Wednesday, 26 September 2012

اصولِ جرح و تعدیل

جرح و تعدیل کے کچھ قوائد ہیں، جن کو مدِ نظر  رکھنا ضروری ہے، ورنہ کسی بڑے  سے بڑے  محدث کی ثقاہت و عدالت ثابت  نہ ہو سکے گی، کیونکہ ہر کسی پر کسی نہ کسی کی جرح ہے. مَثَلاً : امام شافعیؒ پر امام یحییٰ بن معینؒ نے، امام احمدؒ پر امام کرابلیسیؒ نے، امام بخاریؒ پر امام ذہلیؒ نے، امام اوزاعیؒ پر امام احمدؒ نے جرح کی ہے، حتیٰ کہ ابنِ حزم نے امام ترمذیؒ اور امام ابنِ ماجہؒ کو مجہول کہا، خود امام نسائیؒ پر تشیع کا الزام ہے. اسی بنا پر ان کو مجروح کیا گیا.


پہلا اصول:
جو جرح مفسر نہ ہو یعنی اس میں سببِ جرح تفصیل سے بیان نہ کیا گیا ہو تو تعدیل اس پر مقدم رہتی ہے. (یعنی قائم رہتی ہے).[مقدمہ اعلا  السنن : ٣/٢٣,  فتاویٰ علماۓ حدیث : ٧/٧٢ ]
 اور وہ سبب (جرح کے لئے معقول اور) متفق علیہ ہو.


اسی طرح موجودہ اہلِ حدیث کے محقق زبیر علی زئی لکھتا ہے:
صرف ضعیف یا متروک یا منکر کہنے سے جرح مفسر نہیں ہے۔

[رکعتِ قیامِ رمضان کا تحقیقی جائزہ: ص65]


شعبہؒ امیرالمؤمنین فی الحدیث مانے جاتے ہیں؛ لیکن قبولِ روایت میں اُن کی سختی دیکھئے، آپ سے پوچھا گیا کہ تم فلاں راوی کی روایت کیوں نہیں لیتے؟ آپؒ نے کہا "رأیتہ یرکض علی برذون" میں نے اسے ترکی گھوڑے دوڑاتے ہوئے دیکھا تھا۔
آپؒ منہال بن عمرو کے ہاں گئے، وہاں سے کوئی ساز کی آواز سنی، وہیں سے واپس آگئے اور صورتِ واقعہ کی کوئی تفصیل نہ پوچھی۔
حکم بن عتیبہؒ سے پوچھا گیا کہ تم زاذانؒ سے روایت کیوں نہیں لیتے؟ توانہوں نے کہا "کان کثیرالکلام" وہ باتیں بہت کرتے تھے۔
حافظ جریر بن عبدالحمید الضبی الکوفیؒ نے سماک بن حربؒ کو کھڑے ہوکر پیشاب کرتے دیکھا تو اس سے روایت چھوڑ دی۔
(دیکھئے، الکفایہ فی علوم الروایہ، للخطیب البغدادی:١٠١ ۔ لغایت:۱۱۴)

اب سوچئے اور غور کیجئے کیا یہ وجوہ جرح ہیں؟ جن کے باعث اتنے بڑے بڑے اماموں نے ان راویوں کو (سے علم حدیث لینے اور سیکھنے) چھوڑ دیا؛ اگراس قسم کی جروح سے راوی چھوڑے جاسکتے ہیں؛ تو پھر آخر بچے گا کون؟ یہ سختی سب کے ہاں نہ تھی، اس لیے محض جرح دیکھ کر ہی نہ اچھل پڑیں، سمجھنے کی کوشش کریں کہ جرح کی وجہ کوئی شرعی پہلو ہے یا صرف شدت احتیاط ہے اور پھر یاد رکھیں کہ متشدد کی جرح اکیلے کافی نہیں ہے۔


دوسرا اصول:
جارح ناصح ہو، نہ متشدد ہو، نہ متعنت ہو، نہ ہی متعصب ہو.


 تیسرا اصول:
جس شخص کی امامت و عدالت حدِ تواتر کو پہنچی ہو تو اس کے بارے میں چند افراد کی جرح معتبر نہیں.





امام ابو حنیفہؒ کی عدالت و امامت بھی حدِ تواتر کو پہنچی ہوئی ہے.



چناچہ شیخ السلام ابو اسحاق شیرازی شافعیؒ (المتوفي 393-476ھ) اپنی کتاب "اللمع فی اصول الفقه" میں رقم طراز ہیں:
جرح و تعدیل کے باب میں خلاصہ کلام یہ ہے کہ راوی  کی یا تو عدالت معلوم و مشہور  یا اس کا فاسق ہونا معلوم ہوگا یا وہ مجھول الحال ہوگا (یعنی اس کی عدالت یا فسق معلوم نہیں) تو اگر اس کی عدالت معلوم ہے جیسے کہ حضراتِ صحابہ رضی الله عنھم کی اور افضل تابعینؒ کی جیسے حضرت حسن بصریؒ ، عطاء بن ابی رباحؒ ، عامر  شعبیؒ ، ابراھیم  نخعیؒ ، یا بزرگ ترین ائمہؒ جیسے امام مالکؒ ، امام سفیان ثوریؒ ، امام ابو حنیفہؒ ، امام شافعیؒ ، امام احمدؒ ، امام اسحاق بن راہویہؒ اور جو ان کے ہم درجہ ہیں ، تو ان کی خبر ضرور قبول کی جائیگی اور ان کی عدالت و توثیق کی تحقیق ضروری نہ ہوگی.
[اللمع  فی اصول الفقه: ص # ٤١، مطبوعہ  مصطفیٰ  البانی الحلیی بمصر ١٣٥٨ھ]




حافظ ابن عبد البر المالکیؒ فرماتے ہیں : جن ائمہ کو امت نے اپنا امام بنایا ہو، ان پر کسی کی تنقید معتبر نہ ہوگی. [فن اسماء الرجال : صفحہ ٦٦، از ڈاکٹر تقی الدین ندوی بحوالہ جامع بيان العلم : ١/١٩٥]



 علامہ تاج الدین السبکیؒ فرماتے ہیں : ’’الجرح مقدم علی التعدیل‘‘ کا ضابطہ ہر جگہ استعمال نہیں کیا جاۓ گا، بلکہ جس راوی کی عدالت و ثقاہت ثابت ہوچکی ہو اس کے بارے میں مدح و توثیق کرنے والوں کی کثرت ہو، اس کے ناقدین قلیل ہوں اور کوئی ایسا قوی قرینہ موجود ہو جس سے اندازہ ہوتا ہے یہ جرح مذہبی تعصب کی بناء پر کی گئی ہے تو یہ جرح غیر معتبر ہے ....... کسی ناقد کی جرح اس شخص کے حق میں مقبول نہ ہوگی جس کی  طاعت (نیکی) معصیت (گناہ) پر غالب ہو اور مذمت کرنے والوں کے مقابلہ میں مدح کرنیوالوں کی کثرت ہو، اس کی توثیق کرنے والے ناقدین سے زائد ہوں، اور کوئی مذہبی تعصب یا دنیاوی تنفس کا کوئی ایسا قوی قرینہ بھی موجود ہو جس سے معلوم ہو رہا ہے کہ یہی اس جرح کا باعث بنا، جیسا کہ ہمعصر علماء میں ہوا کرتا ہے، چناچہ سفیان الثوریؒ وغیرہ کا امام ابوحنیفہؒ پر، اور ابن ذئبؒ وغیرہ کا امام مالکؒ پر، اور ابن معینؒ کا امام شافعیؒ پر، اور امام نسائیؒ کا امام احمد بن صالحؒ پر، اسی طرح ہے. اگر ہر جگہ ’’الجرح مقدم علی التعدیل‘‘ کا ضابطہ برتا جاۓ تو کوئی بھی ایسا نہیں جو تنقید سے محفوظ رہ سکے.[فن اسماء الرجال : صفحہ ٦٦، از ڈاکٹر تقی الدین ندوی بحوالہ طبقات الشافعية الكبرى :٢ / ٩-١٠]



یہی بات اپنے الفاظ میں حافظ ابن الصلاحؒ  نے اصولِ حدیث پر اپنی مشھور و معروف کتاب علوم الحدیث میں تحریر کی ہے : علماء اہلِ نقل میں جس کی عدالت مشھور ہو اور ثقاہت و امانت میں جس کی تعریف عام ہو، اس شہرت کی بنا پر اس کے بارے میں صراحتا انفرادی تعدیل کی حاجت نہیں. 
[علوم الحدیث المعروف  بمقدمہ  ابن صلاح' : ص  # ١١٥]

ہمارے زمانے کے بعض جہلاء یہ اعتراض کرتے ہیں کہ محدثین کا معروف قاعدہ ہے کہ ’’الجرح مقدم علی التعدیل‘‘ (یعنی جرح تعدیل پر مقدم ہوتی ہے) لہٰذا جب امام صاحب کے بارے میں جرح و تعدیل دونوں منقول ہیں تو جرح راجح ہوگی ،
لیکن یہ اعتراض جرح و تعدیل کے اصول سے ناواقفیت پر مبنی ہے کیونکہ ائمہ حدیث نے اِس بات کی تصریح کی ہے کہ’’ الجرح مقدم علی التعدیل‘‘ کا قاعدہ مطلق نہیں ، بلکہ چند شرائط کے ساتھ مقید ہے،
اس کی تفصیل یہ ہے کہ اگر کسی راوی کے بارے میں جرح اور تعدیل کے اقوال متعارض ہوں ،ان میں ترجیح کے لئے علماء نے اوّلاً دو طریقے اختیار کئے ہیں،
پہلا طریقہ جو کہ جرح و تعدیل کے دوسرے اصول کی حیثیت رکھتا ہے ،اُسے خطیب بغدادی نے ’’الکفایۃ فی اصول الحدیث والروایۃ‘‘ میں یہ بیان کیا ہے کہ

’’ ایسے مواقع پر یہ دیکھا جائے گا کہ جارحین کی تعداد زیادہ ہے یا معدلین کی، 

جس کی طرف تعداد زیادہ ہوگی ، اُسی جانب کو اختیار کیا جائے گا ۔‘‘

شافعیہ میں سے علامہ تاج الدین سبکی رحمہ اللہ بھی اسی کے قائل ہیں ،



اسی طرح علم جرح و تعدیل کے امام ذھبی ((حضرت اسد بن موسیٰؒ)) کے متعلق فرماتے ہیں ؛
صرف ابو سعید بن یونس نے اپنے ایک قول میں انہیں غریب الحدیث اور علامہ بن حزم نے منکر الحدیث کہا ہے،لیکن بقول حافظ ذہبی یہ تضعیف چنداں لائق اعتنا نہیں کیونکہ ائمہ کی اکثریت ان کی ثقاہت پر متفق ہے،اگر ان کی بعض روایات میں کوئی سقم نظر آتا ہے تو وہ بعد کے رواۃ کے ضعف کی بنا پر ہے،علامہ ذہبی نے میزان  الاعتدال میں اس کی تصریح کی ہے۔     

(میزان الاعتدال:۱/۹۷)


اگر یہ طریقِ کار اختیار کیا جائے تب بھی امام ابو حنیفہ کی تعدیل میں کوئی شبہ نہیں رہتا ، کیونکہ امام صاحب پر جرح کرنے والے صرف معدودے چند افراد ہیں ،جن میں ایک نام حافظ ابن عدی رحمہ اللہ کا ہے،اور یہ تحریر کیا جا چکا کہ ابن عدی امام طحاوی کے شاگرد بننے کے بعد امام اعظم کی عظمت کے قائل ہوچکے تھے۔
اور دوسری طرف امام صاحب کے مادّحین اتنی بڑی تعداد میں ہیں کہ اُن کو گِنا بھی نہیں جاسکتا، نمونہ کے طور پر ہم چند اقوال پیش کرتے ہیں،
علمِ جرح و تعدیل کے سب سے پہلے عالم، جنہوں نے سب سے پہلے رجال پرباقاعدہ کلام کیا ،وہ امام شعبہ ابن الحجاج رحمہ اللہ ہیں ، جو امیر المؤمنین فی الحدیث کے لقب سے مشہور ہیں، وہ امام ابو حنیفہ کے بارے میں فرماتے ہیں ’’ کان واﷲ ثقة ثقة‘‘ (یعنی میں اللہ کی قسم کھاتا ہوں کہ وہ ثقہ تھے)
جرح و تعدیل کے دوسرے بڑے امام یحییٰ بن سعید القطّان ہیں ، یہ خود امام ابو حنیفہ کے شاگرد ہیں ، اور حافظ ذہبی نے ’’ تذکرۃ الحفاظ ‘‘میں اور حافظ ابن عبد البر رحمہ اللہ نے ’’ الانتقاء‘‘ میں نقل کیا ہے کہ وہ امام ابو حنیفہ کے اقوال پر فتویٰ دیا کرتے تھے،
اور جیسا کہ تاریخ بغداد، ج۱۳، ص۳۵۲ میں اُن کا مقولہ ہے، 
’’جالسنا واﷲابا حنیفة و سمعنا منہ فکنت کلما نظرت الیہ عرفت وجھہ انہ یتقی اﷲ عزوجل‘‘
(یعنی اللہ کی قسم ہم نے امام اعظم کی مجلس اختیار کی، اور اُن سے سماع کیا، اور میں نے جب بھی ان کی جانب نظر کی ،تو اُن کے چہرہ کو اس طرح پایا کہ بلاشبہ وہ اللہ سے ڈرنے والے ہیں۔) 
امام یحییٰ بن سعید القطّان کا دوسرا مقولہ علامہ سندھی کی ’’کتاب التعلیم‘‘ کے مقدمہ میں منقول ہے ’’انہ لأعلم ھذہ الامۃ بماجاء عن اﷲ و رسولہ صلی اﷲعلیہ و سلم‘‘(یعنی بلاشبہ اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی جانب سے آنے والے احکام کو اس امت میں سب سے بہتر جاننے والے امام اعظم تھے۔)
جرح و تعدیل کے تیسرے بڑے امام یحییٰ بن سعید القطّان کے شاگرد یحییٰ بن معین ہیں، وہ امام ابو حنیفہ کے بارے میں فرماتے ہیں ، 
’’ کان ثقة حافظاً ،لا یحدث الا بما یحفظ ما سمعت احداً یجرحہ‘‘



(یعنی وہ معتمد علیہ اور حافظ تھے، اور وہی حدیث بیان کرتے تھے، جو انہیں حفظ ہوتی تھی، میں نے کسی کو نہیں سنا، جو اُن کی جرح کررہا ہو۔ )
جرح و تعدیل کے چوتھے بڑے امام حضرت علی بن المدینی رحمہ اللہ ہیں ، جو کہ امام بخاری کے استاذ اور نقدِ رجال کے بارے میں بہت متشدد ہیں ،جیسا کہ حافظ ابن حجر نے فتح الباری کے مقدّمہ میں اس کی صراحت کی ہے، وہ فرماتے ہیں کہ
’’ابو حنیفة روی عنہ الثوری و ابن المبارک و ھشام و وکیع و عباد بن العوام و جعفر بن عون و ھوثقة لا بأس بہ‘‘
(یعنی! امام ابو حنیفہ سے امام ثوری، ابن مبارک، ہشام، وکیع ، عبادبن عوام اور جعفر بن عون رحمھم اللہ نے روایت کی ہے، وہ ثقہ ہیں، ان سے روایت لینے میں کوئی حرج نہیں۔)
نیز حضرت عبد اللہ بن المبارک رحمہ اللہ فرماتے ہیں،
’’ لولا اعاننی اﷲ بابی حنیفة و سفیان لکنت کسائر الناس ‘‘
(اگر اللہ عزوجل امام ابو حنیفہ اورامام سفیان ثوری رحمہما اللہ کے ذریعہ میری اعانت نہ فرماتے تو میں بھی عام لوگوں کی طرح ہوتا۔)
اور مکی بن ابراہیم کا مقولہ یہ ہے کہ ’’ کان اعلم اھل زمانہ‘‘ (یعنی امام اعظم اپنے زمانے کے سب سے بڑے عالم تھے۔)
ان کے علاوہ یزہد بن ھارون ، سفیان ثوری ، سفیان بن عیینہ، اسرائیل بن یونس ، یحییٰ بن آدم، وکیع بن الجراح ، امام شافعی اور فضل بن دکین رحمہم اللہ جیسے ائمہ حدیث سے بھی امام ابو حنیفہ کی توثیق منقول ہے، علم حدیث کے ان بڑے بڑے اساطین کے اقوال کے مقابلہ میں دو تین افراد کی جرح کس طرح قابلِ قبول ہوسکتی ہے، لہٰذا اگر فیصلہ کثرتِ تعداد کی بنیاد ہو تب بھی امام صاحب کی تعدیل بھاری رہے گی۔
جرح و تعدیل کے تعارض کو رفع کرنے کا دوسرا طریقہ جو کہ جرح و تعدیل کے تیسرے اصول کی حیثیت رکھتا ہے، وہ حافظ ابن الصلاح رحمہ اللہ نے مقدمہ میں بیان کیا ہے اور اسے جمہور محدثین کا مذہب قرار دیا ہے،
’’وہ یہ کہ اگر جرح مفسَّر نہ ہو، یعنی اس میں سبب جرح بیان نہ کیا گیا ہو تو تعدیل اس میں ہمیشہ راجح ہوگی ، خواہ تعدیل مفسَّر ہو یا مبہم۔‘‘
اس اصول پر دیکھا جائے تو امام ابو حنیفہ کے خلاف جتنی جرحیں کی گئی ہیں ، وہ سب مبہم ہیں ، اور ایک بھی مفسَّر نہیں ، لہٰذا ان کا اعتبار نہیں اور تعدیلات تمام مفسَّر ہیں ، کیونکہ اس میں ورع اور تقوی اور حافظہ تمام چیزوں کا اثبات کیا گیا ہے ، خاص طور سے اگر تعدیل میں اسباب جرح کی تردید کر دی گئی ہو تو وہ سب سے زیادہ مقدم ہوتی ہے اور امام صاحب کے بارے میں ایسی تعدیلات بھی موجود ہیں ، 
خلاصہ یہ ہے کہ ’’ الجرح مقدم علی التعدیل ‘‘کا قاعدہ اُس وقت معتبر ہوتا ہے جبکہ جرح مفسَّر ہو، اور اس کا سبب بھی معقول ہو اور بعض علماء کے نزدیک یہ شرط بھی ہے کہ معدلین کی تعداد جارحین سے زیادہ نہ ہو۔

============================================================
 کیا امام بخاری پر ائمہ حدیث سے جرحیں منقول نہیں ہیں؟ ہاں ضرور منقول ہیں
بطور تمثیل چند جرحیں ملاحظہ فرمایئے
اول: بخاری کے استاد امام ذہلی نے بخاری پر سخت جرح کی ہے - طبقات شافعیہ ج2 ص 12 میں ہے: "قال الذھلی الا من یختلف الی مجلسه [ای بخاری] فلا یاتینا فانهم کتبوا الینا من بغداد انه تکلم فی اللفظ ونهیناہ فلم ینته فلا تقربوہ"
‏"امام ذہلی نے فرمایا جو بخاری کی مجلس میں جاتا ہے وہ ہمارے پاس نہ آئے کیوں کہ بغداد سے ہمیں لوگوں نے لکھا ہے کہ بخاری الفاظ قرآن کے سلسلہ میں کلام کررہے ہیں اور ہم نے ان کو اس سے منع کیا مگر وہ باز نہیں آئے - لہذا ان کے پاس نہ جانا"
خیال فرمایئے! ذہلی نے لوگوں کو امام بخاری کے نزدیک جانے سے منع کردیا اور اسی پر اکتفاء نہیں کیا بلکہ یہ بھی کہی دیا: "من زعم ان لفظی بالقران مخلوق فهو مبتدع لایجالس ولا یکلم" [طبقات ج2 ص 12]
‏"جو یہ سمجھے کہ میرے منہ سے نکلنے والے الفاظ قرآنی الفاظ مخلوق ہیں تو وہ بدعتی ہے - نہ اس کے پاس بیٹھا جائے اور نہ اس سے بات کی جائے"
ذہلی کے اس کلام کا لوگوں پر ایسا اثر ہوا کہ اکثر لوگوں نے بخاری سے ملنا چھوڑ دیا - [تاریخ ابن خلکان ج2 ص 123] میں ہے: "فلما وقع بین محمد بن یحیی و البخاری ما وقع فی مسئلة اللفظ ونادی علیه منع الناس من الاختلاف الیه حتی ھجر و خرج من نیشاپور فی تلك المحنة و قطعه اکثر الناس غیر مسلم"
‏"جب محمد بن یحیی اور امام بخاری کے درمیان الفاظ قرآن کے سلسلہ میں اختلاف ہوا تو انہوں نے لوگوں کو ان کے [بخاری] کے پاس جانے سے روک دیا یہاں تک کہ اس آزمائش کے وقت میں امام بخاری کو نیشاپور سے ہجرت کرنا پڑی اور امام مسلم کے علاوہ اکثر لوگوں نے ان سے قطع تعلق کرلیا"
دوم: امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے باوجود اس رفاقت کے بخاری سے اپنی صحیح مسلم میں ایک حدیث بھی نہیں روایت کی بلکہ "حدیث منعن" کی بحث میں بعض"منتحلی الحدیث" میں "عصونا" کں لفظ سے بخاری کو یاد کیا ہے اور بہت درشت اور ناملائم الفاظ کہہ گئے - دیکھو [مسلم ج1 ص 21]
سوم: ابو ذرعہ اور ابو حاتم نے بخاری کو چھوڑ دیا [طبقات شافعیہ ج 1 صفحہ 190] میں ہے: "ترکه [ای البخاری] ابو ذرعة و ابو حاتم من اجل مسئلة اللفظ"
‏"ابو ذرعہ اور ابو حاتم نے الفاظ قرآن کے اختلاف کی وجہ سے بخاری کو چھوڑ دیا"
اور میزان الاعتدال میں ہے: "کما امتنع ابو ذرعة و ابو حاتم من روایة عن تلمیذہ [أی ابن المدینی] محمد [أی البخاری] لاجل مسئلة اللفظ"
‏"جیسا کہ ابو ذرعہ اور ابو حاتم نے ان [علی بن المدینی] کے شاگرد [امام بخاری] سے الفاظ قرآن کے اختلاف کی بناء پر روایت کرنا ترک کردیا"
‏"وقال عبد الرحمن بن ابی حاتم کان ابو ذرعة ترکه الروایة عند من اجل ما کان منه فی تلك المحنة"
‏"عبد الرحمن بن ابی حاتم فرماتے ہیں کہ اس آزمائش کی بناء پر ابو ذرعہ نے امام بخاری سے روایت کرنا ترک کردیا"
چہارم: ابن مندہ نے بخاری کو مدلسین میں شمار کیا ہے [شرح مختصر جرجانی ص 215] میں ہے: "عدہ ابن مندہ فی رسالة شروط الائمة ‎من المدلسین حیث قال اخرج البخاری فی کتبه قال لنا فلان وھی اجازة و قال فلان وھی تدلیس"
‏"ابن مندہ نے بخاری کو اپنے رسالہ "شروط الائمہ" میں مدلسین میں شمار کیا ہے - چناچہ فرمایا کہ بخاری نے اپنی کتابوں میں اس طرح روایتیں بیان کی ہیں کہ ہم نے فلاں سے کہا "یہ اجازت ہے" اور فلاں نے کہا "یہ تدلیس ہے"
ظاہر ہے کہ تدلیس سوء حفظ سے بڑھ کر عیب ہے - کیوں کہ یہ فعل اختیاری ہے اس میں مظنہ و مظالطہ و فریب ہے - اسی لیے شمسی نے کہا ہے کہ "التدلیس حرام عند الائمة" [تدلیس ائمہ کے نزدیک حرام ہے] دیکھئے [مقدمہ اصول الشیخ المحدث الدہلوی علی المشکوۃ ص 2]
غور فرمایئے! بخاری نے ذہلی سے تقریبآ 30 حدیثیں روایت کی ہیں - مگر جس نام سے وہ مشہور تھے کہیں نہیں ذکر کیا کیوں کہ بخاری و ذہبی میں سخت خشونت و منافرت تھی [تاریخ ابن خلکان ج2 ص 134] میں ہے: "وروی [ای البخاری] عنه [ذھبی] مقدار ثلثین موضعا ولم یصرح باسمه فیقول حدثنا محمد بن یحیی الذھبی بل یقول حدثنا محمد ولا یزید علیه ولا یقول محمد بن عبد الله ینسبه الی جدہ و ینسبه ایضا الی جد ابیه"
‏"امام بخاری نے امام ذہلی سے 30 مقامات پر روایات بیان کی ہیں اور کہیں بھی ان کا نام نہیں لیا کہ یوں کہتے کہ ہم سے محمد بن یحیی ذہلی نے بیان کیا بلکہ صرف اس طرح کہتے ہیں کہ ہم سے محمد نے حدیث بیان کی - کہیں کہیں محمد بن عبد اللہ ان کے دادا کی جانب منسوب کرکے کہتے ہیں اور بعض جگہ پر دادا کی طرف نسبت کرتے ہیں"
پنجم:دارقطنی اور حاکم نے کہا ہے کہ اسحق بن محمد بن اسماعیل سے بخاری کا حدیث روایت کرنا معیوب سمجھا گیا ہے [مقدمہ فتح الباری ص 451] میں ہے: "قال الدار قطنی والحاکم عیب علی البخاری اخراج حدیثه"
‏"دارقطنی اور حاکم نے فرمایا کہ روایت حدیث میں بخاری پر الزام لگایا گیا ہے"
دارقطنی اور حاکم کا مطلب یہ ہے کہ اسحاق بن محمد کو بخاری نے ثقہ خیال کرلیا حالانکہ وہ ضعیف ہیں - ثقہ اور ضعیف میں امتیاز نہ کرسکے اور اسماعیل نے بخاری کے اس فعل پر تعجب کیا ہے کہ ابو صالح جہنی کی منقطع روایت کو صحیح سمجھتے ہیں اور متصل کو ضعیف [مقدمہ فتح الباری ص 483] میں ہے: "وقد عاب ذالك الاسماعیل علی البخاری وتعجب منه کیف یحتج باحادیثه حیث یقلقها فقال ھذا اعجب یحتج به اذا کان منقطعا ولا یحتج به اذا کان متصلا"
‏"اسماعیل نے بخاری پر اس کا الزام لگایا اور تعجب کیا کہ ابو صالح جہنی کی احادیث سے کیونکہ استدلال کرتے ہیں جب کہ وہ متصل نہیں ہیں
فرمایا یہ اور زیادہ عجیب بات ہے کہ حدیث منقطع کو قابل حجت اور متصل کو ضعیف سمجھتے ہیں"
ششم: ذہبی نے بخاری کے بعض امور پر استعجاب ظاہر کیا ہے - اسید بن زید الجمال کے ترجمہ میں لکھتے ہیں: "والعجب ان البخاری اخرج له فی کتاب الضعفاء"
‏"تعجب ہے کہ بخاری اس سے روایت بھی کرتے ہیں اور اس کو ضعیف بھی کہتے ہیں"
جو کسی راوی کو خود ضعیف بتلاوے اور پھر "اصح الکتب" میں اس سے روایت بھی کرے - غور کرو اس سے قائل کے حافظہ پر کیا اثر پڑتا ہے - معترضین ذرا انصاف کریں کہ اگر امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کی جرج کی وجہ سے ضعیف ہیں تو بخاری ابن مندہ اور ذہلی وغیرہ کی جرح کے سبب سے کیوں مجروح نہ ہوں گے
ہفتم: حسب قاعدہ معترضین جب بخاری خود مجروح ثابت ہوئے تو مجروح کی جرح امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ پر کیا اثر ڈال سکتی ہے؟ افسوس ہے کہ غیرمقلدین محض حسد سے امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ پر حملہ کرتے ہیں اور یہ نہیں سمجھتے کہ ہم اپنا گھر [خود] ڈھاتے ہیں - اگر امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ ضعیف کہے جائیں گے تو دنیا کےتمام محدثین ضعیف اور متروک الحدیث ہوجائیں گے
تنبیہ: واضح ہو کہ اسکات خصم کے لیے یہ جرحیں نقل کی گئی ہیں - جیسا کہ حضرت مولانا شاہ عبد العزیز محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی کتاب "تحفہ" میں بمقابلہ شیعہ الزامی پہلو اختیار فرمایا ہے ورنہ صداقت کے ساتھ ہمارا عقیدہ یہ ہے کہ حضرت امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ اور حضرت امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ دونوں ثقہ ، صدوق ، عادل ، ضابطہ ، جید الحافظہ ، عابد ، زاہد اور عارف تھے - کوئی ان میں مجروح نہیں اور کسی کی حدیث قابل ترک نہیں - جن احوال سے امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کی جرحیں موضوع ہیں انہیں احوال سے امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ کی جرحیں مدفوع اور ساقط اعتبار ہیں
ربنا اغفرلنا ولاخواننا الذین سبقونا بالایمان ولا تجعل فی قلوبنا غلا للذین امنو ربنآ انك رؤف رحیم
امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ پر اعتراضات کے جوابات صفحہ نمبر 41 تا 54
مرتب: پیر جی سید مشتاق علی شاہ








امام ابو یوسف رحمه الله کی تضعیف و جرح کا مفصل جواب
قوله : اب سنیئے ان کے مقرب شاگرد ان کی نسبت ضعف کا تمغہ پہلے امام ابویوسف کو لیجئے الی قولہ ان کی بابت "میزان الاعتدال" میں ہے "قال الفلاس کثیر الغلط و قال البخاری ترکوہ ، الی قولہ" اور "لسان المیزان" میں ہے "قال ابن المبارك ابو یوسف ضعیف الروایة اھ"
اقول
چو قاضی بفکرت نویسد سجل
نہ گردد ز دستار بنداں خجل
ناظرین ! یہ وہی امام ابو یوسف رحمه الله ہیں جن کے امام احمد بن حنبل رحمه الله وغیرہ شاگرد ہیں ، چناچہ کئی سلسلے ان کے ابتداء میں بیان کرچکا ہوں ، یہ وہی امام ابو یوسف رحمه الله ہیں جن کے بارے میں امام نسائی نے "کتاب الضعفاء والمتروکین" میں کہا ہے کہ امام ابو یوسف رحمه الله ثقہ ہیں ، یہ وہی امام ابو یوسف رحمه الله ہیں جن کو حافظ ذھبی نے "تذکرۃ الحفاظ" میں حافظین حدیث میں شمار کیا ہے "سمع ھشام بن عروۃ وابا اسحق الشیبانی و عطاء بن السائب و طبقتهم و عنه محمد بن الحسن الفقیه و احمد بن حنبل و بشر بن الولید و یحیی بن معین و علی بن الجعد و علی بنمسلم الطوسی و خلق سواھم نشاء فی طلب العلم و کان ابوہ فقیرا فکان ابو حنیفه یتعاھدہ قال المذنی ابو یوسف اتبع القوم للحدیث و روی ابراھیم بن ابی داؤد عن یحیی بن معین قال لیس فی اھل الرای احدا کثر حدیثا و لا اثبت منه و روی عباس عنه قال ابو یوسف صاحب حدیث و صاحب سنة و قال ابن سماعة کان منصفافی الحدیث مات سنة اثنتین و ثمانین و مائة وله اخبار فی العلم والسیادۃ وقد افردته و افردت صاحبه محمد بن الحسن فی جزء انتهی ملخصآ اھ" [تذکرۃ الحفاظ للذہبی] ابو یوسف نے فن حدیث کو ہشام بن عروہ ، ابو اسحاق شیبانی ، عطاء بن سائب اور ان کے طبقے والوں سے حاصل کیا ہے اور فن حدیث میں امام ابو یوسف کے شاگرد امام محمد ، امام احمد ، یحیی بن معین ، بشر بن ولید ، علی بن جعد ، علی مسلم طوسی اور ایک مخلوق محدثین کی ہے ، طلب علم ہی میں ان کی نشو ونما ہوئی ہے ، ان کے والد ماجد کی افلاس کی حالت تھی اس لئے امام ابو حنیفہ رحمه الله ان کی خبر گیری رکھتے اور ضروریات کو پورا کرتے تھے - امام مزنی کا قول ہے کہ امام ابو یوسف جماعت بھر میں حدیث کے متبع زیادہ تھے ، ابراہیم بن ابی داؤد یحیی بن معین سے نقل کرتے ہیں کہ اہل رائے میں امام ابو یوسف اثبت اور اکثر حدیث ہیں - عباس دوری نے ابن معین سے نقل کیا ہے کہ امام ابو یوسف صاحب حدیث ، صاحب سنت ہیں - ابن سماعہ کہتے ہیں کہ قاضی ہوجانے کہ بعد امام ابو یوسف رحمه الله ہر روز دو سو [200] رکعتیں پڑھا کرتے تھے - امام احمد رحمه الله فرماتے ہیں کہ امام ابو یوسف رحمه الله حدیث میں منصف تھے [182ھ 798ء] ایک سو بیاسی ھجری میں ان کا انتقال ہوا ہے - امام ذہبی صاحب کتاب کہتے ہیں کہ ان کے واقعات علم و سیادت کے بہت سے ہیں - میں نے ان کے اور امام محمد کے مناقب کو ایک مستقل کتاب میں جمع کیا ہے
ناظرین ! یہ ائمہ کے اقوال ملاحظہ فرمائیں کہ امام ابو یوسف رحمه الله کےبارے میں کتنے زبردست الفاظ میں مدحیہ ہیں ، اس پر بھی معاندین اور حسادآنکھیں نکال رہے ہیں ، کیا آپ کے خیال میں یہ بات آتی ہے کہ جو شخص بقولامام بخاری متروک ہو ، بقول فلاس کثیر الغلط ہو وہ ان الفاظ کا ایسے ائمہ سے جن کا اوپر ذکر ہوا ہے مستحق ہوسکتا ہے ، ہرگز نہیں ، کیا ایسے شخص کےبارے میں کوئی ناقد رجال ہوکر اس کے مناقب میں کتاب تصنیف کرسکتا ہے ،کبھی نہیں امام بخاری نے محض اس رنجش کی وجہ سے جو ان کو بعض حنفیوں سے ہوگئی تھی امام ابو یوسف رحمه الله اور امام ابو حنیفہ رحمه الله کے بارے میں کلام کردیا ، حالانکہ یہ محض تعصب پر مبنی ہے ، جو قابل قبول نہیں ہے ، متروک اور کثیر الغلط ہونے کی تہمت ہی تہمت ہے جس کا کچھ وجود نہیں ورنہ امام احمد رحمه الله جیسا شخص اور ابن معین جیسا ناقد کبھی بھی امام ابو یوسف رحمه الله کا شاگرد نہ ہوتا بلکہ سب اول یہی لوگ ان کی تضعیف کرتے لیکن یہ حضرات جب ان کو صاحب الحدیث ، صاحب سنت ، منصف فی الحدیث ، اثبت و اکثر حدیث ، اتبع الحدیث ، حافظ حدیث فرماتے ہیں تو پھر ترکوہ اور کثیر الغلط کی بنیاد محض عداوت اور تعصب پر ثابت ہوجاتی ہے - جس کا گرادینا کچھ مشکل نہیں - نواب صدیق حسن خان فرماتے ہیں "کان القاضی ابو یوسف من اھل الکوفة وھو صاحب ابی حنیفة و کان فقیها عالما حافظا اھ" [التاج المکلل ص91] کہ قاضی ابویوسف کوفہ کہ اور امام ابو حنیفہ کے شاگرد ہیں - فقیہ ، عالم ، حافظ حدیث تھے - سلیمان تیمی ، یحیی بن سعید انصاری ، اعمش ، محمد بن یسار وغیرہ سے فن حدیث کو حاصل کیا ہے - نواب صدیق حسن خان صاحب نے ان چار [4] ناموں کو زیادہ لکھا ہے ، اس لئے نقل کردیا - آگے چل کر نواب صاحب لکھتے ہیں "ولمیختلف یحیی بن معین و احمد بن حنبل و علی المدینی فی ثقته فی النقل اھ[التاج المکلل ص92] کہ یحیی بن معین اور احمد بن حنبل اور علی بن مدینی تینوں اماموں کا امام ابو یوسف کے ثفہ فی الحدیث ہونے پر اتفاق ہے ، یہ ابن مدینی وہی شخص ہیں جن کے لئے امام بخاری کو اقرار کرنا پڑا کہ میں اپنے آپ کو انہی سے چھوٹا سمجھتا ہوں
حافظ ابن حجر "تقریب" میں ابن مدینی کے بارے میں فرماتے ہیں "ثقة ثبت امام اعلم اھل عصرہ بالحدیث وعلله حتی قال البخاری ما استصغرت نفسی الا عندہ" [تقریب] کہ ابن مدینی ثقہ ، ثبت ، امام اعلم ، اہل زمانہ بالحدیث و علل ہیں حتی کہ امام بخاری بھی کہہ اٹھے کہ ان کے سامنے میری کوئی حقیقت نہیں - جب علی مدینی امام ابو یوسف رحمه الله کو ثقہ کہتے ہیں تو امام بخاری کا قول ان کے مقابلہ میں کچھ وقعت نہیں رکھتا "ولم یختلف یحیی بن معین و احمد و ابن المدینی فی فی کوفه ثقة فی الحدیث اھ" [انساب سمعانیامام ابو یوسف رحمه الله کے ثقہ فی الحدیث ہونے میں ابن معین ، احمد بن حنبل ، علی بن المدینی مختلف نہیں ہیں - "وذکر ابن عبد البر فی کتابالانتهاء فی فضائل الثلاثة الفقهاء ان ابا یوسف کان حافظا وانه کان یحضر المحدث و یحفظ خمسین ستین حدیثا ثم یقول فیملیها علی الناس و کان کثیر الحدیث اھ" [التاج المکلل ص92] حافظ ابن عبد البر مالکی مغربی "کتاب الانتہا" میں فرماتے ہیں جس میں فقہائے ثلاثہ کے مناقب بیان کئے ہیں کہ امام ابو یوسف رحمه الله حافظ تھے ان کے حافظہ کی یہ حالت تھی کہ محدث کی مجلس میں تشریف لاتے اور پچاس ساٹھ حدیثیں وہیں یاد کرلیتے اور جب اس مجلس میں سے اٹھتے تو فورآ لوگوں کو جوں کی توں [حدیثیں] لکھا دیا کرتے تھے - ان میں کسی قسم کا تغیر نہ ہوتا تھا اور امام ابو یوسف رحمه الله کثیر الحدیث تھے ، اس قول سے فلاس کے قول کی تردید ہوگئی - اگر کثیر الغلط ہوتے تو حافظ ابن عبد البر کبھی بھی ان کے حافظہ کی تعریف بالفاظ مذکورہ نہ کرتے
"قال طلحة بن محمد جعفر ابو یوسف مشهور الامر ظاھر الفضل افقه اھل عصرہ ولم یتقدمه احد فی زمانه و کان النهایة فی العلم و الحکم و الریاسة و القدر وھو اول من وضع الکتب فی اصول الفقه علی مذھب ابی حنیفة و املی المسائل و نشرھا وبث علم ابی حنیفة فی اقطار الارض اھ" [التاج امکلل ص92طلحہ بن محمد کہتے ہیں کہ امام ابو یوسف مشہور الامر ، ظاہر الفضل ، افقہ اہل زمانہ ہیں ، ان کے زمانہ میں ان سے کوئی فضل میں متقدم نہ تھا - علم ، فیصلہ جات ، ریاست ، قدر و منزلت کی منتہا تھے - مذہب امام ابو حنیفہ کے موافق اصول میں اول انہی نے کتابیں تصنیف کی ہیں ، مسائل کا املا اور ان کی شیوع انہی نے کیا - اطراف عالم میں امام ابو حنیفہ کے علم کو انہی نے پھیلایا
"قال عمار بن ابنی مالك ما کان فی اصحاب ابنی حنیفة مثل ابی یوسف لولا ابو یوسف ماذکر ابو حنیفة ولا محمد بن ابی لیلی ولکنه ھو الذی نشر قولهما وبث علمها اھ" [التاج المکلل ص92] عمار بن ابی مالک کہتے ہیں کہ اصحاب ابی حنیفہ میں امام ابو یوسف جیسا کوئی شخص نہیں ہے اگر امام ابو یوسف نہ ہوتے تو محمد بن ابی لیلی اور امام ابو حنیفہ کا کوئی ذکر نہ کرتا ، انہی نے دونوں کے قول و علم کو عالم میں پھیلایا
"وقال ابو یوسف سألنی الاعمش عن مسئلة فاجبته عنها فقال لی من این لك ھذا فقلت من حدیثك الذی حدثتناہ انت ثم ذکرت له الحدیث فقال لی یا یعقوب انی لا حفظ ھذا الحدیث قبل ان یجتمع ابواك وما عرفت تاویله حتی الان اھ" [التاج المکلل ص92] امام ابو یوسف فرماتے ہیں کہ مجھ سے اعمش نے ایک مرتبہ ایک مسئلہ پوچھا میں نے اس کا جواب دے دیا تو وہ فرمانے لگے تم کو یہ جواب کہاں سے معلوم ہوا تو میں نے کہا کہ اسی حدیث سے جو آپ نے مجھ سے بیان کی تھی اور پھر وہ حدیث میں نے ان کو سنادی تو اعمش کہنے لگے اے یعقوب [یہ امام ابو یوسف کا نام ہے] میں بھی اس حدیث کا حافظ ہوں لیکن اب تک اس کے معنی میری سمجھ میں نہ آئے تھے ، اس وقت سمجھا ہوں
ناظرین ! اس کو ملاحظہ فرمائیں اور امام ابو یوسف رحمه الله کے حافظہ اورفہم کی داد دیں جس کا اعمش نے بھی اقرار کرلیا - اس پر افلاس اور امام بخاری کثیر الغلط اور ترکوہ کہتے ہیں ، سبحان الله : "واخبار ابی یوسف کثیرۃ واکثر الناس من العلماء علی فضله و تعظیمه اھ" [التاج المکلل ص92]
امام ابو یوسف کے اخبار بہت ہیں اور اکثر علماء ان کی فضیلت اور تعظیم کےقائل ہیں ، یہ نواب صاحب کا قول ہے جو فیصلہ کے طور پر ہے - ماقبل میں یہثابت ہوچکا ہے کہ جس کی مدح کرنے والے زیادہ ہوں اس کے بارے میں جارحین کی جرح مقبول نہیں - نیز ہم عصر کی جرح بھی دوسرے ہم عصر کے بارے میں مقبول نہیں - عبد الله من مبارک ، وکیع بن الجراح ہم عصر ہیں ، امامبخاری ، دار قطنی ، ابن عدی وغیرہ متعصب ہیں ، لہذا ان کی جرح بھی مقبولنہیں
ناظرین ! اب "میزان الاعتدال" کی عبارت کے متعلق سنیئے ، مؤلف رسالہ[الجرح علی ابی حنیفه] نے جو فلاس کا قول نقل کیا ہے اس کا ایک لفظ ترککردیا ، کیونکہ وہ امام ابو یوسف رحمه الله کی مدح میں تھا ، اصل عبارت یوں ہے"قال الفلاس صدوق کثیر الغلط اھ" فلاس کہتے ہیں امام ابو یوسف صدوق کثیر الغلط تھے - دوسرے جملہ کا جواب عرض کرچکا ہوں - پہلا جملہ الفاظ تعدیل و توثیق میں سے ہے ، لہذا فلاس کے نزدیک بھی ان کا صدوق ہونا مسلم ہے
ع | ادھر لا ہاتھ مٹھی کھول یہ چوری یہیں نکلی
"وقال عمرو الناقد کان صاحب سنة اھ" [میزان ص321] عمرو کہتے ہیں امام ابویوسف صاحب سنت تھے ، یہ بھی توثیق ہے "وقال ابو حاتم یکتب حدیثه اھ[میزان ص321] ابو حاتم کہتے ہیں امام ابو یوسف کی حدیث لکھی جاتی ہے یہ بھی تعدیل کے الفاظ ہیں "وقال المزنی ھو اتبع القوم للحدیث اھ" [میزان ص321] امام مزنی کا قول ہے کہ وہ اتبع الحدیث دوسروں کے اعتبار سے ہیں یہ بھی مدح ہے "واما الطحاوی فقال سمعت ابراھیم بن ابی داؤد البراسی سمعت یحیی بن معین یقول لیس فی اصحاب الرای اکثر حدیثا ولا اثبت من ابی یوسف اھ" [میزان جلد ثالث ص321] لیکن امام طحاوی نے یہ بیان کیا ہے کہ میں نے ابراہیم بن ابی داؤد سے سنا وہ کہتے تھے میں نے ابن معین کو کہتے ہوئے سنا امام ابو یوسف اکثر حدیث اور اثبت فی الحدیث باعتبار دوسرے اصحاب رائے کے ہیں
"وقال ابن عدی لیس فی اصحاب الرای اکثر حدیثا منه الا انه یروی عن الضعفاء الکثیر مثل الحسن بن عمارۃ وغیرہ و کثیر اما یخالف اصحابه و یتبع الاثر فاذا روی عنه ثقة و روی ھو عن ثقة فلاباس به اھ" [میزان ص322] ابن عدی کہتے ہیں اصحاب رائے میں ان سے زیادہ حدیث والا کوئی دوسرا نہیں ہے مگر اتنی بات ہے کہ ضعیفوں سے زیادہ روایت کرتے ہیں جیسے حسن بن عمارۃ وغیرہ ہیں اور بسا اوقات اپنے اصحاب کی مخالفت اور حدیث کی اتباع کرتے ہیں - جس وقت ان سے کوئی ثقہ روایت کرے اور وہ بھی ثقہ سے روایت کریں تو لاباس بہ ہیں
ناظرین ! "میزان" کی یہ سب عبارتیں جن میں امام ابو یوسف رحمه الله کی ائمہ نے توثیق کی ہے مؤلف رسالہ [الجرح علی ابی حنیفه] نے اپنی حقانیت اور دیانت داری ظاہر کرنے کے واسطے حذف کردیں اور صرف "فلاس" اور "امامبخاری" کے قول کو نقل کردیا تاکہ عوام کو دھوکہ میں ڈال دیں
کشف الغمة بسراج الامة - ترجمہ [امام اعظم ابو حنیفہ رحمه الله اور متعرضین] صفحہ نمبر 71 تا 75









قوله : یہ تو ہوا حال ابو یوسف کا
اقول : جس کی تفصیل ناظرین معلوم کرچکے ہیں
قوله : اب سنیئے امام محمد کا حال جنہوں نے ایک موطا بھی لکھ ماری ہے[پانچوں سواروں میں اپنے کو بھی شامل کرنے یا خون لگا کر شہید بننے کو]
اقول : ناظرین یہ ہے تہذیب اور سلف کے ساتھ ان کا یہ برتاؤ ہے ، کیا آپ اس کو علمی تحریر سمجھتے ہیں جو اور الفاظ گندے لکھے ہیں وہ ان سے بھی بڑھ کر ہیں جن سے بازاری بھی مات ہیں لیکن یہ حضرات کا طریقہ ہے کہ ہرایک کو برا بھلا کہا کرتے ہیں اور سوائے اس کے ان کے پلہ اور کچھ نہیں
آپ نے گالیاں دیں خوب ہوا خوب کیا
بخدا مجھ کو مزا آیا شکر پاروں کا
امام محمد رحمه الله کے "موطا" تصنیف کرنے پر آپ کو کیوں حسد پیدا ہوگیا-اگر آپ میں کچھ ہمت ہے تو اپنی سند کے ساتھ اسی طرح کی حدیث کی کتابچھوٹی سی چھوٹی تصنیف کرکے دکھائیں - دیکھیں تو سہی آپ کتنے پانی میں ہیںامام محمد رحمه الله نے ایک "موطا" ہی تصنیف نہیں کی نو سو ننانوے[999] کتابیں تالیف کی ہیں - آپ ننانوے [99] ہی تالیف کرکے دکھائیں -امام محمد رحمه الله کی تصانیف سے بڑے بڑوں نے فائدہ حاصل کیا ہے اورتعریف کی ہے اور ان کے علم کا لوہا مان گئے ہیں ، چناچہ آرہا ہے
یہاں تک تو ناظرین نے مؤلف رسالہ [الجرح علی ابی حنیفه] کی علمی حالت کااندازہ کرلیا ہے - اب اور آگے چل کر معلوم کرلیں گے ، نیز امام محمد رحمهالله کی قدر و منزلت ، فضیلت و علمیت وغیرہ بھی معلوم ہوجائے گی
قوله : امام نسائی نے اپنے رسالہ "کتاب الضعفاء والمتروک" میں لکھا ہے "ومحمد بن الحسن ضعیف" اور میزان الاعتدال" میں ہے "لینه النسائی وغیرہ من قبل حفظه" اور "لسان المیزان" میں ہے "قال ابو داؤد لا یکتب حدیثه" [بحذفترجمہ اردو]
اقول
کم بخت دلخراش بہت ہے صدائے دل
کانوں پہ ہاتھ رکھ کے سنوں ماجرائے دل
"میزان الاعتدال" میں تلیین امام نسائی ذکر کرنے کے بعد ذہبی فرماتے ہیں"یروی عن مالك بن انس وغیرہ و کان من بحور العلم والفقه قویافی مالك اھ"[میزان جلد ثالث ص43] حدیث کی روایت امام مالک رحمه الله وغیرہ سے کرتےہیں ، علم و فقہ کے دریائے ناپیدا کنار تھے - روایات مالک میں قوی تھےناظرین "مقدمہ میزان الاعتدال" کی عبارت پیش نظر رکھیں کہ میری اس کتاب میں وہ لوگ ہیں جن میں مشد دین فی الجراچ نے ادنی لین کی وجہ سے کلام کیاہے ، حالانکہ وہ جلیل القدر اور ثقہ ہیں ، اگر ابن عدی وغیرہ ان کو اپنی اپنی کتابوں میں ذکر نہ کرتے تو میں بھی ان کے ثقہ ہونے کی وجہ سے اپنی اس کتاب میں ان کو ذکر نہ کرتا - امام ذہبی رحمه الله مالک میں ان کو قوی کہتے ہیں ، علم کے دریا ناپیدا کنار اور فقہ کے بحر بے پایاں ہیں - اس سےامام ذہبی رحمه الله کے نزدیک ممدوح اور ان کا ثقہ ہونا ظاہر ہے ، امام ذہبی رحمه الله فرماتے ہیں "ولم ارمن الرای ان احذف اسم احد ممن له ذکر بتلیین مافی کتب الأئمة المذکورین خوفا من ان یتعقب علی لا انی ذکرته لضعف فیه عندی اھ" میں نے اس خوف کی وجہ سے کہ کہیں لوگ میرے درپے نہ ہوجائیں مناسب نہیں سمجھا کہ جن حضرات کی تلیین کتب ائمہ مذکورین میں ہیں ان کو ذکر کروں اور ان کے ناموں کو حذف کردوں یہ بات نہیں ہے کہ میرےنزدیک ان میں کسی قسم کا ضعف تھا اس لئے میں نے ان کو اس کتاب میں ذکرکیا ہے ، حاشا و کلا - لہذا یہ ثابت نہیں ہوسکتا کہ امام محمد حافظ ذہبی کے نزدیک ضعیف ہیں اس لئے ان کو "میزان" میں ذکر کیا ہے اگر کوئی مدعی ہےتو ثابت کر دکھائے
حافظ ابن حجر رحمه الله فرماتے ہیں "ھو محمد بن الحسن بن فرقد الشیبانی مو لا ھم ولد بواسط‎ ‎ونشاء بالکوفة و تفقه‎ ‎علی ابی حنیفة و سمع الحدیث من الثوری و مسعر و عمرو بن ذر و مالك بن مغول والاوزاعی و مالك بن انس و ربیعة بن صالح و جماعة و عنه الشافعی وابو سلیمان الجوزجانی و ھشام الرازی و علی بن مسلم الطوسی و غیرھم ولی القضاء فی ایام الرشید وقال ابنعبد الحکم سمعت الشافعی یقول قال محمد اقمت علی باب مالك ثلاث سنین وسمعت منه اکثر من سبعمائة حديث و قال الربیع سمعت الشافعی یقول حملت عن محمد و قربعیر کتبا و قال ابن علی بن المدینی عن ابیه فی حق محمد بن الحسن صدوق اھ" [لسان المیزان یہ کتاب حیدر آباد میں مطبوع ہوئی ہے] محمدبن الحسن مقام واسطہ میں پیدا ہوئے اور کوفہ میں انہوں نے نشو و نما پائیفن فقہ کو امام ابو حنیفہ رحمه الله سے حاصل کیا - سفیان ثوری ، مسعر ،عمرو بن ذر ، مالک بن مغول ، اوزاعی ، مالک بن انس ، ربیعہ بن صالح اورایک جماعت محدثین سے فن حدیث کو حاصل کیا - امام شافعی ابو سلیمان جوزجانی ، ہشام رازی ، علی بن مسلم طوسی وغیرہ محدثین نے فن حدیث کے حصول میں امام محمد رحمه الله کی شاگردی حاصل کی ، ہارون رشید کی خلافت کےزمانہ میں قاضی مقرر کئے گئے تھے - امام شافعی رحمه الله فرماتے ہیں کہ امام محمد رحمه الله فرمایا کرتے تھے کہ میں نے امام مالک رحمه الله کےیہاں تین [3] سال اقامت کی اور سات سو [700] سے زیادہ حدیثیں امام مالکرحمه الله سے سنیں - امام شافعی رحمه الله فرماتے ہیں کہ ایک اونٹ بھرکتابیں امام محمد رحمه الله کی مجھ کو پہنچیں - علی بن مدینی کے صاحبزادےکہتے ہیں کہ میرے والد محمد بن الحسن کو "صدوق" کہا کرتے تھے - جب ابن مدینی نے امام محمد کی توثیق کردی تو پھر اور کسی کی ضرورت ہی کیا ہے 
یہ وہی ابن مدینی ہیں جن کے سامنے امام بخاری امام شافعی رحمه الله فرماتےہیں کہ امام محمد رحمه الله فرمایا کرتے تھے کہ میں نے امام مالک رحمه الله کے یہاں تین [3] سال اقامت کی اور سات سو [700] سے زیادہ حدیثیں امام مالک رحمه الله سے سنیں - امام شافعی رحمه الله فرماتے ہیں کہ ایک اونٹ بھر کتابیں امام محمد رحمه الله کی مجھ کو پہنچیں - علی بن مدینی جیسے شخض زانوئے ادب کو تہ کیا اور ان کے فضل و کمال کو اقرار کئے بغیرچارہ کار نہ ہوا ، چناچہ گزرچکا ہے اور ظاہر ہے کہ لفظ "صدوق" الفاظ توثیق میں سے ہے ، چناچہ حافظ ذہبی"میزان" کے دیباچہ میں فرماتے ہیں"فاعلی العبارات فی الرواۃ المقبولین ثبت ، حجة و ثبت حافظ و ثقة متقن و ثقة ثم ثقة ثم صدوق و لابأس به الخ" [میزان جلد اول ص3] اور جب ثابت ہوالفظ "صدوق" توثیق ہے تو امام محمد رحمه الله کے مقبول اور ثقہ فی الحدیث ہونے میں کوئی شک باقی نہیں رہتا اور وہ بھی علی بن مدینی کی توثیق جوامام بخاری اور نسائی وغیرہ پر غالب ہے "قال الشافعی ما رأيت اعقل من محمد بن الحسن اھ" [انساب سمعانی] امام شافعی رحمه الله فرماتے ہیں کہ میں نے امام محمد رحمه الله جیسا عاقل کوئی نہیں دیکھا
"وروی عنه ان رجلا ساله عن مسئلة فاجابه فقال الرجل خالفك الفقهاء فقال له الشافعی و ھل رأيت فقیها اللهم الا ان یکون رأیت محمد بن الحسن اھ"[انساب سمعانی] امام شافعی رحمه الله سے کسی نے کوئی مسئلہ دریافت کیا اس کا انہوں نے جواب دیا ، سائل نے کہا کہ فقہاء تو آپ کی اس مسئلہ میں آپ کی مخالفت کررہے ہیں تو انہوں نے فرمایا تو نے کیا کوئی کبھی فقیہ دیکھا، ہاں امام محمد رحمه الله کو دیکھا ہے تو بے شک ٹھیک ہے کہ وہ اس قابل ہیں ، اس سے ظاہر ہے کہ امام شافعی رحمه الله بھی امام محمد رحمه الله کی فقاہت فی الدین کا لوہا مانے ہوئے ہیں "وکان اذا حدثتهم عن مالك امتلاء منزله و کثر الناس حتی یضیق علیه الموضع اھ" [تہذیب الاسماء] جس وقت امام محمد رحمه الله حدیث کی روایت امام مالک رحمه الله سے کرتے تو ان کا مکان کثرت سامعین اور شاگردوں سے بھر جاتاتھا حتی کہ خود موضع جلوس بھی تنگ ہوجاتا تھا
اگر امام محمد رحمه الله کو حدیث دانی میں دخل نہ ہوتا تو کثرت ازدحام محدثین کی کیوں ہوتی ، اگر وہ ضعیف ہوتے یا حافظ حدیث نہ ہوتے تو یہ بڑےبڑے محدثین کیوں ان کی شاگردی کو مایہ ناز سمجھتے اور کیوں ان کے مکان کوشوق سماعت حدیث میں بھر دیا کرتے - اس کو تو وہی حضرات خوب سمجھ سکتے ہیں جن کو خدا نے عقل و ہوش عنایت کئے ہیں اور علم دین سے کچھ حصہ ملا ہے "عن یحیی بن معین قال کتبت الجامع الصغیر عن محمد بن الحسن اھ" [تاریخ خطیب وتہذیب الاسماء] یحیی بن معین کہتے ہیں کہ میں نے جامع صغیر کو روایۃ امام محمد سے لکھا ہے
"عن یحیی بن معین قال سمعت محمدا صاحب الرای فقیل سمعت ھذا الکتاب من ابی یوسف قال و الله ماسمعته منه وھو اعلم الناس به الا الجامع الصغیر فانی سمعته من ابی یوسف اھ" [مناقب کردری ص150] امام محمد رحمه الله سے یحیی بن معین رحمه الله کا روایت کرنا اور ان کی کتابوں کی سماعت کرنی اور ان کی شاگردی اختیار کرنی یہ جملہ امور امام محمد رحمه الله کی فضیلت اورصاحب علم اور عادل ، ضابط ، حافظ ، محدث ، فقیہ ، ثقہ و صدوق ہونے پر دال ہیں - "عن عبد الله بن علی قال سالت ابی عن محمد قال محمد صدوق اھ"[مناقب کردری ، جلد ثانی ص150] عبد الله کہتے ہیں کہ میں نے اپنے والدعلی بن مدینی سے امام محمد کے بارے میں دریافت کیا تو کہا امام محمد صدوق ہیں "عن عاصم بن عصام الثقفی قال کنت عند ابی سلیمان الجوزجانی فاتاہ کتاب احمد بن حنبل بانك ان ترکت روایة کتب محمد جئنا الیك لنسمع منك الحدیث فکتب الیه علی ظهر رقعته ما صعیرك الینا یرفعنا ولا حسبة اھ"[مناقب کردری جلد ثانی ص153] اگر امام محمد صدوق اور ثقہ عادل حافظ ضابظ محدث نہ ہوتے تو امام احمد رحمه الله جیسا شخص ان کی کتابوں کی روایت کی تمنا نہ کرتا کیونکہ وہ ثقہ ہی سے روایت کرتے ہیں - نیز جو جواب ابوسلیمان جوزجانی نے امام احمد رحمه الله کو دیا وہ بھی امام محمد رحمه الله کے علم و فضل اور کمال پردال ہے ، چناچہ ظاہر ہے"وذکر السلامی عن احمد بن کامل القاضی قال کان محمد موصوفا بالروایة والکمال فی الرایوالتصنیف وله المنزلة الرفیعة و کان اصحابه یعظمونه جدا اھ" [مناقب کردری جلد ثانی ص153]
احمد بن کامل قاضی کہتے ہیں کہ امام محمد رحمه الله روایت حدیث اور کمال فی الفقہ اور وصف تصنیف کے جامع تھے - ان کا بڑا مرتبہ ہے ، ان کے اصحاب ان کی بہت تعظیم  کرتے تھے - "وذکر الحلبی عن یحیی بن صالح قال قال یحیی بن اکثم القاضی رأیت مالکا و محمدا قلت ایهما افقه قال محمد اھ" [مناقب کردری جلد ثانی ص156] یحیی بن صالح کہتے ہیں کہ یحیی قاضی نے فرمایا کہ میں نے امام مالک رحمه الله کو بھی دیکھا اور امام محمد رحمه الله کو بھیمیں نے دریافت کیا کہ دونوں میں افقہ کون ہے تو جواب دیا کہ امام محمدافقہ ہیں - "وبه عن ابی عبید قال مارأیت اعلم بکتاب الله تعالی من محمد اھ" [مناقب کردری جلد ثانی ص156] ابی عبید کہتے ہیں کہ میں نے کتاب الله کا عالم امام محمد رحمه الله سے زیادہ کسی کو نہیں دیکھا - " عن ادریس بنیوسف القراطیسی عن الامام الشافعی مارأیت رجلا اعلم بالحلال والحرام والناسخ والمنسوخ من محمد اھ" [مناقب کردری ص157] امام شافعی رحمه الله فرماتے ہیں کہ میں نے امام محمد رحمه الله سے زیادہ کسی کو حلال و حرام اور ناسخ اور منسوخ کا عالم نہیں دیکھا
"عن ابراھیم الحربی قال سالت احمد بن حنبل من این لك ھذا المسائل الدقاق قال من کتب محمد بن الحسن اھ" مناقب کردری ص160] ابراہیم حربی نے امام احمد رحمه الله سے دریافت کیا کہ یہ مسائل دقیقہ آپ نے کہاں سے حاصل کئےتو انہوں نے جواب دیا کہ امام محمد رحمه الله کی کتابوں سے میں نے حاصل کئے ہیں - اس روایت کو خطیب نے اپنی تاریخ میں اور امام نووی نے "تہذیب الاسماء" میں بھی نقل کیا ہے - اسی طرح ابو عبید کے قول مذکور کو بھی امام نووی نے کتاب مذکور میں نقل کیا ہے ، غرض ناظرین کے سامنے "مشتے نمونہ از خروارے" امام محمد رحمه الله کے بارے میں ائمہ کے اقوال پیش کئےہیں جو امام محمد رحمه الله کے فضل و کمال ، علم و حفظ ، صدق و دیانت ،مفسر و محدث ، فقیہ ہونے پر شاہد عادل ہیں اگر ایسا شخص ضعیف ہو تو پھرقیامت نہیں تو اور کیا ہے - ناظرین ان اقوال سے جلالت شان امام محمد رحمه الله ظاہر ہے
قوله : یہ تو ہوا امام صاحب کے شاگردوں کا حال
اقول : جس کی کیفیت ناظرین نے معلوم کرلی
قوله : لیکن امام صاحب کا ایک مزید ارحال سنیئے
اقول:یہ سنا ہے کہ حضرت ناصح یہاں آنے کو ہیں میں سمجھتا ہوں جو کچھ مجھ سے فرمانے کو ہیں

اس کے متعلق پہلے بھی عرض کرچکا ہوں اور آئندہ بھی خدمت کرنے کے لئے تیارہوں ، فرمایئے اور جواب سنیئے
کشف الغمة بسراج الامة - ترجمہ [امام اعظم ابو حنیفہ رحمه الله اورمتعرضین] صفحہ نمبر 76 تا 81



No comments:

Post a Comment