Thursday, 13 January 2022

جاہل اور غیرعالم میں فرق


جاہل اور غیرعالم مترادف اور ہم معنیٰ الفاظ بھی ہیں، اور ان کے معانی اور استعمال میں کچھ فرق بھی ملتا ہے۔


جاہل کے لغوی معانی:

(1) ان پڑھ، بے علم، ناخواندہ

(2) ناواقف، بے خبر

(3) (مجازاََ) نادان، بیوقوف، وحشی، اجڈ، بد اخلاق، بے ادب، گستاخ

(4) (تصّوف) سرکش مرید، طالب کاذب۔




اللہ پاک نے قرآن مجید میں بعض جگہوں پر جاہلوں کی جہالت کا ذکر بھی فرمایا ہے۔

[سورۃ الانعام:111، الاعراف:138، ھود:29، النمل:55، الاحقاف:23]


اور جاہل بھی قرار دیا ہے۔

[سورۃ البقرۃ:273، الزمر:64، القصص:55، الفرقان:66]


اور بعض جگہ جاہل کے بجائے یوں فرمایا:

﴿الَّذِينَ ‌لَا ‌يَعْلَمُونَ﴾ جو علم نہیں رکھتے۔

[سورۃ البقرۃ:113-118، یونس:89، الروم:59، الجاثیہ:18]


اور عالم کے مقابلے میں بھی یوں ہی فرمایا:

﴿الَّذِينَ ‌لَا ‌يَعْلَمُونَ﴾ جو علم نہیں رکھتے

[سورۃ الزمر:9]


‌لَا ‌يَعْلَمُونَ - ‌أَيْ - لَا يَعْلَمُونَ دِينَ اللَّهِ تَعَالَى وَتَوْحِيدَهُ فَهُمْ مُحْتَاجُونَ إِلَى سَمَاعِ كَلَامِ اللَّهِ

ترجمہ:

وہ نہیں جانتے - یعنی - وہ اللہ کے دین اور اس کی وحدانیت کو نہیں جانتے کیونکہ وہ اللہ کی باتیں سننے کے محتاج ہیں۔

[تفسير البغوي: سورۃ التوبۃ:6]


حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ رسول ﷲ صلی ﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا:
ذَنْبُ ‌العالِم ذَنبٌ وَاحدٌ، وَذَنْبُ الجَاهِل ذَنْبَان؛ العَالِمُ يُعَذَّبُ عَلَى رُكُوبهِ الذَّنْبَ، وَالجَاهِلُ يُعَذَّبُ عَلَى رُكوبهِ الذَّنْبَ وَتَركِهِ الْعِلْمَ۔
ترجمہ:
عالم کا گناہ ایک گناہ ہے، اور جاہل کا گناہ دو گناہ ہیں۔ کسی نے عرض کی: یا رسول ﷲ! کس لئے؟ فرمایا: عالم پر وبال اسی کا ہے کہ گناہ کیوں کیا، اور جاہل پر ایک عذاب گناہ کا ہوگا اور دوسرا علم کو چھوڑنے کا۔
[الفردوس بمأثور الخطاب- الديلمي:3165، زهر الفردوس:1589، جامع الأحاديث- السيوطي:12509]

القرآن:
ان کو دگنا عذاب دیا جائے گا۔ یہ (حق بات کو نفرت کی وجہ سے) نہ سن سکتے تھے، اور نہ ان کو (حق) سجھائی دیتا تھا۔
[سورۃ ھود:20][سورۃ الفرقان:69، الحدید:11]
۔۔۔کہو کہ : کیا وہ جو جانتے ہیں اور جو نہیں جانتے سب برابر ہیں ؟ (مگر) نصیحت تو وہی لوگ قبول کرتے ہیں جو عقل والے ہیں۔
[سورۃ الزمر:9]
پڑھے لکھے جاہل(کتابی ںیوقوف) کون؟
القرآن:
کیا تم (دوسرے) لوگوں کو تو نیکی کا حکم دیتے ہو اور خود اپنے آپ کو بھول جاتے ہو ؟ حالانکہ تم کتاب کی تلاوت بھی کرتے ہو ! کیا تمہیں اتنی بھی سمجھ نہیں۔
[سورۃ نمبر 2 البقرة،آیت نمبر 44]

امام تفسیر مجاہدؒ(م102ھ) نے فرمایا:
"كُلُّ عَامِلٍ بِمَعْصِيَةِ اللَّهِ فَهُوَ ‌جَاهِلٌ ‌حِينَ ‌عَمِلَهَا"۔
ترجمہ:
”یعنی جو شخص کسی کام میں اللہ تعالی کی نافرمانی کر رہا ہے وہ یہ کام کرتے ہوئے جاہل ہی ہے۔“ 
[تفسير ابن كثير، سورۃ النساء، آیۃ 17]


فرمایا:
إِنَّ مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ أَنْ يُرْفَعَ الْعِلْمُ ، وَيَثْبُتَ الْجَهْلُ۔
ترجمہ:
قیامت کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ(دینی)علم اٹھالیا جائے گا اور جہالت عام ہوجائے گی۔
[بخاری:79، مسلم:2671]

جہالت نام ہے۔۔۔
(1)دین کی باتوں میں مذاق کرنے کا۔
[حوالہ سورۃ البقرۃ:67]
(2)ضد و ہٹ دھرمی(بے دینی) کا۔
[حوالہ سورۃ الاعراف:199]
(3)سب کو ہدایت پر لانے کیلئے ہلکاں ہونا
[حوالہ سورۃ الانعام:35]
(4)ایمان نہ لانے کیلئے کافروں کا من پسند معجزات کا مطالبہ کرنا۔
[حوالہ سورۃ الانعام:111]
(5)بناوٹی خدا کی چاہت وعبادت۔
[حوالہ سورۃ الاعراف:138]
(6)نیکی ونصیحت کی بات کو قبول نہ کرنے اور ستانے والے ہٹ دھرمی
[حوالہ سورۃ الاعراف:199، ھود:46 الفرقان:63]
(7)نافرمانی کے کام
[حوالہ یوسف:33+ 89]
(8)ہم جنس پرستی
[حوالہ سورۃ النمل:55]
(9)بیہودہ بات کرنا اور بچنے والوں سے الجھنا۔
[حوالہ سورۃ القصص:55]
(10) غیراللہ کی عبادت کرنے کی دعوت دینا۔
[حوالہ سورۃ الزمر:64]
(11)کٹ حجتی کرنا۔

[حوالہ سورۃ الاحقاف:23,ھود:46 الفرقان:63]



ہدایت یا جہالت:

القرآن:

بھلا کیا یہ جاہلیت کا فیصلہ حاصل کرنا چاہتے ہیں؟ حالانکہ جو لوگ یقین رکھتے ہوں ان کے لیے اللہ سے اچھا فیصلہ کرنے والا کون ہوسکتا ہے؟

[سورۃ نمبر 5 المائدة، آیت نمبر 50]

تشریح:

یعنی دنیاوی علوم وفنون سے غفلت جہالت نہیں بلکہ سب کے خالق ومالک الله کے فیصلوں سے منہ موڑنا جہالت ہے۔





حضرت عمرؓ نے فرمایا:

«‌تَعَلَّمُوا ‌الْعِلْمَ وَعَلِّمُوهُ النَّاسَ، وَتَعَلَّمُوا لَهُ ‌الْوَقَارَ وَالسَّكِينَةَ , وَتَوَاضَعُوا لِمَنْ تَعَلَّمْتُمْ مِنْهُ وَلِمَنْ عَلَّمْتُمُوهُ، وَلَا تَكُونُوا جَبَابِرَةَ الْعُلَمَاءِ، فَلَا يُقَوَّمُ جَهْلُكُمْ بِعِلْمِكُمْ»

علم حاصل کرو اور لوگوں کو تعلیم دو، اور علم کیلئے وقار اور سنجیدگی سیکھو، جس شخص سے علم حاصل کرو اس سے تواضع سے ہیش آؤ، اور جنہیں تعلیم دو ان سے بھی تواضع سے پیش آؤ، سختی کرنے والے علماء مت بنو، کیونکہ تمہارا علم جہالت کے ساتھ قائم نہیں رہ سکتا۔

[الزهد-لوكيع:275، الزهد-لأحمد بن حنبل:630، المجالسة وجواهر العلم-أبو بكر الدينوري:1197، أخلاق أهل القرآن-الآجري:51، شعب الإيمان-البيهقي:1651، المدخل إلى السنن الكبرى-البيهقي:629، جامع بيان العلم وفضله-ابن عبد البر:893، الجامع لأخلاق الراوي وآداب السامع-للخطيب البغدادي:41، ترتيب الأمالي الخميسية-للشجري:214+348]


حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاصؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
‌قَلِيلُ ‌الْعِلْمِ ‌خَيْرٌ مِنْ كَثِيرِ الْعِبَادَةِ، وَكَفَى بِالْمَرْءِ عِلْمًا إِذَا عَبَدَ اللَّهَ، وَكَفَى بِالْمَرْءِ جَهْلًا إِذَا عَجِبَ بِرَأْيِهِ، إِنَّمَا النَّاسُ رَجُلَانِ: عَالِمٌ وَجَاهِلٌ فَلَا تُمَارِ الْعَالِمَ وَلَا تُحَاوِرِ الْجَاهِلَ۔
ترجمہ:
علم  کی قلیل مقدار بھی  عبادت کی کثیر مقدار  سے بہتر ہے، انسان کو تھوڑا علم بھی کافی ہے اگر اللہ کی عبادت کرے، اور تھوڑی جہالت بھی بہت ہے اگر اپنی رائے پر مغرور ہو، آدمی دو قسم کے ہیں: عالم اور جاہل۔ عالم سے کج بحثی نہ کرو اور جاہل سے جھگڑا نہ کرو۔
[جامع بيان العلم وفضله-ابن عبد البر (م463ھ: حدیث نمبر 90، أدب الدنيا والدين-الماوردي (م450ھ): صفحہ نمبر 72]
[أخرجه الدولابى في الكنى (1488)، والطبراني في الأوسط (8/ 301 - 302 رقم 8698) والكبير (31/ 619 - 620 رقم 14541) ومسند الشاميين (2098)، وأبو نعيم في الحلية (5/ 173 - 174)، والبيهقي في المدخل (453) وابن عبد البر في جامع بيان العلم (95)، والخطيب في الموضح (1/ 425 - 421)، وفي الفقيه والمتفقه (90)]

کَج بَحْثی: 
  • اُلٹی سیدھی باتیں، نامعقول گفتگو، فضول باتیں، کٹ حجتی، بے ہودہ تکرار





حکم کی اہمیت حاکم کی طاقت پہچاننے سے حاصل ہوتی ہے:

درحقیقت علم وحکمت، عدل اور رحم کی خوبیوں میں کامل۔۔۔ہر چیز کا ایک اکیلا خالق، مالک، غالب، رب۔۔۔جس کا اصلی نام اللہ یعنی حقیقی خدا ہے۔۔۔کے تعارف وپہچان سے جاہل شخص ہی نافرمان رہتا ہے، اور توبہ بھی نہیں کرتا کہ توبہ کرنے والا ایسا ہی ہے جیسے گناہ کیا ہی نہ ہو۔ اور بہترین خطاکار ہر بار توبہ کرنے والے ہیں۔


مومن کون؟

جہالت کی تلاش و خواہش الله اور اسکی ہدایت پر یقین نہ ہونے کی علامت ہے۔ اور شریعتِ خداوندی پر یقین رکھنے والا ہی مومن ہے۔


اسلامی اور مغربی تہذیب میں فرق کی بنیاد ﴿ہدایت یا جہالت﴾ ہی ہے۔



جہالت دراصل "مخالفتِ حق" کا نام ہے۔

جہالت تین قسم پر ہے:

(1) انسان کے ذہن کا علم سے خالی ہونا اور یہی اس کے اصل معنیٰ ہیں اور بعض متکلمین نے کہا ہے کہ انسان کے وہ افعال جو نظامِ طبعی کے "خلاف" جاری ہوتے ہیں ان کا مقتضی بھی یہی معنی جہالت ہے۔

(2) کسی چیز کے "خلافِ واقع" (خلافِ حقیقت) یقین و اعتقاد قائم کرلینا۔

(3) کسی کام کو جس طرح سر انجام دینا چاہئے اس کے "خلاف" سر انجام دینا۔ ہم ان سے کہ متعلق اعتقاد صحیح ہو یا غلط مثلا: کوئی شخص دانستہ نماز ترک کردے چناچہ اسی معنیٰ کے اعتبار سے آیت:

أَتَتَّخِذُنا هُزُواً ؟ قالَ : أَعُوذُ بِاللَّهِ أَنْ أَكُونَ مِنَ الْجاهِلِينَ

وہ کہنے لگے کہ کیا آپ ہمارا مذاق بناتے ہیں؟ موسیٰ نے کہا : میں اس بات سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں کہ میں (ایسے) نادانوں میں شامل ہوں (جو مذاق میں جھوٹ بولیں)۔

[سورۃ البقرة:67]

میں هُزُواً (مذاق اڑانے) کو جہالت قرار دیا گیا ہے ۔

[المفردات فی غریب القرآن-امام راغب: ص209]



نبی ﷺ نے فرمایا:

إِنَّ مِنَ الْعِلْمِ جَهْلًا۔[ابوداود:5012]
بعض علوم جہالت ہیں۔
یعنی بعض علوم نافع نہیں۔


حضرت ابوہريرهؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ  نے فرمایا:

بےشک اللہ عز وجل نفرت رکھتے ہیں ہر بدخلق، اجڈ اور بازاروں میں شور مچانے والے، رات کو گوشت کا لوتھڑا(تنہائی میں عبادت کے بجائے سوئے)رہنے والے، دن کے گدھے، دنیا کے عالم اور آخرت کے جاہل سے۔

[أمثال الحديث لأبي الشيخ الأصبهاني:234، السنن الكبرى للبيهقي:20804، صحيح الجامع:1878]



کیونکہ وہ (دنیا کا) علم رکھتا ہے جو اللہ اور اس کے رسول کو محبوب نہیں، اور اس کا علم اسے (آخرت میں) فائدہ نہیں دے گا، اور اس کی (علمِ آخرت سے) جہالت اسے نقصان پہنچائے گی۔

[التنوير شرح الجامع الصغير-الصنعاني:1850]

القرآن:

وہ دنیوی زندگی کے صرف ظاہری رخ کو جانتے ہیں، اور آخرت کے بارے میں ان کا حال یہ ہے کہ وہ اس سے بالکل غافل ہیں۔

[سورۃ الروم:7]

لہذا (اے پیغمبر) تم ایسے آدمی کی فکر نہ کرو جس نے ہماری نصیحت سے منہ موڑ لیا ہے، اور دنیوی زندگی کے سوا وہ کچھ اور چاہتا ہی نہیں۔ ایسے لوگوں کے علم کی پہنچ بس یہیں تک ہے۔ (15) تمہارا پروردگار ہی خوب جانتا ہے کہ کون اس کے راستے سے بھٹک چکا ہے، اور وہی خوب جانتا ہے کون راہ پا گیا ہے۔

[سورۃ النجم:29-30]

یہ ان لوگوں پر تبصرہ ہے جو بس اسی دنیا کی زندگی کو سب کچھ سمجھتے ہیں، اور آخرت کا انہیں کوئی خیال ہی نہیں ہے کہ ان بیچاروں کے علم کی رسائی بس دنیاوی زندگی تک ہے، اس سے زیادہ نہیں۔



لا ‌يعلمون : ‌أي أن القوم كانوا يعلمون، ولكنهم أفسدوا علمهم، وجحدوا وكفروا وكتموا۔

ترجمہ:

وہ نہیں جانتے: یعنی لوگ جانتے تھے لیکن انہوں نے اپنے علم کو بگاڑا، اور کفر کیا اور چھپایا۔

[تفسير الطبري:1645، سورۃ البقرۃ:101]



علماء کے بجائے جاہلوں(مخالفت کرنے والوں) سے فتویٰ لینے کی پیشگوئی:
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مَالِكٌ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِنَّ اللَّهَ لَا يَقْبِضُ الْعِلْمَ انْتِزَاعًا يَنْتَزِعُهُ مِنَ الْعِبَادِ ، وَلَكِنْ يَقْبِضُ الْعِلْمَ بِقَبْضِ الْعُلَمَاءِ ، حَتَّى إِذَا لَمْ يُبْقِ عَالِمًا اتَّخَذَ النَّاسُ رُءُوسًا جُهَّالًا ، فَسُئِلُوا فَأَفْتَوْا بِغَيْرِ عِلْمٍ فَضَلُّوا وَأَضَلُّوا " ، قَالَ الْفِرَبْرِيُّ : حَدَّثَنَا عَبَّاسٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ هِشَامٍ نَحْوَهُ .
[صحيح البخاري » كِتَاب الْعِلْمِ » بَاب كَيْفَ يُقْبَضُ الْعِلْمُ ... رقم الحديث: 99(100)]
حضرت عبداللہ ابن عمروؓ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم  نے ارشاد فرمایا۔اللہ تعالیٰ علم کو (آخری زمانہ میں) اس طرح نہیں اٹھالے گا کہ لوگوں (کے دل و دماغ) سے اسے نکال لے بلکہ علم کو اس طرح اٹھاے گا کہ علماء کو (اس دنیا سے) اٹھالے گا یہاں تک کہ جب کوئی عالم باقی نہیں رہے گا تو لوگ جاہلوں کو پیشوا بنالیں گے ان سے مسئلے پوچھے جائیں گے اور وہ بغیر علم کے فتویٰ دیں گے لہٰذا وہ خود بھی گمراہ ہوں گے اور لوگوں کو بھی گمراہ کریں گے۔"
[صحیح بخاری: حدیث نمبر 100 - علم کا بیان : علم کس طرح اٹھا لیا جائے گا]
تشريح:
(1) اللہ نے نبی کے بعد علم کی حفاظت اور تعلیم کا ذریعہ علماء کو بنایا ہے۔
(2) مسائل(یعنی جو باتیں پوچھی جائیں)غیرعالم سے نہ پوچھنا۔
(3) گذرے ہوئے علماء(صحابہؓ اور ائمہؒ) زیادہ قابلِ اعتماد اور قابلِ تقلید ہیں۔






















اور اگر بالفرض ہم ان کے پاس فرشتے بھیج دیتے، اور مردے ان سے باتیں کرنے لگتے، اور (ان کی مانگی ہوئی) ہر چیز ہم کھلی آنکھوں ان کے سامنے لاکر کے رکھ دیتے (49)، تب بھی یہ ایمان لانے والے نہیں تھے، الا یہ کہ اللہ ہی چاہتا (کہ انہیں زبردستی ایمان پر مجبور کردے تو بات دوسری تھی، مگر ایسا ایمان نہ مطلوب ہے نہ معتبر) لیکن ان میں سے اکثر لوگ جہالت کی باتیں کرتے ہیں۔(50)

[سورۃ الانعام:111]

(49) یہ وہ باتیں ہیں جن کی وہ فرمائش کیا کرتے تھے۔

حقیقت یہ ہے کہ یہ اپنے دلوں میں اپنے آپ کو بہت بڑا سمجھے ہوئے ہیں۔ اور انہوں نے بڑی سرکشی اختیار کی ہوئی ہے۔

[سورۃ الفرقان:21]

یعنی یہ ان کا تکبر ہے جو ان سے ایسی باتیں کہلوا رہا ہے۔ یہ اپنے آپ کو اتنا بڑا سمجھتے ہیں کہ اپنی ہدایت کے لیے کسی پیغمبر کی بات ماننا اپنی توہین سمجھتے ہیں۔ اور مطالبہ یہ کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ خود آکر انہیں سمجھائیں، یا کم از کم کوئی فرشتہ بھیجیں۔

(50) یعنی حقیقت تو یہ ہے کہ تمام معجزات کو دیکھ کر بھی یہ ایمان لانے والے نہیں ہیں۔ پھر بھی جو مطالبات کر رہے ہیں وہ محض جہالت (مخالفت) پر مبنی ہیں۔




امام شافعیؒ (م150ھ) نے فرمایا:
جاہل کو اس بات کا یقین ہوتا ہے کہ وہ عالم ہے اس لئے وہ کسی کی بات نہیں سنتا۔


امام حسن البصریؒ (م١١٠ھ) فرماتے ہیں:
‌الفِتْنَةُ ‌إِذَا ‌أَقْبَلَتْ عَرَفَهَا كُلُّ عَالِمٍ، وَإِذَا أَدْبَرَتْ عَرَفَهَا كُلُّ جَاهِلٍ۔
ترجمہ:
فتنہ جب سر اٹھاتا ہے تو ہر عالم اسے پہچان لیتا ہے، اور جب چلا جاتا ہے تو ہر جاہل کو پتہ چلتا ہے کہ یہ فتنہ تھا۔
[التاريخ الكبير للبخاري:5830(‌‌2987)، حلية الأولياء وطبقات الأصفياء:9/24]

آجکل رسول اللہ ﷺ کی پیشین گوئی حرف بحرف صادق آ رہی ہے۔ لوگ چند کتابوں کا مطالعہ کر کے علماء کا لبادہ پہن کر سادہ لوح مسلمانوں کو غلط سلط باتیں بتاکر راہ حق اور صراط مستقیم سے برگشتہ کرتے ہوئے وقت کا علامہ بننے کی پرزور کوشش کر رہے ہیں۔ عوام بھی ان کا خوب ساتھ دے رہی ہے اور ان کو سراہتے ہوئے انہیں علماء سے زیادہ اہمیت دینے لگی ہے۔ انھیں عوام کی بدولت یہ ممبر و محراب اور کانفرنسوں وغیرہ میں اپنا تسلط قائم کرنے لگے ہیں۔ ان کی شہرت اور چمک دمک کو دیکھتے ہوئے نوجوانانِ ملت بھی اسی راہ پر چل نکلے ہیں، لہذا آپ کو سوشل میڈیا پر اس طور سے نام نہاد مبلغین ودعاۃ اور محققین و مفتیان کے القاب کے مصداق افراد مل جائیں گے جو بزعمِ خویش دین کی بہت بڑی خدمت انجام دے رہے ہیں۔ چناچہ آپ دیکھیں گے کہ جس نے بھی ایک دو کتابیں پڑھ لیں یا ایک دو لیکچر سن لئے وہ گروپس، پیجز، بلاگس، ویب سائٹس اور یوٹیوب چینل بناتا ہے، اور قرآن و حدیث کی خود ساختہ تشریح کرتے ہوئے دین اسلام کی دھجیاں اڑانے کی کوشش کرتا ہے۔ لہذا کوئی محققِ دوراں بنتے ہوئے احادیث کی صحت و ضعف پر کلام کرتا ہے تو کوئی منسوخ جیسی احادیث کو بیان کرکے ان سے مسائل کا استنباط کرتا نظر آتا ہے۔ یہ دقیق مسائل ہوں یا غیردقیق سب میں اپنی رائے دینے کو اپنا پیدائشی حق سمجھتے ہیں اور جب تک دن میں دو چار فتوے نہ دے لیں اور مناظرے نہ کرلیں ان کو سکون نہیں ملتا۔ اتنا ہی نہیں مناظر کے نام پر گالی گلوچ کرنے کو بھی جائز سمجھتے ہیں۔ دعوت و تبلیغ کے نام پر نوجوان لڑکیوں سے جنسی و دل لگی کو کار ثواب سمجھتے ہیں۔ ان کے قد میں ہی نہیں رکھتے بلکہ وہ دوسروں کے مقالات و مضامین اور تحقیقات کو چرا کر اپنے بلاگز اور ویب سائیٹس اور گروپس میں اپنے نام سے شیئر کرتے ہیں اور لوگوں کی واہ واہی بٹورتے ہیں۔ یہ علماء کی ویب سائٹس اور یوٹیوب چینلز کو شیئر کرنے میں اپنی کسر شان سمجھتے ہیں شاید یہی وجہ ہے کہ اگر کسی عالم کا لکچر بھی شیئر کرتے ہیں تو خود کا یوٹیوب چینل بنا کر اس میں اپ لوڈ کر کے شیئر کرتے ہیں۔

امام ابن الجوزی(م597ھ) فرماتے ہیں:
قَالَ وأكبر(وَأَكْثَرُ) أَسبَابه أَنه قد يعاني هَذِه الصِّنَاعَة ‌جهال ‌بِالنَّقْلِ يَقُولُونَ مَا وجدوه مَكْتُوبًا وَلَا يعلمُونَ الصدْق من الْكَذِب فهم يبيعون على سوق الْوَقْت وَاتفقَ أَنهم يخاطبون الْجُهَّال من الْعَوام الَّذين هم فِي عداد الْبَهَائِم فَلَا يُنكرُونَ مَا يَقُولُونَ وَيخرجُونَ فَيَقُولُونَ قَالَ الْعَالم فالعالم عِنْد الْعَوام من صعد الْمِنْبَر۔
ترجمہ:
اور ان کا سب سے بڑا(سب سے زیادہ) سبب یہ ہے کہ اس فن میں ان لوگوں نے دخل اندازی کی جو نقلی دلائل سے عاری وجاہل ہوتے ہیں۔ جو لکھا ہوا پاتے ہیں اسی کو یہ کہتے ہیں۔ سچ و جھوٹ کی پہچان کی کسوٹی ان کے پاس نہیں ہوتی۔ یہ وقت کے بازار میں دینی خدمت کا کاروبار کرتے ہیں۔ اور (اس پر) اتفاق ہے کہ یہ عام طور پر عوام میں سے ایسے جاہلوں کو مخاطب کرتے ہیں جو چوپایوں کے قائم مقام (یعنی ناسمجھ) ہوتے ہیں لہذا وہ ان کی غلطیوں پر نکیر نہیں کرتے اور یہ کہتے ہوئے نکلتے ہیں کہ عالم نے کہا۔ بس عوام کے نزدیک وہی عالم ہے جو منبر (stage) پر چڑھ گیا۔
[تحذیر الخواص-امام السیوطی(م911ھ) :ص230، القصاص والمنکرین-امام ابن الجوزي(م597ھ): ص318]


No comments:

Post a Comment