Friday, 17 July 2026

کرپٹو کرنسی Cryptocurrency کا حکم وفتاوی، معنی وتعریف، حقیقت ومغالطے، عام کرنسی سے فرق، تاریخ، طریقہ کار اور ہماری ذمہ داری

 

تمہید:

اللہ کے نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا:

إِذَا حَكَمَ الْحَاكِمُ فَاجْتَهَدَ ثُمَّ أَصَابَ فَلَهُ أَجْرَانِ وَإِذَا حَكَمَ فَاجْتَهَدَ ثُمَّ أَخْطَأَ فَلَهُ أَجْرٌ

ترجمہ:

جب فیصلہ کرنے والا کوئی فیصلہ اپنے اجتہاد سے کرے اور فیصلہ صحیح ہو تو اسے دو ثواب ملتے ہیں اور جب کسی فیصلے میں اجتہاد کرے اور غلطی کر جائے تو اسے ایک ثواب (اپنی محنت) ملتا ہے۔


[صحیح بخاری:7352، صحیح مسلم:1716، سنن ابوداؤد:3574، سنن ابن ماجہ:2314، السنن الكبرىٰ النَّسائي:5887، مسند أحمد:17816، الأموال لابن زنجويه:12، معجم ابن الأعرابي:2250، صحيح ابن حبان:5061، سنن الدارقطني:4478، الإبانة الكبرى لابن بطة:696، السنن الكبرى للبيهقي:20366، جامع بيان العلم وفضله:1662، الفقيه و المتفقه:1/475]

غور فرمائیں کہ نبی ﷺ نے دونوں صورتوں میں علماء کے لیے ثواب اور نیکی کی بشارت دی ہے نہ کہ یہ فرمایا کہ اگر وہ غلط ہوں تو ان کو ہدفِ تنقید بنایا جائے۔

کیونکہ

یہ معاملہ قرآن وسنت میں صراحت سے ثابت نہ ہونے کے سبب اجتہادی ہے، اور اجتہاد میں مجتہدین(فقہاء۔ماہر علماء) ہی کی رائے معتبر ومقبول ہے۔ اور ان کا اختلاف ہونا لازم اور ماجور(قابلِ اجر) ہے۔


اجتہاد کی معنی، شرعی حکم اور شرائط
http://raahedaleel.blogspot.com/2012/12/blog-post_17.html




حکم:

’’بٹ کوائن‘‘ محض ایک فرضی کرنسی ہے، اس میں حقیقی کرنسی کے بنیادی اوصاف اور شرائط بالکل موجود نہیں ہیں، لہذا موجودہ  زمانے میں " کوئن" یا "ڈیجیٹل کرنسی" کی خرید و فروخت کے نام سے انٹرنیٹ پر اور الیکٹرونک مارکیٹ میں جو کاروبار چل رہا ہے وہ حلال اور جائز نہیں ہے، وہ محض دھوکا ہے، اس میں حقیقت میں کوئی مادی چیز نہیں ہوتی، اور اس میں قبضہ بھی نہیں ہوتا صرف اکاؤنٹ میں کچھ عدد آجاتے ہیں، اور یہ فاریکس ٹریڈنگ کی طرح سود اور جوے کی ایک شکل ہے، اس لیے " بٹ کوائن" یا کسی بھی " ڈیجیٹل کرنسی" کے نام نہاد کاروبار میں پیسے لگانا اور خرید و فروخت میں شامل ہونا جائز نہیں ہے۔

[تجارت کے مسائل کا انسائیکلوپیڈیا:  بٹ کوائن(2/ 92)،ط۔ بیت العمار کراچی]


تفصیل اور باحوالہ دلائل نیچے/آخر میں پیش کئے جارہے ہیں۔



کریپٹو کرنسی (بٹ کوئن وغیرہ) ایک فرضی کرنسی ہے اور اس کا عنوان ہاتھی کے دانت کی طرح محض دکھانے کی چیز ہے اور فقہائے کرام کی تصریحات کی روشنی میں یہ کرنسی از روئے شرع مال نہیں ہے اور نہ ہی ثمن عرفی۔ نیز اس کاروبار میں حقیقت میں کوئی مبیع وغیرہ نہیں ہوتی اور نہ ہی اس میں بیع کے جواز کی شرعی شرطیں پائی جاتی ہیں؛ بلکہ در حقیقت یہ فاریکس ٹریڈنگ کی طرح سود اور جوے کی شکل ہے؛ اس لیے کرپٹو کرنسی (:بٹ کوئن یا کسی بھی ڈیجیٹل کرنسی) کی خرید وفروخت کی شکل میں نیٹ پر چلنے والا کاروبار شرعاً حلال وجائز نہیں ہے، مسلمانوں کو اس میں حصہ داری نہیں کرنی چاہیے۔

[دارالافتاء، دارالعلوم دیوبند، فتوي 159787]




کرپٹو کرنسی : تعارف و شرعی حیثیت

(مکتب اہل حدیث کے مطابق)

تعریف :

کرپٹو کرنسی میں لفظ   کرپٹو کا  معنی: ایسی ٹیکنالوجی کہ جس میں ایک خاص کمپیوٹر کوڈ کی شکل میں(Encryption and Decryption)  کے ذریعے پیغام کو مطلوبہ شخص تک پہنچایا جاتا ہے اور یہ

پیغام صرف مطلوبہ شخص ہی پڑھ سکتا ہے۔1

بنیادی طور پر یہ مکمل سسٹم (Decentralized System) ہوتا ہے جو کسی ایک مرکزی سرور(Central Server) سے connect نہیں  ہوتا۔ اس کو P-to-P یا Peer to Peer نیٹ ورک بھی کہا جاتا ہے کہ جس میں ہر کمپیوٹر اپنے نیٹ ورک میں موجود ہر دوسرے کمپیوٹر سے بغیر کسی مرکزی سرور(Central Server) کے آپس میں کنیکیٹ connect ہوتے ہیں۔2

جیسا کہ تصویر میں وضاحت ہورہی ہے۔

اسی نیٹ ورک کی ایک قسم کو  کمپیوٹر سائنس کی زبان میں بلاک چین (Block Chain)  ٹیکنالوجی   کہا جاتا ہے جس  میں کرپٹو کرنسی بنائی جاتی ہے۔جس کی وضاحت ان شاء اللہ اگلے سطور میں ہوگی۔

کرپٹو کرنسی :

بنیادی طور پر یہ ایک اثاثہ (Assest) ہے جس کا حسی(Physically) کوئی وجود نہیں ہوتا بلکہ اسکا وجود کمپیوٹر نیٹ ورک کی حد تک ہی رہتا ہے۔ یہ کرپٹو گرافی کی ٹیکنالوجی کی بنیاد پر وجود میں آتا  ہے جس کی وضاحت اختصاراً اوپر ہم نے ذکر کر دی ہے۔ یہ ٹیکنالوجی اس بات کی یقین دہانی کراتی ہے کہ رقم کی منتقلی(Transaction) انتہائی محفوظ طریقے سے بغیر کسی مرکزی نیٹ ورک  (Centralized Network)کے، دھوکے اور جعل سازی سے محفوظ رکھتے ہوئے عمل میں لائی جائے گی۔

کرپٹو کرنسی کی تاریخ

کرپٹو کرنسیاں کچھ عرصہ قبل ہی اس نام سے مشہور ہوئی ہیں جبکہ اس سے قبل یہ ورچوئل کرنسی”  کے نام سے پہچانی جاتی تھیں۔ کرپٹو کرنسی کی تاریخ کو بنیادی طور پر دو (02) ادوار میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔3

01 ) پہلا دور: ابتدائی دور میں ” ورچوئل کرنسیاں ” اسی سوچ کی بنیاد پر قائم کی گئیں جس بنیاد پر  موجودہ حکومتی کرنسیاں ہوتی تھیں ۔ یعنی کہ یہ کرنسیاں کسی ادارے یا حکومت کی پشت پناہی میں وجود میں لائی جاتی تھیں اور ان حکومتوں/ اداروں کی یہ ذمے داری ہوتی تھی کہ وہی ان کرنسیوں کا مکمل نظام سنبھالیں۔ یعنی  یہی حکومتیں/ ادارے ان کرنسیوں کو جاری کریں، ان کے لین دین کا نظام محفوظ بنائیں اور جعل سازی اور دیگر دھوکہ دہی پر مبنی عوامل سے ان کرنسیوں کو محفوظ رکھیں۔ اس فکر پر 1980 عیسوی کے بعد کئی کرنسیاں وجود میں لائی گئیں۔ ذیل میں اس دور کی چند کرنسیاں یہ ہیں:

(1) ای گولڈ(E-Gold)  (2) لنڈن گولڈ(London Gold) (3) ڈی-جی کیش(Digi Cash)

  یہ کرنسیاں اداروں کی طرف سے بنائی جاتی تھیں۔ وہی ان کا نظام سنبھالتے تھے لیکن ان میں چند خرابیاں تھیں۔ مثلاً : اداروں کا دیوالیہ ہو جانا یا صارفین کی رقم لے کر ادراے کا غائب ہو جانا یا مخصوص ممالک کی طرف سے قانونی مسائل کا ہونا۔ ان مسائل کے باعث یہ کرنسیاں زیادہ نہ چل سکیں۔

اس دور میں ورچوئل کرنسی کی اس فکر کو دیکھتے ہوئے چند اداروں کی طرف سے حکومتی کرنسیوں کے لین دین کو ڈیجیٹلائیز(Digitalize) کیا گیا جس کو ہم اپنے دور میں بطورِ مثال: ایزی پیسہ(Easy Paisa)، جیز کیش(Jazz Cash)، یا مختلف بینکوں کی آنلائن بینکنگ (Online Banking) کی ایپس(Apps) کو دیکھ سکتے ہیں۔

02)دوسرا دور:  پہلے دور میں ورچوئل کرنسیوں کی اُس وقت کی صورتحال میں ناکامیوں کی وجہ سے یہ فکر پروان چڑھی کہ ایسی کرنسیوں کو وجود میں لایا جائے جو ڈی سینٹرلائیزڈ سسٹم (Decentralized System) پر قائم کی جائیں کہ جس کے تمام معاملات آن لائن ہوں۔ اس کی بنیاد میں کوئی حکومت یا کوئی اداراہ یا کوئی معین فرد نہ ہو۔ بنیادی طور پر اس سوچ کی وجہ یہ تھی کہ دنیا سے ڈالر کی اجارہ داری کو ختم کیا جائے اور کرنسیوں پر سے حکومتوں کی بالا دستی کو ختم کیا جائے۔ اس سوچ کے لیے بلاک چین(Block-Chain) ٹیکنالوجی کا استعمال عمل میں لایا گیا۔

پہلی کرنسی جواس سوچ پر عمل کرتے ہوئے 2009 عیسوی میں وجود میں لائی گئی وہ ” بٹ کوائن(Bit-Coin) ” ہے۔ اس کی تفصیل ان شاء اللہ ہم آگے بیان کریں گے۔ یہی سلسلہ آگے چلا اور اسی فکر پر کئی کرنسیاں وجود میں لائی گئیں۔

کرپٹو کرنسی کی اقسام :  

تا وقتِ کتابت دنیا میں کم و بیش 23،000 کی تعداد میں مختلف کرپٹو کرنسیاں اپنا وجود رکھتی ہیں۔ ان میں سے کچھ کوائنز(Coins) ہیں اور چند ٹوکن(Token) ہیں۔4

کوائینز(Coins):

یہ خود ایک مستقل بلاک چین پر مائیننگ (Mining) کے عمل کے ذریعے وجود میں لائے جاتے ہیں۔ یہ مکمل طور پر ڈی-سینٹرلائیزڈ(De-Centralized)  ،دھوکہ /جعل سازی سے محفوظ اور ایک مقررہ مقدار تک ہی بنائے جا سکتے ہیں۔

ٹوکنز(Tokens):

 یہ پہلے سے قائم شدہ بلاک چین کہ جس پر کوئی کوائن بن چکا ہو اس پر قائم ہوتے ہیں۔

چند مشہور کرنسیوں(کوائنز) کا ذکر ذیل میں اختصاراً کیا جاتا ہے۔

1۔بٹ کوائن(Bit-Coin) 2۔لائیٹ کوائن(Lite-Coin) 3۔ ایتھیریم(Ethereum) 4۔فینٹم(Fantom)

5۔ ڈوج کوائین(DogeCoin) 6۔ بائینینس کوائن(Binance Coin) 7۔ڈیش کوائن(Dash Coin)

8۔ آئیکین کوائن (ICON Coin) 9۔ریف کوائن(Reef Coin) 10۔پولی گون(Polygon)

کرپٹو کرنسی کے وجود کا طریقہ کار :   

کرپٹو کرنسی جدید ٹیکنالوجی “کرپٹو گرافی” کے ذریعے وجود میں آتی ہے۔ اسی کی مناسبت سے اس کو کرپٹو کرنسی کہا جاتا ہے جسکی مختصر وضاحت ابتداء میں ذکر کردی گئی ہے۔ اس ٹیکنالوجی کی بنیاد بلاک چین (Block-Chain)  ٹیکنالوجی پر ہوتی ہے جس کی مختصر وضاحت ذیل میں ذکر کی جاتی ہے۔

بلاک چین ٹیکنالوجی کی تعریف :

  بلاک چین (Block – Chain) کی مختلف تعریفات کی گئی ہیں۔ ان تمام تعریفات کا خلاصہ چند سطور کی صورت میں ذکر کیا جاتا ہے:5

“یہ مختلف کمپیوٹرز میں تقسیم ایک ڈیجیٹل کھاتے(Distributed Ledger) کو کہتے ہیں جس میں ڈیٹا (Data)مختلف بلاکس(Blocks) کی صورت میں اس کے نیٹ ورک میں موجود تمام کمپیوٹرز میں ریکارڈ اور محفوظ  ہو رہا ہوتا ہے اور جعل سازی کا کوئی امکان نہیں ہوتا۔ نیز تمام بلاکس آپس میں کنیکٹ ہوتے ہیں۔”

جیسا کہ تصویر میں وضاحت ہے

بلاک چین ٹیکنالوجی کا طریقہ کار :

  چونکہ اس سسٹم کا بنیادی استعمال لین دین کے معاملات کے لیے ہوتا ہے اس وجہ سے اس عمل کو ٹرانزیکشن(Transaction)  کا نام دیا گیا۔ بنیادی طور پر ہر بلاک (Block) چند چیزوں پر  مشتمل ہوتا ہے:

۱) ڈیٹا بھیجنے والے کی پرائیوٹ کی(Private Key) ۔یہ ڈیٹا بھیجنے والے کے بطورِ دستخط استعمال کی جاتی ہے۔

۲)ڈیٹا وصول کرنے والے کی پبلک کی(Public Key) ، بطورِ مثال بینک کا اکاؤنٹ نمبر۔

۳)ٹرانزیکشن (Transaction) کی تفصیل(وقت، تعداد، دیگر معلومات)۔

  چونکہ اس ٹیکنالوجی کا زیادہ تر استعمال رقوم کی ترسیل کے لیے ہوتا ہے تو ہم  طریقہ کار کی وضاحت کے لیے رقم کی ٹرانزیکشن کا طریقہ ہی بیان کریں گے۔

جب کوئی صارف کسی بھی شخص کو رقم ٹرانسفر کرنے کا ارادہ رکھتا ہے تو سب سے پہلے یہ ضروری ہے کہ دونوں صارفین کے پاس ایسے کمپیوٹر ہوں کہ جو اس ٹیکنالوجی کو سمجھ سکتے ہوں۔ جس صارف کو رقم ٹرانسفر کرنی ہو وہ سب سے پہلے جس صارف کے پاس رقم ٹرانسفر کرنی ہو وہ اپنی پبلک کی(Public Key) داخل کرے گا پھر رقم کی تفصیلات (مثلاً تعداد وغیرہ) داخل کرے گا پھر اپنی پرائیوٹ کی(Private Key)داخل کرے گا۔ تصدیق کے مرحلے سے گزر کر جس صارف تک یہ رقم ٹرانسفر ہونی ہوگی اس کے پاس چلی جائے گی جس کو وہ شخص اپنی پرائیوٹ کی(Private Key)درج کرکے اپنے اکاؤنٹ میں حاصل کر لے گا۔ یہ سارا عمل نیٹ ورک میں ایک نئے بلاک کی صورت میں تشکیل پا جائے گا اور نیٹ ورک میں موجود تمام سسٹم میں وہ ریکارڈ محفوظ اور اپڈیٹ ہو جائے گا۔

تصدیق کے مرحلے کی ضرورت اس وجہ سے پیش آتی ہے کہ آن لائن خرید و فروخت میں اس بات کا احتمال رہتا ہے کہ خریدار بیچنے والے کو پہلے رقم بھیج دے اور پھر اپنی رقم کی ادائیگی کو واپس اپنے اکاؤنٹ میں ریورس کر لے یا پھر جو رقم صارف کسی اور کو بھیج رہا ہے وہ اس کے پاس حقیقت میں تھی بھی یا نہیں یا اس نے جعلی رقم بنا کر کسی اور کو بھیج دی۔ اس کو ڈبل سپینڈنگ(Double-Spending) کہتے ہیں۔

 عموماً ٹرانزیکشن میں یہ کام بینک وغیرہ کا ہوتا ہے کہ وہ ٹرانزیکشن کو دھوکہ دہی اور جعل سازی سے محفوظ رکھیں لیکن کرپٹو کرنسی میں کوئی ادارہ شامل نہیں ہوتا تو اس احتمال کو دور کرنے کے لیے تصدیق کے عمل کی ضرورت پیش آئی۔ اس عمل کے لیے مختلف کرپٹو کرنسی میں مختلف طریقے استعمال ہوتے ہیں۔ بٹ کوائن میں “مائیننگ” کا عمل ہوتا ہے جس کو “پروف آف ورک” کہا جاتا ہے۔ اس کی وضاحت ہم ان شاء اللہ آگے کریں گے۔ کچھ کرنسیاں اس تصدیق کے لیے “سٹیکنگ” کا عمل استعمال کرتی ہیں جس کو “پروف آف سٹیک” سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ یہ مائیننگ کی بنسبت سستا اور آسان عمل ہوتا ہے۔

سٹیکنگ کا طریقہ کار:

اس میں اگر کوئی صارف یہ چاہتا ہے دو لوگوں کے درمیان ہونے والی ٹرازیکشن کی تصدیق کرے تو اس کے لیے اس کو پہلے کچھ کوائنز لاک کرنے ہوتے ہیں تاکہ اس کا احتمال ختم ہوجائے کہ یہ صارف جعلی تصدیق نہ کردے، جب یہ صارف تصدیق کا عمل مکمل کر چکا ہو تو نئے کوائنز کی تشکیل ہوجاتی ہے اور وہ کوائنز اس صارف  کے اکاؤنٹ میں آجاتے ہیں، اور اس عمل کے نتیجے میں ایک نیا بلاک نیٹ ورک میں بن جاتا ہے۔6

بٹ کوائن :

جیسا کہ ہم نے پیچھے ذکر کیا کہ ورچوئل کرنسیوں کا دوسرا دور اس فکر کے ساتھ پروان چڑھا کہ کوئی ایسی کرنسی وجود میں لائی جائے جو ڈی سینٹرلائیزڈ سسٹم (Decentralized System)پر قائم  ہو۔ اسکے تمام معاملات آن لائن ہوں۔ اس کی بنیاد میں کوئی حکومت یا کوئی اداراہ یا کوئی معین فرد نہ ہو۔ بنیادی طور پر اس سوچ کی وجہ یہ تھی کہ دنیا سے ڈالر کی اجارہ داری کو ختم کیا جائے اور کرنسیوں  پر سے حکومتوں کی بالا دستی کو ختم کیا جائے۔

پہلی کرنسی جواس سوچ پر عمل کرتے ہوئے 2009عیسوی میں وجود میں لائی گئی وہ “بٹ کوائن(Bit-Coin)” ہے۔ اس کے بارے میں یہ مشہور ہے کہ اس کا موجد “ستوشی ناکا موٹو” ہے۔ 2009عیسوی میں ایک مقالہ منظرِ عام پر آیا جس میں یہ وضاحت کی گئی کہ ایک ایسا سسٹم ہو جو مکمل طور پر ڈی سینٹرلائیزڈ ہو اور اس میں وہ تمام خوبیاں جو ہم نے اوپر بیان کیں وہ ہونی چاہیے۔ اس خواب کو ستوشی ناکا موٹو نے عملی جامہ پہنایا اور “بٹ کوائن پیر ٹو پیر پیمنٹ سسٹم” (Bit-coin A Peer To Peer Payment System) کے نام سے ایک کرنسی کا اجراء کیا اور اس کا کوڈ اوپن سورس (Open Source)رکھا جس کو ہر کوئی پڑھ سکتا ہے۔ یہ “ستوشی ناکا موٹو” کون تھا؟ کس جگہ سے اس کا تعلق تھا؟ اس کی تفصیلات کسی کو بھی معلوم نہیں۔ آیا یہ ایک شخص تھا یا کوئی گروپ تھا۔ کسی کو اس کی تفصیلات کا کوئی علم نہیں۔ 2010 عیسوی میں اس نے یہ پروگرام دیگر ڈیویلپرز کے حوالے کیا اور خود غائب ہو گیا۔

بٹ کوائن میں ٹرانزیکشن کا طریقہ کار ہم ایک مثال سے سمجھتے ہیں:

’’حسن کے پا س ایک بٹ کوائن ہے جس کی وہ ٹرانزیکشن کرنا چاہتا ہے، اس ٹرانزیکشن کا کوڈ 01001 ہے۔ زید کے پاس پرائیوٹ کی(Private Key)بطور مثال Hass123an ہے جس کا علم صرف اسی کو ہے جس کا استعمال وہ رقم کی ترسیل کے لیے بطورِ دستخط استعمال کرے گا۔ اس  بٹ کوائن کی تفصیلات بطورِ نقل (کاپی) نیٹ ورک میں موجود تمام کمپیوٹرز میں موجود ہیں جن کو نوڈز کہتے ہیں۔ حسن اس بٹ کوائن کو زید کو بھیجنا چاہتا ہے۔  زید کی ایک پبلک کی(Public Key) بطور مثال 15719092 ہے جس کو سمجھنے کے لیے اکاؤنٹ نمبر سے تعبیر کیا جا سکتا ہے۔ اسی طرح زید کی ایک پرائیوٹ کی(Private Key)بھی ہے جس کو وہ رقم وصول کرنے کے لیے بطورِ دستخط استعمال کرے گا جس کا علم قانوناً صرف اس کو ہی ہے۔

حسن نے یہ ارادہ کیا کہ میں یہ بٹ کوائن زید کو بھیجتا ہوں۔ تو اس کے لیے اس نے بٹ کوائن کی مقدار، زید کی پبلک کی(Public Key)،  اور اپنی پرائیوٹ کی(Private Key) درج کی جو کہ ایک بلاک کی صورت اختیار کر گئی۔ بعد از تصدیق یہ بٹ کوائن حسن کے اکاؤنٹ سے نکل کر زید کے اکاؤنٹ میں   آ جائے گی۔ اس عمل کی نقل نیٹ ورک میں موجود ہر کمپیوٹر میں موجود ہے نیز اب اس ٹرانزیکشن کا کوڈ بھی تبدیل ہو چکا ہے۔ بطورِ مثال اب کوڈ 10110 ہے تاکہ ایک کوڈ کی متعدد ٹرانزیکشن جمع نہ ہونے پائیں۔‘‘

یہ بطورِ مثال بٹ کوائن کی ٹرانزیکشن کا طریقہ کار اختصاراً ذکر کیا گیا۔ اس میں ایک احتمال باقی ہے وہ یہ: کیا حسن واقعتاً اس بٹ کوائن کا مالک تھا بھی یا اس نے جعل سازی کے تحت یہ کوائن  فرضی طور پر بنا رکھا تھا؟

عام زندگی میں اس سوال کا جواب کوئی ادارہ یا بینک وغیرہ دیتے ہیں جس کے تحت وہ یہ ذمے داری لیتے ہیں کہ معاملہ ہر قسم کی جعل سازی سے پاک ہے لیکن بٹ کوائن چونکہ ایک ڈی سینٹرلائیزڈ ٹیکنالوجی پر قائم ہوتا ہے تو اس میں کوئی ادارہ یا بینک یہ کام نہیں کر سکتا۔ اس احتمال کو دور کرنے کے لیے تصدیق کا عمل بنایا گیا جس میں یہ احتمال دور کیا جاتا ہے کہ واقعتاً حسن اس بٹ کوائن کا ملک تھا اور وہ اس میں کوئی دھوکہ دہی کا معاملہ نہیں کر رہا۔ ہم نے ذکر کیا کہ مختلف کرنسیوں میں یہ تصدیق کا عمل مختلف طریقوں سے ہوتاہے۔ کچھ کرنسیوں میں “سٹیکنگ” کا عمل ہوتا ہے جبکہ بٹ کوائن میں یہ تصدیق کا عمل “مائیننگ ” کے ذریعے ہوتا ہے۔

مائیننگ:  

اس عمل میں “مائینر” (مائیننگ کا عمل کرنے والا شخص) کی یہ ذمے داری ہوتی ہے کہ وہ اس ٹرانزیکشن کو اوپر ذکر کردہ احتمال سے پاک بنائے۔7

چونکہ بٹ کوائن کا نظام بلاک چین ٹیکنالوجی پر قائم ہے اور اس میں تمام ریکارڈ نیٹ ورک میں موجود تمام کمپیوٹرز/ نوڈز میں ہوتا ہے۔ مائینر کی یہ ذمے داری ہوتی ہے کہ ٹرانزیکشن جس کا ایک مخصوص کوڈ ہوتا ہے وہ اس کو چیک کرتا ہے کہ یہ بٹ کوائن حسن کے پاس کیسے آیا اور  وہ اس ٹرانزیکشن سے قبل اس کو کسی اور جگہ پر خرچ تو نہیں کر چکا۔ جب مائینر مطمئن ہو جاتا ہے تو وہ اس ٹرانزیکشن کی تصدیق کر دیتا ہے اور بٹ کوائن حسن کی ملکیت سے نکل کر زید کی ملکیت میں آ جاتا ہے۔ اس عمل کو ’’مائینگ‘‘ کہتے ہیں۔ اس کو “پروف آف ورک” بھی کہا جاتا ہے۔ یہ عمل انتہائی محنت طلب اور بے انتہا مہنگا ہوتا ہے۔

اب سوال یہ آتا ہے کہ جو شخص اتنی محنت اور سرمایہ خرچ کر کے اس تصدیق کےعمل کو سر انجام دیتا ہے اس میں اس کا کیا فائدہ ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ مائینر کے اس عمل کی وجہ سے نئے بٹ کوائینز وجود میں آتے ہیں جو اس مائینر کو ملتے ہیں۔ تا وقتِ کتابت ان نئے ملنے والے بٹ کوائینز کی تعداد 6.25 ہے۔ اسی جواب میں اس بات کی وضاحت بھی ہو جاتی ہے کہ نئے بٹ کوائنز کا وجود کیسے ہوتا ہے۔ لیکن یہ بٹ کوائن ایک مخصوص تعداد تک ہی وجود میں آئیں گے جو کہ 21 ملین ہے اس کے بعد یہ مزید نئے وجود میں نہیں آئیں گے جس سے افراطِ زر(Currency) کا اشکال بھی دور ہو جاتا ہے۔ پھر جب کوئی شخص ٹرانزیکشن کی تصدیق کرے گا تو اس پر فیس رکھی جائے گی جس کی ادائیگی کی ذمے داری بٹ کوائن بھیجنے والے کی ہوگی۔

کرپٹو کرنسی زر (Currency) یا مبیع (Asset) ؟

 کرپٹو کرنسی کیسے وجود میں آتی ہے؟ نیز دیگر تکینکی اشیاء کی وضاحت کے بعد اس کا شرعی حکم جاننا ضروری ہے لیکن اس سے قبل یہ ضروری ہے کہ یہ طے کیا جائے کہ اس کی حیثیت زر(Currency) کی ہے یا مبیع(Assest) کی؟ اس فصل میں ہم زر(Currency) اور مبیع (Assest) کے تعلق سے اختصاراً کچھ گفتگو کریں گے۔ ان شاء اللہ

زر (Currency) ماہرینِ معاشیات کی نظر میں

ماہرینِ اقتصاد نے زر(Currency) کی مختلف تعریفات ذکر کی ہیں جن کا خلاصہ ذیل میں ذکر کیا جاتا ہے:

’’ہر وہ چیز جس کو آلہِ تبادلہ کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہو۔ نیز وہ قیمتوں کا پیمانہ ہو اور  اس کے ذریعے قدر کو محفوظ رکھا جا سکے اور اسکو قبولیتِ عامہ حاصل ہو۔‘‘8

 اس کو معاشیات کی اصطلاح میں زر(Currency) کہتے ہیں۔

ذکر کردہ تعریف سے زر(Currency) کی تین خصوصیات ہمیں واضح ہوتی ہیں:

1)آلہِ تبادلہ کے طور پر استعمال ہو سکتی ہو:   

کسی بھی چیز کا زر(Currency) ہونے کے لیے ضروری ہے کہ اس کو  بطور آلہِ تبادلہ استعمال کیا جا سکتا ہو۔

 ابتدائی زمانے میں لوگ ’’بارٹر سسٹم‘‘ کے تحت خرید و فروخت کیا کرتے تھے۔ اس میں یہ طریقہ کار ہوتا تھا کہ اگر کسی شخص کو آٹا چاہیے اور اس کے پاس جَو (barley) ہوتی تو وہ کسی ایسے شخص کو ڈھونڈتا جس کے پاس آٹا ہو اور اس کو جَو (barley) چاہیے ہوتی تو یہ دونوں آپس میں دونوں اشیاء کا تبادلہ کر لیتے۔اس سلسلے میں یہ دشواری تھی کہ اگر کسی کو آٹے کی حاجت ہے اور اسکو کوئی ایسا شخص نہ ملتا جس کے پاس آٹا تو ہوتا لیکن اس کو جَو (barley) کی حاجت نہ ہوتی تو یہ معاملہ منعقد نہیں ہو پاتا تھا۔ اسی وجہ سے لوگوں نے خرید و فروخت کے لیے کچھ متبادل راستے نکالے کہ جو آلہِ تبادلہ کے طور پر استعمال ہو سکتے ہوں اور ہر کسی کو اس کی ضرورت ہو۔ اسی سلسلے نے آگے چل کر درہم و دینار کی صورت اختیار کی اور موجودہ دور میں کرنسی نوٹ آلہ، تبادلہ کے طور پر استعمال ہو رہے ہیں۔

اسی وجہ سے زر(Currency) کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ آلہِ تبادلہ کے طور پر استعمال ہونے کی  صلاحیت رکھتا ہو۔

2) قیمتوں کا پیمانہ ہو:  کسی بھی چیز کا زر(Currency) بننے کے لیے ضروری ہے کہ وہ  اشیاء کی قیمتوں کا پیمانہ ہو۔ اس کا تعین کسی دوسرے زر(Currency) سے کیا جاتا ہے۔

مثلاً: سونا زر(Currency) حقیقی ہے اور قیمتوں کا پیمانہ ہے۔ اس کی قیمت کا تعین کسی دوسرے زر(Currency) سے کیا جائے گا۔ دینار کی قیمت مثلاً  12 درہم ہے۔

3) قدر محفوظ رکھنے کا ذریعہ ہو:  یعنی اس کی اپنی ایک ذاتی قدر ہو جو کہ ہر وقت یکساں رہے۔ اس میں کمی یا زیادتی نہ ہو کیونکہ اگر زر(Currency) میں بھی کمی یا زیادتی ہوگی تو وہ بھی اثاثہ بن جائے گا۔

موجودہ دور میں زر(Currency) کی قدر میں کمی و زیادتی واقع ہوتی ہے لیکن یہ دیگر اشیاء کی بنسبت ہوتی ہے۔ ان کی ذاتی قدر برقرار رہتی ہے۔

زر (Currency) شریعت کی نظر میں :

شرعی اعتبار سے زر(Currency) کی دو اقسام بیان کی جاتی ہیں:

1)زر(Currency) حقیقی   2) زر(Currency) عرفی/اصطلاحی

زر(Currency) حقیقی:

 زر(Currency) حقیقی شریعت کی اصطلاح میں اس زر(Currency) کو کہتے ہیں جس کی ذاتی قدر ہو، لوگوں کے تعامل سے وقتی طور پر پیدا نہ ہوئی ہو. اگر اس میں لوگوں کا تعامل بطور زر(Currency) ختم بھی ہو جائے تو بطورِ مبیع(Assest) اس کی حیثیت برقرار رہتی ہے۔ علماء کرام نے صرف  سونے اور  چاندی کو زر(Currency) حقیقی شمار کیا ہے۔

زر(Currency) عرفی/اصطلاحی:

زر(Currency) عرفی شریعت کی اصطلاح میں اس زر(Currency) کو کہتے ہیں جس کی اپنی کوئی مستقل حیثیت نہ ہو بلکہ لوگوں کے تعامل سے اس کی قیمت قائم ہوئی ہو یا کسی حکومت یا ادارے کی طرف سے اسکو بطورِ زر(Currency) رائج کیا گیا ہو۔ مثلاً : اس وقت دنیا میں موجود تمام کرنسی نوٹ۔

زر(Currency) کی صفات

تاریخِ اسلامی کے ابتدائی ادوار میں ہمیں بطور زر(Currency)  صرف سونے اور چاندی کا استعمال ہی نظر آتا ہے لیکن شریعتِ اسلامیہ نے یہ پابندی ذکر نہیں کی کہ سونا اور چاندی کے علاوہ دیگر اشیاء کو زر(Currency) نہیں بنایا جا سکتا بلکہ اس معاملے میں وسعت رکھی گئی ہے اور جس چیز کےاندر شرعی اصولوں اور ضوابط کی روشنی میں زر(Currency) بننے کی صلاحیت موجود ہو اس کو بطورِ زر(Currency) معاشرے میں رائج کیا جا سکتا ہے اور اس پر وہی احکامات لاگو کیے جائیں گے جو سونے اور چاندی میں زر(Currency) ہونے کی وجہ سے لاگو کیے جاتے ہیں۔ شرعی تعلیمات کی روشنی میں ہمیں زر(Currency) کی تین خصوصیات ملتی ہیں کہ جس چیز میں یہ تین خصوصیات شامل ہوں اس کو زر(Currency) بنایا جا سکتا ہے اور معاشرے میں بطورِ زر(Currency) رائج کیا جا سکتا ہے۔

شرعی طور پر زر(Currency) کی صفات:

زر(Currency) کی شرعی صفات مندرجہ ذیل ہیں:

1)زر(Currency) کو قبولیت عامہ حاصل  ہو: کسی بھی چیز کا شرعاً زر(Currency)ہونے کے لیے  ضروری ہے کہ اسکو کسی بھی معاشرے کا ایک بڑا طبقہ بطورِ زر(Currency) قبول کرتا ہو یا کسی حکومت یا صاحبِ اقتدار ادارے نے اسکو بطورِ زر(Currency) معاشرے میں نافذ کیا ہو۔

2)قیمتوں کا پیمانہ ہو  ۳) قدر محفوظ رکھنے کا ذریعہ ہو

ان دو شروط کی وضاحت گزشتہ مبحث میں کر دی گئی ہے۔

کرپٹو کرنسی بطورِ زر :

ہم نے اوپر زر(Currency) کی خصوصیات معاشی و شرعی لحاظ سے ذکر کر دی ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا کرپٹو کرنسی میں زر(Currency) بننے کی اہلیت موجود ہے؟ تو اس کا جواب اختصاراً یہی ہے کہ بلکل کرپٹو کرنسی میں زر(Currency) بننے کی اہلیت موجود ہے۔ یہ ان تمام صفات کو قبول کرتی  ہے جو زر(Currency) میں پائی جائیں جن کا ہم نے تفصیلی ذکر کر دیا ہے۔

1)کرپٹو کرنسی کا بطور آلہِ تبادلہ استعمال موجود ہے۔

2) کرپٹو کرنسی کے ذریعے قیمتوں کا پیمانہ کیا جا سکتا ہے۔

3) کرپٹو کرنسی میں قدر کو محفوظ کرنے کی اہلیت موجود ہے۔

4) کرپٹو کرنسی کو جاننے والے حضرات میں اسکو قبولیتِ عامہ حاصل ہے۔

یہ ثابت ہوا کہ کر پٹو کرنسی میں زر(Currency) بننے کی مکمل صفات پائی جاتی ہیں۔ البتہ چونکہ اس کی اپنی کوئی ذاتی قدر نہیں ہوتی بلکہ لوگوں کے تعامل سے اس میں قدر پیدا ہوتی ہے تو اس کو زر(Currency) حقیقی نہیں کہہ سکتے بلکہ اس کا شمار زر(Currency) عرفی/اصطلاحی میں کیا جائے گا۔ اس کا شرعی حکم ان شاء اللہ ہم آخر میں تفصیلاً ذکر کریں گے۔

کرپٹو کرنسی بطورِ مبیع (Asset)

عربی زبان میں ہر وہ چیز جس کو خریدا جائے اس کومبیع(Assest) کہا جاتا ہے۔ شریعتِ اسلامیہ نے  معاملات کے اندر یہ آسانی رکھی ہے کہ ہر چیز جائز اور حلال ہے سوائے اس چیز کے جو شرعی دلائل کی وجہ سے حرام ہو۔ دورانِ بحث یہ ذکر کیا گیا کہ زر(Currency) عرفی کی قدر چونکہ لوگوں کے تعامل کی وجہ سے ہوتی ہے اور اگر لوگوں کا تعامل اس چیز سے بطور زر(Currency) ختم ہو جائے تو اس کی حیثیت بطورِ مبیع(Assest) کی ہو جاتی ہے۔

 یہی معاملہ کرپٹو کرنسی کا ہے۔ اس کو ہم نے زر(Currency) اس وجہ سے شمار کیا ہے کیونکہ اس میں جہاں دیگر زر(Currency) کی خصوصیات و صفات پائی جاتی ہیں اور اس میں قدر لوگوں کے تعامل کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔ اگر زر(Currency) کی حیثیت سے لوگوں کا تعامل اس سے ختم ہو جائے تو اس کومبیع(Assest) شمار کیا جائے گا۔ شریعت نے خرید و فروخت کے معاملے  میں مبیع(Assest) کے تعلق سے چند شرائط لاگو کی ہیں۔ اگر مبیع(Assest) وہ شرائط پائی جائیں تو اس کی  خرید و فروخت جائز ہوتی ہے۔ ہم ان شروط کو اختصاراً ذکر کرتے ہیں:

۱)مبیع(Assest)  مال منتفع ہونا چاہیئے:  کسی بھی چیز کی خرید و فروخت کے لیے ضروری ہے کہ مال ہو اور مباحۃ النفع ہو۔9

مال” عربی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی: ’’ کوئی ایسی چیز جس کی طرف لوگوں کی طبیعت مائل ہو‘‘

منتفع : یعنی جس چیز سے فائدہ حاصل کرنا شرعاً اور عقلاً جائز ہو۔

 اگر کوئی ایسی چیز ہے جس کی طرف لوگوں کی طبیعت مائل ہو اور اس سے فائدہ اٹھانا جائز ہو تو اس کی خرید و فروخت کی جا سکتی ہے۔

یہاں یہ اشکال آتا ہے کہ کرپٹو کرنسی زر(Currency) عرفی ہے اور زر(Currency) عرفی لوگوں کی طبیعت اور ان کے عرف کی وجہ سے زر(Currency) بنتا ہے تو جب لوگوں کا تعامل ہی اس سے ختم ہو گیا تو وہ مال کیسے بن سکتی ہے؟

اس اشکال کا جواب ایسے ممکن ہے کہ اگر ہم تاریخ کے اوراق میں نظر دوڑائیں تو ہمیں متروکہ کرنسی نوٹ کی مثال ملتی ہے کہ لوگوں کے تعامل کی وجہ سے اس کو زر(Currency) عرفی کا درجہ حاصل ہوا تھا لیکن جب لوگوں کا تعامل اس سے ختم ہوا تو وہ مبیع(Assest) بن گئے اور ان کا استعمال یا تو لوگ تحقیق وغیرہ کے مقصد کے لیے ان کو استعمال کرتے ہیں یا پھر آثارِ قدیمہ جمع کرنے کا شوق جن حضرات کو ہوتا ہے وہ ان کو اپنے پاس رکھتے ہیں۔

اگر کسی کرنسی پر سے لوگوں کا بطور زر(Currency) تعامل ختم ہو جائے تو اگر کسی مقصد کے لیے ان کو بطورمبیع(Assest) خریدا جائے تو ان کی خرید و فروخت ہو سکتی ہے نیز اس خرید و فروخت میں کرنسی والے احکامات لوگو نہیں ہوں گے۔(تفصیل ان شاء اللہ آخر میں)

2)مبیع(Assest) معدوم نہ ہو:  خرید و فروخت کے صحیح ہونے کے لیے ضروری ہے کہ جس چیز کو خریدا جارہا ہے وہ اصلاً موجود ہو۔  یہ بات پیچھے گزر(Currency) چکی ہے کہ کرپٹو کرنسی اپنا ایک مستقل وجود رکھتی ہے۔10

3)مبیع بیچنے والے کی ملکیت و قبضے میں ہو: بیچنے والے کے لیے یہ ضروری ہے کہ جس چیز کو وہ بیچ رہا ہے وہ اس کی ملکیت و قبضے میں ہو۔ اگر ایسا نہ ہو تو شریعت نے اس کو وہ چیز بیچنے سے منع فرمایا ہے۔11

4)مبیع(Assest) مقدور التسلیم ہو: بیع کی صحت کے لیے ضروری ہے کہ بیچنے والا  سامان کو  خریدار کے حوالے کرنے کی استطاعت رکھتا ہو۔12

5)مبیع(Assest) معلوم ہو: سامان کے لیے ضروری ہے کہ اس کی مقدار اور جنس معلوم ہو۔ اگر ایسا نہ ہو تو خرید و فروخت کے معاملے میں جہالت پائی جائے گی جس سے شریعتِ مطہرہ نے روکا ہے۔13

حاصل کلام: کرپٹو کرنسی کی حیثیت بطور زر(Currency) اگر ختم ہو جائے تو یہ بطور مبیع(Assest)  ان کی خرید و فروخت ہو سکتی ہے۔

کرپٹو کرنسی کا شرعی حکم :

تنبیہِ بلیغ : ہمارے معاشرے میں ایک عمومی مزاج رائج ہے کہ جب کبھی بھی ترقی کرتی ہوئی دنیا کے ساتھ کوئی نئی چیز وجود میں آتی ہے تو عوام الناس اسکا شرعی حکم جاننے کے لیے علماءِ کرام کی طرف رجوع کرتی ہے جو کہ بلا شبہ ایک قابل، تعریف امر ہے لیکن ساتھ ایک افسوس ناک امر یہ ہوتا ہے کہ اگر علماء اس پر محققین کی آراء کی روشنی میں اس پر حرمت کا فتویٰ دیتے ہیں توعلماء کو دقیانوس اور ترقی سے دور شخصیات جیسے القابات نوازے جاتے ہیں اور اگر علماء محققین کی آراء کو سامنے رکھتے ہوئے اس کے حلال ہونے کا فتویٰ دیتے ہیں تو لوگ اس میں سرمایہ کاری بغیر سوچے سمجھے شروع کر دیتے ہیں اور اگر اس میں نقصان ہو جائے توعلماء کو ہدفِ تنقید بنایا جاتا ہے۔

یہ رویہ قطعاًغیر مناسب رویہ ہے حالانکہ نبی ﷺ نے بیان فرمایا:

إِذَا حَكَمَ الْحَاكِمُ فَاجْتَهَدَ ثُمَّ أَصَابَ فَلَهُ أَجْرَانِ وَإِذَا حَكَمَ فَاجْتَهَدَ ثُمَّ أَخْطَأَ فَلَهُ أَجْرٌ14

یعنی: جب فیصلہ کرنے والا کوئی فیصلہ اپنے اجتہاد سے کرے اور فیصلہ صحیح ہو تو اسے دو ثواب ملتے ہیں اور جب کسی فیصلے میں اجتہاد کرے اور غلطی کر جائے تو اسے ایک ثواب (اپنی محنت) ملتا ہے۔

غور فرمائیں کہ نبی ﷺ نے دونوں صورتوں میں علماء کے لیے ثواب اور نیکی کی بشارت دی ہے نہ کہ یہ فرمایا کہ اگر وہ غلط ہوں تو ان کو ہدفِ تنقید بنایا جائے۔ اس تمہید کے بعد یہ بات عرض ہے کہ کرپٹو کرنسی پر جو بھی حکم آگے آنے والے سطور میں ذکر کیا جائے گا اس کا قطعاً یہ معنیٰ نہیں ہوگا کہ قارئیین فقط اس تحریر کی بنیاد پر کرپٹو کرنسی میں سرمایہ کاری شروع کردیں بلکہ جن احباب کو اسکی باقاعدہ معلومات ہوں اور تجربہ ہو، معاشی صورتحال اور اس ٹیکنالوجی کو سمجھنے کی طاقت ہو تو وہ ذاتی دلچسپی کی بنیاد پر اس میں سرمایہ کاری کر سکتے ہیں۔  

گزشتہ تمام باتوں کا خلاصہ یہ ہے کہ کرپٹو کرنسی زر(Currency)عرفی ہے۔ اگر لوگوں کا تعامل اس پر سے بطور زر(Currency) کے ختم ہو جائے تو اس کی صورت مبیع(Assest) کی بن جائے گی۔ چونکہ اس وقت اس کی حیثیت زر(Currency) کی ہے تو اس پر زر(Currency) کے احکامات نافذ العل ہوں گے۔ زر(Currency) کی آپس میں خرید و فروخت کو شریعت کی اصطلاح میں “بیع الصرف” کہا جاتا ہے۔ بیع الصرف کے صحیح ہونے کی دو شروط ہیں جن کو ہم اجمالاً ذکر کرتے ہیں:

1)  دو ایک جیسی کرنسیوں کے آپس کے لین دین میں یہ شرط ہے کہ ان کی تعداد بلکل برابر ہو۔ کمی بیشی جائز نہیں ہے۔ دوسری شرط یہ ہے کہ جس مجلس میں معاہدہ ہو رہا ہے اسی مجلس میں دونوں کرنسیوں پر قبضہ حاصل کیا جائے۔ کرپٹو کرنسی میں بطورِ مثال اگر کسی نے بٹ کوائن کو بٹ کوائن کے بدلے خریدنا ہے تو دونوں کی مقدار بلکل برابر ہونی چاہیے۔ کمی بیشی جائز نہیں ہے۔ ایک بٹ کوائن کے بدلے ایک بٹ کوائن کا تبادلہ ہی ہو سکتا ہے۔

2)اگر کرنسی کی جنس الگ ہے تو کمی بیشی جائز ہے لیکن جس مجلس میں لین دین کا معاملہ ہو رہا ہے اسی مجلس میں دونوں طرفین کا کرنسی پر قبض حاصل کرنا ضروری ہے۔ ادھار جائز نہیں ہے۔ مثلاً : اگر زید نے عمر سے ایک بٹ کوائن کے بدلے دولائٹ کوائن کا معاہدہ کرنا ہو تو اس کے لیے ضروری ہے کہ جس مجلس میں یہ معاہدہ ہو رہا ہے اسی میں عمر کے پاس بٹ کوائن ٹرانسفر ہو جانے چاہیے اور زید کے پاس دو لائٹ کوائن ٹرانسفر ہو جانے چاہیے۔

 کرپٹو کرنسی سے متعلق دیگر احکامات:

ہم نے عرض کیا کہ چونکہ کرپٹو کرنسی ایک زر ہے تو اس پر شرعی طور پر زر کے احکامات لاگو ہوں گے۔ زر کی آپس میں خرید و فروخت کے تعلق سے جو شروط اسلامی تعلیمات کی روشنی میں بیان کی گئی ہیں وہ ہم نے اجمالاً ذکر کر دیں۔ دیگر احکامات جو زر کے تعلق سے شریعت کے ہمیں ملتے ہیں ان کا بھی اجمالی ذکر ضرروی ہے۔ ان احکامات کو ہم کرپٹو کرنسی پر لاگو کرتے ہوئے سمجھتے ہیں:

1)اگر کرپٹو کرنسی میں کسی کو قرض دیا جائے تو اس پر سود لینا جائز نہیں ہے۔

2)اگر کسی شخص کے پاس اتنی مقدار میں کوئی بھی ایک یا متعدد کرپٹو کرنسیاں موجود ہیں جن کی قیمت 52 تولہ چاندی کے برابر ہوں تو سال گزرنے پر اس کرپٹو کرنسی کے مالک پر زکوٰۃ ادا کرنا واجب ہوگی۔

موجودہ دور میں کرپٹو کرنسی میں ہونے والی ٹریڈنگ کی اقسام:

کرپٹو کرنسی میں متعدد اقسام کی ٹریڈنگ کی جاتی ہے۔ ہم نے یہ ذکر کیا کہ کرپٹو کرنسی کیونکہ زر ہے۔ اصل میں اس کا لین دین حلال ہے لیکن موجودہ دور میں کرپٹو کرنسی میں ٹریڈنگ کی کچھ ایسی صورتیں ہیں جو جائز نہیں ہیں۔ بنیادی طور پر کرپٹو کرنسی میں تین طریقوں سے ٹریڈنگ کی جاتی ہے1)سپاٹ ٹریڈنگ (2) مارجن ٹریڈنگ (3) فیوچر ٹریڈنگ۔

ہم بالترتیب ان اقسام کی کچھ تفصیل اور شرعی تعلیمات کی روشنی میں اس کا حکم ذکر کرتے ہیں:

1)سپاٹ ٹریڈنگ:

  سپاٹ ٹریڈنگ میں صارف کرنسی کو خریدتا ہے اور اس کے اکاؤنٹ میں وہ رقم ظاہر ہونے لگتی ہے اور جب صارف چاہے اس رقم کو بیچ سکتا ہے۔ کرنسی کی خرید و فروخت کے لیے یہ لازمی ہے کہ مجلس العقد میں اس پر قبضہ حاصل کیا جائے۔ چناچہ حدیث کے الفاظ ہیں کہ حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے دینار کی درہم سے یا سونے کی چاندی سے بیع کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: زید بن ارقم سے پوچھو، وہ زیادہ جاننے والے ہیں، چنانچہ میں نے حضرت زید رضی اللہ عنہ سے پوچھا تو انہوں نے کہا: براء سے پوچھو، وہ زیادہ جاننے والے ہیں، پھر دونوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے سونے کے عوض چاندی کی ادھار بیع سے منع فرمایا۔15

چونکہ اس میں کرنسی صارف کی ملکیت اور قبضے میں مجلس العقد میں ہی آ جاتی ہے اس وجہ سے اس ٹریڈنگ میں لین دین کرنا جائز ہے۔

2)فیوچر ٹریڈنگ:

اس میں صارف مستقبل کی کسی معین تاریخ میں کسی چیز کی خرید و فروخت کا معاہدہ کرتا ہے . مثلاً محمد نے زید سے فروری کی دس تاریخ کو کہا کہ میں آپ سے 10 بٹ کوائن خرید رہا ہوں اور مارچ کی دس تاریخ کو آپ کو واپس بیچ دوں گا۔ مارچ کی دس تاریخ کو دونوں ملیں گے اور جو قیمت دس فروری کو طے ہوئی تھی اگر قیمت اس سے زیادہ ہوئی تو اضافی رقم زید محمد کو دے گا اور اگر قیمت کم ہوگی تو زید اس میں جو فرق ہوگا وہ منہا کر کے محمد سے بٹ کوائن لے کر بقیہ رقم محمد کو دے گا۔

یہ واضح طور پر جُوا ہے چانچہ جُوئے کی تعریف یہ ہے کہ دو فریقین کسی معاہدے پر مقررہ وقت کے ساتھ ایک رقم لگائیں اور وقت آنے پر کسی ایک کا نقصان اور دوسرے کا فائدہ ہو جائے اس سے شریعتِ مطہرہ نے منع فرمایا ہے چناچہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ16

ترجمہ: اے ایمان والو! یہ شراب اور یہ جُوا اور یہ آستانے اور پانسے سب گندے شیطانی کام ہیں لہٰذا ان سے بچتے رہو تاکہ تم فلاح پا سکو۔

دوسری جو شرعی قباحت اس میں موجود ہے وہ یہ کہ اس میں صارف کو Leverage  ملتا ہے جو کہ سود کی واضح صورت ہے کہ صارف کو قرضہ دیا جاتا ہے اور پھر اس پر منافع حاصل کیا جاتا ہے اور یہی سود ہے۔ چناچہ حدیثِ نبوی ﷺ ہے:

لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آكِلَ الرِّبَا وَمُؤْكِلَهُ وَشَاهِدَهُ وَكَاتِبَهُ17

ترجمہ: رسول اللہ ﷺ نے سود کھانے ، کھلانے ، اس کے گواہ اور لکھنے والے ( سب ) پر لعنت فرمائی ہے۔

3) مارجن ٹریڈنگ:

اس میں صارف کو اگر 20 بٹ کوائن خریدنے ہیں لیکن اس کے پاس رقم صف دو بٹ کوائن خریدنے کی ہے تو یہ بروکر (Broker) سے رابطہ کرے گا اور وہ اسکو لیوریج (Leverage) دے گا جس سے وہ 20 بٹ کوائن کی خریداری کر سکے گا. لیوریج (Leverage) سود کی واضح صورت ہے کہ صارف کو قرضہ دیا جاتا ہے اور پھر اس پر منافع حاصل کیا جاتا ہے اور یہی سود ہے. چناچہ حدیثِ نبوی ﷺ ہے:

لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آكِلَ الرِّبَا وَمُؤْكِلَهُ وَشَاهِدَهُ وَكَاتِبَهُ18

ترجمہ: رسول اللہ ﷺ نے سود کھانے ، کھلانے ، اس کے گواہ اور لکھنے والے ( سب ) پر لعنت فرمائی ہے۔

حاصل کلام:

کرپٹو کرنسی زر(Currency) ہے۔ اسکا استعمال لین دین میں کیا جاتا ہے۔ اپنی اصل میں یہ جائز ہے کیونکہ اس میں زر کی تمام صفات پائی جاتی ہیں۔ اس میں متعدد اقسام کی ٹریڈنگ ہوتی ہے جن میں سے  صرف سپاٹ ٹریڈنگ (Spot Trading)جائز ہے۔ نیز یہ ٹریڈنگ اس وقت کرنا درست ہوگا جب کسی حکومت یا قانون کے تحت اس کو غیر قانونی نہ سمجھا جاتا ہو۔ اگر کسی حکومت یا قانون میں اسکو غیر قانونی شمار کیا جاتا ہے تو اس ملک یا جگہ پر اس کی ٹریڈنگ درست نہیں ہوگی۔

ھذا ما عندی واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

 ونسال اللہ التوفیق  والنجاح فی الدارین

  1. https://www.techtarget.com/searchsecurity/definition/cryptography 
  2. https://www.educative.io/answers/what-are-centralized-decentralized-and-distributed-systems 
  3. https://en.wikipedia.org/wiki/Digital_currency#:~:text=Origins%20of%20digital%20currencies%20date,another%20at%20a%201%25%20fee. 
  4. https://coinmarketcap.com/academy/article/coin-vs-token:-what-is-the-difference
  5. https://www.investopedia.com/terms/b/blockchain.asp
  6. https://www.forbes.com/advisor/in/investing/cryptocurrency/what-is-staking-in-crypto/#:~:text=Staking%20is%20when%20you%20lock,proof%20of%20stake%20consensus%20mechanism.
  7. https://www.britannica.com/money/what-is-crypto-mining 
  8. مجلۃ البحوث الاسلامیۃ،ص 200
  9. زاد المستقنع للامام ابو النجا موسى بن احمد بن موسى الحجاوي،ص:100،ت العسكري 
  10. زاد المستقنع للامام ابو النجا موسى بن احمد بن موسى الحجاوي،ص:100،ت العسكري
  11. زاد المستقنع للامام ابو النجا موسى بن احمد بن موسى الحجاوي،ص:100،ت العسكري 
  12. زاد المستقنع للامام ابو النجا موسى بن احمد بن موسى الحجاوي،ص:101،ت العسكري 
  13. زاد المستقنع للامام ابو النجا موسى بن احمد بن موسى الحجاوي،ص:101،ت العسكري 
  14. (سنن نسائی : 5381) 
  15. (صحیح مسلم  : بَابُ النَّهْيِ عَنْ بَيْعِ الْوَرِقِ بِالذَّهَبِ دَيْنًا، رقم الحدیث: 4075)
  16. (سورۃ المائدۃ : 90)
  17. (سنن ابی داؤد : 3333)
  18. (سنن ابی داؤد : 3333) 


کرپٹو کرنسی کی ماہیت و حقیقت


یہ سائنسی طور پر ثابت ہے کہ بٹ کوائن نہ تو حسّی طور پر موجود ہوتے ہیں اور نہ ہی ڈیجیٹل طور پر ان کا کوئی وجود ہے۔یہ بات غیرماہرین کے لیے تو حیران کُن ہوسکتی ہے، مگر سائنسدانوں اور محققین کے سامنے بٹ کوائن کی باریکیاں بالکل واضح ہیں۔ذیل میں ہم بٹ کوائن کے مُوجِد ساتوشی ناکاموٹو سمیت معروف محققین اور سائنسدانوں کے بٹ کوائن کی تکنیکی ماہیت و حقیقت سے متعلق ٹھوس سائنسی اقتباسات پیش کرتے ہیں۔یہ سائنسی شواہد اتنے واضح ہیں کہ مزید وضاحت کی ضرورت نہیں ہے۔

’’درحقیقت کوائن موجود نہیں ہوتے، صرف ٹرانزیکشن ہوتی ہیں جو کہ ملکیت کے حقوق تفویض کرتی ہیں، لہٰذا ایک کوائن کا حقیقی مساوی جو ہم سوچ سکتے ہیں وہ دراصل ٹرانزیکشن کی ایک چین ہے۔‘‘ [۱]

’’بٹ کوائن یونٹ آف اکاؤنٹ ہیں جوکہ انفرادی نمبرز اور لیٹرز سے کرنسی کی اِکائی بناتا ہے، اس کی قیمت صرف اس لیے ہے، کیونکہ صارفین اس کے لیے ادائیگی کرنے کے لیے تیار ہوتے ہیں۔‘‘[۲]

’’سچائی یہ ہے کہ بٹ کوائن یا والٹ جیسی کوئی چیز نہیں ہے، بس ایک کوائن کی ملکیت کے بارے میں نیٹ ورک کے درمیان معاہدہ ہے۔ لین دین کرتے وقت نیٹ ورک پر فنڈز کی ملکیت ثابت کرنے کے لیے ایک ’’پرائیویٹ کی‘‘ کا استعمال کیا جاتا ہے۔‘‘‎  [۳]

’’بٹ کوائن ہر کوائن کو محفوظ نہیں کرتا اور نہ یہ محفوظ کرتا ہے کہ کون اس کوائن کا مالک ہے۔ اس کے بجائے یہ ایک ڈسٹری بیوٹڈ لیجر بک سسٹم کا استعمال کرتا ہے (جسے ’’بلاک چین‘‘ کہا جاتا ہے) اس منطق کی بنیاد پر کہ اگر آپ کو ہر ٹرانزیکشن کے بارے میں معلوم ہے جو کہ کسی ایڈریس نے کی ہے ، تو آپ کو معلوم ہوگا کہ کیا اس کے پاس خرچ کرنے کے لیے رقم ہے کہ نہیں۔‘‘ [۴]

’’ہم الیکٹرانک کوائن کی تعریف اس طرح کرتے ہیں کہ یہ ڈیجیٹل دستخطوں کی زنجیر ہے۔ ہر مالک پچھلے لین دین کے ہیش اور اگلے مالک کی ’’پبلک کی‘‘ پر ڈیجیٹل طور پر دستخط کرکے اور کوائن کے آخر میں ان کو شامل کرکے کوائن کو اگلے کو منتقل کرتا ہے۔ ایک وصول کنندہ ملکیت کی چین کی تصدیق کے لیے دستخطوں کی تصدیق کر سکتا ہے۔‘‘ [۵]

’’بٹ کوائن ایک الیکٹرانک، ورچوئل کرنسی ہے جس کی سِکَّوں یا بینک نوٹوں کی طرح کوئی حِسّی نمائندگی نہیں ہوتی ہے۔‘‘[۶]

’’ایک سِکَّہ، یا اس کا حصہ، بٹ کوائن لیجر میں صرف ایک ٹرانزیکشن ہے۔ بٹ کوائن کی ملکیت ایک ’’پبلک کی‘‘ (pk) کے ذریعے ثابت کی جاتی ہے، جس کی خفیہ ’’پرائیویٹ کی‘‘ صرف درست مالک کے پاس ہوتی ہے۔‘‘ [۷]

’’بٹ کوائن کے معاملے میں، ہر ٹرانزیکشن ایک کمپیوٹر سے دوسرے کمپیوٹر میں کرنسی کی منتقلی کی نمائندگی کرتا ہے۔ تمام کمپیوٹر ہر ایڈریس پر موجودہ بیلنس سے آگاہ ہوتے ہیں اور موجودہ بلاک چین کی ایک کاپی کو برقرار رکھتے ہیں، جو کہ پچھلے لین دین کی تاریخ پر مشتمل ریکارڈ ہے۔ ہر ٹرانزیکشن کے بعد بلاک چین کی حالت بدل جاتی ہے۔‘‘[۸]

’’حقیقت میں، بٹ کوائن ڈیجیٹل دستخطوں کا ایک سلسلہ ہے۔‘‘[۹]

’’اپنے نام کے باوجود، بٹ کوائن میں کوئی سکے نہیں ہیں سوائے نمبروں اور حروف کے جو کرنسی کی اکائیوں کو تشکیل دیتے ہیں۔‘‘[۱۰]

’’تکنیکی نقطۂ نظر سے بٹ کوائن جیسی کرپٹو کرنسی کے لیجر کو ’’حالت کی منتقلی‘‘ کے نظام کے طور پر سوچا جاسکتا ہے، جہاں پر ایک ’’حالت‘‘ ہوتی ہے جو کہ تمام موجودہ بٹ کوائنز کی ملکیت کو ظاہر کرتی ہے اور ایک ’’حالت کی منتقلی کا فنکشن‘‘ہوتا ہے جو ایک حالت اور ایک ٹرانزیکشن لیتا ہے اور نتیجہ کے طور پر ایک نئی حالت پیدا کرتا ہے۔‘‘ [۱۱]

’’بٹ کوائن ایک ڈیجیٹل کرنسی کا نظام ہے جس کی بنیاد پیئر ٹو پیئر ورچوئل ڈیٹا پر ہے۔ بٹ کوائنز کو استعمال کرنے کے لیے لوگوں کو کمپیوٹر پر بٹ کوائن ’’والٹ‘‘ انسٹال کرنا ضروری ہے۔ اس والٹ میں ایک باقاعدہ اپ ڈیٹ فائل کے علاوہ کچھ نہیں ہے، جس میں اب تک کی گئی تمام بٹ کوائن ‎ ‎ ٹرانزیکشن کی فہرست ہے۔ بٹ کوائن کو ’’پبلک اور پرائیویٹ کی کرپٹولوجی‘‘ کے امتزاج کا استعمال کرتے ہوئے دوسرے صارف کے والٹ میں منتقل کیا جاسکتا ہے۔ ٹرانزیکشن میں بٹ کوائنز کی تعداد شامل ہے، بشمول فریکشنز، اور ایک ٹرانزیکشن- منفرد ڈیجیٹل دستخط، جو ’’پرائیویٹ کی‘‘ کے ذریعے محفوظ ہے۔‘‘[۱۲]

’’مختصراً، ایک بٹ کوائن کو ایک مالک سے دوسرے مالک کے درمیان ٹرانزیکشن کے ایک سلسلے (چین) کے طور پر سمجھا جاسکتا ہے، جہاں مالکان کی شناخت ’’پبلک کی‘‘ کے ذریعے سے ہوتی ہے، جو تخلص کے طور پر کام کرتی ہے۔‘‘[۱۳]

    مندرجہ بالا ٹھوس سائنسی حوالہ جات کے اقتباسات سے یہ اُمور واضح ہوتے ہیں کہ :

    بٹ کوائن حسّی طور موجود نہیں ہوتے۔

    بٹ کوائن کی سِکَّوں یا بینک نوٹوں کی طرح کوئی حِسّی نمائندگی نہیں ہوتی ہے۔

    بٹ کوائن ڈیجیٹل طور پر موجود نہیں ہوتے۔

    بٹ کوائن میں ڈیجیٹل کوائن موجود نہیں ہوتے۔

    بٹ کوائن ہر کوائن کو محفوظ نہیں کرتا اور نہ یہ محفوظ کرتا ہے کہ کون اس کوائن کا مالک ہے۔

     بٹ کوائن ڈیجیٹل دستخطوں (سگنیچرز) کی زنجیر ہے۔ [۱۴]

    بٹ کوائن میں صرف ٹرانزیکشن ہوتی ہیں جو کہ ملکیت کے حقوق تفویض کرتی ہیں۔

    بٹ کوائن کو قبضے میں نہیں لیا جاسکتا ۔

    بٹ کوائنز کو استعمال کرنے کے لیے لوگوں کو کمپیوٹر پر بٹ کوائن ’’والٹ‘‘ انسٹال کرنا ضروری ہے۔ اس والٹ میں ایک باقاعدہ اپ ڈیٹ فائل کے علاوہ کچھ نہیں ہے، جس میں اب تک کی گئی تمام بٹ کوائن ٹرانزیکشن کی فہرست ہے۔

    صارفین کے درمیان صرف ٹرانزیکشن کا تبادلہ ہوتا ہے، نہ کہ بٹ کوائن کا۔

    یہ لیجر کی حالت ہوتی ہے جو کہ اَپ ڈیٹ ہوتی ہے، جس کی بنیاد پر بٹ کوائن کا بیلنس معلوم کیا جاتا ہے۔

    بٹ کوائن کا بیلنس معلوم کرنے کی منطق یہ ہے کہ اگر آپ کو ہر ٹرانزیکشن کے بارے میں معلوم ہے جو کہ کسی ایڈریس نے کی ہے ، تو آپ کو معلوم ہوگا کہ کیا اس کے پاس خرچ کرنے کے لیے رقم ہے کہ نہیں۔

    بٹ کوائن کو ’’پبلک اور پرائیویٹ کی کرپٹولوجی‘‘ کے امتزاج کا استعمال کرتے ہوئے دوسرے صارف کے والٹ میں منتقل کیا جا سکتا ہے۔ ’’پبلک‘‘ اور ’’پرائیویٹ کی‘‘ روایتی بینک کے اکاؤنٹ میں یوزرنیم اور پاس ورڈ کے مساوی ہیں۔

سوال یہ ہے کہ کیوں بٹ کوائن کی ماہیت کے بارے میں لوگ غلط فہمی کا شکار ہوجاتے ہیں؟ کچھ لوگ دلیل دیتے ہیں کہ چونکہ انہوں نے ایک کرپٹو کرنسی والٹ انسٹال کیا ہے، جو ان کے بٹ کوائن کا بیلنس دکھاتا ہے، اور وہ بٹ کوائن کو ایک ایڈریس سے دوسرے ایڈریس پر کامیابی سے منتقل کر سکتے ہیں، لہٰذا اس لیے وہ یہ یقین کرنا شروع کر دیتے ہیں کہ بٹ کوائن ڈیجیٹل طور پر موجود ہوتے ہیں۔ یہ بٹ کوائن کے ڈیجیٹل وجود کے بارے میں ایک بہت بڑی غلط فہمی ہے۔ یہ یقین کرنا کہ بٹ کوائن ڈیجیٹل طور پر موجود ہوتے ہیں، تکنیکی اور سائنسی طور پر غلط ہے۔ اس غلط فہمی کی تردید کے لیے اور ‎  بٹ کوائن کے ڈیجیٹل وجود سے متعلق اس افسانے کی حقیقت کو ہم حَتْمی طور پر آشکار کرتے ہیں۔


کرپٹوکرنسی کی ماہیت سمجھنے کے لیے کچھ مثالیں

مثال نمبر :۱

ٹرانزیکشن کی ایک تعریف یہ ہے کہ:

 ’’ٹرانزیکشن فریقین کے درمیان اَثاثوں کی منتقلی کی ریگارڈنگ ہے۔‘‘ [۱۵]

 ٹرانزیکشن کی اس سادہ سی تعریف میں تین اہم پہلو ہیں: اول: ’’فریقین‘‘، دوم: ’’اثاثے‘‘ اور سوم: ’’منتقلی‘‘۔ ٹرانزیکشن (لین دین) کی ریکارڈنگ کسی بھی روایتی طریقے جیسے کہ فزیکل رجسٹر اور کاپیاں، یا ڈیجیٹل طور پر کمپیوٹر کا استعمال کرتے ہوئے کی جاسکتی ہے۔ اب ہم چند سوالات پوچھتے ہیں۔

۱- اگر کوئی منتقلی نہیں ہوئی تو کیا ٹرانزیکشن (لین دین) ہوگئی؟

۲- اگر کوئی اثاثہ (مبیع یا فروخت کی چیز) موجود نہیں ہے تو کیا ٹرانزیکشن (لین دین) ہوگئی؟

۳- اگر کوئی فریق شامل نہیں ہے تو کیا ٹرانزیکشن (لین دین ) ہوگئی؟

اسلامی قوانین کو سامنے رکھتے ہوئے حضرات علمائے کرام نے خریدوفروخت کی کچھ بنیادی شرائط بتائی ہیں۔ ذیل میں ہم ایسی ہی کچھ شرائط کا کتاب ’’ صلی اللہ علیہ وسلم n Introduction to Islamic Finance‘‘ سے ذکر کرتے ہیں۔

’’پہلی شرط:     مبیع یعنی بیچی جانے والی چیز بیع کے وقت وجود میں آچکی ہو۔

دوسری شرط:     مبیع یعنی بیچی جانے والی چیز بیع کے وقت فروخت کرنے والے کی ملکیت میں ہو۔

تیسری شرط:     مبیع یعنی بیچی جانے والی چیز بیع کے وقت فروخت کرنے والے کے ۔۔۔ قبضے میں ہو۔

چوتھی شرط:         بیع غیر مشروط اور فوری طور پر نافذالعمل ہو۔

پانچویں شرط:     بیچی جانے والی چیز ایسی ہو جس کی کوئی قیمت ہو۔

چھٹی شرط:         بیچی جانے والی چیز ایسی نہ ہو جس کا حرام مقصد کے علاوہ کوئی اور استعمال ہی نہ ہو، جیسے خنزیر یا شراب وغیرہ۔

ساتویں شرط:     جس چیز کی بیع ہو رہی ہو وہ واضح طور پر معلوم ہونی چاہیے اور خریدار کو اس کی شناخت کرائی جانی چاہیے۔

آٹھویں شرط:     بیچی جانے والی چیز پر خریدار کا قبضہ کرایا جانا یقینی ہو، یہ قبضہ محض اتفاق پر مبنی یا کسی شرط کے پائے جانے پر موقوف نہیں ہونا چاہیے۔

نویں شرط:        قیمت کا تعین بھی بیع کے صحیح ہونے کے لیے ضروری شرط ہے، اگر قیمت متعین نہیں ہے تو بیع صحیح نہیں ہوگی۔

دسویں شرط:     بیع میں کوئی شرط نہیں ہونی چاہیے۔‘‘  [۱۶]

اب مندرجہ بالا تین سوالات اور شریعت میں خرید و فروخت کے مندرجہ بالا بنیادی شرائط کو ذہن میں رکھتے ہوئے آئیے! بٹ کوائن کا تجزیہ کرتے ہیں۔ ۳؍ جنوری سن ۲۰۰۹ء کو ساتوشی ناکاموٹو نے ایک نئے کھاتے (بٹ کوائن لیجر) کی شروعات کی جس میں ایک ایڈریس کے سامنے پچاس بٹ کوائن کا محض اندراج کیا۔ یہ پہلی ٹرانزیکشن تھی جو کبھی ہوئی تھی اور بٹ کوائن لیجر میں درج کی گئی تھی۔ اس پہلی ٹرانزیکشن کے بارے میں ہم ٹرانزیکشن آئی ڈی کے بارے میں جانتے ہیں، ہم تاریخ اور وقت کے بارے میں جانتے ہیں، اور بٹ کوائن کی کتنی تعداد اس ٹرانزیکشن میں لکھی گئی اس بارے میں بھی جانتے ہیں ۔ یہ بالکل واضح ہے کہ پچاس بٹ کوائن کا اندراج (مائننگ کے عمل کے نتیجے میں) ایک ایڈریس پر ہوا جو کہ ساتوشی ناکاموٹو کا تھا۔ اُس وقت ان پچاس بٹ کوائن کی کوئی ذاتی یا خارجی قدر نہیں تھی۔ یہ صرف ایک سادہ سی ٹرانزیکشن تھی جسے کھاتے (لیجر) میں اندراج کیا گیا تھا جس میں کوئی اَثاثہ موجود نہیں تھا، کوئی اَثاثہ منتقل نہیں کیا گیا تھا، اور کوئی فریق شامل نہیں تھا۔

مفتیانِ کرام کے مطابق بٹ کوائن کی یہ سادہ سی ٹرانزیکشن شریعت میں خریدوفروخت کی کئی بنیادی شرائط (شرط نمبر ۱، ۲، ۳ اور ۵) کی بَیَک وَقْت خلاف ورزی کررہی ہے، لہٰذا بٹ کوائن کی خریدوفروخت محض ’’مبیع کے بغیر ٹرانزیکشن کی خریدوفروخت‘‘ ہے۔ہمیں یہ سمجھنے کی بھی ضرورت ہے کہ محض ’’کھاتے (لیجر) میں پیسے کا اندراج پیسہ نہیں ہے‘‘۔بٹ کوائن کسی بھی اَثاثے کی نمائندگی نہیں کرتا ہے ، لہٰذا بٹ کوائن کے تناظر میں مبیع کا کوئی وجود ہی نہیں ہوتا، جس پر ملکیت اور قبضہ ہوسکے اور نتیجتاً بٹ کوائن کی ملکیت اور قبضے کا تعین ٹرانزیکشن کرنے یا محض کھاتے میں اندراج کرنے سے ثابت نہیں کیا جاسکتا۔


مثال نمبر: ۲

بٹ کوائن کی صحیح نوعیت کو سمجھنے کے لیے ایک اور مثال لیتے ہیں۔ ایک شخص ’’الف‘‘ ایک نئی کرپٹو کرنسی کے بارے میں سوچتا ہے اور اس کا نام ’’کراچی کوائن‘‘‎ KHC ‎رکھتا ہے، کیونکہ یہ ایک تصوراتی کرنسی ہے، لہٰذا اس کی کوئی ذاتی قدر نہیں ہے۔ نیز شروع میں لوگ اس کرپٹو کرنسی کی قدر تسلیم نہیں کرتے۔ ’’الف‘‘ اس فرضی کرپٹو کرنسی کا مُوجِد ہے، لہٰذا وہ اس کرپٹو کرنسی کے کھاتے کی شروعات کھاتے میں اندراج کے ذریعے کرتا ہے۔


 


 



ٹیبل نمبر ۱: کھاتے میں درج کچھ ٹرانزیکشن جو کہ مختلف اشخاص کے پاس کراچی کوائن کی ملکیت کو دکھا رہی ہیں۔

جیسا کہ قارئین ٹیبل نمبر ۱ میں دیکھ سکتے ہیں کہ ’’الف‘‘ نے کھاتے میں صرف کچھ ٹرانزیکشن کا اندراج کیا ہے، جس میں مختلف اشخاص کے پاس کراچی کوائن کی ملکیت کو دکھایا ہے۔ اب ’’ب‘‘ تیس کراچی کوائن ’’ج‘‘ کو منتقل کرتا ہے۔ کھاتے کی نئی حالت ٹیبل نمبر ۲ میں دیکھی جاسکتی ہے۔


 


 



ٹیبل نمبر ۲: کھاتے میں درج کچھ ٹرانزیکشن جو کہ مختلف اشخاص کے پاس کراچی کوائن کی ملکیت کو دکھا رہی ہیں۔


اب ’’ج‘‘ یہ کہتا ہے کہ میں ۳۰ کراچی کوائن کا مالک ہوں۔ یہ ۳۰ کراچی کوائن مجھے ڈیجیٹل طور پر منتقل کیے گئے تھے، کیا کوئی اس کو تسلیم کرے گا؟ نہیں، عقلِ سلیم یہ کہتی ہے کہ اس طرح کی ملکیت قابلِ قبول نہیں ہوگی، کیونکہ یہ صرف کھاتے میں ٹرانزیکشن کا اندراج ہے اور ’’مبیع‘‘ سرے سے موجود ہی نہیں ہے۔ اصل میں یہ ۳۰ کراچی کوائن جو کہ ’’ج‘‘ کی ملکیت ہیں یہ صرف کھاتے میں فرضی نمبروں کا اندراج ہے۔ ان ۳۰ کراچی کوائن کا سافٹ وئیر کی طرح کوئی ڈیجیٹل وجود بھی نہیں ہے۔ اب اگر کچھ وقت گزرنے کے بعد لوگ ان کراچی کوائن کی خریدوفروخت کرنا شروع کردیں اور یہ یقین کرنا شروع کردیں کہ ان کراچی کوائن کی کوئی ’’قدر‘‘ ہے، یہ سمجھنا بالکل بے بنیاد ہوگا اور اسی طریقے سے تخیلاتی معیشت کو بنایا جاتا ہے۔

جب لوگ دیکھتے ہیں کہ کراچی کوائن KHC‎ کی خریدوفروخت مارکیٹ میں ہو رہی ہے اور لوگ ان کراچی کوائن KHC‎ کو ٹریڈ کرنے کے بعد بہت زیادہ رقم کما رہے ہیں تو وہ سوچنے لگتے ہیں کہ یہ کراچی کوائن KHC‎  ڈیجیٹل طور پر موجود ہیں ، اور یہ ’’ڈیجیٹل اثاثے‘‘ ہیں۔ نیز وہ یہ بھی یقین کرنے لگتے ہیں کہ کراچی کوائن کسی کی ملکیت میں بھی آسکتے ہیں اور انہیں منتقل بھی کیا جا سکتا ہے۔ بس یہیں ان سے غلطی ہوئی ہے۔ درحقیقت کراچی کوائن KHC‎ کی تجارت مبیع کے بغیر لین دین کی تجارت کی طرح ہے اور بٹ کوائن کے معاملے میں بالکل ایسا ہی ہو رہا ہے۔

ٹیبل نمبر ۲ میں ہم ٹرانزیکشن ‎(Tx) ID 004‎ سے ٹرانزیکشن ‎(Tx) ID 001‎ تک پیچھے جا سکتے ہیں اور حساب لگا سکتے ہیں کہ ’’ج‘‘ کو یہ ۳۰ کراچی کوائن کب اور کہاں سے موصول ہوئے۔ منی ٹریل واضح ہے، یہ شخص ’’ب‘‘ تھا جس نے شخص ’’ج‘‘ کو ۳۰ کراچی کوائن منتقل کیے اور شخص ’’ب‘‘ کے پاس اصل پچاس کراچی کوائن تھے اور جو ان پچاس کراچی کوائن کا مالک بنا کھاتے میں ان فرضی نمبروں کے اندراج سے اور ان پچاس کراچی کوائن کے پیچھے کوئی اثاثہ نہیں تھا۔ اب یہ ایک ستم ظریفی ہوگی کہ اگر ہم اس ’’ٹرانزیکشن کی زنجیر‘‘ کو کراچی کوائن کہنا شروع کردیں اور یہ یقین کرنا شروع کردیں کہ یہ کراچی کوائن ڈیجیٹل طور پر موجود ہیں اور بٹ کوائن کے اندر بھی بالکل ایسا ہی معاملہ ہوا تھا۔


مثال نمبر: ۳

’’الف‘‘ ہزار روپے قرض لیتا ہے ’’ب‘‘ سے۔ پھر ’’الف‘‘ ایک تحریر ’’ب‘‘ کو لکھتا ہے کہ میں آپ کو ایک ماہ میں یہ ہزار روپے واپس کردوں گا، پھر اس پر اپنے دستخط کرتا ہے، یہ قرض کی رسید بن جاتی ہے۔ اب اگر لوگ اس قرض کی رسید بیچنا شروع کر دیں؟ یاد رکھیں کہ یہ صرف قرض کی ’’رسید‘‘ ہے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ شریعتِ اسلامی میں قرض کی فروخت ممنوع ہے‎۔[۱۷]

اب تصور کریں کہ گر کوئی شخص ایک خالی کاغذ لے اور اس پر اپنے دستخط کرے، جب کہ کسی طرح کا بھی مبیع موجود نہ ہو، بغیر کسی مبیع کے اس خالی دستخط کی کیا اہمیت ہے؟

امریکہ کےنیشنل انسٹیٹیوٹ آف اسٹینڈرڈ اینڈ ٹیکنالوجی،‎ ڈیپارٹمنٹ آف کامرس کے ڈیجیٹل دستخط کے معیار کے مطابق ڈیجیٹل دستخط کی تعریف یوں ہو گی:

 ’’ڈیجیٹل دستخط تحریری دستخط کا ایک الیکٹرانک مساوی ہے؛ ڈیجیٹل دستخط کا استعمال اس بات کی یقین دہانی کے لیے کیا جا سکتا ہے کہ دعویٰ کرنے والے نے معلومات پر دستخط کیے ہیں۔‘‘ [۱۸]

بٹ کوائن کے تناظر میں بالکل ایسا ہی ہو رہا ہے، یعنی کوئی مال، کوئی قرض، کوئی خدمت، کوئی حق، اور کوئی اثاثہ نہیں ہے جو بیچا جا رہا ہے۔ نتیجتاً ایسی کوئی چیز نہیں ہے جسے بٹ کوائن میں ’’مبیع‘‘ سمجھا جاسکے۔ بٹ کوائن کے تناظر میں یہ صرف ’’ڈیجیٹل دستخطوں کی زنجیر‘‘ ہے جس کو فروخت کیا جارہا ہے اور یہ وہی بات ہے جو کہ بٹ کوائن کے مُوجِد ساتوشی ناکاموٹو میں بٹ کوائن کے وائٹ پیپر میں درج کی ہے۔

’’ہم الیکٹرانک کوائن کی تعریف اس طرح کرتے ہیں کہ یہ ڈیجیٹل دستخطوں کی زنجیر ہے۔ ہر مالک پچھلے لین دین کے ہیش اور اگلے مالک کی ’’پبلک کی‘‘ پر ڈیجیٹل طور پر دستخط کرکے اور کوائن کے آخر میں ان کو شامل کرکے کوائن کو اگلے کو منتقل کرتا ہے۔ ایک وصول کنندہ ملکیت کی چین کی تصدیق کے لیے دستخطوں کی تصدیق کر سکتا ہے۔‘‘[۱۹]

مندرجہ بالا تین مثالیں بٹ کوائن کی صحیح تکنیکی نوعیت کو واضح طور پر بیان کرتی ہیں۔ ان مثالوں سے یہ بھی صاف ظاہر ہوتا ہے کہ کیوں عام لوگ بٹ کوائن کی نوعیت سے اُلجھ جاتے ہیں اور یہ ماننا شروع کر دیتے ہیں کہ بٹ کوائن ڈیجیٹل طور پر موجود ہے۔ ہم نے تکنیکی اور سائنسی طور پر ثابت کیا ہے کہ بٹ کوائن ڈیجیٹل طور پر بھی موجود نہیں ہے۔

نئی کرپٹو کرنسی بننے کا عمل (کرپٹو کرنسی مائننگ)

نئی کرپٹو کرنسی (بٹ کوائن) مائننگ کے عمل سے وجود میں آتی ہے۔ مائننگ کے عمل میں مائنرز کے درمیان مسابقت ہوتی ہے، کوئی اسے دریافت کرنے میں کامیاب ہوتا ہے اور بیشتر ناکام۔مائننگ کے عمل میں بہت غیر یقینی صورتِ حال ہوتی ہے، یعنی اس بات کی گارنٹی نہیں ہوتی کہ کوئی مائنر اپنے وسائل لگا کر مائننگ کے عمل میں کامیاب بھی ہوجائے گا۔ یعنی مائنر اپنے وسائل (کمپیوٹر اور بجلی) کو خرچ کرتا ہے، لیکن اسے اس کا صلہ ملنا یقینی نہیں ہوتا۔ عام کرپٹو کرنسی صارف کے لیے مائننگ کے عمل میں کامیاب ہونے کا کھربوں احتمالات میں سے ایک احتمال ہوتا ہے۔ نیز کرپٹو کرنسی مائننگ کے ذیل میں یہ بات بھی سمجھنی چاہیے کہ ’’کرپٹو کرنسی کے اندر ٹرانزیکشن (عقود) کا نفاذ دوسروں پر موقوف ہے اور اس کے بغیر ٹرانزیکشن مکمل نہیں ہوتی۔‘‘

’’جب کوئی صارف لیجر میں ٹرانزیکشن شامل کرنا چاہتا ہے، تو ٹرانزیکشن ڈیٹا کو انکریپٹڈ (خفیہ) کیا جاتا ہے اور نیٹ ورک پر دوسرے کمپیوٹرز کے ذریعے کرپٹوگرافک الگورتھم کا استعمال کرتے ہوئے تصدیق کی جاتی ہے۔ اگر کمپیوٹرز کی اکثریت کے درمیان اتفاقِ رائے ہے کہ ٹرانزیکشن درست ہے، تو ڈیٹا کا ایک نیا بلاک چین میں شامل کیا جاتا ہے اور نیٹ ورک پر موجود سبھی لوگوں کے ذریعے شیئر کیا جاتا ہے۔‘‘[۲۰]

ایک اور اہم مسئلہ میم‎ ‎پول   Mempool‎سے ٹرانزیکشن کے انتخاب سے متعلق ہے۔ مائنرز  درحقیقت میم پول سے ٹرانزیکشن کا انتخاب کرتے ہیں اور انہیں بلاک کی شکل میں جمع کرتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ٹرانزیکشن کا انتخاب مائنرز کی مرضی پر منحصر ہے۔ چونکہ ٹرانزیکشنز کو منتخب کرنے کے پیچھے انعام ہوتا ہے، اس لیے عام طور پر وہ ٹرانزیکشنز منتخب کی جاتی ہیں جن کی ٹرانزیکشن فیس زیادہ ہوتی ہے۔ اس کے نتیجے میں کچھ ٹرانزیکشن کو دوسروں پر ترجیح دی جاتی ہے اور کم فیس والی ٹرانزیکشن زیادہ وقت تک انتظار کرتی ہیں۔ [۲۱] مائنرزبلاکس میں ان ٹرانزیکشن کو ترجیح دینے کی کوشش کرتے ہیں جن کی فیس بہت زیادہ ہوتی ہے اور انہیں ’’وہیل ٹرانزیکشنز‘‘ کہتے ہیں۔ کیا آپ ایک ایسے مالیاتی نظام کا تصور کر سکتے ہیں جس میں ٹرانزیکشن کے ساتھ یکساں سلوک نہیں کیا جاتا ہو؟ جی ہاں، یہ بٹ کوائن کے بنیادی ڈیزائن میں ہے۔

مندرجہ بالا اقتباسات سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ٹرانزیکشن کی توثیق کا انحصار دوسرے شرکاء پر ہوتا ہے۔ کیا آپ نے کبھی کسی تجارتی ٹرانزیکشن (لین دین) کے بارے میں سوچا ہے جس میں آپ کو لازمی دنیا بھر کے ہزاروں لوگوں سے اس کی توثیق کرنی ہوگی؟ کیا یہ حیران کن اور غَیر مَعْقُول نہیں ہے؟ مگر اس کے باوجود یہ بٹ کوائن کی اصل ماہیت ہے، لہٰذا علمائے کرام کے مطابق بٹ کوائن کے مائننگ کے عمل میں شرعی طور پر دو بنیادی نقائص پائے جاتے ہیں:

    بٹ کوائن میں ٹرانزیکشن کی توثیق کا انحصار دوسرے شرکاء پر ہوتا ہے اور اس کے بغیر ٹرانزیکشن مکمل نہیں سمجھی جاتی۔ آسان الفاظ میں اگر کوئی شخص کسی دوسرے شخص کو ٹرانزیکشن (بٹ کوائن) بھیجتا ہے، تو یہ سادہ ٹرانزیکشن اس وقت تک مکمل نہیں ہوتی جب تک کہ بٹ کوائن نیٹ ورک میں شرکت کرنے والوں کی اکثریت اس ٹرانزیکشن کی توثیق نہیں کر لیتی۔ ٹرانزیکشن کی توثیق کا یہ عمل شرعی طور پر درست نہیں۔

    کرپٹو کرنسی مائننگ کے عمل میں کافی غیر یقینی صورت حال ہے، یعنی اس بات کی کوئی گارنٹی نہیں ہے کہ مائنر اپنے وسائل کی سرمایہ کاری کرکے مائننگ کے عمل میں کامیاب ہوگا۔ یہ واضح طور پر ظاہر کرتا ہے کہ مائننگ کے عمل میں غیر یقینی یعنی ’’غرر‘‘ ہے جوکہ شرعی اصولوں کے خلاف ہے۔

عالمی معاشی ماہرین کی کرپٹو کرنسی سے متعلق آراء

کرپٹو کرنسی پر مالیاتی ماہرین اور ماہرینِ اقتصادیات کی طرف سے لکھے گئے سائنسی مضامین کی بہتات ہے جنہوں نے کرپٹو کرنسی پر اپنا نقطۂ نظر پیش کیا ہے۔ ہم یہاں چند نمائندہ حوالہ جات پیش کرتے ہیں، تاکہ ہمارے قارئین سمجھ سکیں کہ سنجیدہ مالیاتی ماہرین اور ماہرین اقتصادیات بھی بٹ کوائن کو زَر ، ڈیجیٹل کرنسی، یا ڈیجیٹل اثاثہ نہیں سمجھتے۔

یورپی یونین کی اقتصادی اور مالیاتی امور کی کمیٹی یہ کہتی ہے:[۲۲]

’’ڈیجیٹل کرنسیوں کو بطور آلۂ مبادلہ‎ Medium of Exchange ‎ استعمال نہیں کیا جارہا اور نہ ہی کیا جاسکتا ہے۔ کرپٹو کرنسیوں کو بطور قدر شمار کرنے کے‎ Unit of Account ‎ استعمال نہیں کیا جاسکتا ہے۔ کرپٹو کرنسیاں، کرنسی کے بنیادی اوصاف پر پورا نہیں اُترتیں۔‘‘

’’یورپی سپروائزری اتھارٹیز صارفین کو خبردار کرتی ہیں کہ بہت سے کرپٹو اثاثے انتہائی رسکی اور سٹے بازی یعنی قیاس آرائی پر مبنی ہیں۔ یہ زیادہ تر ریٹیل صارفین کے لیے بطور سرمایہ کاری یا ادائیگی یا تبادلے کےلیے موزوں نہیں ہیں۔‘‘ [۲۳]

کیون ڈیوس، جو یونیورسٹی آف میلبورن، آسٹریلیا میں فنانس کے پروفیسر ہیں، سمجھتے ہیں کہ کرپٹو جُوا ہے، جس کا کوئی سماجی فائدہ نہیں ہے، اور یہاں تک کہ کرپٹو کرنسی کے لیے ’’سرمایہ کاری‘‘ یا ’’کرپٹو اَثاثے‘‘ کی اصطلاحات استعمال کرنے سے ہچکچاتے ہیں۔ انہوں نے اپنے حالیہ مضمون میں لکھا:

’’دوسرا، اصطلاح ’’اثاثہ‘‘ کا مطلب یہ ہے کہ وہ شے یا تو جاری کنندہ کی ذمہ داری ہے، یا مادّی یا غیر مادّی اثاثہ ‎کی ملکیت کی نمائندگی کرتی ہے، جس میں یہ صلاحیت ہو کہ وہ مستقبل کی آمدنی یا سروسز آف ویلیو پیدا کرنے کے لیے استعمال ہونے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ کرپٹو آئٹم کی واحد ممکنہ قیمت یہ ہے کہ کوئی دوسرا جُواری انہیں زیادہ قیمت پر خریدنے کے لیے تیار ہو سکتا ہے۔‘‘[۲۴]

ایک سائنسی تحقیق اس بات کو ثابت کرتی ہے کہ :

’’بٹ کوائن کسی دوسرے بڑے اثاثہ کی کلاس کے برعکس ہے۔ بٹ کوائن اپنے متعارف ہونے کے بعد سے بہت غیر مستحکم رہا ہے۔ خاص طور پراس کا اتار چڑھاؤ فیصلہ کن طور پر سونے، امریکی ڈالر، یا اسٹاک مارکیٹوں کے اُتار چڑھاؤ سے زیادہ ہے (جس کی نمائندگی MSCI ورلڈ انڈیکس کرتا ہے)۔

بٹ کوائن سونا‎ Gold ‎اور امریکی ڈالر‎ US Dollar ‎ اور دیگر اثاثوں سے کسی طرح بھی مماثلت نہیں رکھتا۔ بٹ کوائن کا بہت زیادہ نفع دینا اور اُتار چڑھاؤ سونے یا امریکی ڈالر کے مقابلے میں ایک انتہائی قیاس آرائی (سٹے بازی) پر مبنی اثاثہ سے مشابہت رکھتا ہے۔‘‘[۲۵]

ایک حالیہ سائنسی تحقیق میں ثابت کیا گیاہے کہ اُن تمام بٹ کوائن میں سے جو کہ آج کل سرکولیشن میں ہیں ایک فیصد سے بھی کم یعنی ‎0.01‎ فیصد ایڈریس ‎58.2‎ (اٹھاون اعشاریہ دو فیصد) بٹ کوائن رکھتے ہیں۔ [۲۶] لہٰذا بٹ کوائن بھی Pareto Distribution ‎کی پیروی کرتا ہے، جس کے معنی یہ ہوئے کہ کسی بھی ملک کے معاشی نظام میں ۲۰ فیصد لوگ ۸۰ فیصد دولت کو کنٹرول کرتے ہیں اور حیرت انگیز بات یہ ہے کہ مجموعی طور پرکرپٹو کرنسی اعداد وشمار کے مطابق اس سے بھی بری ہے۔ انہی محققین نے آٹھ مختلف کرپٹو کرنسیوں میں دولت کی تقسیم کا بھی تجزیہ کیا، یعنی ایک فیصد لوگوں (ایڈریس) کے پاس کُل کتنے مقدار کی کرپٹو کرنسی ملکیت میں ہیں ۔

محققین نے ’’بٹ کوائن بیلنس کے حساب سے سب سے بڑا والٹ‘‘، ’’صارف کی ٹرانزیکشن کی سرگرمیاں‘‘، اور ’’مختلف اقسام کے بٹ کوائن استعمال کرنے والوں ( مائنرز، ایکسچینج، ریٹیلر، وغیرہ) میں دولت کی تقسیم‘‘ پر ایک بہترین تکنیکی تحقیق کی ہے۔[۲۷] ایک اور تحقیق میں محققین نے ثابت کیا ہے کہ: ’’بِٹ کوائن کے ایک فیصد سے بھی کم صارفین ۹۵ فیصد سے زیادہ مارکیٹ والیم (حجم) میں حصہ ڈالتے ہیں۔‘‘[۲۸]

ایک سائنسی تحقیق بٹ کوائن کے استعمال اور اس کا دیگر اثاثوں سے مقابلےکے تناظر میں لکھی گئی ہے۔ محققین کی تحقیق کا خلاصہ ہے کہ:

’’بٹ کوائن کا دور دور تک کوئی تعلق نہیں ہے روایتی اثاثہ جات کے ساتھ جیسے اسٹاک، بانڈز اور کموڈٹیز ، چاہے وہ عام اوقات ہوں یا مالیاتی بحران کے دن ہوں۔ بٹ کوائن ٹرانزیکشن کے اعداد و شمار کا تجزیہ ظاہر کرتا ہے کہ بٹ کوائن بنیادی طور پر ایک قیاس آرائی (سٹے بازی) پر مبنی سرمایہ کاری کے طور پر استعمال ہوتے ہیں نہ کہ متبادل کرنسی اور بطور آلۂ مبادلہ۔‘‘ [۲۹]

مجموعی طور پر ان محققین نے بٹ کوائن کا موازنہ پانچ اثاثوں کی کلاسوں یعنی ایکویٹی S&P500‎ اور S&P600، قیمتی دھات (گولڈ اور سلور سپاٹ)، چھ مختلف کرنسی جوڑے(EUR/USD AUD/USD، JPY/USD، GBP/USD، CNY/ USD، HUF/USD)توانائی (WTI کروڈ آئل انڈیکس، HH نیچرل گیس انڈیکس)، اور بانڈ (بلومبرگ یو ایس کارپوریٹ بانڈ انڈیکس، بلومبرگ یو ایس ٹریژری بانڈ انڈیکس، بلومبرگ USD ہائی یلڈ کارپوریٹ بانڈ انڈیکس) سے کیا ہے اور یہ نتیجہ اخذ کیا کہ بٹ کوائن تمام روایتی اثاثوں کی کلاسوں سے مختلف ہے۔ 

انہی محققین نے تحریر کیا ہے کہ تقریباً دو سے پانچ فیصد لوگوں نے بٹ کوائن کو چیزوں اور اشیاء کی خریداری کے لیے استعمال کیا، جبکہ پچانوے فیصد لوگوں نے اس کو بطور سرمایہ کاری کے استعمال کیا۔اُن کی تحقیق کا خلاصہ یہ تھا:

’’ہم یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ بہت کم ایسے صارفین ہیں جو بٹ کوائن کو خالصتاً بطور آلۂ مبادلہ استعمال کرتے ہیں اور صارفین کی بہت بڑی تعداد بٹ کوائن کو سرمایہ کاری کے لیے استعمال کرتے ہیں۔‘‘


خلاصہ کلام

سائنسدان اور محققین کرپٹو کرنسی کی ماہیت کےبارے میں واضح سمجھ رکھتے ہیں۔ اسی طریقے سے علمائے کرام کی اکثریت اور مستند دارالافتاء کا بہت ہی واضح موقف ہے کہ کرپٹو کرنسی کی اپنی ذاتی خرید وفروخت یا اس کے ذریعے سے دیگر اثاثہ جات کی خرید وفروخت جائز نہیں ہے۔ علمائے کرام کے مطابق یہ فرضی و تخیلاتی نمبر شرعی طور پر ’’مال‘‘ بننے کی صلاحیت ہی نہیں رکھتے۔ اس مضمون میں ہم نےعلمائے کرام کے موقف کو مزید تقویت دینے کے لیے سائنسی حوالہ جات فراہم کیے ہیں ۔ وہ دن گئے جب کرپٹو کرنسی کے بارے میں تکنیکی تفصیلات چھپائی جا سکتی تھیں۔ اب کوئی بھی کرپٹو کرنسی کی اصل ماہیت کو سمجھنے کے لیے اصل سائنسی ماخذ کو پڑھ سکتا ہے اور ہمیں یقین ہے کہ وہ اسی نتیجے پر پہنچیں گے، جیسا کہ ہمارے معزز علمائے کرام پہنچے ہیں، یعنی کرپٹو کرنسی محض ’’کھاتے (لیجر) میں فرضی نمبروں کے اندراج کی تجارت ہے‘‘ یا مزید واضح طور پر ’’مبیع کے بغیر ٹرانزیکشن کی خریدوفروخت‘‘ ہے۔


حواشی و حوالہ جات

‎[1]  F. Tschorsch and B. Scheuermann, "Bitcoin and Beyond: A Technical Survey on Decentralized Digital Currencies," in IEEE ‎Communications Surveys & Tutorials, vol. 18, no. 3, pp. 2084-2123, thirdquarter 2016.‎

‎[2] FATF REPORT, Virtual Currencies Key Definitions and Potential AML/CFT Risks , June 2014.‎

‎[3] https://www.newscientist.com/definition/bitcoin/‎

‎[4] Dominic Hobson, What is bitcoin? XRDS crossroads. ACM Magazine for Students, vol. 20, Issue 1, 2013.‎

‎[5] Satoshi Nakamoto, Bitcoin: A Peer-to-Peer Electronic Cash System. Accessed: Apr 2023. [Online]. Available: ‎https://bitcoin.org/bitcoin.pdf ‎

‎[6] Harald Vranken, Sustainability of bitcoin and blockchains, Current Opinion in Environmental Sustainability, Volume 28, ‎‎2017.‎

‎[7] D. Drusinsky, "On the High-Energy Consumption of Bitcoin Mining," in Computer, vol. 55, no. 1, pp. 88-93, Jan. 2022. ‎

‎[8] D. Puthal, N. Malik, S. P. Mohanty, E. Kougianos and G. Das, "Everything You Wanted to Know About the Blockchain: Its ‎Promise, Components, Processes, and Problems," in IEEE Consumer Electronics Magazine, vol. 7, no. 4, pp. 6-14, July 2018.‎

‎[9] M. C. Kus Khalilov and A. Levi, "A Survey on Anonymity and Privacy in Bitcoin-Like Digital Cash Systems," in IEEE ‎Communications Surveys & Tutorials, vol. 20, no. 3, pp. 2543-2585, thirdquarter 2018.‎

‎[10] Madise, Sunduzwayo, Back to the Future? Evolving Forms of Money (June 9, 2015). Available at SSRN: ‎https://ssrn.com/abstract=2622080 or http://dx.doi.org/10.2139/ssrn.2622080 ‎

‎[11] V. Buterin, ‘‘A next generation smart contract and decentralized application platform’’, 2014. [Online]. Available: ‎https://github.com/ethereum/wiki/wiki/White-Paper

‎[12] G. F. Hurlburt and I. Bojanova, "Bitcoin: Benefit or Curse?," in IT Professional, vol. 16, no. 3, pp. 10-15, May-June 2014.‎

‎[13] S. Meiklejohn et al., ‘‘A Fistful of Bitcoins: Characterizing Payments among Men with No Names’’ and was published ‎in the Proceedings of the Internet Measurement Conference, 2013, ACM.‎

‎[14] ‘‘A digital signature is an electronic analogue of a written signature; the digital signature can be used to provide ‎assurance that the claimed signatory signed the information’’. NIST Digital Signature Standard, U.S. Department of ‎Commerce, 03rd February 2023. Link: https://csrc.nist.gov/projects/digital-signatures

‎[15] D. Yaga, P. Mell, N. Roby, and K. Scarfone, ‘‘Blockchain Technology Overview’’, NIST Interagency/Internal Report ‎‎(NISTIR), National Institute of Standards and Technology, Gaithersburg, MD, 2018.‎

https://csrc.nist.gov/csrc/media/publications/nistir/8202/draft/documents/nistir8202-draft.pdf

‎[16] Mufti Muhammad Taqi Usmani, ‘‘An Introduction to Islamic Finance’’. Accessed: 31st Jan 2024.‎

‎[17] Justice Mufti Muhammad Taqi Usmani, ‘‘Causes and Remedies of the Recent Financial Crisis – From An Islamic ‎Perspective’’, Turath Publishing, 2014.‎

‎[18] NIST Digital Signature Standard, U.S. Department of Commerce, 03rd February 2023. Link: ‎https://csrc.nist.gov/projects/digital-signatures

‎[19] Satoshi Nakamoto, ‘‘Bitcoin: A Peer-to-Peer Electronic Cash System’’. Accessed: Apr 2023. [Online]. Available: ‎https://bitcoin.org/bitcoin.pdf ‎

‎[2‎0‎] Sarah Underwood, ‘‘Blockchain beyond bitcoin’’, Communications of the ACM, Volume 59, Issue 11, pp 15–17, 2016.‎

‎[2‎1‎] I. Malakhov, A. Marin, S. Rossi and D. S. Menasché, ‘‘Confirmed or Dropped? Reliability Analysis of Transactions in ‎PoW Blockchains,’’ in IEEE Transactions on Network Science and Engineering, in Print, 2024.‎

‎[2‎2‎] GERBA, E. and RUBIO, M., ‘‘Virtual Money: How Much do Cryptocurrencies Alter the Fundamental Functions of ‎Money?’’, Study for the Committee on Economic and Monetary Affairs, Policy Department for Economic, Scientific and ‎Quality of Life Policies, European Parliament, Luxembourg, 2019.‎

‎[2‎3‎] https://www.eba.europa.eu/eu-financial-regulators-warn-consumers-risks-crypto-assets

‎[2‎4‎] Kevin Davis, ‘‘Why crypto is gambling and not investing’’, Financial Review, Jan 2022.‎

‎[2‎5‎] Dirk G. Baur, Tohmas Dimpfl, and Konstantin Kuck, ‘‘Bitcoin, gold and the US dollar – A replication and extension’’, ‎Finance Research Letters Volume 25, June 2018, Pages 103-110.‎

‎[2‎6‎] Ashish Rajendra Sai, Jim Buckley, Andrew Le Gear, ‘‘Characterizing Wealth Inequality in Cryptocurrencies’’, Frontiers in ‎Blockchian, Volume 4 - 2021.‎

‎[2‎7‎] Hossein Jahanshahloo, Felix Irresberger, Andrew Urquhart, ‘‘Bitcoin under the microscope’’, The British Accounting ‎Review, 2023.‎

‎[2‎8‎] Anqi Liu, Hossein Jahanshahloo, Jing Chen & Arman Eshraghi, ‘‘Trading patterns in the bitcoin market’’, The European ‎Journal of Finance, 2023.‎

‎[‎29‎] Dirk G. Baur, KiHoon Hong, Adrian D. Lee, ‘‘Bitcoin: Medium of exchange or speculative assets’’ Journal of ‎International Financial Markets, Institutions and Money, Volume 54, 2018






کرپٹو کرنسی اور عام کرنسی میں فرق


کچھ حضرات کی جانب سے بڑے شَدّ و مَد سے اس بات کا پروپیگنڈہ کیا جارہا ہے کہ کرپٹو کرنسی اور عام کرنسی میں کوئی فرق نہیں ہے، سوائے اس کے کہ عام کرنسی کو حکومت جاری کرتی ہے، جبکہ کرپٹو کرنسی کو حکومت جاری نہیں کرتی۔ انہی عناصر نے یہ تأثر بھی عوام میں قائم کرنے کی کوشش کی ہے کہ عام کرنسی اور کرپٹو کرنسی، دونوں ہی کمپیوٹر میں درج محض فرضی نمبر ہیں۔ اپنی اس بےبنیاد دلیل کو مزید تقویت دینے کے لیے وہ کہتے ہیں کہ چونکہ دنیا میں کاغذی کرنسی کے تناظر میں ڈیجیٹلائزیشن بہت بڑھ گئی ہے، یعنی کاغذی کرنسی کا ڈیجیٹل استعمال بہت زیادہ ہو رہا ہے، مثلاً: آئن لائن پیمنٹ یا اے ٹی ایم یا ڈیبٹ کارڈ وغیرہ کی صورت میں، لہٰذا موجودہ معاشی نظام - فریکشنل ریزرو سسٹم- میں کرنسی کا بھی ڈیجیٹل اندارج ہی ہوتا ہے اور جو کمپیوٹر کے کھاتوں میں اندارج شدہ کرنسی ہوتی ہے، اس کے مقابلے میں حسّی کرنسی کی سرکولیشن کی مقدار بہت کم ہے۔ نتیجتاً وہ یہ دعویٰ کرتے ہیں اور عوام الناس اور علمائے کرام کو گمراہ کرتے ہیں کہ عام کرنسی اور کرپٹو کرنسی دونوں ہی کمپیوٹر میں درج محض فرضی نمبر ہیں اور ان میں صرف بنیادی فرق حکومت کے کنٹرول کا ہےاور کرپٹو کرنسی کو اختیار کرنے میں صرف حکومتی ریگولیشن کی کمی ہے۔ جبکہ حقیقتِ حال اور سائنسی حقائق اس سے یکسر مختلف ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ عام کرنسی اور کرپٹو کرنسی میں زمین آسمان کا فرق ہے اور دونوں کے درمیان صرف حکومتی کنٹرول کا فرق سمجھنا یکسر غلط ہے۔ ہم خاص طور پر عوام الناس کے لیے اور حضرات علمائے کرام کے لیے اس مضمون میں کرپٹو کرنسی اور عام کرنسی کے فرق کو واضح کررہے ہیں، تاکہ ان کا فرق عیاں ہوجائے۔


1: کرپٹو کرنسی

ہر کوئی اپنی ذاتی کرپٹو کرنسی بنا سکتا ہے۔ اس وقت سترہ ہزار سے زیادہ کرپٹو کرنسیاں وجود میں آچکی ہیں۔


عام کرنسی

عام کرنسی کو ہر شخص نہیں بنا سکتا۔


2:کرپٹو کرنسی

نئی کرپٹو کرنسی(بٹ کوائن) مائننگ کے عمل سے وجود میں آتی ہے۔مائننگ کے عمل میں مائنزر کے درمیان مسابقت ہوتی ہے، کوئی اسے دریافت کرنے میں کامیاب ہوتا ہے اور بیشتر ناکام۔ مائننگ کے عمل میں بہت غیر یقینی صورتِ حال ہوتی ہے، یعنی اس بات کی گارنٹی نہیں ہوتی کہ کوئی مائنز اپنے وسائل لگا کر مائننگ کے عمل میں کامیاب بھی ہوجائے گا، یعنی مائنر اپنے وسائل (کمپیوٹر اور بجلی) کو خرچ کرتا ہے، لیکن اسے اس کا صلہ ملنا یقینی نہیں ہوتا۔ عام کرپٹو کرنسی صارف کے لیے مائننگ کے عمل میں کامیاب ہونے کا کھربوں احتمالات میں سے ایک احتمال ہوتا ہے۔


عام کرنسی

عام کرنسی کے اندر یہ صورتِ حال نہیں ہوتی اور کرنسی بنانے کے عمل کی ذمہ داری حکومتی اداروں کی ہوتی ہے۔


3:کرپٹو کرنسی

کرپٹو کرنسی کے اندر ٹرانزیکشن (عقود) کا نفاذ دوسروں پر موقوف ہے اور اس کے بغیر ٹرانزیکشن مکمل نہیں ہوتی۔


عام کرنسی

عام کرنسی میں یہ صورتِ حال نہیں ہوتی اور ٹرانزیکشن کا نفاذ دوسروں پر موقوف نہیں۔


4:کرپٹو کرنسی

کرپٹو کرنسی کے مائننگ کے عمل کے نتیجے میں معاوضہ ملتا ہے جو کرپٹو کرنسی (بٹ کوائن) ہی کی شکل میں ہوتا ہے۔


عام کرنسی

یہ صورتِ حال عام کرنسی میں نہیں ہوتی۔


5:کرپٹو کرنسی

کرپٹو کرنسی کے اندر ٹرانزیکشن فیس ہوتی ہے۔ جو زیادہ فیس اپنی ٹرانزیکشن کی دے گا، مائنرز کوشش کرتے ہیں کہ ایسی ٹرانزیکشن کو اپنے بلاک مائن کرنے کا حصہ بنائیں، تاکہ مائنرز کو زیادہ معاوضہ مل سکے۔اس صورتِ حال میں اُن ٹرانزیکشنز کو زیادہ فوقیت ملتی ہے جن کی فیس زیادہ ہوتی ہے۔


عام کرنسی

عام کرنسی کو ٹرانسفر کرنے کی صورت میں بھی کچھ ٹرانزیکشن فیس ہوتی ہے، مگر تمام ٹرانزیکشنز کو یکساں برتا جاتا ہے۔


6:کرپٹو کرنسی

کرپٹو کرنسی کو کسی حکومتی ادارے کی جانب سے جاری نہیں کیا جاتا اور اسے لیگل ٹینڈر تصور نہیں کیا جاتا۔


عام کرنسی

عام کرنسی کو حکومتی ادارے کی جانب سے جاری کیا جاتا ہے اور اسے لیگل ٹینڈر تصور کیا جاتا ہے۔


7:کرپٹو کرنسی

کرپٹو کرنسی کا حسّی طور پر کوئی وجود نہیں ہے۔ حسّی طور پر تودرکنار ڈیجیٹل طور پر بھی موجودنہیں ہوتی۔


عام کرنسی

عام کرنسی کا حسّی طور پر وجود ہوتا ہے، چاہے وہ کاغذی شکل میں ہو یا سِکّے کی شکل میں ہو،حتیٰ کہ اگر عام کرنسی کو ڈیجیٹل طور پر بھی استعمال کیا جائے تو اس کو حسّی طور پر بھی حاصل کیا جاسکتا ہے۔ اس وقت دنیا میں کاغذی کرنسی کے تناظر میں ڈیجیٹلائزیشن بہت بڑھ گئی ہے یعنی کاغذی کرنسی کا ڈیجیٹل استعمال بہت زیادہ ہو رہا ہے، مثلاً آئن لائن پیمنٹ یا اے ٹی ایم یا ڈیبٹ کارڈ وغیرہ کی صورت میں۔ موجودہ معاشی نظام - فریکشنل ریزرو سسٹم - میں کرنسی کا بھی ڈیجیٹل اندارج ہی ہوتا ہے اور جو کمپیوٹر کے کھاتوں میں اندارج شدہ کرنسی ہوتی ہے، اس کے مقابلے میں حسّی کرنسی کی مقدار بہت کم ہے۔ اس صورت میں یہ اشکال کیا جاسکتا ہے کہ یہ عام کرنسی اور کرپٹو کرنسی دونوں ہی کمپیوٹر میں درج محض فرضی نمبر ہیں اور ان میں صرف بنیادی فرق حکومت کے کنٹرول کا ہے۔ اس اشکال کا جواب یہ ہے کہ جب صارف ڈیجیٹل طور پر کھاتے میں اندارج شدہ کرنسی کا مطالبہ کرتا ہے تو بینک مطالبہ کرنے والے شخص کو حسّی وجود رکھنے والی رقم ادا کرنے کا پابند ہے، چاہے بینک کو مرکزی بینک سے قرض لینا پڑے یا نئے کرنسی نوٹ چھاپنے پڑیں، مزید تفصیل کے لیے یہ حوالہ دیکھیے۔[1]


8: کرپٹو کرنسی

کرپٹو کرنسی کا کرنسی کے علاوہ کوئی فائدہ حاصل نہیں کیا جاسکتا۔ کرپٹو کرنسی بذاتِ خودکوئی سافٹ وئیر نہیں ہے، نہ اس کو سافٹ وئیر کی طرح استعمال کیا جاسکتا ہے اور نہ اس سے ذاتی انتفاع حاصل کیا جاسکتا ہے اور نہ یہ دوسرے کمپیوٹر پروگرامز اور ایپلیکیشنز کی طرح ہے۔ اس کی ذاتی قیمت Intrinsic value بھی نہیں ہوتی اور اس میں مصنوعی طور پر قیمت پیدا کی گئی ہے۔ کسی کرپٹو کرنسی کے استعمال کرنے والے اس کرپٹو کرنسی کی مارکیٹ میں اس کرپٹو کرنسی کی طلب اور رسد کی بنیاد پر اس کی قدر کا تعین کرتے ہیں۔


عام کرنسی

عام کرنسی کا کرنسی کے علاوہ بھی کسی نہ کسی شکل میں فائدہ حاصل کیا جاسکتا ہے، اور اس کی ذاتی قیمت Intrinsic value بھی ہوتی ہے، خواہ وہ ذاتی قیمت اس کی فیس ویلیو سے بہت کم ہی کیوں نہ ہو۔


9:کرپٹو کرنسی

بٹ کوائن کرپٹو کرنسی میں کوائن سرے سے موجود ہی نہیں ہوتے، بلکہ بٹ کوائن کرپٹو کرنسی کھاتے یعنی لیجر میں محض فرضی نمبروں کا اندراج ہے۔


عام کرنسی

عام کرنسی محض فرضی نمبروں کا اندراج نہیں ہے، بلکہ حقیقی کرنسی کا کھاتے میں اندراج کیا جاتا ہے۔


10:کرپٹو کرنسی

عالمی معاشی ماہرین کے مطابق کرپٹو کرنسی، کرنسی نہیں ہے! یورپی یونین کی اقتصادی اور مالیاتی امور کی کمیٹی نے اپنی رپورٹ یورپین پارلیمنٹ میں جمع کروائی ہے، جس میں عالمی معاشی ماہرین کے مطابق ڈیجیٹل کرنسیوں کو بطور آلۂ مبادلہ استعمال نہیں کیا جارہا اور نہ ہی کیا جاسکتا ہے۔ [2] نیز کرپٹو کرنسیوں کو بطور قدر شمار کرنے کے استعمال نہیں کیا جاسکتا ہے۔خلاصہ یہ کہ کرپٹو کرنسیاں، کرنسی کے بنیادی اوصاف پر پورا نہیں اُترتیں۔ 


عام کرنسی

عام کرنسی کو بطور آلۂ مبادلہ استعمال کیا جاتا ہے اور یہ کرنسی کے بنیادی اوصاف پر پورا اُترتی ہیں۔


11:کرپٹو کرنسی

بٹ کوائن کرپٹو کرنسی کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل نہیں کیا جاتا، بلکہ ٹرانزیکشن کا لیجر میں اندراج کیا جاتا ہے، جو کہ بٹ کوائن کرپٹو کرنسی کی ملکیت کے ثبوت کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے اور اس کے لیے ’’پبلک پرائیویٹ کی‘‘ اور’’ یو ٹی ایکس او‘‘ UTXO کا استعمال کیا جاتا ہے۔


عام کرنسی

عام کرنسی کو حقیقی طور پر ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کیا جاتا ہے اور اگر عام  کرنسی کا ڈیجیٹل ٹرانسفر ہو تب بھی Settlement سیٹلمنٹ کرلی جاتی ہے اور باقاعدہ منتقلی عمل میں لائی جاتی ہے۔ 


12:کرپٹو کرنسی

ایک سائنسی تحقیق کے مطابق بٹ کوائن کو بطور کرنسی استعمال نہیں کیا جارہا اور نہ ہی کیا جاسکتا ہے۔ تقریباً دو سے پانچ فیصد لوگوں نے بٹ کوائن کو چیزوں اور اشیاء کی خریداری کے لیے استعمال کیا، جبکہ پچانوے فیصد لوگوں نے اس کو بطور سرمایہ کاری کے استعمال کیا۔ [3]


عام کرنسی

عام کرنسی کی صورتِ حال اس کے برعکس ہوتی ہے۔ گو کہ لوگ اس کا کچھ فیصد حصہ سرمایہ کاری کے لیے استعمال کرسکتے ہیں، مگرعام کرنسی کا بنیادی استعمال چیزوں، سروسز اور اشیاء کی خریداری کے لیے ہی ہوتا ہے۔


13:کرپٹو کرنسی

یورپی سپروائزری اتھارٹیز صارفین کو خبردار کرتی ہیں کہ بہت سے کرپٹو اثاثے انتہائی رسکی اور سٹے بازی یعنی قیاس آرائی پر مبنی ہیں۔ یہ زیادہ تر ریٹیل صارفین کے لیے بطور سرمایہ کاری یا ادائیگی یا تبادلے کےلیے موزوں نہیں ہیں۔ [4]


عام کرنسی

عام کرنسی کے اندر ایسی صورتِ حال نہیں ہوتی کہ حکومتی ادارے لیگل ٹینڈر کے بارے میں ہی یہ کہیں کہ یہ سرمایہ کاری یا ادائیگی کے لیے موزوں نہیں ہیں۔


14:کرپٹو کرنسی

ایک سائنسی تحقیق کے مطابق تین کرپٹو کرنسیوں یعنی ڈوج کوائن Dogecoin، زیڈ کیش ZCash، اور ایتھریم کلاسک Ethereum Classic میں اکیاون فیصد سے زیادہ دولت سو سے کم لوگوں (ایڈریس) کے پاس مرتکز ہے۔ [5] یعنی مجموعی طور کرپٹو کرنسی میں دولت کی تقسیم سائنسی اعداد وشمار کے مطابق اصلی دنیا کی معیشت سے بھی بری ہے۔ 


عام کرنسی

عام کرنسی کے اندر بھی دولت کچھ لوگوں کے پاس مرتکز ہوتی ہے، مگر یہ دولت کی تقسیم کرپٹوکرنسی کی حد تک بری نہیں ہے۔


15کرپٹو کرنسی

کرپٹو کرنسی کو انتظامی طور پر کچھ ادارے اور لوگ کنٹرول کرتے ہیں اور یہ مروجہ سودی بینک نظام سے بھی بدتر ہے۔


عام کرنسی

عام کرنسی کی کنٹرولنگ حکومتی اداروں کے زیرنگرانی ہوتی ہے۔


16:کرپٹو کرنسی

بٹ کوائن سے چیزوں کی خریداری صرف کمپیوٹر یا موبائل فون سے ہی ممکن ہے۔ اس کے بغیر اس کی پیداوار، اس کا تبادلہ اور اس کے ذریعے روزمرہ کی اشیاء کی خریداری ممکن نہیں، یعنی بٹ کوائن نیٹ ورک کا حصہ بننا ضروری ہے۔


عام کرنسی

عام کرنسی میں یہ صورتِ حال نہیں اور اس کے لیے کسی خاص نیٹ ورک (بلاک چین) کا حصہ بننے کی ضرورت نہیں ہے۔


17:کرپٹو کرنسی

کرپٹو کرنسی کی قیمت میں بہت زیادہ اُتار چڑھاؤ ہے، جس کے سبب اس کا استعمال سٹے بازی میں بہت ہورہا ہے۔


عام کرنسی

عام کرنسی کے اندر بھی اُتار چڑھاؤ ہوتا ہے، مگر اتنا نہیں کہ جتنا کرپٹو کرنسی میں ہوتا ہے۔


18:کرپٹو کرنسی

اس کی قیمت میں کمی اور زیادتی پر چند لوگ اور اداروں کا قبضہ ہے اور یہ حقیقی طور پر ڈی سینٹرلائزڈ نہیں ہے، جیسا کہ دعویٰ کیا جاتا ہے۔ شروع کے دو سالوں میں بٹ کوائن کی تمام دولت پر محض ۶۴ لوگوں کا قبضہ تھا۔ [6] یعنی بٹ کوائن لانچ ہونے سے لے کر بٹ کوائن کی قیمت ایک امریکی ڈالر تک، یعنی تقریباً دو سال کا عرصہ، چونسٹھ لوگ وہ ہیں جنہوں نے زیادہ تر بٹ کوائن کو مائن کیا۔


عام کرنسی

عام کرنسی سینٹرلائزڈ ہوتی ہے اور حکومتیں اسے کنٹرول کرتی ہیں۔


19:کرپٹو کرنسی

عالمی معاشی ماہرین کی نزدیک بٹ کوائن کرپٹو کرنسی لاٹری کی ایک شکل ہے۔  [7]


عام کرنسی

عام کرنسی کے بارے میں عالمی معاشی ماہرین کی یہ رائے نہیں ہے۔


20:کرپٹو کرنسی

نومبر سن ۲۰۲۱ء تک ۹ ممالک نے کرپٹو کرنسی پر واضح پابندی لگادی ہے۔ کرپٹو کرنسی پر واضح پابندی لگانے والے نو ممالک میں یہ ممالک شامل ہیں: الجزائر، بنگلہ دیش، تیونس، چین، مصر، عراق، مراکش، نیپال اور قطر۔ نومبر سن ۲۰۲۱ ء تک ۴۲ ممالک نے کرپٹو کرنسی پر چھپی ہوئی پابندی لگادی ہے۔ چھپی ہوئی پابندی سے مراد یہ ہے کن ممالک میں بینکوں اور دیگر مالیاتی اداروں کو کرپٹو کرنسیوں میں لین دین کرنے یا کرپٹو کرنسیوں میں کاروبار کرنے والے افراد یا کاروباروں کو خدمات   پیش کرنے سے روکنا یا کرپٹو کرنسی ایکسچینج پر پابندی لگانا شامل ہیں۔ جن بیالیس ممالک نے کرپٹو کرنسی پر چھپی ہوئی پابندی لگائی ہے ان میں یہ ممالک سرفہرست ہیں: بحرین، جارجیا، انڈونیشیا، کویت، لبنان، لیبیا، مالدیپ، مالی، پاکستان، سعودی عرب، ترکی، سینیگال، ویت نام، اور تاجکستان وغیرہ شامل ہیں [8]۔ کرپٹو کرنسی سے متعلق ٹیکس قوانین اور انسدادِ منی لانڈرنگ اور انسدادِ دہشت گردی کے قوانین نافذ کرنے والے ملکوں کی تعداد نومبر سن ۲۰۲۱ء تک ۱۰۳ ممالک تک جاپہنچی ہے۔ یورپی پارلیمان میں کرپٹو اثاثوں سے متعلق اس وقت( Markets in crypto-assets MiCA) کے نام سے ریگولیشن ہورہی ہے، یعنی ایک نیا ریگولیٹری فریم ورک متعارف کروایا جائے گا جس کا مقصد سرمایہ کاروں کی حفاظت کرنا اور مالی استحکام کو یقینی بنانا ہے، جبکہ جدت کی اجازت دیتے ہوئے اور کرپٹو اثاثہ کے شعبے کی کشش کو فروغ دینا ہے۔ اس ریگولیشن کے دائرہ کار میں اسٹیبل کوائن بشمول دیگر کرپٹو اثاثے و کوائن آتے ہیں۔ اس ریگولیشن کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ یورپ اب کرپٹو کرنسی (بٹ کوائن) کو لیگل ٹینڈر تسلیم کررہا ہے یا کرپٹو کرنسی اب یورپ میں رائج ہورہی ہے۔نیز اس ریگولیشن کی موجودگی میں بھی کرپٹو کرنسی پر یورپی سینٹرل بینک کی وارننگز برقرار ہیں کہ کرپٹو کرنسی میں سرمایہ کاری اور لین دین سے احتراز کیا جائے۔


 


عام کرنسی

عام کرنسی پر اتنے وسیع پیمانے پر پابندی نہیں لگی ہوئی۔


21:کرپٹو کرنسی

 موجودہ وقت میں کرپٹو کرنسی (بٹ کوائن) میں ٹرانزیکشن کی رفتار کم ہے۔


عام کرنسی

عام کرنسیوں میں ٹرانزیکشن کی رفتار تیز ہوتی ہے۔


22:کرپٹو کرنسی

کرپٹو کرنسی مائننگ کے عمل سے بے تحاشہ بجلی ضائع ہوتی ہے۔


عام کرنسی

عام کرنسی میں یہ صورت نہیں ہے۔


23:کرپٹو کرنسی

کرپٹو کرنسی میں ٹرانزیکشن واپس نہیں ہوسکتی۔ ٹرانزیکشن کی واپسی کے لیے نئی ٹرانزیکشن کرنی پڑتی ہے۔


عام کرنسی

عام کرنسی میں ٹرانزیکشن واپس ہوسکتی ہے۔


24:کرپٹو کرنسی

کرپٹو کرنسی میں کوئی ٹرانزیکشن اگر غلط ایڈریس پر بھیج دی تو وہ واپس نہیں ہوسکتی۔


عام کرنسی

عام کرنسی میں یہ صورتِ حال نہیں ہوتی۔


25:کرپٹو کرنسی

دیگر کرنسیوں کے مقابلے میں کرپٹو کرنسی (بٹ کوائن) کے ایکسچینج ریٹ میں ۱۴۲ فیصد اُتار چڑھاؤ ہوا۔[2] 


عام کرنسی

عام کرنسیوں میں یہ ایکسچینج ریٹ ۷ فیصد سے ۱۲ فیصد تک اُتار چڑھاؤ ہوا، جبکہ گولڈ (سونے) میں یہ ۲۲ فیصد تک گیا ہے۔


26:کرپٹو کرنسی

کرپٹو کرنسی (بٹ کوائن) کو قدر کے شمار کرنے میں عام تاجروں کے لیے مشکلات ہیں اور اس کی وجہ ۴ سے زیادہ اعشاریہ میں قیمتوں کا تعین ہے۔


عام کرنسی

یہ صورت عام کرنسی میں نہیں ہوتی۔


حواشی و حوالہ جات

[1]مفتی محمد تقی عثمانی، اسلام اور جدید معیشت و تجارت، مکتبہ معارف القرآن، کراچی


[2]  GERBA, E. and RUBIO, M Virtual Money: How Much do Cryptocurrencies Alter the Fundamental Functions of Money Study for the Committee on Economic and Monetary Affairs, Policy Department for Economic, Scientific and Quality of Life Policies, European Parliament, Luxembourg, 2019

[3]  Dirk G. Baur, KiHoon Hong, Adrian D. Lee, Bitcoin: Medium of exchange or speculative assets Journal of International Financial Markets, Institutions and Money, Volume 54, 2018

[4] European Supervisory Authorities Warnings on Cryptocurrency, Source: https: //www .eba .europa .eu/eu-financial-regulators-warn-consumers-risks-crypto-assets

[5] Ashish Rajendra Sai, Jim Buckley and Andrew Le Gear, Characterizing Wealth Inequality in Cryptocurrencies, Frontiers in Blockchain, Vol.4, Article 730122, December 2021

]6[  Alyssa Blackburn, Christoph Huber, Yossi Eliaz, Muhammad Saad Shamim, David Weisz, Goutham Seshadri, Kevin Kim, Shengqi Hang, Erez Lieberman Aiden, Cooperation among an anonymous group protected Bitcoin during failures of decentralization, CoRR abs/2206,02871, Jun 2022

]7[  Mark Carney (Bank of England Governor, The Future of Money, Bank of England, 2018

https://www.bankofengland.co.uk/speech/2018/mark -carney -speech -to -the -inaugural -scottish -economics -conference.

[8]  Law Library of Congress, Regulation of Cryptocurrency Around the World: November 2021 Update, WashingtonDC,USA.Link: https://tile.loc.gov/storage -services/service /ll/llglrd/ 2021687419/ 2021687419.pdf






 کرپٹو کرنسی، این ایف ٹی، اور بلاک چین 

تعارف، مغالطے، شرعی نقطۂ نظراور ہماری ذمہ داری

(پہلی قسط)

 


   کرپٹو کرنسی کا موضوع پچھلے ایک عرصہ سے اہلِ علم کے زیربحث ہے، تقریباً تمام اہلِ علم اس بات پر متفق ہیں کہ کرپٹو کرنسی کا کاروبار محض ہندسوں کا گورکھ دھندہ ہے۔ قماربازی کی خطرناک نئی شکل ہے۔ کرپٹو کرنسی فقہی اور قانونی لحاظ سے کسی طور پر بھی کرنسی کے درجہ میں شمار نہیں کی جاسکتی۔ کرپٹو کرنسی کا فرضی تخیُّلاتی کاروبار معاشرے میں معاشی اَبتری اور مفروضوں پر مبنی کاروبار کے فروغ کا ایک ناجائز حربہ ہے۔ اہلِ علم کی اس رائے کے سامنے دھندے سے وابستہ افراد یہ چقمہ دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ ناجائز کہنے والے علماء کرام درحقیقت کمپیوٹر کی ان مہارتوں سے دور ہیں، جو اس سسٹم کو سمجھنے کے لیے درکار ہیں۔ ان کے اسی بے تکے اشکال یا دھوکے سے آگاہ کرنے کے لیے کمپیوٹر سائنس کے ایک ماہر صاحبِ علم کی فنی تحقیق نذرِ قارئین کی جارہی ہے، تاکہ ان قماربازوں کا یہ دھوکہ یا واہمہ بھی وا ہوسکے۔ اس مضمون کا فنی اور تعارفی پہلو اس موضوع پر تحقیق کرنے والے اہلِ علم وصاحبانِ تحقیق کے لیے اچھی افادیت کا حامل ہے۔ 

    محترم مضمون نگار صاحب ڈاکٹر مبشر حسین رحمانی منسٹر ٹیکنالوجیکل یونیورسٹی (MTU) آئرلینڈکے کمپیوٹر سائنس ڈیپارٹمنٹ میں لیکچرار ہیں اور پچھلے کئی سالوں سے بلاک چین کے موضوع پر تدریس و تحقیق انجام دے رہے ہیں۔ انہوں نے ۲۰۱۱ء میں یونیورسٹی آف پیرسVI، فرانس سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ انہوں نے آٹھ کتابیں لکھی ہیں جن میں سے دو کتابیں بلاک چین ٹیکنالوجی سے متعلق ہیں، جس میں سے ایک کتاب کو باقاعدہ ٹیکسٹ بک کے طور پر آئرلینڈ میں ماسٹرز کے نصاب کا حصہ بنایا گیا ہے۔ بلاک چین کے موضوع پر اُن کے دسیوں تحقیقی مقالے دنیا کے بہترین تحقیقی جرائد کے اندر شائع ہوچکے ہیں۔ نیز ایک طالب علم نےبلاک چین کے موضوع پر اُن کی سُپرویژن میں پی ایچ ڈی آسٹریلیا سے مکمل کی ہے اور دوسرے کی پی ایچ ڈی اختتامی مراحل میں ہے۔ وہ کئی بہترین تحقیقی مقالوں کے ایوارڈز وصول کرچکے ہیں۔ اُن کو کمپیوٹر سائنس کے شعبےمیں اُن کی تحقیق کی بنیاد پرسن ۲۰۲۰ ء اور ۲۰۲۱ء میں دنیا کے ایک فیصد بہترین سائنسدانوں کی فہرست میں شامل کیا گیا۔    (ادارہ بینات)


پچھلے کئی سالوں سے ہمارے پیارے وطن پاکستان میں سوشل میڈیا، پرنٹ میڈیا اور براڈکاسٹ میڈیا میں کچھ اس طرح کی باتیں سننے اورپڑھنےکو مل رہی ہیں: 

’’کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ آپ ایک لاکھ روپے کی سرمایہ کاری کریں اور چھ سے آٹھ ماہ میں جو منافع حاصل کریں، وہ تقریباً چالیس ہزار روپے ہو؟ یعنی شرحِ منافع ۴۰ فیصد ہو، آپ کے پیسے ایک لاکھ سے ایک لاکھ چالیس ہزار روپے ہوجائیں، کچھ محنت بھی نہ کرنی پڑے اور محض موبائل یا کمپیوٹر کی چند کلک کرنے پر اتنا زیادہ منافع حاصل ہوجائے؟ جی ہاں اب یہ ممکن ہے!!! ابھی کرپٹو کرنسی (بٹ کوائن، ایتھر، لائٹ کوائن وغیرہ) اور این ایف ٹی میں سرمایہ کاری کریں اور اس عظیم الشان منافع کمانے کے موقع سے فائدہ اٹھائیں۔ ‘‘

’’ اگر حکومتِ پاکستان کرپٹوکرنسی کے ذریعے عالمی مارکیٹ میں سرمایہ کاری کرے تو محض کچھ عرصے میں حکومتِ پاکستان اپنے تمام قرضوں کو معاف کرواسکتی ہے، بلکہ آئندہ پیدا ہونے والا ہر پاکستانی بچہ مقروض ہونے کے بجائے دوسرے عالمی ترقی پذیر ممالک کو قرضہ فراہم کرنے والا ملک بن جائے گا اور پاکستان میں خوشحالی کی چشمے اُبل جائیں گے۔ ‘‘

ہماری رائے میں یہ وہ زہر کی میٹھی گولی ہے، جو کہ پاکستانی عوام کو دی جارہی ہے اور یہ اس حد تک پاکستانی نوجوانوں میں مقبول ہے کہ ہر تیسرا نوجوان اسی فکر میں ہے کہ وہ اس کے ذریعے سے منافع کمائے۔ اسی پر اکتفا نہیں بلکہ کچھ دینی حُلیے والے اشخاص جو کہ اپنے آپ کو دینی حلقے سے جوڑتے ہیں اور علمائے کرام سے اپنا تعلق جتاتے ہوئے نظر آتے ہیں، اس بات کی بھرپور ترغیب دے رہے ہیں کہ یہ سرمایہ کاری نہ صرف یہ کہ جائز ہے، بلکہ اگر ہم نے بحیثیتِ قوم اس وقت اس عظیم موقع سے فائدہ نہیں اٹھایا تو ہم صدیوں پیچھے رہ جائیں گے، جیسا کہ آج ہم عالمی معاشی نظام میں پیچھے ہیں۔ وہ یہ دعویٰ کررہے ہیں کہ آج جو ہماری عالمی معاشی نظام میں حالت ہے، وہ ان علمائے کرام کی وجہ سے ہے جنہوں نے ایک صدی پہلے پیپر کرنسی (کاغذی نوٹ) اور بینک کے عالمی نظام کی مخالفت کی اور اُس کو بروقت نہ اپنانے دیا اور آج ہم نے اُن کی اس بات کے ماننےکا انجام دیکھ لیا۔ یہی کچھ لوگ اپنے آپ کو کرپٹو کرنسی، بلاک چین اور کمپیوٹر سائنس کا ماہر گردانتے ہیں اور علمائے کرام کو یہ باور کرانے کی کوشش کرتے ہیں کہ چونکہ وہ کرپٹو کرنسی، بلاک چین اور کمپیوٹر سائنس کے ماہر ہیں اور وہ یہ کہہ رہے ہیں کہ یہ سارا کرپٹوکرنسی وغیرہ کا نظام صحیح ہے، لہٰذا مفتیانِ کرام ان ماہر لوگوں کی رائے کو مدِ نظر رکھتے ہوئے کرپٹو کرنسی کے جائز ہونے کا فیصلہ صادر فرمادیں۔ ہمارے مشاہدے میں یہ بات بھی آئی ہے کہ کچھ مفتیانِ کرام جو کہ سوشل میڈیا میں فعال اور مشہور ہیں، ان خود ساختہ کمپیوٹر ماہرین کی رائے کی بنیاد پر اور اس بات پر کہ ان ماہر لوگوں کا دینی حلیہ اور ذہن بھی ہے، وہ کرپٹو کرنسی کے جوازکا نہ صرف یہ کہ فتویٰ دے رہے ہیں، بلکہ اب انہوں نے لوگوں کوباقاعدہ کرپٹو کرنسی میں سرمایہ کاری کی ترغیب بھی دینی شروع کردی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ کرپٹو کرنسی، بلاک چین اور کمپیوٹر سائنس کے کچھ ماہر حضرات عوام الناس پر یہ بات بھی باور کرانے کی کوشش کررہے ہیں کہ جو دارالافتاء اور مفتیانِ کرام کرپٹو کرنسی کے جائز ہونےکے بارے میں تردُّد کا شکار ہیں، اس کی وجہ یہ ہے کہ کرپٹو کرنسی کی اصل حقیقت ان مفتیانِ کرام پر عیاں نہیں ہے، اور اپنے تئیں کہہ رہے ہیں کہ ان علمائے کرام اور مفتیانِ کرام کو کمپیوٹر سائنس کے ماہرین نے کرپٹوکرنسی کی اصل حقیقت نہیں بتائی اور اب چونکہ ہم ماہر ہیں اور آپ کو اصل حقیقت سے آگاہ کررہے ہیں، لہٰذا آپ کرپٹوکرنسی کی حلت اور جواز پر فیصلہ صادر فرمادیں۔ 


اسکل بیسڈ اکانومی، پاکستان کی سائنس و ٹیکنالوجی میں پائیدار ترقی اور کرپٹوکرنسی

اسی کو تھوڑا بڑے تناظر میں دیکھتے ہیں۔ پاکستان پر اس وقت مجموعی طور پر اربوں ڈالر کا قرضہ ہے۔ [1, 2, 3] اس قرضے سے نجات حاصل کرنے کے لیے براڈکاسٹ میڈیا میں کچھ لوگ باقاعدہ ایک منظم طریقے سے دعوت دے رہے ہیں کہ حکومت معاشی باگ ڈور ان لوگوں کے حوالے کرے اور وہ کرپٹو کرنسی میں سرمایہ کاری کرکے پاکستان کو اس قرضے سے نجات دلائیں گے، نیز وہ عوام کو بھی کرپٹوکرنسی میں سرمایہ کاری کی ترغیب دے رہے ہیں، اور بہت سارے یوٹیوبرز اس کو باقاعدہ ایک ہنر یعنی اسکل skill کے طور پر متعارف کروارہے ہیں کہ نوجوان نسل اس کرپٹو کرنسی اور این ایف ٹی ٹیکنالوجی کو سیکھے اور پیسے کمائے۔ نیز حکومت بھی اس میں کچھ پیچھے نہیں اور وہ ایسے سوشل میڈیا پر متحرک لوگوں کو نہ صرف یہ کہ ایوارڈ سے نواز رہی ہے، بلکہ اُن کی ان کاوشوں کو سراہ رہی ہے، ہنر یعنی اسکلز سیکھنے کے لبادے میں اس کو اسکلز بیسڈ اکانومی یعنی ہنر پر مبنی معیشت skills based economy کا نام دیا جارہا ہے اور یہ باور کرایا جارہا ہے کہ اس سے ہمارے ملک کی قسمت بدل جائے گی۔ جب ہم یورپ اور امریکہ میں دیکھتے ہیں تو وہاں بھی یہی صورتِ حال ہے، کچھ لوگ وہاں کےسادہ عوام کو بھی اس کرپٹو کرنسی میں سرمایہ کاری کی ترغیب دے رہے ہیں اور نتیجتاً لوگ جوق در جوق اپنا سرمایہ کرپٹوکرنسی میں لگا رہے ہیں۔ راقم یہ سمجھتا ہے کہ پاکستان اگر عالمی طور پر سائنس اور ٹیکنالوجی میں دیرپا ترقی sustainable scientific development کرنا چاہتا ہے تو ہمیں سائنس اور ٹیکنالوجی کی خدمت کرنی ہوگی، نہ کہ چندہنر یعنی اسکلز عوام کو سکھا کر وقتی طور پر نفع حاصل کرلیا جائے، جیسا کہ کرپٹو کرنسی کے معاملے میں کیا جارہا ہے۔ آپ کو اگر نئی ٹیکنالوجی پر کام کرنا ہے اور سائنس میں پاکستان اور مسلمانوں کا نام روشن کرنا ہے تو مغرب کی اندھی تقلید کرتے ہوئے بس اُن کی ٹیکنالوجی کومِن و عن اختیار کرنے اور صرف استعمال کرنے کے بجائےایسے عالمی معیار کے محققین اور سائنسدانوں کی ایک کھیپ تیار کیجئے جو کہ عالمی سطح کی تحقیق کرکےایسے متبادل حل اُمت کو دیں جو کہ شریعت کے اصولوں کے مدِ نظر رکھتے ہوئے بنائے گئے ہوں۔ ہمیں اپنے آپ سے یہ سوال پوچھناچاہیے کہ کیوں پاکستان کی سائنس اور ٹیکنالوجی کی یونیورسٹیوں میں صرف مغرب کی سائنسی تحقیق اور ٹیکنالوجی کو پڑھایا جاتا ہے؟ اور تحقیق، جستجو، تنقیدی سوچ اور سائنسی دنیا میں کچھ نیا کرنے کا فقدان ہے؟ اور کیوں اگر کچھ سائنسدان اعلیٰ معیار کی تحقیق کرنا بھی چاہیں تو ان کی ہر طرح سے حوصلہ شکنی کی جاتی ہے؟


حلال کمانے اور خرچ کرنے کی اہمیت اور اسلاف کا طرزِ عمل

علمائے کرام سے ہم یہ سنتے رہتے ہیں کہ مال کماؤ تو حلال کماؤ اور خرچ کرو تو جائز مصارف میں خرچ کرو۔ ہم اسلاف کے واقعات پڑھتے رہتے ہیں کہ وہ مال کمانے میں تقویٰ اختیار کرتے تھے، اور مشتبہ مال سے بھی اجتناب برتتے تھے۔ حضرت ابوبکر صدیق  رضی اللہ عنہ  کا واقعہ شیخ الحدیث  رحمۃ اللہ علیہ  نے فضائلِ اعمال میں لکھا ہے کہ کس طریقے سے انہوں نے حلق میں اُنگلی ڈال کر قے کردی کہ کہیں مشتبہ مال ان کے جسم کا حصہ نہ بن جائے۔ ہماری درخواست خاص طور پر نوجوانوں سے یہ ہے کہ صرف مادی چیزوں میں نہ اُلجھ جائیں اور صرف پیسہ کمانا ہی ہمارا مقصد نہ ہو، بلکہ ہم اپنی نیت درست کریں، ملک و ملت و دین کی خدمت کی نیت کریں اور پھر جائز طریقے سے جتنا چاہیں پیسہ کمائیں۔ جائز طریقوں سے کمائی کرنا کوئی منع نہیں ہے۔ 


کیا اگلا عالمی معاشی نظام کرپٹو کرنسی کی بنیاد پر ہوگا؟

بہت ہی مخلص انداز میں بعض لوگ اس بات کی ترویج و اشاعت کررہے ہیں کہ:

’’اگر ہم ابھی بھی حرکت میں نہیں آئیں گے اور کرپٹوکرنسی میں سرمایہ کاری نہیں کریں گے اور اس کو اختیار نہیں کریں گے تو عالمی معاشی نظام ہمارے ہاتھ سے نکل جائے گا۔‘‘

 ان لوگوں کا مطمحِ نظر یہ ہے کہ وہ علمائے کرام کو دلیل سے قائل کرلیں کہ آپ علمائے کرام اس کرپٹو کرنسی کو جائز قرار دے دیں، کیونکہ اگلی معاشی صف بندی میں کرپٹو کرنسی کو بنیادی اہمیت حاصل ہوگی۔ اس دلیل کو اور مضبوط کرنے کے لیے یہ حضرات یہ بات کہہ رہے ہیں کہ اب سے تقریباً سو سال پہلے مولانا شمس الحق افغانی  رحمۃ اللہ علیہ  نے پیپر کرنسی کے بارے میں کہا تھا کہ یہ رائج ہو کر رہے گی اور آج ہم نے دیکھ لیا کہ وہ رائج ہے۔ وہ یہ دلیل دیتے ہیں کہ جب وقت تبدیل ہوتا ہے تو بڑے بڑے مسائل آتے ہیں۔ دیکھیں! ٹی وی آگیا، کیا ہم اس کو روک پائے؟ وہ یہ کہتے ہیں کہ فتویٰ چلتا نہیں اور چیز اپنے قدم جمالیتی ہے۔ اور وہ یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ یہ کرپٹو کرنسی بھی رائج ہو کر رہے گی اور اگلا معاشی نظام کرپٹو کرنسی کی بنیاد پر ہوگا۔ اگر اس میں بعض سودی مسائل پیش آتے ہیں تو ہمیں اس کا حل نکالنا چاہیے۔ اب چونکہ مسلمانوں کی طرف سے حل نکالنے میں بہت دیر ہوچکی ہے، لہٰذا اُن حضرات کی رائے میں کرپٹوکرنسی کا استعمال جائز ہے۔ قارئین ملاحظہ کرسکتے ہیں کہ کرپٹو کرنسی، این ایف ٹی اور اس سے متعلقہ چیزوں کے بارے میں کس طرح سے معاشرے میں تشکیک پیدا ہو گئی ہے، لہٰذا اس مضمون میں پہلے ہم کرپٹو اثاثوں (کرپٹو کرنسی، ورچول کرنسی، این ایف ٹی، ٹوکن، ڈی سینٹرلائژڈ فنانس اور اس سے متعلقہ پروڈکٹس اور سروسز) سے متعلق بنیادی معلومات فراہم کریں گے، کچھ مغالطوں کے جوابات پیش کریں گے اور پھر ہم آپ کے سامنے چند گزارشات رکھیں گے، تاکہ کرپٹو اثاثوں کی حقیقت واضح ہوجائے۔ 


اثاثے، ان کی ملکیت اور ان کا ریکارڈ

انسان کے اثاثے (assets) رکھنےکی تاریخ بہت پرانی ہے۔ ان اثاثوں میں سواری، زیورات، درہم، دینار، کرنسی، سونا، زرعی اراضی، گھر، اس کے زیر استعمال چیزیں اور دیگر اجناس شامل ہیں۔ اثاثے دو قسم کے ہوتے ہیں، ایک وہ جو کہ فن جیبل fungible ہوں اور دوسرے وہ جو کہ نون فن جیبل Non-fungible ہوں۔ فن جیبل اثاثے وہ ہوتے ہیں جو کہ ایک جیسے ہوتے ہیں اور اگر ان اثاثوں کی مقدار اور قسم ایک جیسی ہو توآپس میں ان کا ردوبدل یا ایکسچینج آسانی سے ہوجاتا ہے، مثلاً معدنیات، دھاتیں (سونا، چاندی) اور کرنسی فن جیبل اثاثوں کے طور پر دیکھی جاتی ہیں۔ اثاثےجیسے کہ رئیل اسٹیٹ (گھر، جائیداد وغیرہ)، ہیرا (ڈائمنڈ) یہ نون فن جیبل اثاثے شمار ہوتے ہیں۔ ان اثاثوں میں ہر ایک اثاثہ ایک خاص انفرادی حیثیت رکھتا ہے اور اس کی قدر (ویلیو) اس کے ساتھ خاص طور پر مخصوص ہوتی ہے، مثلاً ایک ہیرا ایک خاص تراش کا ہوگا اور یہ کسی دوسرے ہیرے کے ساتھ تبدیل نہیں ہوسکتا، کیونکہ ہر ہیرا اپنی صفت میں ممتاز ہوتا ہے، اسی طرح سے اثاثے ڈیجیٹل بھی ہوسکتے ہیں، مثلاً ویڈیو، آڈیو، تصویرjpeg image، ڈاکومنٹ یا کرپٹوکرنسی اور یہ ڈیجیٹل اثاثے Intangible ہوتے ہیں، یعنی جو کہ Not physically present حسی طور پر موجود نہیں ہوتے۔ 

یہ اثاثے کسی ایک شخص کی ملکیت بھی ہوسکتےہیں اور ان کو کئی اشخاص شراکت میں بھی رکھ سکتے ہیں۔ نیز یہ اثاثے کسی کمپنی یا حکومتی ادارے کی ملکیت بھی ہوسکتے ہیں۔ زندگی میں ایسے کئی مواقع آتے ہیں جب ان اثاثوں کی ملکیت تبدیل ہوتی ہے ۔ نیز ان اثاثوں کو خریدا اور بیچا بھی جاتا ہے، مگر اس کے لیے سب سے پہلے ان اثاثوں کی ملکیت کا تعین ہونا ضروری ہوتا ہے۔ اسی کے ساتھ ساتھ جب کسی شخص کا انتقال ہوتا ہے تو علمِ وراثت (علم الفرائض) کے قانون کے تحت مرنے والے کے اثاثوں کو اس کے وارثین میں منتقل کردیا جاتا ہے[4]۔ اس کے ساتھ ساتھ بیع و شراکت کے لیے بھی ان اثاثوں کو منتقل کیا جاتا ہے۔ خلاصۂ کلام یہ ہوا کہ اثاثوں کا باقاعدہ ایک ریکارڈ رکھا جاتا ہے، تاکہ اثاثوں کی خرید وفروخت ہوسکے، اثاثوں کی ملکیت کا تعین ہوسکے اور اسی کو کھاتہ (ledger) کہا جاتا ہے۔ 

صدیوں سے ان کھاتوں کو رجسٹرز پر، کاغذی کاپیوں پر محفوظ کیا جاتا رہا ہے اور رجسٹری جیسے محکمے کا باقاعدہ وجود ہوا ہے۔ پاکستان میں پٹواری کا باقاعدہ پورا نظام موجود تھا اور ابھی بھی کافی حد تک موجود ہے، جو کہ زرعی اراضی اور اجناس وغیرہ جیسے کھاتوں کے نظام کو سنبھالتا ہے۔ اسلام کے اندر بھی باقاعدہ طور پر اراضی سے متعلق احکامات موجود ہیں اور فقہاء کرام نے اس کے تفصیلی احکامات بیان فرمائے ہیں۔ نیز اراضی سےمتعلق ریکارڈ مرتب کرنا اس لیے بھی ضروری ہے، تاکہ اس سے متعلق شرعی احکامات مثلاً عشر و خراج، اراضی اوقاف پر عمل ہوسکے۔[5] اس کے علاوہ پلاننگ کمیشن آف پاکستان بھی مختلف نوع کے اعداد و شمار (ڈیٹا) کو اکٹھا اور محفوظ کرتا ہے، تاکہ حکومتی پالیسی کا اجرا میں معاون کا کردار ادا کرسکے۔ اس کے علاوہ پاکستان بیورو آف اسٹیٹ اسٹکس (شماریات) پورے پاکستان سے مردم شماری، قیمتوں کے اعداد و شمار اور اُن کا چڑھاؤ کے ساتھ ساتھ اقتصاد، اور تجارت سے متعلق اعداد و شمار کو اکھٹا اور محفوظ کرتا ہے۔ 

کھاتے مختلف اقسام کے ہو سکتے ہیں، مثلاً ٹرانزیکشن لیجر Transaction Ledger، بیلنس لیجر Balance Ledger، عمومی لیجر General Ledger، سب لیجر Sub Ledger، سنگل Single Ledger یا ڈبل لیجرDouble Ledger۔ لیجر (کھاتا) کسی بھی معاشی نظام کے دل کی طرح ہوتا ہے۔ کھاتوں کے اندر اخراجات، آمدنی، ملازموں کی تنخواہوں وغیرہ کو ریکارڈ (محفوظ) کیا جاتا ہے۔ ان مختلف اقسام کے کھاتوں کو ملاکر ایک بڑا کھاتہ بھی بنایا جاسکتا ہے اور اسی کو عمومی لیجر General Ledger کہا جاتا ہے۔ ٹرانزیکشن لیجر Transaction Ledger کے اندر معاملات، سودا یا لین دین کا کھاتہ رکھا جاتا ہے، جبکہ بیلنس لیجر Balance Ledger کے اندر دن کے آخر میں جمع اور نکالے گئے پیسوں کا اندراج ہوتا ہے۔ لیجر (کھاتوں) کی زبان میں اگر بات کی جائے تو بٹ کوائن ایک ٹرانزیکشن لیجر ہے، جبکہ ایتھریم ایک بیلنس لیجر ہے۔ 

کمپیوٹر کی ایجاد نے جہاں اور بہت ساری سہولیات فراہم کیں، وہیں پچھلی کچھ دہائیوں سے ان کھاتوں کو کمپیوٹر پر محفوظ کیا جانے لگا۔ اس کے لیے شروع میں مختلف سافٹ وئیرز -جنہیں word processing software spread sheets  کہا جاتا ہے- کا استعمال ہونے لگا، مثلاً مائیکروسافٹ ورڈ MS Word یا مائیکرو سافٹ ایکسل MS Excel ۔ مگر ان میں مسائل یہ تھے کہ ڈیٹا یعنی اعداد وشمار کو باآسانی تبدیل کیا جاسکتا تھا، پھر بعد میں خصوصی سافٹ وئیر تیار کیے جانے لگے، جیسے MS Access Oracle MYSQL Mongo DB  جن کی مدد کے ان کھاتوں کو محفوظ کیا جانے لگا اور ان کو ڈیٹا بیس مینجمنٹ سسٹم (data base management system (dbms کہا جاتا ہے۔ ان کھاتوں کو کمپیوٹر پر محفوظ کرنے سےکئی سہولتیں میسر آئیں، جن میں سب سے اہم مائیکرو سیکنڈ کے اندر کروڑوں کے ریکارڈ میں سے اپنے مطلوبہ مواد تک باآسانی رسائی ہے اور نادرا اس کی جیتی جاگتی مثال ہے۔ 

پھر جیسے جیسے کمپیوٹر سائنس نے ترقی کی اور ایک سے زائد کمپیوٹر کو منسلک کرکے کمپیوٹر نیٹ ورک وجود میں آئے تو پھر یہ کھاتے مختلف کمپیوٹرز پر محفوظ کیے جانے لگے اور مختلف لوگ، مختلف جگہوں سے بیک وقت ان کھاتوں میں ردوبدل کرسکتے تھے، پھر انٹرنیٹ کی ایجاد نے اس پر چارچاند لگا دیئے اور اب یہ کھاتے پوری دنیا میں کسی بھی جگہ سے رسائی کے قابل ہوئے۔ اس سے پھر ڈسٹری بیوٹڈ لیجر distributed ledger کا نظام وجود میں آیا، جس میں کھاتے کی کاپی ایک سے زیادہ جگہوں پر موجود ہوتی تھی اور ایک سینٹرل سرور central serverیعنی ایک مرکزی کمپیوٹر ان تمام کھاتوں کے نظام کو چلاتا ہے۔ بات صرف اب یہاں پر نہیں رکی، بلکہ کمپیوٹر سائنس نے اتنی ترقی کرلی ہے کہ اب ان کھاتوں کو مختلف جگہوں پر رکھا جاتا ہے اور کئی لوگ بیک وقت اس تک رسائی حاصل کرتے ہیں اور ریکارڈ میں ردوبدل بھی کرتے ہیں اور اس کے لیے سینٹرل سرور یعنی مرکزی کمپیوٹر کی ضرورت بھی نہیں پڑتی۔ اسی کو تقسیم شدہ کھاتوں کا نظام یعنی ڈسٹری بیوٹڈ لیجر سسٹم ( Distributed Ledger System DLT) یا بلاک چین blockchain کہا جاتا ہے اور اس کو پبلک بلاک چین یعنی عوامی کھاتہ بھی کہا جاتا ہےاور اسی ارتقاء کو ہم نے تصویر نمبر۱  میں دکھایا ہے۔ آسان الفاظ میں بلاک چین ایک ایسے کمپیوٹر نظام کا نام ہے جس کے اندر کھاتوں کو ایک خاص طریقے سے محفوظ کیا جاتا ہے، جس کے اندر کوئی بھی آسانی کے ساتھ ردوبدل نہیں کرسکتا۔ 


تصویر نمبر ۱: کھاتوں (ریکارڈ اور اعداد و شمار) کا کاغذی کاپیوں سے کمپیوٹر تک اور پھر کمپیوٹر نیٹ ورک سے بلاک چین تک کا ارتقائی سفر

1- کھاتوں (اعداد وشمار اور ریکارڈ) کو رجسٹر اور کاغذی کاپیوں پر محفوظ کرنا

2 - کھاتوں (اعداد وشمار اور ریکارڈ) کو کمپیوٹر پر مائیکروسافٹ یا دیگر کمپنیوں کے سافٹ وئیر پر محفوظ کرنا

3- کھاتوں (اعداد وشمار اور ریکارڈ) کو کمپیوٹر کے نیٹ ورک پر ڈیٹا بیس مینیجمنٹ سسٹم کے ذریعہ محفوظ کرنا اور اس نظام کو سینٹرل کمپیوٹر کے ذریعہ کنٹرول کرنا

4- کھاتوں (اعداد وشمار اور ریکارڈ) کو کمپیوٹر کے نیٹ ورک پر بلاک چین کے ذریعہ محفوظ کرنا، جس کے اندر ہر کمپیوٹر پر تمام ریکارڈ موجودہو، اور اس نظام کو سینٹرل کمپیوٹر کے بغیر کنٹرول کرنا


وفاق المدارس کے امتحانی نظم اور نتائج سے بلاک چین کے نظام کو سمجھنا

پاکستان میں اکیس ہزار چار سو باون کی تعداد میں مدارس ہیں، جو کہ وفاق المدارس سے رجسٹرڈ ہیں، ان میں ایک لاکھ چھیاسٹھ ہزار آٹھ سو تیرہ اساتذہ کرام جبکہ انتیس لاکھ اسی ہزار چھ سو ترانوے طلباء و طالبات زیرِ تعلیم ہیں۔[6] ہم فرض کرلیتے ہیں کہ ان میں سے ہر مدرسے کے پاس اپنا ایک کمپیوٹر ہے، جس کی مدد سے وہ اپنے طلباء کا ریکارڈ محفوظ کرتے ہیں۔ یہ ریکارڈ داخلہ فارم سے لے کر درستگی و گمشدگیِ اسناد وغیرہ پر مشتمل ہوتے ہیں اور ان کے اندر نام طالبِ علم، ولدیت، تاریخِ پیدائش، شناختی کارڈ نمبر، پتہ، اور مدرسہ سے تصدیق وغیرہ جیسی معلومات پُر کرنی ہوتی ہیں۔ پھر یہ ریکارڈ مختلف مدارس وفاق المدارس کو مہیا کرتے ہیں، تاکہ وفاق المدارس طلباء کے امتحانات کا نظم بنا سکے، یعنی ان تمام مدارس کے طلباء کو امتحانی فارم پُر کرنا ہوتا ہے اور پھر وفاق المدارس میں وہ سارا ریکارڈ ایک کمپیوٹر پر محفوظ ہوجاتا ہے۔ اس کے لیے وفاق المدارس نے ایک آئن لائن داخلہ فارم مہیا کیا ہوا ہے،جس کو ہر طالب علم پُر کرے گا یا پھر کاغذی پُر شدہ امتحانی فارم اپنے مدرسے کے توسط سےوہ وفاق المدارس کو ارسال کرے گا۔ دونوں ہی صورتوں میں وہ ریکارڈ وفاق المدارس اپنے کمپیوٹر میں محفوظ کرے گا اور احتیاطاً آفس میں کاغذی ریکارڈ بھی محفوظ رکھا جائے گا۔ وفاق المدارس کمپیوٹر پر اس ریکارڈ کو محفوظ کرنے کے لیے کسی عام سے سافٹ وئیر مثلاً MS Excel, MS Access  یا کسی مضبوط ڈیٹا بیس مینجمینٹ سسٹم DBMS کا انتخاب کرے گا، مثلاً mOracle, MongoDB, MySQL۔ اور پھرسالانہ امتحانات ہوجائیں گے اور جب امتحانی کاپیاں چیک ہوجائیں گی تو امتحانات کا نتیجہ عام کردیا جائے گا۔ اب اس امتحانی نتیجہ کو پورے پاکستان سے طلبائے کرام اور مدارس کے منتظمین انٹرنیٹ کی مدد سے اپنے ہی مدرسے، شہر سے گھر بیٹھے دیکھ سکتے ہیں۔ وہ چاہیں تو موبائل فون سے میسیج کرکے بھی اپنا مطلوبہ رول نمبر دے کر امتحانی نتیجہ معلوم کرسکتے ہیں۔ تو اس سارے امتحانی نظام اور نتائج کے نظام کو وفاق المدارس کے اندر کمپیوٹر پر سافٹ وئیر کی مدد سے محفوظ کیا جارہا ہے اور اس قسم کے سافٹ وئیر کو ڈیٹا بیس مینجمنٹ سسٹم کہا جاتا ہے اور یہ سب کچھ ایک Centralized سینٹرلائژڈ طریقے یعنی وفاق المدارس میں موجود مرکزی کمپیوٹر سے انجام دیا جارہا ہے۔ 

کمپیوٹر سائنس کے اندر ترقی نے جہاں اور بہت ساری آسانیاں پیدا کی ہیں، وہیں بہت سارے خطرات بھی پیدا ہوگئے ہیں، مثلاً خدانخواستہ کسی عالمی سائبر حملے cyber attack کی صورت میں وفاق المدارس میں محفوظ سارا ریکارڈ (رجسٹریشن، امتحانات و نتائج) ضائع یا تبدیل ہوسکتا ہے۔ نیز ایسا سائبر حملہ بھی ہو سکتا ہے جس میں وفاق المدارس میں موجود لوگوں کو پتہ ہی نہ ہو اور کئی سال پرانے ریکارڈ میں تبدیلی کرلی گئی ہو۔ یا یہ بھی ممکن ہے کہ سائبر حملے کی صورت میں جس دن وفاق المدارس نے اعلان کیا ہو کہ وہ سالانہ نتائج کا اعلان کرے گا، اس دن ڈینائیل آف سروس اٹیک (Denial of Service Attack DoS) کی وجہ سے وفاق المدارس کے کمپیوٹر کام کرنا چھوڑ دیں اور پورے پاکستان میں موجود طلباء اور مدارس کو مشکل پیش آئے۔ یہ تو ہم نے عام سی مثال پیش کی ہے، مگر اس کی سنگینی کا اندازہ وہ ممالک بخوبی کرسکتے ہیں، جہاں پر سارا نظام ہی کمپیوٹر کے نیٹ ورک کے مرہونِ منت ہے۔ انہی تمام معاملات کو دیکھتے ہوئے کمپیوٹر سائنس کے محققین ہمیشہ اس بات کی کوشش میں سرگرداں رہتے ہیں کہ کیسے کمپیوٹر نیٹ ورک زیادہ سے زیادہ مؤثر اور محفوظ ہوں۔ اسی تناظر میں کمپیوٹر سائنس دانوں نے ایک طریقہ ڈھونڈا، جس کو بلاک چین ٹیکنالوجی کہا جاتا ہے، جس کی مدد سے ہم اس طرح کے ریکارڈ کو محفوظ بنا سکتے ہیں۔ 

اب اگر وفاق المدارس اپنے سارے ریکارڈ کو بلاک چین پر محفوظ بنانے کی صورت بناتا ہے تو اس صورت میں یہ سارا ریکارڈ ایک بلاک چین میں محفوظ ہوگا اور اس سارے ریکارڈ کی مکمل کاپی ہر مدرسے کے پاس محفوظ ہوگی۔ اور کوئی بھی مدرسہ اس ریکارڈ میں ذرہ برابر بھی تبدیلی نہیں کرسکتا، جب تک ایک معتدبہ تعداد جو کہ ۵۱ فیصد مدارس کی تعداد سے زیادہ ہونی چاہیے، جو کہ تقریباً دس ہزار مدارس سے زیادہ بنتی ہے، جب تک کہ اس تبدیلی کو تسلیم approve and validate نہ کرلیں۔ اب اس صورت میں خدانخواستہ کوئی بھی سائبر حملہ ہوتا ہے تو یہ ریکارڈ وفاق المدارس کےایک کمپیوٹر پر محفوظ ہونے کے بجائے پورے پاکستان کےتمام مدارس کے کمپیوٹرز پر محفوظ ہوگا اور سائبر حملہ کرنے والوں کو پاکستان کے تمام مدارس کے تمام کمپیوٹرز پر جاکر وہ ریکارڈ تبدیل کرنا ہوگا جو کہ تقریباً ناممکن ہے، کیونکہ یہ مدارس پاکستان کے طول و بلد میں ہرجگہ موجود ہیں اور اتنی بڑی تعداد میں ان تمام کمپیوٹرز پر تبدیلی کرنا بہت مشکل ہے۔ اس طرح کے نظام کے اندر وفاق المدارس کے تمام ریکارڈ ایک پبلک بلاک چین کی مدد سے عوامی سطح پر publicly موجود ہوگا اور جو چاہے جب چاہے اس کو دیکھ سکے گا اور اسی وجہ سے یہ سارا نظام آڈٹ میں بھی آسانی فراہم کرے گا اور اس میں شفافیت بھی ہوگی۔ اس کے علاوہ یہ ریکارڈ اتنا محفوظ ہوگا کہ اس کے اندر ایک نکتے کی بھی تبدیلی نہیں لائی جاسکتی۔ اور اگر کوئی تبدیلی مقصود بھی ہوگی (مثلاً ایک طالب علم کے نتائج پیپر کی ری چیکنگ کے بعد تبدیل کرنے ہیں) تو وہ سب ریکارڈ بھی محفوظ ہوگا۔ تو خلاصہ کلام یہ ہوا کہ بلاک چین ایک ایسی ٹیکنالوجی ہے جس کی مدد سے ہم ریکارڈ کو محفوظ بناتے ہیں، گو کہ موجودہ اور مروجہ کمپیوٹر پر ریکارڈ محفوظ کرنے کے طریقوں کے مقابلے میں بلاک چین کے اپنے کچھ فائدے اور نقصانات ہیں، مگر یہ بہت زبردست ٹیکنالوجی ہے، جس کو دنیا بھر میں بہت زیادہ پذیرائی مل رہی ہے۔ 

اس وفاق المدارس کی مثال کو ہم ایک اور تناظر میں بھی دیکھ سکتے ہیں جس کوکمپیوٹر سائنس کی زبان میں سینٹرلائزڈ - مرکزیت Centralized اورڈی سینٹرلائزڈ- لا مرکزیت De-Centralized بھی کہا جاتا ہے۔ وفاق المدارس کے پاس جب ایک سینٹرل کمپیوٹریعنی مرکزی کمپیوٹر server ہے اور اس کی مدد سے وہ تمام مدارس کے کمپیوٹرز کو کنٹرول کررہےہیں یا ان کو معلومات پہنچا رہے ہیں یا آسان الفاظ میں facilitate کررہے ہیں تو یہ سینٹرلائزڈ یعنی مرکزی سسٹم کہلائے گا اور اس کے لیے وہ ڈیٹابیس مینجمنٹ سسٹم کا استعمال کریں گے۔ اس کو اگر ہم بینکنگ سسٹم کے حوالے سے دیکھیں تو بینکنگ سسٹم ایک سینٹرلائزڈ سسٹم ہے، کیونکہ اس کے اندر ایک سینٹرل بینک یا حکومت کی مرکزیت ہے اور وہی اس پورے معاشی نظام کو کنٹرول کرتے ہیں۔ اس کے برعکس ہمارے پاس ڈی سینٹرلائزڈ سسٹم ہوتے ہیں، جن کے اندر کوئی بھی مرکزی کمپیوٹر نہیں ہوتا اور ہر کمپیوٹر خود مختار ہوتا ہے کہ جس کمپیوٹر سے چاہے مواصلاتی رابطہ قائم کرے۔ وفاق المدارس کے امتحانی نظام کو جب ہم بلاک چین کے ذریعے سے قائم کریں گے تو ہر مدرسے کے پاس تمام مدارس کا یعنی پورے وفاق المدارس کا ریکارڈ موجود ہوگا اور وفاق المدارس کا مرکزی کمپیوٹر ان تمام مدارس کے کمپیوٹرز کو کنٹرول نہیں کررہا ہوگا۔ اس نظام کو اگر بینکنگ سسٹم کے تناظر میں دیکھیں تو یہ سمجھیں کہ کسی ملک میں کئی بینک موجود ہیں، مگر نہ ہی کوئی حکومت ہے اور نہ ہی کوئی سینٹرل بینک ہے جو کہ ان بینکوں کے نظام کو کنٹرول کرسکے یا ریگولیٹ کرسکے۔ تو خلاصہ کے طور پر ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ بلاک چین ہمیں مرکزی سسٹم یعنی سینٹرلائزڈ سسٹم سے ہٹا کر غیر مرکزی نظام یعنی ڈی سینٹرلائزڈ سسٹم کی طرف لے جاتا ہے۔ 


کیا بلاک چین ٹیکنالوجی کا استعمال جائز ہے؟

مفتیانِ کرام یہ فرماتے ہیں کہ: بلاک چین ٹیکنالوجی کو سیکھنا اور اس کا استعمال عمومی طور پر جائز ہے، جیسے ہم نے مثال کے ذریعے سے آپ کو بتایا کہ یہ بلاک چین ٹیکنالوجی وفاق المدارس کے ریکارڈ کو محفوظ کرنے کے لیے بھی استعمال ہوسکتی ہے، نیز اگر کوئی چاہے تو ناجائز کاموں کی تفصیلات محفوظ کرنے کے لیے بھی اس کو استعمال کرسکتا ہے، جیسے شراب کی فیکٹریوں میں بننے والی شراب کا ریکارڈ رکھنے کے لیے یا انشورنس کا ریکارڈ رکھنے کے لیے وغیرہ، تو علمائے کرام یہ ارشاد فرماتے ہیں کہ: اگر کچھ لوگ بلاک چین ٹیکنالوجی کا استعمال غلط قسم کے ریکارڈ کو محفوظ کرنے کے لیے کررہے ہیں تو ہم مطلقاً بلاک چین ٹیکنالوجی کوہی ناجائز قرار نہیں دیں گے۔ یہ ایسا ہی ہے کہ ہم DBMS کو یا کمپیوٹر کو ناجائز قرار دے دیں، کیونکہ اس کو بھی ناجائز کاموں کے ریکارڈ کو محفوظ کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے یا کوئی چھری کو ہی مطلقاً ناجائز قرار دے دے، کیونکہ اس سے کوئی ناحق قتل بھی کرسکتا ہے۔ بس ہماری گزارش یہ ہوگی کہ اگر آپ بلاک چین ٹیکنالوجی کا استعمال کسی خاص سیکٹر میں کرنا چاہتے ہیں تو مفتیانِ کرام سے رجوع کریں، تاکہ وہ آپ کو اس کے شرعی استعمال کے متعلق احکامات بتاسکیں۔ 


بلاک چین (blockchain ) ٹیکنالوجی کیا ہے؟

بلاک چین ایک ایسی کمپیوٹر ٹیکنالوجی کا نام ہے جس کی مدد سے ہم ایک کمپیوٹر نیٹ ورک پر ریکارڈ کو محفوظ کرتے ہیں، جس کی تعریف کچھ اس طرح سے ہوگی: ’’بلاک چین ایک ایسا ڈیٹا اسٹرکچر یعنی ڈیٹا محفوظ کرنے کا طریقہ کار ہے، جس کے اندر ایک مرتبہ ریکارڈ اگر بلاک چین میں محفوظ کردیا گیا تو پھر اس کے اندر تبدیلی نہیں لائی جاسکتی، شامل کیے گئے ریکارڈ کو صرف پڑھا جاسکتا ہے اور نیا ڈیٹا ہمیشہ بلاک چین کے آخر میں شامل کیا جاتا ہے، جس کی وجہ سے بلاک چین ایک بہت زیادہ غیر تغیر قسم کا ریکارڈ محفوظ کرنے کا نظام مہیا کرتا ہے۔‘‘ 

اس کے علاوہ ایک خصوصیت بلاک چین کی یہ ہے کہ اس کے اندر اگر کوئی شخص ایک نقطے کی بھی تبدیلی کی کوشش کرتا ہے تو وہ بآسانی ٹریس کی جاسکتی ہے اور یہی وہ ایک خصوصیت ہے جس کی وجہ سے بلاک چین بہت زیادہ مشہور ہے۔ نیز بلاک چین کے ذریعے سے بننے والے نظام کے اندر ہم اس بات کی بھی کھوج لگا سکتے ہیں کہ کس ٹرانزیکشن کی ابتدا کہاں سے ہوئی تھی؟ اور پھر وہ کن کن لوگوں کے ذریعے سے ہوتے ہوئے آگے گئی، جس کا لازمی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ آڈٹ کے پراسس کے اندر بہت آسانی پیدا ہوجاتی ہے۔ 

 بلاک چین ٹیکنالوجی کا سب سے پہلا استعمال ایک کرپٹو کرنسی (بٹ کوائن) کو بنانے کے لیے کیا گیا۔ بٹ کوائن کو سن ۲۰۰۸ء میں ساتوشی ناکاموٹو Satoshi Nakamoto نے اپنے وائٹ پیپر میں سب سے پہلی مرتبہ تعارف کروایا اور سن ۲۰۰۹ء میں بٹ کوائن کا لیجر وجود میں آیا۔[7,8] بٹ کوائن نے اس بلاک چین ٹیکنالوجی کی افادیت کو پوری دنیا کے سامنے رکھا اور چونکہ بلاک چین ٹیکنالوجی کا یہ ایک معاشی استعمال تھا، لہٰذا کمپیوٹر سائنسدانوں نے خوب اس نظام کی جانچ کی کہ کہیں اس میں کوئی سقم نہ ہو۔ 

بٹ کوائن چونکہ ایک اہم کرپٹو کرنسی ہے اور اس کے اندر پیسے کے اہم معاملات کا ریکارڈ محفوظ رکھنا تھا تو بلاک چین ٹیکنالوجی کے اندر اتنی انتظامی استطاعت، جدت اور محفوظ طریقہ اپنایا گیا اور اس کے نظام کو پرکھا گیا کہ کہیں اس میں کوئی خرابی تو نہیں۔ اس بلاک چین کے بٹ کوائن کے استعمال نے جہاں دنیا کے کمپیوٹر سائنسدانوں اور محققین کو اس بات کی گارنٹی دی کہ بلاک چین میں بہت ساری افادیت ہے، وہیں کچھ لوگوں کو یہ گمان ہوگیا کہ شاید بلاک چین اور کرپٹو کرنسی ایک ہی چیز کے دو نام ہیں، حالانکہ ایسا نہیں ہے۔ بلاک چین کا پہلا استعمال کرپٹو کرنسی کے ریکارڈ کو محفوظ بنانے کے لیے کیا گیا تھا، پھر اس ٹیکنالوجی کی افادیت کو دیکھتے ہوئے اس کو زندگی کے ہر شعبے میں استعمال کیا جانے لگا ہے۔[9] تو ہم عمومی طور پر کہہ سکتے ہیں کہ بلاک چین ٹیکنالوجی کا استعمال کرپٹو کرنسی میں پانچ فیصد سے بھی کم ہوگا اور اس کے بالمقابل زندگی کی مختلف شعبہ جات میں اس کا کثیر استعمال ہے، جس میں آپ جہاں جہاں آج کل کمپیوٹر کو ریکارڈ محفوظ کرنے کے لیے استعمال کررہے ہیں، وہاں پر بلاک چین متبادل کے طور پر استعمال کی جاسکتی ہے، مگر اس ٹیکنالوجی کو پوری طرح اپنانے میں کچھ سال لگیں گے۔ 


بلاک چین ٹیکنالوجی کے کام کا طریقہ کار، مروجہ بینکنگ کا نظام اور مائننگ

 


تصویر نمبر۲: بینک کے نظام سے پیسے بھیجنے کا طریقہ کار

۱: زید: پیسے بھیجنے والا            ۲: زید کے بینک کا لیجر (کھاتہ) اور زید کا بینک

۳: سینٹرل بینک کا لیجر (کھاتہ)، سینٹرل بینک    ۴: بکرکے بینک کا لیجر (کھاتہ)، بکر کا بینک

۵: بکر، پیسے وصول کرنے والا

1- زیداپنے اکاؤنٹ تک رسائی کرے گا اور پھر اپنے بینک سے کہے گا کہ ۱۰۰۰ روپے بکر کو بھیج دیئے جائیں۔

2- زید کا بینک پہلے چیک کرے گا کہ زید کے پاس بینک میں اتنے پیسے بھی ہیں؟ اگر ہیں تو پھر وہ اپنے پاس کھاتے میں اپ ڈیٹ کرے گا کہ ۱۰۰۰ روپے زید کے بینک اکاؤنٹ میں سے نکال دیئے جائیں، پھر وہ بکر کے بینک کو بتائے گا کہ بکر کو ۱۰۰۰ روپے زید کی طرف سے وصول ہوئے ہیں۔

3 - سینٹرل بینک کا کام یہ ہوگا کہ وہ اس بات کا انتظار کرے کہ دونوں بینک یہ تبادلہ کررہے ہیں اور اس میں کہیں کوئی کمی کوتاہی تو نہیں۔

4- بکر کے بینک کو جب زید کے بینک کی طر ف سے کہا جائے گا کہ بکر کو ۱۰۰۰ روپے ملے ہیں تو وہ اپنے کھاتے میں بکر کے اکاؤنٹ میں ۱۰۰۰ روپے کی انٹری ڈال دے گا۔

5- بکر جب اپنے اکاؤنٹ تک رسائی کرے گا تو اس کو وہ ۱۰۰۰ روپے اپنے بینک اکاؤنٹ میں موصول ہوئے نظر آئیں گے۔

تصویر نمبر: ۲ کے اندر قارئین مثال کے ذریعے سے سمجھ سکتے ہیں کہ بینک کے نظام کے تحت زید اگر بکر کو پیسے بھیجے گا تو کس طریقے سے زید اور بکر کے بینک اپنے کھاتوں (ڈیٹا بیس سسٹم) میں پیسوں کی نقل و حرکت کو اپ ڈیٹ یعنی اس میں اندراج کریں گے۔ اب اگر کسی وجہ سے زید کے بھیجے ہوئے پیسے بکر کو منتقل نہیں ہوتے تو سینٹرل بینک کے پاس شکایت جائے گی اور وہ اس پیسوں کے بھیجنے کے عمل کو شفاف بنائے گا، یعنی سینٹرل بینک کا کام ایک حکومتی ریگولیٹر اور صارف کو تحفظ فراہم کرنے والے کا ہوگا۔ 

قارئین! اسی تصویر نمبر:۲ کے تحت آپ یہ دیکھ سکتے ہیں کہ جب زید اپنے کمپیوٹر یا موبائل فون سے اپنے بینک اکاؤنٹ تک رسائی کرتا ہے تو اس کے کمپیوٹر یا موبائل فون میں ۱۰۰۰ روپے حسی طور پر موجود نہیں ہوتے، بلکہ زید اپنے بینک کے کھاتے تک رسائی کرتا ہے، جس کے اندر یہ لکھا ہوا ہے کہ زید کے پاس ۱۰۰۰ روپے موجود ہیں۔ زید کو اپنے اکاؤنٹ تک رسائی کے لیے ایک یوزر نیم (نام) user name اور پاس ورڈ(خفیہ کوڈ) password دیا جائے گا اور وہ خود بھی رکھ سکتا ہے۔ اب اس یوزرنیم اور پاس ورڈ کی مدد سے زید اپنے بینک اکاؤنٹ تک رسائی کرسکتا ہے۔ یہ رسائی موبائل فون کی ایپلیکیشن Mobile Phone Application کی مدد سے بھی ہوسکتی ہے، بینک کی ویب سائٹ website کے ذریعے سے بھی ہوسکتی ہے، اے ٹی ایم کارڈ ATM Card کی مدد سے اے ٹی ایم مشین ATM Machine سے بھی ہوسکتی ہے۔ اس کے ساتھ زید دنیا کے کسی کونے سے اپنے یوزر نیم اور پاس ورڈ کی مدد سے اپنے اکاؤنٹ تک رسائی حاصل کرسکتا ہے۔ غرض یہ یوزرنیم اور پاس ورڈ زید کو یہ گارنٹی دے گا کہ وہ بحفاظت اپنے اکاؤنٹ تک رسائی حاصل کرلے۔ زید کا یوزر نیم پبلک ہوسکتا ہے، یعنی کوئی بھی اس کو جان سکتا ہے، مگر زید کا پاس ورڈ خفیہ ہونا چاہیے اور صرف اسی کو معلوم ہونا چاہیے، اگر وہ کسی اور کو معلوم ہوگیا تو کوئی بھی اس کے اکاؤنٹ تک رسائی حاصل کرسکتا ہے۔ 

جب زید اپنے بینک سے درخواست کرتا ہے کہ بکر کو ۱۰۰۰ روپے بھیج دیئے جائیں تو زید کا بینک اپنے کھاتے کو اَپ ڈیٹ کرتا ہے اور اس کھاتے میں سے زید کے اکاؤنٹ میں سے ۱۰۰۰ روپے منہا کردیتا ہے۔ یہاں پر یہ ذہن میں رہے کہ جب زید نے اپنے موبائل فون یا کمپیوٹر سے اپنے اکاؤنٹ تک رسائی کی تو اُس نے ایک ٹرانزیکشن Transaction کی اور یہ ٹرانزیکشن ۱۰۰۰ روپے کی تھی اور اس ٹرانزیکشن کے اندر وہ اپنے بینک سے یہ کہہ رہا ہے کہ میرے اکاؤنٹ سے ۱۰۰۰ روپے نکال کر بکر (جس کا اکاؤنٹ نمبر زید نے اپنے بینک کو ٹرانزیکشن میں لکھ کر دیا ہے) کو دے دیئے جائیں۔ کمپیوٹر کی زبان میں ایک کمانڈ command زید کے موبائل فون یا کمپیوٹر نے بنائی ہے اور اسی کو ہم ٹرانزیکشن کہتے ہیں اور وہ زید کے مرکزی کمپیوٹر یعنی central server تک گئی، پھر زید کا بینک بکر کے بینک کو کہتا ہے کہ بکر کو ۱۰۰۰ روپے بھیجے گئے ہیں اور پھر بکر کا بینک اپنے کھاتے میں اندراج کرلیتا ہے کہ بکر کے پاس اب ۱۰۰۰ روپے ہیں۔ 

یہاں پر بھی جب بکر اپنے اکاؤنٹ تک رسائی کرے گا تو وہ اصل میں اپنے کھاتے تک رسائی کرے گا، ۱۰۰۰ روپے حسی طور پر اس کے کمپیوٹر یا موبائل فون میں موجود نہ ہوں گے۔ تو اصل میں اس سارے بینک کے نظام میں پیسوں کی منتقلی کھاتوں کے اندراج میں تبدیلی کے تحت ہورہی ہے اور ایسا قطعی طور پر نہیں ہورہا کہ ۱۰۰۰ روپے زید کے موبائل فون سے اُٹھ کر بکر کے موبائل فون میں جارہے ہیں۔ پھر لازمی بات ہے کہ دن کے آخر میں یا مہینے کے آخر میں تمام بینک باقاعدہ کاغذی نوٹوں کی منتقلی بھی کرتے ہوں۔ 

اب اس مثال کے ذریعے سے آپ سمجھ سکتے ہیں کہ زید اور بکر دونوں ہی بینک پر بھروسہ trust کرتے ہیں اور یہی وہ بھروسہ ہے کہ جس کی بنیاد پر ہم سارالین دین کرتےہیں۔ بلاک چین کے اندر ہم اس بینک کو -جسے ہم تھرڈ پارٹی Third party or intermediary یا ایک طرح سے ضامن بھی کہتے ہیں- ہٹا رہے ہیں اور اجتماعی بھروسہ اس کے بغیر پیدا کررہے ہیں۔


حواشی وحوالہ جات

[1] State Bank of Pakistan (SBP) Annual Report in Urdu, https//:www.sbp.org.pk/reports/annual /arFY21/Urdu/Complete.pdf 

]2] SBP Annual Report, https//:www.sbp.org.pk/reports/stat_reviews/Bulletin/2021 /Sep /Domestic%20 and %20 External%20Debt.pdf 

[3] BBC News on Pakistan’s debt, https//:www.bbc.com/urdu/pakistan-56122186 


[4] مفتی محمد نعیم میمن صاحب دامت برکاتہم، آسان احکامِ میراث، رحمانی پبلیکشنز، کراچی، پاکستان، سن ۲۰۲۲ء

[5] مولانا مفتی محمد شفیع صاحب رحمۃ اللہ علیہ، القول الماضی فی احکام الاراضی، اسلام کا نظامِ اراضی، عشر و خروج کے احکام اور فتوح الہند، دارالاشاعت، کراچی، پاکستان


]6]   وفاق المدارس العربیہ پاکستان http//:www.wifaqulmadaris.org/pages/introduction.php 


]7] S. Nakamoto, Bitcoin: A Peer-to-Peer Electronic Cash System, Dec. 2018, ]online[ Available: http//:bitcoin.org/bitcoin.pdf 

]8] F.Tschorsch and B. Scheuermann, "Bitcoin and Beyond: A Technical Survey on Decentralized Digital Currencies," in IEEE Communications Surveys & Tutorials, vol. 18, no. 3, pp. 2084-2123, thirdquarter 2016.

]9] M. S. Ali, M. Vecchio, M. Pincheira, K. Dolui, F. Antonelli and M. H. Rehmani, ‘‘Applications of Blockchains in the Internet of Things: A Comprehensive Survey,’’ in IEEE Communications Surveys & Tutorials, vol. 21, no. 2, pp. 1676-1717, Secondquarter 2019.





ڈیجیٹل کرنسی اور ون کوائن (Onecoin) کمپنی کا کاروبار!

علمائے کرام سے ایک اہم مسئلے کے بارے میں رہنمائی مطلوب ہے: آج کل انٹرنیٹ پر ڈیجیٹل کرنسی کی کئی کمپنیاں کام کررہی ہیں، بقول ان کے ایک ایسا دور آنے والا ہے یا آچکا ہے جب دنیا میں کاغذ کے نوٹ ختم ہو جائیںگے اور اس کی جگہ ڈیجیٹل کرنسی لے لے گی اور واقعی دنیا کے بڑے بڑے بینکوں نے اس کرنسی کو قبول بھی کرلیا ہے اور وہ رجسٹرڈ ہوچکی ہے۔ ان کمپنیوں میں ایک کمپنی ون کوائن (Onecoin) کے نام سے کام کررہی ہے جو اپنی ایک ڈیجیٹل کرنسی متعارف کروارہی ہے اور بہت سارے لوگ نفع کمانے کی غرض سے دھڑادھر اس کمپنی کے ممبر بنتے جارہے ہیں۔ اس کمپنی کا ماننا ہے کہ ڈیجیٹل کرنسی تبھی عام ہوگی جب لوگ اس کو استعمال کرنا شروع کردیںگے، اس لیے اس کمپنی نے لوگوں کی توجہ حاصل کرنے کے لیے اس میں سرمایہ کاری کرنے پر کئی منافع بخش طریقے فراہم کیے ہیں۔ پہلا طریقہ منافع حاصل کرنے کا پہلا طریقہ یہ ہے کہ جو اس کمپنی کی رکنیت حاصل کرنا چاہتا ہے تو اسے ۱۰۰ یورو سے لے کر ۲۸۰۰۰ یورو تک میں کوئی ایک پیکج حاصل کرنا ہوتا ہے۔ کمپنی ان پیکجز کو (ایجوکیشن یا تعلیمی پیکجز کا نام دیتی ہے) اس کے ساتھ ساتھ ان پیکجز کے بدلے کمپنی اس ممبر کو ٹوکن بھی دیتی ہے، ان ٹوکنوں کی تعداد پَر پیکج کے حساب سے الگ الگ ہے۔ پھر کچھ ٹوکن عرصہ تقریباً ۹۰ دن گزرنے کے بعد کمپنی ان ٹوکنوں کو دگنا کردیتی ہے۔ ٹوکن دگنا ہونے کے بعد ممبران کو اختیار حاصل ہوتا ہے کہ وہ ان ٹوکنوں کو ڈیجیٹل کوائنز(سکوں)میں تبدیل کروالیں جو کمپنی فری میں کرکے دیتی ہے۔ ڈیجیٹل کوائنز حاصل کرنے کے بعد ہرصارف کو اختیار ہوتا ہے کہ وہ ان کوائنز کو بیچ سکے۔ اس طرح صارف کو تقریباً دُگنا فائدہ حاصل ہوتا ہے، کیونکہ کوائنز اچھی قیمت میں بک جاتے ہیں۔ دوسرا طریقہ منافع حاصل کرنے کا دوسرا طریقہ ’’ Compensation plan‘‘ کا ہے جوکہ اختیاری ہے، لازمی نہیں، یعنی اگر کسی کو فائدہ حاصل کرنا ہو تو وہ اس طریقے کو اختیار کرے، ورنہ نہیں۔ پھر اس کی بھی تین صورتیں ہیں: پہلی صورت’’ Direct Sale‘‘ کی ہے، یعنی جو بندہ کمپنی کی رکنیت حاصل کرلے اور اس کے بعد کسی کو بھی کمپنی کے بارے میں بتائے اور وہ بندہ اس کے اکاؤنٹ کے تحت کمپنی کا ممبر بن جائے تو وہ نیا آنے والا ممبر جتنے پیسوں کی سرمایہ کاری کرتا ہے، اس کا دس فیصد (10%) کمپنی پہلے والے ممبر کو دیتی ہے جو اس کے آنے کا سبب بنا اور یہ ادائیگی ایک دفعہ ہوتی ہے۔  دوسری صورت ’’Network Bounus‘‘ (نیٹ ورک بونس) کی ہے، اس صورت میں کسی بھی ممبر کے تحت دائیں اور بائیں جانب جتنے بھی لوگ بالواسطہ یا بلاواسطہ ممبر بنتے ہیں، ان کی ہفتہ وار مجموعی سرمایہ کاری کا دس فیصد حصہ کمپنی اس پہلے درجے والے ممبر کو ادا کرتی ہے، جن کے نیچے ان کی رکنیت واقع ہوئی اور یہ ادائیگی کمپنی ہفتے میں ایک دفعہ کرتی ہے۔ تیسری صورت’’ Matching Bounus ‘‘ کی ہے۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ کوئی ممبر رکنیت حاصل کرنے کے بعد جن لوگوں کو ڈائریکٹ سپانسر کرکے کمپنی کا ممبر بنواتا ہے تو اس کو کمپنی کی اصطلاح میں ’’ First generation‘‘ (پہلی نسل) کہتے ہیں اور پہلی نسل یا درجے والے جن لوگوں کو ڈائریکٹ سپانسر کرکے کمپنی میں لاتے ہیں، وہ پہلے والے ممبر کی دوسری نسل کہلاتے ہیں۔ اسی طرح تیسری اور پھر چوتھی نسل تک سلسلہ ہوتا ہے۔ تو پہلی نسل یا درجے کے ممبر ہفتہ وار ’’Bounus‘‘ سے جتنا کماتے ہیں، اس کا دس فیصد پہلے والے ممبر کو ملتا ہے، اسی طرح دوسری، تیسری اور چوتھی نسل والوں کی ہفتہ وار کمائی کے حساب سے پہلے والے رکن کو ملتا رہتا ہے اور یہ ’’Matching Bounus‘‘ ہفتے میں ایک دفعہ اور چار نسلوں یا درجوں تک دس فیصد کے حساب سے ملتاہے، چار سے زیادہ نہیں۔ اس کے علاوہ کمپنی کبھی کبھار ڈیجیٹل کرنسی (Coins) کے حامل ممبران کے لیے ایک اور اضافی پیشکش بھی کرتی ہے کہ کمپنی میں ان کے جتنے بھی کوائنز موجود ہیں، مقررہ تاریخ کو وہ تعداد دُگنی ہو جائے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ کئی ایک قسم کے بونس اور ایوارڈ مختلف ممبران کو وقتاً فوقتاً ان کی کارکردگی کے حساب سے دیتی ہے۔ برائے مہربانی اس ساری تفصیل کی روشنی میں چند سوالات کے جوابات مرحمت فرمائیں: سوال نمبر۱: اس کمپنی میں منافع حاصل کرنے کا جو پہلا طریقہ مذکورہے، اس کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ سوال نمبر ۲: منافع حاصل کرنے کے دوسرے طریقے کی تین صورتیں ہیں، ہرہر صورت کا شرعی حکم کیا ہے؟ سوال نمبر ۳: تمام ممبران کے کوائنز کو کسی مقررہ تاریخ پر دگنا کرنے کی شرعی حیثیت کیاہے؟ سوال نمبر ۴: اہم سوال یہ ہے کہ اگر کوئی اس کمپنی میں صرف کوائنز حاصل کرنے کے لیے رکنیت حاصل کرلے اور ’’ Networking‘‘ کے ذریعے مزید لوگوں کو رکن نہ بنائے تو کیا شرعاً ایسا کرنا صحیح ہوگا؟ سوال نمبر۵: عمومی طور پر اس کمپنی میں سرمایہ کاری کرنا شریعتِ اسلامیہ کی نظر میں کیسا ہے؟ نوٹ:برطانیہ میں مقیم کافی علماء اور مفتیان کرام اس کمپنی کی رکنیت حاصل کرکے اس بزنس کو اختیار کرچکے ہیں اور ان کے پاس برطانیہ کے کسی مفتی صاحب کا فتویٰ بھی ہے، جس کے تحت وہ اس بزنس کو بالکل جائز کہہ رہے ہیں ۔

مستفتی:گلاب خان، کراچی


الجواب:

حامداً ومصلیاً واضح رہے کہ کسی بھی قدری (Valueable) چیز کے کرنسی بننے کے لیے ضروری ہے کہ اس مقامی حکومت اور اسٹیٹ کی جانب سے اس کرنسی کو سکہ اور ثمن تسلیم کرکے اس کو عام معاملات (لین دین) میں زرِمبادلہ کا درجہ دے دے دیا گیا ہو، ایسی کرنسی کو لوگ رغبت ومیلان کے ساتھ قبول کرنے کے لیے آمادہ بھی بن جائیں اور اُسے رواجِ عام مل جائے۔ ۱:… مذکورہ ڈیجیٹل کرنسی نہ تو کسی حکومت کی طرف سے تسلیم شدہ کرنسی (ثمن) ہے اور نہ ہی تمام لوگوں میں اس کا رواج ہے، لہٰذا اس کی ثمنیت قابلِ اعتبار نہیں ہے اور محض چند ٹوکن جن کی کوئی واقعی مالی حیثیت نہیں ہے، ا س کی قیمت ۱۰۰ یورو سے ۲۸۰۰۰ تک مقرر کرنا درست نہیں ہے۔ نیز اگر مجوزہ ڈیجیٹل کرنسی کو بالفرض قانونی واصطلاحی کرنسی تسلیم کرلیا جائے تو ڈیجیٹل کرنسی کا مبادلاتی عمل (لین دین) شرعی لحاظ سے بیع صرف (نقدی کا لین دین) کہلائے گا، جبکہ نقدی کا آپس میں تبادلہ کرتے وقت ایک ہی مجلس میں قبضہ ضروری ہے، جبکہ مذکورہ کمپنی ٹوکن دینے کے ۹۰ دن بعد ان ٹوکنوں کو دگنا کرکے ڈیجیٹل کوائنز (سکوں) میں تبدیل کرکے دیتی ہے تو یہ بھی بیع صرف میں اُدھار کی ایک صورت ہونے کی وجہ سے ناجائز ہی ہے ، لہٰذا سوال میں مذکور منافع کا پہلا طریقہ بھی ناجائز ہے۔فتاویٰ شامی میں ہے:

’’والمالیۃ تثبت بتمول الناس کافۃً أو بعضہم والتقوم یثبت بہا وبإباحۃ الانتفاع بہٖ شرعاً۔‘‘

(ج:۴،ص:۵۰۱،ط:ایچ ایم سعید)

وفیہ ایضاً: ’’ہو مبادلۃ شئ مرغوبٍ فیہ بمثلہٖ علی وجہٍ مفیدٍ مخصوصٍ۔‘‘

(ج:۴،ص:۵۰۶،ط:ایچ ایم سعید)

بدائع الصنائع میں ہے:

’’وأما الشرائط (فمنہا) قبض البدلین قبل الافتراق لقولہٖ علیہ الصلاۃ والسلام فی الحدیث المشہور والذہب بالذہب مثلاً بمثل یداً بید والفضۃ بالفضۃ مثلاً بمثل یداً بید، الحدیث۔‘‘

(فصل فی شرائط الصرف،ج:۵،ص:۲۱۵)


۲…مذکورہ کمپنی کے منافع حاصل کرنے کا دوسرا طریقہ جس کی تین صورتیں ہیں، یہ تینوں صورتیں دراصل کمیشن کے تحت آتی ہیں اور کمیشن کی اسلامی قانونِ تجارت اور تبادلہ میں مستقل تجارتی حیثیت نہیں ہے، اس لیے کہ جسمانی محنت (جو کہ تجارت کا ایک اہم جزء ہے) کے غالب عنصر سے خالی ہونے کی بنا پر فقہاء کرام نے اصولاً اس کو ناجائز قرار دیا ہے، لیکن لوگوں کی ضرورت اور تعامل کی وجہ سے ا س کی محدود اور مشروط اجازت دی ہے، بظاہر مذکورہ کمپنی کا مقصد زیادہ سے زیادہ لوگوں کا سرمایہ اپنے کاروبار میں لگا کر اور ممبردر ممبر سازی کرکے زیادہ سے زیادہ رقم حاصل کرنا اور اس حاصل ہونے والی رقم سے لوگوں کو کمیشن فراہم کرنا ہے، لہٰذا اس کمپنی سے معاملہ کرنا اور اس میں سرمایہ کاری کرکے منافع حاصل کرنا جائز نہیں ہے، چونکہ اس کمپنی کے کوائنز اور ٹوکن خریدنا جائز نہیں ہے، اسی طرح اس کمپنی کے ممبر بن کرمذکورہ تینوں صورتوں ’’Direct Sale‘‘ ، ’’ Network Bounus ‘‘ اور ’’Matching Bounus‘‘ کے ذریعے کمیشن حاصل کرنا بھی درست نہیں ہے۔ فتاویٰ شامی میں ہے:

’’والربح إنما یستحق بالمال أو بالعمل أو بالضمان۔‘‘

(فتاویٰ شامی، کتاب المضاربۃ،ج:۵،ص:۶۴۶،ط:ایچ ایم سعید)

وفیہ ایضاً: ’’سئل عن محمد بن سلمۃ عن أجرۃ السمسار: فقال: أرجو أنہ لابأس بہ وإن کان فی الأصل فاسداً لکثرۃ التعامل وکثیرمن ہذا غیر جائزۃ فجوزوہ لحاجۃ الناس إلیہ۔‘‘

(فتاویٰ شامی ،مطلب فی أجرۃ الدلال،ج:۶،ص:۶۳،ط:ایچ ایم سعید)

الأشباہ والنظائر میں ہے:

’’ما أبیح للضرورۃ یقدر بقدرہا۔‘‘ (الأشباہ والنظائر ،القاعدۃ الخامسۃ: الضرر یزال،ص:۸۷، قدیمی) وفیہ ایضاً: ’’وصرح بہ فی فتاویٰ قاری الہدایۃ ثم قال والعقد إذا فسد فی بعضہ فسد فی جمیعہٖ۔‘‘

(الأشباہ والنظائر ،القاعدۃ الثانیۃ،ص:۱۱۷، قدیمی)


۳… مذکورہ کمپنی کے کوائنز (سکوں) کا حصول اور ان کی خرید وفروخت چونکہ ناجائز ہے، اسی طرح ان کوائنز کو دگنا کرکے بیچنا بھی ناجائز ہے۔البنایۃ شرح الہدایۃ میں ہے: ’’إن فساد العقد فی البعض إنما یؤثر فی الباقی إذا کان المفسد مقارناً۔‘‘

(البنایۃ شرح الہدایۃ ،ج:۸،ص:۱۷۷)

نیز ان کوائنز (سکوں) کی زیادتی بلاعوض ایک عقد میں لازم ہونے کی وجہ سے بھی جائز نہیں ہے۔ فتاویٰ شامی میں ہے:

’’باب الربا ہو لغۃً مطلق الزیادۃ وشرعاً (فضل) ولو حکماً فدخل ربا النسیئۃ والبیوع الفاسدۃ فکلہا من الربا فیجب رد عین الربا ولو قائمًا لارد ضمانہٖ لأنہٗ یملک بالقبض قنیۃ وبحر (خال عن عوض) … مشروط ذٰلک الفضل لأحد العاقدین۔‘‘

(فتاویٰ شامی ،ج:۵،ص:۱۶۸،۱۶۹،ط:ایچ ایم سعید)


۴،۵…مذکورہ کمپنی کا ٹوکن اور کوائنز کا لین دین کرنا چونکہ ناجائز ہے، اس لیے اگر کوئی اس کمپنی میں صرف کوائنز حاصل کرنے کے لیے رکنیت حاصل کرے اور نیٹ ورکنگ (Networking) کے ذریعے اگرچہ ممبر سازی نہ کرے، تب بھی ان کوائنز کو خریدنا جائز نہیں ہے۔  نیز اس طرح کی مشکوک کمپنی کے کارو بار میں سرمایہ کاری کرنا بھی درست نہیں ہے، اس لیے کہ شریعتِ اسلامی میں کاروبار اور لین دین کا مدار معاملات کی صفائی اور دیانت وامانت پر ہے اور فرضی چیزوں کے بجائے اصلی اور حقیقی چیزوں کی خرید وفروخت اور حقیقی محنت پر زور دیتی ہے اور استفتاء کے ساتھ منسلکہ فتویٰ سے یہ بھی بات واضح ہوتی ہے کہ ’’One Coin ‘‘ (ون کوائن) کمپنی کے معاملات صاف اور واضح نہیں ہیں، لہٰذا ان سے اجتناب کرنا ضروری ہے، کیونکہ یہ بظاہر دوسروں کا مال، غیر واضح، مبہم اور ناجائز طریقے سے ہتھیانے کے مترادف ہے، جسے شرعی اصطلاح میں ’’اکل باطل‘‘کہتے ہیں۔ تفسیر کبیر میں ہے: ’’قال بعضہم: اللّٰہ تعالٰی إنما حرم الربا حیث أنہ یمنع الناس عن الاشتغال بالمکاسب… فلایکاد یتحمل مشقۃ الکسب والتجارۃ والصناعات الشاقۃ۔‘‘

(التفسیر الکبیر للرازی، سورۃ البقرۃ،ج:۷،ص:۹۱، ایران)

’’ بعض علماء فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ نے اس لیے سود کو حرام قراردیا ہے کہ یہ لوگوں کو اسباب معاش اختیار کرنے سے روکتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ لہٰذا لوگ کمائی، تجارت اور سخت محنتوں کے بوجھ برداشت کرنے سے کتراتے ہیں۔‘‘ احکام القرآن میں ہے: ’’نہٰی لکل أحد عن أکل مال نفسہ ومال غیرہٖ بالباطل وأکل مال نفسہٖ بالباطل إنفاقہٗ فی معاصی اللّٰہ وأکل مال الغیر بالباطل قد قیل: فیہ وجہان: أحدہما ما قال السدی وہو أن یاکل بالربا والقمار والبخس والظلم وقال ابن عباسؓ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ والحسن رحمہ اللّٰہ تعالٰی أن یأکلہٗ بغیر عوض۔‘‘

(احکام القرآن ،ج:۲،ص:۲۱۶، دار الکتب العلمیہ، بیروت)


’’ہر ایک کو اپنا مال اور دوسروں کا مال ناحق طور پر کھانے سے منع کیا گیا ہے۔ اپنے مال کو ناحق طور پر کھانا یہ ہے کہ اس کو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں خرچ کیا جائے اور دوسرے کے مال کو ناحق طور پر کھانے کے متعلق آیا ہے اس کی دو صورتیں ہیں: پہلی صورت: سدیؒ فرماتے ہیں : اس کو سود، جوا، کمی(ناپ تول میں) اور ظلم کے ذریعہ کھائے۔ حضرت ابن عباسؓ اور حسنؒ فرماتے ہیں کہ: اس کو بغیر عوض کے کھائے(سودی معاملہ کرے)۔‘‘

الجواب صحیح

کتبہٗ   ابوبکرسعید الرحمن         محمد شفیق عارف         رفیق احمد بالاکوٹی          محمد طیب حیدری

تخصصِ فقہِ اسلامی

جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی ۔۔۔۔۔ژ۔۔۔۔۔ژ۔۔۔۔۔ژ۔۔۔۔۔


 




 کرپٹو کرنسی، این ایف ٹی، اور بلاک چین 

تعارف، مغالطے، شرعی نقطۂ نظراور ہماری ذمہ داری

(پہلی قسط)

 


   کرپٹو کرنسی کا موضوع پچھلے ایک عرصہ سے اہلِ علم کے زیربحث ہے، تقریباً تمام اہلِ علم اس بات پر متفق ہیں کہ کرپٹو کرنسی کا کاروبار محض ہندسوں کا گورکھ دھندہ ہے۔ قماربازی کی خطرناک نئی شکل ہے۔ کرپٹو کرنسی فقہی اور قانونی لحاظ سے کسی طور پر بھی کرنسی کے درجہ میں شمار نہیں کی جاسکتی۔ کرپٹو کرنسی کا فرضی تخیُّلاتی کاروبار معاشرے میں معاشی اَبتری اور مفروضوں پر مبنی کاروبار کے فروغ کا ایک ناجائز حربہ ہے۔ اہلِ علم کی اس رائے کے سامنے دھندے سے وابستہ افراد یہ چقمہ دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ ناجائز کہنے والے علماء کرام درحقیقت کمپیوٹر کی ان مہارتوں سے دور ہیں، جو اس سسٹم کو سمجھنے کے لیے درکار ہیں۔ ان کے اسی بے تکے اشکال یا دھوکے سے آگاہ کرنے کے لیے کمپیوٹر سائنس کے ایک ماہر صاحبِ علم کی فنی تحقیق نذرِ قارئین کی جارہی ہے، تاکہ ان قماربازوں کا یہ دھوکہ یا واہمہ بھی وا ہوسکے۔ اس مضمون کا فنی اور تعارفی پہلو اس موضوع پر تحقیق کرنے والے اہلِ علم وصاحبانِ تحقیق کے لیے اچھی افادیت کا حامل ہے۔ 

    محترم مضمون نگار صاحب ڈاکٹر مبشر حسین رحمانی منسٹر ٹیکنالوجیکل یونیورسٹی (MTU) آئرلینڈکے کمپیوٹر سائنس ڈیپارٹمنٹ میں لیکچرار ہیں اور پچھلے کئی سالوں سے بلاک چین کے موضوع پر تدریس و تحقیق انجام دے رہے ہیں۔ انہوں نے ۲۰۱۱ء میں یونیورسٹی آف پیرسVI، فرانس سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ انہوں نے آٹھ کتابیں لکھی ہیں جن میں سے دو کتابیں بلاک چین ٹیکنالوجی سے متعلق ہیں، جس میں سے ایک کتاب کو باقاعدہ ٹیکسٹ بک کے طور پر آئرلینڈ میں ماسٹرز کے نصاب کا حصہ بنایا گیا ہے۔ بلاک چین کے موضوع پر اُن کے دسیوں تحقیقی مقالے دنیا کے بہترین تحقیقی جرائد کے اندر شائع ہوچکے ہیں۔ نیز ایک طالب علم نےبلاک چین کے موضوع پر اُن کی سُپرویژن میں پی ایچ ڈی آسٹریلیا سے مکمل کی ہے اور دوسرے کی پی ایچ ڈی اختتامی مراحل میں ہے۔ وہ کئی بہترین تحقیقی مقالوں کے ایوارڈز وصول کرچکے ہیں۔ اُن کو کمپیوٹر سائنس کے شعبےمیں اُن کی تحقیق کی بنیاد پرسن ۲۰۲۰ ء اور ۲۰۲۱ء میں دنیا کے ایک فیصد بہترین سائنسدانوں کی فہرست میں شامل کیا گیا۔    (ادارہ بینات)


پچھلے کئی سالوں سے ہمارے پیارے وطن پاکستان میں سوشل میڈیا، پرنٹ میڈیا اور براڈکاسٹ میڈیا میں کچھ اس طرح کی باتیں سننے اورپڑھنےکو مل رہی ہیں: 

’’کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ آپ ایک لاکھ روپے کی سرمایہ کاری کریں اور چھ سے آٹھ ماہ میں جو منافع حاصل کریں، وہ تقریباً چالیس ہزار روپے ہو؟ یعنی شرحِ منافع ۴۰ فیصد ہو، آپ کے پیسے ایک لاکھ سے ایک لاکھ چالیس ہزار روپے ہوجائیں، کچھ محنت بھی نہ کرنی پڑے اور محض موبائل یا کمپیوٹر کی چند کلک کرنے پر اتنا زیادہ منافع حاصل ہوجائے؟ جی ہاں اب یہ ممکن ہے!!! ابھی کرپٹو کرنسی (بٹ کوائن، ایتھر، لائٹ کوائن وغیرہ) اور این ایف ٹی میں سرمایہ کاری کریں اور اس عظیم الشان منافع کمانے کے موقع سے فائدہ اٹھائیں۔ ‘‘

’’ اگر حکومتِ پاکستان کرپٹوکرنسی کے ذریعے عالمی مارکیٹ میں سرمایہ کاری کرے تو محض کچھ عرصے میں حکومتِ پاکستان اپنے تمام قرضوں کو معاف کرواسکتی ہے، بلکہ آئندہ پیدا ہونے والا ہر پاکستانی بچہ مقروض ہونے کے بجائے دوسرے عالمی ترقی پذیر ممالک کو قرضہ فراہم کرنے والا ملک بن جائے گا اور پاکستان میں خوشحالی کی چشمے اُبل جائیں گے۔ ‘‘

ہماری رائے میں یہ وہ زہر کی میٹھی گولی ہے، جو کہ پاکستانی عوام کو دی جارہی ہے اور یہ اس حد تک پاکستانی نوجوانوں میں مقبول ہے کہ ہر تیسرا نوجوان اسی فکر میں ہے کہ وہ اس کے ذریعے سے منافع کمائے۔ اسی پر اکتفا نہیں بلکہ کچھ دینی حُلیے والے اشخاص جو کہ اپنے آپ کو دینی حلقے سے جوڑتے ہیں اور علمائے کرام سے اپنا تعلق جتاتے ہوئے نظر آتے ہیں، اس بات کی بھرپور ترغیب دے رہے ہیں کہ یہ سرمایہ کاری نہ صرف یہ کہ جائز ہے، بلکہ اگر ہم نے بحیثیتِ قوم اس وقت اس عظیم موقع سے فائدہ نہیں اٹھایا تو ہم صدیوں پیچھے رہ جائیں گے، جیسا کہ آج ہم عالمی معاشی نظام میں پیچھے ہیں۔ وہ یہ دعویٰ کررہے ہیں کہ آج جو ہماری عالمی معاشی نظام میں حالت ہے، وہ ان علمائے کرام کی وجہ سے ہے جنہوں نے ایک صدی پہلے پیپر کرنسی (کاغذی نوٹ) اور بینک کے عالمی نظام کی مخالفت کی اور اُس کو بروقت نہ اپنانے دیا اور آج ہم نے اُن کی اس بات کے ماننےکا انجام دیکھ لیا۔ یہی کچھ لوگ اپنے آپ کو کرپٹو کرنسی، بلاک چین اور کمپیوٹر سائنس کا ماہر گردانتے ہیں اور علمائے کرام کو یہ باور کرانے کی کوشش کرتے ہیں کہ چونکہ وہ کرپٹو کرنسی، بلاک چین اور کمپیوٹر سائنس کے ماہر ہیں اور وہ یہ کہہ رہے ہیں کہ یہ سارا کرپٹوکرنسی وغیرہ کا نظام صحیح ہے، لہٰذا مفتیانِ کرام ان ماہر لوگوں کی رائے کو مدِ نظر رکھتے ہوئے کرپٹو کرنسی کے جائز ہونے کا فیصلہ صادر فرمادیں۔ ہمارے مشاہدے میں یہ بات بھی آئی ہے کہ کچھ مفتیانِ کرام جو کہ سوشل میڈیا میں فعال اور مشہور ہیں، ان خود ساختہ کمپیوٹر ماہرین کی رائے کی بنیاد پر اور اس بات پر کہ ان ماہر لوگوں کا دینی حلیہ اور ذہن بھی ہے، وہ کرپٹو کرنسی کے جوازکا نہ صرف یہ کہ فتویٰ دے رہے ہیں، بلکہ اب انہوں نے لوگوں کوباقاعدہ کرپٹو کرنسی میں سرمایہ کاری کی ترغیب بھی دینی شروع کردی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ کرپٹو کرنسی، بلاک چین اور کمپیوٹر سائنس کے کچھ ماہر حضرات عوام الناس پر یہ بات بھی باور کرانے کی کوشش کررہے ہیں کہ جو دارالافتاء اور مفتیانِ کرام کرپٹو کرنسی کے جائز ہونےکے بارے میں تردُّد کا شکار ہیں، اس کی وجہ یہ ہے کہ کرپٹو کرنسی کی اصل حقیقت ان مفتیانِ کرام پر عیاں نہیں ہے، اور اپنے تئیں کہہ رہے ہیں کہ ان علمائے کرام اور مفتیانِ کرام کو کمپیوٹر سائنس کے ماہرین نے کرپٹوکرنسی کی اصل حقیقت نہیں بتائی اور اب چونکہ ہم ماہر ہیں اور آپ کو اصل حقیقت سے آگاہ کررہے ہیں، لہٰذا آپ کرپٹوکرنسی کی حلت اور جواز پر فیصلہ صادر فرمادیں۔ 


اسکل بیسڈ اکانومی، پاکستان کی سائنس و ٹیکنالوجی میں پائیدار ترقی اور کرپٹوکرنسی

اسی کو تھوڑا بڑے تناظر میں دیکھتے ہیں۔ پاکستان پر اس وقت مجموعی طور پر اربوں ڈالر کا قرضہ ہے۔ [1, 2, 3] اس قرضے سے نجات حاصل کرنے کے لیے براڈکاسٹ میڈیا میں کچھ لوگ باقاعدہ ایک منظم طریقے سے دعوت دے رہے ہیں کہ حکومت معاشی باگ ڈور ان لوگوں کے حوالے کرے اور وہ کرپٹو کرنسی میں سرمایہ کاری کرکے پاکستان کو اس قرضے سے نجات دلائیں گے، نیز وہ عوام کو بھی کرپٹوکرنسی میں سرمایہ کاری کی ترغیب دے رہے ہیں، اور بہت سارے یوٹیوبرز اس کو باقاعدہ ایک ہنر یعنی اسکل skill کے طور پر متعارف کروارہے ہیں کہ نوجوان نسل اس کرپٹو کرنسی اور این ایف ٹی ٹیکنالوجی کو سیکھے اور پیسے کمائے۔ نیز حکومت بھی اس میں کچھ پیچھے نہیں اور وہ ایسے سوشل میڈیا پر متحرک لوگوں کو نہ صرف یہ کہ ایوارڈ سے نواز رہی ہے، بلکہ اُن کی ان کاوشوں کو سراہ رہی ہے، ہنر یعنی اسکلز سیکھنے کے لبادے میں اس کو اسکلز بیسڈ اکانومی یعنی ہنر پر مبنی معیشت skills based economy کا نام دیا جارہا ہے اور یہ باور کرایا جارہا ہے کہ اس سے ہمارے ملک کی قسمت بدل جائے گی۔ جب ہم یورپ اور امریکہ میں دیکھتے ہیں تو وہاں بھی یہی صورتِ حال ہے، کچھ لوگ وہاں کےسادہ عوام کو بھی اس کرپٹو کرنسی میں سرمایہ کاری کی ترغیب دے رہے ہیں اور نتیجتاً لوگ جوق در جوق اپنا سرمایہ کرپٹوکرنسی میں لگا رہے ہیں۔ راقم یہ سمجھتا ہے کہ پاکستان اگر عالمی طور پر سائنس اور ٹیکنالوجی میں دیرپا ترقی sustainable scientific development کرنا چاہتا ہے تو ہمیں سائنس اور ٹیکنالوجی کی خدمت کرنی ہوگی، نہ کہ چندہنر یعنی اسکلز عوام کو سکھا کر وقتی طور پر نفع حاصل کرلیا جائے، جیسا کہ کرپٹو کرنسی کے معاملے میں کیا جارہا ہے۔ آپ کو اگر نئی ٹیکنالوجی پر کام کرنا ہے اور سائنس میں پاکستان اور مسلمانوں کا نام روشن کرنا ہے تو مغرب کی اندھی تقلید کرتے ہوئے بس اُن کی ٹیکنالوجی کومِن و عن اختیار کرنے اور صرف استعمال کرنے کے بجائےایسے عالمی معیار کے محققین اور سائنسدانوں کی ایک کھیپ تیار کیجئے جو کہ عالمی سطح کی تحقیق کرکےایسے متبادل حل اُمت کو دیں جو کہ شریعت کے اصولوں کے مدِ نظر رکھتے ہوئے بنائے گئے ہوں۔ ہمیں اپنے آپ سے یہ سوال پوچھناچاہیے کہ کیوں پاکستان کی سائنس اور ٹیکنالوجی کی یونیورسٹیوں میں صرف مغرب کی سائنسی تحقیق اور ٹیکنالوجی کو پڑھایا جاتا ہے؟ اور تحقیق، جستجو، تنقیدی سوچ اور سائنسی دنیا میں کچھ نیا کرنے کا فقدان ہے؟ اور کیوں اگر کچھ سائنسدان اعلیٰ معیار کی تحقیق کرنا بھی چاہیں تو ان کی ہر طرح سے حوصلہ شکنی کی جاتی ہے؟


حلال کمانے اور خرچ کرنے کی اہمیت اور اسلاف کا طرزِ عمل

علمائے کرام سے ہم یہ سنتے رہتے ہیں کہ مال کماؤ تو حلال کماؤ اور خرچ کرو تو جائز مصارف میں خرچ کرو۔ ہم اسلاف کے واقعات پڑھتے رہتے ہیں کہ وہ مال کمانے میں تقویٰ اختیار کرتے تھے، اور مشتبہ مال سے بھی اجتناب برتتے تھے۔ حضرت ابوبکر صدیق  رضی اللہ عنہ  کا واقعہ شیخ الحدیث  رحمۃ اللہ علیہ  نے فضائلِ اعمال میں لکھا ہے کہ کس طریقے سے انہوں نے حلق میں اُنگلی ڈال کر قے کردی کہ کہیں مشتبہ مال ان کے جسم کا حصہ نہ بن جائے۔ ہماری درخواست خاص طور پر نوجوانوں سے یہ ہے کہ صرف مادی چیزوں میں نہ اُلجھ جائیں اور صرف پیسہ کمانا ہی ہمارا مقصد نہ ہو، بلکہ ہم اپنی نیت درست کریں، ملک و ملت و دین کی خدمت کی نیت کریں اور پھر جائز طریقے سے جتنا چاہیں پیسہ کمائیں۔ جائز طریقوں سے کمائی کرنا کوئی منع نہیں ہے۔ 


کیا اگلا عالمی معاشی نظام کرپٹو کرنسی کی بنیاد پر ہوگا؟

بہت ہی مخلص انداز میں بعض لوگ اس بات کی ترویج و اشاعت کررہے ہیں کہ:

’’اگر ہم ابھی بھی حرکت میں نہیں آئیں گے اور کرپٹوکرنسی میں سرمایہ کاری نہیں کریں گے اور اس کو اختیار نہیں کریں گے تو عالمی معاشی نظام ہمارے ہاتھ سے نکل جائے گا۔‘‘

 ان لوگوں کا مطمحِ نظر یہ ہے کہ وہ علمائے کرام کو دلیل سے قائل کرلیں کہ آپ علمائے کرام اس کرپٹو کرنسی کو جائز قرار دے دیں، کیونکہ اگلی معاشی صف بندی میں کرپٹو کرنسی کو بنیادی اہمیت حاصل ہوگی۔ اس دلیل کو اور مضبوط کرنے کے لیے یہ حضرات یہ بات کہہ رہے ہیں کہ اب سے تقریباً سو سال پہلے مولانا شمس الحق افغانی  رحمۃ اللہ علیہ  نے پیپر کرنسی کے بارے میں کہا تھا کہ یہ رائج ہو کر رہے گی اور آج ہم نے دیکھ لیا کہ وہ رائج ہے۔ وہ یہ دلیل دیتے ہیں کہ جب وقت تبدیل ہوتا ہے تو بڑے بڑے مسائل آتے ہیں۔ دیکھیں! ٹی وی آگیا، کیا ہم اس کو روک پائے؟ وہ یہ کہتے ہیں کہ فتویٰ چلتا نہیں اور چیز اپنے قدم جمالیتی ہے۔ اور وہ یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ یہ کرپٹو کرنسی بھی رائج ہو کر رہے گی اور اگلا معاشی نظام کرپٹو کرنسی کی بنیاد پر ہوگا۔ اگر اس میں بعض سودی مسائل پیش آتے ہیں تو ہمیں اس کا حل نکالنا چاہیے۔ اب چونکہ مسلمانوں کی طرف سے حل نکالنے میں بہت دیر ہوچکی ہے، لہٰذا اُن حضرات کی رائے میں کرپٹوکرنسی کا استعمال جائز ہے۔ قارئین ملاحظہ کرسکتے ہیں کہ کرپٹو کرنسی، این ایف ٹی اور اس سے متعلقہ چیزوں کے بارے میں کس طرح سے معاشرے میں تشکیک پیدا ہو گئی ہے، لہٰذا اس مضمون میں پہلے ہم کرپٹو اثاثوں (کرپٹو کرنسی، ورچول کرنسی، این ایف ٹی، ٹوکن، ڈی سینٹرلائژڈ فنانس اور اس سے متعلقہ پروڈکٹس اور سروسز) سے متعلق بنیادی معلومات فراہم کریں گے، کچھ مغالطوں کے جوابات پیش کریں گے اور پھر ہم آپ کے سامنے چند گزارشات رکھیں گے، تاکہ کرپٹو اثاثوں کی حقیقت واضح ہوجائے۔ 


اثاثے، ان کی ملکیت اور ان کا ریکارڈ

انسان کے اثاثے (assets) رکھنےکی تاریخ بہت پرانی ہے۔ ان اثاثوں میں سواری، زیورات، درہم، دینار، کرنسی، سونا، زرعی اراضی، گھر، اس کے زیر استعمال چیزیں اور دیگر اجناس شامل ہیں۔ اثاثے دو قسم کے ہوتے ہیں، ایک وہ جو کہ فن جیبل fungible ہوں اور دوسرے وہ جو کہ نون فن جیبل Non-fungible ہوں۔ فن جیبل اثاثے وہ ہوتے ہیں جو کہ ایک جیسے ہوتے ہیں اور اگر ان اثاثوں کی مقدار اور قسم ایک جیسی ہو توآپس میں ان کا ردوبدل یا ایکسچینج آسانی سے ہوجاتا ہے، مثلاً معدنیات، دھاتیں (سونا، چاندی) اور کرنسی فن جیبل اثاثوں کے طور پر دیکھی جاتی ہیں۔ اثاثےجیسے کہ رئیل اسٹیٹ (گھر، جائیداد وغیرہ)، ہیرا (ڈائمنڈ) یہ نون فن جیبل اثاثے شمار ہوتے ہیں۔ ان اثاثوں میں ہر ایک اثاثہ ایک خاص انفرادی حیثیت رکھتا ہے اور اس کی قدر (ویلیو) اس کے ساتھ خاص طور پر مخصوص ہوتی ہے، مثلاً ایک ہیرا ایک خاص تراش کا ہوگا اور یہ کسی دوسرے ہیرے کے ساتھ تبدیل نہیں ہوسکتا، کیونکہ ہر ہیرا اپنی صفت میں ممتاز ہوتا ہے، اسی طرح سے اثاثے ڈیجیٹل بھی ہوسکتے ہیں، مثلاً ویڈیو، آڈیو، تصویرjpeg image، ڈاکومنٹ یا کرپٹوکرنسی اور یہ ڈیجیٹل اثاثے Intangible ہوتے ہیں، یعنی جو کہ Not physically present حسی طور پر موجود نہیں ہوتے۔ 

یہ اثاثے کسی ایک شخص کی ملکیت بھی ہوسکتےہیں اور ان کو کئی اشخاص شراکت میں بھی رکھ سکتے ہیں۔ نیز یہ اثاثے کسی کمپنی یا حکومتی ادارے کی ملکیت بھی ہوسکتے ہیں۔ زندگی میں ایسے کئی مواقع آتے ہیں جب ان اثاثوں کی ملکیت تبدیل ہوتی ہے ۔ نیز ان اثاثوں کو خریدا اور بیچا بھی جاتا ہے، مگر اس کے لیے سب سے پہلے ان اثاثوں کی ملکیت کا تعین ہونا ضروری ہوتا ہے۔ اسی کے ساتھ ساتھ جب کسی شخص کا انتقال ہوتا ہے تو علمِ وراثت (علم الفرائض) کے قانون کے تحت مرنے والے کے اثاثوں کو اس کے وارثین میں منتقل کردیا جاتا ہے[4]۔ اس کے ساتھ ساتھ بیع و شراکت کے لیے بھی ان اثاثوں کو منتقل کیا جاتا ہے۔ خلاصۂ کلام یہ ہوا کہ اثاثوں کا باقاعدہ ایک ریکارڈ رکھا جاتا ہے، تاکہ اثاثوں کی خرید وفروخت ہوسکے، اثاثوں کی ملکیت کا تعین ہوسکے اور اسی کو کھاتہ (ledger) کہا جاتا ہے۔ 

صدیوں سے ان کھاتوں کو رجسٹرز پر، کاغذی کاپیوں پر محفوظ کیا جاتا رہا ہے اور رجسٹری جیسے محکمے کا باقاعدہ وجود ہوا ہے۔ پاکستان میں پٹواری کا باقاعدہ پورا نظام موجود تھا اور ابھی بھی کافی حد تک موجود ہے، جو کہ زرعی اراضی اور اجناس وغیرہ جیسے کھاتوں کے نظام کو سنبھالتا ہے۔ اسلام کے اندر بھی باقاعدہ طور پر اراضی سے متعلق احکامات موجود ہیں اور فقہاء کرام نے اس کے تفصیلی احکامات بیان فرمائے ہیں۔ نیز اراضی سےمتعلق ریکارڈ مرتب کرنا اس لیے بھی ضروری ہے، تاکہ اس سے متعلق شرعی احکامات مثلاً عشر و خراج، اراضی اوقاف پر عمل ہوسکے۔[5] اس کے علاوہ پلاننگ کمیشن آف پاکستان بھی مختلف نوع کے اعداد و شمار (ڈیٹا) کو اکٹھا اور محفوظ کرتا ہے، تاکہ حکومتی پالیسی کا اجرا میں معاون کا کردار ادا کرسکے۔ اس کے علاوہ پاکستان بیورو آف اسٹیٹ اسٹکس (شماریات) پورے پاکستان سے مردم شماری، قیمتوں کے اعداد و شمار اور اُن کا چڑھاؤ کے ساتھ ساتھ اقتصاد، اور تجارت سے متعلق اعداد و شمار کو اکھٹا اور محفوظ کرتا ہے۔ 

کھاتے مختلف اقسام کے ہو سکتے ہیں، مثلاً ٹرانزیکشن لیجر Transaction Ledger، بیلنس لیجر Balance Ledger، عمومی لیجر General Ledger، سب لیجر Sub Ledger، سنگل Single Ledger یا ڈبل لیجرDouble Ledger۔ لیجر (کھاتا) کسی بھی معاشی نظام کے دل کی طرح ہوتا ہے۔ کھاتوں کے اندر اخراجات، آمدنی، ملازموں کی تنخواہوں وغیرہ کو ریکارڈ (محفوظ) کیا جاتا ہے۔ ان مختلف اقسام کے کھاتوں کو ملاکر ایک بڑا کھاتہ بھی بنایا جاسکتا ہے اور اسی کو عمومی لیجر General Ledger کہا جاتا ہے۔ ٹرانزیکشن لیجر Transaction Ledger کے اندر معاملات، سودا یا لین دین کا کھاتہ رکھا جاتا ہے، جبکہ بیلنس لیجر Balance Ledger کے اندر دن کے آخر میں جمع اور نکالے گئے پیسوں کا اندراج ہوتا ہے۔ لیجر (کھاتوں) کی زبان میں اگر بات کی جائے تو بٹ کوائن ایک ٹرانزیکشن لیجر ہے، جبکہ ایتھریم ایک بیلنس لیجر ہے۔ 

کمپیوٹر کی ایجاد نے جہاں اور بہت ساری سہولیات فراہم کیں، وہیں پچھلی کچھ دہائیوں سے ان کھاتوں کو کمپیوٹر پر محفوظ کیا جانے لگا۔ اس کے لیے شروع میں مختلف سافٹ وئیرز -جنہیں word processing software spread sheets  کہا جاتا ہے- کا استعمال ہونے لگا، مثلاً مائیکروسافٹ ورڈ MS Word یا مائیکرو سافٹ ایکسل MS Excel ۔ مگر ان میں مسائل یہ تھے کہ ڈیٹا یعنی اعداد وشمار کو باآسانی تبدیل کیا جاسکتا تھا، پھر بعد میں خصوصی سافٹ وئیر تیار کیے جانے لگے، جیسے MS Access Oracle MYSQL Mongo DB  جن کی مدد کے ان کھاتوں کو محفوظ کیا جانے لگا اور ان کو ڈیٹا بیس مینجمنٹ سسٹم (data base management system (dbms کہا جاتا ہے۔ ان کھاتوں کو کمپیوٹر پر محفوظ کرنے سےکئی سہولتیں میسر آئیں، جن میں سب سے اہم مائیکرو سیکنڈ کے اندر کروڑوں کے ریکارڈ میں سے اپنے مطلوبہ مواد تک باآسانی رسائی ہے اور نادرا اس کی جیتی جاگتی مثال ہے۔ 

پھر جیسے جیسے کمپیوٹر سائنس نے ترقی کی اور ایک سے زائد کمپیوٹر کو منسلک کرکے کمپیوٹر نیٹ ورک وجود میں آئے تو پھر یہ کھاتے مختلف کمپیوٹرز پر محفوظ کیے جانے لگے اور مختلف لوگ، مختلف جگہوں سے بیک وقت ان کھاتوں میں ردوبدل کرسکتے تھے، پھر انٹرنیٹ کی ایجاد نے اس پر چارچاند لگا دیئے اور اب یہ کھاتے پوری دنیا میں کسی بھی جگہ سے رسائی کے قابل ہوئے۔ اس سے پھر ڈسٹری بیوٹڈ لیجر distributed ledger کا نظام وجود میں آیا، جس میں کھاتے کی کاپی ایک سے زیادہ جگہوں پر موجود ہوتی تھی اور ایک سینٹرل سرور central serverیعنی ایک مرکزی کمپیوٹر ان تمام کھاتوں کے نظام کو چلاتا ہے۔ بات صرف اب یہاں پر نہیں رکی، بلکہ کمپیوٹر سائنس نے اتنی ترقی کرلی ہے کہ اب ان کھاتوں کو مختلف جگہوں پر رکھا جاتا ہے اور کئی لوگ بیک وقت اس تک رسائی حاصل کرتے ہیں اور ریکارڈ میں ردوبدل بھی کرتے ہیں اور اس کے لیے سینٹرل سرور یعنی مرکزی کمپیوٹر کی ضرورت بھی نہیں پڑتی۔ اسی کو تقسیم شدہ کھاتوں کا نظام یعنی ڈسٹری بیوٹڈ لیجر سسٹم ( Distributed Ledger System DLT) یا بلاک چین blockchain کہا جاتا ہے اور اس کو پبلک بلاک چین یعنی عوامی کھاتہ بھی کہا جاتا ہےاور اسی ارتقاء کو ہم نے تصویر نمبر۱  میں دکھایا ہے۔ آسان الفاظ میں بلاک چین ایک ایسے کمپیوٹر نظام کا نام ہے جس کے اندر کھاتوں کو ایک خاص طریقے سے محفوظ کیا جاتا ہے، جس کے اندر کوئی بھی آسانی کے ساتھ ردوبدل نہیں کرسکتا۔ 


تصویر نمبر ۱: کھاتوں (ریکارڈ اور اعداد و شمار) کا کاغذی کاپیوں سے کمپیوٹر تک اور پھر کمپیوٹر نیٹ ورک سے بلاک چین تک کا ارتقائی سفر

1- کھاتوں (اعداد وشمار اور ریکارڈ) کو رجسٹر اور کاغذی کاپیوں پر محفوظ کرنا

2 - کھاتوں (اعداد وشمار اور ریکارڈ) کو کمپیوٹر پر مائیکروسافٹ یا دیگر کمپنیوں کے سافٹ وئیر پر محفوظ کرنا

3- کھاتوں (اعداد وشمار اور ریکارڈ) کو کمپیوٹر کے نیٹ ورک پر ڈیٹا بیس مینیجمنٹ سسٹم کے ذریعہ محفوظ کرنا اور اس نظام کو سینٹرل کمپیوٹر کے ذریعہ کنٹرول کرنا

4- کھاتوں (اعداد وشمار اور ریکارڈ) کو کمپیوٹر کے نیٹ ورک پر بلاک چین کے ذریعہ محفوظ کرنا، جس کے اندر ہر کمپیوٹر پر تمام ریکارڈ موجودہو، اور اس نظام کو سینٹرل کمپیوٹر کے بغیر کنٹرول کرنا


وفاق المدارس کے امتحانی نظم اور نتائج سے بلاک چین کے نظام کو سمجھنا

پاکستان میں اکیس ہزار چار سو باون کی تعداد میں مدارس ہیں، جو کہ وفاق المدارس سے رجسٹرڈ ہیں، ان میں ایک لاکھ چھیاسٹھ ہزار آٹھ سو تیرہ اساتذہ کرام جبکہ انتیس لاکھ اسی ہزار چھ سو ترانوے طلباء و طالبات زیرِ تعلیم ہیں۔[6] ہم فرض کرلیتے ہیں کہ ان میں سے ہر مدرسے کے پاس اپنا ایک کمپیوٹر ہے، جس کی مدد سے وہ اپنے طلباء کا ریکارڈ محفوظ کرتے ہیں۔ یہ ریکارڈ داخلہ فارم سے لے کر درستگی و گمشدگیِ اسناد وغیرہ پر مشتمل ہوتے ہیں اور ان کے اندر نام طالبِ علم، ولدیت، تاریخِ پیدائش، شناختی کارڈ نمبر، پتہ، اور مدرسہ سے تصدیق وغیرہ جیسی معلومات پُر کرنی ہوتی ہیں۔ پھر یہ ریکارڈ مختلف مدارس وفاق المدارس کو مہیا کرتے ہیں، تاکہ وفاق المدارس طلباء کے امتحانات کا نظم بنا سکے، یعنی ان تمام مدارس کے طلباء کو امتحانی فارم پُر کرنا ہوتا ہے اور پھر وفاق المدارس میں وہ سارا ریکارڈ ایک کمپیوٹر پر محفوظ ہوجاتا ہے۔ اس کے لیے وفاق المدارس نے ایک آئن لائن داخلہ فارم مہیا کیا ہوا ہے،جس کو ہر طالب علم پُر کرے گا یا پھر کاغذی پُر شدہ امتحانی فارم اپنے مدرسے کے توسط سےوہ وفاق المدارس کو ارسال کرے گا۔ دونوں ہی صورتوں میں وہ ریکارڈ وفاق المدارس اپنے کمپیوٹر میں محفوظ کرے گا اور احتیاطاً آفس میں کاغذی ریکارڈ بھی محفوظ رکھا جائے گا۔ وفاق المدارس کمپیوٹر پر اس ریکارڈ کو محفوظ کرنے کے لیے کسی عام سے سافٹ وئیر مثلاً MS Excel, MS Access  یا کسی مضبوط ڈیٹا بیس مینجمینٹ سسٹم DBMS کا انتخاب کرے گا، مثلاً mOracle, MongoDB, MySQL۔ اور پھرسالانہ امتحانات ہوجائیں گے اور جب امتحانی کاپیاں چیک ہوجائیں گی تو امتحانات کا نتیجہ عام کردیا جائے گا۔ اب اس امتحانی نتیجہ کو پورے پاکستان سے طلبائے کرام اور مدارس کے منتظمین انٹرنیٹ کی مدد سے اپنے ہی مدرسے، شہر سے گھر بیٹھے دیکھ سکتے ہیں۔ وہ چاہیں تو موبائل فون سے میسیج کرکے بھی اپنا مطلوبہ رول نمبر دے کر امتحانی نتیجہ معلوم کرسکتے ہیں۔ تو اس سارے امتحانی نظام اور نتائج کے نظام کو وفاق المدارس کے اندر کمپیوٹر پر سافٹ وئیر کی مدد سے محفوظ کیا جارہا ہے اور اس قسم کے سافٹ وئیر کو ڈیٹا بیس مینجمنٹ سسٹم کہا جاتا ہے اور یہ سب کچھ ایک Centralized سینٹرلائژڈ طریقے یعنی وفاق المدارس میں موجود مرکزی کمپیوٹر سے انجام دیا جارہا ہے۔ 

کمپیوٹر سائنس کے اندر ترقی نے جہاں اور بہت ساری آسانیاں پیدا کی ہیں، وہیں بہت سارے خطرات بھی پیدا ہوگئے ہیں، مثلاً خدانخواستہ کسی عالمی سائبر حملے cyber attack کی صورت میں وفاق المدارس میں محفوظ سارا ریکارڈ (رجسٹریشن، امتحانات و نتائج) ضائع یا تبدیل ہوسکتا ہے۔ نیز ایسا سائبر حملہ بھی ہو سکتا ہے جس میں وفاق المدارس میں موجود لوگوں کو پتہ ہی نہ ہو اور کئی سال پرانے ریکارڈ میں تبدیلی کرلی گئی ہو۔ یا یہ بھی ممکن ہے کہ سائبر حملے کی صورت میں جس دن وفاق المدارس نے اعلان کیا ہو کہ وہ سالانہ نتائج کا اعلان کرے گا، اس دن ڈینائیل آف سروس اٹیک (Denial of Service Attack DoS) کی وجہ سے وفاق المدارس کے کمپیوٹر کام کرنا چھوڑ دیں اور پورے پاکستان میں موجود طلباء اور مدارس کو مشکل پیش آئے۔ یہ تو ہم نے عام سی مثال پیش کی ہے، مگر اس کی سنگینی کا اندازہ وہ ممالک بخوبی کرسکتے ہیں، جہاں پر سارا نظام ہی کمپیوٹر کے نیٹ ورک کے مرہونِ منت ہے۔ انہی تمام معاملات کو دیکھتے ہوئے کمپیوٹر سائنس کے محققین ہمیشہ اس بات کی کوشش میں سرگرداں رہتے ہیں کہ کیسے کمپیوٹر نیٹ ورک زیادہ سے زیادہ مؤثر اور محفوظ ہوں۔ اسی تناظر میں کمپیوٹر سائنس دانوں نے ایک طریقہ ڈھونڈا، جس کو بلاک چین ٹیکنالوجی کہا جاتا ہے، جس کی مدد سے ہم اس طرح کے ریکارڈ کو محفوظ بنا سکتے ہیں۔ 

اب اگر وفاق المدارس اپنے سارے ریکارڈ کو بلاک چین پر محفوظ بنانے کی صورت بناتا ہے تو اس صورت میں یہ سارا ریکارڈ ایک بلاک چین میں محفوظ ہوگا اور اس سارے ریکارڈ کی مکمل کاپی ہر مدرسے کے پاس محفوظ ہوگی۔ اور کوئی بھی مدرسہ اس ریکارڈ میں ذرہ برابر بھی تبدیلی نہیں کرسکتا، جب تک ایک معتدبہ تعداد جو کہ ۵۱ فیصد مدارس کی تعداد سے زیادہ ہونی چاہیے، جو کہ تقریباً دس ہزار مدارس سے زیادہ بنتی ہے، جب تک کہ اس تبدیلی کو تسلیم approve and validate نہ کرلیں۔ اب اس صورت میں خدانخواستہ کوئی بھی سائبر حملہ ہوتا ہے تو یہ ریکارڈ وفاق المدارس کےایک کمپیوٹر پر محفوظ ہونے کے بجائے پورے پاکستان کےتمام مدارس کے کمپیوٹرز پر محفوظ ہوگا اور سائبر حملہ کرنے والوں کو پاکستان کے تمام مدارس کے تمام کمپیوٹرز پر جاکر وہ ریکارڈ تبدیل کرنا ہوگا جو کہ تقریباً ناممکن ہے، کیونکہ یہ مدارس پاکستان کے طول و بلد میں ہرجگہ موجود ہیں اور اتنی بڑی تعداد میں ان تمام کمپیوٹرز پر تبدیلی کرنا بہت مشکل ہے۔ اس طرح کے نظام کے اندر وفاق المدارس کے تمام ریکارڈ ایک پبلک بلاک چین کی مدد سے عوامی سطح پر publicly موجود ہوگا اور جو چاہے جب چاہے اس کو دیکھ سکے گا اور اسی وجہ سے یہ سارا نظام آڈٹ میں بھی آسانی فراہم کرے گا اور اس میں شفافیت بھی ہوگی۔ اس کے علاوہ یہ ریکارڈ اتنا محفوظ ہوگا کہ اس کے اندر ایک نکتے کی بھی تبدیلی نہیں لائی جاسکتی۔ اور اگر کوئی تبدیلی مقصود بھی ہوگی (مثلاً ایک طالب علم کے نتائج پیپر کی ری چیکنگ کے بعد تبدیل کرنے ہیں) تو وہ سب ریکارڈ بھی محفوظ ہوگا۔ تو خلاصہ کلام یہ ہوا کہ بلاک چین ایک ایسی ٹیکنالوجی ہے جس کی مدد سے ہم ریکارڈ کو محفوظ بناتے ہیں، گو کہ موجودہ اور مروجہ کمپیوٹر پر ریکارڈ محفوظ کرنے کے طریقوں کے مقابلے میں بلاک چین کے اپنے کچھ فائدے اور نقصانات ہیں، مگر یہ بہت زبردست ٹیکنالوجی ہے، جس کو دنیا بھر میں بہت زیادہ پذیرائی مل رہی ہے۔ 

اس وفاق المدارس کی مثال کو ہم ایک اور تناظر میں بھی دیکھ سکتے ہیں جس کوکمپیوٹر سائنس کی زبان میں سینٹرلائزڈ - مرکزیت Centralized اورڈی سینٹرلائزڈ- لا مرکزیت De-Centralized بھی کہا جاتا ہے۔ وفاق المدارس کے پاس جب ایک سینٹرل کمپیوٹریعنی مرکزی کمپیوٹر server ہے اور اس کی مدد سے وہ تمام مدارس کے کمپیوٹرز کو کنٹرول کررہےہیں یا ان کو معلومات پہنچا رہے ہیں یا آسان الفاظ میں facilitate کررہے ہیں تو یہ سینٹرلائزڈ یعنی مرکزی سسٹم کہلائے گا اور اس کے لیے وہ ڈیٹابیس مینجمنٹ سسٹم کا استعمال کریں گے۔ اس کو اگر ہم بینکنگ سسٹم کے حوالے سے دیکھیں تو بینکنگ سسٹم ایک سینٹرلائزڈ سسٹم ہے، کیونکہ اس کے اندر ایک سینٹرل بینک یا حکومت کی مرکزیت ہے اور وہی اس پورے معاشی نظام کو کنٹرول کرتے ہیں۔ اس کے برعکس ہمارے پاس ڈی سینٹرلائزڈ سسٹم ہوتے ہیں، جن کے اندر کوئی بھی مرکزی کمپیوٹر نہیں ہوتا اور ہر کمپیوٹر خود مختار ہوتا ہے کہ جس کمپیوٹر سے چاہے مواصلاتی رابطہ قائم کرے۔ وفاق المدارس کے امتحانی نظام کو جب ہم بلاک چین کے ذریعے سے قائم کریں گے تو ہر مدرسے کے پاس تمام مدارس کا یعنی پورے وفاق المدارس کا ریکارڈ موجود ہوگا اور وفاق المدارس کا مرکزی کمپیوٹر ان تمام مدارس کے کمپیوٹرز کو کنٹرول نہیں کررہا ہوگا۔ اس نظام کو اگر بینکنگ سسٹم کے تناظر میں دیکھیں تو یہ سمجھیں کہ کسی ملک میں کئی بینک موجود ہیں، مگر نہ ہی کوئی حکومت ہے اور نہ ہی کوئی سینٹرل بینک ہے جو کہ ان بینکوں کے نظام کو کنٹرول کرسکے یا ریگولیٹ کرسکے۔ تو خلاصہ کے طور پر ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ بلاک چین ہمیں مرکزی سسٹم یعنی سینٹرلائزڈ سسٹم سے ہٹا کر غیر مرکزی نظام یعنی ڈی سینٹرلائزڈ سسٹم کی طرف لے جاتا ہے۔ 


کیا بلاک چین ٹیکنالوجی کا استعمال جائز ہے؟

مفتیانِ کرام یہ فرماتے ہیں کہ: بلاک چین ٹیکنالوجی کو سیکھنا اور اس کا استعمال عمومی طور پر جائز ہے، جیسے ہم نے مثال کے ذریعے سے آپ کو بتایا کہ یہ بلاک چین ٹیکنالوجی وفاق المدارس کے ریکارڈ کو محفوظ کرنے کے لیے بھی استعمال ہوسکتی ہے، نیز اگر کوئی چاہے تو ناجائز کاموں کی تفصیلات محفوظ کرنے کے لیے بھی اس کو استعمال کرسکتا ہے، جیسے شراب کی فیکٹریوں میں بننے والی شراب کا ریکارڈ رکھنے کے لیے یا انشورنس کا ریکارڈ رکھنے کے لیے وغیرہ، تو علمائے کرام یہ ارشاد فرماتے ہیں کہ: اگر کچھ لوگ بلاک چین ٹیکنالوجی کا استعمال غلط قسم کے ریکارڈ کو محفوظ کرنے کے لیے کررہے ہیں تو ہم مطلقاً بلاک چین ٹیکنالوجی کوہی ناجائز قرار نہیں دیں گے۔ یہ ایسا ہی ہے کہ ہم DBMS کو یا کمپیوٹر کو ناجائز قرار دے دیں، کیونکہ اس کو بھی ناجائز کاموں کے ریکارڈ کو محفوظ کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے یا کوئی چھری کو ہی مطلقاً ناجائز قرار دے دے، کیونکہ اس سے کوئی ناحق قتل بھی کرسکتا ہے۔ بس ہماری گزارش یہ ہوگی کہ اگر آپ بلاک چین ٹیکنالوجی کا استعمال کسی خاص سیکٹر میں کرنا چاہتے ہیں تو مفتیانِ کرام سے رجوع کریں، تاکہ وہ آپ کو اس کے شرعی استعمال کے متعلق احکامات بتاسکیں۔ 


بلاک چین (blockchain ) ٹیکنالوجی کیا ہے؟

بلاک چین ایک ایسی کمپیوٹر ٹیکنالوجی کا نام ہے جس کی مدد سے ہم ایک کمپیوٹر نیٹ ورک پر ریکارڈ کو محفوظ کرتے ہیں، جس کی تعریف کچھ اس طرح سے ہوگی: ’’بلاک چین ایک ایسا ڈیٹا اسٹرکچر یعنی ڈیٹا محفوظ کرنے کا طریقہ کار ہے، جس کے اندر ایک مرتبہ ریکارڈ اگر بلاک چین میں محفوظ کردیا گیا تو پھر اس کے اندر تبدیلی نہیں لائی جاسکتی، شامل کیے گئے ریکارڈ کو صرف پڑھا جاسکتا ہے اور نیا ڈیٹا ہمیشہ بلاک چین کے آخر میں شامل کیا جاتا ہے، جس کی وجہ سے بلاک چین ایک بہت زیادہ غیر تغیر قسم کا ریکارڈ محفوظ کرنے کا نظام مہیا کرتا ہے۔‘‘ 

اس کے علاوہ ایک خصوصیت بلاک چین کی یہ ہے کہ اس کے اندر اگر کوئی شخص ایک نقطے کی بھی تبدیلی کی کوشش کرتا ہے تو وہ بآسانی ٹریس کی جاسکتی ہے اور یہی وہ ایک خصوصیت ہے جس کی وجہ سے بلاک چین بہت زیادہ مشہور ہے۔ نیز بلاک چین کے ذریعے سے بننے والے نظام کے اندر ہم اس بات کی بھی کھوج لگا سکتے ہیں کہ کس ٹرانزیکشن کی ابتدا کہاں سے ہوئی تھی؟ اور پھر وہ کن کن لوگوں کے ذریعے سے ہوتے ہوئے آگے گئی، جس کا لازمی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ آڈٹ کے پراسس کے اندر بہت آسانی پیدا ہوجاتی ہے۔ 

 بلاک چین ٹیکنالوجی کا سب سے پہلا استعمال ایک کرپٹو کرنسی (بٹ کوائن) کو بنانے کے لیے کیا گیا۔ بٹ کوائن کو سن ۲۰۰۸ء میں ساتوشی ناکاموٹو Satoshi Nakamoto نے اپنے وائٹ پیپر میں سب سے پہلی مرتبہ تعارف کروایا اور سن ۲۰۰۹ء میں بٹ کوائن کا لیجر وجود میں آیا۔[7,8] بٹ کوائن نے اس بلاک چین ٹیکنالوجی کی افادیت کو پوری دنیا کے سامنے رکھا اور چونکہ بلاک چین ٹیکنالوجی کا یہ ایک معاشی استعمال تھا، لہٰذا کمپیوٹر سائنسدانوں نے خوب اس نظام کی جانچ کی کہ کہیں اس میں کوئی سقم نہ ہو۔ 

بٹ کوائن چونکہ ایک اہم کرپٹو کرنسی ہے اور اس کے اندر پیسے کے اہم معاملات کا ریکارڈ محفوظ رکھنا تھا تو بلاک چین ٹیکنالوجی کے اندر اتنی انتظامی استطاعت، جدت اور محفوظ طریقہ اپنایا گیا اور اس کے نظام کو پرکھا گیا کہ کہیں اس میں کوئی خرابی تو نہیں۔ اس بلاک چین کے بٹ کوائن کے استعمال نے جہاں دنیا کے کمپیوٹر سائنسدانوں اور محققین کو اس بات کی گارنٹی دی کہ بلاک چین میں بہت ساری افادیت ہے، وہیں کچھ لوگوں کو یہ گمان ہوگیا کہ شاید بلاک چین اور کرپٹو کرنسی ایک ہی چیز کے دو نام ہیں، حالانکہ ایسا نہیں ہے۔ بلاک چین کا پہلا استعمال کرپٹو کرنسی کے ریکارڈ کو محفوظ بنانے کے لیے کیا گیا تھا، پھر اس ٹیکنالوجی کی افادیت کو دیکھتے ہوئے اس کو زندگی کے ہر شعبے میں استعمال کیا جانے لگا ہے۔[9] تو ہم عمومی طور پر کہہ سکتے ہیں کہ بلاک چین ٹیکنالوجی کا استعمال کرپٹو کرنسی میں پانچ فیصد سے بھی کم ہوگا اور اس کے بالمقابل زندگی کی مختلف شعبہ جات میں اس کا کثیر استعمال ہے، جس میں آپ جہاں جہاں آج کل کمپیوٹر کو ریکارڈ محفوظ کرنے کے لیے استعمال کررہے ہیں، وہاں پر بلاک چین متبادل کے طور پر استعمال کی جاسکتی ہے، مگر اس ٹیکنالوجی کو پوری طرح اپنانے میں کچھ سال لگیں گے۔ 


بلاک چین ٹیکنالوجی کے کام کا طریقہ کار، مروجہ بینکنگ کا نظام اور مائننگ

 


تصویر نمبر۲: بینک کے نظام سے پیسے بھیجنے کا طریقہ کار

۱: زید: پیسے بھیجنے والا            ۲: زید کے بینک کا لیجر (کھاتہ) اور زید کا بینک

۳: سینٹرل بینک کا لیجر (کھاتہ)، سینٹرل بینک    ۴: بکرکے بینک کا لیجر (کھاتہ)، بکر کا بینک

۵: بکر، پیسے وصول کرنے والا

1- زیداپنے اکاؤنٹ تک رسائی کرے گا اور پھر اپنے بینک سے کہے گا کہ ۱۰۰۰ روپے بکر کو بھیج دیئے جائیں۔

2- زید کا بینک پہلے چیک کرے گا کہ زید کے پاس بینک میں اتنے پیسے بھی ہیں؟ اگر ہیں تو پھر وہ اپنے پاس کھاتے میں اپ ڈیٹ کرے گا کہ ۱۰۰۰ روپے زید کے بینک اکاؤنٹ میں سے نکال دیئے جائیں، پھر وہ بکر کے بینک کو بتائے گا کہ بکر کو ۱۰۰۰ روپے زید کی طرف سے وصول ہوئے ہیں۔

3 - سینٹرل بینک کا کام یہ ہوگا کہ وہ اس بات کا انتظار کرے کہ دونوں بینک یہ تبادلہ کررہے ہیں اور اس میں کہیں کوئی کمی کوتاہی تو نہیں۔

4- بکر کے بینک کو جب زید کے بینک کی طر ف سے کہا جائے گا کہ بکر کو ۱۰۰۰ روپے ملے ہیں تو وہ اپنے کھاتے میں بکر کے اکاؤنٹ میں ۱۰۰۰ روپے کی انٹری ڈال دے گا۔

5- بکر جب اپنے اکاؤنٹ تک رسائی کرے گا تو اس کو وہ ۱۰۰۰ روپے اپنے بینک اکاؤنٹ میں موصول ہوئے نظر آئیں گے۔

تصویر نمبر: ۲ کے اندر قارئین مثال کے ذریعے سے سمجھ سکتے ہیں کہ بینک کے نظام کے تحت زید اگر بکر کو پیسے بھیجے گا تو کس طریقے سے زید اور بکر کے بینک اپنے کھاتوں (ڈیٹا بیس سسٹم) میں پیسوں کی نقل و حرکت کو اپ ڈیٹ یعنی اس میں اندراج کریں گے۔ اب اگر کسی وجہ سے زید کے بھیجے ہوئے پیسے بکر کو منتقل نہیں ہوتے تو سینٹرل بینک کے پاس شکایت جائے گی اور وہ اس پیسوں کے بھیجنے کے عمل کو شفاف بنائے گا، یعنی سینٹرل بینک کا کام ایک حکومتی ریگولیٹر اور صارف کو تحفظ فراہم کرنے والے کا ہوگا۔ 

قارئین! اسی تصویر نمبر:۲ کے تحت آپ یہ دیکھ سکتے ہیں کہ جب زید اپنے کمپیوٹر یا موبائل فون سے اپنے بینک اکاؤنٹ تک رسائی کرتا ہے تو اس کے کمپیوٹر یا موبائل فون میں ۱۰۰۰ روپے حسی طور پر موجود نہیں ہوتے، بلکہ زید اپنے بینک کے کھاتے تک رسائی کرتا ہے، جس کے اندر یہ لکھا ہوا ہے کہ زید کے پاس ۱۰۰۰ روپے موجود ہیں۔ زید کو اپنے اکاؤنٹ تک رسائی کے لیے ایک یوزر نیم (نام) user name اور پاس ورڈ(خفیہ کوڈ) password دیا جائے گا اور وہ خود بھی رکھ سکتا ہے۔ اب اس یوزرنیم اور پاس ورڈ کی مدد سے زید اپنے بینک اکاؤنٹ تک رسائی کرسکتا ہے۔ یہ رسائی موبائل فون کی ایپلیکیشن Mobile Phone Application کی مدد سے بھی ہوسکتی ہے، بینک کی ویب سائٹ website کے ذریعے سے بھی ہوسکتی ہے، اے ٹی ایم کارڈ ATM Card کی مدد سے اے ٹی ایم مشین ATM Machine سے بھی ہوسکتی ہے۔ اس کے ساتھ زید دنیا کے کسی کونے سے اپنے یوزر نیم اور پاس ورڈ کی مدد سے اپنے اکاؤنٹ تک رسائی حاصل کرسکتا ہے۔ غرض یہ یوزرنیم اور پاس ورڈ زید کو یہ گارنٹی دے گا کہ وہ بحفاظت اپنے اکاؤنٹ تک رسائی حاصل کرلے۔ زید کا یوزر نیم پبلک ہوسکتا ہے، یعنی کوئی بھی اس کو جان سکتا ہے، مگر زید کا پاس ورڈ خفیہ ہونا چاہیے اور صرف اسی کو معلوم ہونا چاہیے، اگر وہ کسی اور کو معلوم ہوگیا تو کوئی بھی اس کے اکاؤنٹ تک رسائی حاصل کرسکتا ہے۔ 

جب زید اپنے بینک سے درخواست کرتا ہے کہ بکر کو ۱۰۰۰ روپے بھیج دیئے جائیں تو زید کا بینک اپنے کھاتے کو اَپ ڈیٹ کرتا ہے اور اس کھاتے میں سے زید کے اکاؤنٹ میں سے ۱۰۰۰ روپے منہا کردیتا ہے۔ یہاں پر یہ ذہن میں رہے کہ جب زید نے اپنے موبائل فون یا کمپیوٹر سے اپنے اکاؤنٹ تک رسائی کی تو اُس نے ایک ٹرانزیکشن Transaction کی اور یہ ٹرانزیکشن ۱۰۰۰ روپے کی تھی اور اس ٹرانزیکشن کے اندر وہ اپنے بینک سے یہ کہہ رہا ہے کہ میرے اکاؤنٹ سے ۱۰۰۰ روپے نکال کر بکر (جس کا اکاؤنٹ نمبر زید نے اپنے بینک کو ٹرانزیکشن میں لکھ کر دیا ہے) کو دے دیئے جائیں۔ کمپیوٹر کی زبان میں ایک کمانڈ command زید کے موبائل فون یا کمپیوٹر نے بنائی ہے اور اسی کو ہم ٹرانزیکشن کہتے ہیں اور وہ زید کے مرکزی کمپیوٹر یعنی central server تک گئی، پھر زید کا بینک بکر کے بینک کو کہتا ہے کہ بکر کو ۱۰۰۰ روپے بھیجے گئے ہیں اور پھر بکر کا بینک اپنے کھاتے میں اندراج کرلیتا ہے کہ بکر کے پاس اب ۱۰۰۰ روپے ہیں۔ 

یہاں پر بھی جب بکر اپنے اکاؤنٹ تک رسائی کرے گا تو وہ اصل میں اپنے کھاتے تک رسائی کرے گا، ۱۰۰۰ روپے حسی طور پر اس کے کمپیوٹر یا موبائل فون میں موجود نہ ہوں گے۔ تو اصل میں اس سارے بینک کے نظام میں پیسوں کی منتقلی کھاتوں کے اندراج میں تبدیلی کے تحت ہورہی ہے اور ایسا قطعی طور پر نہیں ہورہا کہ ۱۰۰۰ روپے زید کے موبائل فون سے اُٹھ کر بکر کے موبائل فون میں جارہے ہیں۔ پھر لازمی بات ہے کہ دن کے آخر میں یا مہینے کے آخر میں تمام بینک باقاعدہ کاغذی نوٹوں کی منتقلی بھی کرتے ہوں۔ 

اب اس مثال کے ذریعے سے آپ سمجھ سکتے ہیں کہ زید اور بکر دونوں ہی بینک پر بھروسہ trust کرتے ہیں اور یہی وہ بھروسہ ہے کہ جس کی بنیاد پر ہم سارالین دین کرتےہیں۔ بلاک چین کے اندر ہم اس بینک کو -جسے ہم تھرڈ پارٹی Third party or intermediary یا ایک طرح سے ضامن بھی کہتے ہیں- ہٹا رہے ہیں اور اجتماعی بھروسہ اس کے بغیر پیدا کررہے ہیں۔


حواشی وحوالہ جات

[1] State Bank of Pakistan (SBP) Annual Report in Urdu, https//:www.sbp.org.pk/reports/annual /arFY21/Urdu/Complete.pdf 

]2] SBP Annual Report, https//:www.sbp.org.pk/reports/stat_reviews/Bulletin/2021 /Sep /Domestic%20 and %20 External%20Debt.pdf 

[3] BBC News on Pakistan’s debt, https//:www.bbc.com/urdu/pakistan-56122186 


[4] مفتی محمد نعیم میمن صاحب دامت برکاتہم، آسان احکامِ میراث، رحمانی پبلیکشنز، کراچی، پاکستان، سن ۲۰۲۲ء

[5] مولانا مفتی محمد شفیع صاحب رحمۃ اللہ علیہ، القول الماضی فی احکام الاراضی، اسلام کا نظامِ اراضی، عشر و خروج کے احکام اور فتوح الہند، دارالاشاعت، کراچی، پاکستان


]6]   وفاق المدارس العربیہ پاکستان http//:www.wifaqulmadaris.org/pages/introduction.php 


]7] S. Nakamoto, Bitcoin: A Peer-to-Peer Electronic Cash System, Dec. 2018, ]online[ Available: http//:bitcoin.org/bitcoin.pdf 

]8] F.Tschorsch and B. Scheuermann, "Bitcoin and Beyond: A Technical Survey on Decentralized Digital Currencies," in IEEE Communications Surveys & Tutorials, vol. 18, no. 3, pp. 2084-2123, thirdquarter 2016.

]9] M. S. Ali, M. Vecchio, M. Pincheira, K. Dolui, F. Antonelli and M. H. Rehmani, ‘‘Applications of Blockchains in the Internet of Things: A Comprehensive Survey,’’ in IEEE Communications Surveys & Tutorials, vol. 21, no. 2, pp. 1676-1717, Secondquarter 2019.






 کرپٹو کرنسی، این ایف ٹی، اور بلاک چین 

تعارف، مغالطے، شرعی نقطۂ نظراور ہماری ذمہ داری

(دوسری قسط)

 


تصویر نمبر۳: بلاک چین کے نظام میں پیسے بھیجنے کا طریقہ کار

 


تصویر نمبر ۳ کے اندر بلاک چین کے ذریعے سے زید اور بکر کے درمیان پیسوں کی منتقلی کو دکھایا جارہا ہے۔ اس تصویر میں آپ یہ دیکھ سکتے ہیں کہ درمیان میں کوئی بھی حکومت یا سینٹرل بینک موجود نہیں ہے۔ اب جبکہ زید نے بکر کو پیسوں کی منتقلی کرنی ہے تو کوئی بھی گارنٹی دینے والا موجود نہیں ہے۔ تو اس طریقے سےپیسوں کی منتقلی کو ممکن بنانے کے لیے بلاک چین کا نظام قائم کیا گیا ہے۔ اس نظام کے تحت ہر کمپیوٹر کے پاس کھاتے کی مکمل کاپی موجود ہوگی۔ اب اس بلاک چین کے نظام کے تحت جب زید بکر کو پیسے بھیجے گا تو زیداپنے کھاتے میں اس کا اندراج کرلے گا کہ ۱۰۰۰ روپے اس کے کھاتے سے نکل گئے ہیں اور بکر کے نام کے آگے اندراج کرلے گا کہ اب بکر کے پاس ۱۰۰۰ روپے موجود ہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ اس مکمل کھاتے کی کاپی تو دنیا میں ہرکمپیوٹر کے پاس موجود ہے تو وہ سارے کمپیوٹر کیسے اپنے کھاتوں کو اپ ڈیٹ کریں گے کہ زید نے بکر کو ۱۰۰۰ روپے بھیجے ہیں؟دوسری بات یہ ہے کہ جب ہر کسی کے پاس مکمل کھاتے کی کاپی موجود ہے تو ہر کوئی جو چاہے اپنے کھاتے میں لکھ دے کہ اس کے پاس اتنے پیسے موجود ہیں۔ تو اب کیسے یہ بھروسہ قائم ہوگا؟ اور کیسے کھاتوں میں صحیح اندراج ہوگا؟ اس کے لیے بلاک چین کے اندر مائننگ Mining کے طریقہ کار کو واضح کیا گیا ہے۔ 

جب زید نے بکر کو ۱۰۰۰ روپے بھیجے تو یہ ایک ٹرانزیکشن کہلائے گی۔ اب یہ ٹرانزیکشن میم پول Mempool میں رکھ لی جائے گی۔ اسی طریقے سے کافی سارے لوگ باہم ٹرانزیکشن کریں گے اور وہ سب بھی میم پول کے اندر جمع ہوتی رہیں گی۔ پھر کوئی بھی کمپیوٹر جو کہ بلاک چین نیٹ ورک کا حصہ ہو، دنیا کے کسی بھی حصہ سے مائننگ پراسس میں حصہ لے گا اور ان تمام ٹرانزیکشن کو جمع کرے گا اور ریاضی کا ایک مسئلہ حل کرنے کی کوشش کرے گا جس کو ہم کرپٹوگرافک پزل Cryptographic Puzzle کا نام دیتے ہیں۔ اس مائننگ پراسس کے اندر پروف آف ورک Proof of Work (PoW) نامی الگوریتھم کام کرتا ہے جو کہ ایک Consensus پروٹوکول ہے، جو کہ اتفاقِ رائے قائم کرنے کے لیے بنایا گیا ہے یا آسان الفاظ میں اس کی مدد سے بلاک چین میں شامل تمام کمپیوٹرز باہمی اتفاق سے کھاتے کے اندر نئی ٹرانزیکشن کا اندراج کرتے ہیں ۔ یہاں پر یہ بات ذہن میں رہے کہ گو کہ ہر کوئی مائننگ پراسس میں حصہ لے سکتا ہے، مگر کھربوں احتمالات میں سے ایک احتمال ہے کہ کوئی ایک اس کرپٹوگرافگ پزل یعنی ریاضی کے مسئلہ کو فوراً حل کردے۔ جو بھی کمپیوٹر اس کو حل کرے گا، اس کو اس بات کا اختیار دیا جائے گا کہ وہ میم پول میں موجود ٹرانزیکشن کو اکھٹا کرکے، ان کا ایک بلاک بنا کر بلاک چین یعنی عوامی کھاتے کا حصہ بنا دے۔ جب وہ یہ مائننگ پراسس یعنی کرپٹوگرافک پزل کو حل کردے گا تو وہ تمام بلاک چین کے نیٹ ورک میں موجود کمپیوٹرز کو بتا دے گا کہ آپ اپنے کمپیوٹرز میں موجود کھاتوں میں اس نئے بلاک کو شامل کرلیں جس کے اندر کھاتے کی نئی شکل موجود ہے، یعنی نئی ہونے والی تمام ٹرانزیکشن کا ریکارڈ موجود ہے اور انہی ٹرانزیکشن میں زید کے بکر کو دیئے گئے پیسوں کی ٹرانزیکشن بھی شامل ہے۔ اور اس سارے مرحلے میں تقریباً ۱۰ منٹ لگیں گے (یہاں پر ہم نے بٹ کوائن کے لحاظ سے ۱۰ منٹ لکھے ہیں )۔ اب چونکہ یہ مائننگ پراسس یعنی ریاضی کا مسئلہ بہت مشکل سے حل ہوتا ہے، یعنی اس کے لیے بہت ہی طاقتور کمپیوٹرز کا استعمال ہوتا ہے اور اس کو حل کرنا ہوتا ہے تو اس سے بے تحاشہ بجلی خرچ ہوتی ہے۔ تو کوئی کیوں اتنی زیادہ بجلی خرچ کرکے مائننگ پراسس کا حصہ بنے؟ تو اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے کہ بلاک چین نیٹ ورک چلتا رہے، بلاک چین بنانے والوں نے یہ حل نکالا کہ جو بھی یہ کرپٹوگرافک پزل حل کرے گا، یعنی مائننگ میں کامیاب ہوگا تو اس کو نئی کرنسی مل جائے گی، جس کو ہم منٹنگ Minting بھی کہتے ہیں۔ ہم یہ فرض کرلیتے ہیں کوئی بھی کمپیوٹر اس مائننگ پراسس کو حل کرتا ہے اور اس حل کرنے کے نتیجے میں اس کو ۵۰ روپے مل جائیں گے۔ اس طرح سے بلاک چین کے اندر (یہاں پر ہم بٹ کوائن کی بات کررہے ہیں) نئی کرپٹو کرنسی بنتی ہے۔ اب یہ جو نئی کرنسی بنی ہے، اس کا اندراج اس مائننگ پراسس یعنی کرپٹوگرافک پزل حل کرنے والے کے نام پر بلاک چین کے کھاتے میں اندراج ہوجائے گا۔ اس طریقے سے بلاک چین نیٹ ورک میں پیسوں کی منتقلی ہوتی ہے اور بھروسہ پیدا کیا جاتا ہے اور کھاتوں کے اندراج کو تمام کمپیوٹرز میں اپ ڈیٹ کیا جاتا ہے۔ 

اب ہم بٹ کوائن کرپٹو کرنسی کی خاص طور پر بات کرتے ہیں۔ ہمارے سامنے یہ بات آئی کہ مائننگ پراسس کے ذریعے سے نئی کرپٹو کرنسی جیسا کہ بٹ کوائن وجود میں آتی ہے۔ اسی وجہ سے ہمیں یہ دیکھنےمیں آتا ہے کہ مائننگ پراسس میں شامل ہونے کے لیے ہر کوئی کوشش کرتا ہے۔ بٹ کوائن کی تناظر میں مائننگ فیس کچھ عرصے بعد آدھی ہو جاتی ہے، مثلاً کچھ عرصے پہلے مائننگ کرنے پر  12.5 BTC ملتےتھے اور آج کل  6.25 BTCملتے ہیں اور آج مورخہ ۱۴ ؍جون ۲۰۲۲ ء کو  6.25 BTC بٹ کوائن تقریباً دو کڑور اٹھاسی لاکھ پاکستانی روپے بنتے ہیں۔ یہی وہ وجہ ہے کہ جس کے وجہ سے دنیا بھر سے لوگ جوق در جوق بٹ کوائن مائننگ کرنا چاہتے ہیں اور اس کے ذریعے سے پیسہ کمانا چاہتے ہیں۔ اور اسی وجہ سے مائننگ پولز Mining Pools دنیا میں وجود میں آئے۔ مائننگ پولز کا طریقہ کار یہ ہوتا ہے کہ آپ کے پاس ایک طاقتور کمپیوٹر ہے، پھر آپ اس مائننگ پول کمپنی کا حصہ بن جائیں گے اور وہ آپ کے وسائل (کمپیوٹر وغیرہ) کا استعمال کرتے ہوئے مائننگ کرے گی اور اس مائننگ سے وہ نئی کرنسی بنائے گی اور اس میں آپ کو بھی حصہ دے گی۔ 


مختلف اقسام کے بلاک چین سسٹم

ہمارے پاس تین مختلف اقسام کے بلاک چین سسٹم موجود ہیں جن میں پبلکPublic، پرائیویٹ Private، اور کنسورشیم Consortium بلاک چین ہیں اور انہی اقسام کی بنیاد پر اس بات کا فیصلہ ہوتا ہے کہ کس بلاک چین نظام میں کتنے حد تک سینٹرل کمپیوٹر یا ادارے کا کنٹرول ہے۔ پبلک بلاک چین کے اندر کھاتے عوامی سطح پر موجود ہوتے ہیں اور ان کو کوئی بھی دنیا کے کسی بھی کونے سے دیکھ سکتا ہے۔ اس کی مثال بٹ کوائن اور ایتھریم کرپٹوکرنسی کے کھاتے ہیں۔ اس طرح کی بلاک چین کو پرمیشن لیس بلاک چین بھی کہا جاتا ہے اور یہ پوری طرح سے ڈی سینٹرلائزڈ ہوتی ہے۔ اس کے بالکل برعکس پرائیویٹ بلاک چین ہوتی ہے، جس کے اندر موجود ریکارڈ کو ہر کوئی نہیں دیکھ سکتا اور یہ پوری طرح سینٹرلائزڈ ہوتی ہیں۔ پبلک اور پرائیوٹ کے بیچ میں کنسورشیم بلاک چین ہوتی ہے، جس کے اندر کچھ ادارے مل کر بلاک چین کو کنٹرول کرتے ہیں، مثلاً کچھ آٹوموبائل کمپنیاں مل جائیں اور بلاک چین کا گاڑیوں کا نظام بنائیں۔ اب یہ بلاک چین‘ پبلک اور پرائیویٹ بلاک چین کےبین بین ہوگی ۔ اپنی خصوصیات کے اعتبار سے پرائیویٹ اور کنسورشیم بلاک چین پرمیشنڈ بلاک چین کے زمرے میں آتی ہیں۔ 


بلاک چین ٹیکنالوجی اور ڈیٹا بیس مینجمنٹ سسٹم کی خصوصیات اور تقابل

بلاک چین ٹیکنالوجی ہو یا ڈیٹا بیس مینجمنٹ سسٹم، دونوں ہی کا کام ڈیٹا یعنی اعداد و شمار اور ریکارڈ کو محفوظ کرنا ہے۔ البتہ دونوں کی کچھ خاص خصوصیات ہیں، جن کی بنیاد پر ہم ہی فیصلہ کرسکتے ہیں کہ کس موقع پر ہم بلاک چین ٹیکنالوجی کا استعمال کریں گے اور کس موقع پر ڈیٹا بیس مینجمنٹ سسٹم کا استعمال مفید ہوگا۔[1] ٹیبل نمبر ۱ کے اندر ہم نے یہ خصوصیات اور فرق ظاہر کیے ہیں۔ 


بلاک چین ٹیکنالوجی Blockchain 

ڈیٹا بیس مینجمنٹ سسٹم DBMS 

اس کے نظام کو کوئی سینٹرل کمپیوٹر یا ادارے کنٹرول نہیں کرتے۔


اس کو عمومی طور پر سینٹرل کمپیوٹر یا ادارے کنٹرول کرتے ہیں۔ 


اس کے اندر تمام کمپیوٹرز پر لیجر (کھاتے) کا مکمل ریکارڈ ہوتا ہے۔


اس کے اندر صرف سینڑل کمپیوٹر کے پاس تمام ریکارڈ ہوتا ہے۔ 


اس کے اندر ریکارڈ کی تبدیلی کے لیے اتفاق رائے سے تبدیلی کی جاتی ہےیعنی Consensus Algorithm  کا استعمال کیا جاتا ہے۔


اس کے اندر ریکارڈ کی تبدیلی کے لیے سینٹرل کمپیوٹر کی اجازت درکار ہوتی ہے۔ 


اس کے اندرعوامی سطح پر ہر کوئی ریکارڈ کو دیکھ سکتا ہے۔


اجازت شدہ لوگوں کو ہی ریکارڈ دیکھنے کی اجازت ہوتی ہے۔ 


اس کے اندر ہیشنگ Hashing کا استعمال بہت ساری جگہوں پر ہوتا ہے۔


اس کے اندر ہیشنگ کا استعمال نہیں ہوتا۔ 


اس میں’’ پبلک پرائیویٹ کی‘‘ Public Private Key کا استعمال ہوتا ہے۔ 


اس میں ’’پبلک پرائیوٹ کی‘‘ کا استعمال نہیں ہوتا۔ 


اس میں ریکارڈ ایک ترتیب Sequence سے محفوظ کیے جاتے ہیں۔


اس میں ریکارڈ محفوظ کرنے کی کوئی ترتیب نہیں ہوتی۔ 


اس کے اندر اگر ایک مرتبہ ریکارڈ بلاک چین میں شامل کردیا گیا تو پھر اس کو تبدیل نہیں کیا جاسکتا۔ 


اس کے اندر شامل شدہ ریکارڈ کے اندر تبدیل آسانی سے کی جاسکتی ہے۔ 


جب بھی کوئی لیجر میں تبدیل واقع ہوتی ہے تو تمام کمپیوٹرز کو اس تبدیلی سے آگاہ کیا جاتا ہے۔


اس میں لیجر میں تبدیلی کی صورت میں تمام کمپیوٹرز کو آگاہ نہیں کیا جاتا۔ 


 


بلاک چین ٹیکنالوجی اور کرپٹو کرنسی میں کیا تعلق ہے؟

بلاک چین ٹیکنالوجی محض ایک مخصوص طریقہ کار ہے، جس کی مدد سے آپ کمپیوٹر نیٹ ورک پر ڈیٹا (ریکارڈ اور اعداد و شمار) کو محفوظ کرتے ہیں اور کرپٹو کرنسی کے اندر اس کو کرپٹو کرنسی سے متعلق ریکارڈ کو محفوظ بنانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، یعنی آسان الفاظ میں جب کوئی بھی دو اشخاص آپس میں کرپٹو کرنسی کا تبادلہ کرتے ہیں تو اس سارے معاملے کا، یعنی ٹرانزیکشن Transaction کا ریکارڈ بلاک چین کے ذریعے محفوظ کیا جاتا ہے۔ بلاک چین ٹیکنالوجی کی مدد سے کوئی کمپنی اپنی آمدنی کے ریکارڈکو محفوظ کرسکتی ہے۔ آٹو موبائل انڈسٹری کی چار پانچ کمپنیاں مل کر ان کمپنیوں میں بننے والی گاڑیوں سے لے کر ان کی خریدو فروخت اور رجسٹریشن وغیرہ کے ریکارڈ کو محفوظ بنا سکتی ہیں۔ اسی طریقے سے بینک، صارف کےپیسوں کا حساب کتاب یعنی ڈیبٹ اور کریڈٹ بھی بلاک چین کے ذریعے سے محفوظ کرسکتا ہے۔ غرض بلاک چین ٹیکنالوجی ہر اس جگہ استعمال ہوسکتی ہے، جہاں پر آپ کو ریکارڈ کو محفوظ کرنا ہو، البتہ لازمی نہیں ہے کہ ہر جگہ اس کی وہی افادیت ہو جو بلاک چین کے کسی مشہور استعمال میں ہو، جیسا کہ کرپٹو کرنسی میں۔[2]


بلاک چین کے علاوہ کھاتے (ریکارڈ) محفوظ کرنے کے طریقہ کار

اس کے علاوہ یہ لازمی نہیں ہے کہ کوئی نئی کرپٹو کرنسی بنانے کے لیے آپ بلاک چین ہی کا استعمال کریں۔ آپ کو ریکارڈ ہی تو محفوظ کرنا ہے تو آپ کوئی بھی دوسرا ڈسٹریبیوٹڈ لیجر DLT کا نظام بھی استعمال کرسکتے ہیں۔ دنیا میں اس وقت سترہ ہزار سے زائد کرپٹو کرنسیاں موجود ہیں اور کرپٹوکرنسی کے ریکارڈ کو محفوظ کرنے کے لیے ان میں سے کئی بلاک چین ٹیکنالوجی کے علاوہ دوسری ٹیکنالوجیز کو بھی استعمال کررہی ہیں، مثلاً Hedera HBAR ایک کرپٹوکرنسی ہے جوکہ ہیش گراف الگوریتھم Hashgraph Algorithm کو استعمال کرکے اپنے نظام کو چلارہی ہے۔ اسی طرح سے IOTA Tangle  ایک ٹیکنالوجی ہے جو (Directed Acyclic Graph DAG) کو استعمال کرتے ہوئے بنائی گئی ہے اور اس کی اپنی ایک کرپٹو کرنسی بھی موجود ہے۔ 

اب ہم ایک مثال کے ذریعے سے آپ کو کرپٹوکرنسی، این ایف ٹی، ٹوکن، میٹاورس، ڈیجیٹل زمین کی خرید و فروخت اور اس سے متعلقہ چیزوں کے تصور کو آپ کے سامنے پیش کرتے ہیں۔ اس مثال پر غور کرنے کے بعد ان شاءاللہ! بہت ہی آسانی کے ساتھ ہمیں ان تمام اصطلاحات کو سمجھنے میں مدد ملے گی۔ 


جامعۃ العلوم الاسلامیہ کی ڈیجیٹل زمین کی کرپٹو کرنسی سے خریدوفروخت اور میٹاورس

جامعۃ العلوم الاسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن، جمشید روڈ کراچی میں واقع ہے اوریہ مدرسہ کافی بڑی اراضی پر محیط ہے۔ ہم فرض کرلیتے ہیں کہ اس کا کُل رقبہ تقریباً ۵۰ ایکڑ ہے۔ زید ایک شخص ہے جو کہ امریکہ کے شہر نیویارک میں رہائش پذیر ہے۔ وہ انٹرنیٹ پرنیکسٹ ارتھhttps://www.nextearth.io نامی ویب سائٹ پر جاتا ہے جوکہ ڈیجیٹل زمین Digital Land میٹا ورس Metaverse کے لیے مہیا کرتی ہے۔ زید کے پاس چونکہ کرپٹو کرنسی موجود نہیں تھی، لہٰذا سب سے پہلے وہ کرپٹو کرنسی ایکسچینج مثلاً Coinbase, Binance Bitfinex وغیرہ پر گیا اور وہاں پر جا کر اس نے اپنے امریکی ڈالروں سے کرپٹوکرنسی خریدی، چونکہ میٹک(Polygon MATIC) نامی کرپٹو کرنسی ہی اس Nextearth نامی ویب سائٹ پرخریدوفروخت کے لیے استعمال ہوسکتی تھی، لہٰذا زید نے اپنے ڈالروں کے بدلے میٹک خریدلی۔ یہ خریداری وہ اپنے کریڈٹ کارڈ یا ڈیبٹ کارڈ یا بینک ٹرانسفر کے ذریعے سے بھی کرسکتا ہے۔ زید کے پاس کرپٹو والٹ بھی ہونا چاہیے، اس کے لیے وہ کوئی بھی کرپٹو والٹ اپنےکمپیوٹر یا موبائل میں انسٹال کرسکتا ہے۔ Meta Mask, Trust Wallet, Coinbase چند مشہور کرپٹو والٹ ہیں۔ جب زید کا والٹ انسٹال ہوجائے گا تو وہ پولی گان نیٹ ورک کو اس میں شامل کرئےگا یا پھر اس کا والٹ ملٹی کوائن والٹ ہونا چاہیے۔ میٹک خریدتے وقت زید اپنے کرپٹو والٹ کا ایڈریس کرپٹو ایکسچینج میں ڈالے گا، تاکہ میٹک کرپٹو کرنسی اس کے والٹ میں ٹرانسفر کردی جائے۔ زید پھر اس نیکسٹ ارتھ کی ویب سائٹ پر جاکراپنا اکاؤنٹ بنائے گا، لاگ اِن کرے گا اور سب سے پہلے اپنا ڈیجیٹل والٹ اس ویب سائٹ کے ساتھ لنک کرےگا اور اس کے بعد وہ پوری دنیا کے نقشے پر اپنی پسندیدہ زمین کی تلاش کرتا ہے۔ اب زیدکو جامعۃ العلوم الاسلامیہ کی زمین پسند آتی ہے، وہ اس نقشے میں دیکھ سکتا ہے کہ کہیں یہ زمین کسی کی ملکیت تو نہیں؟ اگر ہے تو وہ اس مالک کو اس زمین کی قیمت آفر کرسکتا ہے۔ اگر وہ زمین کسی کی ملکیت نہیں ہے تو وہ جامعۃ العلوم الاسلامیہ کے رقبے کو نقشے پر منتخب کرے گا اور پھر ویب سائٹ پر اس زمین کے رقبے کی قیمت اس کو نظر آنے لگے گی۔ اس وقت اس ڈیجیٹل زمین یعنی جامعۃ العلوم الاسلامیہ کے رقبے کی مارکیٹ ویلیوصرف ۷ یو اس ڈی ٹی USDTہے۔ ہمیں اس زمین کی قیمت USDTمیں لکھی نظر آئے گی، جو کہ ایک اسٹیبل کوائن Stable Coin ہے اور میٹک میں بھی نظر آئے گی۔ اگر زید اس قیمت پر راضی ہے تو وہ جامعۃ العلوم الاسلامیہ کی زمین اس ویب سائٹ سے خرید لے گا اور اب وہ اس ڈیجیٹل زمین کا مالک ہے۔ زمین کا جو رقبہ ہم خریدتے ہیں، وہ ٹائل کی بنیاد پر ملتا ہے، یعنی ایک ٹائل ایک خاص مربع اسکوائر کی اراضی کو ظاہر کرتا ہے۔ 

کچھ مہینوں بعد بکر جو کہ آسٹریلیا کے شہر سڈنی میں رہتا ہے، اس کو جامعۃ العلوم الاسلامیہ کی زمین کا ٹکڑاپسند آتا ہے۔ اب وہ دیکھتا ہو تو اس کو معلوم ہوتا ہے کہ یہ تو زید کی ملکیت ہے۔ بکر ویب سائٹ پر جاکر زید کو اس زمین کی ایک ہزار سات یو ایس ڈی ٹی آفر کرتا ہے جو کہ زید قبول کرلیتا ہے اور پھر زید یہ زمین بکر کے نام منتقل کردیتا ہے۔ اس طریقے سے زید نے کچھ مہینوں میں ایک ہزار یو ایس ڈی ٹی (جو کہ ایک ہزار امریکی ڈالر ہوتے ہیں، جو کہ تقریباً ۲ لاکھ پاکستان روپیہ بنتا ہے کا منافع کما لیا)۔ 

فرض کرتے ہیں کہ بکر آسٹریلیا سے پاکستان آتا ہے اور بعد نمازِ عصر وہ جامعہ کے مہتمم اور ناظم اعلیٰ سے ملاقات کرکے ان حضرات کو یہ باور کرانے کی کوشش کرتا ہے کہ اب جامعۃ العلوم الاسلامیہ کی زمین کا مالک وہ ہے اور اس کے پاس باقاعدہ اس تمام لین دین کا نہ صرف یہ کہ ریکارڈ ہے، بلکہ وہ یہ بھی ان حضرات کے علم میں لائے گا کہ اس نے یہ زمین کتنے پیسوں میں خریدی ہے۔ اور اس کے بعد بکر کچھ مندرجہ ذیل فقہی اور قانونی دلیلیں بھی دیتا ہے، مثلاً:

دلیل نمبر۱: بکر نے زید سے یہ جامعہ کی زمین باقاعدہ زر (کرپٹوکرنسی)کے ذریعے سے خریدی ہے، گو کہ اس کے پیچھے کوئی بینک اور حکومت نہیں ہے، مگر اس کرپٹو کرنسی کو پوری دنیا عرف میں تسلیم کرتی ہے، لہٰذا یہ بیع جائز ہے۔ 

دلیل نمبر۲: یہ خریدوفروخت اس لیے بھی جائز ہے، کیونکہ جب بکر نے یہ زمین کا ٹکرا خریدا، اس کو باقاعدہ ایک کوڈ ملا ہے جو کہ اس کی ملکیت کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ کوڈ بنیادی طور پر اس اراضی کا این ایف ٹی NFT ہے، یعنی ایک قسم کا ڈیجیٹل شناخت اور ثبوت Digital Identifier ہے کہ جامعہ کی زمین کا یہ ٹکڑا اب بکر کی ملکیت میں ہے اور اس ساری لین دین یعنی ٹرانزیکشن کا ریکارڈ آئن لائن بلاک چین پر بھی محفوظ ہے۔ نیز پہلے یہی زمین کا ٹکرا زید کے پاس تھا تو اس کے پاس اس کا مختلف کوڈ تھا جو کہ اس نے یعنی بکر کو منتقل کیا اور باقاعدہ نہ صرف یہ کہ ڈیجیٹل لینڈ (زمین) کی منتقلی ہوئی، بلکہ اس پر بکر کا قبضہ بھی ہوگیا ہے۔ 

دلیل نمبر۳: یہ زمین جو کہ بکر نے خریدی ہے ایک حسی شے ہے، کیونکہ آپ اس کو کسی بھی کمپیوٹر پر دیکھ سکتے ہیں، منتقل کرسکتے ہیں اور اس پر قبضہ بھی کرسکتےہیں۔ اور اس بات کو ثابت کرنے کے لیے بکر یہ کہتا ہے کہ پہلے یہ کوڈ (زمین کا این ایف ٹی) زید کے پاس تھا اور اب میرے یعنی بکر کے پاس ہے۔ 

دلیل نمبر۴: جس کرپٹو کرنسی سے یہ خریدوفروخت واقع ہوئی ہے، وہ کرنسی نہیں ہے، بلکہ زر کی تعریف میں داخل ہے۔ ائمہ اربعہ کے یہاں ’’زر‘‘ وہ چیز ہوتی ہے جو لوگوں کے عرف میں ’’زر‘‘ سمجھی جائے اور اس کی دلیل کے لیے آپ احناف کے یہاں علامہ مرغینانی  رحمۃ اللہ علیہ ، حنابلہ کے یہاں ابن قدامہ  رحمۃ اللہ علیہ  اور مالکیہ کے یہاں امام مواق  رحمۃ اللہ علیہ  کے اقوال فقہ کی کتابوں میں دیکھ سکتے ہیں۔ 

دلیل نمبر۵: یہ ساری لین دین جو ہوئی ہے اور اس میں جو نفع حاصل ہوا ہے، یہ باقاعدہ کاروبار کا حصہ ہے، یعنی جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ کرپٹو کرنسی کا استعمال جوے اور سٹے بازی میں ہوتا ہے، وہ یہاں پر نہیں ہورہا۔ اصول یہ ہے کہ اگر کسی چیز کا جائز اور ناجائز دونوں طرح کا استعمال ممکن ہو اور یہ ظن غالب یا یقین نہ ہو کہ لینے والا غلط استعمال ہی کرے گا تو اس کی فروخت جائز ہے۔ نیز کسی بھی چیز کی قیمت میں اتار چڑھاؤ ممکن ہے اور یہ کاروبار کا حصہ ہے اور اسے رسک مینجمنٹ سے کنٹرول کیا جاتا ہے، لہٰذا یہ تأثر کہ کرپٹو کرنسی سٹے بازی، جوا اور قمار ہے تو یہ دلیل اس سارے لین دین کے عدم جواز کی وجہ نہیں بن سکتی۔ 

دلیل نمبر۶ : یہ زمین کرپٹو کرنسی کی مدد سے خریدی گئی ہے اور کرپٹو کرنسی حسی طور پر موجود ہوتی ہے، اس کرپٹو کرنسی کو محسوس اور استعمال کیا جاسکتا ہے اور انہیں معدوم فرضی ہندسہ کہنا درست نہیں ہے، لہٰذا کرپٹو کرنسی کی مدد سے اس زمین کی خریدوفروخت جائز ہے، نیز چونکہ کرپٹو کرنسی کا انتقال بھی ہوتا ہے اور قبضہ بھی ہوتا ہے، لہٰذا اس لحاظ سے بھی یہ بیع جائز ہے۔ 

دلیل نمبر ۷: اسی طرح سے سوشل میڈیا پر کچھ مفتیانِ کرام نے کرپٹو کرنسی کو جائز قرار دیا ہے، لہٰذا ان مفتیانِ کرام کی رائے پر عمل کرتے ہوئے یہ کہنا بھی مناسب ہوگا کہ یہ بیع جائز ہے۔ 

یہ تمام دلائل پیش کرنے کے بعد بکر، مہتم اور ناظم اعلیٰ جامعۃ العلوم الاسلامیہ سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ اس بات کو تسلیم کریں کہ اب جامعہ کی زمین کا شرعی اور قانونی طور پر وہ مالک ہے۔ قارئین! آپ ہی فیصلہ کیجئے کہ یہ ساری باتیں، قانونی دلیلیں، اور فقہی نکات سننے کے بعد مہتم صاحب اور ناظم اعلیٰ صاحب کیا ارشاد فرمائیں گے؟پھر اس ساری ڈیجیٹل زمین کی خرید وفروخت کے اندر کافی سارے مسائل ایسے بھی ہیں، جن کی قانونی حیثیت پر سوال اٹھایا جاسکتا ہے۔ ذیل میں ہم کچھ اشکال پیش کررہے ہیں۔ 

اشکال نمبر ۱: جب بکر نے زید سے زمین خریدی تو پاکستان میں یا کسی اور ملک میں اس پر کتنا ٹیکس دیا؟ یعنی اگر پاکستان میں آپ زمین خریدتے ہیں تو زمین کے کاغذات اپنے نام کروانے کے لیے آپ کو کچھ ٹیکس دینا پڑتا ہے، مگر یہاںپر وہ ٹیکس نہیں دیا گیا اور حکومت کو آمدنی میں اچھا خاصا نقصا ن ہوا۔ 

اشکال نمبر۲: جب آپ خرید و فروخت کرتے ہیں تو اس کو اسٹمپ پیپر پر معاہدے Contract کی شکل میں بھی لکھتے ہیں تو اس اسٹمپ پیپر کی قیمت ہوتی ہے۔ اس سے بھی حکومت کو آمدنی ہوتی ہے، تو اس صورت میں آپ نے حکومت کی اس آمدنی کو بھی ختم کیا۔ 

اشکال نمبر ۳: بورڈ آف ریونیو اور انکم ٹیکس کے قوانین کے مطابق آپ کو اپنے اثاثے ڈکلئیر کرنے ہوتے ہیں، تو جب یہ زمین زید کی ملکیت سے بکر کی ملکیت میں آئی تو اس کو کس طرح سے انکم ٹیکس گوشواروں میں ڈکلئیر کیا جائے گا؟

اشکال نمبر ۴: جب یہ سارا انتقال ہوتا ہے تو کوئی رئیل اسٹیٹ پراپرٹی ڈیلر بھی بیچ میں آتا ہے اور اس کے پاس کوئی کانٹریکٹ لکھنے والا بھی موجود ہوتا ہے جو کہ اسٹمپ پیپر پر معاہدہ لکھتا ہے۔ زمین کی خرید و فروخت سے اس کی آمدنی بھی ہوتی ہے، تو مندرجہ بالا خرید وفروخت سے ان کے ذرائع آمدن پر کیا فرق پڑے گا؟

اشکال نمبر ۵: کیا آپ نہیں سمجھتے کہ اس ساری بیع کے تناظر میں ہم انکم ٹیکس رجیم Income Tax Regime کے دائرہ کار سے باہر نکل آئے اور حکومتوں کا موجودہ نظام تہس نہس ہوگیا؟

اشکال نمبر ۶: جب ہم خرید وفروخت کریں گے تو پیسے یا تو بینک ڈرافٹ کی شکل میں منتقل کریں گے یا بینک اکاؤنٹ کے ذریعے ٹرانسفر کریں گے۔ اس سارے معاملے میں ہمیں بینک سے بھی کٹوتی کروانی پڑے گی، جس سے بینک اپنا معاوضہ لے گا۔ بینک اسی طرح کے تمام معاوضوں سے اپنے ملازمین کی تنخواہیں ادا کرے گا اور حکومت کو بھی اپنی آمدنی سے ٹیکس دے گا اور اسی طرح معیشت کا پہیہ چلے گا۔ نیز جب ہم بینک کے ذریعے سے پیسے ٹرانسفر کریں گے تو حکومتِ وقت کو پتہ ہوگا کہ کیا لین دین ہوا اور کیا ہماری آمدنی ہے۔ جب ہم بینکنگ ذرائع سے ہٹ کر کرپٹو کرنسی سے یہ ساری خریدوفروخت کریں گے تو کہیں ایسا تو نہیں کہ کسی نے اپنے کالے دھن کو سفید کیا ہو؟

اس مثال سے قارئین کو کافی حد تک انٹرنیٹ پر لین دین اور ڈیجیٹل کاروبار کے خدوخال کا اندازہ ہوگیا ہوگا اور ان بنیادی اصولوں کی آگاہی ہو گئی ہوگی جس کی بنیاد پر انٹرنیٹ پر یہ سارا کاروبار ہورہا ہے۔ خلاصہ یہ کہ اس مثال کے اندر جو جامعۃ العلوم الاسلامیہ کی ڈیجیٹل زمین تھی، اس کا این ایف ٹی بنایا گیا، تاکہ ہر زمین کے ٹکڑے کی علیحدہ اور منفرد نشانی ہو اور اس کی خریدوفروخت کا مکمل ریکارڈ رکھاجاسکے اور اس کی ملکیت کا دعویٰ اور اس دعویٰ کو پرکھا بھی جاسکے۔ یہ این ایف ٹی جس کمپیوٹر نیٹ ورک یا نظام کے اوپر بنایا گیا، وہ بلاک چین ٹیکنالوجی (ایتھریم) کے اوپر بنایا گیا ہے۔ اس مثال کے اندر زمین کی خریدوفرخت کرپٹوکرنسی کی مدد سے ہوئی ہے اور اس کے اندر اگر کوئی معاہدے میں اضافی شق رکھی گئی ہے کہ مثلاً جب بھی یہ زمین آگے بکے گی، اس کا دس فیصد منافع زید کو ملے گا تو یہ معاہدہ اسمارٹ کانٹریکٹ کی مدد سے شامل کیا گیا ہوگا۔ نیز یہ زمین اگر کسی کمپیوٹر گیم یا تخیلاتی یا ورچول دنیا میں استعمال ہوگی تو وہ دنیا میٹاورس کے نام سے جانی جاتی ہے۔ اب ہم کرپٹو کرنسی اور این ایف ٹی کے متعلق مزید معلومات فراہم کرتے ہیں۔ 


حواشی وحوالہ جات

]1]  M.H.Rehmani, ‘‘Blockchain Systems and Communication Networks: From Concepts to Implementation’’  Springer Nature Switzerland, 2021.

]2]  K. Wüst and A. Gervais, Do you Need a Blockchain 2018 Crypto Valley Conference on Blockchain Technology (CVCBT) 2018, pp. 45-54, doi: 10.1109/CVCBT.2018.00011.






 کرپٹو کرنسی، این ایف ٹی، اور بلاک چین 

تعارف، مغالطے، شرعی نقطۂ نظر اور ہماری ذمہ داری

(تیسری قسط)

کرپٹو کرنسی کیا ہے؟


ایسی کرنسی جس کے اندر بہت ہی زیادہ طاقت ور کرپٹو گرافک الگوریتھمز Cryptographic Algorithms کا استعمال ہوتا ہو اس کو کرپٹو کرنسی( Crypto Currency) کہا جاتا ہے۔ کرپٹو کرنسی ایک طرح کا کرپٹو اثاثہ ہے۔ کرپٹو اثاثہ اصل میں قدر اور حقوق کا ڈیجیٹل اظہار ہے، جس کو ہم ڈسٹری بیوٹڈ لیجر ٹیکنالوجی اور اس سے ملتی جلتی ٹیکنالوجیز کی مدد سے الیکٹرونک طور پر منتقل اور محفوظ کرسکتے ہیں۔ کرپٹو کرنسی، ورچوئل کرنسی، این ایف ٹی، ٹوکن، ڈی سینٹرلائژڈ فنانس اور اس سے متعلقہ پروڈکٹس اور سروسز کو ہم عام طور سے کرپٹو اثاثہ تصور کرتے ہیں۔ عمومی طور پر ڈیجیٹل کرنسی Digital Currency کے اندر ان ہی کرپٹوگرافک الگوریتھمز Cryptographic Algorithmsکا استعمال ہوتا ہے، لہٰذا ڈیجیٹل کرنسی کو کرپٹو کرنسی بھی کہا جاتا ہے۔ ڈیجیٹل کرنسی وہ کرنسی ہوتی ہے جس کا حسی طور پر کوئی وجود نہ ہو، اور وہ اپنےچلنے میں کمپیوٹر کی محتاج ہو، لہٰذا ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ کرپٹوکرنسی ایک ایسی کرنسی کو کہا جاتا ہے جس کے نظام کو چلانے کے لیے کمپیوٹر نیٹ ورک (بلاک چین - Blockchain) کی ضرورت پڑتی ہے۔ یہ بلاک چین سسٹم کرپٹو کرنسی کی مینیجمنٹ اور کھاتوں کے نظام کو محفوظ بنانے میں مدد فراہم کرتا ہے۔ اس کی مدد سے نہ صرف یہ کہ نئی کرپٹو کرنسی وجود میں آتی ہے، بلکہ اس کی خرید و فروخت بھی اسی بلاک چین نیٹ ورک کے مرہونِ منت ہوتی ہے۔ 

کرپٹو گرافی یا کرپٹو لوجی  Cryptography Cryptology دراصل اس فن کو کہا جاتا ہے جس کے اندر مخفی تحریروں کو تبادلہ کیا جاتا ہے۔ اس فن کو رمزنگاری، خفیہ زبان یا پیغامات کو اس طرح اِن کوڈ Encode کرنے کا طریقہ بتلایا جاتا ہے کہ جس کے اندر کسی تحریر کو دشمن کی موجودگی میں وصول کنندہ کے علاوہ کوئی دوسرا نہ پڑھ سکے۔ یہ ریاضی کی ایک شاخ ہے اور کمپیوٹر سائنس کا اہم موضوع ہے۔ اِن کوڈنگ Encoding دراصل تحریر کو کسی مختلف زبان (یا مختصر زبان) میں لکھنے کو کہتے ہیں اور اس کے ذریعے سے مختلف مقاصد حاصل کیے جاتے ہیں، مثلاً تحریر کو چھپانا یا تحریر کو اس طرح سے تبدیل کرنا کہ وہ چھوٹی ہوجائے، تاکہ وہ کمپیوٹر میموری میں کم جگہ لے۔ اسی طریقے سے مواصلاتی نظام کے اندر بھی اِن کوڈنگ کو استعمال کیا جاتا ہے، تاکہ مختصر ڈیٹا ہم بھیجیں اور انرجی کم خرچ ہو اور زیادہ سے زیادہ مواد ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچ جائے۔ کرپٹو گرافک الگوریتھم کمپیوٹر کے وہ پروگرامز ہوتے ہیں جن کی مدد سے ہم ڈیٹا کو محفوظ بناتے ہیں اور ان میں سے چند مشہور اقسام یہ ہیں: اِن کرپشن Encryption، ڈیجیٹل سگنیچر Digital Signature، اور ہیشنگHashing۔ الگوریتھم کا لفظ محمد بن موسیٰ الخوارزمی کے نام پر رکھاگیا ہے جس پر آج کل کے تمام کمپیوٹر پروگرامز منحصر ہیں۔ اسی طریقے سے الجبرا Algebra جو کہ ریاضی کی ایک شاخ ہے کا لفظ بھی انہی کی ایک کتاب سے لیا گیا ہے۔ [1]

مروجہ کاغذی کرنسی (روپیہ، ڈالر، یورو) کے نظام کو سینٹرل بینک اور حکومت کے ذریعے سے کنٹرول اور ریگولیٹ کیا جاتا ہے، جبکہ کرپٹو کرنسی کا معاملہ اس کے برعکس ہے، لہٰذا ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ کرپٹو کرنسی ’’عالمی کرنسی‘‘ کے طور پر بھی جانی جاتی ہے۔ اسی وجہ سے مختلف ممالک میں کرپٹو کرنسی کی ترسیل Cross-Border Transfer باآسانی ہوسکتی ہے۔ 

مشہور کرپٹو کرنسیوں میں بٹ کوائن Bitcoin، ایتھرEther، لائٹ کوائن Litecoin، ریپل Ripple، ایکس آر پی XRP وغیرہ شامل ہیں اور اس وقت سترہ ہزار سے زائد مختلف اقسام کی کرپٹو کرنسی عالمی مارکیٹ میں خریدو فروخت کے لیے موجود ہیں۔ ان کرپٹو کرنسیوں کو کرپٹو کرنسی ایکسچینج سے یورو، ڈالر یا پاکستانی روپیہ کے بدلے خریدا جاسکتا ہے۔ آسان طریقہ کار یہ ہے کہ سب سے پہلے آپ کرپٹو کرنسی والٹ انسٹال کریں گے اور اسی کے ذریعے سے کرپٹو کرنسی کی خرید و فروخت اور تبادلہ کیا جاسکتا ہے۔ اسی طریقے سے کرپٹو کرنسی کو مائننگ پراسس کے ذریعے سے بھی حاصل کیا جاسکتا ہے۔ 

کوائن اور ٹوکن میں فرق

کرپٹو اثاثوں کی دنیا میں دو اصطلاحات بہت عام استعمال ہوتی ہیں، ان میں پہلی ’’کوائن ‘‘ Coin ہے، جبکہ دوسری ’’ٹوکن‘‘ Token ہے۔ کوائن وہ کرپٹو کرنسی ہے جس کو کام کرنے کے لیے کسی اور پلیٹ فارم کی ضرورت نہیں پڑتی، جیسے بٹ کوائن Bitcoin، ریپل Ripple، ایتھرEther اور ان کو Standalone Crypto Currency بھی کہا جاتا ہے۔ اس کےبالمقابل ٹوکن وہ کرپٹو کرنسی ہے جس کو کام کرنے کے لیے کسی اور پلیٹ فارم کی ضرورت پڑتی ہے، جیسے EOS Augur Golen وہ ٹوکن ہیں جو کہ ایتھریم Ethereum  کے اوپر بنائے گئے ہیں۔ کوائن اور ٹوکن کو ہم ایک دوسرے طریقے سے بھی سمجھ سکتے ہیں، مثلاً ایک گاڑی ہے جو کہ آپ نے خرید لی۔ اب اس گاڑی کی دیکھ بھال آپ نے کرنی ہے، یہ کوائن کی مثال ہے۔ اس کے برعکس اگر آپ نے ایک گاڑی کرایہ پر لی ہے تو اس کی دیکھ بھال کی ذمہ داری آپ پر نہیں ہے اور آپ کرایہ دے کر گاڑی استعمال کر سکتے ہیں۔ یہ مثال ٹوکن کی ہے، یعنی کوائن کے اندر آپ کا اپنا بلاک چین کا نیٹ ورک ہوتا ہے اور آپ کو اس کی دیکھ بھال کرنی ہوتی ہے، جبکہ ٹوکن کے اندر آپ کسی اور کا بلاک چین کا نیٹ ورک استعمال کرتے ہیں اور اس کے اوپر اپنی کرپٹو کرنسی لانچ کرتے ہیں۔ اگر ہمیں یہ معلوم کرنا ہے کہ سترہ ہزار کرپٹو کرنسیوں میں سے کون سی کوائن ہیں اور کون سی ٹوکن؟ تو ہم کوائن مارکیٹ کیپ نامی ویب سائٹ www.coinmarketcap.com پر اس کا مشاہدہ کرسکتے ہیں۔ 

کرپٹوکرنسی کی مدد سے ہم کس طرح مارکیٹ سے اشیاء خرید سکتے ہیں؟

کرپٹو کرنسی کے مدد سے اگر ہم مارکیٹ سے اشیاء خریدنا چاہتے ہیں تو سب سے پہلے ہمیں اپنے کمپیوٹر یا موبائل میں والٹ انسٹال کرنا پڑے گا۔ اس کے بعد ہمارے والٹ کے اندر کرپٹوکرنسی کی مناسب مقدار ہونی چاہیے۔ یہ کرپٹو کرنسی کوئی بھی ہو سکتی ہے، مثلاً بٹ کوائن، ایتھر، لائٹ کوائن، ایکس آر پی وغیرہ۔ اس کے ساتھ ساتھ ہمیں کرپٹو کرنسی ایکسچینج سے رابطہ کرکےسب سے پہلے کرپٹو کرنسی خریدنی پڑے گی۔ اس کو اس طرح سمجھئے کہ ہم ایک لاکھ پاکستانی روپے کے عوض کرپٹو کرنسی ایکسچینج سے بٹ کوائن یا کوئی دوسری کرپٹو کرنسی خریدیں گے، پھر یہ کرپٹو کرنسی ہمارے اکاؤنٹ (والٹ) میں آجائے گی اور پھر اس سے ہم اپنی مطلوبہ اشیاء خرید سکتے ہیں۔ یہاں یہ بات ذہن میں رہے کہ اس کرپٹو کرنسی سے ہم وہی اشیاء خرید سکتے ہیں جن کی قیمت کرپٹو کرنسی میں متعین ہو اور جن کو کرپٹو کرنسی سے لینے کی اجازت ہو۔ اگر ہمیں کوئی ایسی چیز خریدنی ہے جس کی قیمت پاکستانی روپے، یورو یا امریکی ڈالر میں لکھی ہے تو ہمیں ایسی اشیاء یا اثاثے خریدنے کے لیے کرپٹو کرنسی ایکسچینج Coinbase, Binance, Bitfinex کو استعمال کرتے ہوئے اپنی کرپٹوکرنسی کو کاغذی کرنسی میں تبدیل کریں گے اور اپنی مطلوبہ اشیاء کو خریدیں گے۔ 

کرپٹوکرنسی کی مارکیٹ اتنی غیر مستحکم کیوں ہے؟

کرپٹو کرنسی کی مارکیٹ کے غیر مستحکم ہونے کے کئی عوامل ہیں۔ سب سے پہلے تو طلب اور رسد Supply and Demand کی وجہ سے ایسا ہوتا ہے۔ دوسرا یہ کہ چونکہ حکومت یا سینٹرل بینک ان کرپٹو کرنسی کے پیچھے نہیں ہوتا، لہٰذا کرپٹوکرنسی پر حکومت یا سینٹرل بینک کا کنٹرول نہیں ہوتا اور اس وجہ سے اس میں بہت زیادہ اتار چڑھاؤ آتا ہے۔ تیسری وجہ یہ ہے کہ کرپٹو کرنسی کےاندر بذاتِ خود اپنی کوئی ذاتی قدر Intrinsic Valueنہیں ہوتی، جیسا کہ سونا چاندی وغیرہ میں ہوتی ہے (اگرچہ مارکیٹ میں اس وقت ہمیں کچھ ایسی کرپٹوکرنسی بھی مل جائیں گی، جن کے پیچھے سونا ہے)۔ اسی طرح اور بھی کچھ عوامل ہیں جن کی وجہ سے کرپٹو کرنسی کی مارکیٹ اتنی زیادہ غیر مستحکم ہے، مثلاً مائننگ کی وجہ سے جس میں بہت زیادہ بجلی کا استعمال ہوتا ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ کرپٹو کرنسی قیاس آرائی، سٹے بازی Speculationکی وجہ سے بہت زیادہ غیر مستحکم ہوتی ہے۔ 

کرپٹو کرنسی کو عالمی سطح پر بینک کیوں تسلیم نہیں کرتے؟

کرپٹوکرنسی کو عالمی سطح پر بینک اس لیے تسلیم نہیں کرتے، کیونکہ ان کے کام کرنے کا طریقہ کار مختلف ہوتا ہے۔ سب سے پہلے تو کرپٹو کرنسی ڈی سینٹرلائژڈ Decentralized ہوتی ہے اور بلاک چین کے نیٹ ورک پر انحصار کرتی ہے۔ اس کے علاوہ کرپٹو کرنسی کے استعمال کرنے والے پوری دنیا میں کہیں بھی ہوسکتے ہیں۔ اسی طرح سے کرپٹو کرنسی کی کوئی قانونی حیثیت آئرلینڈ یا کسی اور دوسرے یوری یونین کے ملک میں نہیں ہے، یعنی کرپٹو کرنسی کو سینٹرل بینک آف آئرلینڈ یا دوسرے یورپین سینٹرل بینک ریگولیٹ نہیں کرتے۔ تیسرے یہ کہ کرپٹو کرنسی کے پیچھے کوئی حکومت نہیں ہوتی۔ چوتھے یہ کہ کرپٹو کرنسی کی اپنی کوئی ذاتی قدر نہیں ہوتی۔ اس کے ساتھ ساتھ اور بھی کئی مسائل ہیں، جیسا کہ جب ہم بینک میں اکاؤنٹ کھلواتے ہیں تو بینک یہ تسلی کرتا ہے کہ بینک میں اکاؤنٹ کھلوانے والا کون (Know Your Customer KYC) ہے اور یہ چیز کرپٹو کرنسی میں تسلی بخش طریقے سے موجود نہیں ہے۔ اسی طریقے سے منی لانڈرنگ اور دہشت گردی میں جوپیسے استعمال ہوتے ہیں، بینک اور حکومتیں اس کو بھی ٹریک کرتی ہیں، اس کے متعلق بھی کرپٹوکرنسی میں کچھ مسائل ہیں جس کو (Anti-Money Laundering and Counterfeiting of Finance of Terrorism AML/CFT) وغیرہ کہتے ہیں، لہٰذا ان تمام عوامل کی وجہ سے کرپٹو کرنسی کو عالمی سطح پر بینک تسلیم نہیں کرتے۔ 

اس وقت کرپٹو کرنسی میں اتنی سرمایہ کاری کیوں بڑھ گئی ہے؟

کرپٹو کرنسی کی مارکیٹ بہت زیادہ غیر مستحکم اور اُتار چڑھاؤ کا شکار ہے اور اسی وجہ سے اس کے اندر (Return on Investment ROI)سرمایہ کاری میں نفع بہت زیادہ ہے، مگر یہ بہت پُر خطر بھی ہے۔ اس کو اس مثال سے سمجھئے: جنوری ۲۰۲۱ء میں ایک بٹ کوائن تیس ہزار یورو سے زیادہ کا تھا۔ اپریل ۲۰۲۱ ء میں ایک بٹ کوائن کی قیمت سینتیس ہزار یورو سے زیادہ تھی۔ پھر اکتوبر ۲۰۲۱ ء میں اس بٹ کوائن کی قیمت تریپن ہزار یورو سے زیادہ کی تھی۔ لہٰذا اگر کسی نے بٹ کوائن میں جنوری ۲۰۲۱ ء میں سرمایہ کاری کی تو اکتوبر ۲۰۲۱ ء میں اس کو تئیس ہزار یورو کا نفع ایک سال سے کم عرصے میں ملے گا جو کہ تقریباً تریسٹھ لاکھ پاکستانی روپے بنتا ہے۔ یہ بہت زیادہ منافع ہے اور یہ وہ اصل وجہ ہے جس کی وجہ سے سرمایہ کار جوق در جوق کرپٹو کرنسی میں سرمایہ کاری کررہے ہیں۔ یہاں پر ہم آپ کو تصویر کا دوسرا رخ بھی بتانا چاہتے ہیں۔ اگر کسی نے اکتوبر میں کرپٹوکرنسی میں سرمایہ کاری کی تو اب اس کو تئیس ہزار یورو (تقریباً تریسٹھ لاکھ پاکستانی روپے) کا نقصان اُٹھانا پڑے گا۔ دوسری وجہ کرپٹو کرنسی میں سرمایہ کاری کرنے کی یہ ہے کہ آج کل این ایف ٹی مارکیٹ میں بہت زیادہ رجحان ہے اور این ایف ٹی کو خریدنے کے لیے ہم کرپٹو کرنسی کا ہی استعمال کرتے ہیں۔ 

ٹیبل نمبر ۲: کرپٹو کرنسی اور سینٹرل بینک ڈیجیٹل کرنسی میں فرق

کرپٹو کرنسی

سینٹرل بینک ڈیجیٹل کرنسی

 بینک کےنظام کا اس پر کنٹرول نہیں ہے۔ 

بینک اس کو کنٹرول کریں گے۔ 

حکومت اس کی پُشت پر نہیں ہوتی۔ 

حکومت اس کی پُشت پر ہوگی۔ 

اس کی ذاتی قدر طلب اور رسد کی بنیاد پر ہوتی ہے۔ 

کچھ عوامل کی بنیاد پر حکومت اور سینٹرل بینک اس کی ذاتی قدر متعین کریں گے۔ 

اس میں قدر کی شرح غیر متعین ہے، یعنی اس میں بہت زیادہ تغیر ہوتا ہے۔ 

اس میں قدر کی شرح تقریباً متعین ہوتی ہے اور اس میں اتنا زیادہ تغیر نہیں ہوتا۔ 

یہ پوری دنیا میں استعمال ہوسکتا ہے اور اس کی ترسیل کے لیے ایکسچینج کی ضرورت نہیں پڑتی۔ 

اس کا استعمال اس کو ریگولیٹ کرنے والے ممالک کریں گے اور اس کی ترسیل کے لیے ایکسچینج ریٹ کی ضرورت پڑتی ہے۔ 

ٹرانزیکشن کے حساب سے اس کی رفتار سُست ہے۔ 

ٹرانزیکشن کے حساب سے اس کی رفتار بہت تیز ہے۔ 

کرپٹو کرنسی کا متبادل یعنی یورپ میں سینٹرل بینک ڈیجیٹل کرنسی پر قانون سازی

کرپٹو کرنسی کے مقابلے میں اس وقت جو یورپ کے سینٹرل بینک ہیں، وہ اس کے متبادل پر کام کررہے ہیں اور اس کو وہ ڈیجیٹل کرنسی کا نام دے رہے ہیں۔ یہ ڈیجیٹل کرنسی انہی سینٹرل بینک کے تابع ہوگی، یعنی ابھی ہمارے پاس یورو ہے جس کو یورپ کا سینٹرل بینک کنٹرول کررہا ہے اور یورو کاغذی نوٹ اور سکے کی شکل میں حسی طور پر ہمارے سامنے موجود ہے۔ کرپٹو کرنسی کے مقابلے میں یورپ یورو کو Digitalize ڈیجیٹلائزڈ کررہا ہے اور عنقریب یورو ڈیجیٹل شکل میں بھی موجود ہوگا، یعنی سینٹرل بینک ڈیجیٹل کرنسی (Central Bank Digital Currency CBDC) کا اجرا ہونے والا ہے، مگر بنیادی طور پر اس میں وہ سقم نہیں ہوگا جو کہ کرپٹو کرنسی میں موجود ہے، جیسا کہ ٹیبل نمبر: ۲ میں ہم نے صراحت کی ہے۔ 

حوالہ /ہنڈی اور کرپٹوکرنسی میں مماثلت

حوالہ اور ہنڈی کا کاروبار بین الاقوامی اور ملکی قانون کے تحت ممنوع ہے اور اس کی بنیادی وجہ منی لانڈرنگ اور پیسوں کی ترسیل کو بینکنگ چینل کے بجائے دوسرے ذریعے سے بھیجنا ہے۔ اگرحکومتی قانون حوالہ ہنڈی کی اجازت دیتاہے تو پھر حوالہ ہنڈی کے حکم کی مزید تفصیل ہے جو کہ مفتیانِ کرام سے معلوم کی جاسکتی ہے۔ حکومتوں کو اپنے نظام چلانے کے لیے ٹیکس لینا ہوتا ہے، لہٰذا وہ تمام معاشی سرگرمیوں کو حکومتی دائرہ کار یعنی ٹیکس رجیم Tax Regime کے اندر لانا چاہتی ہیں۔ تو اس تناظر میں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ حوالہ ہنڈی سینٹرل بینک اور حکومت کے نظام سے ہٹ کر پیسوں کی ترسیل چاہتا ہے، یعنی جس کے پیچھے حکومت نہیں ہوتی اور لوگ آپس میں ہی لین دین اور پیسوں کا تبادلہ کرتے ہیں، اس سے ایک طرف تو ان کو بہت جلدی پیسوں کی ترسیل ہوجاتی ہے اور دوسری طرف ان کو بینکوں کی فیس بھی ادا نہیں کرنی پڑتی اور ایکسچینج ریٹ بھی مناسب ملتا ہے۔ تقریباً یہی صورت حال کرپٹوکرنسی کے لحاظ سے بھی ہے کہ اس کے اندر بھی پیسوں کی ترسیل کی جاتی ہے، سینٹرل بینک اور حکومت کے نظام سے ہٹ کر، البتہ حوالہ ہنڈی کرپٹوکرنسی سے اس طرح سے الگ ہے کہ حوالہ ہنڈی میں ہم کاغذی کرنسی کی ترسیل کرتے ہیں، جبکہ کرپٹوکرنسی میں ایک نئی ڈیجیٹل کرنسی کا نظام وجود میں آتا ہے۔ 

این ایف ٹی کیا ہے اور اس کی خریدوفروخت کہاں ہوتی ہے؟

این ایف ٹی( Non-Fungible Token NFT) کا مخفف ہے۔ این ایف ٹی اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ ڈیجیٹل میڈیا کا اصل مالک کون ہے؟ این ایف ٹی کو پبلک بلاک چین (ایتھریم) کے ذریعے محفوظ کیا جاتا ہے اور ایک خاص انفرادی نشان Identifier بھی اس کو لگایا جاتا ہےجو کہ کرپٹوگرافیکلی Cryptographically Secureمحفوظ ہوتا ہو اور نان فن جیبل ڈیجیٹل اثاثے کی ملکیت کو ظاہر کرتا ہے۔ این ایف ٹی کے اندر یہ صلاحیت ہے کہ اس کی مدد سے ہم نئے سرے سےحقوقِ مجردہ Digital Property Rights ڈیجیٹل اثاثوں کی خریدوفروخت کی تعریف اور اصولوں کوبنا سکتے ہیں۔ این ایف ٹی کے ذریعے سے کوئی شخص کسی بھی ڈیجیٹل اثاثے کی ملکیت کو ثابت کرسکتا ہے اور اس کے ذریعے سے ہم ڈیجیٹل اثاثوں کے اصل مالک کا تعین کرسکتے ہیں اور نت نئے خرید و فروخت کے طریقے ایجاد کیے جاسکتے ہیں۔ 

این ایف ٹی اور کرپٹو کرنسی میں ایک طرح کی مماثلت ہے کہ دونوں ہی بلاک چین نیٹ ورک کے ذریعے وجود میں آتے ہیں۔ یہاں یہ بات ذہن میں رہے کہ این ایف ٹی کرپٹو کرنسی نہیں ہے اور ہمیں ہر این ایف ٹی، این ایف ٹی مارکیٹ میں ایک انفرادی حیثیت میں ملے گا۔ ویڈیوگیمز سے لے کر تصویروں تک اور میوزک سے لے کر ڈیجیٹل آرٹ تک اور ٹوئیٹ Tweetسے لے کر این بی اے کے ٹاپ شاٹ NBA Top Shot تک جن کو مشغلہ Collectablesکے طور پر جمع کیا جاتا ہے، سبھی این ایف ٹی بن سکتے ہیں۔ اسی طرح سےاگر کسی کا ٹکٹ جمع کرنے کا مشغلہ ہے تو لوگوں کو معلوم ہے کہ بعض مرتبہ نایاب ٹکٹ کتنا مہنگا بکتا ہے، اگر یہی ٹکٹ کی تصویر ڈیجیٹل شکل میں موجود ہو تو وہ بھی این ایف ٹی بن سکتی ہے۔ ایک اور نکتہ ہمیں واضح ہونا چاہیے کہ کرپٹوکرنسیاں فن جیبل ہوتی ہیں، مثلاً ایتھر ETH فن جیبل ہے۔ اس کے برعکس این ایف ٹی ایک یونیک یعنی منفردٹوکن ہوتا ہے، اسی وجہ سے اس کو نان فن جیبل کہا جاتا ہے۔ 

این ایف ٹی کو خریدنے کے لیے ہمیں این ایف ٹی مارکیٹ میں جانا پڑے گا۔ چند مشہور این ایف ٹی مارکیٹOpenSea Nifty Gateway NBA Top Shot Crypto Punks Rarible ہیں۔ این ایف ٹی کو خریدنے کے لیے سب سے پہلےہمیں این ایف ٹی والٹ جیسا کہ Meta Mask Trust Wallet Coinbase  اپنے کمپیوٹر یا موبائل میں انسٹال کرنا پڑے گا، اس کے بعد ہم اس کی خریداری کرسکتے ہیں۔ آئیے! ایک آسان مثال سے این ایف ٹی کو سمجھتے ہیں۔ 

مونالیزا Mona Lisa کی تصویر حسی طور پر پیرس، فرانس کے Louvre Museum  لووغ میوزیم میں موجود ہے۔ اب یہ ایک انفرادی اور یونیک تصویر ہے جو کہ بہت زیادہ قیمتی اور انمول ہے۔ اب کوئی اس کی کیمرے یا موبائل سے تصویر بناتا ہے اور دوبارہ پرنٹ کرتا ہے تو یہ اصل تصویر کا متبادل نہیں ہوسکتا اور کوئی آسانی سے اس تصویر کی نقل بھی نہیں بنا سکتا۔ تو مونا لیزا کی جو اصل تصویر میوزیم میں موجود ہے، وہ اپنی قیمت برقرار رکھے گی۔ اس کے برعکس اگر کوئی مصور کمپیوٹر کی مدد سے ڈیجیٹل تصویر بناتا ہے تو وہ بھی تو انمول اور انفرادی حیثیت کی حامل ہے۔ اب یہ مصور جیسے ہی اس تصویر کو انٹرنیٹ پر اپلوڈ کرے گا تو کوئی بھی شخص اس کو نہ صرف یہ کہ ڈاؤنلوڈ کرسکتا ہے، بلکہ اس کی سینکڑوں کاپیاں انٹرنیٹ پر پھیلائی جاسکتی ہیں اور یہ ساری تصویریں اصل تصویر کی ہوبہو نقل ہو ں گی اور ان تصویروں میں اور اصل تصویروں میں کوئی فرق نہ ہوگا۔ اس کی وجہ سے جو مصور ڈیجیٹل آرٹ پر کام کرے گا، وہ بہت ساری مشکلات کا شکار ہوگا۔ اول یہ کہ وہ اس بات کا دعویٰ نہیں کرسکتا کہ اصل تصویر اس کی بنائی ہوئی ہے۔ دوسرا یہ کہ اس کو تصویر کی اصل مالیت کا حصہ نہیں مل پائے گا، کیونکہ مونا لیزا والی تصویر اگر میوزیم میں نمائش Exhibition  میں لگی ہے تو میوزیم والے لوگوں کی آمد کے حساب سے اس کا حصہ رائلٹی Royalty میں مصور کو دیں گے۔ اس کے برعکس اگر یہی تصویر انٹرنیٹ میں موجود ہے تو کوئی بھی اس کو انٹرنیٹ سے کاپی کرکے اصل مصور کومعاشی طور پر بیش بہا نقصان پہنچا سکتا ہے۔ تیسری چیز یہ کہ بات صرف تصویر ہی کی حد تک نہیں، بلکہ کسی بھی قسم کے ڈیجیٹل اثاثے اس تشریح کے ذیل میں آئیں گے۔ تو ان سارے مسائل کو دیکھتے ہوئے کمپیوٹر کے ماہرین این ایف ٹی کا تصور لے کر آئے ہیں، یعنی جب آپ کے پاس این ایف ٹی ہے تو اس کو مطلب ہے کہ ڈیجیٹل اثاثوں کی یعنی ورچوئل اثاثوں کی خریدوفروخت کا اختیار آپ کے پاس ہے اور آپ این ایف ٹی کے ذریعے سے اس کی ورچوئل ملکیت کی خریدوفروخت کررہے ہیں۔ جب آپ ایک این ایف ٹی کو منٹ Minting an NFT کرتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ آپ کسی ڈیجیٹل اثاثے یا ڈیٹا کو کرپٹو کلیکشن میں تبدیل کرکے اس کا اندراج بلاک چین میں کررہے ہیں۔ 

اس کو ایک مثال سے سمجھئے: اگر کسی شخص نے ایک ڈیجیٹل تصویر بنائی اور وہ اب انٹرنیٹ پر موجود ہے تو جتنی مرتبہ بھی لوگ اس کو ڈاؤنلوڈ کریں گے تو اس کا ایک حصہ مصور کو دیا جائے گا۔ اسی طریقے سے اگر کسی نے کوئی بیان آڈیو یا ویڈیوریکارڈ کروایا تو وہ بیان اگر کسی ویب سائٹ کو دیا یا یوٹیوب پر رکھا تو چینل والے اس کا ایک حصہ اس کی آمدنی میں دیں گے۔ اس کے برعکس اگر این ایف ٹی کے ذریعے اس ڈیجیٹل اثاثے کو محفوظ بنایا گیا تو اس پر نت نئے مالیاتی طریقے جیسے نیو بزنس ماڈلز کے ذریعے سے آمدنی کے ذرائع پیدا کیے جاسکتے ہیں۔ یہاں تک تو بات سمجھ میں آتی ہے، مگر مسئلہ جب پیدا ہوتا ہے جب ان ڈیجیٹل اثاثوں اور حسی چیزوں میں کوئی تطبیق نہیں ہوتی۔ اصل میں یہ مسئلہ سمجھئے:

’’اگر آپ کے پاس ایک این ایف ٹی ہے تو آپ کے پاس اس کی ایک خاص طریقے کی ملکیت ہے، مگر پھر بھی آپ اس ڈیجیٹل اثاثے کے حقیقی مالک نہیں ہیں۔ ‘‘

یہ وہ بنیادی نقطہ ہے جس میں شریعت ہماری رہنمائی کرتی ہے۔ آپ نے پچھلی مثال میں دیکھا کہ آپ ایک این ایف ٹی کی مدد سے جامعۃ العلوم الاسلامیہ کی ڈیجیٹل زمین کےاین ایف ٹی کے ذریعے سے مالک بن گئے اور آپ نے اس کی خرید وفرخت کرپٹوکرنسی کے مدد سے کی، مگر اس ڈیجیٹل زمین کی کوئی حقیقی حیثیت نہیں تھی۔ این ایف ٹی کے کام کرنے کے طریقہ کار کے مطابق اگر آپ ایک این ایف ٹی کے مالک ہیں تو اس کا قطعاً یہ معنی نہیں کہ آپ کے پاس اس کے کمرشل حقوق بھی موجود ہیں یا آپ ان کمرشل حقوق کے بھی مالک ہیں۔ این ایف ٹی کی ملکیت صرف یہ ثابت کرے گی کہ آپ ایک ڈیجیٹل اثاثے کے ایک خاص طریقے سے مالک ہیں، یعنی آپ کو شیخی بگھارنے کے حقوق Bragging Rights حاصل ہوں گے۔ ساری بات کا خلاصہ یہ ہے کہ اگر آپ ایک این ایف ٹی کے مالک ہیں تو یہ قطعی طور پر مماثلت نہیں رکھتا کہ آپ کسی حسی Physical Asset  اثاثے کے مالک ہیں۔ 

اصلی دنیا میں کرپٹوکرنسی اور این ایف ٹی ذاتی قدر کیسے رکھتی ہے؟

کرپٹو کرنسی کی قدر بلاک چین نیٹ ورک پرTrust بھروسہ سے پیدا ہوتی ہے، یعنی کرپٹو کرنسی کی قدراس کرپٹوکرنسی کے استعمال کرنے والوں پر منحصر کرتی ہے، یعنی کرپٹو کرنسی کے استعمال کرنے والے اس کرپٹو کرنسی کی مارکیٹ میں اس کرپٹو کرنسی کی طلب اور رسد کی بنیاد پر اس کی قدر کا تعین کرتے ہیں۔ 

این ایف ٹی کے تناظر میں ہر این ایف ٹی کی اپنی انفرادی قدر ہوتی ہے اور وہ کسی دوسرے این ایف ٹی کی قدر پر انحصار نہیں کرتی۔ این ایف ٹی کی قدر اس ڈیجیٹل اثاثے کی اہمیت اور انفرادی نوعیت Scarcity and Authenticity of Asset پر منحصر ہوتی ہے۔ 

لوگ کیوں این ایف ٹی خرید تےہیں؟

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ لوگ این ایف ٹی کیوں خریدتے ہیں؟ بنیادی طور پر یہ لوگوں کے رجحان پر منحصر کرتا ہے۔ کچھ لوگ سرمایہ کاری کے لیے این ایف ٹی خریدتے ہیں، جبکہ دوسرے لوگوں کا مقصد اس کو استعمال کرنا ہوتا ہے۔ ایک این ایف ٹی جو کہ پانچ ہزار تصاویر پر مشتمل ایک تصویر ہے  Every Days: The First 5000 Days ، ابھی حال ہی میں اس کو ۶۹ ملین امریکی ڈالر میں فروخت کیا گیا۔ جب لوگوں نے دیکھا کہ این ایف ٹی اتنی زیادہ قیمت پر بیچا جا رہا ہے تو انہوں نے دیکھا دیکھی این ایف ٹی میں سرمایہ کاری شروع کردی اور اسی وجہ سے مارکیٹ کے اندر این ایف ٹی خریدنے کا اتنا زیادہ رجحان ہے۔ اگر ہم این ایف ٹی کو استعمال کرنا چاہتے ہیں تو ہم بھی این ایف ٹی کو خرید سکتے ہیں، تاکہ ہم کسی ڈیجیٹل اثاثے کی ملکیت ظاہر کرسکیں، مثلاً کسی شخص نے کمپیوٹر پر ایک ڈیجیٹل تصویر بنائی اور اب وہ چاہتا ہے کہ اس تصویر کی ملکیت کا کوئی دوسرا دعویٰ نہ کرسکے تو وہ این ایف ٹی کا استعمال کرکے اس تصویر کی ملکیت کو ثابت کرسکتا ہے۔ 

کمپیوٹر گیم کے اندر این ایف ٹی کا استعمال

جو لوگ کمپیوٹر گیم کھیلتے ہیں، وہ گیم کے اندر کافی ساری چیزیں خریدتے ہیں۔ کچھ لوگ ان گیمز میں استعمال ہونے والے اثاثوں کو eBay یا Player Auctions پر بیچتے ہیں اور اس کے اندر دھوکہ دہی کا امکان ہوتا ہے کہ گیم کے اندر استعمال ہونے والا اثاثہ واقعتاً بیچنے والے شخص کا ہے بھی یا نہیں؟ اور خریدنے کے بعد خریدنے والے کو یہ اثاثہ ملے گا بھی یا نہیں؟ تو اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے بھی این ایف ٹی کا استعمال ہوتا ہے، جو کہ گیم کے اندر استعمال ہونے والے اثاثوں کی ملکیت کو ظاہر کرتا ہے۔ 

کرپٹو کٹی Crypto Kitties ایک بلاک چین ویڈیو گیم ہے، جس کو ایتھریم کے اوپر بنایا گیا ہے۔ اس ویڈیوگیم کے اندر بلی کی ڈیجیٹل تصویر کی خریدوفروخت اور افزائشِ نسل( Breeding) بھی کی جاسکتی ہے، یعنی مارکیٹ پلیس پر جاکر نہ صرف یہ کہ ان بلیوں کو ایتھریم کی مدد سے خریدا جاسکتا ہے، بلکہ افزائشِ نسل کے تحت نئی بلی بھی بنائی جاسکتی ہے۔ 

کیا این ایف ٹی کی مدد سے حقیقی دنیا کے قیمتی اثاثوں کو بھی محفوظ بنایا جاسکتاہے؟

این ایف ٹی کی مدد سےحقیقی دنیا کے قیمتی اصلی اثاثوں کا اظہار اوران کو محفوظ بھی بنایا جاسکتا ہے، مثلاً Non Fungible Goods نان فنجیبل اشیاء۔ البتہ جب ہم حقیقی دنیا کے اثاثوں کا اظہار این ایف ٹی کی مدد سے کریں گے تو یہ بات ملحوظِ خاطر رہے کہ وہ قانونی طور پر تسلیم شدہ ہو اور ایک ہی اثاثے کی مختلف ڈیجیٹل شکلیں بنا کر ان کو ایک سے زائد مرتبہ نہ اظہار کیا جائے، ورنہ پھر جیسا ہم نے جامعۃ العلوم الاسلامیہ کی مثال میں دیکھا کہ اگر حقیقی اثاثے کو این ایف ٹی کے ذریعے سے اظہار کیا جائے، مگر اس کو حکومت تسلیم نہ کرے تو اس طرح کی بیع میں بہت ساری شرعی قباحتیں ہیں۔ 

این ایف ٹی اور اس کی نقل میں فرق کیسے کیا جائے گا؟

این ایف ٹی مارکیٹ کے اندر ہر این ایف ٹی کا ایک انفرادی نشان Identifier ہوتا ہے، جس کی وجہ سے اس این ایف ٹی کو دوسرے این ایف ٹی سےالگ سمجھا جاسکتا ہے اور اسی نشانIdentifier کی بنیاد پر اس این ایف ٹی کے اصلی مالک کی نشاندہی کی جاسکتی ہے۔ این ایف ٹی کی مدد سے کسی بھی ڈیجیٹل اثاثے کو ٹریس کیا جاسکتا ہے، اس کی اصل ملکیت کا تعین کیا جاسکتا ہے اور اس بات کا تعین کیا جاسکتا ہے کہ وہ ڈیجیٹل فن پارہ کا اصل مسکن یا کہاں سے اس کی بیع کی شروعات ہوئی؟ اس کا بھی تعین کیا جاسکتا ہے۔ 

میٹاورس کیا ہے؟

میٹا ورس بنیادی طور پر ایک ڈیجیٹل تخیلاتی دنیا یعنی ورچوئل دنیا کا نام ہے۔ آپ میں سے اگر کسی کو کمپیوٹر گیمز کھیلنے کا اتفاق ہوا ہو تو آپ کے علم میں ہوگا کہ اس کے اندر کچھ ڈیجیٹل کردار بنائے جاتے ہیں اور گیم کے اندر کے ماحول کو بالکل اصل زندگی کے مطابق ڈھالا جاتا ہے۔ جو کمپیوٹر گیم جتنا زیادہ حقیقی زندگی اور کرداروں سے مشابہت اختیار کرے گا، وہ اتنا ہی اچھا گیم تصور کیا جائے گا۔ اب اس گیم کی ورچوئل دنیا کو اگر ہم اعلیٰ قسم کے سائنسی آلات کے ساتھ جوڑ کر اس کو حقیقی دنیا سے جوڑیں تو یہ میٹاورس بن جاتا ہے۔ 

اسمارٹ کانٹریکٹ

اسمارٹ کانٹریکٹ Smart Contract ایک طرح کا ڈیجیٹل کانٹریکٹ ہے۔ مستقبل کے اسمارٹ کانٹریکٹ کے اندر جو ممکنہ مسائل ہوسکتے ہیں، ان میں گواہ بنانے سے متعلق شریعتِ اسلامی کے متعلق احکامات ہیں، مثلاً جب اسمارٹ کانٹریکٹ لکھا جائے گا تو اس کا گواہ کون ہو گا؟ کیا غیر جاندار کو گواہ بنایا جاسکتا ہے؟ اور پھر اگر مصنوعی ذہانت کی مدد سے یہ گواہ اپنی گواہی کو تبدیل کرے تو پھر کیا ہوگا؟ کیا کمپیوٹر گواہ کا کردار ادا کریں گے؟ اور پھر اگر کمپیوٹر گوا ہ کا کردار ادا کریں گے تو کیا ایسا شرعی طور پر جائز ہوگا؟ اگر جائز ہوگا تو شریعت میں عورت اور مرد کی گواہی کے الگ الگ احکامات ہیں، ان کو اس کمپیوٹر کے گواہوں پر کیسے منطبق کیا جائے گا؟

حواشی وحوالہ جات

[1]  John L. Esposito, The Oxford History of Islam, Oxford University Press USA; 1st Edition, 2000.

                                  (جاری ہے)





 کرپٹو کرنسی، این ایف ٹی، اور بلاک چین 

تعارف، مغالطے، شرعی نقطۂ نظر اور ہماری ذمہ داری

(چوتھی قسط)

 


کرپٹوکرنسی اور این ایف ٹی سے متعلق مغالطے اور ان کے جوابات

کرپٹو کرنسی اور این ایف ٹی سے متعلق عوام میں بہت ساری باتیں مشہور ہیں، جو کہ اس کے جواز اور عدمِ جواز کے بارے میں شکوک پیدا کردیتی ہیں، مثلاً یہ کہا جاتا ہے کہ کرپٹو کرنسی سے جو منافع حاصل کیا جاتا ہے و ہ محض ایک کاروبار کی طرح ہے۔ دوسری طرف یہ کہا جاتا ہے کہ کرپٹو کرنسی جُوا اور سٹے بازی ہے، اس میں غرر Uncertainty بہت زیادہ ہے اور یہ صرف کمپیوٹر کے اعداد و شمار سے کھیلنے کے مترادف ہے۔ نیز فیوچر ٹریڈنگ (مستقبلیات کی بیع) کو جس بنیاد پر شرعاً ناجائز کہا جاتا ہےکہ اول اس میں غیر مملوک کی بیع ہوتی ہے اوردوم اس میں قبضہ سے پہلے آگے بیع کردی جاتی ہے اور بیع قبل القبض شرعاً ناجائز ہے تو غور کرنے پر معلوم ہوتا ہے کہ کچھ ایسی ہی صورت کرپٹوکرنسی اور این ایف ٹی میں بھی پائی جاتی ہے۔ اسی طرح یہ بھی کہا جاتا ہے کہ کرپٹوکرنسی محض نمبرز ہیں، یہ صرف کمپیوٹر میں ہوتے ہیں اور ان کی ذاتی کوئی حیثیت نہیں ہوتی اور ذاتی قدر بھی نہیں ہوتی۔ نیز کرپٹو کرنسی دنیا میں جتنی بھی بن رہی ہے زیادہ تر اسے افراد بنا رہے ہیں۔ غرض اس طرح کی دسیوں باتیں خلط ملط ہوچکی ہیں۔ ذیل میں ہم ان میں سے کچھ اہم اور بنیادی مغالطوں کا جواب دیں گے جس کی بنیاد پر اصولی طور پر ہم کرپٹو اثاثوں سے متعلق شرعی حکم معلو م کرسکتے ہیں۔ 


مغالطہ نمبر۱

کیا کرپٹو کرنسی سٹے بازی یا جُوا (میسر، قمارGambling ) ہے؟ یا محض ایک کاروبار کی طرح ہے؟ ایک مغالطہ یہ ہے کہ کرپٹو کرنسی محض ایک کاروبار کی طرح ہے اور اس کا دور دور تک سٹے بازی اور قمار سے تعلق نہیں۔ 

جواب: راقم کو یہ جان کر بہت حیرت ہوئی کہ پاکستان کے اندر کچھ حضرات کرپٹوکرنسی کے جواز کے متعلق دلائل پیش کررہے ہیں اور کرپٹو کرنسی کو سٹے بازی اور جوئے کے بجائے محض ایک کاروبار کی طرح سمجھ رہے ہیں۔ اس کے برعکس آئرلینڈ کے اندر سینٹرل بینک آف آئرلینڈ Central Bank of Ireland تو کرپٹوکرنسی کو سٹے بازی قرار دے رہا ہےاور باقاعدہ ایک منظم طریقے سےعوامی آگاہی کی مہم چلارہا ہے کہ لوگ کرپٹو کرنسی میں خرید و فروخت اور لین دین سے اجتناب کریں۔ ذیل میں ہم ان کی پریس ریلیز پیش کرتے ہیں۔ [1]

"The Central Bank has today (22 March 2022 ) issued a fresh warning on the risks of investing in crypto assets, as part of a European-wide campaign by the European Supervisory Authorities.

The Central Bank again emphasised that crypto assets are highly risky and speculative, and may not be suitable for retail customers. In particular people need to be alert to the risks of  isleading advertisements, particularly on social media, where influencers are   eing paid to advertise crypto assets.

Derville Rowland, Director General Financial Conduct said :In Ireland and across the EU we are seeing increasing levels of advertising and aggressive promotion of crypto asset investments.

While people may be attracted to these investments by the high returns advertised, the reality is that they carry significant risk.

Before you buy crypto assets, you need to think about whether you can afford to lose all the money you invest. Do the promised fast or high returns seem too good to be true."

’’مرکزی بینک نے آج مورخہ ۲۲؍ مارچ ۲۰۲۲ء کرپٹو اثاثوں میں سرمایہ کاری کے خطرات کے بارے میں ایک تازہ انتباہ جاری کیا ہے، جو کہ یورپی سپروائزری اتھارٹیز کی طرف سے یورپ بھر میں مہم کا حصہ ہے۔ 

مرکزی بینک نے ایک بار پھر اس بات پر زور دیا کہ کرپٹو اثاثے انتہائی رسکی اور سٹے بازی (قیاس آرائی) پر مبنی ہیں، اور یہ ریٹیل صارفین کے لیے موزوں نہیں ہو سکتے۔ خاص طور پر لوگوں کو گمراہ کن اشتہارات کے خطرات سے ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے، خاص طور پر سوشل میڈیا پر، جہاں پر سوشل میڈیا پر اثر انداز کرنے والوں کو ادائیگی کی جاتی ہے، تاکہ وہ کرپٹو اثاثوں کی تشہیر کریں۔ 

Derville Rowland، ڈائریکٹر جنرل فنانشل کنڈکٹ نے کہا: ’’آئرلینڈ اور EU بھر میں ہم اشتہارات کی بڑھتی ہوئی سطح اور کرپٹو اثاثہ میں سرمایہ کاری کے جارحانہ فروغ کو دیکھ رہے ہیں۔ 

اگرچہ لوگ اس تشہیر کی وجہ سے کہ اس میں زیادہ منافع ہوتا ہے، ان میں سرمایہ کاری کی طرف متوجہ ہو سکتے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس میں رسک بہت زیادہ ہے۔ 

کرپٹو اثاثے خریدنے سے پہلے آپ کو یہ سوچنے کی ضرورت ہے کہ آیا آپ اپنی سرمایہ کاری کی تمام رقم کھونے کے متحمل ہو سکتے ہیں؟ کیا، کیا گیا تیز یا زیادہ منافع کا وعدہ درست بھی ہوگا؟‘‘

آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ آئرلینڈ تو ایک چھوٹا سا یورپی ملک ہے تو اس کی بات کی کیا اہمیت؟ مگر آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ یورپی یونین EU جو کہ ۲۷ ممالک کا مجموعہ ہے جن میں فرانس، جرمنی، اٹلی، اسپین، سوئیڈن، ڈنمارک، فن لینڈ، آئرلینڈ، پولینڈ اور دیگر ممالک شامل ہیں ان کے مالیاتی ریگولیٹری اداروں EU Financial Regulators نے حال ہی میں کرپٹو اثاثوں (کرپٹو کرنسی وغیرہ) کو سٹے بازی قرار دیا ہے اور وہ اس کو  Volatile, Highly Speculativeکہہ رہے ہیں اور پورے یورپ کے ۴۴ کروڑ سے زیادہ عوام کوسرکاری سطح پر اس بات کی وارننگ دے رہے ہیں کہ وہ کرپٹو کرنسی میں حتی الوسع سرمایہ کاری، لین دین اور اس کی خریدوفروخت سے اجتناب کریں۔ یورپی مالیاتی ریگولیٹری ادارے جن کو یورپین سپروائزی اتھارٹی (European Supervisory Authority ESA) بھی کہا جاتا ہے اور وہ مندرجہ ذیل ریگولیٹری اداروں کا مجموعہ ہے۔ 

European Supervisory Authorities (ESAs) are: 

    the European Banking Authority  )EBA(

    the European Securities and Markets Authority (ESMA(

    the European Insurance and Occupational Pensions Authority  )EIOPA(

اسی یورپین سپروائزری اتھارٹی ESA نے تمام یورپی مما لک کو وارننگ جاری کی ہے کہ وہ اس کی منظم تشہیر کریں۔ [2]

"The European Supervisory Authorities  )ESAs - EBA, ESMA and EIOPA) warn consumers that many crypto-assets are highly risky and speculative. These are not suited for most retail consumers as an investment or as a means of payment or exchange."

’’یورپی سپروائزری اتھارٹیز (EBA ESMA اورEIOPA ESAs –) صارفین کو خبردار کرتی ہیں کہ بہت سے کرپٹو اثاثے انتہائی رسکی اور سٹے بازی یعنی قیاس آرائی پر مبنی ہیں۔ یہ زیادہ تر ریٹیل صارفین کے لیے بطور سرمایہ کاری یا ادائیگی یا تبادلے کےلیے موزوں نہیں ہیں۔ ‘‘

یورپی سپروائزری اتھارٹیز کی جانب سے یہ پہلی وارننگ نہیں ہے، بلکہ سن ۲۰۱۳ء، سن ۲۰۱۸ ء اور سن ۲۰۱۹ء میں وہ ایسی ہی وارننگ دے چکے ہیں۔ اب قارئین آپ ہی انصاف کیجئے کہ یورپ کے ۲۷ ممالک یعنی یورپی سپروائزری اتھارٹیز تو کرپٹو کرنسی اور کرپٹو اثاثوں کو سٹے بازی کہیں اور ہمارے ملکِ پاکستان میں لوگ اس کے جواز کے دلائل دیں؟  ({ FR 12194 })

پھر اسی یورپین سپروائزری اتھارٹی ESA نے تمام یورپی مما لک کو جاری وارننگ میں کرپٹو اثاثوں سے متعلق رسک (خطرات) کی تفصیلات سے آگاہ کیا ہے۔ یہ جتنے بھی رسک یورپین سپروائزی اتھارٹی نے گنوائے ہیں، یہ محض خیالی رسک (خطرات) نہیں ہیں، بلکہ انہوں نے پورے یورپ سے اعداد و شمار اکھٹا کرنے کے بعد جو نتائج اخذ کیے ہیں، ان کو تحریری صورت میں پیش کیا ہے، اس تحریر کا ترجمہ اور مفہوم درج ذیل ہے : 

کون سے اہم رسک (خطرات) ہیں؟


قیمتوں میں بہت زیادہ اتارچڑھاؤ

بہت سے کرپٹو اثاثے اچانک اور انتہائی قیمت کے اتار چڑھاؤ کے تابع ہوتے ہیں اور قیاس آرائی یعنی سٹے بازی پر مبنی ہوتے ہیں، کیونکہ ان کی قیمت اکثر صرف صارفین کی طلب پر منحصر ہوتی ہے (یعنی اس کے پیچھے کوئی اثاثہ نہیں ہوتا یا کوئی ٹھوس قدر نہیں ہوتی ہے)۔ آپ اپنی ایک بڑی رقم یا یہاں تک کہ تمام سرمایہ کاری سے بھی محروم ہو سکتے ہیں۔ قیمتوں میں انتہائی اتار چڑھاؤ کا مطلب یہ بھی ہے کہ بہت سے کرپٹو اثاثے قیمت (ثمن) کے ذخیرہ کے طور پر، اور تبادلے یا ادائیگی کے ذریعہ کے طور پر نا مناسب ہیں۔ 


گمراہ کن معلومات

کچھ کرپٹو اثاثہ جات اور متعلقہ پروڈکٹس کی مارکیٹنگ مواد اور دیگر معلومات کا استعمال کرتے ہوئے عوام کے سامنے تشہیر کی جاتی ہے جو غیر واضح، نامکمل، غلط یا جان بوجھ کر گمراہ کن بھی ہو سکتی ہیں۔ مثال کے طور پر سوشل میڈیا کے ذریعے اشتہارات بہت مختصر ہو سکتے ہیں، جس میں ممکنہ فوائد پر توجہ مرکوز کی جاتی ہے، لیکن اس میں شامل خطرات پر نہیں۔ آپ کو سوشل میڈیا کے ’’اثراندازوں‘‘ سے بھی ہوشیار رہنا چاہیے، جن کے پاس عام طور پر مخصوص کرپٹو اثاثوں اور متعلقہ مصنوعات اور خدمات کی مارکیٹنگ کے لیے مالی ترغیب ہوتی ہے اور وہ اپنی جاری کردہ معلومات میں متعصب بھی ہو سکتے ہیں۔ 


تحفظ کی عدم موجودگی

کرپٹو اثاثوں کی اکثریت اور کرپٹو اثاثوں کے سلسلے میں مصنوعات یا خدمات کی فروخت EU میں ریگولیٹ نہیں ہے۔ اس تناظر میں صارف ہونے کے ناطے جو سہولیات حکومت آپ کو فراہم کرتی ہے، آپ اس سے محروم ہوں گے، جیسا کہ شکایات یا سہارے کے طریقہ کار۔ 


پروڈکٹ کی پیچیدگی

کرپٹو اثاثوں کے ساتھ تامل فراہم کرنے والی کچھ مصنوعات بہت پیچیدہ ہوتی ہیں، بعض اوقات ایسی خصوصیات کی حامل ہوتی ہیں جو قیمت میں منفی تبدیلی کی صورت میں نقصانات کی شدت کو بڑھا سکتی ہیں۔ یہ مصنوعات اپنی پیچیدگی کے پیش نظر بہت سے صارفین کے لیے موزوں نہیں ہیں۔ 


دھوکہ دہی اور بدنیتی پر مبنی سرگرمیاں

متعدد جعلی کرپٹو اثاثے اورجعلی اسکیمیں موجود ہیں اور آپ کو آگاہ ہونا چاہیے کہ ان کا واحد مقصد مختلف تکنیکوں کا استعمال کرتے ہوئے آپ کو اپنے پیسے سے محروم کرنا ہے، مثال کے طور پر پشنگ یعنی انٹرنیٹ کے ذریعے دھوکہ دہی سے آپ کی ذاتی معلومات مثلاً تاریخِ پیدائش، پاس ورڈ یا کریڈٹ کارڈ سے متعلقہ معلومات کو حاصل کرنا۔ 


مارکیٹ میں ہیرا پھیری، قیمتوں میں شفافیت کا فقدان اور کم لیکویڈیٹی

کرپٹو اثاثوں کی قیمتوں کا تعین کیسے کیا جاتا ہے؟ یہ عمل اکثر شفاف نہیں ہوتا، نیز ایکسچینج پر لین دین کا عمل بھی اکثر شفاف نہیں ہوتا ہے۔ بعض کرپٹو اثاثوں کی ملکیت بھی کچھ لوگو ں تک بہت زیادہ مرتکز ہے، جو قیمتوں یا لیکویڈیٹی کو متاثر کرسکتی ہے، اس لیے کرپٹو اثاثے خریدتے یا بیچتے وقت آپ کو مناسب قیمت نہیں مل سکتی، یا ممکنہ خریدار کی غیر موجودگی میں آپ اپنے کرپٹو اثاثوں کو اتنی جلدی فروخت کرنے کے قابل نہیں ہوسکتے۔ متعدد مواقع پر مارکیٹ میں ہیرا پھیری کے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔ 


ہیکس، آپریشنل خطرات اور سیکورٹی کے مسائل

کرپٹو اثاثوں کے تحت ڈسٹری بیوٹڈ لیجر ٹیکنالوجی کچھ مخصوص خطرات کو ہی برداشت کر سکتی ہے۔ کرپٹو اثاثوں کے لیے کئی جاری کنندگان اور سروس فراہم کنندگان، بشمول کرپٹو ایکسچینج اور والیٹ فراہم کرنے والی کمپنیاں، سائبر حملوں اور شدید آپریشنل مسائل کا سامنا کر چکے ہیں۔ بہت سے صارفین اپنے کرپٹو اثاثے کھو چکے ہیں یا اس طرح کے ہیکس اور رکاوٹوں کی وجہ سے نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے یا اس وجہ سے کہ انہوں نے اپنے اثاثوں تک رسائی فراہم کرنے والی پرائیویٹ کی( Private Keys ) کھو دی ہیں۔ 

آپ یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ یہ ساری وارننگز تو بینکوں اور موجودہ حکومتوں کے نظام کی طرف سے آرہی ہیں اور وہ کبھی نہیں چاہیں گے کہ عالمی سطح پر بینک کا نظام سرنگوں ہو اور ان بینکوں، حکومتوں اور عالمی مالیاتی اداروں کی عالمی معاشی نظام پر سے اجارہ داری ختم ہو اور ان وارننگز کو دینے والوں میں سرِ فہرست یورپی سپروائزری اتھارٹیز ہیں، جو کہ بینکوں کے نظام کو ریگولیٹ اور کنٹرول کرتے ہیں۔ تو گزارش یہ ہے کہ مغالطہ نمبر:۸ کے اندر ہم آپ کو تفصیل کے ساتھ بتائیں گے کہ جو حضرات یہ کہتے ہیں کہ کرپٹو کرنسی عالمی معاشی اداروں، بینکوں، اور حکومتوں کی اجارہ داری ختم کرتی ہے اور ان کے مقابلے میں ایک بھرپور نظام ہے، ان کو مغالطہ ہوا ہے اور کرپٹو کرنسی کا نظام اس کے قطعاً برعکس ہے۔ 

اب ہم سٹے بازی Speculation اور جوا (میسر، قمارGambling ) کے بنیادی فرق کو سمجھتے ہیں:

’’سٹہ Speculation دراصل اس معاملے کو کہتے ہیں جس میں بائع اور خریدار میں سےکسی کا ارادہ عملاً مبیع پر قبضہ کا نہیں ہوتا، بلکہ اس میں قیمتوں کا فرق برابر کرکے نفع کمایا جاتا ہے۔ سٹہ کے اندر دو خرابیاں پائی جاتی ہیں: اول یہ کہ اس کے اندر غیر مملوک کی بیع ہوتی ہے اور دوم یہ کہ اس میں بیع قبل القبض کا دخل ہوتا ہے، لہٰذا شریعتِ مطہرہ کے اندر سٹہ کی ممانعت ہے۔ ‘‘(ڈاکٹر مولانا اعجاز احمد صمدانی صاحب، غرر کی صورتیں، جنوری ۲۰۰۹ء، ادارۃ المعارف، کراچی)

جُوا، میسر یا قمار Gambling کی تعریف یہ ہے کہ :

’’جس معاملہ میں کسی مال کا مالک بنانے کو ایسی شرط کے ساتھ موقوف رکھا جائے کہ جس کے وجود اور عدم کی دونوں جانبین مساوی ہوں اور اسی بنا پر نفع خالص یا تاوان خالص برداشت کرنے کی دونوں جانبیں بھی برابر ہوں، مثلاً یہ بھی احتمال ہے کہ زید پر تاوان پڑ جائے اور یہ بھی کہ عمرو پر پڑ جائے، اس کی جتنی قسمیں اور صورتیں پہلے زمانے میں رائج تھیں یا آج رائج ہیں یا آئندہ پیدا ہوں، وہ سب میسر، قمار اور جُوا کہلائے گا۔‘‘ (معارف القرآن، جلد: ۱، سورۃ البقرۃ، صفحہ: ۵۳۲، حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب رحمۃ اللہ علیہ)

ڈاکٹر مولانا اعجاز احمد صمدانی صاحب نے لکھا ہے کہ کسی معاملے کے جُوا یعنی قمار ہونے کے لیے درجِ ذیل شرائط کا پایا جانا ضروری ہے:

شرطِ اول: معاہدہ دو یا دو سے زائد فریقوں کے درمیان ہو۔ 

شرطِ دوم: معاہدہ کرنے والے شرکاء اپنا مال داؤ پر لگائیں۔ 

شرطِ سوم: دوسرے کے مال کا حاصل ہونا کسی ایسے غیر یقینی واقعہ پر موقوف ہو جس کے پیش آنے کا احتمال بھی ہو اور نہ ہونے کا بھی۔ 

شرطِ چہارم: داؤ پر لگایا ہوا مال بلامعاوضہ ختم ہوجائے یا دوسرے کا مال بلا معاوضہ آجائے۔ 

پھر وہ جُوا یعنی قمار کی بنیادی طور پر دو قسمیں بتاتے ہیں:

پہلی قسم: اس میں کوئی ایک فریق یقینی طور پر کوئی ادائیگی کرنے کا پابند نہیں ہوتا، بلکہ ہر فریق کی طرف سے ادائیگی کسی غیر یقینی واقعہ پر موقوف ہوتی ہے۔ 

دوسری قسم: اس میں ایک فریق کی طرف سے ادائیگی یقینی ہوتی ہے، جبکہ دوسری طرف سے غیر یقینی ہوتی ہے۔ 

اب ہم تکنیکی طور پر یہ دیکھتے ہیں کہ کرپٹو کرنسی اور این ایف ٹی کے اندر وہ کون سے معاملات ہیں جن کے اندر غرر Uncertainty، جُوا، اور سٹے بازی ممکن ہے۔ سب سے پہلے تو ہم کرپٹو کرنسی اور این ایف ٹی کو صارفین کے تناظر میں دیکھتے ہیں۔ جب بھی کوئی عام صارف کرپٹو کرنسی مارکیٹ Cryptocurrency Marketplace یا این ایف ٹی مارکیٹ NFT Marketplace میں اپنی سرمایہ کاری کرتا ہے تو اس کا واسطہ کرپٹو کرنسی اور این ایف ٹی مارکیٹ سے پڑتا ہے۔ اس میں ذرہ برابر بھی شک نہیں کہ کرپٹو کرنسی مارکیٹ بہت زیادہ رسکی ہے اور اس رسک کی بنیادی وجہ مارکیٹ کے اندر کرپٹو کرنسی کی قیمتوں کا غیر یقینی اُتار چڑھاؤ ہے، مثلاً: جنوری ۲۰۲۱ء میں ایک بٹ کوائن تیس ہزار یورو سے زیادہ کا تھا۔ اپریل ۲۰۲۱ء میں ایک بٹ کوائن کی قیمت سینتیس ہزار یورو سے زیادہ تھی۔ پھر اکتوبر ۲۰۲۱ء میں اس بٹ کوائن کی قیمت تریپن ہزار یورو سے زیادہ کی تھی۔ اتنے زیادہ منافع کی وجہ سے ہی لوگ جوق در جوق اس میں سرمایہ کاری کی طرف متوجہ ہوتے ہیں اور اپنا سرمایہ کھو بیٹھتے ہیں۔ اگرقارئین خود جاکر کرپٹو کرنسی مارکیٹ کا جائزہ لیں تو آپ کو اندازہ ہوگا کہ دنوں اور گھنٹوں کے حساب سے سٹے بازی ہورہی ہوتی ہے اور سافٹ وئیر کی مدد سے تو یہ خریدوفروخت منٹوں میں سمٹ آئی ہے اور مروجہ کرپٹوکرنسی مارکیٹ کے اندر عمومی طور پر دونوں ہی خرابیاں یعنی غیر مملوک کی بیع ہوتی ہے اور دوم یہ کہ اس میں بیع قبل القبض کا دخل ہوتا ہے۔ 

جب ہم کرپٹوکرنسی کی مائننگ پراسس پر غور کرتے ہیں ، تو ہم پر یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ مائننگ پراسس کے اندر آپ کرپٹوگرافک پزل (یہ ایک ریاضی کے ایک مسئلےکی طرح ہوتا ہے) کو حل کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور اس کے لیے آپ اپنے وسائل Computing Resources and Energy کو لگاتے ہیں، تاکہ آپ نئی کرپٹو کرنسی (بٹ کوائن) بنا سکیں۔ اب ہوتا یہ ہے کہ یہ کرپٹو گرافک پزل بہت ہی مشکل سے حل ہوتا ہے اور اس کے حل ہونے کے جو ممکنات ہیں وہ عام صارف کے لیے انتہائی کم ہیں یا نہ ہونے کے برابر ہیں۔ آپ اس کا خود مشاہدہ کرسکتے ہیں۔ آپ اپنے کمپیوٹر کو بٹ کوائن نیٹ ورک کا حصہ بنائیں اور اس کمپیوٹر کو کرپٹوگرافک پزل حل کرنے پر لگادیں۔ ریاضی کے حساب سے کھربوں احتمالات میں سے ایک احتمال ہے کہ آپ اس کرپٹوگرافک پزل کو حل کرسکیں۔ تو اس مائننگ پراسس کے اندر آپ نئی کرپٹو کرنسی بنانے کے لیے اپنے وسائل کو لگا رہے ہیں اور اس پزل کے حل ہونے کا بھی احتمال ہے اور نہ ہونے کابھی، بلکہ ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ نہ ہونے کا ہی بہت زیادہ امکان ہے اور اس سے آپ کا مال (وسائل میں بجلی کا خرچ اور کمپیوٹنگ پاور وغیرہ) بلامعاوضہ ختم ہوجائیں گی۔ 

حال ہی میں آئرلینڈ کی پولیس An Garda Síochána نے مارچ ۲۰۲۲ء میں ایک عوامی وارننگ پریس ریلیز کے ذریعے جاری کی کہ عوام کرپٹو کرنسی میں سرمایہ کاری سے بہت زیادہ محتاط رہیں۔اس پریس ریلیز کا ترجمہ درج ذیل ہے: 

’’لوگ ہمیشہ بڑے منافع کے وعدوں کی طرف راغب ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کرپٹو کرنسی میں پرکشش، دھوکہ دہی پر مبنی سرمایہ کاری میں اضافہ ہو رہا ہے۔ – ۲۰۲۰ء میں ۶۷ فیصد سے زائد اضافہ ہوا ہے اور بہت سے دوسرے کیس شرمندگی کی وجہ سے رپورٹ نہیں ہوئے ہیں۔ ۲۰۱۹ء سے ۲۰۲۱ء کے درمیان پورے ملک میں عام لوگوں سے سرمایہ کاری کے فراڈ کے ذریعے ۲۴ملین یورو سے زیادہ کی چوری کی گئی، بہت سے لوگ اپنی پنشن یا زندگی کی بچت سے محروم ہو گئے۔ ورچوئل کرنسیاں زیادہ خطرہ ہیں اور ان کو ریگولیٹ نہیں کیا جاتا ہے۔ اگر کچھ غلط ہو جاتا ہے تو آئرلینڈ میں صارفین کے تحفظات یا فنانشل سروسزسے متعلق محتسب کی خدمات موجودنہیں ہیں۔ ہمارا مشورہ یہ ہے کہ کوئی بھی سرمایہ کاری کرنے سے پہلے اپنا ہوم ورک کریں ۔ ہمیشہ پیشہ ورانہ مالی اور قانونی مشورہ حاصل کریں، صرف ریگولیٹڈ اداروں کا استعمال کریں، اور یقین نہ آنے والی پیشکشوں سے ہوشیار رہیں۔ ‘‘[3]

اسی طرح سے آئرلینڈ کے مقامی اخبار نے کچھ اس طرح سے لکھا کہ : 

’’لوگ کرپٹوکرنسی میں سرمایہ کاری سے اپنی پینشن اور زندگی بھر کی جمع پونجی ضائع کررہے ہیں۔‘‘ [4]

آپ اگر یہ دلیل دیتے ہیں کہ دیکھیں! آپ مسلمانوں کوکرپٹو کرنسی میں سرمایہ کاری سے روک کر ایک عظیم نفع سے محروم کررہے ہیں، کتنے لوگوں کا فائدہ ہوجائے گا، کتنے نوجوان روزگار حاصل کریں گے، ملکی معیشت کو فائدہ ملے گا، تو عرض یہ ہے کہ ہم نے آپ کے سامنے یورپ کے اعداد و شمار رکھ دیئے کہ کتنے ہی سادہ لوگ کرپٹوکرنسی کے اس جال میں پھنس گئے اور اپنی ساری جمع پونجی ضائع کردی۔ 

حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے ایک فقہی ضابطہ لکھا ہے، وہ یہ کہ:

’’جلبِ منفعت سے دفعِ مضرت مقدم ہے، یعنی ایک کام کے ذریعے سے کچھ فائدہ بھی حاصل ہوتا ہے اور ساتھ ہی مضرت بھی پہنچتی ہے تو مضرت سے بچنے کے لیے اس منفعت کو چھوڑ دینا ہی ضروری ہوتا ہے، ایسی منفعت کو نظر انداز کردیا جاتا ہے جو مضرت کے ساتھ حاصل ہو۔‘‘ ( معارف القرآن، جلد: ۱، سورۃ بقرہ، صفحہ: ۵۳۷، حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب رحمۃ اللہ علیہ)

لہٰذا مندرجہ بالا فقہی ضابطہ کے تحت مسلمانوں کے حفظ المال کو مقدم رکھتے ہوئے بھی کرپٹو کرنسی میں سرمایہ کاری سے اجتناب کا کہا جائے گا، کیونکہ دفعِ مضرت مقدم ہے۔ 


حواشی وحوالہ جات

]1]  Central Bank of Ireland Press Release on Crytoassets, https//:www .centralbank .ie /news /article /central-bank-warning-on-investing -in -crypto -assets-22-march-2022 , March 2022.

]2] Joint ESA Warning, https//:www.esma.europa.eu/sites/default/files/library /esa _2022 _15_joint_esas_warning_on_crypto-assets.pdf , 2022.

]3] An Garda Síochána advise the public on Cryptocurrency, https//:www.garda.ie /en /about -us /our-departments/office-of-corporate-communications/press-releases/2022/ march /fraud -week-an-garda-siochana-advise-the-public-to-be-extra-vigilant-when -investing -in- cryptocurrencies.html , March 2022.

]4] https//:www.irishtimes.com/news/crime-and-law/cryptocurrency-scams -many -irish -people-losing-life-savings-garda-warns-1.4840409 .









کرپٹو کرنسی، این ایف ٹی، اور بلاک چین 

تعارف، مغالطے، شرعی نقطۂ نظر اور ہماری ذمہ داری

(پانچویں قسط)

 


مغالطہ نمبر۲: کیا کرپٹو کرنسی حسی طور پر موجود ہوتی ہے؟

 ایک مغالطہ یہ ہے کہ کرپٹو کرنسی حسی طور پر موجود ہوتی ہے۔ 

جواب: ’’ورچوئل کرنسیوں کی شرعی حیثیت‘‘ کے عنوان سے ایک فقہی مقالہ میں کرپٹو کرنسی کے حسی طور پر موجود ہونے کے دلائل دئیے گئےہیں۔ اس میں لکھا ہے کہ:

’’کمپیوٹر میں محفوظ ہونے والی تمام معلومات 0 اور 1 کی شکل میں ہوتی ہیں۔ 0 کا معنی مطلوبہ جگہ پر بجلی کا چارج نہ ہونا یا انتہائی کم ہونا اور 1 کا معنی مطلوبہ جگہ پر چارج کا ہونا ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر کمپیوٹر میں اگر انگریزی حرف Aمحفوظ کیا جائے تو کمپیوٹر اسے 01000001 کی صورت میں محفوظ کرے گا۔ جب کمپیوٹر اسےپڑھے گا تو اسے آٹھ سگنلز کا ایک مجموعہ ملے گا جن میں سے چھ مخصوص سگنلز بجلی سے خالی یا کم بجلی والے ہوں گے اور دو سگنلز میں بجلی موجود ہوگی۔ کمپیوٹر اسے اپنے اندر موجود سسٹم کی مدد سے سمجھ کر A کی شکل میں ظاہر کرے گا۔ کمپیوٹر کا ہر پروگرام انگریزی حروف میں تحریر کیا جاتا ہے۔ ان میں سے ہر حرف کے پیچھے اسی طرح کا کوڈ ہوتا ہے، جس طرح A کے پیچھے ہوتا ہے اور ہر کوڈ کا حقیقی مطلب بجلی کے سگنلوں کا ایک مجموعہ (پیکٹ) ہوتا ہے۔ بٹ کوائین کرنسی کی ہرٹرانزیکشن بھی کمپیوٹر میں 0 اور 1 کی صورت میں محفوظ ہوتی ہے، جسے کمپیوٹر بٹ کوائین کے مخصوص سافٹ وئیر کی مدد سے سمجھتا ہے۔ ان سگنلز کو 0 اور 1 سے ظاہر کرنے کی وجہ یہ ہےکہ کمپیوٹر میں ہونے والے کام کو سمجھا جاسکے، ورنہ کمپیوٹر خود کسی عدد کو اس کی اصلی حالت میں سمجھ نہیں سکتا، بلکہ وہ اس کی بجلی کے ہونے یا نہ ہونے کو سمجھتا ہے۔ 

اس 0 اور 1 (یعنی بجلی کا چارج ہونے اور نہ ہونے) پر مشتمل کوڈ کو مختلف آلات میں مختلف طریقوں سے محفوظ کیا جاتا ہے۔ ہر آلے میں کمپیوٹر مختلف مقامات کو مختلف پتے دیتا ہے اور بوقتِ ضرورت اس پتے پر جا کر معلومات کوحاصل کرلیتا ہے۔ بٹ کوائین کی ہر ٹرانزیکشن کو محفوظ ہونے کے لیے کسی آلے میں جگہ اور پتا چاہیے ہوتا ہے۔ اورجب وہ اس مقام پر محفوظ ہو جائے تو اسے وہاں سے منتقل یا ختم کیے بغیر دوسری کسی معلومات کو اس جگہ پر محفوظ نہیں کیا جا سکتا۔ 

بٹ کوائین اور دیگر ورچوئل کرنسیوں کے وجود کی عام فہم مثال بیٹری میں محفوظ بجلی کی ہے۔ بیٹری کے اندر موجود آلات میں بجلی محفوظ ہوتی ہے، لیکن اگر ان آلات کو الگ الگ کر لیا جائے تو اسے نہیں دیکھا جاسکتا، البتہ انہیں ایک خاص انداز سے ترتیب دے کر اس بجلی کو آلات کے ذریعے محسوس اور استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اسی طرح ہارڈ ڈسک یا کسی آلے کے اندر موجود حصوں میں ورچوئل کرنسی کو دیکھا نہیں جا سکتا، لیکن خاص انداز سے ان حصوں کوترتیب دے کر اس کرنسی کو محسوس اور استعمال کیا جا سکتا ہے۔‘‘      (مفتی اویس پراچہ صاحب، ورچوئل کرنسیوں کی شرعی حیثیت، صفحہ: ۴۶ اور ۴۷)

’’پہلے باب کی چھٹی فصل اور اس باب کی پہلی فصل میں ورچوئل کرنسیوں کے بارے میں تفصیل سے ذکر ہو چکا ہے کہ یہ وجود رکھتی ہیں اور ان کی حیثیت بجلی جیسی ہوتی ہے۔ جو حضرات انہیں فرضی ہندسہ کہتے ہیں، اس کی وجہ یہ ہے کہ لوگوں میں یہ معروف ہے کہ کمپیوٹر میں محفوظ چیزیں ایک ’’ہندسوں کی شکل کے کوڈ‘‘ میں محفوظ ہوتی ہیں۔ اس حوالے سے درست بات یہ ہے کہ کمپیوٹر میں موجود اشیاء ہندسوں میں محفوظ نہیں ہوتیں، بلکہ ان کا اظہار ہندسوں کی شکل میں کیا جاتا ہے، تاکہ انہیں دیکھنا، پڑھنا اور سمجھنا ممکن ہو۔ کمپیوٹر میں تمام ’’ڈیٹا‘‘ برقی اشاروں )سگنلوں(کی صورت میں کام کرتا ہے اور اس کا ثنائی/ بائنری ) 0 اور ایک 1کی شکل میں( ہندسوں کی شکل میں اظہار صرف بآسانی سمجھ آنے کے لیے ہوتا ہے، اس لیے انہیں ایک معدوم فرضی ہندسہ کہنا درست معلوم نہیں ہوتا۔‘‘                     (مفتی اویس پراچہ صاحب، ورچوئل کرنسیوں کی شرعی حیثیت، صفحہ: ۲۴۸)

’’چونکہ ورچوئل کرنسیاں روشنی، مقناطیسی اور برقی سگنلز وغیرہ کی شکل میں بجلی کی طرح وجود رکھتی ہیں، اس لیےان کا وجود بجلی ہی کی طرح کسی آلے کا محتاج ہوتا ہے۔ ان کے قائم بالغیر ہونے کی وجہ سے ان کا وجود مخصوص آلات ہی محسوس کر سکتے ہیں، لہٰذا یہ کرنسیاں حسی وجود بایں معنی نہیں رکھتیں کہ ان کو انسان حواس سے محسوس کرے، البتہ بجلی کی طرح یہ ایسا وجود رکھتی ہیں کہ انہیں محسوس کرنے کے لیے مخصوص آلات ضروری ہیں۔‘‘        ( مفتی اویس پراچہ صاحب، ورچوئل کرنسیوں کی شرعی حیثیت، صفحہ: ۲۴۹)

یہاں تک تو ہم اتفاق کرتے ہیں کہ سگنلز کی مدد سے مختلف اشیاء یا پیغام کو کمپیوٹر میں ظاہر Represent کرتے ہیں اور اس کو سائنسی دنیا میں تسلیم بھی کیا جاتا ہے، مگر اس کے بعد جب یہ نتیجہ نکالا گیا کہ: ’’بجلی کی طرح یہ ایسا وجود رکھتی ہیں کہ انہیں محسوس کرنے کے لیے مخصوص آلات ضروری ہیں‘‘ اور ’’انہیں ایک معدوم فرضی ہندسہ کہنا درست معلوم نہیں ہوتا‘‘ اور ’’خاص انداز سے ان حصوں کو ترتیب دے کر اس کرنسی کو محسوس اور استعال کیا جاسکتا ہے۔‘‘ تو ہمیں نہیں معلوم کہ کیسے یہ نتائج اخذکیے گئے؟ نیزان تمام نتائج کے سائنسی حوالہ جات بھی فراہم نہیں کیے گئے۔ ہماری رائےمیں یہ تمام باتیں درست معلوم نہیں ہوتیں اور یہاں پرکمپیوٹر سائنس کے بنیادی اصولوں کو سمجھنے میں مغالطہ ہوا ہے۔ اصل میں سگنلز صرف ایک طرح کا ’’Representation ‘‘ اظہار کا طریقہ ہے اور اس اظہار کو کسی مختلف ذرائع کی مدد سے بھی کیا جاسکتا ہے، مثلاً مورس کوڈ ( Morse Code) اس کی ایک واضح مثال ہے جس کے اندر ڈاٹ اور ڈیش کی مدد سےاشیاء یا پیغام کا اظہار کیا جاتا ہے، تاکہ مواصلاتی رابطہ کیا جائے اور پچھلی ایک صدی سے بحری جہازوں کے مواصلاتی رابطہ کے لیے اس کو استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ تو جب ہم پیغام کو مورس کوڈ میں اظہار کریں گے تو کیا ہم اس کو بھی کہیں گے کہ وہ بھی بجلی کی طرح وجود رکھتی ہیں؟! اس کو ایک اور مثال سے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں، مثلاً اگر ہم کرپٹو کرنسی کو بھی مورس کوڈ کے ذریعے سے ’’Represent‘‘ اظہار کرسکتے ہیں تو کیا ہم یہ کہنے لگ جائیں کہ کہ مورس کوڈ کو خاص انداز سے ترتیب دے کر ہم کرپٹو کرنسی کو محسوس اور استعمال کرسکتے ہیں؟ نہیں، کبھی نہیں۔ آئیے! ایک اور مثال سے سمجھتے ہیں۔ جب کوئی جہاز کسی مشکل میں پھنس جاتا ہے تو وہ ایس او ایس SOS کا سگنل دیتا ہے، جس کا مطلب ہے Save Our Souls or Save Our Ship اور اس کا سگنل مورس کوڈ میں یہ بنتا ہے: ▄ ▄ ▄ . اب اس سگنل کا اظہار کمپیوٹر میں صفر اور ایک سے بھی کیا جاسکتا ہے، اس کا اظہار بجلی کے سگنلز کی مدد سے بھی کیا جاسکتا ہے، اس کا اظہار ریڈیو کی کی key کھول بند کر کے بھی کیا جاسکتا ہے، اس کا اظہار شیشے کو منعکس کر کے بھی کیا جاسکتا ہے، اس کا اظہار لائٹ کو کھول بند کر بھی کیا جاسکتا ہے، اور بھی اس کے اظہار کے کئی طریقے ہیں۔ تو اس اظہار کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ یہ کوڈ بھی ایک حسی حیثیت رکھتا ہے اور اس کو خاص انداز سے ترتیب دے کر ہم اس کوڈ کو محسوس اور استعمال کرسکتے ہیں اور یہ کوڈ بجلی کی طرح اپنا ایک وجود رکھتا ہے۔ 

 تصویر نمبر ۴ کو دیکھیے جس کے اندر ہم نے بلب کے جلنے اور بجھنے کے میکانزم کو دکھایا ہے۔ ہم آٹھ سیکنڈ کی Time Slot ٹائم سلاٹ لیتے ہیں جس کے اندر آٹھ سلاٹ ہوں گی اور ہر سلاٹ ایک سیکنڈ کی ہوگی اور اس ہر سیکنڈ میں یا تو بلب جلے گا یا بجھے گا۔ اگر بلب بجھا ہوا ہوگا تو اس کا مطلب صفر ہوگا اور اگر بلب جلا ہوا ہوگا تو اس کا مطلب ایک ہوگا۔ تو اب ہم بلب کو اس طرز پر بجھاتے اور جلاتے ہیں: بجھاؤ، جلاؤ، بجھاؤ، بجھاؤ، بجھاؤ، بجھاؤ، بجھاؤ، جلاؤ۔ اب اس سے جو سگنل وجود میں آئے گا وہ  0100 0001 ہوگا جو کہ انگریزی حرف A کا کوڈ ہے۔ تو قارئین آپ نے دیکھا کہ ہم نے صرف بلب کو ایک خاص ترتیب سے آٹھ سیکنڈ میں بجھا جلا کرانگریزی حرف A کو حاصل کرلیا۔ سوال یہ ہے کہ کیا اس بلب کے خاص جلنے بجھنے سے ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ بلب کے اندر انگریزی حرف A موجود ہے؟ یہ بلب تو صرف انگریزی حرف A کے اظہار کا ایک ذریعہ ہے اور اس حروف کا کوئی حسی وجود نہیں ہے۔ دنیا میں جہاں کہیں بھی کوئی اس خاص طرز پر بلب کو جلائے بجھائے گا اس سے مراد انگریزی حرف A ہی ہوگا۔ اسی طریقے سے ہمارے پاس بٹ کوائن کا بھی ایک کوڈ ہوگا تو اس بٹ کوائن کے کوڈ کو بھی ہم بلب کے ذریعے سے جلا بجھا کر ظاہر کرسکتے ہیں۔ تو کیا کوئی یہ کہہ سکتا ہے کہ اصل میں تو بٹ کوائن اس بلب میں اپنا وجود رکھتا ہے اور یہ بلب نہیں بلکہ بٹ کوائن ہے؟ کیا اس بلب سے وجود میں آنے والی کرنسی بٹ کوائن کے بارے میں یہ کہہ سکتے ہیں: ’’بجلی کی طرح یہ ایسا وجود رکھتی ہیں کہ انہیں محسوس کرنے کے لیے مخصوص آلات ضروری ہیں‘‘ اور ’’انہیں ایک معدوم فرضی ہندسہ کہنا درست معلوم نہیں ہوتا‘‘ اور ’’خاص انداز سے ان حصوں کو ترتیب دے کر اس کرنسی کو محسوس اور استعمال کیا جاسکتا ہے۔ ‘‘ نہیں، ہر گز نہیں۔ اب اسی طرح سے میں یہ بلب کی خاص ترتیب آپ کو بتا دوں تو کیا میں نے آپ کو حرف A منتقل کردیا اور آپ کا اس پر قبضہ ہوگیا؟

تصویر نمبر۴: بجلی کے بلب کو جلانا اور بجھانا، تاکہ انگریزی حرف A کا اظہار کیا جاسکے جس کا بائینری Binary کوڈ  0100 0001 ہے، جبکہ اس کا ASCII کوڈ 065 ہے۔ 

آئیے! اب ہم ایک اور طریقے سے اس ساری بات کی وضاحت کرتے ہیں۔ ڈیجیٹل Digital کے معنی مختلف انگریزی ڈکشنریوں میں یوں موجود ہے: 


Cambridge Dictionary [1]

recording or storing information as a series of the numbers 1  and 0, to show that a signal.

present or absent  using or relating to digital signals and computer technology .

using or relating to computers and the internet  .

Merriam Webster Dictionary [2]

of, relating to, or utilizing devices constructed or working by the methods or principles of electronics.

composed of data in the form of especially binary digits.

Collins Dictionary [3]

Digital systems record or transmit information in the form of thousands of very small signals .


ان تمام معنوں سے یہ بات واضح ہے کہ ڈیجیٹل سے مراد معلومات کو ڈیجیٹ (صفر اور ایک) کی شکل میں محفوظ کرنا اور ان ہی سگنلز کی مدد کے معلومات کی ترسیل کرنا ہے۔({ FR 12350 })

 صفر اور ایک کا عدد سگنل کی غیرموجودگی اور موجودگی کو ظاہر کرے گا اور اس طرح کے سرکٹ بنانے کے لیے الیکٹرونکس ڈیوائسس کی مدد لی جاتی ہے۔ ڈیجیٹل کے متضاد جو حروف ہوگا وہ فزیکل Physical ہو گا اور اس سے مراد وہ چیز ہو گی جس کو محسوس کیا جاسکے۔ تو کمپیوٹر سائنس کی دنیا میں یہ بات بالکل ہی واضح ہے کہ ڈیجیٹل کو غیر حسی تسلیم کیا جاتا ہے اور فزیکل کو حسی تسلیم کیا جاتا ہے، یعنی ڈیجیٹل کو کسی فزیکل شے کی ورچوئل virtual فارم کو ظاہر کرنے کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے، مثلاً گاڑی فزیکل طور پر موجود ہوتی ہے جس کو ہم محسوس کرسکتے ہیں، جبکہ اگر اسی گاڑی کو اگر ہم ڈیجیٹل فارم میں کمپیوٹر میں ظاہر کریں گے تو وہ اصلی گاڑی کی ورچوئل فارم یعنی مجازی فارم ہوگی، یعنی کہ جو اپنی ماہیت اور روح میں تو اصل یا حقیقی جیسی ہو یا اس سے قریب ہو مگر حقیقی نہ ہو۔ ورچوئل Virtual کے معنی مختلف انگریزی ڈکشنریوں میں یوں موجود ہے: 

Cambridge Dictionary [4]

created by computer technology and appearing to exist but not existing in the physical world .

Merriam Webster Dictionary [5]

being on or simulated on a computer or computer network.

Collins Dictionary [6]

Virtual objects and activities are generated by a computer to simulate real objects and activities.

اب سب سے پہلے تو اس بات پر اتفاق ہونا چاہیے کہ ’’ڈیجیٹل‘‘ یا ’’ورچوئل‘‘ غیر حسی اشیاء کے لیے استعمال ہوتا ہے، جو کہ اصل میں اور حقیقی طور پر موجود نہ ہوں اور ’’فزیکل‘‘ حسی اشیاء کے لیے استعمال ہوتا ہے جو کہ اصل دنیا میں موجود ہوں۔ پوری سائنسی دنیا ڈیجیٹل اور فزیکل کےان ہی معنوں کو تسلیم کرتی ہے اور اسی تناظر میں اس کا استعمال بھی کرتی ہے۔ اب اسی تناظر میں آپ ڈیجیٹل کرنسی کو بھی لے لیں۔ اس کو ڈیجیٹل کرنسی اس وجہ سے کہا جاتا ہے، کیونکہ یہ حسی طور پر موجود نہیں ہوتی یا اگر آپ ورچوئل کرنسی کا نام لے لیں تو اس کو ورچوئل کرنسی اس وجہ سے کہا جاتا ہے، کیونکہ یہ مجازی طور پر کمپیوٹر میں موجود ہوتی ہے، نہ کہ حقیقی طور پر۔ 

یہاں پر میں ایک بات خدمت میں عرض کروں گا کہ جب آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ: ’’ بٹ کوائن حسی طور پر موجود ہوتے ہیں اور ڈیجیٹل سے مراد حسی ہے۔ ‘‘ تو عرض یہ ہے کہ اس بات کی عالمی سطح پر سائنسی دنیا میں کوئی حیثیت نہیں ہےاور یہ کمپیوٹر سائنس کے مسلمہ اصولوں کے سراسر خلاف ہے۔ ({ FR 12351 })

خیر! آپ سائنسی طور پر ایک ایسا دعویٰ کررہے ہیں جو کہ کمپیوٹر سائنس کی دنیا میں انقلاب برپا کردے گا، لہٰذا آپ اگر اپنی تحقیق کو کہ بٹ کوائن حسی طور پر موجود ہوتے ہیں اور ڈیجیٹل سے مراد حسی ہے، کمپیوٹر سائنس کے بہترین عالمی سائنسی تحقیقی جرائد مثلاً IEEE Transactions on Image Processing یا IEEE Transactions on Networking یا IEEE Transactions on Computers کو بھیجئے۔ ہمیں یقین ہے کہ چھاپنا تو درکنار آپ کی اس تحقیق کو فوراً ہی مسترد کردیا جائے گا، کیونکہ سائنسی طور پر اس بات کی کوئی بنیاد ہی نہیں ہے۔ 

کمپیوٹر سائنس کے شعبے میں یہ بات بالکل واضح ہے کہ ورچوئل سے مراد غیر حقیقی (غیر حسی) کےہیں اور خاص طور پر ہم کمپیوٹر سائنس والے اس کا استعمال اتنا کرتے ہیں کہ ہمیں اس کی وضاحت بھی نہیں کرنی پڑتی کہ ورچوئل سے کیا مراد ہے؟ مثلاً جب ہم یہ کہتے ہیں کہ یہ ورچوئل نیٹ ورک ہے تو اس سے ہماری مراد محض ایک مجازی، تخیلاتی اور غیر حقیقی (جو کہ فزیکل یعنی حسی طور پر موجود نہ ہو) مراد ہوتی ہیں۔ تو جب ہم ورچوئل کرنسی کہتے ہیں تو ہم کمپیوٹر سائنس والے فوراً سمجھ جاتے ہیں کہ اس سے مراد ایسی کرنسی ہے جو کہ حسی طور پر موجود نہیں اور ڈیجیٹل طور پر موجود ہو۔ اس پر مزید برآں کہ اس کومؤلف بجلی کی صورت پر محمول کر کے اس کے حسی ہونے کو بھی ثابت کررہے ہیں۔ یہاں یہ بات ذہن میں رہے کہ تمام سائنسدان بجلی کو فزیکل عمل Physical Phenomenon کہتے ہیں اور بجلی کوئی تخیلاتی شے کا نام نہیں، بلکہ حسی طور پر موجود ہوتی ہے۔ 

پھر یہاں پر دوسرا بنیادی نقطہ سمجھنے کی ضرورت ہے اور وہ یہ کہ کمپیوٹر میں ہم صفر اور ایک (یعنی بجلی کے سگنلز) کی مدد سے چیزوں کوظاہر Represent کرتے ہیں۔ اس سے قطعاً یہ مراد نہیں ہوتی کہ یہ صفر اور ایک عدد واقعی میں فزیکل طور پر اصل شے کی حقیقت دھار لیتے ہیں۔ آئیے! اس کو ایک بہت ہی آسان سی مثال سے سمجھتے ہیں، مثلاً ہمارے پاس ایک سیب ہے، اب اس سیب کو ہم کاغذ پر بناتے ہیں اور اس کا اظہار صفر اور ایک سے کرتے ہیں تو آپ یہ دیکھیں گے کہ ہم صفر اور ایک کے اظہار کے ساتھ سیب کو نہ صرف یہ کہ کاغذ پر اظہار کرسکتے ہیں، بلکہ اگر وہ صفر اور ایک کا خاص کوڈ کسی کو دیں تو وہ بھی کاغذ پر وہی تصویر سیب کی بنا ڈالے گا۔ اس مثال کو آسانی سے سمجھانے کے لیے ہم نے تصویر نمبر۵ کا سہارا لیا ہے، جس کے اندر ہم انگریزی حرف L کو مثال کے طور پر لے رہے ہیں۔ سب سے پہلے ہم نے انگریزی حرف L کو لیا، پھر اس کے گرد ایک گرڈ بنائی 2x2 کی۔ پھراس گرڈ میں جہاں پر انگریزی حرف L آرہا تھا وہاں پر ایک لکھ دیا اور جہاں پر جگہ خالی تھی وہاں پر صفر لکھ دیا۔ تو اس سے جو ہمیں کوڈ حاصل ہوا وہ 1011 تھا، پھر اسی کوڈ کو ہم نے ڈی کوڈ کیا تو ہمارے پاس ایک شکل آگئی، جو کہ انگریزی حرف L کی اتنی مشابہ نہیں تھی۔ پھر ہم نے وہی حرف دوبارہ لیا اور گرڈ سائز کو 5x5 تک بڑھادیا۔ قارئین دیکھ سکتے ہیں کہ جیسے جیسے ہم گرڈ سائز بڑھاتے ہیں، ہم آسانی کے ساتھ اصل انگریزی حرف L کا اظہار آسانی سے کرسکتے ہیں۔ جب ہم نے گرڈ سائز 11x11 کیا تو ہمیں انگریزی حرف L کی واضح تصویر مل رہی ہے۔ اسی کو کمپیوٹر کی زبان میں Resolution کہتے ہیں۔ جتنا زیادہ گرڈ سائز ہوتا ہے یعنی Resolution ، اتنی ہی زیادہ تصویر کی کوالٹی اعلیٰ ہوتی ہے۔ تو اسی طریقے سے ہر چیز کا اظہار کمپیوٹر کے اندر کیا جاتا ہے۔ ابھی تو ہم نے صرف صفر اور ایک کا ہندسہ لیا، اگر ہم ۲۵۶ ہندسوں کو لے لیں اور ہر ہندسے سے مراد ایک کلر ہو تو ہم کلر تصویروں کا اظہار کمپیوٹر پر کرسکتے ہیں اور یہ بہت ہی بنیادی چیز ہوتی ہے جو کہ ہر کمپیوٹر سائنسدان کو معلوم ہوتی ہے۔ تو اس ساری بات کا خلاصہ یہ ہوا کہ اگر ہم ایک حقیقی سیب لیں اور اس کو کوڈ کی شکل میں کمپیوٹر پر محفوظ کریں تو اس سیب کی تصویر کو ہم کمپیوٹر پر نہ صرف یہ کہ محفوظ کرسکتے ہیں، بلکہ وہ کوڈ ہم ایک جگہ سے دوسری جگہ بھیج بھی سکتے ہیں، مگر یہ کوڈ کبھی بھی حقیقی سیب نہیں کہلائے گا اور اگر کسی کے پاس اس سیب کا کوڈ ہے تو ہم یہ نہیں کہیں گے کہ وہ اس سیب کا مالک ہے اور اس کا اس حقیقی سیب پر قبضہ ہے۔ بس یہی صورت کرپٹو کرنسی کی بھی ہے، لہٰذا ہماری رائے میں یہ کہنا کہ کرپٹو کرنسی حسی طور پر موجود ہوتی ہے اور ہم اس کو محسوس اور استعمال کرسکتے ہیں اور یہ کوڈ بجلی کی طرح اپنا ایک وجود رکھتا ہے، یہ بات درست نہیں ہے۔ 

تصویر نمبر ۵: انگریزی حرف L کا کمپیوٹر کے اندر صفر اور ایک سے اظہار کا طریقہ


دیکھیے! بنیادی بات سمجھنے کی یہ ہے کہ اگر ایک سیب کی ڈیجیٹل تصویر ہے تو آپ اس کا اظہار ایک مخصوص کوڈ یعنی صفر اور ایک کی ایک خاص ترتیب سے کررہے ہیں۔ آپ اس سیب کی ڈیجیٹل تصویر کو ایک کمپیوٹر سے دوسرے کمپیوٹر پر منتقل کرسکتے ہیں، اسی سیب کی ایک جیسی ہزاروں نقل بنا سکتے ہیں، مگر اس ڈیجیٹل سیب کی تصویر کی ملکیت کا دعویٰ نہیں کرسکتے، کیونکہ اس مخصوص کوڈ کو ہر کوئی اپنے کمپیوٹر پر اظہار کرسکتا ہے۔ اس مسئلے کو ذہن میں رکھتے ہوئے کمپیوٹر سائنسدان این ایف ٹی کا تصور لے کر آئے، جس کے اندر ہم اپنے اس ڈیجیٹل اثاثے کے اس خاص کوڈ کو بلاک چین پر رجسٹرڈ کریں گے کہ یہ سیب کی ڈیجیٹل تصویر فلاں شخص کی ملکیت ہے، تو اب اگر کوئی شخص اس جیسے سیب کی نقل بناتا ہے اور دعویٰ کرتا ہے کہ یہ ڈیجیٹل سیب کی تصویر اس کی ملکیت ہے تو ہم اس کو بلاک چین کے کھاتے میں دیکھ کر بتائیں گے کہ نہیں یہ تو فلاں شخص کی ملکیت ہے، یعنی تصویر تو یقیناً ایک جیسی ہی ہے، مگر چونکہ کھاتے میں اس شخص کی ملکیت لکھی ہے تو ہم اس کی ملکیت تصور کریں گے۔ اب پھر یہاں پر وہی مسئلہ آتا ہے کہ یہ کھاتا بنانے والا کوئی حکومتی ادارہ نہیں ہے تو اس کی قانونی اور شرعی حیثیت قابلِ اعتبار ہوگی کہ نہیں؟


مغالطہ نمبر۳: کرپٹو کرنسی کا نہ صرف یہ کہ انتقال ہوتا ہے، بلکہ قبضہ بھی ہوتا ہے؟

ایک مغالطہ یہ ہے کہ کرپٹو کرنسی کا نہ صرف یہ کہ انتقال ہوتا ہے، بلکہ قبضہ بھی ہوتاہے۔ 

جواب: کرپٹو کرنسی کا نہ صرف یہ کہ انتقال ہوتا ہے، بلکہ قبضہ بھی ہوتا ہے، اس دلیل کو قائم کرتے ہوئے فقہی مقالہ ’’ورچول کرنسیوں کی شرعی حیثیت‘‘ میں یہ لکھا ہے:

’’اسے ایک مثال کے ذریعے سمجھتے ہیں۔ زید کے پاس ایک ٹرانزیکشن(معلومات کا مجموعہ) ہے جس کی قیمت ایک بٹ کوائین ہے۔ مثال کے طور پر اس ٹرانزیکشن کا کوڈ 01000010 ہے۔ زید کے پاس ایک اور کوڈ ہے جسے پرائیوٹ ’’کی‘‘ کہتے ہیں جو کہ abcdef123 کوڈ کی شکل میں ہے۔ اس ٹرانزیکشن کی نقل دنیا کے ہر صارف کے پاس موجود ہے۔ زید اس ٹرانزیکشن کو خالد کو منتقل کرنا چاہتا ہے۔ زید اپنی پرائیوٹ ’’کی‘‘ کے ذریعے اس ٹرانزیکشن کو خالد کے ایڈریس 1234 پر بھیجتا ہے۔ ٹرانزیکشن میں ملکیت زید کی درج تھی، اس نے ملکیت تبدیل کر کے خالد کا ایڈریس ڈالا، یہ کام اس نے اپنے کمپیوٹر میں کیا۔ اب اس کے پاس بعینہ 01000010 کوڈ والی ایک نئی ٹرانزیکشن آگئی (کیوں کہ پچھلی غائب تو ہو ہی نہیں سکتی، بلاک چین میں غائب ہونے کا تصور ہی نہیں ہے) جس میں خالد کی ملکیت درج ہے۔ اس ٹرانزیکشن کی نقول بننا شروع ہوں ا اور یہ نیٹ ورک کے ذریعے ہر کمپیوٹر میں پہنچ گئی جن میں ایک خالد کا کمپیوٹر بھی ہے۔ 

اب ٹرانزیکشن 01000010 خالد کے پاس ہے، لیکن اس کا سفر تمام ہو چکا ہے۔ یہ مزید آگے نہیں جا سکتی ورنہ ایک کوڈ والی دو ٹرانزیکشن جمع ہو جائیں گی۔ حقیقت میں یہ ٹرانزیکشن بھی دنیا میں ہر صارف کے پاس ہے، لیکن اس کو استعمال کرنے والی ’’کی‘‘ صرف خالد کے پاس ہے جو کہ qwerty123 ہے۔ ٹرانزیکشن کے اندر اس کے مالک کی شناخت بدل چکی ہے اور خالد کا اس پر قبضہ ہو چکا ہے، اس معنی میں کہ اب وہ ہی اسے استعمال کر سکتا ہے۔ چونکہ یہ خالد کے قبضے میں ہے، اس لیے ہم اس کے پاس موجود ٹرانزیکشن کو اصل اور با قی دنیا میں موجود ٹرانزیکشنوں کو اس کی نقل کہیں گے۔ 

اب خالد ٹرانزیکشن 01000010 کو بکر کو منتقل کرنا چاہتا ہے۔ خالد کے پاس آ کر یہ ٹرانزیکشن از خود (یعنی سافٹ وئیر یہ کام کرتا ہے) ایک نئی ٹرانزیکشن میں تبدیل ہو چکی ہے جس کا کوڈ 10111101 ہے۔ اس کا کوڈ مختلف ہے، لیکن قیمت اس کی وہی ایک بٹ کوئین ہے (بالکل اس طرح جیسے سونے کے ایک تولے کی ڈلی کو ایک سکے کی شکل دے دی جائے تو اس کی حیثیت و قیمت وہی رہتی ہے)۔ خالد اپنی اس ٹرانزیکشن کو اپنی پرائیوٹ ’’کی‘‘ کے ذریعے بکر کو منتقل کرتا ہے۔ ایک بار پھر تمام عمل جاری ہوتا ہے اور ٹرانزیکشن بکر سمیت دنیا کے ہر کمپیوٹر میں اس حالت میں پہنچ جاتی ہے کہ اس پر قبضہ بکر کا ہے۔ ٹرانزیکشن 10111101 کا سفر بھی تمام ہوا اور وہ اگلے کوڈ 11110000 میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ 

اس مکمل تفصیل کے مطابق یہ کہنا کہ صرف ایک عالمی ریکارڈ میں نام تبدیل ہوتا ہے‘ مکمل طور پر غلط ہے۔ اس کا باقاعدہ انتقال ہوتا ہے اور قبضہ ہوتا ہے۔ ‘‘(مفتی اویس پراچہ صاحب، ورچول کرنسیوں کی شرعی حیثیت، صفحہ:۲۵۳ اور ۲۵۴)

ہم نے مغالطہ نمبر ۲ کے جواب میں پہلے ذکر کیا ہے کہ سائنسی طور پر یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ ڈیجیٹل یا ورچول سے مراد حسی نہیں ہوتا۔ اب چونکہ کمپیوٹر کے اندر ہم حقیقی اشیاء کا اظہار کررہے ہیں تو محض اس اظہار کے کوڈ کوایک کمپیوٹر سے دوسرے کمپیوٹر پر بھیجنے سے اس حقیقی شے کا انتقال اور قبضہ نہیں ہوجائے گا، ہاں! البتہ ڈیجیٹل اثاثہ مثلاً ڈیجیٹل تصویر، ویڈیو وغیرہ ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہوجاتی ہیں۔ 

دوسری بات یہ ہے کہ جب کوئی ٹرانزیکشن واقع ہوتی ہے، یعنی زید نے بکر کو آئن لائن پیسے ٹرانسفر کیے تو مروجہ بینکوں کی اصطلاح میں دیکھیں تو اسے کہا جائے گا کہ بینک کا ڈیٹا بیس اپڈیٹ ہوگیا ہے، اسی طرح بلاک چین کے تناظر میں لیجر یعنی کھاتہ کی اسٹیٹ اپڈیٹ ہوتی ہے یا آسان الفاظ میں عالمی ریکارڈ میں تبدیلی واقع ہوتی ہے یا ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ٹرانزیکشن ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہوگئی۔ تو آپ جو یہ کہہ رہے ہیں کہ بٹ کوائن ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہوتی ہے، یہ بات اس طرح سے نہیں ہے جس طرح آپ نے لکھی ہے۔ 

تیسری بات یہ ہےکہ آپ کو مغالطہ ہوا کہ ’’پبلک کی‘‘ اور ’’پرائیوٹ کی‘‘ کے تصور کو سمجھنے میں آپ ہی کی حوالہ دی گئی کتاب میں سے ہم نے ذیل کے یہ اقتباسات نقل کیے ہیں جن سے یہ پتہ چلتا ہے کہ ’’پبلک کی‘‘ یہ آپ کے بینک اکاؤنٹ نمبر سے ملتی جلتی ہے اور ’’پرائیوٹ کی‘‘ آپ کے پاس ورڈ یا خفیہ پن یا دستخط کی طرح ہے۔ 



‘‘Keys come in pairs consisting of a private (secret) key and a public key. Think of the public key as similar to a bank account number and the private key as similar to the secret PIN, or signature on a check, that provides control over the account. These digital keys are very rarely seen by the users of bitcoin. For the most part, they are stored inside the wallet file and managed by the bitcoin wallet software  ."

‘‘In bitcoin,  we use public key cryptography to create a key pair that controls access to bitcoin. The key pair consists of a private key and—derived from it—a unique public key. The public key is used to receive funds, and the private key is used to sign transactions to spend the funds [7].’’


’’کی‘‘ دو جوڑوں پر مشتمل ہوتی ہے، ایک ’’پبلک کی‘‘ اور دوسری خفیہ یعنی ’’پرائیوٹ کی۔ ‘‘ 

’’پبلک کی‘‘ کے بارے میں سوچیں کہ بینک اکاؤنٹ نمبر سے ملتی جلتی ہے اور ’’پرائیوٹ کی‘‘ کو خفیہ PIN کی طرح، یا چیک پر دستخط کی طرح، جو آپ کو اکاؤنٹ پر کنٹرول فراہم کرتا ہے۔ یہ ڈیجیٹل کیز بٹ کوائن استعمال کرنے والوں کے عام طور پر دیکھنے میں نہیں آتیں۔ زیادہ تر یہ والٹ فائل کے اندر محفوظ ہوتی ہیں اور بٹ کوائن والٹ سافٹ وئیر اس کا انتظام سنبھالتا ہے۔ 

بٹ کوائن کے اندر ہم پبلک کی کرپٹوگرافی کا استعمال کرتے ہوئے ’’کی‘‘ کے جوڑے بناتے ہیں، جو کہ ہماری بٹ کوائن تک ہماری رسائی کو ممکن بناتے ہیں۔ ’’کی‘‘ کا جو جوڑا ہوتا ہے وہ ’’پرائیوٹ کی‘‘ پر مشتمل ہوتا ہے اور پھر اسی سے ایک انفرادی ’’پبلک کی‘‘ بھی بنائی جاتی ہے۔ ’’پبلک کی‘‘ کی مدد سے ہم فنڈ حاصل کرتے ہیں، جب کہ ’’پرائیوٹ کی‘‘ کی مدد سے ٹرانزیکشن کو سائن کرتے ہیں، تاکہ فنڈ کو خرچ کرسکیں۔ 



‘‘When you first buy cryptocurrency, you are issued two keys: a public key, which works like an email address (meaning you can safely share it with others, allowing you to send or receive funds)  and a private key, which is typically a string of letters and numbers (and which is not to be shared with anyone). *You can think of the private key as a password that unlocks the virtual vault that holds your money*. As long as you — and only you — have access to your private key, your funds are safe and can be managed anywhere in the world with an internet connection [8]."


جب آپ پہلی بار کرپٹو کرنسی خریدتے ہیں، تو آپ کو دو’’کیز‘‘ جاری کی جاتی ہیں: ایک ’’پبلک کی‘‘، جو ایک ای میل ایڈریس کی طرح کام کرتی ہے (یعنی آپ اسے دوسروں کے ساتھ بلا جھجک شیئر کر سکتے ہیں، اور اس کی مدد سے آپ فنڈ کو وصول اور بھیج سکتے ہیں) اور ایک ’’پرائیوٹ کی‘‘، جو عام طور پر حروف اور اعداد پر مشتمل ہوتی ہے (اور جسے کسی کے ساتھ شیئر نہیں کرنا ہوتا ہے)۔ آپ ’’پرائیوٹ کی‘‘ کو پاس ورڈ کے طور پر سوچ سکتے ہیں جو آپ کے پیسے رکھنے والے ورچوئل والٹ کو کھول دیتا ہے۔ جب تک آپ — اور صرف آپ — کو اپنی ’’پرائیوٹ کی‘‘ تک رسائی حاصل ہے، آپ کے فنڈز محفوظ ہیں اور انٹرنیٹ کنکشن کے ساتھ دنیا میں کہیں بھی ان تک رسائی اور انتظام کیا جا سکتا ہے۔ 


مغالطہ نمبر۴: جواز کے قائل مفتیانِ کرام کی رائے پر عوام عمل کرسکتے ہیں؟

یہ مغالطہ بھی ہے کہ’’کچھ مفتیانِ کرام نے کرپٹو کرنسی کو جائز قرار دیا ہے، لہٰذا چونکہ اختلافِ امت رحمت ہے تو عوام الناس ان مفتیانِ کرام کی رائے پر بھروسہ کرتےہوئےنہ صرف یہ کہ کرپٹو کرنسی اور این ایف ٹی کو استعمال کریں بلکہ اس میں بلا کسی تردد کے سرمایہ کاری بھی کریں۔ ‘‘ 

جواب: تو اس سلسلے میں عوام کے لیے اصول یہ ہے کہ وہ ہر مسئلے میں جمہور علمائے کرام کی رائے پر عمل کریں گے۔ اگر کسی عالم کی اپنی ایک رائے ہے تو وہ تفرُّد کہلائے گا اور ہم ان کی رائے کا بھی احترام کریں گے، مگر عوام کے ذمے لازم ہے کہ وہ کسی بھی مسئلے میں جمہور علمائے کرام کی ہی رائے پر عمل کریں، لہٰذا جمہور علمائے کرام چونکہ کرپٹو کرنسی کو سٹے بازی کہتے ہیں، لہٰذا عوام کو ان علمائے کرام کی رائے پر عمل کرتے ہوئے کرپٹو کرنسی میں سرمایہ کاری اور لین دین سے احتراز کرنا چاہیے۔ 

 


حواشی وحوالہ جات

]1]  Cambridge Dictionary, https//:dictionary.cambridge.org/dictionary/english/digital .

]2] Marriam Webster Dictionary, https//:www.merriam-webster.com/dictionary/digital .

]3]Collins Dictionary, https//:www.collinsdictionary.com/dictionary/english/digital .

]4] Cambridge Dictionary, https//:dictionary.cambridge.org/dictionary/english/virtual .

]5] Marriam Webster Dictionary, https//:www.merriam-webster.com/dictionary/virtual .

]6] Collins Dictionary, https//:www.collinsdictionary.com/dictionary/english/virtual .

  ]7]Andreas M. Antonopolos, Mastering Bitcoin, 2nd Edition, Chapter 4, Page, O’Reilly, June 2017.https//:www.oreilly.com/library/view/mastering-bitcoin-2nd/9781491954379/ch04.html 

]8] https//:www.coinbase.com/learn/crypto-basics/what-is-a-private-key .






 کرپٹو کرنسی، این ایف ٹی، اور بلاک چین 

تعارف، مغالطے، شرعی نقطۂ نظر اور ہماری ذمہ داری

(چھٹی اور آخری قسط)

 


مغالطہ نمبر۵

کیا کرپٹو کرنسی کے رائج ہونے، متوقع قانون سازی اور عرف کی وجہ سے اس کا استعمال کیا جاسکتا ہے؟

یہ مغالطہ بھی ہے کہ چونکہ کرپٹو کرنسی رائج ہوجائے گی اور اس سلسلے میں کئی ممالک میں اس پر قانون سازی کا عمل کیا جاچکا ہے اور کئی میں اس پر کام جاری ہے اور عرف میں کرپٹو کرنسی کو ’’زر‘‘ سمجھا جاتا ہے، لہٰذا اس کا استعمال اور اس میں سرمایہ کاری کی جاسکتی ہے۔ 

جواب: ہم اس بات کو بنیاد بنا کر کہ کوئی چیز رائج ہے یا رائج ہو کر رہے گی، عمومی طور پراس کی حلت و حرمت کا فیصلہ نہیں کرسکتے، جب تک کہ وہ اسلامی اصولِ و ضوابط کے مطابق نہ ہو۔ اصولی طور پر یہ بات ذہن نشین رہے کہ ’’نصوص کی موجودگی میں عرف و عادت کی وجہ سے احکام میں تبدیلی واقع نہیں ہوتی، یعنی جو عرف نصِ شرعی کے خلاف ہو اس کا اعتبار نہیں کیا جائے گا۔‘‘ [1] دیکھیے! جب فقہائے کرام یہ کہتے ہیں کہ عرف کی تبدیلی سے احکام بدل جاتے ہیں تو ذہن میں رہے کہ ہر طرح کے احکام نہیں بدلتے، بلکہ ایسے احکام ہی بدلیں گے جن کی بنیاد عرف پر ہو، مثلاً اس وقت پوری دنیا خاص طور پر مغرب میں شراب عام ہے اور پیشتر ممالک میں اس کا استعمال باقاعدہ قانون کے تحت جائزہے اور یہ عوام الناس میں رائج بھی ہے تو کیا اس کے وسیع استعمال سے علمائے کرام نے اس کی حلت کا فتویٰ دے دیا ہے؟ نیز جوا، قمار اور سود‘ اسلامی شریعت میں جائز نہیں، تو کیا اس کے وسیع اور عام استعمال سے سود، جوا، سٹےبازی حلال ہوگئی؟ عالمی معاشی نظام میں اس وقت بینکوں کا قبضہ ہے تو کیا اس وجہ سے کہ چونکہ اب پورا معاشی نظام باطل کے قبضہ میں ہے اور حتیٰ کہ اسلامی ممالک بھی ان بینکوں کو استعمال کررہے ہیں، کیا سودی بینک کے نظام کو حلال قرار دے دیا گیا؟ اسی طریقے سے جن علمائے کرام نے سود کو اور بینکنگ سسٹم کو سو سال پہلے ناجائز قرار دیا وہ آج بھی یہی خیال کرتے ہیں اور ابھی حال ہی میں تیسری دفعہ وفاقی شرعی عدالت نے ربا سے متعلق جو فیصلہ دیا وہ بھی ہمیں یاد رکھنا چاہیے۔ بعینہ اگر کرپٹو کرنسی عوام میں مقبول ہے، اس کو لوگ ’’زر‘‘ سمجھیں، اور اس کا عرف ہے تو اس دلیل سے اس کے جواز کو قبول نہیں کیا جائے گا، جب تک کہ وہ شریعت کے تمام اصولوں کے مطابق نہ ہوجائے۔ 

اگر یہ دلیل دی جائے کہ دیکھیں چاہتے نہ چاہتے ہوئے بھی ہم نے بینکنگ کے نظام کو اپنایا ہوا ہے تو کرپٹو کرنسی کو بھی اپنا لیا جائے، تاکہ دیر نہ ہوجائے۔ تو اس میں یہ بات ملحوظِ خاطر رہے کہ اگرچہ مملکتِ پاکستان نے قانون کے تحت بینکنگ کے نظام کو اپنایا، مگر چونکہ یہ نظام سود پر مبنی تھا اور چونکہ سود کی شریعت میں کوئی گنجائش نہیں اور آئینِ پاکستان بھی اس کی اجازت نہیں دیتا، لہٰذا الحمدللہ تیسری مرتبہ وفاقی شرعی عدالت نے پھر یہ فیصلہ سنایا کہ ہمیں اس نظام کو چھوڑ کر اسلام کے معاشی نظام کو اپنانا ہوگا، لہٰذاکرپٹو کرنسی کو اگر پوری دنیا اپنا بھی لے اور پاکستان میں اس کو قانونی حیثیت بھی دے دی جائے تو ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ کہیں یہ شریعت کےاصولوں کے متصادم تو نہیں؟ اگر متصادم ہوگی تو بھلے پوری دنیا اس کو اپنا لے اور حکومتِ پاکستان اس کو قانونی حیثیت بھی دے دے، مگر اسلامی رو سے اس کے جائز ہونے کے بارے میں ہم مفتیانِ کرام ہی کی رائے پر عمل کریں گے اور اس سے احتراز کریں گے۔ 


مغالطہ نمبر۶: 

ہر کوئی نئی کرپٹو کرنسی بنا سکتا ہےاور ہر کسی کو نئی کرنسی بنانے کے مساوی مواقع ملتے ہیں؟

یہ بھی ایک مغالطہ ہے کہ ہر کوئی نئی کرپٹو کرنسی بناسکتا ہے اور ہر کسی کو کرپٹوکرنسی بنانے کےمساوی مواقع ملتے ہیں۔ 

جواب: یہ کہنا کہ بٹ کوائن ایک عوامی کرنسی ہے اور ہر کوئی مائننگ کے ذریعے سے اس میں نئے پیسے بنا سکتا ہے۔ ہمارے خیال میں یہ بات درست نہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بٹ کوائن کے مائننگ پراسس کے اندر صرف کچھ مائننگ پولز کی ہی اجارہ داری ہےاور وہ ہی نئے بلاک کو بلاک چین میں شامل کررہے ہیں اور یہ آپ مائننگ پولز کو دیکھ کر بھی اندازہ لگا سکتے ہیں۔ آپ ہی بتائیں کہ آپ کو کتنا اختیار ہے بٹ کوائن مائن کرنے کا؟ گیارہ کھرب احتمالات میں سے ایک احتمال؟


 


ٹیبل نمبر ۳: مائننگ پولز یعنی مائننگ کرنے والی کمپنیاں اور ان کے بلاک مائن کرنے کی تعداد

 


مائننگ پول


بلاک مائن کرنے کی تعداد


Unknown


234


AntPool


82


F2Pool


74

ViaBTC


62

Poolin


55

SlushPool


32

SBI Crypto


10


یہ اعدادو شمار مورخہ ۵ ؍جون ۲۰۲۲ کے ہیں جس کے اندر چار دن کے ڈیٹا کو اکھٹا کیا گیا ہے اور یہ ڈیٹا ہم نے https//:www.blockchain.com/charts/pools ویب سائٹ سے لیا ہےجواس بات کو ظاہر کررہا ہے کہ کون کون سے مائننگ پولز کا کتنا فیصد تناسب ہے بٹ کوائن مائننگ کے اندر۔ 

آپ ٹیبل نمبر :۳ کے اندر مائننگ پولز یعنی مائننگ کرنے والی کمپنیاں اور ان کے بلاک مائن کرنے کی تعداد دیکھ سکتے ہیں۔ نیز آپ تصویر نمبر:۶ کے اندر مشاہدہ کرسکتے ہیں کہ کچھ مائننگ پولز کی بٹ کوائن کے مائننگ پراسس کے اندر اجارہ داری ہے۔ آسان الفاظ میں اس کے معنی یہ ہوئے کہ جتنی نئی بٹ کوائن کرپٹو کرنسی اس وقت مائننگ کے ذریعے سے بن رہی ہے، اس میں ان بڑے بڑے مائننگ پولز کا حصہ ہے۔ آپ خود ہی دیکھ سکتے ہیں کہ ۵۷ فیصد نئی کرپٹو کرنسی چھ بڑے مائننگ پولز بنارہے ہیں اور نئی کرپٹو کرنسی بنانے میں انہی کا کردار ہے، یعنی چھ مائننگ پولز پوری دنیا کی ۵۷ فیصد نئی بٹ کوائن کرپٹو کرنسی بنا رہی ہے، تو ہم یہ کیسے دعویٰ کرسکتے ہیں کہ کرپٹو کرنسی میں ہر کوئی نئی کرنسی بنا سکتا ہے اور اس کو مساوی مواقع ملتے ہیں؟


تصویر نمبر ۴: بٹ کوائن کے مائننگ پول کے اعداد 


تصویر نمبر ۴: بٹ کوائن کے مائننگ پول کے اعداد و شمار مورخہ ۵ ؍جون ۲۰۲۲ جس کے اندر چار دن کے ڈیٹا کو اکھٹا کیا گیا ہے اور یہ ڈیٹا ہم نے https:||www.blockchain.com/charts/pools ویب سائٹ سے لیا ہےجواس بات کو ظاہر کررہا ہے کہ کون کون سے مائننگ پولز کا کتنا فیصد تناسب ہے بٹ کوائن مائننگ کے اندر۔ 


مغالطہ نمبر۷: 

کیا کرپٹو کرنسی کا نظام حقیقی طور پر ایک ڈی سینٹرلائزڈ سسٹم ہے؟

یہ بھی ایک مغالطہ ہے کہ کرپٹو کرنسی کا نظام حقیقی طور پر ایک ڈی سینٹرلائزڈ سسٹم ہے۔ 

جواب: کرپٹو کرنسی کے نظام کو ایک حقیقی ڈی سینٹرلائزڈ سسٹم کے طور پر متعارف کروایا جاتا ہے، مگر اگر ہم ٹیکنیکل گہرائی میں جائیں تو ہم پر یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ حقیقی طور پر بٹ کوائن یا اس جیسی دوسری کرپٹو کرنسیوں میں ڈی سینٹرلائزڈ سسٹم حقیقی طور پرموجود نہیں ہے یا اس کو بننے نہیں دیا گیا۔ دیکھیے! بلاک چین تو ڈی سینٹرلائزڈ ہے، مگر جب بلاک چین کا استعمال کرکے کرپٹو کرنسی بنائی گئی تو اس کے اندر مائننگ پولز کو شامل کرکے بلاک چین کی اہم خصوصیت یعنی ڈی سینٹرلائزڈ ہونا، اس کو ایک طریقے سے ختم کیا گیا، تاکہ کرپٹوکرنسی کے عالمی معاشی نظام پر کچھ کمپنیوں کی اجارہ داری ہوجائے۔ اس کی مثال ہم نے مغالطہ نمبر:۶ کے تحت آپ کو دی ہے (دیکھیے: تصویر نمبر: ۴) جس کو دیکھنے کے بعد یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ کچھ مائننگ کمپنیوں کی نئی کرپٹو کرنسی بنانے کے اندر مکمل اجارہ داری ہے۔ نیز یہ ہی مائننگ کمپنیاں اصل میں بٹ کوائن کرپٹو کرنسی کے اندر نئے بلاک شامل کررہی ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ان ہی مائننگ کمپنیوں کا مکمل کنٹرول ہے کہ کون کون سے بلاک اور ٹرانزیکشن بٹ کوائن بلاک چین کے اندر شامل ہوں گے، لہٰذا یہ ایک طریقے سے عالمی معاشی نظام کو کنٹرول کرنے کا ایک نیا طریقہ ہے۔ 


مغالطہ نمبر۸: 

کیا کرپٹو کرنسی عالمی معاشی اداروں، بینکوں اور حکومتوں کی اجارہ داری ختم کرتی ہے؟

یہ بھی مغالطہ ہے کہ کرپٹو کرنسی عالمی معاشی اداروں، بینکوں اور حکومتوں کی اجارہ داری Monopoly کو ختم کرتی ہے۔ 

جواب: یہ کہا جاتا ہے کہ کرپٹو کرنسی کا نظام بنیادی طور پر عالمی معاشی اداروں اور بینکوں کی اجارہ داری ختم کردے گا، لہٰذا ہم یہ دیکھ سکتے ہیں کہ یہ عالمی معاشی ادارے، بینک اور حکومتیں کرپٹو کرنسی کے نظام کو پنپنے نہیں دے رہے۔ اسی تناظر میں یہ لکھا گیا ہے کہ[2]:

’’بٹ کوئین! ایک لفظ نہیں، ایک مکمل تحریک ہے۔ ایک ایسی تحریک جو ایک کونے سے اٹھی اور دنیا بھر پر چھا گئی۔ یہ ایک ایسی کرنسی ہے جو کسی حکومت کی محتاج نہیں ہے۔ یہ عالمی مالیاتی نظام کے مقابلے میں ایک بھرپور نظام ہے۔ ایک ایسا نظام جسے کوئی مصنوعی طور پر چلا نہ رہا ہو، ایک ایسا زر جسے کچھ طاقت ور لوگ کہیں بیٹھ کر لمحوں میں ختم نہ کر سکیں، ایک ایسا سلسلہ جسے استعمال کرنے والے عوام ہی اسے بقا بخشیں اور ایک ایسی آن لائن کرنسی جس میں نقد کی خصوصیات موجود ہوں۔ یہ اگرچہ اب تک پردے میں ہے کہ اس کے اجراء کے پیچھے کیا محرکات تھے؟ لیکن یہ بات مخفی نہیں کہ یہ ایک ایسی طویل جد و جہد کا حصہ ہے جو برسوں سے چلتی آئی ہے۔ موجودہ کرنسی نظام سے تنگ دنیا میں ایسے کئی لوگ گزرے ہیں جنہوں نے اس نظام پر تنقیدیں کیں، درہم و دینار اور سونے چاندی کو واپس لانے کی مساعی کیں یا کوئی ایسی ڈیجیٹل کرنسی بنانے کی کوشش کی جو اس نظام سے آزاد ہو۔ ’’ستوشی ناکاموٹو‘‘نے بھی بٹ کوائین کو بناتے ہوئے ڈیجیٹل کرنسی کے حوالے سے ہونے والے کام سے مدد لی، لیکن اس نے کچھ ایسی مشکلات کو حل کیا جو پہلے نہ کر سکے تھے۔ نتیجۃً ایک نسبتاً آزاد کرنسی آج ہمارے سامنے ہے۔ بٹ کوائین ایک ابتدا تھی، اس کے بعد تیزی سے کئی کرنسیاں بنتی گئیں۔ انہیں ہم ’’ورچوئل کرنسیاں‘‘ یا ’’کرپٹو کرنسیاں‘‘ کہتے ہیں۔ یہ ایک دلچسپ پہلو ہے کہ ستوشی نے اپنی ذات کو تو گمنام بنا دیا، لیکن اپنے کام کو اتنا کھول کر سامنے رکھا کہ جو چاہے اس سے مدد حاصل کر سکے اور ایک نئی کرنسی کو وجود دے سکے۔ نئی بننے والی کرنسیوں میں بہت سی ختم ہو گئیں، بہت سی دھوکہ اور فراڈ تھیں اور کئی ابھی تک باقی ہیں۔‘‘ 


مغالطہ نمبر: ۶ اور ۷کے جواب کے اندر ہم نے آپ کے سامنے یہ دلائل پیش کیے تھے کہ ہرکوئی نئی کرپٹو کرنسی نہیں بنا سکتا، کرپٹوکرنسی مائننگ پر چند مائننگ پولز کا قبضہ ہے اور حقیقتاً کرپٹو کرنسی ڈی سینٹرلائزڈ سسٹم نہیں ہے، لہٰذا یہ کہنا کہ’’ یہ عالمی مالیاتی نظام کے مقابلے میں ایک بھرپور نظام ہے۔ اورکرپٹو کرنسی حکومتوں کی اجارہ داری ختم کرتی ہے۔‘‘ یہ سراسر حقائق کے منافی ہے۔ 

پھر آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ: ’’ ایک ایسا زر جسے کچھ طاقت ور لوگ کہیں بیٹھ کر لمحوں میں ختم نہ کرسکیں۔ ‘‘ یہ بھی سراسر حقائق کے منافی ہے۔ آپ حال ہی میں لونا LUNA کرنسی کا جو حال ہوا وہ دیکھ سکتے ہیں کہ کس طریقے سے کچھ طاقت ور لوگوں نے کہیں بیٹھ کر کچھ لمحوں میں اس کرنسی کو بالکل ختم کردیا۔ پھر آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ: ’’ عوام ہی اسے بقا بخشیں۔ ‘‘ یہ بھی سراسر غلط ہے، کیونکہ صرف کچھ مائننگ پولز کا اس پر قبضہ ہے۔ ہم آپ سے یہ پوچھتے ہیں کہ یہ کیسی آزاد کرنسی ہے کہ جس پر چند مائننگ پولز کا قبضہ ہے؟ جس میں ایک لمحے میں پوری کرپٹو کرنسی LUNA لونا ڈوب گئی؟ ’’درہم و دینار اور سونے چاندی کو واپس لانے کی مساعی کیں‘‘ کی بات آپ کررہے ہیں تو درہم ودینار اور سونے چاندی کو واپس لائیں نہ کہ کرپٹو کرنسی، جو کہ موجودہ بینکنگ نظام سے بھی زیادہ اجارہ داری پر منحصر ہے اور سٹے بازی پر مشتمل ہے، اس کی ترویج و اشاعت کریں!


مغالطہ نمبر۹: 

مستقبل کی ہر خریدوفروخت میں این ایف ٹی سے جو منافع آئے گا وہ جائز ہوگا؟

ایک مغالطہ یہ ہے کہ این ایف ٹی کے اندر اگر ہم اسمارٹ کانٹریکٹ کے ذریعے سے منافع پروگرام کردیں تو جب بھی اس این ایف ٹی کی آگےمستقبل میں خریدوفروخت ہوگی اس سے جو منافع حاصل ہوگا، وہ جائز ہوگا۔ 

جواب: ایک صورت این ایف ٹی خریدوفروخت کی یہ ہوتی ہے کہ این ایف ٹی بیچتے وقت ایک اسمارٹ کانٹریکٹSmart Contract لکھ دیا جاتا ہے کہ جب بھی این ایف ٹی کی آگے خرید و فروخت ہوگی، اس کا مثلاً دس فیصد سے سب سے پہلے مالک کو دیا جائے گا، یعنی زید نے ایک این ایف ٹی بنایا اپنے ڈیجیٹل اثاثے کا جو کہ ایک ویڈیو تھی۔ اب زید نے بکر کو یہ این ایف ٹی ایک قیمت میں فروخت کردیا۔ اس کے بعد یہ ڈیجیٹل اثاثہ یعنی ویڈیو بکر کی ملکیت ہوگئی۔ اب بکر اس ڈیجیٹل اثاثہ یعنی ویڈیو کو عمرو کو فروخت کرتا ہے تو جب یہ معاملہ ہوجائے گا تو اس خرید و فروخت کا دس فیصد زید کو ملے گا اور اس طرح سے یہ سلسلہ آگے چلتا رہے گا اور جب جب اس ویڈیو کی آگے خرید و فروخت ہوگی اس کا دس فیصد زید کو ملے گا۔ یہ ایک طرح سے پگڑی کی مثال ہے اور پگڑی سے متعلق ہمیں مسئلہ معلوم ہے کہ نہ تو یہ مکمل خرید وفروخت کا معاملہ ہے اور نہ ہی مکمل اجارہ (کرایہ داری) ہے اور سارا معاملہ گڈ مڈ ہو گیا ہے، لہٰذا ایسی صورت میں این ایف ٹی کی خرید وفروخت میں شرعی قباحت ہو گی۔ 


مغالطہ نمبر۱۰: 

کرپٹو کرنسی کا استعمال‘ منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی معاونت میں نہیں ہوتا

ایک مغالطہ یہ ہے کہ کرپٹو کرنسی کا استعمال منی لانڈرنگ اوردہشت گردوں کی مالی معاونت میں نہیں ہوتا۔ 

جواب: جب دلیل دی جاتی ہے کہ کرپٹو کرنسی کا استعمال ناجائز کاموں اور منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت میں ہوتا ہے تو جواب میں یہ کہا جاتا ہے کہ وہ تو مروجہ بینکنگ نظام کے ذریعے سے بھی منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کو مالی معاونت فراہم کی جاتی رہی ہے اور کاغذی کرنسی کو بھی ایسی چیزوں میں استعمال کیا جاسکتا ہے تو عرض یہ ہے کہ بینک کے نظام کے اندر ( Know Your Customer KYC) یعنی جو بینک میں اکاؤنٹ کھول رہا ہے، اس کو جاننے کا نظام ہوتا ہے۔ اس نظام کے موجود ہونے کی وجہ سے جب کبھی مالی یا ڈرائیور کے اکاؤنٹ میں کڑوروں روپے رکھے جاتے ہیں تو آپ اس کو باآسانی ٹریک کرلیتے ہیں اور منی ٹریل Money Trail تک پہنچ جاتے ہیں اوربینک کے نظام کے تحت آپ اس جعلی کرنسی اکاؤنٹس کو ٹریس کرلیتے ہیں، مگر کرپٹو کرنسی کے نظام میں ٹریس کرنا آسان نہیں ہے، اسی وجہ سے کرپٹو کرنسی کے نیٹ ورک کو استعمال کرتے ہوئے کالے دھن کو سفید بنایا جاتا ہے اور دیگر غیر قانونی کاموں میں اس کو استعمال کیا جاتا ہے۔ 

بینک کے نظام کے تحت جب آپ کے ساتھ کوئی دھوکہ ہوتا ہے کہ بینک اس کی گارنٹی لیتا ہے اور اگر کوئی بینک لیت و لعل سے کام لے تو سینٹرل بینک یا وفاقی محتسب صارف کی مدد کو آجاتا ہے۔ کرپٹو کرنسی کے نظام میں آپ کے پاس کوئی سہولت ہی نہیں ہے کہ آپ کسی کے پاس اپنی فریاد یا دادرسی کے لیے جاسکیں۔ 


مغالطہ نمبر۱۱: 

کیا کرپٹو کرنسی کے نظام کو منع اس وجہ سے کیا جاتا ہے کہ لوگ اس کو ناجائزکاموں میں استعمال کرتے ہیں؟

ایک مغالطہ یہ ہے کہ چونکہ لوگ کرپٹو کرنسی کا ناجائز کاموں میں استعمال کرتے ہیں، لہٰذا اس کا استعمال منع کیا جاتا ہے۔ 

جواب: یہ سوال کیا جاتا ہے کہ: ’’کچھ لوگ کرپٹو کرنسی کو ناجائز کاموں میں بھی استعمال کرتے ہیں، مثلاً نشہ آور چیزوں کی خریدوفروخت یا جرائم کی ادائیگی، ایسی صورت میں ان کا یہ مخصوص استعمال ناجائز ہوگا یا خود کرپٹو کرنسی ہی ناجائز ہوجائے گی؟ ‘‘

بنیادی بات سمجھنے کی یہ ہے کہ کرپٹو کرنسی سے پہلے بھی تو لوگ نشہ آور چیزوں کی خریدوفرخت کرتے تھے یا جرائم کی ادائیگی کرتے تھے تو کیا مفتیانِ کرام نے کاغذی کرنسی (یورو، امریکی ڈالر) کو اس وجہ سے ناجائز قرار دے دیا کہ لوگ اس سے ناجائز کام کرتے ہیں؟ ہم نے پچھلے مغالطوں کے جواب میں یہ گزارش کی تھی کی کرپٹو کرنسی کے نظام کے اندر ہی کچھ شرعی قباحتیں ہیں جن کی وجہ سے اس میں سرمایہ کاری کرنا، اس سے خریدوفروخت کرنے سے مفتیانِ کرام منع فرماتے ہیں، لہٰذا صرف یہی ایک وجہ نہیں کہ چونکہ کرپٹوکرنسی سے لوگ نشہ آور چیزیں خریدتے ہیں یا اس سے جرائم کی ادائیگی کرتے ہیں تو کرپٹو کرنسی کا نظام غلط ہے۔ 


مغالطہ نمبر۱۲: 

کیا کرپٹو کرنسی کا نظام اسلام کے قریب ہے؟

ایک مغالطہ یہ ہے کہ کرپٹو کرنسی کا نظام اسلام کے قریب ہے۔ 

جواب: آپ یہ کہتے ہیں کہ: 

’’حکومتوں کی کرپشن، لوٹ مار اور بے راہ روی کی وجہ سے لوگوں کا مرکزی اداروں سے اعتماد اٹھ رہا ہے، ایسے میں وہ متبادل نظام کی طرف سرگرداں ہیں۔ کرپٹو کرنسی اور بلاک چین وہ نظام مہیا کرتا ہے:

"This is as close to Islam as it can get."

کیا ہم ظلم برداشت کرتے رہیں یا اپنی زندگی کو بہتر بنانے کے لیے کسی اور نظام کی طرف مائل ہوسکتے ہیں؟‘‘

 ہمارے پاس کیا اعداد و شمار ہیں جن کی بنیاد پر ہم یہ کہہ رہے ہیں کہ لوگوں کا مرکزی اداروں سے اعتماد اٹھ رہا ہے؟ پوری دنیا کا معاشی نظام اس وقت مرکزی اداروں کے ہی مرہونِ منت ہے، گو کہ اس بات میں وزن ہے کہ ترقی پذیر ممالک کے اندر حکومتوں کی کرپشن، لوٹ مار حد درجہ بڑھی ہوئی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ پوری عالمی معاشی نظام کو اور حکومتوں کو آئی ایم ایف کے شکنجے میں جکڑا گیا ہے، مگر اس کا حل یہ نہیں کہ ہم کرپٹوکرنسی کے نظام کو اختیار کریں جس کے اندر بہت ساری شرعی قباحتیں ہیں۔ ہم نے قانون پر چلنا ہے اور کبھی بھی ملک کے قانون کو ہاتھ میں نہیں لینا۔ اگر ظلم ہورہا ہے تو ہم قانونی چارہ جوئی اختیار کریں گے اور یہی بات ’’پیغامِ پاکستان‘‘ کے اندر بھی کہی گئی ہے کہ بغاوت نہیں کرنی، بلکہ شرعی، آئینی اور قانونی حدود کے اندر رہتے ہوئے اپنی جہدوجہد کرنی ہے۔ لہٰذا اس کا حل یہ ہے کہ ہم اسلامی معاشی نظام کی طرف پیش قدمی کریں جو کہ آئینِ پاکستان میں بھی درج ہے۔ خلاصہ کلام یہ کہ مروجہ کرپٹو کرنسی کا نظام اسلامی معاشی نظام کے قریب نہیں ہے!


مغالطہ نمبر۱۳: 

کیاکرپٹو کرنسی کو کوئی شخص ختم کرسکتا ہے اور کیا اس کی قیمت میں کمی زیادتی کرسکتا ہے؟

ایک مغالطہ ہے کہ کرپٹو کرنسی کو کوئی حکومت، ادارہ، یا شخص ختم نہیں کرسکتا اور نہ ہی اس کی قیمت میں کمی زیادتی کرسکتا ہے۔ 

جواب: فقہی مقالہ ’’ورچوئل کرنسیوں کی شرعی حیثیت‘‘ میں یہ لکھا ہے:

’’ورچوئل کرنسی کی ایک مثال مشہور ورچوئل کرنسی ’’بٹ کوائن‘‘ہے۔ بٹ کوائن کو خریدا جا سکتا ہے، بیچا جاسکتا ہے، منتقل کیا جا سکتا ہے، حفاظت کی جاسکتی ہے اور اشیاء کے ثمن کے طور پر استعمال کیا جاسکتا ہے۔ اس کا کوئی مادی (یعنی ظاہری و خارجی) وجود نہیں ہوتا اور اسے نہ تو کسی سرکاری ادارے نے جاری کیا ہے اور نہ ہی کسی سرکاری ادارے کا اس پر کوئی اختیار ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کوئی حکومت، ادارہ یا شخص اس کو نہ تو ختم کر سکتا ہے اور نہ ہی اس کی قیمت میں کمی یا زیادتی کر سکتا ہے۔ ‘‘                            (مفتی اویس پراچہ صاحب، ورچوئل کرنسیوں کی شرعی حیثیت، صفحہ:۱۸)

ہم نے مغالطہ نمبر: ۶ اور ۷کے جواب کے اندر ہم نے آپ کے سامنے یہ دلائل پیش کیے تھے کہ کرپٹوکرنسی مائننگ پر چند مائننگ پولز کا قبضہ ہے اور وہ لوگ بٹ کوائن کرپٹو کرنسی پر اپنی اجارہ داری قائم کیے ہوئے ہیں۔ نیز بٹ کوائن کی قیمت میں کمی یا زیادتی پر کچھ لوگوں کا کنٹرول ہے اور یہ وہی لوگ ہیں جن کا کرپٹوکرنسی مارکیٹ میں زیادہ سرمایہ لگا ہوا ہے اور وہی لوگ سٹے بازی کے تحت اور مارکیٹ میں خریدوفروخت کے ذریعے سے بٹ کوائن کی قیمت کو کنٹرول کرتے ہیں۔ 

اب حال ہی میں یعنی ۱۵؍ مئی ۲۰۲۲ کوایک بٹ کوائن کی قیمت ۳۰ ہزار یورو تھی۔ صرف ایک مہینے میں اس کی قیمت ۲۰ ہزار یورو تک آگئی ہے اور اس کی وجہ یہ تھی کہ کرپٹو کرنسی بیچنے والے سیلسیئس نیٹ ورک Celsius Network نامی پلیٹ فارم نے اپنے صارفین کے اکاؤنٹ منجمد کردیئے، جس کی وجہ سے اس کے سترہ لاکھ صارفین اپنے اکاوئنٹ سے پیسے نکلوانے، منتقل کرنے یا کرپٹو کرنسی کو پیسے میں تبدیل کرنے کی سہولت سے محروم ہوگئے اور اس فیصلے کی وجہ سے بٹ کوائن کی قیمت ۵۰ فیصد اور ایتھیریم قیمت میں ۶۰ فیصد کمی دیکھنے میں آئی۔[3،4] تو یہ کہنا سراسر غلط ہے کہ:

 ’’ کوئی حکومت، ادارہ یا شخص اس کو نہ تو ختم کر سکتا ہے اور نہ ہی اس کی قیمت میں کمی یا زیادتی کر سکتا ہے۔ ‘‘ 


مغالطہ نمبر:۱۴

کیاکرپٹو کرنسی بجلی اور گیس کی طرح عمدہ اموال کی طرح ہے؟

ایک مغالطہ ہے کہ کرپٹو کرنسی، بجلی اور گیس کی طرح عمدہ اموال میں سے ہے۔ 

جواب: فقہی مقالہ ’’ورچوئل کرنسیوں کی شرعی حیثیت‘‘ میں پہلے مفتی محمد تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم کا یہ قول نقل کیا گیا ہے کہ:

’’بجلی اور گیس ایسے عمدہ اموال میں سے ہو چکے ہیں جن میں لوگوں کی خواہش پائی جاتی ہے۔ انہیں ان اعیان میں داخل کرنا مشکل ہے جو بذاتِ خود قائم ہوتی ہیں، اس کےباوجود ان کی خرید و فروخت درست ہے اور لوگوں کا ان پر بغیر کسی نکیر کے تعامل ہے۔ ‘‘

پھراس قول پر قیاس کرتے ہوئے یہ دلیل قائم کی گئی ہے:

’’ ورچوئل کرنسیاں بھی بجلی کی طرح ہی اپنی ذات رکھتی ہیں، لیکن اپنے اظہار کے لیے آلات کی محتاج ہوتی ہیں۔ کسی ورچوئل کرنسی مثلاً بٹ کوائن کی جب تخلیق ہوتی ہے تووہ ایک ٹرانزیکشن بناتی ہے۔ ٹرانزیکشن معلومات کا ایک مجموعہ ہوتا ہے جس میں مالک کا نام اور ٹرانزیکشن کی قیمت بھی شامل ہوتی ہے۔ یہ ٹرانزیکشن بظاہر ایک کوڈ کی شکل میں ہوتی ہے۔ یہ کوڈ چارج، مقناطیسی سگنلز یا روشنی وغیرہ کی شکل میں آلات میں محفوظ ہو جاتا ہے۔ یہ کوڈ درحقیقت خود بھی بجلی کے سگنلز کا مجموعہ ہوتا ہے، کیوں کہ کمپیوٹر ایک مشین ہونے کی وجہ سے اعداد یا الفاظ کو نہیں سمجھ سکتا، وہ صرف برقی اشاروں کو ہی سمجھ سکتا ہے۔ یہ محفوظ شدہ چارج، مقناطیسی اشارے یا روشنی وغیرہ بوقتِ ضرورت کمپیوٹر اِن آلات سے بجلی کے سگنلز کی شکل میں واپس حاصل کر لیتا ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ ورچوئل کرنسیاں وجود رکھتی ہیں، قابلِ انتفاع ہوتی ہیں اور لوگوں کے تعامل کی وجہ سےمال ہیں۔ ‘‘ (مفتی اویس پراچہ صاحب، ورچوئل کرنسیوں کی شرعی حیثیت، صفحہ:۲۳۷)

جو دلیل دی جارہی ہے کہ ’’ورچوئل کرنسیاں بھی بجلی کی طرح اپنی ذات رکھتی ہیں، وجود رکھتی ہیں، قابلِ انتفاع ہوتی ہیں اور لوگوں کے تعامل کی وجہ سے مال ہیں‘‘ تو ہم پہلے مغالطہ نمبر: ۲ اور ۳ کے جواب میں یہ گزارش کرچکے ہیں کہ کرپٹوکرنسی نہ تو حسی طور پر موجود ہوتی ہے اور نہ ہی ان کا انتقال اور قبضہ ہوتا ہے اور نہ ہی اس کے پیچھے حکومت ہوتی ہے، لہٰذاعلمائے کرام یہ ارشاد فرماتے ہیں کہ: اس بنیاد پر قیاس کرنا کہ کرپٹو کرنسی بھی بجلی اور گیس کی طرح عمدہ اموال میں سے ہے، درست معلوم نہیں ہوتا ۔ 


خلاصۂ مضمون اور اہم نکات

کرپٹو اثاثے Crypto Assets (کرپٹو کرنسی، ورچوئل کرنسی، این ایف ٹی، ٹوکن، ڈی سینٹرلائزڈ فنانس اور اس سے متعلقہ پروڈکٹس اور سروسز) اس وقت دنیا میں خاصی مقبولیت پا چکے ہیں اور اس کی بنیاد پر نت نئےخریدوفروخت کے طریقے رواج پارہے ہیں۔ نیز عوام میں ان کی مقبولیت اس بنا پر بھی بڑھ رہی ہے کہ ان کے اندر سرمایہ کاری سے جو نفع حاصل ہورہا ہے اس کی نظیر ماضی قریب میں ملنا مشکل ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ پوری دنیا کا معاشی نظام انٹرنیٹ اور کمپیوٹر کا محتاج ہونے کی وجہ سے اس سے متعلق شرعی احکامات کا جاننا، تاکہ جائز ناجائز کی پہچان ہوسکے، اس لیے بھی ضروری ہے، تاکہ ہم اپنے مروجہ معاشی نظام کو اسلامی اصولوں کے تابع بنا سکیں۔ ٹیکنالوجی کی ترقی کے ساتھ چیزوں میں جو قدر ہے یا کس طریقے سے ہم چیزوں کی قدر کا تعین کرتے ہیں وہ بھی تبدیل ہو رہی ہے۔ اس ساری صورت حال میں ہماری ذمہ داری یہ ہے کہ ہم یہ دیکھیں کہ آیا یہ قدر حقیقی قدر بھی ہے یا نہیں؟ اور شریعت اس بارے میں کیا رہنمائی کرتی ہے؟

 اس مضمون میں ہم نے ان تمام باتوں کا احاطہ کرتے ہوئے اثاثے جمع کرنے کی مختصرتاریخ، اثاثوں کی مختلف اقسام، کمپیوٹر پر اثاثوں کو محفوظ کرنے جیسے اہم موضوعات پر معلومات فراہم کی ہیں۔ کرپٹو کرنسی (ڈیجیٹل کرنسی یا ورچوئل کرنسی)، بلاک چین، این ایف ٹی اور میٹاورس جیسے موضوعات پر بھی سیر حاصل گفتگو کی گئی ہے۔ اس مضمون کی خاص بات یہ ہےکہ اس کے اندر ان اعتراضات کا تسلی بخش جواب دیا گیا ہے جن کی بنیاد پر مفتیانِ کرام آسانی سے ان ٹیکنالوجیوں کی ماہیت اور کام کرنے کے طریقہ کار کو سامنے رکھتے ہوئے ان تمام چیزوں سے متعلق شرعی احکامات اور جواز اور عدمِ جواز پر فتویٰ جاری کرسکتے ہیں۔ ذیل میں ہم بطورخلاصہ اہم نکات پیش کررہے ہیں: 

l    بلاک چین ( Blockchain) ایک ٹیکنالوجی ہے جس کی مدد سے اعداد و شمار (ریکارڈ) یا ڈیٹا کو محفوظ کرتے ہیں۔ علمائے کرام کے بقول اس کا استعمال بذاتِ خود جائز ہے، ہاں البتہ اس کا استعمال ایسی چیزوں میں ہو یا اس سے ایسے کمپیوٹر پروگرامز (سافٹ وئیر) بنائے جائیں جو کہ غلط کاموں میں استعمال ہوں، مثلاً شراب کی ترسیل کا ریکارڈ رکھنے کے لیے یا انشورنس کا سافٹ وئیر بنانے کے لیے تو ہمیں ایسی صورت حال میں اس کے احکامات مفتیانِ کرام سے پوچھنے چاہئیں۔ 

l    کرپٹو اثاثے جن میں خاص طور پر کرپٹو کرنسی (بٹ کوائنBitcoin، ایتھرEther، لائٹ کوائنLitecoin، Ripple, XRPوغیرہ) شامل ہیں، ان سے اجتناب برتنا چاہیے اور راقم کی دانست میں ان مفتیانِ کرام کی رائے میں وزن ہے جو کہ اس کی موجودہ شکل میں اس کے عدمِ جواز کا فتویٰ جاری کررہے ہیں۔ ہماری رائے میں کرپٹو کرنسی کے عدمِ جواز قرار دینے میں مندرجہ ذیل بنیادی وجوہات ہیں: 

    یورپی یونین جو کہ ۲۷ ممالک کا مجموعہ ہے جن میں فرانس، جرمنی، اٹلی، اسپین، سوئیڈن، ڈنمارک، فن لینڈ، آئرلینڈ، پولینڈ اور دیگر ممالک شامل ہیں انہوں نے حال ہی میں کرپٹو اثاثوں (کرپٹو کرنسی وغیرہ) کو سٹے بازی قرار دیا ہے اور وہ اس کو  volatile , Highly Speculative کہہ رہے ہیں اور پورے یورپ کے ۴۴ کروڑ سے زیادہ عوام کوسرکاری سطح پر اس بات کی نصحیت کررہے ہیں کہ وہ اس میں حتی الوسع سرمایہ کاری، لین دین اور اس کی خریدوفروخت سے اجتناب کریں۔ 

    اس کے پیچھے حکومتوں کا عدمِ اعتماد ہے۔ نیز بیشتر ممالک کے سینٹرل بینک اس کی قانون سازی اور اس کو ریگولیٹ کرنے سے اجتناب برت رہے ہیں۔ 

    اس کے اندر ذاتی قدر  Intrinsic Value   موجود نہیں ہے۔ 

    اکثر ممالک میں ہم کرپٹو کرنسی کو استعمال میں لاتے ہوئے ٹیکس ادا نہیں کرسکتے۔ 

    یورپ نئی کرپٹو کرنسی بنانے کے طریقہ کار یعنی مائننگ Cryptographic Mining پراسس پر ماحولیات پر اثر انداز ہونے کی وجہ سے سخت قانون سازی کرنے کی راہیں ہموار کررہا ہے، تاکہ کسی طرح سے یہ مائننگ پراسس کو یورپی ممالک میں روکا جاسکے، تاکہ ماحولیاتی آلودگی اور کرۂ ارض پر اس کی وجہ سے پھیلنے والے اثرات جن میں اوزان تہہ کا بڑھنا اور گلئیشرز کا پگھلنا اور درجۂ حرارت کا بڑھنا جیسے عوامل شامل ہیں، ان ہی عوامل کی وجہ سے یورپ مائننگ پراسس (نئی کرپٹو کرنسی بننے کا عمل) کی حوصلہ شکنی کررہا ہے۔ 

    کرپٹو کرنسی حسی طور پر کمپیوٹر میں موجود نہیں ہوتی، نہ اس کا انتقال ہوتا ہے اور نہ اس پر قبضہ ہوتا ہے اور محض لیجرledger کھاتے میں (ریکارڈ میں) تبدیلی واقع ہوتی ہے۔ 

    اگر بفرضِ محال عوام میں اس کی مقبولیت ہو بھی رہی ہے تو اس کو بنیاد بنا کر اس کو شرعی طور پر جائز نہیں بنایا جاسکتا، جب تک کرپٹو کرنسی تمام شرعی معیارات اور اصول وضوابط پر پورا نہیں اُترتی۔ 

    اس میں غرر ہے اور نفع نقصان کی شرح میں قیاس اس حد تک بڑھا ہوا ہے کہ اس کے بارے میں عالمی معاشی ماہرین (غیر مسلم) حضرات بھی لوگوں کو اس کے نقصانات سے آگاہ کررہے ہیں اور اس کو سٹے بازی قرار دے رہے ہیں۔ 

    اس کا استعمال ناجائز کاموں مثلاً منی لانڈرنگ اور کالے دھن کو سفید بنانے میں ہورہا ہے، نیز اس کے ذریعے دہشت گردوں کی معاشی معاونت بھی کی جارہی ہے۔ 

    کرپٹو کرنسی کی وجہ سے کوئی بھی کاروبار یا معاشی سرگرمی Tax Regimeٹیکس کے دائرہ کار میں نہیں آئے گی۔ اس کی وجہ سے حکومتوں کی قانونی اور معاشی عملداری اور ملکوں کے چلانے کے نظام کو خطرہ لاحق ہے۔ اور اس سے جو معاشی نظام میں خرابیاں پیدا ہونے کا امکان ہے وہ اَن گنت ہے۔ 

    اس سے نت نئے خیالی کاروبار کے طریقے رائج ہورہے ہیں جن کی کوئی بنیاد ہی نہیں ہے اور اس کی وجہ سے امیر‘ امیر سے امیر تر اور غریب‘ غریب سے غریب تر ہوتا جارہا ہے۔ نیز اگر گہرا تجزیہ کیا جائے تو دولت چند ہاتھوں میں سمٹ رہی ہے اور ایک خاص طبقے کو اس سے فائدہ ہورہا ہے۔ 

    کرپٹو کرنسی کی حمایت کرنے والے افراد اس کے Decentralized ڈی سینٹرلائزڈ ہونے کے فائدے گردانتے ہوئے تھکتے نہیں، حالانکہ اگر کرپٹوکرنسی پر ہونے والے سنجیدہ تحقیقی کاموں کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات اعداد و شمار سے عیاں ہوتی ہے کہ ڈی سینٹرلائزڈ ہونا مکمل طور پر درست نہیں ہے اور کرپٹو کرنسی پر محض چند افراد اور گروہوں کا قبضہ ہے۔ اور اس کی بنیادی وجہ وہ مائننگ پولز ہیں جو کہ اپنی کمپیوٹیشنل پراسسنگ پاور ہونے کی وجہ سے مائننگ پراسس میں بڑا حصہ رکھتے ہیں۔ 

    یہ بھی دلیل دی جاتی ہے کہ کرپٹو کرنسی کو کوئی بھی مائن Mine کرسکتا ہے۔ اس میں تو کوئی شک نہیں کہ کوئی بھی کرپٹو کرنسی کے مائننگ پراسس میں شرکت کرسکتا ہے، مگر سوال یہ ہے کہ اس کا کتنے فیصد امکان ہے کہ وہ مائننگ پراسس میں کامیابی حاصل کرکے نیا بلاک بلاک چین میں شامل کرپائے گا اور نئی کرپٹو کرنسی بنا پائے گا؟ اس کا بہت کم فیصد امکان ہے کہ وہ مائننگ پراسس میں کامیاب ہوسکے۔ گو لوگ اس میں کاروبار کرکے پیسے کما رہے ہیں، مگر مائننگ پراسس کے ذریعے سے اس میں پیسے کمانے کی انفرادی شرح عوامی طور پر بہت کم ہے۔ نیز یہ کہ ہر شخص کو مائننگ کے ذریعے سے برابر مواقع مل رہے ہیں، یہ بات بھی کسی حد تک درست معلوم نہیں ہوتی۔ 

    اس میں مسلمانوں کےحفظ المال کا فقدان ہے، لہٰذا اسلامی حکومتوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس سے مسلمانوں کو اجتناب برتنے کی ترغیب دیں۔ 

    یہ کہنا کہ اگلا معاشی نظام کرپٹو کرنسی پر مبنی ہوگا اور اس کے بغیر مسلمان معاشی ترقی نہیں کرسکیں گے، یہ مناسب معلوم نہیں ہوتا۔ اگر بفرضِ محال ایسا ہو بھی جائے (جیسا کہ سودی بینکاری نظام اس وقت عالمی دنیا میں چھایا ہوا ہے) تو اس کی حلت ہونے کا حکم اس کے عام ہونے کی وجہ سے نہیں دیا جاسکتا۔ ابھی حال ہی میں وفاقی شرعی عدالت کی طرف سے جو تیسری دفعہ یہ فیصلہ آیا ہے کہ سودی نظامِ مالیات غیراسلامی ہے تو یہ بات بھی اس کی تائید کرتی ہے کہ کسی نظام کے عام ہونے سے اس کو حلال قرار نہیں دیا جاسکتا، جب تک کہ تمام شرعی اصولوں کے مطابق نہ ہوجائے۔ 

    کرپٹو کرنسی کو علمائے کرام اساسِ اصلی قرار دینے سے اجتناب برتتے ہیں، کیونکہ اس میں وہ حقیقی کرنسی کی خصوصیات شامل نہیں ہیں جس کی وجہ سے اس کے جواز کے استعمال کو تسلیم کیا جاسکے۔ 

    کرپٹو کرنسی عالمی معاشی اداروں، بینکوں اور حکومتوں کی اجارہ داری ختم نہیں کرتی، بلکہ یہ اجارہ داری سکڑ کر صرف چند ہاتھوں میں رہ جاتی ہے۔ 

    یہ فقہی دلیل قائم کرنا کہ چونکہ لوگ اس کو عرف میں تسلیم کرتے ہیں، لہٰذا یہ زر کی تعریف میں داخل ہے اور اس کو حکومتیں روکتی بھی نہیں، لہٰذا اس کو کرنسی نہیں بلکہ زر کہنا چاہیے اور اس کی تجارت فقہی طور پر جائز ہے۔ مفتیانِ کرام سے رجوع کرنے کے بعد ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ایسا کہنا مناسب نہیں ہے۔ 

    اگر کرپٹو کرنسی کو تسلیم کرلیا جائے کہ یہ حسی طور پر موجود ہوتی ہے تو اس وجہ سے دیگر مروجہ کاروبار کے طریقوں مثلاً فاریکس ٹریڈنگ، کموڈیٹی ٹریڈنگ وغیرہ کے احکامات میں بھی تبدیلی واقع ہونے کا امکان ہے۔ 

    این ایف ٹی میں سرمایہ کاری، خرید وفروخت اور اس سے منافع کمانے سے بھی اجتناب برتا جائے، ہاں! البتہ کسی کو اپنے ڈیجیٹل اثاثوں کو محفوظ بنانا ہو تو وہ اس کے لیے حقوقِ مجردہ کے قوانین اور این ایف ٹی کا سہارا لیتے ہوئے اس کو محفوظ بنانے سے متعلق احکامات مفتیانِ کرام سے دریافت کرسکتا ہے۔ 

    میٹاورس ایک ورچوئل تخیلاتی دنیا ہے اور اس میں اس کے غیر حسی ہونے کی وجہ سے بہت سارے خریدوفروخت کے احکامات شرعی اصولوں پر پورا نہیں اُترتے، لہٰذا میٹاورس میں سرمایہ کاری کرنا، خریدوفروخت کرنا اور منافع کمانے سے بھی اجتناب کرنا چاہیے، جب تک اس میں رائج خرید وفروخت اور بیع کے معاملات شریعت کے اصولوں کے تابع نہ ہوجائیں۔ 


حواشی و حوالہ جات

[1] علامہ محمد امین بن عمر بن عابدین دمشقی شامی رحمہ اللہ۔ مترجم و شارح حضرت مفتی سعید احمد پالن پوری صاحب، آپ فتویٰ کیسے دیں؟ شرح عقود رسم المفتی، مکتبہ رحمانیہ، لاہور


]2] http//:algazali.org/index.php?threads/16296/ 

]3] Celsius Network, https//:www.bbc.com/urdu/pakistan-61793441 

]4] https//:www.rte.ie/news/business/2022/0613/1304518-cryptocurrency-market -value -slumps-under-1-trillion /


نوٹ: چونکہ سائنسی دنیا میں سائنسی تحقیقی مقالہ جات کی اہمیت زیادہ ہوتی ہے، لہٰذا سائنسدان ہمیشہ انہی مقالہ جات کے حوالے دیتے ہیں، تاکہ سائنسی طور پر بات میں وزن ہوسکے۔ اس وجہ سے اس مضمون کے آخر میں ہم قارئین کے پیشِ خدمت کچھ سائنسی حوالہ جات بھی پیش کریں گے تاکہ جو حضرات اس کا حوالہ دیکھنا چاہتے ہوں وہ دیکھ سکیں۔

بٹ کوائن سے متعلق مضبوط اور سنجیدہ سائنسی حوالہ جات، بٹ کوائن کا حسّی طور پر کوئی وجود نہیں ا ور اس میں ذاتی قدر بھی نہیں، اس پر سائنسی حوالہ جات



Eng-Tuck Cheah et al Speculative bubbles in Bitcoin markets? An empirical investigation into the fundamental value of Bitcoin, Economics Letters, 2015.

F. Tschorsch and B. Scheuermann, "Bitcoin and Beyond: A Technical Survey on Decentralized Digital Currencies," in IEEE Communications Surveys & Tutorials, vol. 18, no. 3, pp. 2084-2123, thirdquarter 2016.

Ethereum White Paper mentioning that ‘‘Ethereum is maintain a value without intrinsic value’’.

https//:ethereum.org/669c9e2e2027310b6b3cdce6e1c52962/Ethereum_Whitepaper_-Buterin _2014.pdf 


بٹ کوائن اور دیگر کرپٹو کرنسیوں میں تیز اُتار چڑھاؤ ہے جس کی وجہ سے اس کا استعمال سٹہ بازی میں ہورہا ہے، اس پر سائنسی حوالہ جات


Dirk G. Baur and Thomas Dimpfl, The volatility of Bitcoin and its role as a medium of exchange and a store of value, Empirical Economics, 2021.

Neil Gandal et al Price manipulation in the Bitcoin ecosystem, Journal of Monetary Economics, Volume 95, May 2018, Pages 86-96.

Paul Delfabbro et al Cryptocurrency trading, gambling and problem gambling, Addictive Behaviors, 2021.

European Banking Authority Advise on the Speculative Nature of Bitcoin

https//:www.eba.europa.eu/eu-financial-regulators-warn-consumers-risks-crypto-assets 


بٹ کوائن پر محض کچھ لوگوں کی اجارہ داری ہے اور یہ حقیقی ڈی سینٹرلائزڈ سسٹم نہیں، اس پر سائنس حوالہ جات


A. Gervais, G. O. Karame, V. Capkun and S. Capkun Is Bitcoin a Decentralized Currency in IEEE Security & Privacy, vol. 12, no. 3, pp. 54-60, May-June 20149.

L. J. Valdivia, C. Del-Valle-Soto, J. Rodriguez and M. Alcaraz, Decentralization: The Failed Promise of Cryptocurrencies," in IT Professional, vol. 21, no. 2, pp. 33-40, 1 March-April 2019.

مائننگ سسٹم کے اندر کی خرابیاں اور اجارہ داری، اس پر سائنسی حوالہ جات

Altman Eitan, Menasché Daniel, Reiffers-Masson Alexandre, Datar Mandar, Dhamal Swapnil, Touati Corinne, El-Azouzi Rachid, Blockchain Competition Between Miners: A Game Theoretic Perspective, Frontiers in Blockchain, 2020.

N. Tovanich, N. Soulié, N. Heulot and P. Isenberg, The Evolution of Mining Pools and Miners’ Behaviors in the Bitcoin Blockchain, in IEEE Transactions on Network and Service Management, 2022, in Press.


بٹ کوائن کے پیسوں کی تقسیم، اس پر سائنسی حوالہ جات


N. Tovanich, N. Soulié, N. Heulot and P. Isenberg, MiningVis: Visual Analytics of the Bitcoin Mining Economy, in IEEE Transactions on Visualization and Computer Graphics, vol. 28, no. 1, pp. 868-878, Jan. 2022.

Sai Ashish Rajendra, Buckley Jim, Le Gear Andrew, Characterizing Wealth Inequality in Cryptocurrencies, Frontiers in Blockchain, 2021.

..



No comments:

Post a Comment