وَهَكَذَا أَدْرَكْتُ بِبَلَدِنَا بمكة يصلون عِشْرِينَ رَكْعَةً.

کیا نبی ﷺ سے ترویحہ ثابت ہے؟
جی ہاں، امام بیھقیؒ (المتوفى:458هـ) نے "السنن الکبریٰ" میں ایک روایت نقل کی ہے :
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ فِي اللَّيْلِ، ثُمَّ يَتَرَوَّحُ، فَأَطَالَ حَتَّى رَحِمْتُهُ فَقُلْتُ: بِأَبِي أَنْتَ، وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللهِ، قَدْ غَفَرَ اللهُ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ قَالَ: " أَفَلَا أَكُونُ عَبْدًا شَكُورًا؟ " تَفَرَّدَ بِهِ الْمُغِيرَةُ بْنُ زِيَادٍ، وَلَيْسَ بِالْقَوِيِّ، وَقَوْلُهُ: ثُمَّ يَتَرَوَّحُ إِنْ ثَبَتَ فَهُوَ أَصْلٌ فِي تَرَوُّحِ الْإِمَامِ فِي صَلَاةِ التَّرَاوِيحِ، وَاللهُ أَعْلَمُ
ترجمہ:
حضرت عائشہؓ سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ رات کو چار رکعات پڑھا کرتے تھے، پھر آرام کرتے، پھر آپ ﷺ رکعت اتنی لمبی کردیتے کہ مجھے آپ پر رحم آجاتا، میں کہتی : میرے ماں باپ آپ ﷺ پر قربان ہوں، اللہ نے آپ کے پہلے اور بعد والے تمام گناہ معاف کردیے ہیں! آپ ﷺ فرماتے : کیا میں اللہ کا شکر گزار بندہ نہ بن جاؤں۔

ترجمہ :
[رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ:1377، ابْنُ خَزَيْمَةَ:2208، ابْنُ حِبَّانَ:2541، الْبَيْهَقِيُّ:4283. وَ فِي رِوايَةٍ لِلْبَيْهَقِيِّ: قَالَ: قَدْ أَحْسَنُوا أَوْ قَدْ أَصَابُوا وَلَمْ يَکْرَهْ ذَلِکَ لَهُمْ.]
اور بیہقی کی ایک روایت میں ہے فرمایا:
[اخرجہ ابوداود في السنن، کتاب: الصلاۃ، باب: في قیام شہر رمضان، 2 / 50، الرقم: 1377، وابن خزیمۃ في الصحیح، 3 / 339، الرقم: 2208، وابن حبان في الصحیح، 6 / 282، الرقم: 2541، والبیہقي في السنن الکبری، 2 / 495، الرقم: 4386۔ 4388، والہیثمي في موارد الظمآن، 1 / 230، الرقم: 921، و ابن عبدالبر في التمھید، 8 / 111، و ابن قدامۃ في المغني، 1 / 455۔]
لہٰذا تراویح کی ’’جماعت‘‘ بھی بدعت نہیں۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ الْقَصْرِيُّ الشَّيْخُ الصَّالِحُ رَحِمَهُ اللَّهُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ الْمُؤْمِنِ الْعَبْدُ الصَّالِحُ قَالَ أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ الرَّازِيُّ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ هَارُونَ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحنازِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عَتِيكٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ خَرَجَ النبي صلى اللَّه عليه وسلم ذَاتَ لَيْلَةٍ فِي رَمَضَانَ فَصَلَّى النَّاسُّ أَرْبَعَةً وَعِشْرِينَ رَكْعَةً وَأَوْتَرَ بِثَلاثَةٍ.
|
اگر (1)تراویح نماز (2)اسکی جماعت (3)اور اسکی بیس رکعتوں کا کوئی ثبوت نہ ہوتا تو صحابہ کرام اور ائمہ کرام اس پر جمع ومتفق نہ ہوتے۔
صرف ضعیف یا متروک یا منکر کہنے سے جرح مفسر نہیں ہے۔
[رکعتِ قیامِ رمضان کا تحقیقی جائزہ: ص65]
شیخ احمد شاکر فرماتے ہیں کہ وہ (یعنی امام شعبہؒ) ثقہ ہی سے روایت لیتے ہیں۔
[القول المقبول فی شرح صلاة الرسول : ص # 386 ؛ نيل الأوطار ، للشوكاني : 1 / 16]
لہ احادیث صالحۃ
یعنی ابو شیبہ (ابراہیم بن عثمان) کی احادیث درست ہیں۔
ما قضی علی الناس یعنی فی زمانہ اعدل فی قضاء منہ
وهو وإن نسبوه إلى الضعف خير من إبراهيم بن أبي حية،
یعنی وہ بہتر ہیں کمزوری میں ابراہیم بن ابی حية سے۔
[تہذیب الکمال ج2 ص151]
اور إبراهيم بن أبي حية کے بارے میں امام یحیی بن معینؒ(المتوفى: 233هـ) فرماتے ہیں:
یعنی یہ شیخ (بزرگ) ہیں، بڑے ہی قابل اعتماد ہیں۔
[تاريخ ابن معين (رواية الدوري) :1/421، رقم 2557]
[علل الدارقطنی:4/187، رقم 498]
[تاريخ واسط: ص162، 232]
یعنی وہ بہت ہی سچا ہے، لکھو (احادیث) ان سے.
(9) غیرمقلدین کے علامہ ناصر الدین البانی نے بھی ابوشیبہؒ کی ایک روایت کو صحیح قرار دیا ہے۔
اور مشھور ائمہ محدثین جیسے شافعیؒ، بخاریؒ، ترمذیؒ، سیوطیؒ، سخاویؒ، شوکانیؒ وغیرہ (رحمہ الله علیھم اجمعین) نے اس اصول کا تعین کیا ہے کہ عملی طریقوں کا انحصار (دارومدار) تعاملِ امت (اتفاق-و-اجماع سے امت کے جاری عمل پر) ہے. جب امت کا عمل کسی حدیث پر جاری ہو، اگرچہ وہ ضعیف ہو، تو اس کی سند پر بحث کی ضرورت نہیں. یعنی جس ضعیف حدیث پر بھی تعاملِ امت (اتفاق واجماع سے امت کا جاری عمل) ہو، تو اس حدیث کو مانا جائیگا، اگرچہ ضعیف ہو.
[المعجم الصغیر للطبراني: باب التحفة المرضية في حل مشكلات الحديثية، ٢/١٧٧-١٩٩]
(4) حَدِيثُ: «أَنَّهُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَلَّى بِالنَّاسِ عِشْرِينَ رَكْعَةً لَيْلَتَيْنِ، فَلَمَّا كَانَ فِي اللَّيْلَةِ الثَّالِثَةِ اجْتَمَعَ النَّاسُ فَلَمْ يَخْرُجْ إلَيْهِمْ، ثُمَّ قَالَ مِنْ الْغَدِ: خَشِيت أَنْ تُفْرَضَ عَلَيْكُمْ فَلَا تُطِيقُوهَا» . مُتَّفَقٌ عَلَى صِحَّتِهِ
[فتح العزيز بشرح الوجيز = الشرح الكبير للرافعي؛4/ 264، العزيز شرح الوجيز؛2/ 133]
(٤) عَنْ مَالِك ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ رُومَانَ ، أَنَّهُ قَالَ : " كَانَ النَّاسُ يَقُومُونَ فِي زَمَانِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فِي رَمَضَانَ بِثَلَاثٍ وَعِشْرِينَ رَكْعَةً " .

أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحُسَيْنِ بْنِ فَنْجَوَيْهِ الدَّيْنَوَرِيُّ بِالدَّامَغَانِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ السُّنِّيُّ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْبَغَوِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، أنبأ ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُصَيْفَةَ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ: " كَانُوا يَقُومُونَ عَلَى عَهْدِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ بِعِشْرِينَ رَكْعَةً " قَالَ: " وَكَانُوا يَقْرَءُونَ بِالْمَئِينِ، وَكَانُوا يَتَوَكَّئُونَ عَلَى عِصِيِّهِمْ فِي عَهْدِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ من شدة القيام
ترجمہ:
أَبُو الخضيب قَالَ يحيى بْن مُوسَى قَالَ نا جَعْفَر بْن عون سَمِعَ أبا الخضيب الجعفِي كَانَ سويد بْن غفلة يؤمنا فِي رمضان عشرين ركعة
ترجمہ:

---------------------------------------
[مجموعہ فتاوی و مقاولات علامہ ابن باز: جلد 11 صفحہ 325]
http://islamicbookscity.com/masjid-i-nabwi-main-taraweeh-ahd-ba-ahd/?fbclid=IwAR325doHgWS3iDg4F1ZajmnrXevSNgEhc-6KEGG_Iq2-2WwQRRrKj1HeMcw
وَهَكَذَا أَدْرَكْتُ بِبَلَدِنَا بمكة يصلون عِشْرِينَ رَكْعَةً.
امام محی الدین نووی (متوفی ۶۷۶ھ) المجموع شرح مہذب میں لکھتے ہیں:

----------------------------------

[الاحادیث المختارہ، للضیاء المقدسی: 1161، اسنادہ حسن]
(۲) حضرت سائب بن یزید رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ امیرالمومنین حضرت سیدنا عمر بن خطابؓ کے دور خلافت میں رمضان المبارک کے مہینے میں حضرات صحابہ و تابعین بیس (20) رکعات تراویح پڑھتے تھے اور وہ سو سو آیتیں پڑھا کرتے تھے اورامیر المومنین حضرت سیدنا عثمان بن عفانؓ کے دور خلافت میں شدت قیام یعنی طول قیام کی وجہ سے اپنی لاٹھیوں پر ٹیک لگایا کرتے تھے۔
(الصیام للفریابی مخرج ۱۷۶، وسنن بیہقی۴۸۰۱، اس حدیث کے صحیح ہونے پر جمہور محدثین کا اتفاق ہے)
(بدایة المجتہد ج:۱ ص:۱۵۶، مکتبہ علمیہ لاہور)

[مہاج السنّہ : ٢/٢٢٤، اردو ترجمہ پروفیسر غلام علی الحریری]
[مجموع فتاویٰ ابن تیمیہ: ٢٣/١١٢ و ١١٣، نزاع العلماء في مقدار قيام رمضان، الطبعة الأولى من مطابع الرياض]
قال القرطبي : أشكلت روايات عائشة على كثير من العلماء حتى نسب بعضهم حديثها إلى الاضطراب ، وهذا إنما يتم لو كان الراوي عنها واحداً أو أخبرت عن وقت واحد .

تراویح کی تعداد ِرکعت کے سلسلہ میں علماء کرام کے درمیان اختلاف ہے۔ تراویح پڑھنے کی اگرچہ بہت فضیلت احادیث میں وارد ہوئی ہے؛ لیکن فرض نہ ہونے کی وجہ سے تراویح کی تعدادِ رکعت میں یقینا گنجائش ہے۔ جمہور محدثین اورفقہاء کی رائے ہے کہ تراویح ۲۰رکعت پڑھنی چاہئیں۔ تراویح کی تعداد ِرکعت میں علماء کرام کے درمیان اختلاف کی اصل بنیاد یہ ہے کہ تراویح اور تہجد ایک نماز ہے یا دو الگ الگ نمازیں۔ جمہور محدثین،فقہائے کرام نے اِن دونوں نمازوں کو الگ الگ نماز قرار دیا ہے، اُن کے نقطہٴ نظر میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت کا تعلق تہجد کی نماز سے ہے، جس میں انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ ا رمضان اور رمضان کے علاوہ گیارہ رکعت سے زائد نماز نہیں پڑھتے تھے۔ جس کے انہوں نے مختلف دلائل دیے ہیں، جن میں سے بعض یہ ہیں :
(۱) امام بخاری نے اپنی مشہور کتاب (بخاری) میں نمازِ تہجد کا ذکر (کتاب التہجد) میں؛ جبکہ نماز تراویح کو (کتاب صلاة التراویح) میں ذکر کیا ہے۔ اس سے صاف ظاہر ہوتا کہ دونوں نمازیں الگ الگ ہیں، جیساکہ جمہور علماء اور ائمہٴ اربعہ نے فرمایا ہے، اگر دونوں ایک ہی نماز ہوتی تو امام بخاری کو دو الگ الگ باب باندھنے کی کیوں ضرورت محسوس ہوتی۔ حضرت عائشہ والی حدیث کتاب التہجد میں ذکر فرماکر امام بخاری نے ثابت کردیا کہ اس حدیث کا تعلق تہجد کی نماز سے ہے۔
(۲) تراویح صرف رمضان میں پڑھی جاتی ہے، اور اِس حدیث میں ایسی نماز کا ذکر ہے جو رمضان کے علاوہ بھی پڑھی جاتی ہے۔
(۳) اگر حضرت عائشہ کے فرمان کا تعلق تراویح کی نماز سے ہے تو حضرت عمر فاروق کے زمانے میں جب باضابطہ جماعت کے ساتھ ۲۰ رکعت تراویح کا اہتمام ہوا تو کسی بھی صحابی نے اِس پر کوئی تنقید کیوں نہیں کی؟ (دنیا کی کسی کتاب میں ، کسی زبان میں بھی، کسی ایک صحابی کا حضرت عمر فاروق کے زمانے میں ۲۰رکعت تراویح کے شروع ہونے پر کوئی اعتراض مذکور نہیں ہے) اگر ایسی واضح حدیث تراویح کی تعداد کے متعلق ہوتی تو حضرت عمر فاروق اور صحابہٴ کرام کو کیسے ہمت ہوتی کہ وہ ۸ رکعت تراویح کی جگہ ۲۰ رکعت تراویح شروع کردیتے۔ صحابہٴ کرام تو ایک ذرا سی چیز میں بھی آپ ا کی تعلیمات کی مخالفت برداشت نہیں کرتے تھے۔ اور نبی اکرم ا کی سنتوں پر عمل کرنے کا جذبہ یقینا صحابہٴ کرام میں ہم سے بہت زیادہ تھا؛ بلکہ ہم (یعنی آج کے مسلمان) صحابہ کی سنتو ں پر عمل کرنے کے جذبہ سے اپنا کوئی مقارنہ بھی نہیں کرسکتے۔ نیز نبی اکرم ا کا فرمان ہے : ہم خلفاء راشدین کی سنتوں کوبھی مضبوطی سے پکڑلیں۔ (ابن ماجہ)
(۴) اگر اس حدیث کا تعلق واقعی تراویح کی نماز سے ہے (اور تہجد و تراویح ایک نماز ہے) تو رمضان کے آخری عشرہ میں نمازِ تراویح پڑھنے کے بعد تہجد کی نماز کیوں پڑھی جاتی ہے؟
(۵) اس حدیث کا تعلق تہجد کی نماز سے ہے، جیساکہ محدثین نے اس حدیث کو تہجد کے باب میں نقل کیا ہے، نہ کہ تراویح کے باب میں۔ (ملاحظہ ہو : مسلم ج۱ ص ۱۵۴، ابوداوٴد ج۱ ص ۱۹۶، ترمذی ج۱ ص ۵۸، نسائی ج۱ ص ۱۵۴، موٴطا امام مالک ص ۴۲) ۔
حضرت عائشہ کی روایت (جس میں انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ رمضان اور رمضان کے علاوہ گیارہ رکعت سے زائد نماز نہیں پڑھتے تھے) میں لفظ ِتراویح کا ذکر نہیں ہے۔ لہٰذا اس حدیث کا تعلق تہجد کی نماز سے ہے؛ کیونکہ محدثین نے اس حدیث کو تہجد کے باب میں نقل کیا ہے، نہ کہ تراویح کے باب میں۔
امام محمد بن نضر مروزی نے اپنے مشہور کتاب (قیام اللیل ، ص ۹۱ اور ۹۲) میں قیام رمضان کا باب باندھ کر بہت سی حدیثیں اور روایتیں نقل فرمائی ہیں؛ مگر مذکورہ بالا حدیث ِعائشہ نقل نہیں فرمائی؛ اس لیے کہ ان کے نزدیک یہ حدیث تراویح کے متعلق ہے ہی نہیں۔
علامہ ابن قیم نے اپنی مشہور ومعروف کتاب (زاد المعاد ص ۸۶) میں قیام اللیل (تہجد) کے بیان میں یہ حدیث نقل فرمائی ہے۔ علاوہ ازیں اس روایت کے متعلق حافظ حدیث امام قرطبی کا یہ قول بھی نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے کہ بہت سے اہل علم حضرات اس روایت کو مضطرب مانتے ہیں۔
علامہ شمس الدین کرمانی (شارح بخاری) تحریر فرماتے ہیں کہ یہ حدیث تہجد کے بارے میں ہے اور حضرت ابوسلمہ کا مذکورہ بالا سوال اور حضرت عائشہ کا جواب تہجد کے متعلق تھا۔
شاہ عبدالحق محدث دہلویؒ اشِعّۃ اللمعات شرح مشکوٰۃ میں فرماتے ہیں: ’’یہ گفتگواوراختلاف اس وجہ سے بھی ہے کہ حضورﷺنے یہ نماز ہمیشہ نہیں پڑھی۔ چندرات اسے پڑھا۔۔۔ صحیح یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ نے جو گیاوہ رکعت پڑھی وہ آپ کی تہجد تھی ( یعنی تین وتر، آٹھ رکعت تہجد)، اور ابن ابی شیبہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت لائے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے بیس رکعت (تراویح) پڑھی‘‘۔

حضرت شاہ عبد العزیز محدث دہلوی تحریر فرماتے ہیں کہ یہ حدیث تہجد کی نماز پر محمول ہے جو رمضان اور غیر رمضان میں برابر تھی۔
[مسند أحمد بن حنبل » رقم الحديث: 20626]
زبیر علی زئی صاحب غیر مقلد نے علامہ نیموی ؒ پر یہ الزام لگایا ہے کہ انہوں حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ایک حدیث جس میں آتا ہے کہ نبی ﷺ نے تراویح کی آٹھ رکعات پڑھی تھیں کے راوی عیسی ٰبن جاریہ پر جرح کی ہے اور اس کی سند کو درجہ وسط سے گری ہوئی قرار دیا ہے (اثارالسنن حدیث نمبر 773ص 391) جب دوسری طرف نمیوی ؒ نے مسند ابی یعلی ج3ص 335 حدیث 1799) کی ایک روایت جس میں خطبہ جمعہ کے دوران کلام کرنے کی ممانعت ہے کے بارے میں لکھا ہے کہ اسے ابو یعلی نے روایت کیا ہے اور اس کی سند صحیح ہے آثارالسنن حدیث 960 عن جابر ) حالانکہ اس کی سند میں بھی عیسی بن جاریہ ہے (محلہ احدیث شمارہ 51 ص 22)
الجواب :۔۔ علامہ نیموی ؒ کی تحقیق یہی ہے کہ عیسی ٰ بن جاریہ ضعیف ہے جیسا کہ انہوں نے اس کی آٹھ رکعات والی حدیث کے ذیل میں تصریح کی ہے باقی انہوں نے اس کی " مسند ابی یعلی " والی روایت کی سند کو جو صحیح کہا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ : مسند ابی یعلی " ان کے زیر نظر نہیں تھی کیونکہ یہ ان کی وفات کے بہت عرصہ بعد ابھی چند سال پہلے طبع ہوکر آئی ہے علامہ موصوف نے اس کی مذکورہ حدیث کو غالبا علامہ ہیثمی ؒ کی مجمع الزوائد ج2ص 185 سے نقل کیا ہے اور علامہ ہیثمی ؒ نے چونکہ اپنی اس مذکورہ کتاب میں اس حدیث کو بحولہ " مسندابی یعلی " ذکر کرکے اس کے راویوں کو ثقہ کہا ہے اس لئے علامہ نیموی ؒ نے بھی ان کی توثیق پر اعتماد کرتے ہوئے اس حدیث کی سند کو صحیح کہ دیا ہے جیسا کہ زبیر علی زئی کی مزعومہ استاد اور ممدوح مولانا محب اللہ راشدی غیر مقلد نے " المعجم الکبیر للطبرانی ؒ کو دیکھے بغیر اس کی ایک حدیث کو محض علامہ ہیثمی ؒ کی نقل اور توثیق پر اعتماد کرتے ہوئے قابل استناد قرار دیا ہے اور لکھا ہے کہ ہم نے حافظ ہیثمی ؒ کے کہنے پر اعتماد کیا ہے جو مجمع الزوائد میں فرمایا ہے اور معجم کبیر حافظ ہیثمی ؒ کے سامنے یقینا تھی اس لیے ان کی توثیق تو سمجھ میں آتی ہے اگر علامہ نیموی ؒ نے بھی مسند ابی یعلی کو دیکھے بغیر امام ہیثمی ؒ کی توثیق پر اعتماد کرکے اس کی سند کو صحیح کہ دیا ہے تو ان پر تناقص کا اعتراض عائد نہیں ہو سکتا
ثانیا آٹھ رکعات والی حدیث میں عیسی ٰ بن جاریہ متفرد ہے اور کوئی راوی اس کا متابع نہیں ہے چنا نچہ امام طبرانی ؒ اس حدیث کو روایت کرنے کے بعد لکھتے ہیں " ال یروی عن جابر بن عبداللہ الا بھذا الاسناد (المعجم لصغیر ج1ص 190) یہ حدیث حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے صرف اسی (عیسی ٰ بن جاریہ کی) سند سے مروی ہے
اور پھر عیسی بن جاریہ سے بھی اس حدیث کو روایت کرنے میں اس کا شاگرد یعقوب بن عبداللہ اشعری قمی متفرد ہے اور وہ بھی ضعیف ہے چنانچہ امام بوصیری ؒ اس حدیث کو نقل کرنے کے بعد ارقام فرماتے ہیں
ومدار اسناد حدیث جابر ھذاعلی یعقوب بن عبداللہ الاشعری وھوضعیف (اتحاف الخیرۃ المہرۃ مع المطالب العالیۃ ج2ص 423)
حضرت جابر سے مروی اس حدیث کا مدار یعقوب بن عبداللہ اشعری پر ہے اور وہ ضعیف ہے
اب چونکہ اس حدیث کی متابعت میں کوئی صحیح حدیث نہیں ہے ، لہذا یہ منفرد حدیث ضعیف ہے جبکہ یعقوب قمی اور عیسی بن جاریہ کی مسند ابی یعلی والی روایت ( جس میں خطبہ جمعہ کے دوران کلام کرنے کی ممانعت ہے ) کی تائیہد متعدد صحیح احادیث سے ہوتی ہے کہ جس کی وجہ سے یہ حدیث قوی ہو جاتی ہے چنانچہ امام بوصیری ؒ نےبھی غالبا اس وجہ سے اس حدیث کی سند کو جید قرار دیا ہے (اتحاد الخیرۃ المہرۃ ج2ص 345 حدیث 2190) حالانکہ تراویح والی حدیث کو عیسی بن جاریہ کے شاگردیعقوب القمی کی وجہ سے ضعیف کہتے ہیں جیسا کہ ابھی بحوالہ کزرا ہے
اب کیا علی زئی اور دوسرے غیر مقلدین امام بوصیری ؒ جن کو وہ ائمہ جرح وتعدیل میں سے قرار دے چکے ہیں اور ان انہوں نے امام موصوف کے ایک قول سے ابن جاریہ اور یعقوب قمی کو ثقہ ثابت کرنے کی کوشش بھی کی ہے (الحدیث شمارہ47 ص 19) پر بھی تناقص کا الزام عائد کرین گے کیونکہ وہ بھی علامہ نیموی ؒ کی طرح عیسی ٰ بن جاریہ کی تراویح سے متعلق منفرد حدیث کو اس کے شاگرد یعقوب قمی کی وجہ سے ضعیف اور اس کی خطبنہ جمعہ میں کلام کرنے کی ممانعت سے متعلق حدیث ( جس کو اس یعقوب قمی نے روایت کیا ہے ) کو شواہد کی شواہد کی وجہ سے قابل حجت قرار دے رہے ہیں دیدہ باید
علاوہ ازین علامہ نیموی ؒ کا عیسی بن جاریہ کو ضعیف قرار دینے کے باوجود اس کی شواہد والی حدیث کو صحیح کہنا خود علی زئی کے اصول کی روشنی میں بھی درست ہے اس لئے کہ خود علی زئی بھی شواہد کے ساتھ سخت سے سخت ضعیف راویوں کی روایت کو بھی صحیح مانتے ہیں چنانچہ انہوں نے ایک شدید ضعیف روایت کے بارے میں لکھا ہے کہ
اس روایت میں دوراوی عصمہ بن محمد اور عبد الرحمن بن قریش سخت مجروح ہیں لیکن اس کے بہت سے شواہد موجود ہیں آصول حدیث کا یہ متفقہ مسئلہ ہے کہ جو رویت شواہد کے ساتھ ثابت ہوجائے اسے صحیح ہی تسلیم کیا جاتا ہے ( تسھیل الوصول ص 197)
لہذا علامہ نیموی ؒ کا اس حدیث کو عیسی بن جاریہ کی وجہ سے ضعیف کہنا اور خطبہ میں ممانعت کلام والی اس کی حدیث کو اس کے شواہد کی وجہ سے صحیح قرار دینا بالکل درست ہے جب غیر مقلدین کا علامہ نیموی ؒ پر تناقص کا الزام خود اپنے طے شدہ اصول کی روشنی میں بھی باطل ہے.
[شرح نہج البلاغہ ابن ابی حدید: ٣/٩٨]
[فروع کافی : ١/٣٩٤ - طبع نولکشور، ٤/١٥٤ - طبع ایران]
[الاستبصار ١/٢٣١-طبع نولکشور، ١/٤٦٢-طبع ایران]
کیا باجماعت نماز تراویح بدعت ہے؟
’’اِسے بدعت اِس لیے کہا گیا کہ یہ عمل اس سے پہلے اِس انداز میں نہیں ہوا تھا لہٰذا یہ بدعتِ لغوی ہے بدعتِ شرعی نہیں ہے کیونکہ بدعتِ شرعی وہ گمراہی ہوتی ہے جو دلیل شرعی کے بغیر سر انجام دی جائے۔‘‘
[ابن تيميه، منهاج السنة، 4 : 224]
علامہ ابن تیمیہؒ ’’بدعت حسنہ‘‘ اور ’’بدعت ضلالۃ‘‘ کے مفہوم کو مزید واضح کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں :
(١) امام محمد بن اِدریس بن عباس الشافعی رحمۃ اللہ علیہ (المتوفی 204ھ)

.jpg)



























.jpg)























jaza kallah
ReplyDeleteجزاک اللہ
ReplyDeleteبھت خوب اللہ پاک سب مسلمانوں کو سمجھنے اور عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے
ReplyDeleteJaza kallah
ReplyDeleteبہت عمدہ
ReplyDeleteMashallah jazak allah
ReplyDelete