ہونے کے امید میں جن کے بارے میں حضور ﷺکا ارشاد ہے کہ جو شخص میری امت کیلئے ان کے دینی امور میں چالیس حدیثیں محفوظ کرے گا حق تعالی شانہ اس کو قیامت میں عالم اٹھائے گا اور میں اس کیلئے سفارشی اور گواہ بنوں گا علقمی کہتے ہیں کہ محفوظ کرنا شے کے منضبط کرنے اور ضائع ہونے سے حفاظت کا نام ہے چاہے بغیر لکھے بر زبان یاد کر لے یا لکھ کر محفوظ کر لے اگرچہ یاد نہ ہو پس اگر کوئی شخص کتاب میں لکھ کر دوسروں تک پہنچا دے وہ بھی حدیث کی بشارت میں داخل ہو گا مناوی کہتے ہیں میری امت پر محفوظ کر لینے سے مراد ان کی طرف نقل کرنا ہے سند کے حوالے کیساتھ اور بعض نے کہا ہے کہ مسلمانوں تک پہنچانا ہے اگرچہ وہ برزبان یاد نہ ہوں نہ انکے معنی معلوم ہوں اسی طرح چالیس حدیثیں بھی عام ہیں کہ سب صحیح ہوں یا حسن یا معمول درجہ کی ضعیف جن پر فضائل میں عمل جائز ہو اﷲ اکبر اسلام میں بھی کیا کیا سہولتیں ہیں اور تعجب کی بات ہے کہ علماء نے بھی کس قدر باریکیاں نکالی ہیں حق گ کمال اسلام مجھے بھی نصیب فرماویں اور تمہیں بھی اس جگہ ایک ضروری امر پر متنبہ کرنا بھی لا بدی ہے وہ یہ کہ میں نے احادیث کا حوالہ دینے میں مشکوۃ تنقیح الرواۃ مرقاۃ اور احیاء العلوم کی شرح اور منذری کی ترغیب پر اعتما کیا ہے اور کثرت سے ان سے لیا ہے اسلئے انکے حوالہ کی ضرورت نہیں سمجھی۔ البتہ انکے علاوہ کہیں سے لیا ہے تو اسکا حوالہ نقل کر دیا نیزقاری کیلئے تلاوت کے وقت اسکے آداب کی رعایت بھی ضروری ہے ۔مقصود سے قبل مناسب معلوم ہوتا ہے کہ کلام مجید پڑھنے کے کچھ آداب بھی لکھ دئے جائیں کہ
بے ادب محروم گشت از فضل رب
مختصر طور پر آداب کا خلاصہ یہ ہے کلام اﷲ شریف معبود کا کلام ہے محبوب و مطلوب کے فرمودہ الفاظ ہیں ۔
جن لوگوں کو محبت سے کچھ واسطہ پڑا ہے وہ جانتے ہیں کہ معشوق کے خط کی محبوب کی تقریر و تحریر کی کسی دل کھوئے ہوئے کے یہاں کیا وقعت ہوتی ہے اس کے ساتھ جو شیفتگی و فریفتگی کا معاملہ ہوتا ہے اور ہوناجاہئے وہ قواعد و ضوابط سے بالاتر ہے ۔ ع
محبت تجھ کو آداب محبت خود سکھا دے گی
اس وقت اگر جمال حقیقی اور انعامات غیر متناہی کا تصور ہو تو محبت موجزن ہو گی اس کے ساھ ہی وہ احکم الحاکمین کا کلام ہے سلطان السلاطین کا فرمان ہے اس سطوت و جبروت والے باشاہ کا قانون ہے کہ جس کی ہمسری نہ کسی بڑے سے بڑے سے ہوئی اور نہ ہو سکتی ہے جن لوگوں کو سلاطین کے دربار سے کچھ واسطہ پڑ چکا ہے وہ تجربے سے اور جن کو سابقہ نہیں پڑا وہ اندازہ کر سکتے ہیں کہ سلطانی فرمان کی ہیبت قلوب پر کیا ہو سکتی ہے کلام الٰہی محبوب و حاکم کا کلام ہے اسلئے دونوں آداب کا مجموعہ اس کے ساتھ برتنا ضروری ہے ۔
حضرت عکرمہs جب کلام پاک پڑھنے کے لئے کھولا کرتے تھے تو بے ہوش ہو کر گر جاتے تھے اور زبان پر جاری ہو جاتا تھا ھذا کلام ربی ھذا کلام ربی ( یہ میرے رب کا کلام ہے یہ میرے رب کا کلام ) یہ ان آداب کا اجمال ہے اور ان تفصیلات کا اختصار ہے جو مشائخ نے آداب تلاوت میں لکھے ہیں جب کی کسی قدر توضیح بھی ناظرین کی خدمت میں پیش کرتا ہوں جن کا خلاصہ صرف یہ ہے کہ بندہ نوکر بن کر نہیں چاکر بن کر نہیں بلکہ بندہ بن کر آقا و مالک محسن و منعم کا کلام پڑھے صوفیاء نے لکھا ہے کہ جو شخص اپنے کو قرات کے آداب سے قاصر سمجھتا رہے گا وہ قرب کے مراتب میں ترقی کرتا رہے گا اور جو اپنے کو رضا و عجب کی نگہ سے دیکھے گا وہ ترقی سے دور ہو گا۔
آداب
مسواک اور وضو کے بعد کسی یک سوئی کی جگہ میں نہایت وقار و تواضع کے ساتھ روبہ قبلہ بیٹھے اور نہایت ہی حضور قلب اور خشوع کے ساتھ اس لطف سے جو اس وقت کے مناسب ہے اس طرح پڑھے کہ گویا خود حق سبحانہ و عزاسمہ کو کلام پاک سنا رہا ہے اگر وہ معنی سمجھتا ہے تو تدبر و تفکر کے ساتھ آیات وعدہ رحمت پر دعائے مغفرت و رحمت مانگے اور آیات عذاب و وعیدپر اﷲ سے پناہ چاہے کہ اس کے سوا کوئی بھی چارہ ساز نہیں آیات تنزیہ و تقدیس پر سبحان اﷲ کہے اور از خود تلاوت میں رونا نہ آوے تو بہ تکلف رونے کی سعی کرے۔
والذحالات الغرابم لمغرم
شکوی الھوی بالمدمع المھراق
ترجمہ: کسی عاشق کے لئے سب سے زیادہ لذت کی حالت یہ ہے کہ محبوب سے اس کا گلہ ہو رہا ہو اس طرح کہ آنکھوں سے بارش ہو ۔
پس اگر یاد کرنا مقصود نہ ہو تو پڑھنے میں جلدی نہ کرے کلام پاک کو رحل یا تکیہ یا کسی اونچی جگہ پر رکھے تلاوت کے درمیان میں کسی سے کلام نہ کرے اگر کوئی ضرورت پیش ہی آ جا وے تو کلام پاک بند کر کے بات کرے اور پھر اس کے بعد اعوذ پڑھ کر دوبارہ شرو ع کرے اگر مجمع مین لوگ اپنے اپنے کاروبار میں مشغول ہوں تو آہستہ پڑھنا افضل ہے ورنہ آواز سے پڑھنا اولے ہے مشائخ نے تلاوت کے جھ آداب ظاہری اور چھ باطنی ارشاد فرمائے ہیں ۔
ظاہری آداب
اول غایت احترام سے با وضو روبہ قبلہ بیٹھے دوم پڑھنے میں جلدی نہ کرے ترتیل و تجوید سے پڑھے سوم رونے کی سقی کرے چاہے بہ تکلف ہی کیوں نہ ہو چہارم آیات رحمت و آیات عذاب کا حق ادا کرے جیسا کہ پہلے گذر چکا پنجم اگر ریا کا احتمال ہو یا کسی دوسرے مسلمان کی تکلیف و حرج کا اندیشہ ہو تو آہستہ پڑھے ورنہ آواز سے ششم خوش الحانی سے پڑھے کہ خوش الحانی سے کلام پاک پڑھنے کی بہت سی احادیث میں تاکید آئی ہے
باطنی آداب
اول کلام پاک کی عظمت دل میں رکھے کہ کیسا عالی مرتبہ کلام ہے دوم حق سبحانہ و تقدس کی علو شان اور رفعت و کبریائی کو دل مًن رکھے جس کا کلام ہے سوم دل کو وساوس و خطرات سے پاک رکھے چہارم معانی کا تدبر کرے اور لذت کے ساتھ پڑھے حضور اکرم صلی اﷲ علیہ وسلم نے ایک شب تمام رات اس آیت کو پڑھ کر گذار دی۔
اِنْ تُعَذِّبْھُمْ فَاِنَّھُمْ عِبَادُکَ وَاِنْ تَغْفِرْلَھُمْ فَاِنَّکَ اَنْتَ الْعَزِیْزُالْحَکِیْم (سورۃ مائدہ آیہ ۱۶۴)
اے اﷲ! اگر تو ان کو عذاب دے تو یہ تیرے بندے ہیں اور اگر مغفرت فرمادے تو عزت و حکمت والا ہے
سعید بن جبیر ؒنے ایک رات اس آیت کو پڑھ کر صبح کر دی۔وَامْتَازُوالْیَوْمَ اَیُّھَا الْمُجْرِمُوْن (سورۃ یٰس آیہ ۱۴)
او مجرمو! آج قیامت کے دن فرماں بر داروں سے الگ ہو جاؤ۔
پنجم: جن آیات کی تلاوت کر رہا ہے دل کو ان کے تابع بنا دے مثلا اگر آیت رحمت زبان پر ہے دل سرور محص بن جائے اور آیت عذاب اگر آگئی ہے تو دل لرز جائے ششم کانوں کو اس درجہ متوجہ بنا دے کہ گویا خود حق سبحانہ و تقدس کلام فرما رہے ہیں اور یہ سن رہا ہے حق تعالی شانہ محص اپنے لطف و کرم سے مجھے بھی ان آداب کے ساتھ پڑھنے کی توفیق عطا فرمائے اور تمہیں بھی۔
مسئلہ: اتنے قرآن شریف کا حفظ کرنا جس سے نماز ادا ہو جائے ہر شخص پر فرض ہے اور تمام کلام پاک کا حفظ کرنا فرض کفایہ ہے اگر کوئی بھی العیاذ باﷲ حافظ نہ رہے تو تمام مسلمان گناہ گار ہیں بلکہ زرکشی سے ملا علی قاری نے نقل کیا ہے کہ جس شہر یا گاؤںمیں کوئی قرآن پاک پڑھنے والا نہ ہو تو سب گناہ گار ہیں اس زمانہ ضلالت و جہالت میں جہاں ہم مسلمانوں میں اور بہت سے دینی امور میں گمراہی پھیل رہی ہے وہاں ایک عام آواز یہ بھی ہے کہ قرآن شریف کے حفظ کرنے کو فضول سمجھا جا رہا ہے اس کے الفاظ رٹنے کو حماقت بتلایا جاتا ہے اس کے الفاظ یاد کرنے کو دماغ سوزی اور تضییع اوقات کہا جاتا ہے اگر ہماری بد دینی کی یہی ایک وبا ہوتی تو اس پر کچھ تفصیل سے لکھا جاتا مگر یہاں ہر ادا مرض ہے اور ہر خیال باطل ہی کی طرف کھینچتا ہے اس لیے کس کس چیز کو رویے اور کس کس کا شکوہ کیجئے۔ فالی اﷲ المشتکی و اﷲ المسستعان ۔



*1 آیت سیکھنے کا اجر»*
رسول الله ﷺ نے فرمایا:
تو صبح کو جاکر کتاب الله کی ایک آیت سیکھے یہ تیرے لیے 100 رکعت نماز سےبہتر ہے اور تو صبح جاکر علم (یعنی حدیث) کا ایک باب سیکھے خواہ اس پر(اسی وقت)عمل کرے یا نہ کرے یہ تیرے لیے 1000 رکعت پڑھنے سے بہتر ہے۔
[سنن ابن ماجه» حدیث#215]

نوٹ:
جب 20 رکعت تراویح پڑھنے میں ایک گھنٹہ کی جتنی محنت ومشقت اللہ کیلئے کی جاتی ہے، تو اندازہ لگائیں کہ قرآن پاک کی صرف ایک آیت سیکھنے کا اجر 100 رکعت سے بھی زیادہ ہے، جو تقریباً 5-6 گھنٹے کی عبادت سے زیادہ اجر رکھتا ہے۔
(1)قرآن پاک سیکھنے کا بہتر وقت صبح کا ہے۔
(2)روزانہ کم از کم ایک آیت قرآن پاک کی ترجمہ و تفسیر کے ساتھ سیکھنا چاہئے، جس س تقریباً 18.5 سالوں میں پورا ہو جائے گا۔ جبکہ صحابہ کرام کو 23 سال لگے کیونکہ قرآن آہستہ آہستہ 23 سالوں
 میں نازل ہوتے ہوتے ہوا مکمل ہوا۔
(3)روزانہ علم کا ایک باب یعنی نبوی تفسیر، سنت و حدیث کا ایک موضوع topic سیکھنا چاہئے۔














No comments:

Post a Comment